| طرح مرزا قادیانی مذکورہ اشتہار کے اجراء کے تقریباً ایک سال کچھ ماہ کے بعد ہیضہ کی وبا سے مردار ہوکر جہنم واصل ہوا ۔ مرزا کی اس مکروہ موت کے بعد ان کے پیروکار سراسر اس مباہلے سے ہی انکاری ہوگئے کہ یہ تو مباہلہ نہیں بلکہ مرزا کی ایک دعا تھی ۔ اور اللہ تعالیٰ نے مرزا کی ہر دعا قبول کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا ۔ فاتح قادیان ثناء اللہ امرتسری نے چونکہ سینکڑوں کامیاب مناظرے کیےتھے۔انہی کامیاب مناظروں میں سے ایک مناظرہ مرزا کے ایک پیروکار منشی قاسم علی قادیانی سے اسی موضوع پر طے پایا کہ آیا مرزا قادیانی نے جو یہ مباہلے والا اشتہار دیا تھا کیا یہ محض ایک عام دعا تھی یا مباہلہ تھا ۔ ؟ کہ جس میں صادق کی زندگی میں کاذب کی موت کی درخواست کی گئی تھی ۔ چنانچہ منشی صاحب نے اپنے اخبار ’’ الحق ‘‘ میں مولانا ثناء اللہ امرتسری کو چیلنج دیا ۔ جس کو علامہ ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے اپنے اخبار اہل حدیث میں یکم مارچ ۱۹۱۲ء میں قبول کیا ۔ جس کے بعد فریقین نے قواعد وضوابط طے کئے اور مناظرے میں فتح پانے والے کو فریق ثانی کی جانب سے مبلغ تین سو روپے بطور انعام یا تاوان دینے کا طے پایا ۔ الغرض ۱۵ اپریل ۱۹۱۲ کی تاریخ مباحثہ کے لئے مقرر ہوئی ۔اور مقام مباحثہ خود منشی قاسم علی ( قادیانی مناظر ) کی جانب سے شہر لدھیانہ قرار پایا ۔ اور منصفین میں فریقین کی جانب سے ایک ایک فرد اور ایک غیر جانبدار غیر مسلم شخصیت طے پائی ۔ جس میں اہل حدیث کی جانب سے مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی رحمہ اللہ اور قادیانیوں کی طرف سے منشی فرزند علی صاحب ہیڈ کلرک قلعہ میگزین فیروزپور تھے ۔ جبکہ غیر جانبدار شخصیت میں سردار بچن سنگھ صاحب بی اے گورنمنٹ پلیڈر لدھیانہ کو منتخب کیا گیا ۔ جسے جناب موصوف نے قبول فرمایا ۔ اور منصف ہونے کا حق بھی ادا کیا ۔ جس کی تفصیل قارئین مناظرے کی تفصیلی کاروائی میں ملاحظہ کریں گے ۔ ان شاء اللہ ایک اہم لطیفہ اور قدرتی اسرار یہ لیطفہ احتساب قادیانیت کی جلد 8 میں مذکور ہے جسے حرفا حرفا یہاں نقل کیا جاتاہے تاکہ قارئین اس سے محظوظ ہوسکیں اوردیکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اپنے پیارے حبیب کے خاتم النبیین ہونے کے اعزاز کی کس طرح حفاظت فرماتاہے ۔ ’’واقعی بات ہے کہ اللہ رب اللعالمین کے اسرار اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔اشتہار مذکورہ کی تاریخ بھی |