Maktaba Wahhabi

119 - 127
کے لئے فہم صحابہ کو تسلیم کرے گا [1]۔اس رویے کے چند اہم اسباب درج ذیل ہیں: ٭ نفس انسانی میں وہ چھپی ہوئی خواہشات جو واضح دلیل پر عمل کو چھوڑنے پر اکساتی ہیں۔ ٭ طلب علم کے فوائد کے حصول میں جلد بازی کرنا، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ادنی طالب علم خود کو مجتہد مطلق کے درجہ میں گمان کرتا ہے۔ ٭ شریعت کے مقاصد سے نابلد ہونا۔ چند ایسے اسباب کا ذکر جو اللہ کی توفیق سے تفرقہ بازی اور اختلاف سے بچا سکتے ہیں: 1۔علمِ شرعی کے ہر باب کی نشر و تبلیغ شریعت کا مقصود نہیں ہے، بلکہ شرعی علم کے غالب حصہ کی نشر و تبلیغ تو مطلوب ہے ، البتہ کچھ حصہ ایسا ہے جس کے عوام میں نشر کی یا تو قطعا ممانعت ہے یا حالات ، زمانہ اور افراد کے پیش نظر اس کا حکم تبدیل ہوتا رہتا ہے، اور یہ حصہ اگرچہ حق ہوتا ہے لیکن عوام میں اس کی تبلیغ سے فتنہ کا اندیشہ ہوتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں علی رضی اللہ عنہ اور ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ : "لوگوں کو ایسی احادیث بیان کرو جو وہ سمجھ سکتے ہوں " اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: "جو ان کی عقلوں میں سما سکتی ہوں ، کیا تم یہ چاہتے ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا دیا جائے"[2] ۔ اور صحیح بخاری و مسلم کی حدیث جو کہ جناب معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے توحید کا اجر سننے کے بعد فرمایا:" کیا میں لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ دے دوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم انہیں اس کی خوشخبری نہ دینا ورنہ وہ اسی پر تکیہ کرکے بیٹھ جائیں گے"[3] ۔ اور صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ : "ایک شخص امیر المومنین جناب عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: فلاں آدمی کہہ رہا تھا کہ اگر امیر المومنین فوت ہوگئے تو ہم فلاں شخص کی بیعت کرلیں گے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "آج شام کو میں (خطبہ کے لئے ) کھڑا ہو کر ان بدمعاشوں کو متنبہ کروں گا جو صحابہ کرام کو اشتعال
Flag Counter