| قانون و قضا حافظ محمد سرور ٭ شرعی اور وضعی قوانین؛ایک تقابل زیرنظر مضمون میں ’شرعی قانون‘ کا لفظ استعمال کیا گیاہے جس کے بارے میں زیادہ محتاط لفظ ’شریعت ِاسلامیہ‘ ہی ہے۔ کیونکہ شریعت کو ’مسلمان اہل علم انسانوں ‘ کے ذریعے قانونی ضابطہ بندیوں کی شکل دینے میں بھی بعض وہی مسائل درآتے ہیں جو وضعی یا انسانی قانون کیلئے عیب ٹھہرتے ہیں ۔ دراصل شریعت ِاسلامیہ ہی اپنے اصل الفاظ میں وحی ہونے کے ناطے یہ منفردمقام اورحیثیت رکھتی ہے کہ اللہ کی مخلوق میں عدل وانصاف کی دائمی ضمانت بن سکے۔ اس بنا پر زیر نظر مضمون میں شرعی قانون کو شریعت ِاسلامیہ کے معنی میں سمجھنا چاہئے۔ (ح م) ذہنی مغلوبیت کی سب سے بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ کوئی انسان اپنے مذہب یا قوم کی تہذیب کے متعلق احساسِ کمتری میں مبتلا ہوکر غیروں کی تہذیب و معاشرت کو للچائی نظروں سے دیکھنے لگے او راس کی ایک ایک جزئی کے اپنانے کو اپنی روشن خیالی اور وسعت ِ ظرفی تصور کرے۔ جب کسی قوم میں یہ صورت ِحال پیداہوجائے تو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسی مغلوب الذہن اَقوام کبھی بھی زمانے میں اپنے وجود کو مستقل حیثیت سے برقرار نہیں رکھ سکیں اور رفتہ رفتہ ماضی کا اِک قصۂ پارینہ بن کر رہ گئیں ۔ بدقسمتی سے کچھ اسی طرح کی حالت اس وقت اسلام کے ماننے والے جدید تعلیم یافتہ حضرات کی ہے جو اسلامی نظامِ حدود و تعزیرات کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نہ سمجھتے ہوئے وضعی قوانین کے نفاذ کو کامیابی اور ترقی کا معیار قرار دیتے ہیں ، إلامن رحم ربي حالانکہ تعجب کی بات یہ ہے کہ اسلامی نظامِ حدود کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ قرار دینے والے انہی حضرات کے نزدیک زمانۂ سابقہ میں اسلام کے تابناک اور روشن دور کا سبب یہی اسلامی قوانین اور ان پر عمل درآمد تھا۔ گویا کہ خالقِ ارض و سما کے بنائے ہوئے نظام کے متعلق بھی ان حضرات کا یہی فیصلہ ہے کہ ؎ تھا جو ’خوب‘ بتدریج وہی ’ناخوب‘ ہوا !! ________________ ٭ متعلم مرکز التربیۃ الاسلامیۃ ، فیصل آباد |