Maktaba Wahhabi

619 - 668
اقول: قبر کو پختہ، یعنی گچ کرنے اور قبہ بنانے سے زینت تو خوامخواہ ہو جاتی ہے، اکثر فقہا نے اس سے مطلقاً منع کیا ہے۔ چنانچہ کتاب غایت الاوطار شرح در مختار بحوالہ طحطاوی منقول ہے کہ زینت کے لیے قبر پر عمارت بنانی حرام ہے اور میت کو دفن کرنے کے لیے مکروہ ہے۔[1] ملا جی! دیکھا آپ نے فقہاے حنفیہ تو عمارت کو قبر پر بلا زینت بھی مکروہ جانتے ہیں ۔ اگر کسی قبر پر تیار کرنے میں فخر و تکبر کی نیت نہ بھی ہو تو بھی حرام ہی ہے، کیوں کہ اکثر لوگ پختہ قبر سے طرح طرح کے شرک میں مبتلاہوتے ہیں اور علما نے اس کی ممانعت کی یہی وجہ بیان کی ہے، جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کی کتاب بلاغ المبین کو غور سے دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے اور عون المعبود شرح ابو داود میں بھی و جہ مذکور ہے۔[2] جس کام میں بدعت و شرک شروع ہو جائے، وہ بہر صورت حرام ہے اگرچہ نیت کیسی ہو۔ ملاں جی! میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص قبر پر سجدہ یا رکوع کرے یا کعبہ کی طرح طواف کرے اور کہے کہ میری نیت بزرگ کی قبر کی تعظیم ہے، شرک کی نیت نہیں تو کیا آپ اس وقت اس کام کو جائز کہہ دیں گے؟ اگر آپ کہیں کہ منع ہے تو وہ بھی کہہ سکتا ہے: میری نیت شرک کی نہیں ہے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ یہ تعظیم شرعاً حرام ہے اور ناجائز ہے تو وہ بھی کہہ دے گا کہ بزرگوں کی قبروں پر ہنود کی طرح بُرج بنانے شرعاً حرام اور ناجائز ہیں ؟ بلکہ اس مبداے شرک کو تعظیم سمجھنا ہی حرام ہے۔ اگر کوئی شخص ملاں صاحب کے مقابلے میں یہ دعویٰ کر دے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث قبورِ مشائخ و اولیا کے حق میں وارد ہے اور عوام کی قبور کو بلحاظِ عمومیت کے خود بخود شامل ہوگئی اور عوام کی قبور کو تو منع کرنے کی چنداں حاجت نہ تھی، کیونکہ کون اتنا مال خرچ کر سکتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں عوام کی تعظیم ہی کیا ہے بخلاف بزرگوں کے کہ ان کی قبروں پر طرح طرح کے شرک ہوتے ہیں تو کیا بے جا ہے؟ بہ نسبت ملا صاحب کے یہ دعویٰ بہت صحیح ہے اور فقہا کے اقوال میں اس کلیہ کی تصریح بھی موجود ہے۔ چنانچہ قاضی ثناء اﷲ حنفی نقشبندی کتاب ’’ما لا بد منہ‘‘ و ’’إرشاد الطالبین‘‘ میں فرماتے ہیں :
Flag Counter