| اسی سند کے ساتھ ابن وہب سے کئی بے بنیاد روایات بیان کی ہیں ۔‘‘ (تخریج أحادیث الکشّاف : 3/179) دلیل نمبر ۴۱ سواد بن قارب سدوسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی، تو یہ اشعار کہے: فَأَشْھَدُ أَنَّ اللّٰہَ لَا رَبَّ غَـــــــیْرُہٗ وَأَنَّکَ مَاْمُونٌ عَلٰی کُلِّ غَـــائِــبٖ وَأَنَّکَ أَدْنَی الْمُرسَلِینَ وَسِیلَـــۃً إِلَی اللّٰہِ یَا ابْنَ الْـأَکْرَمِینَ الْـأَطَایِـــبٖ وَکُنْ لِّي شَفِیعًا یَّوْمَ لَا ذُو شَفَاعَۃٍ سِوَاکَ بِمُغْنٍ عَنْ سَوَادِ بْنِ قَارِبٖ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ربّ نہیں ،آپ ہر غائب کے محافظ ہیں اور اے معزز و پاکیزہ لوگوں کی اولاد!آپ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب رسولوں سے بڑھ کر مقام و مرتبہ رکھتے ہیں ۔ آپ اس دن میرے لیے سفارشی بن جانا، جس دن آپ کے سوا سواد بن قارب کو کسی کی سفارش فائدہ نہیں دے سکے گی۔‘‘ (المُعجم الکبیر للطّبراني : 7/94۔95، ح : 6475، معجم الشّیوخ لأبي یعلٰی : 329، المستدرک للحاکم : 3/610،ح : 6558، دلائل النُّبُوّۃ للبیھقي : 2/31، |