| دلیل نمبر ۳۷ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اذان سننے کے بعد یہ الفاظ کہے، تو روز ِقیامت اسے میری شفاعت نصیب ہو گی: بِحَقِّ ہٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ، آتِ مُحَمَّدَانِ الْوَسِیلَۃَ وَالْفَضِیلَۃَ، وَابْعَثْہُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِي وَعَدْتَہٗ، إِنّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ ۔ ’’یا اللہ!اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے طفیل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اس مقام محمود پر فائزفرما، جس کا تُو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے،بلاشبہ تو اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘ (المُعجم الأوسط للطّبراني : 4654، المُعجم الصّغیر للطّبراني : 670، السّنن الکبرٰی للبیہقي : 1/410، الدّعوات الکبیر للبیھقي : 49، وسندہٗ صحیحٌ) تبصرہ : حافظ ابن رجب رحمہ اللہ( 795ھ) فرماتے ہیں : ھٰذَا اللَّفْظُ لَا إِشْکَالَ فِیہِ، فَإِنَّ اللّٰہَ سُبْحَانَہٗ جَعَلَ لِھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ وَلِلصَّلَاۃِ حَقًّا کَتَبَہٗ عَلٰی نَفْسِہٖ، وَلَا یُخْلِفُہٗ عَمَّنْ قَامَ بِھِمَا مِنْ عِبَادِہٖ، فَرَجَعَ الْـأَمْرُ إِلَی السُّوَالِ بِصِفَاتِ اللّٰہِ وَکَلِمَاتِہٖ ۔ ’’ان الفاظ میں کوئی اشکال نہیں ، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس دعوت |