|
سوتے صبح بروقت بیدار ہوتے۔ تہجد ادا کرتے اور اپنے رب سے مناجات کرتے۔ ’’یاحي یا قیوم لا إلٰہ إلا أنت برحمتک أستغیث‘‘ ان کا خاص وظیفہ تھا۔ درود شریف بھی باکثرت پڑھتے۔ ایک بار تحدیثِ نعمت کے طور پر فرمایا کہ میری صبح کی سنتیں کبھی قضا نہیں ہوئیں۔ ہمیشہ انھیں بروقت ہی ادا کیا۔ دعا کرنے میں ان کا خاص ڈھب تھا۔ اس سلسلے میں وہ حضرت صوفی محمد عبداللہ رحمہ اللہ کے طریقے کے مطابق بڑی لمبی دعا کرتے۔ آدھا آدھا گھنٹہ دعا کرنے میں لگ جاتا۔ آج کتنے حضرات ہیں جو ان کی دعاؤں کو ترستے ہیں۔
مولانا بڑے وضعدار بزرگ تھے، ان کے پڑوس میں ایک جلد ساز تھا۔ صحیح بات یہ ہے کہ جلد ساز نہیں، بلکہ ’’کتاب مار‘‘ تھا۔ جلد سازی کا پورا سامان بھی اس کے پاس نہ تھا۔ مولانا مرحوم کو اس کی بنائی ہوئی جلد بھی اتنی پسند نہیں تھی، مگر مولانا جب خود جلد بنوانے کے لیے کتاب لے کر گھر سے نکلتے تو اسی جلد ساز کو کتاب دے آتے۔ یہ ناکارہ اس سلسلے میں ان سے احتجاج کرتا تو فرماتے: بھائی خود لے جایا کرو اور جس سے چاہو جلد بنوا لو۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکے گا۔ یہ جلد ساز غریب آدمی ہے، میرے پڑوس میں ہے، اس کے پاس سے گزر کر جلد بندی کے لیے کتاب اٹھا کر لے آنا میرے بس میں نہیں۔
مولانا کے پاس معلوم نہیں کیا عمل تھا۔ حج کے لیے تشریف لے جاتے تو واپسی پر آپ کے بعض احباب اپنا ’’بارگراں‘‘ ان کے سپرد کر دیتے۔ مولانا مرحوم تھے کہ اپنی وضعداری میں خاموش رہتے۔ کراچی پہنچتے تو بڑے وقار و احترام سے کسٹم کے ملازم آپ کا سامان باہر لا کر رکھ دیتے۔ آفیسر حضرات تو گویا انھیں دیکھتے ہی ان کے گرویدہ ہو جاتے تھے۔ چائے پلاتے اور آپ کے سامان کو باہر بھجوانے کا انتظام کر
|