Maktaba Wahhabi

597 - 702
کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں پیش آیا اس سے بڑا اختلاف اس سے پہلے پیش آچکا تھا۔ اہل قبا کے مابین اس اختلاف کی بنا پر لڑائی ہوئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کی صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔ ٭ بدر کے موقع پرمسلمانوں کے مابین مال ِ غنیمت کے مسئلہ میں اختلاف پیدا ہوا۔مال جمع کرنے والوں نے کہا: یہ ہمارا حصہ ہے ۔ اور دشمن کا پیچھا کرنے والوں نے کہا:اس پر ہمارا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت پر مامور حضرات کہنے لگے : یہ ہمارا حق ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ﴿یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ﴾ [الأنفال۱] ’’آپ سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں ۔ آپ فرمادیجیے: یہ اموال اللہ اور اس کے رسو ل کے لیے ہیں ۔ پس تم لوگ اللہ سے ڈرتے رہو اور اپنے باہمی تعلقات درست رکھو۔‘‘ ٭ واقعہ افک کے متعلق انصار کے مابین اختلاف پیدا ہوگیا تھا۔قریب تھا کہ دوگروہ آپس میں لڑپڑتے؛ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو خاموش کرادیا ۔ یہ اختلاف ایک آدمی کے متعلق ہوا تھا کہ کیا اسے قتل کرنا جائز ہے یا ناجائز ۔ ٭ ایک بار انصار کے مابین ایک یہودی کی وجہ سے اختلاف پیدا ہوگیا جو کہ انہیں عہد جاہلیت کی ان جنگوں کی یاد دلارہا تھا جو کہ اوس و خزرج کے مابین واقع ہوئیں ۔ یہاں تک یہ دوگروہ آپس میں لڑ پڑے ؛ قریب تھا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگ جائیں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں : ﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ یَرُدُّوْکُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ کٰفِرِیْنَ o وَ کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ اٰیٰتُ اللّٰہِ وَ فِیْکُمْ رَسُوْلُہٗ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ہُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﴾ [آل عمران۱۰۰۔۱۰۱] ’’اے ایمان والو!اگر تم اہل کتاب کی کسی جماعت کی باتیں مانو گے تو وہ تمہارے ایمان لانے کے بعد مرتد و کافر بنا دیں گے۔(گویا یہ ظاہر ہے کہ) تم کیسے کفر کر سکتے ہو؟ باوجودیکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )موجود ہیں جو شخص اللہ کے دین کو مضبوط تھام لے تو بلاشبہ اسے راہ راست دکھا دی گئی۔‘‘ صحیح احادیث میں ثابت ہے کہ :صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک سفر میں تھے۔ان میں سے ایک مہاجر اور ایک انصاری آپس میں لڑ پڑے ۔ مہاجر نے آواز دی : اے مہاجرو! اور انصاری نے آوازلگائی : اے انصار۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم جاہلیت کی پکار پکارتے ہو اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں ؛ اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ نازیبا بات ہے ۔ ‘‘[1]
Flag Counter