|
بھی اسکے پاس کچھ نفع نہیں دے سکتی سوائے ان کے جن کے لئے اجازت ہو جائے۔
نیز ارشاد ہے:
﴿ذَلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْر،إِنْ تَدْعُوْھُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَاء کُمْ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَکُمْ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْکِکُمْ وَلَا یُنَبِّئُکَ مِثْلُ خَبِیْرٍ﴾[1]
یہی اللہ تمہارا رب ہے،اسی کی بادشاہت ہے،اور اس کے سوا جنھیں تم پکار رہے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں،اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریادرسی نہیں کریں گے،بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کر جائیں گے،اور آپ کو کوئی بھی اللہ تعالیٰ جیسا خبر دار خبر نہ دے گا۔
|