|
پہنچا کہ نساخ حضرات نے لؤلؤی کے نسخے میں دوسرے نسخوں کو بھی خلط ملط کر دیا ہے۔ چنانچہ نسخۂ لؤلؤی کو سامنے رکھ کر اس کی ایک ایک حدیث کا مختصر سنن ابی داود للمنذری سے مقابلہ کیا۔ جسے اس مختصر اور حافظ المزی کی تحفۃ الاشراف کے مطابق پایا اسے لؤلؤی کی روایت قرار دیا۔ خواہ وہ حدیث لؤلؤی کے علاوہ دوسرے نسخوں میں موجود ہے یا نہیں اور وہ حدیث جو بعض نسخوں میں موجود ہے۔ مگر وہ مختصر منذری رحمہ اللہ میں مذکور نہیں اور نہ ہی اس کا انتساب علامہ المزی رحمہ اللہ نے لؤلؤی کی طرف کیا ہے۔ بلکہ کہا ہے کہ ابن داستہ یا ابن العبد یا ابن الاعرابی کے نسخہ کی روایت ہے۔ جس سے قطعی طور پر معلوم ہو گیا کہ یہ لؤلؤی کی روایت نہیں ہے۔ میں نے شرح کے لیے گو نسخہ لؤلؤی کو منتخب کیا ہے۔ مگر مذکورہ نسخوں میں جو روایات اس سے زائد ہیں۔ انھیں بھی نہیں چھوڑا تاکہ فائدہ تام حاصل ہو۔ البتہ غیر لؤلؤی کی روایت کے تحت علامہ المزی رحمہ اللہ کی تحفۃ الاشراف کی مدد سے اشارہ کر دیا ہے کہ یہ فلاں نسخے کی روایت ہے، تاکہ نسخہ لؤلؤی اور دیگر نسخوں میں اختلاط واقع نہ ہو۔‘‘ (عون المعبود: ۴/۵۴۸، ۵۴۹)
متن کی تصحیح کے متعلق محدث ڈیانوی کی اس کاوش کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’باب السواک لمن قام باللیل‘‘ کے آخر میں جو روایت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اس کے متعلق لکھتے ہیں:
’’یہ روایت اکثر نسخوں میں موجود نہیں اور نہ ہی یہ مختصر منذری رحمہ اللہ اور علامہ خطابی رحمہ اللہ کی شرح ’’معالم السنن‘‘ کے نسخے میں ہے۔ البتہ یہ بعض مطبوعہ نسخوں میں موجود ہے۔ بعض میں تو اسی باب کے تحت اور بعض میں یہ ’’باب الرجل یستاک بسواک‘‘ کے تحت مذکور ہے اور
|