| بہت بڑا مدرسہ تھا جسے دہلی کے امیر ترین دو بھائی (شیخ عبدالرحمٰن اور عطاء الرحمٰن ) بڑی فراخ دلی کے ساتھ چلا رہے تھے۔ان کی طرف سے معقول مشاہرے پر حضرت مولانا کو وہاں کی صدر مدرسی کی پیشکش ہوئی لیکن مولانا نے یہ پیشکش قبول نہیں فرمائی۔ اسی طرح سعودی حکومت نے حرم شریف میں گرانقدر تنخواہ پر انھیں درس کے لیے دعوت دی، یہ دعوت بھی قبول نہیں کی۔ فرمایا قدر کفاف جو کچھ مجھے مل رہا ہے، میں اس پر خوش ہوں۔ نہایت متواضع، منکسر اور ملنسارتھے۔ علماءو طلبا ءسے بدرجہ غایت محبت رکھتے تھے۔ ہر طالب علم کی ذہنی اور علمی صلاحیت کا خیال رکھتے اور اس نہج سے بات کرتے جو وہ آسانی سے سمجھ سکتا۔ علماء و طلبا کے علاوہ غیر تعلیم یافتہ لوگوں سے رابطہ رکھتے۔ رشتے داروں اور غیر رشتے داروں سب سے حسن سلوک کا برتاؤ فرماتے۔ سب کی بات توجہ سے سنتے اور مشورہ لینے والوں کو مفید مشورہ دیتے۔ ان کا زیادہ تر وقت درس و تدریس، مطالعہ و تصنیف اور قرآن و حدیث کے مسائل پر غور و تدبرمیں صرف ہوتا یا عبادت اور ذکر الٰہی میں مشغول ہو جاتے۔ نرم کلام اور شیریں گفتار تھے۔ وقار و متانت کا پیکر اور رعب و جلال کے مالک۔لوگوں سے ملتے اور ان کی ضروری باتیں سنتے لیکن کسی کو ان کی مجلس میں کسی شخص کی غیبت کرنے یا کسی کے متعلق ناشائستہ الفاظ کہنے کی مجال نہ تھی۔ اگر کسی کی زبان سے اس قسم کا کوئی لفظ نکل جاتا تو سخت ناگواری کا اظہار کرتے۔ ان اوصاف و کمالات کی وجہ سے لوگ ان سے انتہائی متاثر تھے اور ان کے دلوں میں ان کی بے پناہ قدر تھی۔ گونڈہ، بستی اوردیگر مقامات کے بہت سے لوگ ان کے حلقہ بیعت میں شامل تھے۔ انھیں تجدو، فیشن اور یورپی تہذیب و ثقافت سے شدید نفرت تھی۔ طلبا اور عقیدت مندوں کو مغربی لباس اور طور طریق سے روکتے اور سادگی کا درس دیتے۔یہ اور اس قسم کی بہت سی باتیں مقدمہ تحفۃ الاحوذی میں مرقوم ہیں۔ جب مسند درس پربیٹھ جاتے تو دوران درس کوئی کتنا ہی بڑا آدمی آجاتا، اس کی طرف توجہ نہ فرماتے اور کسی کی پروا کیے بغیر تدریس کا سلسلہ جاری رکھتے۔ اختتام درس کے بعد اس کی طرف توجہ فرماتے اور اس سے بات چیت کرتے۔[1] زاہدانہ و غریبانہ زندگی 1955 ءمیں فیصل آباد سے مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف مرحوم کا ہفت روزہ ”المنیر“شائع ہوتا تھا، اس کے اگست 1955ءکے شمارے میں حضرت مولانا مبارک پوری کے اخلاق اور عادات واطوار |