| یعنی ’’اولیٰ سے مراد وہ اذان ہے جو نمازِ فجر کا وقت شروع ہونے پر دی جاتی ہے۔ یہ اقامت کے مقابلے میں پہلی اذان اور فجر سے پہلے دی جانے والی اذان کے مقابلے میں دوسری اذان ہے۔ یہاں اولیٰ (صیغہ مونث) یا تو اقامت کے مقابلے میں بولا گیا ہے یا مناداۃ یا دعوۃ ِتامہ کے مقابلے میں او ریہ بھی احتمال ہے کہ یہاں محذوف عبارت اس طرح ہو کہ جب موذن پہلی مرتبہ خاموش ہوجائے۔‘‘ [1] گویا’’الاولیٰ‘‘سے مراد وہ اذان ہے جو صبح کی نماز کے وقت کے داخل ہونے پر دی جاتی ہے۔ [2] اس کی دلیل صریح حدیث میں مذکور ہے جسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حدیث ِعائشہ رضی اللہ عنہ سے ذکرکیا اور جسے امام لیث مصری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے: عن عائشۃ قالت:صلی رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم العشاء ثم صلی ثمان رکعات ورکعتین جالسا، ورکعتیں بین ندائین ولم یکن یدعھما۔ وفی روایۃ اللیث: ثم یمہل حتی یوذن بالاولی من صلاۃ الصبح فیرکع رکعتین)) [3] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز (تہجد و تراویح) کے بعد دونوں اذانوں کے درمیان دو رکعت پڑھتے تھے (صبح سے پہلے کی سنت)‘‘ [4] |
| Book Name | فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ(جلد2) |
| Writer | حافظ ثناء اللہ مدنی |
| Publisher | مکتبہ انصار السنۃ النبویۃ ،لاہور |
| Publish Year | 2016 |
| Translator | |
| Volume | 2 |
| Number of Pages | 829 |
| Introduction |