Maktaba Wahhabi

107 - 107
عالم اور متعلّم کے آداب علم کا فائدہ اور ثمرہ یہ ہے کہ جو علم حاصل ہوا ہے ‘ اس کے مطابق عمل کیا جائے۔ جو انسان اپنے علم پر عمل نہ کرے تو یہ علم اس پر وبال ہوگا ، اور قیامت والے دن اس کے خلاف حجت ہوگا۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے : ((والقرآنُ حُجَّةٌ لك أو عليك ۔))[1] ’’اور قرآن یا تمہارے حجت ہے یا تم پر حجت ہے ۔‘‘ عالم اور متعلّم ان میں سے ہر ایک کے لیے آداب ہیں ۔ جن کی رعایت کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ ان میں سے بعض آداب ان دونوں کے درمیان مشترک ہیں ‘ اور بعض ہر ایک قسم کیلئے خاص ہیں ۔ مشترک آداب : (۱)… اخلاص نیت : ان میں مشترک ادب یہ ہے کہ عالم اور متعلّم دونوں کی نیت اللہ تعالیٰ کی قربت کا حصول ، اس کی شریعت کی حفاظت ، لوگوں میں اس کی نشرو اشاعت ‘ اور ان سے اور امت سے جہالت کا خاتمہ ہو۔ جس نے علم شرعی کے حصول سے دنیا کے کچھ مقاصد حاصل کرنے کی نیت کی ‘ اس نے اپنے آپ کو بہت بڑی سزا کے لیے پیش کیا ۔ حدیث نبوی میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((مَن تَعلَّمَ عِلْمًا ممّا يُبتَغى به وَجهُ اللّٰہِ عَزَّ وجَلَّ، لا يَتعَلَّمُه إلّا ليُصيبَ به عَرَضًا مِن الدُّنيا لم يَجِدْ عَرْفَ الجنَّةِ يَومَ
Flag Counter