Maktaba Wahhabi

870 - 829
شے اس وقت دین نہیں تھی، وہ آج بھی دین نہیں بن سکتی‘‘ امام شافعی فرماتے ہیں:’’جس نے بدعت کو اچھا سمجھا اُسنے نئی شریعت بنا لی‘‘(السنن والمبتدعات) رہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اَثر (فعل صحابی ) تو اس کا تعلق نمازِ جنازہ کے متصل بعد سے نہیں بلکہ اس کا تعلق دفن میت کے بعد سے ہے کیونکہ مصنف نے اس اثر پرجو عنوان قائم کیا ہے اور اس کے تحت مذکورہ جملہ آثار اسی بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس دعا کا تعلق تدفین میت کے بعد سے ہے ، عنوان کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے: ((...فی الدعاء للمیت بعد مایدفن ویسوی علیہ)) قبر پر مٹی برابر کرکے میت کے لئے دعا کرنے کا بیان۔ اور تدفین کے بعد میت کے لئے دعا کرنا ثابت شدہ امر ہے جس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبداللہ ذی نجا دین کی قبر پردیکھا، جب دفن سے فارغ ہوئے تو قبلہ رُخ ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔‘‘[1] تمام خیر سنت نبوی کی پیروی میں ہے ، اور بدعت میں شر ہی شر ہے ۔اللہ ربّ العزت جملہ مسلمانوں کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین! نمازِ جنازہ کے بعد میت کے پاس اکٹھے ہو کر دعا کرنا: سوال: نمازِ جنازہ کے بعد جمع ہو کر دعا کرنے کا کیا حکم ہے؟ جواب: کتاب وسنت سے ثابت نہیں لہٰذا بدعت ہے۔ قبر پر قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا: سوال: کیا دعا قبر کی بجائے قبلہ کی طرف منہ کرکے کرنی چاہیے؟ جواب: اصل یہی ہے کہ دعا کے وقت قبروں کی طرف متوجہ نہ ہوا جائے، بلکہ قبلہ رو کھڑے ہو کر دعا کی جائے۔ اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کی طرف متوجہ ہو کر نماز سے منع فرمایا ہے اور دعا ہی نماز کا لب لباب ہے۔ لہٰذا دعا بھی قبلہ رُخ ہو کر کی جائے۔ اس بناء پر علماء محققین کا یہ فیصلہ ہے کہ دعا کے وقت بھی اس جانب متوجہ ہونا مستحب ہے جس جانب کہ نماز ادا کی جاتی ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ! اقتضاء الصراط المستقیم۔
Flag Counter