Maktaba Wahhabi

338 - 559
نکاح کے لیے ایجاب و قبول سوال: سسرال کے اصرار پر لڑکی کے نکاح کا ایجاب و قبول بذریعہ فون ہوا تاکہ بیرون ملک جانے کے لیے سفری دستاویزات تیار کی جا سکیں، لیکن ابھی نکاح فارم پر لڑکے کے دستخط نہیں ہوئے تھے کہ باہمی اختلاف ہو گیا، کیا اس طرح نکاح ہو جاتا ہے؟ اگر ہو جاتا ہے تو خلاصی کی کیا صورت ہو گی؟ جواب: نکاح کی بنیادی شرط تو ایجاب و قبول ہے، اس کے علاوہ کچھ شرائط حسب ذیل ہیں: ٭ ولی کی اجازت ٭ گواہوں کی موجودگی ٭ حق مہر کا ہونا اگر مجلس نکاح میں ایجاب و قبول ہو چکا ہے، اگرچہ فون پر ہی ہو اس سے نکاح مکمل ہو چکا ہے۔نکاح فارم پر لڑکے کے دستخط ایک قانونی تقاضا ہے جسے پورا کیا جاتا ہے، اگر دستخط ہونے سے پہلے باہمی اختلاف ہو جاتا ہے تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، شرعی طور پر یہ دونوں اب میاں بیوی بن چکے ہیں۔ اب خلاصی کی دو صورتیں حسب ذیل ہیں: ٭ لڑکے سے طلاق لی جائے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’طلاق کا حق اسی کو ہے جو پنڈلی کو پکڑتا ہے۔‘‘ (پنڈلی پکڑنے کو بطور کنایہ استعمال کیا گیا ہے، اس سے مراد خاوند ہے۔ خاوند سے طلاق لے کر ہی خلاصی ممکن ہے۔)[1] ٭ اگر لڑکا طلاق نہیں دیتا تو خلاصی کی دوسری صورت خلع ہے، جس کی دو صورتیں ہیں: ۱۔ میاں بیوی رضامندی سے خلع پر اتفاق کر لیں اور بیوی نے اگر حق مہر وصول کر لیا ہے تو وہ خاوند کو واپس کر دے۔ ۲۔ اگر باہمی رضامندی سے خلع پر اتفاق نہیں ہوتا تو عدالت کے ذریعے خلع لیا جائے، لڑکی کی طرف سے فیملی کورٹ میں خلع کے لیے درخواست دی جائے۔ پھر جس تاریخ کو فیصلہ ہو تو اسے شرعی خلع تصور کیا جائے گا اور لڑکی آزاد ہو جائے گی۔ اس لیے گواہوں کی موجودگی میں لڑکی کا یہ کہہ دیناکافی نہیں کہ ’’میں نے تم سے خلع لے لیا۔‘‘ بہرحال ایسے معاملات سنجیدگی کے ساتھ سرانجام دئیے جائیں، اسے کھیل اور تماشہ نہ بنایا جائے۔ میسج کے ذریعے طلاق سوال: میرے خاوند نے مجھے sms کے ذریعے طلاق دی ہے، کیا شرعی طور پر اس طلاق کا اعتبار کیا جائے گا، جبکہ اس نے زبانی طور پر مجھے کچھ نہیں کہا۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت کریں۔ جواب: عقد نکاح کے بعد طلاق دینا خاوند کا حق ہے، وہ بوقت ضرورت جب چاہے اسے استعمال کر سکتا ہے، اسے زبانی طور پر ہی نہیں بلکہ تحریری طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’طلاق صرف اس کا حق ہے جس نے پنڈلی کو تھام رکھا ہے۔‘‘[2]
Flag Counter