Maktaba Wahhabi

1082 - 2029
دکان داری کے کاروبار میں منافع کی شرح کس حد تک جائز ہے؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ دکان داری کے کاروبار میں منافع کی شرح کس حد تک جائز ہے؟ پانچ فی صد یا بیس(۲۰)فی صد؟ اس کے بارے وضاحت فرمائیں؟   (محمد ارشد)  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! شریعت میں کوئی نفع جائز و حلال ہے اور کوئی نفع ناجائز و حرام ہے۔ جو نفع جائز و حلال ہے وہ جائز و حلال ہے خواہ تھوڑا ہو خواہ زیادہ اور جو نفع ناجائز و حرام ہے وہ ناجائز و حرام ہے خواہ تھوڑا ہو خواہ زیادہ ۔ واللہ اعلم [نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مدینہ میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے تو لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول!  صلی اللہ علیہ وسلم نرخ بہت بڑھنے لگے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے قیمتوں پر کنٹرول کریں تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا ًاللہ تعالیٰ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے وہی مہنگا کرنے والا ہے وہی سستا کرنے والا ہے اور وہی رزق دینے والا ہے میں اس بات کا اُمید وار ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملوں کہ کوئی شخص مجھ سے خون یا مال میں ظلم کی بنا ء پر مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔1 رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر زیادتی کرتا ہے نہ اسے ( دشمن کے) سپرد کرتا ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرے۔ اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرتا ہے۔‘‘2]   ۴/۸/۱۴۲۱ھ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ابو داؤد/کتاب الاجارۃ/باب التسعیر۔ ابن ماجہ/کتاب التجارات/باب من کرہ ان یسعر۔ ترمذی /کتاب البیوع/باب ما جاء فی التسعیر۔ 2        صحیح بخاری/کتاب المظالم/باب لا یظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ۔ صحیح مسلم/کتاب البرو والصلۃ/باب تحریم الظلم۔   قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل جلد 02 ص 551
Flag Counter