Maktaba Wahhabi

4782 - 7563
صحیح بخاری كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں باب: آیت (( ادعوھم لابائھم الایۃ )) کی تفسیر 4782
مرفوع متصل تقریری صحيح
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبد العزیز بن مختار نے بیان کیا ، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کئے ہوئے غلام زید بن حارثہ کو ہم ہمیشہ زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے تھے ، یہاں تک کہ قرآن کریم میں آیت نازل ہوئی کہ انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کرو کہ یہی اللہ کے نزدیک سچی اور ٹھیک بات ہے ۔ “
تشریح : اسلام کے قانون میں لےپالک لڑکے لڑکی کا کوئی وزن نہیں ہے اس کو اولاد حقیقی جیسے حقوق نہیں ملیں گے۔
اسلام کے قانون میں لےپالک لڑکے لڑکی کا کوئی وزن نہیں ہے اس کو اولاد حقیقی جیسے حقوق نہیں ملیں گے۔
Flag Counter