Maktaba Wahhabi

آیت نمبرترجمہسورہ نام
1 یعنی میں اللہ تعالیٰ کے ہر نام سے ابتدا کرتا ہوں کیونکہ لفظ ” اسم“ مفرد اور مضاف ہے جو تمام اسمائے حسنی کو شامل ہے۔ ﴿اللّٰہ﴾ وہ ذات ہے جو بندگی کے قابل اور معبود ہے، وہ اکیلا ہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ الوہیت کی صفات سے متصف ہے اور وہ صفات کمال ہیں۔ ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾ دو نام ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بے پایاں اور عظیم رحمت کا مالک ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ہر زندہ چیز کے لئے عام ہے اور اللہ تعالیٰ نے اصحاب تقویٰ اور اپنے انبیاء و رسل کے پیروکاروں کے لئے اس رحمت کو لازم کردیا ہے۔ پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے رحمت مطلقہ ہے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کے لیے اس کی رحمت میں سے کچھ حصہ ہے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور احکام صفات پر ایمان لانا ایمانیات کے ان قواعد میں شمار ہوتا ہے جن پر تمام سلف اور ائمہ امت متفق ہیں، مثلاً وہ ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رحمٰن ہے، رحیم ہے اور رحمت کا مالک ہے جس سے وہ متصف ہے اور اس کا تعلق ان لوگوں سے ہے جن پر رحم کیا جاتا ہے۔ پس تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں اور یہی اصول تمام اسمائے حسنیٰ میں جاری ہے جیسے (الْعَلِيمُ) کے بارے میں کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ علیم اور صاحب علم ہےاور اس علم کے ذریعے سے ہر چیز کو جانتا ہے۔ وہ (قَدِیْر) یعنی صاحب قدرت ہے، ہر چیز پر قادر ہے۔ الفاتحة
2 ﴿الْحَمْدُ لِلَّـهِ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کے ان افعال کی ثنا ہے جو فضل و عدل کے درمیان دائر ہیں۔ پس ہر پہلو سے کامل حمد کا مالک وہی ہے۔ ﴿رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ ” جہانوں کا پروردگار ہے۔“ (رَبِّ) وہ ہستی ہے جو تمام جہانوں کی مربی ہے۔ (اَلْعَالَمِينَ) سے مراد اللہ تعالیٰ کے سوا تمام مخلوق ہے۔ اس نے ان کو پیدا کیا، ان کے لئے ان کی زندگی کا سروسامان مہیا کیا اور پھر انہیں اپنی ان عظیم نعمتوں سے نوازا کہ اگر وہ نہ ہوتیں تو ان کے لئے زندہ رہنا ممکن نہ ہوتا۔ پس مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے۔ مخلوق کے لئے اللہ تعالیٰ کی تربیت (پرورش کرنے) کی دو قسمیں ہیں۔ (١) تربیت عامہ (2) تربیت خاصہ۔ تربیت عامہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا کیا، ان کو رزق بہم پہنچایا اور ان مفادات و مصالح کی طرف ان کی راہ نمائی کی جن میں ان کی دنیاوی زندگی کی بقا ہے۔ تربیت خاصہ وہ تربیت ہے جو اس کے اولیا کے لئے مخصوص ہے پس وہ ایمان کے ذریعے سے ان کی تربیت کرتا ہے، انہیں ایمان کی توفیق سے نوازتا اور ان کی تکمیل کرتا ہے وہ ان سے ان تمام امور کو دور کرتا ہے جو راہ حق پر چلنے سے انہیں باز رکھتے ہیں اور ان تمام رکاوٹوں کو ہٹاتا ہے جو ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حائل ہوتی ہیں۔ تربیت خاصہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس سے ہر بھلائی کی توفیق ملتی اور ہر برائی سے حفاظت نصیب ہوتی ہے۔ شاید یہی معنی انبیائے کرام علیہ السلام کی دعاؤں کا سرنہاں ہے کہ ان میں اکثر ” رب“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ انبیائے کرام کی فریادیں تمام کی تمام اللہ تعالیٰ کی ربوبیت خاصہ کے تحت آتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿رَبُّ العٰلَمِیْنَ﴾ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمام مخلوق کو تخلیق کیا ہے۔ وہ اکیلا ہی ان کی تدبیر کرتا ہے اور اسے کمال بے نیازی حاصل ہے اور تمام عالم ہر پہلو اور ہر اعتبار سے اس کا محتاج ہے۔ الفاتحة
3 ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾ دو نام ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بے پایاں اور عظیم رحمت کا مالک ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ہر زندہ چیز کے لئے عام ہے اور اللہ تعالیٰ نے اصحاب تقویٰ اور اپنے انبیاء و رسل کے پیروکاروں کے لئے اس رحمت کو لازم کردیا ہے۔ پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے رحمت مطلقہ ہے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کے لیے اس کی رحمت میں سے کچھ حصہ ہے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور احکام صفات پر ایمان لانا ایمانیات کے ان قواعد میں شمار ہوتا ہے جن پر تمام سلف اور ائمہ امت متفق ہیں، مثلاً وہ ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رحمٰن ہے، رحیم ہے اور رحمت کا مالک ہے جس سے وہ متصف ہے اور اس کا تعلق ان لوگوں سے ہے جن پر رحم کیا جاتا ہے۔ پس تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں اور یہی اصول تمام اسمائے حسنیٰ میں جاری ہے جیسے (الْعَلِيمُ) کے بارے میں کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ علیم اور صاحب علم ہےاور اس علم کے ذریعے سے ہر چیز کو جانتا ہے۔ وہ (قَدِیْر) یعنی صاحب قدرت ہے، ہر چیز پر قادر ہے۔ الفاتحة
4 ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ ” وہ جزا کے دن کا مالک ہے“ (اَلْمَالِک) وہ ہستی ہے جو ملک کی صفت سے متصف ہو۔ جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ ہستی حکم دیتی ہے اور روکتی ہے، نیکی پر ثواب عطا کرتی ہے اور گناہوں پر سزا دیتی ہے، وہ اپنی مملوکات میں ہر قسم کا تصرف کرتی ہے اور اس کی ملکیت کی اقسام میں سے ایک جزا کا دن بھی ہے اور وہ قیامت کا دن ہے۔ جس دن لوگوں کو ان کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس لئے اس روز اللہ تعالیٰ کی ملکیت کاملہ اور اس کا عدل اور حکمت مخلوق پر بالکل ظاہر ہوجائے گی اور یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ مخلوق کے اختیارات میں کچھ نہیں ہے، حتی کہ اس دن بادشاہ اور رعایا، غلام اور آزاد سب برابر ہوں گے۔ اس روز تمام مخلوق اس کی عظمت و عزت کے سامنے سرنگوں اور سرافگندہ ہوگی۔ تمام لوگ اس کی جزا و سزا کے فیصلے کے منتظر ہوں گے، اس کے ثواب کے امیدوار اور اس کی سزا سے خائف ہوں گے۔ اسی بنا پر اس نے خاص طور پر اس دن کی ملکیت کا ذکر کیا ہے ورنہ قیامت کے دن اور دیگر دنوں کا وہی مالک ہے۔ الفاتحة
5 ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ ” ہم تیری ہی عبادت کرتے اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں“ یعنی تجھ اکیلے ہی کو ہم عبادت اور استعانت کے لئے مخصوص کرتے ہیں کیونکہ (نحوی قاعدے کے مطابق) معمول کا اپنے عامل سے پہلے آنا حصر کے معنی پیدا کرتا ہے اور حصر سے مراد صرف مذکور کے لئے حکم کا اثبات اور اس کے سوا کسی اور کے لئے اس حکم کی نفی کرنا ہے۔ گویا بندہ کہتا ہے : ” ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تیرے سوا کسی سے مدد کے طلب گار نہیں ہوتے۔ “ عبادت کو استعانت پر مقدم کرنا عام کو خاص پر مقدم کرنے کی نوع میں سے ہے نیز اللہ تعالیٰ کے حق کو گندے کے حق کو بندے کے حق پر مقدم کرنے کا اہتمام ہے۔” عبادت“ ایک ایسا اسم ہے جو ان تمام ظاہری اور باطنی اعمال و اقوال کا جامع ہے جن کو اللہ پسند کرتا ہے اور جن سے وہ راضی ہوتا ہے۔ (اِسْتِعَانَۃ) کا مطلب، جلب منفعت اور دفع ضرر کے حصول میں پورے وثوق کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ کرنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے قیام، منافع کے حصول اور نقصان کے ازالے میں صرف اسی سے مدد کا طلبگار ہونا ابدی سعادت کا وسیلہ اور تمام برائیوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ پس نجات کا راستہ یہی ہے کہ عبادت بھی صرف ایک اللہ کی کی جائے اور مدد بھی صرف اسی سے مانگی جائے۔ اور عبادت اس وقت تک عبادت نہیں جب تک کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاصل نہ کیا گیا ہو اور اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا نہ ہو۔ ان دو امور کے وجود سے عبادت متحقق ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ” استعانت“ کو ” عبادت“ کے بعد ذکر کیا ہے حالانکہ استعانت عبادت میں داخل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بندہ اپنی تمام عبادات میں اللہ تعالیٰ کی مدد کا محتاج ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد نہ فرمائے تو بندہ اللہ تعالیٰ کے او امر پر عمل اور اس کی منہیات سے اجتناب نہیں کرسکتا۔ الفاتحة
6 پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ یعنی سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی فرما اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق سے ہمیں نواز۔ (صراط مستقیم) سے مراد وہ واضح راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔ یہ معرفت حق اور اس پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے۔ پس اس راستے کی طرف راہ نمائی فرما اور اس راستے میں ہمیں اپنی راہ نمائی سے نواز۔ صرف مستقیم کی طرف راہنمائی کا مطلب، دین اسلام کو اختیار کرنا اور اسلام کے سوا دیگر تمام ادیان کا ترک کردینا ہے اور صراط مستقیم میں راہنمائی سے نوازنے کے معنی یہ ہیں کہ تمام دینی معاملات میں علم و عمل کے اعتبار سے ہماری صحیح اور مکمل راہنمائی فرما، لہٰذا یہ دعا سب سے زیادہ جامع اور بندہ مومن کے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ بنابریں انسان پر واجب ہے کہ وہ اپنی نماز کی ہر رکعت میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کیونکہ وہ اس کا ضرورت مند ہے۔ یہ صراط مستقیم نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کا راستہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا یہ ﴿الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ﴾ لوگوں کا راستہ نہیں جن پر غضب نازل ہوا، جنہوں نے حق کو پہچان کر بھی اسے ترک کردیا مثلاً یہود وغیرہ۔ اور نہ یہ ﴿الضَّالِّينَ ﴾ یعنی گمراہ لوگوں کا راستہ ہے جنہوں نے نصاریٰ کی مانند حق کو ترک کر کے جہالت اور گمراہی کو اختیار کیا۔ پس یہ سورت اپنے ایجاز و اختصار کے باوجود ایسے مضامین پر مشتمل ہے جو قرآن مجید کی کسی اور سورت میں نہیں پائے جاتے۔ سورۃ فاتحہ توحید کی اقسام ثلاثہ کو متضمن ہے۔ ١۔ توحید ربوبیت : اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ سے ماخوذ ہے۔ 2۔ توحید الوہیت : یعنی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق سمجھنا۔ لفظ ” اللہ“ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ سے ماخوذ ہے۔ ٣۔ توحید اسماء و صفات : توحید اسماء و صفات سے مراد ہے کہ بغیر کسی تعطیل، تمثیل اور تشبیہ کے اللہ تعالیٰ کے لئے ان صفات کمال کا اثبات کرنا جن کو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت کیا ہے اور اس پر لفظ (الحمد) دلالت کرتا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ اثبات نبوت کو متضمن ہے کیونکہ سیدھے راستے کی طرف راہنمائی نبوت و رسالت کے بغیر ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ سے اعمال کی جزا و سزا ثابت ہوتی ہے نیز یہ جزا اور سزا عدل و انصاف سے ہوگی کیونکہ ” دین“ کے معنی ہیں عدل کے ساتھ بدلہ دینا۔ اور سورۃ فاتحہ تقدیر کے اثبات کو بھی متضمن ہے نیز اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ بندہ ہی درحقیقت فاعل ہے۔ قدر یہ اور جبر یہ کے نظریات کے برعکس، بلکہ ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ تمام اہل بدعت و ضلالت کی تردید کو متضمن ہے، کیونکہ صراط مستقیم سے مراد حق کی معرفت اور اس پر عمل پیرا ہونا ہے اور بدعتی اور گمراہ شخص ہمیشہ حق کا مخالف ہوتا ہے۔ ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾اس بات کو متضمن ہے کہ دین کو اللہ کے لئے خالص رکھا جائے، چاہے اس کا تعلق عبادات سے ہو یا استغانت سے۔ فالحمد للّٰہ رب العالمین الفاتحة
7 الفاتحة
0 بسم اللہ کی تفسیر گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ البقرة
1 بعض سورتوں کی ابتدا میں جو حروف مقطعات آئے ہیں ان کے بارے میں محتاط اور محفوظ مسلک یہ ہے کہ بغیر کسی شرعی دلیل کے ان کے معانی معلوم کرنے کے لئے تعرض نہ کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ عقیدہ بھی رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے حروف مقطعات کو بے فائدہ نازل نہیں فرمایا بلکہ ان کے نازل کرنے میں کوئی حکمت پنہاں ہے جو ہمارے علم کی دسترس سے باہر ہے۔ البقرة
2 ﴿ذٰلِكَ الْكِتَابُ﴾ یعنی یہ کتاب عظیم ہی درحقیقت کتاب کہلانے کی مستحق ہے جو بہت بڑے علم اور واضح حق جیسے امور پر مشتمل ہے جو پہلے انبیاء کی کتابوں میں نہیں ہیں۔ ﴿لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ﴾ یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی شک نہیں۔ اس کتاب عظیم کے بارے میں شک و شبہ کی نفی اس کی ضد کو مستلزم ہے، جبکہ شک و شبہ کی ضدیقین ہے۔ پس یہ کتاب ایسے علم یقینی پر مشتمل ہے جو شکوک و شبہات کو زائل کرنے والا ہے یہ ایک نہایت مفید قاعدہ ہے کہ نفی سے مقصود مدح ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ یہ اس کی ضد کو متضمن ہو اور وہ ہے کمال۔ کیونکہ نفی عدم محض ہوتی ہے اور عدم محض میں کوئی مدح نہیں ہے۔ جب یہ کتاب عظیم یقین پر مشتمل ہے اور ہدایت صرف یقین ہی کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے تو فرمایا : ﴿هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ﴾ ” متقیوں کے لئے ہدایت ہے۔“ (اَلْهُدٰي) وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے گمراہی اور شبہات کی تاریکی میں راہ نمائی حاصل ہو اور جو فائدہ مند راستوں پر گامزن ہونے میں راہنمائی کرے اور اللہ تعالیٰ نے لفظ ﴿ هُدًى ﴾ استعمال کیا ہے اور اس میں معمول کو حذف کردیا گیا ہے اور یہ نہیں کہا کہ فلاں مصلحت اور فلاں چیز کی طرف راہنمائی (ہدایت) ہے۔ کیونکہ اس سے عموم مراد ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کتاب دنیا و آخرت کے تمام مصالح کی طرف راہنمائی ہے، لہٰذا یہ تمام اصولی اور فروعی مسائل میں بندوں کی راہنما ہے، باطل میں سے حق کو اور ضعیف میں سے صحیح کو واضح کرتی ہے، نیز بندوں کے سامنے بیان کرتی ہے کہ دنیا و آخرت کے لئے فائدہ مند راستوں پر انہیں کیسے چلنا چاہئے۔ ایک دوسرے مقام پر ﴿هُدًي لِّلنَّاسِ﴾ (البقرہ : 2؍581) ” تمام لوگوں کے لئے ہدایت ہے“ فرما کر اس کو عام کردیا۔ اس مقام پر اور بعض دیگر مقامات پر فرمایا : ﴿هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ﴾ کیونکہ یہ فی نفسہ تمام لوگوں کے لئے ہدایت ہے، لیکن چونکہ بدبخت لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی قبول نہیں کرتے، اس لئے اس کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوگئی ہے کہ انہوں نے اپنی بدبختی کے سبب سے اس ہدایت سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ رہے متقی لوگ تو انہوں نے حصول ہدایت کے لئے سب سے بڑا سبب پیش کیا ہے اور وہ ہے تقویٰ اور تقویٰ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اطاعت اور اس کی منہیات سے اجتناب کرتے ہوئے ایسے امور کو اختیار کرنا جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچاتے ہیں۔ پس اہل تقویٰ نے اس کتاب کے ذریعے سے راہ پائی اور اس سے بے انتہا فائدہ اٹھایا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّـهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا﴾ (الانفال ٨؍٩2) ” اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے ایک کسوٹی بہم پہنچا دے گا۔“ پس اصحاب تقویٰ ہی آیات قرآنیہ (احکام الٰہیہ) اور آیات کونیہ (قدرت کی نشانیوں) سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس لئے کہ ہدایت کی دو قسمیں ہیں : (١) ہدایت بیان (2) ہدایت توفیق۔ متقی لوگ ہدایت کی دونوں اقسام سے بہرہ مند ہوتے ہیں ان کے علاوہ دیگر لوگ ہدایت توفیق سے محروم رہتے ہیں اور ہدایت بیان، توفیق عمل کی ہدایت کے بغیر، حقیقی اور کامل ہدایت نہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اصحاب تقویٰ کے عقائد، اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ کا بیان فرمایا ہے، کیونکہ تقویٰ ان امور کو متضمن ہے۔ البقرة
3 فرمایا : ﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ﴾ ” وہ لوگ جو غیب کی باتوں پر یقین رکھتے ہیں“ حقیقتِ ایمان ان امور کی کامل تصدیق کا نام ہے جن کی خبر انبیاء و رسل نے دی ہے یہ تصدیق جو ارح کی اطاعت کو متضمن ہے۔ اشیاء کے حسی مشاہدہ سے ایمان کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ اس کے ذریعے سے مسلمان اور کافر کے درمیان امتیاز نہیں کیا جاسکتا۔ ایمان کا تعلق تو اس غیب سے ہے جسے ہم دیکھ سکتے ہیں نہ اس کا مشاہدہ ہی کرسکتے ہیں۔ محض اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خبر دینے سے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یہی وہ ایمان ہے جس کے ذریعے سے مسلمان اور کافر کے درمیان امتیاز کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ایمان مجرد اللہ اور اس کے انبیاء و مرسلین کی تصدیق ہے۔ پس مومن وہ ہے جو ہر اس چیز پر ایمان لاتا ہے جس کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے خبر دی ہے خواہ اس نے اس چیز کا مشاہدہ کیا ہو یا نہ کیا ہو خواہ اس نے اسے سمجھا ہو یا اس کی عقل و فہم کی رسائی وہاں تک نہ ہوسکی ہے۔ زنا دقہ اور امور غیب کی تکذیب کرنے والوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ ان کی عقل ان امور کو سمجھنے سے قاصر رہی اور وہ ان امور تک نہ پہنچ سکے بنا بریں انہوں نے ان امور کو جھٹلا دیا جن کا احاطہ ان کا علم نہ کرسکا۔ پس ان کی عقل فاسد ہوگئی اور ان کا فہم خرابی کا شکار ہوگیا اور امور غیب کی تصدیق کرنے والے اہل ایمان کی عقل اور بڑھ گئی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو راہنما بنا لیا۔ ایمان بالغیب سے مراد ان تمام امور غیب پر ایمان لانا ہے جن کا تعلق ماضی، مستقبل، احول آخرت، اللہ تعالیٰ کی صفات اور انکی کیفیات سے ہے اور جن کی خبر اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء و مرسلین نے دی ہے۔ پس اہل ایمان نہایت یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفات اور ان کے وجود پر ایمان رکھتے ہیں اگرچہ وہ ان کی کیفیت کو سمجھنے سے قاصر رہیں۔ ﴿وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ﴾ ” اور وہ نماز کو قائم کرتے ہیں۔“ یہ نہیں کہا کہ وہ نماز کا فعل بجا لاتے ہیں یا وہ نماز کو ادا کرتے ہیں کیونکہ ظاہری صورت وہیئت کے ساتھ نماز پڑھنا ہی کافی نہیں بلکہ اقامت صلوٰۃ یہ ہے کہ نماز کو جہاں ظاہری شکل و صورت، اس کے تمام ارکان کی کامل ادائیگی اور اس کی شرائط و واجبات کے ساتھ قائم کیا جائے، وہاں اس کو باطنی اعتبار سے اس کی روح کے ساتھ، یعنی اس کے اندر حضور قلب اور اپنے قول و فعل کا میں کامل تدبر کے ساتھ قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ یہی وہ نماز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾ (العنکبوت 29؍35) ” بے شک نماز فحش کاموں اور برائیوں سے روکتی ہے۔“ اور یہی وہ نماز ہے جس پر ثواب مرتب ہوتا ہے۔ پس بندہ مومن کو اس کی صرف اسی نماز کا ثواب ملتا ہے جسے وہ سمجھ کر ادا کرتا ہے اور نماز میں فرائض اور نوافل سب داخل ہیں۔ ﴿وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾ ” اور ان میں سے جو ہم نے ان کو دیا، وہ خرچ کرتے ہیں“ اس میں تمام نفقات واجبہ مثلاً زکوٰۃ، بیویوں کا نان و نفقہ، قریبی رشتہ داروں اور اپنے غلاموں پر خرچ کرنا بھی شامل ہے اور بھلائی کے تمام کاموں میں نفقات مستحبہ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ جن لوگوں پر خرچ کیا جانا چاہئے ان کا یہاں ذکر نہیں کیا کیونکہ اس کے اسباب اور ایسے لوگوں کی اقسام بہت زیادہ ہیں نیز خرچ جہاں کہیں بھی کیا جائے تقرب الٰہی کا ذریعہ ہوگا۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ ﴾ میں (من) تبعیض کے لئے ہے اور یہ بات کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہے کہ ان کے رزق اور اموال میں سے تھوڑا سا حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا مقصود ہے جس کا خرچ کرنا ان کے لئے نقصان دہ اور گراں نہ ہو بلکہ اس اتفاق سے خود انہیں اور ان کے بھائیوں کو فائدہ پہنچے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ رَزَقْنَاهُمْ ﴾میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ مال و متاع جو تمہارے قبضے میں ہے تمہیں تمہاری اپنی قوت اور ملکیت کے بل بوتے پر حاصل نہیں ہوا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا رزق ہے۔ اسی نے تم کو عطا کیا ہے اور اسی نے تم کو اس نعمت سے نوازا ہے۔ پس جس طرح اس نے تمہیں اور بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے اور اس نے تمہیں اپنے بہت سے بندوں پر فضیلت عطا کی، تو تم بھی اللہ کا شکر ادا کرو اور ان نعمتوں کا کچھ حصہ اپنے مفلس اور نادار بھائیوں پر خرچ کر کے ان کی مدد کرو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اکثر مقامات پر نماز اور زکوٰۃ کو اکٹھا ذکر کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز معبود کے لئے اخلاص کو متضمن ہے اور زکوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو متضمن ہے۔ پس بندہ مومن کی سعادت کا عنوان یہ ہے کہ اس کا اخلاص معبود کے لئے ہو اور اس کی تمام تر کاوش مخلوق کو نفع پہنچانے کے لئے ہو، جیسے بندے کی بدبختی اور شقاوت کا عنوان یہ ہے کہ وہ ان دونوں چیزوں سے محروم ہو اس کے پاس اخلاص ہو نہ حسن سلوک۔ البقرة
4 ﴿وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ﴾” اور وہ لوگ جو یقین رکھتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا“ اس سے مراد قرآن اور سنت ہے اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا : ﴿وَأَنزَلَ اللَّـهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ﴾ (النساء :113؍3) ” اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت (یعنی سنت) نازل کی۔“ پس اصحاب تقویٰ ان تمام چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسم) لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی میں تفریق نہیں کرتے کہ اس کے کسی حصے پر تو ایمان لے آئیں اور کسی حصے پر اپنے انکار یا ایسی تاویل کے ذریعے سے جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہ ہو، ایمان نہ لائیں۔ جیسا کہ اہل بدعت کا وتیرہ ہے جو قرآن و سنت کی ان نصوص کی تاویل کرتے ہیں جو ان کے قول کے خلاف ہوتی ہیں جو کہ درحقیقت ان نصوص کے معانی کی تصدیق نہیں ہے۔ وہ اگرچہ ان نصوص کے ظاہری الفاظ کی تصدیق کرتے ہیں مگر ان پر حقیقی طور پر ایمان نہیں لاتے۔ ﴿وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ﴾” اور اس پر جو آپ سے پہلے اتارا گیا“ یہ آیت کریمہ گزشتہ تمام کتابوں پر ایمان رکھنے پر مشتمل ہے اور گزشتہ کتابوں پر ایمان لانا اس بات کو متضمن ہے کہ انبیائے سابقین پر ایمان لایا جائے۔ نیز ان حقائق پر ایمان لایا جائے جن پر یہ الہامی کتابیں خاص طور پر تورات، انجیل اور زبور مشتمل ہیں۔ یہ اہل ایمان کی خصوصیت ہے کہ وہ تمام کتب سماویہ اور تمام انبیاء و مرسلین پر ایمان لاتے ہیں ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ ﴿وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ﴾” اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔“ آخرت ان تمام امور کا نام ہے جو مرنے کے بعد انسان کو پیش آئیں گے۔ عمومی ایمان کے ذکر کے بعد آخرت پر ایمان کو خاص طور پر ذکر کیا ہے، کیونکہ آخرت پر ایمان لانا ارکان ایمان میں سے ایک اہم رکن ہے، نیز آخرت پر ایمان رغبت، خوف اور اعمال صالحہ کا باعث ہے۔ اور (یقین) ایسے علم کامل کو کہتے ہیں جس میں ادنیٰ سا بھی شک نہ ہو۔ یقین عمل کا موجب ہوتا ہے۔ البقرة
5 ﴿أُولَـٰئِكَ﴾یعنی وہ لوگ جو ان صفات حمیدہ سے متصف ہیں۔ ﴿ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ﴾ اپنے رب کی طرف سے عظیم ہدایت پر ہیں، کیونکہ یہاں﴿هُدًى﴾ کا نکرہ استعمال ہونا اس کی تعظیم کی بنا پر ہے اور کون سی ہدایت ایسی ہے جو صفات مذکورہ سے عظیم تر ہو جو صحیح عقیدے اور درست اعمال کو متضمن ہیں؟ ہدایت تو درحقیقت وہی ہے جس پر اہل ایمان عمل پیرا ہیں اس کے علاوہ دیگر تمام مخالف راستے گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔ اس مقام پر (علی) کا صلہ استعمال کیا گیا ہے جو بلندی اور غلبے پر دلالت کرتا ہے اور ” ضلالت“ کا ذکر کرتے ہوئے (فی) کا صلہ استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ﴿وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾ (سبا :37؍37) ” ہم یا تم یا تو سیدھے راستے پر ہیں یا صریح گمراہی میں“ کیونکہ صاحب ہدایت بر بنائے ہدایت بلند اور غالب ہوتا ہے اور صاحب ضلالت اپنی گمراہی میں ڈوبا ہوا اور نہایت حقیر ہے۔ ﴿وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾” اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے“ (فلاح) اپنے مطلوب کے حصول میں کامیابی اور خوف سے نجات کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فلاح کو اہل ایمان میں محصور اور محدود کردیا کیونکہ اہل ایمان کے راستے پر گامزن ہوئے بغیر فلاح کی منزل کو نہیں پایا جاسکتا۔ اس راستے کے سوا دیگر راستے بدبختی، ہلاکت اور خسارے کے راستے ہیں جو اپنے چلنے والوں کو ہلاکت کے گڑھوں میں جا گراتے ہیں۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے جہاں اہل ایمان کی حقیقی صفات بیان فرمائی ہیں وہاں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عناد رکھنے والے کھلے کافروں کی صفات کا ذکر بھی کردیا۔ البقرة
6 اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا یعنی کفر کی صفات سے متصف ہوئے اور کفر کے رنگ میں اس طرح رنگ گئے کہ کفر ان کا وصف لازم بن گیا جس سے کوئی ہٹانے والا ان کو ہٹا نہیں سکتا اور نہ کوئی نصیحت ان پر کارگر ہوسکتی ہے۔ وہ اپنے کفر میں راسخ اور اس پر جمے ہوئے ہیں، لہٰذا اس کے لئے برابر ہے تم انہیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ حقیقت میں کفر اس تعلیم یا اس کے بعض حصے کا انکار کرنے کا نام ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے۔ پس ان کفار کو کوئی دعوت فائدہ نہیں دیتی البتہ اس دعوت سے ان پر حجت ضرور قائم ہوجاتی ہے۔ اس آیت میں گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس امید کو ختم کردیا گیا جو آپ کو ان کے ایمان لانے کی تھی اور فرما دیا گیا کہ آپ ان کے ایمان نہ لانے پر غمزدہ نہ ہوں اور ان کفار کے ایمان نہ لانے پر افسوس اور حسرت کے مارے آپ ہلکان نہ ہوں۔ پھر ان موانع کا ذکر کیا ہے جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہیں۔ البقرة
7 ﴿خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے، لہٰذا ایمان ان میں داخل نہیں ہوسکتا۔ پس وہ کسی فائدہ مند چیز کو یاد کرسکتے ہیں نہ کسی فائدہ مند چیز کو سن سکتے ہیں۔ ﴿وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ ﴾ یعنی ان کی آنکھوں کے سامنے پردہ ہے جو انہیں فائدہ مند چیزوں کو دیکھنے سے روکتا ہے۔ یہی وہ ذرائع ہیں جو علم اور بھلائی کے حصول میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان ذرائع کو ان پر مسدود کردیا گیا ہے، لہٰذا ان سے کسی قسم کی توقع نہیں کی جاسکتی اور نہ ان سے کسی بھلائی کی امید کی جاسکتی ہے۔ ان پر ایمان کے دروازے صرف اس لئے بند کردیئے گئے کہ انہوں نے حق کے عیاں ہوجانے کے بعد بھی کفر، انکار اور عناد کا رویہ اختیار کئے رکھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ (الانعام :110؍6) ” اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے وہ اس قرآن پر اس طرح ایمان نہ لائیں گے جس طرح وہ پہلی بار ایمان نے لائے۔ “ یہ دنیاوی عذاب ہے۔ پھر آخرت کے عذاب کا ذکر کیا اور فرمایا : ﴿وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ ” اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے“ یہ جہنم کا عذاب اور اللہ جبار کی دائمی ناراضی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کا ذکر فرمایا جو ظاہری طور پر مسلمان ہیں مگر ان کا باطن کفر سے لبریز ہے۔ البقرة
8 معلوم ہونا چاہئے کہ نفاق کا اظہار کرنے اور باطن میں برائی چھپانے کا نام ہے۔ اس تعریف میں نفاق اعتقادی اور نفاق عملی دونوں شامل ہیں۔ جیسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنے اس فرمان میں اس کا ذکر فرمایا : " آيَةُ المُنَافِقِ ثَلاَثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ " [صحيح بخاري، الإيمان، باب علامات المنافق، حديث: 33] ” منافق کی تین نشانیاں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔“ ایک اور روایت میں آتا ہے وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ [حوالہ سابق حدیث: 34]” جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔ “ رہا نفاق اعتقادی جو دائرہ اسلام سے خاج کرنے والا ہے۔ تو یہ نفاق ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منافقین کو اس سورت میں اور بعض دیگر سورتوں میں متصف فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد تک نفاق کا وجود نہ تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر میں اہل ایمان کو غلبے اور فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔ پس مدینہ میں رہنے والے وہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، ذلیل ٹھہرے۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں نے خوف کی وجہ سے دھوکے کے ساتھ اپنا مسلمان ہونا ظاہر کیا تاکہ ان کا جان و مال محفوظ رہے۔ پس وہ مسلمانوں کے سامنے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے درآں حالیکہ وہ مسلمان نہیں تھے۔ اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے ان منافقین کے احوال و اوصاف ان کے سامنے واضح کردیے جن کی بنا پر وہ پہچان لیے جاتے تھے تاکہ اہل ایمان ان سے دھوکہ نہ کھا سکیں نیز منافقین اپنے بہت سے فسق و فجور سے باز آجائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿يَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُم بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ﴾ (التوبة: ٩؍٣٦) ” منافق ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی ایسی سورت نہ نازل کردی جائے جو ان کے دل کی باتوں سے مسلمانوں کو آگاہ کر دے۔ “ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اصل نفاق کو بیان کیا اور فرمایا : ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّـهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ﴾ ” بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر، حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں“ کیونکہ یہ لوگ اپنی زبان سے ایسی بات کا اظہار کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ﴿ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ ﴾ کہہ کر انہیں جھوٹا قرار دیا۔ اس لئے کہ حقیقی ایمان وہ ہے جس پر دل اور زبان متفق ہوں، ان منافقین کا یہ اظہار ایمان تو اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان کو دھوکہ دینا ہے۔ البقرة
9 (اَلْمُخَادَعَةُ) ” دھوکہ“ یہ ہے کہ دھوکہ دینے والا شخص جس کو دھوکہ دیتا ہے اس کے سامنے زبان سے جو کچھ ظاہر کرتا ہے اس کے خلاف اپنے دل م یں چھپاتا ہے تاکہ اس شخص سے اپنا مقصد حاصل کرسکے جسے وہ دھوکہ دے رہا ہے۔ پس منافقین نے اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان کے ساتھ اسی رویہ کو اختیار کیا تو یہ دھوکہ انہی کی طرف لوٹ آیا (یعنی اس کا سارا وبال انہی پر پڑا) اور یہ عجائبات میں سے ہے، کیونکہ دھوکہ دینے والے کا دھوکہ یا تو نتیجہ خیز ہوتا ہے او اسے اپنا مقصد حاصل ہوجاتا ہے یا وہ محفوظ رہتا ہے اور اس کا نتیجہ نہ تو اس کے حق میں ہوتا ہے اور نہ اس کے خلاف مگر ان منافقین کا دھوکہ خود ان کی طرف پلٹ گیا۔ گویا کہ وہ مکر اور چالبازیاں جو دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لئے کر رہے تھے وہ درحقیقت اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے لئے کر رہے تھے۔ اس لئے کہ ان کے دھوکے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے نہ اہل ایمان کو۔ پس منافقین کے ایمان ظاہر کرنے سے اہل ایمان کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، اظہار ایمان سے انہوں نے اپنے جان و مال کو محفوظ کرلیا اور ان کا مکرو فریب ان کے سینوں میں رہ گیا اس نفاق کی وجہ سے دنیا میں ان کو رسوائی ملی اور اہل ایمان کو قوت اور فتح و نصرت سے سرفراز ہونے کی وجہ سے وہ حزن و غم کی دائمی آگ میں سلگنے لگے۔ پھر آخرت میں ان کے جھوٹ اور ان کے کفر و فجور کے سبب سے ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا، جب کہ ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی حماقت اور جہالت کی وجہ سے اس کے شعور سے بے بہرہ ہیں۔ البقرة
10 اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فِيْ قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ ﴾ ” ان کے دلوں میں روگ ہے“ سے مراد شکوک و شبہات اور نفاق کا مرض ہے۔ قلب کو دو قسم کے امراض لاحق ہوتے ہیں جو اسے صحت و اعتدال سے محروم کردیتے ہیں۔ ١۔ شبہات باطلہ کا مرض 2۔ اور ہلاکت میں ڈالنے والی شہوات کا مرض۔ پس کفر و نفاق اور شکوک و بدعات یہ سب شبہات کے امراض ہیں۔ زنا، فواحش و معاصی سے محبت اور ان کا ارتکاب یہ سب شہوات کے امراض ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ﴾ (الاحزاب :32؍33) ” پس وہ شخص جس کے دل میں مرض ہے، وہ طمع کرے گا“ اس مرض سے مراد شہوت زنا ہے۔ برائی سے صرف وہی بچے گا جو ان دو امراض سے محفوظ ہوگا۔ پس اس کو ایمان و یقین حاصل ہوتا ہے اور معاصی کے مقابلے میں صبر کی ڈھال عطا کردی جاتی ہے اور وہ عافیت کا لباس زیب تن کر کے ناز و ادا سے چلتا ہے۔ منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّـهُ مَرَضًا﴾ میں گناہ گاروں کے گناہوں کی تقدیر کی بابت اللہ تعالیٰ کی حکمت کا بیان ہے کہ یہ روگ نفاق ان کے سابقہ گناہوں کا نتیجہ ہے، نیز اللہ تعالیٰ انہیں اس کے سبب سے مزید گناہوں میں مبتلا کردیتا ہے جو ان کے لئے مزید سزا کے موجب بنتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ﴾ (الانعام :110؍6) ” اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (وہ اس قرآن پر اسی طرح ایمان نہ لائیں گے جس طرح) وہ پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے تھے“۔ اور فرمایا : ﴿فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ﴾ (الصف :5؍6؍1) ” جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔“ اور فرمایا : ﴿وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ﴾ (التوبہ :125؍9) ” اور رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے تو اس سورت نے ان کی گندگی میں گندگی کو اور زیادہ کردیا۔“ پس گناہ کی سزا، گناہ کی دلدل میں مزید دھنستے چلے جانا ہے۔ جیسے نیکی کی جزا یہ ہے کہ اس کے بعد اسے مزید نیکی کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَيَزِيدُ اللَّـهُ الَّذِينَ اهْتَدَوْا هُدًى﴾ (مریم :1؍6؍19) ” اور وہ لوگ جو ہدایت یاب ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے۔ “ البقرة
11 جب ان منافقوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکا جاتا ہے اور فساد سے مراد اعمال کفر اور معاصی ہیں۔ نیز دشمن کے پاس اہل ایمان کے راز پہنچانا اور کفار کے ساتھ دوستی رکھنا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرتے ہیں۔ پس انہوں نے دو باتوں کو اکٹھا کردیا۔ (١) فساد فی الارض کا ارتکاب (2) اس بات کا اظہار کہ یہ فساد پھیلانا نہیں، بلکہ اصلاح ہے۔ یوں گویا ایک تو انہوں نے حقائق کو بدل دیا (فساد کا نام اصلاح رکھا) دوسرے، فعل باطل اور اس کے حق ہونے کے اعتقاد کو جمع کردیا۔ یہ لوگ ان لوگوں سے زیادہ بڑے مجرم ہیں جو گناہ کو حرام سمجھتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یہ لوگ سلامتی کے زیادہ قریب ہیں اور ان کی بابت ارتکاب گناہ سے باز آجانے کی زیادہ امید ہے۔ چونکہ ان کے قول ﴿إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ﴾ ” بیشک ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں“ میں اصلاح ان کی جانب محدود و محصور ہے جس سے ضمناً یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اہل ایمان اصلاح والے نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا دعویٰ انہی پر پلٹ دیا۔ البقرة
12 فرمایا : ﴿أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ﴾ ” خبردار ! بے شک یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں۔“ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے ساتھ دوستی رکھنے سے بڑا کوئی فساد نہیں۔ اس کے باوجود وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ اصلاح کر رہے ہیں۔ کیا اس فساد کے بعد بھی کوئی اور فساد رہ جاتا ہے؟ لیکن وہ اپنے فساد کے بارے میں ایسا علم نہیں رکھتے جو انہیں فائدہ پہنچا سکے اگرچہ وہ اس کے بارے میں ایسا علم ضرور رکھتے ہیں جو ان کے خلاف حجت قائم کرے گا اور صرف ان کے اعمال ہی زمین کے اندر فساد کا باعث ہیں کیونکہ برے اعمال اور گناہوں کے سبب سے روئے زمین پر آفتیں اور مصائب نازل ہوتے ہیں جو غلے، پھلوں، درختوں اور نباتات کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ زمین کے اندر اصلاح یہ ہے کہ اسے ایمان اور اطاعت الٰہی سے معمور رکھا جائے۔ اسی اطاعت و ایمان کے لئے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کر کے اس کو زمین پر آباد کیا اور ان پر رزق کے دروازے کھول دیئے تاکہ وہ اس رزق کی مدد سے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت کرے، لہٰذا جب اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کے خلاف عمل کیا جائے گا تو یہ عمل گویا زمین میں فساد برپا کرنا اور اس کو اجاڑنا ہوگا۔ البقرة
13 یعنی جب منافقین سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں۔ یعنی جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایمان لائے ہیں جو کہ قلب و زبان کا ایمان ہے تو یہ اپنے زعم باطل میں جواب دیتے ہیں ” کیا ہم ویسا ایمان لائیں جیسا بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں؟“ ان کا برا ہو۔ بیوقوف لوگوں سے ان کی مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، کیونکہ ان کے زعم باطل کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بیوقوفی اور حماقت ہی ان کے ایمان، ترک وطن اور کفار سے دشمنی مول لینے کی موجب ہے۔ ان کے نزدیک عقل اس کے متضاد اور برعکس رویئے کا تقاضا کرتی ہے۔ بنابریں انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سفاہت و حماقت سے منسوب کیا۔ ضمنی طور پر اس سے سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ صرف وہی عقل مند اور اصحاب دانش و بینش ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے خبر دی کہ درحقیقت وہی بیوقوف اور احمق ہیں۔ کیونکہ بیوقوفی کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے مصالح سے بے خبر اور ایسے کاموں میں سرگرم ہو جو اس کے لئے ضرر رساں ہوں اور یہ صفت ان منافقین ہی پر منطبق ہوتی ہے۔ اور عقل اور دانش و بینش یہ ہے کہ انسان کو اپنے مصالح کی معرفت حاصل ہو اور وہ فائدہ مند امور کے حصول اور ضرر رساں امور کو روکنے کے لئے کاوش کرے۔ یہ صفت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل ایمان پر منطبق ہوتی ہے۔ پس (کسی چیز کا) اعتبار مجرد دعوے اور خالی خولی باتوں سے نہیں ہوتا بلکہ اوصاف اور دلائل کی بنا پر ہوتا ہے۔ البقرة
14 یہ قول ان کی ان باتوں میں سے ہے جس کا اظہار وہ اپنی زبانوں سے کرتے تھے درآں حالیکہ ان کے دل میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ جب یہ منافقین اہل ایمان کے پاس جاتے ہیں تو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ان کے طریقے پر گامزن ہیں اور ان کے ساتھ ہیں اور جب وہ اپنے شیطان سرداروں یعنی شریر رؤسا سے تنہائی میں ملتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں :” ہم تو درحقیقت تمہارے ساتھ ہیں ہم تو اہل ایمان کو یہ کہہ کر کہ، ہم تمہارے ساتھ ہیں، ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔“ ” ہم تو درحقیقت تمہارے ساتھ ہیں ہم تو اہل ایمان کو یہ کہہ کر کہ، ہم تمہارے ساتھ ہیں، ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔“ یہ ہیں ان کے ظاہری اور باطنی احوال، بری چال کا وبال اسی پر پڑتا ہے جو یہ چال چلتا ہے۔ البقرة
15 ﴿اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ﴾ ” اللہ ہنسی کرتا ہے ان سے اور بڑھاتا ہے ان کو ان کی سرکشی میں (اور) وہ سرگرداں پھرتے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ کا یہ استہزان کے اس استہزا کی جزا ہے جو وہ اللہ کے بندوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزایہ ہے کہ وہ ان کے بدبختی کے اعمال اور خبیث احوال کو ان کے سامنے مزین اور آراستہ کردیتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان پر مسلط نہیں کیا اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہیں۔ قیامت کے روز ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزایہ ہوگا کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ انہیں ظاہری روشنی عطا کرے گا۔ جب اہل ایمان اس روشنی میں چلیں گے تو منافقین کی روشنی بجھ جائے گی۔ وہ روشنی کے بجھ جانے کے بعد تاریکی میں متحیر کھڑے رہ جائیں گے۔ پس امید کے بعد مایوسی کتنی بری چیز ہے۔ ﴿يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ وَلَـٰكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ﴾ (الحدید :17؍58) ” وہ منافق اہل ایمان کو پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ! اہل ایمان جواب دیں گے کیوں نہ تھے مگر تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم ہمارے بارے میں کسی برے وقت کے منتظر رہے اور تم نے اسلام کے بارے میں شک کیا۔ “ ﴿وَيَمُدُّهُمْ﴾یعنی اللہ تعالیٰ ان کو زیادہ کرتا ہے ﴿فِي طُغْيَانِهِمْ ﴾ یعنی ان کے فسق و فجور اور کفر میں ﴿ يَعْمَهُونَ ﴾ یعنی وہ حیران و سرگرداں ہیں، یہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی حقیقت احوال کو منکشاف کرتے ہوئے فرمایا : البقرة
16 یعنی وہ گمراہی کی طرف اس طرح راغب ہوئے جیسے خریدار کسی ایسے سامان تجارت کو خریدنے کی طرف مائل ہو جسے خریدنے کی اسے سخت چاہت ہو چنانچہ وہ اس رغبت کی وجہ سے اس میں اپنا قیمتی مال خرچ کرتا ہے اور یہ بہترین مثال ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے گمراہی کو جو کہ برائی کی انتہا ہے، سامان تجارت سے تشبیہ دی ہے اور ہدایت کو جو کہ بھلائی کی انتہا ہے، اس سامان تجارت کی قیمت سے تشبیہ دی۔ پس انہوں نے ہدایت کو، اس سے بے رغبتی کی وجہ سے اور گمراہی کی طرف رغبت اور چاہت کی وجہ سے، گمراہی کے بدلے میں خرچ کردیا۔۔۔ پس یہ تھی ان کی تجارت کتنی بری تجارت تھی اور یہ تھا ان کا سامان بیع اور کتنا برا سامان بیع تھا۔ جب کوئی شخص ایک درہم کے مقابلے میں ایک دینار خرچ کرتا ہے تو خائب و خاسر کہلاتا ہے، تب اس شخص کے خسارے کا کیا حال ہوگا جو جواہر خرچ کر کے اس کے بدلے میں ایک درہم حاصل کرتا ہے اور پھر اس شخص کا خسارہ کتنا بڑا ہوگا جو ہدایت کے بدلے گمراہی خریدتا ہے، خوش بختی کو چھوڑ کر بدبختی اختیار کرتا ہے اور بلند مقاصد کو ترک کر کے گھٹیا امور کی طرف راغب ہوتا ہے۔ اس کی تجارت نے اسے کوئی نفع نہ دیا بلکہ وہ سب سے بڑے خسارے میں مبتلا ہوگیا۔ ﴿قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ﴾ (الزمر :15؍39) ”(اے نبی !) فرما دیجیے کہ بے شک خسارہ اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے روز خسارے میں ڈالا۔ آگاہ رہو ! کہ یہی صریح خسارہ ہے۔“ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ﴾” اور نہ ہوئے وہ راہ پانے والے“ ان کی گمراہی کو متحقق کرنے کے لئے ہے نیز یہ کہ ہدایت سے ان کو کوئی حصہ نہیں ملا۔ پس یہ ان منافقین کے بدترین اوصاف ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے احوال کو واضح کرنے کے لئے ایک تمثیل بیان کی، فرمایا : البقرة
17 یعنی ان کی مثال، جو ان کے احوال کی آئینہ دار ہے، اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی ہو۔۔۔ یعنی یہ شخص اندھیرے میں تھا، آگ کی اسے سخت ضرورت تھی اس نے کسی اور سے لے کر آگ روشن کی۔ یہ آگ اس کے پاس تیار اور موجود نہ تھی۔ جب آگ نے اس کے ماحول کو روشن کردیا اور اس نے اس جگہ کو دیکھا جہاں وہ کھڑا تھا، ان خطرات کو دیکھا جنہوں نے اسے گھیر رکھا تھا اور اس امن کو دیکھا (جو اسے اس روشنی کے باعث حاصل ہوا تھا) اس نے اس آگ سے فائدہ اٹھایا اور اس آگ سے اسے اطمینان حاصل ہوا وہ سمجھتا تھا کہ اس آگ پر اسے پوری قدرت حاصل ہے اور اسی خیال میں غلطاں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے روشنی لے کر زائل کردی اس کے ساتھ اس کی مسرت بھی چلی گئی اور وہ سخت تاریکی اور جلتی ہوئی آگ میں کھڑا رہ گیا۔ آگ کی روشنی چلی گئی مگر اس کی جلا دینے والی حرارت باقی رہ گئی۔ پس وہ متعدد تاریکیوں میں گھرا ہوا رہ گیا، رات کی تاریکی، بادلوں کا اندھیرا، بارش کا اندھیرا اور ایک وہ اندھیرا جو روشنی کے بجھنے کے فوراً بعد محسوس ہوتا ہے تب اس بیان کردہ شخص کی کیا حالت ہوگی؟ یہی حال ان منافقین کا ہے۔ انہوں نے اہل ایمان سے ایمان کی آگ لے کر آگ روشن کی، کیونکہ وہ ایمان کی روشنی سے بہرہ ورنہ تھے، انہوں نے وقتی طور پر اس آگ سے روشنی حاصل کی اور اس سے فائدہ اٹھایا، اس طرح انہوں نے اپنے جان و مال کو محفوظ کرلیا اور دنیا میں ان کو ایک قسم کا امن حاصل ہوگیا وہ اسی حالت میں تھے کہ اچانک ان پر موت حملہ آور ہوئی اور اس روشنی سے حاصل ہونے والے تمام فوائد اس سے چھین لے گئی، ہر قسم کا عذاب اور غم ان پر مسلط ہوگیا کفر و نفاق اور گناہوں کی مختلف تاریکیوں نے ان کو گھیر لیا اس کے بعد انہیں جہنم کے اندھیروں کا سامنا کرنا ہوگا کفر و نفاق اور گناہوں کی مختلف تاریکیوں نے ان کو گھیر لیا اس کے بعد انہیں جہنم کے اندھیروں کا سامنا کرنا ہوگا جو بدترین ٹھکانا ہے۔ البقرة
18 بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا : ﴿صُمٌّ﴾ وہ بھلائی کی بات سننے سے بہرے ہیں۔ ﴿بُكْمٌ﴾ وہ بھلائی کی بات کہنے سے گونگے ہیں۔ ﴿عُمْيٌ﴾ حق کے دیکھنے سے اندھے ہیں ﴿فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ﴾ چونکہ انہوں نے حق کو پہچان کر ترک کیا ہے اس لئے اب یہ واپس نہیں لوٹیں گے۔ ان کی حالت اس شخص کی حالت کے برعکس ہے جو محض جہالت اور گمراہی کی بنا پر حق کو ترک کرتا ہے کیونکہ وہ اسے سمجھتا نہیں۔ ان کی نسبت اس شخص کے بارے میں زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ حق کی طرف رجوع کرے۔ البقرة
19 پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ ﴾ یا (ان کی مثال) اس شخص کی مانند ہے جس پر موسلا دھار بارش ہو رہی ہے۔ (صَيِّبٍ) سے مراد وہ بارش ہے جو موسلادھار برستی ہے۔ ﴿فِيهِ ظُلُمَاتٌ﴾ ” اس میں اندھیرے ہیں۔“ اس سے مراد ہے، رات کا اندھیرا، بادل کا اندھیرا اور بارش کی تاریکیاں۔ ﴿وَرَعْدٌ﴾ ” اور کڑک کی آواز ہے۔“ جو کہ بادل سے سنائی دیتی ہے۔ ﴿وَّبَرْقٌ﴾ اور بجلی کی وہ چمک ہے جو بادلوں میں دکھائی دیتی ہے۔ ﴿كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُم﴾ یعنی اس بجلی کی چمک جب اندھیرے میں روشنی کرتی ہے۔ ﴿مَّشَوْا فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا﴾ ” تو چلتے ہیں اس میں اور جب ان پر اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں“ یعنی وہ کھڑے رہ جاتے ہیں۔ البقرة
20 پس اسی قسم کی حالت منافقین کی ہے جب وہ قرآن مجید، اس کے اوامرونواہی اور اس کے وعدو وعید سنتے ہیں، تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں۔ اس کے اوامرونواہی اور وعدو وعید سے اعراض کرتے ہیں وعید ان کو گھبراہٹ میں مبتلا کرتی ہے اور اس کے وعدے ان کو پریشان کردیتے ہیں۔ وہ حتی الامکان ان سے اغراض کرتے ہیں اور اس شخص کی مانند اسے سخت ناپسند کرتے ہیں جو سخت بارش میں گھرا ہوا بجلی کی کڑک سنتا ہے اور موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتا ہے اس شخص کو تو بسا اوقات سلامتی اور امن مل جاتا ہے۔ مگر منافقین کے لئے کہاں سے سلامتی آئے گی؟ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور علم نے انہیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ وہ اس کی پکڑ سے بھاگ نہیں سکتے اور نہ وہ اس کو عاجز کرسکتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو اعمال ناموں میں محفوظ کردیتا ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔ چونکہ وہ معنوی بہرے پن، گونگے پن اور اندھے پن میں مبتلا ہیں اور ان پر ایمان کی تمام راہیں مسدود ہیں اس لئے ان کے بارے میں فرمایا : ﴿وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ﴾ ”اور اگر اللہ چاہے تو لے جائے ان کے کان اور ان کی آنکھیں“ یعنی ان کی حس سماعت اور حس بصر سلب کرلے۔ اس آیت کریمہ میں ان کو دنیاوی سزا سے ڈرایا گیا ہے تاکہ وہ ڈر کر اپنے شر اور نفاق سے باز آجائیں۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴾ ” بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ اس لئے کوئی چیز اسے عاجز نہیں کرسکتی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں سے یہ بات بھی ہے کہ جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو کر گزرتا ہے۔ کوئی اس کو روکنے والا اور اس کی مخالفت کرنے والا نہیں۔ اس آیت اور اس قسم کی دیگر آیات میں قدر یہ کا رد ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انسانوں کے افعال اللہ تعالیٰ کی قدرت میں داخل نہیں ہیں کیونکہ انسانوں کے افعال بھی من جملہ ان اشیاء کے ہیں جو ﴿إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴾ کے تحت، اس کی قدرت میں داخل ہیں۔ البقرة
21 یہ تمام لوگوں کے لئے امر عام ہے اور وہ اللہ کی عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت، اس کے نواہی سے اجتناب اور اس کی خبر کی تصدیق کی جامع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اس چیز کا حکم دیا جس کے لئے ان کی تخلیق کی گئی ہے۔ فرمایا : ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ  ﴾ (الذاریات :56؍51) ” میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا تاکہ وہ میری عبادت کریں۔ “ پھر صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے پر اس بات سے استدلال کیا ہے کہ وہ تمہارا رب ہے اس نے تمہیں بہت سی نعمتوں سے نواز کر تمہاری تربیت اور پرورش کی۔ وہ تمہیں عدم سے وجود میں لایا، اس نے ان لوگوں کو پیدا کیا جو تم سے پہلے تھے، اس نے تمہیں ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کیں، اس نے زمین کو تمہارے لئے فرش بنایا جہاں تم اپنا ٹھکانا بناتے ہو، جہاں تم عمارات تعمیر کر کے، زراعت اور کاشتکاری کر کے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کر کے مختلف فوائد حاصل کرتے ہو، اس کے علاوہ تم زمین کے بعض دیگر فوائد سے استفادہ کرتے ہو۔ اس نے تمہارے اس مسکن کے لئے آسمان کو چھت بنایا۔ اس نے تمہاری ضروریات اور حاجات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس چھت میں بھی بہت سی نفع بخش چیزیں مثلاً سورج، چاند اور ستارے پیدا کئے۔ البقرة
22 ﴿وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً﴾ ” اور اتارا اس نے آسمان سے پانی۔“ ہر وہ چیز جو آپ کے اوپر اور بلند ہے وہ آسمان کہلاتی ہے۔ بنا بریں علمائے تفسیر کہتے ہیں کہ یہاں آسمان سے مراد بادل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بادلوں سے پانی برسایا ﴿فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ﴾اور اس پانی کے ذریعے سے مختلف اقسام کے غلہ جات، مختلف انواع کے پھل اور میوہ جات، کھجوریں اور دیگر کھیتیاں اگائیں ﴿رِزْقًا لَّكُمْ﴾ ” تمہارے رزق کے طور پر“ جس سے تم رزق اور خوراک حاصل کرتے ہو، اس رزق سے زندگی بسر کرنے کا سامان کرتے ہو اور اس سے تم لذت حاصل کرتے ہو۔﴿فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّـهِ أَندَادًا﴾ پس تم مخلوق میں سے اس کی برابری کرنے والے ہمسر بنا کر ان کی عبادت نہ کرو جیسے تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہو، اور ان سے ایسی محبت نہ کرو جیسے تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو، وہ بھی تمہاری مانند مخلوق ہیں ان کو بھی رزق دیا جاتا ہے اور ان کی زندگی کی بھی تدبیر کی جاتی ہے۔ وہ زمین و آسمان میں ایک ذرے کے بھی مالک نہیں۔ وہ تمہیں نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان ﴿وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾ ” حالانکہ تم جانتے ہو“ کہ تخلیق کرنے، رزق عطا کرنے اور کائنات کی تدبیر کرنے میں اس کا کوئی شریک اور کوئی نظیر نہیں اور نہ الوہیت اور کمال میں اس کی کوئی برابری کرنے والا ہے۔ یہ سب کچھ جانتے ہوئے پھر تم کیسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو۔ یہ بڑی عجیب بات اور سب سے بڑی حماقت ہے۔ یہ آیت کریمہ صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حکم اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور ہستی کی عبادت کرنے سے ممانعت کو جمع کرنے والی ہے، نیز اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب کی واضح دلیل اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت کے بطلان کے بیان پر مشتمل ہے۔ یہ توحید ربوبیت ہے جو اس امر کو متضمن ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی تخلیق کرتا، وہی رزق عطا کرتا اور وہی کائنات کی تدبیر کرتا ہے۔ جب ہر ایک شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ ان تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں تو اسے یہ اقرار بھی کرنا چاہئے کہ عبادت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے اثبات اور شرک کے بطلان پر واضح ترین عقلی دلیل ہے۔ ﴿ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴾ ” تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ“ اس آیت کریمہ میں ایک معنی کا احتمال یہ ہے کہ جب تم ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گے تو اس کی ناراضی اور عذاب سے بچ جاؤ گے، کیونکہ تم نے ایک ایسا سبب اختیار کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔ اس کے ایک دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ جب تم اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندے بن جاؤ گے تو تم متقین میں شمار ہو گے جو تقویٰ کی صفت سے آراستہ ہوتے ہیں۔ دونوں معنی صحیح ہیں اور دونوں میں تلازم پایا جاتا ہے، یعنی جو کوئی کامل طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اس کا شمار اہل تقویٰ میں ہوتا ہے اور جو کوئی متقی بن جاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات حاصل ہوجاتی ہے۔ البقرة
23 یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت اور وحی الٰہی کی صحت کی عقلی دلیل ہے۔ گویا فرمایا :” اے رسول کے ساتھ عناد رکھنے والو ! اس کی دعوت کو رد کرنے والو ! اور اسے جھوٹا سمجھنے والو ! اگر تم اس وحی کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے کہ آیا یہ حق ہے یا نہیں تو یہاں ایک ایسا معاملہ موجود ہے جسے ہم تمہارے اور اس کے درمیان فیصلہ کن انداز میں بیان کرتے ہیں اور وہ یہ کہ وہ بھی تمہاری طرح بشر ہے کسی اور جنس سے نہیں، جب سے وہ پیدا ہوا ہے اس وقت سے تم اسے جانتے ہو وہ لکھ سکتا ہے نہ پڑھ سکتا ہے۔ اس نے تمہارے سامنے ایک کتاب پیش کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور تم کہتے ہو کہ اس نے اسے خود گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھا ہے۔ اگر معاملہ ایسے ہی ہے جیسے تم کہتے ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ اور اپنے جن اعوان و انصار اور حمایتیوں کو اپنی مدد کے لئے بلا سکتے ہو بلا لو ! تمہارے لئے یہ کام بہت آسان اور معمولی ہے خاص طور پر جبکہ تم فصاحت و خطابت کے میدان کے شاہسوار ہو اور اس رسول کی عداوت میں بھی بہت آگے ہو۔ اگر تم نے اس کتاب جیسی ایک سورت بھی پیش کردی تو تم اس کتاب کو جھوٹ، بہتان کہنے میں حق بجانب ہو اور اگر تم اس جیسی ایک بھی سورت پیش نہ کرسکے اور اسے پیش کرنے سے مکمل طور پر عاجز آگئے تو تمہارا یہ عجز اور بے بسی رسول اور وحی الٰہی کی صداقت کی بڑی نشانی اور واضح دلیل ہے۔ پھر تم پر لازم ہوجاتا ہے کہ تم اس کی پیروی کرو اور اس آگ سے بچو جس کی گرمی اور حرارت اتنی زیادہ ہے کہ اس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے دنیاوی آگ کی مانند نہیں جسے (لکڑی کے) ایندھن سے بھڑکایا جاتا ہے۔ یہ بیان کردہ آگ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرنے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے، اس لئے جب تمہیں یہ معلوم ہوگیا کہ یہ رسول برحق ہے تو اس کا انکار کرنے سے ڈرو۔ اس آیت اور اس قسم کی دیگر آیات کو آیات تحدی (مقابلہ کرنے کی دعوت دینے والی آیات) کہا جاتا ہے ” تحدی“ سے مراد ہے مخلوق کو قرآن جیسی کوئی کتاب پیش کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز کردینا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا﴾ (بنی اسرائیل 88؍17) ” کہو اگر تمام جن و انس اس بات پر جمع ہوجائیں کہ وہ اس جیسا قرآن بنا لائیں تو اس جیسا قرآن بنا کر نہیں لا سکتے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں۔“ پس مشت خاک سے بنے ہوئے انسان کا کلام رب الارباب کے کلام کی مانند کیسے ہوسکتا ہے؟ یا ناقص اور تمام پہلوؤں سے محتاج ہستی اس کامل ہستی کے کلام جیسا کلام کیسے پیش کرسکتی ہے جو تمام پہلوؤں سے کمال مطلق کی اور بے پایاں بے نیازی کی مالک ہے؟ یہ چیز دائرہ امکان اور انسانی بساط سے باہر ہے۔ ہر وہ شخص جو کلام کی مختلف اصناف کی تھوڑی بہت بھی معرفت رکھتا ہے جب قرآن کا اصحاب بلاغت کے کلام سے تقابل کرے گا تو اس پر ظاہر ہوجائے گا کہ دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ﴾ ” اگر تم شک میں مبتلا ہو۔“ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس کے لئے ہدایت کی توقع کی جاسکتی ہے یہ وہ شخص ہے جو شک میں مبتلا اور حیران و پریشان ہے۔ جو گمراہی میں سے حق کو نہیں پہچان سکتا۔ اگر وہ طلب حق میں سچا ہے تو اس کے لئے حق واضح ہوجانے کے بعد اس کا اتباع کرنا زیادہ مناسب ہے۔ وہ شخص جو حق کے ساتھ عناد رکھتا ہے اور حق کو پہچان کر بھی اسے ترک کردیتا ہے اس کے حق کی طرف رجوع کرنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ اس نے حق کو اپنی جہالت کی وجہ سے ترک نہیں کیا بلکہ اس نے حق کو اس کے واضح ہوجانے کے بعد رد کیا ہے۔ اسی طرح وہ متشکک شخص جو تلاش حق میں سچا جذبہ نہیں رکھتا بلکہ وہ حق سے گریز کرتا ہے اور تلاش حق میں تگ و دو نہیں کرتا وہ اکثر و بیشتر قبول حق کی توفیق سے محروم رہتا ہے۔ اس مقام عظیم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصف عبدیت کو بیان کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ عبدیت آپ کی سب سے بڑی صفت ہے۔ اس مقام بلند تک اولین و آخرین میں سے کوئی شخص بھی آپ کے مقام تک نہیں پہنچ سکا۔ جیسے معراج کے موقع پر آپ کی عبدیت کو بیان فرمایا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے : ﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا﴾ (بنی اسرائیل :1؍17) ” پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں سفر کرایا۔ “ قرآن کی تنزیل کے وقت بھی آپ کی عبدیت کو بیان فرمایا : ﴿تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا ﴾ (الفرقان :1؍25) ” نہایت برکت والی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ تمام جہانوں کو ڈرائے۔ “ البقرة
24 اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ﴾ ” جہنم کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔“ اور اس قسم کی دیگر آیات سے اہل سنت کے اس مسلک کی تائید ہوتی ہے کہ جنت اور جہنم دونوں پیدا کی ہوئی ہے۔ جب کہ معتزلہ اس بات کے قائل نہیں۔ اس آیت کریمہ سے اہل سنت کے اس عقیدے کی بھی تائید ہوتی ہے کہ گناہگار اور کبائر کے مرتکب گناہ گار موحدین ہمیشہ جہنم میں نہیں رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ جہنم کفار کے لئے تیار کی گئی ہے۔ خوارج اور معتزلہ کے عقیدے کے مطابق اگر گناہ گار موحدین کے لئے جہنم میں دوام اور خلود ہوتا، تو یہ صرف کفار کے لئے تیار نہ کی گئی ہوتی۔ نیز اس آیت میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ عذاب اپنے اسباب یعنی کفر اور مختلف گناہوں کے ارتکاب سے ثابت وہتا ہے۔ البقرة
25 جب اللہ تعالیٰ نے کفار کی جزا کا ذکر کیا تو اعمال صالحہ سے آراستہ اہل ایمان کی جزا بھی بیان فرما دی، جیسا کہ قرآن مجید میں اس کا طریقہ ہے کہ وہ ترغیب و ترہیب کو اکٹھا بیان کرتا ہے، تاکہ بندہ مومن اللہ کی رحمت کی رغبت بھی رکھے اور اس کے عذاب سے ڈرتا بھی رہے۔ اس کے دل میں عذاب کا خوف ہو تو رحمت و مغفرت کی امید سے بھی سرشار ہو۔ ﴿وَبَشِّرِ﴾ یعنی اے رسول ! آپ اور آپ کا قائم مقام خوشخبری دے دے۔ ﴿الَّذِينَ آمَنُوا﴾” یعنی جو اپنے دل سے ایمان لائے“﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ﴾ اور انہوں نے اپنے جوارح سے نیک کام سر انجام دیئے۔ پس انہوں نے اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی۔ اللہ تعالیٰ نے اعمال خیر کو (الصالحات) سے تعبیر کیا ہے کیونکہ ان کے ذریعے سے بندے کے احوال، اس کے دینی اور دنیاوی امور اور اس کی دنیاوی اور آخروی زندگی کی اصلاح ہوتی ہے اور اس کے ذریعے ہی سے احوال کا فساد زائل ہوتا ہے پس اس کی وجہ سے اس کا شمار صالحین میں ہوجاتا ہے جو جنت میں اللہ تعالیٰ کی مجاورت اور اس کے قرب کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں۔ پس ان کو خوشخبری سنا دیجئے ﴿أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ ﴾ ” کہ ان کے لئے جنت کے باغات ہیں“ جن میں عجیب اقسام کے درخت، نفیس انواع کے پھل، گہرے سائے اور درختوں کی نہایت خوبصورت شاخیں ہوں گی۔ اسی وجہ سے اس کا نام جنت ہے۔ اس میں داخل ہونے والے اس کے باغوں اور گہری چھاؤں سے فیض یاب ہوں گے اور اس میں رہنے والے اس میں عیش و عشرت کی زندگی گزاریں گے۔﴿تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ ” یعنی جنت میں پانی، دودھ، شہد اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ جیسے چاہیں گے انہیں جاری کرلیں گے اور جہاں چاہیں گے انہیں پھیر لیں گے۔ انہی نہروں سے جنت کے درخت سیراب ہوں گے اور مختلف اصناف کے پھل پیدا ہوں گے۔ ﴿ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوا هَـٰذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ﴾ ” جب بھی ان کو ان میں سے کھانے کو کوئی پھل دیا جائے گا، تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو پہلے ہمیں دیا گیا“ یعنی جنت کا یہ پھل دنیا کے پھلوں کی جنس میں سے ہوگا اس میں دنیا کے پھلوں کی سی صفات ہوں گی۔ خوبصورتی اور لذت میں جنت کے پھل دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے۔ ان میں کوئی بد ذائقہ پھل نہ ہوگا اور کوئی وقت ایسا نہ ہوگا جس میں اہل جنت لذت نہ اٹھا رہے ہوں گے بلکہ وہ دائمی طور پر جنت کے پھلوں کی لذت سے لطف اندوز ہوں گے۔ ﴿وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا﴾” اور دیئے جائیں گے ان کو پھل ملتے جلتے“ کہا جاتاہے کہ (جنت کے پھل) نام میں مشابہت رکھتے ہیں اور ذائقے میں مختلف ہیں۔ بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ہے کہ وہ رنگ میں مشابہت رکھتے ہیں مگر نام مختلف ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہے کہ وہ خوبصورتی، لذت اور مٹھاس میں ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ شاید یہی تعبیر احسن ہے۔ پھر جہاں اہل جنت کے مساکن، ان کی خوراک، طعام و مشروبات اور پھلوں کا ذکر کیا ہے وہاں ان کی بیویوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ نہایت ایجاز و اختصار کے ساتھ مکمل اور واضح طور پر ان کا وصف بیان کیا ہے۔ ﴿وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ﴾ ” ان کے واسطے ان میں بیویاں ہوں گی پاک“ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ فلاں عیب سے پاک ہوں گی، کیونکہ یہ تطہیر، طہارت کی تمام اقسام پر مشتمل ہوگی۔ ان کے اخلاق پاک ہوں گے، ان کی تخلیق پاکیزگی پر مبین ہوگی، ان کی زبان پاک ہوگی اور ان کی نظر پاک ہوگی۔ ان کے اخلاق کی پاکیزگی یہ ہے کہ وہ دلکش ہوں گی اور اپنے اخلاق حسنہ، حسن اطاعت اور قولی و فعلی آداب کے ساتھ اپنے شوہروں سے اظہار محبت کریں گی۔ حیض و نفاس، منی، بول و براز، تھوک، بلغم اور بدبو سے پاک ہوں گی۔ نیز اپنی جسمانی تخلیق میں بھی پاک ہوں گی وہ کامل حسن و جمال سے بہرہ ور ہوں گی۔ ان کے اندر کسی قسم کا عیب اور کسی قسم کی جسمانی بدصورتی نہ ہوگی بلکہ وہ نیک سیرت اور خوبصورت ہوں گی۔ وہ پاک نظر اور پاک زبان ہوں گی۔ وہ نیچی نگاہوں والی ہوں گی اور ان کی نگاہیں اپنے شوہروں سے آگے نہ بڑھیں گی۔ ان کی زبانیں ہر گندی بات سے محفوظ پاک ہوں گی۔ اس آیت کریمہ میں مندرجہ ذیل امور کا ذکر کیا گیا ہے : (1) خوشخبری دینے والا۔ (2) جس کو خوشخبری دی گئی ہے۔ (3) جس چیز کی خوشخبری دی گئی ہے۔ (٤) وہ سبب جو اس خوشخبری کا باعث بنتا ہے۔ خوشخبری دینے والے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات یا وہ لوگ ہیں جو آپ کی امت میں سے (ابلاغ علم میں) آپ کے قائم مقام ہوں گے۔ خوشخبری دیئے جانے والے وہ لوگ ہیں جو اہل ایمان ہیں اور نیک اعمال بجا لانے والے ہیں۔ جس چیز کی خوشخبری دی گئی ہے وہ ہے جنت، جو بیان کردہ صفات سے متصف ہے۔ اس خوشخبری کے باعث اور سبب سے مراد ایمان اور عمل صالح ہیں۔ ایمان اور عمل صالح کے بغیر اس خوشخبری کے حصول کا کوئی ذریعہ نہیں۔ یہ سب سے بڑی خوشخبری ہے جو بہترین اسباب کے ذریعے سے افضل ترین ہستی کی زبان مبارک سے دی گئی ہے۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو خوشخبری دینا اعمال صالحہ اور ان کے ثمرات کا ذکر کر کے ان میں نشاط پیدا کرنا مستحب ہے کیونکہ اس طرح اعمال صالحہ آسان ہوجاتے ہیں۔ سب سے بڑی بشارت جو انسان کو حاصل ہوتی ہے وہ ایمان اور عمل صالح کی توفیق ہے۔ پس یہ اولین بشارت اور اس کی بنیاد ہے۔ اس کے بعد دوسری بشارت وہ ہے جو موت کے وقت اسے حاصل ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ بشارت ہے جو نعمتوں سے بھرپوردائمی جنت میں پہنچ کر اسے حاصل ہوگی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں۔ البقرة
26 ﴿إِنَّ اللَّـهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا﴾ ” اللہ تعالیٰ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی سی بھی مثال بیان کرے“ خواہ وہ کسی قسم کی مثال ہو ﴿بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا﴾” مچھر کی ہو یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہو“ کیونکہ مثال حکمت اور ایضاح حق پر مبنی ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا۔ اس آیت کریمہ میں گویا اس شخص کو جواب دیا گیا ہے جو معمولی اور حقیر اشیاء کی مثال دینے کا منکر ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرتا ہے، پس یہ اعتراض کا مقام نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو تعلیم دینا اور ان کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرنا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ اسے شکر کرتے ہوئے قبول کیا جائے۔ بنا بریں فرمایا : ﴿فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ﴾ ” پس وہ لوگ جو ایمان لائے تو وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے“ پس وہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ پس اگر انہیں اس کے مشمولات کا تفصیلی علم حاصل ہوجاتا ہے تو ان کے علم و ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ورنہ انہیں معلوم ہے کہ یہ حق ہے اور حق باتوں پر ہی مشتمل ہے اور اگر اس میں حق کا پہلوان پر مخفی رہے تب بھی انہیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بے فائدہ بیان نہیں فرمایا، بلکہ اس میں یقیناً کوئی حکمت بالغہ اور نعمت کاملہ مضمر ہے۔ ﴿وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِهَـٰذَا مَثَلًا﴾” لیکن کافر لوگ، تو وہ کہتے ہیں، اللہ نے اس مثال سے کیا چاہا ہے؟“ یعنی کافر حیران ہو کر اعتراض کرتے ہیں اور اپنے کفر میں اور اضافہ کرلیتے ہیں جیسے اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا﴾” وہ اس سے بہتوں کو گمراہ کرتا اور بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے“ پس آیات قرآن کے نزول کے وقت یہ اہل ایمان اور کفار کا حال ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے : ﴿وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ كَافِرُونَ ﴾ ” جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے بعض تمسخر کے طور پر کہتے ہیں اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے؟ جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان تو اس سورت نے زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں اور جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے تو اس سورت نے ان کی گندگی میں گندگی کو اور زیادہ کردیا اور وہ کفر کی حالت ہی میں مر گئے۔“ پس بندوں پر قرآنی آیات کے نزول سے بڑھ کر اور کوئی نعمت نہیں۔ اس کے باوجود یہ قرآنی آیات کچھ لوگوں کے لئے آزمائش، حیرت، گمراہی اور ان کے شر میں اضافے کا باعث بنتی ہیں اور کچھ لوگوں کے لئے انعام، رحمت اور ان کی بھلائیوں میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں کے درمیان تفاوت قائم کیا۔ صرف وہی ہے جو ہدایت سے نوازتا ہے اور وہی ہے جو گمراہ کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس عدل و حکمت کا ذکر کیا ہے جو اس شخص کی گمراہی میں کار فرما ہوتی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے۔ ﴿وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ ﴾ یعنی وہ صرف ان ہی لوگوں کو گمراہ کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے رسولوں سے عناد رکھتے ہیں، فسق و فجور ان كا وصف بن گیا ہے اور وہ اس وصف کو بدلنا نہیں چاہتے۔ پس اللہ تعالیٰ کی حکمت کا یہ تقاضا ہوا کہ وہ ان کو گمراہی میں مبتلا کرے کیونکہ ان میں ہدایت کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ جیسے اس کی حکمت اور اس کا فضل اس شخص کی ہدایت کا تقاضا کرتے ہیں جو ایمان سے متصف اور اعمال صالحہ سے مزین ہو۔ فسق کی دو اقسام ہیں : ایک قسم وہ ہے جو انسان کا دائرہ اسلام ہی سے خارج کردیتی ہے۔ فسق کی یہ قسم ایمان سے خارج ہونے کا تقاضا کرتی ہے جیسا کہ اس آیت میں اور اس قسم کی دیگر آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ فسق کی دوسری قسم وہ ہے جو انسان کو دائرہ ایمان سے خارج نہیں کرتی جیسا کہ اس آیت کریمہ میں وارد ہوا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾ (الحجرات :6؍79) ” اے ایمان والو اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کرلو۔ “ البقرة
27 پھر اللہ تعالیٰ نے فاسقوں کا وصف بیان کیا، فرمایا: ﴿الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّـهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ﴾” وہ جو اللہ کے عہد کو اس کو پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں“ عہد کا لفظ عام ہے، اس سے مراد وہ عہد بھی ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور اس کا اطلاق اس عہد پر بھی ہوتا ہے جو انسان آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ نے عہد کے پورا کرنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔ کافران عہدوں کی پروا نہیں کرتے، بلکہ وہ ان کو توڑتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرتے ہیں، اس کے نواہی کے مرتکب ہوتے ہیں اور وہ ان معاہدوں کا بھی پاس نہیں کرتے جو ان کے درمیان آپس میں ہوتے ہیں۔ ﴿وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّـهُ بِهِ أَن يُوصَلَ﴾” اور اس چیز کو قطع کرتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا ہے“ اس میں بہت سی چیزیں داخل ہیں : اولاً: اللہ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس تعلق کو جوڑیں جو ہمارے اور اللہ کے درمیان ہے۔ (اس کی صورت یہ ہے کہ ہم) اللہ پر ایمان لائیں اور اس کی عبادت کریں۔ ثانیاً: ہمارے اور اس کے رسول کے درمیان جو تعلق ہے، اسے قائم کریں، یعنی اس پر ایمان لائیں، اس سے محبت رکھیں، اس کی مدد کریں اور اس کے تمام حقوق ادا کریں۔ (رسول کی مکمل اطاعت کریں) ثالثاً: وہ تعلق ہے جو ہمارے اور ہمارے والدین، عزیز و اقارب، دوست احباب اور تمام مخلوق کے درمیان ہے، ان سب کے حقوق کی ادائیگی بھی اس تعلق کے جوڑنے میں شامل ہے جس کا حکم ہمیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اہل ایمان ان تمام رشتوں، حقوق اور تعلقات کو جوڑے رکھتے ہیں جن کو جوڑنے کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے اور ان حقوق کو بہترین طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ رہے اہل فسق تو وہ ان رشتوں کو توڑتے ہیں اور ان کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر (ان کے تقدس کا پاس نہیں کرتے) اس کی بجائے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں، قطع رحمی سے کام لیتے ہیں اور گناہوں کے کام کرتے ہیں اور یہی زمین میں فساد برپا کرنا ہے۔ ﴿أُولَـٰئِكَ﴾” یعنی یہی لوگ جو اس صفت سے متصف ہیں۔﴿هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑنے والے ہیں۔ خسارے کو ان فاسقین میں اس لیے محصور و محدود رکھا کیونکہ ان کا خسارہ ان کے تمام احوال میں عام ہے۔ ان کے نصیب میں کسی قسم کا کوئی نفع نہیں، کیونکہ ہر نیک کام کے مقبول ہونے کے لئے ایمان شرط ہے۔ پس جو ایمان سے محروم ہے، اس کے عمل کا کوئی وزن اور اعتبار نہیں، یہ خسارہ کفر کا خسارہ ہے۔ رہا وہ خسارہ جو کبھی کفر ہوتا ہے، کبھی گناہ اور معصیت کے زمرے میں اور کبھی مستحب امور کو ترک کرنے کی کوتاہی کے زمرے میں آتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مذکور ہے۔ ﴿إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ﴾ (العصر:103؍2)” بے شک انسان ضرور گھاٹے میں ہے۔“ اس خسارے میں تمام انسان داخل ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان اور عمل صالح کی صفات، ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرنے اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنے کی خوبیوں سے متصف ہیں نیز بھلائی سے محرومی کی حقیقت سے بھی وہ آشنا ہوتے ہیں، جس کو بندہ حاصل کرنے کے درپے ہوتا ہے اور اس کا حصول اس کے امکان میں ہوتا ہے۔ البقرة
28 اس آیت میں استفہام تعجب، زجر و توبیخ اور انکار کے معنی میں ہے۔ یعنی تم کیسے اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو جو تمہیں عدم میں سے وجود میں لایا اور اس نے تمہیں انواع و اقسام کی نعمتوں سے نوازا پھر وہ تمہارے وقت پورا ہونے پر تمہیں موت دے گا اور قبروں کے اندر تمہیں جزا دے گا پھر قیامت کے برپا ہونے پر تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے تصرف میں ہو، اس کی تدبیر اور اس کے احسان کے تحت زندگی بسر کر رہے ہو، اور تم (دنیا میں) اس کے احکام دینیہ اور اس کے بعد (آخرت میں) اس کے قانون جزا و سزا کے تحت آتے ہو، تب کیا تمہیں یہ لائق ہے کہ تم اس کا انکار کرو؟ کیا تمہارا یہ رویہ ایک بڑی جہالت اور ایک بڑی حماقت کے سوا کچھ اور ہے ؟ اس کے برعکس تمہارے لئے مناسب تو یہ تھا کہ تم اس سے ڈرتے، اس کا شکر ادا کرتے، اس پر ایمان لاتے، اس کے عذاب سے خوف کھاتے اور اس کے ثواب کی امید رکھتے۔ البقرة
29 ﴿ هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا﴾” وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے واسطے جو کچھ زمین ہے سب کا سب“ یعنی اس نے تم پر احسان اور رحم کرتے ہوئے تمہارے فائدے، تمہارے تمتع اور تمہاری عبرت کے لئے زمین کی تمام موجودات کو پیدا کیا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اشیاء میں اصل، اباحت اور طہارت ہے۔ (یعنی ہر چیز جائز اور پاک ہے) کیونکہ یہ آیت احسان جتلانے کے سیاق میں ہے۔ اس جواز سے تمام ناپاک چیزیں نکل جاتی ہیں، اس لئے کہ ان کی حرمت بھی فحوائے آیت اور بیان مقصود سے ماخوذ ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان اشیاء کو ہمارے فائدے کے لئے تخلیق فرمایا ہے، لہٰذا ان میں سے جس کسی چیز میں کوئی نقصان ہے تو وہ اس اباحت سے خارج ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کاملہ ہے کہ اس نے ہمیں خبائث سے منع کیا تاکہ ہم پاکیزہ رہیں۔ ﴿ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴾ ” پھر قصد کیا اس نے آسمان کی طرف، سو ٹھیک کردیا ان کو سات آسمان، اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ “ کلمہ ” استوی“ کے معانی : استویٰ قرآن مجید میں تین معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ (1) کبھی یہ حرف کے ساتھ مل کر متعدی نہیں ہوتا تب یہ ” کمال‘ اور ” اتمام“ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ﴾ ( القصص :14؍28 )” جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور کامل جوان ہوا۔ “ (2) کبھی یہ ارتفاع اور بلند ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب یہ "علیٰ" کے ساتھ متعدی ہو۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿الرَّحْمَـٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ ﴾ (طہ :20؍5) ” رحمٰن جس نے عرش پر قرار پکڑا۔“ اور ارشاد ہے۔ ﴿لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ﴾ (الزخرف : 34؍ 13) ” تاکہ تم اس کی پیٹھ پر قرار پکڑو“۔ (3) اور کبھی ” یہ قصد کرنے“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس وقت یہ ” الیٰ“ کے ساتھ متعدی ہوتا ہے، جیسا کہ زیر تفسیر آیت میں ہے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی تو پھر اس نے آسمانوں کی تخلیق کا قصد کیا ﴿فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ﴾ ” پھر اس نے انہیں ٹھیک سات آسمان بنادیا“ یعنی آسمانوں کو پیدا کیا، ان کو مستحکم اور مضبوط کیا۔ ﴿وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴾ ” اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے“ یعنی ﴿يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا﴾ (الحدید : 57 ؍ 4) ” جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے، جو کچھ زمین سے نکلتا ہے، جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ آسمان میں چڑھتا ہے وہ اسے جانتا ہے“ اور﴿يَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ﴾ (النحل : 16 ؍ 19) ” جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، وہ سب جانتا ہے“ اور﴿يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى﴾(طہ:20؍7) ” وہ تمام بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کا علم رکھتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر اپنی قدرت تخلیق اور اپنے لئے اثبات علم کو ساتھ ساتھ بیان فرمایا جیسا کہ اس آیت میں اور ایک دوسری آیت میں بیان فرمایا ہے : ﴿أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ﴾ (الملک : 67؍ 14) ” کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا، اور وہ تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور باخبر ہے۔ “ کیونکہ مخلوقات کو پیدا کرنا اس کے علم و حکمت اور اس کی قدرت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ البقرة
30 ﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾ ” اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا، میں زمین میں ایک خلیفہ بناؤں گا“ یہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کی ابتدا اور ان کی فضیلت کا ذکر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی تخلیق کا ارادہ کیا تو اس نے فرشتوں کو آگاہ کیا اور فرمایا کہ وہ آدم کو زمین کے اندر خلیفہ بنائے گا۔ اس پر تمام فرشتوں نے کہا ﴿ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا﴾” کیا تو زمین میں اس کو بنائے گا جو اس میں فساد کرے گا“ یعنی گناہوں کا ارتکاب کرکے زمین پر فساد برپا کرے گا ﴿ وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ﴾” اور خون بہائے گا“ یہ عموم کے بعد تخصیص ہے اور اس کا مقصد قتل کے مفاسد کی شدت کو بیان کرنا ہے اور یہ فرشتوں کے گمان کے مطابق تھا کہ وہ ہستی جسے زمین میں خلیفہ بنایا جارہا ہے اس کی تخلیق سے زمین کے اندر فساد ظاہر ہوگا، چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور عظمت بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ وہ اس طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کررہے ہیں جو تمام مفاسد سے پاک ہے۔ چنانچہ انہوں نے کہا ﴿ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ﴾ ” اور ہم تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں تیری خوبیوں کے ساتھ“ یعنی ہم ایسی تنزیہ کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں جو تیری حمد و جلال کے لائق ہے۔ ﴿وَنُقَدِّسُ لَكَ﴾اس میں ایک معنی کا احتمال یہ ہے کہ ہم تیری تقدیس بیان کرتے ہیں یعنی (نُقَدِّسَكَ) اس صورت میں لام تخصیص اور اخلاص کا فائدہ دے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس کے معنی ہوں۔ ( وَنُقَدِّسُ لَكَ أ َ نفُسَنَا) ” ہم اپنے آپ کو تیرے لئے پاک کرتے ہیں“ یعنی ہم اپنے نفوس کو اخلاق جمیلہ جیسے محبت الہٰی، خثیت الہٰی اور تعظیم الہٰی کے ذریعے سے پاک کرتے ہیں اور ہم اپنے نفسوں کو اخلاق رزیلہ سے بھی پاک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا ﴿ إِنِّي أَعْلَمُ﴾یعنی میں جانتا ہوں کہ یہ خلیفہ کون ہے۔ ﴿مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾جو تم نہیں جانتے کیونکہ تمہارا کلام تو ظن اور گمان پر مبنی ہے جب کہ میں ظاہر و باطن کا علم رکھتا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ اس خلیفہ کی تخلیق سے جو خیر اور بھلائی حاصل ہوگی وہ اس شر سے کئی گنا زیادہ ہے جو اس کی تخلیق میں مضمر ہے اور اس میں یہ بات بھی نہ ہوتی، تب بھی اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ کہ وہ انسانوں میں سے انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کو چنے، اس کی نشانیاں مخلوق پر واضح ہوں اور اس سے عبودیات کی وہ کیفیتیں حاصل ہوں جو اس خلیفہ کی تخلیق کے بغیر حاصل نہ ہوسکتی تھیں، جیسے جہاد وغیرہ ہیں اور امتحان اور آزمائش کے ذریعے سے خیر و شر کی وہ قوتیں ظاہر ہوں جو مکلفین کی فطرت میں پوشیدہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں، دوستوں، اس کے خلاف جنگ لڑنے والوں اور حزب اللہ کے مابین امتیاز ہو اور ابلیس کا وہ شر ظاہر ہو جو اس کی فطرت میں پوشیدہ ہے اور جس سے وہ متصف ہے۔ تو آدم علیہ السلام کی تخلیق میں یہ حکمتیں ہی اتنی عظیم ہیں کہ ان میں سے چند ایک بھی اس کی تخلیق کے لئے کافی ہیں۔ البقرة
31 پھر چونکہ فرشتوں کے قول میں ان کے اس خیال کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں اس خلیفہ پر فضیلت حاصل ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ فرشتوں پر آدم کی فضیلت کو واضح کردے، تاکہ اس کے ذریعے سے وہ آدم کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ کے کمال حکمت اور اس کے علم کو جان لیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے اسماء اور ان کے مسمی کا علم عطا کردیا۔ پس اس نے اسے اسم اور مسمی دونوں کی تعلیم دی۔ یعنی الفاظ اور معانی دونوں سکھا دئیے۔ یہاں تک کہ اسماء میں سے مکبر اور مصغر کے مابین امتیاز کو بھی واضح کردیا، مثلاً ” قَصْعَةٌ “ (پیالہ) اور ” قُصَیْعَةٌ “ (چھوٹا سا پیالہ) ﴿ثُمَّ عَرَضَهُمْ ﴾ یعنی پھر ان مسمیات کو پیش کیا۔ ﴿عَلَى الْمَلَائِكَةِ﴾” فرشتوں پر“ یعنی فرشتوں کو آزمانے کے لئے کہ آیا یہ ان مسمیات کو پہچانتے ہیں یا نہیں اور فرمایا: ﴿فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَـٰؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ﴾اگر تم اپنے اس دعوے اور گمان میں سچے ہو کہ تم اس خلیفہ سے افضل ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ البقرة
32 ﴿قَالُوا سُبْحَانَكَ﴾ فرشتوں نے جواب دیا کہ ہم نے تجھ پر جو اعتراض کیا تھا اور تیرے حکم کی مخالفت کا ارتکاب کر بیٹھے۔ اس سے تجھے منزہ اور پاک تسلیم کرتے ہیں۔ ﴿ لَا عِلْمَ لَنَا﴾یعنی ہمیں کسی بھی پہلو سے کوئی علم نہیں ﴿ إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا﴾سوائے اس علم کے جو تو نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں عطا کیا ہے۔ ﴿إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ﴾( اَلْعَلِيمُ )اس ہستی کو کہا جاتا ہے، جس نے اپنے علم کے ذریعے سے ہر چیز کا احاطہ کررکھا ہو۔ اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہ ہو آسمانوں اور زمین میں کوئی ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہ ہو، اس ذرے سے بڑی یا اس سے چھوٹی کوئی چیز بھی اس سے چھپی ہوئی نہ ہو۔ (اَلْحَکِیْم) اس ہستی کو کہا جاتا ہے جو کامل حکمت کی مالک ہو۔ کوئی مخلوق اس کی حکمت سے باہر نہ ہو اور کوئی مامور اس حکمت سے علیحدہ نہ ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز ایسی پیدا نہیں کی جس میں کوئی حکمت نہ ہو اور نہ کوئی ایسا حکم دیا ہے جو حکمت سے خالی ہو۔ حکمت سے مراد ہے کسی چیز کو اس کے اس مقام پر رکھنا جو اس کے لائق ہے۔ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی حکومت اور علم کا اقرار اور اعتراف کیا اور اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ وہ ایک ادنیٰ سی چیز کی معرفت سے بھی قاصر تھے۔ انہوں نے اس حقیقت کا بھی اعتراف کیا کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور انہیں وہ کچھ سکھایا جو وہ نہ جانتے تھے۔ البقرة
33 پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿يَا آدَمُ أَنبِئْهُم بِأَسْمَائِهِمْ﴾ اے آدم ! ان کو ان کے ناموں کی خبر دو“ یعنی ان تمام مسمیات کے اسماء کے بارے میں آگاہ کرو جن کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے پیش کیا تھا اور فرشتے ان کے نام بتانے سے قاصر رہے۔ ﴿فَلَمَّا أَنبَأَهُم﴾” جب آدم علیہ السلام نے فرشتوں کو ان ناموں سے آگاہ کیا“ تو ان پر آدم کی فضیلت ظاہر اور اس کو خلیفہ بنانے میں باری تعالیٰ کی حکمت اور اس کا علم ثابت ہوگیا۔ ﴿ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾” اللہ نے فرمایا، کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہوں۔“ غیب سے مراد ہر وہ چیز ہے جو ہم سے اوجھل ہوا اور ہم اس کا مشاہدہ نہ کرسکتے ہوں۔ جب وہ غائب چیزوں کا علم رکھتا ہے تو مشہودات کو وہ بدرجہ اولیٰ جانتا ہے۔ ﴿  وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ﴾یعنی میں جانتا ہوں اس چیز کو جسے تم ظاہر کرتے ہو ﴿مَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ﴾” اور جو کچھ تم چھپاتے ہو“۔ البقرة
34 پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کے اکرام و تعظیم اور اللہ تعالیٰ کی عبودیت کے اظہار کے لئے آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ ریز ہوں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی اور تمام فرشتے اسی وقت سجدے میں گر گئے ﴿ إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ﴾سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے تکبر کا اظہار کیا اور آدم علیہ السلام سے اپنے آپ کو بڑا سمجھا۔ اس نے تکبر سے کہا : ﴿ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا﴾(بنی اسرائیل :61؍17)” کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے تخلیق کیا ہے۔“ یہ انکار اور استکبار اس کے اس کفر کا نتیجہ تھا جو اس کی سرشت میں پوشیدہ تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اور آدم علیہ السلام سے اس کی عداوت ظاہر ہوگئی اور اس کا کفر و استکبار عیاں ہوگیا۔ ان آیات کریمہ سے کچھ نصیحتیں اور کچھ نکات ماخوذ ہوتے ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کے لئے کلام کا اثبات، وہ ہمیشہ سے کلام کرتا رہا ہے، وہ جو چاہتا ہے کہتا ہے، وہ جو چاہتا ہے کلام کرتا ہے، وہ علم والا اور حکمت والا ہے۔ (2) بندے پر جب بعض مخلوقات اور مامورات میں پوشیدہ اللہ تعالیٰ کی حکمت مخفی رہ جائے تو اس پر سر تسلیم خم کرنا، اپنی عقل کو ناقص ٹھہرانا اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا اقرار کرنا واجب ہے۔ (3) ان آیات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے معاملے کو اہمیت دی، ان پر احسان عظیم فرمایا، جس چیز کے بارے میں وہ جاہل تھے اس کی انہیں تعلیم دی اور جس کا انہیں علم نہ تھا اس پر انہیں متنبہ فرمایا۔ ان آیات میں مندرجہ ذیل وجوہ سے علم کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ (الف) اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو اپنے علم و حکمت کی معرفت عطا کی۔ (ب) اللہ تعالیٰ نے ان کو اس حقیقت سے واقف کرایا کہ آدم علیہ السلام کو بربنائے علم فضیلت حاصل ہے اور علم بندے کی افضل ترین صفت ہے۔ (ج) جب آدم علیہ السلام کے علم کی فضیلت واضح اور عیاں ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کے اکرام و تکریم کے لئے اسے سجدہ کریں۔ (د) کسی اور کو کسی امتحان کے ذریعے سے آزمانا جبکہ اس امتحان میں کچھ لوگ پورے نہ اترے ہوں، پھر امتحان میں پورا اترنے والے صاحب فضیلت سے یہ امتحان لے تو یہ اس شخص سے زیادہ کامل ہے جس سے ابتدا میں امتحان لیا گیا تھا۔ (ھ) جن و انس کے والدین کے احوال سے عبرت پذیری، آدم علیہ السلام کی فضیلت، اس پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور آدم کے ساتھ ابلیس کی عداوت کا اظہار اور اس جیسی دیگر عبرتیں۔ البقرة
35 ﴿وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا﴾ ’’اور ہم نے کہا، اے آدم ! رہ تو اور تیری بیوی جنت میں اور کھاؤ تم اس سے خوب سیر ہو کر۔“ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا، اس کو فضیلت عطا کی، تو خود اسی میں سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے اس پر اپنی نعمت کا اتمام کردیا تاکہ وہ اپنی بیوی کے پاس سکون، راحت اور انس حاصل کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حکم دیا کہ وہ جنت میں رہیں اور جنت میں مزے سے بے روک ٹوک کھائیں پئیں۔ ﴿ حَيْثُ شِئْتُمَا﴾یعنی جہاں سے چاہو، مختلف اصناف کے پھل اور میوے کھاؤ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرَىٰ وَأَنَّكَ لَا تَظْمَأُ فِيهَا وَلَا تَضْحَىٰ  ﴾(طہ۔2؍118۔119)’’یہاں تجھے یہ آسانی حاصل ہوگی کہ تو اس میں بھوکا رہے گا نہ عریاں ہوگا نہ تو اس میں پیاسا ہوگا اور نہ تجھے دھوپ لگے گی۔ “ ﴿ وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ ﴾” اور دونوں اس درخت کے قریب نہ جانا“ یہ جنت کے درختوں میں سے ایک درخت ہے۔ واللہ اعلم۔ آدم اور اس کی بیوی کو صرف ان کی آزمائش اور امتحان کے لئے یا کسی ایسی حکمت کے تحت اس درخت کے قریب جانے سے روکا گیا تھا جو ہمارے علم میں نہیں۔ ﴿ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴾” پس تم بے انصافوں میں سے ہوجاؤ گے“ یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ یہاں نہی تحریم کے لئے ہے، کیونکہ اس ممانعت پر عمل نہ کرنے کو ظلم کہا ہے۔ ان کا دشمن (ابلیس) ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتا رہا اور اس درخت کے پھل کو تناول کرنے کی خوبیوں کو مزین کر کے انہیں اس پھل کو کھا لینے کی ترغیب دیتا رہا حتیٰ کہ وہ انہیں پھسلانے میں کامیاب ہوگیا۔ ابلیس کی تزئین نے ان کو اس لغزش پر آمادہ کیا۔ ﴿ وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ﴾(الاعراف : 7؍ 21) ” اس نے ان دونوں کے سامنے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔“ چنانچہ وہ دونوں اس کی باتوں میں آ کر دھوکا کھا گئے اور اس کے پیچھے لگ گئے اور اس نے ان دونوں کو نعمتوں اور آسائشوں کے گھر سے نکال باہر کیا اور ان کو دکھوں، تکلیفوں اور مجاہدے کی سرزمین پر اتار دیا گیا۔ البقرة
36 ﴿ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ﴾” تمہارا ایک، دوسرے کا دشمن ہے۔“ یعنی ابلیس اور اس کی ذریت، آدم علیہ السلام اور اولاد آدم کی دشمن ہوگی اور ہمیں معلوم ہے کہ دشمن اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر طریقے سے اس کی برائی چاہتا ہے اور ہر طریقے سے اسے بھلائی سے محروم کرنے کے در پے رہتا ہے۔ اس ضمن میں بنی آدم کو شیطان سے ڈرایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔﴿إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ۚ إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ﴾(فاطر:35؍ 6)’’بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تم اسے دشمن ہی سمجھو وہ تو اپنی جماعت کو بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔“ ﴿أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۚ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا﴾ (الکھف: 18؍50 )’’کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو میرے سوا اپنا دوست بناتے ہوحالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں؟ اور ظالموں کے لیے بہت ہی برا بدلہ ہے۔ “ پھر انہیں زمین پر اتارے جانے کے مقصد سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْـتَقَرٌّ﴾یعنی زمین کے اندر تمہارا مسکن اور ٹھکانا ہوگا۔ ﴿ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ﴾تمہارا وقت پورا ہونے تک (تم نے اس سے فائدہ اٹھانا ہے) پھر تم اس گھر میں منتقل ہوجاؤ گے جس کے لیے تمہیں اور جسے تمہارے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں واضح ہے کہ اس زندگی کی مدت عارضی اور ایک خاص وقت تک کے لیے ہے، یہ دنیا حقیقی مسکن نہیں ہے۔ یہ تو ایک راہ گزر ہے جہاں سے اگلے جہان کے لئے زادراہ حاصل کیا جاتا ہے (دوران سفر) اس راہ گزر میں مستقل ٹھکانا تعمیر نہیں کیا جاتا۔ البقرة
37 آدم علیہ السلام نے (کچھ کلمات) سیکھ لیے اور یاد کرلیے، اللہ تعالیٰ نے یہ کلمات آدم کو الہام کئے تھے۔ وہ کلمات یہ تھے﴿ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ (الاعراف : 7؍ 23) ” اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔“ آدم علیہ السلام نے اپنے گناہ کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت کا سوال کیا۔ ﴿فَتَابَ عَلَیْہِ ۭ اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّابُ﴾ ’’پس اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کرلی اور اس پر رحم فرمایا جو کوئی توبہ کرتا اور اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں کی طرف رجوع کرنے کی دو قسمیں ہیں۔ (1) سب سے پہلے اللہ تعالیٰ بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ (2) پھر جب توبہ کی تمام شرائط پوری ہوجاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرلیتا ہے۔ ﴿ الرَّحِیْمُ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت ہی رحم کرنے والا ہے۔ ان پر اس کی رحمت یہ ہے کہ اس نے انہیں توبہ کی توفیق سے نوازا اور ان کو معاف کر کے ان سے درگزر فرمایا۔ البقرة
38 ﴿ قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْہَا جَمِیْعًا ﴾” ہم نے کہا اتر واس سے اکٹھے“۔ زمین پر اتارے جانے کا مکرر ذکر کیا، تاکہ اس پر وہ حکم مرتب کیا جائے جس کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے۔ ﴿ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّـنِّیْ ھُدًی﴾ یعنی اے جن وانس ! اگر تمہارے پاس میری طرف سے کسی وقت اور کسی بھی زمانے میں ہدایت پہنچے، یعنی کوئی رسول اور کوئی کتاب آئے جو اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرے جو تمہیں میرا تقرب عطا کرے، میرے اور میری رضا کے قریب کرے۔ پس جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرتے ہوئے میرے رسولوں اور میری کتابوں پر ایمان لائے اور ان رسولوں کو راہنما بنائے۔۔۔ اور اس سے مراد ہے کہ وہ تمام انبیاء و مرسلین اور کتب وحی کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کرے، اللہ کے اوامر پر عمل کرے اور اس کی منہیات سے اجتناب کرے۔ تب اس صورت میں﴿فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ﴾ ” ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“ ایک دوسرے مقام پر آتا ہے۔﴿فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ﴾۔ (طٰہ: 20؍ 123) ’’جو کوئی میری ہدایت کی پیری کرے گا وہ نہ تو گمراہ ہوگا نہ بدبختی میں پڑے گا۔ “ البقرة
39 پس اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی پر چار چیزیں مرتب ہوتی ہیں۔ بندے سے حزن و خوف کی نفی۔ حزن اور خوف میں فرق یہ ہے کہ اگر غیر پسندیدہ امر گزر چکا ہو تو وہ دل میں حزن کا باعث ہوتا ہے اور اگر وہ اس غیر پسندیدہ امر کا منتظر ہو تو یہ خوف پیدا کرتا ہے۔ پس جس کسی نے ہدایت الٰہی کی پیروی کی اس سے حزن و خوف دور ہوگئے اور جب اس سے حزن و خوف کی نفی ہوگئی تو ان کی ضد ثابت ہوگئی اور وہ ہے ہدایت اور سعادت، لہٰذا جو کوئی بھی اس کی ہدایت کی پیروی کرتا ہے اسے امن، دنیاوی اور اخروی سعادت اور ہدایت حاصل ہوتی ہے اور ہر تکلیف دہ چیز یعنی حزن و خوف اور ضلالت و شقاوت اس سے دور کردی جاتی ہے۔ ہر مرغوب چیز اسے عطا کردی جاتی ہے اور خوف زدہ کرنے والی چیز اس سے دور ہٹا دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس اس شخص کا معاملہ ہوگا جس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی نہ کی، پس اس کا انکار کیا اور اس کی آیات کو جھٹلایا۔ ﴿ اُولٰۗیِٕکَ اَصْحٰبُ النَّارِ﴾” یہی لوگ جہنمی ہیں“ یعنی جہنم ان کے لئے لازم ہے۔ جیسے ساتھی دوسرے ساتھی سے اور قرض خواہ مقروض سے چمٹا رہتا ہے۔ ﴿ ھُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ﴾” وہ اس جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔“ کبھی اس سے باہر نہیں نکلیں گے جہنم کا عذاب کبھی ان سے کم نہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی مدد پہنچے گی۔ ان آیات کریمہ اور ان جیسی دیگر آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخلوق میں سے تمام جن و انس، اہل سعادت اور اہل شقاوت کی اقسام میں منقسم ہیں۔ ان آیات میں دونوں فریقوں کی صفات اور ان اعمال کا ذکر کیا گیا ہے جو سعادت یا شقاوت کے موجب ہیں۔ ان آیات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ” جن“ ثواب و عقاب کے معاملے میں انسانوں کی طرح ہیں جس طرح وہ ان کی مانند امرو نہی کے مکلف ہیں۔ البقرة
40 پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتوں اور اپنے احسانات کا ذکر شروع کیا۔ فرمایا : یہاں اسرائیل سے مراد حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب بنی اسرائیل کے ان گروہوں سے ہے جو مدینہ اور اس کے گرد و نواح میں آباد تھے۔ اس خطاب میں بعد میں آنے والے اسرائیلی بھی شامل ہیں۔ پس ان کو ایک عام حکم دیا ہے۔ فرمایا : ﴿ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ﴾” میری ان نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیں“ ان نعمتوں میں تمام نعمتیں شامل ہیں۔ ان میں سے بعض کا ذکر عنقریب اس سورت میں آئے گا۔ یہاں ان نعمتوں کے یاد کرنے سے مراد دل میں ان نعمتوں کا اعتراف کرنا، زبان سے ان کی تعریف کرنا اور جوارح کے ذریعے سے ان نعمتوں کو ایسی جگہ استعمال کرنا ہے جہاں اللہ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَاَوْفُوْا بِعَہْدِیْٓ﴾یعنی وہ اس عہد کو پورا کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا ہے کہ وہ اس پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں گے اور اس کی شریعت کو قائم کریں گے۔ ﴿ اُوْفِ بِعَہْدِکُمْ ﴾” میں تم سے کیا ہوا عہد پورا کروں گا“ یہ ان کے عہد کے پورا کرنے کا بدلہ ہے۔ اس عہدسےمراد وہ عہد ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر کیا ہے : ﴿وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا ۖ وَقَالَ اللَّـهُ إِنِّي مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنتُم بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۚ فَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ﴾ (المائدة : 5؍12) ” اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان میں سے ہم نے بارہ سردار مقرر کردیے اور اللہ نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے، میرے رسولوں پر ایمان لاتے اور ان کی عزت و توقیر کرتے رہو گے اور اللہ کو قرض حسنہ دیتے رہو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کر دوں گا اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کروں گا جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، پھر تم میں سے جس نے اس کے بعد کفر کا ارتکاب کیا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا جو وفائے عہد کے حامل ہیں یعنی اس اکیلے سے خوف کھانا اور ڈرنا، کیونکہ جو کوئی اس سے ڈرتا ہے تو یہ ڈر اس کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کا موجب بنتا ہے۔ البقرة
41 پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خاص امر کا حکم دیا ہے جس کے بغیر ان کا ایمان مکمل ہوتا ہے نہ اس کے بغیر ایمان صحیح۔ فرمایا ﴿ وَاٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ﴾” اور ایمان لاؤ اس پر جو میں نے نازل کیا۔“ اس سے مراد قرآن مجید ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں اور آپ پر ایمان لانے اور اتباع کرنے کا حکم اس کتاب پر بھی ایمان لانے کو مستلزم ہے جو آپ پر نازل کی گئی۔ پھر اس داعی کا ذکر کیا جو انہیں ایمان کی طرف بلاتا ہے۔ فرمایا : ﴿مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ﴾” تصدیق کرنے والا ہے ان چیزوں کی جو تمہارے پاس ہیں‘‘ یعنی یہ (قرآن) ان کتابوں کی موافقت کرتا ہے جو تمہارے پاس ہیں یہ ان کے مخالف ہے نہ مناقض۔ پس جب یہ قرآن ان کتابوں کی موافقت کرتا ہے جو تمہارے پاس ہیں اور ان کی مخالفت نہیں کرتا تو پھر تمہارے اس پر ایمان لانے سے کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہی چیز لے کر آئے ہیں جو پہلے رسول لائے تھے، لہٰذا تم سب سے زیادہ مستحق ہو کہ تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی تصدیق کرو کیونکہ تم اہل کتاب اور اہل علم ہو۔ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ ﴾میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر تم اس پر ایمان نہیں لاؤ گے تو یہ تکذیب خود تمہاری طرف لوٹے گی یعنی تم خود بھی ان کتابوں کے جھٹلانے والے ٹھہرو گے جو تمہارے پاس ہیں۔ اس لئے کہ یہ پیغمبر بھی وہی چیز لے کر آیا ہے جو حضرت موسیٰ، عیسیٰ اور دیگر انبیا علیہ السلام لے کر آئے، لہٰذا تمہارا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کرنا درحقیقت ان کتابوں کی تکذیب ہے جو تمہارے پاس ہیں۔ نیز اس لئے بھی کہ ان کتابوں میں، جو تمہارے پاس ہیں اس نبی کے اوصاف اور نشانیاں بیان ہوئی ہیں اور اس کی بشارت دی گئی جو یہ قرآن لے کر آیا ہے۔ اس لئے اگر تم اس پر ایمان نہیں لاتے تو تم نے گویا ان کتابوں کے بعض احکام کو جھٹلایا جو تمہارے پاس ہیں۔ پس جو کوئی اس کتاب کے کچھ حصے کو جھٹلاتا ہے جو اس کی طرف نازل کی گئی ہے تو وہ تمام کتابوں کو جھٹلاتا ہے۔ جیسے کوئی شخص کسی ایک رسول کا انکار کرتا ہے تو دراصل وہ تمام رسولوں کا انکار کرتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اس رسول پر ایمان لانے کا حکم دیا، تو ان کو ایمان کی ضد یعنی اس کے ساتھ کفر سے روکا اور اس سے ڈرایا۔ فرمایا : ﴿وَلَا تَکُوْنُوْٓا اَوَّلَ کَافِرٍۢ بِہٖ ﴾یعنی رسول اللہ اور قرآن کی تکذیب کرنے والے پہلے لوگ نہ بنو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوَّلَ کَافِرٍۢ بِہٖ ﴾” اس کے اولین انکار کرنے والے“ (وَلَاتَكْفُرُوا بِهٖ) ” اس کا انکار نہ کرو“ سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ جب وہ اولین کفر کرنے والے ہوں گے تو گویا وہ کفر کی طرف بہت تیزی سے لپکے ہیں اس رویہ کے برعکس جو ان کے لئے زیادہ مناسب تھا۔ ان کے اپنے کفر اور انکار کا گناہ تو ان کے ذمہ ہے ہی، بعد میں آنے والے ان لوگوں کا گناہ بھی ان کے کندھوں پر ہے جنہوں نے ان کی پیروی کی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مانع کا ذکر کیا جو ان کو ایمان لانے سے روکتا ہے اور وہ ہے دنیا کے ادنیٰ فوائد کو ابدی سعادت پر ترجیح دینا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَـمَنًا قَلِیْلًا﴾ ” میری آیات (میں تحریف کر کے ان) کے عوض حقیر معاوضہ مت لو“ اس سے مراد وہ دنیاوی مناصب اور کھانے پینے کی اشیاء ہیں جن کے بارے میں وہ اس وہم میں پڑے ہوئے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے تو وہ ان چیزوں سے محروم ہوجائیں گے۔ پس انہوں نے ان ادنیٰ چیزوں کو آیات الٰہی کے بدلے خرید لیا اور ادنیٰ چیزوں کو آیات الٰہی پر ترجیح دی۔ ﴿ وَاِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ﴾” اور مجھ ہی سے ڈرو“ اور میرے سوا کسی سے نہ ڈرو۔ کیونکہ جب تم صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرو گے تو یہ چیز تم میں تقویٰ اور تھوڑی سی قیمت کے مقابلے میں آیات الٰہی پر ایمان کو مقدم رکھنے کی موجب ہوگی۔ جیسے جب تم آیات الٰہی کے بدلے تھوڑی سی قیمت کو پسند کرلیتے ہو تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ تمہارے دلوں سے تقویٰ کوچ کر گیا ہے۔ البقرة
42 پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُوا الْحَــقَّ﴾’’’اور خلط ملط نہ کرو حق کو باطل کے ساتھ اور نہ چھپاؤ تم حق کو“ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو دو چیزوں سے منع کیا ہے۔ (1) حق کو باطل میں خلط ملط کرنے سے۔ (2) کتمان حق سے۔ اس لئے کہ اہل کتاب اور اہل علم سے مطلوب یہ ہے کہ وہ حق کو ممیز کر کے اس کو ظاہر کریں تاکہ ہدایت کے متلاشی حق کے ذریعے سے راہ پائیں اور گم گشتہ راہ لوگ سیدھے راستے کی طرف لوٹ آئیں اور اہل عناد پر حجت قائم ہو جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے اور اپنے دلائل واضح کردیئے تاکہ حق باطل سے بالکل الگ اور ممیز ہوجائے اور مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے۔ پس اہل علم میں سے جو کوئی حق پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ انبیاء و مرسلین کا جانشین اور قوموں کا راہنما بن جاتا ہے اور جو حق کو باطل میں گڈ مڈ کردیتا ہے، حق کا علم رکھنے کے باوجود حق کو باطل سے ممیز نہیں کرتا اور اس حق کو وہ چھپاتا ہے جسے وہ جانتا ہے اور جس کے اظہار کا اسے حکم دیا گیا ہے تو ایسا شخص جہنم کے داعیوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ لوگ دین کے معاملے میں اپنے علماء کے سوا کسی کی پیروی نہیں کرتے۔ پس تم ان دو چیزوں میں سے اپنے لیے جو چاہو چن لو۔ البقرة
43 پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ﴾ یعنی (ظاہری اور باطنی طور پر) نماز قائم کرو۔ ﴿ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ﴾ یعنی (مستحقین کو) زکوٰۃ دو۔ ﴿وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ﴾’’اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ“ یعنی نماز پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھو۔ جب تم نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور آیات الٰہی پر ایمان رکھتے ہوئے ان افعال کو سرانجام دیا تو یقیناً تم نے اعمال ظاہرہ اور اعمال باطنہ کو، معبود کے لئے اخلاص اور اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو اور عبادات قلبیہ، عبادات بدنیہ اور مالیہ کو جمع کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ﴾’’رکوع کرنے والوں کے ساتھ مل کر رکوع کرو‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ نماز پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھو۔ پس اس آیت کریمہ میں با جماعت نماز کا حکم اور جماعت کے وجوب کا حکم ہے اور یہ کہ رکوع نماز کا رکن ہے کیونکہ یہاں نماز کو رکوع سے تعبیر کیا گیا ہے اور عبادت کو اس کے کسی جزو سے تعبیر کرنا عبادت میں اس جزو کی فرضیت کی دلیل ہے۔ البقرة
44 ﴿ اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبر ﴾” کیا تم لوگوں کو نیکی (یعنی ایمان اور بھلائی) کا حکم دیتے ہو؟“ ﴿’ِ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ﴾ اور بھول جاتے ہو اپنے آپ کو“ یعنی تم اپنے آپ کو ایمان اور بھلائی کا حکم دینا چھوڑ دیتے ہو۔ ﴿وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ۝٠ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴾اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہو، کیا تم سمجھتے نہیں؟ عقل کو اس لئے عقل کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے سے فائدہ مند چیز اور بھلائی کا شعور حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے سے اس چیز سے بچا جاتا ہے جو ضر ررساں ہے، اس لیے کہ عقل انسان کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ جس چیز کا حکم دیتا ہے اس پر سب سے پہلے خود عمل کرے اور جس چیز سے روکتا ہے اس کو سب سے پہلے خود ترک کرے۔ پس جو کوئی کسی کو بھلائی کا حکم دیتا ہے اور خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتا یا وہ کسی کو برائی سے روکتا ہے اور خود اسے ترک نہیں کرتا تو یہ چیز اس کی جہالت اور اس کے بے عقل ہونے کی دلیل ہے خاص طور پر جبکہ ایسا شخص اس حقیقت کا علم بھی رکھتا ہو۔ پس اس پر حجت قائم ہوگئی۔ ہرچند کہ یہ آیت کریمہ بنی اسرائیل کے معاملہ میں نازل ہوئی ہے تاہم اس کا حکم ہر ایک کے لئے عام ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ-  كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّـهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾( الصف: 61؍ 2۔3) ”اے ایمان والو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑی ناراضی کی بات ہے کہ تم ایسی بات کہو جس پر عمل نہ کرو۔ “ آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ انسان جس کام کے کرنے کا حکم دیتا ہے اگر خود اس پر عمل نہیں کرتا تو وہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے سے رک جائے کیونکہ یہ آیت دونوں واجبات کی نسبت تو بیخ پر دلالت کرتی ہے۔ ورنہ ہمیں معلوم ہے کہ انسان پر دو امور واجب ہیں۔ (1) کسی دوسرے کو نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ (2) خود اپنے آپ کو نیکی پر آمادہ کرنا اور برائی سے رک جانا۔ ان میں سے ایک چیز کو ترک کرنے سے دوسری چیز کو ترک کرنے کی رخصت لازم نہیں آتی۔ کیونکہ کمال یہ ہے کہ انسان دونوں واجبات پر عمل کرے اور نقص یہ ہے کہ وہ دونوں واجبات کو ترک کر دے۔ رہا ان دونوں واجبات میں سے کسی ایک پر عمل کرنا تو یہ رتبہ کمال سے نیچے اور نقص سے اوپر ہے۔ نیز اس کی وجہ یہ ہے کہ نفوس انسانی کی جبلت میں یہ چیز داخل ہے کہ لوگ اس شخص کی اطاعت نہیں کرتے جس کا قول اس کے فعل کے خلاف ہوتا ہے پس وہ عمل سے عاری اقوال کی نسبت افعال کی زیادہ پیروی کرتے ہیں۔ البقرة
45 ﴿وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ﴾” اور مدد حاصل کرو صبر سے اور نماز سے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ تمام امور میں صبر کی تمام اقسام سے مدد لیں۔ صبر کی اقسام یہ ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اپنے نفس کو پابند کرنا۔ (2) اس کی نافرمانی سے اپنے آپ کو روکنا یہاں تک کہ اسے ترک کر دے۔ (3) اس کی تقدیر پر صبر کرنا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہ کرنا۔ ہر معاملے میں صبر کے ذریعے سے بڑی مدد ملتی ہے۔ جو کوئی صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صبر کرنے کی توفیق سے نواز دیتا ہے۔ اسی طرح نماز ہے جو کہ ایمان کی میزان ہے اور فواحش و منکرات سے روکتی ہے۔ ہر معاملہ میں نماز سے مدد لی جاتی ہے۔ ﴿وَإِنَّهَا﴾ یعنی نماز ﴿لَكَبِيرَةٌ﴾بہت شاق گزرتی ہے ﴿إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ﴾ سوائے ڈرنے والوں کے۔ اس لئے کہ یہ نماز ان پر بہت آسان اور ہلکی ہے کیونکہ خشوع، خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے ثواب کی امیدان کے لئے شرح صدر کے ساتھ نماز کے قیام کی موجب ہوتی ہے کیونکہ وہ ثواب کی امید کرتے اور عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اس کے برعکس جو ثواب کی امید نہیں رکھتا اور عذاب سے نہیں ڈرتا اس کے اندر کوئی ایسا داعیہ موجود نہیں ہوتا جو اسے نماز کی طرف بلائے۔ جب ایسا شخص نماز پڑھتا ہے تو نماز اس کے لئے سب سے بوجھل چیز ہوتی ہے۔ خشوع سے مراد ہے قلب کا اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کے ساتھ سرافگندہ ہونا، اس کا اللہ تعالیٰ کے پاس پر سکون اور مطمئن ہونا اور اس کے سامنے ذلت و فقر کے ساتھ اس کی ملاقات کی امید پر انکسار کا اظہار کرنا۔ البقرة
46 بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ۙالَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ﴾ یعنی جو یقین کرتے ہیں﴿ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّہِمْ﴾ کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کریں گے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔﴿ وَاَنَّھُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ﴾ اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹیں گے“ اس یقین نے ان کے لئے عبادات کو آسان کردیا ہے۔ یہی یقین مصائب میں ان کے لئے تسلی کا موجب ہوتا ہے، تکالیف کو ان سے دور کرتا ہے اور برے کاموں سے انہیں روکتا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے بلند بالا خانوں میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ملاقات پر ایمان نہیں رکھتا اس کے لئے نماز اور دیگر عبادات سب سے زیادہ شاق گزرنے والی چیزیں ہیں۔ البقرة
47 البقرة
48 پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی نصیحت کی خاطر اور ان کو برائیوں سے بچانے، نیکیوں پر آمادہ کرنے کے لئے ان پر اپنی نعمتوں کی مکرر یاد دہانی کرائی ہے اور انہیں قیامت کے دن سے ڈرایا ہے کہ ﴿لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ﴾جس روز کوئی نفس کسی کے کوئی کام نہ آئے گا اگرچہ یہ انبیائے کرام اور صالحین کے نفوس کریمہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿ عَن نَّفْسٍ﴾اگرچہ یہ نفس قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ ﴿ شَيْئًا﴾” کچھ بھی“ یعنی وہ کم یا زیادہ کوئی کام بھی نہ آسکے گا۔ انسان کو صرف اس کا وہی عمل کام دے گا جو اس نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا ہے۔ ﴿وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ﴾ اس نفس کے بارے میں کسی کی سفارش قبول نہ کی جائے گی۔ ہاں شفاعت اس شخص کی قبول ہوگی جس کو اللہ شفاعت کرنے کی اجازت دے گا اور سچ کی بابت شفاعت کی اجازت دی جائے گی اس کو بھی وہ پسند کرتا ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے اسی عمل کو پسند کرے گا جو صرف اس کی رضا کے لئے اور سنت رسول کے مطابق کیا گیا ہوگا (گویا ہر شخص شفاعت کرنے کا مجاز ہوگا نہ ہر کسی کے لئے شفاعت ہی کی جا سکے گی) ﴿ وَّلَا یُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ﴾ یعنی اس سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿ وَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ مِن سُوءِ الْعَذَابِ﴾ (الزمر : 39؍47) ” اگر ان لوگوں کے پاس جنہوں نے ظلم کیا وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو تو وہ برے عذاب سے بچنے کے لئے اسے فدیہ میں دیں گے۔“ (مگر ان سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔) ﴿وَّلَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ﴾ اور نہ وہ مدد کئے جائیں گے‘ یعنی ان سے وہ عذاب ہٹایا نہیں جائے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس بات کی نفی کردی کہ وہ کسی بھی پہلو سے قیامت کے روز مخلوق سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـیْــــًٔـا﴾حصول منافع کے بارے میں ہے اور ﴿ وَّلَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ﴾ دفع مضرت کے بارے میں ہے اور یہ نفی مستقبل میں کسی امرنافع کے بارے میں ہے۔ ﴿ وَّلَا یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَّلَا یُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ﴾یہ اس نفع کی نفی ہے جو معاوضہ دے کر اس شخص سے طلب کیا جاتا ہے جو اس نفع کا مالک ہو۔ یہ معاوضہ کبھی تو فدیہ ہوتا ہے کبھی اس کے علاوہ سفارش وغیرہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ پس یہ چیز بندے پر واجب کرتی ہے کہ وہ مخلوق سے تعلق اور امید کو منقطع کر دے کیونکہ اسے علم ہے کہ مخلوق اسے ذرہ بھر نفع پہنچانے پر قادر نہیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو جوڑے جو نفع پہنچانے والا اور تکالیف کو دور کرنے والا ہے، پس صرف اسی کی عبادت کرے جس کا کوئی شریک نہیں اور اس کی عبادت پر اسی سے مدد طلب کرے۔ البقرة
49 یہاں سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تفصیلاً شمار شروع ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا : ﴿ وَاِذْ نَجَّیْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ ﴾یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انہیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ﴿ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ﴾” وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب۔“ یعنی تمہیں ایذاء پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے ﴿یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَکُمْ﴾۔ اور وہ یہ کہ تمہارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمہاری تعداد بڑھ نہ جائے ﴿ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَاۗءَکُمْ﴾” اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے“ یعنی وہ تمہاری عورتوں کو قتل نہیں کرتے تھے پس تمہاری حالت یہ تھی کہ یا تو تمہیں قتل کردیا جاتا تھا یا تم سے مشقت کے کام لے کر تمہیں ذلیل کیا جاتا تھا اور تمہیں احسان کے طور پر اور اظہار غلبہ کے لئے زندہ رکھا جاتا تھا۔ یہ توہین اور اہانت کی انتہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں مکمل نجات عطا کر کے اور ان کے آنکھوں دیکھتے ان کے دشمن کو غرق کر کے ان پر احسان فرمایا تاکہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو۔ ﴿وَفِیْ ذٰلِکُمْ﴾” اور اس میں“ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس نجات عطا کرنے میں ﴿ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ﴾” تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش ہے“ پس یہ چیز تم پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے احکامات کی اطاعت کو واجب کرتی ہے۔ البقرة
50 البقرة
51 پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان پر تورات نازل کرے گا جو عظیم نعمتوں اور مصالح عامہ کو متضمن ہوگی۔ پھر وہ اس میعاد کے مکمل ہونے تک صبر نہ کرسکے چنانچہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چلے جانے کے بعد بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ ﴿ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ﴾” اور تم ظالم تھ‘‘ یعنی اپنے ظلم کو جاننے والے۔ تم پر حجت قائم ہوگئی۔ پس یہ سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑا گناہ ہے، پھر اس نے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام کی زبان پر تمہیں توبہ کرنے کا حکم دیا اور اس توبہ کی صورت یہ تھی کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس سبب سے تمہیں معاف کردیا۔ البقرة
52 ﴿ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ﴾’ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ “ البقرة
53 البقرة
54 البقرة
55 ﴿ وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہْرَۃً﴾ ” اور جب تم نے کہا، اے موسیٰ! ہم ہرگز تیری بات کا یقین نہیں کریں گے، یہاں تک کہ ہم اللہ کو سامنے دیکھ لیں“ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقابلے میں تمہاری جرأت کی انتہا تھی۔ ﴿فَاَخَذَتْکُمُ الصّٰعِقَۃُ ﴾پس تمہیں بے ہوشی نے آلیا۔ (اس بے ہوشی سے مراد) یا تو موت ہے یا عظیم بے ہوشی۔ ﴿وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ﴾تم اس تمام واقعہ کو دیکھ رہے تھے۔ ہر شخص اپنے ساتھی کو دیکھ رہا تھا۔ البقرة
56 ﴿ثُمَّ بَعَثْنَاكُم مِّن بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾  ” پھر تمہارے مرنے کے بعد ہم نے تمہیں دوبارہ زندہ کیا شاید کہ تم شکر گزار بنو۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جن سے اس نے بنی اسرائیل کو اس بیابان و صحرا میں نوازا جو سائے اور کھانے پینے کی چیزوں کی فراوانی سے خالی تھا۔ البقرة
57 فرمایا : ﴿ وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ﴾” پھر ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور تم پر ” مَنّ “ نازل کیا۔“ (الْمَنَّ) ہر قسم کے اس رزق کے لئے ایک جامع نام ہے جو بغیر کسی جدوجہد کے حاصل ہوتا ہو مثلاً سو نٹھ، کھمبی اور خبز (روٹی) (ایک) قسم کی نباتات) وغیرہ۔﴿وَالسَّلْوَىٰ﴾ایک چھوٹا سا پرندہ تھا جسے ” سُمانی“ (ایک قسم کی بٹیر) کہا جاتا ہے اس کا گوشت بہت لذیذ ہوتا ہے۔ پس یہ من اور سلویٰ اس مقدار میں ان پر اترتے کہ ان کی خوراک کے لئے کافی ہوتے ﴿کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ﴾” ان پاکیزہ چیزوں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں دیں۔“ یعنی ہم نے تمہیں ایسا رزق عطا کیا ہے کہ جیسا رزق آسودہ حال شہروں کے باشندوں کو بھی حاصل نہیں۔ مگر انہوں نے اس نعمت کا شکرادانہ کیا اور ان کے دلوں کی سختی اور گناہوں کی کثرت بدستور قائم رہی۔ ﴿ وَمَا ظَلَمُوْنا﴾ یعنی انہوں نے ہمارے احکام کے برعکس مخالف افعال کا ارتکاب کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا۔ کیونکہ اہل معاصی کی معصیت اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ جیسے اطاعت گزاروں کی اطاعت اسے فائدہ نہیں پہنچاتی۔ ﴿ وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ﴾” لیکن وہ اپنے ہی نفسوں پر ظلم کرتے تھے“ یعنی اس کا نقصان انہی کی طرف لوٹے گا۔ البقرة
58 یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہی تھی کہ ان کی نافرمانی کے بعد بھی اس نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک بستی میں داخل ہوجائیں یہ بستی ان کے لئے باعث عزت، ان کا وطن اور ان کا مسکن ہوگی اور اس بستی میں ان کو وافر اور بے روک ٹوک رزق ملے گا۔ بستی میں ان کا داخلہ بالفعل خضوع کی حالت میں ہو یعنی وہ بستی کے دروازے میں ﴿سُجَّدًا﴾ ” سجدے کی حالت میں“ گزریں یعنی وہ اس حالت میں دروازے میں داخل ہوں کہ ان پر خشوع و خضوع طاری ہو اور بالقول ﴿حِطَّةٌ﴾” بخش دے“ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں یعنی ان کے مغفرت کے سوال پر ان کی خطائیں معاف کردی جائیں۔ ﴿نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطٰیٰکُمْ ﴾تمہارے مغفرت کے سوال کرنے پر ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے ﴿ وَسَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ﴾ یعنی بھلائی کا کام کرنے والوں کو ہم دنیا و آخرت میں ان کے اعمال کی جزا زیادہ دیں گے۔ البقرة
59 ﴿فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا﴾۔ یعنی ان لوگوں نے اس قول کو بدل دیا تھا جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے (فَبَدَّلُوْا) ” ان سب نے بدل دیا“ نہیں فرمایا کیونکہ سب لوگ قول کو بدلنے والے نہ تھے ﴿ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ﴾ ” بات سوائے اس بات کے جو ان سے کہی گئی تھی“ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی توہین اور اس سے استہزا کرتے ہوئے (حِطَّۃٌ) کی بجائے (حَبَّۃٌ فِیْ حِنْطَۃٍ) کا لفظ کہا۔ جب ” قول“ کو باوجود اس کے کہ وہ آسان تھا، انہوں نے اسے بدل دیا تو ” فعل“ کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جاسکتی ہے۔ اس لئے وہ (اللہ تعالیٰ کے حکم کے برعکس) اپنے سرینوں پر گھسٹتے ہوئے دروازے میں داخل ہوئے۔ چونکہ یہ سرکشی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے واقع ہونے کا سب سے بڑا سبب تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا﴾ یعنی ان میں سے ظالموں پر عذاب نازل کیا۔ ﴿ مِّنَ السَّمَاءِ﴾ یعنی ان کی نافرمانی اور ان کے بغاوت کے رویہ کے سبب سے (آسمان سے یہ عذاب نازل ہوا) البقرة
60 یعنی جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے لئے پانی مانگا تاکہ وہ اس پانی کو پینے کے لئے استعمال کرسکیں ﴿  فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَر﴾َ ” تو ہم نے کہا : اپنی لاٹھی پتھر پر مار۔“ یہاں (الْحَجَرَ)کے معرفہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یا تو یہ کوئی مخصوص پتھر تھا جسے حضرت موسیٰ علیہ السلام جانتے تھے یا اسم جنس کی بنا پر معرفہ ہے۔ ﴿ فَانْفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْنًا﴾ ” پس اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے“ اور بنی اسرائیل کے بھی بارہ قبیلے تھے۔ ﴿قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْ﴾ یعنی ہر ایک قبیلے نے اپنی وہ جگہ معلوم کرلی جہاں انہوں نے ان چشموں سے پانی پینا ہے، تاکہ وہ پانی پیتے وقت ایک دوسرے کے مزاحم نہ ہوں، بلکہ وہ بغیر کسی تکدر کے خوش گواری کے ساتھ پانی پئیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿کُلُوْا وَاشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰہِ ﴾یعنی وہ رزق جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں بغیر کوشش اور جدوجہد کے عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ پیؤ۔ ﴿وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ﴾ یعنی فساد پھیلانے کی خاطر زمین کو مت اجاڑو۔ البقرة
61 تم اس وقت کو بھی یاد کرو جب تم نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے اکتا کر اور ان کو حقیر جانتے ہوئے کہا تھا : ﴿ لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ﴾ یعنی ہم ایک ہی جنس کے کھانے پر صبر نہیں کرسکتے۔ ان کا کھانا جیسا کہ (گزشتہ سطور میں) گزر چکا ہے اگرچہ متعدد انواع کا تھا مگر ان میں تبدیلی نہ ہوئی تھی۔ ﴿ فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِہَا﴾ ” پس تو ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر، وہ نکالے ہمارے لئے وہ جو اگتا ہے زمین سے، سبزی‘‘ یعنی زمین کی نباتات، جن کا شمار تن آور درختوں میں نہیں ہوتا۔﴿ وَقِثَّاۗیِٕہَا ﴾یعنی ککڑی ﴿وَفُوْمِہَا ﴾یعنی لہسن ﴿ وَعَدَسِہَا وَبَصَلِہَا﴾ یعنی مسور اور پیاز جو کہ معروف ہیں۔ تب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے فرمایا : ﴿اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ ھُوَ اَدْنٰی﴾” کیا لینا چاہتے ہو تم وہ چیز جو ادنیٰ ہے“ یعنی یہ تمام کھانے کی چیزیں جن کا ذکر ہوچکا ہے﴿ بِالَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ ﴾” اس کے بدلے میں جو بہتر ہے“ اس سے مراد ” من و سلویٰ“ ہے یعنی ایسا کہنا تمہارے لائق نہ تھا۔ اس لئے کہ کھانے کی یہ تمام انواع جن کا تم نے مطالبہ کیا ہے، تم جس کسی شہر میں بھی جاؤ گے وہاں تم کو مل جائیں گی۔ رہا وہ کھانا جس سے تمہیں اللہ تعالیٰ نے نوازا تھا وہ تمام کھانوں سے افضل اور ان سے بہتر ہے۔ پھر تم کیسے ان کھانوں کے بدلے دوسرے (ادنیٰ) کھانوں کا مطالبہ کرتے ہو؟ چونکہ جو کچھ ان کی طرف سے واقع ہوا وہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ صبر ان میں بہت ہی قلیل تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی نعمتوں کو حقیر خیال کرتے تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا بدلہ دیا جو ان کے اعمال ہی کی جنس میں سے تھا۔ فرمایا : ﴿وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ﴾” اور ان پر ذلت مسلط کردی گئی“ یعنی وہ ذلت جس کا ظاہری طور پر ان کے جسموں پر مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ ﴿ وَالْمَسْکَنَۃُ﴾ یعنی مسکینی جو ان کے دلوں میں جا گزیں ہوگئی۔ پس ان کی عزت نفس باقی رہی نہ بلند ہمتی بلکہ ان کے نفس ذلیل و خوار اور ان کی ہمتیں پست ترین ہوگئیں۔﴿وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّـهِ﴾” اور وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے“ یعنی وہ غنیمت جسے لے کر کامیابی کے ساتھ واپس لوٹے تھے اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے ساتھ لوٹے تھے۔ ان کی غنیمت کتنی بری غنیمت تھی اور ان کی حالت کتنی بری حالت تھی۔ ﴿ ذٰلِکَ﴾ وہ رویہ، جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق ٹھہرے۔ ﴿ بِاَنَّھُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ﴾” یہ تھا کہ وہ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے“ جو حق پر دلالت اور اس کو واضح کرتی تھیں چونکہ انہوں نے ان آیات کا انکار کردیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان پر اپنا غضب مسلط کردیا اور اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ﴿ وَیَقْتُلُوْنَ النَّـبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ﴾ انبیاء کو ناحق قتل کیا کرتے تھے۔ “ اللہ تعالیٰ کا ارشاد﴿ بِغَیْرِ الْحَقِّ﴾فعل کی برائی میں اضافہ کے اظہار کے لئے ہے ورنہ یہ تو اچھی طرح معلوم ہے کہ قتل انبیاء کسی بھی صورت میں حق نہیں ہوتا (بنابریں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے) کہ کہیں وہ اپنی جہالت اور عدم علم کی وجہ سے ایسا نہ سمجھ لیں۔ ﴿ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا ﴾یعنی یہ مذکورہ سزا کی وجہ ان کا گناہوں کا ارتکاب تھا ﴿ وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر زیادتی کے مرتکب ہوا کرتے تھے۔ کیونکہ گناہ اور معاصی ایک دوسرے کا سبب بنتے ہیں۔ پس غفلت سے گناہ صغیر جنم لیتے ہیں پھر ان گناہوں سے گناہ کبیرہ جنم لیتے ہیں پھر کبیرہ گناہوں سے مختلف قسم کی بدعات اور کفر کے رویئے پیدا ہوتے ہیں۔ ہم ہر آزمائش سے اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ معلوم ہونا چاہئے کہ ان آیات کریمہ میں خطاب بنی اسرائیل کے ان لوگوں سے ہے جو نزول قرآن کے وقت موجود تھے اور وہ افعال جن کا ذکر اس خطاب میں کیا گیا ہے ان کا ارتکاب ان کے اسلاف نے کیا تھا۔ ان افعال کی نسبت نزول قرآن کے وقت موجود بنی اسرائیل کی طرف متعدد وجوہ کی بنا پر کی گئی ہے۔ مثلاً: (1) یہودی اپنے آپ کو پاک سمجھتے تھے اور اپنی تعریف کیا کرتے تھے اور اس زعم میں مبتلا تھے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل ایمان سے افضل ہیں۔ ان کے اسلاف کے ان احوال کے ذریعے سے جو ان کے ہاں بھی مسلمہ تھے اللہ تعالیٰ نے ان سب پر واضح کردیا کہ وہ صبر، مکارم اخلاق اور بلند پایہ اعمال کے مالک نہیں تھے۔ جب ان کے اسلاف کی حالت یہ تھی۔ اس گمان کے باوجود کہ ان کی حالت بعد میں آنے والوں سے بہتر ہوگی، تو ان یہودیوں کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے جو قرآن کے براہ راست مخاطب تھے؟ (2) اللہ تعالیٰ کی جو نعمت متقدمین کو عطا ہوتی ہے وہ متاخرین کو بھی پہنچتی ہے، جو نعمت آباء و اجداد کو عطا ہوتی ہے وہ نعمت درحقیقت اولاد کو عطا ہوتی ہے۔ چونکہ نزول قرآن کے وقت موجود یہودی بھی ان نعمتوں میں شامل تھے اس لئے ان کو خطاب کیا گیا۔ (3) دوسروں کے افعال کی وجہ سے ان کو مخاطب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بنی اسرائیل کی امت ایک ایسے دین پر متفق تھی جس میں وہ ایک دوسرے کے ضامن اور ایک دوسرے کے معاون تھے۔ گویا کہ ان کے متقدمین متاخرین ایک ہی زمانے کے لوگ ہوں۔ ان میں سے کسی ایک سے کام کا ظاہر ہونا سب کی طرف سے ہے کیونکہ ان میں سے جو کوئی بھلائی کا کام کرتا ہے تو اس بھلائی کا فائدہ سب کو پہنچتا ہے اور ان میں سے جو کوئی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا نقصان بھی سب کو اٹھانا پڑتا ہے۔ (٤) متقدمین کے اکثر افعال کا متاخرین میں سے کسی نے انکار نہیں کیا تھا اور معصیت پر رضا مندی کا اظہار کرنے والا معصیت کے مرتکب کے گناہ میں شریک ہے۔ ان کے علاوہ دیگر حکمتیں بھی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ البقرة
62 پھر اہل کتاب کے مختلف گروہوں کے درمیان محاکمہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ حکم خاص طور پر اہل کتاب کے لئے ہے، کیونکہ صابئین کے بارے میں صحیح ترین رائے یہ ہے کہ یہ نصاریٰ ہی کا ایک فرقہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس امت کے اہل ایمان، یہود و نصاریٰ اور صابئین میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اپنے رسولوں کی تصدیق کی ان کے لئے اجر عظیم اور امن ہے۔ ان پر کسی قسم کا خوف ہوگا نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔ ان میں سے جس کسی نے اللہ تعالیٰ، اس کے انبیاء و رسل اور یوم آخرت کا انکار کیا تو ان کا حال مذکورہ بالا لوگوں کے حال کے برعکس ہوگا، پس وہ خوف اور غم سے دوچار ہوں گے۔ (مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں) صحیح مسلک یہ ہے کہ ان فرقوں کے مابین یہ محاکمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کی نسبت سے نہیں بلکہ ان کی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ہے۔ کیونکہ یہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل ان کے احوال کی خبر ہے۔ یہ قرآن کا طریقہ ہے۔ جب سیاق آیات کے بارے میں بعض نفوس و ہم کا شکار ہوجائیں تو لازمی طور پر وہ کوئی ایسی چیز ضرور پائیں گے جو ان کے وہم کو زائل کر دے۔ کیونکہ یہ کلام ایسی ہستی کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو اشیاء کے وجود میں آنے سے قبل ہی ان کو جانتی ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بنی اسرائیل کا ذکر مذمت کے طور پر کیا ہے اور ان کے گناہوں اور برائیوں کا تذکرہ کیا ہے تو بسا اوقات دل میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ اس مذمت میں تمام بنی اسرائیل شامل ہیں۔ اس لئے اللہ نے ایسے لوگوں کے بارے میں واضح کردیا جو اس مذمت میں شامل نہیں۔ نیز چونکہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے جس سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ باتیں صرف بنی اسرائیل ہی سے متعلق ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ایک عام حکم بیان کردیا جو تمام طوائف کو شامل ہے تاکہ حق واضح اور وہم و اشکال دور ہوجائے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی کتاب میں ایسی چیزیں بیان کی ہیں جو عقلوں کو متحیر کردیتی ہیں۔ البقرة
63 اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اسلاف کے افعال کی وجہ سے ان پر زجر و توبیخ کا پھر اعادہ کیا ہے۔ فرمایا ﴿ وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُم﴾ یعنی وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا۔ (مِيْثَاق) مراد ایسا پکا عہد ہے جو طور کو ان کے اوپر معلق کر کے ڈر اور دباؤ کے ذریعے سے مؤکد کیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا : ﴿ خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰکُمْ﴾ یعنی تو رات کو پکڑے رہو ﴿ بِقُوَّۃٍ﴾ یعنی تورات کو محنت، کوشش اور اللہ تعالیٰ کے اوامر پر صبر و استقامت کے ساتھ پکڑے رہو۔ ﴿وَّاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ﴾ یعنی جو کچھ تمہاری کتاب میں ہے اسے سیکھو اور اس کی تلاوت کرو۔ ﴿لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ﴾” تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے بچو“ یا ” تاکہ تم اہل تقویٰ میں شمار ہو۔“ البقرة
64 پھر اس نہایت بلیغ تاکید کے بعد فرمایا: ﴿ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ﴾ یعنی پھر تم نے اس سے اعراض کیا اور یہ روگردانی تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے سخت ترین عذاب کا باعث بنی۔ ﴿فَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَکُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ﴾” لیکن اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم یقیناً خسارے میں پڑجاتے۔ “ البقرة
65 یعنی تمہارے نزدیک ان لوگوں کی حالت ثابت ہوگئی ہے۔ ﴿ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ﴾ ” جنہوں نے تم میں سے ہفتے کے روز زیادتی سے کام لیا تھا۔“ یہ وہ لوگ تھے جن کا مبسوط اور مفصل قصہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ اعراف میں بیان کیا ہے : ﴿وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ ۙ لَا تَأْتِيهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ اللَّـهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ قَالُوا مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ أَنجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ (الاعراف : 7؍ 163۔165) ” اور آپ ان لوگوں سے اس بستی والوں کا جو کہ دریائے (شور) کے قریب آباد تھے اس وقت کا حال پوچھئے ! جب کہ وہ ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ظاہر ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں۔ ہم ان کی اس طرح پر آزمائش کرتے تھے اس سبب سے کہ وہ بے حکمی کیا کرتے تھے اور جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے یوں کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ بالکل ہلاک کرنے والا ہے یا ان کو سخت سزا دینے والا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے روبرو عذر کرنے کے لئے اور اس لئے کہ شاید یہ ڈر جائیں۔ سو جب وہ اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو کہ زیادتی کرتے تھے ایک سخت عذاب سے پکڑ لیا اس وجہ سے کہ وہ بے حکمی کیا کرتے تھے۔ “ اس گناہ عظیم نے ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب واجب کردیا۔ ﴿ قِرَدَۃً خٰسِـــِٕیْنَ﴾ اور ان کو حقیر اور ذلیل بندر بنا دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس سزا کو ان قوموں کے لئے البقرة
66 ﴿نَکَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہَا﴾ عبرت بنا دیا جو اس وقت وہاں موجود تھیں اور اس زمانے کی وہ قومیں جن تک یہ خبر پہنچی ﴿وَمَا خَلْفَہَا﴾ اور ان قوموں کے لئے جو ان کے بعد آئیں، تاکہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو اور وہ گناہوں سے باز آجائیں مگر یہ نصیحت صرف اہل تقویٰ کے کام آتی ہے۔ ان کے علاوہ دیگر لوگ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ البقرة
67 ان واقعات کو یاد کرو جو تمہارے اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان وقوع پذیر ہوئے۔ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کے قاتل کے بارے میں آپس میں اختلاف کرنا اور قتل کو ایک دوسرے پر ڈالنا شروع کردیا حتیٰ کہ تم نے معاملے کو بہت بڑھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی توضیح نہ ہوتی تو قریب تھا کہ تم ایک بڑے شر اور فساد میں مبتلا ہوجاتے۔ حضرت موسیٰ نے قاتل کو تلاش کرنے کے لئے تمہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تم پر فرض تھا کہ تم فوراً اس کے حکم کی تعمیل کرتے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرتے مگر ہوا یہ کہ تم نے حضرت موسیٰ کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے : ﴿اَتَتَّخِذُنَا ھُزُوًا ﴾” کیا تو ہمارے ساتھ مذاق کرتا ہے۔“ اللہ کے نبی نے فرمایا : ﴿ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ﴾” میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہل بنوں۔“ کیونکہ جاہل ہی ایسی بات کیا کرتا ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور وہی لوگوں کا تمسخر اڑایا کرتا ہے۔ عقلمند شخص یہ سمجھتا ہے کہ اپنے جیسے کسی آدمی کا مذاق اڑانا عقل و دین کا سب سے بڑا عیب ہے۔ اگرچہ اسے اس آدمی پر فضیلت ہی کیوں نہ حاصل ہو۔ یہ فضیلت تو تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر کرے اور اس کے بندوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔ البقرة
68 جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے یہ کہا تو انہیں معلوم ہوگیا کہ یہ سچ ہے۔ کہنے لگے ﴿ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ہِیَ ﴾” اپنے رب سے دعا کر کہ وہ بیان کرے کہ وہ کیا ہے؟“ یعنی اس گائے کی عمر وغیرہ کیا ہے۔ ﴿قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ ﴾موسیٰ نے کہا : اللہ کہتا ہے وہ ایسی گائے ہے جو بوڑھی نہیں ہے“ ِ﴿فَارِضٌ﴾ یعنی بڑی ﴿ وَّلَا بِکْرٌ ﴾اور نہ ہی زیاہ چھوٹی۔ ﴿ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِکَ ۭ فَافْعَلُوْا مَا تُـؤْمَرُوْنَ﴾ ان مذکورہ دو عمروں کے درمیان متوسط عمر کی ہو۔ پس وہ کام کرو جس کا حکم دیا جاتا ہے، تشدد اور تکلف کو چھوڑ دو۔ البقرة
69 ﴿ قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُہَا ۭ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ صَفْرَاۗءُ فَاقِعٌ لَّوْنُہَا﴾ ” انہوں نے کہا : اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کر کہ وہ اس کا رنگ بیان کرے۔ موسیٰ نے کہا : اللہ کہتا ہے، وہ گائے ہے زرد رنگ کی، خوب گہرا ہے رنگ اس کا“ یعنی خالص زرد رنگ۔ ﴿ تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ﴾ یعنی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دیکھنے والوں کو بھلی لگے۔ البقرة
70 ﴿ قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ہِیَ ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیْنَا ﴾” انہوں نے کہا : اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کر ! وہ بیان کرے کہ وہ کیا ہے کیونکہ گائے ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے۔“ یعنی ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کونسی گائے چاہتے ہیں ﴿وَاِنَّآ اِنْ شَاۗءَ اللّٰہُ لَمُہْتَدُوْنَ﴾” اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت والے ہوجائیں گے۔“ البقرة
71 ﴿ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ ﴾یعنی وہ (کھیتی باڑی کے کاموں میں جت کر) کمزور اور مطیع نہ ہو ﴿ تُثِیْرُ الْاَرْضَ﴾” جوتنی ہو وہ زمین کو“ یعنی اس سے زمین میں ہل نہ چلایا جاتا ہو ﴿ وَلَا تَسْقِی الْحَرْثَ ﴾ نہ پانی دیتی ہو کھیتی کو‘ یعنی نہ وہ رہٹ میں جتنے والی ہو۔ ﴿مُسَلَّمَةٌ﴾ہر قسم کے عیب سے پاک ہو اور اس سے کسی قسم کا کام نہ لیا جاتا ہو﴿ لَّا شِیَۃَ فِیْہَا ﴾” اس میں کوئی داغ نہ ہو“ یعنی جس رنگ کا گزشتہ سطور میں ذکر ہوچکا ہے اس کے علاوہ اس میں کسی د وسرے رنگ کا کوئی نشان نہ ہو۔ ﴿ قَالُوا الْـــــٰٔنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ﴾” انہوں نے کہا : اب لایا تو ٹھیک بات“ یعنی اب تو نے گائے کے بارے میں واضح طور پر بیان کیا ہے۔ یہ ان کی جہالت تھی ورنہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے سامنے پہلی ہی مرتبہ حق بیان کردیا تھا۔ اگر وہ کوئی بھی گائے پیش کردیتے تو مقصد حاصل ہوجاتا مگر انہوں نے کثرت سوال کے ذریعے سے تشدد اور تکلف کی راہ اپنائی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کی۔ نیز اگر انہوں نے ”ان شاء اللہ“ نہ کہا ہوتا تب بھی وہ مطلوبہ گائے تک نہ پہنچ سکتے۔ ﴿ فَذَبَحُوْھَا ﴾یعنی انہوں نے اس گائے کو ذبح کر ہی ڈالا جس کے یہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ ﴿ وَمَا کَادُوْا یَفْعَلُوْنَ﴾۔ ان کے تشدد اور تکلف کی وجہ سے جس کا وہ اظہار کر رہے تھے، نظر نہیں آتا تھا کہ وہ گائے ذبح کریں گے۔ البقرة
72 البقرة
73 جب انہوں نے گائے ذبح کر ڈالی تو ہم نے ان سے کہا کہ گائے کا ایک عضو اس مقتول کو لگاؤ۔ اس سے مراد کوئی معین عضو ہے یا کوئی سا بھی عضو؟ اس کے تعین کا کوئی فائدہ نہیں۔ بس انہوں نے گائے کے کسی حصے کو مقتول کے ساتھ لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو ظاہر کردیا جسے وہ چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں باخبر کردیا کہ قاتل کون ہے۔ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا اس مقتول کو دوبارہ زندہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے مردوں کو زندہ کرے گا۔ ﴿ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴾شاید کہ تم عقل سے کام لو اور ان کاموں سے رک جاؤ جو تمہارے لئے نقصان دہ ہیں۔ البقرة
74 ﴿ ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ﴾ یعنی پھر تمہارے دل بہت سخت ہوگئے، ان پر کسی قسم کی نصیحت کارگر نہیں ہوتی تھی۔ ﴿ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِکَ ﴾یعنی اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عظیم نعمتوں سے نوازا اور تمہیں بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کرایا۔ حالانکہ اس کے بعد تمہارے دلوں کا سخت ہوجانا مناسب نہ تھا کیونکہ تم نے جن امور کا مشاہدہ کیا تھا وہ رقت قلب اور اس کے مطیع ہونے کے موجب ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ولوں کی سختی کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ﴾۔ یعنی وہ سختی میں ” پتھر کی مانند ہیں‘ جو لوہے سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے، کیونکہ فولاد ہو یا سیسہ جب اسے آگ میں پگھلایا جائے تو پگھل جاتا ہے بخلاف پتھر کے جو آگ میں بھی نہیں پگھلتا ﴿اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً ﴾” یا اس سے بھی زیادہ سخت“ یعنی ان کے دلوں کی سختی پتھروں سے کم نہیں۔ یہاں ” او“ (بل) کے معنی میں نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پتھروں کو ان کے دلوں پر فضیلت دیتے ہوئے فرمایا : ﴿وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْاَنْہٰرُ ۭ وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَاۗءُ ۭوَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّـهِ﴾ کیونکہ ” بعض پتھروں سے تو نہریں بہہ نکلتی ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں‘‘ یعنی ان تمام مذکورہ امور کی وجہ سے پتھر تمہارے دلوں سے بہتر ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت وعید سناتے ہوئے کہا : ﴿ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴾ یعنی وہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں بلکہ وہ تمہارے اعمال کو پوری طرح جانتا ہے، وہ تمہارے ہر چھوٹے بڑے عمل کو یاد رکھنے والا ہے اور وہ عنقریب تمہیں تمہارے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ معلوم ہونا چاہئے کہ بہت سے مفسرین رحمتہ اللہ علیہم نے اپنی تفاسیر کو بنی اسرائیل کے قصوں سے لبریز کر رکھا ہے۔ وہ آیات قرآنی کو اسرائیلیات پر پیش کرتے ہیں اور ان کے مطابق کتاب اللہ کی تفسیر کرتے ہیں اور وہ اپنے اس موقف پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے استدلال کرتے ہیں (حَدِّثوا عن بَني إسرائيلَ ولا حَرَجَ) ” بنی اسرائیل سے روایت کرو اس میں کوئی حرج نہیں۔“ [سنن ابی داؤد، العلم ، باب الحدیث عن بنی اسرائیل‘ حدیث:3662] اس بارے میں میری رائے یہ ہے کہ اگرچہ ایک پہلو سے بنی اسرائیل کی روایت نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر اس سے مراد یہ ہے کہ ان روایات کو الگ اور غیر مقرون (قرآن کی تفسیر کے ساتھ ملائے بغیر) بیان کیا جاسکتا ہے۔ ان کو کتاب اللہ پر پیش کر کے کتاب اللہ کی تفسیر بنانا قطعاً جائز نہیں جب کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح سند سے ثابت نہ ہو۔ یہ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ان روایات کا مرتبہ صرف یہ ہے: ((لَاتُصَدِّقُواَهل الْكِتَابِ وَلَاتُكَذِّبُوْهُم))[صحیح البخاری، التفسیر، باب قولوا آمنا باللّٰه وماانزل الینا‘ حدیث:4485] ” تم اہل کتاب کی تصدیق کرو نہ تکذیب۔“ جب ان روایات کا مرتبہ یہ ہے کہ ان کی صحت مشکوک ہے اور ضروریات دین کے طور پر یہ چیز بھی ہمیں معلوم ہے کہ قرآن مجید پر ایمان لانا اور اس کے الفاظ و معانی پر قطعی یقین رکھنا فرض ہے، لہٰذا ان مجہول روایات کے ذریعے سے منقول قصے کہانیوں کو جن کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ یہ جھوٹی ہیں یا ان میں سے اکثر جھوٹی ہیں یقین کے ساتھ قرآن کے معانی قرار دینا ہرگز جائز نہیں۔ اس بارے میں کسی کو شک میں نہیں رہنا چاہئے۔ اس اصول سے غفلت کے سبب سے بہت سا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ واللہ الموفق۔ البقرة
75 یہاں اہل کتاب کے ایمان لانے کے بارے میں اہل ایمان کی امیدوں کو ختم کردیا ہے کہ تم ان کے ایمان کی امید نہ رکھو۔ ان کے اخلاق ایسے ہیں جو ان کے ایمان کی امید کے متقاضی نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھ کر اور جان بوجھ کر اس کے معانی میں تحریف کرتے ہیں۔ پس وہ اس کے لئے ایسے معانی اور مفاہیم وضع کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہیں تاکہ لوگ اس وہم میں مبتلا ہوں کہ یہ مفاہیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں۔ پس جب ان کی اس کتاب کے بارے میں یہ حالت ہے جسے وہ اپنے لئے باعث شرف اور اپنا دین قرار دیتے ہیں اور اس کتاب کے ذریعے سے وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ تب ان سے کیونکر یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ تم پر ایمان لائیں گے۔ یہ بعید ترین چیز ہے۔ البقرة
76 پھر اہل کتاب کے منافقین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا ﴾” جب وہ ایمان والوں کو ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے“ یعنی انہوں نے اپنی زبان سے ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کیا جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔﴿ وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ﴾ ”یعنی جب وہ خلوت میں ہوتے ہیں اور ان کے ہم مذہبوں کے سوا ان کے پاس کوئی اور نہیں ہوتا تووہ ایک دوسرے کو کہتے ہیں : ﴿أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ اللَّـهُ عَلَيْكُمْ ﴾’’کیاتم ان کو وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں؟“ یعنی کیا تم ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہو اور انہیں بتاتے ہو کہ تم ان کی مانند ہو؟ پس یہ چیز ان کے لئے تمہارے خلاف حجت بن جائے گی۔ وہ (یعنی اہل ایمان) کہیں گے کہ انہوں نے اقرار کیا کہ اہل ایمان حق پر ہیں اور جس پر وہ ہیں، وہ باطل ہے۔ پس اہل ایمان اپنے رب کے پاس تمہارے خلاف دلیل دیں گے۔﴿ اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ﴾ ” کیا پس تم سمجھتے نہیں؟“ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ کیا تم عقل سے عاری ہو کہ تم ان کے پاس وہ چیز چھوڑ رہے ہو جو تمہارے خلاف حجت ہوگی؟ البقرة
77 ﴿اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ﴾ ” کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں؟“ ہرچند کہ وہ اپنے ان عقائد کو چھپاتے ہیں جو ان کے مابین معروف ہیں اور وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ انہوں نے ان عقائد کو چھپایا ہوا ہے تاکہ یہ چیز اہل ایمان کے لئے ان کے خلاف دلیل نہ بنے۔ تاہم وہ اس بارے میں غلطی پر ہیں اور بہت بڑی جہالت میں مبتلا ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن کو خوب جانتا ہے۔ اس کے بندے جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کر دے گا۔ البقرة
78 ﴿ وَمِنْهُمْ﴾” اور کچھ ان میں سے“ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿أُمِّيُّونَ﴾’’ان پڑھ عوام بھی ہیں“ جو اہل علم میں شمار نہیں۔﴿ لَا یَعْلَمُوْنَ الْکِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِیَّ﴾ سوائے تلاوت کے اللہ کی کتاب میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ ان کے پاس اس چیز کی خبر بھی نہیں جو پہلوں کے پاس تھی جن کے حالات یہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کے پاس محض ظن، گمان اور اہل علم کی تقلید کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں اہل کتاب کے علماء، عوام، منافقین اور وہ جنہوں نے نفاق اختیار نہیں کیا، سب کا ذکر کیا ہے۔ پس ان کے علماء اپنی گمراہی کے موقف پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں اور عوام بصیرت سے محروم ہیں اور ان علماء کی تقلید کرتے ہیں۔ پس ان دونوں گروہوں کے بارے میں تمہیں کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ البقرة
79 اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو کتاب اللہ میں تحریف کرتے ہیں، اپنی تحریف اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں اس کے بارے میں کہتے ہیں ﴿هَـٰذَا مِنْ عِندِ اللَّـهِ﴾ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ اظہارِ باطل اور کتمان حق ہے۔ اور انہوں نے علم رکھنے کے باوجود یہ کیا۔ ﴿لِیَشْتَرُوْا بِہٖ ثَــمَنًا قَلِیْلًا﴾ ” تاکہ اس کے ذریعے سے تھوڑی قیمت حاصل کریں“ اور تمام دنیا اول سے لے کر آخر تک کتاب اللہ کے مقابلے میں بہت کم قیمت ہے۔ پس انہوں نے اپنے باطل کو ایک جال بنا رکھا ہے جس میں لوگوں کو پھانس کر ان کا مال ہتھیاتے ہیں۔ پس وہ لوگوں پر دو پہلوؤں سے ظلم کرتے ہیں۔ (1) ایک پہلویہ ہے کہ وہ لوگوں پر ان کے دین کو چھپاتے ہیں۔ (2) اس کا دوسرا پہلویہ ہے کہ وہ لوگوں کا مال ناحق بلکہ باطل ترین طریقے سے ہڑپ کرتے ہیں اور اس کی برائی چوری اور غصب کرنے سے بھی بڑھ کر ہے۔ پس ان دو امور کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی ہے۔ ﴿فَوَیْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا کَتَبَتْ اَیْدِیْہِمْ﴾” پس ہلاکت ہے ان کے لئے اس سے، جو ان کے ہاتھوں نے لکھا۔‘‘یعنی جو تحریف کی اور باطل تحریریں لکھیں۔ ﴿ وَوَیْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا یَکْسِبُوْنَ﴾ یعنی وہ مال جو وہ باطل طریقے سے کماتے ہیں۔ (ویل) عذاب کی شدت اور حسرت کو کہا جاتا ہے اسی کے ضمن میں سخت وعید بھی آجاتی ہے۔ شیخ الاسلام تقی الدین ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ﴿أَفَتَطْمَعُونَ﴾ سے لے کر ﴿يَكْسِبُونَ﴾ تک آیات کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں تحریف کرکے ان کو اصل مفہوم سے ہٹا دیتے ہیں۔ اس وعید میں وہ لوگ بھی آتے ہیں جو کتاب و سنت کو اپنی بدعات باطلہ پر محمول کرتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بھی مذمت فرمائی ہے جو کتاب کا علم نہیں رکھتے سوائے اپنی خواہشات اور آرزوؤں کے۔ اس وعید میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو تدبر قرآن کے سرنہاں کو ترک کردیتے ہیں اور اس کے حروف کی مجردتلاوت کے سوا کچھ بھی نہیں جانتے۔ یہ وعید اس شخص کے لئے بھی ہے جو محض دنیا کمانے کے لئے کوئی ایسی کتاب لکھتا ہے جو قرآن و سنت کے خلاف ہے اور کہتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ مثلاً وہ کہتا ہے کہ یہ شریعت اور دین ہے، یہ کتاب و سنت کا معنی ہے، یہ سلف امت اور ائمہ کرام کی تعبیرات ہیں اور یہ دین کے وہ بنیادی اصول ہیں جن پر اعتقاد رکھنا فرض عین یا فرض کفایہ ہے۔ اس وعید میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کتاب و سنت کے علم کو محض اس وجہ سے چھپاتے ہیں کہ کہیں ان کے مخالفین اس کو اپنے حق میں ان کے خلاف دلیل نہ بنا لیں۔ اہل اہواء و بدعات میں بالجملہ یہ امور بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں، مثلاً روافض وغیرہ اور تفصیلاً یہ امور بہت سے ان لوگوں میں بھی پائے جاتے ہیں جو اپنے آپ کو ائمہ فقہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔‘‘ البقرة
80 اللہ تعالیٰ نے ان کے افعال بد کا ذکر کیا پھر اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو پاک (یعنی تزکیہ شدہ) قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات یافتہ اور اس کے ثواب کے مستحق ہوں گے اور یہ کہ وہ جہنم میں اگر گئے بھی تو جہنم کی آگ انہیں چند دن کے سوا ہرگز نہیں چھوئے گی، یعنی بہت ہی کم دنوں کے لئے جن کو انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔ پس وہ بدی کا ارتکاب بھی کرتے ہیں اور اپنے آپ کو عذاب سے محفوظ بھی سمجھتے ہیں۔ چونکہ یہ ان کا محض دعویٰ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : ﴿قُلْ﴾ یعنی اے رسول ان سے کہہ دو ! ﴿ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰہِ عَہْدًا﴾ : یعنی کیا تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء و رسل پر ایمان لا کر اور اس کی اطاعت کرکے اللہ تعالیٰ سے عہد لے رکھا ہے۔ پس یہ وعدہ تو یقیناً صاحب وعدہ کی نجات کا موجب ہے جس میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔ ﴿ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ﴾ ” یا تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں۔“ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے دعوے کی صداقت ان دو امور میں سے ایک پر موقوف ہے۔ تیسری کوئی چیز نہیں۔ 1۔ یا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے نجات کا کوئی عہد لیا ہوگا تب ان کا دعویٰ صحیح ہے۔ 2۔ یا یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے ہیں۔ تب ان کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ بس یہ بہتان ان کی رسوئی اور عذاب کے لئے کافی ہے۔ ان کے حالات ہمیں اچھی طرح معلوم ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عہد عطا نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ انہوں نے بے شمار انبیاء کی تکذیب کی تھی، حتیٰ کہ ان کی حالت تویہاں تک پہنچ گئی تھی کہ انبیاء کا ایک گروہ ان کے ہاتھوں قتل ہوا نیز انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑا اور اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہدوں کو توڑا۔ پس اس سے اس بات کا تعین ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے اور اس کی بابت ایسی بات کہہ رہے ہیں جس کو وہ خود نہیں جانتے اور علم کے بغیر اللہ تعالیٰ کے ذمے کوئی بات لگانا، سب سے بڑا حرام اور سب سے بڑی برائی ہے۔ البقرة
81 پھر اللہ تعالیٰ نے سب کے لئے ایک عام حکم بیان کیا ہے جس میں بنی اسرائیل اور دیگر تم لوگ داخل ہیں وہ ایک ایسا حکم ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور حکم ہو ہی نہیں سکتا نہ کہ ان کی آرزوئیں اور دعوے، جو وہ ہلاک ہونے والوں اور نجات پانے والوں کی بابت کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿بَلَىٰ  ﴾یعنی معاملہ یوں نہیں جس طرح تم نے بیان کیا ہے کیونکہ یہ تو ایک ایسی بات ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ﴿ مَنْ کَسَبَ سَیِّئَۃً ﴾” جس نے کوئی برائی کمائی“ یہاں ﴿سَیِّئَۃً ﴾ برائی شرط کے سیاق میں نکرہ استعمال ہوئی ہے لہٰذا اس کے عموم میں شرک اور اس سے کمتر تمام برائیاں داخل ہیں، لیکن یہاں اس سے مراد شرک ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے ﴿وَّاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِیْۗــــَٔــتُہٗ﴾ یعنی برائی کا ارتکاب کرنے والے کو اس کی برائی نے گھیر لیا اور اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا اور یہ شرک کے علاوہ کوئی اور برائی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ جو ایمان سے بہرہ ور ہے برائی اسے گھیر نہیں سکتی۔ ﴿ فَاُولٰۗیِٕکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ﴾” پس وہ آگ کے مستحق ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے“ اس آیت کریمہ سے خوارج نے استدلال کیا ہے کہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا کافر ہے حالانکہ یہ تو ان کے خلاف دلیل ہے کیونکہ یہ تو ظاہری طور پر شرک کے بارے میں ہے۔ اس طرح ہر باطل پسند جو قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی صحیح حدیث سے اپنے باطل نظرئیے پر استدلال کرتا ہے تو استدلال خود اس کے خلاف ایک قوی دلیل ہوتا ہے۔ البقرة
82 ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا﴾ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لائے۔ ﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ﴾اور اعمال صالحہ کیے اور اعمال مندرجہ ذیل دو شرائط کے بغیر اعمال صالحہ کے زمرے میں نہیں آتے۔( 1) خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوں۔ ( 2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق ہوں۔ ان دو آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ نجات اور فوز وفلاح کے مستحق صرف نیک کام کرنے والے اہل ایمان ہیں اور ہلاک ہونیوالے جہنمی، وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک شرک اور اس کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ البقرة
83 پس یہ احکام ان اصول دین میں سے ہیں، جن پر عمل کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہر شریعت میں دیا، کیونکہ یہ احکام ہر زمان ومکان میں مصالح عامہ پر مشتمل ہیں۔ دین میں ان کی حیثیت بنیاد کی سی ہے جو منسوخ نہیں ہوسکتی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان اصولوں پر عمل کرنے کا حکم اپنے اس فرمان میں دیا ہے۔ ﴿وَاعْبُدُوا اللَّـهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا﴾ ۔( النساء: 4؍ 36)’ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔‘‘ ﴿وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَاۗءِیْلَ﴾‎ ’’اس وقت کو یاد کرو، جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔‘‘ یہ ان کی سنگدلی ہی تھی کہ جب بھی انہیں کسی بات کا حکم دیا جاتا تو وہ نافرمانی کرتے۔ اس لیے وہ پختہ قسموں اور مضبوط عہدوں کے بغیر کسی حکم کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿لَا تَعْبُدُونَ اِلَّا اللّٰه﴾یہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم ہے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنے کی ممانعت ہے۔ یہ دین کی بنیاد ہے اگر یہ بنیاد نہ ہو تو کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہیں۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر حق ہے۔ پھر فرمایا : ﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ﴾یعنی اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آؤ۔ اس میں ہر قسم کا حسن سلوک شامل ہے۔ اس زمرے میں قولی، فعلی اور ہر وہ رویہ شامل ہے جس پر حسن سلوک کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس میں والدین کے ساتھ برے سلوک یا عدم حسن سلوک کی ممانعت ہے۔ کیونکہ والدین کے ساتھ حسن سلوک فرض ہے اور کسی چیز کی فرضیت کے حکم سے لازم آتا ہے کہ اس کی ضد ممنوع ہو۔ دو چیزیں حسن سلوک کے مخالف ہیں : (1) برا سلوک کرنا، یہ سب سے بڑا جرم ہے۔ (2) بغیر برائی کیے، حسن سلوک نہ کرنا۔ اگرچہ والدین کے ساتھ اس قسم کا رویہ بھی حرام ہے مگر اس رویئے کو اول الذکر رویئے سے ملحق کرنا ضروری نہیں۔ رشتہ داورں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ سلوک میں بھی اسی اصول کا اطلاق ہوتا ہے حسن سلوک (احسان) کی تفصیلات دائرہ شمار سے باہر ہیں البتہ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے اس کی کچھ حدود میں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تمام لوگوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آیا جائے چنانچہ فرمایا :﴿ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾ ” یعنی لوگوں سے اچھی بات کہنا“ مندرجہ ذیل چیزیں ” قول حسن“ (یعنی اچھی بات) کے زمرے میں آتی ہیں۔ (1) لوگوں کو نیکی کا حکم دینا۔ (2) ان کو بری باتوں سے روکنا۔ (3) ان کو علم سکھانا۔ (4) ان میں سلام پھیلانا۔ (5) خندہ پیشانی اور بشاشت کا اظہار کرنا۔ (6) ان کے علاوہ دیگر اچھی باتیں۔ چونکہ ہر انسان اپنے مال کے ذریعے سے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی استطاعت نہیں رکھتا اس لیے اسے ایک ایسی چیز کا حکم دیا گیا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی قدرت رکھتا ہے اور وہ ہے ” قول حسن“ اسی کے ضمن میں لوگوں کے ساتھ بری گفتگو کرنے کی ممانعت آجاتی ہے، حتی کہ کفار کے ساتھ بھی کلام قبیح کرنا ممنوع ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿ وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ﴾(العنکبوت : 29؍ 63) ” اہل کتاب کے ساتھ بحث نہ کرو مگر ایسے طریقے سے جو سب سے اچھا ہو۔“ انسانی آداب میں سے، جن کی تعلیم اللہ نے اپنے بندوں کو دی ہے، یہ بھی ہے کہ انسان اپنے اقوال اور افعال میں پاکیزہ رہے، فحش گوئی اور بے ہودہ باتوں سے اجتنا کرے، گالی گلوچ اور سب و شتم کرنے اور لڑائی جھگڑے سے باز رہے۔ بلکہ اس کے برعکس حسن خلق، بے پایاں حلم، ہر ایک کے ساتھ اچھے سلوک اور مخلوق کی ایذا رسانی پر صبر کا مظاہرہ کرے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور ثواب کی امید پر کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور جیسا کہ گزشتہ صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ نماز معبود کے لیے اخلاص کو اور زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو متضمن ہے۔ ﴿ثُمَّ﴾ ” پھر“ اللہ تعالیٰ کا تمہیں ان اچھے کاموں کا حکم دینے کے بعد، جن کو ایک دانش مند دیکھتا ہے تو جان لیتا ہے کہ یہ اللہ کا بندوں پر ایک احسان ہے کہ اس نے ان باتوں کا انہیں حکم دیا اور اس طرح انہیں اپنے فضل و کرم سے نوازا، اور ان سے عہد و میثاق لیا۔ ﴿تَوَلَّيْتُمْ ﴾یعنی تم نے ان احکام سے روگردانی کرتے ہوئے پیٹھ پھیر لی۔ اس لیے کہ پیٹھ پھیر کر جانے والا کبھی کبھی واپس لوٹنے کی نیت سے بھی پیٹھ پھیر کرجاتا ہے، مگر یہ لوگ تو احکام الٰہی میں سرے سے کوئی رغبت ہی نہیں رکھتے اور نہ ان کی طرف لوٹنے کا کوئی ارادہ ہی رکھتے ہیں فَنَعُوْذُ ِبالّلِہ ِمنَ الْخَذْلَانِ اللہ تعالیٰ کا ارشاد﴿إِلَّا قَلِيلًا مِّنكُمْ ﴾ ” مگر تھوڑے لوگ تم میں سے“ ایک استثناء ہے تاکہ اس وہم کا ازالہ ہوجائے کہ تمام لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کی تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ چند لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا اور ان کو استقامت اور ثابت قدمی عطا کی۔ البقرة
84 آیت کریمہ میں مذکور فعل ان لوگوں کا تھا جو نزول وحی کے زمانے میں مدینہ میں موجود تھے اور یہ اس طرح کہ اوس اور خزرج، جو انصار کے نام سے مشہور ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل مشرک تھے اور جاہلیت کی عادت کے مطابق باہم دست و گریباں رہتے تھے، اسی اثناء میں یہود کے تین قبیلوں، بنو قریظہ، بنو نضیر اور بنو قینقاع نے مدینہ میں آ کر وہاں رہنا شروع کردیا۔ ان میں سے ہر قبیلے نے مدینہ کے کسی قبیلے کے ساتھ (دفاعی) معاہدہ کرلیا۔ جب کبھی اوس اور خزرج کی آپس میں لڑائی ہوتی تو یہودی قبیلہ اس کے مخالفین کے خلاف مدد کرتا جن کی مدد دوسرا یہودی قبیلہ کر رہا ہوتا۔ یوں یہودی ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو جلا وطن کردیتے اور ایک دوسرے کا مال لوٹ لیتے پھر جب جنگ ختم ہوجاتی تو جنگ کے فریقین نے ایک دوسرے کے جو افراد جنگی قیدی بنائے ہوتے، وہ ان کو فدیہ دے کر آزاد کرواتے۔ یہ تینوں امور، جن کی یہ خلاف ورزی کر رہے تھے، ان پر فرض کیے گئے تھے : (1) ایک دوسرے کا خون نہ بہائیں (2) ایک دوسرے کو گھروں سے نہ نکالیں۔ (3) جب وہ اپنے میں سے کسی کو قیدی پائیں تو اس کا فدیہ دے کر اسے چھڑانا ان کے لیے ضروری ہے۔ البقرة
85 پس ان لوگوں نے آخری بات پر تو عمل کیا اور پہلی دو باتوں کو نظر انداز کردیا۔ چنانچہ ان کے رویئے پر اللہ تعالیٰ نے نکیر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ﴾ ” کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو“ اس سے مراد ہے قیدیوں کی رہائی کے لیے فدیہ دینا ﴿وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ﴾” اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو“ اس سے مراد ہے ایک دوسرے کو قتل کرنا اور ایک دوسرے کو گھروں سے نکالنا۔ آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کیا جائے اور اس کی نواہی سے اجتناب کیا جائے۔ نیز یہ کہ تمام مامورات ایمان میں شمار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَمَا جَزَاءُ مَن يَفْعَلُ ذٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ ” تم میں سے جو بھی ایسا کرے گا، اس کو اس کی سزا دنیا میں رسوائی کے سوا کوئی اور نہیں ملے گی۔“ اور اس رسوائی کا انہیں سامنا کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں رسوا کیا اور ان پر اپنے رسول کو غلبہ عطا کیا۔ ان میں سے کسی کو قتل کردیا گیا اور کسی کو غلام بنا لیا گیا اور کسی کو جلا وطن کردیا گیا۔ ﴿َيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ﴾ ”اور قیامت کے روز سخت عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔“ یعنی قیامت کے روز کا عذاب دنیا کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہوگا۔﴿ وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ﴾ ” اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔ “ البقرة
86 پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کیا سبب تھا جو اس بات کا موجب بنا کر وہ کتاب اللہ کے کچھ حصے پر ایمان لائیں اور کچھ حصے کا انکار کردیں؟ چنانچہ فرمایا : ﴿أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا﴾ ” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا، یعنی انہیں وہم لاحق تھا کہ اگر انہوں نے اپنے حلیفوں کی مدد نہ کی تو یہ عار کی بات ہے پس انہوں نے عار کے بدلے میں آگ کو چن لیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ ﴾ ” پس ان سے عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا“ یعنی عذاب کی شدت ہمیشہ رہے گی اور کسی وقت بھی انہیں راحت نصیب نہ ہوگی ﴿وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ﴾ ” اور ان کی مدد کی جائے گی“ یعنی ان سے عذاب کو نہیں ہٹایا جائے گا۔ البقرة
87 ﴿ وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ﴾” اور تحقیق ہم نے موسیٰ کو کتاب دی“ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسانات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان میں مبعوث فرمایا، ان کو تورات عطا کی۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان میں پے در پے انبیاء اور رسول مبعوث فرمائے جو تورات کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور انہیں واضح نشانیاں عطا کیں جن پر انسان ایمان لے آتا ہے۔ ﴿وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ﴾ یعنی ” حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو روح القدس کے ذریعے تقویت دی۔“ اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ روح القدس سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ بعض کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد وہ ایمان ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو قوت اور استقامت عطا کرتا ہے۔ پھر ان نعمتوں کے باوجود، جن کی قدر و عظمت کے اندازہ نہیں کیا جاسکتا، جب وہ تمہارے پاس وہ کچھ لائے﴿بِمَا لَا تَهْوَىٰ أَنفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ﴾ ” جن کو تمہارا دل نہیں چاہتا تھا تو تم نے (ایمان لانے کی بجائے) تکبر کیا۔“ ﴿فَفَرِيقًا﴾ یعنی انبیاء میں سے ایک فریق کو ﴿كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ﴾” تم نے جھٹلایا اور ایک فریق کو تم نے قتل کردیا۔“ پس تم نے خواہشات نفس کو ہدایت پر مقدم رکھا اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دی۔ اس آیت کریمہ میں جو زجر و توبیخ اور تشدید ہے، وہ ڈھکی چھپی نہیں۔ البقرة
88 اے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آپ ان کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں تو یہ لوگ معذرت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ (ہمارے دل غلاف میں لپٹے ہوئے ہیں۔) یعنی ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اس لیے ہم تمہاری بات کو سمجھ نہیں سکتے۔ گویا یہ ان کے گمان کے مطابق عدم علم کا عذر ہے اور یہ ان کا جھوٹ ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿بَل لَّعَنَهُمُ اللَّـهُ﴾یعنی وہ اپنے کفر کے سبب سے ملعون اور دھتکارے ہوئے ہیں۔ اس لیے ان میں سے بہت ہی قلیل لوگ ایمان لائیں گے، یا اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کا ایمان بہت ہی قلیل ہے اور ان کا کفر بہت زیادہ ہے۔ البقرة
89 مطلب یہ ہے کہ جب افضل المخلوقات اور خاتم النبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے سے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب آگئی جو ان تعلیمات کی تصدیق کرتی تھی جنہیں تورات نے پیش کیا، جس کا ان کو علم اور یقین تھا۔ علاوہ ازیں جاہلیت کے زمانے میں جب کبھی ان کے اور مشرکین کے درمیان جنگ ہوتی تو یہ دعا کیا کرتے تھے (اے اللہ) اس نبی کے ذریعے سے ہماری مدد فرما اور وہ مشرکین کو ڈرایا کرتے تھے کہ اس نبی کا ظہور ہونے والا ہے۔ وہ اس نبی کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف جنگ کریں گے۔ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب اور وہ نبی آگیا جس کو انہوں نے پہچان لیا تو حسد اور سرکشی کی وجہ سے اس کو ماننے سے انکار کردیا (اور انہیں حسد اس بات پر تھا) کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل نازل فرماتا ہے۔ (اللہ نے یہ شرف نبوت ان کی بجائے کسی اور کو کیوں دے دیا؟) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی اور ان پر سخت غضب ناک ہوا، کیونکہ کفر میں وہ بہت بڑھ گئے تھے اور متواتر شک اور شرک میں مبتلا چلے آرہے تھے۔ البقرة
90 اور ان کافروں کے لیے آخرت میں ﴿عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾ ” رسوا کرنے والا عذاب“ ہوگا اور وہ یہ کہ ان کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا اور دائمی نعمتوں سے وہ محروم ہوں گے۔ پس بہت برا ہے ان کا حال، بہت ہی برا ہے وہ معاوضہ جو انہوں نے اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کے مقابلے میں حاصل کیا اور وہ یہ کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ، اس کی کتابوں اور رسولوں کے ساتھ کفر کیا۔ حالانکہ وہ سب کچھ جانتے تھے اور انہیں رسولوں کی صداقت کا بھی یقین تھا اسی وجہ سے ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہوگا۔ البقرة
91 جب یہود کو حکم دیا گیا کہ وہ اس کتاب پر ایمان لائیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے یعنی قرآن کریم پر تو انہوں نے تکبر اور سرکشی سے کہا : ﴿ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ ﴾ یعنی وہ (تورات کے سوا) تمام کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان پر فرض تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں پر علی الاطلاق ایمان لائیں خواہ یہ کتابیں بنی اسرائیل کے نبیوں پر نازل کی گئی ہوں یا ان کے علاوہ کسی اور نبی پر، اور یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ مند ہے۔ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان جو تمام انبیائے کرام علیہ السلام پر نازل کی گئی ہیں۔ رہا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی نازل کردہ کتابوں کے درمیان تفریق کرنا اور اپنے زعم کے مطابق کسی پر ایمان لانا اور کسی کا انکار کردینا، تو یہ ایمان نہیں بلکہ عین کفر ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّـهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيلًا  أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا﴾ (النساء:4؍150۔151) ” وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ اس کے مابین (یعنی ایمان اور کفر کے مابین) ایک راہ نکالنا چاہتے ہیں، بلا شبہ وہی کافر ہیں۔“ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کو شافی جواب دیا ہے اور ان کو ایک ایسی الزامی دلیل دی ہے جس سے ان کو کوئی مفر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار قرآن کا دو پہلوؤں سے رد کیا ہے۔ (الف) فرمایا : ﴿وَهُوَ الْحَقُّ﴾’’اور وہ (قرآن) حق ہے“ پس جب یہ قرآن اوامرونواہی اور اخبار میں سراسر حق پر مشتمل ہے اور یہ حق ان کے رب کی طرف سے نازل شدہ ہے، لہٰذا یہ معلوم ہوجانے کے بعد اس کا انکار کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کا انکار کرنا اور اس حق کا انکار کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ب) پھر فرمایا ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ﴾ ” ان کی موجودہ کتاب کی تصدیق کرتا ہے“ یعنی یہ ہر اس چیز کے موافق اور اس کا محافظ ہے جس پر حق دلالت کرتا ہے۔ پس تم اس کتاب پر کیوں ایمان لاتے ہو جو تم پر نازل کی گئی جب کہ اس جیسی دوسری کتاب کا انکار کرتے ہو؟ اور کیا یہ تعصب نہیں؟ کیا یہ ہدایت کی پیروی کی بجائے خواہشات نفس کی پیروی نہیں؟ نیز قرآن کا ان کتابوں کی تصدیق کرنا جو ان پر نازل کی گئیں ہیں، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ قرآن ان کے لیے اس بات کی دلیل ہو کہ ان کے پاس جو کتابیں ہیں، وہ سچی ہیں۔ اس اعتبار سے وہ اپنی کتابوں کا اثبات بھی قرآن کے بغیر نہیں کرسکتے۔ جب وہ قرآن کا انکار کردیتے ہیں تو ان کی حالت اس مدعی کی سی ہوجاتی ہے جس کے پاس اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے ایسی دلیل و حجت بھی ہے جو اثبات دعویٰ کی واحد دلیل ہے، اس دلیل کے بغیر اس کا دعویٰ ثابت ہی نہیں ہوسکتا، لیکن پھر وہ خود ہی اپنی دلیل میں جرح و قدح کرتا ہے اور اس کو جھٹلا دیتا ہے۔ کیا یہ پاگل پن اور حماقت نہیں؟ پس واضح ہوا کہ ان کا قرآن کا انکار کرنا درحقیقت ان کتابوں کا انکار ہے جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کی تردید کی کہ وہ ان کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں۔ چنانچہ فرمایا : ﴿قُلْ﴾ یعنی ان سے (کہہ دو) ﴿فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنبِيَاءَ اللَّـهِ مِن قَبْلُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾ ” اگر تم ایماندار ہو تو پھر تم اس سے قبل اللہ کے انبیاء کو کیوں قتل کردیتے رہے؟“ البقرة
92 ﴿وَلَقَدْ جَاءَكُم مُّوسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ﴾ یعنی تمہارے پاس موسیٰ حق کو بیان کرنے والے واضح دلائل لے کر آئے۔ ﴿ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِن بَعْدِهِ ﴾ ” پھر تم نے موسیٰ کے آنے کے بعد بھی بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا۔“﴿وَأَنتُمْ ظَالِمُونَ﴾ ” اور تم اس بارے میں سخت ظالم تھے“ اور تمہارے پاس کوئی عذر نہیں۔ البقرة
93 ﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا﴾” اور جب ہم نے تم سے وعدہ لیا اور تم پر طور کو بلند کیا (کھڑا کیا) کہ ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوطی سے تھامو اور سنو“ یعنی اس کو قبول کرنے، اس کی اطاعت کرنے اور اس کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے سنو۔ ﴿قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا﴾ یعنی ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ ” وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی۔“ ﴿وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ ﴾ یعنی ان کے دل بچھڑے اور اس کی عبادت کی محبت کے رنگ میں رنگے گئے اور ان کے کفر کے سبب سے ان کے دلوں میں گویا بچھڑے کی محبت رچ بس گئی۔ ﴿قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُم بِهِ إِيمَانُكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾” انہیں کہہ دیجئے کہ تمہارا ایمان تمہیں برا حکم دے رہا ہے اگر تم مومن ہو“ یعنی تم ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو اور دین حق کے نام نہاد پیرو ہونے پر اپنی تعریف چاہتے ہو اور تمہاری حالت یہ ہے کہ تم نے اللہ کے نبیوں کو قتل کیا، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر گئے تو تم نے اللہ کو چھوڑ کر بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ تم نے اللہ تعالیٰ کی شریعت (اوامرو نواہی) کو اس وقت تک قبول نہ کیا جب تک کہ تمہیں دھمکی نہ دی گئی اور کہ طور کو اٹھا کر تم پر معلق نہ کردیا گیا۔ پھر بھی تم نے زبانی طور پر تو اسے قبول کرلیا مگر بالفعل اس کی مخالفت کی۔ یہ کیسا ایمان ہے جس کا تم دعویٰ کرتے ہو اور یہ کیسا دین ہے؟ تمہارے زعم کے مطابق اگر یہی ایمان ہے تو بہت برا ایمان ہے جو تمہیں سرکشی، رسولوں کے انکار اور کثرت عصیان کی دعوت دیتا ہے۔ حالانکہ یہ بات معروف ہے کہ صحیح اور حقیقی ایمان صاحب ایمان کو ہر بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، لہٰذا اس سے ان کا جھوٹ واضح اور ان کا تقاضا عیاں ہوجاتا ہے۔ البقرة
94 ﴿قُلْ﴾ یعنی ان کے دعویٰ کی تصحیح کی خاطر کہہ دیجئے ! ﴿اِن كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ﴾” کہ اگر آخرت کا گھر (جنت) صرف تمہارے ہی لیے ہے“ ﴿خَالِصَةً مِّن دُونِ النَّاسِ﴾ دوسرے لوگ اس میں نہیں جائیں گے۔ جیسا کہ تمہارا گمان ہے کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہودی اور نصرانی ہیں، نیز تمہیں ہرگز آگ نہیں چھوئے گی سوائے چند روز کے اس لیے اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو ﴿فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ﴾ ” تو موت کی تمنا کر دیکھو“۔ یہ ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان مبابلہ کی ایک قسم ہے۔ ان کے دلائل کا توڑ، انہیں لاجواب کردینے اور ان کے عناد کے بعد ان کے لیے دو باتوں میں سے کسی ایک کو مانے بغیر چارہ نہیں۔ (1) یا تو وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئیں۔ (2) یا وہ اپنے موقف کی صداقت ثابت کرنے کے لیے ایک چھوٹی سی بات پر مباہلہ کرلیں اور وہ ہے موت کی تمنا، جو انہیں اس جنت میں پہنچا دے گی جو خالص انہی کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ مگر انہوں نے اس مباہلے کو قبول نہ کیا۔ البقرة
95 پس ہر شخص کو معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت اور عناد میں انتہاء کو پہنچ گئے ہیں اور وہ یہ سب کچھ جانتے بوجھتے کر رہے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ ۭ﴾ یعنی کفر اور معاصی کے اعمال کے باعث وہ موت کی تمنا نہیں کریں گے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ ان کے گندے اعمال کی جزا کا راستہ ہے۔ پس موت ان کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز ہے اور وہ دنیا کے تمام لوگوں سے بڑھ کر زندگی کے حریص ہیں حتیٰ کہ ان مشرکین سے بھی زیادہ جو رسولوں، کتابوں اور کسی چیز پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔ البقرة
96 پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ساتھ ان کی شدید محبت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :﴿یَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَۃٍ ۚ﴾ ” ان میں سے تو ہر شخص ایک ایک ہزار سال کی عمر چاہتا ہے“ زندگی کی حرص کے لیے یہ بلیغ ترین پیرا یہ ہے۔ انہوں نے ایک ایسی حالت کی آرزو کی ہے جو قطعاً محال ہے اور حال یہ ہے کہ اگر ان کو یہ مذکورہ عمر عطا کر بھی دی جائے تب بھی یہ عمر ان کے کسی کام نہیں آسکتی اور نہ ان سے عذاب کو دور کرسکتی ہے۔ ﴿وَاللّٰہُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ﴾ ” اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو بخوبی دیکھ رہا ہے“ یہ ان کے لیے تہدید ہے کہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ البقرة
97 یعنی ان یہود سے کہہ دیجئے جن کا گمان ہے کہ ان کو آپ پر ایمان لانے سے صرف اس چیز نے روکا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ کے دوست اور مددگار ہیں۔ اگر جبرئیل علیہ السلام تمہارا تناقض، تمہاری ضد اور اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہارا تکبر ہے۔ کیونکہ جبرئیل علیہ السلام ہی وہ فرشتہ ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے قلب پر قرآن اتارا اور جبرئیل علیہ السلام ہی آپ سے پہلے دیگر انبیائے کرام پر نازل ہوتا رہا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا اور اسے وحی کے ساتھ بھیجا۔ وہ تو محض ایک پیامبر ہے۔ البقرة
98 بایں ہمہ جبرئیل علیہ السلام اس کتاب کو لے کر نازل ہوئے جو کتب سابقہ کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ کتاب کتب سابقہ کی مخالف ہے نہ ان کی مناقض۔ اس میں مختلف قسم کی گمراہیوں سے مکمل ہدایت کا روشن راستہ ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کے لیے دنیاوی اور آخروی بھلائی کی بشارت ہے۔ پس ان صفات سے موصوف جبرئیل علیہ السلام سے عداوت رکھنا اور حقیقت اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کے فرشتوں کے ساتھ عداوت کا اظہار ہے کیونکہ جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ ان کی عداوت جبرئیل علیہ السلام کی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ اس کے ساتھ ان کی عداوت محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ کے رسولوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق لے کر نازل ہوتا رہا ہے۔ پس ان کا کفر اور عداوت درحقیقت اس ہستی کے ساتھ ہے جس نے اسے بھیجا اور نازل کیا اور اس وحی کے ساتھ ہے جو اس کے ساتھ اتاری گئی ہے اور اس رسول کے ساتھ ہے جس کی طرف یہ وحی بھیجی گئی ہے۔ ان کی بس یہی وجہ ہے۔ البقرة
99 اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے : ﴿ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ اٰیٰتٍۢ بَیِّنٰتٍ ۚ﴾ ” اور ہم نے آپ کی طرف روشن آیات نازل کیں“ ان سے اس کو ہدایت حاصل ہوتی ہے جو ہدایت کا طلبگار ہو اور اس پر حجت قائم ہوتی ہے جو عناد کا مظاہرہ کرے۔ یہ آیات حق پر اپنی دلالت اور وضاحت کے اعتبار سے ایک ایسے بلند مقام اور ایسی حالت پر پہنچی ہوئی ہیں کہ کوئی ان کو قبول کرنے سے انکار نہیں کرسکتے سوائے اس شخص کے جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی، اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل گیا اور اس نے انتہائی درجے کے تکبر سے کام لیا۔ البقرة
100 یہ ان کے کثرت معاہدات اور پھر ان معاہدات کے ایفاء پر ان کے عدم صبر پر اظہار تعجب ہے۔ فرمایا : ﴿كُلَّمَا ﴾ ” جب بھی“ (کُلَّما) تکرار کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی جب کبھی وہ عہد کرتے ہیں تو وفا نہیں کرتے۔ اس کا کیا سبب ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ ان کا ایمان نہ لانا ہی وہ سبب ہے جو ان کے نقض عہد کا موجب ہے۔ اگر ان کے ایمان میں کوئی صداقت ہوتی تو ان کی مثال ان لوگوں کی سی ہوتی جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ ﴾(الاحزاب : 33؍ 23) ” اور اہل ایمان میں سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں کہ جو عہد انہوں نے اللہ سے کیا تھا اسے سچ کر دکھایا۔‘‘ البقرة
101 یعنی جب ان کے پاس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حق کے ساتھ یہ عظیم کتاب لے کر آئے جو ان کے پاس موجود کتاب کے موافق تھا اور وہ یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ وہ اپنی کتاب پر عمل کرتے ہیں۔ تو انہوں نے اس رسول اور اس کتاب کو ماننے سے انکار کردیا جس کو یہ رسول لے کر آئے ﴿ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ ڎ کِتٰبَ اللّٰہِ﴾ ” اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پھینک دیا“ یعنی وہ کتاب جو ان کی طرف نازل کی گئی تھی اس کو بے رغبتی کے ساتھ دور پھینک دیا ﴿وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ﴾ ” اپنی پیٹھوں کے پیچھے“ روگردانی اور اعراض کے لیے یہ بلیغ ترین محاورہ ہے گویا وہ اپنے اس فعل کے ارتکاب میں سخت جہالت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ اس رسول کی صداقت اور جو کچھ وہ لایا ہے اس کی حقیقت کو خوب جانتے ہیں۔ اس سے واضح ہوگیا کہ اہل کتاب کے اس گروہ کے ہاتھ میں کچھ بھی باقی نہیں جبکہ یہ اس رسول پر ایمان نہیں لائے۔ ان کا اس رسول کو نہ ماننا اپنی کتاب کا انکار کرنا ہے مگر وہ اس بات کو سمجھتے نہیں۔ حکمت الٰہی اور عادت قدسی یہ ہے کہ جو کوئی اس چیز کو ترک کرتا ہے جو اسے فائدہ دیتی ہے اور جس سے فائدہ اٹھانا اس کے لیے ممکن ہو لیکن وہ فائدہ نہ اٹھائے تو اسے ایسے کام میں مشغول کردیا جاتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑتا ہے، اسے بتوں کی عبادت میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی محبت، اس سے خوف اور اس پر امید کو ترک کرتا ہے وہ غیر اللہ کی محبت، اس سے خوف اور اس سے امید میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مال خرچ نہیں کرتا، اسے شیطان کی فرمانبرداری میں مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جو کوئی اپنے رب کے سامنے ذلت اور فروتنی کا اظہار نہیں کرتا اسے بندوں کے سامنے ذلیل ہونا پڑتا ہے اور جو کوئی حق کو چھوڑ دیتا ہے اسے باطل میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ البقرة
102 اسی طرح ان یہودیوں نے جب اللہ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تو اس جادو کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کے زمانے میں ایجاد کیا۔ جہاں شیاطین نے لوگوں کو سکھانے کے لیے جادو نکالا اور لوگوں کو باور کرایا کہ سلیمان علیہ السلام اسی جادو کے عامل تھے اور جادو ہی کے زور پر انہیں اتنی بڑی سلطنت حاصل ہوئی تھی۔ حالانکہ وہ جھوٹ بول رہے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کبھی جادو نہیں کیا۔ بلکہ اللہ سچے نے اپنے اس فرمان میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس کام سے منزہ قرار دیا، فرمایا : ﴿وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ﴾ یعنی (حضرت سلیمان) نے (جادو سیکھ کر) کفر کا ارتکاب نہیں کیا، انہوں نے ہرگز جادو نہیں سیکھا۔ ﴿وَلَـٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا﴾یعنی (جادو سیکھ کر) شیاطین نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ﴾یعنی بنی آدم کو گمراہ کرنے اور ان کو سرکش بنانے کی حرص کی وجہ سے لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اسی طرح یہودیوں نے اس جادو کی بھی پیروی کی جو سر زمین عراق کے شہر بابل میں دو فرشتوں پر نازل کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے امتحان اور آزمائش کے لیے ان فرشتوں پر جادو نازل کیا گیا تھا اور یہ فرشتے آزمائش ہی کے لیے لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ ﴿ وَمَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی﴾ ” اور وہ کسی کو نہیں سکھاتے تھے یہاں تک کہ“ وہ ان کی خیر خواہی کرتے اور ﴿ یَقُوْلَآ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْ ۭ۔ ﴾” کہتے کہ ہم تو آزمائش کے لیے ہیں، سو تم کفر مت کرو“ یعنی جادو نہ سیکھو کیونکہ جادو کفر ہے۔ پس دونوں فرشتے لوگوں کو جادو سیکھنے سے روکتے تھے اور انہیں جادو کی حیثیت سے آگاہ کردیتے تھے۔ پس شیاطین کا جادو سکھانا تو محض تدلیس اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر تھا، نیز اس جادو کو ترویج دینے اور اسے اس معصوم ہستی یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کرنے کے لیے تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس سے بری قرار دیا ہے اور فرشتوں کا جادو سکھانا لوگوں کی آزمائش اور امتحان کے لیے تھا۔ وہ خیر خواہی سے لوگوں کو آگاہ کردیتے تھے تاکہ ان کے لیے حجت نہ بنے۔ پس یہ یہودی اس جادو کے پیچھے لگے، جسے شیاطین نے سیکھا تھا اور جو وہ دو فرشتے سکھایا کرتے تھے۔ تو انہوں نے انبیاء و رسل کے علوم کو چھوڑ دیا اور شیاطین کے علم کی طرف متوجہ ہوگئے۔ ہر شخص اسی چیز کی طرف مائل ہوتا ہے جو اس کے مناسب حال ہوتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جادو کے مفاسد بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْہُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِہٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِہٖ ۭ﴾ ” پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس سے خاوند اور بیوی میں جدائی ڈال دیں“ اس کے باوجود کہ میاں بیوی کے درمیان محبت کو کسی اور کی محبت پر قیاس نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے بارے میں فرماتا ہے :﴿وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ ﴾(الروم : 30؍ 21) ” اور تمہارے درمیان مودت اور رحمدلی پیدا کردی۔“ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت ہے نیز یہ کہ جادو اللہ تعالیٰ کے ” اذن“ یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادے سے نقصان دیتا ہے۔ اذن کی دو اقسام ہیں۔ (الف) اذن قدری۔ جو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے متعلق ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ (ب) اذن شرعی۔ جیسا کہ سابقہ آیت کریمہ ﴿ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّـهِ ﴾(البقرة : 2؍ 97) ” اس نے تو یہ کتاب، اللہ کے حکم سے آپ کے دل پر اتاری“ میں مذکور ہے اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسباب کی قوتِ تاثیر خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، وہ ہر حال میں قضاء و قدر کے تابع ہوتے ہیں۔ ان کی مستقل تاثیر نہیں ہوتی۔ افعال العباد کے بارے میں امت کے فرقوں میں کوئی بھی اس اصول کی مخالفت نہیں کرتا سوائے قدریہ کے۔ قدریہ سمجھتے ہیں کہ اسباب کی تاثیر مستقل ہوتی ہے اور وہ مشیت الٰہی کے تابع نہیں ہوتے۔ چنانچہ انہوں نے بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے خارج کردیا اور اس طرح وہ کتاب اللہ، سنت رسول اور صحابہ و تابعین کے اجماع کی مخالفت کے مرتکب ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جادو کے علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جادو میں نقصان ہی نقصان ہے، اس میں کوئی دینی یا دنیاوی منفعت نہیں ہوتی جس طرح بعض گناہوں میں دنیاوی منفعت ہوتی ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے بارے میں فرمایا: ﴿قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا ﴾ (البقرة: 2؍ 219) ’’کہہ دو شراب اور جوئے میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں البتہ ان کا گناہ ان کے فائدے کی نسبت زیادہ بڑا ہے۔‘‘ پس یہ جادو تو ضررِ محض ہے اور اصل میں اس کا کوئی داعیہ نہیں۔ تمام منہیات یا تو ضررِ محض کی حامل ہیں یا ان میں شر کا پہلو خیر کے پہلو سے زیادہ ہے۔ جیسے تمام مامورات صرف مصلحت پر مبنی ہیں یا ان میں خیر کا پہلو شر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ﴿وَ لَقَدْ عَلِمُوْا﴾’’یعنی یہود نے جان لیا ہے۔‘‘﴿لَمَنِ اشْتَرَاهُ﴾ ’’جس نے اسے خریدا‘‘ یعنی انھوں نے جادو کے علم میں اس طرح رغبت کی جیسے تاجر مال تجارت کے خریدنے میں رغبت رکھتا ہے﴿مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ﴾ یعنی ’’آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں‘‘ بلکہ یہ جادو آخرت میں عذاب کا موجب ہو گا۔پس ان کا جادو پر عمل کرنا جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کیا ہے۔﴿وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾ ’’ اور وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے‘‘ یعنی اپنے فعل کے بارے میں ایسا علم رکھنا جو عمل کا باعث ہو۔ البقرة
103 البقرة
104 مسلمان جب دینی امور سیکھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہوتے تو عرض کرتے ﴿رَاعِنَا﴾ یعنی ہمارے حال کی رعایت کیجئے۔ ان کے نزدیک اس لفظ کا صحیح معنی مقصود تھا۔ مگر یہودی اس سے فاسد معنی مراد لیتے تھے، لہٰذا وہ مسلمانوں کے اس لفظ کے استعمال کو غنیمت جانتے ہوئے فاسد معنی کے ارادے سے اس لفظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطاب کرتے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی اس لفظ کے ذریعے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطاب کرنے سے روک دیا۔ تاکہ (گستاخی کا) یہ دروازہ بند ہوجائے۔ اس آیت کریمہ میں کسی جائز کام سے روکنے کی دلیل ہے جبکہ یہ جائز کام کسی حرام کام کے لیے وسیلہ ہو، نیز اس میں ادب کا اور ایسے الفاظ کے استعمال کا بیان ہے جو اچھے ہوں، جن میں بے ہودگی نہ ہو۔ نیز قبیح الفاظ کے ترک کرنے کی تاکید ہے، یا جن میں کسی قسم کی تشویش اور کسی نامناسب امر کا احتمال ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایسا لفظ استعمال کرنے کا حکم دیا جس میں صرف اچھے معنی کا احتمال ہو۔ فرمایا : ﴿وَقُوْلُوا انْظُرْنَا ” اور اُنْظُرْنَا کہو“ یہ لفظ کافی ہے اور بغیر کسی خدشے کے اس سے اصل مقصد حاصل ہوجاتا ہے ﴿ وَاسْمَعُوْا ۭ ﴾’’اور سنو“ یہاں مسموع کا ذکر نہیں کیا گیا تاکہ اس کی عمومیت میں ہر وہ چیز شامل ہو جس کے سننے کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ اس کے مفہوم میں سماع قرآن اور سماع سنت شامل ہیں جو لفظی، معنوی اور قبولیت کے اعتبار سے سراسر حکمت ہے۔ اس میں ادب اور اطاعت کی تعلیم ہے۔ البقرة
105 پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کو درد ناک عذاب کی وعید سنائی ہے اور یہود اور مشرکین کی مسلمانوں کے ساتھ عداوت سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ﴿اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ۭ﴾ ” تم پر کوئی بھلائی نازل ہو۔“ یعنی کم یا زیادہ ﴿ مِّنْ رَّبِّکُمْ ﴾ ” تمہارے رب کی طرف سے“ ان کی یہ خواہش تمہارے ساتھ بغض اور اس بات پر حسد کی وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے فضل کے ساتھ مختص کیوں کیا ﴿ۭوَاللّٰہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ﴾” اور (بے شک) اللہ بڑے فضل والا ہے“۔ یہ اس کا فضل ہی ہے کہ اس نے تمہارے رسول پر کتاب نازل کی تاکہ وہ تمہیں پاک کرے، تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور تمہیں وہ کچھ سکھائے جو تم نہیں جانتے۔ فَلَہُ الْحَمْدُ وَالْمِنَّۃُ البقرة
106 (نسخ) کے لغوی معنی نقل کرنا ہیں۔ نسخ کی شرعی حقیقت یہ ہے کہ مکلفین کو کسی ایک شرعی حکم سے کسی دوسرے شرعی حکم کی طرف منتقل کرنا یا اس شرعی حکم کو یکسر ساقط قرار دے دینا۔ یہودی نسخ کا انکار کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ نسخ جائز نہیں، حالانکہ نسخ ان کے ہاں تورات میں بھی موجود ہے، ان کا نسخ کو نہ ماننا کفر اور محض خواہش نفس کی پیروی ہے، پس اللہ تعالیٰ نے نسخ میں پنہاں اپنی حکمت سے آگاہ فرماتے ہوئے فرمایا : ﴿ مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا﴾ ” جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا اس کو بھلاتے ہیں“ یعنی اپنے بندوں سے فراموش کرا دیتے ہیں اور اس آیت کو ان کے دلوں سے زائل کردیتے ہیں ﴿نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْہَآ ﴾” تولاتے ہیں اس سے بہتر“ یعنی ایسی آیت اس کی جگہ لے آتے ہیں جو تمہارے لیے زیادہ نفع مند ہوتی ہے ﴿ اَوْ مِثْلِہَا ۭ﴾ ” یا اس جیسی کوئی اور آیت۔ “ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمہارے لیے نسخ (یعنی آیت ناسخہ) کی مصلحت پہلی آیت (یعنی آیت منسوخہ) کی مصلحت سے کسی طرح بھی کم نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل، خاص طور پر اس امت پر بہت زیادہ ہے جس پر اس کے دین کو اللہ نے بے حد آسان بنا دیا ہے۔ البقرة
107 اللہ تعالیٰ نے اس بات سے بھی آگاہ فرمایا کہ جو کوئی نسخ میں جرح و قدح کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور قدرت میں عیب نکالتا ہے۔ فرمایا : ﴿أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِۭ﴾ ” کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے؟ کیا تجھے معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے؟“ جب اللہ تعالیٰ تمہارا مالک ہے وہ تمہارے اندر اسی طرح تصرف کرتا ہے جیسے نیکو کار، مہربان آقا اپنی اقدار میں، اپنے احکام میں اور اپنے نواہی میں تصرف کرتا ہے۔ پس جیسے اس پر اپنے بندوں کی بابت تقدیری فیصلے کرنے پر پابندی نہیں ہے اسی طرح اللہ پر ان احکام کے بارے میں بھی اعتراض صحیح نہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے مشروع کیے ہیں۔ پس بندہ اپنے رب کے امر دینی اور امرتکوینی کا پابند ہے، اسے اعتراض کا کیا حق ہے؟ نیز اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا ولی (کار ساز) اور ان کا مددگار ہے۔ پس وہ ان کے لیے منفعت کے حصول میں ان کا والی اور سرپرست ہے اور ضرر کو ان سے دور کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ولایت (کار سازی) کا حصہ ہے کہ اس نے ان کے لیے ایسے احکام مشروع کیے، جن کا تقاضا اس کی حکمت اور لوگوں کے ساتھ اس کی رحمت کرتی ہے۔ جو کوئی اس نسخ میں غور کرتا ہے جو قرآن و سنت میں واقع ہوا ہے تو اس کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس میں اللہ کی حکمت ہے، اس کے بندوں پر رحمت ہے اور اپنے لطف و کرم سے انہیں ان کے مصالح تک ایسے طریقے سے پہنچانا ہے کہ وہ اسے سمجھ ہی نہیں پاتے۔ البقرة
108 اللہ تعالیٰ اہل ایمان یا یہود کو منع کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول سے اس طرح سوال کریں ﴿کَمَا سُئِلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ۭ ﴾” جس طرح اس سے پہلے (حضرت) موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا گیا۔“ اس سے مراد وہ سوالات ہیں جو بال کی کھال اتارنے اور اعتراض کی خاطر کیے جاتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّـهَ جَهْرَةً﴾ (النساء : 4؍ 153) ” اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب اتارلا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی بڑی بات کا مطالبہ کرچکے ہیں، کہتے تھے کہ ہمیں اللہ ان ظاہری آنکھوں سے دکھا“۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ (المائدہ : 5؍ 101) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کیا کرو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں گی۔“ لہٰذا اس قسم کے (مذموم) سوالات سے منع کیا گیا ہے۔ رہا رشد و ہدایت اور تحصیل علم کے لیے سوال کرنا تو یہ محمود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے سوالات کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ (النحل : 16؍ 43) ” اگر تم نہیں جانتے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو اہل کتاب ہیں“ اور اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے سوالات کو برقرار رکھا ہے۔ فرمایا :﴿ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ﴾ (البقرہ: 2؍ 219) ” وہ تجھ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔“ نیز فرمایا : ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَىٰ﴾ (البقرہ : 2؍ 220) ” اور تجھ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں“ اور اس قسم کی دیگر آیات۔ چونکہ ممنوعہ سوالات مذموم ہوتے ہیں اس لیے بعض دفعہ سوال پوچھنے والے کو کفر کی حدود میں داخل کردیتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿’ وَمَنْ یَّتَـبَدَّلِ الْکُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِیْلِ﴾’’جس نے ایمان کے بدلے کفر لے لیا پس اس نے سیدھا راستہ گم کردیا۔ “ البقرة
109 پھر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب میں سے بہت سے لوگوں کے حسد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ﴿ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا ښ﴾ ” کاش تمہیں تمہارے ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹا دیں۔“ اس کے لیے انہوں نے پوری کوشش اور فریب کاری کے جال بچھائے، مگر ان کے مکر و فریب پلٹ کر انہی پر پڑگئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿وَقَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمِنُوا بِالَّذِي أُنزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا آخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴾(آل عمران : 3؍ 72) ” اہل کتاب کا ایک گروہ کہتا ہے وہ کتاب جو اہل ایمان پر نازل کی گئی ہے اس پر دن کے پہلے حصے میں ایمان لاؤ اور اس کے آخر میں انکار کر دو، تاکہ وہ اسلام سے باز آجائیں۔“ یہ ان کا حسد تھا جو ان کے اندر سے پھوٹ رہا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہود کی برائی اور بدخلقی کے مقابلے میں عفو اور درگزر سے کام لینے کا حکم دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جہاد کا حکم دے دیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو شفا بخشی، چنانچہ اہل ایمان نے ان یہودیوں میں سے جو قتل کے مستحق تھے ان کو قتل کیا، جو قیدی بنائے جا سکے ان کو قیدی بنا لیا اور کچھ کو ملک بدر کردیا۔ ﴿’ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ﴾ ’’یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ البقرة
110 پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو فی الحال اقامت نماز، ادائے زکوٰۃ اور تقرب الٰہی کے کاموں میں مشغول رہنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ نیکی کا جو بھی کام کریں گے اللہ تعالیٰ کے ہاں کبھی ضائع نہیں ہوگا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسے بہت زیادہ پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴾” تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا ہے۔ “ البقرة
111 یعنی یہودیوں نے کہا کہ یہودیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا اور عیسائیوں نے کہا کہ صرف وہی لوگ جنت میں جائیں گے جو عیسائی ہوں گے۔ پس انہوں نے حکم لگا دیا کہ صرف وہی اکیلے جنت کے مستحق ہوں گے۔ یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں جو دلیل و برہان کے بغیر قابل قبول نہیں۔ پس اگر تم (اپنے اس دعوے میں) سچے ہو تو دلیل مہیا کرو۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی قسم کا دعویٰ کرتا ہے اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دعوے کی صحت پر دلیل مہیا کرے وگرنہ اس کا دعویٰ اگر اس کی طرف پلٹا دیا جائے اور کوئی دعویٰ کرنے والا اس کے برعکس بغیر دلیل کے دعویٰ کر دے، تو وہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ ان دونوں دعوؤں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوگا۔ پس دلیل ہی ایک ایسی چیز ہے جو دعوے کی تصدیق یا اس کی تکذیب کرتی ہے اور جب ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں۔ البقرة
112 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسی روشن دلیل بیان فرمائی ہے جو ہر ایک کے لیے عام ہے۔ فرمایا : ﴿بَلَىٰ﴾ یعنی تمہاری آرزوئیں اور تمہارے دعوے صحیح نہیں بلکہ ﴿ مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ جس نے اپنے قلب کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اپنے اعمال کو اس کے لیے خلاص کرلیا۔ ﴿ وَھُوَ مُحْسِنٌ﴾ اور وہ اپنے اخلاص کے ساتھ اپنے رب کی عبادت احسن طریقے سے کرتا ہے۔ یعنی وہ اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عبادت کرتا ہے صرف یہی لوگ جنت میں جائیں گے۔﴿فَلَہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ۠﴾ ” بے شک اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے“ یہ اجر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر مشتمل جنت ہے۔ ﴿وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ﴾ ” اور ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“ پس انہیں ان کی مرغوب چیز حاصل ہوگی اور خوف سے نجات مل جائے گی۔ ان آیات کریمہ میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ جو ان مذکورہ لوگوں کی مانند نہیں ہیں وہ ہلاک ہونے والے جہنمیوں میں شمار ہوں گے۔ پس نجات صرف انہی لوگوں کا نصیب ہے جو محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نیکی کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں۔ البقرة
113 اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب خواہش نفس اور حسد میں اس حد کو پہنچ گئے کہ انہوں نے ایک دوسرے کو گمراہ اور کافر قرار دیا، جیسے مشرکین عرب میں امیوں کا وتیرہ تھا۔ پس ہر فرقہ دوسرے فرقے کو گمراہ قرار دیتا تھا۔ ان اختلاف کرنے والوں کے مابین قیامت کے روز اللہ تعالیٰ عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ یہ وہ فیصلہ ہے جس کے بارے میں اس نے بندوں کو باخبر کردیا ہے کہ فوز و فلاح اور نجات صرف انہی لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے تمام انبیا و مرسلین کی تصدیق کی اور اپنے رب کے احکام کی پیروی کی اور اس کی منہیات سے اجتناب کیا۔ ان کے علاوہ دیگر تمام لوگ ہلاکت کے گڑھے میں گریں گے۔ البقرة
114 یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور مجرم کوئی اور نہیں جس نے اللہ کی مساجد میں لوگوں کو اللہ کا ذکر کرنے، نماز پڑھنے اور نیکی اور اطاعت کے دیگرکاموں سے روکا۔ ﴿سَعٰی﴾ یعنی جس نے پوری جدوجہد اور بھرپور کوشش کی ﴿ فِیْ خَرَابِہَا﴾ ” ان کے ویران کرنے میں“ اس سے مراد، حسی اور معنوی دونوں اعتبار سے ویران کرنا ہے۔ حسی ویرانی کا مطلب ہے منہدم کرنا، اجاڑنا اور ان میں گندگی وغیرہ پھینکنا۔ معنوی ویرانی کا مطلب ان مساجد میں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روکنا ہے اور یہ عام ہے، اس زمرے میں وہ تمام لوگ آتے ہیں جو ان صفات سے متصف ہیں۔ اس میں اصحاب فیل بھی شامل ہیں، قریش بھی شامل ہیں، جب انہوں نے حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا تھا اور اس گروہ میں وہ نصرانی اور اہل ظلم بھی شامل ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہوئے پوری کوشش سے بیت المقدس کو ویران کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے کرتوتوں کی یہ سزا دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شرعی اور تقدیری طور پر مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے منع کردیا سوائے اس کے کہ وہ ڈرتے ہوئے ذلت و انکسار کے ساتھ داخل ہوں۔ پس جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کو خوف زدہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر خوف مسلط کردیا۔ مشرکین مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا مگر تھوڑا ہی عرصہ گزرا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ مکرمہ فتح کرنے کی اجازت مرحمت فرما دی اور مشرکین کو اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کے قریب جانے سے منع کردیا۔ چنانچہ فرمایا : ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا ﴾(التوبہ : 9؍ 28) ”اے ایمان والو ! مشرکین تو ناپاک ہیں اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں۔ “ اصحاب فیل کا جو حشر ہوا اللہ تعالیٰ نے (قرآن مجید میں) اس کا ذکر فرمایا ہے۔ نصرانیوں پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مسلط فرمایا اور انہوں نے ان کو جلا وطن کردیا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو ان جیسی صفات رکھتا ہے وہ اس سزا سے اپنا حصہ ضرور وصول کرے گا۔ یہ بہت بڑی نشانیاں ہیں جن کے واقع ہونے سے پہلے ہی باری تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا اور یہ اسی طرح واقع ہوئیں جس طرح اس نے خبر دی تھی۔ اس آیت کریمہ سے اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ کفار کو مساجد میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ فرمایا : ﴿ لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ﴾یعنی ” ان کے لیے دنیا میں فضیحت ہے“ ﴿وَّلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴾” اور آخرت میں بڑا عذاب ہے“ جب اللہ کی مساجد میں اللہ کے ذکر سے روکنا سب سے بڑا ظلم ہے تو اسی طرح مساجد کو حسی اور معنوی اعتبار سے آباد کرنے والے سے بڑا ایمان والا کوئی نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ (التوبہ : 9؍ 18) ” اللہ کی مساجد کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔“ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کے گھروں کو بلند کیا جائے اور ان کی تعظیم و تکریم کی جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّـهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ ﴾(النور 24؍ 36) ”ان گھروں میں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو بلند کیا جائے اور وہاں اس کے نام کا ذکر کیا جائے۔ “ مساجد سے متعلق بہت سے احکام ہیں جن کا خلاصہ ان آیات کریمہ کے اندر مضمر ہے۔ البقرة
115 ﴿ وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ﴾” اللہ ہی کے لیے ہے مشرق اور مغرب“ اللہ تعالیٰ نے یہاں مشرق و مغرب کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ یہ روشنی کے طلوع ہونے اور غروب ہونے کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی آیات عظیمہ کا محل و مقام ہیں اور جب وہ مشارق و مغارب کا مالک ہے، تو تمام جہات اسی کی ملکیت ہیں۔ ﴿ فَاَیْنَـمَا تُوَلُّوْا﴾ پس ان جہات میں سے جس کسی جہت کی طرف بھی تم اپنا منہ پھیر لو گے، بشرطیکہ تمہارا اس کی طرف منہ پھیرنا اللہ کے حکم سے ہو یا تو وہ تمہیں حکم دے کہ خانہ کعبہ کی طرف تم منہ پھیر لو، جب کہ پہلے تم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کے پابند تھے یا سفر میں تمہیں سواری کے اوپر نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے، اس صورت میں اس کا قبلہ وہی ہوگا جس کی طرف وہ منہ کرے گا، یا (انجان جگہ میں) قبلے کا رخ معلوم نہ ہو، پس اپنے انداز سے نما زپڑھ لی، بعد میں معلوم ہوا کہ اندازہ غلط تھا یا کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے قبلہ رخ ہونا مشکل ہو۔ ان تمام صورتوں میں وہ یا تو مامور ہے (یعنی اللہ کے حکم پر قبلے کی طرف رخ کرنے والا ہے) یا معذور ہے۔ ہر حال میں بندہ جس جہت کی طرف بھی منہ کرتا ہے وہ جہت اللہ تعالیٰ کی ملکیت سے باہر نہیں۔ ﴿ فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ ۭ اِنَّ اللّٰہَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ﴾ ”جدھر بھی تم رخ کرو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے بے شک اللہ وسعت علم والا ہے“ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے چہرے کا اثبات ہوتا ہے مگر جیسے اس کی ذات اقدس کے لائق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے مگر مخلوق کے چہروں کے مشابہ نہیں۔ (اللہ تعالیٰ اس مشابہت سے بلند و برتر ہے) وہ وسیع فضل اور عظیم صفات کا مالک ہے اور تمہارے سینوں کے بھید اور نیتوں کو جاننے والا ہے۔ اس نے وسعت علم و فضل کی بنا پر تمہارے لیے احکام میں وسعت بخشی ہے اور تم سے مامورات کو قبول فرمایا۔ ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر صرف اسی کی ذات کے لیے ہے۔ البقرة
116  ﴿وَقَالُوا﴾یعنی یہود و نصاریٰ، مشرکین اور ان تمام لوگوں نے کہا جو کہتے ہیں : ﴿ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ۙ﴾ ” اللہ نے بیٹا بنا لیا۔“ انہوں نے ایسی بات اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی جو اس کی جلالت شان کے لائق نہ تھی۔ انہوں نے بہت برا کیا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس گستاخی پر صبر کرتا ہے، حلم سے کام لیتا ہے، انہیں معاف کر کے انہیں رزق عطا کرتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں نقص ثابت کرتے ہیں۔ ﴿ سُبْحَانَهُ﴾۔ یعنی وہ ان تمام صفات سے پاک اور منزہ ہے جن سے یہ اہل شرک اور اہل ظلم اسے متصف کرتے ہیں اور جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔۔۔ پس پاک اور ہر عیب سے منزہ ہے وہ ذات جو ہر پہلو سے کمال مطلق کی مالک ہے جسے کسی بھی پہلو سے نقص لاحق نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے اپنے منزہ ہونے پر دلیل قائم کی ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿بَلْ لَّہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی ملکیت اور اس کی غلام ہے۔ وہ ان میں اسی طرح تصرف کرتا ہے جس طرح مالک اپنے مملوک میں تصرف کرتا ہے۔ وہ اس کے اطاعت گزار اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں۔ جب تمام مخلوق اس کی غلام اور اس کی محتاج ہے اور وہ خود ان سے بے نیاز ہے تو ان میں کوئی کیسے اس کا بیٹا ہوسکتا ہے۔ بیٹا لازمی طور پر اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے جسم کا حصہ ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ مالک اور غالب ہے تم سب لوگ مملوک اور مغلوب ہو، اس کی ہستی بے نیاز اور تم محتاج محض، ایسا ہونے کے باوجود اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ سب سے بڑا باطل اور سب سے زیادہ قبیح بات ہے۔ ” قنوت“ (اطاعت کرنا) کی دو اقسام ہیں۔ (1) قنوت عام : یعنی تمام مخلوق خالق کے دست تدبیر کے تحت اس کی اطاعت گزار ہے۔ (2)قنوت خاص : اس سے مراد اطاعت عبودیت ہے۔ پس قنوت کی پہلی قسم وہ ہے جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے اور قنوت کی دوسری قسم وہ ہے جس کا ذکر ﴿ وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ﴾۔ البقرہ : 2؍ 238) ” اور اللہ کے سامنے ادب اور اطاعت گزاری کے ساتھ کھڑے رہیں۔“ میں مذکور ہے۔ البقرة
117 پھر فرمایا : ﴿بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو بغیر کسی سابقہ مثال کے نہایت مضبوط اور بہترین طریقے سے تخلیق کیا ہے۔ ﴿ وَاِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ﴾” وہ جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا پس وہ ہوجاتا ہے“ یعنی کوئی چیز اس کی نافرمانی نہیں کرسکتی اور کسی چیز کو اس کے سامنے انکار کرنے کی مجال نہیں۔ البقرة
118 یعنی اہل کتاب وغیرہ میں سے جہلاء نے کہا : ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ اس طرح کلام کیوں نہیں کرتا جس طرح وہ اپنے رسولوں سے کلام کرتا ہے۔ ﴿ اَوْ تَاْتِیْنَآ اٰیَۃٌ ۭ﴾” یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی“ اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو وہ اپنی فاسد عقلوں اور باطل آراء کے ذریعے سے طلب کرتے تھے۔ ان فاسد آراء کے بل بوتے پر انہوں نے خالق کے مقابلے میں جسارت کی اور اس کے رسولوں کے سامنے تکبر سے کام لیا۔ جیسے انہوں نے کہا : ﴿لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى اللَّـهَ جَهْرَةً﴾ (البقرہ : 2؍ 55) ” ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم اللہ کو ان ظاہری آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔“ ﴿ يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ ﴾لنساء 4؍ 153) ” اہل کتاب تجھ سے کہتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے ایک لکھی ہوئی کتاب اتارلا۔ پس یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑے بڑے سوال کیا کرتے تھے۔“﴿ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا﴾ (الفرقان: 25؍ 7، 8) ” اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو ڈرانے کے لیے اس کے ساتھ ساتھ رہتا یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا۔ یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا“ یا جیسے فرمایا :﴿ وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا﴾  (بنی اسرائیل: 17؍ 90) ” اور انہوں نے کہا ہم تجھ پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے زمین سے چشمہ جاری نہ کردے۔ “ پس اپنے رسولوں کے ساتھ یہ ان کی عادت رہی ہے کہ یہ طلب رشد و ہدایت کے لیے آیات کا مطالبہ نہیں کیا کرتے تھے اور نہ تبیین حق ان کا مقصد تھا بلکہ وہ تو محض بال کی کھال اتارنے کے لیے مطالبات کرتے تھے۔ کیونکہ رسول تو آیات (اور معجزات) کے ساتھ آتے رہے ہیں اور ان جیسی آیات و معجزات پر انسان ایمان لاتا رہا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ﴾” بے شک ہم نے بیان کردیں نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو یقین کرتے ہیں“ پس ہر صاحب ایقان اللہ تعالیٰ کی روشن نشانیوں اور واضح دلائل و براہین کو پہچان لیتا ہے۔ ان سے اسے یقین حاصل ہوتا ہے اور شک و ریب اس سے دور ہوجاتے ہیں۔ البقرة
119 پھر اللہ تعالیٰ نے نہایت اختصار و ایجاز سے بعض جامع آیات کا ذکر فرمایا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت اور جو کچھ آپ پر نازل ہوا اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں۔ فرمایا : ﴿ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا ۙ﴾ ”ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے“ یہ ان آیات پر مشتمل ہے جنہیں رسول اللہ لے کر مبعوث ہوئے اور یہ تین امور کی طرف راجع ہیں۔ (1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت۔ (2) آپ کی سیرت طیبہ، آپ کا طریقہ اور آپ کی راہ نمائی۔ (3) قرآن و سنت کی معرفت۔ پہلا اور دوسرا نکتہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ ﴾میں داخل ہے اور تیسرا نکتہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد﴿ بِالْحَقِّ﴾ میں داخل ہے۔ نکتہ اول۔۔۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور رسالت کی توضیح یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل اہل زمین کی جو حالت تھی وہ معلوم ہے۔ اس زمین کے رہنے والے بتوں، آگ اور صلیب کی عبادت میں مبتلا تھے۔ ان کے لیے جو دین آیا انہوں نے اسے تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ کفر کی تاریکیوں میں ڈوب گئے اور کفر کی تاریکی ان پر چھا گئی تھی۔ البتہ اہل کتاب کی کچھ باقیات تھیں (جو دین اسلام پر قائم رہیں) اور وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے تھوڑا سا پہلے ناپید ہوگئیں۔ یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا اور نہ اس کو بے حساب و کتاب آزاد چھوڑا ہے کیونکہ وہ حکیم و دانا، باخبر، صاحب قدرت اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ پس اس کی حکمت اور اپنے بندوں پر اس کی بے پایاں رحمت کا تقاضا ہوا کہ وہ ان کی طرف ایک نہایت عظمت والا رسول مبعوث کرے جو انہیں ایک اللہ کی عبادت کا حکم دے جس کا کوئی شریک نہیں۔ ایک عقلمند شخص محض آپ کی رسالت ہی کی بنا پر آپ کی صداقت کو پہچان لیتا ہے اور یہ اس بات کی بہت بڑی علامت ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ رہا دوسرا نکتہ۔۔۔ تو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھی طرح پہچان لیا اور اسے آپ کی بعثت سے قبل آپ کی سیرت، آپ کے طریق زندگی اور آپ کی کامل ترین خصلتوں پر آپ کی نشو و نما کی معرفت حاصل ہوگئی۔ پھر بعثت کے بعد آپ کے مکارم، عظیم اور روشن اخلاق بڑھتے چلے گئے۔ پس جنہیں ان اخلاق کی معرفت حاصل ہوگئی اور انہوں نے آپ کے احوال کو اچھی طرح جانچ لیا تو اسے معلوم ہوگیا کہ ایسے اخلاق صرف انبیائے کاملین ہی کے ہوسکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اوصاف کو اصحاب اوصاف اور ان کے صدق و کذب کی معرفت کے لیے سب سے بڑی دلیل قرار دیا ہے۔ رہا تیسرا نکتہ۔۔۔ تو یہ اس عظیم شریعت اور قرآن کریم کی معرفت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کیا گیا جو سچی خبروں، اچھے احکام، ہر برائی سے ممانعت اور روشن معجزات پر مشتمل ہے۔ پس تمام نشانیاں ان تین باتوں میں آجاتی ہیں۔ ﴿بَشِيرًا﴾ یعنی آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے ہیں جس نے آپ کی اطاعت کی ﴿وَنَذِيرًا ﴾ اور اس شخص کو دنیاوی اور اخروی بدبختی اور ہلاکت سے ڈرانے والے ہیں جس نے آپ کی نافرمانی کی﴿ۙ وَّلَا تُسْـــَٔـلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ﴾ یعنی آپ سے اہل دوزخ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ آپ کا کام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ البقرة
120 اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ آپ سے اس وقت تک خوش نہیں ہوسکتے جب تک آپ ان کے دین کی اتباع نہ کریں کیونکہ وہ اپنے اس دین کے داعی ہیں جس پر وہ عمل پیرا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی ہدایت ہے، لہٰذا آپ ان سے کہہ دیجیے ! ﴿ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ﴾” بے شک اللہ کی ہدایت“ یعنی وہ ہدایت جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے ﴿ ھُوَ الْہُدٰی ۭ﴾” وہی درحقیقت ہدایت ہے۔“ اور وہ مذہب جس پر تم گامزن ہو محض خواہشات نفس کی پیروی ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ ﴿ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَاۗءَکَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ﴾ ” اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو آپ کو پہنچا، تو آپ کو اللہ سے بچانے والا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں ہوگا۔“ اس آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کی اتباع کرنے اور ان امور میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا گیا ہے جو ان کے دین سے مختص ہیں۔ یہاں خطاب اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے مگر بالواسطہ آپ کی امت بھی اس میں داخل ہے، کیونکہ اصول یہ ہے کہ جس سے خاص طور پر خطاب ہو، اس کی بجائے عمومِ معنی کا اعتبار کیا جائے۔ جیسے کسی حکم کے نازل ہونے کا کوئی خاص سبب ہوتا ہے، لیکن وہاں اس سبب کی بجائے عموم لفظ کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ البقرة
121 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب عطا کی اور کتاب عطا کر کے ان پر احسان کیا ہے ﴿ یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ۭ”﴾ وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ تلاوت کرنے کا حق ہے۔“ یعنی اس کی اتباع کرتے ہیں جیسا کہ اتباع کرنے کا حق ہے۔ یہاں (تلاوت) سے مراد اتباع ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے حلال ٹھہرائے ہوئے امور کو حلال اور اس کے حرام ٹھہرائے ہوئے امور کو حرام سمجھتے ہیں۔ اس کی محکمات پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور اس کی متشابہات پر ایمان لاتے ہیں۔ اہل کتاب میں سے یہی وہ لوگ ہیں جو خوش بخت ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانا اور اس کے شکر گزار ہوئے جو تمام رسولوں پر ایمان لائے اور انہوں نے ان رسولوں کے مابین تفریق نہ کی۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں نہ کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں﴿ نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ﴾ (البقرہ : 2؍ 91) ” جو کتاب ہم پر نازل کی گئی ہم تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے سوا دوسری کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔“ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : ﴿ وَمَنْ یَّکْفُرْ بِہٖ فَاُولٰۗیِٕکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ﴾” جو کوئی اس کا انکار کرے گا پس یہی لوگ گھاٹے میں پڑنے والے ہیں۔“ اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ کی تفسیر گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ البقرة
122 البقرة
123 البقرة
124 اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں خبر دیتا ہے۔ جن کی امامت و جلالت تمام گروہوں کے درمیان متفق علیہ ہے۔ اہل کتاب کے تمام گروہ ان کی پیشوائی کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسی طرح مشرکین مکہ بھی ان کو پیشوا مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند باتوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لیا یعنی چند اوامرونواہی میں جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو امتحان اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، تاکہ جھوٹا شخص جو ابتلاء و امتحان میں ثابت قدم نہیں رہ سکتا، ایسے شخص سے علیحدہ ہوجائے جو سچا ہے تاکہ سچے شخص کے درجات بلند ہوں، اس کی قدر و قیمت زیادہ ہو، اس کے اعمال صاف ستھرے ہوں اور وہ اس آزمائش کی بھٹی سے کندن بن کر نکلے۔ اللہ تعالیٰ کے ان بندوں میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام جلیل ترین مقام پر فائزہیں۔ جن امور میں اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا تھا وہ بدرجہ اتم اس آزمائش میں پورے اترے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس سعی کی قدر کی اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے (اپنے نیک بندوں کی مساعی کا) قدر دان ہے۔ فرمایا :﴿ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ۭ﴾” میں تجھ کو لوگوں کا امام بناؤں گا“ یعنی وہ زندگی کے لائحہ عمل میں تیری پیروی کریں گے اور ابدی سعادت کی منزل تک پہنچنے کے لیے تیرے پیچھے چلیں گے۔ تجھے ہمیشہ مدح و ثنا حاصل رہے گی اور بے پایاں اجر عطا ہوگا اور ہر شخص تیری عظمت کا قائل ہوگا۔ اللہ کی قسم ! یہ افضل ترین درجہ ہے جس میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کرتے ہیں اور ایک ایسا بلند مقام ہے کہ اصحاب اعمال اس تک پہنچنے کے لیے بڑی جدوجہد کرتے ہیں اور وہ کامل ترین حالت ہے جو صرف اولوالعزم انبیاء و مرسلین، ان کے پیروکار صدیقین اور اللہ تعالیٰ اور اس کے راستے کی طرف دعوت دینے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اس مقام بلند کو پا کر خوش ہوئے تو انہوں نے اپنی اولاد کے لیے بھی اس مقام کی درخواست کی تاکہ ان کے اور ان کے اولاد کے درجات بلند ہوں اور یہ دعا بھی ان کی امامت، اللہ کے بندوں کے ساتھ خیر خواہی اور چاہت کا نتیجہ ہے کہ ان کی اولاد میں اللہ کی طرف رہنمائی کرنے والوں کی کثرت ہو۔ پس کیا خوب عظمت ہے ان اعلیٰ مقاصد اور مقامات بلند کی۔ اللہ رحیم اور لطف وکرم کے مالک نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اس رکاوٹ سے ان کو باخبر کردیا جو اس مقام کے حصول کے راستے میں حائل ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿ لَا یَنَالُ عَہْدِی الظّٰلِمِیْنَ﴾” میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا“ یعنی اہل ظلم دین میں امامت کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتے۔ جس نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اس کو نقصان پہنچایا اور اس کی بے قدری کی، کیونکہ ظلم اس مقام کے منافی ہے۔ یہ ایسا مقام ہے جہاں تک پہنچنے کا ذریعہ صبر و یقین ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس رتبے کا مالک ایمان اعمال صالحہ، اخلاق جمیلہ، خصائل حمیدہ، محبت نامہ اور خشیت و انابت میں عظمت کا حامل ہو۔ پس ظلم کا اس مقام سے کیا تعلق؟ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ جو ظالم نہیں وہ اس امامت کے بلند مقام تک پہنچ سکتا ہے مگر وہاں تک پہنچانے والے اسباب استعمال کر کے۔ البقرة
125 پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے باقی رہنے والے نمونے کا ذکر فرمایا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امامت پر دلالت کرتا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا محترم گھر جس کی زیارت کو اللہ تعالیٰ نے دین کا ایک رکن اور گناہوں، کوتاہیوں کو ختم کردینے والا قرار دیا اور اس محترم گھر میں اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کے آثار ہیں جن کے ذریعے سے ان کی امامت کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور حضرت خلیل علیہ السلام کی حالت یاد آتی ہے۔ پس فرمایا: ﴿ وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا ۭ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس محترم گھر کو لوگوں کا مرجع قرار دیا، لوگ اپنے دینی اور دنیاوی منافع کے حصول کی خاطر وہاں اکٹھے ہوتے ہیں۔ وہاں بار بار جانے کے باوجود ان کا دل نہیں بھرتا ﴿وَاَمْنًا ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اس محترم مقام کو جائے امن قرار دیا جہاں پہنچ کر ہر شخص محفوظ و مامون ہوجاتا ہے یہاں تک کہ جنگلی جانور اور نباتات و جمادات بھی مامون ہوتے ہیں۔ بنابریں جاہلیت کے زمانے میں، اہل عرب اپنے شرک کے باوجود بیت اللہ کا حد درجہ احترام کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں سے کوئی اگر بیت اللہ میں اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ لیتا تو تب بھی اس میں انتقامی جذبہ جوش نہ مارتا جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی حرمت، عظمت اور اس کے شرف و تکریم میں اور اضافہ کردیا۔ ﴿ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّی ۭ﴾” اور بناؤ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ“ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اسے مراد وہ معروف مقام ہو جو اب بیت اللہ کے دروازے کے بالمقابل ہے اور جائے نماز بنانے سے مراد طواف کی دو رکعت ہیں جو مقام ابراہیم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنا مستحب ہے۔ جمہور مفسرین کا یہی مذہب ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہاں مقام مفرد اور مضاف ہو، اس صورت میں یہ حج کے ان تمام مقامات کو شامل ہوگا، جہاں جہاں ابراہیم علیہ السلام کے قدم پہنچے اور یہ حج کے سارے مشاعر ہوں گے، جیسے طواف، سعی صفا و مروہ، وقوف عرفات و مزدلفہ، رمی جمار (کنکریاں مارنا) قربانی اور دیگر افعال حج۔ پس یہاں ﴿ مُصَلًّی ﴾ کا معنی ” عبادت کی جگہ“ قرار پائے گا۔ یعنی تمام شعائر حج میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کرو۔ شاید یہی معنی زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس کے اندر پہلا معنی بھی آجاتا ہے اور لفظ بھی اس معنی کا متحمل ہے۔ ﴿ وَعَہِدْنَآ اِلٰٓی اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَہِّرَا بَیْتِیَ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام کی طرف وحی کر کے انہیں حکم دیا کہ وہ بیت اللہ کو شرک، کفر و معاصی، رجس و نجاست اور گندگی سے پاک کریں تاکہ اللہ کا یہ گھر ﴿لِلطَّاۗیِٕفِیْنَ﴾ طواف کرنے والوں ﴿وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ﴾ ” اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں“ یعنی نمازیوں کے لیے پاک ہوجائے۔ آیت کریمہ میں طواف کے ذکر کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ یہ مسجد حرام سے مختص ہے اس کے بعد اعتکاف کا ذکر آیا ہے کیونکہ صحت اعتکاف کے لیے مطلقاً مسجد کی شرط ہے یہی وجہ ہے کہ نماز کا ذکر طواف و اعتکاف کے بعد ہے باوجود اس بات کے کہ وہ افضل ہے۔ باری تعالیٰ نے کعبہ کو چند وجوہات کی بنا پر اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ (1) اللہ کا گھر ہونے کے حوالے سے یہ نہایت شدت سے اس بات کا متقاضی تھا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اس کی تطہیر کا خوب اہتمام کریں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کریں اور اپنی پوری طاقت صرف کردیں۔ (2) اللہ تعالیٰ کی طرف یہ نسبت عزت و شرف اور تکریم کی متقاضی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کی تعظیم و تکریم کا حکم دیا ہے۔ (3) یہ اضافت اور نسبت ہی ہے جو دلوں کو بیت اللہ کی طرف کھینچنے کا باعث ہے۔ البقرة
126 یعنی جب ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس گھر کو امن کی جگہ بنائے اور یہاں کے رہنے والوں کو مختلف قسم کے پھلوں سے رزق عطا کرے۔ پھر جناب ابراہیم علیہ السلام نے ادب الٰہی کی خاطر اس دعا کو ایمان کی قید لگا کر اہل ایمان کے لیے خاص کردیا۔ چونکہ ان کی پہلی دعا مطلق تھی اس لیے اس کے جواب کو ” غیر ظالم“ کی قید سے مقید کیا گیا ہے۔ پس جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لیے رزق کی دعا کی اور اس کے لیے ایمان کی شرط عائد کی اور اللہ تعالیٰ کا رزق مومن اور کافر، نافرمان اور فرمانبردار سب کو ملتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَمَنْ کَفَرَ﴾ ” اور جس نے کفر کیا“ یعنی میں کافر اور مسلمان تمام لوگوں کو رزق عطا کروں گا۔ رہا مسلمان تو وہ اس رزق سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں مدد لے گا پھر وہ یہاں سے جنت کی نعمتوں میں منتقل ہوجائے گا اور کافر تو وہ اس دنیا میں تھوڑا سا فائدہ اٹھائے گا۔ ﴿ ثُمَّ اَضْطَرُّہٗٓ﴾ ” پھر میں اسے لاچار کر دوں گا“ اور اس کی ناپسندیدگی کے باوجود اسے دنیا سے نکال کر ﴿اِلٰی عَذَابِ النَّارِ ۭ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ﴾” جہنم کے عذاب میں جھونک دوں گا جو بہت برا ٹھکانہ ہے۔ “ البقرة
127 یعنی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس حالت کو یاد کرو جب وہ بیت اللہ کی بنیادیں بلند کر رہے تھے اور اس عظیم کام پر تسلسل اور پابندی سے لگے ہوئے تھے اور یہ کہ اس وقت ان پر خوف اور امید کی کیسی کیفیت طاری تھی، حتیٰ کہ اس عظیم عمل کے باوجود انہوں نے دعا کی کہ ان کا عمل قبول کیا جائے، تاکہ اس کا فائدہ عام ہو اور انہوں نے اپنی ذات اور اپنی اولاد کے لیے اسلام کی دعا کی۔ جس کی حقیقت قلب کا خشوع و خضوع ہے اور دل کا اپنے رب کا مطیع ہوجانے اور اعضاء و جوارح کے فرماں بردار ہونے کو متضمن ہے۔ البقرة
128 ﴿وَاَرِنَا مَنَاسِکَنَا﴾یعنی ارادہ اور مشاہدہ کے ذریعے ہمیں ہمارا طریق عبادت سکھا۔ تاکہ یہ زیادہ مؤثر ہو۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ مناسک سے مراد تمام اعمال حج ہوں۔ جیسا کہ اس معنی پر آیت کریمہ کا سیاق و سباق دلالت کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی چیز مراد ہو اور وہ سارا دین اور تمام عبادات ہیں۔۔۔ جیسا کہ عموم لفظ اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ (النسک) کا معنی عبادت کرنا ہے پھر عرف کے لحاظ سے حج کی عبادات کے لیے اس لفظ کا استعمال غالب آگیا۔ پس ان کی دعا کا حاصل علم نافع اور عمل صالح کی توفیق مانگنا ہے۔ بندہ جیسا بھی ہو اس سے تقصیر ہو ہی جاتی ہے اس لیے وہ توبہ کا محتاج ہوتا ہے، چنانچہ دونوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی: ﴿وَتُبْ عَلَیْنَا ۚ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ﴾ ” اے اللہ ہم پر رجوع فرما، تو بہت رجوع کرنے والا بہت مہربان ہے۔ “ البقرة
129 ﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ﴾ یعنی ہماری اولاد میں رسول مبعوث فرما تاکہ وہ ان دونوں کے درجات کی بلندی کا سبب بنے۔ لوگ اس کی اطاعت کریں اور اسے اچھی طرح پہچان لیں۔ فرمایا : ﴿یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ﴾ یعنی وہ لفظاً لفظاً حفظ کرنے اور حفظ کروانے کے لیے تیری آیات کی تلاوت کرے۔ ﴿وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ﴾ یعنی معافی سمجھاتے ہوئے انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے ﴿وَیُزَکِّیْہِمْ﴾ یعنی اعمال صالحہ کے ذریعے سے ان کی تربیت کرے اور اعمال قبیحہ سے ان کو بچائے، کیونکہ قبیح اور ردی اعمال کے ہوتے ہوئے نفس پاک نہیں ہوسکتا۔ ﴿اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ﴾ یعنی تو ہر چیز پر غالب ہے۔ عزیز اس ہستی کو کہتے ہیں جس کی قوت کے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکے۔ ﴿الْحَکِیْمُ﴾ حکیم اس ہستی کو کہتے ہیں جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھے۔ پس تو اپنے غلبہ و حکمت کے تحت ان کے اندر اس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مبعوث فرما۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں برگزیدہ نبیوں کی دعا قبول فرما لی اور تمام مخلوق پر عام طور پر اور اولاد ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام پر خاص طور پر رحم کرتے ہوئے اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے : (اَناَ دَعْوَۃُ أَبِی اِبْرَاہِیْمَ) [البدایة والنھایة،275؍2 والصحیحه، رقم:1546،1545] ” میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔ “ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس قدر عظمت و بلندی سے نوازا اور ان کی صفات کاملہ بیان فرمائیں تو فرمایا : البقرة
130 یعنی وہ کون ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت کو پہچان لینے کے بعد ان کی ملت سے روگردانی کرے۔﴿اِلَّا مَنْ سَفِہَ نَفْسَہٗ﴾ یعنی ایسا شخص وہی ہوسکتا ہے جس نے اپنے نفس کو جاہل رکھ کر حقیر بنا دیا ہو۔ اپنے نفس کے لیے کمتر چیز پر راضی ہو اور گھاٹے کے سودے میں اسے فروخت کردیا ہو۔ اسی طرح اس شخص سے بڑھ کر کامل اور راست رو کوئی نہیں جو ملت ابراہیم میں رغبت رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حالت کے بارے میں آگاہ فرمایا : ﴿وَلَقَدِ اصْطَفَیْنٰہُ فِی الدُّنْیَا﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو چن لیا، انہیں ایسے اعمال کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ چیدہ چیدہ نیک لوگوں میں شمار ہوئے۔ ﴿وَاِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴾” اور وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے“ یعنی وہ نیک لوگ جو بلند ترین درجات پر فائز ہوں گے۔ البقرة
131 ﴿اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ ۙ قَالَ﴾” اور جب انہیں ان کے رب نے کہا مطیع ہوجاؤ“ یعنی (اللہ تعالیٰ کے فرمان کے جواب میں) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نہایت فرمانبرداری سے عرض کی : ﴿ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴾ یعنی میں اخلاص، توحید، محبت اور انابت کے طور پر جہانوں کے پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ کی توحید ان کی خاص صفت قرار پائی۔ پھر اس توحید کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وراثت کے طور پر اپنی اولاد میں منتقل کیا۔ اس کی ان کو وصیت فرمائی اور اسے ایک ایسا کلمہ بنا دیا جو ان کے بعد بھی باقی رہا اور نسل در نسل وراثت میں منتقل ہوتا رہا حتیٰ کہ حضرت یعقوب علیہ السلام تک پہنچا اور انہوں نے اپنے بیٹوں کو اسی کلمہ توحید کی وصیت کی۔ البقرة
132 پس اے اولاد یعقوب ! تمہیں تمہارے باپ نے خاص طور پر وصیت کی ہے اس لیے نہایت کامل طریقے سے اس کی اطاعت کرنا اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرنا تم پر واجب ہے۔ فرمایا : ﴿یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی لَکُمُ الدِّیْنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور احسان کرتے ہوئے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے لہٰذا اس دین کو قائم کرو اس کی شرائع سے متصف اور اس کے اخلاق میں رنگے جاؤ پھر ان کو دائمی طور پر اختیار کرلو۔ جب تمہیں موت آئے تو یہ اوصاف و اخلاق تمہارا اوڑھنا بچھونا ہوں، کیونکہ انسان جن اوصاف کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے انہی اوصاف کے ساتھ موت سے ہم آغوش ہوتا ہے اور جن اوصاف پر وہ مرتا ہے انہی اوصاف کے ساتھ اسے قیامت کے روز اٹھایا جائے گا۔ البقرة
133 چونکہ یہودیوں کو زعم تھا کہ وہ ملت ابراہیم اور ان کے بعد ملت، یعقوب پر ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا انکار کرتے ہوئے فرمایا : ﴿اَمْ کُنْتُمْ شُہَدَاۗءَ﴾یعنی ” کیا تم سب اس وقت موجود تھے“ ﴿اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ﴾ ” جب یعقوب علیہ السلام کو موت آئی“ یعنی جب موت کے مقدمات اور اسباب ظاہر ہوئے تو انہوں نے آزمائش اور امتحان کے طور پر اپنے بیٹوں سے پوچھا تاکہ ان کی وصیت پر ان کے بیٹوں کے عمل کرنے کی وجہ سے ان (حضرت یعقوب) علیہ السلام کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ ﴿مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ﴾ ” میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟“ پس یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے انہیں ایسا جواب دیا جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، چنانچہ انہوں نے جواب دیا : ﴿ نَعْبُدُ اِلٰہَکَ وَاِلٰہَ اٰبَاۗیِٕکَ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰــہًا وَّاحِدًا﴾پس ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں گے نہ کسی کو اس کے برابر قرار دیں گے۔ ﴿وَّنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ﴾” اور ہم اسی کے مطیع اور فرماں بردار ہیں“ پس انہوں نے توحید اور عمل کو جمع کردیا۔ البقرة
134 یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہودی حضرت یعقوب علیہ السلام کی وفات کے وقت موجود نہ تھے کیونکہ وہ تو ان کی وفات کے بعد وجود میں آئے۔ جب وہ اس وقت موجود نہ تھے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ خبردی ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو یہودیت کی نہیں بلکہ حنیفیت کی وصیت فرمائی تھی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :﴿تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ﴾ یعنی وہ امت گزر گئی﴿لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ﴾” اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لیے وہ جو تم کماؤ گے“ یعنی ہر شخص کا اپنا عمل ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کے فعل کی جزا دے گا۔ وہ کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کے گناہوں کی وجہ سے مواخذہ نہیں کرے گا اور کسی شخص کو صرف اس کا اپنا ایمان اور تقویٰ ہی کام دے گا۔ پس تمہارا اس زعم میں مبتلا ہونا اور تمہارا یہ دعویٰ کہ تم ان انبیاء علیہ السلام کی ملت پر ہو مجرد و دعویٰ اور ایک ایسا معاملہ ہے جو حقیقت سے خالی ہے، بلکہ تم پر فرض ہے کہ تم اپنی موجودہ حالت پر غور کرو۔ کیا یہ نجات دلانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟ البقرة
135 یعنی یہود و نصاریٰ نے مسلمانوں کو اپنے اپنے دین میں داخل ہونے کی دعوت دی، ان میں سے ہر ایک اس زعم باطل میں مبتلا تھا کہ وہ ہدایت یافتہ ہے اور دوسرے گمراہ ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے شافی جواب دیتے ہوئے فرمایا : ﴿ قُلْ بَلْ مِلَّۃَ اِبْرٰھٖمَ حَنِیْفًا﴾ بلکہ ہم تو ملت ابراہیم کی اتباع کرتے ہیں، یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام ہر طرف سے منہ موڑ کر توحید کو قائم کرتے ہوئے اور شرک کو ترک کر کے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ تھے۔ یہی وہ ہستی ہے جس کی پیروی میں ہدایت اور جس کی ملت سے روگردانی کرنا کفر اور گمراہی ہے۔ البقرة
136 یہ آیت کریمہ ان تمام امور پر مشتمل ہے جن پر ایمان لانا واجب ہے۔ جان لیجیے کہ ایمان، جو ان اصولوں کے ساتھ دل کی پوری تصدیق کا نام ہے اور اس کا اقرار، قلوب اور اعضاء کے اعمال کو متضمن ہے اور اس اعتبار سے اس میں اسلام داخل ہے اور اس میں تمام اعمال صالحہ بھی داخل ہیں۔ پس تمام اعمال صالحہ ایمان کا حصہ اور اس کے آثار میں سے ہیں۔ جب ایمان کا علی الاطلاق ذکر ہوگا تو مذکورہ امور اس میں داخل ہوں گے۔ اسی طرح جب اسلام کا علی الاطلاق ذکر کیا جائے گا تو ایمان بھی اس کے اندر داخل ہوگا۔ جب ایمان اور اسلام کو مقرون اور ایک ساتھ ذکر کیا جائے گا تب ایمان، قلب کے اقرار و تصدیق کا نام اور اسلام، اعمال ظاہرہ کا نام ہوگا اور اسی طرح جب ایمان اور اعمال صالحہ کو جمع کیا جائے گا (تو یہی اصول ہوگا) ارشاد فرمایا :﴿ قُولُوا﴾ یعنی اپنی زبان سے کہو اور تمہارے دل تمہارے اس قول کی موافقت کرتے ہوں۔ یہی وہ کامل قول ہے جس پر ثواب اور جزا مرتب ہوتے ہیں، پس جیسے قلبی اعتقاد کے بغیر محض زبان سے ایمان کا اظہار نفاق اور کفر ہے۔ اسی طرح وہ قول، جو عمل سے عاری ہو، عمل قلب ہے جو تاثیر سے محروم اور بہت کم مفید ہے تاہم اگر یہ قول کوئی بھلائی کی بات ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دل میں ایمان بھی موجود ہو تو بندہ مومن کو اس پر اجر ملتا ہے۔ لیکن مجردقول اور اس قول کے درمیان فرق ہے جو عمل قلب کے ساتھ مقرون ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿قُوْلُوْٓا﴾ میں عقیدے کے اعلان و اظہار اور اس کی طرف دعوت دینے کا اشارہ ہے کیونکہ عقیدہ دین کی اصل اور اس کی اساس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اٰمَنَّا﴾ وغیرہ میں جس میں فعل کا صادر ہونا مذکور ہو اور تمام امت کی طرف منسوب ہو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ تمام امت پر فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو اکٹھے ہو کر مضبوطی سے پکڑے رکھے ایک دوسرے کے ساتھ محبت و الفت سے رہے، یہاں تک کہ ان کا داعی ایک اور ان کا عمل متحد ہو۔ اسی سے افتراق اور تشتت کی ممانعت بھی نکلتی ہے۔ نیز اس آیت کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تمام اہل ایمان جسد واحد کی مانند ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ا نسان کے لیے اپنے نفس کی طرف ایمان کی اضافت کرناجائز ہے مگر مقید طور پر بلکہ اس اضافت کے وجوب کی دلیل ہے اس کے برعکس (اَناَ مُؤمِنٌ) ” میں مومن ہوں“ کہنے کا معاملہ ہے، تو اس طرح کہنا صرف ان شاء اللہ کے ساتھ جائز ہے۔ کیونکہ یہ اپنے آپ کو پاک کہنے اور اپنے آپ پر ایمان کی شہادت کے زمرے میں آتا ہے۔ ﴿ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ﴾ یعنی ہم اس حقیقت پر ایمان لائے کہ اللہ تعالیٰ واجب الوجود ہے۔ وہ ایک ہے وہ ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص اور عیب سے منزہ ہے۔ تمام عبادات کا اکیلا وہی مستحق ہے۔ ان عبادات میں کسی بھی پہلو سے کوئی بھی ہستی اس کی شریک نہیں۔ ﴿وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا﴾ اس میں قرآن اور سنت دونوں شامل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَأَنزَلَ اللَّـهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ﴾(سورۃ نساء : 4؍ 113) ” اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی۔“ اس میں ان تمام چیزوں پر ایمان لانا داخل ہے جو کتاب و سنت میں ذکر کی گئی ہیں مثلاً باری تعالیٰ کی صفات، انبیاء و مرسلین کی صفات، روز قیامت، گزرے ہوئے اور آنے والے غیبی امور نیز تمام شرعی احکام اور ثواب و عقاب کے احکام پر ایمان لانا۔ ﴿وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓی اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ ........وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ ﴾ اس آیت کریمہ میں عمومی طور ان تمام کتابوں پر ایمان لانے کا ذکر کیا گیا ہے جو سابقہ انبیاء و مرسلین پر نازل کی گئی ہیں اور خصوصی طور پر ان انبیاء و مرسلین پر ایمان لانا، جو کہ اس آیت کریمہ میں منصوص ہیں ان کے شرف و تکریم کے باعث اور اس سبب سے کہ وہ بڑی بڑی شریعتیں لے کر دنیا میں تشریف لائے۔ پس انبیائے کرام اور کتب سابقہ پر ایمان لانے میں جو چیز واجب ہے وہ یہ ہے کہ ان پر عمومی طور پر ایمان لایا جائے۔ پھر جس چیز کی تفصیل کی معرفت حاصل ہوجائے اس پر مفصل ایمان لایا جائے۔ ﴿وَمَآ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ﴾ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ دین کا عطیہ ہی دراصل حقیقی عطیہ ہے جو انسان کو دنیاوی اور آخروی سعادت کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ ہم انبیائے کرام کی حکومتوں اور ان کو عطا کیے گئے مال و متاع وغیرہ پر ایمان لائیں۔ بلکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ان کو عطا کی گئی کتابوں اور شریعتوں پر ایمان لائیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ بات بھی واضح ہے کہ انبیائے کرام علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے (دین) پہنچانے والے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے مابین دین پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ حقیقت میں وہ کسی اختیار کے مالک نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿مِنْ رَّبِّہِمْ﴾میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے کمال ربوبیت کی بنا پر ان پر کتابیں نازل کیں اور ان کی طرف رسول مبعوث کیے ہیں۔ پس اس کی ربوبیت یہ تقاضا نہیں کرتی کہ انسانوں کو بیکار اور بے مہار چھوڑ دیا جائے۔ جب صورت یہ ہے کہ جو کچھ انبیائے کرام علیہ السلام کو عطا کیا گیا وہ ان کے رب کی طرف سے ہے۔ تو اس سے انبیائے کرام علیہ السلام اور نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ نیز انبیائے کرام علیہ السلام اور مدعیان نبوت کے درمیان فرق ان کی دعوت کی معرفت حاصل کرنے سے بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول صرف بھلائی کی دعوت دیتے ہیں اور صرف برائی سے روکتے ہیں۔ ان میں ہر رسول دوسرے رسول کی تصدیق کرتا اور اس کے لیے حق کی گواہی دیتا ہے۔ ان کی دعوت میں تناقض اور ایک دوسرے کی مخالفت نہیں ہوتی کیونکہ ان کی دعوت ان کے رب کی طرف سے ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّـهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا﴾(النساء : 4؍ 82) ” اور اگر یہ (قرآن) غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلافات پاتے۔ “ اس کے برعکس جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس قسم کے جھوٹے نبیوں کی دی ہوئی خبروں اور ان کے اوامرو نواہی میں ضرور تناقص ہوتا ہے جیسا کہ اس قسم کے تمام جھوٹے مدعیان نبوت کی سیرت، ان کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت حاصل کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ ﴿لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ﴾ یعنی ہم تمام انبیاء پر (بلا تفریق) ایمان لاتے ہیں۔ یہ اہل اسلام کی ایک ایسی خاصیت ہے جس کی بنا پر وہ ان تمام لوگوں میں منفرد ہیں جو کسی (آسمانی) دین کا دعویٰ کرتے ہیں۔ پس یہود و نصاریٰ اور صابی وغیرہ اگرچہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ انبیاء و رسل اور کتب منزلہ پر ایمان رکھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ دیگر کتب کا انکار کرتے ہیں۔ پس وہ انبیاء و مرسلین اور کتب منزلہ کے مابین تفریق کرتے ہیں، ان میں سے کچھ لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کی تکذیب خود ان کی تصدیق کو توڑ دیتی ہے۔ کیونکہ وہ رسول جس کے بارے میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لائے ہیں اس نے تمام رسولوں کی تصدیق کی ہوتی ہے۔ خاص طو پر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پس جب وہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں تو درحقیقت وہ اپنے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کرتے ہیں اور یہ ان کا اپنے رسول کے ساتھ کفر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو بیان کردیا جن پر عمومی اور خصوصی طور پر ایمان لانا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ قول، عمل سے کفایت نہیں کرتا، تو فرمایا : ﴿وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ﴾یعنی ہم اس کی عظمت کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ ہم اپنے ظاہر و باطن سے اس کی عبودیت کے لیے اس کی طاعت کرتے ہیں اور ہم اس کی عبادت کو صرف اسی کے لیے خالص کرتے ہیں اور اس مفہوم کے لیے دلیل یہ ہے کہ معمول کو عامل پر مقدم رکھا ہے۔ ﴿لَہٗ مُسْلِمُوْنَ﴾ میں ( لَہٗ) معمول ہے اور(مُسْلِمُوْنَ)عامل ہے۔ (اس انداز بیان سے اختصاص کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔) یہ آیت کریمہ اپنے ایجاز و اختصا رکے باوجود توحید کی تینوں اقسام پر مشتمل ہے۔ وہ ہیں توحید ربوبیت، توحید الوہیت اور توحید اسماء و صفات۔ یہ آیت کریمہ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام اور تمام کتابوں پر ایمان لانے پر مشتمل ہے۔ یہ آیت کریمہ عموم کے بعد اس تخصیص پر مشتمل ہے جو فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دل، زبان اور جوارح کی تصدیق اور اخلاص اللہ پر مشتمل ہے۔ یہ آیت کریمہ سچے انبیاء و رسل اور جھوٹے مدعیان نبوت کے مابین فرق و امتياز کو شامل ہے۔ یہ آیت باری تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لیے اس تعلیم پر مشتمل ہے کہ وہ (اپنے ایمان کا) کیسے اظہار کیا کریں، نیز اس کی رحمت اور بندوں پر اس کے احسان کو شامل ہے جو اس نے ان کو دینی نعمتوں سے نواز کر کیا، یہ نعمتیں انہیں دنیاوی اور آخروی سعادت کی منزل پر پہنچاتی ہیں۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی کتاب کو ایسا جامع بنایا کہ اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ البقرة
137 یعنی اے اہل ایمان ! اگر اہل کتاب اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم تمام انبیاء و مرسلین علیہ السلام اور تمام کتابوں پر ایمان لائے ہو، جن میں سب سے پہلے اور سب سے اولیٰ ہستی جس پر ایمان لایا جائے، حضرت محمد مصطفی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جو تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن ہے اور انہوں نے اللہ وحدہ کے سامنے سر تسلیم خم کردیا اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کی۔ ﴿فَقَدِ اھْتَدَوْا﴾تو ان کو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی مل گئی جو نعمتوں والی جنت تک پہنچانے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے اس ایمان کے بغیر ہدایت تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو وہ دعویٰ کرتے ہیں۔﴿کُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی تَہْتَدُوْا﴾ یعنی یہودی یا نصرانی ہوجاؤ تو تم راہ راست پالو گے پس وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ہدایت تو صرف وہی ہے جس پر وہ عمل پیرا ہیں۔ اور (الھُدیٰ) ” ہدایت“ نام ہے حق کو جاننے اور اس پر عمل کرنے کا اور اس کی ضد علم سے محرومی اور علم کے بعد عملی گمراہی ہے اور یہی وہ شقاق (دشمنی اور مخالفت) ہے جس پر وہ قائم تھے، کیونکہ وہ پیٹھ پھیر کر روگردانی کر رہے تھے۔ پس مبتلائے شقاق وہ شخص ہے جو ایک طرف ہوتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول دوسری طرف۔ اس شقاق (مخالفت) سے دشمنی اور انتہا درجے کی عداوت لازم آتی ہے جس کے لوازمات میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ عداوت میں مبتلا لوگ رسول کو اذیت دینے میں اپنی پوری کوشش صرف کرتے ہیں۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ دشمنوں کے مقابلے میں ان کے لیے کافی ہے کیونکہ وہ لوگوں کے اختلاف زبان اور ان کی متنوع حاجات وضروریات کے باوجود سب کی آوازیں سنتا ہے۔ جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہو وہ سب جانتا ہے۔ غائب اور شاہد، ظاہر اور باطن سب اس کے دائرہ علم میں ہیں۔ پس جب بات اس طرح ہے تو ان کے شر کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تیرے لیے کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دکھایا، آپ کو ان پر غلبہ اور تسلط عطا کیا یہاں تک کہ ان میں سے بعض لوگوں کو قتل کیا، بعض کو قیدی اور غلام بنا لیا گیا اور بعض کو جلا وطن کر کے انہیں پوری طرح تتر بتر کردیا گیا۔ اس آیت کریمہ میں قرآن کے معجزات میں سے ایک معجزے کی طرف اشارہ ہے او وہ ہے کسی چیز کے واقع ہونے سے قبل اس کے وقوع کے بارے میں خبر دینا پھر اس کا عین دی ہوئی خبر کے مطابق واقع ہونا۔ البقرة
138 یعنی اللہ کا رنگ اختیار کرلو، اللہ کے رنگ سے مراد اللہ کا دین ہے، اس کے تمام ظاہری، باطنی اعمال اور تمام اوقات میں اس کے تمام عقائد پر عمل کرو یہاں تک کہ یہ دین تمہارا رنگ اور تمہاری صفات میں سے ایک صفت بن جائے۔ پس جب یہ دین تمہاری صفت بن جائے گا تو یہ تمہارے لیے اس بات کو ضروری کر دے گا کہ تم خوشی، اختیار اور محبت سے اللہ کے حکموں کے آگے سرتسلیم خم کر دو اور دین تمہاری فطرت اور طبیعت بن جائے گا۔ جیسے کپڑے کو مکمل طور پر رنگ دیا جائے تو یہ رنگ اس کپڑے کی صفت بن جاتا ہے، تب تمہیں دنیاوی اور آخروی سعادت حاصل ہوجائے گی، کیونکہ دین مکارم اخلاق، محاسن اعمال اور بلند متربہ امور کو اختیار کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے برسبیل تعجب، پاک اور طاہر عقلوں سے مخاطب ہو کر فرمایا : ﴿صِبْغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً﴾ یعنی کوئی اور رنگ اللہ کے رنگ سے اچھا نہیں۔ جب تم کوئی ایسی مثال دیکھنا چاہو جو تمہارے سامنے اللہ کے رنگ اور کسی اور رنگ کے مابین فرق کو واضح کرے تو تم کسی چیز کا اس کی ضد کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھو۔ آپ اس بندہ مومن کو کیسا دیکھتے ہیں جو اپنے رب پر صحیح ایمان رکھتا ہے اور اس ایمان کے ساتھ ساتھ اس کا قلب اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے اور جوارح اس کی اطاعت کرتے ہیں، پس بندہ مومن ہر اچھے وصف، خوبصورت فعل، کامل اخلاق اور بلند صفات کے زیور سے اپنے آپ کو آراستہ کرنے اور گندی صفات، رذیل عادات اور دیگر تمام عیوب سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ پس قول و فعل میں سچائی، صبر، بردباری، پاکبازی، شجاعت، قولی و فعلی احسان، محبت الٰہی، خشیت الٰہی، اللہ کا خوف اور اس سے امیدرکھنا، اس کا وصف بن جاتا ہے۔ پس اس کا حال معبود کے لیے اخلاص اور اس کے بندوں کے لیے حسن سلوک ہوجاتا ہے۔ اس کا مقابلہ اس بندے کے ساتھ کیجیے جس نے اپنے رب کا انکار کیا، اس سے منہ موڑ کر مخلوق کی طرف متوجہ ہوا اور کفر، شرک، جھوٹ، خیانت، مکرو فریب، دھوکہ، بد کرداری اور اپنے اقوال و افعال کے ذریعے سے مخلوق کے ساتھ برے سلوک جیسی صفات قبیحہ سے اپنے آپ کو متصف کیا۔ اس بندے میں اپنے معبود کے لیے اخلاص ہے نہ اس کے بندوں کے لیے حسن سلوک کا اہتمام۔ اس سے آپ کے سامنے وہ عظیم فرق ظاہر ہوجاتا ہے جو ان دو بندوں کے درمیان ہے اور آپ پر یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی دوسرا رنگ اللہ کے رنگ سے اچھا نہیں نیز ضمنی طور پر اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جس نے اللہ کے دین کے سوا کوئی اور رنگ اختیار کیا اس سے بدتر کوئی اور رنگ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَّنَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ﴾میں اس رنگ کی توضیح ہے۔ اللہ کا رنگ درحقیقت دو بنیادوں کو قائم کرنا ہے، یعنی اخلاص اور متابعت کیونکہ ” عبادت“ ان تمام اعمال اور ظاہری و باطنی اقوال کا جامع نام ہے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور وہ ان پر راضی ہے۔ یہ اعمال و اقوال اس وقت تک درست قرار نہیں پاتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے رسول کی زبان پر مشروع قرار نہ دیا ہو۔ اخلاص یہ ہے کہ بندہ مومن ان اعمال میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا مقصد بنائے۔ پس معمول کو مقدم رکھنا یعنی ” عَابِدُوْنَ لَہ “ کی بجائے ” لَہ عَابِدُوْنَ “ کہنا) حصر کا فائدہ دیتا ہے۔ ﴿وَّنَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ﴾اللہ تعالیٰ نے ان کو اسم فاعل (عَابِدُوْنَ) سے موصوف کیا ہے جو ثبات و استقرار پر دلالت کرتا ہے تاکہ یہ لفظ ان کے اس صفت سے متصف ہونے پر دلالت کرے۔ البقرة
139 (مَحَاجَۃٌ) دو یا دوسے زائد افراد کے درمیان اس مباحثہ اور مجادلہ کو کہا جاتا ہے جس کا تعلق اختلافی مسائل سے ہوتا ہے، ہر فریق اپنے مدمقابل کے خلاف اپنی بات میں کامیابی حاصل کرنا اور مدمقابل کے قول کا ابطال کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے دونوں ہی دلیل قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں مطلوب یہ ہے کہ یہ مباحثہ نہایت احسن طریقے سے ہو۔ قریب ترین راستے کے ذریعے سے گمراہ کو حق کی طرف لوٹایا جائے۔ فریق مخالف کے سامنے دلیل بیان کر کے حق اور باطل کو واضح کردیا جائے۔ اگر آپ ان مذکورہ امور سے باہر نکل جائیں تو مباحثہ نہیں بلکہ جھگڑا کہلائے گا، یہ ایک مخاصمت ہوگی جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور اس جھگڑے اور مخاصمت سے برائی جنم لیتی ہے۔ پس اہل کتاب اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ مسلمانوں کی نسبت، وہ اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں۔ یہ ان کا محض دعویٰ تھا جو دلیل اور برہان کا محتاج تھا۔۔۔ جب تمام لوگوں کا رب ایک ہے تمہارا کوئی اور رب نہیں۔ ہم اور تم میں سے ہر شخص کا اپنا اپنا عمل ہے، تو اعمال بجا لانے میں ہم اور آپ برابر ہیں۔ پس یہ چیز اس بات کی ہرگز موجب نہیں کہ ہم میں سے کوئی، دوسرے سے زیادہ، اللہ تعالیٰ کے قریب ہے۔ کیونکہ کسی مشترک چیز میں بغیر کسی مؤثر فرق کے تفریق کرنا محض باطل دعویٰ ایک جیسی دو چیزوں کے مابین تفریق پیدا کرنا اور کھلا انکار حق ہے۔ فضیلت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص اعمال کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے اور یہ حالت صرف اہل ایمان کا وصف ہے اور اس سے یہ بات متعین ہوجاتی ہے کہ اہل ایمان ہی دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں، اس لیے کہ اخلاص ہی نجات کا راستہ ہے۔ یہی وہ حقیقی اوصاف ہیں جن سے اولیاء الرحمٰن اور اولیاء الشیطان کے مابین فرق ہوتا ہے جنہیں تمام عقلمند لوگ تسلیم کرتے ہیں اور جاہل منکر حق کے سوا کوئی اس میں نزاع پیدا نہیں کرتا۔ اس آیت کریمہ میں نہایت لطیف طور پر طریق مباحثہ کی طرف راہنمائی کی گئی ہے۔ نیز یہ کہ تمام امور اس اصول پر مبنی ہیں کہ دو متماثل اشیاء ایک جیسی ہوتی ہیں اور دو مختلف اشیاء میں فرق ہوتا ہے۔ البقرة
140 یہ ان کی طرف سے ایک اور دعویٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے بارے میں ایک اور مباحثہ ہے۔ انہوں نے گمان کیا کہ وہ مسلمانوں کی نسبت مذکورہ رسولوں کے زیادہ قریب ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰہُ ﴾ ” کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿َا کَانَ اِبْرٰہِیْمُ یَہُوْدِیًّا وَّلَا نَصْرَانِیًّا وَّلٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا۝٠ۭ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۝٦٧﴾ ” ابراہیم یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ یکسو مسلمان تھے اور مشرکین میں سے بھی نہ تھے۔“ اور وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام یہودی یا نصرانی تھے۔ اس بارے میں یا تو وہ سچے اور علم سے بہرہ ور ہیں یا اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والا اور سچا ہے ان دو باتوں میں سے لامحالہ صرف ایک ہی بات صحیح ہے۔ جواب کی صورت مبہم ہے مگر جواب درحقیقت بہت واضح ہے حتیٰ کہ جواب میں یہ بھی کہنے کی ضرورت پیش نہ آئی ” بلکہ اللہ تعالیٰ زیادہ علم رکھنے والا اور زیادہ سچا ہے“ کیونکہ یہ جواب ہر شخص پر واضح ہے۔ مثلاً جب یہ کہا جائے کہ رات زیادہ روشن ہے یا دن؟ آگ زیادہ گرم ہے یا پانی؟ اور شرک زیادہ اچھی چیز ہے یا توحید؟ اور اس قسم کا کوئی اور سوال (اس کا جواب اتنا واضح ہے کہ جواب دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔) ایک ادنیٰ سی عقل رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے حتیٰ کہ یہ خود بھی جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دیگر انبیاء یہودی تھے نہ نصرانی، انہوں نے اس علم اور اس گواہی کو چھپانے کے گناہ کا ارتکاب کیا، لہٰذا ان کا ظلم سب سے بڑا ظلم ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِ﴾” اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اس شہادت کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے“ پس یہ شہادت جو ان کے پاس تھی، اللہ کی طرف سے ان کے سپرد کی گئی تھی نہ کہ مخلوق کی طرف سے۔ اس لیے اس کی ادائیگی کا اہتمام کرنا ضروری تھا، لیکن انہوں نے اسے چھپایا اور اس کے برعکس باتوں کو ظاہر کیا۔ چنانچہ انہوں نے حق کے چھپانے، اسے بیان نہ کرنے اور اظہار باطل اور اس کی طرف دعوت دینے کو ایک جگہ جمع کردیا۔ کیا یہ سب سے بڑا ظلم نہیں؟ کیوں نہیں اللہ کی قسم ! یہ سب سے بڑا ظلم ہے اس پر انہیں سخت سزا کا سامنا کرناپڑے گا۔ اس لیے اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴾”وہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں“ بلکہ اس نے تمہارے اعمال کو شمار کر کے محفوظ کرلیا ہے اور ان کی جزا بھی محفوظ کی ہوئی ہے۔ پس ان کی جزا بہت بری جزا ہے اور بری ہے جہنم کی آگ، جو ظالموں کا ٹھکانا ہے۔ قرآن کریم کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ان آیات کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کا ذکر کرتا ہے جن میں ان اعمال کا ذکر کیا گیا ہوتا ہے جن پر جزا و سزا مرتب ہوتی ہے پس ان آیات کریمہ کے عقب میں اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کا ذکر کرنا وعدہ و وعید اور ترغیب و ترہیب کا فائدہ دیتا ہے۔ نیز احکام کے عقب میں اسمائے حسنیٰ کا ذکر کرنا اس امر کا فائدہ دیتا ہے کہ امر دینی و جزائی اسمائے حسنیٰ کے آثار اور اس کے موجبات میں سے ہے اوراسمائے حسنیٰ اس امر دینی و جزائی کا تقاضا کرتے ہیں۔ البقرة
141 اس کی تفسیر گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا مکرر ذکر اس لیے فرمایا کہ وہ مخلوق سے اپنا تعلق منقطع کرلیں۔ بھروسہ صرف اسی عمل اور اسی صفت پر کرنا چاہئے جس سے انسان خود متصف ہو، نہ کہ اپنے اسلاف اور اپنے آباؤ و اجداد کے اعمال پر کیونکہ اپنے اعمال ہی حقیقی فائدہ دیتے ہیں نہ کہ بڑے انسانوں کی طرف انتساب محض۔ البقرة
142 پہلی آیت ایک معجزے، تسلی اور اہل ایمان کے دلوں کو مطمئن کرنے، ایک اعتراض اور تین وجوہ سے اس کے جواب، اعتراض کرنے والے کی صفت اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے کی صفت پر مشتمل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ عنقریب بیوقوف لوگ اعتراض کریں گے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے نفس کے مصالح کو نہیں پہچانتے بلکہ انہیں ضائع کردیتے ہیں اور انہیں نہایت کم قیمت پر فروخت کردیتے ہیں یہ یہود و نصاریٰ اور وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی شریعت پر اعتراض کرنے میں ان سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ان کے اعتراض کی بنیاد یہ بنی کہ مسلمان جب تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے ان کو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم تھا۔ پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد بھی تقریباً ڈیڑھ سال تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمتیں تھیں جن میں سے بعض کی طرف اللہ تعالیٰ کے اشارے کا تذکرہ عن قریب ہوگا اور کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم بھی اس کی حکمت کا تقاضا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ بیوقوف لوگ ضرور یہ کہیں گے ﴿مَا وَلّٰیہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِیْ کَانُوْاعَلَیْہَا ﴾” ان کو کس چیز نے اس قبلے سے پھیر دیا جس پر وہ تھے“ مراد بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا تھا، یعنی کس چیز نے ان کو بیت المقدس کی طرف منہ کرنے سے پھیر دیا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم، اس کی شریعت اور اس کے فضل و احسان پر اعتراض ہے اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کے وقوع کے بارے میں خبر دے کر اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ یہ اعتراض صرف وہی لوگ کریں گے جو بیوقوف، یعنی قلیل العقل اور برد باری و دیانت سے محروم ہوں۔ اس لیے ان کی باتوں کی پروا نہ کرو، کیونکہ ان کا سرچشمہ کلام معلوم ہے۔ عقل مند شخص بیوقوف کے اعتراض کی پروا نہیں کرتا اور نہ اس کی طرف دھیان دیتا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر صرف وہی شخص اعتراض کرتا ہے جو بیوقوف، جاہل اور عناد رکھتا ہو اور رہا عقل مند اور ہدایت یافتہ مومن تو وہ اپنے رب کے احکام اطاعت اور تسلیم و رضا کے جذبے سے قبول کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّـهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِم﴾(الاحزاب : 33؍ 36) ” کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کردیں تو اس معاملے میں وہ اپنا بھی کوئی اختیار سمجھیں۔“﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾(سورۃ نساء : 4؍ 65) ” ہرگز نہیں، تیرے رب کی قسم ! لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے تنازعات میں تجھے حکم (فیصلہ کرنے والا) نہ بنائیں۔“ نیز فرمایا : ﴿إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّـهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا﴾(النور: 24؍ 51) ” اہل ایمان کی تو یہ بات ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے، تاکہ اللہ کا رسول ان کے درمیان فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ “ اللہ تعالیٰ کا ان کے لیے ﴿السُّفَہَاۗءُ﴾ ” بے وقوف“ کا لفظ استعمال کرنا اس بات کے سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ان کا اعتراض غیر معقول ہے جس کے جواب کی ضرورت ہے نہ اس کی پروا کرنے کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے باوجود اس شب ہے کو یوں ہی نہیں چھوڑا، بلکہ اس کا ازالہ فرمایا اور بعض دلوں میں جو اعتراض پیدا ہوسکتا تھا اسے یہ کہہ کر دور فرما دیا۔ ﴿ قُلْ﴾ ان کو جواب دیتے ہوئے کہہ دیجئے !﴿لِّلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۭ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَاۗءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴾” مشرق و مغرب اللہ ہی کے ہیں، وہ جسے چاہتا ہے، سیدھے راستے کی رہنمائی فرما دیتا ہے۔ “ یعنی جب مشرق و مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور تمام جہات میں سے کوئی جہت بھی اللہ تعالیٰ کی ملکیت سے باہر نہیں اور اس کے باوجود وہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور اس قبلہ کی طرف راہنمائی بھی اسی کی طرف سے ہے، جو ملت ابراہیم کا حصہ ہے۔ پس معترض، تمہارے اس قبلہ کی طرف منہ کرلینے کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہے، کسی وجہ سے یہ اعتراض کرتا ہے کہ تم نے ایسی جہت کی طرف رخ کیوں کیا جو اس کی ملکیت نہیں؟ یہ ایک وجہ ہی اس کے حکم کے تسلیم کرنے کو واجب کردینے والی ہے، تو اس وقت اسے کیوں کر تسلیم نہیں کیا جائے گا، جب کہ تم پر یہ اللہ کا فضل و احسان ہے کہ اس نے تمہیں اس کی ہدایت نصیب فرمائی۔ پس تم پر اعتراض کرنے والا دراصل اللہ کے فضل پر اعتراض کر رہا ہے، محض تم پر حسد اور ظلم کا ارتکاب کرتے ہوئے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد﴿یَہْدِیْ مَنْ یَّشَاۗءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴾ مطلق ہے اور مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ ہدایت اور گمراہی کے کچھ اسباب ہیں جن کا موجب اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کا عدل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات پر ہدایت کے اسباب بیان کیے ہیں، بندہ جب ان اسباب کو اختیار کرتا ہے، تو اسے ہدایت حاصل ہوجاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿يَهْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ﴾(سورۃ مائدہ 16) ” اس کے ذریعے سے اللہ اپنی رضا کی پیروی کرنے والوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے۔“ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا ہے جو اس امت کے لیے ہدایت کی تمام انواع کی طرف راہنمائی کا موجب ہے۔ البقرة
143 اس امت پر یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے اسے امت وسط بنایا۔ فرمایا :﴿وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا﴾ ” اور اس طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا۔“ یعنی معتدل اور بہترین امت“ ” وسط“ کے علاوہ اور اطراف خطرے کی زد میں ہیں اللہ تعالیٰ نے دین کے ہر معاملے میں اس امت کو معتدل امت بنایا ہے۔ انبیائے کرام کے ساتھ عقیدت کے حوالے سے بھی امت مسلمہ کو ان امتوں کے مابین معتدل امت بنایا ہے جو انبیاء علیہم السلام کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں جیسے عیسائی ہیں اور انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ظلم و جفا کرنے والوں کے مابین بھی اسے معتدل امت بنایا کہ وہ سب پر اس طرح ایمان لائے جو ان کی شان کے لائق ہے۔ جب کہ یہودیوں نے انبیاء علیہم السلام کی توہین و تنقیص کی۔ امت مسلمہ شریعت کے اعتبار سے بھی امت وسط ہے اس میں نہ تو یہودیوں کی شریعت کی سی سختی اور بوجھ ہے اور نہ عیسائیوں کی سی نرمی اور لا پرواہی۔ طہارت اور مطعومات کے باب میں بھی۔ نہ یہودیوں کی طرح (سختی ہے) جن کے ہاں ان کی عبادت گاہ اور کنیسہ کے سوا کہیں نماز نہیں ہوتی۔ پانی ان کو نجاستوں سے پاک نہیں کرسکتا۔ سزا کے طور پر ان پر طیبات حرام ٹھہرا دی گئیں اور نہ نصاریٰ کی مانند (نرمی ہے) کہ وہ کسی چیز کو نجس ہی نہیں مانتے اور نہ ان کے ہاں کوئی چیز حرام ہے بلکہ انہوں نے ہر چیز کو حلال ٹھہرا لیا ہے، بلکہ اہل ایمان کی طہارت کامل ترین طہارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے ہر قسم کی طیب و طاہر مطعومات، شمروبات، ملبوسات اور پاک عورتیں مباح ٹھہرا دی ہیں اور تمام خبائث ان کے لیے حرام قرار دے دیئے۔ بنا بریں اس امت کا دین سب سے کامل، اس کے اخلاق سب سے اچھے اور اس کے اعمال سب سے افضل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو علم و حلم اور عدل و احسان سے جس طرح نوازا ہے، اس طرح ان کے علاوہ کسی اور امت کو یہ چیزیں عطا نہیں کیں۔ اس لیے وہ﴿اُمَّۃً وَّسَطًا﴾” امت وسط“ یعنی کامل اور معتدل امت کہلانے کی مستحق ہے۔﴿شُہَدَاۗءَ عَلَی النَّاسِ﴾ تاکہ وہ اپنی عدالت اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے کے سبب سے لوگوں پر گواہ ہوں اور وہ تمام اہل ادیان کے لوگوں سے متعلق فیصلے کریں اور ان کی بابت دوسرے فیصلے نہ کریں۔ پس جس چیز کی بابت یہ امت قبولیت کی شہادت دے، وہی مقبول اور جسے رد کرنے کی گواہی دے، وہ مردود ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ دوسروں کے بارے میں ان کا فیصلہ کیسے قابل قبول ہے حالانکہ تنازع میں دونوں ایک دوسرے کے مخالف فریق ہیں اور فریقین کا قول ایک دوسرے کے خلاف قابل قبول نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی تنازع میں فریقین کا قول ایک دوسرے کے خلاف وجود تہمت کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہوتا مگر جب تہمت کا شائبہ ختم ہوجائے اور عدالت کامل حاصل ہوجائے، جیسا کہ یہ امت عدالت کامل کی حامل ہے۔ مقصد تو حق اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا ہے اور اس کی شرط علم و عدل ہے اور یہ دونوں چیزیں اس امت میں موجود ہیں۔ اس لیے اس امت کا قول قابل قبول ہے۔ اگر کوئی شک کرنے والا اس امت کی فضیلت میں شک کرے اور اس کے لیے تزکیہ کرنے والے کا مطالبہ کرے، تو اس کا تزکیہ کرنے والے اس امت کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مخلوقات میں ایک کامل ترین ہستی ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَیَکُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ۭ﴾ ” اور رسول تم پر گواہ ہوگا‘‘ اس امت کی دوسری قوموں پر گواہی اس طرح ہوگی کہ قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ انبیاء مرسلین سے ان کی تبلیغ کے بارے میں سوال کرے گا اور ان کی امتیں اس تبلیغ کی تکذیب کریں گی اور کہیں گی کہ انبیاء و مرسلین سے ان کی تبلیغ کے بارے میں سوال کرے گا اور ان کی امتیں اس تبلیغ کی تکذیب کریں گی اور کہیں گی کہ انبیاء و مرسلین نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ہم تک نہیں پہنچایا، تو انبیائے کرام علیہم السلام اس امت سے گواہی لیں گے اور ان کا نبی ان کا تزکیہ کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ امت مسلمہ کا اجماع قطعی حجت اور دلیل ہے، کیونکہ یہ امت (مجموعی طور پر) ﴿وَّسَطًا﴾” امت وسط“ کے اطلاق کی بنا پر خطا سے معصوم ہے۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ امت مسلمہ خطا پر متفق ہوسکتی ہے تو یہ ” امت وسط“ نہ رہے گی۔ سوائے چند امور کے ﴿لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَی النَّاسِ ﴾ ” تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔“ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تقاضا کرتا ہے کہ جب وہ کسی فیصلہ کے متعلق گواہی دے دیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال قرار دیا ہے یا اس کو حرام قرار دیا ہے یا اسے واجب کیا ہے، تو یہ درست ہے اس لیے کہ یہ امت اس بارے میں معصوم ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے، گواہی دینے اور فتوی وغیرہ دینے کے لیے عدالت شرط ہے۔ یعنی اسلام کے ابتدائی دنوں میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم سے مقصود یہ تھا۔ ﴿ اِلَّا لِنَعْلَمَ﴾” تاکہ ہم جان لیں“ یعنی ایسا جاننا جس سے ثواب و عقاب متعلق ہے۔ [ مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ کا قول ” ایسا علم جس سے ثواب و عقاب متعلق ہے“ ایک مبہم عبارت ہے جو وضاحت کی محتاج ہے ہم ائمہ تفسیر امام نسفی، امام ابوالسعود، امام ابن کثیر اور امام ابوحیان رحمہم اللہ نے جو کچھ اپنی تفاسیر میں بیان کیا ہے یہاں ذکر کرتے ہیں پس ہم کہتے ہیں کہ (لنعلم) کا مطلب ہے، تاکہ ہم اتباع کرنے والے اور منہ موڑنے والے کے درمیان امتیاز کرسکیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل ایمان کے سامنے ان کا حال منکشف ہوجائے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ﴾( آل عمران:3؍ 179) ” حتیٰ کہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہوجائے“ پس اللہ تعالیٰ نے ” علم“ کو ”تمیز‘‘ کی جگہ میں استعمال کیا ہے، کیونکہ علم ہی سے تمیز ہوتی ہے اور وہی تمیز کا سبب ہے۔ لہٰذا سبب یعنی علم کا اطلاق کر کے مسبب یعنی تمیز مراد لی گئی ہے۔ ہمارے اس موقف کی تائید ایک قراءت سے بھی ہوتی ہے ﴿لِیُعْلَمَ﴾ یعنی ” نون“ کی بجائے ” یا“ اور صیغہ مجہول کے ساتھ۔ (تاکہ جان لیا جائے) اللہ تعالیٰ نے بندوں کے علم کو اپنی طرف اسناد کیا ہے، کیونکہ وہ اس کے خاص بندے ہیں، یا یہ ملاطفت خطاب ہے، مثلاً آپ اس شخص سے جو سونے کے پگھلنے کا منکر ہے، کہتے ہیں ’’ہم سونے کو آگ میں ڈالتے ہیں، تاکہ ہمیں معلوم ہوسکے کہ آیا سونا پگھلتا ہے یا نہیں۔ “ الجرالمحیط میں علامہ ابوحیان رحمہ اللہ رقم طراز ہیں ” اللہ تعالیٰ کے ارشاد ( لِنَعْلَمَ ) میں اس علم سے مراد ابتدائے علم ہے (یعنی پہلے سے ہی ہمیں معلوم تھا) اس کا ظاہر معنی مراد نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم کا حادث ہونا محال ہے۔ ( یعنی یہ ناممکن ہے کہ پہلے اللہ کے علم میں نہ ہو اور بعد میں اسے معلوم ہو) چنانچہ تاویل کرتے ہوئے مضاف کو محذوف مانا جائے گا۔ تب آیت کا مفہوم یہ ہوگا ” تاکہ ہمارا رسول اور اہل ایمان جان لیں“ ان کے علم کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل ایمان اس کے مقرب بندے ہیں تب اس کا شمار مجاز حذف میں ہوگا یا علم کا اطلاق تمیز پر کیا گیا ہے کیونکہ علم ہی کی بنا پر تمیز ہوتی ہے۔ یعنی ” تاکہ ہم اتباع کرنے والے اور منہ موڑنے والے کے درمیان امتیاز کرلیں“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ﴾( آل عمران: 3؍ 179) ”حتیٰ کہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہوجائے‘‘ اور اس طرح اس کا شمار اطلاق سبب کے مجاز میں سے ہوگا اور مراد اس سے مسبب ہوگا۔ یہ تاویل حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مردی ہے۔۔۔ یا اس سے ان کی اطاعت یا معصیت کے وقت اللہ تعالیٰ کے علم کا ذکر مراد ہے، کیونکہ اس وقت کے ساتھ ہی اس علم کا تعلق ثواب و عقاب سے ہوگا یا یہاں مستقبل سے ماضی مراد لیا ہے۔ تب مفہوم یہ ہوگا ”جب ہم نے جان لیا کہ رسول کی اتباع کون کرتا ہے اور اس کی مخالفت کون کرتا ہے۔“ (ملحضاً) حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یہ معنی بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے اور یہ معنی بنایا ہے ” تاکہ اہل ایمان جان لیں اور کمزور ایمان والے لوگوں کا حال منکشف ہوجائے“ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ” اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم نے تیرے لیے پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا تھا پھر ہم نے تجھے کعبہ کی طرف پھیر دیا، تاکہ ان لوگوں کا حال ظاہر ہوجائے جو تیری اتباع کرتے ہیں، تیری اطاعت کرتے ہیں اور تیرے ساتھ مل کر قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں اور ان لوگوں کا حال ظاہر ہوجائے جو الٹے پاؤں پھرجاتے ہیں۔ (حاشیہ : از محمد زہری النجار، من علمائے ازہر) ] ورنہ اللہ تعالیٰ تمام امور کو ان کے وجود میں آنے سے قبل جانتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے کامل عدل اور اپنے بندوں پر حجت قائم کرنے کی بنا پر اس علم کے ساتھ ثواب اور عقاب کا تعلق نہیں، بلکہ جب ان کے اعمال وجود میں آتے ہیں تب ان پر ثواب و عقاب مرتب ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ قبلہ صرف اس لیے مشروع کیا ہے، تاکہ ہم جان لیں اور آزما لیں ﴿مَنْ یَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ﴾ ” کون رسول کی اتباع کرتا ہے۔“ یعنی کون اس رسول پر ایمان لا کر ہر حال میں اس کی پیروی کرتا ہے، کیونکہ وہ بندہ مامور اور اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ نیز کتب سابقہ نے خبر دی ہے کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کو قبلہ بنائیں گے پس صاف انصاف جس کا مقصود و مطلوب محض حق ہے، اس سے اس کے ایمان اور اطاعت رسول میں اضافہ ہوتا ہے۔ رہا وہ شخص جو الٹے پاؤں پھر گیا اور اس نے حق سے روگردانی کی اور اپنی خواہش نفس کی پیروی کی تو اس کا کفر بڑھتا جاتا ہے اور اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور وہ شبہات پر مبنی باطل دلیل پیش کرتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ ﴿وَاِنْ کَانَتْ﴾ ” اور بلاشبہ یہ بات۔“ یعنی (عام لوگوں کے لیے) آپ کا بیت المقدس سے منہ پھیرنا ﴿لَکَبِیْرَۃً﴾” بہت شاق ہے“ ﴿اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ ۭ﴾ ” سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ نے ہدایت دی“ اور انہوں نے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچان لیا، وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا اقرار کیا کہ اس نے ان کا رخ اس عظیم گھر کی طرف پھیر دیا جسے اس نے روئے زمین کے تمام خطوں پر فضیلت عطا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کا قصد کرنے کو ارکان اسلام میں سے ایک رکن اور گناہوں کو مٹانے والا بنایا ہے، اسی لیے اہل ایمان پر اس کا ماننا آسان ہوگیا اور ان کے سوا دیگر لوگوں پر رخ کی تبدیلی بہت شاق گزری۔ ﴿ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِـیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ ۭ ﴾ ” اور اللہ ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی ضائع کر دے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے مناسب ہے نہ یہ اس کے ذات اقدس کے لائق ہے (کہ وہ تمہارے ایمان کو ضائع کرے) بلکہ ایسا کرنا تو اس پر ممتنع (ناممکن) ہے، پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ تمہارے ایمان کو ضائع کرنا اس کی ذات اقدس پر ممتنع اور محال ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام اور ایمان سے نواز کر ان پر احسان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی حفاظت کرے گا اسے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ اللہ کا ایمان کی حفاظت کرنا دو طرح سے ہے: (١) ان کو ہر فساد، ایمان میں نقص پیدا کرنے والی تکلیف وہ آزمائشوں اور ایمان سے روکنے والی خواہش نفس سے بچا کر ان کے ایمان کو ضائع اور باطل ہونے سے محفوظ رکھنا۔ (2) ایمان کی نشو و نما کے لیے ان کو ایسے اعمال کی توفیق عطا کرنا جن سے ان کے ایمان میں اضافہ اور یقین کامل حاصل ہوتا ہے۔ پس ابتدائی طور پر جس طرح اس نے ایمان کی طرف تمہاری راہنمائی کی، اسی طرح وہ تمہارے ایمان کی حفاظت کرے گا۔ اس کو اور اس کے اجر و ثواب کو نشو و نما دے کر اپنی نعمت کا اتمام کرے گا اور ایمان کو مکدر کرنے والے ہر عمل سے اس کی حفاظت کرے گا، بلکہ جب ایسی آزمائشیں آئیں جن سے مقصود سچے مومن کو جھوٹے دعوے دار سے الگ کرنا ہو، تو یہ آزمائشیں مومنوں کو کھرا ثابت اور ان کی سچائی کو ظاہر کر دیتی ہیں۔ گویا اس آیت میں اس بات سے احتراز (بچاؤ) ہے جو کہی جاسکتی تھی کہ اللہ کا قول ﴿ۭ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْہَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ ۭ﴾۔ کبھی کبھی بعض مومنوں کے لیے ترک ایمان کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس وہم کا ازالہ کرتے ہوئے : ﴿وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِـیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ ۭ﴾ اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس امتحان یا دیگر کسی آزمائش کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں وہ تمام اہل ایمان بھی شامل ہیں جو تحویل قبلہ سے پہلے وفات پا چکے تھے، اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا، کیونکہ انہوں نے اپنے وقت میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت یہی ہے کہ ہر وقت اس کے حکم کی پیروی کی جائے۔ اس آیت کریمہ میں اہل سنت و الجماعت کے اس مذہب کی دلیل ہے کہ ایمان میں اعمال جو ارح داخل ہیں۔ ﴿ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ﴾ ” اللہ تو لوگوں پر بڑا مہربان اور صاحب رحمت ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر بہت زیادہ رحمت ورأفت کرنے والا ہے۔ یہ اس کی عظیم رحمت ورأفت ہے کہ اس نے اہل ایمان کو نعمت ایمان عطا کر کے اس نعمت کو مکمل کیا اور ان کو ان لوگوں سے علیحدہ کردیا جو ایمان کا صرف زبانی دعویٰ کرتے تھے۔ ان کے دل ایمان سے خالی تھے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیا جس کے ذریعے سے ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کے درجات بلند کیے اور سب سے زیادہ عزت و شرف کے حامل گھر کی طرف ان کا رخ موڑ دیا۔ البقرة
144 اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے :﴿ قَدْ نَرٰی تَـقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَاۗءِ ۚ﴾ ” ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔“ یعنی ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ آپ استقبال کعبہ کے بارے میں نزول وحی کے شوق اور انتظار میں اپنا منہ تمام جہات میں کثرت سے پھیرتے ہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے ﴿وَجْهِكَ﴾ ارشاد فرمایا ہے ﴿بَصَرِكَ﴾ نہیں، کیونکہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فکر و غم کی زیادتی کو بیان کرنا مقصود ہے، نیز چہرہ پھیرنا نظر پھیرنے کو بھی شامل ہے۔ ﴿فَلَنُوَلِّيَنَّكَ﴾” سو ہم آپ کو پھیر دیں گے۔“ یعنی چونکہ ہم آپ کے سرپرست اور مددگار ہیں اس لیے ہم ضرور آپ کا منہ پھیر دیں گے ﴿قِبْلَۃً تَرْضٰیھَا ۠﴾” اس قبلہ کی طرف جس کو آپ پسند کرتے ہیں۔“ یعنی ہم آپ کا منہ اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں اور وہ ہے کعبہ شریف۔ اس آیت کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شرف و فضیلت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پسندیدہ امر کے مطابق حکم نازل کرنے میں جلدی فرمائی۔ اس کے بعد اللہ نے آپ کو استقبال کعبہ کا صراحتاً حکم فرمایا۔ چنانچہ فرمایا : ﴿ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭ﴾” پس اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف موڑ لیں“ (وَجْہٌ) سے مراد انسان کے بدن کے سامنے کا حصہ ہے۔ فرمایا : ﴿ وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ﴾” اور تم جہاں کہیں بھی ہو“ یعنی بحر و بر، مشرق و مغرب اور شمال و جنوب جہاں کہیں بھی ہو ﴿فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ ﴾” پس اپنے چہروں کو اس جہت کی طرف پھیر لو۔“ اس آیت کریمہ سے واضح ہے کہ تمام نمازوں میں، خواہ فرض ہوں یا نفل اگر عین کعبہ کی طرف منہ کرناممکن ہو تو اس کی طرف منہ کرنا فرض ہے ورنہ اس کی طرف اور جہت میں منہ کرلیناکافی ہے اور یہ کہ نماز کے اندر بدن کے ساتھ ادھر ادھر التفات کرنا نماز کو باطل کرنے والا عمل ہے، کیونکہ کسی چیز کی بات حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی ضد ممنوع ہے۔ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب وغیرہ میں سے اعتراض کرنے والوں کا ذکر کیا ہے وہاں ان کے اعتراض کا جواب بھی دیا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اہل کتاب اور ان کے اہل علم جانتے ہیں کہ آپ اس معاملے میں واضح حق پر ہیں، کیونکہ انہیں اپنی کتابوں میں اس نبی کی نشانیاں ملتی ہیں۔ اس لیے وہ عناد اور سرکشی کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں۔ پس جب وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے مبتلائے غم ہیں تو تم ان کے اعتراضات کی پروا نہ کرو۔ اس لیے کہ انسان کو صرف اس اعتراض کرنے والے کا اعتراض غم میں ڈالتا ہے، جب معاملہ مشتبہ ہو اور اس کا امکان ہو کہ صواب (صحیح بات) اس کے ساتھ ہو۔ لیکن جب یہ یقین ہوجائے کہ حق صواب اس شخص کے ساتھ ہے جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے اور اعتراض کرنے والا محض عناد سے کام لے رہا ہے اور اسے یہ بھی علم ہے کہ معترض کا اعتراض باطل ہے تو اسے پروا نہیں کرنی چاہئے، بلکہ اسے انتظار کرنا چاہئے کہ معترض کو دنیاوی اور اخروی عقوبت کا ضرور سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ﴾ اللہ ان کے اعمال سے بے خبر نہیں“ بلکہ وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اس آیت کریمہ میں اعتراض کرنے والوں کے لیے وعید اور اہل ایمان کے لیے تسلی ہے۔ البقرة
145 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مخلوقات کی ہدایت کی بہت تمنا اور آرزو کیا کرتے تھے اور ان کی نہایت درجہ خیر خواہی کرتے تھے۔ نرمی اور پیار سے انہیں ہدایت کی راہ پر لانے کی کوششیں کیا کرتے تھے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت نہیں کرتے، تو یہ امر آپ کو نہایت غمگین کردیتا تھا۔ پس کافروں میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اللہ کے حکم کے مقابلے میں سرتابی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور جان بوجھ کر ظلم و عدوان کی بنا پر ہدایت کو چھوڑ دیا۔ انہی میں سے پہلے اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جہالت کی بنا پر نہیں، بلکہ یہ یقین رکھتے ہوئے انکار کیا کہ آپ نبی ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو آگاہ فرمایا : ﴿وَلَیِٕنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ ﴾” اگر آپ ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آئیں۔“ یعنی اگر آپ ان کے سامنے ہر قسم کی دلیل اور برہان پیش کردیں جو آپ کی بات اور دعوت کو واضح کردیں ﴿ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَکَ ۚ﴾ ”تو بھی یہ آپ کے قبلے کی پیروی نہ کریں گے۔“ یعنی تب بھی وہ آپ کی اتباع نہیں کریں گے، کیونکہ قبلہ کی طرف منہ کرنا درحقیقت آپ کی اتباع کی دلیل ہے اور اس لیے کہ اصل سبب قبلے کا معاملہ ہے اور معاملہ واقعی ایسا ہے، کیونکہ وہ حق کے ساتھ عناد رکھتے ہیں انہوں نے حق کو پہچانا اور اسے چھوڑ دیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے صرف وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو حق کا متلاشی ہو اور حق اس پر مشتبہ ہوگیا ہو، تب یہ آیات بینات اس پر حق کو واضح کردیتی ہیں اور جو کوئی اس بات پر اڑ جاتا ہے کہ وہ حق کی اتباع نہیں کرے گا تو اسے حق کی طرف لانے کی کوئی صورت نہیں۔ نیز ان میں آپس میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے اے محمد ! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے، کیونکہ وہ دشمن اور حاسد ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَتَہُمْ ۚ﴾ (وَ لَا تَتَّبِع) سے زیادہ بلیغ ہے، کیونکہ یہ لفظ اس بات کو متضمن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مخالفت سے متصف ہیں، پس آپ سے اس کا وقوع ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا (وَلَوْ اَتَوْابِکُلِّ اٰیَۃ) کیونکہ ان کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل ہی نہیں۔ اسی طرح جب یقینی دلائل و براہین سے حق واضح ہوجاتا ہے، تو اس پر وارد شبہات کا جواب دینا لازم نہیں، کیونکہ ان شبہات کی تو کوئی حد نہیں اور ان کا بطلان واضح ہے، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ جو چیز واضح حق کے منافی ہو وہ باطل ہوتی ہے۔ تب شبہ کو حل کرنا تبرع کے زمرے میں آئے گا۔ (یعنی بغیر ضرورت کے محض خوشی سے شبہات کا ازالہ کرنا) ﴿ۭ وَلَیِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ ﴾” اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی“ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے (اھوائھم) ” ان کی خواہشات“ کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس کی بجائے (دینھم) ” ان کا دین“ کا لفظ استعمال نہیں کیا، کیونکہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ وہ خود بھی یہ جانتے تھے کہ یہ دین نہیں ہے اور جو کوئی دین کو چھوڑ دیتا ہے وہ لامحالہ خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهُ هَوٰهُ﴾ (الجاثية : 45؍ 23) ” بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟“ ﴿مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ﴾ ” اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے۔“ یعنی یہ جان لینے کے بعد کہ آپ حق پر اور وہ باطل پر ہیں ﴿ إِنَّكَ إِذًا﴾” تب آپ“ یعنی اگر آپ نے ان کی اتباع کی، یہ احتراز ہے، تاکہ یہ جملہ اپنے ماقبل جملے سے علیحدہ نہ رہے، خواہ وہ افہام ہی میں کیوں نہ ہو۔ ﴿ لَّمِنَ الظَّالِمِينَ﴾” ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔“ یعنی آپ کا شمار ظالموں میں ہوگا اور اس شخص کے ظلم سے بڑھ کر کون سا ظلم ہے جس نے حق اور باطل کو پہچان کر باطل کو حق پر ترجیح دی۔ یہ خطاب اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے تاہم آپ کی امت اس میں داخل ہے نیز اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہ کام کیا ہوتا، حاشا وکلا، آپ سے یہ ممکن نہیں تھا، تو آپ بھی اپنے بلند مرتبہ اور نیکیوں کی کثرت کے باوجود ظالموں میں شمار ہوتے تب آپ کے علاوہ کوئی دوسرا تو بطریق اولیٰ بڑا ظالم ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : البقرة
146 اللہ تعالیٰ آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کو معلوم ہے اور ان کے ہاں یہ بات متحقق ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جو کتاب آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ حق اور سچ ہے اور انہیں اس بات کا پورا پورا یقین ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح انہیں اپنے بیٹوں کے بارے میں یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کے بیٹے ہیں اور اس کی بابت انہیں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ پس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہچان ان کے ہاں اس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی، مگر اس کے باوجود ان میں سے ایک فریق جو تعداد میں زیادہ تھا۔ اس نے آپ کا نکار کیا اور آپ کے بارے میں یقینی شہادت کو چھپا لیا۔ درآں حالیکہ وہ جانتے تھے۔ فرمایا : ﴿ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِندَهُ مِنَ اللَّـهِ ۗ﴾ (البقرہ : 140) ” اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اس گواہی کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے“ اس آیت کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل ایمان کے لیے تسلی اور ان کو اہل کتاب کے شر اور شبہات سے بچنے کی تلقین ہے۔ البتہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے جانتے بوجھتے حق کو نہیں چھپایا۔ پس ان میں سے بعض آپ پر ایمان لے آئے اور بعض نے محض جہالت کی بنا پر آپ کا انکار کردیا۔ پس صاحب علم اپنے علم کے مطابق جس قدر دلیل دینے اور تعبیر کرنے پر قادر ہے اس پر اسی قدر حق کا اظہار کرنا اس کو بیان کرنا اور اس کو مزین کرنا فرض ہے اور اسی قدر باطل کا ابطال کرنا، حق سے اس کو علیحدہ کرنا اور ہر ممکن طریقے سے نفوس کے سامنے اس کی برائی نمایاں کرنا اس پر لازم ہے۔ لیکن اس حق کو چھپانے والوں نے اس کے برعکس رویہ اختیار کیا، لہٰذا ان کے احوال بھی اس کے برعکس ہوگئے۔ البقرة
147 ﴿ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ﴾ ” یہ حق آپ کے رب کی طرف سے ہے۔“ یعنی یہ حق، جو ہر چیز سے زیادہ حق کہلانے کا مستحق ہے، کیونکہ یہ مطالب عالیہ، اچھے احکام اور تزکیہ نفوس پر مشتمل ہے، نیز نفوس کے لیے ان کے مصالح کے حصول اور ان سے مفاسد کو دور کرنے کا باعث ہے۔ اس لیے کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے اور یہ منجملہ آپ کے رب کی طرف سے آپ کی تربیت ہے کہ اس نے آپ پر یہ قرآن نازل فرمایا جس میں نفوس و عقول کی تربیت اور تمام مصالح ہیں ﴿فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ﴾” پس آپ ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔“ یعنی اس حق کے بارے میں آپ کو معمولی سے شک و شبہ میں بھی مبتلا نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اس حق میں غور و فکر کیجیے یہاں تک کہ آپ یقین کی منزل کو پہنچ جائیں، کیونکہ حق میں غور و فکر لامحالہ شک کو دور کر کے یقین کی منزل پر پہنچاتا ہے۔ البقرة
148 یعنی ہر ملت اور ہر دین والوں کے لیے ایک جہت مقرر ہے وہ اپنی عبادت میں اس کی طرف منہ کرتے ہیں۔ استقبال قبلہ کوئی بڑا معاملہ نہیں، اس لیے کہ یہ ان شریعتوں میں سے ہے جو احوال و زمان کے بدلنے کے ساتھ بدلتی رہی ہیں، اس میں نسخ اور ایک جہت سے دوسری جہت میں منتقل ہونا بھی داخل ہے، لیکن اصل اور اہم معاملہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اس کا تقرب اور اس کے قرب میں حصول درجات ہے یہی سعادت کا عنوان اور ولایت کا منشور ہے۔ یہی وہ وصف ہے کہ اگر نفوس اس سے متصف نہ ہوں تو دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑجاتے ہیں جیسے اگر نفوس اپنے آپ کو اس وصف سے متصف کرلیں تو یہی حقیقی منافع ہے۔ تمام شریعتوں میں یہ متفق علیہ امر ہے۔ اسی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو تخلیق کیا اور اسی کا اللہ تعالیٰ نے سب کو حکم دیا۔ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کا حکم، نیکی کرنے کے حکم پر ایک قدر زائد ہے، کیونکہ نیکیوں کی طرف سبقت، نیکیوں کے کرنے، ان کی تکمیل، کامل ترین احوال میں ان کو واقع کرنے اور نہایت سرعت سے ان کی طرف بڑھنے کو متضمن ہے۔ جو کوئی اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتا ہے وہ آخرت میں جنت کی طرف سبقت لے جائے گا پس سابقون (سبقت کرنے والے) تمام مخلوق میں بلند ترین درجے پر فائز ہوں گے۔ اور نیکیوں کا لفظ تمام فرائض، نماز، نوافل، روزے، زکوٰۃ، حج و عمرہ، جہاد اور لوگوں کو نفع پہنچانے وغیرہ کو شامل ہے۔ جب بات یہ ہے کہ سب سے طاقتور داعیہ جو نفوس کو نیکیوں میں مسابقت و مسارعت پر آمادہ کرتا ہے اور انہیں نشاط عطا کرتا ہے، وہ ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ ان نیکیوں پر عطا کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یَاْتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا ۭ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴾” تم جہاں کہیں بھی ہو گے، اللہ تم سب کو لے آئے گا بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے“ وہ قیامت کے روز اپنی قدرت سے تمہیں اکٹھا کرے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى﴾ (النجم: 53؍31) ” تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے ہیں ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنہوں نے نیک کام کیے ہیں ان کو نیک بدلہ دے۔ “ اس آیت کریمہ سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ ہر اس فضیلت کو اختیار کرنا چاہئے جس سے کوئی عمل متصف ہوسکتا ہے، مثلاً اول وقت پر نماز ادا کرنا، روزے، حج، عمرہ اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے فوری طور پر بری الذمہ ہونا۔ تمام عبادات کی سنن و آداب کو پوری طرح ادا کرنا۔ پس کتنی جامع اور کتنی نفع مند آیت ہے۔ البقرة
149 ﴿ وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ﴾” جہاں سے بھی آپ نکلیں“ یعنی اپنے سفر وغیرہ میں۔ یہ عموم کے لیے ہے ﴿ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭ﴾ ” پس اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام امت کو عمومی طور پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ ۙ﴾” اور تم جہاں بھی ہو، تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلو۔“ فرمایا : ﴿وَاِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ۭ﴾” اور یہ یقیناً آپ کے رب کی طرف سے حق ہے“ اللہ تعالیٰ نے (ِانَّ) اور (لام) استعمال کر کے اس کو موکد کردیا ہے، تاکہ اس میں کسی کیلیے ادنیٰ سے شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے اور کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ یہ محض خواہش ہے اس میں اطاعت مطلوب نہیں۔ ﴿وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴾ ” اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے“ بلکہ وہ تمہیں تمہارے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے۔ اس لیے اس کا ادب کرو اور اس سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر پر عمل کرو اور اس کی نواہی سے اجتناب کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں بلکہ تمہارے اعمال کی کامل جزا دی جائے گی۔ اگر اچھے اعمال ہیں تو اچھی جزا ہوگی اور اگر برے اعمال ہیں تو ان کی جزا بری ہوگی۔ البقرة
150 ﴿ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّــۃٌ ڎ ﴾” اس لیے کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔“ یعنی ہم نے تمہارے لیے کعبہ شریف کو اس لیے قبلہ قرار دیا ہے، تاکہ اہل کتاب اور مشرکین عرب کے لیے تم پر کوئی حجت نہ رہے، کیونکہ اگر بیت المقدس کو قبلہ کے طور پر باقی رکھا ہوتا تو یہ استقبال کعبہ کے خلاف حجت ہوتی، کیونکہ اہل کتاب اپنی کتاب میں پڑھتے ہیں کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مستقل قبلہ، کعبہ یعنی بیت الحرام ہوگا اور مشرکین مکہ سمجھتے تھے کہ یہ عظیم گھر ان کے مفاخر میں شمار ہوتا ہے اور یہ ملت ابراہیم کا مرکز ہے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ شریف کو قبلہ نہیں بنائیں گے تو مشرکین کے پاس آپ کے خلاف حجت ہوگی۔ وہ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملت ابراہیم پر ہونے کا کیسے دعویٰ کرتا ہے جبکہ اس نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہوتے ہوئے بھی بیت اللہ کو قبلہ نہیں بنایا۔ پس بیت اللہ کو قبلہ بنانے سے اہل کتاب اور مشرکین دونوں پر حجت قائم ہوگئی اور آپ پر وہ جو حجت قا ئم کر سکتے تھے، وہ منقطع ہوگئی۔ ﴿ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ﴾ ” مگر ان میں جو ظالم ہیں۔“ یعنی ان میں جو کوئی دلیل دیتا ہے وہ اس بارے میں ظلم کا ارتکاب کرتا ہے اس کے پاس کوئی سند اور کوئی دلیل نہیں سوائے ظلم اور خواہشات نفس کی پیروی کے، لہٰذا آپ کے خلاف حجت قائم کرنے کی کوئی راہ نہیں۔ اسی طرح اس شبہ کی پروا کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں جسے یہ لوگ حجت کے طور پر وارد کرتے ہیں۔ اس کی طرف دھیان ہی نہ دیا جائے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ فَلَا تَخْشَوْھُمْ﴾” تم ان سے مت ڈرو“ کیونکہ ان کی حجت باطل ہے اور باطل اپنے نام کی مانند بے کار اور فاسد ہے۔ باطل اور باطل پرست مدد اور تائید سے محروم ہیں۔ صاحب حق کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ حق کا رعب اور عزت ہے۔ حق جس کے ساتھ ہے وہ اس کی خشیت کا موجب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی خشیت کا حکم دیا ہے جو ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔ پس جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا وہ اس کی نافرمانی سے نہیں بچ سکتا اور نہ اس کی اطاعت کرسکتا ہے۔ مسلمانوں نے بیت اللہ کو قبلہ بنایا تو اس سے انہیں بہت بڑے فتنے کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کی اہل کتاب، منافقین اور مشرکین نے خوب خوب اشاعت کی اور اس بارے میں انہوں نے اعتراضات اور شبہات کی بھرمار کردی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت بسط و شرح اور کامل طریقے سے اس مسئلہ کو بیان کیا ہے اور مختلف قسم کی تاکیدات سے اس کو موکد کیا جو ان آیات کریمہ میں بیان ہوئی ہیں، مثلاً (1) استقبال کعبہ کا تین مرتبہ حکم دیا گیا ہے جبکہ صرف ایک ہی مرتبہ کافی تھا۔ (2) اس میں خصوصی بات یہ ہے کہ حکم یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہے اور امت اس میں داخل ہے یا یہ حکم امت کے لیے عام ہے۔ اس آیت کریمہ میں خصوصی طور پر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو استقبال کعبہ کا حکم دیا گیا ﴿ فَوَلِّ وَجْہَکَ﴾ اور امت کو اس آیت میں استقبال کعبہ کا حکم دیا گیا ﴿ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ ﴾ (3) اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ان تمام باطل دلائل کا رد کیا ہے جو کہ معاندین نے پیش کیے تھے اور ایک ایک شبہ کا ابطال کیا۔ جیسا کہ اس کی توضیح گزشتہ سطور میں گزر چکی ہے۔ (4) اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت امیدوں کو ختم کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل کتاب کے قبلے کی پیروی کریں گے۔ (5) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿ۭ وَاِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ﴾ ایک عظیم سچے شخص کا خبر دینا ہی کافی ہوتا ہے مگر بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿’ۭ وَاِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ﴾’’یہ یقیناً آپ کے رب کی طرف سے حق ہے۔ “ (6) اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا اور وہ عالم الغیب ہے، کہ اہل کتاب کے ہاں استقبال کعبہ کے معاملہ کی صحت متحقق ہے مگر یہ لوگ علم رکھنے کے باوجود اس گواہی کو چھپاتے ہیں۔ جب بیت اللہ شریف کی طرف تحویل قبلہ ایک عظیم نعمت ہے اور اس امت پر اللہ تعالیٰ کا بے پایاں لطف و کرم ہے جو بڑھتا ہی رہتا ہے۔ علاوہ ازیں جب بھی اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے لیے کوئی کام مشروع کرتا ہے تو یہ ایک عظیم نعمت ہوتی ہے۔ اس لیے فرمایا : ﴿ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ ﴾یہ تحویل کا حکم اس لیے دیا گیا ہے ” تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں۔“ اصل نعمت تو دین کی ہدایت ہے جو وہ اپنا رسول بھیج کر اور اپنی کتاب نازل کر کے عطا کرتا ہے اس کے بعد دیگر تمام نعمتیں اس نعمت کی تکمیل کرتی ہیں۔ یہ نعمتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا حصر و شمار ممکن نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے لے کر اس دنیائے فانی سے آپ کی رحلت تک اللہ تعالیٰ ان نعمتوں سے نوازتا رہا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو احوال اور نعمتیں عطا کیں اور اس نے آپ کی امت کو وہ کچھ دیا جس سے آپ پر اور آپ کی امت پر اتمام نعمت ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ آپ پر نازل فرمائی ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ﴾(المائدة: 3؍5) ” آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا۔ “ پس اللہ تعالیٰ ہی اپنے اس فضل و کرم پر حمد و ثنا کا مستحق ہے۔ اس فضل و کرم پر اس کا شکرادا کرنا تو کجا ہم تو اس کو شمار تک نہیں کرسکتے۔ ﴿وَلَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ﴾” اور تاکہ تم راہ راست پر چلو۔“ یعنی شاید کہ تم حق کو جانو اور پھر اس پر عمل کرو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے ہدایت کے اسباب بے حد آسان فرما دیئے اور ہدایت کے راستوں پر چلنے کے بارے میں آگاہ فرما دیا اور ان کے لیے اس ہدایت کو پوری طرح واضح کردیا۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل عناد کو حق کی مخالفت پر مقرر کردیتا ہے، چنانچہ وہ حق کے بارے میں جھگڑتے ہیں، جس سے حق واضح، حق کی نشانیاں اور علامتیں ظاہر ہوجاتی ہیں اور باطل کا بطلان ثابت ہوجاتا ہے اور یہ چیز واضح ہوجاتی ہے کہ باطل کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر باطل حق کے مقابلے میں کھڑا نہ ہو تو بسا اوقات اکثر مخلوق پر باطل کا حال واضح نہ ہو۔ اشیاء اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ اگر رات نہ ہوتی تو دن کی فضیلت کا اعتراف نہ ہوتا۔ اگر قبیح اور بدصورت نہ ہو تو خوبصورت کی فضیلت معلوم نہیں ہوسکتی، اگر اندھیرا نہ ہو تو روشنی کے فوائد کو نہیں پہچانا جاسکتا، اگر باطل نہ ہو تو حق واضح طور پر ظاہر نہیں ہوسکتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ ہی ہر قسم کی تعریف کا مستحق ہے۔ البقرة
151 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، کعبہ شریف کی طرف تحویل قبلہ کے ذریعے سے ہم نے تمہیں جو نعمت عطا کی اور اس کے اتمام کے لیے شرعی احکام اور دیگر نعمتیں عطا کیں، یہ ہماری طرف سے کوئی انوکھا اور پہلا احسان نہیں، بلکہ ہم نے تمہیں بڑی بڑی نعمتیں عطا کیں اور پھر دیگر نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تکمیل کی۔ ان میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اس رسول کریم کو مبعوث کیا جو تم ہی میں سے ہے، جس کے حسب و نسب، اس کی صداقت و امانت اور اس کی خیر خواہی کو تم خوب جانتے ہو۔ ﴿ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا ﴾” وہ تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے“ اس کے عموم میں آیات قرآنی اور دیگر تمام آیات داخل ہیں۔ (ہمارا) رسول تم پر آیات کی تلاوت کرتا ہے جو باطل میں سے حق کو اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرتی ہیں۔ یہ آیات الٰہی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے کمال کی طرف راہنمائی کرتی ہیں پھر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت، اس پر ایمان کے وجوب اور ان تمام غیبی اور مابعد الموت امور پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں جن کے بارے میں اس نے خبر دی ہے، تاکہ تمہیں ہدایت کامل اور علم یقینی حاصل ہوجائے۔ ﴿ وَيُزَكِّيكُمْ﴾ ”اور تمہارا تزکیہ کرتا ہے۔“ یعنی تربیت کے ذریعے سے اخلاق جمیلہ کو اجاگر اور اخلاق رذیلہ کو زائل کر کے تمہارے نفوس اور تمہارے اخلاق کو پاک کرتا ہے، مثلاً شرک سے توحید کی طرف، ریا سے اخلاص کی طرف، جھوٹ سے صدق کی طرف، خیانت سے امانت کی طرف، تکبر سے تواضع کی طرف، بدخلقی سے حسن اخلاق کی طرف، باہم بغض، قطع تعلق اور قطع رحمی سے ایک دوسرے سے محبت، مودت اور صلہ رحمی کی طرف تمہارا تزکیہ کرتا ہے، اس کے علاوہ تزکیہ کی دیگر انواع کے ذریعے سے تمہیں پاک کرتا ہے۔ ﴿ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ﴾” اور تمہیں کتاب (قرآن) سکھاتا ہے۔“ یعنی قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دیتا ہے۔ ﴿ وَالْحِكْمَةَ﴾” اور حکمت‘‘ ایک قول کے مطابق حکمت سے مراد سنت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ حکمت سے مراد اسرار شریعت کی معرفت اور اس کی سمجھ ہے، نیز تمام امور کو ان کے مقام پر رکھنا ہے۔ اس لحاظ سے سنت کی تعلیم کتاب اللہ کی تعلیم میں داخل ہے، کیونکہ سنت قرآن کی تفسیر و توضیح اور اس کی تعبیر کرتی ہے۔﴿ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ﴾” اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے“ کیونکہ بعثت محمدی سے قبل اہل عرب کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ ان کے پاس علم تھا نہ عمل۔ پس ہر علم اور عمل جو اس امت کو حاصل ہوا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسط اور آپ ہی کے سبب سے حاصل ہوا ہے۔ یہ نعمتیں علی الاطلاق حقیقی ہیں۔ یہ نعمتیں سب سے بڑی نعمتیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے۔ لہٰذا ان کا وظیفہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے تقاضوں کی ادائیگی ہونا چاہئے۔ البقرة
152 بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ړفَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ﴾” پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کا حکم دیا ہے اور اس پر بہترین اجر کا وعدہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے فرمایا ” جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، جو کسی مجلس میں مجھے یاد کرتا ہے میں اسے اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں۔“ سب سے بہتر ذکر وہ ہے جس میں دل اور زبان کی موافقفت ہو اور اسی ذکر سے اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور بہت زیادہ ثواب حاصل ہوتا ہے اور ذکر الٰہی ہی شکر کی بنیاد ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا حکم دیا ہے۔ پھر اس کے بعد شکر کا عمومی حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿وَاشْکُرُوْا لِیْ﴾ ’’اور میرا شکر کرو۔“ یعنی میں نے جو یہ نعمتیں تمہیں عطا کیں اور مختلف قسم کی تکالیف اور مصائب کو تم سے دور کیا اس پر میرا شکر کرو۔ شکر، دل سے ہوتا ہے، اس کی نعمتوں کا اقرار و اعتراف کر کے۔ زبان سے ہوتا ہے، اس کا ذکر اور حمد و ثنا کر کے، اعضاء سے ہوتا ہے اس کے حکموں کی اطاعت و فرمان برداری اور اس کی منہیات سے اجتناب کر کے۔ پس شکر، موجود نعمت کے باقی رہنے اور مفقود نعمت (مزید نئی نعمتوں) کے حصول کے جذبے کا مظہر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾۔ (ابراھیم:14؍7) ” اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور زیادہ دوں گا“ علم، تزکیہ اخلاق اور توفیق عمل جیسی دینی نعمتوں پر شکر کا حکم دینے میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ یہ سب سے بڑی نعمتیں ہیں بلکہ یہی حقیقی نعمتیں ہیں جن کو دوام حاصل ہے، جب کہ دیگر نعمتیں زائل ہوجائیں گی۔ ان تمام حضرات کے لیے، جن کو علم و عمل کی توفیق سے نوازا گیا ہے، یہی مناسب ہے کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں، تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل کا اضافہ ہو اور ان سے عجب اور خود پسندی دور رہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے شکر میں مشغول رہیں۔ چونکہ شکر کی ضد کفران نعمت ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی ضد سے منع کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ وَلَا تَکْفُرُوْنِ﴾” اور کفر نہ کرو‘‘ یہاں ”کفر“ سے مراد وہ رویہ ہے جو شکر کے بالمقابل ہوتا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی ناشکری، ان کا انکار اور ان نعمتوں کا حق ادا کرنے سے گریز و فرار۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا معنی عام ہو تب اس لحاظ سے کفر کی بہت سی اقسا م ہیں اور ان میں سب سے بڑی قسم اللہ تعالیٰ سے کفر ہے پھر اختلاف اجناس و انواع کے اعتبار سے مختلف معاصی، مثلاً شرک اور اس سے کم تر گناہ۔ البقرة
153 اللہ تبارک نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ دنیاوی امور میں صبر اور نماز سے مدد لیں۔ پس صبر، نفس کو روکنے اور ان امور سے باز رکھنے کا نام ہے جن کو وہ ناپسند کرتا ہے۔ صبر کی تین قسمیں ہیں۔ (١) اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرنا حتیٰ کہ اسے بجا لائے۔ (2) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رکنے پر صبر کرنا یہاں تک کہ وہ اس نافرمانی کو ترک کر دے۔ (٣) تکلیف پہنچانے والی اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر پر صبر کرنا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہ کرنا۔ صبر سے ہر کام میں زبردست معونت حاصل ہوتی ہے لہٰذا بے صبر آدمی کے لیے ہرگز ممکن نہیں کہ وہ اپنا مقصد حاصل کرسکے، خاص طور پر دائمی مشقت سے بھر پور نیکیاں، کیونکہ اس قسم کی نیکیاں انتہائی صبر و تحمل اور مشقت کی تلخی برداشت کرنے کی محتاج ہوتی ہیں۔ ان نیکیوں کا مشتاق جب صبر کو لازم پکڑ لیتا ہے تو کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے اور اگر ناپسندیدہ کام اور مشقت اسے صبر پر قائم نہ رکھ سکے تو اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا، صرف محرومی اس کا نصیب ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ گناہ جس کی طرف نفس انسانی کا داعیہ کشش رکھتا ہے اور اس گناہ کا ارتکاب اس کی قدرت میں بھی ہوتا ہے تو اس گناہ کا ترک کرنا صرف صبر عظیم، اللہ تعالیٰ کی خاطر قلب کے دواعی کے ترک کرنے اور اس سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنے ہی سے ممکن ہوتا ہے، کیونکہ وہ گناہ بھی ایک بہت بڑا فتنہ ہوتا ہے۔ اسی طرح سخت مصائب اور آزمائشوں میں، خاص طور پر جبکہ یہ مصائب دائمی ہوں تب ان پے در پے مصائب سے جسمانی اور نفسانی قوی کمزور پڑجاتے ہیں، اگر یہ شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر، توکل، اللہ تعالیٰ کی پناہ کے ذریعے سے اور اپنے آپ کو اللہ کا دائمی محتاج سمجھتے ہوئے ان کا مقابلہ نہیں کرے گا تو ناراضی اور غصہ اس پر غلبہ پا لیں گے۔ پس معلوم ہوا کہ صبر کا حکم دیا ہے اور آگاہ کیا ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، یعنی ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق سے صبر کو اپنی عادت، وصف اور ملکہ بنا لیا ہے۔ تب ان لوگوں پر بڑی بڑی مشقتیں اور مصائب آسان ہوجاتے ہیں، ان پر ہر بڑا کام آسان اور ان سے ہر مشکل دور ہوجاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص معیت ہے جو اس کی محبت، اس کی مدد، اس کی نصرت اور اس کے قرب کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ صبر کرنے والوں کی بہت بڑی مدح و منقبت ہے۔ اگر اہل صبر کی صرف یہی فضیلت ہوتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معیت میں کامیابی کی منزل پر پہنچ گئے، تو شرف و فضیلت کے لیے یہی کافی ہے۔ رہی معیت عامہ تو یہ اللہ تعالیٰ کے علم و قدرت کی معیت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ﴾ (الحدید: 4؍57) ” اور تم جہاں کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے‘‘ میں مذکور ہے اور یہ معیت تمام مخلوق کے لیے عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز سے مدد لینے کا حکم دیا ہے، کیونکہ نماز دین کا ستون اور اہل ایمان کا نورہے۔ نماز بندے اور اس کے رب کے درمیان رابطے کا ایک ذریعہ ہے۔ جب بندہ مومن کی نماز کامل ہو، اس میں تمام لازمی امور اور سنن جمع ہوں، اس میں حضور قلب، جو نماز کا لب لباب ہے، حاصل ہو تو بندہ مومن جب نماز میں داخل ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے حاضر ہوا ہے اور اپنے رب کے سامنے اس طرح کھڑا ہے جس طرح ایک مؤدب خادم غلام اپنے آقا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ کہے اور جو کچھ کرے اس کا معنی اور مفہوم اس کے شعور میں حاضر ہو، وہ اپنے رب کے ساتھ مناجات اور اس سے دعا مانگنے میں مستغرق ہو، تو یقیناً یہ نماز تمام امور میں سب سے بڑی مددگار ہے، کیونکہ نماز فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ یہ حضور قلب جو نماز کے اندر حاصل ہوتا ہے، بندے کے قلب میں ایسے وصف اور داعیے کا موجب بنتا ہے جو بندہ مومن کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ یہی وہ نماز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ہر چیز کے مقابلے میں اس سے مدد لیں۔ البقرة
154 چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام احوال میں صبر سے مدد لینے کا حکم دیا ہے اس لیے اس نے ایک نمونہ ذکر فرمایا ہے جس میں صبر سے مدد لی جاتی ہے اور وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے جو سب سے افضل بدنی عبادت ہے۔ اپنی مشقت کی وجہ سے یہ نفوس انسانی پر سب سے زیادہ گراں گزرتی ہے نیز یہ عبادت نفوس انسانی پر اس لیے بھی گراں ہے کہ اس کا نتیجہ موت اور عدم حیات ہے اور زندگی ایک ایسی چیز ہے کہ لوگ اس دنیا میں زندگی اور اس کے لوازم کے حصول میں رغبت رکھتے ہیں۔ پس ہر وہ چیز جس میں لوگ تصرف کرتے ہیں اس کے حصول کے لیے کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ضد کو دور کیا جاتا ہے۔ اور یہ معلوم ہے کہ عقل مند شخص اپنی محبوب چیز کو اس وقت ہی چھوڑتا ہے جب اسے اس سے بڑی اور اس سے بہتر کوئی اور محبوب چیز حاصل ہونے کی امید ہو، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس وجہ سے قتل ہوجاتا ہے کہ اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، تاکہ اللہ کا کلمہ بلند اور اس کا دین غالب ہو اور اس کے سوا اس کی کوئی اور غرض نہ ہو۔ تو وہ اپنی محبوب زندگی کو کھو نہیں دیتا، بلکہ اسے اس زندگی سے زیادہ عظیم اور کامل زندگی حاصل ہوجاتی ہے جس کا تم گمان اور تصور کرسکتے ہو۔ پس شہداء وہ ہیں جن کا ذکر یوں آیا ہے﴿أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ   يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّـهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ﴾(آل عمران : 3؍ 169۔171) ” وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے ان کو عطا کیا اس پر وہ خوش ہیں اور جو پیچھے رہ گئے اور (شہید ہو کر) ان کے ساتھ نہ مل سکے ان کے بارے میں خوش ہو رہے ہیں کہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمزہ ہوں گے۔ وہ اللہ کی نعمتوں، اس کے فضل اور اس بات پر خوش ہو رہے ہوں گے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ “ کیا اس سے بھی بڑی کوئی اور زندگی ہے جو قرب الٰہی، اس کے بدنی رزق، مثلاً لذیذ ما کو لات و مشروبات سے تمتع اور روحانی رزق، مثلاً فرحت، خوشی اور عدم حزن و غم کو متضمن ہے؟ یہ برزخی زندگی ہے جو دنیاوی زندگی سے زیادہ کامل ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس زندگی کے بارے میں ان الفاظ میں آگاہ فرمایا۔” شہداء کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے جوف (پیٹ) میں جنت کی نہروں سے پانی پینے کے لیے وارد ہوتی ہیں جنت کے پھل کھاتی ہیں اور ان قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، الإمارة، باب بيان أن أرواح الشهداء في الجنة...... الخ، حديث: 1887 و مسند احمد: 1؍ 116] اس آیت میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اور اس میں صبر کا دامن پکڑے رکھنے کی بڑی ترغیب ہے۔ پس اگر بندوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہونے کا کتنا ثواب ہے تو کوئی شخص جہاد سے پیچھے نہ رہے مگر کامل علم یقینی کا فقدان، عزائم کو کمزور، نیند میں مدہوش شخص کی نیند میں مزید اضافہ، نیز غنیمتیں اور بہت بڑا ثواب حاصل کرنے سے محروم کردیتا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو جب کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کا جان و مال خرید لیا ہے فرمایا﴿ إِنَّ اللَّـهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ﴾لتوبہ ١١١) ” اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں اور اس کے بدلے میں ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں (کافروں کو) قتل کرتے ہیں اور قتل ہوجاتے ہیں۔ “ اللہ کی قسم ! اگر انسان کو ہزار جانیں عطا کی گئی ہوں اور وہ ایک ایک کر کے سب جانیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دے تب بھی اس اجر عظیم کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں۔ اسی لیے شہداء جب اللہ تعالیٰ کے عنایت کردہ اس بہترین جزا اور ثواب کا مشاہدہ کرلیں گے تو دنیا کی طرف لوٹائے جانے کی تمنا کریں گے، تاکہ وہ اللہ کے راستے میں بار بار قتل ہوں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ برزخ میں انسان کو آرام اور عذاب ملتا ہے جیسا کہ بکثرت نصوف اس پر دلالت کرتی ہیں۔ البقرة
155 اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اپنے بندوں کو مصائب و محن کے ذریعے سے آزماتا ہے، تاکہ سچے اور جھوٹے، صابر اور بے صبر کے درمیان فرق واضح ہوجائے۔ اپنے بندوں کے معاملے میں یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، کیونکہ اگر اہل ایمان ہمیشہ خوشحالی سے لطف اندوز ہوں انہیں کبھی مصائب و محن کا سامنا نہ ہو تو فساد واقع ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اہل خیر اہل شر میں سے علیحدہ ہوں۔ یہ آزمائش کا فائدہ ہے۔ اس سے اہل ایمان کا وہ ایمان زائل نہیں ہوتا جو انہیں عطا کیا گیا ہے اور نہ آزمائش انہیں دین سے ہٹاتی ہے، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔ پس اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائے گا ﴿ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ ﴾” کسی قدر خوف سے‘‘ یعنی دشمنوں کے خوف سے﴿وَالْجُوعِ﴾ ” اور بھوک سے“ یعنی بھوک اور دشمنوں کے خوف کے ذریعے سے کچھ نہ کچھ انہیں ضرور آزمائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مکمل بھوک اور خوف میں مبتلا کردیا تو وہ ہلاک ہوجائیں گے اور آزمائش اور امتحان ہلاک کرنے کی غرض سے نہیں آتا، بلکہ اس کا مقصد پاک صاف کرنا ہوتا ہے۔ ﴿ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ﴾” اور کچھ مالوں کی کمی سے“ اس میں وہ تمام کمی اور گھاٹا شامل ہے جو اہل ایمان کو آفات سماوی، سیلاب یا سمندر میں غرق ہونے، ظالم حکومت کے مال چھین لینے اور راہزن ڈاکوؤں کے ڈاکہ ڈالنے کی وجہ سے پیش آتاہے۔ ﴿وَالْأَنفُسِ﴾’’ اورجانوں کی کمی سے“ اولاد، عزیز و اقارب اور دوستوں کو فوت کر کے، خود بندہ مومن یا اس کے کسی عزیز کو بیماری لاحق کر کے ان کو آزماتا ہے۔﴿وَالثَّمَرَاتِ ﴾” اور پھلوں کی کمی سے“ ژالہ باری، سردی، آگ لگنے، آفات سماوی اور ٹڈی دل کے ذریعے سے غلہ جات، کھجوروں، سبزیوں اور تمام پھلدار درختوں کو نقصان پہنچا کر ہم ضرور آزمائیں گے۔ ان تمام آزمائشوں کا آنا ضروری ہے، کیونکہ اللہ علیم و خبیر نے ان کے بارے میں خبر دی ہے اور یہ آزمائشیں اسی طرح واقع ہوئیں۔ جب یہ مصائب و محن واقع ہوئے، تو لوگ دو اقسام میں منقسم ہوگئے۔ (١) بے صبری کا مظاہرہ کرنے والے۔ (2) صبر کرنے والے۔ بے صبر شخص کو دو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، محبوب چیز سے محروم ہونا اور وہ اس مصیبت کا وجود ہے۔ دوسرا اس سے بھی زیادہ بڑی چیز سے محروم ہونا، یعنی اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم دیا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے ثواب کا حاصل نہ کرنا چنانچہ خسارہ، حرماں نصیبی اور ایمان میں کمی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ وہ صبر، رضا اور شکر سے محروم ہوجاتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے ناراضی حاصل ہوتی ہے جو شدت نقصان پر دلالت کرتی ہے۔ لیکن وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ان مصائب و محن کے وقت صبر سے نوازا اور اس نے اپنے آپ کو قولاً اور فعلاً اللہ پر اظہار برہمی سے روکے رکھا۔ پھر اس پر اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کی امید رکھی اور اسے یہ بھی علم ہے کہ صبر کرنے سے اسے جو ثواب حاصل ہوگا، وہ اس مصیبت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جس کا اسے سامنا ہے، بلکہ یہ مصیبت اس کے حق میں نعمت ہے، کیونکہ یہ مصیبت اس کے لیے اس بھلائی اور فائدے کے حصول کا باعث بنی ہے جو اس مصیبت سے زیادہ بہتر ہے۔ پس اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی اور ثواب کا مستحق قرار پایا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ ﴾” اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو۔“ یعنی انہیں خوشخبری سنا دو کہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی حساب کے ان کو پورا پورا اجر دے گا۔ پس اہل صبر وہ لوگ ہیں جن کو عظیم بشارت اور بہت بڑے انعام سے نوازا گیا ہے۔ البقرة
156 پھر اللہ تعالیٰ نے ان صابرین کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ۙالَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ﴾ ” وہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے“ مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو قلب، بدن یا دونوں کو تکلیف پہنچائے۔ جس کا ذکر پہلے گزرا۔ ﴿قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰہِ ﴾” تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ ہی کی ملکیت ہیں۔“ یعنی وہ پکار اٹھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، اسی کے دست تدبیر اور اسی کے تصرف کے تحت ہیں۔ پس ہماری جانوں اور ہمارے مال میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ ہمیں کسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ، جس کی ذات سب سے زیادہ رحم کرنے والی ہے، درحقیقت اپنے غلاموں اور ان کے مال میں تصرف کرتا ہے اس لیے مالک پر اعتراض کی مجال نہیں، بلکہ بندہ مومن کا کمال عبودیت اس کا یہ جان لینا ہے کہ اس پر جو مصیبت آن پڑی ہے وہ اس کے حکمت والے مالک کی طرف سے ہے جو اپنے بندے پر خود اس بندے سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، تب یہ چیز بندے کو اللہ تعالیٰ پر راضی اور اس کی اس تدبیر پر شکر گزار رکھتی ہے کہ اس نے اپنے بندے کے لیے وہی چیز اختیار کی جو اس کے لیے بہتر تھی، اگرچہ بندے کو اس کا شعور بھی نہ تھا۔نیز اس کے ساتھ ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں۔ پس قیامت کے روز ہم نے لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس ہی حاضرہونا ہے اور ہر شخص کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا اگر ہم صبر کریں اور اجر کی امید رکھیں تو ہم اس کے ہاں اپنے اجر و ثواب کو وافر پائیں گے اور اگر ہم بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ناراض ہوں گے تو ہمیں ناراضی اور اجر کی محرومی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ پس بندے کا اللہ کی ملکیت ہونا اور اس کا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا صبر کا سب سے طاقتور سبب ہے۔ البقرة
157 ﴿ۭاُولٰۗیِٕکَ﴾” یہی لوگ ہیں۔“ یعنی یہی لوگ جو صبر مذکور کی صفت سے موصوف ہیں ﴿ عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ﴾” ان پر برکتیں ہیں ان کے رب کی طرف سے“ یعنی یہ ان کے احوال کی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے ﴿وَرَحْمَۃٌ ۣ﴾” اور رحمت“ اور ان پر عظیم رحمت ہے۔ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حصہ ہے کہ اس نے ان کو صبر کی توفیق سے نوازا جس کے ذریعے سے وہ کامل اجر حاصل کرتے ہیں۔ ﴿وَأُولَئِك ھُمُ الْمُہْتَدُوْنَ﴾” اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں“ یعنی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو پہچان لیا اور وہ حق اس مقام پر یہ ہے کہ انہیں یہ معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور انہیں لوٹ کر اسی کے پاس حاضر ہونا ہے اور اس پر وہ عمل پیرا ہوئے اور یہاں عمل، اللہ تعالیٰ کے لیے ان کا صبر کرنا ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی واضح ہے کہ جس نے صبر نہ کیا انہیں وہ کچھ حاصل ہوگا جو صبر کرنے والوں کی ضد ہے، یعنی مذمت، عقوبت، گمراہی اور خسارہ (اعاذنا اللہ منھا) پس دونوں قسموں کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے،اہل صبر کے لیے کتنی کم مشقت اور بے صبروں کے لیے کتنی بڑی تکلیف ہے۔ یہ دونوں آیتیں نفوس کو مصائب کے نازل ہونے سے پہلے ان مصائب کو خوش دلی سے قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہیں، تاکہ جب مصائب نازل ہوں، تو وہ آسانی سے برداشت ہوسکیں۔ ان آیات میں اس امر کا بھی بیان ہے کہ جب مصیبت نازل ہو تو کس چیز سے اس کا مقابلہ کیا جائے اور وہ ہے صبر۔ اس چیز کا بھی بیان ہے جو صبر پر مددگار ہوتی ہے، نیز یہ کہ صبر کرنے والوں کے لیے کیا اجر و ثواب ہے۔ ان سے بے صبر لوگوں کا حال بھی واضح ہوتا ہے جو صبر کرنے والوں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ ابتلاء و امتحان اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تو اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔ نیز ان آیات کریمہ میں مصائب کی مختلف انواع کا بیان ہے۔ البقرة
158 اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے ﴿ اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ﴾” بے شک صفا اور مروہ‘‘ یعنی صفا اور مروہ وہ معروف پہاڑیاں ﴿ مِنْ شَعَائِرِاللّٰہِ ۚ ﴾” اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے دین کی ظاہری علامتیں ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عبدیت کو جانچتا ہے اور جب صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کے شعائر میں شمار ہوتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے شعائر کی تعظیم کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّـهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ ﴾(الحج : 22؍ 32) ” اور جو کوئی اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو یہ فعل دلوں کا تقویٰ ہے۔ “ دونوں نصوص مجموعی طور پر اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرنا دلوں کا تقویٰ ہے اور تقویٰ ہر مکلف پر فرض ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صفا و مروہ کی سعی (دونوں پہاڑیوں کے درمیان دوڑنا) فرض اور حج وعمرہ کا لازمی رکن ہے۔ جیسا کہ جمہور فقہاء کا مسلک ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بھی اس پر دلالت کرتی ہیں۔ آپ نے خود بھی یہ کام کیا اور فرمایا :"خُذُوْا عَنِّی مَنَاسِکَکُم"’’اپنے مناسک حج مجھ سے اخذ کرو۔“ [صحيح مسلم، الحج، باب استحباب رمي جمرة العقبة.... الخ، حديث: 1297، سنن البيهقي الكبري: 5؍ 125] ﴿ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا ۭ﴾” پس جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان کا طواف کرے“ چونکہ جاہلیت کے زمانے میں صفا اور مروہ پر بت نصب تھے جن کی پوجا کی جاتی تھی اس لیے وہم دور کرنے اور مسلمانوں کے رفع حرج کے لیے فرمایا کہ ان کے طواف میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو رفع کرنے کے لیے گناہ کی نفی کی ہے۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ان کے مابین سعی لازم نہیں۔ نیز حج اور عمرہ میں ان کی سعی میں بطور خاص گناہ کی نفی، اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ حج یا عمرہ کے بغیر صرف ان کی سعی کرنا جائز نہیں۔ بخلاف طواف بیت اللہ کے، کیونکہ وہ حج اور عمرہ کے ساتھ بھی مشروع ہے اور طواف ایک مستقل عبادت بھی ہے (یعنی حج اور عمرے کے بغیر بھی طواف جائز ہے) لیکن صفا اور مروہ کے مابین سعی، عرفہ اور مزدلفہ میں وقوف اور رمی جماریہ تمام افعال دیگر مناسب حج کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ افعال دیگر مناسک حج کے ساتھ نہ کیے جائیں بلکہ اکیلے کیے جائیں، تو یہ بدعت ہوں گے۔ اس لیے کہ بدعت کی دو اقسام ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کی کسی ایسے طریقے سے عبادت کرنا جو اصل میں اس نے مشروع نہیں کی۔ (2) بدعت کی دوسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عبادت ایک خاص طریقے پر مشروع کی ہے اور اس کو کسی مختلف طریقے سے کیا جائے۔ مذکورہ بدعات اسی دوسری قسم سے ہوں گی۔ ﴿ وَمَنْ تَـطَوَّعَ خَیْرًا﴾ ” اور جو کوئی نیک کام کرے۔“ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے خلوص کے ساتھ نیکی کا کام کرتا ہے جیسے حج، عمرہ، طواف، نماز اور روزہ وغیرہ نیکی کے کام تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اس میں اس امر کی بھلائیوں اور اس کے درجات میں، اس کے ایمان میں اضافے کی وجہ سے اضافہ ہوتا ہے اور نیکیوں میں بھلائی کی قید اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی نیکی کے طور پر بدعات پر عمل کرتا ہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے مشروع نہیں کیا، اسے محض مشقت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ اس کے لیے خیر نہیں، بلکہ اگر بدعات کا مرتکب ان کی عدم مشروعیت کا علم رکھتے ہوئے جان بوجھ کر اس پر عمل کرتا ہے، تو بسا اوقات یہ اس کے لیے شربن جاتی ہیں۔ ﴿ۙفَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِـرٌ عَلِــیْمٌ﴾۔ (الَشَّاکِرُ) اور (الَشکُوْرُ) اللہ تعالیٰ کے نام ہیں۔ الَشَّاکِرُ اور الَشکُوْر اس ہستی کو کہتے ہیں جو بندوں کے تھوڑے عمل کو بھی قبول کرلیتی ہے اور اس پر بہت بڑا اجر عطا کرتی ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لاتا ہے اور اس کی اطاعت کرتا ہے تو وہ اپنے بندے کی مدد کرتا ہے اس کی مدح و ثنا کرتا ہے اور اسے یہ بدلہ دیتا ہے کہ وہ اس کے قلب کو نور اور ایمان سے لبریز کردیتا ہے اور اس کے بدن میں قوت و نشاط، اس کے احوال میں برکت اور نشو و نما اور اس کے اعمال میں مزید توفیق عطا کرتا ہے۔ پھر یہ بندہ مومن آخرت میں جب رب کے پاس حاضر ہوگا تو وہاں اسے وافر اور کامل ثواب ملے گا، مذکورہ دنیاوی جزائیں اس کے اخروی ثواب میں کمی نہیں کریں گی۔ اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے کے لیے قدر دانی یہ ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اسے اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ایک بالشت قریب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہے، جو ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے برابر اس کے قریب ہوتا ہے، جو چل کر اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے اللہ تعالیٰ بھاگ کر اس کی طرف بڑھتا ہے، جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کئی گنا منافع سے اسے نوازتا ہے۔ اور باوجود اس بات کے کہ وہ بندوں کے اعمال کا قدر دان ہے، وہ یہ بات بھی خوب جانتا ہے کہ کون اپنی نیت، ایمان اور تقویٰ کے مطابق کامل ثواب کا مستحق ہے اور کون اس ثواب کا حق دار نہیں۔ وہ بندوں کے اعمال کا علم رکھتا ہے، پس وہ ان کے اعمال ضائع نہیں کرے گا، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنی نیتوں کے مطابق، جن کو اللہ علیم و حکیم جانتا ہے، ان عملوں کا ثواب پائیں گے۔ البقرة
159 یہ آیت کریمہ اگرچہ اہل کتاب کے بارے میں اور اس کی بابت نازل ہوئی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات کو چھپایا مگر اس کا حکم ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو ان حقائق کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں ﴿ مِنَ الْبَیِّنٰتِ﴾” دلائل“ یعنی حق پر دلالت کرنے والی اور اس کو ظاہر کرنے والی باتیں ﴿وَالْہُدٰی﴾ ھُدَی وہ علم ہے جس کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور جس سے اہل جنت اور اہل جہنم کے راستوں میں فرق واضح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے وعدہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اللہ کا جو علم عطا کیا ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے ہرگز نہیں چھپائیں گے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو دورپھینک دیا اس نے دو مفاسد کو جمع کردیا۔ (اول) اس حق کو چھپانا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ثانی) اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ دھوکہ کرنا ﴿ۙاُولٰۗیِٕکَ یَلْعَنُہُمُ اللّٰہُ﴾” ایسے ہی لوگوں پر اللہ لعنت کرتا ہے۔“ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ دھتکار دے گا اور انہیں اپنی قربت اور رحمت سے دور کر دے گا ﴿وَیَلْعَنُہُمُ اللّٰعِنُوْنَ﴾” اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔“ یعنی ان پر تمام مخلوق کی بھی لعنت پڑے گی، کیونکہ انہوں نے مخلوق الٰہی کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے دین کو برباد کیا، انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کیا اس لیے انہیں ان کے اعمال کی جنس سے بدلہ دیا جائے گا۔ جیسے لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینے والے پر اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے، فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی اس کے لیے رحمت کی دعا کرتی ہیں، کیونکہ اس کی تمام بھاگ دوڑ اور کوشش مخلوق کی بھلائی اور ان کے دین کی اصلاح اور ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے اس کے عمل کی جنس سے بدلہ دیا گیا۔ پس اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حق کو چھپانے والا درحقیقت اللہ کے حکم کا مخالف اور اللہ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو لوگوں کے سامنے اپنی آیات کو واضح کر کے بیان کرتا ہے اور یہ شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھپانے اور مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ پس مذکورہ سخت وعید کامور دیہی شخص ہے۔ البقرة
160 ﴿ اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا ﴾” مگر جنہوں نے توبہ کی‘ یعنی جو ندامت کے ساتھ گناہ چھوڑ کر اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم لے کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے ﴿وَاَصْلَحُوْا﴾ ” اور اپنی حالت درست کرلی۔“ یعنی اپنے فاسد عملوں کی اصلاح کرلی۔ پس صرف برے کام کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں، اس کی جگہ اچھے کام کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ کتمان حق کے مرتکب کے لیے بھی صرف یہی کافی نہیں کہ اس نے یہ گناہ چھوڑ دیا ہے، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حق کو بھی ظاہر کرے جس کو اس نے چھپایا تھا۔ پس یہی وہ شخص ہے جس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔ کیونکہ اس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کا سبب لے کر توبہ کے لیے حاضر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿ التَّوَّابُ ﴾” بڑا معاف کرنے والا۔“ ہے۔ یعنی وہ اپنے بندوں کے ساتھ، گناہ کے بعد عفو و درگزر سے پیش آتا ہے جب وہ توبہ کرلیتے ہیں اور جب بندے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو روک لینے کے بعد، ان پر پھر احسان و نعمتوں کی بارش کردیتا ہے۔ ﴿ الرَّحِيْمُ﴾ اس ہستی کو کہتے ہیں جو عظیم اور بے پایاں رحمت سے متصف ہو جو ہر چیز کو محیط ہے۔ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے انہیں توبہ اور انابت کی توفیق بخشی پس انہوں نے توبہ کی اور وہ اس کی طرف پلٹے۔ پھر اس نے ان پر رحم کیا یعنی اپنے لطف و کرم سے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ یہ اس شخص کا حکم ہے جو گناہوں سے توبہ کرتا ہے۔ البقرة
161 رہا وہ شخص جو اپنے کفر پر مصر ہے، اس نے اپنے رب کی طرف رجوع نہیں کیا، نہ اس کی طرف پلٹا اور نہ اس نے توبہ کی اور حالت کفر ہی میں مر گیا ﴿ اُولٰۗیِٕکَ عَلَیْہِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰۗیِٕکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ﴾” تو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔“ اس لیے کہ جب کفر، ان کا وصف ثابت بن گیا تو ان پر لعنت بھی ان کا وصف ثابت بن گئی جو کبھی زائل نہیں ہوگی، کیونکہ حکم وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے اپنی علت کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ (یعنی علت ہوگی تو حکم ہوگا، علت نہیں ہوگی تو حکم بھی نہیں ہوگا) البقرة
162 ﴿’ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا ۚ﴾’’وہ ہمیشہ اس (لعنت) میں رہیں گے۔“ یعنی وہ لعنت یا عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ لعنت اور عذاب دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ فرمایا : ﴿ لَا یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ﴾” اور ان پر عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی۔“ بلکہ ان کو سخت اور دائمی عذاب دیا جائے گا۔” اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔“ کیونکہ مہلت کا وقت تو دنیا کی زندگی تھی جو گزر گئی اور ان کے پاس کوئی عذر بھی نہیں ہوگا جو وہ پیش کرسکیں۔ البقرة
163 اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے اور وہ سب سے زیادہ سچا ہے، فرماتا ہے، وہ ﴿ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ﴾” ایک ہی الٰہ ہے۔“ یعنی وہ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور اپنے افعال میں اکیلا اور متفرد ہے۔ پس اس کی ذات میں اس کا کوئی شریک ہے نہ اس کا کوئی ہم نام اور نہ ہمسر، نہ اس کی کوئی مثال اور نہ اس کی کوئی نظیر ہے۔ اس کے سوا کوئی کائنات کو پیدا کرنے والا ہے اور نہ اس کی تدبیر کرنے والا۔ جب حقیقت حال یہ ہے تو اس بات کا صرف وہی مستحق ہے کہ ہر قسم کی عبادت صرف اسی کے لیے ہو اور اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ ﴿الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ﴾ کیونکہ وہ رحمان و رحیم ہے، یعنی وہ بے پایاں رحمت سے متصف ہے کسی اور کی رحمت اس سے مماثلت نہیں رکھتی۔ اس کی بے پایاں رحمت ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس کی رحمت ہر زندہ چیز کے لیے عام ہے۔ اس کی رحمت ہی کے باعث تمام کائنات وجود میں آئی۔ اس کی رحمت ہی کی وجہ سے تمام مخلوقات کو تمام کمالات حاصل ہوئے۔ اس کی رحمت ہی کی بنا پر ان سے ہر قسم کی ناراضی دور ہوئی۔ یہ اس کی رحمت ہی ہے کہ اس کے بندوں نے اس کی صفات اور اس کی نعمتوں کے ساتھ اسے پہچان لیا اور اس نے اپنے رسول بھیج کر اور اپنی کتابیں نازل کر کے دنی و دنیا کے تمام مصالح جن کے وہ محتاج تھے، ان پر واضح کردیئے۔ جب یہ معلوم ہوگیا کہ بندوں کو جو بھی نعمت عطا ہوئی ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، نیز یہ کہ مخلوق میں سے کوئی شخص دوسرے کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ تو یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ہر قسم کی عبادت کا صرف وہی مستحق ہے اور صرف وہی ہے جو محبت، خوف ورجا، تعظیم و توکل اور دیگر ہر قسم کی اطاعت کا مستحق ہے۔ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑھ کر برائی یہ ہے کہ اس کی عبادت سے منہ موڑ کر اس کے بندوں کی عبادت کی جائے۔ مٹی سے پیدا کی گئی مخلوق کو رب ارباب کا شریک ٹھہرایا جائے، یا تدبیر میں محتاج اور ہر لحاظ سے عاجز مخلوق کی اس خالق کائنات کے ساتھ عبادت کی جائے جو تدبیر کنندہ، قادر اور طاقتور ہے، جو ہر چیز پر غالب ہے اور ہر چیز اس کی مطیع ہے۔ اس آیت کریمہ میں باری تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی الوہیت کا اثبات ہے اور اس بات کا بھی کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی الوہیت کا مستحق نہیں اور اس توحید الوہیت پر اصل دلیل کا بیان ہے اور وہ اس کی رحمت کا اثبات ہے جس کے آثار میں سے تمام نعمتوں کا وجود اور تمام مصائب کا دور ہونا ہے۔ پس یہ اس کی وحدانیت کی ایک اجمالی دلیل ہے۔ اب اللہ تعالیٰ اس کے تفصیلی دلائل ذکر فرماتا ہے۔ فرمایا : البقرة
164 اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان عظیم مخلوقات میں باری تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی الوہیت، اس کی عظیم قدرت، رحمت اور اس کی تمام صفات کے دلائل ہیں، لیکن یہ تمام دلائل صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو ان امور میں اپنی عقل استعمال کرتے ہیں جن کے لیے عقل پیدا کی گئی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو جتنی عقل سے نوازا ہے وہ اتنا ہی آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنی عقل اور تفکر و تدبر سے ان آیات کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ پس ﴿ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ﴾ ” آسمانوں کے پیدا کرنے میں۔“ یعنی آسمانوں کی بلندی، ان کی وسعت، ان کے محکم اور مضبوط ہونے میں، نیز ان آسمانوں میں سورج، چاند اور ستاروں کی تخلیق اور بندوں کے مصالح کے لیے ان کی منظم گردش میں۔ ﴿ وَالْاَرْضِ ﴾” اور زمین میں“ یعنی مخلوق کے لیے فرش کے طور پر زمین کو پیدا کیا تاکہ وہ اس پر ٹھہر سکیں اور زمین اور جو کچھ اس کے اوپر ہے اس سے استفادہ کریں۔ نیز اس سے عبرت حاصل کریں کہ تخلیق اور تدبیر کائنات میں اللہ تعالیٰ ایک متفرد ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا بیان ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو تخلیق کیا اور اس کی حکمت کا، جس کی بنا پر اس نے زمین کو محکم، حسین اور موزوں بنایا اور اس کی رحمت اور علم کا، جن کی بنا پر اس نے زمین کے اندر مخلوقات کے فائدے کی اشیاء اور ان کی حاجات و ضروریات ودیعت کیں اور اس میں اس کے کمال اور اس کے واحد لائق عبادت ہونے پر سب سے زیادہ مؤثر دلیل ہے، کیونکہ کائنات کی پیدائش اور اس کی تدبیر اور تمام بندوں کے معاملات کا انتظام کرنے میں وہ متفرد ہے (اس لیے عبادت کا تمام تر مستحق بھی صرف وہی ہے نہ کہ کوئی اور، جن کا کوئی حصہ پیدائش میں ہے نہ تدبیر میں اور نہ بندوں کے معاملات کے انتظام میں) ﴿ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ﴾ ” اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں۔“ یعنی رات اور دن کادائمی طور پر ایک دوسرے کے تعاقب میں رہنا۔ جب ان میں سے ایک گزر جاتا ہے تو دوسرا اس کے پیچھے پیچھے آتا ہے۔ گرمی، سردی اور معتدل موسم میں، دنوں کا لمبا، چھوٹا اور متوسط ہونا اور ان کی وجہ سے موسموں میں تغیر و تبدل کا ہونا۔ جن کے ذریعے سے تمام بنی آدم، حیوانات اور روئے زمین کی تمام نباتات کا انتظام ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے انتظام، تدبیر اور تسخیر کے تحت ہو رہا ہے جسے دیکھ کر عقلیں حیرت زدہ رہ جاتی ہیں اور بڑے بڑے عقل مند لوگ اس کے ادراک سے عاجز ہیں۔ یہ چیز اس کائنات کی تدبیر کرنے والے کی قدرت، علم و حکمت، رحمت واسعہ، لطف و کرم، اس کی اس تدبیر و تصرف، جس میں وہ اکیلا ہے، اس کی عظمت، اقتدار اور غلبہ پر دلالت کرتی ہے اور یہ اس بات کی موجب ہے کہ اس کو الٰہ مانا جائے اور اس کی عبادت کی جائے، صرف اسی سے محبت کی جائے، اسی کی تعظیم کی جائے، اسی سے ڈرا جائے، اسی سے امید رکھی جائے اور اس کے محبوب اور پسندیدہ اعمال میں جدوجہد کی جائے۔ ﴿ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ﴾” اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں چلتی ہیں“ اس آیت کریمہ میں (فُلْکِ) سے مراد جہاز اور کشتیاں وغیرہ ہیں جن کی صنعت اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں الہام کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے داخلی اور خارجی آلات تخلیق کیے اور ان کے استعمال پر انہیں قدرت عطا کی۔ پھر اس نے اس بحربے کراں اور ہواؤں کو ان کے لیے مسخر کردیا جو سمندروں میں اموال تجارت سمیت کشتیوں کو لیے پھرتی ہیں جن میں لوگوں کے لیے منفعت اور ان کی معاش کے انتظامات اور مصلحتیں ہیں۔ وہ کون ہے جس نے ان کشتیوں کی صنعت انہیں الہام کی اور ان کے استعمال پر انہیں قدرت عطا کی اور ان کے لیے وہ آلات پیدا کیے جن سے وہ کام لیتے ہیں؟ وہ کون ہے جس نے کشتیوں کے لیے بے پایاں سمندر کو مسخر کیا جس کے اندر یہ کشتیاں اللہ کے حکم اور اس کی تسخیر سے چلتی ہیں؟ اور وہ کون ہے جس نے ہواؤں کو مسخر کیا؟ وہ کون ہستی ہے جس نے بری اور بحری سفر کی سواریوں کے لیے آگ اور وہ معدنیات پیدا کیں جن کی مدد سے وہ سواریاں (فضاؤں اور سمندروں میں) چلتی اور ان کے مال و اسباب بھی اٹھائے پھرتی ہیں؟ کیا یہ تمام امور اتفاقاً حاصل ہوگئے یا یہ کمزور، عاجز مخلوق انہیں وجود میں لائی ہے۔ جو اپنی ماں کے پیٹ سے جب باہر آئی تو اسے علم تھا نہ قدرت؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے قدرت عطا کی پھر اسے ہر اس چیز کی تعلیم دی جس کی تعلیم دینا وہ چاہتا تھا، یا ان تمام چیزوں کو مسخر کرنے والا ایک اللہ ہی ہے جو حکمت اور علم والا ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی اور کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں۔ بلکہ تمام اشیاء اس کی ربوبیت کے سامنے سرنگوں، اس کی عظمت کے سامنے عاجز اور اس کے جبروت کے سامنے سرافگندہ ہیں اور نحیف و نزاربندے کی انتہا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان اسباب میں سے ایک سبب بنایا ہے جن کے ذریعے سے یہ بڑے بڑے کام سر انجام پاتے ہیں، پس یہ چیز اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رحمت اور اس کی عنایت پر دلالت کرتی ہے اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ تمام تر محبت، خوف، امید، ہر قسم کی اطاعت، تذلل و انکسار اور تعظیم صرف اسی کی ذات کے لیے ہو۔ ﴿ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ مَّاۗءٍ﴾” اور اس میں جو اللہ نے آسمان سے پانی اتارا‘‘ اس سے مراد وہ بارش ہے جو بادل سے برستی ہے ﴿فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا ﴾” پس اس کے ذریعے سے اس نے زمین کو مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کردیا“ پس زمین نے مختلف قسم کی خوراک اور نباتات ظاہر کیں جو مخلوق کی ضروریات زندگی میں شمار ہوتی ہیں، جن کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔ کیا یہ اس ذات کی قدرت و اختیار کی دلیل نہیں جس نے یہ پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے زمین سے مختلف چیزیں پیدا کیں؟ کیا یہ اپنے بندوں پر اس کی رحمت اور اس کا لطف و کرم اور اپنے بندوں کے مصالح کا انتظام نہیں؟ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ بندے ہر لحاظ سے اس کے سخت محتاج ہیں؟ کیا یہ چیز واجب نہیں کرتی کہ ان کا معبود اور ان کا الٰہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہو؟ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ ﴿ وَبَثَّ فِیْہَا﴾ ” اور پھیلائے اس میں“ یعنی زمین کے اندر ﴿ مِنْ کُلِّ دَاۗبَّۃٍ ۠﴾” ہر قسم کے جانور“ یعنی زمین کے چاروں طرف مختلف اقسام کے جانور پھیلائے، جو اس کی قدرت، عظمت، وحدانیت اور اس کے غلبے کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو انسانوں کے لیے مسخر کردیا جن سے وہ ہر پہلو سے فائدہ ا ٹھاتے ہیں۔ پس وہ ان میں سے بعض جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں اور بعض جانوروں کا دودھ پیتے ہیں۔ بعض جانوروں پر سواری کرتے ہیں، بعض جانوران کے دیگر مصالح اور چوکیداری کے کام آتے ہیں۔ بعض جانوروں سے عبرت پکڑی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں ہرقسم کے جانور پھیلائے ہیں۔ وہی ان کے رزق کا انتظام کرتا ہے اور وہی ان کی خوراک کا کفیل ہے۔ ﴿وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ﴾ (ھود: 6؍11) ” زمین کے اندر پھرنے والا کوئی جانور نہیں مگر یہ کہ اللہ کے ذمے اس کا رزق ہے وہ اس کے ٹھکانے کو جانتا ہے اور جہاں اسے سونپا جاتا ہے۔ “ ﴿ وَّتَـصْرِیْفِ الرِّیٰحِ ﴾” اور ہواؤں کے پھیرنے میں“ یعنی ٹھنڈی، گرم، شمالاً جنوباً اور شرقاً غرباً اور ان کے درمیان ہواؤں کا چلنا، کبھی تو یہ ہوائیں بادل اٹھاتی ہیں کبھی یہ بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں، کبھی یہ بادلوں کو بار دار کرتی ہیں، کبھی یہ بادل برساتی ہیں، کبھی یہ بادلوں کو پھاڑ کر انہیں تتر بتر کرتی ہیں، کبھی اس کے ضرر کو زائل کرتی ہیں، کبھی یہ ہوائیں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں اور کبھی ان ہواؤں کو عذاب کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔ کون ہے وہ جو ان ہواؤں کو اس طرح پھیرتا ہے؟ کون ہے جس نے ان ہواؤں میں بندوں کے لیے مختلف منافع ودیعت کیے ہیں جن سے وہ بے نیاز نہیں ہوسکتے؟ اور ان ہواؤں کو مسخر کردیا جن میں تمام جاندار اشیاء زندہ رہ سکیں اور بدنوں، درختوں، غلہ جات اور نباتات کی اصلاح ہو؟ یہ سب کچھ کرنے والا صرف وہ اللہ ہے جو غالب، حکیم اور نہایت مہربان ہے، اپنے بندوں پر لطف و کرم کرنے والا ہے، جو اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے سامنے تذلل اور عاجزی کا اظہار کیا جائے، اسی سے محبت، اسی کی عبادت اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے۔ آسمان اور زمین کے درمیان بادل اپنے ہلکے اور لطیف ہونے کے باوجود بہت زیادہ پانی کو اٹھائے پھرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے اس بادل کو لے جاتا ہے پھر وہ اس پانی کے ذریعے سے زمین اور بندوں کو زندگی عطا کرتا اور ٹیلوں اور ہموار زمین کو سیراب کرتا ہے اور مخلوق پر اسی وقت بارش برساتا ہے جس وقت اس کو ضرورت ہوتی ہے۔ جب بارش کی کثرت انہیں نقصان پہنچانے لگتی ہے تو وہ اسے روک لیتا ہے۔ وہ بندوں پر لطف و کرم کے طور پر بارش برساتا ہے اور پانی رحمت اور شفقت سے بارش کو ان سے روک لیتا ہے۔ اس کا غلبہ کتنا بڑا، اس کی بھلائی کتنی عظیم اور اس کا احسان کتنا لطیف ہے! کیا یہ بندوں کے حق میں برائی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ ا ٹھاتے ہیں، اس کے احسان کے ماتحت زندگی بسر کرتے ہیں۔ پھر وہ ان تمام چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کی معصیت پر مدد لیتے ہیں؟ کیا یہ اللہ تعالیٰ کے حلم و صبر، عفو و درگزر اور اس کے عظیم لطف و کرم کی دلیل نہیں؟ پس اول و آخر اور ظاہر و باطن اللہ تعالیٰ ہی ہر قسم کی تعریف کا مستحق ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ عقل مند شخص جب بھی ان مخلوقات میں غور و فکر اور انوکھی چیزوں میں سوچ بچار کرے گا اور اللہ کی کاریگری میں اور اس میں جو اس نے احسان اور حکمت کے لطائف رکھے ہیں، ان میں کتنا زیادہ غور و فکر کرے گا۔ تو اسے معلوم ہوگا کہ یہ کائنات اس نے حق کے لیے اور حق کے ساتھ تخلیق کی ہے، نیز یہ کائنات اللہ تعالیٰ کی ذات، وحدانیت اور یوم آخرت کے نشانات اور دلائل ہیں، جس کے بارے میں اس نے اور اس کے رسولوں نے خبر دی ہے اور یہ کائنات اللہ تعالیٰ کے سامنے مسخر ہے، وہ اپنے تدبیر اور تصرف کرنے والے کے سامنے کوئی تدبیر اور نافرمانی نہیں کرسکتی۔ پس تجھے بھی معلوم ہوجائے گا کہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی اسی کے محتاج اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور وہ بالذات تمام کائنات سے بے نیاز اور مستغنی ہے پس اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اس کے سوا کوئی رب نہیں۔ البقرة
165 یہ آیت کریمہ (مضمون کے اعتبار سے) کتنے خوبصورت طریقے سے پچھلی آیت سے تعلق رکھتی ہے۔ اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کو بیان فرمایا اور اس کے قطعی دلائل و براہین بیان کیے جو علم یقینی عطا کرتے اور ہر قسم کے شک و شبہ کو زائل کردیتے ہیں تو یہاں اس نے ذکر فرمایا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ﴿مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْدَادًا﴾ ” جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو شریک ٹھہرا لیتے ہیں“ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہمسر اور مثیل، جنہیں وہ عبادت، محبت، تعظیم اور اطاعت میں اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیتے ہیں اور حجت قائم کرنے اور توحید بیان کرنے کے بعد بھی جو شخص اس حالت پر رہنے پر مصر ہو تو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے عناد رکھنے والا، اس کا مخالف ہے یا اس کی آیات و مخلوقات میں تدبر و تفکر سے روگردانی کرنے والا ہے اور اس بارے میں اس کے پاس ادنیٰ سا عذر بھی نہیں، بلکہ عذاب کا کلمہ اس پر ثابت ہوگیا ہے اور یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے ہمسر بناتے ہیں وہ تخلیق، رزق اور تدبیر میں ان کو اللہ تعالیٰ کے مساوی قرار نہیں دیتے، بلکہ وہ صرف عبادت میں ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ پس وہ ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں، تاکہ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ یَّتَّخِذُ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر نہیں۔ اہل شرک نے بعض مخلوقات کو اللہ تعالیٰ کا جو ہمسر قرار دے رکھا ہے۔ وہ صرف نام ہی نام ہے، لفظ کے اعتبار سے ان کا کوئی معنی نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ وَجَعَلُوا لِلَّـهِ شُرَكَاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ ۚ أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَم بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ﴾ (الرعد:23؍13) ” اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ان سے کہو ذرا ان معبودوں کے نام تو لو کیا تم اسے ان چیزوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہو جنہیں وہ زمین کے اندر نہیں جانتا (یعنی زمین میں ان کا وجود ہی نہیں) یا محض ظاہری بات کی تقلید کرتے ہو۔“ فرمایا :  ﴿إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّـهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ﴾ (النجم: 23؍53) ” یہ تو محض نام ہی ہیں جن کو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے گھڑ رکھا ہے جن کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ وہ تو صرف ظن اور گمان کی پیروی کر رہے ہیں۔ “ پس مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہمسر نہیں ہوسکتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ خالق اور اس کے علاوہ سب اس کی مخلوق ہے، رب تعالیٰ رازق ہے اور اس کے علاوہ تمام مخلوق مرزوق ہے، اللہ تعالیٰ غنی اور بے نیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے کامل ہے اور بندے ہر لحاظ اور ہر پہلو سے ناقص ہیں، اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے قبضہ قدرت میں نفع و نقصان ہے اور مخلوق کو نفع و نقصان اور کسی چیز کا بھی اختیار نہیں، لہٰذا اس شخص کے قول کا بطلان یقینی طور پر معلوم ہوجاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اللہ کا ہمسر اور معبود ٹھہراتا ہے، یہ غیر اللہ خواہ فرشتہ ہو یا نبی، خواہ کوئی صالح بزرگ ہو یا کوئی بت، یا ان کے علاوہ کوئی اور، صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی محبت کامل اور تذلل تام کی مستحق ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ۭ﴾” اور جو اہل ایمان ہیں وہ تو اللہ ہی سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں۔“ یعنی اہل شرک اپنے معبودوں سے جتنی محبت کرتے ہیں اس سے بڑھ کر اہل ایمان اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں، کیونکہ ان کی محبت خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور اہل شرک اپنے معبودوں کی محبت میں بھی دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ اہل ایمان صرف اسی سے محبت کرتے ہیں جو محبت کا حقیقی مستحق ہے، جس کی محبت میں بندے کی عین صلاح، سعادت اور فوز و فلاح ہے۔ جب کہ اہل شرک ان ہستیوں سے محبت کرتے ہیں جو محبت کا کچھ استحقاق نہیں رکھتے، ان کی محبت میں بندے کی عین بدبختی ہے، اس کا فساد اور اس کے معاملات کا بکھرنا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿وَلَوْ یَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا ﴾” اگر دیکھ لیں وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا“ یعنی جنہوں نے غیر اللہ کو ہمسر بنا کر اور بندوں کے رب کے سوا دوسروں کی اطاعت کر کے ظلم کیا اور مخلوق پر ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک کر اور انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کر کے ظلم کیا۔ ﴿ اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ ۙ﴾” جب وہ عذاب دیکھیں گے۔“ یعنی قیامت کے روز اپنی آنکھوں سے عیاں طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھیں گے﴿ اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا ۙ وَّاَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ﴾” ہر طرح کی قوت اللہ ہی کے لیے ہے اور یہ کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔“ یعنی اس وقت انہیں یقینی طور پر معلوم ہوجائے گا کہ تمام قوت و قدرت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور انہوں نے جو اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرا رکھے تھے ان کے پاس کسی قسم کی کوئی طاقت نہیں، تب اس روز ان کے سامنے ان کے بنائے ہوئے معبودوں کی کمزوری اور بے بسی ظاہر ہوجائے گی۔ ایسا نہیں ہوگا جیسے اس دنیا میں ان کا معاملہ مشتبہ ہے اور اہل شرک یہ سمجھتے ہیں کہ ان معبودوں کے پاس بھی اختیار ہے اور یہ معبود انہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور اس کے پاس پہنچنے کا وسیلہ ہیں۔ پس وہ اپنے ظن اور گمان میں خائب و خاسر ہوئے اور ان کی تمام بھاگ دوڑ باطل گئی اور ان کے لیے سخت عذاب واجب ہوگیا۔ ان کے ٹھہرائے ہوئے یہ ہمسر ان سے عذاب کو روک نہیں سکیں گے اور نہ ذرہ بھر ان کے کوئی کام آسکیں گے، بلکہ ان معبودوں سے ان کو کسی فائدے کی بجائے نقصان پہنچے گا۔ البقرة
166 اور راہنما اپنے پیروکاروں سے برأت کا اظہار کریں گے اور وہ تمام تعلقات منقطع ہوجائیں گے جو دنیا میں ان کے مابین تھے، کیونکہ یہ تعلقات غیر اللہ کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف تھے، ان کا تعلق باطل کے ساتھ تھا جس کی کوئی حقیقت نہیں تھی اس لیے ان کے تمام اعمال مضمحل اور ان کے تمام احوال نابود ہوجائیں گے اور ان پر واضح ہوجائے گا کہ وہ جھوٹے تھے اور ان کے وہ اعمال جن کے نفع مند اور نتیجہ خیز ہونے کی انہیں امید تھی، ان کے لیے حسرت اور ندامت میں بدل جائیں گے۔ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل ہوں گے اور وہاں سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ پس اس خسارے کے بعد بھی کوئی اور خسارہ ہے؟ یہ اس لیے کہ انہوں نے باطل کی پیروی کی، انہوں نے ان سے امیدیں رکھیں جن پر امید نہیں رکھی جانی چاہئے تھی اور ان سے تعلق قائم کیا جن سے تعلق قائم نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ پس جب وہی باطل ثابت ہوا، جن سے انہوں نے تعلق جوڑا، تو ان کے اعمال بھی باطل ہوگئے اور جب ان کے اعمال باطل ہوگئے تو اپنی امیدوں کے ٹوٹ جانے کی بنا پر حسرت میں پڑگئے، پس ان کے اعمال نے انہیں سخت نقصان پہنچایا۔ اور یہ اس شخص کے حال کے برعکس ہے جس نے اللہ تعالیٰ سے، جو بادشاہ حقیقی اور واضح کرنے والا ہے، ناطہ جوڑا۔ اسی کے لیے اپنے عمل کو خالص کیا اور اس عمل پر نفع کی امید رکھی۔ پس یہی وہ شخص ہے جس نے حق کو اس کے مقام پر رکھا، اس کے اعمال بھی حق ثابت ہوئے، کیونکہ اس نے حق کے ساتھ تعلق جوڑا تھا اور اپنے اعمال کے نتیجے میں کامیاب ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان اعمال کا بدلہ پائے گا، جو کبھی منقطع نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ ذَٰلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّـهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ  ﴾(محمد : 47؍ 1۔3) ” وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا، اللہ نے ان کے اعمال برباد کردئیے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور اس کتاب پر ایمان لائے جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی گئی اور وہ (کتاب) ان کے رب کی طرف سے برحق ہے، اللہ ان کے گناہ مٹا دے گا اور ان کا حال درست کر دے گا، یہ اس وجہ سے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی اور جو ایمان لائے، انہوں نے اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے حق کی پیروی کی، اللہ اسی طرح لوگوں کے سامنے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔ “ اور اس وقت (غلط کاروں کی) پیروی کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش انہیں دنیا میں لوٹایا جائے تو وہ بھی اپنے لیڈروں اور راہنماؤں سے بایں طور پر برأت کا اظہار کردیں کہ شرک چھوڑ دیں گے اور صرف اللہ کے لیے عمل کریں گے، یہ بہت دور اور ناممکن ہے۔ معاملہ ہاتھ سے نکل گیا، اب یہ مہلت دینے کا وقت نہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی حقیت ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اگر انہیں دنیا میں بھیج بھی دیا گیا تو وہ وہی کریں گے جس سے انہیں روکا گیا ہے۔ یہ تو محض ان کے منہ کی بات ہے اور یہ تو محض ان کی تمنائیں ہیں چونکہ ان کے راہنماؤں نے ان سے برأت کا اظہار کیا ہے اس لیے وہ ان پر شدید غصے کی بنا پر اس تمنا کا اظہار کر رہے ہیں ورنہ گناہ تو خود انہی کا ہے۔ پس بدی کے میدان میں تمام راہنماؤں کا راہنما تو شیطان ہے، اس کے باوجود وہ اپنے پیروکاروں سے کہے گا : ﴿  لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ﴾ (ابراہیم:22؍24)” جب یہ معاملہ پورا ہوچکے گا (تو شیطان کہے گا) اللہ تعالیٰ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ وعدہ سچا تھا اور جو وعدہ میں نے تمہارے ساتھ کیا تھا وہ جھوٹا تھا اور مجھے تم پر کسی قسم کا اختیار نہ تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں (بدی کی طرف) دعوت دی اور تم نے قبول کرلی۔ پس اب تم مجھے ملامت نہ کرو، بلکہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ “ البقرة
167 البقرة
168 یہ خطاب مومن اور کافر تمام لوگوں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر احسان فرمایا کہ انہیں اس بات کا حکم دیا کہ وہ زمین سے پیدا ہونے والے ہر قسم کے اناج، پھل، میوہ جات اور حیوانات اس حال میں کھائیں ﴿حَلَالًا﴾ کہ ان کا کھانا تمہارے لیے حلال ہو، وہ غصب شدہ مال ہو نہ چوری کیا ہوا، نہ حرام معاملے کے ذریعے سے اور نہ حرام طریقے سے حاصل کیا گیا ہو اور نہ کسی حرام امر پر اس سے مدد لی گئی ہو۔ ﴿طَيِّبًا﴾” پاکیزہ“ یعنی وہ خبیث اور ناپاک نہ ہو، مثلاً مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور دیگر تمام ناپاک چیزیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے، کھانے اور فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے۔ (یعنی ہر چیز اس وقت تک حلال ہے جب تک اس کی حرمت پر دلیل قائم نہ ہو۔) اور محرمات کی دو قسمیں ہیں۔ (١) مُحْرَّم لِذَاتِہ ، یعنی جو بذات خود حرام ہیں اور وہ ناپاک چیزیں ہیں جو پاکیزہ چیزوں کی ضد ہیں۔ (2) حرام کرنے والے کسی سبب کے پیش آنے کی وجہ سے حرام ہونے والی چیزیں، یہ حقوق اللہ یا حقوق العباد کے تعلق کے حوالے سے حرام ہوتی ہیں۔ یہ حلال کی ضد ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ نسان پر کم از کم اتنی خوراک کھانا فرض ہے جس سے اس کا ڈھانچہ کھڑا رہ سکے۔ اس آیت کے ظاہری حکم کے مطابق کھانا ترک کرنا گناہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان امور کی اتباع کا حکم دیا جن کو بجا لانے کا اس نے حکم دیا ہے، کیونکہ ان میں ان کی بھلائی ہے، تو پھر ان کو شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے روکا ہے ﴿ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ۭ﴾ ” شیطان کے قدم“ یعنی شیطان کے راستے جن پر چلنے کا وہ حکم دیتا ہے۔ اس سے مراد کفر، فسق، ظلم اور دیگر تمام گناہ ہیں اور اس میں سائبہ اور حام وغیرہ کی تحریم بھی شامل ہے نیز اس کے اندر تمام حرام ماکولات بھی شامل ہیں۔ ﴿اِنَّهُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴾” وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“ اس سے مراد کفر، فسق، ظلم اور ديگر تمام گناہ ہیں اور اس میں سائبہ اور حام وغیرہ کی تحریم بھی شامل ہے نیز اس کے اندر تمام حرام ماکولات بھی شامل ہیں۔ ﴿ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴾” وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“ یعنی شیطان کی عداوت ظاہر ہے۔ وہ تمہیں محض دھوکے سے حکم دیتا ہے، تاکہ تم جہنمی بن جاؤ۔ البقرة
169 ہمارے پروردگار نے ہمیں صرف شیطان کے نقش قدم پر چلنے ہی سے منع نہیں کیا، بلکہ اس نے یہ خبر بھی دی ہے۔۔۔ اور وہ سب سے زیادہ سچا ہے۔۔۔ کہ شیطان ہم سے عداوت رکھتا ہے اور اس سے بچنا چاہئے۔ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ تفصیل کے ساتھ آگاہ بھی فرمایا کہ شیطان کن امور کا حکم دیتا ہے اور یہ کہ شیطان جن امور کا حکم دیتا ہے وہ سب سے زیادہ قباحت کے حامل اور مفاسد میں سب سے بڑھ کر ہیں، چنانچہ فرمایا : ﴿یَاْمُرُکُمْ بِالسُّوْۗءِ﴾” وہ شر کا حکم دیتا ہے“ یعنی ایسے شرکا جو اپنے مرتکب کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے۔ پس تمام معاصی اس میں آجاتے ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَالْفَحْشَاۗءِ﴾ خاص کا عطف عام پر، کے باب میں سے ہوگا، کیونکہ فواحش بھی معاصی میں شمار ہوتے ہیں جن کی قباحت انتہا کو پہنچی ہوئی ہوتی ہے، مثلاً زنا، شراب نوشی، قتل نا حق، تہمت اور بخل، وغیرہ یہ سب ان کاموں میں سے ہیں جن کو ہر عقل مند برا سمجھتا ہے۔ ﴿ وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ ” اور یہ کہ تم اللہ پر ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں علم نہیں“ اس میں اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی تقدیر کے بارے میں کسی علم کے بغیر بات کہنا بھی شامل ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کو کسی ایسی صفت سے موصوف کرتا ہے جسے خود اس نے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان نہیں کیا یا اللہ تعالیٰ کی کسی ایسی صفت کی نفی کرتا ہے جس کو خود اس نے اپنے لیے ثابت کیا ہے یا کسی ایسی صفت کو اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرتا ہے جس کی خود اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے نفی کی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر کسی علم کے بات کرتا ہے اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر ہے، یا بت ہیں جن کی عبادت کر کے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جاسکتا ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلا علم بات کرتا ہے اور جو کوئی دلیل کے بغیر یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں چیز حلال کی ہے یا فلاں چیز حرام کی ہے یا فلاں کام کا حکم دیا ہے یا فلاں کام سے روکا ہے، تو وہ بھی بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف بات منسوب کرتا ہے اور جو کوئی بغیر کسی دلیل اور برہان کے یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی فلاں صنف فلاں علت کی وجہ سے تخلیق فرمائی ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کرتا ہے اور بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی ہوئی باتوں میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تاویل کرنے والا اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کی ان معانی کے مطابق تاویل کرے جو کسی باطل فرقے کی اصطلاحات میں سے ہو اور پھر یہ کہے کہ یہی اللہ تعالیٰ کی مراد ہے۔ پس بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا سب سے بڑا حرام ہے جس میں تمام گناہ شامل ہیں اور یہ شیاطن کا سب سے بڑا راستہ ہے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے۔ یہی شیطان اور اس کے لشکروں کے راستے ہیں، جہاں وہ اپنے مکر و فریب کے جال پھیلائے رکھتے ہیں اور جتنا بس چلتا ہے مخلوق کو پھانستے رہتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ تو عدل و احسان اور رشتہ داروں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے اور فواحش، منکرات اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔ پس بندہ اپنے بارے میں غور کرے کہ وہ ان دو داعیوں میں سے کس داعی اور دو گروہوں میں کس گروہ کے ساتھ ہے؟ کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کی پیروی کر رہا ہے جو تیرے لیے بھلائی، دنیاوی اور اخروی سعادت چاہتا ہے، وہ جس کی اطاعت تمام تر فلاح، جس کی خدمت ہر لحاظ سے کامیابی ہے اور ہر قسم کا نفع اس منعم حقیقی کے ساتھ ظاہری اور باطنی نعمتوں پر معاملہ کرنے میں ہے جو صرف بھلائی کا حکم دیتا ہے اور صرف اسی چیز سے روکتا ہے جو شر ہے، یا تو شیطان کے داعی کی پیروی کر رہا ہے جو انسان کا دشمن ہے جو تیرے لیے برائی چاہتا ہے اور جو تجھے دنیا و آخرت میں ہلاک کرنے کے لیے بھرپور کوشش اور جدوجہد میں مصروف ہے، وہ جو تمام تر شر، اس کی اطاعت میں اور ہر قسم کا خسارہ اس کی سرپرستی میں ہے، وہ صرف شر کا حکم دیتا ہے اور صرف اس چیز سے روکتا ہے جو خیر ہے۔ البقرة
170 پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب ان کو اس کتاب کی اتباع کرنے کا حکم دیا جاتا ہے جو اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمائی ہے جس کی صفت گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے تو وہ اس سے روگردانی کرتے ہوئے کہتے ہیں : ﴿ بَلْ نَتَّبِــعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَاۗءَنَا ۭ﴾” بلکہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا ہے۔“ پس انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کی تقلید پر اکتفا کیا اور انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانے سے بے رغبتی اختیار کی۔ باوجود اس بات کے کہ ان کے آباؤ و اجداد لوگوں میں سب سے زیاد جاہل اور سب سے زیادہ گمراہ تھے۔ حق کو رد کرنے کا یہ ایک نہایت ہی کمزور شبہ ہے، یہ ان کی حق سے روگردانی اور اس سے اعراض اور ان کے عدم انصاف کی دلیل ہے، اگر رشد و ہدایت اور اچھے مقصد کی طرف ان کی راہنمائی کی گئی ہوتی، تو حق ان کا مقصد ہوتا اور جو کوئی حق کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے اور وہ حق اور غیر حق کے درمیان موازنہ کرتا ہے تو قطعی طور پر حق اس کے سامنے واضح ہوجاتا ہے اور اگر وہ انصاف پسند ہے تو وہ حق کی اتباع کرتا ہے۔ البقرة
171 جب اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ جو کچھ انبیائے کرام لے کر آئے، کفار نے ان کی اطاعت نہیں کی اور آباؤ اجداد کی تقلید کے باعث ان رسولوں کو رد کردیا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ حق کو قبول کر کے اس کی دعوت پر لبیک نہیں کہیں گے، بلکہ اللہ تعالیٰ کو ان میں سے ہر ایک کے بارے میں یہ بھی معلوم تھا کہ وہ اپنے عناد سے ہرگز باز نہیں آئیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ ان کی مثال ایمان کے داعی کی پکار کے وقت ان مویشیوں کی سی ہے جنہیں ان کا چرواہا پکارتا ہے، لیکن ان جانوروں کو یہ علم نہیں کہ ان کا چرواہا اور منادی کیا کہہ رہا ہے؟ وہ صرف آواز سنتے ہیں جس کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوگی مگر وہ اسے اس طرح سمجھتے نہیں کہ انہیں کوئی فائدہ پہنچے۔ پس وہ بہرے ہیں، حق کو سمجھنے اور قبول کرنے کے لیے سننے سے قاصر ہیں۔ وہ اندھے ہیں عبرت کی نظر سے دیکھ نہیں سکتے اور گونگے ہیں اس لیے حق کے اندر ان کے لیے جو خیر ہے اس کے بارے میں بولتے نہیں۔ اور وہ سبب جو اس تمام فساد کا موجب ہے یہ ہے کہ وہ عقل سلیم سے محروم ہیں، بلکہ وہ سب سے بڑے احمق اور سب سے بڑے جاہل ہیں۔ کیا عقل مند شخص اس بارے میں کوئی شک کرسکتا ہے کہ جس شخص کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا جائے، فساد سے روکا جائے، عذاب میں گھسنے سے منع کیا جائے اور اسے اس چیز کا حکم دیا جائے جس میں اس کی بھلائی، فوز و فلاح اور نعمت ہے اور وہ اپنے خیر خواہ کا حکم ماننے سے انکار کر دے، اپنے رب کے حکم سے پیٹھ پھیر لے، دیکھتے بوجھتے آگ میں جا گھسے اور حق کو چھوڑ کر باطل کی پیروی کرے۔ یقیناً یہ شخص ایسا ہے کہ اس میں ذرہ بھر عقل نہیں۔ اگر وہ عیاری، دھوکہ اور فریب کو اپنی صفت بنا لے تو یہ شخص سب سے بڑا احمق ہے۔ البقرة
172 عام حکم دینے کے بعد یہ اہل ایمان کے لیے خاص حکم ہے اور یہ اس لیے کہ وہی درحقیقت اپنے ایمان کے سبب سے اوامرو نواہی سے مستفید ہونے والے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک رزق کھانے کا اور اللہ کے اس انعام پر اس کا شکر کرنے کا حکم دیا کہ وہ اس رزق کو اس کی اطاعت میں ان امور میں مدد لینے کے لیے استعمال کرتے ہیں جو انہیں اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی چیز کا حکم دیا ہے جس چیز کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے فرمایا : ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ﴾ (المومنون :51؍23) ” اے رسولو ! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو۔“ پس اس آیت کریمہ میں شکر سے مراد عمل صالح ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے لفظ (حلال) استعمال نہیں فرمایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ضرر رساں چیزوں کو چھوڑ کر خالص پاکیزہ رزق کو اہل ایمان کے لیے مباح کیا ہے، نیز ایمان مومن کو وہ چیز تناول کرنے سے روک دیتا ہے جو اس کے لیے نہیں ہے۔ فرمایا : ﴿ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ﴾” اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو“ تو اس کا شکر کرو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کا شکر نہ کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کی۔ جیسے جس نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور وہ اس کا حکم بجا لایا۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ پاکیزہ رزق کھانا اعمال صالحہ اور ان کی قبولیت کا سبب ہے۔ نعمتوں کے ذکر کے بعد شکر بجا لانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ شکر موجود نعمتوں کی حفاظت کرتا ہے اور غیر موجود نعمتوں کے حصول کا باعث بنتا ہے جیسے کفر غیر موجود نعمتوں کو مزید دور کرتا ہے اور موجود نعمتوں کو زائل کرتا ہے۔ البقرة
173 جب اللہ تعالیٰ نے طیبات کی اباحت کا ذکر فرمایا تو خبائث کی تحریم کا ذکر بھی فرما دیا، چنانچہ فرمایا : ﴿اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ﴾” اللہ نے تم پر صرف مردار حرام کیا‘‘ مردار سے مراد وہ جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر مر جائے اور اس کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ مردار ناپاک اور خراب ہونے کی بنا پر ضرر رساں ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر مردار کسی بیماری سے مرتا ہے۔ پس وہ مرض میں اضافے ہی کا باعث ہوتا ہے۔ مردار کی حرمت کی عمومیت سے ٹڈی اور مچھلی مستثنیٰ ہیں۔ یہ دونوں مردہ ہونے کی صورت میں بھی حلال اور طیب ہیں﴿ وَ الدَّمَ﴾ ”اور خون“ یعنی بہتا ہوا خون اور یہ قید ایک اور آیت سے ثابت ہے (ملاحظہ کیجئے ! سورۃ الانعام : ٦؍١٤٥): (مترجم) ﴿ وَمَآ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ﴾ ” اور جو غیر اللہ کے لیے ذبح کیا گیا ہو۔“ مثلاً وہ جانور جو بتوں، استھانوں، پتھروں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیے گئے ہوں اور یہ مذکورہ انواع محرمات کے لیے خاص نہیں، بلکہ ان کو ان خبائث کی اجناس کے بیان کے لیے ذکر کیا گیا ہے جن کی حرمت پر ” طیبات“ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے۔ پس محرمات کی عمومیت گزشتہ آیت میں لفظ (حَلَالًا طَيِّبًا) سے مستفید ہوتی ہے، جیسا کہ پہلے گزرا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے اور ان کے ضرر سے بچانے کے لیے یہ چیزیں ہم پر حرام ٹھہرائی ہیں۔ اس کے باوجود یہ بھی فرما دیا : ﴿ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ﴾” جو کوئی ناچار ہوجائے۔“ یعنی جو کوئی بھوک، موت کے خوف یا جبرواکراہ کے باعث ان مذکورہ محرمات کو کھانے پر مجبور ہوجائے۔ ﴿ غَیْرَ بَاغٍ﴾ ” نہ سرکشی کرنے والا ہو“ یعنی سخت بھوکا نہ ہونے اور حلال کھانے پر قدرت رکھنے کے باوجود وہ حرام کھانے کا طلبگار نہ ہو۔ ﴿ وَّلَا عَادٍ ﴾” اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا ہو“ یعنی اضطراری حالت میں جتنی مقدار میں اس کے لیے یہ حرام کھانا جائز ہے اس مقدار سے تجاوز نہ کرے۔ ﴿ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ۭ﴾” تو اس پر کوئی گناہ نہیں“ یعنی اضطراری حالت میں یہ محرمات تناول کرنے میں اس پر کوئی گناہ نہیں اور جب گناہ اٹھ گیا تو معاملہ اسی (اباحت اصلی کی) حالت پر چلا گیا جو کہ تحریم سے پہلے تھی۔ انسان اس اضطراری حالت میں حرام کھانے پر مامور ہے۔ بلکہ اسے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے اور اپنے آپ کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے، تب اس پر حرام کھانا فرض ہے۔ اگر وہ اضطراری حالت میں حرام نہیں کھاتا اور مر جاتا ہے تو گناہ گار اور خودکشی کا مرتکب ہوگا۔ یہ اباحت اور وسعت اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کا اختتام اپنے ان دو اسمائے گرامی کے ساتھ کیا ہے جو غایت درجہ تک اس مضمون کے ساتھ مناسب رکھتے ہیں، چنانچہ فرمایا ﴿اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾” بے شک اللہ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ چونکہ ان کی حلت ان دو شرائط کے ساتھ مشروط ہے اور اس حالت میں انسان بسا اوقات اچھی طرح تحقیق کرنے سے قاصر رہتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ بخشنے والا ہے۔ پس اگر اس حالت میں اس سے خطا سر زد ہوجائے تو وہ بخش دے گا، خاص طور پر اس حالت میں جب کہ اس پر ضرورت غالب آجائے اور مشقت اس کے حواس کو مضمحل کر دے۔ اس آیت کریمہ میں مشہور فقہی قاعدہ( اَلضَّرُوْرَاتُ تُبِیْحُ اْلمَحْظُوْرَات)” ضرورت حرام کو مباح کردیتی ہے“ کی دلیل ہے۔ پس ہر حرام چیز، جس کے استعمال کرنے پر انسان مجبور ہوجائے تو اس رحم کرنے والے مالک نے اس کے لیے اسے جائز ٹھہرا دیا ہے۔ پس اول و آخر اور ظاہری و باطنی طور پر ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر کی مستحق صرف اسی کی ذات اقدس ہے۔ البقرة
174 اللہ تعالیٰ نے جو علم اپنے رسولوں پر نازل فرمایا اور لوگوں پر اس علم کو واضح کرنے اور اس کو نہ چھپانے کا اہل علم سے وعدہ لیا۔ اس علم کو جو لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس میں ان کو سخت وعید سنائی ہے۔ پس جو لوگ اس علم کے عوض دنیاوی مال و متاع سمیٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیتے ہیں۔ انہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ مَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہِمْ اِلَّا النَّارَ﴾ ” یہ اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں“ کیونکہ یہ قیمت جو انہوں نے (آیات الٰہی کے عوض) کمائی ہے یہ انہیں بدترین اور انتہائی حرام طریقے سے حاصل ہوئی ہے، لہٰذا ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہوگی۔ ﴿ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ﴾” اور قیامت کے دن اللہ ان سے کلام نہیں فرمائے گا۔“ بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوگا اور ان سے منہ پھیر لے گا۔ پس یہ چیز ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہوگی۔ ﴿ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ ښ﴾ ” اور نہ ان کو پاک کرے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اخلاق رذیلہ سے پاک نہیں کرے گا اس لیے کہ ان کے اعمال ایسے نہیں ہوں گے جو مدح، رضائے الٰہی اور جزا کے قابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس لیے پاک نہیں کرے گا، کیونکہ انہوں نے عدم تزکیہ کے اسباب اختیار کیے۔ تزکیہ کا سبب سے بڑا سبب کتاب اللہ پر عمل کرنا، اس کو راہنما بنانا اور اس کی طرف دعوت دینا ہے۔ پس انہوں نے کتاب اللہ کو دور پھینک دیا، اس سے روگردانی کی، ہدایت کو چھوڑ کر گمرایہ اور مغفرت کو چھوڑ کر عذاب کو اختیار کیا۔ پس یہ لوگ جہنم ہی کے قابل ہیں۔ یہ جہنم کی آگ پر کیسے صبر کریں گے اور اس کی آگ کو کیسے برداشت کرسکیں گے؟ البقرة
175 البقرة
176 ﴿ ذٰلِكَ﴾ یعنی یہ اللہ کا عدل و انصاف پر مبنی بدلہ اور اس کا اسباب ہدایت سے انہیں محروم رکھنا، جنہوں نے انہیں اختیار کرنے سے انکار کیا اور ان کے سوا دوسرے اسباب اختیار کیے۔ ﴿ بِاَنَّ اللّٰہَ نَزَّلَ الْکِتٰبَ بِالْحَـقِّ ۭ ﴾” اس لیے ہے کہ اللہ نے کتاب کو حق کے ساتھ اتارا‘‘ اور حق میں سے ہی یہ بات بھی ہے کہ نیک کام کرنے والے کو اس کی نیکیوں کا اور برا کام کرنے والے کو اس کی برائیوں کا بدلہ دیا جائے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ نَزَّلَ الْکِتٰبَ بِالْحَـقِّ ۭ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید مخلوق کی ہدایت، باطل میں سے حق کو اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے، اس لیے جس نے اس کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے اس کی پاداش میں بڑی سے بڑی سزا دی جائے۔ فرمایا : ﴿ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْکِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۢ بَعِیْدٍ﴾ ” جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ دور کی دشمنی میں ہیں۔“ یعنی وہ لوگ جنہوں نے کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف کیا اور اس کے کسی حصے پر ایمان لائے اور کسی حصے کا انکار کیا اور وہ لوگ جنہوں نے اپنی مراد اور اپنی خواہشات کے مطابق اس میں تحریف کی اور اس کے اصل معانی سے ہٹا دیا ﴿ لَفِیْ شِقَاقٍۢ﴾یعنی وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں ﴿ بَعِیْدٍ ﴾جو حق سے بہت دور ہے۔ اس لیے کہ انہوں نے کتاب اللہ کی مخالفت کی، جو حق لے کر آیا ہے جو اتفاق اور عدم تناقض کا موجب ہے۔ پس ان کا معاملہ خراب ہوگیا، ان کی مخالفت اور دشمنی بڑھ گئی اور اس کے نتیجے میں ان میں افتراق پیدا ہوگیا۔ اس کے برعکس وہ اہل کتاب جو کتاب اللہ پر ایمان لائے اور تمام معاملات میں اسے حکم تسلیم کیا، پس ان میں اتفاق ہوگیا اور یہ لوگ محبت اور کتاب اللہ پر اجتماع کی وجہ سے بلندیوں پر پہنچ گئے۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے لیے جو اس چیز کو چھپاتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور کتاب اللہ پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں، سخت ناراضی اور عذاب کی وعید کو متضمن ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق اور مغفرت کے ذریعے سے پاک نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا ہے جو ان کے ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دینے کا باعث بنا اور اس پر یہ امر مترتب ہوا کہ انہوں نے مغفرت کو چھوڑ کر عذاب کو اختیار کرلیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر پر دکھ کا اظہار کیا کہ وہ جہنم کی آگ برداشت کرنے پر کس قدر صابر ہیں؟ جس میں وہ ان اسباب کی بنا پر داخل ہوئے جن کے بارے میں انہیں خوب علم تھا کہ یہ جہنم میں لے جاتے ہیں۔ یہ آیت اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ کتاب اللہ تمام تر حق پر مشتمل ہے جو اتفاق اور عدم افتراق کا موجب ہے، نیز ہر وہ شخص جو کتاب اللہ کی مخالفت کرتا ہے وہ حق سے بہت دور ہے اور وہ نزاع اور مخاصمت میں مبتلا ہے۔ واللہ اعلم۔ البقرة
177 ﴿ لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ﴾” نیکی یہ نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرلو‘‘ یعنی یہ وہ نیکی نہیں ہے جو بندوں سے مطلوب ہے جس کے بارے میں اس کثرت سے بحث و مباحثہ کی مشقت برداشت کی جائے جس سے سوائے دشمنی اور مخالفت کے کچھ اور جنم نہیں لیتا۔ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کی نظیر ہے جس میں آپ نے فرمایا : (ليسَ الشَّدِيدُ بالصُّرَعَةِ، إنَّما الشَّدِيدُ الذي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الغَضَبِ) [صحيح البخاري، كتاب الادب، باب الحذر من الغضب، حديث: 6114] ” طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں طاقتور ہے، بلکہ حقیقی طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھتا ہے۔“ ﴿ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ﴾ ”لیکن نیکی تو یہ ہے جو ایمان لایا اللہ پر“ یعنی وہ اس بات پر ایمان لایا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے، وہ صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک اور منزہ ہے۔ ﴿ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾” اور آخرت کے دن پر“ یعنی وہ ان تمام باتوں پر ایمان رکھتا ہے جو انسان کو موت کے بعد پیش آئیں گی جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی ہے۔ ﴿ وَالْمَلٰۗیِٕکَۃِ﴾” اور فرشتوں پر“۔ فرشتے وہ ہستیاں ہیں جن کی بابت اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کیا ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔ ﴿ وَالْکِتٰبِ﴾ ” اور کتاب پر“ اس سے مراد جنس ہے، یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان لاتا ہے جو اللہ نے اپنے رسولوں پر نازل فرمائی ہیں۔ ان میں سب سے عظیم کتاب قرآن مجید ہے۔ پس وہ ان تمام اخبار و احکام پر ایمان لاتا ہے جن پر یہ کتابیں مشتمل ہیں۔ ﴿وَالنَّبِیّٖنَ ۚ﴾” اور پیغمبروں پر“ یعنی وہ تمام انبیاء علیہم السلام پر عام طور پر اور ان میں سب سے افضل اور خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خاص طور پر ایمان لاتا ہے۔ ﴿ وَاٰتَی الْمَالَ ﴾” اور دیتا ہے وہ مال“ مال کے زمرے میں ہر وہ چیز آتی ہے جو مال کے طور پر انسان اپنے لیے جمع کرتا ہے۔ خواہ یہ کم ہو یا زیادہ۔ ﴿ عَلٰی حُبِّہٖ﴾ اس کی محبت کے باوجود“ (حُبّہ) میں ضمیر کا مرجمع مال ہے۔ یعنی وہ مال کی محبت رکھنے کے باوجود مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں یہ بھی واضح فرمایا کہ مال نفوس انسانی کو بہت محبوب ہوتا ہے۔ بندہ اسے مشکل ہی سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے اس لیے جو کوئی اس مال سے محبت کے باوجود اس کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطرخرچ کرتا ہے تو یہ اس کے ایمان کی بہت بڑی دلیل ہے۔ مال سے محبت کے باوجود اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ بندہ اس حال میں مال خرچ کرے کہ وہ صحت مند ہو، مال کا حریص ہو، فراخی کی امید رکھتا ہو اور محتاجی سے ڈرتا ہو۔ اسی طرح اگر قلیل مال میں سے صدقہ نکالا جائے تو یہ افضل ہے کیونکہ بندے کی یہی وہ حالت ہے جب وہ مال کو اس وہم سے روکے رکھنا پسند کرتا ہے کہ کہیں وہ محتاج نہ ہوجائے۔ اسی طرح جب مال نفیس ہو اور وہ اس مال سے محبت کرتا ہو اور پھر بھی وہ اس مال کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :﴿ لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ ﴾(آل عمران: 92؍3 )” تم اس وقت تک نیکی حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ نہ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو۔“ پس یہ سب وہ لوگ ہیں جو مال سے محبت رکھنے کے باوجود اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جن پر مال خرچ کیا جانا چاہئے۔ یہی لوگ تیری نیکی اور تیرے احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ ﴿ ذَوِی الْقُرْبٰی﴾” رشتے داروں کو“ ان قریبی رشتہ داروں پر جن کے مصائب پر تو تکلیف اور ان کی خوشی پر خوشی محسوس کرے جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور دیت ادا کرنے میں شریک ہوتے ہیں۔ پس بہترین نیکی یہ ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ ان کے قرب اور ان کی حاجت کے مطابق مالی اور قولی احسان سے پیش آیا جائے۔ ﴿ وَالْیَـتٰمٰی﴾” اور یتیموں کو“ ان یتیموں پر جن کا کوئی کمانے والا نہ ہو اور نہ خود ان میں اتنی قوت ہو کہ وہ کما کر مستغنی ہوجائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عظیم رحمت ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتناباپ اپنی اولاد پر ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو وصیت کی ہے اور ان پر ان کے اموال میں فرض قرار دیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ احسان اور بھلائی سے پیش آئیں حتی کہ وہ یوں محسوس کریں کہ گویا ان کے والدین فوت ہی نہیں ہوئے، کیونکہ عمل کا بدلہ عمل کی جنس ہی سے ہوتا ہے جو کسی دوسرے کے یتیم پر رحم کرتا ہے تو اس کے یتیم کے سر پر بھی دست شفقت رکھا جاتا ہے۔ ﴿ وَالْمَسٰکِیْنَ﴾” اور مسکینوں کو“ مساکین وہ لوگ ہیں جن کو حاجت نے بے دست و پا اور فقر نے ذلیل کردیا ہو۔ پس مال دار لوگوں پر ان کا اتنا حق ہے جس سے ان کی مسکینی دور ہوجائے یا کم از کم اس میں کمی ہوجائے۔ مال دار لوگ اپنی استطاعت کے مطابق اور جو کچھ ان کو میسر ہے (اس سے ان کی مدد کریں) ﴿ وَابْنَ السَّبِیْلِ ۙ﴾” اور مسافر کو“ یہ اس اجنبی کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسرے شہر میں ہو اور وہ اپنے شہر سے کٹ کر رہ گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اجنبی مسافر کو اتنا مال عطا کریں جو سفر میں اس کا مددگار ہو۔ اس گمان پر کہ وہ حاجت مند ہے اور اس کے سفر کے مصارف بہت زیادہ ہیں۔ پس اس شخص پر جسے اللہ تعالیٰ نے وطن سے اور اس کی راحت سے نوازا ہے اور اسے نعمتیں عطا کی ہیں، فرض ہے کہ وہ اپنے اس قسم کے غریب الوطن بھائی پر اپنی استطاعت کے مطابق ترس کھائے خواہ اسے زاد راہ عطا کر دے، یا سفر کا کوئی آلہ (سواری وغیرہ) دے دے، یا اس کو پہنچنے والے مظالم وغیرہ کا ازالہ کر دے۔ ﴿ وَالسَّاۗیِٕلِیْنَ﴾” اور مانگنے والوں کو“ سائلین وہ لوگ ہیں جن پر کوئی ایسی ضرورت آن پڑے جو ان کو سوال کرنے پر مجبور کر دے، مثلاً ایسا شخص جو کسی دیت کی ادائیگی میں مبتلا ہوگیا ہو یا حکومت کی طرف سے اس پر کوئی جرمانہ عائد کردیا گیا ہو یا وہ مصالح عامہ کے لیے کوئی عمارت، مثلاً مسجد، مدرسہ اور پل وغیرہ تعمیر کروا رہا ہو۔ اس حوالے سے سوال کرنا اس کا حق ہے خواہ وہ مال دار ہی کیوں نہ ہو۔﴿ وَفِي الرِّقَابِ﴾” اور گردونوں کے آزاد کرنے میں“ غلاموں کو آزاد کرنا اور آزادی پر اعانت کرنا، مکاتب کو آزادی کے لیے مالی مدد دینا، تاکہ وہ اپنے مالک کو ادائیگی کرسکے۔ جنگی قیدی جو کفار یا ظالموں کی قید میں ہوں۔ سب اس مد میں شامل ہیں۔ ﴿ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ ﴾” اور قائم کرے وہ نماز اور ادا کرے زکوٰۃ“ گزشتہ صفحات میں متعدد بار گزر چکا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کے سب سے افضل عبادت ہونے، تقرب الٰہی کا کامل ترین ذریعہ ہونے، اور قلبی، بدنی اور مالی عبادت ہونے کی بنا پر ان دونوں کو ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ نماز اور زکوٰۃ ہی کے ذریعے سے ایمان کا وزن ہوتا ہے اور انہیں سے معلوم کیا جاتا ہے کہ صاحب ایمان کتنے یقین کا مالک ہے۔ ﴿ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ۚ ﴾ ”اور وہ اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہیں جب وہ عہد کرلیں“ اللہ تعالیٰ یا خود بندے کی طرف سے لازم کیے ہوئے امر کا التزام کرنا عہد کہلاتا ہے۔ پس تمام حقوق اللہ اس میں داخل ہوجاتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ان کو لازم قرار دیا ہے اور وہ اس التزام کو قبول کر کے اس عہد میں داخل ہوگئے اور ان کا ادا کرنا ان پر فرض قرار پایا۔ نیز اس عہد میں وہ حقوق العباد بھی داخل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیا ہے اور اس میں وہ حقوق بھی شامل ہیں جن کو بندے اپنے آپ پر لازم قرار دے لیتے ہیں، مثلاً قسم اور نذر وغیرہ۔ ﴿ وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَاۗءِ ﴾” اور صبر کرنے والے ہیں وہ سختی میں“ یعنی فقر اور محتاجی میں صبر کرتے ہیں، کیونکہ محتاج شخص بہت سے پہلوؤں سے صبر کا محتاج ہوتا ہے۔ وہ دائمی طور پر ایسی قلبی اور بدنی تکالیف میں مبتلا ہوتا ہے جس میں کوئی اور شخص مبتلا نہیں ہوتا۔ اگر مال دار دنیاوی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہیں، تو فقیر آدمی ان نعمتوں سے استفادے پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے رنج و الم میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جب وہ اور اس کے اہل و عیال بھوک کا شکار ہوتے ہیں تو اسے دکھ ہوتا ہے جب وہ کوئی ایسا کھانا کھاتا ہے جو اس کی چاہت کے مطابق نہ ہو، تب بھی اسے تکلیف پہنچتی ہے۔ اگر وہ عریاں ہوتا ہے یا عریانی کی حالت کے قریب پہنچ جاتا ہے تو دکھ محسوس کرتا ہے۔ جب وہ اپنے سامنے کی یا مستقبل میں متوقع کسی چیز کو دیکھتا ہے، تو غم زدہ ہوجاتا ہے۔ اگر وہ سردی محسوس کرتا ہے جس سے بچنے پر وہ قادر نہیں ہوتا، تو اسے تکلیف پہنچتی ہے۔ پس یہ تمام چیزیں مصائب کے زمرے میں آتی ہیں جن پر صبر کرنے کا اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ﴿ وَالضَّرَّاۗءِ ﴾” اور تکلیف میں“ یعنی مختلف قسم کے امراض مثلاً بخار، زخم، ریح کا درد، کسی عضو میں درد کا ہونا حتی کہ دانت اور انگلی کا درد وغیرہ، ان تمام تکالیف میں بندہ صبر کا محتاج ہے، کیونکہ نفس کمزور ہوتا ہے اور بدن درد محسوس کرتا ہے اور یہ مرحلہ نفس انسانی کے لیے نہایت مشقت آزما ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب بیماری طول پکڑ جائے۔ پس اسے حکم ہے کہ وہ صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھے۔ ﴿ وَحِیْنَ الْبَاْسِ ۭ﴾” اور لڑائی کے وقت“ یعنی ان دشمنوں سے لڑائی کے وقت جن سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ صبر و استقلال سے جواں مردی کا مظاہرہ نفس انسانی کے لیے نہایت گراں بار ہے اور انسان قتل ہونے، زخمی ہنے یا قید ہونے سے بہت گھبراتا ہے۔ پس وہ اس صورت میں اللہ تعالیٰ پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے صبر کرنے کا سخت محتاج ہے جس کی طرف سے فتح و نصرت ہوتی ہے جس کا وعدہ اس نے صبر کرنے والوں کے ساتھ کر رکھا ہے﴿ اُولٰۗئِکَ﴾” یہی“ یعنی جو ان عقائد حسنہ اور اعمال صالحہ سے متصف ہیں جو ایمان کے آثار، اس کی برہان اور اس کا نور ہیں اور ان اخلاق کے مالک ہیں جو انسان کا حسن و جمال اور انسانیت کی حقیقت ہے۔ ﴿ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا ۭ ﴾” جو سچے ہیں۔“ یعنی یہی لوگ اپنے ایمان میں سچے ہیں، کیونکہ ان کے اعمال ان کے ایمان کی تصدیق کرتے ہیں۔ ﴿ وَ اُولٰۗئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ﴾” اور یہی لوگ متقی ہیں“ کیونکہ انہوں نے محظورات کو ترک کردیا اور مامورات پر عمل کیا، اس لیے کہ یہ امور تمام اچھی خصلتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتے ہیں، چاہے ضمناً یا لزوماً، کیونکہ ایفائے عہد میں پورا دین ہی آجاتا ہے۔ علاوہ ازیں اس آیت میں جن عبادات کی صراحت ہے، وہ سب عبادات سے اہم اور بڑی ہیں اور جو ان عبادات کا التزام کرتا ہے وہ دیگر امور کو زیادہ آسانی سے سر انجام دے سکتا ہے۔ پس یہی لوگ نیک، سچے اور متقی ہیں۔ ان تین امور پر اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی اور اخروی ثواب مرتب کیا ہے وہ سب کو معلوم ہے جس کی تفصیل اس مقام پر ممکن نہیں۔ البقرة
178 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے مقتولین کے بارے میں قصاص، یعنی اس میں مساوات کو فرض کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ قاتل کو مقتول کے بدلے میں اس طریقے سے قتل کیا جائے جس طریقے سے اس نے مقتول کو قتل کیا تھا، یہ بندوں کے درمیان عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ اس خطاب کا رخ عام مومنوں کی طرف ہے، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اہل ایمان پر یہ فرض ہے حتیٰ کہ قاتل کے اولیاء اور خود قاتل پر بھی کہ جب مقتول کا ولی قصاص کا مطالبہ کرے اور قاتل سے قصاص لینا ممکن ہو تو مقتول کے ولی کی مدد کی جائے اور یہ کہ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس حد کے درمیان حائل ہوں اور مقتول کے وارث کو بدلہ لینے سے روکیں، جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کی عادت تھی یا ان جیسے دیگر لوگ جو مجرموں کو پناہ دیتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس قصاص کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ اَلْحُــرُّ بِالْحُــرِّ﴾ ” آزاد، بدلے آزاد کے“ الفاظ کے اعتبار سے اس میں مرد، بدلے مرد کے‘ کا مفہوم بھی شامل ہے۔ ﴿ وَالْاُنْـثٰی بِالْاُنْـثٰی ۭ﴾” عورت، بدلے عورت کے“ اس کا مطلب ہے مرد کے بدلے عورت اور عورت کے بدلے مرد۔ پس منطوق کلام، الانثی بالانثی کے مفہوم پر مقدم ہوگا، اس لیے کہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ مرد کو عورت کے بدلے قتل کیا جائے گا (اگر مرد عورت کا قاتل ہوگا) اس عموم سے والدین (اوپر تک) مستثنیٰ ہیں۔ لہٰذا بیٹے کے قتل کے قصاص میں والدین کو قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ استثناء سنت میں وارد ہوا ہے۔ نیز قصاص کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد دلالت کرتا ہے کہ بیٹے کے قتل کی پاداش میں باپ کو قتل کرنا انصاف نہیں نیز اس لیے کہ باپ کا دل اپنے بیٹے کے لیے رحم اور شفقت سے لبریز ہوتا ہے جو اسے بیٹے کو قتل کرنے سے روکتا ہے۔ سوائے اس صورت کے کہ باپ کے دماغ میں کوئی خلل ہو یا بیٹے کی طرف سے اسے نہایت سخت اذیت پہنچی ہو۔ سنت نبوی ہی کی رو سے اس عموم سے کافر بھی خارج ہے۔ نیز اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ یہ خطاب خاص طور پر اہل ایمان کے لیے ہے۔ نیز یہ قرین انصاف بھی نہیں کہ اللہ کے دشمن کے بدلے اللہ تعالیٰ کے دوست کو قتل کیا جائے اور غلام کے بدلے غلام کو قتل کیا جائے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور خواہ ان کی قیمت مختلف ہو یا برابر، مفہوم کلام یہ بھی دلالت کرتا ہے کہ آزاد کو غلام کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ غلام آزاد کے مساوی نہیں ہوتا۔ بعض اہل علم نے ( وَالْاُنْـثٰی بِالْاُنْـثٰی) کے مفہوم سے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت کے قصاص میں مرد کو قتل کرنا جائز نہیں اور اس کی وجہ گزشتہ سطور میں گزر چکی ہے (کہ یہ صحیح نہیں، کیونکہ یہ مفہوم حدیث کے خلاف ہے) اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اصل، قتل میں قصاص کا واجب ہونا ہے (یعنی قتل کے بدلے میں قتل ضروری ہے) اور دیت تو قصاص کا بدل ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْءٌ﴾” اگر اس (قاتل) کو اس کے (مقتول) بھائی سے کچھ معاف کردیا جائے۔“ یعنی اگر مقتول کا ولی قاتل کو معاف کر کے دیت قبول کرلے یا مقتول کے اولیاء میں سے کوئی شخص قاتل کو معاف کر دے تو اس صورت میں قصاص ساقط ہوجائے گا اور دیت واجب ہوجائے گی۔ قصاص میں اختیار ہوگا اور مقتول کا ولی قصاص کی بجائے دیت لے سکتا ہے۔ جب مقتول کا ولی قاتل کو معاف کر دے تب اس پر واجب ہے کہ وہ قاتل سے معروف طریقے سے خون بہا کا مطالبہ کرے ﴿ بِالْمَعْرُوْفِ﴾” معروف طریقے سے‘‘ یعنی ایسے طریقے سے کہا اس پر شاق نہ گزرے اور اتنا زیادہ مطالبہ نہ کرے جس کو ادا کرنے کی قاتل میں طاقت نہ ہو، بلکہ نہایت احسن طریقے سے قاتل سے دیت کا تقاضا کرے اور اسے تنگی میں مبتلا نہ کرے۔ ﴿ وَاَدَاۗءٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ ۭ﴾” اور احسان کے ساتھ اسے ادا کرنا چاہئے۔“ یعنی قاتل پر واجب ہے کہ وہ ٹال مٹول، خون بہا میں کمی اور قولی یا فعلی تکلیف پہنچائے بغیر، بھلے طریقے سے دیت ادا کرے۔ معاف کردینے کے احسان کا بدلہ یہ ہے کہ خون بہا کو احسن طریقے سے ادا کیا جائے۔ انسان پر لوگوں کی جو ذمہ داریاں واجب ہیں ان میں یہی اصول مامور بہ ہے کہ جس نے کسی سے اپنا حق لینا ہے، وہ اس امر پر مامور ہے کہ وہ معروف طریقے سے حق کا مطالبہ کرے اور جس کے ذمے حق ہے وہ اسے بھلے طریقے سے ادا کرے۔ ﴿ فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْءٌ﴾ میں نرمی اختیار کرنے اور قصاص معاف کر کے دیت قبول کرنے کی ترغیب ہے۔ اس سے بھی زیادہ احسن بات یہ ہے کہ کچھ لیے بغیر ہی قاتل کو معاف کردیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (أخِیْہِ) اس بات کی دلیل ہے کہ قاتل کی تکفیر نہ کی جائے، کیونکہ یہاں ” اخوت“ سے مراد اخوت ایمانی ہے۔ پس قتل کے ارتکاب سے قاتل دائرہ ایمان سے خارج نہیں ہوگا۔ جب بات یہ ہے تو دیگر معاصی کا مرتکب، جو کفر سے کم تر ہیں، بطریق اولیٰ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا البتہ اس سے اس کے ایمان میں کمی ضرور واقع ہوگی۔ اور جب مقتول کے اولیا یا ان میں سے کوئی ایک قاتل کو معاف کردیں تو قاتل کا خون محفوظ ہوجاتا ہے اور وہ مقتول کے اولیاء یا دیگر لوگوں کے قصاص لینے سے بچ جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ﴾ ” اگر کوئی اس کے بعد زیادتی کرتا ہے“ یعنی معاف کردینے کے بعد اگر کوئی شخص زیادتی کرتا ہے ﴿ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾ تو (آخرت میں) اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ “ رہا اس کو قتل کرنا یا نہ قتل کرنا تو یہ حکم گزشتہ آیت سے اخذ کیا جائے گا اور چونکہ (معاف کرنے کے بعد) اس نے قاتل کو محض بدلہ لینے کے لیے قتل کیا ہے، لہٰذا اس کے قصاص میں اسے قتل کیا جائے گا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ﴿ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾ کی تفسیر ” قتل“ کی ہے۔ نیز ان کا موقف ہے کہ یہ آیت اس قاتل کا قتل متعین کرتی ہے اور اس کو معاف کرنا جائز نہیں۔ تو بعض اہل علم اس کے قائل ہیں۔ لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، کیونکہ اس کا جرم دوسرے شخص کے جرم سے زیادہ نہیں ہے۔ البقرة
179 پھر اللہ تعالیٰ قصاص کی مشروعیت میں پنہاں عظیم حکمت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿ وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ﴾ ” اور تمہارے لیے قصاص میں زندگانی ہے۔“ یعنی قصاص کے قانون سے خون محفوظ ہوجاتے ہیں اور شقی القلب لوگوں کا قلع قمع ہوجاتا ہے، کیونکہ جب قاتل کو معلوم ہوگا کہ قتل کے بدلے اس کو قتل کردیا جائے گا تو اس سے قتل کا ارتکاب ہونا مشکل ہے اور جب دوسرے لوگ مقتول کے قصاص میں قاتل کو قتل ہوتا دیکھیں گے تو دوسرے لوگ خوفزدہ ہو کر عبرت پکڑیں گے اور قتل کرنے سے باز رہیں گے۔ اگر قاتل کی سزا قصاص (قتل) کے سوا کچھ اور ہوتی تو اس سے شر (برائی) کا انسداد اس طرح نہ ہوتا جس طرح قتل کی سزا سے ہوتا ہے اور اسی طرح تمام شرعی حدود ہیں کہ ان سب میں عبرت پذیری اور انسداد شر کے ایسے پہلو ہیں جو اس اللہ تعالیٰ کی حکمت پر دلالت کرتے ہیں، جو نہایت دانا اور بڑابخشنے والا ہے۔ ﴿ حَیٰوۃٌ﴾ کونکرہ استعمال کرنا تکثیر اور تعظیم کے لیے ہے اور چونکہ اس حکم کی حقیقت کو صرف لوگ جان سکتے ہیں جو عقل کامل کے مالک ہیں اس لیے دیگر لوگوں کی بجائے انہی لوگوں کو خاص طور پر مخاطب کیا گیا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس کے احکام میں پوشیدہ حکمتوں، اس کے کمال پر دلالت کرنے والی مصلحتوں، اس کی کامل حمد و حکمت اور عدل و رحمت واسعہ میں تدبر کے لیے اپنی عقل و فکر کو استعمال میں لائیں اور جو کوئی یہ عمل کرتا ہے وہ اس مدح کا مستحق ہے کہ وہ ان عقل مند لوگوں میں سے ہے جن کو اس خطاب میں مخاطب کیا گیا ہے اور جن کو رب ارباب نے پکارا ہے۔ سوچنے سمجھنے والے لوگوں کے لیے یہی فضیلت اور شرف کافی ہے۔ فرمایا :﴿لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ تاکہ تم متقی بن جاؤ“ اور یہ تقویٰ اس طرح حاصل ہوتا ہے کہ جو شخص اپنے رب کو اور اس کے دین و شریعت کے بڑے بڑے اسرار، انوکھی حکمتوں اور بلند مرتبہ نشانیوں کو پہچان لیتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے، اس کی نافرمانیوں کو بہت بڑی چیز سمجھتے ہوئے انہیں ترک کر دے۔ تب وہ اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اسے اہل تقویٰ میں شمار کیا جائے۔ البقرة
180 یعنی اے مومنوں کے گروہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آجائے، یعنی جب موت کے اسباب، مثلاً مہلک مرض اور دیگر ہلاکت خیز اسباب قریب آجائیں تو اللہ تعالیٰ نے تم پر (وصیت) فرض کی ہے۔ ﴿ اِنْ تَرَکَ خَیْرَۨا ښ﴾ ” اگر اس نے مال چھوڑا ہو“ (خیر) عرف میں مال کثیر کو کہا جاتا ہے، پس اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے والدین اور ان لوگوں کے لیے جو سب سے زیادہ اس کی نیکی کے مستحق ہیں اپنے حال اور طاقت کے مطابق بغیر کسی اسراف کے، وصیت کرے۔ علاوہ ازیں قریبی رشتہ داروں کو چھوڑ کر صرف دور کے رشتہ داروں کے لیے ہی وصیت نہ کرے، بلکہ وصیت کو ضرورت اور قرابت مندی کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دے، اسی لیے اسم تفضیل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ (یعنی اقربین جس کا مطلب یہ ہے کہ جو جتنا زیادہ قریب ہے، وہ اتنا ہی زیادہ تمہارے مال میں استحقاق رکھتا ہے) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿’ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ﴾ ’ ’یہ حکم لازم ہے پرہیزگاروں پر“ وصیت کے واجب ہونے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ وہ حق ثابت ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے موجبات تقویٰ میں شمار کیا ہے۔ جان لیجیے کہ جمہور مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس آیت کو میراث کی آیت نے منسوخ کردیا ہے اور بعض کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں وصیت کا حکم والدین اور غیر وارث رشتہ داروں کے لیے ہے حالانکہ ایسی کوئی دلیل نہیں جو اس تخصیص پر دلالت کرتی ہو۔ اس ضمن میں بہترین رائے یہ ہے کہ یہ وصیت مجمل طور پر والدین اور قریبی رشتے داروں کے لیے ہے، پھر اس کو اللہ تعالیٰ نے عرف جاری کی طرف لوٹا دیا۔ پھر اس اجمالی حکم کے بعد اللہ تعالیٰ نے وارث والدین اور وارث رشتہ داروں کے لیے اس معروف کو آیات میراث میں مقدر فرما دیا (یعنی ان کے حصوں کا تعین فرما دیا) اور وصیت کا حکم ان والدین اور رشتہ داروں کے لیے باقی رہ گیا جو وراثت سے محروم ہو رہے ہوں تو وصیت کرنے والا ان کے حق میں وصیت کرنے پر مامور ہے اور یہ لوگ اس کی نیکی کے سب سے زیادہ محتاج ہیں۔ اس قول پر تمام امت متفق ہوسکتی ہے اور اس سے سابقہ دونوں اقوال میں تطبیق بھی ہوجاتی ہے، کیونکہ دونوں فریقوں نے اس آیت کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھا اور اختلاف کا باعث بنے۔ اس تطبیق سے اتفاق اور دونوں آیات میں مطابقت حاصل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ دونوں آیتوں میں جمع و تطبیق ممکن ہے اور دو آیتوں کے درمیان تطبیق نسخ کے اس دعوے سے بہتر ہے جس کی تائید میں کوئی صحیح دلیل نہ ہو۔ البقرة
181 بسا اوقات وصیت کرنے والا اس وہم کی بنا پر وصیت کرنے سے گریز کرتا ہے کہ کہیں پسماندگان وصیت کو تبدیل نہ کردیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ فَمَنْۢ بَدَّلَہٗ ﴾” پس جو شخص اس (وصیت) کو بدل ڈالے۔“ یعنی جو کوئی اس وصیت کو بدلتا ہے جو ان مذکور لوگوں یا دیگر لوگوں کے حق میں کی گئی ہے۔ ﴿بَعْدَ مَا سَمِعَہٗ﴾” اس کو سننے کے بعد“ یعنی اس وصیت کو سمجھ لینے اور اس کے طریقوں اور اس کے نفاذ کو اچھی طرح جان لینے کے بعد جو کوئی اس کو تبدیل کرتا ہے ﴿ فَاِنَّمَآ اِثْمُہٗ عَلَی الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَہٗ ۭ﴾” تو اس کا گناہ صرف انہی لوگوں پر ہے جو انہیں تبدیل کرتے ہیں۔“ ورنہ وصیت کرنے والا تو اللہ تعالیٰ کے اجر کا مستحق ہوگیا۔ ﴿اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ﴾” بے شک اللہ سنتا ہے۔“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام آوازوں کو سنتا ہے۔ اسی طرح وہ وصیت کرنے والے کی بات اور وصیت کو بھی سنتا ہے۔ پس وہ اس ہستی کا خوف کھاتے ہوئے جو اسے دیکھ اور سن رہی ہے اپنی وصیت میں ظلم اور زیادتی کا ارتکاب نہ کرے۔ ﴿ عَلِیْمٌ﴾ٌ وہ وصیت کرنے والے کی نیت کو جانتا ہے اور اس شخص کے عمل کو بھی جس کو یہ وصیت کی گئی ہے۔ البقرة
182 جب وصیت کرنے والا پوری کوشش سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی نیت کو جانتا ہے تو اسے اپنی نیت کا ثواب ملتا ہے۔ خواہ اس سے خطاہی کیوں نہ واقع ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے تنبیہ ہے جس کو وصیت کی گئی ہو کہ وہ اس میں تبدیلی سے باز رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے، اس کے فعل سے وہ باخبر ہے۔ پس اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے۔ یہ تو تھا وصیت عادلہ کا حکم، رہی وہ وصیت جو ظلم اور گناہ کی بنیاد پر کی گئی ہو، تو وصیت کے وقت جو کوئی وصیت کرنے والے کے پاس موجود ہو اسے چاہئے کہ وہ اسے اس امر کی نصیحت کرے جو بہتر اور زیادہ قرین عدل ہو اور اسے ظلم کرنے سے روکے۔ (الَجنَف) سے مراد بغیر کسی ارادے کے غلطی سے وصیت میں ظلم کا ارتکاب کرنا اور (الاِثْمُ) سے مراد عمداً ظلم کرنا ہے۔ اگر اس نے وصیت کے وقت وصیت کرنے والے کو (غلط وصیت کرنے سے) نہیں روکا، تو اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ان لوگوں کے مابین صلح کروا دے جن کو وصیت کی گئی ہے۔ ان کی باہمی رضامندی اور مصالحت کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل و انصاف کا اہتمام کرے اور ان کو وعظ و نصیحت کرے کہ وہ اپنے مرنے والے کی ذمہ داری کو پورا کریں۔ باہمی صلح کروانے والے کا یہ فعل بہت بڑی نیکی ہے اور ان پر کوئی گناہ نہیں جیسے اس شخص کو گناہ ہوتا ہے جو جائز وصیت کو تبدیل کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمام لغزشوں کو معاف کردیتا ہے۔ اس شخص کی غلطیوں سے درگزر کرتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف لوٹتا ہے، وہ اس شخص کو بھی اپنی مغفرت سے نوازے گا جو اپنی ذات سے صرف نظر کر کے اپنا کچھ حق اپنے بھائی کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اس لیے کہ جو نرمی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ نرمی اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح وہ اس مرنے والے کو بھی بخش دینے والا ہے جو اپنی وصیت میں ظلم کا ارتکاب کر گیا ہے، بشرطیکہ اس کے ورثا اس کو بری الذمہ کرنے کی خاطر، اللہ کی رضا کے لیے آپس میں نرمی اور درگزر کا معاملہ اختیار کریں۔ ﴿ رَّحِیْمٌ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نہایت رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اس نے اپنے بندوں پر ہر معاملہ اس طرح مشروع کیا ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور نرمی سے معاملہ کریں۔ یہ آیات کریمہ وصیت کی ترغیب پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس امر پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ جس شخص کے لیے وصیت کی گئی ہے اس کو بیان کیا جائے اور ان میں اس شخص کے لیے سخت وعید ہے جو جائز وصیت میں تغیر و تبدل کا مرتکب ہوتا ہے اور ظلم پر مبنی وصیت میں اصلاح کرنے کی ترغیب ہے۔ البقرة
183 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر احسان فرماتے ہوئے ان پر روزے فرض کیے جس طرح اس نے پہلی امتوں پر روزے فرض کیے تھے، کیونکہ روزے کا تعلق ایسی شرائع اور اوامر سے ہے جو ہر زمانے میں مخلوق کی بھلائی پر مبنی ہیں۔ نیز روزے اس امت کو اس جرأت پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اعمال کی تکمیل اور خصائل حسنہ کی طرف سبقت کرنے میں دوسرے لوگوں سے مقابلہ کریں، نیز روزے بوجھل اعمال میں سے نہیں ہیں جن کا صرف تمہیں ہی بطور خاص حکم دیا گیا ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے روزے کی مشروعیت کی حکمت بیات کرتے ہوئے فرمایا : ﴿لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن﴾ ” تاکہ تم متقی بن جاؤ۔“ کیونکہ روزہ تقویٰ کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اس لیے کہ روزے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی کامل اطاعت اور اس کی نہی سے مکمل اجتناب ہے۔ پس یہ آیت کریمہ تقویٰ کے جن امور پر مشتمل ہے وہ یہ ہیں کہ روزہ دار کھانا پینا اور جماع وغیرہ اور ان تمام چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے جنہیں وقتی طور پر اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے حرام قرار دیا ہے اور جن کی طرف نفس کا میلان ہوتا ہے، لیکن وہ صرف تقریب الٰہی اور ثواب کی امید پر ان چیزوں کو ترک کردیتا ہے اور یہی تقویٰ ہے۔ روزے دار اپنے نفس کو یہ تربیت دیتا ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کی نگرانی میں ہے، چنانچہ وہ اپنی خواہشات نفس کو پورا کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود انہیں ترک کردیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ ان پر مطلع ہے۔ روزہ شیطان کی راہوں کو تنگ کردیتا ہے۔ شیطان ابن آدم کے اندر یوں گردش کرتا ہے جیسے اس کی رگوں میں خون گردش کرتا ہے۔ روزے کے ذریعے سے شیطان کا اثر و نفوذ کمزور پڑجاتا ہے اور گناہ کم ہوجاتے ہیں۔ غالب حالات میں روزہ دار کی نیکیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے اور نیکیاں تقویٰ کے خصائل میں شمار ہوتی ہیں۔ جب خوشحال روزہ دار بھوک کی تکلیف کا مزا چکھ لیتا ہے تو یہ چیز محتاجوں اور ناداروں کی غمگساری اور دستگیری کی موجب بنتی ہے اور یہ بھی تقویٰ کی ایک خصلت ہے۔ البقرة
184 چونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اہل ایمان پر روزے فرض کردیئے، اس لیے یہ بھی واضح کردیا جکہ یہ گنتی کے چند روزے ہیں۔ سہولت کی خاطر ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اور سہولت عطا کردی، چنانچہ فرمایا : ﴿ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَ یَّامٍ اُخَرَ ۭ ﴾” پس جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرلے۔“ چونکہ غالب طور پر مریض کو اور مسافر کو دوران سفر مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو روزہ چھوڑنے کی رخصت عطا کردی ہے۔ چونکہ روزے کی منفعت و مصلحت کا حصول ہر ممکن کا مطلوب و مقصود ہے۔ اس لیے مریض اور مسافر کو حکم دیا کہ جب مرض جاتا رہے اور سفر ختم ہوجائے اور انسان کو راحت حاصل ہوجائے تو چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا دیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَ یَّامٍ اُخَرَ ۭ ﴾میں اس بات کی دلیل ہے کہ رمضان کے دنوں کی گنتی کی قضا دی جائے خواہ رمضان پورا ہو یا ناقص۔ نیز اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ گرمیوں کے طویل دنوں کی قضا سردیوں کے چھوٹے دنوں میں دی جاسکتی ہے اور اس کے برعکس چھوٹے دنوں کی قضا بڑے دنوں میں دی جاسکتی ہے۔ ﴿ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ ﴾” اور ان لوگوں پر جو اس کی طاقت رکھتے ہوں۔“ یعنی جو روزے رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ روزہ نہ رکھیں، تو وہ ﴿فِدْيَةٌ﴾ فدیہ دیں ﴿ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ ۭ﴾” ایک مسکین کا کھانا۔“ یعنی ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ یہ حکم روزوں کے فرض ہونے کی ابتدا میں تھا چونکہ انہیں روزے رکھنے کی عادت نہیں تھی اور روزے ان پر فرض تھے، تاہم اس میں ان کے لیے مشقت تھی، اس لیے رب حکیم نے نہایت آسان طریقے کے ساتھ انہیں اس راستے پر لگایا اور روزے کی طاقت رکھنے والے کو اللہ نے اختیار دے دیا کہ چاہے تو روزہ رکھ لے اور چاہے تو ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔ مگر روزہ رکھنا افضل ہے۔ اسی لیے فرمایا : ﴿ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ﴾” اگر تم روزہ رکھو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔‘‘ اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر اس مسلمان پر روزہ رکھنا فرض کردیا جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو اور طاقت نہ رکھنے والے شخص کو روز چھوڑنے اور دوسرے دنوں میں اس کی قضا دینے کی رخصت دے دی اور بعض کہتے ہیں کہ ﴿ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ ﴾کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو بہت تکلیف سے روزہ رکھتے ہیں۔ یعنی وہ روزے کی مشقت کے متحمل نہیں، جیسے بہت بوڑھا وغیرہ تو وہ روزہ کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلائے اور یہی مسلک صحیح ہے۔ البقرة
185 ﴿ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ﴾” رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا۔‘‘ یعنی جو روزے تم پر فرض کیے ہیں وہ رمضان کے روزے ہیں، یہ ایک ایسا عظمت والا مہینہ ہے جس میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل حاصل ہوا، یعنی قرآن کریم جو تمہارے دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف رہنمائی پر مشتمل ہے۔ جو حق کو نہایت وضاحت سے بیان کرتا ہے اور جو حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی اور خوش بخت اور بدبخت لوگوں کے درمیان پرکھنے کی کسوٹی ہے۔ وہ مہینہ جس کی یہ فضیلت ہو جس میں تمام پر اللہ تعالیٰ کا اس قدر احسان اور فضل ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ وہ بندوں کے لیے نیکیوں کا مہینہ بنے اور اس کے اندر روزے فرض کیے جائیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کو روزوں کے لیے مقرر کردیا اور اس نے اس کی فضیلت اور روزوں کے لیے اس کو مختص کرنے کی حکمت کو واضح کردیا، تو فرمایا : ﴿ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ ۭ﴾” پس جو تم میں سے اس مہینے کو پا لے، تو وہ اس کے روزے رکھے“ اس آیت کریمہ میں یہ بات متعین کردی گئی کہ ہر صحت مند شخص جو سفر میں نہ ہو اور روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہو وہ رمضان کے روزے رکھے۔ چونکہ نسخ کا تعلق اس اختیار سے ہے جو خاص طور پر روزہ رکھنے اور فدیہ دینے کے درمیان دیا گیا تھا، اس لیے مریض اور مسافر کے لیے رخصت کو دوبارہ بیان کردیا گیا، تاکہ اس وہم کا ازالہ ہوجائے کہ مریض اور مسافر کے لیے بھی رخصت منسوخ ہوگئی ہے۔ پس فرمایا : ﴿یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ﴾ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے، تم پر سختی کرنا نہیں چاہتا“ یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ تم پر اپنی رضا کے راستے حد درجہ آسان کر دے۔ اس لیے ان تمام امور کو جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے، اصل میں حد درجہ آسان بنایا ہے اور جب کوئی ایسا عارضہ پیش آجائے جو ان کی ادائیگی کو مشکل اور بوجھل بنا دے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک اور طرح سے آسان کردیا۔ یا تو سرے سے اس فرض ہی کو ساقط کردیا یا ان میں مختلف قسم کی تحقیقات سے نواز دیا۔ یہ اس (آسانی) کا اجمالاً ذکر ہے۔ یہاں تفاصیل بیان کرنا ممکن نہیں، کیونکہ اس کی تفاصیل تمام شرعیات کا احاطہ کیے ہوئے ہیں اور ان شرعیات میں تمام رخصتیں اور تحقیقات شامل ہیں۔ ﴿ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ﴾’’اور تاکہ تم اس کی گنتی کو پورا کرو۔“ اس آیت کریمہ کا مقصد یہ ہے۔ واللہ اعلم کہ کوئی شخص اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ رمضان کے چند روزے رکھنے سے مقصود و مطلوب حاصل ہوسکتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں روزوں کی تکمیل کے حکم کے ذریعے سے اس وہم کا ازالہ کردیا گیا، نیز حکم دیا گیا کہ روزوں کے مکمل ہونے پر بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق، سہولت اور تبیین کا شکر ادا کیا جائے۔ رمضان کے اختتام اور روزوں کے پورے ہونے پر تکبیریں کہی جائیں۔ اس حکم میں وہ تمام تکبیریں شامل ہیں جو شوال کا چاند دیکھ کر خطبہ عید سے فراغت تک کہی جاتی ہیں۔ البقرة
186 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ’’کیا ہمارا رب قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی کے انداز میں مناجات کریں یا وہ دور ہے کہ ہم اسے پکاریں؟“ اس سوال کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ﴿ وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ۭ ﴾” اور جب تجھ سے میرے بندے میری بابت پوچھیں تو (ان کو بتلا دیں کہ) میں قریب ہوں“ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کی نگہبانی کرنے والا اور اسے دیکھنے والا ہے وہ ہر بھید اور ہر چھپی ہوئی چیز کی اطلاع رکھتا ہے۔ وہ آنکھوں کی خیانت اور سینوں میں مدفون رازوں کو جانتا ہے۔ وہ دعا قبول کرنے کے اعتبار سے بھی پکارنے والے کے قریب ہے۔ اسی لیے فرمایا ﴿ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ﴾” جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔“ دعا کی دو اقسام ہیں۔ (1) دعائے عبادت۔ (2) دعائے سوال۔ اسی طرح قرب کی بھی دو قسمیں ہیں۔ (1) اپنے علم کے اعتبار سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا۔ (2) دعا کی قبولیت، مدد اور توفیق کے ساتھ اپنے عبادت گزار بندوں اور پکارنے والے کے قریب ہونا۔ جو کوئی حضور قلب کے ساتھ اپنے رب سے کوئی ایسی دعا کرتا ہے جو مشروع ہو اور قبولیت دعا میں کوئی مانع بھی نہ ہو، مثلاً حرام کھانا وغیرہ، تو اللہ تعالیٰ نے ایسی دعا قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ خاص طور پر جب بندہ ایسے اسباب اختیار کرتا ہے جو اجابت دعا کے موجب ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے قولی اور فعلی اوامرونواہی کے سامنے سرافگندہ ہونا اور اس پر ایمان لانا، جو قبولیت دعا کا موجب ہے۔ بنا بریں فرمایا : ﴿ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْابِی﴾ْ” پس ان کو چاہئے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ راہ راست پا لیں“ یعنی ان کو وہ رشد عطا ہوگی جو ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنے کا نام ہے اور ان سے وہ گمراہی زائل ہوجائے گی جو ایمان اور اعمال صالحہ کے منافی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا حصول علم کا سبب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّـهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا ﴾(الانفال: 8؍ 29) ” اے ایمان دارو ! اگر تم اللہ سے ڈرو تو وہ تمہارے لیے حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کسوٹی بہم پہنچا دے گا۔ “ البقرة
187 روزوں کے فرض کیے جانے کے بعد شروع شروع میں مسلمانوں پر رات کے وقت سو جانے کے بعد کھانا پینا اور جماع وغیرہ حرام تھا، بنا بریں بعض اصحاب کے لیے یہ چیز مشقت کا باعث ہوئی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس حکم میں تخفیف فرما دی اور رمضان کی راتوں میں ان کے لیے کھانا پینا اور جماع مباح قرار دے دیا۔ خواہ وہ سویا ہو یا نہ سویا ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کچھ ایسے امور کو ترک کر کے جن کا انہیں حکم دیا گیا تھا، اپنے نفسوں کے ساتھ خیانت کرتے تھے۔ ﴿فَتَابَ عَلَیْکُمْ ﴾” پس اس (اللہ تعالیٰ) نے تم پر رجوع کیا“ بایں طور کہ اس نے تمہارے لیے اس معاملے میں وسعت پیدا کردی، اگر اس میں یہ وسعت پیدا نہ کی جاتی تو یہ معاملہ گناہ کا موجب بنتا۔ ﴿ وَعَفَا عَنْکُمْ ۚ ﴾” اور تم سے درگزر فرمایا“ یعنی جو کچھ خیانت ہوچکی اللہ تعالیٰ نے اس پر تمہیں معاف کردیا۔ ﴿ فَالْئٰنَ﴾” پس اب“ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس رخصت اور وسعت کے بعد ﴿بَاشِرُوْھُنَّ﴾” ان سے مباشرت کرو۔“ یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ مباشرت یعنی جماع، بوس و کنار اور لمس وغیرہ کرو۔ ﴿ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ﴾’’اور اس چیز کو تلاش کرو، جو اللہ نے تمہارے لیے لکھی ہے“ یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ مباشرت میں تقریب الٰہی اور جماع کے سب سے بڑے قصد کو مدنظر رکھو اور وہ ہے حصول اولاد، خود اپنی اور اپنی بیوی کی عفت کی حفاظت اور نکاح کے مقاصد کا حصول۔ نیز رمضان کی راتوں میں اللہ تعالیٰ نے شب قدر کی موافقت کو جو تمہارے لیے مقرر کر رکھا ہے (اس کے حصول کی کوشش کرو) اور تمہارے شایاں نہیں کہ تم شب قدر کے حصول کی کوشش کو چھوڑ کر اس لذت میں مصروف ہوجاؤ اور شب قدر کو ضائع کردو یہ لذت تو پھر بھی حاصل ہوسکتی ہے لیکن اگر شب قدر کے حصول کی فضیلت سے محروم ہوگئے تو یہ فضیلت کبھی حاصل نہیں ہوسکے گی۔ ﴿ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۠ ﴾” اور کھاؤ اور پیؤ، یہاں تک کہ سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے واضح (یعنی) فجر ہوجائے“ یہ کھانے پینے اور جماع کے وقت کی آخری حد ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ طلوع فجر کے وقت میں کچھ شک ہو، تو اس وقت میں کچھ کھا پی لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ یہ آیت سحری کھانے کے استحباب پر بھی دلیل ہے، کیونکہ اس میں کھانے پینے کے لیے امر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سحری کے وقت کھانے پینے میں تاخیر کی جائے۔ یعنی آخری وقت میں سحری کھائی جائے، کیونکہ سحری کا حکم اللہ نے لوگوں کی آسانی ہی کے لیے دیا ہے، اس لیے اس میں جتنی تاخیر کی جائے گی، اتنی ہی سہولت بھی زیادہ ہوگی۔ اس میں اس امر کے جواز کی بھی دلیل ہے کہ اگر جماع کی وجہ سے حالت جنابت میں انتہائے سحر ہوجائے اور وہ غسل نہ کرسکا ہو تو اس کا روزہ صحیح ہے، اس لیے کہ طلوع فجر تک جماع کی اباحت کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جب فجر ہوگی تو وہ اس وقت جنبی ہوگا اور حق کو لازم ہونے والا امر بھی حق ہوتا ہے۔ ﴿ثُمَّ﴾” پھر“ یعنی جب فجر طلوع ہوجائے ﴿ اَتِمُّوا الصِّیَامَ﴾” تو روزے کو پورا کرو“ یعنی روزہ توڑنے والے افعال کے ارتکاب سے رکے رہو ﴿ اِلَی الَّیْلِ ۚ﴾” رات تک“ یعنی غروب آفتاب تک۔ رمضان کی راتوں میں جماع کی جو اجازت دی گئی ہے چونکہ یہ ہر شخص کے لیے عام نہیں، کیونکہ اعتکاف میں بیٹھنے والے کے لیے جماع جائز نہیں، چنانچہ اس استثناء کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : ﴿ وَلَا تُـبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عٰکِفُوْنَ ۙ فِی الْمَسٰجِدِ ۭ﴾” اور جب مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔“ یعنی جب تم اعتکاف کی صفت سے متصف ہو تو تم اپنی بیویوں سے مباشرت (ہم بستری، بوس و کنار وغیرہ) نہ کرو۔ یہ آیت کریمہ اعتکاف کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے اور وہ ہے دنیاوی امور سے منقطع ہو کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی خاطر مسجد میں گوشہ گیر ہوجانا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسجد کے سوا کسی اور جگہ اعتکاف صحیح نہیں اور مساجد کی تعریف سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ یہاں مساجد سے مراد وہ مساجد ہیں جو مسلمانوں کے ہاں معروف ہیں اور یہ وہ مساجد ہیں جہاں پانچ وقت جماعت ہوتی ہو۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جماع ان امور میں سے ہے جن سے اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے۔ یہ تمام مذکورہ امور، مثلاً روزے کی حالت میں کھانے پینے اور جماع کی ممانعت جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، غیر معذور کے لیے روزہ چھوڑ دینے کی ممانعت اور اعتکاف میں بیٹھنے والے کے لیے جماع کی حرمت وغیرہ﴿حُدُوْدُ اللّٰہِ﴾” اللہ کی حدیں ہیں“ جنہیں اس نے بندوں کے لیے مقرر کیا ہے اور ان کو توڑنے سے انہیں منع کیا ہے۔ ﴿ فَلَا تَقْرَبُوْھَا ۭ﴾ ” پس تم ان کے قریب مت جاؤ“ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ﴿ فَلَاتَفْعَلُوھَا ﴾” پس تم ان کا ارتکاب مت کرو“ سے زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ ” قریب جانے“ کے لفظ میں نفس فعل کی حرمت اور اس فعل حرام تک پہنچانے والے وسائل و ذرائع کی حرمت سب شامل ہیں اور بندہ مومن تمام محرمات کو ترک کرنے، حتی الامکان ان سے دور رہنے اور ان تمام اسباب کو ترک کرنے پر مامور ہے جو ان محرمات کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ رہے اوامر تو اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتا ہے : ﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ﴾(البقرة: 229؍2) ” یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ان سے تجاوز نہ کرو۔“ پس اللہ تعالیٰ نے ان حدود سے باہر نکلنے سے روک دیا۔ ﴿کَذٰلِکَ﴾” اسی طرح“ یعنی جیسے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ احکام کو اپنے بندوں کے سامنے اچھی طرح بیان اور مکمل طور پر واضح کردیا ہے﴿  يُبَيِّنُ اللَّـهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾” اللہ بیان کرتا ہے اپنی نشانیاں لوگوں کے لیے تاکہ وہ بچیں“ اس لیے کہ جب حق ان کے لیے واضح ہوجائے گا تو وہ اس کی پیروی کریں گے اسی طرح جب باطل ان کے سامنے عیاں ہوجائے گا تو وہ اس سے اجتناب کریں گے، کیونکہ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان فعل حرام کا ارتکاب محض اس وجہ سے کر بیٹھتا ہے کہ ا سے اس کے حرام ہونے کا علم نہیں ہوتا، اگر اسے اس کی حرمت کا علم ہوتا، تو وہ کبھی اس کا ارتکاب نہ کرتا اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اپنی آیات کو کھول کھول کر بیان کردیا، تو ان کے پاس کوئی عذر اور کوئی حجت باقی نہ رہی اور یہ چیز تقویٰ کا سبب ہے۔ البقرة
188 ﴿ وَلَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾” اور اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے مت کھاؤ“ کھانے سے مراد لینا ہے اور اپنے مال سے مراد دوسرے لوگوں کا مال ہے۔ دوسروں کے مال کو اپنا مال اس لیے کہا کہ مسلمان کے شایاں یہی ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے اور اپنے بھائی کے مال کا اسی طرح احترام کرے جس طرح وہ اپنے مال کا احترام کرتا ہے۔ دوسرے کے مال کو اپنا مال کہنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ دوسرے کا مال کھائے گا تو دوسرا شخص بھی جب اس کو قدرت حاصل ہوگی، تو اس کا مال کھانے کی جسارت کرے گا۔ (اس لیے کسی دوسرے کا مال کھانا ایسا ہی ہے جیسے وہ اپنا مال کھا رہا ہے) چونکہ مال کھانے کی دو قسمیں ہیں : (١) حق کے ساتھ مال کھانا۔ (2) اور باطل طریقے سے مال کھانا اور حرام صرف باطل طریقے سے مال کھانا ہے اس لیے یہاں اس کو ” باطل“ سے مقید کیا ہے اور اس میں غصب کر کے، چور ی کر کے، امانت میں خیانت کر کے کے اور ادھار لی ہوئی چیز کا انکار کر کے مال کھانا، سب شامل ہے۔ نیز اس میں وہ معاوضہ بھی شامل ہے جو حرام ہے، جیسے سودی لین دین اور ہر قسم کے جوئے سے حاصل شدہ مال، کیونکہ یہ مال کسی جائز معاوضے کے طور پر حاصل نہیں ہوا۔ باطل طریقے سے مال کھانے میں خرید و فروخت اور اجارہ میں دھوکہ اور ملاوٹ کے ذریعے سے حاصل کیا ہوا مال بھی شامل ہے۔ مزدوروں سے کام لینا اور پھر ان کی اجرت کھا جانا بھی باطل طریقے سے مال کھانا ہے۔ اسی طرح ان مزدوروں کا کسی کام کی اجرت لینا اور اس کے عوض پورا کام نہ کرنا بھی حرام کھانا اور باطل ہے۔ ان عبادات اور تقرب الٰہی کے کاموں پر اجرت لینا جو اس وقت تک صحیح نہیں ہوتیں جب تک ان میں صرف رضائے الٰہی مقصود نہ ہو، باطل طریقے ہی سے مال کھانے میں داخل ہے۔ اس حرام کھانے میں ان لوگوں کا زکوٰۃ، صدقات، اوقات اور وصیتوں کا مال کھانا بھی داخل ہے جو اس مال کے مستحق نہیں، یا وہ مستحق تو تھے مگر اپنے حق سے زیادہ مال وصول کیا۔ (مال کھانے کی) مذکورہ بالا اور ان جیسی دیگر تمام اقسام باطل طریقے سے مال کھانے کے زمرے میں داخل ہیں۔ جس کا کھانا کسی بھی پہلو سے جائز نہیں۔ حتی ٰکہ اگر اس میں نزاع واقع ہوجائے اور جھگڑا شرعی عدالت میں چلا جائے اور وہ فریق جو باطل طریقے سے مال کھانا چاہتا ہے کوئی ایسی دلیل پیش کرتا ہے جو اصلی حق دار کی دلیل پر غالب آجاتی ہے اور حاکم اس دلیل کی بنیاد پر اس کے حق میں فیصلہ کردیتا ہے۔ (تو عدالتی فیصلے کے باوجود یہ مال حرام اور باطل ہی رہے گا) اس لیے کہ کسی حاکم کا فیصلہ کسی حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کرسکتا، کیونکہ حاکم تو صرف پیش کردہ دلائل سن کر فیصلہ کرتا ہے ورنہ معاملات کے اصل حقائق تو اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، اس لیے باطل طریقے سے مال ہڑپ کرنے والے کے لیے حاکم کے فیصلے میں کوئی خوشی اور اس مال کے باطل ہونے میں کوئی شبہ اور اس کے لیے کوئی راحت نہیں۔ بنابریں جو کوئی جھوٹے ثبوت کے ساتھ کوئی جھوٹا مقدمہ حاکم کی عدالت میں دائر کرتا ہے اور حاکم اس ثبوت کی بنیاد پر اس کے حق میں فیصلہ کردیتا ہے، تو یہ مال اس شخص کے لیے جائز نہیں اور وہ غیر کے مال کو جانتے بوجھتے باطل اور گناہ کے طریقے سے کھانے کا مرتکب ہوگا، اس لیے وہ سخت ترین سزا اور عقوبت کا مستحق ہے۔ اسی بنا پر جب وکیل کو یہ معلوم ہوجائے کہ اس کا موکل اپنے دعوے میں جھوٹا ہے، تو اس کے لیے اس خائن کی وکالت کرنا جائز نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا﴾  (النساء: 105؍4) ” اور خیانت کرنے والوں کی حمایت میں کبھی جھگڑا نہ کرنا۔ “ البقرة
189 ﴿ الْاَہِلَّۃِ ۭ﴾(ہلال) جمع ہے، یعنی وہ سوال کرتے ہیں کہ چاند کا کیا فائدہ اور اس میں کیا حکمت ہے یا چاند کیا چیز ہے؟ ﴿ قُلْ ھِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ﴾” کہہ دیجیے ! یہ اوقات مقررہ ہیں لوگوں کے لیے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے اسے درج ذیل نظم و تدبیر پر تخلیق کیا ہے۔ مہینے کے آغاز میں چاند بہت باریک اور کمزور سا ظاہر ہوتا ہے۔ پھر مہینے کے نصف تک بڑھتا چلا جاتا ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہوجاتا ہے اور مہینے کے پورا ہونے تک گھٹتا رہتا ہے۔ (اس طرح یہ سلسلہ مستقل جاری رہتا ہے) اس میں حکمت یہ ہے کہ لوگ اس ذریعے سے اپنی عبادات کے اوقات، مثلاً روزوں، زکوٰۃ کے اوقات، کفارے اور حج کے اوقات پہچان لیں اور چونکہ حج متعین مہینوں میں ہوتا ہے اور بہت زیادہ وقت اس میں صرف ہوتا ہے، اس لیے ﴿ وَالْحَجِّ ۭ ﴾فرما کر اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا، یعنی چاند کے ذریعے سے حج کے مہینوں کا بھی علم ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند کے ذریعے سے مدت معینہ پر ادا کیے جانے والے قرض، اجارات، عدت طلاق و وفات اور حمل وغیرہ کی مدت اور اوقات معلوم کیے جاتے ہیں جو کہ مخلوق کی ضرورت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے چاند کو ایسا حساب بنایا کہ جس سے ہر چھوٹا بڑا اور عالم و جاہل سب معلوم کرلیتے ہیں۔ اگر یہ حساب تقویم شمسی کے ذریعے سے ہوتا، تو چند لوگ ہی اس حساب کی معرفت حاصل کرسکتے۔ ﴿ وَلَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُہُوْرِھَا ﴾” نیکی یہ نہیں کہ تم گھروں کو پچھواڑے سے آؤ“ یہ انصار وغیرہ اور بعض دیگر عربوں کے اس طریقے کی طرف اشارہ ہے کہ جب وہ حج کے لیے احرام باندھ لیتے تھے تو اپنے گھروں میں دروازوں میں سے داخل نہیں ہوتے تھے (بلکہ پچھواڑے سے داخل ہوتے تھے) اور اسے وہ نیکی اور عبادت تصور کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ایسا کرنا نیکی نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے مشروع نہیں کیا اور ایسا شخص جو کسی ایسی عبادت کا التزام کرتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے مشروع قرار نہیں دیا، تو بدعت کا ارتکاب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ دروازوں سے اپنے گھروں میں داخل ہوا کریں، کیونکہ اسی میں ان کے لیے سہولت ہے جو شریعت کے قواعد میں سے ایک قاعدہ ہے۔ اس آیت کریمہ کے اشارہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ تمام معاملات میں مناسب یہی ہے کہ انسان آسان اور قریب ترین راستہ استعمال کرے جسے اس منزل تک پہنچنے کے لیے مقرر کیا گیا ہو۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دینے والے کو چاہئے کہ وہ مامور کے احوال کو مدنظر رکھے۔ نرمی اور ایسی حکمت عملی سے کام لے جس سے پورا مقصد یا اس سے کچھ حصہ حاصل ہوسکتا ہو۔ متعلم اور معلم دونوں کو چاہئے کہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے قریب ترین اور سہل ترین راستہ استعمال کریں۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی کام کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس کے لیے صحیح راستے سے داخل ہوتا ہے اور ہمیشہ اسی اصول پر عمل کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ضرور اپنے مقصد کو پا لے گا۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰہَ﴾” اور اللہ سے ڈرتے رہو“ اور یہی حقیقی نیکی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور وہ ہے دائمی طور پر تقویٰ کا التزام، یعنی اس کے اوامر کے سامنے سرافگندہ ہونا اور اس کی منہیات سے اجتناب کرنا۔ تقوی ٰ فلاح کا سبب ہے جس کے ذریعے سے مطلوب (جنت) کے حصول میں کامرانی اور ڈرائے گئے امر (عذاب) سے نجات حاصل ہوتی ہے۔ پس جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اس کے لیے فوز و فلاح کا کوئی راستہ نہیں اور جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہی فوز و فلاح اور کامیابی و کامرانی سے شاد کام ہوگا۔ البقرة
190 یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد اور قتال کو متضمن ہیں اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے بعد جب مسلمان طاقتور ہوگئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قتال کا حکم دیا جب کہ اس سے قبل ان کو حکم تھا کہ وہ اپنے آپ کو لڑائی سے روکے رکھیں۔ قتال کو ﴿ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ﴾ کے ساتھ مختص کرنے میں، اخلاص کی ترغیب اور فتنوں کے زمانے میں مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کی ممانعت ہے۔ ﴿ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ﴾” جو تم سے لڑتے ہیں۔“ یعنی ان لوگوں کے ساتھ قتال کرو جو تمہارے ساتھ لڑنے کی تیاری کرتے ہیں۔ یہ ذمے دار لڑنے کی اہلیت رکھنے والے کافر مرد ہیں، نہ کہ وہ بوڑھے جو لڑ سکتے ہیں اور نہ لڑائی میں کوئی مشورہ دے سکتے ہیں۔ حد سے تجاوز کرنے کی ممانعت میں ظلم و تعدی کی تمام انواع شامل ہیں جیسے عورتوں، بچوں، بے عقل لوگوں اور راہبوں وغیرہ کو قتل کرنا جو لڑائی میں شریک نہ ہوں۔ جنگ کے دوران مقتولین کا مثلہ کرنا (یعنی مقتول کے کان، ناک اور پوشیدہ اعضاء کاٹنا، آنکھیں نکال دینا اور پیٹ چاک کرنا) اور مسلمانوں کی کسی مصلحت کے بغیر جانوروں کو قتل کرنا اور درخت وغیرہ کاٹنا، سب ظلم وتعدی میں شمار ہوگا۔ جب کفار جزیہ قبول کر کے اس کو ادا کرچکے ہوں تو ان کے خلاف لڑنا بھی ظلم و تعدی ہے جو کہ ہرگز جائز نہیں۔ البقرة
191 ﴿ وَاقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ﴾ ” اور مار ڈالو ان کو جہاں کہیں بھی پاؤ تم ان کو“ یہ ان کے ساتھ قتال کا حکم ہے ہر وقت اور ہر زمانے میں جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں ان کے خلاف مدافعانہ اور جارحانہ جنگ جاری رہے۔ پھر اس عموم سے مسجد حرام کے قریب قتال کرنے کو مستثنیٰ کردیا، کیونکہ مسجد حرام کے قریب لڑنا جائز نہیں، البتہ اگر وہ مسجد حرام کے قریب لڑائی کی ابتدا کریں تو پھر ان کے خلاف لڑائی کی جائے یہ ان کے ظلم و زیادتی کا بدلہ ہے۔ یہ کفار کے خلاف، ہر وقت اور دائمی قتال و جہاد ہے یہاں تک کہ وہ کفر کو چھوڑ کر اسلام قبول کرلیں۔ (اگر وہ ایسا کرلیں) تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اگرچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، مسجد حرام میں شرک کا ارتکاب کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل ایمان کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت اور اس کا کرم ہے، چونکہ مسجد حرام کے قریب لڑنے کی ممانعت سے یہ وہم لاحق ہوتا ہے کہ یہ لڑائی اس محترم شہر کے اندر گویا فساد برپا کرنا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس حرمت والے شہر کے اندر فتنہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے دین سے لوگوں کو روکنے کے مفاسد، قتل کے مفاسد سے بڑھ کر ہیں، لہٰذا اے مسلمانو ! تمہارے لیے ان کے خلاف لڑنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس آیت کریمہ سے فقہ کے ایک مشہور قاعدہ پر استدلال کیا جاتا ہے کہ دو برائیوں میں سے (جب ایک برائی کو اختیار کرنا لابدی ہو تو) کم تر برائی کو اختیار کیا جائے، تاکہ بڑی برائی کا سدباب کیا جا سکے۔ البقرة
192 البقرة
193 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے راستے میں اس قتال اور جہاد کا مقصد بیان فرمایا ہے۔ قتال فی سبیل اللہ کا مقصد یہ نہیں کہ کفار کا خون بہایا جائے اور انکے اموال لوٹ لیے جائیں، بلکہ جہاد کا مقصد صرف یہ ہے ﴿ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ ۭ ﴾” کہ دین اللہ کا ہوجائے“ یعنی اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے اور شرک وغیرہ اور ان تمام نظریات کا قلع قمع کردیا جائے جو اللہ کے دین کے منافی ہیں اور فتنہ سے بھی یہی مراد ہے۔ جب یہ مقصد حاصل ہوجائے تو قتل کرنا اور لڑائی کرنا جائز نہیں۔ ﴿فَاِنِ انْتَہَوْا ﴾” پس اگر وہ باز آجائیں۔“ یعنی اگر وہ مسجد حرام کے قریب تمہارے ساتھ لڑائی کرنے سے باز آجائیں۔ ﴿ فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیْنَ﴾ تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں۔“ یعنی تمہاری طرف سے ان پر کوئی ظلم اور زیادتی نہیں ہونی چاہئے، سوائے اس کے جس نے ظلم کا ارتکاب کیا ہو تو ایسا شخص اپنے ظلم کے برابر سزا کا مستحق ہے۔ البقرة
194 ﴿ اَلشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ ﴾” حرمت والا مہینہ، حرمت والے مہینے کے بدلے میں ہے“ اس آیت میں اس مفہوم کا احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ واقعہ ہو کہ جب صلح حدیبیہ والے سال کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ اگلے سال مکہ مکرمہ آئیں گے، تو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکنے کا واقعہ اور عمرہ قضا دونوں حرمت والے مہینے (ذوالقعدہ) میں پیش آئے۔ اس لیے حرام مہینے کے مقابلے میں حرام مہینے کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس مفہوم کی رو سے اس آیت کریمہ میں صحابہ کرام کے مناسب کی تکمیل کی خبر دے کر ان کی دل جوئی کی ہے، دوسرا احتمال یہ ہے کہ تم نے اگر ان کے ساتھ حرمت والے مہینے میں لڑائی کی ہے تو (کیا ہوا) انہوں نے بھی تو تم سے حرمت والے مہینے ہی میں لڑائی کی ہے اس لئے حد سے تجاوز کرنے والے تو وہی کفار مکہ ہیں (تمہیں تو مجبوراً لڑنا پڑا ہے) پس تمہارے لئے اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ ۭ﴾”اور حرمتوں میں بدلہ ہے“ عام کا عطف خاص پر،کے باب سے ہوگا، یعنی ہر وہ چیز جو قابل احترام ہے، وہ حرمت والا مہینہ ہو یا حرمت والا شہر ہو یا احرام ہو یا اس سے بھی زیادہ عام ہو، یعنی ہر وہ چیز جس کی حرمت کا حکم شریعت نے دیا ہے، جو کوئی ان کی بے حرمتی کی جرأت کرے گا، اس سے قصاص لیا جائے گا۔ پس جو کوئی حرام مہینے میں لڑائی کرے گا اس کے ساتھ لڑائی کی جائے گی جو کوئی اس محترم شہر کی بے حرمتی کرے گا اس پر حد جاری کی جائے گی اور اس کا کوئی احترام نہیں۔ جو کوئی بدلہ لینے کے لئے (حرم شریف کے اندر) کسی کو قتل کرے گا اسے قتل کیا جائے گا جو کسی کو زخمی کرے گا یا اس کا کوئی عضو کاٹے گا، اس کا اس سے قصاص لیا جائے گا۔ جو کوئی بلا جواز کسی کا مال لے گا، اس سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ البتہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا صاحب حق کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مال میں سے اپنے مال کے بقدر مال لے لے؟ اس بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے اس میں راجح مسلک یہ ہے کہ اگر حق کا سبب واضح ہوجیسے مہمان جب کہ دوسرے شخص نے اس کی مہمان نوازی نہ کی ہو، بیوی اور وہ قریبی رشتہ دار جن کا نفقہ جس کے ذمہ فرض ہو، وہ نفقہ اور کفالت سے انکار کر دے، تو اس کے مال میں سے بقدر حق مال لے لینا جائز ہے۔ اور اگر حق کا سبب خفی اور غیر واضح ہو، مثلاً کوئی شخص کسی کے قرض کا انکار کردیتا ہے کہ اس نے قرض لیا ہی نہیں یا کسی امانت میں خیانت کرتا ہے، یا اس میں سے چوری کرلیتا ہے وغیرہ، تو اس صورت میں مال لینا جائز نہیں ہے۔ اس طرح دلائل میں تطبیق ہوجاتی ہے اور تعارض نہیں رہتا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ حکم کی تاکید اور تقویت کے لئے فرمایا ﴿فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ ۠﴾” جو تم پر زیادتی کرے، تو تم بھی اس پر اس کی مثال زیادتی کرو جو اس نے تم پر کی“ یہ بدلہ لینے کی صفت کی تفسیر ہے۔ نیز یہ کہ یہ تعدی کا ارتکاب کرنے والے کی تعدی اور ظلم کی مماثلت ہے۔ چونکہ غالب حالات میں، اگر نفوس انسانی کو (اپنے ساتھ زیادتی کے بدلے میں) سزا دینے کی رخصت دے دی جائے، تو وہ اپنی تشفی اور تسکین کے لئے جائز حد پر نہیں رکتے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو التزام تقویٰ کا حکم دیا جو کہ نام ہے اللہ تعالیٰ کی حدود پر ٹھہر جانے اور ان سے تجاوز نہ کرنے کا اور ان کو بتلایا کہ ﴿ اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ﴾ ” اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کے ساتھ ہے“ یعنی اللہ کی مدد و نصرت اور اس کی تائید و توفیق ان کے ساتھ ہے اور جسے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوگئی، وہ ابدی سعادت سے سرفراز ہوگیا اور جس نے تقویٰ کا التزام نہ کیا تو اس کا سرپرست اس سے علیحدہ ہوگیا، اسے بے یارو مددگار چھوڑ دیا اور اسے اس کے نفس کے حوالے کردیا، تب اس کی ہلاکت اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہوجاتی ہے۔ البقرة
195 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس سے مراد ہے کہ مال کو ان راستوں میں خرچ کیا جائے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے ہیں اور یہ بھلائی کے تمام راستے ہیں جیسے مساکین، قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنا اور ان لوگوں پر خرچ کرنا جن پر خرچ کرنا واجب ہے۔ ان راستوں میں سب سے بڑا اور ان میں سب سے پہلے نمبر پر آنے والا، فی سبیل اللہ یعنی جہاد کی راہ میں خرچ کرنا ہے، کیونکہ اس راہ میں خرچ کرنا جہاد بالمال کے زمرے میں آتا ہے اور مالی جہاد بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح بدنی جہاد فرض ہے۔ مالی جہاد میں عظیم مصالح پنہاں ہیں۔ مالی جہاد سے اہل ایمان کو تقویت پہنچتی ہے، شرک اور اہل شرک کمزور ہوتے ہیں اور اقامت دین اور اس کی سربلندی میں مدد ملتی ہے۔ پس جہاد فی سبیل اللہ کا درخت مالی اعانت کے تنے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، جہاد کے لئے مالی اخراجات وہی حیثیت رکھتے ہیں جو بدن کے لیے روح، پس اس کے بغیر جہاد کا جاری رہنا ممکن نہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے گریز درحقیقت جہاد کا ابطال، دشمنوں کا تسلط اور ان کی اسلام دشمنی میں اضافہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ﴾ ” اپنے ہاتھوں (جان) کو ہلاکت میں نہ ڈالو“ اس حکم کی علت کی حیثیت رکھتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا دو امور کی طرف راجع ہے۔ (١) اس امر کو ترک کردینا جس کا حکم بندے کو دیا گیا جبکہ اس امر کو ترک کرنا بدن یا روح کی ہلاکت کا یا ہلاکت کے قریب کرنے کا موجب ہو۔ (٢) ایسے فعل کا ارتکاب کرنا جو بدن یا روح کی ہلاکت کا سبب ہو۔ اس کے تحت بہت سے امور آتےہیں: (١) اللہ تعالیٰ کے راستے میں بدنی یا مالی جہاد ترک کرد ینا، جو دشمن کے تسلط کا باعث بنتا ہے۔ (٢) انسان کا خود اپنے آپ کو موت کے منہ میں لے جانا، مثلاً کسی لڑائی میں گھس جانا، کسی خوفناک سفر پر روانہ ہوجانا، جانتے بوجھتے درندوں یا سانپوں کے مسکن میں داخل ہونا، کسی خطرناک درخت یا گرنے والی عمارت وغیرہ پر چڑھنا یا کسی خطرناک چیز کے نیچے چلے جانا یہ تمام امور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے تحت آتے ہیں۔ (٣) توبہ سے مایوس ہو کر گناہوں پر قائم رہنا۔ (٤) ان فرائض کو ترک کرنا جن کو اللہ تعالیٰ نے بجا لانے کا حکم دیا ہے اور جن کے ترک کرنے میں روح اور دین کی ہلاکت ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا احسان کی ایک قسم ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر احسان کا حکم دیتے ہوئے فرمایا : ﴿ وَاَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ﴾” اور احسان کرو، یقیناً اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے“ اس آیت کے معنی میں ہر قسم کا احسان شامل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے کسی صفت اور شرط وغیرہ سے مقید نہیں کیا۔ پس اس میں مالی احسان بھی شامل ہے۔ اپنے جاہ و منصب کی بنیاد پر (کسی حق دار کی) سفارش کرنے کا احسان بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور علم نافع کی تعلیم بھی احسان میں داخل ہے۔ لوگوں کی ضروریات پوری کرنا، ان کی تکالیف کو دور کرنا، ان کی مصیبتوں کا ازالہ کرنا، ان کے مریضوں کی عیادت کرنا، ان کے جنازوں کے ساتھ جانا، ان کے بھٹکے ہوؤں کو راستہ بتانا، کسی کے کام میں ہاتھ بٹانا اور کسی ایسے شخص کے لئے کام کردینا جسے کام نہ آتا ہو۔ یہ تمام امور اس احسان کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور اس احسان میں اللہ تعالیٰ کی عبادت احسن طریقے سے کرنا بھی داخل ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿أنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأنَّكَ تَراهُ، فإنْ لَمْ تَكُنْ تَراهُ فإنَّه يَراكَ﴾” احسان یہ ہے کہ تو اس طرح اللہ کی عبادت کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو کہ تو اسے دیکھ رہا ہے تب وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔‘،[صحيح بخاري، الإيمان، باب سؤال جبريل......الخ، حديث: 50] جو کوئی ان صفات سے متصف ہوجاتا ہے وہ ان لوگوں میں شامل ہوجاتا ہے جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿  لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ  ﴾(یونس: 26؍10) ” جنہوں نے نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے (اور مزید برآں) اور بھی۔“ اللہ تعالیٰ کی معیت اسے حاصل رہتی ہے، اللہ تعالیٰ اسے دوست رکھتا ہے، اس کی راہنمائی کرتا ہے اور ہر معاملے میں اس کی مدد کرتا ہے۔ اور جب اللہ روزے اور جہاد کے احکام کا ذکر فرما چکا، تو اب حج کے احکام کا ذکر فرماتا ہے۔ البقرة
196 ﴿’ وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ ﴾ ’’اور پورا کرو حج اور عمرے کو“ سے متعدد امور پر استدلال کیا جاتا ہے۔ (١) حج اور عمرے کا وجوب اور ان کی فرضیت (٢) حج اور عمرے کو ان ارکان و واجبات کے ساتھ پورا کرنا جن کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور آپ کا یہ قول اشارہ کرتا ہے( خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُم)” اپنے مناسك حج مجھ سے اخذ کرو“ [سنن البيهقي: 5؍ 125] (٣) اس آیت کریمہ سے ان علماء کی تائید ہوتی ہے جو عمرے کو واجب قرار دیتے ہیں۔ (٤) حج اور عمرہ کو، خواہ وہ نفلی ہی کیوں نہ ہوں جب شروع کردیا جائے تو ان کا اتمام واجب ہے۔ (٥) حج اور عمرے کو احسن طریقے سے ادا کیا جائے اور یہ چیز حج اور عمرے کے لازمی افعال سے قدر زائد ہے۔ (٦) اس میں حج اور عمرے کو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (٧) حج اور عمرے کا احرام باندھنے والا ان کی تکمیل کئے بغیر احرام نہ کھولے سوائے اس صورتحال کے جس کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور وہ ہے (کسی وجہ سے) محصور ہوجانا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ۭ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ﴾” پس اگر تم روک دیئے جاؤ“ یعنی اگر تم کسی مرض یا راستہ بھول جانے یا دشمن کے روک لینے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے حج اور عمرہ کی تکمیل کے لئے بیت اللہ نہ پہنچ سکو تو فرمایا : ﴿فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ ۚ ﴾” تو جیسی قربانی میسر ہو۔“ یعنی (جو قربانی میسر ہو) ذبح کرو۔ یہ قربانی اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ یا ایک بکری ہے جسے محصور ذبح کرے گا۔ اس کے بعد وہ اپنا سرمنڈوائے اور احرام کھول دے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حدیبیہ والے سال کیا تھا جب مشرکین مکہ نے آپ کو بیت اللہ جانے سے روک دیا تھا۔ اگر محصور کو قربانی نہ ملے تو اس کے بدلے دس روزے رکھے جیسا کہ تمتع کرنے والے کے لئے ضروری ہے اور اس کے بعد احرام کھول کر حلال ہوجائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہٗ ﴾” اور اپنے سروں کو نہ منڈواؤ، یہاں تک کہ قربانی اپنے ٹھکانے کو پہنچ جائے“ بالوں کو منڈوا کر یا کسی اور طریقے سے زائل کرنا احرام کے ممنوعات میں شمار ہوتا ہے۔ بال خواہ سر کے ہوں یا بدن کے کسی اور حصے کے، ان کو زائل کرنا منع ہے، کیونکہ احرام میں اصل مقصود بالوں کی پراگندگی اور ان کو زائل کر کے ان کی اصلاح کرنے کی ممانعت ہے اور وہ باقی بالوں میں بھی موجود ہے۔ بہت سے علماء نے زیب و زینت کے لئے ناخن ترشوانے کو بال منڈوانے پر قیاس کیا ہے اور مذکورہ تمام چیزیں اس وقت تک ممنوع ہیں جب تک کہ قربانی اپنے مقاصد پر نہ پہنچ جائے اور اس سے مراد قربانی کا دن ہے اور افضل یہ ہے کہ قربانی کرنے کے بعد بال اتروائے جائیں جیسا کہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی استدلال کیا جاتا ہے کہ تمتع کرنے والا جب اپنے ساتھ قربانی لے کر آیا ہو تو وہ قربانی کے دن سے قبل اپنے عمرے کا احرام نہ کھولے۔ پس تمتع کرنے والا جب عمرے کے طواف اور سعی سے فارغ ہوجائے تو حج کا احرام باندھ لے اور اپنے ساتھ قربانی لانے کی وجہ سے اس کے لئے احرام کھولنا جائز نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے (حَلْقَ) ” بال مونڈنے“ سے اس لئے منع فرمایا ہے کہ اس میں عاجزی، اللہ کے لئے خضوع اور انکسار ہے جو کہ بندے کے لئے عین مصلحت ہے اور اس میں اس کے لئے کوئی نقصان بھی نہیں۔ اگر سر میں کسی مرض، یا زخم یا جوؤں کی وجہ سے تکلیف ہو تو اس کے لئے سر کو منڈوانا جائز ہے البتہ فدیہ کے طور پر تین روزے رکھنا، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا جانور ذبح کرنا جو قربانی کے لئے جائز ہو واجب ہے۔ ان میں سے جو کام چاہے اسے کرنے کا اختیار ہے۔ قربانی سب سے افضل ہے، اس کے بعد صدقہ اور پھر روزے۔ اسی طرح کے حالات میں اگر ناخن تراشنے، سر ڈھانپنے، سلا ہوا کپڑا پہننے یا خوشبو لگانے کی ضرورت لاحق ہو تو ضرورت کے وقت ایسا کرنا جائز ہے البتہ مذکورہ بالا فدیہ کی مانند فدیہ دینا واجب ہے۔ اس تمام صورت میں اصل مقصد آسودگی کے مظاہر سے دور رہنا ہے۔ پھر فرمایا : ﴿ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ﴾” پس جب تم امن میں ہوجاؤ“ یعنی جب تم دشمن وغیرہ کی رکاوٹ کے بغیر بیت اللہ تک پہنچنے کی قدرت رکھتے ہو ﴿ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ ﴾” پس جو حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔“ یعنی جو عمرہ کو حج کے ساتھ ملا دے اور عمرہ سے فارغ ہو کر اپنے تمتع سے فائدہ اٹھائے ﴿ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ ۚ﴾” تو وہ جیسی قربانی میسر ہو کرے۔“ یعنی اس پر واجب ہے کہ وہ قربانی دے جو میسر ہو اور وہ ایسا جانور ذبح کرے جو قربانی کے لئے جائز ہو۔ یہ قربانی حج کی قربانی ہے جو ان دو عبادات کے مقابل میں ہے جو اسے ایک ہی سفر میں حاصل ہوئیں، علاوہ ازیں یہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکرانہ ہے جو اسے عمرہ سے فراغت کے بعد اور مناسک حج شروع کرنے سے پہلے تمتع سے استفادہ کرنے کی صورت میں حاصل ہوئی اور اسی کی مثل حج قران ہے، کیونکہ اس میں بھی (حج تمتع کی طرح) دو عبادات کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ مفرد حج کرنے والے شخص پر قربانی واجب نہیں۔ آیت کریمہ تمتع کے جواز بلکہ تمتع کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے نیز اس پر بھی کہ حج کے مہینوں میں تمتع جائز ہے۔ ﴿ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ ﴾” پس جو شخص نہ پائے“ یعنی جس کے پاس قربانی یا اس کی قیمت موجود نہ ہو ﴿ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ ﴾” تو تین روزے رکھنے ہیں حج کے دنوں میں“ ان روزوں کا پہلا جواز تو یہ ہے کہ انہیں عمرہ کے احرام کے ساتھ ہی رکھا جائے اور ان کا آخری وقت یوم النحر کے بعد کے تین دن ہیں، رمی جمار اور منی میں شب باشی کے ایام، البتہ افضل یہ ہے کہ یہ روزے ساتویں، آٹھویں اور نویں ذوالحج کو رکھے جائیں۔ ﴿ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ ۭ﴾” اور سات (روزے) اس وقت جب تم گھر لوٹو“ یعنی جب تم اعمال حج سے فارغ ہوجاؤ تو ان روزوں کو مکہ مکرمہ میں رکھنا بھی جائز ہے، واپسی سفر کے دوران راستے میں اور گھر پہنچ کر بھی رکھے جاسکتے ہیں۔ ﴿ ذٰلِکَ﴾” یہ“ یعنی تمتع کرنیوالے پر قربانی کا واجب ہونا ﴿ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَھْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭ﴾” اس کے لئے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے پاس نہ رہتے ہوں“ یعنی یہ صرف اس شخص کے لئے ہے جو نماز قصر کرنے یا اس سے زیادہ فاصلے پر رہتا ہو یا اتنا دور رہتا ہو جسے عرف میں دور سمجھا جاتا ہو۔ اس شخص پر ایک ہی سفر میں دو عبادات کے ثواب کے حصول کی بنا پر قربانی واجب ہے۔ جو کوئی مکہ مکرمہ میں مسجد حرام کے پاس رہتا ہے، تو اس پر عدم موجب کی بنا پر قربانی واجب نہیں۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰہَ﴾” اور اللہ سے ڈرو“ یعنی اپنے تمام امور میں،اس کے اوامر کی اطاعت اور اس کی نواہی سے اجتناب کرتے ہوئے۔ اسی زمرے میں حج کے ان اوامر کی اطاعت اور ان ممنوعات سے اجتناب ہے جو کہ اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں۔ ﴿وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴾ ” اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کو سخت سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے۔ یہی (خوف عذا) تقویٰ کا موجب ہے، کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتا ہے وہ ان تمام امور سے اجتناب کرتا ہے جو عذاب کے موجب ہیں۔ جیسے جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتا ہے وہ ایسے کام کرتا ہے جو ثواب کے کے موجب ہیں اور جو کوئی عذاب سے نہیں ڈرتا اور ثواب کی امید نہیں رکھتا وہ حرام میں گھس جاتا ہے اور فرائض کو چھوڑ دینے کی جرأت کا مرتکب ہوتا ہے۔ البقرة
197 اللہ تبارک وتعالیٰ خبر دیتاہے ﴿ اَلْحَجُّ﴾ یعنی حج واقع ہوتا ہے ﴿ اَشْہُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ۚ ﴾” معلوم مہینوں (میں) “ جو مخاطبین کے ہاں معلوم اور معروف ہیں جن کی تخصیص کی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ روزوں کے لئے اس کے مہینے کے تعین کی ضرورت پیش آئی اور جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے اوقات بیان فرمائے ہیں۔ رہا حج تو یہ ملت ابراہیم کا رکن ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ہمیشہ سے معروف رہا ہے اور وہ لوگ حج کرتے چلے آئے ہیں۔ جمہور اہل علم کے نزدیک ﴿ اَشْہُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ۚ ﴾” معلوم مہینے“ سے مراد شوال، ذیقعد اور ذوالحج کے پہلے دس دن ہیں۔ یہی وہ مہینے ہیں جن میں غالب طور پر حج کے لئے احرام باندھا جاتا ہے۔ ﴿ فَمَنْ فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ﴾” تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے۔“ یعنی جو کوئی ان مہینوں میں حج کا احرام باندھتا ہے، کیونکہ جو کوئی حج شروع کردیتا ہے تو اس کا اتمام اس پر فرض ہوجاتا ہے خواہ حج نفلی ہی کیوں نہ ہو۔ اس آیت کریمہ سے امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب استدلال کرتے ہیں کہ حج کے مہینوں سے قبل حج کے لئے احرام باندھنا جائز نہیں ہے۔ میں (عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی) کہتا ہوں کہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ آیت کریمہ جمہور اہل علم کے اس مسلک پر دلالت کرتی ہے کہ حج کے مہینوں سے پہلے حج کے لئے احرام باندھنا صحیح ہے تو ایسا کہنا زیادہ قرین صحت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ﴾ دلالت کرتا ہے کہ حج کی فرضیت کبھی تو مذکورہ مہینوں میں واقع ہوتی ہے اور کبھی نہیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ اسے مقید نہ کرتا۔ ﴿ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ ۭ﴾’’ تو دل لگی کی باتیں نہیں کرنا، نہ گناہ کرنا اور نہ جھگڑا کرنا ہے حج میں“ یعنی تم پر حج کے احرام کی تعظیم کرنا فرض ہے خاص طور پر جبکہ وہ حج کے مہینوں میں واقع ہو، لہٰذا تم پر فرض ہے کہ تم احرام حج کی ہر اس چیز سے حفاظت کرو جو احرام کو فاسد کرتی ہے یا اس کے ثواب میں کمی کردیتی ہے، مثلاً (رَفَثَ) اور (رفث) سے مراد ہے جماع اور اس کے قولی اور فعلی مقدمات۔ خاص طور پر بیویوں کے پاس، ان کی موجودگی میں۔ (فُسُوْقَ) سے تمام معاصی مراد ہیں اور ممنوعات احرام بھی اس میں شامل ہیں اور (جِدال) سے مراد لڑائی، جھگڑا اور مخاصمت، کیونکہ لڑائی جھگڑا شر کو جنم دیتا اور دشمنی پیدا کرتا ہے۔ حج کا مقصد اللہ تعالیٰ کے لئے تذلل اور انکسار، عبادات کے ذریعے سے ممکن حد تک اس کے تقرب کا حصول اور برائیوں کے ارتکاب سے بچنا ہے، اس لئے کہ یہی وہ امور ہیں جن کی وجہ سے حج اللہ کے ہاں مقبول و مبرور ہوتا ہے اور حج مبرور کا بدلہ، جنت کے سوا کوئی نہیں۔ مذکورہ برائیاں اگرچہ ہر جگہ اور ہر وقت ممنوع ہیں تاہم حج کے ایام میں ان کی ممانعت میں شدت اور زیادہ ہوجاتی ہے اور جان لیجیے کہ صرف ترک معاصی سے تقریب الٰہی کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے احکام بھی نہ بجا لائے جائیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ﴾ ” اور جو بھی تم بھلائی کرتے ہو، اللہ اسے جانتا ہے“ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کے عموم کی تصریح کے لئے (مِنْ) استعمال کیا ہے۔ اس لیے ہر بھلائی، تقریب الٰہی کا ہر ذریعہ اور ہر عبادت اس میں شامل ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہر بھلائی کو جانتا ہے۔ یہ آیت کریمہ بھلائی کے کاموں میں ترغیب کو متضمن ہے۔ خاص طور پر زمین کے ان قطعات میں جن کو شرف اور احترام میں بہت بلند مقام حاصل ہے۔ اس لئے یہی مناسب ہے کہ نماز، روزہ، صدقہ، طواف اور قولی و فعلی احسان کے ذریعے سے جتنی بھلائی ممکن ہو، اسے حاصل کیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مبارک سفر میں زادراہ ساتھ لینے کا حکم دیا ہے، کیونکہ زاد راہ مسافر کو لوگوں سے بے نیاز کردیتا ہے اور اسے لوگوں کے مال کی طرف دیکھنے اور سوال کرنے سے روک دیتا ہے۔ ضرورت سے زائد زادراہ ساتھ لینے میں فائدہ اور ساتھی مسافروں کی اعانت ہے اور اس سے اللہ رب العالمین کے تقرب میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وہ زاد راہ ہے جو یہاں مراد ہے جو زندگی کو قائم رکھنے، گزر بسر کرنے اور راستے کے اخراجات کے لئے نہایت ضروری ہے۔ رہا زاد حقیقی جس کا انسان کو دنیا و آخرت میں فائدہ ہوتا ہے تو وہ تقویٰ کا زاد راہ ہے جو جنت کی طرف سفر کا زاد راہ ہے اور وہی زاد راہ ایسا ہے جو انسان کو ہمیشہ رہنے والی کامل ترین لذت اور جلیل ترین نعمت کی منزل مراد پر پہنچتا ہے۔ جو کوئی زاد تقویٰ کو چھوڑ دیتا ہے وہ اس بنا پر اپنی راہ کھوٹی کر بیٹھتا ہے۔ تقویٰ سے محروم ہونا ہر برائی کا نشانہ بن جانا ہے اور وہ اہل تقویٰ کی منزل پر پہنچنے سے محروم ہوجاتا ہے۔ پس یہ تقویٰ کی مدح ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے عقل مند لوگوں کو ان الفاظ میں تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے :﴿ وَاتَّقُوْنِ یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ﴾ ” اے اہل دانش ! مجھ سے ڈرتے رہو۔“ یعنی اے سنجیدہ اور عقلمند لوگو ! اپنے اس رب سے ڈرو جس سے ڈرنا وہ سب سے بڑی چیز ہے جس کا عقل انسانی حکم دیتی ہے اور اس کو ترک کرنا جہالت اور فساد رائے کی دلیل ہے۔ البقرة
198 چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرما دیا کہ مواسم حج وغیرہ میں محنت و اکتساب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ وہ فرائض سے غافل ہو کر اسی میں مشغول نہ ہوجائے۔ جبکہ اس کا اصل مقصد حج ہی ہو اور یہ کمائی حلال اور اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف منسوب ہو اور بندے کی اپنی مہارت کی طرف منسوب نہ ہو، کیونکہ سبب کو ہی سب کچھ سمجھنا اور سبب کو فراموش کردینا، یہی عین حرج ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ﴿فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠﴾ ” پس جب تم عرفات سے لوٹو تو مشعر حرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو“ متعدد امور پر دلالت کرتا ہے : (1) عرفہ میں وقوف، مناسك حج میں سے ہے اور یہ ارکان حج میں سے ایک معروف رکن ہے، کیونکہ عرفات سے واپسی صرف وقوف کے بعد ہی ہوتی ہے۔ (2) مشعر حرام کے پاس اللہ تعالیٰ کے ذکر کا حکم دیا گیا ہے اور مشعر حرام سے مراد مزدلفہ ہے، مزدلفہ بھی معروف جگہ ہے جہاں قربانی کی رات بسر کرنی ہوتی ہے، نماز فجر کے بعد خوب روشنی پھیلنے تک دعائیں کرتے ہوئے مزدلفہ میں وقوف کرے، مزدلفہ کے پاس دعاؤں اور اذکار میں فرائض اور نوافل بھی داخل ہیں۔ (3) مزدلفہ کا وقوف، عرفات کے وقوف سے متاخر ہے جیسا کہ آیت کریمہ میں دی گئی ترتیب دلالت کرتی ہے۔ (4) عرفات اور مزدلفہ دونوں ان مشاعر حج میں شمار ہوتے ہیں جن کا فعل اور اظہار مقصود ہے۔ (5) مزدلفہ بھی حرم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ” حرام“ کی صفت سے مقید کیا ہے۔ (6) مزدلفہ کو ’’حرام“ کی صفت سے مقید کرنا یہ مفہوم دیتا ہے کہ عرفہ حرم میں شامل نہیں۔ ﴿ وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰیکُمْ ۚ وَاِنْ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّاۗلِّیْنَ﴾ ” اور اس (اللہ) کا اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو بتلایا ہے اور اس سے پہلے تم ناواقف تھے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جیسا کہ اس نے گمراہی کے بعد تمہیں ہدایت سے نوازا اور تمہیں وہ کچھ سکھایا جو تم نہ جانتے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے جس کا شکر واجب اور اس کے مقابلے میں قلب اور زبان سے منعم کا ذکر کرنا فرض ہے۔ البقرة
199 ﴿ ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ﴾” پھر تم وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں“ یعنی مزدلفہ سے اور یہ وہ عمل ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر اب تک چلا آرہا ہے اور اس افاضہ یعنی واپسی کا مقصد ان کے ہاں معروف تھا اور وہ ہے رمی جمار، قربانیوں کو ذبح کرنا، طواف، سعی، تشریق کی راتوں میں منیٰ میں شب بسری اور باقی مناسک کی تکمیل چونکہ اس افاضہ کا مقصد وہ ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ مذکورہ امور حج کے آخری مناسک ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان سے فارغ ہو کر استغفار اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، اس لئے کہ استغفار کا مقصد یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی میں بندے کی طرف سے جو خلل اور کوتاہی واقع ہوئی ہے استغفار سے اس کی تلافی ہوجائے اور اللہ کا ذکر یہ اللہ کا اس انعام پر شکر ہے جو اس نے عظیم عبادت اور بھاری احسان کی توفیق سے نواز کر کیا۔ بندہ مومن کے لئے مناسب بھی یہی ہے کہ جب وہ اپنی عبادت سے فارغ ہو تو اپنی تقصیر اور کوتاہی پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے اور عبادت کی توفیق پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائے، نہ کہ اس شخص کی مانند ہو جو یہ سمجھتا ہے کہ اس نے عبادت کی تکمیل کر کے رب پر احسان کیا ہے اور اس عبادت نے اس کے مقام پر و مرتبہ کو بہت بلند کردیا ہے۔ یہ رویہ یقیناً اللہ کی ناراضی کا باعث اور اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے فعل (عبادت) کو ٹھکرا دیا جائے جیسے عبادت کی پہلی صورت اس بات کی مستحق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا درجہ حاصل کرے اور بندے کو دوسرے اعمال خیر کی توفیق عطا ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے احوال کی خبر دی اور آگاہ فرمایا کہ تمام مخلوق اپنے اپنے مطالبات کا سوال کرتی ہے اور جو چیز ان کے لئے ضرر رساں ہے اس سے بچنے کی دعا مانگتی ہے، البتہ ان کے مقاصد مختلف ہوتے ہیں۔ البقرة
200 کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں ﴿ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا ﴾” اے ہمارے رب ! دے تو ہمیں دنیا میں“ یعنی وہ دنیا کے ساز و سامان اور اس کی شہوات کا سوال کرتے ہیں۔ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، کیونکہ آخرت میں ان کو کوئی رغبت نہیں اور انہوں نے اپنی ہمت اور ارادے دنیا ہی پر مرکوز کردیئے ہیں۔ البقرة
201 ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور اپنے آپ کو دنیا اور آخرت کے تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھتے ہیں۔ ان دونوں گروہوں کے لئے اپنے اپنے اعمال اور اپنے اپنے اکتساب کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ عنقریب انہیں ان کے اعمال، ان کے ارادوں اور ان کی نیتوں کی ایسی جزا دے گا جو عدل اور فضل کے دائرے میں ہوگی، اس پر اس کی کامل ترین حمد و ثنا بیان کی جائے گی۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی دعا سنتا ہے، خواہ وہ کافر ہو، مسلمان ہو یا فاسق و فاجر، البتہ کسی کی دعا قبول ہونے کے معنی یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اس نے (اس کی دعا قبول کر کے) اسے اپنے قرب سے نواز دیا ہے۔ البتہ آخرت کی بھلائی اور دینی امور میں دعا کی قبولیت اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے قرب کی علامت ہے۔ وہ بھلائی جو دنیا میں طلب کی جاتی ہے، اس میں ہر وہ بھلائی شامل ہے جس کا ہونا بندے کو پسند ہو۔ جیسے رزق کی کشائش، نیک بیوی، نیک اولاد جسے دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں، آرام اور راحت، علم نافع، اعمال صالحہ اور دیگر پسندیدہ اور مباح چیزیں اور آخرت کی بھلائی، قبر، حساب کتاب اور آگ کے عذاب سے سلامتی، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے کامیاب ہونے اور رب رحیم کے قرب کا نام ہے۔ اس اعتبار سے یہ دعا سب سے جامع اور سب سے کامل دعا ہے اور اس قابل ہے کہ اسے تمام دعاؤں پر ترجیح دی جائے۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہی دعا مانگا کرتے تھے اور اس دعا کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ البقرة
202 البقرة
203 اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ گنتی کے چند دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، ان دنوں سے مراد عید کے بعد کے ایام تشریق (کے تین دن) ہیں، کیونکہ انہیں شرف و فضیلت حاصل ہے نیز اس لئے بھی کہ بقیہ تمام مناسک حج انہی ایام میں پورے کئے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان دنوں میں لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان دنوں میں روزہ رکھنا حرام قرار دیا ہے۔ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ایک ایسی خوبی ہے جو اور دنوں میں نہیں پائی جاتی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا﴿ اَيّامُ التَّشْرِيقِ اَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَ ذِكْرِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ﴾” ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔“ اور ان ایام میں جو اللہ کا ذکر کرنے کا حکم ہے، تو اس میں رمی جمار کے وقت، قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اور فرض نمازوں کے بعد مخصوص اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی آجاتا ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں اس حکم میں مطلق تکبیرات داخل ہیں۔ جیسے ذوالحج کے پہلے دس دنوں میں تکبیرات کہی جاتی ہیں اور یہ بعید بھی نہیں۔ ﴿ فَمَنْ تَعَـجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ۚ ﴾” پس جس نے جلدی کی دو دنوں میں، تو اس پر کوئی گناہ نہیں“ یعنی جو کوئی دوسرے روز غروب آفتاب سے قبل منیٰ سے نکل کر کوچ کرتا ہے ﴿ وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ۙ﴾” اور جس نے دیر کی تو اس پر کوئی گناہ نہیں“ یعنی جو کوئی تیسری رات منیٰ میں بسر کر کے اگلی صبح کنکر مارتا ہے (تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں) دونوں امور مباح قرار دے کر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تخفیف عطا کی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہے کہ اگرچہ دونوں امور جائز ہیں تاہم تیسری رات کے بعد منیٰ سے کوچ کرنا افضل ہے، کیونکہ اس طرح کثرت عبادت کی فضیلت حاصل ہوتی ہے۔ چونکہ آیت کریمہ میں نفی حرج کا ذکر کیا گیا ہے جس سے کبھی تو صرف اسی معاملے میں نفی حرج کا مفہوم ذہن میں آتا ہے اور کبھی اس کے علاوہ دیگر معاملات میں بھی۔ جب کہ صورتحال یہ ہے کہ صرف تقدیم و تاخیر میں حرج کی نفی کی گئی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے ﴿ لِمَنِ اتَّقٰی ۭ﴾کے ساتھ مقید کیا ہے، یعنی جس نے تمام معاملات میں اور حج کے احوال میں تقویٰ اختیار کیا۔ پس جس نے ہر معاملے میں تقویٰ اختیار کیا اس کے لئے ہر معاملے میں حرج کی نفی حاصل ہوگئی اور جس نے بعض معاملات میں تقویٰ اختیار کیا اور بعض معاملات میں اسے نظر انداز کردیا تو اس کو جزا بھی اس کے عمل کی جنس سے ملے گی۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ﴾” اور اللہ سے ڈرتے رہو۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ﴾” جان لو کہ تمہیں اسی (اللہ تعالیٰ) کے پاس اکٹھا کیا جائے گا“ اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔ پس جس کسی نے تقویٰ اختیار کیا وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی جزا پائے گا اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈر کر گناہوں سے باز نہ آیا، اللہ تعالیٰ اسے سخت سزا دے گا۔ جزا و سزا کا علم، تقویٰ کا سب سے بڑا داعیہ ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جزائے آخرت کے علم کی بڑی ترغیب دی ہے۔ البقرة
204 جب اللہ تعالیٰ نے کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا، خاص طور پر فضیلت والے اوقات میں، وہ ذکر الٰہی جو سب سے بڑی بھلائی اور نیکی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کے حال کے بارے میں خبر دی جو اپنی زبان سے جو بات کرتا ہے اس کا فعل اس کی مخالفت کرتا ہے۔ پس کلام ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو بلند مراتب پر فائز کرتی ہے یا اس کو پستی میں گرا دیتی ہے، چنانچہ فرمایا : ﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہٗ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا﴾ ” بعض لوگ وہ ہیں جن کی بات تجھ کو اچھی لگتی ہے دنیا کی زندگی میں“ یعنی جب وہ بات کرتا ہے تو اس کی باتیں سننے والے کو بہت اچھی لگتی ہیں۔ جب وہ بات کرتا ہے تو آپ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت ہی فائدہ مند بات کر رہا ہے۔ اور بات کو مزید موکد بناتا ہے۔ ﴿ وَیُشْہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہٖ ۙ﴾۔ اور جو اس کے دل میں ہے، اس پر وہ اللہ کو گواہ بناتا ہے“ یعنی وہ خبر دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے آگاہ ہے کہ اس کے دل میں وہی کچھ ہے جس کا اظہار وہ زبان سے کر رہا ہے، درآنحالیکہ وہ اس بارے میں جھوٹا ہے، کیونکہ اس کا فعل اس کے قول کی مخالفت کرتا ہے۔ اگر وہ سچا ہوتا تو اس کا فعل اس کے قول کی موافقت کرتا جیسا کہ سچے مومن کا حال ہوتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿َھُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ﴾” اور وہ سخت جھگڑالو ہے“ یعنی جب کبھی آپ اس سے بحث کرتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ اس میں سخت جھگڑالو پن، سرکشی اور تعصب جیسی مذموم صفات موجود ہیں اور ان کے نتیجے میں، اس کے اندر وہ اوصاف پائے جاتے ہیں جو قبیح ترین اوصاف ہیں۔ یہ اوصاف اہل ایمان کے اوصاف کی مانند نہیں ہیں۔ وہ اہل ایمان جنہوں نے سہولت کو اپنی سواری، اطاعت حق کو اپنا وظیفہ اور عفو و درگزر کو اپنی طبیعت بنا لیا۔ البقرة
205 ﴿ وَاِذَا تَوَلّٰی﴾” اور جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے“ یعنی یہ شخص جب آپ کے پاس موجود ہوتا ہے تو اس کی باتیں آپ کو بہت خوش کن لگتی ہیں، جب وہ آپ کے ہاں سے واپس لوٹتا ہے۔ ﴿ سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْہَا ﴾” تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے، تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے۔“ یعنی وہ گناہ اور نافرمانی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتا ہے جو زمین میں فساد برپا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ﴿ وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۭ﴾” اور کھیتی اور نسل کو نابود کر دے۔“ اور اس سبب سے کھیتیاں، باغات اور مویشی تباہ ہوتے ہیں یا ان میں کمی واقع ہوتی ہے اور گناہوں کے سبب سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ ﴿ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ﴾ ” اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا“ اور جب وہ فساد کو پسند نہیں کرتا تو وہ زمین میں فساد پھیلانے والے بندے کو سخت ناپسند کرتا ہے خواہ یہ بندہ اپنی زبان سے بہت اچھی اچھی باتیں ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ باتیں جو لوگوں کے منہ سے صادر ہوتی ہیں ان کے صدق یا کذب اور نیکی یا بدی پر اس وقت تک دلالت نہیں کرتیں جب تک اس کا عمل ان باتوں کی تصدیق نہ کر دے۔ یہ آیت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ گواہوں، حق پرستوں اور باطل پرستوں کے احوال کی تحقیق اور ان کے اعمال اور قرائن احوال میں غور و فکر کے ذریعے سے ان کی پہچان کی جائے، نیز ان کی ملمع سازی اور ان کی پاکی داماں کے دعوؤں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔ البقرة
206 پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ گناہوں اور نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلانے والے اس شخص کو جب اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کی جاتی ہے تو تکبر کرنے لگتا ہے۔ ﴿ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ ﴾” کھینچ لاتا ہے غرور اس کو گناہ پر“ چنانچہ اس کے اندر گناہ اور معاصی کے اعمال اور نصیحت کرنے والوں کے خلاف متکبرانہ رویہ اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ ﴿ فَحَسْبُہٗ جَہَنَّمُ ۭ﴾” پس اس کے لئے جہنم کافی ہے“ جو نافرمان متکبرین کا ٹھکانا ہے۔ ﴿ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ﴾ ” اور بہت برا ٹھکانا ہے۔“ یعنی بہت ہی برا ٹھکانا اور مسکن ہے جہاں وہ کبھی نہ ختم ہونے والی مایوسی اور دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے، ان کے عذاب میں کبھی تخفیف نہیں کی جائے گی۔ وہ ثواب کی کوئی امید نہیں رکھیں گے یہ ان کے اعمال بد اور ان کے جرم کی سزا ہے۔ ہم ان کے احوال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ کے طلبگار ہیں۔ البقرة
207 ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْـتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ ۭ وَاللّٰہُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ﴾” اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو بیچ دیتا ہے اپنے آپ کو اللہ کی رضا جوئی میں اور اللہ بڑا مہربان ہے بندوں پر“۔ یہی لوگ توفیق یافتہ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو ارزاں داموں میں بیچ دیا اور اللہ کی رضا کے حصول اور ثواب کی امید پر اپنی جانوں کو قربان کردیا۔ پس انہوں نے ” بندوں کے ساتھ انتہائی مہربان، پورا بدلہ دینے والے مال دار کو قیمت ادا کی ہے، وہ مہربان کہ جس کی شفقت و رحمت ہی سے ہے کہ اس نے ان کو اس قربانی کی توفیق بخشی اور اس نے اس قربانی کے پورے بدلے کا وعدہ فرمایا ﴿ إِنَّ اللَّـهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ ﴾( التوبہ: 9؍ 111) ” بے شک اللہ نے خرید لیا ہے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور مالوں کو اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے۔“ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ مومنوں نے اپنی جانوں کو فروخت اور قربان کردیا ہے اور اللہ نے ان کے مطلوب و مقصود کے حصول کے لئے اپنی واجب شفقت و رحمت کی خبر دی ہے۔ پس اس کے بعد، ان پر اللہ کریم جو نوازشات فرمائے گا اور جو کامیابی و کامرانی ان کو حاصل ہوگی، اس کی بابت مت پوچھ۔ البقرة
208 یہ اہل ایمان کے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ وہ مکمل طور پر اسلام میں داخل ہوجائیں۔ یعنی دین کے تمام احکام پر عمل کریں اور ان احکام میں سے کسی حکم کو ترک نہ کریں اور ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا۔ اگر شرعی حکم ان کی خواہش نفس کے مطابق ہوتا ہے تو اس پر عمل کرلیتے ہیں اگر یہ حکم خواہش نفس کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ دیتے ہیں، بلکہ یہ فرض ہے کہ بندے کی خواہش دین کے تابع ہو، بھلائی کا ہر وہ کام کرے جس پر اسے قدرت حاصل ہو اور جس کام کے کرنے سے وہ عاجز ہو، اس کی کوشش کرے اور اس کو بجا لانے کی نیت رکھے، پس اپنی نیت سے وہ اسے پا لے گا۔ چونکہ دین میں مکمل طور پر داخل ہونا شیطان کے راستوں کی مخالفت کئے بغیر ممکن نہیں اور نہ اس کا تصور کیا جاسکتا ہے اس لئے فرمایا : ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ۭ﴾” اور شیطان کے نقش قدم کی اتباع نہ کرو۔“ یعنی اپنے اعمال میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو ﴿ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴾” وہ تمہارا ظاہر دشمن ہے۔“ یعنی اس کی دشمنی ظاہر ہے۔ ایسا دشمن جس کی عداوت ظاہر ہو ہمیشہ تمہیں برائی، فواحش اور ایسے کاموں کا حکم دیتا ہے جو تمہارے لئے نقصان دہ ہوں۔ البقرة
209 چونکہ بندے سے ہمیشہ کوتاہی اور لغزش واقع ہوتی رہتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ فَاِنْ زَلَلْتُمْ﴾” اگر تم پھسل جاؤ۔“ یعنی اگر تم سے کوئی لغزش ہوجائے اور تم گناہ میں پڑجاؤ ﴿ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْکُمُ الْبَیِّنٰتُ﴾” احکام روشن پہنچ جانے کے بعد“ یعنی علم اور یقین ہوجانے کے بعد﴿’ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ﴾ ’’ تو جان لو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔ “ اس آیت میں نہایت سخت و عید اور تخویف ہے جو لغزشوں کو ترک کرنے کی موجب ہے، کیونکہ جب نافرمان لوگ اس غالب اور حکمت والی ہستی کی نافرمانی کرتے ہیں تو وہ نہایت قوت کے ساتھ ان کو پکڑتی ہے اور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان کو سزا دیتی ہے، کیونکہ نافرمانوں اور مجرموں کو سزا دینا اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ البقرة
210 یہ بہت سخت وعید اور تہدید ہے جس سے دل کانپ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے والے، زمین میں فساد پھیلانے والے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو رد کرنے والے روز جزا کے منتظر ہیں جو ہولناکیوں، سختیوں اور خوفناک مناظر سے بھرپور ہوگا اور بڑے بڑے ظالموں کے دل دہلا دے گا اور جس میں فساد برپا کرنے والوں کو ان کے اعمال کی بری جزا گھیر لے گی۔ یہ سب کچھ یوں ہوگا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ زمین و آسمان کو لپیٹ دے گا، ستارے بکھر جائیں گے، سورج اور چاند بے نور ہوجائیں گے۔ مکرم فرشتے نازل ہوں گے اور تمام خلائق کو گھیرے میں لے لیں گے اور اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں نزول فرمائے گا، تاکہ وہ اپنے بندوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے۔ ترازو نصب کردی جائیں گی، اعمال نامے کھول کر پھیلا دیئے جائیں گے سعادت مند لوگوں کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے اور بدبخت گناہگاروں کے چہرے سیاہ اور تاریک ہوں گے۔ نیک لوگ بدکاروں سے علیحدہ ہوجائیں گے اور ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا۔ پس ظالم وہاں (افسوس کے طور پر) اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا، جب اپنی آنکھوں سے روز جزا کی حقیقت کا مشاہدہ کرے گا۔ یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات اہل سنت و الجماعت کے مذہب کی حقانیت پر دلالت کرتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی صفات اختیاری، مثلاً استواء علی العرش ” نزول“ اور ” آمد“ جیسی صفات کا اثبات کرتی ہیں جن کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے۔ اہل سنت بغیر کسی تشبیہ، تعطیل اور تاویل و تحریف کے ان صفات کا ان کے ایسے معانی کے ساتھ اثبات کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے جلال اور عظمت کے لائق ہیں۔ اس کے برعکس اہل تعطیل کے مختلف گروہ، مثلاً جہمیہ، معتزلہ، اور اشاعرہ وغیرہ ان صفات کی نفی کرتے ہیں اور پھر اپنے مذہب کی تائید کے لئے ان آیات کریمہ کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تاویلات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تبیین کو ناقص قرار دیتی ہیں۔ وہ اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ اس بارے میں صرف ان کی تاویلات ہی کے ذریعے سے ہدایت حاصل ہوسکتی ہے۔ پس ان لوگوں کے پاس کوئی نقلی دلیل، بلکہ کوئی عقلی دلیل بھی نہیں ہے۔ جہاں تک نقلی دلیل کی بات ہے تو ان لوگوں کو خود اعتراف ہے کہ قرآن اور سنت کے ظاہری الفاظ بلکہ واضح الفاظ اہل سنت کے مذہب پر دلالت کرتے ہیں۔ جب کہ یہ حضرات اپنے باطل مذہب کی تائید اور اس کو ثابت کرنے کے لئے ان نصوص کے ظاہری معنی سے باہر نکلنے اور ان میں کمی بیشی کرنے پر مجبور ہیں اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس چیز کو کوئی ایسا شخص پسند نہیں کرسکتا جس کے دل میں رتی بھر بھی ایمان ہے۔ رہی عقلی دلیل تو کوئی عقلی دلیل ایسی نہیں جو مذکورہ صفات الٰہی کی نفی پر دلالت کرے، بلکہ عقل تو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فاعل، فعل پر قدرت نہ رکھنے والے سے زیادہ کامل ہوتا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فعل، جو اس کی اپنی ذات سے متعلق ہو یا اس کی مخلوق سے متعلق، وہ ایک کمال ہی ہے۔ اگر وہ یہ اعتراض کریں کہ ان صفات کا اثبات، مخلوق کے ساتھ تشبیہ پر دلالت کرتا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ صفات پر بحث، ذات پر بحث کے تابع ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات مخلوق کی ذات سے مشابہت نہیں رکھتی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفات پر بحث، ذات پر بحث کے تابع ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات مخلوق کی ذات سے مشابہت نہیں رکھتی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفات مخلوق کی صفات سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات اس کی ذات کے تابع ہیں اور مخلوق کی صفات ان کی ذات کے تابع ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی صفات کے اثبات سے، کسی بھی پہلو سے مخلوق کی صفات کے ساتھ مشابہت لازم نہیں آتی۔ نیز اس شخص سے یہ بھی کہا جائے گا، جو اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا اقرار کرتا ہے اور اس کی بعض صفات کا منکر ہے یا وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء کا اقرار کرتا ہے اور اس کی صفات کی نفی کرتا ہے کہ یا تو آپ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا اثبات کریں جیسے اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کے لئے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صفات کا اثبات کیا ہے یا ان تمام صفات کی نفی کر کے اللہ رب العالمین کے منکر بن جائیں لیکن آپ کا بعض صفات کا اثبات کرنا اور بعض صفات کی نفی کرنا تو محض تناقض ہے اس لئے آپ ان صفات میں جن کا آپ اثبات کرتے ہیں اور ان صفات میں جن کی آپ نفی کرتے ہیں، فرق ثابت کریں اور اس تفریق پر آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اگر آپ کہیں کہ جن صفات کا میں نے اثبات کیا ہے ان سے تشبیہ لازم نہیں آتی تو صفات الٰہی کا اثبات کرنے والے اہل سنت آپ سے یہ کہتے ہیں کہ جن صفات کی آپ نے نفی کی ہے ان سے بھی تشبیہ لازم نہیں آتی۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ جن صفات کی میں نفی کی ہے میرے نزدیک تو ان میں تشبیہ ہی لازم آتی ہے۔ تو صفات کی نفی کرنے والے تجھے کہیں گے کہ جن صفات کا آپ اثبات کرتے ہیں، ہمیں تو ان میں بھی تشبیہ لازم نہیں آتی۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ جن صفات کی میں نے نفی کی ہے میرے نزدیک تو ان میں تشبیہ ہی لازم آتی ہے تو صفات کی نفی کرنے والے تجھے کہیں گے کہ جن صفات کا آپ اثبات کرتے ہیں، ہمیں تو ان میں بھی تشبیہ ہی نظر آتی ہے۔ پس جو جواب آپ نفی کرنے والوں کو دیں گے وہی جواب اہل سنت آپ کو ان صفات کی بابت دیں گے جن کی آپ نفی کرتے ہیں۔ حاصل بحث یہ ہے کہ جو کوئی کسی ایسے امر کی نفی کرتا ہے جس کے اثبات پر قرآن اور سنت دلالت کرتے ہیں، تو وہ تناقض کا شکار ہے۔ اس کے پاس کوئی شرعی دلیل ہے نہ عقلی، بلکہ وہ معقول اور منقول دونوں کی مخالفت کا مرتکب ہے۔ البقرة
211 ﴿ سَلْ بَنِیْٓ اِسْرَاۗءِ یْلَ کَمْ اٰتَیْنٰھُمْ مِّنْ اٰیَۃٍۢ بَیِّنَۃٍ ۭ﴾ ” بنی اسرائیل سے پوچھیں، کتنی ہی واضح نشانیاں ہم نے ان کو دیں؟“ ایسی آیتیں جو حق اور رسولوں کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں، انہوں نے ان آیات کو پہچان لیا اور ان کی حقانیت کا انہیں یقین بھی ہوگیا مگر وہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر نہ بجا لائے جو اس نعمت کا تقاضا ہے، بلکہ انہوں نے اس نعمت کی ناشکری کی اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو کفران نعمت سے بدل ڈالا۔ پس وہ اس بات کے مستحق بن گئے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کرے اور ان کو اپنے ثواب سے محروم رکھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفران نعمت کو ” نعمت کی تبدیلی“ اس لئے کہا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو کوئی دینی یا دنیاوی نعمت عطا کرتا ہے اور وہ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر نہیں کرتا اور اس کے واجبات کو ادا نہیں کرتا تو یہ نعمت اضمحلال کا شکار ہوجاتی ہے اور اس کے پاس سے چلی جاتی ہے اور کفر اور معاصی اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔ اس طرح گویا کفر، نعمت کا بدل ہوگیا اور جو کوئی اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہے اور اس کے حقوق کو ادا کرتا ہے تو وہ نعمت نہ صرف ہمیشہ برقرار رہتی ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس نعمت میں اضافہ کردیتا ہے۔ البقرة
212 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اس کی شریعت کے مطابق زندگی بسر نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان کے سامنے دنیاوی زندگی کو مزین اور آراستہ کردیتا ہے۔ دنیا کی یہ زندگی ان کے دلوں میں اور ان کی آنکھوں کے سامنے خوشنما بنا دی جاتی ہے، پس وہ اس دنیا میں مگن اور اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں تو ان کی خواہشات، ان کے ارادے اور ان کا عمل سب دنیا کے لئے ہوجاتے ہیں۔ وہ دنیا کی طرف بھاگتے ہیں، اسی کے حصول میں ہمہ تن مغشول رہتے ہیں، وہ اس دنیا اور اپنے جیسے دنیا داروں کی تعظیم کرتے ہیں اور اہل ایمان سے نہایت حقارت سے پیش آتے ہیں اور ان کا تمسخر اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں ” کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا؟“ یہ ان کی کم عقلی اور کم نظری ہے، کیونکہ یہ دنیا آزمائش اور امتحان کا گھر ہے اس دنیا میں اہل ایمان اور اہل کفر، ان سب کو آزمائش کی یہ سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں، بلکہ اس دنیا کے اندر مومن کو اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ایمان اور صبر کی بنا پر اس کی تکلیف میں تخفیف کردیتا ہے کسی اور کے لئے یہ تخفیف نہیں ہوتی۔ اس لئے تمام معاملہ اور تمام تر فضیلت وہ ہے جو آخرت میں عطا ہو۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ وَالَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ۭ﴾” پرہیز گار ان سے بلند ہوں گے قیامت کے دن“ پس اہل تقویٰ قیامت کے روز بلند ترین درجات پر فائز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی انواع و اقسام کی نعمتوں، مسرتوں، تروتازگی اور خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں گے اور کفار ان کے نیچے جہنم کی اتھاہ گہرائیوں میں مختلف قسم کے عذاب، ابدی اہانت اور بدبختی میں مبتلا رہیں گے جس کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔ پس اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کے لئے تسلی اور کفار کے لئے ان کے برے انجام کی اطلاع ہے۔ چونکہ دنیاوی اور اخروی رزق صرف اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی مشیت ہی سے حاصل ہوتے ہیں اس لئے فرمایا : ﴿ وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَاۗءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴾ ” اور اللہ رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے، بغیر حساب کے“ پس دنیاوی رزق تو مومن اور کافر سب کو عطا ہوتا ہے۔ رہا علم و ایمان، محبت الٰہی، اللہ کا ڈر اور اس پر امید تو یہ دلوں کا رزق ہے جو اللہ تعالیٰ صرف اسے عطا کرتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ البقرة
213 یعنی وہ سب ہدایت پر جمع تھے اور یہ سلسلہ آدم علیہ السلام کے بعد دس صدیوں تک جاری رہا۔ پھر جب انہوں نے دین میں اختلاف کیا تو ایک گروہ کافر ہوگیا اور دوسرا گروہ دین پر قائم رہا اور ان کے درمیان اختلاف ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان فیصلے اور ان پر حجت قائم کرنے کے لئے رسول بھیجے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تمام لوگ کفر، ضلالت اور شقاوت پر مجتمع تھے۔ ان کے سامنے کوئی روشنی اور ایمان کی کوئی کرن نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف انبیاء و رسل علیہ السلام بھیج کر ان پر رحم فرمایا ﴿ مُبَشِّرِیْنَ﴾” بشارت دینے والے“ یعنی یہ رسول لوگوں کو خوشخبری سناتے کہ اللہ کی اطاعت کے ثمرات، رزق، قلب و بدن کی قوت اور پاکیزہ زندگی کی صورت میں ہوں گے۔۔۔ اور ان سب سے بڑھ کر وہ کامیابی ہے جو اللہ کی رضا مندی اور جنت کی صورت میں حاصل ہوگی۔ ﴿ وَمُنْذِرِیْنَ ۠﴾ اور اللہ کے نافرمانوں کو معصیت کے نتائج سے ڈراتے ہیں جو دنیا میں رزق سے محرومی، کمزوری، اہانت اور تنگ زندگی کی صورت میں نکلتے ہیں اور آخرت میں ایسے لوگوں کے لئے بدترین عذاب، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور جہنم ہے۔ ﴿ وَاَنْزَلَ مَعَہُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ﴾” اور ان کے ساتھ کتاب اتاری ساتھ حق کے۔“ اس سے مراد وہ سچی خبریں اور عدل پر مبنی احکام ہیں جنہیں اللہ کے رسول لے کر مبعوث ہوتے رہے ہیں۔ پس وہ تمام اخبار و احکام جن پر کتب الٰہیہ مشتمل ہیں، حق ہیں اور اصول و فروع میں اختلاف کرنے والوں کے مابین فیصلہ کرتے ہیں اور اختلاف اور تنازع واقع ہونے کی صورت میں فرض ہے کہ اختلاف اور تنازع کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹایا جائے۔ اگر کتاب اللہ اور سنت رسول میں ان اختلاف کرنے والوں کے نزاع کا فیصلہ موجود نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے جھگڑوں کو ان کی طرف لوٹا نے کا حکم نہ دیتا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب پر کتابیں نازل فرما کر اپنی عظیم نعمت کا ذکر کیا ہے۔ اس نعمت کا تقاضا تھا کہ وہ ان کتابوں پر اتفاق کرتے ہوئے اکٹھے ہوتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ انہوں نے ایک دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا جس کے نتیجے میں نزاعات، جھگڑے اور بے شمار اختلافات ظاہر ہوئے، چنانچہ انہوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا جس کے بارے میں ان کے لئے مناسب یہ تھا کہ وہ اس کتاب پر لوگوں میں سے سب سے زیادہ اتفاق کرنے والے ہوتے اور ان کا یہ رویہ آیات بینات اور دلائل قاطعہ کو جان لینے اور ان کی صداقت پر یقین ہوجانے کے بعد تھا۔ پس وہ اپنے اس رویے کی وجہ سے دور کی گمراہی میں جا پڑے۔ ﴿ۚفَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ﴾” پس اللہ نے مومنوں کو راہ دکھا دی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس امت کے اہل ایمان کی راہنمائی فرمائی ﴿ لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ﴾” ان چیزوں میں جن میں انہوں نے اختلاف کیا، حق سے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر اس معاملے میں اہل ایمان کی راہنمائی فرمائی جس میں اہل کتاب اختلافات کا شکار ہو کر حق و صواب سے دور ہٹ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کی حق و صواب کی طرف راہنمائی فرمائی ﴿ بِاِذْنِہٖ ۭ﴾” اپنے حکم سے“ یعنی اپنے اذان اور اپنی رحمت سے حق و صواب کو ان کے لئے آسان کردیا۔ ﴿ وَاللّٰہُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَاۗءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَـقِیْمٍ﴾” اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے“ پس اللہ تعالیٰ نے عدل اور مخلوق پر حجت قائم کرنے کے لئے تمام انسانوں کو صراط مستقیم کی طرف عام دعوت دی ہے۔ تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں ﴿ مَا جَاءَنَا مِن بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ ﴾ (المائدة: 5؍ 19) ” ہمارے پاس تو کوئی خوشخبری دینے والا اور کوئی ڈرانے والا ہی نہیں آیا“ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت اور لطف و اعانت سے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہا ہدایت سے نوازا۔ پس ہدایت سے نوازنا، یہ اس کا فعل و احسان ہے اور ساری مخلوق کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دینا، یہ اس کا عدل اور اس کی حکمت ہے۔ البقرة
214 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ خوشحالی، بدحالی اور مشقت کے ذریعے سے ضرور اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے جیسے اس نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا۔ یہ اس کی سنت جاریہ ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا جو کوئی اس کے دین اور شریعت پر چلنے کا دعویٰ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ضرور آزماتا ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر صبر کرتا ہے اور اس کی راہ میں پیش آنے والے مصائب اور تکالیف کی پرواہ نہیں کرتا تو وہ اپنے دعوے میں سچا ہے اور کامل ترین سعادت اور سیادت کی منزل کو پالے گا اور جو کوئی لوگوں کے فتنے کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانند سمجھ لیتا ہے بایں طور کہ لوگوں کی اذائیں اور تکالیف اس کو اپنے راستے سے ہٹا دیتی ہیں اور امتحان اور آزمائش اس کی منزل کھوٹی کردیتے ہیں، تو وہ اپنے دعویٰ ایمان میں جھوٹا ہے۔ کیونکہ ایمان محض تمناؤں اور مجرد دعووں کا نام نہیں، بلکہ اعمال اس کی تصدیق یا تکذیب کرتے ہیں۔ سابقہ امتوں کو بھی اسی راستے سے گزرنا پڑا ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ ﴾” ان کو سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں۔“ یعنی وہ فقر و فاقہ کا شکار ہوئے اور ان پر مختلف بیماریوں نے حملہ کیا ﴿وَزُلْزِلُوْا ﴾” اور وہ ہلا دیے گئے۔“ یعنی قتل، جلا وطنی، مال لوٹ لینے اور عزیز و اقارب کو قتل کی دھمکی کے خوف اور دیگر نقصانات کے ذریعے سے ان کو ہلا ڈالا گیا، اس حالت نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد پر یقین رکھنے کے باوجود اس کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہوگئے یہاں تک کہ معاملے کی شدت اور تنگی کی بنا پر ﴿’ حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ ۭ﴾’’ رسول اور اس کے مومن ساتھی بھی پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ “ چونکہ ہر شدت کے بعد آسانی اور تنگی کے بعد فراخی ہوتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ﴾” آگاہ رہو کہ اللہ کی مدد قریب ہے“ پس ہر وہ شخص جو حق پر قائم رہتا ہے اس کا اسی طرح امتحان لیا جاتا ہے۔ جب بندہ مومن پر سختیاں اور صعوبتیں یلغار کرتی ہیں اور وہ ثابت قدمی سے ان پر صبر کرتا ہے، تب یہ امتحان اس کے حق میں انعام اور مشقتیں راحتوں میں بدل جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے نوازا جاتا ہے اور وہ قلب کی تمام بیماریوں سے شفایاب ہوجاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے ﴿ أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ  ﴾ل عمران : 3؍ 142) ” کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ اس نے تم میں جہاد کرنے والوں کو آزما کر معلوم ہی نہیں کیا اور نیز یہ کہ وہ صبر کرنے والوں کو معلوم کرے۔“ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے ﴿ الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ ﴾ (العنکبوت: 29؍ 1۔3) ” کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لائے ان کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان کو آزمایا نہیں جائے گا، یقیناً ہم نے ان لوگوں کو بھی آزمایا ہے جو ان سے پہلے تھے اللہ ان کو ضرور آزما کر معلوم کرے گا جو اپنے دعویٰ ایمان میں سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں۔“ پس امتحان کے وقت ہی انسان کی عزت یا تحقیر ہوتی ہے۔ البقرة
215 لوگ آپ سے خرچ کرنے کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ یہ سوال خرچ کرنے والے اور جس پر خرچ کیا جائے، ان کے بارے میں عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں ان کو جواب عطا فرمایا : ﴿ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ ﴾” کہہ دیجیے، جو مال تم خرچ کرنا چاہو۔“ یعنی تھوڑا یا زیادہ جو مال بھی تم خرچ کرتے ہو، اس مال کے سب سے زیادہ اور سب سے پہلے مستحق والدین ہیں جن کے ساتھ نیکی کرنا فرض اور ان کی نافرمانی حرام ہے اور والدین کے ساتھ سب سے بڑی نیکی ان پر خرچ کرنا اور ان کی سب سے بڑی نافرمانی ان پر خرچ کرنے سے گریز کرنا ہے۔ اس لئے صاحب کشائش بیٹے کے والدین پر خرچ کرنا فرض ہے۔ والدین کے بعد رشتہ داروں پر ان کے رشتوں کے مطابق خرچ کیا جائے اور ( الأقْرَبُ فَالْأقْرَبُ)” جو زیادہ قریبی ہے وہ زیادہ مستحق ہے“ کے اصول کو مدنظر رکھا جائے اور جو زیادہ قریبی اور ضرورت مند ہے اسے دیا جائے۔ پس ان پر خرچ کرنا صدقہ اور صلہ رحمی ہے۔ ﴿وَالْیَتٰمٰی﴾” یتیموں سے مراد وہ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جن کا کوئی کمانے والا نہیں۔ ان کے بارے میں گمان یہی ہوتا ہے کہ وہ ضرورت مند ہیں، کیونکہ ان کے لئے کوئی کمانے والا موجود نہیں ہے اور وہ خود اپنے مصالح کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم اور لطف و کرم کرتے ہوئے اپنے بندوں کو ان کے بارے میں وصیت کی ہے۔ ﴿ وَالْمَسٰکِیْنِ﴾” مساکین سے مراد حاجت مند اور ضرورت مند لوگ ہیں جنہیں ضرورتوں اور حاجتوں نے غریب و مسکین بنا دیا ہو۔ ان کی ضروریات زندگی پوری کرنے اور انہیں ضروریات سے بے نیاز کرنے کے لئے ان پر خرچ کیا جائے۔ ﴿ وَابْنِ السَّبِیْلِ ۭ﴾” اس سے مراد وہ مسافر اور اجنبی شخص ہے جو زاد سفر ختم ہوجانے کی وجہ سے دیار غیر میں پھنس کر رہ گیا ہو۔ اس پر خرچ کر کے اس کے سفر میں اس کے ساتھ تعاون کیا جائے، تاکہ وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ضرورت مندوں کی ان تمام اصناف کو خاص طور پر ذکر کرنے کے بعد اس حکم کو عام کردیا اور فرمایا : ﴿وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ﴾” اور جو بھلائی تم کرو گے۔“ یعنی مذکورہ بالا اور دیگر لوگوں پر تم جو کچھ خرچ کرتے ہو، بلکہ نیکی اور تقرب الٰہی کا جو کام بھی کرتے ہو، اس میں سب شامل ہیں، کیونکہ یہ تمام کام ” خیر“ یعنی بھلائی کے تحت آتے ہیں ﴿ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ﴾” اللہ (بھلائی کے) ان تمام کاموں کو جانتا ہے“ پس وہ تمہیں ان کا بدلہ عطا کرے گا اور اس کو وہ تمہارے لئے محفوظ رکھتا ہے، ہر شخص کو اس کی نیت، اخلاص، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی قلت یا کثرت، ضرورت مندوں کی ضرورت کی شدت، اس خرچ کی وقعت اور فائدے کے مطابق جزا ملے گی۔ البقرة
216 اس آیت کریمہ میں اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راستے میں (کافروں کے ساتھ) قتال فرض کیا گیا ہے اس سے قبل وہ ترک قتال پر مامور تھے، کیونکہ وہ کمزور تھے اور قتال کے متحمل نہیں تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ آگئے، مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوگئی اور وہ طاقتور ہوگئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قتال کا حکم دے دیا۔ ان کو یہ بھی بتا دیا کہ مشقت، تکان، مختلف قسم کے خوف اور ہلاکت کے خطرے کی وجہ سے نفس کو جہاد اور قتال ناپسند ہے۔ اس کے باوجود قتال خالص نیکی ہے جس میں بہت بڑا ثواب، جہنم کے عذاب سے حفاظت، دشمن پر فتح و نصرت اور مال غنیمت وغیرہ کا حصول ہے۔ یہ تمام چیزیں قتال کے ناپسند ہونے کے باوجود مرغوب ہوتی ہیں۔ ﴿ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَـیْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ۭ﴾” اور شاید تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لئے بری ہو“ مثلاً محض راحت اور آرام کی خاطر جہاد چھوڑ کر گھر بیٹھ رہنا۔ یہ بہت بڑی برائی ہے اس کا نتیجہ پسپائی، اسلام اور مسلمانوں پر کفار کے تسلط، ذلت اور رسوائی، بہت بڑے ثواب سے محرومی اور جہنم کے عذاب کے سوا کچھ نہیں۔ یہ آیات کریمہ اس بات کی بابت عام ہیں کہ نیکی کے وہ کام جن کو نفوس ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے کرنے میں مشقت ہے۔ بلاشک و شبہ بھلائی ہیں اور برے کام جن کو نفوس پسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ان میں لذت و راحت کا واہمہ ہے۔ بلاشک و شبہ شر ہیں۔ رہے دنیا کے حالات تو یہ اصول عام نہیں، لیکن غالب طور پر بندہ مومن جب کسی معاملے کو پسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے جو اس کے اس خیال کو دور کردیتے ہیں کہ یہ معاملہ اس کے لئے اچھا ہے۔ پس اس کے لئے زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور فی الواقع خیر ہی کا اعتقاد رکھے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس سے کہیں زیادہ رحم کرتا ہے جتنا بندہ اپنے آپ پر رحم کرسکتا ہے اور اپنے بندے کے مصالح کی اس سے کہیں زیادہ دیکھ بھال کرتا ہے جتنی دیکھ بھال بندہ خود کرسکتا ہے اللہ تعالیٰ بندے سے زیادہ اس کے مصالح کو جانتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾” اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے“ لہٰذا تمہارے لئے مناسب یہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے ساتھ ساتھ چلو، خواہ تمہیں اچھے لگیں یا برے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے قتال کا (مطلق) حکم دیا ہے اور اگر اس حکم کو مقید نہ کیا جائے تو اس میں حرام مہینوں میں قتال بھی شامل ہوجائے گا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان حرام مہینوں کو مستثنیٰ قرار دے دیا۔ البقرة
217 جمہور مفسرین کہتے ہیں کہ حرام مہینوں میں قتال کی حرمت اس آیت کے ذریعے سے منسوخ ہوگئی ہے جس میں حکم ہے کہ مشرکوں سے لڑو جہاں کہیں بھی ان کو پاؤ۔ (اشارہ ہے البقرہ ؍191، النساء ؍89، 91 کی طرف۔ مترجم) اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں، کیونکہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے یہ آیت کریمہ قتال کے عام اور مطلق حکم کو مقید کرتی ہے۔ نیز اس لئے بھی کہ حرام مہینوں کی جملہ خوبیوں میں سے ایک خوبی، بلکہ سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان مہینوں میں لڑائی حرام ہے۔ یہ حکم لڑائی کی ابتدا کرنے کے بارے میں ہے۔ رہی دفاعی جنگ تو یہ حرام مہینوں میں بھی جائز ہے جیسے حرم کے اندر دفاعی جنگ لڑنا جائز ہے۔ اس آیت کریمہ کے نازل ہونے کا سبب یہ ہے کہ عبداللہ حجش رضی اللہ عنہ کے سر یہ میں مسلمانوں نے عمرو بن الحضرمی کو قتل کردیا اور مشرکوں کا مال لوٹ لیا۔۔۔ روایات کے مطابق۔۔۔ یہ سریہ رجب کے مہینے میں واقع ہوا تھا، اس لئے مشرکین نے عار دلائی کہ مسلمانوں نے حرام مہینوں میں لڑائی کی ہے، حالانکہ اس عار دلانے میں وہ زیادتی کا ارتکاب کر رہے تھے، کیونکہ خود ان میں بہت سی برائیاں تھیں ان میں سے بعض برائیاں تو ایسی تھیں جو اس برائی سے بڑی تھیں جس پر مشرکین مسلمانوں کو عار دلا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان برائیوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ وَصَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ﴾” اور اللہ کی راہ سے روکنا۔“ یعنی مشرکین کا لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے روکنا، اہل ایمان کو آزمائش میں ڈالنا، ان کو ان کے دین سے ہٹا دینے کی کوشش کرنا اور حرمت والے مہینے اور حرمت والے شہر میں کفر کا ارتکاب کرنا وغیرہ اور قباحت کے لئے تو مجرد کفر ہی کافی ہے۔۔۔ تب اس برائی کی شدت اور قباحت کا کیا حال ہوگا اگر اس کا ارتکاب حرمت والے مہینے اور حرمت والے شہر میں کیا جائے۔ ﴿ وَ اِخْرَاجُ اَھْلِہٖ مِنْہُ﴾” اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا“ یعنی مسجد حرام میں عبادت کرنے والوں کو مسجد سے نکالنا، اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ وہ مسجد حرام میں عبادت کرنے کے مشرکوں سے زیادہ حق دار ہیں۔ وہی درحقیقت مسجد حرام کو آباد کرنے والے ہیں۔ پس مشرکین نے ان کو مسجد حرام سے نکال دیا اور ان کے لئے مسجد حرام تک پہنچنا ممکن نہ رہا۔ حالانکہ یہ گھر مکہ کے رہنے والوں اور باہر کے لوگوں کے لئے برابر حیثیت رکھتا ہے۔ ﴿ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۭ ﴾” خون ریزی سے بھی بڑھ کر ہے“ یعنی ان تمام برائیوں میں سے ہر ایک برائی کی قباحت حرام مہینوں میں قتل کی قباحت سے بڑھ کر ہے، تب ان کا کیا حال ہے جبکہ ان کے اندر مذکورہ تمام برائیاں ہی جمع ہیں؟ تو معلوم ہوا کہ یہ فاسق وفا جر لوگ ہیں اور اہل ایمان کو عار دلانے میں زیادتی سے کام لے رہے ہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مشرکین اہل ایمان سے لڑتے رہیں گے اور اس لڑائی سے ان کی غرض اہل ایمان کو قتل کرنا یا ان کے اموال لوٹنا نہیں، بلکہ ان کی غرض و غایت صرف یہ ہے کہ اہل ایمان اپنا دین چھوڑ کر پھر کفر کی طرف لوٹ جائیں اور اس طرح وہ پھر سے جہنمیوں کے گروہ میں شامل ہوجائیں۔ پس وہ مسلمانوں کو اپنے دین سے پھیرنے کے لئے پوری قوت استعمال کر رہے ہیں اور امکان بھر اسی کوشش میں مصروف ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنی ہدایت کی روشنی کو مکمل کر کے رہے گا خواہ کفار کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ تمام کفار کا عام طور پر یہی رویہ ہے وہ دوسرے لوگوں سے ہمیشہ برسر پیکار رہیں گے جب تک کہ ان کو اپنے دین سے پھیر نہ دیں۔ خاص طور پر یہود ونصاریٰ نے اس مقصد کے لئے جماعتیں تشکیل دیں، اپنے داعی بھیجے، طبیب پھیلائے اور مدارس قائم کئے، تاکہ دوسری قوموں کو اپنے مذہب میں جذب کرلیں۔ ان کے اذہان میں ہر وہ شبہ ڈال دیں جو ان کے دین میں شک پیدا کرے مگر امید ہے کہ اللہ تعالیٰ جس نے اہل ایمان کو اسلام جیسی نعمت عطا کر کے احسان فرمایا اور اپنے اس دین قیم کو ان کے لئے چن لیا اور اپنے دین کو ان کے لئے مکمل کیا، ان پر اپنی نعمت کو قائم کرے گا، پوری طرح اس کا اتمام کرے گا اور ہر اس طاقت کو پسپا کر دے گا جو اس کے دین کی روشنی کو بجھانے کی کوشش کرے گی، وہ ان کی چالوں کو ان کے سینوں ہی میں کچل کر رکھ دے گا اور وہ اپنے دین کی مدد اور اپنے کلمہ کو ضرور بلند کرے گا اور سورۃ الانفال کی یہ آیت کریمہ جس طرح پہلے کفار پر صادق آتی تھی، اسی طرح یہ موجودہ کفار پر بھی پوری طرح صادق آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ  ﴾ (الانفال: 36؍8) ” بے شک وہ لوگ جو کافر ہیں وہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کے لئے اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ وہ عنقریب ابھی اور مال خرچ کریں گے آخر کا ریہ مال خرچ کرنا ان کے لئے حسرت کا باعث بنے گا اور وہ مغلوب ہوں گے اور وہ لوگ جو کافر ہیں ان کو جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ جو کوئی مرتد ہو کر اسلام کو چھوڑ دے اور کفر کو اختیار کرے، ہمیشہ کفر پر قائم رہے حتیٰ کہ کفر کی حالت میں مر جائے ﴿فَاُولٰۗیِٕکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ۚ﴾” تو دنیا و آخرت میں ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے“ کیونکہ ان اعمال کی قبولیت کی شرط یعنی اسلام موجود نہیں ہے ﴿ وَاُولٰۗیِٕکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ﴾” اور یہی لوگ دوزخ والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے۔“ اس آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی مرتد ہونے کے بعد پھر دین اسلام کی طرف لوٹ آئے، تو اس کا عمل اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ جو اس نے مرتد ہونے سے پہلے کیا تھا۔ اسی طرح جو کوئی گناہوں سے تائب ہوجاتا ہے تو اس کے سابقہ اعمال اس کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ البقرة
218 آیت کریمہ میں مذکور تینوں اعمال سعادت کا عنوان اور عبودیت کا مرکز و محور ہیں، انہی اعمال سے پہچان ہوتی ہے کہ انسان کے پاس کیا گھاٹے یا منافع کا سودا ہے۔ رہا ایمان تو اس کی فضیلت کے بارے میں مت پوچھئے اور آپ اس چیز کے بارے میں کیسے پوچھ سکتے ہیں جو اہل سعادت اور اہل شقاوت اور جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان حد فاصل ہو؟ یہ ایمان ہی ہے کہ جب بندہ اس سے بہرہ ور ہوتا ہے، تو بھلائی کے تمام اعمال اس سے قبول کئے جاتے ہیں اور اگر وہ اس سے محروم ہو، تو پھر اس کا کوئی فرض اور کوئی نفل قابل قبول نہیں۔ رہی ہجرت ! تو یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے محبوب اور مالوف وطن سے جدائی کو قبول کرنا ہے۔ پس مہاجر محض تقرب الٰہی اور نصرت دین کی خاطر اپنا وطن، اپنا مال و متاع اپنے اہل و عیال اور اپنے دوست و احباب کو چھوڑ دیتا ہے۔ رہا جہاد تو یہ دشمنان اسلام کے خلاف پوری طاقت سے جدوجہد کرنے، پوری کوشش سے اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت اور شیطانی نظریات کے قلع قمع کرنے کا نام ہے۔ جہاد اعمال صالحہ میں سب سے بڑا عمل ہے اور اس کی جزا بھی ہر عمل کی جزا سے افضل ہے۔ جہاد دائرہ اسلام کی توسیع، بتوں کے پجاریوں کی پسپائی اور مسلمانوں، ان کی جان و مال اور ان کی اولاد کے لئے امن کا سب سے بڑا وسیلہ اور سبب ہے۔ جو کوئی ان تینوں اعمال کو، ان کی سختیوں اور مشقتوں کے باوجود بجالاتا ہے وہ دیگر اعمال کو بدرجہ اولیٰ بجا لانے اور ان کی تکمیل پر قادر ہے۔ یہی لوگ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار بنیں، کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں ایسا سبب پیش کیا ہے جو اس کی رحمت کا موجب ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ سعادت کے اسباب کو عمل میں لا کر ہی سعادت کی امید کی جاسکتی ہے۔ رہی وہ امید جو سستی اور کاہلی پر مبنی ہو اور جس سے پہلے اسباب کو عمل میں نہ لایا گیا ہو۔ تو وہ محض عجز، آرزو اور فریب ہے اور اس قسم کی امید، کم ہمتی اور کم عقلی پر دلالت کرتی ہے۔ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو نکاح کے وجود کے بغیر ہی اولاد کی اور بیج بوئے اور پانی دیئے بغیر ہی غلے کی فصل کی امید رکھتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اُولٰۗیِٕکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ ۭ﴾” یہی لوگ اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں“ میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ مومن خواہ کتنے ہی بڑے بڑے اعمال لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہو، تب بھی اس کے لئے مناسب نہیں کہ وہ ان اعمال پر بھروسہ کرے، بلکہ وہ اپنے رب کی رحمت کی امید رکھے وہ یہ امید رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں اس کے اعمال قبول ہوجائیں گے، اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور اس کے عیوب کی پردہ پوشی کردی جائے گی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ﴾” اور اللہ بخشنے والا“ یعنی جو خالص توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے ﴿ رَّحِیْمٌ﴾” رحمت کرنے والا ہے۔“ یعنی اس کی رحمت ہر چیز پر محیط اور اس کی سخا وت اور احسان ہر ذی حیات کے لئے عام ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی ان مذکورہ اعمال کو بجا لائے گا، وہ مغفرت الٰہی سے بہرہ ور ہوگا، کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں اور بندہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل ہوجائے گی اور بندہ مومن جب اللہ تعالیٰ کی مغفرت حاصل کرلے گا، تو دنیا و آخرت کی تمام عقوبتیں اس سے دور ہوجائیں گی۔ یہ عقوبتیں درحقیقت گناہوں کے اثرات ہیں ان گناہوں کو بخش دیا جائے گا تو یہ اثرات بھی ختم ہوجائیں گے۔ جب بندہ مومن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہرہ مند ہوجاتا ہے تو دنیا و آخرت کی ہر بھلائی اسے حاصل ہوجاتی ہے، بلکہ مذکورہ اعمال بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حصہ ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی توفیق عطا نہ فرماتا تو کبھی ان اعمال کا ارادہ بھی نہ کرسکتے، اگر اللہ تعالیٰ ان اعمال کو بجا لانے کی قدرت عطا نہ کرتا، تو وہ ان اعمال کو بجا لانے پر کبھی قادر نہ ہوتے اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان شامل حال نہ ہوتا تو اللہ ان اعمال کو تکمیل تک پہنچاتا نہ ان اعمال کو قبول کرتا۔ پس اول و آخر وہی فضل و کرم کا مالک ہے اور وہی ہے جو سبب اور مسبب سے نوازتا ہے۔ البقرة
219 ﴿۔یَسْــَٔـلُوْنَکَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَیْسِرِ ۭ﴾ یعنی اے رسول ! اہل ایمان آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ صحابہ کرام زمانہ جاہلیت اور اسلام کے ابتدائی ایام میں شراب وغیرہ استعمال کیا کرتے تھے۔ یوں لگتا ہے کہ شراب اور جوئے کے بارے میں کوئی اشکال واقع ہوا تھا اس لئے انہوں نے ان کے احکام کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اہل ایمان پر شراب اور جوئے کے فوائد اور نقصانات واضح کردیں، تاکہ یہ وضاحت شراب اور جوئے کی تحریم اور ان کو حتمی طور پر تک کردینے کا مقدمہ بن جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے گناہ اور ان کے نقصانات اور ان کے اثرات سے آگاہ فرمایا، ان اثرات اور نقصانات میں عقل اور مال کا زائل ہونا، ان کا اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے روکنا اور عداوت اور بغض پیدا کرنا شامل ہیں۔ یہ تمام نقصانات ایسے ہیں جو ان کے مزعومہ فوائد، مثلاً شراب کی تجارت اور جوئے کے ذریعے سے اکتساب مال، شراب نوشی اور جو اکھیلتے وقت حاصل ہونے والے طرب اور فرحت وغیرہ سے، بہت بڑے ہیں۔ نیز یہ بیان نفوس کے لئے زجر و توبیخ کی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ عقل مند شخص ہمیشہ اس چیز کو ترجیح دیتا ہے جس کے فوائد راجح ہوں اور ایسی چیز سے اجتناب کرتا ہے جس کے نقصانات زیادہ ہوں۔ لیکن چونکہ یہ حضرات شراب اور جوئے کے عادی اور ان سے مالوف تھے لہٰذا فوری اور حتمی طور پر ان کو چھوڑنا ان کے لئے سخت مشکل تھا اس لئے (تدریج کے طور پر) اس آیت کریمہ کو پہلے نازل فرمایا۔ چنانچہ یہ آیت اس آیت کے مقدمہ کی حیثیت رکھتی ہے ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ  ﴾(المائدہ: 5؍ 90) ” اے ایمان والے لوگو ! شراب، جوا، بت اور پانسے تو نا پاک اور شیطان کے کام ہیں“ اور آخر میں فرمایا ﴿فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ﴾ (المائدہ:5؍ 91) ” کیا تم باز آؤ گے؟“ اور یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم، اس کی رحمت اور اس کی حکمت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ پکار اٹھے( اِنْتَهَيْنَا اِنْتَهَيْنَا)” اے ہمارے رب ہم باز آئے، ہم باز آئے۔“ رہی شراب، تو اس سے مراد ہر نشہ دینے والی چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ لے خواہ وہ کسی نوع سے تعلق رکھتی ہو۔ اور جوئے سے مراد ہر وہ کام ہے جس میں مدمقابل کو ہرانے اور خود جیتنے کے لئے مقابلہ ہو اور فریقین کی طرف سے جیتنے پر کوئی مالی عوض مقرر کیا گیا ہو مثلاً شطرنج کا کھیل اور تمام قولی اور فعلی مقابلے جن کی ہار جیت پر کوئی مالی عوض مقرر کیا گیا ہو۔ البتہ گھوڑ دوڑ، اونٹ دوڑ میں مسابقت اور تیر اندازی کا مقابلہ جائز ہے۔ کیونکہ یہ کام جہاد میں مدد دیتے ہیں اس لئے شارع نے ان مقابلوں کی رخصت دی ہے۔ یہ سوال اس بارے میں ہے کہ اہل ایمان اپنے اموال میں سے کتنی مقدار اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کریں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تمام معاملے کو نہایت آسان بنا دیا اور حکم دیا کہ وہ صرف وہی چیز خرچ کریں جو فاضل ہو۔ اس سے مراد ان کے اموال میں وہ زائد حصہ ہے جس کا تعلق ان کی ضرورتوں اور حاجتوں سے نہ ہو۔ یہ حکم ہر شخص کی طرف اس کی استطاعت کے مطابق لوٹتا ہے، خواہ وہ مال دار ہو، فقیر ہو یا متوط طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔ ہر شخص اس مال کو خرچ کرنے پر قادر ہے جو اس کی ضروریات سے فاضل ہو خواہ یہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ بنا بریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ لوگوں کے مال اور صدقات میں سے فاضل مال وصول کیا جائے اور انہیں کسی ایسے امر کا مکلف نہ کیا جائے جو ان پر شاق گزرتا ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کسی ایسی چیز کے خرچ کرنے کا حکم نہیں دیا جس کی ہمیں خود ضرورت ہو اور نہ ہمیں کسی ایسے امر کا مکلف بنایا ہے جو ہم پر شاق گزرے، بلکہ اس نے ہمیں صرف اسی چیز کا حکم دیا ہے جو ہمارے لئے آسان اور جس میں ہماری سعادت ہو اور جس میں ہمارا یا ہمارے بھائیوں کا کوئی فائدہ ہو۔ پس وہ اس عنایت اور نوازش پر کامل ترین حمد و ثنا کا مستحق ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حکم کو اچھی طرح واضح کردیا اور اپنے بندوں کو اسرار شریعت سے آگاہ کردیا، تو فرمایا : ﴿کَذٰلِکَ یُـبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ ﴾” اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔“ یعنی یہ آیات حق پر دلالت کرتی ہیں اور علم نافع اور حق و باطل کے درمیان فرق کے لئے کسوٹی عطا کرتی ہیں۔ ﴿ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ ۙفِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ۭ﴾ ” تاکہ تم دنیا و آخرت (کی باتوں) میں غور و فکر کرو۔“ یعنی، تاکہ تم اسرار شریعت معلوم کرنے کے لئے اپنے فکر و تدبر کو استعمال میں لاؤ اور تمہیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام میں دنیا و آخرت کے مصالح اور فوائد پوشیدہ ہیں اور تاکہ تم دنیا اور اس کے نہایت تیزی کے ساتھ اپنے اختتام کی طرف بڑھنے پر اور آخرت اور اس کے ہمیشہ باقی رہنے پر غور و فکر کرو۔ نیز یہ کہ آخرت جزا و سزا کا گھر ہے۔ تاکہ تم اسے آباد کرو۔ البقرة
220 جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا﴾ (النساء: 4؍ 10) ’’بے شک وہ لوگ جو ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پٹ میں آگ بھرتے ہیں وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے“ تو یہ آیت کریمہ مسلمانوں پر بہت شاق گزری اور انہوں نے یتیموں کے کھانے سے اپنے کھانے کو اس خوف سے علیحدہ کرلیا کہ کہیں وہ ان کا کھانا تناول نہ کر بیٹھیں۔ اگرچہ ان حالات میں اموال میں شراکت کی عادت جاری و ساری رہی۔ پس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ اصل مقصد تو یتیموں کے مال کی اصلاح، اس کی حفاظت اور (اضافے کی خاطر) اس کی تجارت ہے اگر ان کا مال دوسرے مال میں اس طرح ملا لیا جائے کہ یتیم کے مال کو نقصان نہ پہنچے تو یہ جائز ہے، کیونکہ یہ تمہارے بھائی ہیں اور بھائی کی شان یہ ہے کہ وہ دوسرے بھائی سے مل جل کر رہتا ہے۔ اس بارے میں اصل معاملہ نیت اور عمل کا ہے۔ جس کی نیت کے بارے میں یہ معلوم ہوجائے کہ وہ یتیم کے لئے مصلح کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے یتیم کے مال کا کوئی لالچ نہیں، تو اگر بغیر کسی قصد کے اس کے پاس کوئی چیز آبھی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ جس کی نیت، اللہ کے علم میں، یتیم کے مال کو اپنے مال میں ملانے سے اس کو ہڑپ کرنا ہو تو اس میں یقیناً حرج اور گناہ ہے اور قاعدہ ہے (اَلْوَسَائِلُ لَهَا اَحْكَامُ المَقَاصِدِ) ” وسائل کے وہی احکام ہیں جو مقاصد کے ہیں۔ “ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ماکولات و مشروبات اور عقود وغیرہ میں مخالطت (مل جل کر کرنا) جائز ہے اور یہ رخصت اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان اور ان کے لئے وسعت ہے۔ ورنہ ﴿ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰہُ لَاَعْنَتَکُمْ ۭ﴾” اگر اللہ چاہتا تو تمہیں دشواری میں مبتلا کردیتا۔“ یعنی اس بارے میں عدم رخصت تم پر بہت شاق گزرتی اور تم حرج، مشقت اور گناہ میں مبتلا ہوجاتے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ﴾ ”بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔“ یعنی وہ قوت کاملہ کا مالک ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے۔ لیکن بایں ہمہ وہ حکمت والا ہے، وہ صرف وہی فعل سر انجام دیتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کاملہ اور عنایت تامہ کرتی ہے۔ پس اس کی عزت و غلبہ اس کی حکمت کے منافی نہیں ہے لہٰذا تبارک و تعالیٰ کے بارے میں یہ نہیں کہاجا سکتا کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے خواہ اس کی حکمت کے مطابق ہو یا مخالف ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یوں کہا جائے کہ اس کے افعال اور احکام اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو عبث پیدا نہیں کرتا بلکہ اس کی تخلیق کے پیچھے کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے خواہ اس حکمت تک ہماری رسائی ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے کوئی ایسا شرعی حکم مشروع نہیں کیا جو حکمت سے خالی ہو، اس لئے وہ صرف اس بات کا حکم دیتا ہے جس میں ضرور کوئی فائدہ ہو یا فائدہ غالب ہو اور اسی طرح منع بھی صرف اسی بات سے کرتا ہے جس میں یقینی نقصان کا غالب امکان ہو اور ایسا اس لئے ہے کہ اس کا ہر کام حکمت اور رحمت پر مبنی ہوتا ہے۔ البقرة
221 یعنی ان مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جو اپنے شرک پر قائم ہوں ﴿ حَتّٰی یُؤْمِنَّ ۭ﴾” حتی کہ وہ ایمان لے آئیں“ کیونکہ ایک مومن عورت خواہ وه کتنی ہی بدصورت کیوں نہ ہوں، مشرک عورت سے بہر حال بہتر ہے خواہ وہ کتنی ہی زیادہ حسین کیوں نہ ہو۔ یہ حکم تمام مشرک عورتوں کے بارے میں عام ہے اور اس حکم کے عموم کو سورۃ مائدہ کی اس آیت نے خاص کردیا ہے جس میں اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کی اباحت کا ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے۔﴿ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ﴾ (المائدۃ:5؍5) ” اور اہل کتاب میں سے پاک دامن عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں۔“ فرمایا ﴿ وَ لَا تُنْكِحُوا المُشْرِكِيْنَ حَتّٰي يُؤْمِنُوْا﴾’’اور اپنی عورتوں کو مشرک مردوں کے نکاح میں مت دو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں“ یہ حکم عام ہے اور اس میں کوئی تخصیص نہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس حکمت کا ذکر فرمایا ہے جو ایک مسلمان مرد اور مسلمان عورت کے غیر مسلموں کے ساتھ نکاح کی حرمت میں پنہاں ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿اُولٰۗیِٕکَ یَدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ﴾ ” یہ (مشرک) آگ کی طرف بلاتے ہیں۔“ یعنی وہ اپنے اقوال، افعال اور احوال میں جہنم کی طرف بلاتے ہیں۔ لہٰذا ان کے ساتھ اختلاط میں سخت خطرہ ہے اور یہ خطرہ کوئی دنیاوی خطرہ نہیں، بلکہ یہ تو ابدی بدبختی ہے۔ اس آیت کریمہ کی علت سے مشرک اور بدعتی سے اختلاط کی ممانعت مستفاد ہوتی ہے جب مشرکین سے نکاح جائز نہیں، حالانکہ اس میں بہت سے مصالح ہیں۔۔۔ تو مجرد اختلاط تو بدرجہ اولی جائز نہ ہوگا۔ خاص طور پر جبکہ مشرک مسلمان پر معاشرتی طور پر فوقیت رکھتا ہو مثلاً مسلمان مشرک کا خادم ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ۚ وَلَا تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ﴾” مشرک مردوں سے اپنی عورتوں کا نکاح مت کرو“ اس بات کی دلیل ہے کہ نکاح میں ولی کا اعتبار ہے (یعنی اس کی اجازت کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہوگا) ﴿ وَاللّٰہُ یَدْعُوْٓا اِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ﴾” اور اللہ جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جنت کے حصول اور اپنی مغفرت کی طرف بلاتا ہے جس کے اثرات یہ ہیں کہ اس سے تمام عذاب دور ہوجاتے ہیں۔ یہ دعوت درحقیقت اعمال صالحہ، خلاص توبہ اور علم نافع کی طرف دعوت ہے جو حصول جنت اور مغفرت کے اسباب ہیں۔ ﴿ۚ وَیُبَیِّنُ اٰیٰتِہٖ﴾” وہ اپنی آیات بیان کرتا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ اس آیت کے حکم اور اپنے دیگر احکام کو واضح کرتا ہے ﴿ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَــتَذَکَّرُوْنَ﴾” لوگوں کے لئے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“ تب یہ آیات لوگوں کے لئے نصیحت اور عبرت کا موجب بنتی ہیں جسے انہوں نے فراموش کر ڈالا تھا۔ انہیں وہ علم عطا کرتی ہیں جس سے وہ جاہل تھے اور انہیں وہ اطاعت اور فرمانبرداری عطا کرتی ہیں جسے انہوں نے ضائع کر ڈالا تھا۔ البقرة
222 اللہ تعالیٰ حیض کے بارے میں اہل ایمان کے اس سوال سے آگاہ فرماتا ہے کہ آیا ایام حیض کے شروع ہونے کے بعد عورت سے اسی طرح اختلاط رکھا جائے جس طرح ایام حیض سے قبل تھا۔ یا اس سے مطلقاً اجتناب کیا جائے جیسے یہودی کیا کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ حیض سے قبل تھا۔ یا اس سے مطلقاً اجتناب کیا جائے جیسے یہودی کیا کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ حیض ایک نجاست ہے۔ جب حیض ایک نجاست ہے تو حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس نجاست سے روک کر اس کی حدود مقرر کر دے۔ اس لئے فرمایا : ﴿ فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾” پس ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔“ یعنی مقام حیض سے دور رہو اور اس سے مراد شرم گاہ میں مجامعت ہے اور اس مجامعت کے حرام ہنے پر اجماع ہے اور حیض کے دوران مجامعت سے دور رہنے کی تخصیص اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شرم گاہ میں مجامعت کے سوا عورت کے ساتھ اختلاط اور اس کو ہاتھ سے چھونا جائز ہے البتہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد﴿َلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰی یَـطْہُرْنَ ۚ﴾” جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرنا۔“ عورت کے ساتھ ایسے اختلاط کی ممانعت پر دلالت کرتا ہے جو فرج کے قریب یعنی ناف اور گھٹنے کے درمیان ہو۔ اس قسم کے اختلاط کو ترک کردینا چاہئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی اپنی کسی بیوی کے ساتھ اختلاط کرنا چاہتے تو اسے ازار پہننے کا حکم دیتے ت ب اس کے ساتھ اختلاط کرتے۔ [صحيح بخاري، الحيض، باب مباشرة الحائض، حديث: 302] اور بیوی سے دور رہنے اور حیض کی وجہ سے قریب نہ جانے کی حد ﴿حَتّٰی یَـطْہُرْنَ ۚ﴾” یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں“ مقرر فرمائی ہے۔ یعنی جب حیض کا خون منقطع ہوجائے تو وہ مانع زائل ہوجاتا ہے جو جریان حیض کے وقت موجود تھا۔ اس کے جائز ہونے کی دو شرطیں ہیں۔ (١)خون کا منقطع ہونا۔ (٢) خون کے منقطع ہونے کے بعد غسل کرنا۔ جب خون منقطع ہوجاتا ہے تو پہلی شرط زائل ہوجاتی ہے اور دوسری شرط باقی رہ جاتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا﴿فَاِذَا تَطَہَّرْنَ﴾” پس جب وہ (حیض سے) پاک ہوجائیں“ یعنی غسل کرلیں ﴿ فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ ۭ﴾” پس تم آؤ ان عورتوں کو، جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ہے“ قبل یعنی سامنے سے جماع کرو اور دبر سے اجتناب کرو۔ کیونکہ قبل (شرم گاہ) ہی کھیتی کا محل و مقام ہے۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حائضہ عورت پر غسل فرض ہے اور غسل کی صحت کے لئے خون کا منقطع ہونا شرط ہے اور چونکہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور نجاستوں سے ان کی حفاظت ہے اس لئے فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّـوَّابِیْنَ﴾” اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو ہمیشہ توبہ کرتے رہتے ہیں ﴿’ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ﴾اور ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو گناہوں سے پاک رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ حدث اور نجاست سے حسی طہارت کو شامل ہے۔ پس اس آیت سے طہارت کی مطلق مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو طہارت کی صفت سے متصف ہو۔ اس لئے مطلق طہارت صحت نماز، صحت طواف اور مصحف شریف کو چھونے کے لئے شرط ہے۔ یہ آیت کریمہ معنوی طہارت یعنی اخلاق رذیلہ، صفات قبیحہ اور افعال خسیسہ جیسی معنوی نجاستوں سے طہارت کو بھی شامل ہے۔ البقرة
223 ﴿ نِسَاۗؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ ۠ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ ۡ﴾” تمہاری بیویاں، تمہاری کھیتیاں ہیں، پس تم اپنی کھیتوں کو جہاں سے چاہو، آؤ“ یعنی تم اپنی بیویوں سے سامنے سے جماع کرو یا پیچھے سے۔ البتہ یہ جماع صرف قبل (یعنی شرمگاہ) میں ہونا چاہئے، کیونکہ یہی کھیتی کے اگنے کی جگہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے اولاد جنم لیتی ہے۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ دبر (یعنی پیٹھ) میں جماع کرنا حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیوی کے ساتھ صرف اسی مقام میں مجامعت کو جائز قرار دیا ہے جو کھیتی (یعنی اولاد) پیدا کرنے کا مقام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت کثرت سے احادیث مروی ہیں جو دبر میں جماع کی تحریم پر دلالت کرتی ہیں اور جن میں آپ نے اس فعل کے مرتکب پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داؤد، النكاح، باب جامع النكاح، حديث: 2162] ﴿ وَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ ۭ﴾ ” اور اپنے لئے (نیک عمل) آگے بھیجو۔“ یعنی نیکیوں کے کام سر انجام دے کر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو اور ان نیکیوں میں ایک نیکی یہ بھی ہے کہ مرد اپنی بیوی سے مباشرت کرے، یہ مباشرت اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر اور اولاد کے حصول کی امید کے ساتھ ہو، وہ اولاد جن کے ذریعے سے اللہ فائدہ پہنچاتا ہے۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ﴾” اور اللہ سے ڈرتے رہو۔“ یعنی اپنے تمام احوال میں تقویٰ اختیار کرو اور اس بارے میں اپنے علم سے مدد لیتے ہوئے تقویٰ کا التزام کرو ﴿ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ مُّلٰقُوْہُ ۭ﴾” اور جان لو کہ تم اس (اللہ تعالیٰ) سے ملاقات کرو گے“ اور وہ تمہیں تمہارے اعمال صالحہ وغیرہ کی جزا دے گا ﴿ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾” اور ایمان والوں کو بشارت سنا دو۔“ یہاں اس امر کا ذکر نہیں کیا گیا جس کی بشارت دی گئی ہے، تاکہ یہ بشارت کے عموم پر اور اس بات پر دلالت کرے کہ ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت میں داخل ہے۔ اس آیت میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اہل ایمان سے محبت کرتا ہے اور اس چیز کو پسند کرتا ہے جس سے اہل ایمان خوش ہوتے ہیں نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیار کی ہوئی دنیاوی اور اخروی جزا کے حصول کے لئے شوق اور نشاط پیدا کرنا مستحب ہے۔ البقرة
224 حلف اور قسم کا مقصد اس ہستی کی تعظیم ہے جس کی قسم کھائی جائے اور اس چیز کی تاکید مراد ہے جس پر قسم کھائی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قسموں کی حفاظت کا حکم دیا ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر معاملے میں قسم کی حفاظت کی جائے مگر اس سے اس قسم کو اللہ نے مستثنیٰ کردیا ہے جس میں کسی کے ساتھ احسان (نہ کرنے) کی قسم کھائی گئی ہو۔ یہ اس بات کو متضمن ہے کہ وہ قسم توڑ کر اس چیز کو اختیار کرے جو اسے زیادہ پسند ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس بات سے منع کیا ہے کہ وہ اپنی قسموں کو نشانہ، یعنی انہیں نیکی کرنے سے رکاوٹ بنا لیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ بھلائی کے کام سر انجام دیں، برائی سے بچیں اور لوگوں کے درمیان صلح کروائیں۔ (اور اس طرح قسم نہ کھائیں کہ میں فلاں کے ساتھ احسان نہیں کروں گا، فلاں کے ساتھ نہیں بولوں گا، وغیرہ)۔ پس جو کوئی کسی واجب کو ترک کرنے کی قسم کھاتا ہے اس پر قسم توڑنا واجب ہے اور اس قسم پر قائم رہنا حرام ہے اور جو کوئی کسی مستحب کو چھوڑنے کی قسم کھاتا ہے اس پر اس قسم کو توڑنامستحب ہے اور جو کسی حرام امر کے ارتکاب کا حلف اٹھاتا ہے اس پر حلف توڑنا واجب ہے اور اگر وہ کسی مکروہ فعل کے ارتکاب پر قسم اٹھاتا ہے تو اس پر اس قسم کو توڑنا مستحب ہے۔ رہے مباح امور تو ان کے بارے میں اٹھائی ہوئی قسم کی حفاظت کرنا زیادہ مناسب ہے۔ اس آیت کریمہ سے اس مشہور فقہی اور قانونی قاعدے پر استدلال کیا جاتا ہے (اِذَاتَزَاحَمَتِ الْمَصَالِحَ قُدِّمَ اَھَمُّھَا)” جب مصالح میں باہم ٹکراؤ ہو تو اس کو مقدم رکھا جائے گا جو ان میں سب سے زیادہ اہم ہوگا“ پس یہاں قسم کا پورا کرنا ایک مصلحت ہے اور ان اشیاء میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرنا اس سے زیادہ بڑی مصلحت ہے اس لئے اس کو مقدم رکھا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو اسمائے کریمہ کے ذکر کے ساتھ آیت کا اختتام کیا ہے ﴿ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ ﴾” اللہ سننے والا“ یعنی اللہ تمام آوازوں کو سننے والا ہے ﴿عَلِیْمٌ ﴾یعنی وہ مقاصد اور نیتوں کو خوب جانتا ہے۔ گویا وہ قسم اٹھانے والوں کی بات کو سنتا ہے اور ان کے مقاصد کو بھی جانتا ہے کہ آیا یہ قسم کسی نیک مقصد کے لئے اٹھائی گئی ہے یا برے مقصد کے لئے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کو بھی متضمن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سزا سے بچا جائے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال اور تمہاری نیتوں کو جانتا ہے۔ البقرة
225 یعنی اللہ تعالیٰ ان لغو قسموں پر تمہارا مواخذہ نہیں کرتا جو تمہاری زبان سے نکلتی رہتی ہیں اور بندہ بغیر کسی قصد اور ارادے کے قسمیں کھاتا رہتا ہے اور یوں ہی اس کی زبان سے بلاقصد قسمیں نکل جاتی ہیں مثلاً وہ بات چیت میں بار بار کہتا ہے ” اللہ کی قسم ! نہیں‘،اور ” ہاں ! اللہ کی قسم“ وغیرہ۔ یا جیسے وہ کسی گزرے ہوئے معاملے میں حلف اٹھاتا ہے جس کے بارے میں وہ اپنے آپ کو سچا سمجھتا ہے۔ البتہ اس قسم پر مواخذہ ہوگا جو دل سے کھائے گا۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس طرح مقاصد افعال میں معتبر ہوتے ہیں اسی طرح اقوال میں بھی مقاصد کا اعتبار ہوگا۔ ﴿ واللّٰہَ غَفُوْرٌ﴾” اللہ تعالیٰ اس شخص کو بخش دیتا ہے جو توبہ کے ذریعے سے اس کی طرف لوٹتا ہے ﴿حَلِیْمٌ﴾” جو شخص اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اس کے بارے میں بہت حلم سے کام لیتا ہے اور اس کو سزا دینے میں عجلت سے کام نہیں لیتا، بلکہ اپنے حلم کی بنا پر اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اور اس پر قدرت رکھنے اور اپنے سامنے ہونے کے باوجود اس سے درگزر کرتا ہے۔ البقرة
226 یہ قسم کسی خاص معاملے میں صرف بیوی کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ بیوی کے ساتھ مطلق طور پر یا چار مہینے یا اس سے بھی زیادہ کی قید کے ساتھ جماع نہ کرنے کی قسم ہے۔ پس جو کوئی اپنی بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھاتا ہے۔ اگر یہ قسم چار ماہ سے کم مدت کے لئے ہے تو یہ عام قسموں میں شمار ہوگی۔ اگر وہ قسم توڑے گا، تو اس کا کفارہ ادا کرے گا اور اگر وہ اپنی قسم پوری کرتا ہے، تو اس پر کوئی چیز نہیں اور اس کی بیوی کو اس کے خلاف چارہ جوئی کرنے کا کوئی اختیار نہیں، کیونکہ اس کی بیوی چار ماہ تک اس کی ملک ہے اور اگر اس نے ہمیشہ کے لئے اپنی بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی یا قسم کا عرصہ چار ماہ سے زیادہ ہے، ایسی صورت میں جب اس کی بیوی اس سے حق زوجیت کا مطالبہ کرے گی تو اس قسم کے لئے چار ماہ کی مدت مقرر کردی جائے گی، کیونکہ یہ بیوی کا حق ہے۔ جب چار ماہ کی مدت پوری ہوجائے تو خاوند کو رجوع یعنی مجامعت کا حکم دیا جائے، اگر وہ رجوع کر کے تعلق زوجیت قائم کر لے تو اس پر قسم کے کفارے کے سوا کچھ لازم نہیں اور اگر وہ رجوع کرنے سے انکار کر دے تو اسے طلاق دینے پر مجبور کیا جائے گا اور اگر پھر بھی طلاق نہ دے تو حاکم طلاق نافذ کر دے گا۔۔۔۔۔۔ البتہ بیوی کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاِنْ فَاۗءُوْ ﴾” پس اگر وہ رجوع کریں۔“ یعنی جس چیز (تعلق زوجیت) کو چھوڑ دینے کی انہوں نے قسم اٹھائی تھی اگر اس کی طرف دوبارہ لوٹ آئیں۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴾ تو قسم اٹھانے کی وجہ سے انہوں نے جس گناہ کا ارتکاب کیا تھا ان کے رجوع کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا ﴿ رَّحِیْمٌ﴾ وہ بہت رحم کرنے والا ہے کہ اس نے بندوں کی قسموں کو اٹوٹ اور ان پر لازم قرار نہیں دیا، بلکہ ان سے باہر نکلنے کے لئے کفارہ مقرر کیا۔ نیز وہ ان پر اس لحاظ سے بھی مہربان ہے کہ انہوں نے اپنی بیویوں سے رجوع کیا ان سے مہربانی اور شفقت سے پیش آئے۔ (یعنی ان کا رجوع بھی اللہ کی مہربانی ہی کا نتیجہ ہے) البقرة
227 ﴿ وَاِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ﴾” اور اگر وہ طلاق کا ارادہ کرلیں۔“ یعنی اگر وہ رجوع کرنے سے انکار کردیں، تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ انہیں ان میں رغبت نہیں اور وہ ان کو بیوی کے طور پر باقی رکھنا نہیں چاہتے۔۔۔۔۔۔ اور یہ چیز طلاق کے ارادے کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔ اگر یہ طلاق جو اس پر واجب ہے، کہنے سننے پر بیوی کو حاصل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ حاکم اس کو طلاق پر مجبور کرے یا خود نافذ کردے۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ﴾” بے شک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے“ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لئے سخت وعید اور تہدید ہے جو کوئی اللہ کی قسم اٹھاتا ہے اور اس کا مقصد محض ضر رسانی اور تکلیف پہنچانا ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ اِیلاء بیوی سے مخصوص ہے کیونکہ اس میں مِنْ نِّسَاءِ ھِمْ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ نیز چار ماہ میں ایک مرتبہ بیوی کے ساتھ مجامعت فرض ہے، کیونکہ چار ماہ کے بعد یا تو اسے مجامعت پر مجبور کیا جائے گا یا اسے طلاق دینی پڑے گی۔ یہ جبر صرف اسی وقت ہوسکتا ہے جب وہ کسی واجب کو ترک کرے۔ البقرة
228 یعنی وہ عورتیں جن کو ان کے شوہروں نے طلاق دے دی ہے ﴿ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ﴾” اپنے تئیں رو کے رکھیں“ یعنی وہ انتظار کریں اور عدت پوری کریں ﴿ ثَلٰثَۃَ قُرُوْۗءٍ ۭ﴾ ” تین حیض“ (قرء) کے معنی میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک اس کے معنی حیض اور بعض کے نزدیک طہر کے ہیں۔ تاہم صحیح مسلک یہ ہے کہ اس سے مراد تین حیض ہیں اور اس عدت کی متعدد حکمتیں ہیں، مثلاً جب مطلقہ عورت کو بتکرار تین حیض آجاتے ہیں تو برأت رحم ہوجاتی ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے پیٹ میں حمل نہیں اور اس طرح نسب میں اختلاط کا کوئی خدشہ نہیں رہتا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے مطلقہ عورتوں پر واجب کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں جو کچھ تخلیق کیا ہے اس کے بارے میں آگاہ کریں اور حمل یا حیض کا چھپانا ان پر حرام ٹھہرایا ہے، کیونکہ ان کا حیض یا حمل چھپانا بہت سے مفاسد کا باعث بنتا ہے۔ حمل کو چھپانا اس بات کا موجب بنتا ہے کہ عورت اپنے حمل کے نسب کو کسی ایسے شخص کے ساتھ ملحق کر دے جس میں اسے رغبت ہے یا محض عدت کے پورا ہوجانے میں جلد بازی کے لئے حیض آنے کا اعلان کر دے۔ پس جب یہ عورت اپنے حمل کو اس کے باپ کے سوا کسی اور کے ساتھ ملحق کردیتی ہے، تو یہ چیز قطع رحمی اور میراث سے محروم کرنے کا باعث بنتی ہے، اس کے لئے اس کے محرموں اور اقارب سے پردے کا موجب بنتی ہے اور بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ اس الحاق سے محارم کے درمیان نکاح کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں باپ کے سوا کسی اور شخص سے اس حمل کا الحاق ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کے تمام توابع، مثلاً میراث وغیرہ کا اثبات ہوتا ہے اور جس شخص کے ساتھ اس حمل کا الحاق کیا گیا ہوتا ہے، اس کے تمام اقارب کو اس بچے کے اقارب بنا دیتا ہے اور اس میں بہت بڑا شر اور فساد ہے جسے بندوں کے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اگر اس میں مذکورہ باتیں نہ بھی ہوں، تب بھی مطلقہ کا ایسے شخص سے نکاح کرلینا، جس سے اس کا نکاح جائز ہی نہیں تھا، تو اس کا یہ ایک نتیجہ ہی اس فعل کی برائی کے لئے کافی ہے، کیونکہ یہ نکاح، نکاح نہیں، زنا ہوگا، جو کبیرہ گناہ اور اس پر اصرار ہے۔ رہا حیض کو چھپانا تو اس نے عجلت سے کام لے کر جھوٹ بولتے ہوئے حیض آنیکی خبر دی ہے تو اس میں پہلے خاوند کی حق تلفی اور اپنے آپ کو دوسرے کے لئے مباح قرار دینا ہے نیز اس سے دیگر برائیاں متفرع ہوتی ہیں جیسا کہ گزشتہ سطور میں ہم ذکر کرچکے ہیں۔ اگر وہ حیض کے عدم وجود کی جھوٹی اطلاع دیتی ہے، تاکہ عدت لمبی ہوجائے اور اس طرح وہ نان و نفقہ حاصل کرسکے جو شوہر پر واجب نہ تھا تو یہ دو پہلوؤں سے اس پر حرام ہے۔ (١) اب وہ اس کی مستحق نہیں رہی۔ (٢) اس کو شریعت کی طرف منسوب کرنا حالانکہ وہ جھوٹی ہے۔ اس صورت میں بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ عدت کے ختم ہوجانے کے بعد خاوند رجوع کرلیتا ہے (یعنی خاوند مطلقہ کی اطلاع کے مطابق سمجھتا ہے کہ ابھی عدت ختم نہیں ہوئی) یہ رجوع درحقیقت زنا ہے۔ کیونکہ یہ عورت اب اس کے لئے اجنبی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِہِنَّ اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ﴾” ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کی ہے، اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتی ہیں“ حیض یا حمل کو چھپانا اس امر کی دلیل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتیں۔ اگر ان کا اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان ہوتا اور انہیں علم ہوتا کہ انہیں ان کے اعمال کی جزا ملے گی، تو ان سے کبھی یہ فعل صادر نہ ہوتا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر عورت اپنے معاملات کے بارے میں جن کی اطلاع اس کے سوا کسی اور کو نہیں ہوتی، مثلاً حیض اور حمل وغیرہ۔۔۔ کوئی خبر دیتی ہے، تو وہ قابل قبول ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَبُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِیْ ذٰلِکَ﴾” اور ان کے خاوند ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حق دار ہیں۔“ یعنی جب تک بیویاں عدت کے اندر عدت پوری ہونے کی منتظر ہیں اس وقت تک ان کے شوہر ان سے رجوع کا زیادہ حق رکھتے ہیں ﴿ اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا ۭ﴾ ” اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہے“ یعنی اگر شوہر رغبت، الفت اور مودت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ اگر رجوع کرنے سے ان کا مقصد اصلاح نہیں تو وہ جائز نہیں۔ کیا خاوند اس قسم کا مقصد و ارادہ رکھتے ہوئے رجوع کرنے کا اختیار رکھتا ہے؟ فقہاء اس بارے میں دو آراء رکھتے ہیں۔ جمہور فقہاء کہتے ہیں کہ تحریم کے باوجود خاوند یہ اختیار رکھتا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ اگر شوہر اصلاح کا ارادہ نہیں رکھتا تو رجوع کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ جیسا کہ آیت کریمہ کے ظاہری الفاظ دلالت کرتے ہیں۔ اور اس انتظار میں یہ دوسری حکمت ہے۔ وہ اس طرح کہ بسا اوقات شوہر بیوی کو طلاق دے کرنادم ہوتا ہے تو اس کے لئے یہ مدت رکھ دی گئی ہے، تاکہ وہ دوبارہ اپنے فیصلہ طلاق پر غور کرلے اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے درمیان الفت چاہتا ہے ان کے درمیان جدائی اسے پسند نہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ” حلال چیزوں میں سے جو سب سے زیادہ اللہ کو ناپسند ہے، وہ طلاق ہے“ [سنن ابي داؤد، الطلاق، باب في كراهية الطلاق، حديث: 2187] رجوع کا یہ حق طلاق رجعی کے ساتھ مخصوص ہے۔ رہی طلاق بائن تو اس میں خاوند کو رجوع کا حق نہیں۔ البتہ اگر میاں بیوی دونوں رجوع پر راضی ہوں، تو نکاح کی پوری شرائط کے ساتھ نیا نکاح ضروری ہے۔ ﴿وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ﴾۠ ” اور عورتوں کا حق ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔“ یعنی عورتوں کے اپنے شوہروں پر وہی حقوق ہیں جو شوہروں کے اپنی بیویوں پر ہیں۔ میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق کے بارے میں اصل مرجع ”معروف“ ہے، یہاں معروف سے مراد اس زمانے اور اس شہر میں عورتوں مردوں کے بارے میں جاری عادت ہے۔ زمان و مکان، احوال و اشخاص اور عادات میں تغیر و تبدل کے ساتھ معروف میں تبدیلی ہوجائے گی۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ نان و نفقہ، لباس، معاشرتی تعلق، گھر، اسی طرح میاں بیوی کے درمیان خاص تعلق، ان سب کا مرجع ” معروف“ ہے۔ یہ عقد مطلق کی صورت میں ہے، یعنی نکاح کے وقت کوئی شرط طے نہ کی گئی ہو، لیکن جو نکاح مطلق نہیں، مقید یعنی شرطوں کے ساتھ ہوگا، تو وہاں ان شرطوں کا ایفاء ضروری ہوگا۔ البتہ کوئی ایسی شرط نہ ہو جو حرام کو حلال اور کسی حلال کو حرام ٹھہرا دے۔ ﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ ۭ﴾” اور مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ ﴾ (النساء : 4؍ 34) ” مرد عورتوں پر حاکم و قوام ہیں کیونکہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے نیز اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ “ منصب نبوت، منصب قضا، امامت صغریٰ، امامت کبری اور دیگر تمام شعبوں کی سربراہی مردوں سے مخصوص ہے۔ میراث وغیرہ جیسے بہت سے معاملات میں بھی مرد کو عورت کے مقابلے میں دوگنا حیثیت حاصل ہے۔ : ﴿وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ﴾” اور اللہ غالب صاحب حکمت ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ عزت، غلبہ، بہت بڑے تسلط اور اختیارات کا مالک ہے۔ تمام کائنات اس کے سامنے سرافگندہ ہے مگر وہ اپنے غلبہ اور اختیارات کے باوجود اپنے تصرفات میں نہایت حکمت سے کام لیتا ہے۔ اس آیت کریمہ کے عموم سے مندرجہ ذیل صورتیں مستثنیٰ ہیں۔ (١) اگر مطلقہ حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ (٢) اگر مطلقہ غیر مدخولہ ہو، یعنی اس کے ساتھ خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو، تو اس پر کوئی عدت نہیں۔ (٣) لونڈیوں کی عدت دو حیض ہیں۔ جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قول ہے۔ آیات کریمہ کا سیاق دلالت کرتا ہے کہ آیت میں مذکورہ عورت سے مراد آزاد عورت ہے۔ البقرة
229 جاہلیت اور اسلام کے ابتدائی دور میں مرد اپنی بیوی سے طلاق و رجوع کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔ لہٰذا مرد جب اپنی بیوی کو نقصان پہنچانا چاہتا تو اسے طلاق دے دیتا اور عدت پوری ہونے سے پہلے رجوع کرلیتا۔ پھر اسے طلاق دے دیتا اور پھر اختتام عدت سے پہلے رجوع کرلیتا اور ہمیشہ اسی طرح کرتا رہتا۔ اس طرح عورت کو جس ضرر اور نقصان کا سامنا کرنا پڑتا وہ اللہ ہی جانتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا :﴿اَلطَّلَاقُ﴾” یعنی وہ طلاق جس میں خاوند کو رجعت کا حق حاصل ہے۔ ﴿ مَرَّتٰنِ ۠ ﴾” صرف دو مرتبہ ہے“ تاکہ اگر خاوند اپنی بیوی کو ضرر پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتا، تو اس مدت کے دوران میں طلاق دینے کے فیصلے سے رجوع کرسکتا ہے۔ رہا اس سے زیادہ مرتبہ طلاق دینا تو یہ طلاق کا محل نہیں، کیونکہ جو کوئی دو مرتبہ سے زیادہ طلاق دیتا ہے وہ یا تو حرام فعل کے ارتکاب کی جرأت کرتا ہے یا اسے اپنی بیوی کو رکھنے میں رغبت نہیں ہوتی، بلکہ وہ اسے نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے خاوند کو حکم دیا ہے کہ یا تو وہ بھلے طریقے سے اپنی بیوی کو رکھ لے ﴿بِمَعْرُوْفٍ﴾” بطریق شائستہ‘،یعنی اچھے رہن سہن اور اچھے سلوک کے ساتھ اور اس کے ساتھ وہی سلوک کرے جو اس جیسے دوسرے لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ کرتے ہیں اور یہی زیادہ راجح بات ہے، یا اس کو آزاد کر دے اور اس سے جدا ہوجائے ﴿ ۢ بِاِحْسَانٍ﴾ ’ ’یعنی بھلے طریقے سے۔‘، احسان یعنی بھلائی یہ ہے کہ اس نے بیوی کو جو مال وغیرہ دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لے، اس لئے کہ یہ ظلم ہے اور یہ کچھ دیئے بغیر مال لینے کے زمرے میں آئے گا، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ۭ وَلَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ شَـیْـــًٔـا ﴾” تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ تم نے ان عورتوں کو جو کچھ دیا ہے، اس میں سے کچھ بھی واپس لو‘، ﴿ اِلَّآ اَنْ یَّخَافَآ اَلَّایُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ ۭ﴾” مگر یہ کہ وہ دونوں اس بات سے ڈریں کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے“ اس میں معروف کے ساتھ خلع کرنے کا بیان ہے (جس میں خاوند کو معاوضہ لے کر طلاق دینے کی اجازت ہے) اس کی صورت یہ ہے کہ اگر عورت اپنے شوہر کو اس کی عادات یا جسمانی بدصورتی کی وجہ سے ناپسند کرتی ہو اور ڈرتی ہو کہ وہ خاوند (کے حقوق) کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہ کرسکے گی۔ (تو وہ خلع کے ذریعے سے طلاق حاصل کرسکتی ہے۔﴿فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ ۙ فَلَاجُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِـیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ ۭ﴾” پس اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں اللہ کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو عورت جو معاوضہ دے گی تو ان پر کوئی گناہ نہیں“ اس لئے یہ اس جدائی اور علیحدگی کا عوض ہے جو وہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے جب یہ حکمت پائی جائے، تب خلع مشروع ہے۔ ﴿تِلْكَ﴾” یعنی وہ تمام احکام جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے : ﴿ حُدُوْدُ اللّٰہِ﴾” اللہ کی حدود ہیں۔“ یعنی وہ احکام ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مشروع فرمایا اور حکم دیا کہ ان پر عمل کیا جائے : ﴿ۚ وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَاُولٰۗیِٕکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾” اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے، پس وہی لوگ ظالم ہیں“ اس سے بڑا اور کون سا ظلم ہے کہ حلال سے تجاوز کر کے حرام کی حدود میں داخل ہوا جائے؟ کیا جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے، وہ اس کے لئے کافی نہیں؟ ظلم کی تین اقسام ہیں۔ (١) بندے کا ان معاملات میں ظلم کا ارتکاب کرنا جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین ہیں۔ (٢) بندے کا ظلم اکبر یعنی شرک کا ارتکاب۔ (٣) بندے کا ان معاملات میں ظلم کا ارتکاب، جو اس کے اور لوگوں کے درمیان ہیں۔ اللہ تعالیٰ شرک کو توبہ کے بغیر نہیں بخشتا اور حقوق العباد کو اللہ تعالیٰ بالکل نہیں چھوڑے گا (بلکہ ایک دوسرے کو بدلہ دلوایا جائے گا) اور وہ ظلم جو بندے اور اس کے مابین ہے اور شرک سے کم تر ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت پر منحصر ہے۔ البقرة
230 ﴿ فَاِنْ طَلَّقَھَا ﴾” پھر اگر (تیسری) طلاق دے دے۔“ : ﴿ فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ ۭ ﴾” تو اب اس کے لئے حلال نہیں وہ عورت اس کے بعد، یہاں تک کہ وہ نکاح کرے کسی خاوند سے اس کے سوا۔“ یعنی وہ عورت دوسرے خاوند سے صحیح نکاح کرے اور وہ خاوند اس سے ہم بستری بھی کرے، اس لئے کہ اہل علم کے اجماع کے مطابق نکاح شرع اس وقت تک صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ اس میں عقد اور مجامعت نہ ہو۔ اس سے یہ بات متعین ہوجاتی ہے کہ نکاح ثانی رغبت سے کیا گیا ہو۔ اگر یہ نکاح پہلے شوہر کے لئے حلال ہونے کی نیت سے کیا گیا ہو تو یہ نکاح نہیں ہوگا اور نہ اس نکاح سے عورت پہلے خاوند کے لئے حلال ہی ہوگی نہ اس سے اس کی ہم بستری ہی مفید ہے، کیونکہ وہ اس کا خاوند ہی نہیں ہے۔ اگر اس مطلقہ سے کوئی دوسرا شخص نکاح کرلیتا ہے اور اس سے جماع بھی کرتا ہے پھر اسے طلاق دے دیتا ہے اور اس مطلقہ کی عدت پوری ہوجاتی ہے : ﴿ فَلَاجُنَاحَ عَلَیْھِمَآ﴾ ” تو نہیں ہے گناہ ان دونوں پر“ یعنی پہلے خاوند اور اس بیوی پر : ﴿ اَنْ یَّتَرَاجَعَآ ﴾” یہ کہ وہ دونوں رجوع کرلیں“ یعنی وہ ایک دوسرے سے رجوع کر کے اپنے نکاح کی تجدید کرلیں یہ آیت باہمی رضا مندی پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ تراجع کی اضافت دونوں کی طرف کی گئی ہے۔ مگر ان کے آپس کے رجوع میں یہ یقین شرط ہے ﴿ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ ﴾” کہ وہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھیں گے“ اور اللہ تعالیٰ کی حدوں کو قائم رکھنے کی صورت یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں اور وہ اس طرح کہ دونوں اپنے سابقہ رویوں پر نادم ہوں جن کی وجہ سے ان میں جدائی پیدا ہوئی اور یہ عزم کریں کہ وہ اپنے ان رویوں کو بدل کر اچھی معاشرت اختیار کریں گے۔ تب ان کے ایک دوسرے سے رجوع کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے، کیونکہ ان کو گمان غالب ہے کہ ان کے گزشتہ رویئے باقی رہیں گے اور ان کی بری معاشرت زائل نہیں ہوگی، تو پھر ان پر گناہ ہوگا، اس لئے کہ تمام معاملات میں اگر وہ اللہ کے حکم کو قائم نہیں کریں گے اور اس کی اطاعت کے راستے پر نہیں چلیں گے، تو ان کے لئے (دوبارہ باہم نکاح کرنے کا) یہ اقدام جائز ہی نہیں ہے۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کے لئے مناسب یہی ہے کہ جب وہ کسی معاملے میں داخل ہونے کا ارادہ کرے، خاص طور پر چھوٹے یا بڑے عہدے کو قبول کرتے وقت، تو اسے اپنے آپ میں غور کرنا چاہئے۔ اگر اسے ذمہ داری کو پورا کرنے کی طاقت رکھنے کا پورا یقین ہے تو اسے آگے بڑھ کر اس ذمہ داری کو قبول کرلینا چاہئے ورنہ پیچھے ہٹ جائے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ان بڑے بڑے احکام کو بیان فرمایا ہے، اس لئے فرمایا : ﴿ۭ وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ﴾” یہ اللہ کی حدیں ہیں“ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے شرائع ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے اور ان کو واضح کیا﴿ یُبَیِّنُھَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴾ ” وہ اسے جاننے والے لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے“ کیونکہ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے ان احکام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور پھر دوسروں کو فائدہ دے سکتے ہیں۔ اس میں اہل علم کی جس فضیلت کا بیان ہے، وہ مخفی نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حدود کی توضیح و تبیین کو ان کے ساتھ مختص کیا ہے اور اس آیت میں وہی لوگ مقصود اور مراد ہیں۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے چاہتا ہے کہ وہ ان حدود کی معرفت اور ان میں تفقہ حاصل کریں جو اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہیں۔ البقرة
231 پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ﴾ ” جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو۔“ یعنی جب تم اپنی بیویوں کو ایک طلاق رجعی یا دو طلاق دے دو ﴿ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ﴾” پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں۔“ یعنی وہ اپنی عدت پوری ہونے کے قریب پہنچ جائیں : ﴿ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ﴾ ” تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کر دو۔“ یعنی یا تو تم ان سے رجوع کرو اور تمہاری نیت یہ ہونی چاہئے کہ تم ان کے حقوق پورے کرو گے یا تم ان کو بغیر رجوع کئے اور بغیر نقصان پہنچائے چھوڑ دو۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَلَا تُمْسِکُوْھُنَّ ضِرَارًا﴾ ” اور ان کو نقصان پہنچانے کے لئے نہ روکو“ ﴿ لِّتَعْتَدُوْا ۚ ﴾” تاکہ تم زیادتی کرو‘،یعنی تم اپنے اس فعل میں حلال سے تجاوز کر کے حرام میں نہ پڑجاؤ یہاں ” حلال“ سے مراد معروف طریقے سے بیوی کو روک لینا اور ” حرام“ سے مراد اس کو نقصان پہنچانا ہے۔ ﴿ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ ﴾” اور جو شخص ایسا کرے گا، پس یقیناً اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا‘،اگر حق مخلوق کی طرف لوٹتا ہو تو ضرر اس شخص کی طرف لوٹے گا جو ضرر پہنچانے کا ارادہ کرے۔ ﴿ۭ وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اٰیٰتِ اللّٰہِ ھُزُوًا ۡ ﴾” اور نہ ٹھہراؤ اللہ کے حکموں کو ہنسی مذاق“ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مقرر کردہ حدود کو نہایت وضاحت سے بیان کردیا ہے۔ مقصد یہ کہ ان حدود کا علم حاصل کیا جائے، ان پر عمل کیا جائے اور انہی پر اکتفا کی جائے اور ان حدود سے تجاوز نہ کیا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان حدود کو عبث اور بے فائدہ نازل نہیں فرمایا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان حدود کو حق، صدق اور اہتمام کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ اس لئے ان کا تمسخر اڑانے سے منع کیا ہے، یعنی ان کو کھیل تماشا بنانے سے روکا ہے، جس کا مطلب ان کے خلاف جسارت کرنا اور ان کی ادائیگی میں عدم اطاعت کا راستہ اختیار کرنا ہے، مثلاً بیوی کو نقصان پہنچانے کی خاطر روکنا، یا جدا رکھنا، یا کثرت سے طلاق دینا یا تین طلاق ایک ہی بار دے دینا۔ جب کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی رحمت، مہربانی اور بندے کی بھلائی کی بنا پر یکے بعد دیگرے (ایک، ایک کر کے) طلاق دینے کا طریقہ مقرر فرمایا ہے۔ ﴿وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ﴾ ” اور یاد کرو اللہ کی نعمت کو، جو تم پر ہوئی“ زبان سے عام طور پر، حمد و ثنا کے ذریعے سے۔ دل سے اقرار و اعتراف کر کے اور جوارح (اعضاء) کے ذریعے سے، ان کو اللہ کی اطاعت میں مصروف کر کے۔ ﴿وَمَآ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ وَالْحِکْمَۃِ﴾ ” اور جو اس نے تم پر کتاب و حکمت سے اتارا‘،حکمت سے مراد سنت ہے، یعنی قرآن اور سنت کے ذریعے سے تمہارے لئے بھلائی کی راہیں واضح کردیں اور ان پر گامزن ہونے کی تمہیں ترغیب دی اور تمہارے سامنے برائی کے راستے بھی واضح کردیئے اور ان پر چلنے سے ڈرایا اور اس نے تمہیں اپنی معرفت سے نوازا اور تمہیں اپنے اولیاء اور اعداء کے بارے میں اپنی عادت اور اپنے طریقے سے آگاہ کیا اور تمہیں وہ کچھ سکھایا جو تم نہیں جانتے تھے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ یہاں حکمت سے مراد اسرار شریعت ہیں اس معنی کے لحاظ سے، کتاب سے مراد احکام الٰہی اور حکمت سے مراد وہ اسرار و حکم ہیں جو اس کے اوامر اور نواہی کے اندر ہیں اور حکمت کے دونوں ہی معنی صحیح ہیں۔ ﴿ یَعِظُکُمْ بِہٖ ۭ﴾” وہ اس کے ذریعے سے تمہیں نصیحت کرتا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر جو کتاب نازل فرمائی ہے اس کے ذریعے سے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا اس رائے کو تقویت دیتا ہے کہ حکمت سے مراد اسرار شریعت ہیں، کیونکہ حکم اور حکمت اور ترغیب یا ترہیب کے بیان کے ذریعے سے ہی نصیحت کی جاتی ہے۔ پس حکم (یعنی شریعت) سے جہالت زائل ہوجاتی ہے۔ حکمت، ترغیب کے ساتھ رغبت کی موجب ہوتی ہے اور ترہیب کے ساتھ حکمت، اللہ تعالیٰ کے ڈر کی موجب ہوتی ہے۔ فرمایا :﴿ وَاتَّقُوا اللّٰہَ﴾” اور اللہ سے ڈرتے رہو۔“ یعنی اپنے تمام امور میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴾” اور جان رکھو کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔“ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارے لئے یہ احکام کھول کھول کر بیان کردیئے ہیں جو اپنے تمام تر مصالح کے ساتھ ہر زمان و مکان میں جاری و ساری ہیں۔ پس ہر قسم کی حمد و ثنا کا وہی مستحق ہے اور اسی کا احسان ہے۔ البقرة
232 یہ خطاب اس مطلقہ عورت کے سرپرستوں سے ہے جسے تین سے کم طلاق دی گئی ہو، عدت پوری ہونے کے بعد اس کا خاوند اس سے دوبارہ نکاح کا خواہاں ہو اور وہ عورت بھی اس نکاح پر راضی ہو تو اس عورت کے ولی کے لئے خواہ وہ باپ ہو یا کوئی اور، جائز نہیں کہ اسے نکاح کرنے سے روکے، یعنی پہلی طلاق پر اپنے غصہ، بغض اور نفرت کی بنا پر، میاں بیوی کو نکاح کرنے سے روکنے سے منع کرتا ہے، کیونکہ عورت کا اپنے خاوند کے ساتھ تجدید نکاح تمہارے لئے اس سے زیادہ پاک اور بہتر ہے جو عورت کا ولی سمجھتا ہے کہ عدم نکاح درست رائے ہے اور نکاح سے روکنا (انتقاماً) پہلی طلاق کا جواب ہے۔ جیسا کہ متکبر اور نام نہاد اونچے گھرانوں کے لوگوں کی عادت ہے۔ پس اگر ولی یہ سمجھتا ہے کہ عدم نکاح ہی میں میاں بیوی کی مصلحت ہے تو ﴿ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾” اسے اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے“ پس اس ہستی کی اطاعت کرو جو تمہارے مصالح کا تم سے زیادہ علم رکھتی ہے، وہ تمہارے لئے یہ مصالح چاہتی ہے، وہ ان پر قادر ہے اور ان کو تمہارے لئے اس طرح آسان بناتی ہے جن کو تم خوب جانتے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ نکاح میں ولی کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اولیاء (یعنی سرپرستوں) کو عورتوں کے نکاح سے روکنے سے منع کیا ہے اور اللہ تعالیٰ بندوں کو اسی چیز سے روکتا ہے جو ان کی تدبیر کے تحت آتی ہو اور اس میں ان کا حق ہو۔ البقرة
233 یہ خبر، امر کے معنی میں ہے گویا یہ امر متحقق ہے جو کسی حکم کا محتاج نہیں، وہ یہ کہ مائیں ﴿یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ﴾” اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔“ چونکہ (حول) کا لفظ سال یا سال کے بڑے حصے کے لئے بولا جاتا ہے اس لئے فرمایا :﴿کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّـتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ۭ﴾” پورے دو سال، اس شخص کے لئے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنی چاہے“ پس جب دودھ پیتے بچے کے دو سال مکمل ہوجائیں تو اس کی رضاعت مکمل ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد ماں کا دودھ دیگر غذاؤں کی مانند ہوجاتا ہے۔ اسی لئے دو سال کے بعد کی رضاعت معتبر نہیں اور اس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ اس نص اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا ۚ ﴾(الاحقاف: 15؍46) ” اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینوں میں ہوتا ہے۔“ کو ملا کر یہ فقہی مسئلہ اخذ کیا گیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے۔ اس مدت میں بچے کا پیدا ہونا ممکن ہے۔ ﴿وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہٗ﴾” اور بچے کے باپ پر“ ﴿ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۭ﴾” ان کا رزق اور ان کا لباس ہے، معروف کے ساتھ“ اور یہ حکم دودھ پلانے والی خواہ اس کے نکاح میں ہو یا مطلقہ، دونوں کو شامل ہے۔ مولود (بچے) کے باپ پر اس عورت کا نان و نفقہ اور لباس واجب ہے اور یہ دودھ پلانے کی اجرت ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جب تک عورت مرد کے نکاح میں ہے اس وقت تک عورت کو رضاعت کی اجرت دینا واجب نہیں، سوائے نان و نفقہ اور لباس کے نان و نفقہ اور لباس بھی مرد کے حسب حال اور حیثیت کے مطابق ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا تُکَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَہَا ۚ﴾” کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دی جائے۔“ یعنی کسی فقیر شخص کو مال دار شخص جیسے نان و نفقہ دینے کا مکلف نہیں ٹھہرایا جائے گا اور نہ اس شخص کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ نان و نفقہ ادا کرے جس کے پاس نان و نفقہ ادا کرنے کے لئے کچھ بھی نہ ہو۔ یہاں تک کہ اس کے پاس طاقت ہوجائے۔ فرمایا : ﴿لَا تُضَاۗرَّ وَالِدَۃٌۢ بِوَلَدِھَا﴾ ” ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے نقصان نہ پہنچایا جائے۔“ یعنی یہ جائز نہیں کہ ماں کو اپنے بیٹے کے سبب سے نقصان پہنچایا جائے۔ (یعنی ان دو صورتوں میں سے کسی ایک صورت کے ذریعے سے) یا تو اس کو دودھ پلانے سے روک دیا جائے یا نان و نفقہ لباس اور اجرت وغیرہ جیسے واجبات اس کو ادا نہ کئے جائیں : ﴿ وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ﴾” اور نہ باپ کو بچے کی وجہ سے تکلیف پہنچائی جائے“ یعنی ماں نقصان پہنچانے کے لئے بچے کو دودھ پلانے سے انکار کر دے، یا اس اجرت سے زیادہ کا مطالبہ کرے جو دودھ پلانے پر اس کا حق بنتا ہے اور اس قسم کے دیگر نقصانات۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ مَوْلُوْدٌ لَّہٗ﴾دلالت کرتا ہے کہ بیٹا اپنے باپ کی ملکیت ہوتا ہے کیونکہ وہ اسی کو عطا کیا گیا ہے اور اس لئے کہ بیٹا درحقیقت باپ کا کسب ہے، پس اسی لئے باپ کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے بیٹے کا مال لے لے خواہ وہ راضی ہو یا نہ ہو، اس کے برعکس ماں مال نہیں لے سکتی ہے۔ فرمایا :﴿ وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ ۚ﴾” اور اسی طرح وارث کے ذمے ہے۔“ یعنی جب بچے کا باپ نہ ہو اور بچے کا کوئی مال بھی نہ ہو تو بچے کے وارث پر دودھ پلانے والی کا وہی نان و نفقہ وغیرہ واجب ہے جو باپ پر واجب ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خوش حال قریبی رشتہ داروں پر واجب ہے کہ وہ اپنے تنگدست اقرباء کے نان نفقہ کا انتظام کریں۔ ﴿ فَاِنْ اَرَادَا﴾ ” پس اگر دونوں چاہیں۔“ یعنی والدین (ماں باپ) ﴿ فِصَالًا﴾ ” دودھ چھڑانا“ یعنی دودھ چھڑانے پر راضی ہوں ﴿ وَتَشَاوُرٍ﴾ ” اور مشورے سے‘،یعنی دونوں کے باہمی مشورے کے ساتھ کہ آیا بچے کا دودھ چھڑانا اس کے لئے درست ہے یا نہیں۔ اگر بچے کے لئے اس میں کوئی مصلحت ہو اور دونوں اس پر راضی ہوں ﴿ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا ۭ﴾” تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔“ یعنی تب دوسال سے قبل اس کے دودھ چھڑانے میں کوئی حرج نہیں۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ اگر دونوں میں سے صرف ایک دودھ چھڑانے پر راضی ہو یا دودھ چھڑانے میں بچے کے لئے کوئی مصلحت نہ ہو تو اس صورت میں بچے کا دودھ چھڑانا جائز نہیں۔ ﴿ وَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَکُمْ﴾” اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو۔‘،یعنی اگر تم ضرر پہنچائے بغیر بچوں کی ماؤں کی بجائے دوسری عورتوں سے دودھ پلوانا چاہو ﴿ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ۭ ﴾” تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دونوں پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو۔“ یعنی اگر دودھ پلانے والی دیگر عورتوں کو معروف طریقے سے ان کی اجرت عطا کر دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ﴿ اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴾” بے شک اللہ تمہارے عملوں کو دیکھنے والا ہے“ پس اللہ تعالیٰ تمہیں اس پر اچھی یا بری جزا دے گا۔ البقرة
234 یعنی جب خاوند فوت ہوجائے تو عورت پر فرض ہے کہ وہ گھر میں چار مہینے دس دن ٹھہرے اور انتظار کرے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ چار ماہ کی مدت میں حمل واضح ہوجاتا ہے اور پانچویں مہینے کی ابتدا میں بچہ پیٹ میں حرکت کرنے لگ جاتا ہے۔ یہ حکم ان تمام عورتوں کے لئے عام ہے جن کے شوہر فوت ہوجائیں۔ مگر اس عموم میں سے حاملہ عورتیں مخصوص ہیں، کیونکہ ان کی عدت وضع حمل ہے۔ اسی طرح لونڈی کی عدت نصف یعنی دو ماہ اور پانچ دن ہے۔ ﴿ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ ﴾” پس جب ان کی عدت پوری ہوجائے“﴿ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِنَّ﴾” تو جو وہ اپنے لئے کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں“ یعنی اگر وہ دوبارہ بناؤ سنگار کرتی ہیں اور خوشبو وغیرہ لگاتی ہیں ﴿بِالْمَعْرُوْفِ ۭ﴾” بھلائی کے ساتھ“ یعنی اگر وہ بناؤ سنگار اس طرح کریں جو حرام اور مکروہ نہ ہو (بلکہ معروف طریقے سے ہو) یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس پر عدت کی مدت کے لئے سوگ منانا (یعنی بناؤ سنگار سے پرہیز کرنا) فرض ہے۔ جب کہ یہ پرہیز مطلقہ رجعیہ اور بائنہ پر واجب نہیں، اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔ ﴿ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴾” اور اللہ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے ظاہری اور باطنی، چھوٹے اور بڑے تمام اعمال کو جانتا ہے۔ پس وہ تمہیں ان کا بدلہ دے گا اور عورت کے اولیا سے اللہ تعالیٰ کے خطاب ﴿ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِنَّ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ عورت کا ولی اس پر نظر رکھے اور جو فعل جائز نہ ہو اس کے ارتکاب سے اسے منع کرے اور اس فعل کو بجا لانے پر اسے مجبور کرے جو اس پر واجب ہو۔ عورت کا ولی اس آیت کا مخاطب ہے اور ایسا کرنا اس پر واجب ہے۔ البقرة
235 یہ حکم اس عورت کے بارے میں ہے جو خاوند کی وفات پر عدت گزار رہی ہو یا اسے طلاق دی گئی ہو۔ طلاق دینے والے شوہر کے علاوہ کسی اور کے لئے حرام ہے کہ وہ صریح الفاظ میں اسے نکاح کا پیغام دے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد﴿ وَلٰکِنْ لَّا تُوَاعِدُوْھُنَّ سِرًّا﴾ ”’ لیکن تم ان سے وعدہ مت کرو، چھپ کر“ سے یہی مراد ہے۔ رہی تعریض (اشارے کنایے سے نکاح کی بات کرنا) تو اللہ تعالیٰ نے اس میں گناہ کو ساقط کردیا ہے۔ اور ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ تصریح صرف نکاح کے معنی کی متحمل ہوتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے تصریح کو حرام قرار دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کہیں عورت جلدی نکاح کرنے کے لئے عدت پوری ہونے کے سلسلے میں جھوٹ نہ بولے۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حرام کی طرف لے جانے والے وسائل بھی ممنوع ہیں، نیز عدت کی مدت کے دوران خاوند کے علاوہ کسی اور مرد سے نکاح کے وعدے کا سدباب کر کے، پہلے خاوند کے حق کو برقرار رکھا ہے۔ رہی تعریض تو اس میں نکاح کے علاوہ دیگر معانی کا احتمال بھی ہوسکتا ہے اور یہ تعریض بائنہ عورت کے لئے بھی جائز ہے، جیسے کوئی کہے ” میں نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں۔ جب تمہاری عدت پوری ہوجائے تو مجھ سے مشورہ کرلینا“ تو یہ جائز ہے۔ اس لئے کہ تعریض تصریح کی مانند نہیں ہے اور نفوس انسانی کے اندر اس کا قوی داعیہ موجود ہے۔ اسی طرح انسان کا اپنے دل میں یہ ارادہ چھپا کر رکھنا بھی جائز ہے کہ وہ فلاں عورت، جو عدت گزار رہی ہے اس کی عدت ختم ہونے کے بعد وہ اس کے ساتھ نکاح کرے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ۭ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ سَتَذْکُرُوْنَہُنَّ﴾” یا چھپا کر رکھو تم اپنے نفسوں میں۔ اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور ان کو یاد کرو گے“ یہ تمام تفصیلات عقد کے مقدمات میں شمار ہوتی ہیں۔ (لہٰذا جائز ہیں) رہا عقد نکاح تو یہ جائز نہیں ﴿ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتٰبُ اَجَلَہٗ ۭ﴾” جب تک کہ عدت پوری نہ ہوجائے“ ﴿ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ﴾” اور جان لو، اللہ ان باتوں کو جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہیں“ اس لئے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف اور اس کے ثواب کی امید میں ہمیشہ بھلائی کی نیت رکھو اور کبھی بھی برائی کی نیت نہ رکھو ﴿ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ﴾” اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہوں کو بخش دیتا ہے جو توبہ کر کے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے ﴿ حَلِیْمٌ﴾” وہ برد بار ہے“ کیونکہ گناہگاروں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو پکڑنے کی قدرت رکھنے کے باوجود ان کو پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ البقرة
236 یعنی اے مردو ! اگر تم اپنی بیویوں کو چھونے اور مہر مقرر کرنے سے قبل ہی طلاق دے دو، تو تم پر کوئی گناہ نہیں، اگرچہ اس میں عورتوں کے لئے نقصان ہے تاہم متعہ طلاق سے اس کی تلافی ہوجاتی ہے۔ پس تم پر لازم ہے کہ تم ان کی دل جوئی کی خاطر ان کو کچھ مال ضرور عطا کرو۔ ﴿عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ ۚ ﴾” فراخ دست پر اس کی طاقت کے مطابق اور تنگ دست پر اس کی وسعت کے مطابق“ مطلقہ کو خرچ دینا لازم ہے اور اس کا مرجع عرف ہے جو کہ زمان و مکان کے اختلاف کے مطابق مختلف ہے۔ اس لئے فرمایا ﴿مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ ۚ﴾ ”فائدہ پہنچانا ہے معروف کے ساتھ‘،پس یہ حق واجب ہے ﴿ عَلَی الْمُحْسِـنِیْنَ﴾” نیکو کاروں پر“ اس لئے ان کو اس حق میں کمی نہیں کرنی چاہئے۔ پس جیسے وہ عورتوں کی امیدوں، ان کے اشتیاق اور ان کے دلی تعلق کا سبب بنے، لیکن پھر انہوں نے ان کو وہ چیز نہیں دی جو ان عورتوں کو مرغوب تھی، اس لئے اس کے مقابلے میں ان کو فائدہ پہنچانا ضروری ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ کتنا اچھا ہے ! اور شارع کی حکمت اور رحمت پر کس قدر دلالت کرتا ہے ! اور ایمان و ایقان سے بہرہ ور لوگوں کے لئے اللہ سے بڑھ کر کون اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔ یہ حکم تو ان عورتوں سے متعلق تھا جن کو چھونے سے پہلے اور حق مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی طلاق دے دی گئی ہو۔ البقرة
237 پھر اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کا ذکر فرمایا ہے جن کا مہر مقرر کیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم مہر مقرر کرنے کے بعد ان کو چھوئے بغیر طلاق دے دو، تو مطلقہ عورتوں کے لئے نصف مہر ہے اور باقی نصف تمہارا ہے۔ مہر کی یہ رقم اگر عورت کی طرف سے معاف نہ کردیا جائے، تو خاوند پر اس کی ادائیگی واجب ہے۔ جب کہ عورت کا اس کو معاف کرنا صحیح ہو۔ ﴿ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ ۭ﴾” یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔“ صحیح مسلک کے مطابق اس سے مراد شوہر ہے (نہ کہ ولی) کیونکہ شوہر ہی وہ شخص ہے جو نکاح کی گرہ کو کھول سکتا ہے۔ عورت کے ولی کے لئے تو درست ہی نہیں کہ وہ عورت کے کسی حق واجب کو معاف کر دے کیونکہ وہ مالک ہے نہ وکیل۔ [(١) اس کی وضاحت شیخ رحمہ اللہ نے حاشیہ نمبر 1 میں فرمائی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :” ان سطور کو لکھتے وقت میرا یہی موقف تھا لیکن بعد میں میرے لئے یہ واضح ہوا کہ جس شخص کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، وہ قریب ترین ولی ہے اور وہ باپ ہے۔ لفظی اور معنوی اعتبار سے یہی زیادہ صحیح قول ہے جیسا کہ غور و فکر کرنے والے کے لئے ظاہر ہے۔“ اور حاشیہ نمبر 2 میں مؤلف رحمہ اللہ کے قلم سے لکھا ہوا ہے۔ ” ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ باپ ہے (یعنی جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے) اور یہی وہ معنی ہے جس پر آیت کریمہ کے الفاظ دلالت کرتے ہیں۔“ (از محقق) (٢) خاوند کے معاف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ادا شدہ (یا مقرر) حق مہر میں سے اپنے حصے کا آدھا حق مہر عورت سے واپس نہ لے اور پورا کا پورا مہر ہی عورت کے پاس رہنے دے (یا اس کو دے دے)۔ (ص۔ ی)] پھر اللہ تعالیٰ نے معاف کرنے کی ترغیب دی ہے اور فرمایا کہ جو کوئی معاف کردیتا ہے وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا احسان ہے جو شرح صدر کا موجب ہے، نیز انسان کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو احسان اور نیکی سے تہی دست نہ رکھے اور اس فضیلت کو فراموش نہ کر دے جو معاملات کا بلند ترین درجہ ہے۔ اس لئے کہ لوگوں کے آپس کے معاملات کے دو درجے ہیں۔ (1) عدل و انصاف جو کہ واجب ہے۔ یعنی حق واجب لینا اور کسی کا جو حق واجب ہے اسے ادا کرنا۔ (2) فضل و احسان اور اس سے مراد یہ ہے کہ کسی کو کچھ عطا کرنا جس کا عطا کرنا واجب نہ تھا اور اپنے حقوق کے بارے میں چشم پوشی اور مسامحت سے کام لینا۔ پس انسان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اس درجہ کو فراموش کر دے خواہ کبھی کبھار ہی سہی۔ خاص طور پر آپ اس شخص کے ساتھ تسامح کو ہرگز فراموش نہ کریں جس کے ساتھ آپ کے تعلقات اور میل جول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو احسان کے بدلے میں اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿’ۭ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ﴾’ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔ “ البقرة
238 اللہ تعالیٰ تمام نمازوں کی حفاظت کا عام حکم دے رہا ہے اور ” درمیان والی نماز“ کی حفاظت کا خاص طور پر۔ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ نماز کی حفاظت کا مطلب ہے کہ اسے وقت پر، مشروط ارکان کا خیال رکھتے ہوئے، خشوع خضوع کے ساتھ اور اس کے تمام واجبات و مستحبات کے ساتھ ادا کیا جائے۔ نماز کی حفاظت کے ساتھ دوسری عبادتوں کی بھی حفاظت ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ سے (خود کو) برائی اور بے حیائی سے روک دینے کا فائدہ بھی حاصل ہوجاتا ہے، خصوصاً جب نماز اس طرح مکمل کی جائے جس طرح اللہ نے اس آیت میں فرمایا ﴿وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ﴾” اللہ کے لئے با ادب کھڑے رہا کرو۔“ یعنی اخلاص، عاجزی اور ذلت کا اظہار کرتے ہوئے۔ اس میں قیام اور عاجزی کا حکم ہے اور نماز کے دوران بات کرنے کی ممانعت ہے۔ اس کے ساتھ آرام و سکون کا حکم ہے۔ البقرة
239 پھر فرمایا ﴿ فَاِنْ خِفْتُمْ﴾” اگر تمہیں خوف ہو۔“ خوف والی چیز کا ذکر نہیں فرمایا، تاکہ اس میں کافر سے، ظالم سے اور درندے سے خوف اور دوسرے تمام اقسام کے خوف شامل ہوجائیں۔ یعنی ان حالات میں نماز پڑھتے ہوئے اگر تم خوف محسوس کرو تو ﴿ فَرِجَالًا ﴾” پیدل ہی“ یعنی چلتے چلتے نماز پڑھ لو، یا گھوڑوں او نٹوں وغیرہ پر ﴿ اَوْ رُکْبَانًا ۚ﴾ ” سوار ہو کر ہی سہی“ اس طرح نماز پڑھنے سے یہ لازم آتا ہے کہ کبھی ان کا رخ قبلہ کی طرف ہو اور کبھی نہ ہو۔ اس سے بروقت نماز پڑھنے کی مزید تاکید ظاہر ہوتی ہے کہ بہت سے ارکان اور بہت سی شروط میں خلل پڑ جانے کے باوجود نماز وقت پر پڑھو۔ اس نازک وقت میں بھی نماز میں تاخیر کرنا جائز نہیں۔ ان حالات میں اس طریقے سے نماز پڑھنا افضل ہے، بلکہ تاخیر کر کے اطمینان کے ساتھ نماز پڑھنے سے اس طریقے سے وقت پر نماز پڑھ لینا زیادہ ضروری ہے۔ ﴿ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ﴾ ”پھر جب تم امن میں آجاؤ۔‘،یعنی خوف ختم ہوجائے ﴿ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ﴾ ” تو اللہ کا ذکر کرو۔“ اس میں ذکر کی ہر قسم شامل ہے اور کامل نماز پڑھنا بھی اس ذکر کی ایک صورت ہے۔ ﴿کَمَا عَلَّمَکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ﴾” جس طرح اس نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے۔“ اس لئے کہ یہ ایک عظیم نعمت ہے، جس کے عوض ذکر اور شکر کرنا چاہئے، تاکہ تم پر اس کی نعمت باقی رہے اور اس میں اضافہ ہو۔ البقرة
240 مطلب یہ ہے کہ جو مرد فوت ہوجاتے ہیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جاتے ہیں، تو مرنے سے پہلے ان کے لئے ضروری ہے ﴿ وَّصِیَّۃً لِّاَزْوَاجِہِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ ۚ ﴾” اپنی بیویوں کے حق میں وصیت کر جائیں سال بھر فائدہ اٹھانے کی، اور یہ کہ انہیں کوئی نہ نکالے۔“ یعنی انہیں چاہئے کہ بیویوں کو سال بھر ان (شوہروں) کے گھروں میں رہنے کی وصیت کر جائیں۔ اس مدت میں عورتیں وہاں سے نکلیں۔ ﴿ فَاِنْ خَرَجْنَ ﴾” پس اگر وہ خود نکل جائیں۔“ ﴿ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ﴾” تو (اے وارثو !) تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں۔“ ﴿ مَا فَعَلْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ ۭ ﴾” جو وہ اپنے لئے اچھائی سے کریں اور اللہ تعالیٰ غالب اور حکیم ہے۔“ اچھائی سے مراد زیب و زینت اور خوشبو وغیرہ کا استعمال ہے۔ اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت اپنے سے پہلی آیت کی وجہ سے منسوخ ہوگئی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ﴾(البقرہ: 234؍2) ” تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے دس دن عدت میں رکھیں۔“ تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے دس دن عدت میں رکھیں۔“ بعض کہتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ نہیں، بلکہ پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ چار ماہ دس دن کی مدت پوری کرنا واجب ہے۔ اس سے زیادہ مستحب ہے۔ خاوند کے حق کی تکمیل کے لئے اور بیوی کی دلجوئی کے لئے اسے پورا کرنا چاہئے۔ مستحب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ سال پورا ہونے سے پہلے عورتوں کے اس گھر سے چلے جانے کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے خاوند کے وارثوں پر گناہ نہ ہونے کا ذکر کیا ہے۔ اگر اس گھر میں رہائش رکھنا واجب ہوتا، تو انہیں یہ نہ کہا جاتا کہ کوئی حرج نہیں۔ البقرة
241 یعنی ہر طلاق یافتہ عورت کو مناسب فائدہ دینا اس کا حق ہے جو ہر متقی پر واجب ہے، تاکہ عورت کی دلجوئی ہوسکے اور اس کے بعض حقوق ادا ہوسکیں۔ جس عورت کو خلوت سے پہلے طلاق دی جائے اسے یہ متعہ ( مثلاً کپڑوں کا جوڑایا کچھ رقم وغیرہ) دینا واجب ہے۔ دوسری صورت میں پورا حق مہر ادا کرنا واجب ہے جیسے پہلے بیان ہوا۔ اس مسئلہ میں یہ قول زیادہ بہتر ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ہر عورت کو طلاق کے بعد متعہ دینا واجب ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آیت کا مفہوم عام ہے۔ (اس میں کوئی تخصیص نہیں کی گئیض لیکن قانون یہ ہے کہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے اور پہلے بیان ہوچکا ہے کہ متعہ اس عورت کے لئے واجب ہے جسے خلوت سے پہلے اور حق مہر کے تعین سے پہلے طلاق ہوجائے۔ البقرة
242 جب اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم مسائل بیان فرمائے جو اس کی حکمت اور رحمت پر مشتمل ہیں، تو بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ﴾” اللہ تعالیٰ اسی طرح تم پر اپنی آیتیں بیان فرما رہا ہے۔“ یعنی حدود، حلال و حرام اور وہ احکام جن میں تمہارا فائدہ ہے﴿ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ﴾” تاکہ تم انہیں سمجھو اور ان کا اصل مقصد تمہیں معلوم ہوجائے، کیونکہ جو ان کو سمجھ لے گا، وہ ان پر عمل کرنا ضروری سمجھے گا۔ البقرة
243 اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا واقعہ بیان فرما رہا ہے جو ایک متفقہ مقصد کے تحت کثیر تعداد میں اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ان کے نکلنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ وبایا کسی اور وجہ سے مرجانے کا خوف رکھتے تھے۔ گھروں سے نکلنے سے ان کا مقصود موت سے بچنا تھا، لیکن تقدیر کے آگے تدبیر نہیں چلتی چنانچہ ﴿ فَقَالَ لَہُمُ اللّٰہُ مُوْتُوْا ۣ﴾” اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا : مر جاؤ۔“ تو وہ مر گئے۔ ﴿ ثُمَّ﴾ ” پھر اللہ تعالیٰ نے : ﴿اَحْیَاھُمْ ۭ﴾” انہیں زندہ کردیا۔“ یا نبی کی دعا کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے یہ ان پر رحمت، مہربانی اور حلم کا اظہار تھا اور مردوں کو زندہ کرنے کی ایک نشانی دکھانا مقصود تھا اس لئے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لَكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ﴾ ” بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے، لیکن اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔‘،پس وہ نعمت ملنے پر شکر میں اضافہ نہیں کرتے، بلکہ بعض اوقات ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مزید گناہ کرنے لگتے ہیں۔ ان میں ایسے شکر گزار بندے کم ہی ہوتے ہیں جو نعمت کو پہچان کر، اس کا اعتراف کر کے اسے منعم حقیقی کی اطاعت میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جنگ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے مراد اللہ کے دین کو بلند کرنے کے لئے اپنے دشمنوں یعنی کافروں کے خلاف جنگ کرنا ہے۔ البقرة
244 چنانچہ فرمایا : ﴿ وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴾” اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سنتا جانتا ہے۔“ لہٰذا نیت درست رکھو، اور جہاد سے صرف اللہ کی رضا تمہارا مقصود ہونا چاہئے اور تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جنگ سے پہلوتہی کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ جنگ نہ کرنے کے نتیجے میں تم زیادہ عرصہ زندہ رہو گے تو حقیقت یوں نہیں ہے۔ اسی لئے اس حکم کی تمہید کے طور پر گزشتہ قصہ بیان فرمایا ہے کہ جس طرح ان کو موت کے ڈر سے گھروں سے نکلنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ ان کا خطرہ ان کے سامنے آگیا جب کہ ان کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ موت اس طرح بھی آسکتی ہے، تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمہارا معاملہ بھی ایسا ہی ہے اور چونکہ اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے لئے مال خرچ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لئے اللہ نے اس راہ میں مال خرچ کرنے کا حکم دیا اور ترغیب دی اور اسے قرض فرمایا۔ البقرة
245 چنانچہ فرمایا ﴿ مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا ﴾” ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے؟“ اور جتنا مال ہوسکے نیکی کے کاموں میں، بالخصوص جہاد میں خرچ کرے۔ ” اچھا“ وہ ہے جو حلال کی کمائی سے ہو اور اس سے مقصود محض رضائے الٰہی ہو۔ ﴿ فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗٓ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً ۭ﴾” پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے۔“ یعنی نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک یا اس سے بھی بہت زیادہ عطا فرمائے گا۔ ثواب میں یہ اضافہ خرچ کرنے والے کی حالت، نیت، اس خرچ کے فائدے اور ضرورت کی نسبت سے ہوتا ہے۔ انسان کو بعض اوقات یہ خیال آتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے وہ مفلس ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو دور کرنے کے لئے فرمایا : ﴿ وَاللّٰہُ یَـقْبِضُ وَیَبْصُۜطُ ۠﴾” اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے۔“ یعنی جس کا رزق چاہتا ہے وسیع کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ یہ معاملات صرف اسی کے ہاتھ میں ہیں اور تمام امور کا دار و مدار اسی کی ذات پر ہے۔ بچا بچا کر رکھنے سے رزق بڑھتا نہیں اور خرچ کرنے سے گھٹتا نہیں۔ علاوہ ازیں جو خرچ کیا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا، بلکہ ایک دن آنے والا ہے جب وہ اپنی پیش کی ہوئی اشیا پوری پوری، بلکہ بہت زیادہ اضافے کے ساتھ کئی گنا وصول کرلیں گے، اس لئے فرمایا ﴿ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ﴾ ” اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“ پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔ ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ تقدیر کے مقابلے میں اسباب فائدہ نہیں دیتے۔ خصوصاً وہ اسباب جن سے اللہ کے احکامات پر عمل ترک ہوتا ہو۔ نیز ان میں اللہ کی عظیم نشانی کا ذکر ہے کہ اسی جہان میں مردوں کو زندہ کر کے دکھا دیا۔ ان میں اللہ کی راہ میں جہاد و قتال اور خرچ کرنے کا حکم ہے یہاں ایسی چیزیں بیان کی گئی ہیں جن سے انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب ہوتی ہے، مثلاً اسے قرض قرار دینا، اس کا بہت زیادہ بڑھ جانا، اور رزق کی کمی بیشی اللہ کے ساتھ میں ہونا، اور بندوں کا اسی کی طرف لوٹ کے جانا۔ البقرة
246 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی اسرائیل کے سرداروں کا واقعہ سنایا ہے۔ سرداروں کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ عام طور پر سردار ہی اپنے فائدے کے معاملات پر غور و فکر کرتے ہیں تاکہ وہ متفقہ فیصلہ کریں اور دوسرے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد مبعوث ہونیوالے اپنے نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا ﴿ ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۭ﴾” کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجیے تاہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔“ تاکہ قوم کی شیرازہ بندی ہو اور ہم دشمن کا مقابلہ کرسکیں۔ شاید اس وقت ان کا کوئی متفقہ سردار نہیں تھا۔ جیسے قبائلی معاشرے میں ہوتا ہے کہ کوئی گھر انا یہ پسند نہیں کرتا کہ دوسرے گھرانے کا کوئی آدمی اس پر حاکم مقرر ہوجائے۔ اس لئے انہوں نے اپنے نبی سے درخواست کی کہ ایک بادشاہ مقرر کردیا جائے جس پر سب فریق متفق ہوجائیں۔ بنی اسرائیل میں سیاسی رہنمائی انبیائے کرام کا فریضہ تھی۔ جب کوئی نبی فوت ہوجاتا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا نبی مقرر فرما دیتا۔ جب انہوں نے اپنے نبی سے یہ بات کہی تو پیغمبر نے کہا ﴿ ھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا ۭ﴾” ممکن ہے جہاد فرض ہوجانے کے بعد تم جہاد نہ کرو۔“ یعنی شاید تم ایسی چیز کا مطالبہ کر رہے ہو کہ اگر تم پر فرض ہوجائے تو تم اس کو انجام نہ دے سکو۔ نبی کے اس مشورہ کو تسلیم کرلینے میں ان کے لئے عافیت تھی، لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے کے بجائے اپنے عزم و نیت پر اعتماد کیا اور بولے ﴿ وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَاَبْنَاۗیِٕنَا ۭ﴾” بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہ کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کردیئے گئے ہیں۔“ یعنی ہمیں جہاد کرنے میں کیا عذر ہوسکتا ہے جب کہ ہمیں اس پر مجبور کردیا گیا ہے کیونکہ ہمیں وطن سے بے وطن کردیا گیا اور بیوی بچوں کو قید کرلیا گیا ہے؟ ان حالات میں بھی اگر ہم پر اللہ کی طرف سے جہاد کا حکم نہ بھی آئے تب بھی ہمیں لڑنا چاہئے۔ اب جب کہ سب کچھ ہوچکا ہے اور جہاد فرض کردیا جائے تو ہم کیوں نہیں لڑیں گے۔ لیکن ان کی نیتیں درست نہ تھیں اور اللہ پر توکل مضبوط نہیں تھا۔ اس لیے ﴿ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا ﴾” جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سب پھر گئے۔“ انہیں بزدلی کی وجہ سے جہاد کی ہمت نہ ہوئی، وہ دشمن سے ٹکر لینے کی جرأت نہ کرسکے۔ ان کا عزم جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ اکثریت پر بزدلی کے جذبات غالب آگئے۔ ﴿ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْہُمْ ﴾” سوائے تھوڑے سے لوگوں کے“ جنہیں اللہ نے ثابت قدمی بخشی، ان کے دل مضبوط ہوگئے۔ پس انہوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دشمن سے ٹکرانے کا حوصلہ کیا تو انہیں دنیا اور آخرت کی عزت نصیب ہوئی۔ لیکن اکثریت نے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہوئے اللہ کے حکم کو چھوڑ دیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے﴿ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ﴾” اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔“ البقرة
247 ﴿وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ﴾” اور ان کے نبی نے (ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے) کہا ﴿اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ مَلِکًا ۭ﴾” اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا دیا ہے۔‘،یہ نام زدگی اللہ کی طرف سے تھی، لہٰذا ان کا فرض تھا کہ اسے قبول کرتے ہوئے اعتراضات بند کردیتے۔ لیکن انہوں نے اعتراض کردیا اور کہنے لگے ﴿ اَنّٰی یَکُوْنُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ ۭ ﴾” بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سے تو بہت حق دار بادشاہت کے ہم ہیں۔ اسے مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی۔“ یعنی وہ ہمارا بادشاہ کیسے بن سکتا ہے۔ جب کہ وہ خاندانی طور پر ہم سے کم تر ہے۔ پھر وہ غریب اور نادار بھی ہے، اس کے پاس حکومت قائم رکھنے کے لئے مال بھی نہیں۔ ان کی اس بات کی بنیاد ایک غلط خیال پر تھی کہ بادشاہ اور سردار ہونے کے لئے اونچا خاندان اور بہت مالدار ہونا ضروری ہے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ترجیح کے قابل اصل صفات زیادہ اہم ہیں۔ اس لئے ان کے نبی نے فرمایا : ﴿ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰیہُ عَلَیْکُمْ﴾” سنو ! اللہ تعالیٰ نے اس کو تم پر برگزیدہ کیا ہے۔“ لہٰذا اس کی اطاعت قبول کرنا تمہارا فرض ہے۔ ﴿ وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ۭ﴾ ” اور اسے اللہ نے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے۔“ یعنی اسے عقل اور جسم کی قوت عطا فرمائی ہے، اور ملک کے معاملات انہی دو چیزوں کی بنیاد پر صحیح طور پر انجام پاتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ عقل و رائے میں کامل ہو، اور اس صحیح رائے کے مطابق احکام نافذ کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہو، تو درجہ کمال حاصل ہوجاتا ہے۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک مفقود ہو تو نظام میں خلل آجائے گا۔ اگر وہ جسمانی طور پر طاقت ور ہوا لیکن پورا عقل مند نہ ہوا تو ملک میں غیر شرعی سختی ہوگی اور طاقت کا استعمال حکمت کے مطابق نہیں ہوگا اور اگر وہ معاملات کی پوری سمجھ رکھنے والا ہوا، لیکن اپنے احکام نافذ کرنے کی طاقت سے محروم ہوا، تو اس عقل و فہم کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، جسے وہ نافذ نہ کرسکے۔ ﴿ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ﴾” اللہ تعالیٰ کشادگی والا۔“ یعنی بہت فضل و کرم والا ہے اس کی عمومی رحمت کسی کو محروم نہیں رکھتی، بلکہ ہر ادنیٰ و اعلیٰ اس سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ﴿ عَلِیْمٌ﴾ ” علم والا ہے۔“ البقرة
248 وہ جانتا ہے کہ فضل کا حق دار کون ہے اس پر فضل کردیتا ہے۔ اس کلام سے ان کے دلوں کے تمام شکوک و شبہات دور ہوگئے۔ کیونکہ طالوت میں حکمرانوں والی خوبیاں موجود تھیں، اور اللہ اپنا فضل جسے چاہے دیتا ہے، اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اس کے بعد ان کے نبی نے ایک حسی نشانی بھی بیان کی، جسے وہ دیکھ لیں گے۔ وہ ہے اس تابوت کا واپس مل جانا جو ایک طویل عرصہ سے ان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ اس تابوت میں ان کے لئے اطمینان قلب اور سکون کا سامان موجود تھا۔ یعنی آل موسیٰ اور آل ہارون کی چھوڑی ہوئی اشیا موجود تھیں۔ اسے فرشتے اٹھا کر لائے تو لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ البقرة
249 جب بنی اسرائیل پر طالوت کی حکومت قائم ہوگئی اور مستحکم ہوگئی تو قوم نے دشمن سے مقابلے کی تیاری کی۔ طالوت بنی اسرائیل کے لشکروں کو لے کر روانہ ہوا۔ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ تو اس نے اللہ کے حکم سے ان کا امتحان لیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ثابت قدم رہنے والا کون کون ہے اور دوسری طرح کا (بھگوڑا) کو ن کون ہے؟ چنانچہ فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰہَ مُبْتَلِیْکُمْ بِنَہَرٍ ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّیْ ۚ﴾ ” سنو ! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے جس نے اس میں سے پانی پی لیا، وہ میرا نہیں۔“ پس وہ نافرمان ہے۔ اس کی بے صبر اور گناہ کی سزا یہ ہے کہ وہ ہمارے ساتھ نہ آئے ﴿ وَمَنْ لَّمْ یَطْعَمْہُ﴾ ” اور جو اسے نہ چکھے“ یعنی اس کا پانی نہ پیئے۔ وہ میرا ہے ﴿ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃًۢ بِیَدِہٖ ۚ﴾ ”ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے۔“ اسے کوئی گناہ نہیں اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس میں برکت ڈال دے کہ وہ اس کے لئے کافی ہوجائے۔ اس امتحان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس پانی تھوڑا رہ گیا تھا، تاکہ آزمائش ہوسکے۔ اکثر نے نافرمانی کرتے ہوئے اتنا پانی پی لیا، جتنا پینے کی انہیں اجازت نہیں دی گئی تھی۔ چنانچہ یہ لوگ دشمن کے مقابلے میں جہاد کرنے سے بھی پہلو تہی کر گئے۔ ان کا گھڑی بھر پانی سے صبر نہ کرسکنا بہت بڑی دلیل تھی کہ وہ جنگ میں بھی صبر نہ کرسکیں گے، جو طویل بھی ہوسکتی ہے اور پرمشقت بھی۔ ان کے اس طرح پلٹ جانے سے باقی لشکر میں اللہ پر اعتماد، اللہ کے سامنے عجز و نیاز اور پانی کی طاقت پر گھمنڈ سے اجتناب جیسی کیفیات اور زیادہ ہوگئیں وہ اپنی قلت اور دشمن کی کثرت کو دیکھ کر مزید ثابت قدم ہوگئے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَلَمَّا جَاوَزَہٗ﴾” جب وہ نہر سے گزر گیا‘،﴿هُوَ﴾” وہ طالوت“ ﴿ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ ۙ ﴾” مومنین سمیت“ جنہوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جائز حد سے زیادہ پانی نہیں پیا تھا، تو فوج کے اکثر لوگ اپنی قلت اور دشمنوں کی کثرت دیکھ کر کہنے لگے ﴿ لَا طَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ ۭ﴾” آج تو ہم میں طاقت نہیں کہ جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑیں۔“ کیونکہ ان کی تعداد بھی زیادہ ہے اور اسلحہ بھی ﴿ۭ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوا اللّٰہِ ۙ ﴾” لیکن اللہ کی ملاقات پر یقین رکھنے والوں نے کہا،جو پختہ ایمان کے حامل تھے، انہوں نے دوسروں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے، انہیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا ﴿کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃًۢ بِاِذْنِ اللّٰہِ ۭ﴾” بسا اوقات چھوٹی اور تھوڑی سی جماعتیں بڑی اور بہت سی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے“ یعنی اس کے ارادہ اور مشیت سے۔ غلبہ پالیتی ہیں۔کیونکہ معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ عزت اور ذلت اس کے دینے سے ملتی ہے۔ اللہ کی مدد کے بغیر کثرت کا کوئی فائدہ نہیں اور اس کی مدد حاصل ہو تو قلت سے کوئی نقصان نہیں۔ ﴿ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ﴾” اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“ اس کی مدد اور توفیق انہیں حاصل ہوتی ہے۔ اللہ کی مدد حاصل کرنے کا سب سے اہم ذریعہ بندے کا اللہ کی رضا کے لئے صبر کرنا ہے۔ ان کی نصیحت کا کم ہمتوں پر بہت اچھا اثر ہوا، اس لئے جب وہ جالوت کے مقابلے میں آئے تو ان سب نے دعا مانگی البقرة
250 ﴿ رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا﴾ ” اے پروردگار ! ہمیں صبر دے“ یعنی دل مضبوط کر دے۔ ہمیں صبر کی توفیق دے۔ ﴿ وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا ﴾” اور ثابت قدمی دے۔‘،کہ ہمارے قدموں میں لغزش نہ آئے، ہم بھاگنے کی غلطی سے محفوظ رہیں۔ ﴿ وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ﴾” اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جالوت اور اس کی قوم کافر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی، کیونکہ انہوں نے قبولیت کے اسباب مہیا کرلیے تھے۔ اللہ نے ان کی مدد فرمائی البقرة
251 ﴿ۭفَہَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ ڐ وَقَتَلَ دَاوٗدُ﴾ ” چنانچہ اللہ کے حکم سے انہوں نے جالوتیوں کو شکست دے دی اور حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھوں“ جو طالوت کے لشکر میں شامل تھا ﴿ جَالُوْتَ﴾ ” جالوت قتل ہوا“ آپ نے بہادری، قوت اور ثابت قدمی کی بدولت کافروں کے بادشاہ کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ ﴿ وَاٰتٰیہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ﴾” اور اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کو مملکت و حکمت عطا فرمائی۔‘،یعنی اللہ نے آپ پر یہ احسان فرمایا کہ بنی اسرائیل کی حکومت عطا فرمانے کے علاوہ حکمت بھی عطا فرمائی۔ یعنی نبوت سے سرفرازفرمایا جس سے عظیم شریعت اور سیدھی راہ ملی۔ اس لئے فرمایا : ﴿ وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَاۗءُ ۭ﴾” اور جتنا کچھ چاہا، علم بھی عطا فرمایا۔“ شریعت کا علم بھی اور سیاست کا علم بھی۔ اس طرح انہیں نبوت اور حکومت دونوں عطا فرما دیں۔ اس سے پہلے انبیاء اور ہوتے تھے اور بادشاہ اور پس جب اللہ نے ان کی مدد فرمائی تو وہ لوگ اطمینان سے اپنے گھروں میں رہنے لگے اور بے خوف ہو کر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ اللہ نے ان کے دشمنوں کو مغلوب کردیا اور انہیں اقتدار عطا فرما دیا، یہ سب جہاد فی سبیل اللہ کی برکات تھیں۔ اس لئے اللہ نے فرمایا ﴿ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ﴾” اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعے سے دفع نہ کرتا، تو زمین میں فساد پھیل جاتا۔“ اگر مجاہدین کے ذریعے سے بدکاروں اور کفار کا قلع قمع نہ کرتا تو کافروں کے غلبے کی وجہ سے، کفر کی رسمیں قائم ہونے سے اور اللہ کی عبادت سے روک دیے جانے کی وجہ سے زمین فساد سے بھر جاتی۔ ” لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے۔“ یہ اس کا فضل ہے کہ اس نے جہاد مقرر کردیا، جس میں ان کی سعادت اور ان کا دفاع ہے اور انہیں معلوم و نامعلوم اسباب کے ذریعے سے زمین میں اقتدار عطا فرما دیا۔ البقرة
252 پھر فرمایا : ﴿ تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ﴾” یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں، جنہیں ہم حقانیت کے ساتھ آپ پر پڑھتے ہیں۔،یعنی ایسی سچائی کے ساتھ جس میں کوئی شک نہیں، جو اعتبار اور بصیرت کو بھی متضمن ہے اور بیان حقائق امور کو بھی ﴿ وَاِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ﴾” اور بالیقین آپ رسولوں میں سے ہیں۔“ اس میں اللہ کی طرف سے اپنے رسول کے لئے رسالت کی گواہی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دلائل میں انبیائے سابقین، ان کے متبعین اور مخالفین کے ان واقعات کا بیان بھی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ بتاتا تو آپ کو ان کا علم نہیں ہوسکتا تھا، بلکہ آپ کی پوری قوم میں کوئی بھی ایسا شخص نہ ہوتا جس کو ان واقعات کے بارے میں کچھ معلوم ہو۔ اس سے ثابت ہوا کہ آپ اللہ کے سچے رسول اور نبی ہیں۔ جو حق لے کر آئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین بھی سچا ہے جسے اللہ تعالیٰ تمام ادیان پر غالب کرنے والا ہے۔ اس قصہ میں بہت سی نصیحت آموز نشانیاں ہیں جن سے اہل علم کو نصیحت حاصل ہوتی ہے، مثلاً (1) پہلی بات یہ ہے کہ اہل حل وعقد کا جمع ہو کر یہ غور و فکر کرنا کہ ان کے معاملات کس طریقے سے سدھر سکتے ہیں اور پھر ان تجاویز پر عمل کرنا ترقی اور حصول مقصود کا سب سے بڑا سبب ہے۔ جیسے ان سرداروں نے اپنے نبی سے بادشاہ مقرر کردینے کی درخواست کی تاکہ وہ متحد اور متفق رہیں اور ایک بادشاہ کا حکم مانیں۔ (2) جب حق کی مخالفت کی جائے اور اس پر شبہات وارد کئے جائیں، تو اس سے حق زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں یقین تام حاصل ہوجاتا ہے، جیسے ان لوگوں نے طالوت کے بادشاہت کا مستحق ہونے پر اعتراض کیا، تو انہیں ایسے جواب دیئے گئے کہ وہ مطمئن ہوگئے اور شک و شبہ ختم ہوگیا۔ (3) حکومت کو کمال تب حاصل ہوتا ہے جب حاکم علم و عقل بھی رکھتا ہو اور نافذ کرنے کی قوت بھی رکھتا ہو۔ ان میں سے کسی ایک شرط کا، یا دونوں شرطوں کا فقدان سلطنت کے نقصان کا باعث ہے۔ (4) اپنے آپ پر اعتماد کرنے سے ناکامی حاصل ہوتی ہے اور صبر پر قائم رہتے ہوئے اللہ سے مدد مانگنا اور اس کی پناہ حاصل کرنا فتح و کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اس کی پناہ حاصل کرنا فتح و کامیابی کا ذریعہ ہے۔ پہلی صورت کی مثال ان کا اپنے نبی سے یہ کہنا ہے ﴿وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَاَبْنَاۗیِٕنَا ۭ﴾” بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہ کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کردیئے گئے ہیں“ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب جہاد کا حکم ہوا تو وہ منہ موڑ گئے۔ دوسری صورت کی مثال اللہ کا یہ فرمان ہے ﴿ وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ قَالُوْا رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ﴾ ” جب وہ جالوت کے مقابلے میں آئے تو ان سب نے دعا مانگی ! اے پروردگار ! ہمیں صبر دے، ثابت قدمی دے اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما۔“ نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن کو شکست ہوگئی۔ (5) اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ ناپاک کو پاک سے، سچے کو جھوٹے سے، ثابت قدمی والے کو بزدل سے ممتاز اور الگ کر دے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ملے جلے اور غیر نمایاں نہیں رہنے دیتا۔ (6) اللہ کی رحمت اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کافروں اور منافقوں کے شر کو مجاہد مومنوں کے ذریعے سے دور کردیتا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو زمین میں کافروں کا غلبہ ہوتا اور کافرانہ طور طریقے ہر جگہ پھیل جاتے جس سے زمین فساد سے بھر جاتی۔ البقرة
253 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض رسولوں کو دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ پہلے تو انہیں تمام لوگوں پر فضیلت عطا فرمائی کہ ان کی طرف وحی نازل کر کے انہیں دوسروں کی طرف مبعوث فرمایا اور انہوں نے مخلوق کو اللہ کی طرف بلایا۔ پھر انہیں ایک دوسرے پر فضیلت دی کہ ان میں درست افعال اور لوگوں کو نفع پہنچانے جیسی خاص خوبیاں دیں۔ چنانچہ موسیٰ کو ہم کلام ہونے کا خاص شرف عطا فرمایا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے انبیاء سے افضل بنایا اور آپ میں وہ تمام فضائل جمع فرما دیئے جو دوسرے رسولوں کو الگ الگ ملے تھے اور آپ کو ایسے مناقب بخشے جن کی وجہ سے آپ اولین اور آخرین سے اشرف قرار پائے۔ ﴿وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ﴾” اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو معجزات عطا فرمائے۔“ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور مریم کی طرف نازل ہونے والا اللہ کا کلمہ اور اس کی طرف سے آنے والی ایک روح ہیں۔﴿ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ﴾” اور روح القدس سے ہم نے ان کی تائید کی۔“ اس سے مراد ایمان اور یقین ہے جس کے ذریعے سے ان کو وہ فریضہ انجام دینے کی طاقت حاصل ہوئی، جو آپ پر عائد کیا گیا تھا۔ ایک قول کے مطابق روح القدس سے مراد جبرئیل ہیں، جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے۔﴿ وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِن بَعْدِهِم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ﴾ ” اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے۔“ بلکہ ان دلائل کی وجہ سے سب مومن اور متحد ہوجاتے۔﴿ وَلَـٰكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ﴾” لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا۔ ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اور بعض کافر۔“ پس اختلاف کے نتیجے میں افتراق، دشمنی اور لڑائی ہوئی۔ اس کے باوجود اگر اللہ چاہتا تو اختلاف کے باوجود لڑائی تک نوبت نہ پہنچتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی مرضی اسباب پر غالب ہے۔ اسباب کا فائدہ تبھی ہوتا ہے جب مشیت اس کے برعکس نہ ہو۔ جب مشیت آجائے تو ہر سبب کالعدم ہوجاتا ہے۔ اس لئے فرمایا﴿ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ﴾” لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“ اس کا ارادہ غالب ہے، اس کی مرضی پوری ہو کر رہتی ہے۔ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ازل سے اپنی مشیت اور حکمت کے تقاضوں کے مطابق جو چاہتا ہے کرتا ہے اور وہ جو کچھ کرتا ہے اس میں سے بعض کا ذکر قرآن و حدیث میں موجود ہے مثلاً استوا، نزول، کلام اور وہ افعال جنہیں ” افعال اختیاریہ“ کہا جاتا ہے۔ فائدہ : جس طرح اللہ کی پہچان حاصل کرنا فرض ہے۔ اسی طرح رسولوں کے بارے میں علم حاصل کرلینا بھی ضروری ہے، ان کی لازمی صفات کیا ہیں، کیا کچھ ان کے لئے محال ہے اور کیا کچھ ممکن ہے۔ ان امور کا علم قرآن مجید کی متعدد آیات سے ہوتا ہے۔ مثلاً رسول مرد ہیں عورتیں نہیں، وہ بستیوں میں رہنے والوں میں سے مبعوث ہوئے ہیں، خانہ بدوشوں میں سے نہیں۔ وہ اللہ کے منتخب اور پسندیدہ بندے ہوتے ہیں، ان میں ایسی خوبیاں موجود ہوتی ہیں جو انہیں اس انتخاب کا اہل بنا دیتی ہیں۔ ان میں کوئی ایسی خرابی نہیں ہوتی جو منصب رسالت کے منافی ہو۔ مثلاً جھوٹ، خیانت، حق کو چھپانا اور قابل نفرت جسمانی عیوب، ان سے اگر کوئی ایسی فروگزاشت ہوجائے جو منصب رسالت سے متعلق ہو، تو فوراً اصلاح کردی جاتی ہے۔ اللہ نے انہیں وحی کے لئے مخصوص فرمایا ہے اس لئے ان پر ایمان لانا اور ان کی اطاعت کرنا فرض ہے۔ جو شخص کسی نبی پر تنقید کرے یا اس کی شان میں گستاخی کرے، وہ کافر ہوجاتا ہے اور اسے قتل کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ ان تمام مسائل کے دلائل بہت زیادہ ہیں جو شخص قرآن مجید میں غور و فکر کرے گا اس پر حق واضح ہوجائے گا۔ البقرة
254 اللہ کا اپنے بندوں پر یہ بھی احسان ہے کہ اس نے حکم دیا ہے کہ اسی کے دیے ہوئے رزق میں سے تھوڑا سا واجب اور مستحب صدقہ پیش کریں تاکہ ان کے لئے ثواب کا ذریعہ ہوجائے اور انہیں اس دن زیادہ ہو کر ملے جس دن ایک ذرہ برابر نیکی کی ضرورت ہوگی تو مل نہیں سکے گی۔ اگر انسان زمین بھر سونا فدیہ کر دے تاکہ اس دن کے عذاب سے بچ جائے، تو اس کی یہ پیش کش قبول نہیں کی جائے گی۔ نہ کوئی دوست اس کے کام آسکے گا وجاہت کے ذریعے سے، نہ شفاعت کے ذریعے سے۔ اس دن اہل باطل خسارے میں ہوں گے اور ظالم رسوا ہوں گے۔ ظالم وہ ہیں جو ایک چیز کو اس کے محل سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھ دیتے ہیں۔ پس انہوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے واجب کو ترک کردیا اور حلال کے بجائے حرام اختیار کیا۔ سب سے بڑا ظلم اللہ کے ساتھ کفر کرنا ہے، یعنی عبادت جو صرف اللہ کا حق ہے۔ کافر اسے اپنے جیسی مخلوق کے لئے کرتا ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا﴿ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾” اور کافر ہی ظالم ہیں۔“ اور یہ حصر کے باب سے ہے، یعنی انہوں نے مکمل ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔ جیسے ارشاد ہے ﴿ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾  (لقمن :13؍31) ” بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔“ البقرة
255 یہ آیت قرآن مجید کی عظیم ترین آیت ہے اور یہ سب سے افضل آیت ہے جس میں عظیم مسائل اور اللہ کی صفات کریمہ بیان ہوئی ہیں اس لئے بہت سی احادیث میں اس کی تلاوت کی ترغیب وارد ہے کہ اسے صبح شام، سوتے وقت اور فرض نمازوں کے بعد پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں فرمایا﴿ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ﴾” اللہ ہی معبود برحق ہے۔“ لہٰذا ہر قسم کی عبادت اور اطاعت اسی کے لئے ہونی چاہئے کیونکہ وہ تمام صفات سے متصف اور عظیم نعمتیں دینے والا ہے۔ بندے کا یہ حق ہے کہ اپنے رب کا بندہ بن کر رہے، اس کے احکامات کی تعمیل کرتا رہے، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے بچتا رہے۔ اللہ کے سوا ہر شے باطل ہے، پس اس کے سوا ہر ایک کی عبادت باطل ہے، کیونکہ اللہ کے سوا ہر چیز مخلوق اور ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہے۔ لہٰذا کسی قسم کی کسی عبادت کا حق نہیں رکھتی۔﴿ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ وہ زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے۔“ ان دواسمائے حسنیٰ (الحی القیوم) میں دیگر تمام صفات کی طرف اشارہ موجود ہے۔ خواہ وہ دلالت مطابقت سے ہو، یا دلالت تضمن سے یا دلالت لزوم سے۔ (الحی) سے مراد وہ ہستی ہے جسے کامل حیات حاصل ہو، اور یہ مستلزم ہے تمام صفات ذاتیہ کو مثلاً سننا، دیکھنا، جاننا اور قدرت رکھنا وغیرہ (القیوم) سے مراد وہ ذات ہے جو خود قائم ہو اور دوسروں کا قیام اس سے ہو، اس میں اللہ تعالیٰ کے وہ تمام افعال شامل ہوجاتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ متصف ہے یعنی وہ جو چاہے کرسکتا ہے، استواء، نزول، کلام، قول، پیدا کرنا، رزق دینا، موت دینا، زندہ کرنا اور دیگر انواع کی تدبیر سب اس کے قیوم ہونے میں شامل ہیں۔ اس لئے بعض محققین کا کہنا ہے کہ یہی وہ اسم اعظم ہے جس کے ذریعے کی ہوئی دعا رد نہیں ہوتی۔ اس کی حیات اور قیومیت کے تمام ہونے کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ﴿ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ﴾” اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔“ ﴿لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ﴾ ” اس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں۔“ وہ مالک ہے، باقی سب مملوک ہیں۔ وہ خالق، رازق اور مدبر ہے باقی سب مخلوق، مرزوق اور مدبر۔ کسی کے ہاتھ میں آسمان و زمین کے معاملات میں سے، نہ اپنے لیے ذرہ بھر اختیار ہے نہ دوسروں کے لئے۔ اسی لئے فرمایا ﴿مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ﴾” کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے؟“ یعنی کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ تو شفاعت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ لیکن وہ جب کسی بندے پر رحم کرنا چاہے گا، تو اپنے جس بندے کی عزت افزائی کرنا چاہے گا، اسے اس کے حق میں شفاعت کی اجازت دے گا۔ اجازت ملنے سے پہلے کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ پھر فرمایا ﴿يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ﴾ ” وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔“ یعنی ان کے گزشتہ اور آئندہ معاملات سے باخبر ہے۔ یعنی وہ تمام معاملات کی تمام تفصیلات جانتا ہے یعنی اگلے پچھلے، ظاہر، پوشیدہ، غیب اور حاضر سب جانتا ہے۔ بندوں کو ان میں کوئی اختیار حاصل نہیں، نہ وہ ذرہ برابر معلومات رکھتے ہیں، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ خود بتا دے۔ اس لئے فرمایا: ﴿وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ﴾” اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے، مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی کی وسعت نے آسمان و زمین کو گھیر رکھا ہے۔“ اس سے اس کی عظمت کا کمال اور سلطنت کی وسعت کا پتہ چلتا ہے۔ جب کرسی کی یہ شان ہے کہ آسمان و زمین کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ ان سے بہت بڑی ہے۔ حالانکہ وہ اللہ کی سب سے بڑی مخلوق نہیں بلکہ اللہ کی اس سے بڑی مخلوق بھی موجود ہے۔ یعنی عرش اور ایسی مخلوقات جن کا علم صرف اللہ کو ہے۔ ان مخلوقات کی عظمت کا تصور کرنے سے بھی عقلیں عاجز ہیں تو ان کے خالق کی عظمت کا اندازہ کیسے لگایا جاسکتا ہے۔ جس نے انہیں وجود بخشا اور ان میں بے شمار حکمتیں اور اسرار رکھ دیے۔ جس نے زمین و آسمان کو اپنی جگہ چھوڑنے سے روک رکھا ہے اور وہ اس سے تھکتا نہیں۔ اس لئے فرمایا ﴿وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا﴾ ” اور نہ وہ ان دونوں کی حفاظت سے تھکتا ہے۔“ یعنی اس کے لئے ان کی حفاظت دشوار نہیں ﴿وَهُوَ﴾ ” اور وہ“ اپنی ذات کے لحاظ سے ﴿ا الْعَلِيُّ﴾ ” بہت بلند ہے۔“ اور عرش عظیم پر مستوی ہے۔ وہ اس لئے بھی بلند ہے کہ تمام مخلوقات اس کے زیرنگیں ہیں۔ اس لئے بھی بلند شان والا ہے کہ اس کی صفات کامل ہیں اور﴿ الْعَظِيمُ﴾” بہت بڑا ہے۔“ جس کی عظمت کے سامنے بڑے سے بڑے جبار، متکبر اور زبردست بادشاہوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس آیت میں توحید الوہیت بھی ہے، توحید ربوبیت بھی اور توحید اسماء و صفات بھی۔ اس میں اس کی بادشاہت کا محیط ہونا بھی مذکور ہے اور علم کا بھی، اس کی سلطنت کی وسعت بھی ہے اس کا جلال، مجد اور اس کی عظمت و کبریائی کا بھی بیان ہے۔ لہٰذا یہ آیت اکیلی ہی اللہ کے تمام اسماء و صفات اور تمام اسمائے حسنیٰ کے معانی کی جامع ہے۔ البقرة
256 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں۔ اس کی ضرورت بھی نہیں۔ کیونکہ زبردستی تو اس کام کے لئے کی جاتی ہے جس کے حقائق واضح نہ ہوں یا جو کام انتہائی ناپسندیدہ ہو۔ اس صراط مستقیم کا تو ہر گوشہ واضح ہے۔ اس کا چپہ چپہ روشن ہے۔ کوئی بھی سمجھ دار آدمی معمولی سا غور و فکر کرے تو اسے قبول کرنے پر آمادہ ہوجائے گا۔ لیکن جس کی نیت درست نہ ہو، غلط ارادے رکھتا ہو، ایسا بدظن آدمی حق کو دیکھ کر بھی باطل کو اختیار کرلیتا ہے۔ اچھی چیز کو دیکھ کر پھر گندی چیز کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ اسے دین کو قبول کرنے پر مجبور کرے کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں اور زبردستی قبول کرایا گیا ایمان معتبر بھی نہیں۔ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ جو کافر مسلمانوں سے لڑتے ہیں ان کے خلاف جہاد نہ کیا جائے۔ یہ آیت تو صرف یہ بات واضح کرتی ہے کہ دین بنیادی طور پر ایسی چیز ہے کہ ہر انصاف پسند اسے قبول کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہے۔ جنگ کرنے یا نہ کرنے کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ مسئلہ دوسری نصوص سے ثابت ہے۔ البتہ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کے علاوہ دوسرے غیر مسلموں سے بھی جز یہ لینا درست ہے۔ جیسا کہ بہت سے علماء کا قول ہے۔ لہٰذا جو شخص غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت ترک کر کے اللہ پر صحیح ایمان لے آئے جس کے نتیجے میں وہ اللہ کی عبادت و اطاعت پر قائم ہوجائے﴿ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَ﴾ ” تو اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا۔“ یعنی ایسا پختہ دین اختیار کرلیا، جس کی بنیادیں بھی مضبوط ہیں اور عمارت بھی۔ وہ پورے اعتماد سے اس پر قائم رہتا ہے کیونکہ اس نے ایسا مضبوط کڑا تھام لیا ہے﴿  لَا انفِصَامَ لَهَا﴾” جو کبھی نہ ٹوٹے گا۔“ اس کے برعکس جو شخص اللہ کا انکار کر کے شیطانوں پر یقین رکھتا ہے اس نے اس مضبوط کڑے کو چھوڑ دیا، جس کے ذریعے سے نجات حاصل ہوسکتی ہے اور ایسے باطل کو پکڑ لیا جو اسے جہنم میں لے جائے گا۔﴿ وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾” اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔“ وہ ہر ایک کے نیک و بداعمال سے واقف ہے لہٰذا اس کے مطابق جزا و سزا دے گا۔ اس کڑے کو پکڑنے والے اور نہ پکڑنے والے کا یہی انجام ہے۔ اس کے بعد اللہ نے وہ سبب بیان فرمایا ہے جس کی وجہ سے یہ نتیجہ حاصل ہوا وہ یہ ہے کہ البقرة
257 ﴿اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا﴾” ایمان لانے والوں کا کار ساز اللہ خود ہے۔“ یہ آیت ان کی اپنے رب سے دوستی پر مشتمل ہے، بایں طور کہ وہ اپنے رب سے محبت رکھتے ہیں، پس اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اس کے پیاروں سے محبت کرتے اور اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھتے ہیں، اللہ نے بھی ان پر لطف و کرم اور احسان فرماتے ہوئے انہیں کفر، معاصی اور جہل کے اندھیروں سے نکالا اور ایمان، نیکی اور علم کی روشنی میں پہنچا دیا۔ اس کے نتیجے میں وہ قبر، حشر اور قیامت کے اندھیروں سے محفوظ رہ کر دائمی نعمت، راحت اور سرور والی جنت میں پہنچ گئے۔ ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ﴾ ” اور کافروں کے اولیاء شیطان ہیں۔“ پس انہوں نے شیطان سے اور اس کی پارٹی سے دوستی کی۔ اپنے مالک اور آقا کی دوستی چھوڑ دی۔ اس کی سزا کے طور پر اللہ نے ان پر شیطانوں کو مسلط کردیا، جو انہیں گناہوں کی طرف ہانکتے اور برائی پر آمادہ کرتے ہیں۔ اس طرح انہیں ایمان، علم اور نیکی کے نور سے ہٹا کر کفر، معاصی اور جہالت کے اندھیروں میں لے جاتے ہیں۔ ان کے نتیجے میں وہ نیکیوں سے محروم ہوجاتے ہیں اور نعمت اور خوشی حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ حسرت کے جہان (جہنم) میں بھی شیطان کی جماعت اور اس کے دوست ہی شمار ہوں گے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا ﴿أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾” یہ لوگ جہنمی ہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں پڑے رہیں گے۔ “ البقرة
258 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ﴾” کیا تو نے اسے نہیں دیکھا جو ابراہیم علیہ السلام سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا۔“ یعنی کیا آپ نے اس کی جرأت، تجاہل، عناد اور ناقابل شک حقیقت کے بارے میں جھگڑے کا مشاہدہ نہیں فرمایا؟ اس کی وجہ صرف یہ تھی ﴿أَنْ آتَاهُ اللَّـهُ الْمُلْكَ﴾” کہ اسے اللہ نے حکومت دی تھی۔“ تو وہ سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ رعیت کا حکمران بن گیا ہے تو اتنی جرأت کی کہ ابراہیم سے اللہ کی ربوبیت کے بارے میں بحث کرنے لگا اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ جیسے کام کرسکتا ہے۔ ابراہیم نے فرمایا ﴿رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ﴾ ” میرا رب تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔“ یعنی ہر کام کا اختیار اسی کو حاصل ہے آپ نے زندہ کرنے اور مارنے کا خاص طور پر ذکر فرمایا کیونکہ یہ سب سے عظیم تدبیر ہے اور اس لئے بھی کہ زندگی بخشنا دنیا کی زندگی کی ابتدا ہے اور موت دینا آخرت کے معاملات کی ابتدا ہے۔ اس کے جواب میں اس نے کہا ﴿َ أ نَا أُحْيِي وَأُمِيتُ﴾” میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں“ اس نے یہ نہیں کہا :” میں ہی زندہ کرتا اور مارتا ہوں۔“ کیونکہ اس کا دعویٰ مستقل تصرف کا نہیں تھا۔ بلکہ وہ کہتا تھا کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ جیسے کام کرسکتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ایک آدمی کو قتل کردیتا ہے تو گویا اسے موت دے دی اور ایک آدمی کو زندہ رہنے دیتا ہے تو گویا اسے زندگی بخش دی۔ جب ابراہیم نے دیکھا کہ یہ شخص بحث میں مغالطہ سے کام لیتا ہے اور ایسی باتیں کہتا ہے جو دلیل تو درکنار شبہ بننے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتیں تو ایک دوسری دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا: ﴿َفَإِنَّ اللَّـهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ﴾” اللہ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے۔“ یہ حقیقت ہر شخص تسلیم کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ کافر بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا تھا۔ ﴿فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ﴾ ”پس تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ۔“ یہ الزامی دلیل ہے۔ اگر وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہوتا تو یہ اس کے موافق ہوجاتی۔ جب آپ نے ایسی بات فرما دی جس میں شبہ پیدا کرنے کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ نہ اس کے پاس اس دلیل کا کوئی توڑ موجود تھا۔﴿فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ﴾” اس لئے وہ کافر حیران رہ گیا۔“ یعنی حیرت زدہ ہوگیا، اس سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ اس کی دلیل غلط ثابت ہوگئی اور اس کا پیش کردہ شبہ کالعدم ہوگیا۔ جو بھی جھوٹا ضد اور عناد کے ذریعے سے حق کا مقابلہ کرنا چاہے، وہ اسی طرح مغلوب اور شکست خوردہ ہوجایا کرتا ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا: ﴿وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾” اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔“ بلکہ انہیں کفر وضلالت میں مبتلا رہنے دیتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے لئے خود یہ چیز پسند کرلی ہوتی ہے۔ اگر ان کا مقصد ہدایت کا حصول ہوتا تو اللہ انہیں ہدایت دے دیتا، اور ہدایت تک پہنچنے کے اسباب مہیا کردیتا۔ یہ آیت ایک قطعی دلیل ہے کہ اللہ ہی خالق ہے اور وہی مختار کل ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ عبادت اور ہر حال میں توکل اسی کا حق ہے۔ ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا :” اس مناظرہ میں ایک باریک نکتہ ہے کہ دنیا میں شرک کا دار و مدار ستاروں اور قبروں کی عبادت پر ہے۔ بعد میں انہی کے نام سے بت تراشے گئے۔ ابراہیم نے جو دلائل پیش کئے ہیں ان میں ان سب کی الوہیت کی اجمالاً تردید موجود ہے کیونکہ اللہ وحدہ لاشریک ہی زندہ کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ زندہ، جو مر جانے والا ہے وہ زندگی میں معبود بننے کی اہلیت رکھتا ہے نہ مرنے کے بعد۔ کیونکہ اس کا ایک رب ہے، جو قادر ہے، زبردست ہے، وہ اس کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرتا ہے۔ جو ایسا مجبور ہو وہ معبود کیسے ہوسکتا ہے کہ اس کی صورت کا بت بنایا جائے اور اس کی پوجا کی جائے۔ اسی طرح ستاروں کا حال ہے۔ ان میں سے بڑا نظر آنے والا سورج ہے۔ یہ بھی حکم کا پابند ہے، اپنے بارے میں آزادی سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ بلکہ اس کا خالق و مالک ہی اسے مشرق سے لاتا ہے تو وہ اس کے حکم اور مرضی کے مطابق اطاعت کرتا ہے۔ یعنی یہ بھی مربوب اور مسخر یعنی حکم کا پابند غلام ہے۔ معبود نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے۔“ (مفتاح دارالسعادۃ:3؍ 210۔211) البقرة
259 یہ ایک اور دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی خالق ہے۔ وہی سب فیصلے کرتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے﴿ أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا ﴾” یا اس شخص کے مانند جس کا گزر ایک بستی پر ہوا، جو چھتوں کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی۔“ یعنی اس کے باشندے مرکھپ گئے تھے اور چھتیں گر کر ان کے اوپر دیواریں گر چکی تھیں، وہاں کوئی نہیں رہتا تھا بلکہ بالکل ویران ہوچکی تھی۔ وہ شخص وہاں کھڑا ہو کر تعجب سے بولا ﴿َ أ نَّىٰ يُحْيِي هَـٰذِهِ اللَّـهُ بَعْدَ مَوْتِهَا﴾” اس کی موت کے بعد اللہ اسے کس طرح زندہ کرے گا؟“ اسے یہ چیز ناممکن محسوس ہوئی، اس نے اللہ کی قدرت کا صحیح اندازہ نہ کیا۔ اللہ نے اس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمایا تو خود اس کی ذات میں اور اس کے گدھے میں اپنی قدرت کا مشاہدہ کرا دیا۔ اس کے پاس کھانے پینے کا سامان بھی تھا۔﴿ فَأَمَاتَهُ اللَّـهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ﴾” پس اللہ نے اسے سو سال کے لئے مار دیا۔ پھر اسے اٹھایا، پوچھا : کتنی مدت تجھ پر گزری؟ کہنے لگا : ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔“ اسے یہ موت انتہائی مختصر محسوس ہوئی، کیونکہ اس کے احساسات ختم ہوچکے تھے۔ اسے اپنی صرف وہ حالت یاد تھی جو اسے موت سے پہلے معلوم تھی۔ اسے بتایا گیا﴿ بَل لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ﴾” بلکہ تو سو سال تک رہا۔ پس اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا۔“ سالوں کی مدت گزرنے کے باوجود اور مختلف اوقات گزرنے کے باوجود اس میں تبدیلی نہیں آئی۔ اس میں اللہ کی قدرت کی بہت بڑی دلیل ہے کیونکہ اس نے کھانے پینے کی چیزوں کو تبدیل یا خراب ہونے سے بچائے رکھا حالانکہ یہ چیزیں سب سے جلدی خراب ہوتی ہیں۔ ﴿وَانظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ ﴾” اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ۔“وہ مر چکا تھا۔ اس کا گوشت اور چمڑا ریزہ ریزہ ہو چکا تھا۔ اس کی ہڈیاں بکھری پڑی تھیں۔ ﴿وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ﴾ ’’اور تاکہ ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنائیں۔“ جس سے اللہ کی قدرت ظاہر ہو کہ وہ مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے اٹھا سکتا ہے۔ تاکہ یہ ایسی مثال بن جائے جس کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں اور انہیں معلوم ہوجائے کہ پیغمبر نے جو خبریں دی ہیں وہ واقعی سچی ہیں۔﴿ وَانظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ﴾” اور تو دیکھ کر ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں۔“ اور انہیں ایک دوسری سے جوڑتے ہیں۔﴿ ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا ﴾پھر ہم ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔“ پس اس نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ ہوتے دیکھ لیا۔﴿ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ ﴾” جب یہ سب ظاہر ہوچکا۔“ اور اسے اللہ کی قدرت کا علم ہوگیا تو کہنے لگا ﴿ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴾” میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص موت کے بعد کی زندگی کا منکر تھا۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوئی کہ اسے ہدایت دے کر لوگوں کے لئے نشانی اور قیامت کی دلیل بنا دے۔ اس موقف کے تین دلائل ہیں : (١) اس نے کہا ﴿أَنَّىٰ يُحْيِي هَـٰذِهِ اللَّـهُ بَعْدَ مَوْتِهَا﴾ ” اس کی موت کے بعد اللہ اسے کس طرح زندہ کرے گا؟“ اگر وہ نبی یا نیک بندہ ہوتا تو یوں نہ کہتا۔ (٢) اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی خوراک، اس کے مشروب، اس کے گدھے اور اس کی ذات میں اپنی نشانی دکھا دی، تاکہ وہ جس چیز کا انکار کرتا ہے اسے آنکھوں سے دیکھ کر اقرار کرلے۔ آیت میں یہ ذکر نہیں کہ وہ بستی بعد میں پہلے کی طرح آباد ہوگئی تھی۔ نہ سیاق کلام ہی سے اس کا اشارہ ملتا ہے۔ نہ اس کا کوئی خاص فائدہ ہی ہے۔ ایک بستی جو بے آباد ہوگئی۔ بعد میں اس کے باشندوں نے واپس آ کر یا دوسرے لوگوں نے رہائش اختیار کر کے اسے آباد کردیا تو اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ اللہ مردوں کو زندہ کرے گا؟ اصل دلیل تو خود اسے اور اسکے گدھے کو زندہ کرنے میں اور اس کے سامان خورد و نوش کو اصلی حالت میں باقی رکھنے میں ہے۔ (3) اللہ نے فرمایا: ﴿ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ﴾” جب اس کے لئے ظاہر ہوگیا۔“ یعنی جو چیز اسے معلوم نہیں تھی، اس سے مخفی تھی، وہ ظاہر اور واضح ہوگئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہمارا قول صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ البقرة
260 یہ بھی ایک عظیم اور محسوس دلیل ہے، جس سے اللہ کی قدرت ظاہر ہوتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ وہ فوت شدہ لوگوں کو جزا و سزا دینے کے لئے زندہ فرمائے گا۔ اللہ نے اپنے خلیل ابراہیم کے بارے میں خبر دی ہے کہ انہوں نے اللہ سے درخواست کی کہ انہیں مردوں کو زندہ ہوتا آنکھوں سے دکھا دیا جائے۔ آپ کو اللہ کے بتانے سے اس کا یقین تو حاصل ہوچکا تھا، لیکن آپ کی خواہش تھی کہ اس کا بچشم سر مشاہدہ فرما لیں تاکہ انہیں حق الیقین کا مقام حاصل ہوجائے۔ اس لئے اللہ نے انہیں فرمایا﴿ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾” کیا تمہیں ایمان نہیں؟ جواب دیا : ایمان تو ہے، لیکن میرے دل کی تسکین ہوجائے گی۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ یقینی دلائل یکے بعد دیگرے آنے سے ایمان تو ہے، لیکن میرے دل کی تسکین ہوجائے گی۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ یقینی دلائل یکے بعد دیگرے آنے سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یقین کامل ہوجاتا ہے۔ اہل عرفان اسی کے حصول کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ اس کے رب نے اسے فرمایا ﴿  فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ﴾ یعنی چار پرندے لے کر اکٹھے کرلے۔ تاکہ سب کچھ آپ کی آنکھوں کے سامنے واقع ہو اور آپ کے ہاتھوں سے اس کا مشاہدہ کرایا جائے۔ ﴿ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا﴾” پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو۔“ یعنی ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ان کے اجزا کو باہم ملا دو اور قریب پہاڑوں میں سے ہر پہاڑ پر ان کا ایک حصہ رکھ دو۔ ﴿ ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا ۚ﴾” پھر انہیں پکارو، تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے۔“ یعنی انہیں مکمل زندگی حاصل ہوجائے گی۔ تو وہ پوری قوت سے دوڑتے ہوئے اور تیزی سے اڑتے ہوئے آپ کے پاس آجائیں گے۔ ابراہیم نے ایسے ہی کیا، تو انہیں مردوں کے زندہ ہونے کا مطلوبہ مشاہدہ حاصل ہوگیا اور یہ معاملہ بھی (مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) ” آسمانوں اور زمین کی سلطنت“ میں شامل ہے جس کا ذکر اس آیت مبارکہ میں ہے: ﴿وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ﴾(الا نعام : 6؍ 75) ” اور ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھائیں اور تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔“ اس کے بعد فرمایا ﴿ وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ ” اور جان رکھو کہ اللہ غالب ہے حکمتوں والا۔“ یعنی عظیم قوتوں والا ہے، جس سے اس نے مخلوقات کو مسخر کر رکھا ہے۔ کوئی مخلوق اس کے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ سب کی سب اس کی عظمت کے آگے سرنگوں اور اس کے جلال کے سامنے جھکی ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ا س کے افعال اس کی حکمت کے تابع ہیں۔ وہ کوئی کام بے مقصد نہیں کرتا۔ البقرة
261 اس آیت میں اللہ کے اس ارشاد کی تشریح ہوتی ہے ﴿مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ﴾ (البقرہ:2؍ 245) ” کون شخص ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے تو اللہ اس کے قرض کو اس کے لئے کئی گنا بڑھا دے گا یہاں فرمایا ﴿مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ﴾” مثال ان لوگوں کی جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔“ یعنی اس کی اطاعت میں اور اس کی خوشنودی کے کاموں میں۔ ان میں سب سے اہم جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنا ہے۔ ﴿كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ﴾” مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں، اور ہر بالی میں سودانے ہوں۔“ اس مثال کے ذریعے عمل کے ثواب میں اضافے کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ اضافہ بندہ دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور ثواب میں اضافے کو اپنی بصیرت سے دیکھتا ہے۔ اس طرح آنکھوں دیکھی چیز کی وجہ سے ایمان کے ذریعے دیکھی ہوئی چیز پر یقین بڑھتا ہے۔ لہٰذا دل حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پوری آمادگی کے ساتھ خرچ کرتا ہے۔ کیونکہ اسے اس قدر اضافے اور اس اللہ کے عظیم احسان کی امید ہوتی ہے۔ ﴿وَاللَّـهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ﴾” اور اللہ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے۔“ یعنی خرچ کرنے والے کے حال اور اس کے خلوص کے مطابق، یا خرچ کی کیفیت، منافع اور برمحل ہونے کی مناسبت سے ثواب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ﴿وَاللَّـهُ يُضَاعِفُ﴾” اور اللہ بڑھا چڑھا کر دے۔“ اس سے بھی زیادہ﴿ لِمَن يَشَاءُ﴾” جسے چاہے“ یعنی بے حساب اجر و ثواب عنایت فرمائے۔﴿وَاللَّـهُ وَاسِعٌ﴾” اور اللہ کشادگی والا ہے۔“ اس کا فضل وسیع ہے، اس کی عطا بے حساب ہے جس میں کسی قسم کی کمی نہیں آتی۔ لہٰذا خرچ کرنے والے کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ شاید کئی گنا بڑھا کردینے کا ذکر مبالغے کے طور پر کیا گیا ہے۔ اللہ کے لئے تو کوئی انعام بھی مشکل نہیں۔ بے شمار عطا کے باوجود اسے کمی نہیں آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ﴿عَلِيمٌ ﴾ وہ علیم بھی ہے اسے خوب معلوم ہے کہ کون اس دگنے چوگنے ثواب کا مستحق ہے اور کون نہیں۔ لہٰذا وہ اضافہ وہیں کرتا ہے جہاں اس کا صحیح مقام ہو، کیونکہ اس کا علم بھی کامل ہے اور حکمت بھی۔ البقرة
262 جو لوگ اپنے مال اللہ کی فرماں برداری کے کاموں میں اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایسے کام نہیں کرتے جن سے عمل میں نقص واقع ہوجائے یا عمل ضائع ہوجائے۔ یعنی جس کو دیا ہے اس پر زبان سے یا دل سے احسان نہیں دھرتے مثلاً اپنے احسانات گن گن کر بتانا اور اس کے بدلے ان سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا، نہ زبانی نہ عملی طور پر ایذا دیتے ہیں، تو ان کو وہ ثواب ملے گا جو ان کے شایان شان ہوگا۔ انہیں کوئی خوف یا غم بھی لاحق نہیں ہوگا۔ لہٰذا انہیں ہر خیر حاصل ہوجائے گی اور ہر برائی ان سے دور ہوجائے گی۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کے لئے ایسی نیکی کی تھی، جو ضائع کرنے والے اسباب سے پاک تھی۔ البقرة
263 ﴿ قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ﴾” اچھی بات“۔ جس کو دل پہچانتے ہیں اور اسے ناپسند نہیں کرتے۔ اس میں ہر اچھی بات شامل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے دل کی خوشی کا باعث بننا کار ثواب ہے۔ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ سائل کو جواب دینا ہو تو اچھے الفاظ سے جواب دیا جائے اور اسے دعا دی جائے۔﴿ وَمَغْفِرَةٌ﴾” اور برائی کرنے والے کو معاف کردینا۔“ یعنی اسے مواخذہ نہ کرنا۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر سائل کوئی نامناسب حرکت کرے تو اسے معاف کردیا جائے۔ یہ دونوں احسان ایسے ہیں، جن کے ساتھ ان کو تباہ کرنے والی کوئی غلطی موجود نہیں۔ لہٰذا یہ اس صدقے کے احسان سے بہتر ہیں، جن کے ساتھ احسان جتلانے کی یا کسی اور انداز سے تکلیف پہچانے کی خرابی موجود ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جس صدقہ کے ساتھ تکلیف پہنچانے کی خرابی موجود نہ ہو، وہ صدقہ نرم بات کہنے اور معاف کرنے سے افضل ہے۔ صدقہ کر کے احسان جتلانا حرام ہے جس سے عمل ضائع ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اصل احسان اللہ ہی کا ہے۔ لہٰذا بندے کے لئے مناسب نہیں کہ کسی کو ایسا احسان جتلائے جو اس کی طرف سے نہیں ہوا (بلکہ اصل میں اللہ کی طرف سے ہوا ہے) علاوہ ازیں احسان جتلانا غلام بنانے کے مترادف ہے اور عبودیت اور جھکنا صرف اللہ کے لئے روا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ غنی ہے۔ جو تمام مخلوقات سے مستغنی ہے اور تمام مخلوقات تمام حالات اور تمام اقوات میں اس کی محتاج ہیں، لہٰذا تمہارا صدقہ، تمہارا خرچ کرنا اور تمہاری نیکیاں ان سب کا فائدہ خود تم ہی کو حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاللَّـهُ غَنِيٌّ﴾” اور اللہ بے نیاز ہے،اسے ان کی ضرورت نہیں، اسے ان کی ضرورت نہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ ﴿حَلِيمٌ ﴾ ” بردبار ہے“ جو اس کی نافرمانی کرے اسے فوراً سزا نہیں دیتا، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا ہے۔ لیکن اس کی رحمت، احسان اور برد باری اسے گناہگاروں کو فوری سزا دینے سے مانع ہوجاتی ہے۔ بلکہ وہ انہیں مہلت دیتا ہے، انہیں مختلف انداز سے اپنی آیات سناتا اور دکھاتا ہے، تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں، البتہ جب یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ ان لوگوں میں خیر کی کوئی رمق نہیں رہی اور انہیں آیات سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ پھر ان پر عذاب نازل فرما دیتا ہے اور اپنے عظیم ثواب سے محروم فرما دیتا ہے۔ البقرة
264 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و شفقت فرماتے ہوئے انہیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر اپنے صدقے ضائع کر بیٹھیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ احسان جلانے اور تنگ کرنے سے صدقہ کالعدم ہوجاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گناہوں کے ارتکاب کے نتیجے میں نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ جیسے ارشاد ربانی ہے ﴿وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ﴾ (الحجرات :49؍ 2) ” نبی سے اونچی آواز سے بات نہ کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔“ چنانچہ جس طرح نیکیوں کی وجہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح گناہ بھی اپنے مقابلے میں آنے والی نیکیوں کو ضائع کرسکتے ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے: ﴿وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ ﴾ (محمد :47؍ 33) ” اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔“ ان دونوں آیات میں عمل کو مکمل کرنے اور اسے خراب کرنے والی اشیاء سے محفوظ رکھنے کی ترغیب ہے تاکہ عمل بے کار نہ ہوجائے۔ پھر فرمایا ﴿كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ﴾ ”جس طرح وہ شخص جو اپنامال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے۔ نہ اللہ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر۔‘،یعنی اگر تم نے شروع میں اللہ کی رضا کی نیت رکھ کر بھی عمل کیا ہو تو احسان جتلانے سے وہ تباہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ تمہارا یہ عمل اس شخص کے عمل کی طرح ہوجائے گا جو صرف دکھاوے کے لئے نیکی کرتا ہے۔ اس کا مقصد اللہ کی رضا اور جنت کا حصول نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا عمل سرے سے ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ عمل مقبول کی شرط یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے لئے ہو۔ اس شخص نے اصل میں عمل کیا ہی لوگوں کے لئے ہے، اللہ کے لئے کیا ہی نہیں۔ لہٰذا اس کا عمل کالعدم ہوگا اور اس کی محنت بے کار جائے گی۔ اس کے حال کے مطابق تو اس کی مثال ﴿كَمَثَلِ صَفْوَانٍ﴾” ملائم اور سخت پتھر کی سی ہے۔‘‘﴿عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ﴾” جس پر کچھ مٹی پڑی ہے۔ پھر اس پر زور دار مینہ برسا“ ﴿فَتَرَكَهُ صَلْدًا ﴾ ” یعنی اسے اس طرح کا کر کے چھوڑا کہ اس پر وہ مٹی بالکل باقی نہیں رہی۔ دکھاوا کرنے والے کی بھی یہی مثال ہے۔ اس کا سخت دل صاف اور سخت پتھر کے مشابہ ہے۔ اس کا صدقہ وغیرہ اس پتھر پر پڑی ہوئی مٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو شخص اس پتھر کی حقیقت سے واقف نہیں، وہ خیال کرے گا کہ یہ قابل کاشت اور زرخیز زمین ہے۔ جب حقیقت ظاہر ہوگئی تو گویا وہ مٹی ہٹ گئی اور معلوم ہوگیا کہ اس کا عمل ایک سراب کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کا دل تو اس قابل تھا ہی نہیں کہ اس میں (نیکی کی) کھیتی اگ سکے اور بڑھ پھول سکے۔ اس کی ریاکاری اور بدنیتی اسے کسی نیکی سے مستفید ہونے کے قابل نہیں چھوڑتی۔ اس لئے فرمایا ﴿ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ﴾” یعنی وہ اپنے کمائے ہوئے اعمال میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے، کیونکہ انہوں نے ان اعمال کو غلط جگہ پر رکھا اور اپنے جیسی مخلوق کے لئے انجام دیا جس کے ہاتھ میں نہ نفع ہے نہ نقصان۔ جس رب کی عبادت سے فائدہ ہوسکتا ہے اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا، تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ہدایت سے پھیر دیا۔ اس لئے فرمایا: ﴿وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴾” اللہ کافروں کی قوم کو راہ نہیں دکھاتا۔ “ البقرة
265 یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو اپنے مال اس انداز سے خرچ کرتے ہیں کہ ان کے صدقات قبول ہوتے اور بڑھتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا﴿ وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّـهِ﴾” ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ کی رضامندی کی طلب میں خرچ کرتے ہیں۔“ یعنی ان کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ﴿وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ ﴾” دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ“ یعنی جب وہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں سخاوت اور خوشی کی کیفیت ہوتی ہے۔ تردد کے ساتھ بادل نخواستہ خرچ نہیں کرتے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے نیک عمل پر دو طرح کی آفتیں آتی ہیں یا تو انسان کا یہ ارادہ ہوتا ہے کہ لوگ تعریف کریں۔ یہ ریا کی بیماری ہے یا کمزور نیت کے ساتھ ہچکچاتا ہوا خرچ کرتا ہے۔ سچے مومن ان دونوں آفتوں سے بچ کر صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ ان کے سامنے کوئی اور مقصد نہیں ہوتا۔ ان کے خرچ کی مثال ایسے ہے ﴿كَمَثَلِ جَنَّةٍ﴾ ” جیسے ایک باغ“ جس میں درخت بے شمار ہیں اور سایہ گھنا ہے۔ (جَنَّۃ) کا لفظ ( اِجْتِنَانِ) سے ماخوذ ہے یعنی چھپالینا۔ لہٰذا جنت سے مراد ایسا باغ ہے جس کے درخت زمین کو چھپالیتے ہیں اس تک دھوپ نہیں پہنچنے دیتے۔ اور یہ باغ ﴿بِرَبْوَۃٍ﴾ ” او نچی زمین پر“ ہے۔ جس کو صبح، دوپہر اور شام سورج کی پوری روشنی حاصل ہوتی ہے۔ ایسے باغ کے پھل زیادہ اور بہتر ہوتے ہیں۔ یہ ایسی جگہ نہیں جہاں نہ ہوا لگے نہ دھوپ۔ اونچی زمین پر موجود اس باغ پر ﴿ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ ﴾” زور دار بارش برسے تو وہ اپنا پھل دگنا لائے۔“ زمین نم دار ہونے کی وجہ سے اور دوسرے معاون اسباب کی وجہ سے اور بکثرت پانی کی موجودگی کی وجہ سے اس باغ سے دگنا پھل حاصل ہوا۔﴿ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ﴾ اور اگر اس پر بارش نہ برسے تو پھوار ہی کافی ہے۔“ یعنی عمدہ زمین کی وجہ سے معمولی بارش بھی کافی ہے۔ یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا حال ہے۔ کوئی زیادہ خرچ کرے یا کم، ہر ایک کو اپنے حالات کے مطابق فائدہ حاصل ہوتا ہے اور ہر ایک کے ثواب میں پوری طرح اضافہ ہوتا ہے۔ اس کو بڑھانے والا وہ ہے جو تجھ پر تجھ سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ جہاں تجھے اپنے فائدے کا خیال نہیں رہتا، اسے وہاں بھی تیرا فائدہ مقصو دہوتا ہے۔ اگر اس دنیا میں اس طرح کا کوئی باغ ہوتا، تو لوگ اس کے حصول کے لئے پوری کوشش کرتے، بلکہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے اور جنگ وجدل تک نوبت پہنچ جاتی۔ حالانکہ یہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور یہاں بے شمار آفات و مصائب ہیں اور یہ ثواب جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، مومن اسے بصیرت ایمانی کے نور سے گویا سامنے دیکھتا ہے، وہ جہاں دائمی ہے اس کی تمام خوشیاں اور نعمتیں دائمی ہیں۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ ان کی ہمت بیدار نہیں ہوتی، اس کے لئے جدوجہد کا کوئی داعیہ پیدا نہیں ہوتا۔ کیا اس کی وجہ آخرت سے بے رغبتی ہے یا اللہ کے وعدے پر یقین کمزور ہے؟ ورنہ اگر بندے کو واقعی کما حقہ یقین ہوتا اور دل میں ایمان سرایت کرچکا ہوتا، تو دل اس کے لئے جذبے اور ولولے سے معمور ہوجاتے، اور ثواب کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا آسان ہوجاتا۔ اس لئے اللہ نے فرمایا : ﴿وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾ ” اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔“ وہ ہر شخص کے عمل سے بھی باخبر ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اس عمل کا باعث کیا ہے۔ لہٰذا وہ اس کے مطابق مکمل جزا دے گا۔ البقرة
266 یہ مثال اس شخص کی ہے جو صدقہ وغیرہ نیکی کا کام اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہے، پھر کوئی ایسا کام کردیتا ہے جس سے وہ نیکی تباہ ہوجائے۔ اس کی مثال ایک باغ کے مالک کی سی ہے جس کے باغ میں ہر قسم کے پھل ہیں۔ ان میں سے کھجور اور انگور کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے کیونکہ یہ دوسروں سے افضل ہیں اور ان کے فوائد بھی زیادہ ہیں۔ ان کا استعمال خوراک کے طور پر بھی ہوتا ہے اور میوہ کے طور پر (لطف اندوزی کے لئے) بھی ہے۔ اس باغ میں نہریں بھی چل رہی ہیں، جن کی وجہ سے آب پاشی میں کوئی مشقت نہیں ہوتی۔ اس کا مالک اس پر خوش ہے، لوگ رشک کرتے ہیں۔ یہ آدمی بوڑھا ہوگیا، کام کاج کے قابل نہیں رہا۔ اس لئے اب اسے باغ ہی سے امید ہے۔ اس کی اولاد کمزور ہے، جو کام کاج میں اس کی مدد نہیں کرسکتی۔ بلکہ اس کے لئے بوجھ ہے۔ اس کا اپنا خرچ بھی باغ سے چلتا ہے اور بچوں کا بھی۔ ان حالات میں باغ پر آندھی آگئی۔ (اِعْصَار) اس تیز ہوا کو کہتے ہیں جو گول گھومتی ہے اور اوپر کو بلند ہوتی ہے۔ اس بگولے میں آگ تھی جس سے باغ جل گیا۔ اس حادثے سے جو رنج و غم حاصل ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اگر غم سے مرا جاسکتا تو یہ آدمی ضرور مر جاتا۔ اس طرح جو شخص اللہ کی رضا کے لئے عمل کرتا ہے تو اس کے عمل کھیتی اور پھلوں کے بیج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے اعمال کے نتیجے میں اسے وہ باغ مل جاتا ہے جو بے انتہا دلکش ہے۔ نیکیوں کو ضائع کرنے والے اعمال اس بگولے کی طرح ہیں، جس میں آگ ہے۔ بندہ اپنے اعمال کا انتہائی ضرورت مند اس وقت ہوتا ہے جب وہ فوت ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ مزید کوئی عمل نہیں کرسکتا اور جس عمل سے فائدے کی امید کی جاسکتی ہے وہ گرد و غبار کی طرح بے حقیقت ہوچکا ہوتا ہے۔ اگر انسان اس صورتحال کو سمجھ لے اور اس کا تصور کرے تو اگر اسے تھوڑی سی عقل حاصل ہے تو ایسا کام ہرگز نہ کرے گا، جس میں اس کا اس قدر نقصان ہے اور جس کا انجام حسرت و افسوس ہے، لیکن ایمان و عقل کی کمزوری کی وجہ سے اور بصیرت کی کمی کی وجہ سے انسان اس حال کو پہنچ جاتا ہے کہ اگر ایسی حرکت کسی مجنوں سے بھی سر زد ہو تو وہ عظیم اور انتہائی خطرناک ہو۔ اس لئے اللہ نے غور و فکر کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ﴿كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ﴾ ” اسی طرح اللہ تمہارے لئے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔ “ البقرة
267 اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے انہیں جس کمائی کی توفیق دی ہے اور ان کے لئے زمین سے جو کچھ نکالا ہے، اس میں سے کچھ پاکیزہ اموال خرچ کریں۔ جس طرح اس نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس کا حصول تمہارے لئے آسان فرما دیا، اسی طرح اس کا شکر ادا کرنے کے لئے، اپنے بھائیوں کے کچھ حقوق ادا کرنے کے لئے اور اپنے مالوں کو پاک کرنے کے لئے اس میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ خرچ کرنے کے لئے وہ عمدہ چیز منتخب کرو، جو تمہیں اپنے لئے پسند ہے۔ ایسی نکمی چیز دینے کا قصد نہ کرو، جو خود تمہیں پسند نہیں اور جسے تم خود دوسروں سے وصول کرنا پسند نہیں کرتے۔ ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ﴾ ” اور جان لو کہ اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے۔“ وہ تم سے بے نیاز ہے۔ تمہارے صدقات اور دوسرے اعمال کا فائدہ خود تمہی کو حاصل ہوگا۔ وہ اس بات پر تعریف کے قابل ہے کہ اس نے تمہیں اچھے اعمال کے کرنے کا اور اچھی خوبیاں اپنانے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا تمہارا فرض ہے کہ اس کے احکام کی تعمیل کرو، کیونکہ ان سے دلوں کو روحانی غذا ملتی ہے۔ دل زندہ ہوتے ہیں اور روح کو نعمت حاصل ہوتی ہے اپنے دشمن یعنی شیطان کی پیروی ہرگز نہ کرنا، جو تمہیں بخل کا حکم دیتا ہے اور تم کو ڈراتا ہے کہ خرچ کرنے سے مفلس ہوجاؤ گے۔ وہ تمہاری خیر خواہی کے طور پر یہ مشورہ نہیں دیتا، بلکہ یہ اس کا بہت بڑا دھوکا ہے ﴿إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ ﴾ (فاطر :35؍ 6) ” وہ اپنی جماعت کو (گناہ کی طرف) بلاتا ہے، تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔“ بلکہ اپنے رب کا حکم مانو، جو تمہیں ایسے انداز سے خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے، جو تمہارے لئے آسان ہو، اور جس میں تمہارا کوئی نقصان نہ ہو۔ البقرة
268 اس کے ساتھ ساتھ ﴿يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ﴾ ” وہ تم سے وعدہ کرتا ہے اپنی بخشش کا“ یعنی تمہیں گناہوں سے پاک کرنے کا﴿وَفَضْلًا﴾” اور فضل کا“ جس سے دنیا اور آخرت میں تمہارا بھلا ہوگا۔ یعنی جو خرچ کرتے ہو، ویسا ہی جلد ہی (دنیا میں) تمہیں دے گا، دلوں کو خوشی اور سکون اور قبر میں راحت حاصل ہوگی۔ قیامت کے دن اس کا پورا پورا ثواب بھی ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتنا زیادہ اجر و ثواب اور انعام دینا مشکل نہیں۔ کیونکہ وہ ﴿وَاسِعٌ﴾” وسعت والا“ یعنی وسیع فضل اور عظیم احسان کرنے والا ہے اور تمہارے کئے ہوئے خرچ کو ﴿عَلِيمٌ﴾” جاننے والا ہے“ خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، خفیہ ہو یا ظاہر، لہٰذا اپنے فضل و احسان سے اس کا بدلہ دے گا۔ اب بندے کو خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے کہ اسے اللہ کی بات ماننی ہے یا شیطان کی؟ ان دو آیات میں بہت سے اہم مسائل مذکور ہیں : (١) اللہ کی راہ میں خرچ کی ترغیب (٢) وضاحت کہ خرچ کرنا کیوں ضروری ہے (٣) سونے چاندی اور سامان تجارت میں زکوٰۃ کا حکم کیونکہ یہ ﴿مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ﴾ میں شامل ہیں۔ (٤) غلہ، پھل اور معدنیات میں زکوٰۃ واجب ہے۔ (٥) زکوٰۃ اس پر واجب ہے جو غلہ اور پھل کا مالک ہے۔ زمین کے مالک پر واجب نہیں کیونکہ ارشاد ہے ﴿ أَخْرَجْنَا لَكُم ﴾لہٰذا زمین جس کے لئے یہ اشیا اگاتی ہے، زکوٰۃ بھی اس پر واجب ہے۔ (٦) ان مالوں پر زکوٰۃ نہیں جو اپنی ذاتی ضروریات کے لئے رکھے گئے ہوں مثلاً قطعہ زمین اور برتن وغیرہ۔ اسی طرح اگر معلوم نہ ہو کہ فلاں نے میرا قرض ادا کرنا ہے، یا کسی نے مال پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، یا مال اور قرض ایسے شخص کے پاس ہے جس سے واپس لینے کی طاقت نہیں، تو ایسے اموال پر زکوٰۃ نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان مالوں سے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے جو بڑھتے ہیں یعنی زمین سے حاصل ہونے والی اشیا اور اموال تجارت اور جو مال اس مقصد کے لئے تیار نہیں رکھے گئے یا جن مالوں کو حاصل کرنا ممکن نہیں، ان میں یہ صوف نہیں پایا جاتا ہے۔ (٧) نکمی چیز دینا منع ہے، ایسی چیز دینے سے زکوٰۃ کا فرض ادا نہیں ہوگا۔ البقرة
269 چونکہ اللہ تعالیٰ نے بہت عظیم احکامات نازل فرمائے ہیں جن میں بہت سے اسرار اور بہت سی حکمتیں ہیں اور ان پر عمل کی توفیق ہر کسی کو نہیں ملتی بلکہ صرف اسی کو ملتی ہے جس پر اللہ کا خاص احسان ہو اور اسے اللہ حکمت عطا فرما دے۔ حکمت سے مراد علم نافع، عمل صالح اور شریعت کے اسرار اور حکمتوں سے واقفیت ہے۔ جسے اللہ ایسی حکمت دے دے اسے اللہ نے بہت بھلائی عطا فرما دی۔ اس بھلائی سے عظیم تر بھلائی کون سی ہوسکتی ہے جس میں دنیا اور آخرت کی خوش نصیبی پنہاں ہو، اور جس کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی بدنصیبی سے نجات مل جائے؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نعمت خاص خاص لوگوں کو ملتی ہے اور یہ انبیاء کا ترکہ ہے۔ پس بندے کو کمال صرف حکمت سے حاصل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ کمال نام ہے علمی اور عملی قوت کے کامل ہونے کا۔ علمی قوت تو حق کی معرفت سے اور اس کے مقصود کی معرفت سے کامل ہوتی ہے اور عملی قوت نیکی کرنے اور برائی سے اجتناب کرنے سے مکمل ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بندہ صحیح قول اور صحیح عمل کا حامل ہوسکتا ہے اور اپنی ذات کے بارے میں نیز دوسروں کے بارے میں ہر حکم کو اس کے صحیح مقام پر رکھ سکتا ہے اور اپنی ذات کے بارے میں، نیز دوسروں کے بارے میں ہر حکم کو اس کے صحیح مقام پر رکھ سکتا ہے۔ اس کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی فطرت میں یہ رکھ دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں، بھلائی سے محبت رکھیں، حق کے طالب ہوں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے کہ لوگوں کو ان کی عقل و فطرت میں جڑیں رکھنے والی ان اشیاء کی یاد دہانی کرائیں اور جو تفصیلات لوگوں کو معلوم نہیں، وہ بیان فرمائیں۔ پھر لوگ دو قسموں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے انبیاء کی دعوت کو قبول کیا، تو انہیں اپنے فائدے کی باتیں یاد ہوگئیں، انہوں نے اس پر عمل کیا اور انہیں اپنے نقصان کی باتیں معلوم ہوگئیں، لہٰذا وہ ان سے بچ گئے۔ یہ لوگ کامل عقل و فہم کے حامل ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے انبیاء کی دعوت قبول نہیں کی، بلکہ ان کی فطرت میں جو خرابی پیدا ہوگئی تھی اسی کے مطابق عمل کیا، رب کا حکم نہیں مانا۔ یہ لوگ عقل والے نہیں۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا ﴿وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ ” نصیحت صرف عقل مند ہی حاصل کرتے ہیں۔ “ البقرة
270 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس خرچ کا اللہ نے حکم دیا ہے وہ واجب ہو یا مستحب، کم ہو یا زیادہ، ہر خرچ کا ثواب ملتا ہے۔ نذر اسے کہتے ہیں جسے کوئی مکلف انسان خود اپنے ذمے لے لے اور اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے کیونکہ اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ عمل خلوص سے کیا گیا ہے یا کسی اور نیت سے۔ اگر صرف اللہ کی رضا کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہے تو اللہ اس کی جزا کے طور پر عظیم فضل اور کثیر ثواب عطا فرماتا ہے۔ اگر بندہ واجب اخراجات نہ کرے، یا مانی ہوئی نذر پوری نہ کرے۔ یا یہ عمل مخلوق کی خوشنودی کے لئے کرے تو وہ ظالم بن جاتا ہے کیونکہ اس نے ایک چیز کو غلط مقام پر رکھ دیا ہے۔ لہٰذا وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔ جس سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا اس لئے فرمایا﴿ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ﴾” اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ “ البقرة
271 ﴿إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ﴾” اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو۔“ یعنی علانیہ خیرات کرو، جبکہ اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو﴿ فَنِعِمَّا هِيَ﴾” تو وہ بھی اچھا ہے۔“ کیونکہ اس سے مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔ ﴿وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ﴾” اور اگر تم اسے پوشیدہ مسکینوں کو دے دو، تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔“ اس میں یہ نکتہ ہے کہ غریب آدمی کو پوشیدہ طور پر صدقہ دینا، ظاہر کر کے دینے سے افضل ہے لیکن جب غریبوں کو صدقات نہ دیے جا رہے ہوں تو اس آیت میں اشارہ ہے کہ اس صورت میں پوشیدہ طور پر صدقہ کرنا ظاہر کرنے سے افضل نہیں۔ یعنی اس کا دار و مدار مصلحت اور فائدے پر ہے۔ اگر اس کے ظاہر کرنے سے ایک دینی حکم کی اشاعت ہوتی ہو اور امید ہو کہ دوسرے لوگ بھی یہ نیک کام کرنے لگیں گے، تو چھپانے کی نسبت ظاہر کر کے دینا افضل ہوگا۔﴿ وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ﴾” اور اسے مسکینوں کو دے دو۔“ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ دینے والے کو چاہئے کہ ضرورت مندوں کو تلاش کر کے صدقہ دے۔ زیادہ ضرورت مند کی موجودگی میں کم ضرورت مند کو نہ دے اور اللہ کے اس فرمان میں کہ صدقہ دینا صدقہ دینے والے کے لئے بہتر ہے، یہ اشارہ ہے کہ اسے ثواب حاصل ہوگا اور ﴿وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ﴾ میں بتایا ہے کہ سزا ختم ہوجائے گی اور عذاب سے نجات مل جائے گی۔ ﴿وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴾” اور اللہ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھنے والا ہے“ یعنی وہ اچھے ہوں یا برے، کم ہوں یا زیادہ، یہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی جزا و سزا ملے گی۔ البقرة
272 اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ مخلوق کو ہدایت پر چلا دینا آپ کی ذمہ داری نہیں۔ آپ کا فرض صرف یہ ہے کہ حق کو واضح طور پر ان تک پہنچا دیں۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آیت میں اس پر امر پر بھی دلالت ہے کہ مال کا یہ خرچ کرنا عام ہے جیسے مسلم پر خرچ کرنا واجب ہے اسی طرح کافر ( اہل ذمہ وغیرہ) پر بھی خرچ کیا جائے گا اگرچہ اس نے ہدایت قبول نہ کی ہو۔ اس لئے فرمایا ﴿ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ﴾ تم جو کچھ خرچ کرو گے۔“ کم ہو یا زیادہ اور چاہے یہ مال تم مسلمان پر خرچ کرو یا کافر پر﴿ فَلِأَنفُسِكُمْ﴾” اس کا فائدہ خود پاؤ گے‘،﴿ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّـهِ ۚ ﴾” اور تم صرف اللہ کی رضا مندی کی طلب کے لئے خرچ کرتے ہو۔“ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ مومنوں کے خرچ کی بنیاد ایمان ہوتی ہے اور وہ صرف اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا ایمان انہیں فضول مقاصد کے لئے کام کرنے سے منع کرتا ہے اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔ ﴿وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ﴾ ” تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا۔“ یعنی قیامت کے دن تم پورا اجر و ثواب حاصل کرو گے۔﴿وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ﴾ اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ البقرة
273 تمہارے نیک عملوں میں ذرہ برابر کمی نہیں کی جائے گی، اور تمہارے گناہوں میں بلاوجہ اضافہ نہیں کیا جائے گا اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہ بیان کرتا ہے کہ کون لوگ زیادہ مستحق ہیں کہ ان پر خرچ کیا جائے۔ چنانچہ ان کی چھ صفات بیان فرمائی ہیں۔ (١) فقر اور تنگ دستی (٢) ﴿أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ﴾یعنی جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کاموں، جہاد وغیرہ کے لئے وقف ہوچکے ہیں، وہ اس کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں (٣) رزق کی تلاش کے لئے سفر کے قابل نہ ہوں۔ جیسے فرمایا ﴿ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ﴾یعنی روزی کمانے کے لئے زمین میں سفر نہیں کرسکتے۔ (٤)﴿ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ﴾” نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مال دار خیال کرتے ہیں۔“ اس سے ان کا مخلصانہ صبر اور سوال سے بچنے کی صفت کا بیان ہے۔ (٥) اللہ نے فرمایا: ﴿تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ﴾ ” آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے پہچان لیں گے۔“ یعنی اس علامت کے ذریعے سے پہچان لیں گے جو اللہ نے ان کے وصف کے طور پر ذکر کی ہے اور یہ ارشاد ﴿يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ﴾ نادانوں کے انہیں مال دار خیال کرنے کے منافی نہیں۔ کیونکہ جو ان کے حالات سے واقف نہیں۔ اس میں اتنی سمجھ نہیں کہ دیکھ کر ان کے حالات سمجھ لے۔ سمجھ دار آدمی تو انہیں دیکھتے ہی ان کی علامت کی وجہ سے پہچان لیتا ہے۔ (٦)﴿ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا﴾یعنی لوگوں سے اصرار کے ساتھ نہیں مانگتے۔ بلکہ اگر حالات انہیں سوال کرنے پر مجبور کردیں تب بھی ان کے سوال میں اصرار اور چمٹ جانے کی کیفیت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اپنی ان صفات کی وجہ سے صدقات دیے جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔ دوسروں پر خرچ کرنا فی نفسہ ایک نیکی اور احسان ہے۔ خواہ کسی شخص پر خرچ کیا جائے۔ آدمی کو اس کا اجر و ثواب ملے گا۔ اس لئے فرمایا ﴿وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّـهَ بِهِ عَلِيمٌ ﴾” تم جو کچھ مال خرچ کرو، اللہ اس کا جاننے والا ہے۔“ اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو ہر حال میں ہر وقت صدقہ کرتے ہیں۔ البقرة
274 چنانچہ فرمایا ﴿الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ﴾” جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں“ یعنی اس کی اطاعت میں، اور اس کی خوشنودی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، حرام اور مکروہ کاموں میں یا اپنے دل کی خواہش پوری کرنے کے لئے خرچ نہیں کرتے ﴿بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ ﴾” رات دن، چھپے کھلے (خرچ کرتے ہیں) ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔“ یعنی رحمتوں والے مالک کے پاس عظیم اجر ہے۔ ﴿ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ﴾” انہیں نہ خوف ہوگا“ جب کوتاہی کرنے والے خوف میں مبتلا ہوں گے ﴿وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ ” اور نہ غم“ جب جائز حد سے آگے بڑھنے والے غم میں مبتلا ہوں گے تو یہ اپنا اصل مقصود اور مطلوب حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور ہر قسم کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کے بندوں پر مختلف انداز سے خرچ کر کے احسان کرنے والوں کا ذکر مکمل کرلیا تو اس کے بعد ان ظالموں کا ذکر فرمایا جو اللہ کے بندوں پر انتہائی برا ظلم کرتے ہیں۔ البقرة
275 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بدبیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے ﴿إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ﴾ تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انہیں شیطان نے پاگل بنا دیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انہیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔﴿ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ﴾” انہوں نے کہا تھا : تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔“ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو، یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کا بدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔ آیت مبارکہ کے اس حصے کی تشریح اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ چونکہ سود کی کمائی کے حصول میں ان کی عقلیں سلب ہوگئیں، اس لئے وہ احمق بن گئے اور ان کی حرکات پاگلوں کے مشابہ ہوگئیں۔ جو بے سروپا ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے اور عظیم حکمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ ﴾” اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا“ کیونکہ اس میں سب کا فائدہ ہے، سب کو اس کی ضرورت ہے اور اسے حرام قرار دینے میں نقصان ہے اور حصول رزق سے تعلق رکھنے والوں کاموں میں یہ ایک عظیم اصل ہے۔ اس سے صرف وہی تصرفات مستثنیٰ ہوں گے جن سے صاف طور پر منع کردیا گیا ہے۔ ﴿وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾” اور سود کو حرام کیا۔“ کیونکہ یہ ظلم پر مبنی ہے اور اس کا انجام برا ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں : (١) ربانسیئہ مثلاً سودی چیز کا اس کی علت میں شریک چیز کے عوض ادھار تبادلہ۔ اور اس کی صورت یہ بھی ہے کہ واجب الادا رقم کو راس المال کا نام دے کر بیع سلم کرلی جائے (٢) ربا الفضل : کسی ایسی چیز کو جس میں سود ہوسکتا ہے، اس کی ہم جنس چیز کے عوض اضافے کے ساتھ بیچنا، دونوں کی حرمت پر قرآن و حدیث کے دلائل موجود ہیں اور ربانسیئہ کی حرمت پر اجماع بھی ہے۔ جس نے ربا الفضل کو جائز قرار دیا ہے اس کا قول شاذ ہے جو بکثرت نصوص کے خلاف ہے بلکہ سود تباہ کن کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ ﴿فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ﴾ ” جس شخص کے پاس اللہ کی نصیحت آئی۔“ یعنی اللہ نے کسی کو توفیق دی کہ اسے نصیحت کرے، جو اس کے لئے رحمت کا باعث ہے اور اس کی وجہ سے اس پر حجت قائم ہوگئی۔﴿ فَانتَهَىٰ ﴾پس اس کے ڈرانے سے وہ سود لینے سے باز آگیا۔ اس گناہ سے رک گیا تو﴿ فَلَهُ مَا سَلَفَ﴾” اس کے لئے ہے جو گزرا۔“ یعنی یہ نصیحت کی بات پہنچنے سے پہلے اس نے جو غلط لین دین کیا وہ معاف ہوجائے گا۔ یہ نصیحت قبول کرنے کی جزا ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ جو باز نہیں آئے گا، اسے پہلے اور پچھلے دونوں گناہوں کی سزا ملے گی۔ ﴿وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّـهِ﴾” اور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے۔“ یعنی اسے سزا دینا اور مستقبل میں اس کے عمل دیکھنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ﴿وَ مَنْ عَادَ﴾ ” اور جس نے پھر بھی کیا“ دوبارہ سود لیا، نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ سود خوری پر اصرار کیا ﴿ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ ” تو وہ جہنمی ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ “ البقرة
276 شرک کے علاوہ جن گناہوں کے بارے میں قرآن و حدیث میں دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی سزا مذکور ہے۔ ان کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ زیادہ بہتر قول یہ ہے کہ جن اعمال کا نتیجہ اللہ نے دائمی جہنم مقرر کیا ہے یہ اس کا سبب ہیں۔ لیکن سبب کے ساتھ اگر کوئی مانع نہ ہو تو نتیجہ ضرور ظاہر ہوا کرتا ہے۔ قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت ہے کہ توحید اور ایمان جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہیں۔ یعنی یہ عمل ایسا ہے کہ اگر بندہ توحید کا حامل نہ ہوتا تو یہی عمل اسے جہنم میں ہمیشہ رکھنے کا باعث بن سکتا تھا۔ اس کے بعد فرمایا﴿ يَمْحَقُ اللَّـهُ الرِّبَا ﴾” اللہ سود کو مٹاتا ہے۔“ یعنی اسے بھی اور اس کی برکت کو بھی ذاتی اور صفاتی طور پر ختم کرتا ہے۔ یہ آفات کا باعث بنتا ہے اور برکت چھن جانے کا سبب ہوتا ہے۔ اگر اس (حرام کمائی) سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اسے اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، بلکہ یہ اسے جہنم میں لے جائے گا۔﴿ وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ﴾ اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔“ یعنی جس مال سے صدقہ دیا جائے اس میں برکت نازل فرماتا ہے اور ثواب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جزا و سزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ سود خور لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور ان کے مال غیر شرعی طریقے سے لیتا ہے اس لئے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کا مال تباہ ہوجائے اور جو شخص لوگوں پر کسی بھی انداز سے احسان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ سخی ہے۔ جس طرح اس شخص نے اس کے بندوں پر احسان کیا ہے، اللہ بھی اس پر احسان کرتا ہے۔ ﴿وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ﴾ ” اور اللہ نہیں دوست رکھتا کسی ناشکرے کو۔“ جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے واجب کئے ہوئے صدقے اور زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، اور اللہ کے بندے اس کے شر سے محفوظ نہیں۔﴿ أَثِيمٍ﴾ ” اور گناہ گار کو“ یعنی اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے جو اسے سزا ملنے کا باعث ہے۔ البقرة
277 اللہ تعالیٰ نے جب سود خوروں کا ذکر فرمایا اور واضح ہے کہ اگر انہیں ایمان نافع حاصل ہوتا تو ان سے یہ جرم سر زد نہ ہوتا۔ تو اس کے بعد مومنوں کا ذکر فرمایا، ان کو ملنے والا ثواب بیان فرمایا اور انہیں ایمان والے کہہ کر مخاطب فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ سود لینا چھوڑ دیں اگر وہ مومن ہیں۔ ایسے لوگ ہی اللہ کی نصیحتیں قبول کرتے اور اس کے احکامات تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ نے انہیں تقویٰ کا حکم دیا ہے اور تقویٰ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ موجودہ لین دین کے سلسلے میں جو سود کسی کے ذمہ ہے اسے چھوڑ دیں، وصول نہ کریں۔ باقی رہا وہ سود جو پہلے لیا جا چکا ہے تو اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ جو شخص نصیحت قبول کر کے آئندہ سود لینے سے اجتناب کرے گا، اس کا سابقہ گناہ معاف ہوجائے گا اور جس نے اللہ کی نصیحت قبول نہ کی اور باز نہ آیا وہ اللہ کا مخالف اور اللہ سے جنگ کرنے والا ہے۔ بھلا ایک عاجز ضعیف بندہ اس رب کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ وہ ظالم کو مہلت تو دیتا ہے، اسے چھوڑتا نہیں۔ البقرة
278 البقرة
279 ﴿ وَإِن تُبْتُمْ﴾” ہاں اگر تم (سود سے) توبہ کرلو“﴿فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ﴾ ” تو تمہارے لئے تمہارا اصل مال ہے۔“ یعنی وہ وصول کرلو ﴿لَا تَظْلِمُونَ﴾” نہ تم ظلم کرو۔“ کہ اصل قرض سے زیادہ وصول کرو، جو سود ہے۔ ﴿ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾ ” اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔“ کہ تمہاری اصل رقم میں کمی کی جائے۔ البقرة
280 ﴿وَإِن كَانَ﴾ ” اور اگر کوئی“ مقروض﴿ ذُو عُسْرَةٍ﴾” تنگی والا ہو“ جسے قرض کی ادائیگی کے لئے مال میسر نہ ہو﴿ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ﴾” تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے۔“ یہ واجب ہے کہ ایسے مقروض کو اتنی مہلت دی جائے کہ اسے قرض واپس کرنے کے لئے مال مل جائے۔ ﴿ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾” اور صدقہ کرو (کہ سارا یا کچھ قرض معاف کر دو) تو تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے۔ اگر تمہیں علم ہو۔ “ البقرة
281  ﴿وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّـهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ﴾” اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ یہ آیت مبارکہ قرآن مجید کی ان آیات میں شامل ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئیں۔ اس پر ان احکام اور اوامرونواہی کو ختم کیا گیا کیونکہ اس میں نیکی پر جزا کا وعدہ ہے، برائی پر سزا کی وعید ہے اور یہ بیان ہے کہ جس شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے پاس جانے والا ہے، جو اسے ہر چھوٹے بڑے ظاہر اور پوشیدہ عمل کی جزا دے گا، اور وہ اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا، اس یقین کے نتیجے میں اس کے دل میں رغبت و رہبت (شوق اور خوف) کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جب تک دل میں یہ یقین جاگزیں نہ ہو، یہ چیز کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتی۔ البقرة
282 یہ آیت (آیت دَیْن) ” قرض کے مسائل والی آیت“ کے نام سے معروف ہے۔ یہ قرآن مجید کی سب سے طویل آیت ہے۔ اس میں بڑے عظیم مسائل بیان ہوئے ہیں جو بے شمار عظیم فوائد پر مشتمل ہیں۔ (1) اس سے قرض کی تمام صورتوں مثلاً سلم وغیرہ کا جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرض کا ذکر کیا ہے جو مومنوں میں رائج تھا، اس کے مسائل بیان کئے ہیں، جس سے ان کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ ( 2۔3) بیع سلم میں مدت ضروری ہے اور وہ مدت متعین ہونی چاہئے اس لئے نہ تو نقد بیع سلم درست ہے، نہ اس صورت میں جب کہ اس کی مدت مقرر نہ ہو۔ (4) تمام قرض وغیرہ کے معاملات لکھنا شرعاً مطلوب ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ واجب ہے یا مستحب۔ اس کی مشروعیت میں یہ حکمت ہے کہ لوگوں کو اس کی سخت ضرورت ہے اور نہ لکھنے کی صورت میں غلطی، بھول، اختلاف اور جھگڑا واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔ (5) کاتب کو حکم ہے کہ وہ لکھے۔ (6) کاتب کو عادل (قابل اعتماد) ہونا چاہئے۔ تاکہ اس کی تحریر پر اعتبار کیا جا سکے۔ فاسق کے نہ قول کا اعتبار ہے نہ لکھنے کا۔ (7) کاتب پر فرض ہے کہ فریقین کے درمیان انصاف سے کام لے۔ وہ رشتہ داری، دوستی وغیرہ کی وجہ سے کسی ایک فریق کی طرف مائل نہ ہو۔ (8) کاتب کا ایسی تحریریں لکھنے کے طریق کار سے، اور فریقین کے لئے جو کچھ واجب ہے اور جس چیز سے تحریر قابل اعتماد بنتی ہے ان سب امور سے باخبر ہونا ضروری ہے۔ ان مسائل کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے۔ ﴿وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ﴾” اور لکھنے والے کو چاہئے کہ تمہارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے۔“ (9) جب کوئی ایسی تحریر موجود ہو، جس کی کتابت معروف عادل (قابل اعتماد) آدمی کے ہاتھ کی ہو، تو اس پر عمل کیا جائے گا۔ اگرچہ لکھنے والا اور گواہ فوت ہوچکے ہوں۔ (10) اللہ نے فرمایا: ﴿ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ﴾ ” کاتب کو چاہئے کہ لکھنے سے انکار نہ کرے“ یعنی جس پر اللہ نے یہ احسان کیا ہے کہ اسے لکھنے کا علم عطا فرمایا ہے، اسے بھی اللہ کے ان بندوں پر احسان کرنا چاہئے جو اس سے لکھوانے کے محتاج ہیں۔ لہٰذا ان کو لکھ کردینے سے انکار نہ کرے۔ (11) کاتب کو حکم ہے کہ صرف وہی چیز لکھے، جس کو وہ شخص لکھوائے جس کے ذمہ حق ہے۔ (12) فریقین میں سے لکھوانے کا ذمہ داری اس کی ہے جس کے ذمہ قرض ہے۔ (13) اسے حکم ہے کہ پورا حق بیان کرے، اس میں کچھ نہ چھپائے۔ (14) انسان کا اپنے بارے میں اقرار شرعاً معتبر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مقروض کو حکم دیا ہے کہ وہ کاتب کو لکھوائے، جب وہ اس کے اقرار کے مطابق لکھے گا تو اس کا مضمون اور اس کے نتائج بھی معتبر ہوں گے۔ اگرچہ بعد میں غلطی لگ جانے کا یا بھول جانے کا دعویٰ کرے۔ (15) قول اس کا معتبر ہوگا جس کے ذمے کوئی حق ہے کہ بیع شدہ چیز کی مقدار، صفت، قلت، کثرت اور مقررہ مدت کیا ہے۔ جس کا حق ہے (قرض خواہ) اس کا قول معتبر نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا ہے کہ جتنا حق ہے، اس سے کم نہ لکھوائے، اس کی وجہ یہی ہے کہ مقدار اور وصف میں اس کا قول معتبر ہے۔ (16) جس کے ذمہ حق ہے اس پر حرام ہے کہ مقدار میں، عمدگی اور ظاہری اچھائی میں، یا مدت وغیرہ میں کمی کرے۔ (17) جو شخص کسی عذر مثلاً کم سنی، کم عقلی، گونگا ہونا وغیرہ کی وجہ سے خود نہ لکھوا سکے تو لکھوانے اور اقرار کا کام اس کا سرپرست اس کا نائب ہونے کی حیثیت سے کرے گا۔ (18) جو عدل اس پر واجب ہے جس کے ذمے حق ہے، وہی عدل اس کے سرپرست پر واجب ہے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ﴿بِالْعَدْلِ﴾ ” عدل کے ساتھ“ (19) سرپرست کا عادل ہونا شرط ہے۔ کیونکہ عدل کے ساتھ لکھوانا فاسق سے نہیں ہوسکتا۔ (20) مالی معاملات میں سرپرستی کا ثبوت۔ (21) حق بچے، کم عقل، مجنون اور کمزور کے ذمے واجب ہوتا ہے اس کے سرپرست کے ذمے نہیں ہوتا۔ (22) بچے، کم عقل، مجنون وغیرہ کا اقرار اور تصرف صحیح نہیں کیونکہ اللہ نے لکھوانے کی ذمہ داری ولی (سرپرست) پر ڈالی ہے۔ ان معذور افراد کے ذمہ نہیں۔ اس میں ان پر لطف و رحمت ہے اور ان کے مال کا ضائع ہونے سے بچاؤ ہے۔ (23) مذکورہ افراد کے مال میں ولی (سرپرست) کا تصرف (قانوناً) درست ہے۔ (24) انسان کے لئے ایسے معاملات کا جاننا مشروع ہے جس سے قرض کا لین دین کرنے والوں کا ایک دوسرے پر اعتماد رہتا ہے۔ لہٰذا اصل مقصود معاملے کا قابل اعتبار رکھنا اور انصاف ہے اور جس عمل کے بغیر مشروع کام پر عمل نہ کیا جا سکے، وہ عمل بھی مشروع ہوتا ہے۔ (25) کتابت سیکھنا فرض کفایہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرض وغیرہ کے معاملات لکھنے کا حکم دیا ہے اور یہ کام کتابت سیکھے بغیر نہیں ہوسکتا۔ (26) لین دین کے معاہدوں پر گواہ بنانا مشرع ہے اور یہ مشروعیت مندوب کے درجے میں ہے۔ کیونکہ اس حکم کا مقصد حقوق کی حفاظت کا طریقہ بتانا ہے اور اس میں آخر کار مکلف افراد ہی کا فائدہ ہے۔ ہاں اگر تصرف کرنے والا یتیم کا سرپرست ہو یا کسی وقف کا نگران ہو یا اسی قسم کا کوئی معاملہ ہو جس کی حفاظت واجب ہو۔ تب حق کو محفوظ رکھنے والی یہ گواہی واجب ہوجائے گی۔ (27) مالی معاملات میں گواہوں کی کم از کم مطلوب تعداد یہ کہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں اور حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک گواہ کی موجودگی میں مدعی کی ایک قسم سے بھی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ (28) بچوں کی گواہی معتبر نہیں۔ کیونکہ (رجل) ” مرد“ کے لفظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ (29) مال وغیرہ کے معاملات میں صرف عورتوں کی گواہی قبول نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مرد کے ساتھ ہی گواہ کے طور پر قبول کیا ہے۔ البتہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو عورتوں کو ایک مرد کے قائم مقام اس حکمت کی وجہ سے قرار دیا ہے جو آیت میں مذکور ہے اور یہ حکمت مرد کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں صورتوں میں موجود ہے۔ واللہ اعلم (30) بالغ غلام کی گواہی بھی بالغ آزاد لوگوں کی طرح مقبول ہے کیونکہ اللہ کے اس فرمان میں عموم ہے ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ﴾” اور اپنے مردوں میں سے دو مرد گواہ رکھ لو۔“ اور بالغ غلام ” ہمارے مردوں“ میں شامل ہے۔ (31) غیر مسلم مرد ہوں یا عورتیں، ان کی گواہی قبول نہیں۔ کیونکہ وہ ہم میں شامل نہیں۔ علاوہ ازیں گواہی کا دارو مدار ” عدل“ (نیک قابل اعتماد) ہونے پر ہے۔ اور غیر مسلم ” عدل‘،نہیں۔ (32) اس سے مرد کا عورت سے افضل ہونا ظاہر ہوتا ہے اور ایک مرد کو دو عورتوں کے مقابلے میں رکھا گیا ہے کیونکہ مرد کا حافظہ مضبوط ہوتا ہے، عورت کا کمزور۔ (33) جو شخص گواہی بھول جائے اور اسے یاد دلانے پر یاد آجائے، تو اس کی گواہی قبول ہے کیونکہ ارشاد ہے﴿ فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ ۚ ﴾” ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلا دے“ (34) اس سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ جب گواہ کو واجب حقوق سے تعلق رکھنے والی گواہی بھول جانے کا خطرہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ اسے لکھ لے۔ کیونکہ جس عمل کے بغیر واجب ادا نہ ہوسکے، وہ بھی واجب ہوتا ہے۔ (35) جب گواہ کو گواہی دینے کے لئے بلایا جائے تو اگر اسے کوئی عذر لاحق نہ ہو تو اسے گواہی دینا واجب ہے۔ اس سے انکار کرنا ناجائز ہے۔ کیونکہ ارشاد ہے: ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا ﴾” اور گواہوں کو چاہئے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں۔“ (36) جس شخص میں ایسی صفات موجود نہ ہوں جن کی بنیاد پر گواہی قبول کی جاتی ہے، تو اس پر گواہی کے لئے حاضر ہونا واجب نہیں، کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں اور وہ گواہوں میں شامل بھی نہیں۔ (37) قرض چھوٹے ہوں یا بڑے سب لکھنے چاہئیں۔ مدت اور شروط و قیود لکھنا بھی ضروری ہیں۔ ارشاد﴿ ذَٰلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللَّـهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَىٰ أَلَّا تَرْتَابُوا﴾” اللہ کے نزدیک یہ بات زیادہ انصاف والی ہے اور گواہی کو درست رکھنے والی اور شک و شبہ سے زیادہ بچانے والی ہے“ یعنی اس میں انصاف پایا جاتا ہے جس سے بندوں کے اور سب کے معاملات درست رہتے ہیں اور تحریری شہادت زیادہ پختہ، زیادہ کامل، شک و شبہ سے زیادہ دور رکھنے والی اور جھگڑے سے بچانے والی ہے۔ (39) اس سے یہ بھی مسئلہ نکلتا ہے کہ جسے گواہی میں شک ہوجائے، اسے گواہی دینے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اس کے لئے یقین ضروری ہے۔ (40) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ﴾ اگر تجارت دست بدست اور نقد ہو تو نہ لکھنے کی اجازت ہے۔ کیونکہ اس میں تحریر کی ضرورت اتنی شدید نہیں۔ (41) نقد لین دین میں تحریر نہ کرنا تو جائز ہے۔ تاہم اس میں گواہ بنانا مشروع ہے کیونکہ فرمایا﴿ وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ﴾” خرید و فروخت کے وقت گواہ مقرر کرلیا کرو۔“ (42) کاتب کو تنگ کرنا منع ہے۔ مثلاً اسے اس وقت طلب کیا جائے جب وہ کسی اور کام میں مشغول ہو، یا جس وقت اسے حاضر ہونے میں مشقت ہو۔ (43) گواہ کو بھی تنگ کرنا منع ہے مثلاً اسے اس وقت گواہ بننے کے لئے یا گواہی دینے کے لئے بلایا جائے جب وہ بیمار ہو، یا ایسے کام میں مشغول ہو، جسے چھوڑ کر آنے میں پریشانی اور مشقت ہو۔ یہ اس صورت میں ہے جب﴿ وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ﴾ ” نہ لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو“ میں لفظ (یضار) کو مجہول قرار دیا جائے اور اگر اسے فعل معروف سمجھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ گواہ اور کاتب کے لئے صاحب حق کو تنگ کرنے کے لئے گواہی یا کتابت سے انکار کرنا، یا بہت زیادہ اجرت طلب کرنا منع ہے، اس صورت میں انہیں فائدہ نمبر 44 اور نمبر 45 شمار کیا جاسکتا ہے۔ (46) ان حرام کاموں کا ارتکاب فسق ہے کیونکہ ارشاد ہے﴿ وَإِن تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ﴾” اگر تم یہ کرو تو یہ تماری کھلی نافرمانی ہے۔“ (47) فسق، ایمان، نفاق، عداوت، محبت وغیرہ جیسے اوصاف کسی بھی انسان میں کم یا زیادہ مقدار میں ہوسکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ایک آدمی میں فسق وغیرہ کا مادہ موجود ہو اور اسی طرح ایمان یا کفر کا مادہ موجود ہو۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ﴿فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ﴾” یہ تمہارے اندر نافرمانی ہے“ یہ نہیں فرمایا : (فَاَنْتُمْ فَاسِقُوْن) ” تم فاسق ہو“ (48) یہ نکتہ پہلے بیان ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہاں اس کی مناسب جگہ تھی۔ وہ یہ ہے کہ گواہ عادل (نیک اور قابل اعتماد) ہونا چاہئے کیونکہ ارشاد ہے ﴿مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ ﴾” جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کرو۔“ (49) عدالت (قابل اعتماد ہونا)، اس میں ہر زمانے اور ہر مقام کا عرف معتبر ہے۔ جو شخص لوگوں کے نزدیک قابل اعتبار ہو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ (50) اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کا عادل یا فاسق ہونا معلوم نہ ہو۔ اس کی گواہی بھی قبول نہیں، حتیٰ کہ اس کے نیک ہونے کی تصدیق ہوجائے۔ موجودہ حالات میں ناقص سمجھ کے مطابق یہ مسائل اخذ کئے گئے ہیں۔ اللہ کے کلام میں اور بہت سی حکمتیں اور اسرار ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے ان کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ البقرة
283 آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم سفر میں ہو ﴿ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا ﴾” اور تمہیں کاتب نہ ملے“ جو تمہارے لئے تحریر لکھ دے، جس سے بات پکی اور قابل اعتماد ہوجائے ﴿فَرِهَانٌ مَّقْبُوضَةٌ﴾” تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو۔“ صاحب حق (قرض خواہض اسے قبضہ میں رکھے اور یہ اس کے اطمینان کا باعث (اور ضمانت کے طور پر) رہے حتیٰ کہ اس کا حق (قرض) اسے واپس مل جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر راہن (رہن والی چیز کا مالک) اور مرتہن (رہن رکھ کر قرض دینے والا) رہن شدہ چیز کی مقدار میں اختلاف کریں تو مرتہن کا قول قبول کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرض خواہ کے اعتبار کے لئے رہن کو تحریر کا قائم مقام بنا دیا ہے۔ اگر رہن شدہ چیز کی قیمت کے بارے میں مرتہن کی بات نہ مانی جائے تو رہن کا مقصود (اعتماد اور اطمینان) حاصل نہیں ہوگا۔ کیونکہ رہن کا مقصد اعتماد و اعتبار ہے۔ اس لئے یہ سفر اور حضر (دونوں صورتوں) میں جائز ہے۔ آیت میں سفر کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اس کی ضرورت سفر میں زیادہ پیش آسکتی ہے کیونکہ سفر میں ہوسکتا ہے کاتب میسر نہ ہو۔ یہ حکم تب ہے کہ جب صاحب حق (قرض خواہ) اپنے حق (قرض) کے بارے میں تسلی کرنا چاہتا ہے۔ اگر صاحب حق کو مقروض سے کوئی خطرہ نہ ہو اور وہ بغیر رہن کے معاملہ کرنا چاہئے تو مقروض کو چاہئے کہ قرض پورا پورا ادا کرے۔ نہ ظلم کرے نہ اس کی حق تلفی کرے﴿وَلْيَتَّقِ اللَّـهَ رَبَّهُ﴾” اور اللہ سے ڈرتا ہے جو اس کا رب ہے۔“ حق ادا کرے۔ اور جس نے اس کے بارے میں حسن ظن رکھا اس کی نیکی کا اچھا بدلہ دے۔ ﴿وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ﴾ ” اور گواہی کو مت چھپاؤ۔“ کیونکہ حق کا دار و مدار گواہی پر ہے۔ اس کے بغیر حق ثابت نہیں ہوتا ۔ لہٰذا اسے چھپانا عظیم ترین گناہ ہے۔ کیونکہ اس نے سچی بات بتانے کا فریضہ ترک کر کے جھوٹ بولا۔ جس کے نتیجے میں حق والے کا حق مارا گیا۔ اس لئے فرمایا ﴿وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ ۗ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ﴾” اور جو کوئی اسے چھپالے، وہ گناہ گار دل والا ہے اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔“ اللہ نے اپنے بندوں کو یہ جو عمدہ مسائل بتائے ہیں ان میں بہت سی حکمتیں اور عام فوائد موجود ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر بندے اللہ کی ہدایات پر عمل بتائے ہیں ان میں بہت سی حکمتیں اور عام فوائد موجود ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر بندے اللہ کی ہدایات پر عمل کریں تو ان کا دین درست ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا بھی سنور جائے۔ کیونکہ ان میں انصاف، فائدہ، حقوق کی حفاظت اور لڑائی جھگڑے کا خاتمہ، اور معاشی معاملات کی درستی پائی جاتی ہے۔ اللہ کا شکر ہے جیسے اس کے چہرہ اقدس کے جلال اور عظیم سلطنت کے لائق ہے۔ ہم اس کی کما حقہ تعریف کرنے سے قاصر ہیں۔ البقرة
284 اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ سب کو اسی نے پیدا کیا، رزق دیا، ان کے دینی اور دنیوی فوائد کا بندوبست فرمایا۔ چنانچہ وہ سب اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں۔ وہ اپنی ذات کے لئے نفع کا اختیار رکھتے ہیں نہ نقصان کا، نہ موت کا نہ حیات کا، نہ مرکر جینے کا۔ وہ ان کا رب ہے، ان کا مالک ہے، جو اپنی حکمت، عدل اور احسان کے مطاب ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اس نے انہیں کچھ کاموں کا حکم دیا ہے، کچھ کاموں سے منع فرمایا۔ لہٰذا وہ ان سے ان کے ظاہر اور پوشیدہ اعمال کا حساب لے گا۔ ﴿فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ ﴾” پھر جسے چاہے گا بخشے گا۔“ یعنی جس کے پاس مغفرت کے اسباب موجود ہوں گے۔﴿ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ﴾” اور جسے چاہے گا سزا دے گا۔“ اسے ان گناہوں کی سزا ملے گی، جن کی معافی کے اسباب حاصل نہیں ہوئے۔﴿وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ کوئی چیز اس کے بس سے باہر نہیں۔ بلکہ تمام مخلوقات اس کے غلبہ، مشیت، تقدیر اور جز اور سزا کے قوانین کے ماتحت ہیں۔ البقرة
285 اللہ تعالیٰ رسولوں اور مومنوں کے ایمان، اطاعت اور طلب مغفرت کا ذکر فرماتا ہے کہ وہ لوگ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس میں ان تمام صفات کمال و جلال پر ایمان لانا داخل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں بتائی ہیں اور رسولوں نے بتائی ہیں۔ ان پر اجمالاً اور تفصیلا ًایمان لانا داخل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں بتائی ہیں اور رسولوں نے بتائی ہیں۔ ان پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھنا، اور اللہ کی ذات کو تشبیہ و تمثیل، تعطیل اور تمام صفات نقص سے پاک ماننا بھی شامل ہے۔ شریعتوں میں جن فرشتوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان سب پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھنا، رسولوں کی بتائی ہوئی اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں میں موجود تمام خبروں اور احکامات پر ایمان رکھنا بھی شامل ہے۔ مومن رسولوں میں تفریق نہیں کرتے، بلکہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ وہ اللہ اور بندوں کے درمیان واسطہ ہیں (جن کے ذریعے ہمیں اللہ کے اوامرو نواہی کا علم ہوتا ہے) لہٰذا کسی نبی کا انکار کرنا تمام نبیوں کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔ ﴿وَقَالُوا سَمِعْنَا ﴾ ” انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا۔“ یعنی اے اللہ تو نے ہمیں جن کاموں کا حکم دیا ہے اور جن سے منع کیا ہے ہم نے انہیں توجہ سے سن لیا ہے ﴿وَأَطَعْنَا﴾ ” اور ہم نے اطاعت کی“ یہ تمام احکام تسلیم کرلیے۔ ان لوگوں میں شامل نہیں ہوئے جنہوں نے کہا تھا ﴿ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا ﴾ (البقرہ :2؍ 93) ” ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی۔“ کیونکہ بندے سے اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو ہی جاتی ہے، لہٰذا اسے ہمیشہ اس کی مغفرت کی ضرورت رہتی ہے۔ اس لئے وہ کہتے ہیں ﴿غُفْرَانَكَ﴾ ” تیری بخشش“ یعنی ہم سے جو کوتاہی اور گناہ ہوئے ہیں، ہم تجھ سے ان کی بخشش طلب کرتے ہیں اور ہم جن عیوب میں ملوث ہوئے ہیں، ان گناہوں کو مٹا دینے کی درخواست کرتے ہیں۔ ﴿وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ﴾ ” اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔“ یعنی تمام مخلوقات واپس تیرے پاس ہی پہنچیں گی۔ پھر تو ان کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔ البقرة
286 جب یہ آیت نازل ہوئی ﴿وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللَّـهُ﴾” تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے۔ تم اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ۔ اللہ اس کا حساب تم سے لے گا“ تو مسلمان بہت پریشان ہوئے کیونکہ انہوں نے یہ سمجھا کہ دل میں جس قسم کے خیالات ہوں خواہ وہ پختہ یقین کی صورت میں ہوں، یا عارضی خیالات، دل میں جاگزیں ہوں یا آ کر گزر جانے والے، سب کا مواخذہ ہوگا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کام کا مکلف نہیں فرماتا۔ ان کاموں کا حکم دیتا ہے جو وہ کرسکتا ہے۔ ان کا حکم نہیں دیتا جو اس کی طاقت سے بڑھ کر ہوں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ﴾“ (الحج :22؍ 78) ” اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی“ اوامرو نواہی بنیادی طور پر ایسے نہیں جو انسانوں کے لئے انتہائی دشوار ہوں۔ بلکہ یہ تو روح کی غذا، بدن کی دوا اور نقصان سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ اللہ نے بندوں کو جن کاموں کا حکم دیا ہے، وہ رحمت اور احسان کی بنا پر دیا ہے۔ اس کے باوجود جب کوئی عذر پیش آجائے جس سے مشقت کا اندیشہ ہو تو اللہ تعالیٰ تخفیف اور آسانی فرما دیتا ہے۔ کبھی تو اس عمل کو مکلف کے ذمہ سے مکمل طور پر ساقط فرما دیتا ہے۔ کبھی اس کا کچھ حصہ معاف کردیتا ہے۔ جیسے بیمار اور مسافر کے لئے بعض احکام میں تخفیف کردی گئی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ہر کسی کو وہی نیکی ملے گی جو اس نے کمائی، اور اس کے ذمے وہی گناہ لکھا جائے گا جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور کسی کی وجہ سے دوسرے کی نیکیاں ضائع نہیں ہوں گی۔ نیکی میں (کّسَبَتْ) کا لفظ فرمایا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو نیکی معمولی سی کوشش سے بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ بلکہ بعض اوقات صرف نیت کی وجہ سے ہی ثواب مل جاتا ہے۔ جبکہ گناہ کے لئے (اِکْتَسَبَتْ) کا لفظ فرمایا گیا ہے جس میں یہ ارشاد ہے کہ انسان کے ذمے گناہ اس وقت تک نہیں لکھا جاتا، جب تک وہ اس کا ارتکاب نہ کرلے اور اس کی کوشش نہ کی جائے۔ جب اللہ نے رسول اور مومنوں کے ایمان کا ذکر فرمایا، اور بتایا کہ انسان سے کو تاہی، غلطی اور بھول چوک کا صدور ممکن ہے اور یہ بتایا کہ اس نے ہمیں صرف ایسے اعمال کا حکم دیا ہے جس کو انجام دینے کی طاقت ہم میں موجود ہے، تو اس کے بعد بتایا کہ مومن بھی یہ دعا کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول کر کے فرمایا :” میں نے یہ کردیا۔“ ارشاد ہے ﴿رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا﴾” اے ہمارے رب ! ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو، تو ہمیں نہ پکڑنا“ بھول اور غلطی میں فرق یہ ہے کہ نسیان (بھول) کا مطلب ہوتا ہے، مامور کام کا دل سے فراموش ہوجانا، اور بھول جانے کی وجہ سے اس عمل کا چھوٹ جانا۔ خطا (غلطی) یہ ہوتی ہے کہ انسان ایک جائز کام کا ارادہ کرے، لیکن اس سے کام اس انداز سے واقع ہوجائے جو جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر رحمت اور احسان فرماتے ہوئے اس سے واقع ہونے والے یہ دونوں طرح کے کام معاف فرما دیے۔ اس اصول کی روشنی میں کہا جاتا ہے کہ جو شخص چھینے ہوئے یا ناپاک کپڑے پہن کر نماز پڑھے۔ بدن پر سے نجاست دور کرنا بھول گیاہو، یا نماز کے دوران بھول کر کسی سے بات کرلے۔ یا روزے کے دوران بھول کر کچھ کھالے، یا احرام کے دوران بھول کر کوئی ممنوع کام کرلے، بشرطیکہ اس میں کسی جان دار کی ہلاکت شامل نہ ہو۔ تو اس کی یہ غلطیاں معاف ہیں۔ اسی طرح اگر ایک کام نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہو، پھر بھول کر وہ کام کرلے۔ اس طرح اگر غلطی سے کسی کی جان یا مال کا نقصان کر بیٹھے تو اس کو گناہ نہیں ہوگا۔ نقصان پورا کرنے کیلئے ادائیگی کرنے کا تعلق نقصان کرنے سے ہے (ارادہ یا بھول وغیرہ سے نہیں) اس طرح جن موقعوں پر (بسم اللہ) پڑھنا واجب ہے۔ اگر وہاں (بسم اللہ) پڑھنا بھول جائے تو کام درست سمجھا جائے گا۔﴿ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا﴾ اے ہمارے رب ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا‘،اس سے مشکل احکام مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ درخواست قبول فرما لی اور اس امت پر طہارت اور عبادت کے مسائل میں ایسی نرمی فرما دی، جو کسی اور امت پر نہیں فرمائی تھی۔ ﴿رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِه﴾ ” اے ہمارے رب ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو“ اللہ نے یہ درخواست بھی قبول فرما لی۔ ﴿وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا﴾” اور ہم نے سے درگزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر“ معافی اور بخشش کے نتیجے میں مصائب اور شر دور ہوتے ہیں اور رحمت کے نتیجے میں معاملات درست ہوتے ہیں۔﴿ أَنتَ مَوْلَانَا﴾” تو ہمارا مولیٰ ہے“ یعنی ہمارا رب، ہمارا بادشاہ اور ہمارا معبود ہے۔ جب سے تو نے ہمیں پیدا فرمایا تیری مدد اور توفیق ہمیں حاصل رہی ہے۔ تیری نعمتیں ہر وقت مسلسل ہمیں مل رہی ہیں۔ پھر تو نے ہم پر ایک عظیم احسان کیا کہ اسلام کی نعمت عطا فرما دی۔ باقی سب نعمتیں اس کے تابع ہیں۔ اس لئے اے ہمارے مالک اور ہمارے مولیٰ ہم تجھ سے اس نعمت کی تکمیل کا سوال کرتے ہیں کہ ان کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما جنہوں نے تیرے ساتھ کفر کیا، تیرے نبیوں کا انکار کیا، تیرا دین ماننے والوں سے مقابلہ کیا، تیرے احکامات کو پس پشت ڈالا۔ لہٰذا دلیل و برہان اور شمشیر و سنان کے ساتھ ہماری مدد فرما۔ ہمیں زمین میں شوکت عطا فرما۔ ان کو ذلیل کر دے۔ ہمیں ایسا ایمان اور ایسے اعمال نصیب فرما، جن کی برکت سے فتح حاصل ہوتی ہے۔ آمین والحمد اللہ رب العالمین البقرة
0 آل عمران
1 اس سورت کی شروع کی اسی (80) سے زیادہ آیات عیسائیوں سے مباحثہ، ان کے مذہب کی تردید اور انہیں سچے دین یعنی اسلام کو قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔ جس طرح سورۃ بقرہ کی ابتدائی آیات یہود سے مناظرہ پر مشتمل ہیں۔ آل عمران
2 اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اپنی الوہیت کے اعلان سے شروع کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہی ایسا معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبادت صرف اسی کی اور اسی کے لئے ہونی چاہئے۔ لہٰذا اس کے سوا جس معبود کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ ہی سچا معبود ہے جو الوہیت کی تمام صفات سے موصوف ہے جن سب کا تعلق حیات اور قیومیت کی صفات سے ہے۔ ﴿الْحَيُّ﴾ سے مراد یہ ہے کہ اسے عظیم ترین اور کامل ترین حیات کی صفات حاصل ہیں، جو ان تمام صفات کو مستلزم ہیں جن کے بغیر صفات حیات کی تکمیل نہیں ہوتی۔ مثلاً سمع، بصر، قدرت، قوت، عظمت، بقا، دوام اور غلبہ﴿ الْقَيُّومُ ﴾کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود بخودقائم ہے لہٰذا تمام مخلوقات سے بے پرواہ ہے اور وہ سب کو قائم رکھنے والا ہے اس لئے تمام مخلوقات وجود میں آنے، تیار ہونے اور ترقی کرنے میں اس کی محتاج ہیں۔ وہی تمام مخلوقات کا مدبر اور ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ جسموں، روحوں اور دلوں کے تمام معاملات اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کی قیومت اور رحمت کی بنا پر اس نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ کتاب نازل کی، جو سب سے عظیم کتاب ہے، جس کی خبریں اور احکام سب حق ہیں۔ اس نے جو خبریں دی ہیں وہ سچی ہیں۔ جو اس نے حکم دیئے ہیں وہ انصاف پر مبنی ہیں۔ اس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے تاکہ بندے اس کتاب کا علم حاصل کریں اور اپنے رب کی عبادت کریں۔ آل عمران
3 ﴿مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ﴾” جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے“ یعنی گزشتہ کتابوں کی تائید کرتی ہے جس مسئلہ کے حق میں قرآن فیصلہ دے وہی مقبول ہے اور جس کی یہ تردید کرے وہی ناقابل قبول ہے۔ یہ ان تمام مسائل کے مطابق ہے جن پر تمام رسولوں کا اتفاق ہے۔ ان سے اس کا سچا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اہل کتاب جب تک قرآن پر ایمان نہ رکھیں تب تک اپنی کتابوں کو سچا نہیں مان سکتے۔ کیونکہ قرآن کا انکار ان کتابوں پر ایمان کو کالعدم کردیتا ہے۔ ﴿وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ﴾” اس نے (موسیٰ علیہ السلام پر) تورات“ اور عیسیٰ علیہ السلا م پر ﴿وَ الْاِنْجِيْلَ﴾ ” انجیل کو اتارا تھا“ آل عمران
4 ﴿مِن قَبْلُ﴾” اس قرآن کو نازل کرنے سے پہلے“﴿ هُدًى لِّلنَّاسِ﴾لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر“ ہدایت کی صفت ان تمام کے لئے ہے یعنی اللہ نے قرآن، تورات اور انجیل کو لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے لئے رہنما بنا کرنازل کیا تھا۔ جس نے اللہ کی یہ ہدایت قبول کرلی، وہ ہدایت یافتہ ہوا اور جس نے قبول نہ کیا وہ گمراہ رہا۔ ﴿ وَأَنزَلَ الْفُرْقَانَ﴾” اور اس نے فرقان کو نازل کیا۔“ یعنی دلائل و براہین قاطعہ، جن سے تمام مقاصد و مطالب پایہ ثبوت کو پہنچ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس نے مخلوق کی ضرورت کے مطابق تفصیل و تفسیر بیان کی ہے۔ جس سے احکام و مسائل نہایت واضح ہوگئے ہیں۔ لہٰذا کسی کے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہا اور اس پر ایمان نہ لانے والے کسی شخص کے پاس کوئی حجت و دلیل باقی نہیں رہی۔ اس لئے فرمایا : ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّـهِ﴾” جو لوگ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں“ حالانکہ اللہ نے انہیں خوب واضح فرما دیا اور تمام شبہات کو دور فرما دیا ہے۔﴿ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ﴾ ان کے لئے سخت عذاب ہے۔“ جس کی شدت کا اندازہ کرنا ممکن نہیں اور جس کی حقیقت و کیفیت معلوم نہیں ہوسکتی۔ ﴿وَاللَّـهُ عَزِيزٌ﴾” اللہ غالب ہے“ اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور﴿ذُو انتِقَامٍ ﴾ جو اس کی نافرمانی کرے اس سے ” بدلہ لینے والا ہے۔‘‘ آل عمران
5 ﴿إِنَّ اللَّـهَ لَا يَخْفَىٰ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ﴾” یقیناً اللہ پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں“ یعنی اس کا علم تمام معلومات کو محیط ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ مثلاً ماؤں کے پیٹوں میں جو بچے ہیں، انہیں مخلوق کی نظریں نہیں دیکھ سکتیں، نہ لوگ ان کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بڑی باریک بینی سے انہیں سنبھالتا ہے اور ان سے متعلق ہر چیز کا صحیح اندازہ مقرر کرتا ہے۔ اس لئے فرمایا: آل عمران
6 ﴿ هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ﴾” وہ ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔“ یعنی کامل جسم والے یا ناقص الخلقت، خوبصورت یا بدصورت، مذکر یا مونث۔ ﴿ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾” اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ غالب ہے حکمت والا ہے“ اس سے اللہ تعالیٰ کا معبود ہونا، ثابت و متعین ہوتا ہے اور نہ صرف اسی کا معبود ہونا بلکہ اس کے سوا پوجے جانے والوں کی الوہیت کا بطلان بھی ثابت ہوتا ہے اور اس سے نصاریٰ کی تردید بھی ہوجاتی ہے۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معبود سمجھتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی حیات کاملہ اور قیومیت نامہ کا اثبات بھی ہے، جن سے تمام صفات مقدسہ کا اثبات ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس سے بڑی بڑی شریعتوں کا ثبوت بھی ملتا ہے اور یہ بیان ہے کہ وہ لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت کا باعث تھیں اور یہ کہ لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ ہدایت یافتہ اور ہدایت سے محروم اور ہدایت قبول نہ کرنے والے کی سزا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی مشیت اور حکمت کا واقع ہو کر رہنا ثابت ہوتا ہے۔ آل عمران
7 قرآن مجید سب کا سب محکم (پختہ، مضبوط) ہے جیسے اللہ نے فرمایا:﴿ كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ﴾ (ھود :11؍ 1) ” یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں محکم ہیں۔ پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے“ لہٰذا یہ انتہائی مضبوطی، عدل اور احسان پر مشتمل ہیں۔ ﴿َمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾ (المائدہ :5؍ 50) ” یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ سے بہتر فیصلہ کس کا ہوسکتا ہے“ ایک لحاظ سے قرآن سب کا سب متشابہ ہے۔ یعنی یہ حسن و بلاغت کے لحاظ سے ایک دوسرے کی تصدیق کرنے کی بنا پر اور ایک دوسرے سے لفظی اور معنوی مطابقت رکھنے کی وجہ سے ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ اس آیت میں جس محکم اور متشابہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تو اللہ کے فرمان کے مطابق ﴿ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ ﴾ یعنی واضح مفہوم کی حامل آیات ہیں۔ جن میں نہ کوئی شبہ ہے نہ اشکال ﴿هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ یعنی وہ کتاب کی اصل اور بنیادی تعلیمات ہیں۔ ہر متشابہ کو انہی کی روشنی میں سمجھنا چاہئے۔ قرآن کا اکثر حصہ ایسی ہی محکم آیات پر مشتمل ہے۔﴿ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ﴾ ” اور دوسری کچھ متشابہ آیتیں ہیں“ یعنی بعض افراد کے ذہنوں میں ان کا مفہوم ملتبس ہوجاتا ہے۔ لیکن ان کی دلالت مجمل ہے یا بعض لوگ سرسری نظر میں وہ مفہوم سمجھ بیٹھتے ہیں جو اصل میں مراد نہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات واضح ہیں جو آسانی سے ہر شخص کی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ یہ بہت زیادہ ہیں۔ کچھ آیتیں ہیں جو بعض لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ اس صورت میں متشابہ کو محکم کی روشنی میں اور خفی کو جلی کی مدد سے سمجھنا ضروری ہے۔ اس طریقے سے آیات ایک دوسری کی تائید کرتی نظر آتی ہیں۔ ان میں کوئی اختلاف اور تعارض معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن لوگ دو قسموں میں منقسم ہیں ﴿فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ﴾” پس جن کے دلوں میں کجی ہے“ یعنی وہ سیدھے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔ ان کے ارادے خراب ہیں۔ گمراہی ان کا مقصود بن گئی ہے۔ ان کے دل ہدایت کی راہ سے برگشتہ ہوچکے ہیں۔﴿ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ﴾” وہ اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں“ یعنی محکم اور واضح ارشادات کو چھوڑ کر متشابہ کی طرف چل پڑتے ہیں اور معاملہ کو الٹ طریقے سے لے کر محکم کو متشابہ پر محمول اور واضح ارشادات کو چھوڑ کر متشابہ کی طرف چل پڑتے ہیں اور معاملہ کو الٹ طریقے سے لے کر محکم کو متشابہ پر محمول کرتے ہیں۔ ﴿ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ ﴾” فتنے کی طلب میں“ یعنی ان لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں جن کو یہ اپنے قول کی طرف بلاتے ہیں۔ متشابہ میں چونکہ اشتباہ موجود ہوتا ہے، اس لئے اس کے ذریعے سے فتنہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ورنہ محکم اور صریح میں فتنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کیونکہ جو شخص حق کی پیروی کرنا چاہے اسے محکم میں واضح حق مل جاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا﴿ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّـهُ﴾” اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے۔ حالانکہ اس کی حقیقی مراد کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے“ اس آیت میں علماء کے دو قول ہیں۔ اکثر علمائے کرام لفظ اللہ پر وقف کرتے ہیں۔ (موجودہ ترجمہ اسی قول کے مطابق ہے) اور بعض لوگ ﴿وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ﴾ کا عطف بھی اس پر مانتے ہیں۔ (اس صورت میں یہ ترجمہ ہوگا ” حالانکہ اس کی تفسیر کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے اور پختہ علم والوں کے۔“ یعنی پختہ علم والے بھی جانتے ہیں۔) یہ دونوں تشریحات درست ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ اگر تاویل سے مراد کسی شئے کی حقیقت اور کنہ جاننا ہو تو (الا اللہ) پر وقف کرنا ہی درست ہوگا۔ کیونکہ جن اشیاء کی حقیقت کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے۔ مثلاً اللہ کی صفات کی حقیقت و کیفیت، آخرت میں پیش آنے والے اوصاف کی حقیقت وغیرہ۔ ان کو تو اللہ کے سوا واقعی کوئی نہیں جانتا۔ اس کو معلوم کرنے کی کوشش کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ یہ ایسی چیز کی کوشش ہے جسے جاننا ممکن ہی نہیں۔ امام مالک سے پوچھا گیا : اس آیت کا کیا مطلب ہے﴿ الرَّحْمَـٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ﴾  (طہ :20؍ 5) ” رحمان عرش پر مستوی ہے“ سائل نے کہا :” کس طرح مستوی ہے؟“ امام مالک نے فرمایا (اَلْاسْتَوَاءُ مَعْلُوْمٌ وَالْکَیْفَ مَجْھُوْلٌ وَ الْاِیْمَانُ بِہِ وَاجِبٌ، وَالسُّؤَالُ عَنْہُ بِدْعَۃٍ) ”استواء (قائم ہونا) معلوم ہے (یعنی واضح لفظ ہے جس کی تشریح کی ضرورت نہیں) اس کی کیفیت نامعلوم ہے۔ اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے بارے میں یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہئے کہ اگر کوئی شخص ان کی کیفیت دریافت کرے تو امام مالک کی طرح کہہ دیا جائے کہ یہ صفت تو معلوم ہے لیکن اس کی کیفیت نامعلوم ہے۔ تاہم اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا (کہ یہ صفت کس طرح ہے) بدعت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ صفات بتائی ہیں۔ ان کی کیفیت بیان نہیں فرمائی۔ لہٰذا ہمیں اپنی حد تک آ کر رک جانا چاہئے۔ حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔ گمراہ لوگ ان متشابہ امور کے بارے میں بے فائدہ بحث کرتے ہیں اور اس چیز کے حصول کی ناکام کوشش کرتے ہیں جنہیں معلوم کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں، کیونکہ انہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پختہ کار اہل علم ان پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی حقیقت اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔ اس طرح (فرمان الٰہی کو) تسلیم کر کے (تکلفات اور غلطیوں سے) محفوظ ہوجاتے ہیں۔ اگر تاویل کا مطلب تفسیر اور وضاحت لیا جائے تو ﴿وَالرَّاسِخُونَ﴾ کا عطف لفظ(اللہ) پر ہوگا۔ (اس صورت میں لفظ (اللہ) پر وقف نہیں ہوگا بلکہ (العلم) پر وقت ہوگا) اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ متشابہ کو محکم کی روشنی میں سمجھ کر اس کی تفسیر کرنا اور اس کے شبہات دور کرنا یہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور پختہ علم والے بھی جانتے ہیں چنانچہ وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور اسے محکم کی طرف پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں ﴿كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا﴾ ” یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے“ یعنی محکم اور متشابہ سب اللہ کی طرف سے نازل ہوئے ہیں اور اس کی طرف سے آنے والی چیز میں تعارض اور تناقض نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ ایک دوسرے کی تائید اور تصدیق کرتے ہیں۔ اس سے ایک بڑے اصول کا پتہ چلتا ہے وہ یہ کہ چونکہ وہ جانتے ہیں کہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ تو جب انہیں کسی مجمل طور پر ذکر کئے متشابہ میں اشکال پیدا ہوتا ہے۔ تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مفہوم بہرحال محکم کے مطابق ہی ہوگا، اگرچہ ہم سمجھ نہ سکے ہوں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام پر ایمان لانے اور تسلیم کرنے کی ترغیب دی ہے اور متشابہ کے پیچھے پڑنے سے منع فرمایا ہے اس لئے فرمایا ﴿وَمَا يَذَّكَّرُ﴾ یعنی اللہ کی نصیحت سے فیض یاب ہونے والے، اس کی نصیحت اور اس کی طرف سے آنے والے علم کو قبول کرنے والے﴿ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ﴾صرف وہ لوگ ہیں جو کامل عقلوں والے ہیں۔ وہی جو ان کا مغز اور بنی آدم کا خلاصہ (اور بہترین حصہ) ہیں۔ نصیحت ان کی عقلوں تک پہنچتی ہے تو انہیں اپنے فائدے کی باتیں معلوم ہوتی ہیں اور وہ اس پر عمل کرلیتے ہیں اور انہیں (اس نصیحت کے ذریعے سے) اپنے نقصان کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں اور وہ ان سے بچ جاتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کی سمجھ مغز کے بجائے چھلکے سے مشابہت رکھتی ہے جس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ نہ ان سے کوئی نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو نہ تنبیہ اور زجر و توبیخ سے فائدہ حاصل ہوتا ہے، نہ سمجھانے سے کیونکہ ان کے پاس وہ عقل ہی نہیں، جس سے انہیں کوئی فائدہ حاصل ہوسکے۔ آل عمران
8 اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے (رَاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ) ” پختہ کار علما“ کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا ﴾ ” اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے“ یعنی ایسا نہ ہو کہ جہالت یا عناد کی وجہ سے ہم حق سے روگردانی کریں۔ بلکہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے والے، ہدایت دینے والے اور ہدایت پانے والے بنا۔ ہمیں ہدایت پر قائم رکھ اور ہمیں ان (بداعمالیوں) سے محفوظ رکھ، جن میں گمراہ مبتلا ہوچکے ہیں۔ ﴿وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً﴾” اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما“ یعنی ہمیں ایسی عظیم رحمت عطا فرما، جس کے ساتھ تو ہمیں نیکیوں کی توفیق اور گناہوں سے ہماری حفاظت فرمائے۔ ﴿إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ﴾ ” یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے“ یعنی تیرے انعامات و عطیات بے حد وسیع، اور تیرے احسانات بے شمار ہیں تیری سخاوت سے ہر مخلوق بہرہ ور ہوتی ہے۔ آل عمران
9 ﴿ رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ﴾” اے ہمارے رب ! تو یقیناً لوگوں کو ایک دن جمع کرنے والا ہے، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ یقیناً اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔“ لہٰذا وہ ان کی نیکیوں اور گناہوں کا بدلہ ضرور دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے (رَاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ) کی سات صفات بیان کی ہیں۔ یہ بندے کی خوش بختی کی علامت ہیں۔ (١) علم : یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ اس کے احکامات اور قوانین کو واضح کرتا ہے۔ (٢) (رَسْوخٌ فِی الْعِلْمِ)” علم میں پختہ ہونا“ یہ صفت محض علم سے بڑھ کر ہے، اس لئے کہ راسخ ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ آدمی محقق و مدقق عالم ہو۔ جس کو اللہ نے ظاہری علم بھی عطا فرمایا ہو اور باطنی علم بھی۔ شریعت کے اسرار میں اس کا علم بھی پختہ ہوتا ہے، عمل بھی درست ہوتا ہے اور حال بھی کامل ہوتا ہے۔ (٣) وہ پوری کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور متشابہ کو محکم کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا  ﴿يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا﴾” کہتے ہیں ہم تو اس پر ایمان لا چکے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے“ (٤) وہ اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلب گار ہوتے ہیں اور جن غلطیوں میں گمراہ مبتلا ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ ان سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ (٥) وہ اللہ کا احسان مانتے ہیں کہ اس نے انہیں ہدایت دی۔ کیونکہ کہتے ہیں۔﴿ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا﴾” اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کرے“ (٦) اس کے ساتھ ساتھ وہ اللہ کی رحمت کا سوال کرتے ہیں۔ جس میں ہر بھلائی کا حصول اور ہر برائی سے بچاؤ شامل ہے۔ اس مقصد کے لئے اللہ کے اسم مبارک ( الْوَهَّابُ) کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں۔ (٧) اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ قیامت کے آنے پر ایمان اور پورا یقین رکھتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں۔ یہی ایمان عمل کرنے پر آمادہ کرتا اور لغزش سے بچا کر رکھتا ہے۔ آل عمران
10 اللہ تعالیٰ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرنے والے، اس کے دین اور اس کی کتاب کا انکار کرنے والے، اپنے کفر اور گناہوں کی وجہ سے سزا اور سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ وہاں انہیں اپنے مالوں اور اولادوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگرچہ دنیا میں وہ آنے والی مصیبتوں کا ان کے ذریعہ سے مقابلہ کرلیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے ﴿نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ﴾(سبا :34؍35) ” ہمارے مال اور ہماری اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔“ قیامت کے دن انہیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کی انہیں بالکل توقع نہ ہوگی۔ ﴿وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ﴾ (الزمر :39؍48) ” ان کے کمائے ہوئے اعمال کا برا انجام ان کے سامنے آجائے گا اور انہیں وہ عذاب گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، اللہ کے ہاں مال اور اولاد کی قدر نہیں، بلکہ بندے کو اللہ پر ایمان لانے کا اور نیک اعمال کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ جیسے ارشاد ہے : ﴿وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُم بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِندَنَا زُلْفَىٰ إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ﴾ (سبا :34؍ 37) ” تمہارے مال اور تمہاری اولاد وہ چیز نہیں جو تمہیں ہمارا قرب بخشتی ہیں بلکہ جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کئے انہی لوگوں کو اپنے اعمال کا دگنا بدلے ملے گا اور وہ بالا خانوں میں امن سے رہیں گے“ اللہ نے بیان فرمایا ہے کہ کافر جہنم کا ایندھن ہیں، یعنی ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ قانون کہ کافروں کو ان کے مالوں یا اولادوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکے گا، گزشتہ امتوں میں بھی اللہ کا یہی قانون جاری رہا ہے۔ فرعون، اس سے پہلے اور اس کے بعد آنے والے سب جابر، سرکش، مالوں اور لشکروں والے، ان سب کے ساتھ یہی ہوا کہ جب انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات تسلیم کرنے سے انکار کیا اور ان سے دشمنی کی، اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا، یہ اس کا عدل تھا، ظلم نہیں۔ جو کوئی ایسا کام کرے جو سزا کا مستوجب ہے تو اللہ اسے سخت سزا دے دیتا ہے۔ عذاب کا یہ سبب کفر بھی ہوسکتا ہے اور دوسرے گناہ بھی جن کی مختلف قسمیں اور بہت سے مراتب ہیں۔ آل عمران
11 آل عمران
12 اس کے بعد فرمایا ﴿قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ﴾ ” اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے کہہ دیجئے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے اور جہنم کی طرف جمع کئے جاؤ گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔“ اس میں مومنوں کی مدد اور فتح کا اشارہ ہے اور کافروں کو تنبیہ ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا تھا ویسے ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں یعنی مشرکین، یہود اور نصاریٰ جیسے کافروں کے خلاف مومنوں کی مدد فرمائی۔ قیامت تک وہ اپنے مومن بندوں اور لشکروں کی مدد فرماتا رہے گا۔ اس میں ایک عبرت اور قرآن کی ایسی نشانی ہے جو آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہے۔ آل عمران
13 اللہ نے بتایا کہ کافر دنیا میں مغلوب ہونے کے ساتھ ساتھ قیامت کے دن جمع کر کے جہنم کی طرف ہانک دیئے جائیں گے جو برا ٹھکانہ ہے اور ان کے بداعمال کا برا بدلہ ﴿قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ﴾” یقیناً تمہارے لئے نشانی تھی“ یعنی عظیم عبرت تھی۔﴿ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا﴾ ”ان دو جماعتوں میں جو گتھ گئی تھیں۔“ یہ غزوہ بدر کے موقع پر ہوا۔ ﴿فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ﴾” ایک جماعت اللہ کی راہ میں لڑ رہی تھی۔“ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام تھے۔﴿ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ﴾ اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا۔“ یعنی کفار قریش جو فخر و تکبر کے ساتھ لوگوں کو دکھانے کے لئے اور اللہ سے روکنے کے لئے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں جماعتوں کو بدر کے میدان میں اکٹھا کردیا۔ مشرکوں کی تعداد مومنوں سے کئی گنا تھی۔ اس لئے فرمایا ﴿يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ﴾” وہ انہیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا دیکھتے تھے۔“ یعنی مومن دیکھ رہے تھے کہ کافر تعداد میں ان سے بہت زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ دگنے سے زیادہ تھا۔ (یعنی کفار کی تعداد تین گنا سے زائد تھی) اللہ نے مومنوں کی مدد کی تو انہوں نے کفار کو شکست دی، ان کے سرداروں کو تہ تیغ کیا اور بہت سے افراد کو قید کرلیا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ جو کوئی اللہ کے دین کی مدد کرتا ہے، اللہ اس کی مدد کرتا ہے اور جو کفر کرتا ہے اللہ اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اس میں آنکھوں والوں کے لئے عبرت ہے۔ یعنی جن کی بصیرت اور عقل کامل ہے، جس کی وجہ سے وہ دیکھ رہے ہیں کہ جس جماعت کی مدد کی گئی ہے وہی اہل حق ہیں اور دوسرے باطل پر ہیں۔ ورنہ محض ظاہری اسباب، سامان اور تعداد پر نظر رکھنے والا یہی فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس چھوٹی سی جماعت کا اتنی بڑی جماعت پر فتح پانا بالکل محال اور ناممکن ہے۔ لیکن بصارت سے نظر آنے والے ان اسباب کے پیچھے ایک عظیم ترسبب بھی ہے۔ جسے بصیرت، ایمان اور توکل علی اللہ کی نظر ہی دیکھ سکتی ہے اور وہ سبب ہے اللہ کا اپنے مومن بندوں کو تقویت بخشنا اور اپنے کافر دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرنا۔ آل عمران
14 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے لوگوں کے لئے دنیوی مرغوب چیزوں کی محبت مزین کردی ہے۔ ان میں سے مذکورہ بالا اشیاء کو خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ دنیا کی مرغوب چیزوں میں سے یہ سب سے بڑھ کر ہیں۔ باقی سب ان کے تابع ہیں۔ جیسے ارشاد ہے ﴿إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا  ﴾(الکھف :18؍ 7)” ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اسے زمین کی زینت بنایا ہے“ چونکہ یہ چیزیں مزین کردی گئیں ہیں اور ان میں دلوں کو مائل کرنے کا وصف ہے۔ اس لئے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوگئے اور عملی طور پر لوگوں کی دو قسمیں ہوگئیں۔ ایک قسم کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے انہی مادی اشیاء کو اپنا مقصود بنا لیا، ان کی سوچیں، ان کے خیالات، ان کے ظاہری اور باطنی اعمال اسی کے لئے خاص ہو کر رہ گئے۔ اسی دنیوی مال و متاع میں مشغول ہو کر وہ اپنی تخلیق کے مقصد کو بھول گئے۔ دنیا سے ان کا وہ تعلق رہا جو چرنے والے مویشیوں کا ہوتا ہے۔ وہ اس کی لذتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ پروا نہیں کرتے کہ انہوں نے یہ کیسے حاصل کی اور کہاں خرچ کی۔ دنیا ان کے لئے مشقت و عذاب کے مقام (جہنم) کی طرف لے جانے والے سفر کا سامان بن جاتی ہے۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے اس کا اصل مقصود سمجھ لیا کہ اسے تو اللہ نے بندوں کے لئے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ کون اپنی خواہش نفس اور دنیوی لذت پر اللہ کی اطاعت اور رضا کو ترجیح دیتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے دنیا کو آخرت کے حصول کا ذریعہ بنا لیا۔ وہ اس سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں، لیکن اس طرح کہ وہ اللہ کی رضا کے حصول میں مددگار ثابت ہو۔ ان کے بدن تو اس کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن دل اس سے دور ہوتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ اس کی حقیقت وہی ہے جو اللہ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی﴿ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾” یہ تو دنیا کی زندگی کا مال و متاع ہے“ انہوں نے اسے آخرت تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھا۔ آل عمران
15 اسے ایک بازار جانا جس میں انہیں اخروی نفع عظیم کی امید ہے۔ ان کے لئے دنیا آخرت کے سفر کے لئے زاد راہ بن گئی۔ علاوہ ازیں اس آیت میں ان ناداروں کو تسلی دی گئی ہے، جو اپنی ایسی خواہشات پوری نہیں کرسکتے جو دولت مند پوری کرسکتے ہیں اور اس کے دھوکے میں گرفتار ہوجانے والوں کو تنبیہ ہے اور روشن عقل والوں کو اس کی محبت سے روکا گیا ہے۔ یہ موضوع اس طرح مکمل ہوا ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دارلقرار (ہمیشہ رہنے والا گھر) اور نیک متقیوں کا انجام بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ یہ اخروی نعمتیں ان مذکورہ (دنیوی) اشیاء سے بہتر ہیں۔ یعنی بلند و بالا درختوں کے باغات، جن میں نفیس محلات، اور اونچے اونچے بالا خانے ہیں، طرح طرح کے پھلوں سے لدے ہوئے پھل دار درخت ہیں، ان کی مرضی کے مطابق چلنے والی نہریں ہیں، ہر ظاہری و باطنی عیب و نجاست سے پاک بیویاں ہیں، اور ان تمام نعمتوں کے ساتھ ہمیشہ کی زندگی، یہ نعمتوں کی انتہا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی جس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ ذرا اس شان دار جہان کا اس حقیر جہان سے مقابلہ و موازنہ تو کیجیے۔ پھر اپنے لئے بہتر متبادل کا انتخاب کرلیجیے۔ اپنے دل کو ان دونوں کا فرق سمجھا ئیے۔ ﴿وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ﴾” سب بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں۔“ وہ ان کے تمام اچھے اور برے اوصاف سے باخبر ہے۔ اسے معلوم ہے کہ ان کے حالات کے مطابق کون سا نتیجہ ان کے لائق ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے توفیق دے دیتا ہے۔ آل عمران
16 وہ جنت جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، اور اس کی کامل صفات بیان فرمائی ہیں وہ بھی انہیں ملے گی جو اس کے مستحق ہیں۔ یعنی جنہوں نے اللہ سے ڈرتے ہوئے حکموں کی تعمیل کی، اور ممنوع کاموں سے پرہیز کیا اور اپنی دعاؤں میں کہا ﴿ إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾” اے ہمارے رب ! ہم ایمان لا چکے۔ اس لئے ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ انہوں نے اللہ کے اس احسان کا ذکر کیا کہ اس نے انہیں ایمان کی توفیق دی ہے اور اس کے وسیلے سے یہ دعا کی کہ وہ ان کے گناہ معاف کر دے اور گناہوں کے برے اثرات و نتائج یعنی جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما دے۔ آل عمران
17 اس کے بعد تقویٰ کے اوصاف تفصیل سے بیان کئے اور فرمایا : ﴿الصَّابِرِينَ﴾ ” صبر کرنے والے“ جو اپنے آپ کو اللہ کے پیارے کاموں اور اس کی اطاعت کے اعمال پر قائم رکھتے ہیں، اس کی نافرمانی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے، صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور اللہ کی تقدیر کے مطابق پیش آنے والے مصائب و مشکلات پر بھی صبر کرتے ہیں۔﴿  وَالصَّادِقِينَ﴾ ” اور سچ بولنے والے“ جو اپنے ایمان میں، اقوال میں اور احوال میں راست باز اور سچے ہیں۔ ﴿ وَالْمُنفِقِينَ﴾” اور خرچ کرنے والے“ جو کچھ اللہ نے انہیں دیا ہے اس میں سے مختلف انداز سے ضرورت مند افراد کو دیتے ہیں خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اجنبی﴿وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ ﴾ ” اور پچھلی رات بخشش مانگنے والے“ اللہ تعالیٰ نے ان کی اچھی صفات میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو معمولی سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو اعلیٰ مقام پر فائز نہیں سمجھتے۔ بلکہ خود کو گناہ گار اور کوتاہی کرنے والے سمجھتے ہیں۔ اس لئے رب سے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ایسا وقت منتخب کرتے ہیں جب قبولیت کی امید زیادہ ہو اور وہ صبح صادق کا وقت ہے۔ حسن (بصری) فرماتے ہیں : اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز اتنی لمبی کرتے ہیں کہ سحر ہوجاتی ہے۔ پھر بیٹھ کر رب سے استغفار اور دعائے مغفرت کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں یہ مسائل بیان ہوئے ہیں۔ دنیا میں لوگوں کی حالت، دنیا ختم ہونے والا مال و متاع ہے۔ جنت کا بیان، اس کی نعمتیں، آخرت کا دنیا سے افضل ہونا، جس میں یہ ارشاد ہے کہ آخرت کو ترجیح دینا، اور آخرت کے لئے کام کرنا چاہئے۔ اہل جنت یعنی متقیوں کی صفات، تقویٰ پر مشتمل اعمال کا تفصیلی بیان۔ ان کی روشنی میں ہر شخص اپنا فیصلہ خود کرسکتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی؟ آل عمران
18 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا پختہ ترین ثبوت پیش کیا ہے، وہ ہے اللہ عزو جل کی اپنی گواہی اور اس کی مخلوق میں سے معزز ترین افراد یعنی فرشتوں اور علماء کی گواہی۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی یہ ہے کہ اس نے توحید پر دلائل و براہین قاطعہ قائم فرمائے ہیں۔ آفاق وانفس کے دلائل اس عظیم اصول پر قائم ہیں۔ اللہ کا جو بندہ بھی توحید کا علم لے کر کھڑا ہوا۔ اللہ نے ہمیشہ توحید کے منکروں اور مشرکوں کے خلاف اس کی مدد کی ہے۔ بندوں کو جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ مشکلات کو اس کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا۔ مخلوق کے تمام افراد عاجز ہیں جو نہ اپنے آپ کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان سے بچا سکتے ہیں، نہ کسی اور کے نفع نقصان پر اختیار رکھتے ہیں۔ یہ زبردست دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا واجب ہے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا باطل ہے۔ فرشتوں کی گواہی کا علم ہمیں اللہ کے بتانے سے اور اس کے رسولوں کے بتانے سے ہوا ہے۔ اہل علم کی گواہی اس لئے معتبر ہے کہ تمام دینی امور میں انہی سے رجوع کیا جاتا ہے۔ خصوصاً سب سے عظیم، سب سے زیادہ جلالت و شرف والے مسئلہ یعنی توحید کے مسئلہ میں۔ علماء کا اول سے آخر تک اس پر اتفاق ہے، انہوں نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی ہے اور توحید تک پہنچنے کے راستے بتائے ہیں۔ لہٰذا مخلوق پر واجب ہے کہ اتنی عظیم گواہیوں والے حکم کو تسلیم کریں اور اس پر عمل کریں۔ اس سے بھی یہ ثابت ہوا کہ سب سے زیادہ شرف والا کام توحید کو جاننا ہے۔ لہٰذا اس کی گواہی اللہ نے خود دی ہے اور اپنی مخلوق میں سے عظیم ترین افراد کو اس کا گواہ بنایا ہے۔ شہادت (گواہی) علم و یقین کی بنیاد ہی پر دی جاسکتی ہے، جو آنکھ سے مشاہدہ کے برابر ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص توحید کے معاملہ میں اس مقام تک نہیں پہنچتا وہ اہل علم میں شامل نہیں۔ اس آیت میں علم کے شرف و منزلت کے بہت سے دلائل ہیں۔ (١) اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں میں سے انبیاء کو منتخب کر کے اس عظیم ترین مسئلہ پر شہادت دینے کے لئے مقرر کیا۔ (٢) اللہ نے ان کی گواہی کو اپنی گواہی اور فرشتوں کی گواہی کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے۔ (٣) اللہ نے انہیں ” علم والے“ فرمایا۔ ان کی اضافت علم کی طرف کی۔ کیونکہ وہی اسے لے کر اٹھنے والے اور اس صفت سے متصف ہیں۔ (٤) اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں پر شاہد اور حجت قرار دیا اور جس چیز کی انہوں نے گواہی دی تھی، لوگوں کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ اس طرح وہ اس کا سبب بنے اور اس کے مطابق ہونے والے ہر عمل کا ثواب انہیں پہنچے گا۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے۔ (٥) اللہ تعالیٰ نے اہل علم کو گواہ بنایا ہے اس سے ان کا سچا اور قابل اعتماد ہونا ثابت ہوتا ہے اور یہ کہ اللہ نے انہیں جس چیز کا محافظ بنایا ہے، وہ اس معاملے میں دیانت دار ہیں۔ اپنی توحید کے اثبات کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا عدل ثابت فرمایا ہے۔ ارشاد ہے﴿ قَائِمًا بِالْقِسْطِ﴾ ” عدل کے ساتھ قائم“ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے افعال میں، اور بندوں کے معاملات کے فیصلے کرنے میں ازل سے انصاف کے ساتھ متصف ہے۔ امرو نہی میں بھی اس کا راستہ ” صراط مستقیم“ ہے خلق و تقدیر میں بھی اس کے بعد پھر توحید کی تاکید فرمائی اور فرمایا﴿  لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾” اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ “ بنیادی مسئلہ کہ اللہ کی توحید کو تسلیم کیا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے، اس کے اتنے زیادہ نقلی اور عقلی دلائل موجود ہیں کہ صاحب بصیرت حضرات کے ہاں یہ سورج سے بھی زیادہ واضح ہوگیا ہے۔ نقلی دلائل میں قرآن و حدیث کی وہ تمام نصوص شامل ہیں جن میں اس کا حکم دیا گیا ہے، اس کی تائید کی گئی ہے، اہل توحید سے محبت، اور منکرین توحید سے نفرت اور ان کی عقوبت مذکور ہے اور شرک و اہل شرک کی مذمت ہے۔ یہ سب توحید کے نقلی دلائل ہیں۔ قرآن تقریباً تمام ہی توحید کے دلائل پر مشتمل ہے۔ عقلی دلائل جنہیں غور و فکر کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے، قرآن نے ان کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ہے اور بہت سے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے۔ سب سے بڑی عقلی دلیل اللہ کی ربوبیت کا اعتراف ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اللہ ہی خالق، رازق، تمام معاملات میں مختار کل ہے۔ وہ لازماً اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ معبود بھی اللہ ہی ہے، اس کے سوا کسی کی عبادت درست نہیں۔ چونکہ یہ واضح ترین اور عظیم ترین دلیل ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کثرت کے ساتھ اس سے استدلال کیا ہے۔ صرف اللہ کے مستحق عبادت ہونے کی ایک اور عقلی دلیل یہ ہے کہ نعمتیں دینے والا مصیبتیں دور کرنے والا صرف وہی ہے۔ جس شخص کو یہ یقین ہے کہ ظاہری، باطنی، چھوٹی، بڑی، قلیل اور کثیر تمام نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں اور ہر مصیبت، سختی، تکلیف اور پریشانی کو صرف وہی دور کرسکتا ہے اور مخلوق میں سے کوئی فرد کسی کے لئے تو درکنار، اپنے لئے بھی حصول نعمت اور دفع مضرت کا مالک نہیں، اسے ضروریہ یقین ہوگا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرنا سب سے بڑا باطل ہے اور عبودیت اسی کا حق ہے جو اکیلا ہی نعمتیں دینے والا اور مصیبتیں ٹالنے والا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب پر اس دلیل کو بہت ہی زیادہ ذکر فرمایا ہے۔ ایک عقلی دلیل یہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمائی ہے کہ اللہ کے سوا جن معبودوں کی عبادت کی جاتی ہے وہ نہ نفع کے مالک ہیں نہ نقصان کے۔ وہ نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں نہ کسی اور کی۔ اور فرمایا ہے کہ وہ سماعت و بصارت سے محروم ہیں اور اگر فرض کرلیا جائے کہ سنتے ہیں تو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ ان کی دوسری صفات بھی انہیں انتہائی ناقص ثابت کرتی ہیں۔ ان کی یہ حقیقت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم صفات اور افعال جمیلہ کا ذکر فرمایا ہے اور قدرت وغلبہ وغیرہ صفات ذکر کی ہیں جو سمعی اور عقلی دلائل سے معلوم ہوتی ہیں جو اس چیز کو کما حقہ سمجھ لے گا (کہ غیر اللہ مجبور ہیں اور اللہ تعالیٰ عظیم صفات، قوت غلبہ وغیرہ کا حامل ہے) اسے معلوم ہوجائے گا کہ عبادت کے لائق صرف رب عظیم ہے، جسے ہر لحاظ سے کمال، ہر قسم کی عظمت، تمام تعریف، ہر ایک قدرت، اور تمام تر کبریائی حاصل ہے۔ وہ عبادت کے لائق نہیں جو پیدا کئے گئے ہیں، جن کے فصلے کوئی اور کرتا ہے، جو ناقص ہیں، بہرے اور گونگے ہیں اور عقل و فہم سے محروم ہیں۔ ایک اور عقلی دلیل، جو اللہ کے بندے زمانہ قدیم میں بھی اور زمانہ جدید میں بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں وہ اہل توحید کی عزت افزائی اور اہل شرک کی رسوائی اور عقوبت ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ نے توحید کو دین و دنیا کی ہر بھلائی کے حصول اور ہر سحر سے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے اور شرک و کفر کو تمام دینی و دنیاوی سزاؤں کا سبب قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب رسولوں کے واقعات بیان فرمائے جو انہیں اطاعت کرنے والوں اور نافرمانی کرنے والوں کے ساتھ پیش آئے، نافرمانوں کی سزائیں ذکر کیں، رسولوں اور ان کے پیروکاروں کی نجات کا ذکر فرمایا، تو ہر واقعہ کے بعد فرمایا ﴿  إِنَّ فِي ذٰلِكَ لَآيَةً ﴾(الشعراء :26؍8) ” بے شک اس میں نشانی ہے“ یعنی عبرت ہے جس سے لوگ نصیحت حاصل کرسکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ توحید ہی نجات کا باعث ہے اور اسے چھوڑنا تباہی کا باعث ہے۔ یہ بڑے بڑے عقلی اور نقلی دلائل ہیں جن سے یہ عظیم اصول ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اسے بار بار مختلف انداز سے بیان کیا ہے تاکہ حق واضح ہوجائے۔ پھر جو چاہے اسے قبول کر کے نجات پا لے اور جو چاہے انکار کر کے تباہی کا نشانہ بن جائے۔ وللہ الحمد آل عمران
19 جب یہ ثابت ہوگیا کہ معبود برحق صرف اللہ ہی ہے، تب یہ بتایا کہ کس طرح عبادت کرنا اور کس دین کو قبول کرنا ضروری ہے۔ وہ دین اسلام ہے ” اسلام“ کا مطلب ” سرتسلیم خم کرنا“ ہے، یعنی اللہ کی توحید اور اطاعت جس کی دعوت اس کے رسولوں نے دی، جس کی ترغیب اس کی کتابوں نے دی۔ اس کے سوا کوئی دین قبول نہیں، اس میں یہ بھی شامل ہے کہ محبت، خوف، امید، انابت اور دعا خالصتاً اس کے لئے ہو اور اس مقصد کیلئے اس کے رسول کی پیروی کی جائے۔ یہی تمام رسولوں کا دین ہے۔ جو ان کی پیروی کرے گا، وہ انکے راستے پر ہوگا۔ اہل کتاب کو ان کی کتابیں متحد ہو کر اللہ کے دین پر عمل کرنے کا حکم دیتی تھیں۔ انہوں نے ان کی کتابوں کے آنے کے بعد ظلم و زیادتی کرتے ہوئے آپس میں اختلاف کیا۔ ورنہ ان کے پاس اختلاف سے بچ کر حق کی راہ اختیار کرنے کا سب سے بڑا سبب موجود تھا۔ اسے پس پشت ڈال دینا ان کا کفر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّـهِ فَإِنَّ اللَّـهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾  ” اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے۔ اللہ اس کا جلد حساب لینے والا ہے“ پھر وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ بالخصوص جس نے حق کو پہچان کر ترک کیا، یہ سخت وعید اور عذاب الیم کا مستحق ہے۔ آل عمران
20 اس کے بعد اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ عیسائی اور دیگر جو لوگ اسلام پر دوسرے مذاہب کو فوقیت دیتے ہیں ان سے بحث کرتے ہوئے انہیں فرما دیں کہ ﴿ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّـهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ﴾” میں نے اور میرے تابع داروں نے اللہ کی اطاعت میں اپنا چہرہ مطیع کردیا“ یعنی میں نے اور میرے پیروکاروں نے اقرار کیا ہے، گواہی دی ہے اور اپنے مالک کے سامنے سر جھکا دیے ہیں۔ ہم نے اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب کو چھوڑ دیا ہے، ہمیں ان کے باطل ہونے پر یقین حاصل ہے۔ یہ کہہ کر آپ ان لوگوں کو مایوس کردیں جن کو تمہارے بارے میں کوئی ہے (کہ شاید اسلام چھوڑ کر ہمارا دین اختیار کرلیں) اور شبہات پیش آنے پر اس طرح تمہارے دین کی تجدید ہوجائے گی اور جو شبہات کا شکار ہے اس کے خلاف حجت قائم ہوجائے گی۔ کیونکہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اہل علم بندوں کو توحید کی دلیل اور گواہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ تاکہ وہ دوسروں کے خلاف حجت بن جائیں، اہل علم کے سردار، سب سے افضل اور سب سے بڑے عالم ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس کے بعد آپ کے متبعین درجہ بدرجہ عالم ہیں۔ انہیں وہ صحیح علم اور کامل عقل حاصل ہے کہ کسی اور کو ان کے برابر تو کیا، قریب تر بھی حاصل نہیں۔ جب اللہ کی توحید اور اس کے دین کی حقانیت واضح دلیلوں سے ثابت ہوچکی ہے، مخلوقات میں سے کامل ترین اور عالم ترین شخصیت نے انہیں مانا اور پیش کیا، تو اس سے یقین حاصل ہوگیا اور ہر شک و شبہ دور ہوگیا اور معلوم ہوگیا کہ اس کے سواہر مذہب باطل ہے۔ اس لئے فرمایا﴿ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ﴾” اہل کتاب سے (یعنی نصاریٰ اور یہود سے۔) اور ان پڑھ لوگوں سے (یعنی عرب و عجم کے مشرکین سے) کہہ دیجئے“﴿ أَأَسْلَمْتُمْ ۚ فَإِنْ أَسْلَمُوا﴾” کیا تم بھی اطاعت اختیار کرتے ہو پھر اگر یہ بھی تابع دار بن جائیں“۔ اور تمہاری طرح ایمان لے آئیں﴿  فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ﴾” تو وہ یقیناً ہدایت پانے والے ہیں۔“ جس طرح تم ہدایت یافتہ ہو۔ اس صورت میں وہ تمہارے بھائی بن جائیں گے۔ ان کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو تمہیں حاصل ہیں اور ان کے وہی فرائض ہوں گے، جو تمہارے ہیں ﴿وَّإِن تَوَلَّوْا﴾” اور اگر یہ روگردانی کریں“ اور اسلام قبول نہ کریں اور اسلام کے مخلاف مذاہب پر قائم رہیں۔﴿ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ ۗ ﴾” تو آپ پر صرف پہنچا دینا ہے“ آپ کو آپ کا رب ضرور اجر و ثواب دے گا۔ مخالف پر حجت قائم ہوچکی۔ اس کے بعد صرف یہی چیز باقی رہ گئی ہے کہ وہ انہیں ان کے جرم کی سزا دے۔ اس لئے فرمایا ﴿ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ﴾” اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے“ آل عمران
21 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کی خبر دی ہے، عظیم ترین جرائم کے مرتکب ہیں۔ اس سے بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی ان آیات کا انکار کیا جائے جو اس حق کا قطعی ثبوت پیش کرتی ہیں، جس کا انکار کرنے والا انتہائی درجے کے کفر و عناد میں مبتلا ہے۔ وہ اللہ کے نبیوں کو قتل کرتے ہیں جن کا حق اللہ کے حق کے بعد سب سے بڑا ہے، جن کی اطاعت کرنا، ان پر ایمان لانا، ان کا احترام کرنا اور ان کی مدد کرنا، اللہ نے فرض قرار دیا ہے۔ لیکن انہوں نے اس کے بالکل برعکس عمل کیا۔ وہ انصاف کا حکم دینے والوں کو بھی قتل کرتے ہیں۔ انصاف سے مراد نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے جو احسان اور خیر خواہی ہے ان لوگوں کی، جنہیں اچھی بات بتائی جاتی ہے یا بری بات سے منع کیا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے اس احسان اور خیر خواہی کا انتہائی برا جواب دیا کہ اپنے محسنوں کو شہید کردیا۔ ان شنیع جرائم کی وجہ سے وہ انتہائی سخت عذاب کے مستحق ہوگئے۔ یعنی ایسا شدید اور درد ناک عذاب جس کو پوری طرح بیان کرنا، اور اس کی شدت کا اندازہ کرنا ناممکن ہے۔ جس کی تکلیف بدنوں، دلوں اور روحوں کے لئے ہے۔ ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کی نیکیاں ضائع ہوگئیں۔ انہیں کوئی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، بلکہ اللہ کی دی ہوئی سزا میں کوئی ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتا۔ یہ لوگ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ انہیں ہر شر اور مصیبت حاصل ہوگی۔ یہ حالت یہود کی، اور ان جیسے دوسرے لوگوں کی ہے۔ اللہ ان کا برا کرے۔ یہ اللہ پر، نبیوں پر اور نیک لوگوں پر کتنے جری ہیں ! آل عمران
22 آل عمران
23 اللہ تعالیٰ اہل کتاب کی حالت بیان فرما رہا ہے جن پر انعام کرتے ہوئے اللہ نے انہیں اپنی کتاب دی۔ ان کا فرض تھا کہ سب سے زیادہ وہ اس پر قائم رہتے اور سب سے پہلے وہ اس کے احکام کو تسلیم کرتے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں بتا رہا ہے کہ انہیں جب کتاب کے فیصلے (کو قبول کرنے) کی طرف بلایا جاتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔ اپنے بدنوں کے ساتھ بھی منہ پھیرتے ہیں اور دلوں کے ساتھ بھی انکار کرتے ہیں۔ یہ انتہائی قابل مذمت رویہ ہے۔ اس میں ہمارے لئے تنبیہ ہے کہ ان جیسا کام نہ کریں، ورنہ ہم بھی اس مذمت کے مستحق ہوں گے اور ہمیں بھی ان جیسی سزا مل سکتی ہے۔ بلکہ جس کو اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جائے اس کا فرض ہے کہ سنے، اطاعت کرے، اور دل سے تسلیم کرے، جیسے اللہ نے فرمایا ﴿ إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّـهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۚ ﴾ (النور : 24؍ 51) ” مومنوں کو جب اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے، تو وہ صرف یہی کہتے ہیں : ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا“ اہل کتاب کو جو دھوکا لگا ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی نافرمانی کی جرأت کرتے ہیں، آل عمران
24 وہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ﴿لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ ۖ وَغَرَّهُمْ فِي دِينِهِم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ﴾” ہمیں تو آگ گنے چنے دن کے لئے ہی جلائے گی اور ان کی گھڑی ہوئی باتوں نے ان کو ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا۔“ انہوں نے اپنے پاس سے ایک بات بنا کر اس کو حقیقت سمجھ لیا اور اس پر عمل کرنے لگے اور گناہوں سے اجتناب نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے دلوں نے ان کو یہ دھوکا دے رکھا ہے کہ وہ جنت میں جائیں گے۔ ان کی یہ بات سرا سر جھوٹ اور کذب بیانی ہے۔ ان کا انجام تو بہت برا اور انتہائی اندوہناک ہونے والا ہے۔ آل عمران
25 اس لئے اللہ نے فرمایا : ﴿فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَاهُمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيهِ﴾” پس کیا حال ہوگا، جب ہم انہیں اس دن جمع کریں گے۔ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔“ ان کا حال اتنا برا ہوگا کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ وہ دن کمائی کا پورا پورا بدلہ ملنے کا دن ہے اور یہ بدلہ انصاف کے ساتھ ملے گا، جس میں ظلم بالکل شامل نہیں ہوگا اور یہ بات یقینی ہے کہ یہ نتیجہ اعمال کے مطابق ہوگا اور ان کے اعمال ایسے ہیں جو انہیں شدید ترین عذاب کا مستحق ثابت کرتے ہیں۔ آل عمران
26 اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ کہہ دیجیے﴿اللَّـهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ﴾” اے اللہ ! بادشاہی کے مالک“ یعنی تو بادشاہ ہے جو تمام ملکوں کا مالک ہے۔ بادشاہ کی صفت علی الاطلاق تیرے لئے ہے اور آسمان کی اور زمین کی تمام سلطنت تیری ہی ہے۔ اس میں تبدیلیاں لانا اور انتظام کرنا سب تیرے ہاتھ میں ہے۔ پھر چند تبدیلیاں ذکر کی ہیں جو اکیلے باری تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ فرمایا﴿ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ﴾” تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے“ اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایران کے کسریٰ بادشاہوں سے، اور روم کے قیصر بادشاہوں سے اور ان کے پیرو کاروں سے حکومت چھین کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے گا۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ واللہ الحمد۔ لہٰذا حکومت کا مل جانا یا چھن جانا اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے۔ یہ فرمان اللہ کی اس سنت کے خلاف نہیں جو اس نے کچھ تکوینی اور دینی اسباب قائم کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے حکومت باقی رہتی، ملتی اور ختم ہوجاتی ہے۔ یہ اسباب بھی اللہ کی مشیت کے تابع ہیں۔ کوئی سبب مستقل بالذات نہیں۔ بلکہ تمام اسباب قضاء، و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بادشاہی کے حصول کے جو اسباب مقرر کئے ہیں ان میں ایمان اور عمل صالح بھی ہیں۔ اس مقصد کے لئے چند ضروری اعمال صالحہ یہ ہیں : مسلمانوں کا اتفاق و اتحاد، جو آلات تیار کرنے اور حاصل کرنے ممکن ہوں، جمع کرنا، صبر و ثبات، باہمی تنازعات سے پرہیز۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ (النور :24؍55) ” تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا“ اللہ نے بتایا ہے کہ مذکورہ خلافت کے حصول کی شرط ایمان اور عمل صالح ہے اور فرمایا ﴿وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ﴾  (الانفال :8؍62-63) ” وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی اور ان کے دلوں میں محبت ڈال دی“ اور فرمایا ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّـهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ - وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ (الانفال :8؍45-46) ” اے مومنو ! جب تم کسی جماعت کا سامنا کرو تو ثابت قدم رہو، اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“ یعنی اللہ نے بتایا ہے کہ مومنوں کی باہمی محبت، ثابت قدمی اور اتفاق دشمنوں پر فتح کا باعث ہے۔ اگر آپ مسلمان ملکوں کے حالات پر غور کریں تو ان کی سلطنت ختم ہونے کا بڑا سبب دین سے دوری اور باہمی افتراق ہے جس سے دشمنوں کو حوصلہ ہوا اور ان کے درمیان لڑائی ڈال دی۔ پھر اللہ نے فرمایا: ﴿وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ﴾” تو جسے چاہے (اپنی اطاعت کی وجہ سے) عزت دے“ ﴿وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ﴾ ” اور جسے چاہے (معصیت کی وجہ سے) ذلت دے“ ﴿إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ ” بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔“ کوئی چیز تیرے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ سب کچھ تیری قدرت اور مشیت کے تحت ہے آل عمران
27 ﴿ تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ﴾” تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔“ جس کی وجہ سے موسم پیدا ہوتے ہیں، روشنی، دھوپ، سایہ، سکون اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔ جو اللہ کی قدرت، عظمت، حکمت اور رحمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔﴿ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ﴾” تو نکالتا ہے جان دار کو بے جان سے۔“ جیسے انڈے سے چوزہ، گٹھلی سے درخت، بیج سے کھیتی اور کافر سے مومن ﴿وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ﴾ ” اور نکالتا ہے بے جان کو جان دار سے۔“ جیسے پرندے سے انڈا، درخت سے گٹھلی، پودے سے دانہ اور مومن میں سے کافر۔ یہ اللہ کی قدرت کی سب سے بڑی دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام اشیا مسخر ہیں، ان کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا متضاد اشیا کو پیدا کرنا اور ایک چیز میں سے اس سے متضاد چیز پیدا کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ سب مجبور و لاچار ہیں۔ ﴿وَتَرْزُقُ مَن تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾” تو وہی جسے چاہتا ہے، بے حساب روزی دیتا ہے۔“ تو جسے چاہتا ہے وہاں سے وسیع رزق دے دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا، اور نہ اس نے کمائی کی ہوتی ہے۔ آل عمران
28 اللہ تعالیٰ مومنوں کو کافروں سے دوستی لگانے سے منع فرماتا ہے کہ ان سے محبت نہ رکھیں، ان کی مدد نہ کریں، مسلمانوں کے کسی کام میں ان سے مدد نہ لیں اور جو کوئی ایسی حرکت کرے اسے تنبیہ فرماتا ہے کہ ﴿وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّـهِ فِي شَيْءٍ﴾” جو ایسا کرے گا، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں“ یعنی وہ اللہ سے کٹ گیا ہے، اس کا اللہ کے دین میں کوئی حصہ نہیں۔ کیونکہ کافروں سے دوستی اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے۔ ایمان تو اللہ سے محبت اور اس کے دوستوں یعنی مومنوں سے تعاون کر کے اللہ کے دین کو قائم کرنے اور اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے﴿ وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ﴾(التوبہ :9؍71) ” مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی (مددگار، محبت رکھنے والے) ہیں۔“ جو شخص مومنوں کو چھوڑ کر ان کافروں سے دوستی لگاتا ہے جو اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اس کے اولیاء کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں، ایسا شخص مومنوں کی جماعت سے نکل جاتا ہے اور کافروں کی جماعت میں داخل ہوجاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا: ﴿وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ﴾(المائدہ :51؍5) ” تم میں سے جو کوئی ان سے محبت رکھے گا، وہ انہی میں سے ہوگا“ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے ساتھ میل جول رکھنے سے، ان سے دوستی لگانے سے ان کی طرف میلان رکھنے سے بچنا ضروی ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی کافر کو مسلمانوں کی حکومت کا کوئی عہدہ نہیں دیا جاسکتا۔ عام مسلمانوں کے فائدے کے کسی کام میں ان سے مدد نہیں لی جاسکتی۔﴿ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً﴾” مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح کا بچاؤ مقصود ہو۔“ یعنی اگر تمہیں ان سے جان کا خطرہ ہو تو اپنی جان بچانے کے لئے زبان سے تقیہ کرسکتے ہو، اور ظاہری طور پر ایسا کام کرسکتے ہو جس سے تقیہ ہوجاتا ہے۔ (١) ﴿وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّـهُ نَفْسَهُ﴾ ” اللہ تعالیٰ تمہیں خود اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے۔“ لہٰذا اس کی نارفمانی کر کے اس کی ناراضی مول نہ لو۔ ورنہ وہ تمہیں اس کی سزا دے گا۔ ﴿وَإِلَى اللَّـهِ الْمَصِيرُ ﴾ ” اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ یعنی قیامت کے دن سب بندے اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ پھر وہ تمہارے اعمال کو شمار کرے گا، ان پر محاسبہ کرے گا اور سزا و جزا دے گا۔ لہٰذا ایسے برے کام کرنے سے بچو جن کی وجہ سے تم عقوبت کے مستحق ہوجاؤ۔ بلکہ ایسے عمل کرو جن سے تمہیں اجر و ثواب ملے۔ پھر اللہ نے اپنے علم کی وسعت کے بارے میں فرمایا، وہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، بالخصوص جو کچھ دلوں میں ہے اسے بھی جانتا ہے۔ اس کی قدرت بھی کامل ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ دلوں کو پاک رکھنا چاہئے اور ہر وقت اللہ کے علم کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ اس کے نتیجے میں بندے کو اس بات سے شرم آئے گی۔ [ تحقیق شدہ نسخہ کے حاشیہ میں لکھا ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’المنھاج“ میں فرمایا ہے : اللہ کا یہ فرمان : ﴿إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً﴾ اس کے بارے میں حضرت مجاہد نے فرمایا ہے : (لامصانعۃ) ” ان کا ساتھ نہ دو“۔ تقیہ یہ نہیں ہوتا کہ میں جھوٹ بولوں، اور زبان سے وہ بات کہوں جو میرے دل میں نہیں، یہ تو منافقت ہے۔ بلکہ مجھے چاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق جو کچھ کرسکوں کروں۔ ارشاد نبوی ہے ” تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے، تو اسے ہاتھ سے تبدیل (اور ختم) کر دے اور اگر یہ طاقت نہ ہو، تو زبان سے (منع کرے)۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے (نفرت رکھے )۔“ لہٰذا مومن جب کافروں اور بدکاروں میں گھر جائے تو کمزور ہونے کی وجہ سے اس پر ہاتھ سے جہاد کرنا فرض نہیں۔ اگر زبان سے منع کرسکے تو ضرور کرے ورنہ دل سے نفرت رکھے۔ ان تمام درجات میں وہ جھوٹ نہیں بولے گا۔ زبان سے وہ بات نہیں کہے گا، جو اس کے دل میں نہیں۔ وہ یا تو اپنا دین ظاہر کرے گا، یا چھپائے گا۔ لیکن کسی بھی حال میں ان کے مذہب کی تائید نہیں کرے گا۔ زیادہ سے زیادہ مومن آل فرعون کا، یا زوجہ فرعون کا ساطرز عمل اختیار کرسکتا ہے۔ وہ مومن ان کے دین کی تائید نہیں کرتا تھا، نہ جھوٹ بولتا تھا، نہ زبان سے وہ بات کہتا تھا جو اس کے دل میں نہیں، بلکہ اپنے دین کو چھپائے ہوئے تھا۔ دین کو چھپانا اور چیز ہے اور باطل دین کا اظہار بالکل دوسری چیز ہے۔ اللہ نے اس چیز کی بالکل اجازت نہیں دی۔ صرف اسے اجازت دی ہے جسے کلمہ کفر کہنے پر زبردستی مجبور کردیا جائے۔۔۔“ الخ۔ (از محقق) ] کہ اس کا مالک اس کے دل کو گندے خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا دیکھے۔ بلکہ وہ اپنی سوچ کو ایسے امور میں مشغول کرے گا جن سے اللہ کا قرب حاصل ہو۔ مثلاً قرآن مجید کی کسی آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث پر غور و فکر، یا ایسے علم کو سمجھنے کی کوشش جس سے اسے فائدہ ہو، یا اللہ کی کسی مخلوق اور نعمت کے بارے میں سوچنا، یا اللہ کے بندوں کی بھلائی کے کسی کام کے بارے میں سوچ بچار۔ آل عمران
29 آل عمران
30 جب اللہ تعالیٰ اپنے علم اور قدرت کا ذکر فرماتا ہے، تو اس میں ضمناً اعمال کی جزا و سزا بھی شامل ہوتی ہے۔ جو قیامت کے دن واقع ہوگی۔ اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کی پوری جزا و سزا ملے گی۔ اس لئے فرمایا :﴿ يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا﴾” جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکیوں کو موجود پائے گا“ یعنی اس کی نیکیاں مکمل طور پر محفوظ ہوں گی۔ ان میں ذرہ برابر بھی کمی نہ آئے گی۔ جیسے ارشاد ہے :﴿ فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ﴾ (الزلزال :99؍7) ” پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا“ (خیر) ایک جامع لفظ ہے جس میں اللہ کے قریب کرنے والا ہر نیک عمل شامل ہے۔ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ جس طرح (سوء) ایک جامع لفظ ہے جس میں اللہ کو ناراض کرنے والا ہر چھوٹا بڑا برا عمل شامل ہے۔ ﴿وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدً ﴾” اور جو اس نے برائیاں کی ہوں گی، آرزو کرے گا، کاش اس کے اور ان (برائیوں) کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی“ وہ بے انتہا افسوس اور شدید ترین غم کی وجہ سے یہ آرزو کرے گا۔ بندے کو ان گناہوں سے بچنا اور ڈرنا چاہئے جن کے نتیجے میں اسے شدید ترین غم برداشت کرنا پڑے گا۔ اب ان گناہوں کو چھوڑنا ممکن ہے، اس لئے فوراً ترک کردینا چاہئے ورنہ اس وقت وہ کہے گا ﴿ يَا حَسْرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِي جَنبِ اللَّـهِ ﴾(الزمر :39؍56)” ہائے افسوس ! میں نے اللہ کی جناب میں کوتاہی کی !“ ﴿ يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوُا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ الْأَرْضُ ﴾(النساء:4؍42)” جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی اس دن تمنا کریں گے کاش ! زمین ان کو نگل کر برابر ہوجائے“﴿ وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا﴾ (الفرقان :25؍27-28) ” اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا، کاش ! میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ اختیار کی ہوتی ! ہائے افسوس ! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔“ ﴿حَتَّىٰ إِذَا جَاءَنَا قَالَ يَا لَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ ﴾(الزخرف :43؍ 38) ” یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا، کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی، تو تو بڑا برا ساتھی ہے۔“ قسم ہے اللہ کی ! ہر خواہش نفس کو اور لذت کو ترک کردینا۔ اگرچہ اس جہان میں اسے ترک کرنا نفس کو کتنا دشوار محسوس ہوتا ہے۔ ان عذابوں کو جھیلنے سے اور ان رسوائیوں کو برداشت کرنے سے بہت زیادہ آسان ہے۔ لیکن بندہ ظالم اور نادان ہونے کی وجہ سے صرف حاضرو موجود پر نظر رکھتا ہے۔ اگر اس کے پاس کامل عقل ہو تو ان اعمال کے انجام کو دیکھے، پھر وہ عمل کرے جس کا دونوں جہان میں فائدہ ہو۔ اور اس کام سے اجتناب کرے جو دونوں جہان میں نقصان کا باعث ہو۔ اس کے بعد اللہ نے ہم پر شفقت و رحمت کرتے ہوئے دوبارہ اپنی ذات سے ڈرایا ہے تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے دل سخت نہ ہوجائیں۔ تاکہ ترغیب بھی ہو، جس کے نتیجے میں امید اور عمل صالح حاصل ہو۔ اور ترہیب بھی ہو جس کے نتیجے میں خوف حاصل ہو اور گناہ چھوٹ جائیں۔ چنانچہ فرمایا :﴿وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّـهُ نَفْسَهُ ۗ وَاللَّـهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ ﴾” اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے“ ہم اس سے دعا کرتے ہیں کہ ہم پر احسان فرما کر ہمیشہ اپنے خوف سے نوازے رکھے، تاکہ ہم وہ کام نہ کریں جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔ آل عمران
31 اس آیت میں اللہ کی محبت کا وجوب، اس کی علامات، اس کا نتیجہ اور فوائد ذکر کئے گئے ہیں۔ چنانچہ فرمایا : ﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ﴾ ”کہہ دیجیے ! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو“ اگر تم اس اونچے مرتبے کا دعویٰ رکھتے ہو، جس سے بلند کوئی مرتبہ نہیں تو اس کے لئے صرف دعویٰ کافی نہیں، بلکہ یہ دعویٰ سچا ہونا چاہئے۔ اس کے سچا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہر حال میں ہو، اقوال میں بھی ہو اور افعال میں بھی، عقاید میں بھی ہو اور اعمال میں بھی، ظاہر میں بھی ہو اور باطن میں بھی۔ پس جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہے، اللہ کی محبت اس کے دعویٰ کی تصدیق کرتی ہے، اللہ اس سے محبت رکھتا ہے اور اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس پر رحمت فرماتا ہے، اسے تمام حرکات و سکنات میں راہ راست پر قائم رکھتا ہے۔ جس نے رسول کی اتباع نہ کی وہ اللہ سے محبت رکھنے والا نہیں۔ کیونکہ اللہ کی محبت کا تقاضا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے۔ جب اتباع موجود نہیں، تو یہ محبت نہ ہونے کی دلیل ہے۔ اس صورت میں اگر وہ رسول سے محبت رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا دعویٰ جھوٹا ہے اور اگر محبت موجود بھی ہو تو اس کی شرط (اتباع) کے بغیر ایسی محبت بے کار ہے۔ سب لوگوں کو اسی آیت کی ترازو پر تولنا چاہئے۔ جتنی کسی میں اتباع رسول ہوگی، اسی قدر اس میں ایمان اور اللہ کی محبت کا حصہ ہوگا اور جس طرح اتباع میں کمی ہوگی، اسی قدر ایمان اور اللہ کی محبت میں نقص ہوگا۔ آل عمران
32 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو سب سے جامع حکم صادر فرمایا ہے۔ وہ ہے اس کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت۔ اس میں ایمان اور توحید بھی شامل ہے اور اس کی شاخیں یعنی ظاہری اور باطنی اقوال و افعال بھی بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے پرہیز بھی شامل ہے۔ کیونکہ گناہ سے پرہیز اللہ کے حکم کی تعمیل ہے، یعنی اس کی اطاعت میں شامل ہے۔ لہٰذا اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرنے والے ہی کامیاب ہیں۔ (فَإِن تَوَلَّوْا) ” پس اگر یہ منہ پھیر لیں“ یعنی اللہ کی، اور اس کے رسول کی فرماں برداری سے اعراض کریں، تو دوسرا راستہ صرف کفر کا اور شیطان کی فرماں برداری کا ہے۔﴿كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَن تَوَلَّاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَىٰ عَذَابِ السَّعِيرِ﴾ (الحج :3؍22) ” اس کے بارے میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا، وہ اسے گمراہ ہی کرے گا اور جہنم کے عذاب میں لے جائے گا۔“ اس لئے فرمایا :﴿ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ﴾” پس اگر یہ منہ پھیر لیں تو بے شک اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا“ بلکہ ان سے ناراض ہے، اور سخت ترین سزا دے گا۔ اس آیت مبارکہ میں اتباع رسول کی وضاحت ہے کہ اس کا طریقہ اللہ کے احکامات اور رسول کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔ یہی حقیقی اتباع اور پیروی ہے۔ آل عمران
33 اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء، اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدم کا انتخاب فرمایا۔ انہیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کر کے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انہیں سجدہ کریں، انہیں جنت میں ٹھہرایا۔ انہیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے۔ اس لئے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا﴾ (بنی اسرائیل :17؍70) ” یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں، اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔ “ اللہ نے نوح علیہ السلام کو منتخب فرمایا اور انہیں اس وقت رسول بنا کر اہل زمین کی طرف بھیجا، جب بتوں کی پوجا شروع ہوگئی۔ آپ کو ہر وقت صبر، برداشت، شکر اور تبلیغ کی وہ توفیق بخشی جس کی وجہ سے وہ منتخب قرار دیے جانے کے لائق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کی دعا کے نتیجے میں زمین کے تمام باشندوں کو غرق کردیا۔ آپ کو، آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے سے نجات بخشی، آپ کی نسل کو قیامت تک باقی رکھا۔ ہر زمانے میں لوگ آپ کی تعریف کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کو منتخب فرمایا۔ جن میں خود ابراہیم علیہ السلام بھی شامل ہیں جن کو اللہ نے خاص طور پر اپنی خلت سے نواز کر خلیل الرحمٰن کے لقب سے مشرف فرمایا۔ جنہوں نے اپنی ذات کو آپ کے حوالے کردیا، بیٹے کو قربانی کے لئے پیش کردیا اور مال مہمانوں کی خدمت کے لئے وقف کردیا۔ آپ نے رات دن، چھپ چھپ کر اور علانیہ لوگوں کو رب کی طرف بلایا۔ اللہ نے آپ کو اسوہ (نمونہ) قرار دیا کہ بعد کے سب لوگ ان کی اتباع کریں۔ نبوت اور آسمانی کتابیں آپ کی اولاد کے لئے خاص کردیں۔ آل ابراہیم میں وہ تمام انبیاء شامل ہیں جو آپ کے بعد مبعوث ہوئے، کیونکہ وہ سب آپ کی نسل سے تھے۔ اللہ نے ان حضرات کو ایسے ایسے فضائل سے نوازا کہ وہ جہانوں میں افضل ترین افراد بن گئے۔ ابراہیم علیہ السلام ہی کی آل میں سے تمام اولاد آدم کے سردار، ہمارے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے۔ جن میں اللہ نے وہ تمام خوبیاں جمع فرما دیں جو دوسرے انبیاء کرام میں انفرادی طور پر موجود تھیں۔ چنانچہ آپ گزشتہ اور آئندہ تمام انسانوں سے بلند تر ہوئے۔ آپ رسولوں کے سردار ہوئے، جنہیں آل ابراہیم میں سے منتخب فرد (مصطفی) ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمران کی آل کو بھی منتخب قرار دیا۔ ﴿فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ﴾’’پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا“ یعنی انہیں نذر کے طور پر قبول فرمایا اور انہیں اور ان کی اولاد کو شیطان سے محفوظ فرمایا۔﴿ وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا﴾یعنی ان کی جسمانی اور اخلاقی تربیت بہت اچھی ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے زکریا کو متعین فرمایا۔ آل عمران
34 عمران حضرت مریم علیہا السلام کے والد ماجد کا نام ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام بھی عمران تھا۔ یہ گھرانے، جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، یہ جہان والوں سے اس کے منتخب افراد کے گھرانے تھے۔ ان کی اولادوں کے ذریعے سے اصلاح اور توفیق کا تسلسل قائم رہا۔ اس لئے اللہ نے فرمایا : ﴿ ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِن بَعْضٍ﴾” یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں“ ان میں باہمی مناسبت اور مشابہت تخلیق کے لحاظ سے بھی ہے اور اخلاق حسنہ کے لحاظ سے بھی۔ جس طرح اللہ نے ان خاندانوں کے دوسرے انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ ۖ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾(الانعام :6؍87) ” اور ان کے کچھ آباؤ و اجداد کو اور کچھ اولاد کو اور کچھ بھائیوں کو اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راست کی ہدایت کی“ ﴿وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ ” اور اللہ سنتا جانتا ہے“ یعنی کون اس قابل ہے کہ اسے چنا جائے اور کون نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے انہیں اس لئے منتخب فرمایا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ان میں ایسی خوبیاں موجود ہیں جو انہیں انتخاب کے قابل بناتی ہیں۔ یہ بھی اللہ کا فضل و کرم تھا۔ ان بلند مرتبت حضرات کے واقعات ہمیں سننے کا فائدہ اور حکمت یہ ہے کہ ہم ان سے محبت رکھیں، ان کی اقتدا کریں، اللہ سے سوال کریں کہ جس طرح ان کو توفیق دی تھی۔ ہمیں بھی ویسے نیک اعمال کی توفیق بخشے۔ ان کے پیچھے رہ جانے اور ویسی صفات سے متصف نہ ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو حقیر سمجھتے رہیں (یعنی اپنے اعمال پر فخر نہ کریں) علاوہ ازیں اس بیان میں ان پر مہربانی ہے، اولین و آخرین میں ان کی تعریف کا اظہار ہے اور ان کے شرف و عظمت کا اعلان ہے۔ اللہ کا جو دو کرم کتنا عظیم ہے، اگر کوئی اور شرف نہ بھی ہوتا تو ان کے لئے یہی شرف کافی تھا کہ ان کا ذکر اور ان کی خوبیوں کا بیان دوام پا گیا ہے۔ آل عمران
35 ان معزز گھرانوں کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کی تربیت اور نشو و نما میں کس طرح اللہ کا خاص لطف و کرم شامل تھا۔ چنانچہ ارشاد ہے : ﴿ إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ ﴾ ” جب عمران کی بیوی نے کہا“ یعنی مریم کی والدہ نے حمل قرار پا جانے پر فرمایا:﴿ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا ﴾” اے میرے رب ! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام پر آزاد کرنے کی نذر مانی“ یعنی تیری رضا کے حصول کے لئے میں نے تیرے گھر کی خدمت کے لئے آزاد کردیا۔﴿ فَتَقَبَّلْ مِنِّي﴾ ” پس تو میری طرف سے (یہ مبارک عمل) قبول فرما“﴿ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴾ یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے“ تو میری دعا سن رہا ہے اور میری نیت اور ارادے سے باخبر ہے، یہ دعا انہوں نے اس وقت کی تھی جب مریم ان کے پیٹ میں تھیں، ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ آل عمران
36 ﴿فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنثَىٰ﴾ ” جب بچی کو جنا تو کہنے لگی : پروردگار ! مجھے تو لڑکی ہوئی“ جب کہ انہیں شوق تھا کہ لڑکا پیدا ہو، جو اللہ کے گھر میں خدمت اچھے طریقے سے کرسکے۔ اس کلام سے گویا ایک قسم کی معذرت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ﴾ ” اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی“ اسے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسے تو اس وقت بھی علم تھا جب ان کی والدہ کو بھی علم نہیں تھا۔ ﴿وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنثَىٰ وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ﴾” اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں اور میں نے اس کا نام مریم رکھا“ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا لڑکی سے افضل ہے اور پیدائش کے وقت نام رکھنا جائز ہے اور ماں اپنے بچے کا نام رکھ سکتی ہے بشرطیکہ باپ کو یہ بات ناپسند نہ ہو۔ ﴿وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ ” او رمیں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں“ انہوں نے مریم اور مریم کی اولاد کے لئے دعا کی کہ انہیں اللہ تعالیٰ شیطان سے محفوظ رکھے۔ آل عمران
37 ﴿ وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ۖ﴾ ” اور ان کی خیر خبر لینے والا زکریا کو بنایا“ یہ اللہ کی مہربانی تھی کہ ان کی تربیت کامل ترین حال میں ہو۔ چنانچہ اللہ کی عبادت کرتے کرتے ان کی عمر بڑھی، اور دوسری عورتوں سے فائق ہوگئیں۔ وہ اپنے رب کی عبادت کے لئے وقف ہوگئیں اور اپنی محراب یعنی نماز کی جگہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگیں۔ ﴿كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا﴾ ” جب کبھی زکریا ان کے حجرے میں جاتے، تو ان کے پاس روزی رکھی ہوئے پاتے“ جس میں ان کی محنت و مشقت شامل نہیں تھی۔ بلکہ یہ رزق انہیں اللہ نے کرامت کے طور پر عطا فرمایا۔ زکریا علیہ السلام نے فرمایا ﴿أَنَّىٰ لَكِ هَـٰذَا﴾ ” یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی“﴿قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ  ۖ﴾” وہ جواب دیتیں، یہ اللہ کے پاس سے ہے“ یہ اس کا فضل و احسان ہے۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ ” بے شک اللہ جسے چاہے بے شماری روزی دے“ یعنی جہاں سے بندے کو گمان بھی نہ ہو اور بغیر محنت کھانے کا بندوبست فرما دے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا – وَ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبْ ﴾ (الطلاق :65؍ 2۔3) ” اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لئے خلاصی کی صورت بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔‘،علاوہ ازیں اس آیت سے اولیائے کرام کی خرق عادت کرامات کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ثابت ہیں۔ اس لئے جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا موقف درست نہیں۔ جب زکریا علیہ السلام نے مریم علیہا ا لسلام پر اللہ کا یہ احسان ملاحظہ فرمایا اور انہیں بغیر کوشش اور محنت کے، بہترین رزق ملنے کی کرامت دیکھی تو آپ کے دل میں بیٹے کی خواہش پیدا ہوگئی۔ آل عمران
38 زکریا علیہ السلام نے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انہیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے۔ یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔ آل عمران
39 جب آپ حجرے میں کھڑے اپنے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی ﴿ أَنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ ﴾” کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔“ ﴿وَسَيِّدًا ﴾ ” اور سردار“ یعنی اللہ آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لئے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ ﴿وَحَصُورًا﴾” اور ضابط نفس“ یعنی عورتوں سے تعلق نہیں رکھیں گے۔ رب کی خدمت و اطاعت میں مشغول ہونے کی وجہ سے آپ کے دل میں عورتوں کی خواہش پیدا نہیں ہوگی۔  ﴿وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ ﴾” اور نبی نیک لوگوں میں سے“ کتنی عظیم بشارت ہے۔ اس سے بڑی خوش خبری کیا ہوسکتی ہے۔ اس میں بیٹا ملنے کی خوش خبری بھی ہے اور اس کی کامل صفات والا ہونے کی بھی اور اس کے نبی ہونے کی بھی ! زکریا علیہ السلام انتہائی خوشی کی حالت میں پکار اٹھے۔ آل عمران
40 ﴿رَبِّ أَنّٰىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَقَدْ بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَامْرَأَتِي عَاقِرٌ ۖ﴾ ” اے میرے رب ! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔“ ان میں سے ایک سبب بھی ہوتا تو اولاد نہ ہوتی۔ اب تو دونوں جمع ہیں۔ اللہ نے بتایا کہ یہ پیدائش معجزانہ شان کی حامل ہے۔ اس لئے فرمایا : ﴿كَذٰلِكَ اللَّـهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ﴾ ” اسی طرح اللہ جو چاہے کرتا ہے“ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اولاد کی موجودگی کو اسباب مثلاً تو الدوتناسل کے ساتھ متعلق کردیا ہے اسی طرح اگر وہ بغیر اسباب کے اولاد دینا چاہے تو دے سکتا ہے کیونکہ اس کے لئے کوئی کام مشکل نہیں۔ آل عمران
41 زکریا علیہ السلام نے اس بشارت کے جلدی پورا ہونے کی امید میں اور مکمل اطمینان حاصل ہونے کی غرض سے فرمایا : ﴿رَبِّ اجْعَل لِّي آيَةً﴾ ” پروردگار ! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دے“ جو اس بچے کے وجود میں آجانے کی علامت ہو۔﴿قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا﴾” فرمایا : نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، مگر اشارے سے،یعنی آپ کی زبان بغیر کسی مرض یا آفت کے کلام سے رک جائے گی، آپ صرف اشارے سے بات کرسکیں گے۔ کلام نہ کرسکنا ایک عظیم علامت ہے۔ اس میں ایک عجیب مناسبت ہے یعنی جس طرح اسباب موجود ہوتے ہوئے اللہ ان کو کام کرنے سے روک سکتا ہے۔ اسی طرح اسباب کے بغیر پیدا کرسکتا ہے۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام اسباب اللہ کی قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنا شکر کرنے اور صبح شام کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا۔ حتیٰ کہ جب آپ حجرے سے باہر تشریف لائے ﴿فَأَوْحَىٰ إِلَيْهِمْ أَن سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا﴾(مریم :19؍ 11) ” تو لوگوں کو اشارے سے فرمایا کہ صبح شام اللہ کی تسبیح کرتے رہنا۔ “ آل عمران
42 اللہ عزوجل حضرت مریم علیہا السلام کا شرف اور بلند مقام ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فرشتوں نے انہیں براہ راست مخاطب کر کے فرمایا: ﴿يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ﴾ ” اے مریم ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کرلیا“ ﴿وَطَهَّرَكِ﴾” اور تجھے (ایسی خرابیوں سے) پاک کردیا“ جو تیری شان میں کمی کا باعث بن سکتی تھیں۔﴿وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ﴾” اور سارے جہان کی عورتوں میں تیرا انتخاب کرلیا“ پہلے (اصطفاء) ” انتخاب اور برگزیدہ کرنے“ کا تعلق آپ کی اچھی صفات اور نیک اعمال سے ہے اور دوسرے (اصطفاء) سے مراد جہان کی عورتوں سے افضل قرار دینا ہے۔ جہان سے مراد یا تو ان کے زمانے کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت ہے یا پروردگار کی تمام عورتوں سے افضل قرار دینا مقصود ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے چند خواتین یعنی جناب خدیجہ، جناب عائشہ اور جناب فاطمہ رضی اللہ عنهن کا اس شرف میں شریک ہونا مریم علیہا السلام کے اصطفاء کے منافی نہیں۔ جب فرشتوں نے آپ کو اللہ کی منتخب بندی ہونے اور پاک کرنے کی خوشخبری دی تو یہ ایک عظیم نعمت اور اللہ کا عظیم احسان تھا، جس کا شکر کرنا ضروری تھا۔ آل عمران
43 اس لئے فرشتوں نے کہا : ﴿يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ ﴾” اے مریم ! تو اپنے رب کی اطاعت کر“ قنوت سے مراد خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت پر مسلسل قائم رہنا ہے۔﴿ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ﴾ اور سجدہ کر، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔“ عبادت میں رکوع اور سجدہ کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا مقام دوسری عبادتوں سے افضل ہے اور ان سے اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔ مریم علیہا السلام نے اللہ کا شکر کرتے ہوئے اطاعت کے جذبہ سے اس حکم کی تعمیل کی جب اللہ نے اپنے نبی کو مریم علیہا السلام کے بارے میں یہ باتیں بتائیں کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق کن حالات سے گزریں، تو یہ غیبی معاملات تھے جن کا علم وحی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ آل عمران
44 اس لئے اللہ نے فرمایا : ﴿ذٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ﴾” یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔“ ﴿وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ﴾ ” اور آپ ان کے پاس نہ تھے، جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پا لے گا۔“ جب مریم علیہا السلام کی والدہ انہیں بیت المقدس کے ذمہ دار افراد کے پاس لے گئیں تو ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوئی کہ وہ مریم علیہا السلام کی دیکھ بھال کا شرف حاصل کرے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے انہوں نے قرعہ اندازی کی، وہ اس طرح کہ اپنے قلم دریا میں ڈال دیئے کہ جس کا قلم پانی کے ساتھ نہیں بہے گا، وہی مریم علیہا السلام کا سرپرست قرار پائے گا۔ یہ شرف حضرت زکریا علیہ السلام کو حاصل ہوا جو ان کے نبی اور معزز ترین فرد تھے۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو یہ واقعات بتاتے ہیں جن کے بارے میں نہ انہیں معلوم تھا، نہ ان کے آباؤ و اجداد کو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سچے ہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ آپ کی اطاعت قبول کریں اور آپ کے احکام کی تعمیل کریں۔ جیسے ارشاد ہے : وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ  (القصص :28؍44) ” اور طور کے مغربی جانب، جبکہ ہم نے موسیٰ کو احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو آپ موجود تھے، اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔ آل عمران
45 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰ ہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لئے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبرئیل کو مریم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے آپ کی قمیض کے گریبان میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے آپ کو روح اللہ (اللہ کی روح) کہا گیا۔ ﴿وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ﴾” جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے“ یعنی انہیں دنیا میں ایک معزز مقام حاصل ہے کہ آپ کو اللہ نے ان اولو العزم رسولوں میں شامل کیا، جو بڑی شریعتوں کے حامل تھے، اور انہیں کثیر تعداد میں متبعین نصیب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ شہرت بخشی جو مشرق اور مغرب میں پھیل گئی۔ وہ آخرت میں بھی اللہ کے ہاں، عزت والے ہوں گے۔ دوسرے انبیاء اور رسولوں کی طرح آپ بھی شفاعت کریں گے، جس سے آپ کا بلند مقام جہان والوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا۔ اس لئے وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہیں، اپنے رب سے انتہائی قریب ہیں۔ بلکہ آپ مقربین کے سرداروں میں سے ہیں۔ آل عمران
46 ﴿وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا﴾” اور وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا، اور ادھیڑ عمر میں بھی“ یہ عام بات چیت سے ممتاز کلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ایسی باتیں کرے گا جس میں ان کی بھلائی اور کامیابی ہے اور ایسا کلام رسولوں کا ہوتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ وہ رسول ہوگا جو لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلائے گا۔ گہوارے میں لوگوں سے کلام کرنا اللہ کی ایک عظیم نشانی ہوگی جس سے مومنوں کو فائدہ ہوگا اور وہ دشمنوں کے خلاف حجت ہوگی۔ جس سے ثابت ہوگا کہ وہ رب العالمین کے رسول اور اللہ کے بندے ہیں۔ یہ کلام آپ کی والدہ کے لئے بھی نعمت ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے سے ان پر لگنے والے الزام کی تردید ہوجائے گی۔ ﴿وَمِنَ الصَّالِحِينَ﴾” اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا“ یعنی اللہ اس پر یہ احسان بھی فرمائے گا کہ اسے نیکی عطا فرما کر نیک لوگوں میں شامل فرمائے گا۔ اس میں مریم کے لئے کئی بشارتیں ہیں اور مسیح کے بلند مقام کا اظہار بھی ہے آل عمران
47 ﴿ قَالَتْ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ﴾ ” کہنے لگیں : الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا“ اور اللہ کا عام قانون یہی ہے کہ مرد سے تعلق کئے بغیر اولاد نہیں ہوتی۔ یہ بات مریم نے تعجب کے طور پر فرمائی۔ اللہ کی قدرت پر شک کرتے ہوئے نہیں فرمائی۔ ﴿ قَالَ كَذٰلِكِ اللَّـهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ ﴾ ”فرشتے نے کہا : اسی طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔“ اس نے مریم کو بتایا کہ یہ خرق عادت معاملہ ہے۔ اسے پیدا کرنے والا وہ اللہ ہے جو کسی بھی کام کو کہتا ہے ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔ جو اس چیز پر یقین کرلے اس کا تعجب ختم ہوجائے گا۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے عجیب کے بعد زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ولادت کا ذکر فرمایا جن کے والد انتہائی بوڑھے اور والدہ بانجھ تھیں۔ پھر زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا کسی والد کے بغیر صرف والدہ سے پیدا ہونا۔ تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔ ہوتا وہی ہے جو وہ چاہے۔ جو کچھ وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا۔ آل عمران
48 اس کے بعد اللہ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے عظیم احسان کا ذکر فرمایا ﴿وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ ﴾ ” اللہ اسے کتاب یا کتابت کا علم دے گا“ اس لفظ سے کتاب کی جنس مراد ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل کا ذکر خصوص کے طور پر کیا گیا کیونکہ یہ دونوں کتابیں اشرف و افضل ہیں۔ ان میں وہ احکام و شرائع مذکور ہیں جن کے مطابق بنی اسرائیل کے انبیاء فیصلے فرماتے تھے۔ علم دینے میں الفاظ اور معانی دونوں کا علم شامل ہے۔ ممکن ہے کہ الکتاب سے کتابت (لکھنے کا علم) مراد ہو۔ کیونکہ تحریر کا علم اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ اسی لئے اللہ نے بندوں پر اپنا یہ احسان خاص طور پر ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انہیں قلم کے ذریعے سے علم دیا، چنانچہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت میں ارشاد ہے :﴿ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ﴾  (العلق :96؍ 1۔4) ” پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا‘،اور حکمت سے مراد اسرار شریعت کا علم اور ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کا علم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام پر یہ احسانات بیان فرمائے کہ انہیں لکھنا سکھایا، اور علم و حکمت سے نوازا۔ یہ انسان کی ذات سے تعلق رکھنے والا کمال ہے۔ پھر ایک اور کمال ذکر فرمایا جو آپ کو حاصل ہونے والے دوسرے فضائل سے بڑھ کر ہے۔ آل عمران
49 چنانچہ فرمایا : ﴿وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ ﴾” اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا“ اللہ نے آپ کو اس عظیم قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو اپنے زمانے کی افضل ترین قوم تھی۔ آپ نے انہیں اللہ کی طرف بلایا اور اللہ نے آپ کو وہ معجزات عطا فرمائے جن سے ثابت ہوجائے کہ وہ واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کے سچے نبی ہیں۔ اس لئے فرمایا :﴿أَنِّي قَدْ جِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ ﴾ ” کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں۔ میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔“ ﴿َأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّـهِ﴾” پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔“ یعنی اس میں اللہ کے حکم سے جان پڑجاتی ہے اور وہ اڑنے لگتا ہے۔ ﴿وَأُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ﴾ ” اور میں (اللہ کے حکم سے) مادر زاد اندھے اور ابرص کو اچھا کردیتا ہوں“ ﴿وَأُحْيِي الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۖ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ﴾ ” اور میں اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کردیتا ہوں اور جو کچھ تم کھاؤ، اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو، میں تمہیں بتا دیتا ہوں“ ﴿إِنَّ فِي ذٰلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾ ” اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان دار ہو“ اس سے بڑی نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ بے جان مٹی زندہ جانور بن جائے، ایسے بیمار تندرست ہوجائیں جن کا علاج کرنے سے تمام معالج عاجز تھے اور مردے زندہ ہوجائیں، اور غیبی امور کی خبریں دی جائیں۔ ان میں سے اگر کوئی نشانی اکیلی بھی ظاہر ہوتی تو بہت بڑا معجزہ ہوتی۔ تو پھر جب یہ سب نشانیاں ظاہر ہوں اور ایک دوسری کی تائید کریں تو یقیناً یقین حاصل ہوگا، اور ایمان لانا ضروری ہوگا آل عمران
50 ﴿وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ﴾ ” اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے“ یعنی وہ ویسی ہی تعلیمات لے کر آیا ہوں جیسی موسیٰ علیہ السلام لائے تھے اور جو تورات میں موجود تھیں۔ سچے آدمی کی علامت یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی باتیں دوسرے سچے افراد کے بیانات کے مطابق ہوں۔ وہ سچی خبریں دے اور انصاف کے مطابق فیصلہ کرے۔ اس کی باتوں میں تناقض اور اختلاف نہ ہو۔ جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ بالخصوص جو سب سے بڑا دعویٰ یعنی نبوت کا دعویٰ کرے۔ اگر اس کا دعویٰ جھوٹ ہے تو اس کا جھوٹ ہر کسی کے سامنے ظاہر ہو کر رہتا ہے۔ اس کی باتوں میں تناقض ہوتا ہے۔ اس کی باتیں سچے لوگوں کی باتوں کے خلاف اور جھوٹے لوگوں کی باتوں سے مشابہ ہوتی ہیں۔ گزشتہ اقوام میں یہی طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ کیونکہ نبوت کے دعویٰ میں سچے اور جھوٹے میں ہرگز اشتباہ نہیں ہوتا۔ البتہ بعض چھوٹے موٹے جزوی معاملات میں سچا اور جھوٹا ایک دوسرے سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ نبوت پر تو مخلوق کی ہدایت و ضلالت اور نجات و ہلاکت کا دار و مدار ہے۔ اس کا سچا دعویٰ کرنے والا کامل ترین انسان ہی ہوسکتا ہے اور اس کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا سب سے حقیر، سب سے بڑھ کر جھوٹا اور سب سے زیادہ ظالم ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ ان دونوں میں ایسے واضح فرق موجود ہوں جنہیں عقل رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام نے بتایا کہ انجیل کی شریعت میں آسانی اور نرمی ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ ۚ﴾” اور میں اس لئے آیا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نے تو رات کے اکثر احکام منسوخ نہیں کئے، بلکہ ان کی تکمیل کی ہے اور انہیں برقرار رکھا ہے۔ ﴿وَجِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ﴾” اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں“ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں سچا ہوں اور میری پیروی واجب ہے۔ اس سے مراد وہی معجزات ہیں، جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ﴿فَاتَّقُوا اللَّـهَ﴾ ” تم اللہ سے ڈرو“ اس کے احکام کی تعمیل کرو، اور اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے پرہیز کرو، اور میری اطاعت کرو۔ کیونکہ رسول کی اطاعت اصل میں اللہ کی اطاعت ہوتی ہے۔ آل عمران
51 ﴿إِنَّ اللَّـهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ﴾ ” یقین مانو، میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو۔“ توحید ربوبیت (یعنی اللہ کے خلاق ہونے) کا اقرار سب کو ہے۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام نے اس کو توحید الوہیت (یعنی صرف اللہ کے معبود برحق ہونے) کی دلیل بنایا۔ جسے مشرکین نہیں مانتے۔ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمارا خالق، رازق اور ہمیں تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں دینے والا صرف اللہ ہے، اسی طرح ہمیں یہ بھی ماننا چاہئے کہ ہمارا معبود صرف اللہ ہے جس سے ہم محبت رکھیں، اس سے ڈریں، اس سے امیدیں رکھیں، اس سے دعائیں کریں، اس سے مدد مانگیں اور عبادت کی دوسری تمام صورتیں بھی اس کے لئے مخصوص کردیں۔ اس سے نصاریٰ کی تردید ہوتی ہے۔ جو عیسیٰ علیہ السلام کو معبود مانتے ہیں۔ یا اللہ تعالیٰ کابیٹا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق، اللہ کے بندے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہیں۔ جیسے انہوں نے فرمایا تھا : ﴿إِنِّي عَبْدُ اللَّـهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا ﴾ (مریم :19؍30) ” میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا ہے۔“ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّـهِ ۖ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ ۚ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ  مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ﴾(المائدہ :5؍ 116۔117) ” اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تو نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں۔ مجھ کو کسی طرح زیبا نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے، اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے میں نے ان سے اور کچھ نہیں کہا، مگر صرف وہی جو تو نے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو، جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔“ ﴿هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ﴾ ” یہی سیدھی راہ ہے“ یعنی اللہ کی عبادت، اس کا تقویٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی سیدھی راہ ہے جو اللہ تک اور اس کی جنت تک پہنچاتی ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ جہنم کی طرف پہنچانے والا ہے۔ آل عمران
52 ﴿ فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ الْكُفْرَ ﴾” جب عیسیٰ نے ان کا کفر محسوس کرلیا“ دیکھا کہ وہ آپ کی اطاعت قبول کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ انہیں جادوگر کہتے ہیں۔ آپ کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی کوشش کر رہے ہیں﴿ قَالَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّـهِ﴾” تو کہنے لگے : اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟“ یعنی اللہ کے دین کی نفرت کے لئے میرے ساتھ کون تعاون کرے گا؟﴿ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّـهِ﴾” حواریوں (یعنی آپ کے مددگاروں) نے کہا ہم اللہ کی راہ کے مددگار ہیں“ یعنی انہوں نے آپ کا ساتھ دیا اور یہ فریضہ نبھایا۔ آل عمران
53 انہوں نے کہا : ﴿ آمَنَّا بِاللَّـهِ ﴾ ” ہم اللہ پر ایمان لائے“ ﴿فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ﴾” پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے“ یعنی ایسی گواہی جو مفید ہو، اس گواہی سے مراد اللہ کی توحید کا اقرار اور نبیوں کی تصدیق اور اس کے مطابق عمل۔ جب وہ دین کی نصرت کے لئے اور شریعت کو قائم کرنے کے لئے عیسیٰ کے ساتھ ہوگئے تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا۔ ان دونوں میں جنگ ہوئی تو اللہ نے مومنوں کی مدد کی اور مشرکوں کو شکست ہوئی اور اہل توحید کامیاب ہوگئے۔ آل عمران
54 اس لئے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿وَمَكَرُوا﴾ ” اور انہوں (کافروں) نے تدبیر کی“ یعنی اللہ کے نور کو بجھانے کے لئے اللہ کے نبی کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ﴿وَمَكَرَ اللَّـهُ﴾” اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی“ اور انہیں ان کے منصوبوں کی سزا دینے کا فیصلہ فرمایا۔ ﴿وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ﴾ ” اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے“ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنا دیا اور ورہ خائب و خاسر ہو کر رہ گئے۔ آل عمران
55 ﴿إِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾” جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف آسمانوں پر اٹھا لیا اور کسی اور شخص پر آپ کی مشابہت ڈال دی۔ جس آدمی کو آپ کا ہم شکل بنایا گیا تھا، دشمنوں نے اسے پکڑ کر صلیب پر چڑھایا اور قتل کردیا۔ اس طرح وہ ایک عظیم جرم کے مرتکب ہوئے کیونکہ ان کی نیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شہید کرنے کی تھی اور اپنے خیال میں وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ﴾ (النساء :4؍ 157) ” نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا، نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کے لئے وہی صورت بنا دی گئی تھی“ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مخلوق سے اوپر ہونا، اور عرش پر حقیقتاً مستوی ہونا ثابت ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن و حدیث کی نصوص سے ثابت ہوتا ہے جنہیں اہل سنت نے تسلیم کیا ہے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غالب، قوی اور زبردست ہے۔ جس کا ایک مظہر بنی اسرائیل کا عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلینے اور پروگرام بنا لینے اور اس میں کوئی ظاہری رکاوٹ نہ ہونے کے باوجود، اس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہنا ہے جیسے اللہ کا ارشاد ہے : ﴿وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ﴾ (المائدہ :5؍ 110) ” اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا، جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انہوں نے ہا تھا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔“ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ بنی اسرائیل کو شبہ میں رکھنے میں بھی اس کی عظیم حکمت پوشیدہ تھی۔ چنانچہ وہ شبہ میں پڑگئے جیسے ارشاد ہے: ﴿وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا﴾ (النساء :4؍107) ” یقین جانو، عیسیٰ کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں انہیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔ اتنا یقینی ہے کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا۔“ اس کے بعد فرمایا : ﴿وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾” اور تیرے تابع داروں کو کفاروں کے اوپر رکھنے والا ہوں، قیامت کے دن تک“ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کافروں کے خلاف ان کے مومنوں کی مدد فرمائی۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام سے نسبت رکھنے والے نصاریٰ یہودیوں پر ہمیشہ غالب رہے، کیونکہ یہود کی نسبت عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کی اتباع سے قریب تر تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تو مسلمان عیسیٰ علیہ السلام کے حقیقی متبع بنے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ البتہ کسی کسی زمانے میں عیسائی وغیرہ کافر مسلمانوں پر غالب آتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے اور یہ مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے پہلو تہی کرنے کی سزا ہے۔ ﴿ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ﴾ ” پھر تم سب کا (یعنی تمام مخلوقات) کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔“ ﴿فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ﴾ ” پس میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا۔“ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہی حق پر ہے اور دوسرے سب غلطی پر ہیں۔ یہ سب دعوے ہیں جنہیں دلیل کی ضرورت ہے۔ آل عمران
56 چنانچہ اللہ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ﴿ فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا ﴾” پھر جنہوں نے انکار کیا“ اللہ کے ساتھ کفر کیا، اس کی آیات کا اور رسولوں کا انکار کیا ﴿فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ﴾ ” پس میں انہیں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا“ دنیا کے عذاب سے مراد ظاہر نظر آنے والی مصیبتیں، سزائیں، قتل، ذلت وغیرہ ہیں اور آخرت کا عذاب سب سے بڑی آفت اور مصیبت ہے۔ یعنی جہنم کا عذاب، اللہ کی ناراضی، اور نیکی کے ثواب سے محرومی۔ ﴿وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ ﴾ ” اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا“ جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ وہ بھی جنہیں وہ اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کرنے والے سمجھتے ہیں، وہ بھی نہیں، جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر دوست بناتے ہیں، نہ ان کے رفیق نہ رشتے دار، نہ وہ خود اپنی کچھ مدد کرسکیں گے۔ آل عمران
57 ﴿وَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ ” لیکن جو لوگ ایمان لائے‘،اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، موت کے بعد کی زندگی پر اور ان سب امور پر ایمان لائے، جن پر ایمان لانے کا انہیں حکم دیا گیا ہے۔ ﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾” اور نیک اعمال کئے“ دل، زبان اور بدن سے ادا ہونے والے وہ اعمال جنہیں رسولوں نے مشروع اور مطلوب قرار دیا اور ان اعمال سے ان کا مقصد رب العالمین کو خش کرنا تھا۔ ﴿فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ﴾” پس انہیں وہ (اللہ تعالیٰ) ان کا پورا ثبوت دے گا۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں دنیا میں بھی نیکیوں کا ثواب ملے گا، یعنی عزت، احترام، مدد، پاکیزہ زندگی، البتہ مکمل ثواب قیامت کو ملے گا کہ اللہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا ثواب بھی دے گا اور اپنے فضل و کرم سے مزید انعامات بھی دے گا۔ ﴿وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ ﴾ ” اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا“ بلکہ ان سے ناراض ہے اور انہیں عذاب دیتا ہے ۔ آل عمران
58 ﴿ذٰلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ ﴾ ” یہ جسے ہم تیرے سامنے پڑھ رہے ہیں، آیتیں ہیں اور حکمت والی نصیحت ہے۔“ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ ان پر یہ حکمت والا قرآن نازل کیا جو محکم اور پختہ ہے۔ تمام احکام، حلال و حرام، گزشتہ انبیائے کرام کے واقعات اور ان کے ہاتھوں ظاہر ہونے والے واضح معجزات بیان کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن وہ تمام احکام و قصص بیان کرتا ہے جو ہمارے لئے مفید ہیں۔ ہمیں اس سے علم، عبرت، ثابت قدمی اور اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے جو رب کی عظیم ترین نعمت ہے۔ آل عمران
59 عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں جو درست نہیں، ان کے پاس اس کی کوئی قوی یا ضعیف دلیل بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ آپ کا کوئی والد نہیں، اس لئے وہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں اللہ کا بیٹا اور شریک تسلیم کیا جائے۔ یہ بات دلیل تو درکنار، شبہ بننے کے بھی قابل نہیں۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کو اس طرح پیدا کرنے سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی تخلیق و تدبیر کا مالک ہے اور تمام اسباب اس کی مشیت وارادہ کے تابع ہیں۔ چنانچہ اس سے ان کے قول کی تردید ہی ہوتی ہے تائید نہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کا کوئی فرد اللہ کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے شریک بننے کا مستحق نہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو بغیر باپ اور بغیر ماں کے پیدا کیا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ عیسائی آدم علیہ السلام کے بارے میں بھی وہی عقیدہ رکھیں جو عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں رکھتے ہیں۔ اگر مسیح علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کرنے کی وجہ سے اللہ کا بیٹا اور معبود قرار دیا جاسکتا ہے تو آدم علیہ السلام کے ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہونے کی وجہ سے ان کے معبود ہونے کا بالا ولیٰ دعویٰ کرنا چاہیے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا : ﴿ إِنََّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّـهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ﴾”یعنی ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا ہے حق اور اعلیٰ ترین سچائی ہے، کیونکہ یہ (رب) ” پالنے والے“ کی طرف سے ہے، آپ کے لئے اور آپ کی امت کے لئے خصوصی تربیت میں اس کے بیان کردہ یہ انبیاء کرام کے واقعات بھی ہیں۔   آل عمران
60 ﴿فَلَا تَكُن مِّنَ الْمُمْتَرِينَ﴾” پس آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں“ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ بتایا ہے اس میں شک نہ کیجئے گا۔ اس میں اور اس کے بعد والی آیت سے ایک اہم قاعدہ و قانون ثابت ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ عقیدہ یا عمل سے تعلق رکھنے والا جو مسئلہ دلائل سے ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف ہر قول کے بارے میں یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ باطل ہے۔ اس پر جو بھی شبہ وارد کیا جائے، وہ غلط ہے۔ خواہ بندہ اس کا جواب تلاش کرسکے یا نہ کرسکے۔ شبہ کا جواب نہ دے سکنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ یقینی بات قابل تنقید ہے، کیونکہ حق کے خلاف ہر بات باطل ہی ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ ﴾(یونس:10؍32)” حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں“ اس شرعی قاعدہ کی مدد سے انسان کے وہ بہت سے اشکال حل ہوجاتے ہیں جو اہل کلام اور اہل منطق کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔ اگر کوئی انسان ان کا جواب دے سکتا ہے تو وہ ایک زائد نیکی ہوگی۔ ورنہ اس کا اصل فرض یہی ہے کہ دلائل کے ساتھ حق کو واضح کرے اور اس کی طرف دعوت دے۔ آل عمران
61 آیات کا مطلب یہ ہے ﴿فَمَنْ حَاجَّكَ﴾ کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو شخص عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آپ سے بحث کرتا ہے اور انہیں ان کے اصل مقام سے بڑھاتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کا مقام عبودیت کے مقام سے بلند تر ہے۔ حالانکہ﴿مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ﴾ آپ کے پاس یقینی علم آچکا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور آپ نے ایسے شخص کے لئے دلائل کے ساتھ واضح کردیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندے ہیں تو ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ کی اتباع کرکے ایسے یقینی علم کو نہ ماننے والا عناد میں مبتلا ہے، لہٰذا اس سے بحث و مباحثہ کرنے میں نہ آپ کو کوئی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے، نہ اس کو۔ کیونکہ حق واضح ہوچکا ہے، لہٰذا اس کی بحث محض اللہ اور رسول کی مخالفت اور ضد کی بنا پر ہے۔ اس کا مقصد اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے چلنا ہے، حق کی اتباع نہیں۔ ایسے شخص کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اس سے مباہلہ اور ملاعنہ کریں۔ یعنی دونوں فریق اللہ کے سامنے عجز ونیاز کے ساتھ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے فریق پر اپنی لعنت اور عذاب نازل کرے۔ اس میں فریقین خود بھی اور ان کے سب سے پیارے افراد یعنی بیویاں اور اولاد وغیرہ بھی شریک ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی دعوت دی تو انہوں نے یہ چیلنج قبول کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر مباہلہ کیا تو انہیں فوری سزا ملے گی اور ان کے اہل و عیال ہلاک ہوجائیں گے۔ وہ اپنے دین پر قائم رہے حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ باطل ہے۔ یہ انتہائی درجے کا عناد اور فساد ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا : ﴿فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ﴾’’پھر بھی اگر قبول نہ کریں تو اللہ ہی صحیح طور پر فسادیوں کو جاننے والا ہے“ وہ انہیں سخت ترین سزا دے گا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا آل عمران
62 :﴿إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ ۚ﴾” یقیناً صرف یہی سچا بیان ہے“ یعنی جو کچھ اللہ نے بیان کیا ہے وہی حق ہے۔ اس کے خلاف ہر چیز باطل ہے۔﴿ وَمَا مِنْ إِلَـٰهٍ إِلَّا اللَّـهُ﴾اور کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے“ اس کے سوا کسی کی عبادت درست نہیں، کوئی اور ذرہ برابر عبادت کا بھی حق نہیں رکھتا۔ ﴿ وَإِنَّ اللَّـهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴾” بے شک اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے“ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے۔ وہ حکمت والا ہے جو ہر چیز کو صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ کافروں کے ذریعے سے مومنوں کی آزمائش میں بھی اس کی حکمت کاملہ موجود ہے۔ جن سے مومن قولی اور عملی طور پر جہاد اور قتال کرتے رہتے ہیں۔ آل عمران
63 آل عمران
64 اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ آپ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے کہہ دیجئے کہ ﴿ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ﴾” ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے“ یعنی ہم اس کی بنیاد پر متحد ہوجائیں، اس سے مراد وہ بات ہے جس پر تمام انبیاء و رسل کا اتفاق ہے، جس کی مخالفت سوائے گمراہ اور ضدی لوگوں کے کسی نے نہیں کی اور وہ بات فریقین میں سے کسی ایک کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ دونوں میں مشترک ہے۔ یہ اختلاف کے موقع پر انصاف والی بات ہے۔ پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّـهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا﴾ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک بنائیں“۔ اکیلے اللہ کی عبادت کریں۔ محبت، خوف اور امید کا تعلق صرف اسی سے رکھیں۔ اس کے ساتھ نہ کسی نبی کو شریک کریں نہ ولی کو، نہ صنم کو نہ وثن کو، نہ حیوان کو نہ جمادات کو﴿ وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ﴾’’اور نہ اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب بنائیں“ بلکہ صرف اللہ کی اور اس کے رسولوں کی اطاعت کریں۔ ہم کسی مخلوق کی بات مان کر خالق کی نافرمانی نہ کریں۔ کیونکہ یہ کام مخلوق کو خالق کا مقام دینے کے مترادف ہے۔ جب اہل کتاب یا دوسرے غیر مسلموں کو اس بات کی دعوت دی جائے اور وہ تسلیم کرلیں تو وہ دوسرے مسلمانوں کے برابرہوجائیں گے۔ ان کے حقوق و فرائض دوسرے مسلمانوں کے برابر ہوں گے۔ اگر وہ تسلیم نہ کریں تو ثابت ہوجائے گا کہ وہ اپنی خواہش نفس کے پیروکار اور معاند ہیں تو انہیں گواہ بنا کر کہہ دو کہ ہم تو مسلمان ہیں۔ اس کا فائدہ غالباً یہ ہے کہ جب تم انہیں یہ بات کہو گے اور حقیقی اہل علم تم ہی ہو، تو یہ بات ان پر مزید حجت قائم کر دے گی۔ علاوہ ازیں جب تم ایمان لا کر اسلام میں داخل ہوچکے ہو تو اللہ کو دوسروں کے غیر مسلم رہنے کی پرواہ نہیں، کیونکہ وہ پاک نہیں ہیں، بلکہ ان کی فطرت ناپاک ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا ۚ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍107) ”کہہ دیجئے ! تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان کے پاس تو جب بھی ان کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔“ علاوہ ازیں ایمان والے عقیدے پر شبہات وارد ہونے سے مومن پر یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کی تجدید کرے اور اپنے اسلام کا اعلان کرے اور اس طرح اپنے یقین کی خبر دے اور اپنے رب کی نعمت پر اس کا شکر ادا کرے۔ آل عمران
65 یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ ابراہیم علیہ السلام یہودی تھے اور عیسائی کہتے تھے کہ آپ عیسائی تھے۔ اس بارے میں وہ جھگڑتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بحث و جدال کا تین طریقوں سے جواب دیا ہے۔ اولاً: ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ان کا جھگڑا، ایسے معاملے میں ہے جس کے بارے میں انہیں علم حاصل نہیں، لہٰذا انہیں اس موضوع پر بحث ہی نہیں کرنی چاہیے جن سے ان کا تعلق ہی نہیں۔ تو رات و انجیل کے مسائل کے بارے میں تو انہوں نے بحث و مجادلہ کیا، خواہ ان کا موقف صحیح تھا یا غلط۔ لیکن ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بحث کرنے کا انہیں کوئی حق حاصل نہیں۔ ثانیاً: یہود تو رات کے احكام و مسائل کی طرف منسوب ہیں اور نصاریٰ کا تعلق انجیل کے احکام و مسائل سے ہے اور یہ دونوں کتابیں ابراہیم علیہ السلام کے دنیا سے چلے جانے کے بہت بعد نازل ہوئی ہیں۔ پھر وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کو اپنے ساتھ کیوں ملاتے ہیں حالانکہ وہ ان سے بہت پہلے تھے۔ کیا یہ معقول بات ہے؟ اس لئے فرمایا : ﴿ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾” کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے“ یعنی اگر تم خود اپنی بات کو سمجھ سکتے ہوتے تو یہ بات نہ کہتے۔ ثالثاً: اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل علیہ السلام کا یہود، نصاریٰ اور مشرکین سے کوئی بھی تعلق ہونے سے انکار فرمایا ہے، انہیں خالص مسلمان قرار دیا ہے۔ آپ سے تعلق ان کا ہے جو آپ پر ایمان لا کر آپ کی امت بنے، ان کے بعد ابراہیم علیہ السلام سے تعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا، اور آپ پر ایمان رکھنے والوں کا ہے۔ یہی اصل میں آپ کے متبع ہیں، لہٰذا دوسروں کی نسبت ان ہی کا تعلق ابراہیم علیہ السلام سے ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی ان کا مددگار اور موید ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کے دین کو پس پشت ڈال دیا، جیسے یہود، نصاریٰ اور مشرکین، ان کا ابراہیم علیہ السلام سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ابراہیم علیہ السلام کا ان سے کوئی تعلق ہے۔ انہیں اس خالی نسبت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان آیات میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ بغیرعلم کے بحث کرنا منع ہے۔ جو ایسی بات کرتا ہے، اسے اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان میں علم تاریخ حاصل کرنے کی ترغیب بھی ہے۔ اس کے ذریعے سے بہت سے غلط اقوال اور غلط عقائد کی تردید کی جاسکتی ہے، جو تاریخ کے معلوم واقعات کے مخالف ہوں۔ آل عمران
66 آل عمران
67 آل عمران
68 آل عمران
69 اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمہیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے ﴿وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا﴾(البقرۃ:2؍ 109)” اہل کتاب کے اکثر لوگ تمہیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں“ اور جسے کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے وہ اسے حاصل کرنے کے لئے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتا ہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لئے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا: ﴿ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ ﴾ ” دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں“ مومنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش خود ان کی گمراہی اور عذاب میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ﴾(النحل:16؍ 88)” جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، ہم ان کے عذاب میں عذاب کا اضافہ کردیں گے، کیونکہ وہ فساد کرتے تھے“ ﴿وَمَا يَشْعُرُونَ﴾’’اور سمجھتے نہیں“ انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی کوشش خود انہی کو نقصان پہنچا رہی ہے، اور وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ رہے۔ آل عمران
70 ﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ﴾” اے اہل کتاب ! تم باوجود قائل ہونے کے پھر بھی اللہ کی آیات سے کیوں کفر کررہے ہو؟“ یعنی تمہیں اللہ کی آیات کا انکار کرنے پر کون سی چیز مجبور کرتی ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ جس مذہب پر تم کار بند ہو، وہ باطل ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے، خود تمہیں بھی اس میں شک نہیں بلکہ تم اس کی گواہی دیتے ہو اور بعض اوقات ایک دوسرے کو خفیہ طور پر یہ بات بتا بھی دیتے ہو۔ اس طرح اللہ نے انہیں اس گمراہی سے روکا ہے۔ پھر دوسروں کو گمراہ کرنے پر انہیں زجرو تو بیخ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے : آل عمران
71 ﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾” اے اہل کتاب ! باوجود جاننے کے حق و باطل کو کیوں خلط ملط کرتے ہو؟ اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟“ اللہ نے انہیں حق و باطل کو خلط ملط کرنے اور حق کو چھپانے پر تو بیخ کی ہے۔ کیونکہ ان دو طریقوں سے وہ اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جب علماء حق و باطل میں امتیاز نہ کریں، بلکہ معاملہ مبہم رہنے دیں اور جس کو ظاہر کرنا ان کا فرض ہے، اسے چھپالیں، تو اس کا نتیجہ بہت برا نکلے گا کہ حق چھپ جائے گا اور باطل عام ہوجائے گا اور جو عوام حق کے متلاشی ہوں گے، انہیں ہدایت نہیں ملے گی، حالانکہ اہل علم سے تو یہ مطلوب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق ظاہر کریں۔ اس کا اعلان کریں، حق کو باطل سے اور پاک کو ناپاک سے الگ کرکے واضح کردیں۔ حلال و حرام اور صحیح و غلط عقائد کو الگ الگ کردیں، تاکہ ہدایت یافتہ لوگ ہدایت پر قائم رہیں اور گمراہ حق کی طرف پلٹ آئیں اور عناد کی وجہ سے انکار کرنے والوں پر اتمام حجت ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ﴾ (آل عمران:3؍ 187)” جب اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ لیا جنہیں کتاب دی گئی تھی کہ اسے لوگوں کے لئے بیان کریں گے اور چھپائیں گے نہیں، تو انہوں نے اس وعدے کو پس پشت ڈال دیا۔‘‘ آل عمران
72 اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس خبیث جماعت کے ارادوں اور مومنوں کے خلاف سازش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿وَقَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمِنُوا بِالَّذِي أُنزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا آخِرَهُ ﴾ ” اور اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا : جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیا ہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ“ یعنی صبح کے وقت مکر اور دھوکا کرتے ہوئے ایمان کا اظہار کرو۔ اور جب شام ہو تو اسلام سے نکل جاؤ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ ’’تاکہ یہ لوگ بھی (اپنے دین سے) پلٹ جائیں۔“ پس وہ سوچیں گے اگر یہ دین صحیح ہوتا تو اہل کتاب جو اہل علم ہیں وہ اس سے نہ نکلتے۔ انہوں نے یہ چاہا، اپنے آپ کو اچھا سمجھتے اور یہ گمان کرتے ہوئے کہ لوگ ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے ان کے ہر قول و عمل میں ان کی پیروی کریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کرکے رہے گا خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو آل عمران
73 ﴿وَ﴾” اور“ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا۔﴿ لَا تُؤْمِنُوا إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ﴾” سوائے تمہارے دین پر چلنے والوں کے اور کسی کا یقین نہ کرو“۔ یعنی تم صرف اپنے ہم مذہب افراد پر اعتماد کرنا، دوسروں سے اس بات کو چھپا کر رکھنا۔ اگر تم نے دوسرے مذہب والوں کو بتا دیا تو جو علم تمہیں حاصل ہے انہیں بھی حاصل ہوجائے گا تو وہ تمہارے جیسے ہوجائیں گے یا قیامت کے دن تم سے بحث کریں گے اور رب کے پاس تمہارے خلاف گواہی دیں گے کہ تم پر حجت قائم ہوچکی تھی اور تمہیں ہدایت معلوم ہوچکی تھی، لیکن تم نے اس کی اتباع نہیں کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم مومنوں کو نہیں بتائیں گے تو انہیں اس سازش کا بالکل علم نہیں ہوسکے گا کیونکہ ان کے خیال میں علم صرف انہی کے پاس ہوسکتا ہے جس سے ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿إِنَّ الْهُدَىٰ هُدَى اللَّـهِ﴾” بے شک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے“ لہٰذا ہر ہدایت یافتہ کو ہدایت اللہ ہی سے ملتی ہے۔ علم میں یا تو حق کو جاننا شامل ہے یا اسے اختیار کرنا۔ علم صرف وہی ہے جو اللہ کے رسول لائے ہیں اور توفیق صرف اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ اہل کتاب کو علم بہت کم ملا ہے اور توفیق سے وہ بالکل محروم ہیں کیونکہ ان کی نیتیں اور ارادے غلط ہیں۔ اس کے برعکس اس امت کو اللہ کی ہدایت کی وجہ سے علوم و معارف بھی حاصل ہوئے ہیں اور ان پر عمل کی توفیق بھی۔ اس وجہ سے وہ دوسروں سے افضل ہوگئے، لہٰذا وہی رہنما قرار پائے جو اللہ کے حکم کے مطابق ہدایت و رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ امت پر اللہ کا عظیم فضل و احسان ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا :﴿ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّـهِ ﴾کہہ دیجئے، فضل تو اللہ ہی کی ہاتھ میں ہے”وہی اپنے بندوں پر ہر قسم کا احسان فرماتا ہے۔ “﴿ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ﴾”وہ جسے چاہے اسے دے“ جو اس کے اسباب اختیار کرے گا، اللہ اس کو اپنا فضل دے گا،﴿ وَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾” اور اللہ وسعت والاعلم والا ہے“ اس کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔ وہ جانتا ہے کون احسان کے قابل ہے، اسے وہ عطا فرماتا ہے اور کون اس کا مستحق نہیں، چنانچہ اسے محروم رکھتا ہے آل عمران
74 ﴿يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ﴾” وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کرلے“ یعنی اس کی وہ مطلق رحمت جو دنیا میں ہوتی ہے اور آخرت سے متصل ہے۔ اس سے مراد دین کی نعمت اور اس کی تکمیل کرنے والی چیزیں ہیں۔ ﴿ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ﴾اور اللہ بڑے فضل والا ہے“ اس کے فضل کی وسعت بیان نہیں کی جاسکتی، بلکہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آسکتا۔ اس کا فضل و احسان وہاں تک پہنچتا ہے جہاں تک اس کا علم پہنچتا ہے۔ اے ہمارے رب ! تیری رحمت اور تیرا علم ہر شے کو محیط ہے۔ آل عمران
75 اللہ تعالیٰ اہل کتاب کے بارے میں بیان فرما رہا ہے کہ مالوں میں ان کی دیانت اور بددیانتی کا کیا حال ہے۔ جب دین کے بارے میں ان کی خیانت، مکر اور حق کو چھپانے کا ذکر فرمایا تو اس کے بعد بتایا کہ ان میں سے خائن بھی ہیں اور دیانت دار بھی۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ ﴿مَنْ إِن تَأْمَنْهُ بِقِنطَارٍ﴾ ’’تو اگر انہیں خزانے کا (یعنی بہت زیادہ مال کا) امین بنا دے“ ﴿يُؤَدِّهِ﴾ ” تو بھی وہ واپس کردیں“ اور اس سے کم تر تو بالا ولیٰ واپس کریں گے اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ ﴿مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لَّا يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ﴾ ’’اگر تو انہیں ایک دینار بھی امانت دے تو تجھے ادا نہ کریں“ اور بڑی رقم ادا کرنے سے تو بالاولیٰ انکار کریں گے۔ انہیں خیانت اور بے وفائی کی عادت اس لئے ہوئی کہ ان کے خیال کے مطابق﴿لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ ﴾ ’’ان پر جاہلوں کے حق میں کوئی گناہ نہیں“۔ یعنی اگر وہ (اُمِّیِین) ان پڑھ عربوں کے مال واپس نہ کریں تو انہیں گناہ نہیں ہوگا۔ وہ اپنی فاسد رائے کی بناء پر انہیں انتہائی حقیر سمجھتے ہیں اور خود کو انتہائی عظمت والے تصور کرتے ہیں، حالانکہ اصل میں حقیر اور ذلیل وہ خود ہیں۔ پس انہوں نے (اُمِّیِین) کے مال کی حرمت کو نہ سمجھا اور اسے انہوں نے اپنے لئے جائز قرار دے لیا۔ اس طرح وہ دو گناہوں کے مرتکب ہوئے۔ حرام کھانا اور حرام خوری کو حلال سمجھنا۔ یہ عقیدہ اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ جو عالم حرام اشیاء کو حلال کہتا ہے، وہ گویا لوگوں کو اللہ کا حکم سناتا ہے، اپنی بات نہیں سناتا، جبکہ اللہ کا یہ حکم نہیں اور اسی کو جھوٹ کہتے ہیں۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا: ﴿ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ ” یہ لوگ باوجود جاننے کے اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں“ یہ گناہ بغیرجانے بوجھے اللہ کے بارے میں باتیں بنانے سے بھی بڑا گناہ ہے۔ پھر اللہ نے ان کے غلط خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا آل عمران
76 ﴿بَلَىٰ﴾ یعنی حقیقت وہ نہیں جو تم کہہ رہے ہو کہ تمہیں جاہلوں کے حق کا مواخذہ نہیں ہوگا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تمہیں اس جرم کا سخت گناہ ہوگا۔ ﴿ مَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ وَاتَّقَىٰ ﴾’’جو شخص اپنا قرار پورا کرے۔ اور پرہیز گاری کرے“۔ اس عہد و قرار میں وہ وعدہ بھی شامل ہے جو بندے اور رب کے درمیان ہے۔ اس میں اللہ کے وہ تمام حق شامل ہیں جو اس نے بندے پر واجب کئے ہیں اور وہ وعدہ بھی شامل ہے جو بندے کا دوسرے بندوں سے ہوتا ہے۔ اس مقام پر عہدو پیمان سے مراد ان گناہوں سے بچنا ہے جو حقوق اللہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سے بھی جو حقوق العباد سے متعلق ہیں۔ جو شخص ان سب گناہوں سے بچتا ہے وہ متقی ہے جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے خواہ وہ (اُمِّیِین) (عرب ان پڑھ لوگوں) میں سے ہو یا دوسروں میں سے ہو اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہمیں جاہلوں کے حق کا کوئی گناہ نہیں، اس نے اللہ کا وعدہ پورا نہیں کیا اور اللہ سے نہیں ڈرا۔ لہٰذا اسے اللہ کی محبت حاصل نہیں ہوئی، بلکہ اللہ اس سے بغض رکھتا ہے۔ اگر ان پڑھ ایفائے عہد، تقویٰ اور مالی خیانت سے پرہیز سے متصف ہوں گے تو وہی اللہ کے پیارے ہوں گے، وہی متقی کہلائیں گے جن کے لئے جنت تیار کی گئی ہے۔ وہ اللہ کی مخلوق میں افضل مقام پر فائز ہوں گے لیکن جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں جاہلوں کی حق تلفی کرنے سے گناہ نہیں ہوتا وہ اللہ کے اس قول میں داخل ہوتے ہیں : آل عمران
77 ﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّـهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾” بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں“۔ اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جو اللہ کی یا بندوں کی حق تلفی کرکے اس کے عوض دنیا کی کوئی چیزلیتا ہے۔ اسی طرح جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ناجائز طور پر لے لیتا ہے وہ بھی اس آیت میں شامل ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں ارشاد ہے: ﴿ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ﴾ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں“ یعنی وہاں انہیں کوئی بھلائی اور خیر حاصل نہیں ہوگی۔ ﴿ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّـهُ﴾” اور اللہ ان سے بات نہیں کرے گا‘،یعنی قیامت کے دن ان سے ناراض ہوگا اس لئے ان سے کلام نہیں کرے گا۔ کیونکہ انہوں نے خواہش نفس کو رب کی رضا سے مقدم سمجھا ہے۔﴿ وَلَا يُزَكِّيهِمْ﴾” اور نہ انہیں پاک کرے گا“ اللہ تعالیٰ انہیں گناہوں سے پاک نہیں کرے گا، ان کے عیب زائل نہیں کرے گا۔ ﴿ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴾” اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے“ جس سے دلوں کو بھی تکلیف ہوگی اور بدنوں کو بھی۔ وہ ہے ناراضی کا عذاب، دیدار الٰہی سے محرومی کا عذاب، اور جہنم کا عذاب۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ آل عمران
78 اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبان مروڑتا ہے اور اسے اس کے اصل معانی سے ہٹا دیتا ہے۔ اس میں لفظی تحریف بھی شامل ہے اور معنوی تحریف بھی۔ کتاب سے اصل مطلوب یہ ہے کہ اس کے الفاظ کو یاد کیا جائے، ان میں تبدیلی نہ کی جائے اس کے مفہوم کو سمجھا اور سمجھایا جائے۔ انہوں نے صورت حال برعکس کردی اور وہ بات سمجھائی جو کتاب سے مراد نہیں۔ خواہ اشارتاً ایسا کیا ہو یا صراحتاً۔ اشارتاً کا ذکر ان الفاظ میں ہے﴿ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ﴾؟’’تاکہ تم اسے کتاب میں سے خیال کرو‘،یعنی وہ اپنی زبانوں کو مروڑ کر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ کی کتاب سے یہی مسئلہ مراد ہے۔ حالانکہ حقیقت میں وہ مراد نہیں ہوتا۔ صراحتاً کا ذکر ان الفاظ میں ہے۔ ﴿وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ ﴾” اور یہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ دراصل وہ اللہ کی طرف سے نہیں وہ دانستہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں“۔ یہ علم کے بغیر اللہ کے ذمے کوئی بات لگانے سے بڑا جرم ہے۔ یہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ اس طرح دو طرح کا جرم کرتے ہیں۔ صحیح مفہوم کی نفی کرتے ہیں اور غلط مفہوم کا اثبات کرتے ہیں اور جو لفظ حق معنی پر دلالت کرتا ہے اس سے باطل معنی مراد لیتے ہیں، حالانکہ وہ حقیقت سے باخبر ہوتے ہیں۔ آل عمران
79 اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اہل کتاب کو ایمان لانے اور اطاعت کرنے کی تبلیغ کی تو انہوں نے کہا : ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ آپ کی بھی عبادت کیا کریں؟“ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ فرمایا : ﴿مَا كَانَ لِبَشَرٍ﴾” کسی انسان کو یہ لائق نہیں“ یعنی جس انسان پر اللہ تعالیٰ یہ احسان کرے کہ اس پر کتاب نازل کرے، اسے علم سکھائے اور مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجے ایسے انسان کے لئے ناممکن اور محال ہے کہ ﴿يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللَّـهِ﴾” وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ“۔ ایسی بات کا کسی نبی کی زبان سے ادا ہونا سب سے بڑی محال چیز ہے، کیونکہ یہ مطالبہ اتنا قبیح ہے کہ اس سے قبیح کوئی اور حکم نہیں ہوسکتا اور انبیائے کرام کو کمال کا وہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ کمال کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا۔ وہ حکم بھی ایسے کاموں کا دیتے ہیں جو ان کے حالات سے مناسبت رکھتے ہیں۔ وہ اعلیٰ کاموں کا حکم دیتے ہیں اور برے کاموں سے منع کرنے میں بھی کوئی ان سے بڑھ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے فرمایا: ﴿وَلَـٰكِن كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ ﴾یعنی وہ تو یہی حکم دیں گے کہ لوگ ربانی بن جائیں۔ ربانی کا مطلب یہ ہے کہ وہ عالم ہوں، دانا ہوں، حلم اور بردباری سے موصوف ہوں، لوگوں کو تعلیم دیں اور ان کی تربیت کریں، پہلے علم کے چھوٹے (اور آسان) مسئلے بتائیں۔ پھر بڑے (اور پیچیدہ) مسائل سمجھائیں، خود بھی عمل کریں، چنانچہ وہ علم و عمل کا حکم دیتے ہیں، جس پر سعادت کا دارومدار ہے، جس میں کوئی چیز چھوٹ جائے تو نقص و خلل پیدا ہوجاتا ہے۔﴿بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ﴾ میں ” با“ سبیہ ہے۔ یعنی تم ربانی بن جاؤ اس سبب سے کہ تم دوسروں کو تعلیم دیتے ہو۔ اس میں یہ بات بھی آجاتی ہے کہ تم خود اہل علم ہو۔ تم اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت پڑھتے ہو۔ اس کے پڑھنے پڑھانے سے علم پختہ ہوتا ہے اور باقی رہتا ہے۔ آل عمران
80 ﴿وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُوا الْمَلَائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْبَابًاۗ ﴾’’اور یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ تمہیں فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لینے کا حکم دے“ یہ تخصیص کے بعد تعمیم ہے۔ یعنی وہ تمہیں نہ اپنی ذات کی عبادت کا حکم دے گا نہ کسی بھی دوسری مخلوق کی عبادت کا حکم دے گا خواہ وہ فرشتے ہوں یا انبیاء یا کوئی اور ﴿ أَيَأْمُرُكُم بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴾” کیا وہ تمہارے مسلمان ہونے کے بعد پھر کفر کا حکم دے گا؟“ یہ نہیں ہوسکتا۔ جس کو نبوت کا شرف حاصل ہو، اس سے کسی ایسی بات کا تصور بھی محال ہے۔ جو شخص کسی نبی کی طرف اس قسم کی کوئی بات منسوب کرتا ہے۔ وہ بہت بڑے گناہ کا بلکہ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ آل عمران
81 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اس نے نبیوں سے پختہ عہد و پیمان لیا، کیونکہ انہیں کتاب دی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور حکمت دی ہے جو حق و باطل کے درمیان اور ہدایت و گمراہی کے درمیان فرق کرنے والی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی رسول بھیجے جو ان کے پاس آنے والی وحی اور کتاب کو سچامانے۔ تو تمام نبیوں کو چاہیے کہ اس پر ایمان لائیں۔ اس کی تصدیق کریں اور اپنی امتوں کو بھی اس پر ایمان و تصدیق کا حکم دیں۔ چنانچہ اللہ نے تمام انبیاء علیہ السلام پر واجب کیا ہے کہ ایک دوسرے پر ایمان لائیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کریں، کیونکہ ان کے پاس جو بھی احکام آئے ہیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ اور اللہ کی طرف سے آنے والی ہر چیز پر ایمان لانا اور اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ وہ سب ایک اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں، لہٰذا تمام انبیائے کرام پر واجب ہے کہ جس نبی کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ملے، وہ آپ پر ایمان لائے۔ آپ کی پیروی کرے اور آپ کی مدد کرے۔ کیونکہ آپ ان کے امام، پیشوا اور متبوع ہیں۔ یہ آیت کریمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند مرتبے اور عظمت شان کی سب سے بڑی دلیل ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل اور ان کے سردار ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام سے اقرار لیا ﴿قَالُوا أَقْرَرْنَا﴾” تو سب نے کہا : ہمیں اقرار ہے“ اور اے اللہ ! ہم تیرا حکم قبول کرتے اور اسے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں۔ ﴿قَالَ فَاشْهَدُوا ﴾اللہ نے انہیں فرمایا : اپنی ذات کی طرف سے بھی اور اپنی امتوں کی طرف سے بھی گواہ رہو ﴿ وَأَنَا مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ﴾ ”اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں“ آل عمران
82 ﴿ فَمَن تَوَلَّىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ﴾” پس اس (پختہ وعدے اور عہد) کے بعد بھی (جس پر اللہ اور اس کے رسولوں کی گواہی ہے) جو پلٹ جائیں“﴿ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ تو وہ یقیناً پورے نافرمان ہیں“ لہٰذا جو شخص بھی یہ دعویٰ رکھتا ہے کہ وہ انبیائے کرام کا پیروکار ہے۔ یہودی ہو یا عیسائی یا کوئی اور اگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لایا تو وہ اس پختہ عہد کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ اس عہد شکنی کی سزا کے طور پر جہنم میں ہمیشہ رہنے کا مستحق ہوگیا ہے کیونکہ وہ نافرمان ہے۔ آل عمران
83 یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کے خواہش مند اور طالب ہیں؟ یہ خواہش نہ درست ہے نہ مناسب، اس لئے کہ اللہ کے دین سے بہتر کوئی دین نہیں﴿ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا﴾” حالانکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔ خوشی سے ہوں یا نا خوشی سے“ یعنی تمام مخلوق اس کی محکوم ہے۔ ان میں سے بعض نے اپنی خوشی سے اللہ کی اطاعت قبول کرلی ہے، وہ مومن ہیں جو خوشی سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کچھ مجبور اً اللہ کے فرماں بردار ہیں۔ اس میں باقی تمام مخلوقات شامل ہیں۔ حتیٰ کہ کافر بھی اللہ کی قضاء وقدر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نکل نہیں سکتے۔ تمام مخلوق اسی کے پاس واپس جائے گی،وہ ان کے درمیان فیصلے کرے گا اور انہیں جزا و سزا دے گا۔ اور تمام معاملہ،اس کے فضل کا مظہر ہوگا یا اس کے عدل کا۔ آل عمران
84 اس مفہوم کی آیت سورۃ بقرہ میں گزر چکی ہے۔ آل عمران
85 اللہ نے بندوں کے لیے دین اسلام پسند کیا ہے۔ جو شخص اللہ کے اس پسندیدہ دین کے علاوہ کسی اور دین پر چلے گا،اس کا عمل نا قابل قبول ہوگا۔ کیونکہ دین اسلام میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت قبول کرنا اور رسولوں کی فرماں برداری کرنا شامل ہے۔ جب تک یہ کام نہ کرے، اس وقت تک اس نے اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا اور اللہ کے ثواب کا باعث بننے والا عمل نہیں کیا۔ اور اسلام کے سواہر مذہب باطل ہے۔ آل عمران
86 یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے،جنہوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور زماہی کو اختیار کرلیا۔ ﴿وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ آل عمران
87 آل عمران
88 ” اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا“ انہوں نے ظلم کیا اور حق کو پہچان کر اسے ترک کیا۔ اور ظلم اور سر کشی کرتے ہوئے اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے باطل کو اختیار لیا،حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ باطل ہے،تو انہیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ہدایت کی امید اس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جس نے حق کو نہ پہچانا ہو،لیکن اسے حق کی تلاش ہو۔ ایسے شخص کے لیے ممکن ہے کہ اللہ اس کے لیے ہدایت کے اسباب میسر فرما دے،اور گمراہی کے اسباب سے بچا لے۔ پھر ان ظالموں اور ضدی لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿أُولَـٰئِكَ جَزَاؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ﴾ ’’ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے عذاب کو ہلکا کیا جائے گا، نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔“ یعنی ان کا عذب نہ تو لحظہ بھر کے لیے ختم کیا جائے گا،نہ لحظہ بھر کے لیے ہلکا کیا جائے گا۔ نہ انہیں مہلت دی جائے گی، کیونکہ مہلت کا زمانہ ختم ہوگیا اور اللہ نے ان کا عذر ختم کردیا۔ یعنی اتنی عمر دے دی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو ظاہر ہوجاتی۔ اب انہیں اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے، جس سے انہیں منع کیا گیا تھا۔ آل عمران
89 اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے، ہدایت کو چھوڑے رکھے، ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ انہیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے﴿وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام:6؍110)” اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے“ اور فرمایا : ﴿فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ ۚ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ﴾(الصف:61؍5) ” جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے“ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے، حالانکہ اس پر حجت قائم ہوچکی ہو،اور اللہ نے اس کے لیے دلائل و براہین کو واضح کردیا ہو۔ کیونکہ اس نے خود رب کی رحمت کے اسباب کو منقطع کرنے کی کوشش کی،اور اپنے لیے توبہ کا دروازہ خود ہی بند کرلیا،لہٰذا گمراہی ایسے ہی لوگوں میں محصور ہوگئی ہے آل عمران
90 ۔ اللہ نے فرمایا : ﴿وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الضَّالُّونَ﴾ ” یہی لوگ گمراہ ہیں“ اس سے بڑی گمراہی کیا ہوسکتی ہے کہ انسان آنکھوں سے دیکھ کر سیدھی راہ کو ترک کر دے۔ آل عمران
91 یہ کافر اگر موت تک اپنے کفر پر قائم رہیں تو ان کے لیے ہلاکت اور ابدی بد نصیبی یقینی ہے،انہیں کسی چیز سے فائدہ نہیں ہوگا۔ ایسا شخص اگر زمین بھر سونا فدیہ دے کر اللہ کے عتاب سے بچنا چاہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ ہمیشہ درد ناک عذاب میں پڑا رہے گا۔ نہ کوئی اس کی سفارش کرے گا،نہ مدد۔ نہ کوئی اس کی فریاد سنے گا،نہ کوئی اللہ کے عذاب سے بچا سکے گا۔ یہ لوگ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ ان کے لیے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اللہ ہمیں ان کے حال سے محفوظ رکھے۔ آل عمران
92 اس میں اللہ کی طرف سے بندوں کو ترغیب ہے کہ وہ نیکی کے کاموں میں خرچ کریں، چنانچہ فرمایا : ﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ ﴾” تم ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے“ یعنی تم کبھی ’’بر“ حاصل نہیں کرسکو گے۔” بر“ میں ہر قسم کے نیکی اور ثواب کے کام شامل ہیں جو کرنے والے کو جنت میں پہنچاتے ہیں۔﴿حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ ” جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمہیں عزیز ہیں (اللہ کی راہ میں) صرف نہ کرو گے۔“ یعنی جب تم مال کی محبت پر اللہ کی محبت کو ترجیح دیتے ہوئے اللہ کی رضامندی کے کاموں میں مال خرچ کرو گے تو اس سے ثابت ہوگا کہ تمہارا ایمان سچا ہے اور تمہارے دلوں میں نیکی اور تقویٰ موجود ہے۔ اس میں عمدہ اشیاء خرچ کرنا بھی شامل ہے اور خود ضرورت مند ہوتے ہوئے ضرورت کی چیز اللہ کی راہ میں دے دینا بھی اور صحت کی حالت میں خرچ کرنا بھی۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بندے کی نیکی کا معیار دل پسند اشیاء اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ جس قدر یہ خوبی کم ہوگی اتنا ہی اس کے نیک ہونے میں نقص ہوگا۔ چونکہ بندوں کو ہر انداز سے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے، کم ہو یا زیادہ، دل پسند چیز ہو یا نہ ہو اور ﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ ﴾ سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ جس چیز سے دلی محبت نہ ہو اسے خرچ کرنے پر ثواب نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو دور کرنے کے لئے فرمایا : ﴿َمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّـهَ بِهِ عَلِيمٌ﴾ ”اور جو کچھ تم خرچ کرو، اللہ اسے بخوبی جانتا ہے۔“ اللہ تمہیں تنگی میں نہیں ڈالتا، بلکہ تمہاری نیت اور چیز کے فائدے کے مطابق تمہیں اس کا ثواب دے دیتا ہے۔ آل عمران
93 یہ یہودیوں کے اس زعم باطل کی تردید ہے کہ احکام کا منسوخ ہونا جائز نہیں۔ اس لئے انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کیا، کیونکہ ان دونوں حضرات نے حلال و حرام کے بعض ایسے مسائل بیان فرمائے جو تورات کے احکام کے خلاف تھے۔ بحث میں انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف خود ان کی مسلمہ کتاب تورات سے دلیل پیش کی گئی ہے کہ کھانے کی تمام چیزیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں۔ ﴿اِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ﴾” سوائے اس کے جس چیز کو اسرائیل یعنی یعقوب نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا“ یہ چیزیں اللہ نے حرام نہیں کی تھیں، آپ کو عرق النساء کی بیماری ہوگئی تو آپ نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے شفاء عطا فرمائی تو وہ سب سے پسندیدہ غذا اپنے آپ پر حرام کرلیں گے۔ اللہ نے شفا دے دی تو مشہور قول کے مطابق انہوں نے اونٹ کا گوشت اور اونٹنی کا دودھ اپنے آپ پر حرام کرلیا۔ آپ کی اولاد نے بھی (آپ کے احترام میں) اس سے اجتناب کیا، یہ واقعہ تورات کے نزول سے بہت پہلے کا ہے۔ پھر تورات میں یعقوب کی حرام کردہ اشیاء کے علاوہ بعض دوسری حلال اور پاک اشیاء کی حرمت کا حکم نازل ہوا۔ جیسے اللہ نے فرمایا : ﴿ فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ﴾ (النساء :4؍160) ” یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر کئی پاک چیزیں حرام کردیں جو ان کے لئے حلال تھیں“ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ اگر یہودی اس حقیقت کا انکار کریں تو تورات پیش کرنے کا حکم دیجیے۔ لیکن وہ اس کے بعد بھی ظلم و عناد کی روش پر قائم رہے۔ آل عمران
94 اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ فَمَنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ مِن بَعْدِ ذٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾” اس کے بعد بھی جو لوگ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھیں، وہی ظالم ہیں“ اس سے بڑا ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ ایک آدمی کو اللہ کی کتاب کی روشنی میں فیصلہ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے اور وہ عناد، تکبر اور سرکشی کی بنا پر اس سے انکار کردیتا ہے۔ یہ بہت بڑی دلیل ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت حق ہے۔ آپ کی اور آپ کو خبریں دینے والے کی سچائی پر طرح طرح کی واضح دلیلیں موجود ہیں، جس (اللہ) نے آپ کو وہ خبریں دیں، جن کا علم آپ کو اللہ کے بتائے بغیر نہیں ہوسکتا۔ آل عمران
95 اس لئے فرمایا : ﴿ قُلْ صَدَقَ اللَّـهُ﴾” کہہ دیجیے اللہ سچا ہے“ ان خبروں میں بھی جو اس نے بتائی ہیں اور ان احکام میں بھی جو اس نے نازل کئے ہیں۔ اللہ کی طرف سے رسول کو اور اس کے رسول کے متبعین کو حکم ہے کہ زبان سے بھی کہیں ” اللہ سچا ہے“ اور ان یقینی دلائل کی بنیاد پر دل میں بھی یہ عقیدہ رکھیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کو سمعی اور عقلی تفصیلی دلائل کا علم زیادہ ہوتا ہے، اس کا اللہ کے سچا ہونے پر زیادہ یقین ہوتا ہے۔ پھر حکم دیا کہ اپنے جد امجد حضرت ابراہیم کے طریقے کیپ یروی کرتے ہوئے توحید اختیار کریں اور شرک سے اجتناب کریں۔ کیونکہ سعادت و خوش نصیبی کا دار و مدار توحید کو اختیار کرنے اور شرک سے پرہیز کرنے پر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہودی وغیرہ جو ابراہیم کے طریقے پر نہیں، وہ مشرک ہیں موحد نہیں۔ جب ابراہیم کے اس طریقے کی پیروی کا حکم دیا گیا کہ توحید اختیار کریں اور شرک سے بچیں، تو اس کے بعد یہ حکم دیا گیا کہ ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرتے ہوئے بیت اللہ کا بھی احترام کریں یعنی حج اور عمرہ وغیرہ ادا کریں۔ آل عمران
96 اللہ تعالیٰ کعبہ شریف کا شرف بیان فرما رہا ہے کہ یہ پہلا گھر ہے جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لئے اس مقصد کے لئے مقرر کیا ہے کہ وہ اس میں اپنے رب کی عبادت کریں اور ان کے گناہ معاف ہوں اور انہیں وہ نیکیاں حاصل ہوں جن کی وجہ سے انہیں رب کی رضا حاصل ہو، اور وہ ثواب حاصل کر کے اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اس لئے فرمایا : ﴿مُبَارَكًا ﴾ ” برکت والا ہے“ اس میں بہت سی برکتیں اور دینی و دنیوی فوائد موجود ہیں۔ جیسے دوسرے مقام ﴿ِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۖ﴾(الحج :28؍22) ” تاکہ وہ اپنے فائدے حاصل کرنے کو آجائیں اور ان مقررہ دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام یاد کریں جو اس نے انہیں دیئے ہیں“ ﴿وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ﴾ ” اور ہدایت ہے جہان والوں کے لئے“ ہدایت کی دو قسمیں ہیں : علمی ہدایت اور عملی ہدایت۔ عملی ہدایت تو ظاہر ہے کہ اللہ نے ایسی عبادتیں مقرر کی ہیں جو اس مقدس گھر کے ساتھ مخصوص ہیں۔ علمی ہدایت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے حق کا علم حاصل ہوتا ہے کیونکہ اس میں واضح نشانیاں موجود ہیں۔ آل عمران
97 اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ ﴾ ” اس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں“ یعنی مختلف علوم الٰہی اور بلند مطالب پر واضح دلائل اور قطعی براہین موجود ہیں۔ مثلاً اللہ کی توحید کے دلائل، اس کی رحمت، حکمت، عظمت، جلالت، اس کے کامل علم اور بے حد و حساب جو دوسخا کے دلائل، اور انبیاء و اولیاء پر ہونے والے اللہ کے احسانات کی نشانیاں۔ ان نشانیوں میں سے ایک ﴿مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ﴾ ” مقام ابراہیم“ بھی ہے۔ اس سے وہ پتھر بھی مراد ہوسکتا ہے جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم کعبہ کی عمارت بناتے رہے تھے۔ پہلے یہ کعبہ کی دیوار سے متصل تھا۔ حضرت عمر رضی الہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اسے موجودہ مقام پر منتقل کیا۔ اس پتھر میں نشان سے مراد ایک قول کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشان ہیں کہ سخت چٹان میں نشان پڑگئے جو امت محمدیہ کے ابتدائی زمانے تک باقی رہے۔ یہ ایک خرق عادت معجزہ ہے۔ دوسرے قول کے مطابق نشان سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت، شرف اور احترام کے جذبات رکھ دیئے ہیں۔ ’’مقام ابراہیم“ کی دوسری تشریح یہ ہوسکتی ہے کہ یہ لفظ مفرد ہے جسے ابراہیم کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ اس لئے اس سے مراد وہ تمام مقامات ہیں جن سے آپ کا تعلق ہے یعنی وہ تمام مقامات جہاں حج کے مناسک ادا ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے حج کے تمام مناسک بھی ” آیات بینات“ میں شامل ہیں۔ مثلاً طواف، سعی اور ان کے مقامات، عرفہ اور مزدلفہ میں ٹھہرنا، رمی کرنا اور دوسرے شعائر۔ اس میں نشانی یہ ہے کہ اللہ نے لوگوں کے دلوں میں ان کی عظمت و احترام نقش کردیا ہے۔ لوگ یہاں تک پہنچنے کے لئے مال و دولت خرچ کرتے اور ہرقسم کی مشقت برداشت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں عجیب و غریب اسرار اور اعلیٰ معنویات پوشیدہ ہیں۔ اس کے افعال میں حکمتیں اور مصلحتیں ہیں کہ مخلوق ان میں سے تھوڑی سی حکمتیں شمار کرنے سے بھی عاجز ہے۔ اس کی کھلی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں داخل ہونے والے کو اللہ تعالیٰ امن عطا فرماتا ہے اور اسے شرعی حکم بھی قرار دے دیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے پیغمبر ابراہیم علیہ السلام نے، پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے احترام کا حکم دیا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ جو اس میں داخل ہوجائے، اسے امن حاصل ہوجاتا ہے۔ اسے وہاں سے نکالا نہیں جاسکتا۔ یہ حرمت حرم کے شکار، درختوں اور نباتات کو بھی حاصل ہے۔ اس آیت سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی شخص حدود حرم سے باہر کوئی جرم کرلے، پھر حرم میں آجائے تو اسے بھی امن حاصل ہوگا۔ جب تک وہ اس سے باہر نہیں آتا اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی۔ اللہ کے قضا و قدر کے فیصلے کے مطابق اس مقام کے امن ہونے کی وضاحت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دلوں میں، حتیٰ کہ مشرکوں اور کافروں کے دلوں میں بھی اس کا احترام ڈال دیا۔ مشرکین عرب انتہائی لڑاکا طبیعت والے، غیرت والے اور کسی کا طعنہ برداشت نہ کرنے والے تھے۔ اس کے باوجود اگر کسی کو اپنے باپ کا قاتل بھی حرم کی حدود میں مل جاتا تھا تو وہ اسے کچھ نہیں کہتا تھا۔ اس کے حرم ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جو اسے نقصان پہنچانا چاہے اللہ تعالیٰ اسے دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے۔ جیسے ہاتھی والوں کے ساتھ ہوا۔ اس موضوع پر میں نے ابن قیم رحمہ اللہ کا بہت اچھا بیان پڑھا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اسے یہاں ذکر کر دوں، کیونکہ اس کا معلوم ہونا بہت ضروری ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں : فائدہ :﴿وَلِلَّـهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ اس آیت میں (حج البیت) مبتدا ہے۔ اس کی خبر اس سے پہلے دو جار و مجرور میں سے کوئی ایک ہوسکتا ہے۔ معنیٰ کے لحاظ سے (علی الناس) کو بنانا بہتر ہے کیونکہ یہ وجوب کے لئے ہے اور وجوب کے لئے (علی) ہونا چاہئے۔ ممکن ہے ” وللہ“ خبر ہو۔ کیونکہ اس میں وجوب اور استحقاق کا مفہوم ہے۔ اس قول کو اس امر سے بھی ترجیح حاصل ہوتی ہے کہ فائدہ کا اصل مقام خبر ہے۔ اس مقام میں اس کو لفظاً مقدم کیا گیا ہے لیکن معنیٰ کے لحاظ سے وہ موخر ہے۔ اس وجہ سے (وللہ علی الناس) کہنا بہتر ہوا۔ پہلے قول کی تائید میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وجوب کے لئے (حج البیت علی الناس) ” بیت اللہ کا حج لوگوں پر واجب ہے“ کا انداز زیادہ استعمال ہوتا ہے بنسبت یوں کہنے کے (حج البیت للہ) ” بیت اللہ کا حج اللہ کا حق ہے۔ “ اس تشریح کے مطابق پہلے مجرور کو مقدم کرنا، حالانکہ وہ خبر نہیں، دو فوائد کا حامل ہے : پہلا فائدہ : یہ حج کو واجب کرنے والے (اللہ) کا نام ہے۔ لہٰذا وجوب کے ذکر سے پہلے اس کا ذکر کرنا زیادہ حق رکھتا ہے۔ یعنی آیت میں تین اشیا کا ذکر ہے جو وقوع کے لحاظ سے بالترتیب ذکر ہوئی ہیں : (١) اس فریضہ کو واجب کرنے والا۔ اس کا ذکر سب سے پہلے کیا گیا ہے۔ (٢) واجب کو ادا کرنے والا، جس پر وہ فرض عائد ہوتا ہے۔ وہ ہیں لوگ (٣) وہ حق جس کے ساتھ اللہ کا تعلق واجب کرنے کا اور بندوں کا تعلق واجب ہونے اور ادا کرنے کا ہے، وہ ہے حج۔ دوسرا فائدہ : مجرور اللہ تعالیٰ کا نام مبارک ہونے کی وجہ سے اہمیت کا مستحق ہے۔ لہٰذا اس کے واجب کئے ہوئے فریضہ کے احترام کی عظمت کا لحاظ رکھتے ہوئے، اس فریضہ کو ضائع کرنے سے منع کرنے کے لئے اسے پہلے ذکر کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ کا واجب کیا ہوا کام کسی اور کے واجب کئے ہوئے کی طرح نہیں، بلکہ زیادہ اہم اور لازم ہے۔ لفظ ” مَن“ بدل ہے۔ بعض لوگوں نے اسے مصدر کا فاعل قرار دینا پسند کیا ہے گویا آیت کا مفہوم یوں ہے: (ان یحج البیت من استطاع الیہ سبیلا) ” کہ جو شخص اس کی طرف راستے کی طاقت رکھتا ہے وہ بیت اللہ کا حج کرے“ یہ قول کئی وجہ سے ضعیف ہے۔ (١) حج فرض عین ہے۔ اگر آیت کا مفہوم یہ ہوتا جو ان لوگوں نے بیان کیا ہے تو اس سے حج کا فریضہ فرض کفایہ ہوتا۔ یعنی جب استطاعت والوں نے حج کرلیا تو دوسروں کے ذمہ سے ساقط ہوگیا۔ اس صورت میں معنی یوں بن جاتا ہے (وللہ علی الناس حج البیت مستطیعھم) ’’لوگوں کے ذمے اللہ کے لئے بیت اللہ کا حج فرض ہے استطاعت رکھنے والے کے لئے“ اس کا نتیجہ ہوگا کہ جب استطاعت رکھنے والوں نے ادا کرلیا تو استطاعت نہ رکھنے والوں پر واجب نہیں رہا۔ حالانکہ صحیح صورتحال یہ نہیں۔ بلکہ حج ہر شخص پر فرض عین ہے۔ طاقت والا حج کرے یا نہ کرے وہ اس کے ذمے ہے۔ لیکن طاقت نہ رکھنے والے کو اللہ نے معذور قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس سے مواخذہ نہیں کرے گا، نہ اس سے ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ جب وہ حج کرے گا تو خود اس کا اپنا فرض ادا ہوگا۔ ایسا نہیں ہے کہ طاقت رکھنے والوں کے حج کرنے کی وجہ سے طاقت نہ رکھنے والوں سے فرضیت ساقط ہوجاتی ہو۔ اس کی مزید وضاحت اس مثال سے ہوتی ہے کہ جب کوئی کہے : (واجب علی اھل ھذہ الناحیۃ ان یجاھد منھم الطائفۃ المستطیعون للجھاد) ” اس علاقے والوں کا فرض ہے کہ ان میں سے جہاد کی طاقت رکھنے والی جماعت ضرور جہاد کرے“ تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ جب طاقت رکھنے والے جہاد کریں تو دوسرے لوگوں سے وجوب کا تعلق ختم ہوجائے گا۔ لیکن اگر یوں کہا جائے (واجب علی الناس کلھم ان یجاھد منھم المستطیع) ” سب لوگوں کا فرض ہے کہ ان میں سے طاقت رکھنے والا جہاد کرے“ تو وجوب کا تعلق تو ہر فرد سے ہوگا، لیکن طاقت نہ رکھنے والے معذور سمجھے جائیں گے۔ لہٰذا (للہ حج البیت علی المستطیعین) کے بجائے آیت مبارکہ کے انداز سے ارشاد فرمانے میں یہ نادر نکتہ ہے۔ لہٰذا سے غور کر کے سمجھنا چاہئے۔ دوسری وجہ : جملہ میں فاعل کی موجودگی میں مصدر کی اضافت فاعل کی طرف کرنا مفعول کی طرف اضافت کرنے کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اس اصول سے گریز صرف کسی منقول دلیل ہی کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے۔ آیت مبارکہ میں اگر (مَنْ) کو فاعل تسلیم کیا جائے تو اس کا تقاضا ہے کہ مصدر کو اس کی طرف مضاف کر کے یوں کہا جائے : (وللہ علی الناس حِجُّ مَنِ اسْتَطَاعَ) اسے (یُعْجِبُنِی ضَرْبُ زَیْدٍ عَمْرًا) جیسی مثال پر یا مصدر اور اس کے مضاف الیہ فاعل کے درمیان مفعول یا ظرف کے فاصلے کی صورت پر محمول کرنا گویا مکتوب پر محمول کرنا ہے جو مرجوع ہے۔ جیسے ابن عامر کی یہ قراءت مرجوح ہے (کذلک زین لکثیر من المشرکین قتل اولادھم شرکانھم) لہٰذا یہ قول درست نہیں ہے۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ (من استطاع) میں (من) بدل بعض ہے تو ضروری ہے کہ کلام میں کوئی ضمیر موجود ہو جو (الناس) کی طرف راجع ہو۔ یعنی عبارت گویایوں ہے (من استطاع منھم) اکثر مقامات پر اس ضمیر کا حذف کرنا بہتر نہیں ہوتا۔ البتہ یہاں اس کا حذف کرنا اچھا ہے۔ اس کی کئی وجوہ ہیں : (١) (من) کا لفظ اس کے مبدل منہ کی طرح غیر عاقل پر واقع ہوا ہے اس لئے اس سے ربط قائم ہوگیا۔ (٢) یہ اسم موصول ہے جس کا صلہ اس سے زیادہ خاص ہے۔ اگر صلہ عام ہوتا تو ضمیر حذف کرنا قبیح ہوتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب آپ کہیں : (رأیت اخوتک من ذھب الی السوق منھم) ” میں نے تیرے بھائیوں کو، ان میں سے جو بازار گیا، دیکھا“ تو یہ قبیح ہوگا۔ کیونکہ بازار جانیوالا دوسرے بھائیوں کی نسبت عام ہے۔ اسی طرح اگر یوں کہا جائے : (الیس الثیاب ماحسن) ” کپڑے پہن جو اچھے ہیں“ مطلب یہ ہوگا کہ (ماحسن منھا) ” ان میں سے جو اچھے ہیں“ تو ضمیر ذکر نہ کرنا زیادہ غلط ہوگا۔ کیونکہ لفظ (ماحسن) میں ” الثیاب“ کی نسبت عموم پایا جاتا ہے اور بدل بعض کو مبدل منہ سے زیادہ خاص ہونا چاہئے۔ اگر وہ زیادہ عام ہو پھر اسے مبدل منہ کی طرف لوٹنے والی چیز کی طرف مضاف کردیا جائے، یا اس ضمیر کے ساتھ مقید کردیا جائے تو عموم ختم ہوجائے گا اور خصوص کا مفہوم باقی رہ جائے گا۔ (٣) یہاں مضاف کو حذف کرنا اس لئے بھی بہتر ہے کہ صلہ اور موصول کے ساتھ کلام زیادہ طویل ہوجاتا ہے۔ لفظ (للہ) کے مجرور کے بارے میں دو احتمال ہیں اول یہ کہ وہ (من سبیل) کے محل میں ہو۔ گویا گویا وہ نکرہ کی صفت ہے جو نکرہ سے مقدم ہے۔ کیونکہ اگر اسے موخر کیا جاتا تووہ (سبیل) کی صفت کی جگہ ہوتا۔ دوم یہ کہ (سبیل) کا متعلق ہو۔ اگر آپ کہیں کہ یہ اس کا متعلق کیسے ہوسکتا ہے جب کہ اس ” سبیل“ میں فعل کا معنیٰ نہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہاں ” سبیل“ کا مفہوم ” الموصل الی لبیت“ کعبہ تک پہنچانے والی چیز یعنی سامان سفر وغیرہ ہے۔ لہٰذا اس میں فعل کا تھوڑا سا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہاں ” سبیل“ سے وہ راستہ مراد نہیں جس پر چلتے ہیں۔ اس لئے جار مجرور اس کے متعلق ہوسکتا ہے اور حسن نظم اور اعجاز لفظی کے لحاظ سے جار مجرور کو مقدم کرنا بہتر تھا، اگرچہ اس کا اصل مقام موخر ہی ہے، کیونکہ یہ ضمیر ’ ’بیت“ کی طرف راجع ہے اور اصل اہمیت ” بیت“ (کعبہ) ہی کو دینا مقصود ہے اور اہل عرب کلام میں اہم چیز کو مقدم کرتے ہیں۔ یہ سُہَیلی کے کلام کی وضاحت ہے۔ لیکن یہ قول بہت بعید ہے۔ بلکہ جار مجرور کے متعلق ان دونوں سے بہتر ایک قول ہے، وہی درست ہے اور اس آیت سے وہی مفہوم مناسبت رکھتا ہے۔ وہ ہے ” وجوب“ جو آیت کے لفظ (علی الناس) سے سمجھ میں آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ (یحب للہ علی الناس الحج) ” لوگوں پر اللہ کے لئے حج کرنا واجب ہے۔“ یعنی وہ اللہ کا وجوبی حق ہے۔ اسے ” سبیل“ کے متعلق قرار دے کر اس کا حال بنانا بہت ہی بعید ہے۔ آیت سے یہ مفہوم بالکل ذہن میں نہیں آتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کہیں ( للہ علیک الصلاۃ والزکاۃ و الصیام) ” آپ پر اللہ کے لئے نماز، زکوٰۃ اور روزہ ضروری ہے“ آیت میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ایسے کام کا ذکر کرتا ہے، جسے واجب یا حرام قرار دینا مقصود ہو تو وہ اکثر اوقات امرونہی کے الفاظ سے مذکورہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس مقصد کے لئے ایجاب، کتابت اور تحریم کے الفاظ بھی وارد ہوتے ہیں۔ مثلاً ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ ﴾ (البقرہ :2؍ 183) ” تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے۔“﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ﴾ (المائدۃ:5؍ 3) ” تم پر مردار حرام کیا گیا ہے“ ﴿قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ﴾(الانعام :6؍ 151) ” آؤ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں کہ اللہ نے تم پر کیا پابندیاں لگائی ہیں۔“ حج کے بارے میں جو لفظ استعمال ہوا ہے ﴿وَلِلَّـهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ﴾ اس سے دس انداز سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کو مقدم فرمایا ہے اور اس پر ”ل“ داخل کیا ہے، جس سے استحقاق اور اختصاص ظاہر ہوتا ہے۔ پھر جن پر واجب ہے ان کے لئے عموم کا صیغہ استعمال کیا ہے، اور اس پر ” علی“ داخل کیا ہے، جس سے اہل استطاعت کو بدل بنایا ہے پھر ” سبیل“ نکرہ ہے جو سیاق شرط میں واقع ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ حج ہر قسم کے ” سبیل“ میسر ہونے سے واجب ہوجاتا ہے مثلاً خوراک اور مال یعنی وجوب کا تعلق ہر اس چیز سے ہے جسے ” سبیل“ کہا جا سکے۔ پھر اس کے بعد سب سے عظیم تہدید ذکر فرمائی اور فرمایا ﴿وَمَن كَفَرَ﴾ یعنی جس نے اس واجب پر عمل نہ کر کے اور اسے ترک کر کے کفر کا ارتکاب کیا۔ پھر اس کی عظمت شان کے لئے وعید کو موکد فرمایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ مستغنی ہے۔ اسے کسی کے حج کی ضرورت نہیں۔ یہاں استغنا کے ذکر کا مقصد ناراضی، غصے اور بے اعتنائی کا اظہار ہے، جو بہت عظیم اور بلیغ وعید ہے۔ اس کی مزید تائید اس سے ہوتی ہے کہ یہاں (العالمین) کا عام لفظ بولا گیا ہے۔ یہ نہیں فرمایا : (فان اللہ غنی عنہ) ”اللہ اس سے مستغنی ہے“ کیونکہ جب وہ تمام جہانوں سے مستغنی اور بے پروا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر لحاظ سے اور ہر اعتبار سے کامل و مکمل استغنا حاصل ہے۔ اس طرح اس کے واجب کردہ حق کو ترک کرنے والے پر اس کی ناراضی زیادہ تاکید سے ظاہر ہوتی ہے۔ پھر اس مفہوم کو لفظ (ان) کے ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے جو بذات خود تاکید پر دلالت کرتا ہے۔ یہ دس وجوہ ہیں جن سے اس فرض عظیم کا ضروری اور موکد ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں آیت مبارکہ میں موجود بدل میں پوشیدہ نکتہ پر بھی غور کیجے۔ بدل کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اسناد دوبارہ ذکر ہوئی ہے۔ ایک دفعہ اسکی اسناد عمومی طور پر سب لوگوں سے ہے اور دوسری بار خاص طور پر استطاعت رکھنے والوں سے اور بدل کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اسناد کی تکرار سے معنی میں قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی لئے بدل عامل کی تکرار اور دہرانے کا مفہوم رکھتا ہے۔ پھر غور کیجیے کہ آیت میں کس طرح ابہام کے بعد توضیح اور اجمال کے بعد تفصیل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اہمیت دیتے ہوئے اور اس کی شان کی تاکید فرماتے ہوئے کلام کو دو صورتوں میں وارد کیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی غور کیجیے کہ کس طرح وجوب کا ذکر کرنے سے پہلے کعبہ شریف کی خوبیوں اور عظمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے دلوں میں اس کی زیارت اور حج کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ چیز خود مقصود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ﴾چنانچہ کعبہ شریف کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں۔ (١) وہ دنیا میں عبادت کے لئے مقرر کیا جانے والا سب سے پہلا اللہ کا گھر ہے۔ (٢) برکت والا ہے۔ برکت کا مطلب خیر کا دوام اور کثرت ہے۔ دنیا میں اتنی برکت والا، اس قدر کثیر اور دائمی خیر والا اور مخلوق کے لئے اس قدر فوائد کا حامل کوئی گھر موجود نہیں۔ (٣) وہ ہدایت ہے۔ ہدایت دینے والے کے بجائے ہدایت (مصدر) کا لفظ بولنے میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے گویا یہ خود سراپا ہدایت ہے۔ (٤) اس میں آیات بینات (واضح نشانیاں) موجود ہیں۔ جن کی تعداد چالیس سے زیادہ ہے۔ (٥) اس میں داخل ہونے والے کے لئے امن ہے۔ اگر یہی صفات ذکر کردی جاتیں اور اس کی زیارت کا حکم نہ دیا جاتا، تب بھی ان صفات کی وجہ سے دلوں میں اس کی زیارت کی تڑپ پیدا ہوتی، خواہ کتنی دور سے آنا پڑتا۔ یہاں تو یہ صفات ذکر کرنے کے بعد صراحت کے ساتھ فرض ہونے کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس قدر تاکید ات لائی گئی ہیں، جن سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس گھر کی بے حد اہمیت ہے اور اس کے نزدیک اس کی شان و عظمت کی کوئی حد نہیں۔ اگر اس میں یہی شرف ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف کرتے ہوئے اسے (بیتی) ” میرا گھر“ فرمایا ہے، تو یہ نسبت ہی اتنی بڑی فضیلت اور اتنا بڑا شرف ہے کہ صرف اس کی وجہ سے جہان والوں کے دل اس کی طرف متوجہ ہوجاتے اور اس کی زیارت کے لئے دور دراز سے کھنچے آتے۔ محبت کرنے والوں کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ اس کے پاس اکٹھے ہو کر آتے ہیں، اس کی زیارت سے کبھی سیر نہیں ہوتے۔ جتنی زیادہ زیارت کرتے ہیں، اتنا ہی محبت اور شوق میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ نہ دور جانے سے محبت کی لو مدہم ہوتی ہے نہ وصال سے ان کی پیاس بجھتی ہے۔ جیسے کسی شاعر نے کہا ہے : میں اس کا طواف کرتا ہوں اور دل پھر بھی شوق سے بھرپور ہے کیا طواف کے بعد مزید قرب بھی ہوسکتا ہے؟ میں اس کے حجر اسود کو چومتا ہوں اور اس طرح دل میں موجزن محبت اور پیاس کو ٹھنڈک پہنچاتا ہوں قسم ہے اللہ کی ! میری محبت ہی میں اضافہ ہوتا ہے اور دل اور زیادہ دھڑکنے لگتا ہے اے جنت ماویٰ! اے مقصود تمنا ! اور اے میری آرزو ! ہر امان سے قریب تر ! غلبہ ہائے شوق تیرے قرب پر اصرار کرتے ہیں تجھ سے فراق میرے بس میں نہیں میں اگر تجھ سے دور ہوا تو اس کی وجہ بے اعتنائی نہیں اس کا گواہ میری (اشک بار) آنکھیں اور (نالہ وشیون کرتی) زبان ہے تجھ سے دور ہونے کے بعد میں نے صبر کو بھی آواز دی اور گریہ کو بھی گریہ نے (فوراً) لبیک کہا (اور آگیا) اور صبر نے میری بات نہ مانی (صبر نہ آیا) لوگ گمان کرتے ہیں کہ جب محبّ دور چلا جائے تولمبا عرصہ گزرنے کے بعد اس کی محبت کمزور ہوجاتی ہے اگر یہ خیال درست ہوتا، تو یقینا ً ہر زمانے کے لوگوں کے لئے محبت کا علاج ہوتا ہاں ہاں محب کمزور ہوجائے گا اور محبت اسی حال میں ہوگی، اسے رات دن کے گزرنے نے کمزور نہیں کیا ہوگا۔ (1) یہ محبت کرنے والا ہے، جسے شوق اور عشق لئے جاتا ہے بغیر کسی لگام اور باگ کے جو اسے کھینچے لئے جاتی ہو زیارت گاہ دور ہونے کے باوجود، وہ تیرے در پر آ پہنچا ہے اگر اس کی سواری کمزور ہوجاتی تو اس کے قدم ہی اسے لے آتے یہاں امام ابن قیم کا کلام ختم ہوا۔ [(1) امام ابن قیم کا یہ کلام ان کی ان کی کتاب ”بدائع الفوائد“ سے منقول ہے اس میں یہ شعر اس طرح درج ہے۔ بلی انہ یبلی التصبر والھوی علی حالہ لم یبلہ الملوان ہاں صبر تو کمزور ہوجاتا ہے لیکن محبت اپنے حال پر رہتی ہے، وہ رات دن کے گزرنے سے کمزور نہیں ہوتی (ازمحقق)] آل عمران
98 اللہ تعالیٰ یہود ونصاریٰ کو زجر وتوبیخ فرماتا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، جو اس نے اپنے رسولوں پر نازل کیں، جنہیں اللہ نے اپنے بندوں کے لئے رحمت بنایا کہ ان کی رہنمائی میں اللہ تک پہنچ سکیں اور ان کی مدد سے تمام اہم مقاصد اور مفید علوم حاصل کریں۔ ان کافروں نے ان کا انکار بھی کیا، ان پر ایمان لانے والوں کو روکا، ان میں تحریف کی، انہیں اصل مفہوم سے پھیرنے کی کوشش کی۔ وہ خود ان جرائم کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہیں خوب معلوم ہے کہ ان کا یہ کام بہت بڑا کفر ہے، جس کی سزا بہت سخت ہے۔ جیسے ارشاد ہے : ﴿الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ﴾(النحل :16؍88) ” جنہوں نے کفر کیا، اور اللہ کی راہ سے روکا، ہم انہیں عذاب پر مزید عذاب دیں گے کیونکہ وہ فساد کرتے تھے“ یہاں انہیں یہ فرما کر تنبیہ کی۔ آل عمران
99 ۔﴿ وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ﴾” اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔“ بلکہ تمہارے اعمال، تمہاری نیتوں اور تمہاری بری تدبیروں سے پوری طرح باخبر ہے، وہ تمہیں ان کی بہت بری سزا دے گا۔ ان کو تنبیہ کرنے کے بعد اپنی رحمت، عطا اور احسان کا ذکر کیا اور اپنے مومن بندوں کو ان سے متنبہ کیا، تاکہ وہ بے خبری میں ان کے مکر و فریب کا نشانہ بن جائیں۔ آل عمران
100 چنانچہ فرمایا :﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تُطِيعُوا فَرِيقًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ يَرُدُّوكُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ كَافِرِينَ ﴾” اے ایمان والو ! اگر تم اہل کتاب کی کسی جماعت کی باتیں مانو گے تو وہ تمہیں، تمہارے ایمان لانے کے بعد مرتد کافر بنا دیں گے۔“ اس کی وجہ ان کا حسد، ظلم اور تمہیں مرتد کردینے کی شدید خواہش ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الحَقُّ﴾ (البقرہ :2؍ 109) ” اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے، محض حسد و بغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی اپنے ایمان پر ثابت قدمی کا اور یقین میں ڈانواں ڈول نہ ہونے کا سب سے بڑا سبب بیان کیا ہے اور یہ کہ ان کا ایمان سے پھر جانا انتہائی ناممکن ہے۔ آل عمران
101 چنانچہ فرمایا : ﴿وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّـهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ﴾ ” اور تم کیسے کفر کرسکتے ہو جب کہ تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول موجود ہے۔“ یعنی رسول تمہارے اندر موجود ہیں، وہ ہر وقت تمہیں رب کی آیتیں سناتے ہیں۔ یہ واضح آیات ہیں جو بیان کردہ مسائل پر قطعی یقین کا فائدہ دیتی ہیں اور یہ کہ ان سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس میں کسی بھی لحاظ سے شک کی گنجائی نہیں۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ اسے بیان کرنے والا وہ انسان (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ہے، جو تمام مخلوق میں سب سے افضل، زیادہ عالم، زیادہ فصیح، زیادہ مخلص و خیر خواہ اور مومنوں پر زیادہ شفیق، مخلوق کو ہر ممکن طریقے سے ہدایت دینے اور ان کی رہنمائی کرنے کا انتہائی شوق رکھنے والا ہے۔ اللہ کے درود و سلام نازل ہوں آپ کی ذات اقدس پر۔ آپ نے یقیناً خیر خواہی فرمائی اور پوری وضاحت سے اللہ کا دین پہنچا دیا۔ حتیٰ کہ کسی کو بات کرنے کی گنجائش نہ رہی اور نیکی کے کسی طلبگار کو تلاش کی ضرورت نہ رہی، آخر میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرے، اس پر توکل کرے، ہر برائی سے بچاؤ کے لئے اس کی قوت و رحمت کا سہارا تلاش کرے اور ہر خیر کے لئے اس سے مدد طلب کرے ﴿فَقَدْ هُدِيَ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾ ” تو بلاشبہ اسے راہ راست دکھا دی گئی“ جو مطلوب منزل تک پہنچانے والی ہے۔ کیونکہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال کی اتباع بھی کی، اور اللہ کا سہارا بھی حاصل کیا۔ آل عمران
102 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ اس سے ایسے ڈریں جیسے ڈرنے کا حق ہے، پھر اس تقویٰ پر قائم اور ثابت قدم رہیں اور موت تک استقامت ہو۔ کیونکہ انسان جس طرح کی زندگی گزارتا ہے، اسے ویسی ہی موت نصیب ہوتی ہے۔ جو شخص صحت، نشاط اور طاقت کی حالت میں اللہ کے تقویٰ اور اس کی اطاعت پر قائم رہتا ہے اور ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت استقامت عطا فرماتا ہے اور اسے حسن خاتمہ سے نوازتا ہے۔ اللہ سے کما حقہ تقویٰ رکھنے کی وضاحت جناب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ میں کی ہے : (ھو انْ یُّطَاعَ فَلاَ یُعْصٰی، وَیُذْکَر فَلایُنْسْیٰ ویُشکر فلایُکْفر) ” اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی فرماں برداری کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد کیا جائے، فراموش نہ کیا جائے، اس کا شکر کیا جائے، ناشکری نہ کی جائے۔“ اس آیت میں وضاحت ہے تقویٰ کے سلسلے میں اللہ کا کیا حق ہے۔ اس بارے میں بندے کا جو فرض ہے۔ وہ اللہ کے اس فرمان میں بیان ہوا ہے : ﴿فَاتَّقُوا اللَّـهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ (التغابن :64؍16) ” جہاں تک تمہارا بس چلے، اللہ سے ڈرتے رہو“ دل اور جسم کے متعلق تقویٰ کی تفصیلات بہت زیادہ ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ جس جس کام کا حکم دے اسے انجام دینا اور جس جس کام سے منع کرے، اس سے باز رہنا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کام کا حکم دیا ہے جو تقویٰ اختیار کرنے میں مدد دیتا ہے، وہ ہے متحد رہنا، اللہ کے دین پر مضبوطی سے کاربند رہنا، تمام مومنوں کا یک آواز ہونا، مل جل کر رہنا اور اختلاف نہ کرنا۔ دین پر متحد رہنے سے اور باہمی الفت و مودت سے ان کا دین بھی درست رہے گا اور دنیا بھی درست رہے گی۔ اتحاد کی وجہ سے وہ کام کرسکیں گے اور انہیں وہ تمام فوائد حاصل ہوں گے جن کا دار و مدار اتفاق و اتحاد پر ہے۔ یہ فوائد اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ علاوہ ازیں نیکی اور تقویٰ میں تعاون بھی ممکن ہوجائے گا۔ اس کے برعکس اختلاف اور تفرقہ کی وجہ سے ان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا، باہمی رابطے ٹوٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے ذاتی فائدے کے لئے بھاگ دوڑ کرے گا، اگرچہ اس سے اجتماعی طور پر نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک نعمت ذکر فرمائی اور حکم دیا کہ اسے یاد رکھیں۔ آل عمران
103 چنانچہ فرمایا : ﴿وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً ﴾” اور اللہ کی اس وقت کی نعمت یاد کرو، جب تم (یہ نعمت حاصل ہونے سے پہلے) ایک دوسرے کے دشمن تھے“ ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ ایک دوسرے کا مال چھینتے تھے، قبیلوں کی قبیلوں سے دشمنی تھی، ایک ہی شہر کے رہنے والے آپس میں عداوت اور جنگ وجدل کا شکار تھے۔ غرض بہت بری حالت تھی۔ یہ وہ حالت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث سے پہلے عرب میں عام تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور وہ لوگ ایمان لے آئے، تو وہ اسلام کی بنیاد پر اکٹھے ہوگئے، ان کے دلوں میں ایمان کی وجہ سے محبت پیدا ہوگئی۔ وہ باہمی محبت اور مدد کے لحاظ سے فرد واحد کی حیثیت اختیار کر گئے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا ﴾ اس نے تمہارے دلوں میں الف ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے۔“ اس کے بعد فرمایا : ﴿وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ﴾ ”اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے“ یعنی تم جہنم کے مستحق ہوچکے تھے۔ صرف اتنی کسر رہ گئی تھی کہ تمہیں موت آجائے تو جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ (فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا) ” تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا“ وہ اس طرح کہ تم پر یہ احسان کیا کہ تمہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نصیب فرما دیا۔ ﴿كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ﴾” اللہ اسی طرح تمارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے“ یعنی ان کی وضاحت اور تشریح کرتا ہے اور تمہارے لئے حق و باطل اور ہدایت و گمراہی الگ الگ کر کے واضح کردیتا ہے ﴿ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ﴾ ” تاکہ تم (حق کو پہچان کر اور اس پر عمل کر کے) ہدایت پاؤ“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ بندے دلوں اور زبانوں کے ساتھ اس کی نعمت کو یاد کریں، تاکہ ان میں شکر اور اللہ کی محبت کے جذبات پروان چڑھیں اور اللہ تعالیٰ مزید فضل و احسانات سے نوازے۔ اللہ کی جو نعمت سب سے زیادہ ذکر کئے جانے کے قابل ہے وہ ہے اسلام کا شرف حاصل ہوجانے کی نعمت، اتباع رسول کی توفیق مل جانے کی نعمت اور مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کی موجودگی اور اختلاف و افتراق نہ ہونے کی نعمت۔ آل عمران
104 مطلب یہ ہے کہ اے مومنو ! جن پر اللہ نے ایمان لانے اور اپنی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی توفیق دے کر احسان فرمایا ہے، تم میں سے ﴿أُمَّةٌ﴾ ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے ﴿يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ﴾ ” جو بھلائی کی طرف بلائے۔“ (خیر) ” بھلائی“ میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اللہ سے قریب کرنے والی اور اس کی ناراضی سے دور کرنے والی ہو۔ ﴿وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ ﴾” اور وہ نیک کاموں کا حکم کرے“ (معروف) اسے کہتے ہیں جس کا اچھا ہونا عقل اور شریعت کی روشنی میں معلوم ہوچکا ہو۔﴿ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ﴾” اور برے کاموں سے روکے“ (منکر) اسے کہتے ہیں جس کا برا ہونا عقل اور شریعت کے ذریعے سے معلوم ہوچکا ہو۔ اس میں مومنوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ان میں ایک ایسی جماعت موجود ہونی چاہئے جو لوگوں کو اس کی راہ کی طرف بلائے اور اس کے دین کی طرف رہنمائی کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہے۔ اس جماعت میں وہ علماء بھی شامل ہیں جو لوگوں کو دین سکھاتے ہیں، وہ مبلغ بھی جو دوسرے مذاہب والوں کو دین اسلام میں داخل ہونے کی اور بدعملی میں مبتلا لوگوں کو دین پر کار بند ہونے کی تبلیغ کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے بھی اور وہ لوگ بھی شامل ہیں، جن کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ لوگوں کے حالات معلوم کرتے رہیں اور انہیں شرعی احکام مثلاً نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ وغیرہ کی پابندی کروائیں اور غلط کاموں سے روکیں مثلاً ماپ تول کے پیمانوں اور باٹوں کو چیک کریں، بازار میں خرید و فروخت کرنے والوں کو دھوکا بازی سے اور لین دین کے ان معاملات سے روکیں جو شرعاً ناجائز ہیں۔ یہ سب کام فرض کفایہ ہیں۔ جیسے کہ آیت کریمہ کے الفاظ ﴿وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ﴾ ” تم میں سے ایک جماعت ہونی چاہئے“ سے ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی تم میں ایک جماعت ایسی موجود ہونی چاہئے جس سے مذکورہ بالا مقاصد حاصل ہوسکیں۔ یہ ایک جانا پہچانا اور مانا ہوا اصول ہے کہ جب کسی خاص کام کا حکم دیا جائے، تو اس میں ان تمام کاموں کا حکم شامل ہوتا ہے، جو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ضروری ہوں۔ لہٰذا وہ تمام کام جن پر ان اشیاء کا وجود موقوف ہے، وہ سب ضروری ہیں اور اللہ کی طرف سے ان کا حکم سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً جہاد کے لئے طرح طرح کے سامان تیار کرنا، جن سے دشمنوں کا قلع قمع کیا جا سکے اور اسلام کا نام بلند کیا جا سکے، وہ علم سیکھنا جس کی مدد سے نیکی کی طرف بلایا جا سکے۔ علم و رہنمائی کے لئے مدارس کی تعمیر، لوگوں میں شریعت نافذ کرنے کے لئے حکمرانوں کی قولی، عملی اور مالی امداد اور ایسے دوسرے کام جن پر ان امور کا دار و مدار ہے۔ یہ جماعت جو نیکی کی طرف بلانے، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لئے کمربستہ ہے، یہ خاص مومنین ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴾ ” اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں“ یعنی کامیاب ہیں جنہیں مطلوب حاصل ہوگا اور خطرناک نتائج سے محفوظ رہیں گے۔ آل عمران
105 اس کے بعد انہیں اہل کتاب کی طرح اختلاف و انتشار میں گرفتار ہونے سے منع کرتے ہوئے فرمایا : ﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا﴾ ” اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا، جنہوں نے تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا“ اور عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے اختلاف بھی کیا تو ﴿مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ﴾ ”روشن دلیلیں آجانے کے بعد“ حالانکہ ان کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ افتراق و اختلاف نہ ہوتا۔ انہیں دین پر دوسروں کی نسبت زیادہ پابندی اختیار کرنا چاہئے تھی۔ لیکن انہوں نے بالکل الٹ کام کیا حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ وہ اللہ کے احکام کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس لئے وہ سخت عذاب کے مستحق ہوگئے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا ہے :﴿ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴾” اور انہی لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے۔ “ آل عمران
106 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے حالات بیان فرمائے ہیں۔ اس دن عدل اور فضل کی بنیاد پر ملنے والی جزا و سزا کے اثرات بیان فرمائے ہیں۔ اس بیان کا مقصد ترغیب و ترہیب ہے۔ جس کا فائدہ خوف اور امید کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ﴾” جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے“ وہ خوش نصیبوں اور نیکی کرنے والوں کے چہرے ہوں گے، جنہوں نے آپس میں الفت و محبت رکھی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ ﴿ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ﴾ ” اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے“ وہ بدنصیبوں اور بدکاروں کے چہرے ہوں گے، جو اختلاف و افتراق پیدا کرنے والے تھے۔ ذلت و رسوائی کی وجہ سے ان کے دلوں کی جو کیفیت ہوگی، اس کے نتیجے میں ان کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے۔ اور نیک لوگوں کو نعمتیں اور خوشیاں نصیب ہوں گی، ان کے اثرات ان کے چہروں پر ظاہر ہوں گے اور ان کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا ﴾(الدھر :86؍11) ” اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی“ ترو تازہ ہونے کا تعلق چہروں سے ہے، اور خوشی دلوں میں ہوتی ہے۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہے : ﴿وَالَّذِينَ كَسَبُوا السَّيِّئَاتِ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۖ مَّا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِنْ عَاصِمٍ ۖ كَأَنَّمَا أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ اللَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴾(یونس :10؍27) ” جنہوں نے گناہ کمائے تو ہر برائی کا بدلہ اس کے برابر ہے اور ان پر ذلت چھائی ہوگی۔ انہیں اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ یوں ہوگا گویا ان کے چہروں پر رات کے تاریک ٹکڑے اوڑھا دیئے گئے ہیں۔ یہی لوگ آگ والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“ ﴿فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ﴾ ” اور جن کے چہرے سیاہ ہوں گے“ انہیں ڈانٹ ڈپٹ اور زجر و توبیخ کے انداز سے کہا جائے گا : ﴿أَكَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ ﴾ ” کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا“ یعنی تم نے ہدایت اور ایمان کے بجائے کفر وضلالت کو کیوں ترجیح دی؟ تم نے ہدایت والا راستہ چھوڑ کر گمراہی کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ ﴿فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ﴾ اب ” اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو“ تمہارے لائق صرف جہنم کا مقام ہے تم صرف ذلت و رسوائی کے مستحق ہو آل عمران
107 ﴿وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ﴾ ” اور جن کے چہرے سفید ہوں گے“ انہیں مبارک باد دی جائے گی اور عظیم ترین بشارت ملے گی۔ یعنی انہیں جنت میں داخلے کی، رب کی خوشنودی کی اور اس کی رحمت کی خوش خبری دی جائے گی۔﴿فَفِي رَحْمَةِ اللَّـهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ ” وہ اللہ کی رحمت میں داخل ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے“ چونکہ وہ ہمیشہ رحمت میں رہیں گے اور جنت بھی اللہ کی رحمت کا ایک مظہر ہے۔ لہٰذا وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے جس میں دائمی نعمتیں اور سلامتی والی زندگی ہوگی۔ وہ ارحم الراحمین کے پڑوس میں ہوں گے۔ آل عمران
108 جب اللہ تعالیٰ نے احکام و اوامر بھی بتا دیئے اور ان کی جزا بھی بیان فرما دی، تو اس کے بعد فرمایا : ﴿ تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ﴾ ”یہ اللہ کی آیتیں ہیں، جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں“ کیونکہ اس کے اوامر و نواہی حکمت و رحمت پر اور جزا و سزا پر مشتمل ہیں۔ اس طرح وہ حکمت و رحمت پر اور عدل پر مشتمل ہیں جن میں ظلم کا کوئی شائبہ نہیں“ اس لیے فرمایا : ﴿ وَمَا اللَّـهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِّلْعَالَمِينَ﴾ ”اور اللہ کا ارادہ لوگوں پر ظلم کرنے کا نہیں“ ظلم کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اللہ تعالیٰ ظلم کا ارادہ بھی نہیں فرماتا۔ لہٰذا کسی کی نیکیوں میں کمی نہیں کرتا، اور ظالموں کے ظلم میں اضافہ نہیں فرماتا، بلکہ صرف ان کے کئے ہوئے اعمال کی سزا دیتا ہے۔ آل عمران
109 یعنی آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، اس سب کا مالک وہی ہے۔ جس نے انہیں پیدا کیا، انہیں رزق دیا، اور اپنی قضاء و قدر کے مطابق اور اپنی شریعت اور احکام کے مطابق ان میں تصرف کرتا ہے۔ قیامت کے دن وہ اسی کے پاس واپس جائیں گے، پھر وہ انہیں اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔ آل عمران
110 اللہ تعالیٰ اس امت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ تمام امتوں سے بہتر اور افضل امت ہے جسے اللہ نے لوگوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کامل کرتے ہیں یعنی ایسا ایمان رکھتے ہیں جو اللہ کے ہر حکم پر عمل کرنے کو مستلزم ہے اور دوسروں کو بھی کامل بناتے ہیں۔ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہوتے ہیں، جس میں مخلوق کو اللہ کی طرف بلانا، اس مقصد کے لیے ان سے جہاد کرنا، ان کو گمراہی اور نافرمانی سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا شامل ہے۔ اس وجہ سے وہ بہترین امت ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں یعنی اس فرمان الٰہی میں: ﴿وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ﴾ ”تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے۔“ اللہ کی طرف سے اس امت کو ایک حکم دیا گیا تھا۔ اور جسے حکم دیا جائے وہ بعض اوقات حکم کی تعمیل کرتا ہے اور بعض اوقات تعمیل نہیں کرتا۔ لہٰذا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس امت نے وہ کام انجام دیا ہے، جس کا اسے حکم دیا گیا تھا، اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ہے اور تمام امتوں سے افضل قرار پانے کی مستحق ہوگئی ہے۔ ﴿وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم﴾ ” اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نرم انداز اختیار کرتے ہوئے اہل کتاب کو ایمان کی دعوت دی ہے۔ لیکن ان میں سے بہت کم افراد ایمان لائے۔ زیادہ فاسق، اللہ کے نافرمان اور اللہ کے دوستوں سے طرح طرح سے دشمنی کا اظہار کرنے والے تھے۔ آل عمران
111 لیکن اللہ کا اپنے مومن بندوں پر یہ لطف و کرم ہے کہ اس نے دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنا دیا اور مومنوں کو ان سے نہ دینی نقصان پہنچا، نہ جسمانی، وہ زیادہ سے زیادہ جو کچھ کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ زبان سے تکلیف پہنچا سکتے ہیں اور یہ چیز ایسی ہے کہ اس سے کوئی بھی دشمن بچ نہیں سکتا۔ اگر وہ مومنوں سے جنگ کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ ان کی یہ ہزیمت دائمی ہوگی اور ان کی ذلت ہمیشہ رہے گی۔ ان کی کبھی مدد نہیں کی جائے گی۔ اس لیے اللہ نے ان کا انجام یہ بتایا کہ باطنی طور پر وہ ذلت کا شکار ہوں گے اور ظاہری طور پر فقر و مسکنت کا۔ لہٰذا وہ کہیں اطمینان اور سکون سے نہیں رہ سکیں گے۔ آل عمران
112 ﴿إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللَّـهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ﴾” مگر یہ کہ اللہ کی یا لوگوں کی پناہ میں ہوں“ اس لیے یہودی یا تو مسلمانوں سے معاہدہ کر کے ان کے ماتحت (ذمی بن کر) رہیں گے، ان سے جزیہ لیا جائے گا۔ وہ ذلیل ہوں گے۔ یا نصاریٰ کے ماتحت ہوں گے۔ ﴿وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّـهِ﴾ ” یہ غضب الٰہی کے مستحق ہوگئے“ اور یہ سب سے بڑی سزا ہے۔ وہ اس حال کو کیوں پہنچے، اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے : ﴿ ذٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ ﴾ ” یہ اس لیے کہ یہ لوگ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے“ یہ لوگ ان آیتوں کا انکار کرتے تھے، جنہیں اللہ نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کیا ہے، جن سے ایمان اور یقین حاصل ہوتا ہے۔ لیکن انہوں نے سرکشی اور عناد کی وجہ سے ان کا انکار کیا۔﴿وَيَقْتُلُونَ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ﴾” اور انبیاء کو بے وجہ قتل کرتے تھے“ وہ انبیاء جو ان پر سب سے عظیم احسان کرتے تھے، وہ اس احسان کے بدلے میں بدترین سلوک کرتے تھے یعنی انہیں شہید کردیتے تھے۔ کیا اس جسارت اور اس جرم سے بڑھ کر بھی کوئی جرم ہوسکتا ہے؟ ان سب بداعمالیوں کی وجہ ان کی نافرمانی اور ظلم تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور انبیاء کرام کو شہید کرنے کی جسارت کی۔ آل عمران
113 جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے فاسق گروہ کا ذکر کیا، ان کی بداعمالیاں اور ان کی سزائیں بیان کیں، تو ان آیات میں حق پر قائم رہنے والی جماعت کا ذکر فرمایا، ان کے نیک اعمال اور ان کا ثواب ذکر فرمایا اور یہ بتایا کہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں گروہ برابر نہیں بلکہ ان کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس فاسق گروہ کا ذکر تو پہلے ہوچکا۔ باقی رہے یہ مومن، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں ﴿ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ﴾ ایک جماعت اللہ کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں“ یہ رات کے اوقات میں ادا کی جانے والی ان کی نمازوں کا بیان ہے کہ وہ طویل تہجد پڑھتے ہیں اور اپنے رب کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ اللہ کے لیے خشوع و خضوع کے ساتھ رکوع اور سجدے کرتے ہیں۔ آل عمران
114 ﴿يُؤْمِنُونَ بِاللّٰـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ ” اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان بھی رکھتے ہیں“ جس طرح مسلمانوں کا ایمان ان کے لیے ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے ہر نبی پر، اور اللہ کی نازل کی ہوئی ہر کتاب پر ایمان رکھیں۔ وہ بھی اس طرح کا ایمان رکھتے ہیں۔ قیامت پر ایمان کا خاص طور پر ذکر فرمایا، کیونکہ قیامت پر صحیح یقین و ایمان ہی مومن کو ان اعمال پر آمادہ کرتا ہے جو اسے اللہ سے قریب کرتے ہیں اور جن کا قیامت کو ثواب ملے گا اور ہر اس عمل کے ترک پر آمادہ کرتا ہے جس سے اس دن سزا ملے۔ ﴿وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ﴾ ” اور بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں“ اس طرح ان سے یہ عمل انجام پاتا ہے۔ ایمان اور ایمان کے لوازم کے ذریعے سے اپنی تکمیل کرتے ہیں اور دوسروں کو ہر نیکی کا حکم دے کر ہر برائی سے منع کر کے دوسروں کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کو اور دوسروں لوگوں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ پھر ان کی عالی ہمتی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ﴿وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ﴾ ” بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں“ نیکی کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جب بھی ہوسکے فوراً نیکی کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیکی کی شدید رغبت اور خواہش رکھتے ہیں اور اس کے فوائد و ثمرات سے خوب واقف ہیں۔ یہ لوگ جن کی تعریف اللہ نے ان عمدہ صفات اور عظیم اعمال کے ساتھ کی ہے۔﴿مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ ” یہی نیک لوگوں میں سے ہیں“ جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل کرے گا، انہیں اپنی بخشش کے سائے میں لے لے گا اور انہیں اپنے فضل و احسان سے نوازے گا۔ آل عمران
115 ﴿وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ﴾ ” اور یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں“ تھوڑی ہوں یا زیادہ ﴿فَلَن يُكْفَرُوهُ﴾” ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی“ انہیں ان کے ثواب سے محروم نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان اعمال کا مکمل ترین ثواب دے گا۔ لیکن اعمال کے ثواب کا دار و مدار عمل کرنے والے کے دل میں موجود ایمان و تقویٰ پر ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا : ﴿وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ﴾ ” اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے“ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا : ﴿ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّـهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ﴾ (المائدہ :5؍27) ” اللہ صرف پرہیز گاروں کی قربانی قبول کرتا ہے۔ “ آل عمران
116 اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ کافروں کو ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی۔ یعنی اللہ کے عذاب سے بچانے میں یا اللہ سے ثواب کے حصول میں معمولی سا بھی فائدہ نہیں دیں گی۔ جیسے فرمان الٰہی ہے : ﴿وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُم بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِندَنَا زُلْفَىٰ إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا﴾(سبا :34؍37) ” یہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں ایسی نہیں کہ جو تمہیں ہمارا قرب بخش سکیں، لیکن جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کئے (اسے قرب حاصل ہوگا) “ بلکہ ان کے مال و اولاد جہنم کی طرف سفر میں ان کا زاد راہ ہیں۔ اللہ کی نعمتوں میں اضافے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا شکر ادا کیا جائے، لیکن ان کے لیے یہ چیزیں شکر نہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف حجت ہوں گی، اس لیے ان پر شکر نہ کرنے اور ناشکری کی پاداش میں انہیں سزا دی جائے گی۔ اس لیے فرمایا :﴿وَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴾ ” یہ تو جہنمی ہیں، جو ہمیشہ اس میں پڑے رہیں گے۔ “ آل عمران
117 پھر اللہ نے کافروں کے مال خرچ کرنے کے بارے میں ایک مثال بیان فرمائی، کہ وہ لوگ مال خرچ کر کے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، تو یہ کوششیں ناکام رہیں گی، جیسے کوئی شخص فصل بوئے اسے اس کا نتیجہ ملنے اور اس سے پیداوار حاصل ہونے کی امید ہو، اچانک کھیتی پر ایک سخت ٹھنڈی ہوا چلے، جس سے کھیتی تباہ ہوجائے۔ اس کے حصے میں صرف محنت، مشقت اور حسرت و افسوس ہی آئے۔ کافروں کا بھی یہی حال ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا:﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ﴾ (الانفال :8؍36) ” بے شک کافر اپنے مال اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کرتے ہیں، یہ خرچ کریں گے، پھر یہ ان کے لیے حسرت کا باعث بن جائیں گے، پھر یہ مغلوب ہوجائیں گے“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّـهُ ﴾ ” اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔“ کہ ان کے عمل ضائع کردیے۔ ﴿وَلَـٰكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴾” بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔“ وہ اس طرح کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کی۔ ان بداعمالیوں کی وجہ سے ان کی نیکیاں ضائع ہوگئیں اور مال تباہ ہوگئے۔ آل عمران
118 اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس بات سے منع فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب کے یا دوسرے مذاہب کے منافقوں کو دلی دوست بنائیں، انہیں اپنے راز بتائیں، یا بعض اسلامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن ہیں جن کے دل بغض و عداوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ عداوت ان کی زبان سے بلا ارادہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ ﴿وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ﴾ ” اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہوجانے والی دشمنی سے بہت زیادہ ہے۔“ اسی لیے ﴿ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا﴾ ” وہ تمہاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے“ یعنی تمہیں نقصان پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں تمہیں نقصان پہنچے اور تمہارے خلاف تمہارے دشمنوں کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مومنوں سے فرماتا ہے : ﴿قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ ﴾ ” ہم نے تمہارے لیے آیتیں بیان کردی ہیں“ جن میں تمہاری دینی اور دنیاوی مصلحتیں اور فوائد موجود ہیں۔ ﴿إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ ﴾ ” اگر تم عقل مند ہو“ تو ان نشانیوں کو پہچان کر دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کرو، کیونکہ ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے ہم راز بنایا جائے۔ عقل مند وہ ہوتا ہے جسے اگر دشمن سے میل جول رکھنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس سے میل جول صرف ظاہری معاملات میں ہو، اور اپنے اندرونی معاملات اسے نہ بتائے۔ اگرچہ دشمن کتنی ہی چاپلوسی کرے اور قسمیں کھائے کہ وہ دوست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہودی اور عیسائی منافقوں سے احتیاط کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ان کی شدید دشمنی کو واضح کرتا ہے۔ آل عمران
119 ارشاد ہے﴿هَا أَنتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ ﴾ ” ہاں، تم تو انہیں چاہتے ہو، اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم پوری کتاب کو مانتے ہو“ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل کی ہیں۔ حالانکہ وہ تمہاری کتاب، قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔ بلکہ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو اوپر اوپر سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ﴾ ” اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔ لیکن تنہائی میں تم پر غصے کے مارے اپنی انگلیاں چباتے ہیں“ (انامل) کا مطلب ” انگلیوں کے سرے۔“ ﴿ قُلْ مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ﴾ ” کہہ دو ! اپنے غصے ہی میں مر جاؤ۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز بخوبی جانتا ہے۔“ اس میں مومنوں کے لیے خوش خبری ہے کہ یہ دشمن تمہیں نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ وہ اپنے غصے کو عملی جامہ پہنانے کے قابل نہیں۔ وہ مرتے دم تک دنیا کا یہ عذاب سہتے رہیں گے اور مرنے کے بعد دنیا کے عذاب سے آخرت کے عذاب کی طرف منتقل ہوجائیں گے۔ آل عمران
120 ﴿إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ  ﴾ ” تمہیں اگر بھلائی ملے“ مثلاً دشمنوں پر فتح نصیب ہو، یا غنیمت حاصل ہو ﴿تَسُؤْهُمْ  ﴾” تو یہ ناخوش ہوتے ہیں“ یعنی انہیں اس سے غم ہوتا ہے ﴿وَإِن تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا ۖ وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ إِنَّ اللَّـهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ ﴾ ” اور اگر تمہیں برائی پہنچے تو وہ خوش ہوتے ہیں اور تم اگر صبر کرو اور پرہیز گاری کرو تو ان کا مکر تمہیں کچھ نقصان نہ دے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے مکر کو انہی پر الٹ دے گا۔ کیونکہ اس کا علم اور اس کی قدرت ان کو گھیرے ہوئے ہے، وہ اس کی قدرت کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے اور ان کی کوئی بات اللہ سے چھپی نہیں رہ سکتی۔ آل عمران
121 یہ آیات واقعہ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اس کا قصہ معروف ہے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے اور اس کے درمیان میں بدرکا واقعہ لے آنے میں غالباً یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور دشمن کی سازشوں سے انہیں محفوظ فرمائے گا۔ یہ ایک عام حکم اور سچا وعدہ تھا، جس کی شرائط پوری کی جاتیں تو اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تھا۔ ان دو قصوں میں اس کا ایک نمونہ پیش فرما دیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد اس لیے فرمائی تھی کہ انہوں نے صبر کیا اور تقویٰ اختیار کیا اور احد میں انہیں دشمنوں کے ہاتھوں اس لیے نقصان پہنچا کہ ان میں سے بعض افراد سے ایسی غلطی ہوگئی جو تقویٰ کے منافی تھی دونوں واقعات اکٹھے بیان کرنے کا یہ مقصد ہے کہ اللہ کو بندوں کا یہ عمل پسند ہے کہ جب انہیں کوئی ناخوشگوار صورت حال پیش آجائے تو انہیں وہ نعمت یاد کرنی چاہئے جو انہیں پسند ہے، تو ان کی مصیبت ہلکی ہوجائے گی اور وہ اس بڑی نعمت پر رب کا شکر کریں گے۔ جس کے مقابلے میں یہ ظاہری مصیبت، جو حقیقت میں نعمت ہی ہے، بڑی نعمت کے مقابلے میں بہت معمولی محسوس ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں اسی حکمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ﴿أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُم مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا  ﴾(آل عمران :3؍165) ” کیا بات ہے کہ جب تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے“ واقعہ احد کا خلاصہ یہ ہے کہ جب 2 ھ میں جنگ بدر کے بعد بچے کھچے مشرکین مکہ پہنچے، تو انہوں نے اپنی طاقت کے مطابق مال، افراد اور اسلحہ کے ساتھ بھرپور تیاری کی، حتیٰ کہ اتنا کچھ جمع ہوگیا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنا مقصود حاصل کرنے اور اپنا غصہ نکالنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ تب وہ تین ہزار جنگ جو افراد کا لشکر لے کر مکہ سے روانہ ہوئے اور مدینہ کے قریب آٹھہرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا، تو طے پایا کہ شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہزار آدمی لے کر روانہ ہوئے۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد عبداللہ بن ابی (منافق) اپنے جیسے تین سو افراد لے کر واپس پلٹ گیا۔ اس طرح اسلامی لشکر کی تعداد میں ایک تہائی مقدار کی کمی ہوگئی۔ مومنوں کے دو گروہ بھی پلٹ جانے کا سوچنے لگے۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے قبائل تھے۔ اللہ نے انہیں ثابت قدمی عطا فرمائی۔ جب احد کے مقام پر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کو ترتیب دے کر ان کے مختلف دستے اپنے اپنے مقام پر متعین فرمائے۔ احد کا پہاڑ ان کی پشت کی طرف تھا۔ انہوں نے اپنی پیٹھیں احد کی طرف رکھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس صحابہ کرام کو احد کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ وہیں ٹھہرے رہیں اور وہ جگہ نہ چھوڑیں، تاکہ پیچھے سے دشمن کے حملہ کا خطرہ نہ رہے۔ جب مسلمانوں اور مشرکوں کے مابین جنگ ہوئی تو مشرکوں کو بری طرح شکست ہوئی، وہ اپنی لشکر گاہ کو پیچھے چھوڑ گئے۔ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کر کے انہیں قتل اور قید کرنا شروع کردیا۔ جن تیر اندازوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ پر متعین فرمایا تھا، جب انہوں نے یہ صورتحال دیکھی تو (انہوں نے سوچا کہ اب ہمارا فرض مکمل ہوگیا ہے۔ اس لیے) انہوں نے آپس میں کہا، غنیمت ! غنیمت ! ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں جبکہ مشرکین شکست کھاچکے ہیں۔ ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں نصیحت فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی نہ کریں۔ لیکن دوسروں نے اس طرف توجہ نہ دی۔ جب انہوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور وہاں صرف چند افراد رہ گئے، تو مشرکین کا گھڑ سوار دستہ اس گھاٹی سے آگیا اور مسلمانوں کے پیچھے آ کر لشکر کے پچھلے دستے پر حملہ کردیا۔ تب مسلمان کچھ ادھر ادھر ہوئے، جو اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی۔ جس سے ان کے گناہ معاف ہوئے، اور تعمیل حکم میں کوتاہی کی سزا مل گئی۔ اس کے نتیجے میں جن کی قسمت میں شہادت تھی، وہ شہید ہوگئے۔ آخر کار مسلمان جبل احد کی چوٹی کی طرف جمع ہوگئے۔ اللہ نے مشرکین کے ہاتھوں کو روک دیا اور وہ لوگ اپنے وطن کی طرف لوٹ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ ﴾ ” اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ اپنے گھر سے نکلے‘‘ اس مقام پر (غدوت) کا مطلب ”مطلقاً نکلنا ہے“ صبح کے وقت نکلنا نہیں۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام جمعہ کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے تھے۔ ﴿تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ  ﴾ ” مومنوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر باقاعدہ بٹھا رہے تھے“ یعنی آپ انہیں ترتیب دے رہے تھے اور ہر ایک کو اس مقام پر ٹھہرا رہے تھے جو اس کے لیے مناسب تھا۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم تعریف ہے۔ کہ آپ بنفس نفیس ان کو منظم فرما رہے تھے اور جنگ کے لیے مناسب مقامات پر ٹھہرا رہے تھے۔ اس کی وجہ آپ کے علم و فراست کا کمال، دور اندیشی اور بلند ہمتی تھی۔ علاوہ ازیں آپ کامل شجاعت سے بہرہ ور تھے، صلوات اللہ وسلامہ علیہ ﴿وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴾ ” اور اللہ سننے والا جاننے والاہے“ جو ہر بات سنتا ہے۔ مومنوں کی باتیں بھی سنتا ہے اور منافقوں کی بھی۔ ہر ایک کی بات چیت سے اس کے دل کے جذبات، احساسات اور خیالات ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ بندوں کی نیتوں کو جانتا ہے، وہ ان کے مطابق انہیں مکمل بدلہ عطا فرماتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ مطلب بھی ہے کہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ تمہاری حفاظت کرتا ہے۔ تمہارے معاملات سنوارتا ہے اور تمہیں اپنی مدد سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام سے بھی اسی طرح فرمایا تھا : ﴿إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَىٰ  ﴾(طہ :2؍46) ” میں تمہارے ساتھ ہوں اور سنتا دیکھتا ہوں۔ “ آل عمران
122 اللہ تعالیٰ کی مومنوں پر مہربانی اور احسان اس طرح بھی ہوا کہ ﴿إِذْ هَمَّت طَّائِفَتَانِ ﴾ جب مومنوں کی دو جماعتیں پست ہمتی کا ارادہ کرچکی تھیں اور وہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے، جیسے پہلے بیان ہوا۔ اللہ نے ان پر اور تمام مومنوں پر احسان کرتے ہوئے انہیں ثابت قدمی کی توفیق بخشی۔ اس لیے فرمایا : ﴿وَاللَّـهُ وَلِيُّهُمَا ﴾ ” اللہ ان کا ولی اور مدگار ہے“ یہاں اللہ تعالیٰ کی خاص ولایت مراد ہے یعنی اس کی اپنے دوستوں پر مہربانی، انہیں ایسے کاموں کی توفیق دینا جن میں ان کا فائدہ ہو اور ایسے کاموں سے محفوظ رکھنا، جن میں ان کا نقصان ہو۔ اس کا ایک مظہر یہ بھی تھا کہ جب انہوں نے اس گناہ کا ارادہ کیا کہ وہ پست ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان جنگ سے چلے جائیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس غلطی سے بچا لیا، کیونکہ ان میں ایمان موجود تھا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿اَللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ﴾ (البقرہ :2؍ 257) ” اللہ مومنوں کا دوست اور مددگار ہے، انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لاتا ہے۔“ اس کے بعد فرمایا : ﴿وَعَلَى اللَّـهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴾” اور اللہ ہی کی ذات پر مومنوں کو بھروسا کرنا چاہئے“ اس میں توکل کا حکم ہے توکل کا مطلب یہ ہے کہ فائدہ مند اشیاء کے حصول کے لیے اور نقصان سے بچنے کے لیے اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے دل کا سہارا اللہ پر ہو۔ بندے کو اللہ پر جتنا ایمان ہوتا ہے، اس کے مطابق اس کا توکل ہوتا ہے۔ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ دوسروں کی نسبت مومن اللہ پر توکل کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔ بالخصوص سختی اور جہاد کے موقع پر انہیں اللہ پر توکل کرنا، اس سے مدد اور فتح طلب کرنا، اپنی طاقت پر بالکل بھروسا نہ کرنا، بلکہ اللہ کی قوت اور حفاظت پر بھروسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے ان کی مدد کرتا ہے اور ان کی مصیبتیں اور مشکلات دور فرماتا ہے۔ آل عمران
123 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اپنا احسان یاد دلایا ہے، اور انہیں اپنی وہ مدد یا ددلائی ہے جو بدر کے موقع پر ہوئی۔ جب وہ کمزور تھے، ان کی تعداد بھی کم تھی، اور سامان بھی۔ جبکہ دشمنوں کی تعداد اور سامان جنگ کی مقدار بہت زیادہ تھی۔ غزوہ بدر ہجرت کے دوسرے سال واقع ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے تین سو دس سے چند افراد زیادہ کی تعداد میں اپنے صحابہ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ان کے پاس صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ آپ قریش کے تجارتی قافلہ کے تعاقب میں نکلے تھے۔ جو شام سے آرہا تھا۔ مشرکین کو اطلاع ملی تو وہ اپنے قافلے کو بچانے کے لیے پوری طرح تیار ہو کر مکہ مکرمہ سے نکلے۔ وہ تقریباً ایک ہزار جنگ جو تھے جن کے پاس مکمل سامان رسد، بکثرت ہتھیار اور بہت سے گھوڑے موجود تھے۔ ان کا مسلمانوں سے آمنا سامنا ایک چشمے کے پاس ہوا، جسے ” بدر“ کہتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عظیم مدد فرمائی۔ چنانچہ انہوں نے مشرکین کے ستر بہادر سردار قتل کئے اور ستر کو جنگی قیدی بنایا اور ان کی لشکر گاہ پر قبضہ کرلیا۔ جیسے سورۃ انفال میں انشاء اللہ بیان ہوگا۔ اس کی تفصیل کا اصل مقام وہی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صرف اس لیے کیا ہے کہ مسلمان اس سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور اس کا شکر کریں۔ اس لیے فرمایا : ﴿فَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴾ ” اللہ ہی سے ڈرو، تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ“ کیونکہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہی اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جو تقویٰ ترک کردیتا ہے، وہ شکر گزار نہیں ہوتا۔ آل عمران
124 اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! یاد کیجیے جب بدر کے دن آپ مومنوں کو فتح کی خوش خبری دیتے ہوئے ان سے فرما رہے تھے : ﴿أَلَن يَكْفِيَكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُم بِثَلَاثَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُنزَلِينَ ﴾ ” کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں ہوگا کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے؟“ آل عمران
125 ﴿بَلَىٰ ۚ إِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَـٰذَا ﴾ ” بلکہ اگر تم صبر اور پرہیز گاری کرو، اور وہ اپنے اس جوش سے تمہارے مقابلے میں آئیں۔“ (من فورھم ھذا) کا مطلب ہے (من مقصدھم ھذا) ” اپنے کسی ارادے اور عزم کے ساتھ“ اس سے غزوہ بدر مراد ہے۔ ﴿يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ ﴾ ” تمہارا رب تمہاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا، جو نشان دار ہوں گے“ یعنی ان پر بہادروں کا خصوصی نشان ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں کی مدد کی تین شرطیں بیان فرمائی ہیں : صبر، تقویٰ اور مشرکین کا فوری جوش و جذبہ کے ساتھ آنا۔ یہ وعدہ مذکورہ بالا فرشتوں کے بطور امداد فوج کے نازل ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن فتح اور دشمنوں کے منصوبوں کی ناکامی کے لیے اللہ نے پہلی دو شرطیں مقرر فرمائی ہیں۔ جیسے کہ پہلے فرمان الٰہی گزرا ہے۔ ﴿وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ ﴾ (ال عمران :3؍ 120) ” اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ان کے منصوبے تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے“ آل عمران
126 اس کے بعد فرمایا :﴿وَمَا جَعَلَهُ اللَّـهُ إِلَّا بُشْرَىٰ﴾ اللہ نے اس چیز کو (یعنی فرشتے اتار کر تمہیں کمک پہنچانے کو) صرف خوش خبری بنایا ہے“ تاکہ اس سے تمہیں خوشی حاصل ہو۔ ﴿وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُم بِهِ ﴾” اور اس بشارت سے تمہارے دل مطمئن ہوجائیں۔“ ﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ ﴾” ورنہ مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے“ لہٰذا اپنے اسباب پر اعتماد نہ کرو بلکہ اسباب صرف تمہارے دلوں کے اطمینان کے لیے ہیں۔ اصل فتح، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ تو اللہ کی مشیت ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کی مدد کرنے کا ارادہ فرما لے وہی فتح یاب ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس فریق کی مدد کرے جس کے پاس اسباب ہیں، جیسے عام طور پر مخلوق ہیں اس کی سنت جاری ہے اور اگر چاہے تو کمزور اور معمولی فریق کی مدد کرے، تاکہ اس کے بندوں کو معلوم ہوجائے کہ سب کام اس کے ہاتھ میں ہیں اور سب معاملات کا دار و مدار اس کی مرضی پر ہے۔ اس لیے فرمایا : ﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ﴾ ” مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے“ کوئی مخلوق اس کے آگے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ تمام مخلوقات اس کی تدبیر اور غلبے کے آگے کمزور اور مجبور ہیں۔ ﴿الْحَكِيمِ  ﴾” حکمتوں والا ہے“ جو ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ بعض اوقات کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوجاتا ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے۔ کفار کا یہ غلبہ مستقل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ﴾ (محمد :48؍ 4) ” اگر اللہ چاہتا تو خود ہی بدلہ لے لیتا، لیکن اس کا منشا یہ ہے کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے سے لے۔ “ آل عمران
127 اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد د و مقاصد کے لیے کرتا ہے۔ (١) تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ لے۔ یعنی وہ قتل ہوجائیں یا قید ہوجائیں یا ان کے شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوجائے، یا مال غنیمت حاصل ہو۔ اس طرح مومنوں کو قوت حاصل ہو اور کافر ذلیل ہوجائیں۔ کیونکہ اسلام کا مقابلہ کرنے اور اسلام سے جنگ کرنے کی قوت انہیں یا افراد سے حاصل ہوتی ہے یا ہتھیاروں سے یا مال سے یا زمین سے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کا ختم ہونا یا مسلمانوں کے قبضے میں آنا، ان کی قوت میں کمی کا باعث ہے۔ -2 دوسرا مقصد یہ ہے کہ کافر اپنی قوت و کثرت پر اعتماد کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی خواہش کریں، بلکہ اس کی انتہائی شدید حرص میں مبتلا ہو کر اپنی طاقت اور اپنا مال صرف کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ جنگ میں مومنوں کی مدد کرکے انہیں ناکام کر دے، وہ اپنا مقصد حاصل نہ کرسکیں۔ بلکہ خسارہ اٹھا کر غم اور حسرت لے کر واپس چلے جائیں۔ جب آپ حالات پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جب مومنوں کی مدد کرتا ہے تو وہ ان دو امور سے خارج نہیں ہوتی۔ یا ان پر مسلمانوں کی فتح، یا کفار کی اپنی کوششوں میں ناکامی۔ آل عمران
128 جب جنگ احد کے سنگین واقعات پیش آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت مصائب پیش آئے، جن کی وجہ سے اللہ نے آپ کا مقام مزید بلند فرما دیا۔ اس موقع پر آپ کا سرمبارک زخمی ہوا، اور دندان مبارک شہید ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ((کیف یفلح قوم شجوا نبیھم)) (١) ” وہ قوم کس طرح فلاح پا سکتی ہے جس نے اپنے اپنے نبی کو زخمی کردیا۔“ [صحيح مسلم، الجهاد، باب غزوة احد، ح: 1791] اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے سرداروں کے حق میں بد دعا بھی فرمائی۔ مثلاً ابوسفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر وحی نازل فرما کر آپ کو ان کے خلاف دعا کرنے، انہیں لعنت کرنے، ان کے لیے رحمت سے دوری کی درخواست کرنے سے منع فرما دیا اور فرمایا : ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ ﴾” آپ کے اختیار میں کچھ نہیں“ آپ کے فرائض صرف یہ ہیں کہ تبلیغ کریں، مخلوق کی رہنمائی فرمائیں اور ان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں۔ باقی معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے تدبیر فرماتا ہے۔ جسے چاہتا ہے ہدایت نصیب فرما دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ آپ انہیں بد دعائیں نہ دیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اس کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہوگا تو ان کی توبہ قبول فرما کر انہیں اسلام کی نعمت عطا فرما دے گا اور اگر اس کی حکمت کا تقاضا ہوا تو انہیں ہدایت سے محروم فرما کر کفر میں پڑا رہنے دے گا۔ اس صورت میں اپنے نقصان کا باعث اور اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے وہی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان معین افراد کو اور دوسروں کو بھی ہدایت نصیب فرمائی اور وہ مسلمان ہوگئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کا اختیار بندوں کے اختیار پر غالب ہے۔ بندے کا درجہ جتنا بھی بلند ہو، اس سے یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ایک چیز کو بہت بہترسمجھ کر منتخب کرے حالانکہ بہتری اور مصلحت دوسری چیز میں ہو۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم معاملات میں اختیار نہیں رکھتے تھے۔ لہٰذا دوسرے افراد بدرجہ اولیٰ اختیار سے محروم ہوں گے۔ اس میں انبیاء و اولیاء سے حاجتیں مانگنے والوں کی سخت تردید ہے اور یہ وضاحت ہے کہ اس قسم کا عقیدہ رکھنا شرک فی العبادت ہے، جو ان لوگوں کی کم عقلی کو ظاہر کرتا ہے کہ جس ہستی کے ہاتھ میں سب اختیارات میں اسے چھوڑ کر انہیں پکارتے ہیں جو ذرہ برابر اختیار نہیں رکھتے، یہ بہت بڑی گمراہی ہے۔ غور کیجیے جب اللہ نے ان کی توبہ قبول کرنے کا ذکر فرمایا تو فعل کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ (یعنی یہ فرمایا کہ اللہ توبہ قبول فرماتا ہے) اس کا کوئی سبب بیان نہیں فرمایا جس کا یہ نتیجہ برآمد ہوا ہو۔ تاکہ یہ ثابت ہو کہ نعمت تو بندے پر اللہ کا خالص فضل ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ بندے کی طرف سے پہلے کوئی عمل ہوا ہو جو اس نعمت کا سبب بنے نہ کسی وسیلے کی ضرورت ہے۔ لیکن جب عذات کا ذکر فرمایا تو ساتھ ہی ان کے ظلم کا ذکر فرمایا اور فائے سببیہ کے ذریعے سے واضح فرمایا کہ عذاب کا سبب ان کا ظلم ہے۔ ارشاد ہے : ﴿ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ ﴾ ” یا ان کو عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں“ تاکہ اس سے اللہ کا کامل عدل او اس کی کامل حکمت ظاہر ہو، کہ اس نے سزا کو مناسب مقام پر رکھا اور بندے پر ظلم نہیں کیا، بلکہ بندے نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ آل عمران
129 جب یہ واضح فرما دیا کہ رسول کے ہاتھ میں اختیار نہیں، تو اس کے بعد بیان فرمایا کہ اختیار کس کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ﴾” آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، سب اللہ ہی کا ہے۔“ یعنی فرشتے، انسان، جن، حیوانات، جمادات، افلاک وغیرہ اور آسمان اور زمین میں موجود تمام کی تمام اشیاء اللہ کی ملک اور اللہ کی مخلوق ہیں اور اس کی تدبیر کے تابع ہیں۔ وہ ان میں اس طرح تصرف کرتا ہے جس طرح بادشاہ اپنے ملک میں تصرف کرتا ہے۔ اس حکومت میں ان کا ایک ذرہ بھی نہیں۔ جب صورت حال یہ ہے تو وہ سب اس کی مغفرت اور اس کے عذاب کے درمیان ہیں۔ وہ جسے چاہتا ہوں اس کی مغفرت اس طرح فرماتا ہے کہ ہدایت دے کر اسلام میں داخل کردیتا ہے۔ اس طرح اس کا شرک معاف کردیتا ہے اور اس پر یہ احسان فرماتا ہے کہ اسے گناہ ترک کرنے کی توفیق دیتا ہے اور اس طرح اس کے گناہ بھی معاف کردیتا ہے۔ ﴿وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ ﴾” اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے“ وہ اس طرح کہ اسے اس کے نفس کے حوالے کردیتا ہے۔ انسان کا نفس جاہل اور ظالم ہے جو برائیوں کے ارتکاب کا تقاضا کرتا ہے۔ چنانچہ انسان گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے گناہ کی سزا دے دیتا ہے۔ آیت مبارکہ کو دو اسمائے مبارکہ پر ختم کیا گیا ہے جن سے اللہ کی رحمت کی وسعت، اس کی مغفرت کا لامحدود ہونا، اس کے احسان کی وسعت و عموم ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾” اللہ بخشش کرنے والا مہربان ہے“ اس میں بہت بڑا اشارہ ہے کہ اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اور اس کی مغفرت اس کے مواخذہ پر غالب ہے۔ اس آیت میں مخلوق کی حالت بیان کی گئی ہے کہ ان میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے اور کسی کو عذاب دیتا ہے لیکن آیت کے آخر میں اس طرح کے دو اسمائے مبارکہ ذکر نہیں فرمائے کہ ایک سے اس کی رحمت ظاہر ہو اور دوسرے سے اس کا انتقام۔ پس اللہ تعالیٰ رحمت و احسان والا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر ایسے انداز سے رحمت فرمائے گا جو کسی انسان کے خیال میں بھی نہیں آسکتا، نہ اس کی کیفیت معلوم ہوسکتی ہے۔ ہم بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے دامن رحمت میں جگہ دے اور اپنی رحمت سے ہمیں بھی اپنے نیک بندوں میں شامل فرما لے۔ (آمین) آل عمران
130 اس تفسیر کے مقدمہ میں گزر چکا ہے کہ بندہ مومن کو چاہئے کہ وہ خود اپنی ذات میں اور دوسروں میں اوامرو نواہی کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو سب سے پہلے بندہ مومن پر یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی حدود کو پہچانے کہ وہ کیا چیز ہے جس پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کی اطاعت کرسکے۔ جب اسے اس حکم کی حدود کی معرفت حاصل ہوجائے تو اپنی طاقت اور امکان بھر اپنی ذات اور دوسروں پر اس حکم کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ اسی طرح جب اسے کسی امر سے روک دیا جائے تو وہ اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے کہ کیا چیز اس کی حدود میں داخل ہے اور کیا چیز اس سے باہر ہے پھر اس کو ترک کرنے کی کوشش کرے اور اپنے رب سے مدد طلب کرے۔ یہ ایسا اصول ہے جسے اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر اور نواہی میں ملحوظ رکھنا چاہئے۔ یہ آیات کریمہ بھلائی کے ان احکام اور خصائل پر مشتمل ہیں جن کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم اور ان کی ترغیب دی ہے اور ان کے اجر و ثواب سے آگاہ فرمایا ہے اور ایسی منہیات پر مشتمل ہیں جن کو ترک کرنے کی اللہ تعالیٰ نے تاکید کی ہے اور احد کے قصے کے درمیان ان آیات کو بیان کرنے کی حکمت شاید یہ ہے۔ واللہ اعلم۔۔ کہ گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کے دشمنوں پر فتح دے گا اور ان کے دشمنوں کی مدد چھوڑ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ﴾ (آل عمران :3؍ 120) ” اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔“ فرمایا : ﴿بَلَىٰ ۚ إِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَـٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم ﴾ (آل عمران :3؍ 125) ” کیوں نہیں اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور کفار تم پر اچانک زور کا حملہ کردیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کرے گا۔ “ آل عمران
131 گویا نفوس انسانی تقویٰ کی خصائل کی معرفت کے مشتاق ہوئے، جن کے ذریعے سے فتح و نصرت اور فلاح و سعادت حاصل ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں تقویٰ کے اہم ترین خصائل کا ذکر فرمایا جن کو اگر بندہ مومن قائم کرلے تو پھر دوسرے خصائل تقویٰ کو وہ بطریق اولیٰ اختیار کرے گا۔ ہمارے اس قول کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ” تقویٰ“ کا لفظ تین بار ذکر فرمایا ہے۔ ایک دفعہ بغیر کسی قید کے علی الاطلاق ذکر فرمایا ﴿أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ  ﴾ ” جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے“ دو دفعہ تقویٰ کا ذکر مقید طور پر کیا ﴿وَاتَّقُوا اللَّـهَ  ﴾ ” اللہ سے ڈرو“ ﴿وَاتَّقُوا النَّارَ﴾ ” آگ سے ڈرو۔“ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا  ﴾ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی یوں آتا ہے ” اے ایمان والو ! فلاں کام کرویا فلاں کام چھوڑ دو۔۔۔“ تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایمان ہی وہ سبب ہے جو اس حکم کی اطاعت کا داعی اور موجب ہے اور اس نہی سے اجتناب کا باعث ہے، کیونکہ ایمان ان تمام امور کی تصدیق کا مل کا نام ہے جن کی تصدیق واجب ہے اور اعضاء کے اعمال کو مستلزم ہے، چنانچہ انہیں کئی کئی گنا سود کھانے سے منع کیا۔ جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کی عادت تھی یا وہ لوگ ہیں جو شرعی احکام کی پروا نہیں کرتے۔ زمانہ جاہلیت میں سود لینے کا طریقہ یہ تھا کہ جب تنگ دست مقروض کے قرض کی ادائیگی کا وقت ہوجاتا اور اس سے کچھ حاصل ہونے کی امید نہ ہوتی تو قرض خواہ اس سے کہتا کہ وہ یا تو اپنا قرض ادا کر دے یا قرض خواہ مدت بڑھا دے گا اور مقروض کے ذمہ جو رقم ہے اس میں اضافہ ہوجائے گا۔ پس تنگ دست مقروض مجبور ہوجاتا اور اپنی جان چھڑانے اور وقتی طور پر راحت کی خاطر قرض خواہ کی شرائط کا التزام کرلیتا۔ اس طرح اس کے ذمہ جو قرض ہوتا وہ بغیر کسی فائدے کے، بڑھ کر کئی گنا ہوجاتا۔ پس اللہ تعالیٰ کے قول ﴿أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً ﴾ میں سود کی برائی پر سخت تنبیہ بیان ہوئی ہے اور اس میں سود یک تحریم کی حکمت کی طرف اشارہ ہے اور سود کی حرمت کی حکمت یہ ہے کہ اس میں بے انتہا ظلم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سود لینے سے روک دیا اور وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے کہ تنگ دست مقروض کو مہلت دی جائے اور بغیر کسی اضافے کے اس کے ذمہ وہی قرض باقی رہنے دیا جائے جو اصل زر ہے اور اس پر اصل زر سے زیادہ رقم عائد کرنا سخت ظلم ہے۔ لہٰذا متقی مومن پر لازم ہے کہ وہ سود کو ترک کر دے اور اس کے قریب نہ جائے کیونکہ سود کو ترک کرنا موجبات تقویٰ میں سے ہے۔ آل عمران
132 فلاح تقویٰ پر موقوف ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ﴾یعنی جہنم سے ڈرو اور ان تمام امور کو چھوڑ دو جو جہنم میں لے جاتے ہیں مثلاً کفر اور مختلف اقسام کے گناہ اور معاصی۔ کیونکہ تمام گناہ، خصوصاً کبیرہ گناہ کفر کی طرف لے جاتے ہیں بلکہ کبیرہ گناہ تو کفر کے خصائل ہیں جس کے حاملین کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے اور گناہ اور معاصی کو ترک کرنا جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے اور (اللہ) جبار کی ناراضی سے بچاتا ہے۔ نیکی اور اطاعت کے افعال رحمٰن کی رضا، جنت میں دخول اور حصول رحمت کے موجب ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَالرَّسُولَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ﴿لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴾ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت حصول رحمت کا سبب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ ﴾(الاعراف :7؍156) ” اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے اور میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکواۃ دیتے ہیں۔ “ آل عمران
133 آل عمران
134 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مغفرت اور اس جنت کی طرف سبقت کرنے کا حکم دیا ہے جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے، تب اس کی لمبائی کا کیا حال ہوگا، اللہ تعالیٰ نے اس کو متقین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ متقین ہی اس جنت کے وارث ہیں اور اعمال تقویٰ ہی جنت تک پہنچاتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے متقین اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ ﴾یعنی وہ تنگی اور فراخی میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں۔ یعنی جب وہ مال دار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں کثرت سے خرچ کرتے ہیں اور جب وہ تنگدست ہوتے ہیں تو وہ نیکی کے کسی کام کو حقیر نہیں سمجھتے خواہ وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو ﴿وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ  ﴾ یعنی جب ان کو دوسروں کی طرف سے کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو ان کے غصے کا موجب ہوتی ہے۔ یہاں (غیظ) سے مراد ان کے دلوں کا ایسے غصے سے لبریز ہونا ہے جو قول و فعل کے ذریعے سے انتقام کا موجب ہوتا ہے۔ یہ اہل تقویٰ طبائع بشری کے ان تقاضوں پر عمل نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں میں جو غصہ ہوتا ہے اسے دبا دیتے ہیں اور برا سلوک کرنے والے کے مقابلے میں صبر سے کام لیتے ہیں۔ ﴿وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ﴾لوگوں کو معاف کردینے میں ہر اس شخص کو معاف کردینا شامل ہے جو آپ کے ساتھ قول یا فعل کے ذریعے سے برائی سے پیش آتا ہے۔ (عفو) (کظم) سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ ” عفو“ برائی کرنے والے سے درگزر کرنے کے ساتھ، مواخذہ ترک کرنے کا نام ہے۔ یہ سب کچھ وہی شخص کرسکتا ہے جس نے اپنے آپ کو اخلاق جمیلہ سے آراستہ اور عادات رذیلہ سے پاک کرلیا ہو اور وہ ان میں سے ہو جس کی تجارت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو۔ جو اللہ کے بندوں پر رحم اور احسان کرتے ہوئے اور اس خوف سے کہ کہیں ان کو برائی نہ پہنچے ان کو معاف کردیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے اور اس کا اجر اس کے رب کریم پر واجب ہو، نہ کہ اس بندہ فقیر پر۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ ۚ﴾ (الشوری :42؍40) ” جو کوئی معاف کر دے اور معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے (بندہ مومن کے) ایسے حال کا ذکر فرمایا ہے جو دیگر احوال سے زیادہ عام، احسن و اعلیٰ اور زیادہ جلیل القدر ہے اور وہ ہے احسان۔ فرمایا ﴿وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴾” اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے‘‘ احسان کی دو قسمیں ہیں۔ (١) اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں احسان۔ (٢) اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ احسان۔ خالق کی عبودیت میں احسان کی تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں کی ہے (( أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ)) [صحیح البخاری، الایمان، سؤال جبریل النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔، ح:50 وصحیح مسلم ، الایمان، الایمان، ح:1] ” احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی بندگی اس طرح کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے دیکھ نہیں رہا تو پھر وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ رہا مخلوق کے ساتھ احسان تو یہ ان کو دینی اور دنیاوی نفع پہنچانے اور ان سے دینی اور دنیاوی شر کو ہٹانے اور دور کرنے کا نام ہے۔ چنانچہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، جاہل کو تعلیم دینا، غافل کو وعظ و نصیحت کرنا، مسلمان عوام اور خواص کی خیر خواہی کرنا اور ان کو متحد رکھنے کی کوشش کرنا یہ تمام امور مخلوق کے ساتھ احسان کے زمرے میں آتے ہیں۔ نیز لوگوں کے مختلف احوال اور متباین اوصاف کے مطابق ان تک واجب اور مستحب صدقات وغیرہ پہنچانا بھی احسان ہی میں شامل ہے۔ پس سخاوت کرنا، لوگوں کی تکالیف رفع کرنا خود تکالیف برداشت کرنا احسان ہے۔ جیسا کہ انہی آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا وصف بیان فرمایا ہے۔ پس جس نے مذکورہ بالا امور کو قائم کیا اس نے اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کو ادا کیا۔ آل عمران
135 پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی اس معذرت کا ذکر فرمایا جو وہ اپنے جرائم اور گناہوں کے بارے میں اپنے رب کے سامنے پیش کرتے ہیں ﴿وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ﴾ یعنی جب کبھی ان سے کوئی بڑا یا چھوٹا گناہ صادر ہوجاتا ہے تو وہ فوراً توبہ اور استغفار کرتے ہیں اور اپنے رب اور اس کی وعید کو یاد کرتے ہیں جو اس نے نافرمانوں کو سنا رکھی ہے اور اپنے رب کے اس وعدے کو یاد کرتے ہیں جو اس نے اہل تقویٰ سے کر رکھا ہے۔ پس وہ گناہوں کو ترک کرنے اور ان پر نادم ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اس سے اپنے عیوب پر پردہ پوشی کا سوال کرتے ہیں۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴾ ” اور وہ جانتے ہوئے اپنی بد اعمالیوں پر اڑتے نہیں ہیں“ آل عمران
136 ﴿اُولٰئکَ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿جَزَاؤُهُم مَّغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ  ﴾ ” ان کی جزا مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے۔“ اور یہ مغفرت ان کے ہر گناہ کو زائل کر دے گی ﴿وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ﴾ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، شادمانی، خوبصورتی، رونق، بھلائی، مسرت، عالی شان محل، خوبصورت اور بلند منازل، پھولوں سے لدے ہوئے خوش کن درخت، اور ان خوبصورت مساکن و منازل میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ﴿خَالِدِينَ فِيهَا ۚ ﴾ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے انہیں وہاں سے نکالا جائے گا نہ وہ ان جنتوں کے بدلے میں کچھ اور چاہیں گے اور نہ ان نعمتوں کو، جن میں رہتے ہوں گے، بدلا جائے گا۔ ﴿وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ ﴾ ” اور عمل کرنے والوں کا اجر اچھا ہے۔“ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر تھوڑا عمل کیا مگر ان کو بہت زیادہ اجر عطا ہوا، مشقت برداشت کرنے کے بعد ہی راحت کی امید ہوتی ہے اور جزا کے وقت ہی عمل کرنے والے کو اپنے عمل کا پورا اور وافر بدلہ عطا ہوتا ہے۔ یہ آیات کریمہ مرجئہ کے برعکس اہل سنت و الجماعت کے اس موقف پر دلالت کرتی ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور آیت کریمہ سے استدلال کا پہلو سورۃ الحدید کی اس آیت کو ملا کر مکمل ہوتا ہے جو کہ اس آیت کی نظیر ہے ﴿سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرُسُلِهِ﴾(الحدید :57؍21) ” اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف لپکو جس کی چوڑائی زمین و آسمان کی چوڑائی کی مانند ہے جسے ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں“ اس آیت کریمہ میں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴾ ” جنت متقین کے لیے تیار کی گئی ہے“ پھر متقین کے اعمال مالیہ اور اعمال بدنیہ بیان فرمائے۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ متقین، جو ان صفات سے متصف ہیں، وہی مومن ہیں۔ آل عمران
137 یہ آیات کریمہ اور ان کے بعد آنے والی آیات ” احد“ کے واقعات کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جن میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو تسلی دیتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں اور امتوں کو بھی امتحان میں ڈالا گیا اور اہل ایمان کفار کے ساتھ جنگ کی آزمائش میں مبتلا کئے گئے اور وہ بھی کبھی فتح سے نوازے گئے اور کبھی انہیں زک اٹھانا ڑی۔ مگر اس تمام کشمکش کا انجام اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کے حق میں رکھا اور اپنے مومن بندوں کو فتح و نصرت سے نوازا۔ آخر کار جھٹلانے والوں پر غلبہ حاصل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو اپنی نصرت عطا کر کے جھٹلانے والوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ ﴿فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ ﴾ ” زمین میں چلو پھرو“ یعنی اپنے جسم اور قلوب کے ساتھ (زمین میں چلو پھرو) ﴿فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ ﴾تم تکذیب کرنے والوں کو مختلف قسم کے دنیاوی عذاب اور عقوبتوں میں مبتلا پاؤ گے۔ ان کے شہر تباہ و برباد ہوگئے اور ان کا خسارہ سب پر عیاں ہوگیا۔ ان کی شان و شوکت اور اقتدار قصہ پارینہ بن گئے، ان کا تکبر اور فخر ختم ہوگیا۔ کیا یہ سب اس امر کی سب سے بڑی دلیل اور سب سے بڑا شاہد نہیں کہ جو کچھ انبیاء کرام لے مبعوث ہوئے وہ صداقت پر مبنی ہے؟ آل عمران
138 بندوں کو آزمائش میں مبتلا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ سچوں اور جھوٹوں میں امتیاز ہوجائے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ  ﴾ یعنی یہ واضح دلیل ہے جو لوگوں کے سامنے باطل میں سے حق کو واضح کردیتی ہے۔ اہل شقاوت میں سے اہل سعادت کو ممتاز کردیتی ہے اور یہ اس عذاب کی طرف بھی اشارہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو مبتلا کیا۔ ﴿وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ﴾ اور متقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے صرف یہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ آیات انہیں رشد و ہدایت کی راہ دکھاتی اور انہیں گمراہی کے راستے سے روکتی ہیں۔ رہے باقی لوگ تو یہ ان کے سامنے کھول کر بیان کردینا ہے جس سے ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت قائم ہوجاتی ہے تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل کو جان کر ہلاک ہو۔ نیز اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ﴿هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ ﴾میں قرآن مجید اور ذکر حکیم کی طرف اشارہ ہو اور یہ کہ یہ عمومی طور پر تمام لوگوں کے لیے بیان ہے اور اہل تقویٰ کے لیے خاص طور پر ہدایت اور نصیحت ہے۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ آل عمران
139 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا حوصلہ بڑھانے، ان کے عزائم مضبوط اور ان کے ارادوں کو بلند کرنے کے لیے فرماتا ہے : ﴿ وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا ﴾ یعنی تم اس مصیبت کے وقت جو تم پر نازل ہوئی ہے اور اس ابتلاء پر جس سے تم دوچار ہوئے ہو جسمانی کمزوری اور دلی غم کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دلوں کا حزن و غم اور جسموں کی کمزوری، تمہارے لیے مصیبت میں اضافے اور دشمن کی مدد کا باعث ہوں گے بلکہ دلوں کو مضبوط رکھو اور ان میں استقامت پیدا کرو۔ حزن و غم کو اپنے دلوں سے نکال دو اور اپنے دشمن کے ساتھ قتال کے لیے سخت جان ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ایمان کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت اور اس کے ثواب کے امیدوار ہیں، اس لیے کمزوری اور حزن و غم کا مظاہرہ ان کے شایان شان نہیں۔ اس قسم کے رویے کا اظہار اس مومن کے لائق نہیں جو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق دنیاوی اور اخروی ثواب کا طلب گار ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴾ ” تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ “ آل عمران
140 پھر اللہ تعالیٰ نے اس ہزیمت پر ان کو تسلی دی، جو انہوں نے اٹھائی تھی اور ان عظیم حکمتوں کو بیان کیا جو اس ہزیمت پر مرتب ہوئیں۔ چنانچہ فرمایا : ﴿إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ﴾ یعنی زخم کھانے کے اعتبار سے تم اور وہ برابر ہو۔ مگر تم اللہ تعالیٰ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِن تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّـهِ مَا لَا يَرْجُونَ﴾النساء :4؍ 104) ” اگر تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو انہیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمہیں پہنچتی ہے اور تم اللہ سے ایسی امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔“ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ مومن و کافر اور نیک و بدسب کو حصہ عطا کرتا ہے اور ان ایام کو لوگوں کے مابین ادلتا بدلتا رہتا ہے آج کامیابی ایک گروہ کے لیے ہے تو کل کسی اور گروہ کے لیے۔ کیونکہ یہ دنیا تو آخر کار ختم ہوجانے والی اور فانی ہے مگر اس کے برعکس آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے اور وہ صرف اہل ایمان کے لیے ہے۔ ﴿وَلِيَعْلَمَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہزیمت اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ مومن اور منافق کے درمیان فرق واضح ہوجائے، کیونکہ اگر مومنوں کو تمام جنگوں میں فتح ہی حاصل ہوتی رہے تو اسلام میں ایسے لوگ بھی داخل ہوجائیں گے جو اسلام نہیں چاہتے۔ اگر بعض مواقع پر مسلمان آزمائش میں مبتلا ہوں تو حقیقی مومن کا پتہ چل جاتا ہے جو مصیبت و مسرت، فراخی اور تنگی ہر حالت میں اسلام میں رغبت رکھتا ہے۔ ﴿وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَاءَ ۗ ﴾ ” اور تم میں سے گواہ بنائے۔“ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے، کیونکہ شہادت اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند ترین مرتبہ ہے اور اس کے اسباب کے حصول کے بغیر وہاں تک پہنچنا ناممکن ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر رحمت ہے کہ وہ ان کے لیے اسباب مہیا کرتا ہے جو اگرچہ نفوس کو ناپسند ہوتے ہیں مگر ان اسباب کے ذریعے سے وہ اعلی مراتب اور دائمی نعمتیں حاصل کرلیتے ہیں جو انہیں پسند ہیں۔ ﴿وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ  ﴾” اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اللہ کے راستے میں جہاد کو چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً وَلَـٰكِن كَرِهَ اللَّـهُ انبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقَاعِدِينَ ﴾ (التوبہ: 9؍46) ” اگر وہ جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ کرتے تو وہ اس کے لیے سامان تیار کرتے مگر اللہ کو ان کا اٹھنا پسند نہ آیا اور ان کو اس سے باز رکھا اور کہا گیا کہ معذور بیٹھے ہوئے لوگوں کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔ “ آل عمران
141 ﴿وَلِيُمَحِّصَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا ﴾” اور یہ کہ اللہ ایمان والوں کو خالص (مومن) بنا دے۔“ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ ان آزمائشوں کے ذریعے سے اہل ایمان کو گناہوں اور عیبوں سے پاک کرتا ہے۔ اور اس امر کی دلیل یہ ہے کہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جنگ کرنا گناہوں کو مٹا دیتے اور عیوب کو زائل کردیتے ہیں نیز اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو منافقین سے پاک کرتا ہے اور وہ منافقین سے الگ ہوجاتے ہیں اور وہ منافق اور مومن کو پہچان لیتے ہیں اور اس میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے یہ سب کچھ کفار کو مٹانے کے لیے مقرر کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے (جہاد کو) سزا کے ذریعے سے کفار کے استیصال کا سبب بنایا کیونکہ جب کفار فتح یاب ہوتے ہیں تو بغاوت کا رویہ اختیار کرلیتے ہیں اور اپنی سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں چنانچہ وہ اس دنیا ہی میں سزا کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ بھی مومن بندوں پر اللہ کی مہربانی ہے (کہ وہ منافقوں کو جلد ہی دنیا میں عبرت ناک انجام سے دوچار کردیتا ہے) آل عمران
142 پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ ﴾ ” کیا تمہارا خیال ہے کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے، جب کہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو بھی معلوم نہیں کیا جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور معلوم نہیں کیا ثابت قدم رہنے والوں کو؟“ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ نہ سمجھ لینا اور نہ تمہارے دل میں یہ خیال آئے کہ تم کسی مشقت اور اللہ کی راہ میں اس کی رضا کے لیے کوئی تکلیف اٹھائے بغیر جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ اس لیے کہ جنت بلند ترین منزل مقصود اور سب سے افضل مقام ہے جس کے حصول کے لیے مسابقت کی جاتی ہے۔ مطلوب و مقصو دجتنا زیادہ بڑا ہوگا وہاں تک پہنچانے والا وسیلہ اور عمل بھی اتنا ہی بڑا ہوگا۔ پس ایک راحت کو چھوڑ کر ہی دوسری راحت تک پہنچا جاسکتا ہے اور نعمت کو ترک کر کے ہی دوسری نعمت حاصل کی جاسکتی ہے۔ آل عمران
143 دنیا کی تکالیف اور مشکلات، جن کا سامنا بندہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کرنا پڑتا ہے۔ نفس کو ان تکالیف کا عادی بنانے کے لیے ان کی مشق کرواتے وقت اور ان کی معرفت حاصل کرتے وقت اہل بصیرت کی نزدیک اللہ تعالیٰ کی نعمت بن جاتی ہیں جن پر وہ مسرت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی کوئی پروا نہیں کرتے یہ اللہ تعالیٰ کا افضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ پھر ایک ایسے معاملے میں جس کی وہ خود تمنا کیا کرتے تھے اور اسے حاصل کرنا چاہتے تھے، اس پر ان کے عدم صبر پر اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے، چنانچہ فرمایا : ﴿ وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ﴾” اور تم تو آرزو کرتے تھے مرنے کی اس کی ملاقات سے پہلے“ اس آیت کریمہ کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ وہ صحابہ کرام جو جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے، وہ آرزو کیا کرتے تھے اگر اللہ تعالیٰ انہیں کسی معرکے میں شرکت کا موقع عطا کرے تو وہ اس میں اپنی جان لڑا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا : ﴿فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ﴾ یعنی جس چیز کی تم تمنا کیا کرتے تھے تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ﴿وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ ﴾ اب تمہیں کیا ہوگیا تم نے صبر کیوں چھوڑ دیا؟ یہ حالت خاص طور پر اس شخص کے لائق نہیں جو اس کی آرزو کیا کرتا تھا اور اسے وہ چیز حاصل ہوگئی ہو جس کی اسے آرزو تھی۔ اس پر تو واجب یہ ہے کہ اب وہ اس کے لیے اپنی پوری کوشش، جہد اور طاقت صرف کر دے۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ شہادت کی تمنا کرنا ناجائز نہیں۔ اس میں استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی آرزو پر برقرار رکھا اور ان کی آرزو کا انکار نہیں کیا۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے اس تمنا کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ان کے عمل نہ کرنے پر نکیر کی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ آل عمران
144 ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾ یعنی وہ رسولوں میں سے کوئی انوکھا رسول نہیں ہیں بلکہ وہ ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی ذمہ داری اپنے رب کا پیغام پہنچانا اور اس کے احکام کا نفاذ تھا۔ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے نہ تھے اور نہ ان کی بقاء اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کے لیے کوئی شرط تھی۔ بلکہ تمام امتوں پر یہ چیز فرض تھی کہ وہ ہر وقت اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ﴾ ” کیا پس اگر ان کو موت آگئی یا قتل کردیئے گئے، تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟“ یعنی یہ نبی ایمان اور جہاد وغیرہ کے جو احکام لے کر مبعوث ہوئے ہیں کیا تم ان کو ترک کر کے الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ فرمایا :﴿وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا ﴾ ” اور جو شخص الٹے پاؤں پھرجائے گا تو ہرگز نہ بگاڑے گا اللہ کا کچھ“ وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے دین کو ضرو رقائم کرے گا اور اپنے مومن بندوں کو غلبہ عطا کرے گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے الٹے پاؤں پلٹ جانے والوں کو زجر و توبیخ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح و ثناء بھی کی جو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدمی سے ڈٹے رہے اور انہوں نے اپنے رب کے حکم کی اطاعت کی۔ فرمایا :﴿وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ  ﴾ ” اور اللہ شکر گزار بندوں کو جزا دے گا“ اور شکر کے تقاضے اس کے بغیر ادا نہیں ہوتے کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت اختیار کی جائے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی راہنمائی فرمائی ہے کہ ان کے سربراہ کا مفقود ہونا خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو کسی بھی حالت میں ان کو ان کے ایمان یا کسی لازمہ ایمان سے نہ ہٹا دے مگر یہ تب ہی ممکن ہے کہ امور دین کے ہر شعبہ میں کچھ لوگوں کو تیار کیا جائے جو اس شعبہ میں برابر ہوں۔ ان میں سے ایک کی عدم موجودگی میں دوسرا اس کی جگہ لے لے۔ نیز اہل ایمان کا عمومی مقصد اقامت دین اور اس کے دفاع میں اپنی استطاعت کے مطابق جہاد ہونا چاہئے۔ ان کا مقصد ایک سربراہ کی جگہ دوسرے سربراہ کو لانا نہیں ہونا چاہئے۔ اسی صورت میں ان کا معاملہ درست طریقے سے جاری رہ سکتا ہے اور دیگر تمام امور صحیح نہج پر چل سکتے ہیں۔ آل عمران
145 اس آیت کریمہ میں صدیق اکبر جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ اور دیگر اصحاب کرام کی فضیلت پر بھی سب سے بڑی دلیل ہے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرتدین کے خلاف جنگ کی، کیونکہ وہ سادات اہل شکر میں شمار ہوتے ہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ تمام نفوس اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی قضا و قدر سے اپنی اپنی اجل کے ساتھ معلق ہیں۔ پس جس کی تقدیر میں موت کا حتمی فیصلہ ہوجاتا ہے۔ اسے بغیر کسی سبب کے بھی موت آ کر رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ جس کو باقی رکھنا چاہے، تو پھر اگر موت کے تمام اسباب بھی جمع کیوں نہ ہوجائیں، یہ اسباب وقت مقررہ سے پہلے اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ کر کے اس کو مقدر کردیا ہے اور اس کی موت کا وقت معین اس کی تقدیر میں لکھ دیا۔ ﴿فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ ﴾ (الاعراف :7؍34) ”جب ان کا وقت معین آجاتا ہے تو نہ وہ ایک گھڑی تاخیر کرسکتے ہیں اور نہ جلدی۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ لوگوں کو دنیا و آخرت کا وہی ثواب عطا کرتا ہے جس سے ان کے ارادے متعلق ہوتے ہیں۔ فرمایا :﴿ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا ﴾ ” جو کوئی دنیا ہی میں اپنے اعمال کا بدلہ چاہتا ہے ہم اسے وہیں بدلہ دے دیتے ہیں اور جوئی اپنے اعمال کا بدلہ آخرت میں چاہتا ہے ہم اس کو آخرت میں اس کا بدلہ عطا کریں گے۔“ فرمایا : ﴿كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰؤُلَاءِ وَهَـٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا﴾ (بنی اسرائیل :17؍20۔21) ” ہم ان سب کو تیرے رب کی عطا و بخشش سے مدد دیتے ہیں اور تیرے رب کی عطا و بخشش ممنوع اور روکی ہوئی نہیں ہے۔ دیکھ ہم نے کیسے ان کو ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے اور آخرت درجات کے اعتبار سے بہت بڑی اور فضیلت میں بہت بڑھ کر ہے۔ “ فرمایا : ﴿وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ ﴾” اور ہم جزا دیں گے شکر کرنے والوں کو“ یہاں اللہ تعالیٰ نے جزا کا ذکر نہیں فرمایا تاکہ یہ اس جزا کی کثرت اور عظمت پر دلیل ہو اور یہ بھی بندے کو معلوم ہوجائے کہ یہ جزا قلت و کثرت اور حسن کے اعتبار سے شکر کی مقدار پر منحصر ہے۔ آل عمران
146 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے تسلی ہے اور ان کے فعل کی اقتداء کی ترغیب ہے اور اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ (حق و باطل کی کشمکش کا) یہ معاملہ شروع ہی سے چلا آرہا ہے اور ازل سے اللہ تعالیٰ کی سنت جاری ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿وَكَأَيِّن مِّن نَّبِيٍّ ﴾” یعنی کتنے ہی نبی ہیں“﴿ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ ﴾ ’’جن کے ساتھ ہو کر اکثر اللہ والوں نے قتال کیا ہے۔“ یعنی انبیاء کرام کے پیروکاروں کی بہت سی جماعتوں نے، جن کی انبیاء نے ایمان اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے تربیت کی، جہاد کیا، پس وہ شہید ہوئے اور انہوں نے زخم کھائے ﴿فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا﴾ یعنی ان کے دل کمزور ہوئے نہ ان کے بدن، اور نہ انہوں نے عاجزی اور فردتنی ظاہر کی۔ یعنی وہ دشمن کے سامنے جھکے نہیں۔ بلکہ انہوں نے صبر کیا اور ثابت قدم رہے اور اپنا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَاللَّـهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ﴾ ” اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ “ آل عمران
147 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی اس دعا کا ذکر فرمایا جس میں انہوں نے اپنے رب سے فتح و نصرت طلب کی ہے۔ ﴿وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ﴾ یعنی ان انتہائی مشکل مقامات پر ان کا یہی قول تھا۔ ﴿ إِلَّا أَن قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا ﴾” اے ہمارے رب ہمارے گناہ اور وہ زیادتیاں جو ہمارے معاملے میں ہم سے سر زد ہوئی ہیں بخش دے۔“ اسراف سے مراد حد سے تجاوز کر کے حرام امور میں داخل ہونا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ گناہ اور اسراف اللہ تعالیٰ کی نصرت اور توفیق کے اٹھ جانے کا سب سے بڑا سبب ہے اور گناہ اور اسراف کو چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کی نصرت کے حصول کا سبب ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنے گناہوں کی بخشش کا سوال کیا۔ پھر انہوں نے محض اپنی جدوجہد اور اپنے صبر ہی پر بھروسہ نہیں کیا بلکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کیا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ دشمن سے مقابلہ ہونے کے وقت انہیں ثابت قدمی سے نوازے اور دشمن کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا کرے۔ پس اہل ایمان نے صبر کرنے، صبر کے متضاد امور کو ترک کرنے، توبہ، استغفار اور اللہ تعالیٰ سے فتح و نصرت کی دعا کو ایک جگہ جمع کردیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح و نصرت سے نوازا اور دنیا و آخرت میں ان کا اچھا انجام کیا آل عمران
148 اس لیے فرمایا : ﴿فَآتَاهُمُ اللَّـهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا﴾” پس دیا ان کو اللہ نے دنیا کا ثواب“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں فتح و ظفر سے نوازا اور مال غنیمت عطا کیا﴿وَحُسْنَ ثَوَابِ الْآخِرَةِ﴾ ” اور خوب آخرت کا ثواب“ یعنی اپنے رب کی رضا کے حصول میں کامیابی، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کا عطا ہونا جو ہر قسم کے تکدر سے محفوظ ہوں گی۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے بہترین اعمال سر انجام دیئے پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو بہترین جزا سے نوازا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾یعنی خلاق کی عبادت اور مخلوق کے ساتھ معاملہ میں احسان کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ دشمن کے ساتھ جہاد کے وقت، ان مومنین کا سا کردار اختیار کرنا بھی احسان ہے۔ آل عمران
149 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو منافقین و مشرکین کی اطاعت سے ممانعت ہے۔ کیونکہ وہ جب بھی کفار کی اطاعت کریں گے تو کفار ان کے مقابلے میں برا ارادہ ہی رکھیں گے اور ان کا قصد و ارادہ یہی ہوگا کہ وہ اہل ایمان کو کفر کی طرف لوٹا دیں جس کا انجام ناکامی اور خسارے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ آل عمران
150 پھر اہل ایمان کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ ان کا مولیٰ اور حامی و ناصر ہے اور اس میں اہل ایمان کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ اپنے لطف و کرم سے ان کے امور کی سرپرستی کرتا ہے اور انہیں مختلف قسم کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی ضمن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ وہ ہر ایک کو چھوڑ کر صرف اسی کو اپنا ولی اور مددگار بنائیں۔ اللہ کی سرپرستی اور اس کی طرف سے مسلمانوں کی مدد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ ان کے دشمن کفار کے دلوں میں رعب ڈال دے گا۔ یہاں رعب سے مراد وہ خوف عظیم ہے جو کفار کو ان کے بہت سے مقاصد سے روک دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ پورا فرمایا وہ اس طرح کہ ” احد“ کے واقعہ کے بعد جب مشرکین واپس لوٹے تو (راستے میں) انہوں نے باہمی مشورہ کیا اور کہنے لگے ” ہم کیسے لوٹ سکتے ہیں۔ ہم نے ان کے بعض لوگوں کو قتل کیا اور ان کو شکست دی مگر ہم نے ان کا مکمل استیصال نہیں کیا۔“ چنانچہ انہوں نے اس کا ارادہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ خائب و خاسر ہو کر لوٹ گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بہت بڑی فتح ہے۔ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے فتح و نصرت، دو امور سے خالی نہیں ہوتی۔ (١) اللہ تعالیٰ یا تو کفار کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ (٢) یا انہیں ذلت سے دوچار کرتا ہے اور وہ خائب و خاسر واپس لوٹ جاتے ہیں اور یہ (رعب ڈال کر انہیں ناکام لوٹا دینا) دوسری قسم سے ہے۔ آل عمران
151 پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو کفار کے دلوں میں رعب ڈالنے کا موجب تھا ﴿بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّـهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا﴾ یعنی اس کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا لیے اور اپنی خواہشات نفس اور اپنے فاسد ارادوں کے مطابق بتوں کو رب بنا لیا۔ جس پر کوئی حجت اور برہان نہیں تھی اور اس طرح وہ اللہ واحد و رحمٰن کی سرپرستی سے محروم ہوگئے۔ اسی وجہ سے مشرک اہل ایمان سے مرعوب ہوجاتا تھا اور اسے کوئی مضبوط سہارا حاصل نہیں تھا۔ کسی شدت اور تنگی کے وقت کوئی اس کی پناہ گاہ نہیں تھی۔ یہ اس کا دنیا میں حال ہے۔ آخرت کا حال اس سے زیادہ برا اور سخت ہوگا اس لیے فرمایا : ﴿وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ﴾ یعنی ان کا ٹھکانا جہاں یہ پناہ لیں گے، جہنم ہے، اور پھر وہاں سے نکل نہیں سکیں گے﴿وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِينَ ﴾ ” اور برا ہے ٹھکانا ظالموں کا“ ان کے ظلم اور تعدی کے سبب جہنم ان کا ٹھکانا ہوگا۔ آل عمران
152 اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اپنی نصرت کا وعدہ پورا کردیا، پس تمہیں کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا کی حتیٰ کہ تمہیں ان کی گردنوں پر اختیار دے دیا تھا اور تم نے ان کی گردنیں مارنا شروع کردیں یہاں تک کہ تم خو داپنے لیے ہزیمت کا سبب بن گئے اور تم خود اپنے مقابلے میں دشمن کی اعانت کا باعث بن گئے۔ پس جب تم بزدلی، کمزوری اور سستی کا شکار ہوگئے ﴿  وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ اور تم نے جھگڑے میں پڑ کر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو چھوڑ دیا جو اتحاد اور عدم اختلاف کے بارے میں تھا۔ پس تم اختلافات میں پڑے گئے۔ کوئی کہتا تھا کہ ہم تو اسی مقام پر ڈٹے رہیں گے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعین فرمایا ہے اور کسی نے کہا، اب ہمارے یہاں ٹھہرے رہنے کا کیا کام؟ جب کہ دشمن شکست کھاچکا اور کوئی خطرہ باقی نہیں رہا۔ پس تم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی اور آپ کے حکم کو چھوڑ دیا ﴿ بَعْدِ مَا أَرَاكُم مَّا تُحِبُّونَ﴾ ” بعد اس کے، جب اللہ نے تمہیں وہ چیز دکھا دی جو تم پسند کرتے تھے“ اور وہ تھی تمہارے دشمن کی ناکامی اور شکست۔ اس لیے کہ جس کو اللہ تعالیٰ اس چیز سے نواز دے، جو اسے پسند ہو، اس پر دوسرے کی نسبت زیادہ ضروری ہے کہ وہ نافرمانی سے بچے۔ پس خاص طور پر اس حال میں اور عام طور پر ہر حال میں اس پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل کرنا واجب ہے۔﴿ مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا ﴾ ” تم میں سے بعض وہ ہیں جو دنیا چاہتے ہیں“ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا ﴿وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ﴾ ” اور بعض تم میں سے آخرت چاہتے ہیں“ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کا التزام کیا اور جو ان کو حکم دیا گیا تھا اس پر ثابت قدم رہے۔ ﴿ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ﴾ ” پھر تم کو پھیر دیا ان سے“ یعنی جب یہ تمام امور تم میں پائے گئے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے مقابلے میں پھیر کر بھگا دیا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری آزمائش اور تمہارے امتحان کے طور پر جیت دشمن کے ہاتھ رہی تاکہ مومن اور کافر، فرمانبردار اور نافرمان کے درمیان امتیاز ہوجائے اور تاکہ تم سے جو غلطی سر زد ہوئی ہے اس مصیبت کے ذریعے سے تمہیں معاف کر دے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ ۗ وَاللَّـهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾” اس نے تمہیں معاف کردیا اور اللہ مومنوں پر فضل کرنے والا ہے“ یعنی وہ ان پر بہت زیادہ فضل کرنے والا ہے کیونکہ اس نے انہیں اسلام سے نوازا، اپنے احکام کی طرف راہنمائی کی، ان کے گناہوں کو معاف کردیا اور ان کے مصائب پر ان کو اجر عطا کیا۔ یہ اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے کہ وہ جو بھلائی یا مصیبت ان کے لیے مقدر کرتا ہے وہ بھی ان کے لیے بھلائی ہی ہوتی ہے۔ اگر انہیں خوشحالی عطا کرتا ہے اور وہ اس پر شکر ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں شکر گزاروں کی جزا دیتا ہے۔ اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور اس پر وہ صبر کرتے ہیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں صبر کرنے والوں کے ثواب سے نوازتا ہے۔ آل عمران
153 اللہ تبارک و تعالیٰ جنگ سے ان کی پسپائی کے وقت ان کا حال بیان کرتے ہئے ان پر عتاب کرتا ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿إِذْ تُصْعِدُونَ ﴾ یعنی جب تم تیزی سے بھاگے جا رہے تھے﴿وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ﴾ یعنی تم ایک دوسرے کو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے بلکہ جنگ سے فرار اور نجات کے سوا تمہارا کوئی ارادہ نہ تھا اور حال یہ تھا کہ تم کسی بڑے خطرے سے بھی دوچار نہ تھے کیونکہ تم سب سے آخر میں تھے اور ان لوگوں میں سے نہ تھے جو دشمن کے قریب اور بلاواسطہ میدان جنگ میں تھے، بلکہ صورت حال یہ تھی﴿وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ﴾ ” رسول تمہیں بلا رہے تھے، تمہارے پیچھے سے‘‘ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو بلا رہے تھے جو پہاڑوں پر چڑھ رہے تھے۔ آپ پکار رہے تھے ’’اے اللہ کے بندو ! میرے پاس آؤ“ مگر تم نے ان کی طرف پلٹ کر دیکھا نہ تم ان کے پاس رکے۔ پس میدان جنگ سے فرار فی نفسہ موجب ملامت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بلانا، جو اس امر کا موجب تھا کہ اپنی جان پر بھی آپ کی پکار کو مقدم رکھا جائے، سب سے بڑی ملامت کا مقام ہے، کیونکہ تم لوگ بلانے کے باوجود آپ سے پیچھے رہے۔ ﴿فَأَثَابَكُمْ﴾ یعنی اس نے تمہارے اس فعل پر تمہیں جزا دی ﴿غَمًّا بِغَمٍّ﴾ یعنی غم کے بعد غم۔ فتح حاصل نہ ہونے کا غم، مال غنیمت سے محروم ہونے کا غم، ہزیمت اٹھانے کا غم اور ایک ایسا غم جس نے تمام غموں کو بھلا دیا اور وہ تھا تمہارا اس افواہ کو سن لینا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کردیا گیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور اپنے بندوں پر حسن نظر کی بنا پر ان تمام امور کے اجتماع کو ان کے لیے بھلائی بنا دیا۔ فرمایا : ﴿لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ﴾یعنی جو فتح و ظفر تمہیں حاصل نہ ہوسکی، اس پر غمزدہ نہ ہوں ﴿وَلَا مَا أَصَابَكُمْ﴾” اور نہ اس پر جو تمہیں پہنچا“ یعنی تمہیں ہزیمت قتل اور زخموں کا جو سامنا کرنا پڑا اور جب تم نے اس بات کی تحقیق کرلی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید نہیں ہوئے تو تم پر تمام مصیبتیں آسان ہوگئیں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ ہونے پر خوش ہوگئے آپ کی زندگی کی خبر نے ہر مصیبت اور سختی کو فراموش کردیا۔ پس ابتلاء اور آزمائش میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ اس کے علم، تمہارے اعمال اور ظاہر و باطن کے مکمل باخبر ہونے کے ساتھ صادر ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا : ﴿ وَاللَّـهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴾” اللہ تمہارے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کے ارشاد﴿لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ﴾میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ غم اور مصیبت اس لیے مقدر کئے ہیں تاکہ تمہارے نفس ان مصائب کا سامنا کرنے پر آمادہ اور ان پر صبر کرنے کے عادی ہوں اور تمہارے لیے مشقتوں کو برداشت کرنا آسان ہوجائے۔ آل عمران
154 ﴿ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّن بَعْدِ الْغَمِّ﴾ ” پھر اتارا اس نے تم پر اس غم کے بعد“ یعنی وہ غم جو تمہیں پہنچا ﴿أَمَنَةً نُّعَاسًا يَغْشَىٰ طَائِفَةً مِّنكُمْ ۖ﴾ ” امن کو جو کہ اونگھ تھی کہ اڈھانک لیا اس نے تمہارے ایک گروہ کو“ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت، احسان، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں کو ثابت قدم رکھنے اور طمانیت میں اضافہ کا باعث تھا۔ کیونکہ خوف زدہ شخص کو، دل خوف سے لبریز ہونے کی وجہ سے اونگھ اور نیند نہیں آتی۔ جب دل سے خوف زائل ہوجاتا ہے، تب نیند آنے کا امکان ہوتا ہے۔ یہ گروہ جس کو اللہ تعالیٰ نے نیند اور اونگھ سے نوازا، اہل ایمان ہیں جن کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے حصول اور مسلمانوں کے مصالح کے سوا کوئی اور مقصد نہیں تھا۔ رہا دوسرا گروہ جس کے بارے میں فرمایا : ﴿قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنفُسُهُمْ﴾” انہیں فکر میں ڈال دیا تھا ان کی جانوں نے“ تو ان کے نفاق یا ان کے ایمان کی کمزوری کی بنا پر، ان کا اپنی جان بچانے کے سوا کوئی اور ارادہ نہ تھا۔ اس لیے ان کو وہ اونگھ نہ آئی جو دوسروں کو آئی تھی ﴿يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِن شَيْءٍ﴾ ” وہ کہتے تھے، کچھ بھی کام ہے ہمارے ہاتھ میں؟“ یہ استفہام انکاری ہے یعنی فتح و نصرت میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ پس انہوں نے اپنے رب، اپنے دین اور اپن نبی کے بارے میں بدگمانی کی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی دعوت کو پورا نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی سمجھ لیا کہ یہ شکست اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف ایک فیصلہ کن شکست ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : ﴿قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّـهِ﴾” کہہ دو کہ تمام معاملے کا اختیار اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔“ (امر) دو امور پر مشتمل ہوتا ہے امر قدری، اور امر شرعی۔ پس تمام چیزوں کا ظہور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کی اطاعت کرنے والوں کے حق میں، ان چیزوں کا انجام فتح و ظفر ہی ہوتا ہے خواہ ان پر کچھ بھی گزر جائے۔ ﴿يُخْفُونَ﴾ یعنی منافقین چھپاتے ہیں ﴿ فِي أَنفُسِهِم مَّا لَا يُبْدُونَ لَكَ﴾” اپنے دلوں میں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے“ پھر اللہ تعالیٰ نے اس معاملے کو واضح کردیا جو وہ چھپاتے تھے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ ﴾یعنی اگر اس واقعہ میں ہم سے رائے اور مشورہ لیا گیا ہوتا ﴿ مَّا قُتِلْنَا هَاهُنَا﴾” تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔“ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا انکار اور اس کی تکذیب ہے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کی رائے کو بیوقوفی کی طرف منسوب کرنا اور اپنے آپ کو پاک صاف اور صحیح قرار دینا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا :﴿قُل لَّوْ كُنتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ ﴾ کہہ دیں، اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے“ گھر ایسی جگہ ہے جہاں قتل کا گمان بعید ترین چیز ہے۔ فرمایا :﴿لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ﴾ ” تب بھی وہ لوگ ضرور اپنے پڑاؤ کی طرف نکلتے جن کا مارا جانا لکھ دیا گیا تھا“ پس معلوم ہوا کہ اسباب خواہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، وہ تب ہی فائدہ دیتے ہیں جب قضا و قدر معارض نہ ہو جب قضا و قدر اسباب کے خلاف ہو تو اسباب کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے موت و حیات کے جو فیصلے لوح محفوظ میں لکھ دیئے ہیں وہ نافذ ہو کر رہتے ہیں۔﴿وَلِيَبْتَلِيَ اللَّـهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ﴾” تاکہ وہ آزمائے جو تمہارے سینوں میں (نفاق، ایمان اور ضعف ایمان) ہے۔“ ﴿وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ﴾ ” تاکہ وہ تمہارے دلوں کو (شیطانی وسوسوں اور ان سے پیدا ہنے والی مذموم صفات سے) پاک کردے“ ﴿وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام (خیالات اور ارادوں) کو جانتا ہے جو دلوں کے اندر ہیں اور ان میں چھپے ہوئے ہیں۔ پس اس کے علم و حکمت کا تقاضا ہوا کہ وہ ایسے اسباب پیدا کرے جن سے سینوں کے بھید اور معاملات کے اسرار نہاں ظاہر ہوں۔ آل عمران
155 اللہ تبار ک و تعالیٰ ان لوگوں کے احوال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جنہوں نے احد کے روز ہزیمت اٹھائی اور ان عوامل کی خبر دی جو ان کے فرار کا موجب بنے۔ نیز یہ کہ شیطان نے ان کو گمراہ کیا اور وہ ان کے بعض گناہوں کے سبب سے ان پر مسلط ہوگیا۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے شیطان کو در اندازی کی اجازت دی اور اپنی نافرمانیوں پر اسے اختیار دے دیا کیونکہ معصیت شیطان کی سواری اور اس کی در اندازی کا ذریعہ ہے۔ اگر وہ اپنے رب کی اطاعت کے ذریعے سے محفوظ رہنے کی کوشش کرتے تو شیطان کو ان پر کوئی اختیار نہ ہوتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ ﴾(بنی اسرائیل :17؍65) ” بے شک میرے جو بندے ہیں ان پر تیرا کوئی اختیار نہیں۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے ان لوگوں کو معاف کردیا جن سے یہ قابل مواخذہ فعل سر زد ہوا اور اگر وہ ان کا مواخذہ کرتا تو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ﴿ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ﴾بے شک اللہ خطا کار گناہ گاروں کو توبہ و استغفار کی توفیق عطا کر کے اور ان کو مصائب میں مبتلا کر کے بخش دیتا ہے ﴿حَلِیْمٌ﴾ یعنی جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ وہ اسے توبہ و انابت کے لیے اپنی طرف بلاتا ہے اگر وہ توبہ کر کے اس کی طرف لوٹ آئے تو وہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور اسے ایسے کردیتا ہے جیسے اس سے کوئی گناہ اور عیب صادر ہی نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر اللہ تعالیٰ ہی کی حمد و ثناء ہے۔ آل عمران
156 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو کفار اور منافقین وغیرہ کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے۔ خاص طور پر اس معاملے میں کہ وہ اپنے دینی یا نسبی بھائیوں سے کہتے ہیں : ﴿ إِذَا ضَرَبُوا فِي الْأَرْضِ﴾ یعنی جب تجارت وغیرہ کے لیے سفر کرتے ہیں ﴿ أَوْ كَانُوا غُزًّى﴾ یا وہ غزوات کے لیے نکلتے ہیں۔ پھر اس دوران میں انہیں موت آجاتی ہے یا وہ قتل ہوجاتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں ﴿لَّوْ كَانُوا عِندَنَا مَا مَاتُوا وَمَا قُتِلُوا﴾ ” اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو وہ نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے“ یہ ان کا جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿قُل لَّوْ كُنتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ﴾ (آل عمران :3؍ 154) ” کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھا تھا توہ وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔“ مگر اس تکذیب نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا البتہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول اور عقیدے کو ان کے دلوں میں حسرت بنا دیا پس ان کی مصیبت میں اور اضافہ ہوگیا۔ رہے اہل ایمان، تو وہ جانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے پس وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے تسلیم کرتے ہیں اور یوں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو ہدایت دیتا ہے اور ان کو مضبوط کردیتا ہے اور اس طرح ان کی مصیبت میں تخفیف کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ منافقین کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿وَاللَّـهُ يُحْيِي وَيُمِيتُ﴾ یعنی زندہ کرنے اور موت دینے کا اختیار وہ اکیلا ہی رکھتا ہے۔ اس لیے صرف احتیاط تقدیر سے نہیں بچا سکتی۔ ﴿ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ﴾ ” اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو دیکھ رہا ہے۔“ اس لیے وہ تمہارے اعمال اور تمہاری تکذیب کا بدلہ ضرور دے گا۔ آل عمران
157 پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہوجانا یا مر جانا، اس میں کوئی نقص یا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے پرہیز کیا جائے بلکہ یہ تو ایک ایسا معاملہ ہے جس میں رغبت کے لیے لوگوں کو مسابقت کرنی چاہئے کیونکہ یہ ایک سبب ہے جو اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت تک پہنچاتا ہے اور یہ اس دنیاوی مال و متاع سے کہیں بہتر ہے جسے دنیا والے جمع کرتے ہیں، نیز مخلوق کو جب بھی موت آئے گی یا کسی بھی حالت میں ان کو قتل کیا جائے انہیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ اس لیے اللہ کے سوا کوئی جائے فرار نہیں اور مخلوق کو کوئی بچانے والا نہیں، سوائے اس کے کہ اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے۔ آل عمران
158 آل عمران
159 یعنی یہ آپ پر اور آپ کے اصحاب پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور یہ اللہ کا آپ پر احسان ہے کہ آپ ان کے لیے نہایت نرم دل ہوگئے، آپ ان سے نہایت مہربانی اور شفقت سے پیش آتے ہیں اور ان کے ساتھ آپ کا خلق بہت اچھا ہے اس لیے وہ آپ کے اردگرد جمع ہوگئے اور وہ آپ سے محبت کرتے اور آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ ﴿وَلَوْ كُنتَ فَظًّا﴾ یعنی اگر آپ بد اخلاق ہوتے ﴿غَلِيظَ الْقَلْبِ﴾ یعنی سخت دل ہوتے﴿لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ﴾” تو وہ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے“ کیونکہ بدخوئی اور سخت دلی لوگوں کو متنفر اور ان کے دلوں میں بغض پیدا کرتی ہے۔ پس دنیاوی سربراہ کے اچھے اخلاق لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف کھینچتے ہیں اور دین کے بارے میں لوگوں میں رغبت پیدا کرتے ہیں اس کے علاوہ وہ لوگوں میں قابل تعریف اور اللہ کے ہاں اجر خاص کا مستحق ہوتا ہے اور دینی سربراہ کے برے اخلاق لوگوں کو دین سے متنفر کرتے اور دین کے بارے میں لوگوں میں بغض پیدا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بدخو دینی سربراہ قابل مذمت اور خاص سزا کا مستحق ہے۔ یہ رسول معصوم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے تب کسی دوسرے کا کیا حال ہوگا۔ کیا یہ سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ اہم بات نہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی پیروی کریں اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف راغب کرنے کے لیے ہم ان کے ساتھ نرمی، حسن خلق اور الفت کے ساتھ پیش آئیں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش آیا کرتے تھے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کی کوتاہیاں معاف کردیں جو آپ کے حق میں ان سے صادر ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حق میں جو کو تاہیاں ان سے سرزد ہوئی ہیں اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بخشش طلب کریں اور اس طرح عفو اور احسان کو یکجا کردیں۔ ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ یعنی ان امور میں ان سے مشورہ کریں جو مشاورت اور فکر و نظر کے محتاج ہیں۔ کیونکہ مشاورت میں بہت سے فوائد اور بے شمار دینی اور دنیاوی مصالح ہیں۔ جیسے : ١۔ مشاورت دینی عبادات میں شمار ہوتی ہے جن سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتا ہے۔ ٢۔ مشاورت میں لوگوں کے دل جوئی اور اس قلق کا ازالہ ہوتا ہے جو حوادث کے وقت دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جس شخص کے ہاتھ میں لوگوں کے معاملات کا اختیار ہوتا ہے، جب وہ کسی حادثہ اور اہم موقع پر اہل رائے اور اہل فضیلت اصحاب کو جمع کر کے ان سے مشورہ لیتا ہے تو لوگوں کے دل اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی ہی رائے کو ترجیح نہیں دیتا بلکہ وہ تمام لوگوں کے لیے کلی مصلحت عامہ میں غور و فکر کرتا ہے۔ تب وہ اس کی اطاعت کی پوری کوشش کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ مصالح عامہ میں تگ و دو کرتا ہے۔ اس کے برعکس جو یہ طرز عمل اختیار نہیں کرتا لوگ اس سے سچی محبت کرتے ہیں نہ اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اگر وہ اس کی اطاعت کرتے بھی ہیں تو یہ اطاعت کا مل نہیں ہوتی۔ ٣۔ مشاورت میں افکار نکھر کر سامنے آجاتے ہیں کیونکہ ان کو ان کے اصل مقام پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس طرح لوگوں کی عقل و فہم میں اضافہ ہوتا ہے۔ ٤۔ مشاورت کے نتیجے میں صحیح رائے سامنے آجاتی ہے مشاورت سے کام لینے والا عام طور پر غلطی نہیں کرتا۔ اگر اس سے غلطی سر زد ہو بھی جائے یا مقصد پورا نہ ہو تو وہ ملامت کا مستحق نہیں ٹھہرتا۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾درآں حالیکہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ عقل، سب سے زیادہ علم اور سب سے افضل رائے رکھتے ہیں۔۔۔ تو وہ دوسروں کو یہ حکم کیسے نہ دے گا؟ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَإِذَا عَزَمْتَ﴾یعنی اگر کسی ایسے معاملے میں جس میں مشاورت کی حاجت ہو تو مشاورت کے بعد جب آپ کوئی عزم کرلیں ﴿فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ﴾ تو اپنی طاقت اور اپنی دور بینی پر بھروسہ چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی قوت و قدرت پر بھروسہ کریں ﴿ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ﴾اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے پاس پناہ لیتے ہیں۔ آل عمران
160 اگر اللہ تعالیٰ اپنی فتح و نصرت اور اعانت کے ذریعے سے تمہاری مدد کرے ﴿فَلَا غَالِبَ لَكُمْ﴾ تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، خواہ دنیا کے تمام شوگوں سے جمع ہو کر لوگ تمہارے خلاف کیوں نہ آجائیں اور خواہ ان کے پاس کتنی ہی زیادہ تعداد اور کتنا ہی سرو سامان کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ تمام بندے اس کے سامنے مغلوب و مقہور ہیں۔ ان کی پیشانی اس کے قبضہ قدرت میں ہے، پس کوئی جاندار اس کی اجازت کے بغیر حرکت کرسکتا ہے نہ اس کی اجازت کے بغیر سکون اختیار کرسکتا ہے۔ ﴿وَإِن يَخْذُلْكُمْ﴾ ” اور اگر وہ تمہیں مدد نہ کرے“ یعنی تمہیں تمہارے نفس کے حوالے کر دے ﴿فَمَن ذَا الَّذِي يَنصُرُكُم مِّن بَعْدِهِ ۗ﴾ ” پس کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟“ اس لیے اگر تمام مخلوق بھی تمہاری اعانت پر مجتمع ہوجائے تو پھر بھی تم مدد سے محروم ہوگئے۔ یہ آیت کریمہ اس حکم کو متضمن ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے فتح و نصرت طلب کی جائے، اسی پر بھروسہ کیا جائے اور اپنی طاقت و قدرت سے برأت کا اظہار کیا جائے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَعَلَى اللَّـهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾ معمول کو عامل سے قبل لانا حصر کا معنی دیتا ہے۔ یعنی تم صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، کسی اور پر بھروسہ نہ کرو۔ کیونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ وہ اکیلا مدد کرنے والا ہے۔ اس لیے اس پر اعتماد اور بھروسہ کرنا توحید ہے اور اس سے مقصود و مطلوب حاصل ہوتا ہے اور کسی دوسرے پر بھروسہ کرنا شرک ہے اور بھروسہ کرنے والے کو کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ نقصان دہ ہے۔ اس آیت میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کا حکم ہے اور بندہ مومن کے ایمان کے مطابق ہی اس کا توکل ہوتا ہے۔ آل عمران
161 یہاں (غلول) سے مراد ہے مال غنیمت چھپانا اور اس چیز میں خیانت کرنا جس کا اسے منتظم بنایا گیا ہے۔ خیانت کے حرام ہونے پر اتفاق ہے بلکہ اس کا شمار کبائر میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ یہ آیت کریمہ اور دیگر نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ مال غنیمت میں خیانت کرنا ایک نبی کے شایان شان نہیں۔ کیونکہ مال غنیمت میں خیانت، جیسا کہ آپ کو علم ہے۔ سب سے بڑا گناہ اور بدترین عیب ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرام کو ہر عیب سے محفوظ رکھا ہے جو ان میں کسی اعتراض کا باعث بن سکتا تھا۔ اخلاق و اطوار کے لحاظ سے انہیں دنیا میں افضل ترین انسان، سب سے زیادہ پاک نفوس کے مالک اور سب سے زیادہ طیب و طاہر ہستیاں بنایا ہے اور انہیں ہر عیب سے پاک کیا ہے۔ انہیں اپنی رسالت کا محل اور اپنی حکمت کا خزانہ بنایا ہے۔ ﴿اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ﴾ (الانعام:6؍124) ” اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اس کی رسالت کا کون سا محل ہے اور وہ اپنی رسالت کسے عنایت فرمائے۔ “ ان میں سے کسی ایک رسول کے بارے میں بندے کا مجرد علم، تمام رسولوں کے ہر عیب سے محفوظ اور سلامت ہونے کا قطعی فیصلہ کردیتا ہے اور انبیاء و مرسلین کے بارے میں ان کے دشمنوں کی طرف سے جو کچھ کہا گیا ہے اس کے فاسد ہونے پر کسی دلیل کی حاجت نہیں، کیونکہ ان کی نبوت کی معرفت ان تمام اعتراضات کو دفع کرنے کو مستلزم ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسلوب کے ساتھ ذکر کیا جو اس فعل کے وجود کو مانع ہے چنانچہ فرمایا : ﴿وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ﴾ یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت کے لیے چنا ہے اس کے بارے میں یہ ممتنع اور محال ہے کہ وہ مال غنیمت میں خیانت کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں خیانت کرنے والوں کے لیے وعید سنائی ہے، فرمایا : ﴿وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ یعنی مال غنیمت میں خیانت کرنے والا قیامت کے روز اس مال کو، خواہ وہ کوئی حیوان ہے یا مال و متاع وغیرہ، اپنی پیٹھ پر اٹھائے ہوئے آئے گا اور اس مال کے ذریعے سے اسے عذاب دیا جائے گا۔ ﴿ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ﴾ یعنی مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کو اس کی خیانت کی مقدار کے مطابق اس کے گناہ کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ﴿وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ﴾” اور ان پر ظلم نہیں ہوگا“ یعنی ان کی برائیوں میں اضافہ اور ان کی نیکیوں میں کمی نہیں کی جائے گی۔ اس آیت کریمہ میں آپ اس حسن احتراز (مفہوم مخالف سے بچاؤ کے احسن پیرائے) پر غور کیجیے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا کا ذکر کیا ہے کہ وہ قیامت کے روز خیانت شدہ مال کے ساتھ آئے گا اور چونکہ وہ اس غنیمت میں خیانت کرنے والے کی پوری جزا کا ذکر کرنا چاہتا ہے اور اس میں صرف غنیمت میں خیانت کی سزا کے ذکر پر اقتصار کیا ہے۔ یوں اس آیت کے مفہوم مخالف سے یہ وہم لازم آتا ہے کہ دیگر عمل کرنے والوں کو ہوسکتا ہے کہ پورا پورا بدلہ نہ دیا جائے۔ اس لیے یہاں ایسا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو غنیمت میں خیانت کرنے والوں اور دیگر عمل کرنے والوں، دونوں کے لیے جامع ہے۔ آل عمران
162 اس آیت کی تفسیر اگلی آیت کے ساتھ ملاحظہ کیجئے۔ آل عمران
163 اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ شخص، جس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے مطابق اس کے اعمال ہوں، اس شخص کے برابر نہیں ہوسکتا جو گناہوں میں مشغول ہے اور اپنے رب کو ناراض کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم، اس کی حکمت اور فطرت انسانی میں یہ دونوں قسم کے اشخاص مساوی نہیں ہوسکتے ﴿أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا ۚ لَّا يَسْتَوُونَ﴾ (السجدہ :32؍18) ” بھلا جو شخص مومن ہے وہ اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جو فاسق ہے؟ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔“ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿هُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ اللَّـهِ﴾” لوگوں کے مختلف درجے ہیں اللہ کے ہاں“ یعنی یہ تمام لوگ اپنے اعمال میں تفاوت کی بنا پر اپنے درجات اور منزلت میں بھی متفاوت ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی پیروی کرنے والے بلند درجات و منازل اور بالاخانوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کے مطابق اپنے فضل و کرم سے انہیں عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے سبب والے امور کی پیروی کرنے والے پست سے پست اور فرو ترین ٹھکانے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق جزا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو دیکھتا ہے اور ان کا کوئی عمل اس سے چھپا ہوا نہیں۔ بلکہ ان کے تمام اعمال اس کے احاطہ علم میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے اور اس کے امین و کریم فرشتے ان اعمال کو لکھ کر محفوظ رکھتے ہیں۔ آل عمران
164 اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ احسان جو اس نے اپنے بندوں پر کیا ہے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، بلکہ اصل نعمت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر ان پر بہت بڑا احسان کیا۔ جس کے ذریعے سے اس نے ان کو گمراہی کے گڑھے سے بچایا اور انہیں ہلاکت سے محفوظ کیا۔ پس فرمایا : ﴿ لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ﴾” یقیناً اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا، جو بھیجا ان میں رسول، انہی میں سے“ یعنی وہ اس کا حسب و نسب، اس کے احوال اور اس کی زبان جانتے ہیں۔ وہ ان کی اپنی قوم اور ان کے اپنے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے وہ ان کے لیے خیر خواہی کے جذبات رکھتا اور ان پر بہت شفیق اور مہربان ہے۔ ﴿ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ﴾یعنی وہ ان کو ان آیات کے الفاظ اور معانی سکھاتا ہے﴿وَيُزَكِّيهِمْ﴾ یعنی وہ ان کو شرک، گناہ، رذائل اور دیگر تمام برے اخلاق و اطوار سے پاک کرتا ہے ﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ﴾” اور انہیں کتاب سکھاتا ہے“ یا تو اس سے مراد جنس کتاب ہے جو کہ قرآن مجید ہے تب اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ ﴾ سے مراد آیات کو نیہ ہوں گی۔ یا کتاب سے مراد ” کتابت‘‘ ہے تب اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اور کتابت کی تعلیم دے کر ان پر بڑا احسان کیا ہے، جس کے ذریعے سے علوم حاصل کئے جاتے ہیں اور ان کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ ﴿وَالْحِكْمَةَ ﴾ہاں حکمت سے مراد سنت ہے جو کہ قرآن مجید کی مانند ہے نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور اسرار شریعت کی معرفت بھی ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تعلیم احکام، تنفیذ احکام کے ذرائع اور ان احکام کے فوائد و ثمرات کے حصول کے ذرائع کو جمع کردیا۔ پس وہ ان عظیم امور کی بنا پر تمام لوگوں سے آگے نکل گئے اور ان کا شمار علمائے ربانی میں ہونے لگا۔ ﴿وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ﴾ یعنی اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل ﴿لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴾ ” وہ کھلی گمراہی میں تھے“ اور اپنے رب تک پہنچانے والے راستے کی معرفت سے محروم تھے اور نہ انہیں اس طریق کا علم تھا جو ان کا تزکیہ نفس کر کے ان کو پاک کرے بلکہ وہ تو اس راستے پر گامزن تھے جو ان کی جہالت کو مزین کرتا تھا۔ خواہ یہ جہالت تمام جہانوں کی عقل کے متناقض ہی کیوں نہ ہو۔ آل عمران
165 جب اہل ایمان کو غزوہ احد میں بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرناپڑا اور ان میں سے تقریباً ستر صحابہ نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ان مومن بندوں کے لیے تسلی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا﴾” پہنچا چکے ہو تم اس سے دو چند“ یعنی تمہارے ہاتھوں سے دشمنوں پر دو چند مصیبت پڑچکی ہے۔ تم نے ان کے ستر آدمیوں کو قتل کیا اور ستر آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔ بنا بریں تمہارے لیے یہ معاملہ آسان اور تم پر یہ مصیبت ہلکی ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ تم اور وہ برابر نہیں ہو۔ تمہارے مقتول جنت میں ہیں اور ان کے مقتول جہنم میں۔ ﴿قُلْتُمْ أَنَّىٰ هَـٰذَا﴾” تم نے کہا، یہ کہاں سے آئی؟“ یعنی یہ مصیبت جو ہمیں پہنچی ہے اور یہ ہزیمت جو ہمیں اٹھانا پڑی ہے کہاں سے آگئی؟ ﴿ قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنفُسِكُمْ﴾یہ مصیبت تمہارے نفس ہی کی طرف سے وارد ہوئی ہے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ چیز دکھائی جسے تم پسند کرتے تھے اس کے بعد تم نے آپس میں جھگڑا کیا اور رسول کے حکم کی نافرمانی کی پس اپنے ہی نفسوں کو ملامت کرو اور ہلاکت کے اسباب سے بچو ﴿ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴾پس اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے گمان سے بچو۔ وہ تمہاری مدد کرنے پر قادر ہے مگر تمہیں آزمائش اور مصیبت میں مبتلا کرنے میں اس کی کامل حکمت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ﴾ (محمد :47؍ 4) ” یہ (حکم یاد رکھو) ” اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا مگر وہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمہاری آزمائش کرتا ہے۔“ آل عمران
166 پھر اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ دونوں لشکروں یعنی مسلمانوں کے لشکر اور کفار کے لشکر میں مڈ بھیڑ ہونے کے روز، احد میں، ان کو ہزیمت اور قتل کی جو مصیبت پہنچی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی قضا و قدر سے پہنچی۔ جس کو کوئی روکنے والا نہیں، لہٰذا اس مصیبت کا واقع ہونا ایک لابدی امر تھا اور جب امر قدری نافذ ہوجائے تب اس کے سامنے سر تسلیم خم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں اور یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ اس نے اس امر کو عظیم حکمتوں اور بہت بڑے فوائد کے لیے مقدر کیا ہے۔ تاکہ جب مسلمانوں کو جنگ کا حکم دیا جائے تو اس امر قدری کے ذریعے سے مومن اور منافق کے مابین فرق واضح ہوجائے۔ آل عمران
167 ﴿وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ﴾ ”اور ان سے کہا گیا کہ آؤ! اللہ کی راہ میں لڑو“ یعنی تم دین کی مدافعت اور حمایت اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر اللہ کے راستے میں جنگ کرو﴿ أَوِ ادْفَعُوا﴾ ” یا دشمن کو دفع کرو“ یعنی اگر تمہاری نیت صالح نہیں ہے تو پھر تم اپنے حرم اور شہر کے دفاع کی خاطر لڑو۔ مگر انہوں نے انکار کردیا اور عذر یہ پیش کیا ﴿قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ﴾ یعنی اگر ہم یہ جانتے ہوتے کہ تمہارے درمیان اور ان کے درمیان جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے، حالانکہ وہ اس میں جھوٹے تھے۔ وہ جانتے تھے اور انہیں یقین تھا بلکہ ہر شخص جانتا تھا کہ مشرکین کو اہل ایمان نے شکست دی ہے اس لیے مشرکین کے دل اہل ایمان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز ہیں۔ ان سے انتقام لینے کے لیے مشرکین نے مال خرچ کیا۔ اہل ایمان کے خلاف لوگوں اور سامان حرب کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنی پوری قوت صرف کردی ہے اور وہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ اہل ایمان پر ان کے شہر میں حملہ آور ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ لڑائی میں ان میں سخت جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ جب حملہ آوروں کی یہ حالت اور کیفیت ہو تو کیسے کہا جاسکتا ہے کہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ نہیں ہوگی۔ خاص طور پر جبکہ مسلمان کفار کا مقابلہ کرنے کے لیے مدینہ سے باہر نکل آئے تھے؟۔۔۔ یہ محال ہے۔ مگر منافقین کا خیال تھا کہ ان کا یہ عذر مسلمانوں کو مطمئن کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ ﴾ ” وہ اس دن کفر کے“ یعنی اس حال میں جس میں انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر نکلنے سے انکار کیا ﴿أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَانِ ۚ يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۗ﴾ ” زیادہ قریب ہیں، بہ نسبت ایمان کے، اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں“ یہ منافقین کی خاصیت ہے کہ وہ اپنے کلام اور افعال سے وہ کچھ ظاہر کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں چھپے ہوئے خیالات اور ارادوں کی ضد ہوتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ﴿لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ﴾بھی اسی زمرے میں آتا ہے کیونکہ انہیں علم تھا کہ جنگ ضرور ہوگی۔ اس آیت کریمہ میں اس فقہی قاعدہ پر دلیل ملتی ہے ” کہ بوقت ضرورت بڑی برائی کو روکنے کے لیے چھوٹے برائی کو اختیار کرنا جائز ہے۔ اسی طرح دو مصلحتوں میں سے اگر بڑی مصلحت پر عمل کرنے سے عاجز ہو تو اسے چھوڑ کر کم تر مصلحت پر عمل کرنا جائز ہے۔“ اس لیے کہ منافقین کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ دین کے لیے جنگ کریں۔ اگر وہ دین کے لیے جنگ نہیں کرتے تو اپنے اہل و عیال اور وطن کے دفاع کے لیے ہی جنگ کریں ﴿وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ﴾” اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں“ پس وہ اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے ظاہر کرے گا۔ اس پر ان منافقین کو سزا دے گا۔ آل عمران
168 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿الَّذِينَ قَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ وَقَعَدُوا لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا ۗ﴾”وہ لوگ جنہوں نے کہا اپنے بھائیوں سے اور خود بیٹھے رہے، اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے“ یعنی انہوں نے دو برائیوں کو اکٹھا کرلیا تھا، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہنا اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض اور اس کی تکذیب کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا : ﴿قُلْ فَادْرَءُوا ﴾ یعنی دور ہٹا دو ﴿عَنْ أَنفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ﴾ ” اپنے اوپر سے موت کو، اگر تم سچے ہو“ یعنی اگر تم یہ کہنے میں سچے ہو کہ اگر وہ تمہاری بات مانتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔ تم اس پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ تم ان کو قتل ہونے سے بچانے کی استطاعت رکھتے ہو۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بندے میں کبھی کبھی کفر کی کوئی خصلت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ایمان کی خصلت بھی اس کے اندر موجود ہوتی ہے اور کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک خصلت کی نسبت دوسری خصلت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ آل عمران
169 ان آیات کریمہ میں شہداء کی کرامت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا ذکر ہے جن سے شہدا کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے نوازا ہے اور اسی ضمن میں ان زندہ لوگوں کے لیے تسلی اور تعزیت ہے جن کے اقرباء نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ نیز ان کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دینا اور ان میں شوق شہادت پیدا کرنا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ﴾ یعنی جو دشمنان دین کے ساتھ اس قصد کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو، قتل ہوگئے ﴿أَمْوَاتًا﴾ ” ان کو مردہ گمان مت کرو“ یعنی ان کے بارے میں تمہارے دل میں اس خیال کا گزر بھی نہ ہو کہ وہ موت سے ہم کنار ہو کر مفقود ہوگئے اور دنیاوی زندگی کی لذات ان سے دور ہوگئیں اور وہ دنیا کی رنگینیوں سے متمتع ہونے سے محروم ہوگئے۔ جن سے محرومی کے خوف اور بزدلی کی وجہ سے جہاد سے گریز کیا جاتا اور شہادت سے بچا جاتا ہے۔﴿بَلْ﴾ بلکہ وہ اس سے بھی بلند مراتب حاصل کرچکے ہیں جن کے حصول کے لیے لوگ بڑھ چڑھ کر کر کوشش کرتے ہیں﴿أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے عزت و تکریم کے گھر میں زندہ ہیں۔ ﴿عِندَ رَبِّهِمْ﴾کا لفظ ان کے بلند درجات اور ان کے رب کے قرب پر دلالت کرتا ہے ﴿يُرْزَقُونَ﴾یعنی ان انواع و اقسام کی نعمتوں سے رزق عطا کیا جاتا ہے جن کے اوصاف کو صرف وہی ہستی جانتی ہے جس نے ان کو یہ نعمتیں عطا کی ہیں ۔ آل عمران
170 اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ﴾ یعنی ان نعمتوں کے حصول پر وہ خوش ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھیں ٹھنڈی اور نفس خوش ہوتے ہیں۔ یہ فرحت ان نعمتوں کی خوبصورتی، ان کی کثرت و عظمت، ان نعمتوں تک پہنچنے میں کامل لذت اور ان نعمتوں کے کبھی ختم نہ ہونے کی بنا پر ہوگی۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے رزق کے ذریعے سے بدنی نعمت اور اپنے فضل و کرم پر فرحت کے ذریعے سے قلبی اور روحانی نعمت کو جمع کردیا ہے۔ آل عمران
171 پس ان کے لیے نعمت اور مسرت کی تکمیل ہوگئی ﴿وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ﴾ یعنی وہ ایک دوسرے کو اپنے ان بھائیوں کے پہنچنے پر جو ابھی تک نہیں پہنچے، خوشخبری دیتے ہیں نیز ان کو بھی وہی نعمتیں حاصل ہوں گی جن سے وہ بہرہ ور ہوچکے ہیں ﴿أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴾یعنی ڈرانے والے امور کے ان سے اور ان کے بھائیوں سے زائل ہونے کی وجہ سے بہت خوش ہوں گے جن کا زوال کامل مسرت کو مستلزم ہے۔ ﴿يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَفَضْلٍ ﴾وہ ایک دوسرے کو ہدیہ تبریک پیش کر رہے ہوں گے اور یہ ان کے رب کی نعمت اور اس کا فضل و کرم ہے۔ ﴿وَأَنَّ اللَّـهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ اور اللہ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ اسے بڑھاتا ہے اس کی قدر کرتا ہے اپنے فضل و کرم سے اس میں اتنا اضافہ کرتا ہے کہ ان کی کوشش وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ برزخ میں بھی نعمتیں عطا ہوں گی اور برزخ میں شہداء اپنے رب کے پاس بلند ترین مقامات پر فائز ہوں گے۔ نیز نیک ارواح ایک دوسرے سے ملاقات اور ایک دوسرے کی زیارت کرتی ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دیتی ہیں۔ آل عمران
172 جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد سے مدینہ کی طرف لوٹ آئے آپ نے سنا کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھ جو مشرک ہیں وہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے اپنے اصحاب کرام کو جنگ کے لیے نکلنے کو کہا۔ اس کے باوجود کہ صحابہ کرام سخت زخمی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نکل آئے۔ جب وہ ” حمراء الاسد“ پہنچے تو ایک آنے والے نے ان کے پاس آ کر کہا آل عمران
173 ﴿إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ ﴾ اس نے خوف زدہ کرنے کی غرض سے کہا کہ لوگ تمہیں مٹانے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اس کے اس قول نے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بھروسے میں اور اضافہ کیا اور انہوں نے کہا۔ ﴿ حَسْبُنَا اللَّـهُ﴾ یعنی ہماری پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے ﴿وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾اور وہ بہترین کار ساز ہے اور بندوں کی تدبیر اسی کے سپرد ہے اور وہ ان کے مصالح کا اتنظام کرتا ہے۔ آل عمران
174 ﴿فَانقَلَبُوا ﴾یعنی مسلمان لوٹے﴿بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ﴾” اللہ کے احسان اور فضل کے ساتھ، ان کو کوئی برائی نہ پہنچی‘ جب یہ خبر مشرکین کے پاس پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام تمہارے تعاقب میں آرہے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے تھے وہ بھی اب نادم ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ مکہ واپس چلے گئے اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم سے مستفید ہو کر لوٹے کیونکہ اس حالت میں بھی ان کو جنگ کے لیے نکلنے کی توفیق ہوئی اور انہوں نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے غازیوں کا پورا اجر لکھ دیا۔ پس اپنے رب کے لیے حسن اطاعت اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی وجہ سے ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ آل عمران
175 ﴿إِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ ﴾ یعنی مشرکین میں سے جس نے ڈرایا اور کہا کہ لوگ تمہارے لیے اکٹھے ہوچکے ہیں۔ وہ شیطان کے داعیوں میں سے ایک داعی ہے جو اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے جو ایمان سے محروم ہیں یا جن کا ایمان کمزور ہے۔ فرمایا ﴿ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾ یعنی شیطان کے دوست مشرکین سے نہ ڈرو کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق ہی تصرف کرسکتے ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو اپنے ان دوستوں کی مدد کرتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کا خوف واجب ہے اور اللہ تعالیٰ کا خوف لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے۔ بندہ اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق خوف الٰہی رکھتا ہے اور خوف محمود وہ ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور کے ارتکاب سے روک دے۔ آل عمران
176 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ہدایت کے بہت آرزو مند تھے اور ان کو ہدایت کی راہ پر لانے کے لیے جدوجہد کرتے تھے۔ جب وہ ہدایت قبول نہ کرتے تو آپ بہت آزردہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَلَا يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ﴾یعنی ان کی کفر میں شدید رغبت اور چاہت کی وجہ سے آپ آزردہ خاطر نہ ہوں ﴿ إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّوا اللَّـهَ شَيْئًا﴾” وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے“ پس اللہ تعالیٰ اپنے دین کا حامی و ناصر، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے والا اور ان کے بغیر اپنے حکم کو نافذ کرنے والا ہے۔ اس لیے آپ ان کی پروا نہ کریں۔ یہ محض اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ایمان سے محروم ہو کر اس دنیا میں اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حقیر ہونے، اس کی نظر سے گرنے اور اللہ تعالیٰ کے اس ارادے کی وجہ سے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو۔۔۔ ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ ان کی جزا یہ ہے کہ اس نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا اور انہیں اس توفیق سے نہ نوازا جو اس نے نہایت عدل و حکمت کی بنا پر اپنے اولیاء اور ان بندوں کو عطا کی جن کے ساتھ وہ بھلائی چاہتا ہے۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ راہ ہدایت کے ذریعے سے تزکیہ نفس نہیں چاہتے اور اپنے فاسد اخلاق و اطوار اور برے مقاصد کی بنا پر رشد و ہدایت کو قبول نہیں کرتے۔ آل عمران
177 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر کو چن لیا پھر اس کفر میں اس شخص کی مانند رغبت کرنے لگے جو کسی محبوب مال تجارت کو خریدنے کے لیے اپنا محبوب مال خرچ کرتا ہے۔ فرمایا : ﴿ لَن يَضُرُّوا اللَّـهَ شَيْئًا﴾ ” وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتے۔“ بلکہ ان کے فعال کا نقصان خود ان کی ذات کو پہنچتا ہے۔ بنا بریں فرمایا : ﴿وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾” اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے“ وہ اللہ تعالیٰ کو کیسے نقصان پہنچا سکتے ہیں، وہ ایمان سے دور بھاگتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر میں پوری طرح راغب رہے۔ اللہ ان سے بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے لیے ان کفار کے سوا اپنے نیک اور پاک بندوں کو مقرر کر رکھا ہے اور اپنے دین کی مدد اور نصرت کے لیے اپنے پسندیدہ بندوں میں سے اصحاب عقل و بصیرت اور بڑے بڑے ذہین لوگوں کو تیار کر رکھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا ۚ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا﴾ (بنی اسرائیل : 17؍107) ” کہہ دیجیے کہ تم اس قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن کو اس سے پہلے علم دیا گیا جب یہ ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں۔ “ آل عمران
178 وہ لوگ جو اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے ہیں، اس کے دین کو دور پھینکتے ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کرتے ہیں، یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا ان کو اس دنیا میں چھوڑ دینا، ان کا استیصال نہ کرنا اور ان کو مہلت دینا، ان کے لیے بہتر ہے اور ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں، معاملہ ایسا نہیں جیسا وہ سمجھتے ہیں۔ یہ مہلت دینا تو ان کے حق میں برا ہے ان کی سزا اور عذاب میں اضافہ ہوگا اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾ ” ہم تو انہیں اس لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ گناہوں میں اور ترقی کریں اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے“ پس اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ اس کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اس کے رویے میں پے درپے کفر کا اظہار ہوتا ہے۔ پھر وہ اس کو غالب اور مقتدر ہستی کے طور پر پکڑ لیتا ہے۔ پس ظالموں کو اس مہلت سے ڈرنا چاہئے اور وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اس بڑی اور بلند ہستی کی پکڑ سے رہ جائیں گے۔ آل عمران
179 یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت نہیں کہ وہ اہل ایمان کو پرکھے بغیر خلط ملط حالت میں چھوڑ دے۔ وہ ان کو پرکھے گا اور پاک کو ناپاک میں سے، مومن کو منافق میں سے اور سچے کو جھوٹے میں سے علیحدہ کرے گا۔ نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت نہیں کہ اپنے بندوں کو اس غیب پر مطلع کرے جس کا علم اس نے اپنے بعض بندوں (رسولوں) کو عطا کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو مختلف قسم کی آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہوجائے۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل مبعوث فرمائے اور ان کی اطاعت، ان کی پیروی اور ان پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ ایمان اور تقویٰ کےبدلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ پس انبیائے کرام کی اتباع کے اعتبار سے لوگ دو قسم میں منقسم ہیں: اطاعت گزار اور نافرمان، مومنین اور منافقین، مسلمان اور کفار۔ تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ثواب و عقاب مترتب ہو۔ اور تاکہ اس کا عدل و فضل اور اس کی مخلوق پر اس کی حکمت ظاہر ہو۔ آل عمران
180 یعنی جو لوگ بخل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال، جاہ، علم اور دیگر چیزیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا ہے اور ان کو حکم دیا کہ ان چیزوں میں سے اس کے بندوں پر اتناضرور خرچ کریں جس سے خود ان کو نقصان نہ پہنچے۔ مگر انہوں نے بخل کیا اور ان چیزوں کو بندوں پر خرچ کرنے سے روک رکھا اور سمجھتے رہے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ ان کے لیے بہتر ہے (یہ ان کے لیے بہتر نہیں) بلکہ یہ تو ان کے دین و دنیا و آخرت کے لیے بدترین چیز ہے۔ ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾یعنی جس چیز کے بارے میں انہوں نے بخل کیا، اللہ تعالیٰ اسے طوق بنا کر ان کی گردن میں ڈال دے گا اور اس سبب سے انہیں عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (( اِنَّ الْبَخِیْلَ يُمَثَّلُ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ القِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعُ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ يَقُولُ أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ)) ” قیامت کے روز بخیل کے مالک کو ایک بڑا سانپ بنا دیا جائے گا جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے وہ بخیل کو اس کے جبڑوں سے پکڑ لے گا اور کہے گا : میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں“ [صحيح بخاري، التفسير، باب "و لا يحسبن الذين يبخلون ..... من فضله" حديث: 4565 بلفظ: من آتاه الله مالا فلم يؤد زكاته] پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مصداق کے طور پر یہی آیت تلاوت فرمائی۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ ان کا بخل ان کے لیے نفع مند اور عزت کا باعث ہے مگر معاملہ الٹ نکلا اور یہی بخل ان کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ اور عذاب کا باعث بن گیا۔ ﴿وَلِلَّـهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ﴾ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اقتدار اور بادشاہی کا مالک ہے تمام املاک اپنے مالک کی طرف لوٹتی ہیں اور بندے اس دنیا سے اس حالت میں جائیں گے کہ ان کے ساتھ درہم و دینار ہوں گے نہ کوئی مال و متاع۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ إِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ  ﴾(مریم :19؍40) ” زمین اور جو لوگ اس کے اوپر ہیں ہم ہی ان کے وارث ہیں اور انہیں ہمارے ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ “ غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے سبب ابتدائی اور سبب انتہائی کو کیسے ذکر فرمایا ہے اور یہ دونوں اس بات کے موجب ہیں کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیزوں میں بخل نہ کرے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ بندے کے پاس اور بندے کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ بندے کی ملکیت نہیں، بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی نعمت ہے۔ اگر بندے پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا احسان نہ ہوتا تو ان میں سے کوئی چیز بھی اسے عطا نہ ہوتی۔ لہٰذا جو کوئی یہ چیزیں لوگوں کو عطا کرنے میں بخل کرتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو لوگوں تک پہنچنے سے روکتا ہے۔ کیونکہ بندے پر اللہ تعالیٰ کا احسان اس بات کا موجب ہوتا ہے کہ وہ بندہ اللہ کے بندوں پر احسان کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ﴾(القصص :28؍77) ” جیسی اللہ نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے تو بھی لوگوں کے ساتھ ویسی ہی بھلائی کر۔ “ پس جسے اس بات کا یقین ہوگیا کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و کرم کو دوسروں تک پہنچانے سے کبھی نہیں رکے گا جس سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ یہ فعل اس کے دل اور مال میں اسے فائدہ ہی پہنچاتا ہے اس کے ایمان میں اضافہ کا باعث بنتا ہے اور اسے آفات سے محفوظ رکھتا ہے۔ ثانیاً: اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ یہ سب کچھ جو بندے کے ہاتھ میں ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کا وارث ہوگا اور وہ سب سے اچھا وارث ہے۔ کسی ایسی چیز میں آپ کا بخل کرنا کیا معنی رکھتا ہے جو چیز آپ کے پاس سے زائل ہو کر کسی دوسرے کے پاس منتقل ہوجائے گی۔ ثالثاً: اللہ تعالیٰ نے سبب جزائی کا ذکر فرمایا چنانچہ فرمایا : ﴿وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾ جب اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھتا ہے تو یہ حقیقت اس بات کی مستلزم ہے کہ وہ اچھے اعمال پر اچھی جزا دے اور برے اعمال پر بری سزا دے۔ اب جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہے وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے باز نہیں رہ سکتا جس کا بدلہ ثواب ہے اور بخل پر راضی نہیں ہوسکتا، جو عذاب کا باعث ہے۔ آل عمران
181 اللہ تبارک و تعالیٰ ان متکبرین کے قول سے آگاہ فرماتا ہے جنہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں بدترین اور قبیح ترین بات کہی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ انہوں نے جو بدزبانی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے۔ وہ اس بدزبانی کو لکھ کر محفوظ کرلے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ دیگر افعال قبیحہ بھی محفوظ کرے گا۔ مثلاً ان کا خیر خواہی کرنے والے انبیاء کرام کو ناحق قتل کرنا، اور وہ ان کو ان افعال پر سخت سزا دے گا، ان کی اس ہر زہ گوئی۔۔۔” اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم دولت مند ہیں“۔۔۔ کے بدلے میں کہا جائے گا :”﴿  ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ ﴾ ” یعنی بدن سے دل تک جلا ڈالنے والے عذاب کا مزا چکھو، ان کو دیا گیا یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ  ﴾ ” بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔“ وہ اس سے منزہ ہے آل عمران
182 ۔ فرمایا : ﴿ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ  ﴾ یہ رسوائیاں اور قباحتیں جو انہیں عذاب کا مستحق بناتی اور ثواب سے محروم کرتی ہیں ان کا اپنا کیا دھرا ہے۔ مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے مذکورہ ہر زہ سرائی کی تھی۔ ان میں ” فنحاص بن عازوراء“ کا نام لیا جاتا ہے جو مدینہ میں علمائے یہود کا سرخیل تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب فنحاص بن عاز وراء نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا ﴾ (البقرہ :2؍ 245) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَأَقْرَضُوا اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا ﴾ (الحدید :57؍18) سنا تو اس وقت اس نے تکبر کی بنا پر یہ بات کہنے کی جسارت کی۔۔۔ قبحہ اللہ اللہ تعالیٰ نے اس کی بدگوئی کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ ہرزہ سرائیاں کوئی نئی چیز نہیں ہیں بلکہ وہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے قبیح کام کرتے رہے ہیں ان کی ایک نظیر یہ ہے کہ انہوں نے نبیوں کو ناحق قتل کیا۔۔۔ یہاں ” ناحق“ کی قید لگانے سے مراد یہ ہے کہ وہ نبیوں کو لاعلمی اور ضلالت کی وجہ سے قتل نہیں کرتے تھے بلکہ اس جرم کی قباحت اور شناعت کو جانتے ہوئے بھی سرکشی اور عناد کی بنا پر قتل انبیاء علیہم السلام کے اقدام کی جرأت کرتے تھے۔ آل عمران
183 اللہ تعالیٰ ان افترا پردازوں کے احوال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں : ﴿إِنَّ اللَّـهَ عَهِدَ إِلَيْنَا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ہم سے عہد لے چکا ہے اور اس نے وصیت کی ہے کہ ﴿أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّىٰ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ ﴾ ” ہم کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ (آسمان سے نازل ہو کر) کھالے۔“ پس انہوں نے یہ افترا پردازی کر کے اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی اور انبیاء و مرسلین کے معجزات کو صرف اسی ایک معجزے میں محصور کر کے یکجا کردیا نیز یہ کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہیں لائیں گے جس نے ایسی قربانی نہ کی ہو جسے آگ نے کھایا ہو۔ اس لیے وہ رسول اللہ پر ایمان نہ لانے کے سلسلے میں اپنے رب کی اطاعت اور اس کے عہد کا التزام کر رہے ہیں۔ یہ چیز معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول مبعوث فرمائے ان سب کی معجزات و براہین کے ذریعے سے تائید کی، جس پر انسان مطمئن ہوجاتا ہے۔ اور جس معجزے کا انہوں نے مطالبہ کیا انبیاء اس سے قاصر نہیں رہے۔ اس کے باوجود انہوں نے انبیاء کی دعوت کو بہتان وافتراء کہہ کر اس کا التزام نہ کیا اور اسے باطل کہا اور اس پر عمل نہ کیا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ ان سے کہہ دیں ﴿قُلْ قَدْ جَاءَكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ  ﴾ ” مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمہارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔“ یعنی وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی صداقت کی تائید کرتے تھے ﴿وَبِالَّذِي قُلْتُمْ ﴾اور وہ معجزہ لے کر بھی آئے جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے یعنی انہوں نے وہ قربانی بھی کی جس کو آگ نے کھایا ﴿فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ﴾” اگر تم سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟“ یعنی اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ ہم تو رسول پر اس وقت ایمان لاتے ہیں جب وہ قربانی کرے اور آگ آسمان سے نازل ہو کر اسے کھا لے تو پھر تم یہ معجزہ دکھانے والے نبیوں کو قتل کیوں کرتے تھے۔ پس اس سے ان کا جھوٹ اور تناقض واضح ہوگیا۔ آل عمران
184 پھر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان الفاظ میں خوشخبری سنائی ہے ﴿فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ ﴾” پس اگر انہوں نے تمہاری تکذیب کی ہے تو تم سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرنا ان ظالموں کی عادت اور وتیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اس وجہ سے نہ تھی کہ وہ معجزہ دکھانے سے قاصر رہے یا دلیل واضح نہ تھی بلکہ﴿ جَاءُوا بِالْبَيِّنَاتِ ﴾ یعنی وہ تو دلائل عقلیہ اور براہین نقلیہ لے کر مبعوث ہوئے ﴿وَالزُّبُرِ ﴾ ان کے لیے آسمان سے لکھی ہوئی کتابیں نازل ہوئیں ان کتابوں کو رسول کے سوا کوئی اور نہیں لا سکتا۔ ﴿وَالْكِتَابِ الْمُنِيرِ﴾  یعنی احکام شرعی کو روشن اور عیاں کرنے والی اور یہ احکام الٰہی جن محاسن عقلی پر مشتمل ہیں ان کو بیان کرنے والی ہیں نیز سچی خبروں کو روشن کرتی ہے۔ لہٰذا جب ان اوصاف کے حامل رسولوں پر ایمان لانا ان کی عادت نہیں تو ان کا معاملہ آپ کو غمزدہ نہ کر دے۔ آل عمران
185 اس آیت کریمہ میں دنیا میں زہد کی ترغیب دی گئی ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور باقی نہیں رہے گی، یہ محض دھوکے کا سامان ہے یہ اپنی چکا چوند، اپنے غرور اور اپنی ظاہری خوبصورتی سے انسان کو دھوکے میں مبتلا کرتی ہے۔ پھر یہ دنیا ختم ہوجائے گی اور اس میں رہنے والے آخرت کے ٹھکانے میں منتقل ہوجائیں گے جہاں ہر نفس کو اچھے یا برے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے اس دنیا میں کئے ہیں۔﴿ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ﴾ ” جسے آگ سے بچا کر جنت میں بھیج دیا گیا پس وہ کامیاب ہوگیا۔“ یعنی درد ناک عذاب سے نجات حاصل کر کے اور نعمتوں سے لبریز جنتوں میں پہنچ کر اس نے عظیم کامیابی حاصل کی۔ ان جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جس کسی کو جہنم کی آگ سے ہٹا کر جنت میں داخل نہ کیا گیا، وہ کامیابی سے محروم ہوگیا۔ بلکہ ابدی شقاوت اور سرمدی عذاب میں مبتلا کردیا گیا۔ نیز اس آیت کریمہ میں برزخ کی نعمتوں کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے، لوگوں کو ان کے اعمال کا کچھ بدلہ برزخ میں بھی دیا جائے گا ان کے اعمال کے کچھ نمونے ان کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ یہ لطیف اشارہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے مستنبط ہوتا ہے۔﴿ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ ﴾ یعنی اعمال کی کامل جزا تو قیامت کے روز ہی ملے گی البتہ اس سے کم تر جزا برزخ میں عطا ہوگی بلکہ بسا اوقات اس سے بھی پہلے کبھی کبھی یہ جزا دنیا ہی میں عطا ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ﴾ (السجدہ :32؍21) ” ہم ان کو آخرت کے بڑے عذاب کے علاوہ دنیا کے عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے۔ “ آل عمران
186 اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ انہیں ان کے اموال میں اللہ کی راہ میں واجب اور مستحب نفقات کے ذریعے سے آزمایا جائے گا اور خو دان کو ایسی بوجھل تکالیف میں مبتلا کیا جائے گا جو اکثر لوگوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں مثلاً جہاد فی سبیل اللہ، جہاد میں مشقت، قتل، اسیری اور زخموں سے واسطہ پڑتا ہے اور مثلاً امراض جو خود اسے یا اس کے کسی محبوب فرد کو لاحق ہوجاتے ہیں۔ ﴿وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا﴾یعنی تمہیں اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے خود تمہاری ذات، تمہارے دین، تمہاری کتاب اور تمہارے رسول کے بارے میں طعنے سننے پڑیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان امور کے بارے میں اپنے مومن بندوں کو آگاہ کرنے میں متعدد فوائد ہیں۔ ١۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے تاکہ مومن صادق اور دیگر لوگوں کے درمیان امتیاز واقع ہوجائے۔ ٢۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو وہ ان کے لیے شدائد اور تکالیف کو مقدر کردیتا ہے تاکہ وہ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی برائیوں کو مٹا دے اور تاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کے ایقان کی تکمیل ہو۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں آگاہ فرمایا اور وہ اسی طرح واقع بھی ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ ﴿ قَالُوا هَـٰذَا مَا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ ۚ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا ﴾ (الاحزاب :33؍ 22) ” تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ وعدہ فرمایا تھا۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا اس سے ان کے ایمان میں اضافہ اور تسلیم و رضا زیادہ ہوگئی۔ “ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس کی خبر دی تاکہ ان کے نفوس اس قسم کے شدائد برداشت کرنے کے لیے آمادہ ہوں اور جب سختیاں آن پڑیں تو ان پر صبر کریں۔ کیونکہ جب شدائد کا مقابلہ کرنے کے لیے صبر تیار ہوں گے تو ان کا برداشت کرنا ان کے لیے آسان ہوجائے گا اور ان کا بوجھ ہلکا لگے گا، تب وہ صبر اور تقویٰ کی پناہ لیں گے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا  ﴾ یعنی تمہاری جان و مال میں تم جس ابتلاء و امتحان میں پڑے ہوئے ہو اور تمہیں ظالموں کی اذیتوں کا جو سامنا کرنا پڑا ہے اگر تم اس پر صبر کرو اور اس صبر میں تقویٰ کا التزام یعنی اس صبر میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقرب کی نیت رکھو اور اپنے صبر میں صبر کی شرعی حدود سے تجاوز نہ کرو یعنی ایسے مقام پر صبر نہ کرو جہاں صبر کرنا جائز نہ ہو بلکہ وہاں تمہارا کام اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے انتقام لینا ہو ﴿ فَإِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ  ﴾ تو اس کا شمار ایسے امور میں ہوتا ہے جس پر عزم کیا جاتا ہے اور جس میں رغبت کے لیے سبقت کی جاتی ہے اور اس کی توفیق صرف انہیں عطا ہوتی ہے جو باعزم اور بلند ہمت لوگ ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ ﴾ (فصلت :41؍ 35) ” یہ بات صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس بات سے صرف وہ لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو نصیب والے ہیں۔ “ آل عمران
187 ﴿مِيثَاقَ﴾ اس عہد کو کہتے ہیں جو بہت موکد اور بھاری ذمہ داری کا حامل ہو۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص سے لیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا کی اور اسے علم سے نوازا۔ اس سے یہ عہد لیا کہ لوگ اس کے علم میں سے جس چیز کے محتاج ہوں وہ ان کے سامنے بیان کرے اور ان سے کوئی چیز نہ چھپائے اور نہ علم بیان کرنے میں بخل سے کام لے خاص طور پر جب اس سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے یا کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے جو علمی راہنمائی کا متقاضی ہو۔ پس اس صورتحال میں ہر صاحب علم پر فرض ہے کہ وہ مسئلہ کو بیان کر کے حق اور باطل کو واضح کر دے۔ اور جن لوگوں کو اللہ نے توفیق سے نوازا ہے، وہ اس ذمہ داری کو پوری طرح نبھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو علم ان کو عطا کیا وہ اسے اللہ کی رضا کی خاطر لوگوں پر شفقت کی وجہ سے اور کتمان علم کے گناہ سے ڈرتے ہوئے لوگوں کو سکھاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی یعنی یہود و نصاریٰ اور ان جیسے دیگر لوگ تو انہوں نے اس عہد اور میثاق کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا اور اس میثاق کی انہوں نے پروا نہیں کی۔ پس انہوں نے حق کو چھپا لیا اور باطل کو ظاہر کیا، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو حقیر سمجھتے ہوئے محرمات کے ارتکاب کی جرأت کی اور اس کتمان حق کے بدلے بہت معمولی قیمت لی۔ وہ یہ تھی کہ انہیں کتمان حق کی بنا پر سرداری حاصل ہوئی اور ان کے گھٹیا پیروکاروں کی طرف سے، جو ان کی خواہشات کی پیروی کرتے تھے اور حق پر خواہشات کو مقدم رکھتے تھے، ان کو حقیر سے مال کے نذرانے پیش ہوتے تھے۔ ﴿فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ  ﴾” پس کتنا برا ہے جو وہ خریدتے (حاصل کرتے) ہیں‘‘ کیونکہ یہ خسیس ترین معاوضہ ہے جو انہوں نے حاصل کیا ہے اور جس حق کے بیان کرنے سے انہوں نے روگردانی کی، اس حق میں ان کی ابدی سعادت، دینی اور دنیاوی مصالح موجود ہیں اور یہ حق سب سے بڑا اور جلیل ترین مطلوب و مقصود ہے۔ پس انہوں نے محض اپنی بدنصیبی اور ذلت کی بنا پر عالی مرتبہ دین کو چھوڑ کر گھٹیا طریق زندگی اختیار کرلیا، نیز اس لیے بھی کہ انہوں نے وہی چیز اختیار کرلی جس کے لیے وہ پیدا ہوئے تھے۔ آل عمران
188 پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوا  ﴾ ” آپ ان کی نسبت خیال نہ کریں جو اپنے (ناپسندیدہ) کاموں سے خوش ہوتے ہیں۔“ یعنی وہ جن قبیح امور اور قولی اور فعلی باطل کا ارتکاب کرتے ہیں ﴿ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا ﴾ یعنی اس بھلائی کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے کبھی نہیں کی اور اس حق کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے کبھی نہیں بولا۔ پس انہوں نے برائی کے قول و فعل اور اس پر اظہار فرحت کو یکجا کردیا۔ وہ چاہتے تھے کہ بھلائی کے اس کام پر ان پر تعریف کے ڈونگرے برسائے جائیں جو انہوں نے کیا ہی نہیں۔ فرمایا : (فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ) یعنی وہ یہ نہ سمجھیں کہ انہیں عذاب سے نجات اور سلامتی حاصل ہوگئی ہے بلکہ وہ تو عذاب کے مستحق ہوگئے ہیں عنقریب انہیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اسی لیے فرمایا ﴿وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ  ﴾” ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ “ اس آیت کریمہ کی وعید میں وہ اہل کتاب شامل ہیں جو اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے پاس علم ہے درآں حالیکہ انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت نہ کی اور وہ اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ وہ اپنے حال و مقال میں حق پر ہیں۔ اسی طرح ہر وہ شخص بھی اس وعید میں شامل ہے جو کوئی قولی یا فعلی بدعت ایجاد کرتا ہے اور اس پر خوش ہوتا ہے اور پھر اس بدعت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور وہ اس بارے میں اپنے موقف کو حق اور دوسروں کے موقف کو باطل سمجھتا ہے جیسا کہ اہل بدعت کا وتیرہ ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص خواہش کرتا ہے کہ نیکی کے کام اور اتباع حق اس کی تعریف کی جائے جبکہ اس سے اس کا مقصد ریاء اور شہرت نہ ہو تو یہ مذموم نہیں۔ بلکہ اس کا شمار تو ان امور میں ہوتا ہے جو مطلوب و مقصود ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ان نیکیوں کی بنا پر نیکو کاروں کو ان کے قول و فعل کا بدلہ دیتا ہے۔ اس نے اپنے خاص بندوں کو ان نیکیوں پر جزا سے نوازا ہے اور ان خاص بندوں نے اللہ تعالیٰ سے ان نیکیوں کا سوال کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی ﴿وَاجْعَل لِّي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ ﴾ (الشعراء :26؍ 84) ” اور پچھلے لوگوں میں میرا نیک ذکر جاری کر۔“ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴾ (الصافات :37؍79،80) ” تمام جہان میں نوح پر سلام ہو۔ ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔“ رحمٰن کے بندوں نے عرض کی ﴿وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ﴾ (الفرقان :25؍74) ” اور ہمیں متقی لوگوں کا امام بنا۔“ یہ اپنے بندے پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان کا فیضان ہے جن پر اللہ تعالیٰ کے شکر کی ضرورت ہے۔ آل عمران
189 یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود تمام مخلوق کا مالک ہے اور وہی اپنی قدرت کاملہ اور انوکھی ربوبیت کے ذریعے سے ان پر تصرف کرتا ہے کوئی اس کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں اور کوئی اسے عاجز ولا چار نہیں کرسکتا۔ آل عمران
190 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ﴾ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق میں تدبر کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد : ﴿لَآيَاتٍ ﴾ کو مبہم رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو اور یہ آیات کے عموم اور ان کی کثرت پر اشارہ ہے کیونکہ اس کائنات میں عجیب و غریب نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو متحیر اور غور و فکر کرنے والوں کو عاجز کردیتی ہیں جو اہل صدق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور عقل روشن کو تمام مطالب الٰہیہ کی طرف متوجہ کرتی ہیں یہ آیات جن تفصیلات پر مشتمل ہیں ان کو احاطہ شمار میں لانا مخلوق کے بس میں نہیں البتہ مخلوق ان میں سے بعض چیزوں کا احاطہ کرسکتی ہے مجمل طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کائنات کی عظمت، وسعت، اور اس کی حرکت و رفتار کا ایک نظم کے تحت ہونا، اس کے خالق کی عظمت پر دلالت کرتا ہے نیز اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا تسلط وغلبہ اور اس کی قدرت سب کو شامل ہے۔ اس کائنات کا محکم اور مضبوط انداز، اس میں نت نئی تخلیقات اور انوکھے افعال اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے علم کی وسعت پر دلالت کرتے ہیں نیز اس بات پر دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھا ہے۔ اس کائنات میں مخلوق کے لیے جو فوائد ہیں وہ اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع، اس کا فضل عام، اس کا احسان سب کو شامل اور اس کا شکر واجب ہے۔ یہ تمام امور اس پر دلالت کرتے ہیں کہ قلب کے اپنے خلاق اور پیدا کرنے والے کے ساتھ تعلق جوڑنے اور اس کی رضا کے حصول کے لیے پوری کوشش ہونی چاہئے اور اس کے ساتھ کسی ایسی ہستی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے جو خود اپنی ذات اور زمین و آسمان میں ذرہ بھر کی بھی مالک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ساتھ صرف عقل مندوں کو مخصوص کیا ہے کیونکہ یہی لوگ ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور عقل مند لوگ ہی اپنی آنکھوں کی بجائے اپنی عقل کے ذریعے سے غور و فکر کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان عقل مند لوگوں کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿يَذْكُرُونَ اللَّـهَ ﴾وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ آل عمران
191 ﴿قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ  ﴾ یہ قلبی و قولی ذکر اور ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے اور اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اگر بیٹھنے کی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر نماز پڑھنا بھی شامل ہے۔ نیز ﴿وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ﴾وہ زمین و آسمان کی تخلیق پر غور و فکر کرتے یعنی ان سے ان کی تخلیق کے مقصد پر استدلال کرتے ہیں۔ نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات میں غور و فکر کرنا عبادت ہے اور عارفین اولیاء اللہ کی صفت ہے۔ جب وہ اس کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں تو انہیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عبث پیدا نہیں کیا، پس وہ پکار اٹھتے ہیں ﴿ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَـٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ ﴾ تیری ذات ہر اس وصف سے پاک ہے جو تیرے جلال کے لائق نہیں، تو نے اسے حق کے ساتھ حق کے لیے بلکہ حق پر مشتمل پیدا کیا ہے۔﴿فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’پس تو ہمیں جہنم سے بچا“ بایں طور کہ ہمیں برائیوں سے بچا اور نیک اعمال کی توفیق عطا کر، تاکہ اس کے ذریعے سے ہم جہنم کی آگ سے نجات حاصل کرسکیں۔ یہ دعا جنت کے سوال کو بھی متضمن ہے۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ انہیں جہنم کے عذاب سے بچا لے گا تو انہیں جنت حاصل ہوجائے گی۔ مگر جب ان کے دلوں پر خوف چھا گیا تو انہوں نے ان امور کی دعا مانگی جو ان کے لیے زیادہ اہم تھے۔ آل عمران
192 ﴿رَبَّنَا إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ۖ ﴾ ” اے ہمارے رب ! جس کو تو نے دوزخ میں ڈال دیا، تو اس کو تو نے رسوا کردیا“ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں اور اس کے اولیاء کو ناراض کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو رسوا کیا اور اسے نصیحت میں مبتلا کردیا۔ جس سے نجات کی کوئی راہ ہے نہ اس سے کوئی بچانے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا :﴿وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ  ﴾” ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا“ جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے ظلم کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئے ہیں۔ آل عمران
193 اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقل فرمایا :﴿رَّبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ ﴾ ” اے ہمارے رب ! ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان لانے کی دا دیتا ہے“ ایمان کی منادی دینے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے اصول و فروع میں ان کو ترغیب دیتے ہیں ﴿فَآمَنَّا﴾ پس ہم نے جلدی سے آگے بڑھ کر ان کی دعوت پر لبیک کہا۔ اس آیت کریمہ کریمہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کے احسان، اس کی نعمت پر اظہار فخر اور اس ایمان کو اپنے گناہوں کی بخشش اور برائیوں کو مٹانے کے لیے وسیلہ بنانے کی خبر ہے۔ کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے انہیں ایمان سے نوازا ہے وہی انہیں کامل ایمان سے نوازے گی۔ ﴿ وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ  ﴾” اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے“ یہ دعا اس بات کو متضمن ہے کہ نیکی کرنا اور برائی کو ترک کرنا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوتا ہے جس کی بنا پر بندہ ” ابرار“ میں شمار ہوتا ہے اور اس توفیق کی بنا پر نیکی کرنے اور برائی چھوڑنے پر اپنی موت تک ہمیشہ ثابت قدم رہتا ہے۔ آل عمران
194 جب انہوں نے ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور تکمیل نعمت کے لیے اس ایمان کو وسیلہ بنانے کا ذکر کیا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اس پر اجر و ثواب کا سوال کیا اور دعا کی کہ وہ اپنی فتح و نصرت، دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت اور اپنی رضا کا وہ وعدہ پورا کر دے جو اس نے اپنے نیوں اور رسولوں کی زبانی کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا اور تضرع و زاری کو قبول فرما لیا۔ آل عمران
195 اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائے عبادت اور دعائے طلب، (دونوں دعائیں) قبول فرما لیں اور فرمایا : ﴿ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ﴾ ” میں کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، وہ مرد ہو یا عورت“ پس تمام لوگ اپنے اعمال کا پورا پورا اور وافر اجر پائیں گے۔۔۔ تم میں سے تمام لوگ (خواہ مرد ہوں یا عورت) ثواب اور عقاب میں مساوی ہیں۔ ﴿فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا  ﴾” وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور جنہیں میری راہ میں ایذا دی گئی اور جنہوں نے جہاد کیا اور شہید کردیئے گئے“ پس انہوں نے ایمان، ہجرت اور اپنے رب کی رضا کی خاطر اپنے وطن اور مال و متاع جیسی محبوب چیزوں سے مفارقت کو جمع کردیا نیز انہوں نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا۔﴿لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِّنْ عِندِ اللَّـهِ ﴾” میں بالضرور ان کی برائیاں ان سے دور کروں گا اور بالضرور انہیں ان جنتوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، بدلہ اللہ کی طرف سے“ جو اپنے بندے کو اس کے بہت تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ ثواب عطا کرتا ہے ﴿وَاللَّـهُ عِندَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ  ﴾ ” اور اللہ کے پاس ہی بہترین اجر و ثواب ہے“ ایسا ثواب جو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں اس کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ پس جو کوئی اس ثواب کے حصول کا ارادہ رکھتا ہے وہ حسب استطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے تقرب کے ذریعے اس سے یہ ثواب طلب کرے۔ آل عمران
196 اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو اس بارے میں تسلی دینا مقصود ہے کہ کفار کو جو دنیا کی نعمتیں، دنیا کی متاع، شہروں پر ان کا تصرف، مختلف قسم کی تجارتیں، مکاسب، انواع و اقسام کی لذات، اقتدار کی مختلف صورتیں اور بعض اوقات اہل ایمان پر ان کا غلبہ یہ تمام چیزیں اگر یہ مقدر کرلیا جائے کہ انہیں دنیا میں ہر قسم کی تکلیف، شدت، عناد اور مشقت کا سامنا کرناپڑا تو یہ جنت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، کدورتوں سے سلامت زندگی، بے پایاں مسرت، خوشی اور ترو تازگی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یہ تو محنت کی صورت میں نوازش ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ ﴾ ” اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ابرار کے لیے بہتر ہے“ اور (ابرار) وہ لوگ ہیں جن کے دل پاک اور اطاعت گزار ہوں اور ان کے اقوال و افعال بھی نیک ہوں۔ پس بھلائی کرنے والا اللہ مہربان اپنی عنایت سے انہیں اجر عظیم، بہت بڑی عطا و بخشش اور دائمی فوز و فلاح عطا کرے گا۔ آل عمران
197 ﴿مَتَاعٌ قَلِيلٌ  ﴾ ” بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے“ بے ثبات ہیں باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ اس متاع قلیل سے بہت تھوڑا فائدہ اٹھائیں گے اور اس کی وجہ سے بہت ہی طویل عذاب بھگتیں گے۔ یہ کافر کی بلند ترین حالت ہے اور آپ نے دیکھ لیا ہے کہ اس کا ٹھکانا کیا ہوگا آل عمران
198 اور جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں انہیں دنیا کی عزت اور دنیا کی نعمتوں کے حصول کے ساتھ ساتھ ﴿لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ﴾ ” ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ “ آل عمران
199 یعنی اہل کتاب میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں بھلائی کی توفیق عطا کی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تم پر نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی اور یہی وہ ایمان ہے جو نفع پہنچاتا ہے اور اس شخص کے ایمان کی مانند نہیں، جو بعض رسولوں اور کتابوں پر ایمان لاتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے۔ بنا بریں، چونکہ ان کا ایمان عام اور حقیقت پر مبنی ہے اس لیے یہ نفع پہنچانے والا ہے، یہ ایمان ان کے دلوں میں خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے خشوع و خضوع پیدا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی پر عمل کرنے اور اس کی مقرر کردہ حدود پر رک جانے کا موجب ہے۔ یہی لوگ درحقیقت اہل کتاب اور اہل علم ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ﴾ (فاطر :35؍28) ” اللہ تعالیٰ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔“ اور کامل خشیت الٰہی یہ ہے کہ ﴿لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ﴾ ” وہ اللہ کی آیات کو معمولی قیمت پر نہیں بیچتے“ پس دین پر دنیا کو ترجیح نہیں دیتے، جیسا کہ اہل انحراف کا وتیرہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے بہت معمولی قیمت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن یہ اہل کتاب، تو انہوں نے معاملہ کی حقیقت کو پہچان لیا ہے اور انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ دین سے کم تر چیز پر راضی ہونا، نفس کے بعض سفلی حظوظ کے ساتھ ٹھہرنا اور حق کو ترک کرنا جو دنیا و آخرت میں سب سے بڑا حظ اور فوز و فلاح کا ضامن ہے۔۔۔ سب سے بڑا خسارہ ہے، اس لیے وہ حق کو مقدم رکھتے ہیں، اس کو بیان کرتے ہیں اور اس کی طرف دعوت دیتے ہیں اور باطل سے ڈراتے اور بچاتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ بدلہ دیا ہے کہ اس نے ان کے لیے اجر عظیم اور ثواب جمیل کا وعدہ کیا ہے اور اپنے قرب کی خبر دی ہے نیز آگاہ فرمایا ہے کہ وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے جو عدہ کیا ہے اس میں دیر نہ سمجھیں یہ وعدہ پورا ہونے والا ہے اور اس کا حصول متحقق ہوچکا ہے۔ پس یہ وعدہ بہت قریب ہے۔ آل عمران
200 پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس چیز کی ترغیب دی ہے جو انہیں فوز و فلاح کی منزل پر پہنچاتی ہے اور وہ ہے سعادت اور کامیابی۔ اس سعادت تک پہنچانے والا راستہ صبر کا التزام ہے اور صبر کیا ہے؟ نفس انسانی کو ایسی چیز پر روکے رکھنا جو اس کو ناپسند ہو، جیسے گناہ کا چھوڑ دینا، مصائب پر صبر کرنا اور نفوس کو ان پر گراں گزرنے والے اوامر پر روکے رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام امور پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے۔ (مصابرہ) صبر کے دائمی اور مسلسل التزام ہے اور تمام احوال میں دشمن کا مقابلہ کرنے کا نام ہے۔ (مرابطۃ) سے مراد اس مقام پر جمے رہنا جہاں سے دشمن کے آنے کا خطرہ ہو۔ نیز یہ کہ اہل ایمان دشمنوں سے ہوشیار رہیں اور ان کو اپنا مقصد حاصل نہ کرنے دیں۔۔۔ شاید وہ فلاح پالیں یعنی دینی، دنیاوی اور اخروی محبوب شے کے حاصل کرنے میں وہ کامیاب ہوجائیں اور اسی طرح ناپسندیدہ چیزوں سے نجات پا لیں۔ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ صرف صبر، صبر پر دوام اور دشمن سے ہمیشہ ہوشیار رہنا ہی فلاح کا راستہ ہے۔ جس کسی نے فلاح پائی تو اسی راستہ پر چل کر فلاں پائی اور جو کوئی اس فلاح سے محروم ہوا تو ان تمام امور کو یا ان میں سے بعض کو ترک کر کے محروم ہوا۔ واللہ الموفق ولاحول ولا قوة الا باالله۔ آل عمران
0 النسآء
1 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورت کا افتتاح تقویٰ کے حکم، اپنی عبادت کی تاکید اور صلہ رحمی کے حکم اور اس کی تاکید سے کیا ہے۔ اور ان اسباب کو بیان کیا ہے جو ان تمام امور کے موجب ہیں اور تقویٰ کا موجب یہ ہے ﴿رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم ﴾” وہ تمہارا رب ہے جس نے تمہیں پیدا کیا“ تمہیں رزق عطا کیا اور بڑی بڑی نعمتوں کے ذریعے سے تمہاری تربیت کی اور ان جملہ نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے تمہیں پیدا کیا ﴿مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا  ﴾ ” ایک ہی جان سے اور اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا“ تاکہ وہ اس کے مشابہ اور مناسب ہو اور اسے اس کے پاس سکون حاصل ہو، اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی تکمیل ہو اور اس سے فرحت و سرور حاصل ہو۔ اسی طرح تقویٰ کا موجب اور اس کا داعی اس کے نام پر تمہارا ایک دوسرے سے سوال کرنا اور تمہارا تعظیم کرنا ہے۔ حتیٰ کہ جب تم اپنی کوئی ضرورت پوری کرنا چاہتے ہو تو تم اپنے سوال میں اس کا وسیلہ اختیار کرتے ہو۔ پس جو کوئی دوسرے کے لیے یہ چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے ” میں اللہ کے نام پر تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو فلاں کام کر“ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت جا گزیں ہے جو اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو رد نہ کرے جو اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرتا ہے جیسا کہ تم نے اس کی اس ذریعہ سے تعظیم کی ہے پس تمہیں چاہئے کہ تم اس کی عبادت اور تقویٰ کے ذریعے سے اس کی تعظیم کرو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ بھی آگاہ فرمایا ہے کہ وہ نگہبان ہے وہ بندوں کی حرکات و سکنات، ان کے کھلے چھپے تمام احوال میں ان کی خبر رکھتا ہے اور ان احوال میں ان کا نگہبان ہے اللہ تعالیٰ کا نگہبان ہونا جن امور کا موجب بنتا ہے ان میں تقویٰ کے التزام کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے حیا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس خبر میں کہ اس نے انہیں ایک جان سے تخلیق کیا ہے اور اس نے ان کو روئے زمین کے کناروں تک پھیلایا جبکہ وہ ایک ہی اصل کی طرف لوٹتے ہیں۔۔۔ مقصد یہ ہے کہ بندے ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور نرمی کے ساتھ پیش آیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم، صلہ رحمی کے حکم اور قطع رحمی کی ممانعت کے ساتھ ملا کر بیان فرمایا تاکہ یہ حق موکد ہوجائے۔ یعنی جس طرح حقوق اللہ کو قائم کرنا لازمی ہے اسی طرح حقوق العباد کو قائم کرنا بھی لازم ہے۔ خاص طور پر رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ بلکہ رشتہ داروں کے حقوق کو قائم کرنا تو حقوق اللہ میں شمار ہوتا ہے جن کو قائم کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ غور کیجیے کہ اللہ نے کیسے اس سورت کا افتتاح تقویٰ کے اختیار کرنے، صلہ رحمی اور عمومی طور پر بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے حکم کے ساتھ کیا، پھر اس کے بعد اس سورت میں اس کی ابتدا سے لے کر انتہا تک ان تمام امور کی پوری تفصیلات بیان ہوئی ہیں گویا یہ سورۃ مبارکہ مذکورہ امور کی ان تفصیلات کو بیان کرتی ہے جن کو مجمل رکھا گیا تھا اور ان امور کو اضح کرتی ہے جو مبہم تھے۔ اللہ تبارک کے ارشاد﴿وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا  ﴾ ” اور پیدا کیا اس سے اس کا جوڑا“ میں شوہروں اور بیویوں کے حقوق کی مراعات پر تنبیہ ہے اور ان کو قائم کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ بیویاں بھی شوہروں ہی کی صلب سے پیدا کی گئی ہیں۔ پس شوہروں اور بیویوں کے درمیان قریب ترین نسب، مضبوط ترین اتصال اور نہایت قوی رشتہ ہے۔ النسآء
2 اس سورۃ مبارکہ میں جن حقوق العباد کی تاکید کی گئی ہے، یہ ان میں سے پہلا حکم ہے اور وہ یتیم بچے ہیں جن کے باپ فوت ہوگئے ہیں جو ان کی کفالت کیا کرتے تھے۔ وہ بہت چھوٹے اور نہایت کمزور ہیں اپنے مصالح کی خود دیکھ بھال نہیں کرسکتے۔ بنا بریں اللہ رؤف و رحیم نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ ان کے مال کے قریب نہ جائیں مگر بھلے طریقے سے اور جب یہ بالغ اور سمجھ دار ہوجائیں تو ان کا پورے کا پورا مال ان کے حوالے کردیں۔ ﴿وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ  ﴾ ” اور بدل نہ لو خبیث مال کو“ خبیث سے مراد ناحق یتیم کا مال کھانا ہے ﴿بِالطَّيِّبِ ﴾ طیب مال سے مراد حلال مال ہے جس میں کوئی حرج ہے نہ تاوان ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ﴾ یعنی ” تم اپنے اموال کے ساتھ ان کے اموال نہ کھاؤ۔ “ اس آیت کریمہ میں یتیموں کا مال کھانے کی قباحت پر دلیل ہے۔ اس حال میں جبکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے خود اس کے مال میں رزق عطا کیا ہوتا ہے اور وہ اپنے مال کی وجہ سے یتیم کے مال سے مستغنی ہوتا ہے اور جو کوئی اس حال میں یتیم کا مال کھانے کی جرأت کرتا ہے تو وہ بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ﴿حُوبًا كَبِيرًا  ﴾ یعنی گناہ عظیم اور بہت بڑا بوجھ۔ خبیث کو طیب سے بدلنا یہ ہے کہ یتیم کا سرپرست یتیم کا نفیس مال خود رکھ لے اور اس کے بدلے میں اپنا گھٹیا مال یتیم کو دے دے۔ اس آیت کریمہ میں یتیم کی سرپرستی کی دلیل ہے۔ کیونکہ یتیم کو اس کا مال حوالے کرنے والے کی سرپرستی ثابت ہوتی ہے۔ اس میں اس بات کا بھی حکم ہے کہ یتیم کے مال کی اصلاح کی جائے کیونکہ یتیم کو اس کا پورا مال حوالے کرنے کے حکم میں از خود یہ بات آجاتی ہے کہ اس مال کی حفاظت کی جائے اس کی اصلاح اور نشو و نما کا انتظام کیا جائے اور اس کو تلف ہونے کے خطرات سے بچایا جائے۔ النسآء
3 یعنی اگر تمہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ تم ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کرسکو گے جو تمہاری پرورش اور سرپرستی میں ہیں اور تمہیں ڈر ہے کہ ان کے ساتھ تمہاری محبت نہ ہونے کی وجہ سے تم ان کے حقوق ادا نہ کرسکو گے۔ تو تم ان کے علاوہ دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح کرلو﴿مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ ﴾” عورتوں میں سے جو تمہیں اچھی لگیں“ یعنی، دین، مال، حسب و نسب اور حسن و جمال جیسی دیگر صفات جو نکاح کی ترغیب دیتی ہیں، ان صفات کی حامل عورتوں میں سے جس کے ساتھ نکاح کرنے کا اختیار حاصل ہو، اپنی خواہش اور صوابدید کے مطابق نکاح کرلو۔ نکاح کے انتخاب کے لیے بہترین صفت دین ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” عورت سے چار صفات کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال، اس کے حسن و جمال، اس کے حسب و نسب اور اس کے دین کی وجہ سے، تیرے ہاتھ خاک آلودہ ہوں، تو دین دار عورت سے نکاح کرنے کی کوشش کر۔“ [صحيح البخاري، النكاح، باب الأكفاء في الدين، ح: 509 و صحيح مسلم، النكاح، باب استحباب.... ح: 1466] اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ نکاح سے قبل عورت کو منتخب کرلے۔ بلکہ شارع نے تو یہاں تک مباح کیا ہے کہ انسان جس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے اسے ایک نظر دیکھ لے تاکہ یہ نکاح بصیرت کی بنیاد پر ہو پھر اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی تعداد کا ذکر کیا ہے جن کے ساتھ نکاح کرنا مباح ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ﴾ ” دو دو تین تین اور چار چار“ یعنی جو کوئی دو بیویاں رکھنا چاہتا ہے وہ دو دو بیویاں رکھ لے اگر تین بیویوں سے یا چار بیویوں سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو تین یا چار سے نکاح کرلے۔ البتہ چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح نہ کرے کیونکہ آیت کریمہ کا سیاق اللہ تعالیٰ کے احسان کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو عدد مقرر کردیا ہے بالاتفاق اس سے زیادہ بیویاں جائز نہیں۔ ایک سے زیادہ بیوی کی اجازت کی وجہ یہ ہے کہ بسا اوقات مرد کی شہوت ایک بیوی سے پوری نہیں ہوتی اس لیے یکے بعد دیگرے چار بیویاں جائز ہیں کیونکہ شاذ و نادر صورت کے سوا، چار بیویاں کافی ہوتی ہیں۔ یہ چار بیویاں بھی مرد کے لیے صرف اس وقت جائز ہیں جب وہ ظلم وجور کرنے سے محفوظ ہوا اور اسے یقین ہو کہ وہ چار بیویوں کے حقوق پورے کرسکے گا اور اسے ظلم و زیادتی اور حقوق کی عدم ادائیگی کا خدشہ ہو تو اسے صرف ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنا چاہئے۔ یا اس کے ساتھ لونڈیوں پر اکتفا کرے۔ لونڈیوں میں وظیفہ زن و شو کی مساوی تقسیم واجب نہیں۔ ﴿ذٰلِکَ﴾ ” یہ“ یعنی ایک بیوی یا لونڈیوں پر اکتفا کرنا﴿أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا﴾ ” اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم ظلم نہ کرو۔“ اس آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ا گر بندے کو کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جہاں اسے ظلم و جور کے ارتکاب کا خدشہ ہو اور اسے اس بات کا خوف ہو کہ وہ اس معاملے کے حقوق پورے نہیں کرسکے گا۔ خواہ یہ معاملہ مباحات کے زمرے میں کیوں نہ آتا ہو تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی تعرض کرے۔ بلکہ وہ اس میں بچاؤ اور عافیت کا التزام کرے۔ کیونکہ عافیت بہترین چیز ہے جو بندے کو عطا کی گئی ہے۔ النسآء
4 چونکہ اکثر لوگ اپنی بیویوں پر ظلم کرتے ہیں اور ان کے حقوق غصب کرلیتے ہیں۔ خاص طور پر حق مہر (اکثر) بہت زیادہ ہوتا ہے یہ مہر ایک ہی بار پورے کا پورا ادا کرنا باعث مشقت ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا اور ان کو تاکید کی کہ وہ اپنی بیویوں کو مہر ادا کریں ﴿ صَدُقَاتِهِنَّ ﴾یعنی ان کے5 مہر﴿نِحْلَةً ۚ ﴾ یعنی ان کا مہر خوش دلی اور اطمینان قلب کے ساتھ ادا کرو۔ مہر ادا کرنے میں ٹال مٹول نہ کرو اور اسے ادا کرتے وقت اس میں کچھ کم نہ کرو۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر عورت مکلف (یعنی بالغ اور عاقل) ہو تو مہر اس کو ادا کردیا جائے گا اور عقد کے موقع پر عورت مہر کی مالک بن جاتی ہے۔ کیونکہ حق مہر کی اضافت اس کی طرف جاتی ہے اور اضافت تملیک کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ ﴾ ” اگر وہ خود اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ چھوڑ دیں“ یعنی حق مہر سے ﴿نَفْسًا  ﴾ یعنی اگر بیویاں برضاو رغبت مہر کا کچھ حصہ چھوڑ کر یا ادائیگی میں مہلت دے کر یا مہر کا کوئی عوض قبول کر کے شوہروں کے ساتھ نرمی کرتی ہیں ﴿فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا ﴾ ” تو کھاؤ تم اس کو ذوق شوق سے“ یعنی اس صورت میں تمہارے لیے کوئی حرج اور کوئی نقصان نہیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت بالغ اور عاقل ہے تو اپنے مال میں تصرف کا پورا اختیار رکھتی ہے۔ خواہ وہ صدقہ ہی کیوں نہ کر دے۔ لیکن اگر بالغ اور عاقل نہیں ہے تو اس کے عطیہ کا حکم معتبر نہیں نیز عورت کا سرپرست اس مہر میں سے کچھ حصہ لینے کا حق دار نہیں سوائے اس کے، کہ عورت برضا و رغبت خود اسے کچھ عطا کر دے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد﴿ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ﴾میں اس بات کی دلیل ہے کہ خبیث یعنی ناپاک عورت سے نکاح مامور نہیں، بلکہ خبیث عورتوں سے نکاح کرنا منع ہے مثلاً مشرک اور فاسق وفا جر عورت سے۔۔۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ۚ﴾(البقرۃ : 2؍ 221) ” مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اور فرمایا ﴿وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ﴾ (النور :24؍ 3)’’بدکار عورت کے ساتھ ایک زانی اور مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا۔ “ النسآء
5 ﴿السُّفَهَاءَ﴾ (سفیہ) کی جمع ہے اور (سفیہ) ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو بے عقل ہونے مثلاً پاگل وغیرہ یا عدم بلوغت جیسے چھوٹا بچہ اور بے سمجھ وغیرہ ہونے کی وجہ سے اپنے مال میں تصرف اور دیکھ بھال کی اہلیت سے محروم ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے ایسے بے عقل لوگوں کے سرپرستوں کو اس ڈر سے ان کا مال ان کے حوالے کرنے سے روک دیا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کو خراب یا تلف کردیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مال کو اپنے بندوں کے دینی اور دنیاوی مفادات و مصالح کی دیکھ بھال کے لیے بنایا ہے اور یہ بے سمجھ لوگ اس مال کی دیکھ بھال اور اس کی حفاظت سے قاصر ہیں۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے سرپرست کو حکم دیا ہے کہ وہ مال ان بے سمجھ لوگوں کے حوالے نہ کرے بلکہ وہ اس مال میں سے ان کے کھانے پینے اور کپڑے لتے کا انتظام کرے اور جو ان کی دینی اور دنیاوی ضروریات ہیں ان میں خرچ کرے اور ان سے اچھی بات ہی کہے۔ یعنی جب وہ اپنے مال کا مطالبہ کریں تو وہ ان سے وعدہ کرے کہ وہ ان کے بالغ اور عاقل ہوجانے کے بعد ان کا مال ان کو لوٹا دے گا اور ان کے دل جوئی کی خاطر ان سے نرم مقالی سے پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ کا ان اموال کو سرپرستوں کی طرف مضاف کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان بے سمجھ لوگوں کے مال کا اس طرح انتظام کرنا ان پر فرض ہے جس طرح وہ اپنے مال کا انتظام کرتے ہیں مثلاً مال کی حفاظت، اس میں تصرف اور اس مال کو خطرات سے بچانا وغیرہ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ پاگل، نابالغ اور بے عقل جب مال کے مالک ہوں تو ان پر انہی کے مال میں سے اخراجات کئے جائیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ ﴾ ” اس مال میں سے ان کو کھلاتے اور پہناتے رہو۔“ نیز اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کھانے پینے اور لباس وغیرہ کے ممکن حد تک اخراجات میں سرپرست کا قول اور اس کا دعویٰ قابل قبول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان بے سمجھ لوگوں کے مال پر امین مقرر کیا ہے اور امین کا قول قابل قبول ہے۔ النسآء
6 یہاں (ابتلاء) سے مراد آزمائش و امتحان ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس قریبی یتیم کو جس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ اب سمجھ دار ہوگیا ہے، اس کے مال میں سے کچھ مال دے دیا جائے وہ اپنے لائق حال اس میں تصرف کرے اس طرح اس کی سمجھ داری واضح ہوجائے گی۔ اگر وہ اپنے تصرف میں مسلسل نا سمجھی کا ثبوت دے رہا ہو تو مال اس کے حوالے نہ کیا جائے اور اسے ناسمجھ ہی سمجھا جائے، خواہ وہ بہت بڑی عمر کو کیوں نہ پہنچ جائے۔ پھر جب اس کی سمجھ داری اور صلاحیت واضح ہوجائے اور وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے ﴿فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ ۖ ﴾ ” تو ان کا مال (پورے کا پورا) ان کے حوالے کر دو“ ﴿وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا ﴾ ” اور اس (مال) کو فضول خرچی سے نہ کھاؤ“ یعنی اس حد سے تجاوز کر کے، جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے مال میں سے حلال ٹھہرایا ہے، ان کے مال میں نہ جاؤ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حرام ٹھہرایا ہے ﴿وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا ﴾” اور ان کے بڑے ہوجانے کے ڈر سے“ یعنی ان کی صغر سنی میں ان کا مال نہ کھاؤ جس عمر میں وہ تم سے اپنا مال واپس لینے پر قادر نہیں ہیں اور نہ تمہیں مال کھا نے سے منع کرسکتے ہیں تم جلدی جلدی مال کھاتے رہو کہ وہ بڑے ہو کر تم سے مال لے لیں گے اور ناحق مال کھانے سے منع کردیں گے۔ یہ امور فی الواقع بہت سے سرپرستوں سے پیش آتے رہتے ہیں جن کے دل اللہ تعالیٰ کے خوف اور زیرسرپرستی بے سمجھ لوگوں کی محبت اور ان پر رحم سے خالی ہوتے ہیں، چنانچہ اس مال کو وہ غنیمت سمجھتے ہیں اور جلدی جلدی وہ مال کھانے کی کوشش کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حرام ٹھہرایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس حال میں مال کھانے سے روکا ہے۔ النسآء
7 زمانہ جاہلیت میں عرب، اپنی جابریت اور قساوت قلبی کی وجہ سے کمزوروں یعنی عورتوں اور بچوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے تھے۔ وہ صرف طاقتور مردوں کو میراث دیا کرتے تھے ان کے زعم کے مطابق یہ لوگ جنگ وجدل اور لوٹ مار میں حصہ لینے کے قابل تھے۔ پس حکمت والے رب رحیم نے ارادہ فرمایا کہ اپنے بندوں کے لیے وراثت کا ایسا قانون بنا دے جس میں ان کے مرد اور عورتیں، طاقتور اور کمزور سب مساوی ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قانون کو بیان کرنے سے پہلے ایک مجمل حکم بیان کیا تاکہ نفوس اس قانون میراث کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ جب نفوس اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوگئے اور وہ وحشت زائل ہوگئی جس کا سبب بری عادات تھیں تو اس اجمال کی تفصیل آگئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ ﴾ یعنی مردوں کے لیے حصہ ہے ﴿مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ﴾ یعنی ان میں سے جو کچھ ماں اور باپ پیچھے (ترکہ میں) چھوڑ جاتے ہیں ﴿وَالْأَقْرَبُونَ﴾ ”اور رشتہ دار“ یعنی خاص کے بعد عام کا ذکر کیا ہے ﴿وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ﴾ ” اور عورتوں کے لیے بھی اس ترکے میں حصہ ہے جو والدین اور دیگر اقارب چھوڑ کر فوت ہوتے ہیں“ گویا کہ سوال کیا گیا کہ یہ حصہ عرف عام اور عادت کی طرف راجع ہے اور لوگ جو چاہیں ورثاء کو دے دیں؟ یا میراث کے حصے مقرر شدہ ہیں؟ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿نَصِيبًا مَّفْرُوضًا ﴾یعنی اللہ تعالیٰ نے، جو علم اور حکمت والا ہے ہر ایک کا حصہ مقرر کردیا ہے۔ ان مقرر کردہ حصوں کا انشاء اللہ عنقریب ذکر آئے گا۔ یہاں ایک اور وہم کا خدشہ ہے، شاید کوئی سمجھے کہ عورتوں اور بچوں کو صرف مال کثیر کی صورت میں حصہ ملے گا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس وہم کا ازالہ کردیا ﴿مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ﴾” خواہ یہ ترکہ تھوڑا ہو یا بہت۔“ نہایت ہی بابرکت ہے اللہ تعالیٰ جو سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔ النسآء
8 یہ اللہ تعالیٰ کے بہترین اور جلیل ترین احکام میں سے ہے جو ٹوٹے دلوں کو جوڑتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ﴾یعنی میراث کی تقسیم کے وقت ﴿أُولُو الْقُرْبَىٰ﴾ یعنی وہ رشتہ دار جو میت کے واثر نہیں ہیں اور اس کا قرینہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿الْقِسْمَةَ﴾ ہے کیونکہ ورثاء تو وہ لوگ ہیں جن میں وراثت تقسیم ہوگی ﴿وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ ﴾ ” یتیم اور مساکین“ یعنی فقراء میں سے مستحق لوگ ﴿فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ﴾یعنی اس مال میں سے جو تمہیں بغیر کسی کدو کاوش اور بغیر کسی محنت کے حاصل ہوا۔ ان کو بھی جتنا ہوسکے عطا کر دو۔ کیونکہ ان کا نفس بھی اس کا اشتیاق رکھتا ہے اور ان کے دل بھی منتظر ہیں۔ پس تم ان کے دل جوئی کی خاطر اتنا مال ان کو دے دو جس سے تمہیں نقصان نہ ہو اور ان کے لیے فائدہ مند ہو۔ اس معنی سے یہ بات اخذ کی جاتی ہے کہ ا گر انسان کے سامنے کوئی چیز رکھی جائے اور وہاں کوئی ایسا فرد موجود ہو جو کسی آس میں اس پر نظر رکھتا ہو تو اس شخص کے لیے مناسب ہے کہ جتنا بھی ہوسکے اس کو عطا کر دے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے سامنے کھانا پیش کرے تو وہ اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو اسے ایک یا دو لقمے عطا کر دے۔“[صحيح البخاري، العتق، باب إذا أتي أحدكم خادمه بطعامه، ح: 2557] صحابہ کرام کا طریقہ یہ تھا کہ جب ان کے سامنے موسم کا پہلا پھل آتا تو وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے، آپ اس میں برکت کی دعا فرماتے اور پھر وہاں موجود سب سے چھوٹے بچے کو عطا کردیتے، یہ جانتے ہوئے کہ یہ ننھا بچہ نہایت شدت سے اس کی خواہش رکھتا ہوگا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہے جب عطا کرنا ممکن ہو اگر عطا کرنا ممکن نہ ہو۔۔۔ مثلاً یہ بے سمجھ لوگوں کا حق ہے یا اس سے بھی اہم کوئی اور وجہ ہو تو ایسی صورت میں ﴿قَوْلًا مَّعْرُوفًا ﴾ ان کو اچھی اور غیر قبیح بات کہہ کر بھلے طریقے سے لوٹا دو۔ النسآء
9 کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس شخص کے لیے ہے جو کسی قریب المرگ شخص کے پاس موجود ہو اور مرنے والا اپنی وصیت میں ظلم اور گناہ کا مرتکب ہو رہا ہو۔ تو وہ اس شخص کو اس کی وصیت میں عدل و انصاف اور مساوات کی تلقین کرے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے﴿وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا  ﴾ یعنی ان سے درست بات کہو جو انصاف اور معروف کے موافق ہو۔ وہ ان لوگوں کو، جو اپنی اولاد کے بارے میں وصیت کرنا چاہتے ہیں، ان کی اولاد کے بارے میں ایسی تلقین کریں جو وہ خود اپنے بعد اپنی اولاد کے بارے میں پسند کرتے ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد بے سمجھ یعنی پاگل، کم سن اور کمزور لوگوں کے سرپرست ہیں۔ ان کو حکم ہے کہ وہ ان بے سمجھ لوگوں کے دینی اور دنیاوی مفادات کا ایسا انتظام کریں جو وہ اپنے مرنے کے بعد اپنی کمزور اور بے سمجھ اولاد کے بارے میں پسند کرتے ہیں۔ ﴿فَلْيَتَّقُوا اللَّـهَ  ﴾ وہ دوسروں کی سرپرستی کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں یعنی وہ ان کے ساتھ ایسا معاملہ کریں جو تقویٰ پر مبنی ہو جس میں ان لوگوں کی اہانت نہ ہو جو ان کی سرپرستی میں ہیں، ان کی دیکھ بھال کریں اور ان سے تقویٰ کا التزام کروائیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یتیموں کے مال کی دیکھ بھال کا حکم دیا تو اب ان کو یتیموں کا مال کھانے پر زجر و توبیخ کی ہے اور اس پر سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔ النسآء
10 چنانچہ فرمایا :﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا  ﴾ ” جو لوگ ناحق یتیموں کا مال کھاتے ہیں۔“ اس ” ناحق“ کی قید سے وہ نادار سرپرست نکل گئے جن کو معروف طریقے سے بقدر ضرورت ان کے مال میں سے کھانے کی اجازت ہے، اسی طرح وہ بھی اس سے خارج ہوگئے جو آسانی اور اصلاح کی نیت سے اپنا کھانا یتیموں کے کھانے کے ساتھ ملا لیتے ہیں، کیونکہ یہ بھی جائز ہے۔ پس جو کوئی ظلم سے یتیموں کا مال کھاتا ہے ﴿ يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ﴾ ” وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔“ یعنی انہوں نے یتیموں کا جو مال کھایا ہے وہ آگ ہے جو ان کے پیٹ میں بھڑکے گی، یہ آگ خود انہوں نے اپنے پیٹ میں داخل کی ہے ﴿وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا ﴾ یعنی وہ عنقریب جلانے والی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ یہ سب سے بڑی وعید ہے جو گناہوں کے بارے میں سنائی گئی ہے جو یتیموں کا مال کھانے کی برائی اور قباحت پر دلالت کرتی ہے نیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یتیموں کا مال کھانا جہنم میں جانے کا موجب ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ النسآء
11 وراثت کے احکام اور اصحاب وراثت :۔ یہ آیات اور اس سورت کی آخری آیت وراثت کی آیات ہیں اور وراثت کے احکام پر مشتمل ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح بخاری میں مروی ہے ” میراث کے مقرر حصے ان کے حق داروں کو دو جو بچ جائے وہ اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے“ ان آیات کو اس حدیث سے ملایا جائے تو یہ دونوں وراثت کے بڑے بڑے، بلکہ تمام احکام پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ ابھی تفصیل سے واضح ہوگا، سوائے نانی کی وراثت کے، کیونکہ اس کا ذکر ان میں نہیں ہے، مگر سنن میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کی نانی کو وراثت کا چھٹا حصہ عطا کیا، اس پر علماء کا بھی اجماع ہے۔ وراثت میں میت کی اولاد کا حصہ :۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿يُوصِيكُمُ اللَّـهُ فِي أَوْلَادِكُمْ﴾” اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں وصیت (حکم) فرماتا ہے۔“ یعنی اے والدین کے گروہ ! تمہاری اولاد تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں وصیت کی ہے تاکہ تم ان کے دینی اور دنیاوی مصالح کی دیکھ بھال کرو۔ تم ان کو تعلیم دو ادب سکھاؤ، انہیں برائیوں سے بچاؤ، انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور تقویٰ کے دائمی التزام کا حکم دو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ﴾ (التحریم :6؍66) پس اولاد کے بارے میں والدین کو وصیت کی گئی ہے۔ اس لیے چاہیں تو وہ اس وصیت پر عمل کریں تب ان کے لیے بہت زیادہ ثواب ہے اور چاہیں تو اس وصیت کو ضائع کردیں تب وہ سخت وعید اور عذاب کے مستحق ہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ان کے والدین سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے کیونکہ اس نے والدین کو ان کی اولاد کے بارے میں وصیت کی درآں حالیکہ والدین اپنی اولاد کے لیے کمال شفقت کے حامل ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اولاد کے لیے وراثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ﴾یعنی اگر اصحاب الفروض نہ ہوں یا اصحاب الفروض کو دینے کے بعد ترکہ بچ جائے تو صلبی اولاد اور بیٹے کی اولاد کے لیے وراثت کا حکم یہ ہے کہ وہ لڑکیوں کا حصہ ایک لڑکے کے برابر ہے۔ اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے نیز اگر میت کی صلبی اولاد موجود ہو تو وراثت انہی میں تقسیم ہوگی۔ اگر میت کے بیٹے بیٹیاں ہیں تو پوتے پوتیوں کو وراثت نہیں ملے گی۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ میت کے بیٹے اور بیٹیاں دونوں موجود ہیں یہاں دو صورتیں ہیں۔ پہلی صورت کہ صرف بیٹے ہوں، اس کا ذکر آگے آئے گا۔ دوسری صورت کہ صرف بیٹیاں ہوں، اس کا ذکر ذیل میں ہے۔ بیٹیوں کے لیے وراثت کے احکام :۔ اگر صرف بیٹیاں وارث ہوں تو ان کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ ﴾ یعنی اگر صلیبی بیٹیوں یا پوتیوں کی تعداد تین یا تین سے زیادہ ہے﴿ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ ﴾ ” تو ان سب کے لیے دو تہائی ترکہ ہے۔“ ﴿وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ﴾ ”اور اگر ایک بیٹی (یا پوتی) ہے تو اس کے لیے نصف ترکہ ہے“ اور اس پر علماء کا اجماع ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ اس پر اجماع کے بعد یہ اصول کہاں سے مستفاد ہوا کہ دو بیٹیوں کے لیے ترکہ میں سے دو تہائی حصہ ہے؟۔۔۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اصول اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ﴾ سے ماخوذ ہے، کیونکہ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے اگر بیٹی ایک سے زائد ہو تو وراثت کا حصہ بھی نصف سے منتقل ہو کر آگے بڑھے گا اور نصف کے بعد دو تہائی حصہ ہی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ﴾ جب میت نے ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑی ہو تو ترکہ میں سے بیٹے کے لیے دو تہائی حصہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کا یہ حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دو بیٹیوں کے لیے دو تہائی حصہ ہے۔ نیز اگر بیٹی اپنے بھائی کی معیت میں وراثت میں سے ایک تہائی حصہ لیتی ہے درآں حالیکہ بھائی بہن کی نسبت وراثت میں اس کے لیے زیادہ نقصان کا باعث ہے تو بہن کی معیت میں بیٹی کا وراثت سے حصہ لینا زیادہ اولیٰ ہے۔ نیز بہنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ ۚ﴾(النساء :4؍ 176) ” اگر دو بہنیں ہوں تو ان دونوں کے لیے ترکے میں سے دو تہائی حصہ ہے۔“ دو بہنوں کے لیے دو تہائی ترکہ کے بارے میں یہ واضح نص ہے۔ جب دو بہنیں میت سے رشتہ میں بعد کے باوجود اس کے ترکہ میں سے دو تہائی حصہ لیتی ہیں تو دو بیٹیاں میت سے رشتہ میں قرب کی بنا پر دو تہائی ترکہ لینے کی زیادہ مستحق ہیں۔ نیز صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کی دو بیٹیوں کو دو تہائی ترکہ عطا کیا۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿فَوْقَ اثْنَتَيْنِ ﴾ ” اگر بیٹیاں دو سے زیادہ ہوں“ کا کیا فائدہ؟ کہا جاتا ہے کہ اس کا فائدہ یہ ہے۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔۔۔۔ کہ یہ معلوم ہوجائے کہ زیادہ سے زیادہ حصہ دو تہائیاں ہی ہیں۔ وارث بیٹیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ وراثت کا حصہ دو تہائی سے زیادہ نہیں ہوگا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب میت کی صلب میں سے ایک بیٹی ہو اور ایک یا ایک سے زائد پوتیاں ہوں تو بیٹی کے لیے نصف ترکہ ہے اور اس دو تہائی میں سے جو اللہ تعالیٰ نے ایک سے زائد بیٹیوں یا پوتیوں کے لیے مقرر کیا ہے۔ چھٹا حصہ باقی بچ جاتا ہے تو یہ حصہ پوتی یا پوتیوں کو دیا جائے گا۔ اسی وجہ سے اس چھٹے حصے کو ” دو تہائی کا تکملہ“ کہا جاتا ہے اور اس کی مثال پوتی کی معیت میں وہ پوتیاں ہیں جو اس سے زیادہ نیچے ہیں۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر بیٹیاں یا پوتیاں پورے کا پورا دو تہائی حصہ لے لیں تو وہ پوتیاں جو زیادہ نیچے ہیں ان کا حصہ ساقط ہوجائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے صرف دو تہائی کا حصہ مقرر کیا ہے جو کہ پورا ہوچکا ہے۔ اگر ان کا حصہ ساقط نہ ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ ان کے لیے دو تہائی سے زیادہ حصہ مقرر ہو اور یہ بات نص کے خلاف ہے اور ان تمام احکام پر علماء کا اجماع ہے۔ وللہ الحمد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ مِمَّا تَرَكَ  ﴾ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ میت ترکہ میں جو کچھ بھی چھوڑتی ہے خواہ وہ زمین کی صورت میں جائیداد ہو، گھر کا اثاثہ یا سونا چاندی وغیرہ حتیٰ کہ دیت بھی جو اس کے مرنے کے بعد ہی واجب ہوتی ہے اور وہ قرضے جو میت کے ذمہ واجب الادا ہیں۔ ورثاء ان سب چیزوں کے وارث ہوں گے۔ ماں باپ کے لیے وراثت کے احکام :۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے لیے وراثت کے احکام بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿وَلِأَبَوَيْهِ ﴾ اس سے مراد ماں اور باپ دونوں ہیں ﴿ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ﴾ یعنی اگر میت کا ایک یا ایک سے زائد صلبی بیٹا یا بیٹی، پوتا یا پوتی موجود ہوں۔ تو پس ماں اولاد (بیٹے یا پوتے) معیت میں چھٹے حصے سے زیادہ نہیں لے گی۔ باپ کے لیے وراثت کے احکام :۔ اگر میت کی نرینہ اولاد موجود ہے تو ان کی معیت میں باپ چھٹے حصے سے زیادہ نہیں لے گا۔ اگر اولاد بیٹی یا بیٹیاں ہیں اور مقررہ حصے ادا کرنے کے بعد کچھ نہ بچے، جیسے ماں باپ اور دو بیٹیاں ہوں، تو باپ کا استحقاق عصبہ باقی نہیں رہے گا۔ اور اگر بیٹی یا بیٹیوں کے حصے کے بعد کچھ بچ جائے تو باپ چھٹا حصہ مقررہ حصے کے طور پر اور باقی مال عصبہ ہونے کے اعتبار سے لے گا۔ اس لیے کہ اصحاب الفروض کو ان کے حصے دینے کے بعد جو بچ جائے تو اس کا وہ مرد زیادہ مستحق ہوتا ہے جو میت کے زیادہ قریب ہو، اس لیے اس صورت میں باپ بھائی اور چچا وغیرہ سے زیادہ قریب ہے۔ ﴿فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ﴾ ” اور اگر اولاد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے“ یعنی باقی ترکہ باپ کے لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مال کی اضافت بیک وقت ماں اور باپ کی طرف کی ہے پھر ماں کا حصہ مقرر کردیا، تو یہ بات اس امر کی دلیل ہے کہ باقی مال باپ کے لیے ہے۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ میت کی اولاد کی عدم موجودگی میں میت کا باپ اصحاب فروض میں شمار نہیں ہوتا بلکہ وہ عصبہ کی حیثیت سے تمام مال یا مقرر کردہ حصوں (فروض) سے بچے ہوئے باقی مال کا حق دار ہوگا۔ اگر ماں باپ کی موجودگی میں میت کا خاوند یا بیوی بھی موجود ہو۔ جن کو (عمریتین) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔۔۔ تو خاوند بیوی اپنا حصہ لیں گے، ماں باقی میں سے ایک تہائی لے گی اور جو بچ رہے گا اس کا مالک میت کا باپ ہوگا۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ﴾ یعنی جس مال کے وارث ماں باپ ہوں اس کا ایک تہائی حصہ ماں کے لیے ہے اور وہ ان دو صورتوں میں یعنی میت کے خاوند، ماں اور باپ کے وارث ہونے کی صورت میں چھٹا حصہ، اور میت کی بیوی، ماں اور باپ کے وارث ہونے کی صورت میں چوتھا حصہ ہے۔ پس یہ آیت اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ میت کی ماں، میت کی اولاد کی عدم موجودگی میں تمام مال کی ایک تہائی کی وارث ہے۔ جب تک یہ نہ کہا جائے کہ یہ مذکورہ دو صورتیں مستثنیٰ ہیں۔ اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ خاوند یا بیوی جو حصہ لیتی ہے، وہ اس حصے کی طرح ہے جو قرض خواہ لیتے ہیں، اس لیے وہ سارے مال سے ہوگا اور باقی مال کے وارث ماں باپ ہوں گے۔ کیونکہ اگر ہم کل مال کا تیسرا حصہ ماں کو عطا کردیں تو اس سے میت کے خاوند کی معیت میں ماں کا حصہ باپ کے حصے سے بڑھ جائے گا یا میت کی بیوی کی معیت میں باپ کا حصہ ماں کی نسبت چھٹے حصے کے نصف سے زیادہ ہوجائے گا جس کی کوئی نظری نہیں، کیونکہ اصول یہ ہے کہ ماں، باپ کے مساوی حصہ لے گی یا باپ اس سے دگنا لے گا جو ماں کے حصہ میں آتا ہے۔ ﴿فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ﴾ ” اگر مرنے والے کے بھائی ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے“ یعنی حقیقی بھائی ہوں، یا باپ کی طرف سے (علاتی بھائی) ہوں یا ماں کی طرف سے (اخیافی بھائی) ہوں خواہ وہ مرد ہو یا عورتیں۔۔۔ وارث بنتے ہوں یا وہ باپ یا دادا کی موجودگی میں معجوب ہوں۔ مگر کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ ﴾کا ظاہر غیر ورثاء کو شامل نہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ محجوب کو نصف حصہ نہیں پہنچتا۔۔۔ تب اس صورت میں میت کے وارث بننے والے بھائیوں کے سو ا ماں کو ایک تہائی حصہ سے کوئی بھائی محجوب نہیں کرسکتا۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ میت کے بھائیوں کی ماں کو ایک تہائی حصے سے محجوب کردینے میں حکمت یہ ہے کہ کہیں ان کے لیے مال میں کچھ بڑھ نہ جائے حالانکہ وہ معدوم ہے۔ مگر یہاں ایک شرط عائد کی گئی ہے کہ بھائی دو یا دو سے زائد ہوں۔ البتہ اس میں اشکال یہ ہے کہ یہاں ﴿ إِخْوَةٌ﴾ جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں جمع مقصود نہیں بلکہ مجرد تعداد (متعدد ہونا) مقصود ہے اور یہ تعدد دو کے عدد پر بھی صادق آتا ہے۔ کبھی جمع کا صیغہ تو بول لیا جاتا ہے، مگر اس سے مراد دو ہوتے ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام کے بارے میں فرمایا : ﴿ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ ﴾(الانبیاء :21؍78) ” اور ہم ان کے فیصلے کو دیکھ رہے تھے۔“ اللہ تعالیٰ نے اخیافی بھائیوں کے بارے میں فرمایا ﴿إِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوا أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ۚ ﴾ (النساء :4؍12) ” اگر ایسے مرد یا عورت کی وراثت ہو جو کلالہ ہو یعنی جس کی اولاد ہو نہ باپ، مگر اس کے بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے۔“ پس یہاں بھی جمع کے لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے مگر بالا جماع اس سے مراد دو اور دو سے زائد افراد ہیں۔ اس صورت میں اگر میت اپنے پیچھے ماں، باپ اور کچھ بھائی وارث چھوڑتا ہے تو ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے اور باقی ترکے کا وارث باپ ہے پس انہوں نے ماں کو ایک تہائی حصے سے محجوب کردیا اور اس کے ساتھ ساتھ باپ نے ان کو بھی محجوب کردیا۔ البتہ اس میں ایک دوسرا احتمال موجود ہے، جس کی رو سے ماں کے لیے ایک تہائی اور باقی ترکہ باپ کے لیے۔ النسآء
12 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ﴾ یعنی میت کے ذمے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے قرض کی ادائیگی کے بعد ہوگا، اس کی وجہ وصیت کی اہمیت کو واضح کرنا ہے (تاکہ ورثاء اس کو نظر انداز نہ کریں) علاوہ ازیں وصیت کا نفاذ ورثاء پر شاق گزرتا ہے (اور وہ اس پر عمل کرنے سے بالعموم گریز کرتے ہیں) وگرنہ قرض کی ادائیگی، وصیت پر اصل مال میں سے ہوگی۔ جہاں تک وصیت کا معاملہ ہے تو وہ صرف ایک تہائی مال یا اس سے کم ہیں، نیز صرف غیر وارث اجنبیوں کے لیے جائز ہے اس کے علاوہ اگر وصیت کی گئی ہے تو وہ نافذ نہیں ہوگی البتہ اگر ورثاء اجازت دے دیں تو نافذ ہوسکتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ﴾ ” تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے، تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع کے اعتبار سے تمہارے زیادہ قریب ہے“ یعنی اگر وراثت کے حصے تمہاری عقل اور تمہارے اختیار کے مطابق بنائے جاتے تو اس قدر نقصان پہنچتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ عقل ناقص ہے اور ہر زمان و مکان کے مطابق جو چیز زیادہ اچھی اور زیادہ لائق ہے اس کی معرفت حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ پس انسان نہیں جانتا کہ اس کی اولاد یا والدین میں سے دینی اور دنیاوی مقاصد کے حصول میں کون اس کے لیے زیادہ فائدہ مند اور اس کے زیادہ قریب ہے۔ ﴿فَرِيضَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴾” اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا ہے بے شک اللہ پورے علم اور کامل حکمتوں والا ہے“ یعنی وراثت کے ان حصوں کو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے اس نے جو شریعت بنائی ہے اسے محکم کیا ہے اور اس نے جو چیز مقدر کی ہے اسے بہترین اندازے کے ساتھ مقدر کیا ہے۔ عقل ان جیسے احکام وضع کرنے سے قاصر ہے جو ہر حال اور ہر زمان و مکان کے موافق اور نفاذ کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ شوہر اور بیویوں کے لیے وراثت کے احکام :۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَكُمْ ﴾ یعنی اے شوہرو !﴿نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوا أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ﴾ ” اور جو کچھ تمہاری بیویاں (ترکے میں) چھوڑ جائیں اس میں سے نصف کے تم حق دار ہو بشرطیکہ ان کی اولاد نہ ہو۔ اگر ان کی اولاد ہے تو تمہیں جو کچھ وہ چھوڑ جائیں اس کا چوتھائی ملے گا (یہ تقسیم) مرنے والی کی وصیت کی تعمیل اور اس کے قرضے کی (ادائیگی) کے بعد (عمل میں لائی جائے) اور ان کے لیے جو کچھ تم چھوڑ جاؤ اس کا چوتھائی حصہ ہے بشرطیکہ تمہاری اولاد نہ ہو اور اگر تمہاری اولاد ہو تو ان کے لیے تمہارے ترکے کا آٹھواں حصہ ہوگا (یہ تقسیم) تمہاری وصیت کی تکمیل یا قرضے ( کی ادائیگی) کے بعد (عمل میں لائی جائے) “ اولاد کے مسمی کے زمرے میں، جس کے وجود اور عدم وجود کو میاں بیوی کی وراثت میں شرط بنایا گیا ہے، صلبی اولاد یا بیٹے کی اولاد لڑکے یا لڑکیاں خواہ ایک ہو یا متعدد جو اس شوہر یا بیوی سے ہوں یا کسی اور سے، شمار ہوتی ہیں اس میں بیٹیوں کی اولاد شامل نہیں اور اس پر اجماع ہے۔ (کلالہ) کا معنی اور اس کے احکام :۔ ﴿وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ  ﴾” اور اگر کوئی مرد ہو (جو ترکہ چھوڑ جائے) اور اس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا اور بھائی یا بہن ہو“ اس سے مراد اخیافی (ماں شریک) بہن بھائی ہیں جیسا کہ بعض قراءت میں بھی وارد ہے اور فقہاء کا اجماع ہے کہ یہاں بہن بھائی سے مراد اخیافی بہن بھائی ہیں۔ اگر میت کلالہ ہے یعنی میت کا باپ ہے نہ بیٹا، یعنی باپ ہے نہ دادا، بیٹا ہے نہ پوتا،بیٹی ہے نہ پوتی۔۔۔ خواہ نیچے تک چلے جائیں۔۔۔ ایسی میت کو کلالہ کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی تفسیر بیان کی ہے اور اسی مفہوم پر اجماع واقع ہوگیا۔ وللہ الحمد ﴿فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا  ﴾ یعنی بھائی اور بہن دونوں میں سے ہر ایک کے لیے (السدس) چھٹا حصہ ہے﴿فَإِن كَانُوا أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ ﴾ یعنی اگر وہ ایک سے زائد ہوں ﴿فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ﴾یعنی ایک تہائی میں سب شریک ہیں اور ایک تہائی سے زیادہ نہیں ملے گا خواہ ان کی تعداد دو سے بڑھ جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ﴾ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اس میں مرد اور عورتیں سب برابر ہیں کیونکہ لفظ ” شریک“ مساوات کا تقاضا کرتا ہے۔ (یعنی اس صورت میں مرد کو عورت سے دگنا حصہ نہیں، بلکہ برابر کا حصہ ملے گا) لفظ ”کلالہ“ دلالت کرتا ہے کہ فروع نیچے تک اور اصول مرد اوپر تک خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ جائیں، وہ ماں کی اولاد کو ساقط کردیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اخیافی بہن بھائیوں کو صرف کلالہ کی صورت میں وارث بنایا ہے اور اگر وہ کلالہ کی صورت میں وارث نہیں بنتے تو وہ کسی اور صورت میں میت کے وارث نہیں بن سکتے۔ اس پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ﴾دلالت کرتا ہے کہ ”مسئلہ حماریہ“ کے مطابق حقیقی بھائی ساقط ہوجاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر میت کا شوہر، ماں اور حقیقی بھائی بھی ہوں تو شوہر کے لیے نصف ترکہ، ماں کے لیے چھٹا حصہ اور اخیافی بھائیوں کے لیے ایک تہائی حصہ ہے اور حقیقی بھائی ساقط ہوجائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک تہائی ترکہ کو اخیافی بھائیوں کی طرف مضاف کیا ہے اگر اس ترکہ میں حقیقی بھائیوں کو شریک کرلیا جائے تو یہ اس چیز کو جمع کرنا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تفریق کی ہے۔ نیز اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اخیافی بھائی اصحاب فروض ہیں اور حقیقی بھائی عصبہ ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ نے فرمایا ”میراث کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو جو بچ جائے وہ اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے۔ [صحيح البخاري، الفرائض، باب ميراث الوالد من أبيه و أمه، ح: 6732 و صحيح مسلم، الفرائض، باب الحقوا الفرائض بأهلها.... ح: 1615] اور اصحاب فروض وہ لوگ ہیں جن کا حصہ اللہ تعالیٰ نے مقرر کردیا ہے۔ زیر بحث کلالہ کے مسئلہ میں اصحاب فروض کو دینے کے بعد کچھ باقی نہیں بچتا اس لیے حقیقی بھائی ساقط ہوجائیں گے اور یہی صحیح موقف ہے۔ رہی حقیقی بھائیوں اور بہنوں کی وراثت، یا باپ کی طرف سے بھائیوں اور بہنوں کی وراثت، تو یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ (النساء: 4؍176) میں مذکور ہے۔ پس ایک حقیقی یا باپ کی طرف سے بہن کے لیے نصف ترکہ ہے۔ اگر دو ہوں تو ان کے لیے دو تہائی ترکہ ہے۔ اگر کلالہ کی ایک حقیقی بہن، ایک یا زائد باپ کی طرف سے بہنیں ہوں تو ترکہ کا نصف حصہ حقیقی بہن کو ملے گا اور دو تہائی میں سے باقی جو کہ چھٹا حصہ بنتا ہے دو تہائی کی تکمیل کے لیے باپ کی طرف سے بہن یا بہنوں کو ملے گا۔ اگر حقیقی بہنیں دو تہائی حصہ لے لیں تو باپ کی طرف سے بہنیں ساقط ہوجائیں گی جیسا کہ بیٹیوں اور پوتیوں کے بارے میں گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ اگر بھائی اور بہنیں وارث ہوں تو ایک بھائی کو دو بہنوں کے مساوی حصہ ملے گا۔ قاتل اور مختلف دین رکھنے والے کے لیے وراثت :۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا قرآن کریم سے قاتل، غلام، غیر مسلم، جزوی غلام، مخنث، باپ کی طرف سے بھائیوں کی معیت میں دادا، عول، رد، ذوالارحام، بقیہ عصبہ، بیٹیوں کی معیت میں باپ شریک بہنوں یا پوتیوں کی وراثت مستفاد ہوتی ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں اس بارے میں بعض دقیق اشارے اور تنبیہات موجود ہیں، گہرے غور و فکر کے بغیر ان اشارات کو سمجھنا مشکل ہے۔ رہا قاتل اور مخالف دین یعنی غیر مسلم، تو یہ بات معروف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مال کو ورثاء میں ان کے میت سے قرب اور دینی اور دنیاوی فوائد کے اعتبار سے تقسیم کرنے کی جو حکمت بیان کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ وارث نہیں بن سکتے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس حکمت بالغہ کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے :﴿ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ﴾ (النساء :4؍11) ” تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع کے اعتبار سے تمہارے زیادہ قریب ہے۔ “ یہ بات معلوم اور واضح ہے کہ قاتل نے اپنے مورث کو سب سے بڑا نقصان پہنچایا ہے لہٰذا وہ امر جو اس کے لیے وارث کا موجب ہے، قتل کے ضرر کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ قتل اس نفع کی ضد ہے جس پر وراثت مرتب ہوتی ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ قتل سب سے بڑا مانع ہے جو میراث کے حصول سے روکتا ہے اور قطع رحمی کا باعث بنتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ ۗ ﴾(الانفال :8؍ 75) ” اور رشتہ دار اللہ کے حکم کے مطابق ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں“ نیز ایک شرعی قاعدہ مشہور ہے کہ ” جو کوئی وقت سے پہلے کوئی چیز حاصل کرنے میں جلدی کرتا ہے اسے اس چیز سے محرومی کی سزا دی جاتی ہے۔ “ مندرجہ بالا توضیح سے واضح ہوتا ہے کہ اگر وارث، مورث کے دین سے مختلف دین رکھتا ہے تو وہ وراثت سے محروم ہے۔ وراثت کا موجب، جو کہ نسب کا اتصال ہے اور وراثت کا مانع جو کہ اختلاف دین ہے اور اختلاف دین ہر لحاظ سے وارث کو مورث سے علیحدہ کردیتا ہے۔ پس موجب اور مانع میں تعارض ہے۔ مانع زیادہ قوی ہے اور موجب وراثت کو روک دیتا ہے۔ بنا بریں مانع کے ہوتے ہوئے موجب پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ اس اصول کی وضاحت اس امر سے ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے حقوق کو کفار رشتہ داروں کے حقوق پر اولیت دی ہے۔ اس لیے جب مسلمان وفات پا جاتا ہے تو اس کا مال اس شخص کی طرف منتقل ہوگا جو اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ ۗ ﴾ تو اسی صورت میں صادق آئے گا جب وارث اور مورث کا دین ایک ہو۔ وارث اور مورث کے دین میں تباین اور اختلاف کی صورت میں دینی اخوت مجرد نسبی اخوت پر مقدم ہے۔ علامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ جلاء الافھام میں رقمطراز ہیں ” اس لفظ کے معنی پر مواریث کی آیت میں غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان توارث کو ” عورت“ کی بجائے ” زوجہ“ کے لفظ کے ساتھ معلق کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں آیا ہے ﴿وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ ﴾ اس میں اس بات کی تعلیم ہے کہ یہ توارث اس زوجیت کی بنا پر واقع ہوا ہے جو کامل مشابہت اور تناسب کا تقاضا کرتی ہے۔ مومن اور کافر کے مابین کوئی مشابہت اور کوئی تناسب نہیں ہوتا اس لیے ان کے مابین توارث واقع نہیں ہوسکتا قرآن کریم کے مفردات اور مرکبات کے اسرار نہاں اس سے بہت بلند ہیں کہ عقل مندوں کی عقل اس کا احاطہ کرسکے۔۔۔ “ غلاموں کے لیے وراثت کے احکام :۔ جہاں تک غلام کا معاملہ ہے تو نہ وہ خود کسی وارث بن سکتا ہے اور نہ کوئی اس کا وارث بن سکتا ہے۔۔۔ رہا یہ معاملہ کہ کوئی اس کا وارث نہیں بن سکتا تو یہ بالکل واضح ہے کیونکہ اس کا کوئی مال ہی نہیں جس کا کوئی وارث ٹھہرے، بلکہ اس کے برعکس اس کا تمام مال اس کے آقا کی ملکیت ہے رہی یہ بات کہ وہ وارث بھی نہیں ہوسکتا، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا، اگر اس کے ہاتھ میں کوئی چیز آتی بھی ہے تو وہ اس کے مالک کی ملکیت ہوتی ہے۔ پس وہ میت کے لیے اجنبی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے اس قسم کے ارشادات : ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾اور ﴿وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ﴾ اور ﴿فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ﴾ وغیرہ اس کے لیے ہے جو ملکیت کا اثبات کرسکتا ہو اور غلام کے لیے چونکہ ملکیت کا اثبات ممکن نہیں، اس لیے معلوم ہوا کہ وہ میراث کا حق دار نہیں۔ رہا وہ شخص جو جزوی طور پر آزاد اور جزوی طور پر غلام ہو تو اس کے احکام میں بھی تبعیض ہوگی۔ پس اس میں جو آزادی کا حصہ ہے، اس کی وجہ سے اللہ نے وراثت کا جو حق مترتب کیا ہے، اس کا وہ مستحق ہوگا، کیونکہ آزادی کی وجہ سے وہ مالک بننے کے قابل ہے اور اس میں جو غلامی کا حصہ ہے، اس کی وجہ سے وہ اس کے قابل نہیں۔ تب اس صورت میں یہ جزوی طور پر آزاد ہے۔ وراثت میں حصہ لے گا اور خود اس کی میراث بھی اس کے ورثاء میں تقسیم ہوگی اور اپنی آزادی کی مقدار کے مطابق دوسروں کو وراثت سے محجوب کرے گا اور جب غلام، قابل تعریف اور قابل مذمت، ثواب کا حق دار اور عذاب کا حق دار، ان موجبات کی مقدار کے مطابق ہوسکتا ہے، جو اسے ان امور کا مستحق بناتی ہیں، تو یہ معاملہ بھی اسی طرح ہے۔ مخنث کے لیے وراثت کے احکام :۔ مخنث کا معاملہ تین امور سے خالی نہیں ہوتا۔ مخنث کی ذکوریت واضح ہوتی ہے (یعنی اس میں مرد کی علامتیں پائی جاتی ہیں) یا اس کی انوثیت واضح ہوتی ہے۔ (اس میں عورت کی علامتیں غالب ہوتی ہیں) یا اس کا مذکر ہونا یا مونث ہونا واضح نہیں ہوتا تب اس کو ” مشکل“ کہتے ہیں۔ اگر مخنث کا معاملہ واضح ہے تو اس کی وراثت کا مسئلہ بھی واضح ہے۔ چنانچہ اگر اس میں مرد کی علامتیں غالب ہیں تو اس پر اس نص کا اطلاق ہوگا جو مردوں کے بارے میں وارد ہوئی ہے اور اگر اس میں عورت کی علامتیں غالب ہیں تو اس پر عورتوں کے احکام کا اطلاق ہوگا۔ اگر وہ مشکل ہے تو اگر وہ مرد اور عورت ہیں جن کا حصہ وراثت مختلف نہیں۔ (بلکہ یکساں ہے) جیسے اخیافی بہن بھائیوں کا معاملہ ہے تو اس میں معاملہ بالکل واضح ہے۔ اور اگر اس کو مرد مقدر کرتے ہوئے یا عورت مقدر کرتے ہوئے اس کا حصہ وراثت مختلف ہو اور ہمارے پاس کے بارے میں تیقن کا کوئی ذریعہ نہ ہو تو ہم اسے وہ حصہ نہ دیں گے جو دونوں صورتوں میں سب سے زیادہ بنتا ہے کیونکہ اس میں ان لوگوں پر ظلم کا احتمال ہے جو اس کی معیت میں وراثت کے حق دار ہیں اور نہ ہم اسے کم ترین حصہ دیں گے کیونکہ اس صورت میں خود اس پر ظلم کا احتمال ہے۔ پس ان کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کرنا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ﴾ (المائدہ :5؍ 8) ” عدل کیا کرو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ “ اس قسم کی صورتحال میں ہمارے پاس اس سے زیادہ کوئی عدل کا راستہ نہیں جس کا گزشتہ سطور میں ہم ذکر کرچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ﴾(البقرہ :2؍286) ” اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت کے مطابق“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَاتَّقُوا اللَّـهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ (التغابن :64؍16) ” پس جہاں تک ہوسکے اللہ سے ڈرو“ دادا کے لیے وراثت کے احکام :۔ رہا حقیقی بھائیوں یا باپ شریک (علاتی) بھائیوں کی موجودگی میں میت کے دادا کے لیے وراثت کا مسئلہ کہ آیا مذکورہ بھائی دادا کی معیت میں وراثت میں سے حصہ لیں گے یا نہیں۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس فتویٰ کی تائید کرتی ہے کہ دادا بھائیوں کو معجوب کر دے گا، چاہے وہ حقیقی بھائی ہوں یا علاتی (باپ شریک) یا اخیافی (ماں شریک) ہوں جیسے باپ ان سب کو معجوب کردیتا ہے۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ قرآن مجید میں ایک سے زائد مقامات پر دادا کو باپ کہا گیا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَـٰهَكَ وَإِلَـٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ﴾ (البقرہ :2؍133) ” جب یعقوب وفات پانے لگے تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا تیرے معبود اور تیرے آباء ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی“ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کا قول نقل فرمایا : ﴿وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ﴾(یوسف :12؍38) ” میں نے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کی ملت کی پیروی کی ہے۔ “ پس اللہ تعالیٰ نے دادا اور باپ کے دادا کو ” باپ“ کے نام سے موسوم کیا ہے یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ دادا اپ کے مقام پر ہوتا ہے اور وراثت میں اس کا وہی حصہ ہے جو باپ کا حصہ ہے جس کو باپ معجوب کرتا ہے اس کو دادا بھی معجوب کرے گا (یعنی باپ کی عدم موجودگی میں) اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ میت کے باپ کی عدم موجودگی میں میت کی میراث میں میت کی اولاد وغیرہ کی معیت میں اس کے بھائیوں، چچاؤں کے بیٹوں کے ہوتے ہوئے دادا کا وہی حکم ہے جو باپ کا حکم ہے۔۔۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ اخیافی بھائیوں کے علاوہ دوسرے بھائیوں کو معجوب کرنے میں بھی دادا کا وہی حکم ہو جو باپ کا حکم ہے اور جب بیٹے کا بیٹا صلبی بیٹے کی مانند ہے تو دادا باپ کے مقام پر کیوں نہیں ہوس کتا اور جب باپ کا دادا میت کے بھتیجے کی موجودگی میں، اہل علم کے اجماع کے مطابق، بھتیجے کو معجوب کر دے گا۔ تو پھر میت کا دادا میت کے بھائی کو کیوں معجوب نہیں کرسکتا؟ لہٰذا جو داد کی معیت میں بھائیوں کو وارث قرار دیتا ہے اس کے پاس کوئی نص ہے نہ اشارہ نہ تنبیہ اور نہ قیاص صحیح۔ عول اور اس کے احکام :۔ عول کے مسائل کے احکام قرآن مجید سے مستفاد ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب مواریث کے لیے حصے مقرر کردیئے ہیں اور ان کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو معجوب کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔ اگر وہ ایک دوسرے کو معجوب کرتے ہیں تو وراثت میں معجوب ساقط ہوجاتا ہے اور وہ کسی چیز کا مستحق نہیں رہتا۔ اگر وہ ایک دوسرے کو معجوب نہیں کرتے تو وہ مندرجہ ذیل دو صورتوں سے خالی نہیں۔ یا تو وہ ترکہ کے تمام حصے کے وارث نہیں بنتے۔ (یعنی ورثاء کو ان کے شرعی حصے دینے کے بعد بھی ترکہ بچ جاتا ہے) یا وہ ترکہ کے تمام حصوں کے وارث اس طرح بنتے ہیں کہ یہ مقرر کردہ حصے مجموعی طور پر نہ تو ترکہ سے کم ہوتے ہیں اور نہ زیادہ یا مقرر کردہ حصے ترکہ سے بڑھ جاتے ہیں۔ پہلی دو صورتوں میں ہر وارث اپنا پورا حصہ حاصل کرتا ہے مگر آخری صورت میں جب حصے ترکہ سے بڑھ جائیں تو یہ بھی دو حالتوں سے خالی نہیں۔ یا تو ہم بعض ورثاء کا وہ حصہ کم کردیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کیا ہے اور نہ میں سے باقی ورثاء کا حصہ پورا پورا عطا کرتے ہیں۔ یہ ترجیح بلا دلیل ہے ان میں سے کوئی ایک نقصان اٹھانے کا کسی دوسرے سے زیادہ مستحق نہیں۔ پس دوسری صورت کا یوں تعین ہوتا ہے کہ ہم امکانی حد تک ہر وارث کو اس کا پورا حصہ ادا کرتے ہیں اور موجود ترکہ کو ان کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کردیتے ہیں جیسے مقروض کے اس مال کو قرض خواہوں کے مابین تقسیم کیا جاتا ہے جو قرض خواہوں کے مطالبے سے کم ہوتا ہے۔ اب اس مال کو عول کے اصول کو استعمال کئے بغیر تقسیم کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم فرائض (وراثت) میں عول کا مسئلہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرما دیا ہے۔ رو اور اس کے احکام :۔ عول کے اس طریقے کے بالکل برعکس روکا اصول معلوم ہوا، اس لیے کہ جب اصحاب فروض میں ترکہ کو تقسیم کرنے کے بعد ترکہ میں سے کچھ بچ جائے اور اس کا کوئی حق دار نہ ہو اور قریب یا دور میت کا عصہ بھی نہ ہو۔ اگر یہ بچا ہوا ترکہ کسی ایک کو عطا کردیں تو یہ بلا دلیل ترجیح ہے اور یہ بچا ہوا کسی ایسے شخص کو دے دینا جو میت کا قریبی نہیں ہے تو یہ گناہ، کج روی اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مخالفت ہے ﴿ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ﴾ (الانفال :8؍75) ” اور رشتہ دار اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔“ پس یہ بات متحقق ہوگئی کہ بچا ہوا ترکہ اصحاب فروض کو ان کے حصے کے مطابق واپس لوٹا دینا چاہئے۔ زوجین کی طرف رد کے احکام :۔ ان فقہاء کے نزدیک جو بچے ہوئے ترکے کو زوجین کی طرف لوٹانے کے قائل نہیں، ان کے مسلک کے مطابق زوجین اپنے مقررہ حصے سے زیادہ لینے کے مستحق نہیں، کیونکہ ان کے درمیان نسبی قرابت نہیں ہوتی۔ مگر صحیح مسلک یہ ہے کہ رد کے ضمن میں زوجین کا حکم بھی وہی ہے جو باقی ورثاء کا ہے۔ مذکورہ بالا دلیل سب کو اسی طرح شامل ہے جس طرح اصول عول میں سب شامل ہیں۔ میراث میں ذوی الارحام کا حکم :۔ اس کے ذریعے سے ذوی الارحام کی وراثت بھی معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اگر میت کے پیچھے کوئی ایسا شخص نہ بچے جو اصحاب فروض (جن کے حصے اللہ کی طرف سے مقرر ہیں) یا عصبہ ( میت کا قریب ترین رشتے دار) میں شمار ہوتا ہو تو میراث کا معاملہ دو امور کے مابین گھومتا ہے۔ ترکہ کا مال بیت المال میں جمع ہو جس سے اجنبی لوگ استفادہ کریں یا ترکہ میت کے ان اقارب کی طرف لوٹ جائے جو ورثاء کے متفق علیہ قریبی ہیں۔ ان دونوں میں سے دوسرا مسلک متعین ہے اور اس کی صحت پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ﴿ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ﴾ (الانفال :8؍75) اس لیے میراث کو اولوالارحام کے علاوہ کسی اور طرف پھیرنا اس شخص کو محروم کرنا ہے جو دوسروں سے زیادہ اس کا مستحق ہے۔ پس ذوی الارحام کو وارث بنانا متعین ہوگیا اور جب ان کو وارث بنانا متعین ہوگیا تو یہ معلوم ہوگیا کہ کتاب اللہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے حصے مقرر نہیں فرمائے۔ نیز یہ کہ ان کے اور میت کے درمیان کچھ واسطے ہیں جن کے سبب سے وہ میت کے رشتہ دار بنے پس ان کو اسی مقام پر رکھا جائے گا جس کے ذریعے سے وہ میت کے قریبی بنتے ہیں۔ واللہ اعلم میت کا عصبہ کون ہے؟ اور میراث میں اس کا حکم :۔ رہی باقی عصبہ کی وراثت جیسے بیٹے، بھائی، بھتیجے، چچا اور چچاؤں کے بیٹے، تو ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ﴿ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ﴾ (صحیح البخاری‘الفرائض‘ باب میراث ابن الابن اذالم یکن ابن ‘ ح:6735وصحیح البخاری ‘ الفرائض ‘ باب الحقوا الفرائض ، اھلھا۔۔۔‘ح 1615۔) ” وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دے دو جو بچ جائے اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے۔ “ اور فرمایا : ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾(النساء :4؍33) ” جو مال ماں اور قریبی رشتہ دار چھوڑ کر مر جاتے ہیں ہم نے ہر ایک کے حق دار مقرر کردیئے ہیں۔“ جب ہم اصحاب فروض کو ان کے مقررہ حصے عطا کر دیں اور کچھ باقی نہ بچے تو عصبہ کسی چیز کا حق دار نہیں ہوتا اور اگر ترکہ میں سے کچھ باقی بچ جائے تو عصبہ میں سے جو سب سے زیادہ مستحق ہیں وہ اپنی جہات اور درجات کے مطابق حصہ لیں گے۔ عصبہ کی جہات :۔ عصبہ کی پانچ جہات ہیں۔ بیٹے، باپ، بھائی اور بھتیجے، چچا اور چچاؤں کے بیٹے، پھر ولاء، ان میں سے اس کو مقدم رکھا جائے گا جو جہت کے اعتبار سے سب سے قریب ہے۔ اگر تمام ایک ہی جہت میں واقع ہوں تو ان میں وہ زیادہ مستحق ہے جو منزلت کے اعتبار سے سب سے قریب ہے۔ اگر تمام ایک ہی جہت میں واقع ہوں تو ان میں وہ زیادہ مستحق ہے جو منزلت کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے۔ اگر منزلت کے اعتبار سے سب برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ قوی ہے وہ زیادہ مستحق ہے اور وہ حقیقی بھائی ہے۔ اگر ہر پہلو سے برابر ہوں تو سب عصبہ میں شریک ہوں گے، واللہ اعلم۔ رہا باپ شریک بہنوں کا بیٹیوں کی معیت یا بھتیجوں کی معیت میں عصبہ ہونا اور ان کا ترکہ میں سے اپنے حصوں سے زائد لینا۔۔۔ تو قرآن مجید میں ایسی کوئی چیز نہیں جو یہ دلالت کرتی ہو کہ بہنیں بیٹیوں کی وجہ سے ساقط ہوجائیں گی۔ جب صورتحال یہ ہوا اور بیٹیوں کے اپنا حصہ لینے کے بعد کچھ بچ جائے تو وہ بہنوں کو دیا جائے گا اور ان کو چھوڑ کر اس عصبہ کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی جو ان سے بعید تر ہے۔ مثلاً بھتیجا، چچا اور وہ لوگ جو ان سے بھی بعید تر ہیں واللہ اعلم۔ النسآء
13 یہ تفاصیل جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے میراث کے ضمن میں کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جن پر رکنا، ان سے تجاوز نہ کرنا اور ان میں کوتاہی سے بچنا فرض ہے اور اس میں امر کی دلیل ہے کہ وارث کے لیے وصیت منسوخ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام ورثاء کے حصے مقرر کردیئے ہیں اور اس کے بعد فرمایا : ﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ﴾ ” یہ اللہ کی حدیں ہیں“ بنا بریں وارث کے لیے اس کے حق سے زیادہ وصیت کرنا (منع کردہ) تجاوز میں داخل ہے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (لاوصیۃ لوارث) [جامع الترمذی، الوصایا، باب ماجاء لا وصیة لوارث،ح:2120، 2121] ” کسی وارث کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں“ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمومی طور پر اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا اور نافرمانی سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ تاکہ اس عمومی اطاعت کے حکم میں فرائض (وراثت) کی حدود کا التزام اور اس سے تجاوز نہ کرنا بھی شامل ہوجائے۔ فرمایا : ﴿وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ﴾ ” اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کو بجا لا کر، جس میں سب سے بڑی چیز توحید میں ان کی اطاعت کرنا ہے، پھر اوامر میں ان کے درجات کے مطابق اطاعت کرنا اور ان کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرنا ہے، جن میں سب سے بڑا ممنوع اللہ کے ساتھ شرک ہے، پھر دوسرے معاصی ہیں، ان کی درجہ بندی کے ساتھ۔ ﴿يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا﴾ ” اے اللہ باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے“ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے اور منہیات سے بچتا ہے وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا اور اسے جہنم سے نجات ملے گی۔ ﴿وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ ” یہی وہ بڑی کامیابی ہے“ جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات کے حصول کی ضمانت ہے اور اسی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کے ثواب اور اس کی دائمی نعمتوں سے بہرہ ور ہوا جاسکتا ہے جن کا وصف کوئی بیان نہیں کرسکتا۔ النسآء
14 ﴿وَمَن يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ﴾ ” اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا“ اور نافرمانی میں کفر اور اس سے کم تر گناہ سب شامل ہیں۔ یہاں خوارج کے لیے کوئی شبہ کی گنجائش نہیں جو گناہ گاروں کے کفر کے قائل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر دخول جنت کو مترتب کیا ہے اور اپنی نافرمانی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی پر دخول جہنم کو مترتب کیا ہے۔ پس جو کوئی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کرتا ہے وہ بلا عذاب جنت میں داخل ہوگا، اسی طرح جو کوئی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل نافرمانی کرتا ہے، جس میں شرک اور دیگر گناہ بھی شامل ہیں وہ جہنم میں داخل ہوگا اور ہمیشہ وہاں رہے گا اور جس میں اطاعت اور نافرمانی دونوں مجتمع ہیں تو گویا اس میں اس کی اطاعت اور نافرمانی کی مقدار کے مطابق ثواب اور عذاب کی موجبات موجود ہیں اور نصوص متواترہ دلالت کرتی ہیں کہ موحدین جن کے ساتھ اطاعت توحید ہے، جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ پس جن کے ساتھ توحید ہے، وہ توحید ان کے جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہے (یعنی ایسے لوگ اپنی نافرمانیوں کی سزا بھگت کر بالآخر جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردیئے جائیں گے۔) النسآء
15 یعنی عورتیں ﴿وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ  ﴾’’جوزنا کا ارتکاب کرتی ہیں“ اللہ تعالیٰ نے زنا کو اس کی قباحت اور برائی کی وجہ سے فاحشہ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ ﴿فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِّنكُمْ ﴾ اپنے میں سے چار اہل ایمان عادل مردوں کو گواہ بنا لو“ ﴿ فَإِن شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ﴾ ” اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں محبوس کر دو“ اور باہر جانے سے روک دو جو شک و شبہ کا موجب ہے۔ نیز گھر میں محبوس کردینا ایک قسم کی سزا بھی ہے ﴿حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ﴾ ” یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کر دے“ یعنی یہ محبوس رکھنے کی انتہا ہے ﴿أَوْ يَجْعَلَ اللَّـهُ لَهُنَّ سَبِيلًا  ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں گھروں میں محبوس کرنے کے علاوہ کوئی اور طریقہ مقرر فرما دے۔ یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں بلکہ یہ تو اس وقت تک کے لیے غایت مقرر ہے (جب تک اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی اور راستہ نہیں نکال دیتا) اسلام کی ابتدا میں یہی طریقہ رائج رہا جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا متبادل حکم نازل نہیں فرما دیا اور وہ ہے شادی شدہ زانی اور زانیہ کو رجم کرنا اور غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگانا۔ النسآء
16 اور اسی طرح ﴿وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنكُمْ ﴾ تمہارے مردوں اور عورتوں میں سے جو کوئی اس فحش کام کا ارتکاب کرتا ہے ﴿فَآذُوهُمَا ﴾ پس انہیں زبانی طور پر زجر و توبیخ اور ملامت کرو اور اس برے کام پر عار دلاؤ اور ان کو عبرت ناک مار پیٹ کی سزا دو، جس سے یہ اس فحش کام سے رک جائیں۔ تب اس صورت میں مردوں کو اس فحش کام کے ارتکاب پر مار پیٹ کی سزا دی جائے اور عورتوں کو گھروں میں محبوب رکھ کر سزا دی جائے۔ پس حبس (گھر میں بند کردینا) کی انتہا، موت ہے اور مار پیٹ کی اذیت کی انتہا، توبہ اور اصلاح ہے بنا بریں فرمایا : ﴿فَإِن تَابَا  ﴾یعنی اگر وہ اپنے اس گناہ سے رجوع کرلیں جس کا انہوں نے ارتکاب کیا اس فعل پر نادم ہوں اور دوبارہ نہ کرنے کا عزم کریں ﴿وَأَصْلَحَا ﴾ یعنی اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں جو ان کی سچی توبہ پر دلالت کرے ﴿ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا﴾ تو ان کو اذیت پہنچانے سے گریز کرو ﴿إِنَّ اللَّـهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيمًا﴾ یعنی وہ خطا کار گناہگاروں کی توبہ کو بہت کثرت سے قبول کرتا ہے، وہ عظیم رحمت و احسان کا مالک ہے۔ یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے انہیں توبہ کی توفیق سے نوازا پھر ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور ان سے صادر ہونے والے گناہوں کے بارے میں ان سے نرمی اختیا رکی۔ ان دو آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ زنا کی شہادت میں چار مومن مردوں کی گواہی ضروری ہے اور ان کی عدالت کی شرط عائد کرنا بطریق اولیٰ ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس فحش کام کے بارے میں بہت سختی کی ہے تاکہ اس سے بندوں کی پردہ پوشی رہے۔ یہاں تک کہ اس بارے میں عورتوں کی شہادت، خواہ وہ اکیلی ہو یا مردوں کی معیت میں، ناقابل قبول ٹھہرایا ہے اور چار مردوں سے کم کی گواہی بھی قبول نہیں کی نیز اس میں صراحت کے ساتھ شہادت کو لازم قرار دیا ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں اور یہ آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے ﴿فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِّنكُمْ ۖ ﴾ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فرمایا : ﴿فَإِن شَهِدُوا ﴾یعنی ایک ایسے معاملے میں اشارہ کنایہ کے بغیر صریح شہادت لازم ہے جسے آنکھوں سے مشاہدہ کیا گیا ہو۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ قول و فعل سے اذیت پہنچانا اور قید کردینا، اس کو اللہ نے معصیت کاری کے لیے تعزیر بنایا جس سے زجر و توبیخ کا مقصد حاصل ہوتا ہے۔ النسآء
17 اللہ تعالیٰ کا بندوں کی طرف رجوع کرنے کی دو قسمیں ہیں۔ (١) اللہ تعالیٰ کا بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرنا۔ (٢) بندے کے توبہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا اس کو قبول کرلینا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ توبہ اللہ تعالیٰ پر استحقاق ہے، قبولیت توبہ ایک ایسا حق ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے جود و کرم کی بنا پر اپنے آپ پر اس بندے کے لیے لازم فرمایا ہے جو برا کام کر بیٹھتا ہے ﴿بِجَهَالَةٍ ﴾ یعنی وہ اس برائی کے انجام، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے، جس کی یہ برائی موجب ہوتی ہے۔ لاعلمی کی وجہ سے برائی کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ برائی کرتے وقت اس بات سے بھی جاہل ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے نیز وہ اس سے بھی لاعلم ہوتا ہے کہ برائی کا ارتکاب ایمان میں کمی یا اسے معدوم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا ہر نا فرمان شخص اس اعتبار سے جاہل ہوتا ہے خواہ وہ اس برائی کی تحریم کا علم رکھتا ہو۔ بلکہ برائی کی تحریم کا علم، اس کے معصیت ہونے اور اس کے مرتکب کی سزا کے لیے شرط ہے۔ ﴿ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍ ﴾ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ موت کو دیکھ لینے سے قبل توبہ کرلیتے ہیں۔ یہ بات قطعی ہے کہ جب بندہ موت کے معائنہ سے قبل توبہ کرلیتا ہے تو اللہ بندے کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ موت کو دیکھ لینے کے بعد گناہ گاروں کی توبہ قابل قبول نہیں ہوتی اور نہ کفار کے لیے رجوع کی کوئی گنجائش رہتی ہے۔ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ﴾ (یونس :10؍90) ” یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنو اسرایئل ایمان لائے ہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :﴿ فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا ۖ سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ﴾ (المومن :40؍84‘85) ” جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو انہوں نے کہا ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے ان خداؤں کا انکار کیا جنہیں ہم اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے۔ مگر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔ “ النسآء
18 یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ ﴾” ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے چلے جائیں“ یہاں برائیوں سے مراد کفر سے کم تر گناہ ہیں﴿حَتَّىٰ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ ۚ أُولَـٰئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴾ ” یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی، ان کی توبہ قبول نہیں جو کفر ہی پر مر جائیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے الم ناک عذاب تیار کر رکھے ہیں“ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حالت میں توبہ اضطراری توبہ ہے جو توبہ کرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ صرف اختیاری توبہ فائدہ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿مِن قَرِيبٍ ﴾میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ توبہ کے موجب، گناہ کے ارتکاب کے ساتھ ہی توبہ کی جائے۔۔۔۔۔۔ تب آیت کا معنی یہ ہوگا ” جس کسی نے برائی کا ارتکاب کرتے ہی برائی کو چھوڑنے میں جلدی کی اور نادم ہو کر اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔“ اس کے برعکس وہ شخص جو اپنے گناہ پر قائم اور اپنے عیوب پر مصر رہتا ہے یہاں تک کہ یہ گناہ اس کی عادت راسخہ بن جاتا ہے تب اس کے لیے پوری طرح توبہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ غالب طور پر اسے توبہ کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی اور اس کے لیے توبہ کے اسباب مہیا نہیں کئے جاتے۔ مثلاً وہ شخص جو جانتے بوجھتے اور اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے اور استہزاء کے ساتھ برے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے وہ اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ بند کرلیتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے عمداً گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے اور ان گناہوں پر مصر رہتا ہے مگر اللہ اسے توبہ نافعہ کی توفیق عطا کردیتا ہے یہ توبہ اس کے گزشتہ گناہ اور جرائم کو دھو ڈالتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی توفیق پہلے شخص کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت اس طرح ختم فرمائی : ﴿وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا  ﴾” اور اللہ علم اور حکمت والا ہے“ اور اللہ تعالیٰ کے جاننے میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ جانتا ہے کہ کون سچی توبہ کرتا ہے اور کون اپنی توبہ میں جھوٹا ہے، ان میں سے ہر ایک کو اپنی حکمت کے مطابق، جس کا وہ مستحق ہوگا، جزا دیتا ہے اور یہ بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے کہ وہ اسے توبہ کی توفیق عطا کر دیتا ہے جس کیلیے اس کی حکمت، رحمت اور توفیق تقاضا کرتی ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ کر علیحدہ ہوجاتا ہے جس کو چھوڑنا اس کا عدل و حکمت اور عدم توفیق تقاضا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم النسآء
19 زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی شخص مر جاتا اور اپنے پیچھے بیوی چھوڑتا تو مرنے والے کا کوئی قریبی مثلاً بھائی یا چچا زاد بھائی وغیرہ سمجھتا تھا کہ وہ اس عورت کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔ چنانچہ عورت خواہ پسند کرتی یا ناپسند کرتی وہ اس عورت پر قبضہ کرلیتا تھا اور اسے کسی اور کے ساتھ نکاح نہ کرنے دیتا۔ اگر وہ چاہتا تو وہ اس کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق حق مہر پر اس سے نکاح کرلیتا اور اگر وہ اسے پسند نہ کرتا تو اسے نکاح کرنے سے روک دیتا اور صرف اسی کے ساتھ اس کا نکاح کرتا جسے وہ خود منتخب کرتا اور بسا اوقات وہ اس کا نکاح اس وقت تک نہ ہونے دیتا جب تک وہ مرنے والے شوہر کی میراث یا مہر میں سے اسے کچھ نہ دے دیتی۔ نیز وہ اپنی ناپسندیدہ بیوی کو بھی روک رکھتا اور دوسری جگہ نکاح نہ کرنے دیتا تاکہ وہ اپنا حق مہر اور وہ سامان ساتھ نہ لے جائے جو اس نے اسے عطا کیا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان تمام امور سے اہل ایمان کو منع کیا ہے۔ سوائے مندرجہ ذیل دو حالتوں کے۔ ١۔ جب عورت برضا و رغبت اپنے سابقہ شوہر کے کسی قریبی رشتہ دار کے ساتھ نکاح کرلے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿كَرْهًا ﴾کا مفہوم مخالف ہے۔ ٢۔ جب واضح بدکاری مثلاً زنا وغیرہ کا ارتکاب کرے اور فحش گوئی کے ذریعے سے اپنے شوہر کو اذیت دے، تو اس صورت میں خاوند کا اس کو اس کے کرتوتوں کی سزا کے طور پر، دوسری جگہ شادی کرنے سے روکنا جائز ہے، تاکہ وہ خاوند سے وصول کردہ مال واپس کرنے پر آمادہ ہوجائے۔ (یہ گویا خلع کی صورت میں جس میں خاوند حق مہر وغیرہ واپس لے سکتا ہے) لیکن شرط یہی ہے کہ یہ روکنا عدل و انصاف کے مطابق ہو۔ ﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ﴾ ” اور ان سے اچھے طریقے سے گزران کرو“ یہ حکم قولی اور فعلی دونوں قسم کی معاشرت (گزران) کو شامل ہے، پس شوہر پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھے طریقے سے رہے، اسے کوئی اذیت نہ دے اس کے ساتھ بھلائی اور حسن معاملہ سے پیش آئے۔ اس میں نان و نفقہ اور لباس وغیرہ سب شامل ہیں۔ پس زمان و مکان کے احوال کے مطابق شوہر کا بیوی سے معروف طریقے سے پیش آنا فرض ہے اور اسی طرح بیوی پر بھی فرض ہے۔ یہ چیز احوال کے تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتی ہے۔ ﴿فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّـهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا ﴾ ” اگر تم انہیں ناپسند کرو، لیکن بہت ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو برا جانو اور اللہ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے“ یعنی اے شوہر و تم اپنی بیویوں کو ناپسند کرنے کے باوجود اپنے پاس رکھو کیونکہ ایسا کرنے میں خیر کثیر ہے۔ مثلاً اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی وصیت کو قبول کرنا ہے، جس کے اندر دنیا و آخرت کی سعادت ہے۔ ٣۔ شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ عدم محبت کے باوجود اپنے آپ کو اس کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا، اس میں مجاہدہ نفس بھی ہے اور خلق جمیل سے آراستہ ہونا بھی۔ ٤۔ بسا اوقات ناپسندیدگی زائل ہوجاتی ہے اور اس کی جگہ محبت لے لیتی ہے جیسا کہ فی الواقع ہوتا ہے۔ ٥۔ اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں کو صالح اولاد عطا کردیتا ہے جو دنیا و آخرت میں اپنے والدین کو نفع دیتی ہے۔ بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے میں ان تمام امور کے امکانات موجود ہیں۔ النسآء
20 البتہ جب بیوی سے مفارقت ناگزیر ہوجائے اور اس کو ساتھ رکھنے کی کوئی صورت بنتی نظر نہ آئے، تب اسے روک رکھنا لازم نہیں ﴿وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ ﴾ یعنی جب تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہو یعنی ایک بیوی کو طلاق دے کر دوسری بیوی سے نکاح کرنا چاہو تو اس میں کوئی گناہ اور حرج کی بات نہیں ﴿وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ  ﴾ البتہ اگر تم نے جدا ہونے والی بیوی کو یا اس کو جس سے نکاح کیا ہے ﴿قِنْطَارًا﴾ مال کثیر عطا کر رکھا ہو ﴿ فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا ﴾تو اس سے کوئی چیز واپس نہ لو بلکہ اس میں اور زیادتی کرو اور ان کے ساتھ ٹال مٹول نہ کرو۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کثرت مہر حرام نہیں۔ مگر بایں ہمہ تخفیف مہر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا افضل اور زیادہ لائق اعتنا ہے اور استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک معاملے کی خبر دی ہے جو ان سے واقع ہوا، مگر اس پر نکیر نہیں فرمائی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ فعل حرام نہیں ہے، مگر کبھی زیادہ حق مہر مقرر کرنے سے روکا بھی گیا ہے جبکہ اس میں دینی مفاسد ہوں اور اس کے مقابلے میں کوئی مصلحت نہ ہو۔ پھر فرمایا :﴿ أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا  ﴾ ” کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناہ ہوتے ہوئے بھی لے لو گے“ کیونکہ ایسا کرنا جائز نہیں خواہ تم بیوی کو عطا کی ہوئی چیز واپس لینے کے لیے کوئی بھی حیلہ کرلو، بہرحال یہ واضح گناہ ہے۔ النسآء
21 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی حکمت بیان فرمائی ہے ﴿وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا﴾” تم اسے کیسے لے لو گے؟ حالانکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور ان عورتوں نے تم سے مضبوط عہد و پیمان لے رکھا ہے“ اور اس کی توضیح یوں ہے کہ بیوی شوہر کے لیے نکاح سے قبل حرام ہوتی ہے اس نے بیوی کے طور پر حلال ہونے کے لیے صرف حق مہر کے عوض رضا مندی کا اظہار کیا تھا جو وہ بیوی کو ادا کرے گا۔ جب اس نے اپنی بیوی کے ساتھ خلوت صحیحہ میں صحبت اور مباشرت کی جو اس سے قبل حرام تھی اور وہ بیوی اس کے لیے اس عوض کے بغیر راضی نہ تھی، پس شوہر نے مہر کا معوض پوری طرح وصول کرلیا، تو اس پر عوض (مہر) کی ادائیگی واجب ہوگئی۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ شوہر معوض (یعنی صحبت و مباشرت) تو پورا پورا وصول کرے پھر اس کے بعد حق مہر ادا نہ کرے۔ یہ بہت بڑا ظلم اور جور ہے۔ (اس لیے ایسا نہ کرو) اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عقد میں بیوی کے حقوق کے قیام کے لیے شوہروں سے پکا عہد لیا ہے۔ (اس کا بھی تقاضا عدل و کرم ہے نہ کہ ظلم و جبر) النسآء
22 یعنی ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ اور دادا نکاح کرچکے ہوں ﴿ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً ﴾ ” یہ بہت قبیح کام ہے“ اور اس کی قباحت بہت بڑھی ہوئی ہے ﴿وَمَقْتًا ﴾ تمہارے لیے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کی ناراضی کا باعث ہے۔ بلکہ اس کے سبب سے بیٹا باپ سے اور باپ بیٹے سے ناراض ہوجاتا ہے، حالانکہ بیٹے کو باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا حکم ہے۔ ﴿وَسَاءَ سَبِيلًا ﴾ (اس راستے پر) چلنے والے کے لیے یہ برا راستہ ہے۔ کیونکہ یہ جاہلیت کی قبیح رسوم و عادات ہیں جن سے (معاشرے کو) پاک کرنے کے لیے اسلام آیا ہے۔ النسآء
23 یہ آیات کریمہ نسبی محرمات، رضاعی محرمات اور سسرالی قرابت کی بنا پر محرمات، جمع کرنے کی بنا پر محرمات اور حلال عورتوں کے احکام پر مشتمل ہیں۔ نسب کے اعتبار سے حرام عورتیں سات ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ (١) ماں : اس میں ہر وہ عورت داخل ہے جس سے آپ پیدا ہوئے ہیں خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر چلی جائیں۔ (٢) بیٹی : بیٹی کے رشتے میں ہر وہ عورت داخل ہے جس کو آپ نے جنم دیا ہے۔ (خواہ وہ کس قدر نیچے تک چلی جائیں) (٣) بہن : اس رشتے میں تمام حقیقی، اخیافی (ماں شریک) اور علاتی (باپ شریک) بہنیں شامل ہیں۔ (٤) پھوپھی : ہر وہ عورت جو آپ کے باپ یا دادا کی بہن ہے خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں۔ (٥) خالہ : ہر وہ عورت جو آپ کی ماں یا آپ کی نانی کی بہن ہے خواہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں، خواہ وہ وارث ہے یا نہیں ہے۔ (٦، ٧) اسی طرح بھائی کی بیٹیاں (بھتیجیاں) اور بہن کی بیٹیاں (بھانجیاں) خواہ کتنی ہی دور تک نیچے چلی جائیں۔ یہ وہ سات محرمات ہیں جو نسب کے اعتبار سے حرام ہیں اور ان کی حرمت پر علماء کا اجماع ہے جیسا کہ آیت کریمہ کی نص سے ظاہر ہے۔ ان مذکورہ عورتوں کے علاوہ عورتیں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہیں ﴿وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذٰلِكُمْ ﴾ (النساء :4؍24) ” ان محرمات عورتوں کے سوا دیگر تمام عورتیں تمہارے لیے حلال کردی گئیں“ مثلاً پھوپھی کی بیٹی، چچا کی بیٹی، ماموں کی بیٹی اور خالہ کی بیٹی۔ جہاں تک رضاعت کے اعتبار سے محرمات کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں رضاعی ماں اور رضاعی بہن کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر اس تحریم میں رضاعی ماں کی ماں بھی شامل ہے حالانکہ حرمت کا باعث دودھ اس کا نہیں بلکہ وہ تو دودھ کے مالک یعنی رضاعی ماں کے شوہر کا ہے۔ یہ تنبیہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رضاعی ماں کا شوہر (یعنی دودھ کا مالک) دودھ پینے والے کا (رضاعی) باپ ہے۔ جب رضاعی باپ ہونا اور ماں ہونا ثابت ہوگیا تو انکی بہنوں وغیرہ اور ان کے اصول و فروع کی حرمت ثابت ہوگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ)) [صحیح مسلم، الرضاع، باب یحرم من الرضاعة ۔۔۔ح :1444 وسنن النسائی‘ النکاح، یحرمن الرضاع‘ ح:4؍ 33] ” جو رشتہ نسب کے اعتبار سے حرام ہے وہ رشتہ رضاعت کے اعتبار سے بھی حرام ہے۔“ پس یہ تحریم دودھ پلانے والی کی جہت سے اور اس کے خاوند کی جہت سے پھیلے گی۔ جیسا کہ وہ تحریم نسبی اقارب میں پھیلتی ہے اور یہ تحریم دودھ پینے والے بچے میں صرف اس کی اولاد تک پھیلے گی۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ بچے نے اپنے دو سال کی عمر میں کم از کم پانچ بار دودھ پیا ہو۔ جیسا کہ سنت نے واضح کیا ہے۔ سسرالی قرابت کے اعتبار سے حرام رشتے چار ہیں۔ باپ دادا کی بیویاں : خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر تک چلے جائیں۔ بیٹیوں کی بیویاں : خواہ کتنی ہی دور نیچے تک چلے جائیں، خواہ وہ وارث ہوں یا محجوب۔ بیوی کی ماں : خواہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں۔ یہ تین رشتے مجرد نکاح سے حرام ہوجاتے ہیں۔ چوتھا رشتہ سوتیلی بیٹی کا ہے۔ سوتیلی بیٹی بیوی کے پچھلے شوہر سے بیوی کی بیٹی ہے۔ خواہ کتنی ہی دور نیچے چلی جائیں۔ یہ سوتیلی بیٹی اس وقت تک حرام نہیں ہوتی جب تک کہ اس کی ماں سے خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ﴾ ” اور تمہاری پرورش کردہ وہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں، تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول (خلوت صحیحہ) کرچکے ہو۔ “ جمہور اہل علم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم ﴾” جو تمہاری پرورش میں ہیں“ کی قید ہے جس میں غالب احوال کا اعتبار کیا گیا ہے اس کا مفہوم مخالف معتبر نہیں۔ بنا بریں سوتیلی بیٹی خواہ سوتیلے باپ کے گھر میں نہ وہ تب بھی حرام ہے۔ البتہ اس تنقید کے دو فائدے ہیں۔ (اول) اس میں سوتیلی بیٹی کی تحریم کی حکمت کی طرف اشارہ ہے گویا وہ بھی صلبی بیٹی کی طرح ہے۔ لہٰذا اس کی اباحت بہت ہی قبیح بات ہے۔ (ثانی) اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ سوتیلی بیٹی کے ساتھ تنہائی اور خلوت جائز ہے کیونکہ وہ صلبی اور نسبی بیٹیوں کی مانند ہے۔ اللہ اعلم۔ رہا ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے ممنوع اور حرام رشتے تو اللہ تعالیٰ نے دو بہنوں کو جمع کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے جمع کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی اور اس کی پھوپھی، بیوی اور اس کی خالہ کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کو حرام ٹھہرایا ہے۔ پس ہر وہ دو عورتیں جن کے مابین رحم کا رشتہ ہے، اگر ان دونوں عورتوں میں سے ایک کو مرد اور دوسری کو عورت مان لیا جائے تو وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے حرام ہوں، تو ان دونوں کو جمع کرنا حرام ہوگا اور یہ اس لیے کہ اس صورت میں باہم قطع رحمی کے اسباب ہیں۔ النسآء
24 نیز ان عورتوں سے بھی نکاح حرام ہے جو اس آیت میں مذکور ہیں۔ ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ ﴾” اور شوہر والی عورتیں بھی“ (تم پر حرام ہیں) یعنی جو پہلے سے شادی شدہ اور خاوند والی ہیں۔ جب تک یہ عورتیں پہلے شوہر کی زوجیت میں ہیں اور جب تک پہلا خاوند طلاق نہ دے دے اور یہ اپنی عدت پوری نہ کرلیں، اس وقت تک دوسرے خاوند کے لیے حرام ہیں۔ ﴿إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ﴾ البتہ تمہارے لیے تمہاری لونڈیاں حلال ہیں۔ اگر جنگ کے دوران خاوند والی عورت کو قیدی بنا لیا جائے تو وہ استبرائے رحم (ایک حیض) کے بعد مسلمانوں کے لیے حلال ہے۔ اگر منکوحہ لونڈی کو فروخت کردیا جائے یا کسی کو ہبہ میں دے دیا جائے تو اس سے لونڈی کا نکاح فسخ نہیں ہوگا۔ دوسرا مالک پہلے مالک کے مقام پر تصور کیا جائے گا اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو اپنے خاوند کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار عطا فرمایا تھا۔ [سنن ابي داؤد، الطلاق، باب في المملوكة تعتق و هي تحت حرا أو عبد، حديث: 2231] ﴿كِتَابَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ ﴾ ”(یہ حکم) اللہ نے تم پر فرض کردیا ہے۔“ اس کا التزام کرو اور اس کو راہنما بناؤ۔ کیونکہ اس کے اندر تمہارے لیے شفا اور روشنی ہے اور اس کے اندر حلال و حرام کی تفصیلات ہیں۔ ﴿وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ  ﴾ ہر وہ عورت جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں نہیں ہے، وہ حلال ہے۔ حرام محدود ہے اور حلال لامحدود اور غیر محصور ہے یہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر لطف و کرم، اس کی رحمت اور ان کے لیے اس کی عطا کردہ آسانی ہے۔ ﴿أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم ﴾ ” اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو۔“ یعنی ان عورتوں میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مباح قرار دیا ہے، جن کو تمہاری نظر نے منتخب کیا (ان کو حق مہر کے عوض) اپنے نکاح میں لاؤ۔ ﴿مُّحْصِنِينَ ﴾ ” نکاح کرنے والے ہو“ یعنی خود بھی زنا سے محفوظ رہتے ہوئے اور اپنی عورتوں کو بھی زنا سے بچاتے ہوئے۔ ﴿ غَيْرَ مُسَافِحِينَ ﴾ ” نہ کہ بدکاری کرنے والے“ (اَلسَّفْحُ) سے مراد ہے حرام یا حلال جگہ پانی بہانا۔ (یعنی مباشرت کرنا) کیونکہ زنا کا ارتکاب کرنے والا اپنی بیوی کو محفوظ نہیں رکھ سکتا کیونکہ وہ اپنی شہوت حرام طریقے سے پوری کرتا رہا، پس اس میں حلال طریقے سے شہوت پوری کرنے کا داعیہ کمزور پڑگیا، بنا بریں اپنی بیوی کو پاکباز رکھنے کے لیے اس کے پاس کچھ باقی نہ بچا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ صرف پاک دامنوں سے نکاح کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ﴾ (النور :24؍3) ” بدکار مرد بدکار عورت یا مشرک عورت کے ساتھ نکاح کرتا ہے اور بدکار عورت کے ساتھ بھی بدکار یا مشرک ہی نکاح کرتا ہے۔ “ ﴿فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ ﴾ ” تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو۔“ یعنی جن کے ساتھ تم نے نکاح کیا ہے ﴿ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ﴾ ” تو ان کو ان کا مہر ادا کر دو۔“ یعنی تم ان کے جسم سے فائدہ اٹھانے کے بدلے میں ان کو ان کا اجر یعنی حق مہر ادا کرو۔ بنا بریں جب شوہر اپنی بیوی کے ساتھ خلوت کرے سب سے پہلے مہر مقرر کرے ﴿ فَرِيضَةً ﴾” جو مقرر کیا ہو۔“ یعنی تمہاری اپنی بیویوں کو مہر عطا کرنا تم پر فرض ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے۔ یہ کوئی عطیہ اور بخشش نہیں ہے کہ دل چاہا تو دے دیا اور دل چاہا تو واپس لے لیا۔ یا ” فَرِیْضَۃً“ کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ مہر ایک مقرر کردہ حق ہے، جسے تم نے خود مقرر کیا ہے، جس کی ادائیگی تم پر واجب ہے، پس تم اس میں سے کچھ کم نہ کرو۔ ﴿ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ ۚ ﴾ ” اور تم پر گناہ نہیں اس میں جس پر تم مہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضا مند ہوجاؤ“ یعنی اگر شوہر مقرر کردہ مہر سے زیادہ ادا کردیتا ہے یا بیوی برضا و رغبت مہر میں سے کچھ حصہ ساقط کردیتی ہے۔ (تو ایسا کرناجائز ہے) اکثر مفسرین کا قول یہی ہے۔ بعض دیگر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ آیت کریمہ متعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں حلال اور جائز تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دے دیا۔ متعہ کی صورت یہ تھی کہ وقت اور معاوضہ مقرر کردیا جاتا تھا، پھر جب ان دونوں کے درمیان معینہ مدت پوری ہوجاتی اور مہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضا مند ہوجاتے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوتا۔ واللہ اعلم ﴿إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴾ ” بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ وسیع، کامل علم اور کامل حکمت والا ہے۔ یہ اس کا علم اور حکمت ہی ہے کہ اس نے تمہارے لیے یہ قوانین بنائے اور تمہارے لیے یہ حدود مقرر کیں جو حلال و حرام کے درمیان فاصلہ رکھتی ہیں۔ النسآء
25 یعنی تم میں سے جو کوئی آزاد اور مومن عورتوں کو حق مہر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنے آپ پر بدکاری اور مشقت کا خطرہ ہو، تو اس کے لیے مومن لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یہ تو ظاہری احوال کے مطابق ہے ورنہ اللہ تعالیٰ مومن صادق کو خوب جانتا ہے۔ دنیاوی امور ان کے ظاہر پر مبنی ہیں اور آخرت کے احکام کا تعلق انسان کے باطن میں چھپی نیتوں کے ساتھ ہے۔ ﴿ فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ  ﴾ ” پس تم لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں کی اجازت لے کر نکاح کرلو“ خواہ مالک ایک ہو یا متعدد ہوں۔ ﴿وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ  ﴾” اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کر دو۔“ یعنی اگرچہ جن کے ساتھ نکاح کیا جا رہا ہے وہ لونڈیاں ہیں تاہم ان کو مہر ادا کرنا اسی طرح فرض ہے جس طرح آزاد کو ادا کرنا فرض ہے۔ مگر لونڈیوں سے نکاح کرنا صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ وہ ﴿الْمُحْصَنَاتِ ﴾ ہوں یعنی زنا سے پاک ہوں،﴿غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ ﴾ علانیہ بدکاری سے بچی ہوئی ہوں،﴿وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ ﴾ نہ انہوں نے خفیہ یار دوست بنا رکھے ہوں۔ حاصل کلام یہ کہ آزاد مسلمان کے لیے لونڈی کے ساتھ ان چار شرائط کے بغیر نکاح کرنا جائز نہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ (١) لونڈیاں مومن ہوں۔ (٢) ظاہر اور باطن میں پاکباز ہوں۔ (٣) آزاد عورت کے ساتھ نکاح کی استطاعت نہ ہو۔ (٤) عدم نکاح کی صورت میں بدکاری کا خوف ہو۔ جب یہ شرائط پوری ہوں تو لونڈی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے۔ بایں ہمہ لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے باز رہنا افضل ہے، کیونکہ لونڈیوں سے نکاح کرنے والے کی اولاد کو غلامی کا طعنہ دیا جاتا ہے نیز یہ گھٹیا بات ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ انسان صبر کرسکتا ہو اگر وہ حرام میں پڑنے سے باز نہ رہ سکتا ہو تب اس پر لونڈی سے نکاح کرنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿وَأَن تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ ” اور تمہارا صبر کرنا تمہارے لیے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ “ ﴿فَإِذَا أُحْصِنَّ ﴾ یعنی جب وہ نکاح کرلیں یا مسلمان ہوجائیں۔ ﴿فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ۚ ﴾ ”پھر اگر ان سے بے حیائی کا کام سر زد ہو تو انہیں آزاد عورتوں سے آدھی سزا دی جائے گی“ یعنی جو آزاد عورتوں کی سزا ہے اس سے نصف لونڈیوں کی سزا ہے۔ وہ سزا جس کا نصف ممکن ہے کوڑوں کی سزا ہے تب ان کے لیے پچاس کوڑوں کی سزا ہے۔ رہی رجم کی بات تو لونڈیوں کے لیے رجم نہیں ہے کیونکہ رجم کا نصف ممکن نہیں۔ لہٰذا اس میں پہلا قول یہ ہے کہ اگر انہوں نے نکاح نہ کیا ہو تو ان پر کوئی حد نہیں۔ البتہ ان کو تعزیری سزا دی جائے تاکہ وہ فواحش کے ارتکاب سے باز رہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ اگر غیر مسلم لونڈیاں فواحش کا ارتکاب کریں تو ان کو بھی تعزیر کی جائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کا اختتام اپنے دو اسمائے مبارک (اَلْغَفُوْرٌ) ” بخشنے والا“ (اَلرَّحِیْم) ” نہایت رحم کرنے والا“ پر کیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہ احکام بندوں پر رحمت، اور اس کا کرم و احسان ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا بلکہ ان کو کشادگی اور وسعت عطا کی۔ شاید حد کا ذکر کرنے کے بعد مغفرت کا ذکر کرنا، اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ حد کفارہ ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہ بخشتا ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔ مذکورہ بالا حد میں غلام کا بھی وہی حکم ہے جو لونڈی کا حکم ہے کیونکہ دونوں میں امتیاز اور فرق کرنے والا سبب معدوم ہے۔ النسآء
26 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی عظیم نوازش، بہت بڑے فضل و کرم اور اپنے مومن بندوں کی حسن تربیت اور دین کی سہولت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿ يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ﴾” اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے بیان کرے۔“ یعنی حق و باطل اور حلال و حرام میں سے جس جس چیز کی توضیح کے تم محتاج ہو اللہ تعالیٰ اسے کھول کھول کر بیان کرتا ہے ﴿وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ ﴾ اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کا راستہ دکھاتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا یعنی انبیائے کرام اور ان کے متبعین کی سیرت حمیدہ، ان کے افعال صالحہ، ان کی عادات کاملہ اور ان کی توفیق تام کا راستہ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا اسے نافذ کیا، تمہارے سامنے اسے پوری طرح واضح کردیا جیسے تم سے پہلے لوگوں پر اسے پوری طرح واضح کردیا تھا اور تمہیں علم و عمل میں عظیم ہدایت سے نوازا ﴿وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ﴾ ” اور رجوع کرے تم پر“ یعنی اللہ تم پر تمہارے تمام احوال میں اور تمہارے لیے بنائی ہوئی شریعت میں اپنے لطف و کرم کا فیضان کرتا ہے۔ یہاں تک کہ تمہارے لیے ان حدود پر ٹھہرناممکن ہوجاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں اور تم اسی پر اکتفا کرتے ہو جو اس نے تمہارے لیے حلال ٹھہرایا ہے۔ پس اس آسانی کے باعث جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے پیدا کی ہے، تمہارے گناہ کم ہوجاتے ہیں، پس یہ اللہ کا اپنے بندے کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا ہے۔ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا یہ بھی ہے کہ جب ان سے گناہ کا ارتکاب ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں میں انابت اور تذلل الہام کردیتا ہے، پھر وہ توبہ کو قبول کرتا ہے جس کی توفیق اس نے خود عطا کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی حمد و ثناء ہے۔ ﴿وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾” اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔“ یعنی وہ کامل حکمت والا ہے یہ اس کے علم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے تمہیں اس چیز کی تعلیم دی جس کا تمہیں علم نہیں تھا۔ یہ اشیاء اور یہ حدود اسی زمرے میں آتی ہیں اور اس کی حکمت کے حصے سے یہ ہے کہ وہ اس بندے کی توبہ قبول کرتا ہے جس کی توبہ قبول کرنے کا تقاضا اس کی حکمت اور رحمت کرتی ہے اور اس بندے کو چھوڑ کر اس سے علیحدہ و جاتا ہے جس کو اپنے حال پر چھوڑ دینا اس کی حکمت اور عدل تقاضا کرتا ہے اور جو توبہ کی قبولیت کا اہل نہیں ہوتا۔ النسآء
27 ﴿وَاللَّـهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ﴾” اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ایسی توبہ (رجوع) کے ساتھ تمہاری طرف توجہ کرنا چاہتا ہے جو تمہاری پراگندگی کو درست کرے، تمہارے تفرقہ کو جمعیت قلبی میں اور تمہارے بعد کو قرب میں بدل دے۔ ﴿ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ﴾ ” اور چاہتے ہیں وہ جو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔“ یعنی وہ لوگ جو اپنی شہوات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں وہ اپنے محبوب کی رضا پر ان شہوات کو ترجیح دیتے ہیں یہ لوگ اپنی خواہشات نفس کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ لوگ کفار اور نافرمانوں کی اصناف میں سے ہیں جو اپنی خواہشات کو اپنے رب کی اطاعت پر مقدم رکھتے ہیں پس یہ لوگ چاہتے ہیں ﴿أَن تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا ﴾ ” کہ تم (کجی کی طرف) بہت زیادہ جھک جاؤ“ یعنی تم صراط مستقیم سے انحراف کر کے ان لوگوں کی راہ پر چل نکلو جو مغضوب اور گمراہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمہیں اللہ رحمان کی اطاعت سے ہٹا کر شیطان کی اطاعت کی طرف پھیر دیں اور ہر قسم کی سعادت کی حدود سے نکال کر جو کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں پنہاں ہے، شقاوت اور بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیں جو کہ شیطان کی پیروی کا نتیجہ ہے۔ جب تم نے یہ پہچان لیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں تمہاری اصلاح، تمہاری فلاح اور تمہاری سعادت ہے اور یہ کفار جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں تمہیں ان امور کا حکم دیتے ہیں جس میں تمہارے لیے انتہائی خسارہ اور بدبختی ہے۔ پس تم ان دونوں داعیوں میں سے صرف اسے منتخب کرو جو چنے جانے کا زیادہ مستحق ہے اور دونوں راستوں میں سے وہ راستہ اختیار کرو جو زیادہ بہتر ہے۔ النسآء
28 ﴿يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ﴾” اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اوامرونواہی کی آسانی کے ذریعے سے تمہارے لیے تخفیف پیدا کرنا چاہتا ہے۔ پھر بعض شرعی احکام میں مشقت کے باوجود اگر حاجت تقاضا کرتی ہے تو اضطراری حالت میں مجبور شخص کے لیے انہیں مباح کردیا ہے مثلاً مردار اور خون وغیرہ کا تناول کرنا مجبور شخص کے لیے مباح ہے۔ اسی طرح مذکورہ شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے لونڈی سے نکاح کرنا جائز ہے۔ یہ اس کی رحمت کاملہ اور اس احسان کے سبب سے ہے جو سب کو شامل ہے اور یہ اس کی حکمت اور علم پر مبنی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انسان ہر لحاظ سے کمزور ہے، اس کی بنیاد ہی کمزوری پر رکھی گئی ہے، اس کا عزم و ارادہ کمزور ہے اور ایمان و صبر کمزور ہے۔ پس ان احوال میں مناسب یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ ان احکام میں تخفیف کر دے جن کی بندہ اپنی کمزوری کی وجہ سے تعمیل سے قاصر ہے۔ اس کا ایمان، صبر اور قوت جن کا بوجھ اٹھان کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔ النسآء
29 اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو باہم ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانے سے منع کیا ہے اور اس میں غصب کر کے مال کھانا، چوری کے ذریعے سے مال کھانا، جوئے کے ذریعے سے مال ہتھیانا اور دیگر ناجائز اور گھٹیا طریقوں سے مال حاصل کرنا، سب شامل ہے۔ بلکہ شاید اس میں آپ کا اپنا وہ مال کھانا بھی آجاتا ہے جو آپ تکبر اور اسراف سے کھاتے ہیں کیونکہ یہ بھی باطل ہے، طریق حق نہیں ہے۔ پھر چونکہ اس نے باطل طریقے سے مال کھانے سے روک دیا ہے اس لیے اس نے تجارت اور ایسے پیشوں کے ذریعے سے، جس میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو، اور جو باہم رضا مندی اور جائز شرائط پر مشتمل ہوں، مال کمانا مباح قرار دے دیا۔ ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ﴾ ’’اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔“ یعنی ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور نہ کوئی شخص اپنے آپ کو قتل کرے۔ اس میں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا اور ایسے خطرات مول لینا شامل ہیں جن کا نتیجہ ہلاکت اور اتلاف کے سوا کچھ نہیں۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا﴾” کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہربان ہے۔“ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے تمہاری جان اور مال کو محفوظ کیا، ان کو ضائع کرنے اور تلف کرنے سے منع کیا ہے اور اس کے لیے اسی طرح کی سزا تجویز کی جیسے دیگر جرائم پر حدود ہیں۔ ذرا اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم﴾ اور ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ﴾ کے اختصار و ایجاز اور اس کی جامعیت پر غور فرمایئے کہ یہ ارشاد دوسروں کے مال اور خود اپنے مال، دوسروں کی جان اور خود اپنی جان کو شامل ہے اور ایسی عبارت کے ذریعے بیان کیا ہے جو (لَایَاْکُلُ بَعْضُکُمْ مَالَ بَعْضٍ) اور ﴿لَایَقْتُلُ بَعْضُکُمْ بَعْضاً ﴾سے زیادہ مختصر ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ مؤخر الذکر عبارت دوسروں کے مال اور دوسروں کے نفس کو شامل کرنے سے قاصر ہے۔ نیز جان اور مال کی عمومیت کے ساتھ تمام اہل ایمان کی طرف اضافت کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ تمام اہل ایمان باہم محبت کرنے، باہم رحم کرنے، باہم شفقت و عاطفت سے پیش آنے میں اور اپنے مشترک مصالح میں جسد واحد کی مانند ہیں۔ کیونکہ ان کے ایمان نے ان کو دینی اور دنیاوی مصالح پر جمع کردیا ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے باطل طریقے سے مال کھانے سے روک دیا، کیونکہ دوسروں کا مال ہتھیانا اور کھانا ان کے لیے نقصان دہ تھا، تب مختلف قسم کے پیشوں کو، جن میں ان کی مصلحت تھی مثلاً تجارت، صنعت و حرفت اور اجارات وغیرہ کو، ان کے لیے مباح کردیا، اس لیے فرمایا : ﴿أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ﴾ ”اگر آپس کی رضا مندی سے تجارت کا لین دین ہوجائے تو وہ جائز ہے۔“ یعنی تجارت تمہارے لیے مباح ہے۔ تجارت ہونے کے ساتھ ساتھ باہمی رضا مندی کی شرط اس امر کی دلیل ہے کہ یہ تجارتی عقد سود پر مبنی نہ ہو کیونکہ سود تجارت نہیں ہے بلکہ سود تجارت کے مقاصد کے خلاف ہے۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ اس تجارتی عقد کے دونوں فریق برضا و رغبت اسے قبول کریں اور کامل رضا و رغبت یہ ہے کہ جس معاملے پر معاہدہ کیا گیا ہے وہ پوری طرح معلوم ہو کیونکہ اگر وہ چیز جس پر معاہدہ کیا گیا ہے پوری طرح معلوم نہ ہوگی۔ تو یہ معاہدہ تسلیم و رضا مندی پر مبنی متصور نہ ہوگا کیونکہ جس چیز کا حصول انسان کی طاقت اور اختیار میں نہ ہو، جوا بازی ہے۔ اسی طرح دھوکے کی بیع اپنی تمام انواع سمیت باہمی رضا مندی سے خالی ہوتی ہے اس لیے ایسا معاہدہ منعقد نہیں ہوتا۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ معاہدے قول و فعل کے ذریعے سے اظہار رضا مندی سے منعقد ہوجاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عقد کے انعقاد کے لیے رضا مندی کی شرط عائد کی ہے اور رضا مندی کا اظہار جس طریقے سے بھی کیا جائے اس سے معاہدہ منعقد ہوجائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد کا اختتام اس جملے پر کیا ہے ﴿إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ﴾” کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہربان ہے۔“ یہ اس کی رحمت ہی ہے کہ اس نے تمہاری جان اور مال کو محفوظ و مامون کیا اور تمہیں جان و مال کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا۔ النسآء
30 ﴿وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ﴾ ” اور جو ایسا کرے گا“ یعنی باطل طریقے سے لوگوں کے مال کھانا اور انسان کو ناحق قتل کرنا ﴿عُدْوَانًا وَظُلْمًا ﴾ ” تعدی اور ظلم سے۔“ یعنی لاعلمی اور بھول کر نہیں بلکہ ظلم اور تعدی سے ﴿فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا ۚ﴾” تو ہم اسے آگ میں داخل کریں گے“ یہ بہت بڑی آگ ہوگی جیسا کہ یہ (ناراً) کے نکرہ ہنے سے مستفادہ ہو رہا ہے ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرًا ﴾” اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔ “ النسآء
31 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ فرمایا ہے کہ اگر وہ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کریں گے تو وہ ان کے تمام گناہ اور برائیاں بخش دے گا اور انہیں اچھا ٹھکانا عطا کرے گا جہاں خیر کثیر ہوگا اور وہ ہے جنت جو ایسی نعمتوں پر مشتمل ہے جو کسی آنکھ نے کبھی دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی بشر کے حاشیہ خیال میں ان کا گزر ہوا ہے۔ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب میں ان فرائض کا بجا لانا بھی شامل ہے جن کو ترک کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ نماز پنجگانہ، نماز جمعہ اور رمضان کے روزے رکھنا وغیرہ۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نماز پنجگانہ، اور جمعہ سے جمعہ اور رمضان سے رمضان کے مابین جو گناہ سر زد ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو مٹا دیتا ہے بشرطیکہ کبائر سے بچتے رہیں۔“ [صحيح مسلم، الصلوة، باب الصلوات الخمس.... الخ، حديث: 552] گناہ کبیرہ کی بہترین تعریف یہ ہے : گناہ کبیرہ وہ گناہ ہے جو دنیا میں حد کا موجب ہو یا آخرت میں اس پر سخت وعید آئی ہو یا اس کے مرتکب کے ایمان کی نفی یا اس پر لعنت کی گئی ہو یا اس گناہ پر سخت غصے کا اظہار کیا گیا ہو۔ النسآء
32 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان سے فرمایا ہے کہ وہ اس چیز کی تمنا نہ کریں جو اس نے اپنے فضل و کرم سے دوسروں کو عطا کی ہے، خواہ یہ ممکن امور ہوں یا غیر ممکن۔ چنانچہ عورتیں مردوں کے خصائص کی تمنا نہ کریں جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت عطا کی ہے۔ نہ صاحب فقر اور صاحب نقص، مالداری اور کاملیت کی مجرد تمنا کریں کیونکہ ایسی مجرد تمنا حسد کے زمرے میں شمار ہوتی ہے یعنی دوسروں پر اللہ تعالیٰ کی نعمت دیکھ کر اس سے اس کے سلب ہونے اور خود کو حاصل ہونے کی تمنا کرنا، نیز یہ تمنا اس امر کی مقتضی ہے کہ تمنا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ناراض ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ کاہلی اور جھوٹی تمناؤں میں گرفتار ہے جو عمل اور محنت سے عاری ہوتی ہیں، البتہ صرف دو امو محمود ہیں۔ (١) بندہ اپنی استطاعت اور مقدرت بھر اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول کے لیے کوشش اور جدوجہد کرے۔ (٢) اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل و کرم کا سوال کرے، اپنے نفس پر بھروسہ کرے نہ اپنے رب کے سوا کسی اور پر۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا ۖ ﴾” مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے۔“ یعنی مردوں کے نتیجہ خیز اعمال میں ان کا حصہ ہے ﴿وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ﴾ ” اور عورتوں کے لیے اس میں سے حصہ ہے جو وہ کمائیں“ پس ان میں سے تمام لوگ وہی کچھ حاصل کرتے ہیں جو انہوں نے کمایا اور جس میں انہوں نے محنت کی ﴿وَاسْأَلُوا اللَّـهَ مِن فَضْلِهِ ﴾” اور اللہ سے اس کا فضل مانگتے رہو۔“ یعنی اپنے دین و دنیا کے تمام مصالح میں صرف اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو۔ یہ بندہ مؤمن کا کمال اور اس کی سعادت کا عنوان ہے۔ وہ شخص اس سے محروم ہے جو عمل کو چھوڑ دیتا ہے، اپنے نفس پر بھروسہ کرتا ہے اور اپنے آپ کو اپنے رب کا محتاج نہیں سمجھتا۔ یا اس میں دونوں چیزیں جمع ہیں۔ (عمل کرتا ہے نہ رب کی طرف رجوع اور اس پر اعتماد) یہ شخص خائب و خاسر اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم ہے۔ ﴿ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴾” کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔“ پس وہ صرف اسے عطا کرتا ہے جو اس کے علم میں اس کا اہل ہوتا ہے اور اسے محروم کردیتا ہے جو اس کے علم میں غیر مستحق ہوتا ہے۔ النسآء
33 ﴿وَلِكُلٍّ ﴾” اور واسطے ہر ایک کے“ یعنی تمام لوگوں میں سے ﴿جَعَلْنَا مَوَالِيَ  ﴾ ” ہم نے وارث بنائے“ وہ اس کی سرپرستی کرتے ہیں اور وہ بھی نصرت و حمایت اور دیگر معاملات میں معاونت کے ذریعے سے ان کی سرپرستی کرتا ہے۔﴿مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ۚ ﴾ ” اس مال کے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت دار“ اس میں اصول و فروع اور حواشی کے تعلق سے تمام رشتہ دار شامل ہیں۔ یہ تمام لوگ قرابت کے اعتبار سے وارث (موالی) ہیں۔ پھر سرپرستوں (موالی) کی ایک اور قسم کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ ﴾” اور جن سے تمہارا معاہد ہوا“ یعنی وہ لوگ جن کے ساتھ تم باہم نصرت و حمایت کر کے، اور مال میں اشتراک کا معاہدہ کر کے ایک دوسرے کے حلیف بنے ہو۔ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر انعام ہے۔ سرپرست ایک دوسرے کی وہاں مدد کرتے ہیں جہاں ان میں سے تنہا آدمی کسی چیز پر قادر نہیں ہوتا۔ ﴿فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ ﴾” پس ان کو ان کا حصہ دو‘‘ یعنی غیر معصیت کے امور میں اپنے سرپرستوں اور رشتہ داروں کو نصرت و معاونت اور اپنی مدد سے حصہ دو۔ مگر میراث ان لوگوں کا حق ہے جو رشتہ داروں میں سب سے زیادہ قریب ہیں۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا ﴾ ” بے شک ہر چیز اللہ کے روبرو ہے“ یعنی وہ ہر چیز کی اطلاع رکھتا ہے۔ اپنے علم کے ذریعے سے تمام امور کی، اپنی بصر کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تمام حرکات کی اور اپنی سمع کے ذریعے سے ان کی تمام آوازوں کی خبر رکھتا ہے۔ النسآء
34 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے ﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ ﴾” مرد عورتوں کے نگران اور محافظ ہیں“ یعنی مرد عورتوں سے اللہ تعالیٰ کے حقوق کا التزام کروانے والے، ان سے ان کے فرائض کی حفاظت کروانے والے اور ان کو مفاسد سے روکنے والے ہیں، اور اس اعتبار سے وہ عورتوں پر قوام ہیں اور مردوں پر فرض ہے کہ وہ عورتوں سے ان امور کا التزام کروائیں۔ وہ عورتوں پر اس اعتبار سے بھی قوام ہیں کہ وہ ان پر خرچ کرتے ہیں اور انہیں لباس اور مسکن مہیا کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کیا ہے جو عورتوں پر مردوں کے قوام ہونے کا موجب ہے، فرمایا : ﴿بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ ﴾ ” اس لیے کہ اللہ نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔“ یعنی اس سبب سے کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے نیز اس سبب سے کہ وہ ان پر خرچ کرتے ہیں۔ پس مردوں کی عورتوں پر فضیلت کی متعدد وجوہات ہیں۔ (١) تمام بڑے بڑے منصب مردوں کے ساتھ مخصوص ہیں، نبوت، رسالت، اور بہت سی عبادات مثلاً جہاد، عیدین اور جمعات وغیرہ میں مردوں کو اختصاص حاصل ہے۔ (٢) اللہ تعالیٰ نے مردوں کو وافر عقل، وقار، صبر اور وہ جفاکشی عطا کی ہے جو عورتوں میں نہیں پائی جاتی۔ (٣) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مردوں کو اپنی بیویوں پر خرچ کرنے کی ذمہ داری عطا کی ہے بلکہ بہت سے اخراجات ایسے ہیں جو صرف مردوں سے مختص ہیں اور اس اعتبار سے عورتوں سے ممتاز ہیں۔ شاید اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَبِمَا أَنفَقُوا ﴾ ” اور اس لیے بھی کہ وہ (مرد) خرچ کرتے ہیں۔“ کا یہی سرنہاں ہے یہاں جملے میں مفعول کو حذف کرنا، عمومی نان و نفقہ اور اخراجات کی دلیل ہے۔ ان تمام توضیحات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد عورت کے آقا اور والی کی حیثیت رکھتا ہے اور عورت اپنے شوہر کے پاس ایک اسیر کی مانند ہے۔ پس مرد کی ذمہ داری اور اس کا کام یہ ہے کہ وہ ان امور کا انتظام کرے جن کی رعایت رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور عورت کی ذمہ داری اور اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے رب اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ ﴾ ” تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مطیع ہوتی ہیں۔“ یعنی وہ اللہ کی اطاعت کرنے والی ہیں،﴿حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ ﴾ یعنی وہ اپنے شوہروں کی اطاعت کرنے والی ہیں حتیٰ کہ وہ ان کی عدم موجودگی میں بھی ان کی اطاعت کرتی ہیں۔ اپنی عفت کی حفاظت کے ذریعے سے اپنے شوہر کی اور اس کے مال کی حفاظت کرتی ہیں اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی توفیق سے ہے ان کی طرف سے کچھ بھی نہیں، کیونکہ نفس تو ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے مگر جو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو رنج میں ڈالنے والے دینی اور دنیاوی امور میں اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔ پھر فرمایا : ﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ ﴾ ” اور وہ عورتیں، جن کی نافرمانی سے تم ڈرتے ہو“ یعنی ان کا اطاعت سے باہر نکلنا، قول و فعل کے ذریعے سے اپنے شوہر کی نافرمانی کرنا۔ اس صورت میں شوہر آسان سے آسان طریقے سے اس کی تادیب کرے۔ ﴿فَعِظُوهُنَّ ﴾” ان کو نصیحت کرو۔“ یعنی شوہر کی اطاعت اور اس کی نافرمانی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے احکام بیان کر کے ان کو نصیحت کرو۔ شوہر کی اطاعت کی ترغیب دو اور اس کی نافرمانی سے ڈراؤ۔ اگر وہ نافرمانی سے باز آجائیں تو یہی چیز مطلوب ہے اور اگر وہ اپنا رویہ نہ بدلیں تو شوہر اسے اس کے بستر پر تنہا چھوڑ دے، اس کے بستر پر سوئے نہ اس کے ساتھ مجامعت کرے۔ یہ سزا بس اسی قدر ہو جس سے مقصد حاصل ہوجائے۔ اگر پھر بھی نافرمانی ترک نہ کرے تو شوہر اس کو ایسی مار مارے جو نقصان دہ نہ ہو۔ اگر ان مذکورہ طریقوں میں سے کسی طریقے سے مقصد حاصل ہوجائے اور وہ تمہاری اطاعت کرنے لگ جائیں ﴿فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ ﴾” تونہ نڈھنڈو ان پر کوئی راہ“ پس جو مقصد تم حاصل کرنا چاہتے تھے تمہیں حاصل ہوگیا، اس لیے اب تم گزشتہ معاملات میں ان پر عتاب کرنا اور ان کو کریدنا چھوڑ دو جن کے ذکر سے نقصان پہنچتا ہے اور اس کی وجہ سے شرپیدا ہوتا ہے۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا  ﴾” بے شک اللہ سب سے اعلیٰ، جلیل القدر ہے۔“ ہر پہلو اور ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ علو مطلق (مطلق بلندی) کا مالک ہے۔ اس کی ذات بلند ہے، وہ قدرت کے اعتبار سے بلند ہے اور وہ قہر اور غلبہ کے اعتبار سے بھی بلند ہے۔ وہ بڑا ہے جس سے کوئی بڑا نہیں اس سے زیادہ جلیل اور اس سے زیادہ عظیم کوئی ہستی نہیں۔ وہ اپنی ذات میں اور صفات میں بڑا ہے۔ النسآء
35 یعنی اگر تمہیں میاں بیوی کے مابین مخالفت، دوری اور ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہنے کا خوف ہو، حتیٰ کہ ان میں سے ہر ایک، ایک کنارے پر ہو (یعنی اختلاف و نفرت کی انتہاء پر ہو) ﴿ فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا ﴾ ” تو ایک منصف مرد کے گھر والوں میں سے اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرو“ یعنی دو مکلف، مسلمان، عادل اور عاقل مردوں کو ثالث بنا لو جو میاں بیوی کے مابین تمام معاملات کو جانتے ہوں اور وہ جمع اور تفرقہ کو بھی جانتے ہوں۔ مذکورہ تمام صفات لفظ ”حَكَم“ سے مستفاد ہیں کیونکہ کوئی شخص اس وقت تک حَكَم (منصف) بننے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ ان صفات کا حاکم نہ ہو۔ وہ دونوں حَكَم (منصف) ان شکایات پر غور کریں جو وہ ایک دوسرے کے خلاف رکھتے ہوں، پھر دونوں حکم، میاں بیوی کی جو ذمہ داری بنتی ہے دونوں سے اس کا التزام کروائیں۔ اگر دونوں میں سے کوئی ایک اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر رہے تو دونوں حکم دوسرے فریق کو، رزق اور خلق میں جو کچھ میسر ہے، اس پر راضی رہنے پر آمادہ کریں۔ میاں بیوی کے درمیان معاملات کی اصلاح کرنے اور ان کو اکٹھا رکھنے کے لیے جو طریقہ بھی ممکن ہو، ثالث اس کے استعمال سے گریز نہ کریں۔ اگر صورتحال یہاں تک پہنچ جائے کہ ان دونوں کے درمیان اصلاح اور ان کا اکٹھا رہنا ممکن نہ ہو بلکہ اس سے دشمنی، قطع تعلق اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اضافہ ہوتا ہو اور دونوں حکم یہ رائے رکھتے ہوں کہ ان میں علیحدگی دونوں کے لیے بہتر ہے، تو دونوں میں تفریق کروا دیں۔ دونوں کے درمیان علیحدگی کا فیصلہ شوہر کی رضامندی سے مشروط نہیں ہے جیسا کہ یہ معنی دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں ثالثوں کو ” حکم“ کے نام سے موسوم کیا ہے اور حکم وہ ہوتا ہے جو فیصلہ کرے خواہ اس کے فیصلے پر محکوم علیہ راضی نہ ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّـهُ بَيْنَهُمَا﴾ ” اگر یہ دونوں چاہیں گے کہ صلح کرا دیں تو اللہ ان کے درمیان موافقت کر دے گا“ یعنی اللہ تعالیٰ مبارک رائے اور فریقین کے درمیان محبت اور الفت پیدا کرنے والے دلکش کلام کے ذریعے سے ان میں موافقت پیدا کر دے گا۔ ﴿ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾ ” کچھ شک نہیں کہ اللہ سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے باخبر ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ تمام ظاہر و باطن کو جاننے والا اور تمام خفیہ امور اور تمام بھیدوں کی اطلاع رکھنے والا ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی خبر ہی ہے کہ اس نے تمہارے لیے یہ جلیل القدر احکام اور خوبصورت قوانین مشروع فرمائے۔ النسآء
36 اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ وہ واحد اور لاشریک ہے۔ یہ درحقیقت اس کی عبودیت کے دائرے میں داخل ہونے، محبت، تذلل اور ظاہری اور باطنی تمام عبادات میں اخلاص کے ساتھ اس کے تمام اوامرونواہی کی تعمیل کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک اصغر اور شرک اکبر ہر قسم کے شرک سے روکتا ہے۔ کسی فرشتہ، کسی نبی، ولی یا دیگر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے سے منع کرتا ہے جو خود اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھانے پر قدرت نہیں رکھتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص واجب ہے۔ جو ہر لحاظ سے کمال مطلق کا مالک ہے۔ وہ کائنات کی پوری تدبیر کر رہا ہے جس میں اس کا کوئی شریک ہے نہ معاون اور مددگار ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور اپنے حقوق کے قیام کا حکم دینے کے بعد حقوق العباد کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ (حقوق العباد کے مراتب میں اصول یہ قائم فرمایا ہے۔) جو سب سے زیادہ قریب ہے اس کے سب سے زیادہ حقوق ہیں۔ فرمایا : ﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾” ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو“ یعنی ان کے ساتھ احسان کرو ان سے اچھی گفتگو، ان کے ساتھ تخاطب میں نرمی اور فعل جمیل کر کے ان کے حکم کی اطاعت، ان کے ممنوعہ امور سے اجتناب اور ان کی ضروریات پر خرچ کر کے، ان کے دوستوں اور دیگر متعلقین کے ساتھ عزت و تکریم کا معاملہ کر کے اور ان رشتے داریوں کو قائم اور ان کے حقوق ادا کر کے، جن سے صرف والدین کی وجہ سے رشتے داری ہے۔ احسان (یعنی حسن سلوک) کی دو اضداد ہیں، برا سلوک اور عدم احسان (حسن سلوک نہ کرنا) اور ان دونوں سے روکا گیا ہے۔ فرمایا ﴿وَبِذِي الْقُرْبَىٰ﴾ ” اور قرابت والوں کے ساتھ۔“ یعنی دیگر اقرباء کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آؤ۔ یہ آیت کریمہ تمام اقارب کو شامل ہے۔ خواہ وہ زیادہ قریبی ہوں یا قدرے دور کے رشتہ دار ہوں۔ ان کے ساتھ قول و فعل کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آئے اور اپنے قول و فعل سے ان کے ساتھ قطع رحمی نہ کرے۔ ﴿وَالْيَتَامَىٰ﴾ ” اور یتیموں کے ساتھ“ یعنی وہ چھوٹے بچے جو اپنے باپ سے محروم ہوگئے ہوں تمام مسلمانوں پر ان کا حق ہے۔ خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں کہ وہ ان کی کفالت کریں ان کے ساتھ نیک سلوک کریں، ان کی دلجوئی کریں، ان کو ادب سکھائیں اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی بہترین تربیت کریں۔ ﴿وَالْمَسَاكِينِ﴾یہ وہ لوگ ہیں جن کو فقر و حاجت نے بے حرکت اور عاجز کردیا ہو جنہیں اتنی ضروریات زندگی حاصل نہ ہوں جو ان کو کفایت کرسکیں اور نہ ان کو جن کے یہ کفیل ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو ضروریات زندگی مہیا کی جائیں، ان کا فقر و فاقہ دور کیا جائے اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دی جائے اور حتی الامکان ان امور کا انتظام کیا جائے۔ ﴿وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ ﴾ ” اور رشتہ دار ہمسایوں کے ساتھ“ یعنی رشتہ دار پڑوسی، اس کے دو حقوق ہیں۔ پڑوس کا حق اور قرابت کا حق۔ پس وہ اپنے پڑوسی پر حق رکھتا ہے اور اس کے حسن سلوک کا مستحق ہے۔ یہ سب عرف کی طرف راجع ہے۔ اسی طرح ﴿وَالْجَارِ الْجُنُبِ﴾” اور اجنبی ہمسایوں کے ساتھ۔“ یعنی وہ پڑوسی جو قریبی نہ ہو۔ پڑوسی کا دروازہ جتنا زیادہ قریب ہوگا اس کا حق اتنا ہی زیادہ مؤکد ہوگا۔ پڑوسی کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ہدیہ اور صدقہ دیتا رہے، اس کو دعوت پر بلاتا رہے اقوال و افعال میں نرمی اور ملاطفت سے پیش آیا کرے اور قول و فعل سے اس کو اذیت دینے سے بازر رہے۔ ﴿وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ﴾ ” اور پہلو کے ساتھی سے حسن سلوک کرو“ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد شریک سفر ہے۔ بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد بیوی ہے اور بعض اہل علم اس کا اطلاق مطلق ساتھی پر کرتے ہیں اور یہی زیادہ قرین صحت ہے۔ کیونکہ یہ لفظ اس کو شامل ہے جو سفر و حضر میں ساتھ رہے اور یہ لفظ بیوی کو بھی شامل ہے۔ ساتھی پر ساتھی کا حق عام مسلمان بھائی سے بڑھ کر ہے یعنی دینی اور دنیاوی امور میں اس کی مدد کرنا، اس کی خیر خواہی کرنا، آسانی اور تنگی، خوشی اور غمی میں اس کے ساتھ وفا کرنا، جو اپنے لیے پسند کرنا اس کے لیے بھی وہی پسند کرنا اور جو اپنے لیے ناپسند کرنا وہ اس کے لیے بھی ناپسند کرنا، صحبت جتنی زیادہ ہوگی، یہ حق اتنا ہی زیادہ اور مؤکد ہوگا۔ ﴿وَابْنِ السَّبِيلِ ﴾ وہ غریب الوطن شخص جو دور اجنبی شہر میں ہو، وہ خواہ محتاج ہو یا نہ ہو، اس کی شدت احتیاج اور وطن سے دور ہونے کی وجہ سے مسلمانوں پر اس کا حق ہے کہ وہ اسے نہایت انس و اکرام کے ساتھ اس کے مقصد تک پہنچائیں۔ ﴿وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ ” اور جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہوئے“ یعنی آپ کی ملکیت میں آدمی ہوں یا بہائم ان کی ضروریات کا انتظام رکھنا، ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا، بوجھ اٹھانے میں ان کی مدد کرنا، ان کی مصلحت اور بھلائی کی خاطر ان کی تادیب کرنا ان کا آپ پر حق ہے۔ پس جو ان احکامات کی تعمیل کرتا ہے وہ اپنے رب کے سامنے جھکنے والا اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ انکساری سے پیش آنے والا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اوامر اور اس کی شریعت کی پیروی کرتا ہے۔ یہی شخص ثواب جزیل (بہت زیادہ ثواب) اور ثنائے جمیل کا مستحق ہے اور جو ان احکامات پر عمل نہیں کرتا وہ اپنے رب سے روگردانی، اس کے اوامر کا نافرمان اور مخلوق کے لیے غیر متواضع ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنے والا، خود پسند اور بے حد فخر کرنے والا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا ﴾ ” یقیناً اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“ یعنی وہ خود پسند ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ تکبر سے پیش آتا ہے ﴿فَخُورًا﴾ ” اپنی بڑائی بیان کرنے والا ہے“ وہ لوگوں کے سامنے فخر اور گھمنڈ کے ساتھ اپنی تعریفیں کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا فخر اور تکبر ان حقوق کو ادا کرنے سے مانع رہتا ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : النسآء
37 ﴿الَّذِينَ يَبْخَلُونَ﴾ ” جو لوگ بخل کرتے ہیں“ یعنی جو حقوق واجب ہیں ان کو ادا نہیں کرتے ﴿وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ﴾ ” اور وہ لوگوں کو بخیلی کا حکم دیتے ہیں۔“ یعنی وہ اپنے قول و فعل سے لوگوں کو بخل کرنے کا حکم دیتے ہیں﴿وَيَكْتُمُونَ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ﴾” اور جو (مال یا علم) اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کر رکھتے ہیں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو علم عطا کیا جس کے ذریعے سے گمراہ راہ پاتے ہیں اور جاہل رشد و ہدایت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس علم کو ان لوگوں سے چھپاتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کا اظہار کرتے ہیں، اس طرح وہ مخلوق اور حق کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں۔ پس انہوں نے مالی بخل اور علمی بخل کو یکجا کردیا اور اپنے خسارے کے لیے بھاگ دوڑ اور دوسروں کے خسارے کے لیے بھاگ دوڑ کو جمع کردیا۔ یہ کفار کی صفات ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴾ ” اور ہم نے کفار کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے“ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر کے ساتھ پیش آئے، اللہ تعالیٰ کے حقوق کو ادا کرنے سے انکار کیا اور اپنے بخل اور بے راہ روی کی وجہ سے دوسروں کو محروم کرنے کا باعث بنے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو درد ناک عذاب اور دائمی ذلت کے ذریعے سے رسوا کیا۔ اے اللہ ! ہر برائی سے ہم تیری پناہ کے طلبگار ہیں۔ النسآء
38 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مال کے بارے میں خبر دی ہے جو محض دکھاوے، شہرت کی خاطر اور اللہ تعالیٰ پر عدم ایمان کی بنا پر خرچ کیا جاتا ہے، چنانچہ فرمایا : ﴿وَالَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِئَاءَ النَّاسِ﴾ ” اور جو لوگوں کو دکھانے کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔“ تاکہ لوگ انہیں دیکھیں، ان کی مدح و ثناء کریں اور ان کی تعظیم کریں ﴿وَلَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ ” اور وہ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے“ یعنی ان کا مال اخلاص، اللہ تعالیٰ پر ایمان اور ثواب کی امید پر خرچ نہیں ہوتا۔ یعنی یہ سب کچھ درحقیقت شیطان کا نقش قدم اور اس کے اعمال ہیں جن کی طرف وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ جہنمیوں میں شامل ہوجائیں۔ یہ اعمال شیطان کی دوستی اور شیطان کی انگیخت پر ان سے سر زد ہوتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَمَن يَكُنِ الشَّيْطَانُ لَهُ قَرِينًا فَسَاءَ قَرِينًا ﴾ ” اور جس کا ہم نشیں اور ساتھی شیطان ہو وہ بدترین ساتھی ہے“ بدترین ہے وہ مصاحب اور ساتھی جو اپنے ساتھی کی ہلاکت چاہتا ہے اور اسے ہلاک کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ جس طرح کوئی شخص اس نعمت میں بخل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر کیا ہے وہ نافرمان، گناہگار اور اللہ تعالیٰ کی مخالفت کا مرتکب ہے، اسی طرح وہ شخص بھی گناہگار، اپنے رب کا نافرمان اور سزا کا مستحق ہے جو غیر اللہ کی عبادت کے لیے خرچ کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو حکم دیا ہے کہ نہایت اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کے حکم پر عمل کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ (البینہ : 98؍ 5) ” اور ان کو یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ دین کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے اس کی عبادت کریں۔“ یہی وہ عمل ہے جو اللہ کے ہاں قابل قبول ہے اور اس عمل کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرنے والا مدح و ثواب کا مستحق ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ایسے عمل کی ترغیب دینے کے لیے فرمایا : النسآء
39 یعنی ان کے لیے کون سا حرج اور ان پر کون سی مشقت ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں، جو کہ سراسر اخلاص ہے، پھر اللہ تعالیٰ کے راستے میں وہ مال خرچ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے اور جس مال سے ان کو نوازا ہے۔ تب اس صورت میں وہ اخلاص اور انفاق کو جمع کریں گے۔ چونکہ اخلاص ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک سرنہاں ہے جس کی اطلاع صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ بندے کے تمام احوال کو جانتا ہے، چنانچہ : ﴿وَكَانَ اللَّـهُ بِهِمْ عَلِيمًا ﴾” اللہ ان سب کو خوب جانتا ہے“ النسآء
40 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کامل عدل و فضل کے بارے میں خبر دیتا اور آگاہ فرماتا ہے کہ وہ عدل کے متضاد صفات، یعنی ظلم سے خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر پاک ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ﴾ ” اللہ کسی کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہیں کرتا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی نیکیوں میں ذرہ بھر کمی کرے گا نہ اس کی برائیوں میں ذرہ بھر اضافہ کرے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ﴾(الزلزال :99؍7-8) ” جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔‘‘ ﴿وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا﴾ ” اور اگر نیکی ہو تو اسے دوگنا کردیتا ہے“ یعنی وہ اس نیکی کو دس گنا یا اس کے حسب حال، اس کے نفع کے مطابق اور نیکی کرنے والے کے اخلاص، محبت اور کمال کے مطابق اس سے بھی کئی گنا زیادہ کر دے گا ﴿وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ ” اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے۔“ یعنی وہ عمل کے ثواب سے زیادہ عطا کرے گا۔ مثلاً وہ اسے دیگر اعمال کی توفیق سے نوازے گا، بہت سی نیکی اور خیر کثیر عطا کرے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : النسآء
41 ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا ﴾ ” پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے“ وہ کیسے حالات ہوں گے اور وہ عظیم فیصلہ کیسا ہوگا جو اس حقیقت پر مشتمل ہوگا کہ فیصلہ کرنے والا کامل علم، کامل عدل اور کامل حکمت کا مالک ہے اور وہ مخلوق میں سب سے زیادہ سچی شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔ یہ شہادت انبیاء و مرسلین کی شہادت ہے جو وہ اپنی امتوں کے خلاف دیں گے اور جن کے خلاف فیصلہ ہوگا وہ بھی اس کا اقرار کریں گے۔ اللہ کی قسم ! یہ وہ فیصلہ ہے جو تمام فیصلوں میں سب سے زیادہ عام، سب سے زیادہ عادل اور سب سے عظیم ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں جن کے خلاف فیصلہ ہوگا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے کمال فضل، عدل و انصاف اور حمد و ثنئا کا اقرار کرتے رہ جائیں گے۔ وہاں کچھ لوگ فوز و فلاح، عزت اور کامیابی کی سعادت سے بہرہ ور ہوں گے اور کچھ فضیحت و رسوائی اور عذاب مہین کی بدبختی میں گرفتار ہوں گے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : النسآء
42 ﴿يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوُا الرَّسُولَ﴾ ” جس روز کافر اور رسول کے نافرمان آرزو کریں گے“ یعنی ان میں اللہ اور اس کے رسول کا انکار اور رسول کی نافرمانی اکٹھے ہوگئے ہیں ﴿لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ الْأَرْضُ﴾ ” کہ کاش انہیں زمین کے ساتھ ہموار کردیا جاتا“ یعنی وہ خواہش کریں گے کہ کاش زمین انہیں نگل لے اور وہ مٹی ہو کر معدوم ہوجائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا ﴾ (النبا :78؍40) ” اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوتا۔ “ ﴿وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّـهَ حَدِيثًا ﴾ ” اور وہ نہیں چھپا سکیں گے اللہ سے کوئی بات“ بلکہ وہ اپنی بد اعمالیوں کا اعتراف کریں گے۔ ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔ اس روز اللہ تعالیٰ انہیں پوری پوری جزا دے گا۔ یعنی ان کی جزائے حق۔ اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق اور کھلا کھلا بیان کردینے والا ہے اور کفار کے بارے میں یہ جو وارد ہوا ہے کہ وہ اپنے کفر و انکار کو چھپائیں گے تو قیامت کے بعض مواقع پر ایسا کریں گے جبکہ وہ یہ سمجھیں گے کہ ان کا کفر سے انکار اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں کسی کام آسکے گا۔ لیکن جب وہ حقائق کو پہچان لیں گے اور خود ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تب تمام معاملہ روشن ہو کر سامنے آجائے گا۔ پھر ان کے لیے چھپانے کی کوئی گنجائش باقی رہے گی نہ چھپانے کا کوئی فائدہ ہی ہوگا۔ النسآء
43 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے روک دیا ہے جب تک کہ انہیں معلوم نہ ہوجائے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اس ممانعت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ نشے کی حالت میں نماز کی جگہوں یعنی مساجد وغیرہ کے بھی قریب نہ جائیں کیونکہ نشے کی حالت میں مسجد میں داخل ہونا ممکن نہیں۔ اس ممانعت میں نفس نماز بھی شامل ہے نشے والے شخص کی عقل کے مختلف ہونے اور یہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اس کی نماز اور دیگر عبادات جائز نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نماز پڑھنے کے لیے اس چیز کو شرط بنایا کہ نشے والا شخص جو کچھ کہہ رہا ہوا سے اس کا علم ہو۔ یہ آیت کریمہ تحریم خمر والی آیت کے ذریعے سے منسوخ ہوگئی۔ اسلام کے ابتدائی ایام میں شراب حرام نہ تھی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں شراب کی حرمت کی طرف اشارہ فرمایا : ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا ﴾(البقرہ : 2؍219) ” تم سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دو کہ ان میں بہت بڑا گناہ ہے اور ان میں لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں البتہ ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے نماز کے اوقات میں شراب پینے سے منع کردیا۔ جیسا کہ اس آیت میں مذکور ہے۔ اس کے بعد (تیسرے مرحلے میں) اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام اوقات میں شراب کو علی الاطلاق حرام قرار دیا فرمایا : ﴿ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴾ (المائدہ :5؍90) ” بے شک شراب، جوا، بت اور پانسے سب شیطان کے ناپاک کام ہیں اس لیے ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ “ نماز کے اوقات میں تو شراب کی حرمت اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ ان اوقات میں نماز کے مقصد کے حصول کے بعد، جو کہ نماز کی روح اور لب لباب ہے اور وہ ہے خشوع اور حضور قلب۔ شراب بڑے مفاسد کو متضمن ہے۔ شراب قلب کو بھی مدہوش کردیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے روکتی ہے۔ آیت کریمہ کے معنی سے یہ بات بھی اخذ کی جاتی ہے کہ سخت اونگھ کی حالت میں جب انسان کو یہ عقل و شعور نہ رہے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے نماز پڑھنا ممنوع ہے۔ بلکہ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب کوئی شخص نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ وہ ہر اس شغل کو منقطع کر دے جو نماز کے اندر اس کی توجہ کو مشغول رکھتا ہو مثلاً بول و براز کی سخت حاجت اور کھانے کی سخت خواہش وغیرہ۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہے۔ ﴿وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ﴾” اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے قریب نہ ہوجاؤ) ہاں اگر عبور کرنے والے ہو راستے کو“ یعنی اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ سوائے اس حالت میں کہ تم مسجد میں سے گزر رہے ہو اور تم بغیر رکے گزر جاؤ ﴿حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا﴾ ” حتی کہ تم غسل کرلو۔“ یہ جنبی کے لیے نماز کے قریب جانے سے ممانعت کی حد اور انتہا ہے۔ پس جنبی کے لیے مسجد میں سے صرف گزرنا جائز ہے۔ ﴿وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا﴾” اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تمیم کرلو“ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے مریض کے لیے تمیم کو پانی کی موجودگی اور عدم موجودگی دونوں حالتوں میں علی الاطلاق جائز قرار دیا ہے اور اس اباحت کی علت ایسا مرض ہے جس میں پانی کا استعمال سخت تکلیف دہ ہو۔ اسی طرح سفر میں بھی تیمم کو مباح قرار دیا کیونکہ سفر میں پانی کے عدم وجود کا امکان ہوسکتا ہے، اس لیے جب مسافر کے پاس پینے اور دیگر ضروریات سے زائد پانی نہ ہو تو اس کے لیے تیمم جائز ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص بول و برازیا عورتوں کے لمس کی وجہ سے وضو توڑ بیٹھے خواہ وہ سفر میں ہو یا حضر میں، اگر پانی موجود نہ ہو تو اس کے لیے تمیم جائز ہے۔ جیسا کہ آیت کریمہ کا عموم دلالت کرتا ہے۔ حاصل بحث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو حالتوں میں تمیم مباح فرمایا ہے۔ (١) سفر و حضر میں علی الاطلاق پانی کی عدم موجودگی کی صورت میں۔ (٢) کسی مرض میں پانی کے استعمال میں مشقت کی صورت میں۔ مفسرین میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد (أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ) کا معنی بیان کرنے میں اختلاف ہے کہ آیا لمس سے مراد جماع ہے۔ تب یہ آیت کریمہ جنبی کے لیے تمیم کے جواز میں نص ہے۔ جیسا کہ اس بارے میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں یا اس سے مراد صرف ہاتھوں سے چھوٹا ہے، البتہ یہ چھونا اس قید سے مقید ہے کہ جب چھونے سے مذی کے خارج ہونے کا امکان ہو۔ یہ چھونا شہوت کے ساتھ ہوگا اور تب یہ آیت لمس سے وضو کے ٹوٹنے پر نص ہے۔ فقہاء ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً﴾ سے استدلال کرتے ہیں کہ نماز کا وقت داخل ہونے پر پانی کی تلاش فرض ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس شخص کے لیے (لَمْ یَجِدْ) ” اس نے نہ پایا“ کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا جس نے تلاش نہ کیا ہو۔ بلکہ یہ لفظ استعمال ہی تلاش کے بعد کیا جاتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے فقہاء نے یہ استدلال بھی کیا ہے کہ اگر پانی کسی پاک چیز کے اختلاط سے متغیر ہوجائے تو اس سے وضو وغیرہ جائز ہے بلکہ اس کے ذریعہ سے طہارت حاصل کرنا متعین ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً﴾ میں داخل ہے اور متغیر پانی بھی تو پانی ہی ہے اور اس میں یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ غیر مطلق پانی ہے اور یہ محل نظر ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس عظیم حکم کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو نوازا ہے اور وہ ہے تمیم کی مشروعیت۔ تمیم کی مشروعیت پر تمام اہل علم کا اجماع ہے۔ وللہ الحمد تمیم پاک مٹی سے کیا جاتا ہے ﴿صَعِيدًا ﴾ سطح زمین کی پاک مٹی کو کہتے ہیں خواہ اس میں غبار ہو یا نہ ہو۔ اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ ” صعید“ ہر غبار والی چیز کو کہا جائے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ مائدہ میں وضو والی آیت میں فرمایا ہے ﴿ فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ﴾(المائدہ :5؍6) ’’پس اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرلو“ اور جس کا غبار نہ ہو تو اس سے مسح نہیں کیا جاتا۔ فرمایا ﴿ فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم﴾ ” اور (مٹی) سے اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرلو“ جیسا کہ سورۃ مائدہ میں زیادہ واضح ہے۔ آیت کریمہ میں بیان کیا گیا ہے کہ تیمم کے اندر مسح کا محل یہ ہے، تمام چہرہ اور دونوں ہاتھ کلائی تک جیسا کہ اس پر احادیث صحیحہ دلت کرتی ہیں اور اس میں مستحب یہ ہے کہ صرف ایک ہی ضرب سے تمیم کیا جائے۔ جیسا کہ اس پر احادیث صحیحہ دلالت کرتی ہیں اور اس میں مستحب یہ ہے کہ صرف ایک ہی ضرب سے تیمم کیا جائے۔ جیسا کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ظاہر ہوتا ہے۔ جنبی کےتیمم میں بھی صرف چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا جائے گا، جیسے کسی دیگر شخص کے تیمم میں ہے۔ فائدہ :۔ معلوم ہونا چاہئے کہ طب کا دار و مدار تین قواعد پر ہے۔ (١) ضرر رساں اشیاء سے حفظان صحت۔ (٢) موذی امراض سے نجات حاصل کرنا۔ (٣) ان امراض سے بچاؤ۔ رہا مرض سے بچاؤ اور حفظان صحت تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں کھانے پینے اور عدم اسراف کا حکم دیا ہے۔ مسافر اور مریض کی صحت کی حفاظت کی خاطر رمضان میں روزہ چھوڑنا اور اس مقصد کے لیے ایسی چیزیں اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا مباح ہے جو بدن کی صحت کے لیے درست اور مریض کو ضرر سے بچانے کیلیے ضروری ہیں۔ رہا بیماری کی تکلیف سے نجات حاصل کرنا تو اللہ تعالیٰ نے سر میں تکلیف محسوس کرنے والے محرم شخص کے لیے سرمنڈوانا مباح قرار دیا ہے تاکہ وہ سر میں جمع شدہ میل کچیل اور گندگی سے نجات حاصل کرسکے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان چیزوں مثلاً بول و براز، قے، منی اور خون وغیرہ سے فارغ ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ان مذکورہ امور کی طرف علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے توجہ دلائی ہے۔ آیت کریمہ چہرے اور ہاتھوں کے مسح کے وجوب کے عموم پر دلالت کرتی ہے نیز یہ آیت اس طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ خواہ وقت تنگ نہ ہو تمیم کرناجائز ہے نیز یہ آیت کریمہ اس طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ وجوب کے سبب کے موجود ہونے کے بعد ہی پانی کی تلاش کے لیے کہا جائے گا۔ واللہ اعلم۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد پر آیت کریمہ کا اختتام کیا ہے۔﴿ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا ﴾” بے شک اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا نہایت بخشنے والا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے احکامات میں انتہائی آسانیاں پیدا فرما کر اپنے مومن بندوں کے ساتھ بہت زیادہ عفو اور مغفرت کا معاملہ کرتا ہے۔ تاکہ بندے پر اس کے احکام کی تعمیل شاق نہ گزرے اور اسے ان کی تعمیل میں کوئی حرج محسوس نہ ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا عفو اور اس کی مغفرت ہے کہ اس نے پانی کے عدم استعمال کے عذر کے موقع پر، مٹی کے ذریعے سے طہارت کو مشروع فرما کر اس امت پر رحم فرمایا اور یہ بھی اس کا عفو اور اس کی مغفرت ہے کہ اس نے گناہگاروں کے لیے توبہ اور انابت کا دروازہ کھولا اور انہیں اس دروازے کی طرف بلایا اور ان کے گناہ بخش دینے کا وعدہ فرمایا، نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کا عفو ہے کہ اگر بندہ مومن زمین بھر گناہوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہو اور اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو، تو اللہ تعالیٰ بھی اسے زمین بھر مغفرت سے نوازے گا۔ النسآء
44 اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کی مذمت ہے جنہیں کتاب عطا کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے کہ وہ ان کی وجہ سے دھوکے میں نہ پڑیں اور ان کا ساتھی بننے سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بابت آگاہ فرمایا کہ وہ اپنے بارے ﴿ يَشْتَرُونَ الضَّلَالَةَ ﴾ گمراہی خریدتے ہیں یعنی گمراہی سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور اسے ترجیح دیتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنی محبوب چیز کی طلب میں مال کثیر خرچ کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ پس یہ لوگ ہدایت پر گمراہی کو، ایمان پر کفر کو اور سعادت پر شقاوت کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ وَيُرِيدُونَ أَن تَضِلُّوا السَّبِيلَ ﴾ ” اور وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی راستہ گم کرلو۔“ پس وہ تمہیں گمراہ کرنے کے بعد حد خواہش مند ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا ولی اور مددگار ہے اس لیے ان کے سامنے ان کفار کی گمراہی اور ان کی دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کو کھول کھول کر بیان کیا ہے۔ اس لیے فرمایا : النسآء
45 ﴿وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ وَلِيًّا  ﴾ ” اللہ ہی کافی کار ساز ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ تمام امور میں اپنے لطف و کرم کی وجہ سے اپنے بندوں کے تمام احوال میں ان کی سرپرستی فرماتا ہے اور ان کے لیے سعادت اور فلاح کی راہوں کو آسان کرتا ہے۔﴿وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ نَصِيرًا ﴾ ” اور اللہ ہی کافی مددگار ہے۔“ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان کے دشمنوں کے خلاف مدد عطا کرتا ہے اور ان کے سامنے واضح کرتا ہے کہ انہیں کن لوگوں سے بچنا چاہئے وہ ان کے خلاف ان کی مدد کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ولایت اور سرپرستی میں خیر کا حصول اور اس کی نفرت میں شرکا زوال ہے۔ النسآء
46 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی گمراہی، عناد اور ان کے حق پر باطل کو ترجیح دینے کی کیفیت بیان فرمائی ہے۔ ﴿مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا  ﴾ ” اور جو یہودی ہوئے‘‘ اس جگہ ان سے مراد یہودیوں کے گمراہ علماء ہیں۔﴿يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ ﴾ ” ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ وہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔“ یعنی وہ کلمات الٰہی میں تحریف کے مرتکب ہوتے تھے۔ یہ تحریف یا تو لفظ میں ہوتی تھی یا معنی میں یا دونوں میں۔ یہ ان کی تحریف تھی کہ آنے والے نبی کی وہ صفات جو ان کی کتابوں میں بیان کی گئی تھیں وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی پر منطبق اور صادق نہ آتی تھیں۔ (یہودی کہتے تھے) کہ یہ صفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں کسی اور کی بیان ہوئی ہیں ان صفات سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں وہ ان صفات کو چھپاتے تھے۔ پس علم کے بارے میں یہ ان کا بدترین حال ہے۔ انہوں نے حقائق کو بدل ڈالا حق کو باطل بنا دیا اور پھر انہوں نے اس کی وجہ سے اس حق کا انکار کردیا۔ رہا عمل اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ان کا حال تو کہا کرتے تھے : ﴿سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا ﴾ ” ہم نے سن لیا اور نہیں مانا۔“ یعنی ہم نے تیری بات سنی اور تیرے حکم کی نافرمانی کی۔ یہ کفر و عناد اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل بھاگنے کی انتہا ہے۔ اسی طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی سوء ادبی، اور بدترین خطابات کے ساتھ مخاطب کیا کرتے تھے اور ہا کرتے تھے : ﴿وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ ﴾” سنیے نہ سنو ائے جاؤ۔“ اور ان الفاظ سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہماری بات سن، تجھے وہ بات نہ سنوائی جائے جو تجھے پسند ہے بلکہ وہ بات سنوائی جائے جو تجھے ناپسند ہے ﴿وَرَاعِنَا  ﴾ اس رعونت سے ان کی مراد تھی قبیح عیب۔ وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ لفظ میں ان معنوں کا احتمال ہے جو ان کے معین مراد کے علاوہ ہیں، اس لیے یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں رائج ہوجائے گا۔ چنانچہ وہ اس لفظ کو، جس کا وہ اپنی زبانوں کو مروڑ کر تلفظ کرتے تھے، اسی لیے فرمایا : ﴿لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ ﴾” زبانوں کو مروڑ کر اور دین میں عیب لگانے کو‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سے بہتر چیز کی طرف ان کی راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا : ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ  ﴾” اور اگر یہ لوگ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے فرماں برداری کی اور آپ سنئے اور ہمیں دیکھئے تو یہ ان کے لیے بہت بہتر اور نہایت ہی مناسب تھا“ چونکہ یہ کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہونے کے بارے میں حسن خطاب، لائق ادب، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے اوامر کی تعمیل کو متضمن ہے نیز یہ کلام ان کے طلب علم، ان کے سوال کو سننے اور ان کے معاملے کو درخور اعتنا سمجھنے کے بارے میں حسن ملاطفت کا حامل ہے۔ اس لیے یہ وہ راستہ ہے جس پر انہیں گامزن ہونا چاہئے، مگر چونکہ ان کی طبائع پاکیزگی سے محروم ہیں اس لیے انہوں نے اس سے اعراض کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر و عناد کے باعث انہیں دھتکار دیا، اس لیے فرمایا : ﴿وَلَـٰكِن لَّعَنَهُمُ اللَّـهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴾ ” مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر لعنت کی، پس اب وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر بہت تھوڑے“ النسآء
47 اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو حکم دیتا ہے کہ وہ رسول اللہ اور اس قرآن عظیم پر ایمان لائیں جو آپ پر نازل کیا گیا ہے جو دوسری کتابوں کا نگہبان ہے۔ جن کی یہ تصدیق کرتا ہے ان کتابوں نے اس رسول کی خبر دی ہے۔ جب وہ امر واقع ہوگیا جس کے بارے میں خبر دی گئی تھی تو یہ چیز اس خبر کی تصدیق ہے، نیز اگر وہ اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے تو گویا ان کا اپنی کتابوں پر بھی ایمان نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کتابیں ایک دوسری کی تصدیق اور ایک دوسری کی تائید کرتی ہیں، اس لیے بعض کتابوں پر ایمان کا دعویٰ اور بعض پر ایمان نہ رکھنا، محض باطل دعویٰ ہے جس کی صداقت کا ہرگز امکان نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ آمِنُوا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُم  ﴾” ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہاری کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لے آؤ۔“ میں اہل کتاب کو ایمان لانے کی ترغیب دی گئی ہے، نیز ان کے لیے مناسب یہ تھا، چونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو علم اور کتاب عطا کی اس لیے وہ اس سبب سے دوسرے لوگوں سے آگے بڑھ کر اس کی طرف سبقت کرتے یہ علم اور کتاب دوسروں کی نسبت ان کے لیے زیادہ اس بات کے موجب ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ایمان لاتے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے عدم ایمان کی وجہ سے ان کو وعید سنائی ہے۔ ﴿ مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوهًا فَنَرُدَّهَا عَلَىٰ أَدْبَارِهَا  ﴾” اس پر اس سے پہلے (ایمان لے آؤ) کہ ہم چہرے بگاڑ دیں اور انہیں لوٹا کر پیٹھ کی طرف کردیں“ یہ جزا ان کے عمل ہی کی جنس میں سے ہے۔ چونکہ انہوں نے حق کو چھوڑ دیا، باطل کو ترجیح دی اور حقائق کو بدل ڈالا، باطل کو حق اور حق کو باطل بنا دیا، اس لیے ان کو ان کے اعمال ہی کی جنس سے سزا کی وعید سنائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو بگاڑ کر ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دے۔ جس طرح انہوں نے حق کو بگاڑا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو ان کی گدی کی طرف کردیا اور یہ بدترین حال ہے۔ ﴿أَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّا أَصْحَابَ السَّبْتِ ﴾ ” یا ان پر لعنت بھیجیں جیسے ہم نے ہفتے والوں پر لعنت کی“ بایں طور کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے دور کر دے گا اور انہیں سزا کے طور پر بندر بنا دے گا جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان بھائی بند لوگوں کو سزا دی تھی جنہوں نے ظلم و تعدی کے ساتھ سبت کے اصولوں سے تجاوز کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ ﴾ (البقرہ :2؍65) ” پس ہم نے ان سے کہا بندر بن جاؤ دھتکارے ہوئے۔ “ ﴿وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ مَفْعُولًا ﴾ ” اور ہے اللہ تعالیٰ کا کام کیا ہوا“ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے ﴿إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ  ﴾ (یٰسین :36؍82) ” اللہ تعالیٰ کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے ہوجا، پس وہ ہوجاتی ہے۔ “ النسآء
48 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس شخص کو کبھی نہیں بخشے گا جس نے مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا۔ اس کے علاوہ اگر اس نے چاہا اور اس کی حکمت مقتضی ہوئی تو وہ تمام چھوٹے بڑے گناہ بخش دے گا۔ شرک سے کمتر گناہوں کی مغفرت کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت سے اسباب مقرر فرمائے ہیں مثلاً برائیوں کو مٹانے والی نیکیاں، دنیا اور برزخ میں نیز قیامت کے روز گناہوں کا کفارہ بننے والے مصائب، اہل ایمان کی ایک دوسرے کے لیے مفغرت کی دعائیں، شفاعت اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت جس کے سب سے زیادہ مستحق اہل ایمان و توحید ہیں۔ جب کہ شرک کا معاملہ اس کے برعکس ہے مشرک نے خود اپنے لیے مغفرت کا دروازہ بند کرلیا اس نے خود اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی راہیں مسدود کرلیں۔ توحید کے بغیر نیکیاں اسے کوئی نفع نہ دیں گی اور توحید کے بغیر مصائب اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ فَمَا لَنَا مِن شَافِعِينَ وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ﴾(الشعراء :26؍100 ،101) ” کافر قیامت کے دن کہیں گے پس آج نہ کوئی ہمارا سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا ﴾ ” اور جو اللہ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا“ یعنی اس نے بہت بڑے جرم کا بہتان باندھا۔ اس سے بڑا کون سا ظلم ہوسکتا ہے کہ کوئی اس مخلوق کو جو مٹی سے تخلیق کی گئی، جو ہر پہلو سے ناقص ہے اور ہر لحاظ سے بذاتہ محتاج ہے۔ جس کا بندے کو کوئی نفع و نقصان پہنچانا، اس کو زندہ کرنا، مارنا اور پھر اسے دوبارہ زندہ کرنا تو کجا وہ تو اپنے آپ کی بھی مالک نہیں، اس ہستی کے برابر ٹھہرائے جو ہر چیز کی خالق ہے، جو ہر لحاظ سے کامل ہے، جو بذاتہ اپنی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ جس کے قبضہ قدرت میں نفع و نقصان، عطا کرنا اور محروم کرنا سب کچھ ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی عطا و بخشش ہے۔ تب کیا اس ظلم سے بڑی کوئی اور چیز ہے؟ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر مشرک کو دائمی عذاب اور ثواب سے محرومی کی وعید سنائی۔﴿ إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّـهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ ﴾ (المائدہ :5؍72) ”بے شک جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے“ یہ آیت کریمہ غیر تائب کے بارے میں ہے۔ رہا تائب تو اللہ تعالیٰ توبہ کرنے پر شرک اور دیگر تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا : ﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ ﴾ (الزمر :39؍53):” کہہ دو اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ بے شک اللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرلیتا ہے۔ النسآء
49 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار اور ان یہود و نصاریٰ وغیرہ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں۔ یہ زجر و توبیخ ہر اس شخص کے لیے ہے جو کسی ایسے امر کا دعویٰ کر کے اپنے آپ کو پاک گردانتا ہے جو اس میں نہیں ہے۔ یہود و نصاریٰ یہ دعویٰ کرتے تھے ﴿نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ﴾(المائدۃ:5؍18) ” ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں“ وہ کہا کرتے تھے ﴿لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ﴾ (البقرۃ: 2؍111) ” جنت میں صرف وہی داخل ہوگا جو یہودی یا نصرانی ہوگا۔“ یہ ان کا مجرد دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔ دلیل تو وہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمائی ہے : ﴿ بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّـهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ  ﴾(البقرہ :2؍112) ” کیوں نہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور نیکو کار بھی ہو۔ تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔ ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم۔ “ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ بَلِ اللَّـهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ ﴾ ” بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے پاک کرتا ہے‘‘ یعنی ایمان و عمل صالح کے ساتھ، اخلاق رذیلہ ترک کرنے اور اخلاق حسنہ کو اختیار کرنے کی بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو پاک کرتا ہے۔ رہے یہ لوگ تو اگرچہ بزعم خود انہوں نے اپنے آپ کو پاک کیا ہوا ہے اور سمجھتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور صرف وہی ثواب کے مستحق ہیں مگر وہ جھوٹے ہیں اور وہ اپنے ظلم اور کفر کے سبب سے پاک لوگوں کی خصوصیات اور خصائل سے بے بہرہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان خصوصیات سے محروم کر کے ظلم نہیں کیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا ﴾ ” ان پر ذرہ بھر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ یہ عموم کے تحقق کے لیے ہے یعنی ان کے ساتھ اس باریک دھاگے جتنا بھی ظلم نہیں ہوگا جو کھجور کی گٹھلی کے ساتھ لگا ہوتا ہے یا ہاتھ رگڑنے سے جو میل کی باریک بتی سی بنتی ہے اس مقدار میں بھی ان پر ظلم نہ ہوگا۔ النسآء
50 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿انظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ ﴾ ” دیکھو یہ لوگ کس طرح اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں“ یعنی انہوں نے اپنے نفوس کی پاکیزگی کا دعویٰ کر کے اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کی ہے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ پر سب سے بڑا بہتان ہے اور ان کے تزکیہ نفوس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا موقف حق اور مسلمانوں کا موقف باطل ہے اور یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ حق کو باطل اور باطل کو حق بنانا حقائق کو بدلنے کے مترادف ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَكَفَىٰ بِهِ إِثْمًا مُّبِينًا ﴾ ” اور یہ (حرکت) صریح گناہ ہونے کے لیے کافی ہے“ یعنی یہ ظاہر اور کھلا گناہ ہے جو سخت عقوبت اور درد ناک عذاب کا موجب ہے۔ النسآء
51 یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں۔﴿وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا﴾” اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں۔“ یعنی کفار کی خوشامد اور مداہنت کی خاطر اور ایمان سے بغض کی وجہ سے کہتے تھے :﴿هَـٰؤُلَاءِ أَهْدَىٰ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا﴾ ”طریقے کے اعتبار سے یہ کفار اہل ایمان سے زیادہ راہ ہدیات پر ہیں۔“ وہ کتنے قبیح ہیں، ان کا عناد کتنا شدید اور ان کی عقل کتنی کم ہے؟ وہ مذمت کی وادی میں، ہلاکت کے راستے پر کیسے گامزن ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کسی عقلمند کو قائل کرلے گی یا کسی جاہل کی عقل میں آجائے گی؟ کیا اس دین کو جو بتوں اور پتھروں کی عبادت کی بنیاد پر قائم ہے، جو طیبات کو حرام ٹھہرائے، خبائث کو حلال ٹھہرانے، بہت سی محرمات کو جائز قرار دینے، اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر ظلم کے ضابطوں کو قائم کرنے، خالق کو مخلوق کے برابر قرار دینے، اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کے ساتھ کفر کرنے کو درست گردانتا ہے۔۔۔ اس دنیا پر فضیلت دی جاسکتی ہے جو اللہ رحمٰن کی عبادت، کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، بتوں اور جھوٹے خداؤں کے انکار، صلہ رحمی، تمام مخلوق حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک، لوگوں کے درمیان عدل کے قیام، ہر خبیث چیز اور ظلم کی تحریم اور تمام اقوال و اعمال میں صدق پر مبنی ہے؟۔۔۔۔۔۔ کیا یہ تفصیل محض ہذیان نہیں؟ النسآء
52 ایسا کہنے والا شخص یا تو سب سے زیادہ جاہل یا سب سے کم عقل یا حق کے ساتھ سب سے زیادہ عناد رکھنے والا اور تکبر کا اظہار کرنے والا ہے۔ یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّـهُ ﴾یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے دور کردیا اور انہیں اپنی سزا کا مستحق ٹھہرایا۔ ﴿وَمَن يَلْعَنِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ نَصِيرًا ﴾ ” اور جس پر اللہ لعنت کر دے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہیں پاؤ گے۔“ جسے اللہ تعالیٰ دھتکار دے تو اس کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا جو اس کی سرپرستی کرے، اس کے مصالح کی نگرانی کرے اور ناپسندیدہ امور میں اس کی حفاظت کرے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کی انتہا ہے۔ النسآء
53 ﴿أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ ﴾ ” کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے؟“ کہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بنا پر جس کو چاہیں اور جس پر چاہیں فضیلت دیں اور تدبیر مملکت میں اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں ؟ اگر وہ ایسے ہوتے تو وہ بہت زیادہ بخل سے کام لیتے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ فَإِذًا ﴾ یعنی اگر اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہوتا ہے، تب ﴿ لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا ﴾” وہ لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیتے۔“ یعنی وہ لوگوں کو تھوڑی سی چیز بھی نہ دیتے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ (کائنات کی) بادشاہی اور اقتدار میں ان کا حصہ ہے۔ انتہائی شدید بخل ان کا وصف بیان کیا ہے۔ یہ ہر ایک کے نزدیک تسلیم شدہ اور متحقق استفہام انکاری ہے۔ النسآء
54 ﴿ أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ﴾” یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے“ یعنی یہ کہنے پر ان کو بزعم خود ان کے اللہ تعالیٰ کے شریک ہونے نے آمادہ کیا ہے کہ جس کو چاہیں فضیلت دیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے ساتھ حسد اس کا باعث تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کو اپنے فضل سے نوازا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل کے لیے یہ کوئی انوکھی اور نئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ ﴿ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُم مُّلْكًا عَظِيمًا  ﴾ ” پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بڑی سلطنت عطا فرمائی ہے“ یہ ان نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو نوازا، یعنی نبوت، کتاب اور حکومت جو اس نے اپنے بعض انبیاء کو عطا کی جیسے داؤد اور سلیمان علیہ السلام۔ النسآء
55 اللہ تعالیٰ کے مومن بندوں پر یہ نعمتیں ہمیشہ سے چلی آرہی ہیں۔ پس وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی فتح و نصرت اور آپ کے اقتدار کا کیسے انکار کرسکتے ہیں۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے افضل، سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والے اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں۔ ﴿فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ بِهِ ﴾ ” پھر ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے۔“ یعنی ان میں سے بعض لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، اس لیے وہ دنیاوی خوش بختی اور اخروی فلاح سے بہرہ ور ہوئے ﴿ وَمِنْهُم مَّن صَدَّ عَنْهُ ۚ ﴾ اور ان میں سے بعض نے محض عناد، بغاوت اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لیے اس سے اعراض کیا اس لیے وہ دنیا میں بدبختی اور مصائب کا شکار ہوگئے۔ جو ان کے گناہوں کے اثرات ہیں۔ ﴿وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا  ﴾ ” اور (ان کے لیے) دہکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے“ یہ آگ یہود و نصاریٰ اور دیگر اقسام کے کفار پر بھڑکائی جائے گی، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے انبیاء کا انکار کیا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : النسآء
56 ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا ﴾ ” جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے“ یعنی ہم ان کو ایسی آگ میں جھونکیں گے جو ایندھن کے لحاظ سے بہت بڑی اور اور حرارت کے لحاظ سے بہت شدید ہوگی۔ ﴿كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم ﴾” جب ان کی کھالیں گل جائیں گی۔“ ﴿بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ ﴾” ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں“ تاکہ عذاب ان کے جسم کے ہر مقام تک پہنچ جائے۔ چونکہ وہ کفر اور عناد کا بار بار مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ کفر اور عناد ان کا وصف اور عادت بن گیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ان کو بار بار عذاب کا مزا چکھائے گا تاکہ ان کو پورا پورا بدلہ مل جائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا  ﴾ ” یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ عظیم غلبے کا مالک ہے، اس کی تخلیق، اس کے امر اور اس کے ثواب و عقاب میں اس کی حکمت جاری و ساری ہے۔ النسآء
57 ﴿ وَالَّذِينَ آمَنُوا  ﴾ ” اور جو لوگ ایمان لائے۔“ یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانا واجب ہے ﴿ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ﴾” اور عمل نیک کرتے رہے۔“ یعنی وہ واجبات اور مستحبات پر عمل کرتے ہیں۔﴿ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ لَّهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۖ ﴾ ” ہم عنقریب انہیں ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے لیے وہاں صاف ستھری بیویاں ہوں گی“ یعنی یہ بیویاں ان رذیل عادات اور گندے اخلاق اور ہر میل اور عیب سے پاک ہوں گی جن میں دنیا کی عورتیں ملوث ہوتی ہیں﴿وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيلًا ﴾ ” اور ہم انہیں گھنے سائے میں داخل کریں گے۔“ یعنی ہم انہیں ہمیشہ رہنے والے سائے میں داخل کریں گے۔ النسآء
58 ہر وہ چیز جس پر انسان کو امین بنایا جائے اور اس کے انتظام کی ذمہ داری اس کے سپرد کی جائے، امانت کہلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ امانتیں بغیر کسی کمی اور بغیر کسی ٹال مٹول کے پوری کی پوری ادا کردیں۔ اس میں عہدوں کی امانت، اموال کی امانت، بھید اور رازوں کی امانت اور ان مامورات کی امانت جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت رکھی جائے اس پر اس کی حفاظت کرنا واجب ہے۔ چونکہ امانت کی حفاظت کئے بغیر اس کو واپس ادا کرنا ممکن نہیں، اس لیے حفاظت واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿إِلَىٰ أَهْلِهَا ﴾ ” اس کے مالک کی طرف“ میں اس بات کی دلیل ہے کہ امانت صرف اسی شخص کو لوٹائی جائے اور ادا کی جائے جو اس کا مالک ہے اور وکیل مالک ہی کے قائم مقام ہے۔ اگر وہ امانت مالک کے سوا کسی اور شخص کے حوالے کر دے تو اس نے امانت ادا نہیں کی۔ ﴿وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ﴾ ” اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے مطابق کرو“ یہ حکم ان کے درمیا ن قتل کے مقدمات، مالی مقدمات اور عزت و آبرو کے مقدمات، خواہ یہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سب کو شامل ہے اور اس کا اطلاق قریب، بعید، صالح، فاجر، دوست اور دشمن سب پر ہوتا ہے۔ وہ عدل جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں حکم دیا ہے اس سے مراد حدود و احکام میں عدل کے وہ ضابطے ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر مشروع فرمایا ہے۔ یہ حکم معرفت عدل کو مستلزم ہے تاکہ اس کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔ چونکہ یہ احکام بہت اچھے اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِنَّ اللَّـهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا ﴾ ” اللہ تم کو اچھی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے“ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے اوامرو نواہی کی مدح و تعریف ہے کیونکہ یہ اوامرو نواہی دنیا و آخرت کے مصالح کے حصول اور دنیا و آخرت کی مضرتوں کو دور کرنے پر مشتمل ہیں کیونکہ ان اوامرو نواہی کو مشروع کرنے والی ہستی سمیع و بصیر ہے۔ جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں کے ان مصالح کو جانتا ہے جو وہ خود نہیں جانتے۔ النسآء
59 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور یہ اطاعت اللہ اور اس کے رسول کے مشروع کردہ واجبات و مستحبات پر عمل اور ان کی منہیات سے اجتناب ہی کے ذریعے سے ہوسکتی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے اولوالامر کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اولوالامر سے مراد لوگوں پر مقرر کردہ حکام، امراء اور اصحاب فتویٰ ہیں کیونکہ لوگوں کے دینی اور دنیاوی معاملات اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اولوالامر کی اطاعت نہیں کرتے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اولوالامر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیں تو خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی فرمانبرداری ہرگز جائز نہیں۔ شاید یہی سرنہاں ہے کہ اولوالامر کی اطاعت کے حکم کے وقت فعل کو حذف کردیا گیا ہے اور اولو الامر کی اطاعت کو رسول کی اطاعت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں لہٰذا جو کوئی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ رہے اولوالامر تو ان کی اطاعت کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ ان کا حکم معصیت نہ ہو۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ لوگ اپنے تمام تنازعات کو، خواہ یہ اصول دین میں ہوں یا فروع دین میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹائیں، یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف کیونکہ تمام اختلافی مسائل کا حل قرآن و سنت میں موجود ہے یا تو ان اختلافات کا حل صراحت کے ساتھ قرآن اور سنت میں موجود ہوتا ہے یا ان کے عموم، ایماء، تنبیہ، مفہوم مخالف اور عموم معنی میں ان اختلافات کا حل موجود ہوتا ہے اور عموم معنی میں اس کے مشابہہ مسائل میں قیام کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر دین کی بنیاد قائم ہے ان دونوں کو حجت تسلیم کئے بغیر ایمان درست نہیں۔ اپنے تنازعات کو قرآن و سنت کی طرف لوٹانا شرط ایمان ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ﴾ ” اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔“ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی نزاعی مسائل کو قرآن و سنت پر پیش نہیں کرتا وہ حقیقی مومن نہیں بلکہ وہ طاغوت پر ایمان رکھتا ہے، جیسا کہ بعد والی آیت میں ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ذَٰلِكَ  ﴾” یہ“ یعنی تنازعات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا ﴿خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ﴾ ” یہ بہت بہتر ہے اور با اعتبار انجام کے بہت اچھا ہے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ سب سے اچھا فیصلہ ہے۔ النسآء
60 اللہ تعالیٰ منافقین کی حالت کے بارے میں اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار کرتا ہے۔ ﴿ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا  ﴾” جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں۔“ یعنی وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تھا۔ بایں ہمہ ﴿ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ ﴾ ” وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلے طاغوت کی طرف لے جائیں۔“ ہر وہ شخص جو شریعت الٰہی کے بغیر فیصلے کرتا ہے طاغوت ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ ﴿وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ  ﴾” انہیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں۔“ ان کا یہ رویہ اور ایمان کیسے اکٹھے ہوسکتے ہیں کیونکہ ایمان اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی پیروی کی جائے اور اس کی تحکیم کو قبول کیا جائے۔ پس جو کوئی مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو چھوڑ کر طاغوت کے فیصلے کو قبول کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ شیطان نے ان کو گمراہ کردیا ہے ﴿ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا  ﴾ ” اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر راستے سے دور کر دے۔“ یعنی شیطان چاہتا ہے کہ وہ انہیں حق سے دور کر دے۔ النسآء
61 النسآء
62 فرمایا : ﴿فَكَيْفَ  ﴾ یعنی ان گمراہوں کا کیا حال ہوتا ہے ﴿إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ  ﴾ ” جب ان پر ان کے کرتوتوں کے باعث کوئی مصیبت آپڑتی ہے“ یعنی گناہ، معاصی اور طاغوت کی تحکیم بھی اس میں شامل ہے ﴿ثُمَّ جَاءُوكَ ﴾ ” پھر آپ کے پاس آتے ہیں۔“ یعنی جو کچھ ان سے صادر ہوا اس پر معذرت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں۔ ﴿يَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا ﴾ ” اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا۔“ یعنی ہمارا مقصد تو صرف جھگڑے کے فریقین کے ساتھ بھلائی کرنا اور ان کے درمیان صلح کروانا ہے۔ حالانکہ وہ اس بارے میں سخت جھوٹے ہیں۔ بھلائی تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تحکیم میں ہے۔﴿وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴾(المائدہ :5؍ 50) ” جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اچھا فیصلہ کس کا ہے؟“ النسآء
63 اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ يَعْلَمُ اللَّـهُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ ﴾ ” یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں کا بھید اللہ تعالیٰ پر بخوبی روشن ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کےنفاق اور برے مقاصد کو جانتا ہے۔﴿ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ کی پروانہ کیجیے اور جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس پر دھیان نہ دیجیے ﴿ وَعِظْهُمْ ﴾ ” اور انہیں نصیحت کریں۔“ یعنی انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ترغیب دیتے ہوئے اور ترک اطاعت پر انہیں ڈراتے ہوئے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا حکم بیان کیجیے۔ ﴿وَقُل لَّهُمْ فِي أَنفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيغًا  ﴾ ” اور ان سے وہ بات کیجیے جو ان کے دلوں میں گھر کرنے والی ہو“ یعنی اپنے درمیان اور ان کے درمیان معاملے کو راز رکھتے ہوئے انہیں نصیحت کیجیے۔ حصول مقصد کے لیے یہ طریقہ زیادہ مفید ہے اور ان کو برائیوں سے روکنے اور زجر و توبیخ میں پوری کوشش سے کام لیجیے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ گناہگار کے ساتھ اگر اعراض کیا جائے تو پوشیدہ طور پر اس کے لیے خیر خواہی کا اہتمام ضرور کیا جائے اور اس کو نصیحت کرنے میں پوری کوشش سے کام لیا جائے جس سے وہ اپنا مقصد حاصل کرسکے۔ النسآء
64 اللہ تبارک و تعالیٰ اوامر کے ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری کی ترغیب دیتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ انبیاء و رسل کو مبعوث کرنے کی غرض و غایت صرف یہی ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور جن کی طرف رسول بھیجا گیا ہے وہ اس کے تمام احکام کی تعمیل کریں، اس کے نواہی سے اجتناب کریں اور وہ اس کی ویسے ہی تعظیم کریں جیسے اطاعت کرنے والا مطاع کی تعظیم کرتا ہے۔ اس آیت میں عصمت انبیاء کا اثبات ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے، حکم دینے اور منع کرنے میں ہر لغزش سے پاک ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو انبیاء کرام کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے اگر وہ منصب تشریع میں خطا سے پاک نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا۔ ﴿بِإِذْنِ اللَّـهِ ﴾ ” اللہ کے فرمان کے مطابق۔“ یعنی اطاعت کرنے والے کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے صادر ہوتی ہے۔ پس اس آیت میں قضا و قدر کا اثبات ہے نیز اس میں اس امر کی ترغیب ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہئے نیز اس میں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان اس وقت تک رسول کی اطاعت نہیں کرسکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال نہ ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم جود و کرم کا ذکر فرمایا ہے اور ان لوگوں کو دعوت دی ہے جن سے گناہ سرزد ہوئے کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں، توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں۔ چنانچہ فرمایا : ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ ﴾ ” اور اگر یہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا آپ کے پاس آجاتے“ یعنی اپنے گناہوں کا اعتراف اور اقرار کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے۔ ﴿ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّـهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّـهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا﴾ ” اور اللہ سے استغفار کرتے اور رسول ان کے لیے استغفار کرتا تو یقیناً یہ لوگ اللہ کو معاف کرنے والا مہربان پاتے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کا ظلم بخش کر ان کی طرف پلٹ آتا۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے، توبہ کی توفیق اور اس پر ثواب عطا کر کے ان پر رحم فرماتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس حاضری کا تعلق آپ کی زندگی کے ساتھ مختص تھا کیونکہ سیاق دلالت کرتا ہے کہ رسول کی طرف سے استغفار آپ کی زندگی ہی میں ہوسکتا ہے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ سے کچھ نہ مانگا جائے، بلکہ یہ شرک ہے۔ النسآء
65 پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اقدس کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے جھگڑوں میں اس کے رسول کو حکم تسلیم نہ کریں۔ یعنی ہر اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اور فیصل تسلیم کریں جس میں اجماعی مسائل کے برعکس ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف واقع ہو۔ کیونکہ اجماعی مسائل کتاب و سنت کی دلیل پر مبنی ہوتے ہیں۔ پھر اس تحکیم کو تسلیم کرنا ہی کافی قرار نہیں دیا بلکہ یہ شرط بھی عائد کی کہ آپ کو حکم تسلیم کرنا محض اغماض کے پہلو سے نہ ہو بلکہ ان کے دلوں میں کسی قسم کی تنگی اور حرج نہ ہو اور اس تحکیم کو ہی کافی قرار نہیں دیا جب تک کہ وہ شرح صدر، اطمینان نفس، ظاہری اور باطنی اطاعت کے ساتھ آپ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرلیں۔ پس آپ کو حکم تسلیم کرنا اسلام کے مقام میں ہے۔ اس تحکیم میں تنگی محسوس نہ کرنا، ایمان کے مقام میں ہے اور آپ کے فیصلے پر تسلیم و رضا احسان کے مقام میں ہے۔ جس کسی نے ان مراتب کو مکمل کرلیا اس نے دین کے تمام مراتب کی تکمیل کرلی اور جس نے اس کا التزام کئے بغیر اس تحکیم کو ترک کردیا وہ کافر ہے اور جس نے التزام کرنے کے باوجود اس تحکیم کو ترک کردیا وہ دیگر گناہگاروں کی مانند ہے۔ النسآء
66 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر شاق گزرنے والے احکام فرض کئے ہوتے مثلاً، اپنے آپ کو قتل کرنا اور گھروں سے نکلنا وغیرہ تو اس پر بہت کم لوگ عمل کرسکتے، پس انہیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے آسان احکام نافذ کئے ہیں جن پر عمل کرنا ہر ایک کے لیے آسان ہے اور ان میں کسی کے لیے مشقت نہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ مومن کو چاہئے کہ اسے جو امور گراں گزرتے ہیں، وہ ان کی ضد کو ملاحظہ کرے تاکہ اس پر عبادات آسان ہوجائیں، تاکہ اپنے رب کے لیے اس کی حمد و ثنا اور شکر میں اضافہ ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انہوں نے اس چیز پر عمل کیا ہوتا جس کی انہیں نصیحت کی گئی ہے، یعنی تمام اوقات کے مطابق ان کے لیے جو اعمال مقرر کئے گئے ہیں، ان کے لیے اپنی ہمتیں صرف کرتے ان کے انتظام اور ان کی تکمیل کے لیے ان کے نفوس پوری کوشش کرتے اور جو چیز انہیں حاصل نہ ہوسکتی اس کے لیے کوشش نہ کرتے اور اس کے درپے نہ ہوتے اور بندے کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ اپنے حال پر غور کرے جس کو قائم کرنا لازم ہے اس کی تکمیل میں جدوجہد کرے۔ پھر بتدریج تھوڑا تھوڑا آگے بڑھتا رہے یہاں تک کہ جو دینی اور دنیاوی علم و عمل اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے اسے حاصل کرلے۔ یہ اس شخص کے برعکس ہے جو اس معاملے پر ہی نظریں جمائے رکھتا ہے جہاں تک وہ نہ پہنچ سکا اور نہ اس کو اس کا حکم دیا گیا تھا۔ کیونکہ وہ تفریق ہمت، سستی اور عدم نشاط کی بنا پر اس منزل تک نہیں پہنچ سکا۔ پھر ان کو جو نصیحت کی گئی ہے اس پر عمل کرنے سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں ان کے چار مراتب ہیں۔ اول : بھلائی کا حصول۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ذکر کیا گیا ہے ﴿لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ﴾” البتہ ان کے لیے بہتر ہوتا“ یعنی ان کا شمار نیک لوگوں میں ہوتا جو ان افعال خیر سے متصف ہیں جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا اور ان سے شریر لوگوں کی صفات زائل ہوجاتیں کیونکہ کسی چیز کے ثابت ہونے سے اس کی ضد کی نفی لازم آتی ہے۔ ثانی : ثابت قدمی اور اس میں اضافے کا حصول۔ کیونکہ اہل ایمان کے ایمان کو قائم رکھنے کے سبب، جسے قائم رکھنے کی انہیں نصیحت کی گئی تھی، اللہ تعالیٰ انہیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی میں، اوامرونواہی میں فتنوں کے وارد ہونے اور مصائب کے نازل ہونے کے وقت انہیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے، تب انہیں ثبات حاصل ہوتا ہے اوامر پر عمل کرنے اور ان نواہی سے اجتناب کی توفیق عطا ہوتی ہے نفس جن کے فعل کا تقاضا کرتا ہے اور ان مصائب کے نازل ہونے پر ثابت قدمی اور استقامت عطا ہوتی ہے جن کو بندہ ناپسند کرتا ہے۔ بندے کو صبر و رضا اور شکر کی توفیق کے ذریعے سے ثابت قدمی عطا ہوتی ہے۔ پس بندے پر اس کی ثابت قدمی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نازل ہوتی ہے اور اسے نزع کے وقت اور قبر میں ثابت قدمی سے نواز دیا جاتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے اوامر کو قائم رکھنے والا بندہ مومن شرعی احکام کا عادی بن جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان احکام سے مانوس ہوجاتا ہے اور ان احکام کا مشتاق بن جاتا ہے اور یہ الفت اور اشتیاق نیکیوں پر ثبات کے لیے اس کے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ النسآء
67 ثالث :۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَإِذًا لَّآتَيْنَاهُم مِّن لَّدُنَّا أَجْرًا عَظِيمًا ﴾ ” اور تب تو انہیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے۔“ یعنی دنیاو آخرت میں ہم اسے اجر عظیم سے نوازتے جو قلب و روح اور بدن کے لیے ہے اور ایسی ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی نے سنا ہے اور نہ کسی کے طائر خیال کا وہاں سے گزرا ہوا ہے۔ النسآء
68 رابع : صراط مستقیم کی طرف راہنمائی۔ یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے کیونکہ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی شرف کی حامل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدایت حق کے علم کو، حق کے ساتھ محبت اور حق کو ترجیح دینے اور اس پر عمل کرنے کو اور اس پر فلاح و سعادت کے موقوف ہونے کو متضمن ہوتی ہے۔ پس جس کسی کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کردی گئی اسے گویا ہر بھلائی کی توفیق عطا کردی گئی اور اس سے ہر برائی اور ہر ضرر کو دور کردیا گیا۔ النسآء
69 یعنی ہر وہ شخص جو اپنے حسب حال، قدر واجب کے مطابق، خواہ مرد ہو یا عورت اور بچہ ہو یا بوڑھا، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے۔ ﴿فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم ﴾ ” پس یہی وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے فضل کیا“ یعنی ان کو عظیم نعمت سے نوازا، جو کمال، فلاح اور سعادت کی مقتضی ہے۔ ﴿مِّنَ النَّبِيِّينَ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے وحی عطا کر کے فضیلت بخشی اور انہیں خصوصی فضیلت عطا کی کہ ان کو لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی ﴿وَالصِّدِّيقِينَ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس وحی کی کامل تصدیق کی جو رسول لے کر آئے تھے۔ انہوں نے حق کو جان لیا اور یقین کامل کے ساتھ اس کی تصدیق کی اور پھر اپنے قول و فعل، حال اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے کر اس حق کو قائم کیا۔ ﴿وَالشُّهَدَاءِ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو اور قتل کردیئے گئے۔ ﴿وَالصَّالِحِينَ ﴾یہ وہ لوگ ہیں جن کا ظاہر و باطن درست ہے اور اس کے نتیجے میں ان کے اعمال درست ہیں۔ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ ان لوگوں کی صحبت سے بہرہ ور ہوگا۔ ﴿وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا ﴾ان مذکورہ اصحاب فضیلت کے ساتھ نعمت والے باغوں میں اکٹھے ہونا اور اللہ رب العالمین کے جوار میں ان اصحاب کی قربت کا انس، ایک اچھی رفاقت ہے۔ النسآء
70 ﴿ذَٰلِكَ الْفَضْلُ ﴾ یہ فضیلت جو انہوں نے حاصل کی ہے ﴿مِنَ اللَّـهِ﴾ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے انہیں اس کی توفیق سے نوازا، اس کے حصول میں ان کی مدد کی اور انہیں اتنا زیادہ ثواب عطا کیا کہ ان کے اعمال وہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ ﴿وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ عَلِيمًا ﴾یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کا علم رکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان میں سے کون ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے، جن پر ان کا دل اور اعضاء متفق ہوں، ثواب جزیل (زیادہ اجر) کا مستحق ہے۔ النسآء
71 اللہ تبارک و تعالیٰ اپن مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے کفار دشمنوں سے چوکنے رہو۔ یہ حکم ان تمام اسباب کو شامل ہے جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتے ہیں۔ جن کے ذریعے سے دشمن کی چالوں اور سازشوں کو ناکام بنایا جاتا اور اس کی قوت کو توڑا جاتا ہے۔ مثلاً قلعہ بندیوں اور خندقوں کا استعمال، تیر اندازی اور گھوڑ سواری سیکھنا اور ان تمام صنعتوں کا علم حاصل کرنا جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتا ہے، وہ علوم سیکھنا جن کے ذریعے سے دشمن کے داخلی اور خارجی حالات اور ان کی سازشوں سے باخبر رہا جا سکے اور اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَانفِرُوا ثُبَاتٍ﴾ ” جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو۔“ یعنی متفرق ہو کر جہاد کے لیے نکلو اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک جماعت یا لشکر جہاد کے لیے نکلے اور دیگر لوگ مقیم رہیں ﴿ أَوِ انفِرُوا جَمِيعًا ﴾ ” یا تمام کے تمام جہاد کے لیے نکلو۔“ یہ سب کچھ مصلحت، دشمن پر غلبہ حاصل کرنے اور دین میں مسلمانوں کی راحت کے تابع ہے۔ اس آیت کریمہ کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ  ﴾ (الانفال :8؍60) ” جہاں تک ہو سکے دشمن کے مقابلہ کے لیے فوجی قوت تیار کرو۔ “ النسآء
72 پھر اللہ تعالیٰ نے ان کمزور ایمان مسلمانوں کے بارے میں آگاہ فرمایا جو کاہلی کی بنا پر جہاد سے جی چراتے ہیں۔ ﴿وَإِنَّ مِنكُمْ لَمَن لَّيُبَطِّئَنَّ  ﴾ ” اور تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ عمداً دیر لگاتا ہے۔“ یعنی اے اہل ایمان ! تم میں سے بعض لوگ کمزوری، سستی اور بزدلی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نہیں نکلتے۔ یہی تفسیر صحیح ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس کے معنی ہیں، کہ وہ دوسروں کو جہاد کے لیے نکلنے سے روکتے ہیں۔ ایسا کرنے والے منافق تھے لیکن پہلے معنی دو لحاظ سے زیادہ صحیح ہیں۔ اول : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿مِنكُمْ ﴾” تم میں سے“ اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ النسآء
73 ثانی : آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ كَأَن لَّمْ تَكُن بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ مَوَدَّةٌ ﴾ ” گویا کہ تمہارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی نہ تھی“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفار، مشرکین، منافقین اور اہل ایمان کے مابین محبت اور مودت کو منقطع کردیا، نیز یہ فی الواقع ایسے ہی ہے، اس لیے کہ اہل ایمان کی دو قسمیں ہیں۔ (١) وہ لوگ جو اپنے ایمان میں سچے ہیں، یہ صدق ایمان ان کے لیے کامل تصدیق اور جہاد کا موجب ہوتا ہے۔ (٢) وہ کمزور لوگ جو اسلام میں داخل ہوتے ہیں مگر وہ کمزور ایمان کے مالک ہوتے ہیں جہاد پر نکلنے کے لیے قوت سے محروم ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَـٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا  ۔۔۔﴾ (الحجرات :49؍14) ” عرب دیہاتی کہتے ہیں: ہم ایمان لائے۔ کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نہ نکلنے والوں کی غرض و غایت اور ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کا سب سے بڑا مقصد دنیا اور اس کے چند ٹکڑے ہیں۔ ﴿ فَإِنْ أَصَابَتْكُم مُّصِيبَةٌ ﴾ ” پھر اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے“ یعنی اگر تمہیں ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے، اہل ایمان قتل ہوتے ہیں اور بعض حالات میں دشمن ظفریاب ہوتا ہے کیونکہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کچھ حکمت ہوتی ہے ﴿قَالَ ﴾ یعنی جہاد سے جی چرا کر بیٹھ رہنے والا کہتا ہے : ﴿قَدْ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيَّ إِذْ لَمْ أَكُن مَّعَهُمْ شَهِيدًا ﴾” اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہیں تھا“ وہ اپنی ضعف عقل اور ضعف ایمان کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا نعمت ہے حالانکہ یہی تو مصیبت ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ حقیقی نعمت تو اس بڑی نیکی کی توفیق ہے جس کے ذریعے سے ایمان قوی ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بندہ عذاب اور خسران سے محفوظ ہوتا ہے اور اس جہاد میں ثواب اور رب کریم و وہاب کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ رہا جہاد چھوڑ کر بیٹھ رہنا تو اگرچہ پیچھے بیٹھ رہنے والا تھوڑا سا آرام تو کرلیتا ہے مگر اس آرام کے بعد طویل دکھ اور بہت بڑی تکالیف کا سامنا کرناپڑتا ہے اور وہ اس عظیم اجر و ثواب سے بھی محروم ہوجاتا ہے جو مجاہدین کو حاصل ہوتا ہے۔ پھر فرمایا : ﴿وَلَئِنْ أَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللَّـهِ ﴾ ” اور اگر تمہیں اللہ کا کوئی فضل مل جائے“ یعنی فتح و نصرت اور مال غنیمت ﴿لَيَقُولَنَّ كَأَن لَّمْ تَكُن بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ مَوَدَّةٌ يَا لَيْتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾” تو اس طرح ہے کہ گویا تم میں، اس میں دوستی تھی ہی نہیں، (افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرلیتا۔“ یعنی وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ بھی جہاد میں شریک ہوتا تاکہ وہ بھی مال غنیمت حاصل کرسکتا۔ مال غنیمت کے سوا اس کا کوئی مقصد ہے، نہ اس کے سوا کسی اور چیز میں رغبت ہے۔ اے مسلمانوں کے گروہ ! وہ گویا تم میں سے نہیں ہیں اور نہ ان کے درمیان اور تمہارے درمیان رشتہ ایمان کی مودت و محبت ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ تمام مومنین اپنے مفادات و مصالح اور دفع ضرر میں مشترک ہیں۔ وہ اس کے حصول پر خوش ہوتے ہیں خواہ یہ مفاد و مصلحت مومن بھائیوں میں سے کسی کے ذریعے سے حاصل ہوئے ہوں اس سے محرومی پر دکھ محسوس کرتے ہیں اور جس میں ان کے دین اور دنیا کی اصلاح ہو، اس کے حصول کے لیے سب مل کر کوشش کرتے ہیں اور یہ فقط دنیا کی تمنا کرتا ہے اور مذکورہ روح ایمانی سے تہی دست ہوتا ہے۔ یہ بندوں پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ ان پر اپنی رحمت کا سلسلہ منقطع کرتا ہے، نہ اپنی رحمت کے دروازے ان پر بند کرتا ہے بلکہ اگر کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جو اس کے حکم کے مطابق نہیں ہوتا تو وہ اسے اپنے نقصان کی تلافی کرنے اور اپنے نفس کی تکمیل کی دعوت دیتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اخلاص اور اللہ کی راہ میں نکلنے کا حکم دیا ہے۔ النسآء
74 فرمایا : ﴿فَلْيُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ۚ ﴾ ” پس چاہئے کہ وہ لوگ اللہ کے راستے میں لڑیں جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچتے ہیں“ یہ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں چند اقوال میں سے ایک قول ہے اور سب سے زیادہ صحیح ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ ان مومنوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا چاہئے جو اپنے ایمان میں کامل اور صدق کے حامل ہیں۔ ﴿الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ﴾ یعنی آخرت میں رغبت رکھتے ہیں دنیا کو آخرت کے بدلے بیچ دیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ کے خطاب کا رخ ہے کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے تیار کر کے عادی بنا لیا ہے، اس لیے کہ یہ لوگ ایمان کامل کے حامل ہیں جو جہاد کا تقاضا کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو جہاد کے لیے نہیں اٹھتے تو یہ لوگ جہاد کے لیے نکلیں یا گھر بیٹھے رہیں اللہ تعالیٰ کو ان کی پروا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے ﴿قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا ۚ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا ﴾(بنی اسرائیل :17؍107) ” کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں“ آیات کے آخرتک۔ نیز اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔﴿فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَـٰؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ  ﴾(الانعام :6؍89 ) اگر یہ کفار اس کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے اس پر ایمان لانے کے لیے کچھ ایسے لوگوں کو مقرر کردیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں۔ “ بعض کہتے ہیں کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ لڑائی کرنے والے مجاہد کو کفار کے خلاف لڑنا چاہئے جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی ہے۔ تب اس صورت میں آیت کریمہ میں موجود لفظ (اَلَّذِیْنَ) مفعول ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔ فرمایا :﴿وَمَن يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ﴾ ”اور جو لڑتا ہے اللہ کے راستے میں“ یعنی یہ جہاد ہو جس کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اور بندہ اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور اس کی رضا کا قصد رکھتا ہو ﴿ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا  ﴾ ”پس وہ قتل کردیا جائے یا غالب آجائے، ہم اسے اجر عظیم عطا کریں گے“ یعنی یہ اجر ان کے دین و ایمان میں اضافہ، مال غنیمت اور ثنائے حسن کی صورت میں عطا ہوگا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ ثواب تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کا کبھی گزر ہوا۔ النسآء
75 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے اس کی راہ میں جہاد کی ترغیب ہے نیز یہ کہ جہاد ان پر فرض کردیا گیا ہے اور ترک جہاد ان کے لیے بہت بڑی ملامت کا باعث ہوگا۔ ﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ﴾ ” تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں لڑتے نہیں؟“ اور حال یہ ہے کہ مستضعفین مرد، عورتیں اور بچے جن کے پاس کوئی چارہ ہے نہ ان کے پاس آزادی حاصل کرنے کا کوئی راستہ اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں دشمنوں کے ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ وہ ان کو اس بستی سے نکالے جس کے باشندے کفر و شرک کے ارتکاب کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں اہل ایمان کو اذیتیں دے کر، ان کو اللہ کے راستے سے روک کر اور انہیں دعوت دین اور ہجرت سے منع کر کے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کا کوئی ولی اور مددگار مقرر فرما دے جو انہیں اس ظالم بستی سے نکال لے جائے۔ تب اس صورت میں جہاد تمہارے بچوں، عورتوں اور تمہاری عزت و ناموس کے دفاع کے زمرے میں شمار ہوگا۔ کیونکہ جہاد تو وہ ہے جس میں کفار کے مقابلے کی خواہش ہو۔ جہاد کی اگرچہ بہت بڑی فضیلت ہے اور جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اس سے بڑھ کر ملامت ہے۔ تاہم وہ جہاد جس کے ذریعے سے اہل ایمان مستضعفین کو کفار سے نجات دلائی جاتی ہے اجر و ثواب کے اعتبار سے سب سے عظیم اور فائدے کے لحاظ سے سب سے بڑا جہاد ہے کیونکہ یہ دشمنوں سے دفاع کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ النسآء
76 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے کہ اہل ایمان اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ﴾ ”اور کافر طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں“ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے۔ اس آیت سے متعدد فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ (١) بندہ مومن کے ایمان، اس کے اخلاص اور اس کی اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق، اس کا جہاد اللہ کے راستے میں جہاد شمار ہوتا ہے۔ پس جہاد فی سبیل اللہ ایمان کے آثار، اس کے مقتضیات اور اس کے لوازم میں سے ہے۔ جیسے طاغوت کی راہ میں لڑنا کفر اور اس کے مقتضیات میں سے ہے۔ (٢) جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اس کے لیے مناسب اور بہتر یہ ہے کہ وہ ایسے صبر و استقلال سے کام لے جس کا مظاہرہ دیگر لوگ نہیں کرسکتے جب اولیائے شیطان لڑائی کرتے ہیں اور لڑائی میں صبر سے کام لیتے ہیں حالانکہ وہ اہل باطل ہیں۔ تب اہل حق کو تو صبر و استقلال سے زیادہ کام لینا چاہیے جیسا کہ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿إِن تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّـهِ مَا لَا يَرْجُونَ﴾(النساء :4؍104) ” اگر تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو جس طرح تمہیں تکلیف پہنچتی ہے اسی طرح ان کفار کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ البتہ تم اللہ تعالیٰ سے ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔ “ (٣) وہ بندہ مومن جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اس کے پاس ایک مضبوط سہارا ہوتا ہے اور وہ ہے حق اور اللہ تعالیٰ پر توکل۔ اس مضبوط اور صاحب قوت ہستی سے صبر و ثبات اور نشاط طلب کئے جاتے ہیں۔ جبکہ باطل کے راستے میں لڑنے والے، جس کی کوئی حقیقت نہیں اور نہ اس کا کوئی قابل تعریف انجام ہے یہ صبر و ثبات کہیں سے طلب نہیں کرسکتے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا ﴾’’تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو یقیناً شیطان کا داؤ کمزور ہوتا ہے۔“ (کید) سے مراد وہ خفیہ چال ہے جس کے ذریعے سے دشمن کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ شیطان کی چال خواہ کتنی ہی خطرناک کیوں نہ ہو، بہرحال وہ انتہائی کمزور ہوتی ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ حق کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ نہ وہ اس چال کے سامنے کھڑی رہ سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے لیے چلتا ہے۔ النسآء
77 جب مسلمان مکہ مکرمہ میں تھے تو انہیں نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا گیا تھا، یعنی محتاجوں کی غمگساری کرنا اور اس سے مراد وہ معروف زکوٰۃ نہیں جو ایک مخصوص نصاب کے مطابق اور مخصوص شرائط کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ یہ زکوٰۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی تھی اسی طرح اس وقت تک متعدد فوائد کی بنا پر جہاد کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ مثلاً (١) اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں پر شریعت کے احکام اس طرح فرض کرے کہ وہ ان پر شاق نہ گزریں۔ سب سے پہلے اہم ترین امر کا حکم دے، پھر آسان امور سے ابتدا کر کے بتدریج مشکل امور کا حکم دے۔ (٢) اگر اہل ایمان پر ان کی قلت تعداد و قلت سامان اور کثرت اعداء کے باوجود قتل فرض کردیا جاتا تو یہ چیز اسلام کو مضمحل کردیتی۔ اس لیے چھوٹی مصلحت کو نظر انداز کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی گئی اور اس میں اس قسم کی دیگر حکمتیں تھیں۔ بعض اہل ایمان چاہتے تھے کہ اس حال میں بھی ان پر قتال فرض کردیا جاتا مگر ان حالات میں ان پر جہاد فرض کیا جانا مناسب نہ تھا۔ اس وقت ان لوگوں کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ توحید، نماز، زکوٰۃ اور اس نوع کے دیگر احکام پر عمل کرتے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا ﴾(النساء :4؍66) ” اگر یہ اس نصیحت پر عمل کرتے جو ان کو کی جاتی ہے تو ان کے لیے بہتر ہوتا اور دین میں زیادہ ثابت قدمی اور استقامت کا باعث ہوتا۔ “ جب مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور اسلام قوی ہوگیا تومناسب وقت پر ان پر قتال فرض کردیا گیا۔ وہ لوگ جو اس سے قبل قتال فرض ہونے کے لیے جلدی مچاتے تھے ان میں سے ایک گروہ نے لوگوں کے خوف، کمزوری اور بزدلی کی وجہ سے کہا۔ ﴿ رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ﴾ ” اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا ؟“ ان الفاظ سے ان کی تنگ دلی اور اللہ تعالیٰ پر اعتراض کا اظہار ہوتا ہے حالانکہ ان کے لیے مناسب حال یہ تھا کہ وہ اس سے متضاد رویہ کا اظہار کرتے یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور اس کے اوامر پر صبر کرنا، مگر جو کچھ ان سے مطلوب تھا انہوں نے اس کے برعکس کیا۔ پس انہوں نے کہا ﴿لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ﴾ ” تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی۔“ یعنی تو نے قتال کی فرضیت کچھ عرصہ اور مؤخر کیوں نہ کردی۔ غالب طور پر اس قسم کی صورت ان لوگوں کو پیش آتی ہے جو غیر سنجیدہ ہوتے ہیں اور تمام امور میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا غالب رویہ یہ ہوتا ہے کہ ان امور کے نازل ہونے پر یہ لوگ صبر نہیں کرسکتے۔ یہ امور ان کے لیے بوجھل تو نہیں مگر یہ لوگ بہت ہی کم صبر سے بہرہ ور ہیں۔ جن حالات میں وہ جہاد سے جی چرا کر بیٹھ رہے ان سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو نصیحت کی چنانچہ فرمایا : ﴿قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ﴾ ” آپ کہہ دیجیے دنیا کا فائدہ تو بہت ہی کم ہے اور آخرت اس شخص کے لیے بہتر ہے جو متقی ہے“ یعنی دنیا کی لذت اور راحت سے فائدہ اٹھانا بہت ہی کم عرصہ کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں تھوڑی سی مدت کے لیے بھاری بوجھ اٹھانا نفوس انسانی کے لیے آسان اور ہلکا ہوتا ہے کیونکہ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مشقت جو وہ برداشت کر رہا ہے طویل عرصے کے لیے نہیں ہے تو اس کے لیے اس کو برداشت کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ تب کیا کیفیت ہوگی جب تو دنیا اور آخرت کا موازنہ کرے اور معلوم ہو کہ آخرت اپنی ذات اور لذات میں اور زمان کے اعتبار سے دنیا سے کہیں بہتر ہے۔ جنت کی ذات کے بارے میں ایک صحیح حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” جنت میں ایک کوڑے کے برابر جگہ دینا اور اس کی موجودات سے کہیں بہتر ہے۔“ [جامع ترمذي، تفسير، باب و من سورة آل عمران، حديث: 3513] جنت کی لذتیں ہر قسم کی کدورتوں سے پاک ہیں بلکہ لذت کا جو تصور بھی فکر و خیال کی گرفت میں آسکتا ہے۔ جنت کی لذتیں اس پر فوقیت رکھتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ ﴾(السجدہ :32؍17) ” کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان کے لیے (جنت میں) کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔“ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر فرمایا :” میں نے (جنت میں) اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں ان کا کبھی گزر ہوا ہے۔“ [مسند احمد: 2؍ 438] رہی دنیا کی لذتیں تو یہ مختلف قسم کی کدورتوں کے شائبے سے پاک نہیں ہوتیں۔ اگر ان لذات کا ان آلام و مصائب اور غم و ہموم سے مقابلہ کیا جائے جو ان لذات کے ساتھ ملے ہوتے ہیں تو جنت کی لذتوں کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے ان کی کوئی نسبت ہی نہیں۔ رہا ان لذات کا زمانہ، تو دنیا آخر کار ختم ہوجائے گی اور انسان کی عمر، دنیا کی نسبت سے نہایت ہی معمولی سا عرصہ ہے۔ آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں اور وہاں کے رہنے والوں کے لیے ہمیشہ کی زندگی ہے۔ جب عقلمند شخص ان دو گھروں کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے اور ان کی حقیقت کا تصور کرتا ہے جیسا کہ تصور کرنے کا حق ہے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ ان میں سے کو نسا گھر ترجیح کا مستحق ہے؟ کس کے لیے کوشش کرنی چاہئے اور کس کی طلب میں اسے جدوجہد کرنی چاہئے؟ ﴿ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ﴾” اور پرہیز گار کے لیے آخرت تو بہت اچھی چیز ہے۔“ یعنی جو کوئی شرک اور دیگر تمام محرمات سے بچتا ہے اس کے لیے آخرت بہتر ہے۔ ﴿وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا﴾” اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا“ تم آخرت کے گھر کے لیے جو دوڑ دھوپ کرو گے تو اس کا کامل اور وافر اجر پاؤ گے جس میں کچھ بھی کم نہ ہوگی۔ النسآء
78 اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ بچاؤ کی تدبیر تقدیر کے مقابلے میں کوئی کام نہیں آسکتی اور گھر میں بیٹھ رہنے والے کا بیٹھنا، اللہ کی تقدیر کو ہٹا نہیں سکتا۔ ﴿أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ﴾ ” تم جہاں کہیں بھی رہو موت تمہیں آ پکڑے گی“ یعنی تم کسی زمانے میں اور کسی بھی جگہ پر ہو ﴿وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ﴾ ” خواہ تم مضبوط قلعوں اور اونچے محلوں میں ہی پناہ کیوں نہ لے لو (موت تمہیں پا لے گی۔ “ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کی ترغیب کے لیے ہے اللہ تعالیٰ کبھی تو جہاد کی فضیلت اور اس کا ثواب بیان کر کے اس کی ترغیب دیتا ہے اور کبھی جہاد کو ترک کرنے کی سزا سے ڈرا کر جہاد پر آمادہ کرتا ہے۔ کبھی اس بارے میں آگاہ کر کے جہاد کے لیے ابھارتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر گھروں میں بیٹھ رہنے والوں کا بیٹھنا کسی کام نہیں آتا اور کبھی کبھی اللہ تعالیٰ جہاد کے راستے کو ان کے لیے آسان کردیتا ہے۔ ﴿وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ﴾ ” اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے“ اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو علم نہیں رکھتے، انبیاء و رسل کی تعلیمات سے روگردانی اور ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ جب انہیں کوئی بھلائی مثلاً شادابی، کثرت مال، کثرت اولاد اور صحت وغیرہ حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں ﴿هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ﴾ ” یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ جب انہیں کسی تکلیف مثلاً قحط، فقر و فاقہ، احباب و اولاد کی موت اور مرض وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے تو پکار اٹھتے ہیں ﴿هَـٰذِهِ مِنْ عِندِكَ﴾ ” یہ (تکلیف) آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچی) ہے۔“ یعنی اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ تمام مصیبت اس کے سبب سے آن پڑی ہے جو آپ لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے بدشگونی لی، جیسا کہ ان سے پہلے کفار اللہ تعالیٰ کے رسولوں سے براشگون لیتے رہے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی قوم کے بارے میں خبر دی ہے : ﴿فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَـٰذِهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ) (الاعراف :7؍131) ” جب ان کو کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچتی ہے تو موسیٰ اور ان کے اصحاب کی بدشگونی قرار دیتے ہیں“ اور جیسا کہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے کہا : ﴿اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ﴾ (النمل:27؍47) ” تم اور تمہارے ساتھی ہمارے لیے بدشگونی کا باعث ہیں“ اور جیسے سورۃ یٰسین میں مذکور قوم نے اپنے رسولوں سے کہا : ﴿إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهُوا لَنَرْجُمَنَّكُمْ ﴾ (یٰسین :36؍18) ” ہم تمہیں بدشگون سمجھتے ہیں اگر تم باز نہیں آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔ “ چونکہ کفر کی وجہ سے ان کے دل باہم مشابہ ہیں اس لیے ان کے اقوال و افعال میں بھی مشابہت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو برائی کے حصول اور بھلائی کے زوال کو انبیائے کرام کی تعلیمات یا بعض تعلیمات سے منسوب کرتے ہیں وہ اس مذمت میں داخل ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے : ﴿ ﴿قُلْ كُلٌّ ﴾ ” کہہ دیجیے کہ سب“ یعنی نیکی اور برائی خیر اور شر ﴿مِّنْ عِندِ اللَّـهِ﴾ ” اللہ ہی کی طرف سے ہے۔“ ” یعنی سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے اور اسی کی تخلیق ہے۔ ﴿فَمَالِ هَـٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ﴾” انہیں کیا ہوگیا ہے؟“ یعنی جن لوگوں سے یہ باطل قول صادر ہوا ہے۔ ﴿ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا﴾ ” کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔“ یعنی یہ لوگ بات کو بالکل ہی نہیں سمجھ پاتے اور نہ یہ لوگ سمجھنے کے قریب جاتے ہیں یا یہ لوگ بات کو بہت ہی کم سمجھتے ہیں۔ مذکورہ تمام معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ ان کے عدم فہم اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام میں عدم تفقہ پر زجر و توبیخ ہے اور اس کا سبب ان کا کفر اور روگردانی ہے۔ اس آیت کریمہ میں ضمناً ان لوگوں کی مدح کا پہلو نکلتا ہے جو اللہ تعالیٰ ٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کا فہم رکھتے ہیں، نیز اس میں فہم اور اس کے اسباب کے حصول کی ترغیب ہے۔ یہ فہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے کلام میں تدبر و تفکر اور اس منزل تک پہنچانے والے راستوں پر گامزن ہونے ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو سمجھا ہوتا تو معلوم ہوجاتا کہ نیکی اور برائی اور خیر و شر سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے کوئی چیز باہر نہیں، نیز انبیاء و رسل اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کبھی شر کا باعث نہیں ہوتیں کیونکہ وہ تو دین و دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لیے مبعوث کئے جاتے ہیں۔ النسآء
79 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ﴾” تجھ کو جو فائدہ پہنچے۔“ یعنی دنیا و آخرت میں تجھے جو بھلائی حاصل ہوتی ہے ﴿فَمِنَ اللَّـهِ ۖ﴾ ” وہ لوگ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ وہی ہے جس نے اس بھلائی سے نوازا اور اس کے اسباب پیدا کر کے اس کے حصول کو آسان بنایا ﴿وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ﴾” اور تجھے جو نقصان پہنچے۔“ یعنی دنیا و آخرت میں تجھے جو برائی پہنچتی ہے﴿فَمِن نَّفْسِكَ﴾ ” وہ تیری طرف سے ہے۔ “ یعنی تیرے اپنے گناہوں کی وجہ سے اور تیری اپنی کمائی ہے اور جو اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے فضل و احسان کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ اس نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے فضل و کرم سے بہرہ مند ہونے کے لیے ان دروازوں میں داخل ہوں اور انہیں آگاہ فرمایا ہے کہ گناہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حصول سے مانع ہیں۔ اس لیے جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اسے صرف اپنے نفس کو ملامت کرنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حصول سے تو وہ خود مانع ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا ﴾ ” اور اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) اللہ ہی گواہ کافی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی شہادت اس بات پر کافی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی فتح و نصرت، بڑے بڑے معجزات اور روشن براہین و دلائل کے ساتھ آپ کی تائید فرمائی اور یہ علی الاطلاق سب سے بڑی شہادت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً ۖ قُلِ اللَّـهُ ۖ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ﴾(الانعام :6؍19) ” ان سے پوچھو کہ سب سے بڑی شہادت کس چیز کی ہے۔ کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ ہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ “ جب اسے یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا علم کامل، اس کی قدرت تام اور اس کی حکمت عظیم ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنی تائید سے نوازا اور نصرت عظیم کے ذریعے سے اس کی مدد فرمائی اسے یقین ہوجائے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ ورنہ اگر آپ نے جھوٹ گھڑا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رگ جاں کاٹ دیتا ۔ النسآء
80 یعنی ہر وہ شخص جس نے اوامرونواہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی ﴿فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ﴾ ” اس نے اللہ کی اطاعت کی۔“ کیونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت، اس کی وحی اور تنزیل ہے۔ یہ آیت کریمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت کی دلیل ہے۔ (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے، لہٰذا اگر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچانے کے بارے میں معصوم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا اور اطاعت کرنے والوں کی مدح نہ فرماتا۔ اور اس کا شمار مشترکہ حقوق میں ہوتا ہے۔ یہ حقوق تین اقسام میں منقسم ہوتے ہیں۔ (١) اللہ تعالیٰ کا حق۔ یہ حق مخلوق میں سے کسی کے لیے نہیں ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی طرف رغبت ہے اور ان کے توابع ہیں۔ (٢) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق، جو صرف آپ کے ساتھ مختص ہے وہ ہے آپ کی توقیر، آپ کا احترام اور آپ کی مدد کرنا۔ (٣) حقوق کی تیسری قسم اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان مشترکہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، ان سے محبت کرنا اور ان کی اطاعت کرنا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان حقوق کو اس آیت کریمہ میں جمع کردیا ہے : ﴿لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلً﴾ (الفتح :48؍ 9) ” تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ “ پس جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اس کے لیے وہی ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مترتب ہوتا ہے ﴿وَ مَنْ تَوَلّٰي﴾ ” اور جس نے (اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے) منہ موڑا“ وہ صرف اپناہی نقصان کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتا۔ ﴿فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ﴾ ” ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔“ یعنی ہم نے آپ کو اس لیے مبعوث نہیں کیا کہ آپ ان کے اعمال و احوال کی نگہبانی کریں، بلکہ ہم نے تو آپ کو مبلغ، کھول کھول کر بیان کرنے والا اور ناصح بنا کر بھیجا ہے اور آپ نے اپنا فرض ادا کردیا ہے آپ کے لیے آپ کا اجر واجب ہوگیا۔ خواہ وہ راہ راست اختیار کریں یا نہ کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ ﴾ (الغاشیہ :88؍21-22) ” تم ان کو نصیحت کرتے رہو اور تم صرف نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ تم ان پر نگہبان نہیں۔ “ النسآء
81 نیز یہ بھی لازم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ظاہر و باطن اور جلوت و خلوت میں ہو۔ رہا وہ شخص جو لوگوں کے سامنے اطاعت اور التزام کا اظہار کرتا ہے اور جب تنہا ہوتا ہے یا اپنے ہم مشرب ٹولے کے ساتھ ہوتا ہے تو اطاعت ترک کردیتا ہے اور ایسے کام کرتا ہے جو اطاعت کی ضد ہوتے ہیں تو ایسی اطاعت جس کا اس نے اظہار کیا ہے اس کے لیے نفع مند اور مفید نہیں ہے۔ اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَيَقُولُونَ طَاعَةٌ ﴾ ” وہ کہتے ہیں مان لیا۔“ یعنی جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں تو اطاعت کا اظہار کرتے ہیں ﴿فَإِذَا بَرَزُوا مِنْ عِندِكَ﴾ ” جب وہ آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں“ یعنی تنہا ہوتے ہیں اور ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ کوئی ان کی اس حالت سے مطلع نہیں ہوتا۔ ﴿بَيَّتَ طَائِفَةٌ مِّنْهُمْ غَيْرَ الَّذِي تَقُولُ﴾ ” مشورہ کرتے ہیں رات کو کچھ لوگ ان میں سے اس کے خلاف جو آپ کہتے ہیں۔“ تورات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں اور وہاں ان کے پاس نافرمانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿بَيَّتَ طَائِفَةٌ مِّنْهُمْ غَيْرَ الَّذِي تَقُولُ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ وہ معاملہ جس کو انہوں نے دائمی و تیرہ بنایا ہوا تھا وہ عدم اطاعت کا رویہ تھا۔ کیونکہ (تَبْیْت) سے مراد رات کے وقت اس طرح معاملات کی تدبیر کرنا ہے کہ اس پر رائے کا استقرار ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر وعید سناتے ہوئے فرمایا : ﴿وَاللَّـهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ ۖ﴾” اور اللہ لکھتا ہے جو وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ان کارستانیوں کو محفوظ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کو ان کارستانیوں کی پوری پوری جزا دے گا یہ ان کے لیے وعید ہے۔ ان کی ان کارستانیوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اعراض اور سختی کا حکم دیا ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا، اس کے دین کی نصرت اور اس کی شریعت کے نفاذ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ﴿فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ وَكِيلًا ﴾ ” پس آپ ان سے منہ پھیر لیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اللہ تعالیٰ کافی کار ساز ہے۔ “ النسآء
82 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تدبر کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہاں تدبر سے مراد ہے کتاب اللہ کے معانی میں غور و فکر اس کے مبادی، نتائج و عواقب اور اس کے لوازم میں گہری نظر سے سوچنا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تدبر تمام علوم و معارف کی کنجی ہے۔ ہر بھلائی اسی کے ذریعے سے حاصل کی جاتی ہے اور تمام علوم کا استخراج اسی سے کیا جاتا ہے۔ کتاب اللہ ہی سے قلب میں ایمان کا اضافہ ہوتا ہے اور شجرہ ایمان جڑ پکڑتا ہے۔ کتاب اللہ ہی رب معبود کی معرفت عطا کرتی ہے، اس معرفت سے نوازتی ہے کہ رب معبود کی صفات کمال کیا ہیں اور وہ کون سی صفات نفس سے منزہ ہے۔ کتاب اللہ اس راستے کی معرفت عطا کرتی ہے جو رب معبود تک پہنچاتا ہے نیز اس راستے پر چلنے والے لوگوں کی معرفت سے نوازتی ہے اور ان نعمتوں کا ذکر کرتی ہے جو رب رحیم کی خدمت میں حاضر ہونے پر عطا ہوں گی۔ کتاب اللہ بندے کو اس کے دشمن کی معرفت عطا کرتی ہے، ایسا دشمن جو حقیقی دشمن ہے۔ ان راہوں کی نشاندہی کرتی ہے جو انسان کو عذاب کی منزل تک پہنچاتی ہیں۔ ان راہوں پر چلنے والے لوگوں کی معرفت عطا کرتی ہے، نیز آگاہ کرتی ہے کہ اسباب عقاب کے وجود پر ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ بندہ مومن کتاب اللہ میں جتنا زیادہ غور و فکر کرے گا اتنا ہی زیاہ اس کے علم و عمل اور بصیرت میں اضافہ ہوگا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے کتاب اللہ میں تدبر و تفکر کا حکم اور اس کی ترغیب دی ہے اور آگاہ فرمایا کہ قرآن عظیم کو نازل کرنے کا مقصد بھی یہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ ﴾ (ص :38؍29) ” یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی جو بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت پکڑیں۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا﴾ (محمد :47؍24) ” کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر کرتے یا (ان کے) دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں؟“ کتاب اللہ میں تدبر کا فائدہ یہ ہے کہ بندہ مومن اس کے ذریعے سے درجہ یقین تک پہنچ جاتا ہے اور اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے کیونکہ اسے صاف نظر آتا ہے کہ یہ کلام ایک دوسرے کی تصدیق اور موافقت کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر، احکام اور اخبار کا اعادہ کیا جاتا ہے، مگر ہر مقام پر وہ ایک دوسرے کی تصدیق اور موافقت کرتے ہیں ایک دوسرے کی مخالفت نہیں کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کامل ہے اور ایک ایسی ہستی کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جس کے علم نے تمام امور کا احاطہ کر رکھا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّـهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا﴾ ” اگر یہ (قرآن) اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً وہ اس میں بہت اختلاف پاتے“ چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لیے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ النسآء
83 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے ایک غیر مناسب فعل پر تادیب ہے۔ اہل ایمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب ان کے سامنے کوئی اہم معاملہ آئے جس کا تعلق مصالح عامہ، امن اور اہل ایمان کی خوشی کے ساتھ ہو یا اس کا تعلق کسی خوف سے ہو جس کے اندر کوئی مصیبت پوشیدہ ہو تو اس کو اچھی طرح جانچ پڑتال کرلیں اور اس خبر کی اشاعت میں عجلت سے کام نہ لیں۔ بلکہ وہ اس خبر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب امر، اہل رائے، اہل علم، خیر خواہی کرنے والوں، عقلمندوں، سنجیدہ اور باوقار لوگوں کی طرف لوٹائیں جو ان تمام امور کی معرفت رکھتے ہیں، جو مسلمانوں کے مصالح اور ان کے اضداد کی پہچان رکھتے ہیں۔ اگر وہ اس خبر کی اشاعت میں کوئی مصلحت، اہل ایمان کے لیے سرور و نشاط کا کوئی پہلو اور انکے دشمنوں سے بچاؤ کی کوئی بات دیکھیں تو وہ ضرور ایسا کریں۔ اگر وہ یہ دیکھیں کہ اس میں مسلمانوں کی کوئی مصلحت نہیں ہے یا اس میں مصلحت تو ہے مگر اس کی مضرت اس مصلحت پر حاوی ہے تو وہ اس خبر کو نہ پھیلائیں۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ﴾ ” تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کرلیتے۔“ یعنی وہ اپنے غور و فکر، درست آراء اور صحیح راہنمائی کرنے والے علوم کے ذریعے سے درست نتائج کا استخراج کرلیں گے۔ اس آیت کریمہ میں ادب و احترام کے ایک قاعدے پر دلیل ہے کہ جب کسی معاملے میں بحث اور تحقیق مطلوب ہو تو مناسب یہ ہے کہ معاملہ اس شخص کے سپرد کردیا جائے جو ذمے دار ہے اور وہ اس معاملے کو تحقیق کے لیے ایسے شخص کے حوالے کر دے جو اس کی اہلیت رکھتا ہے اور ان ذمہ دار اصحاب کی تحقیق سے پہلے کسی رائے کا اظہار نہ کریں۔ یہ طریق کار زیادہ قرین صواب اور خطا سے زیادہ محفوظ ہے۔ اس میں کسی معاملے کو سنتے ہی اس کو پھیلانے میں عجلت اور جلدی کرنے کی ممانعت کی بھی دلیل ہے، نیز حکم ہے کہ بولنے سے پہلے اس معاملے میں خوب غور و فکر کرلیا جائے کہ آیا اس میں کوئی مصلحت ہے کہ انسان آگے بڑھ کر کوئی اقدام کرے یا کوئی مصلحت نہیں ہے کہ انسان پیچھے ہٹ جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ﴾ ” اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی۔“ یعنی تمہیں توفیق عطا کرنے، ادب سکھانے اور ان امور کی تعلیم دینے میں جو تم نہ جانتے تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی ﴿لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا﴾ ”تو چند لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیرو کار بن جاتے‘‘ کیونکہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ظالم اور جاہل ہے، پس اس کا نفس اسے شر کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا۔ بندہ جب اپنے رب کے پاس پناہ لیتا ہے اور اس کی پناہ میں آ کر گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنے لطف و کرم کے دروازے کھول دیتا ہے، اسے ہر بھلائی کی توفیق عطا کرتا ہے اور اسے شیطان مردود سے بچاتا ہے۔ النسآء
84 بندہ مومن کے احوال میں سے بہترین حال یہ ہے کہ جہاد وغیرہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں خود بھی کوشش کرے اور دوسروں کو بھی ترغیب دے۔ کبھی کبھی بندے میں کوئی ایک امر یا دونوں امور معدوم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿ فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ﴾ ”آپ اللہ کی راہ میں لڑیں۔ آپ اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں۔“ یعنی چونکہ آپ کو اپنی ذات کے سوا کسی دوسرے پر قدرت حاصل نہیں اس لیے آپ کو کسی دوسرے کے فعل کا مکلف نہیں ٹھہرایا گیا۔ ﴿وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ” اور مومنوں کو بھی ترغیب دیں۔“ یعنی اہل ایمان کو قتال کی ترغیب دیں اور یہ ترغیب ان تمام امور کو بھی شامل ہے جس سے اہل ایمان کو نشاط، ان کے دلوں کو قوت اور ان کو طاقت حاصل ہوتی ہو۔ نیز یہ ترغیب اس بات کو بھی شامل ہے کہ دشمنوں کے ضعف اور کمزوری سے مومنوں کو آگاہ کیا جائے اور یہ ترغیب اس بات کو شامل ہے کہ مومنوں کو اس امر سے آگاہ کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والوں کیلیے کیا ثواب تیار کر رکھا ہے اور جہاد چھوڑ کر گھر بیٹھ رہنے والوں کے لیے کیا عذاب ہے۔ مذکورہ بالا اور اس قسم کے تمام امور جہاد اور قتال کی ترغیب کے زمرے میں آتے ہیں۔ ﴿عَسَى اللَّـهُ أَن يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾” قریب ہے کہ اللہ کافروں کی لڑائی کو بند کر دے۔“ یعنی ہوسکتا ہے کہ اللہ کے راستے میں تمہارے جہاد اور جہاد کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب دینے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کفار کو روک دے۔ ﴿وَاللَّـهُ أَشَدُّ بَأْسًا﴾ ” اور اللہ لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ زیادہ قوت اور غلبہ والا ہے ﴿وَأَشَدُّ تَنكِيلًا﴾” اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے۔“ گناہ گار کو فی نفسہٖ سخت سزا دیتا ہے۔ جس سے دوسرے کو بھی عبرت ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنی قوت کے ذریعے سے ہی کفار پر غالب آجائے اور ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑے، مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے تاکہ جہاد کا بازار گرم رہے اور نفع مند ایمان حاصل ہو، یعنی اختیاری ایمان نہ کہ جبری اضطراری ایمان، جو کچھ بھی فائدہ نہیں دیتا۔ النسآء
85 یہاں شفاعت سے مراد کسی معاملے میں معاونت ہے۔ جو کوئی کسی دوسرے کی بھلائی کے کسی کام میں سفارش کرتا ہے اور اس کام میں اس کی مدد کرتا ہے، مثلاً مظلوموں کے بارے میں ظالم کے پاس سفارش کرنا اسے اس کی کوشش اور عمل کے مطابق اس نیک سفارش سے حصہ نصیب ہوگا اور اصل کام کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی اور جو کوئی برائی کے کسی کام میں کسی کی مدد کرتا ہے تو اس کے تعاون اور مدد کے مطابق عذاب میں سے اس کو حصہ ملے گا۔ اس آیت کریمہ میں نیکی اور تقویٰ میں تعاون کے لیے بہت بڑی ترغیب ہے۔ اسی طرح گناہ اور زیادتی کے کاموں میں معاونت پر زجر و توبیخ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے متحقق کیا ہے ﴿وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا ﴾” اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا گواہ اور حفاظت کرنے والا ہے۔“ یعنی وہ ان اعمال کا حساب لے گا اور ہر شخص کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا۔ النسآء
86 ﴿ بِتَحِيَّةٍ ﴾ کا لفظ دو ملاقاتیوں میں سے کسی ایک سے عزت و احترام نیز دعا اور بشاشت وغیرہ کے طور پر صادر ہوتا ہے۔ سلام و دعا کا بہترین طریقہ وہ ہے جو سلام کرنے اور اس کا جواب دینے کے بارے میں شریعت میں وارد ہوا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب انہیں کسی بھی طریقے سے سلام کیا جائے تو وہ الفاظ اور بشاشت کے اعتبار سے اس سے بہتر یا اسی طریقے سے سلام کا جواب دیں۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سلام کا بالکل جواب نہ دینے یا کمتر طریقے سے جواب دینے سے روکا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی ترغیب ہے کہ سلام کرنے میں پہل کرنی چاہئے۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ (١) اللہ تعالیٰ نے سلام کا بہتر طریقے سے یا ویسا ہی جواب دینے کا حکم دیا ہے اور اس سے یہ امر لازم آتا ہے کہ سلام درحقیقت شرعاً مطلوب ہے۔ (٢) لفظ (اَحْسَنَ) سے جو کہ ” اَفْعَلُ التّفْضِیلُ “ ہے، جو چیز مستفاد ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ سالم اور اس کا جواب دونوں ” حسن“ میں شریک ہیں جیسا کہ اس بارے میں یہ چیز اصل ہے۔ آیت کریمہ کے عموم سے وہ شخص مستثنیٰ ہے جو کسی کو ایسے حال میں سلام کرتا ہے جس میں اسے سلام کرنے کا حکم نہ تھا۔ مثلاً کسی ایسے شخص کو سلام کرنا جو قراءت قرآن میں مشغول ہو، خطبہ سن رہا ہو یا نماز پڑھ رہا ہو۔ [لیکن شریعت نے ان حالتوں میں سلام کرنے سے کہاں منع کیا ہے؟ اس لیے فاضل مفسر کا ان مقامات کو مستثنیٰ کرنا بلا دلیل ہے۔ بلکہ یہ مقامات بھی سلام کرنے کے عموم میں داخل ہیں اور نماز کی حالت میں سلام کرنے کی اور اشارے کے ساتھ جواب دینے کی صراحت ترمذی کی حدیث میں موجود ہے۔ (ص۔ی)] کیونکہ وہ اپنے سلام کے جواب کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ اسی طرح وہ شخص بھی آیت کریمہ کے عموم سے مستثنیٰ ہے جس سے قطع کلامی اور سلام نہ کرنے کا حکم شارع نے دیا ہو۔ یہ وہ نافرمان شخص ہے جس نے توبہ نہ کی ہو جو بول چال اور سلام کی بندش کی وجہ سے نافرمانیوں سے باز آجاتا ہے۔ پس ایسے شخص سے بول چال بند کردی جائے اسے سلام کیا جائے نہ سلام کا جواب دیا جائے۔ یہ سب کچھ بڑی مصلحت کے قیام کی خاطر ہے۔ سلام کا جواب دینے میں ہر قسم کے سلام کا جواب دینا شامل ہے جس کے لوگ عام طور پر عادی ہیں۔ ایسا کرنا شرعاً ممنوع نہیں، کیونکہ بندہ سلام کا جواب دینے اور اس سے بہتر جواب دینے پر مامور ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں پر ثواب کا وعدہ اور برائی کے کاموں پر وعید سنائی ہے۔ فرمایا : ﴿ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا  ﴾پس وہ اپنے بندوں کے اچھے برے اور چھوٹے بڑے تمام اعمال کا حساب رکھتا ہے پھر وہ اپنے فضل و عدل اور قابل تعریف فیصلے کے تقاضے کے مطابق ان کو جزا و سزا دے گا۔ النسآء
87 اللہ تعالیٰ وحدانیت میں اپنی انفرادیت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود اور الٰہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات اور اوصاف میں کامل ہے، نیز اس لیے کہ وہ تخلیق و تدبیر کا ئنات میں اور ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے میں متفرد ہے اور یہ امر اس کی عبادت اور عبودیت کی تمام انواع کے ذریعے سے اس کے تقرب کو مستلزم ہے، اس لیے اس نے محل جزا کے وقوع یعنی روز قیامت پر قسم کھائی ہے۔ فرمایا : ﴿لَيَجْمَعَنَّكُمْ  ﴾ ” وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے اولین و آخرین کو ایک ہی جگہ پر جمع کرے گا ﴿إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ﴾ ” قیامت کے دن“ یعنی عقلی اور سمعی دلیل کے اعتبار سے کسی بھی پہلو سے قیامت میں کوئی شک نہیں۔ رہی عقلی دلیل تو ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ زمین کے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اسے زندگی عطا کرتا ہے۔ امکان کے اعتبار سے پہلی دفعہ پیدا کرنے سے دوسری دفعہ پیدا کرنا زیادہ آسان ہے۔ حکمت الٰہی انسان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ قطعی طور پر جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو عبث پیدا نہیں کیا کہ وہ زندگی حاصل کریں گے اور بس مر جائیں گے۔ (اور اس کے بعد کچھ نہیں ہوگا، ایسا نہیں ہوگا، بلکہ روز قیامت حساب ہوگا) رہی سمعی اور نقلی دلیل تو سب سے زیادہ سچی ہستی نے اس کے وقوع کے بارے میں خبر دی ہے بلکہ اس پر قسم کھائی ہے۔ ﴿وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّـهِ حَدِيثًا ﴾ ” اللہ سے زیادہ سچی بات والا اور کون ہوگا“ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حقیقت پر قسم کھانے کا حکم دیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا ۚ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ  ﴾ (التغابن :64؍7) ” وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، سمجھتے ہیں کہ انہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا نہیں جائے گا کہہ دو ! ہاں میرے رب کی قسم ! تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا اور جو اعمال تم نے کئے ہیں ان کے بارے میں تمہیں ضرور بتایا جائے گا اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّـهِ حَدِيثًا ﴾ اور ﴿وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّـه قِيلًا ﴾میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بات، اس کی خبریں اور اس کے اقوال صداقت کے اعلیٰ مراتب بلکہ اعلیٰ ترین مراتب پر ہیں، لہٰذا ہر وہ بات جو عقائد، علوم اور اعمال کے بارے میں کہی گئی ہو اگر وہ اللہ تعالیٰ کی خبر کے خلاف ہے تو وہ باطل ہے کیونکہ یہ امور یقینی طور پر سچی خبر کے متناقض ہیں ان کا حق ہونا ممکن ہی نہیں۔ النسآء
88 ان آیات کریمہ میں مذکورہ منافقین سے مراد وہ منافقین ہیں جو اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اپنے کفر کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہجرت بھی نہیں کی۔ [حاشیہ الف (یعنی ایک دوسرے نسخے کے حاشیے میں) میں یہ عبارت مذکور ہے کہ ’’صحیحین میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد کے لیے نکلے تو آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ ان کے بارے میں صحابہ کرام کے دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان کو قتل کریں گے جبکہ دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ ﴾ ” پس تمہیں کیا ہے کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو“ (اس موقع پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” بے شک مدینہ پاک ہے اور بلاشبہ مدینہ بدطنیت افراد کو اس طرح نکال باہر کرتا ہے جس طرح آگ لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے۔“ اس اضافے کی جگہ پر دلالت کرنے والی کوئی علامت یہاں موجود نہیں۔ محقق پتہ نہیں اس سے فاضل محقق کا مطلب کیا ہے؟ ورنہ اس حدیث کی مناسبت تو آیت ﴿فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ ۔۔۔﴾ کے ساتھ بالکل واضح ہے، کیونکہ اس سے شان نزول کی وضاحت ہو رہی ہے۔ (ص۔ ی) ] ان کے بارے میں صحابہ کرام میں اشتباہ واقع ہوگیا، چنانچہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم ان منافقین کے اظہار اسلام کے باعث ان کے ساتھ قتال اور قطع موالات میں حرج سمجھتے تھے اور بعض صحابہ کو چونکہ ان کے افعال کے قرینے سے ان کے احوال کا علم تھا اس لیے انہوں نے ان پر کفر کا حکم لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ تمہارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو، بلکہ ان کا معاملہ بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں کہ وہ منافق ہیں۔ وہ اپنے کفر کا بار بار اظہار کرچکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر بن کر انہی کی مانند ہوجاؤ۔ پس جب تمہارے سامنے یہ حقیقت واضح ہوگئی النسآء
89 ﴿فَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِيَاءَ ﴾” تو تم ان کو دوست نہ بناؤ۔“ یہ ممانعت ان کے ساتھ عدم محبت کو لازم ٹھہراتی ہے، کیونکہ موالات اور دوستی محبت ہی کی ایک شاخ ہے، نیز یہ ممانعت ان کے ساتھ بغض اور عداوت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ کسی چیز سے ممانعت درحقیقت اس کی ضد کا حکم ہے اور اس حکم کی مدت ان کی ہجرت تک ہے۔ اگر وہ جرات کر کے آجاتے ہیں تو ان پر وہی احکام جاری ہوں گے جو دیگر مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس شخص پر اسلام کے احکام جاری فرماتے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور ہجرت کر کے آپ کی خدمت میں پہنچ گیا تھا۔ خواہ وہ حقیقی مومن تھا یا محض ایمان کا اظہار کرتا تھا۔ اگر وہ ہجرت نہیں کرتے اور اس سے روگردانی کرتے ہیں ﴿ فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ﴾” تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ ان کو قتل کر دو۔“ یعنی جب بھی اور جس جگہ تم ان کو پاؤ ان کو قتل کردو۔ یہ آیت کریمہ ان جملہ دلائل میں شامل ہے جو حرام مہینوں میں قتال کی حرمت کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتے ہیں، جیسا کہ یہ جمہور اہل علم کا قول ہے۔ دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ یہ تمام نصوص مطلق ہیں، حرام مہینوں میں قتال کی تحریم کی تخصیص پر محمول ہوں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان منافقین میں سے تین گروہوں کو قتال سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ان میں سے دو گروہوں کو ترک کرنے کا حتمی حکم دیا ہے۔ ان میں پہلا گروہ وہ ہے جو کسی ایسی قوم کے ساتھ مل جاتا ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ پس ان منافقین کو اس قوم میں شامل قرار دیا جائے گا اور جان و مال کے بارے میں ان کا بھی وہی حکم ہوگا جو اس قوم کا ہوگا۔ النسآء
90 دوسرے گروہ میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَن يُقَاتِلُوكُمْ أَوْ يُقَاتِلُوا قَوْمَهُمْ ﴾” ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے۔“ یعنی وہ تمہارے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم کے ساتھ وہ دونوں فریقوں کے ساتھ قتال ترک کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کے ساتھ قتال نہ کیا جائے اور اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَاتَلُوكُمْ ﴾ ” اگر اللہ چاہتا تو وہ ان کو تم پر مسلط کردیتا، پس وہ تم سے لڑتے“ اس معاملے میں تین صورتیں ممکن ہوسکتی ہیں : وہ یا تو تمہارے ساتھ ہوتے اور تمہارے دشمنوں کے ساتھ جنگ کرتے، ان سے ایسا ہونا مشکل ہے۔ اب معاملہ صرف اس بات پر مبنی ہے کہ جنگ تمہارے اور ان کی قوم کے درمیان ہو یا دونوں فریقوں کے درمیان جنگ نہ ہو اور یہ صورت تمہارے لیے زیادہ آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تم پر مسلط کرنے پر قادر ہے۔ پس تم عافیت کو قبول کرو اور اپنے رب کی حمد و ثناء بیان کرو جس نے ان کو تمہارے خلاف لڑنے سے روکا حالانکہ وہ تمہارے خلاف لڑنے کی طاقت رکھتے تھے۔ ﴿ فَإِنِ اعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللَّـهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًا  ﴾ ” اگر وہ تمہارے ساتھ جنگ کرنے سے کنارہ کشی کرلیں اور تمہاری طرف صلح اور سلامتی کا پیغام بھیجیں تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان پر زیادتی کرنے کی کوئی راہ نہیں رکھی۔ “ النسآء
91 تیسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو تمہارے احترام سے قطع نظر صرف اپنی بھلائی چاہتے ہیں اور یہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿سَتَجِدُونَ آخَرِينَ  ﴾” تم کچھ اور لوگوں کو ایسا بھی پاؤ گے“ یعنی ان منافقین میں سے ﴿ يُرِيدُونَ أَن يَأْمَنُوكُمْ﴾ ”وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں۔“ یعنی وہ تم سے ڈرتے ہوئے تمہارے ساتھ پرامن رہنا چاہتے ہیں۔ ﴿ وَيَأْمَنُوا قَوْمَهُمْ كُلَّ مَا رُدُّوا إِلَى الْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا فِيهَا ﴾ ” اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں (لیکن) جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اوندھے منہ اس میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔“ یعنی وہ اپنے کفر اور نفاق پر قائم ہیں اور جب کبھی وہ کسی فتنہ سے دوچار ہوتے ہیں، یہ فتنہ انہیں اندھا کردیتا ہے اور وہ پہلی حالت پر لوٹ جاتے ہیں اور ان کا کفر و نفاق بڑھ جاتا ہے، یہ لوگ بھی اس صورت میں دوسرے گروہ کی مانند ہیں حالانکہ درحقیقت یہ اس گروہ کے مخالف ہیں، کیونکہ دوسرے گروہ نے مسلمانوں کے خلاف اپنے نفس پر خوف کی وجہ سے قتال ترک نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کے احترام کی بنا پر ترک کیا ہے۔ جب کہ اس گروہ نے تمہارے خلاف قتال، احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ خوف کی وجہ سے ترک کیا ہے بلکہ اگر وہ اہل ایمان کے خلاف لڑنے کا کوئی موقع پائیں تو اس کو غنیمت سمجھتے ہوئے تمہارے خلاف لڑیں، لہٰذا اگر یہ لوگ واضح طور پر اہل ایمان کے ساتھ لڑنے سے کنارہ کشی نہ کریں تو وہ گویا تمہارے خلاف جنگ کرتے ہیں۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَإِن لَّمْ يَعْتَزِلُوكُمْ وَيُلْقُوا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ ﴾” اگر وہ تم سے کنارہ کشی کریں نہ تمہاری طرف پیغام صلح بھیجیں۔“ یعنی اگر وہ تمہارے ساتھ امن اور صلح نہیں چاہتے ﴿وَيَكُفُّوا أَيْدِيَهُمْ فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ۚ وَأُولَـٰئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا﴾ ”اور اپنے ہاتھ نہ روک لیں تو انہیں پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ۔ یہی ہیں جن پر ہم نے تمہیں ظاہر حجت عنایت فرمائی ہے“ تب ہم نے تمہیں ان کے خلاف ایک واضح حجت عطا کردی ہے کیونکہ وہ تمہارے خلاف ظلم اور تعدی کا ارتکاب کرتے ہیں، صلح اور امن کے رویے کو ترک کر رہے ہیں۔ پس انہیں چاہئے کہ وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کریں۔ النسآء
92 آیت کریمہ کا یہ اسلوب، امتناع یعنی ناممکن ہونے کے اظہار کے اسالیب میں سے ہے یعنی یہ ممتنع اور محال ہے کہ ایک مومن سے دوسرے مومن کا جان بوجھ کر قتل صادر ہو۔ اس آیت کریمہ میں قتل مومن کی تحریم کو نہایت شدت سے بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مومن کا قتل ایمان کے سخت منافی ہے۔ مومن کا قتل یا تو کافر سے صادر ہوتا ہے یا ایسے فاسق و فاجر سے صادر ہوتا ہے جس کے ایمان میں بہت زیادہ کمی ہو۔ ایسے فاسق و فاجر سے اس سے بھی بڑے اقدام کا ڈر ہے۔ اس لیے کہ ایمان صحیح مومن کو اپنے مومن بھائی کے قتل سے باز رکھتا ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اخوت ایمانی کا رشتہ جوڑا ہے جس کا تقاضا محبت و موالات اور اپنے بھائی سے اذیتوں کو دور کرنا ہے اور قتل سے بڑھ کر کون سی اذیت ہے؟ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مصداق ہے (لاترجعوا بعدی کفاراً یضرب بعضکم رقاب بعض) ” میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو“ [صحيح البخاري، الديات، باب ﴿و من أحيا......﴾، حديث: 6868] پس معلوم ہوا کہ قتل مومن عملی کفر ہے اور شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا  ﴾” اور کسی مومن کے شایان نہیں کہ مومن کو مار ڈالے۔“ تمام احوال کے لیے عام ہے اور مون کسی بھی اعتبار سے اپنے مومن بھائی کے قتل کا ارتکاب نہیں کرسکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ قتل خطا کو مستثنیٰ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿إِلَّا خَطَأً ﴾ ” مگر غلطی سے‘‘ اس لیے کہ قتل خطا کا مرتکب شخص قتل اور گناہ کا قصد نہیں رکھتا، نہ وہ اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتا ہے۔ مگر چونکہ اس نے ایک بہت ہی قبیح فعل کا ارتکاب کیا ہے اور اس کی ظاہری شکل اس کی قباحت کے لیے کافی ہے، اگرچہ اس کا مقصد اس کو قتل کرنا ہرگز نہیں تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے کفارہ اور دیت ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا : ﴿ وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً ﴾” جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے“ قاتل خواہ مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا، عاقل ہو یا پاگل اور مسلمان ہو یا کافر جیسا کہ لفظ (مَنْ) عموم کا فائدہ دے رہا ہے۔ یہاں لفظ (مَن) کو لانے کا یہی سرنہاں ہے کیونکہ سیاق کلام تو تقاضا کرتا ہے کہ یہاں لفظ (فَاِنْ قَتَلَه) استعمال ہوتا مگر یہ لفظ وہ معنی ادا نہیں کرتا جو (مَنْ) ادا کرتا ہے۔ اسی طرح مقتول خواہ مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا (آیت کریمہ تمام صورتوں کو شامل ہے) جیسا کہ سیاق شرط میں نکرہ عموم کا فائدہ دے رہا ہے۔ ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ﴾ قاتل پر کفارہ کے طور پر مومن غلام کا آزاد کرنا واجب ہے۔ یہ غلام قاتل کے مال سے آزاد کیا جائے گا۔ بعض علماء کے نزدیک یہ آیت کریمہ چھوٹے بڑے، مرد عورت، بے عیب اور عیب دار، ہر قسم کے غلام کو شامل ہے، مگر حکمت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ عیب زدہ غلام کو کفارہ میں آزادانہ کیا جائے۔ اس لیے کہ آزادی عطا کرنے کا مقصد آزاد کئے جانے والے کو نفع پہنچانا ہے اور اس کو ملکیت میں رکھنا خود اپنے آپ کو نفع پہنچانا ہے۔ پس جب آزادی عطا کرنے سے یہ نفع ضائع ہوجاتا ہے اور غلامی میں اسے باقی رکھنا اس کے لیے زیادہ نفع مند ہے تو اس کو آزاد کرنا کافی نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ) کا معنی اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ یہاں آزادی عطا کرنے سے مراد کسی ایسے شخص کے منافع کا استحقاق خود اس کے لیے خالص کرنا ہے جس کے منافع کا استحقاق کسی دوسرے کے پاس ہو۔ پس اگر اس میں (عیب زدہ ہونے کی وجہ سے) کوئی منفعت نہیں تو آزادی کے وجود کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں غور کیجیے یہ بالکل واضح ہے۔ رہی دیت، تو یہ قاتل کی برادری اور اس کے رشتہ داروں پر واجب ہے۔ دیت قتل خطا اور قتل شبہ عمد میں واجب ہوتی ہے۔ ﴿ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ ﴾ ” مقتول کے وارثوں کو ادا کرے۔“ یعنی مقتول کے وارثوں کی دل جوئی کی خاطر ان کے حوالے کرے۔ (یہاں (أَهْلِهِ) سے مراد مقتول کے ورثاء ہیں کیونکہ یہی لوگ میت کے ترکہ کے وارث ہوتے ہیں، نیز دیت بھی ترکہ میں داخل ہے اور دیت میں بہت سی تفاصیل ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں۔﴿إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا ﴾ ” ہاں اگر وہ معاف کردیں۔“ یعنی مقتول کے ورثاء قاتل کو معاف کر کے دیت اس کو بخش دیں۔ تب یہ دیت بھی ساقط ہوجائے گی۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے معاف کردینے کی ترغیب دی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس معافی کو صدقہ کے نام سے موسوم کیا ہے اور صدقہ ہر وقت مطلوب ہے۔﴿ فَإِن كَانَ﴾ ” پس اگر وہ ہو“ یعنی مقتول ﴿ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ ﴾ ” ایسی قوم سے جو تمہاری دشمن ہے“ یعنی اگر مقتول حربی کفار میں سے ہو ﴿وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ ﴾ ” اور وہ مومن ہو تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے“ یعنی تب اس صورت میں تم پر مقتول کے (کافر) ورثاء کو دیت ادا کرنا واجب نہیں، کیونکہ ان کی جان اور مال کا احترام واجب نہیں۔ ﴿وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ ﴾” اور اگر وہ (مقتول) اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیمان ہو تو خون بہا لازمی ہے جو اس کے کنبے والے کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی ضروری ہے“ یہ ان کے ساتھ عہد و میثاق کی بنا پر مقتول کے ورثاء کے احترام کی وجہ سے ہے۔ ﴿فَمَن لَّمْ يَجِدْ ﴾ ” اور جس کو یہ میسر نہ ہو۔“ یعنی جس کے پاس تنگ دستی کی وجہ سے آزاد کرنے کے لیے غلام یا اس کی قیمت نہیں ہے اور بنیادی ضروریات و حوائج کے اخراجات کے بعد اتنی رقم نہیں بچتی جس سے غلام کو آزاد کیا جا سکے ﴿فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ﴾” تب دو مہینے مسلسل روزے رکھے“ اور ان کے دوران بغیر کسی عذر کے روزہ نہ چھوڑے۔ اگر کسی عذر کی بنا پر روزہ چھوٹ جائے مثلاً مرض اور حیض وغیرہ تو اس سے تسلسل نہیں ٹوٹتا اگر اس نے بغیر کسی عذر کے روزہ چھوڑ دیا ہے تو اس سے تسلسل منقطع ہوجائے گا اور اسے نئے سرے سے روزے شروع کرنے پڑیں گے۔ ﴿تَوْبَةً مِّنَ اللَّـهِ ﴾ ”یہ (کفارہ) اللہ کی طرف سے (قبول) توبہ کے لیے ہے۔“ یعنی یہ کفارات جو اللہ تعالیٰ نے قاتل پر واجب کئے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت توبہ، ان پر رحمت اور ان کے گناہوں کی تکفیر ہے جو ممکن ہے کسی کوتاہی اور عدم احتیاط کی وجہ سے ان سے سر زد ہوئے ہوں، جیسا کہ قتل خطا کے مرتکب سے اکثر واقع ہوتے ہیں۔ ﴿وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا  ﴾ ” اور اللہ سب کچھ جانتا اور بڑی حکمت والا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم اور کامل حکمت والا ہے۔ زمین و آسمان میں کسی جگہ اور کسی وقت چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔ تمام مخلوقات اور تمام شرائع اس کی حکمت سے خالی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تخلیق اور جو کچھ مشروع کیا ہے وہ حکمت پر مبنی ہے۔ یہ اس کی علم و حکمت ہے کہ اس نے قاتل پر کفارہ واجب کیا جو اس سے صادر ہونے والے گناہ سے مناسبت رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک قابل احترام جان کو معدوم کرنے کا سبب بنا اور اسے وجود سے نکال کر عدم میں لے گیا۔ اس جرم سے یہ چیز مناسبت رکھتی ہے کہ وہ غلام آزاد کرے، اس کو مخلوق کی غلامی سے نکال کر مکمل آزادی عطا کرے۔ اگر وہ غلام آزاد کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھے۔ یوں وہ اپنے آپ کو شہوات، اور ان لذات حسیہ کی غلامی سے آزاد کر کے جو بندے کو ابدی سعادت سے محروم کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف لائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے روزے رکھنے کے لیے شاق گزرنے والی طویل مدت مقرر کی ہے اور اس میں روزوں کے تسلسل کو واجب قرار دیا ہے اور ان تمام مقامات پر عدم مناسبت کی بنا پر، روزے رکھنے کی بجائے مسکینوں کو کھانا کھلانا مشروع قرار نہیں دیا۔ اس کے برعکس ظہار میں روزوں کی بجائے مسکینوں کو کھانا کھلانا مشروع ہے۔ اس کا ذکر انشاء اللہ آئے گا۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت ہے کہ قتل خواہ خطاہی سے کیوں نہ ہو، اس نے اس میں دیت واجب ٹھہرائی ہے تاکہ دیت اور دیگر اسباب کے ذریعے سے قتل کے جرائم کا سدباب ہوسکے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے قتل خطا میں دیت قاتل کے پدری (باپ کی طرف سے) رشتہ داروں (یعنی عاقلہ) پر فرض کی ہے۔ اس پر فقہاء کا اجماع ہے۔ کیونکہ گناہ کی نیت سے قاتل نے قتل کا ارتکاب نہیں کیا تھا کہ اس دیت کا سارا بوجھ اس پر ڈال دیا جائے جو اس کے لیے سخت مشقت کا باعث ہو۔ اس لیے یہ امر مناسبت رکھتا ہے کہ حصول مصالح اور سد مفاسد کی خاطر اس کے اور اس کے رشتہ داروں کے درمیان تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ ہو۔ شاید یہ چیزیں اس شخص کو قتل سے روکنے کا سبب بن جائے جس کی طرف سے وہ دیت ادا کرتے ہیں تاکہ انہیں دیت کا بوجھ نہ اٹھانا پڑے، نیز ان کی طاقت اور ان کے احوال کے مطابق ان پر دیت کو تقسیم کرنے سے دیت کے بوجھ میں تخفیف ہوجائے گی، نیز دیت کی ادائیگی کی مدت تین سال مقرر کر کے اس میں مزید تخفیف پیدا کردی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کا علم ہے کہ اس نے اس دیت کے ذریعے سے جو اس نے قاتل کے اولیاء پر واجب کی ہے، مقتول کے ورثاء کی مصیبت میں ان کے نقصان کی تلافی کی ہے۔ النسآء
93 گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ مومن سے مومن کا قتل صادر نہیں ہوسکتا نیز یہ کہ قتل کفریہ عمل ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے جان بوجھ کر قتل کرنے والے کے لیے وعید کا ذکر فرمایا ہے جس سے دل کانپ جاتے ہیں، کلیجے پھٹ جاتے ہیں اور عقلمند لوگ گھبرا جاتے ہیں۔ کبیرہ گناہوں میں سے کسی اور گناہ کے لیے اس سے بڑی بلکہ اس جیسی وعید بھی وارد نہیں ہوئی۔ آگاہ رہو ! کہ یہ اس امر کی خبر دینا ہے کہ مومن کے قتل کے مرتکب کے لیے جہنم ہے۔ یعنی یہ گناہ عظیم اکیلا ہی کافی ہے کہ اپنے مرتکب کو جہنم، عذاب عظیم، رسوائی، اللہ جبار کی ناراضی، فوز و فلاح سے محرومی و ناکامی اور خسارے جیسی سزا کا مستحق بنائے۔ ہم ہر اس سبب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کرے۔ اس وعید کا حکم، کبیرہ گناہوں کے بارے میں وارد اس جیسی دیگر نصوص وعید کی مانند ہے جن میں جہنم میں خلود اور جنت سے محرومی کا ذکر کیا گیا ہے۔ ائمہ کرام خوارج اور معتزلہ کے اس قول کے بطلان پر متفق ہونے کے باوجود کہ موحد گناہ گار ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اس آیت کریمہ کی تاویل میں اختلاف رکھتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کی تاویل و تفسیر میں حق و صواب وہ ہے جو امام محقق شمس الدین ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب ” مدارج السالکین“ میں ذکر فرمایا ہے۔ انہوں نے ائمہ کی تاویلات ذکر کرنے کے بعد نقد کرتے ہوئے فرمایا : ” کچھ دیگر لوگوں کی رائے ہے کہ یہ نصوص اور اس قسم کی دیگر نصوص، جن میں سزا کی اقتضا کا ذکر آتا ہے مقتضائے حکم کے وجود سے اس کا وجود لازم نہیں آتا کیونکہ حکم اپنے مقتضی کے وجود اور انتفائے مانع سے پورا ہوتا ہے اور ان نصوص کی غرض وغایت محض اس امر کی اطلاع دینا ہے کہ اس قسم کے جرائم عقوبت کا سبب ہیں اور اس کا تقاضا کرتے ہیں اور موانع کے ذکر پر دلیل قائم ہوچکی ہے کچھ تو اجماع کی بنا پر اور کچھ نصوص کی بنا پر، چنانچہ توبہ بالا جماع عقوبت اور سزا کو مانع ہے اور نصوص متواترہ دلالت کرتی ہیں کہ توحید بھی مانع عقوبت ہے اسی طرح برائیوں کو مٹانے والی نیکیاں بھی مانع عقاب ہیں۔ بڑے بڑے مصائب جو گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں مانع عقاب ہیں۔ دنیا میں ان جرائم پر حد قائم ہونا بھی مانع عقوبت ہے ان امور پر نصوص دلالت کرتی ہیں اور ان نصوص کو معطل کرنے کی کوئی وجہ نہیں لہٰذا جانبین کی طرف سے نصوص کے عمل کو تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ یہ ہے وہ مقام جہاں اقتضائے عقاب اور اس کے مانع کے لیے، نیکیوں اور برائیوں کے درمیان موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ دونوں میں سے جو راجح ہو، اس کے مطابق عمل کیا جائے (اقتضائے عذاب راجح ہو تو عذاب کا اور مانع راجح ہو تو عدم عذاب کا فیصلہ ہوگا) و وہ کہتے ہیں کہ اسی اصول پر دنیا و آخرت کے مصالح اور مفاسد کی بنا ہے اور یہی اصول احکام شرعیہ اور احکام قدریہ کی بنیاد ہیں اور یہی اس حکمت کا تقاضا ہے جو وجود کائنات میں جاری و ساری ہے۔ خلق و امر کے لحاظ سے اسی اصول کے ذریعے سے اسباب اور مسببات ایک دوسرے سے مرتب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شے کی ضد پیدا کی ہے تاکہ یہ ضد اس شے کو دفع کرے اور ضدین میں سے اغلب کے مطابق حکم لگایا جائے گا۔ قوت صحت و عافیت کا تقاضا کرتی ہے اور اخلاط فاسدہ کا غلبہ، عمل طبعی اور فعل قوت کو مانع ہے، ان دونوں میں سے اغلب کے مطابق حکم لگایا جائے گا۔ یہی اصول ادویہ اور امراض کے قویٰ میں عمل کرتا ہے انسان کے اندر ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی صحت کی متقاضی ہیں اور کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی ہلاکت کا تقاضا کرتی ہیں۔ (ان کے درمیان کشمکش رہتی ہے) اور ایک چیز دوسری چیز کے کمال تاثیر کو روکتی اور اس کا مقابلہ کرتی ہے پس اگر وہ اس پر غالب آجاتی ہے تو اس کی تاثیر اس میں کار فرما ہوتی ہے۔ یہاں پہنچ کر انسانوں کی تقسیم کا علم ہوتا ہے۔ کوئی سیدھا جنت میں جائے گا کسی کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ کچھ لوگوں کو جہنم میں داخل کر کے پھر نکال لیا جائے گا اور وہ لوگ جہنم میں بس اس قدر ٹھہریں گے جس قدر ان کے اعمال ان کے ٹھہرنے کا تقاضا کریں گے۔ جس شخص کی چشم بصیرت روشن ہے اس اصول کے مطابق اس معاد کے متعلق وہ تمام امور جن کی قرآن خبر دیتا ہے یوں نظر آتے ہیں گویا کہ وہ انہیں اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت، ربوبیت اور عزت و حکمت کا تقاضا ہے اور اس کی خلاف ورزی اللہ تعالیٰ سے محال ہے۔ اس کی خلاف ورزی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا ایک ایسے امر کی نسبت ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں۔ ان امور کو وہ اپنی چشم بصیرت سے یوں دیکھتا ہے جیسے وہ اپنی آنکھ سے سورج اور ستاروں کو دیکھتا ہے اور یہ ایمان کا یقین ہے اور یہ وہ یقین ہے جو برائیوں کو اس طرح جلا دیتا ہے جیسے خشک ایندھن کو آگ جلا دیتی ہے۔ وہ شخص جو ایمان کے اس مقام پر فائز ہوجاتا ہے اس کے لیے برائیوں پر مصر رہنا محال ہے۔ برائیاں اگرچہ اس سے بکثرت واقع ہوجاتی ہیں مگر اس کا نور ایمان اسے ہر وقت تجدید توبہ کا حکم دیتا رہتا ہے اور ہر سانس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے ایسا شخص اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔“ ابن القیم قدس اللہ روحہ کا کلام ختم ہوا، اللہ تعالیٰ انہیں اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے۔ (اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجئے مدارج السالکین 1؍ 396۔ مترجم) النسآء
94 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے جہاد پر نکلیں تو تمام مشتبہ امور میں اچھی طرح تحقیق کرلیا کریں اور جلدی نہ کیا کریں۔ کیونکہ تمام معاملات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ واضح اور غیر واضح۔ جو امور واضح ہوتے ہیں ان میں تحقیق اور جانچ پڑتال کی کچھ زیادہ ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ چیز تحصیل حاصل کے زمرے میں آتی ہے۔ رہے مشکل اور غیر واضح امور تو انسان ان میں جانچ پڑتال اور تحقیق کا محتاج ہوتا ہے کہ آیا وہ اس میں اقدام کرے یا نہ کرے؟ کیونکہ ان امور میں تحقیق اور جانچ پڑتال سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ بڑی بڑی برائیوں کا سدباب ہوجاتا ہے۔ اس کے ذریعے سے بندے کے دین، عقل اور وقار کے بارے میں معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس وہ شخص جو معاملات کی ابتدا ہی میں ان کی جانچ پڑتال سے پہلے فیصلہ کرنے میں عجلت سے کام لیتا ہے۔ اسے اس عجلت سے ایسے نتائج کا سامنا ہوسکتا ہے جو نہایت غیر مناسب ہوں، جیسا کہ ان مسلمانوں کے ساتھ ہوا جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ جنہوں نے بغیر کسی تحقیق اور جانچ پڑتال کے ایک ایسے شخص کو قتل کردیا جس نے ان کو سلام کیا تھا۔ اس کے پاس کچھ بکریاں یا کوئی اور مال تھا اس کا خیال تھا کہ اس طرح (سلام کرنے سے) قتل ہونے بچ جائے گا اور ان کا یہ فعل (قتل) درحقیقت خطا تھا، بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا۔ ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِندَ اللَّـهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ ۚ ﴾ ” جو تمہیں سلام کرے تم اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں تم دنیاوی زندگی کے اسباب کی تلاش میں ہو تو اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں“ یعنی فانی دنیا کا یہ قلیل اور فانی مال و متاع تمہیں کسی ایسے کام کے ارتکاب پر آمادہ نہ کرے جو مناسب نہ ہو اور اس کے نتیجے میں تم اس بے پایاں ثواب سے محروم ہوجاؤ جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ پس جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندے کو چاہئے کہ جب وہ دیکھے کہ اس کے نفس کے داعیے کسی ایسے حال کی طرف مائل ہیں جس میں خواہشات نفس کا شائبہ ہے اور یہ اس کے لیے ضرر رساں ہیں تو وہ اس ثواب اور نعمتوں کو یاد کرے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے تیار کر رکھی ہیں جنہوں نے خواہشات نفس کو روکا ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنے نفس کی خواہش پر مقدم رکھا کیونکہ اس میں نفس کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی ترغیب ہے خواہ اس میں اس کے لیے مشقت ہی کیوں نہ ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو اسلام سے قبل ان کی حالت یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿كَذٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ اللَّـهُ عَلَيْكُمْ ﴾ ” پہلے تم بھی ایسے ہی تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا“ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس طرح تمہیں تمہاری گمراہی کے بعد ہدایت سے نوازا ہے۔ اسی طرح وہ دوسروں کو بھی راہ ہدایت دکھاتا ہے اور جس طرح تمہیں بتدریج آہستہ آہستہ ہدایت حاصل ہوئی ہے اسی طرح تمہارے علاوہ بھی آہستہ آہستہ راہ ہدایت پر گامزن ہوجائیں گے۔ پس کامل شخص کا اپنے پہلے اور ناقص حال پر نظر رکھنا اور اس ناقص شخص کے ساتھ، جس کی مانند کبھی وہ بھی ناقص تھا، اس کے مقتضائے حال کے مطابق معاملہ کرنا اور اس کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بھلائی کی طرف دعوت دینا اس کے لیے فائدہ پہنچانے اور فائدہ حاصل کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے تحقیق حال کے حکم کا ان الفاظ میں اعادہ کیا ﴿فَتَبَیَّنُوْا﴾” تحقیق کرلیا کرو۔“ یعنی خوب تحقیق کرلیا کرو۔ جب کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتا ہے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف قسم کی تیاری کرتا ہے، تو وہ اس بات پر مامور ہے کہ جو کوئی اس کو سلام کرے، اس کی تحقیق کرلے حالانکہ بہت ہی قوی قرینہ موجود تھا کہ اس نے جان کے خوف سے اور جان بچانے کے لیے سلام کیا ہو۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان تمام احوال کے بارے میں، جن میں کسی قسم کا اشتباہ واقع ہوگیا ہو تحقیق اور جانچ پڑتال کی جائے۔ پس بندہ حقیقت حال معلوم کرنے کی کوشش کرے حتیٰ کہ اس کے سامنے معاملہ واضح ہوجائے اور رشد و صواب متحقق ہو کر سامنے آجائے۔ فرمایا : ﴿ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ﴾” اور جو عمل تم کرتے ہو، اللہ کو سب کی خبر ہے۔“ اللہ اپنے بندوں کے احوال اور ان کی نیتوں کو جانتا ہے اس لیے وہ ہر ایک کو اس کے عمل اور نیت کے مطابق جزا دے گا۔ النسآء
95 یعنی اہل ایمان میں سے وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ذریعے سے جہاد کرتا ہے اور وہ شخص جو جہاد کے لیے نہیں نکلتا اور اللہ کے دشمنوں کے ساتھ قتال نہیں کرتا، دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے کی ترغیب ہے اور سستی اور کسی عذر کے بغیر جہاد چھوڑ کر گھر بیٹھ رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔ رہے وہ لوگ جو کسی تکلیف میں مبتلا ہیں مثلاً مریض، اندھا اور لنگڑا وغیرہ اور وہ شخص جس کے پاس جہاد پر جانے کے لیے سامان وغیرہ نہیں، تو یہ لوگ بغیر عذر گھر بیٹھ رہنے والوں میں شمار نہیں ہوں گے۔ ہاں ! وہ شخص جو کسی تکلیف میں مبتلا ہے اور وہ اپنے گھر بیٹھ رہنے پر خوش اور راضی ہے اور وہ یہ نیت بھی نہیں رکھتا کہ اگر یہ مانع موجود نہ ہوتا تو وہ جہاد میں ضرور شریک ہوتا اور اس کے دل میں کبھی جہاد کی خواہش بھی نہیں ہوئی تو ایسا شخص بغیر عذر گھر بیٹھ رہنے والوں میں شمار ہوگا۔ جو کوئی یہ عزم رکھتا ہے کہ اگر یہ مانع موجود نہ ہوتا تو وہ اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا، وہ جہاد کی تمنا اور آرزو کرتا ہے اور اس کے دل میں جہاد کی خواہش پیدا ہوئی ہے تو ایسا شخص جہاد کرنے والوں میں شمار ہوگا، کیونکہ نیت جازم کے ساتھ جب وہ عمل مقرون ہوتا ہے جو قولاً یا فعلاً نیت کرنے والے کے اختیار میں ہے تو وہ اس صاحب نیت کو فاعل کے مقام پر فائز کردیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ مجاہدین کو گھر بیٹھ رہنے والوں پر بلندی درجات کی فضیلت سے نوازا ہے۔ یہ فضیلت اجمالاً بیان فرمائی ہے۔ اس کے بعد صراحت کے ساتھ اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور رحمت کا وعدہ فرمایا جو ہر بھلائی کے حصول اور ہر برائی کے سدباب پر مشتمل ہے۔ صحیحین میں مروی ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان درجات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ’ ’جنت کے اندر سو درجے ہیں اور ان ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان۔ اس جنت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔“[ صحیح بخاری، الجھاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ، حدیث :2890] یہ ثواب جو اللہ تعالیٰ نے جہاد پر مرتب کیا ہے اس کی نظیر سورۃ صف کی یہ آیات ہیں: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ- تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ) (الصف :61؍10۔12) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو کیا میں تمہیں ایسی تجارت نہ بتاؤں جو تمہیں درد ناک عذاب سے نجات دے، تم اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنے مال سے جہاد کرو۔ اگر تم علم رکھتے ہو تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں جنت میں داخل کرے گا۔ جن میں نہریں بہہ رہی ہیں اور جنت جاوداں میں پاکیزہ آرام گاہوں میں داخل کرے گا۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔ “ ذرا حسن انتقال پر غور فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک حالت سے دوسری بلند تر حالت کی طرف منتقل ہونے کا کیسے ذکر فرمایا ہے۔ سب سے پہلے مجاہد اور غیر مجاہد کے درمیان مساوات (برابر ہنے) کی نفی فرمائی، پھر تصریح فرمائی کہ مجاہد کو گھر بیٹھ رہنے والے پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے، پھر مغفرت، رحمت اور بلند درجات کے ذریعے سے مجاہد کو فضیلت عطا کرنے کی طرف انتقال فرمایا۔ فضیلت اور مدح کے موقع پر فروتر سے بلند تر حالت کی طرف اور مذمت اور برائی کے موقع پر بلند تر حالت سے فروتر حالت کی طرف یہ انتقال، لفظوں کے اعتبار سے حسین تر اور نفوس انسانی میں کارگر ہونے کے اعتبار سے مؤثر تر ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ ایک چیز کو دوسری چیز پر فضیلت دیتا ہے جب کہ دونوں ہی کو فضیلت حاصل ہوتی ہو وہ ایسے لفظ کے ساتھ فضیلت بیان کرنے سے احتراز کرتا ہے جو دونوں کا جامع ہو۔ تاکہ کسی کو یہ وہم لاحق نہ ہو کہ کم تر فضیلت کی حامل چیز کی مذمت بیان کی ہے۔ جیسا کہ یہاں بیان فرمایا : ﴿وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ ﴾ ”اللہ نے سب کے ساتھ اچھا وعدہ کیا ہے۔“ اور جیسا کہ محولہ بالا سورۃ صف کی آیات میں فرمایا : ﴿وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ﴾” مومنوں کو خوش خبری دے دیجیے“ فرمایا : ﴿لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ ﴾(الحدید :57؍10) ” تم میں سے جس شخص نے فتح مکہ سے قبل خرچ کیا اور جہاد کیا (اور جس نے فتح مکہ کے بعد یہ کام کئے) برابر نہیں“ پھر فرمایا : ﴿وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ﴾ (الحدید: 57؍10) ” اور اللہ نے سب کے ساتھ اچھا وعدہ کیا ہے۔“ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ ﴾(الانبیاء :21؍ 79)” پس فیصلہ کرنے کا طریقہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے دونوں کو علم و حکمت عطا کی تھی۔ “ النسآء
96 پس جو کوئی شخصیات کے درمیان، گروہوں کے درمیان اور اعمال کے درمیان فضیلت کی تحقیق کرتا ہے تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ اس نکتہ کو خوب سمجھ لے۔ اسی طرح اگر وہ بعض شخصیات اور مقالات کی مذمت بیان کرتا ہے تو ان کو ایک دوسرے پر فضیلت دینے کے لیے ایسا اسلوب استعمال کرے جو دونوں کو جامع ہو، تاکہ جس کو فضیلت دی گئی ہے وہ اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ اسے کمال حاصل ہے۔ مثلاً جب یہ کہا جائے کہ نصاریٰ مجوسیوں سے بہتر ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا چاہئے کہ دونوں ہی کافر ہیں۔ جب یہ کہا جائے قتل زنا سے زیادہ بڑا جرم ہے تو ساتھ یہ بھی بتانا چاہئے کہ دونوں گناہ کبیرہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے اور ان گناہوں پر زجر و توبیخ کی ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجاہدین کے ساتھ مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو اس کے اسمائے کریمہ (اَلْغَفُوْرٌ) اور (اَلرَّحِیْمُ) سے صادر ہوتی ہیں اس لیے اس آیت کریمہ کے اختتام پر فرمایا : ﴿وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴾” اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ “ النسآء
97 اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت وعید آئی ہے جو ہجرت کی قدرت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا اور دارالکفر ہی میں مر جاتا ہے۔ کیونکہ جب فرشتے اس کی روح قبض کریں گے تو اس کو سخت زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے ﴿فِيمَ كُنتُمْ﴾ ” تم کس حال میں تھے“ اور کیسے تم نے اپنے تشخص کو مشرکین کے درمیان ممیز رکھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم ان کی تعداد میں اضافے کا باعث بنے اور بسا اوقات اہل ایمان کے خلاف تم نے کفار کی مدد کی، تم خیر کثیر، اللہ کے رسول کی معیت میں جہاد، مسلمانوں کی رفاقت اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی معاونت کی سعادت سے محروم رہے۔ ﴿قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ ﴾ وہ کہیں گے کہ ہم کمزور، مجبور اور مظلوم تھے اور ہجرت کی قدرت نہ رکھتے تھے۔ حالانکہ وہ اپنے اس قول میں سچے نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے اور ان کو وعید سنائی ہے اور اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ اس نے حقیقی مستضعفین کو مستثنیٰ قرار دیا ہے اس لیے فرشتے ان سے کہیں گے : ﴿أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّـهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ ﴾” کیا اللہ کی زمین وسیع و فراخ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر کے چلے جاتے“ یہ استفہام تقریری ہے یعنی ہر ایک کے ہاں یہ چیز متحقق ہے کہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ بندہ مومن جہاں کہیں بھی ہو اگر وہاں اپنے دین کا اظہار نہیں کرسکتا تو زمین اس کے لیے بہت وسیع ہے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ ﴾(العنکبوت :29؍56) ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو بے شک میری زمین بہت وسیع ہے پس میری ہی عبادت کرو۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں جن کے پاس کوئی عذر نہیں، فرمایا : ﴿ فَأُولَـٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا  ﴾ ” یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے“ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ اس میں سبب موجب کا بیان ہے جس پر، اس کی شرائط کے جمع ہونے اور موانع کے نہ ہونے کے ساتھ، مقتضا مرتب ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کوئی مانع اس مقتضا کو روک دیتا ہے۔ النسآء
98 اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ ہجرت سب سے بڑا فرض ہے اور اس کو ترک کرنا حرام بلکہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس شخص نے وفات پائی اس نے اپنا وہ رزق، عمر اور عمل پورا کرلیا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا۔ یہ دلیل لفظ ”توفی“ سے ماخوذ ہے۔ کیونکہ اگر اس نے وہ سب کچھ پورا نہیں کیا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا تو لفظ ’’ توفی“ کا اطلاق صحیح نہیں۔ اس آیت میں فرشتوں پر ایمان لانے اور ان کی مدح کی دلیل بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اثبات، ان کی تحسین اور اپنی موافقت کے انداز میں فرشتوں سے خطاب کیا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حقیقی مستضعفین کو مستثنیٰ قرار دیا جو کسی وجہ سے ہجرت کرنے پر قادر نہیں۔ فرمایا: ﴿وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا  ﴾” نہ وہ کوئی راستہ جانتے ہیں۔“ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی کسی امر واجب کی تعمیل کرنے سے عاجز ہو وہ معذور ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد سے عاجز رہنے والوں کے بارے میں فرمایا :﴿لَّيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ ۗ ﴾ (افتح :48؍ 17) ” نہ تو اندھے کے لیے کوئی گناہ ہے نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر“ اور تمام احکام کی عمومی اطاعت کے بارے میں فرمایا : ﴿فَاتَّقُوا اللَّـهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ﴾ (التغابن :64؍ 16) ” اپنی استطاعت بھر اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (اِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَیءٍ فَاْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ) ” جس چیز کا میں تمہیں حکم دوں مقدور بھر اس پر عمل کرو“[صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر، حدیث :1337] جب انسان پوری کوشش کرتا ہے مگر اس پر ہر قسم کے حیلے کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں تب اس صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوتا کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے : ﴿لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً  ﴾ ” وہ کوئی تدبیر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے“ یعنی وہ لاچار ہیں۔ آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ حج و عمرہ اور اس قسم کی دیگر عبادات میں جن میں سفر کی ضرورت پیش آتی ہے، رہنمائی کرنے والے کا ہونا بھی ” استطاعت“ کی شرطوں میں سے ہے۔ النسآء
99 ﴿فَأُولَـٰئِكَ عَسَى اللَّـهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَفُوًّا غَفُورًا  ﴾ ” امید ہے کہ ان لوگوں کو اللہ بخش دے اور اللہ بہت درگزر کرنے والا اور نہایت بخشنے والا ہے“ (عَسَى) اور اس کا ہم معنی کلمہ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور احسان کے تقاضے کے مطابق اس کو لازم کرتا ہے۔ جو کوئی کچھ نیک اعمال بجال لاتا ہے اس کو ثواب کی امید دلانے میں فائدہ ہے اور وہ یہ کہ ایک شخص ہے جو پوری طرح عمل نہیں کرتا اور نہ وہ اس عمل کو اس طریقے سے بجا لاتا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے بلکہ وہ کوتاہی کا مرتکب ہوتا ہے لہٰذا وہ اس ثواب کا مستحق قرار نہیں پاتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ النسآء
100 اس آیت کریمہ میں ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے اور ان مصالح اور فوائد کا بیان ہے جو ہجرت میں پنہاں ہیں۔ اس سچی ہستی نے وعدہ کیا ہے کہ جو کوئی اس کی رضا کی خاطر اس کی راہ میں ہجرت کرتا ہے وہ زمین میں بہت سے راستے اور کشادگی پائے گا۔ پس یہ راستے دینی مصالح، زمین کی وسعت اور دنیاوی مصالح پر مشتمل ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہجرت، وصال کے بعد فراق، غنا کے بعد فقر، عزت کے بعد ذلت اور فراخی کے بعد تنگدستی میں پڑنے کا نام ہے۔ معاملہ دراصل یہ نہیں کیونکہ بندہ مومن جب تک کفار کے درمیان رہ رہا ہے اس کا دین انتہائی ناقص ہے، اس کی وہ عبادات بھی ناقص ہیں جن کا تعلق صرف اسی کی ذات سے ہے جیسے نماز، وغیرہ اور اس کی وہ عبادات بھی ناقص ہیں جن کا تعلق دوسروں سے ہے، مثلاً قولی و فعلی جہاد اور اس کے دیگر توابع، کیونکہ یہ اس کے بس کی بات نہیں اور وہ اپنے دین کے بارے میں ہمیشہ فتنے اور آزمائش میں مبتلا رہے گا۔ خاص طور پر جبکہ وہ مستضعفین (کمزوروں) میں شمار ہوتا ہو۔ پس جب وہ دارالکفر سے ہجرت کرجاتا ہے تو اقامت دین کی کوشش اور اللہ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرسکتا ہے۔ کیونکہ (االْمُرَاغَمَۃُ) ایک جامع نام ہے اور اس سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جس سے اللہ کے دشمنوں کے خلاف غیظ پیدا ہو۔ اسی طرح (مُرَاغَمَ) سے مراد رزق وغیرہ کی فراخی ہے اور یہ چیز اسی طرح واقع ہوئی جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ چونکہ صحابہ کرام نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، اللہ کی رضا کے لیے اپنا گھربار، اپنا مال اور اپنی اولاد کو چھوڑ دیا اس لیے ہجرت کے ذریعے سے ان کے ایمان کی تکمیل ہوئی، انہیں ایمان کامل، جہاد عظیم اور اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت حاصل ہوئی۔ بنا بریں وہ بعد میں آنے والوں کے لیے امام بن گئے۔ اس ایمان کی تکمیل پر انہیں فتوحات اور غنائم حاصل ہوئیں اور وہ سب سے زیادہ بے نیاز ہوگئے۔ اسی طرح، قیامت تک ہر وہ شخص جو ان کی سیرت کو اختیار کرے گا اس کو بھی انہی انعامات سے نوازا جائے گا جن انعامات سے ان کو نوازا گیا تھا۔ پھر فرمایا :﴿وَمَن يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّـهِ وَرَسُولِهِ ﴾ ” اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر کے گھر سے نکل جائے۔“ یعنی جو شخص صرف اپنے رب کی رضا، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اللہ کے دین کی نصرت کی خاطر ہجرت کے لیے اپنے گھر سے نکلتا ہے اور اس کے سوا اس کا کوئی اور مقصد نہیں ﴿ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ ﴾ ” پھر اس کو موت آ پکڑے۔“ یعنی پھر قتل یا کسی اور سبب سے اسے موت آجاتی ہے ﴿فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ﴾” تو اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہوچکا۔“ یعنی اسے اس مہاجر کا اجر حاصل ہوگیا جسے اللہ تعالیٰ کی ضمانت سے اپنی منزل مقصود مل گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے عزم جازم کے ساتھ ہجرت کی نیت کی تھی اور اس پر عملدرآمد کرنا شروع کردیا تھا۔ اس پر، اور اس جیسے دوسرے لوگوں پر یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اگرچہ انہوں نے اپنے عمل کو مکمل نہیں کیا، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو کامل عمل عطا کردیا اور ہجرت وغیرہ کے معاملے میں ان سے جو کوتاہی ہوئی اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو ان دوا سمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے ﴿وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴾ ” اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ان تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے جس کا وہ ارتکاب کرتے ہیں خاص طور پر، وہ اہل ایمان جو توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿رَّحِيمًا ﴾ یعنی وہ تمام مخلوق پر رحم کرنے والا ہے، اس کی رحمت ہی انہیں وجود میں لائی، اس کی رحمت ہی نے انہیں عافیت عطا کی اور اس کی رحمت ہی نے انہیں مال، بیٹوں اور قوت وغیرہ سے نوازا۔ وہ اہل ایمان پر رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اسی نے اہل ایمان کو ایمان کی توفیق عطا کی، انہیں ایسے علم سے نوازا۔ وہ اہل ایمان پر رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اسی نے اہل ایمان کو ایمان کی توفیق عطا کی، انہیں ایسے علم سے نوازا جس سے ایقان حاصل ہوتا ہے۔ ان کے لیے سعادت اور فلاح کی راہیں آسان کردیں، جن کے ذریعے سے وہ بے انتہا فائدہ اٹھاتے ہیں وہ عنقریب اس کی رحمت اور فضل و کرم کے وہ نظارے دیکھیں گے جو کسی آنکھ نے دیکھے ہوں گے نہ کسی کان نے سنے ہوں گے اور نہ کسی بشر کے قلب سے ان کا گزر ہوا ہوگا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہماری برائیوں کی وجہ سے اپنی بھلائیوں سے محروم نہ کرے۔ النسآء
101 یہ دو آیات کریمہ سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت اور نماز خوف کے لیے اصل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ ﴾ ” جب چلو تم زمین میں“ یعنی سفر کے دوران آیت کریمہ کا ظاہر سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت کا تقاضا کرتا ہے سفر خواہ کیسا ہی ہو، خواہ معصیت کا سفر ہی کیوں نہ ہوجیسا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ جمہور فقہاء یعنی ائمہ ثلاثہ اور دیگر اہل علم آیت کے معنی اور مناسبت کے اعتبار سے آیت کے عموم کی تخصیص کرتے ہوئے معصیت کے سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت کو جائز قرار نہیں دیتے۔ کیونکہ رخصت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سہولت ہے کہ جب وہ سفر کریں تو نماز میں قصر کرلیا کریں اور روزہ چھوڑ دیا کریں۔ یہ تخفیف گناہ کا سفر کرنے والے شخص کے حال سے مناسبت نہیں رکھتی۔ ﴿فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ ﴾” تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں“ یعنی تم پر کوئی حرج اور گناہ نہیں۔ یہ چیز قصر کے افضل ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ میں مذکورہ نفی حرج اس وہم کا ازالہ کرتی ہے جو بہت سے نفوس میں واقع ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو نماز قصر کے واجب ہونے کے بھی منافی نہیں جیسا کہ اس کی نظیر سورۃ بقرہ کی اس آیت میں گزر چکی ہے ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّـهِ ۖ ﴾(البقرہ :2؍ 158) ” صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔۔۔ آیت کے آخر تک“ اس مقام پر وہم کا ازالہ ظاہر ہے کیونکہ مسلمانوں کے ہاں نماز کا وجوب اس کی اس کامل صفت کے ساتھ متحقق ہے اور یہ وہم اکثر نفوس سے اس وقت تک زائل نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس امر کا ذکر نہ کیا جائے جو اس کے منافی ہے۔ اتمام پر قصر کی افضلیت کو دو امور ثابت کرتے ہیں۔ اول : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے تمام سفروں کے دوران میں قصر کا التزام کرنا۔ ثانی: قصر، بندوں کے لیے وسعت، رخصت اور رحمت کا دروازہ ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی رخصتوں سے استفادہ کیا جائے۔ جس طرح وہ یہ بات ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کا کوئی کام کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ ﴾” نماز میں سے کچھ کم کر دو“ اور یہ نہیں فرمایا (أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ) ” نماز کو کم کر دو‘‘ اس میں دو فائدے ہیں۔ اول :۔ اگر یہ کہا ہوتا کہ ” نماز کو کم کردو“ تو قصر غیر منضبط اور غیر محدود ہوتی۔ اور بسا اوقات یہ بھی سمجھا جاسکتا تھا کہ اگر نماز کا بڑا حصہ کم کردیا جائے اور صرف ایک رکعت پڑھ لی جائے، تو کافی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے (مِنَ الصَّلَاةِ) کا لفظ استعمال فرمایا، تاکہ وہ اس امر پر دلالت کرے کہ قصر محدود اور منضبط ہے اور اس بارے میں اصل مرجع وہ نماز قصر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کے فعل سے ثابت ہے۔ (ثانی): حرف جار (مِنْ) تبعیض کا فائدہ دیتا ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ صرف بعض فرض نمازوں میں قصر ہے تمام نمازوں میں جائز نہیں۔ کیونکہ فجر اور مغرب کی نماز میں قصر نہیں۔ صرف ان نمازوں میں قصر کر کے دو رکعت پڑھی جاتی ہیں جن میں چار رکعتیں فرض کی گئی ہیں۔ جب یہ بات متحقق ہوگئی کہ سفر میں نماز قصر ایک رخصت ہے تو معلوم ہونا چاہئے کہ مفسرین میں اس قید کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں وارد ہوئی ہے۔ ﴿إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ﴾ ” اگر تم اس بات سے ڈرو کہ کافر تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے“ جس کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ نماز قصر اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ یہ دو امور ایک ساتھ موجود نہ ہوں سفر اور خوف۔ ان کے اختلاف کا حاصل یہ ہے کہ (أَن تَقْصُرُوا )سے مراد صرف عدد رکعات میں کمی ہے؟ یا عدد رکعات اور صفت نماز دونوں میں کمی ہے؟ اشکال صرف پہلی صورت میں ہے اور یہ اشکال امیر المومنین جناب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لاحق ہوا تھا۔ حتیٰ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ” یا رسول اللہ ! ہم نماز میں قصر کیوں کرتے ہیں حالانکہ ہم مامون ہوتے ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا : ﴿إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ﴾” اگر تمہیں کافروں کا خوف ہو کہ وہ تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا :” یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے پس تم اللہ تعالیٰ کے صدقہ کو قبول کرو۔“ (او کما قال علیہ السلام) [صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ المسافرین و قصرھا، حدیث:1083 ] اس صورت میں یہ قید ان غالب حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عائد کی گئی تھی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام دوچار تھے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر سفر جہاد کے لیے ہوتے تھے۔ اس میں دوسرا فائدہ یہ ہے کہ قصر کی رخصت کی مشروعیت میں حکمت اور مصلحت بیان کی گئی ہے۔ اس آیت کریمہ میں وہ انتہائی مشقت بیان کی گئی ہے، جس کا قصر کی رخصت کے بارے میں تصور کیا جاسکتا ہے اور وہ ہے سفر اور خوف کا اجتماع اور اس سے یہ بات لازم نہیں کہ اکیلے سفر میں قصر نہ کی جائے جو کہ مشقت کا باعث ہے۔ رہی قصر کی دوسری صورت یعنی عدد رکعات اور نماز کی صفت میں قصر تو یہ قید اپنے اپنے باب کے مطابق ہوگی۔ یعنی انسان کو اگر سفر اور خوف دونوں کا سامنا ہو تو عدد اور صفت دونوں میں قصر کی رخصت ہے۔ اگر وہ بلا خوف کسی سفر پر ہے تو صرف عدد رکعات میں قصر ہے اور اگر صرف دشمن کا خوف لاحق ہے تو صرف وصف نماز میں قصر ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ میں نماز خوف کی صفت بیان فرمائی ہے۔ النسآء
102 ﴿وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ ﴾ ”اور (اے پیغمبر !) جب آپ ان (مجاہدین کے لشکر میں ہوں) اور ان کو نماز پڑھانے لگو۔“ یعنی جب آپ ان کے ساتھ نماز پڑھیں اور اس کے ان واجبات کو پورا کریں جن کا پورا کرنا آپ پر اور آپ کے اصحاب پر لازم ہے۔ پھر اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر بیان فرمائی : ﴿فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِّنْهُم مَّعَكَ ﴾ ” تو ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑا ہو“ اور دوسری جماعت دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہوجیسا کہ آیت کا ٹکڑا ﴿ فَإِذَا سَجَدُوا ﴾” جب وہ سجدہ کرچکیں۔“ اس پر دلالت کرتا ہے، یعنی وہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہیں اپنی نماز مکمل کرلیں۔ یہاں نماز کو سجدے سے تعبیر کیا ہے تاکہ سجدے کی فضیلت ظاہر ہو، نیز یہ کہ سجدہ نماز کا رکن بلکہ سب سے بڑا رکن ہے۔ ﴿فَلْيَكُونُوا مِن وَرَائِكُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَةٌ أُخْرَىٰ لَمْ يُصَلُّوا ﴾” تو یہ تمہارے پیچھے آجائیں اور وہ دوسری جماعت آجائے جس نے نماز نہیں پڑھی‘‘ اور یہ وہ گروہ ہے جو دشمن کے مقابلے میں کھڑا تھا۔ ﴿فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ ﴾ ” اب یہ گروہ آپ کے ساتھ نماز پڑھے۔“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے گروہ کے نماز سے چلے جانے کے بعد امام نماز میں باقی رہے اور دوسرے گروہ کا انتظار کرے جب دوسرا گروہ آجائے تو ان کے ساتھ اپنی باقی نماز پڑھے پھر بیٹھ جائے اور ان کا انتظار کرے جب وہ اپنی نماز مکمل کرلیں تو ان کے ساتھ سلام پھیرے۔ یہ نماز خوف ادا کرنے کے متعدد طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز خوف کے متعدد طریقے مروی ہیں۔ ان تمام طریقوں سے نماز پڑھنا جائز ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ نماز با جماعت دو وجوہ سے فرض عین ہے۔ اول :۔ اللہ تعالیٰ نے خوف کی اس شدید حالت میں یعنی دشمن کے حملہ کے خوف کی حالت میں بھی جماعت کے ساتھ نماز کا حکم دیا ہے۔ جب اس شدید حالت میں بھی جماعت کو واجب قرار دیا ہے تو امن و اطمینان کی حالت میں اس کا واجب ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ثانی : نماز خوف ادا کرنے والے نماز کی بہت سی شرئاط اور لوازم کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس نماز میں نماز کو باطل کرنے والے بہت سے افعال کو نظر انداز کر کے ان کو معاف کردیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ صرف جماعت کے وجوب کی تاکید کی بنا پر ہے، کیونکہ فرض اور مستحب میں کوئی تعارض نہیں۔ اگر جماعت کے ساتھ نماز کا پڑھنا فرض نہ ہوتا، تو اس کی خاطر نماز کی ان واجبات کو ترک کرنے کی کبھی اجازت نہ دی جاتی۔ آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ افضل یہ ہے کہ ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھی جائے۔ اگر ایسا کرنا کسی خلل کا باعث ہو تو متعدد دائمہ کے پیچھے نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کے اجتماع و اتفاق اور ان کے عدم افتراق کی خاطر ہے، تاکہ یہ اتفاق ان کے دشمنوں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈال دے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز خوف کے اندر مسلح اور ہوشیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ نماز خوف میں اگرچہ کچھ زائد حرکات ہوتی ہیں اور نماز کے بعض احوال چھوٹ جاتے ہیں تاہم اس میں ایک راجح مصلحت ہے اور وہ ہے نماز اور جہاد کا اجتماع اور ان دشمنوں سے ہوشیار رہنا جو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور ان کے مال و متاع لوٹنے کے سخت حریص ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةً وَاحِدَةً ﴾ ” کافر چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے بے خبر ہوجاؤ تو وہ تم پر اچانک دھاوا بول دیں۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے عذر کو قبول فرمایا جو کسی مرض یا بارش کی وجہ سے اپنا اسلحہ اتار دیتا ہے مگر بایں ہمہ وہ دشمن سے چوکنا ہے۔ ﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَىٰ أَن تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ ۖ وَخُذُوا حِذْرَكُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ أَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴾” ہاں ! اپنے ہتھیار اتار رکھنے میں اس وقت تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تمہیں تکلیف ہو بوجہ بارش کے یا تم بیمار ہو اور بچاؤ کی چیزیں ساتھ رکھو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ اور اس کا رسوا کن عذاب یہ ہے کہ اس نے اہل ایمان اور اپنے دین کے موحدین انصار کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کو جہاں کہیں پائیں ان کو پکڑیں اور ان کو قتل کریں، ان کے ساتھ جنگ کریں، ان کا محاصرہ کریں، ہر جگہ ان کے لیے گھات لگائیں اور ہر حال میں ان سے چوکنا رہیں۔ ان کی طرف سے کبھی غافل نہ ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ کفار اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حم و و ثنا ہے کہ اس نے اہل ایمان پر احسان فرمایا اور اس نے اپنی مدد اور تعلیم کے ذریعے ان کی تائید فرمائی اگر وہ اس تعلیم پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہوں تو ان کا پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہوسکتا اور کسی زمانے میں بھی دشمن ان پر غالب نہیں آسکتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد : ﴿فَإِذَا سَجَدُوا فَلْيَكُونُوا مِن وَرَائِكُمْ ﴾” جب وہ سجدہ کرچکیں تو پرے ہوجائیں۔“ دلالت کرتا ہے کہ اس گروہ نے دشمن کے مقابلے میں جانے سے پہلے اپنی نماز مکمل کرلی تھی، اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے سے پہلے دوسرے گروہ کے منتظر تھے، کیونکہ پہلے ذکر فرمایا کہ وہ گروہ نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی مصاحبت کی خبر دی۔ پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر فعل کو ان کی طرف مضاف کیا یہ چیز ہمارے اس موقف پر دلالت کرتی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد :﴿ وَلْتَأْتِ طَائِفَةٌ أُخْرَىٰ لَمْ يُصَلُّوا فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ ﴾ ” پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے“ اس امر پر دلیل ہے کہ پہلا گروہ نماز پڑھ چکا تھا۔ اور دوسرے گروہ کی تمام نماز امام کی معیت میں پڑھی گئی۔ ان کی پہلی رکعت حقیقی طور پر امام کے ساتھ تھی اور دوسری حکمی طور پر۔ اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ امام ان کا انتظار کرے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز مکمل کرلیں پھر ان کے ساتھ سلام پھیرے۔ یہ چیز غور کرنے والے پر صاف واضح ہے۔ النسآء
103 جب تم اپنی نماز سے فارغ ہوجاؤ، یعنی نماز خوف وغیرہ سے تو اپنے تمام احوال اور تمام ہیئات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ یہاں یہ حکم خاص طور پر نماز خوف کے بارے میں دیا گیا ہے، جس کے چند فائدے ہیں۔ (١) قلب کی صلاح و فلاح اور اس کی سعادت، اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی انابت اور اس کے ساتھ محبت میں پنہاں ہے نیز اس بات میں ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی حمد و ثناء سے لبریز رہے۔ سب سے بڑا ذریعہ جس سے یہ مقصد حاصل ہوتا ہے نماز ہے جو درحقیقت بندے اور اس کے رب کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔ (٢) نماز حقائق ایمان اور معارف ایقان پر مشتمل ہے جو اس امر کے موجب ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر دن اور رات کے اوقات میں نماز فرض قرار دے دے اور معلوم ہے کہ نماز خوف کے ذریعے سے یہ مقاصد حمیدہ حاصل نہیں ہوسکتے، کیونکہ قلب و بدن خوف میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی تلافی کے لیے نماز خوف کے بعد ذکر کا حکم دیا ہے۔ (٣) خوف قلب میں قلق کا موجب بنتا ہے جو کہ کمزوری کا باعث ہے۔ جب دل کمزور ہوجاتا ہے تو بدن بھی دشمن کے مقابلے میں کمزور پڑجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی کثرت سب سے بڑی مقویات قلب سے ہے۔ (٤) صبر و استقامت کی معیت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر فوز و فلاح اور دشمنوں کے خلاف فتح و ظفر کا سبب بنتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّـهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴾ (الانفال :8؍45) ” اے مومنو ! اگر تمہارا کفار کی کسی جماعت کے ساتھ مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو شاید کہ تم فلاح پاؤ۔“ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حال میں کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں اللہ تعالیٰ کی دیگر حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ ﴿فَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ﴾ ” پھر جب خوف جاتا رہا تو نماز قائم کرو۔“ یعنی جب تم خوف سے مامون ہوجاؤ، تمہارے دلوں اور تمہارے ابدان کو اطمینان میسر آجائے تو نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے تمام ارکان و شرائط اور نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ کامل طریقے سے ادا کرو۔ ﴿ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا ﴾ ” نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے“ یعنی اپنےوقت میں فرض کی گئی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نماز فرض ہے اور اس کو ادا کرنے کا ایک وقت مقرر کیا گیا ہے اور نماز مقررہ وقت پر پڑھے بغیر قبول نہیں ہوتی۔ نماز کے اوقات وہی ہیں جو تمام مسلمانوں کے ہاں معروف اور متحقق ہیں نماز کے اوقات کو چھوٹے بڑے، عالم اور جاہل سب جانتے ہیں انہوں نے یہ اوقات اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ﴿ صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ ﴾ ” یسے ہی نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“[صحيح البخاري، الأذان، باب الأذان...... الخ، حديث: 631] اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ ” مومنوں پر“ دلالت کرتا ہے کہ نماز ایمان کی میزان ہے اور بندہ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق نماز کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کفار، جو اگرچہ اہل ذمہ کی طرح مسلمانوں کے احکام و قوانین پر عمل کرنے کے پابند ہیں، تاہم وہ فروع دین میں مخاطب نہیں مثلاً نماز وغیرہ اس لیے ان کو نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا جاسکتا۔ بلکہ جب تک وہ اپنے کفر پر قائم ہیں ان کی نماز صحیح نہیں البتہ ان کو نماز اور دیگر تمام احکام کو ترک کرنے پر آخرت میں سزا دی جائے گی۔ النسآء
104 یعنی اپنے دشمن کفار کو طلب کرنے ان کے خلاف جہاد اور ان کے مقابلے میں تیار رہنے میں کمزوری اور سستی کا مظاہرہ نہ کرو، کیونکہ دل کی کمزوری بدن کی کمزوری کو دعوت دیتی ہے اور یہ کمزوری دشمن کے مقابلے میں کمزوری کا باعث بنتی ہے بلکہ دشمن کے خلاف جنگ میں چست و چالاک اور طاقتور بنو، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا ہے جو اہل ایمان کے دل کو قوت بخشتے ہیں اور وہ دو چیزیں ہیں۔ اول : جس درد و الم، مشقت، تھکاوٹ اور زخموں وغیرہ کا تمہیں سامنا کرنا پڑتا ہے انہی چیزوں کا سامنا تمہارے دشمن کو بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے انسانی مروت اور اسلامی شجاعت و شہامت کے شایاں نہیں کہ تم ان کے مقابلے میں زیادہ کمزوری کا مظاہرہ کرو جبکہ تمہیں اور ان کو برابر کی تکالیف کا سامنا ہے۔ عادت جاریہ یہ ہے کہ صرف وہی شخص کمزور ہوتا ہے جو نہایت تسلسل کے ساتھ رنج و آلام کا شکار رہا ہو اور دشمن دائمی طور پر اس پر غالب ہو نہ کہ وہ شخص جو کبھی غالب رہا ہو اور کبھی مغلوب۔ ثانی: اللہ تعالیٰ پر جو امید تم رکھتے ہو وہ امید کفار نہیں رکھتے۔ تم اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عذاب سے نجات کی امید رکھتے ہو بلکہ خواص اہل ایمان تو اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اس کی شریعت کے نفاذ، گمراہوں کی راہ نمائی اور دین کے دشمنوں کے قلع قمع جیسے بلند مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ پس یہ تمام امور صاحب تصدیق مومن کی قوت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، ان سے ان کی چستی اور بہادری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جو دنیاوی عزت و جاہ کے حصول کی خاطر جنگ کرتا ہے اور اس میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ اس شخص کی مانند تو نہیں ہوسکتا جو دنیاوی اور آخروی سعادت، اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کے حصول کی خاطر لڑتا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں کے درمیان تفاوت رکھا ہے اور اپنے علم اور حکمت کے ذریعے سے ان کے مابین تفریق کی ہے۔ بنابریں فرمایا : ﴿وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴾” اور اللہ سب کچھ جانتا، بڑی حکمت والا ہے۔“ یعنی وہ علم کامل اور حکمت کامل کا مالک ہے۔ النسآء
105 اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا، بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامرو نواہی عدل پر مبنی ہیں۔﴿ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا﴾(الانعام :6؍115) ” اور تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔ “ اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ﴾  (النحل :16؍44) ” ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کردیں۔“ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔ فرمایا : ﴿بِمَا أَرَاكَ اللَّـهُ ﴾ ” اللہ کی ہدایات کے مطابق“ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴾ (النجم 53؍3۔4) ” ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ “ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے، نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿بِمَا أَرَاكَ اللَّـهُ ﴾” اللہ کی ہدایات کے مطابق“ اور یہ نہیں فرمایا : (بِمَا رَأَیْتَ) ” جو آپ نے دکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے“ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لیے ظلم و جور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا : ﴿وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا ﴾” اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو“ یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔ آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصوصیات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔ النسآء
106 ﴿وَّاسْتَغْفِرِ اللَّـهَ﴾ ” اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔“ اگر آپ سے کوئی کوتاہی صادر ہوئی ہے تو اس کی بخشش طلب کیجیے۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴾” بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے“ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عمل صالح کی توفیق سے نوازتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عقاب کے زوال کا موجب بنتا ہے۔ النسآء
107 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنفُسَهُمْ ۚ﴾ ” اور آپ ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں“ (الِاخْتِیَانُ) اور (اَلْخِیَانَۃُ) جرم، ظلم اور گناہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں اس شخص کی طرف سے جھگڑنا بھی شامل ہے جو کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہے جس میں کوئی حد یا تعزیر لازم آتی ہو۔ اس شخص سے جو خیانت وغیرہ صادر ہوئی ہے اس کی مدافعت میں یا اس کو شرعی عقوبت سے بچانے کے لیے اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کیا جائے۔ ﴿ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا﴾ ”کیونکہ اللہ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو نہایت کثرت سے خیانت اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب محبت کی نفی ہوجائے تو اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے اور محبت کی ضد بغض ہے۔ آیت کریمہ کی ابتدا میں مذکور ممانعت کے لیے یہ چیز تعلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ النسآء
108 پھر ان خائن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا : ﴿ يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّـهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ الْقَوْلِ﴾ ” وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں (لیکن) الله سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب کہ راتوں کے وقت وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں“ یہ ایمان کی کمزوری اور یقین کی کمی ہے کہ ان کے نزدیک مخلوق کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے بڑھ کر ہے۔ وہ مباح اور حرام ہر طریقے سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کی فضیحت نہ ہو۔۔۔ بایں ہمہ۔۔۔ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرہ بھر پرواہ نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دیکھ رہا ہے، حالانکہ وہ اپنے علم کے ذریعے سے ان کے تمام احوال میں ان کے ساتھ ہے خاص طور پر جب وہ رات کے وقت مجرم کی برأت اور بے گناہ پر جرم کے الزام کے بارے میں باتیں اور سازشیں کرتے ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ان سازشوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا مگر انہیں اللہ کا خوف نہ آیا جو زمین و آسمان کا رب ہے، جو ان کے بھیدوں اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا﴾” اور اللہ ان کے تمام کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی ان کو توبہ کا موقع دیا اور ان کو ان گناہوں پر اصرار کرنے پر ڈرایا جو بہت بڑی سزا کے موجب ہیں۔ النسآء
109 ﴿هَا أَنتُمْ هَـٰؤُلَاءِ جَادَلْتُمْ عَنْهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَمَن يُجَادِلُ اللَّـهَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَم مَّن يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا ﴾” ہاں تو یہ ہو تم لوگ کہ دنیا میں تم نے ان کی حمایت کی لیکن اللہ کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا اور کون ہے جو ان کا وکیل بن کر کھڑا ہوسکے گا“ یعنی فرض کیا اس دنیا کی زندگی میں تم نے ان کی طرف سے جھگڑ لیا، تمہاری اس حمایت نے مخلوق کے سامنے ان کو عار اور فضیحت سے بچا لیا۔ تب قیامت کے روز کون سی چیز انہیں بچائے گی اور وہ اسے کیا فائدہ دے گی؟ اور قیامت کے روز جب حجت ان کے خلاف ہوگی، ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں پر گواہی دیں گے، کون ان کی حمایت میں بولے گا؟ ﴿يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللّٰهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّـهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ ﴾ (النور :24؍25) ” اس روز اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ہی برحق اور حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔“ پس ان کی حمایت میں اس ہستی سے کون جھگڑے گا جو مخفی رازوں کو جانتی ہے جو ان کے خلاف ایسے گواہوں کو کھڑا کرے گی جن کے ہوتے ہوئے کسی کو انکار کی مجال نہ ہوگی؟ اس آیت کریمہ میں اس امر کے مقابلہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو ان موہوم دنیاوی مصالح کے مابین، جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرنے اور اس کی منہیات کے ارتکاب پر مترتب ہوتے ہیں اور اس اخروی ثواب کے مابین ہوتا ہے جس سے انسان محروم یا وہاں کے عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ پس جس شخص کو اس کے نفس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے وہ اپنے آپ سے پوچھے ” تو نے سستی اور کوتاہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کردیا تو اس کے عوض تو نے کون سا منافع کمایا؟ اور کتنا اخروی ثواب ہے جو تجھے حاصل ہونے سے رہ گیا؟ اور اللہ کے حکم کو ترک کرنے کے نتیجے میں کتنی بدبختی، محرومی، ناکامی اور خسارے کا سامنا کرناپڑا؟‘‘ اسی طرح جب اس کا نفس شہوات محرمہ کی طرف بلائے تو وہ اس سے مخاطب ہو کر کہے ” فرض کیا جس چیز کی تو نے خواہش کی میں نے پوری کردی، اس کی لذت تو ختم ہوجائے گی مگر یہ لذت اپنے پیچھے اتنے غم و ہموم، حسرتیں، ثواب سے محرومیاں اور عذاب چھوڑ جائے گی کہ ان کا کچھ حصہ بھی عقلمند شخص کو ان لذتوں کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ “ یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جس میں تدبر بندے کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہی حقیقی عقل مندی کی خصوصیت ہے، اس شخص کے برعکس جو عقل مندی کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ عقلمند ہوتا نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے دنیا کی لذت و راحت کو ترجیح دیتا ہے خواہ اس پر کیسے ہی نتائج مرتب کیوں نہ ہوں۔۔۔ واللہ المسعان النسآء
110 پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾ ” اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے ایسی مغفرت طلب کرتا ہے جو گناہ کے اقرار، اس پرپشیمانی، اس گناہ سے رک جانے اور اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کے عزم کو مستلزم ہے تو ایسے ہی شخص کے ساتھ اس ہستی نے مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتی۔ پس اس سے جو گناہ صادر ہوچکا ہوتا ہے وہ اس کو معاف کردیتا ہے نیز اس عیب اور نقص کو اس سے زائل کردیتا ہے جو اس گناہ پر مترتب ہوتا ہے اور اس کے سابقہ اعمال صالحہ اس کو لوٹا دیتا ہے اور مستقبل میں اسے مزید اعمال صالحہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اس کے اور اپنی توفیق کے درمیان اس کے گزشتہ گناہ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔ کیونکہ اس نے اس گناہ کو بخش دیا ہے اور جب وہ گناہ کو بخش دیتا ہے تو وہ ہر اس چیز کو بخش دیتا ہے جو اس گناہ کے نتیجے میں مرتب ہوتی ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ” براعمل“ علی الاطلاق تمام گناہوں کو، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں، شامل ہے اور (سوء) ” برائی“ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ برے عمل کے مرتکب کو اس پر مترتب ہونے والا عذاب برا لگتا ہے۔ نیز برا عمل فی نفسہ برا ہے، اچھا نہیں ہے۔ اسی طرح نفس کا ظلم علی الاطلاق شرک اور اس سے کم تر ظلم وغیرہ سب کو شامل ہے، مگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ مقرون کیا جائے تو ہر ایک کی اس کے مناسب حال تفسیر کی جائے گی۔ یہاں برے عمل کی تفسیر ” ظلم‘‘ کی جائے گی جو لوگوں کو برا لگتا ہے اور وہ ہے خون مال اور عزت و ناموس میں ان کا ایک دوسرے پر ظلم اور نفس کے ظلم کی تفسیر ” ظلم اور گناہ“ بیان کی جائے گی جس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے۔ نفس کے ظلم کو ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مالک نہیں کہ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے۔ انسان کے نفس کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، اس نے یہ نفس اپنے بندے کو امانت کے طور پر عطا کر کے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اسے انصاف وعدل کی راہ پر گامزن کرے اور علم و عمل کے اعتبار سے اس سے صراط مستقیم کا التزام کروائے۔ جس چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے وہ اسے سکھائے اور جو اس پر واجب ہے اس سے اس پر عمل کروائے۔ اس کے علاوہ کسی اور راستے میں اس کی سعی اور کوشش اپنے نفس پر ظلم، خیانت اس عدل کے راستے سے انحراف ہے جس کی ضد ظلم و جور ہے۔ النسآء
111 پھر فرمایا : ﴿وَمَن يَكْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَىٰ نَفْسِهِ﴾” اور جو شخص گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے“ اس میں ہر قسم کا چھوٹا بڑا گناہ شامل ہے۔ جو کوئی کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی دنیاوی اور اخروی سزا صرف اسی کے لیے ہے یہ سزا کسی اور کی طرف منتقل نہ ہوگی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾(الانعام : 6؍164) ” کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ مگر جب برائیاں غالب آجائیں اور ان پر نکیر نہ کی جائے تو ان کا عذاب عام ہوجاتا ہے اور ان کے گناہ میں سب شامل ہوجاتے ہیں اور کوئی شخص اس آیت کے حکم سے خارج نہیں کیونکہ جو کوئی برائیوں پر نکیر نہیں کرتا جبکہ ایسا کرنا واجب ہے، تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عدل و حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزا نہیں دیتا اور نہ کسی کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾” اور اللہ بخوبی جاننے والا، بہت حکمت والا ہے“ یعنی وہ علم کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا علم و حکمت ہے کہ اسے گناہ کا علم ہے اسے یہ بھی علم ہے کہ گناہ کس سے صادر ہوا۔ اس گناہ کا داعیہ کیا تھا اور اس گناہ پر کیا سزا مترتب ہوگی۔ وہ گناہ کے مرتکب کے احوال کو بھی خوب جانتا ہے کہ اگر اس سے یہ گناہ نفس امارہ کے داعیہ کے غلبہ سے صادر ہوا اور وہ اپنے اکثر اوقات میں توبہ وانابت کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اسے بخش دے گا اور اسے توبہ کی توفیق عطا کرے گا اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کی نظر کا استخفاف اور اس کے عذاب کی تحقیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی ہے تو یہ شخص اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور توبہ کی توفیق سے بہت دور ہے۔ النسآء
112 پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَمَن يَكْسِبْ خَطِيئَةً﴾ ” جو شخص کبیرہ یا صغیرہ گناہ تو خود کرے“ ﴿ثُمَّ يَرْمِ بِهِ﴾ ’’پھر اس سے کسی (بے گناہ) کو متہم کرے۔“ یعنی اپنے گناہ کو کسی اور کے سر تھوپ دے ﴿بَرِيئًا ﴾ ” جو اس گناہ سے بری ہے۔“ خواہ اس نے کسی اور گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو ﴿فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا﴾ ” تو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا اور کھلا گناہ کیا“ یعنی اس نے بے گناہ پر لگائے گئے بہتان کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھا لیا اور اس ظاہری گناہ کا بوجھ بھی جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بہتان ہلاک کرنے والے کبائر میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اس میں متعدد مفاسد جمع ہیں : (١) گناہ کبیرہ کا ارتکاب (٢) پھر اس گناہ کا بہتان اس شخص پر لگا دینا جو بے گناہ ہے۔ (٣) پھر اپنے آپ کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بولنا (٤) پھر اس گناہ پر جو دنیاوی عقوبت مترتب ہوتی ہے وہ عقوبت ایک بے گناہ پر نافذ کرا دینا اور خود کو سزا سے بچا لینا حالانکہ وہ حقیقی مجرم ہے۔ (٥) پھر بے گناہ شخص کے بارے میں لوگوں کی باتیں اور دیگر مفاسد۔ ان تمام مفاسد اور ہر ایک شر سے ہم اللہ تعالیٰ کی عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ النسآء
113 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو ان لوگوں کے ارادوں سے محفوظ رکھا جو آپ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ ﴿وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ﴾ ” اگر اللہ کا فضل و رحم آپ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا“ ان آیات کریمہ کے بارے میں اصحاب تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ ان کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک گھرانے نے مدینہ میں چوری اکا ارتکاب کیا۔ جب چوری کی اطلاع لوگوں کو ہوئی تو انہوں نے فضیحت اور رسوائی سے ڈرتے ہوئے چوری کا سامان کسی بے گناہ شخص کے گھر پھینک دیا۔ پھر چور نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مدد طلب کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر لوگوں کے سامنے اسے بری کروائیں۔ اس کے قبیلہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے آدمی نے چوری نہیں کی۔ چوری تو اس شخص نے کی ہے جس کے گھر سے مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے آدمی کو بری قرار دینے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال بیان کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیانت کا روں کی حمایت کرنے سے بچانے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں کیونکہ باطل پسندوں کی حمایت کرنا گمراہی ہے۔ گمراہی کی دو اقسام ہیں۔ (١) علم میں گمراہی، یہ حق سے لاعلمی اور جہالت کا نام ہے۔ (٢) عمل میں گمراہی، عمل واجب کے خلاف عمل کرنا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نوع کی گمراہی سے اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمل کی گمراہی سے محفوظ و مصئون رکھا ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کا مکر و فریب انہی کی طرف لوٹے گا جیسا کہ ہر فریبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ﴾ ” وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں“ کیونکہ اس فریب اور حیلہ سازی سے انہیں اپنا مقصد حاصل نہ ہوسکا اور انہیں سوائے ناکامی، محرومی، گناہ اور خسارے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت بڑی نعمت ہے جو نعمت عمل کو متضمن ہے اور یہ اس فعل کی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور ہر قسم کے محرمات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی نعمت علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿وَأَنزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ﴾ ”اور اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن عظیم اور ذکر حکیم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان اور اولین و آخرین کا علم ہے۔ حکمت سے مراد یا تو سنت ہے جس کے بارے میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ سنت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتی ہے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے یا اس سے مراد اسرار شریعت کی معرفت ہے جو احکام شریعت کی معرفت سے زائد چیز ہے، نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور ہر شے کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ فرمایا : ﴿وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ﴾ ” اور آپ کو وہ (کچھ) سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے“ یہ ان تمام امور کو شامل ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا۔ ورنہ نبوت سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو احوال تھے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ ﴾ (الشوری :42؍52) ” آپ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟“ اور فرمایا : ﴿وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ﴾ (الضحی :93؍7) ” اور اس نے آپ کو رستے سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھایا۔“ پھر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی بھیجتا رہا، آپ کو علم سکھاتا رہا اور آپ کے علم کی تکمیل کرتا رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم علم کے ایسے مقام پر فائز ہوگئے کہ اولین و آخرین وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی الطلاق مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے، صفات کمال کے سب سے زیادہ جامع اور ان صفات میں سب سے زیادہ کامل تھے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَكَانَ فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا﴾ ”اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے“ اللہ تعالیٰ کا فضل مخلوق میں سب سے زیادہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی ہرجنس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نوازا ہے جن کی تہہ تک پہنچنانا ممکن اور ان کو شمار کرنا آسان نہیں۔ النسآء
114 یعنی بہت سی ایسی سرگوشیاں جو لوگ آپس میں کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں ان میں کوئی بھلائی نہیں اور جس کلام میں کوئی بھلائی نہ ہو تو وہ یا تو بے فائدہ کلام ہوتا ہے مثلاً فضول مگر مباح بات چیت، یا وہ محض شر ہوتا ہے مثلاً محرم کلام کی تمام اقسام، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے استثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ﴾ ” ہاں وہ شخص جو صدقہ کا حکم دے۔“ یعنی اس میں سے وہ شخص مستثنیٰ ہے جو مال، علم یا کسی اور منفعت میں صدقہ کا حکم دیتا ہے۔ بلکہ شاید بعض چھوٹی عبادات بھی اس زمرے میں شمار ہوتی ہیں، مثلاً تسبیح و تحمید وغیرہ۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، ہر تہلیل صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی کے پاس جانا بھی صدقہ ہے۔“ [صحيح مسلم، الزكاة، حديث: 1006] ﴿أَوْ مَعْرُوفٍ﴾ ” یا نیک بات“ معروف سے مراد بھلائی اور نیکی ہے اور ہر وہ کام جسے شریعت نے نیکی قرار دیا اور عقل نے اس کی تحسین کی، معروف کے زمرے میں آتا ہے جب ” امر بالمعروف“ کا لفظ ” نہی عن المنکر“ کے ساتھ ملائے بغیر استعمال كيا جائے تو برائی سے روکنا اس میں شامل ہوتا ہے کیونکہ منہیات کو ترک کرنا بھی نیکی ہے، نیز بھلائی اس وقت تک تکمیل نہیں پاتی جب تک کہ برائی کو ترک نہ کردیا جائے اور جب ” امر بالمعروف“ اور ” نہی عن المنکر“ کا ایک ساتھ ذکر ہو تو، ” معروف“ سے مراد ہر وہ کام ہے جس کا شریعت میں حکم دیا گیا ہو ”منکر“ سے مراد ہر وہ کام ہے جس سے شریعت میں روکا گیا ہو۔ ﴿ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ﴾” یا لوگوں کے مابین صلح کرانے کا حکم کرے“ اور اصلاح صرف دو جھگڑنے والوں کے درمیان ہی ہوتی ہے۔ نزاع، جھگڑا، مخاصمت اور آپس میں ناراضی اس قدر شر اور تفرقہ کا باعث بنتے ہیں جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ پس اسی لئے شارع نے لوگوں کو ان کے قتل، مال اور عزت ناموس کے جھگڑوں میں اصلاح کی ترغیب دی ہے بلکہ تمام ادیان میں اس کی ترغیب دی گئی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ﴾ (آل عمران :3؍103) ” سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔“ فرمایا: ﴿وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ ۚ﴾لحجرات :49؍9) ” اگر مومنوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے“ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ (النساء :4؍128) ” اور صلح اچھی چیز ہے۔ “ لوگوں کے درمیان صلح کروانے والا اس شخص سے بہتر ہے جو کثرت سے (نفلی) نماز، روزے اور صدقہ کا اہتمام کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اصلاح کرنے والے کے عمل اور کوشش کی اصلاح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے والے کے عمل اور کوشش کی اصلاح نہیں کرتا اور نہ اس کا مقصد پورا کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿إِنَّ اللَّـهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ ﴾ (یونس :10؍81) ” اللہ فساد کرنے والوں کے کام کی اصلاح نہیں کرتا۔ “ یہ تمام افعال جہاں کہیں بھی بجالائے جائیں گے بھلائی کے زمرے میں آئیں گے، جیسا کہ یہ استثناء دلالت کرتا ہے۔ مگر پورا اور کامل اجر بندے کی نیت پر منحصر ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَمَن يَفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّـهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ ” اور جو شخص اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کے ارادہ سے یہ کام کرے اسے ہم یقیناً بہت بڑا ثواب دیں گے“ بنا بریں بندے کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھے اور ہر وقت چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرے تاکہ اسے اجر عظیم حاصل ہو، تاکہ اس میں اخلاص کی عادت راسخ ہو اور وہ اہل اخلاص کے زمرے میں شمار ہو اور اس کے اجر کی تکمیل ہو خواہ اس کے مقصد کی تکمیل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو کیونکہ اس نے اس نیک مقصد کی نیت کی تھی اور امکان بھر اس پر عمل بھی کیا تھا۔ النسآء
115 یعنی جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتا ہے اور آپ کی لائی ہوئی شریعت میں آپ سے عناد رکھتا ہے ﴿مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ﴾” سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد“ یعنی دلائل قرآنی اور براہین نبویہ کے ذریعے سے ہدایت کا راستہ واضح ہوجانے کے بعد ﴿وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ﴾” اور مومنوں کے راستے کے خلاف چلے“ اہل ایمان کے راستے سے مراد ان کے عقائد و اعمال ہیں ﴿ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ﴾ ” ہم اس کو پھیر دیتے ہیں اسی طرف جس طرف وہ پھرتا ہے“ یعنی ہم اسے اور اس چیز کو جو اس نے اپنے لئے اختیار کی ہے چھوڑ کر اس سے الگ ہوجاتے ہیں اور ہم اسے بھلائی کی توفیق سے محروم کردیتے ہیں۔ کیونکہ اس نے حق کو جان بوجھ کر ترک کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی جزا عدل و انصاف پر مبنی ہے کہ وہ اسے اس کی گمراہی میں حیران و پریشان چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنی گمراہی میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوبَهُمْ﴾ (الصف :61؍5) ” جب انہوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا“ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ (الانعام :6؍110) ” اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہ لائے تھے (اب بھی ایمان نہ لائیں گے۔ “ ) اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت نہیں کرتا اور مومنین کے راستے کی اتباع کرتا ہے۔ اس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع، اور مسلمانوں کی جماعت کی معیت کا التزام کرنا ہے، تب اگر اس سے کوئی گناہ صادر ہوتا ہے یا نفس کے تقاضے اور طبیعت کے غلبے کی بنا پر گناہ کا ارادہ کر بیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ اپنے لطف و کرم سے اس کا تدارک کرد یتا ہے اور اسے برائی سے بچا کر اس پر احسان کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جناب یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا : ﴿ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ ۚ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ ﴾ (یوسف: 12؍24) ” تاکہ ہم اس طرح اس سے برائی اور بے حیائی کو روک دیں بلاشبہ وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔“ یعنی یوسف علیہ السلام کے اخلاص کے سبب سے ان سے برائی کو دور کردیا اور اللہ تعالیٰ اپنے ہر چنے ہوئے بندے کے ساتھ یونہی کرتا ہے، جیسا کہ علت کی عمومیت اس پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ﴾ ” اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے۔“ یعنی ہم جہنم میں اسے بہت بڑے عذاب سے دوچار کریں گے ﴿وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴾” اور وہ بری جگہ ہے۔“ یعنی انجام کار یہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ یہ وعید، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کی مخالفت پر مرتب ہوتی ہے گناہ کے چھوٹا بڑا ہونے کے اعتبار سے اس کے بہت سے مراتب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کرسکتا۔ ان میں سے بعض مراتب ایسے ہیں جو جہنم میں خلود کا باعث ہوں گے۔ باقی تمام اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور دوری کا موجب ہیں۔ بعض گناہوں کا مرتبہ کمتر ہے۔ شاید دوسری آیت اس آیت کریمہ کے اطلاق کی تفصیل کی طرح ہے۔ یعنی شرک کو اللہ تعالیٰ کبھی نہیں بخشے گا کیونکہ شرک اللہ رب العالمین اور اس کی توحید میں نقص اور مخلوق کو جو خود اپنے نفع و نقصان کی مالک نہیں، اس اللہ کے برابر قرار دینا ہے جو نفع و نقصان کا مالک ہے، ہر قسم کی نعمت صرف اسی کی طرف سے ہے، تمام تکلیفوں کو صرف وہی دور کرنے والا ہے ہر اعتبار سے کمال مطلق اور تمام وجوہ سے غنائے تام کا وہی مالک ہے۔ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی گمراہی یہ ہے کہ جس ہستی کی یہ عظمت و شان ہو، اس کی عبادت کے لئے اخلاص نہ ہو اور جو صفات کمال اور صفات غنا میں سے کسی چیز کی بھی مالک نہ ہو، بلکہ وہ عدم کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کا وجود نیست ہے، کمال نیست ہے، بے نیازی نیست ہے اور ہر لحاظ سے محتاجی ہی محتاجی ہے۔ النسآء
116 وہ گناہ جو شرک سے کمتر ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اپنی رحمت اور حکمت سے ان گناہوں کو بخش دے گا اور اگر چاہے گا تو اپنے عدل و حکمت سے ان کو عذاب دے گا۔ اس آیت کریمہ سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ اجماع امت حجت ہے نیز یہ کہ وہ خطا سے محفوظ ہے۔ اس استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کے راستے کی مخالفت کرنے پر جہنم اور خذ لان کی وعید سنائی ہے اور مومنین کا راستہ مفرد اور مضاف ہے جو ان عقائد و اعمال پر مشتمل ہے جن پر تمام اہل ایمان عمل پیرا ہیں۔ جب تمام اہل ایمان کسی چیز کے وجوب، استحباب، تحریم، کراہت یا جواز پر متفق ہیں تو یہی ان کا راستہ ہے اور جو کوئی اہل ایمان کے کسی چیز پر انعقاد اجماع کے بعد ان کی مخالفت کرتا ہے تو وہ اہل ایمان کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے پر گامزن ہے۔ اجماع امت کے حجت ہونے پر یہ آیت کریمہ بھی دلالت کرتی ہے﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُم مِّنَ اللَّـهِ شَيْئًا ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ﴾(آل عمران :3؍ 110) ” تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی ہدایت کے لئے پیدا کی گئی ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔“ اس آیت کریمہ میں استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اس امت کے اہل ایمان صرف نیکی ہی کا حکم دیتے ہیں، لہٰذا جب وہ کسی چیز کے وجوب یا استحباب پر متفق ہوجاتے ہیں تو یہ گویا وہ چیز ہے جس کا انہیں حکم دیا گیا۔ پس آیت کریمہ کی نص سے متعین ہوگیا کہ وہ معاملہ معروف ہی ہوگا اور معروف کے علاوہ جو کچھ ہے وہ منکر ہے۔ اسی طرح جب وہ کسی چیز سے منع کرنے پر متفق ہوجاتے ہیں تو وہ انہی باتوں میں سے ہے جن سے انہیں روکا گیا ہے، پس وہ یقیناً منکر ہے۔ اسی کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ﴾(البقرۃ:2؍143) ” اور اسی طرح ہم نے تمہیں ” امت وسط“ بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔“ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اس امت کو معتدل اور بہترین امت بنایا ہے تاکہ وہ ہر چیز کے بارے میں لوگوں پر گواہ بنیں۔ جب وہ کسی حکم کے بارے میں یہ گواہی دیں کہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیا ہے یا اس نے اس کو مباح قرار دیا ہے، تو ان کی شہادت معتبر اور معصوم ہے کیونکہ وہ جس چیز کی شہادت دے رہے تھے اس کا علم رکھتے ہیں اور اپنی شہادت میں عادل ہیں۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو وہ اپنی شہادت میں عادل اور اس کا علم رکھنے والے نہ ہوتے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھی اس کی نظیر ہے۔ ﴿ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ﴾ (النساء :4؍59) ’’اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہوجائے تو معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو۔ “ آیت کریمہ سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جس معاملہ میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں بلکہ اتفاق ہے، اسے وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانے پر مامور نہیں ہیں۔ ایسا معاملہ قرآن اور سنت کے موافق ہی ہوگا، مخالف نہیں ہوسکتا۔ ان دلائل سے قطعی طور پر یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اس امت کا اجماع حجت ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی گمراہی کی برائی بیان کرتے ہوئے فرمایا : النسآء
117 یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں، مثلاً ” عزّٰی“ اور ” مناۃ“ وغیرہ۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بت کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں نہ رزق عطا کرسکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں اور اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ اپنی مدد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ ان میں سماعت ہے نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت۔ جس کے یہ اوصاف ہوں وہ کیسے عبادت کا مستحق ہوسکتا ہے اور اس ہستی کے لئے اخلاص کو کیسے ترک کیا جاسکتا ہے جو اسمائے حسنیٰ، صفات علیا، حمد و کمال، مجد و جلال، غلبہ و جمال، رحمت و احسان، تخلیق و تدبیر میں منفرد اور امرو تقدیر میں عظیم حکمت کی مالک ہے۔ کیا یہ بدترین قباحت نہیں ہے جو ان ہستیوں کے نقص پر دلالت کرتی ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کی پرستش خساست و دناءت کے اس انتہائی نچلے درجے پر پہنچی ہوئی ہے جس کا کوئی تصور کرسکتا ہے نہ کوئی بیان کرنے والا بیان کرسکتا ہے؟ بایں ہمہ یہ لوگ جو ان ناقص بتوں کی عبادت کرتے ہیں محض ان کی شکل و صورت کی عبادت کرتے ہیں ورنہ درحقیقت وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کا دشمن ہے اور وہ ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لئے وہ بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ملعون قرار دے کر اپنی رحمت سے بہت دور کردیا ہے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کی رحمت سے دور کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ﴾ (فاطر :35؍6) ” وہ تو اپنے پیرو کاروں کے گروہ کو محض اس لئے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔ “ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گمراہ کرنے، شر اور فساد کو ان کے لئے مزین کرنے کی شیطانی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان نے قسم کھا کر اپنے رب سے کہا : النسآء
118 ﴿ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا﴾ ” میں ضرور لوں گا تیرے بندوں سے حصہ مقررہ“ یعنی مقدر کیا ہوا حصہ۔ شیطان لعین کو علم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کو گمراہ نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلتا۔ اس کا بس تو صرف اسی پر چلتا ہے جو اسے اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ترجیح دیتا ہے۔ ایک اور مقام پر وہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ ضرور ان کو گمراہ کرے گا۔ ﴿ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ- إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾(ص :38؍82۔83) ” میں ضرور ان سب کو بہکاتا رہوں گا سوائے ان کے جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔ “ یہ شیطان خبیث کا خیال تھا جس کو اس نے نہایت جزم کے ساتھ ظاہر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں اس کے وقوع کی خبر دی ہے۔ ﴿ وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ (سبا :34؍20) ” اور ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا قول سچ کر دکھایا کہ اہل ایمان کے ایک گروہ کے سوا سب نے اس کی پیروی کی۔“ یہی وہ مقررہ حصہ ہے جس کے بارے میں شیطان نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ان سے ضرور حاصل کر کے رہے گا۔ اس نے بتا دیا ہے کہ وہ ان سے کیا چاہتا ہے اور ان کے بارے میں اس کے کیا مقاصد ہیں۔ النسآء
119 ﴿وَلَأُضِلَّنَّهُمْ﴾” اور میں انہیں گمراہ کرتا رہوں گا۔“ یعنی میں انہیں صراط مستقیم سے بھٹکاؤں گا اور علم و عمل میں انہیں گمراہ کر کے رہوں گا۔ ﴿وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ﴾” اور انہیں امیدیں دلاتا رہوں گا۔“ یعنی میں ان کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ امیدیں بھی دلاتا رہوں گا کہ انہیں وہ سب کچھ حاصل ہوگا جو ہدایت یافتہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے اور یہ عین فریب ہے۔ پس اس نے ان کو مجرد گمراہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے اس گمراہی کو ان کے سامنے آراستہ کیا جس میں وہ مبتلا ہوئے اور یہ ان کی برائی میں مزید اضافہ ہے کہ انہوں نے اہل جہنم کے اعمال کئے جو عذاب کے موجب ہیں اور سمجھتے رہے کہ یہ اعمال انہیں جنت میں لے جائیں گے۔ ذرا یہود و نصاریٰ وغیرہ کا حال دیکھو، ان کا وہی رویہ ہے جس کی بابت اللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا : ﴿ لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ﴾(البقرہ :2؍111) ” یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا یہ ان کی محض باطل آرزوئیں ہیں۔“ فرمایا : ﴿كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ﴾ (الانعام :6؍108) ” اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے عمل کو ان کے سامنے آراستہ کردیا ہے۔“ اور فرمایا :﴿ قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا ﴾ (الکھف :18؍103۔104) ” کہہ دو کہ کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اعمال کے لحاظ سے خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں فرماتا ہے کہ قیامت کے روزہ وہ اہل ایمان سے کہیں گے : ﴿أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ وَلَـٰكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَاءَ أَمْرُ اللَّـهِ وَغَرَّكُم بِاللَّـهِ الْغَرُورُ﴾ (الحدید :57؍14) ” کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اہل ایمان جواب دیں گے کیوں نہیں مگر تم نے اپنے تئیں فتنے میں ڈال لیا تھا اور ہمارے بارے میں حوادث زمانہ کے منتظر تھے اور تم شک میں مبتلا ہوئے۔ تمہیں آرزوؤں نے فریب میں مبتلا کئے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور دھوکے باز (شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں فریب دیتا رہا۔ “ ﴿وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ ﴾ ” اور یہ حکم دیتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں۔“ یعنی میں ان کے مویشیوں کے کان کاٹنے کا حکم دوں گا (تاکہ علامت بن جائے کہ یہ غیر اللہ کے نام پر چھوڑا ہوا جانور ہے) مثلاً ” بحیرہ“ ” سائبہ“” وصیلہ“ اور ” حام“ وغیرہ پس ایک کی طرف اشارہ کر کے تمام مراد لئے ہیں۔ گمراہی کی یہ قسم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال ٹھہرانے کی مقتضی ہے اور اسی میں فاسد اعتقادات اور ظلم و جور پر مبنی احکام بھی شامل ہیں جو بڑی گمراہیوں میں سے ہیں۔ ﴿وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰـهِ﴾ ” اور میں انہیں حکم دوں گا پس وہ اللہ کی بنائی ہوئی صورتیں بدلیں گے“ اس کا اطلاق ظاہری تخلیق پر ہوتا ہے یعنی گودنا، دانتوں کو باریک کرنا، چہرے سے بال اکھیڑنا اور دانتوں کے درمیان فاصلہ بنانا ان تمام چیزوں کے ذریعے سے شیطان نے لوگوں کو گمراہ کیا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدل ڈالا۔ لوگوں کی یہ حرکتیں اس بات کو متضمن ہیں کہ یہ لوگ اللہ کی پیدائش پر ناراض اور اس کی حکمت پر نکتہ چین ہیں، نیز ان کا اعتقاد ہے کہ وہ کام جو وہ اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیتے ہیں وہ اللہ کی تخلیق سے بہتر ہے، نیز یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور تدبیر پر بھی راضی نہیں ہیں۔ شیطان کا یہ کام باطنی تخلیق کی تبدیلی کو بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حنيف بنا کر اچھی فطرت پر پیدا کیا ہے، ان میں قبول حق اور حق کو ترجیح دینے والوں کی فطرت تخلیق سے ہٹا دیا اور شر، شرک، کفر، فسق اور معصیت کو ان کے سامنے آراستہ کردیا، اس لئے کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، مگر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی محبت اور اس کی معرفت، وہ اس فطرت کو بدل ڈالتے ہیں۔ اس مقام پر شیاطین بندوں کا اسی طرح شکار کرتے ہیں جس طرح درندے اور بھیڑیئے ریوڑ سے الگ ہونے والی بھیڑ بکریوں کو پھاڑ کھاتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر فضل و کرم نہ ہوتا تو ان کا بھی وہی حشر ہوتا جو ان فتنہ زدہ لوگوں کا ہوا ہے۔ پس وہ بھی دنیاو آخرت کے خسارے میں پڑجاتے اور انہیں ناکامی اور گھاٹے کا منہ دیکھناپڑتا۔ ان فتنہ زدہ لوگوں کا یہ حشر اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اپنے رب اور اپنے پیدا کرنے والے سے منہ موڑ کر ایسے دشمن کو اپنا سرپرست بنا لیا جو ہر لحاظ سے ان سے برائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّن دُونِ اللَّـهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا﴾” جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وہ صریح نقصان میں ڈوبے گا۔“ جو دین و دنیا کے خسارے میں پڑجائے اور جسے اس کے گناہ اور نافرمانیاں ہلاک کر ڈالیں اس سے زیادہ واضح اور بڑا خسارہ اور کیا ہوسکتا ہے؟ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم ہو کر ابدی بدبختی میں مبتلا ہوگئے۔ اس طرح جو کوئی اپنے آقا اور مولا ہی کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، وہ ہر لحاظ سے فائدے میں رہتا ہے، ہر طرح سے فلاح پاتا ہے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرتا ہے اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اے اللہ ! جو چیز تو عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز سے تو محروم کر دے اسے کوئی عطا نہیں کرسکتا۔ اے اللہ ! جن لوگوں کی تو نے سرپرستی فرمائی ان لوگوں کی معیت میں ہماری بھی سرپرستی فرما اور جن لوگوں کو تو نے عافیت سے نوازا ان کے ساتھ ہمیں بھی عافیت سے نواز۔ النسآء
120 ﴿يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ﴾ ” وہ ان کو وعدے دیتا ہے اور امیدیں دلاتا ہے۔“ یعنی شیطان ان لوگوں سے وعدہ کرتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ یہاں وعدہ میں وعید بھی شامل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ﴾(البقرہ :2؍268) ” شیطان تمہیں محتاجی سے ڈراتا ہے“ وہ بندوں کو یہ وعید سناتا ہے کہ اگر وہ اللہ کے راستے میں خرچ کریں گے تو محتاج اور تنگ دست ہوجائیں گے۔ وہ انہیں خوف دلاتا ہے کہ انہوں نے اللہ کے راستے میں جہاد میں حصہ لیا تو وہ قتل ہوجائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ ﴾(آل عمران :3؍175) ” یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے خوف دلاتا ہے۔ “ النسآء
121 جب بندے اللہ تعالیٰ کی مرضی کو ترجیح دیتے ہیں تو وہ انہیں ہر ممکن طریقے سے جو اس کی عقل میں آسکے، ڈراتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بھلائی کا کام کرنے میں سست پڑجاتے ہیں۔ اسی طرح شیطان انہیں جھوٹی اور باطل تمناؤں میں مبتلا کرتا ہے اور تحقیق کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ تمنائیں تو محض سراب تھیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿أُولَـٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ﴾” ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔“ یعنی جس نے شیطان کی اطاعت کی اور اپنے رب سے روگردانی کی وہ شیطان کے پیروکاروں اور اس کے گروہ میں شامل ہوگیا، ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًا﴾” اور وہاں سے بھاگنے اور گلوخلاصی کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔“ بلکہ وہ جہنم میں ابد الآباد تک رہیں گے۔ بدبخت لوگوں یعنی اولیائے شیطان کا انجام کار بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوش بخت لوگوں یعنی اولیائے رحمان کے انجام کا ذکران الفاظ میں فرمایا : النسآء
122 یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر علم، تصدیق اور اقرار کے ساتھ اس طرح ایمان لائیں جس طرح ان کو حکم دیا گیا ہے۔﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ ” اور نیک کام کرتے رہے۔“ یعنی وہ اعمال جو ایمان سے جنم لیتے ہیں اور یہ تمام مامورات کو شامل ہے، چاہے وہ فرض ہوں یا مستحب، ان کا تعلق اعمال قلب سے ہو، اعمال لسان سے ہو اور بقیہ اعمال جو ارح سے۔ ہر شخص کے لئے اس کے حال و مقام، اس کے ایمان اور عمل صالح کی تکمیل کے مطابق ثواب مرتب ہوتا ہے۔ ایمان و عمل میں جو کوتاہی واقع ہوتی ہے اس پر مترتب ہونے والا ثواب اس کی تلافی کردیتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا سچا وعدہ ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تتبع سے معلوم کیا جاتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس پر مترتب ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ ” ہم انہیں ان باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں“ جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جن کو اس سے پہلے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ جنت میں مختلف انواع کے ماکولات، لذیذ قسم کے مشروبات، دلکش نظارے، حسین و جمیل بیویاں، خوبصورت محل، آراستہ کئے ہوئے بالاخانے، پھل سے لدے ہوئے درخت، عجیب وغریب میوے، مسحور کن آوازیں، وافر نعمتیں، دوستوں کی مجلسیں اور جنت کے باغات میں اپنی یادوں کے تذکرے اور سب کچھ ہوگا۔ ان سب سے اعلیٰ اور جلیل ترین نعمت جو جنت میں عطا ہوگی وہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا، روح کا اس کے قرب سے فیض یاب ہونا، آنکھوں سے اس کا دیدار کرنا اور کانوں سے اس کے خطاب کو سننا۔ یہ نعمت بندے کو ہر نعمت و مسرت فراموش کرا دے گی۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثبات و استقامت عطا نہ کی گئی ہو تو بندے خوشی سے اڑ جائیں اور فرحت و مسرت سے مر جائیں۔ اللہ اللہ، کتنی شیریں ہوگی یہ نعمت اور کتنے بلند مرتبہ ہوں گے وہ انعامات جو رب کریم ان کو عطا کرے گا اور وہ بھلائی اور مسرت جو انہیں حاصل ہوگی۔ کوئی شخص ان کا وصف بیان نہیں کرسکتا اور ان تمام نعمتوں کا اتمام اور ان کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ان عالی شان منازل میں ہمیشہ رہیں گے۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ وَعْدَ اللَّـهِ حَقًّا ۚ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّـهِ قِيلًا ﴾ ” اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ سے بڑھ کر سچا ہے۔“ اللہ عظیم نے سچ فرمایا ہے، اس کا قول اور اس کی بات سچائی کے بلند ترین مرتبے پر پہنچی ہوئی ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام سچا ہے اور اس کی خبر سچی ہے، اس لئے اس کا کلام جس چیز پر دلالت کرتا ہے وہ بھی اس کے مطابق اور سچائی کو متضمن ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے کلام سے مراد ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سچا ہے اور سچائی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے خبر دیتے ہیں اور آپ صرف اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے سے ہی کلام کرتے ہیں۔ النسآء
123 یعنی معاملہ، نجات اور تزکیہ تمہاری اور اہل کتاب کی خواہشات پر مبنی نہیں۔ (اَلْاَمَانِیُّ) سے مراد ایسی خواہشات اور تمنائیں ہیں جو عمل سے عاری اور محض دعویٰ ہوں۔ اگر ان تمناؤں کا مقابلہ ان جیسی دیگر تمناؤں سے کیا جائے تو یہ ان کی جنس میں شمار ہوں گی۔ ہر امر میں تمنا اور آرزو کا یہی معاملہ ہے۔ تب ایمان اور ابدی سعادت محض خواہشات اور آرزؤں سے کیسے حاصل ہوسکتی ہے؟ اہل کتاب کی جھوٹی خواہشات اور تمناؤں کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ کرچکا ہے، وہ کہا کرتے تھے : ﴿لَنْ یَدُخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَاَن ھُوْدًا اَوْنَصٰرٰي تِلْکَ اَمَانِيُّھُمْ﴾ (البقرہ :2؍111) ” یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا یہ ان کی محض باطل آرزوئیں ہیں۔“ یہ تو تھے اہل کتاب، اور دیگر لوگ جو کسی کتاب اور کسی رسول کی طرف منسوب نہیں۔ ان کی آرزوئیں تو بدرجہ اولیٰ باطل ہیں۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کامل عدل و انصاف کی بنا پر ان لوگوں کو بھی اس دائرے میں شامل کیا ہے جو اپنے آپ کو اسلام سے منسوب کرتے ہیں۔ اگر انسان اپنے دعویٰ کی صحت پر دلیل و برہان فراہم نہ کرے تو کسی بھی دین کی طرف مجرد انتساب کسی کام نہیں آتا۔ اعمال دعوے کی تصدیق یا تکذیب کرتے ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : النسآء
124 ﴿مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ ” جو برائی کرے گا اس کی سزا پائے گا“ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ اصول تمام عاملین کو شامل ہے کیونکہ (سوء) ” برائی“ کا اطلاق چھوٹے یا بڑے ہر قسم کے گناہ پر ہوتا ہے اسی طرح ” جزا“ میں تھوڑی یا زیادہ، دنیاوی یا اخروی ہر قسم کی جزا شامل ہے۔ اس مقام پر لوگ بے شمار درجات میں منقسم ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے نیک (یا برے) اعمال بہت کم ہوں گے اور کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے نیک (یا برے) اعمال بہت زیادہ ہوں گے۔ پس جن کے اعمال سارے کے سارے برائی پر مشتمل ہوں گے اور ایسے لوگ صرف کافر ہی ہوں گے جب ان میں سے کوئی توبہ کئے بغیر مر جائے تو اس کی جزا یہ ہوگی کہ وہ درد ناک عذاب میں ہمیشہ رہے گا۔ اور جس کے اعمال نیک ہوں گے اور وہ اپنے غالب احوال میں درست طرز عمل اپنانے والا ہوگا، البتہ کبھی کبھار اس سے چھوٹے موٹے گناہ صادر ہوجاتے رہے ہوں گے تو اس کو اپنے بدن، قلب، اپنے محبوب شخص یا مال و منال میں جو رنج و غم اور اذیت والم پہنچتے ہیں تو یہ تکالیف بھی اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ ان دو حالتوں کے درمیان بہت سے مراتب ہیں۔ عام برے عمل کی یہ جزا صرف ان لوگوں سے مخصوص ہے جو توبہ نہیں کرتے، کیونکہ گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس کا کوئی گناہ نہ ہو۔ جیسا کہ نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا﴾ ” اور نہیں پائے گا وہ اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار“ یہ اس وہم کے ازالہ کے لئے ہے کہ شاید وہ شخص جو اپنے (برے) عمل پر بدلے کا مستحق ہے، یہ زعم رکھتا ہو کہ کبھی اس کا کوئی حمایتی یاد مددگار یا کوئی سفارشی اس سے عذاب کو دور کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی نفی کی ہے، اس کا کوئی حمایتی نہیں ہوگا جو اس کے لئے اس کا مطلوب حاصل کرسکے اور نہ اس کا کوئی مددگار ہوگا جو اس کا ڈر دور کرسکے سوائے اس کے رب اور مالک کے۔ ﴿وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ ﴾ ” اور جو نیک اعمال کرے“ اس میں تمام اعمال قلب اور اعمال بدن شامل ہیں اور عمل کرنے والوں میں جان وانس، چھوٹا بڑا اور مرد و عورت سب داخل ہیں۔ اس لئے فرمایا : ﴿مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ﴾ ” مرد ہو یا عورت جب کہ وہ مومن ہو“ ایمان تمام اعمال کی قبولیت کے لئے اولین شرط ہے۔ کوئی عمل اس وقت تک نیک ہوسکتا ہے نہ قبول اور نہ اس پر ثواب مترتب اور نہ وہ کسی عذاب سے بچا سکتا ہے جب تک کہ عمل کرنے والا مومن نہ ہو۔ ایمان کے بغیر اعمال اس درخت کی شاخوں کی مانند ہیں جس کی جڑکاٹ دی گئی ہو اور اس عمارت کی مانند ہیں جسے پانی کی موج پر تعمیر کیا گیا ہو۔ ایمان درحقیقت وہ اصل، اساس اور قاعدہ ہے جس پر ہر چیز کی بنیاد ہے اس قید کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے ہر عمل جو مطلقاً بیان کیا گیا ہو وہ ایمان کی قید سے مقید ہے۔ ﴿فَأُولَـٰئِكَ﴾ ” تو ایسے لوگ“ یعنی وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کے جامع ہیں ﴿يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ﴾ ” جنت میں داخل ہوں گے۔“ ایسی جنت میں داخل ہوں گے جو ان نعمتوں پر مشتمل ہوگی جنہیں نفس چاہتے ہیں اور آنکھیں جن سے لذت حاصل کرتی ہیں ﴿وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا ﴾ ” اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔“ ان کے اعمال خیر میں ذرہ بھر بھی حق تلفی نہ ہوگی۔ بلکہ وہ ان اعمال کا پورا پورا، وافر اور کئی گنا اجر پائیں گے۔ النسآء
125 یعنی اس شخص کے دین سے بہتر کسی کا دین نہیں جس نے اخلاص اور اللہ کی طرف تمام اعضاء کی توجہ کو جمع کرلیا ہے۔ یہاں اخلاص سے مراد ہے چہرے کا اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جانا جو قلب کے خشوع، اس کی توجہ، اس کی انابت اور اس کے اخلاص پر دلالت کرتا ہے۔ اس اخلاص اور فرمانبرداری کے ساتھ ساتھ﴿وَهُوَ مُحْسِنٌ﴾” اور وہ نیکوکار بھی ہے“ وہ اس شریعت کا متبع ہو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو مبعوث فرمایا، اپنی کتابیں نازل کیں اور اسے اپنے خاص بندوں اور ان کے متبعین کے لئے لائحہ عمل قرار دیا۔﴿وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ ﴾ ” اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے۔“ یعنی اس نے حضرت ابراہیم کے دین اور شریعت کی اتباع کی﴿حَنِيفًا﴾ ” یکسو ہو کر“ یعنی شرک کو چھوڑ کر توحید کو اپنایا، مخلوق سے توجہ ہٹا کر خالق کی طرف توجہ کی ﴿وَاتَّخَذَ اللّٰهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا﴾ ” اور اللہ نے ابراہیم کو خلیل بنایا“ (خُلَّةٌ) محبت کی بلند ترین نوع ہے اور محبت کا یہ اعلیٰ ترین مرتبہ اللہ تعالیٰ کے دو خلیلوں کو حاصل ہوا ہے، یعنی جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور جناب ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو اور رہی اللہ تعالیٰ کی محبت عامہ تو یہ عام اہل ایمان کے لئے ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اس لئے بنایا کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو پورا کیا اور ہر آزمائش میں پورے اترے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام لوگوں کا امام ٹھہرایا اور اپنا خلیل بنا لیا اور تمام جہانوں میں ان کے ذکر کو بلند کیا۔ النسآء
126 اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس نے خبر دی ہے کہ ﴿ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ﴾ ” جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے (سب اسی کا ہے۔) “ یعنی ہر چیز اس کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے غلام ہیں۔ پس تمام لوگ غلام اور وہ اکیلا ان کا مالک اور ان کے تمام معاملات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ اس کے علم نے تمام معلومات، اس کی بصر نے تمام مبصرات اور اس کی سماعت نے تمام مسموعات کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اس کی مشیت اور قدرت تمام موجودات پر نافذ اور اس کی رحمت زمین و آسمان کی تمام مخلوق پر سایہ کناں ہے۔ وہ اپنے قہر اور غلبہ کی بنا پر تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام موجودات اس کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔ النسآء
127 (اِسْتِفْتَاء) سے مراد ہے سائل کا مسئول (مفتی یا عالم) سے اپنے مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم کا بیان طلب کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمن کے بارے میں خبر دی ہے کہ انہوں نے عورتوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفتاء کیا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود اس استفتاء کا جواب دیا : ﴿قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ ﴾ ” کہہ دیجیے کہ خود اللہ ان کے بارے میں تمہیں حکم دے رہا ہے۔“ پس عورتوں کے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ نے جو فتویٰ دیا ہے اس پر عمل کرو۔ عام طور پر اور خاص طور پر ان کے حقوق کو ادا کرو اور ان پر ظلم کرنا چھوڑ دو۔ یہ حکم عام ہے اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں خواہ وہ بیویاں ہوں یا کوئی اور، چھوٹی ہوں یا بڑی ہوں، امرونہی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مشروع کیا ہے، سب کو شامل ہے۔ اس عموم کے بیان کرنے کے بعد، اللہ تعالیٰ نے کمزور بچوں اور یتیموں کے معاملے میں اہتمام اور ان کے حقوق میں کوتاہی پر زجر و توبیخ کے طور پر، خصوصی وصیت فرمائی ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ﴾ ’’یتیم عورتوں کے معاملے میں کتاب اللہ کے اندر جو کچھ تم پر تلاوت کیا جاتا ہے (اللہ تعالیٰ تمہیں اسی کا فتویٰ دیتا ہے۔) “ ﴿اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ﴾ ” وہ جن کو تم نہیں دیتے، جو ان کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔“ یہ اس وقت کی موجودہ حالت کے بارے میں خبر ہے۔ کیونکہ یتیم لڑکی جب کسی کی سرپرستی میں ہوتی تھی تو وہ اس کی حق تلفی کرتا اور اس پر ظلم کا ارتکاب کرتا تھا یا تو اس کا تمام مال یا اس کا کچھ حصہ کھا جاتا، یا اس کو نکاح کرنے سے روکتا تاکہ اس کے مال سے فائدہ اٹھاتا رہے اور اس خوف سے کہ اگر اس نے اس کا نکاح کردیا تو مال ہاتھ سے نکل جائے گا اور اگر وہ اس عورت میں رغبت نہ رکھتا تو جس شخص سے یہ نکاح کرتی، اس پر شرائط وغیرہ عائد کرتا، یا اگر وہ اس کے حسن و جمال کی وجہ سے، اس کے ساتھ خود نکاح کرنے کی خواہش رکھتا تو اس کے مہر کو ساقط تو نہ کرتا مگر اسے اتنا حق مہر بھی ادا نہ کرتا جتنے مہر کی وہ مستحق ہوتی۔ یہ تمام صورتیں ظلم کی تھیں، جو اس نص کے تحت آتی ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ ” تم ان سے نکاح کرنے کی رغبت رکھتے ہو۔“ یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرنے سے گریز کرتے ہو یا نکاح کرنے میں رغبت رکھتے ہو، جیسا کہ ہم نے اس کی مثال بیان کی ہے۔ ﴿وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ﴾ ” اور بے کس بچوں کے بارے میں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کمزور اور چھوٹے بچوں کے بارے میں تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم وراثت میں ان کا حق ادا کرو اور ظلم و استبداد سے ان کے مال پر قبضہ نہ جمالو۔ ﴿وَأَن تَقُومُوا لِلْيَتَامَىٰ بِالْقِسْطِ﴾ ” اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں پورے عدل و انصاف سے کام لو“ اس حکم میں ان کے معاملات کی دیکھ بھال، ان سے ان احکام کا التزام کروانا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیئے ہیں سب شامل ہیں اس بارے میں یتیموں کے سرپرست مکلف ٹھہرائے گئے کہ وہ ان سے اللہ تعالیٰ کے واجبات کا التزام کروائیں اس حکم میں ان کے دنیاوی مصالح کی دیکھ بھال، ان کے مال میں اضافہ کرنا اور ان کے لئے بہتری طلب کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ نیز یہ کہ اس کے سرپرست احسن طریقے سے ان کے مال کے قریب جائیں۔ اسی طرح ان کے نکاح وغیرہ میں ان کی حق تلفی کرتے ہوئے کسی دوست وغیرہ کی محبت کو ترجیح نہ دیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت اور انتہائی درجے کی ترغیب ہے کہ ان لوگوں کے مصالح کی دیکھ بھال کی جائے جو اپنی کمزوری اور اپنے باپ سے محروم ہونے کی بنا پر خود اپنے مفادات کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے۔ پھر علی العموم بھلائی کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا : ﴿وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ ﴾ ” اور تم جو بھلائی کرو گے۔‘‘ یعنی تم یتیموں یا دوسروں کے ساتھ جو بھلائی کرو گے خواہ یہ بھلائی متعدی ہو یا صرف تمہیں تک محدود ہو ﴿فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِهِ عَلِيمًا﴾” اللہ اس کو جانتا ہے۔“ یعنی نیک عمل کرنے والوں کے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے۔ اعمال خواہ کم ہوں یا زیادہ، اچھے ہوں یا برے، اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دے گا۔ النسآء
128 یعنی جب عورت اپنے شوہر کے سخت رویے اور ظلم سے ڈرے یعنی خاوند اپنے آپ کو اس سے برتر سمجھے اور اس میں عدم رغبت کی وجہ سے اعراض کرے تو اس حالت میں بہتر صورت یہ ہے کہ وہ دونوں آپس میں مصالحت کرلیں اور وہ اس طرح کہ بیوی اپنے بعض ان حقوق کو، جو شوہر پر لازم ہیں اس طرح نظر انداز کر دے کہ وہ شوہر کے ساتھ رہ سکے، یا تو وہ نان و نفقہ لباس، مکان وغیرہ میں سے قلیل ترین واجب پر راضی ہوجائے۔ یا اپنی باری میں سے اپنا حق ساقط کر دے، یا اپنی باری کے شب و روز اپنی سوکن کو ہبہ کر دے اگر میاں بیوی اس صورتحال پر راضی ہوجائیں تو اس میں دونوں کے لئے کوئی حرج نہیں، اس میں میاں بیوی دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ تب اس صورت حال میں اپنی بیوی کے ساتھ باقی رہنا جائز ہے اور یہ علیحدگی سے بہتر ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾” اور صلح بہتر ہے۔“ اس لفظ اور معنی کے عموم سے یہ بات اخذ کی جاتی ہے کہ فریقین کے درمیان کسی حق یا تمام اشیاء میں نزاع ہو تو صلح اس سے بہتر ہے کہ وہ تمام اشیاء میں پورا پورا حق وصول کرنے کا مطالبہ کریں۔ کیونکہ اس صلح میں اصلاح، دونوں کے مابین الفت کی بقا اور سماحت (در گزر کرنے) کی صفت سے متصف ہونا ہے۔ یہ صلح تمام اشیاء میں جائز ہے سوائے اس صورت کے جس میں کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرایا گیا ہو۔ تب یہ صلح نہیں بلکہ ظلم و جور ہے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ کوئی حکم اس کے مقتضی کے وجود اور موانع کی نفی کے بغیر مکمل اور پورا نہیں ہوتا اس کی مثال یہی بڑا حکم ہے یعنی فریقین کے درمیان صلح، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا تقاضا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بھلائی ہے اور عمل کرنے والا ہر شخص بھلائی کا طالب اور بھلائی میں رغبت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر اللہ تعالیٰ نے اس بھلائی کا حکم دیا ہو اور اس کی طرف رغبت دلائی ہو تو اس میں مومن کی طلب اور رغبت اور بڑھ جاتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿وَأُحْضِرَتِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ﴾ ” طمع ہر نفس میں شامل کردی گئی ہے“ یعنی بخل انسان کی جبلت ہے یہاں (الشح) ” بخل“ سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ انسان پر خرچ کرنا واجب ہے اسے خرچ کرنے میں راغب نہ ہو اور اپنا حق حاصل کرنے کا بڑا حریص ہو۔ تمام نفوس طبعی طور پر اسی جبلت پر پیارا کیے گئے ہیں۔ یعنی تمہارے لئے مناسب یہ ہے کہ تم اپنے نفس سے اس گھٹیا خلق کا قلع قمع کرنے اور اس کی جگہ اس کی ضد یعنی سماحت کو اختیار کرنے کی کوشش کرو۔ سماحت سے مراد یہ ہے کہ تم اس حق کو ادا کرو اور اس کی جگہ اس کی ضد یعنی سماحت کو اختیار کرنے کی کوشش کرو۔ سماحت سے مراد یہ ہے کہ تم اس حق کو ادا کرو جو تمہارے ذمہ ہے اور اپنے حق کے بارے میں اس کے کچھ حصے پر قناعت کرو۔ جب کبھی انسان کو اس خلق حسن کو اپنانے کی توفیق مل جاتی ہے تو اس کے لئے اپنے اور اپنے مخالف کے درمیان صلح آسان ہوجاتی ہے اور منزل مقصود تک پہنچنے کا راستہ سہل ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی طبیعت سے بخل کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کے لئے صلح اور موافقت بہت مشکل کام ہے کیونکہ وہ اپنا پورا حق لئے بغیر راضی نہیں ہوتا اور اس پر جو حق واجب ہے اسے ادا کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ اگر دوسرے فریق کا رویہ بھی ایسا ہی ہو تو معاملہ اور زیادہ سخت ہوجاتا ہے۔ پھر فرمایا : ﴿وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا ﴾” اور اگر تم اچھا سلوک کرو اور پرہیز گاری اختیار کرو“ یعنی اگر تم خالق کی عبادت میں احسان سے کام لو یعنی بندہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے آ کر ایسی کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی تو یہ تصور پیدا کرے کہ وہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور تم احسان کے تمام طریقوں سے یعنی مال اور جاہ وغیرہ کے ذریعے سے لوگوں سے بھلائی کرو ﴿ وَتَتَّقُوا ﴾” اور پرہیز گاری اختیار کرو۔“ یعنی تمام مامورات پر عمل کرتے ہوئے اور تمام محظورات سے اجتناب کرتے ہوئے اللہ سے ڈرو، یا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم مامورات پر عمل کرنے میں احسان سے کام لو اور محظورات کو ترک کر کے اللہ سے ڈرو۔ ﴿ فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ﴾ ” اللہ تمہارے سب کاموں سے باخبر ہے۔“ اللہ تعالیٰ بندے کے ظاہر و باطن کا اپنے علم و خبر کے ذریعے سے احاطہ کئے ہوئے ہے پس وہ تمہارے اعمال کو محفوظ کر رہا ہے وہ تمہیں ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔ النسآء
129 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ شوہر اپنی بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کرسکتے اور پورا پورا عدل و انصاف کرنا ان کے بس میں بھی نہیں کیونکہ عدل اس بات کو مستلزم ہے کہ تمام بیویوں کے ساتھ یکساں محبت ہو، محبت کا داعیہ سب کے لئے برابر ہو اور دل کا میلان ان کے لئے مساوی ہو۔ پھر اس کے تقاضے کے مطابق عمل ہو۔ چونکہ یہ ناقابل عمل اور ناممکن ہے اس لئے جو چیز انسان کے بس میں نہیں اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا ہے اور اس چیز سے منع کردیا جو انسان کے بس میں ہے، چنانچہ فرمایا : ﴿فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ ﴾ ” ایک ہی کی طرف مائل نہ ہوجانا کہ دوسروں کو ایسی حالت میں چھوڑ دو کہ گویا وہ لٹک رہی ہے۔“ یعنی تم ایک طرف بہت زیادہ نہ جھک جاؤ کہ تم ان کے وہ حقوق بھی ادا نہ کرسکو جو واجب ہیں، بلکہ اپنی استطاعت بھر عدل و انصاف سے کام لو۔ پس نان و نفقہ، لباس اور شب باشی کی تقسیم وغیرہ ایسے امور ہیں جن میں عدل کرنا تم پر فرض ہے، اس کے برعکس محبت اور مجامعت وغیرہ میں عدل و انصاف ممکن نہیں۔ پس جب شوہر بیوی کے وہ حقوق ترک کردیتا ہے جنہیں ادا کرنا واجب ہے تو بیوی اس معلق عورت کی مانند ہوجاتی ہے جس کا خاوند نہیں ہوتا کہ جس سے وہ راحت حاصل کرے اور حقوق زوجیت ادا کرنے کی تیاری کرے اور نہ وہ خاوند والی ہوتی ہے جو اس کے حقوق کی دیکھ بھال کرے۔ ﴿وَإِن تُصْلِحُوا ﴾ ” اور اگر آپس میں موافقت کرلو۔“ یعنی اگر تم اپنے اور اپنی بیویوں کے درمیان معاملات کی اصلاح کرلو، یعنی بیوی کے حقوق ادا کرتے ہوئے احتساب کے ساتھ اپنے نفس کو اس فعل پر مجبور کرو جس کو بجا لانے پر وہ آمادہ نہیں اور ان معاملات کی بھی اصلاح کرلو جو تمہارے اور لوگوں کے درمیان ہیں اور لوگوں کے تنازعات میں ان کے مابین صلح کرواؤ۔ یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ صلح کے لئے علی الاطلاق ہر طریقہ بروئے کار لایا جائے۔ ﴿ وَتَتَّقُوا ﴾” اور پریز گاری کرو۔“ مامورات پر عمل اور محظورات کو ترک کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مقدور بھر صبر کرو۔ ﴿ فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾ ” اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ تو اللہ تمہارے تمام گناہوں کو معاف کر دے گا جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور ان کوتاہیوں کو نظر انداز کر دے گا اور جیسے تم اپنی بیویوں کے ساتھ شفقت و مودت کا رویہ رکھتے ہو اللہ تعالیٰ بھی تم پر رحم کرے گا۔ النسآء
130 میاں بیوی کے درمیان تیسری حالت یہ ہے کہ جب اتفاق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو دونوں کے درمیان علیحدگی میں کوئی حرج نہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَإِن يَتَفَرَّقَا﴾ ” اور اگر وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں۔“ یعنی اگر دونوں طلاق، فسخ یا خلع کے ذریعے سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجائیں ﴿يُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّن سَعَتِهِ﴾ ” اللہ تعالیٰ دونوں میاں بیوی کو اپنے فضل و کرم اور لامحدود احسان کے ذریعے سے ایک دوسرے سے بے نیاز کر دے گا“ شوہر کو کسی دوسری بیوی کے ذریعے سے پہلی بیوی اور بیوی کو اپنے فضل و کرم سے مستغنی کر دے گا۔ اگر بیوی کا اپنے شوہر کے رزق میں سے حصہ ختم ہوگیا ہے تو اس کا رزق اس ہستی کے ذمے ہے جو تمام مخلوق کو رزق عطا کرتی ہے اور ان کے مصالح کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر شوہر عطا کر دے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا﴾ ” اور اللہ بڑی کشائش والا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ فضل و کرم اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے۔ جہاں جہاں اس کے علم نے احاطہ کیا ہوا ہے، وہاں تک اس کی رحمت سا یہ کناں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿حَكِيمًا﴾” وہ حکمت والا ہے“ اگر کسی کو عطا کرتا ہے تو حکمت کی بنیاد پر اور محروم کرتا ہے تو حکمت ہی کی بنیاد پر جب اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ کسی بندے کو کسی سبب کی بنا پر اپنے فضل و احسان سے محروم کرے جس کا وہ مستحق نہیں، تو اپنے عدل و حکمت سے اسے محروم کردیتا ہے۔ النسآء
131 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وسیع اور عظیم اقتدار کے عموم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ شرعاً اور قدراً مختلف طریقوں سے کائنات کی تدبیر کرے اور گوناگوں تصرفات کے ذریعے سے اس کا بندوبست کرے۔ اس کا تصرف شرعی یہ ہے کہ اس نے اولین و آخرین، اور کتب سابقہ اور بعد میں نازل ہونے والی کتابوں کے ماننے والوں کو تقویٰ کی وصیت کی ہے جو امرو نہی، تشریح احکام اور اس شخص کے لئے ثواب کو متضمن ہے جو اس وصیت پر عمل کرتا ہے اور اس شخص کے لئے درد ناک عذاب کی وعید کو متضمن ہے جو اس وصیت کو ضائع کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَإِن تَكْفُرُوا﴾ ” اور اگر کفر کرو گے۔“ یعنی اگر تم تقویٰ ترک کردو اور کفر اختیار کرلو اور ایسی چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لو جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تو اس طرح تم صرف اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاؤ گے، اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں ذرہ بھر کمی نہیں کرسکتے۔ اس کے اور بھی بندے ہیں جو تم سے بہتر اور تم سے زیادہ اطاعت گزار اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد فرمایا : ﴿وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَإِنَّ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللّٰهُ غَنِيًّا حَمِيدًا﴾اللہ تبارک و تعالیٰ کامل جودو کرم اور احسان کا مالک ہے جو کچھ اس کی رحمت کے خزانوں سے صادر ہوتا ہے وہ خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا۔ یہ خزانے اگر دن رات خرچ ہوتے رہیں تب بھی ختم نہیں ہوں گے۔ اگر زمین و آسمان کے رہنے والے اول سے لے کر آخر تک تمام لوگ اپنی اپنی آرزؤں کے مطابق اللہ تعالیٰ سے سوال کریں تو اس کی ملکیت میں ذرہ بھر کمی نہ ہوگی، کیونکہ وہ جواد ہے، ہر چیز کو وجود بخشنے والا اور بزرگی کا مالک ہے۔ وہ اپنے کلام سے عطا کرتا ہے اور اپنے کلام سے عذاب دیتا ہے۔ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ” ہوجا“ اور وہ ہوجاتی ہے۔ اس کی تمام تر بے نیازی یہ ہے کہ وہ کامل اوصاف کا مالک ہے کیونکہ اگر کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی نقص ہوتا تو وہ اس کمال کے لئے محتاج ہوتا، بلکہ اس کے لئے کمال کی ہر صفت ہے اور انہی میں سے ایک صفت کمال ہے اور یہ اس کی بے نیازی ہی ہے کہ اس کی کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں، اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ کوئی مددگار اور اس کے اپنے اقتدار کی تدبیر میں اس کا کسی قسم کا کوئی معاون نہیں۔ یہ اس کا کامل غنا اور اس کی بے نیازی ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی اپنے تمام احوال اور تمام معاملات میں اسی کے محتاج ہیں اور اپنی چھوٹی بڑی حاجتوں میں اسی سے سوال کرتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے مطلوب اور سوال کو پورا کرتا ہے، ان کو غنی اور مال دار کردیتا ہے ان کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا ہے اور انہیں راہ ہدایت دکھاتا ہے۔ رہا اسم گرامی (حمید) تو یہ نام اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں شمار ہوتا ہے اور اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ہر قسم کی حمد و ثناء محبت اور اکرام کا مستحق ہے۔ اس لئے وہ صفات حمد سے متصف ہے جو کہ جمال و جلال کی صفات ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اس لئے وہ ہر حال میں ” محمود“ ہے۔ ان دو اسمائے گرامی یعنی (اَلْغَنِيٌُ الْحَمِيْدُ) کا یکجا ہونا کتنا خوبصورت ہے۔ یقیناً وہ بے نیاز اور قابل تعریف ہے، اسے کمال بے نیازی بھی حاصل ہے اور کمال حمد بھی اور ان دونوں کے حسن امتزاج کا کمال بھی۔ یعنی وہ (غَنِيٌّ حَمِيْدٌ) ہے اور وہ قدرت کاملہ اور مشیت نافذہ کا مالک ہے۔ النسآء
132 پھر اس نے مکرر فرمایا ہے کہ زمین اور آسمانوں میں اقتدار اسی کا ہے اور ہر چیز کو کفایت کرنے والا وہی ہے، یعنی وہ علم رکھنے والا اور اپنی حکمت کے مطابق تمام اشیاء کی تدبیر کرتا ہے اور یہی کامل کفایت اور وکالت ہے کیونکہ وکالت اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ جس چیز کا وکیل ہے اسے اس کا پورا پورا علم ہو۔ پھر اس کو نافذ کرنے اور تدبیر کرنے میں پوری قوت اور قدرت رکھتا ہو اور یہ تدبیر حکمت اور مصلحت پر مبنی ہو۔ اگر ان امور میں کوئی کمی ہوگی تو وہ وکیل میں نقص کی وجہ سے ہوگی اور اللہ تعالیٰ ہر نقص سے منزہ ہے۔ النسآء
133 ﴿إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِآخَرِينَ﴾ ” اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کر دے اور (تمہاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کر دے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے علاوہ اور لوگوں کو لے آئے گا وہ تم سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کی زیادہ اطاعت کرنے والے ہوں گے۔ یہ آیت کریمہ لوگوں کے لئے ان کے اپنے کفر پر قائم رہنے اور اپنے رب سے روگردانی کرنے پر تہدید ہے۔ اگر وہ اطاعت نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کو ان کی ذرہ بھر بھی پروا نہیں۔ مگر وہ ان کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔ (یعنی حساب ضرور لے گا۔) النسآء
134 پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ جس کسی کی ہمت اور ارادہ گھٹیا ہے اور دنیا کے ثواب سے آگے نہیں بڑھتا۔ اور وہ آخرت کا کوئی ارادہ ہی نہیں رکھتا، پس اس کی نظر اور اس کی کوشش کوتاہ ہے۔ بایں ہمہ اسے دنیا کا ثواب بھی صرف اتنا ہی ملے گا جتنا اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لکھ دیا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے۔ دنیا و آخرت کا ثواب اسی کے پاس ہے، پس دنیا و آخرت اسی سے طلب کی جائے اور ان کے حصول کے لئے اسی سے مدد مانگی جائے۔ کیونکہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ صرف اس کی اطاعت ہی سے حاصل ہوسکتا ہے اور تمام دینی اور دنیاوی امور کا حصول اسی سے مدد طلب کرنے اور ہمیشہ صرف اسی کا محتاج ہونے سے ممکن ہے وہ جس کسی کو اپنی توفیق سے نوازتا ہے یا اسے توفیق سے محروم کر کے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے اس میں اس کی حکمت پنہاں ہے۔ اس کا کسی کو عطا کرنا اور محروم کرنا اس کی حکمت ہی پر مبنی ہے۔ اسی لئے فرمایا : ﴿وَكَانَ اللّٰهُ سَمِيعًا بَصِيرًا﴾ ” اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ “ النسآء
135 اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ انصاف پر قائم رہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے گواہی دینے والے بن جائیں۔ (اَلْقَوَّام) مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی اپنے تمام احوال میں عدل پر قائم رہو (قِسْطٌ) سے مراد حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں عدل و انصاف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے حقوق میں انصاف یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال نہ کیا جائے، بلکہ ان کو اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں صرف کیا جائے اور حقوق العباد میں عدل و انصاف یہ ہے کہ بندوں کے وہ تمام حقوق ادا کئے جائیں جو تجھ پر اسی طرح واجب ہیں جس طرح تیرے حقوق ان پر واجب ہیں اور تو اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے پس تو نفقات واجبہ اور قرض وغیرہ ادا کر اور تو لوگوں سے اسی اخلاق و حسن صلہ کے ساتھ معاملہ کر، جو تو اپنے بارے میں ان سے چاہتا ہے۔ سب سے بڑا انصاف، باتوں اور بات کہنے والوں کے بارے میں ہے۔ دو باتوں میں سے کسی ایک بات کے حق میں یا کسی تنازع کے فریقین میں کسی فریق کے حق میں محض اس وجہ سے فیصلہ نہ کرے کہ اسے اس بات سے یافریق سے کوئی نسبت ہے یا اس کی طرف میلان ہے بلکہ ان دونوں کے درمیان عدم کو مقدم رکھے۔ عدل و انصاف کی ایک قسم یہ ہے کہ تو اس شہادت کو ادا کر جو تیرے ذمہ عائد ہے خواہ وہ کسی ہی کے خلاف کیوں نہ ہو خواہ یہ شہادت تیرے محبوب لوگوں کے خلاف، بلکہ خود تیری اپنی ذات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿شُهَدَاءَ لِلَّـهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللّٰهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا﴾ ” اللہ کے لئے سچی گواہی دینے والے اگرچہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین کے یا رشتہ داروں کے وہ شخص اگر امیر ہو یا فقیر، پس اللہ زیادہ حق دار ہے بہ نسبت ان دونوں کے۔“ یعنی کسی دولت مند کی اس کی دولت کی وجہ سے رعایت کرو نہ کسی محتاج پر بزعم خویش ترس کھاتے ہوئے اس کی رعایت کرو، بلکہ صحیح صحیح شہادت دو، خواہ کسی ہی کے خلاف کیوں نہ ہو۔ عدل و انصاف قائم کرنا عظیم ترین امور میں شمار ہوتا ہے، نیز یہ چیز عدل قائم کرنے والے کے دین، ورع اور اسلام میں اس کے مقام پر دلالت کرتی ہے۔ پس یہ بات متعین ہے کہ جو کوئی اپنے نفس کا خیر خواہ ہے اور وہ اس کی نجات چاہتا ہے، تو وہ عدل کا پورا پورا اہتمام کرے، اس کو مدنظر رکھے اور اپنے ارادے کا مرکز بنائے رکھے اور نفس سے ہر اس داعیے کو دور کر دے جو عدل کے ارادے سے مانع اور اس پر عمل کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہو اور انصاف کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس رکاوٹ کو دور کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ﴿فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا﴾ ” تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔“ یعنی تم حق کی مخالفت میں اپنے نفس کی اتباع نہ کرو۔ اگر تم نے اپنے نفس کی پیروی کی تو راہ صواب سے ہٹ جاؤ گے اور تم عدل و انصاف کی توفیق سے محروم ہوجاؤ گے، کیونکہ خواہش نفس یا تو انسان کی بصیرت کو اندھا کردیتی ہے اور اسے حق باطل اور باطل حق دکھائی دیتا ہے۔ یا وہ حق کو پہچان لیتا ہے مگر اپنی خواہش نفس کی خاطر اسے چھوڑ دیتا ہے۔ پس جو شخص خواہش نفس سے محفوظ رہا اسے حق کی توفیق عطا ہوئی ہے اور وہ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی سے نوازا جاتا ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح کردیا کہ عدل و انصاف کو قائم کرنا واجب ہے، تو اس نے ہر اس چیز سے بھی روک دیا جو عدل کی ضد ہے۔ یعنی شہادت وغیرہ میں زبان کو حق سے ہٹا دینا اور ہر لحاظ سے یا کسی ایک پہلو سے نطق زبان کو صواب مقصود سے پھیر دینا اور اسی میں، شہادت میں تحریف کرنا، اس کی عدم تکمیل اور شاہد کا شہادت کی تاویل کرتے ہوئے اس کا رخ کسی اور طرف پھیر دینا، بھی شامل ہے۔ اس لئے کہ یہ بھی (لَيُّ) زبان کی کجی میں سے ہے، کیونکہ یہ حق سے انحراف ہے۔ ﴿أَوْ تُعْرِضُوا﴾” یا تم اعراض کرو۔“ یعنی اگر تم اس عدل و انصاف کو ترک کر دو جس کا دار و مدار تم پر ہے جیسے شاہد کا شہادت کو ترک کردینا یا حاکم کا اپنے فیصلے کو ترک کردینا جو کہ اس پر واجب تھا۔ ﴿فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا﴾” تو (جان رکھو) اللہ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔“ یعنی وہ تمہارے افعال کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور تمہارے ظاہر و باطن تمام اعمال کا علم رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لئے سخت تہدید ہے جو زبان سے کجی اختیار کرتا یا حق سے اعراض کرتا ہے اور وہ شخص اس تہدید کا بدرجہ اولیٰ مستحق ہے جو باطل فیصلہ کرتا یا جھوٹی گواہی دیتا ہے۔ اس لئے کہ اس کا جرم سب سے بڑا ہے، کیونکہ پہلے دو اشخاص نے حق کو ترک کیا اور اس نے باطل کو قائم کیا۔ النسآء
136 معلوم ہونا چاہئے کہ امر یعنی حکم کا رخ یا تو اس شخص کی طرف ہوتا ہے جو اس شے میں داخل نہیں اور اس سے کچھ بھی متصف نہیں، تب اس کے لئے یہ حکم اس چیز میں داخل ہونے کا ہے۔ مثلاً اس شخص کے لئے ایمان لانے کا حکم جو مومن نہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ آمِنُوا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُم﴾ (النساء :4؍47) ” اے وہ لوگو جن کو کتاب عطا کی گئی ہے اس کتاب پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کی ہے اور اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو تمہارے ساتھ ہے۔“ یا اس حکم کا رخ اس شخص کی طرف ہوتا ہے جو اس چیز میں داخل ہوچکا ہے، تب یہ حکم اس لئے ہوتا ہے تاکہ اس چیز کی تصحیح کرلے جسے وہ پا چکا ہے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے جو اس نے ابھی تک نہیں پائی، اور اس کی مثال یہی آیت کریمہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایمان لانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ یہ ان سے اس چیز کے حکم کا تقاضا کرتی ہے جو ان کے ایمان یعنی صدق و اخلاص کی تصحیح کرتی ہے اور مفسدات سے اجتناب اور نقص میں ڈالنے والی ہر چیز سے توبہ کا تقاضا کرتی ہے، نیز یہ اس چیز کے حکم کا بھی تقاضا کرتی ہے جو ابھی مومن میں موجود نہیں یعنی علوم ایمان و عمل وغیرہ، کیونکہ جب کبھی اس کے پاس کوئی نص پہنچے گی، تو وہ اس کا معنی سمجھے گا اور اسے اپنے اعتقاد کا حصہ بنائے گا اور اسی چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی اعمال کا یہی معاملہ ہے تمام اعمال ایمان ہی کے دائرے میں آتے ہیں جیسا کہ بہت سی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں اور امت کا اس پر اجماع ہے۔ پھر اس پر استمرار اور موت تک اس پر ثابت قدمی ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾ (آل عمران :3؍102) ” اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔ “ یہاں ہمیں اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسولوں پر، قرآن کریم پر اور سابقہ کتب پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ تمام تر، ایمان واجب میں سے ہیں جس کے بغیر کوئی بندہ مومن نہیں ہوسکتا۔ جس چیز کے بارے میں تفصیل نہیں پہنچی اس پر اجمالاً ایمان لانا فرض ہے اور جہاں تفصیل معلوم ہے وہاں تفصیلاً ایمان لانا فرض ہے۔ جو کوئی اس مامور طریقے پر ایمان لاتا ہے وہی ہدایت پا کر فوزیاب ہوتا ہے۔۔ ﴿وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا﴾ ” جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے، تو وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑ‘‘ یعنی ان لوگوں سے بھی کوئی بڑھ کر گمراہ ہوسکتا ہے جو ہدایت کی راہ راست کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس راستے پر چل نکلتے ہیں جو درد ناک عذاب میں لے جاتا ہے؟ یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ان تمام امور میں سے کسی ایک کے ساتھ کفر گویا ان تمام امور کے ساتھ کفر ہے، کیونکہ یہ تمام امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ان میں سے بعض کو چھوڑ کر بعض پر ایمان لانا بھی ایمان کے وجود کے لئے مانع ہے۔ النسآء
137 یعنی جو کوئی ایمان لانے کے بعد بتکرار کفر کرتا رہا، ہدایت کا راستہ اختیار کیا، پھر گمراہ ہو یا پھر ایمان لایا، پھر اندھا ہوگیا، پھر ایمان لے آیا پھر کفر کیا اور اپنے کفر پر قائم رہا بلکہ اپنے کفر میں بڑھتا رہا، تو وہ توفیق اور راہ راست سے بہت دور اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت سے بہت بعید ہے کیونکہ وہ ایسی چیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا جو مغفرت کے لئے سب سے بڑا مانع ہے۔ اس لئے کہ اس کا کفر اس کے لئے سزا اور اس کی طبیعت بن جاتا ہے جو کبھی زائل نہیں ہوتی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوبَهُمْ﴾ (الصف :61؍5) ” جب وہ کج رو ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔“ اور فرمایا : ﴿وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام :6؍110) ” ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے اور جس طرح وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے تھے (ویسے پھر ایمان نہ لائیں گے۔) “ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر وہ اپنے کفر میں بڑھتے نہ چلے جائیں بلکہ وہ ایمان کی طرف لوٹ آئیں اور کفر کے رویے کو ترک کردیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا خواہ بار بار ان سے ارتداد کا ارتکاب ہوا ہو اور جب کفر کے مقابلے میں یہ حکم ہے تو دیگر گناہ جو کفر سے کم تر ہیں وہ بدرجہ اولیٰ اس بات کے مستحق ہیں کہ اگر بندے سے ان گناہوں کا تکرار ہو اور وہ توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے یہ گناہ بخش دے۔ النسآء
138 ” بشارت“ کا لفظ خیر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور شر کے معنوں میں اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی قید سے مقید ہوجیسا کہ اس آیت کریمہ میں ہے۔ ﴿بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ﴾ ” منافقوں کو بشارت سنا دو۔“ یعنی وہ لوگ جو اسلام ظاہر کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں کفر کو چھپائے ہوئے ہیں انہیں بدترین بشارت سنا دیجیے اور وہ درد ناک عذاب کی بشارت۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ کفار سے محبت کرتے ہیں، ان سے موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اہل ایمان سے ترک موالات کرتے ہیں۔ کس چیز نے انہیں اس رویے پر آمادہ کیا؟ کیا یہ ان کے پاس عزت کے متلاشی ہیں؟ یہ منافقین کے احوالے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی کا شکار تھے۔ ان کا یقین اس بارے میں بہت کمزور تھا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مدد فرمائے گا وہ بعض ان اسباب کو دیکھ رہے تھے جو کفار کو میسر تھے اور اس سے آگے دیکھنے سے ان کی نظر قاصر تھی۔ پس انہوں نے کفار کو اپنا دوست اور ولی و مددگار بنا لیا جن سے یہ مدد طلب کرتے ہیں اور جن کے پاس یہ عزت ڈھونڈتے ہیں۔ حالانکہ تمام تر عزت کا مالک اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ بندوں کی پیشانیاں اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور ان میں اسی کی مشیت نافذ ہے۔ وہ اپنے دین اور اپنے مومن بندوں کی مدد کا ضامن ہے۔ اگرچہ وہ کبھی کبھی اہل ایمان کا امتحان لینے کے لئے یہ مدد چھوڑ دیتا ہے اور دشمن کو ان پر غلبہ دے دیتا ہے۔ مگر دشمن کی فتح اور کامیابی دائمی اور مستقل نہیں ہوتی۔ انجام کار، فتح اور کامیابی اہل ایمان ہی کی ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں کفار کے ساتھ موالات رکھنے اور اہل ایمان کے ساتھ موالات ترک کرنے پر زبردست ترہیب ہے، نیز بتایا گیا ہے کہ یہ منافقین کی صفات ہیں۔ ایمان تو اہل ایمان کے ساتھ محبت، موالات اور کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔ النسآء
139 النسآء
140 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ کتاب میں کفر اور معاصی کی مجالس میں موجود رہنے کی صورت میں اپنا شرعی حکم واضح کردیا ہے۔ ﴿أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّـهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا﴾ ” کہ جب تم (کہیں) سنو کہ اللہ کی آیتوں سے انکار ہو رہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جا رہی ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کی اہانت کی جا رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں ہر مکلف شخص پر فرض ہے کہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی تعظیم و تکریم کرے۔ ان کو نازل کرنے کا یہی مقصد ہے اور اسی کی خاطر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام کائنات تخلیق کی ہے۔ پس ان پر ایمان لانے کی ضد ان کے ساتھ کفر کرنا اور ان کی تعظیم و تکریم کی ضد ان کے ساتھ استہزء اور ان کی تحقیر کرنا ہے، نیز اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ابطال کے لئے کفار و منافقین کا مجادلہ اور ان کی اپنے کفر کی تائید کرنا بھی شامل ہے۔ اسی طرح ہر قسم کے بدعتی بھی داخل ہیں کیونکہ ان کا اپنے باطل نظریات کے لئے استدلال کرنا اللہ تعالیٰ کی آیات کی اہانت کو متضمن ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات حق کے سوا کسی چیز پر دلالت نہیں کرتیں اور صدق کے سوا کسی چیز کو مستلزم نہیں۔ اسی طرح اس حکم میں ان مجالس کی حاضری بھی شامل ہے جن میں فسق و فجور اور معصیت کے کام ہوتے ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی اہانت ہوتی ہے اور اس کی حدود توڑی جاتی ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لئے مقرر کی ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھنے کی ممانعت کا منتہی ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ﴾” حتی کہ وہ اور باتیں کرنے لگیں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر اور استہزاء کے سوا کوئی اور بات کرنے لگیں۔ ﴿إِنَّكُمْ إِذًا﴾ ” ورنہ تم بھی (ان ہی جیسے) ہوجاؤ گے۔“ یعنی اگر تم آیت کریمہ میں مذکور حالت میں ان کے ساتھ بیٹھو گے ﴿مِّثْلُهُمْ﴾ ” تو ان جیسے شمار ہو گے“ کیونکہ تم ان کے کفر و استہزاء پر راضی تھے۔ کسی معصیت کے فعل پر راضی ہونا اس فعل کے ارتکاب کی مانند ہے۔ اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی کسی ایسی مجلس میں موجود ہو جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جا رہی ہو تو قدرت رکھتے ہوئے اس نافرمانی پر نکیر کرنا اور اس سے روکنا واجب ہے۔ اگر روکنے کی قدرت نہ ہو تو اس مجلس سے اٹھ کر چلا جانا ضروری ہے۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا﴾” یقیناً اللہ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے“ جیسے وہ اس دنیا میں کفر و موالات پر مجتمع ہیں۔ منافقین کو، ان کا ظاہری طور پر اہل ایمان کے ساتھ ہونا، کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ وَلَـٰكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَاءَ أَمْرُ اللَّـهِ وَغَرَّكُم بِاللَّـهِ الْغَرُورُ فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنكُمْ فِدْيَةٌ وَلَا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ مَأْوَاكُمُ النَّارُ ۖ هِيَ مَوْلَاكُمْ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ﴾(الحدید:57؍13۔15) ”اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے، ٹھہرو ! ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کرلیں ! ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا جس کے اندرونی جانب رحمت ہوگی اور بیرونی جانب عذاب، منافق پکار پکار کر اہل ایمان سے کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں تم ہمارے ساتھ تو تھے مگر تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم حوادث زمانہ کے منتظر رہے، تم نے اسلام کے بارے میں شک کیا، جھوٹی آرزؤں نے تمہیں دھوکے میں مبتلا کئے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور تمہیں شیطان دھوکے باز دھوکہ دیتا رہا۔ آج تم سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا۔ تمہارا ٹھکانا جہنم ہے اور وہی تمہارا دوست ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ “ النسآء
141 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ منافقین کی کفار کے ساتھ موالات اور اہل ایمان کے ساتھ عداوت متحقق ہے۔ ﴿الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ﴾ ” جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں۔“ یعنی مستقبل میں تمہارے اچھے یا برے حالات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے اپنے نفاق کے مطابق ہر حالت کے بارے میں جواب تیار کر رکھا ہے۔ ﴿فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللَّـهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ﴾ ” پھر اگر اللہ تمہیں فتح دے تو یہ کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟“ وہ ظاہر کریں گے کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر اہل ایمان کے ساتھ تھے تاکہ طعن و تشنیع سے بچ سکیں، نیز فے اور مال غنیمت میں سے حصہ وصول کرسکیں اور ان کے ساتھ مل کر وہ محفوظ رہیں۔ ﴿وَإِن كَانَ لِلْكَافِرِينَ نَصِيبٌ﴾” اور اگر کافروں کو کچھ حصہ مل جائے“ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر کافروں کی فتح ہو کیونکہ ان کو ایسی فتح حاصل نہیں ہوتی جو ان کی دائمی نصرت کی ابتداء ہو۔ اگر ان کے لئے کوئی حصہ ہوتا ہے تو اس کی انتہا یہ ہے کہ وہ عارضی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے، چنانچہ جب یہ صورتحال ہوتی ہے ﴿قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ﴾ ” تو کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہ تھے“ ﴿وَنَمْنَعْكُم مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ” تم کو مسلمان کے ہاتھوں سے بچایا نہیں؟“ یعنی وہ کفار کے پاس بناوٹ اور تصنع سے کام لے کر ان سے کہتے تھے کہ قدرت اور طاقت کے باوجود انہوں نے ان سے لڑائی نہیں کی اور ان کو مسلمانوں سے بچائے رکھا اور وہ ہر لحاظ سے جنگ کے لئے گھر سے نکلنے سے رکے رہے، لڑائی سے گریز کرتے رہے اور مسلمانوں کے دشمنوں کی مدد کرتے رہے اور ان کے بارے میں یہ تمام امور معروف ہیں۔ ﴿فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ ” پس اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان فیصلہ کرے گا“ اور اہل ایمان کو، ظاہری اور باطنی طور پر، بدلے میں جنت عطا کرے گا اور منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جہنم کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ ﴿وَلَن يَجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا﴾ ” اور اللہ کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔“ یعنی اللہ کفار کو اہل ایمان پر کبھی تسلط اور غلبہ عطا نہیں کرے گا، بلکہ اہل ایمان کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی۔ اللہ اس جماعت کی مدد کرے گا، جو ان سے علیحدہ ہوگا اور ان کی مخالفت کرے گا وہ ان کا کوئی نقصان نہیں کرسکے گا۔ اہل ایمان کی فتح و نصرت کے اسباب پیدا ہوتے چلے جائیں گے اور کفار کا تسلط ختم ہوتا چلا جائے گا اور اس کا واضح طور پر مشاہدہ ہوچکا ہے۔ حتیٰ کہ بعض مسلمان، جن پر کفار حکومت کرتے ہیں وہ ان کے ہاں قابل احترام ہیں وہ ان کے دین سے کوئی تعرض نہیں کرتے وہ ان کے ہاں کمزور اور ماتحت بن کر نہیں رہتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو پوری عزت عطا کی گئی ہے۔ اول و آخر اور ظاہر و باطن میں ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے۔ النسآء
142 اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کی قبیح صفات اور مکروہ علامات کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ ان کا طریق اللہ کو فریب دینا ہے یعنی بظاہر وہ مومن ہیں مگر باطن میں کافر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دے دیں گے اور اللہ تعالیٰ کو ان کے کرتوتوں کا علم نہیں اور وہ ان کا دھوکا اپنے بندوں پر ظاہر نہیں کرے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ خود ان کو دھوکے میں مبتلا کر رہا ہے۔ ان کا مجرد یہ حال ہونا اور اس راستے پر گامزن رہنا ان کا اپنے آپ کو دھوکے میں مبتلا کرنا ہے بھلا اس سے بڑا دھوکہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص پوری دوڑ دھوپ کرے مگر اس کا ماحصل رسوائی، ذلت اور محرومی کے سوا کچھ نہ ہو۔ یہ چیز اس شخص کی کم عقلی پر دلالت کرتی ہے کہ وہ معصیت کا ارتکاب کرتا ہے اور اسے نیکی خیال کرتا ہے اور اسے بڑی عقل مندی اور چال بازی سمجھتا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جہالت اور خذلان اسے کس انجام پر پہنچائیں گے۔ قیامت کے روز ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دھوکہ یہ ہوگا۔ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے : ﴿یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ۝٠ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَاۗءَکُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا۝٠ۭ فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ۝٠ۭ بَاطِنُہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاہِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ۝١٣ۭ یُنَادُوْنَہُمْ اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ﴾ (سورہ حدید آیت57؍ 13-14) ” اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے ٹھہرو ! ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کرلیں ! ان سے کہا جائے گا پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو، پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا جس کے اندروین جانب رحمت ہوگی اور بیروین جانب عذاب، منافق پکارپکار کر اہل ایمان سے کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟“ ان منافقین کی صفات یہ ہیں۔ ﴿وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ﴾” جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔“ نماز جو کہ سب سے بڑی عملی نیکی ہے۔ اگر وہ نماز کے لئے کھڑے ہو ہی جاتے ہیں﴿قَامُوا كُسَالَىٰ﴾ ” تو سست ہو کر۔“ یعنی بوجھل پن کے ساتھ تنگ دل اور زچ ہو کر اٹھتے ہیں۔ ” کاہلی“ کا اطلاق ان پر تب ہوتا ہے جب ان کے دلوں میں رغبت کا فقدان ہو، اگر ان کے دل اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب کی طرف رغبت سے خالی نہ ہوتے اور ان میں ایمان معدوم نہ ہوتا تو ان سے سستی اور کسل مندی کبھی صادر نہ ہوتی۔ ﴿يُرَاءُونَ النَّاسَ﴾ ” لوگوں کے دکھانے کو۔“ یعنی یہ ان کی فطرت ہے اور یہی ان کے اعمال کا مصدر ہے۔ ان کے اعمال لوگوں کے دکھاوے کے لئے ہیں ان کا مقصد محض ریا کاری اور لوگوں سے تعظیم اور احترام حاصل کرنا ہے۔ اپنے اعمال کو اللہ کے لئے خالص نہیں کرتے۔ لہٰذا فرمایا : ﴿وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا﴾ ” اور اللہ کا ذکر نہیں کرتے مگر بہت کم۔“ کیونکہ ان کے دل ریا سے لبریز ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کا التزام صرف مومن ہی کرسکتا ہے، کیونکہ اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت سے لبریز ہے۔ النسآء
143 ﴿مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ﴾” بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں۔ نہ ان کی طرف (ہوتے ہیں) نہ ان کی طرف۔“ یعنی وہ اہل ایمان اور کفار کے گروہوں کے درمیان متذبذب اور متردد ہیں۔ ظاہری اور باطنی طور پر اہل ایمان کے ساتھ ہیں نہ کفار کے ساتھ۔ انہوں نے اپنا باطن کفار کو عطا کر رکھا ہے اور ظاہر مسلمانوں کے ساتھ ہے اور یہ سب سے بڑی گمراہی ہے، اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَمَن يُضْلِلِ اللّٰهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا﴾اور جس کو اللہ بھٹکائے تو آپ اس کے لئے کبھی بھی راستہ نہیں پائیں گے۔“ یعنی آپ اس کی ہدایت کا کوئی راستہ اور اس کو گمراہی سے بچانے کے لئے کوئی وسیلہ نہیں پائیں گے کیونکہ اس پر رحمت کا دروازہ بند ہوچکا ہے اور اس کی رحمت کی بجائے اللہ تعالیٰ کا غضب و انتقام اس کا نصیب بن چکا ہے۔ یہ تمام مذموم اوصاف اشارتاً دلالت کرتے ہیں کہ اہل ایمان ان کی متضاد صفات سے متصف ہیں اور وہ ہیں ظاہر و باطن میں صدق اور اخلاص۔ انہیں اپنی نمازوں، عبادات اور کثرت ذکر الٰہی میں جو نشاط حاصل ہوتا ہے وہ سب معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت عطا کی اور صراط مستقیم پر گامزن کیا۔ پس ایک عقل مند شخص کو چاہئے کہ وہ ان ودامور پر غور کرے اور جو اس کے لئے بہتر ہے اسے اختیار کرلے۔ واللہ المستعان۔ النسآء
144 چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر کفار کو دوست بناتے ہیں، اس لئے اس نے اپنے مومن بندوں کو اس قبیح حالت سے متصف ہونے سے روکا ہے نیز انہیں منافقین کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا ہے۔ کیونکہ تمہارا یہ عمل اللہ تعالیٰ کو حجت فراہم کرے گا۔ فرمایا : ﴿أَن تَجْعَلُوا لِلَّـهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا﴾ ’’یہ کہ تم اپنے اوپر اللہ کا صریح الزام لو۔“ یعنی تمہیں عذاب دینے کے لئے یہ واضح دلیل ہوگی۔ کیونکہ ہم تمہیں اس رویئے سے ڈرا چکے ہیں اور تمہیں اس سے بچنے کی تلقین کرچکے ہیں اور اس میں جو مفاسد پنہاں ہیں ان سے آگاہ کرچکے ہیں۔ اس کے بعد بھی اسی راہ پر چلنا عذاب کا موجب ہوگا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے کامل عدل پر دلالت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قانون پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حجت قائم کرنے سے پہلے کسی کو سزا نہیں دے گا اور اس میں گناہوں سے بچنے کی تلقین ہے کیونکہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اپنے خلاف اللہ تعالیٰ کو واضح دلیل فراہم کرتا ہے۔ النسآء
145 اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے انجام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں بد ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ وہ تمام کفار کے نیچے ہوں گے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت میں کفار کے ساتھ شریک تھے مزید برآں وہ مکرو فریب اور اہل ایمان کے ساتھ مختلف اقسام کی عداوت رکھتے تھے اور یہ عداوت اس طرح رکھتے تھے کہ وہ محسوس نہیں ہوتی تھی بنا بریں ان پر اسلام کے احکام جاری ہوتے تھے اور اس بنیاد پر وہ اپنا استحقاق ظاہر کرتے تھے حالانکہ وہ اس کے مستحق نہ تھے۔ پس اس قسم کے مکرو فریب اور ہتھکنڈوں کی بنا پر سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ کوئی ہستی ان کو اس عذاب سے بچا سکے گی نہ کوئی مددگار اس عاب کو ان سے دور کرسکے گا۔ یہ عذاب ہر منافق کے لئے عام ہے سوائے ان کے جن کو اللہ تعالیٰ گناہوں سے توبہ کی توفیق سے نواز دے النسآء
146 ﴿وَأَصْلَحُوا﴾ ’’اور وہ (اپنے ظاہر و باطن کی) اصلاح کرلیں۔“ ﴿وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ﴾ اور اللہ (کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیں۔“ اپنے منافع کے حصول اور ضرر کے دفعیہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرلیں﴿وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ)﴾’’اور اپنے دین کو خالص کرلیں“ یہاں دین سے مراد اسلام، ایمان اور احسن ہے ﴿لِلَّـهِ﴾ ” اللہ کے لئے“ یعنی ظاہری اور باطنی اعمال میں ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، نیز ریا اور نفاق سے بچے ہوئے ہوں۔ جو لوگ ان صفات سے متصف ہوں گے ﴿فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ﴾وہی دنیا، برزخ اور آخرت میں اہل ایمان کے ساتھ ہوں گے ﴿وَسَوْفَ يُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ ”اور اللہ عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دے گا۔“ اللہ تعالیٰ عنقریب اہل ایمان کو ایسے اجر سے نوازے گا جس کی حقیقت و ماہیت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ غور کیجئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ” اعتصام باللہ“ اور ” اخلاص“ کا خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد (وَأَصْلَحُوا) میں داخل ہیں کیونکہ ” اعتصام باللہ“ اور ” اخلاص“ اصلاح کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصلاح میں ان دو امور کی سخت ضرورت ہے۔ خاص طور پر یہ مقام حرج جہاں دلوں میں نفاق جڑ پکڑ لیتا ہے۔۔۔ اور نفاق کو صرف اعتصام باللہ اللہ کے پاس پناہ لینے، اور اس کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی حاجت پیش کر کے ہی زائل کیا جاسکتا ہے۔ اخلاص ہر لحاظ سے پوری طرح نفاق کے منافی ہے۔ اخلاص اور اعتصام کی فضیلت کی بنا پر ان کا تذکرہ کیا ہے، تمام ظاہری اور باطنی اعمال کا دار و مدار انہی دو امور پر ہے کیونکہ اس مقام پر ان دونوں امور کی سخت حاجت ہوتی ہے۔ اس امر پر بھی غور کیجیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ان کا ذکر کیا تو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اس نے یہ نہیں فرمایا: (وَسَوْفَ يُؤْتِيهِمْا أَجْرًا عَظِيمًا) بلکہ فرمایا : ﴿وَسَوْفَ يُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ شریف ہے جس کا وہ ہمیشہ اعادہ کرتا رہا ہے کہ جب کلام کا سیاق بعض جزئیات کے بارے میں ہو اور اللہ تعالیٰ ان جزئیات پر ثواب یا عقاب مرتب کرنا چاہتا ہو اور جس جنس میں یہ جزئیات داخل ہیں ثواب یا عقاب ان میں مشترک ہو تو وہ عام حکم کے مقابلہ میں، جس کے تحت یہ قضیہ مندرج ہے ثواب مرتب کرتا ہے تاکہ اس جزوی امر کے ساتھ حکم کا اختصاص متوہم نہ ہو یہ قرآن کریم کے اسرار و بدائع ہیں۔ پس منافقین میں سے اپنے نفاق سے توبہ کرنے والا شخص اہل ایمان کے ساتھ ہوگا اور اسے بھی اہل ایمان والا ثواب ملے گا۔ النسآء
147 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال غنا، وسعت حلم و رحمت اور احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿ مَّا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ ۚ وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِيمًا ﴾ ” اگر تم (اللہ کے) شکر گزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔“ اور حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قدر شناس اور علم رکھنے والا ہے۔ وہ اپنے راستے میں بوجھ اٹھانے والوں اور اعمال میں مشقت برداشت کرنے والوں کو بہت زیادہ ثواب اور بے پایاں احسان سے نوازے گا۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ وہ ظاہر و باطن اور تمہارے اعمال کو جانتا ہے۔ وہ ان اعمال کا بھی علم رکھتا ہے جو صدق و اخلاص سے صادر ہوتے ہیں اور ان اعمال کا بھی علم رکھتا ہے جو ان کی ضد ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ تم توبہ اور انابت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو۔ اور جب تم اس کی طرف رجوع کرو گے تو وہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا؟ وہ تشقی حاصل کرنے کے لئے تمہیں عذاب اور کسی فائدے کے حصول کی خاطر تمہیں عقاب میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ معاصی کا ارتکاب کرنے والا اپنے آپ ہی کو نقصان دیتا ہے جیسے اطاعت کرنے والے کا عمل صرف اس کی ذات کے لئے ہے۔ شکر دل کے خضوع، اس کے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف کرنے اور زبان سے مشکور کی مدح و ثنا بیان کرنے کا نام ہے، نیز شکر یہ ہے کہ جو ارح مشکور کی اطاعت کے اعمال میں مصروف ہوں اور وہ منعم و مشکور کی عطا کردہ نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال نہ کرے۔ النسآء
148 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی علانیہ بری بات کہے، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض ہوتا ہے اور اس پر سزا دیتا ہے۔ اس میں وہ تمام برے اقوال شامل ہیں جو تکلیف دہ اور صدمہ پہنچانے والے مثلاً گالی گلوچ، قذف اور سب وشتم کرنا۔ اس لئے کہ ایسے تمام اقوال سے منع کیا گیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھی بات کو پسند کرتا ہے مثلاً ذکر الٰہی اچھا اور نرم پاکیزہ کلام، وغیرہ ﴿إِلَّا مَن ظُلِمَ ﴾ ” مگر وہ جو مظلوم ہو۔“ یعنی جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو وہ ظلم کرنے والے کے لئے بد دعا کرسکتا ہے، شکایت کرسکتا ہی اور اس شخص کو علانیہ بری بات کہہ سکتا ہے جس نے اعلانیہ بری بات کہی ہے، البتہ اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس پر بہتان لگائے یا اس کے ظلم سے بڑھ کر زیادتی کرے یا ظالم کے علاوہ کسی اور کو گالی وغیرہ دے۔ بایں ہمہ معاف کردینا اور ظلم و زیادتی میں مقابلہ نہ کرنا اولیٰ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ ﴾ (الشوری : 42؍40) ” پس جس کسی نے معاف کردیا اور اصلاح کی اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ “ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ سَمِيعًا عَلِيمًا ﴾” اور اللہ (سب کچھ) سنتا، جانتا ہے۔“ چونکہ آیت کریمہ برے، اچھے اور مباح کلام کے احکام پر مشتمل ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ وہ سننے والا ہے، تمہارے اقوال سنتا ہے اس لئے ایسی بات کہنے سے بچو جو تمہارے رب کی ناراضی کا باعث بنے اور وہ تمہیں سزا دے۔ اس آیت کریمہ میں اچھی بات کہنے کی بھی ترغیب ہے۔ ﴿عَلِيمًا﴾وہ تمہاری نیتوں اور تمہارے اقوال کے مصدر کو جانتا ہے۔ النسآء
149 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِن تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ ﴾ ” اگر تم بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر۔“ یہ قولی و فعلی، ظاہری و باطنی، واجب و مستحب ہر بھلائی کو شامل ہے۔ ﴿أَوْ تَعْفُوا عَن سُوءٍ ﴾ ” یا برائی سے درگزر کرو گے۔“ یعنی وہ شخص جو تمہارے بدن، تمہارے اموال اور تمہاری عزت و ناموس کے معاملے میں تمہارے ساتھ برا سلوک کرے تم اسے معاف کر دو کیونکہ عمل کی جزا عمل کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف کردیتا ہے جو کسی کے ساتھ بھلائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بھلائی کرتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا ﴾” تو اللہ بھی معاف کرنے والا صاحب قدرت ہے۔“ یعنی وہ اپنے بندوں کی لغزشوں اور ان کے بڑے بڑے گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور ان کی پردہ پوشی کرتا ہے اور کامل عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے ان سے معاملہ کرتا ہے۔ جس اس کی قدرت کاملہ سے صادر ہوتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے معانی میں تدبر تفکر کی طرف راہنمائی کی گئی ہے، نیز یہ کہ خلق و امران اسماء و صفات سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اسماء و صفات خلق و امر کا تقاضا کرتے ہیں۔ بنا بریں اسمائے حسنی کو احکام کی علت بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ آیت کریمہ میں بیان ہوا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کے عمل اور برا سلوک کرنے والے کو معاف کردینے کا ذکر کیا ہے اس لئے اس نے اس پر یہ امر مرتب فرمایا کہ اس نے اپنے اسماء کی معرفت کو ہمارا مدار بنا دیا اور یہ چیز ہمیں ان اسماء حسنی کے ثواب خاص کے ذکر سے مستغنی کرتی ہے۔ النسآء
150 یہاں تک لوگوں کی دو اقسام ہیں جن کو ہر ایک کے لئے واضح کردیا گیا ہے۔ (١) اللہ تعالیٰ اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والے لوگ (٢) اللہ تعالیٰ اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والے لوگ۔ رہ گئی تیسری قسم، تو یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گا مگر یہ ان کی مجرد آرزوئیں ہیں۔ پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ جو کوئی حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کو اپنا ولی اور دوست بناتا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کو دوست بناتا ہے کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کی دوستی کی تکمیل ہے اور جو کوئی انبیاء و رسل میں سے کسی ایک کے ساتھ عداوت رکھتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ اور تمام رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿مَن كَانَ عَدُوًّا لِّلَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّـهَ عَدُوٌّ لِّلْكَافِرِينَ ﴾ (البقرہ :2؍98) ” جو کوئی اللہ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو تو اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔ “ النسآء
151 اسی طرح جو کوئی کسی رسول کا انکار کرتا ہے وہ تمام رسولوں کا انکار کرتا ہے بلکہ وہ اس رسول کا بھی انکار کرتا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پر ایمان لایا ہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ﴾ ” وہ بلاشبہ کافر ہیں پکے۔“ اور (حقا) کا لفظ اس لئے استعملا کیا ہے تاکہ کوئی اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ ان کا متربہ ایمان اور کفر کے درمیان ہے اور ان کے کافر ہونے کی۔۔۔ یہاں تک کہ اس رسول کے ساتھ بھی کفر کرنے کی، جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔۔۔ وجہ یہ ہے کہ ہر وہ دلیل جو اس نبی پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، وہی دلیل یا اس جیسی یا اس سے بڑھ کر دلیل موجود ہے جو اس نبی کی نبوت پر دلالت کرتی ہے جس کا وہ انکار کر رہے ہیں۔ اسی طرح ہر وہ شبہ جس کی بنیاد پر وہ اس نبی پر اعتراض کرتے ہیں جس کے ساتھ انہوں نے کفر کیا ہے، وہی شبہ، یا اس جیسا یا اس سے بھ بڑا شبہ اس نبی کی نبوت میں بھی موجود ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں۔۔۔ تب اس کے بعد سوائے، خواہشات نفس اور مجرد دعویٰ کے کچھ باقی نہیں جس کے مقابلہ میں اس جیسا دعویٰ کرنا ہر ایک کے لئے ممکن ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہی لوگ حقیقی (پکے) کافر ہیں تو اس عذاب کا ذکر بھی فرما دیا جو ان کو اور دیگر کفار کو دیا جائے گا۔﴿وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴾ اور ہم نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ جس طرح انہوں نے تکبر کی بنا پر ایمان لانے سے انکار کردیا اسی طرح اللہ تعالیٰ رسوا کن اور درد ناک عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کرے گا۔ النسآء
152 ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرُسُلِهِ ﴾ ” اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔“ یہ آیت کریمہ ہر اس خبر پر ایمان لانے کو متضمن ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں دی ہے اور ان تمام اخبار و احکام پر ایمان لانے کو بھی جنہیں لے کر انبیاء ورسل مبعوث ہوئے۔ ﴿وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ ﴾ ” اور انہوں نے ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا۔‘‘ بلکہ وہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لائے اور یہی وہ حقیقی اور یقینی ایمان ہے جو دلیل اور برہان پر مبنی ہے۔ ﴿أُولَـٰئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ ﴾ ” ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا۔“ یعنی ان کے ایمان اور ایمان پر مبنی عمل صالح، قول حسن اور خلق جمیل کی جزا دی جائے گی اور یہ جزا ہر ایک کو اس کے حساب حال عطا ہو گی۔ شاید ان کے اجر میں اضافے کا یہی سرنہاں ہے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴾ ” اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور نیکیوں کو قبول فرماتا ہے۔ النسآء
153 النسآء
154 اہل کتاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بنا پر کیا تھا اور اسی پر انہوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہوجائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کئے تھے۔﴿قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا ﴾(بنی اسرائیل :17؍93) ” کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔ “ اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمہارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً ۚ كَذٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ ۖ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًاوَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا﴾(الفرقان:25؍32۔33)” اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ایک ہی بارکیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لئے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمہارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمہارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمہارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں۔ “ جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتایا کہ ان کے معاملے میں کوئی انوکھی بات نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انہوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔ مثلاً ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انہوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔ مثلاً ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔ عبادت کے لئے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔ اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کرلیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔ بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انہیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انہوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انہوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ و السلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کردیا۔ حالانکہ انہوں نے انہیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انہوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ ان کا سود اور حرام کھانا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔ پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دیں۔ باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھہرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہے۔۔۔ تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہوجائے کہ یہ اعتراضات بھی اس خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اس قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جاسکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس طرح ان کے شرکا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہوسکتا ہے اور ہر وہ دلیل جس کو وہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لئے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں، تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں۔ چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لئے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔ النسآء
155 النسآء
156 النسآء
157 النسآء
158 ﴿وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ﴾’ اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔“ (قَبْلَ مَوْتِهِ) میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کرلے لگا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لئے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انہیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہوگا؟ اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ (قَبْلَ مَوْتِهِ) میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰ علیہ السلام ہوں۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیح علیہ السلام کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیح علیہ السلام قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کردیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جوشریعت قرآن کے مخالف ہوگا۔ چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لئے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنا، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کردیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے، کیونکہ فی نفسہٖ وہ حلال تھیں۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کیت حریم، تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں۔ النسآء
159 النسآء
160 النسآء
161 النسآء
162 جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے معایب بیان کئے، تو ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو ان میں سے قابل تعریف ہیں۔ ﴿ لَّـٰكِنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ﴾ ” مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور مومن ہیں“ یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں علم مضبوط اور ایقان راسخ ہے اور اس کے ثمرہ میں انہیں ایمان کامل حاصل ہوتا ہے۔﴿بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ﴾ ” وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی اور ان کتابوں پر جو آپ سے پہلے اتاری گئیں۔“ یہ ایمان انہیں اعمال صالحہ کا پھل عطا کرتا ہے، مثلاً نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا، یہ دونوں سب سے افضل اعمال ہیں، کیونکہ یہ دونوں معبود کے لئے اخلاص اور اس کے بندوں کے لئے احسان پر مشتمل ہیں۔ وہ لوگ روز قیامت پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ بنا بریں وہ اللہ تعالیٰ کی وعید سے ڈرتے ہیں اور اس کے وعدے پر امید رکھتے ہیں۔ ﴿ أُولَـٰئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا ﴾ ” ہم عنقریب انہیں اجر عظیم سے نوازیں گے“ کیونکہ انہوں نے علم، ایمان، عمل صالح، گزشتہ اور آئندہ آنے والے انبیاء و مرسلین اور تمام کتب الٰہیہ پر ایمان کو جمع کردیا۔ النسآء
163 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر اسی طرح عظیم شریعت اور سچی خبریں وحی کی ہیں جس طرح اس نے ان انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام پر وحی کی تھیں۔ اس میں متعدد فوائد ہیں : (١) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی بے شمار رسول بھیجے ہیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو انوکھا اور نادر سمجھنا جہالت اور عناد کے سوا کچھ نہیں۔ (٢) اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اصول اور عدل کے ضابطے وحی کئے ہیں جس طرح انبیائے سابقین کی طرف وحی فرمائے تھے جن پر عمل کر کے وہ تقویٰ اختیار کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کی تصدیق اور ایک دوسرے کی موافقت کرتے تھے۔ (٣) محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم انہی انبیاء و رسل کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں، لہٰذا آپ کو دیگر انبیاء و رسل کے زمرے میں رکھ کر آپ کا اعتبار کرنا چاہئے۔ آپ کی دعوت وہی ہے جو ان رسولوں کی دعوت تھی، آپ کے اخلاق ان کے اخلاق سے متفق، آپ کی اور ان کی تعلیمات کا مصدر ایک اور آپ کے اور ان سب کے مقاصد یکساں ہیں۔۔۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مجہول اور کذاب لوگوں اور ظالم بادشاہوں کے ساتھ ذکر نہیں کیا۔ (٤) (قرآن مجید میں) ان انبیاء و رسل کے تذکرے اور ان کی تعداد بیان کرنے میں ان کی مدح و ثناء اور تعریف و تعظیم ہے اور ان کے احوال کی اس طرح تشریح ہے جس سے ان کے بارے میں مومن کے ایمان اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے، ان کے طریقے اور سنت کو اپنانے کا جذبہ بڑھتا ہے اور ا ن کے حقوق کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کا مصداق ہے۔ ﴿سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ﴾ (الصافات :37؍79)﴿ سَلَامٌ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ﴾(الصافات :37؍109 ﴿ سَلَامٌ عَلَى مُوسَى وَهَارُونَ ﴾ (الصافات :38؍120)﴿ سَلَامٌ عَلَى إِلْ يَاسِينَ ﴾ (الصافات :37؍130) ﴿ إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴾ (الصافات :37؍131) پس بھلائی اور احسان کرنے والے ہر شخص کو اس کے احسان کے مطابق مخلوق کے اندر ثنائے حسن نصیب ہوتی ہے۔ تمام انبیاء و رسل خصوصاً وہ انبیائے کرام جن کے اسمائے گرامی گزشتہ سطور میں ذکر کئے گئے ہیں احسان کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے وحی میں ان کے اشتراک کا ذکر فرمایا، وہاں اس نے بعض انبیاء کے اختصاص کا بھی ذکر کیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے جناب داؤد کو زبور عطا کی اور یہ وہ معروف اور لکھی ہوئی کتاب ہے جو داؤد علیہ الصلوۃ و السلام کے فضل و شرف کی بنا پر ان کے لئے مخصوص کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام فرمایا۔ یعنی بغیر کسی واسطہ کے بالمشافہ کلام فرمایا۔ حتیٰ کہ یہ بات تمام دنیا میں مشہور ہوگئی اور جناب موسیٰ علیہ السلام کو ” کلیم الرحمٰن“ کہا جانے لگا۔ نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان انبیاء و رسل میں سے بعض کا قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیان فرمایا اور بعض انبیاء کا قصہ بیان نہیں فرمایا اور یہ امر انبیائے کرام کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں کے لئے دنیاوی اور آخری سعادت کی خوشخبری سنانے والے بنا کر مبعوث فرمایا جو ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے دونوں جہانوں کی بدبختی سے ڈرانے والے بنا کر بھیجا جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ان رسولوں کی مخالفت کرتے ہیں۔۔۔ تاکہ انبیاء و رسل مبعوث کرنے کے بعد لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور وہ یہ نہ کہیں کہ ﴿مَا جَاءنَا مِن بَشِيرٍ وَلاَ نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءكُم بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ ﴾(المائدہ :5؍19) ” ہمارے پاس کوئی خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ پس تحقیق تمہارے پاس خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ کے مسلسل رسول بھیجنے کے بعد لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہی۔ یہ رسول لوگوں کے سامنے ان کا دین بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضی کے اسباب اور جنت و جہنم کے راستے واضح کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ تب جو کوئی ان انبیاء و رسل کا انکار کرتا ہے، تو وہ اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے کامل غلبہ اور کامل حکمت کی دلیل ہے کہ اس نے لوگوں کی طرف رسول مبعوث فرمائے اور ان پر کتابیں نازل فرمائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان بھی ہے، کیونکہ لوگ انبیاء و رسل کی بعثت کے سخت ضرورت مند تھے تب اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اضطرار کا ازالہ فرمایا۔ پس وہی حمد و ثناء اور شکر کا مستحق ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ اس نے جس طرح اپنے رسول بھیج کر ہم پر اپنی نعمت کی ابتدا کی، اسی طرح وہ ہمیں ان کے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے نواز کر اس نعمت کا اتمام کرے، بے شک وہ جواد اور کریم ہے۔ النسآء
164 النسآء
165 النسآء
166 اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ اس نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جس طرح دیگر انبیاء کی طرف، وہاں یہ خبر بھی دی ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی اور جو تعلیمات لے کر آپ مبعوث ہوئے، ان کی صحت کی گواہی دی ہے۔ فرمایا : ﴿ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ﴾ ” اس نے اپنے علم سے اسے نازل کیا ہے۔“ اس میں اس معنی ٰکا احتمال ہے کہ اس نے قرآن کو اس طرح نازل فرمایا کہ وہ اس (اللہ) کے علم پر مشتمل ہے، یعنی اس کے اندر تمام علوم الٰہیہ، احکام شرعیہ اور اخبار غیبیہ موجود ہیں۔ یہ تمام اللہ تعالیٰ کا وہ علم ہے جو اس نے اپنے بندوں کو سکھایا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد ہو کہ اس نے اس قرآن کو اپنے علم کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ تب اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی شہادت کے پہلو کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے اس طرح نازل فرمایا ہے کہ وہ اوامرونواہی پر مشتمل ہے اور یہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کے احوال کو بھی جانتا ہے جس پر یہ نازل کیا گیا اور اللہ تعالیٰ یہ بھی جانتا ہے کہ اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی ہے۔ پس جس کسی نے اس کی دعوت پر لبیک کہی اور اس کی تصدیق کی وہ اللہ تعالیٰ کا دوست ہے اور جس کسی نے اس کو جھٹلایا اور اس کے ساتھ عداوت رکھی وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا مال اور خون مباح کردیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دوست کو قدرت عطا کرتا ہے اور پے در پے اس کی مدد کرتا ہے، اس کی دعائیں قبول کرتا ہے، اس کے دشمنوں سے الگ ہوجاتا ہے اور اس کے دوستوں کی مدد کرتا ہے۔ کیا کوئی ایسی شہادت ہے جو اس شہادت سے بڑی ہو؟ اللہ تعالیٰ کے علم، اس کی قدرت اور اس کی حکمت میں عیب لگائے بغیر نیز فرشتوں کے ایمان کا مل اور مشہود علیہ کی جلالت شان کی بنا پر اس چیز پر ان کی شہادت کے بارے میں جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے عیب چینی کئے بغیر اس شہادت میں جرح و قدح ممکن نہیں۔ اس قسم کے عظیم الشان امور پر خواص ہی سے شہادت طلب کی جاتی ہے جیسا کہ توحید پر شہادت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ شَهِدَ اللّٰهُ أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلاَئِكَةُ وَأُوْلُواْ الْعِلْمِ قَآئِمَاً بِالْقِسْطِ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ (آل عمران :3؍18) ” اس نے شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، فرشتوں اور اہل علم نے بھی شہادت دی ہے کہ وہ انصاف کے ساتھ حکومت کر رہا ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہی زبردست ہے اور حکمت والا ہے۔ “ النسآء
167 اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل صلوات اللہ وسلامہ علیہم کی رسالت اور خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس رسالت پر خود بھی گواہی دی اور اس کے فرشتوں نے بھی گواہی دی اور اس سے مشہور بہ اور امر متحقق کا ثابت ہونا لازم آتا ہے۔ پس اس طرح انبیاء کی تصدیق، ان پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے، پھر جن لوگوں نے انبیائے کرام کا انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا :﴿ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ﴾” جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا۔“ یعنی انہوں نے خود اپنے کفر کرنے کو اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کو جمع کردیا۔ یہ لوگ ائمہ کفر اور گمراہی کے داعی ہیں۔ (قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًا بَعِیْدًا) ” وہ راستے سے بھٹک کر دور جا پڑے۔“ جو شخص خود بھی گمراہ ہو اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کردیا ہو اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے۔ اس نے دو گناہ سمیٹے اور وہ دو خسارے لے کر لوٹا اور دو ہدایتوں سے محروم ہوگیا۔ النسآء
168 بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَظَلَمُواْ ﴾ ” جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے۔“ اور یہ ظلم ان کے کفر پر اضافہ ہے ورنہ جب ظلم کا اطلاق کیا جاتا ہے تو کفر اس کے اندر شامل ہوتا ہے۔ یہاں ظلم سے مراد اعمال کفر اور اس کے اندر استغراق ہے۔ پس یہ لوگ مغفرت اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی سے بہت دور ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ لَمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلاَ لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقاً إِلاَّ طَرِيقَ جَهَنَّمَ﴾” اللہ ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں راستہ ہی دکھائے گا، ہاں دوزخ کا راستہ۔“ ان کے لئے مغفرت اور ہدایت کی نفی محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنی سرکشی پر قائم اور اپنے کفر میں بڑھتے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر ہدایت کی راہ مسدود ہوگئی۔ ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ﴾ (حم السجدہ :41؍46) ” تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ “ النسآء
169 ﴿ وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيرًا ﴾ ” اور یہ بات اللہ کو آسان ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہ بھلائیکی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ اسی حال کے لائق ہیں جس کو انہوں نے اپنے لئے منتخب کیا۔ النسآء
170 اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے بندے اور رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں۔ اس نے اس سبب کا بھی ذکر فرمایا ہے جو ایمان کا موجب ہے اور ایمان کے اندر جو فوائد اور عدم ایمان کے اندر جو نقصانات ہیں ان سب کا ذکر کیا ہے۔ پس ایمان کا موجب، سبب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دینا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کی تشریف آوری فی نفسہ حق اور جو شریعت آپ لائے ہیں وہ بھی حق ہے۔ عقلمند شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ مخلوق کا اپنی جہالت میں سرگرداں رہنا اور اپنے کفر میں ادھر ادھر مارے مارے پھرنا جبکہ رسالت منقطع ہوچکی ہو۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی رحمت کے لائق نہیں۔ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے ان کی طرف رسول کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ ان کو گمراہی اور ضلالت میں سے رشد و ہدایت کی پہچان کروائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت میں مجرد غور و فکر ہی آپ کی نبوت کی صداقت کی قطعی دلیل ہے۔ اسی طرح اس عظیم شریعت اور صراط مستقیم میں غور و فکر، جس کے ساتھ آپ تشریف لائے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے کیونکہ اس میں گزشتہ زمانوں اور آئندہ آنے والے زمانوں کے امور غیبیہ، نیز اللہ تعالیٰ اور روز آخرت کے بارے میں ایسی ایسی خبریں دی گئی ہیں کہ کوئی شخص وحی اور رسالت کے بغیر ان کی معرفت حاصل نہیں کرسکتا اور اس میں ہر قسم کی خیر و صلاح، رشد و ہدایت، عدل و احسان، صدق، نیکی، صلہ رحمی اور حسن اخلاق کا حکم دیا گیا ہے اور ہر قسم کے شر، فساد، بغاوت، ظلم، بدخلقی، جھوٹ اور والدین کی نافرمانی سے روکا گیا ہے جن کے بارے میں قطعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ بندے کی بصیرت میں جب بھی اضافہ ہوتا ہے اس کے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا ہے۔ پس یہ ہے وہ سبب جو بندے کو ایمان کی دعوت دیتا ہے۔ رہی ایمان میں فائدے کی بات تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ ﴿خَيْرًا لَّكُمْ ۚ ﴾ ” تمہارے لئے بہتر ہے۔“ خیر، شر کی ضد ہے۔ پس ایمان اہل ایمان کے ابدان، ان کے دلوں، ان کی ارواح اور ان کی دنیا و آخرت میں ان کے لئے بہتر ہے۔ کیونکہ ایمان پر مصالح اور فوائد مترتب ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہر قسم کا ثواب، خواہ وہ اسی دنیا میں حاصل ہو یا آخرت میں، ایمان ہی کا ثمرہ ہے اور فتح و نصرت، ہدایت، علم، عمل صالح، مسرتیں، فرحتیں، جنت اور جنت کی تمام نعمتیں، ان سب کا سبب ایمان ہے۔ جیسے دنیاوی اور آخروی بدبختی عدم ایمان یا نقص کے باعث ہے۔ رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عدم ایمان کا ضرر تو اسے ان فوائد کی ضد سے معلوم کیا جاسکتا ہے جو ایمان کے باعث حاصل ہوتے ہیں اور بندہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ تمام گناہ گاروں کا گناہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَإِنَّ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ﴾ ” اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔“ یعنی زمین و آسمان میں ہر چیز اس کی مخلوق، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر اور تصرف کے تحت ہے﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيمًا ﴾ ” اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔“ ﴿حَكِيمًا ﴾ ” حکمت والا ہے۔“ وہ اپنے خلق و امر میں حکمت کا مالک ہے۔ پس وہ جانتا ہے کہ کون ہدایت اور کون گمراہی کا مستحق ہے۔ ہدایت اور گمراہی کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنے میں وہ حکمت سے کام لیتا ہے۔ النسآء
171 اللہ تبارک و تعالیٰ اہل کتاب کو دین میں غلو کرنے سے منع کرتا ہے اور غلو سے مراد ہے حد سے تجاوز کرنا اور حدود مشروع سے نکل کر غیر مشروع کی طرف جانا۔ جیسے نصاریٰ جناب عیسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں اور انہیں نبوت اور رسالت کے مقام سے اٹھا کر ربوبیت کے مقام پر بٹھا دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لائق نہیں۔ پس جس طرح تقصیر اور تفریط (کمی) منہیات میں سے ہے، غلو بھی اسی طرح ممنوع ہے۔ اسی لئے فرمایا : ﴿وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ إِلَّا الْحَقَّ ﴾” اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔“ یہ کلام اقدس تین امور کو متضمن ہے۔ ان میں سے پہلے دو امور ممنوع ہیں۔ اول: اللہ تبارک و تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا۔ ثانی: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اس کے افعال، اس کی شریعت اور اس کے رسولوں کے بارے میں بلاعلم بات کرنا۔ ثالث : اور تیسری چیز وہ ہے جس کا حکم دیا گیا ہے اور وہ ہے ان تمام امور میں قول حق۔ چونکہ یہ ایک عام قاعدہ کلیہ ہے اور سیاق کلام جناب عیسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کے بارے میں نص اور قول حق ہے اور یہودیت اور نصرانیت کے طریقے کے خلاف ہے اس لئے فرمایا۔ ﴿إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّـهِ ﴾ ” مسیح یعنی مریم کے بیٹے عیسیٰ اللہ کے رسول ہیں۔“ یعنی جناب مسیح کی غایت اور مراتب کمال کی انتہاء وہ اعلیٰ ترین حالت ہے جو کسی مخلوق کے لئے ہوسکتی ہے اور وہ مرتبہ رسالت ہے، جو بلند ترین درجہ اور جلیل ترین مقام ہے۔ ﴿وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَىٰ مَرْيَمَ ﴾ ” اور اس کا کلمہ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا۔“ اور وہ ایک کلمہ ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور اس کلمہ کے ذریعے سے حضرت عیسیٰ نے تخلیق قائی۔ خود حضرت عیسیٰ وہ کلمہ نہ تھے بلکہ وہ اس کلمہ کے ذریعے سے وجود میں آئے اور یہ شرف و تکریم کی اضافت ہے۔ اسی طرح فرمایا : ﴿وَرُوحٌ مِّنْهُ ﴾ ” اور اس کی طرف سے ایک روح تھے۔“ یعنی ان ارواح میں میں سے ایک روح ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق فرمایا اور صفات فاضلہ اور اخلاق کاملہ کے ساتھ اس کی تکمیل کی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ روح جبرئیل علیہ الصلوۃ و السلام کو دے کر جناب مریم علیہا السلام کی طرف بھیجا اور انہوں نے جناب مریم علیہا السلام کی فرج میں روح کو پھونک دیا، پس اللہ کے حکم سے ان کو حمل ٹھہر گیا جس سے حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت واضح کردی تو اس نے اہل کتاب کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کا حکم دیا اور ان کو تین خدا بنانے سے منع کیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم ان کا برا ہو یہ نصاری کا قول باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس تثلیث سے باز آجائیں اور انہیں آگاہ فرمایا کہ یہ ان کے لئے بہتر ہے کیونکہ یہ امر متعین ہے کہ یہی نجات کی راہ ہے اور اس کے سوا ہر راستہ ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو شریک اور اولاد سے منزہ قرار دیا ہے۔ فرمایا : ﴿اِنَّمَا اللّٰہ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ﴾” اللہ ہی معبود واحد ہے۔“ یعنی وہ الوہیت میں منفرد (یکتا) ہے جس کے سوا عبادت کا کوئی مستحق نہیں ﴿سُبْحٰنَهُ﴾ وہ اس سے منزہ اور پاک ہے ﴿اَنْ يَكُوْنَ لَهُ وَلَدٌ﴾ ” کہ اس کا کوئی بیٹا ہو“ کیونکہ ﴿لَهُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ﴾ ” اسی کے لئے ہے جو آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے“ پس تمام اس کے مملوک اور اس کے محتاج ہیں۔ اس لئے یہ محال ہے کہ ان میں سے اس کا کوئی شریک یا اس کا کوئی بیٹا ہو۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تمام عالم علوی اور سفلی کا مالک ہے تو وہ یہ بھی بتلاتا ہے کہ وہی تمام دنیوی اور آخروی مصالح کا بھی انتظام فرماتا ہے، ان مصالح کی حفاظت کرتا ہے اور ان کی جزا دیتا ہے۔ النسآء
172 اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کے بارے میں نصاریٰ کے غلوکاذ کر فرمایا اور بیان فرمایا کہ جناب عیسیٰ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، تو اب یہاں یہ بھی واضح کردیا کہ حضرت عیسیٰ اپنے رب کی عبادت میں عار نہیں سمجھتے تھے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی نہیں کرتے تھے۔ ﴿وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ ﴾” اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے“ اس کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس چیز سے پاک رکھا ہے کہ وہ اس کی عبادت کو عار سمجھیں اور تکبر و استکبار سے پاک ہونا تو بدرجہ اولیٰ ان کی صفت ہے۔ کسی چیز کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔۔۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے تو اپنے رب کی عبادت میں رغبت رکھتے ہیں، اس کی عبادت کو پسند کرتے ہیں اور اپنے اپنے حسب احوال اس کی عبادت میں سعی کرتے ہیں۔ ان کی یہ عبادت ان کے لئے بہت بڑے شرف اور فوز عظیم کی موجب ہے۔ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت میں اپنے آپ کو بندے سمجھنے میں عار محسوس نہیں کی بلکہ وہ ہر طرح سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کا محتاج سمجھتے ہیں۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام یا کسی اور کو اس مرتبے سے بڑھانا، جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے، ان کے لئے کوئی کمال ہے بلکہ یہ تو عین نقص اور مذمت و عذاب کا محل و مقام ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا﴾ ” اور جو شخص اللہ کا بندہ ہنے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو اللہ سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی عبادت کو عار سمجھنے والوں، متکبروں اور اپنے مومن بندوں، سب کو عنقریب جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور اپنی جزا سے نوازے گا۔ النسآء
173 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مذکورہ افراد کی بابت اپنے الگ الگ فیصلے کی بابت فرمایا : ﴿فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ﴾” پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے‘‘ یعنی انہوں نے ایمان مامور کے ساتھ اعمال صالحہ یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ضمن میں واجبات و مستحبات کو جمع کیا ﴿فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ﴾ ” وہ ان کو ان کا پورا بدلہ دے گا۔“ یعنی وہ اجر، جس کو اللہ تعالیٰ نے اعمال پر مترتب فرمایا ہے۔ ہر شخص کو اس کے ایمان اور عمل کے مطابق ملے گا۔ ﴿وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ﴾ ” اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ثواب میں اتنا اضافہ کرے گا کہ ان کے اعمال یہ ثواب حاصل نہیں کرسکتے، ان کے افعال اس ثواب تک نہیں پہنچ سکتے اور اس ثواب کا تصور بھی ان کے دل میں نہیں آسکتا۔ اس ثواب میں ہر وہ چیز شامل ہے جو جنت میں موجود ہے، مثلاً ماکولات، مشروبات، بیویاں، خوبصورت مناظر، فرحت و سرور، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں، بلکہ اس میں ہر دینی اور دنیاوی بھلائی شامل ہے جو ایمان اور عمل صالح پر مترتب ہوتی ہے۔ ﴿وَأَمَّا الَّذِينَ اسْتَنكَفُوا وَاسْتَكْبَرُوا ﴾ ” لیکن وہ لوگ جنہوں نے عار کی اور تکبر کیا“ یعنی وہ لوگ جو تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کو عار سمجھتے ہیں ﴿فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴾” ان کو وہ تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔“ یہ عذاب الیم، اللہ تعالیٰ کی ناراضی، اس کے غضب اور بھڑکتی ہوئی آگ پر مشتمل ہے جو دلوں کے ساتھ لپٹ جائے گی۔ ﴿وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ اللَّـهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ﴾” اور یہ لوگ اللہ کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے۔“ یعنی وہ مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں پائیں گے جو ان کا ولی و مددگار بن سکے اور وہ اپنا مطلوب و مقصود حاصل کرسکیں اور نہ ان کا کوئی حامی و ناصر ہوگا جو ان سے اس چیز کو دور کرسکے جس سے یہ ڈرتے ہیں، بلکہ صورت حال یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ جو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے وہ بھی ان سے الگ ہوجائے گا اور ان کو دائمی عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جو فیصلہ کرتا ہے اس کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا اور نہ اس کی قضا کو کوئی بدل سکتا ہے۔ النسآء
174 اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں پر احسان جتلاتا ہے کہ اس نے ان تک براہین قاطعہ اور واضح روشنی پہنچائی، ان پر حجت قائم کرتا ہے اور ان کے سامنے ہدایت کی راہ واضح کرتا ہے۔ چنانچہ : ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُم بُرْهَانٌ مِّن رَّبِّكُمْ ﴾ ” لوگو ! تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس دلیل آچکی ہے۔“ یعنی تمہارے پاس حق کی تائید میں قطعی دلائل آچکے ہیں جو حق کو واضح کرتے ہیں اور اس کی ضد کو بیان کرتے ہیں۔ یہ براہین، دلائل عقلیہ، دلائل نقلیہ، آیات افقی اور آیات نفسی پر مشتمل ہیں، فرمایا : ﴿سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ﴾ (حم السجدہ :41؍53) ” ہم عنقریب ان کو آفاق میں اور خود ان کی ذات میں نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ حق ان پر واضح ہوجائے گا۔ “ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿مِّن رَّبِّكُمْ ﴾ ’ ’تمہارے رب کی طرف سے۔“ اس برہان و دلیل کی عظمت و شرف پر دلالت کرتا ہے کیونکہ یہ تمہارے رب کی طرف سے ہے جس نے تمہاری دینی اور دنیوی تربیت کی ہے۔ یہ اس کی تربیت ہی ہے جس پر اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے تمہیں دلائل عطا کئے تاکہ وہ صراط مستقیم کی طرف تمہاری راہنمائی کرے اور تمہیں نعمتوں سے بھری ہوئی جنتوں تک پہنچائے۔ ﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا ﴾ ” اور اتارا ہم نے تمہاری طرف واضح نور“ وہ یہی قرآن عظیم ہے جو اولین و آخرین کے علوم، سچی خبروں، عدل و احسان اور بھلائی کے احکام اور ہر قسم کے ظلم اور شر سے ممانعت پر مشتمل ہے۔ لوگ اگر قرآن سے روشنی حاصل کر کے اپنی راہوں کو روشن نہیں کریں گے تو اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ اگر انہوں نے قرآن سے بھلائی کو حاصل نہ کیا تو بہت بڑی بدبختی میں پڑے رہیں گے۔ تاہم قرآن عظیم پر ایمان لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں : النسآء
175 (١) ﴿فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ ﴾ ” پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے۔“ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے وجود کا اعتراف کیا اور یہ تسلیم کیا کہ وہ تمام اوصاف کاملہ سے متصف اور ہر نقص اور ہر عیب سے منزہ ہے۔﴿وَاعْتَصَمُوا بِهِ ﴾ ” اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے۔“ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ہاں پناہ لی اور اپنی قوت اور طاقت سے بری ہو کر اپنے رب سے مدد کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ ﴾ ” ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کی بہشتوں) میں داخل کرے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اپنی خاص رحمت سے ڈھانپ لے گا، انہیں نیکیوں کی توفیق عنایت کرے گا، انہیں بے پایاں ثواب عطا کرے گا اور ان سے بلائیں دور کرے گا۔ ﴿وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا ﴾” اور اپنی طرف (پہنچنے کا) سیدھا راستہ دکھائے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں علم و عمل کی توفیق اور انہیں حق اور اس پر عمل کی معرفت عطا کرے گا۔ (٢) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے، اللہ کے پاس پناہ نہ لی اور اس کی کتاب کو مضبوطی سے نہ پکڑا تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل اور رحمت سے محروم کر دے گا ان کو ان کے نفس کے حوالے کر دے گا۔ انہوں نے ہدایت کی راہ کو اختیار نہ کیا بلکہ وہ واضح طور پر گمراہی میں جاپڑے۔ ایمان ترک کرنے پر یہ ان کی سزا ہے، پس ناکامی اور محرومی ان کا نصیب بن گئی ہے ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے عفو، عافیت اور معافی کا سوال کرتے ہیں۔ النسآء
176 اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کلالہ کے بارے میں فتویٰ طلب کیا تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ ﴾” کہہ دیجیے ! اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے“ (كَلَالَہ) سے مراد وہ میت ہے جس کی صلب سے کوئی اولاد ہو، نہ کوئی پوتا پوتی، نہ باپ ہو نہ دادا۔ اس لئے فرمایا :﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ ﴾ ” اگر کوئی ایسا مرد مر جائے جس کے اولاد نہ ہو۔“ یعنی اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہو؟؟؟، نہ صلبی بیٹا ہو اور نہ بیٹے کا بیٹا ہو۔۔۔ اور اسی طرح نہ اس کا باپ ہو اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بھائی اور بہنیں اس کے وارث بنیں گے کیونکہ اس پر علماء کا اجماع ہے کہ بہن بھائی باپ کی معیت میں وارث نہیں بنیں گے۔ پس جب ایسا شخص فوت ہوجائے گا جس کی اولاد ہے نہ باپ ﴿وَلَهُ أُخْتٌ ﴾ البتہ اس کے حقیقی یا باپ شریک بہن ہے، نہ کہ ماں شریک، کیونکہ اس کا حکم پہلے گزر چکا ہے۔ ﴿فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ﴾ ” اس (بہن) کے لئے ترکے میں سے آدھا حصہ ہے۔“ یعنی بہن کو کلالہ بھائی کے ترکہ یعنی نقدی، جائیداد اور دیگر اثاثوں میں سے نصف ملے گا۔ یہ حصہ میت کی وصیت پوری کرنے اور قرض کی ادائیگی کے بعد دیا جائے گا۔ جیسا کہ اس کے بارے میں احکام گزشتہ اوراق میں گزر چکے ہیں۔ ﴿وَهُوَ ﴾ ” اور وہ‘‘ یعنی میت کا حقیقی بھائی یا باپ کی طرف سے بھائی ﴿يَرِثُهَا إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ ﴾ ” اس بہن کا وارث ہوگا، اگر اس کی اولاد نہیں ہوگی“ اور اس کے لئے حصہ میراث مقرر نہ ہوکیونکہ وہ تو عصبہ ہے اگر اصحاب فروض یا عصبہ میں شریک کوئی فرد نہ ہو تو وہ تمام ترکہ لے گا یا اصحاب فروض کو ان کے حصے دینے کے بعد جو کچھ باقی بچے گا وہ اس کو ملے گا۔﴿فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ ﴾” اور اگر دو بہنیں ہوں۔“ یعنی دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں۔﴿فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ ﴾ ” تو ان کو ترکے میں سے دو تہائی ملے گا‘‘ ﴿وَإِن كَانُوا إِخْوَةً رِّجَالًا وَنِسَاءً ﴾ ” اور اگر بھائی اور بہن یعنی مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں۔“ یعنی اگر باپ کی طرف سے بھائی اور بہنیں وارث ہوں ﴿فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ﴾ ” تو مرد کے لئے دو عورتوں کے برابر حصہ ہے‘‘ پس عورتوں کا مقررہ حصہ (دو تہائی) ساقط ہوجائے گا اور ان عورتوں کو ان کے بھائی عصبہ بنا دیں گے۔ (گویا اس میں عصبات کا حکم بیان کیا گیا ہے) عورتوں کا حصہ ساقط ہوجائے گا اور ان کے بھائی ان کے عصبہ بنیں گے۔ ﴿يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّوْا﴾ ” اللہ تم سے اس لئے بیان فرماتا ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔“ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ان احکام کو واضح کرتا ہے اور ان کی تشریح کرتا ہے جن کے تم محتاج ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل و احسان ہے تاکہ تم راہ ہدایت پالو اور تم اس کے احکام پر عمل کرو اور تاکہ تم اپنی جہالت اور عدم علم کی وجہ سے راہ راست سے بھٹک نہ جاؤ۔ ﴿وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴾ ” اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ غائب اور موجود، ماضی اور مستقبل کے تمام امور کو جانتا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تم اس کی وضاحت اور تعلیم کے محتاج ہو، وہ اپنے علم میں سے تمہیں علم سکھاتا ہے جو تمہیں ہر زمان و مکان میں ہمیشہ فائدہ دے گا۔ النسآء
0 المآئدہ
1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کو اس بات کا حکم ہے جس کا ایمان تقاضا کرتا ہے اور وہ یہ کہ معاہدوں کو پورا کیا جائے۔ ان میں کمی کی جائے نہ ان کو توڑا جائے۔ یہ آیت کریمہ ان تمام معاہدوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے اس کی عبودیت کا التزام، اسے پوری طرح قائم رکھنا اور اس کے حقوق میں سے کچھ کمی نہ کرنا اور یہ ان معاہدوں کو بھی شامل ہے جو بندے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین آپ کی اتباع اور اطاعت کے بارے میں ہیں اور اسی طرح اس میں وہ معاہدے بھی شامل ہیں جو بندے اور اس کے والدین اور اس کے عزیز و اقارب کے درمیان ان کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی اور عدم قطع رحمی کے بارے میں ہیں، نیز اس آیت کریمہ کے حکم میں وہ معاہدے بھی شامل ہیں جو فراخی اور تنگ دستی، آسانی اور تنگی میں صحبت اور دوستی کے حقوق کے بارے میں ہیں۔ اس کے تحت وہ معاہدے بھی آتے ہیں جو معاملات، مثلاً خرید و فروخت اور اجارہ وغیرہ کے ضمن میں بندے اور لوگوں کے درمیان ہیں۔ اس میں صدقات اور ہبہ وغیرہ کے معاہدے کی پابندی، مسلمانوں کے حقوق کی ادائیگی وغیرہ بھی شامل ہے جن کی پابندی کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں عائد کیا ہے۔﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ ﴾ (الحجرات :49؍10) ” تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں“ بلکہ حق کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کرنا، مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور محبت سے مل جل کر رہنا اور قطع تعلقات سے اجتناب وغیرہ تک شامل ہے۔ پس اس حکم میں دین کے تمام اصول و فروغ شامل ہیں اور دین کے تمام اصول و فروع ان معاہدوں میں داخل ہیں جن کی پابندی کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿أُحِلَّتْ لَكُم ﴾” تمہارے لئے حلال کردیئے گئے۔‘‘ یعنی تمہاری خاطر اور تم پر رحمت کی بنا پر حلال کردیئے گئے ہیں۔ ﴿بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ ﴾ ” چوپائے مویشی“ یعنی اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری وغیرہ بلکہ بسا اوقات اس میں جنگلی جانور، مثلاً ہرن، گورخر اور اس قسم کے دیگر شکار کئے جانے والے جانور بھی شامل ہیں۔ بعض صحابہ کرام اس آیت کریمہ سے اس بچے کی حلت پر بھی استدلال کرتے ہیں جو ذبح کرتے وقت مذبوحہ کے پیٹ میں ہوتا ہے اور ذبح کرنے کے بعد وہ مذبوحہ کے پیٹ میں مر جاتا ہے۔ [حدیث میں بھی ایسے بچے کو یہ کہہ کر حلال قرار دیا گیا ہے ذَکوٰۃُ الجَنِیْنِ ذَکَاۃُ أمِّہِ (ابوداؤد، ترمذی، بحوالہ صحیح الجامع) ” بچے کا ذبح کرنا یہی ہے کہ اس کی ماں کو ذبح کرلیا جائے۔“ یعنی ماں کا ذبح کرلینا، بچے کی حلت کے لئے کافی ہے۔ (ص۔ ی)] ﴿إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ﴾ ” سوائے ان چیزوں (کی تحریم) کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔“ جیسے فرمان باری تعالیٰ ہے : ﴿ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّـهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ ۔۔الاٰیة﴾(المائدۃ:5؍3)” تم پر حرام کردیا گیا مردار، خون، سور کا گوشت، جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، وہ جانور جو گلا گھٹ کر مر جائے، جو چوٹ لگ کر مر جائے، جو گر کر مر جائے، جو سینگ لگ کر مر جائے اور وہ جانور جسے درندے پھاڑ کھائیں سوائے اس کے جس کو تم ذبح کرلو اور وہ جانور جو آستانوں پر ذبح کئے جائیں۔۔۔ “ مذکورہ بالا تمام جانور اگرچہ ﴿بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ﴾ مویشیوں میں شامل ہیں تاہم یہ مردار ہونے کی وجہ سے حرام ہیں۔ یہ چوپائے مویشی عام طور پر تمام احوال و اوقات میں مباح ہیں البتہ احرام کی حالت میں ان کے شکار کو مستثنی ٰقرار دیا گیا ہے، اس لئے فرمایا : ﴿غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ﴾” مگر حلال نہ جانو شکار کو احرام کی حالت میں“ یعنی یہ جانور تمہارے لئے تمام احوال میں حلال ہیں سوائے اس حالت میں جبکہ تم احرام کی حالت میں ہو تب اس حالت میں شکار نہ کرو، یعنی احرام میں ان کو مارنے کی جرأت نہ کرو، کیونکہ حالت احرام میں ان کا شکار کرنا مثلاً ہرن وغیرہ کو مارنا تمہارے لئے جائز نہیں۔ شکار سے مراد وہ جنگلی جانور ہے جس کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ ﴾ ” بے شک اللہ جو چاہے، فیصلہ کرتا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ جو بھی ارادہ کرتا ہے اس امر کے مطابق فیصلہ کرتا ہے جو اس کی حکمت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ جس طرح اس نے تمہارے مصالح کے حصول اور مضرت کو دور کرنے کے لئے تمہیں معاہدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا اور تم پر رحمت کی بنا پر اس نے تمہارے لئے مویشیوں کو حلال قرار دیا اور بعض موانع کی وجہ سے جو جانوران میں سے مستثنیٰ ہیں ان کو حرام قرار دیا مثلاً مردار وغیرہ اس کا مقصد تمہاری حفاظت اور احترام ہے۔ احرام کی حالت میں شکار کو حرام قرار دیا اور اس کا مقصد احرام کا احترام اور تعظیم ہے۔ المآئدہ
2 ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّـهِ ﴾ ” اے ایمان والو ! اللہ کی نشانیوں کو حلال نہ سمجھو“ یعنی اللہ تعالیٰ کی ان محرمات کو حلال نہ ٹھہرا لو جن کی تعظیم کا اور ان کے عدم فعل کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے۔ پس یہ ممانعت، ان کے فعل کی ممانعت اور ان کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنے کی ممانعت پر مشتمل ہے۔ یعنی یہ ممانعت فعل قبیح اور اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنے کو شامل ہے اس ممانعت میں محرمات احرام اور محرمات حرم بھی داخل ہیں۔ اس میں وہ امور بھی داخل ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آتا ہے ﴿وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ ﴾ ” اور نہ ادب کے مہینے کی۔“ یعنی حرمت کے مہینے میں لڑائی اور دیگر مظالم کا ارتکاب کر کے اس کی ہتک حرمت نہ کرو، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّـهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّـهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ﴾(التوبة:9؍36) ” بے شک اللہ کے نزدیک اس کی کتاب میں مہینے گنتی میں بارہ ہیں، اس روز سے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ ان میں سے چار مہینے حرمت کے ہیں۔ یہی مضبوط دین ہے۔ تم ان مہینوں میں (نا حق لڑائی کر کے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔ “ جمہور اہل علم کہتے ہیں کہ حرام مہینوں میں لڑائی کی تحریم منسوخ ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ﴾(التوبہ :9؍5) ” جب حرمت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ ان کو قتل کرو“ اور اس کے علاوہ دیگر آیات جو عموم پر دلالت کرتی ہیں جن میں کفار کے ساتھ مطلق قتال کا حکم دیا گیا ہے اور اس قتال سے پیچھے رہ جانے پر وعید سنائی ہے، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذیقعد کے مہینے میں اہل طائف کے خلاف جنگ کی اور ذیقعد حرام مہینوں میں سے ہے۔ دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ حرمت کے مہینوں میں لڑائی کی ممانعت منسوخ نہیں ہے اس کی دلیل یہی مذکورہ آیت کریمہ ہے۔ جس میں خاص طور پر لڑائی کی ممانعت کی گئی ہے اور انہوں نے اس بارے میں وارد مطلق نصوص کو مقید پر محمول کیا ہے۔ اور بعض علماء نے اس میں یہ تفصیل بیان کی ہے کہ حرمت والے مہینوں میں جنگ کی ابتدا کرنا جائز نہیں، البتہ اگر جنگ پہلے سے جاری ہو جبکہ اس کی ابتدا حلال مہینوں میں ہوئی ہو تو حرمت کے مہینوں میں اس کی تکمیل جائز ہے اور انہوں نے اہل طائف کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ کو اسی پر محمول کیا ہے، کیونکہ ان کے ساتھ جنگ کی ابتدا حنین میں ہوئی جو شوال کے مہینے میں ہوئی تھی۔ یہ سب اس جنگ کے بارے میں ہے جس میں مدافعت مقصود نہ ہو۔ جہاں تک دفاعی جنگ کا معاملہ ہے جبکہ وہ کفار کی طرف سے شروع کی گئی ہو تو مسلمانوں کو اپنے دفاع میں حرمت والے مہینوں میں بھی جنگ لڑنا جائز ہے اور اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے۔ ﴿وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ ﴾ ” اور نہ قربانی کے جانوروں کی“ یعنی تم اس ﴿ الْهَدْيَ ﴾ ” قربانی“ کو جو حج یا عمرہ یا دیگر ایام میں بیت اللہ کو بھیجی جا رہی ہو، حلال نہ ٹھہرا لو۔ اس کو قربان گاہ تک پہنچنے سے مت روکو، نہ اسے چوری وغیرہ کے ذریعے سے حاصل کرنے کی کوشش کرو، نہ اس کے بارے میں کوتاہی کرو اور نہ اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ لادو۔ مباداکہ وہ قربان گاہ تک پہنچنے سے پہلے ہی تلف ہوجائے بلکہ اس ہدی کی اور اس کو لانے والے کی تعظیم کرو۔ ﴿وَلَا الْقَلَائِدَ﴾” اور نہ ان جانوروں کی (جو اللہ کی راہ میں نذر کر دئیے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں۔“ یہ ہدی کی ایک خاص قسم ہے یہ ہدی کا وہ جانور ہے جس کے لئے قلادے غیرہ تیار کر کے صرف اس لئے اس کی گردن میں ڈالے گئے ہوں تاکہ اس سے ظاہر ہو کہ یہ اللہ کے شعائر ہیں نیز اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں اور اس سے سنت کی تعلیم بھی مقصود ہے۔ تاکہ لوگ پہچان لیں کہ یہ ہدی کا جانور ہے لہٰذا حرمت کا حامل ہے۔ بنا بریں ہدی کو علامت کے طور پر قلادے وغیرہ پہنانا سنت ہے اور شعائر مسنونہ میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ﴿وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ ﴾ ” اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت اللہ) کو جا رہے ہوں۔“ یعنی جو بیت اللہ کا قصد رکھتے ہیں ﴿يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّن رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا ﴾ ” اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں“ یعنی جو بیت اللہ پہنچنے کا قصد رکھتا ہے اور وہ تجارت اور جائز ذرائع اکتساب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کا ارادہ لئے ہوئے ہے یا وہ حج، عمرہ، طواف، بیت اللہ، نماز اور مختلف انواع کی دیگر عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ارادہ رکھتا ہے، اس کے ساتھ برائی سے پیش آؤ نہ اس کی اہانت کرو، بلکہ اس کی تکریم کرو اور تمہارے رب کے گھر کی زیارت کے لئے جانے والوں کی تعظیم کرو۔ اس حکم میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ بیت اللہ کی طرف جانے والے تمام راستوں کو پرامن بنایا جائے تاکہ بیت اللہ کو جانے والے بڑے اطمینان سے اللہ کے گھر کو جا سکیں، انہیں راستے میں قتل و غارت اور اپنے اموال کے بارے میں کسی چوری ڈاکے اور کسی ظلم کا خوف نہ ہو۔ اس آیت کریمہ کے عموم کو اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد خاص کرتا ہے : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا ﴾(التوبة:9؍28)” اے ایمان لانے والے لوگو ! مشرک تو ناپاک ہیں وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں۔“ لہٰذا مشرک حرم میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اس آیت کریمہ میں بیت اللہ کی طرف جانے والے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رضا کا قصد رکھنے والے سے تعرض کرنے کی ممانعت کی تخصیص اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اس نیت سے بیت اللہ کا قصد کرتا ہے کہ گناہوں کے ذریعے سے اس کی ہتک حرمت کا ارتکاب کرے، اس کو اللہ تعالیٰ کے گھر میں فساد پھیلانے سے روکا جائے کیونکہ اسے اس فعل سے روکنا حرم کے احترام کی تکمیل ہے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيم﴾ٍ(الحج:22؍25)” اور جو کوئی اس میں ظلم سے کج روی کرنا چاہے ہم اسے درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ “ چونکہ اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کیا ہے، اس لئے فرمایا :﴿وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا ﴾ ” اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو۔“ یعنی جب تم حج اور عمرہ کے احرام کھول دو تو تمہارے لئے شکار کرنا جائز ہے اور اب اس کی تحریم ختم ہوگئی ہے۔ تحریر کے بعد کا حکم محرمہ اشیاء کو ان کی اس حالت کی طرف لوٹا دیتا ہے جو تحریم کے حکم سے پہلے تھی۔ ﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَن صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَن تَعْتَدُواۘ ﴾” اور لوگوں کی دشمنی، اس وجہ سے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا، تمہیں زیادتی کرنے پر آمادہ نہ کرے۔“ یعنی کسی قوم کا بغض، عداوت اور تم پر ان کا ظلم و تعدی کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام تک جانے سے روکا تھا تمہیں ان پر ظلم و تعدی کرنے پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان سے بدلہ لے کر اپنے غصے کو ٹھنڈا کرو، کیونکہ بندے پر ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا التزام کرنا اور عدل و انصاف کا راستہ اختیار کرنا فرض ہے۔ خواہ اس کے خلاف جرم، ظلم یا زیادتی کا ارتکاب ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔ جس نے اس پر جھوٹا الزام لگایا، اس پر جھوٹا الزام لگانا اور جس نے اس کے ساتھ خیانت کی، اس کے ساتھ خیانت کرنا کسی حالت میں جائز نہیں۔ ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ﴾ ” نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔“ یعنی تم نیکیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔ یہاں ﴿ الْبِرِّ ﴾ ” نیکی“ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ضمن میں ان تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور وہ ان پر راضی ہے۔ اس مقام پر تقویٰ ان تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو ترک کرنے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہیں بھلائی کی ہر خصلت جس کے فعل کا حکم یا برائی کی ہر خصلت جسے ترک کرنے کا حکم ہے بندہ خود بھی اس کے فعل پر مامور ہے اور اسے اپنے مومن بھائیوں کے ساتھ، اپنے قول و فعل کے ذریعے سے جو ان کو اس بھلائی پر آمادہ کرے یا اس میں نشاط پیدا کرے، تعاون کرنے کا حکم ہے۔ ﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ ﴾ ” اور گناہ پر ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو“ اور یہ ان گناہوں پر جسارت ہے جن کے ارتکاب سے انسان گناہگار اور ناقابل اعتبار ہوجاتا ہے ﴿وَالْعُدْوَانِ﴾ ” اور نہ زیادتی پر“ یہ مخلوق کے ساتھ ان کی جان و مال اور ان کی عزت و ناموس کے بارے میں ظلم اور زیادتی ہے۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ ہر گناہ اور ظلم و تعدی سے اپنے آپ کو بھی روکے اور دوسروں کے ساتھ بھی اس ظلم و تعدی کو ترک کرنے پر تعاون کرے۔ ﴿وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾ ” اور اللہ سے ڈرتے رہو، کچھ شک نہیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو سزا دے گا جو اس کی نافرمانی کرے گا اور محارم کے ارتکاب کی جسارت کرے گا۔ پس ہتک محارم سے بچو مبادا (ایسا نہ ہو) کہ تم اس کی دنیاوی یا آخروی سزا کے مستحق بن جاؤ۔ المآئدہ
3 یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ارشاد : جس کا اس نے اس آیت کریمہ ﴿إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ﴾ (المائدہ :1؍5) میں حوالہ دیا ہے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام ٹھہرائی ہے وہ اپنے بندوں کی حفاظت اور ان کو اس ضرر سے بچانے کے لئے حرام قرار دی ہے جو ان محرمات میں ہوتا ہے۔ کبھی تو اللہ تعالیٰ پر یہ ضرر اپنے بندوں کے سامنے بیان کردیتا ہے اور کبھی (اپنی حکمت کے تحت) اس ضرر کو بیان نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ” مردار“ کو حرار قرار دیا ہے۔ مردار سے مراد وہ مرا ہوا جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح ہوئے بغیر زندگی سے محروم ہوگیا ہو، پس اس جانور کا گوشت ضرر رساں ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور وہ ضرر ہے اس کے اند رگوشت میں خون کا رک جانا، جس کے کھانے سے نقصان پہنچتا ہے اور اکثر جانور، جو کسی بیماری کی وجہ سے جو ان کی ہلاکت کا باعث ہوتی ہے، مر جاتے ہیں، وہ کھانے والے کے لئے نقصان کا باعث ہیں۔ البتہ مری ہوئی ٹڈی اور مچھلی اس حکم سے مستثنیٰ ہے، کیونکہ ان کا کھانا حلال ہے۔ [یہ استثناء حدیث سے ثابت ہے،(سنن ابن ماجہ حدیث :3218) اسی لئے صحیح ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ حدیث کے ساتھ ہی قرآن کی تفہیم اور اس کے احکامات کی تعمیل کی تکمیل ہوتی ہے۔ (ص۔ی) ] ﴿وَالدَّمُ ﴾ ” اور خون‘‘ یعنی بہتا ہوا خون، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اس کو اس صفت سے مقید بیان کیا گیا ہے۔ ﴿وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ ﴾” اور سور کا گوشت“ اس حرمت میں اس کے تمام اجزا شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام ناپاک درندوں میں سے خنزیر کو خاص طور پر منصوص کیا ہے کیونکہ اہل کتاب میں سے نصاریٰ دعویٰ کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے خنزیر کو حلال قرار دیا ہے۔۔۔ یعنی نصاریٰ سے دھوکہ نہ کھانا، کیونکہ یہ خنزیر بھی حرام اور من جملہ خبائث کے ہے۔ ﴿وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّـهِ بِهِ ﴾ ” اور وہ جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے“ یعنی اس پر بتوں، اولیاء، کواکب اور دیگر مخلوق کا نام لیا گیا ہو۔ جس طرح ذبیحہ پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا، اسے پاک کردیتا ہے اسی طرح غیر اللہ کا نام، ذبیحہ کو معنوی طور پر ناپاک کردیتا ہے۔ کیونکہ یہ شرک ہے ﴿وَالْمُنْخَنِقَةُ ﴾ ” اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے۔‘‘ یہ وہ مرا ہوا جانور ہے جس کو ہاتھ سے، رسی سے یا کسی تنگ چیز میں اس کا سرداخل کر کے جہاں سے نکلنا ممکن نہ ہو اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کردیا گیا ہو ﴿وَالْمَوْقُوذَةُ ﴾ ” اور جو چوٹ لگ کر مر جائے۔“ اس مرے ہوئے جانور کہا جاتا ہے جو لاٹھی، پتھر یا لکڑی وغیرہ کی ضرب سے مرا ہو یا اس پر قصداً یا بغیر قصد کے دیوار وغیرہ گرگئی ہو ﴿ وَالْمُتَرَدِّيَةُ ﴾ ”اور جو گر کر مر جائے۔“ یعنی جو بلند جگہ مثلاً پہاڑ، دیوار یا چھت وغیرہ سے گر کر مر گیا ہو ﴿وَالنَّطِيحَةُ ﴾اس مرے ہوئے جانور کو کہتے ہیں جسے کسی دوسرے جانور نے سینگ مار کر ہلاک کردیا ہو﴿وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ ﴾ جسے بھیڑیئے، شیر، چیتے یا کسی شکاری پرندے وغیرہ نے پھاڑ کھایا ہو۔ اگر درندے کے پھاڑ کھانے سے جانور مر جائے تو یہ حلال نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ ﴾ ” مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو۔“ گلا گھٹ کر مرنے والے، چوٹ لگ کر مرنے والے، بلندی سے گر کر مرنے والے اور درندے کے پھاڑ کھانے سے مرنے والے جانور کی طرف راجع ہے۔ اگر اس جانور میں پوری طرح زندگی موجود ہو اور اسے ذبح کرلیا جائے تو یہ جانور شرعی طور پر مذبوح ہے۔ بنابریں فقہاء کہتے ہیں ” اگر کسی درندے وغیرہ نے کسی جانور کو چیر پھاڑ کر اس کی آنتیں اور دیگر اندرونی اعضا کو باہر نکال کر علیحدہ علیحدہ کردیا ہو یا اس کا حلقوم کاٹ دیا ہو تو اس میں زندگی کا وجود اور عدم وجود مساوی ہیں، کیونکہ اب اس کو ذبح کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔“ بعض فقہاء اس میں صرف زندگی کے وجود کا اعتبار کرتے ہیں۔ اگر اس جانور میں بھی زندگی کا وجود ہو اور اس حالت میں اس کو ذبح کرلیا جائے تو وہ حلال ہے خواہ اس کا اندرونی حصہ بکھیر ہی کیوں نہ دیا گیا ہو۔ آیت کریمہ کا ظاہر اسی پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَأَن تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ﴾” اور یہ کہ پانسوں کے ذریعے سے قسمت معلوم کرو۔“ یعنی تمہیں تیروں کے ذریعے سے قسمت کا حال معلوم کرنے سے منع کردیا گیا۔ (استقسام) کے معنی یہ ہیں کہ جو تمہارے مقسوم اور مقدر میں ہے اسے طلب کرنا۔ جاہلیت کے زمانے میں تین تیر ہوتے تھے جن کو اس کام کے لئے استعمال کیا جاتا تھا جن میں سے ایک پر لکھا ہوتا تھا کہ ” یہ کام کر“ دوسرے پر لکھا ہوتا تھا ” یہ کام نہ کر“ اور تیسرا تیر خالی ہوتا تھا۔ جب کوئی شخص کسی سفر پر روانہ ہونے لگتا یا شادی وغیرہ کرتا تو تینوں تیر کسی ڈوگنی وغیرہ میں رکھ کر گھماتے پھر ان میں سے ایک تیر نکال لیتے اگر اس پر لکھا ہوتا ’’یہ کام کر‘‘ تو وہ یہ کام کرلیتا اور اگر لکھا ہوتا ” یہ کام نہ کر“ تو وہ اس کام میں ہاتھ نہ ڈالتا۔ اگر وہ تیر نکل آتا جس پر کچھ بھی نہ لکھا ہوتا تو وہ اس عمل کا اعادہ کرتا یہاں تک کہ لکھا ہوا تیر نکل آتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اس عمل کو اس صورت میں یا اس سے مشابہ صورت میں حرام قرار دے دیا اور اس کے عوض ان کو تمام امور میں اپنے رب سے استخارہ کرنے کا حکم دیا (جیسا کہ حدیث نبوی سے استخارے کی تاکید ہے۔ جامع الترمذی، حدیث :480) ﴿ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ﴾ ” یہ سب گناہ (کے کام) ہیں۔“ یہ ان تمام محرمات کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لئے حرام قرار دیا ہے۔ یہ تمام محرمات فسق ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل کر شیطان کی اطاعت میں داخل ہونا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر احسان جتلاتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُمْ﴾ وہ دن جس کی طرف آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے وہ عرفہ کا دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو مکمل فرمایا : اپنے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی اور اہل شرک پوری طرح بے یار و مددگار ہوگئے حالانکہ وہ اس سے پہلے اہل ایمان کو ان کے دین سے پھیرنے کی بہت خواہش رکھتے تھے۔ جب انہوں نے اسلام کا غلبہ، اس کی فتح اور بالا دستی دیکھی تو اہل ایمان کو دین سے پھیرنے سے پوری طرح مایوس ہوگئے اور اب ان کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ وہ اہل ایمان سے خوف کھانے لگے۔ بنا بریں، اس سال یعنی 10 ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج کیا تو اس حج میں کسی مشرک نے حج نہیں کیا اور نہ کسی نے عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا۔ اس لئے فرمایا : ﴿فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ﴾ ” تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو۔“ یعنی مشرکین سے نہ ڈرو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس نے مشرکین کے مقابلے میں تمہاری مدد فرمائی اور ان کو تنہا چھوڑ دیا اور ان کے مکر و فریب اور ان کی سازشیں ان کے سینوں ہی میں لوٹا دیں۔ ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ﴾ ” آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا‘‘ یعنی اپنی نصرت کا اتمام کر کے اور ظاہری و باطنی طور پر اور اصول و فروع میں شریعت کی تکمیل فرما کر۔ اسی لئے احکام دین یعنی اس کے تمام اصول و فروع میں کتاب و سنت کافی ہیں۔ اگر تکلیف کا شکار کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لوگ عقائد اور احکام دین کی معرفت کے لئے کتاب و سنت کے علم کے علاوہ دیگر علوم مثلاً علم کلام وغیرہ کے محتاج ہیں، تو وہ جاہل اور اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے گویا وہ اس زعم میں مبتلا ہے کہ دین کی تکمیل اس کے اقوال اور ان نظریات کے ذریعے سے ہوئی ہے جس کی طرف وہ دعوت دیتا ہے اور یہ سب سے بڑا ظلم اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جاہل قرار دینا ہے۔ ﴿وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي ﴾ ” اور میں نے تم پر اپنی (ظاہری اور باطنی) نعمت پوری کردی“ ﴿وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ﴾” اور میں نے تمہارے لئے اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا۔“ یعنی میں نے اسلام کو تمہارے لئے دین کے طور پر اور تمہیں اسلام کے لئے چن لیا ہے۔ اب اپنے رب کی شکر گزاری کے لئے اس دین کو قائم کرو اور اس ہستی کی حمد و ستائش کرو جس نے تمہیں بہترین، عالی شان اور کامل ترین دین سے نواز کر تم پر احسان فرمایا۔ ﴿فَمَنِ اضْطُرَّ ﴾” پس جو شخص ناچار ہوجائے۔“ یعنی جسے ضرورت ان محرمات میں سے کچھ کھانے پر مجبور کر دے جن کا ذکر﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ ﴾کے تحت گزر چکا ہے ﴿فِي مَخْمَصَةٍ﴾ ” بھوک کی وجہ سے“ یعنی اگر وہ سخت بھوکا ہو ﴿غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ﴾ ” گناہ کی طرف مائل نہ ہو۔“ بایں طور کہ وہ ان محرمات کو اس وقت تک نہ کھائے جب تک کہ وہ اضطراری حالت میں نہ ہو اور ضرورت سے بڑھ کر نہ کھائے ﴿فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے کہ اس نے بندے کے لئے اس اضطراری حال میں محرمات کو کھانا جائز قرار دے دیا اور اس کی نیت کے مطابق اور دین میں کوئی نقص لاحق کئے بغیر اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرمایا۔ المآئدہ
4 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے :﴿ يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ ﴾ ” آپ سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لئے حلال ہیں۔“ یعنی ان کے لئے کون کون سے کھانے حلال ہیں۔ ﴿قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ﴾” کہہ دیجیے ! تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئی ہیں“ (طبیات) سے مراد ہر وہ چیز ہے جس میں کوئی فائدہ ہے اور بدن اور عقل میں نقصان پہنچے بغیر ان سے لذت حاصل ہوتی ہے۔ پس طیبات میں وہ تمام غلہ جات اور پھل وغیرہ شامل ہیں جو بستیوں اور صحراؤں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کے مضمون میں وہ تمام حیوانات بھی شامل ہیں جو خشک زمین پر پائے جاتے ہیں سوائے ان حیوانات کے جن کو شارع نے مستثنی قرار دیا ہے۔ مثلاً درندے، ناپاک جانور اور ناپاک اشیاء وغیرہ۔ اسی لئے یہ آیت کریمہ اپنے مفہوم میں ناپاک چیزوں کی تحریم پر دلالت کرتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں صراحت کے ساتھ اس تحریم کو بیان کیا گیا ہے۔ ﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾ (الاعراف :7؍157) ” وہ پاک چیزوں کو انکے لئے حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو ان کے لئے حرام ٹھہراتا ہے۔ “ ﴿وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ الْجَوَارِحِ ﴾ ” اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو۔‘‘ یعنی جو تم شکاری جانوروں کو شکار کرنا سکھاتے ہو وہ شکار بھی تمہارے لئے حلال ہے۔ یہ آیت کریمہ شکار کے متعلق متعدد امور پر دلالت کرتی ہے۔ (١) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے ان کے لئے رزق حلال کی راہیں کشادہ کردی ہیں اور ان کے لئے شکاری جانوروں کے شکار کئے ہوئے اس شکار کو حلال کردیا جس کو ذبح نہیں کرسکتے۔۔۔ شکاری جانور سے مراد کتے، چیتے اور باز وغیرہ ہیں، جو اپنے دانتوں سے یا پنجے سے شکار کو پکڑتے ہیں۔ (٢) شکاری جانور کے لئے شرط یہ ہے کہ اس کو شکار کے لئے سکھایا گیا ہو۔ ایسا سکھانا جس کو عرف عام میں سکھانا کہتے ہیں، یعنی اگر اسے شکار پر چھوڑا جائے تو وہ شکار پر جھپٹے اور اگر اس کو روک دیا جائے تو فوراً رک جائے اور جب شکار کو پکڑ لے تو اس کو نہ کھائے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۖ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ ﴾ ”اور جس (طریق) سے اللہ نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے (اس طریق سے) تم نے ان کو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو کھالیا کرو۔“ یعنی وہ شکار کو تمہارے لئے روک رکھیں اور جس شکار میں سے شکاری جانور نے کچھ کھالیا ہو تو اس کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ آیا اس نے شکار کو اپنے مالک کے لئے پکڑا ہے اور شاید یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے شکار خود اپنے لئے پکڑا ہو۔ (٣) شکاری جانور کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ کتا ہو یا باز وغیرہ، شکار کو زخمی کرتا ہو (اس کا گلا نہ گھونٹتا ہو) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد﴿مِّنَ الْجَوَارِحِ ﴾سے واضح ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گلا گھٹ کر مر جانے والے جانور کی حرمت گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ اگر کتے وغیرہ نے شکار کا گلا گھونٹ دیا ہو یا اس اپنے بوجھ تلے دبا کر اسے ہلاک کردیا ہو تو اس کا کھانا جائز نہیں یہ اس اصول پر مبنی ہے کہ شکاری جانور وہ ہیں جو شکار کو اپنے دانتوں یا پنجوں سے زخمی کرتے ہیں۔ (جوارح) ” شکاری جانور‘‘ کے بارے میں مشہور یہ کہ اس سے مراد شکار کو حاصل کرلینے اور اس کو پا لینے والا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس معنی پر دلالت نہیں کرتی۔ واللہ اعلم۔ (اس لئے ” جوارح“ کا وہی مفہوم صحیح ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے کی جا چکی ہے) (٤) شکار کے لئے کتا پالنا جائز ہے جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے۔ [صحيح بخاري، كتاب الحرث والمزارعة، باب اقتناء الكلب للحرث، حديث: 2322] اس کے ساتھ ساتھ عام کتا پالنا حرام ہے۔ کیونکہ کتے کے شکار اور اس کو شکار کے لئے سکھانے کے جواز سے لازم آتا ہے کہ اس کو پالنا بھی جائز ہے۔ (٥) شکار کو اگر کتے کے منہ سے نکلا ہوا لعاب وغیرہ لگ جائے تو وہ پاک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کتے کے مارے ہوئے شکار کو مباح قرار دیا ہے اور شکار کو دھونے کا حکم نہیں ہے۔ یہ چیز شکار کو لگے ہوئے کتے کے لعاب کی طہارت پر دلالت کرتی ہے۔ (٦) اس میں علم کی فضیلت کی دلیل ہے، کیونکہ سدھائے ہوئے شکار يا جانور کا مارا یا پکڑا ہوا شکار علم ہی کی وجہ سے، مباح ہوتا ہے۔ اگر اسے تعلیم نہ دی گئی ہو تو اس کا مارا ہوا شکار جائز نہیں ہوتا۔ (٧) شکاری کتے اور شکاری پرندے وغیرہ کو سکھانے میں مشغول ہونا مذموم، عبث اور باطل نہیں ہے، بلکہ یہ تو امر مقصود ہے، کیونکہ شکاری جانور کو سکھانا اس کے مارے ہوئے شکار کی حلت اور اس سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ ہے۔ (٨) اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لئے دلیل ہے جو کتے کی فروخت کو جائز قرار دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ خریدے بغیر کتے کا حصول ممکن نہیں۔ (٩) شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے وقت تکبیر پڑھنا شرط ہے۔ اگر شکاری جانور کو شکار پر چھوڑ تے وقت عمداً تکبیر نہ پڑھی گئی ہو تو اس کا مارا ہوا شکار جائز نہیں۔ (١٠) شکاری جانور کے مارے ہوئے شکار کو کھانا جائز ہے خواہ شکار مر گیا ہو یا زندہ ہو۔ اگر مالک شکار کو اس حالت میں پا لے کہ ابھی وہ زندہ ہو تو ذبح کئے بغیر اس کا کھانا جائز نہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو تقویٰ اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے اور قیامت کے روز حساب سے ڈرایا ہے اور یہ ایسا معاملہ ہے کہ بہت قریب آن لگا ہے۔ اس لئے فرمایا : ﴿وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ﴾ ” اللہ تعالیٰ سے ڈرو بے شک وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ “ المآئدہ
5 اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے طیبات کی حلت کو مکرر بیان فرمایا۔ اس میں بندوں کو اس کا شکر ادا کرنے اور کثرت سے ذکر کرنے کی ترغیب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ان چیزوں کو مباح فرمایا جن کے وہ سخت محتاج تھے اور وہ ان طیبات سے فائدے حاصل کرتے ہیں۔ ﴿وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ ﴾” اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے۔“ یعنی اے مسلمانو ! تمہارے لئے یہودیوں اور عیسائیوں کے ذبیحے حلال ہیں اور باقی کفار کے ذبیحے حلال نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام اہل کتاب انبیائے کرام اور کتابوں سے منسوب ہیں اور تمام انبیائے کرام غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کی تحریم پر مفق ہیں، کیونکہ یہ شرک ہے۔ پس یہود و نصاریٰ بھی غیر اللہ کے نام پر ذبیحہ کی حرمت کے قائل ہیں، اس لئے دیگر کفار کو چھوڑ کر یہود و نصاریٰ کا ذبیحہ حلال قرار دیا گیا ہے اور یہاں ان کے طعام سے مراد ان کا ذبیحہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ طعام جو ذبیحہ کے زمرے میں نہیں آتا مثلاً غلہ اور پھل وغیرہ تو اس میں اہل کتاب کی کوئی خصوصیت نہیں۔ غلہ اور پھل تو حلال ہیں، اگرچہ وہ اہل کتاب کے علاوہ کسی اور کا طعام ہوں۔ نیز طعام کو ان کی طرف مضاف کیا گیا ہے جو اس امر کی دلیل ہے کہ وہ ان کا ذبیحہ ہونے کے سبب سے ” ان کا کھانا“ ہے۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ اضافت تملیک کے لئے ہے اور یہ کہ اس سے مراد وہ کھانا ہے، جس کے وہ مالک ہیں، کیونکہ غصب کے پہلو سے یہ بھی حلال نہیں خواہ مسلمانوں ہی کا ہو۔ ﴿وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ ﴾ ” اور تمہارا کھانا ان کو حلال ہے۔“ اے مسلمانو ! اگر تم اپنا کھانا اہل کتاب کو کھلاؤ تو یہ ان کے لئے حلال ہے۔ ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ ﴾ ” اور آزاد اور عفت مآب مومن عورتیں (تمہارے لئے حلال ہیں) “ ﴿ِوَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ ﴾” اور آزاد پاک دامن اہل کتاب کی عورتیں۔“ یعنی یہود و نصاریٰ کی آزاد عفت مآب عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تخصیص کرتی ہے ﴿وَ لَا تَنْکِحُوا المُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ﴾ (البقرہ :2؍221) ” اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ “ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ مومن لونڈیوں کا آزاد مردوں کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ لیکن اہل کتاب لونڈیوں کا نکاح، آزاد مومن مردوں کے ساتھ مطلقاً حرام ہے اور اس کی دلیل اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ﴿مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ﴾ (النساء :4؍ 25) ” یعنی ان لونڈیوں سے نکاح کرلو جو مومن ہیں۔“ اگر مسلمان عورتیں لونڈیاں ہوں، تو آزاد مردوں کے ساتھ ان کے نکاح کے لئے دو شرائط ہیں۔ (١) مرد آزاد عورت کے ساتھ نکاح کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔ (٢) عدم نکاح کی صورت میں اسے حرام میں پڑنے کا خدشہ ہو۔ رہی فاجر عورتیں، جو زنا سے نہیں بچتیں، ان کے ساتھ نکاح جائز نہیں خواہ وہ مسلمان ہوں یا اہل کتاب سے تعلق رکھتی ہوں جب تک کہ وہ حرام کاری سے تائب نہ ہوجائیں۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ﴿ الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً ﴾(النور :24؍ 3) ” زانی مرد نکاح نہیں کرتا مگر زانی عورت یا مشرک عورت کے ساتھ ہی۔ “ ﴿إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ﴾” جب کہ ان کا مہر دے دو۔“ یعنی جب تم ان کے مہر ادا کر دو تو ہم نے ان کے ساتھ تمہارا نکاح جائز قرار دے دیا ہے اور جس کا یہ ارادہ ہو کہ وہ مہر ادا نہیں کرے گا تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں ہے۔ اگر عورت سمجھ دار ہے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ خود اسے مہر ادا کیا جائے ورنہ شوہر اس کے سرپرست کو مہر ادا کرے۔ حق مہر کی عورتوں کی طرف اضافت دلالت کرتی ہے کہ عورت اپنے تمام حق مہر کی خود مالک ہوتی ہے اس میں کسی کا کوئی حصہ نہیں۔ سوائے اس کے کہ عورت خود اپنے شوہر کو یا اپنے ولی (سرپرست) وغیرہ کو یہ مہر عطا کر دے۔ ﴿مُحْصِنِينَ ﴾ ” اور عفت قائم رکھنی مقصود ہو۔“ یعنی اے شوہرو ! اس حال میں کہ تم اپنی بیویوں کی عفت کی حفاظت کر کے ان کو پاک باز رکھو ﴿غَيْرَ مُسَافِحِينَ﴾ ” نہ کہ اس حال میں کہ تم ہر ایک کے ساتھ زنا کرتے پھرو“ ﴿وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ﴾اور نہ اس حالت میں کہ تم اپنی معشوقاؤں کے ساتھ بدکاری کرو (اخدان) سے مراد ہے معشوقاؤں کے ساتھ زنا کرنا۔ زمانہ جاہلیت میں زنا کاروں کی دو اقسام تھیں۔ (١) کسی بھی عورت کے ساتھ زنا کرنے والے کو(مُسَافِحِينَ) کہا جاتا ہے۔ (٢) صرف اپنی محبوبہ کے ساتھ زنا کرنے والے (أَخْدَان) ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ یہ دونوں صورتیں پاک دامنی کے منافی ہیں اور یہ کہ نکاح کی شرط ہے کہ مرد زنا کاری سے دامن بچانے والا ہو۔ ﴿وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ﴾ ” اور جو منکر ہوا ایمان سے، تو ضائع ہوگئے عمل اس کے“ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور ان چیزوں کے ساتھ کفر کرتا ہے جن پر ایمان لانا فرض ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کی کتابیں اور اس کے انبیاء و رسل اور شریعت کے بعض امور۔۔۔ اور وہ اسی کفر کی حالت میں مر جاتا ہے تو اس کے تمام اعمال اکارت چلے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ﴾(البقرۃ:2؍217) ” اور تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر کر کافر ہوجائے اور وہ کفر کی حالت میں مر جائے تو دنیا اور آخرت میں اس کے تمام اعمال اکارت جائیں گے۔“ ﴿وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ ” اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔“ یعنی ان کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جو قیامت کے روز، اپنی جان، مال اور اپنے اہل و عیال کے بارے میں سخت خسارے میں ہوں گے اور ابدی بدبختی ان کا نصیب بنے گی۔ المآئدہ
6 یہ آیت عظیمہ بہت سے احکام پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق سے ان کو بیان کرنے کی جتنی آسانی عطا فرمائی ہم ان کو بیان کریں گے۔ (١) جو کچھ اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے ان پر عمل کرنا لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم اس طرح صادر ہوتا ہے ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا۔۔۔﴾یعنی اے ایمان والے لوگو ! اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق ان امور پر عمل کرو جو ہم نے تمہارے لئے مشروع کئے ہیں۔ (٢) اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ﴾” جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو۔“ سے نماز کو قائم کرنے کا حکم ثابت ہوتا ہے۔ (٣) اس میں نماز کے لئے نیت کے حکم کا اثبات ہے فرمایا : ﴿إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ﴾ یعنی جب تم نماز کی نیت اور ارادے سے اٹھو۔ (٤) نماز کی صحت کے لئے طہارت شرط ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز کے لئے اٹھتے وقت طہارت کا حکم دیا ہے اور اصولی طور پر حکم (امر) وجوب کے لئے ہوتا ہے۔ (٥) طہارت نماز کا قوت داخل ہونے پر واجب نہیں ہوتی، بلکہ یہ تو صرف اس وقت واجب ہوتی ہے جب نماز پڑھنے کا ارادہ کیا جائے۔ (٦) ہر وہ نماز جس پر (الصلوۃ) کا اطلاق کیا جائے، مثلاً فرض، نفل، فرض کفایہ اور نماز جنازہ غیرہ ہر قسم کی نماز کے لئے طہارت فرض ہے حتیٰ کہ بہت سے اہل علم کے نزدیک مجرد سجدہ، مثلاً سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر کے لئے بھی طہارت ضروری ہے۔ (٧) اس میں چہرے کے دھونے کا حکم ہے اور چہرے میں چہرے کا صرف سامنے کا حصہ شامل ہے یعنی سر کے بالوں کی حدود سے لے کر طول میں جبڑوں کے نیچے اور ٹھوڑی تک اور عرض میں ایک کان سے دوسرے کان تک، نیز کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چہرے کے دھونے میں شامل ہے اور یہ سنت ہے۔ چہرے پہ اگے ہوئے بال بھی چہرے میں داخل ہیں۔ اگر یہ زیادہ گھنے نہیں تو تمام جلد تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔ اگر داڑھی گھنی ہو تو اوپر سے دھونا کافی ہے۔ [داڑھی کے بالوں میں خلال کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے، (ترمذی، الطھارۃ، باب ماجاء فی تخلیل اللحیۃ، حدیث :31) اس لئے گھنی داڑھی میں بالخصو ص خلال بھی کیا جائے۔ (ص۔ ی) ] (٨) اس میں ہاتھوں کو دھونے کا حکم ہے اور ہاتھوں کی حد کہنیوں تک ہے۔ جمہور مفسرین کے مطابق (اِلٰی) (مع) کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ﴾ (النساء :4؍2) ” ان کے مال اپنے مالوں کے ساتھ (ملا کر) نہ کھاؤ“، نیز ہاتھ دھونے کا وجوب اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ کہنیوں کو پوری طرح نہ دھویا جائے۔ (٩) سر پر مسح کرنے کا حکم ہے۔ (١٠) پورے سر کا مسح کرنا فرض ہے۔ کیونکہ (با) تَبْعِيْض کے لئے نہیں، بلکہ اِلصَاق کے لئے ہے اور یہ تمام تر سر کے مسح کو شامل ہے۔ (١١) سرکا مسح دونوں ہاتھوں سے کیا جائے یا ایک ہاتھ سے، کسی کپڑے سے کیا جائے یا لکڑی وغیرہ سے، جیسے بھی کیا جائے کفایت کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسح کا علی الاطلاق حکم دیا ہے کسی وصف سے مقید نہیں کیا۔ پس یہ چیز مسح کے اطلاق پر دلالت کرتی ہے۔ (١٢) وضو میں سر پر مسح کرنا فرض ہے۔ اگر ہاتھوں کے ساتھ سر پر مسح کرنے کی بجائے سر کو دھو لیا جائے، تو یہ کفایت نہیں کرے گا کیونکہ اس نے وہ کام نہیں کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ (١٣) (وضو میں) دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونے کا حکم دیا گیا ہے، اس کا حکم بھی وہی ہے جو ہاتھوں کے بارے میں ہے۔ (١٤) اس میں نَصْب (زبر) کے ساتھ جمہور کی قراءت کے مطابق، روافض کارد ہے اور جب تک پاؤں ننگے ہیں، ان پر مسح کرناجائز نہیں۔ (١٥) ” وَاَرْجُلِكُم “ میں جر (زیر) کے ساتھ قراءت کے مطابق موزوں پر مسح کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں قراءتوں کو اپنے اپنے معنی پر محمول کیا جائے گا۔ اگر پاؤں میں موزے نہ پہنے ہوں تو نَصْب کے ساتھ قراءت کے مطابق پاؤں دھوئے جائیں اور اگر پاؤں میں موزے پہنے ہوئے ہیں تو جر کے ساتھ قراءت کے مطابق پاؤں پر مسح کیا جائے گا۔ (١٦) وضو کے اندر اعضا کو ترتیب کے ساتھ دھونے کا حکم ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ترتیب کے ساتھ ذکر فرمایا ہے نیز جب دو دھوئے جانے والے اعضا کے درمیان مسح والے عضو کا ذکر کیا جائے تو اس کا ترتیب کے سوا کوئی اور فائدہ نہیں۔ (١٧) ترتیب صرف ان چار اعضا کے ساتھ مخصوص ہے جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ رہا کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے، منہ دھونے، دایاں بازو اور بایاں بازو، دایاں پاؤں اور بایاں پاؤں دھونے میں ترتیب کا اعتبار تو یہ واجب نہیں۔ البتہ منہ دھونے سے پہلے کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا مستحب ہے۔ دایاں ہاتھ پہلے دھونا مستحب ہے۔ اسی طرح دایاں پاؤں پہلے دھونا مستحب ہے۔ کانوں کے مسح سے پہلے سرکا مسح کرنا مستحب ہے۔ (١٨) ہر نماز کے وقت تجدید وضو کا حکم ہے تاکہ مامور بہ پر عمل کیا جا سکے۔ [یہ بہتر صورت ہے، ورنہ ایک وضو سے متعدد نمازیں پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ وضو برقرار ہو۔ فتح کے مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں اور فرمایا کہ یہ میں نے عمداً کیا ہے (تاکہ لوگوں کو اس کا جواز معلوم ہوجائے) (صحیح مسلم، الطھارۃ، باب جواز الصلوات کلھا بوضو، واحد، حدیث :277) (ص۔ ی) ] (١٩) جنابت کی حالت میں غسل کا حکم دیا گیا ہے۔ (٢٠) غسل جنابت میں تمام بدن کا دھونا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے طہارت حاصل کرنے کو بدن کے کسی ایک حصے کے ساتھ مخصوص کرنے کی بجائے تمام بدن کی طرف مضاف کیا ہے۔ (٢١) جنابت کی حالت میں بالوں کو اندر اور باہر سے دھونے کا حکم ہے۔ (٢٢) طہارت کے حصول کے وقت حدث اصغر حدث اکبر کے اندر شامل ہوتا ہے۔ حدث اکبر سے طہارت کے حصول کے لئے غسل کرنے سے حدث اصغر سے بھی طہارت حاصل ہوجاتی ہے اس کے لئے اس کی نیت کرلینا کافی ہے۔ پھر وہ تمام بدن پر پانی بہائے، کیونکہ اللہ نے صرف پاکیزگی حاصل کرنے کا ذکر کیا ہے اور وضو لوٹانے کا ذکر نہیں فرمایا۔ [لیکن یہ بات اس وقت صحیح ہوگی جب سنت کے مطابق غسل جنابت کیا جائے اور وہ مسنون طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ہاتھ دھوئے جائیں، پھر شرم گاہ کو بائیں ہاتھ سے دھوکر اس ہاتھ کو مٹی یا صابن وغیرہ سے دھویا جائے، پھر وضو کیا جائے اور سر پر مسح کرنے کے بجائے تین بار سر پر پانی ڈالا جائے، پھر سارے بدن پر پانی ڈال کر غسل کیا جائے، پھر آخر میں جگہ بدل کر پیر دھوئے۔ اس طرح غسل جنابت کے بعد دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں، بشرطیکہ دوران غسل شرم گاہ کو ہاتھ نہ لگے۔ (ص۔ ی) ] (٢٣) جنبی کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جس سے جاگتے یا سوتے منی خارج ہوئی ہو یا اس نے مجامعت کی ہو خواہ منی کا انزال نہ ہوا ہو۔ (٢٤) جسے یاد آجائے کہ اسے احتلام ہوا ہے مگر کپڑوں پر منی کے نشانات موجود نہ ہوں تو اس پر غسل واجب نہیں کیونکہ جنابت متحقق نہیں ہوئی۔ (٢٥) اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے تیمم مشروع فرمایا۔ (٢٦) تیمم کے جواز کے اسباب میں سے ایک سبب ایسا مرض ہے جس میں پانی کے استعمال سے ضرر پہنچتا ہو۔ اس صورت میں تیمم جائز ہے، نیز تیمم کے جواز کے جملہ اسباب میں سفر، وضو کا ٹوٹنا اور پانی کا موجود نہ ہونا شامل ہیں۔ پس پانی موجود ہونے کے باوجود مرض بھی تیمم کو جائز کردیتا ہے کیونکہ وضو سے ضرر کا اندیشہ ہے۔۔۔ اور باقی صورتوں میں پانی کا معدوم ہونا تیمم کا جواز فراہم کرتا ہے۔ خواہ انسان اپنے گھر میں ہی ہو۔ (٢٧) پیشاب اور پاخانہ کے راستوں میں سے کوئی چیز باہر نکلے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ (٢٨) وہ اہل علم جو اس بات کے قائل ہیں کہ ان دو امور کے سوا کسی چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا، وہ یہیں سے استدلال کرتے ہیں ان کے نزدیک فرج وغیرہ کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ (٢٩) جس فعل کے لئے صریح لفظ برا اور نا مناسب لگتا ہو اس کے لئے کنایہ استعمال کرنا مستحب ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ﴿أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ﴾ ” یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کر آیا ہو۔ “ (٣٠) لذت اور شہوت سے عور کے بدن کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ [فاضل مفسر رحمہ اللہ نے غالباً لمس کو لغوی معنی ہاتھ سے چھونے کے مفہوم میں لے کر یہ بات کہی ہے، جیسا کہ لمس کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے اور دوسری تفسیر لمس کی۔ جماع۔ کی گئی ہے۔ اس تفسیر کی رو سے محض عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، ہاں اگر چھونے سے مذی یا منی کا اخراج ہوگیا تو مذی کی صورت میں ذکر (آلہ تناسل) کو دھو کو وضو کرنا اور منی کی صورت میں غسل کرنا ضروری ہوگا۔ بصورت دیگر چاہے لذت و شہوت سے چھوئے، حتیٰ کہ بوسہ بھی لے لے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ (دیکھیے، سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ، لالبانی، رقم 1000) (ص۔ ی) ] (٣١) تیمم کی صحت پانی کے عدم وجود سے مشروط ہے۔ (٣٢) پانی کے وجود کے ساتھ ہی، خواہ انسان نماز کے اندر ہی کیوں نہ ہو، تیمم باطل ہوجاتا ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پانی کی عدم موجودگی میں تیمم کو مباح فرمایا ہے۔ [یہ بھی بعض ائمہ کی رائے ہے۔ ایک دوسری رائے یہ کہ نماز شروع کردینے کے بعد نماز کے توڑنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ نماز پوری پڑھ لے۔ اس لئے کہ جس وقت اس نے نماز شروع کی تھی تو وہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کر کے شروع کی تھی اور اس کا ایسا کرنا شریعت کے مطابق تھا، اس لئے اس کی نماز صحیح ہوگی، کیونکہ یہ تیمم نماز کے ختم ہونے تک باطل نہیں ہوگا۔ (ص۔ ی)] (٣٣) جب نماز کا وقت داخل ہوجائے اور انسان کے پاس پانی موجود نہ ہو تو اس پر اپنے پڑاؤ اور اردگرد نزدیک کے علاقہ میں پانی تلاش کرنا لازمی ہے، کیونکہ جس کسی نے پانی کو تلاش ہی نہ کیا ہو تو اس کے لئے (لَمْ يَجَدْ) ” اس نے پانی نہ پایا“ کا لفظ نہیں بولا جاتا۔ (٣٤) اگر تلاش کے بعد اسے اتنا پانی ملے جو پورے وضو کے لئے کافی نہ ہو تو اس پر اس پانی کا استعمال لازم ہے۔ اس کے بعد تیمم کرلے۔ (٣٥) پاک اشیا کی وجہ سے متغیر پانی، تیمم پر مقدم ہے۔ یعنی یہ پانی طاہر پانی شمار ہوگا کیونکہ متغیر پانی بھی پانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً ﴾کے حکم میں آئے گا۔ (٣٦) تیمم میں نیت بہت ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَتَيَمَّمُوا ﴾یعنی قصد کرو۔ (٣٧) تیمم کے لئے سطح زمین پر پڑی ہوئی گرد وغیرہ کافی ہوتی ہے تب اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم﴾ یا تو تغلیب کے باب سے ہے اور غالب طور پر اس کے لئے غبار کا ہونا ضروری ہے جس سے مسح کیا جائے اور جو چہرے اور ہاتھوں کے ساتھ لگ جائے، یا یہ افضل کی طرف راہنمائی ہے یعنی جب ایسی مٹی کا حصول ممکن ہو جس میں غبار شامل ہو تو وہ افضل ہے۔ (٣٨) نجس مٹی سے تیمم نہیں ہوتا، کیونکہ یہ پاک نہیں، بلکہ ناپاک ہے۔ (٣٩) تیمم میں تمام اعضا کی بجائے صرف چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنا کافی ہے۔ (٤٠) اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿بِوُجُوهِكُمْ ﴾تمام چہرے کو شامل ہے اور تمام چہرے کا مسح واجب ہے۔ البتہ اس سے منہ اور ناک کے اندر مٹی داخل کرنا اور بالوں کی جڑوں تک مسخ کرنا مستثنیٰ ہے۔ (٤١) ہاتھوں کا مسح صرف ہاتھ اور کلائی کے جوڑ تک ہے، کیونکہ ہاتھ کا اطلاق صرف گٹے تک ہے۔ اگر کہنیوں تک ہاتھوں پر مسح تیمم کے لئے شرط ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس شرط سے مقید فرما دیتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وضو میں مقید فرمایا ہے۔ (٤٢) حدث (ناپاکی) خواہ اکبر ہو یا اصغر، ہر قسم کی ناپاکی میں تیمم جائز ہے بلکہ اگر جسم پر نجاست بھی لگی ہو، تب بھی تیمم جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تیمم کے ذریعے سے طہارت کو پانی کے ذریعے سے طہارت کا بدل بنایا ہے اور آیت کریمہ کے اطلاق کو کسی چیز سے مقید نہیں فرمایا۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ بدن کی نجاست، تیمم کے حکم میں داخل نہیں۔ کیونکہ آیت کریمہ کا سیاق حدث اکبر اور حدث اصغر کے بارے میں ہے اور یہ جمہور علماء کا مذہب ہے۔ (٤٣) حدث اکبر اور حدث اصغر دونوں میں تیمم کا محل ایک ہی ہے یعنی چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرنا۔ (٤٤) وہ شخص جسے حدث اصغر اور حدث اکبر دونوں لاحق ہیں اگر تیمم کرتے وقت دونوں سے طہارت کی نیت کرلے تو تیمم ہوجائے گا۔ آیت کریمہ کا عموم اور اطلاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ (٤٥) تیمم میں مسح ہاتھ سے یا کسی اور چیز سے جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد (فَامْسَحُوا) میں صرف مسح کا حکم دیا ہے اور یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس چیز کے ساتھ مسح کیا جائے۔ اس لئے ہر چیز کے ساتھ مسح جائز ہے۔ (٤٦) تیمم میں بھی ترتیب اسی طرح شرط ہے جس طرح وضو میں شرط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھوں کے مسح سے قبل چہرے کا مسح کرنے سے ابتدا کی ہے۔ (٤٧) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے لئے جو احکام مشروع فرمائے ہیں ان میں ہمارے لئے کوئی حرج، کوئی مشقت اور کوئی تنگی نہیں رکھی۔ یہ اس کی اپنے بندوں پر بے پایاں رحمت ہے تاکہ وہ ان کو پاک کرے اور ان پر اپنی نعمت کا اتمام کرے۔ (٤٨) پانی اور مٹی کے ذریعے سے ظاہری بدن کی طہارت، توحید اور خالص توبہ کے ذریعے سے حاصل ہونے والی باطنی طہارت کی تکمیل ہے۔ (٤٩) تیمم کی طہارت میں اگرچہ وہ نظامت اور طہارت نہیں ہوتی جس کا حس اور مشاہدہ کے ذریعے سے ادراک ہوسکتا ہو، تاہم اس میں معنوی طہارت ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے پیدا ہوتی ہے۔ (٥٠) بندے کے لئے مناسب ہے کہ وہ طہارت اور دیگر شرعی احکام میں پوشیدہ اسرار و حکمت میں تدبر کرے تاکہ اس کے علم و معرفت میں اضافہ ہو اور اس کی شکر گزاری اور محبت زیادہ ہو ان احکام پر جو اللہ تعالیٰ نے مشروع کئے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر بندہ بلند مقامات تک پہنچ سکتا ہے۔ المآئدہ
7 اللہ تبارک و تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس کی عطا کردہ دینی اور دنیاوی نعمتوں کا قلب اور زبان سے ذکر کیا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے دائمی ذکر میں اس کے لئے شکر اور محبت کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور بندے کا دل اس کے احسان کی معرفت سے لبریز ہوجاتا ہے، دینی نعمتوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے بارے میں نفس کی خود پسندی زائل ہوتی ہے۔ ﴿وَمِيثَاقَهُ ﴾”(اور یاد کرو) اس عہد کو بھی۔“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے میثاق کو یاد کرو ﴿الَّذِي وَاثَقَكُم ﴾” جس کا تم سے قول لیا تھا۔“ یعنی وہ عہد جو اس نے تم سے لیا۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ بندوں نے اپنے نطق زبان سے اس عہد و میثاق کا اقرار کیا تھا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر اللہ اور رسول کی اطاعت کا التزام کیا ہے، بنا بریں فرمایا : ﴿إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ﴾ ” جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے (اللہ کا حکم) سن لیا اور قبول کرلیا۔“ یعنی تو نے اپنی آیات قرآنیہ اور کونیہ کے ذریعے سے ہمیں جو دعوت دی، ہم نے اسے فہم، اطاعت اور فرمانبرداری کے ساتھ سنا۔ تو نے جن امور پر عمل پیرا ہونے اور جن سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہم نے اس کی اطاعت کی۔ یہ ظاہری اور باطنی تمام شرعی احکام کو شامل ہے۔ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو یاد رکھتے ہیں اور یہ عہد ہر وقت انہیں ذہن نشین رہتا ہے اور جس چیز کا انہیں حکم دیا گیا ہے اسے کامل طریقے سے ادا کرنے کے حریص ہیں۔ ﴿وَاتَّقُوا اللَّـهَ ﴾ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴾ ” کچھ شک نہیں کہ اللہ دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے۔“ یعنی دل میں جو افکار، اسرار اور خیالات چھپے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی جانتا ہے، لہٰذا اس بات سے ڈرو کہ تمہارے دلوں میں موجود کسی ایسی بات کی اسے اطلاع ہو جس سے وہ راضی نہیں، یا تم سے کوئی ایسا فعل صادر ہو جسے وہ ناپسند کرتا ہے اور اپنے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اللہ کے بندوں کی خیر خواہی سے آباد کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہاری نیکیوں کو کئی گنا زیادہ کر دے گا، کیونکہ اسے علم ہے کہ تمہارے دل درست ہیں۔ المآئدہ
8 ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ﴾” اے ایمان والو !“ یعنی اے وہ لوگو جو ان امور پر ایمان لائے ہو جن پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اپنے ایمان کے لوازم کو قائم کرو !﴿كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ﴾ ” اللہ کے لئے انصاف کی گواہی دینے کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔“ یعنی انصاف کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے گواہی دینے کے لئے کھڑے ہونے والے بن جاؤ۔ تمہاری ظاہری اور باطنی حرکات قیام انصاف میں نشاط محسوس کریں اور یہ قیام عدل دنیاوی اغراض کی خاطر نہ ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو اور صرف (قسط) یعنی عدل تمہارا مقصد ہو۔ تمہارے اقوال وا فعال میں کسی قسم کی افراط و تفریط نہ ہو اور تم قریب اور بعید، دوست اور دشمن سب کے ساتھ عدل و انصاف کرو۔ ﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ ﴾” تمہیں ہرگز آمادہ نہ کرے“ ﴿شَنَآنُ قَوْمٍ ﴾ ” لوگوں کی دشمنی۔“ یعنی کسی قوم کے ساتھ کینہ و بغض ﴿ٰ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا﴾ ” اس بات پر کہ تم عدل نہ کرو“ جیسا کہ وہ لوگ کرتے ہیں جن کے پاس عدل و انصاف کا کوئی تصور نہیں۔ بلکہ ہونا یہ چاہئے کہ جیسے تم اپنے دوست کے حق میں گواہی دیتے ہو، اس کے خلاف بھی گواہی دو اور جیسے تم اپنے دشمن کے خلاف گواہی دیتے ہو، تو اس کے حق میں بھی گواہی دو۔ خواہ تمہارا دشمن کا فریا بدعتی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بارے میں عدل کرنا اور اگر وہ حق بات کہتا ہے تو اسے قبول کرنا فرض ہے اور محض اس وجہ سے اس کا قول قبول نہ کیا جائے کہ وہ دوست کا قول ہے اور نہ دشمن کے قول کو محض اس وجہ سے رد کیا جائے کہ وہ دشمن کا قول ہے کیونکہ یہ حق پر ظلم ہے۔ ﴿اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ﴾” انصاف کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے“ یعنی جب بھی تم عدل کرنے کی خواہش کرو گے اور اس خواہش پر عمل کرنے کی کوشش کرو گے تو یہ چیز تمہارے دلوں کے تقویٰ کے بہت قریب ہے۔ اگر عدل کی تکمیل ہوگئی تو تقویٰ بھی مکمل ہوگیا ﴿إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴾ ” یقیناً اللہ اس سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو“ اس لئے وہ تمہارے اچھے اور برے، چھوٹے اور بڑے تمام اعمال کی دنیا اور آخرت میں جزا دے گا۔ المآئدہ
9 ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ ﴾ ” اللہ نے وعدہ کیا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے جو اس پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں ﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ﴾ ” اور نہوں نے نیک عمل کئے“ جو واجبات و مستحبات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کو بخش دینے، ان کے گناہوں کی سزا کو معاف کردینے اور ان کو اجر عظیم کے عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس کی بڑائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (السجدہ :32؍17) ” کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے ان کے اعمال کے صلہ کے طور پر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی گئی۔“ المآئدہ
10 ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ﴾” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔“ یعنی انہوں نے ان آیات کی تکذیب کی جو حق مبین پر دلالت کرتی ہیں حالانکہ ان آیات نے حقائق کو بیان کردیا تھا﴿أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ﴾ ” وہ جہنمی ہیں۔“ وہ جہنم کے ساتھ اس طرح لازم رہیں گے جس طرح دوست دوست کے ساتھ لازم رہتا ہے۔ المآئدہ
11 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتا ہے اور انہیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ بھی دل و زبان سے ان نعمتوں کا ذکر کیا کریں۔ جس طرح وہ اپنے دشمنوں کے قتل، ان کے مال کو مال غنیمت بنانے، ان کے شہروں کو فتح کرنے اور ان کے غلام بنانے کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیتے ہیں اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھی اعتراف کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے ساتھ لڑنے سے روکا اور ان کی سازشوں اور چالوں کو جو ان کے سینوں میں تھیں، انہی پر لوٹا دیا۔ اس لئے کہ دشمنوں نے ایک سازش تیار کی اور ان کا گمان تھا کہ وہ اسے بروئے کار لانے میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن جب وہ مومنوں کی خلاف اس سازش میں کامیاب نہیں ہوئے، تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی مدد ہے، اس لئے ان کو چاہئے کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں، اس کی عبادت اور اس کا ذکر کریں۔ کافروں، منافقوں اور باغیوں میں سے جن لوگوں نے بھی اہل ایمان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا، یہ آیت کریمہ ان سب کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کرنے کے لئے اور دیگر تمام امور میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں، اس لئے فرمایا : ﴿وَعَلَى اللَّـهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴾ ” اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔“ یعنی وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول میں اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور اعتماد کریں، اپنی قوت اور طاقت پر بھروسہ نہ کریں اور اپنے محبوب امور کے حصول میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور بندے کے ایمان کے مطابق ہی، اس کا اللہ پر توکل ہوتا ہے اور یہ دل کے ان واجبات میں سے ہے جن پر اتفاق ہے۔ المآئدہ
12 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے بہت موکد اور بھاری عہد لیا پھر اس میثاق اور عہد کا صوف بیان فرمایا اور بتایا کہ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کو کیا اجر ملے گا اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہیں کریں گے تو ان کو کیا سزا ملے گی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انہوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان کو اس کی پاداش میں کیا سزا ملی۔ ﴿وَلَقَدْ أَخَذَ اللّٰهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ ”اور اللہ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا۔“ یعنی اللہ نے بنی اسرائیل سے مضبوط اور موکد عہد لیا ﴿وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا ﴾ ہم نے ان کے بارہ سردار مقرر کردیئے جو ان کے معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے اور جن باتوں کا انہیں حکم دیا جاتا تھا اس کی تعمیل کرنے پر انہیں آمادہ کرتے تھے۔ ﴿وَقَالَ اللّٰهُ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان نقیبوں (سرداروں) سے فرمایا جنہوں نے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا تھا ﴿إِنِّي مَعَكُمْ ﴾ ” میں تمہارے ساتھ ہوں“ یعنی میری اعانت و نصرت تمہارے ساتھ ہے، کیونکہ مدد ہمیشہ ذمہ داری کے بوجھ کے مطابق ہوتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جن پر عہد لیا تھا۔ ﴿لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ ﴾” اگر تم نماز پڑھتے رہو گے۔“ یعنی اگر تم نماز کو اس کے ظاہری اور باطنی لوازم کے ساتھ قائم کرو اور پھر اس پر دوام اختیار کرو گے ﴿وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ ﴾” اور زکوٰۃ دیتے رہو گے۔“ یعنی مستحق لوگوں کو زکوٰۃ دو گے ﴿وَآمَنتُم بِرُسُلِيْ ﴾ ” اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے۔“ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لاؤ گے، جن میں سب سے افضل اور سب سے اکمل جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ﴿وَعَزَّرْتُمُوهُمْ ﴾ ” اور ان کی مدد کرو گے۔“ یعنی اگر تم انبیاء کی تعظیم اور ان کی اطاعت اور ان کا احترام کرو گے جو تم پر واجب ہے ﴿وَأَقْرَضْتُمُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا ﴾” اور تم اللہ کو قرض حسن دو گے“ یعنی صدقہ دو گے اور بھلائی کرو گے جس کا مصدر صدق و اخلاق و اخلاص اور کسب حلال ہو۔ جب تم مذکورہ بالا تمام امور قائم کرلو گے ﴿لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ﴾ ” تو میں تم سے تمہاری برائیاں دور کر دوں گا اور تمہیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی“ اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت میں اپنی نعمتوں اور محبوب امور کے حصول اور گناہوں کی تکفیر اور اس پر مرتب ہونے والی سزا کو دور کر کے ناپسندیدہ امور کے دور ہٹنے کو یکجا بیان فرمایا۔ ﴿فَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ ﴾ ” پھر جس نے اس کے بعد کفر کیا۔“ یعنی جو کوئی اس عہد و میثاق کے بعد جسے ایمان اور ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے موکد کیا گیا ہے، کفر کے رویہ اختیار کرتا ہے ﴿فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ ﴾” تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔“ یعنی وہ جان بوجھ کر سیدھے راستے سے بھٹکتا ہے تو وہ اسی سزا کا مستحق ہوگا، جس کے مستحق گمراہ لوگ ہوں گے، جیسے ثواب سے محرومی اور عذاب سے دوچار ہونا۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ ” کاش ہمیں بھی معلوم ہوتا کہ انہوں نے کیا کیا؟ کیا انہوں نے اس عہد کو پورا کیا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا یا اس عہد کو توڑ دیا؟“ پس اللہ نے واضح کردیا کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ کئے گئے اس عہد کو توڑ دیا۔ المآئدہ
13 چنانچہ فرمایا : ﴿فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ ﴾ ” تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب۔“ یعنی ان کے نقض عہد کے سبب سے ہم نے ان کو متعدد سزائیں دیں۔ (١) ﴿لَعَنَّاهُمْ ﴾ ” ہم نے ان پر لعنت کی۔“ یعنی ہم نے ان کو دھتکار کر اپنی رحمت سے دور کردیا، کیونکہ انہوں نے اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے بند کر لئے اور انہوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ (٢) ﴿وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً ﴾ ” اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔“ یعنی ہم نے ان کو پتھر دل بنا دیا۔ پس وعظ و نصیحت ان کے کسی کام آسکتے ہیں نہ آیات اور نہ ہی برے انجام سے ڈرانے والے انہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ کوئی شوق انہیں ترغیب دے سکتا ہے نہ کوئی خوف ان کو یہ عہد پورا کرنے کے لئے بے قرار کرسکتا ہے۔ بندے کے لئے یہ سب سے بڑی سزا ہے کہ اس کے دل کی یہ کیفیت ہوجائے کہ ہدایت اور بھلائی بھی اس پر برا اثر کریں۔ (٣) ﴿يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ ﴾ ” یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔“ یعنی وہ کلام اللہ میں تغیر و تبدل کے بھی مرتکب ہوئے، چنانچہ انہوں نے کلام الٰہی کے اس معنی کو، جو اللہ تعالیٰ کی مراد تھا، بدل کر وہ معنی بنا دیا جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہ تھا۔ (٤) ﴿وَنَسُوا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوا بِهِ ﴾ ” اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔“ انہیں تو رات اور ان تعلیمات کے ذریعے سے نصیحت کی گئی جو موسیٰ پر نازل کی گئی تھیں، مگر انہوں نے ان کو فراموش کردیا۔ یہ اس بات کو بھی شامل ہے کہ انہوں نے جناب موسیٰ علیہ السلام کے علم کو فراموش کردیا بنا بریں علم ان سے ضائع ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ بہت سا علم ناپید ہوگیا۔ یہ آیت کریمہ نسیان عمل کو بھی شامل ہے جو ترک عمل کا نتیجہ ہے، پس جس چیز کا انہیں حکم دیا گیا تھا اس پر عمل کرنے کی ان کو توفیق نہ ہوئی۔ اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے بعض ان امور کا جو انکار کیا جن کا ذکر ان کی کتابوں میں ہے، یا ان کے زمانے میں واقع ہوئے، یہ بھی ان باتوں میں سے ہے جن کو انہوں نے فراموش کیا۔ (٥) دائمی خیانت، جس کے بارے میں فرمایا :﴿وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَائِنَةٍ مِّنْهُمْ ﴾ ”اور آپ ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان کی خیانت پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے بندوں کے ساتھ خیانت اور ان کی سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ انہوں نے ان لوگوں سے حق کو چھپایا جو ان کو نصیحت کرتے تھے اور ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے تھے اور ان کو ان کے کفر پر باقی رکھنا۔ پس یہ بہت بڑی خیانت ہے اور جو کوئی ان صفات سے متصف ہوتا ہے اس میں یہ مذموم خصائل پائے جاتے ہیں۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور ان کا التزام نہیں کرتا تو اس لعنت، قساوت قلبی اور کلام الٰہی کی تحریف میں وہ بھی حصہ دار ہوتا ہے۔ اس کو بھی حق اور صواب کی توفیق نہیں ملتی، وہ بھی ان امور کو فراموش کرنے کا مرتکب ہوتا ہے جن کی اسے یاد دہانی کروائی گئی تھی اور ایسے شخص کا خیانت میں مبتلا ہونا بھی یقینی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلبگار ہیں۔ جس امر کی انہیں یاد دہانی کروائی گئی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو (حَظٌّ) ” حصہ، نصیبہ“ کے نام سے اس لئے موسوم کیا ہے کیونکہ یہ سب سے بڑا حظ ہے اس کے علاوہ دیگر تمام حظوظ دنیاوی حظوظ ہیں۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ ۖ قَالَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ﴾(القصص:28؍79) ” قارون بڑی سج دھج کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے طالب تھے، کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ دیا گیا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ وہ تو بہت بڑے نصیبے والا ہے۔“ اور حظ نافع کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ ﴾(حم السجدہ :41؍35) ” یہ بات صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس سے وہی لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو بہت بڑے نصیبے والے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ﴾ ” تھوڑے آدمیوں کے سوا۔“ یعنی وہ لوگ بہت کم تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے پورا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق سے نوازا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کی ﴿فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ﴾ ” پس آپ ان کی خطائیں معاف کردیں اور ان سے در گزر فرمائیں۔“ ان کی طرف سے آپ کو جو بھی کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو معاف کردینے کے قابل ہوا اسے معاف کردیا کریں اور ان سے درگزر کیجیے کیونکہ یہ بھلائی ہے ﴿إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴾” بیشک اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔“ اور احسان یہ ہے کہ تو اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اپنے آپ میں یہ کیفیت پیدا نہیں کرسکتا تو اللہ تعالیٰ تو تجھے دیکھ رہا ہے اور مخلوق کے حق میں احسان یہ ہے کہ تو انہیں دینی اور دنیاوی فائدے سے نوازے۔ المآئدہ
14 یعنی جس طرح ہم نے یہود سے عہد لیا اسی طرح ہم نے نصاریٰ سے بھی عہد لیا ﴿وَمِنَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ﴾ ” اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔“ یعنی جو کہتے ہیں کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مددگار ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے انبیاء و رسل اور ان پر نازل شدہ کتابوں پر ایمان لا کر اپنے آپ کو پاک کیا اور پھر عہد کو توڑ دیا۔ ﴿فَنَسُوا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوا بِهِ ﴾” پھر بھول گئے وہ نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی“ یعنی وہ نسیان علمی اور نسیان عملی کا شکار ہوگئے ﴿فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ﴾ ” پس ہم نے لگا دی آپس میں ان کی دشمنی اور کینہ، قیامت کے دن تک“ یعنی ہم نے انہیں ایک دوسرے پر مسلط کردیا، ان کے درمیان شر و فساد اور کینہ نے جنم لیا جو قیامت تک کے لئے ایک دوسرے کے خلاف بغض اور عدات وکا باعث ہے اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، کیونکہ نصاریٰ ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ بغض، مخالفت اور عداوت رکھتے چلے آرہے ہیں ﴿وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ﴾ ” اور عنقریب اللہ ان کو خبر دے گا، جو کچھ وہ کرتے تھے“ اور انہیں ان کی کارستانیوں پر عذاب دے گا۔ المآئدہ
15 جب اللہ تعالیٰ نے اس عہد اور میثاق کا ذکر کیا جو اس نے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے لیا تھا مگر تھوڑے سے لوگوں کے سوا سب نے اس عہد کو توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حکم دیا کہ وہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کی نبوت پر ایک قطعی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے وہ چیزیں بیان کرتے ہیں جو وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہیں حتیٰ کہ خود اپنے عوام سے بھی چھپاتے ہیں، پس جب یہی لوگ علم کے بارے میں عوام کا مرجع تھے اور علم کے خواہشمند کے لئے ان کے بغیر علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، تو ان حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کریم کے ساتھ مبعوث ہونا اور ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کردینا جو وہ چھپاتے تھے، وراں حالیکہ آپ ان پڑھ تھے اور لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے، مثلاً ان کی کتابوں میں جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور بشارتیں موجود تھیں۔ اسی طرح آیت رجم کو، (جسے وہ چھپاتے تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔ ﴿وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ﴾ ” اور درگزر کرتا ہے وہ بہت سی چیزوں سے‘‘ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی ایسی باتوں کو بیان نہیں فرمایا جن کو بیان کرنا حکمت کا تقاضا نہیں تھا ﴿قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ ﴾” تحقیق آگیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور“ اس نور سے مراد قرآن کریم ہے جس سے جہالت کی تاریکیوں اور گمراہی کے اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے﴿ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴾ ” اور روشن کتاب۔“ مخلوق اپنے دین و دنیا کے جن امور کی محتاج ہے اس کتاب نے ان کو واضح کردیا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ، اس کے اسما و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعی اور احکام جزائی کا علم، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کون ہے جو اس قرآن سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور وہ کون سا سبب ہے جو بندہ اس راہنمائی کے حصول کے لئے اختیار کرتا ہے۔ المآئدہ
16 ﴿يَهْدِي بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ ﴾ ” اللہ اس کے ذریعے سے ہدایت دیتا ہے، اس کو جو اس کی رضا مندی کی پیروی کرتا ہے، سلامتی کے راستوں کی“ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا حریص ہوتا ہے اور پھر اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور اس کا قصد و ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سلامتی کے راستوں کی طرف اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ جو اسے عذاب سے بچا کر سلامتی کے گھر پہنچا دیتا ہے۔ یہاں سلامتی کے گھر سے مراد حق کا اجمالی اور تفصیلی علم اور اس پر عمل کرنا ہے۔ ﴿ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ ﴾ ” اور ان کو تاریکیوں سے نکالتا ہے“ یعنی کفر، بدعت، معصیت، جہالت اور غفلت کی تاریکیوں سے ﴿إِلَى النُّورِ ﴾ ” روشنی کی طرف“ ایمان، سنت، اطاعت، علم اور ذکر الٰہی کی روشنی۔ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیت سے راہ ہدایت ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ ﴿وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴾ ” اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ “ المآئدہ
17 اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لینے اور ان کے نقض عہد کا ذکر کرنے کے بعد ان کے اقوال قبیحہ کا ذکر فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے قول کا ذکر فرمایا اور یہ بات نصاریٰ سے پہلے کسی نے نہیں کہی۔ وہ کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے اور ان کے شبہ کا سبب یہ ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، بنا بریں یہ اعتقاد باطل ان میں در آیا۔ حالانکہ جناب حوا علیہا السلام کی تخلیق ایک نظیر ہے جن کو بغیر ماں کے پیدا کیا گیا اور اس لحاظ سے جناب آدم علیہ السلام تو الوہیت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں جو باپ اور ماں دونوں کے بغیرپیدا ہوئے۔ کیا انہوں آدم علیہ السلام اور جناب حوا علیہا السلام کے بارے میں اسی طرح الوہیت کا دعویٰ کیا ہے جس طرح انہوں نے مسیح علیہ السلام کے بارے میں کیا؟ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کا دعویٰ بغیر کسی برہان کے خواہش نفس کی پیروی ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح عقلی دلائل سے ان کے اس قول باطل کا رد کیا ہے، چنانچہ فرمایا :﴿قُلْ فَمَن يَمْلِكُ مِنَ اللَّـهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَن يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ﴾ ” فرما دیجیے، پس کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم کو، اس کی ماں کو اور تمام اہل زمین کو“ چونکہ اگر اللہ تعالیٰ ان مذکور لوگوں کو ہلاک کرنا چاہے تو ان کے پاس اپنے آپ کو بچانے کی قدرت اور طاقت نہیں۔ اس لئے یہ اس ہستی کی الوہیت کے بطلان کی دلیل ہے جو اپنے آپ کو ہلاکت سے نہیں بچا سکتی اور نہ چھڑا سکتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے ﴿وَلِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ﴾ ” اور زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے“ پس وہ ان میں تکوینی، شرعی اور جزائی احکام کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے وہ سب مملوک ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کیا مملوک اور بندہ محتاج کو لائق ہے کہ وہ الٰہ بن جائے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہو؟۔۔۔ یہ سب سے بڑا محال ہے۔ عیسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کا بغیر باپ کے متولد ہونا کوئی انہونی اور تعجب خیز بات نہیں ﴿ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ  ﴾ ” وہ (اللہ) جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔“ چاہے تو عورت اور مرد کے ذریعے سے پیدا کرے، جیسا کہ تمام بنی آدم کی تخلیق ہوئی ہے۔ چاہے تو بغیر عورت کے، صرف مرد سے پیدا کرے جیسے حضرت حوا علیہا السلام کا معاملہ ہے۔ چاہے تو کسی کو بغیر مرد کے عورت سے پیدا کرے، جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور چاہے تو مرد اور عورت دونوں کے بغیر پیدا کرے، جیسے حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت نافذہ سے اپنی مخلوق کو الگ الگ انداز سے پیدا فرمایا جس کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں، بنا بریں فرمایا ﴿وَاللّٰهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴾ ” اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ المآئدہ
18 یہود و نصاریٰ کے دعادی میں سے، جبکہ ان کے تمام دعوے باطل ہیں، ایک دعویٰ یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں ﴿ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ﴾” ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں“ ان کی لغت میں بیٹے سے مراد محبوب ہے وہ اس سے حقیقی ابنیت (بیٹا ہونا) مراد نہیں لیتے، کیونکہ یہ ان کا مذہب نہیں ہے سوائے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں کہ عیسائی علیہ السلام ان کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ چونکہ ان کا دعویٰ دلیل و برہان سے محروم ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا :﴿قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ﴾ ” کہہ دیجیے، پھر وہ کیوں تمہیں تمہارے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا؟“ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے تو وہ تمہیں کبھی عذاب نہ دیتا کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اسی کو محبوب بناتا ہے جو اس کی مرضی کو پورا کرتا ہے۔ ﴿بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ﴾ ” بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو، اس کی مخلوق میں سے“ تم پر بھی اللہ تعالیٰ کے عدل و فضل کے تمام احکام جاری ہوتے ہیں ﴿ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ﴾” وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے۔“ یعنی جب وہ مغفرت یا عذاب کے اسباب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو اللہ ان اسباب کے مطابق ان کو بخش دیتا ہے یا عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ ﴿وَلِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ ﴾ ” اور اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ یعنی کس چیز نے تمہارے لئے اس فضیلت کو مختص کیا ہے جب کہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے جملہ مملوکات میں شامل ہو اور تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جنہیں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ وہاں وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔ المآئدہ
19 اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو کتاب عطا کر کے ان پر احسان فرمایا اور اس سبب سے انہیں دعوت دی کہ وہ اس کے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ان کی طرف رسول بھیجا ﴿عَلَىٰ فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ ﴾” رسولوں کے مبعوث ہونے کا سلسلہ منقطع رہنے کے بعد“ اور ان کی شدید احتیاج کی بنا پر یہ چیز اس بات کی داعی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا جائے اور ان کے سامنے تمام مطالب الہیہ اور احکام شرعیہ بیان کئے جائیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس طرح ان پر حجت پوری کردی تاکہ وہ یہ نہ کہیں ﴿مَا جَاءَنَا مِن بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ ۖ ﴾ ” کہ ہمارے پاس کوئی خوش خبری دینے والا آیا نہ کوئی ڈرانے والا“ ﴿فَقَدْ جَاءَكُم بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ ﴾ ” پس تحقیق تمہارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا آگیا“ جو دنیوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری دیتا ہے اور ان اعمال سے آگاہ کرتا ہے جو اس ثواب کے حصول کے موجب ہیں نیز ان اعمال کو بجا لانے والوں کی صفات بیان کرتا ہے اور دنیوی اور اخروی عذاب اور ان اعمال سے ڈراتا ہے جو اس عذاب کا باعث بنتے ہیں اور ان اعمال کا ارتکاب کرنے والوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہے۔ ﴿وَ اللّٰہ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴾ ” اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ تمام اشیاء نے اس کی قدرت کاملہ کے سامنے اطاعت سے سرتسلیم خم کر رکھا ہے کسی کو اس کی نافرمانی کی مجال نہیں۔ یہ اس کی قدرت کا ملہ ہے کہ اس نے رسول مبعوث فرمائے، کتابیں نازل کیں جو ان رسولوں کی اطاعت کرتا ہے، اسے ثواب عطا کرتا ہے اور جو ان کی نافرمانی کرتا ہے انہیں عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ المآئدہ
20 اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ الصلوۃ السلام اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا چنانچہ موسیٰ اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کردیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں۔ موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : ﴿اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ ﴾” تم پو اللہ نے جو احسان کئے ہیں انہیں یاد کرو۔“ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لئے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاءَ ﴾ ” جب پیدا کئے اس نے تمہارے اندر نبی“ جو تمہیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمہیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمہیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمہیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے﴿وَجَعَلَكُم مُّلُوكًا ﴾” اور تم کو بادشاہ بنایا“ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمہارے لئے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہوگیا۔ ﴿وَآتَاكُم ﴾” اور تم کو عنایت کیا“ یعنی تمہیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ ﴾ ” جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں“ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات، جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لئے آگے بڑھنے کی موجب ہیں۔ المآئدہ
21 بنا بریں فرمایا : ﴿يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ ﴾ ” اے میری قوم ! ارض مقدسہ میں داخل ہوجاؤ“ یعنی سر زمین پاک میں ﴿الَّتِي كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ ﴾ ” جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے“ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقیناًان کے دل اس خبر سے مطمئن ہوجاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے۔ ﴿وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِكُمْ ﴾ ” اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف“ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِينَ ﴾ ” پھرجا پڑو گے نقصان میں“ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کرسکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کرسکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔ المآئدہ
22 انہوں نے (اس کے جواب میں) موسیٰ علیہ السلام کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يَا مُوسَىٰ إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِينَ ﴾” اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے“ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں یعنی اس لئے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا حَتَّىٰ يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِن يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ﴾” اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں، تو ہم اس میں داخل ہوجائیں گے“ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ وہ بھی سب کے سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے، کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں، نیز انہیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح نصرت سے نوازا جائے گا، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح ونصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔ المآئدہ
23 ﴿قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ ﴾ ” دو آدمیوں نے کہا، جو ڈرنے والوں میں سے تھے“ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انہوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لئے کہا ﴿أَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمَا﴾ ” جن پر اللہ نے انعام کیا تھا“ جنہیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انہیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی۔ ﴿ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَالِبُونَ ﴾ ” تم دروازے میں داخل ہوجاؤ، جب تم اس میں داخل ہوجاؤ گے تو تم غالب ہو گے“ یعنی تمہارے اور تمہاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کرلو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا : ﴿وَعَلَى اللَّـهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴾ ” اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو“ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ کہ توکل بندہ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔ المآئدہ
24 مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انہوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی : ﴿ يَا مُوسَىٰ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا ۖ فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ﴾” اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں“ اس مشکل صورتحال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہوجاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا، تو صحابہ نے عرض کی ” یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں لیکر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی : ﴿فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ ﴾” جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔“ [سيرت ابن هشام، (2؍ 227)] المآئدہ
25 جب موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا : ﴿قَالَ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي ﴾ ” اے میرے رب ! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے“ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کرسکتا ﴿فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ ﴾ ” پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں“ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں المآئدہ
26 ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةً ۛ يَتِيهُونَ فِي الْأَرْضِ ﴾ ” وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لئے حرام کردیا گیا ہے، اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔“ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کردیا گیا، نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کردی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہوجاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو، یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لئے مؤخر کردیا جاتا ہے۔ چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے، بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہوگئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انہیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ علیہ السلام مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر بسا اوقات ان کے لئے ان کا دل بہت نرم پڑجاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کردیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کردیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا : ﴿فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ ﴾ ” پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔“ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقیناً انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انہیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔ المآئدہ
27 یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدم کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشا نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ” دو بیٹوں“ سے مراد صلبی بیٹے ہیں، جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔ یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انہوں نے تقرب کے لئے قربانی کی جس نے انہیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا ﴾ ”جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔“ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ ﴾ ” پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے کی نامقبول“ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔ ﴿قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا : ﴿لَأَقْتُلَنَّكَ ﴾” میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔“ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا :﴿إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴾ ” اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے“ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ” متقین“ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہو۔ المآئدہ
28 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا، نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں، اس لئے اس نے کہا : ﴿لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ﴾ ” اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے، تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں“ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ ﴾” میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں“ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کرسکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ کا۔ المآئدہ
29 اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لئے سخت تخویف ہے جو قتل کا ارادہ کرتا ہے اور تیرے لئے مناسب یہی ہے کہ تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس سے ڈرے﴿إِنِّي أُرِيدُ أَن تَبُوءَ ﴾ ” میں چاہتا ہوں کہ تو لوٹے۔“ ﴿بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ ﴾ ” میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ“ یعنی جب معاملے کا دار و مدار دو امور پر ہے، ایک یہ کہ میں قاتل بنوں (دوسرا یہ کہ) تو مجھے قتل کرے۔ تو میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ تو مجھے قتل کرے تاکہ تو دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واپس لوٹے ﴿فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ۚ وَذٰلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ ﴾“ پھر ہوجائے تو دوزخیوں میں سے اور یہی سزا ہے ظالموں کی۔ “ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قتل کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اور یہ جہنم میں داخل ہونے کا موجب ہے۔ المآئدہ
30 وہ مجرم اس جرم سے پیچھے ہٹانہ گھبرایا اور قتل کے عزم جازم پر قائم رہا حتیٰ کہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی جس کے احترام کا تقاضا شریعت اور فطرت دونوں کرتے ہیں ﴿فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴾” پس اس نے اسے قتل کردیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا“ یعنی وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہوگیا اور اس نے ہر قاتل کے لئے ایک سنت رائج کردی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” جس کسی نے کوئی بری سنت رائج کی تو اس پر اس برائی کے گناہ کا بوجھ اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی پڑے گا جو قیامت تک اس بری سنت پر عمل کریں گے۔“ [صحيح مسلم، الزكاة، باب الحث علي الصدقة..... الخ، حديث: 1017] بنا بریں ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ” دنیا میں جو بھی قتل کرتا ہے تو اس خون کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے حصہ میں بھی جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کے جرم کی ابتدا کی۔‘‘ [جامع الترمذي، العلم، باب ما جاء أن الدال علي الخير كفاعله، حديث: 2673] المآئدہ
31 جب اس نے اپنے بھائی کو قتل کردیا تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے، کیونکہ آدم کے بیٹوں میں وہ پہلا شخص تھا جو مرا تھا ﴿فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ ﴾ ” تو اللہ نے ایک کو ابھیجا جو زمین کریدتا تھا“ یعنی وہ زمین کھودتا تھا، تاکہ دوسرے مردہ کوے کو دفن کرے ﴿لِيُرِيَهُ ﴾ تاکہ اسے دکھائے ” یعنی وہ اس کے ذریعے سے آدم کے قاتل بیٹے کودکھائے ﴿كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ﴾” کہ وہ اپنے بھائی کے بدن کو کیسے چھپائے۔“ کیونکہ میت کا بدن بھی ستر ہوتا ہے۔ ﴿فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ ﴾” پس وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگیا“ اسی طرح تمام گناہوں کا انجام ندامت اور خسارہ ہے۔ المآئدہ
32 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے :﴿مِنْ أَجْلِ ذٰلِكَ ﴾ ”اسی سبب سے‘‘ یعنی آدم کے بیٹوں کے اس واقعہ کے بعد جس کا ہم نے ذکر کیا ہے جس میں ان میں سے ایک نے اپنے بھائی کو قتل کردیا اور اپنے مابعد قتل کا طریقہ جاری کردیا اور یہ کہ قتل کا انجام دنیا و آخرت میں انتہائی مضر اور خسارے والا ہے﴿كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ ﴾ ” ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا“ یعنی ان لوگوں پر جنہیں کتب سماویہ سے نوازا گیا۔ ﴿أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ ﴾ ” جس نے کسی جان کو بغیر جان کے یا بغیر فساد کرنے کے قتل کردیا“ یعنی ناحق ﴿فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا ﴾” گویا کہ اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا۔“ کیونکہ اس کے پاس کوئی داعیہ نہیں جو اسے تبیین پر آمادہ کرتا اور قتل ناحق کے اقدام سے روکتا۔ پس جب اس نے اس جان کو قتل کرنے کی جسارت کی جو قتل ہونے کی مستحق نہ تھی، تب معلوم ہوا کہ اس مقتول ناحق اور دیگر مقتولین کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ یہ تو نفس امارہ کے داعیے کے مطابق ہے۔ پس اس کا اس نفس کو قتل کرنے کی جسارت کرنا تمام نفوس انسانی کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح جس نے کسی نفس انسانی کو زندگی بخشی، یعنی نفس امارہ کے داعیے کے باوجود کسی نفس کو باقی رکھا اور اسے قتل نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کے خوف نے اسے قتل ناحق سے روک دیا تو اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔ کیونکہ اس کے ہمراہ جو خوف الٰہی ہے، وہ اسے ایسے نفس کے قتل سے روکتا ہے جو قتل کا مستحق نہیں۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دو امور کی بنا پر قتل جائز ہے۔ (1) اگر کسی نے جان بوجھ کر ناحق قتل کیا ہو اگر قاتل مکلف اور بدلہ لئے جانے کے قابل ہو، وہ مقتول کا باپ نہ ہو، تو اسے (قصاص میں) قتل کرناجائز ہے۔ (٢) وہ لوگ جو لوگوں کے دین، جان اور اموال کو ہلاک کر کے زمین میں فساد برپا کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں، مثلاً مرتدین، اہل کفر، محاربین اور بدعات کی طرف دعوت دینے والے وہ لوگ جن کو قتل کئے بغیر ان کے شر و فساد کا سدباب نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح وہ راہزن وغیرہ ہیں جو لوگوں کا مال لوٹنے یا ان کو قتل کرنے کے لئے شاہراہوں میں لوگوں پر حملہ کردیتے ہیں۔ فرمایا :﴿وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ﴾ ” ان کے پاس ہمارے رسول دلائل لے کر آئے“ ان دلائل نے کسی کے پاس کوئی حجت باقی نہیں رہنے دی ﴿ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم ﴾ ” پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگ۔“ یعنی لوگوں میں سے ﴿بَعْدَ ذٰلِكَ ﴾ ” اس کے بعد“ یعنی حجت کی کاٹ کرنے والے اس بیان کے بعد، جو کہ زمین میں راست روی اور استقامت کا موجب ہوتا ہے ﴿لَمُسْرِفُونَ ﴾ ” حد اعتدال سے نکل جاتے ہیں۔“ گناہوں کے اعمال اور انبیاء و رسل کی مخالفت میں جو کہ واضح دلائل اور براہین کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں، حد سے بڑھنے والے ہیں۔ المآئدہ
33 اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محاربت کے مرتکب وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ عداوت ظاہر کرتے ہیں اور قتل و غارت، کفر، لوٹ مار اور شاہراہوں کو غیر محفوظ بنانے کا ارتکاب کرتے ہیں۔ مشہور یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ ان راہزنوں اور ڈاکوؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بستیوں اور دیہات میں لوگوں پر حملے کر کے ان کا مال لوٹتے ہیں، ان کو قتل کرتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں۔ بنابریں لوگ ان شاہراہوں پر سفر کرنا بند کردیتے ہیں پس اس وجہ سے راستے منقطع ہوجاتے ہیں، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حد نافذ کرتے وقت ان لوگوں کی سزا، ان سزاؤں میں سے ایک ہے جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں۔ اصحاب تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ان سزاؤں میں اختیار ہے اور امام یا اس کا نائب ہر راہزن کو اپنی صواب دید اور مصلحت کے مطابق ان مذکورہ سزاؤں میں سے کوئی سزا دے سکتا ہے۔ آیت کریمہ کے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے، یا ان کی سزا ان کے جرم کے مطابق دی جائے گی اور ہر جرم کے مقابلے میں ایک سزا ہے جیسا کہ آیت کریمہ اس پر دلالت کرتی ہے اور اس آیت کریمہ کا حکم اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہے، یعنی اگر وہ قتل اور لوٹ مار کا ارتکاب کریں تو ان کو قتل کرنے اور سولی دینے کی سزا حتمی ہے۔ یہاں تک کہ ان کا سولی دیا جانا مشہور ہوجائے اور دوسرے لوگ لوٹ مار اور راہزنی سے باز آجائیں۔ اگر وہ لوگوں کو قتل کریں اور مال نہ لوٹیں تو ان کو صرف قتل کیا جائے۔ اگر وہ صرف مال لوٹیں اور لوگوں کو قتل کرنے سے باز رہیں تو مخالف سمت سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں یعنی دائیاں ہاتھ اور بائیاں کاٹ دیا جائے۔ اگر صرف لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور دہشت پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہوں اور انہوں نے کسی کا مال لوٹا ہو نہ کسی کو قتل کیا ہو تو ان کو جلا وطن کیا جائے گا اور ان کو کسی شہر میں پناہ نہیں لینے دی جائے گی یہاں تک کہ وہ توبہ کرلیں۔ یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے اور بعض تفاصیل میں اختلاف کے باوجود بہت سے ائمہ نے اس قول کو اختیار کیا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ ﴾ یہ سزا ﴿لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ﴾ ” ان کے لئے دنیا میں فضیحت اور عار ہے“ ﴿وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴾” اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔“ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ راہزنی بڑے گناہوں میں شمار ہوتی ہے جو دنیا و آخرت کی رسوائی اور فضیحت کی موجب ہے اور راہزنی کا مرتکب اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرتا ہے۔ جب یہ جرم اتنا بڑا ہے تو معلوم ہوا کہ مفسدین سے روئے زمین کی تطہیر کرنا، شاہراہوں کو قتل و غارت، لوٹ مار اور خوف و دہشت سے محفوظ کرنا، سب سے بڑی بھلائی اور سب سے بڑی نیکی ہے، نیز یہ زمین کے اندر صالح ہے جیسا کہ اس کی ضد فساد فی الارض ہے۔ المآئدہ
34 ﴿إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ﴾” ہاں جن لوگوں نے، اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو آجائیں، توبہ کرلی۔“ یعنی ان محاربین میں سے جو لوگ توبہ کرلیں پہلے اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔ ﴿فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾” تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے“ یعنی اس سے جرم اور گناہ ساقط ہوجائے گا جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ضمن میں تھا، یعنی قتل، سولی، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور جلا وطنی وغیرہ سزائیں معاف ہوجائیں گی۔ اگر محارب کافر تھا اور اس نے گرفتار ہونے سے پہلے اسلام قبول کرلیا تو آدمی کا حق بھی ساقط ہوجائے گا۔ اگر محارب مسلمان ہے تو لوٹ مار اور قتل و غارت وغیرہ انسانی حقوق ساقط نہیں ہوں گے۔ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ محارب پر قابو پا لینے کے بعد اس کی توبہ معتبر نہیں، اس سے کوئی سزا ساقط نہیں ہوگی۔ اس میں جو حکمت ہے وہ واضح ہے اور جب قابو پانے سے پہلے کی ہوئی تو بہ محاربت کی حد کے نفاذ سے مانع ہے تو قابو پانے سے پہلے دیگر جرائم سے توبہ کا ان جرائم کی حدود کے نفاذ سے مانع ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ المآئدہ
35 اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایمان کے تقاضے کے مطابق تقویٰ اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ کی نارضی اور اس کے غضب سے بچیں اور وہ اس طرح کہ بندہ مومن مقدور بھر ان امور سے اجتناب کرے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں۔ قلب، زبان اور جوارح کے ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچے اور ان گناہوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے، تاکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات حاصل کرسکے۔ ﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ ”اور ڈھونڈو اس کی طرف وسیلہ“ یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب، اس کے پاس مرتبہ اور اس کی محبت طلب کرو۔ یہ چیز فرائض قلبی مثلاً محبت الٰہی، اس کے خوف، اس پر امید، اس کی طرف انابت اور اس پر توکل، فرائض بدنی مثلاً زکوٰۃ اور حج وغیرہ اور قلب و بدن سے مرکب فرائض مثلاً نماز، ذکر اور تلاوت اور لوگوں سے اپنے اخلاق، مال، علم، جاہ اور بدن کے ذریے سے بھلائی سے پیش آنے اور ان کی خیر خواہی کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ پس یہ تمام اعمال تقرب الٰہی کا ذریعہ ہیں۔ بندہ اعمال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرنے لگتا ہے تو اللہ اس کے کان بن جاتا ہے جن کے ذریعے سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں بن جاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی دعائیں قبول کرتا ہے۔ [مطلب یہ ہے کہ اللہ کا محبوب انسان اپنے تمام اعضاء کو اس طرح استعمال کرتا ہے جس طرح اللہ پسند کرتا ہے، یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کا جزء بن جاتا یا اللہ اس میں حلول کرجاتا ہے جیسا کہ بعض مشرکین میں اس قسم کے عقیدے پائے جاتے ہیں۔ (ص۔ ی) ] پھر اللہ کے قریب کرنے والی عبادات میں سے جہاد فی سبیل اللہ کا خصوصی طور پر بیان کیا اور یہ جہاد نام ہے، کافروں کے ساتھ لڑائی میں اپنی پوری طاقت صرف کرنے کا، مال، جان، رائے، زبان کے ذریعے سے اور اللہ کے دین کی مدد میں اپنی مقدور بھر سعی و کوشش کرنے کا اس لئے کہ عبادت کی یہ قسم تمام طاعات میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور قربات میں سب سے افضل ہے، نیز یہ کہ جو اس کی ادائیگی کا اہتمام کرلیتا ہے، وہ دیگر فرائض و عبادات بہ طریق اولیٰ بجا لاتا ہے۔ ﴿لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴾ ” تاکہ تم فلاح پاؤ۔“ اگر تم نے گناہوں کو ترک کر کے تقویٰ اختیار کیا، نیکیوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا وسیلہ تلاش کرلیا اور اس کی رضا کی خاطر اس کے راستے میں جہاد کیا، تو امید کی جاسکتی ہے کہ تم فلاح پالو گے۔ فلاح اپنے ہر مطلوب و مرغوب کے حصول میں کامیابی اور مرہوب سے نجات کا نام ہے۔ پس اس کی حقیقت ابدی سعادت اور دائمی نعمت ہے۔ المآئدہ
36 قیامت کے روز کفار کا جو بدترین حال ہوگا اور وہ جس قبیح ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس روز اگر وہ زمین بھر سونا، اور اتنا ہی اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لئے فدیہ کے طور پر ادا کریں تو ان سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی یہ فدیہ کوئی فائدہ ہی دے گا۔ کیونکہ فدیہ دینے کا موقع تو وہ گنوا بیٹھے، اب تو درد ناک دائمی عذاب کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ اس عذاب سے وہ کبھی نہ نکل سکیں گے بلکہ وہ اس عذاب میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔ المآئدہ
37 چور اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسرے کا قابل احترام مال، اس کی رضا مندی کے بغیر خفیہ طور پر ہتھیاتا ہے۔ چوری کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جو بدترین سزا کا موجب ہے یعنی دائیاں ہاتھ کاٹنا، جیسا کہ بعض صحابہ کی قراءت میں آتا ہے۔ ہاتھ کا اطلاق کلائی کے جوڑ تک ہتھیلی پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے اور اس کے بعد اسے تیل میں داغ دیا جائے تاکہ رگیں مسدود ہوجائیں اور خون رک جائے۔ سنت نبوی نے اس آیت کریمہ کے عموم کو متعدد پہلوؤں سے مقید کیا ہے۔ (١) حفاظت : چوری کے اطلاق کے لئے ضروری ہے کہ مال محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، یہاں مال کی حفاظت سے مراد وہ حفاظت ہے جو عادتاً کی جاتی ہے۔ چورنے اگر کسی ایسے مال کی چوری کی ہو جو حفاظت میں نہ ہو تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (٢) نصاب : چور کا ہاتھ کاٹنے کے لئے مال مسروقہ کا نصاب ضروری ہے یہ نصاب کم از کم ایک چوتھائی دینا ریا تین درہم یا ان میں سے کسی ایک کے برابر ہو۔ مال مسروقہ اگر اس نصاب سے کم ہو تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ شاید یہ لفظ سرقہ اور اس کے معنی سے ماخوذ ہے کیونکہ لفظ ” سرقہ“ سے مراد ہے کوئی چیز اس طریقے سے لینا جس سے احتراز ممکن نہ ہو اور یہ اسی وقت ہی ہوگا کہ مال کو حفاظت کے ساتھ رکھا گیا ہو۔ اگر مال کو حفاظت کے ساتھ نہ رکھا گیا تو اس مال کا لینا شرعی سرقہ کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ یہ بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت ہے کہ تھوڑی اور حقیر سی شے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ چونکہ قطع ید کے لئے کم ترین نصاب مقرر کرنا ضروری ہے، اس لئے نصاب شرعی ہی کتاب اللہ کی تخصیص کرنے والا ہوگا۔ چوری میں ہاتھ کاٹنے میں حکمت یہ ہے کہ اس سے مال محفوظ ہوجاتے ہیں اور اس عضو کو بھی کٹ جانا چاہئے جس سے جرم صادر ہوا ہے۔ دائیاں ہاتھ کاٹ دیئے جانے کے بعد اگر چور دوبارہ چوری کا ارتکاب کرے تو اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر پھر چوری کرے تو بعض کہتے ہیں کہ اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا اور اگر پھر بھی باز نہ آئے تو دائیاں پاؤں کاٹ دیا جائے اور بعض فقہا کہتے ہیں کہ اس کو قید کردیا جائے یہاں تک کہ وہ قید ہی میں مر جائے۔﴿جَزَاءً بِمَا كَسَبَا﴾ ” یہ بدلہ ہے اس کا جو انہوں نے کمایا‘‘ یعنی یہ قطع ید، چور کو اس بات کی سزا دی گئی ہے کہ اس نے لوگوں کا مال چرایا ہے ﴿نَكَالًا مِّنَ اللَّـهِ ﴾ ” یہ تنبیہ ہے اللہ کی طرف سے“ یعنی یہ سزا چور اور دیگر لوگوں کو ڈرانے کے لئے ہے، کیونکہ چوروں کو جب معلوم ہوگا کہ چوری کے ارتکاب پر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، تو وہ چوری سے باز آجائیں گے ﴿وَاللّٰهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴾ ” اور اللہ زبردست، صاحب حکمت ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے اس لئے اس نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔ المآئدہ
38 المآئدہ
39 ﴿فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّـهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ ” پس جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد اور اصلاح کی، تو اللہ قبول کرتا ہے توبہ اس کی، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے“ پس جو کوئی توبہ کرتا ہے، گناہوں کو ترک کر کے اپنے اعمال اور اپنے عیوب کی اصلاح کرلیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے زمین اور آسمان میں تکوینی اور شرعی تصرف کرتا ہے اور اپنی حکمت، بے پایاں رحمت اور مغفرت کے تقاضے کے مطابق وہ بخشتا ہے یا سزا دیتا ہے۔ المآئدہ
40 المآئدہ
41 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق پے بے حد شفقت فرماتے تھے اس لئے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہوجاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں، کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ بنا بریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ ﴾” ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں“ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں۔ حاشا للہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے، کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہوجاتی ہے، تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔ ﴿وَمِنَ الَّذِينَ هَادُوا ﴾ ” اور ان میں سے جو یہودی ہیں۔“ المآئدہ
42 ﴿سَمّٰعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ ۖ ﴾ ” جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لئے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے“ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے﴿ لَمْ يَأْتُوكَ ﴾” آپ کے پاس کبھی نہیں آئے“ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ﴿ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِن بَعْدِ مَوَاضِعِهِ ﴾’ ’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر“ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لئے الفاظ کو ایسے معانی پہناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہے پس لوگ گمراہی کی طرف دعوت دینے والوں کے پیچھے چلتے ہیں اور محال کی پیروی کرتے ہیں جو تمام تر جھوٹ ہی لے کر آتے ہیں جو عقل سے محروم اور عزم و ہمت سے تہی دست ہیں۔ اگر وہ آپ کی اتباع نہیں کرتے تو پروا نہ کیجیے، کیونکہ وہ اتنہائی ناقص ہیں اور ناقص کی پروا نہیں کی جاتی ﴿يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَـٰذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا ﴾ ” کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کرلینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا“ یعنی یہ بات وہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ فیصلہ کروانے کے لئے آپ کے پاس آتے ہیں۔ خواہشات نفس کی پیروی کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں ” اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ کرے تو اسے قبول کرلو اور اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو اس فیصلے میں اس کی پیروی سے بچو۔“ یہ نقطہ نظر فتنہ اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ ﴿وَمَن يُرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّـهِ شَيْئًا ۚ ﴾ ” اور جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کرلے، آپ اس کے لئے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کرسکتے“ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد اس قول کی مانند ہے ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ﴾ (القصص:56؍68) ” آپ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے ہدایت دے سکتا ہے۔“ ﴿ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللّٰهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ۚ ﴾” یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دل پاک کرے“ یعنی پس ان سے جو کچھ صادر ہو رہا ہے وہ اسی وجہ سے صادر ہو رہا ہے۔ ان کا یہ رویہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی خواہش نفس کی اتباع کی خاطر شریعت کے مطابق فیصلہ کرواتا ہے اگر فیصلہ اس کے حق میں ہو تو راضی ہوجاتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے خلاف ہو تو ناراض ہوجاتا ہے، تو یہ چیز اس کے قلب کی عدم طہارت میں سے ہے۔ جیسے وہ شخص جو اپنا فیصلہ شریعت کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر راضی ہوتا ہے، چاہے وہ فیصلہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا مخالف، تو یہ اس کی طہارت قلب میں سے ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ طہارت قلب ہر بھلائی کا سبب ہے اور طہارت قلب رشد و ہدایت اور عمل سدید کا سب سے بڑا داعی ہے۔ ﴿لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ﴾ ” ان کے لئے دنیا میں بھی ذلت ہے۔“ یعنی دنیا میں ان کے لئے فضیحت اور عار ہے ﴿وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴾ ” اور آخرت میں عذاب عظیم ہے“ عذاب عظیم سے مراد جہنم اور اللہ جبار کی ناراضی ہے ﴿سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ ﴾” جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لئے“ یہاں سننے سے مراد اطاعت کے لئے سننا ہے یعنی وہ قلت دین اور قلت عقل کی بنا پر ہر اس شخص کی بات پر لبیک کہتے ہیں جو انہیں جھوٹ کی طرف دعوت دیتا ہے ﴿أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ ﴾” کھانے والے ہیں حرام کے“ یعنی اپنے عوام اور گھٹیا لوگوں سے ناحق وظائف لے کر حرام مال کھاتے ہیں۔ پس انہوں نے اپنے اندر جھوٹ کی پیروی اور اکل حرام کو یکجا کرلیا ﴿فَإِن جَاءُوكَ فَاحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ﴾” اگر یہ آپ کے پاس (کوئی فیصلہ کرانے کو) آئیں تو آپ ان میں فیصلہ کردیں یا اعراض کریں۔“ یعنی آپ کو اس بارے میں اختیار ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرما لیں۔ یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں ہے بلکہ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں جو فیصلہ کروانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا فیصلہ کرنے سے گریز کریں اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ صرف اسی وقت شریعت کے مطابق فیصلہ کروانے کا قصد کرتے ہیں جب فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہو۔ بنا بریں فتویٰ طلب کرنے والے اور کسی عالم کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے جانے والے کے احوال کی تحقیق کی جائے اگر یہ معلوم ہوجائے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر راضی نہ ہوگا تو اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا واجب ہے نہ فتویٰ دینا۔ تاہم اگر وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا واجب ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَإِن تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَن يَضُرُّوكَ شَيْئًا ۖ وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ﴾ ”اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں تو وہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے“ حتی کہ۔۔۔۔۔۔ خواہ لوگ ظالم اور دشمن ہی کیو نہ ہوں تب بھی ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو۔ المآئدہ
43 یہ آیت کریمہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔ پھر ان پر تعجب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِندَهُمُ التَّوْرَاةُ ۔۔۔ بِالْمُؤْمِنِينَ ﴾” اور وہ کس طرح آپ کو منصف بنائیں گے، جب کہ ان کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا حکم ہے، پھر اس کے بعد وہ پھرجاتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں“ اس لئے کہ اگر وہ مومن ہوتے اور ایمان کے تقاضے اور اس کے موجبات پر عمل کرتے، تو اللہ کے اس حکم سے اعراض نہ کرتے جو تو رات میں موجود ہے اور جو ان کے سامنے ہے۔ (لیکن اس سے اعراض کر کے جو آپ کے اعراض کر کے جو آپ کے پاس آئے ہیں تو اس امید پر کہ) شاید جو کچھ آپ کے پاس ہے ان کی خواہشات کے مطابق ہو اور جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق فیصلہ کردیا جو ان کے پاس ہے، تو وہ نہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اس سے روگردانی کی اور اس کو ناپسند کیا۔ ﴿وَمَا أُولَـٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ﴾ ” اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔“ یعنی وہ لوگ جن کے یہ اعمال ہیں وہ مومن نہیں، یعنی یہ اہل ایمان کا رویہ نہیں اور نہ یہ لوگ مومن کہلانے کے مستحق ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور احکام ایمان کو اپنی خواہشات کے تابع کر رکھا ہے۔ المآئدہ
44 ﴿إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ ﴾ ”بے شک ہم نے تورات نازل فرمائی۔“ یعنی ہم نے موسیٰ بن عمران پر تورات نازل کی ﴿فِيهَا هُدًى ﴾ ” جس میں ہدایت ہے“ یعنی تورات ایمان اور حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے﴿وَنُورٌ ﴾ ” اور روشنی ہے۔“ یعنی ظلم و جہالت، شک و حیرت اور شبہات و شہوات کی تاریکیوں میں اس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِّلْمُتَّقِينَ ﴾ (الانبیاء: 21؍48) ” اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل میں فرق کرنے والی، روشنی عطا کرنے والی اور اہل تقویٰ کو نصیحت کرنے والی کتاب عطا کی۔“ ﴿يَحْكُمُ بِهَا ﴾ ” فیصلہ کرتے تھے اس کے ساتھ“ یعنی یہودیوں کے جھگڑوں اور ان کے فتاویٰ میں ﴿النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا ﴾ ” پیغمبر جو فرماں بردار تھے“ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کیا، اس کے احکامات کی اطاعت کی اور ان کا اسلام دیگر لوگوں کے اسلام سے زیادہ عظیم تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندے تھے۔ جب یہ انبیائے کرام جو مخلوق کے سردار ہیں، تو رات کو اپنا امام بناتے ہیں، اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے پیچھے چلتے ہیں تو یہودیوں کے ان رذیل لوگوں کو اس کی پیروی کرنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ اور ان پر کس چیز نے واجب کیا ہے کہ وہ تورات کے بہترین حصے کو نظر انداز کردیں جس میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم ہے اور عقیدے کو قبول کئے بغیر کوئی ظاہری اور باطنی عمل قابل قبول نہیں۔ کیا اس بارے میں ان کے پاس کوئی راہنمائی ہے؟ ہاں ! ان کی راہنمائی کرنے والے راہنما موجود ہیں جو تحریف کرنے، لوگوں کے درمیان اپنی سرداری اور مناصب قائم رکھنے، کتمان حق کے ذریعے سے حرام مال کھانے اور اظہار باطل کے عادی ہیں۔ یہ لوگ ائمہ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ ﴿وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ ﴾ ” درویش اور عالم“ یعنی اسی طرح یہودیوں کے ائمہ دین میں ربانی تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ (رَّبَّانِيُّونَ) سے مراد باعمل علماء ہیں جو لوگوں کی بہترین تربیت کرتے تھے اور لوگوں کے ساتھ ان کا وہی مشفقانہ رویہ تھا جو انبیائے کرام کا ہوتا ہے (أَحْبَار) سے مراد وہ علمائے کبار ہیں جن کے قول کی اتباع کی جاتی ہے اور جن کے آثار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور وہ اپنی قوم میں اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی طرف سے صادر ہونے والا یہ فیصلہ حق کے مطابق ہے ﴿بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ﴾ ” اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور وہ اس کی خبر گیری پر مقرر تھے“ یعنی اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری ڈالی تھی، ان کو اپنی کتاب کا امین بنایا تھا اور یہ کتاب ان کے پاس امانت تھی اور اس میں کمی بیشی اور کتمان سے اس کی حفاظت کو اور بے علم لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کو ان پر واجب قرار دیا تھا۔۔۔ وہ اس کتاب پر گواہ ہیں کیونکہ وہی اس کتاب میں مندرج احکام کے بارے میں اور اس کی بابت لوگوں کے درمیان مشتبہ امور میں ان کے لئے مرجع ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل علم پر وہ ذمہ داری ڈالی ہے جو جہلا پر نہیں ڈالی اس لئے جس ذمہ داری کا بوجھ ان پر ڈالا گیا ہے، احسن طریقے سے اس کو نبھانا ان پر واجب ہے اور یہ کہ بیکاری اور کسل مندی کو عادت بناتے ہوئے جہال کی پیروی نہ کریں، نیز وہ مختلف انواع کے اذکار، نماز، زکوٰۃ، حج، روزہ وغیرہ مجرد عبادات ہی پر اقتصار نہ کریں جن کو قائم کر کے غیر اہل علم نجات پاتے ہیں۔ اہل علم سے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور انہیں ان دینی امور سے آگاہ کریں جن کے وہ محتاج ہیں خاص طور پر اصولی امور اور ایسے معاملات جو کثرت سے واقع ہوتے ہیں نیز یہ کہ وہ لوگوں سے نہ ڈریں بلکہ صرف اپنے رب سے ڈریں۔ بنا بریں فرمایا ﴿ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ ” پس تم لوگوں سے نہ ڈرو تم مجھی سے ڈرو ! اور میری آیات کے بدلے تھوڑا سا فائدہ حاصل نہ کرو“ یعنی دنیا کی متاع قلیل کی خاطر حق کو چھپا کر باطل کا اظہار نہ کرو۔ اگر صاحب علم ان آفات سے محفوظ ہوجاتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے۔ اس کی سعادت اس امر میں ہے کہ علم و تعلیم میں جدوجہد اس کا مقصد رہے۔ یہ چیز ہمیشہ اس کے علم میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم کی امانت اس کے سپرد کر کے اس کی حفاظت اس کے ذمہ عائد کی ہے اور اس کو اس علم پر گواہ بنایا ہے۔ وہ صرف اپنے رب سے ڈرے، لوگوں کا ڈر اور خوف اسے لوازم علم کو قائم کرنے سے مانع نہ ہو۔ دین پر دنیا کو ترجیح نہ دے۔ اسی طرح کسی عالم کی بدبختی یہ ہے کہ وہ بے کاری کو اپنی عادت بنا لے اور جن چیزوں کا اسے حکم دیا گیا ہے ان کو قائم نہ کرے اور جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے اسے پورا نہ کرے۔ ایسے شخص نے علم کو بے کار اور ضائع کردیا۔ دنیا کے بدلے دنیا کو فروخت کر ڈالا، اس کے فیصلوں میں رشوت لی اس کے فتوؤں میں مال سمیٹا اور اللہ کے بندوں کو اجرت لے کر علم سکھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا تھا جس کی اس نے ناشکری کی، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک عظیم نعمت عطا کی تھی، اس نے اس نعمت سے دوسروں کو محروم کردیا۔ اے اللہ ! ہم تجھ سے علم نافع اور عمل مقبول کا سوال کرتے ہیں۔ اے اللہ کریم ہمیں ہر مصیبت سے عفو اور عافیت عطا کر۔ ﴿ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ﴾ ” اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے۔“ یعنی جو کوئی واضح حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ اپنی فاسد اغراض کی خاطر جان بوجھ کر باطل کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ﴿فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ ” تو ایسے ہی لوگ کفار ہیں۔“ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا اہل کفر کا شیوہ ہے اور بسا اوقات یہ ایسا کفر بن جاتا ہے جو اپنے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج کردیتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا جائز اور صحیح سمجھتا ہے۔ المآئدہ
45 یہ احکامات، تورات کے اندر موجود ان جملہ احکام میں شمار ہوتے ہیں جن کے مطابق انبیائے کرام، ربانیوں اور علمائے یہود، یہودیوں کے درمیان فیصلے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض قرار دیا کہ اگر کوئی جان بوجھ کر کسی کو قتل کرے تو اس کو قصاص میں قتل کردیا جائے۔ آنکھ کے بدلے آنکھ پھوڑ دی جائے، کان کے بدلے کان کاٹ دیا جائے اور دانت کے بدلے دانت نکال دیا جائے۔ اسی طرح بغیر کسی ظلم کے جن اعضا کا قصاص لیا جاسکتا ہے ان کا قصاص لیا جائے۔ ﴿ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ﴾ ” اور زخموں کا بدلہ، ان کے برابر ہے“ اور قصاص سے مراد ہے کہ فاعل کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے جو اس نے کیا تھا جو کوئی کسی کو جان بوجھ کر زخمی کرتا ہے، تو جارح سے زخموں کا قصاص لیا جائے گا اور اسے حد، مقام، زخم کی لمبائی چوڑائی اور گہرائی کے مطابق اتنا ہی زخم لگایا جائے گا۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ہم سے پہلے کی شریعت کی پیروی ہمارے لئے بھی اس وقت تک لازم ہے جب تک کہ ہماری شریعت میں کوئی ایسی چیز وارد نہ ہو جو اس شریعت کے خلاف ہو۔ ﴿فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ﴾ ” پھر جس نے معاف کردیا“ یعنی جو کوئی جان، اعضاء اور زخموں کے قصاص میں مجرم کو معاف کردیتا ہے۔ وراں حالیکہ قصاص کا حق ثابت تھا ﴿فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ﴾ ” تو یہ اس کے لئے کفارہ ہے“ یعنی مجرم کے لئے کفارہ ہے، کیونکہ آدمی نے تو اس کو اپنا حق معاف کردیا اور اللہ تعالیٰ تو اپنے حق کو زیادہ معاف کردینے والا ہے۔ نیزیہ معاف کردینے والے کے حق میں بھی کفارہ ہے، کیونکہ جس طرح اس نے اپنے حق میں جرم کا ارتکاب کرنے والے کو یا اس کو معاف کردیا جو اس سے متعلق ہے اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی لغزشوں اور ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ ” اور جو کوئی اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا، تو یہی لوگ ظالم ہیں“ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” کفر سے کم تر کفر، ظلم سے کم تر ظلم اور فسق سے کم تر فسق ہوتا ہے۔“۔۔۔ پس اگر اس فعل کو حلال سمجھتے ہوئے اس کو کیا جائے تو یہ سب سے بڑا ظلم ہے اور اگر اس کو حلال نہ سمجھتے ہوئے کیا جائے تو یہ گناہ کبیرہ ہے۔ المآئدہ
46 یعنی ان انبیاء و مرسلین کے پیچھے جو تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے، ہم نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم، روح اللہ اور اللہ کے کلمہ کو جو اس نے حضرت مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا، مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان سے پہلے گزری ہوئی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا نبی بنا کر بھیجا۔ وہ موسیٰ علیہ السلام اور تورات کی حق و صدقات کے ساتھ گواہی دینے والے ان کی دعوت کی تائید کرنے والے اور ان کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے تھے اور اکثر امور شرعیہ میں موسیٰ علیہ السلام کی موافقت کرتے تھے۔ بسا اوقات عیسیٰ علیہ السلام بعض احکام میں تخفیف فرما دیتے تھے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول نقل فرمایا کہ انہوں نے بنی اسرائیل سے فرمایا : ﴿وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ﴾ (آل عمران :3؍50) ” اور تاکہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو حلال ٹھہراؤں۔“ ﴿وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ﴾” اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی۔“ یعنی ہم نے انہیں کتاب عظیم عطا کی جو تو رات کی تکمیل کرتی ہے۔ ﴿فِيهِ هُدًى وَنُورٌ﴾ ” اس میں ہدایت اور روشنی ہے“ یہ کتاب صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور باطل سے حق کو واضح کرتی ہے۔“ یعنی تورات کی صداقت کو ثابت کر کے، اس کی شہادت دے کر اور اس کی موافقت کر کے اس کی تصدیق کرتی ہے ﴿وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ﴾ ’’اور تورات کی جو اس سے پہلے (نازل شدہ کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے۔“ یعنی تورات کی صداقت کو ثابت کر کے، اس کی شہادت دے کر اور اس کی موافقت کر کے اس کی تصدیق کرتی ہے ﴿وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ﴾ ” اور متقین کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے“ کیونکہ اہل تقویٰ ہی میں جو ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، مواعظ سے نصیحت پکڑتے ہیں اور غیر مناسب امور سے باز رہتے ہیں۔ المآئدہ
47 ﴿وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنجِيلِ بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ فِيهِ﴾ ” اور چاہئے کہ اہل انجیل اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا۔“ یعنی ان پر اپنی کتاب کا التزام کرنا لازم ہے، اس کتاب سے روگردانی کرنا ان کے لئے جائز نہیں ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴾” اور جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے پس یہی لوگ فاسق ہیں۔ “ المآئدہ
48 ﴿ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ﴾ ” اور اتاری ہم نے آپ کی طرف کتاب“ یعنی قرآن عظیم جو سب سے افضل اور جلیل ترین کتاب ہے ﴿بِالْحَقِّ﴾ ” حق کے ساتھ“ یعنی ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یہ کتاب اپنی اخبار اور اوامرونواہی میں حق پر مشتمل ہے ﴿مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ ﴾ ” اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے“ کیونکہ یہ کتب سابقہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے، ان کی موافقت کرتی ہے، اس کی خبریں ان کی خبروں کے مطابق اور اس کے بڑے بڑے قوانین ان کے بڑے بڑے قوانین کے مطابق ہیں۔ ان کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں خبر دی ہے۔ پس اس کا وجود ان کتب سابقہ کی خبر کا مصداق ہے ﴿وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ﴾” اور ان کے مضامین پر نگہبان ہے“ یعنی یہ کتاب ان امور پر مشتمل ہے جن امور پر سابقہ کتب مشتمل تھیں، نیز مطالب الٰہیہ اور اخلاق نفسیہ میں بعض اضافے ہیں۔ یہ کتاب ہر اس حق بات کی پیروی کرتی ہے جو ان کتابوں میں آچکی ہے اور اس کی پیروی کا حکم اور اس کی ترغیب دیتی ہے اور حق تک پہنچانے کے بہت سے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں حکمت، دانائی اور احکام ہیں، جس پر کتب سابقہ کو پیش کیا جاتا ہے، لہٰذا جس کی صداقت کی یہ گواہی دے وہ مقبول ہے جس کو یہ رد کر دے وہ مردد ہے، کیونکہ وہ تحریف اور تبدیلی کا شکار ہوچکی ہے۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طر ف سے ہوتی تو یہ اس کی مخالفت نہ کرتی۔﴿ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ﴾” پس ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو حکم شرعی نازل فرمایا ہے اس کے مطابق فصلہ کیجیے﴿وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ﴾” اور آپ کے پاس جو حق آیا، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں“ یعنی ان کی حق کے خلاف خواہشات فاسدہ کی اتباع کو اس حق کا بدل نہ بنائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آچکا ہے، ورنہ آپ اعلیٰ کے بدلے ادنی ٰ کو لیں گے۔ ﴿لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ﴾ ” تم میں سے ہر ایک کو دیا ہم نے“ یعنی اے قومو !﴿شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا﴾ ” ایک دستور اور راہ“ یعنی تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک راستہ اور طریقہ مقرر کردیا ہے۔ یہ شریعتیں جو امتوں کے اختلاف کے ساتھ بدل جاتی رہی ہیں، زمان و مکان اور احوال کے تغیر و تبدل کے مطابق ان شرائع میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہا ہے اور ہر شریعت اپنے نفاذ کے وقت عدل کی طرف راجع رہی ہے۔ مگر بڑے بڑے اصول جو ہر زماں و مکاں میں مصلحت اور حکمت پر مبنی ہوتے ہیں کبھی نہیں بدلتے، وہ تمام شرائع میں مشروع ہوتے ہیں۔ ﴿وَلَوْ شَاءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ ” اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا“ یعنی ایک شریعت کی پیروی میں ایک امت بنا دیتا کسی متقدم اور متاخرامت میں کوئی اختلاف نہ ہوتا ﴿وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ﴾ ” لیکن وہ تمہیں آزمانا چاہتا ہے اپنے دیئے ہوئے حکموں میں“ پس وہ تمہیں آزمائے اور دیکھے کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہر قوم کو آزماتا ہے اور ہر قوم کو اس کے احوال اور شان کے لائق عطا کرتا ہے، تاکہ قوموں کے درمیان مقابلہ رہے۔ پس ہر قوم دوسری قوم سے آگے بڑھنے کی خواہشمند ہوتی ہے اس لئے فرمایا : ﴿فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ﴾ ” نیک کاموں میں جلدی کرو۔“ یعنی نیکیوں کے حصول کے لئے جلدی سے آگے بڑھو اور ان کی تکمیل کرو، کیونکہ وہ نیکیاں جو فرائض و مستحبات، حقوق اللہ اور حقوق العباد پر مشتمل ہوتی ہیں، ان کا فاعل اور ان دو امور کو مدنظر کھے بغیر کسی سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ (١) جب نیکی کرنے کا وقت آجائے اور اس کا سبب ظاہر ہوجائے تو فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے جلدی سے اس کی طرف بڑھنا۔ (٢) اور حکم کے مطابق اسے کامل طور پر ادا کرنے کی کوشش کرنا۔ اس آیت کریمہ سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ نماز کو اول وقت پڑھنے کی کوشش کی جائے، نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ بندے کو صرف نماز وغیرہ اور دیگر امور واجبہ کی ادائیگی پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ مقدور بھر مستحبات پر بھی عمل کرے، تاکہ واجبات کی تکمیل ہو اور ان کے ذریعے سے سبقت حاصل ہو۔ ﴿إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا﴾” تم سب کا لوٹنا اللہ کی کی طرف ہے“ تمام امم سابقہ ولاحقہ کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ﴾ ’’پس وہ تمہیں ان امور کی بابت خبر دے گا جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے تھے“ یعنی جن شرائع اور اعمال کے بارے میں تمہارے درمیان اختلاف تھا۔ چنانچہ وہ اہل حق اور نیک عمل کرنے والوں کو ثواب سے نوازے گا اور اہل باطل اور بدکاروں کو سزا دے گا۔ المآئدہ
49 ﴿وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ﴾ ” اور ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے اتارا“ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ آیت کریمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ فَاحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ ” ان کے درمیان فصلہ کریں یا اس سے روگردانی کریں“ کو منسوخ کرتی ہے۔ صحیح رائے یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ اس مذکورہ آیت کو منسوخ نہیں کرتی، پہلی آیت دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ حق کی خاطر فیصلہ کروانے کا قصد نہیں رکھتے تھے اور یہ (دوسری) آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان فیصلہ کریں، تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت، یعنی قرآن اور سنت کے مطابق فیصلہ کریں۔ یہی وہ انصاف ہے جس کے بارے میں گزشتہ صفحات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ﴾” اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔ “ یہ آیت کریمہ عدل کی توضیح و تبیین پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ کہ عدل کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے احکام ہیں جو انتہائی عدل و انصاف پر مبنی اصولوں پر مشتمل ہیں اور جو کچھ ان احکام کے خلاف ہے، وہ سراسر ظلم و جور ہے۔﴿وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ﴾” اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں“ شدت تحذیر کی خاطر اللہ تعالیٰ نے بتکرار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی خواہشات کی پیروی کرنے سے روکا ہے۔ نیز وہ آیت حکم اور فتویٰ کے مقام پر ہے اور اس میں زیادہ وسعت ہے اور یہ صرف حکم کے مقام پر ہے۔ دونوں آیات کا مفاد یہ ہے کہ ضروری ہے کہ ان کی خلاف حق خواہشات کی پیروی نہ کی جائے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللّٰهُ إِلَيْكَ﴾” اور بچتے رہیں ان سے، اس بات سے کہ وہ کہیں آپ کو بہکانہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے آپ کی طرف اتارا“ یعنی ان کی فریب کاریوں سے بچیے نیز ان سے بچیے کہ وہ آپ کو فتنے میں ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی ایسی چیز سے نہ روک دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف نازل فرمائی ہے۔ پس ان کی خواہشات کی پیروی، حق واجب کو ترک کرنے کا باعث بنتی ہے جبکہ اتباع حق فرض ہے۔ ﴿فَإِن تَوَلَّوْا﴾ ” پس اگر وہ نہ مانیں“ یعنی اگر وہ آپ کی اتباع اور حق کی پیروی سے روگردانی کریں ﴿ فَاعْلَمْ﴾ ” تو جان لیجیے“ کہ یہ روگردانی ان کے لئے سزا ہے ﴿أَنَّمَا يُرِيدُ اللّٰهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ ۗ﴾” اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کو ان کے گناہوں کے سبب کوئی سزا پہنچائے“ کیونکہ گناہوں کے لئے دنیا و آخرت میں سزائیں مقرر ہیں اور سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو آزمائش میں مبتلا کر دے اور اتباع رسول کے ترک کو اس کے لئے مزین کر دے اور اس کا باعث اس کا فسق ہوتا ہے ﴿وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ﴾ ”اور اکثر لوگ نافرمان ہیں“ یعنی ان کی فطرت اور طبیعت میں فسق، نیز اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع سے خروج ہے۔ المآئدہ
50 ﴿ أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾” اب کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں؟“ یعنی کیا وہ کفار کی دوستی طلب کر کے اور آپ سے اعراض کر کے جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟ ہر وہ فیصلہ جو اس چیز کے خلاف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ ہر وہ فیصلہ جو اس چیز کے خلاف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا وہ جاہلیت کا فیصلہ ہے۔ تب اس طرح صرف دو قسم کے فصلے ہیں۔ (١) اللہ او اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ۔ (٢) جاہلیت کا فیصلہ۔ پس جو کوئی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں سے منہ موڑتا ہے تو وہ دوسری قسم کے فیصلوں میں مبتلا ہوجاتا ہے جو جہالت، ظلم اور گمراہی پر مبنی ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان فیصلوں کو جاہلیت کی طرف مضاف کیا ہے۔ رہے اللہ تعالیٰ کے فیصلے تو وہ علم، عدل و انصاف، نور اور ہدایت پر مبنی ہوتے ہیں۔ ﴿ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾ ” اور اللہ سے بہتر کون ہے فیصلہ کرنے والا، اس قوم کے لئے جو یقین رکھتی ہے‘‘ صاحب ایقان وہ ہے جو اپنے یقین کی بنیاد پر دونوں قسم کے فیصلوں کے درمیان فرق کو پہچانتا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں موجود حسن اور خوبصورتی میں امتیاز کرسکتا ہو اور عقلاً اور شرعاً ان کی تباع کو لازم قرار دیتا ہو اور یقین سے مراد وہ علم کامل و تام ہے جو عمل کا موجب ہوتا ہے۔ المآئدہ
51 اللہ تبارک و تعالیٰ یہود و نصاری کے احوال اور غیر مستحسن صفات بیان کرتے ہوئے اپنے مومن بندوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ انہیں اپنا دوست نہ بنائیں ﴿بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ﴾” کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں“ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں۔ پس تم ان کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ درحقیقت تمہارے دشمن ہیں۔ انہیں تمہارے نقصان کی کوئی پروا نہیں، بلکہ وہ تمہیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ انہیں وہی شخص دوست بنائے گا جو ان جیسا ہو۔ بنابریں فرمایا : ﴿وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾ ” اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے گا، وہ انہی میں سے ہے“ کیونکہ کامل دوستی ان کے دین میں منتقل ہونے کی موجب بنتی ہے۔ تھوڑی دوستی زیادہ دوستی کرے گا، وہ اہی میں سے ہے“ کیونکہ کامل دوستی ان کے دین میں منتقل ہونے کی موجب بنتی ہے۔ تھوڑی دوستی زیادہ دوستی کی طرف دعوت دیتی ہے پھر وہ آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے حتیٰ کہ بندہ انہی میں سے ہوجاتا ہے۔ ﴿ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾” اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا“ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم ہے۔ ظلم ان کا مرجع اور ظلم ہی پر ان کا اعتماد ہے۔ اس لئے آپ ان کے پاس کوئی بھی آیت اور معجزہ لے کر آئیں، وہ کبھی آپ کی اطاعت نہیں کریں گے۔ المآئدہ
52 جب اللہ تبار کو تعالیٰ نے اہل ایمان کو اہل کتاب سے دوستی رکھنے سے منع کیا تو آگاہ فرمایا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ایک گروہ ان کے ساتھ دوستی رکھتا ہے۔ ﴿فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ﴾” پس آپ ان لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں روگ ہے“ یعنی ان کے دلوں میں شک، نفاق اور ضعف ایمان ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم نے ضرورت کے تحت ان کو دوست بنایا ہے اس لئے کہ ﴿ نَخْشَىٰ أَن تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ ۚ﴾” ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے“ یعنی ہمیں ڈر ہے کہ کہیں گردش ایام یہود و نصاریٰ کے حق میں نہ ہوجائے اور اگر زمانے کی گردش ان کے حق میں ہو تو ہمارا ان پر احسان انہیں اس بدلے میں ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر آمادہ کرے گا یہ اسلام کے بارے میں ان کی انتہائی بدظنی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی بدظنی کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿فَعَسَى اللّٰهُ أَن يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ ﴾” ہوسکتا ہے اللہ فتح کرے“ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ پر غالب کر دے ﴿أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ﴾ ” یا کوئی حکم اپنے پاس سے“ جس سے منافقین، یہود وغیرہ کفار کے کامیاب ہونے سے مایوس ہوجائیں۔ ﴿فَيُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا أَسَرُّوا ﴾ ” پس ہوجائیں وہ اس پر جو کچھ وہ چھپاتے ہیں“ ﴿ فِي أَنفُسِهِمْ نَادِمِينَ﴾ ” اپنے نفسوں میں نادم“ یعنی اس رویے پر جس کا اظہار ان کی طرف سے ہوا اور جس نے انہیں نقصان پہنچایا اور کوئی نفع انہیں حاصل نہ ہوا۔ پس مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو نصرت سے نوازا اور کفر اور کفار کو ذلیل کیا۔ پس ان کو ندامت اٹھانی پڑی اور انہیں ایسے غم کا سامنا کرنا پڑا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ المآئدہ
53 ﴿وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ ” اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ان کے حال پر اہل ایمان تعجب کرتے ہوئے کہتے ہیں : ﴿أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ ۙ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ﴾ ” کیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑی تاکید سے اللہ کی قسمیں کھاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں“ یعنی انہوں نے نہایت تاکید کے ساتھ حلف اٹھایا اور مختلف انواع کی تاکیدات کے ذریعے سے پکا کر کے کہا کہ وہ ایمان لانے میں، نیز ایمان کے لوازم یعنی نصرت، محبت اور موالات میں ان کے ساتھ ہیں۔ مگر جو کچھ وہ چھپاتے رہے ہیں وہ ظاہر ہوگیا، ان کے تمام بھید عیاں ہوگئے۔ ان کی سازشوں کے وہ تمام تانے بانے جو وہ بنا کرتے تھے اور ان کے وہ تمام ظن و گمان، جو وہ اسلام کے بارے میں رکھا کرتے تھے، باطل ہوگئے اور ان کی سب چالیں ناکام ہوگئیں ﴿حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ ﴾ ” پس (دنیا میں) ان کے تمام اعمال اکارت گئے“﴿فَأَصْبَحُوا خَاسِرِينَ﴾ ” اور وہ خائب و خاسر ہو کر رہ گئے“ کیونکہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور بدبختی اور عذاب نے انہیں گھیر لیا۔ المآئدہ
54 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے جو کوئی اس کے دین سے پھر جاتا ہے وہ اللہ کا کوئی نقصان نہیں کرسکتا بلکہ وہ اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مخلص اور سچے بندے ہیں۔ اللہ رحمان و رحیم ان کی ہدایت کا ضامن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لانے کا وعدہ کیا ہے۔ وہ اپنے اوصاف میں سب سے کامل، اپنے جسم میں سب سے طاقتور اور اپنے اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی صفت یہ ہے ﴿يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ﴾” اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔“ بندے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت جلیل ترین نعمت ہے جس کے ساتھ اس نے اپنے بندے کو نوازا ہے اور سب سے بڑی فضیلت ہے جس سے اللہ نے اپنے بندے کو مشرف فرمایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کے لئے تمام اسباب مہیا کردیتا ہے، ہر قسم کی مشکل اس پر آسان کردیتا ہے، نیک کام کرنے اور برائیوں کو ترک کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے اور بندوں کے دلوں کو محبت اور مودت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔ اپنے رب کے ساتھ بندے کی محبت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے اقوال و افعال اور تمام احوال میں ظاہری اور باطنی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کی صفت سے متصف ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ﴾ (آل عمران :3؍31) ” کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔“ جیسے بندے کے ساتھ رب کی محبت کے لوازم میں سے ہے کہ بندہ کثرت سے فرائض اور نوافل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحیح حدیث میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے نقل فرمایا ہے ” میرا بندہ جس چیز کے ذریعے سے میرا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، ان میں فرائض سے بڑھ کر کوئی چیز مجھے محبوب نہیں۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ سنتا ہے، میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ دیکھتا ہے، میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے پکڑتا ہے اور میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔“ [صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، حدیث :6502] اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لوازم میں سے، اس کی معرفت اور کثرت کے ساتھ اس کا ذکر کرنا بھی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے بغیر اس کے ساتھ محبت ناقص ہے، بلکہ اس محبت کا وجود ہی نہیں اگرچہ اس کا دعویٰ کیا جائے۔ جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے وہ کثرت سے اس کا ذکر کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کے تھوڑے سے عمل کو قبول فرما لیتا ہے اور اس کی بہت سی لغزشوں کو معاف کردیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے محبوب لوگوں کی صفات میں سے یہ ہے ﴿أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ﴾ ” نرم ہیں مومنوں پر، سخت ہیں کافروں پر“ پس وہ اہل ایمان کے ساتھ محبت، ان کے لئے خیر خواہی، ان کے لئے نرمی اور مہربانی، ان کے لئے رحمت ورافت اور ان کے ساتھ شفقت بھرے رویئے کی بنا پر ان کے لئے نرم خو ہوتے ہیں، نیز کسی ایسی چیز کے قرب کی بنا پر جو اس سے مطلوب ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والوں، اس کی آیات سے عناد رکھنے والوں اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کے لئے بہت سخت ہوتے ہیں۔ ان کی عداوت پر ان کی ہمت اور عزائم مجتمع ہوتے ہیں اور وہ ان پر فتح حاصل کرنے کے لئے ہر سبب میں پوری کوشش کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّـهِ وَعَدُوَّكُمْ﴾ (الانفال:8؍60) ” جہاں تک ہوسکے قوت و طاقت کے ساتھ اور گھوڑوں کو تیار رکھ کر ان کے مقابلے کے لئے مستعد رہو، اس کے ذریعے سے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو ڈرائے رکھو۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾(الفتح :48؍29) ” وہ کافروں کے لئے نہایت سخت اور آپس میں بہت مہربان ہیں۔“ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے بارے میں سخت رویہ رکھنا، ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جس سے بندہ اپنے رب کا قرب حاصل کرتا ہے اور ان کے ساتھ سختی اور ناراضی میں بندہ اپنے رب کی موافقت کرتا ہے اور ان کے بارے میں سخت رویہ ان کو دین اسلام کی طرف ایسے طریقے سے دعوت دینے سے مانع نہیں جو بہتر ہو۔ ان کے بارے میں سخت رویہ اور دعوت دین میں نرمی دونوں یکجا ہوں۔ دونوں امور میں ان کے لئے مصلحت ہے جس کا فائدہ انہی کی طرف لوٹتا ہے۔ ﴿ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ﴾ ” وہ (اپنی جان، مال، اقوال اور افعال کے ذریعے سے) اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں“ ﴿وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ۚ﴾ ” وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے“ بلکہ وہ اپنے رب کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں اور مخلوق کی ملامت کی بجائے اپنے رب کی ملامت سے ڈرتے ہیں۔ اور یہ رویہ ان کے ارادوں اور عزائم کی پختگی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ کمزور دل والا، ارادے کا بھی کمزور ہوتا ہے۔ ملامت گروں کی ملامت پر اس کی عزیمت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے اور نکتہ چینیوں پر اس کی قوت کمزور ہوجاتی ہے۔ مخلوق کی رعایت، ان کی رضا اور ناراضی کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر ترجیح کے مطابق بندوں کے دلوں میں غیر اللہ کا تعبد جنم لیتا ہے۔ قلب، غیر اللہ کی عبادت سے اس وقت تک محفوظ نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ملامت کرنے والوں کی ملامت سے ڈرنا چھوڑ نہ دے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان صفات جمیلہ اور مناقب عالیہ سے نواز کر ان کی مدح کی ہے جو ایسے افعال خیر کو ستلزم ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ ان پر محض اس کا فضل و احسان ہے، تاکہ وہ خودپسندی کا شکار نہ ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں جس نے ان پر احسان کیا، تاکہ وہ ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ نوازے اور دوسرے لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم محجوب نہیں۔ بنا بریں فرمایا۔ ﴿ذٰلِكَ فَضْلُ اللَّـهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾” یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے اس سے نوازتا ہے اور اللہ کشائش والا جاننے والا ہے“ یعنی وہ وسیع فضل و کرم اور بے پایاں احسان کا مالک ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اولیا کو وسیع فضل و کرم سے نوازتا ہے جس سے وہ اوروں کو نہیں نوازتا۔ مگر وہ علم رکھتا ہے کہ کون اس کے فضل کا مستحق ہے پس وہ اسی کو عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ اصولی اور فروعی طور پر رسالت سے کسے نوازنا ہے۔ المآئدہ
55 اللہ تبار ک و تعالیٰ نے جب یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار کی دوستی سے روکا اور ذکر فرمایا کہ ان کی دوستی کا انجام واضح خسارہ ہے۔ جس کی دوستی متعین اور واجب ہے، اب اس کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اس کے فائدے اور مصلحت کا ذکر کیا ہے﴿إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ﴾ ”تمہارا دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول ہی ہے“ اللہ تعالیٰ کی ولایت (دوستی) ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے جو کوئی صاحب ایمان اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی، یعنی دوست ہے اور جو اللہ کا دوست ہے وہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دوست ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دوست بناتا ہے تو اس دوستی کی تکمیل یہ ہے کہ اللہ جن کو دوست بناتا ہے یہ بھی انہی کو دوست بنائے اور وہ ہیں اہل ایمان جو ایمان کے ظاہری اور باطنی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور معبود کے لئے دین کو خالص کرتے ہیں، یعنی نماز کو اس کی تمام شرائط و فرائض اور اس کو مکمل کرنے والے امور کے ساتھ قائم کرتے ہیں، مخلوق کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتے ہیں اور اپنے اموال میں سے اپنے میں سے مستحق لوگوں کو زکوٰۃ دیتے ہیں۔﴿وَهُمْ رَاكِعُونَ﴾” اور ( اللہ کے آگے) جھکتے ہیں۔“ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے خضوع اور تذلل اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا﴾ میں حصر کا اسلوب دلالت کرتا ہے کہ ان مذکورلوگوں کی دوستی پر اقتصار کرنا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں سے برأت کا اظہار کرنا ضروری ہے۔ المآئدہ
56 پھر اللہ تعالیٰ نے اس دوستی کا فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿وَمَن يَتَوَلَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْغَالِبُونَ﴾ ” اور جو اللہ سے، اس سے اور ایمان والوں سے دوستی رکھتا ہے، تو بے شک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے“ یعنی وہ اس گروہ میں شمار ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عبودیت اور ولایت کی اضافت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حزب غالب ان لوگوں پر مشتمل ہے جن کا انجام دنیا و آخرت میں اچھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ ﴾ (الصافات :37؍173) ” بے شک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔“ یہ اس شخص کے لئے بہت بڑی بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کر کے اس کے گروہ اور لشکر میں شامل ہوجاتا ہے کہ غلبہ اسی کے لئے ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت وہ مغلوب بھی ہوجاتا ہے مگر انجام کار فتح و غلبہ سے وہی بہرہ ور ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا کون ہے۔ المآئدہ
57 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام کفار کے ساتھ موالات رکھنے سے منع کرتا ہے۔ وہ ان سے محبت نہ کریں ان کو دوست نہ بنائیں، ان پر اہل ایمان کے بھید نہ کھولیں اور بعض ایسے امور پر ان کی معاونت نہ کریں جن سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ ان کا ایمان کفار کے ساتھ ترک موالات کا موجب ہے اور ان کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح ان کا تقویٰ کا التزام۔۔۔ جو کہ نام ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور اس کی نواہی سے اجتناب کا۔۔۔ کفار کے ساتھ عداوت کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح مشرکین، کفار اور مسلمانوں کے دیگر مخالفین کا رویہ بھی اسی بات کا متقاضی ہے کہ مسلمان ان سے دوستی کی بجائے دشمنی رکھیں۔ یہ لوگ دین اسلام میں نکتہ چینیاں کرتے ہیں، اسلام کے ساتھ استہزا کرتے اور تمسخر اڑاتے ہیں اور دین کی تحقیر کرتے ہیں خصوصاً نماز کے بارے میں جو کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا شعار اور سب سے بڑی عبادت ہے۔ جب مسلمان نماز کے لئے اذان دیتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس کا سبب ان کی کم عقلی اور جہالت ہے۔ ورنہ اگر ان میں عقل ہوتی تو وہ نماز کی افادیت کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے اور انہیں معلوم ہوجاتا کہ نماز ہی ان فضائل میں سب سے بڑی فضیلت ہے جس سے نفوس انسانی متصف ہوتے ہیں۔ پس اے مومنو ! جب تمہیں کفار کا حال معلوم ہے اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ تمہارے اور تمہارے دین کے ساتھ کتنی شدید عداوت رکھتے ہیں جو کوئی اس صورتحال کے بعد بھی انہیں اپنا دشمن نہیں سمجھتا، تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اسلام اس کے نزدیک بہت سستی چیز ہے اور اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ کوئی اس میں طعن و تشنیع کرتا ہے یا اسے کفر اور ضلالت قرار دیتا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس شخص کے اندر مروت اور انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں۔ آپ اپنے لئے دین قیم کا کیسے دعویٰ کرسکتے ہیں اور کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام دین حق ہے اور اس کے سوا تمام ادیان باطل ہیں جب کہ حال یہ ہے کہ آپ ان جاہل اور احمق لوگوں کی سوالات پر راضی ہیں جو آپ کے دین کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں؟ اس آیت کریمہ میں کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب ہے اور یہ بات ہر اس شخص کو معلوم ہے جو ادنیٰ سا بھی فہم رکھتا ہے۔ المآئدہ
58 المآئدہ
59 ﴿قُلْ ﴾ یعنی اے رسول کہہ دیجیے !﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ﴾ ” اے اہل کتاب !“ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن و تشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن و تشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ ﴿ هَلْ تَنقِمُونَ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلُ وَأَنَّ أَكْثَرَكُمْ فَاسِقُونَ﴾” تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں۔“ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا ایمان نہیں رکھتا وہ کافر اور فاسق ہے۔ کیا تم صرف اس امر کی بنا پر ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو جو تمام مکلفین پر سب سے زیادہ فرض ہے اور بایں ہمہ کو ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر اور اس کی نافرمانی کی جسارت کرنے والے ہیں تو اے فاسقو ! تمہارے لئے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ پس اگر تم میں یہی عیب ہوتا جب کہ تم فسق سے پاک ہوتے، حالانکہ یہ بہت بعید ہے۔۔۔ تو یہ برائی تمہارے فسق کی معیت میں تمہارے ہماری بابت طعن و تشنیع سے خفیف تر ہوتی۔ المآئدہ
60 اہل ایمان پر ان کا طعن و تشنیع کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں برائی ہے اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿قُلْ ﴾ یعنی برائی اور قباحت کے بارے میں ان کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذٰلِكَ﴾ ” کیا میں تمہیں خبردوں اس سے بھی بری بات کی؟“ جس کے بارے میں تم ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو اس کو صحیح فرض کرتے ہوئے﴿مَن لَّعَنَهُ اللّٰهُ﴾ ”جس پر اللہ نے لعنت کی۔“ یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا ﴿وَغَضِبَ عَلَيْهِ﴾ ” اس پر غضب نازل کیا“ یعنی اسے دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا ﴿وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ﴾ ” اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی“ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، وہ طاغوت ہے۔ ﴿أُولَـٰئِكَ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا ان قبیح خصائل کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ﴿شَرٌّ مَّكَانًا﴾ ”ان کا ٹھکانا (اہل ایمان سے) برا ہے۔“ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اس نے ان کو دنیا و آخرت میں ثواب سے نواز دیا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرلیا۔ یہ ” اَفْعَلُ التَفْضِيْلُ “ کو ایک دوسرے اسلوب میں استعمال کرنے کی نوع ہے اور اسی طرح یہ قول ہے۔ ﴿وَأَضَلُّ عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ﴾” اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے“ یعنی وہ اعتدال کی راہ سے بہت دور ہیں۔ المآئدہ
61 ﴿وَإِذَا جَاءُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا﴾” اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے“ یعنی وہ مکر و فریب اور نفاق کی بنا پر کہتے ہیں ﴿وَقَد دَّخَلُوا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهِ﴾” حالانکہ وہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں۔“ یعنی وہ اس حال میں داخل ہوئے کہ وہ کفر میں گھرے ہوئے تھے اور اسی کے ساتھ وہ نکلے۔ پس ان کا داخل ہونا اور ان کا نکلنا کفر کے ساتھ ہے۔ بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں۔ ان سے زیادہ برا اور ان سے زیادہ بد حال کوئی اور ہوسکتا ہے؟ ﴿وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا يَكْتُمُونَ ﴾ ” اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں“ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے، برے اعمال کا بدلہ دے گا۔ المآئدہ
62 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مدد اور تائید کی خاطر بتکرار ان یہود و کفار کے معایب بیان کرتا ہے۔ ﴿وَتَرَىٰ كَثِيرًا مِّنْهُمْ﴾ ”اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا“ یعنی یہودیوں میں سے ﴿يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾” وہ گناہ اور زیادتی میں دوڑ کر حصہ لیتے ہیں“ یعنی وہ ان گناہوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو خالق کے حقوق سے متعلق ہیں اور مخلوق پر ظلم اور تعدی کے زمرے میں آتے ہیں ﴿وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ﴾ ” اور ان کے حرام کھانے پر“ جو کہ حرام ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے صرف یہ خبر دینے پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ ان افعال کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی خبر دی کہ وہ ان افعال بد میں سبقت کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی خباثت اور برائی پر دلالت کرتی ہے۔ گناہ اور ظلم ان کے نفس کی فطرت کا حصہ بن گئے۔ یہ ہے ان کا حال اور وہ ہیں کہ اپنے لئے مقامات بلند کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴾ ” بہت برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں“ یہ ان کی مذمت اور ان کی تشنیع کی انتہا ہے۔ المآئدہ
63 ﴿ لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَن قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ﴾ ” کیوں نہیں روکتے ان کو درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے“ یعنی علماء جو عوام الناس کے نفع کے در پے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و دانش سے نوازا ہے، انہوں نے لوگوں کو ان گناہوں سے کیوں نہ روکا جو ان سے صادر ہوتے ہیں تاکہ ان سے جہالت دور ہوجاتی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجاتی ۔ کیونکہ یہ علماء ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں اور ان کے سامنے دین کا راستہ واضح کریں، انہیں بھلائیوں کی ترغیب دیں اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں ﴿ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ﴾ ” بلا شبہ وہ بہت برا کرتے ہیں۔ “ المآئدہ
64 اللہ تبارک و تعالیٰ یہود کے انتہائی خبیث قول اور ان کے قبیح ترین عقیدے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا : ﴿وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّـهِ مَغْلُولَةٌ﴾ ” یہود نے کہا، اللہ کا ہاتھ بند ہوگیا ہے“ یعنی بھلائی، احسان اور نیکی سے ﴿غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا﴾” انہی کے ہاتھ بند ہوجائیں اور لعنت ہے ان کے اس کہنے پر“ یہ انہی کی گفتگو کی جنس کے ساتھ ان کے لئے بد دعا ہے چونکہ ان کی یہ بدگوئی اللہ کریم کو بخل، اور عدم احسان کی صفات سے متصف کرنے کو متضمن ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی وصف کو منطبق کر کے ان کو اس بدگوئی کا بدلہ دیا ہے۔ پس یہود بخیل ترین، نیکی کے اعتبار سے قلیل ترین، اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوء ظنی میں بدترین اور اللہ تعالیٰ کی اس رحمت سے بعید ترین لوگ ہیں جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس سے تمام عالم علوی اور سفلی لبریز ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ﴾ ” بلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے“ اس پر کوئی پابندی عائد نہیں اور کوئی روکنے والا نہیں جو اسے اپنے ارادے سے روک سکے۔ اس کا فضل و کرم اور دینی اور دنیاوی احسان بہت وسیع ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جو دو کرم کے جھونکوں سے مستفید ہوں۔ وہ اپنی نافرمانیوں کے ذریعے سے اپنے آپ پر اس کے فضل و احسان کے دروازے بند نہ کریں۔ اس کی داد و دہش دن رات جاری ہے، اس کی عطا و بخشش ہر وقت موسلادھار بارش کی مانند ہے۔ وہ دکھوں کو دور کرتا ہے، غموں کا ازالہ کرتا ہے، محتاج کو بے نیاز کرتا ہے، قیدی کو آزاد کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہے، محتاج کو عطا کرتا ہے، مجبوروں کو ان کی پکار کا جواب دیتا ہے، سوال کرنے والوں کے سوال کو پورا کرتا ہے۔ جو اس سے سوال نہیں کرتا اسے بھی نعمتیں عطا کرتا ہے، جو اس سے عافیت طلب کرتا ہے اسے عافیت عطا کرتا ہے، وہ کسی نافرمان کو اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرتا بلکہ نیک اور بدسب اس کی بھلائی سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اولیا کو نیک اعمال کی توفیق سے نوازتا ہے جو اس کا جود و کرم ہے، پھر وہ ان اعمال پر ان کی تعریف کرتا اور ان کی اضافت ان کی طرف کرتا ہے اور یہ بھی اس کے جود و کرم کا نتیجہ ہے اور ان کو دنیا و آخرت میں ایسا ثواب عطا کرتا ہے کہ زبان اس کے بیان سے قاصر ہے اور بندے کے طائر خیال کی اس تک رسائی ممکن نہیں۔ وہ تمام امور میں ان کو لطف و کرم سے نوازتا ہے۔ وہ اپنا احسان ان تک پہنچاتا رہتا ہے۔ وہ اپنے طور پر ہی ان سے بہت سی مصیبتیں دور کردیتا ہے کہ ان کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا۔ پاک ہے وہ ذات کہ بندوں کے پاس جو نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور تکالیف کو دور کرنے کے لئے اسی کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں اور برکت والی ہے وہ ذات جس کی مدح و ثناء کو کوئی شمار نہیں کرسکتا، بس وہ ایسے ہے جیسے اس نے خود اپنی مدح و ثناء بیان کی۔بلند و بالا وہ ہستی کہ بندے ایک لمحے کے لئے بھی اس کے فضل و کرم سے علیحدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا وجود اور ان کی بقا اسی کے جود و کرم کی مرہون ہے۔ اللہ تعالیٰ برا کرے ان لوگوں کا جو اپنی جہالت کی بنا پر اپنے آپ کو اپنے رب سے بے نیاز سمجھتے ہیں اور اس کی طرف ایسے امور منسوب کرتے ہیں جو اس کی جلالت کے لائق نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان یہود کے ساتھ جنہوں نے یہ بدگوئی کی ہے اور ان جیسے دیگر لوگوں کے ساتھ ان کے کسی قول پر معاملہ کرتا، تو وہ ہلاک ہوجاتے اور دنیا میں بدبختی کا شکار ہوجاتے۔ مگر وہ اس قسم کی گستا خانہ باتیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے برد باری سے پیش آتا ہے اور ان سے درگزر فرماتا ہے، ان کو ڈھیل دیتا ہے مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑتا۔ ﴿وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم مَّا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا﴾” اور یقیناً ان میں سے بہتوں کو، وہ کلام جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے، سرکشی اور کفر میں ہی بڑھائے گا“ یہ بندے کے لئے سب سے بڑی سزا ہے کہ وہ ذکر، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا ہے جس میں قلب و روح کی زندگی، دنیا و آخرت کی سعادت اور فلاح ہے جو اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سعادت کے ذریعے سے اپنے بندوں پر احسان فرمایا ہے جو ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اسے قبول کرنے کے لئے آگے بڑھیں، اس کے سبب سے اللہ کے سامنے سرجھکا دیں، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔۔۔ وہی ذکر اس کی گمراہی، سرکشی اور کفر میں اضافے کا باعث بن جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اس روگردانی کی اور اسے ٹھکرا دیا اس سے عناد کھا اور شبہات با طلہ کی بنا پر اس کی مخالفت کی۔ ﴿وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾ ” اور ہم نے ڈال دی ہے ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت کے دن تک“ پس وہ ایک دوسرے سے محبت نہیں کریں گے، ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے اور وہ کسی ایسی بات پر متفق نہیں ہوں گے جس میں ان کی کوئی مصلحت ہو، بلکہ وہ ہمیشہ اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کینہ اور بغض رکھیں گے اور قیامت تک ایک دوسرے پر ظلم اور تعدی کا ارتکاب کرتے رہیں گے۔ ﴿كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِّلْحَرْبِ﴾ ” جب کبھی آگ سلگاتے ہیں لڑائی کے لئے“ تاکہ اس طرح وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کریں، ان کے خلاف چالیں چلیں اور ان پر سوار اور پیادے چڑھا لائیں۔ ﴿أَطْفَأَهَا اللّٰهُ﴾ ” اللہ اس کو بجھا دیتا ہے‘ اللہ تعالیٰ ان کو بے یار و مددگار چھوڑ کر، ان کے لشکروں کو منتشر کر کے، ان کے خلاف مسلمانوں کی نصرت فرما کر اس آگ کو بجھا دیتا ہے۔ ﴿وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا﴾ ” اور یہ ملک میں فساد کے لئے دوڑے پھرتے ہیں۔“ یعنی زمین میں فساد پھیلانے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں، اپنے باطل دین کی طرف دعوت دیتے ہیں اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں ارتکاب کرتے ہیں، اپنے باطل دین کی طرف دعوت دیتے ہیں اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں ﴿وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ﴾ ” اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“ بلکہ ان کے ساتھ سخت ناراض ہوتا ہے وہ عنقریب انہیں اس کی سزا دے گا۔ المآئدہ
65 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ﴾ ” اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے، تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کردیتے اور ان کو نعمت والے باغوں میں داخل کرتے“ یہ اللہ تعالیٰ کا جود و کرم ہے کہ جہاں اس نے اہل کتاب کی برائیوں اور ان کے معایب اور ان کے اقوال باطلہ کا ذکر فرمایا ہے، وہاں ان کو توبہ کی طرف بھی بلایا ہے اور یہ کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں، اس کی تمام کتابوں اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئیں اور گناہوں سے پرہیز کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی تمام برائیاں، خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہوں، مٹا دے گا اور ان کو نعمتوں سے بھری ہوئی جنت میں داخل کرے گا جس میں وہ کچھ ہے کہ نفس اس کی چاہت رکھتے ہیں اور آنکھیں اس سے لذت اٹھاتی ہیں۔ المآئدہ
66 ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّبِّهِمْ﴾ ” اور اگر وہ قائم کرتے تو رات، انجیل اور اس کو جو نازل کیا گیا ان پر، ان کے رب کی طرف سے“ یعنی اگر وہ تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو توجہ دلائی اور ان کو ترغیب دی ہے۔ تو رات و انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان امور پر ایمان لانا ہے جن کی طرف یہ دونوں کتابیں دعوت دیتی ہیں۔ یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر ایمان لانا۔ اگر وہ اس عظیم نعمت کو قائم کرتے جس کو ان کے رب نے ان کی طرف نازل فرمایا ہے یعنی ان کی خاطر اور ان کے ساتھ اعتنا کی بنا پر اس نعمت کو ان کی طرف نازل کیا ہے ﴿لَأَكَلُوا مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم ۚ ﴾ ” تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے“ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر رزق کے دروازے کھول دیتا، آسمان سے ان پر بارش برساتا اور زمین ان کے لئے فصلیں اگاتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ﴾(الاعراف :7؍96) ” اگر بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر زمین اور آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ “ ﴿مِّنْهُمْ ﴾ ” ان میں سے“ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ﴾ ” ایک گروہ ہے سیدھی راہ پر“ یعنی ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تورات و انجیل پر عامل ہے مگر اس کا عمل قوی اور نشاط انگیز نہیں ہے۔ ﴿وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُونَ﴾ ” اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں۔“ یعنی ان میں برائیوں کا ارتکاب کرنے والے بہت زیادہ ہیں اور نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے بہت کم ہیں۔ المآئدہ
67 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے اور یہ سب سے بڑا اور جلیل ترین حکم ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل فرمایا ہے اسے اس کے بندوں تک پہنچایا جائے۔۔۔ اس میں وہ تمام امور شامل ہیں جو امت نے آپ سے حاصل کئے، مثلاً عقائد، اعمال، اقوال، احکام شرعیہ اور مطالب الٰہیہ وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کو پوری طرح پہنچا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دعوت دی، ان کو برے انجام سے ڈرایا، ان کو ایمان لانے پر اچھے انجام کی خوشخبری سنائی، ان کے لئے آسانیاں پیدا کیں، ان پڑھ جاہلوں کو علم سکھایا حتی کہ وہ علمائے ربانی بن گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل، اپنے مراسلات اور ایلچیوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے دین کو پہنچا دیا۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف آپ نے امت کی راہنمائی نہ کی ہو اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے آپ نے امت کو ڈرایا نہ ہو۔ آپ کی اس تبلیغ کی گواہی افاضل امت یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے دی اور ان کے بعد ائمہ دین اور مسلمانوں نے دی۔ ﴿وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ﴾ ” اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا۔“ یعنی جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی طرف سے آپ پر اتاری گئی ہے اگر آپ نے اسے لوگوں تک نہ پہنچایا ﴿فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ﴾ ” تو نہیں پہنچایا آپ نے اس کا پیغام“ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرمانبرداری نہیں کی ﴿وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾” اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا“ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت اور لوگوں سے آپ کی حفاظت کا وعدہ ہے۔ آپ کے لئے مناسب یہی ہے کہ آپ تعلیم و تبلیغ پر توجہ مرکوز رکھیں، مخلوق کا خوف آپ کو اس مقصد سے نہ ہٹا دے۔ کیونکہ مخلوق کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اس نے آپ کی حفاظت کا ذمہ لے رکھا ہے اور آپ کی ذمہ داری پہنچا دینا ہے جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو وہ اپنے لئے ہے۔ رہے کفار جن کا خواہشات نفس کی پیروی کے سوا کوئی مقصد نہیں تو ان کے کفر کے سبب سے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے گا، نہ انہیں بھلائی کی توفیق عطا کرے گا۔ المآئدہ
68 یعنی اہل کتاب کی گمراہی کی منادی اور ان کے باطل کا اعلان کرتے ہوئے کہہ دیجیے ! ﴿سْتُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ﴾ ” تم کسی چیز پر نہیں ہو“ یعنی تم کسی بھی دینی اصول پر قائم نہیں ہو۔ تم قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہو نہ تم نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کی تصدیق کی ہے، تم نے حق کو تھاما ہے نہ کسی اصول پر تمہارا اعتماد ہے ﴿حَتَّىٰ تُقِيمُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ﴾” جب تک تم تورات اور انجیل کو قائم نہ رکھو گے۔“ یعنی جب تک کہ تم تورات اور انجیل پر ایمان لا کر ان کو قائم نہ کرو، ان کی اتباع نہ کرو اور جن امور کی طرف یہ دعوت دیتی ہیں ان میں سے ہر چیز کو مضبوطی سے تھام نہ لو اور جب تک کہ تم اس چیز کو قائم نہ کرو ﴿وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ ۗ﴾ ” جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے“ جس نے تمہاری تربیت کی اور تمہیں نعمتوں سے نوازا۔ تم پر اس کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ تمہاری طرف کتابیں نازل فرمائیں۔ پس تم پر فرض ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہو، اس کے احکام کا التزام کرو اور اللہ تعالیٰ کی امانت اور اس کے عہد کی جو ذمہ داری تم پر ڈالی گئی ہے اسے پورا کرو۔ ﴿وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم مَّا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا ۖ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴾” اور جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے، اس سے ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ ہوگا اس لئے آپ کافروں کے گروہ پر متاسف نہ ہوں۔ “ المآئدہ
69 اللہ تبارک و تعالیٰ اہل قرآن، اہل تورات اور اہل انجیل کے بارے میں بیان فرماتا ہے کہ ان سب کی سعادت اور نجات ایک ہی طریقے اور ایک ہی اصول میں ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانا اور نیک عمل کرنا۔۔۔ لہٰذا ان میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اسی کے لئے نجات ہے۔ ان کو کوئی خوف نہ ہوگا، انہیں خوف زدہ کرنے والے امور کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور وہ امور جو وہ پیچھے چھوڑ چکے ہیں ان کے بارے میں غمگین نہ ہوں گے۔۔۔ یہ حکم مذکور تمام زمانوں کو شامل ہے۔ المآئدہ
70 ﴿لَقَدْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾” ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے واجبات کو قائم کرنے کے بارے میں ان سے بھاری عہد لیا جن کے بارے میں گزشتہ صفحات میں ﴿ وَلَقَدْ أَخَذَ اللّٰهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا ۖ۔۔۔ الآیۃ﴾ (المائدہ :5؍12) کی تفسیر کے ضمن میں بحث گزر چکی ہے۔ ﴿وَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ رُسُلًا﴾ ” اور ان کی طرف رسول بھیجے“ جو پے در پے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے اور ان کو رشد و ہدایت کی طرف بلاتے رہتے تھے مگر یہ چیز ان کے کسی کام آئی نہ اس نے کوئی فائدہ دیا﴿كُلَّمَا جَاءَهُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَىٰ أَنفُسُهُمْ﴾” جب لایا کوئی رسول وہ حکم جس کو ان کے نفس نہیں چاہتے تھے“ یعنی حق کو ان کے نفس پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے حق کو جھٹلایا، اس سے عناد رکھا اور اس کے ساتھ بدترین معاملہ کیا ﴿فَرِيقًا كَذَّبُوا وَفَرِيقًا يَقْتُلُونَ﴾” انہوں نے رسولوں کے ایک گروہ کی تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کیا۔ “ المآئدہ
71 ﴿وَحَسِبُوا أَلَّا تَكُونَ فِتْنَةٌ ﴾” اور یہ خیال کرتے تھے کہ کوئی آفت نہیں آنے کی۔“ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی نافرمانی اور ان کی تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب نہیں آئے گا نہ ان کو سزا دی جائے گی اور وہ اپنے باطل پر ہمیشہ قائم رہیں گے ﴿فَعَمُوا وَصَمُّوا﴾ ” پس وہ (حق دیکھنے سے) اندھے اور (حق بولنے سے) گونگے ہوگئے“﴿ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ﴾ ” پھر اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی“ یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے ان لغزشوں کو نظر انداز کردیا جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کی اور اس کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی ﴿ ثُمَّ﴾پھر انہوں نے اس توبہ پر دوام نہ کیا یہاں تک کہ ان کے اکثر لوگ بدترین احوال کی طرف پلٹ گئے ﴿عَمُوا وَصَمُّوا كَثِيرٌ مِّنْهُمْ ۚ﴾ ” ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے۔“ یعنی انہی اوصاف کے ساتھ وہ پھر اندھے اور گونگے ہوگئے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اپنی توبہ اور ایمان پر قائم رہے﴿ وَاللّٰهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ﴾ ” اور اللہ وہ جو کچھ کرتے ہیں، اس کو دیکھتا ہے“ پس اللہ تعالیٰ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہوا تو اچھی جزا ہوگی اور اگر برا عمل ہوا تو بری جزا ہوگی۔ المآئدہ
72 اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے ﴿ إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ﴾ ”بے شک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے“ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے۔۔۔ دراں حالیکہ عیسیٰ علیہ السلام نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا : ﴿يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّـهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ﴾ ” اے نبی اسرائیل ! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے“ مسیح نے اپنے لئے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لئے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔﴿إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ﴾ ” جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو بھی (خواہ وہ عیسیٰ علیہ السلام ہوں یا کوئی اور) اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔“ ﴿فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ﴾” تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے“ کیونکہ اس نے مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرا دیا اور اس چیز کو جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا۔ یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت۔۔۔ اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیر کر غیر اللہ کی طرف کردیا۔۔۔ اس لئے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے ﴿وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ﴾” اور ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہوگا“ جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں یا ان سے اس مصیبت کو دور کرسکیں جو ان پر نازل ہوئی ہے المآئدہ
73 ﴿لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ﴾ ” یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے“ یہ نصاریٰ کا قول ہے جو ان کے ہاں متفق علیہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے یعنی اللہ تعالیٰ، عیسیٰ اور مریم۔۔۔ اللہ ان کے قول باطل سے بالا و بلند تر ہے۔۔۔ یہ نصاریٰ کی کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ انہوں نے اس بدترین قول اور قبیح ترین عقیدے کو کیسے قبول کرلیا؟ ان پر خالق اور مخلوق کیسے مشتبہ ہوگئے؟ جہانوں کا رب ان پر کیسے مخفی رہ گیا؟ اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان جیسے دیگر لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرمایا : ﴿وَمَا مِنْ إِلَـٰهٍ إِلَّا إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۚ﴾ ” اور نہیں ہے کوئی معبود، مگر ایک ہی معبود“ جو ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک ہے، وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ پس اس کے ساتھ غیر اللہ کو کیسے معبود بنایا جاسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : ﴿ وَإِن لَّمْ يَنتَهُوا عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ” اگر وہ اپنے اس عقیدے سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں انہیں ضرور درد ناک عذاب پہنچے گا“ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت دی جو ان سے صادر ہوا اور بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ فرمایا : المآئدہ
74 ﴿ أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ﴾ ” کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے؟“ یعنی وہ اپنی بات کو چھوڑ کر اس چیز کی طرف کیوں نہیں لوٹتے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ ﴿وَيَسْتَغْفِرُونَهُ﴾ اور ان گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے جو ان سے صادر ہوئے ہیں؟﴿وَاللّٰهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ ” اور اللہ تو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کی بلند یوں تک کیوں نہ پہنچے ہوئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے ان پر رحم فرماتا ہے۔ ان کو توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے صادر ہوتی ہے جو لطف و کرم اور مہربانی کی انتہا ﴿أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ ﴾ ” کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے؟“ المآئدہ
75 پھر اللہ تعالیٰ نے جناب مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ کی حقیقت بیان فرمائی جو کہ حق ہے۔ فرمایا : ﴿مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ﴾ ” نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر ایک رسول ہی، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزرے“ یعنی جناب مسیح کے معاملے کی غایت و انتہا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور رسولوں میں سے ایک ہیں جن کو کسی معاملے میں کوئی اختیار نہیں اور نہ وہ تشریع کا کوئی اختیار رکھتے ہیں سوائے اس چیز کے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو مبعوث فرمایا ہے۔ جناب مسیح علیہ السلام بھی ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کو دوسرے رسولوں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل نہیں جو انہیں بشریت سے نکال کر ربوبیت کے مرتبے پر فائز کر دے ﴿وَأُمُّهُ ﴾ ” اور ان کی ماں“ یعنی مریم علیہا السلام ﴿صِدِّيقَةٌ﴾ ” صدیقہ ہیں۔“ یعنی جناب مریم علیہا السلام کی بھی غایت و انتہا یہ ہے کہ صد یقین میں ان کا شمار ہوتا ہے جو انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں سب سے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں۔ صدیقیت وہ علم نافع ہے جس کا ثمرہ یقین اور عمل صالح ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب مریم نبی نہ تھیں۔ ان کا بلند ترین حال صدیقیت ہے اور فضیلت اور شرف کے لئے یہی کافی ہے۔ اسی طرح عورتوں میں سے کوئی عورت نبی مبعوث نہیں ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کامل تر صنف یعنی مردوں ہی میں رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم﴾ (یوسف :12؍109) ” اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ “ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام انبیاء و مرسلین کی جنس میں سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ صدیقہ تھیں تو نصاریٰ نے کس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان دونوں کو بھی الٰہ قرار دے دیا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ﴾” وہ دونوں کھانا کھاتے تھے“ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے فقیر اور محتاج بندے تھے جیسا کہ انسان کھانے پینے کے محتاج ہوتے ہیں۔ پس اگر جناب عیسیٰ اور مریم الٰہ ہوتے تو وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوتے اور کسی چیز کے بھی محتاج نہ ہوتے۔ کیونکہ معبود بے نیاز اور قابل تعریف ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل اور برہان واضح کردی تو فرمایا : ﴿اُنظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَاتِ﴾” کہو ہم کیسے ان کے لئے آیات بیان کرتے ہیں“ جو حق کو واضح کرتی ہیں اور یقین کو منکشف کرتی ہیں۔ بایں ہمہ انہیں کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی بلکہ وہ اپنی بہتان طرازیوں، جھوٹ اور افترا بردازی پر بضد ہیں اور یہ ان کا ظلم اور عناد ہے۔ المآئدہ
76 ﴿قُلْ﴾ یعنی اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دیجیے !﴿ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ﴾ کیا تم اللہ کے سوا مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو محتاج اور فقیر ہیں؟ ﴿مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا﴾” جو تمہارے لئے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے“ اور تم اس ہستی کو چھوڑ دیتے ہو جس اکیلی کے قبضہ قدرت میں نفع و نقصان ہے اور صرف وہی ہستی ہے جو عطا کرتی اور محروم کرتی ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ هُوَ السَّمِيعُ ﴾ ” اور اللہ، وہی سننے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ مخلوق کے اختلافات زبان اور تنوع حاجات کے باوجود سب آوازیں سنتا ہے ﴿الْعَلِيمُ﴾” جاننے والا ہے۔“ وہ ظاہر و باطن، غیب و شہادت اور ماضی اور مستقبل کے امور کو جانتا ہے۔ پس صاحب کمال ہستی جو ان اوصاف کی مالک ہے، وہی عبادت کی تمام انواع اور خالص اطاعت کی مستحق ہے۔ المآئدہ
77 اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا : ﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ ﴾ ” اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلونہ کرو“ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انہوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا ﴿وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِن قَبْلُ﴾ ” اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔“ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ ﴿وَأَضَلُّوا كَثِيرًا ﴾ ” اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔“ یعنی جس دین پر یہ کار بند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کرچکے ہیں ﴿وَضَلُّوا عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ﴾ ” اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔“ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انہوں نے جمع کرلیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ المآئدہ
78 ﴿لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ ” بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی“ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کردیا گیا ﴿ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۚ ۚ﴾” داود اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان پر“ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہوگئی اور انہوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ذٰلِكَ﴾ یعنی کفر اور لعنت ﴿بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ﴾” اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔“ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی، کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔ المآئدہ
79 ان کے وہ گناہ جن کی وجہ سے ان پر سزا ضروری ٹھہری اور جن کی بنا پر ان پر عقوبات واقع ہوئیں، یہ تھے کہ وہ ﴿كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ﴾ ” برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔“ یعنی وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ پس وہ لوگ جو برائی کرتے تھے اور وہ جو برائی نہیں کرتے تھے مگر قدرت رکھنے کے باوجود برائی سے روکتے نہیں تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اسی مشترک سزا کے مستحق قرار پائے۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھتے تھے اور گناہ کا ارتکاب ان کے لئے بہت معمولی بات تھی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے تو اس کی ہتک پر انہیں غیرت آتی اور اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے پر وہ بھی ناراض ہوتے اور قدرت ہونے کے باوجود برائی پر خاموش رہنا اور اس پر نکیر نہ کرنا، سزا کا موجب ہے کیونکہ اس میں بہت بڑے مفاسد پنہاں ہیں، مثلاً (١) برائی پر سکوت اختیار کرنا بذات خود برائی ہے خواہ سکوت اختیار کرنے والا خود برائی میں ملوث نہ ہو۔ اس لئے کہ جس طرح معصیت سے اجتناب فرض ہے اسی طرح برائی کے مرتکب پر نکیر کرنا ضروری ہے۔ (٢) جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ یہ چیز گناہوں کو معمولی سمجھنے اور ان کو زیادہ اہمیت نہ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ (٣) اس طرح فساق و فجار میں کثرت سے گناہ کرنے کی جرأت بڑھ جاتی ہے۔ جب ان کو گناہوں سے روکا نہ جائے تو شر میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ دینی اور دنیاوی مصائب بڑھ جاتے ہیں اور شوکت و غلبہ شر پر لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اہل خیر کمزور پڑجاتے ہیں اور وہ اہل شرکا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ حتی کہ انہیں اتنی سی قدرت بھی حاصل نہیں رہتی جتنی ابتدا میں تھی۔ (٤) منکر پر نکیر ترک کرنے سے علم مٹ جاتا ہے اور جہالت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ جب معصیت بہت سے لوگوں سے بتکرار صادر ہوتی ہے اور اس پر اہل علم اور اہل دین لوگوں کی طرف سے نکیر نہیں ہوتی تو اس کے بارے میں گمان گزرتا ہے کہ یہ معصیت نہیں، بسا اوقات جاہل لوگ اسے مستحسن عبادت سمجھ لیتے ہیں۔ اس سے بڑی کونسی برائی ہوسکتی ہے کہ کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ نفوس پر حقائق بدل جائیں اور انہیں باطل حق نظر آنے لگے۔ (٥) نافرمان لوگوں کی معصیت پر سکوت سے بسا اوقات معصیت لوگوں کے دلوں میں مزین ہوجاتی ہے اور برائی میں لوگ ایک دوسرے کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس لئے کہ انسان اپنے گروہ اور ابنائے جنس کی پیروی کا شیفتہ ہوتا ہے۔ چونکہ یہ برائیوں پر سکوت کی جزا ہے اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منصوص فرمایا کہ کفار بنی اسرائیل انہی لوگوں میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی اور تعدی کی بنا پر ان پر لعنت کی اور ان برائیوں میں سے اس برائی کو مخصوص ﴿ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ﴾” البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔ “ المآئدہ
80 ﴿تَرَىٰ كَثِيرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ﴾” آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کافروں کو دوست رکھتے ہیں“ یعنی ان کے ساتھ محبت اور موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں ﴿ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنفُسُهُمْ﴾” برا ہے وہ جو ان کے نفسوں نے ان کے لئے آگے بھیجا“ یعنی انہوں نے گھٹیا مال پیش کیا اور خسارے کا سودا کیا۔۔۔ اور یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضی جس کے ناراض ہونے سے کائنات کی ہر چیز ناراض ہوجاتی ہے اور جس کی ناراضی کا نتیجہ عذاب عظیم میں خلود اور دوام ہے۔ پس ان کے نفسوں نے ان پر ظلم کیا کہ انہوں نے یہ بری مہمانی آگے بھیجی اور انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انہوں نے انہیں ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم کردیا۔ المآئدہ
81 ﴿وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ أَوْلِيَاءَ﴾” اگر وہ اللہ پر، پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے، ایمان رکھتے تو ان کو دوست نہ بناتے۔‘‘اس لئے کہ اللہ تعالیٰ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور کتاب اللہ پر ایمان بندے پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے رب اور اس کے اولیا کے ساتھ موالات رکھے اور ان لوگوں سے عداوت رکھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر ک اور اس سے عداوت رکھی اور اس کی نافرمانیوں میں پڑگئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت، موالات اور اس پر ایمان کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو دوست نہ بنایا جائے۔ چونکہ ان میں مطلوبہ شرط موجود نہیں اس لئے یہ چیز مشروط کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا﴿وَلَـٰكِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ﴾ ” لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں“ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس پر اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کے دائرے سے خارج ہیں اور ان کے فسق میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے موالات رکھتے ہیں۔ المآئدہ
82 اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے﴿لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا ۖ﴾ ” آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو“ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لئے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں۔ ﴿وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ﴾” اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں“ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرماتے ہیں : (١) ﴿مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا﴾ ” یہ اس لئے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔“ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں، کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کو زائل کردیتی ہے۔ بنا بریں ان کے اندر یہود کی سی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (٢) ﴿وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ﴾ ” اور وہ تکبر نہیں کرتے۔“ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔ المآئدہ
83 اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ﴾” جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی“ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں، آنسو جاری ہوجاتے ہیں، پس اسی لئے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا : ﴿رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ﴾” اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔“ اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں۔ وہ عادل ہیں اور انکی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۗ ﴾(البقرہ :2؍ 143) ” اور اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔ “ المآئدہ
84 گویا انہیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انہوں نے اس کے جواب میں کہا : ﴿وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ﴾” اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ درآں حالیہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آگیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں؟ المآئدہ
85 اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَأَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوا﴾” پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا“ یعنی انہوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی ﴿جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ ﴾ ” باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا“ یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں۔ المآئدہ
86 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لئے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لئے عذاب کا ذکر کیا۔ ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ﴾ ” اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں“ کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔ المآئدہ
87 ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ﴾” اے ایمان والو ! جن پاکیزہ چیزوں کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے، تم انہیں حرام مت کرو“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ماکولات و مشروبات میں جو چیزیں حلال ٹھہرا رکھی ہیں، انہیں حرام نہ ٹھہراؤ۔ کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو اس نے تمہیں عطا کی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو کیونکہ اس نے تمہارے لئے ان نعمتوں کو حلال ٹھہرایا اور اس کا شکر ادا کرو۔ کفران نعمت، عدم قبول اور ان کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے ان نعمتوں کو نہ ٹھکراؤ ورنہ تم کفران نعمت اور اللہ تعالیٰ پر افتراپردازی کے ساتھ حلال کو حرام اور ناپاک قرار دینے کے مرتکب بھی ٹھہر و گے۔۔۔ اور یہ حد سے تجاوز ہے اور اللہ تعالیٰ نے حد سے بڑھنے سے منع فرمایا ہے ﴿وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ﴾ ” اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا‘‘ بلکہ ان سے ناراض ہوتا ہے اور اس پر ان کو سزا دے گا۔ المآئدہ
88 پھر اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کے طریقے کے برعکس جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا، حکم دیا﴿وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلَالًا﴾ ” اور جو حلال طیب روزی اللہ نے تمہیں دی ہے اسے کھاؤ۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس رزق میں سے کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے تمہاری طرف بھیجا ہے جو تمہیں میسر ہیں۔ بشرطیکہ یہ رزق حلال ہو اور چوری یا غصب شدہ وغیرہ مال میں سے نہ ہو جو ناحق حاصل کیا گیا ہوتا ہے، نیزہ وہ پاک بھی ہو یعنی اس میں کوئی ناپاکی نہ ہو۔ اس طرح درندے اور دیگر ناپاک چیزیں اس دائرے سے نکل جاتی ہیں۔ ﴿وَاتَّقُوا اللَّـهَ﴾ ” اور اللہ سے ڈرتے رہو۔“ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی منہیات کے اجتناب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿الَّذِي أَنتُم بِهِ مُؤْمِنُونَ﴾ ” وہ اللہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو“ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان تم پر تقویٰ اور حقوق اللہ کی رعایت و حفاظت واجب کرتا ہے کیونکہ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی حلال چیز مثلاً ماکولات، مشروبات یا لونڈی وغیرہ کو حرام ٹھہرا لیتا ہے تو یہ چیز اس کے حرام ٹھہرا لینے سے حرام نہیں ہوجاتی۔ البتہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو قسم کا کفارہ واجب ہوجائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾ (التحریم :66؍1) ” اے نبی ! آپ اس چیز کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لئے حلال قرار دی ہے؟“ مگر بیوی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہرانے سے ظہار کا کفارہ لازم آئے گا۔ [اس مسئلے میں کافی اختلاف ہے، ایک رائے یہ بھی ہے جس کا اظہا رفاضل مفسر رحمتہ اللہ علیہ نے کیا ہے، دوسری رائے یہ ہے کہ اس میں کفارہ یمین ہے (اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے، واللہ اعلم) اور تیسری رائے ہے کہ اس میں سرے سے کوئی کفارہ ہی نہیں ہے۔ امام ابن قیم اور امام ابن کثیر کا رجحان دوسری رائے کی طرف اور امام شوکانی کا تیسری رائے کی طرف ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے تفسیر فتح القدیر، آیت زیر بحث زاد المعاد، ج :5؍ 302۔312، فتح الباری، کتاب الطلاق، والروضۃ الندیہ، ج : 2، کتاب الطلاق وغیر ھامن الکتب (ص۔ ی) ] اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ پاک چیزوں سے اجتناب کرے اور انہیں اپنے آپ پر حرام ٹھہرا لے بلکہ وہ انہیں استعمال کرے اور اس طرح اطاعت الٰہی پر ان سے مدد لے۔ المآئدہ
89 یعنی تمہاری ان قسموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ تمہارا مؤاخذہ نہیں کرے گا جو تم سے لغواً صادر ہوتی ہیں۔ اس سے مراد وہ قسمیں ہیں جو انسان بغیر کسی نیت اور ارادے کے کھا لیتا ہے یا یہ سمجھتے ہوئے کھاتا ہے کہ وہ سچا ہے مگر معاملہ اس کے برعکس نکلتا ہے : ﴿وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ﴾ ” لیکن پکڑتا ہے ان قسموں پر جن کو تم نے مضبوط باندھا“ یعنی جس کا تم عزم کرلیتے ہو اور جس پر تمہارے دل جم جاتے ہیں۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ﴾ (البقرہ :2؍225) ” مگر وہ قسمیں جو تم دلی ارادے سے کھاتے ہو، ان پر تمہارا مؤاخذہ کرے گا۔ “ ﴿فَكَفَّارَتُهُ﴾” تو اس کا کفارہ“ یعنی ان قسموں کا کفارہ جو تم قصد اور ارادے سے کھاتے ہو﴿إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ﴾” دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے“ اور یہ کھانا ﴿مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ ﴾ ” اوسط درجے کا کھانا جو تم کھلاتے ہو اپنے گھر والوں کو“ ﴿أَوْ كِسْوَتُهُمْ﴾” یا ان دس مسکینوں کو لباس پہنانا ہے“ اور یہاں لباس سے مراد کم از کم اتنا لباس ہے جس سے نماز ہوجاتی ہے ﴿أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ﴾ ” یا ایک گردن آزاد کرنی ہے“ یعنی مومن غلام جیسا کہ بعض دیگر مقام پر اسے ایمان کے ساتھ مقید کیا گیا ہے۔ جب ان مذکورہ تینوں صورتوں میں سے کسی ایک پر عمل کرلے تو اس کی قسم کا کفارہ ادا ہوجائے گا ﴿فَمَن لَّمْ يَجِدْ﴾” اور جس کو یہ میسر نہ ہو۔“ یعنی جب کوئی ان تینوں صورتوں میں سے کسی پر بھی عمل کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ﴿فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ﴾ ” تو تین دن کے روزے رکھنے ہیں“ ﴿ذٰلِكَ﴾ یعنی یہ مذکورہ صورت﴿كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ﴾ ” تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھالو۔“ یہ ان کو مٹا دیتا ہے اور گناہ کو ختم کردیتا ہے۔ ﴿وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ﴾” اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔“ اللہ تعالیٰ کے نام پر جھوٹے اور کثرت سے حلف اٹھانے سے اپنی قسموں کی حفاظت کرو اور جب تم حلف اٹھا ہی لو پھر ٹوٹنے سے اس کو بچاؤ۔ سوائے اس کے کہ قسم توڑنے میں کوئی بھلائی ہو۔ پس قسم کی کامل حفاظت یہ ہے کہ انسان بھلائی پر عمل کرے اور اس کی قسم بھلائی کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔ ﴿كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ آيَاتِهِ ﴾ ” اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لئے اپنی آیات“ جو حلال و حرام کو بیان کرنے والی اور احکام کو واضح کرنے والی ہیں ﴿لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ ” شاید تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بنو“ کہ اس نے تمہیں وہ کچھ سکھایا جو تم نہیں جانتے تھے۔ پس بندہ مومن پر اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہے کہ اس نے احکام شریعت کی معرفت اور ان کی توضیحات سے نوازا۔ المآئدہ
90 اللہ تبارک و تعالیٰ ان مذکورہ قبیح اشیا کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ یہ شیطانی اور گندے کام ہیں۔﴿فَاجْتَنِبُوهُ﴾” پس بچو ان سے“ یعنی ان گندے کاموں کو چھوڑ دو ﴿لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ ” تاکہ تم فلاح پاؤ“ کیونکہ فلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ ان چیزوں سے اجتناب نہ کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ خاص طور پر مذکوہ فواحش : (الف) خمر : ہر وہ چیز خمر ہے جو عقل کو ڈھانپ لے یعنی عقل پر نشے کا پردہ ڈال دے۔ (ب) جوا : وہ تمام مقابلے جن میں جانبین کی طرف سے جیتنے والے کے لئے عوض مقرر کیا گیا ہو، مثلاً گھوڑ دوڑ وغیرہ کی شرط۔ (ج) انصاب : اس سے مراد وہ بت وغیرہ ہیں جن کو نصب کردیا جاتا ہے اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کی جاتی ہے۔ (د) پانسے : جن کے ذریعے سے لوگ اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں۔ یہ وہ چار چیزیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اور ان کے ارتکاب پر زجر و توبیخ کی ہے اور ان کے ان مفاسد سے آگاہ فرمایا جو ان کو ترک کرنے اور ان سے اجتناب کے داعی ہیں۔ (١) یہ تمام امور (رجس) یعنی ناپاک ہیں۔ اگرچہ حسی طور پر یہ ناپاک نہیں مگر معنوی طور پر ناپاک ہیں اور ناپاک امور سے بچنا اور ان کی گندگی میں ملوث ہونے سے اجتناب کرنا ہی مناسب ہے۔ (٢) یہ تمام امور شیطانی اعمال ہیں اور شیطان انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ دشمن سے ہمیشہ دور رہا جاتا ہے اور اس کی گھاتوں اور سازشوں سے بچا جاتا ہے خاص طور پر ان اعمال سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں دشمن ملوث کر کے ہلاک کرنے کی کوشش کرتا ہے اور سب سے بڑی احتیاط یہ ہے کہ اپنے کھلے دشمن کے اعمال سے دور رہ کر اس سے بچنا چاہئے اور ان اعمال میں پڑنے سے ڈرنا چاہئے۔ (٣) مذکورہ امور سے اجتناب کئے بغیر بندے کی فلاح ممکن نہیں، فلاح، امر مطلوب کے حصول میں کامیابی اور امر مر ہوب سے نجات کا نام ہے اور یہ تمام امور فلاح سے مانع اور اس کے لئے رکاوٹ ہیں۔ (٤) مذکورہ اعمال لوگوں کے درمیان بغض اور عداوت کے موجب ہیں۔ شیطان ان اعمال کو لوگوں کے درمیان پھیلانے کا بڑا حریص ہے، خاص طور پر شراب اور جوا۔ تاکہ وہ اہل ایمان کے درمیان بغض اور عداوت کا بیج بو سکے۔ کیونکہ شراب پینا، عقل میں فتور آنے کا، ہوش و حواس کے چلے جانے کا اور مومن بھائیوں کے درمیان بغض اور عداوت پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے خاص طور پر جبکہ اس کے ساتھ وہ اسباب بھی موجود ہوں جو شراب پینے والے کے لوازم میں شمار ہوتے ہیں۔ تب یہ شراب نوشی بسا اوقات قتل کے اقدام تک پہنچا دیتی ہے۔ جوئے میں ایک شخص کو دوسرے شخص پر جو جیت حاصل ہوتی ہے اور وہ بغیر کسی مقابلہ کے بہت سامال حاصل کرلیتا ہے تو یہ چیز بغض و عداوت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ (٥) مذکورہ اعمال قلب کو ذکر الٰہی سے روکتے ہیں اور بدن کو ذکر اور نماز سے دور کردیتے ہیں۔ حالانکہ یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کے لئے بندے کو تخلیق کیا گیا ہے اور انہی دو امور میں بندے کی سعادت ہے۔ المآئدہ
91 شراب اور جوا تو ذکر الٰہی اور نماز کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قلب مشغول ہوجاتا ہے اور ذہن شراب اور جوئے میں مشغول ہو کر غافل ہوجاتا ہے یہاں تک کہ طویل مدت اس پر گزر جاتی ہے اور انسان کو ہوش تک نہیں رہتا کہ وہ کہاں ہے۔ پس کون سا گناہ اس گناہ سے بڑھ کر قبیح ہے جو انسان کو ناپاک کر کے ناپاک لوگوں میں شامل کر دے اور وہ اسے شیطان کے اعمال اور اس کے مکرو فریب کے جال میں پھنسا دے اور وہ شیطان کا اس طرح مطیع ہوجائے جس طرح مویشی چروا ہے کے مطیع ہوتے ہیں۔ شیطان بندے اور اس کی فلاح کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ اہل ایمان کے درمیان بغض اور عداوت کا بیج بوتا ہے اور انہیں ذکر الٰہی اور نماز سے روکتا ہے۔ (کیا یہ مفاسد جو مذکور ہوئے، کم ہیں؟) اور کیا ان مفاسد سے بڑھ کر بھی کوئی چیز ہے جو ان سے بڑی ہو؟ بنابریں اللہ تعالیٰ نے عقل سلیم کو ان چیزوں سے روکتے ہوئے فرمایا ﴿ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ﴾” کیا تم باز آتے ہو؟“ کیونکہ ایک عقل مند شخص جب ان مفاسد میں سے کسی ایک پر نظر ڈالتا ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور اپنے آپ کو ان برائیوں کے ارتکاب سے باز رکھتا ہے۔ اسے کسی لمبے چوڑے وعظ اور بہت زیادہ زجر و توبیخ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ المآئدہ
92 اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ایک ہی چیز کا نام ہے جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے اور جو کوئی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ یہ اطاعت اس بات کو متضمن ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی تعمیل کی جائے۔ یعنی ظاہری و باطنی اعمال و اقوال، حقوق اللہ اور حقوق مخلوق سے متعلق واجب اور مستحب اعمال بجالائے جائیں اور اس امر کو متضمن ہے کہ ان امور سے اجتناب کیا جائے جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم ایک عام حکم ہے جو تمام احکام کو شامل ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس میں تمام اوامرونواہی اور ظاہر و باطن شامل ہیں۔ فرمایا : ﴿وَاحْذَرُوا ﴾” اور ڈرتے رہو۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی سے بچو، کیونکہ یہ نافرمانی شر اور واضح خسارے کی موجب ہے﴿فَإِن تَوَلَّيْتُمْ﴾ ” پس اگر تم اعراض کرو“ یعنی جس چیز کا تمہیں حکم دیا گیا اور جس چیز سے تمہیں روکا گیا ہے اگر تم اس کی تعمیل کرنے سے گریز کرو ﴿فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴾ ” تو جان لو کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے“ اور اس نے یہ فریضہ ادا کردیا ہے۔ اگر تم راہ راست اختیار کرتے ہو تو اس کا فائدہ تمہارے لئے ہے اور اگر تم برائیوں کا ارتکاب کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارا محاسبہ کرے گا۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ جو کچھ تھا وہ انہوں نے پہنچا دیا۔ المآئدہ
93 جب شراب کی تحریم، ممانعت کی تاکید اور اس کی بابت سخت حکم نازل ہوا، تو بہت سے اہل ایمان کی خواہش تھی کہ انہیں اپنے ان مومن بھائیوں کے بارے میں معلوم ہو جو حالت اسلام میں فوت ہوئے اور شراب کی تحریم سے قبل وہ شراب پیا کرتے تھے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ﴾ ” جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں۔“ یعنی ان پر گناہ اور حرج نہیں ہے ﴿فِيمَا طَعِمُوا ﴾ ” اس میں جو کچھ پہلے کھاچکے“ یعنی شراب اور جوئے کی تحریم سے قبل وہ شراب پیا کرتے تھے۔ چونکہ نفی حرج مذکورہ اشیا وغیرہ کو شامل ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کو مقید فرمایا ﴿إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ ” جب کہ وہ آئندہ کو ڈر گئے اور ایمان لائے اور نیک عمل کئے“ یعنی اس شرط کے ساتھ کہ وہ گناہوں کو ترک کریں اللہ تعالیٰ پر ایسا صحیح ایمان رکھیں جو عمل صالح کا موجب ہوتا ہے۔ پھر اس پر ہمیشہ قائم رہیں۔۔۔ ورنہ بندہ کبھی اس صفت سے متصف ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔ یہ ایمان اس وقت تک کافی نہیں جب تک کہ اس پر دوام نہ ہو اور اسی حالت میں اس کو موت نہ آئے۔ نیز نیک اعمال پر اس کا دوام ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اچھے طریقے سے اپنے خلاق کی عبادت کرنے والے نیکو کاروں کو پسند کرتا ہے اور وہ بندوں کو نفع پہنچانے کو پسند کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں وہ شخص بھی شامل ہے جو تحریم کے نازل ہونے کے بعد کوئی حرام کردہ چیز کھاتا ہے یا کسی حرام فعل کا ارتکاب کرتا ہے، پھر اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے تو بہ کرلیتا، تقویٰ اختیار کرلیتا ہے اور نیک کام کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا اور اس بارے میں اس کے گناہ کا بوجھ ہٹا دے گا۔ المآئدہ
94 اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ قضا و قدر کے اعتبار سے یہ فعل سر انجام دے گا، تاکہ وہ اس کی اطاعت کریں اور بصیرت کے ساتھ آگے آئیں اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ فرمایا : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ﴾” اے ایمان والو !“ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کا امتحان لے ﴿لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَيْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ﴾ ” البتہ ضرور آزمائے گا تم کو اللہ ایک بات سے ایک شکار میں“ یعنی کسی زیادہ بڑی چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں آزمائے گا بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر تخفیف کرتے ہوئے بہت معمولی سی چیز کے ذریعے سے تمہارا امتحان لے گا۔ یہ شکار ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں آزمائے گا﴿تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ﴾” جس پر پہنچتے ہیں تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے“ یعنی تم اس کے شکار پر متمکن ہوتے ہوتا کہ اس طرح آزمائش مکمل ہوجائے۔ اگر ہاتھ یا نیزے کے ذریعے سے شکار قدرت و اختیار میں نہ ہو تو آزمائش کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آزمائش کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ﴾” تاکہ جان لے اللہ“ یعنی ایسا جاننا جو مخلوق پر ظاہر ہو اور اس پر ثواب و عذاب مترتب ہوتا ہو ﴿مَن يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ﴾ ” کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے۔“ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، اس پر قدرت و اختیار ہونے کے باوجود وہ اس سے رک جاتا ہے، تو وہ اسے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے، اس کے برعکس وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے غائبانہ طور پر ڈرتا ہے نہ اس کی نافرمانی سے باز آتا ہے، اس کے سامنے شکار آجاتا ہے، اگر اس پر قابو پا سکتا ہے تو اس کو شکار کرلیتا ہے۔ ﴿فَمَنِ اعْتَدَىٰ﴾ ” تو جو زیادتی کرے۔“ یعنی تم میں سے جو کوئی حد سے تجاوز کرے گا ﴿بَعْدَ ذٰلِكَ﴾ ” اس کے بعد“ یعنی اس بیان کے بعد جس نے ہر قسم کی حجت کو باطل کر کے راستے کو واضح کردیا ﴿فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ” پس اس کے لئے انتہائی درد ناک عذاب ہے“ جس کا وصف اللہ کے سوا کوئی بیان نہیں کرسکتا۔ کیونکہ حد سے تجاوز کرنے والے اس شخص کے لئے کوئی عذر نہیں۔ اعتبار اس شخص کا ہے جو لوگوں کی عدم موجودگی میں غائبانہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ رہا لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے خوف کا اظہار کرنا تو یہ کبھی کبھی لوگوں کے خوف کی وجہ سے بھی ہوتا ہے تب اس پر کوئی ثواب نہیں۔ المآئدہ
95 پھر اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کر کے شکار کرنے کو حرام قرار دے دیا۔ چنانچہ فرمایا : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ﴾” اے ایمان دارو ! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا۔“ یعنی جب تم نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا ہوا ہو۔ شکار مارنے کی ممانعت، شکار مارنے کے مقدمات کی ممانعت کو بھی شامل ہے۔ جیسے شکار مارنے میں اشتراک، شکار کی نشاندہی کرنا اور شکار کرنے میں اعانت کرنا، احرام کی حالت میں سب ممنوع ہے۔ حتی ٰکہ محرم کو وہ شکار کھانا بھی ممنوع ہے جو اس کی خاطر شکار کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ اس عظیم عبادت کی تعظیم کے لئے ہے جس کی خاطر محرم کے لئے اس شکار کو مارنا حرام کیا گیا ہے جو احرام باندھنے سے پہلے تک اس کے لئے حلال تھا۔ ﴿وَمَن قَتَلَهُ مِنكُم مُّتَعَمِّدًا﴾ ” اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے۔“ یعنی اس نے جان بوجھ کر شکار مارا ﴿فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾” تو اس پر بدلہ ہے اس مارے ہوئے کے برابر مویشی میں سے“ یعنی اس پر لازم ہے کہ اونٹ، گائے اور بکری کا فدیہ دے۔ شکار کے بارے میں دیکھا جائے گا کہ وہ کس شےسے مشابہت رکھتا ہے تو اس جیسا مویشی ذبح کر کے صدقہ کیا جائے گا اور مماثلت کی تعیین میں کس کا فیصلہ معتبر ہوگا؟ ﴿يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ ” تم میں سے دو عادل شخص اس کا فیصلہ کریں گے“ یعنی دو عادل اشخاص جو فیصلہ کرنا جانتے ہوں اور وجہ مشابہت کی بھی معرفت رکھتے ہوں جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا۔ انہوں نے کبوتر کا شکار کرنے پر بکری، شتر مرغ کا شکار کرنے پر اونٹنی اور نیل گائے کی تمام اقسام پر گائے ذبح کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی طرح تمام جنگلی جانور جو مویشیوں میں کسی کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں، تو فدیہ کے لئے وہی اس کے مماثل ہیں۔ اگر کوئی مشابہت نہ ہو تو اس میں قیمت ہے۔ جیسا کہ تلف شدہ چیزوں میں قاعدہ ہے۔ یہ بھی لازم ہے کہ یہ ہدی بیت اللہ پہنچے ﴿هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ﴾” وہ جانور بطور قربانی پہنچایا جائے کعبے تک“ یعنی اس کو حرم کے اندر ذبح کیا جائے ﴿أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ﴾” یا اس جزا کا کفارہ چند مساکین کو کھانا کھلانا ہے“ یعنی مویشیوں میں سے مماثل کے مقابلے میں مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔ بہت سے علماء کہتے ہیں کہ جزا یوں پوری ہوگی کہ مماثل مویشی کی قیمت کے برابر غلہ وغیرہ خریدا جائے اور ہر مسکین کو ایک مدگیہوں، یا گیہوں کے علاوہ کسی دوسری جنس میں سے نصف صاع دیا جائے ﴿أَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ﴾” یا اس کھانے کے بدل میں“ ﴿صِيَامًا﴾” روزے رکھے۔“ یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانے کے بدلے میں ایک روزہ رکھے ﴿لِّيَذُوقَ﴾” تاکہ چکھے وہ“ اس مذکورہ جزا کے وجوب کے ذریعے﴿ وَبَالَ أَمْرِهِ﴾ ” سزا اپنے کام کی“ ﴿وَمَنْ عَادَ﴾ ” اور پھر جو کرے گا“ یعنی اس کے بعد ﴿فَيَنتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ ۗ وَاللّٰهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ ﴾ ” تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا اور اللہ تعالیٰ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔ “ المآئدہ
96 اللہ تبارک و تعالیٰ نے جان بوجھ کر شکار مارنے پر اس کی سزا کی صراحت کی ہے باوجود اس بات کے کہ بدلہ تو ہر غلطی کا ضروری ہوتا ہے، چاہے اس کا مرتکب جان بوجھ کر کرے یا غلطی سے، جیسا کہ شرعی قاعدہ ہے کہ جان اور مال کو تلف کرنے والے پر ضمان لازم ہے خواہ کسی بھی حال میں اس سے یہ اتلاف صادر ہوا ہو جبکہ یہ اتلاف ناحق ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بدلہ اور اتنقام مرتب کیا ہے اور یہ سب جان بوجھ کر کرنے والے کے لئے ہے، لیکن غلطی سے کرنے والے کے لئے سزا نہیں ہے، صرف بدلہ ہے۔ یہی جمہور علماء کی رائے ہے، مگر صحیح وہی ہے جس کی آیت کریمہ نے تصریح کی ہے کہ جس طرح بغیر جانے بوجھے اور بغیر ارادے کے شکار مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں اسی طرح اس پر جزا بھی لازم نہیں ہے۔ چونکہ شکار کا اطلاق بری اور بحری دونوں قسم کے شکار پر ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سمندری شکار کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا : ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ﴾ ” احرام کی حالت میں تمہارے لئے سمندر کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال ہے“ اور ” سمندر کے شکار“ سے مراد سمندر کے زندہ جانور ہیں اور (طعام) ” اس کے کھانے“ سے مراد سمندر میں مرنے والے سمندری جانور ہیں۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرے ہوئے بحری جانور بھی حلال ہیں۔ ﴿مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ﴾ ” تمہارے فائدے کے لئے اور مسافروں کے لئے“ یعنی اس کی اباحت میں تمہارے لئے فائدہ ہے تاکہ تم اور تمہارے وہ ساتھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو تمہارے ساتھ سفر کرتے ہیں ﴿وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا﴾ ” اور جب تک تم احرام کی حالت میں ہو، تم پر خشکی (جنگل) کا شکار حرام ہے۔“ یہاں لفظ ’’شکار“ سے یہ مسئلہ اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ شکار کیا ہوا جانور جنگلی ہو، کیونکہ پالتو اور گھریلو جانور پر شکار کا اطلاق نہیں ہوتا۔ نیز یہ ایسا جانور ہو جس کا گوشت کھایا جاتا ہو کیونکہ جس جانور کا گوشت کھایا نہ جاتا ہو اس کو شکار نہیں کیا جاتا اور نہ اس پر ” شکار“ کا اطلاق ہی کیا جاتا ہے۔ ﴿وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾” اور اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کئے جاؤ گے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر عمل کر کے اور جس چیز سے روکا ہے اس کو ترک کر کے تقویٰ اختیار کرو اور اپنے اس علم سے حصول تقویٰ میں مدد لو کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھا کیا جائے گا اور وہ تمہیں اس بات کی جزا دے گا کہ آیا تم نے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کیا تھا۔ تب وہ تمہیں بہت زیادہ ثواب سے نوازے گا یا اگر تقویٰ کو اختیار نہیں کیا تب اس صورت میں وہ تمہیں سخت سزا دے گا۔ المآئدہ
97 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ﴿جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ ﴾ ” اس نے کعبہ یعنی محترم گھر کو لوگوں کے لئے قیام کا باعث بنایا۔“ یعنی اس کی تعظیم کے قیام کے ساتھ ان کا دین اور دنیا قائم ہیں۔ کعبہ کے ساتھ ان کے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں۔ اس گھر کا قصد کرنے سے بہت زیادہ نوازشیں اور بہت زیادہ احسانات حاصل ہوتے ہیں۔ اسی کعبہ کے سبب سے اموال خرچ کئے جاتے ہیں اور اسی کی خاطر بڑے بڑے اہوال میں گھسا جاتا ہے۔ اس محترم گھر میں دور دور سے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں، مصالح عامہ میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں، ان کے درمیان ان کے دینی اور دنیاوی مفادات کے ضمن میں رابط اسوتار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿لِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾(الحج:22؍28)” تاکہ وہ اپنے فائدے کے کاموں میں حاضر ہوں اور قربانی کے چند معلوم دنوں میں ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کئے ہیں۔ “ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس محترم گھر کو لوگوں کے لئے اجتماعی زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ ہر سال بیت اللہ کا حج کرنا فرض کفایہ ہے۔ اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو تمام وہ لوگ گناہ گار ٹھہریں گے جو حج کرنے کی قدرت رکھتے ہیں بلکہ اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو ان کی اجتماعی زندگی کا سہارا ختم ہوجائے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی۔ ﴿وَالْهَدْيَ وَالْقَلَائِدَ﴾ ” اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں۔“ یعنی اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں اور پٹے والے جانوروں کو جو کے قربانی کی بہترین قسم ہے، لوگوں کے گزارے کا ذریعہ بنایا۔ لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں۔ ﴿ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَنَّ اللَّـهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾ ” یہ اس لئے تاکہ تم جان لو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ آسمان و زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے“ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے تمہارے لئے یہ محترم گھر بنایا کیونکہ وہ تمہارے دینی اور دنیاوی مصالح کا علم رکھتا ہے۔ المآئدہ
98 ﴿اعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ ” جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے“ یعنی ان دونوں امور کے بارے میں جزم و یقین کے ساتھ تمہارے دلوں میں علم موجود ہے۔ یہ حقیقت ہمیشہ تمہیں معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو دنیا میں اور آخرت میں سخت عذاب دینے والا ہے اور وہ ان لوگوں کو بخش دینے والا اور ان پر بہت رحم کرنے والا ہے جو توبہ کر کے اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ پس اس کے عذاب کا خوف اور اس کی بخشش اور ثواب کی امید اس علم کے ثمرات ہیں اور تم خوف اور امید کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہو، المآئدہ
99 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ مَّا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ﴾ ” رسول کے ذمے صرف پہنچا دینا ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسے حکم دیا گیا، آپ نے پہنچا دیا۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کردی اور اس کے سوا دیگر معاملات میں آپ کو کوئی اختیار نہیں ﴿وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ﴾ ” اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو“ اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔ المآئدہ
100 ﴿قُل﴾ ” کہہ دیجیے“ یعنی لوگوں کو شر سے ڈراتے ہوئے اور ان کو بھلائی کی ترغیب دیتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ﴾ ” ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں۔“ یعنی ہر چیز میں اچھے اور برے برابر نہیں ہوسکتے۔ ایمان اور کفر، اطاعت اور معصیت، اہل جنت اور اہل جہنم، اعمال خبیثہ اور اعمال صالحہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح حرام مال اور حلال مال کے درمیان کوئی مساوات نہیں۔ ﴿وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ﴾” اگرچہ ناپاک کی کثرت آپ کو بھلی لگے“ کیونکہ ناپاک چیز کی کثرت اپنے مالک کو کوئی فائدہ نہیں دیتی بلکہ دین و دنیا میں اسے نقصان دیتی ہے ﴿فَاتَّقُوا اللَّـهَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴾” پس اے عقل مندو ! اللہ سے ڈرو، تاکہ تم فلاح پاؤ“ پس اللہ تعالیٰ نے عقل مندوں، یعنی پوری عقل اور کامل رائے کے حامل لوگوں کو حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خطاب کا رخ انہی لوگوں کی طرف ہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی پروا کی جاتی ہے اور انہی میں خیر کی امید ہوتی ہے اور ان کو آگاہ فرمایا ہے کہ فلاح تقویٰ پر موقوف ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی میں اس کی موافقت کا نام ہے۔ پس جس نے تقویٰ اختیار کیا اس نے پوری فلاح پالی۔ جس نے تقویٰ کو ترک کردیا، اس کے نصیب میں خسارہ آیا اور نفع سے محروم رہ گیا۔ المآئدہ
101 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کرنے سے منع کرتا ہے جن کو اگر ان کے سامنے بیان کردیا جائے تو ان کو بری لگیں گی اور ان کو غمزدہ کردیں گی مثلاً بعض مسلمانوں نے اپنے آباء و اجداد کے بارے میں سوال کیا تھا کہ آیا وہ جنت میں ہیں یا جہنم میں۔ اگر اس قسم کے سوال پر سائل کو واضح جواب دیا جائے تو بسا اوقات اس میں بھلائی نہیں ہوتی مثلاً غیر واقع امور کے بارے میں ان کا سوال کرنا، یا ایسا سوال کرنا جس کی بنا پر کوئی شرعی شدت مترتب ہو اور بسا اوقات اس سوال کی وجہ سے امت حرج میں مبتلا ہوجاتی ہے یا کوئی اور لا یعنی سوال کرنا۔ یہ سوالات اور اس قسم کے دیگر سوالات ممنوع ہیں۔ رہا وہ سوال جس کے ساتھ مذکورہ بالا چیزوں کا تعلق نہ ہو، تو وہ مامور بہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾(النحل :16؍43) ” اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔ “ ﴿وَإِن تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا ۗ ﴾ ” اور اگر پوچھو گے یہ باتیں، ایسے وقت میں کہ قرآن نازل ہو رہا ہے، تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی“ یعنی جب تمہارا سوال اس کے محل نزول سے موافقت کرے اور تم اس وقت سوال کرو جب تم پر قرآن نازل کیا جا رہا ہو اور تم کسی آیت میں اشکال کے بارے میں سوال کرو یا کسی ایسے حکم کے بارے میں سوال کرو جو تم پر مخفی رہ گیا ہو اور یہ سوال کسی ایسے وقت پر ہو جب آسمان سے وحی کے نزول کا امکان ہو تو تم پر ظاہر کردیا جائے گا۔ یعنی اس کو تمہارے سامنے واضح کردیا جائے گا ورنہ جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ خاموش ہے تم بھی خاموش رہو۔ ﴿ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا﴾ ” اللہ نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معاف کرتے ہوئے سکوت سے کام لیا۔ پس وہ معاملہ جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے سکوت اختیار کیا ہو وہ معاف ہے اور مباحات کے زمرے میں آتا ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴾” اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے۔“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ سے مغفرت کی صفت سے موصوف، حلم اور احسان میں معروف ہے۔ پس اس سے اس کی مغفرت اور احسان کا سوال کرو اور اس سے اس کی رحمت اور رضا طلب کرو۔ المآئدہ
102 یہ سوالات جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے۔ ﴿قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِّن قَبْلِكُمْ﴾ ” تحقیق پوچھ چکی ہے یہ باتیں ایک جماعت تم سے پہلے“ یعنی اس جنس کے اور اسی قسم کے سوالات تھے۔ ان کا سوال طلب رشد کے لئے نہ تھا بلکہ تلبیس کی خاطر تھا۔ جب ان کے سوال کا جواب واضح ہو کر ان کے سامنے آگیا﴿ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ ﴾ ” تو وہ ان کے ساتھ کفر کرنے والے ہوگئے“ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا ” جب میں تمہیں کسی چیز سے روک دوں تو اس سے اجتناب کرو اور جب کسی کام کے کرنے کا حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس حکم کی تعمیل کرو کیونکہ تم سے پہلے قومیں کثرت سوال اور اپنے نبیوں سے اختلاف کرنے کی بنا پر ہلاک ہوئیں۔“ [صحيح مسلم، الحج، حديث: 1337] المآئدہ
103 یہ مشرکین کی مذمت ہے جنہوں نے دین میں ایسی چیزیں گھڑ لی تھیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا تھا اور وہ چیزیں حرام قرار دے تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی فاسد آراء کی بنا پر اپنی ان اصطلاحات کے مطابق کچھ مویشی حرام قرار دے دیئے جو کتاب اللہ کے مخالف تھیں۔ بنا بریں فرمایا : ﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِن بَحِيرَةٍ ﴾ ” نہیں مقرر کیا اللہ نے بحیرہ“( بَحِيرَةٍ) اس اونٹنی کو کہا جاتا تھا جس کے کان پھاڑ دیا کرتے، اس پر سواری کرنے کو حرام کرلیتے اور اس کو مقدس خیال کرتے تھے۔ ﴿وَلَا سَائِبَةٍ ﴾ ” اور نہ سائبہ“ اونٹنی، گائے یا بکری جب سن رسیدہ ہوجاتی تو اسے سائبہ کہا جاتا تھا اور اسے آزاد چھوڑ دیتے تھے، اس پر سواری کی جاتی تھی نہ اس پر بوجھ لادا جاتا تھا اور نہ اس کا گوشت کھایا جاتا تھا۔ بعض لوگ اپنے مال میں سے کچھ نذر مان کر اس کو ” سائبہ“ بنا کر چھوڑ دیتے تھے۔﴿وَلَا حَامٍ ﴾ ” اور نہ حام“ یعنی اونٹ جب ایک خاص حالت کو پہنچ جاتا جو ان کے ہاں معروف تھی تو اس اونٹ پر سواری کی جاتی تھی نہ اس پر سامان لادا جاتا تھا۔ ان تمام چیزوں کو مشرکین نے بغیر کسی دلیل اور برہان کے حرام قرار دے رکھا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ پر افترا اور بہتان تھا جو ان کی جہالت اور بے عقلی سے صادر ہوا تھا۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَلَـٰكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ ۖ وَأَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ﴾ ’’لیکن کافر اللہ پر افترا باندھتے تھے اور ان کے اکثر عقل نہیں رکھتے تھے۔‘‘ ان مذکورہ امور میں کوئی نقلی دلیل تھی نہ عقلی، بایں ہمہ انہیں اپنی آراء بہت پسند تھیں جو ظلم اور جہالت پر مبنی تھیں۔ المآئدہ
104 جب انہیں دعوت دی جاتی ﴿ إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللّٰهُ وَإِلَى الرَّسُولِ ﴾ ” اس کی طرف جو اللہ نے نازل کیا اور رسول کی طرف“ تو اس سے روگردانی کرتے اور اسے قبول نہ کرتے ﴿قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ﴾ ” اور کہتے کہ جس دین پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا ہے وہ ہمارے لئے کافی ہے“ اگرچہ یہ دین نا درست ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ دین اللہ کے عذاب سے نجات نہ دلا سکتا ہو۔ پھر اگر ان کے آباؤ اجداد کافی ہوتے، ان میں معرفت اور درایت ہوتی تو معاملہ آسان ہوتا۔ مگر ان کے آباؤ اجداد میں تو کچھ بھی عقل نہ تھی۔ ان کے پاس کوئی معقول شے تھی، نہ علم و ہدایت کا کوئی حصہ۔ ہلاکت ہے اس کے لئے جو کسی ایسے شخص کی تقلید کرتا ہے جس کے پاس علم صحیح ہے نہ عقل راجح اور وہ اللہ کی نازل کردہ کتاب اور اس کے انبیاء و مرسلین کی اتباع کو چھوڑ دیتا ہے جو قلب کو علم و ایمان اور ہدایت و ایقان سے لبریز کرتی ہے۔ المآئدہ
105 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ ۖ ﴾ ” اے ایمان والو ! تم پر لازم ہے فکر اپنی جان کا“ یعنی اپنے نفوس کی اصلاح، ان کو منزل کمال تک پہنچانے اور ان کو صراط مستقیم پر گامزن کرنے کی کوشش کرو، کیونکہ اگر تم نے اپنی اصلاح کرلی تو وہ شخص تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا جو راہ راست سے بھٹک گیا ہے اور دین قیم کے راستے کو اختیار نہیں کرتا۔ وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ چھوڑ دینے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ کیونکہ خود بندے کی ہدایت بھی اس وقت تک تکمیل نہیں پاتی جب تک کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جو ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے اسے ادا نہیں کرتا۔ ہاں ! اگر وہ اپنے ہاتھ اور زبان سے برائی کا انکار کرنے پر قادر نہیں تو اپنے دل میں اس برائی کو برا سمجھے۔ تب کسی دوسرے کی گمراہی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ﴿إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا ﴾ ” تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ یعنی قیامت کے دن تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹو گے اور اس کے سامنے اکٹھے ہو گے ﴿فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴾” وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے آگاہ کرے گا۔“ یعنی اچھے اور برے جو عمل بھی کرتے رہے ہو، اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بارے میں آگاہ کرے گا۔ المآئدہ
106 اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے جو کہ اس حکم کو متضمن ہے کہ جب انسان کی موت کی علامات اور اس کے مقدمات سامنے آجائیں تو اپنی وصیت پر دو گواہ بنا لے۔ اس کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی وصیت کو تحریر کروائے اور اس پر دو عادل اور معتبر گواہوں کی گواہی ثبت کروائے۔ ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ ﴾ ” یا دوسرے دو گواہوں تمہارے سوا“ یعنی مسلمانوں کے سوا کوئی اور یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ یہ سخت ضرورت اور حاجت کے وقت ہے جب یہود و نصاریٰ کے سوا مسلمانوں میں سے گواہ موجود نہ ہوں ﴿إِنْ أَنتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ ﴾ ” جب تم زمین میں سفر کر رہے ہو“ ﴿فَأَصَابَتْكُم مُّصِيبَةُ الْمَوْتِ ﴾” اور پہنچے تمہیں مصیبت موت کی“ یعنی تم ان دونوں کو گواہ بنا لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گواہ بنانے کا حکم اس لئے دیا ہے کہ اس صورتحال میں ان کی گواہی مقبول ہے اور ان کے بارے میں مزید تاکید فرمائی کہ ان کو روک لیا جائے ﴿مِن بَعْدِ الصَّلَاةِ ﴾ ” نماز کے بعد“ جس نماز کی یہ تعظیم کرتے ہیں ﴿فَيُقْسِمَانِ بِاللَّـهِ ﴾” پس وہ اللہ کی قسم کھائیں“ کہ انہوں نے سچ کہا ہے اور انہوں نے کوئی تغیر و تبدیل نہیں کیا ﴿ إِنِ ارْتَبْتُمْ ﴾” اگر تمہیں (ان کی گواہی میں) شک ہو“ اور اگر تم انہیں سچا سمجھتے ہو تو پھر ان سے قسم لینے کی ضرورت نہیں اور وہ قسم کھاتے وقت یہ الفاظ ادا کریں ﴿لَا نَشْتَرِي بِهِ ﴾ ” نہیں حاصل کرتے ہم اس کے بدلے“ یعنی اپنی قسموں کے بدلے ﴿ثَمَنًا ﴾” کوئی مال“ یعنی دنیاوی فائدے کی خاطر ہم جھوٹی قسمیں نہیں کھائیں گے ۔ ﴿وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ﴾ اگرچہ ہم کو کسی سے قرابت بھی ہو‘‘یعنی اس کے ساتھ اپنی قرابت داری کی وجہ سے اس سے کوئی رعایت نہیں کریں گے ﴿وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللَّـهِ ﴾ ” اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے“ بلکہ ہم اسی طرح شہادت کو ادا کریں گے جس طرح ہم نے سنی ہے ﴿إِنَّا إِذًا ﴾” بے شک تب ہم“ یعنی اگر ہم گواہی کو چھپائیں ﴿لَّمِنَ الْآثِمِينَ ﴾ ” تو یقیناً گناہ گاروں میں سے ہوں گے۔ “ المآئدہ
107 ﴿فَإِنْ عُثِرَ عَلَىٰ أَنَّهُمَا ﴾” پھر اگر خبر ہوجائے کہ یہ دونوں“ یعنی دونوں گواہ ﴿اسْتَحَقَّا إِثْمًا ﴾” حق بات دبا گئے ہیں“ یعنی اگر ایسے قرائن پائے جائیں جو ان کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں اور جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ انہوں نے خیانت کی ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ دو اور گواہ کھڑے ہوں جو میت کے زیادہ قریبی ہوں۔ یعنی میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور وہ دونوں میت کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں۔﴿فَيُقْسِمَانِ بِاللَّـهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِن شَهَادَتِهِمَا﴾ ” پس وہ دونوں قسم کھائیں اللہ کی، کہ ہماری گواہی زیادہ صحیح ہے پہلوں کی گواہی سے“ یعنی انہوں نے جھوٹ بولا ہے اور وہ وصیت میں تغیر و تبدل کر کے خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں﴿وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ ﴾ ” اور ہم نے زیادتی نہیں کی، نہیں تو بے شک ہم ظالموں میں سے ہوں گے“ یعنی اگر ہم نے ظلم اور زیادتی کی اور ناحق گواہی دی۔ المآئدہ
108 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس گواہی، اس کی تاکید اور دونوں گواہوں سے خیانت ظاہر ہونے پر گواہی کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹانے کی حکمت بیان کی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ أَدْنَىٰ ﴾ ” اس طریق سے بہت قریب ہے۔“ یعنی یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے ﴿أَن يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَىٰ وَجْهِهَا ﴾” کہ وہ ادا کریں گواہی کو ٹھیک طریقے پر“ یعنی جب ان گواہوں کو مذکورہ تاکیدات کے ذریعے سے تاکید کی جائے گی ﴿أَوْ يَخَافُوا أَن تُرَدَّ أَيْمَانٌ بَعْدَ أَيْمَانِهِمْ ﴾ ” اس بات سے خوف کریں کہ ہماری قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی۔“ یعنی ان کو خوف ہوگا کہ ان کی قسمیں قبول نہیں کی جائیں گی اور ان قسموں کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹا دیا جائے گا﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ ﴾ ” اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا“ یعنی وہ لوگ جن کا وصف فسق ہے جو ہدایت چاہتے ہیں نہ راہ راست پر چلنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔ ان آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ سفر وغیرہ میں جب میت کی موت کا وقت آجائے اور وہ ایسی جگہ پر ہو جہاں گمان یہ ہو کہ معتبر گواہ بہت کم ہوں گے، تو میت کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ دو مسلمان عادل گواہوں کے سامنے وصیت کرے اور اگر صرف دو کافر گواہ مہیا ہوسکیں تو ان کے پاس بھی وصیت کرنا جائز ہے۔ اگر ان گواہوں کے کفر کی وجہ سے میت کے اولیاء ان کے بارے میں شک کریں تو نماز کے بعد ان سے حلف لیں کہ انہوں نے خیانت کا ارتکاب کیا ہے نہ جھوٹ بوالا ہے اور نہ انہوں نے وصیت میں کوئی تغیر و تبدل کیا ہے۔ اس طرح وہ اس حق کی ذمہ داری سے بری ہوجائیں گے جو ان پر ڈال دی گئی تھی۔ اگر میت کے اولیاء میں سے دو گواہ کھڑے ہو کر قسم کھائیں کہ ان کی گواہی پہلے گواہوں کی گواہی سے صحیح ہے اور یہ کہ پہلے گواہ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہوں نے جھوٹ بولا ہے تو وہ ان پہلے گواہوں کے مقابلے میں اپنے دعوے پر مستحق قرار پائیں گے۔ یہ آیات کریمہ تیمم داری رضی اللہ عنہ اور عدوی بن بداء کے قصہ میں نازل ہوئی ہیں جو بہت مشہور ہے اور قصہ یوں ہے کہ عدوی نے ان دونوں حضرات کے پاس وصیت کی تھی۔ واللہ اعلم۔ [مفسر موصوف کو سہو ہوا ہے۔ صحیح بخاری، ترمذی، ابن کثیر اور دیگر مفسرین کے نزدیک عدوی کی جگہ سہمی وارد ہوا ہے یعنی بنو سہم کا ایک آدمی۔] [یہ قصہ اصل میں اس طرح ہے کہ حضرت تیمم داری (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) اور عدی بن بداء، یہ دونوں نصرانی تھے اور تجارت کے لئے شام گئے ہوئے تھے۔ ایک مسلمان بدیل بن ابی مریم بھی وہاں گئے ہوئے تھے، وہاں بدیل سخت بیمار ہوگئے حتیٰ کہ زندگی سے مایوس ہوگئے۔ انہوں نے ان دونوں کو وصیت کی اور اپنا سامان بھی ان کے سپرد کردیا کہ وہ اسے ان کے گھر پہنچا دیں۔ ان دونوں نے اس سامان میں سے چاندی کا ایک پیالہ نکال کر بیچ دیا اور اس کی رقم آپس میں بانٹ لی۔ بعد میں ورثاء کو اس کا علم ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حلف لیا۔ (صحیح بخاری، الوصایا، حدیث :2780۔ ترمذی، التفسیر، حدیث: 3059) (ص۔ ی) ] ان آیات کریمہ سے متعدد احکام پر استدلال کیا جاتا ہے۔ (١) وصیت کرنا مشروع ہے جس کی موت کا وقت قریب آجائے تو اسے چاہئے کہ وصیت کرے۔ (٢) جب موت کے مقدمات و آثار نمودار ہوجائیں تو مرنے والے کی وصیت اس وقت تک معتبر ہے جب تک اس کے ہوش و حواس قائم ہیں۔ (٣) وصیت میں دو عادل گواہوں کی گواہی ضروری ہے۔ (٤) وصیت اور اس قسم کے دیگر مواقع پر، بوقت ضرورت کفار کی گواہی مقبول ہے۔ یہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ بہت سے اہل علم دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے۔ مگر نسخ کے اس دعویٰ پر کوئی دلیل نہیں۔ (٥) اس حکم کے اشارہ اور اس کے معنی سے مستفاد ہوتا ہے کہ مسلمان گواہوں کی عدم موجودگی میں وصیت کے علاوہ دیگر مسائل میں بھی کفار کی گواہی قابل قبول ہے۔ جیسا کہ یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ (٦) اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر خوف کی بات نہ ہو تو کفار کی معیت میں سفر جائز ہے۔ (٧) تجارت کے لئے سفر کرنا جائز ہے۔ (٨) اگر دونوں گواہوں کی گواہی کے بارے میں شک ہو مگر ایسا کوئی قرینہ موجود نہ ہو جو ان کی خیانت پر دلالت کرتا ہو اور وصیت کرنے والے کے اولیاء ان گواہوں سے قسم لینا چاہتے ہوں تو وہ انہیں نماز کے بعد روک لیں اور ان سے اس طریقے سے قسم لیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ (٩) اگر ان دونوں کی گواہی میں کوئی شک اور تہمت نہ ہو تو ان کو روکنے اور ان سے قسم لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (١٠) یہ آیت کریمہ شہادت کے معاملے کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شہادت کو اپنی طرف مضاف کیا ہے، نیز یہ کہ اس کو درخوراعتنا سمجھنا اور انصاف کے مطابق اس کو قائم کرنا واجب ہے۔ (١١) گواہوں کے بارے میں اگر شک ہو تو گواہوں کا امتحان اور ان کو علیحدہ علیحدہ کر کے گواہی لینا جائز ہے، تاکہ سچ اور جھوٹ کے اعتبار سے گواہی کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ (١٢) جب ایسے قرائن پائے جائیں جو اس مسئلے میں دونوں وصیوں (گواہوں) کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں تو میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری قسم ان کی قسم سے زیادہ سچی ہے۔ انہوں نے خیانت کی ہے اور جھوٹ کہا ہے پھر جس چیز کا وہ دعویٰ کرتے ہیں ان کے حوالے کردی جائے گی۔ ان کی قسموں کے ساتھ، قرینہ، ثبوت کے قائم مقام ہے۔ المآئدہ
109 اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن اور اس کی ہولناکیوں کے بارے میں خبر دیتا ہے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کر کے ان سے پوچھے گا ﴿مَاذَا أُجِبْتُمْ ﴾” تمہیں کیا جواب ملا تھا؟“ یعنی اس بارے میں تمہاری امتوں نے کیا جواب دیا؟ ﴿قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا ﴾” وہ جواب دیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں۔“ تجھے ہی علم ہے۔ اے ہمارے رب ! تو ہم سے زیادہ جانتا ہے﴿إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ﴾ ” تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔“ یعنی تو حاضر و غائب تمام امور کو جانتا ہے۔ ﴿إِذْ قَالَ اللّٰهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَالِدَتِكَ ﴾ ” جب کہا اللہ نے، اے عیسیٰ ابن مریم ! یاد کر میری نعمت جو تجھ پر اور تیری ماں پر ہوئی“ یعنی اپنے دل اور زبان سے یاد کیجیے اور اس کے واجبات کو ادا کر کے اپنے رب کا شکر کیجیے۔ کیونکہ اس نے آپ کو اتنی نعمتیں عطا کی ہیں جو کسی دوسرے کو عطا نہیں کیں۔ ﴿إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ ﴾ ” جب میں نے روح القدس سے تیری مدد کی۔“ یعنی جب ہم نے تجھ کو روح اور وحی کے ذریعے سے تقویت دی، جس نے تجھ کو پاک کیا اور تجھ کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی طرف دعوت دینے کی قوت حاصل ہوئی اور بعض نے کہا کہ روح القدس سے مراد جبریل ہیں۔ بڑے بڑے سخت مقامات پر اللہ تعالیٰ نے جبریل کی ملازمت (ساتھ رہنے) اور ان کے ذریعے سے ثبات عطا کر کے جناب عیسیٰ علیہ السلام کی مدد فرمائی۔ المآئدہ
110 ﴿تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا ﴾ ” تو کلام کرتا تھا لوگوں سے گود میں اور بڑی عمر میں“ یہاں کلام کرنے سے مراد مجرد کلام کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ کلام ہے جس سے متکلم اور مخاطب دونوں مستفید ہوں اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا۔ جناب عیسیٰ کو اس عمر میں رسالت، بھلائیوں کی طرف دعوت اور برائیوں سے روکنے کی ذمہ داری عطا کردی گئی اور دیگر اولوالعزم انبیاء و مرسلین کو بڑی عمر میں یہ ذمہ داری عطا کی گئی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمام انبیائے کرام میں اس بنا پر ممتاز ہیں کہ انہوں نے پنگوڑے میں کلام فرمایا ﴿ إِنِّي عَبْدُ اللَّـهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا ﴾ (مریم :19؍ 30۔31) ” میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا کی اور مجھے نبی بنایا اور میں جہاں کہیں بھی ہوں مجھے بابرکت بنایا۔ جب تک میں زندہ رہوں مجھے نماز اور زکوٰۃ کی وصیت فرمائی۔ “ ﴿وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ ﴾ ” اور جب سکھلائی میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت“ یہ کتاب تمام کتب سابقہ خصوصاً تو رات کو شامل ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جناب موسیٰ علیہ السلام کے بعد تورات کے سب سے بڑے عالم تھ۔۔۔ اور انجیل کو بھی شامل ہے جو ان پر نازل کی گئی۔۔۔ حکمت سے اسرار شریعت، اس کے فوائد اور اس کی حکمتوں کی معرفت، دعوت و تعلیم کی خوبی اور تمام امور کا ان کی اہمیت اور مناسبت کے مطابق خیال رکھنا مراد ہے۔ ﴿وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ ﴾” اور جب تو بناتا تھا گارے سے جانور کی سی صورت“ یعنی پرندوں کی تصویر جس میں روح نہیں ہوتی ﴿فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ۖ وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ ﴾ ” پھر تو اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے والا ہوجاتا اور اچھا کرتا تھا تو مادر زاد اندھے کو“ (الْأَكْمَهَ ) اس شخص کو کہتے ہیں جس کی بینائی ہو نہ آنکھ ﴿وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِي﴾” اور کوڑھی کو، میرے حکم سے اور جب نکال کھڑا کرتا تھا تو مردوں کو میرے حکم سے“ یہ واضح نشانیاں اور نمایاں معجزات ہیں جن سے بڑے بڑے اطباء وغیرہ بھی عاجز ہیں۔ ان معجزات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی مدد فرمائی اور اس کے ذریعے سے ان کی دعوت کو تقویت بخشی۔ ﴿وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ﴾” اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب تو لے کر آیا ان کے پاس نشانیاں تو کہا ان لوگوں نے جو ان میں سے کافر تھے“ یعنی جب ان کے پاس حق آگیا جس کی ایسے دلائل کے ساتھ تائید کی گئی تھی جن پر ایمان لانا واجب ہے تو انہوں نے کہا : ﴿إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ﴾ ” یہ تو کھلا جادو ہے“ اور انہوں نے جناب عیسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ان سے حفاظت کی اور ان کو ان کے شر سے بچا لیا۔ پس یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے احسانات جن سے اس نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم کو نوازا اور ان کو ان احسانات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور ان کو قائم کرنے کا حکم دیا۔۔۔ حضرت عیسیٰ نے ان احسانات کے تقاضوں کو پوری طرح ادا کیا اور اس راہ کی سختیوں پر اس طرح صبر کیا جس طرح دیگر اولوالعزم انبیاء و رسل نے صبر کیا تھا۔ المآئدہ
111 یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القا کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انہوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ” ہم ایمان لائے، گواہ رہئے کہ ہم مسلمان ہیں“ پس انہوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا : ﴿ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّـهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّـهِ ﴾ (آل عمران :3؍52) ” اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے“ حواریوں نے عرض کیا ” ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ “ المآئدہ
112 ﴿إِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ﴾” جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟“ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہے۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا، بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ اتَّقُوا اللَّـهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴾ ” اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایہ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے المآئدہ
113 ﴿قَالُوا نُرِيدُ أَن نَّأْكُلَ مِنْهَا ﴾ ” ہم اس سے کھانا چاتے ہیں“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا﴾” اور ہمارے دل مطمئن ہوجائیں“ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا، جیسا کہ جناب خلیل نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انہیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ۖ﴾ (البقرۃ:2؍ 260) ” فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں۔ یہ عرض تو محض اس لئے ہے کہ میرا دل مطمئن ہوجائے۔“ پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا ﴾ ” اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔“ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ الشَّاهِدِينَ﴾ ” اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہوجائیں“ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لئے مصلحت کی حامل ہوگی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہوجائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہوگا۔ المآئدہ
114 جب عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انہیں معلوم ہوگیا تو انہوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿اللّٰهُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ﴾ ” اے اللہ ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لئے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو“ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لئے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیاء و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں۔﴿وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ ” اور ہمیں روزی دے اور تو وہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے“ یعنی اسے ہمارے لئے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دستر خوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ المآئدہ
115 اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۖ فَمَن يَكْفُرْ بَعْدُ مِنكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَّا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ﴾ ” بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا“ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کردیا اور یوں وہ درد ناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہوگا کہ انہوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔ اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہوجیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھلا بیٹھے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لئے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو بلکہ نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کئے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ الشَّاهِدِينَ﴾ ” اور ہم اس پر گواہ ہیں۔“ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔ المآئدہ
116 ﴿وَإِذْ قَالَ اللّٰهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّـهِ﴾ ” اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا“۔ یہ نصاریٰ کے لئے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہے۔ جناب عیسیٰ اس سے برأت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿سُبْحَانَكَ ﴾ ” پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہہ بیان کرتا ہوں ﴿مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ﴾ ” مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں۔“ یعنی میرے لئے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں، کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں۔ اللہ کے مقرب فرشتوں، انبیاء و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی عاجز اور محتاج مخلوق ہیں۔ ﴿إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ ۚ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ۚ﴾ ” اگر میں نے یہ کہا ہوگا تو تجھ کو ضرور معلوم ہوگا، تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے۔“ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہوچکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ﴾ ” بے شک تو علام الغیوب ہے۔“ یہ عیسیٰ کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے۔ چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لم اقل شیاء من ذلک) ” میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا“ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔ المآئدہ
117 پھر مسیح علیہ السلام نے تصریح فرمائی کہ انہوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ﴾” میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا۔“ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جرأت نہیں ﴿أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ﴾ ” یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے۔“ میں نے تو صرف الہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمہارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ﴾ ” اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا“ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا﴿فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ﴾” پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا۔“ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ﴾” اور تو ہر چیز سے خبردار ہے“ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لئے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کئے ہوئے ہے تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔ المآئدہ
118 ﴿إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ﴾ ” اگر تو ان کو عذاب دے، تو وہ تیرے بندے ہیں“ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کرسکتے ہیں۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انہیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ ” اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے۔“ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کردینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کردیتا ہے، تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ المآئدہ
119 ﴿قَالَ اللّٰهُ﴾ قیامت کے روز بندوں کو جو حال ہوگا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہوگا اور کون ہلاک ہوگا، کسے سعادت نصیب ہوگی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿هَـٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ﴾ ” یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔ بنا بریں فرمایا : ﴿لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴾” ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی“ جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہوگا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔ المآئدہ
120 ﴿لِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا فِيهِنَّ ۚ﴾” اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کو فی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لئے فرمایا : ﴿وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾” اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“ پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کرسکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں۔ المآئدہ
0 الانعام
1 یہ صفات کمال اور نعوت عظمت و جلال کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عمومی حمد و ثنا اور ان صفات کے ذریعے سے اس کی خصوصی حمد و ثناء ہے، چنانچہ اس نے اس امر پر اپنی حمد و ثناء بیان کی ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا۔ جو اس کی قدرت کاملہ، وسیع علم و رحمت، حکمت عامہ اور خلق و تدبیر میں اس کی انفرادیت پر دلالت کرتی ہے نیز اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ اس نے تاریکیوں اور روشنی کو پیدا کیا اور اس میں حسی اندھیرے اور اجالے بھی شامل ہیں جیسے رات، دن، سورج اور چاند وغیرہ اور معنوی اندھیرے اجالے بھی، مثلاً جہالت، شک، شرک، معصیت اور غفلت کے اندھیرے اور علم، ایمان، یقین اور اطاعت کے اجالے۔ یہ تمام امور قطعی طور پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی عبادت اور اخلاص کا مستحق ہے مگر اس روشن دلیل اور واضح برہان کے باوجود﴿ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ﴾ ” پھر وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، اپنے رب کے ساتھ اوروں کو برابر کئے دیتے ہیں“ غیروں کو اللہ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ وہ انہیں عبادت اور تعظیم میں اللہ تعالیٰ کے مساوی قرار دیتے ہیں اگرچہ وہ کمالات میں ان کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر نہیں سمجھتے اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ہستیاں ہر لحاظ سے محتاج، فقیر اور ناقص ہیں۔ الانعام
2 ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٍ ﴾ ” وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا“ یعنی تمہارا اور تمہارے باپ کا مادہ مٹی سے تخلیق کیا گیا ہے ﴿ثُمَّ قَضَىٰ أَجَلًا﴾ ” پھر ایک مدت مقرر کردی“ یعنی اس دنیا میں رہنے کے لئے تمہارے لئے ایک مدت مقرر کردی اس مدت میں تم اس دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہو اور رسول بھیج کر تمہارا امتحان لیا جاتا ہے اور تمہاری آزمائش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ فرمایا : ﴿لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾(الملک :67؍2) ” تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔“ ﴿وَأَجَلٌ مُّسَمًّى عِندَهُ ۖ﴾ ” اور ایک مدت مقرر ہے اللہ کے نزدیک“ اس مدت مقررہ سے مراد آخرت ہے، بندے اس دنیا سے آخرت میں منتقل ہوں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا﴿ثُمَّ﴾ پھر اس کامل بیان اور دلیل قاطع کے باوجود ﴿أَنتُمْ تَمْتَرُونَ﴾ ” تم شک کرتے ہو‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے وعدو وعید اور قیامت کے دن جزا و سزا کے وقوع کا انکار کرتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اندھیروں ﴿الظُّلُمَاتِ﴾ کو ان کے کثرت مواد اور ان کے تنوع کی بنا پر جمع کے صیغے میں بیان فرمایا ہے اور اجالے ﴿وَالنُّورَ﴾ کو احد استعمال کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا راستہ ایک ہی ہوتا ہے، اس میں تعدد نہیں ہوتا اور یہ وہ راستہ ہے جو حق، علم اور اس پر عمل کو متضمن ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ﴾ (الانعام :6؍153) ” اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے اور تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ تم اللہ کے راستے سے الگ ہوجاؤ گے۔ “ الانعام
3 یعنی آسمانوں میں اور زمین میں وہی معبود ہے۔ آسمان اور زمین کے رہنے والے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں، تمام مقرب فرشتے، انبیاء و مرسلین، صدیقین، شہداء اور صالحین سب اس کی عظمت کے سامنے جھکے ہوئے اور اس کے غلبہ و جلال کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور تمہارے اعمال بھی جانتا ہے اس لئے تم اس کی نافرمانی سے بچو اور ایسے اعمال میں رغبت کرو جو تمہیں اس کے قریب کردیں اور اس کی رحمت کا مستحق بنا دیں اور ہر ایسے عمل سے بچو جو تمہیں اس سے اور اس کی رحمت سے دور کر دے۔ الانعام
4 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشرکین کے اعراض، ان کی شدت تکذیب اور ان کی عداوت کے بارے میں خبر ہے، نیز یہ کہ آیات و معجزات انہیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے جب تک کہ ان پر عبرتناک عذاب نازل نہ ہوجائے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ آيَةٍ مِّنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ﴾ ” اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے“ جو حق پر دلیل قطعی ہیں جو حق کے قبول کرنے اور اس کی اتباع کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ ﴿إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ ﴾ ” مگر وہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔“ یعنی وہ ان آیات کو غور سے سنتے نہیں اور ان میں تدبر نہیں کرتے۔ ان کے دل دوسرے امور میں مصروف ہیں اور انہوں نے پیٹھ پھیر لی ہے۔ الانعام
5 ﴿فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ﴾” انہوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا“ حالانکہ حق اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اور اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے ان کے لئے حق کو آسان کردیا اور وہ ان کے پاس حق لے کر آیا، مگر انہوں نے اس حق کا سامنا اس رویہ کے برعکس رویئے کے ساتھ کیا جس رویئے کے ساتھ انہیں اس کا سامنا کرنا چاہئے تھا۔ اس لئے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ ﴿فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ﴾ ” سو اب آیا چاہتی ہے ان کے پاس حقیقت اس بات کی جس پر وہ ہنستے تھے۔“ یعنی وہ چیز جس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے اس کے بارے میں عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ حق اور سچ ہے، اللہ تعالیٰ جھٹلانے والوں کے جھوٹ اور بہتان کو کھول دے گا۔ یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جانے، جنت اور جہنم کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ قیامت کے روز ان جھٹلانے والوں سے کہا جائے گا۔ ﴿ هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ﴾(الطور:52؍14) ’’یہ ہے وہ آگ جسےتم جھٹلایاکرتےتھے۔‘‘ ﴿ وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَن يَمُوتُ ۚ بَلَىٰ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ كَانُوا كَاذِبِينَ﴾(النحل:16؍38۔39) ” اور اللہ کی سخت قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ جو مر جاتا ہے اللہ اسے دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا۔ کیوں نہیں یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ تاکہ جن باتوں میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے ان پر ظاہر کر دے اور اس لئے بھی کہ کافروں کو معلوم ہوجائے کہ وہ جھوٹے تھے۔ “ الانعام
6 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ امم سابقہ کے انجام سے عبرت پکڑیں، چنانچہ فرمایا : ﴿أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ﴾” کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے جھٹلانے والی کتنی ہی قوموں کو پے در پے ہلاک کردیا ؟“ اور اس ہلاکت سے پہلے ہم نے انہیں مہلت دی ﴿مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّن لَّكُمْ﴾ ” ہم نے ان کو زمین میں وہ قوت و طاقت دی جو تمہیں ہم نے نہیں دی“ یعنی ہم نے انہیں مال، اولاد اور خوشحالی سے نوازا ﴿ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِم مِّدْرَارًا وَجَعَلْنَا الْأَنْهَارَ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمْ﴾” اور چھوڑ دیا ہم نے ان پر آسمان کو لگاتار برستا ہوا اور بنا دیں ہم نے نہریں بہتی ہوئی ان کے نیچے“ پھر اللہ تعالیٰ جو چاہتا اس پانی سے کھیتیاں اور پھل اگتے تھے جن سے وہ لوگ فائدہ اٹھاتے تھے اور جو دل چاہتا تھا تناول کرتے تھے۔ مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا، شہوات نے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا اور لذات نے ان کو غافل کردیا۔ پس ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ ان کے پاس آئے مگر انہوں نے ان کی تصدیق نہ کی بلکہ ان کو ٹھکرا دیا اور ان کو جھٹلا دیا ﴿فَأَهْلَكْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَنشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ﴾” تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کردیا اور پیدا کیا ہم نے ان کے بعد دوسری امتوں کو“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا پھر ان کے بعد اس نے اور قومیں پیدا کردیں۔ گزری ہوئی اور آنے والی قوموں کے بارے میں یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے ان کا جو قصہ بیان کیا ہے اس سے عبرت پکڑو۔ الانعام
7 اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کی شدت عناد سے آگاہ فرمایا ہے اور یہ کہ ان کا یہ جھٹلانا آپ کی لائی ہوئی کتاب میں کسی نقص کی وجہ سے نہ تھا اور نہ اس کا سبب ان کی جہالت تھا، یہ تو محض ظلم اور زیادتی کی بنا پر تھا جس میں تمہارے لئے کوئی چارہ نہیں۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَابًا فِي قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ ﴾” اگر اتاریں ہم آپ پر لکھا ہوا کاغذ میں، پھر چھولیں اس کو اپنے ہاتھوں سے“ یعنی انہیں یقین آجائے ﴿ لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا ﴾ ” تو جو کافر ہیں وہ کہیں گے۔“ یعنی ظلم اور تعدی کی بنا پر کفار کہیں گے ﴿اإِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ﴾ ” یہ تو کھلا جادو ہے۔“ اس سے بڑھ کر اور کون سی دلیل ہوسکتی ہے؟ اور یہ ہے اس بارے میں ان کا انتہائی قبیح قول، انہوں نے ایسی محسوس چیز کا انکار کردیا جس کا انکار کوئی ایسا شخص نہیں کرسکتا جس میں معمولی سی بھی عقل ہے۔ الانعام
8 ﴿ وَقَالُوا ﴾ یعنی وہ تلبیس کے طور پر کہتے ہیں جو معقول سے لاعلمی اور جہالت پر مبنی ہے ﴿ لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ ﴾” ان پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا؟“ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ اترا جو اس کی مدد کرتا اور اس کام میں اس کی معاونت کرتا، کیونکہ وہ اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بشر ہیں اور رسالت تو فرشتوں میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اس کی رحمت اور اپنے بندوں کے ساتھ لطف و کرم کا معاملہ ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ جو کچھ وہ لے کر مبعوث ہوتا ہے اس پر ایمان، علم و بصیرت کی بنا پر اور بالغیب ہو۔﴿وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكًا ﴾ ” اگر ہم فرشتہ نازل کرتے۔“ اگر ہم نے اپنی رسالت کے ساتھ کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا تو یہ ایمان معرفت حق کی بنا پر نہ ہوتا بلکہ ایک ایسا ایمان ہوتا جو مشاہدہ سے صادر ہوتا ہے اور ایسا ایمان اکیلا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ یہ اس صورت میں ہے کہ اگر وہ ایمان لے آئیں مگر غالب یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ اگر وہ ایمان نہ لائے ﴿ لَّقُضِيَ الْأَمْرُ﴾ ” تو طے ہوجائے قصہ“ تو ان کی فوری ہلاکت اور عدم مہلت کا فیصلہ ہوجائے گا۔ یہ اس شخص کے بارے میں سنت الٰہی ہے جو حسب خواہش معجزات کا مطالبہ کرتا ہے اور ان پر ایمان نہیں لاتا۔ اس لئے ان کی طرف رسول بشری کو آیات بینات کے ساتھ مبعوث کرنا، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ یہ بندوں کے لئے بہتر اور نرم ہیں، نیز کفار اور جھٹلانے والوں کو مہلت دینا، ان کے لئے زیادہ فائدہ مند ہے۔ پس ان کا فرشتے اتارنے کا مطالبہ اگر وہ جانیں تو ان کے لئے بہت برا ہے۔ الانعام
9 بایں ہمہ اگر فرشتہ نازل کر کے ان کی طرف رسول بنا کر بھیج دیا جائے تو وہ اس سے کچھ سیکھنے کی طاقت رکھتے نہ اس کے متحمل ہوسکتے ہیں اور نہ ان کے قوائے فانی اس کا بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتے ہیں ﴿وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنَاهُ رَجُلًا ﴾ ” اور اگر ہم رسول بنا کر بھیجتے کسی فرشتے کو تو وہ بھی آدمی ہی کی صورت میں ہوتا“ کیونکہ حکمت الٰہیہ اسی کا تقاضا کرتی ہے ﴿وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ﴾ ” اور ان کو اسی شبہے میں ڈال دیتے جس میں اب پڑ رہے ہیں“ یعنی ان پر معاملہ مختلط ہوجاتا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو شبہ میں مبتلا کرلیا کیونکہ انہوں نے اپنے معاملے کی بنیاد اسی قاعدے پر رکھی جو مشتبہ تھا اور اس میں حق واضح نہیں تھا۔ پس جب صحیح طریقوں سے حق ان کے پاس آگیا اور اس کے وہ قواعد بھی آگئے جو اس کے حقیقی قواعد ہیں تو یہ حق ان کے لئے ہدایت کا باعث نہ بن سکا جبکہ دوسروں نے اس کے ذریعے سے ہدایت پائی۔ گناہ ان کا اپنا ہے کیونکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے بند کر کے گمراہی کے دروازے کھول لئے۔ الانعام
10 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور اسے صبر کی تلقین کرتا ہے اور اس کے دشمنوں کو تہدید و وعید سناتے ہوئے کہتا ہے : ﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ﴾ ” اور تحقیق استہزا کیا گیا رسولوں سے، آپ سے پہلے۔‘‘ جب وہ واضح دلائل کے ساتھ اپنی امتوں کے پاس آئے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا انہوں نے ان کے ساتھ اور ان کی تعلیمات کے ساتھ استہزا کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کفر اور تکذیب کے باعث ہلاک کردیا اور عذاب میں سے ان کو پورا پورا حصہ دیا۔﴿فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ﴾ ” پس گھیر لیا ان کو جو ان میں سے استہزا کرنے والے تھے، اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزا کرتے تھے۔“ پس اے جھٹلانے والو ! جھٹلانے کی روش پر قائم رہنے سے باز آجاؤ، ورنہ تمہیں بھی وہی عذاب آ لے گا جو ان قوموں پر آیا تھا۔ الانعام
11 ﴿ قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ ﴾” کہو کہ ملک میں چلو پھر و اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔“ یعنی اگر تمہیں اس بارے میں کوئی شک و شبہ ہے تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ تم دیکھو گے کہ ایسی قوم ہلاک کردی گئی اور ایسی امتیں عذاب میں مبتلا کردی گئیں۔ ان کے گھر ویران ہوگئے اور ان عیش کدوں میں رہ کر مسرتوں کے مزے لوٹنے والے نیست و نابود ہوگئے۔ اللہ جبار نے ان کو ہلاک کردیا اور اہل بصیرت کے لئے ان کو نشان عبرت بنا دیا۔ یہ (سَيْر) جس کا حکم دیا گیا ہے بدنی اور قلبی سیر کو شامل ہے جس سے عبرت جنم لیتی ہے۔ رہا عبرت حاصل کئے بغیر چل پھر کر دیکھنا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ الانعام
12 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے ﴿ قُلْ﴾ ” کہہ دیجیے“ یعنی ان مشرکین سے توحید کا اقرار کرواتے اور ان پر اس کی حجت ثابت کرتے ہوئے کہیے! ﴿ لِّمَن مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ ﴾ ” کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے؟“ یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے کس نے پیدا کیا؟ کو نین کا مالک اور ان میں تصرف کرنے والا ہے؟ ﴿ قُلْ﴾ ان سے کہہ دیجیے !(لِّلَّـهِ) ” اللہ کا ہے“ وہ اس کا اقرار کرتے ہیں انکار نہیں کرتے، کیا جب وہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ اکیلا ہی کائنات کا مالک اور اس کی تدبیر کرنے والا ہے، تو اس کے لئے توحید اور اخلاص کا اعتراف کیوں نہیں کرتے؟ ﴿كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ﴾” اس نے لکھا ہے اپنے نفس پر رحم کرنا“ یعنی تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کے اقتدار اور تدبیر کے تحت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت اور احسان کی چادر پھیلا رکھی ہے اور اس کی بے پایاں رحمت نے ان سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ اس نے اپنے لئے لکھ رکھا ہے کہ ” اس کی رحمت اس کے غصے پر غالب ہے۔“ عطا کرنا اس کے نزدیک محروم کرنے سے زیادہ محبوب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بندوں کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں اگر بندے اپنے گناہوں کے سبب خود ان کو اپنے آپ پر بند نہ کرلیں۔ پھر اس نے انہیں ان دروازوں میں داخل ہونے کی دعوت دی ہے اگر ان کے گناہ اور عیب ان کو ان دروازوں کی طلب سے روک نہ دیں۔ ﴿لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ﴾ ” البتہ اکٹھا کرے گا تم کو قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں“ اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قسم ہے اور وہ سب سے زیادہ سچی خبر دینے والا ہے اور اس پر اس نے ایسے براہین و دلائل قائم کئے ہیں جو اسے حق الیقین قرار دیتے ہیں مگر ان ظالموں نے دلائل و براہین کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کا انکار کردیا کہ وہ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور گناہ کرنے میں جلدی کی اور اس کے ساتھ کفر کرنے کی جسارت کی، پس وہ دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑگئے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾” جن لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال لیا، تو وہ ایمان نہیں لاتے۔ “ الانعام
13 معلوم ہونا چاہئے کہ یہ سورۃ مبارکہ توحید کو متحقق کرنے کے لئے ہر عقلی اور نقلی دلیل پر مشتمل ہے، بلکہ تقریباً تمام سورت ہی توحید کی شان، مشرکین اور انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ مجادلات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہدایت واضح ہوتی ہے اور شرک کا قلع قمع ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ﴿وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۚ﴾” اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں“ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں۔ یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور مالک قاہر کے سامنے مسخر ہیں۔ کیا عقل و نقل کے اعتبار سے یہ بات صحیح ہے کہ ان غلام اور مملوک ہستیوں کی عبادت کی جائے جو کسی نفع و نقصان پر قادر نہیں اور خالق کائنات کے لئے اخلاص کو ترک کردیا جائے جو کائنات کی تدبیر کرتا، اس کا مالک اور نفع و نقصان کا اختیار رکھتا ہے؟ یا عقل سلیم اور فطرت مستقیم اس بات کی داعی ہے کہ اللہ رب العالمین کے لئے ہر قسم کی عبادت کو خالص کیا جائے، محبت، خوف اور امید صرف اسی سے ہو؟ ﴿السَّمِيعُ ﴾ ” وہ سنتا ہے۔“ اختلاف لغات اور تنوع حاجات کے باوجود وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے ﴿الْعَلِيمُ﴾ ” وہ جانتا ہے۔“ وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جو تمھیں اور جو مستقبل میں ہوں گی اور ان کو بھی جانتا ہے جو نہ تھیں کہ اگر وہ ہوتیں تو کیسی ہوتیں، اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن ہر چیز کی اطلاع رکھتا ہے۔ الانعام
14 ﴿ قُلْ﴾ ” کہہ دیجیے !“ یعنی آپ اللہ تعالیٰ سے شرک کرنے والوں سے کہہ دیجیے !﴿أَغَيْرَ اللَّـهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا﴾” کیا اللہ کے سوا کسی اور کو میں مددگار بناؤں ؟“ ان عاجز مخلوقات میں سے کون میرا سرپرست و مددگار بنے گا؟ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا والی اور مددگار نہیں بناتا کیونکہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے یعنی ان کا خالق اور ان کی تدبیر کرنے والا ہے ﴿وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ﴾ ” اور وہ سب کو کھلاتا ہے، اور اسے کوئی نہیں کھلاتا“ یعنی وہ تمام مخلوقات کو رزق عطا کرتا ہے بغیر اس کے کہ اس کو ان میں سے کسی کے پاس کوئی حاجت ہو۔ تب یہ کیسے مناسب ہے کہ میں کسی ایسی ہستی کو اپنا والی بنا لوں جو پیدا کرنے والی ہے نہ رزق عطا کرنے والی، جو بے نیاز ہے نہ قابل تعریف۔ ﴿قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ﴾ ” کہہ دیجیے ! مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے حکم مانوں“ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اطاعت کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں، کیونکہ میں ہی سب سے زیادہ اس بات کا مستحق ہوں کہ اپنے رب کے احکام کی اطاعت کروں ﴿وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ ” اور آپ ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں“ یعنی مجھے اس بات سے بھی روک دیا گیا ہے کہ میں مشرکوں میں شامل ہوں یعنی ان کے اعتقادات میں نہ ان کے ساتھ مجالست میں اور نہ ان کے ساتھ اجتماع میں اور یہ حکم میرے لئے سب سے بڑا فرض اور سب سے بڑا واجب ہے۔ الانعام
15 ﴿قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴾ ” کہہ دیجیے ! میں ڈرتا ہوں، اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی، بڑے دن کے عذاب سے“ کیونکہ شرک ہمیشہ جہنم میں رہنے اور اللہ جبار کی ناراضی کا موجب ہے اور یوم عظیم سے مراد وہ دن ہے جس کے عذاب سے خوف کھایا جاتا ہے اور اس کی سزا سے بچا جاتا ہے، کیونکہ جو اس روز عذاب سے بچا لیا گیا وہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہوگا اور جس نے اس عذاب سے نجات پا لی وہی درحقیقت کامیاب ہے جیسے جس کو اس دن کے عذاب سے نجات نہ ملی تو وہ بدبخت ہلاک ہونے والا ہے۔ الانعام
16 الانعام
17 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید کے دلائل ہیں کہ صرف وہی ایک ہستی ہے جو تکلیفوں کو دور کرتی ہے اور صرف وہی ہے جو بھلائی اور خوشحالی عطا کرتی ہے۔ ﴿وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّـهُ بِضُرٍّ ﴾ ” اور اگر اللہ تم کو کوئی سختی پہنچائے“ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تجھے کسی فقر، مرض، عسرت یا غم و ہموم وغیرہ میں مبتلا کر دے ﴿فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴾ ” تو اسے کوئی دور کرنے والا نہیں، سوائے اس کے اور اگر پہنچائے وہ تجھ کو کوئی بھلائی، تو وہ ہر چیز پر قادر ہے“ پس جب وہی اکیلا نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے تو وہی اکیلا عبودیت والوہیت کا بھی مستحق ہے۔ الانعام
18 ﴿وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۚ﴾ ” اور وہ غالب ہے اپنے بندوں پر“ پس اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف کرسکتا ہے نہ کوئی حرکت کرنے والا حرکت کرسکتا ہے اور نہ اس کی مشیت کے بغیر کوئی ساکن ہوسکتا ہے۔ مملوک کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس کی ملکیت اور تسلط سے نکل سکے، وہ اللہ کے سامنے مغلوب و مقہور اور اس کے دائرہ تدبیر میں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ غالب و قاہر ہے اور دوسرے مغلوب و مقہور، تو ظاہر ہوا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے ﴿ وَهُوَ الْحَكِيمُ﴾ ” اور وہ دانا ہے۔“ وہ اپنے اوامرونواہی، ثواب و عقاب اور خلق و قدر میں حکمت سے کام لیتا ہے ﴿الْخَبِيرُ ﴾ ” خبر دار ہے۔“ وہ اسرار و ضمائر اور تمام مخفی امور کی اطلاع رکھتا ہے اور یہ سب توحید الٰہی کے دلائل ہیں۔ الانعام
19 ﴿قُلْ﴾” کہہ دیجیے !“ چونکہ ہم نے ان کے سامنے ہدایت کو بیان کردیا اور سیدھی راہوں کو واضح کردیا ہے اس لئے ان سے کہہ دیجیے ﴿أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً﴾ ” سب سے بڑھ کر کس کی شہادت ہے۔“ یعنی اس اصول عظیم کے بارے میں کس کی شہادت سب سے بڑی شہادت ہے ﴿قُلِ اللَّـهُ﴾کہہ دیجیے اللہ تعالیٰ کی شہادت سب سے بڑی شہادت ہے ﴿ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۚ﴾ ” وہ گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان“ پس اس سے بڑا کوئی شاہد نہیں، وہ اپنے اقرار و فعل کے ذریعے سے میری گواہی دیتا ہے، میں جو کچھ کہتا ہوں، اللہ تعالیٰ اس کو متحقق کردیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿  وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ  لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ  ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴾(الحاقة:69؍44۔46)” اگر یہ ہمارے بارے میں کوئی جھوٹ گھڑتا تو ہم اس کو داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔ “ پس اللہ تبارک و تعالیٰ قادر اور حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور قدرت کے لائق نہیں کہ ایسے جھوٹے شخص کو برقرار رکھے جو یہ دعویٰ کرے کہ وہ اللہ کا رسول نہ ہوا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان لوگوں کو دعوت دینے پر مامور کیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی حکم نہ دیا ہو اور یہ کہ جو اس کی مخالفت کریں گے، اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ان کا خون، ان کا مال اور ان کی عورتیں مباح کردی ہیں۔ اس فریب کاری کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے اقرار و فعل کے ذریعے سے اس کی تصدیق کرے، وہ جو کچھ کرے معجزات باہرہ اور آیات ظاہرہ کے ذریعے سے اس کی تائید کرے اور اسے فتح و نصرت سے نوازے جو اس کی مخالفت کرے اور اس سے عداوت رکھے، اسے اپنی نصرت سے محروم کر دے۔ پس اس گواہی سے بڑی کون سی گواہی ہے؟ ﴿وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَـٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ﴾ ” اور اتارا گیا میری طرف قرآن، تاکہ ڈراؤں میں تم کو اس کے ساتھ اور جس کو یہ پہنچے“ یعنی تمہارے فائدے اور تمہارے مصالح کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن میری طرف وحی کیا ہے، تاکہ میں تمہیں درد ناک عذاب سے ڈراؤں۔ (اِنْذَار) یہ ہے کہ جس چیز سے ڈرانا مقصود ہو، اسے بیان کیا جائے۔ جیسے ترغیب و ترہیب، اعمال اور اقوال ظاہرہ و باطنہ، جو کوئی ان کو قائم کرتا ہے وہ گویا انداز کو قبول کرتا ہے۔ پس اے مخاطبین ! یہ قرآن تمہیں اور ان تمام لوگوں کو جن کے پاس، قیامت تک یہ پہنچے گا، برے انجام سے ڈراتا ہے۔ کیونکہ قرآن میں ان تمام مطالب الٰہیہ کا بیان موجود ہے جن کا انسان محتاج ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اپنی گواہی کا ذکر فرمایا جو سب سے بڑی گواہی ہے، تو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی خبر کی مخالفت کرنے والوں اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں سے کہہ دیجیے !﴿أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّـهِ آلِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُل لَّا أَشْهَدُ﴾” کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں؟ کہہ دیجیے ! میں تو گواہی نہیں دیتا“ یعنی اگر وہ گواہی دیں تو ان کے ساتھ گواہی مت دیجیے۔ پس اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لاشریک ہونے پر ایک طرف اللہ کی گواہی ہے جو سب سے زیادہ سچا اور تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور اسی طرح مخلوق میں سے پاکیزہ ترین ہستی (آخری رسول) کی گواہی ہے جس کی تائید میں قطعی دلائل اور روشن براہین ہیں اور دوسری طرف مشرکین کی شہادت ہے جن کی عقل اور دین خلط ملط ہوگئے ہیں جن کی آراء اور اخلاق خرابی کا شکار ہوگئے ہیں اور جنہوں نے عقل مندوں کو اپنے آپ پر ہنسنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان دونوں شہادتوں کے درمیان موازنہ کیا جائے۔ بلکہ ان مشرکین کی گواہی تو خود ان کی اپنی فطرت کے خلاف ہے اور ان کے اقوال اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں خداؤں کے اثبات کے بارے میں متناقض ہیں۔ بایں ہمہ جس چیز کی وہ مخالفت کرتے ہیں اس کے خلاف دلائل تو کجا ادنیٰ ساشبہ بھی وارد نہیں ہوسکتا۔ اگر تو سمجھ بوجھ رکھتا ہے تو اپنے لئے ان دونوں میں سے کوئی سی گواہی چن لے۔ ہم تو اپنے لئے وہی چیز اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اختیار کی ہے اور اس کی پیروی کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا :﴿قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ﴾ ” کہہ دیجیے کہ صرف وہی ایک معبود ہے۔“ یعنی وہ اکیلا معبود ہے اور اس کے سوا کوئی عبودیت اور الوہیت کا مستحق نہیں، جیسے وہ تخلیق و تدبیر میں منفرد ہے ﴿ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ﴾” اور میں بیزار ہوں تمہارے شرک سے“ یعنی تم جن بتوں اور دیگر خداؤں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہو اور وہ تمام چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا جاتا ہے میں ان سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ ہے توحید کی حقیقت، یعنی اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک سے اس کی نفی۔ الانعام
20 جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اپنی اور اپنے رسول کی شہادت کا ذکر فرمایا اور اس کے برعکس مشرکین کی شہادت کا بھی ذکر کیا جن کے پاس کوئی علم نہیں، تو اہل کتاب میں سے یہود و نصاریٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿يَعْرِفُونَهُ﴾ ” وہ پہچانتے ہیں اسے“ یعنی وہ توحید کی صحت کو جانتے ہیں ﴿كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ﴾ ” جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں“ یعنی اس کی صحت میں ان کے ہاں کسی بھی پہلو سے کوئی شک نہیں جیسے انہیں اپنی اولاد کے بارے میں کوئی اشتباہ واقع نہیں ہوتا، خاص طور پر وہ بیٹے جو غالب طور پر اپنے باپ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹتی ہو۔ تب اس کے معنی ہوں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے حق ہونے میں اہل کتاب کو کوئی اشتباہ تھا نہ کوئی شک، کیونکہ ان کے پاس آپ کی بعثت کے بارے میں بشارتیں موجود تھیں اور وہ تمام صفات (جو ان کی کتابوں میں لکھی ہوئی تھیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی پر منطبق ہوتی تھیں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کے شایان شان تھیں۔ دونوں معنی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔﴿الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ﴾ ” وہ لوگ جنہوں نے اپنے نفسوں کو نقصان میں ڈالا“ یعنی جس ایمان اور توحید کے لئے ان کے نفوس کو تخلیق کیا گیا تھا انہوں نے اپنے نفوس کو ان سے بے بہرہ کردیا اور بزرگی کے مالک، بادشاہ حقیقی کے فضل سے ان کو محروم کردیا ﴿فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾” پس وہ ایمان نہیں لائیں گے“ پس جب ان کے اندر ایمان ہی موجود نہیں تو اس خسارے اور شر کے بارے میں مت پوچھ جو ان کو حاصل ہوگا۔ الانعام
21 یعنی ظلم اور عناد میں اس شخص سے بڑھ کر کوئی نہیں جس میں ان دونوں اوصاف میں سے کوئی ایک وصف ہو، چہ جائیکہ جس میں دونوں ہی جمع ہوں : (١) اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ گھڑنا۔ (٢) اور اس کی آیات کو جھٹلانا جنہیں رسول لے کر آئے ہیں۔ یہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتا۔ اس آیت کریمہ کی وعید میں وہ تمام لوگ داخل ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں افترا پردازی کرتے ہوئے اس کے شریک اور معاون ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی بندگی کرناجائز ہے یا اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے کوئی بیوی یا بیٹا بنایا ہے اور اس وعید میں وہ تمام لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے حق کو جھٹلایا جسے لے کر انبیاء و مرسلین مبعوث ہوئے اور جس کے علم بردار، ان کے جانشین (داعیان حق) ہوئے۔ الانعام
22 اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز اہل شرک کے انجام کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، ان سے اس شرک کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا ﴿أَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ﴾” تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم شریک گمان کرتے تھے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا تو کوئی شریک نہیں، یہ محض زعم باطل اور تمہاری افترا پردازی ہے جو تم نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیئے۔ الانعام
23 ﴿ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ ﴾ ” پھر نہ رہے گا ان کے پاس کوئی فریب“ یعنی جب ان کو آزمایا جائے گا اور مذکورہ سوال کیا جائے گا تو ان کا جواب اس کے سوا کوئی نہیں ہوگا کہ وہ اپنے شرک کا ہی انکار کردیں گے اور قسم اٹھا کر کہیں گے کہ وہ مشرک نہیں ہیں الانعام
24 ﴿انظُرْ ﴾ ”دیکھئے“ یعنی ان پر اور ان کے احوال پر تعجب کرتے ہوئے دیکھئے ﴿كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ﴾ ” کیسے جھوٹ بولا انہوں نے اپنے پر“ یعنی انہوں نے ایسا جھوٹ باندھا کہ۔۔۔ اللہ کی قسم !۔۔۔ اس کا خسارہ اور انتہائی نقصان انہی کو پہنچے گا ﴿وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ ﴾ ”اور کھو گئیں ان سے وہ باتیں جو وہ بنایا کرتے تھے“ یعنی وہ شریک جو وہ گھڑا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ الوہیت میں شریک ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی اس افترا پردازی سے بالا و بلند تر ہے۔ الانعام
25 یعنی ان مشرکین میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کو ان کے بعض داعیے بسا اوقات سننے پر آمادہ کردیتے ہیں مگر یہ سننا قصد حق اور اس کی اتباع سے عاری ہوتا ہے بنا بریں وہ اس سننے سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے، کیونکہ ان کا ارادہ بھلائی کا نہیں ہوتا ﴿وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً﴾ ”اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں“ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو نہ سمجھیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام اس قسم کے لوگوں سے محفوظ رہے ﴿وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۚ﴾ ” اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے۔“ یعنی ان کے کانوں میں بہرا پن اور گرانی ہے، وہ اس طرح نہیں سن سکتے جس سے ان کو کوئی فائدہ پہنچے۔﴿ ۚ وَإِن يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا بِهَا﴾ ” اور اگر وہ دیکھ لیں تمام نشانیاں، تب بھی ایمان نہیں لائیں گے“ اور یہ ظلم و عناد کی انتہا ہے کہ وہ حق کو ثابت کرنے والے واضح دلائل کو مانتے ہیں نہ ان کی تصدیق کرتے ہیں، بلکہ حق کو نیچا دکھانے کے لئے باطل کی مدد سے جھگڑتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ﴾” یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں جھگڑنے کو تو کافر کہتے ہیں، یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں“ یعنی یہ سب کچھ پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کتابوں سے ماخوذ ہے جو اللہ کی طرف سے ہیں نہ اس کے رسولوں کی طرف سے۔ یہ ان کا کفر محض ہے ورنہ اس کتاب کو پہلے لوگوں کی کہانیاں کیسے کہا جاسکتا ہے جو گزرے ہوئے اور آنے والے لوگوں، انبیاء و مرسلین کے لائے ہوئے حقائق، حق اور ہر پہلو سے کامل عدل و انصاف پر مشتمل ہے؟ الانعام
26 ﴿وَهُمْ﴾” اور وہ“ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے لوگ گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کی صفات کے جامع ہیں۔ وہ لوگوں کو بھی اتباع حق سے روکتے ہیں، انہیں حق سے ڈراتے ہیں اور خود اپنے آپ کو بھی حق سے دور رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ان کرتوتوں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔﴿وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ﴾ ” وہ اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں ہیں“ یعنی ان کو اس کا شعور نہیں۔ الانعام
27 اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کے حال اور جہنم کے سامنے ان کو کھڑے کئے جانے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ﴾ ” اگر آپ دیکھیں جس وقت کھڑے کئے جائیں گے وہ دوزخ پر“ تاکہ ان کو زجر و توبیخ کی جائے۔۔۔ تو آپ بہت ہولناک معاملہ اور ان کا بہت برا حال دیکھتے نیز آپ یہ دیکھتے کہ یہ لوگ اپنے کفر و فسق کا اقرار کرتے ہیں اور تمنا کرتے ہیں کہ کاش ان کو دنیا میں پھر واپس بھیجا جائے ﴿فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ ” پس وہ کہیں گے، اے کاش ! ہم پھر بھیج دیئے جائیں اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتوں کو اور ہوجائیں ہم ایمان والوں میں سے۔ “ الانعام
28 ﴿بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ﴾” بلکہ ظاہر ہوگیا ان کے لئے جو وہ چھپاتے تھے پہلے“ اس لئے کہ وہ اپنے دل میں اس حقیقت کو چھپاتے تھے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان کے دلوں کا جھوٹ بسا اوقات ظاہر ہوجاتا تھا۔ مگر ان کی فاسد اغراض ان کو حق سے روک دیتی تھیں اور ان کے دلوں کو بھلائی سے پھیر دیتی تھیں، وہ اپنی ان تمناؤں میں جھوٹے ہیں، ان کا مقصد محض اپنے آپ کو عذاب سے ہٹانا ہے۔ ﴿ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ﴾” اور اگر ان کو واپس لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا ہے اور بے شک یہ سخت جھوٹے ہیں۔“ الانعام
29 ﴿ وَقَالُوا﴾” اور وہ کہتے ہیں۔“ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرنے والے کہتے ہیں ﴿إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا﴾” ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے۔“ یعنی حقیقت حال یہ ہے کہ ہمیں وجود میں لانے کا اس دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں﴿وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ﴾ ” ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔ “ الانعام
30 ﴿وَلَوْ تَرَىٰ﴾ ” اور اگر آپ دیکھیں“ یعنی اگر آپ کافروں کو دیکھیں ﴿ إِذْ وُقِفُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ﴾ ” جبکہ انہیں ان کے رب کے سامنے کھڑا کیا جائے گا“ تو آپ بہت بڑا معاملہ اور بہت ہولناک منظر دیکھیں گے۔ ﴿قَالَ﴾اللہ تعالیٰ ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا : ﴿أَلَيْسَ هَـٰذَا بِالْحَقِّ﴾ ” کیا یہ برحق نہیں؟“ یعنی وہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو، کیا یہ سچ نہیں؟ ﴿قَالُوا بَلَىٰ وَرَبِّنَا﴾ ” وہ کہیں گے کیوں نہیں، قسم ہے ہمارے رب کی !“ پس وہ اقرار اور اعتراف کریں گے جبکہ یہ اعتراف انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا ﴿قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ ﴾ ” اللہ فرمائے گا : پس چکھو اس عذاب کا مزا جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔ “ الانعام
31 جس کسی نے بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، وہ خائب و خاسر ہوا اور ہر قسم کی بھلائی سے محروم کردیا گیا۔ پس یہ تکذیب محرمات کے انکار کی جسارت اور ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال کے اکتساب کی جرأت کی موجب ہوتی ہے ﴿حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً﴾ ”یہاں تک کہ جب آپہنچے گی ان پر قیامت اچانک“ اور وہ اس وقت بدترین اور قبیح ترین حال میں ہوں گے تب وہ انتہائی ندامت کا اظہار کریں گے ﴿قَالُوا يَا حَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا﴾” کہیں گے، ہائے افسوس ! کیسی کوتاہی ہم نے کی اس میں“ مگر حسرت اور ندامت کے اظہار کا وقت جا چکا ہوگا ﴿وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ ۚ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ﴾ ” اور وہ اٹھائے ہوئے ہوں گے اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر، سن لو ! کہ برا ہے وہ بوجھ جس کو وہ اٹھائیں گے۔‘‘ کیونکہ ان کا بوجھ ایسا بوجھ ہوگا جو ان کے لئے سخت بھاری ہوگا اور وہ اس سے گلو خلاصی پر قادر نہ ہوں گے۔ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور اللہ جبار کی ابدی ناراضی کے مستحق ہوں گے۔ الانعام
32 یہی دنیا اور آخرت کی حقیقت ہے۔ رہی دنیا کی حقیقت تو یہ محض لہو و لعب ہے۔ بدن کا کھیل تماشہ اور قلب کا کھیل تماشہ، پس دل لہو و لعب پر فریفتہ، نفوس اس پر عاشق اور ارادے اس سے پیوست رہتے ہیں اور لہو و لعب میں مشغولیت اس میں ایسے ہوتی ہے جیسے بچے کھیل میں مگن ہوتے ہیں۔ رہی آخرت تو وہ﴿خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ﴾ اپنی ذات و صفات اور بقا و دوام کے اعتبار سے اہل تقویٰ کے لئے بہتر ہے۔ اس میں ہر وہ چیز موجود ہوگی جس کی نفس خواہش کریں گے، جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، یعنی قلب و روح کی نعمت اور مسرت و فرحت کی کثرت۔ مگر یہ نعمتیں اور مسرتیں ہر ایک کے لئے نہیں ہوں گی بلکہ صرف متقی لوگوں کے لئے ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں اور اس کی منہیات کو ترک کرتے ہیں﴿أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾ ” کیا تم عقل نہیں رکھتے؟“ کیا تمہارے پاس عقل نہیں جس کے ذریعے سے تم یہ ادراک کرسکو کہ دنیا اور آخرت میں سے کون سا گھر ترجیح دیئے جانے کا مستحق ہے؟ الانعام
33 یعنی ہمیں علم ہے کہ آپ کی تکذیب کرنے والے آپ کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے اور آپ غم زدہ ہوتے ہیں۔ ہم نے آپ کو صبر کرنے کا حکم محض اس لئے دیا ہے تاکہ آپ کو مقامات بلند اور گراں قیمت احوال حاصل ہوں۔ پس آپ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ قول اس سبب سے صادر ہوا ہے کہ ان کو آپ کے بارے میں کوئی اشتباہ یا شک لاحق ہوا ہے ﴿فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ﴾ ”بے شک وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے“ کیونکہ وہ آپ کی صداقت، آپ کے اندر، باہر اور آپ کے تمام احوال کو خوب جانتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے آپ کو ” امین“ کہا کرتے تھے ﴿وَلَـٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّـهِ يَجْحَدُونَ﴾” لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔“ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی ان آیات کو جھٹلاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر ظاہر کیا۔ الانعام
34 اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّىٰ أَتَاهُمْ نَصْرُنَا ۚ﴾ ” آپ سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا، پس انہوں نے اپنی تکذیب اور ایذا دیئے جانے پر صبر کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی“ پس جس طرح انہوں نے صبر کیا اسی طرح آپ بھی صبر کیجیے۔ جس طرح وہ ظفر یاب ہوئے آپ بھی ظفر یاب ہوں گے۔ ﴿وَلَقَدْ جَاءَكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ﴾ ” اور آپ کے پاس گزشتہ انبیا و مرسلین کی خبر پہنچ گئی ہے۔“ جس سے آپ کے دل کو تقویت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ الانعام
35 ﴿وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ﴾ ” اور اگر ان کی روگردانی آپ پر شاق گزرتی ہے۔“ یعنی اگر ان کا اعراض آپ پر شاق گزرتا ہے، کیونکہ آپ ان کے ایمان کی بہت خواہش رکھتے ہیں تو آپ اس بارے میں اپنی پوری کوشش کر دیکھئے۔ پس اس شخص کو ہدایت دینا آپ کے بس میں نہیں جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا نہ چاہتا ہو۔ ﴿ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُم بِآيَةٍ﴾ ” پس اگر آپ سے ہوسکے کہ ڈھونڈ نکالیں کوئی سرنگ زمین میں، یا کوئی سیڑھی آسمان میں پھر لائیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی“ یعنی یہ سب کچھ کر دیکھیے ان میں سے کوئی چیز بھی ان کو فائدہ نہیں دے گی۔ یہ آیت کریمہ اس قسم کے معاندین حق کی ہدایت کی تمنا اور امید کو منقطع کرتی ہے۔ ﴿وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَىٰ﴾” اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا“ مگر حکمت الٰہی متقاضی ہوئی کہ وہ اپنی گمراہی پر باقی رہیں ﴿فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ﴾ ” پس آپ جاہلوں میں شامل نہ ہوں“ جو حقائق امور کی معرفت نہیں رکھتے اور ان امور کو ان کے مقام پر نہیں رکھتے۔ الانعام
36 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے ﴿إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ﴾ ” بلا شبہ قبول کریں گے۔“ آپ کی دعوت اور آپ کی رسالت پر صرف وہی لوگ لبیک کہیں گے اور آپ کے امرو نہی کے سامنے صرف وہی لوگ سر تسلیم خم کریں گے ﴿الَّذِينَ يَسْمَعُونَ ﴾” جو سنتے ہیں۔“ یعنی جو اپنے دل کے کانوں سے سنتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور یہ عقل اور کان رکھنے والے لوگ ہیں۔ یہاں سننے سے مراد دل سے سننا اور اس پر لبیک کہنا ہے ورنہ مجرد کانوں سے سننے میں نیک اور بدسب شامل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن کر تمام مکلفین پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی اور حق کو قبول نہ کرنے کا ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہا۔﴿وَالْمَوْتَىٰ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ﴾” اور مردوں کو زندہ کرے گا اللہ، پھر اس کی طرف وہ لائے جائیں گے۔“ اس میں اس امر کا احتمال ہے کہ یہ معنی، مذکور بالا معنی کے بالمقابل ہوں۔ یعنی آپ کی دعوت کا جواب صرف وہی لوگ دیں گے جن کے دل زندہ ہیں، رہے وہ لوگ جن کے دل مر چکے ہیں، جنہیں اپنی سعادت کا شعور تک نہیں اور جنہیں یہ بھی احساس نہیں کہ وہ کون سی چیز ہے جو انہیں نجات دلائے گی تو ایسے لوگ آپ کی دعوت پر لبیک نہیں کہیں گے اور نہ وہ آپ کی اطاعت کریں گے۔ ان کے لئے وعدے کا دن تو قیامت کا دن ہے اس روز اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کرے گا، پھر وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے ظاہری معنی مراد لئے جائیں۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ معاد کو متحقق کر رہا ہے کہ وہ قیامت کے روز تمام مردوں کو زندہ کرے گا، پھر ان کو ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہنے کی ترغیب اور اس کا جواب نہ دینے پر ترہیب کو متضمن ہے۔ الانعام
37 ﴿ وَقَالُوا﴾ ”اور کہتے ہیں۔“ یعنی عناد کی وجہ سے رسول کی تکذیب کرنے والے کہتے ہیں : ﴿لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ ۚ﴾ ” کیوں نہیں اتاری گئی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف؟“ یعنی ان کی خواہش کے مطابق نشانیاں نازل کی جائیں جن کا انتخاب وہ اپنی فاسد عقل اور گھٹیا آراء کے ذریعے سے کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ قول نقل فرمایا : ﴿ وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا  أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهَارَ خِلَالَهَا تَفْجِيرًا أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا﴾(بنی اسرائیل :17؍90۔92)” اور وہ کہتے ہیں کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تم زمین سے ہمارے لئے چشمہ جاری نہ کر دو، یا تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو اور اس باغ کے بیچوں بیچ نہریں جاری کرو یا جیسا کہ تم دعویٰ کیا کرتے ہو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دو یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آؤ۔ “ ﴿قُلْ﴾ان کا جواب دیتے ہوئے کہہ دیجیے !﴿إِنَّ اللَّـهَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَن يُنَزِّلَ آيَةً ﴾ ” یقیناً اللہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے دے“ اس کی قدرت ایسا کرنے سے قاصر نہیں اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ ہر چیز اس کے غلبہ کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے اور اس کی قدرت و تسلط کی اطاعت کئے ہوئے ہے ﴿وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾ ” لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے“ پس وہ اپنی جہالت اور عدم علم کی بنا پر ایسی نشانیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر وہ نشانیاں ان کے پاس آجائیں تو بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے اور پھر ان پر جلدی سے عذاب نازل کردیا جائے گا۔ جیسا کہ یہ سنت الٰہی ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ بایں ہمہ اگر ان کا مقصود وہ نشانیاں ہیں جو حق کو واضح کر کے راہ حق کو روشن کردیں تو جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہر قسم کی قطعی دلیل اور روشن برہان پیش کرتے ہیں جو اس حق پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے، کیونکہ بندہ دین کے ہر مسئلہ میں متعدد عقلی اور نقلی دلائل پاتا ہے کہ اس کے دل میں ادنیٰ سا شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔ پس نہایت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور واضح دلائل کے ساتھ اس کی تائید کی، تاکہ جو کوئی ہلاک ہو دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو کوئی زندہ رہے، دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ الانعام
38 زمین میں رہنے والے، ہوا میں اڑنے والے، بہائم، جنگلوں میں رہنے والے وحشی جانور اور پرندے سب تمہاری طرح گروہ ہیں۔ ان کو بھی ہم نے اسی طرح پیدا کیا ہے جس طرح تمہیں پیدا کیا ہے، اسی طرح ہم ان کو بھی رزق عطا کرتے ہیں جس طرح تمہیں عطا کرتے ہیں۔ ہماری قدرت اور مشیت ان پر بھی اسی طرح نافذ ہے جس طرح تم پر نافذ ہے۔ ﴿مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ﴾ ” ہم نے کتاب میں کسی چیز میں کوتاہی نہیں کی۔“ یعنی ہم نے کسی چیز کو لوح محفوظ میں لکھنے میں کوتاہی اور غفلت نہیں کی بلکہ تمام چھوٹی بڑی چیزیں جیسی بھی وہ ہیں لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں۔ پس تمام حوادث اس کے مطابق واقع ہوتے ہیں جو قلم سے لکھے جا چکے ہیں۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ سب سے پہلے لوح محفوظ میں تمام کائنات کی تقدیر لکھ دی گئی۔ یہ قضا وقدر کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے۔ قضا و قدر کے چار مراتب ہیں۔ (١) اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم تمام اشیاء کو شامل ہے۔ (٢) اس کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) تمام موجودات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ (٣) اس کی مشیت اور قدرت عامہ ہر چیز پر نافذ ہے۔ (٤) تمام مخلوقات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، حتی کہ بندوں کے افعال کا خالق بھی وہی ہے۔ اس آیت مبارکہ میں یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ ” کتاب“ سے مراد قرآن ہو۔ تب اس کے معنی قرآن کریم کی اس آیت کی مانند ہوں گے ﴿وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ﴾ (النحل :16؍89) ” اور ہم نے تم پر کتاب نازل کی جس میں ہر چیز بیان کردی گئی ہے۔ “ ﴿ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ ﴾ ” پھر سب اپنے رب کی طرف جمع کئے جائیں گے۔“ یعنی تمام امتوں کو قیامت کے میدان میں اللہ تعالیٰ کے حضور جمع کیا جائے گا۔ یہ انتہائی ہولناک مقام ہوگا۔ پس اللہ تعالیٰ اپنے عدل و احسان سے سب کو جزا دے گا اور ان پر اپنا فیصلہ نافذ کرے گا، جس کی تعریف اولین و آخرین، آسمانوں والے اور زمین والے سب کریں گے۔ الانعام
39 اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا حال بیان ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے بند کر کے ہلاکت کے دروازے کھول لئے اور وہ ﴿ صُمٌّ﴾ ” بہرے“ یعنی حق سننے سے بہرے ہیں ﴿ وَبُكْمٌ﴾ ” اور گونگے“ یعنی حق بولنے سے گونگے ہیں، پس باطل کے سوا کچھ نہیں بولتے۔ ﴿ فِي الظُّلُمَاتِ﴾ ” اندھیروں میں“ یعنی جہالت، کفر، ظلم، عناد اور نافرمانی کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا ان کو گمراہ کردینا ہے، کیونکہ ﴿ مَن يَشَإِ اللَّـهُ يُضْلِلْـهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾ ” وہ جس کو چاہتا ہے، گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے۔“ کیونکہ وہی اکیلا اپنی حکمت اور فضل و کرم کے تقاضوں کے مطابق ہدایت دیتا یا گمراہ کرتا ہے۔ الانعام
40 ﴿قُلْ﴾ اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرانے والے مشرکین سے کہہ دیجیے ﴿أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّـهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّـهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴾ ” بھلا بتلاؤ، اگر تمہارے پاس اللہ کا عذاب آجائے یا قیامت آجائے، تو کیا تم اللہ کے سوا اوروں کو پکارو گے، اگر تم سچے ہو؟“ یعنی جب تم ان تکالیف اور کرب و غم میں مبتلا ہوتے ہو اور تم ان کو ہٹانے پر مجبور ہوتے ہو، تب اس وقت تم اپنے خداؤں اور بتوں کو پکارتے ہو یا تم اپنے رب بادشاہ حقیقی کو پکارتے ہو؟ الانعام
41 ﴿بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِن شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ ﴾” بلکہ تم صرف اسی کو پکارتے ہو، پھر وہ دور کردیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لئے اس کو پکارتے ہو، اگر وہ چاہے اور ان کو بھول جاتے ہو جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو۔“ جب سختیوں کے وقت تمہارا اپنے معبودوں کے بارے میں یہ حال ہے کہ تم ان کو بھول جاتے ہو کیونکہ تمہیں علم ہے کہ وہ نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات کے اور نہ وہ قیامت کے روز دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہیں اور تم (اس وقت) نہایت اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہو، کیونکہ تم جانتے ہو کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی نفع و نقصان کا مالک ہے، وہی ہے جو مجبور کی دعا قبول کرتا ہے۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ فراخی اور خوشحالی کے وقت تم شرک کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہراتے ہو؟ کیا عقل یا نقل نے تمہیں اس راہ پر لگایا ہے یا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے یا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ گھڑ رہے ہو؟ الانعام
42 ﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ﴾ ” اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔“ یعنی ہم نے سابقہ اور گزرے ہوئے زمانوں میں رسول بھیجے۔ انہوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری آیات کا انکار کیا﴿فَأَخَذْنَاهُم بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ ﴾” ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں پر پکڑتے رہے۔“ یعنی ان پر رحم کرتے ہوئے فقر و مرض اور آفات و مصائب کے ذریعے سے ان کی گرفت کی ﴿لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ﴾ ” تاکہ وہ عاجزی کریں۔“ شاید کہ وہ اللہ کے پاس عاجزی سے گڑ گڑائیں اور سختی کے وقت اس کے پاس پناہ طلب کریں۔ الانعام
43 ۔﴿فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَـٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ﴾ ” پس کیوں نہ گڑ گڑائے جب آیا ان پر عذاب ہمارا، لیکن سخت ہوگئے دل ان کے“ یعنی ان کے دل پتھر ہوگئے ہیں جو حق کے سامنے نرم نہیں پڑتے ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴾ ” اور بھلے کر دکھلائے ان کو شیطان نے جو کام وہ کر رہے تھے“ اس لئے وہ سمجھتے رہے کہ جس راستے پر وہ گامزن ہیں یہی دین حق ہے۔ پس وہ اپنے باطل میں غلطاں کچھ عرصہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور شیطان ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔ الانعام
44 ﴿فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ﴾ ” پھر جب وہ بھول گئے اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی تو کھول دیئے ہم نے ان پر دروازے ہر چیز کے“ یعنی ان پر دنیا، اس کی لذتوں اور اس کی غفلتوں کے دروازے کھول دیئے ﴿حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ﴾ ” یہاں تک کہ جب وہ خوش ہوئے ان چیزوں پر جو ان کو دی گئیں تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا، پس اس وقت وہ ناامید ہو کر رہ گئے“ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہوگئے۔ یہ عذاب کی سخت ترین نوعیت ہے کہ انہیں اچانک غفلت اور اطمینان کی حالت میں پکڑ لیا جائے تاکہ ان کی سزا سخت اور مصیبت بہت بڑی ہو۔ الانعام
45 ﴿فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا ۚ﴾ ” پھر کٹ گئی جڑ ظالموں کی“ یعنی عذاب سے وہ برباد ہوگئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہوگئے۔ ﴿وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ ” اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر نے جھٹلانے والوں کی جو ہلاکت مقدر کی ہے اس پر پروردگار عالم کی تعریف ہے، کیونکہ اسی سے اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کے اولیاء کی عزت و تکریم، اس کے دشمنوں کی ذلت و رسوائی اور رسولوں کی تعلیمات کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔ الانعام
46 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جس طرح وہ تمام کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے اسی طرح وہ وحدانیت اور الوہیت میں بھی متفرد ہے۔ فرمایا: ﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّـهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم﴾ ” کہہ دیجیے، بتلاؤ! اگر اللہ تعالیٰ چھین لے تمہارے کان اور آنکھیں اور مہر لگا دے تمہارے دلوں پر“ یعنی تم اس حالت میں باقی رہ جاؤ کہ تمہاری سماعت ہو نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت ﴿مَّنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِهِ﴾ ” تو کون ایسا معبود ہے اللہ کے سوا جو تم کو یہ چیزیں لادے؟“ جب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو یہ چیز عطا کرسکے تو پھر تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی ہستیوں کی عبادت کیوں کرتے ہو جن کے پاس کچھ بھی قدرت و اختیار نہیں مگر جب اللہ چاہے۔ یہ آیت کریمہ توحید کے اثبات اور شرک کے بطلان کی دلیل ہے اس لئے فرمایا : ﴿انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ﴾” دیکھو ! ہم کیوں کر طرح طرح سے بیان کرتے ہیں باتیں“ یعنی ہم اپنی آیات کو کس طرح متنوع بناتے ہیں، ہم ہر اسلوب میں اپنی نشانی لاتے ہیں، تاکہ حق روشن اور مجرموں کی راہ واضح ہوجائے ﴿ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ﴾” پھر بھی وہ اعراض کرتے ہیں۔“ یعنی اس کامل تبیین و توضیح کے باوجود بھی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے روگردانی اور اعراض کرتے ہیں۔ الانعام
47 ﴿قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ ﴾یعنی مجھے خبر دو﴿ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّـهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً﴾ ”اگر تم پر اللہ کا عذاب بے خبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے“ یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آجائے یا اس عذاب کے مقدمات ظاہر ہوجائیں جن سے تمہیں اس عذاب کے وقوع کا علم ہوجائے ﴿هَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الظَّالِمُونَ﴾ ” تو کیا ظالموں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا۔“ یعنی وہ ظالم لوگ ہلاک ہوں گے جو اپنے ظلم و عناد کی وجہ سے اس عذاب کے وقوع کا سبب بنے۔ اس لئے ظلم پر قائم رہنے سے بچو، کیونکہ ظلم ابدی ہلاکت اور دائمی بدبختی ہے۔ الانعام
48 اللہ تبارک و تعالیٰ اس چیز کا خلاصہ بیان فرماتا ہے جس کے ساتھ اس نے رسولوں کو بھیجا اور وہ ہے تبشیر اور انذار، یہ چیز مبشر، مبشربہ اور ان اعمال کے بیان کو مستلزم ہے کہ جب بندہ ان کو بجا لاتا ہے تو اسے بشارت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرحیہ منذر، منذربہ اور ایسے اعمال کے بیان کو لازم قرار دیتی ہے کہ بندہ جب ان اعمال کا ارتکاب کرتا ہے تو انداز کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ لوگ انبیاء و مرسلین کی دعوت پر لبیک کہنے یا ان کی دعوت کا جواب نہ دینے کے اعتبار سے دو اقسام میں منقسم ہیں ﴿فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ﴾ ” پھر جو شخص ایمان لائے اور اصلاح کرے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے ایمان، اعمال اور نیت کی اصلاح کرتے ہیں ﴿ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ﴾ ” تو ایسے لوگوں کو کچھ خوف ہوگا“ آنے والے امور سے انہیں کوئی خوف نہ ہوگا ﴿ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴾ ” اور نہ وہ غم زدہ ہوں گے۔“ اور گزرے ہوئے امور پر وہ غمزدہ نہ ہوں گے۔ الانعام
49 ﴿ وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ﴾ ” اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، ان کو عذاب پہنچے گا“ اور وہ اس کا مزا چکھیں گے ﴿ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ ” اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔ “ الانعام
50 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ وہ معجزا کا مطالبہ کرنے والوں سے کہہ دیں جو آپ سے یہ کہتے ہیں کہ ” تو صرف اس لئے ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم تجھے بھی اللہ کے ساتھ الٰہ مان لیں“ ﴿لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ ﴾” میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں“ یعنی اللہ تعالیٰ کے رزق اور رحمت کی کنجیاں ﴿ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ﴾” اور نہ میں غیب جانتا ہوں“ غیب کا علم تو تمام تر اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جس کی صفت ہے :﴿مَّا يَفْتَحِ اللَّـهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۖ وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ ۚ ﴾ (فاطر :35؍2) ” اللہ تعالیٰ لوگوں پر رحمت کا جو دروازہ کھول دے اسے کوئی بند کرنے والا نہیں اور جو دروازہ وہ بند کر دے تو اس کے بعد کوئی کھول نہیں سکتا۔“ یعنی وہ اکیلا ہی ہے جو غائب اور موجودہ کا علم رکھتا ہے ﴿فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا  إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ ﴾(الجن : 72؍ 26۔27) ” وہ کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے اس رسول کے جسے وہ پسند کرے۔ “ ﴿وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ﴾” اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں“ کہ میں اللہ تعالیٰ کے تصرفات کو نافذ کرنے والا ہوں، میں اپنے اس مرتبہ و مقام سے بڑھ کر کوئی دعویٰ نہیں کرتا جس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے۔ ﴿ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۚ﴾ ” میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے آتا ہے۔“ یعنی یہ میرے معاملے کی غایت و انتہا ہے، میں وحی کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتا، میں خود بھی اس پر عمل کرتا ہوں اور تمام مخلوق کو بھی اسی پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ جب میں نے اپنا مرتبہ اور مقام پہچان لیا ہے تو تلاش کرنے والا میرے پاس کیا چیز تلاش کرتا ہے یا مجھ سے ایسی کس چیز کا مطالبہ کرتا ہے جس کا میں نے کبھی دعویٰ ہی نہیں کیا۔ کیا انسان پر اس کے سوا کوئی چیز لازم ہے جس کے وہ در پے ہے؟ جب میں تمہیں اس چیز کی طرف بلاتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے، تو تم کس بنا پر مجھ پر یہ لازم کرتے ہو کہ میں کسی ایسی چیز کا دعویٰ کروں جو میرے مرتبہ کے شایان نہیں، کیا وہ محض تمہارا ظلم، عناد اور سرکشی نہیں؟ جو آپ کی دعوت قبول کرتے ہیں اور آپ کی طرف بھیجی گئی وحی کی اتباع کرتے ہیں اور جو ایسا نہیں کرتے، ان کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے !﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ﴾ ” کہہ دیجیے ! کیا اندھا اور بینا برابر ہوسکتے ہیں؟ کیا تم غور نہیں کرتے؟“ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے کہ تمام اشیا کو ان کے اپنے اپنے مرتبے اور مقام پر رکھو اور اسی چیز کو اختیار کرو جو اختیار کئے جانے اور ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے۔ الانعام
51 یہ قرآن تمام مخلوق کے لئے انذار ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ﴿الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ﴾ ” جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کئے جانا ہے۔“ پس انہیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انہیں نقصان دیتا ہے۔ ﴿ لَيْسَ لَهُم مِّن دُونِهِ﴾ ” نہیں ہوگا ان کے لئے اس کے بغیر“ یعنی اللہ کے بغیر ﴿وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ﴾ ” کوئی دوست اور نہ سفارشی“ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہوگی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کرسکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہوجائے اور ان سے تکلیف دور ہوجائے، نہ ان کا کوئی سفارشی ہوگا، کیونکہ تمام مخلوق کے پاس کوئی اختیار نہیں ﴿لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ ” تاکہ وہ پرہیز گار بنیں۔“ شاید وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کریں۔ کیونکہ انذار، تقویٰ کا موجب اور اس کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ الانعام
52 ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ﴾” اور مت دور کیجیے ان لوگوں کو جوصبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، چاہتے ہیں اسی کا چہرہ“ یعنی دوسروں کی مجالست کی امید میں اہل اخلاص اور اہل عبادت کو اپنی مجلس سے دور نہ کیجیے جو ہمیشہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں، ذکر اور نماز کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں، صبح و شام اس سے سوال کرتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔ اس مقصد جلیل کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں۔ بنا بریں یہ لوگ اس چیز کے مستحق نہیں کہ انہیں اپنے سے دور کیا جائے یا ان سے روگردانی کی جائے بلکہ یہ لوگ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موالات، محبت اور قربت کے زیادہ مستحق ہیں، کیونکہ یہ مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہیں اگرچہ یہ فقیر اور نادار ہیں اور یہی درحقیقت اللہ کے ہاں باعزت لوگ ہیں اگرچہ یہ لوگوں کے نزدیک گھٹیا اور کم مرتبہ ہیں۔ ﴿ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِم مِّن شَيْءٍ﴾ ” نہیں ہے آپ پر ان کے حساب میں سے کچھ اور نہ آپ کے حساب میں سے ان پر ہے کچھ“ یعنی ہر شخص کے ذمہ اس کا اپنا حساب ہے، اس کا نیک عمل اس کے لئے ہے اور برے عمل کی شامت بھی اسی پر ہے﴿فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾” پس اگر ان کو دور کرو گے تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پوری طرح پیروی کی، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فقرائے مومنین کی مجلس میں بیٹھتے تو دلجمعی سے ان کے ساتھ بیٹھتے، ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے، ان کے ساتھ حسن خلق اور نرمی کا معاملہ کرتے اور انہیں اپنے قریب کرتے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں زیادہ تر یہی لوگ ہوتے تھے۔ ان آیات کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ قریش میں سے یا اعراب میں سے چند اجڈ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تم پر ایمان لائیں اور تمہاری پیروی کریں تو فلاں فلاں شخص جو کہ فقرائے صحابہ میں سے تھے، اپنے پاس سے اٹھا دو، کیونکہ ہمیں شرم آتی ہے کہ عرب ہمیں ان گھٹیا لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھیں۔ ان معترضین کے اسلام لانے اور ان کے اتباع کرنے کی خواہش کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں بھی یہ خیال آیا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات کے ذریعے سے آپ کو ایسا کرنے سے منع فرمایا۔ الانعام
53 ﴿وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا﴾” اور اسی طرح ہم نے آزمایا ہے بعض لوگوں کو بعضوں سے، تاکہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان میں سے، اللہ نے فضل کیا؟‘‘ یعنی یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی آزمائش ہے کہ اس نے بعض کو خوشحال بنایا اور بعض کو محتاج اور تنگ دست پیدا کیا۔ بعض کو صاحب شرف پیدا کیا، بعض کو گھٹیا اور کم تر، جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی نادار اور کم تر شخص کو ایمان عطا کر کے اس پر احسان کرتا ہے تو یہ چیز خوشحال اور بلند مرتبہ شخص کے لئے امتحان کا باعث ہوتی ہے۔ اگر اس کا مقصد اتباع حق ہے تو وہ ایمان لا کر مسلمان ہوجاتا ہے اور اسے ایمان لانے سے اس شخص کی مشارکت نہیں روک سکتی جس کو وہ مال و دولت اور جاہ و مرتبہ میں اپنے سے کمتر خیال کرتا ہے۔ اگر وہ طلب حق میں سچا نہیں تو یہ وہ گھاٹی ہے جو اسے اتباع حق سے روک دیتی ہے۔ جن کو وہ اپنے آپ سے کم تر خیال کرتے ہیں ان کو حقیر گردانتے ہوئے کہتے ہیں : ﴿ أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا﴾” کیا یہی لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان میں سے، اللہ نے فضل کیا؟“ اسی چیز نے ان کی عدم طہارت کے باعث ان کو اتباع حق سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس کلام کو جو اللہ تعالیٰ پر اعتراض کو متضمن ہے کہ اس نے ان کو ہدایت سے نواز دیا اور ان کو محروم کردیا۔۔۔ جواب دیتے ہوئے فرمایا : ﴿أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ﴾ ” کیا نہیں ہے اللہ خوب جاننے والا شکر کرنے والوں کو؟“ جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانتے ہیں اور اس کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل صالح کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ ایسے ہی کو اپنے فضل و احسان سے نوازتا ہے نہ کہ ان کو جو اس کے شکر گزار نہیں ہوتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے وہ اپنے فضل و کرم سے کسی ایسے شخص کو نہیں نوازتا جو اس کا اہل نہ ہو اور یہ معترضین اسی وصف کے مالک ہیں۔ اس کے برعکس جن فقرا کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے نوازا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار لوگ ہیں۔ الانعام
54 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مطیع مومن بندوں کو دور کرنے سے روک دیا تو ان کفار کے مقابلے میں انہیں اکرام، تعظیم، عزت اور احترام سے پیش آنے کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا : ﴿وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ﴾ ”جب آپ کے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو انہیں السلام علیکم کہیں۔“ یعنی جب اہل ایمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تو آپ ان کو سلام کہیں، ان کو خوش آمدید کہیں۔ سلام و تحیات سے ان کا استقبال کریں اور انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے جود و احسان کی بشارت دیں جو ان کے عزائم اور ارادوں میں نشاط پیدا کرے اور انہیں منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے ہر راستہ اور ہر سبب اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔ ان کو گناہوں پر قائم رہنے سے ڈرائیں اور انہیں گناہوں سے توبہ کرنے کا حکم دیں تاکہ وہ اپنے رب کی مغفرت اور اس کے جود و کرم کو پا سکیں۔ ﴿كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۖ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ ﴾ ” لکھ لیا ہے تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو جو کوئی کرے تم میں سے برائی، ناواقفیت سے، پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیک ہوجائے“ یعنی (قبولیت توبہ کے لئے) گناہوں کو ترک کرنا، ان کا قلع قمع کرنا، ان پر نادم ہونا اور اعمال کی اصلاح کرنا ضروری ہے، نیز ان امور کی ادائیگی جن کو اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور جو ظاہری اور باطنی اعمال فاسد ہوچکے ہیں۔ ان کی اصلاح کرنا ضروری ہے۔ جب یہ تمام امور موجود ہوں ﴿فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ ” تو بات یہ ہے کہ وہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جن امور کا حکم دیا ہے اس کی بجا آوری کے مطاق ان پر اپنی مغفرت اور رحمت کا فیضان کرتا ہے۔ الانعام
55 ﴿وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ﴾ ” اور اسی طرح ہم اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔“ یعنی اسی طرح ہم اپنی آیات کو واضح کرتے ہیں، گمراہی میں سے ہدایت کے راستے کو ممیز کرتے ہیں، رشد و ہدایت اور ضلالت میں فرق کرتے ہیں تاکہ راہ ہدایت پر چلنے والے ہدایت پا لیں، تاکہ حق کا راستہ عیاں ہوجائے جس پر گامزن ہونا چاہئے۔ ﴿وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ ﴾ ” اور تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہو جائے“ جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب تک پہنچاتا ہے، کیونکہ جب مجرموں کا راستہ ظاہر اور صاف واضح ہوجاتا ہے تو اس سے اجتناب کرنا اور اس سے دور رہنا آسان ہوجاتا ہے۔ اور اس کے برعکس اگر راستہ مشتبہ اور غیر واضح ہو تو یہ مقصد جلیل حاصل نہیں ہوسکتا۔ الانعام
56 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے : ﴿قُلْ﴾ان مشرکین سے کہہ دیجیے جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو بھی پکارتے ہیں ﴿إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ﴾ ” جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔“ یعنی مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اللہ کی بجائے اللہ کے بناوٹی ہمسروں اور بتوں کی عبادت کروں جو کسی نفع ونقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات اور دوبارہ اٹھانے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں۔ یہ سب باطل ہے۔ اس میں تمہارے لئے کوئی دلیل ہے نہ اس کے باطل ہونے میں کوئی شبہ ہے۔ سوائے خواہشات نفس کی پیروی کے جو سب سے بڑی گمراہی ہے۔ بنابریں فرمایا : ﴿قُل لَّا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَكُمْ ۙ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا ﴾” کہہ دیجیے میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا، بیشک تب میں بہک جاؤں گا“ یعنی اگر میں تمہاری خواہشات کی پیروی کروں تو گمراہ ہوجاؤں گا ﴿ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ﴾” اور کسی پہلو سے بھی راہ راست پر نہیں رہوں گا“ رہی و وہ توحید اور اخلاص عمل جن پر میں عمل پیرا ہوں تو یہی حق ہے جس کی تائید واضح براہین اور قطعی دلائل کرتے ہیں۔ الانعام
57 ﴿عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي ﴾ ” میں تو اپنے رب کی دلیل روشن پر ہوں۔“ آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اس قرآن کی صحت اور اس کے ماسوا کے بطلان کا واضح یقین رکھتا ہوں۔ یہ رسول کی طرف سے قطعی شہادت ہے جو ہر قسم کے تردد سے پاک ہے۔ رسول علی الاطلاق سب سے عادل گواہ ہوتا ہے۔ اہل ایمان نے رسول کی گواہی کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جس ایمان سے نوازا ہے اس ایمان کے مطابق ان کے ہاں اس شہادت کی صحت اور صداقت متحقق ہے۔ ﴿وَ﴾ مگر اے مشرکو !﴿كَذَّبْتُم بِهِ﴾” تم نے اس کی تکذیب کی“ اور یہ تمہاری طرف سے اس سلوک کا مستحق نہ تھا، تصدیق کے سوا کوئی اور سلوک اس کے شایان شان نہ تھا۔ جب تم تکذیب پر مصر ہو تو جان رکھو کہ لا محالہ عذاب تم پر واقع ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ عذاب مقرر ہے وہ جب چاہے گا اور جیسے چاہے گا تم پر نازل کرے گا۔ اگر تم جلدی مچاتے ہو تو معاملہ میرے اختیار میں نہیں ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّـهِ﴾ ” حکم صرف اللہ کا ہے“ جس طرح اس نے اوامرونواہی میں اپنا حکم شرعی نافذ کیا ہے اسیطرح وہ حکم جزائی نافذ کرے گا اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ثواب و عقاب دے گا۔ پس اس کے فیصلے پر اعتراض درخورا عتنا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے راہ حق کو واضح کردیا ہے اور اپنے بندوں کے سامنے حق بیان کر کے ان کا عذر ختم کردیا اور یوں ان کی حجت منقطع ہوگئی، تاکہ وہ ہلاک ہو تو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہوا او جو زندہ رہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے ﴿وَهُوَ خَيْرُ الْفَاصِلِينَ ﴾ ”وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔“ وہ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، وہ ان کے درمیان ایسافیصلہ کرتا ہے جس پر اس کی تعریف کی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ تعریف کئے بغیر نہیں رہتا جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے اور وہ حق کو واضح اور متعین کردیتا ہے۔ الانعام
58 ﴿ قُل﴾ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو جہالت، عناد اور ظلم کی بنا پر عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہیں ﴿لَّوْ أَنَّ عِندِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِيَ الْأَمْرُ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ﴾ ” اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کی تم جلدی کر رے ہو، تو طے ہوچکا ہوتا جھگڑا، میرے اور تمہارے درمیان“ پس میں تم پر عذاب واقع کردیتا۔ اس جلدی مچانے میں تمہارے لئے بھلائی نہیں۔ لیکن تمام تر معاملہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ، اختیار میں ہے جو نہایت برد بار اور صبر کرنے والا ہے۔ نافرمان اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور گناہوں کا ارتکاب کرنے والے اس کے سامنے بڑی جرأت سے گناہ کرتے ہیں مگر وہ ان سے درگزر کرتا ہے، ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بھی نوازتا ہے ﴿وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ﴾” اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے“ ان کے احوال میں سے کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے، پس وہ ان کو مہلت دیتا ہے مگر مہمل نہیں چھوڑتا۔ الانعام
59 یہ آیت کریمہ قرآن مجید کی عظیم ترین آیات میں شمار ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم محیط کی تفصیل بیان کرتی ہے جو تمام غیوب کو شامل ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اسے ان غیبوں میں سے کسی پر مطلع کردیتا ہے۔ اس نے اپنا بہت سا علم، عام جہان والے تو کجا ملائکہ مقربین اور انبیاء و مرسلین سے بھی پوشیدہ رکھا ہے۔ صحراؤں اور بیابانوں میں حیوانات، درخت، ریت کے ذرات، کنکر اور مٹی سب اس کے علم میں ہیں۔ سمندروں کے جانوروں، ان کی معدنیات، ان کے شکار وغیرہ اور ان تمام اشیا کو وہ جانتا ہے جو ان کے کناروں کے اندر اور ان کے پانیوں میں شامل ہیں۔ ﴿وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ ﴾” اور نہیں گرتا کوئی پتا“ بحر و بر، آبادیوں، بیابانوں اور دنیا و آخرت کے درختوں پر سے اگر کوئی پتا گرتا ہے تو اسے بھی وہ جانتا ہے ﴿وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ﴾ ” اور نہیں کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں“ یعنی پھل اور کھیتیوں کے دانے، وہ بیج جو لوگ زمین میں بوتے ہیں اور جنگلی نباتات کے بیج جن سے مختلف اصناف کی نباتات پیدا ہوتی ہیں ﴿وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ ﴾” اور نہ کوئی ہری چیز اور نہ کوئی سوکھی چیز“ یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے ﴿ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ﴾ ” مگر وہ سب کتاب مبین میں ہے“ یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور لوح محفوظ ان تمام امور کو شامل ہے۔ ان میں سے بعض امور تو بڑے بڑے عقل مندوں کو حیران اور مبہوت کردیتے ہیں اور یہ چیز رب عظیم کی عظمت اور اس کے تمام اوصاف میں اس کی وسعت پر دلالت کرتی ہے۔ اگر تمام مخلوق کے اولین و آخرین جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا احاطہ کرنا چاہیں تو وہ اس پر قادر نہیں اور نہ ان میں اس کی طاقت ہی ہے۔ نہایت بابرکت ہے رب عظیم کی ذات جو وسعت والی، علم رکھنے والی، قابل تعریف، بزرگی والی، دیکھنے والی اور ہر چیز کا احاطہ کرنے والی ہے۔ وہ الٰہ جلیل ہے، کوئی اس کی حمد و ثنا کا شمار نہیں کرسکتا بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے۔ اس کی جو حمد و ثنا اس کے بندے بیان کرتے ہیں وہ اس سے بہت بڑھ کر ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس کا علم تمام اشیاء کا احاطہ کئے ہوئے اور اس کی کتاب تمام حوادث پر محیط ہے۔ الانعام
60 یہ آیت کریمہ تمام تر توحید الوہیت کے تحقق، مشرکین کے خلاف دلائل اور اس بیان پر مشتمل ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی محبت، تعظیم، اجلال اور اکرا م کا مستحق ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اکیلا ہی ہے جو بندوں کی، ان کے سوتے جاگتے میں تدبیر کرتا ہے، وہ رات کو انہیں وفات یعنی نیند کی وفات دیتا ہے، ان کی حرکات پر سکون طاری ہوجاتا ہے اور ان کے بدن آرام کرتے ہیں، نیند سے بیداری کے بعد وہ ان کو دوبارہ زندہ کرتا ہے تاکہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں تصرف کریں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں اور وہ جن اعمال کا اکتساب کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان میں اس طرح تصرف کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اپنی مقررہ مدت پوری کرلیتے ہیں۔ وہ اپنی اس تدبیر کے ذریعے سے ان کی مدت مقررہ کا فیصلہ کرتا ہے، یعنی مدت حیات اور اس کے بعد ایک اور مدت ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ﴾ ” پھر اس کی طرف ہی تمہارا لوٹنا ہے“ اس کے سوا اور کسی کی طرف لوٹنا نہیں ہے۔ ﴿ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴾” پھر وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو، بتائے گا۔“ نیک اور بد جو کام بھی تم کرتے رہے ہو، اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے آگاہ فرمائے گا۔ الانعام
61 ﴿وَهُوَ﴾ ” اور وہ“ یعنی اللہ تعالیٰ ﴿الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۖ﴾” غالب ہے اپنے بندوں پر“ وہ ان پر اپنا ارادہ اور اپنی مشیت عامہ نافذ کرتا ہے۔ بندے کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر حرکت و سکون کے بھی مالک نیں۔ بایں ہمہ اس نے اپنے بندوں پر فرشتوں کو محافظ مقرر کر کرھا ہے اور بندے پر جو عمل کرتے ہیں یہ فرشتے اس کو محفوظ کرلیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ ﴾(الانفطار :82؍ 10۔12) ” اور تم پر نگہبان مقرر ہیں باعزت تمہاری باتوں کو لکھنے والے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں۔“ ارشاد فرماتا ہے ﴿عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾(ق :5؍ 17، 18) ” اس کے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ جب کوئی بات کہتا ہے تو ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔“ یہ ان کی زندگی کے احوال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حفاظت ہے۔ ﴿حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا ﴾” یہاں تک کہ جب آ پہنچے تم میں سے کسی کو موت تو قبضے میں لے لیتے ہیں اس کو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے‘‘ یعنی وہ فرشتے جو روح قبض کرنے پر مقرر ہیں ﴿وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ﴾ ” اور وہ کوتاہی نہیں کرتے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قضا و قدر سے جو مدت مقرر کردی ہے اور اس میں ایک گھڑی کا اضافہ کرسکتے ہیں نہ ایک گھڑی کی کمی، وہ صرف مکتوب الٰہی اور تقدیرربانی کو نافذ کرتے ہیں۔ الانعام
62 ﴿ ثُمَّ ﴾ ” پھر“ موت اور حیات برزخ کے بعد اور جو کچھ اس میں خیر و شر ہے ﴿ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ﴾ ” پہنچائے جائیں گے وہ اللہ کی طرف جو ان کا سچا مالک ہے“ یعنی وہ مولائے حق اپنے حکم قدری کے مطابق ان کا والی ہے اور ان کے اندر اپنی مختلف انواع کی تدابیر کو نافذ کرتا ہے۔ پھر وہ امرو نہی اور حکم شرعی کے ذریعے ان کا والی ہے، اس نے ان کی طرف رسول بھیجے اور ان پر کتابیں نازل کیں پھر ان کو اسی کی طرف لوٹایا جائے گا، وہ ان میں اپنا حکم جزائی نافذ کرے گا اور ان کو ان کے اچھے اعمال کا ثواب عطا کرے گا اور ان کی بدیوں اور برائیوں کی پاداش میں انہیں عذاب دے گا۔﴿أَلَا لَهُ الْحُكْمُ﴾ ” سن رکھو ! حکم اسی کا ہے“ وہ اکیلا جس کا کوئی شریک نہیں، فیصلے کا مالک ہے ﴿وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ﴾ ” اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے“ کیونکہ اس کا علم بھی کامل ہے اور اس نے ان کے اعمال کو بھی محفوظ کیا ہوا ہے۔ پہلے اس نے ان کو لوح محفوظ میں ثبت کیا، پھر فرشتوں نے اپنی اس کتاب میں ثبت کیا جو ان کے ہاتھوں میں ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے، وہ اپنے بندوں کو ان کے تمام احوال میں درخوراعتنا سمجھتا ہے، وہی حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کا مالک ہے پھر مشرکین کیوں کر اس ہستی سے روگردانی کر کے جو ان صفات کی مالک ہے ایسی ہستیوں کی بندگی اختیار کرتے ہیں جن کے اختیار میں کچھ بھی نہیں، جو ذرہ بھر نفع کی مالک نہیں اور ان میں کوئی قدرت اور ارادہ نہیں؟ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ کھلے عام کفر و شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت پر بہتان کی جرأت کرتے ہیں اور وہ ان کو معاف کردیتا ہے اور ان کو رزق عطا کرتا ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کتنا حلیم ہے اور اس کا عفو اور اس کی رحمت ان پر سایہ کناں ہے تو ان کے داعیے اس کی معرفت کی طرف خود بخود کھنچے چلے آئیں اور ان کی عقل اس کی محبت میں (دیگر ہر شے سے) غافل ہوجائے اور وہ خود اپنے آپ پر سخت ناراض ہوں کیونکہ انہوں نے شیطان کی داعی کی اطاعت کی جو رسوائی اور خسارے کا موجب ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو عقل سے عاری ہیں۔ الانعام
63 ﴿قُلْ ﴾ ” کہہ دیجیے“ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے، ان کے توحید ربوبیت کے اثبات کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر الزامی دلیل اور حجت بناتے ہوئے کہیے !﴿ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ﴾ ” کون تمہیں نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے؟“ یعنی جب بحر و بر کی سختیوں اور مشقتوں سے نجات کا کوئی بھی حیلہ تمہیں مشکل نظر آتا ہے تو تم اپنے رب کو گڑ گڑا کر دل کے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی دعا میں اپنی حاجت کے لئے پکارتے ہو اور اپنی اس مصیبت کی حالت میں کہتے ہو:﴿ لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ هَـٰذِهِ﴾ جس میں ہم گرفتار ہیں ﴿لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ ﴾” تو ہم ضرور (اللہ تعالیٰ) کے شکر گزار ہوں گے“ اس کی نعمت کا اعتراف کریں گے اور اس نعمت کو اپنے رب کی اطاعت میں استعمال کریں گے اور اس نعمت کو اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے بچیں گے۔ الانعام
64 ﴿قُلِ اللَّـهُ يُنَجِّيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ﴾ ” کہہ دیجیے ! اللہ ہی تمہیں اس (خاص مصیبت) اور دیگر تمام مصائب سے نجات دلاتا ہے“﴿ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ ﴾ ” پھر بھی تم شرک کرتے ہو“ تم اللہ کے بارے میں جو کہتے ہو اسے پورا نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو فراموش کردیتے ہو۔ پس شرک کے بطلان اور توحید کی صحت پر اس سے واضح اور کون سی دلیل ہوسکتی ہے؟ الانعام
65 یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہر سمت سے تم پر عذاب بھیجنے پر قدرت رکھتا ہے فرمایا : ﴿مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ ﴾ ” تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے“ ﴿أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا ﴾ ” یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے“ یعنی تمہیں مختلف فرقوں میں بانٹ دے ﴿ وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ﴾” اور چکھا دے لڑائی ایک کو ایک کی‘‘ یعنی تمہیں فتنہ میں مبتلا کر دے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ پس اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں پر قادر ہے، اس لئے اس کی نافرمانی پر قائم رہنے سے بچو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں عذاب آ لے اور وہ تمہیں تلف کر کے تمہارا نام و نشان مٹا ڈالے۔ اس کے باوجود کہ اس نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے مگر یہ اس کی بے پایاں رحمت کا فیضان ہے کہ اس نے اس امت پر سے اوپر سے پتھر برسنے اور نیچے زمین میں دھنس جانے کے عذاب کو اٹھا لیا ہے۔ اس نے اس امت میں سے جس کسی کو بھی عذاب کا مزا چکھایا ہے تو وہ یہ ہے کہ اس نے ایک دوسرے کو ایک دوسرے کی طاقت کا مزا چکھایا ہے اور ان کو ان سزاؤں کے ساتھ ایک دوسرے پر مسلط کردیا۔ یہ ایک ایسی فوری سزا ہے جسے عبرت پکڑنے والے دیکھ سکتے ہیں اور عمل کرنے والے اسے سمجھ سکتے ہیں۔ ﴿انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ﴾ ” دیکھو ہم آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں“ یعنی ہم ان آیات کو مختلف انواع میں لاتے ہیں اور بہت سے پہلوؤں سے ان کو بیان کرتے ہیں۔ یہ تمام آیات حق پر دلالت کرتی ہیں ﴿لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ﴾ ” تاکہ یہ لوگ سمجھیں۔“ یعنی شاید وہ اس بات کو سمجھ جائیں کہ انہیں کس چیز کی خاطر پیدا کیا گیا ہے۔ نیز حقائق شرعیہ اور مطالب الٰہیہ ان کی سمجھ میں آجائیں۔ الانعام
66 ﴿وَكَذَّبَ بِهِ﴾” اور اس کو جھٹلایا۔“ یعنی قرآن کو جھٹلایا ﴿قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ﴾ ” آپ کی قوم نے، حالانکہ وہ حق ہے“ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ ﴾” کہہ دیجیے ! میں تم پر داروغہ نہیں ہوں“ کہ تمہارے اعمال کی نگرانی کروں اور اس پر تمہیں بدلہ دوں میں تو صرف پہنچانے والا اور ڈرانے والا ہوں۔ الانعام
67 ﴿ لِّكُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ﴾” ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔“ یعنی ہر خبر کے استقرار کا ایک وقت اور ایک زمانہ ہے جس سے وہ آگے پیچھے نہیں ہوسکتی ﴿وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾ ” اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا۔“ یعنی جس جس عذاب کی تمہیں وعید سنائی گئی ہے تم اسے عنقریب جان لو گے۔ الانعام
68 اللہ تبارک و تعالیٰ کی آیات میں جھگڑنے اور مشغول ہونے سے مراد ہے ان کے بارے میں ناحق باتیں کرنا، اقوال باطلہ کی تحسین کرنا، ان کی طرف دعوت دینا، اقوال باطلہ کے قائلین کی مدح کرنا، حق سے روگردانی کرنا اور حق اور اہل حق کی عیب چینی کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اصولی طور پر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور تبعاً تمام اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کی آیات کی مذکورہ عیب چینی میں مشغول دیکھیں تو اس سے اعراض کریں۔ باطل میں مشغول لوگوں کی مجالس میں نہ جائیں جب تک کہ وہ کسی اور بحث میں مشغول نہ ہوجائیں۔ اگر وہ آیات الٰہی کی بجائے کسی اور بحث میں مشغول ہوں تو ان میں بیٹھنا اس ممانعت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ اگر ان میں بیٹھنے میں کوئی راجح مصلحت ہو تو وہ ان میں بیٹھنے پر مامور ہے، اگر ایسا نہ ہو تو یہ بیٹھنا مفید ہے نہ وہ اس پر مامور ہے۔ باطل میں مشغولیت کی مذمت درحقیقت حق میں غور و فکر اور بحث و تحقیق کی ترغیب ہے۔ ﴿وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ﴾ ” اگر شیطان آپ کو بھلا دے۔“ یعنی اگر آپ کو شیطان بھلا دے اور آپ غفلت و نسیان کی وجہ سے ان کی مجلس میں بیٹھ جائیں ﴿فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴾ ” تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھیں“ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو باطل میں مشغول ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو باطل میں مشغول ہوتے ہیں۔ جو ایسی باتیں کہتے یا کرتے ہیں جن کو حرام ٹھہرایا گیا ہے تو ان لوگوں میں بیٹھنا حرام ہے۔ منکرات کی موجودگی میں جبکہ وہ ان کے ازالے کی قدرت نہ رکھتا ہو، اس مجلس میں حاضر ہونا بھی ممنوع ہے۔ الانعام
69 یہ نہی اور ممانعت اس شخص کے لئے ہے جو ایسے لوگوں کی مجلس میں شریک ہوتا ہے اور تقویٰ کا دامن چھوڑ کر ان کے قول اور عمل محرم میں خود بھی شریک ہوجاتا ہے یا ان کے غیر شرعی افعال و اقوال پر خاموشی اختیار کرتا ہے اور ان پر نکیر نہیں کرتا، لیکن اگر وہ تقویٰ کا التزام کرتے ہوئے مجلس میں شریک ہو، شرکائے مجلس کو نیکی کا حکم دے، اس برائی اور بری گفتگو سے روکے جو اس مجلس میں صادر ہو، جس سے یہ برائی زائل ہوجائے یا اس میں تخفیف ہوجائے تو ایسی مجلس میں شریک ہونے میں کوئی حرج ہے نہ کوئی گناہ۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَيْءٍ وَلَـٰكِن ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ ” اور پرہیز گاروں پر نہیں ہے جھگڑنے والوں کے حساب میں سے کوئی چیز لیکن ان کے ذمے نصیحت کرنی ہے، تاکہ وہ ڈریں۔“ یعنی صرف اس لئے وہ ان کو وعظ و نصیحت کرے کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ سے ڈر جائیں۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ وعظ و نصیحت کرنے والا ایسا اسلوب کلام استعمال کرے جو مقصود تقویٰ کے حصول میں زیادہ ممد اور کارگر ہو اور اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر وعظ و نصیحت سے برائی میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہو تو وعظ و نصیحت ترک کرنا واجب ہے، کیونکہ جو وعظ و نصیحت مطلوب و مقصود کے مخالف ہو، تو اس کو ترک کرنا بھی مقصود ہے۔ الانعام
70 بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ دین کو اللہ کے لئے خالص کریں، یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے محبوب امور کے حصول میں مقدور بھر کوشش صرف کریں اور یہ چیز اس بات کو متضمن ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر اور اس کی طرف متوجہ رہے، بندے کی کوشش انتہائی سنجیدہ اور نفع مند ہو نہ کہ غیر سنجیدہ اور یہ کوشش اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو، اس میں ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ نہ ہو۔ یہی وہ حقیقی دین ہے جس کو دین کہا ہے۔ رہا وہ شخص جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ صاحب دین اور صاحب تقویٰ ہے اور حالت یہ ہے کہ اس نے دین کو لہو و لعب بنا رکھا ہے اور اس کا قلب اللہ تعالیٰ کی محبت اور معرفت سے خالی ہو کر لہو و لعب میں مستغرق ہوگیا اور ہر اس چیز میں مصروف ہوگیا جو اس کے لئے ضرر رساں ہے وہ اپنے بدن کے ساتھ لہو اور باطل میں مشغول ہے، کیونکہ عمل اور بھاگ دوڑ اگر غیر اللہ کے لئے ہو تو وہ لہو و لعب ہے۔۔۔ تو اس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے، اس سے بچا جائے، اس سے دھوکہ نہ کھایا جائے اور اس کے احوال پر غور کیا جائے، اس کی کارستانیوں سے ہشیار رہے اور وہ تقرب الٰہی والے اعمال سے روکے تو اس کے دھوکہ میں نہ آئے۔ ﴿وَذَكِّرْ بِهِ﴾” اور اس کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیں۔“ یعنی قرآن کے ذریعے سے ان کو نصیحت کیجیے جو بندوں کے لئے نفع مند ہے۔ قرآن کے احکامات سنا کر، اس کی تفصیلات بیان کر کے، قرآن میں جو اچھے اوصاف مذکور ہیں ان کی تحسین کر کے اور وہ اوصاف جو بندوں کے لئے ضرر رساں ہیں ان سے ان کو منع کر کے، اس کی انواع کی تفصیل بیان کیجیے اور جو قبیح اوصاف بیان ہوئے ہیں، جن کا ترک کرنا ضروری ہے (ان سب کے ساتھ) ان کو نصیحت کیجیے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ کہیں نفس اپنے کسب کی وجہ سے ہلاکت میں نہ ڈال دیا جائے، یعنی بندے کے گناہوں میں گھس جانے، اللہ علام الغیوب کے سامنے جرأت کرنے اور گناہوں پر قائم رہنے سے پہلے اسے نصیحت کیجیے، تاکہ وہ باز آجائے اور اپنے فعل سے رک جائے۔ ﴿لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّـهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ﴾ ” نہیں ہوگا واسطے اس کے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی‘‘ یعنی نفس کو اس کے گناہوں کا احاطہ کرلینے سے پہلے نصیحت کرو کیونکہ اس کے بعد مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے کام نہ آئے گا۔ نہ کوئی قریبی رشتہ دار اور نہ کوئی دوست، اللہ کے سوا اس کا کوئی ولی اور مددگار نہ ہوگا اور نہ اس کی کوئی سفارش کرنے والا ہوگا ﴿وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ﴾ ” اگرچہ وہ ہر چیز معاوضے میں دینا چاہے۔“ یعنی اگر یہ نفس ہر قسم کا فدیہ دے خواہ وہ زمین بھر سونا کیوں نہ ہو ﴿ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَا﴾ ” وہ اس سے قبول نہ ہوگا۔“ یعنی اس سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ یہ فدیہ کوئی فائدہ دے گا ﴿أُولَـٰئِكَ﴾ وہ لوگ جو مذکورہ اوصاف سے موصوف ہیں ﴿الَّذِينَ أُبْسِلُوا﴾ یعنی ان کو ہلاک کردیا گیا اور وہ ہر قسم کی بھلائی سے مایوس ہوگئے اور یہ ان کے اعمال کے سبب سے ہے ﴿لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ﴾” ان کا مشروب ابلتا ہوا گرم پانی ہوگا“ جو ان کے چہروں کو بھون دے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا ﴿ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ﴾” اور ان کے کفر کی پاداش میں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔‘‘ الانعام
71 ﴿قُلْ ﴾ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے کہہ دو جو تمہیں اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ دین جو ان کے معبودوں کے وصف کی تشریح کر کے واضح کرتا ہے۔ ایک عقل مند شخص کو ان معبودوں کو چھوڑنے کے لئے ان کے اوصاف کا ذکر ہی کافی ہے، کیونکہ ہر عاقل شخص جب مشرکین کے مذہب میں غور و فکر کرتا ہے تو اس کے بطلان پر دلائل و براہین کے قائم ہونے سے پہلے ہی اس کے بطلان کا اسے قطعی یقین ہوجاتا ہے اور وہ پکار اٹھتا ہے ﴿أَنَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا﴾ ” کیا ہم اللہ کے سوا، ان ہستیوں کو پکاریں جو ہمیں نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان۔“ اس وصف میں ہر وہ معبود داخل ہے جس کی بھی اللہ کے سوا بندگی کی جاتی ہے کیونکہ وہ نفع دے سکتی ہے نہ نقصان، اسے کسی معاملے کا کوئی اختیار نہیں، تمام معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہ، قدرت میں ہے۔ ﴿وَنُرَدُّ عَلَىٰ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّـهُ﴾” اور کیا پھرجائیں ہم الٹے پاؤں، اس کے بعد کہ اللہ سیدھی راہ دکھا چکا ہم کو“ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت سے نوازے جانے کے بعد کیا کیا ضلالت کی طرف پلٹ جائیں، رشد کو چھوڑ کر گمراہی کی طرف لوٹ جائیں، نعمتوں بھری جنت کے راستے کو چھوڑ کر ان راستوں پر چل نکلیں جو اپنے سالک کو عذاب الیم کی منزل پر پہنچا دیتے ہیں؟ رشد و ہدایت رکھنے والا شخص اس حال پر کبھی راضی نہیں رہ سکتا۔ ایسی حالت والے شخص کی مثال اس شخص کی سی ہے ﴿ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ﴾جسے شیاطین نے بیابان میں اس کے راستطے سے بھٹکا دیا ہو جو اس کی منزل کو جاتا تھا ﴿ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى﴾ ” وہ حیران ہے، اس کے ساتھی اسے راستے کی طرف بلاتے ہیں“ اور شیاطین اسے ہلاکت کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ وہ دونوں پکارنے والوں کے درمیان حیران و سرگراں ہے۔ تمام لوگوں کا یہی حال ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ہے۔ اس لئے کہ لوگ اپنے اندر کشش رکھنے والے امور اور متعارض داعیے رکھتے ہیں۔ رسالت، عقل صحیح اور فطرت سلیم کے دواعی ﴿يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ﴾ ”اس کو صحیح راستے کی طرف بلاتے ہیں۔“ اور اعلیٰ علیین کی بلندیوں کی طرف دعوت دیتے ہیں اور شیطان کے داعیے اور وہ لوگ جو اس کی راہ پر گامزن ہیں اور نفس امارہ اسے گمراہی اور اسفل سافلین کی پستیوں میں گر جانے کی دعوت دیتے ہیں۔ لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اپنے تمام امور میں یا اکثر امور میں ہدایت کے دواعی کے ساتھ چلتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ ہیں جن کا رویہ اس کے برعکس ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن میں دونوں قسم کے داعیے مساوی ہوتے ہیں، اس وقت دو جاذب امور باہم متعارض ہوتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اہل سعادت اور اہل شقاوت کی پہچان ہوتی ہے۔ ﴿قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّـهِ هُوَ الْهُدَىٰ﴾ ” اللہ نے جو راہ بتلائی ہے، وہی سیدھی راہ ہے“ یعنی اس راستے کے سوا کوئی راستہ ہدایت کا راستہ نہیں، جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر مشروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر راستے گمراہی، موت اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ﴿ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴾ ” اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے تابع رہیں۔“ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مانیں، اس کے اوامرونواہی کے سامنے سرتسلیم خم کردیں اور اس کی عبودیت کے تحت داخل ہوجائیں، کیونکہ یہ بندوں پر سب سے بڑی نعمت اور اس کی سب سے کامل ربوبیت ہے جو اس نے اپنے بندوں تک پہنچائی ہے۔ الانعام
72 ﴿ وَأَنْ أَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ ”اور یہ کہ نماز پڑھتے رہو۔“ یعنی ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط، سنن اور اس کی تکمیل کرنے والے تمام امور کے ساتھ قائم کریں ﴿وَاتَّقُوهُ﴾” اور اس سے ڈرتے رہو۔“ جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اسے بجالا کر اور جس چیز سے روکا ہے اس سے اجتنا کر کے تقویٰ کا التزام کرو ﴿وَهُوَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ﴾ ’’اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کیے جاؤ گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز تم اس کے پاس جمع ہو جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔ الانعام
73 ﴿ وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ﴾ ” وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ“ تاکہ وہ بندوں کو حکم دے اور بعض چیزوں سے روکے پھر اس پر انہیں ثواب و عقاب دے ﴿ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ ۚ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۚ﴾ ”اور جس دن کہے گا کہ ہوجا تو وہ ہوجائے گا، اس کا ارشاد برحق ہے۔“ جس میں کوئی شک ہے نہ کوئی ایچ پیچ اور نہ اللہ تعالیٰ کوئی عبث بات کہتا ہے ﴿وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ﴾ ” اور اسی کی بادشاہی ہے جس دن پھونکا جائے گا صور“ یعنی قیامت کے روز، اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قیامت کے دن کا ذکر اس لئے کیا ہے، حالانکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے، کیونکہ قیامت کے دن تمام ملکیتیں ختم ہوجائیں گی اور اللہ واحد و قہار کی ملکیت باقی رہ جائے گی۔ ﴿عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ﴾” وہ جاننے والا ہے چھپی اور کھلی باتوں کا اور وہی حکمت والا، خبردار ہے۔“ جو حکمت تام، نعمت کامل اور احسان عظیم کا مالک ہے، اس کا علم اسرار نہاں، باطنی راز اور چھپے ہوئے امور کا احاطہ کئے ہوئے ہے جس کے سوا کوئی معبود اور کوئی رب نہیں۔ الانعام
74 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے ﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ﴾ ” جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے؟“ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں ﴿إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾” میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں“ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خلاق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔ الانعام
75 ﴿وَكَذَٰلِكَ ﴾” اور اسی طرح“ جب ہم نے ابراہیم کو توحید اور اس کی طرف دعوت کی توفیق عطا کی ﴿نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ﴾ ” ہم دکھانے لگے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات“ تاکہ وہ چشم بصیرت سے ان قطعی دلائل اور روشن براہین کو ملاحظہ کرلے جن پر زمین اور آسمان کی بادشاہی مشتمل ہے ﴿ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ ﴾” اور تاکہ وہ صاحب ایقان ہو“ کیونکہ تمام مطالب میں دلائل کے قیام کے مطابق ایقان اور علم کامل حاصل ہوتا ہے۔ الانعام
76 ﴿ فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ﴾ ” جب رات نے ان کو ڈھانپ لیا۔“ یعنی جب رات تاریک ہوگئی ﴿ رَأَىٰ كَوْكَبًا﴾ ” اس نے ایک ستارہ دیکھا“ شاید یہ ستارہ زیادہ روشن ستارہ ہوگا، کیونکہ اس کے تذکرے کی تخصیص دلالت کرتی ہے کہ اس کی روشنی دوسروں سے زیادہ تھی۔ بنا بریں بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے مراد زہرہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ﴿قَالَ هَـٰذَا رَبِّي﴾ ” کہنے لگے یہ میرا رب ہے۔“ یعنی انہوں نے دلیل کی خاطر مدمقابل کے مقام پر اترتے ہوئے کہا کہ ” یہ میرا رب ہے“ آؤ ہم دیکھیں کہ کیا یہ ربوبیت کا مستحق ہے؟ کیا ہمارے سامنے کوئی ایسی دلیل قائم ہوتی ہے جو اس کے رب ہونے کو ثابت کرتی ہو؟ کیونکہ کسی عقلمند کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ بغیر کسی حجت و برہان کے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لے۔﴿فَلَمَّا أَفَلَ﴾ یعنی جب یہ ستارہ غائب ہوگیا ﴿قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ﴾” تو کہا، میں غائب ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی جو ظاہر ہونے کے بعد غائب ہو کر عبادت کرنے والے سے اوجھل ہوجائے۔ کیونکہ معبود کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس شخص کے مصالح کا انتظام اور اس کے تمام معاملات کی تدبیر کرے جو اس کی عبادت کرتا ہے۔ رہی وہ ہستی جو اکثر اوقات غیر موجود اور غائب ہوتی ہے تو عبادت کی کیوں کر مستحق ہوسکتی ہیں؟ کیا ایسی ہستی کو معبود بنانا سب سے بڑی بے وقوفی اور سب سے بڑا باطل نہیں؟ الانعام
77 ﴿ فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا﴾ ” پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے۔“ یعنی جب انہوں نے چاند کو طلوع ہوتے دیکھا اور یہ مشاہدہ بھی کیا کہ اس کی روشنی ستاروں کی روشنی سے زیادہ ہے اور یہ ان کے مخالف بھی ہے ﴿قَالَ هَـٰذَا رَبِّي﴾ ” کہا، یہ میرا رب ہے“ یعنی دلیل کی خاطر مخالفین کے مقام پر اتر کر کہا ﴿ ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ ﴾ ” جب وہ غائب ہوگیا، بولے، اگر نہ ہدایت کرے گا مجھ کو میرا رب، تو بے شک رہوں گا میں گمراہ لوگوں میں“ ابراہیم علیہ السلام اپنے رب کی راہنمائی کے بے حد محتاج تھے اور انہیں علم تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو راہ راست نہ دکھائے تو کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے۔ اگر اپنی اطاعت پر وہ ان کی اعانت نہ کرے تو کوئی مدد کرنے والا نہیں۔ الانعام
78 ﴿ فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَـٰذَا رَبِّي هَـٰذَا أَكْبَرُ ۖ﴾ ” پس جب سورج کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا، یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے“ یہ تمام (ستاروں اور چاند) سے بڑا ہے ﴿فَلَمَّا أَفَلَتْ﴾ ” جب وہ غروب ہوگیا“ یعنی جب سورج بھی غروب ہوگیا تو ہدایت متحقق ہوگئی اور ہلاکت مضمحل ہوگئی ﴿قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ﴾ ”(تو) کہا، اے میری قوم ! بے شک میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو“ کیونکہ اس کے بطلان پر سچی اور واضح دلیل قائم ہوچکی ہے۔ الانعام
79 ﴿ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ﴾” میں نے متوجہ کرلیا اپنے چہرے کو اسی کی طرف جس نے بنائے آسمان اور زمین سب سے یکسو ہو کر“ یعنی صرف الہ واحد کی طرف یکسوئی کے ساتھ متوجہ ہو کر اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر ﴿وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ ” اور میں نہیں ہوں شرک کرنے الا۔“ پس یوں ابراہیم علیہ السلام نے شرک سے برأت کا اظہار کیا اور توحید کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور توحید پر دلیل قائم کی۔۔۔ یہ ہے ان آیات کریمہ کی تفسیر جو ہم نے بیان کی ہے اور یہی صواب ہے، نیز یہ کہ یہ مقام جناب ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے اپنی قوم کے ساتھ مناظرے کا مقام تھا اور مقصد ان اجرام فلکی وغیرہ کی الوہیت کا بطلان تھا۔ رہا ان لوگوں کا موقف کہ یہ جناب ابراہیم کے ایام طفولیت میں غور و فکر کا مقام تھا تو اس پر کوئی دلیل نہیں۔ الانعام
80 ﴿وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ ۚ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّـهِ وَقَدْ هَدَانِ ۚ ﴾ ” اور اس سے جھگڑا کیا اس کی قوم نے، ابراہیم علیہ السلام نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے ایک ہونے میں جھگڑتے ہو اور وہ مجھ کو سمجھا چکا، یعنی بھلا اس شخص کے لئے جھگڑنے میں کون سا فائدہ ہے جس کے سامنے ہدایت واضح نہیں ہوئی۔ جبکہ وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نواز دیا ہے اور وہ یقین کے بلند ترین مقام پر فائز ہے تو وہ خود لوگوں کو اس راستے کی طرف بلاتا ہے جس پر وہ خود گامزن ہے۔ ﴿وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ﴾” اور میں نہیں ڈرتا ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو اس کے ساتھ“ کیونکہ یہ جھوٹے خدا مجھے کوئی نقصان نہیں دے سکتے، نہ مجھے کسی نفع سے محروم کرسکتے ہیں ﴿إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا ۗ وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۗ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ ﴾ ” مگر یہ کہ چاہے اللہ، میرا رب، احاطہ کرلیا ہے میرے رب کے علم نے سب چیزوں کا، کیا تم نہیں نصیحت پکڑتے؟“ پس تم جان لیتے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے جو کہ عبودیت کا مستحق ہے۔ الانعام
81 ﴿وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ﴾ ” اور میں کیوں کر ڈروں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو“ دراں حالیکہ یہ معبود ان باطل، عاجز محض اور کسی قسم کا فائدہ پہنچانے سے محروم ہیں ﴿وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّـهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا﴾” اور تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم اللہ کا ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہو جس پر اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری“ یعنی سوائے خواہش نفس کی پیروی کے اس پر کوئی دلیل نہیں ﴿فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ ” پس کون سا گروہ امن کا زیادہ مستحق ہے اگر تم جانتے ہو؟“ الانعام
82 اللہ تبارک و تعالیٰ فریقین کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ ﴾” وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہیں ملایا انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم“ یعنی ایمان کو شرک کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا۔ ﴿أُولَـٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ ﴾ ” یہی لوگ ہیں جن کے لئے امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔“ وہ ہر قسم کے خوف سے مامون ہوں گے، عذاب اور شقاوت وغیرہ میں سے کسی قسم کا خوف نہ ہوگا اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی سے نوازے جائیں گے۔ اگر انہوں نے اپنے ایمان کو کسی قسم کے ظلم سے ملوث نہ کیا ہوگا یعنی انہوں نے شرک کیا ہوگا نہ گناہ، تو انہیں امن کامل اور ہدایت تام نصیب ہوگی اور اگر انہوں نے اپنے ایمن کو شرک سے تو پاک رکھا مگر وہ برے اعمال کا ارتکاب کرتے رہے تو انہیں اگرچہ کامل امن اور کامل ہدایت تو حاصل نہ ہوگی تاہم انہیں اصل ہدایت اور امن حاصل ہوں گے۔ آیت کریمہ کا مخالف مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ جنہیں یہ دو امور حاصل نہیں وہ ہدایت اور امن سے محروم رہیں گے بلکہ ان کے نصیب میں بدبختی اور گمراہی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ الانعام
83 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قطعی دلائل و براہین بیان کر کے ابراہیم کے حق میں فیصلہ کردیا تو فرمایا ﴿ وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ ۚ ﴾ ” اور یہ ہے ہماری دلیل، کہ دی تھی ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو، اس کی قوم کے مقابلے میں“ یعنی ان دلائل و براہین کی مدد سے ابراہیم علیہ السلام نے ان کو نیچا دکھایا اور ان پر غالب آئے۔ ﴿نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ﴾ ” ہم جس کے چاہتے ہیں، درجے بلند کرتے ہیں“ جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دنیا و آخرت میں درجات بلند فرمائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ علم کے ذریعے سے صاحب علم کو دوسرے بندوں پر فوقیت عطا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ خاص طور پر وہ عالم جو صاحب علم بھی ہے اور معلم بھی۔ پس اللہ تعالیٰ اس کے حسب حال اسے لوگوں کا امام بنا دیتا ہے۔ اس کے افعال کو دیکھا جاتا ہے، اس کے آثار کی پیروی کی جاتی ہے، اس کے نور سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور اس کے علم کی مدد سے تیرہ و تار تاریکیوں میں رواں دواں رہا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿يَرْفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾ (المجادلہ :58؍11) ” تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جن کو علم عطا کیا گیا، اللہ ان کے درجات بلند کرتا ہے۔“ ﴿إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ ﴾ ”بے شک تمہارا رب دانا، علم والا ہے۔“ اس لئے وہ علم و حکمت کو ان کے شایان شان مقام پر رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس مقام کو اور جو کچھ اس کے لئے مناسب ہے خوب جانتا ہے۔ الانعام
84 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندے اور خلیل ابراہیم علیہ السلام کا اور اپنے اس احسان کا ذکر کیا کہ اللہ نے ان کو علم، دعوت اور صبر سے نوازا تو اب ذکر فرما رہا ہے کہ صالح اور پاک نسل کے ذریعے سے بھی اللہ نے ان کو بڑی تکریم بخشی، اللہ نے مخلوق میں سے منتخب اور چنے ہوئے لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں سے بنائے اور یہ اتنی بڑی منقبت اور اتنی زیادہ عزت افزائی ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ﴾” اور ہم نے عطا کئے اسے اسحاق اور یعقوب“ یعقوب یعنی اسحاق علیہ السلام کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔ ﴿كَلًّا﴾ ” سب کو“ یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک کو ﴿هَدَيْنَا﴾ ” ہم نے ہدایت دی۔“ یعنی علم و عمل میں راہ راست دکھائی ﴿وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ﴾” اور اس سے قبل ہم نے نواح کو ہدایت سے نوازا“ یہ ہدايت اعلیٰ ترین انواع میں سے تھی جو دنیا کے صرف معدودے چند افراد کو حاصل ہوئی ہے اور وہ اولوالعزم رسول تھے۔ نوح ان میں سے ایک تھے۔ ﴿وَمِن ذُرِّيَّتِهِ ﴾” اور ان کی نسل میں سے“ اس میں احتمال ہے کہ ضمیر نوح کی طرف لوٹتی ہے، کیونکہ یہ قریب ترین مرجع ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی زمرہ میں حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر کیا جو کہ نوح علیہ السلام کی ذریت سے ہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت سے نہیں، کیونکہ حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔۔۔ نیز اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ضمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ سیاق کلام ابراہیم علیہ السلام کی مدح و ثنا میں ہے اور لوط علیہ السلام اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت میں سے نہیں ہیں تاہم یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جناب خلیل علیہ السلام کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے۔ حضرت لو ط علیہ السلام کا حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لانا مجردان کا بیٹا ہونے سے زیادہ ان کے لئے منقبت اور فضیلت کا حامل ہے۔ ﴿دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ ﴾ ” داؤد اور سلیمان“ یعنی سلیمان بن داؤد علیہ السلام ﴿وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ ﴾” ایوب اور یوسف“ یعنی ایوب اور یوسف بن یعقوب علیہم السلام ﴿وَمُوسَىٰ وَهَارُونَ﴾ ” موسیٰ اور ہارون“ یعنی عمران کے بیٹے ﴿وَكَذَٰلِكَ﴾ ” اور اسی طرح “ یعنی جس طرح ہم نے ابراہیم خلیل اللہ کی ذریت کو صالح بنایا، کیونکہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کی بندگی کو بہترین طریقے سے ادا کیا اور اللہ کی مخلوق کو بہترین طریقے سے فائدہ پہنچایا ﴿نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ﴾ ” ہم بدلہ دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔“ نیکو کار لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ہم انہیں ان کی نیکیوں کے مطابق سچی مدح و ثنا اور صالح اولاد سے نوازتے ہیں۔ الانعام
85 ﴿وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَ﴾ ” زکریا اور یحییٰ“ یعنی یحییٰ زکریا علیہما السلام کے فرزند ﴿وَعِيسَىٰ﴾ یعنی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ﴿وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ﴾ ” اور الیاس کو بھی یہ سب“ یعنی یہ تمام لوگ ﴿مِّنَ الصَّالِحِينَ﴾ ” نیکو کار تھے۔“ یعنی اپنے اخلاق، اعمال اور علوم میں صالح لوگ تھے بلکہ صلحا کے سردار، قائد اور ان کے امام تھے۔ الانعام
86 ﴿وَإِسْمَاعِيلَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے جو نسل انسانی کے ایک بڑے گروہ کے جد امجد تھے، یعنی گروہ عرب کے باپ اور اولاد آدم علیہ السلام کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد﴿وَيُونُسَ ﴾یعنی یونس بن متی علیہ السلام ﴿وَلُوطًا﴾یعنی ابراہیم علیہ السلام کے بھائی ہارون علیہ السلام کے بیٹے﴿ وَكُلًّا﴾ یعنی ان تمام انبیاء و مرسلین کو ﴿فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ ” ہم نے جہانوں پر فضیلت دی“ کیونکہ فضیلت کے چار درجے ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں کیا ہے﴿وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ﴾(النساء:4؍69)” جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صلحا“ اور یہ مذکور انبیائے کرام علیہم السلام بہت بلند درجے پر فائز ہیں بلکہ علی الاطلاق تمام رسولوں سے افضل ہیں۔ پس وہ تمام انبیاء و مرسلین جن کا قصہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے، بلاشبہ ان نبیوں میں سے افضل ہیں جن کا ذکر نہیں فرمایا۔ الانعام
87 ﴿ وَمِنْ آبَائِهِمْ ﴾یعنی ان انبیائے مذکورین کے آباؤ اجداد میں سے ﴿وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ ۖ﴾ ” اور ان کی اولاد اور بھائیوں میں سے“ یعنی ہم نے ان کے آباؤ اجداد، ان کی ذریت اور ان کے بھائی بند لوگوں کو ہدایت سے نوازا ﴿وَاجْتَبَيْنَاهُمْ﴾” ہم نے ان کو چن لیا“ ﴿وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾ ” اور ان کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کی۔“ الانعام
88 ﴿ذَٰلِكَ﴾ ” یہ“ یعنی یہ ہدایت مذکورہ ﴿هُدَى اللَّـهِ﴾ ” اللہ کی ہدایت ہے“ جس کی ہدایت کے سوا کوئی ہدایت نہیں ﴿يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ﴾” وہ ہدایت دیتا ہے اس کی جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے“ پس اسی سے ہدایت طلب کرو، اگر وہ راہنمائی نہ کرے تو اس کے سوا تمہیں راہ دکھانے والا کوئی نہیں اور جن کی ہدایت اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ہے، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ ﴿وَلَوْ أَشْرَكُوا ﴾” اگر یہ لوگ شرک کرتے“ یعنی بفرض محال ﴿ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ” تو ان کے عمل برباد ہوجاتے“ کیونکہ شرک تمام اعمال کو ساقط اور اکارت کردیتا ہے اور جہنم میں خلود اور دوام کا موجب بنتا ہے۔ اگر یہ چنے ہوئے بہترین لوگ بھی شرک کرتے حالانکہ وہ اس سے پاک ہیں، تو ان کے اعمال بھی اکارت ہوجاتے دیگر لوگ تو اس جزا کے زیادہ مستحق ہیں۔ الانعام
89 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿أُولَـٰئِكَ﴾یعنی یہ مذکورہ بالا لوگ ﴿الَّذِينَ هَدَى اللَّـهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ ” وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی، پس آپ ان کی ہدایت کی پیروی کریں“ یعنی اے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان انبیائے اخیار کی پیروی اور ان کی ملت کی اتباع کیجیے اور واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پہلے انبیاء و مرسلین کی پیروی کی اور ان کے ہر کمال کو اپنے اندر جمع کرلیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر ایسے فضائل اور خصائص جمع تھے جن کی بنا پر آپ کو تمام جہانوں پر فوقیت حاصل ہوئی۔ آپ تمام انبیا و مرسلین کے سردار اور متقین کے امام تھے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیھم اجمعین۔ یہ ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا) وہ پہلو جس سے بعض صحابہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء و مرسلین سے افضل ہیں۔ الانعام
90 ﴿قُل﴾یعنی ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے اعراض کیا۔ ﴿ لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا﴾” میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا۔“ یعنی میں تم سے اپنی تبلیغ اور تمہیں اسلام کی دعوت دینے کے عوض کسی مال اور تاوان کا مطالبہ نہیں کرتا جو تمہارے اسلام نہ لانے کا سبب بنے، میرا اجر صرف اللہ کے ذمے ہے ﴿ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَالَمِينَ﴾ ” یہ تو محض نصیحت ہے جہان کے لوگوں کے لئے“ جو چیز ان کے لئے مفید ہے، اس سے وہ نصیحت پکڑتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور جو چیز ان کے لئے ضرر رساں ہے، اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اس کے ذریعے سے اپنے رب اور اس کے اسماء وصفات کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اخلاق حمیدہ، ان کے حصول کے مناہج اور اخلاق رذیلہ اور ان میں مبتلا کرنے والے امور کا علم حاصل کرتے ہیں۔ چونکہ یہ تمام جہانوں کے لئے نصیحت ہے اس لئے یہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور ان پر واجب ہے کہ وہ اس نعمت کو قبول کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ الانعام
91 اللہ تعالیٰ نے یہود و مشرکین کے نفی رسالت کے قول کو سخت قبیح قرار دیا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر کوئی چیز نازل نہیں فرمائی۔ جو اس بات کا قائل ہے اس نے اللہ تعالیٰ کی وہ قدر اور تعظیم نہیں کی جو کرنی چاہئے تھی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت میں عیب جوئی ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مہمل چھوڑ دے گا ان کو کوئی حکم دے گا نہ ان کو کسی چیز سے روکے گا اور اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت کی نفی کی ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور وہ یہ رسالت ہے۔ اس رسالت کے سوا بندوں کے لئے سعادت، کرامت اور فلاح حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں، تب اس نفی رسالت سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی ذات میں اور کون سی طعن و تشنیع ہے؟ ﴿قُلْ ﴾ ان کے فساد قول کو متحقق کرتے ہوئے اور جس چیز کا وہ خود اقرار کرتے ہیں اس کو منواتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے !﴿مَنْ أَنزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَىٰ﴾ ” کون ہے جس نے وہ کتاب اتاری جسے موسیٰ لے کر آئے؟“ اور وہ ہے تو رات عظیم ﴿نُورًا﴾جو جہالت کی تاریکیوں میں روشنی ہے ﴿ وَهُدًى﴾ اور گمراہی میں ہدایت ہے اور علم و عمل میں راہ راست کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو شائع ہو کر پھیل چکی ہے اور جس کے تذکروں نے کانوں اور دلوں کو لبریز کردیا ہے حتی ٰکہ انہوں نے اسے کتابوں میں لکھنا شروع کیا اور پھر جیسے جی چاہا اس میں تصرف کیا۔ جو ان کی خواہشات کے موافق تھا اسے ظاہر کیا اور جو ان کے خلاف تھا اسے چھپا کر کتمان حق کے مرتکب ہوئے اور ایسا حصہ بہت زیادہ ہے۔ ﴿وَعُلِّمْتُم ﴾ ” اور تمہیں وہ علوم سکھائے گئے“ جو اس کتاب جلیل کے سبب سے تھے﴿مَّا لَمْ تَعْلَمُوا أَنتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ﴾ ” جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا“ جب آپ نے اس ہستی کے بارے میں ان سے پوچھ لیا جس نے یہ کتاب نازل کی، جو ان صفات سے موصوف ہے تو انہیں اس کا جواب دیجیے ﴿قُلِ اللَّـهُ ۖ ﴾ ” کہہ دیجیے ! اللہ“ یعنی انہیں بتلا دیں کہ کتاب نازل کرنے والا اللہ ہے۔ ﴿ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ﴾” پھر ان کو چھوڑ دو کہ اپنی بے ہودہ باتوں میں کھیلتے رہیں۔“ یعنی پھر ان کو ان کے اپنے حال پر باطل میں مشغول چھوڑ دیجیے، تاکہ یہ ان چیزوں کے ساتھ کھیلتے رہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے جا ملیں جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے۔ الانعام
92 ﴿ وَهَـٰذَا﴾ ” اور یہ“ یعنی قرآن مجید ﴿كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ﴾” کتاب ہے، اس کو اتارا ہم نے آپ کی طرف، برکت والا“ یعنی برکت اس کا وصف ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہ بھلائیوں اور نیکیوں پر مشتمل ہے ﴿ مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ﴾ ” جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔“ یعنی یہ کتاب، گزشتہ کتابوں کی موافقت کرتی ہے اور ان کی صداقت پر گواہ ہے۔ ﴿ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا ۚ﴾ نیز ہم نے یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے تاکہ آپ بستیوں کی ماں، یعنی مکہ مکرمہ کے لوگوں اور اس کے اردگرد دیار عرب بلکہ تمام شہروں کے لوگوں کو ڈرائیں، تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے بچیں اور ان امور سے بچیں جو اس کے عذاب کے موجب ہیں۔ ﴿وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ﴾” اور جن کو یقین ہے آخرت کا، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں“ کیونکہ جب خوف دل میں جا گزیں ہوتا ہے تو اس کے تمام ارکان آباد ہوجاتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی پیروی کرنے لگ جاتا ہے ﴿وَهُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ ﴾ ” اور وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔“ یعنی وہ نمازوں پر دوام کرتے ہیں، اس کے ارکان وحدود، اس کے لئے آداب و شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر تمام امور کی حفاظت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان میں شامل کرے۔ الانعام
93 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑا ظالم اور مجرم کوئی اور نہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی بات یا حکم منسوب کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ بری ہے۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کو سب سے بڑا ظلم اس لئے کہا گیا ہے، کیونکہ یہ بہتان پر مبنی ہے۔ اس میں ادیان، ان کے اصول و فروع میں تغیر و تبدل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جو سب سے بڑی برائی ہے۔ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنا اور یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی ہے، اسی افترا میں شامل ہے۔ اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور اس کی عظمت و غلبہ کے سامنے جسارت کا ارتکاب کرنے کے ساتھ اس بات کو بھی واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اس (جھوٹے نبی) کی پیروی کریں اور اس بات پر لوگوں سے لڑائی کریں اور اپنے مخالفین کے جان و مال کو وہ حلال قرار دیتا ہے۔ اس آیت کریمہ کی وعید میں ہر وہ شخص داخل ہے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا جیسے مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، مختار ثقفی اور دیگر مدعیان نبوت جو اس وصف سے متصف ہیں۔ ﴿وَمَنْ قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ ۗ﴾ ” اور جو کہے کہ میں بھی اتارتا ہوں مثل اس کے جو اتارا اللہ نے“ یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو یہ زعم رکھتا ہے کہ وہ اس چیز پر قادر ہے جس پر اللہ تعالیٰ قادر ہے، وہ احکام میں اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کرسکتا ہے، وہ بھی اسی طرح شریعت بنا سکتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے اس وعید میں وہ شخص بھی شامل ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ قرآن کا مقابلہ کرسکتا ہے اور قرآن جیسی کتاب وہ بھی بنا سکتا ہے۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے کہ ایک بالذات محتاج اور عاجز بندہ جو ہر لحاظ سے ناقص ہے، یہ دعویٰ کرے کہ وہ ایک طاقتور اور بے نیاز ہستی کے ساتھ خدائی میں شریک ہے جو ہر پہلو سے اپنی ذات، اسما اور صفات میں کمال مطلق کی مالک ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان ظالموں کی مذمت کی تو ساتھ ہی اس عذاب کا بھی ذکر فرما دیا جو ان کے لئے تیار کیا گیا ہے اور حالت نزع میں ان کو دیا جائے گا۔﴿ وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ ﴾ ” اور اگر آپ دیکھیں جس وقت کہ ظالم ہوں موت کی سختیوں میں“ یعنی جب یہ ظالم موت کی شدت، اس کے ہول اور اس کے کرب میں مبتلا ہوں تو آپ ایک نہایت ہولناک حالت اور معاملہ دیکھیں گے کہ کوئی اس کا وصف بیان نہیں کرسکتا ﴿وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ﴾ ” اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہیں“ جب نزع کی حالت میں فرشتے ان ظالموں کو ماریں گے اور عذاب کے ساتھ ان کی طرف ہاتھ بڑھائیں گے ان کی روحوں کو قبض کرتے اور حرکت دیتے وقت۔ جبکہ روحیں جسموں سے نکلنے سے انکار کریں گی، کہیں گے :﴿أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ ۖ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ﴾” کہ نکالو تم اپنی جانیں، آج تمہیں رسوائی کا عذاب دیا جائے گا“ یعنی ایسا سخت عذاب جو تمہیں ذلیل و رسوا کر دے گا اور جزا ہمیشہ عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ یہ عذاب اس پاداش میں ہے کہ ﴿بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ﴾” اس لئے کہ تم اللہ کے ذمے ناحق باتیں لگاتے تھے۔“ تم جھوٹ بولتے تھے اور حق کو ٹھکراتے تھے جو انبیاء لے کر تمہارے پاس آئے تھے ﴿ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ﴾ ” اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے۔“ اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات کی اطاعت اور ان کے احکام کو ماننے سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھتے تھے۔ یہ آیت کریمہ برزخ کے عذاب اور برزخ کی نعمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس خطاب اور عذاب کا رخ ان کی طرف عین نزع کے وقت اور موت سے تھوڑا سا پہلے اور پھر موت کے بعد ہے، نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ روح جسم رکھتی ہے جو داخل ہوتی ہے اور خارج ہوتی ہے جس کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ وہ جسد کے ساتھ مل کر رہتی ہے اور اس سے علیحدہ ہوجاتی ہے۔ یہ ان کا برزخی حال ہے۔ قیامت کے روز جب یہ وارد ہوں گے تو نہایت افلاس کی حالت میں اکیلے اکیلے آئیں گے۔ ان کے ساتھ گھر والے ہوں گے نہ مال ہوگا نہ اولاد ہوگی، ان کے ساتھ لشکر ہوں گے نہ اعوان و انصار، وہ قیامت کے روز اسی طرح ہر چیز سے عاری اور عریاں حالت میں آئیں گے جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، کیونکہ اشیا تو اس کے بعد ان اسباب کے ذریعے سے حاصل کی جاتی ہیں جو ان کے لئے مقرر ہیں۔ اس روز وہ تمام امور منقطع ہوجائیں گے جو دنیا میں بندے کے ساتھ تھے۔ سوائے نیک اعمال یا بداعمال کے، اور یہ اعمال ہی آخرت کا مادہ ہیں جن سے آخرت ظہور پذیر ہوگی، آخرت کا حسن و قبح، اس کا سرور و غم اور اس کا عذاب و نعمت اعمال کے مطابق حاصل ہوگا۔ یہ اعمال ہی ہیں جو نفع دیں گے یا نقصان دیں گے، جو اچھے لگیں گے یا برے لگیں گے اور ان اعمال کے علاوہ اہل و اولاد، مال و متاع اور اعوان و انصار، تو یہ سب دنیا میں رہ جانے والے اسباب، زائل ہوجانے والے اوصاف اور بدل جانے والے احوال ہیں۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : الانعام
94 ﴿وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَاكُمْ﴾ ” البتہ تم ہمارے پاس آگئے ایک ایک ہو کر جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تم کو پہلی مرتبہ اور چھوڑ آئے تم جو کچھ اسباب ہم نے دیئے تھے تمہیں“ یعنی جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا اور جن نعمتوں سے ہم نے تمہیں نوازا تھا ﴿وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ﴾ ” اپنے پیچھے“ انہیں پیچھے چھوڑ آئے ہو اور وہ تمہارے کسی کام نہ آئیں گی ﴿ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَؤُا﴾”اور ہم نہیں دیکھتے تمہارے ساتھ سفارشیوں کو جن کو تم گمان کرتے تھے کہ ان کا تم میں ساجھا ہے“ مشرکین اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا کرتے تھے، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملائکہ، انبیاء اور صالحین وغیرہم کی عبادت بھی کیا کرتے تھے، حالانکہ یہ سب اللہ کی ملکیت ہیں مگر وہ لوگ ان مخلوق ہستیوں کے لئے ایک حصہ ٹھہراتے تھے اور اپنی عبادت میں ان کو شریک کرتے تھے اور یہ ان کا زعم باطل اور ظلم ہے کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا مالک اور ان کی عبادت کا مستحق ہے، لہٰذا ان کے شرک فی العبادۃ بعض بندوں کو عبادت کا مستحق ٹھہرانے اور ان کو خالق و مالک کا مقام دینے کی بنا پر قیامت کے روز ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے مذکورہ بات کہی جائے گی۔ ﴿لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ ﴾” تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے۔“ یعنی آج تمہارے اور تمہارے شرکاء کے مابین سفارش وغیرہ کے تمام روابط اور تعلقات منقطع ہوگئے اور ان تعلقات نے کوئی فائدہ نہ دیا۔ ﴿وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ ﴾ ” اور جاتے رہے وہ دعوے جو تم کیا کرتے تھے۔“ وہ نفع، امن، سعادت اور نجات جن کے وہ بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے، گم ہوگئے جن کو شیطان تمہارے سامنے مزین کیا کرتا تھا، تمہارے دلوں میں انہیں خوبصورت بنایا کرتا تھا اور تمہاری زبانوں پر ان کا ذکر رہا کرتا تھا اور تم اپنے اس زعم باطل کے فریب میں مبتلا رہے جس کی کوئی حقیقت نہیں یہاں تک کہ ان تمام دعووں کا بطلان واضح ہوگیا اور ظاہر ہوگیا کہ تم خود اپنی ذات، اپنے اہل وعیال اور اپنے مال و متاع کے بارے میں خسارے میں پڑے رہے۔ الانعام
95 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال، عظمت سلطان، قوت اقتدار، وسعت رحمت، بے پایاں فضل و کرم اور اپنی مخلوق کے ساتھ انتہائی عنایت کے بارے میں، خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿إِنَّ اللَّـهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَىٰ﴾ ” بے شک اللہ پھاڑ نکلتا ہے دانہ اور گٹھلی“ یہاں دانہ ہرقسم کے اناج کے دانوں کو شامل ہے جن کو عام طور پر لوگ کاشت کرتے ہیں اور وہ بھی جن کو کاشت نہیں کیا جاتا مثلاً وہ دانے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے صحراؤں اور بیابانوں میں بکھیر دیئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کھیتوں اور مختلف انواع و اشکال و منفعت والی نباتات کے بیجوں کو پھاڑتا ہے اور درختوں کی نوع میں کھجور اور دیگر پھلوں کی گٹھلی کو جس سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق، انسان، مویشی اور دیگر جانور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ بیج اور گٹھلی سے جو کچھ اگاتا ہے یہ اسے کھاتے ہیں اور اس سے اپنی خوراک اور ہر قسم کی منفعت حاصل کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اس میں مقرر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل و احسان کی جھلک دکھاتا ہے جس سے عقل ششدر اور بڑے بڑے اصحاب فضیلت حیران رہ جاتے ہیں۔ وہ ان کو اپنی انوکھی صنعت گری اور اپنی حکمت کا کمال دکھاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ اسے پہچانتے ہیں اور اسے ایک مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے اور اس کے سواہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ ﴾ ” وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے“ مثلاً وہ منی سے حیوان اور انڈے سے چوزہ پیدا کرتا ہے، دانے اور گٹلھی سے اناج اور درخت پیدا کرتا ہے ﴿وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ ﴾ ” اور مردہ کو نکالتا ہے“ میت سے مراد وہ تمام اشیا ہیں جو نشو و نما کی صلاحیت سے محروم ہوں یا ان کے اندر روح نہ ہو ﴿مِنَ الْحَيِّ﴾ ” زندہ سے“ مثلاً درختوں اور کھیتیوں سے گٹھلیاں اور دانے پیدا کرتا اور پرندے سے انڈہ نکالتا ہے۔ ﴿ذَٰلِكُمُ﴾ ”وہ ہستی‘‘ جو یہ تمام افعال سر انجام دیتی ہے اور ان اشیاء کی تخلیق اور تدبیر میں منفرد ہے وہ ﴿ اللَّـهُ رَبَّكُمُ﴾ ” اللہ ہے، رب تمہارا“ تمام مخلوق پر فرض ہے کہ وہ اس کی الوہیت و عبودیت کو تسلیم کرے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام جہانوں کی ربوبیت فرمائی اور اپنے فضل و کرم سے ان کو غذا مہیا کی ﴿فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ﴾” پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو؟“ یعنی تم کہاں پھرے جاتے ہو اور جو اس شان کا مالک ہے اس کی عبادت کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو خود اپنے لئے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھانے پر قادر نہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے غذاؤں کی تخلیق کے مادے کا ذکر فرمایا تو اب اس احسان کا ذکر کیا جو اس نے مساکن مہیا کر کے مخلوق پر کیا ہے اور ہر وہ چیز تخلیق کر کے جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں، مثلاً روشنی، تاریکی اور وہ تمام منافع اور مصالح جو اس پر مترتب ہوتے ہیں۔ الانعام
96 چنانچہ فرمایا : ﴿  فَالِقُ الْإِصْبَاحِ ﴾” پھاڑ نکالنے والا ہے صبح کی روشنی کا“ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے اسی طرح اندھیری رات کے اندھیروں کو جو تمام روئے زمین کو ڈھانپ لیتے ہیں، صبح کے اجالے کے ذریعے سے پھاڑتا ہے جو دھیرے دھیرے تاریکی کے پردے کو چاک کئے چلا جاتا ہے حتیٰ کہ تمام تاریکی ختم ہوجاتی ہے اور مخلوق اپنے مصالح، معاش اور اپنے دین و دنیا کے فوائد کے حصول میں مصروف ہوجاتی ہے۔ چونکہ مخلوق سکون، آرام اور ٹھہرنے کی محتاج ہوتی ہے اور یہ امور دن اور رات کے وجود کے بغیر مکمل نہیں ہوتے ﴿وَجَعَلَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے بنایا ﴿اللَّيْلَ سَكَنًا﴾” رات کو آرام کے لئے“ جس میں آدمی اپنے گھروں اور خواب گاہوں میں، جانور اور مویشی اپنے ٹھکانوں میں اور پرندے اپنے گھونسلوں میں آرام کرتے ہیں اور سب راحت اور آرام میں سے اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ اسے روشنی کے ذریعے سے زائل کردیتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ ﴿وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا﴾ ” اور سورج اور چاند حساب کے لئے“ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند بنائے جن کے ذریعے سے زمان و اوقات کی پہچان کی جاتی ہے، ان کے ذریعے سے عبادات کے اوقات منضبط ہوتے ہیں، معاملات کی مدت مقرر ہوتی ہے اور سورج اور چاند کے وجود ہی سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کتنا وقت گزر گیا ہے۔ اگر سورج اور چاند کا وجود اور ان کا باری باری ایک دوسرے کے پیچھے آنا نہ ہوتا تو عامتہ الناس ان تمام امور کو معلوم کر کے علم میں اشتراک نہ کرسکتے بلکہ چند افراد کے سوا کوئی بھی ان امور کی معرفت حاصل نہ کر پاتا اور وہ بھی نہایت کوشش اور اجتہاد کے بعد اور اس طرح تمام ضروری مصالح فوت ہوجاتے۔ ﴿ذَٰلِكَ﴾یہ مذکوررہ انداز ﴿تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ﴾ ” اندازہ ہے غالب جاننے والے کا“ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا غلبہ ہے کہ یہ بڑی بڑی مخلوق اس کی تدبیر کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہے اور اس کے حکم سے مطیع اور مسخر ہو کر اپنے راستے پر جاری و ساری ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو حدود مقرر کردی ہیں او وہ اس سے سرمو انحراف نہیں کرسکتی، آگے ہوسکتی ہے نہ پیچھے۔ ﴿ الْعَلِيمِ﴾ وہی ہستی ہے جس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور اوائل و اواخر کا احاطہ کر رکھا ہے اور اس کے علم محیط کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو ایک اندازے پر ایک انوکھے نظام کے ذریعے سے مسخر کر رکھا ہے کہ جس کے حسن و کمال اور مصالح اور حکمتوں کے ساتھ اس کی مطابقت کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ الانعام
97 ﴿ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۗ﴾ ” وہی ہے جس نے بنائے تمہارے لئے ستارے، تاکہ ان کے ذریعے سے تم راستے معلوم کرو، خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں“ جب راستے تم پر مشتبہ ہوجاتے ہیں اور مسافر کا سفر تحیر کا شکار ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو راستے دکھانے کے لئے ستاروں کو تخلیق فرمایا۔ لوگ اپنے مصالح، سفر تجارت اور دیگر سفروں میں ان راستوں کی پہچان کے محتاج ہوتے ہیں۔ کچھ ستارے ایسے ہیں جو ہمیشہ دکھائی دیتے ہیں اور اپنی جگہ نہیں چھوڑتے۔ کچھ ستارے ہمیشہ رواں دواں رہتے ہیں۔ ستاروں کی معرفت رکھنے والے ستاروں کی رفتار کو پہچانتے ہیں، بنا بریں وہ سمتیں اور اوقات معلوم کرسکتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ ستاروں کی رفتار اور ان کے محل و مقام کا علم حاصل کرنا مشروع ہے جسے ستاروں کی رفتار کے علم سے موسوم کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے بغیر راستوں کے علم سے بہرہ ور ہونا ممکن نہیں۔ ﴿قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ ﴾ ” ہم نے آیات کھول کھول کر بیان کردیں۔“ یعنی ہم نے نشانیوں کو بیان کر کے واضح کردیا ہے اور ہر جنس اور نوع کو ایک دوسری سے ممیز کردیا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی آیات صاف ظاہر اور عیاں ہوگئیں ﴿لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴾” جاننے والوں کے لئے۔“ یعنی ہم نے ان آیات کو ان لوگوں کے سامنے واضح کردیا جو علم اور معرفت سے بہرہ ور ہیں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف خطاب کا رخ ہے اور جن سے جواب مطلوب ہے۔ بخلاف جہلاء اور اہل جفا کے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس علم سے منہ موڑتے ہیں جسے لے کر انبیاء و مرسلین مبعوث ہوئے۔ کیونکہ ان کے سامنے بیان کرنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اور ان کے سامنے اس کی تفصیل بیان کرنے سے ان کا التباس رفع نہیں ہوسکتا اور اس کی توضیح سے ان کا اشکار دور نہیں ہوتا۔ الانعام
98 ﴿ وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ﴾ ” اور وہی ذات ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا“ اور وہ آدم ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے تمام نسل انسانی کو پیدا کیا جس نے روئے زمین کو بھر دیا ہے اور یہ اضافہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نسل انسانی کے افراد کی خلقت، ان کے اخلاق اور اوصاف میں اس قدر تفاوت ہے کہ ان کو ضبط میں لانا اور ان کے تمام اوصاف کا ادراک ممکن ہی نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کامُسْتَقَریعنی ان کی غایت و انتہا مقرر فرما دی ہے جس کی طرف ان کو لے جایا جا رہا ہے اور وہ ہے آخرت کی جائے قرار، اس سے آگے کوئی غایت و منتہا نہیں۔ دنیا وہ گھر ہے جہاں رہنے کے لئے مخلوق کو پیدا کیا گیا اور ان کو اس لئے وجود میں لایا گیا تاکہ وہ ان اسباب کے لئے بھاگ دوڑ کریں جو زمین میں پیدا ہوتے ہیں اور زمین ان سے آباد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے آباء کی پشتوں میں اور ماؤں کے رحموں میں امانت رکھ دیا، وہاں سے یہ امانت اس دنیا میں آجاتی ہے، پھر برزخ میں منتقل ہوجاتی ہے۔ ہر جگہ اس کی حیثیت امانت کی ہوتی ہے جس کو ٹھہراؤ اور ثبات نہیں بلکہ منتقل ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ دار آخرت میں اسے پہنچا دیا جائے جو اس کا مستقر و مقام ہے۔ رہا دنیا کا یہ گھر تو یہ صرف گزر گاہ ﴿قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ﴾ ” تحقیق ہم نے کھول کر بیان کردیں نشانیاں، ان لوگوں کے لئے جو سمجھتے ہیں“ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی آیات کو سمجھیں اور اس کے دلائل و براہین کا فہم حاصل کریں۔ الانعام
99 اس آیت کریمہ میں مذکور نعمت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، انسان اور دیگر مخلوق جس کے سخت محتاج ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ضرورت اور حاجت کے وقت پے در پے پانی برسایا، اس پانی کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات اگائی جسے انسان اور حیوانات کھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مخلوق اس نباتات کو کھاتی ہے، اس کے عطا کردہ رزق سے انبساط محسوس کرتی ہے، لوگ اس کے احسان پر خوش ہوتے ہیں اور ان سے قحط اور خشک سالی دور ہوجاتی ہے۔ پس دل خوش ہوجاتے ہیں اور چہرے نکھر جاتے ہیں، بندوں کو اللہ رحمان و رحیم کی بے پایاں رحمت نصیب ہوتی ہے جس سے وہ متمتع ہوتے ہیں، اس سے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں۔ یہ چیز ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے انہیں یہ نعمتیں عطا کی ہیں اور اس کی عبادت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت میں اپنی کوشش صرف کریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس پانی سے اگنے والے درختوں اور نباتات کا عمومی ذکر کیا تو اب (خصوصی طور پر) کھیتیوں اور کھجوروں کا ذکر فرمایا ہے، کیونکہ ان کی منفعت بہت زیادہ ہے اور اکثر لوگوں کی خوراک بھی انہی سے حاصل ہوتی ہے۔ ﴿فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ﴾ ” پھر نکالی ہم نے اس سے سبز کھیتی، ہم نکالتے ہیں اس سے“ یعنی اس سرسبز نباتات میں سے ﴿حَبًّا مُّتَرَاكِبًا﴾ ” دانے، ایک پر ایک چڑھا ہوا“ یعنی گندم، جو، مکئی اور چاول جیسی زرعی اجناس میں دانے اپنی بالیوں میں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے وصف میں ” ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے“ کا لفظ اشارہ کرتا ہے کہ ایک بالی میں متعدد دانے ہوتے ہیں، سب ایک ہی مادے سے خوراک حاصل کرتے ہیں، وہ ایک دوسرے سے خلط ملط نہیں ہوتے، تمام دانے متفرق ہوتے ہیں، ان کی جڑ ایک ہی ہوتی ہے۔“ یہ دانوں کی کثرت، ان کے بڑے ؟؟؟اور غلے کے عام ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے تاکہ کچھ تو بیج کے لئے باقی رہے اور دوسرا غلہ کھایا اور ذخیرہ کیا جا سکے۔ ﴿ وَمِنَ النَّخْلِ ﴾” اور کھجور سے“ اللہ تعالیٰ نے نکالا ﴿ مِن طَلْعِهَا ﴾” اس کے گابھے سے“ اور وہ کھجور کا خوشہ نکلنے سے قبل اس پر چڑھا ہوا غلاف ہے۔ پس اس غلاف میں سے کھجور کا خوشہ نکلتا ہے ﴿قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ﴾ ” پھل کے گچھے، جھکے ہوئے“ یعنی قریب قریب لگے ہوئے خوشے، جن کا حصول بہت آسان ہوتا ہے جو کوئی خوشوں کو توڑنا چاہے وہ ان کے بہت قریب ہوتا ہے۔ انہیں کھجور سے حاصل کرنا مشکل نہیں ہوتا، خواہ کھجور کا درخت کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو، کیونکہ کھجور کے تنے سے کٹی ہوئی شاخوں کی جگہ سیڑھیاں سی بن جاتی ہیں ان کی مدد سے کھجور پر چڑھنا آسان ہوجاتا ہے ﴿وَجَنَّاتٍ مِّنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ﴾ ” اور (اس پانی سے) انگور، زیتون اور انار کے باغات اگائے۔“ چونکہ یہ درخت کثیر الفوائد اور عظیم وقعت کے حامل ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے درختوں اور نباتات کا عمومی ذکر کرنے کے بعد ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ﴿مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ﴾ ” آپس میں ملتے جلتے بھی اور جدا جدا بھی“ اس میں اس امر کا احتمال ہے کہ اس سے مراد انار اور زیتون ہو، کیونکہ ان کے درخت اور پتے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اور ان کے پھل غیر مشابہ (جدا جدا) ہوتے ہیں اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام درخت اور میوے وغیرہ ہوں جن میں سے بعض ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اور بعض ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں اور بعض اوصاف میں ایک دوسرے سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے (بلکہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔) ان تمام درختوں سے بندے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان سے پھل اور غذا حاصل کرتے ہیں اور عبرت پکڑتے ہیں۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان سے عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے ﴿انظُرُوا ﴾” دیکھو“ یعنی غور و فکر اور عبرت کی نظر سے دیکھو﴿إِلَىٰ ثَمَرِهِ ﴾ تمام درختوں کے پھل کی طرف عام طور پر اور کھجور کے پھل کی طرف خاص طور پر ﴿ إِذَا أَثْمَرَ﴾ ” جب وہ پھل لائے“ ﴿ وَيَنْعِهِ﴾ ” اور اس کے پکنے پر“ یعنی اس کے شگوفے نکلنے، پھل پکنے اور اس کے پک کر سر ہونے کی طرف دیکھو، کیونکہ اس میں عبرت اور نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کے جود واحسان کی وسعت، اس کے کامل اقتدار اور بندوں پر اس کی بے پایاں عنایات پر استدلال کیا جاتا ہے۔ مگر ہر ایک تفکر و تدبر کے ذریعے سے عبرت حاصل نہیں کرتا اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو کوئی غور و فکر کرے وہ معنی مقصود کو پالے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے کو مومنین کے ساتھ خاص کیا ہے، چنانچہ فرمایا :﴿إِنَّ فِي ذَٰلِكُمْ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴾ ”اس میں ایمان رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں“ کیونکہ مومنین کا ایمان ان کو اپنے ایمان کے تقاضوں اور لوازم پر عمل کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور ان لوازم میں آیات الٰہی میں غور و فکر، ان سے نتائج کا استخراج، ان کا معنی مراد اور یہ آیات عقلاً شرعاً اور فطرتاً جس چیز پر دلالت کرتی ہیں، سب شامل ہیں۔ الانعام
100 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اپنے بندوں پر اس کے احسان اور واضح نشانیوں کے ذریعے سے ان کو اپنی معرفت عطا کرنے کے باوجود مشرکین قریش وغیرہم جنوں اور فرشتوں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہیں، ان کو پکارتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان میں ربوبیت اور الوہیت کی کوئی بھی صفت نہیں۔ وہ ان کو اس ہستی کا شریک ٹھہراتے ہیں جو خلق و امر کی مالک ہے اور وہ ہر قسم کی نعمت عطا کرنے والی اور تمام دکھوں اور تکالیف کو دور کرنے والی ہے اور اسی طرح مشرکین نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ پر بہتان گھڑتے اور جھوٹ باندھتے ہوئے بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو علم کے بغیر کوئی بات اللہ تعالیٰ کے ذمے لگاتا ہے اور اس پر ایسے بدترین نقص کا بہتان باندھتا ہے جس سے اس کی تنزیہہ واجب ہے، بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کی افترا پردازیوں سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا : ﴿سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ ﴾” وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے۔“ پس اللہ تعالیٰ ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص، آفت اور عیب سے منزہ ہے۔ الانعام
101 ﴿بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ ” نئی طرح پر بنانے والا آسمانوں اور زمین کا“ اللہ تعالیٰ ان کو تخلیق کرنے والا بغیر کسی سابقہ نمونے کے، ان کو مہارت کے ساتھ بہترین شکل میں، بہترین نظام اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے والا بغیر کسی سابقہ نمونے کے، ان کو مہارت کے ساتھ بہترین شکل میں، بہترین نظام اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے والا ہے۔ بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل اس جیسی کوئی چیز وجود میں لانے سے قاصر ہے۔ اسی طرح زمین اور آسمان کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک بھی نہیں۔﴿أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ﴾ ” کیوں کر ہوسکتی ہے اس کی اولاد جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں؟“ یعنی اللہ تعالیٰ کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے حالانکہ وہ بے نیاز، سردار اور الٰہ حق ہے جس کی کوئی ساتھی، یعنی بیوی نہیں ہے وہ اپنی تمام مخلوق سے بے نیاز ہے۔ تمام مخلوق اس کی محتاج اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے مجبور ہے اور اولاد لازمی طور پر اپنے باپ کی جنس سے ہوتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے۔ اس کی مخلوقات میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کسی بھی پہلو سے اس کی مشابہ ہو۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر کا عمومی ذکر فرمایا ہے کہ اس نے تمام اشیا کو پیدا کیا ہے، اس لئے اس نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ اس کا علم ان تمام اشیاء کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴾” اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔“ تخلیق کے بعد علم کا ذکر کرنا اس دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے کہ اسے اپنی مخلوق کا علم بھی ہے اور مخلوق میں اس کی پیدا کردہ تمام چیزیں اور وہ پورا نظام ہے جس پر کائنات قائم ہے۔ اس لئے کہ اس میں خالق کے علم کی وسعت اور اس کی کامل حکمت پر دلیل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾ (الملک :67؍14) ’’بھلا جس نے پیدا کیا وہ نہیں جانتا؟ وہ تو پوشیدہ اور باریک امور سے آگاہ اور ان کی خبر رکھنے والا ہے۔“ اور فرمایا : ﴿وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ﴾(یسین :36؍(81 ” وہ بڑا پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔“ الانعام
102 ﴿ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمْ﴾ ” یہی اللہ تمہارا رب ہے۔“ یعنی یہ معبود، جو انتہائی تذلل اور انتہائی محبت کا مستحق ہے وہی تمہارا رب ہے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی ربوبیت کا انتظام فرمایا اور ان سے مختلف اصناف کی تکالیف کو دور ہٹایا۔ ﴿لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ﴾ ” اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہر چیز کا خالق ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو۔“ یعنی جب یہ بات ثابت ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اپنی ہر قسم کی عبادت کا رخ اسی کی طرف پھیر دو، اپنی تمام عبادات کو اسی کے لئے خالص کرو اور ان عبادات میں صرف اسی کی رضا کو مقصد بناؤ۔ تخلیق کائنات کا مقصد بھی یہی ہے اور اسی کی خاطر ان کو پیدا کیا گیا ہے۔﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ (الذاریات :51؍56) ” میں نے جن وانس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ ﴿وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ﴾” اور وہ ہر چیز پر کار ساز ہے۔“ یعنی تمام اشیا تخلیق و تدبیر اور تصرف کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی وکالت اور بندوبست کے تحت ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ وہ امر جو کسی کے تصرف میں دیا گیا ہے، اس کی استقامت، اس کا اتمام اور اس کا کمال انتظام وکیل کے حسب حال ہوتا ہے۔ تمام اشیاء پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی وکالت، مخلوق کی وکالت کی مانند نہیں ہے کیونکہ مخلوق کی وکالت تو درحقیقت نیابت ہے اور اس میں وکیل اپنے موکل کے تابع ہوتا ہے۔ جہاں تک باری تعالیٰ کی ذات ہے، تو اس کی وکالت اپنی طرف سے اپنے لئے ہوتی ہے جو کمال علم، حسن تدبیر اور عدل و احسان کو متضمن ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر استدراک (کسی کوتاہی کا ازالہ) کرے، نہ اسے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی خلل نظر آئے گا اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی نقص اور عیب۔ اللہ تعالیٰ کی وکالت کا ایک حصہ یہ ہے کہ اس نے اپنے دین کو توضیح و تبیین کا کام اپنے ذمہ لیا اور دین کو خراب کرنے اور بدلنے والے تمام امور سے اس کی حفاظت کی اور وہ اہل ایمان کی حفاظت اور ایسے امور سے ان کو بچانے کا ضامن بنا جو ان کے دین و ایمان کو خراب کرتے ہیں۔ الانعام
103 ﴿لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ﴾ ” اسے آنکھیں نہیں پا سکتیں“ اس کی عظمت اور اس کے جلال و کمال کی بنا پر نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں۔ یعنی نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔ اگرچہ آخرت میں اس کو دیکھ سکیں گی اور اس کے چہرہ مکرم کے نظارے سے خوش ہوں گی۔ پس ادراک کی نفی سے روئیت کی نفی لازم نہیں آتی بلکہ مفہوم مخالف کی بنا پر رؤیت کا اثبات ہوتا ہے کیونکہ ادراک، جو کہ رؤیت کا ایک خاص وصف ہے، کی نفی رؤیت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے کہ اگر اس آیت کریمہ سے رؤیت باری تعالیٰ کی نفی مراد ہوتی تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہوتا (لا تراہ الابصار) یا اس قسم کا کوئی اور فقرہ۔ پس معلوم ہوا کہ آیت کریمہ میں معطلہ کے مذہب پر کوئی دلیل نہیں جو آخرت میں رب تعالیٰ کے دیدار کا انکار کرتے ہیں، بلکہ اس سے ان کے مذہب کے نقیض (برعکس) کا اثبات ہوتا ہے۔ ﴿وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ﴾ ” اور وہ آنکھوں کو پاسکتا ہے“ یعنی وہی ہے جس کے علم نے ظاہر و باطن کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کی سماعت تمام جہری اور خفیہ آوازوں کو سنتی ہے اور بصارت تمام چھوٹی بڑی مرئیات کو دیکھتی ہے۔ بنابریں فرمایا : ﴿ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾ ” اور وہ نہایت باریک بین، خبر دار ہے۔“ یعنی جس کا علم اور خبر بہت باریک اور دقیق ہے حتیٰ کہ اسرار نہاں، چھپی ہوئی چیزوں اور باطن کا بھی ادراک کرلیتا ہے۔ یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ وہ اپنے بندے کی اس کے دینی مصالح کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور ان مصالح کو اس کے پاس اس طریقے سے پہنچاتا ہے کہ بندے کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا اور اسے ان مصالح کے حصول کے لئے تگ و دو نہیں کرنی پڑتی۔ وہ اپنے بندے کو ابدی سعادت اور دائمی فلاح کی منزل پر اس طرح پہنچاتا ہے جس کا وہ اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ یہاں تک کہ وہ بندے کے لئے ایسے امور مقدر کردیتا ہے جنہیں بندہ ناپسند کرتا ہے اور ان کی وجہ سے دکھ اٹھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ان کو دور کرنے کی دعا کرتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کا دین اس کے لئے زیادہ درست ہے اور اس کا کمال انہی امور پر موقوف ہے۔ پاک ہے وہ لطف و کرم والی باریک بین ذات جو مومنوں کے ساتھ بہت رحیم ہے۔ الانعام
104 جب اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات اور واضح دلائل کو بیان کردیا جو تمام مطالب و مقاصد میں حق پر دلالت کرتی ہیں تو ان کو آگاہ کر کے خبردار کردیا کہ ان کی ہدایت اور گمراہی خود ان کی ذات کے لئے ہے۔ پس فرمایا : ﴿قَدْ جَاءَكُم بَصَائِرُ مِن رَّبِّكُمْ ۖ﴾ ” تحقیق آچکیں تمہارے پاس نشانیاں تمہارے رب کی طرف سے“ یعنی تمہارے پاس ایسی آیات آگئی ہیں جو حق کو واضح کرتی ہیں۔ وہ قلب کے لئے حق کو ایسے واضح اور نمایاں کردیتی ہیں جیسے آنکھوں کے سامنے سورج، کیونکہ یہ آیات فصاحت لفظ، بیان و وضوح، معانی جلیلہ کے ساتھ مطابقت اور حقائق جمیلہ پر مشتمل ہیں۔ اس لئے کہ یہ اس رب کی طرف سے صادر ہوئی ہیں جو اپنی مختلف ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے اپنی مخلوق کی تربیت کرتا ہے اور ان میں جلیل ترین نعمت تبیین آیات اور توضیح مشکلات ہے۔ ﴿فَمَنْ أَبْصَرَ﴾’’پس جس نے دیکھ لیا“ جو کوئی ان آیات کے ذریعے سے عبرت کے مواقع دیکھ لیتا ہے اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتا ہے ﴿فَلِنَفْسِهِ﴾ ” تو یہ خود اس کی ذات کے لئے ہے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بے نیاز اور قابل تعریف ہے﴿ وَمَنْ عَمِيَ ﴾ ” اور جو اندھا رہا“ یعنی وہ دیکھتا تو ہے مگر بصیرت کے ساتھ غور و فکر نہیں کرتا، اسے زجر و توبیخ کی جاتی ہے مگر وہ اسے قبول نہیں کرتا، اس کے سامنے حق واضح کیا جاتا ہے مگر وہ اس کی اطاعت کرتا ہے نہ اس کے سامنے جھکتا ہے، پس اس کے اندھے پن کا نقصان اسی کے لئے ہے۔ ﴿وَمَا أَنَا ﴾یعنی اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کہہ دیجیے ” اور نہیں ہوں میں“﴿ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ﴾ ” تم پر نگہبان“ کہ میں تمہارے اعمال پر نظر رکھوں اور دائمی طور پر ان کی نگرانی کروں، میری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے اور میں نے یہ ذمہ داری ادا کردی۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھ پر نازل کیا تھا میں نے پہنچا دیا اور یہی میرا فرض ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ میرے فرائض میں شامل نہیں۔ [مؤلف رحمۃ اللہ علیہ نے آیت نمبر 104 کے بعد آیت نمبر 105 تا 107 کی تفسیر نہیں کی۔ از محقق] الانعام
105 اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک ایسے کام سے روکا ہے جو بنیادی طور پر جائز بلکہ مشروع ہے اور وہ ہے مشرکین کے معبودوں کو سب و شتم کرنا۔ جن کے بت بنائے گئے اور جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا گیا ہے، ان کی اہانت اور سب و شتم سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے، لیکن چونکہ یہ سب و شتم مشرکین کے لئے اللہ رب العالمین کو سب و شتم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے جس عظیم ذات کی، ہر عیب و آفت اور سب و شتم سے تنزیہہ واجب ہے، اس لئے مشرکین کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے روک دیا گیا ہے، کیونکہ وہ اپنے دین میں متعصب ہیں اور اپنے دین کے لئے جوش میں آجاتے ہیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے اعمال کو ان کے لئے مزین کردیا ہے۔ وہ اعمال انہیں اچھے دکھائی دیتے ہیں لہٰذا وہ ہر طریقے سے ان کی مدافعت کرتے ہیں، حتیٰ کہ اگر مسلمان ان کے معبودوں کو گالی دیں تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھی گالی دیئے بغیر نہیں رہتے جس کی عظمت ابرار و فجار کے دلوں میں راسخ ہے۔ مگر تمام مخلوق کو انجام کار قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتا ہے، پھر انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور ان کے اعمال پیش کئے جائیں گے اور جو وہ اچھا برا کام کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو آگاہ کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں اس شرعی قاعدہ پر دلیل ہے کہ وسائل کا اعتبار ان امور کے ذریعے سے کیا جاتا ہے جن تک یہ پہنچاتے ہیں چنانچہ امور محرمہ کی طرف لے جانے والے وسائل و ذرائع حرام ہیں، خواہ وہ فی نفسہ حلال ہی کیوں نہ ہوں۔ الانعام
106 الانعام
107 الانعام
108 الانعام
109 یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے مشرکین قسمیں اٹھاتے ہیں ﴿ بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ﴾ یعنی زور دار اور موکد قسمیں﴿ لَئِن جَاءَتْهُمْ آيَةٌ﴾ ” اگر ان کے پاس کوئی نشانی آگئی“ جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر دلالت کرتی ہو ﴿لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا﴾” تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے۔“ یہ کلام جو ان سے صادر ہوا اس سے ان کا مقصد طلب ہدایت نہ تھا بلکہ ان کا مقصد تو محض دفع اعتراض اور اس چیز کو قطعی طور پر ٹھکرانا تھا جو انبیاء و رسل لے کر آئے ہیں۔ بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آیات بینات اور واضح دلائل کے ساتھ تائید فرمائی۔ ان دلائل کی طرف التفات کرنے سے اس بات میں ادنیٰ سا شبہ اور اشکال باقی نہیں رہتا کہ جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ صحیح ہے۔ اس کے بعد ان آیات و معجزات کا مطالبہ کرنا محض تعنت ہے جس کا جواب دینا لازم نہیں، بلکہ کبھی کبھی ان کو جواب نہ دینا ان کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں اس کی سنت یہ ہے کہ اس کے انبیاء و رسل سے معجزات کا مطالبہ کرنے والوں کے پاس جب معجزات آجاتے ہیں اور وہ ان پر ایمان نہیں لاتے تو ان پر عذاب بھیج دیا جاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ﴾ ” کہہ دیجیے ! کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہے جو جب چاہتا ہے معجزات نازل کرتا ہے اور وہ جب چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ لہٰذا مجھ سے تمہارا مطالبہ کرنا ظلم اور ایسی چیز کا مطالبہ ہے جس پر مجھے کوئی اختیار نہیں، تاہم تمہارا مقصود اس سے صرف اس چیز کی توضیح و تصدیق ہے۔ جو میں لایا ہوں جب کہ وہ ثابت شدہ امر ہے۔ بایں ہمہ یہ بھی معلوم نہیں کہ جب ان کے پاس یہ نشانیاں آجائیں گی تو یہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور ان کی تصدیق کریں گے۔ بلکہ ان کے احوال یہ ہیں کہ وہ غالب طور پر صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق سے محروم ہونے کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے۔ بنا بریں فرمایا : ﴿وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾ ” اور تمہیں کیا معلوم کہ جب ان کے پاس نشانیاں آ بھی جائیں، تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ “ الانعام
110 ﴿وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ﴾ ” اور ہم الٹ دیں گے ان کے دل اور ان کی آنکھیں جیسے کہ ایمان نہیں لائے نشانیوں پر پہلی بار اور ہم چھوڑے رکھیں گے ان کو ان کی سرکشی میں بہکتے ہوئے۔“ یعنی جب ان کے پاس حق کی دعوت دینے والا آیا اور ان پر حجت قائم ہوگئی مگر وہ ایمان نہیں لائے۔ اس پہلی مرتبہ کے انکار کے نتیجے میں ہم ان کو عذاب دیں گے ان کے دلوں کو حق سے پھیر کر، ان کے اور ایمان کے درمیان حائل ہو کر اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق سے محروم کر کے۔ یہ بندوں کے ساتھ اس کا عدل اور اس کی حکمت ہے۔ انہوں نے اپنے آپ پر جرم کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے دروازہ کھولا مگر وہ اس میں داخل نہیں ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ہدایت کا راستہ واضح کردیا، لیکن وہ اس پر گامزن نہ ہوئے۔ اگر اس کے بعد ان کو توفیق سے محروم کردیا گیا تو یہ ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔ الانعام
111 اسی طرح ان کا اپنے ایمان کو اپنے ارادے اور خود اپنی مشیت سے معلق کرنا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کرنا، سب سے بڑی غلطی ہے۔ کیونکہ اگر ان کے پاس بڑی بڑی نشانیاں اور معجزات بھی آجائیں، فرشتے نازل ہو کر رسول کی رسالت کی شہادت دے دیں، ان کے ساتھ مردے باتیں کرنے لگیں اور خود ان کو مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردیا جائے ﴿ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ ﴾ ” اور زندہ کردیں ہر چیز کو ان کے سامنے“ حتیٰ کہ وہ ان کے ساتھ باتیں کریں﴿قُبُلًا﴾ ”سامنے“ یعنی ان کے سامنے نظر آتے ہوئے اس چیز کی تصدیق کریں جسے لے کر رسول آیا ہے، تب بھی ان کے حصے میں ایمان نہیں آسکتا، اگر اللہ کی مشیت ان کے ایمان لانے کی نہ ہو۔ مگر ان میں سے اکثر جاہل ہیں اسی لئے انہوں نے اپنے ایمان کو مجرد آیات و معجزات کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ عقل اور علم کا تقاضا تو یہ ہے کہ بندے کا مطلوب و مقصود اتباع حق ہو اور وہ اسے ان طریقوں سے تلاش کرے جنہیں اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا ہے، حق پر عمل کرے اور اس کی اتباع میں اپنے رب کی مدد طلب کرے۔ اپنے نفس اور اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ نہ کرے اور ان آیات و معجزات کا مطالبہ نہ کرے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔ الانعام
112 اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے جس طرح ہم نے آپ کے دشمن بنا دیئے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہیں اور آپ سے حسد کرتے ہیں، تو یہ ہماری سنت ہے، ہم ہر نبی کے، جس کو ہم مخلوق کی طرف مبعوث کرتے ہیں، جنوں اور انسانوں میں سے دشمن مقرر کردیتے ہیں وہ ان تمام امور کی مخالفت کرتے ہیں جنہیں رسول لے کر آئے ہیں۔ ﴿ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ۚ﴾ ” سکھلاتے ہیں وہ ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی باتیں، فریب دینے کے لئے“ یعنی وہ ایک دوسرے کو ان باطل امور کو سجا کر اور مزین کر کے پیش کرتے ہیں جن کی طرف وہ دعوت دیتے ہیں اور وہ اس کی تعبیرات کو آراستہ کر کے بہترین اسلوب میں پیش کرتے ہیں تاکہ بیوقوف اس سے دھوکہ کھا جائیں اور سیدھے سادے لوگ ان کے سامنے سر اطاعت خم کردیں جو حقائق کا فہم رکھتے ہیں نہ معافی کو سمجھتے ہیں، بلکہ خوبصورت الفاظ اور ملع سازی ان کو اچھی لگتی ہے، پس وہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگتے ہیں۔ الانعام
113 بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَلِتَصْغَىٰ إِلَيْهِ﴾ ” تاکہ اس کی طرف مائل ہوں۔“ یعنی اس مزین کلام کو سننے کی طرف مائل ہوں ﴿وَلِتَصْغَىٰ إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ﴾ ” ان لوگوں کے دل جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے“ کیونکہ یوم آخرت پر ان کا ایمان نہ رکھنا اور عقل نافع سے ان کا محروم ہونا، ان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے﴿وَلِيَرْضَوْهُ ﴾” اور تاکہ وہ اس کو پسند بھی کرلیں“ یعنی اس کی طرف مائل ہونے کے بعد پس ان کے دل پہلے اس کی طرف مائل ہوتے ہیں پھر ان خوبصورت اور مزید عبارت کو جب دیکھتے ہیں تو ان کو پسند کرنے لگتے ہیں یہ عبارات ان کے دل میں سج جاتی ہیں اور ایک راسخ عقیدہ اور لازم وصف بن جاتی ہیں۔ پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان سے اس قسم کے اعمال سر زد ہوتے ہیں یعنی وہ اپنے قول و فعل میں جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان عقائد قبیحہ کا لازمہ ہیں پس یہ حال ان شیاطین جن و انس کا ہے جو ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔ رہے آخرت پر ایمان رکھنے والے عقل مند اور سنجیدہ لوگ تو وہ ان عبارات سے دھوکہ کھاتے ہیں نہ ان ملمع سازیوں کا شکار ہوتے ہیں، بلکہ ان کی ہمت اور ان کے ارادے حقائق کی معرفت حاصل کرنے میں مصروف رہتے ہیں وہ ان معانی پر نظر رکھتے ہیں جن کی طرف دعوت دینے والے دعوت دیتے ہیں۔ اگر یہ معانی حق ہیں تو انہیں قبول کرلیتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں خواہ ان کو کم تر عبارات اور غیر وافی الفاظ میں کیوں نہ بیان کیا گیا ہو اور اگر یہ معانی باطل ہیں تو انہیں ان کے قائل کی طرف لوٹا دیتے ہیں خواہ ان کا قائل کوئی بھی ہو اور خواہ ان الفاظ کو ریشم سے بھی زیادہ خوشنما لبادہ اوڑھا دیا گیا ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے کہ اس نے انبیائے کرام کے دشمن بنا دیئے اور باطل کے انصار و اعوان مقرر کردیئے جو باطل کی طرف دعوت دیتے ہیں تاکہ اس کے بندوں کی آزمائش اور امتحان ہوسکے اور سچے، جھوٹے، عقل مند اور جاہل، صاحب بصیرت اور اندھے کے درمیان امتیاز ہوسکے اور یہ بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش کے اندر حق کی تبیین اور توضیح ہے کیونکہ جب باطل حق کا مقابلہ کرتا ہے تو حق روشن ہو کر اور نکھر کر سامنے آجاتا ہے۔ تب اس وقت حق کے وہ دلائل اور شواہد واضح ہوجاتے ہیں جو حق کی صداقت اور حقیقت اور باطل کے فساد اور اس کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں جو سب سے بڑا مقصد ہے جس کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ الانعام
114 یعنی اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دیجیے ﴿أَفَغَيْرَ اللَّـهِ أَبْتَغِي حَكَمًا﴾ ” کیا میں اللہ کے سوا کوئی منصف تلاش کروں“ اور اس کے پاس اپنے فیصلے لے کر جاؤں اور اس کے اوامرو نواہی کی پابندی کروں؟ کیونکہ غیر اللہ حاکم نہیں محکوم ہوتا ہے اور مخلوق کے لئے ہر تدبیر اور ہر فیصلہ، نقص، عیب اور ظلم و جور پر مشتمل ہوتا ہے اور جسے حاکم بنانا واجب ہے، وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ کی ذات ہے جو خلق و امر کی مالک ہے۔﴿ وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا﴾ حالانکہ اسی نے اتاری ہے تم پر کتاب واضح“ یعنی جس میں حلال و حرام، احکام شریعت اور دین کے اصول و فروغ واضح کئے گئے ہیں، اس کی توضیح سے بڑھ کر کوئی توضیح نہیں، اس کی دلیل سے روشن کوئی دلیل نہیں، اس کے فیصیل سے اچھا کوئی فیصلہ نہیں اور اس کی بات سے زیادہ درست کسی کی بات نہیں کیونکہ اس کے احکام حکمت و رحمت پر مشتمل ہیں۔ کتب سابقہ کے حاملین یہود و نصاریٰ اس حقیقت کو پہچانتے ہیں ﴿ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ ۖ﴾” (اور) جانتے ہیں کہ وہ آپ کے رب کی طرف سے ٹھیک نازل ہوئی ہے“ اسی لئے اخبار سابقہ اس کی موافقت کرتی ہیں (فلاتکونن من الممترین) پس آپ اس بارے میں شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔ الانعام
115 پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا﴾ ” اور آپ کے رب کی بات پوری سچی ہے اور انصاف کی“ یعنی خبر میں صداقت اور اوامرونواہی میں عدل ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب عزیز میں جو خبریں بیان کی ہیں اس سے سچی کوئی خبر نہیں اور اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی سے بڑھ کر کسی حکم میں عدل و انصاف نہیں۔ ﴿لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ﴾” اس کی بات کو کوئی بدلنے والا نہیں“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی ہے اور صدق کی مختلف انواع اور حق کے ذریعے سے ان کو محکم کیا ہے۔ اس لئے ان میں تغیر و تبدل کرنا ممکن نہیں اور نہ اس سے زیادہ خوبصورت کلام وجود میں لایا جاسکتا ہے ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ ﴾” اور وہ سنتا ہے“ وہ مختلف زبانوں اور متفرق حاجتوں پر مبنی تمام آوازوں کو سن سکتا ہے ﴿الْعَلِيمُ﴾” جانتا ہے۔“ جس کا علم ظاہر و باطن اور ماضی و مستقبل ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ الانعام
116 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی اکثریت کی اطاعت سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا ہے ﴿وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ﴾ ” اگر آپ کہنا مانیں گے اکثر ان لوگوں کا جو دنیا میں ہیں تو آپ کو اللہ کے راستے سے بہکا دیں گے“ کیونکہ ان میں سے اکثر لوگ اپنے دین، اعمال اور علوم سے منحرف ہوچکے ہیں۔ پس ان کے دین فاسد اور ان کے اعمال ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں اور ان کے علوم میں تحقیق ہے نہ سیدھے راستے کی طرف راہنمائی۔ ان کا تمام تر مقصد ظن و گمان کی پیروی ہے اور ظن و گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں محض اندازوں سے ایسی بات کہتے ہیں جس کا انہیں علم نہیں۔ جس کے یہ احوال ہوں تو اس سے اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ڈرانا اور ان کے احوال کو بیان کرنا مناسب ہے، کیونکہ اس آیت کریمہ کا خطاب اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے تاہم آپ کی امت ان تمام احکام میں آپ کی تابع ہے جو خصوصی طور پر صرف آپ کے لئے نازل نہیں فرمائے گئے اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سچی بات کہنے والا ہے ﴿هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِ ﴾” وہ خوب جانتا ہے اس کو جو اس کے راستے سے بہکے“ اور وہ اسے بھی جانتا ہے جو راہ راست پر چلے اور جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرے۔ پس اے مومنو ! تم پر فرض ہے کہ تم اس کی نصیحتوں پر عمل کرو اور اس کے اوامر و نواہی کی پیروی کرو۔ کیونکہ وہ تم سے زیادہ تمہارے مصالح کا علم رکھتا ہے اور تم سے زیادہ تم پر رحم کرنے والا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی گروہ کی کثرت سے اس کے حق ہونے پر استدلال نہیں کیا جاسکتا اور اسی طرح اگر کسی معاملے میں، اس کو اختیار کرنے والے تھوڑے ہوں تو یہ قلت ان کے ناحق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی، بلکہ اس کے برعکس فی الواقع حقیقت یہ ہے کہ اہل حق تعداد میں بہت کم اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر اور اجر میں بہت عظیم ہوتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ حق و باطل کی پہچان کے لئے ان ذرائع کو اختیار کیا جائے جو اس کے لئے معروف ہیں۔ الانعام
117 الانعام
118 اللہ تبارک و تعالیٰ اپن مومن بندوں کو ایمان کے تقاضے پورے کرنے کا حکم دیتا ہے نیز وہ یہ بھی حکم دیتا ہے کہ اگر وہ مومن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو وہ ان حلال مویشیوں کا گوشت کھائیں جن پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو اور ان جانوروں کی حلت کا اعتقاد بھی رکھیں اور اس طرح نہ کریں جس طرح اہل جاہلیت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے شیاطین کے گمراہ کرنے کے باعث اپنی طرف سے گھڑ کے بہت سی حلال چیزوں کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ مومن کی علامت یہ ہے کہ وہ اس مذموم عادت میں، جو اللہ تعالیٰ کی شریعت میں تغیر و تبدل کو متضمن ہے، اہل جاہلیت کی مخالفت کریں نیز یہ کہ کون سی چیز ہے جو انہیں اس جانور کو کھانے سے روکتی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مفصل طور پر بیان کر کے واضح کردیا ہے کہ کون سی چیز ان پر حرام ٹھہرائی گئی ہے؟ تب کوئی اشکال اور کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ حرام میں پڑنے کے خوف کی وجہ سے بعض حلال چیزیں بھی کھانی چھوڑی دی جائیں اور آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ تمام اشیا میں اصل اباحت ہے۔ اگر شریعت کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیتی تو وہ اپنی اباحت پر باقی ہے۔ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ خاموش ہے وہ حلال ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو حرام ٹھہرایا ہے اس کی تفصیل بیان کردی ہے اور جس کے بارے میں کوئی تفصیل بیان نہیں کی وہ حرام نہیں ہے۔ بایں ہمہ وہ حرام چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ کھول کھول کر بیان کردیا ہے، ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے سخت بھوک اور اضطراری حالت میں مباح کردیا ہے ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ ﴾ ” تم پر مرا ہوا جانور، بہتا خون اور خنزیر کا گوشت حرام کردیا گیا ہے۔“ اس کے بعد فرمایا ﴿فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ (المائدہ :5؍3) ” اگر کوئی بھوک کی شدت میں مجبور ہوجائے اور وہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ “ الانعام
119 پھر اللہ تعالیٰ نے بہت سے لوگوں سے ڈراتے ہوئے فرمایا :﴿وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِم ﴾” اور بہت سے لوگ بہکاتے ہیں اپنی خواہشات سے“ یعنی مجرو خواہشات نفس کے ذریعے سے ﴿بِغَيْرِ عِلْمٍ﴾ بغیر کسی علم اور بغیر کسی دلیل کے۔۔۔ پس بندے کو اس قسم کے لوگوں سے بچنا چاہئے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے ان کے اوصاف بیان کئے ہیں۔ ان کی علامت یہ ہے کہ ان کی دعوت کسی دلیل اور برہان پر مبنی نہیں ہے اور نہ ان کے پاس کوئی شرعی حجت ہے۔ پس ان کی فاسد خواہشات اور گھٹیا آراء کے مطابق ان کو شبہ لاحق ہوتا ہے۔ پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے بندوں پر ظلم و تعدی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس کے برعکس راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والے ہدایت یافتہ لوگ حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اپنی دعوت کو دلائل عقلیہ و نقلیہ کی تائید فراہم کرتے ہیں اور وہ اپنی دعوت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقرب کے سوا اور کوئی مقصد پیش نظر نہیں رکھتے۔ الانعام
120 یہاں (اثم) سے مراد تمام معاصی ہیں جو بندے کو گناہگار کرتے ہیں یعنی اسے ان امور کے بارے میں گناہ اور حرج میں مبتلا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق سے متعلق ہوتے ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی گناہوں کے ارتکاب سے منع کیا ہے یعنی چھپ کر یا علانیہ ان تمام گناہوں سے روکا ہے جو بدن، جوارح اور قلب سے متعلق ہیں۔ بندہ ظاہری اور باطنی گناہوں کو اس وقت تک کامل طور پر ترک نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ بحث و تحقیق کے بعد ان کی معرفت حاصل نہیں کرلیتا۔ بنابریں گناہوں کے بارے میں بحث و تحقیق کرنا، قلب و جوارح کے گناہوں کی معرفت اور ان کے بارے میں علم حاصل کرنا مکلف پر حتمی طور پر فرض ہے اور بہت سے لوگوں پر ان کے گناہ مخفی رہتے ہیں خاص طور پر قلب کے گناہ چھپے رہتے ہیں مثلاً تکبر، خودپسندی اور ریا وغیرہ۔ یہاں تک کہ بندہ ان میں سے بہت سے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے مگر اسے اس کا احساس اور شعور تک نہیں ہوتا اور یہ علم سے اعراض اور عدم بصیرت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جو لوگ ظاہری اور باطنی گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے اکتساب کے مطابق اور ان کے گناہوں کی قلت و کثرت کے اعتبار سے ان کو سزا دی جائے گی اور یہ سزا آخرت میں ملے گی۔ کبھی کبھی بندے کو دنیا میں سزا دے جاتی ہے اس طرح اس کی برائیوں اور گناہوں میں تخفیف ہوجاتی ہے۔ الانعام
121 اس ممانعت میں وہ اشیا بھی داخل ہیں جن پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو مثلاً بتوں اور مشرکین کے معبودوں کے لئے ذبح کرنا۔ اور یہ ممانعت ﴿ أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّـهِ بِهِ ﴾ (المائدہ :5؍3) ” جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے۔“ کی نص کے ذریعے سے خصوصی طور پر حرام ہے۔ اس تحریم میں وہ جانور بھی شامل ہیں جو اللہ کے لئے ذبح کئے گئے ہوں مگر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو مثلاً قربانی اور ہدی کے جانور کا ذبیحہ یا گوشت کھانے کیلئے جانور ذبح کرنا۔ بہت سے علماء کے نزدیک یہ جانور اس وقت حرام ہوگا جب جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو اور اس عموم سے دوسری نصوص کی بنا پر دفع حرج کی خاطر بھول کر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام چھوڑنے والا مستثنیٰ ہے۔ اس تحریم میں وہ جانور بھی شامل ہے جو بغیر ذبح کئے مر جاتا ہے، کیونکہ اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا گیا ہوتا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر یہ نص بیان فرمائی ہے ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ  ﴾ (المائدہ :5؍3) ” تم پر مردہ جانور حرام کردیا گیا ہے“ اور شاید اس فرمان کے نازل ہونے کی وجہ بھی یہی ہے ﴿وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ ﴾ ” اور شیطان دل میں ڈالتے ہیں اپنے رفیقوں کے، تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں“ یعنی وہ تمہارے ساتھ بغیر کسی علم کے جھگڑا کریں گے، کیونکہ مشرکین نے جب یہ سنا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کو حرام قرار دے دیا ہے اور جس کو ذبح کیا گیا ہو اس کو حلال قرار دیا ہے اور ان کا مسلک یہ تھا کہ وہ مردار کے کھانے کو حلال سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عناد کی بنا پر بغیر کسی دلیل اور برہان کے کہا ” تم اس جانور کو تو کھا لیتے ہو جسے تم نے خود قتل کیا اور وہ جانور نہیں کھاتے جسے اللہ تعالیٰ نے قتل کیا ہے“ اور اس سے مراد وہ مردار لیتے۔ یہ انتہائی فاسد رائے ہے جو کسی دلیل اور حجت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کی کج بحثی کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے۔ اگر حق ان کی آراء کا تابع ہوتا تو زمین و آسمان اور ان کے رہنے والے سب فساد کا شکار ہوجاتے۔ اس لئے ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے احکام پر، جو کہ مصالح عامہ اور منافع خاصہ کے موافق ہیں، اس عقل کو مقدم رکھتا ہے اور یہ ان سے کچھ بعید بھی نہیں کیونکہ یہ آراء ان سے اس بنا پر صادر ہوئی ہیں کہ ان کے سرپرست شیاطین ان کو باطل آراء الہام کرتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ مخلوق بھٹک کر اپنے دین سے دور ہوجائے اور وہ ان کو دعوت دیتے رہتے ہیں تاکہ وہ جنمی بن جائیں ﴿وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ ﴾ ” اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی۔“ یعنی اگر تم نے ان کے شرک، ان کے حرام کو حلال ٹھہرانے اور حلال کو حرام قرار دینے میں ان کی بات مانی ﴿إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ  ﴾ ” تو تم بھی مشرک ہوجاؤ گے“ کیونکہ تم نے اللہ کو چھوڑ کر ان کو اپنا سرپرست اور والی بنا لیا ہے اور وہ جس بنیاد پر مسلمانوں سے علیحدہ ہوئے تم نے بھی اس کی موافقت کی اس لئے تمہارا راستہ اور ان کا راستہ ایک ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ کشف والہا مات جو دل میں القاء ہوتے ہیں اور یہ کشف و الہام خاص طور پر صوفیہ کے ہاں بہت کثرت سے واقع ہوتے ہیں۔۔۔ اپنے مجرد الہام ہونے کی بنا پر اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ حق ہیں اور ان کی اس قوت تک تصدیق نہیں کی جاسکتی جب تک کہ ان کو قرآن و سنت پر پیش نہ کیا جائے۔ اگر قرآن و سنت ان کو قبول کرنے کی شہادت دیں تو ان کو قبول کرلیا جائے۔ اگر یہ کشف و الہام قرآن و سنت کے منافی ہوں تو ان کو رد کردیا جائے۔ اگر ان کا حق یا باطل ہونا واضح نہ ہو تو اس میں توقف کیا جائے، اس کی تصدیق کی جائے نہ تکذیب۔ کیونکہ وحی اور الہام شیطان کی طرف سے بھی ہوتا ہے اس لئے الہام رحمانی اور الہام شیطانی کے مابین فرق اور امتیاز کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ دونوں قسم کے الہامات کے درمیان عدم تفریق سے بندہ جن غلطیوں اور گمراہیوں کا شکار ہوتا ہے ان کو اللہ کے سوا کوئی شمار نہیں کرسکتا۔ الانعام
122 ﴿أَوَمَن كَانَ ﴾” بھلا ایک شخص جو کہ تھا“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہدایت عطا کرنے سے پہلے ﴿مَيْتًا﴾ ”مردہ“ یعنی کفر، جہالت اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا﴿فَأَحْيَيْنَاهُ ﴾” پھر ہم نے اس کو زندہ کیا۔“ پھر ہم نے اسے علم، ایمان اور اطاعت کی روشنی کے ذریعے سے زندہ کردیا اور وہ اس روشنی میں لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو، اپنے امور میں بصیرت سے بہرہ ور ہو، اپنے راستے کو جانتا ہو، بھلائی کی معرفت رکھتا ہو، اسے ترجیح دیتا ہو، اپنے آپ پر اور دوسروں پر اس کے نفاذ کی کوشش کرتا ہو، جو برائی معرفت رکھتا ہو، اسے ناپسند کرتا ہو اور اسے ترک کرنے کی کوشش کرتا ہو اور خود اپنی ذات سے اور دوسروں سے اس برائی کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہو۔۔۔ کیا یہ اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو جہالت، گمراہی، کفر اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہو؟ ﴿لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ ﴾ ” وہاں سے نکلنے والا نہ ہو“ اس پر تمام راستے مشتبہ ہوگئے ہوں، وہ تاریکی کے راستوں میں بھٹک رہا ہو، پس اسے غم و ہموم، حزن اور بدبختی نے گھیر لیا ہو اور ان میں سے نکل نہ سکتا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل کو ان امور کے ذریعے سے متنبہ کیا ہے جن کا وہ ادراک کرسکتی ہے اور ان کی معرفت رکھتی ہے کہ یہ دونوں قسم کے شخص مساوی نہیں ہوسکتے ہیں، جیسے رات اور دن، اندھیرا اور اجالا، زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوتے۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ وہ شخص جو رتی بھر بھی عقل رکھتا ہے، اس حالت میں رہنے کو کیسے ترجیح دے سکتا ہے اور وہ گمراہی کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں کیسے رہ سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا : ﴿زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴾ ” مزین کردیئے گئے کافروں کی نگاہ میں ان کے کام“ پس شیطان ان کے سامنے ان کے اعمال کو خوشنما بناتا رہتا ہے اور ان کو ان کے دل میں سجاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ یہ اعمال ان کو اچھے لگنے لگ جاتے ہیں اور حق دکھائی دیتے ہیں۔ یہ چیزیں عقیدہ بن کر ان کے دل میں بیٹھ جاتی ہیں اور ان کا وصف راسخ بن کر ان کے کردار میں شامل ہوجاتی ہیں۔ بنا بریں وہ اپنی برائیوں اور قباحتوں پر راضی رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اندھیروں میں سرگرداں اور اپنے باطل میں لڑکھڑاتے رہتے ہیں۔ تاہم ان کی حیثیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ کچھ ان میں سے قائدین اور متبوعین ہیں اور کچھ تابع اور پیروکار۔ الانعام
123 پہلی قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو انتہائی بدبختی کے احوال سے بہرہ یاب ہوئے، بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا ﴾ ” اور اسی طرح کئے ہیں ہم نے ہر بستی میں گناہ گاروں کے سردار“ یعنی وہ قائدین اور رؤسا جن کا جرم بہت بڑا اور سرکشی بہت سخت ہوتی ہے ﴿لِيَمْكُرُوا فِيهَا ﴾ ” کہ حیلے کیا کریں وہاں“ یعنی فریب کاری، شیطان کے راستے کی طرف دعوت دینے، انبیاء و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ قولی و فعلی جنگ و جدل کے ذریعے سے سازشیں کریں، مگر ان کی سازش اور فریب کاری انجام کار انہی کے خلاف جاتی ہے۔ وہ بھی چالیں چلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی چال چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین چال چلنے والا ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کبار ائمہ ہدی اور بڑے بڑے فاضل لوگوں کو کھڑا کرتا ہے جو ان مجرموں کا مقابلہ کرتے ہیں، ان کے نظریات واقاویل کا جواب دیتے ہیں، اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور اس طرح وہ ان راستوں پر گامزن ہوتے ہیں جو انہیں ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مدد سے نوازتا ہے، ان کی رائے کو درست کرتا ہے، ان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کامیابی ان کے اور ان کے دشمنوں کے مابین ادلتی بدلتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ انجام کا رفتح، نصرت اور غلبہ اہل ایمان کے حصہ میں آتا ہے۔ بڑے بڑے مجرم صرف حسد اور بغاوت کی بنا پر باطل پر قائم اور حق کو ٹھکرا رہے تھے اور کہتے تھے :﴿لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ ۘ﴾” ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ نہ دیا جائے ہم کو جیسا کچھ دیا گیا ہے اللہ کے رسولوں کو“ یعنی نبوت اور رسالت یہ ان کی طرف سے محض اللہ تبارک و تعالیٰ پر اعتراض، ان کی خودپسندی اور اس حق کے مقابلے میں تکبر کا اظہار تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل پر نازل فرمایا تھا، نیز اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان پر قدغن لگانی تھی تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے فاسد اعتراض کو رد کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ یہ لوگ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ نیز یہ کہ ان لوگوں کا انبیاء و مرسلین بننا تو کجا ان میں تو کوئی ایسی چیزبھی نہیں جو ان کو اللہ کے نیک بندوں میں شمار کرنے کی موجب ہو۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الانعام
124 ﴿اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ﴾” اللہ خوب جانتا ہے اس موقع کو جہاں رکھے وہ اپنی پیغمبری“ یعنی اللہ کے علم میں جو رسول بننے کا اہل ہے، جو رسالت کے بوجھ کو اٹھا سکتا ہے، جو ہر قسم کے خلق جمیل سے متصف اور ہر قسم کے گندے اخلاق سے مبرا ہو، اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اسے رسالت کا منصب عطا کرتا ہے اور جو اس معیار پر پورا نہ اترتا ہو اور اس کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے بہترین مواہب سے ہرگز نہیں نوازتا اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پاک گردانا جاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے کمال حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ نہایت رحیم، وسیع جو دو کرم اور بہت فضل و احسان کا مالک ہے تاہم وہ حکیم بھی ہے اس لئے وہ اپنی بخشش سے صرف اس کو نوازتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجرموں کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : ﴿سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِندَ اللَّـهِ ﴾ ” عنقریب پہنچے گی گناہگاروں کو ذلت، اللہ کے ہاں‘‘ یعنی اہانت اور ذلت جیسے وہ حق کے ساتھ تکبر سے پیش آئے، اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و رسوا کردیا۔ ﴿وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ ﴾ ” اور سخت عذاب، اس وجہ سے کہ وہ مکر کرتے تھے“ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں، بلکہ ان کی چالبازیوں کے سبب سے اللہ تعالیٰ انہیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ الانعام
125 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے بندے کی سعادت و ہدایت اور اس کی شقاوت و ضلالت کی علامات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جس کو اسلام کے لئے انشراح صدر ہوجاتا ہے یعنی اس کا سینہ وسیع ہوجاتا ہے۔ تو دل نور ایمان سے منور اور یقین کے پر تو سے زندہ ہوجاتا ہے اور نفس ایمان پر مطمئن ہوجاتا ہے، نفس نیکی سے محبت کرنے لگتا ہے اور نیکی میں لذت محسوس کرتے ہوئے نیکی کرتا ہے نیکی کو بوجھ نہیں سمجھتا۔ پس یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت عطا کر دی ہے اور اسے توفیق سے نواز کر سب سے درست راستے پر گامزن کر دیا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرنے کا ارادہ کرلیتا ہے اس کی علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کردیتا ہے یعنی اس کا سینہ ایمان، علم اور یقین کے لئے بہت تنگ ہوجاتا ہے، اس کا دل شبہات و شہوات کے سمندر میں غرق ہوجاتا ہے، بھلائی اس تک راہ نہیں پا سکتی، نہ بھلائی اور نیکی کے لئے اس کو انشراح صدر حاصل ہوتا ہے۔ گویا وہ سخت تنگی اور شدت میں ہے، گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ یعنی اسے آسمان پر چڑھنے کا مکلف کیا جا رہا ہے جہاں چڑھنے کا اس کے اندر کوئی حیلہ نہیں۔ یہ ہے ان کے عدم ایمان کا سبب اور یہی وہ چیز ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجے، کیونکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور احسان کے دروازے بند کر لئے۔ یہ ایسی میزان ہے جو کبھی خیانت نہیں کرتی اور ایسا راستہ ہے جو کبھی نہیں بدلتا۔ بیشک جو کوئی اللہ کے راستے میں مال عطا کرتا ہے، اللہ سے ڈرتا ہے، نیکی کی تصدیق کرتا ہے تو ہم اس کو آسان راستے (بھلائی) کی توفیق عطا کردیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے اور بے پروا بنا رہتا ہے اور نیکی کو جھٹلاتا ہے تو ہم اس کو مشکل راستے (گناہ) پر گامزن کردیتے ہیں۔ الانعام
126 یعنی آپ کے رب تک اور عزت و تکریم کے گھر تک پہنچانے والا راستہ معتدل راستہ ہے، جس کے احکام واضح کردیئے گئے ہیں، جس کے قوانین کی تفصیل یہاں بیان کردی گئی ہے اور خیر کو شر سے ممیز کردیا گیا۔ یہ تفصیل و توضیح ہر شخص کے لئے نہیں ہے بلکہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو نصیحت پکڑتے ہیں۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو علم رکھتے ہیں، پھر اپنے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کے لئے بہت بڑی جز اور خوبصورت اجر تیار کیا گیا ہے۔ الانعام
127 اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿لَهُمْ دَارُ السَّلَامِ عِندَ رَبِّهِمْ ۖ ﴾ ” ان کے لئے سلامتی کا گھر ہے انکے رب کے ہاں“ چونکہ جنت ہر عیب، آفت و تکدر اور غم و ہموم جیسی ناخوشگواریوں سے سلامت اور پاک ہے، اس لئے اس کو ” دارالسلام“ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ جنت کی نعمتیں انتہائی کمال کو پہنچی ہوئی ہوں گی کہ کوئی ان کا وصف بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔ جنت کے اندر قلب و روح اور بدن کے لئے نعمتوں کے جو سامان ہیں تمنا کرنے والے اس سے بڑھ کر کسی نعمت کی تمنا نہیں کرسکتے۔ اس جنت میں ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو ان کے دل چاہیں گے اور جس سے ان کی آنکھوں کو لذت حاصل ہوگی اور وہ اس جنت میں ابد الآباد تک رہیں گے۔ ﴿وَهُوَ وَلِيُّهُم  ﴾ ” وہی ان کا ولی و مددگار ہے“ جو ان کی تدبیر اور تربیت کا مالک ہے، وہ ان کے تمام معاملات میں ان کے ساتھ لطف و کرم سے پیش آتا ہے جو اپنی اطاعت پر ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے لئے ہر وہ راستہ آسان کرتا ہے جو انہیں اس کی محبت کی منزل تک پہنچاتا ہے اور وہ ان کی سرپرستی اپنے ذمے صرف اس لئے لیتا ہے کہ وہ نیک اعمال بجا لاتے اور ایسے کام آگے بھیجتے ہیں جن سے ان کا مقصد اپنے آقا کی رضا مندی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شخص ہے جس نے اپنے آقا سے روگردانی کی اور اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا رہا تو اللہ تعالیٰ اس پر شیطان مسلط کردیتا ہے جو اس کا سرپرست بن کر اس کے دین و دنیا کو تباہ کردیتا ہے۔ الانعام
128 ﴿وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ﴾” اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو“ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنہوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنہوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا : ﴿ يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الْإِنسِ ﴾ ” اے گروہ جنات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے۔“ یعنی اے جنوں کی جماعت ! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لئے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہوگئی۔ آج ہم تمہیں، تمہارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمہارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کرسکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمہاری سفارش کرسکے اور نہ تمہاری پکار ہی سنی جائے گی۔ اس وقت مت پوچھئے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انہیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا﴿ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ ﴾” اے رب ہمارے ! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے“ یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی گناہ سر زد ہوئے اور اب ان کا لوٹانا ممکن نہیں ﴿وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِي أَجَّلْتَ لَنَا ﴾ ” اور ہم پہنچے اپنے اس وعدے کو جو تو نے ہمارے لئے مقرر کیا تھا“ یعنی اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب تو جو چاہے ہمارے ساتھ سلوک کر اور جو تیرا ارادہ ہے ہمارے بارے میں، وہی فیصلہ کر۔ ہماری حجت تو منقطع ہوگئی، ہمارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ معاملہ وہ ہو گا جو تیرا حکم ہے۔ فیصلہ وہی ہے جو تیرا فیصلہ ہے۔ ان کے اس کلام میں ایک قسم کی گریہ زاری اور رقت ہے مگر یہ سب کچھ بے وقت اور بے موقف ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ جو ظلم و جور سے پاک ہے، کرتے ہوئے فرمایا ﴿ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا  ﴾ ہے۔ اس لئے فرمایا : ﴿ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ ﴾ ”بے شک تمہارا رب دانا، خبردار ہے۔“ جیسے اس کا علم تمام اشیاء کا احاطہ کئے ہوئے ہے، ویسے ہی اس کی بے انتہا حکمت تمام اشیاء پر عام اور تمام اشیاء کو شامل ہے۔ الانعام
129 ﴿وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ  ﴾” اور اسی طرح ہم سرپرست بنا دیتے ہیں گناہ گاروں کو ایک دوسرے کا، ان کے اعمال کے سبب“ یعنی جیسے ہم سرکش جنوں کو مسلط کردیتے ہیں کہ وہ انسانوں میں سے اپنے دوستوں کو گمراہ کریں اور ہم ان کے کسب و کوشش کے سبب سے ان کے درمیان موالات اور موافقت پیدا کردیتے ہیں۔ اسی طرح یہ ہماری سنت ہے کہ ہم کسی ظالم کو اسی جیسے کسی ظالم پر مسلط کردیتے ہیں جو اسے شر پر آمادہ کرتا ہے اور اس کو شر کی ترغیب دیتا ہے، خیر میں بے رغبتی پیدا کر کے اسے اس سے متنفر کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی سزا ہے جو بہت خطرناک ہے اور اس کا اثر بہت برا ہے۔ گناہ کرنے والا ظالم ہی ہے پس یہ وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور جن بھی اس کو نقصان پہنچاتا ہے ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ ﴾ (حم السجدۃ41؍46) ” اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ “ ظالموں کو مسلط کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جب بندوں کا فساد اور ظلم بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ حقوق واجبہ ادا نہیں کرتے تو ان پر ظالم مسلط کردیئے جاتے ہیں جو انہیں بدترین عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں اور وہ ان سے ظلم و جور کے ذریعے سے اس سے کئی گنا زیادہ چھین لیتے ہیں جو وہ اللہ اور اس کے بندوں کے حق کے طور پر ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں اور وہ ان سے اس طرح وصول کرتے ہیں کہ ان کو اس کا اجر و ثواب بھی نہیں ملتا۔ جیسے جب بندے درست اور راست رو ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے حکمرانوں کو درست کردیتا ہے اور انہیں ظالم اور گمراہ حاکم نہیں بلکہ انہیں عدل و انصاف کے امام بنا دیتا ہے۔ الانعام
130 پھر اللہ تعالیٰ ان تمام جن و انس کو زجر و توبیخ کرتا ہے جو حق سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیتے ہیں، وہ ان کی خطا واضح کرتا ہے اور وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي ﴾ ” اے جنوں اور انسانوں کی جماعت ! کیا نہیں پہنچے تھے تمہارے پاس رسول تمہی میں سے کہ سناتے تھے تمہیں میرے حکم“ یعنی واضح آیات جن کے اندر امرو نہی، خیر و شر اور وعدو وعید کی تفصیلات ہیں﴿وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا ۚ ﴾ ” اور اس دن کی ملاقات سے تمہیں ڈراتے تھے“ یعنی تمہیں آگاہ کرتے تھے کہ تمہاری نجات اسی میں ہے۔ فوز و فلاح صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب میں ہے اور ان کو ضائع کرنے میں انسان کی بدبختی اور خسارہ ہے وہ اس کا اقرار اور اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے ﴿شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ﴾ ” ہم نے اقرار کیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکہ دیا دنیا کی زندگی نے“ یعنی دنیا کی زندگی نے اپنی زینت، آرائش اور نعمتوں کے ذریعے سے ان کو دھوکے میں مبتلا کردیا، وہ دنیا پر مطمئن اور راضی ہو کر بیٹھ گئے اور دنیا نے انہیں آخرت کے بارے میں غافل کردیا۔ ﴿وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ ﴾” اور گواہی دی انہوں نے اپنے آپ پر کہ وہ کافر تھے“ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی۔ تب اس وقت ہر ایک نے اور خود انہوں نے بھی جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عدل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں درد ناک عذاب کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمائے گا﴿ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ﴾ (الاعراف:7؍38) ” یعنی جنوں اور انسانوں کے تم سے پہلے جو گر وہ گزر چکے ہیں ان میں داخل ہوجاؤ۔“ ان کے کرتوت بھی تمہارے کرتوتوں کی مانند تھے۔ انہوں نے بھی اپنے حصے سے خوب فائدہ اٹھایا جیسے تم نے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھی باطل میں گھس گئے جیسے تم گھس گئے ہو۔ یہ سب خسارے میں رہنے والے لوگ تھے۔ یعنی پہلے لوگ بھی اور یہ لوگ بھی اور کون سا خسارہ جنت سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہوسکتا ہے؟ کون سا خسارہ سب سے مکرم ہستی کی ہمسائیگی سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہوسکتا ہے؟ البتہ یہ لوگ اگرچہ خسارے میں مشترک ہوں گے۔ مگر خسارے کی مقدار میں وہ ایک دوسرے سے بہت متفاوت ہوں گے۔ الانعام
131 الانعام
132 ﴿وَلِكُلٍّ ﴾” اور ہر ایک کے لیے۔“ یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے ﴿ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا ﴾ ” بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں۔“ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات ہیں جس نے تھوڑی سی برائی کا ارتکاب کیا ہے وہ اس شخص کی مانند نہیں ہوسکتا جس نے بہت برائیاں کمائی ہیں۔ تابع متبوع کے برابر ہوسکتا ہے نہ رعایا حکمران کے برابر ہوسکتی ہے۔ جیسے اہل ثواب اور اہل جنت منافع، فوز و فلاح اور جنت میں داخل ہونے میں مشترک ہیں، مگر ان کے درجات میں اس قدر تفاوت ہوگا کہ اللہ کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا۔ اس کے باوجود وہ سب اس پر راضی ہوں گے جو ان کا آقا ان کو عطا کرے گا اور اس پر قناعت کریں گے۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی جنت الفردوس کے بلند درجات عطا کرے جو اس نے اپنے مقرب، چنے ہوئے اور محبوب بندوں کے لئے تیار کر رکھی ہے۔ ﴿وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ  ﴾ ” اور آپ کا رب ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے“ وہ ہر ایک کو اس کے قصد اور عمل کے مطابق جزا دے گا۔ الانعام
133 اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیا ہے اور ان پر رحم کرتے ہوئے اور ان کی بھلائی کی خاطر ان کو برے اعمال سے منع کیا ہے۔ ورنہ وہ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ اطاعت کرنے والوں کی اطاعت اسے کوئی فائدہ دیتی ہے نہ نافرمانی کرنے والوں کی نافرمانی اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ ﴿ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ ﴾ ” اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے“ یعنی تمہیں ہلاک کر کے ختم کر دے ﴿وَيَسْتَخْلِفْ مِن بَعْدِكُم مَّا يَشَاءُ كَمَا أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ ﴾ ” اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہارا جانشین بنا دے جیسے تمہیں پیدا کیا اوروں کی اولاد سے“ جب تمہیں اچھی طرح معلوم ہوگیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تمہارا اس دنیا سے منتقل ہونا لابدی ہے تم بھی اپنے بعد آنے والوں کے لئے اس دنیا کو خالی کر کے یہاں سے کوچ کر جاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ یہاں سے کوچ کر گئے اور انہوں نے اس دنیا کو تمہارے لئے خالی کردیا۔ پھر تم نے اس دنیا کو کیوں ٹھکانہ اور وطن بنا لیا اور تم نے کیوں فراموش کردیا کہ یہ دنیا ٹھکانا اور جائے قرار نہیں، بلکہ گزر گاہ ہے اور اصل منزل تمہارے سامنے ہے۔ یہی وہ گھر ہے جہاں ہر نعمت جمع کردی گئی ہے اور جو ہر آفت اور نقص سے محفوظ ہے۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف اولین و آخرین لپکتے ہیں اور جس کی طرف سابقین ولاحقین کوچ کرتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دائمی اور لازمی قیام ہے۔ یہ وہ منزل ہے جس کے آگے کوئی منزل نہیں، یہ وہ مطلوب و مقصود ہے جس کے سامنے ہر مطلوب ہیچ ہے اور یہ وہ مرغوب نعمت ہے جس کے مقابلے میں ہر مرغوب مضمحل ہے۔ الانعام
134 اللہ کی قسم ! وہاں وہ نعمتیں عنایت ہوں گی جن کو نفس چاہیں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی اور رغبت کرنے والے رغبت کریں گے۔ جیسے روحوں کی لذت، بے پایاں فرحت، قلب و بدن کی نعمت اور اللہ علام الغیوب کا قرب۔ پس کتنی اعلیٰ فکر ہے جو ان مقامات پر مرتکز ہے اور کتنا بلند ارادہ ہے جو ان اعلیٰ درجات کی طرف مائل پرواز ہے اور وہ کتنا بدنصیب ہے جو اس سے کم تر پر راضی ہے اور وہ کتنا کم ہمت ہے جو گھاٹے کا سودا پسند کرتا ہے۔ غفلت کا شکار روگرداں شخص اس منزل پر جلدی سے پہنچنے کو بعید نہ سمجھے۔ ﴿ إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتٍ ۖ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ ﴾” تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے، وہ آنے والی ہے اور تم عاجز نہیں کرسکتے“ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے اور اس کے عذاب سے کہیں بھاگ کر نہیں جاسکتے کیونکہ تمہاری پیشانیاں اس کے قبضہ قدرت میں ہیں اور تم اس کی تدبیر اور تصرف کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہو۔ الانعام
135 ﴿قُلْ ﴾ ” کہہ دیجیے“ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے دی اور ان کے انجام اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں ان کو آگاہ کردیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے سے باز رہے، بلکہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگے رہے اور اپنے شرک پر قائم رہے، تو آپ ان سے کہہ دیجیے !﴿يَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ ﴾ ” اے میری قوم ! تم کام کرتے رہو، اپنی جگہ پر“ یعنی جس حال میں تم ہو اور جس حال کو تم نے اپنے لیے پسند کرلیا ہے اسی پر قائم رہو ﴿إِنِّي عَامِلٌ ۖ ﴾ ” میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں۔“ میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل اور اس کی مرضی کی اتباع کرتا ہوں ﴿فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ ﴾” عنقریب تم جان لو گے کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر“ یعنی آخرت کا گھر تمہارے لئے ہے یا میرے لئے اور یہ انصاف کا عظیم مقام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعمال اور ان پر عمل کرنے والوں کے بارے میں بیان فرما دیا اور نہایت بصیرت کے ساتھ ان اعمال کی جزا بھی ساتھ بیان فرما دی جہاں تصریح سے گریز کرتے ہوئے تلویح سے کام لیا ہے اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ دنیا و آخرت میں اچھا انجام صرف اہل تقویٰ کے لئے ہے۔ آخرت کا گھر اہل ایمان کے لئے ہے اور انبیا و رسل کی لائی ہوئی شریعت سے روگردانی کرنے والوں کا انجام انتہائی برا ہے۔ اس لئے فرمایا : ﴿إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ﴾” یقیناً ظالم فلاح یاب نہیں ہوں گے“ ظالم خواہ اس دنیا سے کتنا ہی فائدہ اٹھا لے، اس کی انتہا اضمحلال اور اتلاف ہے۔ حدیث میں ہے۔ (( إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ  )) ” اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑ ليتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں۔ “ [صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ (وکذلک أخذ ربک۔۔۔ الخ) حدیث :4686] الانعام
136 اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی بیوقوفی، کم عقلی اور انتہا کو پہنچی ہوئی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ چنانچہ ان کی متعدد خرافات کا ذکر کیا ہے تاکہ وہ ان کی گمراہی پر متنبہ کر کے اہل ایمان کو ان سے بچائے اور ان بیوقوفوں کا اس حق کی مخالفت کرنا، جسے انبیا و رسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں، حق میں نقص کا باعث نہیں۔ کیونکہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا﴾ ” اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مویشی اور کھیتی پیدا کی ہے وہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ بھی مقرر کرتے ہیں اور ایک حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لئے مقرر کرتے ہیں۔ درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا کر کے بندوں کے لئے رزق فراہم کیا ہے۔ انہوں نے دو محظور امور بلکہ تین کو یکجا کردیا جن سے بچنے کے لئے ان کو کہا گیا تھا۔ (ا) اللہ تعالیٰ پر ان کا احسان دھرنا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا حصہ مقرر کیا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر نوازش ہے۔ (ب) اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو مویشیوں اور کھیتیوں کی پیداوار میں شریک کرنا حالانکہ وہ ان میں سے کسی چیز کو وجود میں نہیں لائے۔ (ج) اور ظلم وجور پر مبنی ان کا فیصلہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حصے کی کوئی پروا نہیں کرتے، اگرچہ یہ حصہ اپنے شریکوں کے حصے کے ساتھ ملا دیں اور اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے حصے کو درخوا اعتناء سمجھتے ہوئے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصے کے ساتھ نہیں ملاتے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب مشرکین کو کھیتوں اور پھلوں کی پیداوار اور مویشی حاصل ہوتے، جن کو اللہ تعالیٰ ان کے لئے وجود میں لایا، تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کردیتے۔ (١) ایک حصے کے بارے میں بزعم خود کہتے ” یہ اللہ تعالیٰ کا حصہ ہے۔“ حالانکہ اللہ تعالیٰ اسی چیز کو قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لئے ہو۔ اللہ تعالیٰ شرک کرنے والے کے عمل کو قبول نہیں فرماتا۔ (٢) دوسرا حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے معبودوں اور بتوں کی نذر کرتے تھے، اگر کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حصے میں سے نکل کر اس حصے میں خلط ملط ہوجاتی جو غیر اللہ کے لئے مقرر کیا تھا تو اس کی پروا نہیں کرتے تھے اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصہ کی طرف نہیں لوٹاتے تھے اور کہتے تھے ” اللہ اس سے بے نیاز ہے“ اور اگر کوئی چیز، جو انہوں نے اپنے معبودوں اور بتوں کے لئے مقرر کی تھی اس حصے کے ساتھ خلط ملط ہو جاتی جو اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا تھا، تو اسے بتوں کے لیے مقرر حصے کی طرف لوٹا دیتے اور کہتے ” یہ بت تو محتاج ہیں اس لئے ان کے حصے کو ان کی طرف لوٹانا ضروری ہے۔“۔۔۔ کیا اس سے بڑھ کر ظلم پر مبنی، بدترین فیصلہ کوئی اور ہوسکتا ہے؟ کیونکہ انہوں نے جو حصہ مخلوق کے لئے مقرر کیا ہے اس کی اللہ تعالیٰ کے حق سے زیادہ خیر خواہی اور حفاظت کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں اس معنی کا احتمال بھی ہوسکتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” میں تمام شریکوں سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو کوئی میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔۔ الحدیث“ [صحیح مسلم، کتاب الزھد، باب تحریم الرباء، حدیث :2985 ] آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین نے اپنے معبودوں اور بتوں کے تقرب کے حصول کے لئے جو حصے مقرر کر رکھے ہیں وہ خالص غیر اللہ کے لئے ہیں۔ ان میں سے کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں اور ان کے زعم باطل کے مطابق انہوں نے جو حصہ اللہ تعالیٰ کے لئے مقرر کیا ہے وہ ان کے شرک کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے حضور نہیں پہنچتا، بلکہ یہ بھی ان کے معبودوں اور بتوں کا حصہ ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ وہ مخلوق میں سے اس شخص کا عمل کبھی قبول نہیں کرتا جو اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے خسران اور ان کی کم عقلی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ﴾ ” بے شک خسارے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے بغیر علم کے اپنی اولاد کو قتل کیا“ یعنی وہ اپنے دین، اولاد اور عقل کے بارے میں خسارے میں رہے۔ پختہ رائے اور عقل کے بعد ہلاکت انگیز حماقت اور ضلالت ان کا وصف ٹھہری ﴿وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّـهُ ﴾” اور حرام ٹھہرایا اس رزق کو جو اللہ نے ان کو دیا“ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو ان کے لئے رحمت بنایا اور اسے ان کے لئے رزق قرار دیا تھا۔ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو ٹھکرا دیا، پھر انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اس نعمت کو حرام سے موصوف کیا۔ حالانکہ یہ نعمت ان کے لئے سب سے زیادہ حلال تھی اور یہ سب کچھ ﴿ افْتِرَاءً عَلَى اللَّـهِ ﴾ ” جھوٹ باندھ کر اللہ پر“ یعنی یہ سب کچھ جھوٹ ہے اور ہر عناد پسند کافر جھوٹ گھڑتا ہے ﴿قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ﴾ ” وہ بے شبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں۔“ یعنی وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑے اور وہ اپنے تمام امور میں سے کسی چیز میں بھی راہ راست پر نہیں ہیں۔ الانعام
137 مشرکین کی حماقت اور گمراہی یہ ہے کہ اکثر مشرکین کے سامنے ان کے خداؤں یعنی ان کے سرداروں اور شیاطین نے ان کے اعمال، یعنی قتل اولاد کو مزین کردیا ہے۔ یہاں قتل اولاد سے مراد ان لوگوں کا اپنے بچوں کو قتل کرنا ہے جو بھوک اور فقر کے ڈر سے اپنے بچوں کو اور دعا کے ڈر سے اپنی بچیوں کو زندہ درگور کردیا کرتے تھے۔ یہ سب شیاطین کی فریب کاری ہے جو انہیں ہلاکت کی وادیوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا دین ان پر مشتبہ ہوجائے اس لئے وہ انتہائی برے کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ان کے یہ شرکاء ان کے ان اعمال کو آراستہ کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ یہ ان کے ہاں نیکی کے اعمال اور اچھے خصائل بن جاتے ہیں۔ الانعام
138 ان کی حماقت و سفاہت کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انہوں نے ان مویشیوں اور چوپایوں کے سلسلے میں، جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عام طور پر حلال ٹھہرایا اور ان کے لئے ان کو رزق اور رحمت کا ذریعہ بنایا، جن کو فائدہ اٹھاتے ہیں، اپنی طرف سے بدعات اور بدعی اقول گھڑ لئے ہیں۔ بعض مویشیوں اور کھیتوں کے بارے میں انہوں نے اصطلاح وضع کر رکھی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں : ﴿ هَـٰذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ ﴾” یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہے“ یعنی یہ حرام ہیں ﴿لَّا يَطْعَمُهَا إِلَّا مَن نَّشَاءُ  ﴾” اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے۔“ یعنی اس کا کھاناکسی کے لئے جائز نہیں اور اس کو صرف وہی کھا سکتا ہے جسے ہم چاہیں یا ہم بیان کریں کہ فلاں قسم کا شخص کھا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ ان کا زعم باطل ہے جس کی کوئی دلیل نہیں۔ سوائے اس کے کہ یہ ان کی خواہشات نفس اور باطل آراء ہیں۔ مویشی ان پر کسی لحاظ سے حرام نہیں تھے، بلکہ انہوں نے ان کی پیٹھ کو حرام ٹھہرایا یعنی ان پر سواری کرنے اور بوجھ لادنے کو اور ایسے جانور کو انہوں نے (حام) سے موسوم کر رکھا تھا۔ "حام" حَمیٰ یحمی سے ہے بمعنی ” حفاظت کرنا“ پیٹھ کی، سواری اور بوجھ سے حفاظت کرنے کی وجہ سے یہ نام پڑا۔ کچھ جانور وہ تھے جن پر وہ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ ان بتوں کا نام لیتے تھے جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے اور وہ تمام افعال کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ جھوٹے اور فاسق و فاجر تھے ﴿ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ ﴾ ” عنقریب وہ سزا دے گا ان کو اس جھوٹ کی“ یعنی شرک کو حلال ٹھہرانے اور کھانے پینے اور دیگر منفعت کی اشیا کو حرام ٹھہرانے میں وہ اللہ تعالیٰ پر جو جھوٹ گھڑتے تھے۔ الانعام
139 ان کی کم عقلی پر مبنی آراء میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بعض مویشیوں کو معین کردیتے اور کہتے کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردوں کے لئے حلال اور عورتوں کے لئے حرام ہے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے : ﴿مَا فِي بُطُونِ هَـٰذِهِ الْأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا  ﴾” جو کچھ ان مویشیوں کے پیٹوں میں ہے، اس کو صرف ہمارے مرد ہی کھائیں گے“ یعنی ان کے لئے حلال ہے اس کے کھانے میں عورتیں شریک نہیں ہوں گی۔ ﴿وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰ أَزْوَاجِنَا ﴾ ” اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے۔“ یعنی یہ ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ مگر یہ اس صورت میں ہے کہ وہ زندہ پیدا ہو۔ اگر مویشی کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردہ پیدا ہوا تو اس میں سب شریک ہوں گے یعنی وہ مردوں اور عورتوں سب کے لئے حلال ہے۔﴿سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ﴾ ” وہ عنقریب سزا دے گا ان کو ان کی غلط بیانیوں کی“ اس لئے کہ انہوں نے اس چیز کو حرام ٹھہرایا جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھا اور حرام کو حلال سے موصوف کیا پس اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت کی مخالفت کی اور پھر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر ڈالا ﴿إِنَّهُ حَكِيمٌ ﴾ ” بے شک وہ حکمت والا ہے۔“ کیونکہ اس نے ان کو مہلت دی اور اس گمراہی کا ان کو اختیار دیا جس میں یہ سرگرداں ہیں ﴿عَلِيمٌ ﴾ ” جاننے والا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جانتا ہے وہ ان کی باتوں اور افترا پردازیوں کا بھی خوب علم رکھتا ہے۔ بایں ہمہ وہ ان کو معاف کرتا اور ان کو رزق سے نوازتا ہے۔ الانعام
140 اگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ان اعمال سے روکنا اور ان کے اور ان افعال قبیحہ کے درمیان حائل ہونا چاہتا اور اگر وہ چاہتا کہ ماں باپ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں تو وہ کبھی قتل نہ کرتے۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو مہلت دینے کے لئے ان کے اور ان کے اعمال کے درمیان سے ہٹ جائے اور ان کے اعمال کی پروا نہ کرے۔ اس لئے فرمایا : ﴿فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ ﴾ ” تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔“ یعنی ان کو ان کے جھوٹ اور افترا کے ساتھ چھوڑ دیں او ان کے بارے میں غم زدہ نہ ہوں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ الانعام
141 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کھیتیوں اور مویشیوں میں مشرکین کے تصرف کا ذکر فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حلال ٹھہرایا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت کا تذکرہ فرمایا اور کھیتیوں اور مویشیوں کے بارے میں ان کے لازمی وظیفہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَ جَنَّاتٍ ﴾ ” وہی ہے جس نے باغ پیدا کئے‘‘ جس میں مختلف انواع کے درخت اور نباتات ہیں۔ ﴿مَّعْرُوشَاتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَاتٍ ﴾” جوٹٹیوں (چھتریوں) پر چڑھائے جاتے ہیں اور جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے“ یعنی ان میں سے بعض باغات کے لئے چھتریاں بنائی جاتی ہیں اور ان کو ان چھتریوں پر چڑھایا جاتا ہے اور یہ چھتریاں انہیں اوپر اٹھنے میں مدد دیتی ہیں اور بعض درختوں کے لئے چھتریاں نہیں بنائی جاتیں، بلکہ وہ اپنے تنے پر کھڑے ہوتے ہیں یا زمین پر بچھ جاتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں ان کے کثرت منفعت اور ان کے فوائد کی طرف اشارہ ہے، نیز اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو سکھایا کہ پودوں کو کیسے چھتریوں پر چڑھانا اور کیسے ان کی پرورش کرنا ہے۔ ﴿وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا ﴾ ”(اور پیدا کئے) کھجور کے درخت اور کھیتی کہ مختلف ہیں ان کے پھل“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جگہ پر کھجور اور کھیتیاں پیدا کیں جو ایک ہی پانی سے سیراب ہوتی ہیں مگر کھانے اور ذائقے کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر کھجور اور کھیتیوں کا ذکر کیا ہے، کیونکہ یہ مختلف انواع و اقسام کی بنا پر بہت سے فوائد کی حامل ہیں نیز یہ اکثر مخلوق کے لئے خوراک کا کام دیتی ہیں۔ ﴿ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا ﴾ ” اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے زیتون اور انار کو پیدا کیا جس کے درخت ایک دوسرے سے مشابہ ہیں ﴿وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ﴾” اور جدا جدا بھی“ جو اپنے پھل اور ذائقے میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ گویا کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان باغات کو کس مقصد کے لئے پیدا کیا اور کس پر یہ نوازش کی؟ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی منفعت کے لئے یہ باغات پیدا کئے۔ اس لئے فرمایا : ﴿كُلُوا مِن ثَمَرِهِ ﴾ ” ان کے پھل کھاؤ۔“ یعنی کھجور اور کھیتیوں کا پھل کھاؤ ﴿إِذَا أَثْمَرَ  ﴾” جب وہ پھل لائیں“ ﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ ﴾ ” اور جس دن (پھل توڑو) اور کھیتی کاٹو تو اللہ کا حق اس میں سے ادا کرو۔“ یعنی فصل کی برداشت کے روز کھیتی کا حق ادا کرو۔ اس سے کھیتی کی زکوٰۃ(یعنی عشر) مراد ہے جس کا نصاب شریعت میں مقرر ہے۔ ان کو حکم دیا کہ زکوٰۃ فصل کی برداشت کے وقت ادا کریں کیونکہ برداشت کا دن، ایک سال گزرنے کے قائم مقام ہے۔ نیز یہ وہ وقت ہے جب فقراء کے دلوں میں زکوٰۃ کے حصول کی امید بندھ جاتی ہے اور اس وقت کاشت کاروں کے لئے اپنی زرعی جنس میں سے زکوٰۃ نکالنا آسان ہوتا ہے اور جو زکوٰۃ نکالتا ہے اس کے لئے یہ معاملہ ظاہر ہوجاتا ہے اور زکوٰۃ نکالنے والے اور زکوٰۃ نہ نکالنے والے کے درمیان امتیاز واقع ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَلَا تُسْرِفُوا ۚ ﴾ ” اور بے جا خرچ نہ کرو“ یہ ممانعت کھانے میں اسراف کے لئے عام ہے یعنی عادت اور حدود سے تجاوز کر کے کھانا۔ یہ اسراف اس بات کو بھی شامل ہے کہ کھیتی کا مالک اس طرح کھائے جس سے زکوٰۃ کو نقصان پہنچے اور کھیتی کا حق نکالنے میں اسراف یہ ہے کہ واجب سے بڑھ کر زکوٰۃ نکالے یا اپنے آپ کو یا اپنے خاندان یا اپنے قرض خواہوں کو نقصان پہنچائے۔ یہ تمام چیزیں اسراف کے زمرے میں آتی ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں بلکہ سخت ناپسند ہے اور وہ اسراف پر سخت ناراض ہوتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ پھلوں میں بھی زکوٰۃ فرض ہے اور ان میں زکوٰۃ کی ادائیگی ایک سال گزرنے کی شرط سے مشروط نہیں ہے۔ غلے کی زکوٰۃ فصل کٹنے اور کھجوروں کی زکوٰۃ پھل چنے جانے پر واجب ہوجاتی ہے۔ پھر زرعی اجناس زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد کئی سال تک بھی بندے کے پاس پڑی رہیں تو ان میں زکوٰۃ فرض نہیں بشرطیکہ وہ تجارت کی غرض سے نہ رکھی گئی ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف فصل کی برداشت کے وقت زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ نیز اگر فصل برداشت کرنے سے قبل، صاحب زراعت کی کوتاہی کے بغیر، باغ یا کھیتی پر کوئی آفت آجائے تو وہ اس کا ضامن نہیں ہوگا اور زکوٰۃ نکالنے سے پہلے اگر کھیتی یا کھجور کے پھل میں سے کچھ کھالیا جائے تو اسے زکوٰۃ کے حساب میں شامل نہیں کیا جائے گا، بلکہ جو باقی بچے گا اسی کے حساب سے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھل کا اندازہ لگانے کا ماہر روانہ فرمایا کرتے تھے جو زکوٰۃ ادا کرنے والے لوگوں کی کھیتیوں اور کھجوروں کے پھل کا اندازہ لگاتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیتے کہ اندازہ لگانے کے بعد وہ ان کے اور دیگر لوگوں کے کھانے کے لئے ایک تہائی ایک چوتائی چھوڑ دیا کریں۔ الانعام
142 ﴿وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا ﴾ ” اور پیدا کئے مویشیوں میں سے بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپائے پیدا کئے جن میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو اور ان سے بار برداری کا کام لیتے ہو۔ اور ان میں سے بعض اپنی کم عمری کی وجہ سے سواری اور بار برداری کے قابل نہیں ہوتے مثلاً ان چوپایوں کے بچے جو ابھی بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ پس یہ مویشی سواری اور بار برداری کے پہلو سے ان دو اقسام میں منقسم ہوتے ہیں۔ رہا ان کو کھانے کا پہلو اور ان سے دیگر مختلف انواع کے فوائد حاصل کرنا، تو یہ تمام مویشی کھائے بھی جاتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد بھی حاصل کئے جاتے ہیں۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ ﴾” کھاؤ اللہ کے رزق میں سے اور مت چلو شیطان کے قدموں پر“ یعنی شیطان کے طریقوں اور اس کے اعمال کی پیروی نہ کرو۔ ان میں سے منجملہ یہ ہیں کہ تم ان چیزوں کو حرام ٹھہرا لیتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں رزق کے طور پر عطا کی ہیں ﴿إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴾ ” وہ تمہارا کھلا دشمن ہے“ پس وہ تمہیں صرف اسی بات کا حکم دے گا جس میں تمہارا نقصان اور تمہاری ابدی بدبختی اور بدنصیبی ہے۔ الانعام
143 یہ چوپائے جن سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور ان سب کو حلال اور طیب قرار دیا ان کی تفصیل یوں بیان کی ہے ﴿ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۖ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ  ﴾ ” پیدا کئے آٹھ نر اور مادہ، بھیڑ میں سے دو“ یعنی نر اور مادہ ﴿ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ ﴾ ” اور دو (2) بکریوں میں سے۔“ یعنی اسی طرح بکریوں میں سے دو، نر اور مادہ یہ چار اصناف ان مویشیوں میں شامل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا۔ ان میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں۔ ان تکلف کرنے والوں سے کہہ دیجیے ! جو ان میں سے کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ہیں یا ان میں سے کچھ اصناف کو عورتوں پر حرام ٹھہراتے ہیں۔ جس کو انہوں نے مباح اور جس کو انہوں نے حرام ٹھہرایا، ان دونوں کے درمیان فرق کے عدم وجود کو ان پر لازم کرتے ہوئے ان سے کہئے﴿   آلذَّكَرَيْنِ ﴾’’کیا دونوں (کے) نروں کو‘‘ یعنی بھیڑ اور بکری میں سے ان کے نر کو ﴿حَرَّمَ﴾’’(اللہ تعالیٰ نے) حرام ٹھہرایا؟“ پس تم اس بات کے قائل نہیں ہو﴿أَمِ الْأُنثَيَيْنِ ﴾ ” یا دونوں (کے) مادہ کو۔“ یعنی مادہ بھیڑ اور بکری کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے؟ تم اس بات کے بھی قائل نہیں ہو۔ تم دونوں اصناف میں سے خالص نرکی تحریم کے قائل ہو نہ خالص مادہ کی۔ باقی رہی یہ بات کہ اگر مادہ کا رحم نر اور مادہ بچے پر مشتمل ہو یا نر اور مادہ کے بارے میں علم نہ ہو۔ پس فرمایا ﴿أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنثَيَيْنِ ﴾ ” یا جو بچہ دونوں ماداؤں کے پیٹوں میں ہو۔“ یعنی کیا تم نر اور مادہ کے فرق کے بغیر اسے حرام ٹھہراتے ہو جو بھیڑ، یا بکری کے رحم میں ہے؟ تم اس قول کے بھی قائل نہیں ہو۔ جب تم ان تین اقوال میں کسی ایک قول کے بھی قائل نہیں جو ممکنہ تمام صورتوں پر محیط ہیں۔ تو پھر تم کون سے مذہب پر عامل ہو ﴿نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴾ ” اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ۔“ یعنی اگر تم اپنے قول اور دعوے میں سچے ہو تو مجھے علمی دلیل سے آگاہ کرو اور یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ وہ کوئی ایسا قول نہیں لا سکتے جسے عقل تسلیم کرلے، سوائے اس کے کہ مذکورہ تینوں باتوں میں سے کوئی ایک بات کہیں اور وہ ان میں سے کوئی بات نہیں کہتے۔ صرف یہ کہتے ہیں کہ بعض مویشی جن کے بارے میں انہوں نے اپنی طرف سے کچھ اصطلاحات گھڑ رکھی ہیں مردوں کی بجائے عورتوں پر حرام ہیں، یا وہ بعض اوقات و احوال میں حرام ہیں یا اس قسم کے دیگر اقوال، جن کے بارے میں بلاشک و شبہ ہمیں معلوم ہے کہ ان کا مصدر جہل مرکب، راہ راست سے منحرف عقل اور فاسد آراء و نظریات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول پر کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور نہ ان کے پاس کوئی اور حجت و برہان ہے۔ الانعام
144 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی طرح اونٹ اور گائے کا ذکر فرمایا۔ جب ان کے قول کا بطلان اور فساد واضح ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک ایسی بات کہی جس سے نکلنا ان کے بس میں نہ تھا۔ سوائے شریعت کی اتباع کے ﴿أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ وَصَّاكُمُ اللَّـهُ بِهَـٰذَا ﴾ ” کیا تم حاضر تھے جس وقت تم کو اللہ نے یہ حکم دیا تھا“ یعنی تمہارے پاس اپنے دعویٰ کے سوا باقی کچھ بھی نہیں، جس کی صداقت کو پرکھنے کے لئے تمہارے پاس کوئی ذریعہ نہیں اور وہ ہے تمہارا یہ کہنا کہ ” اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی وصیت کی ہے اور اس نے ہماری طرف وحی کی ہے جس طرح سے اس نے اپنے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی کی، بلکہ اس نے ہماری طرف ایسی وحی بھیجی جو اس چیز کے مخالف ہے جس کی طرف انبیاء و رسل نے دعوت دی اور جس کے ساتھ کتابیں نازل ہوئیں“ اور یہ ایک ایسا بہتان ہے جس سے کوئی شخص ناواقف نہیں ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا لِّيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ ﴾” پس اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا، تاکہ بغیر تحقیق کے لوگوں کو گمراہ کرے“ یعنی اس کے جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر اس کے بہتان و افتراء، باندھنے کے ساتھ وہ اس سے اللہ کے بندوں کو بغیر کسی دلیل و برہان اور بغیر کسی عقل و نقل کے، اللہ کے راستے سے گمراہ کرتا ہے۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴾ ” اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا“ جن کا ظلم و جور اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے کے سوا اور کوئی ارادہ نہیں۔ الانعام
145 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر پر مشرکین کی مذمت کی کہ انہوں نے حلال کو حرام ٹھہرایا اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا اور ان کے اس قول کا ابطال کیا تو اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے سامنے واضح کردیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز ان پر حرام ٹھہرائی ہے تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ حلال ہے اور جو کوئی اس کی تحریم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے وہ جھوٹا اور باطل پرست ہے، کیونکہ تحریم صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے توسط سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا : ﴿قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ ﴾” آپ کہہ دیجیے کہ میں نہیں پاتا اس وحی میں کہ مجھ کو پہنچی ہے کسی چیز کو حرام، کھانے والے پر جو اس کو کھائے“ یعنی اس کو کھانے کے علاوہ اس سے دیگر فوائد حاصل کرنے یا نہ کرنے سے قطع نظر، میں کوئی چیز نہیں پاتا جس کا کھانا حرام ہو۔ ﴿ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً  ﴾ ” مگر یہ کہ وہ چیز مردار ہو“ مردار وہ جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح کئے بغیر مر گیا ہو۔ یہ مرا ہوا جانور حلال نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ ﴾ (المائدہ :5؍3) ” حرام کردیا گیا تم پر مردار، خون او خنزیر کا گوشت۔ “ ﴿أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا ﴾” یا بہتا ہوا خون“ یہ وہ خون ہے جو ذبیحہ کو ذبح کرتے وقت اس میں خارج ہوتا ہے کیونکہ اس خون کا ذبیحہ کے بدن میں رہنا ضرر رساں ہے۔ جب یہ خون بدن سے نکل جاتا ہے تو گوشت کا ضرر زائل ہوجاتا ہے۔ لفظ کے مفہوم مخالف سے مستفاد ہوتا ہے کہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد جو خون گوشت اور رگوں میں بچ جاتا ہے وہ حلال اور پاک ہے۔ ﴿أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ  ﴾ ” یا سور کا گوشت کہ وہ ناپاک ہے“ یعنی مذکورہ تینوں اشیا گندی ہیں یعنی ناپاک اور مضر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تم پر لطف و کرم کرتے ہوئے اور تمہیں خبائث کے قریب جانے سے بچانے کے لئے ان گندی اشیا کو حرام قرار دے دیا ہے۔ ﴿أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّـهِ بِهِ ﴾ یا ذبیحہ کو اللہ کے سوا بتوں اور ان معبودوں کے لئے ذبح کیا گیا ہو جن کی مشرکین عبادت کرتے ہیں۔ یہ فسق ہے اور فسق سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل کر اس کی معصیت میں داخل ہوجانا۔ ﴿فَمَنِ اضْطُرَّ ﴾” پس اگر کوئی مجبور ہوجائے۔“ یعنی بایں ہمہ اگر کوئی ان حرام اشیا کو استعمال کرنے پر مجبور ہے حاجت اور ضرورت نے اسے ان اشیاء کو کھانے پر مجبور کردیا ہے۔ وہ اس طرح کہ اس کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں اور بھوک کے باعث اس کو اپنی جان کا خوف ہے ﴿غَيْرَ بَاغٍ  ﴾ ” نافرمانی کرنے والا نہ ہو۔“ یعنی بغیر کسی اضطراری حالت کے اس کو کھانے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔ ﴿وَلَا عَادٍ﴾’ ’اور نہ زیادتی کرنے والا ہو“ (عَادٍ) سے مراد ہے ” ضرورت سے زائد کھا کر حد سے تجاوز کرنے والا“ ﴿فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾” تو بلاشبہ تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہے۔“ یعنی جو شخص اس حالت کو پہنچ جائے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ نرمی کی ہے۔ الانعام
146 اہل علم نے اس آیت کریمہ میں مذکورہ محرمات پر حصر کے بارے میں مختلف رائے کا اظہار کیا ہے۔ کیونکہ اس کے علاوہ بھی محرمات موجود ہیں جن کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا مثلاً (کچلیوں والے) درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے تمام پرندے، وغیرہ چنانچہ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان زائد چیزوں کی تحریم سے قبل نازل ہوئی ہے۔ اس لئے یہ حصر مذکور ان اشیاء میں تحریم متاخر کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں اس وقت اس زمرے میں نہیں آتی تھیں جس وقت مذکورہ حرمت کی وحی آپ کی طرف بھیجی گئی تھی۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ تمام محرمات کی تحریم پر مشتمل ہے۔ البتہ بعض کی تحریم کی تصریح کردی گئی ہے اور بعض کی تحریم اس کے معنی اور حرمت کی عمومی علت سے اخذ کی گئی ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیت کریمہ کے اواخر میں مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی تحریم کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿فَإِنَّهُ رِجْسٌ ﴾ ” وہ ناپاک ہے“ اور یہ ایسا وصف ہے جو تمام محرمات کو شامل ہے۔ کیونکہ تمام محرمات (رجس) یعنی گندگی اور ناپاک ہیں اور یہ محرمات سب سے زیادہ ناپاک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گندگی اور ناپاکی سے بچانے کے لئے ان کو حرام قرار دیا ہے۔ ناپاک اور محرمات کی تفاصیل سنت نبوی سے اخذ کی جاتی ہیں کیونکہ سنت قرآن کی تفسیر کر کے اس کے مقاصد کو بیان کرتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے کھانے والے کے لئے صرف اسی چیز کو حرام قرار دیا جس کا اس نے ذکر فرمایا اور تحریم کا مصدر صرف اللہ تعالیٰ کی شریعت ہے، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشرکین اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کے رزق کو حرام قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور اس کی طرف ایسی بات منسوب کرتے ہیں جو اس نے نہیں کہی۔ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں خنزیر کی حرمت کا ذکر نہ کیا ہوتا تو اس کا قوی احتمال تھا کہ آیت کریمہ کا سیاق مشرکین کے مذکورہ بالا ان اقوال کی تردید میں ہے جس میں انہوں نے ان چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا اور اپنے نفس کی فریب دہی کے مطابق اس میں مشغول ہوگئے اور یہ خاص طور پر چوپایوں کے بارے میں ہے اور ان چوپایوں میں کچھ بھی حرام نہیں سوائے ان اشیا کے جن کا ذکر آیت کریمہ میں کردیا گیا ہے مردار اور غیر اللہ کے نام پر پکاری گئی چیز اور ان کے سوا دیگر تمام اشیاء حلال ہیں۔ اس احتمال کی بنا پر، خنزیر کا یہاں ذکر شاید اس مناسبت سے کیا گیا ہو کہ بعض جہال خنزیر کو (بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ) میں داخل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خنزیر بھیڑ بکری کی نوع میں سے ہے۔ اس قسم کا تو ہم نصاریٰ میں سے جہلاء اور ان جیسے بعض دیگر لوگوں کو لاحق ہوا ہے۔ وہ خنزیر کو اسی طرح پالتے ہیں جیسے مویشیوں کو پالا جاتا ہے اور اس کو حلال سمجھتے ہیں اور وہ اس کے اور دیگر مویشیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔ پس یہ تمام محرمات جو اس امت پر حرام قرار دی گئی ہیں یہ حفاظت اور تنزیہہ کی خاطر ہے۔ اور وہ چیزیں جو اہل کتاب پر حرام قرار دی گئیں ان میں سے بعض پاک اور طیب تھیں مگر سزا کے طور پر ان چیزوں کو ان پر حرام کردیا گیا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ ۖ ﴾” اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والے جانور کو حرام کردیا تھا“ مثلاً اونٹ اور اس قسم کے دیگر جانور ﴿وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ  ﴾” اور گائے اور بکری میں سے حرام کئے تھے“ ان کے بعض اجزاء﴿شُحُومَهُمَا  ﴾ اور وہ تھی ان کی چربی اور ہر قسم کی چربی ان پر حرام نہ تھی بلکہ صرف دنبے کی چکتی اور اوجھڑی اور آنتوں کی باریک چربی حرام تھی۔ اس لئے اس میں سے حلال چربی کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا : ﴿ إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا ﴾” مگر وہ چربی جو پشت پر اور انتڑیوں کے ساتھ لگی ہوتی ہے“ ﴿أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ﴾ ” یا وہ چربی جو ہڈی کے ساتھ پیوست ہوتی ہے۔ “ ﴿ذَٰلِكَ ﴾” یہ“ یہودیوں پر نافذ کی گئی یہ تحریم ﴿جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ ﴾” ایک سزا تھی جو ہم نے ان کو دی تھی ان کی شرارت پر“ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کے بارے میں ان کے ظلم و تعددی کی جزا تھی، پس اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کے لئے یہ چیزیں حرام کردی تھیں ﴿وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ﴾ ” اور ہم سچ کہتے ہیں“ یعنی ہم جو کچھ کہتے ہیں جو کرتے ہیں اور جو فیصلہ کرتے ہیں، سب صدق پر مبنی ہوتا ہے اور اہل ایقان کے نزدیک اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا اور سب سے اچھے فیصلے کرنے والا کون ہے؟ الانعام
147 یعنی اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے ان کو دعوت دیتے رہیے اور ان کو آگاہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ﴿ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ ﴾ ” بے پایاں رحمت کا مالک ہے“ جو تمام مخلوقات کو شامل ہے۔ لہٰذا اس کی رحمت کی طرف اس کے اسباب کے ذریعے سے سبقت کرو۔ جس کی اساس اور بنیاد محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق ہے۔ ﴿وَلَا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ  ﴾” اور اس کا عذاب گناہ گاروں سے نہیں ٹالا جاتا“ یعنی جن کے جرائم اور گناہ بہت بڑھ گئے ہوں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے والے جرائم سے بچو، ان میں سب سے بڑا جرم محمد مصطفی صلوات اللہ علیہ و سلامہ کی تکذیب ہے۔ الانعام
148 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے کہ مشرکین اپنے شرک اور اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرانے پر اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے دلیل پکڑتے ہیں اور اپنے آپ سے مذمت کو دور کرنے کے لئے، اللہ تعالیٰ کی مشیت کو جو خیر و شر ہر چیز کو شامل ہے، دلیل بناتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے وہی کچھ کہا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّـهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِ مِن شَيْءٍ ﴾ (النحل :16؍35) ” وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا کہتے ہیں کہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرتے۔“ پس یہ وہ دلیل ہے جو انبیاء و رسل کو جھٹلانے والی قومیں انبیاء کی دعوت کو رد کرنے کے لئے پیش کرتی رہی ہیں مگر یہ ان کے کسی کام آئی نہ اس نے انہیں کوئی فائدہ ہی دیا اور یہی ان کی عادت رہی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر کے عذاب کا مزا چکھایا۔ اگر ان کی یہ دلیل صحیح ہوتی تو ان سے عذاب کو ہٹا لیا جاتا اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب میں مبتلا نہ کرتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب صرف اسی پر نازل ہوتا ہے جو اس کا مستحق ہوتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہ ان کی فاسد دلیل اور انتہائی گھٹیا شبہ ہے اور اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ (١) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اگر ان کی دلیل صحیح ہوتی تو ان پر عذاب نازل نہ ہوتا۔ (٢) دلیل کے لئے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد علم اور برہان ہو۔ اگر دلیل محض گمان اور اندازے پر مبنی ہو، جو حق کے مقابلے میں کوئی کام نہیں آسکتی، تو یہ باطل ہے۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا ﴾ ” کہہ دیجیے ! اگر تمہارے پاس کوئی علم ہے تو ہمارے سامنے پیش کرو“ پس اگر ان کے پاس علم ہوتا، حالانکہ وہ سخت جھگڑا لو لوگ ہیں، تو وہ اسے ضرور پیش کرتے اگر انہوں نے کوئی علمی دلیل پیش نہیں کی تو معلوم ہوا کہ وہ علم سے بے بہرہ ہیں۔ ﴿إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ ﴾ ” تم تو نرے گمان پر چلتے ہو اور صرف تخمینے ہی کرتے ہو“ اور جو کوئی اپنے دلائل کی بنیاد گمان اور اندازوں پر رکھتا ہے وہ باطل پرست اور خسارے میں پڑنے والا ہے اور جب اس کی بنیاد سرکشی، دشمنی اور شر و فساد پر ہو، تو اس کی کیفیت کیا ہوگی؟ الانعام
149 (٣) حجت بالغہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جو کسی کے لئے کوئی عذر نہیں رہنے دیتی، جس پر تمام انبیاء و مرسلین، تمام کتب الٰہیہ، تمام آثار نبویہ، عقل صحیح، فطرت سلیم اور اخلاق مستقیم متفق ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ جو کوئی اس آیت قاطعہ کی مخالفت کرتا ہے وہ باطل ہے، کیونکہ حق کی مخالفت کرنے والا باطل کے سوا کچھ بھی نہیں۔ (٤) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر انسان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا ہے جس کے ذریعے سے وہ ان تمام افعال کے ارتکاب پر قادر ہے جن کا اسے مکلف کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان پر کوئی ایسی چیز واجب نہیں کی جس کے فعل پر وہ قدرت نہیں رکھتا اور نہ کسی ایسی چیز کو اس پر حرام ٹھہرایا ہے جس کو ترک کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔ پس اس کے بعد قضاء و قدر کو دلیل بنانا محض ظلم اور مجرد عناد ہے۔ (٥) اللہ تعالیٰ نے بندوں کے افعال میں جبر نہیں کیا، بلکہ ان کے افعال کو ان کے اختیار کے تابع بنایا ہے۔ پس اگر وہ چاہیں تو کسی فعل کا ارتکاب کریں اور اگر چاہیں تو اس فعل کے ارتکاب سے باز رہ سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کا انکار صرف وہی کرسکتا ہے جو حق کے ساتھ عناد رکھتا ہے اور محسوسات کا انکار کرتا ہے، کیونکہ ہر شخص حرکت اختیاری اور حرکت جبری میں امتیاز کرسکتا ہے اگرچہ تمام حرکات اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادے کے تحت آتی ہیں۔ (٦) اپنے گناہوں پر قضا و قدر کو دلیل بنانے والے تناقص (تضاد) کا شکار ہیں، کیونکہ ان کے لئے اس کو درست ثابت کرنا ممکن نہیں۔ بلکہ اگر کوئی مار پیٹ یا مال وغیرہ چھین کر ان کے ساتھ برا سلوک کر کے تقدیر کا بہانہ پیش کرتا ہے تو وہ اس شخص کی دلیل کو کبھی قبول نہیں کریں گے اور اس شخص پر سخت ناراض ہوں گے۔ نہایت عجیب بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی ناراضی کے کاموں پر تو قضا و قدر کا عذر پیش کرتے ہیں اور اگر کوئی ان کے ساتھ برا سلوک کر کے ان کو یہی دلیل پیش کرتا ہے تو اسے قبول نہیں کرتے۔ (٧) قضا و قدر سے استدلال کرنا ان کا مقصد نہیں ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قضا و قدر کا عذر دلیل نہیں۔ ان کا مقصد تو صرف حق کو ٹھکرانا اور اس کو روکنا ہے کیونکہ وہ حق کو یوں سمجھتے ہیں جیسے کوئی حملہ آور ہو۔ چنانچہ وہ ہر صحیح یا غلط خیال کے ذریعے سے، جو ان کے دل میں آتا ہے، حق کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ الانعام
150 یعنی آپ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرایا اور اس تحریم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا، کہ وہ اپنے ان گواہوں کو لے آئیں جو یہ گواہی دیں کہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ جب ان سے یہ بات کہی جائے گی تو مندرجہ ذیل دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہوگی۔ (١) یا تو وہ اس پر کسی کو گواہ کے طور پر پیش ہی نہیں کرسکیں گے، تب اس صورت میں ان کا دعویٰ باطل اور دلیل اور گواہوں سے محروم ہوگا۔ (٢) یا وہ کسی ایسے گواہ کو پیش کردیں گے جو ان کے لئے گواہی دے، مگر کسی جھوٹے اور بہتان طراز کے سوا کوئی شخص اس پر گواہی نہیں دے سکتا، اور ایسے جھوٹے اور بہتان طراز شخص کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔ یہ معاملہ ایسے امور میں شمار نہیں ہوتا جس پر کسی عادل گواہ کا گواہی دینا جائز ہو، بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کو اس گواہی سے روکتے ہوئے فرمایا : ﴿ فَإِن شَهِدُوا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ﴾” اگر وہ گواہی دیں، تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دیں اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور وہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر ٹھہراتے ہیں“ یعنی وہ بتوں اور اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ چونکہ وہ یوم آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل نہیں اس لئے ان کی خواہشات ان کے اس عقیدے کے مطابق ہیں جو شرک اور تکذیب پر مبنی ہے۔ جن کا یہ معاملہ ہو تو مناسب یہی ہے کہ اللہ تعالٰ اپنی مخلوق میں سے بہترین ہستی کو ان کی اتباع کرنے اور ان کے ساتھ گواہی دینے سے روک دے۔ تب معلوم ہوا کہ ان کا اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانا ان کی گمراہ کن خواہشات نفس کی پیداوار ہے۔ الانعام
151 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے ﴿قُلْ ﴾” کہہ دیجیے“ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے ان چیزوں کو حرام قرار دے ڈالا جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ﴿تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ﴾ ” آؤ، میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمہارے رب نے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے عام طور پر کیا چیز حرام کی ہے۔ یہ تحریم سب کے لئے ہے اور ماکولات و مشروبات اور اقوال و افعال وغیرہ تمام محرمات پر مشتمل ہے۔ ﴿أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ ﴾” یہ کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھوڑا یا زیادہ ہرگز شرک نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی حقیت یہ ہے کہ مخلوق کی اسی طرح عبادت کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے، یا مخلوق کی تعظیم اسی طرح کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی جاتی ہے، یاربوبیت اور الوہیت کی صفات مخلوق میں ثابت کی جائیں۔ جب بندہ ہر قسم کا شرک چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے تمام احوال میں موحد اور اللہ تعالیٰ کے لئے مخلص بندہ بن جاتا ہے۔ پس بندوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حق کا تذکرہ کرنے کے بعد سب سے زیادہ موکد حق سے ابتدا کی اور فرمایا ﴿ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ﴾” اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا“ یعنی اقوال حسنہ اور افعال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ ہر وہ قول و فعل جس سے والدین کو کوئی منفعت حاصل ہو یا اس سے مسرت حاصل ہو تو یہ ان کے ساتھ حسن سلوک ہے اور حسن سلوک کا وجود نافرمانی کی نفی کرتا ہے۔ ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم﴾” اور نہ قتل کرو تم اپنی اولاد کو“ یعنی اپنے بچوں اور بچیوں کو﴿مِّنْ إِمْلَاقٍ ﴾ ” ناداری کے اندیشے سے۔“ یعنی فقر اور رزق کی تنگی کے سبب سے۔ جیسا کہ جاہلیت کے ظالمانہ دور میں ہوتا تھا۔ جب اس حال میں ان کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے جب کہ وہ ان کی اپنی اولاد ہو، تو پھر ان کو بغیر کسی موجب کے قتل کرنا یا دوسروں کی اولاد کو قتل کرنا تو بطریق اولیٰ ممنوع ہوگا۔ ﴿نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ﴾ ” ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو“ یعنی ہم نے تمام مخلوق کے رزق کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔ یہ تم نہیں ہو جو اپنی اولاد کو رزق عطا کرتے ہو، بلکہ تم خود اپنے آپ کو بھی رزق عطا نہیں کرسکتے۔ پھر تم ان کے بارے میں تنگی کیوں محسوس کرو۔ ﴿ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ ﴾” اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ“ یہاں فواحش سے مراد بڑے بڑے اور فحش گناہ ہیں ﴿مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ﴾ ” جو ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔“ یعنی کھلے گناہوں کے قریب جاؤ نہ چھپے ہوئے گناہوں کے۔ نہ کھلے گناہوں کےمتعلقات کے قریب پھٹکو اور نہ قلب و باطن کے گناہوں کے متعلقات کے قریب جاؤ۔ فواحش کے قریب جانے کی ممانعت فواحش کے مجرد ارتکاب کی ممانعت سے زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ یہ فواحش کے مقدمات اور ان کے ذرائع اور وسائل سب کو شامل ہے۔ ﴿وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ  ﴾ ” اور نہ قتل کرو اس جان کو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے“ اس سے مراد مسلمان جان ہے خواہ مرد ہو خواہ عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، نیک ہو یا بد۔ اسی طرح اس کا فرجان کو قتل کرنا بھی قتل ناحق ہے جو عہد و میثاق کی وجہ سے معصوم ہو﴿إِلَّا بِالْحَقِّ ﴾” مگر حق کے ساتھ“ مثلاً شادی شدہ زانی، قاتل، مرتد ہو کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔ ﴿ذَٰلِكُمْ ﴾ ” یہ“ مذکورہ بالا تمام امور ﴿وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴾ ” اس کے ساتھ تم کو حکم کیا ہے تاکہ تم سمجھو“ یعنی شاید تم اللہ تعالیٰ کی وصیت کو سمجھو، پھر تم اس کی حفاظت کرو، اس کی رعایت کرو اور اس کو قائم کرو۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنی عقل کے مطابق ان امور کو قائم کرتا ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے۔ الانعام
152 ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ ﴾” اور نہ قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے“ یعنی مال کھانے کے لئے، یا اپنے لئے معاوضہ بنانے یا بغیر کسی سبب کے مال لینے کے لئے۔ ﴿ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ﴾” مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو۔“ یعنی البتہ ایسے طریقے سے ان کے مال کے قریب جاؤ جس سے ان کے مال کی اصلاح ہو اور وہ اس مال سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس طریقے سے ان کے مال کی اصلاح ہو اوہ اس مال سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس طریقے سے یتیموں کے مال کے قریب جانا اور اس میں تصرف کرنا جائز نہیں جس سے یتیموں کو نقصان پہنچتا ہو اور اس طریقے سے بھی ان کے مال کے قریب جانا جائز نہیں جس میں کوئی نقصان تو نہ ہو البتہ اس میں کوئی مصلحت بھی نہ ہو۔ ﴿حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ﴾ ” حتی کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔“ یعنی یہاں تک کہ یتیم بالغ اور سمجھ دار ہوجائے اور اسے مال میں تصرف کرنے کی معرفت حاصل ہوجائے اور جب وہ سمجھ دار اور بالغ ہوجائے تو اس وقت مال اس کے حوالے کیا جائے اور وہ خود اپنی صوابدید کے مطابق اس مال میں تصرف کرے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ یتیم بالغ ہونے سے قبل اپنے مال میں تصرف نہیں کرسکتا۔ اس کے سرپرست کو مال میں احسن طریقے سے تصرف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ مال کے تصرف پر یہ پابندی یتیم کے بالغ ہونے پر ختم ہوجائے گی۔ ﴿وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ﴾ ” نہایت عدل و انصاف سے ناپ تول کر پورا کرو“ یعنی جب تم انصاف کے ساتھ ناپ تول کو پورا کرنے کی ذمہ داری کو ادا کرنے میں جدوجہد کرو گے تو ﴿ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ ﴾ ” ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔“ یعنی ہم اس کی مقدرت کے مطابق اسے مکلف بناتے ہیں اور ایسی چیز کا مکلف نہیں بناتے جو اس کے بس سے باہر ہو، پس جو کوئی ناپ تول کو پورا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے اور اس میں ہرگز کوتاہی نہیں برتتا اور لاعلمی میں کوئی تقصیر باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ اس آیت کریمہ سے علمائے اصول یہ اصول اخذ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ پس اسے جو حکم دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ممکن حد تک اس کی تعمیل کرتا ہے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ ﴿وَإِذَا قُلْتُمْ ﴾ ” جب کوئی بات کہو۔“ یعنی جب تم کوئی بات کہو جو لوگوں کے درمیان کسی فیصلے، کسی خطاب کی تفصیل پر مبنی ہو یا تم احوال و مقالات پر کلام کر رہے ہو ﴿فَاعْدِلُوا ﴾” تو انصاف سے کہو۔‘‘ یعنی صدق، انصاف اور عدم کتمان کو مدنظر رکھتے ہوئے ان لوگوں کے درمیان جن کو تم پسند کرتے ہو یا ناپسند کرتے ہو، عدل سے بات کرو کیونکہ جسے آپ ناپسند کرتے ہیں اس کے بارے میں یا اس کے مقالات کے بارے میں اس کے خلاف حد سے بڑھ کر بات کرنا ظلم ہے جو کہ حرام ہے، بلکہ اگر صاحب علم اہل بدعت کے مقالات و نظریات پر کلام کرتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ہر حق دار کو اس کا حق عطا کرے اور ان مقالات میں جو کچھ حق اور باطل موجود ہے اس کو پوری طرح بیان کرے کہ ان مقالات میں کون سی چیز حق کے قریب اور کون سی چیز حق سے دور ہے۔ فقہاء نے یہاں تک ذکر کیا ہے کہ قاضی پر فرض ہے کہ وہ فریقین کے درمیان اپنے لہجے اور اپنی نظر میں بھی انصاف کرے۔ ﴿وَبِعَهْدِ اللَّـهِ أَوْفُو ۚ ﴾ ” اور اللہ کا عہد پورا کرو“ یہ آیت کریمہ اس عہد کو بھی شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے اپنے حقوق پورے کروانے کے بارے میں لیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو مخلوق کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ پس ان تمام معاہدوں کو پورا کرنا فرض اور ان کو توڑنا یا ان میں خلل اندازی کرنا حرام ہے ﴿ذَٰلِكُمْ﴾ مذکورہ تمام احکام میں ﴿وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ﴾” تم کو حکم کردیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو“ یعنی وہ تمام احکام جو اس نے تمہارے لئے بیان کئے ہیں اور تم اللہ تعالیٰ کی اس وصیت کو پوری طرح قائم کرو جو اس نے تمہیں کی ہے اور تم ان تمام حکمتوں اور احکام کی معرفت حاصل کرلو جو ان کے اندر ہیں۔ الانعام
153 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بڑے بڑے احکام اور اہم شرائع کو واضح کردیا، تو اب ان کی طرف اور ان سے زیادہ عمومیت کی حامل بات کی طرف اشارہ فرمایا : ﴿وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا﴾ ” اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے۔“ یعنی یہ اور اس قسم کے دیگر احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے اپنی کتاب میں بیان کردیا ہے، اللہ تعالیٰ کا سیدھا راستہ ہے جو معتدل، آسان اور نہایت مختصر ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کی منزل تک پہنچاتا ہے ﴿فَاتَّبِعُوهُ﴾” پس اس کی پیروی کرو“ تاکہ تم فوز و فلاح، تمناؤں اور فرحتوں کو حاصل کرسکو۔﴿وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ ﴾ ” اور راستوں پر نہ چلنا۔“ یعنی ان راستوں پر نہ چلو جو اللہ تعالیٰ کے راستے کی مخالفت کرتے ہیں ﴿فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ﴾ ” پس وہ تمہیں اس (اللہ) کے راستے سے جدا کردیں گے۔“ یعنی یہ راستے تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے اور تمہیں دائیں بائیں دوسرے راستوں پر ڈال دیں گے اور جب تم صراط مستقیم سے بھٹک جاؤ گے تو تمہارے سامنے صرف وہ راستے رہ جائیں گے جو جہنم تک پہنچانے والے ہیں۔ ﴿ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾” یہ حکم کردیا ہے تم کو تاکہ تم متقی بن جاؤ“ کیونکہ جب تم علم و عمل کے اعتبار سے ان احکام کی تعمیل کرو گے جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے بیان کیا ہے تو تم اللہ تعالیٰ کے متقی اور فلاح یاب بندے بن جاؤ گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صراط مستقیم کو واحد ذکر کر کے اپنی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ صرف یہی ایک راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس راستے پر گامزن لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ الانعام
154 ﴿ ثُمَّ ﴾ ” پھر“ اس مقام پر ( ثُمَّ ) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔ ﴿آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ﴾ ” موسیٰ کو کتاب عنایت کی“ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تو رات ہے ﴿تَمَامًا﴾اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لئے ﴿عَلَى الَّذِي أَحْسَنَ﴾ ” ان پر جو نیکو کار ہیں۔“ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لئے جنہوں نے نیک کام کئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکو کاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔ من جملہ ان کامل نعمتوں کے ان پر تورات کا نازل کرنا ہے پس ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت مکمل ہوگئی اور ان پر ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا واجب ٹھہرا۔ ﴿وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ﴾ ” اور ہر چیز کی تفصیل کے لئے“ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ جس کے وہ محتاج ہیں، اس کا تعلق حلال و حرام سے ہو، اوامرونواہی سے ہو یا عقائد وغیرہ سے۔ ﴿وَهُدًى ﴾ ” اور ہدایت“ یعنی وہ بھلائی کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہے اور اصول و فروع میں ان کو برائی کی پہچان کرواتی ہے ﴿وَرَحْمَةً﴾ ” اور رحمت“ یعنی اس رحمت کے ذریعے سے انہیں سعادت اور خیر کثیر سے نوازا جاتا ہے ﴿لَّعَلَّهُم﴾” تاکہ وہ لوگ“ یعنی ہمارے ان پر کتاب اور واضح دلائل نازل کرنے کے سبب سے ﴿ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ﴾ ” اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں“ کیونکہ یہ کتاب قیامت اور جزائے اعمال کے قطعی دلائل اور ایسے امور پر مشتمل ہے جو ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر ایمان اور اس کے لئے تیار کے موجب ہیں۔ الانعام
155 ﴿ وَهَـٰذَا﴾ ” اور یہ“ یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم ﴿كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ ﴾” کتاب ہم نے اتاری ہے برکت والی۔“ یعنی اس کتاب کے اندر خیر کثیر اور بے انتہا علم ہے جس سے تمام علوم مدد لیتے ہیں اور اس سے برکات حاصل کی جاتی ہیں۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف اس کتاب عظیم نے دعوت اور ترغیب نہ دی ہو اور اس بھلائی کی حکمتیں اور مصلحتیں بیان نہ کی ہوں جو اس پر آمادہ کرتی ہیں اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے اس کتاب نے روکا اور ڈرایا نہ ہو اور ان اسباب اور عواقب کا ذکر نہ کیا ہو جو اس برائی کے ارتکاب سے باز رکھتے ہوں۔ ﴿ فَاتَّبِعُوهُ ﴾ ” پس اس کی پیروی کرو“ یعنی اس کے امرونہی میں اس کی اتباع کرو اور اس پر اپنے اصول و فروع بنیاد رکھو ﴿وَاتَّقُوا ﴾ ” اور ڈرو“ یعنی کسی بھی امر میں اللہ کی مخالت کرنے سے ڈرو ﴿لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ ” تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو شاید تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سب سے بڑا سبب علم و عمل کے اعتبار سے اس کتاب کی پیروی ہے۔ الانعام
156 ﴿أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا﴾” اس واسطے کہ کہیں تم کہنے لگو، کہ کتاب جو اتری تھی، سو ان ہی دو فرقوں پر جو ہم سے پہلے تھے“ یعنی قطع حجت کے لئے ہم نے تم پر یہ مبارک کتاب نازل کی ہے اور تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے تو دو گروہوں پر کتاب نازل کردی گئی۔ یعنی یہود و نصاریٰ پر﴿وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ﴾ ” اور ہم کو تو ان کے پڑھنے پڑھانے کی خبر ہی نہ تھی۔“ یعنی تم کہو کہ ہم پر کوئی کتاب نہیں اتاری گئی اور یہود و نصاریٰ پر جو کتابیں نازل کی گئیں ان کے بارے میں ہمیں کوئی علم ہے نہ معرفت۔ اس لئے ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی جس سے بڑھ کر جامع، واضح اور روشن کوئی اور کتاب آسمان سے نازل نہیں کی گئی۔ الانعام
157 ﴿  أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ ۚ﴾ ” یا تم کہو کہ اگر اترتی ہم پر کتاب تو ہم ان سے بہتر راہ پر چلنے والے ہوتے“ یعنی یا تو تم یہ عذر پیش کرو گے کہ تمہارے پاس اصل ہدایت ہی نہیں پہنچی یا تمہارا عذر یہ ہوگا کہ یہ ہدایت کامل نہ تھی۔ پس تمہیں اپنی کتاب کے ساتھ اصل اور کامل ہدایت حاصل ہوگئی۔ بنابریں فرمایا :﴿ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ﴾” پس تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلیل آگئی۔“ یہ اسم جنس ہے اور اس میں ہر وہ چیز داخل ہے جو حق کو بیان کرے ﴿وَهُدًى﴾” اور ہدایت“ گمراہی کے اندھیروں میں راہ ہدایت ہے﴿وَرَحْمَةٌ ۚ﴾ ” اور رحمت“ یعنی دین و دنیا میں تمہارے لئے سعادت ہے۔ پس یہ چیز تم پر واجب کرتی ہے کہ تم اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کی خبروں پر ایمان لاؤ اور جس کسی نے اس کی پروا نہ کی اور اس کو جھٹلایا، وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ بنابریں فرمایا : ﴿فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَصَدَفَ عَنْهَا﴾” اب اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے کترائے؟“ یعنی اس نے روگردانی کی اور پہلو بچا کر نکل گیا ﴿سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ﴾ ” ہم سزا دیں گے ان کو جو ہماری آیتوں سے کتراتے ہیں، برے عذاب کی“ یعنی وہ ایسا عذاب ہوگا کہ وہ اس میں مبتلا شخص کو سخت تکلیف دے گا، اس پر بہت شاق گزرے گا ﴿ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ ﴾” اس کترانے کے بدلے میں“ وہ خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو ہماری آیتوں سے پھیرتے تھے، یہ ان کے اعمال بدکا بدلہ ہے ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ ﴾ (حم السجدہ :41؍46) ” اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ “ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ قرآن کا علم، جلیل ترین، انتہائی بابرکت اور تمام علوم سے زیادہ وسیع علم ہے۔ اسی کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف کامل راہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے انسان اولین و آخرین میں سے متکلمین کے قیاسات اور اندازوں اور فلسفیوں کے افکار و نظریات کا محتاج نہیں رہتا۔ عام طور پر معروف ہے کہ کتاب یہود و نصاریٰ کے سوا کسی پر نہیں اتری اور علی الاطلاق وہی اہل کتاب ہیں۔ دیگر تمام گروہ، مجوس وغیرہ اہل کتاب کے زمرے میں نہیں آتے۔ ان آیات مبارکہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نزول قرآن سے قبل جاہلی عرب، ان اہل کتاب کے علم سے بے بہرہ تھے جن کے پاس علم تھا اور ان کی کتب کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے۔ الانعام
158 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا یہ لوگ جو اپنے ظلم و عناد پر جمے ہوئے ہیں، اس بات کا انتظار کر رہے ہیں ﴿ إِلَّا أَن تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ ﴾ ”کہ ان کے پاس فرشتے آئیں۔“ یعنی آخرت اور عذاب کے مقدمات کی صورت میں ان کے سامنے فرشتے ان کی روح قبض کرنے کے لئے آحا ضر ہوں۔ کیونکہ جب وہ اس حالت کو پہنچ جائیں گے تو اس وقت ایمان اور اعمال صالحہ ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گے۔﴿أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ﴾ ” یا خود تمہارا رب آئے۔“ یعنی تمہارا رب بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے، نیکو کاروں اور بدکاروں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے لئے آجائے ﴿أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ﴾ ” یا تمہارے رب کی کچھ نشانیاں آجائیں“ جو قرب قیامت پر دلالت کرتی ہوں ﴿ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ ﴾ ” جس دن تمہارے رب کی کچھ نشانیاں آجائیں گی“ یعنی خارق عادت معجزات جن سے یہ معلوم ہو کہ قیامت کی گھڑی قریب آن لگی ہے اور بہت قریب پہنچ گئی ہے ﴿ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ ” تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے۔“ یعنی جب اللہ تعالیٰ کی بعض نشانیاں آموجود ہوں گی، تو اس کے بعد کافر کا ایمان اسے کوئی فائدہ دے گا نہ کوتاہی کے شکار مومن کے اعمال میں اضافہ اس کے کسی کام آئے گا بلکہ صرف وہی ایمان کی پونجی اس کے کام آئے گی جو تھوڑی بہت اس کے دامن میں ہوگی اور صرف وہی نیک اعمال اس کو فائدہ دیں گے جو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں آجانے سے قبل اس نے کئے ہوں گے۔ اس میں ظاہری حکمت یہ ہے کہ ایمان صرف وہی فائدہ دیتا ہے جو بالغیب ہو اور بندہ اپنے اختیار اور ارادے سے ایمان لایا ہو۔ لیکن جب اللہ کی نشانیاں آجائیں اور معاملہ غیب سے شہادت میں منتقل ہوجائے، تو ایمان لانے میں کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ کیونکہ یہ جبری ایمان کے مشابہ ہے مثلاً ڈوبتے ہوئے یا جلتے شخص وغیرہ کا ایمان لانا، یعنی وہ شخص جب موت کا چہرہ دیکھ لیتا ہے، تو اپنی بد اعمالیوں کو ختم کردیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا ۖ سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ﴾ (المؤمن:40؍84، 85) ” پس جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو پکار اٹھے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور ہم نے ان کا انکار کیا جن کو ہم اللہ کا شریک بنایا کرتے تھے۔ مگر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کے ایمان نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔ یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔ “ بہت سی صحیح احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ یہاں ” اللہ تعالیٰ کی بعض نشانیوں“ سے مراد ہے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، لوگ جب سورج کو مغرب سے طلوع ہوتا دیکھیں گے تو جھٹ ایمان لے آئیں گے مگر ان کا ایمان ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا اور اس وقت توبہ کا دروازہ بند کردیا جائے گا۔ [صحيح بخاري، كتاب الرقاق، باب، حديث: 6506] چونکہ یہ آیت کریمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے والوں کے لئے وعید ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان نشانیوں کے ظہور کے منتظر ہیں اور کفار بھی منتظر ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿قُلِ انتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ ﴾ ” کہہ دیجیے، تم انتظار کرو، ہم بھی انتظار کر رہے ہیں“ پس عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کون امن کا مستحق ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے افعال اختیاری کا اثبات ہے مثلاً استواء علی العرش، آسمان دنیا پر نازل ہونا اور اس کا آنا، مخلوق کی صفات کے ساتھ کسی تشبیہ کے بغیر اور اس اعتبار سے یہ اہل سنت و الجماعت کے مذہب کی دلیل ہے اور اس موضوع پر کتاب و سنت میں بہت سا مواد موجود ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کی جملہ نشانیوں میں سے ایک نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ حکمت والا ہے کائنات میں اس کی یہ سنت و عادت جاری و ساری ہے کہ ایمان صرف اسی وقت فائدہ دیتا ہے جبکہ وہ اختیاری ہو اضطراری نہ ہو۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ نیز یہ کہ انسان کا اکتساب خیر ایمان ہی کے ساتھ فائدہ مند ہے نیکی، تقویٰ وغیرہ اسی وقت فائدہ دیتے ہیں اور نشو و نما پاتے ہیں جب بندے کے دامن میں سرمایہ ایمان بھی ہو۔ جب قلب ایمان سے خالی ہو تو بندے کو کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی۔ الانعام
159 اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو وعید سناتا ہے جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر ایک نے اپنا ایک نام رکھ لیا جو انسان کے لئے اس کے دین میں کوئی کام نہیں آتا جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ یا اس سے انسان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، جیسے وہ شریعت میں سے کسی ایک چیز کو اخذ کر کے اس کو دین بنا لے اور اس جیسے یا اس سے کسی افضل چیز کو چھوڑ دے جیسا کہ اہل بدعت اور ان گمراہ فرقوں کا حال ہے جنہوں نے امت سے الگ راستہ اختیار کرلیا ہے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دین اجتماعیت اور اکٹھے رہنے کا حکم دیتا ہے اور تفرقہ بازی اور اہل دین میں اور تمام اصولی و فروعی مسائل میں اختلاف پیدا کرنے سے روکتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا آپ ان لوگوں سے برأت کا اظہار کریں جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا۔ ﴿ لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ﴾” ان سے آپ کو کچھ کام نہیں۔“ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ہیں نہ وہ آپ میں سے۔ کیونکہ انہوں نے آپ کی مخالفت کی اور آپ سے عناد رکھا۔ ﴿ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ﴾ ” ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔“ یعنی ان کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا، وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا ﴿ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ﴾ ” پھر وہ (اللہ) ان کو ان کے افعال سے آگاہ کرے گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے جزا کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا : الانعام
160 ﴿مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ ﴾ ” جو کوئی نیکی لے کر آئے گا۔“ یعنی جو کوئی حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق قولی، فعلی، ظاہری اور باطنی نیکی لے کر اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوتا ہے ﴿ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ﴾ ” تو اس کے لئے اس کا دس گنا ہے‘‘ نیکیوں کو کئی گنا کرنے کے ضمن میں یہ کم ترین جزا ہے ﴿وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا﴾ ” اور جو کوئی لاتا ہے ایک برائی، سو سزا پائے گا اسی کے برابر“ یہ اللہ تعالیٰ کا کا مل عدل و احسان ہے اور وہ ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔ بنا بریں فرمایا ﴿ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ﴾ ” ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “ الانعام
161 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ وہ جس راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں اس کے بارے میں اعلان کردیں یعنی معتدل دین کا جو عقائد نافعہ، اعمال صالحہ، ہر اچھی بات کے حکم اور ہر بری بات سے ممانعت کو متضمن ہے۔ یہ وہ دین ہے جس پر تمام انبیاء و مرسلین عمل پیرا رہے، جو خاص طور پر امام الحنفاء، بعد میں بمعوث ہونے والے تمام انبیاء و مرسلین کے باپ اور اللہ رحمٰن کے خلیل ابراہیم کا دین تھا۔ یہی وہ دین حنیف ہے جو تمام اہل انحراف مثلاً یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے ادیان باطلہ سے روگردانی کو متضمن ہے۔ یہ عمومی ذکر ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے افضل ترین عبادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا : الانعام
162 ﴿ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي﴾ ” کہہ دیجیے کہ میری نماز اور میری قربانی“ ان دو عبادات کا ذکر ان کے فضل و شرف اور اس بنا پر کیا ہے کہ یہ دونوں عبادات اللہ تعالیٰ سے محبت، دین کو اس کے لئے خالص کرنے، قلب و لسان، جوارح اور قربانی کے ذریعے سے اس کے تقرب کے حصول پر دلالت کرتی ہیں اور قربانی سے مراد ہے کہ مال وغیرہ کو جو نفس کو محبوب ہے، اس ہستی کے لئے خرچ کرنا جو اس کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ جس نے اپنی نماز اور قربانی کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرلیا تو یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ اس نے اپنے تمام اعمال و اقوال کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرلیا۔ ﴿ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي ﴾ ” اور میرا جینا اور میرا مرنا۔“ یعنی میں جو کچھ اپنی زندگی میں کرتا ہوں‘‘ اللہ تعالیٰ جو کچھ میرے ساتھ کرتا ہے اور زمانہ موت میں اللہ تعالیٰ میرے لئے جو کچھ مقدر کرے گا ﴿ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ  لَا شَرِيكَ لَهُ﴾ ” سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہے نہ اقتدار اور تدبیر میں۔“ اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے یہ اخلاص کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں جو میں نے خود گھڑ لی ہو، الانعام
163 بلکہ﴿وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ ﴾” اور مجھے اسی (اخلاص) کا حکم دیا گیا ہے۔“ یعنی حتمی حکم اور اس حکم کی تعمیل کئے بغیر میں اس کی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا﴿وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾” اور میں سب سے اول فرماں بردار ہوں۔“ یعنی اس امت میں، پہلا مسلمان ہوں۔ الانعام
164 ﴿قُلْ أَغَيْرَ اللَّـهِ ﴾ ” کہہ دیجیے“ کیا اب میں اللہ کے سوا“ یعنی مخلوق میں سے ﴿ أَبْغِي رَبًّا﴾ ” تلاش کروں کوئی رب؟“ کیا یہ میرے لئے اچھا اور میرے لائق ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا رب اور مدبر بنا لوں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا رب ہے اور تمام مخلوق اس کی ربوبیت کے تحت داخل اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہے۔ پس مجھ پر اور دیگر لوگوں پر یہ بات واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کریں اور اس پر راضی رہیں۔ محتاج، عاجز اور مربوب مخلوق میں سے کسی رب نہ بنائیں۔ پھر اللہ تعالیٰ جزا اور سزا کی ترغیب و ترہیب کے لئے فرماتا ہے﴿ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ﴾ ” اور جو کوئی کماتا ہے“ یعنی ہر شخص خیر و شر کا جو ارتکاب کرتا ہے ﴿إِلَّا عَلَيْهَا ۚ﴾ ” اس کی جزا و سزا صرف اسی کے لئے ہے۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿مَّنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ۗ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ﴾ (حم السجدہ :41؍46) ” جو کوئی نیک کام کرتا ہے اس کی جزا اسی کے لئے ہے اور جو برا کام کرتا ہے اس کا وبال اسی پر ہے۔ “ ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ﴾” کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ بلکہ ہر شخص اپنا بوجھ خود اٹھائے گا۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی گمراہی اور اس کے گناہ کا سبب بنا تو اسے سبب بننے کے گناہ کا بوجھ اٹھانا ہوگا اور گناہ کا ارتکاب کرنے والے کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ ﴿ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ﴾” پھر تمہارے رب کے پاس ہی سب کو لوٹ کر جانا ہے“ یعنی قیامت کے روز ﴿فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ﴾ ” تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔‘‘ یعنی خیر و شر میں جو تم اختلاف کرتے ہو، اس کے بارے میں تمہیں آگاہ کرے گا اور تمہیں اس کی پوری پوری جزا دے گا۔ الانعام
165 ﴿ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ﴾ ” اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا۔“ یعنی تم ایک دوسرے کے جانشین بنتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں زمین میں جانشین بنایا اور زمین کی تمام موجودات کو تمہارے لئے مسخر کر کے تمہیں آزمایا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ ﴿وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ﴾ ” اور بلند کیا اس نے تمہیں درجوں میں ایک کو ایک پر“ یعنی قوت، عافیت، رزق خلقت اور خلق میں ایک دوسرے پر فوقیت عطا کی ﴿لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۗ﴾” تاکہ تمہیں آزمائے وہ ان چیزوں میں جو اس نے تمہیں دیں۔“ پس تمہارے اعمال ایک دوسرے سے متفاوت ہیں ﴿إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ﴾ ” تمہارا رب ان لوگوں کو بہت جلد سزا دینے والا ہے۔“ ان کو جو اس کی نافرمانی اور اس کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں ﴿وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ ” اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ ان لوگوں کے لئے جو اس پر ایمان لاتے ہیں، نیک عمل کرتے ہیں اور مہلک گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔ الانعام
0 الاعراف
1 الاعراف
2 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ ﴾ ” یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر، یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور مفصل طور پر موجود ہیں ﴿ فَلَا يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ﴾ ” پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو“ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ ﴿ لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ﴾ (حم السجدہ :41؍42) ” باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے“۔ اس لئے آپ کے سینے کو کشادہ اور آپ کے دل کو مطمئن ہونا چاہئے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو کھول کر بیان کیجیے اور کسی کی ملامت اور مخالفت سے نہ ڈریئے۔ ﴿لِتُنذِرَ ﴾ ” تاکہ آپ اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈرائیں۔“ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ڈرائیے اور ان کو وعظ و نصیحت کیجیے۔ پس اس طرح معاندین حق پر حجت قائم ہوجائے گی۔ ﴿وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ ﴾ ” اور اہل ایمان کے لئے یاد دہانی ہوگی۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ (الذاریات :51؍55) ” نصیحت کیجیے کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔“ اہل ایمان کو اس کے ذریعے سے صراط مستقیم، ظاہری اور باطنی اعمال کی یاد دہانی ہوگی اور ان امور کے بارے میں بھی یاد دہانی ہوگی جو بندے اور اس کے سلوک کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں۔ الاعراف
3 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو اپنی کتاب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا : ﴿تَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم ﴾ ” پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی تمہاری طرف“ یعنی اس کتاب کی جو میں تمہاری خاطر نازل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ﴿ مِّن رَّبِّكُمْ﴾ ” تمہارے رب کی طرف سے“ جو تمہاری تربیت کی تکمیل چاہتا ہے اس مقصد کے لئے اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، اگر تم اس کتاب کی پیروی کرو گے تو تمہاری تربیت مکمل ہوجائے گی، تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہوجائے گی اور تمہیں بہترین اور بلند ترین اعمال کی طرف راہنمائی نصیب ہوگی۔ ﴿وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ﴾ ” اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔“ یعنی تم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو دوست نہ بناؤ، جن کی خواہشات کی تم پیروی کرو اور ان کی خاطر تم حق کو چھوڑ دو ﴿ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ﴾ ” تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو“ اگر تم نصیحت حاصل کرلیتے اور مصلحت کو پہچان لیتے تو تم ضرر رساں چیز کو نفع بخش چیز پر اور دشمن کو دوست پر کبھی ترجیح نہ دیتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سزاؤں سے ڈرایا ہے جو اس نے ان قوموں کو دیں جنہوں نے اپنے رسولوں اور ان کی دعوت کو جھٹلایا۔ پس وہ ان کی مشابہت اختیار نہ کریں۔ الاعراف
4 ﴿ وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا فَجَاءَهَا بَأْسُنَا﴾ ” اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کردیں، پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب“ یعنی ہمارا سخت عذاب ان پر نازل ہوا ﴿بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ﴾” راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے“ یعنی ہمارا عذاب ان کی غفلت کی حالت میں نازل ہوا۔ جبکہ وہ خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے اور ہلاکت کا ان کے دل میں کبھی خیال بھی نہ آیا ہوگا۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہ بچا سکے اور ان کے وہ معبود بھی ان کے کوئی کام نہ آسکے جن سے انہیں بڑی امیدیں تھیں اور وہ جن گناہوں اور ظلم کا ارتکاب کیا کرتے تھے، انہوں نے ان پر نکیر بھی نہیں کی۔ الاعراف
5 ﴿ فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ ﴾ ” جب ان کو ہمارے عذاب نے آلیا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ ﴿١١﴾ فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ ﴿١٢﴾ لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ ﴿١٣﴾ قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ  فَمَا زَالَت تِّلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّىٰ جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ﴾ ” کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ پس انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے۔ اب نہ بھاگو۔ ان نعمتوں کی طرف لوٹو جن کے تم مزے لوٹا کرتے تھے اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے پوچھا جائے، کہنے لگے ہائے ہماری ہلاکت ! بے شک ہم ہی ظالم تھے۔ وہ اس طرح پکارتے رہے اور ہم نے انہیں کھیتی کی طرح کاٹ کر ڈھیر کردیا۔ “ الاعراف
6 ﴿فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ ﴾ ” ہم ان قوموں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف ہم نے انبیا و مرسلین کو مبعوث کیا تھا“ کہ انہوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔﴿وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ﴾ (القصص :28؍65) ” اور جس روز وہ (اللہ) انہیں پکار کر کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟“ ﴿وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ﴾” اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔“ یعنی ہم رسولوں سے ان کے رب کے پیغام کو پہنچانے کے بارے میں ضرور پوچھیں گے اور یہ بھی ضروری پوچھیں گے کہ ان کی امتوں نے کیا جواب دیا۔ الاعراف
7 ﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم﴾ ” پھر ہم ان کے حالات بیان کریں گے۔“ یعنی ہم تمام مخلوق کو بتائیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے رہے تھے ﴿بِعِلْمٍ﴾” اپنے علم سے“ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ان کو ان کے اعمال کے بارے میں بتائے گا﴿ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ﴾” ہم کسی بھی وقت غیر موجود نہ تھے۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ أَحْصَاهُ اللَّـهُ وَنَسُوهُ﴾ (المجادلہ: 58؍6) ” اللہ نے ان کے تمام اعمال کو محفوظ رکھا ہے اور وہ بھول گئے ہیں۔“ اور فرمایا ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِينَ﴾ (المومنون :23؍17) ” ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان پیدا کئے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔ “ الاعراف
8 پھر اعمال کی جزا بیان فرمائی۔ یعنی قیامت کے روز اعمال کا زن عدل و انصاف کیساتھ کیا جائے گا۔ کسی بھی لحاظ سے کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا ﴿فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ ﴾ ” تو جن لوگوں کے وزن بھاری ہوں گے۔“ یعنی جن کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا﴿فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ ” تو وہی نجات پانے والے ہوں گے۔“ یہی لوگ ہیں جو ناپسندیدہ امور سے نجات حاصل کریں گے اور اپنے محبوب امور کو پالیں گے جن کو بہت بڑا نفع اور دائمی سعادت حاصل ہوگی۔ الاعراف
9 ﴿وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ﴾ ” اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے“ یعنی جن کی برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا، ان کا معاملہ اس کے مطابق ہوگا ﴿فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُم ﴾” پس یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا نقصان کیا“ کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہو کر درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے ﴿بِمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَظْلِمُونَ﴾ ” اس واسطے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بے انصافی کرتے تھے“ یعنی ان آیات کریمہ کی اطاعت جس طرح کرنا ان پر واجب تھی انہوں نے نہیں کی۔ الاعراف
10 اللہ تبارک و تعالیٰ معاش و مسکن کا ذکر کرتے ہوئے اپنے بندوں پر احسان جتلاتا ہے﴿وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ﴾ ” اور ہم نے تمہیں زمین میں ٹھکانا مہیا کیا“ جس سے تم زمین میں گھر بناتے ہو، کھیتی باڑی کرتے ہو اور بعض دیگر وجوہ سے اس سے استفادہ کرتے ہو ﴿وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ﴾ ” اور مقرر کردیں ہم نے اس میں تمہارے لئے روزیاں“ تمام معاش کا دار و مدار ان چیزوں پر ہے جو درختوں، نباتات، معدنیات، مختلف قسم کی صنعتوں اور تجارت سے ہوتی ہیں۔ وہی ہے جس نے تمہیں یہ تمام چیزیں مہیا کیں اور مختلف اسباب کو تمہارے لئے مسخر کیا ﴿قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ ﴾ ”(مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو۔“ یعنی تم اللہ تعالیٰ کا بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو، جس نے انواع و اقسام کی نعمتوں سے تمہیں نوازا اور مختلف مصائب کو تم سے دور کیا۔ الاعراف
11 اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے : ﴿ وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ﴾ ” اور ہم نے تمہیں پیدا کیا“ یعنی تمہارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب پیدا کئے گئے ﴿ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ﴾” پھر تمہاری صورت شکل بنائی۔“ پھر ہم نے تمہیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ﴿فَسَجَدُوا﴾” پس انہوں نے سجدہ کیا۔“ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ﴿إِلَّا إِبْلِيسَ ﴾ مگر ابلیس نے تکبر اور خودپسندی کی بنا پر سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ الاعراف
12 اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا : ﴿مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ﴾ ” تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا“ جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا، میں نے اسے وہ شرف اور فضیلت عطا کی جو کسی اور کو عطا نہیں کی، تو نے میرے حکم کی نافرمانی کر کے میری اہانت اور تحقیر کا ارتکاب کیا ﴿قَالَ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا : ﴿ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ ﴾ ” میں اس سے بہتر ہوں“ پھر اس نے اپنے اس باطل دعوے کی دلیل دیتے ہوئے کہا : ﴿خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ ﴾ ” تو نے مجھے آگ سے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے“ اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ وہ مخلوق جو آگ سے پیدا کی گئی ہے اس مخلوق سے افضل ہے، جس کی تخلیق مٹی سے ہے۔ کیونکہ آگ مٹی پر غالب ہے اور اوپر اٹھ سکتی ہے۔ شیطان کا یہ قیاس فاسد ترین قیاس ہے کیونکہ یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔ (١) یہ قیاس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مقابلے میں ہے کہ آدم کو سجدہ کیا جائے اور جب قیاس نص سے معارض ہو تو وہ باطل ہے۔ کیونکہ قیاس کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ جس معاملے میں نص موجود نہ ہو اس کا حکم منصوص علیہ امور کے احکام کے بالکل قریب اور ان کے تابع ہو۔ رہا وہ قیاس جو منصوص علیہ احکام کے معارض ہو اور اس کو معتبر قرار دینے سے نصوص کا لغو ہونا لازم آتا ہو تو یہ قیاس بدترین قیاس ہے۔ (١) یہ قیاس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مقابلے میں ہے کہ آدم کو سجدہ کیا جائے اور جب قیاس نص سے معارض ہو تو وہ باطل ہے۔ کیونکہ قیاس کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ جس معاملے میں نص موجود نہ ہو اس کا حکم منصوص علیہ امور کے احکام کے بالکل قریب اور ان کے تابع ہو۔ رہا وہ قیاس جو منصوص علیہ احکام کے معارض ہو اور اس کو معتبر قرار دینے سے نصوص کا لغو ہونا لازم آتا ہو تو یہ قیاس بدترین قیاس ہے۔ (٢) ابلیس کا مجردیہ کہنا ( أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ) ” میں اس (آدم) سے بہتر ہوں“ ابلیس خبیث کے نقص کے لئے کافی ہے۔ اس نے اپنے نقص پر اپنی خودپسندی، تکبر اور بلاعلم اللہ تعالیٰ کی طرف قول منسوب کرنے کو دلیل بنایا اس سے بڑا اور کون سا نقص ہوسکتا ہے؟ (٣) ابلیس نے آگ کو مٹی اور گارے کے مادہ پر فوقیت دے کر جھوٹ کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ مٹی کے مادے میں خشوع، سکون اور سنجیدگی ہے۔ اس مٹی ہی سے زمین کی برکتیں ظاہر ہوتی ہے۔ مثلاً مختلف انواع و اجناس کے درخت اور نباتات وغیرہ۔ اس کے برعکس آگ میں خفت، طیش اور جلانے کی خاصیت ہے۔ اسی لئے شیطان نے اس قسم کے افعال کا ارتکاب کیا اور اسی لئے وہ بلند ترین درجات سے گر کر اسفل السافلین کی سطح پر جا پہنچا۔ الاعراف
13 پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاهْبِطْ مِنْهَا ﴾ ” تو اس سے اترجا۔“ یعنی جنت سے اتر جا ﴿فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا﴾ ” تیرے یہ شایاں نہیں کہ تو یہاں (جنت میں) رہ کر تکبر کرے“ کیونکہ یہ طیب اور طاہر لوگوں کا گھر ہے، پس یہ جنت اللہ تعالیٰ کی بدترین اور خبیث ترین مخلوق کے لائق نہیں۔ ﴿ فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ ﴾ ” پس نکل جا تو ذلیل ہے۔“ یعنی تو حقیر ترین اور ذلیل ترین مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے تکبر اور خود پسندی پر اہانت اور ذلت کی سزا دی۔ جب اللہ کے دشمن نے اللہ تعالیٰ کے سامنے، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ عداوت کا اعلان کیا، تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لئے مہلت مانگی تاکہ وہ مقدور بھر اولاد آدم کو گمراہ کرسکے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز ہوجائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوجائے کہ کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور کون اس کے دشمن کی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے دی اور فرمایا : ﴿ إِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ﴾ ” تجھ کو مہلت دی گئی“ الاعراف
14 الاعراف
15 الاعراف
16 جب ابلیس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوگیا تو کہنے لگا : ﴿قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ ﴾ ” جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ضرور بیٹھوں گا ان کے لئے“ یعنی مخلوق کے لئے ﴿ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ﴾” تیرے سیدھے راستے پر“ اور لوگوں کو اس راستے سے روکنے اور اس پر چلنے سے منع کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ الاعراف
17 ﴿ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَائِلِهِمْ﴾’ د پھر میں ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں سے اور بائیں سے“ یعنی میں تمام جہات اور تمام اطرفا سے ان پر حملہ آور ہوں گا اور ہر طریقے سے جہاں کہیں سے بھی مجھے ان سے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ جب شیطان خبیث کو معلوم ہوگیا کہ اولاد آدم بہت کمزور ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں پر بسا اوقات غفلت غالب آجاتی ہے، تو اس نے ان کو گمراہ کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا اور اس کا گمان سچ نکلا، اس لئے کہنے لگا ﴿وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ ﴾ ” اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا“ کیونکہ شکر گزاری بھی صراط مستقیم پر چلنے ہی کا حصہ ہے اور شیطان ان کو اس راستے پر گامزن ہونے سے روکتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ ﴾(فاطر :35؍6) ” وہ تو اپنے گروہ کو اس لئے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔“ شیطان نے جو کچھ کہا اور اپنے فعل کے عزم کا اظہار کیا، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر محض اس لئے متنبہ فرمایا ہے، تاکہ ہم اپنے دشمن سے بچتے رہیں اور اس کے مقابلے کے لئے پوری طرح تیار رہیں اور ان راستوں اور داخل ہونے کے ان مقامات کی معرفت حاصل کر کے، جہاں سے وہ حملہ آور ہوتا ہے، اپنی حفاظت کرسکیں۔ پس یہ خبر دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی نعمت کامل سے نوازا ہے۔ الاعراف
18 یعنی ابلیس نے جو کچھ کہا اس کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿اخْرُجْ مِنْهَا﴾ ” نکل یہاں سے“ یعنی ذلت و خواری کے ساتھ نکلنا۔ اس سے عزت و اکرام کے ساتھ نکلنا مراد نہیں ﴿مَذْءُومًا ﴾ بلکہ مذمت کے ساتھ نکلنا مراد ہے﴿مَّدْحُورًاً﴾ ” مردود ہو کر“ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کی رحمت اور ہر بھلائی سے دور ﴿ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ ﴾ ” میں تم سے جہنم کو بھر دوں گا۔“ یعنی میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دوں گا ﴿أَجْمَعِينَ﴾” تم سب سے“ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قسم ہے کہ جہنم نافرمانوں کا ٹھکانا ہے، وہ لازمی طور پر جہنم کو ابلیس اور اس کے جن اور انسان پیروکاروں سے بھر دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم کو ابلیس کے شر اور فتنے سے ڈراتے ہوئے فرمایا: الاعراف
19 یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لئے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لئے کوئی فائدہ نہیں۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے ﴿فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ ﴾” تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہوجاؤ گے“ آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا، ان کو فریب میں مبتلا کردیا اور ان کے سامنے بناوٹ سے کام لیتے ہوئے کہنے لگا : الاعراف
20 ﴿مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَـٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ ﴾ ”تم کو نہیں روکا تمہارے رب نے اس درخت سے، مگر اس لئے کہ کہیں تم ہوجاؤ فرشتے“ یعنی فرشتوں کی جنس میں سے﴿ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ ﴾” یا ہوجاؤ ہمیشہ رہنے والوں میں سے“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں اس کا قول ذکر فرمایا : ﴿ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ﴾(طہ : 20؍120) ” کیا میں تجھے ایسا درخت بتاؤں جس کا پھل ہمیشہ کی زندگی عطا کرے اور ایسا اقتدار جو کبھی زائل نہ ہو۔ “ الاعراف
21 یہ سب کچھ کہنے کے ساتھ ساتھ اس نے اللہ کی قسم کھاتے ہوئے کہا :﴿إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ﴾ ” میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں۔“ یعنی میں نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمہاری خیر خواہی کرنے والا ہوں۔ پس آدم علیہ السلام شیطان کے دھوکے میں آگئے اور اس حال میں عقل پر شہوت نفس غالب آگئی۔ الاعراف
22 ﴿فَدَلَّاهُمَا ﴾” پس نیچے لے آیا ان دونوں کو“ یعنی شیطان نے آدم و حوا علیہما السلام کو ان کے بلند مرتبے سے، جو کہ گناہوں سے دوری پر مبنی تھا، اتار کر نافرمانی کی گندگی میں لتھیڑ دیا اور انہوں نے آگے بڑھ کر اس شجر ممنوعہ کے پھل کو کھالیا ﴿فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا﴾ ” پس جب چکھا ان دونوں نے درخت کو، تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں“ یعنی دونوں کا ستر ظاہر ہوگیا اس سے پہلے ان کا ستر چھپا ہوا تھا۔ پس اس حالت میں تقویٰ سے باطنی عریانی نے ظاہری لباس میں اپنا اثر دکھایا۔ حتیٰ کہ وہ لباس اتر گیا اور ان کا ستر ظاہر ہوگیا اور جب ان پر ان کا ستر ظاہر ہوا تو وہ بہت شرمسار ہوئے اور جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنے ستر کو چھپانے لگے۔ ﴿ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا  ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے آواز دی ﴿أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴾ ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تمہیں کہا نہیں تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے“ پھر تم نے اپنے دشمن کی اطاعت کر کے ممنوعہ کام کا ارتکاب کیوں کیا؟ پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے ان پر احسان کیا اور انہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت طلب کرتے ہوئے عرض کیا۔ الاعراف
23 ﴿ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴾ ” اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔“ یعنی ہم سے وہ گناہ سر زد ہوگیا جس سے تو نے ہمیں روکا تھا۔ ہم نے گناہ کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو سخت نقصان پہنچایا اور اگر تو نے گناہ اور اس کی عقوبت کے آثار کو نہ مٹایا اور اس قسم کی خطاؤں سے توبہ قبول کر کے معافی کے ذریعے سے ہم پر رحم نہ کیا، تو ہم نے سخت خسارے کا کام کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی﴿وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ  ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَىٰ  ﴾(طہ :20؍121، 122) ” اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ سے بھٹک گیا۔ پھر اس کے رب نے اس پر نوازش کی اور اس پر توجہ فرمائی اور راہنمائی کی۔ “ یہ رویہ آدم علیہ السلام کا تھا۔ مگر اس کے برعکس ابلیس اپنی سرکشی پر جما رہا اور نافرمانی سے باز نہ آیا۔ پس جو کوئی آدم علیہ السلام کی طرح اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے ندامت کے ساتھ مغفرت کا سوال کرتا ہے اور گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا رب اسے چن لیتا ہے اور سیدھی راہ پر ڈال دیتا ہے اور جو کوئی ابلیس کی طرح اپنے گناہ اور نافرمانی پر جم جاتا ہے اور اس کی نافرمانیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے دوری کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ الاعراف
24 یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا کو جمع کے صیغے کے ساتھ مخاطب کر کے نیچے اترنے کا حکم دیا، کیونکہ ابلیس تو اس سے قبل اتارا جا چکا تھا، پھر سب زمین کی طرف اتارے گئے۔ آدم و حوا علیہما السلام کے ساتھ ابلیس کو بھی بتکرار حکم دیا گیا تاکہ معلوم ہو کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے، کیونکہ ابلیس انسان سے کبھی جدا نہیں ہوتا بلکہ ہر وقت ساتھ رہتا ہے اور اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ ﴿ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ﴾ کا جملہ (اِهْبِطُوا) کی ضمیر سے حال ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم و حو علیہما السلام اور شیطان سے کہا کہ سب جنت سے نکل کر زمین پر اتر جاؤ درآں حالیکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو زمین پر تمہارا ٹھکانا ہے، اس وقت تک، جب تک تمہارا زمین میں رہنا مقدر ہے۔ الاعراف
25 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم علیہ السلام، ان کی بیوی اور ان کی اولاد کو زمین پر اتار دیا تو ان کو زمین کے اندر ان کے قیام کے احوال کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ زمین کے اندر ان کے لئے ایک ایسی زندگی مقرر کردی ہے جس کے تعاقب میں موت ہے جو ابتلاء و امتحان سے لبریز ہے۔ وہ اسی دنیا میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی طرف اپنے رسول بھیجے گا، ان پر کتاب نازل کرے گا۔ حتیٰ کہ ان پر موت آئے گی اور وہ اسی زمین میں دفن کردیئے جائیں گے۔ پھر جب وہ اپنی مدت پوری کرلیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندہ کرے گا اور اس دنیا سے نکال کر حقیقی گھر میں، جو دائمی قیام کا گھر ہے، داخل کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو ضروری لباس مہیا فرمایا۔ وہ لباس جس سے خوبصورتی مقصود ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام اشیا مثلاً کھانا پینا، سواری اور بیویاں وغیرہ عطا کیں۔ اس کی تکمیل کی خاطر اللہ تعالیٰ نے دیگر ضروریات مہیا کیں اور ان پر واضح کردیا کہ یہ سب کچھ بالذات مقصود نہیں ہے، بلکہ یہ لباس اللہ تعالیٰ نے صرف اس لئے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں ان کا مددگار ثابت ہو۔ الاعراف
26 بنا بریں فرمایا : ﴿وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ ۚ ﴾”اور جو تقویٰ کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے۔“ یعنی تقویٰ کا لباس، حسی لباس سے بہتر ہے۔ کیونکہ لباس تقویٰ بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے کبھی پرانا اور بوسیدہ نہیں ہوتا اور لباس تقویٰ قلب و روح کا جمال ہے۔ رہا حسی اور ظاہری لباس تو اس کی انتہا ہے کہ یہ ایک محدود وقت کے لئے ظاہری ستر کو ڈھانپتا ہے یا انسان کے لئے خوبصورتی کا باعث بنتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کا اور کوئی فائدہ نہیں۔ نیز فرض کیا یہ لباس موجود نہیں تب زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ اس کا ظاہری ستر منکشف ہوجائے گا جس کا اضطراری حالت میں منکشف ہونا نقصان دہ نہیں اور اگر لباس تقویٰ معدوم ہوجائے تو باطنی ستر کھل جائے گا اور اسے رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرناپڑے گا۔ ﴿ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّـهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ  ﴾ ” یہ نشانیاں ہیں اللہ کی قدرت کی، تاکہ وہ غور کریں“ یعنی یہ مذکورہ لباس جس سے تم ایسی چیزوں کو یاد کرتے ہو جو تمہیں نفع و نقصان دیتی ہیں اور اس ظاہری لباس سے تم اپنے باطن کی ستر پوشی میں مدد لیتے ہو۔ الاعراف
27 اللہ تبارک و تعالیٰ اولاد آدم کو ڈراتا ہے کہ شیطان کہیں تمہارے ساتھ بھی وہی کچھ نہ کرے جو اس نے تمہارے جد امجد آدم کے ساتھ کیا تھا، چنانچہ فرماتا ہے : ﴿يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ ﴾” اے آدم کی اولاد ! نہ بہکائے تم کو شیطان“ یعنی ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے سامنے گناہ اور معاصی کو آراستہ کر کے تمہیں ان کی طرف بلائے اور ترغیب دے اور تم اس کی اطاعت کرلو ﴿كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ ﴾ ”جیسے اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا“ اور انہیں بلند ترین مقام سے اتار کر فرو ترین مقام پر پہنچا دیا۔ پس اس سے بچو وہ تمہارے ساتھ بھی وہ کچھ کرنا چاہتا ہے، وہ تمہیں گمراہ کرنے کی کوشش میں ذرہ بھر کوتاہی نہیں کرتا جب تک کہ تمہیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے۔ اس لئے تم اس سے اپنا بچاؤ کرتے رہو اور اس کے مقابلے میں زرہ بکتر پہنے رکھو اور جن راستوں سے داخل ہو کر وہ تم پر شب خون مارتا ہے، ان راستوں سے غافل نہ رہو۔ ﴿ إِنَّهُ ﴾ ” بے شک وہ“ دائمی طور پر تمہاری نگرانی کرتا ہے ﴿يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ ﴾ ” وہ اور اس کے قبیلے کے شیاطین جن تمہیں اس مقام سے دیکھتے ہیں“ ﴿مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ﴾” جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ ہم نے شیاطین کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا جو ایمان نہیں لاتے۔“ پس عدم ایمان ہی انسان اور شیطان کے درمیان دوستی اور موالات کے عقد کا موجب ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ إِنَّمَا سُلْطَانُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ وَالَّذِينَ هُم بِهِ مُشْرِكُونَ﴾(النحل :16؍99۔100)” جو مومن ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر اس کا کوئی اختیار نہیں۔ اس کا اختیار تو ان لوگوں پر ہے جو اس کو اپنا دوست بناتے ہیں اور اس کے سبب سے اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ “ الاعراف
28 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتا ہے جو گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿ وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً ﴾ ” جب وہ کوئی فحش کام کرتے ہیں۔“ فحش سے مراد ہر وہ کام ہے جو برا اور انتہائی قبیح ہو۔ عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔﴿قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا  ﴾ ” کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے“ اور وہ اس بارے میں سچے ہیں ﴿ وَاللَّـهُ أَمَرَنَا بِهَا﴾ ” اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے“ وہ اس فحش کام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : ﴿قُلْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ ﴾ ” کہہ دیجیے اللہ بے حیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔“ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کمال کے لائق نہیں کہ وہ اپنے بندوں کو فحش کاموں کا حکم دے، اللہ نے اس فحش کام کا حکم دیا ہے جس کا ارتکاب یہ مشرک کرتے ہیں نہ کسی اور فحش کام کا۔ ﴿أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴾” کیا تم اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاتے ہو جو تم کو معلوم نہیں؟“ اور اس سے بڑا اور کون سا بہتان ہوسکتا ہے۔ الاعراف
29 پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا ذکر فرمایا جس کا وہ حکم دیتا ہے۔ ﴿قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ ﴾” کہہ دیجیے کہ میرے رب نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے عبادات و معاملات میں ظلم و جور کا حکم نہیں دیا بلکہ عدل و انصاف کا حکم دیا ہے ﴿وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ ﴾ ” اور سیدھے کرو اپنے منہ ہر نماز کے وقت“ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رکھو، عبادات کی تکمیل کی کوشش کرو۔ خاص طور پر نماز کو ظاہر اور باطن میں کامل طور پر قائم کرو اور اسے تمام نقائص اور مفاسد سے پاک رکھو۔ ﴿وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ۚ ﴾” اور پکارو اس کو خالص اس کے فرماں بردار ہو کر“ یعنی صرف اسی کی رضا جوئی کا مقصد رکھو، وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ دعا، دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت دونوں کو شامل ہے۔ یعنی تمہاری دعا کی تمام اغراض میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور اس کی رضا کے سوا کوئی اور مقصد و ارادہ نہیں ہونا چاہئے۔ ﴿ كَمَا بَدَأَكُمْ ﴾’’جیسے پہلی مرتبہ تمہاری ابتدا کی“ ﴿ تَعُودُونَ  ﴾ ” تم پھر پیدا ہو گے۔“ یعنی اس طرح مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ وہ ہستی جو تمہاری تخلیق کی ابتدا پر قادر ہے وہ اس تخلیق کا اعادہ کرنے کی بھی قدرت رکھتی ہے، بلکہ اس کا اعادہ زیادہ آسان ہے۔ الاعراف
30 ﴿فَرِيقًا ﴾” ایک فریق کو“ یعنی تم میں سے ایک فریق کو ﴿هَدَىٰ ﴾” اس نے ہدایت دی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت کی توفیق سے نوازا، اس کے اسباب مہیا کئے اور اس کے موانع کو اس سے دور کیا﴿وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ ﴾ ” اور ایک فریق، ثابت ہوگئی اس پر گمراہی“ چونکہ انہوں نے گمراہی کے اسباب اختیار کئے اور ہلاکت کے اسباب پر عمل پیرا ہوئے اس لئے اس لئے اللہ تعالیٰ نے گمراہی کو ان پر واجب کردیا۔ ﴿ إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ اللَّـهِ ﴾” انہوں نے شیطانوں کو رفیق بنایا، اللہ کو چھوڑ کر“ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بناتا ہے وہ واضح خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے اور چونکہ وہ اللہ رحمٰن کی ولایت اور دوستی سے نکل گئے اور انہوں نے شیطان کی دوستی کو پسند کرلیا، اس لئے انہیں اللہ تعالیٰ کی مدد و توفیق سے محرومی میں سے وافر حصہ نصیب ہوا اور چونکہ انہوں نے اپنے آپ پر بھروسہ کیا اس لئے وہ بہت بڑے خسارے میں پڑے گئے۔﴿وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ  ﴾ ” اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں“ یعنی ان کے ہاں حقائق بدل گئے اور انہوں نے باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھ لیا۔ ان آیات کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اوامرونواہی اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے تابع ہیں، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے امر کا حکم دے جسے عقل فحش سمجھتی ہو اور اسے ناپسند کرتی ہو اور اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا۔ اس میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کا دار و مدار اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر ہے اور گمراہی یہ ہے کہ جب بندہ اپنے ظلم و جہالت سے شیطان کو اپنا دوست اور اس کو اپنی گمراہی کا سبب بنا لے تو اللہ اس سے علیحدہ ہوجاتا ہے اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر ہے درآں حالیہ وہ بھٹک چکا ہو تو اس کے لئے کوئی عذر نہیں کیونکہ وہ ہدایت حاصل کرسکتا تھا، لیکن اس نے اپنے گمان ہی کو سب کچھ سمجھا اور ہدایت کی منزل کو پہنچانے والے راستے کو ترک کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ الاعراف
31 اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم پر لباس نازل کرنے کے بعد جس سے وہ اپنا ستر ڈھانپتے ہیں اور زینت اختیار کرتے ہیں، فرمایا : ﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ ﴾” اے بنی آدم ! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزین کیا کرو۔“ یعنی ہر نماز کے وقت، خواہ نماز فرض ہو یا نفل، اپنے ستر کو ڈھانپو، کیونکہ ستر ڈھانپنا ہی بدن کی زینت ہے جیسے ستر کو کھولنا بدن کو قبیح اور بدنما بنا دیتا ہے۔ اس آیت میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس زینت سے مراد لباس کی نظافت ہو۔ پس اس صورت میں آیت کریمہ میں نماز کے اندر ستر ڈھانپنے، زینت اختیار کرنے اور لباس کو میل کچیل اور نجاست سے پاک رکھنے کا حکم ہے۔ پھر فرمایا : ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا﴾ ” اور کھاؤ اور پیو۔“ یعنی ان پاک چیزوں میں سے کھاؤ پیو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی ہیں ﴿وَلَا تُسْرِفُوا  ﴾ اور (ان میں) اسراف نہ کرو۔“ اسراف سے یا تو یہ مراد ہے کہ ماکولات کو اس مقدار سے زیادہ استعمال کرنا جو انسان کو کفایت کرتی ہیں کیونکہ ماکولات کو زیادہ کھانے کی حرص جسم کو نقصان دیتی ہے۔ یا اس سے مراد ہے ماکولات، مشروبات اور ملبوسات میں حد سے زیادہ خرچ کرنا۔ یا مراد ہے حلال سے تجاوز کر کے حرام میں پڑنا۔ ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ﴾” بے شک وہ (اللہ) اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا“ کیونکہ حد سے تجاوز کرنے پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ اسراف انسان کے جسم اور اس کی معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسراف بسا اوقات انسان کو ایسی حالت تک پہنچا دیتا ہے کہ وہ ان نفقات سے بھی عاجز رہ جاتا ہے جو اس پر واجب ہیں۔ اس آیت کریمہ میں کھانے پینے کا حکم ہے اور کھانا پینا چھوڑنے اور اس میں اسراف کرنے کی ممانعت ہے۔ الاعراف
32 اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص پر نکیر کرتا ہے جو تکلیف میں پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی پاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّـهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ ﴾” کہہ دیجیے کہ زینت و آرائش کی چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہیں، ان کو کس نے حرام کیا ہے؟“ انواع و اصناف کے لباس، طیبات رزق یعنی ماکولات و مشروبات کی تمام اقسام کو کس نے حرام قرار دیا ہے؟ یعنی وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو حرام کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں؟ کون ان کو اس بارے میں تنگی میں مبتلا کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے وسعت رکھی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے طیبات کو اس لئے وسیع کیا تاکہ وہ ان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مدد لیں۔ اس نے ان چیزوں کو صرف اپنے مومن بندوں کے لئے مباح کیا ہے۔ بنابریں فرمایا ﴿قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ﴾ ’’کہہ دیجیے ! یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں، خلاص انہی کے واسطے ہوں گی قیامت کے دن“ یعنی ان نعمتوں کے بارے میں ان پر کوئی تاوان نہیں ہوگا۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے بلکہ وہ ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں تو یہ نعمتیں ان کے لئے خالص ہیں نہ ان کے لئے مباح، بلکہ ان نعمتوں کو استعمال کرنے پر ان کو سزا دی جائے گی اور قیامت کے روز ان سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ﴿كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ ﴾ ” ہم اسی طرح آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔“ یعنی ہم ان آیات کی توضیح کرتے ہیں اور ہم ان کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ ﴿ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴾” ان کے لئے جو جانتے ہیں“ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں چنانچہ وہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں اور ان کو سمجھتے ہیں۔ الاعراف
33 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان محرمات کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تمام شریعتوں میں حرام قرار دیا ہے۔ فرمایا : ﴿قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ﴾ ” کہہ دیجیے ! بے شک میرے رب نے حرام کیا ہے بے حیائی کی باتوں کو“ یعنی بڑے بڑے گناہ جن کی برائی اور قباحت کی وجہ سے ان کو فحش اور سخت قبیح سمجھا جاتا ہے مثلاً زنا، سدومیت (عمل قوم لوط) وغیرہ۔ ﴿مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ  ﴾” جوان میں کھلی ہوئی ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں“ یعنی وہ فواحش جن کا تعلق بدن کی حرکات سے ہے اور وہ فواحش جن کا تعلق قلب کی حرکات سے ہے مثلاً تکبر، خودپسندی، ریاء اور نفاق وغیرہ ﴿وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ﴾ ”اور گناہ کو اور ناحق کی زیادتی کو“ یعنی گناہ کے اعمال جو گناہ میں مبتلا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں سزا کے موجب ہیں اور (ْبَغْي) سے مراد ہے لوگوں کے جان و مال اور عزت و ناموس میں ان پر زیادتی وغیرہ۔ پس اس میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق ہیں۔ ﴿ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّـهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا ﴾” اور اس بات کو کہ شریک کرو اللہ کا ایسی چیز کو کہ جس کی اس نے سند نہیں اتاری“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شرک پر کوئی دلیل و برہان نازل نہیں فرمائی بلکہ اللہ تعالیٰ نے توحید کی تائید کے لئے دلائل و براہین نازل فرمائے ہیں اور شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس کے ساتھ مخلوق میں سے کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ بسا اوقات شرک اصغر بھی اسی زمرے میں آجاتا ہے۔ مثلاً ریاء اور غیر اللہ کی قسم وغیرہ۔ ﴿ وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ ” اور اس بات کو کہ اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاؤ جو تم نہیں جانتے“ یعنی اس کے اسماء و صفات، افعال اور اس کی شریعت کے بارے میں لاعلمی پر مبنی بات کہنا۔ ان تمام امور کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور بندوں کو ان میں مشغول ہونے سے روکا ہے کیونکہ یہ امور مفاسد عامہ اور مفاسد خاصہ پر مشتمل ہیں اور یہ امور ظلم و تعدی اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی جناب میں جسارت و جرأت کے موجب، اللہ تعالیٰ کے بندوں پر دست درازی اور اللہ تعالیٰ کے دین اور شریعت میں تغیر و تحریف کا باعث ہیں۔ الاعراف
34 یعنی اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جنت سے نکال کر زمین پر آباد کردیا اور ان کے لئے ایک مدت مقرر کردی۔ قوموں میں سے کوئی قوم اپنی مدت مقررہ سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے، تمام قومیں اکٹھی ہو کر اس مدت مقررہ سے آگے ہوسکتی ہیں نہ ان کے افراد۔ الاعراف
35 جب اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جنت سے نکال دیا تو ان کو رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے آزمایا۔ یہ رسول ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے اور اس کے احکام ان پر واضح کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی فضیلت بیان فرمائی جس نے رسولوں کی دعوت پر لبیک کہا اور اس شخص کا خسارہ بیان کیا جس نے رسولوں کی دعوت کا جواب نہ دیا۔ چنانچہ فرمایا :﴿فَمَنِ اتَّقَىٰ﴾ ” پس جس شخص نے تقویٰ اختیار کیا۔“ یعنی جو ان امور سے بچ گیا جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے مثلاً شرک اور دیگر کبیرہ اور صغیرہ گناہ ﴿ وَأَصْلَحَ﴾ ” اور اس نے (ظاہری اور باطنی اعمال کی) اصلاح کرلی۔“ ﴿ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ ﴾ ” تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا۔“ یعنی وہ اس شر کے خوف سے مامون ہوں گے جس سے دیگر لوگ خوفزدہ ہوں گے۔﴿وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ ” اور نہ وہ (گزرے ہوئے واقعات پر) غمگین ہوں گے۔“ جب ان سے حزن و خوف کی نفی ہوگئی تو انہیں کامل امن اور ابدی فلاح و سعادت حاصل ہوگئی۔ الاعراف
36 ﴿وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا﴾ ” اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا“ یعنی ان آیات پر ان کے دل ایمان لائے نہ ان کے جوارح نے ان آیات کے احکام کی اطاعت کی۔ ﴿ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾” وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“ یعنی جس طرح انہوں نے ہماری آیات کی اہانت کی اور ان کی تکذیب پر جمے رہے، اسی طرح ان کو ہمیشہ رہنے والے عذاب کے ذریعے سے رسوا کیا جائے گا۔ الاعراف
37 یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں جس نے بہتان طرازی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف شریک اور اس کی ذات و صفات کی طرف نقص کی نسبت کی اور اس کی طرف کسی ایسی بات کو منسوب کیا جو اس نے نہیں کہی۔ ﴿أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ﴾ ” یا اس کی آیات کو جھٹلایا۔“ یعنی جس نے حق مبین کو بیان کرنے والی واضح آیات کو جھٹلایا، جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتی ہیں پس یہ لوگ اگرچہ اس دنیا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تاہم انہیں وہ عذاب ضرور مل کر رہے گا جو لوح محفوظ میں ان کے لئے لکھ دیا گیا ہے۔ کوئی چیز ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ وہ اس دنیا سے تھوڑی سی مدت کے لئے فائدہ اٹھائیں گے اور ابد الآباد تک عذاب بھگتیں گے۔ ﴿حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ﴾ ”یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے۔“ یعنی جب ان کے پاس وہ فرشتے آجائیں گے جو ان کی مدت مقررہ پوری کرنے اور روح قبض کرنے پر مامور ہیں ﴿ قَالُوا﴾ یعنی اس حالت میں فرشتے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے : ﴿أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ﴾ ” وہ (بت اور تمہارے خود ساختہ معبود) کہاں ہیں جن کو تم پکارا کرتے تھے؟“ اب ضرورت کا وقت آگیا اگر وہ تمہیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں یا کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں؟ (تو ان کو بلاؤ) ﴿قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا ﴾ ” وہ کہیں گے، وہ ہم سے گم ہوگئے“ یعنی وہ مضمحل اور باطل ہوگئے اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں ہمارے کسی کام کے نہیں۔ ﴿وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ﴾ ” اور وہ اپنے آپ پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے“ یعنی وہ دائمی طور پر رسوا کن عذاب کے مستحق ہیں۔ الاعراف
38 فرشتے ان سے کہیں گے :﴿قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ ﴾ ” ان قوموں میں داخل ہوجاؤ۔“ یعنی ان جملہ امتوں میں داخل ہوجاؤ۔ ﴿قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ﴾” جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزر چکیں“ یعنی وہ بھی اسی راستے پر گامزن رہے تھے جس پر تم چلتے رہے ہو۔ یعنی کفر و استکبار کا راستہ۔۔۔ اس لئے سب رسوائی اور ہلاکت کے مستحق ٹھہرے﴿فِي النَّارِ﴾اور ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہو۔ سرکش اور نافرمان قوموں میں سے جب کوئی قوم جہنم میں داخل ہوگی﴿ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ ” اپنی جیسی جماعت پر لعنت کرے گی۔“ یعنی اپنے جیسے مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم پر لعنت کرے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا ﴾(العنکبوت:29؍25)” قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔“ ﴿حَتَّىٰ إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا﴾ ” یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہوجائیں گے۔“ یعنی جب جہنم میں، اولین و آخرین، قائدین، رؤسا، ان کے پیروکار اور مقلدین سب جمع ہوجائیں گے۔﴿قَالَتْ أُخْرَاهُمْ﴾” تو کہیں گے ان کے پچھلے“ یعنی رؤساء وقائدین کے پیروکار ﴿ لِأُولَاهُمْ﴾” پہلوں کو“ یعنی وہ اپنے سرداروں اور رؤسا کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتے ہوئے کہ انہوں نے گمراہ کیا تھا۔ کہیں گے : ﴿ رَبَّنَا هَـٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ﴾” اے ہمارے رب ! ان ہی لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔“ یعنی اے ہمارے رب انہیں کئی گنا عذاب دے، کیونکہ انہوں نے ہمیں گمراہ کیا اور ناپاک اعمال کو ہمارے سامنے مزین کر کے پیش کیا۔ الاعراف
39 ﴿ وَقَالَتْ أُولَاهُمْ لِأُخْرَاهُمْ﴾” اور کہیں گے ان کے پہلے پچھلوں کو ” یعنی وہ اپنے پیروں کاروں سے کہیں گے : ﴿فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ﴾” پس کچھ نہ ہوئی تم کو ہم پر بڑائی“ یعنی ہم گمراہی، ضلالت اور عذاب کے اسباب اختیار کرنے میں مشترک ہیں۔ تمہیں ہم پر کون سی فضیلت ہے؟ ﴿قَالَ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ﴿لِكُلٍّ ضِعْفٌ﴾ ” تم میں سے ہر ایک کے لئے دوگنا عذاب ہے“ ﴿فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ ﴾ ” اب چکھو عذاب بسبب اپنی کمائی کے“ لیکن یہ معلوم ہے کہ سرداروں اور ائمہ ضلالت کو ان کے پیروکاروں کی نسبت زیادہ سخت اور برا عذاب دیا جائے گا۔ جیسے ائمہ ہدی کو ان کے متبعین کے ثواب کے مقابلے میں زیادہ بڑی نعتموں سے نوازا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ﴾(النحل:16؍88)” وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا ہم انہیں عذاب پر عذاب دیں گے اس پاداش میں کہ وہ فساد برپا کرتے تھے۔ “ یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کی تمام اقسام جہنم میں ہمیشہ رہیں گی، اس کی اتھاہ گہرائی میں سب اکٹھے ہوں گے اگرچہ عذاب کی مقدار میں ان کے اعمال، عناد، ظلم اور افترا پردازی کے مطابق تفاوت ہوگا اور ان کی وہ محبت و مودت جو دنیا میں ان کے مابین تھی، قیامت کے روز دشمنی اور ایک دوسرے پر لعنت میں بدل جائے گی۔ الاعراف
40 اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص کے عذاب کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس نے اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ان پر ایمان نہ لایا۔۔۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات بالکل واضح تھیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کیا اور ان کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا بلکہ انہوں نے ان کو جھٹلایا اور پیٹھ پھیر کر چل دیئے۔۔۔ یہ ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے۔ ان کی روحیں اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے آسمان کی طرف بلند ہوں گی اور اجازت طلب کریں گی مگر ان کو اجازت نہیں ملے گی۔ وہ موت کے بعد آسمان کی طرف اسی طرح بلند نہ ہوسکیں گی جس طرح انہوں نے ایمان باللہ، اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی محبت کی طرف التفات نہ کیا، کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اہل ایمان کی توحید جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی مطیع ہیں، اس کی آیات کی تصدیق کرنے والی ہیں، ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں گے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلند ہوں گی اور عالم علوی میں وہاں پہنچ جائیں گی جہاں اللہ تعالیٰ چاہے گا اور اپنے رب کے قرب اور اس کی رضا کا لطف اٹھائیں گی۔ اہل جہنم کے بارے میں فرمایا : ﴿ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ ﴾ ” وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے، یہاں تک کہ داخل ہو اونٹ“ یعنی معروف اونٹ۔﴿فِي سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ ” سوئی کے ناکے میں“ یعنی جب تک اونٹ جو کہ سب سے بڑا حیوان ہے، سوئی کے ناکے میں سے جو کہ سب سے تنگ گزرنے کی جگہ ہے، نہ گزر جائے۔ یہ کسی چیز کو محال کے ساتھ معلق کرنے کے باب میں سے ہے، یعنی جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں گزرنا محال ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کا جنت میں داخل ہونا محال ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّـهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ:5؍72)”جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ تعالیٰ جنت کو اس پر حرام کر دے گا اور اس کاٹھکانا جہنم ہوگا“ اور یہاں فرمایا :﴿ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ﴾” اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں گناہ گاروں کو“ یعنی وہ لوگ جن کے جرائم بہت زیادہ اور جن کی سرکشی بے انتہا ہے۔ الاعراف
41 ﴿لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ ﴾ ” ان کے لئے جہنم کا بچھونا ہے“ یعنی ان کے نیچے آگ کے بچھونے ہوں گے ﴿ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ﴾” ان کے اوپر سے اوڑھنا“ یعنی عذاب کے بادل ہوں گے جو ان پر چھائے ہوئے ہوں گے ﴿وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ ﴾” اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو“ اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں کو ہم ان کے جرم کے مطابق جزا دیتے ہیں اور تیرا رب اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ الاعراف
42 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نافرمان ظالموں کو دیئے جانے والے عذاب کا ذکر فرمایا، تب اس نے اہل اطاعت بندوں کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا﴾ ” اور جو لوگ ایمان لائے۔“ یعنی جو دل سے ایمان لائے ﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾” اور عمل نیک کرتے رہے۔“ یعنی اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے۔ پس اس طرح وہ ایمان و عمل، اعمال ظاہرہ اور اعمال باطنہ کو جمع کرتے ہیں اور بیک وقت فعل واجب اور ترک محرمات پر عمل کرتے ہیں۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ایک عام لفظ ہے جو واجب اور مستحب تمام نیکیوں کو شامل ہے، اور بسا اوقات بعض نیکیاں بندے کی مقدرت سے باہر ہوتی ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ ” ہم ہر نفس کو اس کی طاقت کے مطابق مکلف کرتے ہیں“ اور اس کی مقدرت سے بڑھ کر اس پر بوجھ نہیں ڈالتے۔ لہٰذا اس حال میں اس پر فرض ہے کہ وہ استطاعت بھر اللہ تعالیٰ سے ڈرے اگر بعض فرائض و واجبات کی تعمیل سے عاجز ہو اور ان کو بجا لانے پر قادر نہ ہو تو یہ فرائض اس پر سے ساقط ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾(البقرۃ:2؍286)” اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا“ یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص پر صرف وہی چیز فرض کرتا ہے جسے سر انجام دینے کی وہ طاقت رکھتا ہے۔ فرمایا : ﴿ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَ ﴾(الطلاق :65؍7) ” اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا مگر صرف اسی کے مطابق جو اس کو عطا کیا ہے“ فرمایا : ﴿ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ﴾ (الحج :22؍78) ” اور (اللہ تعالیٰ نے) تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔“ فرمایا : ﴿فَاتَّقُوا اللَّـهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ (التغابن :64؍16) ” پس جہاں تک طاقت ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔“ پس معلوم ہوا کہ عاجز ہونے کی صورت میں واجب کی ادائیگی لازم نہیں اور نہ اضطراری صورتحال میں محرمات سے اجتناب واجب رہتا ہے۔ ﴿أُولَـٰئِكَ﴾” ایسے ہی لوگ“ یعنی ایمان اور عمل صالح سے متصف لوگ ﴿ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ ” اہل بہشت ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“ یعنی انہیں جنت سے نکالا نہیں جائے گا اور نہ وہ خود جنت کے بدلے کوئی اور چیز چاہیں گے، کیونکہ انہیں جنت میں انواع و اقسام کی لذتیں حاصل ہوں گی، تمام خواہشات پوری ہوں گی، انہیں کوئی روک ٹوک نہ ہوگی اور اس سے بلند تر کسی مقام کی طلب نہ ہوگی۔ الاعراف
43 ﴿ وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ﴾” اور نکال لیں گے ہم جو کچھ ان کے دلوں میں خفگی ہوگی“ یہ اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور احسان ہوگا کہ دنیا میں ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کینہ اور بغض اور ایک دوسرے سے مقابلے کی جو رغبت موجود تھی، اللہ تعالیٰ اس کو زائل اور ختم کر دے گا یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے والے بھائی اور باصفا دوست ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ﴾(الحجر:15؍47)’’اور ان کے دلوں میں جو کینہ اور کدورت ہوگی ہم اسے نکال دیں گے اور وہ بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔“ اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم عطا کرے گا جس پر ہر ایک کو خوشی اور مسرت ہوگی اور ہر ایک یہی سمجھے گا کہ جو نعمتیں اسے عطا ہوئی ہیں ان سے بڑھ کر کوئی اور نعمت نہیں اس لئے وہ حسد اور بغض سے محفوظ ومامون رہیں گے، کیونکہ حسد اور بغض کے تمام اسباب منقطع ہوجائیں گے۔﴿تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ ﴾ ”بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں“ یعنی وہ جب چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے نہریں نکال لیں گے۔ اگر وہ نہریں اپنے محلات میں لے جانا چاہیں یا اپنے بلند و بالا خانوں میں یا پھولوں سے سجے ہوئے باغات کی روشوں میں لے جانا چاہیں تو لے جائیں گے۔ یہ ایسی نہریں ہوں گی جن میں گڑھے نہیں ہوں گے اور بھلائیاں ہوں گ جن کی کوئی حد نہ ہوگی۔ ﴿وَ﴾ ” اور“ اس لئے جب وہ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کو دیکھیں گے ﴿ قَالُوا الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا﴾ ’’کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں کا راستہ دکھایا۔“ یعنی وہ پکار اٹھیں گے ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے ہم پر احسان فرمایا، ہمارے دلوں میں الہام فرمایا اور اس پر ایمان لے آئے اور ایسے اعمال کئے جو نعمتوں کے اس گھر تک پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ایمان و اعمال کی حفاظت کی حتیٰ کہ اس نے ہمیں اس جنت میں داخل کردیا۔ بہت ہی اچھا ہے وہ رب کریم جس نے ہمیں نعمتیں عطا کیں، ظاہری اور باطنی اتنی نعمتوں سے نوازا کہ کوئی ان کو شمار نہیں کرسکتا۔ ﴿ وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّـهُ ﴾’’اور اگر اللہ ہم کو راستہ نہ دکھاتا تو ہم راستہ نہ پاسکتے۔“ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اپنی ہدایت اور اتباع رسل سے نہ نوازا ہوتا تو ہمارے نفوس میں ہدایت کو قبول کرنے کی قابلیت نہ تھی۔ ﴿ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ۖ﴾” یقیناً لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات“ یعنی جب وہ ان نعمتوں سے متمتع ہو رہے ہوں گے جن کے بارے میں انبیاء و مرسلین نے خبر دی تھی اور یہ خبر ان کے لئے علم الیقین کے بعد حق الیقین بن گئی۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے یہ بات متحقق ہوگئی اور ہم نے ہر وہ چیز دیکھ لی ہے جس کا انبیا و رسل نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا اور یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ وہ سب کچھ حق الیقین ہے جو انبیاء و مرسلین لے کر مبعوث ہوئے۔ جس میں کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال نہیں۔ ﴿وَنُودُوا﴾ ” اور منا دی کردی جائے گی۔“ تہنیت و اکرام اور سلام و احترام کے طور پر انہیں پکارا جائے گا ﴿ أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا ﴾ ” یہ جنت ہے، وارث ہوئے تم اس کے“ یعنی تم اس کے وارث ہو اور یہ تمہاری جاگیر ہے، جب کہ جہنم کافروں کی جاگیر ہوگی۔ ﴿بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴾ ” اپنے اعمال کے بدلے میں“ سلف میں سے کسی نے فرمایا ہے کہ اہل جنت اللہ تعالیٰ کے عفو کی وجہ سے جہنم سے نجات پائیں گے، اس کی رحمت کی بنا پر جنت میں داخل ہوں گے اور اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث بنیں گے اور اس کی منازل کو باہم تقسیم کریں گے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے، بلکہ اس کی رحمت کی بلند ترین نوع ہے۔ الاعراف
44 اللہ تعالیٰ، یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اہل ایمان اور کفار جنت اور جہنم میں اپنے اپنے ٹھکانوں میں داخل ہوجائیں گے اور وہاں سب کچھ ویسا ہی پائیں گے جیسا انبیاء و رسل نے ان کو خبر دی تھی اور جیسا کہ ثواب و عقاب کے بارے میں انبیا کی لائی ہوئی کتابوں میں تحریر تھا، فرماتا ہے کہ اہل جنت جہنمیوں کو پکار کر کہیں گے : ﴿أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا ﴾” کہ جو وعدہ ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پا لیا۔“ جب اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے اور نیک عمل کرنے پر جنت کا وعدہ کیا تو ہم نے اس کے وعدہ کو سچاپایا، اس نے ہمیں جنت میں داخل کردیا ہم نے وہاں وہ سب کچھ دیکھا جو اس نے ہمارے لیے بیان کیا تھا ﴿فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا﴾” بھلا جو وعدہ تمہارے رب نے تم سے کیا تھا، کیا تم نے بھی اسے سچا پایا؟“ یعنی تمہارے کفر اور معاصی پر تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے سچاپایا؟ ﴿قَالُوا نَعَمْ ﴾ ” وہ کہیں گے، ہاں !“ ہم نے اسے سچ پایا۔ پس تمام مخلوق کے سامنے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بات سے زیادہ کس کی بات سچی ہوسکتی ہے؟ تمام شکوک و شبہات دور ہوجائیں گے اور معاملہ حق الیقین بن جائے گا۔ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے وعدے پر خوش ہوں گے، کفار بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے۔ وہ اپنے بارے میں خود اقرار کریں گے کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں۔ ﴿فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ﴾” تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا۔“ پکارنے والا اہل جہنم اور اہل جنت کے درمیان پکار کر کہے گا : ﴿أَن لَّعْنَةُ اللَّـهِ ﴾ ” کہ لعنت ہے اللہ کی‘‘ یعنی ہر بھلائی سے بعد اور محرومی﴿عَلَى الظَّالِمِينَ ﴾” ظالموں پر“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اپنی رحمت کے دروازے کھولے مگر انہوں نے اپنے ظلم کی وجہ سے ان سے منہ موڑا، خود اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور دوسروں کو بھی اس راستے پر نہ چلنے دیا۔ پس وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا راستہ سیدھا رہے اور اس پر چلنے والے اعتدال کے ساتھ اس پر گامزن رہیں۔ الاعراف
45 ﴿وَ﴾ ” اور“ یہ کفار ﴿يَبْغُونَهَا عِوَجًا﴾” ڈھونڈتے ہیں اس میں کجی“ یعنی سیدھے راستے سے ہٹا ہوا ﴿وَهُم بِالْآخِرَةِ كَافِرُونَ﴾” اور وہ آخرت کے منکر تھے“ یہی کفر ہے جو راہ راست سے ان کے انحراف کا باعث بنا اور یہی کفر ہے جو نفس کی شہوات محرمہ کو محور بنانے، آخرت پر عدم ایمان، عذاب سے عدم خوف اور ثواب سے نا امیدی کا موجب بنا۔ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اہل ایمان پر سایہ کناں، اس کا فضل ان کے شامل حال اور اس کا احسان ان پر متواتر ہے۔ الاعراف
46 یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ایک حجاب ہوگا جسے ” مقام اعراف“ کہا جائے گا۔ یہ مقام جنت میں شامل ہوگا نہ جہنم میں۔ اس مقام سے جنت اور جہنم دونوں میں جھانکا جا سکے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو دیکھا جا سکے گا۔ اس مقام اعراف میں کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم کو ان کی ان علامات کے ذریعے سے پہچانتے ہوں گے جو ان کی امتیازی علامات ہیں۔ جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو پکار کر کہیں گے ﴿أَن سَلَامٌ عَلَيْكُمْ﴾ ” سلامتی ہے تم پر“ یعنی وہ ان پر سلام کہیں گے۔ وہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے البتہ وہ جنت میں داخلے کے امیدوار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں امید تب ہی جاگزیں کرتا ہے جب وہ ان کو اپنی تکریم سے نوازنے کا ارادہ کرتا ہے۔ الاعراف
47 ﴿وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ ﴾” اور جب ان کی نظر اہل جہنم کی طرف جائے گی“ تو ان کو بہت ہی ہولناک اور قبیح منظر دیکھنے کو ملے گا۔ تو وہ پکار اٹھیں گے۔ ﴿ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴾ ” اے ہمارے رب ہم کو ظالموں کے ساتھ نہ کرنا“ اہل اعراف جب اہل جنت کو دیکھیں گے تو وہ بھی جنت میں ان کی معیت کی خواہش کریں گے اور وہ ان کو تحیہ و سلام پیش کریں گے اور جب غیر اختیاری طور پر ان کی نظریں اہل جہنم کی طرف اٹھیں گی تو وہ عمومی طور پر ان کی حالت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں گے۔ الاعراف
48 عمومی ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے خصوصی ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ رِجَالًا يَعْرِفُونَهُم بِسِيمَاهُمْ﴾’’اور اعراف والے پکاریں گے ان لوگوں کو کہ ان کو پہچانتے ہوں گے ان کی نشانی سے۔“ اور وہ اہل جہنم ہوں گے، وہ دنیا میں شرف و آبرو اور مال و اولاد والے تھے۔۔۔ ان کو اکیلے عذاب میں مبتلا دیکھ کر کہ اب ان کا کوئی حامی و ناصر نہیں۔۔۔ کہیں گے : ﴿ مَا أَغْنَىٰ عَنكُمْ جَمْعُكُمْ﴾ ” آج تمہاری جماعت تمہارے کچھ کام نہ آئی۔“ یہاں تمہارے وہ جتھے کام نہ آئے جن کی مدد سے دنیا میں اپنی تکالیف دور کیا کرتے تھے۔ دنیاوی مطالب کے حصول کے لئے ان کو وسیلہ بنایا کرتے تھے۔ آج ہر چیز مضمحل ہوگئی اور کچھ بھی تمہارے کام نہ آیا اور اسی طرح حق، حق لانے والے اور حق کی اتباع کرنے والوں کے مقابلے میں تمہارے تکبر نے تمہیں کیا فائدہ دیا؟ پھر وہ اہل جنت کی طرف، جو دنیا میں کمزور و ناتواں اور محتاج ہوا کرتے تھے۔۔۔ اشارہ کر کے اہل جہنم سے کہیں گے الاعراف
49 ﴿أَهَـٰؤُلَاءِ﴾” اب یہ وہی ہیں“ یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل کیا ﴿الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ﴾ ” جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اللہ اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا۔“ یعنی تم لوگ اہل ایمان کے ساتھ نفرت اور حقارت کا اظہار کرتے ہوئے نہایت خودپسندی کے ساتھ قسمیں اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے نہیں نوازے گا۔ اب تم اپنی قسموں میں جھوٹے ہوگئے ہو۔ اس چیز کی حقیقت تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردی ہے جسے تم کسی شمار میں نہیں لایا کرتے تھے۔ ﴿ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ﴾” تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔“ یعنی اپنے اعمال کے صلہ میں جنت میں داخل ہوجاؤ یعنی کمزور اور ناتواں لوگوں کو اکرام و احترام کے ساتھ کہا جائے گا کہ اپنے نیک اعمال کی جزا کے طور پر جنت میں داخل ہوجاؤ﴿لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ ﴾مستقبل میں تمہیں کسی تکلیف کا خوف نہ ہوگا ﴿وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ﴾اور جو کچھ گزر گیا ہے تم اس پر غمزدہ نہیں ہو گے۔ بلکہ تم محفوظ و مامون، مطمئن اور ہر بھلائی پر فرحاں و شاداں ہو گے۔۔۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے !﴿إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ لَضَالُّونَ وَمَا أُرْسِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ﴾(المطففين: 83؍ 29۔35)” وہ مجرم جو دنیا میں اہل ایمان پر ہنسا کرتے تھے جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کیا کرتے تھے اپنے گھر واپس لوٹتے تو اکڑفوں کے ساتھ اتراتے ہوئے لوٹتے اور جب اہل ایمان کو دیکھتے تو کہتے یہ تو گمراہ ہیں۔ حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ آج اہل ایمان کافروں پر ہنسیں گے اور اپنے تختوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے۔ “ اہل علم اور مفسرین میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اصحاب اعراف سے کیا مراد ہے اور ان کے اعمال کیا ہیں۔ اس بارے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ اصحاب اعراف وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ نہ تو ان کی برائیاں زیادہ ہوں گی جس کی بنا پر وہ جہنم میں داخل ہوجائیں اور نہ ان کی نیکیاں زیادہ ہوں گی کہ جنت میں داخل ہوجائیں۔ پس جب تک اللہ چاہے گا یہ لوگ مقام اعراف میں قیام کریں گے پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انہیں جنت میں داخل کرے گا کیونکہ اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت کرتی اور غالب آتی ہے اور اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ الاعراف
50 جب اہل جہنم کو عذاب پوری طرح گھیر لے گا، جب وہ بے انتہا بھوک اور انتہائی تکلیف دہ پیاس میں مبتلا ہوں گے تو وہ اہل جنت کو پکار کر مدد کے لئے بلائیں گے اور کہیں گے : ﴿أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ﴾ ”بہاؤ ہم پر تھوڑا سا پانی یا کچھ اس میں سے جو روزی دی تم کو اللہ نے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھانا تمہیں عطا کیا ہے، اہل جنت ان کو جواب میں کہیں گے : ﴿ إِنَّ اللَّـهَ حَرَّمَهُمَا﴾ ” اللہ نے ان دونوں کو حرام کردیا ہے“ یعنی جنت کا پانی اور کھانا ﴿عَلَى الْكَافِرِينَ﴾” کافروں پر“ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور انہوں نے اس دین کو۔۔۔ جس پر قائم رہنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور اس پر انہیں بڑے اجر کا وعدہ کیا گیا تھا، الاعراف
51 کھیل تماشا بنا لیا ﴿ لَهْوًا وَلَعِبًا﴾ ” تماشا اور کھیل“ یعنی ان کے دل غافل اور دین سے گریزاں تھے اور انہوں نے دین کا تمسخر اڑایا۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے دین کے بدلے لہو و لعب کو اختیار کرلیا اور دین قیم کے عوض لہو و لعب کو چن لیا۔ ﴿وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ﴾ ” اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا۔‘ یعنی دنیا نے اپنی زیب و زینت سے اور دنیا کی طرف بلانے والوں کی کثرت نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا۔ پس وہ دنیا سے مطمئن ہو کر اس سے خوش اور راضی ہوگئے اور آخرت سے منہ موڑ کر اسے بھول گئے ﴿فَالْيَوْمَ نَنسَاهُمْ﴾ ” پس آج ہم ان کو بھلا دیں گے“ یعنی انہیں عذاب میں چھوڑ دے رہے ہیں ﴿كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَـٰذَا﴾ ” جیسا انہوں نے بھلا دیا اس دن کے ملنے کو“ گویا کہ وہ صرف دنیا ہی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ان کے سامنے کوئی مقصد اور کوئی جزا نہیں ﴿وَمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ ﴾ ” اور جیسا کہ وہ ہماری آیتوں کے منکر تھے۔ “ الاعراف
52 حال یہ ہے کہ ان کا یہ کفر و حجود اس بنا پر نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی روشن دلیلوں کو سمجھنے سے قاصر تھے ﴿ جِئْنَاهُم بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ﴾’’ ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔“ بلکہ ہم تو ان کے پاس ایک ایسی کتاب لے کر آئے جس میں ہم نے وہ تمام مطالب کھول کھول کر بیان کردیئے ہیں مخلوق جن کی محتاج ہوتی ہے۔ ﴿عَلَىٰ عِلْمٍ﴾ ” خبر داری سے“ یعنی ہر زمان و مکان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کا علم رکھتا ہے کہ ان کے لئے کیا درست ہے اور کیا درست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کھول کھول کر بیان کرنا اس ہستی کا سا نہیں جو معاملات کا علم نہیں رکھتی اور بعض احوال اس سے اوجھل رہ جاتے ہیں اور اس سے کوئی نامناسب فیصلہ ہوجاتا ہے۔ بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا بیان کرنا اس ہستی کا سا ہے جس کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ ﴿ هُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴾ ” اور وہ مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔“ یعنی اس کتاب کے ذریعے سے اہل ایمان کے لئے گمراہی میں سے ہدایت واضح ہوجاتی ہے۔ حق و باطل اور رشد وضلالت کے درمیان فرق واضح اور نمایاں ہوجاتا ہے، نیز وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ دنیا و آخرت میں بھلائی اور سعادت کا نام ہے اور ان سے اس رحمت کے ذریعے سے گمراہی اور شقاوت دور ہوجاتی ہے۔ الاعراف
53 وہ لوگ جو عذاب کے مستحق ٹھہرے، وہ اس عظیم کتاب پر ایمان نہ لائے تھے اور انہوں نے اس کے اوامرو منہیات کے احکام کی تعمیل نہیں کی تھی اب ان کے لئے کوئی چارہ سوائے اس کے نہیں رہا کہ وہ اس عذاب کے مستحق ہوں اور وہ عذاب ان پر ٹوٹ پڑے جس کے بارے میں قرآن نے آگاہ فرمایا تھا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ﴾ ” کیا اب وہ اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہوجائے“ یعنی کیا وہ اس امر کے واقع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جس کی خبر دی گئی ہے، جیسا کہ یوسف نے اس وقت فرمایا تھا جب ان کا خواب سچا ہوگیا ﴿ هَـٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ﴾(یوسف:12؍100) ’’یہ حقیقت ہے میرے خواب کی جو اس سے قبل میں نے دیکھا“ فرمایا : ﴿يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ يَقُولُ الَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبْلُ﴾ ” جس دن ظاہر ہوجائے گا اس کا مضمون، کہنے لگیں گے وہ لوگ جو اس کو بھول رہے تھے پہلے سے“ یعنی جو کچھ بیت گیا ہے اس پر ندامت اور تاسف کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے سفارش تلاش کرتے ہوئے اس چیز کا اقرار کر کے جسے لے کر انبیاء و مرسلین مبعوث ہوئے۔ کہیں گے :﴿قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوا لَنَا أَوْ نُرَدُّ﴾” بے شک لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات، سو اب کوئی ہماری سفارش کرنے والے ہیں تو ہماری سفارش کریں یا ہم لوٹا دیئے جائیں“ ﴿فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ﴾ ” تو ہم عمل کریں خلاف اس کے جو ہم کر رہے تھے“ حالانکہ دنیا کی طرف واپس لوٹنے کا وقت گزر چکا ہے﴿فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ﴾(المدثر :74؍ 48) ” پس سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔“ ان کی دنیا میں واپس لوٹنے کی التجا، تاکہ وہ نیک عمل کرسکیں، محض جھوٹ ہے ان کا مقصد تو محض اس عذاب کو دور کرنا ہے جو ان پر وارد ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ﴾ (الانعام :6؍ 28) ” اگر انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔ بے شک یہ جھوٹ ہیں۔ “ ﴿قَدْ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ﴾” بے شک نقصان میں ڈالا انہوں نے اپنے آپ کو“ جب کہ وہ منافع سے محروم ہوگئے اور ہلاکت کی راہوں پر جا نکلے۔ یہ خسارہ مال اور اثاثوں یا اولاد کا خسارہ نہیں بلکہ یہ تو ایسا خسارہ ہے کہ متاثرین کے لئے اس کی کوئی تلافی ہی نہیں۔ ﴿ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ ﴾ ” اور گم ہوجائے گا ان سے جو وہ افتراء کیا کرتے تھے“ یعنی دنیا میں اپنی خواہشات نفس اور شیطان کے وعدوں کے مطابق بہتان طرازی کیا کرتے تھے اور اب ان کے سامنے وہ کچھ آگیا جو ان کے کسی حساب ہی میں نہ تھا۔ ان کے سامنے ان کا باطل اور گمراہی اور انبیاء و مرسلین کی صداقت روز روشن کی طرح واضح ہوگئی۔ الاعراف
54 اللہ تبارک و تعالیٰ واضح کرتا ہے کہ وہ اکیلا رب معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ چنانچہ فرماتا ہے : ﴿إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ﴾” بے شک تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو“ اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، زمین و آسمان کی وسعت، ان کی عظمت، ان کے محکم ہونے، ان کے مہارت کے ساتھ بنے ہوئے اور ان کی انوکھی تخلیق کے باوصف ﴿ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ﴾ ” چھ دن میں“ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق پوری کردی اور ان کے اندر اپنے تمام امور ودیعت کردیئے۔ ﴿اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ﴾ ” وہ عرش پر جا ٹھہرا۔“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ عرش عظیم پر مستوی ہوا اور عرش عظیم تمام آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے، سب پر محیط ہے۔ اللہ تعالیٰ عرش عظیم پر اس طرح مستوی ہوا جس طرح اس کے جلال، اس کی عظمت اور اس کی سلطنت کے لائق ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی ہوا، اس کا اقتدار تمام ممالک کو شامل ہے، اس نے اپنے تمام احکام تکوینی اور احکام دینی جاری فرمائے۔ بنابریں فرمایا : ﴿يُغْشِي اللَّيْلَ ﴾ ” اڑھاتا ہے وہ رات کو“ ﴿ النَّهَارَ﴾ ” دن پر“ یعنی اندھیری رات روشن دن کو ڈھانپ لیتی ہے اور زمین پر اندھیرا چھا جاتا ہے، انسان آرام کرتے ہیں اور مخلوقات اپنے اپنے مسکنوں میں دن بھر کے آنے جانے اور تھکاوٹ سے آرام پاتے ہیں۔ ﴿ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا﴾” کہ وہ اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا“ جب رات آتی ہے تو دن چلا جاتا ہے اور جب دن آتا ہے تو رات چلی جاتی ہے اور یہ گردش لیل و نہار ہمیشہ جاری رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کی بساط لپیٹ دے گا اور بندے اس جہان فانی سے دوسرے جہان میں منتقل ہوجائیں گے۔﴿وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ﴾ ” اور پیدا کئے سورج، چاند اور تارے، تابع دار اپنے (اللہ) کے حکم کے“ یعنی سورج، چاند اور ستارے اس کی تسخیر و تدبیر سے مسخر ہیں، جو اس کے اوصاف کمال کی دلیل ہے۔ پس ان کی تخلیق اور ان کا اتنا بڑا ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ پر اور اس کائنات کا محکم، مضبوط اور منظم ہونا اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ پر دلالت کرتا ہے اور سورج، چاند اور ستاروں میں جو ضروری اور بعض دیگر فوائد اور مصالح رکھے گئے ہیں، وہ اس کے بے کراں علم اور بے پایاں رحمت پر دلیل ہیں۔ نیز اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ﴿ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ﴾”اسی کے لئے ہے پیدا کرنا بھی اور حکم بھی۔“ یعنی وہی تخلیق کا مالک ہے جس سے تمام مخلوقات مخلوق علوی، مخلوق سفلی، ان کے اعیان، اوصاف اور افعال صادر ہوتے ہیں اور امر کا بھی مالک ہے جو شریعت و نبوت کو متضمن ہے۔ پس ” تخلیق“ اس کے احکام کونی و قدری کو اور ” امر“ احکام دینی و شرعی کو متضمن ہے اور احکام جزا کا اجراء دار بقا میں ہوگا ﴿ تَبَارَكَ اللَّـهُ ﴾ یعنی وہ بلند اور عظمت والا ہے اس کی بھلائی اور احسان بہت زیادہ ہے، وہ اپنی ذات کے اعتبار سے بھی اپنی عظمت اوصاف اور کمال صفات کی بنا پر بہت بابرکت ہے اور مخلوق کو بے پایاں بھلائی اور بے شمار نیکی سے نواز کر دوسروں کو بھی برکت عطا کرتا ہے۔ پس اس کائنات میں جو برکات نظر آتی ہیں وہ اس کی رحمت کے آثار ہیں۔ بنابریں فرمایا : ﴿تَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ﴾ ” بڑا بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی صفت عظمت و جلال کا ذکر فرمایا جو عقل مندوں کی اس حقیقت کی طرف راہ نمائی کرتی ہے کہ تمام حوائج میں وہی اکیلا معبود مقصود ہے۔ تو اب اس چیز کا حکم دیا جو اس حقیقت پر مترتب ہوتی ہے۔ الاعراف
55 ” دعا“ میں دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت دونوں شامل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اسے پکاریں ﴿ تَضَرُّعًا﴾ ” عاجزی سے۔“ یعنی گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور جم کر اس کی عبادت کریں۔ ﴿وَخُفْيَةً ۚ﴾ ” اور چپکے سے“ یعنی با آواز بلند اور علانیہ نہ گڑا گڑائیں جس سے ریا کا خدشتہ ہو بلکہ چھپ چھپ کر خالص اللہ تعالیٰ کے لئے آہ وزاری کریں ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾” وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔“ یعنی تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بھی حد سے تجاوز ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے ایسی چیزوں کا سوال کرے جو بندے کے لئے درست نہیں، یا دوسرے سے سوال کرنا ہی چھوڑ دے، یا وہ بہت زیادہ بلند آواز میں دعا مانگے۔ یہ تمام امور تجاوز حدود میں شامل ہیں جو ممنوع ہیں۔ الاعراف
56 ﴿وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ﴾ ” اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔“ یعنی اپنی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین میں فساد نہ پھیلاؤ﴿بَعْدَ إِصْلَاحِهَا﴾ ” اس کی اصلاح کے بعد“ یعنی اطاعت اور نیکی کے ذریعے سے اس کی اصلاح کرلینے کے بعد، کیونکہ معاصی اخلاق، اعمال اور رزق کو فاسد کردیتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ﴾(الروم:30؍41) ’’لوگوں کی بد اعمالیوں کے سبب سے بحر و بر میں فساد پھیل گیا۔“ جیسے نیکیوں سے اخلاق، اعمال، رزق اور دنیا و آخرت کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے۔ ﴿وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا ۚ﴾ ” اور اس (اللہ) سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہو۔“ اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور اس کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اسے پکارو، نیز یہ امید بھی رکھو کہ اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول فرمائے گا اور اس بات سے بھی ڈرو کہ کہیں اللہ تعالیٰ دعا کو رد نہ کر دے۔ اس بندے کی طرح دعا نہ مانگو جو ناز و ادا کے ذریعے سے اپنے رب کے سامنے جرأت اور گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے۔ جو خودپسندی کا شکار ہے اور جس نے اپنے نفس کو اس کی اصل حیثیت سے بڑھ کر حیثیت دی ہے اور نہ اس شخص کی طرح دعا مانگو جو غافل دل کے ساتھ دعا مانگتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آداب دعا کے بارے میں جو کچھ ذکر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ دعا میں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص ہو اور دعائے خفی اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کو متضمن ہے۔ دعا کا چھپانا اور اس کا اخفاء یہ ہے کہ دل اللہ تعالیٰ سے خائف ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دعا کی قبولیت کی امید رکھتا ہو، غافل دل کے ساتھ دعا نہ کرے، اپنے آپ کو مامون نہ سمجھے اور نہ قبولیت دعا کے بارے میں بے پروائی کا اظہار کرے اور یہ چیز دعا میں احسان کا درجہ رکھتی ہے۔ کیونکہ ہر عبادت میں احسان یہ ہے کہ بندہ اس عبادت میں اپنی پوری جدوجہد صرف کر دے، اسے نہایت کا مل طریقے سے ادا کرے اور کسی طور بھی اس میں نقص واقع نہ ہونے دے۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِنَّ رَحْمَتَ اللَّـهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ ﴾” اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مقام احسان پر پہنچنے والے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنے والے لوگ۔ پس بندہ جتنا زیادہ احسان کے مقام پر فائز ہوگا اتنی ہی زیادہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے قریب ہوگی۔ اس آیت کریمہ میں احسان کی ترغیب ہے، جو مخفی نہیں۔ الاعراف
57 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی قدرت اور رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ﴾” اور وہی ہے جو چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والی اس کی رحمت (بارش) سے پہلے“ یعنی وہ ہوائیں جو بارش کی خوشخبری دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے بادلوں کو زمین سے اٹھاتی ہیں اور مخلوق اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے اور اس کے برسنے سے قبل ان کے دلوں میں خوشی کے کنول کھل اٹھتے ہیں۔﴿حَتَّىٰ إِذَا أَقَلَّتْ﴾ ” یہاں تک کہ جب وہ اٹھا لاتی ہیں“ یعنی ہوائیں ﴿ سَحَابًا ثِقَالًا﴾” بھاری بادلوں کو“ بعض ہوائیں ان بادلوں کو اٹھاتی ہیں، بعض دوسری ہوائیں ان کو اکٹھا کرتی ہیں اور کچھ ہوائیں ان کو بار دار کرتی ہیں﴿سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ﴾ ” تو ہانک دیتے ہیں ہم اس (بادل) کو ایک مردہ شہر کی طرف“ اس علاقے کے حیوانات ہلاکت کے قریب اور وہاں کے باسی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو چکے تھے ﴿فَأَنزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ﴾ ” پھر اس (بادل) سے مینہ برساتے ہیں۔“ یعنی اس بادل کے ذریعے سے ہم نے اس مردہ زمین پر خوب پانی برسایا، اللہ تعالیٰ نے ایک ہوا کو مسخر کیا جو بادلوں کو پانی سے لبریز کرتی ہے اور دوسری ہوا اللہ کے حکم سے ان بادلوں کو لخت لخت کر کے بکھیرتی ہے ﴿فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ﴾” پھر نکالتے ہیں ہم اس سے ہر طرح کے پھل“ پس وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر خوش ہوجاتے ہیں اور اس کی بھلائی سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ﴿ كَذَٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾’’اسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو تاکہ تم نصیحت پکڑو“ یعنی جس طرح ہم نے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اس کو نباتات کے ذریعے سے زندہ کیا اسی طرح ہم مردوں کو، جب وہ اپنی قبروں میں ریزہ ریزہ ہو کر مٹی بن چکے ہوں گے، زندہ کریں گے۔ یہ استدلال بہت واضح ہے دونوں امور میں کوئی فرق نہیں۔ زندگی بعد موت کو بعید سمجھتے ہوئے اس کا انکار کرنا۔۔۔ حالانکہ اس کا انکار کرنے والا اس کے نظائر کا مشاہدہ کرتا ہے۔۔۔ عناد اور محسوسات کے انکار کے زمرے میں آتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو چشم غفلت سے دیکھنے کی بجائے چشم عبرت سے ان میں غور کرنے اور تدبر و تفکر کی ترغیب دی گئی ہے۔ الاعراف
58 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان مختلف قطعات زمین میں تیں قطعات کا ذکر فرمایا ہے جس پر بارش برستی ہے۔ ﴿وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ﴾” اور جو شہر پاکیزہ ہے“ یعنی جس کی مٹی اور اصل پاکیزہ ہے، جب اس پر بارش اترتی ہے ﴿ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ﴾ ” اس کا سبزہ نکلتا ہے“ جو اس کے لئے تیار ہوتی ہے ﴿ بِإِذْنِ رَبِّهِ﴾” اس کے رب کے حکم سے“ یہ نباتات اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادے سے ظاہر ہوتی ہیں اور جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو تو اشیا کے وجود میں اسباب کوئی مستقل حیثیت نہیں رکھتے۔ ﴿وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا﴾” اور جو خراب زمین ہے اس میں سے خراب اور حسیس نباتات ہی نکلتی ہیں“ جس میں کوئی فائدہ اور کوئی برکت نہیں ہوتی۔﴿كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَشْكُرُونَ﴾ ”اسی طرح ہم آیتوں کو شکر گزار لوگوں کے لئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔“ یعنی ہم آیات کی مختلف انواع اور مثالیں ان لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف اور اقرار کر کے اس کے شکر گزار ہوتے ہیں اور ان نعمتوں میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق تصرف کرتے ہیں۔ پس یہی لوگ ہیں جو ان احکام اور مطالب الٰہیہ سے مستفید ہوتے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تفصیل بیان کی ہے کیونکہ وہ ان احکام الٰہیہ کو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت خیال کرتے ہیں جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس پہنچی ہے اور وہ اپنے آپ کو اس نعمت کا محتاج سمجھتے ہوئے اسے خوشی خوشی قبول کرتے ہیں اور ان احکام میں غور و فکر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی استعداد کے مطابق ان کے سامنے ان احکام کے معانی بیان کردیتا ہے۔ یہ دلوں کے لئے ایک مثال ہے جب ان پر وحی الٰہی کا نزول ہوتا ہے یہ مادہ حیات ہے اور بادل بارش کا مادہ ہے۔ قلوب طاہرہ کے پاس جب وحی آتی ہے تو اسے قبول کرتے ہیں اور اسے سیکھتے ہیں اور اپنی فطرت کی پاکیزگی اور اپنے عنصر کی اچھائی کے مطابق نشو و نما پاتے ہیں۔ قلوب خبیثہ جن میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی جب ان کے پاس وحی آتی ہے تو وہ قابل قبول مقام و محل نہیں پاتی بلکہ وہ انہیں غافل اور روگرداں یا مخالفت کرنے والے پاتی ہے۔ پس اس کی مثال اس بارش کی مانند ہے جو شور زدہ زمین، ریت کے ٹیلوں اور چٹانوں پر برستی ہے تو ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا﴾(الرعد:13؍17) الخ ” اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اپنے اپنے اندازے کے مطابق ندی نالے بہہ نکلے اور پانی نے پھولا ہوا جھاگ اٹھایا۔ “ الاعراف
59 جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے دلائل میں سے ایک اچھا حصہ ذکر فرمایا، تو اب اس کی تائید میں انبیائے کرام کا، جو اس کی توحید کے داعی تھے اور اس رویے کا جو ان کی امتوں کے منکرین توحید کی طرف سے پیش آیا، اسے بیان فرما رہا ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے اہل توحید کی تائید فرمائی اور انبیاء و مرسلین سے عناد رکھنے والوں اور ان کی اطاعت نہ کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔۔۔ اور کیسے انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک ہی دین اور ایک ہی عقیدہ پر متفق تھی۔ چنانچہ نوح جو اولین رسول ہیں، کے بارے میں فرمایا :﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ﴾” ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔“ حضرت نوح علیہ السلام کفار کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے جبکہ وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ﴿فَقَالَ﴾ نوح علیہ السلام نے ان سے فرمایا : ﴿ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّـهَ ﴾ ” اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔“ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ ﴿مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ﴾ ” اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں“ کیونکہ وہی خالق و رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر و تصرف کے تحت ہے اور کسی معاملے میں اسے کوئی اختیار نہیں۔ پھر انہیں عدم اطاعت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے فرمایا : ﴿إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴾ ” میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے“ یہ ان کے لئے نوح کی خیر خواہی اور شفقت ہے کہ وہ ان کے بارے میں ابدی عذاب اور دائمی بدبختی سے خائف ہیں جیسے ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین مخلوق پر ان کے ماں باپ سے زیادہ شفقت رکھتے تھے۔ الاعراف
60 جب نوح علیہ السلام نے ان سے یہ بات کہی تو انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام کو بدترین جواب دیا : ﴿قَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِهِ﴾” ان کی قوم کے سرداروں نے کہا۔“ یعنی سرداروں اور دولت مند راہنماؤں نے کہا، حق کے سامنے تکبر کرنا اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت نہ کرنا، ہمیشہ سے ان کی عادت رہی ہے۔ ﴿إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾ ” ہم دیکھتے ہیں تجھ کو صریح بہکا ہوا“ انہوں نے اسی پر بس نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انہوں نے انبیا و رسل کی اطاعت نہیں کی بلکہ وہ جناب نوح سے تکبر کے ساتھ پیش آئے اور ان کی عیب چینی کی اور ان کو گمراہی سے منسوب کیا پھر انہوں نے آں جناب کو مجرد گمراہ کہنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایسی گمراہی سے منسوب کیا جو ہر ایک پر واضح ہوتی ہے۔ یہ انکار حق اور عناد کی بدترین قسم ہے جو کمزور لوگوں میں عقل و فہم نہیں چھوڑتی یہ وصف تو قوم نوح پر منطبق ہوتا ہے جو بتوں کو خدا مانتے ہیں جن کو انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے پتھروں کو تراش کر بنایا ہے۔ جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کے کسی کام آسکتے ہیں۔ انہوں نے ان خداؤں کو وہی مقام دے دیا جو اس کائنات کو پیدا کرنے والے کا مقام ہے اور ان کے تقرب کے حصول کی خاطر مختلف عبادات ان کے لئے مقرر کردیں۔ اگر ان کا ذہن نہ ہوتا جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوتی ہے تو ان کے بارے میں یہی فیصلہ ہوتا کہ فاتر العقل لوگ ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں بلکہ ان سے زیادہ عقل مند ہیں۔ الاعراف
61 نوح علیہ السلام نے نہایت لطیف پیرائے میں جواب دیا جو ان میں رقت پیدا کرے شاید کہ وہ اطاعت کرنے لگیں۔ ﴿يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ﴾ ” اے میری قوم ! مجھے میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے۔“ یعنی میں کسی بھی مسئلہ میں کسی طرح بھی گمراہ نہیں ہوں بلکہ میں تو ہدایت یافتہ اور راہ ہدایت دکھانے والا ہوں، بلکہ آنجناب کی راہنمائی، دیگر اولوالعزم رسولوں کی راہ نمائی کی جنس سے ہے اور راہنمائی کی نہایت اعلیٰ اور کامل ترین نوع ہے اور یہ ہے رسالت کاملہ و تامہ کی راہنمائی۔ بنابریں فرمایا ﴿وَلَـٰكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴾ ” لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے“ یعنی جو میرا، تمہارا اور تمام مخلوق کا رب ہے، جو مختلف انواع کی ربوبیت کے ذریعے سے مخلوق کو نوازتا ہے، اس کی سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی طرف اپنے رسول بھیجے جو انہیں اعمال صالحہ، اخلاق حسنہ اور عقائد صحیحہ کا حکم دیتے ہیں اور ان کے منافی اور متضاد امور سے روکتے ہیں۔ الاعراف
62 ﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمْ﴾ ” پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور خیر خواہی کرتا ہوں تمہاری“ یعنی میری ذمہ داری نہایت خیر خواہی اور شفقت کے ساتھ تمہیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے اوامرونواہی وضاحت کے ساتھ پہنچا دینا ہے۔ ﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴾ ” اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے“ اس لئے جو چیز متعین ہے وہ یہ ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور اگر تم علم رکھتے ہو تو میرے حکم کی تعمیل کرو۔ الاعراف
63 ﴿أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنكُمْ﴾” کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی۔“ یعنی تم اس حالت پر کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہئے وہ یہ کہ تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعے سے، جس کی حقیقت، صداقت اور حال سے تم واقف ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی، نصیحت اور خیر خواہی آئی؟ یہ صورت حال تم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا احسان ہے جس کو شکر گزاری کے ساتھ قبول کیا جانا چاہئے۔ ﴿لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴾ ” تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور تاکہ تم پرہیز گار بنوا اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ یعنی تاکہ وہ تمہیں درد ناک عذاب سے ڈرائے اور تاکہ تم ظاہری اور باطنی طور پر تقویٰ پر عمل کر کے اپنے لئے نجات کے اسباب مہیا کرو اسی طرح اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت حاصل ہوتی ہے۔ الاعراف
64 مگر ان کی بابت نوح کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں﴿فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ﴾” پس انہوں نے اس کو جھٹلایا، پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں“ یعنی اس کشتی میں ان کو نجات دی جس کو بنانے کا اللہ تعالیٰ نے نوح کو حکم دیا تھا اور ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ تمام حیوانات میں سے ایک ایک جوڑا، اپنے گھر والوں اور اپنے ساتھی اہل ایمان کو اس کشتی میں سوار کرلیں۔ انہوں نے ان سب کو سوار کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کشتی کے ذریعے سے ان کو نجات دی۔﴿وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا عَمِينَ﴾ ” اور غرق کردیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو، بے شک وہ لوگ اندھے تھے“ یعنی وہ ہدایت سے اندھے تھے، انہوں نے حق کو دیکھ لیا تھا، اللہ تعالیٰ نے نوح کے ہاتھ پر ان کو ایسی ایسی کھلی نشانیاں دکھائی تھیں کہ عقلمند لوگ ان پر ایمان لے آتے ہیں مگر انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام کا تمسخر اڑایا، آنجناب کے ساتھ گستاخی سے پیش آئے اور ان کا انکار کیا۔ الاعراف
65 ﴿وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا﴾ ” اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔“ یعنی ہم نے عاد اولیٰ کی طرف، جو سر زمین یمن میں آباد تھے ان کے نسبی بھائی ہود علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک اور زمین میں سرکشی سے روکتے تھے ﴿ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّـهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ ﴾” انہوں نے کہا، اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، پس کیا تم ڈرتے نہیں۔“ اپنے اس رویئے پر قائم رہتے ہوئے تمہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر نہیں لگتا؟ مگر انہوں نے حضرت ہود علیہ السلام کی بات مانی نہ ان کی اطاعت کی۔ الاعراف
66 ﴿ قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ ﴾ ” ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے۔“ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے اور ان کی رائے میں عیب چینی کرتے ہوئے کہا : ﴿إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ﴾” ہم تجھے بیوقوف اور بے راہ رو سمجھتے ہیں اور ہمارا ظن یہ ہے کہ تو جھوٹا ہے۔ “ ان کے سامنے حقیقت بدل گئی اور ان کا اندھا پن مستحکم ہوگیا کیونکہ انہوں نے اپنے نبی علیہ السلام کی مذمت کی اور ایسے وصف کو ان کی طرف منسوب کیا جس سے خود متصف تھے، حالانکہ ہود لوگوں میں سب سے زیادہ اس وصف سے دور تھے۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف اور جھوٹے تھے۔ الاعراف
67 اس شخص سے بڑھ کر کون بیوقوف ہوسکتا ہے جو سب سے بڑے حق کو ٹھکراتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ جو تکبر سے راہ ہدایت دکھانے والوں اور خیر خواہوں کی اطاعت نہیں کرتا۔ جو اپنے دل و جان سے ہر سرکش شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور غیر مستحق ہستیوں کی عبادت کرتا ہے چنانچہ وہ پتھروں اور درختوں کی عبادت کرتا ہے جو اس کے کسی کام نہیں آسکتے اور اس شخص سے بڑھ کر کون جھوٹا ہوسکتا ہے جو ان مذکورہ امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے؟﴿قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ ﴾ ” انہوں نے کہا، اے میری قوم، میں بے عقل نہیں“ یعنی وہ کسی طرح بھی بیوقوف نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول، راہ ہدایت دکھانے والے اور ہدایت یافتہ ہیں﴿وَلَـٰكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ﴾” میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں۔“ الاعراف
68 ﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ﴾” میں پہنچاتا ہوں تم کو اپنے رب کے پیغام اور میں تمہارا خیر خواہ ہوں، اعتماد کے لائق“ پس تم پر فرض ہے کہ تم میری رسالت کو مانتے ہوئے اور بندوں کے رب کی اطاعت کرتے ہوئے اسے قبول کرو۔ الاعراف
69 ﴿ أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ﴾ ” کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے۔“ یعنی تم ایسے معاملے میں کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہئے اور وہ معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے ایک شخص کو جس کو تم خوب جانتے ہو، تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، وہ تمہیں ان باتوں کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں تمہارے مصالح پنہاں ہیں اور تمہیں ان امور کی ترغیب دیتا ہے جن میں تمہارے لئے فائدہ ہے اور تم اس پر اس طرح تعجب کرتے ہوجیسے منکرین تعجب کرتے ہیں۔ ﴿ وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ ﴾ ’’اور یاد کرو جب کہ تم کو جانشین بنایا قوم نوح کے بعد“ یعنی تم اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو اور اس کا شکریہ ادا کرو کیونکہ اس نے تمہیں زمین میں اقتدار عطا کیا اور اس نے تمہیں ہلاک ہونے والی قوموں کا جانشین بنایا جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس پاداش میں ہلاک کردیا اور تمہیں باقی رکھا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ تم رسولوں کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، جیسے وہ جمے رہے ورنہ تمہارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھو جو اس نے تمہارے لئے مختص کی اور وہ نعمت یہ ہے ﴿وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً ﴾” اس نے زیادہ کردیا تمہارے بدن کا پھیلاو“ یعنی اس نے تمہیں بہت زیادہ قوت، بڑے بڑے مضبوط جسم اور نہایت سخت پکڑ عطا کی۔﴿فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ ﴾ ” پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔“ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اور اس کے مکرر احسانات کو یاد رکھو ﴿ لَعَلَّكُمْ﴾ ” تاکہ تم“ یعنی اگر تم ان نعمتوں کو شکر گزاری کے ساتھ اور ان کا حق ادا کرتے ہو یاد رکھو گے ﴿تُفْلِحُونَ ﴾ ” کامیاب ہوجاؤ“ یعنی اپنے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤ گے اور اس چیز سے نجات پالو گے جس سے ڈرتے ہو۔ ہود علیہ السلام نے ان کو نصیحت کی، ان کو توحید کا حکم دیا اور ان کے سامنے خود اپنے اوصاف بیان کئے اور فرمایا کہ وہ ان کے لئے نہایت امانت دار خیر خواہ ہیں۔ انہیں اس بات سے ڈرایا کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کا اسی طرح مواخذہ نہ کرے جس طرح اس نے ان سے پہلی قوموں کا مواخذہ کیا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا جو وافر رزق کی صورت میں ان پر کیا گیا۔ مگر انہوں نے جناب ہود علیہ السلام کی اطاعت کی نہ ان کی دعوت کو قبول کیا۔ الاعراف
70 ﴿ قَالُوا﴾ انہوں نے ہود علیہ السلام کی دعوت پر تعجب کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ بہت محال ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں، کہا ﴿أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّـهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا ﴾ ” کیا تو ہمارے پاس اس وواسطے آیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے“ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انہوں نے اس امر کے مقابلے میں، جو سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ کامل ہے، اس مذہب کو پیش کیا جس پر انہوں نے اپنے آباء و اجداد کو گامزن پایا۔ اپنے گمراہ آباء و اجداد کے شرک اور عبادت اصنام کو انبیاء و مرسلین کی دعوت یعنی اللہ وحدہ لاشریک کی توحید پر ترجیح دی اور اپنے نبی کو جھٹلایا اور کہنے لگے : ﴿فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾” پس لے آ تو ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے، اگر تو سچا ہے“ یہ مطالبہ خود ان کی طرف سے تھا۔ الاعراف
71 ﴿قَالَ﴾ہود علیہ السلام نے ان سے کہا : ﴿ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ ﴾” تم پر واقع ہوچکا ہے تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ“ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا واقع ہونا اٹل ہے کیونکہ اس کے اسباب وجود میں آگئے اور ان کی ہلاکت کا وقت قریب آگیا ﴿ أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاءٍ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم﴾ ” کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے خود رکھ لئے ہیں۔“ یعنی تم ایسے امور میں میرے ساتھ کیوں کر جھگڑتے ہو جن کی کوئی حقیقت نہیں اور ان بتوں کے بارے میں میرے ساتھ کیسے بحث کرتے ہو جن کو تم نے معبودوں کے نام سے موسوم کر رکھا ہے حالانکہ ان کے اندر الوہیت کی ذرہ بھر بھی صفت نہیں ﴿مَّا نَزَّلَ اللَّـهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ﴾ ” اللہ نے ان پر کوئی دلیل نہیں اتاری“ کیونکہ اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی تائید میں ضرور کوئی دلیل نازل فرماتا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کا عدم نزول، ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ کوئی ایسا مطلوب و مقصود نہیں۔۔۔ خاص طور پر بڑے بڑے امور۔۔۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دلائل و براہین کو بیان نہ فرما دیا ہو اور ایسی حجت نازل نہ فرما دی ہو جس کے ہوتے مطلوب و مقصود نہیں رہ سکتا۔ ﴿فَانتَظِرُوا ﴾ ” پس تم انتظار کرو۔“ یعنی پس اس عذاب کا انتظار کرو جو تم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے جس کا میں نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ﴾” میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں“ اور انتظار کی دونوں اقسام میں فرق ہے۔ ایک انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو عذاب کے واقع ہونے سے ڈرتا ہے دوسرا انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد اور ثواب کا امیدوار ہے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ الاعراف
72 ﴿فَأَنجَيْنَاهُ﴾ پس ہم نے ہود علیہ السلام کو نجات دے دی﴿وَالَّذِينَ﴾ ” اور ان کو جو ایمان لائے تھے“ ﴿ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا﴾” اس کے ساتھ، اپنی رحمت سے“ کیونکہ وہی ہے جس نے ان کی ایمان کی طرف راہنمائی کی اور ان کے ایمان کو ایسا سبب بنایا جس کے ذریعے سے وہ اس کی رحمت حاصل کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو نجات عطا کردی۔ ﴿وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا﴾” اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔“ یعنی ہم نے سخت عذاب کے ذریعے سے ان کی جڑ کاٹ دی اور اس عذاب نے ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر نامبارک سخت ہوا مسلط کردی۔ وہ جس چیز پر بھی چلتی اسے ریزہ ریزہ کرتی چلی جاتی۔ پس وہ ہلاک کردیئے گئے اور وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کہیں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ پس ان لوگوں کا انجام دیکھو جن کو اس انجام سے ڈرایا گیا تھا، ان پر حجت قائم کی گئی تھی مگر انہوں نے تسلیم نہ کیا، ان کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا مگر وہ ایمان نہ لائے۔ تب ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ﴿وَأُتْبِعُوا فِي هَـٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ أَلَا إِنَّ عَادًا كَفَرُوا رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُودٍ ﴾(ھود:11؍ 60)’’اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کرتی رہی اور قیامت کے روز بھی یہ لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ دیکھو عاد نے اپنے رب کا انکار کیا اور دیکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔ “ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۖ وَمَا كَانُوا مُؤْمِنِينَ ﴾” اور جڑ کاٹ دی ہم نے ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو اور نہیں مانتے تھے“ یعنی وہ کسی طرح بھی ایمان نہ لائے تھے، بلکہ تکذیب اور عنادان کا وصف، تکبر اور فسادان کی پہچان تھی۔ //﴿وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ﴾ ” اور یاد کرو جب اس نے تمہیں جانشین بنایا۔“ یعنی یاد کرو اس وقت کو، جب زمین میں تمہیں جانشین بنایا، تم اس زمین سے فائدہ اٹھاتے ہو اور اپنے مقاصد حاصل کرتے ہو : ﴿مِن بَعْدِ عَادٍ﴾ ” عاد کے بعد“ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد تمہیں ان کا جانشین مقرر کیا۔ ﴿ وَبَوَّأَكُمْ فِي الْأَرْضِ﴾ ’’اور تمہیں زمین پر آباد کیا۔“ یعنی اس نے زمین میں تمہیں ٹھکانا عطا کیا اور اس نے تمہیں وہ اسباب مہیا کئے جان کے ذریعے سے تم اپنے ارادوں اور مقاصد کو پورا کرتے ہو۔ ﴿تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورًا ﴾ ” اور بناتے ہو تم نرم زمین میں محل“ یعنی نرم اور ہموار زمین پر جہاں پہاڑ نہیں ہوتے۔۔۔ تم قصر تعمیر کرتے ہو ﴿ وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُيُوتًا﴾” اور پہاڑوں کو تراش تراش کر بناتے ہو گھر“ جیسا کہ پہاڑوں میں ان کے آثار اور مساکن وغیرہ دیکھ کر اب تک مشاہدہ ہوا ہے اور جب تک یہ پہاڑ باقی ہیں یہ آثار بھی باقی رہیں گے۔ الاعراف
73 ﴿ وَإِلَىٰ ثَمُودَ﴾ ” اور ثمود کی طرف“ ثمود قدیم عربوں کا معروف قبیلہ تھا جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا ﴿أَخَاهُمْ صَالِحًا﴾ اللہ تعالیٰ نے صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انہیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انہیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔﴿قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّـهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ﴾” انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔“ صالح کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کردینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں کا کوئی الٰہ نہیں﴿قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ﴾ ” تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے۔“ یعنی ایک خارق عادت دلیل تمہارے پاس آگئی ہے جو آسمانی معجزہ ہے اور انسان اس قسم کی نشانی پیش کرنے پر قادر نہیں۔ پھر اس کی تفسیر بیان کرتے فرمایا : ﴿هَـٰذِهِ نَاقَةُ اللَّـهِ لَكُمْ آيَةً﴾ ” یہی اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے معجزہ ہے۔“ یہ شرف و فضل کی حامل اونٹنی ہے کیونکہ اللہ کی طرف اس کی اضافت اس کے شرف کی باعث ہے اور اس میں تمہارے لئے ایک عظیم نشانی ہے۔ صالح علیہ السلام نے اس اونٹنی کے معجزہ ہونے کی وجہ بیان فرمائی : ﴿لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ﴾ (الشعراء :26؍ 155) ” ایک دن اس کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک مقررہ دن تمہارے پانی پینے کی باری ہے“ ان کے ہاں ایک بہت بڑا کنواں تھا جو ” اونٹنی والا کنواں“ کے نام سے معروف تھا۔ اسی کنوئیں سے وہ اور اونٹنی اپنی اپنی باری کے مطابق پانی پیتے تھے۔ ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لئے مقرر تھا۔ وہ اس اونٹنی کے تھنوں سے دودھ پیتے تھے۔ ایک دن لوگوں کے لئے مقرر تھا، اس دن وہ کنوئیں پر پانی لینے کی غرض سے آتے، تو اونٹنی وہاں سے چلی جاتی۔ ان کے نبی صالح علیہ السلام نے ان سے کہا : ﴿فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّـهِ ﴾ ” پس اس کو چھوڑ دو کہ کھائے اللہ کی زمین میں“ تم پر اس اونٹنی کا کچھ بھی بوجھ اور ذمہ داری نہیں ﴿وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ ﴾ اور نہ ہاتھ لگاؤ اس کو بری طرح“ یعنی اس کی کونچیں وغیرہ کاٹنے کی نیت سے اسے مت چھونا ﴿ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴾ ” ورنہ تمہیں ایک درد ناک عذاب آ لے گا۔ “ الاعراف
74 ﴿ فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ﴾” پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔“ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو کہ اس نے تمہیں اپنے فضل و کرم، رزق اور قوت سے نوازا﴿وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ﴾ ” اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔“ یعنی فساد اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین کو مت اجاڑو، کیونکہ گناہ آباد شہریوں کو بیابان بنا دیتے ہیں۔ چنانچہ ان کے شہر ان سے خالی ہوگئے اور ان کے مساکن بے آباد اجڑے ہوئے باقی رہ گئے۔ الاعراف
75 ﴿قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ﴾اس کی قوم کے وہ رؤسا اور اشراف، جنہوں نے تکبر سے حق کو ٹھکرایا۔ انہوں نے کہا ﴿لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا ﴾” ان لوگوں سے جو کمزور تھے“ چونکہ تمام مستضعفین مومن نہ تھے ﴿ لِمَنْ آمَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَالِحًا مُّرْسَلٌ مِّن رَّبِّهِ﴾” کہ جو ان میں سے ایمان لا چکے تھے، کیا تم جانتے ہو کہ صالح کو اس کے رب نے بھیجا ہے؟“ یعنی انہوں نے ان مستضعفین سے کہا جو صالح علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے کہ آیا صالح سچا ہے یا جھوٹا؟ مستضعفین نے جواب دیا ﴿ قَالُوا إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِهِ مُؤْمِنُونَ ﴾ ” ہم کو تو جو وہ لے کر آیا، اس پر یقین ہے“ یعنی توحید الٰہی، اس کے بارے میں خبر اور اللہ کے اوامرونواہی ان سب پر ہم ایمان رکھتے ہیں۔ الاعراف
76 ﴿ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا بِالَّذِي آمَنتُم بِهِ كَافِرُونَ﴾” ان لوگوں نے کہا جنہوں نے تکبر کیا، جس پر تم کو یقین ہے، ہم اس کو نہیں مانتے“ تکبر نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حق کی اطاعت نہ کریں جس کی اطاعت قوم صالح کے کمزور و ناتواں لوگ کر رہے ہیں۔ الاعراف
77 ﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ ” پس انہوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کردیا“ جس کے بارے میں جناب صالح نے ان کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے اس اونٹنی کو بری نیت سے ہاتھ لگایا تو ان پر درد ناک عذاب نازل ہوگا﴿وَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ﴾ ” اور سرکشی کی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے“ یعنی انہوں نے سخت دلی کا مظاہرہ کیا اور اس کے حکم کو تکبر سے ٹھکرا دیا کہ جس کے خلاف اگر کوئی سرکشی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب کا مزا چکھاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ عذاب نازل کیا جو دوسروں پر نازل نہیں کیا۔ ﴿وَقَالُوا﴾ ان افعال کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ انہوں نے جناب الٰہی میں جسارت کرتے ہوئے، اسے عاجز سمجھتے ہوئے اور اپنے کرتوتوں کی پروانہ کرتے ہوئے، بلکہ ان پر فخر کرتے ہوئے کہا : ﴿ يَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا﴾ ” اے صالح ! لے آہم پر جس سے تو ہم کو ڈراتا ہے“ یعنی جس عذاب کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے ﴿إِن كُنتَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ ﴾اگر تو رسول ہے۔ ﴿فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ۖ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ ﴾ (هود: 11؍ 65) ’’صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھا لو یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہو گا۔‘‘ الاعراف
78 ﴿فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾” پس آپکڑا ان کو زلزلے نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے“ وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ اللہ نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کی جڑ کاٹ دی۔ الاعراف
79 ﴿فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ﴾ ” پس صالح ان سے منہ پھیر کر چل دیئے“ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا تو صالح علیہ السلام ان کو چھوڑ کر چل دیئے ﴿وَقَالَ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان کو ہلاک کردینے کے بعد ان سے مخاطب ہو کر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا : ﴿يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ ﴾ ” اے میری قوم ! میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی۔“ یعنی میں ان تمام احکامات کو تم تک پہنچا چکا ہوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا تھا۔ میں تمہاری ہدایت کا بہت متمنی تھا اور میں نے تمہیں صراط مستقیم اور دین قیم پر گامزن کرنے کی بہت کوشش کی۔﴿وَلَـٰكِن لَّا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ﴾ ” لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے“ بلکہ تم نے خیر خواہوں کی بات کو ٹھکرا دیا اور ہر دھتکارے ہوئے شیطان کی اطاعت کی۔ معلوم ہونا چاہئے کہ اس قصہ کے ضمن میں بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ صالح علیہ السلام کی اونٹنی ایک نہایت سخت اور چکنی چٹان سے اس وقت برآمد ہوئی تھی جب کفار نے صالح علیہ السلام سے معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پتھر نے اونٹنی کو اسی طرح جنم دیا تھا جس طرح کوئی حاملہ اپنے بچے کو جنم دیتی ہے۔ ان کے دیکھتے دیکھتے یہ اونٹنی پتھر میں سے برآمد ہوئی۔ جب انہوں نے اونٹنی کو ہلاک کیا تو اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ یہ بچہ تین بار بلبلایا، اس کے سامنے پہاڑ پھٹ گیا اور اونٹنی کا یہ بچہ پہاڑ کے اس شگاف میں داخل ہوگیا۔ نیز ان مفسرین کے مطابق صالح علیہ السلام نے کفار سے فرمایا تھا کہ تم پر عذاب کے نازل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان مذکورہ تین دنوں میں پہلے دن تمہارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ پڑجائیں گے اور جیسے حضرت صالح علیہ السلام نے کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ ان مفسرین کا بیان کردہ یہ قصہ اسرائیلیات میں شمار ہوتا ہے جن کو اللہ کی کتاب کی تفسیر میں نقل کرنا مناسب نہیں۔ قرآن مجید میں کوئی ایسی چیز وارد نہیں ہوئی جو کسی بھی پہلو سے اس کی صداقت پر دلالت کرتی ہو، بلکہ اس کے برعکس اگر یہ قصہ صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضرور ذکر فرماتا، کیونکہ یہ واقعہ بہت تعجب انگیز، عبرت انگیز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہوتا اللہ تعالیٰ کبھی اس کو مہمل نہ چھوڑتا اور اپنی کتاب میں اس کا ذکر کئے بغیر نہ رہتا اور یوں یہ قصہ ناقابل اعتماد ذرائع سے نقل نہ ہوتا۔ بلکہ قرآن کریم اس قصہ کے بعض مشمولات کی تکذیب کرتا ہے۔ صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا : ﴿ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ﴾ (ھود :11؍65) ” اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ حاصل کرلو۔“ یعنی اس بہت ہی تھوڑے سے وقت میں نعمتوں اور لذتوں سے استفادہ کرلو، کیونکہ اس کے بعد تمہارے حصے میں کوئی لذت نہ ہوگی اور ان لوگوں کے لئے کون سی لذت اور نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ہوسکتا ہے، جن کو ان کے نبی نے عذاب کے وقوع کی وعید سنائی ہو اور اس عذاب کے مقدمات کا بھی ذکر کردیا ہو اور یہ عذاب روز بروز بتدریج اسی طریقے سے واضح ہو رہا ہو، جو سب کو شامل ہو کیونکہ ان کے چہروں کا سرخ، زرد اور پھر سیاہ ہوجانا اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے؟ کیا یہ قصہ قرآن کے بیان کردہ واقعات کے خلاف اور متضاد نہیں ؟ جو کچھ قرآن بیان کرتا ہے وہی کافی ہے اور وہی راہ ہدایت ہے۔ ہاں ! جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوجائے اور وہ کتاب اللہ کے خلاف نہ ہو تو سر آنکھوں پر اور یہی وہ چیز ہے جس کی اتباع کا قرآن نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ﴾(الحشر:59؍7) ” جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ۔ “ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اسرائیلی روایات سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں، اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ ایسے امور کو، جن کا جھوٹ ہونا قطعی نہ ہو، بنی اسرائیل سے روایت کرناجائز ہے۔ تب بھی ان کے ذریعے سے کتاب اللہ کی تفسیر کرناجائز نہیں۔ کیونکہ کتاب اللہ کے معانی یقینی ہیں اور ان اسرائیلیات کی تصدیق کی جاسکتی ہے نہ تکذیب۔ پس دونوں میں اتفاق ناممکن ہے۔ الاعراف
80 ﴿وَلُوطًا ﴾ یعنی ہمارے بندے لوط (علیہ السلام) کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انہیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انہیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہاں میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوط علیہ السلام نے کہا ﴿ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ ﴾ ” کیا تم کرتے ہو ایسی بے حیائی“ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔﴿ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ﴾ ” کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں“ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لئے رواج دیا تھا، اس سے بھی قبیح تر ہے۔ الاعراف
81 پھر لوط علیہ السلام نے واضح کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ النِّسَاءِ﴾” خواہش نفسانی پورا کرنے کیلئے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔“ یعنی تم کیسے عورتوں کو چھوڑ کر، جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے پیدا کیا ہے، جن سے تمتع کرنا فطرت اور جبلی شہوت کے مطابق ہے، مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو، جو کہ قباحت اور خباثت کی انتہا ہے۔ یہ جسم کا وہ حصہ ہے جہاں سے گندگی اور بدبو دار مادے خارج ہوتے ہیں اس حصے کو چھونا اور اس کے قریب جانا تو کجا اس کا نام لینے سے بھی شرم آتی ہے۔ ﴿بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ﴾ ” بلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے“ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود کو پھلانگتے ہو اور اس کے محرمات کے ارتکاب کی جسارت کرتے ہو۔ الاعراف
82 ﴿وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ ﴾ ’’اور نہیں تھا جواب اس قوم کا مگر یہ کہ انکو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ بہت ہی پاک رہنا چاہتے ہیں“ یعنی اپنے آپ کو اس فحش کام سے دور رکھنا چاہتے ہیں ﴿ وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ﴾(البروج: 85؍ 8)” وہ ان پر صرف اسی بات پر ناراض ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے جو غالب اور قابل ستائش ہے۔ “ الاعراف
83 ﴿ فَأَنجَيْنَاهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ ﴾’’پس ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو نجات دی، مگر اس کی بیوی کہ رہ گئی وہ وہاں کے رہنے والوں میں“ یعنی وہ پیچھے رہ جانے اور عذاب میں گرفتار ہونے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوط علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات وہاں سے نکل جائیں کیونکہ صبح سویرے ان کی قوم پر عذاب ٹوٹنے والا ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر وہاں سے نکل گئے۔ اس عورت کو بھی اس عذاب نے آلیا جو ان بدکار لوگوں پر آیا تھا۔ الاعراف
84 ﴿ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا ﴾” اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینہ برسایا۔“ یعنی ہم نے سخت گرم کھنگر کے پتھر ان پر برسائے اور اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو الٹ کر اوپر نیچے کردیا۔ ﴿فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ﴾’’پس دیکھو، کیا ہوا انجام گناہ گاروں کا“ ہلاکت اور دائمی رسوائی۔ الاعراف
85 ﴿ وَإِلَىٰ مَدْيَنَ﴾ ” مدین کی طرف“ یعنی ایک معروف قبیلہ کی طرف﴿أَخَاهُمْ شُعَيْبًا﴾ ” ان کے بھائی شعیب کو“ مبعوث کیا جو نسب میں ان کے بھائی تھے۔ جو انہیں اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے اور ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ ان کو تلقین کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو کم چیزیں نہ دیں اور کثرت معاصی کے ارتکاب سے زمین میں فساد نہ پھیلائیں۔ ﴿وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾” اور زمین میں خرابی مت ڈالو اس کی اصلاح کے بعد، یہ بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم مومن ہو“ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کے تقرب کی خاطر گناہوں کو ترک کرنا، بندے کے لئے ان گناہوں کے ارتکاب سے۔۔۔ جو اللہ جبار کی ناراضی اور جہنم کے عذاب کا باعث ہے۔۔۔ بہتر اور فائدہ مند ہے۔ الاعراف
86 ﴿وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ﴾ ” اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو۔“ یعنی لوگوں کے لئے راستوں پر گھات لگا کر نہ بیٹھو جہاں کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور تم ان راستوں سے لوگوں کو ڈراتے ہو۔ ﴿تُوعِدُونَ﴾ ” ڈراتے ہو۔“ اور ان پر چلنے سے ان کو دھمکاتے ہو۔ ﴿وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ﴾ ” اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو۔“ یعنی جو کوئی راہ راست پر چلنا چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہو۔ ﴿وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا﴾” اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔“ یعنی تم اللہ کے راستے میں کجی چاہتے ہو اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔ تم پر اور دوسرے لوگوں پر واجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے کی تعظیم اور احترام کرو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے مقرر کردیا ہے تاکہ وہ اس کی رضا کی منزل، اور عزت والے گھر تک پہنچنے کے لئے اس پر گامزن ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اپنے بندوں کو اپنی عظیم رحمت سے نوازے۔ تمہیں تو چاہئے کہ تم اس کی مدد کرو، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو اور اس کا دفاع کرو۔ نہ اس کے برعکس کہ تم اس راستے کے راہزن بن کر اس کو مسدود کر دو اور لوگوں کو اس راستے سے روکو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت اور سب سے درست اور معتدل راستے کو ٹیڑھا کرنا ہے اور تم ان لوگوں کو برا بھلا کہتے ہو جو اس راستے پر گامزن ہیں۔ ﴿ وَاذْكُرُوا﴾ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو ﴿إِذْ كُنتُمْ قَلِيلًا فَكَثَّرَكُمْ ﴾ ” جب کہ تم تھوڑے تھے، پس اس نے تم کو زیادہ کردیا“ یعنی تمہیں بیویاں، نسل اور صحت عطا کر کے تمہاری تعداد کو بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کسی وبا اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جو تعداد کو کم کردیتی ہے نہ تم پر کوئی ایسا دشمن مسلط کیا جو تمہیں ہلاک کردیتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں تتر بتر کیا بلکہ یہ اللہ کا تم پر انعام ہے کہ اس نے تمہیں مجتمع رکھا، تمہیں بے حساب رزق اور کثرت نسل سے نوازا۔﴿وَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ﴾” اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا“ کیونکہ تم ان کی جمعیت میں تشتت اور افتراق اور ان کے گھروں میں وحشت اور ہلاکت کے مناظر کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے۔ انہوں نے اپنے بارے میں اپنے پیچھے کوئی اچھے تذکرے نہیں چھوڑے، بلکہ اس کے برعکس اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کر رہی ہے اور قیامت کے روز بھی ان کو رسوائی اور نصیحت کا سامنا کرنا ہوگا۔ الاعراف
87 ﴿وَإِن كَانَ طَائِفَةٌ مِّنكُمْ آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَائِفَةٌ لَّمْ يُؤْمِنُوا﴾ ” اور اگر تم میں سے ایک فرقہ ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا“ اور ایمان نہ لانے والا گروہ ان میں سے اکثریت کا گروہ ہے﴿فَاصْبِرُوا حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّـهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ﴾ ” تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔“ پس وہ حق کو ماننے والے کی مدد کرے گا اور حق کا ابطال کرنے والے پر عذاب واقع کرے گا۔ الاعراف
88 ﴿قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ﴾ ” کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے“ اس سے مرادان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنہوں نے اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انہوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیب اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیب علیہ السلام کے ساتھ تھے۔ ﴿لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ﴾ ” ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے، یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں“ انہوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت استعمال کی اور انہوں نے کسی اصول، کسی حق کی پاسداری نہ کی۔ انہوں نے تو صرف اپنی خواہشات نفس کی رعایت اور ان کی پیروی کی اور اپنی ناقص عقل کے پیچھے لگے جو ان کے قول فاسد پر دلالت کرتی ہے۔ پس شعیب علیہ السلام سے کہنے لگے ” یا تو تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہمارے دین میں واپس لوٹنا ہوگا یا ہم تجھے اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔“ شعیب علیہ السلام ان کے ایمان لانے کی امید میں ان کو ایمان کی دعوت دیتے رہے مگر وہ اب تک ایمان نہ لائے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انہوں نے آنجناب کو دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی پیروی نہیں کریں گے تو وہ ان کو ان کے اس وطن سے جلا وطن کردیں گے جس میں رہنے کے شعیب علیہ السلام اور ان کے اصحاب زیادہ مستحق ہیں۔ ﴿قَالَ﴾شعیب علیہ السلام نے ان کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ ﴾ ” خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں۔“ یعنی کیا ہم ناپسند کرتے ہوئے بھی تمہارے باطل دین اور ملت کی اتباع کریں؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمہارا دین باطل ہے۔ اس دین کی طرف تو صرف اسی کو دعوت دی جاتی ہے جو اس میں کوئی رغبت رکھتا ہو اور وہ شخص جو علی الاعلان لوگوں کو اس دین کی پیروی سے روکتا ہے اور جو کوئی اس دین کی اتباع کرتا ہے اس کو برا کہتا ہے تو وہ کیوں کر اس دین کی دعوت دے سکتا ہے؟ الاعراف
89 ﴿ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّـهُ مِنْهَا ﴾ ” اگر ہم اس کے بعد کہ اللہ ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے، تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بے شک ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھ دیا۔“ یعنی تم گواہ رہو کہ اگر ہم تمہاری ملت اور دین میں واپس لوٹ آئے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے اور اس کے شر سے ہمیں بچا لیا ہے۔ تو ہم جھوٹے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرنے والے ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی افتراء پرداز نہیں جو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے حالانکہ وہ ایک، یکتا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ اقتدار میں کوئی شریک۔﴿ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا ﴾ ” اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں۔“ یعنی ہم جیسے لوگوں کے لئے ممکن نہیں کہ ہم اس دین میں پھر لوٹ آئیں کیونکہ یہ بالکل محال ہے۔ جناب شعیب نے متعدد وجوہ سے کفار کو اس بات سے مایوس کردیا کہ وہ ان کی موافقت کریں گے۔ (١) حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کے اصحاب ان کے دین کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے سخت بغض رکھتے تھے کیونکہ ان کا دین شرک پر مبنی تھا۔ (٢) شعیب نے ان کے دین کو جھوٹ قرار دیا تھا اور ان کو اس بات پر گواہ بنایا تھا کہ اگر انہوں نے اور ان کے اصحاب نے کفار کے دین کی اتباع کی، تو وہ جھوٹے ہیں۔ (٣) انہوں نے علی الاعلان اعتراف کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے دین سے بچا کر ان پر احسان کیا ہے۔ (٤) ان کی استقامت پر مبنی حالت پر غور کریں، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی جو تعظیم، اس کی عبودیت کا جو اعتراف، نیز اس بات کا اعتراف کہ وہی الٰہ واحد ہے صرف وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کا اعلان کہ مشرکین کے گھڑے ہوئے معبود سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑا فریب ہیں۔۔۔ ان امور کو دیکھتے ہوئے یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان کو ہدایت سے نوازنے کے بعد وہ ان کے دین میں واپس لوٹیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عقل سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کو پہچانتے ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تمام مخلوقات میں نافذ اس کے ارادے میں غور کیا جائے، جس سے باہر نکلنا کسی کے لئے ممکن نہیں خواہ پے در پے اسباب مہیا ہوں اور قوتیں باہم موافق ہوں۔۔۔ تو وہ اپنے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ وہ عنقریب فلاں فعل سر انجام دیں گے یا اس کو چھوڑ دیں گے۔ بنا بریں شعیب علیہ السلام نے استثناء کا اسلوب استعمال کرتے ہوئے فرمایا : ﴿وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّنَا﴾ ’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں، ہاں اللہ جو ہمارا رب ہے وہ چاہے تو۔“ یعنی ہمارے لئے یا کسی اور کے لئے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے، جو اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے، باہر نکلنا ممکن نہیں ﴿ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ﴾” گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں“ پس وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لئے کیا درست ہے اور کس چیز کے ذریعے سے وہ بندوں کی تدبیر کرے ﴿عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا ﴾” ہمارا اللہ ہی پر بھروسا ہے۔“ یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے گا اور جہنم کے تمام راستوں سے ہمیں بچائے گا، کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ اس کے لئے کافی ہوجاتا ہے اور وہ اس کے دین اور دنیا کے معاملے کو آسان کردیتا ہے۔ ﴿رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ﴾ ” اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ“ یعنی ظالم اور حق کے خلاف عناد رکھنے والے کے مقابلے میں مظلوم اور صاحب حق کی مدد فرما۔ ﴿وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ﴾ ” اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے“ اپنے بندوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی دو اقسام ہیں : (١) اللہ تعالیٰ باطل میں سے حق کو، گمراہی میں سے ہدایت کو بیان کر کے نیز یہ واضح کر کے کہ کون صراط مستقیم پر گامزن ہے اور کون اس سے منحرف ہے۔۔۔ فیصلہ کرتا ہے یہ اس کا علمی فیصلہ ہے۔ (٢) ظالموں کو سزا دینے اور صالحین کو نجات اور اکرام عطا کرنے کے لئے جو فیصلہ کرتا ہے وہ اس کا جزائی فیصلہ ہے۔ پس اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حق اور انصاف کے ساتھ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ انہیں ایسی آیات و علامات دکھا دے جو فریقین کے مابین فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں۔ الاعراف
90 ﴿وَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ﴾ ”اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے“ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے حضرت شعیب علیہ السلام کی اتباع سے ڈراتے ہوئے کہا :﴿لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَاسِرُونَ﴾ اگر تم نے شعیب کی پیری کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے۔“ ان کے نفس نے ان کے لئے مزین کر دیا تھا کہ رشد و ہدایت کی اتباع سراسر خسارہ اور شقاوت ہے انہیں یہ معلوم نہیں کہ خسارہ تو تمام تر خود گمراہی میں پڑے رہنے اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں ہے اور جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو اس وقت انہیں یہ حقیقت معلوم ہوئی۔ الاعراف
91 ﴿ فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ ﴾ ” پس ایک شدید زلزلے نے ان کو آلیا۔“ ﴿فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ ” اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔“ یعنی وہ خشک کٹے ہوئے درخت کی مانند پچھاڑے ہوئے مردہ پڑے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا : الاعراف
92 ﴿الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا﴾ ” جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا، گویا کبھی وہ وہاں بسے ہی نہ تھے“ یعنی گویا کہ وہ گھروں میں رہتے ہی نہ تھے اور گویا کہ انہوں نے گھروں کے صحنوں سے کبھی استفادہ کیا تھا نہ ان کی چھاؤں میں کبھی وقت گزارا تھا اور وہ اس دیار کے دریاؤں کے کنارے چراگاہوں میں رہے تھے نہ انہوں نے اس کے درختوں کے پھل کھائے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آپکڑا اور ان کو لہو و لعب اور لذات کی دنیا سے نکال کر حزن و غم، عقوبت اور ہلاکت کے گڑھوں میں منتقل کردیا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ ﴾” جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا، وہی ہوئے خسارہ اٹھانے والے“ یعنی وہ پوری طرح خسارے میں گھرے ہوئے ہیں کیونکہ قیامت کے روز وہ خود اور ان کے گھر والے سخت خسارے میں ہوں گے اور یہی واضح خسارہ ہے نہ کہ وہ جن کو انہوں نے کہا تھا۔ ﴿لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَاسِرُونَ﴾” اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بے شک تم خسارے میں پڑگئے۔“ پس جب وہ ہلاک ہوگئے تو ان کا نبی ان سے منہ پھیر کر چل دیا۔ الاعراف
93 ﴿وَقَالَ﴾ اور ان کی موت کے بعد ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا : ﴿يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي ﴾ ” اے میری قوم ! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیئے۔“ یعنی میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور اسے کھول کھول کر بیان کردیا حتیٰ کہ یہ پیغام تمہیں پوری طرح پہنچ گیا اور تمہارے دلوں نے اچھی طرح اسے سمجھ لیا۔ ﴿وَنَصَحْتُ لَكُمْ﴾ ” اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی“ مگر تم نے میری خیر خواہی کو قبول کیا نہ تم نے میری بات مانی بلکہ اس کے برعکس تم نے نافرمانی کی اور سرکشی اختیار کی۔ ﴿ فَكَيْفَ آسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍ كَافِرِينَ﴾ ” تو میں کافروں پر رنج و غم کیوں کروں۔“ یعنی میں ایسے لوگوں کے انجام پر کیوں کر غمزدہ ہوسکتا ہوں جن میں کوئی بھلائی نہ تھی، بھلائی ان کے پاس آئی مگر انہوں نے اسے ٹھکرا دیا، اسے قبول نہ کیا، یہ لوگ شر کے سوا کسی چیز کے لائق نہ تھے۔ پس یہ اس چیز کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی ہلاکت پر افسوس کیا جائے بلکہ ان کی ہلاکت اور استیصال پر تو خوش ہونا چاہئے۔ اے اللہ ! فضیحت اور رسوائی سے تیری پناہ ! اس سے بڑھ کر کون سی بدبختی اور سزا ہوسکتی ہے کہ وہ اس حالت کو پہنچ جائیں کہ مخلوق میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہستی بھی ان سے برأت کا اظہار کرے۔ الاعراف
94 ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّبِيٍّ﴾ ” اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی“ جو انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتا اور جن برائیوں میں وہ مبتلا ہیں، ان برائیوں سے وہ ان کو روکتا۔ مگر وہ اس کی اطاعت نہ کرتے ﴿إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا ﴾ ” مگر ہم مواخذہ کرتے وہاں کے لوگوں کا“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا۔ ﴿بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ﴾ ” سختی اور تکلیف میں“ یعنی محتاجی، مریض اور دیگر مصائب کے ذریعے سے۔ ﴿لَعَلَّهُمْ ﴾”شایدکہ وہ “ یعنی جب ان پر مصیبت نازل ہوتوشاید ان کے نفس جھک جائیں۔ ﴿يَضَّرَّعُونَ ﴾”’ عاجزی اور زاری کریں۔“ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے گڑ گڑائیں اور حق کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں۔ ﴿ثُمَّ﴾ پھر جب ان کو ابتلا نے کوئی فائدہ نہ دیا اور وہ اپنے تکبر پر جمے رہے اور اپنی سرکشی میں پڑھتے ہی چلے گئے الاعراف
95 ﴿بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ﴾ ” بدل دی ہم نے برائی کی جگہ بھلائی“ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے رزق میں اضافہ کردیا، ان کو جسمانی عافیت دی اور ان سے آزمائش اور تکالیف کو دور کردیا۔ ﴿حَتَّىٰ عَفَوا ﴾” حتیٰ کہ ان کی تعداد زیادہ ہوگئی“ ان کے رزق میں اضافہ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم میں مزے اڑانے لگے اور وہ اس بات کو بھول گئے کہ ان پر کیا مصیبتیں نازل ہوئی تھیں۔ ﴿وَّقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ ﴾ ” اور انہوں نے کہا، کہ پہنچتی رہی ہے ہمارے باپ دادا کو بھی مصیبت اور خوشی“ یعنی رنج و راحت کا آنا تو ایک عادت جا ریہ ہے، اولین و آخریں تمام لوگوں پر نج و راحت کے حالات آتے رہتے ہیں۔ کبھی وہ راحت میں ہوتے ہیں اور کبھی رنج و غم سے دوچار ہوتے ہیں، انقلابات زمانہ اور گردش ایام کے ساتھ ساتھ کبھی وہ خوش ہوتے ہیں اور کبھی غم زدہ۔ وہ ان مصائب اور راحتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیحت اور تنبیہ سمجھتے ہیں نہ استدراج اور نکیر۔ یہاں تک کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا اسی میں شاداں و فرحاں رہے اور دنیا کے لئے سب سے زیادہ خوش کن چیز تھی۔ ﴿ فَأَخَذْنَاهُم﴾ ” کہ ہم نے (عذاب کے ذریعے سے) ان کو پکڑ لیا۔“ ﴿ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ﴾ “ اچانک اور ان کو خبر نہ تھی“ یعنی ہلاکت ان کے خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو کچھ عطا کیا ہے وہ اسے حاصل کرنے پر قادر تھے اور یہ سب کچھ ان سے زائل ہوگا نہ ان سے واپس لیا جائے گا۔ الاعراف
96 اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والے گروہ کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کو نصیحت اور تنبیہ کیلئے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور مکرو استدراج کے طور پر انہیں آسانی اور فراخی عطا کی جاتی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا کہ اگر بستیوں والے صدق دل سے ایمان لے آتے، ان کے اعمال اس ایمان کی تصدیق کرتے اور ظاہر و باطن میں تقویٰ سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ تمام چیزوں کو چھوڑ دیتے تو ان پر زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیئے جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر لگاتار بارش برساتا اور زمین سے ان کے لئے وہ کچھ اگاتا جس پر ان کی اور ان کے جانوروں کی معیشت کا دار و مدار ہے اور انہیں بغیر کسی تنگی اور بغیر کسی محنت اور مشقت کے وافر رزق عطا کرتا، مگر وہ ایمان لائے نہ انہوں نے تقویٰ اختیار کیا ﴿ فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ ” پس ہم نے ان کی بد اعمالیوں کے سبب سے ان کو عذاب اور مصائب میں مبتلا کردیا۔“ ان سے برکات چھین لیں اور کثرت کے ساتھ ان پر آفتیں نازل کیں۔ یہ ان کے اعمال کی سزا کا کچھ حصہ ہے۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے برے اعمال کی پوری سزا دنیا ہی میں دے دے تو روئے زمین پر کوئی جاندار نہ بچے گا۔ ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴾(الروم :30؍41) ” بحر و بر میں لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب سے فساد پھیل گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔ “ الاعراف
97 ﴿أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ﴾ ” کیا بستیوں والے (جنہوں نے انبیاء کی تکذیب کی) اپنے آپ کو مامون سمجھتے ہیں؟“ ﴿أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ﴾” اس بات سے کہ آئے ان کے پاس ہمارا عذاب“ یعنی ہمارا سخت عذاب ﴿بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ ﴾ ” راتوں رات، جب کہ وہ سوئے ہوئے ہوں“ یعنی ان کے آرام کی گھڑیوں میں اور ان کی غفلت کے اوقات میں الاعراف
98 ﴿أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾” کیا بے خوف ہیں بستیوں والے اس بات سے کہ آ پہنچے ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے، جب کہ وہ کھیلتے ہوں“ یعنی کون سی چیز انہیں محفوظ و مامون رکھ سکتی ہے حالانکہ انہوں نے عذاب الٰہی کے تمام اسباب کو اکٹھا کرلیا ہے اور بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کیا جن میں سے بعض جرائم ہلاکت کا موجب ہیں؟ الاعراف
99 ﴿أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّـهِ﴾” کیا وہ بے خوف ہوگئے ہیں اللہ کے داؤ سے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ ڈھیل دے کر فریب میں مبتلا کر رہا ہے جسے وہ نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ انہیں مہلت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی چال بہت سخت ہے۔ ﴿ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّـهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ﴾ ” پس اللہ کے داؤ سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں“ کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ سمجھتا ہے وہ اعمال کی جز اور سزا کی تصدیق کرتا ہے، نہ وہ انبیاء و مرسلین پر حقیقی ایمان رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ بندے کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ جتنا کچھ ایمان رکھتا ہے اس کے ضیاع سے بے خوف ہوجائے، وہ ہمیشہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اسے ایسی آزمائش سے دوچار نہ کر دے کہ جس سے اس کا سرمایہ ایمان سلب ہوجائے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا رہے (( يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ)) ” اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ“[جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب دعاء: یامقلب القلوب۔۔۔، حدیث :3522] اور فتنوں کے وقوع کے وقت وہ ہر اس سبب کے حصول کے لئے کوشاں رہے جو اس کو شر سے نجات دے، کیونکہ بندہ۔۔۔ خواہ اس کا حال کیسا ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ اس کی سلامتی یقینی نہیں۔ الاعراف
100 اللہ تبارک و تعالیٰ گزشتہ قوموں کی ہلاکت کے بعد باقی رہ جانے والی قوموں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الْأَرْضَ مِن بَعْدِ أَهْلِهَا أَن لَّوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ﴾ ” کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین کے (مر جانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔‘‘ کیا ان امتوں پر واضح نہیں ہوا جو ان قوموں کے اپنے گناہوں کے سبب سے ہلاکت کے بعد، جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں، زمین میں وارث بنی ہیں؟ پھر انہوں نے بھی ان ہلاک ہونے والے لوگوں جیسے اعمال کا ارتکاب شروع کردیا۔ کیا انہیں اس حقیقت کا علم نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں بھی ان کے گناہوں کے سبب سے پکڑ لے؟ کیونکہ اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ ﴿وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ﴾ ” اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیں، پس وہ نہ سنیں۔“ یعنی جب اللہ تعالیٰ انہیں تنبیہ کرے تو وہ متنبہ نہ ہوں، انہیں نصیحت کرے، مگر وہ نصیحت نہ پکڑیں اور اللہ تعالیٰ آیات اور عبرتوں کے ذریعے سے ان کی راہ نمائی کرے، مگر وہ راہنمائی حاصل نہ کریں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دیتا ہے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے پس ان کے دلوں پر میل کچیل جم جاتا ہے اور وہ زنگ آلود ہوجاتے ہیں۔۔۔ ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے حق ان میں داخل نہیں ہوسکتا، بھلائی ان تک پہنچ نہیں سکتی۔ وہ کوئی ایسی بات نہیں سن سکتے جو انہیں فائدہ دے۔ وہ تو صرف وہی بات سن سکتے ہیں جو ان کے خلاف حجت بنے گی۔ الاعراف
101 ﴿تِلْكَ الْقُرَىٰ﴾ ” وہ بستیاں“ یعنی وہ بستیاں جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے ﴿نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَائِهَا﴾ ” ہم بیان کرتے ہیں آپ پر ان کی کچھ خبریں“ جس سے عبرت حاصل کرنے والوں کو عبرت حاصل ہوتی ہے، ظالموں کے لئے اجر و توبیخ ہے اور اہل تقویٰ کے لئے نصیحت ﴿وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ ﴾ ” اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔“ یعنی ان جھٹلانے والوں کے پاس ان کے رسول آئے جو ان کو ان امور کی طرف دعوت دیتے تھے جن میں ان کی سعادت تھی، اللہ تعالیٰ نے ظاہر معجزات کے ذریعے سے ان رسولوں کی تائید کی اور حق کو کامل طور پر واضح کردینے والے دلائل کے ذریعے سے ان کو تقویت بخشی۔ مگر اس چیز نے انہیں کوئی فائدہ دیا نہ ان کے کسی کام آئی۔ ﴿ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِن قَبْلُ ۚ﴾ ” پھر ہرگز نہ ہوا کہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو پہلے جھٹلا چکے تھے“ یعنی ان کی تکذیب اور حق کو پہلی مرتبہ رد کردینے کے سبب سے اللہ تعالیٰ ایمان کی طرف ان کی راہ نمائی نہیں کرے گا، یہ حق کو ٹھکرا دینے کی سزا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ﴾ (الانعام:6؍110) ” ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے (ویسے ہی پھر ایمان نہیں لائیں گے) ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے (ویسے ہی پھر ایمان نہیں لائیں گے) ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے۔“ ﴿كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ ﴾ ” اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔“ یعنی سزا کے طور پر اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا۔ الاعراف
102 ﴿ وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ ﴾” ہم نے ان ہی سے اکثر میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا۔“ یعنی ہم نے اکثر قوموں میں جن کی طرف رسول بھیجے گئے، عہد کی پاسداری نہیں دیکھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی وصیت کا التزام اور اس پر ثابت قدمی، جو اس نے تمام جہانوں کو کر رکھی ہے اور نہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ان احکام کی تعمیل کی ہے جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے ان تک پہنچائے ہیں ﴿ وَإِن وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ﴾ ” اور اکثر ان میں پائے نافرمان“ یعنی ہم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل بھاگنے اور بے راہ رو ہو کر خواہشات نفس کی پیروی کرنے والے ہی پایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول مبعوث فرما کر، کتابیں نازل کر کے اپنے بندوں کو آزمایا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے عہد اور اس کی ہدایت کی اتباع کریں۔ مگر بہت کم لوگوں نے اس کے حکم کی تعمیل کی، یعنی صرف ان لوگوں نے جن کے لئے پہلے ہی سعادت لکھ دی گئی تھی اور رہے اکثر لوگ تو انہوں نے ہدایت سے روگردانی کی اور ان تعلیمات کو تکبر سے ٹھکرا دیا جو رسول لے کر آئے تھے۔ پس اس پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر مختلف قسم کے عذاب نازل فرمائے۔ الاعراف
103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿فَظَلَمُوا بِهَا﴾ ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابلے میں“ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا﴿فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ ﴾” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا“ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔ یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الاعراف
104 ﴿وَقَالَ مُوسَىٰ﴾ ” موسیٰ نے فرمایا“ یعنی موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا : ﴿ يَا فِرْعَوْنُ إِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ﴾ ” اے فرعون میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں“ یعنی وہ ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیر الٰہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔ جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لئے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں او اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰ کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے۔ اس لئے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں۔ (١) وہ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں۔ (٢) بنی اسرائیل کو آزاد کردیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء کی اولاد اور یعقوب علیہ السلام کا سلسلہ ہے اور موسیٰ علیہ السلام علیہ السلام اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ الاعراف
105 الاعراف
106 فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا ﴿قَالَ إِن كُنتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ ” اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔“ الاعراف
107 ﴿فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ ﴾ ” پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا“ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ الاعراف
108 ﴿وَنَزَعَ يَدَهُ﴾ ” حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا“﴿فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ﴾’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر ی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔“ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔ مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ الاعراف
109 بنا بریں ﴿قَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ﴾ ”قوم فرعون کے جو سرادار تھے وہ کہنے لگے۔“ یعنی جب انہوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کردیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لئے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿إِنَّ هَـٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ﴾” یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔“ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔ پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے الاعراف
110 ﴿يُرِيدُ﴾“ یعنی اس فعل سے موسیٰ علیہ السلام کا ارادہ ہے ﴿أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُمْ﴾” کہ وہ تمہیں تمہارے وطن سے نکال باہر کرے۔“ ﴿فَمَاذَا تَأْمُرُونَ﴾ ” اب تمہاری کیا صلاح ہے“ یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ علیہ السلام کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے، تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔ الاعراف
111 تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انہوں نے فرعون سے کہا ﴿أَرْجِهْ وَأَخَاهُ﴾”(فی الحال) موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔“ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہر کارے دوڑ ادو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا مقابلہ کرسکیں۔ چنانچہ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا ” ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کرلو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔“ موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا : ﴿ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّينَةِ وَأَن يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى فَتَوَلَّىٰ فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهُ ثُمَّ أَتَىٰ﴾(طٰه:20؍59۔60) ” تمہارے لئے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہوجائیں۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لئے آگیا۔ الاعراف
112 الاعراف
113 ﴿وَجَاءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ ﴾ ” اور جادو گر فرعون کے پاس آپہنچے۔“ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعن کے پاس آئے اور کہنے لگے : ﴿ إِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِينَ﴾ ” اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟“ الاعراف
114 ﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمْ﴾ ہاں تمہیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿وَإِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ﴾” اور اس پر مستزادیہ کہ تم میرے مقربین میں سے ہوجاؤ گے۔“ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کرلیا تاکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کردیں۔ جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں آئے۔ الاعراف
115 ﴿قَالُوا﴾ تو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا : ﴿يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَن تُلْقِيَ﴾” اے موسیٰ ! یا تم ڈالو۔“ یعنی تمہارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ﴾ ” یا ہم ڈالتے ہیں۔“ یعنی ہم اپنا جادو کھاتے ہیں۔ الاعراف
116 ﴿قَالَ﴾ موسیٰ علیہ السلام نے کہا ﴿أَلْقُوا﴾ ” ڈالو تم“ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّا أَلْقَوْا﴾’’پس جب انہوں نے ڈالیں۔“ یعنی جب انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئیں ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں۔ ﴿سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ﴾” اس طرح انہوں نے جادوگر کے ان کی نظر بندی کردی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔“ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔ الاعراف
117 ﴿وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ﴾ ” اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے۔“ پس موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿ فَإِذَا هِيَ ﴾ ” وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ ﴾اور انہوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔ الاعراف
118 ﴿فَوَقَعَ الْحَقُّ﴾” تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴾” اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔“ الاعراف
119 ﴿فَغُلِبُوا هُنَالِكَ﴾ ” اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔“ ﴿وَانقَلَبُوا صَاغِرِينَ﴾ ” اور روہ حقیر بن کر رہ گئے“ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انہیں وہ مقصد حاصل نہ ہوسکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے، جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہنچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے۔۔۔ وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انہوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ الاعراف
120 ﴿وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِين قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ جادو گر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہانوں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ علیہ السلام اور ہاورن کے پروردگار پر۔“ یعنی موسیٰ علیہ السلام جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ الاعراف
121 الاعراف
122 الاعراف
123 ﴿قَالَ فِرْعَوْنُ﴾فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ﴾” کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے“ وہ خبیث شخص، جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لئے جائز نہیں۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہوجاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ﴾ (الزخرف :43؍54) ” پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی بات مان لی۔“ یہاں فرعون نے کہا ﴿آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ﴾ ” اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔“ یعنی یہ تمہاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے۔ پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا﴾ ” بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔“ یعنی موسیٰ تمہارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کو غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو۔ پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمہاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہر کاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰ علیہ السلام نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگر ان کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾” تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا“ کہ تم کس سزا سے دو چار ہونے والے ہو۔ الاعراف
124 ﴿لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ﴾ ” میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔“ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہٰذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا۔۔۔ یعنی دایاں ہاتھ اور بائیاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ﴾ ” پھر تم کو سولی دوں گا۔“ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿أَجْمَعِينَ﴾” سب کو“ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔ الاعراف
125 ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انہوں نے کہا : ﴿إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ﴾” ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں“ یعنی ہمیں تمہاری سزا کی کوئی پروا نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لئے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کرلے۔ الاعراف
126 ﴿وَمَا تَنقِمُ مِنَّا﴾ ” تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔“ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِآيَاتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاءَتْنَا﴾ ” سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں“ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں ثابت قدمی عطا کرے اور انہیں صبر سے نوازے۔ ﴿رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا﴾ ” ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر“۔۔۔ جیسا کہ (صَبْرًا) میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔۔۔ کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جا ن کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہوجائے۔ ﴿وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ ﴾ ” اور ہمیں مسلمان مارنا۔“ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں۔ الاعراف
127 ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔ یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیرو کار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کردیا۔ انہوں نے فرعون کو موسیٰ علیہ السلام پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ علیہ السلام جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے۔۔۔ کہا ﴿ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ ﴾” کیا تم موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں۔“ یعنی کیا تم موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو، تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ ﴿ وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ﴾ ” وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے“ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿قَالَ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم۔۔۔ بزعم خود۔۔۔ ان کے ضرر سے محفوظ ہوجائیں گے۔ چنانچہ کہنے لگا : ﴿سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ﴾ ” ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے“ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انہیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَاهِرُونَ﴾ ” اور ہم ان پر غالب ہیں“ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔ الاعراف
128 ﴿قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ﴾(موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا۔“ ان حالات میں، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا : ﴿اسْتَعِينُوا بِاللَّـهِ﴾” اللہ سے مدد طلب کرو“ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمہارے لئے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمہارے لئے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمہارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿وَاصْبِرُوا﴾ ” اور صبر کرو۔“ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید کرتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ﴾ ” زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے“ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ﴾ ” وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت، تب بھی بالاخر کامیابی انہی کے لئے ہے۔ ﴿وَالْعَاقِبَةُ﴾ ” اور اچھا انجام“﴿لِلْمُتَّقِينَ﴾ ” متقین کیلئے ہے“ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ یہ بندہ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔ الاعراف
129 ﴿قَالُوا﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے۔۔۔ موسیٰ علیہ السلام سے کہا : ﴿أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا﴾ ” ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے“ کیونکہ انہوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کردیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا﴾ ” اور آپ کے آنے کے بعد بھی“ ایسا ہی سلوک ہے﴿ قَالَ﴾ جناب موسیٰ علیہ السلام نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا : ﴿عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ ﴾ ” امید ہے کہ تمہارے رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنا دے“ یعنی زمین میں تمہیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمہارے سپرد کر دے۔ ﴿فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ﴾ ” پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو“ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آگیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کردیا۔ الاعراف
130 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں﴿ وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ ﴾” ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کردیا۔“ ﴿ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ﴾” اور رمیووں کے نقصان میں پکڑا تا کہ نصیحت حاصل کریں۔“ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی گئی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہو اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدسوتر جمے رہے۔ الاعراف
131 ﴿فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ ﴾” پس جب پہنچتی ان کو بھلائی“ یعنی جب انہیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿قَالُوا لَنَا هَـٰذِهِ ۖ﴾ تو کہتے ” ہم اس کے مستحق تھے“ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ ﴾ ” اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی“ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ ﴾ ” تو نحوست بتلاتے موسیٰ علیہ السلام کی اور اس کے ساتھیوں کی“ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ علیہ السلام کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّـهِ ﴾ ” ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے اس کے ہاں مقدر ہے“ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾ ” لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے“ بنا بریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں۔ الاعراف
132 ﴿وَقَالُوا﴾ ” اور انہوں نے کہا۔“ یعنی انہوں نے موسیٰ علیہ السلام پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادو گر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لئے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لئے حالات برابر ہیں۔ الاعراف
133 ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ﴾ ” ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔“ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انہیں بہت بڑا نقصان اٹھاناپڑا۔ ﴿وَالْجَرَادَ﴾ ” اور ٹڈیاں“ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿وَالْقُمَّلَ ﴾ ” اور جوئیں۔“ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ” اور مینڈک“ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لئے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے ﴿ وَالدَّمَ ﴾” اور خون“ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔ ﴿ آيَاتٍ مُّفَصَّلَاتٍ﴾ ” نشانیاں جدا جدا“ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰ علیہ السلام حق اور صداقت پر ہیں۔ ﴿ فَاسْتَكْبَرُوا﴾ ” پس انہوں نے تکبر کیا۔“ جب انہوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے﴿ وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ ﴾ ”اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔“ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔ الاعراف
134 ﴿وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ ﴾” اور جب ان پر عذاب واقع ہوا“ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہوسکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون، یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں۔۔۔ یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا ﴿قَالُوا يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ﴾ ” تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے“ یعنی وہ موسیٰ علیہ السلام کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے : ﴿لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ ” اگر دور کردیا تو نے ہم سے یہ عذاب، تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو“ وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہوجائے جو ان پر نازل ہوچکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔ الاعراف
135 ﴿فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ إِلَىٰ أَجَلٍ هُم بَالِغُوهُ﴾ ” پھر جب ہم ایک مدت کے لئے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔“ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کردیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لئے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لئے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ﴾ ” تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے“ وہ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کردینے کے عہد کو، جو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا، توڑ دیتے۔ وہ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے نہ انہوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا، بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انہوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔ الاعراف
136 ﴿فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ﴾ ” پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے“ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لئے مقرر کیا ہوا وقت آگیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ﴾(الشعراء:26؍53) ” پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کردیئے۔“ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿ إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَائِظُونَ وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَاذِرُونَ فَأَخْرَجْنَاهُم مِّن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ قَالَ كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ فَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ ۖ فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِينَ وَأَنجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ﴾(الشعراء : 26؍54۔66)” یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انہوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ علیہ السلام کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لئے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا ہرگز نہیں، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو بھی قریب لے آئے اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق دیا۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فَأَغْرَقْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ﴾ ” پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔“ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں، ہم نے ان کو غرق کردیا۔ الاعراف
137 ﴿ وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ﴾ ” اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے“ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ” اس زمین کے مشرق و مغرب کا“ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سر زمین مصر ہے۔ [بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طور پر دوبارہ مصر جاناثابت نہیں۔ اس لئے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہاورن علیہما السلام کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لئے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ” ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔“ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بنی اسرائیل :17؍ 1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (صی۔ ی)] جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سر زمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کردی۔ ﴿الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا﴾ ” جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہوگیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے“ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا﴿ اسْتَعِينُوا بِاللَّـهِ وَاصْبِرُوا ۖ إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ﴾(الأعراف:7؍128) ”اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیز گاروں کے لئے ہے۔ “ ﴿ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ﴾” اور تباہ کردیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے“ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کردیئے ﴿وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ﴾ ” اور (وہ انگور کے باغات تباہ کردیئے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔“ یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانی ہے۔ الاعراف
138 ﴿ وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ﴾” اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے“ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔﴿ فَأَتَوْا ﴾ ” پس وہ پہنچے“ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿عَلَىٰ قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَىٰ أَصْنَامٍ لَّهُمْ ۚ ﴾ ” ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔“ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوا﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام سے کہا ﴿ يَا مُوسَى اجْعَل لَّنَا إِلَـٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ ۚ﴾ ” اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں، ہمارے لئے بھی ایک معبود بنا دو۔“ یعنی تو ہمارے لئے بھی جائز کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔ ﴿قَالَ﴾ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا ﴿إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ﴾” تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو“ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہوسکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟ بنا بریں موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : الاعراف
139 ﴿إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ” یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں“ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔ الاعراف
140 فرمایا ﴿ أَغَيْرَ اللَّـهِ أَبْغِيكُمْ إِلَـٰهًا﴾ ” کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں۔“ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ ” حالانکہ اس نے تمہیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے“ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو۔۔۔ اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔ الاعراف
141 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :﴿وَإِذْ أَنجَيْنَاكُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ ﴾ ” جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔“ یعنی جب ہم نے تمہیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ﴾ ” دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب“ انہوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُم ﴾” کہ مار ڈالتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمہاری عورتوں کو اور اس میں“ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ﴿بَلَاءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ ﴾ ”تمہارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔“ یا اس کا معنی یہ ہے کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ” تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔“ پس جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔ الاعراف
142 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کردی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی میعاد پوری کردی تاکہ موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرلیں، تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انہیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰ علیہ السلام اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انہوں نے ہاورن علیہ السلام سے بنی اسرائیل کے بارے میں، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي﴾ ” میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔“ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿وَأَصْلِحْ ﴾” اصلاح کرتے رہنا۔“ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ﴾ ” اور مفسدوں کی راہ مت چلنا“ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ الاعراف
143 ﴿وَلَمَّا جَاءَ مُوسَىٰ لِمِيقَاتِنَا ﴾ ” اور جب پہنچے موسیٰ علیہ السلام اپنے وعدے پر“ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لئے کر رکھا تھا ﴿وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ ﴾ ” اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔” یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامرونواہی سے نوازا، تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ﴾ ” عرض کیا، اے میرے رب ! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں“ ﴿ قَالَ لَن تَرَانِي﴾ ” فرمایا، تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔“ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کرسکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کرسکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرہ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کرسکیں گے۔ اسی لئے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰ علیہ السلام کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لئے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی۔ چنانچہ فرمایا :﴿وَلَـٰكِنِ انظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ﴾ ” لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا“ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿فَسَوْفَ تَرَانِي ۚ ﴾” تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔ “ ﴿ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ﴾ ” جب موسیٰ علیہ السلام کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی“ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿جَعَلَهُ دَكًّ﴾ ” تو اسے ریزہ ریزہ کردیا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا﴾ ”اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔“ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔﴿ فَلَمَّا أَفَاقَ﴾ ” جب وہ ہوش میں آئے۔“ یعنی جب موسیٰ علیہ السلام کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ علیہ السلام کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لئے انہوں نے عرض کیا ﴿سُبْحَانَكَ﴾ ” تیری ذات پاک ہے۔“ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں۔ ﴿تُبْتُ إِلَيْكَ﴾ ” اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔“ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں۔ ﴿وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ” اور میں سب سے پہلے یقین لایا“ یعنی موسیٰ علیہ السلام نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کردیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کردیا حالانکہ موسیٰ علیہ السلام دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔ الاعراف
144 ﴿قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ﴾’’اے موسیٰ! میں نے لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔“ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا﴿ بِرِسَالَاتِي ﴾ ’’اپنی رسالت کے لئے“ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں۔﴿ وَبِكَلَامِي﴾ ” اور اپنے کلام کے لئے“ میں نے بلا واسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰ علیہ السلام کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین اسی صفت سے معروف ہیں۔ ﴿ فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ ﴾ ” تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔“ یعنی میں نے تمہیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امرونہی نازل کئے ہیں انہیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ ﴾” اور (میرا) شکر بجا لاؤ۔“ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔ الاعراف
145 ﴿ وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَيْءٍ ﴾ ” اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لئے ہر چیز لکھ دی۔“ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿مَّوْعِظَةً﴾” اور نصیحت“ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ﴾ ” اور ہر چیز کی تفصیل“ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ ﴾ ” پس پکڑ لو ان کو زور سے“ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا﴾ ” اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں“ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں۔﴿سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ﴾” عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر“ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں۔ رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا : الاعراف
146 ﴿سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ﴾ ” میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا“ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ﴾ ” ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق“ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کردیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔۔۔ بلکہ بسا اوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿وَإِن يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا بِهَا﴾ ” اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں، ایمان نہ لائیں ان پر“ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں ﴿وَإِن يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ﴾ ” اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ“ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ۔۔۔ اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔﴿ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا﴾” تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ“ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں۔ ﴿وَإِن يَرَوْا سَبِيلَ الْغَيِّ﴾ ” اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ“ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔﴿يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ﴾ تو اس کو ٹھہرا لیں راہ“ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ ﴾ ” یہ اس لئے کہ انہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے“ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں۔ الاعراف
147 ﴿وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا﴾ ”اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا“ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ ۚ﴾ ” اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہوگئے اعمال ان کے“ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿هَلْ يُجْزَوْنَ ﴾ ” وہی بدلہ پائیں گے“ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ” جو کچھ وہ عمل کرتے تھے“ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنا بریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔ الاعراف
148 ﴿وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِن بَعْدِهِ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا ﴾ ” اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن“۔ بچھڑے کے اس بات کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔﴿لَّهُ خُوَارٌ﴾ اس کی آواز تھی۔“ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگے۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود بنا لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔ سامری نے کہا ” یہ تمہارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے۔“۔۔۔ یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت تھی ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں۔ چنانچہ فرمایا : ﴿أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ ﴾ ” کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا“ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا﴾” اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ“ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کرسکتا اور نہ انہیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کرسکتا ہے۔ انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کرسکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنا بریں فرمایا : ﴿اتَّخَذُوهُ وَكَانُوا ظَالِمِينَ﴾” انہوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے“ کیونکہ انہوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے، تو وہ تمام خصائص الٰہیہ کا منکر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کرسکتی۔ الاعراف
149 ﴿ وَلَمَّا﴾” اور جب“ یعنی جب موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انہیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ﴾ ” پچھتائے“ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا﴾ ” اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں“ تو انہوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے برأت کا اظہار کیا۔ ﴿قَالُوا لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا﴾ ” اور انہوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔“ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے ﴿وَيَغْفِرْ لَنَا ﴾ ” اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔“ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴾ تو ہم یقیناً ان لوگوں میں شامل ہوجائیں گے جنہیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔ الاعراف
150 ﴿وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا ﴾ ” اور جب موسیٰ (علیہ السلام)پنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔“ یعنی موسیٰ علیہ السلام ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِن بَعْدِي ﴾ ” کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بد اطواری کی۔“ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال و اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں۔ ﴿أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ﴾” کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی“ کیونکہ اس نے تمہارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ ﴾ ” اور (تورات کی) تخیاں ڈال دیں۔“ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔﴿وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ﴾ ” اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ۔“ ﴿يَجُرُّهُ إِلَيْهِ﴾” اپنی طرف کھینچا“ اور ان سے کہا : ﴿ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوا أَلَّا تَتَّبِعَنِ ۖ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِي﴾ (طہ :20 ؍92۔93) ” جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمہیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟“ یعنی میرے حکم ﴿ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ ﴾ (الاعراف :7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہاورن علیہ السلام نے عرض کیا ﴿ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي ۖ إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي ﴾(طٰه:20؍94) ”اے میرے ماں جائے بھائی ! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیئے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔ “ ﴿ قَالَ ابْنَ أُمَّ ﴾ ” کہا اے ماں جائے“ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لئے کیا ہے ورنہ ہاورن ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے۔ ﴿إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي ﴾” لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا“ یعنی جب میں نے ان سے کہا : ﴿ يَا قَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمـٰنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي﴾(طٰه:20؍90) ” اے میری قوم ! اس سے تمہاری آزمائش کی گئی ہے، تمہارا پروردگار تو اللہ رحمٰن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔ “ ﴿وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي ﴾ ” اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں“ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ﴾ ” پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو“ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انہیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿وَلَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ ” اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملائیے۔“ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں۔ موسیٰ علیہ السلام نے عجلت میں، اپنے بھائی کی برأت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انہیں سخت ندامت ہوئی۔ الاعراف
151 ﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِأَخِي ﴾ ” موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی کہ اے میرے رب ! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔“ ﴿ وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ﴾” اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔“ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے، کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔﴿ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے“ یعنی تو ہمارے ماں باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔ الاعراف
152 اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿إِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ﴾ ” وہ لوگ جنہوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا“ ﴿ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾” ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں“ جیسا کہ انہوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ ﴾ ” اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی، چنانچہ انہیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں۔ پس انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ الاعراف
153 بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں، فرمایا : ﴿وَالَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ﴾” اور جنہوں نے برے اعمال کئے۔“ یعنی جنہوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوا مِن بَعْدِهَا﴾” پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔“ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کرلیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿وَآمَنُوا ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ ﴿ إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا ﴾ ” بے شک تمہارا رب اس کے بعد“ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد﴿َ لَغَفُورٌ﴾ ” بخشنے والا۔“ وہ گناہوں کو بخش کر انہیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيمٌ﴾ ” رحم کرنے والا ہے۔“ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔ الاعراف
154 ﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى الْغَضَبُ ﴾” اور جب موسیٰ علیہ السلام کا غصہ فرو ہوا۔“ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آ کر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم ترامور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ أَخَذَ الْأَلْوَاحَ﴾ ” انہوں نے ان تختیوں کو اٹھایا، جن کو انہوں نے غصے میں آ کر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں۔ ﴿ وَفِي نُسْخَتِهَا﴾” اور ان میں جو لکھا ہوا تھا، یعنی یہ تختیاں جس چیز پر مشتمل تھیں ﴿ هُدًى وَرَحْمَةٌ﴾ ” اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔“ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہنمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لئے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔﴿ لِّلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ ﴾” جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔“ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائے گی۔ الاعراف
155 جب بنی اسرائیل نے توبہ کرلی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿وَاخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُ﴾” اور چن لئے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے“ ﴿ سَبْعِينَ رَجُلً﴾ ”(بہترین) ستر آدمی“ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کردیا تھا، تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ﴿ أَرِنَا اللَّـهَ جَهْرَةً ﴾ (النساء :4؍153) ” ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا“ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔﴿أَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ﴾ ” تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔ پس موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑ گڑاتے رہے۔ انہوں نے عرض کیا :﴿رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّايَ﴾ ” اے میرے رب ! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کردیتا“ ﴿أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا﴾ ” کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا“ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حضور گڑا گڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہوجاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہوجاتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا : ﴿إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَاءُ وَتَهْدِي مَن تَشَاءُ ۖ أَنتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۖ وَأَنتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ ﴾ ” یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے، تو وہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے“ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ” اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔ رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کیطرف پھیر دیا، تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرن والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔“ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول کرلی اور ان (ستر آدمیوں) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کردیا اور ان کے گناہ بخش دیئے۔ ‘‘ الاعراف
156 موسیٰ علیہ السلام نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کیا﴿وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَـٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً ﴾ ” اور لکھ دے ہمارے لئے اس دنیا میں بھلائی“ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَفِي الْآخِرَةِ ﴾ ” اور آخرت میں“ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ﴾ ” ہم تیری طرف رجوع کرچکے۔“ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ﴾ ” میرا عذاب، پہنچتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں“ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے ﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ﴾ ”اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو“ میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو، مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا : ﴿فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ﴾ ” سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لئے جو ڈر رکھتے ہیں“ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں﴿وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ ﴾” اور جو (مستحق لوگوں کو) زکوٰۃ دیتے ہیں“ ﴿ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ﴾ ” اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں“ اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے۔ الاعراف
157 ﴿ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ﴾” وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امی ہے“ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے، کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبدللہ بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وسلم مقصود ہیں۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لئے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لئے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿ الْأُمِّيِّ ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت تھے جو لکھ سکتے تھے نہ پڑھ سکتے تھے اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ﴾” وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات) کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں“ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں۔ ﴿يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ﴾ ” وہ معروف کا حکم دیتے ہیں۔“ اور (مَعروف) سے مراد ” ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔“ ﴿وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ ﴾ ” اور برے کاموں سے روکتے ہیں۔“ (منکر) سے مراد ” ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو“ پس وہ نماز، زکوٰۃ، روزے حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں، جن سے آپ روکتے ہیں، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں۔ اس لئے ﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ ﴾ ” وہ حلال کرتا ہے ان کے لئے سب پاک چیزیں“ یعنی آپ ماکولات، مشروبات اور منکوحات میں سے طیبات اور پاک چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ ﴾” اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں۔“ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ﴾” اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں۔“ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دنیا میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔ ﴿ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ ﴾ ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی“ ﴿وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ﴾” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے“ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴾ ” وہی مراد پانے والے ہیں۔“ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے، انہوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ الاعراف
158 چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہوسکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے۔۔۔ اس لئے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ فرمایا :﴿ قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ﴾” کہہ دیجیے اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔“ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ ﴿الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ ” جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں“ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمہاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمہیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمہیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ﴾ ” اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں“ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ ﴿ يُحْيِي وَيُمِيتُ﴾ ” وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔“ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہوسکتی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دار البقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دار البقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی یقیناً تصدیق کرتا ہے۔ ﴿ فَآمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ﴾” پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔“ یعنی اس نبی امی پر ایسا کامل ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَكَلِمَاتِهِ﴾” جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر“ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ﴾” اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ“ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے، کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : الاعراف
159 ﴿وَمِن قَوْمِ مُوسَىٰ أُمَّةٌ﴾ ” موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں“ ﴿ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ ﴾ ”جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں“ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا  وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ﴾(السجدة:32؍24)” اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہنمائی کیا کرتے تھے جب تک وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے۔ “ اس آیت کریمہ میں امت موسیٰ علیہ السلام کی فضیلت بیان ہوئی ہے، نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کئے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے، کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہوسکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ تھے جو دوسرے لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔ الاعراف
160 ﴿وَقَطَّعْنَاهُمُ﴾ ” اور ہم نے ان کو تقسیم کردیا۔“ ﴿اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًا﴾” بارہ قبیلوں (کی شکل) میں، بڑی بڑی جماعتیں“ یعنی بارہ قبیلے بنا دیئے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ إِذِ اسْتَسْقَاهُ قَوْمُهُ ﴾ ” اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی“ یعنی جب انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انہیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی ﴿أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ﴾ ” اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار“ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (الْحَجَر) اسم جنس کے لئے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے۔۔۔ پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانبَجَسَتْ﴾ ”(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے“ ﴿اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا﴾ ”بارہ چشمے“ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔ ﴿ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ﴾” سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کردیا گیا اور ہر قبیلے کے لئے ایک چشمہ مقرر کردیا گیا اور انہوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انہوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ﴾” اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا“ پس یہ بادل انہیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿وَأَنزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ﴾” اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من“ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلْوَىٰ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لئے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لئے پانی اور کھانے کے لئے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا : ﴿كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ۚ وَمَا ظَلَمُونَا﴾ ” وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمہیں دیں اور انہوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿وَلَـٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴾ ” بلکہ انہوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا“ کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کرلیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کرلیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔ الاعراف
161 اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ اسْكُنُوا هَـٰذِهِ الْقَرْيَةَ﴾” جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔“ یعنی اس بستی میں داخل ہوجاؤ، تاکہ یہ بستی تمہارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ” ایلیاء“ یعنی ” قدس“ کی بستی تھی۔ ﴿وَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ﴾ ” اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔“ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُولُوا ﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔﴿حِطَّةٌ ﴾یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔﴿ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا﴾ ” اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو“ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خشوع و خضوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے اور دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيئَاتِكُمْ ۚ سَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ ﴾” ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے۔ البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو“ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔ الاعراف
162 ﴿فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ﴾ ” پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے“ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی﴿قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ﴾ ” دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا“ پس انہوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انہوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جاسکتی ہے۔ اس لئے وہ اپنی سرینوں پر گھسیٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ﴾ ” تو ہم نے ان پر بھیجا۔“ یعنی جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ﴾” آسمان سے سخت عذاب۔“ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔ الاعراف
163 ﴿وَاسْأَلْهُمْ ﴾” ان (بنی اسرائیل) سے پوچھئے“ ﴿عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ﴾ ” اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی“ یعنی جب انہوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ﴾ ” جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں“ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احرام کریں، ہفتے کے روز شکار نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا ﴾ ” جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر“ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں۔ ﴿وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ﴾ ” اور جب سبت کا دن نہ ہوتا“ یعنی سبت کا دن گزر جاتا ﴿لَا تَأْتِيهِمْ﴾ ” ان کے پاس نہ آتیں۔“ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ﴾” اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لئے کہ وہ نافرمان تھے“ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کردیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔ پس انہوں نے شکار کے لئے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آ کر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔ (١) ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنہوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔ (٢) دوسرے وہ لوگ تھے جنہوں نے علانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔ الاعراف
164 (٣) تیسرے وہ لوگ تھے جنہوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انہوں نے منع کرنے والوں سے کہا :﴿ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ اللَّـهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ﴾ ” تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے“ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے، بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعددی پر جمے ہوئے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ ﴾ ” تاکہ تمہارے رب کے ہاں عذرپیش کرسکیں“﴿وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴾ ” اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں۔“ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کردیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں، بسا اوقات ان میں نصیحت کارگر ہوجاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو، تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہوسکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو۔۔۔ اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کرسکے۔ الاعراف
165 ﴿فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ﴾ ” جب انہوں نے اس چیز کو بھلا دیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی“ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿ أَنجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ﴾” ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے“ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں۔ ﴿وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا﴾ ” اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو“ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿بِعَذَابٍ بَئِيسٍ﴾” برے عذاب میں“ یعنی سخت عذاب میں ﴿بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ﴾ ” اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ “ رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا : ﴿ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ اللَّـهُ مُهْلِكُهُمْ ﴾ ” تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے۔“۔۔۔ اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کیساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنہوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا، نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہوجاتا ہے اور ان کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں۔ علاوہ ازیں انہوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ اللَّـهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ ” تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انہیں سخت عذاب دینے والا ہے۔“ پس انہوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کردیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔ الاعراف
166 ﴿فَلَمَّا عَتَوْا عَن مَّا نُهُوا عَنْهُ﴾ ” پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے“ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انہوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿قُلْنَا لَهُمْ﴾” تو ہم نے ان سے کہا“ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ﴿كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ﴾ ” ہوجاؤ تم بندر ذلیل“ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کردی گئی۔ چنانچہ فرمایا : الاعراف
167 ﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ﴾ ” جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا“ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَن يَسُومُهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ﴾ ” کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا“ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا ﴿إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ﴾ ” بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔“ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ ” اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنیا کی انصاف پسند قوموں میں) ان کی کوئی مدد کرنے والا ہے۔ الاعراف
168 ﴿ وَقَطَّعْنَاهُمْ فِي الْأَرْضِ أُمَمًا﴾ ” اور ہم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کردیا۔“ جب کہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿مِّنْهُمُ الصَّالِحُونَ﴾ ” کچھ ان میں نیک ہیں“ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں۔ ﴿وَمِنْهُمْ دُونَ ذَٰلِكَ﴾ ” اور بعض اور طرح کے ہیں“ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ ﴿وَبَلَوْنَاهُم﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ﴾” خوبیوں میں اور برائیوں میں“ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ ” شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔“ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں۔ الاعراف
169 ﴿فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ﴾” پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف“ ان کاشر بڑھ گیا ﴿وَرِثُوا الْكِتَابَ﴾” وہ (ان کے بعد) کتاب کے وارث بن گئے“ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انہوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کردیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا، تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔ ﴿يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَـٰذَا الْأَدْنَىٰ وَيَقُولُونَ﴾ ” لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے“ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿سَيُغْفَرُ لَنَا﴾ ” ہم کو معاف ہوجائے گا“ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے، کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انہوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی، تو اپنے کئے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے۔۔۔ مگر اس کے برعکس جب ان کو مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انہوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کردیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِم مِّيثَاقُ الْكِتَابِ أَن لَّا يَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ إِلَّا الْحَقَّ﴾ ” کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے“ پس انہیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں۔﴿وَ﴾ درآں حالیکہ ﴿دَرَسُوا مَا فِيهِ ﴾ ” انہوں نے اس کتاب کے مشولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔“ پس انہیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں، بلکہ انہوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انہوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَالدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ﴾ اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو ڈرتے ہیں“ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں۔ ﴿أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾ ” کیا تم سمجھتے نہیں۔“ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کرسکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہئے اور کو نسی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لئے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے۔۔۔ عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہوجانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟ الاعراف
170 حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ﴾” اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں۔“ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں۔ کتاب اللہ کے احکام و اخیار کا علم رکھتے ہیں۔ کتاب اللہ کے احکام و اخیار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنا بریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کا میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا﴿ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ﴾ ” ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔“ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا، بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔ الاعراف
171 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ﴾” اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انہوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کردیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کردیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ وَظَنُّوا أَنَّهُ وَاقِعٌ بِهِمْ ﴾ ” گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔“ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوا مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ﴾ ” پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے“ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ﴾” اور یاد رکھو جو اس میں ہے“ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو ﴿لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴾” شاید کہ تم بچ جاؤ۔“ جب تم یہ سب کچھ کرلو گے تو امید ہے کہ تم پرہیز گار بن جاؤ گے۔ الاعراف
172 یعنی انسانوں کی صلبوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کے درمیان قرن بعد قرن سلسلہ تناسل وتوالد جاری ہوا۔ ﴿وَ﴾” اور“ جب ان کو ان کی ماؤں کے بطنوں اور ان کے آباؤ کی صلبوں سے نکالا ﴿أَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ﴾ ” اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟‘‘ یعنی ان کی فطرت میں اپنے رب ہونے، ان کا خالق و مالک ہونے کا اقرار ودیعت کر کے اپنی ربوبیت کے اثبات کا اقرار کروایا۔ ﴿قَالُوا بَلَىٰ ﴾ ” انہوں نے کہا ہاں ! ہم نے اقرار کیا“۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا ہے۔ پس ہر شخص کو دین حنیف پر تخلیق کیا گیا ہے۔ مگر عقل پر عقائد فاسدہ کے غلبہ کی وجہ سے کبھی کبھی فطرت میں تغیر و تبدیل واقع ہوجاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿قَالُوا بَلَىٰ  شَهِدْنَا ۛ أَن تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَـٰذَا غَافِلِينَ﴾ ” وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں کہ قیامت کے دن کہیں یوں نہ کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔“ یعنی ہم نے تمہارا امتحان لیا حتیٰ کہ تم نے اس بات کا اقرار کیا، جو تمہارے نزدیک ثابت ہے کہ اللہ تمہارا رب ہے اور ہم نے یہ امتحان اس لئے کہ کہیں تم قیامت کے روز انکار نہ کر دو اور کسی بھی چیز کا اقرار نہ کرو اور یہ دعویٰ کرنے لگو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم نہیں ہوئی اور اس بارے میں تمہارے پاس کوئی علم نہ تھا بلکہ اس بارے میں تم بالکل لاعلم اور غافل تھے۔ پس آج تمہاری حجت منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی حجت تم پر قائم ہوگئی۔ یا تم ایک اور حجت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہو۔ الاعراف
173 ﴿إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّن بَعْدِهِمْ﴾’’یہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد ہوئے۔“ پس ہم ان کے نقش قدم پر چلے اور ان کے باطل میں ہم نے ان کی پیروی کی۔ ﴿ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾’’کیا تو ہم کو ایسے فعل پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا“ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہاری فطرت میں ایسی چیز ودیعت کردی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کچھ تمہارے آباء واجداد کے پاس تھا وہ باطل تھا اور حق وہ ہے جو انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں اور یہ حق اس چیز کے خلاف اور اس پر غالب ہے جس پر تم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا۔ ہاں ! کبھی کبھی اپنے گمراہ آباء و اجداد کے بعض ایسے اقوال اور فاسد نظریات بندے کے سامنے آتے ہیں۔ آفاق و انفس میں اس کی آیات سے گریز کرتا ہے۔ اس کا یہ گریز اور اہل باطل کے نظریات کی طرف اس کا متوجہ ہونا اس کو اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ باطل کو حق پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ ان آیات کریمہ کی تفسیر میں یہی قرین صواب ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے جناب آدم کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکال کر ان سے عہد لیا اور ان کو خود ان کی ذات پر گواہ بنایا اور انہوں نے یہ گواہی دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ان کو جو حکم دیا تھا اس کو دنیا و آخرت میں ان کے کفر و عناد میں ان کے ظلم کے خلاف ان پر حجت بنایا۔۔۔ مگر آیت کریمہ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس قول کی تائید کرتی ہو یا اس سے مناسبت رکھتی ہو۔۔۔ نہ حکمت الٰہی اس کا تقاضا کرتی ہے اور واقعہ اس کا شاہد ہے، اس لئے کہ وہ عہد اور میثاق جس کا یہ لوگ ذکر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکالا اس وقت وہ چیونٹی کی مانند تھی، یہ عہد کسی کو یاد نہیں اور نہ کسی آدمی کے خیال میں اس میثاق کا گزر ہوا ہے۔۔۔ پس اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو بندوں کے خلاف کیسے دلیل بنا سکتا ہے جس کی انہیں کوئی خبر نہیں جس کی کوئی حقیقت ہے نہ اثر؟ [آیت ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ۔۔۔﴾ کی تفسیر میں مفسرین کی زیادہ تر دورائے ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے فاضل مفسر رحمہ اللہ نے اختیار کی ہے کہ ربوبیت الٰہی کا اقرار و اعتراف اور اس کی گواہی سے مراد، توحید الٰہی پر انسان کی تخلیق ہے یعنی ہر انسان کی فطرت میں اللہ کی عظمت و محبت اور اس کی وحدانیت ودیعت کردی گئی ہے، حافظ ابن کثیر کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ اس تفسیر کی رو سے عالم واقعات میں ایسا نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک تمثیل ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ تمثیل نہیں ہے۔ بلکہ ایک واقعہ ہے، اللہ تعالیٰ نے صلب آدم سے (براہ راست) پیدا ہونے والے انسانوں کو اور پھر بنی آدم کی صلبوں سے نسلاً بعد نسل پیدا ہونے والے انسانوں کو چیونٹی کی شکل میں نکالا اور ان سے اپنی ربوبیت کا عہد و اقرار لیا۔ اس کی تائید میں بعض صحیح احادیث بھی ہیں اور صحابہ کرام کے آثار وا قوال بھی۔ اس کی مختصر تفصیل تفسیر ”احسن البیان“ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اسی لئے امام شوکانی نے اسی تفسیر کو راجح اور صحیح قرار دیا ہے۔ بنا بریں فاضل مفسر کا اس دوسری رائے کو یکسر غیر صحیح قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ یہ عہد واقرار کسی کو یاد ہی نہیں ہے تو اس پر گرفت کیوں کر صحیح ہوسکتی ہے؟ تو یہی اعتراض پہلی تفسیر پر بھی ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کا انسان کی فطرت میں ودیعت کردینا کیا اس بات کے لئے کافی ہے کہ وہ اس کی پابندی کرے، جب کہ اسے اس بات کا شعور و ادراک ہی نہیں ہے؟ اس کی جو توجیہ ہوسکتی ہے، دوسری تفسیر میں بھی وہی توجیہ ہے۔ (ص۔ ی)] الاعراف
174 چونکہ یہ معاملہ نہایت واضح اور نمایاں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ﴾ ” ہم اس طرح آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں“ ﴿وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴾”شاید وہ (اس چیز کی طرف) رجوع کریں‘‘ جو اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں ودیعت کی ہے اور شاید وہ اس عہد کی طرف لوٹیں جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس طرح وہ برائیوں سے باز آجائیں۔ الاعراف
175 ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا﴾ ” اور سنا دوان کو حال اس شخص کا جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں“ یعنی ہم نے اسے کتاب اللہ کی تعلیم دی اور وہ ایک علامہ اور ماہر عالم بن گیا ﴿فَانسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ ﴾” پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا اور شیطان اس کے پیچھے گیا“ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے علم سے حقیقی طور پر متصف نہ ہوا کیونکہ آیات الٰہی کا علم، صاحب علم کو مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق سے متصف کردیتا ہے اور اسے اعلیٰ ترین درجات اور بلند ترین مقامات پر فائز کردیتا ہے۔ پس اس نے کتاب کو چھوڑ دیا اور ان اخلاق کو دور پھینک دیا جن کا حکم کتاب اللہ دیتی تھی اور ان اخلاق کو اس طرح (اپنی ذات سے) اتار دیا جس طرح لباس اتارا جاتا ہے۔ جب وہ آیات الٰہی سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور جب وہ مضبوط پناہ گاہ سے نکل بھاگا تو شیطان اس پر مسلط ہوگیا اور یوں وہ ادنیٰ ترین لوگوں میں شامل ہوگیا شیطان نے اسے گناہوں پر آمادہ کیا (اور وہ گناہوں میں گھر گیا) ﴿فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ﴾ ” پس وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔“ جب کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس کے نفس کے حوالے کردیا تھا۔ الاعراف
176 اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا﴾ ” اور اگر ہم چاہتے تو اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدولت بلند کردیتے‘‘ یعنی ہم اسے آیات الٰہی پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرتے اور یوں وہ دنیا و آخرت میں بلند درجات پاتا اور اپنے دشمنوں سے محفوظ ہوجاتا ﴿وَلَـٰكِنَّهُ﴾مگر اس نے ایسے افعال سر انجام دیئے جو اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی توفیق سے محروم کر دے۔ ﴿أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ﴾ ”وہ ہورہا زمین کا“ یعنی وہ سفلی جذبات و خواہشات اور دنیاوی مقاصد کی طرف مائل ہو گیا﴿ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ﴾ اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گیا اور اپنے آقا و مولیٰ کی اطاعت چھوڑ دی۔﴿ فَمَثَلُهُ ﴾ ” تو اس کی مثال“ پس دنیا کی حرص کی شدت اور اس کی طرف میلان میں اس کی حالت یہ ہوگئی ﴿ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ﴾ ” جیسے کتا ہوتا ہے، اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے“ یعنی وہ ہر حال میں (حرص کی وجہ سے) زبان باہر نکالے رکھتا ہے، سخت لالچی بنا رہتا ہے، اس میں ایسی حرص ہے جس نے اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ہے دنیا کی کوئی چیز اس کی محتاجی کو دور نہیں کرسکتی۔﴿ ذَّٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا﴾ ’’یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا“ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنی آیات بھیجیں مگر انہوں نے ان کی اطاعت نہ کی بلکہ انہوں نے خواہشات نفس کی پیروی میں ان آیات کو جھٹلا کر ٹھکرادیا ﴿ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ﴾ ” پس بیان کرو یہ احوال، تاکہ وہ غور و فکر کریں“ یعنی شاید وہ ان ضرب الامثال، آیات الٰہی اور عبرتوں میں غور و فکر کریں، کیونکہ جب وہ غور و فکر کریں گے تو انہیں علم حاصل ہوگا، جب علم حاصل ہوگا تو اس پر عمل بھی کریں گے۔ الاعراف
177 ﴿ سَاءَ مَثَلًا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَأَنفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ ﴾” جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے اپنا نقصان کیا۔“ یعنی اس شخص کی بہت بری مثال ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور مختلف قسم کے گناہ اور معاصی کے ذریعے سے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ پس ان کی مثال بدترین مثال ہے۔ یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا، احتمال ہے کہ اس سے کوئی معین شخص مراد ہو جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور بندوں کو تنبیہ کے لئے یہ قصہ بیان کیا اور اس میں احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد اسم جنس ہو اور اس کے عموم میں ہر وہ شخص شامل ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا اور ان سے نکل بھاگا ہو۔ ان آیات کریمہ میں علم و عمل کرنے کی ترغیب ہے، نیز یہ کہ علم پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ صاحب علم کو رفعت عطا کرتا اور شیطان سے بچاتا ہے۔ نیز ان آیات کریمہ میں علم پر عدم عمل سے ڈرایا گیا ہے اس لئے کہ اگر علم پر عمل نہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عمل نہ کرنے والے کو اسفل سافلین کے درجے پر اتار دیتا ہے اور اس پر شیطان کو مسلط کردیتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے اور شہوات میں دھنس جاتا ہے تو یہ چیز اس بات کا سبب بنتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے۔ الاعراف
178 پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ را ہ راست دکھانا اور گمراہ کرنا صرف اسی اکیلے کے قبضہ قدرت میں ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿مَن يَهْدِ اللَّـهُ﴾ ”جس کو اللہ ہدایت دے۔“ یعنی نیکیوں کی توفیق عطا کر کے اللہ تعالیٰ جسے راہ راست دکھا دے اور ناپسندیدہ امور سے بچا لے اور ان چیزوں کے علم سے نواز دے جنہیں وہ نہیں جانتا تھا ﴿فَهُوَ الْمُهْتَدِي﴾” تو وہی حقیقی ہدایت یافتہ ہے“ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ترجیح دی۔ ﴿وَمَن يُضْلِلْ ﴾” اور جس کو گمراہ کر دے۔“ یعنی جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اور بھلائی کی توفیق سے محروم کر کے وہ گمراہ کر دے۔ ﴿فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ ” تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔“ یہی لوگ قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالنے والے ہیں۔ خبر دار ! یہی کھلا خسارہ ہے۔ الاعراف
179 اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿وَلَقَدْ ذَرَأْنَا﴾ ” اور ہم نے پیدا کیا۔“ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا﴿لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ﴾ ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی“ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں ﴿ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ ﴾ ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں“ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے ﴿وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ﴾” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں“ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائی کی منفعت اور فائدے کو کھو دیا۔﴿ وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا﴾ ” ان کے کان ہیں، جن سے وہ سنتے نہیں“ وہ ان کانوں سے اس طرح نہیں سنتے کہ ان کے دلوں تک معانی و مفاہیم پہنچ جائیں۔ ﴿أُولَـٰئِكَ﴾ ” یہ“ یعنی وہ لوگ جو ان اوصاف قبیحہ کے حامل ہیں ﴿كَالْأَنْعَامِ﴾ ” چوپاؤں کی مانند ہیں“ جو عقل سے محروم ہیں۔ انہوں نے فانی چیزوں کو ان چیزوں پر ترجیح دی جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں پس ان سے عقل کی خاصیت سلب کرلی گئی ﴿بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ﴾ ” بلکہ وہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔“ یعنی وہ چوپاؤں سے بھی زیادہ گمراہ اور بے سمجھ ہیں کیونکہ بہائم سے تو وہ کام لئے جاتے ہیں جن کاموں کے لئے ان کو تخلیق کیا گیا ہے، ان کے ذہن ہیں جن کے ذریعے سے وہ مضرت و منفعت کا ادراک کرتے ہیں۔ بنا بریں چوپاؤں کا حال ان کے حال سے اچھا ہے۔﴿ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ﴾ ” وہی لوگ ہیں غافل‘‘ جو سب سے زیادہ نفع مند چیز سے غافل ہیں وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان، اس کی اطاعت اور اس کے ذکر سے غافل ہیں حالانکہ ان کو دل، کان اور آنکھیں عطا کی گئیں، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کے حقوق کی ادائیگی میں ان سے مدد لیں، لیکن انہوں نے اس مقصد کے برعکس امور کے لئے ان کو استعمال کیا۔ پس یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کو ان لوگوں میں شمار کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لئے تخلیق کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگ میں جھونکنے کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ لوگ اہل جہنم کے اعمال سر انجام دے رہے ہیں۔ الاعراف
180 رہا وہ شخص جو ان جوارح کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں استعمال کرتا ہے، جس کا قلب اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی محبت کے رنگ میں رنگا جاتا ہے اور وہ اللہ سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ پس ایسے ہی لوگ اہل جنت ہیں اور وہ اہل جنت کے اعمال سر انجام دیتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے جلال کی عظمت اور اس کے اوصاف کی وسعت کو بیان کرتی ہے، نیز یہ بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نام اسمائے حسنٰی ہیں، یعنی اس کا ہر نام اچھا ہے۔ اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام ایک عظیم صفت کمال پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لئے ان اسماء کو اسمائے حسنیٰ کہا گیا ہے۔ اگر یہ اسماء صفات پر دلالت نہ کرتے بلکہ محض علم ہوتے تو یہ اسماء ” حسنیٰ“ نہ ہوتے اس طرح اگر یہ اسماء کسی ایسی صفت پر دلالت کرتے جو صفت کمال نہ ہوتی بلکہ اس کے برعکس صفت نقص یا صفت منقسم ہوتی یعنی بیک وقت مدح و قدح پر دلالت کرتے تب بھی یہ اسماء ” حسنیٰ“ نہ کہلا سکتے۔ پس اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہر اسم پوری صفت پر دلالت کرتا ہے جس سے یہ اسم مشتق ہے اور وہ اس صفت کے تمام معانی کو شامل ہے۔ مثلا اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک (اَلعلیِم) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایسے علم کا مالک ہے جو عام ہے اور تمام اشیاء کا احاطہ کئے ہوئے ہے، پس زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی اس کے دائرہ علم سے باہر نہیں۔ اس کا اسم مبارک (اَلرَّحِیم) دلالت کرتا ہے کہ وہ عظیم اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ (اَلقَدِیر) دلالت کرتا ہے کہ وہ قدرت عامہ کا مالک ہے کوئی چیز بھی اس کی قدرت کو عاجز اور لاچار نہیں کرسکتی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء کا کامل طور پر (حُسنیٰ) ہونا یہ ہے کہ اس کو ان اسماء حسنیٰ کے سوا کسی اور اسم سے نہ پکارا جائے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے﴿فَادْعُوهُ بِهَا﴾ ” پس اس کو انہی ناموں سے پکاور“ اور اس دعا میں دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں شامل ہیں۔ پس ہر مطلوب میں اللہ تعالیٰ کو اس کے اس اسم مبارک سے پکارا جائے جو اس مطلوب سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس دعا مانگنے والا یوں دعا مانگے ” اے اللہ مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر بے شک تو بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ “” اے توبہ قبول کرنے والے میری توبہ قبول کر“ ” اے رزق دینے والے مجھے رزق عطا کر“ اور ” اے لطف و کرم کے مالک مجھے اپنے لطف سے نواز۔۔۔“ وغیرہ۔ ﴿ وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴾ ” اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں، عنقریب ان کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا“ یعنی اللہ تعالیٰ کی اسماء میں الحاد کی پاداش میں انہیں سخت سزا اور عذاب دیا جائے گا اور الحاد کی حقیقت یہ ہے کہ ان اسماء کو ان معانی سے ہٹا کر جن کے لئے ان کو وضع کیا یا ہے، دوسری طرف موڑنا،(اور اس کی مختلف صورتیں ہیں۔) (١) ان ناموں سے ایسی ہستیوں کو موسوم کرنا جو ان ناموں کی مستحق نہیں، مثلاً مشرکین کا اپنے معبودوں کو ان ناموں سے موسوم کرنا۔ (٢) ان اسماء کے اصل معانی و مراد کی نفی اور ان میں تحریف کر کے، ان کے کوئی اور معانی گھڑ لینا، جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہیں۔ (٣) ان اسماء سے دوسروں کو تشبہ دینا۔ پس واجب ہے کہ اسمائے حسنیٰ میں الحاد سے بچا جائے اور اسماء میں الحاد کرنے والوں سے دور رہا جائے۔ صحیح حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، آپ نے فرمایا :” اللہ تبارک و تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو ان کو یاد کرلیتا ہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔“ [صحیح البخاری، کتاب الشروط، باب مایجوزمن الاشتراط والثنیا فی الاقرار۔۔۔ الخ، ح 2736] الاعراف
181 ﴿وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ ﴾” اور ہماری مخلوقات میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں۔“ یعنی ان تمام لوگوں میں جن کو ہم نے پیدا کیا ہے ایک ایسا گروہ بھی ہے جو فضیلت کا مالک ہے، جو خود کامل ہے اور دوسروں کی حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے، یہ لوگ حق کا علم رکھتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں، حق کی تعلیم دیتے، اس کی طرف بلاتے اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ﴿ وَبِهِ يَعْدِلُونَ﴾” اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں“ جب وہ لوگوں کے مال، خون، حقوق اور ان کے مقالات وغیرہ کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں تو حق کی بنیاد پر انصاف کرتے ہیں۔ یہ لوگ ائمہ ہدی اور تاریکیوں میں روشن قنادیل ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح، حق کی وصیت اور صبر کی وصیت جیسی نعمتوں سے نوازا ہے۔ وہ صدیق ہیں جن کا مرتبہ رسالت کے بعد ہے اور خود ان کے مراتب میں ان کے احوال اور قدر و منزلت کے مطابق تفاوت ہے۔ الاعراف
182 پس پاک ہے وہ ذات جو اپنی رحمت کے لئے جس کو چاہتی ہے، مختص کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل کا مالک ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ان آیات کی تکذیب کی، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب اور ہدایت کی صحت پر دلالت کرتی ہیں، پس انہوں نے ان کو ٹھکرا دیا اور ان کو قبول نہ کیا ﴿سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ﴾ ” ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسی جگہ سے پکڑیں گے جہاں سے ان کو خبر بھی نہ ہوگی“ یعنی اس طرح کہ اللہ تعالیٰ ان کو وافر رزق بہم پہنچاتا ہے۔ الاعراف
183 ﴿وَأُمْلِي لَهُمْ﴾” اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں“ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذ ہ نہیں کیا جائے اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنا بریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انہیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لئے فرمایا : ﴿إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ ﴾ ” میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔“ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔ الاعراف
184 ﴿أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا ۗ مَا بِصَاحِبِهِم﴾” کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو“ یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو﴿مِّن جِنَّةٍ﴾” کوئی جنون نہیں“ یعنی کیا انہوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور وفکر کریں۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش ! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا ارادہ نما، کھلا خیر خواہ، مجدد کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنا بریں فرمایا : ﴿ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴾ ” وہ تو صرف ڈرانے والا ہے“ یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انہیں عذاب سے نجات دے اور جس سے نہیں ثواب حاصل ہو۔ الاعراف
185 ﴿أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ ” کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی“ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ ﴿وَمَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ﴾ ” اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے“ اسی طرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں، کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت او اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلاخلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا : ﴿وَأَنْ عَسَىٰ أَن يَكُونَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ﴾” اور شاید کہ قریب آگیا ہو ان کا وعدہ“ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کرسکیں۔ ﴿ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ﴾ ” تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے؟‘ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پر ایمان لائیں گے؟ مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں۔ الاعراف
186 ﴿مَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ ۚ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ﴾ ’’جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہ میں سرگرداں“ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: ﴿يَسْأَلُونَكَ ﴾ ” آپ سے پوچھتے ہیں۔“ یعنی یہ جھٹلانے والے اور تلبیس کی غرض سے سوال کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں۔ ﴿ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا﴾ ” قیامت کے بارے میں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔“ یعنی وہ وقت کب ہوگا جب قیامت کی گھڑی آئے گی اور مخلوق میں قیامت قائم ہوگی۔ ﴿قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي﴾ ” کہہ دیجیے ! اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے“ یعنی قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہے۔﴿لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ﴾ ” وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا۔“ یعنی وہ وقت جو اس کے قائم ہونے کے لئے مقرر کیا ہوا ہے، صرف اللہ تعالیٰ ہی ظاہر کرے گا ﴿ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾” وہ بھاری بات ہے آسمانوں اور زمین میں“ یعنی زمین و آسمان کے رہنے والوں پر قیامت کی گھڑی مخفی ہے، اس گھڑی کا معاملہ ان کے لئے نہایت شدید اور وہ اس گھڑی سے بہت خوف زدہ ہیں۔ ﴿لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً﴾ ” اور وہ ناگہاں تم پر آجائے گی۔“ یہ گھڑی اچانک انہیں اس طرح آئے گی کہ وہ ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہوگی اور اس کے لئے وہ تیار بھی نہ ہوں گے۔ الاعراف
187 ﴿يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا ﴾ ” یہ آپ سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا آپ اس سے بخوبی واقف ہیں۔“ وہ اس گھڑی کے بارے میں آپ سے سوال کرنے کے بہت خواہش مند ہیں گویا کہ آپ اس سوال کے متعلق پورا علم رکھتے ہیں اور انہوں نے اس بات کو نہیں جانا کہ باوجود اس بات کے کہ آپ کو اپنے رب کی بابت کمال علم حاصل ہے اور یہ کہ رب سے کون سی بات پوچھنی فائدہ مند ہے، آپ ایسے سوال کی پروا نہیں کرتے تھے جو مصلحت سے خالی ہوتا اور جس کا جاننا ناممکن ہوتا، قیامت کی گھڑی کو کوئی رسول جانتا ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ اور اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت اور وسیع علم کی بنا پر مخلوق سے مخفی رکھا ہے۔ ﴿قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾” کہہ دیجیے ! اس قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے“ اسی لئے وہ اس چیز کے خواہش مند ہوتے ہیں جس کی خواہش کرنا ان کے لئے مناسب نہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ان اہم امور کے بارے میں تو سوال کرتے، جن کے بارے میں علم حاصل کرنا ان پر فرض ہے اور ان امور کے بارے میں سوال کرتے ہیں جن کے بارے میں حصول علم کی کوئی سبیل نہیں ہوتی، نہ ان سے یہ مطالبہ ہی کیا جائے گا کہ انہوں نے اس کا علم حاصل کیوں نہیں کیا۔ الاعراف
188 ﴿قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا﴾ ” کہہ دیجیے ! میں تو اپنے نفس کے لئے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا“ اس لئے کہ میں تو محتاج بندہ ہوں اور کسی دوسری ہستی کے دست تدبیر کے تحت ہوں۔ مجھے اگر کوئی بھلائی عطا ہوتی ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور مجھ سے شر بھی کوئی دور کرتا ہے تو صرف وہی اور میرے پاس کوئی علم بھی نہیں، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ مجھے عطا کیا ہے﴿وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ﴾” اگر میں غیب جان لیا کرتا تو بہت بھلائیاں حاصل کرلیتا اور مجھے برائی کبھی نہ پہنچتی“ یعنی میں وہ اسباب مہیا کرلیتا جن کے بارے میں مجھے علم ہوتا کہ وہ مصالح اور منافع پر منتج ہوں گے اور میں ہر تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیز سے بچ جاتا کیونکہ مجھے ان کے وقوع کا بھی پہلے ہی سے علم ہوتا اور مجھے یہ بھی معلوم ہوتا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ مگر مجھے غیب کا علم نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی تکلیف بھی پہنچتی ہے اور اسی وجہ سے کبھی کبھی مجھ سے دنیاوی فوائد اور مصالح بھی فوت ہوجاتے ہیں اور یہ اس بات کی اولین دلیل ہے کہ میں غیب کا علم نہیں جانتا ﴿ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ﴾” میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں۔“ یعنی میں تو صرف دنیاوی، دینی اور آخروی سزاؤں سے ڈراتا ہوں اور ان اعمال سے آگاہ کرتا ہوں جو ان سزاؤں کا باعث بنتے ہیں اور سزاؤں سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں۔ ﴿وَبَشِيرٌ﴾ ” اور خوشخبری سنا نے والا ہوں۔“ اور ثواب عاجل و آجل کی منزل تک پہنچانے والے اعمال کو واضح کر کے اور ان کی ترغیب دے کر اس ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں مگر ہر شخص اس تبشیر و انذار کو قبول نہیں کرتا بلکہ صرف اہل ایمان ہی اس بشارت و انذار کو قبول کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ آیات کریمہ اس شخص کی جہالت کو بیان کرتی ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو مقصود بناتا ہے اور حصول منفعت اور دفع مضرت کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارتا ہے۔۔۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں کچھ بھی نہیں، جسے اللہ تعالیٰ نفع پہنچانا چاہے آپ اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ جس سے ضرور دور نہ کرے آپ اس سے ضرر کو دور نہیں کرسکتے۔ اسی طرح آپ کے پاس علم بھی صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ صرف تبشیر و انذار اور ان پر عمل ہی فائدہ دیتا ہے جن کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا۔ یہ تبشیر اور انذار ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فائدہ ہے جو ماں باپ، دوست احباب اور بھائیوں کی طرف سے فائدہ پر فوقیت رکھتا ہے، یہی وہ نفع ہے جس کے ذریعے سے بندوں کو ہر بھلائی پر آمادہ کیا جاتا ہے اور ہر برائی سے ان کے لئے حفاظت ہے اور اس میں ان کے لئے حددرجہ بیان اور توضیح ہے۔ الاعراف
189 ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم﴾’’وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔“ اے مرد و اور عورتو ! جو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہو، تمہاری کثرت تعداد اور تمہارے متفرق ہونے کے باوصف ﴿ مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾ ” ایک جان سے۔“ اور وہ ہیں ابوالبشر آدم﴿ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا﴾” اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا“ یعنی آدم علیہ السلام سے ان کی بیوی حوا علیہاالسلام کو تخلیق کیا۔ ﴿لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا﴾’’تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے“ چونکہ حوا علیہ السلام کوآدم علیہ السلام سےپیداکیاگیاہے اس لئے ان دونوں کے مابین ایسی مناسبت اور موافقت موجود ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور شہوت کے تعلق سے ایک دوسرے کی اطاعت کریں۔ ﴿فَلَمَّا تَغَشَّاهَا﴾” سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے۔“ یعنی جب آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کی تو باری تعالیٰ نے یہ بات مقدر کردی کہ اس شہوت اور جماع سے ان کی نسل وجود میں آئے اور اس وقت ﴿حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا﴾ ” حمل رہا ہلکا سا حمل“ یہ کیفیت حمل کے ابتدائی ایام میں ہوتی ہے عورت اس کو محسوس نہیں کر پاتی اور نہ اس وقت یہ حمل بوجھل ہوتا ہے۔ ﴿فَلَمَّا﴾” پس جب“ یہ حمل اسی طرح موجود رہا ﴿أَثْقَلَت﴾ ” بوجھل ہوگئی“ یعنی اس حمل کی وجہ سے، جب کہ وہ حمل بڑا ہوجاتا ہے تو اس وقت والدین کے دل میں بچے کے لئے شفقت، اس کے زندہ صحیح و سالم اور ہر آفت سے محفوظ پیدا ہونے کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ بنا بریں ﴿دَّعَوَا اللَّـهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا﴾ ” دونوں نے دعا کی اللہ اپنے رب سے، اگر بخشا تو نے ہم کو“ یعنی بچہ ﴿صَالِحًا﴾ ” صحیح و سالم“ یعنی صحیح الخلقت“ پورا اور ہر نقص سے محفوظ ﴿لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ ﴾ ” تو ہم شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔ “ الاعراف
190 ﴿ فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا﴾” پس جب وہ ان کو صحیح وسالم (بچہ) دیتا ہے۔“ یعنی ان کی دعا قبول کرتے ہوئے جب ان کو صحیح سالم بچہ عطا کیا اور اس بارے میں ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کردی ﴿جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾” تو اس میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔“ یعنی اس بچے کے عطا ہونے پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیئے۔ جس کو اکیلا اللہ تعالیٰ وجود میں لایا ہے اس نے یہ نعمت عطا کی ہے اور اسی نے یہ بچہ عطا کر کے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ پس انہوں نے اپنے بیٹے کو غیر اللہ کا بندہ بنا دیا۔ یا تو اسے غیر اللہ کے بندے کے طور پر موسوم کردیا مثلاً” عبدالحارث“ ” عبدالعزی‘‘ اور ” عبدالکعبہ“ وغیرہ۔ یا انہوں نے یہ کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا جن کا شمار کسی بندے کے بس سے باہر ہے، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کیا۔ کلام میں یہ انتقال نوع سے جنس کی طرف انتقال کی قسم شمار ہوتا ہے کیونکہ کلام کی ابتدا آدم اور حوا علیہما السلام کے بارے میں ہے پھر کلام آدم و حوا علیہما السلام سے جنس کی طرف منتقل ہوگیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ شرک، آدم و حوا علیہما السلام کی ذریت میں بہت کثرت سے موجود ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک کے بطلان کا اقرار کروایا ہے نیز یہ کہ وہ اس بارے میں سخت ظالم ہیں، خواہ یہ شرک اقوال میں ہو یا افعال میں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان سب کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اس جا ن سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان میں سے ان کے جوڑے پیدا کئے پھر ان کے درمیان مودت و محبت پید کی جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے پاس سکون پاتے ہیں، ایک دوسرے کے لئے الفت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے لذت حاصل کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف ان کی راہنمائی فرمائی جس سے شہوت، لذت، اولاد اور نسل حاصل ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ تک ماؤں کے بطن میں اولاد کو وجود عطا کیا۔ وہ بڑی امیدوں کے ساتھ اولاد کی پیدائش کا انتظار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صحیح سالم ماں کے پیٹ سے باہر لائے۔ پس (اس دعا کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت پوری کردی اور ان کو ان کا مطلوب عطا کردیا۔ تب کیا اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق نہیں کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اسی کے لئے اطاعت کو خالص کریں؟ مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، انہوں نے ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا الاعراف
191 ﴿ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ﴾” جو پیدا نہ کریں کوئی چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں اور نہیں کرسکتے وہ ان کے لئے“ یعنی اپنے عبادت گزاروں کے لئے الاعراف
192 ﴿نَصْرًا وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ﴾ ” مدد اور نہ اپنی ہی مدد کریں“ کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ جب (شریک ٹھہرائی ہوئی اس ہستی کی) یہ حالت ہو کہ وہ پیدا نہ کرسکتی ہو، ایک ذرہ بھی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو بلکہ وہ خود مخلوق ہو اور وہ اپنے عبادت گزار سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو بلکہ خود اپنی ذات سے بھی کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے پر قادر نہ ہو، تو بھلا اس کو اللہ کے ساتھ کیسے معبود بنایا جاسکتا ہے؟ بلاشبہ یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی حماقت ہے۔ الاعراف
193 ﴿وَإِن تَدْعُوهُمْ﴾” اور اگر تم ان کو پکاور۔“ یعنی اے مشرکو ! اگر تم ان بتوں کو، جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، پکارو ﴿ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ ۚ سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنتُمْ صَامِتُونَ ﴾’’راستے کی طرف، تو نہ چلیں تمہاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا چپکے ہو رہو“ ان معبودوں سے تو انسان ہی اچھا ہے کیونکہ یہ معبود سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔ یہ کسی کی راہنمائی کرسکتے ہیں نہ ان کی راہ نمائی کی جاسکتی ہے۔ ایک عقل مند شخص جب ان تمام امور کو مجرد طور پر اپنے تصور میں لاتا ہے تو اسے یقین ہوجاتا ہے کہ ان کی الوہیت باطل ہے اور جو کوئی ان کی عبادت کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔ الاعراف
194 یہ بتوں کے پوجنے والے مشرکین کو مقابلے کی دعوت ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ﴾جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، تم جیسے ہی بندے ہیں“ انکے اور تمہارے درمیان کوئی فرق نہیں، تم سب اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے غلام ہو۔ اگر تم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو کہ یہ ہستیاں جن کو تم نے معبود بنا رکھا ہے عبادت کی مستحق ہیں ﴿ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا لَكُمْ﴾” تو تم انہیں پکارو، پس چاہئے کہ وہ تمہاری پکار کا جواب دیں“ پس اگر وہ تمہاری پکار کا جواب دے دیں اور تمہارا مطلوب حاصل ہوجائے۔۔۔ ورنہ ثابت ہوگیا کہ تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان لگا رہے ہو۔ یہ چیز کوئی وضاحت کی محتاج نہیں، کیونکہ اگر تم ان کی طرف دیکھو تو ان کی شکل ہی دلالت کرتی ہے کہ ان کے پاس کوئی نفع مند چیز نہیں۔۔۔ ان کے پاس چلنے کے لئے پاؤں، پکڑنے کے لئے ہاتھ، دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سننے کیلئے کان نہیں۔ یہ تمام اعضاء و قویٰ سے محروم ہیں جو انسان میں موجود ہوتے ہیں۔ جب تم انہیں پکارتے ہو تو یہ جواب نہیں دے سکتے۔ تو یہ تمہاری ہی مانند بندے ہیں بلکہ تم ان سے زیادہ کامل اور ان سے زیادہ طاقت ور ہو۔ تب کس بنا پر تم ان کی عبادت کرتے ہو؟ الاعراف
195 ﴿ قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ﴾’’کہہ دیجیے ! پکارو اپنے شریکوں کو، پھر برائی کرو میرے حق میں اور مجھ کو ڈھیل نہ دو“ یعنی اگر تمہارے معبود اور تم خود مجھے برائی اور تکلیف پہنچانے کے لئے اکٹھے ہوجاؤ اور مجھے کوئی ڈھیل اور مہلت بھی نہ دو، تب بھی تم مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچا سکو گے۔ الاعراف
196 ﴿إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّـهُ﴾ ” میرا حمایتی تو اللہ ہے“ جو میری سرپرستی کرتا ہے‘ پس مجھے ہر قسم کی منفعت عطا کرتا ہے اور ہر قسم کے ضرر سے بچاتا ہے۔ ﴿الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ﴾ ” جس نے کتاب نازل فرمائی۔“ جس میں ہدایت، شفا اور روشنی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے خاص بندوں کی دینی تربیت کے لئے سرپرستی ہے۔ ﴿وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ﴾ ” اور وہ حمایت کرتا ہے نیک بندوں کی“ وہ لوگ جن کی نیتیں، اعمال اور اقوال پاک ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ﴾(البقرہ :2؍257) ” اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا دوست اور سرپرست ہے جو ایمان لائے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔ “ پس صالح مومن، جب ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے اپنے رب کو اپنا دوست اور سرپرست بنا لیتے ہیں اور کسی ایسی ہستی کو اپنا دوست نہیں بناتے جو کسی کو نفع پہنچا سکتی ہے نہ نقصان، تو اللہ تعالیٰ ان کا دوست اور مددگار بن جاتا ہے، ان کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا ہے، ان کے دین و دنیا کی بھلائی اور مصالح میں ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے ایمان کے ذریعے سے ان سے ہر ناپسندیدہ چیز کو دور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿إِنَّ اللَّـهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا ۗ﴾ (الحج :22؍38) ” اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا ہے۔ “ الاعراف
197 یہ آیت بھی ان بتوں کی عبادت کے عدم استحقاق کو بیان کرتی ہے جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں، کیونکہ یہ خود اپنی مدد کرنے کی استطاعت اور قدرت رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی مدد کرسکتے ہیں۔ ان میں قوت عقل ہے نہ جواب دینے کی طاقت۔ اگر تو ان کو ہدایت کی طرف بلائے تو ان کی طرف نہیں آئیں گے کیونکہ یہ تو زندگی کے بغیر محض تصویریں ہیں تو ان کو دیکھے گا کہ گویا وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ دیکھ نہیں سکتے، کیونکہ مصوروں نے ان کو انسانوں وغیرہ جانداروں کی صورت دی ہے، ان کی آنکھیں اور دیگر اعضاء بنائے ہیں۔ جب تو ان کی طرف دیکھے گا تو کہہ اٹھے گا کہ یہ زندہ ہیں مگر جب تو ان کو غور سے دیکھے گا تو پہچان لے گا کہ یہ تو جامد پتھر ہیں جن میں کوئی حرکت ہے نہ زندگی۔ تب کس بنا پر مشرکین نے ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ الٰہ ٹھہرا لیا؟ کو نسی مصلحت اور کون سے فائدے کی خاطر یہ لوگ ان کے پاس اعتکاف کرتے ہیں اور مختلف عبادات کے ذریعے سے ان کا تقرب حاصل کرتے ہیں؟ جب اس چیز کی معرفت حاصل ہوگئی تو یہ بات واضح ہوگئی کہ ا گر مشرکین اور ان کے معبود، جن کی یہ عبادت کرتے ہیں، اکٹھے ہو کر ان لوگوں کے خلاف چالیں چل لیں جن کو زمین اور آسمانوں کی تخلیق کرنے والے نے اپنی سرپرستی میں لے رکھا ہے اور اپنے نیک بندوں کے احوال کا والی ہے، وہ اپنی چال سے ذرہ بھر نقصان پہنچانے پر قادر نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر عاجز اور ان کے معبود بھی عاجز ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ پوری قوت اور کامل اقتدار کا مالک ہے اور وہ شخص بھی قوی ہے جو اس کے جلال کی پناہ لیتا اور اس پر بھروسہ کرتا ہے۔ الاعراف
198 کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾میں ضمیر مشرکین کی طرف لوٹتی ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی (تب اس کے معنی یہ ہوں گے) اے اللہ کے رسول ! آپ سمجھتے ہیں کہ مشرکین آپ کو اعتبار کی نظر سے دیکھتے ہیں تاکہ جھوٹے میں سے سچے کا امتیاز ہوسکے۔ مگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے اور وہ جمال و کمال اور صدق کی ان علامتوں کو نہیں دیکھ سکتے جن کے ذریعے سے پہچاننے والے حقیقت کو پہچانتے ہیں۔ الاعراف
199 یہ آیت کریمہ لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق اور ان کے ساتھ رویئے کے بارے میں جامع آیت ہے۔ لوگوں کے ساتھ معاملے میں مناسب رویہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ عفو و درگزر، آسان اعمال و اخلاق اور نرمی سے پیش آیا جائے، ان کو کسی ایسی بات کا مکلف نہ کیا جائے جس کو ان کی طبائع قبول نہ کریں بلکہ ہر شخص کی بات اور اچھے یا برے فعل کو قبول کیا جائے، ان کی کوتاہی سے درگزر کیا جائے اور ان کے نقائص سے چشم پوشی کی جائے۔ کسی چھوٹے کے ساتھ اس کے چھوٹا ہونے، کسی ناقص العقل کے ساتھ اس کے نقص اور کسی محتاج کے ساتھ اس کی محتاجی کی بنا پر تکبر سے پیش نہ آیا جائے، بلکہ تمام لوگوں کے ساتھ لطف و کرم کا اور احوال کے تقاضے کے مطابق معاملہ کیا جائے کہ جس سے ان کے سینے کھل جائیں۔ ﴿وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ﴾ ” اور حکم کیجیے نیک کام کرنے کا“ یعنی ہر قریب اور بعید شخص کو اچھی بات، اچھے فعل اور کامل اخلاق کا حکم دیجیے۔ آپ جو کچھ لوگوں کو عطا کریں وہ تعلیم علم ہو یا کسی بھلائی کی ترغیب دینا، جیسے صلہ رحمی یا والدین کے ساتھ حسن سلوک یا لوگوں کے درمیان صلح کروانا یا نفع بخش خیر خواہی یا صائب رائے یا نیکی اور تقویٰ پر معاونت یا برائی پر زجر و توبیخ یا کسی دینی یا دنیاوی بھلائی کی طرف راہنمائی۔ چونکہ جاہل کی طرف سے تکلیف اور اذیت کا پہنچنا ایک لابدی امر ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جاہل سے اعراض اور درگزر سے کام لیا جائے اور اس کی جہالت کا مقابلہ نہ کیا جائے۔ پس جو کوئی آپ کو اپنے قول و فعل سے اذیت دیتا ہے آپ اس کو اذیت نہ دیں، جو آپ کو محروم کرتا ہے آپ اس کو محروم نہ کریں، جو آپ سے قطع تعلق کرتا ہے آپ اس سے تعلق جوڑے رکھیں اور جو آپ پر ظلم کرتا ہے آپ اس کے ساتھ انصاف کریں۔ رہی یہ بات کہ بندہ مومن کو شیاطین جنوں اور انسانوں کے ساتھ کیسا معاملہ کرنا چاہئے؟ تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : الاعراف
200 ﴿يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ﴾” ابھارے آپ کو شیطان کی چھیڑ“ یعنی کسی وقت اور کسی حال میں بھی اگر آپ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ، بھلائی کے راستے میں رکاوٹ، برائی کی ترغیب اور اکتاہٹ محسوس کریں ﴿فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ﴾ ” تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لیجیے“ اور اس کی حفاظت میں آ کر محفوظ ہوجایئے ﴿إِنَّهُ سَمِيعٌ﴾ ” بے شک وہ سننے والا ہے۔“ آپ جو کچھ کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے۔ ﴿عَلِيمٌ ﴾ ” جاننے والا ہے۔“ آپ کی نیت، آپ کی کمزوری اور آپ کی پناہ لینے کی قوت کو خوب جانتا ہے، وہ آپ کو اس کے فتنے سے محفوظ رکھے گا اور آپ کو اس کے وسوسوں سے بچائے گا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَـٰهِ النَّاسِ مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾(الناس:114؍1۔6)’’کہو میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی، لوگوں کے بادشاہ حقیقی کی، لوگوں کے معبود کی، شیطان وسوسہ انداز کی برائی سے، شیطان پیچھے ہٹ جانے والے سے جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے خواہ وہ شیطان جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔ “ جب بندے کا غافل ہوجانا اور اس شیطان کا اس کو کچھ نہ کچھ شکار کرلینا لازمی امر ہے، جو ہمیشہ گھات لگائے رہتا اور بندے کی غفلت کا منتظر رہتا ہے، تو اب اللہ تعالیٰ نے گمراہ کرنے والوں سے بچ جانے والوں کی علامت ذکر کی ہے۔۔۔ اور صاحب تقویٰ جب شیطانی وسوسے کو محسوس کرلیتا ہے اور وہ کسی فعل واجب کو ترک کر کے یا کسی فعل حرام کا ارتکاب کر کے گناہ کر بیٹھتا ہے تو فوراً اسے تنبیہ ہوتی ہے، وہ غور کرتا ہے کہ شیطان کہاں سے حملہ آور ہوا ہے اور کون سے دروازے سے داخل ہوا ہے۔ وہ ان تمام لوازم ایمان کو یاد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب قرار دیئے ہیں تو اسے بصیرت حاصل ہوجاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے اور جو اس سے کوتاہی واقع ہوئی ہے، توبہ اور نیکیوں کی کثرت کے ذریعے سے اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پس وہ شیطان کو ذلیل و رسوا کر کے دھتکار دیتا ہے اور شیطان نے اس سے جو کچھ حاصل کیا ہوتا ہے، اس پر پانی پھیر دیتا ہے۔ رہے شیاطین کے بھائی اور ان کے دوست، تو یہ جب کسی گناہ میں پڑجاتے ہیں تو یہ اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں، گناہ پر گناہ کرتے ہیں اور گناہ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، پس شیاطین بھی ان کو بدر اہ کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ نہایت آسانی سے ان کے تابع ہوجاتے ہیں اور برائی کے ارتکاب میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے، تو وہ ان کی بدراہی کے بہت، خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ الاعراف
201 الاعراف
202 الاعراف
203 یہ جھٹلانے والے آپ کے ساتھ عناد رکھتے ہی رہیں گے خواہ ان کے پاس رشد و ہدایت پر کتنے ہی دلائل کیوں نہ آجائیں۔ پس جب آپ ان کو کوئی ایسی دلیل دیتے ہیں جو آپ کی صداقت پر دلالت کرتی ہے، تو یہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔﴿وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِم بِآيَةٍ﴾ ” اور جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہیں لاتے۔“ یعنی جب ان کے حسب خواہش آیات و معجزات نہیں لاتے ﴿قَالُوا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا﴾ ” تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنا لی۔“ یعنی کہتے ہیں کہ تم فلاں آیت اور فلاں معجزہ کیوں نہیں لاتے گویا کہ آیات اور معجزات آپ نازل کرتے ہیں اور تمام مخلوقات کی تدبیر آپ کرتے ہیں۔ حالانکہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ آپ تو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے۔۔۔ (یا وہ یوں کہتے ہیں کہ) تم نے ان آیات کو اپنے پاس سے کیوں نہیں گھڑ لیا۔ ﴿قُلْ إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ مِن رَّبِّي﴾” کہہ دیجیے کہ میں تو اس حکم کی اتباع کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔“ پس میں تو اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان بندہ اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہوں۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو معجزات نازل کرتا ہے وہ اپنی حمد و ثنا اور حکمت بالغہ کے تقاضوں کے مطابق آیات اور معجزات بھیجتا ہے۔ اگر تم ایسی نشانی اور معجزہ چاہتے ہو جو مرور اوقات کے ساتھ کمزور نہ ہو اور ایسی حجت چاہتے ہو جو کسی بھی لمحہ باطل نہ ہو، تو ﴿هَـٰذَا﴾ ” یہ“ قرآن عظیم اور ذکر حکیم ﴿بَصَائِرُ مِن رَّبِّكُمْ ﴾ ” تمہارے رب کی طرف سے دانائی ہے“ جن کے ذریعے سے الٰہی مطالب اور انسانی مقاصد کو پرکھا جاتا ہے۔ یہ قرآن عظیم دلیل اور مدلول ہے۔ جو کوئی اس میں تدبر کرتا ہے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ اللہ، حکمت والے اور قابل تعریف کی طرف سے نازل کردہ ہے، باطل جس کے سامنے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے اور یہ قرآن ہر اس شخص کے خلاف حجت ہے جس کے پاس یہ پہنچتا ہے۔ مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ورنہ جو کوئی اس پر ایمان لاتا ہے ﴿ وَهُدًى﴾” اور ہدایت ہے“ تو یہ قرآن گمراہی کے اندھیرے میں اس کے لئے ہدایت کا نور ہے﴿ وَرَحْمَةٌ ﴾” اور رحمت ہے“ اور بدبختیوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ پس مومن قرآن سے راہنمائی حاصل کرتا ہے اور اس کی اتباع کرتا ہے، اپنی دنیا و آخرت میں سعادت مند ہے اور جو کوئی اس پر ایمان نہیں لاتا وہ دنیا و آخرت میں گمراہ اور بدبخت ہے۔ الاعراف
204 یہ ہر اس شخص کے لئے ایک عام حکم ہے جو کتاب اللہ کی تلاوت سنتا ہے، وہ اسے غور سے سننے اور خاموش رہنے پر امور ہے۔ استماع اور انصات کے درمیان فرق یہ ہے کہ﴿ انْصَات﴾” چپ رہنا‘ ظاہر میں بات چیت اور ایسے امور میں مشغولیت کو ترک کرنے کا نام ہے جن کی وجہ سے وہ غور سے سن نہیں سکتا اور ﴿ اسْتِماع﴾” سننا“ یہ ہے کہ سننے کے لئے پوری توجہ مبذول کی جائے، قلب حاضر ہو اور جو چیز سنے اس میں تدبر کرے۔ کتاب اللہ کی تلاوت کے وقت جو کوئی ان دونوں امور کا التزام کرتا ہے وہ خیر کثیر، بے انتہا علم، دائمی تجدید شدہ ایمان، بہت زیادہ ہدایت اور دین میں بصیرت سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے حصول رحمت کو ان دونوں امور پر مترتب قرار دیا ہے اور یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس کے سامنے کتاب اللہ کی تلاوت کی جائے اور وہ اسے غور سے نہ سنے اور خاموش نہ رہے تو رحمت کے بہت بڑے حصے سے محروم ہوجاتا ہے، وہ خیر کثیر حاصل نہیں کر پاتا اور قرآن سننے والے کو سخت تاکید ہے کہ جہری نمازوں میں، جب کہ امام قراءت کرے، وہ توجہ سے سنے اور خاموش رہے، کیونکہ اسے چپ رہنے کا حکم ہے۔ یہاں تک کہ اکثر اہل علم کی رائے ہے کہ نماز کے اندر امام کی قراءت کے وقت خاموش رہنا سورۃ فاتحہ وغیرہ پڑھنے سے اولیٰ ہے۔ [یہ مؤلف کتاب کی اپنی رائے ہے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، مرحوم کی یہ رائے صحیح نہیں، کیونکہ یہ نصوص صریحہ کے خلاف ہے۔ احادیث میں وضاحت موجود ہے کہ امام ہر آیت پر وقف کر کے سورۃ فاتحہ پڑھے اور اس وقفے میں مقتدی بھی سورۃ فاتحہ پڑھتے جائیں۔ کیونکہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ اس طرح وقفوں اور سکتات میں سورۃ فاتحہ پڑھنے سے استماع اور انصات کی بھی خلاف ورزی نہیں ہوتی اور حدیث پر بھی عمل ہوجاتا ہے، ہاں ! البتہ سورۃ فاتحہ کے علاوہ کچھ اور پڑھنا جائز نہیں۔ (ص۔ ی)] الاعراف
205 اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر قلب کے ذریعے سے، زبان کے ذریعے سے اور قلب اور زبان دونوں کے ذریعے سے ہوتا ہے اور یہ ذکر اپنی نوع اور احوال کے اعتبار سے کامل ترین ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اصلاً اور دیگر اہل ایمان کو تبعاً حکم دیا ہے کہ وہ نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں۔ ﴿ تَضَرُّعًا﴾ ” عاجزی اور تذلل سے“ ذکر کی مختلف انواع کے تکرار کے ساتھ اپنی زبان سے ذکر کریں ﴿ وَخِيفَةً ﴾ ” اور ڈرتے ہوئے“ اور آپ کی حالت یہ ہونی چاہئے کہ آپ اپنے دل میں، اللہ تعالیٰ سے خائف اور ڈرتے ہوں مبادا کہ آپ کا عمل قبول نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے خوف کی علامت یہ ہے کہ بندہ خیر خواہی کے ساتھ اپنے عمل کی اصلاح اور تکمیل میں پیہم کوشاں رہتا ہے۔ ﴿وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ ﴾ ” اور ایسی آواز سے جو کہ پکار کر بولنے سے کم ہو“ یعنی متوسط رویہ اختیار کیجیے ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا﴾(بنی اسرائیل:17؍110)” اپنی نماز بلند آواز سے پڑھئے نہ بہت آہستہ آواز سے بلکہ درمیان کا راستہ اختیار کیجیے۔“﴿ بِالْغُدُوِّ﴾ ” دن کے ابتدائی حصے میں“ ﴿وَالْآصَالِ ﴾ ” اور دن کے آخری حصے میں۔“ ان دونوں اوقات کو دیگر اوقات پر فضیلت حاصل ہے۔ ﴿وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ﴾” اور غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہوں“ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کردیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے۔ پس وہ دنیا اور آخرت کی بھلائی سے محروم ہوگئے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبودیت میں ہر فلاح و سعادت سے روگردانی کی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہر بدبختی اور ناکامی کی طرف متوجہ رہے۔ یہ وہ آداب ذکر ہیں جن کے بندے کو رعایت رکھنی چاہئے جیسا کہ رعایت رکھنے کا حق ہے یعنی دن اور رات کے اوقات میں، خاص طور پر دن کے دونوں کناروں میں، نہایت اخلاص، خشوع و خضوع، عاجزی، تذلل کے ساتھ، پرسکون حالت میں، قلب و لسان کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرتے ہوئے، نہایت ادب ووقار سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور بہت توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس سے دعا کی جائے۔ غفلت کو دور کر کے حضور قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ غافل اور مشغول دل کے ساتھ کی ہوئی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو ہمیشہ اس کی عبادت اور خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔۔۔ اور وہ ہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتے۔۔۔ تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری کثرت عبادت سے کوئی کمی پوری کرنی چاہتا ہے نہ تمہاری عبادت کے ذریعے سے ذلت سے نکل کر معزز ہونا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری عبادت کے ذریعے سے تمہیں ہی فائدہ دینا چاہتا ہے تاکہ تم اس کے ہاں اپنے اعمال سے کئی گنا زیادہ نفع حاصل کرسکو۔ الاعراف
206 بنا بریں فرمایا : ﴿إِنَّ الَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ﴾ ” وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں“ یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، عرش الٰہی کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے اشراف فرشتے ﴿لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ ﴾ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے“ بلکہ اس کی عبادت کے لئے سرافگندہ اور اپنے رب کے احکام کے سامنے مطیع ہیں ﴿وَيُسَبِّحُونَهُ﴾ ” اور اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔“ رات دن اس کی تسبیح میں مگن رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی نہیں کرتے۔ ﴿ وَلَهُ﴾ ” اور اس کے لئے“ یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے لئے ﴿ يَسْجُدُونَ ﴾ ” سجدے کرتے ہیں۔“ پس بندوں کو ان ملائکہ کرام کی پیروی کرنی چاہئے اور ہمیشہ اللہ علم والے بادشاہ حقیقی کی عبادت میں مصروف رہنا چاہئے۔ الاعراف
0 الانفال
1 ﴿الْأَنفَالِ﴾ سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے امت کو عطا کی ہیں۔ اس سورۃ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوہ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں۔ غزوہ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا، تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انہوں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ﴾ ” وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں“ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انہیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُلِ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے !﴿الْأَنفَالُ لِلَّـهِ وَالرَّسُولِ﴾ ” غنیمتیں اللہ اور رسول کے لئے ہیں“ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمہیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں، بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کردیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔﴿فَاتَّقُوا اللَّـهَ﴾ ” پس اللہ سے ڈور“ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾” اور صلح کرو آپس میں“ یعنی تم آپس کے بغض، قطعی تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہوجائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہوجاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے﴿وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو“ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔ چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (١) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (٢) نقاص ایمان الانفال
2 تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ﴾ ” مومن تو صرف وہ ہیں“ الف لام استغراق کے لئے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے ﴿ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّـهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ﴾ ” کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا، تو ڈر جائیں دل ان کے“ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے، کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ ﴿وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا﴾ ” اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ کردیتی ہیں ان کو ایمان میں“ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ تدبر، اعمال قلوب میں شمار ہوتا ہے، نیز ان کے لئے معانی کی بھی توضیح ہوتی ہے جن سے وہ لاعلم ہیں اور ان کو ان امور کی یاد دہانی ہوتی ہے جن کو وہ فراموش کرچکے ہیں یا ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور اپنے رب کے اکرام و تکریم کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے یا ان کے دل میں عذاب سے خوف اور معاصی سے ڈرپیدا ہوتا ہے اور ان تمام امور سے ایمان پڑھتا ہے۔ ﴿وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ ﴾ ” اور اپنے رب پر‘‘ یعنی اپنے رب وحدہ لاشریک پر ﴿يَتَوَكَّلُونَ﴾ ” وہ بھروسہ کرتے ہیں“ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی مضرتوں کو دور کرنے میں اپنے دلوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور انہیں پورا وثوق ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ضرور کرے گا۔ توکل ہی انسانوں کو تمام اعمال پر آمادہ کرتا ہے تو کل کے بغیر اعمال وجود میں آتے ہیں نہ تکمیل پا سکتے ہیں۔ الانفال
3 ﴿الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ﴾” جو نماز پڑھتے ہیں۔“ فرض اور نفل نماز کو، اس کے ظاہری اور باطنی اعمال، مثلاً حضور قلب جو کہ نماز کی روح اور اس کا مغز ہے، کے ساتھ قائم کرتے ہیں ﴿وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴾” اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں“ یعنی وہ نفقات واجبہ مثلاً زکوۃ، کفارہ، بیویوں، اقارب اور غلاموں پر خرچ کرتے ہیں اور نفقات مستحبہ مثلاً بھلائی کے تمام راستوں میں صدقہ کرتے ہیں۔ الانفال
4 ﴿أُولَـٰئِكَ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا﴾ ” وہی حقیقی مومن ہیں“ کیونکہ انہوں نے اسلام اور ایمان، اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ، علم اور عمل اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو جمع کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعمال قلوب کو مقدم کرکھا ہے، کیونکہ اعمال قلوب، اعمال جوارح کی بنیاد اور ان سے افضل ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ نیکی کے افعال سے ایمان پڑھتا ہے اور اس کے متضاد افعال سے ایمان گھٹتا ہے، نیز بندے کو چاہئے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اس کو نشو و نما دے اور یہ مقصد کتاب اللہ میں تدبر اور اس کے معانی میں غور و فکر کرنے سے بدرجہ اولیٰ حاصل ہوتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے حقیقی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ لَّهُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ رَبِّهِمْ﴾” اور ان کے لئے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں۔“ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات بلند ہوں گے۔ ﴿ وَمَغْفِرَةٌ ﴾ اور ان کے گناہوں کی بخشش ﴿وَرِزْقٌ كَرِيمٌ﴾ ” اور عزت کی روزی“ یہ وہ روزی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اکرام و عزت والے گھر میں اہل ایمان کے لئے تیار کر رکھی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی ہے نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کا طائر خیال وہاں تک پہنچا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی ایمان میں ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا، وہ اگرچہ جنت میں داخل ہوجائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی کرامت تامہ جو انہیں حاصل ہوئی ہے، اسے حاصل نہیں ہوگی۔ الانفال
5 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم اور مبارک غزوہ کے ذکر سے قبل، اہل ایمان کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کو انہیں اختیار کرنا چاہئے، کیونکہ جو کوئی ان صفات کو اختیار کرتا ہے، اس کے احوال میں استقامت آجاتی ہے اور اس کے اعمال درست ہوجاتے ہیں۔ جن میں سب سے بڑا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لئے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لئے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔ جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھگڑنا شروع کردیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورتحال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے، لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہوجائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات، مگر اکثر اہل ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انہوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انہوں نے جہاد کے لئے سرتسلیم خم کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑاقافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قافلے کو روکنے کے لئے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انہوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لئے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں، یعنی قافلہ یا فوج میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا، نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لئے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفر یاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادرشہسوار لڑنے کے لئے آئے تھے۔ الانفال
6 الانفال
7 ﴿وَيُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ﴾ ” اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے حق کو اپنے کلمات سے“ پس اس طرح وہ اہل حق کی مدد فرماتا ہے ﴿ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ﴾ ” اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی“ یعنی وہ اہل باطل کا استیصال کرتا ہے اور اپنے بندوں کو نصرت حق کا ایسا معاملہ دکھاتا ہے کہ جس کے بارے میں کبھی ان کے دل میں خیال بھی نہیں گزرا ہوتا الانفال
8 ﴿لِيُحِقَّ الْحَقَّ ﴾” تاکہ حق کو ثابت کر دے۔“ حق کی صحت اور صدقات کے شواہد اور براہین کو ظاہر کر کے ﴿وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ ﴾ ” اور باطل کو باطل کر دے۔“ اس کے بطلان پر دلائل اور شواہد قائم کر کے ﴿وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ﴾ ” خواہ مجرموں کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو“ پس اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں۔ الانفال
9 یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمہاری مڈ بھیڑ کو یقینی اور قریب کردیا، تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لئے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔﴿ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ﴾ ” پس اس نے تمہاری پکار کا جواب دیا“ اور متعدد امور کے ساتھ تمہاری مدد فرمائی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجا ﴿بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ ﴾” ہزار فرشتے لگاتار آنے والے“ یعنی وہ پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔ الانفال
10 ﴿وَمَا جَعَلَهُ اللَّـهُ ﴾” اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے“ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿إِلَّا بُشْرَىٰ﴾ ” مگر خوش خبری“ تاکہ اس سے تمہارے دل خوشی حاصل کریں۔ ﴿وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ﴾ ” اور تمہارے دل مطمئن ہوں“ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور ساز و سامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ﴾” بے شک اللہ غالب ہے۔“ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کرسکتے) ﴿حَكِيمٌ﴾ ” حکمت والا ہے۔“ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لئے مناسب ہے۔ الانفال
11 اس کی فتح و نصرت اور تمہاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کردی﴿إِذْ يُغَشِّيكُمُ﴾ ” جو تمہیں ڈھانپ رہی تھی۔“ یعنی تمہارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ أَمَنَةً ﴾تمہارے لئے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی، تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمہیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمہاری تطہیر کرے۔﴿ وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ﴾ ” اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے۔“ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ﴾” اور جما دے اس کے ذریعے سے تمہارے قدم“ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔ الانفال
12 یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿أَنِّي مَعَكُمْ﴾ ” کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔“ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمہارے ساتھ ہے۔ ﴿فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ ” پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے“ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انہیں جہاد کی ترغیب دو ﴿سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ ﴾ ” میں ڈال دوں گا کافروں کے دلوں میں دہشت“ جو کافروں کے مقابلے میں تمہارا سب سے بڑا لشکر ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ﴾’’پس تم ان کی گردنیں مارو“ ﴿وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ ﴾ ” اور کاٹو ان کی پور پور“ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ۔۔۔۔۔۔ یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوہ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے۔۔۔ یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انہیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں۔ الانفال
13 ﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ﴾ ” یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔“ یعنی یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور انکے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ ﴿وَمَن يُشَاقِقِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ ” اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا، تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے“ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔ الانفال
14 ﴿ذَٰلِكُمْ﴾یہ عذاب مذکور ﴿فَذُوقُوهُ﴾” پس چکھو تم اس کو“ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو !(اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو ﴿وَأَنَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابَ النَّارِ﴾ ” اور کافروں کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔ “ اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر تشریف لائے ہیں، وہ حق ہے۔ (١) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کردیا۔ (٢) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ ۚ﴾(آل عمران:3؍13)” تمہارے لئے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انہیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے۔ “ (٣) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لئے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطانی وسوسے دور ہوں۔ (٤) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لئے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کردیتا ہے۔ الانفال
15 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو شجاعت ایمانی، اللہ کے معاملے میں قوت اور دلوں اور جسموں کو مضبوط کرنے والے اسباب فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور جب دونوں فوجوں کے درمیان معرکہ ہو تو میدان جنگ سے فرار ہونے سے منع کیا ہے۔ ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا﴾” اے ایمان والو ! جب بھڑوتم کافروں سے میدان جنگ میں“ یعنی جب لڑائی کے لئے صف بندی ہوچکی ہو، فوجیں ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہی ہوں اور جنگجو ایک دوسرے کے قریب آچکے ہوں،﴿فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ﴾ ” تو پھر کفار کے سامنے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو“ بلکہ ان سے لڑنے کے لئے ثابت قدمی سے ڈٹ جاؤ اور ان کی قوت اور حملے کا صبر سے مقابلہ کرو، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اہل ایمان کے دلوں کی مضبوطی اور دشمنوں کو خوف زدہ کرنے کا باعث ہوگی۔ الانفال
16 ﴿ وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ ﴾اور جو کوئی پیٹھ پھیرے ان سے اس دن، مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جا ملتا ہو فوج میں، تو پھر اوہ“ یعنی وہ لوٹا ﴿ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّـهِ وَمَأْوَاهُ﴾” اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانا“ ﴿جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ﴾” جہنم ہے اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے“ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی عذر کے بغیر، میدان جنگ سے فرار ہونا سب سے بڑا گناہ ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وار دہوا ہے اور جیسا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرار ہونے والے کے لئے سخت وعید سنائی ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ جنگی چال کے طور پر میدان جنگ سے ہٹنے میں، یعنی میدان جنگ میں ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جا کر لڑنا تاکہ اس جنگی چال میں دشمن کو زک پہنچا سکے، کوئی حرج نہیں، کیونکہ وہ میدان جنگ سے منہ موڑ کر نہیں بھاگا بلکہ اس نے دشمن پر غالب آنے کے لئے ایسا کیا ہے، یا اس نے کسی پہلو سے دشمن پر حملہ کرنے کے لئے، یا دشمن کو ھوکہ دینے کے لئے یہ چال چلی ہے، یا دیگر جنگی مقاصد کے لئے ایسا کیا ہے۔ اسی طرح کفار کے خلاف کمک کے طور پر ایک جماعت سے علیحدہ ہو کر دوسری جماعت میں جا کر ملنا بھی جائز ہے۔ اگر لشکر کا وہ گروہ جس کے ساتھ یہ گروہ جا کر ملا ہے، میدان جنگ میں موجود ہے تو ایسا کرنے کا جواز بالکل واضح ہے اور اگر وہ گروہ مقام معرکہ کی بجائے کسی اور مقام پر ہے، مثلاً مسلمانوں کا کفار کے مقابلے سے کسی ایک شہر سے پسپا ہو کر مسلمانوں کے کسی دوسرے شہر میں پناہ لینا یا ایک میدان جنگ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ دشمن پر حملہ آور ہونا، تو اس بارے میں صحابہ کرام سے جو آراء منقول ہوئی ہیں وہ اس کے جواز پر دلالت کرتی ہیں۔ شاید پسپائی اس شرط سے مشروط ہے کہ مسلمان سمجھتے ہوں کہ پسپائی انجام کار ان کے لئے بہتر اور دشمن کے مقابلے میں زیادہ مفید ہو اور اگر وہ یہ سمجھتے ہوں کہ میدان جنگ میں جمع رہنے سے کفار پر ان کو غلبہ حاصل ہوجائے گا تو اس صورت حال میں یہ بعید ہے کہ پسپائی کا جواز ہو، کیونکہ تب میدان جنگ سے فرار ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے جس سے روکا گیا ہے۔ یہ آیت کریمہ مطلق ہے۔ (یعنی فرار کی ہر صورت ممنوع ہے) البتہ سورت کے آخر میں اس کو تعداد کے ساتھ مشروط کرنے کا بیان ہے۔ (دیکھئے آیت نمبر 66 کی تفسیر) الانفال
17 جب غزوہ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا، تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ﴾ ” تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔“ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا﴿وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ قَتَلَهُمْ ۚ﴾ ” لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا“ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ ﴿ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَمَىٰ ۚ﴾ ” اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی، لیکن اللہ نے پھینکی۔“ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لئے دعائیں کرنے لگے، پھر خیمے سے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاک کی ایک مٹھی اٹھا کر کفار کے چہروں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ نے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچا دی، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چہرے، منہ اور آنکھوں میں یہ خاک نہ پڑی ہو۔ پس اس وقت ان کی طاقت ٹوٹ گئی، ان کے ہاتھ شل ہوگئے، ان کے اندر کمزوری اور بزدلی ظاہر ہوئی پس وہ شکست کھا گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ’’جب آپ نے کفار کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے اپنی قوت سے یہ خاک ان کے چہروں تک نہیں پہنچائی تھی، بلکہ ہم نے اپنی قوت اور قدرت سے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچائی۔ “ ﴿ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا ﴾ ” اور تاکہ اللہ آزمائے مومنوں کو اپنی طرف سے خوب آزمانا‘‘ یعنی براہ راست لڑائی کے بغیر اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کی مدد کرنے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ مومنوں کا امتحان لینا اور جہاد کے ذریعے سے انہیں بلند ترین درجات اور اعلیٰ ترین مقامات پر فائز کرنا، نیز انہیں اجر حسن اور ثواب جزیل عطا کرنا چاہتا ہے۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ ” بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔“ بندہ جو بات چھپا کر کرتا ہے یا اعلانیہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب سنتا ہے۔ بندے کے دل میں جو اچھی یا بری نیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت اور بندوں کے مصالح کے مطابق ان کی تقدیر پر مقرر کرتا ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا دیتا ہے۔ الانفال
18 ﴿ذَٰلِكُمْ﴾یہ فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿وَأَنَّ اللَّـهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ﴾ ” اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔“ یعنی کفار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مکر و فریب اور سازشیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی چالوں کو کمزور کرتا ہے اور انہی کو ان کی چالوں میں پھنسا دیتا ہے۔ الانفال
19 ﴿إِن تَسْتَفْتِحُوا﴾ ” اور اگر تم چاہتے ہو فیصلہ“ اے مشرکو ! اگر تم اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرتے ہو کہ وہ ظلم و تعدی کا ارتکاب کرنے والوں پر اپنا عذاب نازل کر دے۔﴿فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ﴾” تو تحقیق آچکا تمہارے پاس فیصلہ“ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا عذاب نازل کیا جو تمہارے لئے سزا اور متقین کے لئے عبرت ہے ﴿وَإِن تَنتَهُوا﴾” اور اگر تم باز آجاؤ۔“ یعنی اگر تم فیصلہ چاہنے سے باز آجاؤ۔ ﴿ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ﴾” تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے“ کیونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ تمہیں مہلت دیتا ہے اور تمہیں فوراً سزا نہیں دیتا۔ ﴿ وَلَن تُغْنِيَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْئًا وَلَوْ كَثُرَتْ﴾” اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔“ یعنی وہ انصار و اعوان تمہارے کچھ کام نہ آئیں گے جن کے بھرو سے پر تم جنگ کر رہے ہو، چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں۔﴿وَأَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ ” اور اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے“ اور اللہ تعالیٰ جن کے ساتھ ہوتا ہے وہی فتح و نصرت سے نوازے جاتے ہیں خواہ وہ کمزور اور تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ معیت، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے اہل ایمان کی تائید فرماتا ہے، ان کے اعمال ایمان کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر بعض اوقات دشمنوں کو اہل ایمان پر فتح حاصل ہوتی ہے تو یہ اہل ایمان کی کو تاہی، واجبات ایمان اور اس کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ورنہ اگر وہ ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں تو ان کا پرچم کبھی سرنگوں نہ ہو اور دشمن کو کبھی ان پر غالب آنے کا موقع نہ ملے۔ الانفال
20 چونکہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں جن سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ﴾” اے ایمان والو ! اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی“ یعنی ان کے اوامرکی پیروی اور ان کے نواہی سے اجتناب کر کے ﴿وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ﴾” اور اس سے روگردانی نہ کرو۔“ یعنی اس معاملے سے منہ نہ موڑو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔ ﴿ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ﴾ ” اور تم سنتے ہو۔“ حالانکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے اوامر، اس کی وصیتوں اور اس کی نصیحتوں کی جو تلاوت کی جاتی ہے، تم اسے سنتے ہو۔ اس حال میں تمہارا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑنا بدترین حال ہے۔ الانفال
21 ﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ ﴾ ” اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنہوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں“ یعنی مجرد خالی خولی دعوؤں پر اکتفا نہ کرو جن کی کوئی حقیقت نہیں، کیونکہ یہ ایسی حالت ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی نہیں۔ ایمان محض تمناؤں اور دعوؤں سے مزین ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزیں ہو اور اعمال اس کی تصدیق کریں۔ الانفال
22 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ ﴾ ” سب جان داروں سے بدتر اللہ کے ہاں“ جن کو معجزات اور ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، وہ ہیں جو ﴿ الصُّمُّ ﴾ حق سننے سے بہرے ہیں۔ ﴿الْبُكْمُ﴾حق بولنے سے گونگے ہیں ﴿الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ﴾ وہ کسی ایسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے جو ان کو فائدہ دیتی ہے اور نہ اسے اس چیز پر ترجیح دے سکتے ہیں جو انہیں نقصان دیتی ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کان، آنکھ اور عقل سے نوازا تاکہ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستے میں استعمال کریں، مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی راہ میں استعمال کیا اور اس وجہ سے وہ خیر کثیر سے محروم ہوگئے۔ ان کو چاہئے تھا کہ وہ بہترین مخلوق بننے کی کوشش کرتے مگر انہوں نے اس راستے پر چلنے سے انکار کردیا اور انہوں نے بدترین مخلوق بننا پسند کیا۔ الانفال
23 وہ سماعت، جس کی اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں نفی کی ہے، وہ ہے دل میں اثر کرنے والے معافی کی سماعت۔۔۔ رہی سماعت حجت تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جو آیات سنی ہیں اس کی وجہ سے ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو سماع نافع سے محروم کردیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں جس کی وجہ سے ان میں اللہ تعالیٰ کی آیات کو سننے کی صلاحیت ہوتی۔ ﴿وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ﴾ ” اور اگر اب وہ ان کو سنا دے“ یعنی اگر یہ فرض کرلیا جائے ﴿لَتَوَلَّوا﴾” تو وہ ضرور پھر جائیں“ یعنی اللہ کی اطاعت سے ﴿وَّهُم مُّعْرِضُونَ﴾ ” اور وہ اعراض کرنے والے ہیں۔“ یعنی وہ کسی طور بھی حق کی طرف التفات نہیں کریں گے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ صرف اس شخص کو ایمان اور بھلائی سے محروم کرتا ہے جس میں کوئی صلاحیت نہیں ہوتی اور نہ بھلائی اس کے پاس پھلتی پھولتی ہے۔ اس بارے میں وہ نہایت قابل تعریف اور دانائی کا مالک ہے۔ الانفال
24 اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو ان کے ایمان کا تقاضا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو حکم دیا ہے اسکی تعمیل کرنا، اس کی تعمیل کے لئے سبقت کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا اور انہوں نے جس چیز سے روکا ہے اس سے باز رہنا اور اس سے اجتناب کرنا۔ ﴿ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾” جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمہاری زندگی ہے“ یہ ہر اس امر کا وصف لازم ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم دعوت دیتے ہیں اور نیز یہ اس کے حکم کے فائدے اور حکمت کو بیان کرتا ہے، کیونکہ قلب و روح کی زندگی کا دار و مدار اللہ تعالیٰ کی عبودیت، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے دائمی التزام پر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک نہ کہنے پر ڈراتے ہوئے فرمایا : ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ﴾” اور جان لو کہ اللہ آڑ بن جاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے درمیان“ اس لئے جب اللہ تعالیٰ کا حکم پہلی بار تمہارے پاس آئے، تو اس کو ٹھکرانے سے بچو کیونکہ پھر اگر اس کے بعد اس کا ارادہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے درمیان اور تمہارے درمیان حائل ہو جائے گا اور تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ جیسے چاہتا ہے اسے ادل بدل کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا ہے۔ پس بندے کو بہت کثرت سے یہ دعا کرتے رہنا چاہئے۔ ( يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ (1)اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ القُلُوبِ صَرِّفْ قَلْبِي عَلَى طَاعَتِكَ) (2) (1) [المسند: 3؍ 112] (2)[صحيح مسلم، القدر، ح: 2645] فرمایا : ﴿وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾ ” اور یہ کہ تم سب اس کے روبرو جمع کئے جاؤ گے۔“ یعنی تم سب اس دن اکٹھے کئے جاؤ گے جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں وہ نیکو کاروں کو ان کی نیکی کی جزا اور بدکاروں کو ان کی بدی کی سزا دے گا۔ الانفال
25 ﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً﴾ ” اور اس فتنے سے بچو، جو تم میں سے خاص ظالموں پر ہی نہیں آئے گا“ بلکہ یہ فتنہ ظلم کرنے والوں اور دیگر لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب ظلم غالب آجائے اور اس کو بدلا نہ جائے تو اس کی سزا ظلم کرنے والوں اور دوسرے لوگوں، سب کے لئے عام ہوتی ہے۔ اس لئے برائیوں سے منع کر کے، اہل شرکا قلع قمع کر کے وہ ظلم اور معاصی کا ارتکاب نہ کرسکیں، اس فتنہ سے بچا جائے ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾ ” اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔“ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لیتا ہے اور اس کی رضا کو ترک کردیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دیتا ہے۔ الانفال
26 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسان کا تذکرہ کرتا ہے کہ وہ کمزور اور مغلوب تھے، اس نے ان کو اپنی نصرت سے نوازا، وہ قلیل تھے اس نے ان کو کثرت عطا کی اور وہ تنگ دست تھے، اس نے ان کو فراخی عطا کی۔ چنانچہ فرمایا : ﴿وَاذْكُرُوا إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ﴾” اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے، کمزور تھے زمین میں“ یعنی تم غیروں کی حکومت میں محکوم و مجبور تھے ﴿تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ﴾” تم ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لیں“﴿فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ﴾ ” تو اس نے تمہیں جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت دی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں۔“ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک شہر عطا کیا جہاں تم نے پناہ لی۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں تمہارے دشمنوں کو شکست دی، تم نے ان سے مال غنیمت حاصل کیا جس کے ذریعے سے تم مال دار ہوگئے۔ ﴿لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ ” تاکہ تم شکر کرو۔“ یعنی شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور کامل احسان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے اور اس کے ساتھ شرک سے اجتناب کر کے اس کا شکر ادا کرو۔ الانفال
27 اللہ تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے اوامرونواہی کی جو امانت ان کے سپرد کی ہے، وہ اسے ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا اور انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لیا، کیونکہ وہ نہایت ظالم اور نادان ہے۔ پس جو کوئی امانت ادا کرتا ہے وہ بے پایاں ثواب کا مستحق بن جاتا ہے اور جو کوئی یہ امانت ادا نہیں کرتا تو سخت عذاب اس کے حصے میں آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنی امانت میں خیانت کا مرتکب قرار پاتا ہے، وہ اپنے آپ کو خیانت جیسی خسیس ترین صفات اور بدترین علامات سے متصف کر کے اپنے نفس کو نقصان میں ڈالتا ہے اور امانت جیسی بہترین اور کامل ترین صفات سے محروم ہوجاتا ہے۔ الانفال
28 چونکہ بندے کو اس کے مال اور اولاد کے ذریعے سے امتحان میں مبتلا کیا گیا ہے اس لئے بسا اوقات مال اور اولاد کی محبت میں بندہ خواہشات نفس کو امانت کی ادائیگی پر ترجیح دیتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مال اور اولاد کی محبت میں بندہ خواہشات نفس کو امانت کی ادائیگی پر ترجیح دیتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مال اور اولاد ایک آزمائش ہے جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں بندے کو عاریتاً عطا کی گئی ہیں جو عنقریب اس ہستی کو واپس لوٹانا ہوں گی جس نے یہ چیزیں عاریتاً عطا کی تھیں۔ ﴿ وَأَنَّ اللَّـهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ﴾ ” اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔“ پس اگر تم میں کوئی عقل اور رائے ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل عظیم کو چھوٹی سی فانی اور ختم ہوجانے والی لذت پر ترجیح نہ دو۔ عقل مند شخص تمام اشیاء کے درمیان موازنہ کرتا ہے اور بہترین چیز کو ترجیح دیتا ہے اور تقدیم کی مستحق چیز کو مقدم رکھتا ہے۔ الانفال
29 بندے کا اپنے رب سے تقویٰ اختیار کرنا سعادت کا عنوان اور فلاح کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کی بہت سی بھلائیوں کا دار ومدار تقویٰ پر رکھا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرتا ہے اسے چار چیزیں عطا ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر چیز دنیا و مافیہا سے کہیں بہتر ہے۔ (١) اللہ تعالیٰ صاحب تقویٰ مومن کو ’’فرقان‘‘ عطا کرتا ہے۔ فرقان سے مراد علم و ہدایت ہے جس کے ذریعے سے وہ ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل، حلال اور حرام، خوش بخت اور بدبخت لوگوں کے درمیان امتیاز کرتا ہے۔ (٢، ٣) برائیوں کو مٹانا اور گناہوں کو بخش دینا۔ اطلاق اور اجتماع کے وقت یہ دونوں امور ایک دوسرے میں داخل ہیں۔ (اَلسِّیئَات) برائیوں کے مٹانے کی تفسیر گناہ صغیرہ ہے اور ﴿ اَلذُّنُوب ﴾ گناہوں و بخش دینے کی تفسیر کبیرہ گناہوں کو مٹا دینے سے کی جاتی ہے۔ (٤) وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنی خواہش نفس پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، اس کے لئے بہت بڑا اجر اور بے پایاں ثواب ہے۔ ﴿وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴾ ” اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔ “ الانفال
30 یعنی اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کیجیے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے، ﴿ وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا ﴾” جب سازش کرتے تھے کافر آپ کے بارے میں“ جب مشرکین مکہ نے ” دارلندوہ“ میں مشورہ کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ (١) آپ کو بیڑیاں پہنا کر محبوس کردیا جائے۔ (٢) آپ کو قتل کردیا جائے تاکہ۔۔۔ بزعم خود۔۔۔ ہمیشہ کے لئے آپ سے نجات حاصل کرلیں۔ (٣) آپ کو مکہ سے نکال باہر کر کے ملک بدر کردیا جائے۔ ہر شخص نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ آخر کار تمام لوگوں نے اس مجلس میں شریک شریر ترین آدمی، ابوجہل (لعنہ اللہ) کی رائے سے اتفاق کیا کہ قریش کے تمام قبائل سے ایک ایک آدمی لے کر اسے تیز تلوار دی جائے اور تمام لوگ بیک وقت حملہ کر کے آپ کو قتل کردیں تاکہ تمام قبائل آپ کے قتل کے ذمہ دار ٹھہریں۔ اس صورت میں بنو ہاشم آپ کی دیت قبول کرنے پر راضی ہوجائیں گے اور قصاص لینے کے لئے قریش کے تمام قبائل کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ چنانچہ وہ رات کے وقت گھات لگا کر بیٹھے گئے تاکہ جب آپ اپنے بستر سے بیددار ہوں تو آپ پر حملہ کردیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے وحی نازل ہوئی۔ آپ باہر تشریف لائے، آپ نے ان سب کے سروں میں خاک ڈالی اور وہاں سے نکل گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اندھا کردیا۔ جب بہت دیر ہوگئی تو کسی آنے والے نے کہا ”وائے تمہاری ناکامی ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو نکل گیا اور تمہارے سروں میں خاک بھی ڈال گیا ہے۔“ انہوں نے اپنے سروں سے مٹی جھاڑی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا لیا اور آپ کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ پس آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی اور یوں آپ کو غلبہ حاصل ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ آپ فاتح بن کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ تمام قریش مکہ نے آپ کی اطاعت قبول کرلی اور آپ کے ماتحت آگئے حالانکہ اس سے پہلے آپ ان سے چھپ کر جان کے خوف سے وہاں سے نکلے تھے۔ پس پاک ہے وہ ہستی جو اپنے بندوں کو لطف و کرم سے نوازتی ہے اور جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ الانفال
31 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا ﴾” اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں“ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں ﴿قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَـٰذَا ۙ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ﴾” تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں“ یہ انہوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لئے بلا سکتے ہیں بلا لیں۔ مگر وہ ایسا نہ کرسکے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔ قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھے ہوئے نہ تھے‘ آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لئے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کرسکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ الانفال
32 ﴿وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ ﴾” اور جب انہوں نے کہا، اے اللہ ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے“ جس کی طرف محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم دعوت دیتے ہیں۔﴿فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴾ ” تو پھر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔“ انہوں نے اپنے باطل پر ڈٹتے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انہوں نے۔۔۔ جبکہ وہ اپنے باطل پر ملع سازی کر رہے تھے جو ان کے لئے یقین اور بصیرت کی موجب تھی۔۔۔ اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ” اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہنمائی کیجیے“ تو یہ چیز ان کے لئے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعددی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کرسکتی تھی۔ پس جب سے انہوں نے کہا ﴿اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا، کیونکہ ان کے اندر رسول صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں اس لئے فرمایا الانفال
33 ﴿وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ ﴾ ”اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا“ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مبارک ان کے لئے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔ اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لئے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کیا کرتے تھے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ﴾” اور اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا جب کہ وہ معافی مانگنے والے ہوں گے۔“ یہی وہ مانع تھا جو عذاب کو واقع ہونے سے روک رہا تھا حالانکہ اس کے اسباب منعقد ہوچکے تھے۔ پھر فرمایا : الانفال
34 ﴿وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّـهُ ﴾” اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے“ یعنی کو نسی چیز ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کرسکتی ہے حالانکہ ان کے کرتوت ایسے ہیں جو اس عذاب کو واجب ٹھہراتے ہیں اور وہ ہے ان کا لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، خاص طور پر انہوں نے نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کو مسجد حرام سے روکا حالانکہ مسجد حرام میں عبادت کرنے کے وہی سب سے زیادہ مستحق تھے۔ بنا بریں فرمایا : ﴿وَمَا كَانُوا﴾” اور نہیں تھے وہ“ یعنی مشرکین ﴿اَوْلِیَآءَہُ﴾ ” اس کا اختیار رکھنے والے“ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی(اولياءاللّٰه)نیز یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع مسجد حرام ہو یعنی وہ مسجد حرام کے دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق نہ تھے۔ ﴿إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ﴾ ” اس کا اختیار رکھنے والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں“ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں جنہوں نے صرف اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق قرار دیا اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کیا،﴿وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾ ” لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔“ اسی لئے وہ اپنے لئے ایسے امور کے مدعی ہیں جن کے دوسرے لوگ زیادہ مستحق ہیں۔ الانفال
35 اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسجد حرام صرف اس لئے بنائی ہے کہ اس میں اس کے دین کو قائم کیا جائے اور اس میں خالص اسی کی عبادت کی جائے۔ پس اہل ایمان ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی اور رہے یہ مشرکین جنہوں نے لوگوں کو مسجد حرام سے روکا تو ان کی نماز، جو کہ سب سے بڑی عبادت ہے، ﴿ إِلَّا مُكَاءً وَتَصْدِيَةً﴾ ” سیٹیوں اور تالیوں کے سوا کچھ بھی نہیں“ جو کہ جہلا اور کم عقل لوگوں کا فعل ہے جن کے دل اپنے رب کی تعظیم سے خالی ہوتے ہیں، جو اپنے رب کے حقوق کی معرفت سے تہی دست ہوتے ہیں اور ان کے دل میں افضل ترین خطہ زمین کا کوئی احترام نہیں ہوتا۔ جب ان کی نماز کا یہ حال ہے تو ان کی بقیہ عبادات کا کیا حال ہوگا؟ پس ان میں کوئی سی چیز ایسی ہے جس کی بنا پر وہ اپنے آپ کو ان مومنوں سے زیادہ بیت اللہ کا مستحق سمجھتے ہیں، جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں، جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں اور ان میں وہ تمام اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ موجود ہیں جو ان کے رب نے بیان فرمائے ہیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے محترم گھر کا وارث بنایا اور اس پر ان کو قدرت عطا کی۔۔۔ اور پھر ان کو اس پر قدرت عطا کرنے کے بعد فرمایا : ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا﴾(التوبة:9؍28)” اے مومنو ! مشرکین تو ناپاک ہیں، اس لئے وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں۔“ اور یہاں فرمایا : ﴿فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ﴾ ” اپنے کفر کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو۔ “ الانفال
36 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی عداوت، ان کے مکرو فریب، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کی مخالفت، اللہ کے چراغ کو بجھانے کے لئے ان کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو نیچا دکھانے کے لئے ان کی تگ و دو کا ذکر کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ ان کے مکر و فریب اور ان کی سازشوں کا وبال انہی پر پڑے گا۔ مکر و فریب کی برائی صرف فریب کاروں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ﴾ ” کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راست سے روکیں“ یعنی تاکہ وہ حق کا ابطال کر کے باطل کی مدد کریں اور اللہ رحمٰن کی وحدانیت کی نفی کر کے بتوں کی عبادت کے دین کو قائم کریں۔ ﴿فَسَيُنفِقُونَهَا ﴾ ” سوابھی اور خرچ کریں گے“ یعنی یہ نفقات ان سے ابھی اور صادر ہوں گے اور یہ نفقات انہیں بہت خفیف محسوس ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے چمٹے ہوئے ہیں اور حق کے خلاف سخت بغض رکھتے ہیں،﴿ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً﴾ ” پھر آخر ہوگا وہ ان پر افسوس“ یعنی ان کو ندامت، رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا ہوگا،﴿ثُمَّ يُغْلَبُونَ﴾ ” پھر وہ مغلوب ہوں گے“ پس ان کے مال و متاع اور آرزوئیں خاک میں مل جائیں گی اور آخرت میں انہیں سخت عذاب دیا جائے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ﴾ ” تمام کفار کو جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا‘‘ تاکہ وہ جہنم کا عذاب چکھیں کیونکہ جہنم ہی خبیث لوگوں اور ان کی خباثت کا ٹھکانا ہے۔ الانفال
37 اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر کے دونوں کو اپنے اپنے مخصوص ٹھکانوں میں داخل کر دے، پس خبیث اعمال، خبیث اموال اور خبیث اشخاص، سب کو جمع کر دے﴿فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾” پھر ان کو ڈھیر کر دے اکٹھا، پھر ڈال دے اس کو جہنم میں، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے“ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا آگاہ رہنا ! یہی کھلا خسارہ ہے۔ الانفال
38 یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ان کفر اور ان کا دائمی عناد اسے اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ انہیں رشد و ہدایت کے راستے کی طرف بلائے اور انہیں گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر چلنے سے منع کرے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَنتَهُوا ﴾ ”کفار سے کہہ دیجیے اگر وہ باز آجائیں۔“ یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ، کے سامنے سرتسلیم خم کردیں۔ ﴿ يُغْفَرْ لَهُم مَّا قَدْ سَلَفَ﴾ ” تو بخش دیا جائے گا جو کچھ ہوچکا ہے“ یعنی ان سے جن جرائم کا ارتکاب ہوچکا ہے ﴿ وَإِن يَعُودُوا ﴾ ” اگر وہ اعادہ کریں۔“ یعنی اگر وہ اپنے کفر اور عناد کا اعادہ کریں ﴿ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْأَوَّلِينَ ﴾ ” تو تحقیق گزر چکا ہے طریقہ پہلو کا“ یعنی رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کو ہلاک کرنے کا۔ پس وہ بھی اسی عذاب کا انتظار کریں جو ان معاندین حق پر نازل ہوا تھا۔۔۔ عنقریب ان کے پاس وہی خبریں آئیں گی جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ یہ خطاب تو جھٹلانے والوں سے تھا۔ رہا وہ خطاب جو اہل ایمان کو کفار کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیتے وقت اہل ایمان کے ساتھ تھا، تو اس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا الانفال
39 ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ ” اور ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ نہ رہے فساد“ یعنی جب تک کہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور نہ ہوجائیں اور کفار اسلام کے احکام کے سامنے سرنگوں نہ ہوجائیں۔ ﴿وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّـهِ ۚ﴾ ” اور ہوجائے حکم سب اللہ کا“ پس دشمنان دین کے خلاف جہاد اور قتال کا یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو کفار کے شر سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی، جس کے لئے تمام کائنات تخلیق کی گئی ہے، حفاظت کی جائے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔ ﴿ فَإِنِ انتَهَوْا﴾ ” پس اگر وہ باز آجائیں۔“ اپنے ظلم کے روئیے سے ﴿فَإِنَّ اللَّـهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾ ” تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو دیکھتا ہے“ اور اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔ الانفال
40 ﴿ وَإِن تَوَلَّوْا ﴾ ” اور اگر وہ روگردانی کریں۔“ یعنی اگر اطاعت سے منہ موڑ کر کفر و سرکشی میں سرگرم ہوجائیں۔ ﴿ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ مَوْلَاكُمْ ۚ نِعْمَ الْمَوْلَىٰ ﴾ ” تو جان لو کہ اللہ تمہارا حمایتی ہے، کیا اچھا حمایتی ہے“ جو اپنے مومن بندوں کی سرپرستی کرتا ہے، انہیں ان کے مصالح بہم پہنچاتا ہے اور ان کے لئے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ﴿وَنِعْمَ النَّصِيرُ﴾ ” اور کیا اچھا مددگار ہے“ جو ان کی مدد کرتا ہے، ان کے خلاف فساق و فجار کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے اور اشرار کی عداوت سے حفاظت کرتا ہے اور جس کا سرپرست اور حامی و ناصر اللہ تعالیٰ ہو تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور جس کا اللہ تعالیٰ مخالف ہو اسے کوئی مدد اور سہارا نہیں دے سکتا۔ الانفال
41 ﴿ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ ﴾ ” اور جان رکھو کہ تم مال غنیمت سے جو کچھ حاصل کرو۔‘‘ یعنی کفار کا جو مال تم فتح یاب ہو کر حق کے ساتھ حاصل کرو، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ﴿فَأَنَّ لِلَّـهِ خُمُسَهُ ﴾ “ تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کے لئے ہے“ اور باقی تمہارے لئے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غنیمت کی اضافت ان کی طرف کی ہے اور اس میں سے پانچواں حصہ نکال دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پانچواں حصہ نکال کر باقی ان میں اسی طرح تقسیم کیا جائے گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقسیم فرمایا تھا۔۔۔ یعنی پیادے کے لئے ایک حصہ اور سوار کے لئے دو حصے، ایک حصہ خود اس کے لئے اور ایک حصہ اس کے گھوڑے کے لئے۔ [لیکن حدیث سے سوار کے لئے تین حصے ثابت ہوتے ہیں، دو حصے اس کے گھوڑے کے لئے اور ایک حصہ خود اس کے لئے۔ ((أنَّ رَسولَ اللَّهِ ﷺ جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ ولِصاحِبِهِ سَهْمًا)) (صحیح بخاری، الجہاد والسیر، باب سھام الفرس، حدیث :2863،4228)(ص۔ی)] رہا خمس، تو اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے، ان میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے مختص ہے جو کسی تعین کے بغیر عام مسلمانوں کے مصالح پر خرچ کیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ قرار دیا ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے بے نیاز ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حصہ در حقیقت بندگان الٰہی کے لئے ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مصارف متعین نہیں فرمائے اس لئے واضح ہوا کہ اس کو مصالح عامہ میں صرف کیا جائے گا۔ خمس کا دوسرا حصہ، ذوالقربیٰ کے لئے ہے اور یہاں ذووالقربیٰ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قرابت دار یعنی بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں۔ ذووالقربیٰ کی طرف اس کی اضافت اس امر کی دلیل ہے کہ اس حکم کی علت مجرد قرابت ہے جس میں ان کے مال دار اور محتاج، مرد اور عورتیں سب شامل ہیں۔ خمس کا تیسرا حصہ، یتیموں کے لئے ہے جن کے باپ فوت ہوچکے ہیں اور خود وہ بہت کمسن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کی بناء پر ان کے لئے خمس کا پانچواں حصہ مقرر فرمایا ہے، کیونکہ وہ خود اپنے مصالح کی دیکھ بھال کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کسی ایسی ہستی سے بھی محروم ہیں جو ان کے مصالح کا انتظام کرے۔ خمس کا چوتھا حصہ مساکین، یعنی چھوٹوں، بڑوں، مردوں اور عورتوں میں سے محتاج اور تنگ دستوں کے لئے ہے۔ خمس کا آخری حصہ مسافروں کی بہبود کے لئے ہے۔ (اِبْنُ السَبِيل ) سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گیا ہو۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ ان مذکورہ مصارف سے باہر خرچ نہ کیا جائے۔ البتہ یہ لازم نہیں کہ ان اصناف مذکورہ میں برابر برابر تقسیم کیا جائے بلکہ مصالح کے مطابق ان کے درمیان اس مال کو تقسیم کیا جائے گا۔۔۔ یہی رائے زیادہ قرین صوب ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خمس کو اس طریقے سے خرچ کرنا ایمان کی شرط قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ ﴾ ” اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے نازل کی اپنے بندے پر فیصلے کے دن“ (یوم الفرقان) سے مراد یوم بدر ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق اور باطل میں فیصلہ کیا۔ حق کو غالب کیا اور باطل کا بطلان ظاہر کیا۔ ﴿يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ۗ ﴾ ” جس دن بھڑ گئیں دونوں فوجیں“ یعنی مسلمانوں کے گروہ اور کفار کے گروہ کی مڈ بھیڑ ہوئی۔۔۔ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور اس حق پر ایمان رکھتے ہو جو اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بدر کے روز نازل فرمایا، جس سے ایسے دلائل اور براہین حاصل ہوئے جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کچھ لائے ہیں، وہ حق ہے ﴿ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ  ﴾ ” اور اللہ ہر چیز پر قار ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ کا مقابلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی غالب آتا ہے۔ الانفال
42 ﴿ إِذْ أَنتُم بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا ﴾ ” جس وقت تم قریب کے ناکے پر تھے“ یعنی جب تم مدینہ سے قریب ترین وادی میں تھے۔ ﴿ وَهُم بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوَىٰ ﴾ ” اور وہ (کفار) مدینہ سے بعید ترین وادی میں تھے“ اللہ تعالیٰ نے تم دونوں گروہوں کو ایک ہی وادی میں جمع کردیا ﴿وَالرَّكْبُ ﴾ ” اور قافلہ“ یعنی وہ تجارتی قافلہ جس کے تعاقب میں تم نکلے تھے، مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ کچھ اور ہی تھا ﴿أَسْفَلَ مِنكُمْ ﴾ ” تم سے نیچے کی طرف تھا“ یعنی وہ ساحل کے ساتھ ساتھ تھا۔ ﴿وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ ﴾ ” اور اگر تم آپس میں قرارداد کرلیتے“ اگر تم نے اور کفار نے اس حال میں اور اس وصف کے ساتھ ایک دوسرے سے وعدہ کیا ہوتا ﴿لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيعَادِ ﴾ ” تو نہ پہنچتے وعدے پر ایک ساتھ“ یعنی مقررہ میعاد میں تقدیم و تاخیر یا جگہ کے انتخاب وغیرہ میں کسی عارضہ کی بناء پر تم میں اختلاف واقع ہوجاتا جو تمہیں میعاد مقررہ پر پہنچنے سے روک دیتا۔ ﴿وَلَـٰكِن ﴾ ”اور لیکن“ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس حال میں اکٹھا کردیا۔ ﴿ لِّيَقْضِيَ اللَّـهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا ﴾ ” تاکہ اللہ اس امر کو پورا کرے (جو روز ازل سے مقرر ہے) جس کا واقع ہونا لابدی ہے۔‘‘ ﴿ لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ  ﴾ ” تاکہ مرے جس کو مرنا ہے دلیل کے وا ہونے کے بعد“ تاکہ معاند حق کے خلاف حجت اور دلیل قائم ہوجائے کہ اگر وہ کفر اختیار کرے تو پوری بصیرت کے ساتھ اختیار کرے اور اس کے بطلان کا اسے پورا یقین ہو اور یوں اللہ کے حضور پیش کرنے کے لئے اس کے پاس کوئی عذر نہ ہو۔ ﴿وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ ﴾ ” اور زندہ رہے جس کو جینا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد“ تاکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں پر جو حق کے دلائل واضح کئے ہیں اس کی بناء پر اہل ایمان کے یقین اور بصیرت میں اضافہ ہو۔ یہ دلائل و براہین عقل مندوں کے لئے یاد دہانی ہے۔ ﴿وَإِنَّ اللَّـهَ لَسَمِيعٌ  ﴾ ” بے شک اللہ سننے والا ہے“ تمام آوازوں کو، زبانوں کے اختلاف اور مخلوق کی مختلف حاجات کے باوجود ﴿عَلِيمٌ ﴾ ” جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ظاہری اعمال، ضمیر میں چھپی ہوئی نیتوں اور بھیدوں، غائب اور حاضر ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ الانفال
43 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کے خواب میں مشرکین کی بہت کم تعداد دکھائی۔ اس بناء پر آپ نے اپنے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کو خوشخبری دے دی، اس سے وہ مطمئن اور ان کے دل مضبوط ہوگئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَلَوْ أَرَاكَهُمْ كَثِيرًا ﴾ ” اور اگر اللہ ان کو بہت کرکے تمہیں دکھاتا“ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفار کثیر تعداد میں دکھائے ہوتے اور پھر آپ نے اس کی خبر اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو دی ہوتی ﴿لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ  ﴾ تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور جو معاملہ تمہیں در پیش تھا اس میں جھگڑنا شروع کردیتے، کوئی کہتا کہ آگے بڑھ کر کفار سے لڑائی کرو اور کوئی اس رائے کے خلاف ہوتا اور جھگڑا کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ ﴿وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ سَلَّمَ ﴾ ” اور لیکن اللہ نے بچا لیا“ یعنی اللہ نے تم پر لطف و کرم کیا ﴿ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴾ ” بے شک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔‘‘ یعنی تمہارے سینوں میں ثابت قدمی یا بے صبری، سچائی یا جھوٹ جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں کی اس کیفیت کو جان لیا جو تم پر اس کے لطف و احسان اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خواب کی صداقت کا باعث بنی اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی نگاہوں میں ان کے دشمن کو تھوڑا کرکے دکھایا اور اے مومنو ! تمہیں ان کی نظروں میں تھوڑا کرکے دکھایا۔ چنانچہ دونوں گروہوں میں سے ہر گروہ کو اپنا مدمقابل تھوڑا نظر آتا تھا، تاکہ دونوں میں سے ہر ایک، دوسرے پر پیش قدمی کرنے میں تامل نہ کرے۔ الانفال
44 ﴿ لِيَقْضِيَ اللَّـهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولً ﴾ ” تاکہ اللہ تعالیٰ اس مر کو پورا کر دے جس کا پورا ہونا مقدر تھا“ یعنی اہل ایمان کو فتح و نصرت عطا کرے، کفار کو ان کے حال پر چھوڑ کر ان سے علیحدہ ہوجائے، چنانچہ ان کے رہنما اور گمراہ سردار قتل ہوئے اور ان میں سے کوئی قابل ذکر شخص باقی نہ بچا۔ پھر اس کے بعد جب کفار کو اسلام کی دعوت دی گئی تو ان کا مطیع ہونا آسان ہوگیا اور یہ چیز باقی بچ جانے والے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کا باعث بنی جس کو اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا کرکے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ ﴾ ” اور سب کاموں کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے۔“ یعنی مخلوق کے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹتے ہیں، اللہ تعالیٰ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کرتا ہے، تمام مخلوقات پر عدل و انصاف پر مبنی فیصلے کو نافذ کرتا ہے جس میں کوئی ظلم وجور نہیں ہوتا۔ الانفال
45 ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً ﴾ ” اے ایمان والو ! جب ملو تم کسی گروہ کو“ یعنی کفار کا گروہ جو تمہارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثْبُتُوا ﴾ ” تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبرے سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴾ ” تاکہ تم فلاح پاؤ“ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤ جو تمہارا مطلوب و منشاء ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں۔ الانفال
46 ﴿وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ﴾ ” اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ ان دونوں کے احکام کی اپنے تمام احوال میں پیروی کرکے اور اس کے پیچھے چل کر ﴿وَلَا تَنَازَعُوا ﴾ ” اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمہارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہوجائیں۔ ﴿ فَتَفْشَلُوا  ﴾ ” پس تم بزدل ہوجاؤ گے“ ﴿وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ  ﴾ ” اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے“ یعنی عزائم کمزورہو جائیں گے’ تمہاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿وَاصْبِرُوا ﴾ ” اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴾ ” بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس لئے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔ الانفال
47 ﴿ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِن دِيَارِهِم بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ ﴾ ” اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے“ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لئے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا، تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ﴿وَاللَّـهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ  ﴾ ” اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں“ اسی لئے اس نے تمہیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا اور تمہیں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ڈرایا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ عنقریب انہیں سخت سزا دے گا۔ پس گھروں سے نکلنے میں تمہارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب، دین کی سربلندی، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی منزل کو جانے والے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو کھینچنا ہو جو نعمتوں سے بھری جنت کو جاتا ہے۔ الانفال
48 ﴿وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ ﴾ ” اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر دکھائے“ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ان کے اعمال خوبصورت بنا دیئے اور انہیں دھوکے میں ڈال دیا۔ ﴿وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ ﴾ ” اور اس نے کہا آج تم پر کوئی غالب نہیں ہوگا لوگوں میں سے“ کیونکہ تم تعداد، سازوسامان اور ہیئت کے اعتبار سے اتنے طاقتور ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کے ساتھی تمہارا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ﴿وَإِنِّي جَارٌ لَّكُمْ ﴾ ” اور میں تمہارا حمایتی ہوں“ میں اس کے مقابلے میں تمہارا ساتھی ہوں جس کے شب خون سے تم ڈرتے ہو، کیونکہ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں قریشی کے پاس آیا، قریش اور بنو مدلج کے درمیان عداوت تھی اس لئے قریش ان کے شب خون سے بہت خائف تھے۔ شیطان نے ان سے کہا ” میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘ چنانچہ ان کے دل مطمئن ہوگئے اور وہ غضبناک ہو کر آئے۔ ﴿فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ  ﴾ ” پس جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں“ مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا اور شیطان نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ترتیب کے ساتھ فرشتوں کی صف بندی کررہے ہیں تو سخت خوفزدہ ہوا ﴿ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ﴾ ” تو وہ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا۔‘‘ یعنی پسپا ہو کر الٹے پاؤں واپس بھاگا ﴿وَقَالَ ﴾ اور جن کو اس نے دھوکہ اور فریب دیا تھان سے کہنے لگا ﴿ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكُمْ إِنِّي أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ ﴾ ” میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں’’میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے“ یعنی میں ان فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں جن کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا ﴿ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ ﴾ ” مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے اس دنیا ہی میں عذاب نہ دے دے ﴿وَاللَّـهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾ ” اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال کر ان کے سامنے یہ بات مزین کردی ہو کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، آج میں تمہارا رفیق ہوں اور جب وہ ان کو میدان جنگ میں لے آیا تو برات کا اظہار کرتے ہوئے پسپا ہو کر ان کو چھوڑ کر بھاگ گیا،جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ ۔ فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَا أَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ ﴾ (الحشر : 59؍ 16، 17) ” ان کی مثال شیطان کی سی ہے اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب اس نے کفر کیا تو کہنے لگا، میں تجھ سے بری ہوں۔ میں تو اللہ، جہانوں کے رب سے ڈرتا ہوں۔ پس دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔‘‘ الانفال
49 ﴿إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ ﴾ ” اس وقت منافع اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے“ یعنی جب اہل ایمان اپنی قلت اور مشرکین کی کثرت کے باوجود لڑائی کے لئے نکلے تو ضعیف الایمان لوگ جن کے دلوں میں شک و شبہ تھا، اہل ایمان سے کہنے لگے ﴿غَرَّ هَـٰؤُلَاءِ دِينُهُمْ ﴾ ”ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس دین نے انہیں اس ہلاکت انگیز مقام پر پہنچا دیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ یہ بات وہ اہل ایمان کو حقیر اور کم عقل سمجھتے ہوئے کہتے تھے، حالانکہ وہ خود۔۔۔ اللہ کی قسم۔۔۔ کم عقل اور بے سمجھ تھے، کیونکہ جذبہ ایمان مومن کو ایسے ہولناک مقامات میں کود جانے پر آمادہ کرتا ہے جہاں بڑے بڑے لشکر آگے بڑھنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں۔ اگر تم لوگ کسی شخص کو ذرہ بھر فائدہ پہنچانے کے لئے اکٹھے ہوجائیں تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر اس کو نقصان پہنچانے پر اکٹھے ہوجائیں تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر صرف وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے قضا و قدر میں حکمت والا اور نہایت رحمت کرنے والا ہے اس لئے جب وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو وہ (مخالفین کی) کثرت اور قوت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ گھبراتا ہے نہ بزدلی دکھاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَإِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ ﴾ ” اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ غالب ہے“ کوئی طاقت اس کی طاقت پر غالب نہیں آسکتی۔ ﴿ حَكِيمٌ ﴾ ” وہ حکمت والا ہے“ یعنی وہ اپنی قضا و قدر میں نہایت حکمت والا ہے الانفال
50 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو اس وقت دیکھیں جب موت کے فرشتے ان کی روح قبض کررہے ہوں گے، ان کو سخت قلق ہوگا اور وہ سخت تکلیف اور کرب میں ہوں گے۔ ﴿يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ ﴾ ” مارتے ہیں وہ ان کے مونہوں پر اور ان کے پیچھے“ اور ان سے کہتے ہیں ” اپنی جان نکالو۔‘‘ ان کی جانیں نکلنے سے انکار کریں گی، کیونکہ انہیں علم ہے کہ انہیں کس درد ناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ  ﴾ ” اور عذاب آتش چکھو۔‘‘ یعنی نہایت سخت اور جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔ یہ عذاب تمہیں تمہارے رب کی طرف سے کسی ظلم و جور کی وجہ سے نہیں دیا جائے گا بلکہ یہ صرف تمہارے گناہوں کی پاداش ہے جن کی یہ تاثیر ہے’ جس نے یہ اثر دکھایا ہے اور اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے، کیونکہ ان جھٹلانے والوں کی عادت اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کی ہلاکت ایسے ہی ہے الانفال
51 الانفال
52 ﴿ كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ﴾ ” جیسے عادت آل فرعون کی تھی اور ان کی جو ان سے پہلے تھے“ یعنی انبیاء و مرسلین کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں میں سے ﴿كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّـهِ فَأَخَذَهُمُ اللَّـهُ ﴾ ” انہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا“ اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ لیا ﴿بِذُنُوبِهِمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ  ﴾ ” ان کے گناہوں پر، یقیناً اللہ طاقت ور ہے، سخت عذاب کرنے والا۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کے ساتھ جس کی گرفت کرنا چاہے تو اسے کوئی بے بس نہیں کرسکتا۔ ﴿مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا ۚ  ﴾ (ھود : 11؍ 56) ” زمین پر چلنے والا جو بھی جانور ہے اللہ نے اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ رکھا ہے۔ “ الانفال
53 ﴿ذَٰلِكَ ﴾ وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والی قوموں پر نازل فرمایا تھا اور وہ نعمتیں جو انہیں حاصل تھیں، ان سے سلب کرلی گئی تھیں۔ اس کا سبب ان کے گناہ اور ان کا اطاعت کے رویے کو بدل کر نافرمانی کا رویہ اختیار کرنا تھا۔ ﴿بِأَنَّ اللَّـهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍ  ﴾ ” اللہ بدلنے والا نہیں ہے اس نعمت کو جودی اس نے کسی قوم کو“ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو دین و دنیا کی نعمتیں عطا کرتا ہے تو ان کو سلب نہیں کرتا، بلکہ ان کو باقی رکھتا ہے اور اگر وہ شکر کرتے رہیں تو ان میں اضافہ کرتا ہے۔ ﴿حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ﴾ ” جب تک وہی نہ بدل ڈالیں اپنے دلوں کی بات“ یعنی جب تک کہ وہ اطاعت کے رویے کو بدل کر نافرمانی کا رویہ اختیار نہیں کرتے، پس جب وہ نعمتوں کی ناشکری کرتے اور ان کے بدلے کفر کرتے ہیں۔۔۔ تب اللہ تعالیٰ ان سے ان نعمتوں کو چھین لیتا ہے اور ان نعمتوں کو اس طرح بدل ڈالتا ہے جس طرح انہوں نے اپنے رویے کو بدل ڈالا۔ اس بارے میں اپنے بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ حکمت اور عدل و احسان پر مبنی ہے، کیونکہ وہ ان کو عذاب نہیں دیتا، مگر ان کے ظلم کے سبب سے اور بندے اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کو عبرت ناک سزا دیتا ہے، جس سے وہ اپنے اولیا کے دل اپنے طرف کھینچ لیتا ہے۔ ﴿وَأَنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴾ ” بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بولنے والے جو کچھ بولتے ہیں خواہ وہ آہستہ آواز سے بات کریں یا اونچی آواز میں، اللہ تعالیٰ سب کی باتیں سنتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو بندوں کے ضمیر میں مخفی اور ان کی نیتوں میں چھپا ہوا ہے، وہ اپنے بندوں کی تقدیر میں وہی کچھ جاری کرتا ہے جس کا اس کا علم اور اس کی مشیت تقاضا کرتے ہیں۔ الانفال
54 ﴿کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ﴾ ” جیسی عادت آل فرعون کی“ یعنی فرعون اور اس کی قوم کی عادت ﴿وَالَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَذَّبُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ ﴾ ”اور ان کی جو ان سے پہلے لوگ تھے، انہوں نے رب کی آیتوں کو جھٹلایا ” یعنی جب ان کے پاس ان کے رب کی نشانیاں آئیں تو انہوں نے ان کی تکذیب کی۔ ﴿فَأَهْلَكْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ  ﴾ ” پس ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے باعث ہلاک کردیا ۔‘‘ ہر ایک کو اس کے جرم کے مطابق۔ ﴿وَكُلٌّ ﴾ ” اور وہ سب“ یعنی تمام ہلاک ہونے والے اور جن پر عذاب نازل کیا گیا۔ ﴿ كَانُوا ظَالِمِينَ ﴾ ” ظالم تھے۔‘‘ یعنی وہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا اور نہ ان کو کسی ایسے جرم میں پکڑا ہے جس کا انہوں نے ارتکاب نہ کیا ہو۔ پس ان لوگوں کو، جو ان آیات کریمات کے مخاطب ہیں،ظلم میں ان قوموں کی مشابہت سے بچنا چاہئے، ورنہ ان پر بھی اللہ تعالیٰ وہی عذاب نازل کرے گا جو ان فساق و فجار لوگوں پر نازل کیا تھا۔ الانفال
55 فرمایا ﴿إِنَّ ﴾ بے شک وہ لوگ جن میں یہ تین خصلتیں جمع ہیں۔۔۔ یعنی کفر، عدم ایمان اور خیانت۔۔۔ خیانت سے مراد یہ ہے کہ وہ جو عہد کرتے ہیں، اس پر ثابت قدمی نہیں دکھاتے اور جو بات کرتے ہیں اس پر پکے نہیں رہتے ﴿شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ  ﴾ ” سب جان داروں میں بدترین ہیں اللہ کے ہاں“ پس وہ گدھوں اور کتوں اور دیگر چوپایوں سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ ان کے اندر بھلائی معدوم ہے اور برائی متوقع ہے، لہٰذا ان کو ختم کرنا اور ہلاک کرنا ضروری ہے، تاکہ ان کی بیماری دوسروں میں نہ پھیلے، الانفال
56 الانفال
57 اسی لئے فرمایا : ﴿فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ ﴾ ”پس جب تم ان کو حالت جنگ میں پاؤ‘‘ جب کہ تمہارے اور ان کے درمیان عہد و میثاق نہ ہو۔ ﴿ فَشَرِّدْ بِهِم مَّنْ خَلْفَهُمْ  ﴾ ” تو ان کو ایسی سزا دو کہ دیکھ کر بھاگ جائیں ان کے پچھلے“ یعنی ان کے ذریعے سے دوسروں کو سبق سکھا دیں اور ان کو ایسی سزا دیں کہ وہ بعد میں آنے والوں کے لئے نشان بن جائیں۔ ﴿لَعَلَّهُمْ ﴾ ” شاید کہ وہ“ یعنی بعد میں آنے والے ﴿يَذَّكَّرُونَ ﴾ ” نصیحت پکڑیں۔“ ان کے کرتوتوں سے نصیحت پکڑیں تاکہ ان پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہوجائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔ یہ سزاؤں اور حدود کے فوائد ہیں جو گناہوں پر مترتب ہوتی ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لئے زجر و تو بیخ کا سبب ہیں، جنہوں نے گناہ نہیں کئے بلکہ ان کے لئے بھی جنہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا تاکہ وہ گناہ کا اعادہ نہ کریں۔ اس عقوبت کے لئے حالت جنگ کی قید لگانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کافر۔۔۔ اگرچہ بہت زیادہ خیانت کا ارتکاب کرنے والا بد عہد ہو۔۔۔ جب اس سے معاہدۂ امن کرلیا جائے، تو اس عہد میں خیانت کرنا اور اسے عقوبت دینا جائز نہیں۔ الانفال
58 یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور کسی قوم کے درمیان جنگ نہ کرنے کا عہد اور میثاق ہو اور آپ کو اس قوم کی طرف سے خیانت اور بدعہدی کا خدشہ ہو، یعنی ان کی طرف سے معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی کے بغیر، ایسے قرائن و احوال ہوں جو عہد میں ان کی خیانت پر دلالت کرتے ہوں ﴿ فَانبِذْ إِلَيْهِمْ ﴾ ” تو انہی کی طرف پھینک دیں“ ان کا عہد، یعنی ان کی طرف پھینک دیں اور ان کو اطلاع دے دیں کہ آپ کے درمیان اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ﴿عَلَىٰ سَوَاءٍ ﴾ ” تاکہ تم اور وہ برابر ہوجاؤ“ یعنی معاہدہ ٹوٹنے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم اور ان کا علم مساوی ہو، آپ کے لئے جائز نہیں کہ آپ ان کے ساتھ بدعہدی کریں یا کوئی ایسی کوشش کریں کہ موجبات عہد اس سے مانع ہوں جب تک کہ آپ ان کو اس کے بارے میں آگاہ نہ کردیں ﴿إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ ﴾ ” بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“ بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں سے سخت ناراض ہوتا ہے۔ اس لئے معاملے کا واضح ہونا نہایت ضروری ہے جو تمہیں خیانت سے بری کر دے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب ان کی خیانت متحقق ہوجائے تو ان کی طرف معاہدہ پھینکنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ان کی طرف سے کوئی اخفا نہیں رہا، بلکہ ان کی بدعہدی معلوم ہوچکی ہے، علاوہ ازیں اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں نیز اس بناء پر کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿عَلَىٰ سَوَاءٍ ۚ ﴾ ” برابر“ اور یہاں ان کی بدعہدی سب کو معلوم ہے۔ آیت کریمہ کا مفہوم اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ اگر ان کی طرف سے کسی خیانت کا خدشہ نہ ہو’ یعنی ان کے اندر کوئی ایسی چیز نہ پائی جاتی ہو جو ان کی خیانت پر دلالت کرتی ہو، تو عہد کو ان کی طرف پھینکنا جائز نہیں، بلکہ اس معاہدے کو مدت مقررہ تک پورا کرنا واجب ہے۔ الانفال
59 یعنی اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والے اور اس کی آیات کو جھٹلانے والے یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بازی لے گئے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو بے بس نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی گھات میں ہے اور کفار کو مہلت دینے اور ان کو سزا دینے میں عجلت نہ کرنے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ پنہاں ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کی آزمائش، ان کا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضا کو زادراہ بنانا جس کے ذریعے سے وہ مقامات بلند پر پہنچتے ہیں اور ان کا اپنے آپ کو ان اخلاق واوصاف سے متصف کرنا جن کے بغیر وہ اس منزل پر نہیں پہنچ سکتے تھے۔۔۔ سب اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہی کا حصہ ہے۔ الانفال
60 اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں سے فرمایا: ﴿وَأَعِدُّوا  ﴾ ” اور تیار کرو تم“ یعنی اپنے کفار دشمنوں کے لئے تیار کرو جو تمہیں ہلاک کرنے اور تمہارے دین کے ابطال کے درپے رہتے ہیں۔ ﴿مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ ﴾ ”اپنی طاقت بھر قوت‘‘ یعنی قوت عقلیہ، قوت بدنیہ اور مختلف انواع کا اسلحہ، جو دشمن کے خلاف جنگ میں تمہاری مدد کرے۔کفار کے خلاف اس تیاری میں وہ تمام صنعتیں آجاتی ہیں جن سے اسلحہ اور آلات حرب بنائے جاتے ہیں، مثلاً توپیں، مشین گنیں،بندوقیں، جنگی طیارے، بری اور بحری سواریاں، دفاعی قلعہ بندیاں،مورچے اور دیگر دفاعی آلات حرب وغیرہ۔ نیز حکمت عملی اور سیاست کاری میں مہارت پیدا کرنا،جس کے ذریعے سے وہ آگے بڑھ سکیں اور دشمن کے شر سے اپنا دفاع کرسکیں۔ نشانہ بازی، شجاعت اور جنگی منصوبہ سازی کی تعلیم حاصل کرنا۔ اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (( اَلاَ اِنّ َالْقُوّة َالرّمَيُ )) ” سن لو ! قوت سے مراد تیر اندازی ہے۔‘‘ [صحیح مسلم، کتاب الإمارۃ، باب فضل الرمی۔۔۔الخ ‘حدیث:1917]کیونکہ عہد رسالت میں تیراندازی، جنگ کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ تھا۔ نیز ان گاڑیوں کی تیاری، جو جنگ میں نقل و حمل کے کام آتی ہیں، جنگی استعداد میں شمار ہوتی ہیں۔ بنا بریں فرمایا : ﴿وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّـهِ وَعَدُوَّكُمْ ﴾ ” اور گھوڑوں کو تیار رکھ کر، کہ اس سے دھاک بٹھاؤ تم اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر“ اس حکم کی علت، اس زمانے میں بھی موجود ہے اور وہ ہے دشمنوں کو مرعوب رکھنا۔ حکم کا دارومدار علت پر ہوتا ہے۔ اگر دنیا میں ایسے آلات اور سامان حرب موجود ہوں جن کے ذریعے سے دشمن کو مذکورہ چیزوں سے زیادہ خوف زدہ رکھا جاسکتا ہو۔۔۔ یعنی گاڑیاں اور ہوائی طیارے جو جنگ میں کام آتے ہیں اور جن کی ضرب بھی کاری ہے۔۔۔ تو ان کو حاصل کرکے ان کے ذریعے سے جنگی استعداد بڑھانا فرض ہے۔ حتیٰ کہ اگر اس سامان حرب کو صنعت کی تعلیم حاصل کئے بغیر حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو یہ تعلیم حاصل کرنا بھی فرض ہوگا، کیونکہ فقہی قاعدہ ہے ( مَالَا یَتِمُّ الْوَاجِبُ اِلاَّ بِہ فَھُوَ وَاجِبٌ )’’جس کے بغیر واجب کی تکمیل ممکن نہ ہو تو وہ بھی واجب ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : ﴿ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّـهِ وَعَدُوَّكُمْ ﴾ میں ” تمہارے دشمن“ سے مراد وہ ہیں جن کے بارے میں تم جانتے ہو کہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ ﴿وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ ﴾ ” اور دوسروں کو ان کے سوا، جن کو تم نہیں جانتے“ یعنی جن کے بارے میں تمہیں معلوم نہیں جو اس وقت کے بعد جب اللہ تم سے مخاطب ہے، تمہارے ساتھ لڑائی کریں گے۔ ﴿اللَّـهُ يَعْلَمُهُمْ﴾ ” اللہ ان کو جانتا ہے۔‘‘ پس اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ دشمن کے خلاف جنگ میں جو چیز سب سے زیادہ مدد دیتی ہے وہ ہے کفار کے خلاف جہاد میں مال خرچ کرنا’ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا : ﴿وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ﴾ ” اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں“ خواہ یہ قلیل ہو یا کثیر ﴿يُوَفَّ إِلَيْكُمْ  ﴾ ” وہ پورا پورا تمہیں دیا جائے گا“ یعنی قیامت کے روز اس کا اجر کئی گنا کرکے ادا کیا جائے گا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کئے گئے مال کا ثواب سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھا کردیا جائے گا۔ ﴿وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ ﴾ ” اور تمہاری حق تلفی نہ ہوگی۔‘‘ یعنی تمہارے لئے اس کے اجرو ثواب میں کچھ بھی کمی نہ کی جائے گی۔ الانفال
61 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ وَإِن جَنَحُوا  ﴾ ” اگر وہ مائل ہوں“ یعنی جنگ کرنے والے کفار ﴿لِلسَّلْمِ ﴾ ” صلح کی طرف“ یعنی صلح اور ترک قتال کی طرف ﴿ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ﴾ ” تو آپ بھی اس (صلح) کی طرف مائل ہوجائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں“ یعنی جو چیز وہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو دے دو، کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں’ مثلا ً: 1۔ ہر وقت طلب عافیت مطلوب ہے اور اگر وہ طلب عافیت میں ابتداء کرتے ہیں تو اس کا مثبت جواب دینا اولیٰ ہے۔ 2۔ اس سے تمہاری قوتیں جمع ہوں گی اور کسی دوسرے وقت اگر ان کے خلاف جنگ ناگزیر ہوجائے تو تمہاری یہ جنگی استعداد تمہارے کام آئے گی۔ 3۔ اگر تم نے صلح کرلی اور ایک دوسرے سے مامون ہوگئے اور ایک دوسرے کے اطوار کی معرفت حاصل کرلی تو اسلام کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ غالب آتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔ پس ہر وہ شخص جو عقل و بصیرت سے بہرہ ور ہے اگر وہ انصاف سے کام لیتا ہے تو وہ اسلام کو، اس کے اوامرو نواہی کی خوبی، مخلوق کے ساتھ اس کے حسن معاملہ اور ان کے ساتھ عدل و انصاف کی بناء پر دوسرے ادیان پر ترجیح دے گا۔ وہ یہ بھی دیکھے گا کہ کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی ظلم و جور نہیں اور کثرت سے لوگ اس یک طرف راغب ہوتے ہیں۔ تب یہ صلح کفار کے خلاف مسلمانوں کے لئے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس صلح میں صرف ایک بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں کفار کا مقصد مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اس کے ذریعے سے صرف وقت اور مہلت حاصل کرنا نہ ہو۔۔۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ کفار کے مکروفریب کے مقابلے میں ان کے لئے کافی ہے اور اس مکروفریب کا ضرر انہی کی طرف لوٹے گا۔ الانفال
62 چنانچہ فرمایا : ﴿وَإِن يُرِيدُوا أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّـهُ ﴾ ” اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں، تو آپ کو اللہ کافی ہے۔‘‘ یعنی آپ کو جوایذا پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہے۔ وہی ہے جو آپ کے مصالح اور امور ضروریہ کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور کفایت اس سے پہلے بھی تھی جس پر آپ کا قلب مطمئن تھا۔ ﴿هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ  ﴾ ” وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد سے اور مومنوں ( کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔‘‘ یعنی وہی ہے جس نے آسمانی مدد کے ذریعے سے آپ کی اعانت فرمائی اور یہ اس کی طرف سے ایسی مدد ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کرسکتی، نیز اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمانا یہ ہے کہ ان کو آپ کی مدد پر مقرر فرما دیا۔ الانفال
63 اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ  ﴾ ” اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا“ پس وہ اکٹھے ہوگئے اور اس سبب سے ان کی قوت میں اضافہ ہوگیا۔ یہ سب کچھ اللہ کی طاقت کے سوا کسی اور کی کوشش اور طاقت کے سبب سے نہ تھا۔﴿ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ﴾ ” اگر آپ خرچ کردیتے جو کچھ زمین میں ہے سارا“ اس شدید نفرت اور افتراق کے ہوتے ہوئے جو ان میں پایا جاتا تھا اگر آپ زمین کا تمام سونا، چاندی وغیرہ ان کے دلوں کو جوڑنے کے لئے خرچ کردیتے ﴿مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ﴾ ” پھر بھی آپ ان کے دلوں کو کبھی جوڑ نہ سکتے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی دلوں کو بدلنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴾ ” لیکن اللہ نے الفت ڈال دی ان میں، بے شک وہ غالب ہے حکمت والا۔‘‘ یہ اس کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں الفت ڈال دی اور ان کے افتراق اور تفرقہ کے بعد ان کو اکٹھا اور متحد کردیا۔ الانفال
64 جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ﴾ (آل عمران:3؍ 103) ” اور اللہ کی نعمت کو جو تم پر ہوئی، یاد کرو، جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، پس اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّـهُ ﴾ ” اے نبی اللہ آپ کو کافی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے ﴿وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ ” اور آپ کے متبعین اہل ایمان کے لئے (بھی) کافی ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لئے، جو اس کے رسول کے اطاعت گزار ہیں، کافی ہونے کا اور ان کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت کا وعدہ ہے۔ جب انہوں نے ایمان اور اتباع رسول کے سبب کو اختیار کیا تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی دین و دنیا کی پریشانیوں سے ان کے لئے کافی ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ کی کفایت تو صرف اپنی شرط کے معدوم ہونے پر معدوم ہوتی ہے۔ الانفال
65 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے : ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ ﴾ ” اے نبی ! مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو۔‘‘ یعنی آپ انہیں ہر اس طریقے کے ذریعے سے قتال پر آمادہ کریں جس سے ان کے عزائم مضبوط ہوں اور ان کے ارادوں میں نشاط پیدا ہو۔ یعنی جہاد اور دشمن سے مقابلے کی ترغیب دی جائے اور جہاد سے باز رہنے کے انجام سے ڈرایا جائے۔ شجاعت اور صبر کے فضائل اور ان پر مرتب ہونے والی دین و دنیا کی بھلائی کا ذکر کیا جائے۔ بزدلی کے نقصانات بیان کئے جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ بزدلی ایک انتہائی رذیل اور ناقص خصلت ہے اور شجاعت کا اہل ایمان کی صفت ہونا دوسروں کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿إِن تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّـهِ مَا لَا يَرْجُونَ ﴾ (النساء:4؍ 104) ” اگر تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو انہیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمہیں پہنچتی ہے جبکہ تم اللہ سے ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔‘‘ ﴿إِن يَكُن مِّنكُم  ﴾ ” اے مومنو! اگر ہوں تم میں سے“ ﴿عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ﴾ ” بیس شخص ثابت قدم رہنے والے، تو غالب ہوں گے وہ دو سو پر اور اگر ہوں تم میں سے سو شخص، غالب ہوں گے ہزار کافروں پر۔‘‘ یعنی ایک مومن دس کافروں کا مقابلہ کرے گا اور اس کا سبب یہ ہے ﴿بِأَنَّهُمْ ﴾ ” کہ وہ“ یعنی کفار ﴿قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ ﴾ ” ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی انہیں کوئی علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لئے کیا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ پس یہ کفار زمین میں اقتدار، تغلب اور اس میں فساد پھیلانے کے لئے لڑتے ہیں اور تم (اے مسلمانو !) اس جنگ کا مقصد سمجھتے ہو کہ یہ جنگ اعلائے کلمتہ اللہ، دین کے غلبہ، کتاب اللہ کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی کامیابی کے حصول کے لئے ہے اور یہ تمام امور شجاعت، صبر و ثبات اور اقدام علی القتال کے اسباب ہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے اس حکم میں تخفیف کردی۔ الانفال
66 چنانچہ فرمایا : ﴿الْآنَ خَفَّفَ اللَّـهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ﴾ ” اب بوجھ ہلکا کردیا اللہ نے تم پر سے اور جان لیا کہ تم میں کمزوری ہے۔‘‘ اسی لئے اللہ کی رحمت اور اس کی حکمت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ اس حکم میں تخفیف کردی جائے، چنانچہ اب اگر تم میں سے سو آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں، تو وہ دو سو پر اور اگر ہزار ہوں تو وہ دو ہزار پر غالب ہوں گے۔ ﴿وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴾ ” اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان آیات کریمہ کا اسلوب اگرچہ اہل ایمان کے بارے میں خبر کا ہے کہ جب وہ اس معینہ تعداد تک پہنچتے ہیں تو وہ مقابلے میں کفار کی مذکورہ تعداد پر غالب آجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو شجاعت ایمانی سے نوازا ہے، مگر اس کا معنی اور حقیقی منشا امر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو پہلے حکم دیا کہ ایک مومن کو (میدان جنگ میں) دس کافروں کے مقابلے سے فرار نہیں ہونا چاہیے، اسی طرح دس مومنوں کو سو کافروں اور سومومنوں کو ہزار کافروں کے مقابلے سے منہ نہیں موڑنا چاہیے۔ پھر اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے سے دوگنا کفار کے مقابلے سے فرار نہ ہوں۔ اگر کفار کی تعداد دوگنا سے زیادہ ہو تو اس صورت میں کفار کے مقابلے سے بھاگنا جائز ہے، مگر دو امور اس کی تردید کرتے ہیں۔ 1۔ یہ حکم خبر کے اسلوب میں ہے اور خبر کا اصول یہ ہے کہ یہ اپنے باب کے مطابق استعمال ہوتی ہے اور اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کے احسان کا ذکر اور امر واقع کی خبر دینا ہے۔ 2۔ اس عدد مذکور کو صبر کی قید کے ساتھ مقید کیا گیا ہے۔ یعنی انہوں نے صبر کو مشق کے ذریعے سے اپنی عادت بنا لیا ہو۔ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر وہ صابر نہ ہوں تو ان کے لئے فرار جائز ہے خواہ کافران سے کم ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ اس صورت میں ہے جب نقصان پہنچنے کا اندیشہ غالب ہو، جیسا کہ حکمت الٰہیہ کا تقاضا ہے۔ پہلے نکتے کا جواب یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿الْآنَ خَفَّفَ اللَّـهُ عَنكُمْ ﴾۔۔۔ سے لے کر ﴿مَعَ الصَّابِرِينَ ﴾ تک۔۔۔ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امر لازم اور حتمی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس تعداد میں تخفیف فرما دی۔ پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت کریمہ کا پیرا یہ اگرچہ خبر کا ہے،مگر اس سے مراد امر ہے۔ اس بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حکم کو خبر کے پیرائے میں بیان کرنے میں ایک انوکھا نکتہ پنہاں ہے، جو امر کے اسلوب میں ہرگز نہ پایا جاتا۔۔۔ اور وہ یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے دلوں کے لئے تقویت اور بشارت ہےکہ وہ عنقریب کافروں پر غالب آئیں گے۔ دوسرے نکتے کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کو صبر کی صفت سے مقید کرنا درحقیقت ان کو صبر کی ترغیب دینا ہے۔ یعنی تمہارے لئے مناسب یہ ہے کہ تم وہ تمام اسباب اختیار کرو جو صبر کے موجب ہیں۔ جب وہ صبر کا التزام کرتے ہیں تو تمام اسباب ایمانی اور اسباب مادی اس امر کے حصول کی خوشخبری دیتے ہیں، جس کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔۔۔ یعنی اہل ایمان کی قلیل تعداد کو فتح و نصرت سے نوازنا۔ الانفال
67 یہ غزوۂ بدر کے موقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل ایمان پر عتاب ہے جب انہوں نے مشرکین کو جنگی قیدی بنایا اور ان سے معاوضہ لینے کے لئے اپنے پاس رکھا۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ ان سے مالی معاوضہ لینے کی بجائے، ان کو قتل کرکے ان کی جڑ کاٹ دی جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ ﴾ ” نبی کے شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں یہاں تک کہ (کافروں کو قتل کرکے) زمین میں کثرت سے خون نہ بہادے۔‘‘ یعنی نبی کے لئے یہ بات ہرگز مناسب نہیں کہ جب وہ کفار کے ساتھ جنگ کرے جو اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھانا اور اس کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں اور وہ یہ بھی خواہش رکھتے ہیں کہ روئے زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہ رہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو۔۔۔ تو محض فدیہ کی خاطر (کفار کو قتل کرنے کی بجائے) قیدی بنانا شروع کر دے۔ یہ فدیہ اس مصلحت کی نسبت سے بہت حقیر ہے جو ان کے قلع قمع اور ان کے شر کے ابطال کا تقاضا کرتی ہے۔ جب تک ان میں شر اور حملہ کرنے کی قوت موجود ہے اس وقت تک بہتر یہی ہے کہ ان کو (قتل کرنے کی بجائے) جنگی قیدی نہ بنایا جائے۔ جب خونریزی کے بعد کفار کا قلع قمع اور مشرکین کے شر کا سدباب ہوجائے اور ان کا معاملہ کمزور پڑجائے تب ان کو (میدان جنگ میں) قیدی بنانے اور ان کی جان بخشی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ تُرِيدُونَ﴾ ” تم چاہتے ہو“ یعنی تم ان کی جان بخشی کرکے اور اس کے عوض فدیہ لے کر ﴿عَرَضَ الدُّنْيَا ﴾ ” دنیاوی مال و متاع لینا“ یعنی تم کسی ایسی مصلحت کی خاطر ان کی جان بخشی نہیں کررہے جو دین کی طرف راجع ہو۔ ﴿ وَاللَّـهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۗ﴾ ”اور اللہ آخرت ( کی بھلائی) چاہتا ہے۔‘‘ مگر اللہ تعالیٰ دین کو عزت سے نواز کر، اپنے اولیاء کی مدد کرکے اور دیگر قوموں پر انہیں غلبہ بخش کر اہل ایمان کے لئے آخرت کی بھلائی چاہتا ہے۔ پس وہ انہیں انہی امور کا حکم دیتا ہے جو اس منزل مراد پر پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ ” اور اللہ غالب، حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا مل غلبے کا مالک ہے۔ اگر وہ کسی لڑائی کے بغیر کفار پر فتح دینا چاہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے، مگر وہ حکمت والا ہے، وہ تمہیں ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے۔ الانفال
68 ﴿لَّوْلَا كِتَابٌ مِّنَ اللَّـهِ سَبَقَ﴾ ” اگر اللہ کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا“ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر مقرر نہ ہوچکی ہوتی اور تمہارے لئے غنائم کو حلال نہ کردیا گیا ہوتا اور اے امت مسلمہ !۔۔۔ تم سے عذاب کو نہ اٹھا لیا گیا ہوتا ﴿لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ ” تو تم نے جو فدیہ حاصل کیا ہے اس کی پاداش میں تمہیں عذاب عظیم آلیتا۔‘‘ اور حدیث میں آتا ہے ” اگر بدر کے روز (قیدیوں کے فدیہ کے معاملے میں( عذاب نازل ہوتا تو عمر (رضی اللہ عنہ) کے سوا کوئی نہ بچتا۔ [تفسیرالدرالمنثور،(3؍ 366)] الانفال
69 ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ ” پس کھاؤ تم جو تم کو غنیمت میں ملا، حلال پاکیزہ“ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس کے لئے غنائم کو حلال کر دیا حالانکہ اس سے قبل کسی امت پر غنائم کو حلال نہیں کیا گیا تھا۔ ﴿وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ﴾ ” اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو۔ ﴿ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ ﴾ ” بے شک اللہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جو کوئی توبہ کرکے اس کی طرف لوٹتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے اور جس نے شرک نہیں کیا، اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دے گا۔ (اگر چاہے گا) ﴿ رَّحِيمٌ﴾ اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے کہ اس نے تم پر مال غنیمت کو مباح کیا اور اس کو تمہارے لئے حلال اور پاک قرار دیا۔ الانفال
70 یہ آیت کریمہ اسیران بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ان قیدیوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباس بھی شامل تھے۔ جب رہائی کے عوض ان سے فدیہ کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے عرض کیا کہ انہوں نے اس سے قبل اسلام قبول کیا ہوا تھا، مگر مسلمانوں نے ان سے فدیہ کو ساقط نہ کیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی اور ان لوگوں کی دل جوئی کی خاطر یہ آیت کریمہ نازل فرمائی جو اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہوں۔ فرمایا : ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّمَن فِي أَيْدِيكُم مِّنَ الْأَسْرَىٰ إِن يَعْلَمِ اللَّـهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِّمَّا أُخِذَ مِنكُمْ﴾ ” اے نبی ! ان سے کہہ دو ! جو تمہارے ہاتھوں میں قیدی ہیں، اگر اللہ تمہارے دلوں میں کچھ نیکی جانے گا، تو تمہیں اس سے بہتر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے“ یعنی جو مال تم سے لیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کے بدلے خیر کثیر عطا کرے گا۔ ﴿وَيَغْفِرْ لَكُمْ﴾ ” اور (اللہ تعالیٰ) تمہارے گناہ بخش دے گا“ اور تمہیں جنت میں داخل کرے گا۔ ﴿وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ ” اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے اپنا وعدہ پورا کردیا، اس کے بعد انہیں بہت زیادہ مال حاصل ہوا، حتیٰ کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بہت زیادہ مال آیا، حضرت عباس رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے کپڑے میں جتنا مال اٹھا سکتے ہیں لے لیں۔ انہوں نے اتنا مال لیا کہ ان سے اٹھایا نہیں جا رہا تھا۔ الانفال
71 ﴿وَإِن يُرِيدُوا خِيَانَتَكَ﴾ ” اور اگر یہ لوگ آپ سے دغا کرنا چاہتی ہیں“ یعنی اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ کرنے کی کوشش کرکے خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ﴿فَقَدْ خَانُوا اللَّـهَ مِن قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ﴾ ” تو وہ خیانت کرچکے ہیں اللہ کی اس سے پہلے، پس اس نے ان کو پکڑوا دیا۔‘‘ پس وہ آپ کے ساتھ خیانت کرنے سے بچیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان پر اختیار رکھتا ہے اور وہ اس کے قبضہء قدرت میں ہیں۔ ﴿وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ علیم ہے، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے، وہ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھتا ہے۔ یہ اس کا علم و حکمت ہی ہے کہ اس نے تمہارے لئے نہایت خوبصورت اور جلیل القدر احکام وضع فرمائے اور کفار کے شر اور ان کی خیانت کے ارادے کے مقابلے میں تمہاری کفایت کا ذمہ لیا۔ الانفال
72 یہ موالات اور محبت کا رشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کے درمیان۔۔۔ جو ایمان لائے، جنہوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑا۔۔۔ اور انصار کے درمیان قائم کیا، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کو پناہ دی، اپنے گھر، مال اور خود ان کی ذات کے بارے میں ان کی مدد کی۔ یہ سب لوگ اپنے کامل ایمان اور ایک دوسرے کے ساتھ مکمل اتصال کی بناء پر ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ﴿ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا مَا لَكُم مِّن وَلَايَتِهِم مِّن شَيْءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا﴾ ” اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی، تم کو ان کی رفاقت سے کچھ کام نہیں، جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں“ کیونکہ انہوں نے تم سے علیحدہ ہو کر تمہاری ولایت و دوستی کا رشتہ ایسے وقت میں منقطع کرلیا جب کہ تمہیں مردوں کی مدد کی سخت ضرورت تھی اور چونکہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اس لئے مومنین کی طرف سے ان کی کوئی دوستی نہیں۔ البتہ ﴿وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ﴾ ” اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں“ یعنی اگر کوئی قوم ان کے خلاف لڑائی کرے اور یہ اس لڑائی میں تم سے مدد مانگیں ﴿فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ﴾ ” تو تم کو مدد کرنی لازم ہے۔‘‘ یعنی تم پر ان کی مدد کرنا اور ان کے ساتھ مل کر ان کے دشمن کے خلاف لڑنا واجب ہے اور اگر وہ اس کے علاوہ دیگر مقاصد کے لئے لڑتے ہیں تو تم پر ان کی مدد کرنا واجب نہیں۔ ﴿ إِلَّا عَلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ﴾ ” مگر ان لوگوں کے مقابلہ میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہوچکا ہے ( مدد نہیں کرنی چاہیے) ۔‘‘ یعنی جن کے ساتھ تمہارا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے اور وہ مومن جنہوں نے ہجرت نہیں کی، اگر ان کے ساتھ لڑنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو ان کے خلاف ان مومنوں کی مدد نہ کرو، کیونکہ تمہارے اور ان کے درمیان جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ ﴿وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾ ” اور اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے“یعنی وہ تمہارے احوال اور رویوں کو جانتا ہے، اس لئے اس نے تمہارے لئے ایسے احکام شروع کئے ہیں جو تمہارے احوال کے لائق ہیں۔ الانفال
73 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے درمیان موالات کا رشتہ قائم کردیا تو اس نے آگاہ فرمایا کہ چونکہ کفار کو ان کے کفر نے اکٹھا کردیا ہے اس لئے وہ ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں اور ان جیسے کفار کے سوا ان کا کوئی ولی اور دوست نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِلَّا تَفْعَلُوهُ﴾ ” تو (مومنو) اگر تم (بھی) یہ (کام) نہ کرو گے“ یعنی اگر تم مومنوں کے ساتھ موالات اور کفار کے ساتھ عداوت کے اصول پر عمل نہیں کرو گے، یعنی تم اہل ایمان کی حمایت اور کفار سے دشمنی نہیں کرو گے، یا تم کفار کی حمایت کرو گے اور اہل ایمان سے دشمنی رکھو گے ﴿ تَكُن فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ﴾ ” تو ملکوں میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔“ یعنی حق و باطل اور مومن و کافر کے اختلاط سے ایک ایسی برائی جنم لے گی جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا اور بہت سی بڑی بڑ ی عبادات مثلاً جہاد اور ہجرت وغیرہ معدوم ہوجائیں گی۔ جب اہل ایمان صرف اہل ایمان ہی کو اپنا دوست اور حمایتی نہیں بنائیں گے تو شریعت اور دین کے اس قسم کے مقاصد فوت ہوجائیں گے۔ الانفال
74 گزشتہ آیات میں مہاجرین و انصار کے رشتہ موالات کا تذکرہ تھا اور ان آیات میں ان کی مدح اور ثواب کا ذکر ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا﴾ ” اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) پناہ دی اور ان کی مدد کی“ یعنی مہاجرین و انصار ﴿ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ﴾ یعنی وہی سچے مومن ہیں کیونکہ انہوں نے ہجرت، نصرت دین، ایک دوسرے کے ساتھ موالات اور اپنے دشمنوں کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کر کے اپنے ایمان کی تصدیق ہے۔ ﴿لَّهُم مَّغْفِرَةٌ﴾ ” ان کے لئے مغفرت۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ جس سے ان کی برائیاں محو کردی جائیں اور ان کی لغزشیں ختم کردی جائیں گی ﴿وَرِزْقٌ كَرِيمٌ﴾ ” اور عزت کی روزی“ یعنی کے لئے ان کی طرف سے نعمتوں بھری جنتوں میں خیر کثیر ہے۔ بسا اوقات اس دنیا ہی میں انہیں بہت جلد ثواب عطا کردیا جاتا ہے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور دل مطمئن ہوتے ہیں۔ الانفال
75 اسی طرح جو لوگ ان مہاجرین و انصار کے بعد آئیں، نیکیوں میں ان کی اتباع، ایمان لائیں، ہجرت کریں اور اللہ کے راستے میں جہاد کریں ﴿فَأُولَـٰئِكَ مِنكُمْ﴾ ” پس وہ لوگ تم ہی میں سے ہیں“ ان کے وہی حقوق ہیں جو تمہارے حقوق ہیں اور ان کے ذمے وہی فرائض ہیں جو تمہارے ذمے ہیں۔ ایمان پر مبنی یہ موالات اسلام کے ابتدائی زمانے میں تھی۔ اس کی بہت بڑی وقعت اور عظیم شان ہے۔ حتیٰ کہ نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان جو اخوت قائم کی تھی، وہ خاص اخوت تھی جو اخوت عامہ و ایمانیہ کے علاوہ ہے،حتیٰ کہ ہے وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرما دی ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ ﴾ ” اور رشتے دار آپس میں زیادہ حق دار ہیں ایک دوسرے کے،اللہ کے حکم میں“ اس لئے میت کی وراثت صرف انہی لوگوں کو ملے گی جو اصحاب الفروض ہیں یا میت کا عصبہ ہیں۔ اگر میت کا عصبہ اور اصحاب الفروض موجود نہ ہوں تو ذو الارحام میں سے وہ لوگ وارث بنیں گے جو رشتہ میں میت کے سب سے زیادہ قریب ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا عموم دلالت کرتا ہے۔ ﴿فِي كِتَابِ اللَّـهِ﴾ ” اللہ کی کتاب میں“ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی کتاب میں۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴾ ” کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔“ اس کے احاطۂ علم میں تمہارے احوال بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی مناسبت سے تم پر دینی اور شرعی احکام جاری کرتا ہے۔ الانفال
1 یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تمام مشرکین و معاندین سے اظہار برأت ہے۔ انہیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے مامون ہیں، اس میں وہ اپنے اختیار سے زمین میں چل پھر لیں۔ چار ماہ کے بعد ان کے ساتھ کوئی معاہدہ و میثاق نہیں۔ یہ معاملہ ان کفار کے ساتھ ہے جن کے ساتھ لامحدود مدت کے لئے معاہدہ یا معاہدہ کی مدت چار ماہ یا اس سے کم ہے۔ رہا وہ معاہدہ جو چار ماہ سے زیادہ مدت کے لئے کیا گیا ہو، اگر معاہدے سے خیانت کا خدشہ نہ ہو اور اس سے نقض عہد کی بھی ابتدا نہ ہوئی ہو تو مدت معینہ تک اس کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو پورا کیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے معاہدین کو ان کی مدت عہد کے بارے میں ڈرایا ہے کہ اگرچہ وہ اس دوران میں مامون و محفوظ ہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکیں گے نہ اس سے بچ سکیں گے اور ان میں سے جو کوئی اپنے شرک پر قائم رہے گا اللہ تعالیٰ ضرور اسے رسوا کرے گا اور یہ چیز ان کے اسلام میں داخل ہونے کا باعث بن گئی۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے معاندانہ رویہ اختیار کیا اور اپنے کفر پر اصرار اور اللہ تعالیٰ کی وعید کی کوئی پروا نہیں کی۔ التوبہ
2 التوبہ
3 یہ اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ساتھ وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو فتح مند اور اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور ان کے مشرک دشمنوں سے علیحدہ ہوجائے گا، جنہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مکہ مکرمہ اور اللہ تعالیٰ کے محترم گھر سے نکال کر حجاز کے اس خطۂ ارضی سے جلاوطن کیا جس پر ان کا تسلط تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مومنین کو فتح و نصرت سے نوازا حتیٰ کہ مکہ فتح ہوگیا۔ مشرکین مغلوب ہوئے اور ان علاقوں کا اقتدار اور غلبہ مسلمانوں کے ہاتھ آگیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اعلان کرنے والے کو حکم دیا ہے کہ وہ حج اکبر کے دن جو کہ قربانی اور جزیرۃ العرب کے مسلمانوں اور کفار کے اکٹھے ہونے کا دن ہے۔۔۔۔ اعلان کر دے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے برئ الذمہ ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں اب ان کے لئے کوئی عہد اور میثاق نہیں۔ وہ جہاں کہیں بھی ملیں گے ان کو قتل کیا جائے گا اور ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں اور یہ سن ۹ ہجری تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ حج کیا اور قربانی کے روز رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے برأت کا اعلان کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو توبہ کی ترغیب دی اور ان کو شرک پر جمے رہنے سے ڈرایا۔ ﴿فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّـهِ﴾ ” پس اگر تم توبہ کرلو، تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر نہ مانو، تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرگز نہ تھکا سکو گے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے بھاگ نہیں سکتے، بلکہ تم اس کے قبضۂ قدرت میں ہو اور وہ اس بات پر قادر رہے کہ تم پر اپنے مومن بندوں کو مسلط کر دے۔ ﴿وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ ” اور کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو۔“ جو دنیا میں قتل، اسیری اور جلاوطنی کی صورت میں انہیں دیا جائے گا اور آخرت میں جہنم کی آگ کا، جو بہت برا ٹھکانا ہے۔ التوبہ
4 یعنی یہ تمام مشرکین سے کامل اور مطلق برأت کا اظہار ہے۔ ﴿ إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ ” سوائے ان مشرکین کے جن سے تم نے معاہدہ کر رکھا ہے“ اور وہ اپنے عہد پر قائم ہیں اور ان سے کسی ایسے فعل کا ارتکاب نہیں ہوا جو نقض عہد کا موجب ہو۔ انہوں نے معاہدے میں کوئی کوتاہی ہی کی ہے نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ہے۔ پس ان لوگوں کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کو، اس کی مدت مقررہ تک پورا کرو خواہ یہ مدت تھوڑی ہو یا زیادہ۔۔۔ کیونکہ اسلام خیانت کا حکم نہیں دیتا، وہ تو معاہدوں کو پورا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ﴾ ” بے شک اللہ پسند کرتا ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو۔‘‘ وہ لوگ جنہوں نے ان ذمہ داریوں کو ادا کیا جن کا انہیں حکم دیا گیا اور شرک، خیانت اور دیگر گناہوں سے بچے۔ التوبہ
5 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ﴾ ” پس جب گزر جائیں مہینے پناہ کے“ یعنی وہ مہینے جن میں معاہد مشرکین کے خلاف جنگ کو حرام ٹھہرایا گیا ہے اور یہ آسانی کے چار ماہ ہیں اور جن کے ساتھ چار ماہ سے زیادہ مدت کا معاہدہ کیا گیا ہے، اس مدت کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد ان کے ساتھ معاہدہ کی ذمہ داری ختم ہوجائے گی۔ ﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ﴾ ” پس مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو۔“ یعنی وہ جس وقت اور جہاں کہیں بھی ہوں ﴿وَخُذُوهُمْ ﴾ ” ان کو قیدی بناؤ“ ﴿وَاحْصُرُوهُمْ﴾ ” اور ان کو گھیر لو۔“ یعنی ان پر زمین تنگ کر دو۔ اللہ کی اس زمین میں انہیں اس طرح نہ چھوڑ دو کہ وہ کھلے دندناتے پھرتے رہیں، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے عبادت گاہ بنایا ہے۔ یہ لوگ اس زمین پر رہنے کے قابل نہیں، بلکہ وہ اس زمین سے بالشت بھر جگہ کے بھی مستحق نہیں کیونکہ زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور کفار اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ زمین اللہ تعالیٰ کے دین سے خالی ہوجائے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔ ﴿وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ﴾ ” اور ہر گھات کی جگہ پر ان کی تاک میں بیٹھو۔“ یعنی ہر گھاٹی اور ہرراستے میں گھات لگا کر بیٹھو جہاں سے وہ گزرتے ہیں۔ ان کے خلاف جہاد کے لئے پوری طرح تیار رہو اور جہاد میں اپنی پوری کوشش صرف کر دو اور ان کے خلاف اس وقت تک جہاد کرتے رہو جب تک کہ وہ اپنے شرک سے توبہ نہ کرلیں۔ بنا بریں فرمایا : ﴿فَإِن تَابُوا﴾ ” پس اگر وہ توبہ کرلیں“ یعنی اپنے شرک سے ﴿وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ﴾ ” اور نماز پڑھنے لگیں“ یعنی اسے اس کے حقوق کے ساتھ ادا کریں ﴿وَآتَوُا الزَّكَاةَ﴾ ” اور زکوٰۃ دینے لگیں“ مستحقین کو زکوٰۃ دیں۔ ﴿فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ﴾ ” تو ان کی راہ چھوڑ دو۔“ یعنی ان کو چھوڑ دو، اب وہ تمہارے برابر ہیں ان کے وہی حقوق ہیں جو تمہارے ہیں اور ان کے ذمے وہی فرائض ہیں جو تمہارے ذمے ہیں ﴿إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ ” بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کا شرک اور ان کے دیگر کم تر گناہ بخش دیتا ہے۔ انہیں توبہ کی توفیق بخش کر اور پھر اس توبہ کو قبول کر کے انہیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لیتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی نماز قائم کرنے یا زکوٰۃ ادا کرنے سے رکے گا، اس کے خلاف اس وقت تک جنگ کی جائے گی جب تک کہ وہ نماز قائم نہیں کرتا اور زکوٰۃ ادا نہیں کرتا۔ جیسا کہ جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا تھا۔ التوبہ
6 اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد: ﴿فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ﴾ ” تمام اشخاص کے لئے اور تمام احوال میں ایک عام حکم ہے۔ ہاں اگر مصلحت ان میں سے کسی کو قریب کرنے کا تقاضا کرتی ہو تو یہ جائز‘‘ بلکہ واجب ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ﴾ ”اگر مشرکین میں سے کوئی آپ سے پناہ طلب کرے‘‘ یعنی وہ یہ چاہے کہ آپ اس کو ضرر سے بچا لیں تو اس مقصد کے لئے اس کو پناہ دے دیں تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لے اور اسلام میں اچھی طرح غور فکر کرلے۔ ﴿ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّـهِ ﴾ ” تو اس کو پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔“ یعنی پھر اگر وہ اسلام قبول کرلے تو بہتر ورنہ اسے امن کی جگہ پہنچا دیں یعنی وہ جگہ جہاں وہ مامون ہو اور اس کا سبب یہ ہے کہ کفار بے علم لوگ ہیں۔ بسا اوقات ان کا کفر پر قائم رہنا جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے، جب یہ سبب زائل ہوجاتا ہے تو وہ اسلام قبول کرلیتے ہیں۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی امت کو احکام میں اس کے نمونے کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور وہ یہ کہ کفار میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کو سننے کی خواہش کرے تو اس کو امان دے دیں۔ اس آیت کریمہ میں اہل سنت و الجماعت کے مذہب پر صریح دلیل ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام اور غیر مخلوق ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے اور اس نے اس کی اضافت پنی طرف کی ہے جیسے صفت کی اضافت موصوف کی طرف ہوتی ہے نیز اس سے معتزلہ اور ان کے ہم نواؤں کے مذہب کا بطلان ثابت ہوتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن مخلوق ہے۔ کتنے ہی دلائل ہیں جو ان کے اس قول کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں، لیکن یہ ان کی تفصیل کا مقام نہیں۔ التوبہ
7 یہ اس حکمت الٰہی کا بیان ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہوں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ اللَّـهِ وَعِندَ رَسُولِهِ﴾ ” کیوں کر ہو مشرکین کے لئے کوئی عہد اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک؟“ کیا انہوں نے واجبات ایمان کو قائم کیا ہے؟ یا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل ایمان کو اذیت دینا چھوڑ دی ہے؟۔۔۔ (بلکہ) انہوں نے حق کے خلاف جنگ کی اور باطل کی مدد کی۔ کیا انہوں نے زمین میں فساد پھیلانے کی بھرپور کوشش کر کے اپنے آپ کو اس بات کا مستحق نہیں ٹھہرا لیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے بری الذمہ ہو، اللہ اور اس کے رسول کے ہاں ان کے لئے کوئی عہد اور ذمہ نہ ہو؟ ﴿إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدتُّمْ﴾ ” سوائے ان کے جن سے تم نے عہد کیا“ یعنی مشرکین میں سے جن کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا ﴿عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ ” مسجد حرام کے پاس“ پس اس عہد میں۔۔۔ خاص طور پر فضیلت والی اس جگہ پر۔۔۔ ان کے لئے حرمت ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ ان کی رعایت رکھی جائے۔ ﴿فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ﴾ ” پس جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہو۔ بے شک اللہ اہل تقویٰ کو پسند کرتا ہے۔“ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : التوبہ
8 ﴿كَيْفَ﴾ ” کیسے“ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لئے کیسے عہد و میثاق ہوسکتا ہے۔ ﴿وَإِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ﴾ ” کہ اگر وہ تم پر غلبہ پا لیں‘‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی رحم نہیں کریں گے۔﴿لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً﴾ ” تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔“ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے، بلکہ وہ تمہیں بدترین عذاب دیں گے۔ اگر وہ غالب آجائیں تو ان کا تمہارے ساتھ یہ حال ہوگا لیکن اگر وہ تم سے ڈر کر تمہارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمہیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہئے، کیونکہ ﴿يُرْضُونَكُم بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ﴾ ” وہ اپنے منہ سے تمہیں خوش کردیتے ہیں اور ان کے دل تمہاری طرف میلان اور محبت سے انکار کرتے ہیں“ بلکہ وہ تمہارے حقیقی دشمن ہیں اور تمہارے ساتھ دلی بغض رکھتے ہیں۔ ﴿وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ﴾ ” اور ان کے اکثر بد عہد ہیں۔“ ان میں کوئی دیانت اور مروت نہیں۔ التوبہ
9 ﴿اشْتَرَوْا بِآيَاتِ اللَّـهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ ” یہ اللہ کی آیات کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے ہیں۔“ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کرنے کی بجائے اس دنیا میں جلدی حاصل ہونے والے حسیس عوض کو اختیار کرلیا۔ ﴿فَصَدُّوا عَن سَبِيلِهِ﴾ انہوں نے خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا۔ ﴿إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ” بلاشبہ بہت ہی برے کام ہیں جو یہ کرتے ہیں۔ “ التوبہ
10 ﴿لَا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً﴾ ” وہ کسی حرمت کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔“ یعنی ایمان اور اہل ایمان سے عداوت کی بنا پر وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں کرتے۔ وہ وصف جس کی بنا پر وہ تم سے عداوت اور بغض رکھتے ہیں۔ وہ ایمان ہے، اس لئے اپنے دین کا دفاع کرو اور اس کی مدد کرو اور جو کوئی تمہارے دین سے عداوت رکھتا ہے اسے اپنا دشمن سمجھو اور جو تمہارے دین کی مدد کرتا ہے اسے اپنا دوست سمجھو۔ دوستی کے وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے دین کو حکم کا مدار بناؤ۔ طبیعت کو دوستی اور دشمنی کا معیار نہ بناؤ کہ جدھر خواہش کا میلان ہو تم بھی ادھر جھک جاؤ اور اس بارے میں اس نفس کی پیروی کرو جو برائی کا حکم دیتا ہے۔ التوبہ
11 اس لئے فرمایا : ﴿فَإِن تَابُوا﴾ ” اگر وہ توبہ کرلیں“ یعنی اگر وہ اپنے شرک سے توبہ کر کے ایمان کی طرف لوٹ آئیں ﴿ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ﴾ ” اور نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں“ اور اس عداوت کو فراموش کر دو جب وہ مشرک تھے،تاکہ تم سب اللہ کے مخلص بندے بن جاؤ اور اس طرح بندہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم احکام کو بیان فرمایا ان میں سے کچھ احکام کی توضیح فرمائی، کچھ حکمتوں اور فیصلوں کو بیان کیا، تو فرمایا : ﴿وَنُفَصِّلُ الْآيَاتِ﴾ ” ہم آیات کو واضح اور ممیز کرتے ہیں۔‘‘ ﴿لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ﴾ ” جاننے والے لوگوں کے واسطے“ پس سیاق کلام انہی کی طرف ہے، انہی کے ذریعے سے آیات و احکام کا علم حاصل ہوتا ہے انہی کے ذریعے سے دین اسلام اور شریعت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اے اللہ ! اے رب العالمین ! اپنی رحمت، اپنے جود و کرم اور اپنے احسان سے، ہمیں ایسے لوگوں میں شامل کر جو علم رکھتے ہیں اور ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جن کا ان کو علم ہے۔ التوبہ
12 اس بات کا ذکر کرنے کے بعد اگر مشرک معاہدین اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے ان سے اپنے عہد کو پورا کرو۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ﴾ ” اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں“ یعنی انہوں نے اپنے حلف کو توڑ دیا اور جنگ میں تمہارے خلاف دشمن کی مدد کی یا تمہیں نقصان پہنچایا ﴿وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ﴾ ” اور تمہارے دین میں طعن کرنے لگیں“ یعنی تمہارے دین میں عیب چینی کی یا اس کا تمسخر اڑایا۔ یہ دین اور قرآن میں ہر قسم کے طعن و تشنیع کو شامل ہے۔ ﴿فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ﴾ ’’تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔“ یعنی قائدین کفر اور ان سرداروں سے لڑو جو اللہ رحمٰن کے دین میں طعن و تشنیع کرتے ہیں اور شیطان کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ ان قائدین کفر کا خاص طور پر ذکر اس لئے کیا ہے کیونکہ ان کا جرم بہت بڑا تھا اور دیگر لوگ تو محض ان کے پیرو کار تھے اور تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ جو کوئی دین میں طعن و تشنیع کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کو ٹھکرانے کے در پے ہوتا ہے تو اس کا شمار ائمہ کفر میں ہوتا ہے۔ ﴿إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ﴾ یعنی ان کا کوئی عہد و میثاق نہیں کہ وہ اس کے ایفا کا التزام کریں بلکہ وہ تو ہمیشہ خیانت کرتے رہتے ہیں اور عہد کو توڑتے رہتے ہیں۔ ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ ﴿ لَعَلَّهُمْ﴾” شاید کہ وہ“ یعنی ان کے ساتھ تمہارے لڑائی کرنے میں ﴿يَنتَهُونَ﴾ ” باز آجائیں۔“ یعنی تمہارے دین میں طعن کرنے سے باز آجائیں اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ دین میں داخل ہوجائیں۔ التوبہ
13 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے خلاف جہاد کی ترغیب دی ہے اور دشمنوں سے جو اوصاف صادر ہوتے ہیں ان کو بیان کر کے اہل ایمان کو ان کے خلاف جہاد پر ابھارا ہے، کیونکہ جن اوصاف سے یہ کفار متصف ہیں وہ ان کے خلاف جہاد کا تقاضا کرتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا : ﴿ أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ﴾ ” تم ان لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنے عہدوں کو توڑ دیا اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا“ جس کا احترام اور تعظیم و توقیر فرض ہے، نیز انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلا وطن کردیں اور اس مقصد کے لئے انہوں نے امکان بھر کوشش کی۔ ﴿وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ﴾ ” اور انہوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے“ جبکہ انہوں نے نقض عہد کا ارتکاب کیا اور تمہارے خلاف دشمن کی اعانت کی اور یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب قریش نے۔۔۔ درآں حالیکہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا۔۔۔ بنو خزاعہ کے خلاف اپنے حلیفوں یعنی بنوبکر کی مدد کی۔ بنو خز اعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیف تھے اور قریش نے بنو خزاعہ کے خلاف لڑائی کی، جیسا کہ اس تفصیل سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے۔ ﴿أَتَخْشَوْنَهُمْ﴾ ” کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟“ یعنی کیا تم ان سے قتال کرنے سے ڈرتے ہو؟ ﴿فَاللَّـهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾ ”حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو“ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی تمہیں سخت تاکید کی ہے اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو اور کفار سے ڈر کر اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک نہ کرو۔ التوبہ
14 پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا اور ان فوائد کا ذکر کیا جو کفار کے خلاف جہاد پر مترتب ہوتے ہیں، یہ سب اہل ایمان کے لئے کفار کے خلاف جہاد کی ترغیب ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّـهُ بِأَيْدِيكُمْ﴾ ” ان سے لڑائی کرو، اللہ ان کو سزا دے گا تمہارے ہاتھوں سے“ یعنی قتل کے ذریعے سے ﴿ وَيُخْزِهِمْ ﴾ ” اور رسوا کرے گا ان کو“ یعنی جب اللہ تعالیٰ کفار کے خلاف تمہاری مدد کرے گا۔ یہ وہ دشمن ہیں جن کی رسوائی مطلوب ہے اور اس کی خواہش کی جاتی ہے ﴿ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ﴾ ” اور تم کو ان پر غالب کر دے گا“ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وعدہ اور بشارت تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کردیا۔ ﴿وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ  وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ﴾ ” اور ٹھنڈے کرے گا دل مسلمان لوگوں کے اور نکالے گا ان کے دلوں کی جلن“ کیونکہ کفار کے خلاف ان کے دل غیظ و غضب سے لبریز ہیں۔ ان کے خلاف قتال کرنے اور ان کو قتل کرنے سے اہل ایمان کو ان کے دلوں میں موجود غیظ و غضب اور غم و ہموم سے شفا ملتی ہے۔ کیونکہ وہ ان دشمنوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اللہ کے نور کو بجھانے میں کوشاں ہیں چنانچہ انہیں قتل و رسوا کر کے مومنوں کے دلوں میں موجود غیظ و غضب زائل ہوتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے محبت کرتا ہے اور ان کے احوال کو درخور اعتناء سمجھتا ہے۔ حتیٰ کہ اس نے اہل ایمان کے دلوں کو شفا دینا اور ان کے غیظ و غضب کو زائل کرنا، مقاصد شرعیہ میں شمار کیا ہے۔ التوبہ
15 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَيَتُوبُ اللَّـهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ﴾ ” اور جس پر چاہے گا اللہ رحمت کرے گا۔“ یعنی ان برسر پیکار کفار میں سے جسے چاہے اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا کر کے اس کی توبہ قبول کرلے، اسلام کو ان کے دلوں میں آراستہ کر دے اور کفر، فسق اور نافرمانی کو ان کے لئے ناپسندیدہ کر دے۔ ﴿وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ ” اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔“ یعنی وہ تمام اشیا کو ان کے مقام پر رکھتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون ایمان لانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ چنانچہ وہ اس کی راہ نمائی کرتا ہے اور کون اس صلاحیت سے محروم ہے؟ وہ اس کو اس کی گمراہی اور سرکشی میں غلطاں چھوڑ دیتا ہے۔ التوبہ
16 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو جہاد کا حکم دینے کے بعد ان سے فرماتا ہے ﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تُتْرَكُوا﴾ ” کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم چھوٹ جاؤ گے“ یعنی تمہیں کسی آزمائش اور امتحان میں مبتلا کئے بغیر اور تمہیں کوئی ایسا حکم دیئے بغیر چھوڑ دیا جائے گا جس سے سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ ﴿وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ﴾”حا لانکہ ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے جہاد کیا ہے“ یعنی ایسا علم جو اس چیز کو خارج میں ظاہر کردے جو قوت میں موجود ہے، تاکہ اس پر ثواب وعقاب مرتب ہو۔ پس ان لوگوں کو جان لے جو اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔﴿وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ وَلَا رَسُولِهِ وَلَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً ۚ﴾” اور نہیں بنایا انہوں نے اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے سوا، کوئی دوست“ یعنی انہوں نے کفار کو اپنا دوست نہیں بنایا، بلکہ وہ اللہ اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ ﴿وَاللَّـهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾” اور اللہ تمہارے سب کاموں سے باخبر ہے۔“ یعنی تم سے جو کچھ صادر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح آگاہ ہے پس وہ تمہاری آزمائش اس طریقہ سے کرتا ہے جس سے تمہاری پوری حقیقت ظاہر ہوجائے۔ نیز وہ تمہیں اور تمہارے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔ التوبہ
17 اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:﴿ مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ﴾” مشرکوں کو زیبا نہیں“ یعنی مشرکین کے لائق اور ان کے لیے مناسب نہیں﴿ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ﴾” کہ آباد کریں وہ اللہ کی مسجدوں کو“ یعنی عبادات، نماز اور مختلف انواع کی نیکیوں کے ذریعے سے اللہ کی مساجد کو آباد کریں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت اور شہادت حال کے ذریعے سے اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگوں کی بابت علم ہے کہ وہ کفر اور باطل پر ہیں۔﴿شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ﴾” جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر اور (عدم ایمان) کی گواہی دیتے ہیں۔“ ایمان اعمال کی قبولیت کی شرط ہے، تب وہ کیوں کر یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کہ مساجد کو آباد کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے اعمال کی بنیاد ہی مفقود ہے اور ان کے اعمال باطل ہیں۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا :﴿أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ﴾ ”یہی لوگ ہیں، ان کے اعمال برباد ہوگئے اور وہ آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔ “ التوبہ
18 پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا :﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ ﴾” اللہ کی مسجدوں کو تو وہی آباد کرتا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور قائم کیا نماز کو“ یعنی وہ فرض اور مستحب نمازوں کو ظاہری اور باطنی طور پر قائم کرتا ہے ﴿وَآتَى الزَّكَاةَ ﴾اور مستحق لوگوں کو زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔﴿  وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ ﴾” اور نہیں ڈرا سوائے اللہ کے“ یعنی اس نے اپنی خشیت کو صرف اللہ تعالیٰ پر مرکوز کر رکھا ہے۔ ان امور کو اپنے آپ سے دور رکھتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق واجبہ کی ادائیگی میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ نے مومنوں کو ایمان نافع اور اعمال صالحہ کے بجا لانے سے متصف کیا ہے۔ ان اعمال صالحہ کی اساس نماز اور زکوٰۃ ہے، نیز ان کو خشیت الٰہی سے موصوف کیا ہے جو ہر بھلائی کی بنیاد ہے درحقیقت یہی وہ لوگ ہیں جو مساجد کو آباد کرتے ہیں اور یہی ان کے اہل ہیں۔﴿فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ﴾” پس امید ہے کہ یہ لوگ ہوں ہدایت والوں میں۔“ لفظ ﴿عَسىٰ﴾ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وجوب کے معنی میں آتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہ اللہ سے ڈرتے ہیں تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرنے والے نہیں اور نہ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ان کے اہل ہیں۔ اگرچہ وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ التوبہ
19 جب بعض مسلمانوں کے درمیان یا بعض مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوگیا کہ مسجد حرام کی تعمیر، اس کے اندر نماز پڑھنا، اس میں عبادت کرنا اور حاجیوں کو پانی پلانا افضل ہے یا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا؟ تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان بہت تفاوت ہے۔ چنانچہ فرمایا ﴿أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ﴾” کیا کردیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے کو“ یعنی ان کو آپ زم زم پلانا، جیسا کہ معروف جب پلانے کا ذکر مطلق کیا جائے تو اس سے مراد آب زم زم پلانا ہی ہوتا ہے﴿ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ لَا يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّـهِ ﴾” اور مسجد حرام کے بسانے کو اس شخص کے برابر جو ایمان لایا اللہ اور یوم آخرت پر اور لڑا اللہ کی راہ میں یہ برابر نہیں ہیں اللہ کے نزدیک ۔‘‘ پس جہاد اور ایمان باللہ حاجیوں کو آب زم زم پلانے اور مسجد حرام کی تعمیر سے کئی درجے افضل ہیں کیونکہ ایمان دین کی اساس ہے اور اسی کے ساتھ اعمال قابل قبول ہوتے ہیں اور خصائل کا تزکیہ ہوتا ہے۔ رہا جہاد فی سبیل اللہ تو وہ دین کو کوہان ہے جہاد ہی کے ذریعے سے دین اسلام کی حفاظت ہوتی ہے اور اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ جہاد ہی کے ذریعے سے حق کی مدد کی جاتی ہے اور باطل بےیار و مددگار ہوتا ہے۔ رہا مسجد کو آباد کرنا اور حاجیوں کو آب زم زم پلانا، یہ اگرچہ نیک اعمال ہیں مگر ان کی قبولیت ایمان باللہ پر موقوف ہے اور ان اعمال میں وہ مصالح نہیں ہیں جو ایمان باللہ اور جہاد میں ہیں۔ اسی لئے فرمایا : یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں۔﴿وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا“ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ہی ظلم ہے جو بھلائی کی کسی چیز کو بھی قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ برائی کے سوا کوئی چیز ان کے لائق نہیں۔ پھر نہایت صراحت کے ساتھ اہل ایمان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا : التوبہ
20 ﴿ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِهِمْ﴾” وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اپنے مالوں کے ساتھ“ یعنی اپنا مال جہاد میں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کو جہاد کا سامان مہیا کرنے میں خرچ کرتے ہیں۔ ﴿وَأَنفُسِهِمْ﴾” اور اپنی جانوں کے ساتھ“ اور خود جہاد کے لیے نکلتے ہیں ﴿أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّـهِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ﴾” ان کے لئے بڑا درجہ ہے اللہ کے ہاں اور یہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے“ یعنی کوئی شخص اپنا مطلوب حاصل کرسکتا ہے نہ کسی ڈر سے نجات پاسکتا ہے سوائے اس کے جو ان کی صفات سے متصف ہوتا ہے اور ان کے اخلاق کو اپناتا ہے۔ التوبہ
21 ﴿يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم﴾” ان کو ان کا رب بشارت دیتا ہے“ اپنی طرف سے رحم وکرم، ان پر لطف واحسان اور ان سے اعتناء اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے﴿ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ﴾” اپنی طرف سے رحمت کی“ جس کے ذریعے سے وہ ان سے برائیوں کو دور کرتا اور ہر طرح کی بھلائی ان تک پہنچاتا ہے۔﴿ وَرِضْوَانٍ﴾” اور اپنی رضا مندی کی“ جو جنت میں سب سے بڑی اور نہایت جلیل القدر نعمت ہوگی۔ پس وہاں اللہ تعالیٰ اہل جنت کے سامنے اپنی رضا مندی کا اعلان فرمائے گا اور پھر کبھی ان پر ناراض نہیں ہوگا۔﴿وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ﴾ اور باغوں کی جنت میں ان کو آرام ہے ہمیشہ کا“ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ہر قسم کی نعمتیں موجود ہوں گی جن کی دل خواہش کریں گے اور جن سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی جن کے اوصاف اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جو یہ نعمتیں عطا کرے گا۔ ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے جنت میں سو درجے تیار رکھے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔ اگر تمام مخلوق ایک درجہ میں جمع ہوجائے تو اس ایک درجہ میں سما جائے۔ التوبہ
22 ﴿خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ﴾ ” اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے“ وہ وہاں سے منتقل ہوں گے نہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے۔﴿إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ﴾” بے شک اللہ کے پاس ہے بڑا اجر“ اجر کی کثرت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی بعید نہیں اور نہ اس اجر کا بڑا اور اچھا ہونا اس ہستی کے بارے میں کوئی تعجب خیز ہے جو کسی چیز سے جب کہتی ہے ” ہوجا“ تو وہ ہوجاتی ہے۔ التوبہ
23 اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ ”اے مومنوں !“ ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے اس کے ساتھ موالات رکھو، جو ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ان سے عداوت رکھو اور﴿لَا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ﴾ ”نہ بناؤ تم اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست“ جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ تمہارے قریب ہیں اور دوسرے لوگوں کے بارے میں تو زیادہ اولیٰ ہے کہ تم ان کو دوست نہ بناؤ۔﴿ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْإِيمَانِ﴾” اگر وہ کفر کو پسند کریں ایمان کے مقابلے میں“ یعنی اگر وہ برضاو رغبت اور محبت سے ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔﴿ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ اور جو بھی دوستی کرے گا ان سے تم میں سے’’پس وہی لوگ ہیں ظالم“ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کی اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو اپنا دوست بنایا چونکہ ولایت اور دوستی کی اساس محبت اور نصرت ہے اور ان کا کفارکو دوست بنانا، کفار کی اطاعت اور ان کی محبت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت و محبت پر مقدم رکھنے کا موجب ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا ہے جو اس کا موجب ہے اور وہ ہے اللہ اور اس کے رسول کی محبت۔ اس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہر چیز پر مقدم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کی محبت کواس محبت کے تابع کیا ہے۔ التوبہ
24 فرمایا : ﴿قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ ﴾” کہہ دیجئے ! اگر ہیں تمہارے باپ“ اسی طرح یہ حکم ماؤں کے بارے میں بھی ہے ﴿وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ﴾”اور تمہارے بیٹے اور بھائی“ یعنی نسبی اور خاندانی اعتبار سے۔﴿وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ﴾” اور تمہاری بیویاں اور دیگر عمومی رشتہ دار“﴿ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا﴾اور وہ مال جو تم کماتے ہو“ جس کے حصول میں مشقت برداشت کرتے ہو۔ کمائے ہوئے مال کا خاص طور پر اس لئے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ اصحاب اموال کے نزدیک مرغوب ترین مال ہوتا ہے اور انہیں اس مال کی نسبت جو انہیں بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل ہوتا ہے زیادہ محبوب و مرغوب ہوتا ہے۔ ﴿وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا﴾” اور وہ سودا گری جس کے مندا ہونے سے تم ڈرتے ہو“ یعنی سامان کے ارزاں ہونے اور اس میں نقصان واقع ہونے سے ڈرتے ہو۔ اس میں تجارت اور کاروبار کی تمام اقسام شامل ہیں، مثلاً ہر قسم کا سامان تجارت مال کی قیمتیں،برتن، اسلحہ، اشیائے استعمال، غلہ جات، کھتیاں اور مویشی وغیرہ سب اسی زمرے میں آتے ہیں۔﴿وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا ﴾” اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو“ ان کی خوبصوتی، سجاوٹ اور ان کا تمہارے خواہشات اور پسند کے مطابق ہونے کی وجہ سے﴿ أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ ﴾” اگر یہ تمام چیزیں تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں“ تو تم فاسق وفاجر اور ظالم ہو۔﴿فَتَرَبَّصُوا﴾” تو انتظار کرو۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہونے کا انتظار کرو ﴿حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ﴾” یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے“ جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ﴿وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِين﴾” اور اللہ نافرمان لوگوں کا ہدایت نہیں دیا کرتا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے دائرہ اطاعت سے باہر نکلنے والے اور اللہ تعالیٰ کی محبت پر مذکورہ بالا اشیا کی محبت کو ترجیح دینے والے کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے نہیں نوازتا۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت فرض ہے اور دیگر تمام اشیا کی محبت پر مقدم ہے۔ نیز آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے نہایت سخت وعید اور شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے جسے یہ مذکورہ اشیاء اللہ، اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں۔ اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے دوامور پیش ہوں ان میں ایک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ہو مگر اس میں اس کے نفس کی چاہت کا کوئی پہلونہ ہو اور دوسرے معاملے کو نفس پسند کرتا ہومگر اس کی اختیار کرنے سے اس چیز سے محروم ہوجاتا ہو جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں یا اس چیز میں کمی واقع ہوجاتی ہو اس صورت میں اگر وہ اس چیز کو اس امر پر ترجیح دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ظالم اور اس امر کا تارک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا ہے۔ التوبہ
25 اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے احسان کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے بہت سی لڑائیوں اور جنگی معرکوں میں انہیں اپنی نصرت سے نوازا حتیٰ کہ ” حنین‘‘ کی جنگ میں جب کہ وہ انتہائی شدید صورت حال سے دوچار تھے، وہ دیکھ رہے تھے کہ لوگ ان کو چھوڑ کر فرار ہورہے ہیں اور زمین اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہورہی ہے۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر پہنچی کہ بنو ہوازن آپ پر حملہ کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ چنانچہ آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے قریش کو ساتھ لے کر مقابلے کے لیے نکلے اس وقت ان کی تعداد بارہ ہزار اور مشرکین کی تعداد چارہزار تھی۔ کچھ مسلمانوں نے اس کثرت تعداد پر اتراتے ہوئے کہا ” آج ہم پر کوئی غالب نہیں آسکے گا۔‘‘ جب بنو ہوازن اور مسلمانوں کی مڈبھیڑ ہوئی ہو انہوں نے مسلمانوں پر یک بارگی حملہ کیا جس سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑگئے اور شکست کھا کر بھا گ اٹھے اور انہوں نے پلٹ کر ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سو کے لگ بھگ آدمی رہ گئے تھے جو نہایت ثابت قدمی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ڈٹے مشرکین سے لڑ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر کو ایڑ لگا کر مشرکین کی طرف پیش قدمی کررہے تھے اور فرما رہے تھے ((اَنَاالنَّبِيُّ لَاكَذِبَ اَنَاابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ)) ”میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔‘‘ جب آپ نے مسلمانوں کی یہ ہزیمت دیکھی تو آپ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کو، جو کہ بلند آواز شخص تھے حکم دیا کہ وہ انصار اور باقی مسلمانوں کو آواز دیں۔ چنانچہ انہوں نے پکار کر کہا :” اے اصحاب بیعت رضوان ! اے اصحاب سورۃ بقرہ“ جب بھاگنے والوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو وہ یک بارگی واپس پلٹے اور مشرکین پر ٹوٹ پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو زبردست شکست سے دوچار کیا۔ میدان جنگ مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ ان کے اموال اور عورتیں مسلمانوں کے قبضے میں آگئیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا“ ﴿ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّـهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ ۙ وَيَوْمَ  حُنَيْنٍ﴾” یقیناً اللہ نے تمہاری مدد فرمائی بہت سی جگہوں میں اور حنین کے دن“ حنین، مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان وہ مقام ہے جہاں حنین کا معرکہ ہوا تھا ﴿إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا﴾” جب تمہیں تمہاری کثرت نے گھمنڈ میں مبتلا کردیا پس اس نے تمہیں کچھ فائدہ نہیں دیا“ تمہاری کثرت نے تمہیں تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ ﴿وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ﴾ ” اور زمین تم پر تنگ ہوگئی۔“ یعنی جب تمہیں شکست ہوئی اور تم پر غم و ہموم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور تم پر زمین تنگ ہوگئی۔ ﴿بِمَا رَحُبَتْ﴾ ” اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود“ ﴿ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ﴾ ” پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔ “ التوبہ
26 ﴿ثُمَّ أَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ ” پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی“ سکینت اس کیفیت کا نام ہے جو دل کو ہلا دینے والے تباہ کن واقعات اور زلزلوں کے وقت اللہ تعالیٰ دل میں پیدا کرتا ہے جو دل کو سکون عطا کر کے مطمئن کرتی ہے۔ یہ سکون قلب بندوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ﴿وَأَنزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا﴾ ” اور ایسے لشکر اتارے جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے“ وہ فرشتے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حنین کی جنگ میں مسلمانوں کی مدد کے لئے نازل فرمایا جو مسلمانوں کو ثابت قدم رکھتے تھے اور انہیں فتح و نصرت کی خوشخبری دیتے تھے۔ ﴿وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا  ﴾ ” اور کافروں کو عذاب دیا“ اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست، قتل، ان کے اموال و اولاد اور ان کی عورتوں پر مسلمانوں کے قبضہ کے ذریعے سے عذاب کا مزا چکھا دیا۔ ﴿وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ﴾ ” اور یہ ہے سزا کافروں کی“ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں بھی عذاب دے گا اور آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ التوبہ
27 ﴿ثُمَّ يَتُوبُ اللَّـهُ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ﴾ ” پھر اللہ اس کے بعد جس پر چاہتا ہے، رجوع فرماتا ہے“ اللہ تبارک و تعالیٰ نے، ہوازن کے کفار میں سے جن کے ساتھ جنگ ہوئی، اکثر کی توبہ قبول فرما لی اور وہ اسلام قبول کر کے تائب ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ان کی عورتیں اور بچے واپس کردیئے۔ ﴿وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ ” اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ بے انتہا مغفرت اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے، وہ توبہ کرنے والے کے بڑے بڑے گناہ بخش دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توبہ اور اطاعت کی توفیق عطا کر کے، ان کے جرائم سے درگزر کر کے اور ان کی توبہ قبول کر کے ان پر رحم کرتا ہے۔ پس کسی نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہوں اور جرائم کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو، اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش سے ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ التوبہ
28 ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ﴾ ” اے ایمان والو ! بے شک مشرکین“ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور اس کے ساتھ غیروں کی عبادت کی ﴿نَجَسٌ﴾ ” ناپاک ہیں۔‘‘ یعنی اپنے عقائدو اعمال میں ناپاک ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر ناپاک اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتا ہے جو نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کوئی کام آسکتے ہیں اور ان لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کرنے، اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے، باطل کی مدد کرنے، حق کو ٹھکرانے اور زمین میں اصلاح کی بجائے فساد کے لئے کام کرنے جیسے افعال پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس لئے تم پر فرض ہے کہ تم سب سے زیادہ شرف کے حامل اور سب سے زیادہ پاک گھر سے مشرکین کو پاک رکھو۔ ﴿فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا﴾ ” پس یہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ جائیں“ اور یہ ٩ ھ کا سال تھا جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ حج کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچازاد بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا کہ حج کے روز ” براء ت“ کا اعلان کردیں، چنانچہ انہوں نے اعلان کیا کہ سال رواں کے بعد کوئی مشرک حج کے لئے نہیں آٗے گا اور نہ کوئی شخص عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ یہاں نجاست سے مراد بدن کی نجاست نہیں، کیونکہ کافر کا بدن بھی دوسرے لوگوں کے بدن کی طرح پاک ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتابیہ عورت کے ساتھ مباشرت جائز قراردی ہے مگر اس کا پسینہ وغیرہ لگ جانے کی صورت میں اسے دھونے کا حکم نہیں دیا۔ مسلمان ہمیشہ سے کفار کے ساتھ بدنی اختلاط رکھتے چلے آئے ہیں مگر ان سے یہ بات منقول نہیں کہ انہوں نے کفار کو اس طرح ناپاک سمجھا ہو جس طرح وہ گندگی کو ناپاک سمجھتے ہیں۔ درحقیقت اس سے مراد جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزرچکا ہے۔۔۔۔۔۔ معنوی نجاست، یعنی شرک ہے۔ تو جس طرح توحید اور ایمان معنوی طہارت ہے اسی طرح شرک معنوی نجاست ہے۔ ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً﴾ ”(اے مسلمانو !) اگر تمہیں محتاجی کا خوف ہو۔“ یعنی مشرکین کو مسجد حرام کے قریب جانے سےروک دینے کی وجہ سے تمہارے اور ان کے درمیان دنیاوی امور میں قطع تعلق کی بنا پر فقر و احتیاج کے لاحق ہونے کا ڈر ہو ﴿فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ﴾ ” تو اللہ اپنے فضل سے تمہیں غنی کردے گا“ رزق کا ایک ہی دروازہ اور ایک ہی جگہ تو نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس اگر رزق کا ایک دروازہ بند ہوجاتا ہے تو بے شمار دوسرے دروازے کھل جاتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انتہا فضل و کرم سے مسلمانوں کو غنی کردیا۔ انہیں اس قدر کشادہ رزق عطا کیا کہ وہ بڑے بڑے مال داروں اور بادشاہوں میں شمار ہونے لگے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿إِن شَاءَ﴾ ” اگر اس نے چاہا“ اللہ تعالیٰ کا غنی کرنا اس کی مشیت کے ساتھ معلق ہے، کیونکہ وہ دنیا کے اندر غنا کا حاصل ہونا لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ کی محبت پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی مشیت کے ساتھ معلق کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ دنیا، ہر ایک کو دیتا ہے، اپنے محبوب بندے کو بھی اور اس کو بھی جس سے وہ محبت نہیں کرتا، مگر وہ ایمان اور دین صرف اسے عطا کرتا ہے جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴾ ” بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔“ اس کا علم بڑا وسیع ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ کون غنا عطا کئے جانے کے لائق ہے اور کون ہے جو اس کے لائق نہیں اور اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے۔ آیت کریمہ ﴿فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا﴾ دلالت کرتی ہے کہ مشرکین مکہ بیت اللہ کی وجہ سے ریاست اور بادشاہی کے مالک تھے پھر فتح مکہ کے بعد حکومت اور اقتدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مومنین کے پاس آگیا اور مشرکین مکہ بیت اللہ اور مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، پھر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جب نبی اکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو (وفات کے وقت) آپ نے حکم دیا کہ مشرکین کو سرزمین حجاز سے نکال دیا جائے۔ حجاز میں بیک وقت دو دین نہیں رہ سکتے۔۔۔ اور یہ اس وجہ سے، تاکہ ہر کافر کو مسجد حرام سے دور رکھا جائے۔ پس ہر کافر اللہ تعالیٰ کے حکم ﴿فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا﴾ میں داخل ہے۔ التوبہ
29 اس آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ قتال کا حکم ہے۔ ﴿الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ ” جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے“ ایسا ایمان جس کی تصدیق ان کے افعال و اعمال کرتے ہوں۔ ﴿لَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّـهُ وَرَسُولُ﴾ ” اور نہ حرام سمجھتے ہیں ان چیزوں کو جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے“ یعنی محرمات کی تحریم میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی اتباع نہیں کرتے۔ ﴿وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ﴾ ” اور نہ وہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں۔‘‘ اگرچہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک دین رکھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک باطل دین پر عمل پیرا ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دین میں تغیر و تبدل اور تحریف واقع ہوگئی ہے اور یہ (تحریف شدہ) وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مشروع نہیں کیا یا وہ اس دین پر عمل پیرا ہیں جو منسوخ ہے یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے مشروع فرمایا تھا، پھر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کے ذریعے سے منسوخ کردیا۔ پس اس کے منسوخ ہونے کے بعد اس کے ساتھ تمسک کرناجائز نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم اور اس کی ترغیب دی ہے، کیونکہ وہ لوگوں کو اپنے باطل نظریات کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اس سے لوگوں کو اس سبب سے بہت نقصان پہنچتا ہے کہ وہ اہل کتاب ہیں اور اس قتال و جہاد کی غایت و انتہا یہ مقرر کی ہے۔ ﴿حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ ﴾ ” یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں“ یعنی وہ مال ادا کریں جو ان کے خلاف مسلمانوں کے قتال ترک کرنے اور مسلمانوں کے درمیان اپنے مال و متاع سمیت پرامن رہنے کا عوض ہے جو ہر سال ہر شخص سے اس کے حسب حال خواہ وہ امیر ہے یا غریب، وصول کیا جائے گا۔ جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمر اور دیگر سربراہان نے کیا تھا۔ ﴿عَن يَدٍ﴾ ” اپنے ہاتھوں سے“ یعنی مطیع ہو کر اور اقتدار چھوڑ کر یہ مالی عوض ادا کریں اور اپنے ہاتھ سے ادا کریں اور اس کی ادائیگی کے لئے خادم وغیرہ نہ بھیجیں’ بلکہ یہ جزیہ صرف انہی کے ہاتھ سے وصول کیا جائے۔ ﴿وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ اور وہ زیردست اور مطیع بن کر رہیں۔ جب ان کا یہ حال ہو اور وہ مسلمانوں کو جزیہ ادا کرنا، مسلمانوں کے غلبہ اور ان کے احکامات کے تحت آنا قبول کرلیں، حالات ان کے شر اور فتنہ سے مامون ہوں۔ وہ مسلمانوں کی ان شرائط کو تسلیم کرلیں جو ان پر عائد کی گئی ہوں جن سے ان کے اقتدار اور تکبر کی نفی ہوتی ہو اور جو ان کی زیردستی کی موجب ہوں۔۔۔ تو مسلمانوں کے امام یا اس کے نائب پر واجب ہے کہ وہ ان کے ساتھ معاہدہ کرلے۔ اگر وہ معاہدے کو پورا نہ کریں اور زیر دست رہ کر جزیہ ادا نہ کریں، تو ان کو امان دینا جائز نہیں، بلکہ ان کے ساتھ قتال کیا جائے یہاں تک کہ اطاعت کرلیں۔ اس آیت کریمہ سے جمہور اہل علم استدلال کرتے ہیں کہ جزیہ صرف اہل کتاب سے لیا جائے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صرف اہل کتاب سے جزیہ وصول کرنے کا حکم دیا ہے۔ رہے اہل کتاب کے علاوہ دیگر کافر تو ان کے خلاف اس وقت تک لڑنے کا ذکر ہے جب تک کہ وہ اسلام قبول نہ کرلیں۔ جزیہ ادا کرنے اور اس کے عوض مسلمانوں کے شہروں میں رہنے کے احکام میں مجوس بھی شامل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علاقہ ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا۔ پھر امیر المومنین حضرت عمر فاورق رضی اللہ عنہ نے ایران کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب تمام کفار سے جزیہ قبول کیا جائے گا کیونکہ یہ آیت کریمہ مشرکین عرب کے ساتھ قتال سے فراغت کے بعد اور اہل کتاب وغیرہ کے ساتھ قتال شروع ہونے پر نازل ہوئی ہے۔ تب یہ قید واقعہ کی خبر ہے اس کا مفہوم نہیں۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مجوسیوں سے جزیہ لیا گیا ہے حالانکہ وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے۔ نیز صحابہ کرام اور بعد میں آنے والے مسلمانوں سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ وہ جس قوم کے خلاف جنگ کرتے انہیں سب سے پہلے تین میں سے ایک چیز قبول کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ (١)اسلام قبول کرنا۔ (٢) جزیہ ادا کرنا۔ (٣) یا تلوار کا فیصلہ قبول کرنا۔۔۔ اور اس میں انہوں نے اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کے درمیان کبھی کوئی فرق نہیں رکھا۔ التوبہ
30 جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ قتال کا حکم دیا تو ان کے ان خبیث اقوال کا ذکر کیا، جو اہل ایمان کو، جن کے اندر اپنے دین اور اپنے رب کے بارے میں غیرت ہوتی ہے، ان کے ساتھ جنگ کرنے، ان کے خلاف جدوجہد کرنے اور اس میں پوری کوشش صرف کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّـهِ﴾ ” یہود نے کہا، عزیز اللہ کے بیٹے ہیں“ ان کا یہ قول ان کے تمام عوام کا قول نہ تھا بلکہ ان میں سے ایک فرقے کا قول تھا۔ البتہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہودیوں کی سرشت میں خباثت اور شر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ بات کہنے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال میں نقص ثابت کرنے کی جسارت کی۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حضرت عزیر علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرنے کا سبب یہ تھا کہ جب (غیر اسرائیلی مشرک)بادشاہوں نے ان پر تسلط حاصل کر کے ان کو تتر بتر کردیا اور حاملین تو رات کو قتل کردیا، اس کے بعد انہوں نے عزیر علیہ السلام کو پایا کہ تمام تورات یا اس کا بیشتر حصہ ان کو حفظ ہے، حضرت عزیر علیہ السلام نے ان کو تورات اپنے حافظہ سے املا کروا دی اور انہوں نے تورات کو لکھ لیا۔ بنا بریں انہوں نے حضرت عزیر علیہ السلام کے بارے میں یہ بدترین دعویٰ کیا۔ ﴿  وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ﴾ ” اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح“ عیسیٰ بن مریم ﴿ ابْنُ اللَّـهِ ﴾ ” اللہ کا بیٹا ہے“ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ذَٰلِكَ ﴾ ” یہ“ یعنی وہ قول جو یہ کہتے ہیں۔ ﴿ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ﴾ ” باتیں ہیں ان کے مونہوں کی“ جس کی صداقت پر یہ لوگ کوئی حجت اور دلیل قائم نہیں کر سکے۔ جس شخص کو اس بات کی پروا نہ ہو کہ وہ کیا بولتا ہے اگر وہ کیسی بھی بات کرے تو اس کے بارے میں یہ چیز تعجب خیز نہیں، کیونکہ اس کے پاس کوئی عقل اور کوئی دین نہیں جو اس کو ایسی بات کرنے سے روکے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿يُضَاهِئُونَ﴾ ” وہ مشابہت رکھتے ہیں۔“ یعنی وہ اپنے اس قول میں مشابہت رکھتے ہیں۔ ﴿قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ﴾ ” ان لوگوں کے قول سے جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا“ یعنی ان کا قول مشرکین کے قول سے مشابہت رکھتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ باطل ہونے میں ان کے اقوال باہم مشابہت رکھتے ہیں۔ ﴿قَاتَلَهُمُ اللَّـهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ﴾ ” اللہ ان کو ہلاک کرے، کہاں پھرے جاتے ہیں“ یعنی وہ کیسے واضح اور خالص حق کو واضح طور پر باطل کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ التوبہ
31 یہ رویہ اگرچہ ایک بڑی امت سے بہت نادر اور عجیب سا لگتا ہے کہ وہ کسی ایسی بات پر متفق ہو جس کے بطلان پر ادنیٰ سا غور و فکر اور عقل اور سمجھ دلالت کرتے ہیں، کیونکہ اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ﴾ ” انہوں نے ٹھہرا لیا اپنے احبار کو“ ( اَحْبَارَ) سے مراد ان کے ” علماء“ ہیں۔ ﴿ وَرُهْبَانَهُمْ﴾ ” اور اپنے رہبان کو“ اور ﴿رُهْبَان﴾ سے مراد ” وہ عبادت گزار لوگ ہیں جنہوں نے عبادت کے لئے گوشہ نشینی اختیار کی ہے۔“ ﴿أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ﴾ ” رب، اللہ کے سوا“ وہ ان کے لئے ان امور کو حلال کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور یہ ان کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور ان امور کو حرام کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ہے اور یہ (ان کی تقلید میں) ان امور کو حرام قرار دے لیتے ہیں۔ یہ احبار اور رہبان ان کے لئے ایسی شریعت اور اقوال مشروع کرتے ہیں جو انبیاء و رسل کے دین کے منافی ہیں اور یہ ان کی تقلید کرتے ہیں۔ نیز یہ اپنے مشائخ و عباد کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں، ان کی تعظیم کرتے ہیں، ان کی قبروں کو بت بنا دیتے ہیں جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، جہاں جانور ذبح کرنے کی منتیں مانی جاتی ہیں، دعائیں مانگی جاتی ہیں اور ان کو مدد کے لئے پکارا جاتا ہے۔ ﴿وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ﴾ ” اور مسیح ابن مریم کو۔“ یعنی انہوں نے اللہ کے سوا مسیح ابن مریم کو بھی معبود بنا لیا۔ اس حال میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین کے توسط سے ان کو دیا تھا۔ ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَـٰهًا وَاحِدًا﴾ ” حالانکہ انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔“ پس عبادت اور اطاعت کو صرف اسی کے لئے خالص کریں۔ محبت اور دعا کے لئے صرف اسی کو مخصوص کریں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ﴿سُبْحَانَهُ﴾ ” پاک ہے وہ اس سے“ اور بلند ہے۔ ﴿عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ ” ان چیزوں سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں“ وہ پاک اور مقدس ہے، اس کی عظمت اور شان ان کے شرک اور بہتان طرازی سے بہت بلند ہے، کیونکہ وہ اس بارے میں نقص کے مرتکب ہیں اور اسے ایسی صفات سے متصف کرتے ہیں جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اوصاف وا افعال میں ہر اس چیز سے منزہ اور بلند ہے جو اس کے کمال مقدس کے منافی ہے۔ التوبہ
32 جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ان کے قول کی کوئی دلیل اور ان کے اصول کی کوئی برہان تائید نہیں کرتی۔ ان کا قول محض ان کے منہ کی بات ہے اور ایک ایسا بہتان ہے جو انہوں نے خود گھڑ لیا ہے۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ﴿يُرِيدُونَ﴾ ” وہ چاہتے ہیں۔“ اس کے ذریعے سے ﴿ن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّـهِ بِأَفْوَاهِهِمْ﴾ ” کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں“ یہاں اللہ کے نور سے مراد اس کا دین ہے جس کو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے بھیجا اور کتابوں کے ذریعے سے نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے دین کو نور کہا ہے، کیونکہ جہالت اور ادیان باطلہ کے اندھیروں میں اس کے ذریعے سے روشنی حاصل کی جاتی ہے،کیونکہ دین، حق کے علم اور حق پر عمل کا نام ہے اور حق کے علاوہ ہر چیز اس کی ضد ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ اور ان کی مانند دیگر مشرکین چاہتے ہیں کہ وہ محض اپنی ایسی خالی خولی باتوں سے اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھا دیں، جن کی اساس کسی دلیل پر قائم نہیں۔ ﴿ وَيَأْبَى اللَّـهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ﴾ ” اور اللہ نہ رہے گا بغیر پورا کئے اپنے نور کے“ اور اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کر کے رہے گا،کیونکہ یہ نور ایسا غالب نور ہے کہ تمام مخلوق اگر اس کو بجھانے کے لئے اکٹھی ہوجائے تو اسے بجھا نہیں سکتی اور جس نے یہ نور نازل فرمایا ہے، تمام بندوں کی پیشانی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے ہر اس شخص سے، جو اس کے بارے میں برا ارادہ رکھتا ہے، اس نور کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہوا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَيَأْبَى اللَّـهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ﴾ ” اور اللہ اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں‘ اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے۔“ یعنی وہ اس نور کے ابطال اور اس کو رد کرنے میں پوری طرح کوشاں رہتے ہیں مگر ان کی یہ بھاگ دوڑ حق کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نور کو، جس کی تکمیل اور حفاظت کا اس نے ذمہ اٹھایا ہے، واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ﴾ ” وہی ذات ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدیات کے ساتھ“ جو کہ علم نافع کا نام ہے۔ ﴿وَدِينِ الْحَقِّ﴾ ” اور دین حق کے ساتھ“ جو کہ عمل صالح کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو دین دے کر مبعوث فرمایا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات، اس کے افعال اور اس کے احکام و اخبار کے بارے میں باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ہر ایسے حکم پر مشتمل ہے جو بدن، روح اور قلب کے لئے نافع اور ان کی اصلاح کرتا ہے، یعنی دین میں اخلاص، اللہ تعالیٰ سے محبت اور اسی کی عبادت کا حکم دیتا ہے، وہ مکارم اخلاق، محاسن عادات’ اعمال صالحہ اور آداب نافعہ کے احکام پر مشتمل ہے اور ان تمام برے اخلاق اور برے اعمال سے روکتا ہے جو ان کی ضد ہیں۔ جو دنیا و آخرت میں قلب و بدن کے لئے ضرر رساں ہیں۔ التوبہ
33 پھر اللہ تعالیٰ نے اس نور کو، جس کی تکمیل اور حفاظت کا اس نے ذمہ اٹھایا، واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ﴾ ”وہی ذات ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ“ جو کہ علم نافع کا نام ہے۔ ﴿وَدِينِ الْحَقِّ﴾ ” اور دین حق کے ساتھ“ جو کہ عمل صالح کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو دین دے کر مبعوث فرمایا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات، اس کے افعال اور اس کے احکام و اخبار کے بارے میں باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ہر ایسے حکم پر مشتمل ہے جو بدن، روح اور قلب کے لئے نافع اور ان کی اصلاح کرتا ہے، یعنی دین میں اخلاص، اللہ تعالیٰ سے محبت اور اسی کی عبادت کا حکم دیتا ہے، وہ مکارم اخلاق، محاسن عادات، اعمال صالحہ اور آداب نافعہ کے احکام پر مشتمل ہے اور ان تمام برے اخلاق اور برے اعمال سے روکتا ہے جو ان کی ضد ہیں جو دنیا و آخرت میں قلب و بدن کے لئے ضرررساں ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ ﴿لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾ ” تاکہ اس (دین) کو تمام دینوں پر غالب کرے، اگرچہ کافرناخوش ہی ہوں۔“ یعنی تاکہ حجت و برہان اور شمشیر وسناں کے ذریعے سے تمام ادیان پر اسے غالب کرے۔ اگرچہ مشرکین کو یہ بات بہت ناگوار گزرتی ہے، وہ اس کے خلاف فساد برپا کرتے ہیں اور اس کے خلاف سازشیں کرتے ہیں مگر سازش کا نقصان سازش کرنے والے ہی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایا اور وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔ اس نے خود ذمہ اٹھایا ہے وہ اسے ضرور نبھائے گا۔ التوبہ
34 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے اہل ایمان بندوں کو تحذیر ہے کہ وہ بہت سے احبار اور رہبان، یعنی اہل کتاب کے علماء اور عبادت گزاروں سے بچیں جو باطل یعنی ناحق طریقے سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، کیونکہ ان کے علم، ان کی عبادت اور ان کی پیشوائی کی وجہ سے لوگوں کے مال اور ان کے چندوں میں سے ان کے وظائف مقرر ہیں۔ یہ احبار و رہبان وظائف لیتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ ان کا اس طریقے سے وظائف لینا حرام اور ظلم ہے، کیونکہ لوگ ان پر اپنا مال اس لئے خرچ کرتے ہیں، تاکہ وہ راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کریں اور ناحق طریقے سے لوگوں کا مال ہتھیانے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ لوگ ان کو مال دے کر ایسا فتویٰ حاصل کرتے تھے یا ان سے ایسا فیصلہ کرواتے تھے جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق نہیں ہوتا تھا۔ ان احبار و رہبان کی ان دو حالتوں سے بچنا چاہئے : (١) ناحق لوگوں کا مال لینا۔ (٢) لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا۔ ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ ﴾ ” اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں۔“ یعنی ان کو روک رکھتے ہیں۔ ﴿وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ﴾ ” اور ان کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے۔“ یعنی بھلائی کے راستوں میں خرچ نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے ہیں۔ یہ وہ جمع کرنا ہے جو حرام ہے، یعنی مال کو روک رکھا اور اسے وہاں خرچ نہ کرنا جہاں خرچ کرنا فرض ہے، مثلاً زکوۃ ادا نہ کرنا، بیویوں اور دیگر اقارب کو نقصانات واجبہ نہ دینا۔ ﴿فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ ” تو انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری دیجیے۔ “ التوبہ
35 پھر اس عذاب کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا﴾ ” جس دن اس (مال) کو گرم کیا جائے گا۔“ یعنی ان کے مال پر آگ دہکائی جائے گی۔ ﴿فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ ﴾ ” جہنم کی آگ میں۔“ یعنی ہر دینار اور ہر درہم پر علیحدہ علیحدہ آگ دہکائی جائے گی۔ ﴿فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ﴾ ”(پھر اس سے قیامت کے روز) ان لوگوں کی پیشانیوں، ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا۔“ جب بھی یہ دینار و درہم ٹھنڈے پڑجائیں گے تو ان کو دوبارہ دن بھر تپایا جائے گا اور وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا اور انہیں زجر و توبیخ اور ملامت کرتے ہوئے کہا جائے گا۔ ﴿هَـٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ﴾ ” یہی وہ مال ہے جو تم سینت سینت کر رکھتے تھے اپنی جانوں کے لئے اب مزہ چکھو اپنے جمع کرنے کا“ پس اللہ تعالیٰ نے تم پر ظلم نہیں کیا بلکہ تم نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اس خزانے کے ذریعے سے تم نے اپنی جانوں کو عذاب میں مبتلا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو آیات کریمہ میں انسان کے اپنے مال کے بارے میں انحراف کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ انحراف دو امور کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ (١) انسان اس کو باطل کے راستے میں خرچ کرتا ہے جس کا اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، بلکہ اس سے اس کو صرف نقصان ہی پہنچتا ہے، مثلاً معاصی اور شہوات میں مال خرچ کرنا جس سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اعانت حاصل نہیں ہوتی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لئے مال خرچ کرنا۔ (٢) جہاں مال خرچ کرنا واجب ہو وہاں مال خرچ نہ کرنا اور کسی چیز سے روکنا درحقیقت اس کی ضد کا حکم دینا ہے۔ التوبہ
36 ﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّـهِ ﴾ ” اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی“ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں۔ ﴿اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا﴾ ” بارہ مہینے ہے“ یہ وہی معروف مہینے ہیں۔ ﴿فِي كِتَابِ اللَّـهِ﴾ ” اللہ کی کتاب میں“ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم قدری میں ﴿يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ﴾ ” جس دن اس نے پیدا کئے تھے آسمان اور زمین“ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیل و نہار جاری کئے، اس کے اوقات کی مقدار مقرر کی اور اس کو ان بارہ مہینوں میں تقسیم کیا۔ ﴿مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ﴾ ” ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں“ اور یہ ہیں رجب، ذیقعد، ذوالحج اور محرم۔۔۔ اور ان کے احترام کی وجہ سے ان کو حرام مہینوں سے موسوم کیا گیا ہے۔ نیز ان کو اس وجہ سے بھی حرام مہینے کہا گیا ہے کہ ان میں قتال کرنا حرام ٹھہرایا گیا ہے۔ ﴿فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ﴾ ” پس ان میں تم اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو“ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر بارہ مہینوں کی طرف لوٹتی ہے اور یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس نے ان مہینوں کو بندوں کے لئے وقت کی مقدار کے تعین کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ پس ان مہینوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے معمور رکھا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان پر اس کا شکر ادا کیا جائے، نیز یہ کہ اس نے ان مہینوں کو اپنے بندوں (کے مصالح) کے لئے مقرر فرمایا۔ پس اپنے آپ پر ظلم کرنے سے بچو۔ اس میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ ضمیر صرف چار حرام مہینوں کی طرف لوٹتی ہو یعنی ان کے لئے ممانعت ہے کہ وہ خاص طور پر ان چار مہینوں میں ظلم کریں۔ حالانکہ تمام اوقات میں ظلم کرنے کی ممانعت ہے، لیکن چونکہ ان چار مہینوں کی حرمت زیادہ ہے اور ان مہینوں میں دوسرے مہینوں کی نسبت ظلم کے گناہ کی شدت بھی زیادہ ہے، اس لئے ان مہینوں میں ظلم کرنے سے بطور خاص منع کیا گیا۔ ان چار مہینوں میں ان علماء کے نزدیک، جو یہ کہتے ہیں کہ حرام مہینوں میں لڑائی کی تحریم منسوخ نہیں، لڑائی کرنا ممنوع ہے۔ وہ ان مہینوں میں قتال کی تحریم کے بارے میں عام نصوص پر عمل کرتے ہیں۔ بعض اہل علم کہتے کہ ان مہینوں میں قتال کی تحریم منسوخ ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی عمومیت پر عمل کرتے ہیں۔ ﴿وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ﴾ ” اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔“ یعنی تمام قسم کے مشرکین اور رب العالمین کا انکار کرنے والوں سے لڑو اور لڑائی کے لئے کسی کو مخصوص نہ کرو، بلکہ تمام مشرکین اور کفار کو اپنا دشمن سمجھو جیسا کہ تمہارے ساتھ ان کا رویہ ہے۔ وہ اہل ایمان کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور شرارت سے کبھی نہیں چوکتے۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ ﴿كَافَّةً﴾قاتلوا“ کی واؤ سے حال ہو، تب معنی یہ ہوگا کہ تم سب اکٹھے ہو کر مشرکین سے جنگ کرو، اس صورت میں تمام اہل ایمان پر جہاد کے لئے نکلنا فرض ہے۔ اس احتمال کے مطابق یہ آیت کریمہ، اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ﴾(التوبة:9؍122) ” اہل ایمان کے لئے ضروری نہ تھا کہ وہ سارے کے سارے نکل کھڑے ہوتے۔“ کے لئے ناسخ قرار پائے گی۔ ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ﴾” اور جان رکھو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مدد، نصرت اور تائید کے ذریعے سے تقویٰ شعار لوگوں کے ساتھ ہے۔ پس تم اپنے ظاہر و باطن اور اطاعت الٰہی پر قائم رہنے میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کے حریص بنو۔ خاص طور پر کفار کے خلاف قتال کے وقت، کیونکہ ایسی صورت حال میں جنگ میں شریک کفار دشمنوں کے معاملہ میں مومن سے تقویٰ کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ التوبہ
37 ﴿النَّسِيءُ﴾ ” تاخیر“ وہ ہے جو اہل جاہلیت حرام مہینوں میں استعمال کیا کرتے تھے۔ یہ ان کی جملہ بدعات میں سے ایک بدعت تھی کہ جب انہیں حرام مہینوں میں سے کسی مہینے میں لڑائی کی ضرورت پڑتی، تو وہ۔۔۔ اپنے فاسد آراء کے مطابق سمجھتے تھے کہ حرام مہینوں کی گنتی کو پورا رکھا جائے جن کے اندر لڑائی حرام ہے اور یہ کہ وہ بعض حرام مہینوں کو موخر یا مقدم کردیتے تھے اور اس کی جگہ حلال مہینوں میں سے کسی مہینے کو حرام بنا لیتے تھے۔ جب ان حرام کی جگہ حلال مہینوں کو مقرر کردیتے تو حرام مہینوں میں لڑائی کو حلال کرلیتے اور حلال مہینوں کو حرار قرار دے دیتے ان کا یہ رویہ۔۔۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے۔۔۔ ان کی طرف سے مزید کفر اور گمراہی کا رویہ ہے کیونکہ اس میں ایسے امور ہیں جن سے پرہیز کیا جانا چاہئے۔ (١) انہوں نے ﴿نَّسِيءُ﴾ کو اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی شریعت اور دین قرار دے دیا حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں۔ (٢) انہوں نے دین کو بدل ڈالا، حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے ڈالا۔ (٣) انہوں نے بزعم خود، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے ساتھ فریب کیا۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ان کے دین کو گڈ مڈ کردیا۔ اللہ تعالیٰ کے دین میں حیلہ سازی اور فریب کاری کو استعمال کیا۔ (٤) شریعت کی مخالفت میں بار بار کئے جانے والے اعمال پر دوام سے لوگوں کے دلوں سے ان کی قباحت زائل ہوجاتی ہے، بلکہ بسا اوقات ایسے کام اچھے محسوس ہونے لگتے ہیں، اس کے جو خطرناک نتائج نکلتے ہیں، محتاج وضاحت نہیں۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا لِّيُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّـهُ ﴾ ” گمراہی میں پڑتے ہیں اس سے کافر، حلال کرلیتے ہیں اس مہینے کو ایک برس اور حرام رکھتے ہیں اس کو دوسرے برس، تاکہ پوری کرلیں گنتی ان مہینوں کی جن کو اللہ نے حرمت والا قرار دیا ہے“ یعنی حرام مہینوں کے عدد میں موافقت کریں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے انہیں حلال قرار دے لیں ﴿زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمَالِهِمْ﴾ ” ان کے برے اعمال ان کے لئے مزین کردیئے گئے ہیں۔“ یعنی شیاطین نے ان کے سامنے ان کے بارے اعمال کو مزید کردیا اور ان کے دلوں میں جو عقائد مزین ہوگئے ہیں ان کی وجہ سے وہ ان اعمال کو اچھا سمجھتے ہیں۔۔ ﴿وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴾ ” اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔“ یعنی وہ لوگ جو کفر کے رنگ میں رنگے گئے ہیں اور تکذیب نے ان کے دلوں میں جڑ پکڑ لی ہے لہٰذا ان کے پاس اگر تمام نشانیاں بھی آجائیں تو یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ التوبہ
38 واضح رہے کہ اس سورۃ کریمہ کا اکثر حصہ غزوہ تبوک میں نازل ہوا ہے،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رومیوں کے مقابلے میں جنگ کے لئے لوگوں کو بلایا۔ اس وقت سخت گرمی کا موسم تھا، لوگوں کے پاس زاد راہ بہت کم تھا اور ان کے معاشی حالات عسرت کا شکار تھے۔ اس کی وجہ سے بعض مسلمانوں میں سستی آگئی تھی جو اللہ تعالیٰ کے عتاب کی موجب بنی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لئے اٹھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ ” اے ایمان والو“! کیا تم ایمان کے تقاضوں اور یقین کے داعیوں کو نہیں جانتے؟ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں سبقت کی جائے، اس کی رضا کے حصول، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور تمہارے دین کے دشمنوں کے خلاف جہاد کی طرف سرعت سے بڑھا جائے۔ پس ﴿ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ﴾ ”تمہیں کیا ہے کہ جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں کوچ کرو، تو گرے جاتے ہو زمین پر“ یعنی تم سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیٹھ رہے ہو اور راحت و آرام کی طرف مائل ہو رہے ہو۔ ﴿أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ ۚ﴾ ”کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔“ یعنی تمہارا حال تو بس اس شخص جیسا ہے جو دنیا کی زندگی پر راضی ہے اور اسی کے لئے بھاگ دوڑ کرتا ہے اور آخرت کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ گویا آخرت پر وہ ایمان ہی نہیں رکھتا۔ ﴿ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ ” پس نہیں ہے نفع اٹھانا دنیا کی زندگی کا“ جس کی طرف تم مائل ہو جس کو تم نے آخرت پر ترجیح دے رکھی ہے۔ ﴿ إِلَّا قَلِيلٌ ﴾ ” مگر بہت تھوڑا“ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں عقل سے نہیں نوازا جس کے ذریعے سے تم تمام معاملات کو تولو کہ کون سا معاملہ ہے جو ترجیح دیئے جانے کا مستحق ہے؟ کیا ایسا نہیں کہ یہ دنیا۔۔۔ اول سے لے کر آخر تک۔۔۔ آخرت کے ساتھ اس کی کوئی نسبت ہی نہیں؟ اس دنیا میں انسان کی عمر بہت تھوڑی ہے، یہ عمر اتنی نہیں کہ اس کو مقصد بنا لیا جائے اور اس کے ماوراء کوئی مقصد ہی نہ ہو اور انسان کی کوشش، اس کی جہد اور اس کے ارادے اس انتہائی مختصر زندگی سے آگے نہ بڑھتے ہوں جو تکدر سے لبریز اور خطرات سے بھرپور ہے۔ تب کس بنا پر تم نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دے دی جو تمام نعمتوں کی جامع ہے جس میں وہ سب کچھ ہوگا نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تم اس آخرت میں ہمیشہ رہو گے۔۔۔ اللہ کی قسم ! وہ شخص جس کے دل میں ایمان جاگزیں ہوگیا ہے، جو صائب رائے رکھتا ہے اور جو عقل مندوں میں شمار ہوتا ہے، کبھی دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دے گا۔ التوبہ
39 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد کے لئے نہ نکلنے پر ان کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا : ﴿إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴾ ”اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تم کو عذاب دے گا، درد ناک عذاب“ دنیا اور آخرت میں، کیونکہ جہاد کے لئے بلانے پر جہاد کے لئے گھر سے نہ نکلنا کبیرہ گناہ ہے جو سخت ترین عذاب کا موجب ہے، کیونکہ اس میں شدید نقصان ہے بوقت ضرورت جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی منہیات کا ارتکاب ہے۔ جہاد سے گریز کرنے والے نے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کی، نہ اس کی کتاب اور شریعت کی مدافعت کی اور اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی ان کے ان دشمنوں کے خلاف مدد کی جو ان کو ختم کرنا اور ان کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں۔ نیز بسا اوقات ضعیف الایمان لوگ جہاد سے جی چراتے میں ان کی پیروی کرنے لگتے ہیں، بلکہ اس طرح دشمن کے خلاف جہاد کرنے والوں کی قوت ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لئے جس کا یہ حال ہو تو وہ اسی قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے سخت وعید سنائے۔ اس لئے فرمایا : ﴿إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا﴾ ” اگر تم نہ نکلو گے، تو تم کو درد ناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو بدلے میں لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت اور اپنے کلمہ کو بلند کرنے کا ذمہ اٹھا رکھا ہے۔ اس لئے اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہو یا ان کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیتے ہو، اللہ کے لئے برابر ہے۔ ﴿ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ ” اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ اللہ تعالیٰ جس چیز کا ارادہ کرے تو وہ اسے بے بس نہیں کرسکتی اور کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا۔ التوبہ
40 اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد نہیں کرتے، تو اللہ تعالیٰ تم سے بے نیاز ہے تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس نے قلت زاد اور بے کسی کے حالات میں بھی آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ ” جب اس کو کافروں نے نکال دیا۔“ جب کفار نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تھا، جب انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اس مقصد کے حصول کے لئے بھرپور کوشش کی اور وہ اس کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ آخر انہوں نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ ﴿ثَانِيَ اثْنَيْنِ﴾ ” وہ دو میں سے دوسرا تھا“ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر صدیق ﴿ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ﴾ ” جب وہ دونوں غار میں تھے“ یعنی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے نکل کر مکہ سے نیچے کی طرف واقع غار ثور میں پناہ گزین ہوئے۔ دونوں اس وقت تک غار میں ٹھہرے رہے جب تک کہ ان کی تلاش کا معاملہ ٹھنڈ انہیں پڑگیا۔ دونوں اصحاب شدید حرج اور مشقت کی حالت میں مبتلا رہے۔ جب ان کے دشمن ان کی تلاش میں ہر طرف پھیل گئے تاکہ ان کو پکڑ کر قتل کردیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نصرت نازل فرمائی جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ﴿إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ﴾ ” جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے۔“ یعنی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے جب کہ وہ سخت غم زدہ اور قلق کا شکار تھے۔۔۔ فرمایا : ﴿ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا﴾ ” غم نہ کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد، نصرت اور تائید ہمارے ساتھ ہے۔ ﴿فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ﴾ ” پس اتاری اللہ نے اپنی طرف سے اس پر سکینت“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ثابت قدمی، طمانیت اور ایسا سکون نازل فرمایا جو دل کی مضبوطی کا باعث ہوتا ہے۔ اس لئے جب آپ کا ساتھی گھبرایا تو آپ نے اس کو پرسکون کرتے ہوئے فرمایا ” غم نہ کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ ﴿وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا﴾ ” اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں کہ تم نے نہیں دیکھیں“ اور وہ معزز فرشتے تھے جن کو اللہ نے آپ کا محافظ بنا دیا۔ ﴿وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ﴾ ” اور کافروں کی بات کو پست کردیا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے کفار کو ساقط اور بے یار و مددگار چھوڑ دیا، کیونکہ کفار سخت غضب ناک تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سخت غصہ تھا وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گرفتار کر کے قتل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا اور وہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے، بلکہ وہ کچھ بھی حاصل نہ کرسکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدافعت فرما کر آپ کو اپنی نصرت سے نوازا۔ یہی وہ مدد ہے جس کا اس مقام پر ذکر کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ مدد کی دو قسمیں ہیں۔ (١) جب مسلمان دشمن کو زک پہنچانے کے خواہشمند ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی خواہش اور مقصد کو پورا کرتا ہے اور وہ اپنے دشمن پر غالب آجاتے ہیں۔ (٢) مدد کی دوسری قسم مستضعفین کی مدد ہے جن کو ان کا طاقتور دشمن نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دشمن کو آپ سے دور کر کے اور دشمن سے آپ کا دفاع کر کے آپ کی مدد فرمائی اور شاید مدد و نصرت کی یہ قسم سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول کی مدد کرنا، جب کفار نے دونوں کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تھا۔۔۔ نصرت کی اسی نوع میں شمار ہوتا ہے۔ ﴿ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِيَ الْعُلْيَا﴾ ” اور بات تو اللہ ہی کی بلند ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلمات قدر یہ اور کلمات دینیہ دیگر تمام کلمات پر غالب ہیں۔ اس مفہوم کی چند دیگر آیات یہ ہیں۔ ﴿وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ (الروم :30؍47) ” اور اہل ایمان کی مدد کرنا ہم پر لازم ہے۔“ فرمایا : ﴿إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ﴾ (غافر :40؍51) ” ہم اپنے رسولوں کی اور ان کی جو ایمان لائے، دنیا کی زندگی میں اور جس روز گواہ (گواہی دینے کے لئے) کھڑے ہوں گے،ضرور مدد کریں گے۔“ ﴿وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ﴾ (الصافات :3؍173) ” اور بے شک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔“ پس اللہ تعالیٰ کا دین واضح دلائل، حیرت انگیز آیات اور تائید کرنے والے براہین کے ذریعے سے تمام ادیان پر غالب ہے۔ ﴿وَاللَّـهُ عَزِيزٌ ﴾ ” اور اللہ غالب ہے۔“ کوئی اس پر غالب آسکتا ہے، نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ ﴿حَكِيمٌ ﴾ ” وہ حکمت والا ہے۔“ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے وہ کبھی کبھی اپنے گروہ کی مدد کو کسی دوسرے وقت تک موخر کردیتا ہے جس کا تقاضا حکمت الہیہ کرتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں جناب ابوبکر صدیق کی فضیلت میں ایک ایسی خصوصیت بیان کی گئی ہے جو اس امت کے کسی اور فرد میں نہیں اور وہ ہے یہ منقبت جلیلہ اور صحبت جمیلہ۔۔۔ اور تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیت کریمہ سے یہی مراد ہے۔ بنا بریں جن لوگوں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحبت کا انکار کیا انہوں نے ظلم و تعدی اور کفر کا ارتکاب کیا، کیونکہ اس نے قرآن کا انکار کیا جو اس صحبت کی تصریح کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے سکینت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ مصیبت اور خوف کے اوقات میں جب دل پریشان ہوجاتے ہیں، تو سکینت اللہ تعالیٰ کی نعمت کاملہ ہے۔ یہ نعمت کاملہ بندہ مومن کو اس کی اپنے رب کی معرفت، اپنے رب کے سچے وعدے پر اعتماد، اپنے ایمان اور اپنی شجاعت کے مطابق عطا ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حزن کبھی کبھار اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں اور صدیقین کو بھی لاحق ہوجاتا ہے۔ بایں ہمہ جب بندہ مومن پر یہ کیفیت نازل ہو تو بہتر یہ ہے کہ وہ اس کیفیت کو دور کرنے کی کوشش کرے، کیونکہ حزن بندے کے دل کو کمزور اور اس کی عزیمت کو پراگندہ کردیتا ہے۔ التوبہ
41 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنے راستے میں جہاد کے لئے نکلنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ ﴿انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ ” نکلو ہلکے اور بوجھل“ یعنی تنگی اور فراخی، نشاط اور ناگواری، گرمی اور سردی تمام احوال میں جہاد کے لئے نکلو۔ ﴿وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ﴾ ” اور اللہ کے راستے میں مال اور جان سے جہاد کرو“ یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لئے اپنی پوری کوشش صرف کر دو اور اپنی جان و مال کو کھپا دو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ جس طرح جان کے ساتھ جہاد فرض ہے، اسی طرح بوقت ضرورت مال کے ساتھ بھی جہاد فرض ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾ ” یہ تمہارے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ تمہیں علم ہو۔“ یعنی گھر بیٹھ رہنے کی نسبت، جان و مال سے جہاد کرنا تمہارے لئے بہتر ہے، کیونکہ جہاد میں اللہ تعالیٰ کی رضا، اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات کا حصول، اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اس کی فوج اور اس کے گروہ میں داخل ہونا ہے۔ التوبہ
42 ﴿ لَوْ كَانَ﴾ ” اگر ہوتا“ ان کا گھروں سے نکلنا ﴿عَرَضًا قَرِيبًا﴾” جلد حاصل ہوجانے والا سامان۔“ یعنی دنیوی نفع (مال غنیمت) سہل الحصول ہوتا ہے۔ ﴿وَ﴾ ” اور“ ہوتا ﴿سَفَرًا قَاصِدًا ﴾ ” سفر ہلکا“ قریب اور آسان ﴿لَّاتَّبَعُوكَ ﴾ تو (زیادہ مشقت نہ ہونے کی وجہ سے) ضرور آپ کی پیروی کرتے۔ ﴿وَلَـٰكِن بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ﴾ ” لیکن لمبی نظر آئی ان کو مشقت“ یعنی مسافت بہت طویل تھی اور سفر پر صعوبت تھا، لہٰذا وہ آپ کے ساتھ جہاد میں شرکت چھوڑ کر بیٹھ رہے اور یہ عبودیت کی علامات نہیں ہیں۔ بندہ درحقیقت ہر حال میں اپنے رب کا عبادت گزار ہے، عبادت خواہ مشکل ہو یا آسان وہ اپنے رب کی عبودیت کو قائم کرتا ہے۔ یہی بندہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے۔ ﴿وَسَيَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ ﴾ ”اور اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے، تو ضرور آپ کے ساتھ نکلتے۔“ یعنی وہ جہاد کے لئے نہ نکلنے اور پیچھے رہ جانے پر قسمیں اٹھا کر کہیں گے کہ وہ معذور تھے اور وہ جہاد کے لئے نکلنے کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ ﴿ يُهْلِكُونَ أَنفُسَهُمْ﴾ ” اپنے تئیں ہلاک کر رہے ہیں۔“ یعنی جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے، جھوٹ بولنے اور خلاف واقع خبر دینے پر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔ ﴿وَاللَّـهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ﴾ ” اور اللہ جانتا ہے کہ وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔“ یہ عتاب منافقین کے لئے ہے جو غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہو کر پیچھے بیٹھ رہے اور مختلف قسم کے جھوٹے عذرپیش کئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان منافقین کو آزمائے بغیر کہ کون سچا اور کون جھوٹا ہے، ان کے محض معذرت پیش کرنے پر معاف فرما دیا، بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان منافقین کا عذر قبول کرنے کی جلدی پر آپ کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا۔ التوبہ
43 ﴿عَفَا اللَّـهُ عَنكَ﴾ ” اللہ نے آپ سے درگزر فرمایا“ اور آپ سے جو کچھ صادر ہوا اسے بخش دیا۔ ﴿لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ﴾ ” آپ نے (انہیں پیچھے رہ جانے کی) اجازت کیوں دی۔“ ﴿حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ﴾ ” حتی ٰکہ آپ پر وہ لوگ ظاہر ہوجاتے جو سچے ہیں اور وہ بھی آپ کو معلوم ہوجاتے جو جھوٹے ہیں۔“ یعنی ان کو آزمانے کے بعد معلوم ہوتا کہ سچا کون اور جھوٹا کون ہے، تب آپ اس شخص کا عذر قبول فرماتے جو اس کا مستحق ہے اور اس شخص کا عذر قبول نہ فرماتے جو اس کا مستحق نہیں۔ التوبہ
44 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے اپنے جان و مال کے ذریعے سے جہاد ترک کرنے کی اجازت طلب نہیں کرتے، بلکہ بغیر کسی عذر کے جہاد ترک کرنے کی اجازت مانگنا تو کجا، بغیر کسی ترغیب کے، ایمان اور بھلائی میں ان کی رغبت انہیں جہاد پر آمادہ رکھتی ہے۔ ﴿وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ﴾ ” اور اللہ متقین کو خوب جانتا ہے“ پس وہ انہیں اس بات کی جزا دے گا کہ انہوں نے تقویٰ کو قائم رکھا۔ متقین کے بارے میں یہ اللہ تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے آگاہ فرمایا کہ ان کی علامت یہ ہے کہ وہ جہاد چھوڑنے کی اجازت نہیں مانگتے۔ التوبہ
45 ﴿إِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ ﴾ ” آپ سے رخصت تو صرف وہی مانگتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں“ یعنی ان کے اندر ایمان کامل اور یقین صادق نہیں ہے اسی لئے بھلائی میں ان کی رغبت بہت کم ہے۔ قتال کے بارے میں وہ بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور حاجت محسوس کرتے ہیں کہ وہ قتال ترک کرنے کی اجازت طلب کریں۔ ﴿فَهُمْ فِي رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ﴾ ” اور وہ اپنے شک میں متردد رہتے ہیں۔ “ التوبہ
46 اللہ تبارک و تعالیٰ بیان فرماتا ہے‘جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہ جانے والے منافقین کی علامات اور قرآئن سے ظاہر ہوگیا ہے کہ جہاد کے لئے نکلنے کا ان کا ارادہ ہی نہ تھا اور ان کی وہ معذرتیں جو وہ پیش کر رہے ہیں سب باطل ہیں، کیونکہ عذر جہاد کے لئے نکلنے سے تب مانع ہوتا ہے جب بندہ مومن پوری کوشش کر کے جہاد کے لئے نکلنے کے تمام اسباب استعمال کرنے کی سعی کرتا ہے، پھر کسی شرعی مانع کی وجہ سے جہاد کے لئے نکل نہیں سکتا تو یہی وہ شخص ہے جس کا عذر قبول ہے۔ ﴿وَ﴾ ” اور“ یہ منافقین ﴿لَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً﴾ ” اگر نکلنے کا ارادہ کرتے، تو اس کے لئے ضرور کچھ سامان تیار کرتے“ یعنی وہ تیاری کرتے اور ایسے تمام اسباب عمل میں لاتے جو ان کے بس میں تھے۔ چونکہ انہوں نے اس کے لئے تیاری نہیں کی اس لئے معلوم ہوا کہ ان کا جہاد کے لئے نکلنے کا ارادہ ہی نہ تھا ﴿وَلَـٰكِن كَرِهَ اللَّـهُ انبِعَاثَهُمْ﴾ ”لیکن اللہ نے پسند کیا ان کا اٹھنا“ یعنی ان کا جہاد کیلئے تمہارے ساتھ نکلنا اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوا ﴿فَثَبَّطَهُمْ ﴾ ” سوروک دیا ان کو“ اللہ تعالیٰ نے قضا و قدر کے ذریعے سے ان کو جہاد کے لئے نکلنے سے باز رکھا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دیا تھا اور اس کی ان کو ترغیب بھی دی اور وہ ایسا کرنے کی قدرت بھی رکھتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کی بنا پر ان کی اعانت نہ فرمائی، اس نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا اور ان کو جہاد کے لئے نکلنے سے باز رکھا۔ ﴿ وَقِيلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقَاعِدِينَ﴾ ” اور کہا گیا،بیٹھے رہو، بیٹھنے والوں کے ساتھ“ یعنی عورتوں اور معذوروں کے ساتھ بیٹھ رہو۔ التوبہ
47 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿لَوْ خَرَجُوا فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًا ﴾ ” اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے نقصان ہی میں اضافہ کرتے“ ( خَبَالًا  ) یعنی ” نقصان“﴿ وَلَأَوْضَعُوا خِلَالَكُمْ ﴾ ” اور گھوڑے دوڑاتے تمہارے درمیان“ یعنی تمہارے درمیان فتنہ و فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے اور تمہاری متحدہ جماعت میں تفرقہ پیدا کرتے۔ ﴿يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ  ﴾ ” بگاڑ کرانے کی تلاش میں“ یعنی وہ تمہارے درمیان فتنہ و فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے اور عداوت پیدا کرنے کے بہت حریص ہیں۔ ﴿وَفِيكُمْ﴾ ” اور تمہارے اندر“ ضعیف العقل لوگ موجود ہیں۔ جو ﴿سَمَّاعُونَ لَهُمْ ﴾ ” جاسوسی کرتے ہیں ان کے لئے“ یعنی ان کے دھوکے میں آ کر ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔ پس جب وہ تمہیں تنہا چھوڑ دینے، تمہارے درمیان فتنہ ڈالنے اور تمہیں تمہارے دشمنوں کے خلاف لڑنے سے باز رکھنے کے بہت حریص ہیں اور تم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان کی بات کو قبول کرتے ہیں اور ان کو اپنا خیر خواہ سمجھتے ہیں، تو کیا آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ اگر وہ جہاد کے لئے اہل ایمان کے ساتھ نکلتے تو انہیں کتنا زیادہ نقصان پہنچتا؟ پس اللہ تعالیٰ کی حکمت کتنی کامل ہے کہ اس نے ان کو اس سے باز رکھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں پر رحم اور لطف و کرم کرتے ہوئے ان کے ساتھ جہاد کے لئے نکلنے سے ان کو روک دیا، تاکہ وہ ان کے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں جس سے ان کو کوئی فائدہ پہنچنے کی بجائے نقصان پہنچتا۔ ﴿وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ﴾ ” اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔“ پس وہ اپنے بندوں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ کیسے ان کی فتنہ پردازی سے بچیں، نیز وہ ان مفاسد کو واضح کرتا ہے جو ان کے ساتھ میل جول سے پیدا ہوتے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ پہلے بھی ان کی شر انگیزی ظاہر ہوچکی ہے۔ التوبہ
48 ﴿لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِن قَبْلُ﴾ ” وہ اس سے پہلے بھی بگاڑ تلاش کرتے رہے‘‘ یعنی جب تم لوگوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس وقت بھی انہوں نے فتنہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ ﴿وَقَلَّبُوا لَكَ الْأُمُورَ ﴾ ” اور الٹتے رہے ہیں آپ کے کام“ یعنی انہوں نے افکار کو الٹ پلٹ کر ڈالا، تمہاری دعوت کو ناکام کرنے اور تمہیں تنہا کرنے کے لئے حیلہ سازیاں کیں اور اس میں انہوں نے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی۔ ﴿حَتَّىٰ جَاءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّـهِ وَهُمْ كَارِهُونَ ﴾ ” یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا حکم غالب ہوگیا اور وہ ناخوش تھے“ پس ان کی تمام سازشیں ناکام ہوگئیں اور ان کا بطل مضمحل ہوگیا۔ سو اس قسم کے لوگ اسی قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان سے بچنے کی تلقین کرے اور اہل ایمان کے پیچھے رہ جانے کی پرواہ نہ کریں۔ التوبہ
49 اور ان منافقین میں کچھ وہ بھی تھے جو جہاد میں نہ جانے کی اجازت مانگتے تھے اور عجیب و غریب قسم کے عذر پیش کرتے تھے۔ کوئی یہ کہتا تھا ﴿ائْذَن لِّي﴾ ” مجھے (پیچھے رہنے کی) اجازت دیجیے۔“ ﴿ وَلَا تَفْتِنِّي﴾ ” اور مجھے (گھر سے نکلنے کے باعث) فتنے میں نہ ڈالئے۔“ کیونکہ جب میں بنی اصفر (رومیوں) کی عورتوں کو دیکھوں گا تو صبر نہیں کرسکوں گا۔ جیسا کہ جدبن قیس نے کہا تھا۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے اس کا مقصد محض ریا اور نفاق تھا اور وہ اپنی زبان سے ظاہر کرتا تھا کہ اس کا مقصد اچھا ہے اور جہاد میں نکلنے سے وہ فتنہ اور شر میں مبتلا ہوجائے گا اور اگر وہ جہاد کے لئے نہ جائے تو عافیت میں ہوگا اور فتنہ سے محفوظ رہے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے جھوٹ کا پول کھولتے ہوئے فرمایا ﴿ أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا﴾ ” خبر دار، وہ تو گمراہی میں پڑ چکے“ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ قائل اپنے قصد میں سچا ہے، تب بھی پیچھے رہ جانے میں بہت بڑی مفسدت اور عظیم فتنہ متحقق ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی نیز کبیرہ گناہ کے ارتکاب اور اس کے بہت بڑے بوجھ کو اٹھانے کی جسارت، رہا جہاد کے لئے نکلنا تو جہاد میں نہ نکلنے کی نسبت بہت تھوڑے مفاسد ہیں اور وہ بھی محض متوہم ہیں۔ بایں ہمہ اس قائل کا مقصد پیچھے رہنے کے سوا کچھ بھی نہیں اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : ﴿وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ ﴾ ” بے شک جہنم گھیر رہی ہے کافروں کو“ جہنم سے بھاگ کر ان کے لئے کوئی جائے پناہ اور کوئی مفر نہیں، جہنم سے ان کے لئے گلو خلاصی ہے نہ نجات۔ التوبہ
50 اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے بارے میں یہ واضح کرتے ہوئے کہ وہی حقیقی دشمن اور اسلام کے خلاف بغض رکھنے والے ہیں۔۔۔ فرماتا ہے ﴿إِن تُصِبْكَ حَسَنَةٌ﴾ ” اگر پہنچے آپ کو کوئی بھلائی“ مثلاً فتح و نصرت اور دشمن کے خلاف آپ کی کامیابی ﴿تَسُؤْهُمْ﴾ ” تو ان کو بری لگتی ہے۔“ یعنی ان کو غمزدہ کردیتی ہے ﴿وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ ﴾ ” اور اگر آپ کو پہنچے کوئی مصیبت“ مثلاً آپ کے خلاف دشمن کی کامیابی ﴿يَقُولُوا﴾ ” تو کہتے ہیں۔“ آپ کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے سلامت رہنے کی بنا پر نہایت فخر سے کہتے ہیں : ﴿قَدْ أَخَذْنَا أَمْرَنَا مِن قَبْلُ ﴾ ہم نے اس سے پہلے اپنا بچاؤ کرلیا تھا اور ہم نے ایسا رویہ رکھا جس کی وجہ سے ہم اس مصیبت میں گرفتار ہونے سے بچ گئے ﴿وَيَتَوَلَّوا وَّهُمْ فَرِحُونَ﴾ ” اور پھر کر جائیں وہ خوشیاں کرتے ہوئے“ یعنی وہ آپ کی مصیبت اور آپ کے ساتھ اس میں عدم مشارکت پر خوش ہوتے ہیں۔ التوبہ
51 اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّـهُ لَنَا﴾ ” کہہ دیجیے ! ہمیں وہی پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے“ یعنی جو کچھ اس نے مقدر کر کے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ ﴿هُوَ مَوْلَانَا﴾ ” وہی ہمارا کار ساز ہے۔“ یعنی وه ہمارے تمام دینی اور دنیاوی امور کا سرپرست ہے پس ہم پر اس کی قضا و قدر پر راضی رہنا فرض ہے۔ ہمارے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں ﴿وَعَلَى اللَّـهِ﴾ ” اور اللہ پر“ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ ہی پر ﴿ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴾ ” مومنوں کو توکل کرنا چاہے۔“ یعنی اہل ایمان کو اپنے مصالح کے حصول اور ضرر کو دور کرنے کے لئے اعتماد اور اپنے مطلوب و مقصود کی تحصیل کی خاطر اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا اور جو غیروں پر تکیہ کرتا ہے تو وہ ایک تو بے یار و مددگار رہے گا‘ دوسرے اپنی امیدوں کے حصول میں ناکام رہے گا۔ التوبہ
52 آپ ان منافقین سے کہہ دیجیے جو تم لوگوں پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹنے کا انتظار کر رہے ہیں ” تم ہمارے بارے میں کسی چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ تم ہمارے بارے میں ایسی چیز کا انتظار کر رہے ہو جو مآل کار ہمارے لئے فائدہ مند ہے اور وہ ہے دو میں سے ایک بھلائی۔ “ (١) دشمنوں پر فتح و نصرت اور آخروی اور دنیاوی ثواب کا حصول۔ (٢) شہادت، جو مخلوق کے لئے سب سے اعلیٰ درجہ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے ارفع مقام ہے۔ اور اے گروہ منافقین ! ہم جو تمہارے بارے میں انتظار کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے توسط کے بغیر تمہیں عذاب دے گا یا ہمیں تم پر مسلط کر کے ہمارے ذریعے سے تمہیں عذاب میں مبتلا کرے گا، پس ہم تمہیں قتل کریں گے۔ ﴿فَتَرَبَّصُوا﴾ ” پس تم منتظر رہو۔“ پس تم ہمارے بارے میں (س بھلائی کے) منتظر رہو ﴿إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ﴾ ” ہم تمہارے بارے میں (اس برائی کے) منتظر ہیں۔ التوبہ
53 اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے صدقات کے بطلان اور اس کے سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿ قُلْ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿أَنفِقُوا طَوْعًا﴾ ” خوشی سے خرچ کرو۔“ یعنی بطیب خاطر خرچ کرو ﴿أَوْ كَرْهًا﴾ ” یا ناخوشی سے“ یا اپنے اختیار کے بغیر ناگواری کے ساتھ خرچ کرو۔ ﴿لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمْ﴾ ” تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔“ اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو قبول نہیں کرے گا۔ ﴿إِنَّكُمْ كُنتُمْ قَوْمًا فَاسِقِينَ﴾ ” اس لئے کہ تم نافرمان لوگ ہو۔“ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکلے ہوئے لوگ ہو۔ التوبہ
54 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے فسق اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّـهِ وَبِرَسُولِهِ﴾ ” اور نہیں موقوف ہوا ان کے خرچ کا قبول ہونا، مگر اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا۔“ ایمان، تمام اعمال کے قبول ہونے کی شرط ہے اور یہ لوگ ایمان اور عمل صالح سے محروم لوگ ہیں حتیٰ کہ ان کی حالت تو یہ ہے کہ جب یہ لوگ نماز۔۔۔ جو کہ افضل ترین بدنی عبادت ہے۔۔۔ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کسمساتے ہوئے اٹھتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی یہ حالت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَىٰ﴾ ” اور نماز کو آتے ہیں تو سست وکاہل ہو کر۔“ یعنی نماز کے لئے بوجھل پن کے ساتھ اٹھتے ہیں چونکہ نماز ان پر گراں گزرتی ہے، اس لئے نماز پڑھنا ان کے لئے بہت ہی مشکل ہے۔ ﴿وَلَا يُنفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَارِهُونَ﴾ ” اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے“ یعنی وہ انشراح صدر اور ثبات نفس کے بغیر خرچ کرتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی مذمت کی انتہا ہے جو ان جیسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں۔ بندے کے لئے مناسب یہ ہے کہ جب وہ نماز کے لئے آئے تو نشاط بدن اور نشاط قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے، تو انشراح صدر اور ثبات قلب کے ساتھ خرچ کرے اور امید رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے آخرت کے لئے ذخیرہ کرلیا ہے اور صرف اسی سے ثواب کی امید رکھے اور منافقین کی مشابہت اختیار نہ کرے۔ التوبہ
55 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان منافقین کا مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالے، کیونکہ یہ کوئی قابل رشک بات نہیں۔ مال اور اولاد کی ایک ” برکت“ ان پر یہ ہوئی کہ انہوں نے اس مال اور اولاد کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی اور اس کی خاطر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا، فرمایا : ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ ” اللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے۔“ یہاں عذاب سے مراد وہ مشقت اور کوشش ہے جو اسے حاصل کرنے میں انہیں برداشت کرنی پڑتی ہے اور اس میں دل کی تنگی اور بدن کی مشقت ہے۔ اگر آپ اس مال کے اندر موجود ان کی لذات کا مقابلہ اس کی مشقتوں سے کریں تو ان لذتوں کی ان مشقتوں کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں اور ان لذات نے چونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کردیا ہے اس لئے یہ ان کے لئے اس دنیا میں بھی وبال ہیں۔ ان کا سب سے بڑا وبال یہ ہے کہ ان کا دل انہی لذات میں مگن رہتا ہے اور ان کے ارادے ان لذات سے آگے نہیں بڑھتے، یہ لذات ان کی منتہائے مطلوب اور ان کی مرغوبات ہیں’ ان کے قلب میں آخرت کے لئے کوئی جگہ نہیں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ یہ لوگ دنیا سے اس حالت میں جائیں ﴿وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ﴾ ” اور جب ان کی جان نکلے تو وہ کافر ہی ہوں۔ “ یعنی اس حالت میں ان کی جان نکلے کہ ان کا رویہ انکار حق ہو۔ تب اس عذاب سے بڑھ کر کون سا عذاب ہے جو دائمی بدبختی اور کبھی دور نہ ہونے والی حسرت کا موجب ہے؟ التوبہ
56 اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَيَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ إِنَّهُمْ لَمِنكُمْ وَمَا هُم مِّنكُمْ﴾ ” اور وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ وہ بے شک تم میں سے ہیں، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں“ ان کی قسمیں اٹھانے میں ان کا مقصد یہ ہے ﴿ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ ﴾ ” وہ ایسے لوگ ہیں جو (تم سے) خوفزدہ ہیں۔‘‘ یعنی وہ گردش ایام سے خائف ہیں اور ان کے دل ایسی شجاعت سے محروم ہیں جو ان کو اپنے احوال بیان کرنے پر آمادہ کرے۔ وہ اس بات سے خائف ہیں کہ اگر انہوں نے اپنا حال ظاہر کردیا اور کفار سے برأت کا اظہار کردیا تو ہر طرف سے لوگ ان کو اچک لیں گے۔ رہا وہ شخص جو دل کا مضبوط اور مستقل مزاج ہے تو یہ صفات اسے اپنا حال۔۔۔ خواہ وہ اچھا ہو یا برا۔۔۔ بیان کرنے پر آمادہ رکھتی ہیں۔ مگر اس کے برعکس منافقین کو بزدلی کا لباس اور جھوٹ کا زیور پہنا دیا گیا ہے۔ التوبہ
57 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بزدلی کی شدت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿لَوْ يَجِدُونَ مَلْجَأً﴾ ” اگر وہ کوئی پناہ گاہ پا لیں“ تو جس وقت ان پر مصائب نازل ہوں تو یہ اس میں پناہ لے لیں ﴿ أَوْ مَغَارَاتٍ﴾ ” یا کوئی غاریں“ جن میں یہ داخل ہو کر اسے اپنا ٹھکانا بنا لیں ﴿أَوْ مُدَّخَلًا﴾ ” یاسر گھسانے کی جگہ“ یعنی انہیں ایسی جگہ مل جائے جہاں یہ گھس بیٹھیں اور اس طرح اپنے آپ کو محفوظ کرلیں ﴿لَّوَلَّوْا إِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُونَ﴾ ” تو الٹے بھاگیں گے اسی طرف رسیاں تڑاتے“ یعنی اس کی طرف تیزی سے بھاگیں گے۔ پس یہ ایسے ملکہ سے محروم ہیں جس کے ذریعے سے وہ ثابت قدمی پر قادر ہوں۔ التوبہ
58 یعنی ان منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں جو صدقات کی تقسیم میں آپ کی عیب جوئی اور اس بارے میں آپ پر تنقید کرتے ہیں اور ان کی تنقید اور نکتہ چینی کسی صحیح مقصد کی خاطر اور کسی راجح رائے کی بنا پر نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ انہیں بھی کچھ عطا کیا جائے۔ ﴿ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِن لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ﴾ ” پس اگر اس میں سے ان کو دیا جائے تو راضی ہوجاتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے ان کو تو جب ہی وہ ناخوش ہوجاتے ہیں۔“ حالانکہ بندے کے لئے مناسب نہیں کہ اس کی رضا اور ناراضی، دنیاوی خواہش نفس اور کسی فاسد غرض کے تابع ہو، بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس کی خواہشات اپنے رب کی رضا کے تابع ہوں جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ((لا يؤمنُ أحدُكم حتّى يَكونَ هواهُ تبعًا لمّا جئتُ بِهِ)) ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس چیز کے تابع نہ ہوں جو میں لے کر آیا ہوں۔“ [شرح السنة، حديث: 104] التوبہ
59 یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ ﴾ ” اگر وہ راضی ہوتے اس پر جو دیا ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے“ یعنی انہیں کم یا زیادہ جو کچھ بھی دیا ہے ﴿ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّـهُ  ﴾ ” اور کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے“ اور اس نے جو کچھ ہماری قسمت میں رکھا ہے ہم اس پر راضی ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی امید رکھیں ﴿ سَيُؤْتِينَا اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللَّـهِ رَاغِبُونَ ﴾ ” وہ اللہ دے گا ہم کو اپنے فضل سے اور اس کا رسول، بے شک ہم تو اللہ ہی کی طرف رغبت رکھتے ہیں۔“ یعنی اپنی منفعتوں کے حصول اور نقصانات سے بچنے کے لئے نہایت عاجزی سے اس سے دعا کرتے ہیں۔ التوبہ
60 پھر اللہ تعالیٰ نے صدقات واجبہ کی تقسیم کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ ﴾’’صدقات و خیرات“ یعنی زکوٰۃِ واجب۔۔۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مستحب صدقات ہر ایک شخص کو دیئے جاسکتے ہیں، ان صدقات کو خرچ کرنے کے لئے کسی کو مختص نہیں کیا گیا۔ جب کہ صدقات واجبہ صرف ان لوگوں پر خرچ کئے جائیں جن کا قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صدقات کے مصرف کو صرف انہی لوگوں میں محدود رکھا ہے۔ ان کی آٹھ اصناف ہیں۔ (١، ٢) فقراء و مساکین، اس مقام پر یہ دو الگ اقسام ہیں جن میں تفاوت ہے، فقیر مسکین سے زیادہ ضرورت مند ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان اصناف کے ذکر کی ابتداء ”فقیر“ سے کی ہے اور ابتداء کا طریقہ یہی ہے کہ پہلے سب سے اہم چیز کا، پھر اس سے کم تر مگر دوسروں سے اہم تر کا بیان ہوتا ہے۔ فقیر کی یہ تفسیر بیان کی گئی ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یا جس سے کفایت ہوسکتی ہو اس کے پاس اس کے نصف سے بھی کم ہو۔ مسکین اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے پاس کفایت سے نصف یا اس سے کچھ زیادہ موجود ہو مگر اس کے پاس پوری کفایت موجود نہ ہو، کیونکہ اگر اس کے پاس پوری کفایت موجود ہو تو وہ غنی ہوتا۔ پس فقراء اور مساکین کو اتنی زکوٰۃ دی جائے جس سے ان کا فقر و فاقہ اور مسکنت زائل ہوجائے۔ (٣) وہ لوگ جو صدقات کی وصولی وغیرہ کے کام پر مامور ہوں اور یہ وہ لوگ ہیں جو صدقات کے ضمن میں کسی ذمہ داری میں مشغول ہوں، ان کی وصولی کرنے والے، صدقات کے مویشیوں کے چرانے والے، ان کے نقل و حمل کا انتظام کرنے والے اور صدقات کا حساب کتاب لکھنے والے سب ” عاملین“ کے زمرے میں آتے ہیں۔۔۔ لہٰذا ان کو ان کا کام کا معاوضہ صدقات میں سے دیا جائے اور یہ ان کے کام کی اجرت ہے۔ (٤) وہ لوگ جن کی تالیف قلب مطلوب ہو۔ ﴿مُؤَلَّفَة ُ قُلُوبِ ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی اپنی قوم میں اطاعت کی جاتی ہے، جس کے اسلام قبول کرنے کی امید ہو یا جس کے شرکا خوف ہو، یا جس کو عطا کرنے سے اس کی قوت ایمان میں اضافہ ہوتا ہو یا اس جیسے کسی اور شخص کے اسلام قبول کرنے کی توقع ہو یا کسی ایسے شخص سے صدقات وصول ہونے کی توقع ہو جو صدقات ادا نہ کرتا ہو۔ اس صورت میں ﴿وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ﴾ کو صدقات میں سے دیا جاسکتا ہے جس میں کوئی مصلحت اور ان کی تالیف قلب مطلوب ہو۔ (٥) گردنیں چھڑانے میں، اس سے مراد وہ غلام ہیں جنہوں نے اپنے آقاؤں سے مکاتبت کے ذریعے سے آزادی خرید رکھی ہو اور وہ غلامی سے اپنی گردن چھڑانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہوں۔ پس زکوٰۃ کی مد سے ان کی مدد کی جاسکتی ہے اور وہ مسلمان جو کفار کی قید میں ہیں ان کو آزاد کرانے کے لئے بھی زکوٰۃ کا مال خرچ کیا جاسکتا ہے، بلکہ یہ مسلمان قیدی بدرجہ اولیٰ اس مد کے مستحق ہیں اور مستقلاً کسی غلام کو آزاد کرنے پر خرچ کرنا بھی جائز ہے، کیونکہ یہ بھی (وفی الرقاب) کے زمرے میں آتے ہیں۔ (٦) قرض داروں کی مدد کرنے میں۔۔۔ قرض داروں کی دو قسمیں ہیں۔ (اول) وہ قرض دار جنہوں نے لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے قرض اٹھایا ہو۔ اس کی صورت یہ ہے کہ دو گروہوں کے درمیان کوئی فتنہ یا فساد پھیل جائے تو وہ آدمی ان دونوں کے درمیان پڑ کر ان کے مابین صلح کروا کر ان میں سے کسی ایک کی طرف سے یا سب کی طرف سے مالی تاوان ادا کر دے۔ اس قسم کے قرض دار پر زکوٰۃ کی مد میں سے خرچ کیا جاسکتا ہے، تاکہ اس کے لئے زیادہ نشاط انگیز اور اس کے عزم کے لئے زیادہ قوت کا باعث ہو۔ وہ اگرچہ مال دار بھی ہو، تب بھی اسے زکوٰۃ کی مد میں سے عطا کیا جاسکتا ہے۔ (ثانی) دوسری قسم کا قرض دار وہ ہے جس نے کسی ذاتی ضرورت کی بنا پر قرض لیا مگر وہ عسرت کی وجہ سے قرض واپس نہ کرسکا۔ تو اسے صدقات میں سے اتنا مال عطا کیا جائے جس سے اس کے ذمہ سے قرض ادا ہوجائے۔ (٧)اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے۔ یہ وہ مجاہدین ہیں جو رضا کارانہ جہاد میں شریک ہوتے ہیں جن کا نام باقاعدہ فوج میں درج نہیں۔ ان کو زکوٰۃ کی مد سے اتنا مال عطا کیا جاسکتا ہے جو جہاد میں اس کی سواری، اسلحہ اور اس کے اہل و عیال کی کفالت کے لئے کافی ہوتا کہ وہ اطمینان قلب کے ساتھ پوری طرح سے جہاد میں شریک ہو سکے۔ بہت سے فقہاء یہ کہتے ہیں کہ اگر روزی کمانے پر قدرت رکھنے والا شخص اپنے آپ کو طلب علم کے لئے وقف کر دے تو اسے بھی زکوٰۃ میں سے مال دیا جائے۔ کیونکہ حصول علم بھی جہاد سبیل اللہ کے زمرے میں آتا ہے، نیز بعض فقہا کہتے ہیں کہ کسی فقیر کو فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ میں سے مال عطا کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہ قول محل نظر ہے۔ [لیکن ان کی بنیاد سنن ابی داؤد وغیرہ کی ایک روایت ہے جس کی رو سے حج و عمرہ پر زکوٰۃ کی رقم صرف کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے لیکن اس میں عمرہ کے ذکر کو شاذ قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو، اور اء الغلیل 3؍ 372) علاوہ ازیں صحابہ میں سے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم اور ائمہ میں سے امام احمد و امام اسحاق رحمتہ اللہ علیہم وغیرہ بھی اس کے قائل ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیے، راقم کی کتاب ” زکوٰۃ، عشر اور صدقتہ الفطر۔“ ص 103۔104مطبوعہ دار السلام (ص۔ ی)] (٨) مسافر،اور یہاں مسافر سے مراد وہ غریب الوطن ہے جو اپنے وطن سے دور پردیس میں منقطع ہو کر رہ گیا ہو۔ اسے زکوٰۃ کی مد میں سے اتنا مال عطا کیا جاسکتا ہے جو اسے اپنے وطن پہنچانے کے لئے کافی ہو۔ یہ آٹھ قسم کے لوگ ہیں صرف انہی کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ﴿ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّـهِ﴾ ” اللہ کی طرف سے مقرر کردیئے گئے ہیں۔“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو فرض اور مقرر کیا ہے اور فریضہ زکوٰۃ اس کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے۔ واضح رہے کہ صدقات کے یہ آٹھ مصارف دو امور کی طرف راجع ہیں۔ (1) وہ شخص جسے اس کی حاجت اور فائدے کے لئے زکوۃ دی جاتی ہے’ مثلاً فقیر اور مسکین وغیرہ۔ (2) وہ شخص جسے اس لئے زکوٰۃ دی جاتی ہے کہ مسلمانوں کو اس کی ضرورت و حاجت ہوتی ہے اور اسلام کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مال داروں کے مال میں سے یہ حصہ عوام و خواص، اسلام اور مسلمانوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے مقرر کیا ہے۔ مگر مال دار لوگ اپنے مالوں کی زکوٰۃ صحیح معنوں میں شرعی طریقے سے ادا کریں، تو مسلمانوں میں کوئی فقیر نہ رہے اور اسی طرح زکوٰۃ سے اتنا مال جمع ہوسکتا ہے جس سے سرحدوں کی حفاظت، کفار کے ساتھ جہاد اور دیگر تمام دینی مصالح کا انتظام ہوسکتا ہے۔ التوبہ
61 یعنی یہ منافقین ﴿الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ ﴾ ” جو نبی کو ایذا دیتے ہیں۔“ یعنی جو ردی اقوال اور عیب جوئی کے ذریعے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ ﴿ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ﴾ ” اور کہتے ہیں کہ وہ کان (کا کچا) ہے۔“ اور انہیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ ان کی بدگوئی کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھ پہنچتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ان میں سے کچھ باتیں آپ تک پہنچتی ہیں تو ہم آپ کے پاس معذرت پیش کرنے کے لئے آجاتے ہیں اور آپ ہماری معذرت قبول کرلیتے ہیں، کیونکہ آپ کان کے کچے ہیں۔ یعنی آپ سے جو کچھ کہا جاتا ہے آپ اسے تسلیم کرلیتے ہیں سچے اور جھوٹے میں تمیز نہیں کرتے۔ ان کا مقصد تو محض یہ تھا۔۔۔۔۔۔ اللہ ان کا برا کرے۔۔۔۔۔۔ کہ وہ اس بات کی کوئی پروا کریں نہ اس کو اہمیت دیں، کیونکہ ان کی کوئی بات آپ تک نہ پہنچے تو یہی ان کا مطلوب ہے اور اگر آپ تک وہ بات پہنچ جائے تو صرف باطل معذرتوں پر اکتفا کریں۔ پس انہوں نے بہت سے پہلوؤں سے برائی کا رویہ اختیار کیا : (١) ان میں سب سے بری بات یہ ہے کہ وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچاتے ہیں جو ان کی رہنمائی اور ان کو ہلاکت اور شقاوت کے گڑھے سے نکال کر ہدایت اور سعادت کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے تشریف لائے۔ (٢) وہ اس ایذا رسانی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے، یہ مجرد ایذا رسانی پر ایک قدر زائد ہے۔ (٣) وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عقل و دانش میں عیب نکالتے تھے، آپ کو عدم ادراک اور سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز نہ کرسکنے کی صفات سے متصف کرتے تھے۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے زیادہ عقل کامل سے بہرہ مند، بدرجہ اتم ادراک کے حامل، عمدہ رائے اور روشن بصیرت رکھنے والے تھے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ ﴾ ” آپ کہہ دیجیے، کان ہیں تمہاری بہتری کے لئے“ یعنی جو کوئی بھلی اور سچی بات کہتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے قبول فرما لیتے ہیں۔ رہا آپ کا صرف نظر کرنا اور جھوٹے عذرات پیش کرنے والے منافقین کے ساتھ سختی سے پیش نہ آنا، تو یہ آپ کی کشادہ ظرفی، ان کے معاملے میں عدم اہتمام اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کی بنا پر تھا۔ ﴿سَيَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ لَكُمْ إِذَا انقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ إِنَّهُمْ رِجْسٌ﴾(التوبة:9؍ 95) ” جب تم واپس لوٹو گے تو یہ منافقین قسمیں کھائیں گے، تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو، پس تم ان کے معاملے کو نظر انداز کر دو کیونکہ وہ ناپاک ہیں۔“ رہی یہ حقیقت کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں کیا ہے اور آپ کی رائے کیا ہے تو اس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ﴾ ” وہ یقین کرتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مومنوں کی بات پر“ جو سچے اور تصدیق کرنے والے ہیں اور وہ سچے اور جھوٹے کو خوب پہچانتا ہے اگرچہ وہ بہت سے ایسے لوگوں سے صرف نظر کرتا ہے جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان میں سچائی معدوم ہے ﴿وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ ﴾ ” اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو تم میں سے ایمان لائے“ کیونکہ وہی آپ کی وجہ سے راہ راست پر گامزن ہوتے اور آپ کے اخلاق کی پیروی کرتے ہیں۔ رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو انہوں نے اس رحمت کو قبول نہ کیا، بلکہ ٹھکرا دیا اور یوں وہ دنیا و آخرت کے گھاٹے میں پڑگئے۔ ﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّـهِ﴾ ” اور وہ لوگ جو (قول و فعل کے ذریعے سے) رسول اللہ کو دکھ دیتے ہیں۔“ ﴿ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ” ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔“ دنیا و آخرت میں اور دنیا میں ان کے لئے درد ناک عذاب یہ ہے کہ آپ کو دکھ پہنچانے والے اور آپ کی شان میں گستاخی کرنے اور ایذا پہنچانے والے کی حتمی سزا قتل ہے۔ التوبہ
62 ﴿يَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ﴾ ” وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تاکہ تمہیں راضی کریں“ اور ان کی طرف سے جو ایذا رسانی ہوئی وہ اس سے بری ٹھہریں۔ پس ان کی غرض و غایت محض یہ ہے کہ تم ان سے راضی رہو۔ ﴿وَاللَّـهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَن يُرْضُوهُ إِن كَانُوا مُؤْمِنِينَ ﴾ ”حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ ان کو راضی کریں اگر مومن ہوں“ کیونکہ بندہ مومن اپنے رب کی رضا پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتا۔ یہ آیت ان کے ایمان کی نفی پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی رضا پر دوسروں کی رضا کو مقدم رکھا اور یہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت اور کھلی دشمنی ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے دشمنی رکھتا ہے اس کے لئے سخت وعید ہے۔ التوبہ
63 چنانچہ فرمایا : ﴿أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَن يُحَادِدِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ﴾ ” کیا انہوں نے نہیں جانا کہ جو کوئی مقابلہ کرے اللہ سے اور اس کے رسول سے“ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اہانت و تحقیر اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کر کے وہ اللہ اور اس کے رسول سے بہت دور اور ان کے مخالف ہوجائے ﴿فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ ﴾ ” تو اس کے لئے جہنم کی آگ ہے اور اس میں وہ ہمیشہ رہے گا، یہ بڑی رسوائی کی بات ہے۔“ جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں، کیونکہ وہ دائمی نعمتوں سے محروم ہوگئے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب حاصل کرلیا۔ ان کے حال سے اللہ کی پناہ ! التوبہ
64 اس سورۃ کریمہ کو ( اَلْفاَضِحَۃ ) ” رسوا کرنے والی سورت“ کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے، کیونکہ اس نے منافقین کے بھید کھولے ہیں اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ” ان میں سے بعض“ ” ان میں سے بعض“ کہہ کر ان کے اوصاف بیان کئے ہیں۔ لیکن متعین طور پر اشخاص کے نام نہیں لئے، اس کے دو فائدے ہیں۔ (١) اللہ تعالیٰ ” ستار“ ہے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔ (٢) مذمت کا رخ ان تمام منافقین کی طرف ہے جو ان صفات سے متصف ہیں جس میں وہ بھی آگئے جو (بلاواسطہ) مخاطب تھے اور ان کے علاوہ قیامت تک آنے والے منافقین بھی اس میں شامل ہیں۔ اس اعتبار سے اوصاف کا تذکرہ زیادہ عمومیت کا حامل اور زیادہ مناسب ہے تاکہ لوگ خوب خائف رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ لَّئِن لَّمْ يَنتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا  مَّلْعُونِينَ ۖ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا ﴾(الأحزاب:33؍60۔61) ﴾ ” اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں بری بری افواہیں پھیلاتے ہیں، اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہ بہت تھوڑے دن ہی آپ کے پڑوس میں رہ سکیں گے۔ وہ دھتکارے ہوئے جہاں بھی پائے جائیں، پکڑے جائیں اور قتل کردیئے جائیں۔“ اور یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتاہے:﴿يَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُم بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ ﴾” اگرمنافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی سورت نازل ہو جو ان کو جتا دے جو ان کے دلوں میں ہے“ یعنی وہ سورت ان کو ان کے کرتوتوں کے بارے میں آگاہ کر کے ان کی فضیحت کا سامان کرتی ہے اور ان کا بھید کھولتی ہے یہاں تک کہ ان کی کارستانیاں لوگوں کے سامنے عیاں ہوجاتی ہیں اور وہ دوسروں کے لئے سامان عبرت بن جاتے ہیں۔ ﴿قُلِ اسْتَهْزِئُوا﴾ ” کہہ دو کہ ہنسی مذاق کئے جاؤ۔“ یعنی استہزاء اور تمسخر کا تمہارا جو رویہ ہے اس پر قائم رہو ﴿إِنَّ اللَّـهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُونَ﴾ ” اللہ کھول کر رہے گا اس چیز کو جس سے تم ڈرتے ہو“ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کردیا اور یہ سورت نازل فرمائی جو ان کے کرتوت بیان کر کے ان کو رسوا کرتی ہے اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھاتی ہے۔ التوبہ
65 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ﴾ ” اور اگر آپ ان سے دریافت کریں۔“ اس بارے میں جو وہ مسلمانوں اور ان کے دین کی بابت طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ غزوہ تبوک کے موقع پر کہتا تھا ” ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے“ ان کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام تھے۔۔۔” جو کھانے میں پیٹو، زبان کے جھوٹے اور میدان جنگ میں بزدلی دکھانے والے ہیں۔“ [تفسیر طبری، 6؍ 220] جب انہیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی ہر زہ سرائی کا علم ہوگیا ہے تو معذرت کرتے اور یہ کہتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ﴿ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ﴾ ” ہم تو بات چیت کرتے تھے اور دل لگی“ یعنی ہم تو ایک ایسی بات کہہ رہے تھے جس سے کسی کو نشانہ بنانا یا طعن اور رعیب جوئی ہمارا مقصود نہ تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا عدم عذر اور ان کا جھوٹ واضح کرتے ہوئے فرمایا : ﴿قُلْ﴾ ان سے کہہ دیجیے : ﴿ أَبِاللَّـهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ  لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ ۚ﴾ ” کیا تم اللہ سے، اس کے حکموں سے اور اس کے رسول سے ٹھٹھے کرتے تھے؟ تم بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کردیتا ہے، کیونکہ دین کی اساس اللہ تعالیٰ، اس کے دین اور اس کے رسول کی تعظیم پر مبنی ہے۔ ان میں سے کسی کے ساتھ استہزاء کرنا اس اساس کے منافی اور سخت متناقض ہے۔ بنا بریں جب وہ معذرت میں یہ بات کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اس سے زیادہ کچھ نہ فرمایا ﴿  أَبِاللَّـهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ  لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ﴾ ” کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کرتے تھے؟ اب معذرتیں نہ کرو تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کیا۔“ فرمایا : التوبہ
66 ﴿ إِن نَّعْفُ عَن طَائِفَةٍ مِّنكُمْ﴾ ” اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف بھی کردیں۔“ ان کی توبہ و استغفار اور ان کی ندامت کی وجہ سے ﴿نُعَذِّبْ طَائِفَةً ﴾ ” تاہم بعض کو ضرور ہی عذاب دیں گے“ ﴿بِأَنَّهُمْ﴾ ” کیونکہ وہ“ یعنی اس سبب سے کہ ”﴿كَانُوا مُجْرِمِينَ ﴾ ” وہ گناہگار تھے“ یعنی اپنے کفر و نفاق پر قائم ہیں۔ یہ آیات کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کوئی اپنا بھید چھپاتا ہے خاص طور پر وہ بھید جس میں اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازش’ اللہ تعالیٰ’ اس کی آیات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ استہزاء ہو تو اللہ تعالیٰ اس بھید کو کھول دیتا ہے’ اس شخص کو رسوا کرتا ہے اور اسے سخت سزا دیتا ہے اور جو کوئی کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت ثابتہ کے ساتھ کسی قسم کا استہزا کرتا ہے، یا ان کا تمسخر اڑاتا ہے، یا ان کو ناقص گردانتا ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استہزاء کرتا ہے یا آپ کو ناقص کہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر قسم کے گناہ کی توبہ قبول ہوجاتی ہے خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ التوبہ
67 ﴿الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضُهُم مِّن بَعْضٍ﴾ ” منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں ایک ہی ہیں۔“ کیونکہ نفاق ان میں قدر مشترک ہے اس لئے وہ ایک دوسرے کے باہم دوست ہیں۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور منافقین کے درمیان موالات کا رشتہ منقطع ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین کا عمومی وصف بیان فرمایا جس سے ان کا چھوٹا اور بڑا کوئی بھی باہر نہیں۔ ﴿يَأْمُرُونَ بِالْمُنكَرِ ﴾ ” وہ بری بات کا حکم دیتے ہیں“ اور وہ ہے کفر، فسق اور معصیت ﴿وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ﴾ ” اور معروف سے روکتے ہیں“ معروف سے مراد ایمان، اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ اور آداب حسنہ ہیں۔ ﴿وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَھُمْ﴾ ” اور بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھوں کو“ صدقہ اور بھلائی کے راستوں سے پس اللہ تعالیٰ نے ان کو بخل کی صفت سے موصوف کیا ہے۔ ﴿نَسُوا اللَّـهَ﴾ ” وہ بھول گئے اللہ کو“ پس وہ بہت کم اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں۔ ﴿ فَنَسِيَهُمْ﴾ ” تو وہ بھی بھول گیا ان کو“ یعنی ان پر رحمت کرنے سے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو بھلائی کی توفیق عطا نہیں کرتا اور نہ ان کو جنت میں داخل کرے گا، بلکہ وہ ان کو جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں چھوڑ دے گا جہاں ان کو ہمیشہ رکھا جائے گا۔ ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ ” بے شک منافق ہی نافرمان ہیں“ اللہ تعالیٰ نے فسق کو منافقین میں محصور کردیا، کیونکہ ان کا فسق دیگر فساق کے فسق سے زیادہ بڑا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کو دیا جانے والا عذاب دوسروں کو دیئے جانے والے عذاب کی نسبت زیادہ بڑا ہے۔ نیز اہل ایمان جب ان کے درمیان رہ رہے تھے تو ان منافقین کے باعث ان کو آزمائش میں ڈالا گیا اور ان سے بچنے کی نہایت سختی سے تاکید کی گئی۔ التوبہ
68 ﴿وَعَدَ اللَّـهُ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ هِيَ حَسْبُهُمْ ۚ وَلَعَنَهُمُ اللَّـهُ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ﴾ ” وعدہ دیا ہے اللہ نے منافق مرد اور منافق عورتوں کو اور کافروں کو جہنم کی آگ کا، ہمیشہ رہیں گے اس میں، وہی بس ہے ان کو، اور لعنت کی ان پر اللہ نے اور ان کے لئے برقرار رہنے والا عذاب ہے“ اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین اور کفار کو جہنم اور لعنت میں اکٹھا کر دے گا جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، کیونکہ دنیا میں بھی وہ کفر، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار پر متفق تھے۔ التوبہ
69 اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے، اے منافقو ! تمہارا حال تم جیسے ان منافقین کی مانندہے جنہوں نے تم سے پہلے نفاق اور کفر کا ارتکاب کیا۔ وہ تم سے زیادہ طاقتور، تم سے زیادہ دولت مند اور تم سے زیادہ اولاد والے تھے۔ ان کے لئے جو حظوظ دنیا (دنیوی منافع اور حصے) مقدر کئے گئے تھے انہوں نے ان سے خوب فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے تقویٰ سے روگردانی کی۔ انبیائے کرام کے ساتھ نہایت حقارت اور استخفاف کے ساتھ پیش آئے اور اپنے اور انبیائے کرام کے معاملہ میں ان کا خوب تمسخر اڑایا۔ تم نے بھی دنیا کی لذتوں سے، جو تمہارے لئے مقدر کی گئی تھیں، خوب فائدہ اٹھایا جیسے پہلے لوگوں نے فائدہ اٹھایا تھا۔ تم بھی باطل اور ان منکرات میں ڈوبے ہوئے ہو جن میں تمہارے پیشرو ڈوبے ہوئے تھے۔ ان کے اعمال اکارت گئے اور ان اعمال نے ان کو دنیا و آخرت میں کوئی فائدہ نہ دیا اور وہ سراسر خسارے میں رہے۔ تم بھی سوء حال و مآل اور برے انجام میں انہی کی مانند ہو۔ ﴿فَاسْتَمْتَعُوا بِخَلَاقِهِمْ﴾ ” تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا۔“ یعنی اپنے دنیاوی نصیب سے۔ اللہ تعالیٰ کی مراد کو نظر انداز کرتے ہوئے تم نے لذت و شہوت کے پہلو سے دنیا کو استعمال کیا۔ اس نصیبِ دنیا سے تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مدد لی، تمہارا عزم اور ارادہ ان دنیاوی نعمتوں سے آگے نہ بڑھ سکا، جیسے تم سے پہلے لوگوں نے کیا تھا ﴿وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خَاضُوا﴾ ” اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے۔“ یعنی تم بھی (پہلوں کی طرح) باطل اور جھوٹ میں مستغرق ہو اور حق کو ناکام کرنے کے لئے تم باطل کے ذریعے سے جھگڑتے ہو۔ پس یہ ہیں ان کے اعمال و علوم، نصیب دنیا سے استفادہ کرنا اور باطل میں مستغرق رہنا۔ اس لئے یہ بھی عذاب اور ہلاکت کے مستحق ہیں جیسے پہلے لوگ اس ہلاکت کے مستحق ٹھہرے جن کے وہی کرتوت تھے جو ان کے ہیں۔ رہے اہل ایمان۔۔۔ اگر انہوں نے دنیاوی نعمتوں میں اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا۔۔۔ تو صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مدد لینے کے لئے، رہے ان کے علوم تو یہ درحقیقت انبیاء و رسل کے علوم ہیں جو تمام مطالب عالیہ میں یقین کی منزل تک پہنچاتے ہیں اور باطل کو سرنگوں کرنے کے لئے حق کے ذریعے سے مجادلہ کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ التوبہ
70 اللہ تعالیٰ منافقین کو اس عذاب سے ڈراتا ہے جو ان سے پہلے جھٹلانے والی قوموں پر نازل ہوا تھا۔ جیسے قوم نوح، عاد، ثمود، قوم ابراہیم، اصحاب مدین اور المؤتفکات یعنی قوم لوط کی بستیاں ﴿أَتَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ﴾ ” ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔“ یعنی ان سب کے پاس ان کے رسول واضح اور روشن حق لے کر آئے جو تمام اشیاء کے حقائق کو بیان کرتا ہے، مگر انہوں نے اس حق کو جھٹلایا، تب ان پر وہی عذاب نازل ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا۔ پس تمہارے اعمال بھی ان کے اعمال سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ﴿فَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيَظْلِمَهُمْ﴾ ” اور اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا۔“ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی تو یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ظلم نہیں تھا۔ ﴿وَلَـٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴾ ” بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا“ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی جسارت کی، اس کے رسولوں کی اطاعت نہ کی اور ہر سرکش اور جبار کی بات کے پیچھے لگ گئے۔ التوبہ
71 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ منافقین آپس میں ایک ہی ہیں، تو یہ بھی واضح فرما دیا کہ اہل ایمان بھی ایک دوسرے کے والی اور مددگار ہیں اور ان کو ایسے اوصاف سے متصف کیا ہے جو منافقین کے اوصاف کی ضد ہیں، چنانچہ فرمایا : ﴿ وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ﴾ ” اہل ایمان مرد اور عورتیں“ ﴿بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ﴾ ” ایک دوسرے کے دوست ہیں۔“ یعنی محبت، موالات، منوب ہونے اور مدد کرنے میں باہم والی و مددگار ہیں۔ ﴿ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ ﴾ ” وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں“ (المعروف) ہر ایسے کام کے لئے ایک جامع نام ہے جس کی بھلائی مسلم ہو، مثلاً عقائد حسنہ، اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ وغیرہ اور نیکی کے اس حکم میں سب سے پہلے خود داخل ہوتے ہیں۔ ﴿وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ﴾ ” اور برائی سے روکتے ہیں“ اور ہر وہ کام جو (المعروف) کے خلاف اور اس کے منافی ہو (المنکر) کے زمرے میں آتا ہے، مثلاً عقائد باطلہ، اعمال خبیثہ، اور اخلاق رذیلہ وغیرہ۔ ﴿وَيُطِيعُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَ﴾ ” اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔“ یعنی وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا التزام کرتے ہیں۔ ﴿أُولَـٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّـهُ ۗ﴾ ” یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں داخل کرے گا اور انہیں اپنے احسان سے نوازے گا۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴾ ” بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔“ یعنی وہ طاقتور اور غالب ہے طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ وہ حکمت والا بھی ہے وہ ہر چیز کو اس کے لائق مقام پر رکھتا ہے۔ وہ جو کچھ تخلیق کرتا ہے اور جو کچھ حکم دیتا ہے، اس پر اس کی حمد بیان کی جاتی ہے۔ التوبہ
72 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس ثواب کا ذکر فرماتا ہے جو اس نے اہل ایمان کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ فرمایا ﴿ وَعَدَ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ﴾’’وعدہ دیا ہے اللہ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں کا کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں“ ان جنتوں میں ہر نعمت اور ہر فرحت جمع ہے اور وہ تمام تکلیف دہ چیزوں سے بالکل خالی ہیں ان کے محلات، گھروں اور درختوں کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں جو خوبصورت باغات کو سیراب کرتی ہیں۔ ان جنتوں میں جو بھلائیاں ہیں انہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ﴿خَالِدِينَ فِيهَا﴾ ” اس میں ہمیشہ رہیں گے“ اور وہ کسی اور جگہ منتقل ہونا نہ چاہیں گے۔ ﴿وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ﴾ ” اور ستھرے مکانوں کا، ہمیشہ کے باغوں میں“ ان مسکنوں کو آراستہ اور خوبصورت بنا کر اللہ تعالیٰ کے متقی بندوں کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ جنت کے نظارے، اس کی منازل اور آرام گاہیں بہت خوبصورت ہیں۔ بلند مرتبہ مساکن کے تمام آلات اور ساز و سامان ان کے اندر مہیا کئے گئے ہیں۔ تمنا کرنے والے اس سے بڑھ کر کسی چیز کی تمنا نہیں کرسکتے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایسے بالا خانے تیار کر رکھے ہیں جو انتہائی خوبصورت اور پاک صاف ہیں۔ جن کے اندر سے باہر کا نظارہ کیا جا سکے گا اور باہر سے اندر دیکھا جا سکے گا۔ پس یہ خوبصورت مساکن اس لائق ہیں کہ نفس ان میں سکون حاصل کریں’ دل ان کی طرف کھینچتے چلے آئیں اور ارواح ان کی مشتاق ہوں، اس لئے کہ وہ جنت عدن میں مقیم ہوں گے اور یہ ایسی جگہ ہے جہاں سے وہ کوچ کرنا اور کسی دوسری جگہ منتقل ہونا نہیں چاہیں گے۔ ﴿ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ ﴾ ” اور اللہ کی رضا مندی“ جو وہ اہل جنت پر نازل فرمائے گا۔ ﴿أَكْبَرُ﴾ ” سب سے بڑی ہوگی“ یعنی ان تمام نعمتوں سے جو ان کو حاصل ہوں گی۔ کیونکہ ان کو حاصل ہونے والی تمام نعمتیں ان کے رب کے دیدار اور اس کی رضا کے بغیر اچھی نہ لگیں گی اور یہ وہ غایت مقصود ہے، عبادت گزار جس کا مقصد رکھتے ہیں اور یہ وہ منتہائے مطلوب ہے، اہل محبت جس کے حصول کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ پس زمین و آسمان کے رب کی رضا جنت کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ ﴿ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴾ ” یہی بڑی کامیابی ہے۔“ کیونکہ ان کا ہر مطلوب و مقصود حاصل ہوگا۔ ان سے ہر خوف دور ہوگا۔ ان کے تمام معاملات خوبصورت اور خوشگوار ہوں گے۔۔۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنے جود و کرم سے ہمیں بھی ان کی معیت نصیب فرمائے۔ التوبہ
73 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے : ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ﴾ ” اے پیغمبر ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں“ بھرپور جہاد ﴿وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ﴾ ” اور ان پر سختی کریں۔“ جہاں حالات سختی کا تقاضا کریں وہاں سختی کیجیے۔ اس جہاد میں تلوار کا جہاد اور حجت و دلیل کا جہاد سب شامل ہیں۔ پس جو جنگ کرتا ہے اس کے خلاف ہاتھ، زبان اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے جہاد کیا جائے اور جو کوئی ذمی بن کر یا معاہدہ کے ذریعے سے اسلام کی بالا دستی قبول کرتا ہے، تو اس کے خلاف دلیل و برہان کے ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ اس کے سامنے اسلام کے محسن اور کفر و شرک کی برائیاں واضح کی جائیں۔ پس یہ تو وہ رویہ ہے جو دنیا میں ان کے ساتھ ہونا چاہئے۔ ﴿وَ﴾ اور آخرت میں، تو ﴿وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ﴾ ” اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے“ یعنی ان کی جائے قرار جہاں سے وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿وَبِئْسَ الْمَصِيرُ﴾ ” اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ “ التوبہ
74 ﴿يَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ ﴾” قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ انہوں نے نہیں کہا اور بے شک کہا ہے انہوں نے لفظ کفر کا“ یعنی جب انہوں نے اس شخص کی مانند بات کہی تھی جس نے یہ کہا تھا ﴿لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾( المنافقون :63؍8 ”عزت دار، ذلیل لوگوں کو مدینہ سے باہر نکال دیں گے“ اور وہ باتیں اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ استہزاء کرتے ہوئے ایک کے بعد دوسرا کرتا تھا۔ جب ان کو یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی باتیں معلوم ہوگئی ہیں تو وہ قسمیں کھاتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ انہوں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿ وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ ﴾ ” بے شک کہا ہے انہوں نے لفظ کفر کا اور منکر ہوگئے وہ اسلام لانے کے بعد“ گزشتہ وقت میں ان کے اسلام قبول کرنے نے اگرچہ ان کوظاہری طور پر دائرہ کفر سے نکال دیاتھا، مگران کا یہ آخری کلام اسلام کے متناقض ہے جو انہیں کفر میں داخل کردیتا ہے۔ ﴿وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا﴾ ’’اور انھوں نے ایسی چیز کا ارداہ کیا جو انھیں نہیں ملی۔‘‘ یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب انھوں نے غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکے کے ساتھ قتل کرنے کا اردہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے منصوبے کے بارے میں آگاہ فرما دیا، چنانچہ آپ نے کسی کو حکم دیا اور اس نے ان کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے سے روک دیا۔﴿وَ﴾ ” ان کا حال یہ ہے“ ﴿مَا نَقَمُوا﴾ یعنی ” وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صرف اس وجہ سے ناراض ہیں“ اور آپ کی عیب جوئی کرتے ہیں ﴿ إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ ۚ﴾ ” کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے فضل سے ان کی محتاجی کے بعد ان کو غنی کردیا۔“ یہ نہایت ہی عجیب بات ہے کہ وہ اس ہستی کی اہانت کریں جو ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لانے اور محتاجی کے بعد غنا کا سبب بنی۔ کیا ان پر اس ہستی کا حق نہیں کہ وہ اس کی تعظیم اور توقیر کریں اور اس پر ایمان لائیں؟ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے توبہ پیش کرتے ہوئے فرمایا : ﴿فَإِن يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ ﴾ ” پس اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے لئے بہتر ہے“ کیونکہ توبہ دنیا و آخرت کی سعادت کی اساس ہے۔ ﴿وَإِن يَتَوَلَّوْا ﴾ ” اور اگر وہ منہ پھیر لیں۔“ یعنی اگر وہ توبہ اور انابت سے منہ موڑ لیں۔ ﴿يُعَذِّبْهُمُ اللَّـهُ عَذَابًا أَلِيمًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ﴾ ” تو عذاب دے گا اللہ ان کو درد ناک عذاب دنیا اور آخرت میں“ دنیا میں ان کے لئے عذاب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازتا ہے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عزت عطا کرتا ہے اور یہ لوگ اپنا مقصد حاصل نہیں کرپاتے تو حزن و غم کا شکار ہوجاتے ہیں اور آخرت میں ان کو جہنم کا عذاب ملے گا۔ ﴿وَمَا لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِن وَلِيٍّ ﴾ ” اور زمین میں ان کا کوئی دوست نہیں“ جو ان کے معاملات کی سرپرستی کرے اور ان کو ان کے مقصد تک پہنچائے ﴿وَلَا نَصِيرٍ ﴾ ” اور نہ کوئی مددگار“ جو تکلیف وہ امور کو ان سے دور کرے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی سرپرستی سے محروم ہوگئے تو پھر شر، خسران، بدبختی اور حرماں نصیبی ہی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ التوبہ
75 ان منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا ﴿لَئِنْ آتَانَا مِن فَضْلِهِ﴾ ” اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں عطا کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا عطا کر کے اس میں کشادگی پیدا کرے ﴿لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ ” تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم نیکو کاروں میں سے ہوجائیں گے۔“ پس ہم صلہ رحمی کریں گے، مہمان کی مہمان نوازی کریں گے، راہ حق میں لوگوں کی مدد کریں گے اور اچھے اور نیک عمل کریں گے۔ التوبہ
76 ﴿فَلَمَّا آتَاهُم مِّن فَضْلِهِ﴾ ” پس جب دیا ان کو اپنے فضل سے‘‘ تو انہوں نے اس وعدے کو پورا نہ کیا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا بلکہ ﴿بَخِلُوا بِهِ ﴾ ” بخل کیا ساتھ اس کے“ ﴿وَتَوَلَّوا﴾ اور اطاعت سے منہ موڑ گئے ﴿وَّهُم مُّعْرِضُونَ ﴾ ” اور وہ روگردانی کرنے والے تھے“ یعنی بھلائی کی طرف التفات نہ کرنیوالے۔ جب انہوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی۔ التوبہ
77 ﴿فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ﴾ ” پس بطور سزا کردیا نفاق ان کے دلوں میں“ یعنی ہمیشہ رہنے والا نفاق۔ ﴿إِلَىٰ يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللَّـهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ﴾ ” جس دن تک کہ وہ اس سے ملیں گے، اس وجہ سے کہ انہوں نے خلاف کیا اللہ سے جو وعدہ اس سے کیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔“ پس بندہ مومن کو اس برے وصف سے بچنا چاہئے کہ اگر اس کو اس کا مقصد حاصل ہوگیا تو وہ فلاں کام کرے گا اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو پورا نہ کرے۔ اس لئے بسا اوقات اللہ تعالیٰ نفاق کے ذریعے سے اس کو سزا دیتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کو سزا دی۔ ایک صحیح حدیث میں، جو کہ صحین میں ثابت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو بد عہدی سے کام لے اور وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے۔“ [صحيح بخاري، كتاب الإيمان، باب علامات المنافق، حديث: 33] پس یہ منافق جس نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے فضل سے نوازا تو وہ ضرور صدقہ کرے گا اور نیک بن جائے گا۔ پس اس نے اپنی بات میں جھوٹ بولا، عہد کی بدعہدی کی اور وعدہ کر کے پورا نہ کیا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو یہ وعید سنائی جن سے یہ کام صادر ہوا چنانچہ فرمایا التوبہ
78 ﴿أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ وَأَنَّ اللَّـهَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ﴾ ” کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے ان کا بھید اور ان کا مشورہ اور یہ کہ اللہ خوب جانتا ہے سب چھپی باتوں کو“ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے ان اعمال کی جزا دے گا جنہیں وہ جانتا ہے۔ یہ آیات کریمہ منافقین میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں جسے ” ثعلبہ“ کہا جاتا تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ میرے لئے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے نواز دے، اگر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے فضل و کرم سے نواز دیا تو وہ اللہ کے راستے میں صدقہ کرے گا، صلہ رحمی کرے گا اور راہ حق میں خرچ کرے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے دعا فرمائی۔ اس شخص کے پاس بکریوں کا ریوڑ تھا، وہ ریوڑ بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ اسے اس ریوڑ کو لے کر مدینہ منورہ سے باہر جانا پڑا۔ وہ نماز پنجگانہ میں سے کسی اکا دکا نماز میں حاضر ہوتا تھا پھر اور دور چلا گیا یہاں تک کہ وہ صرف جمعہ کی نماز میں حاضر ہوتا تھا۔ جب بکریاں بہت زیادہ ہوگئیں تو وہ اور دور چلا گیا اور اس نے جماعت اور جمعہ دونوں میں حاضر ہونا بند کردیا۔ پس جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نظر نہ آیا اور آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ کو اس کے حال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ آپ نے کسی کو اس کے گھر صدقات کی وصولی کے لئے بھیجا۔ وہ ثعلبہ کے پاس آیا۔ ثعلبہ نے کہا ” یہ تو جزیہ ہے، یہ تو جزیہ کی بہن ہے۔‘‘۔۔۔۔۔ پس اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی، زکوٰۃ کے تحصیل دار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو تمام امور سے آگاہ کیا آپ نے تین بار فرمایا (یَاوَیْحَ ثعْلبۃ) ” افسوس ثعلبہ کے لئے ہلاکت ہے۔“ جب اس کے بارے میں اور اس جیسے دیگر لوگوں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو اس کے گھر والوں میں سے کوئی شخص اس کے پاس گیا اور اس آیت کریمہ کے نازل ہونے کے بارے میں آگاہ کیا۔ چنانچہ وہ زکوٰۃ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مگر آپ نے وہ زکوٰۃ قبول نہ فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد وہ زکوٰۃ لے کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی زکوٰۃ قبول نہ فرمائی۔ جناب ابوبکر کی وفات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا مگر انہوں نے بھی زکوٰۃ قبول نہ فرمائی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں مر گیا۔ [ثعلبہ کا یہ واقعہ بہت سے مفسرین نے ذکر کیا ہے۔ لیکن اس کو ماہر نقاد محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ جیسے امام ابن حزم، بیہقی‘قرطبی، ہیثمی، عراقی، ابن حجر، سیوطی اور امام مناوی رحمہم اللہ نے اس کو ضعیف کہا ہے۔ اس قصے کی سند میں، علی بن یزید، معان بن رفاعۃ اور قاسم بن عبدالرحمان ضعیف راوی ہیں اور ابن حزم رحمہ اللہ نے اس کو متن کے اعتبار سے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔ دیکھیے : المحلی (11؍208) الاصابۃ : ترجمۃ ثعلبۃ، مجمع الزوائد، (7؍ 32 الجامع لأحکام القرآن (8؍ 210)، فیض القدیر (4؍ 257) فتح الباری (3؍ 8)، لباب النقول للسیوطی (121) و تخریج الاحیاء للعراقی (3؍ 338) (از محقق) اس لئے اس سے حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاری رضی اللہ عنہ کو مراد لینا، درست نہیں ہے۔ اس آیت میں بھی دراصل منافقین ہی کے کردار کے ایک نمونے کا بیان ہے۔ (ص۔ ی)] التوبہ
79 یہ بھی منافقین کی رسوائی کا باعث بننے والی باتوں میں سے ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے۔۔۔۔۔۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کے امور میں کوئی ایسی چیز دیکھتے جس پر زبان طعن دراز کرسکتے ہوں تو وہ ظلم و تعدی سے کام لیتے ہوئے طعن و تشنیع کرنے سے باز نہ آتے۔ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ایمان کو صدقات کی ترغیب دی، تو مسلمانوں نے نہایت تیزی سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تکمیل کی اور ان میں سے ہر امیر و غریب نے اپنے حسب حال اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کیا۔ پس منافقین دولت مند مسلمانوں پر نکتہ چینی کرتے تھے کہ وہ صرف ریاء اور شہرت کی خاطر اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور کم حیثیت مسلمانوں سے کہتے ” اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بے نیاز ہے۔۔۔“ تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی ﴿الَّذِينَ يَلْمِزُونَ ﴾ ” جو عیب جوئی اور طعن کرتے ہیں“ ﴿الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ ﴾ ” ان مومنوں پر جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں (ان کے) صدقات میں“ پس کہتے ہیں کہ یہ ریا کار ہیں۔ صدقہ کرنے سے ان کا مقصد صرف ریا کاری اور فخر کا اظہار ہے۔ ﴿وَ ﴾ ” اور“ وہ ان لوگوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں ﴿الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ  ﴾ ” جو اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں پاتے“ پس وہ اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کے راستے میں (تھوڑا سا) مال نکالتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ منافقین کہتے ” اللہ تعالیٰ ان کے صدقات سے بے نیاز ہے‘ ﴿فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ ﴾ ” اس طرح وہ ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔“ ان کے تمسخر کے مقابلے میں ان کے ساتھ تمسخر کیا گیا ﴿سَخِرَ اللَّـهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ” اللہ نے ان سے تمسخر کیا ہے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے“ کیونکہ انہوں نے اپنے اس کلام میں متعدد ایسے امور اکٹھے کردیئے جن سے بچنا ضروری تھا۔ (١) وہ مسلمانوں کے احوال کی تلاش میں رہتے تھے انہیں یہ خواہش رہتی تھی کہ وہ مسلمانوں کی کوئی ایسی بات پائیں جس پر یہ اعتراض اور نکتہ چینی کرسکیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ (النور:24؍19) ” جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ “ (٢) وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اسلام کے ساتھ بغض کی وجہ سے اہل ایمان پر ان کے ایمان کی وجہ سے زبان طعن دراز کرتے رہتے تھے۔ (٣) طعنہ زنی اور چغل خوری کرنا حرام ہے، بلکہ دنیاوی امور میں یہ کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے اور نیکی کے کام میں طعنہ زنی تو سب سے بڑا گناہ ہے۔ (٤) جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس کے بارے میں مناسب یہ ہے کہ نیکی کے اس کام میں اس کی اعانت اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے، مگر ان منافقین کا مقصد تو صرف اسے نیکی کے کاموں سے باز رکھنا اور اس کی عیب جوئی کرنا تھا۔ (٥) اللہ کے راستے میں مال کثیر خرچ کرنے والے کے بارے میں ان کا یہ فیصلہ کہ وہ ریاکار ہے سخت غلطی، غیب دانی کا دعویٰ اور اٹکل پچو ہے اور اس سے بڑی اور کون سی برائی ہوسکتی ہے؟ (٦) قلیل مقدار میں صدقہ کرنے والے کی بابت ان کا یہ کہنا ” اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بے نیاز ہے۔“ ایک ایسا کلام ہے جس کا مقصود باطل ہے، کیونکہ صدقہ خواہ قلیل ہو یا کثیر’ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والے کے صدقہ سے مستغنی ہے، بلکہ وہ زمین اور آسمان کے تمام رہنے والوں سے بے نیاز ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے امور کا حکم دیا ہے جن کے وہ خود محتاج ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ۔۔۔ اگرچہ ان سے بے نیاز ہے، لیکن لوگ تو اس کے محتاج ہیں۔۔۔۔۔۔ فرماتا ہے : ﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ  ﴾ (الزلزال :99؍7) ” پس جو ذرہ بھر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔“ چنانچہ ان کے اس قول میں نیکی سے باز رہنے کی جو ترغیب ہے، وہ بالکل ظاہر اور بین ہے، لہٰذا ان کی جزایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ تمسخر کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔ التوبہ
80 ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً ﴾ ” آپ ان کے لئے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں، اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ بھی بخشش مانگیں گے“ ستر مرتبہ کا لفظ مبالغہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ورنہ اس کا مفہوم مخالف نہیں ہے ﴿فَلَن يَغْفِرَ اللَّـهُ لَهُمْ ﴾ ” تب بھی اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا : ﴿سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَن يَغْفِرَ اللَّـهُ لَهُمْ ﴾(المنافقون:63؍6) ” ان کے لئے برابر ہے آپ ان کے لئے مغفرت مانگیں یا نہ مانگیں اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کیا ہے جو ان کی مغفرت سے مانع ہے چنانچہ فرمایا : ﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ ﴾ ” یہ اس واسطے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا“ اور کافر جب تک اپنے کفر پر قائم ہے اسے کوئی استغفار کام دے سکتا ہے نہ کوئی نیک عمل ﴿وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ ﴾ ” اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا“ یعنی فسق جن کا وصف بن چکا ہے جو فسق و فجور کے سوا کوئی اور چیز نہیں چن سکتے، جو اس کا بدل نہیں چاہتے۔ ان کے پاس واضح حق آتا ہے مگر یہ اسے ٹھکرا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو یہ سزا دیتا ہے کہ وہ اس کے بعد ان کو توفیق سے محروم کردیتا ہے۔ التوبہ
81 اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا ان کے پیچھے رہ جانے پر تکبر اور فرحت کا اظہار کرنے اور اس پر ان کی لاپروائی کو بیان کرتا ہے، جو ان کے عدم ایمان اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا : ﴿فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّـهِ  ﴾ ” خوش ہوگئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھ رہنے سے، رسول اللہ سے جدا ہو کر“ یہ خوش ہونا، پیچھے رہ جانے پر ایک قدر زائد ہے،کیونکہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا حرام ہے اور اس پر مستزادیہ ہے کہ وہ معصیت کے اس فعل پر خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں۔ ﴿وَكَرِهُوا أَن يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ﴾ ” اور وہ گھبرائے اس بات سے کہ لڑیں اپنے مالوں اور جانوں سے، اللہ کی راہ میں“ اور اہل ایمان کا معاملہ اس کے برعکس ہے، وہ اگر پیچھے رہ جائیں۔۔۔ خواہ اس کا سبب کوئی عذر ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ تو اپنے پیچھے رہ جانے پر سخت غمگین ہوتے ہیں، وہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں، کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان موجزن ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کی امید رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَالُوا ﴾ یعنی منافقین کہتے ہیں : ﴿لَا تَنفِرُوا فِي الْحَرِّ ﴾ ” نہ کوچ کرو گرمی میں“ یعنی وہ کہتے ہیں گرمی کے موسم میں جہاد کے لئے باہر نکلنا ہمارے لئے مشقت کا باعث ہے۔ پس انہوں نے مختصر سی عارضی راحت کو ہمیشہ رہنے والی کامل راحت پر ترجیح دی۔ وہ اس گرمی سے گھبرا گئے جس سے سایہ میں بیٹھ کر بچا سکتا ہے جس کی شدت صبح و شام کے اوقات میں کم ہوجاتی ہے اور اس شدید ترین گرمی کو اختیار کرلیا جس کی شدت کو کوئی شخص برداشت کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اور وہ ہے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا ۚ لَّوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ ﴾ ” کہہ دیجیے ! جہنم کی آگ، کہیں زیادہ سخت گرم ہے، اگر وہ سمجھتے“ کیونکہ انہوں نے فانی چیز کو ہمیشہ باقی رہنے والی چیز پر ترجیح دی اور انہوں نے نہایت ہی خفیف اور ختم ہوجانے والی مشقت سے فرار ہو کر دائمی مشقت کو اختیار کرلیا۔ التوبہ
82 ﴿ فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا  ﴾ ” پس ہنسیں وہ تھوڑا اور روئیں زیادہ“ یعنی اس ختم ہوجانے والی دنیا سے خوب فائدہ اٹھائیں۔ اس کی لذات سے فرحت حاصل کریں اور اس کے کھیل کود میں مگن ہو کر غافل ہوجائیں وہ عنقریب درد ناک عذاب میں خوب روئیں گے۔ ﴿ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴾ ” بدلہ اس کا جو کماتے تھے۔“ انہوں نے کفر، نفاق اور اپنے رب کے احکام کی عدم اطاعت پر مبنی افعال سر انجام دیئے تھے، یہ ان کی جزا ہے۔ التوبہ
83 ﴿فَإِن رَّجَعَكَ اللَّـهُ إِلَىٰ طَائِفَةٍ مِّنْهُمْ ﴾ ” پھر اگر لے جائے اللہ آپ کو ان میں سے کسی فرقے کی طرف“ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی عذر کے بغیر پیچھے بیٹھ رہے تھے اور پھر اپنے پیچھے رہ جانے پر انہیں کوئی حزن و ملال نہ تھا ﴿فَاسْتَأْذَنُوكَ لِلْخُرُوجِ  ﴾ ” پس وہ اجازت چاہیں آپ سے نکلنے کی“ یعنی جب وہ کسی اور غزوہ میں سہولت دیکھیں تو جہاد کے لئے آپ سے اجازت طلب کریں۔ ﴿فَقُل ﴾ ” تو ان سے کہئے“ یعنی سزا کے طور پر ﴿لَّن تَخْرُجُوا مَعِيَ أَبَدًا وَلَن تُقَاتِلُوا مَعِيَ عَدُوًّا ﴾ ” تم ہرگز نہ نکلو گے میرے ساتھ کبھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بے نیاز کر دے گا۔ ﴿إِنَّكُمْ رَضِيتُم بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِينَ  ﴾ ” تم نے پسند کیا تھا بیٹھ رہنا پہلی مرتبہ، پس بیٹھے رہو تم پیچھے رہنے والوں کے ساتھ“ یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ  ﴾ ” ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو الٹ دیں گے (اور) جیسے یہ قرآن پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے تھے (اب بھی نہیں لائیں گے۔) کیونکہ وہ شخص جو فرصت کے اوقات میں احکام کی بجا آوری میں سستی سے پیچھے رہ جاتا ہے’ تو اس کے بعد اس کو ان احکام کی تعمیل کی توفیق عطا نہیں ہوتی، چنانچہ اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں۔ اس آیت کریمہ میں ان کے لئے تعزیر بھی ہے، کیونکہ جب مسلمانوں کے نزدیک یہ چیز متحقق ہوگئی کہ یہ لوگ اپنی نافرمانی کی بنا پر جہاد کی توفیق سے محروم کردیئے گئے ہیں، تو یہ چیز ان لوگوں کے لئے بھی زجر و توبیخ، عار اور عبرت کا باعث ہوگی جو ان کی طرح اس حرکت کا ارتکاب کریں گے۔ التوبہ
84 ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ ﴾ ” اور آپ نہ نماز پڑھیں ان میں سے کسی پر جو مر جائے“ منافقین میں سے اگر کوئی مر جائے ﴿وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ ﴾ ” اور نہ کھڑے ہوں اس کی قبر پر“ دفن کرنے کے بعد، تاکہ آپ اس کے حق میں دعا کریں، کیونکہ ان کی قبروں پر کھڑے ہو کر ان کے لئے دعا کرنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ان کی شفاعت ہے اور شفاعت ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ ﴿إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ  ﴾ ”بے شک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ مرے نافرمان“ اور جو کافر ہے اور کفر ہی کی حالت میں مر گیا تو کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت اس کے کام نہ آئے گی۔ اس آیت کریمہ میں دوسروں کے لئے عبرت اور زجر و توبیخ ہے۔ اسی طرح ہر اس شخص کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے جس کا کفر اور نفاق معلوم ہو۔ نیز آیت کریمہ میں اہل ایمان کی نماز جنازہ پڑھنے اور ان کی قبروں پر کھڑے ہو کر ان کے لئے دعا مانگنے کی مشروعیت کی دلیل ہے، جیسا کہ اہل ایمان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ تھا، کیونکہ منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یہ تقیید دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کے بارے میں یہ چیز متحقق اور جائز ہے۔ التوبہ
85 اللہ تعالیٰ نے ان کو جو مال اور اولاد سے نواز رکھا ہے اس سے دھوکہ نہ کھایئے، کیونکہ یہ مال اور اولاد ان کی تکریم کے لئے نہیں، یہ ان کی تحقیر اور اہانت کے لئے ہے۔ فرمایا : ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الدُّنْيَا ﴾ ” اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ ان کو ان چیزوں کی وجہ سے دنیا میں عذاب میں رکھے“ پس وہ اس کے حصول کے پیچھے لگے رہتے ہیں اس کے زوال سے خائف رہتے ہیں اور وہ اس مال سے لطف نہیں اٹھا سکتے، بلکہ وہ مال کے حصول میں تکالیف اور مشقتیں برداشت کرتے رہتے ہیں، مال اور اولاد ان کو اللہ تعالیٰ اور آخرت سے غافل کردیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس دنیا کو چھوڑ کر چل دیتے ہیں۔ ﴿وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ ﴾ ” اور نکلے ان کی جان اور وہ اس وقت تک کافر ہی رہیں“ مال اور اولاد کی محبت نے ان سے ہر چیز سلب کرلی، ان کو موت نے آلیا تو ان کے دل ابھی تک دنیا سے چمٹے ہوئے تھے اور ان کے ذہن ابھی تک اس کے لئے سرگرم تھے۔ التوبہ
86 اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کی دائمی کاہلی اور نیکیوں سے ان کے دائمی گریز کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے نیز آگاہ فرماتا ہے کہ سورتیں اور آیات ان کے رویئے پر کوئی اثر نہیں کرتیں، چنانچہ فرماتا ہے: ﴿وَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ ﴾ ” اور جب اترتی ہے کوئی سورت“ جس میں ان کو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیا گیا ہو ﴿اسْتَأْذَنَكَ أُولُو الطَّوْلِ مِنْهُمْ ﴾ ” تو رخصت مانگتے ہیں ان کے صاحب حیثیت لوگ“ یعنی دولت مند اور مال دار لوگ جنہیں کسی قسم کا عذر نہیں اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال اور بیٹوں سے نواز رکھا ہے۔ کیا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی تعریف نہیں کرتے اور واجبات کو قائم نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر واجب کردیا ہے اور ان پر اپنا معاملہ سہل کردیا ہے؟ مگر وہ سستی اور کاہلی کا شکار رہے اور پیچھے بیٹھ رہنے کی اجازت مانگتے رہے۔ ﴿وَقَالُوا ذَرْنَا نَكُن مَّعَ الْقَاعِدِينَ ﴾ ” اور وہ کہتے ہیں ہمیں چھوڑ دو ! ہوجائیں ہم (پیچھے) بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ۔ “ التوبہ
87 ﴿رَضُوا بِأَن يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ ﴾ ” وہ راضی ہوگئے اس بات پر کہ رہیں وہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ“ وہ کیوں کر اس بات پر راضی ہوگئے کہ وہ ان خواتین کیساتھ پیچھے گھروں میں بیٹھ رہیں جو جہاد کے لئے نہیں نکلیں۔ کیا ان کے پاس کوئی عقل اور سمجھ ہے جو اس پر ان کی راہنمائی کرے؟ ﴿وَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ ﴾ یا ” ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔“ پس وہ کسی بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتے اور ان کے دل ان افعال کے ارادے سے خالی ہیں جو خیر و فلاح پر مشتمل ہیں۔ پس وہ کسی بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتے اور ان کے دل ان افعال کے ارادے سے خالی ہیں جو خیر و فلاح پر مشتمل ہیں۔ پس وہ اپنے مصالح و مفاد کو نہیں سمجھتے۔ اگر وہ حقیقی سمجھ رکھتے ہوتے تو وہ اپنے لئے اس صورتحال پر کبھی راضی نہ ہوتے۔ جس نے ان کو جواں مردوں کے مقام سے نیچے گرا رکھا ہے۔ التوبہ
88 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : جب یہ منافقین جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے۔ اس کی مخلوق میں اس کے ایسے خاص بندے ہیں جن کو اس نے اپنے فضل سے خاص طور پر نوازا ہے وہ اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور وہ ہیں ﴿الرَّسُولُ ﴾ رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ﴾ ” اور وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جہاد کیا انہوں نے آپ کے ساتھ اپنے مالوں اور جانوں سے۔“ وہ کاہل ہیں نہ سست بلکہ وہ فرحاں اور بشارت حاصل کرنے والے۔ ﴿ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ ﴾ ” یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے (دنیا و آخرت) کی بے شمار بھلائیاں ہیں۔“ ﴿وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴾ ” اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔“ جو بلند ترین مطالب اور کامل ترین مرغوبات کے حصول میں کامیاب ہیں۔ التوبہ
89 ﴿أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴾ ” تیار کئے ہیں اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ کہ ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہی ہے بڑی کامیابی“ ہلاکت ہے ایسے شخص کے لئے جو ان اور میں رغبت نہیں رکھتا جن میں اہل جنت رغبت رکھتے ہیں اور وہ اپنے دین اور دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑنے والا شخص ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نظیر ہے۔ ﴿قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا ۚ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍107) ” کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو اس سے پہلے کتاب کا علم دیا گیا ہے جب ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نظیر ہے ﴿ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَـٰؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ  ﴾ (الانعام:6؍89)” اگر یہ کفار ان باتوں کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے ان باتوں پر ایمان لانے کے لئے ایسے لوگوں کو مقرر کردیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں۔ “ التوبہ
90 ﴿وَجَاءَ الْمُعَذِّرُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ ﴾ ” اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے“ یعنی وہ لوگ جنہوں نے سستی کی اور جہاد کے لئے نکلنے سے قاصر رہے، اس لئے آئے کہ انہیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انہیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں۔۔۔ اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انہوں نے اعتذار کو بالکل ہی ترک کردیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿الْمُعَذِّرُونَ ﴾ ” عذر کرنے والے“ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ عذر پیش کرنے والے کا عذر قبول فرما لیا کرتے تھے۔ ﴿وَقَعَدَ الَّذِينَ كَذَبُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ﴾ ” اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنہوں نے جھوٹ بولا اللہ اور اس کے رسول سے“ یعنی جنہوں نے اپنے دعوائے ایمان میں، جو جہاد کے لئے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ان کے عمل نہ کرنے میں، اللہ اور رسول سے جھوٹ بولا۔ پھر ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : ﴿سَيُصِيبُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ  ﴾ ” اب پہنچے گا ان کو جو کافر ہیں ان میں درد ناک عذاب“ دنیا و آخرت میں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے معذرت پیش کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ ان کی دو قسمیں ہیں : (١)جو شرعی طور پر معذور ہیں۔ (٢) جو شرعی طور پر غیر معذور ہیں۔ التوبہ
91 اللہ تعالیٰ نے معذور لوگوں کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے ﴿ لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ  ﴾ ” نہیں ہے (حرج) کمزوروں پر“ جو کمزور جسم اور کمزور نظر والے ہیں جو جہاد کے لئے باہر نکلنے اور دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ﴿وَلَا عَلَى الْمَرْضَىٰ ﴾ ” اور نہ بیماروں پر“ یہ آیت ان تمام امراض کو شامل ہے جن کی بنا پر مریض جہاد اور قتال کے لئے باہر نہیں نکل سکتا، مثلاً لنگڑا پن، اندھا پن، بخار، نمونیہ اور فالج وغیرہ ﴿وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ ﴾ ” اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو نہیں ہے“ یعنی ان کے پاس زاد راہ ہے نہ سواری جس کے ذریعے سے منزل مطلوب پر پہنچ سکیں۔ پس ان مذکورہ لوگوں کے لئے کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی رکھتے ہوں، صادق الایمان ہوں، ان کی نیت اور ان کا عزم یہ ہو کہ اگر وہ جہاد پر قادر ہوئے تو وہ ضرور جہاد کریں گے اور ایسے کام کرتے ہوں جن پر وہ قدرت رکھتے ہیں مثلاً لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینا اور جہاد کے لئے ان کا حوصلہ بڑھانا ﴿مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ  ﴾ ” نیکی کرنے والوں پر کوئی راستہ نہیں“ یعنی ایسا راستہ جس سے نیکی کرنے والوں کو کوئی ضرر پہنچے، کیونکہ انہوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں بھلائی سے کام لے کر ملامت کو ساقط کردیا۔ بندہ مومن جس چیز پر قادر ہے جب اس میں اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو اس سے وہ امور ساقط ہوجاتے ہیں جن پر وہ قادر نہیں۔ اس آیت کریمہ سے اس شرعی قاعدہ پر استدلال کیا جاتا ہے کہ جو کوئی کسی دوسرے شخص پر اس کی جان اور مال وغیرہ میں احسان کرتا ہے، پھر اس احسان کے نتیجے میں کوئی نقصان یا اتلاف واقع ہوجاتا ہے، تو اس احسان کرنے والے پر کوئی ضمان نہیں۔ کیونکہ وہ محسن ہے اور محسن پر کوئی گرفت نہیں۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ غیر محسن۔۔۔ جو کام کو عمدہ طریقے سے انجام نہ دے اس کی حیثیت کوتاہی کرنے والے کی ہوگی، اس لئے اس پر ضمان عائد کیا جائے گا۔ ﴿وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ  ﴾ ” اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ یہ اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور بے پایاں رحمت ہی ہے کہ اس نے قدرت نہ رکھنے والے بے بس لوگوں کو معاف کردیا ہے اور ان کی نیت کے مطابق ان کو وہ ثواب عطا کرتا ہے جو وہ قدرت رکھنے والوں کو عطا کرتا ہے۔ التوبہ
92 ﴿وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ ﴾ ” اور نہ ان پر کوئی حرج ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں، تاکہ آپ ان کو سواری دیں“ مگر انہوں نے آپ کے پاس کوئی چیز نہ پائی ﴿قُلْتَ ﴾ اور آپ نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا : ﴿لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ ﴾ ” میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا کہ میں تم کو اس پر سوار کراؤں، تو وہ الٹے پھرے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے، اس غم میں کہ وہ خرچ کرنے کو کچھ نہیں پاتے“ کیونکہ وہ عاجز،بے بس اور اپنی جان کو خرچ کرنے والے ہیں۔ وہ انتہائی حزن و غم اور مشقت میں مبتلا ہیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کردیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے کوئی حرج اور گناہ نہیں، جب ان سے گناہ ساقط ہوگیا تو معاملہ اپنی اصل کی طرف لوٹ گیا یعنی جو کوئی بھلائی کی نیت کرتا ہے اور اس کی اس نیت جازمہ کے ساتھ مقدور بھر اس کی کوشش بھی مقرون ہوتی ہے، اس کے باوجود وہ اس فعل کو بجا لانے پر قادر نہیں ہوتا، تو اس کو فاعل کامل ہی شمار کیا جائے گا۔ التوبہ
93 ﴿إِنَّمَا السَّبِيلُ ﴾ ” الزام تو“ یعنی گناہ اور ملامت تو ﴿عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ ﴾ ” ان لوگوں پر ہے جو دولت مند ہیں اور پھر بھی آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں۔“ یعنی جو جہاد کے لئے نکلنے پر قادر ہیں اور ان کے پاس کوئی عذر نہیں۔ ﴿رَضُوا ﴾ ” وہ خوش ہیں۔“ یعنی اپنے دین اور اپنی ذات کے بارے میں ﴿ بِأَن يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ ﴾ ” یہ کہ وہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ گھروں میں رہیں۔“ ﴿وَ ﴾ ”اور“ ان کا اس حال پر راضی رہنا اس وجہ سے تھا کہ ﴿طَبَعَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ  ﴾ ” اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔“ اس لئے ان کے اندر کوئی بھلائی داخل نہیں ہوسکتی اور وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کو محسوس نہیں کرتے۔ ﴿فَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴾ ” پس وہ نہیں جانتے۔“ کہ یہ اس گناہ کی سزا ہے جس کا انہوں نے ارتکاب کیا ہے۔ التوبہ
94 اللہ تبارک و تعالیٰ نے دولت مند منافقین کے پیچھے رہنے کا ذخر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پیچھے رہنے کے لئے ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا اور یہ بھی آگاہ فرمایا : ﴿يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ﴾ ” جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔“ یعنی جب تم ان کے پاس اپنے غزوہ سے واپس لوٹو گے تو یہ منافقین تمہارے پاس معذرت کریں گے۔ ﴿قُل﴾ آپ ان سے کہہ دیجئے ! ﴿ لَّا تَعْتَذِرُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ﴾ ” تم بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے“ یعنی ہم تمہاری جھوٹی معذرتوں کی تصدیق نہیں کریں گے۔ ﴿قَدْ نَبَّأَنَا اللَّـهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ﴾ ” اللہ نے ہمیں تمہارے حالات سے خبردار کردیا ہے“ اور اللہ تعالیٰ اپنے قول میں سچا ہے اب معذرت پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ وہ ایسی ایسی معذرتیں پیش کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو آگاہ فرمایا ہے وہ اس کے عین برعکس ہے اور یہ قطعاً محال ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے جھوٹ ہونے کی خبر دے رہا ہے وہ سچ ہو، اللہ تعالیٰ کی خبر تو صداقت کے بلند ترین مرتبے پر ہے۔ ﴿ ۚ وَسَيَرَى اللَّـهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ﴾ ” اللہ اور اس کا رسول تمہارے اعمال دیکھیں گے۔“ یعنی دنیا میں، کیونکہ عمل صداقت کی میزان سے اور عمل کے ذریعے سے سچ اور جھوٹ میں امتیاز ہوتا ہے۔ رہے مجرو اقوال تو ان کی صداقت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ﴿ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ﴾ ” پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ جس سے کوئی چیز اوجھل نہیں۔ ﴿ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ ” اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔“ یعنی تم برا یا بھلا جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے بارے میں آگاہ فرمائے گا اور تم پر ذرہ بھر ظلم کئے بغیر اپنے عدل اور فضل سے تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔ واضح رہے کہ برائی کا ارتکاب کرنے والے کے تین احوال ہیں : (١) ظاہر اور باطن میں اس کی بات اور عذر کو قبول کیا جائے اور اس بناء پر اس کو معاف کردیا جائے اور اس کی یہ حالت ہوجائے گویا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ (٢) اس کو سزا دی جائے اور اس کے گناہ پر فعلی تعزیر دی جائے۔ (٣) گناہ کا ارتکاب کرنے والے سے اعراض کیا جائے اور اس نے جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس کے بدلے میں عقوبت فعلی سے گریز کیا جائے۔ یہ تیسرا رویہ ہے جس کی بابت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ منافقین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا جائے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : التوبہ
95 ﴿ سَيَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ لَكُمْ إِذَا انقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ﴾ ” وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے، تاکہ تم ان سے درگزر کرو، پس تم ان سے درگزر کرو۔“ یعنی ان کو زجرو تو بیخ کرو نہ ان کو مارو پیٹو اور نہ ان کو قتل کرو﴿ إِنَّهُمْ رِجْسٌ﴾ ” وہ ناپاک ہیں۔“ یعنی وہ ناپاک اور خبیث ہیں اور وہ اس قابل نہیں کہ ان کی پروا کی جائے، زخرو تو بیخ اور سزا بھی ان کے لئے مفید نہیں ﴿وَ﴾ ” اور“ ان کے لئے یہی کافی ہے کہ ﴿مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ ” ان کے کرتوتوں کی پاداش میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ “ التوبہ
96 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ﴾ ” وہ قسمیں کھائیں گے تمہارے لئے، تاکہ تم ان سے راضی ہوجائے“ یعنی وہ تم سے یہ آخری مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ مجرد اعراض نہیں چاہتے، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ گویا کہ انہوں نے کوئی کوتاہی کی ہی نہیں ﴿فَإِن تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ ﴾ ” لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو اللہ تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔“ یعنی، اے مومنو ! تمہارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان لوگوں پر رضا مندی کا اظہار کرو جن پر اللہ تعالیٰ راضی نہیں بلکہ تم پر واجب ہے کہ تم اپنے رب کی رضا اور ناراضی میں اس کی موافقت کرو۔ غور کیجئے اللہ تعالیٰ نے کیسے فرمایا ہے : ﴿ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ  ﴾ ” بے شک اللہ فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتا“ اور یہ نہیں فرمایا : ﴿فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَرْضَىٰ عَنْهُمْ﴾ ” ان سے راضی نہیں ہوتا“ تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اگر یہ یا کوئی اور جب بھی توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور ان پر راضی ہوجاتا ہے، لیکن جب تک وہ اپنے فسق پر جمے رہیں اس وقت تک اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں ہوتا’ کیونکہ اس کی رضا کا مانع موجود ہے...... اور وہ ہے ان کا ان امور سے باہر نکلنا جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں مثلاً ایمان اور اطاعت اور ایسے امور میں داخل ہونا جو اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہیں مثلاً شرک، نفاق اور نافرمانی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو کچھ ذکر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کسی عذر کے بغیر جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے والے منافقین جب اہل ایمان کے سامنے عذر پیش کرتے ہیں اور وہ وو سمجھتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے میں ان کے پاس عذر تھا تو وہ چاہتے ہیں کہ تم ان کے معاملے کو نظر انداز کر کے ان سے راضی رہو اور ان کا عذر قبول کرلو۔ رہا ان کا عذر قبول کرنا اور ان سے راضی ہونا تو اس میں ان سے کوئی محبت نہیں اور نہ ان کی کوئی تکریم ہے۔ رہا ان سے اعراض کرنا تو اہل ایمان ان سے اس طرح اعراض کیا کرتے تھے جس طرح ناپاک اور ردی امور سے اعراض کیا جاتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں، اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿قَدْ نَبَّأَنَا اللَّـهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ﴾ سے اللہ تعالیٰ کے کلام کا اثبات ہوتا ہے اور اسی آیت کریمہ میں اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَسَيَرَى اللَّـهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ﴾ میں اللہ تعالیٰ کے افعال اختیاری کا اثبات بھی ہوتا ہے جو اس کی مشیت اور قدرت سے واقع ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ان کے عمل کو اس کے واقع ہونے کے بعد دیکھے گا۔ ان آیات کریمہ میں نیکوکاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور فاسقین کے ساتھ ناراضی اور غصے کا اثبات ہوتا ہے۔ التوبہ
97 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ الْأَعْرَابُ﴾ ” بدوی“ اس سے مراد صحرا اور دیہات میں رہنے والے لوگ ہیں ﴿ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا﴾ ” زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں۔“ یعنی صحرا میں رہنے والوں میں شہر کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ کفر اور نفاق ہے جن میں نفاق کا مرض پایا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں۔ (١) بدوی لوگ شریعت، اعمال اور احکام سے بہت دور ہوتے ہیں۔ پس وہ اسی قابل ہوتے ہیں ﴿وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا حُدُودَ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ ﴾ ” اور اس قابل ہیں کہ جو احکام اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں، مثلاً اصول ایمان اور او امرو نواہی وغیرہ۔۔۔۔ ان سے واقف نہ ہوں۔ اس کے برعکس شہر میں رہنے والے لوگ اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدود سے واقع ہوں جو اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی ہیں اور اس عمل کے سبب سے ان میں خوبصورت تصورات اور نیکی کے ارادے جنم لیتے ہیں جن کے بارے میں یہ شہری لوگ جانتے ہیں، بدوی ان کا علم نہیں رکھتے۔ (٢) شہریوں میں لطافت طبع پائی جاتی ہے اور ان میں داعی حق کی اطاعت کا جذبہ موجود ہوتا ہے جو بدویوں میں نہیں ہوتا۔ (٣) شہری بدویوں کی نسبت اہل ایمان کے ساتھ زیادہ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے ساتھ زیادہ اختلاط رکھتے ہیں۔ بنا بریں اور بدویوں کی نسبت بھلائی کے زیادہ اہل ہوتے ہیں۔ ہرچند کہ کفار اور منافقین شہر اور دیہات دونوں جگہ پائے جاتے ہیں مگر دیہات میں شہر کی نسبت کفر و نفاق زیادہ شدید ہوتا ہے۔ (٤) بدوی مال و متاع کے زیادہ حریص ہوتے ہیں اور مال کے بارے میں ان میں زیادہ بخل پایا جاتا ہے۔ التوبہ
98 بدویوں ہی میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ﴿مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ﴾ ” وہ سمجھتے ہیں اس کو جسے وہ خرچ کرتے ہیں۔“ یعنی زکوٰۃ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کو ﴿مَغْرَمًا﴾ ” تاوان“ یعنی خسارہ اور نقصان اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اخروی ثواب نہیں چاہتے اور بہت ناگواری سے زکوٰۃ و صدقات ادا کرتے ہیں۔ ﴿ وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ ﴾ ” اور انتظار کرتے ہیں وہ تم پر زمانے کی گردشوں کا“ یعنی اہل ایمان کے ساتھ اپنے بغض اور عداوت کی بنا پر وہ تمہارے بارے میں گردش ایام اور مصائب زمانہ کے منتظر ہیں مگر یہ گردش ایام الٹا انہی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ﴿عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ ﴾ ” یہ بری مصیبت انہیں پر واقع ہوگی۔“ رہے اہل ایمان تو ان کے لئے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی اور ان کا انجام اچھا ہے ﴿وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ ” اور اللہ علم رکھنے والا، حکمت والا ہے۔“ وہ بندوں کی نیتوں کو خوب جانتا ہے اور بندوں سے جو اعمال اخلاص کے ساتھ اور اخلاص کے بغیر صادر ہوتے ہیں وہ ان سے بھی آگاہ ہے۔ التوبہ
99 تمام اعراب قابل مذمت نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں ﴿مَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ﴾ ” جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں“ بنا بریں وہ کفر و نفاق سے بچے ہوئے ہیں اور ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ ﴿وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَاتٍ عِندَ اللَّـهِ ﴾ ” اور جو وہ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے نزدیک ہونے میں شمار کرتے ہیں“ یعنی وہ اپنے صدقے پر ثواب کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور اس کے قرب کے قصد سے صدقہ دیتے ہیں۔ ﴿وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ﴾ ” اور رسول کی دعائیں لینے میں“ اور وہ اس صدقہ کو اپنے لئے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں اور برکت کا وسیلہ بناتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں کے فائدہ مند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿أَلَا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ ﴾ ”سنو وہ بے شک ان کے لیے موجب قربت ہے۔“ یعنی یہ صدقات اللہ تعالیٰ کی تقرب کا ذریعہ ہیں۔ صدقات سے ان کا مال بڑھتا ہے اور اس میں برکت نازل ہوتی ہے ﴿سَيُدْخِلُهُمُ اللَّـهُ فِي رَحْمَتِهِ﴾ ” اللہ ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔“ وہ ان کو اپنے جملہ نیک بندوں میں شامل کرے گا۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ ” بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ جو کوئی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنی رحمت کو اپنے تمام بندوں پر عام کرتا ہے، اس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ وہ اپنے مومن بندوں کو ایسی رحمت کے لئے مخصوص کرتا ہے جس کے تحت وہ ان کو نیکیوں کی توفیق عطا کرتا ہے اور انہیں اپنے احکام کی خلاف ورزی سے محفوظ رکھتا ہے اور انہیں مختلف انواع کے ثواب عطا کرتا ہے۔ 1۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ بدوی لوگ بھی شہروں میں رہنے والے لوگوں کی مانند ہیں ان میں قابل ستائش لوگ بھی ہیں اور قابل مذمت بھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بدویوں کی محض اس بنا پر مذمت نہیں فرمائی کہ وہ صحراؤں میں رہنے والے ہیں، بلکہ ان کی مذمت اس سبب کی بنا پر کی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اوا مرکو ترک کردیا اور اوامرو منہیات کی عدم تعمیل کی ان سے زیادہ توقع ہوتی ہے۔ 2۔ کفر اور نفاق کم یا زیادہ اور حسب احوال سخت یا نرم ہوتا رہتا ہے۔ 3۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ علم کو فضیلت حاصل ہے۔ علم سے محروم شخص، اس شخص کی نسبت شر کے زیادہ قریب ہے جو علم رکھتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اعراب کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ وہ کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر بھی کیا ہے جو اس درشتی کا موجب ہے۔ ان سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ان حدود سے ناواقف ہوں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی ہیں۔ 4۔ علم نافع، جو سب سے زیادہ نفع مند علم ہے، دین کے اصول و فروع کی حدود کی معرفت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمائی ہیں، مثلاً حدود ایمان، حدود اسلام، حدود احسان، تقویٰ، فلاح، اطاعت، نیکی، صلہ رحمی، بھلائی، کفر، نفاق، فسق و فجور، نافرمانی، زنا، شراب نوشی اور سود خوری وغیرہ کی حدود۔ ان حدود کی معرفت کے بعد ہی عارف ان حدود پر عمل پیرا ہوسکتا ہے جن پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے یا حرام ہونے کی صورت میں ترک کرنے پر قادر ہوسکتا ہے۔ 5۔ بندہ مومن کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ ان حقوق کو ادا کرے جو اس کے ذمے عائد کیے گئے ہیں اور ہمیشہ فائدہ حاصل کرنے میں کوشاں رہے اور نقصان سے بچتا رہے۔ التوبہ
100 ﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ﴾ ” جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلے“ اس سے مراد اس امت کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان، ہجرت، جہاد اور اقامت دین میں سبقت کی۔ ﴿ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ﴾ ” ہجرت کرنے والوں میں سے۔“ یعنی وہ لوگ جن کو ان کے گھروں اور مال و متاع سے بے دخل کر کے نکال دیا گیا، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رضا کی تلاش میں رہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی درحقیقت سچے لوگ ہیں۔ ﴿وَالْأَنصَارِ﴾ ” اور انصار میں سے۔“ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے مہاجرین سے پہلے، ہجرت کے گھر (یعنی مدینہ منورہ) اور ایمان میں جگہ پکڑی، جو کوئی ہجرت کر کے ان کے پاس جاتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو عطا کیا گیا ہے وہ اس کے متعلق دل میں کوئی خلش نہیں پاتے اور مہاجرین کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی کیوں نہ ہو۔ ﴿وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ﴾ ” اور جنہوں نے ان کی پیروی کی نیکی کے ساتھ“ جنہوں نے عقائد، اقوال اور اعمال میں ان مہاجرین و انصار کی پیروی کی، یہی وہ لوگ ہیں جو مذمت سے بچے ہوئے ہیں، جنہیں مدح کا بلند ترین درجہ اور اللہ کی طرف سے کرامت کا افضل ترین مقام حاصل ہے۔ ﴿ رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ﴾ ” اللہ ان سے راضی ہوگیا“ اور اللہ تعالیٰ کی رضا جنت کی نعمتوں سے بھی بڑی ہے۔ ﴿ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ﴾ ” اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔‘‘ بہنے والی وہ نہریں جو جنت، جنت کے خوبصورت پھلواریوں اور جنت کے عمدہ باغات کو سیراب کرتی ہیں۔ ﴿خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا﴾ ” ہمیشہ اس میں رہیں گے ابد تک۔“ یعنی وہ اس جنت سے کسی اور جگہ منتقل ہونا چاہیں گے نہ اس کو بدلنا، کیونکہ وہ جب بھی کسی چیز کی تمنا کریں گے اس کو حاصل کرلیں گے اور جب بھی کسی چیز کا ارادہ کریں گے اس کو موجود پائیں گے۔ ﴿ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ ” یہی ہے بڑی کامیابی۔“ جہاں انہیں ان کے نفس کی ہر محبوب چیز، روح کی لذت،دلوں کی نعمت اور بدن کی شہوت حاصل ہوگی اور بچنے کے قابل ہر چیز کو ان سے دور رکھا جائے گا۔ التوبہ
101 ﴿وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ﴾ ” اور تمہارے گرد رہنے والے گنواروں میں سے بعض منافق ہیں اور بعض مدینے والوں میں سے“ یعنی مدینہ میں بھی منافقین موجود ہیں ﴿مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ﴾ ” اڑے ہوئے ہیں وہ نفاق پر“ یعنی نفاق کے عادی ہیں اور نفاق میں ان کی سرکشی بڑھتی جا رہی ہے ﴿ لَا تَعْلَمُهُمْ ﴾ ” آپ ان کو نہیں جانتے۔“ یعنی آپ ان کے اعیان کو نہیں جانتے کہ آپ ان کو سزا دے سکیں یا ان کے نفاق کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کرسکیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ﴾ ” ہم ان کو جانتے ہیں، ہم ان کو دو مرتبہ عذاب دیں گے۔“ اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ ”تثنیہ“ کا لفظ اپنے حقیقی باب (معنی) میں استعمال ہوا ہو، تب اس سے مراد دنیا کا عذاب اور آخرت کا عذاب ہے۔ پس دنیا میں اہل ایمان کی فتح و نصرت سے ان کو جو غم و ہموم اور سخت ناگواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ دنیا کا عذاب ہے اور آخرت میں ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے اور یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم ان کو نہایت سخت عذاب دیں گے، ان کو دگنا عذاب دیں گے اور بار بار عذاب دیں گے۔ التوبہ
102 ﴿وَآخَرُونَ ﴾ ” اور دوسرے لوگ ہیں“ مدینہ اور اس کے اردگرد رہنے والے دیگر لوگ، بلکہ تمام بلا داسلامیہ کے لوگ ﴿ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ﴾ ” انہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا۔“ ان پر نادم ہوئے، پھر وہ گناہوں سے توبہ کرنے اور ان کی گندگی سے پاک و صاف ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ ﴿خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا﴾ ” ملایا انہوں نے ایک نیک کام اور دوسرا برا کام۔“ عمل اس وقت تک صالح نہیں ہوسکتا جب تک کہ بندے کے پاس توحید کی اساس اور ایمان موجود نہ ہو جو اسے کفر اور شرک کے دائرے سے باہر نکالتا ہے اور جو ہر عمل صالح کے لئے شرط ہے۔ پس ان لوگوں نے بعض محرمات کے ارتکاب کی جسارت اور بعض واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہوئے نیک اعمال کو بداعمال کے ساتھ غلط ملط کرلیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے گناہوں کو بخش دے گا۔ تو پس یہی وہ لوگ ہیں ﴿ عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ﴾ ” ممکن ہے اللہ ان کی توبہ قبول کرلے۔‘‘ اللہ تعالیٰ دو طرح سے اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ (١) اپنے بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ (٢) پھر بندے کے توبہ کرنے کے بعد اس توبہ کو قبول کرتا ہے۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ ” بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ یعنی مغفرت اور رحمت اس کا وصف ہے، کوئی مخلوق اس کی مغفرت اور رحمت سے باہر نہیں، بلکہ اس کی مغفرت اور رحمت کے بغیر تمام عالم علوی اور عالم سفلی باقی نہیں رہ سکتے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کی پاداش میں پکڑ لے تو روئے زمین پر کوئی جاندار نہیں بچے گا۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا﴾ (فاطر : 35؍41)” اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں، اگر وہ ٹل جائیں، تو اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس کو تھام سکے بے شک وہ بہت حلم والا، بخشنے والا ہے۔“ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مغفرت ہی ہے کہ اپنی جانوں پر زیادتی کرنے والے، جن کی عمریں برے اعمال میں صرف ہوتی ہیں، جب وہ اپنی موت سے تھوڑا سا پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے اس کے حضور توبہ کرلیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر کے ان کی برائیوں سے درگزر کردیتا ہے۔ پس یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس بندے کی نیکیاں اور گناہ ملے جلے ہوں، وہ اپنے گناہوں کا معترف اور ان پر نادم ہو اور اس نے خالص توبہ کی ہو، وہ خوف ورجاء کے مابین ہوتا ہے وہ سلامتی کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ اور وہ بندہ جس کی نیکیاں اور گناہ خلط ملط ہوں مگر وہ اپنے گناہوں کا معترف ہو نہ ان پر نادم ہو بلکہ وہ ان گناہوں کے ارتکاب پر مصر ہو، تو اس کے بارے میں سخت خوف ہے۔ التوبہ
103 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے قائم مقائم کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو اہل ایمان کی تطہیر اور ان کے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں، چنانچہ فرماتا ہے : ﴿ خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً﴾ ” لیں ان کے مالوں سے صدقہ“ اس سے مراد فرض زکوٰۃ ہے ﴿تُطَهِّرُهُمْ﴾ ” آپ ان کو پاک کریں“ یعنی ان کو گناہوں اور اخلاق رذیلہ سے پاک کریں ﴿وَتُزَكِّيهِم ﴾ ” اور ان کا تزکیہ کریں“ یعنی آپ ان کی نشونما کریں، ان کے اخلاق حسنہ، اعمال صالح اور ان کے دنیاوی اور دینی ثواب میں اضافہ کریں اور ان کے مالوں کو بڑھائیں۔ ﴿وَصَلِّ عَلَيْهِمْ﴾ ” اور ان کے حق میں دعا کیجئے“ تمام مومنین کے لئے عام طور پر اور خاص طور پر اس وقت جب وہ اپنے مال کی زکوٰۃ آپ کی خدمت میں پیش کریں۔ ﴿ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ﴾ ” آپ کی دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے۔“ یعنی آپ کی دعا ان کے لئے اطمینان قلب اور خوشی کا باعث ہے ﴿وَاللَّـهُ سَمِيعٌ﴾ ” اور اللہ سننے والا“ یعنی اللہ آپ کی دعا کو قبال کرنے کے لئے سنتا ہے ﴿عَلِيمٌ ﴾ ”جاننے والا ہے۔“ وہ اپنے بندوں کے تمام احوال اور ان کی نیتوں کو خوب جانتا ہے، وہ ہر شخص کو اس کے عمل اور اس کی نیت کے مطابق جزا دے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل فرمایا کرتے تھے۔ آپ ان کو صدقات کا حکم دیتے تھے اور صدقات کی وصولی کے لئے اپنے عمال بھیجا کرتے تھے، جب کوئی صدقہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ اسے قبول فرما لیتے اور اس کے لئے برکت کی دعا فرماتے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ تمام اموال میں زکوٰۃ واجب ہے، جب یہ اموال تجارت کی غرض سے ہوں تو اس کا وجوب صاف ظاہر ہے، کیونکہ مال تجارت نمو کا حامل ہوتا ہے اور اس کے ذریعے سے مزید مال کمایا جاتا ہے، لہٰذا عدل کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو زکوٰۃ فرض کی ہے اسے ادا کر کے فقرا سے ہمدردی کی جائے۔ مال تجارت کے علاوہ دیگر مال، اگر نمو اور اضافے کا حامل ہو، جیسے غلہ جات،پھل، مویشی، مویشیوں کا دودھ اور ان کی نسل وغیرہ تو اس میں زکوٰۃ واجب ہے۔ اگر مال نمو کے قابل نہ ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں، کیونکہ جب یہ مال خالص خوراک اور گزارے کے لئے ہے تو یہ ایسا مال نہیں ہے جسے انسان عادۃً متمول ہونے کے لئے رکھتا ہے جس سے مالی مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں، بلکہ اس سے مالی فوائد کی بجائے صرف گزارہ کیا جاتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انسان اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کئے بغیر ظاہری اور باطنی طور پر پاک نہیں ہوسکتا۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے سوا کوئی چیز اس کا کفارہ نہیں بن سکتی، کیونکہ زکوٰۃ تطہیر اور پاکیزگی ہے جو زکوٰۃ کی ادائیگی پر موقوف ہے۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ امام یا اس کے نائب کا زکوٰۃ ادا کرنے والے کے لئے برکت کی دعا کرنا مستحب ہے اور مناسب یہ ہے کہ امام باآواز بلند دعا کرے،تاکہ اس سے زکوٰۃ دا کرنے والے کو سکول قلب حاصل ہو۔ اس آیت کریمہ سے یہ معنی بھی نکلتا ہے کہ مومن کے ساتھ نرم گفتگو اور اس کے لئے دعا وغیرہ اور ایسی باتوں کے ذریعے سے اس کو خوش رکھا جائے جن میں اس کے لئے طمانیت اور سکون قلب ہو۔ التوبہ
104 کیا وہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اس کے فضل و کرم کے فیضان عام کو نہیں جانتے؟ ﴿ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ ﴾ ” اللہ ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے۔“ توبہ کرنے والے بندوں کی، خواہ یہ توبہ کسی بھی گناہ سے کیوں نہ ہو بلکہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے۔ ﴿وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ﴾ ” اور صدقات لیتا ہے۔“ یعنی وہ اپنے بندوں کے صدقات قبول کرتا ہے اور ان کو دائیں ہاتھ سے لیتا اور ان کے صدقات کو اس طرح بڑھاتا رہتا ہے جس طرح کوئی شخص اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے حتیٰ ٰ کہ صدقہ میں دیا گیا کھجور کا ایک دانہ بڑے پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے اور اس صدقہ کا کیا حال ہوگا جو کھجور کے دانے سے بہت بڑا اور تعداد میں بہت زیادہ ہو۔ ﴿وَأَنَّ اللَّـهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾ ” اور بے شک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔“ یعنی وہ توبہ کرنے والوں کی بہت کثرت سے توبہ قبول کرتا ہے۔ جو کوئی بھی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرلیتا ہے خواہ وہ بار بار گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کرتا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے سے اس وقت تک تنگ نہیں آتا جب تک کہ بندے توبہ کرنے سے تنگ نہ آجائیں اور اس کے دروازے سے بھاگ کر اس کے دشمن کو دوست نہ بنا لیں۔ ﴿الرَّحِيمُ﴾ ” بہت رحم کرنے والا ہے۔“ جس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے لئے لکھ دیا ہے جو زکوٰۃ دیتے ہیں، اللہ کی آیت پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے رسول کی اتباع کرتے ہیں۔ التوبہ
105 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے : ﴿وَقُلِ﴾ ” اور کہہ دیجئے !“ یعنی ان منافقین سے کہہ دیجئے ! ﴿اعْمَلُوا﴾ ”عمل کیے جاؤ۔“ یعنی تم جو اعمال بجا لانا چاہتے ہو بجا لاؤ، اپنے باطل پر جمے رہو اور یہ نہ سمجھو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ سے چھپا رہے گا۔ ﴿فَسَيَرَى اللَّـهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ﴾ ” پھر دیکھ لے گا اللہ تمہارے کام کو اور اس کا رسول اور مومن“ یعنی تمہارا عمل ضرور ظاہر ہو کر رہے گا۔ ﴿وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴾ ”اور جلد تم لوٹائے جاؤ گے اس کے پاس جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں کو جانتا ہے، پس وہ تم کو ان عملوں کی خبر دے گا جو تم کرتے تھے۔“ وہ اچھے ہوں گے یا برے۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لئے سخت وعید اور تہدید ہے جو اپنے باطل، سرکشی، گمراہی اور نافرمانی پر مصر ہے۔ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ تم جب بھی کوئی اچھا یا برا عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، وہ اس عمل کے بارے میں اپنے رسول اور اپنے مومن بندوں کو مطلع کر دے گا، خواہ وہ چھپے ہوئے ہی کیوں نہ ہوں۔ التوبہ
106 ﴿وَآخَرُونَ ﴾ ” اور کچھ دوسرے لوگ“ یعنی جہاد سے پیچھے رہ جانے والے کچھ دوسرے لوگ ﴿مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّـهِ﴾ ” جن کا کام اللہ کے حکم پر موقوف ہے۔“ یعنی جن کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر موخر ہے ﴿إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ ﴾ ” چاہے ان کو عذاب دے، چاہے ان کی توبہ قبول کرلے۔“ اس آیت کریمہ میں جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لئے سخت تخویف ہے اور ان کو توبہ کرنے اور اپنے اس عمل پر نادم ہونے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ﴿وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴾ ” اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔“ یعنی وہ تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دے اور ان کو توبہ کی توفیق نہ دے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ التوبہ
107 اہل قبا میں سے کچھ منافقین نے مسجد قبا کے پہلو میں ایک مسجد بنائی اس مسجد کی تعمیر سے ان کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور ان کے درمیان اختلاف اور افتراق پیدا کرنا تھا، نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف تخریب کاری کرنے والوں کے لئے بوقت ضرورت محفوظ پناہ گاہ تیار کرنا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو بیان کرتے ہوئے ان کا بھید ظاہر کردیا، چنانچہ فرمایا : ﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا﴾ ” اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لئے“ یعنی اہل ایمان اور ان کی اس مسجد کو نقصان پہنچانے کی خاطر جس میں اہل ایمان جمع ہو کر نماز پڑھتے تھے ﴿ وَكُفْرًا﴾ ” اور کفر کے لئے“ اس مسجد کی تعمیر میں ان کا مقصد کفر تھا جبکہ ان کے علاوہ دیگر لوگوں کا مقصد ایمان تھا۔ ﴿وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ” اور مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لئے“ تاکہ اہل ایمان مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر افتراق کا شکار ہوجائیں اور آپس میں اختلاف کرنے لگیں ﴿وَإِرْصَادًا﴾ ” اور گھات لگانے کے لئے“ یعنی تیار کرنے کے لئے ﴿ لِّمَنْ حَارَبَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ مِن قَبْلُ﴾ ” اس شخص کو جو لڑ رہا ہے اللہ اور اس کے رسول سے“ پہلے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرنے والوں کی اعانت کے لئے، جن کی جنگ اور تخریب کاری پہلے ہی سے جاری اور جن کی عداوت بہت شدید تھی، مثلاً ابو عامر راہب کی عداوت اور اس کی سازشیں۔ ابو عامر اہل مدینہ میں سے تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس نے آپ کا انکار کردیا حالانکہ وہ زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گزار شخص تھا۔ وہ مشرکین کے پاس چلا گیا، تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جنگ میں مشرکین سے مدد حاصل کرے مگر اسے اپنا مقصد حاصل نہ ہوا، چنانچہ وہ اس خیال سے قیصر روم کے پاس چلا گیا کہ وہ اس کی مدد کرے گا۔۔۔۔ مگر وہ لعین راستے ہی میں مر گیا۔ اس نے اور منافقین نے ایک دوسرے کی مدد کا وعدہ کر رکھا تھا، منافقین نے اس کی سازشوں کے لئے پناہ گاہ کے طور پر مسجد ضرار تعمیر کروائی تھی، چنانچہ اس بارے میں وحی نازل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسجد کو منہدم کرنے اور اس کو جلانے کے لئے کسی کو بھیجا۔ چنانچہ اس مسجد کو منہدم کر کے جلا دیا گیا اور اس کے بعد مسجد ضرار کی جگہ کوڑا ڈالنے کی جگہ بن گئی۔ اس مسجد کی تعمیر میں پنہاں ان کے برے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا﴾ ” اور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے نہیں ارادہ کیا“ یعنی اس مسجد کی تعمیر سے ﴿إِلَّا الْحُسْنَىٰ﴾ ” مگر بھلائی ہی کا“ یعنی کمزور، معذور اور نابینا اہل ایمان کے ساتھ بھلائی کرنا مقصود ہے۔ ﴿وَاللَّـهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ﴾ ” اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔‘‘ پس ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی گواہی ان کے حلف سے زیادہ معتبر ہے۔ التوبہ
108 ﴿لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا﴾ ” آپ اس میں کبھی کھڑے بھی نہ ہونا۔“ یعنی اس مسجد میں، جو مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کے لئے تعمیر کی گئی ہے،کبھی نماز نہ پڑھیے۔ اللہ آپ کو اس سے بے نیاز کرتا ہے اور آپ اس مسجد کے ضرورت مند بھی نہیں۔ ﴿لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ﴾ ” البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی“ قبا میں اسی مسجد سے اسلام ظاہر ہوا، اس سے مراد ” مسجد قبا“ ہے۔ جس کی اساس دین میں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص، اس کے ذکر کی اقامت اور اس کے شعائر پر رکھی گئی ہے۔ یہ قدیم اور معروف مسجد تھی۔ یہ فضیلت والی مسجد ﴿أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ﴾ ” زیادہ قابل ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوا کریں“ یعنی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں عبادت اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں، کیونکہ یہ فضیلت والی مسجد ہے، اس میں نماز پڑھنے والے فضیلت کے مالک ہیں‘ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا : ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا﴾ ” اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک رہیں“ یعنی گناہوں سے اور میل کچیل، نجاستوں اور ناپاکی سے پاک صاف رہنا پسند کرتے ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ جو کوئی کسی چیز کو پسند کرتا ہے وہ اس کے حصول کی سعی اور جہدوجہد کرتا ہے، اس لئے یہ لا بدی ہے کہ اہل قبا گناہ، میل کچیل اور حدیث سے پاک رہنے کے بہت حریص تھے۔ اس لئے وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی، جو نماز قائم کرنے والے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں جہاد کی حفاظت کرنے والے‘ اقامت دین کی کوشش کرنے والے اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت سے بچنے والے تھے۔ جب اہل قبا کی مدح میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طہارت کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے عرض کی کہ وہ استنجا کرتے وقت پتھر کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں’ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر ان کی تعریف فرمائی۔ ﴿وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾ ” اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے“ اللہ تعالیٰ معنوی طہارت یعنی شرک اور اخلاق رذیلہ سے تنزہ اور حسی طہارت یعنی نجاستوں اور حدیث سے پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔ التوبہ
109 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مسجد میں نماز پڑھنے والوں کے مقاصد اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ ان کی موافقت کے مطابق اس مسجد کی دیگر مساجد پر فضیلت بیان کی، چنانچہ فرمایا : ﴿أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ اللَّـهِ ﴾ ” بھلا جس شخص نے بنیاد رکھی اللہ کے تقویٰ پر“ یعنی جو صالح نیت اور اخلاص پر بنیاد رکھتا ہے ﴿ وَرِضْوَانٍ﴾ ” اور اس کی رضا مندی پر“ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرتے ہوئے اپنے عمل میں اخلاص اور اتباع کو جمع کرتا ہے ﴿خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ﴾ ” زیادہ بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی ایک کھائی کے کنارے پر جو گرنے کو ہے“ یعنی کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر، جو منہدم ہونے کے قریب ہو۔ ﴿فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ۗ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴾ ” پھر وہ اس کو لے کر گر پڑا جہنم کی آگ میں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا“ کیونکہ اس (مسجد ضرار) کے گرانے میں (اہل حق) کے دین اور دنیا کے مصالح ہیں۔ التوبہ
110 ﴿لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ ﴾ ” ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انہوں نے بنائی، ان کے دلوں میں شبہ“ یعنی شک اور ریب، جو ان کے دل میں جڑ پکڑ گیا ﴿إِلَّا أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ﴾ ” مگر یہ کہ ٹکڑے ہوجائیں ان کے دل کے“ سوائے اس کے کہ انتہائی ندامت کی بنا پر ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں، وہ اپنے رب کی طرف توبہ کے ساتھ رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈریں، تب اس بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا۔ ورنہ یہ مسجد جو انہوں نے بنائی ہے ان کے شک و ریب اور نفاق میں اضافہ کرتی چلی جائے گی۔ ﴿وَاللَّـهُ عَلِيمٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کے ظاہر و باطن اور ان کے خفی اور جلی تمام پہلوؤں کو جانتا ہے، نیز وہ ان باتوں کو بھی خوب جانتا ہے جو بندے چھپاتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں۔ ﴿حَكِيمٌ﴾ وہ صرف وہی کام کرتا ہے یا تخلیق کرتا ہے یا وہ حکم دیتا ہے یا منع کرتا ہے، جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے فللّٰہ الحمد۔ ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں : (١) کوئی ایسی مسجد تعمیر کرنا جس سے کسی دوسری مسجد کو نقصان پہنچانا مقصود ہو جو اس کے قرب موجود ہے، حرام ہے، نیز یہ کہ ایسی مسجد ضرار کو، جس کی تعمیر کرنے والوں کا مقصد ظاہر ہو، منہدم کرنا واجب ہو۔ (٢) کام خواہ کتنا ہی فضیلت والا کیوں نہ ہو، فاسد نیت اس کی نوعیت کو بدل ڈالتی ہے، تب وہی کام ممنوع ہوجاتا ہے، جیسے مسجد ضرار کی تعمیر کرنے والوں کی بری نیت نے ان کے اس نیک کام کو برائی میں بدل ڈالا۔ (٣) ہر وہ حالت جس کے ذریعے سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا کیا جائے، گناہ شمار ہوتی ہے اس کو ترک کرنا اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔ اسی طرح ہر وہ حالت جس سے اہل ایمان میں اتفاق اور الفت پیدا ہوتی ہے، اس کی پیروی کرنا، اس کا حکم اور اس کی ترغیب دینا ضروری ہے، کیونکہ اس کے مسجد ضرار تعمیر کرنے کی یہ علت بیان کی ہے کہ یہ ان کا فاسد مقصد تھا جو اس مسجد کے ممنوع ہونے کا موجب بنا، جیسے یہ مسجد کفر اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کی موجب ہے۔ (٤) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے معصیت کے مقامات میں نماز پڑھنے اور ان کے قریب جانے سے روکا ہے۔ (٥) گناہ زمین کے ٹکڑوں کو متاثر کرتے ہیں جیسے ان منافقین کے گناہ مسجد ضرار پر اثر انداز ہوئے اور اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح نیکی زمین کے ٹکڑوں پر اثر انداز ہوتی ہے جیسے مسجد قبا پر اثر انداز ہوئی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کے بارے میں فرمایا : ﴿لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ﴾ بنا بریں مسجد قبا کو یہ فضیلت حاصل ہے جو کسی دوسری مسجد جو حاصل نہیں ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ہفتے مسجد قبا کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے اور اس میں نماز پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ (٦) آیت کریمہ میں مندرجہ بالا تعلیل سے چار اہم شرعی قاعدے بھی مستفاد ہوتے ہیں۔ (الف) ہر وہ کام جس سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچتا ہو یا اس میں اللہ کی نافرمانی ہو۔۔۔۔ اور نافرمانی کفر کی ایک شاخ ہے۔۔۔۔ یا جس سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا ہوتا ہو یا اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عداوت رکھنے والے کی اعانت ہوتی ہو، تو یہ کام ممنوع اور حرام ہے۔ اس کے برعکس اور متضاد تمام کام مستحب ہیں۔ (ب) چونکہ مسجد قبا وہ مسجد ہے جس کی اساس تقویٰ پر کھی گئی ہے (اس کی یہ فضیلت ہے) جبکہ مسجد نبوی جس کی بنیاد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے رکھی، آپ نے اس میں کام بھی کیا، اللہ تعالیٰ نے بھی اس مسجد کو آپ کے لئے چن لیا، تو اس مسجد کی بنیاد بھی تقویٰ پر ہے اور یہ فضیلت میں زیادہ اولیٰ ہے۔ (ج) وہ عمل جو اخلاص اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مبنی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے گا۔ (د) وہ عمل جو برے مقصد اور بدعت و ضلالت پر مبنی ہے یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو جہنم میں لے گرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کی راہ نمائی نہیں کرتا۔ التوبہ
111 اللہ تبارک و تعالیٰ سچی خبر دیتا ہے، ایک عظیم بیع اور ایک بہت بڑے معاوضے کا سچا وعدہ کرتا ہے اور وہ بیع یہ ہے کہ ﴿اشْتَرَىٰ﴾ ” اس نے خرید لیا۔“ یعنی اللہ نے بنفس نفیس خرید لیا ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم ﴾ ” مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو“ یعنی ان کی جان اور ان کے مال کی قیمت لگا دی گئی ہے اور یہ فروخت شدہ مال تجارت ہے۔ ﴿بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ﴾ ” اس کے بدلے میں ان کے لئے (وہ) جنت ہے“ جس میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی نفس خواہش کریں گے اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، یعنی انواع و اقسام کی لذتیں، فرحتیں، مسرتیں، خوبصورت حوریں اور دلکش مکانات ہوں گے۔ اس عقد و بیع کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر، اس کے دشمنوں کے خلاف جہاد میں، اس کے کلمہ کو سر بلند کرنے اور اس کے دین کو غالب کرنے کے لئے اپنی جان اور مال خرچ کرتے ہیں۔ ﴿يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ﴾ ” وہ لڑتے ہیں اللہ کے راستے میں، پس مارتے ہیں اور مارے جاتے ہیں“ یہ عقد و بیع بہت سی تاکیدات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی ہے ﴿وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ﴾ ”وعدہ ہوچکا ہے اس کے ذمے سچا، تورات میں، انجیل میں اور قرآن میں۔“ جو ان تمام کتابوں میں سب سے افضل و اعلیٰ کتاب ہے اور یہ کتابیں سب سے کامل کتابیں ہیں جو اس دنیا میں بھیجی گئیں اور ان کتابوں کو لانے والے سب سے کامل اور اولوالعزم رسول ہیں، یہ تمام کتابیں اس سچے وعدے پر متفق ہیں۔ ﴿وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّـهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا﴾ ” اور کون ہے اللہ سے زیادہ قول کا پورا، پس خوشی کرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر قائم رہنے والے مومنو ! ﴿بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ﴾ ” اس سودے پر جو تم نے اس سے کیا ہے“ تاکہ تم راضی اور خوش ہوجاؤ، ایک دوسرے کو خوشخبری دو اور ایک دوسرے کو جہاد کی ترغیب دو ﴿ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ ” اور یہی بڑی کامیابی ہے۔“ جس سے بڑی اور جلیل القدر اور کوئی کامیابی نہیں، کیونکہ یہ کامیابی ابدی سعادت، دائمی نعمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا، جو کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے، کو متضمن ہے۔ اگر آپ اس معاہدہ بیع کی قدر و منزلت کو جاننا چاہیں تو خریدار کی طرف دیکھیں کہ وہ کون ہے؟ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات گرامی ہے اور اس عوض کی طرف نظر کریں جو سب سے بڑا معاوضہ ہے اور اس معاوضے میں سب سے جلیل القدر چیز جنت ہے اور اس قیمت پر غور کریں جو اس معاوضے کے بدلے میں خرچ کی گئی ہے اور وہ ہے جان اور مال جو انسان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب چیز ہے اور اس ہستی کی طرف دیکھیں جس کے ہاتھ پر یہ معاہدہ بیع منعقد ہوا ہے، وہ تمام رسولوں میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہستی ہے۔ یہ معاہدہ کون سی کتابوں میں رقم کیا گیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی عظیم کتابوں میں یہ معاہدہ تحریر کیا گیا ہے جو مخلوق میں سب سے افضل ہستیوں پر نازل کی گئی ہیں۔ التوبہ
112 گویا کہ سوال کیا گیا ہے کہ وہ مومن کون ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں داخلے اور اس کی طرف سے عزت و اکرام کی خوشخبری ہے؟ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿التَّائِبُونَ﴾ ” توبہ کرنے والے“ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو ہر وقت تمام گناہوں سے توبہ کا التزام کرنے والے ہیں ﴿الْعَابِدُونَ﴾ ” عبادت کرنے والے“ جو اللہ تعالیٰ کے لئے عبودیت کی صفت سے متصف ہیں، ہر وقت واجبات و مستحبات کی ادائیگی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی دائمی اطاعت کا التزام کرتے ہیں۔ جس کی بنا پر بندہ عبادت گزاروں میں شمار ہوتا ہے۔ ﴿الْحَامِدُونَ ﴾ ” حمد کرنے والے“ جو رنج و راحت، تنگ دستی اور خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا اعتراف کرتے رہتے ہیں۔ دن رات ان نعمتوں کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذریعے سے اس کی مدح و ثنا میں مصروف رہتے ہیں۔ ﴿السَّائِحُونَ﴾ ” سیاحت کرنے والے“ سیاحت کی تفسیر روزوں سے کی گئی ہے، یا طالب علم کے لئے سفر کرنے سے کی گئی ہے اور سیاحت کی تفسیر اللہ تعالیٰ کی معرفت و محبت اور اس کی طرف دائمی انابت میں قلب کی سیاحت سے کی گئی ہے۔ مگر اس کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ سیاحت سے مراد اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لئے حج، عمرہ، جہاد، طلب علم اور اقارب سے ملنے کے لئے سفر کرنا ہے۔ ﴿الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ﴾ ” رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے“ یعنی کثرت سے نماز پڑھتے ہیں جو رکوع و سجود پر مشتمل ہے۔ ﴿الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ” نیک بات کا حکم دینے والے ہیں“ اس میں تمام واجبات و مستحبات داخل ہیں ﴿ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ ﴾ ” بری بات سے روکنے والے ہیں۔“ اس میں وہ تمام امور شامل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روکا ہے۔ ﴿وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّـهِ﴾ ” اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں“ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو حدود نازل فرمائی ہیں’۔ یعنی اوامر و نواہی اور احکام میں کیا چیز داخل ہے اور کیا چیز داخل نہیں ہے’ ان کا علم حاصل کر کے ان حدود کی حفاظت کرتے ہیں اور ترکا اور فعلا ان کا التزام کرتے ہیں۔ ﴿ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ ” اور مومنوں کی خوش خبری سنا دیجئے“ یہاں اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں فرمایا کہ اہل ایمان کے لئے کسی چیز کی خوشخبری ہے تاکہ یہ خوشخبری دین و دنیا اور آخرت کے ثواب کو شامل ہو جو ایمان پر مترتب ہوتا ہے۔ یہ خوشخبری ہر مومن کے لئے ہے۔ رہی اس خوشخبری کی مقدار اور اس کا وصف تو اہل ایمان کے احوال’ ان کے ایمان کی قوت’ ضعف اور اس کے تقاضے پر عمل کے مطابق ہوتی ہے۔ التوبہ
113 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل ایمان کے لائق ہے نہ ان کے لئے زیبا ہے۔ ﴿أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ ” کہ وہ ان لوگوں کے لئے استغفار کریں جنہوں نے (کفر یا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو) شریک کیا۔“ ﴿وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ﴾ ” اگرچہ وہ رشتے دار ہوں، اس بات کے واضح ہوجانے کے بعد کہ وہ جہنمی ہیں“ کیونکہ اس حال میں ان کے لئے بخشش کی دعا کرنا غلط اور ان کے لئے غیر مفید ہے، اس لئے یہ استغفار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل ایمان کی شان کے لائق ہیں،کیونکہ جب وہ شرک کی حالت میں مر گئے یا یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ وہ شرک کی حالت میں مریں گے تو ان پر عذاب اور جہنم میں ہمیشہ رہنا واجب ہوگیا کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت اور ان کی بخشش کی دعا کرنے والے کی دعا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل ایمان پر واجب ہے کہ اپنے رب کی رضا اور ناراضی کے بارے میں اس کی موافقت کریں جس کو اللہ تعالیٰ نے دوست بنایا ہے اس سے موالات رکھیں اور جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دشمن قرار دیا ہے اس سے عداوت رکھیں اور جس شخص کے بارے میں یہ واضح ہوچکا ہو کہ وہ جہنمی ہے اس کے لئے استغفار کرنا اس کے منافی اور متناقض ہے۔ اگر اللہ رحمٰن کے خلیل ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کے لئے استغفار کیا تھا ﴿عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ﴾ تو ایک وعدے کی بنا پر تھا جو انہوں نے اپنے باپ کے ساتھ ان الفاظ میں کیا تھا ﴿سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي ۖ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا ﴾ (مریم : 19؍47) ”میں اپنے پروردگار سے آپ کے لئے ضرور دعا کروں گا کہ وہ آپ کو بخش دے کیونکہ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔“ دا کا یہ وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کیا تھا جب آنجناب علیہ السلام کو اپنے باپ کے انجام کا علم ہوا تھا۔ التوبہ
114 جب ابراہیم علیہ السلام پر واضح ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اسے موت بھی کفر ہی پر آئے گی اور وعظ و نصیحت نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا ﴿تَبَرَّأَ مِنْهُ﴾ ” تو اس سے بیزار ہوگئے۔“ یعنی اپنے رب کی موافقت اور اس کی اتباع میں اس سے بیزاری کا اعلان کردیا۔ ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ ﴾ ” کچھ شک نہیں کہ ابراہیم علیہ السلام بڑے نرم دل تھے۔“ حضرت ابراہیم علیہ السلام تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت زیادہ رجوع کرنے والے اور بہت کثرت سے ذکر، دعا، استغفار کرنے والے اور اپنے رب کی طرف پلٹنے والے تھے۔ ﴿حَلِيمٌ﴾ ”نہایت بردبار تھے۔“ یعنی وہ مخلوق الٰہی پر بہت مہربان اور اپنے حق میں ان سے صادر ہونے والی کوتاہیوں اور لغزشوں سے درگزر کرنے والے تھے۔ جہلاء کی جہالت انہیں آپے سے باہر نہیں کرسکتی تھی۔ وہ کسی مجرم کا مقابلہ جرم کے ذریعے سے نہیں کرتے تھے۔ ان کے باپ نے ان سے کہا : ﴿ لَأَرْجُمَنَّكَ﴾ (مریم : 19؍46) ” میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔“ جواب میں آپ نے فرمایا : ﴿سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّ﴾ (مریم : 19؍47) ” آپ پر سلامتی ہو میں اپنے رب سے آپ کے لئے بخشش طلب کرتا رہوں گا۔“ پس تم پر واجب ہے کہ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی اور ہر معاملے میں ملت ابراہیم علیہ السلام کی اتباع کرو، سوائے آپ کے اس قول کے ﴿إِلَّا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ﴾ (الممتحنۃ: 60؍4) ” ابراہیم علیہ السلام کے اس قول کے سوا جو انہوں نے باپ سے کہا تھا کہ میں آپ کے لئے مغفرت طلب کرتا رہوں گا۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : التوبہ
115 یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہدایت سے نوازتا ہے اور اسے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کا حکم دیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر اپنے احسان کی تکمیل کرتا ہے اور ان تمام ا مور کو ان پر واضح کردیتا ہے جن کے وہ محتاج ہیں اور ضرورت جن کا تقاجا کرتی ہے، پس وہ ان کے دین کے امور کے بارے میں گمراہ اور جاہل نہیں چھوڑتا۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کی دلیل ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت بندوں کی ان تمام ضروریات کو پورا کرتی ہے جن کے وہ اپنے دین کے اصول و فروع میں محتاج ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَ﴾ ” اللہ ایسا نہیں کہ وہ کسی قوم کو راہ راست دکھانے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان پر وہ امور واضح نہ کر دے جن سے وہ بچیں۔‘‘ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان پر وہ تمام امور واضح فرما دیتا ہے جن سے ان کو پرہیز کرنا چاہئے اور وہ ان پر عمل پیرا نہیں ہوتے، تو اللہ تعالیٰ ان کو واضح حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کردیتا ہے، لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾ ” بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔“ یعنی اس کا کامل اور ہر چیز کو شامل علم ہی ہے کہ اس نے تمہیں ان امور کی تعلیم دی جنہیں تم نہ جانتے تھے اور ہر وہ چیز تم پر واضح کردی ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو۔ التوبہ
116 ﴿إِنَّ اللَّـهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يُحْيِي وَيُمِيتُ﴾ ” بے شک اللہ ہی ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔“ یعنی وہ زمین و آسمان کا مالک ہے وہ زندگی اور موت اور مختلف انواع کی تدابیر کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے جب اس کی تدبیر کونی و قدری میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا تو تدبیر دینی میں، جو اس کی الوہیت سے متعلق ہے، کیوں کر خلل واقع ہوسکتا ہے، وہ اپنے بندوں کو کیوں کر بیکار اور مہمل یا جاہل اور گمراہ چھوڑ سکتا ہے، حالانکہ وہ اپنے بندوں کا سب سے بڑا سرپرست ہے؟ بنا بریں فرمایا : ﴿وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ مِن وَلِيٍّ﴾ ” اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی نہیں“ جو تمہاری سرپرستی کرے اور تمہیں مختلف قسم کی منفعتیں عطا کرے۔ ﴿وَلَا نَصِيرٍ﴾ ” اور نہ کوئی مددگار“ جو تم سے مضرتیں دور کر کے تمہاری مدد کرے۔ التوبہ
117 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان ہے کہ ﴿تَّابَ اللَّـهُ عَلَى النَّبِيِّ﴾ ” مہربان ہوا وہ اپنے پیغمبر پر“ ﴿وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ﴾ ” اور مہاجرین اور انصار پر“ پس ان کی تمام لغزشیں معاف کردیں’ انہیں بے شمار نیکیاں عطا کیں اور انہیں بلند ترین مراتب پر فائز فرمایا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے نہایت مشکل اور مشقت سے لبریز عمل کئے، اسی لئے فرمایا: ﴿لَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ﴾ ” جو ساتھ رہے اس پیغمبر کے مشکل کی گھڑی میں“ یعنی وہ غزوہ تبوک میں دشمن کے ساتھ جنگ کے لئے آپ کے ساتھ نکلے، سخت گرمی کا موسم تھا، سامان سفر اور سواریوں وغیرہ کی قلت اور دشمن کی افرادی تعداد زیادہ تھی۔ یہ ایسے حالات تھے جو لوگوں کے پیچھے رہنے کا باعث بنے ہیں۔ پس اس صورت میں وہ اللہ تعالیٰ سے مدد کے طالب گار ہوئے اور اس پر قائم رہے ﴿مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ﴾ ” بعد اس کے کہ قریب تھا کہ دل پھرجائیں ان میں سے کچھ لوگوں کے“ یعنی ان کے دل آرام و راحت اور سکون کی طرف مائل تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا کی، ان کی تائید کی اور ان کو قوت سے نوازا اور زیغ قلب (دل کے پھر جانے) سے مراد ہے قلب کا صراط مستقیم سے انحراف کرنا۔ اگر یہ انحراف اصول دین میں ہو تو یہ کفر ہے اور اگر انحراف شرائع کے احکام میں ہو تو یہ انحراف اس حکم شریعت کے مطابق ہوگا جس سے انحراف کیا گیا ہے۔ یہ انحراف یا تو اس حکم شریعت پر عمل کی کوتاہی کے سبب سے ہوتا ہے یا اس شرعی حکم پر غیر شرعی طریقے سے عمل کرنے کے باعث ہوتا ہے فرمایا : ﴿ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ﴾ ” پھر وہ مہربان ہوا ان پر“ یعنی اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ ﴿إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ﴾ ” بے شک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔“ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و رافت ہے کہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا پھر ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور ان کو اس توبہ پر ثابت قدم رکھا۔ التوبہ
118 ﴿وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا﴾ ” اور ان تینوں پر پھر (اللہ مہربان ہوا) جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔“ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان تین حضرات کی توبہ قبول کرلی جو اس غزوہ میں جہاد کے لئے مسلمانوں کے ساتھ نہ نکل سکے تھے۔ وہ تھے کعب بن مالک اور ان کے ساتھی (ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم ) ان کا قصہ صحاح اور سنن میں مشہور و معروف ہے۔ [صحيح بخاري، كتاب التفسير، باب ﴿و علي الثلاثة .... الخ﴾ حديث: 4677] ﴿حَتَّىٰ إِذَا﴾ یہاں تک کہ جب وہ بہت زیادہ غم زدہ ہوگئے ﴿وَ ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ﴾ ” اور زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی“ یعنی اپنی وسعت اور کشادگی کے باوجود ﴿وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ ﴾ ” اور تنگ ہوگئیں ان پر ان کی جانیں“ جو کہ انہیں ہر چیز سے زیادہ محبوب تھیں۔ پس کشادہ فضا ان کے لئے تنگ ہوگئی اور ہر محبوب چیز ان کے لئے تنگ ہوگئی جو عادۃً کبھی ان کے لئے تنگ نہ تھی۔ یہ صورت حال صرف اسی وقت ہوتی ہے جب کوئی انتہائی گھبراہٹ والا معاملہ ہو جو شدت اور مشقت میں اس حد تک پہنچ گیا ہو جس کی تعبیر ممکن نہ ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے۔ ﴿وَظَنُّوا أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ اللَّـهِ إِلَّا إِلَيْهِ ﴾ ” اور وہ سمجھ گئے کہ کہیں پناہ نہیں اللہ سے مگر اسی کی طرف“ یعنی انہیں یقین ہوگیا اور اپنے حال کے ذریعے سے ان کو معلوم ہوگیا کہ ان سختیوں سے نجات دینے والا اور جس کے پاس پناہ لی جائے اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا کوئی نہیں، تب مخلوق کے ساتھ ان کا تعلق منقطع ہوگیا اور انہوں نے اپنے رب کے ساتھ اپنا تعلق جوڑ لیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بھاگ کر اللہ ہی کے پاس پناہ لی۔ وہ پچاس راتوں تک اس شدت اور کیفیت میں مبتلا رہے۔ ﴿ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ﴾ ” پھر مہربان ہوا ان پر“ یعنی اللہ نے ان کو توبہ کی اجازت دے دی اور ان کو توبہ کی توفیق سے نواز دیا ﴿ لِيَتُوبُوا﴾ ” تاکہ وہ توبہ کریں۔“ تاکہ ان کی طرف سے توبہ واقع ہو اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لے ﴿إِنَّ اللَّـهَ هُوَ التَّوَّابُ﴾ ” بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ بہت کثرت سے توبہ قبول کرتا ہے، بہت کثرت سے معاف کرتا ہے اور بہت کثرت سے لغزشوں اور نقائص کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ الرَّحِيمُ﴾ عظیم رحمت اس کا وصف ہے جو ہر آن، ہر وقت اور ہر لحظہ اس کے بندوں پر نازل ہوتی رہتی ہے جس سے ان کی دنیاوی اور دینی امور سر انجام پاتے ہیں۔ (١) ان آیات کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کی توبہ قبول کرنا، جلیل ترین مقصد اور بلند ترین منزل ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے توبہ کو اپنے خاص بندوں کا مقام و منزل قرار دیا ہے۔ جب بندے ایسے اعمال کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور جن سے وہ راضی ہے، تو اللہ تعالیٰ ان کو توبہ کی منزل سے نوازتا ہے۔ (٢) اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ان پر سایہ کناں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہلا دینے والے مصائب کے وقت ان کے ایمان میں ثابت قدم اور استقامت عطا کرتا ہے۔ (٣) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ نفس پر شاق گزرنے والی عبادت ایسی فضیلت کی حامل ہوتی ہے جو کسی اور عبادت میں نہیں ہوتی۔ عبادت میں مشقت جتنی زیادہ ہوگی اجر اتنا ہی بڑا ہوگا۔ (٤) بندے کی اپنے گناہ پر ندامت اور تاسف کے مطابق اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ جو کوئی گناہ کی پرواہ نہیں کرتا اور گناہ کے ارتکاب پر کوئی حرج محسوس نہیں کرتا، تو اس کی توبہ عیب دار اور کھوکھلی ہے اگرچہ وہ اس زعم میں مبتلاہوتا ہے کہ اس کی توبہ مقبول ہے۔ (٥)جب قلب مخلوق سے کٹ کر کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ متعلق ہوجائے، تو یہ بھلائی اور شدت (تنگی) کے زوال کی علامت ہے۔ (٦)ان تینوں اصحاب پر یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے ان کوکسی ایسے وصف سے موصوف نہیں کیا جو ان کے لئے عار کا باعث ہو، چنانچہ فرمایا : ﴿ خُلِّفُوا﴾ ” جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے“ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل ایمان ان کو پیچھے چھوڑ گئے تھے یا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو ان لوگوں سے پیچھے چھوڑ دیا گیا، جن کو ان کی معذرت کے قبول یارد کے سلسلے میں علیحدہ کردیا گیا تھا اور یہ ان کا پیچھے رہ جانا بھلائی سے روگردانی کی بناء پر نہ تھا، اسی لئے ﴿تَخَلَّفُوا﴾ کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ (٧) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو صدق سے نوازا اور اسی لئے ان کی اقتدار کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا : التوبہ
119 ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ﴾ ” اے اہل ایمان ! اللہ سے ڈرتے رہو۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اور ان امور پر ایمان رکھنے والو ! جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی منہیات سے اجتناب اور ان سے دور رہ کر تقویٰ کا التزام۔ ﴿وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ ” اور سچوں کے ساتھ رہو۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے ساتھ رہو جو اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچے ہیں۔ جن کے اقوال سچے ہیں، جن کے اعمال و احوال صدق پر مبنی ہیں، جو کسل مندی اور فتور سے خالی اور برے مقاصد سے محفوظ ہیں، جو اخلاص اور نیک نیتی پر مشتمل ہیں۔ صدق نیکی کی طرف راہ نمائی کرتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿هَـٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ ۚ﴾ (المائدۃ: 5؍119) ” آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی راست بازی فائدہ دے گی۔ “ التوبہ
120 اللہ تبارک و تعالیٰ مدینہ منورہ میں رہنے والے مہاجرین و انصار اور مدینہ منورہ کے ارد گرد رہنے والے اعراب کو، جو اسلام لائے اور انہوں نے اپنے اسلام کو صحیح کرلیا، ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُوا عَن رَّسُولِ اللَّـهِ﴾ ” اور نہیں چاہئے مدینے والوں کو اور ان کے ارد گرد رہنے والے گنواروں کو کہ وہ پیچھے رہ جائیں رسول اللہ کے ساتھ سے“ یعنی یہ بات ان کو زیبا نہیں اور نہ ان کے احوال کے لائق ہے ﴿وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنفُسِهِمْ﴾ ” اور نہ یہ کہ وہ اپنی جانوں کو چاہیں“ اپنے نفس کی بقاء اور اپنی راحت و سکون کی خاطر ﴿عَن نَّفْسِهِ ۚ﴾ ” رسول کی جان سے زیادہ“ یعنی اپنے نفس کی تو حفاظت کریں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفس زکیہ و کریمہ کی حفاظت سے روگردانی کریں، بلکہ اس کے برعکس انکا رویہ یہ ہونا چاہئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ا ہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی ذات پر مقدم رکھے اور آپ پر اپنی جان قربان کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم، آپ سے محبت اور آپ پر کامل ایمان کی علامت یہ ہے کہ اہل ایمان آپ کو چھوڑ کر پیچھے نہ رہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس ثواب کا ذکر فرمایا جو جہاد کے لئے نکلنے پر آمادہ کرتا ہے۔ فرمایا : ﴿ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ﴾ ” یہ اس واسطے کہ وہ“ یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے ﴿لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلَا نَصَبٌ﴾ ”نہیں پہنچتی ان کو کوئی پیاس اور نہ محنت“ یعنی تھکان اور مشقت ﴿وَلَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ﴾ ” اور نہ بھوک اللہ کی راہ میں۔“ ﴿وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ﴾ ” اور نہیں قدم رکھتے کہیں جس سے کہ خفا ہوں کافر“ یعنی ان کے دیار میں گھس جانے اور ان کے وطن پر قبضہ کر لینے کی وجہ سے ﴿وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا ﴾ ” اور نہیں چھینتے وہ دشمن سے کوئی چیز“ مثلاً لشکر یا سریہ کے ذریعہ سے فتح و ظفر یا مال غنیمت کا حصول ﴿إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ ۚ﴾ ” مگر اس کے بدلے ان کے لئے نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے“ کیونکہ یہ وہ آثار ہیں جو ان کے اعمال سے جنم لیتے ہیں۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾ ” کچھ شک نہیں کہ اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔“ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے احسن طریقے سے آگے بڑھتے ہیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرتے ہیں۔ پس یہ اعمال ان کے عمل کے آثار ہیں۔ پھر فرمایا : التوبہ
121 ﴿وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا ﴾ ” اور نہیں خرچ کرتے ہیں کوئی خرچ چھوٹا اور نہ بڑا اور نہیں طے کرتے کوئی میدان“ یعنی دشمن کی طرف جانے کے لئے ﴿إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّـهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ” مگر لکھ لیا جاتا ہے ان کے لئے، تا کہ بدلہ دے انکو اللہ بہتر اس کام کا جو وہ کرتے تھے“ اور اسی میں یہ اعمال بھی شامل ہیں جب ان میں خیر خواہی اور اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص ہو۔ ان آیات کریمہ میں نفوس کے لئے جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب اور ان کو شوق دلایا گیا ہے اور جہاد میں تکالیف پہنچنے پر ثواب کی امید دلائی گئی ہے نیز یہ کہ جہاد ان کے لئے ترقی درجات کا باعث ہے۔ نیز ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بندہ مومن کے عمل پر مترتب ہونے والے آثار میں بہت بڑا اجر ہے۔ التوبہ
122 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان چیزوں سے آگاہ کرتے ہوئے، جو ان کے لائق ہیں، فرماتا ہے : ﴿وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً﴾ ” اور ایسے تو نہیں مومن کہ کوچ کریں سارے“ یعنی یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تمام کے تمام مومن دشمن کے خلاف جنگ کے لئے نکل پڑیں، کیونکہ اس طرح وہ مشقت میں پڑجائیں گے اور بہت سے دیگر مصالح فوت ہوجائیں گے۔ ﴿فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ ﴾ ” پس کیوں نہ نکلا ہر گروہ میں سے“ یعنی شہروں، قبیلوں اور خاندانوں میں سے ﴿ طَائِفَةٌ﴾ ” ان کا ایک حصہ“ جس سے ان کا مقصد اور کفایت حاصل ہوجاتی تو یہ بہتر تھا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ جو لوگ جہاد کے لئے نہیں نکلے اور پیچھے ٹھہر گئے ان کے نہ نکلنے میں کچھ مصالح تھے جو گھر سے نکلنے کی صورت میں ضائع ہوجاتے۔ پس فرمایا : ﴿لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ﴾ ” تاکہ وہ سمجھ حاصل کریں دین میں“ یعنی پیچھے بیٹھ رہنے والے ﴿وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ﴾ ” اور تاکہ ڈرائیں وہ اپنی قوم کو جب وہ لوٹیں ان کی طرف“ تاکہ وہ علم شریعت حاصل کرتے، اس کے معافی کی معرفت حاصل کرتے اور پھر دوسروں کو تعلیم دیتے اور جب واپس لوٹتے تو اپنی قوم کو ڈراتے۔۔۔ اس سے علم کی فضیلت مستفاد ہوتی ہے خاص طور پر دین میں سمجھ کی فضیلت، نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تفقہ فی الدین بہت اہم معاملہ ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی کسی قسم کا علم حاصل کرتا ہے تو اس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اس علم کو اللہ کے بندوں میں پھیلائے۔ اس بارے میں ان کے ساتھ خیر خواہی کرے، کیونکہ عالم سے علم کا پھیلنا اس کی برکت اور اس کا اجر ہے جو بڑھتا رہتا ہے۔ رہا عالم کا اپنے آپ پر اقتصار کرنا، حکمت و دانائی اور بہترین نصیحت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت نہ دینا، جہال کو ان امورکی تعلیم دینا ترک کردینا جو وہ نہیں جانتے۔۔۔۔۔ تو اس کے علم سے مسلمانوں کو کون سا فائدہ حاصل ہوا اور اس کے علم کا کیا نتیجہ نکلا؟ بس اس کی انتہا یہ ہے کہ اس عالم کے مر جانے کے ساتھ اس کا علم بھی موت کی آغوش میں چلا جائے گا۔ یہ اس شخص کی حرماں نصیبی کی انتہا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم و فہم سے نوازا۔ نیز اس آیت کریمہ میں ایک اہم فائدہ کی طرف راہنمائی اور نہایت لطیف اشارہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے مصالح عامہ میں سے ہر مصلحت کے لئے کچھ لوگوں کو تیار کریں جو ان مصالح کا انتظام کریں اور ان مصالح کے حصول کے لئے ہمہ وقت جدوجہد کریں اور وہ دیگر امور کی طرف التفات نہ کریں، تاکہ ان مصالح کا اچھی طرح انتظام ہو، تاکہ مسلمانوں کے مفادات کی تکمیل ہو اور تمام مسلمانوں کا مقصد ایک ہو اور وہ ہے ان کے دین و دنیا کے مصالح کا قیام۔ اگرچہ راستے مختلف ہوں، مشرب متعدد ہوں، کام ایک دوسرے سے جدا ہوں، مگر مقصد ایک ہو۔ تمام امور میں یہ عام حکمت نافعہ ہے۔ التوبہ
123 جنگی معاملات کی تدبیر میں اہل ایمان کی راہ نمائی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف راہنمائی فرمائی ہے کہ ان کفار سے ابتدا کی جائے جو سب سے قریب ہیں ان کے ساتھ رویہ سخت رکھا جائے اور جنگ میں ان کا نہایت سختی، بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ﴾ ” اور جان رکھو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔“ یعنی تمہیں یہ علم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد تقویٰ کے مطابق نازل ہوتی ہے، اس لئے تقویٰ کا التزام کرو، اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے دشمن کے خلاف تمہیں نصرت سے نوازے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد : ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ ﴾ ” قریب کے کافروں سے قتال کرو۔“ عام ہے، تاہم جب مصلحت اس بات کا تقاضا کرے کہ ان کافروں کے ساتھ لڑائی کی جائے جو قریب نہیں ہیں، تو اس وقت ایسا کرنا ضروری ہوگا اور یہ خاص حکم اس عموم سے مستثنیٰ ہوگا، کیونکہ مصالح کی اقسام تو بے شمار ہیں۔ التوبہ
124 نزول قرآن کے وقت منافقین اور اہل ایمان کا جو حال ہوتا ہے، اور اس وقت ان کے درمیان جو تفاوت ہوتا ہے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ ﴾ ” اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے“ جس کے اندر او امر و نواہی نازل کئے گئے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنے بارے میں خبر دی گئی ہو، امور غائبہ سے آگاہ کیا گیا ہو اور جہاد کی ترغیب دی گئی ہو۔ ﴿فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ﴾ ” تو ان میں سے بعض کہتے ہیں، تم میں سے کس کا ایمان اس سورت نے زیادہ کیا؟“ یعنی دونوں گروہوں میں سے اسے استفہام حاصل ہے جسے اس سورت پر ایمان حاصل ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان دونوں گروہوں کا حال واقع بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا﴾ ” پس جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، ان کا ایمان اس سورت نے زیادہ کردیا“ اس سورت کے علم، اس کے فہم، اس پر اعتقاد، اس پر عمل، بھلائی کا کام میں رغبت اور برائی کے کام سے رکنے کے ذریعے سے ان لوگوں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جو اہل ایمان ہیں۔ ﴿وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ﴾ ” اور وہ خوشخبری حاصل کرتے ہیں“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو جو اپنی آیت سے نوازا ہے اور ان کا فہم حاصل کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق بخشی ہے اس پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کو آیت الٰہی پر انشراح صدر، اطمینان قلب اور سرعت اطاعت حاصل ہے، کیونکہ یہ آیت ان کو اس امر کی ترغیب دیتی ہیں۔ التوبہ
125 ﴿وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ﴾ ” اور لیکن جن کے دلوں میں روگ ہے“ یعنی شک اور نفاق ہے ﴿فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ﴾ ”پس ان کو اس سورت نے بڑھا دیا گندگی پر گندگی میں“ یعنی ان کے مرض کے ساتھ مرض اور ان کے شک کے ساتھ مزید شک کا اضافہ ہوتا گیا، کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیت کے ساتھ کفر کیا۔ ان کے خلاف عناد رکھا اور ان سے روگردانی کی تھی۔ بنا بریں ان کا مرض بڑھ گیا تو اس مرض نے ان کو ہلاکت کے گڑھے میں پھینک دیا۔ ﴿وَ﴾ ” اور“ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے یہاں تک کہ ﴿مَاتُوا وَهُمْ كَافِرُونَ﴾ ” وہ مریں گے بھی تو کافر کے کافر۔‘‘ یہ ان کے لئے سزا ہے، کیونکہ انہوں نے اللہ تعالی کی آیت کا انکار کیا، اس کے رسول کی نافرمانی کی اس لئے اس کی پاداش میں اس دن تک کے لئے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا، جس روز وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے۔ التوبہ
126 اللہ تعالی اس بات پر کہ وہ کفر و نفاق پر جمے ہوئے ہیں ان کو زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿ أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ﴾ ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ آزمائے جاتے ہیں ہر برس ایک یا دو مرتبہ“ یعنی جو ان کو مصیبت پہنچتی ہے یا امراض لاحق ہوتے ہیں یا او امر الٰہیہ کے ذریعے سے ان کی آزمائش کی جاتی ہے ﴿ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ﴾ “ پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے۔“ یعنی ان برائیوں سے توبہ نہیں کرتے جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں ﴿وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ﴾ ” اور نہ وہ نصیحت پکڑتے ہیں“ یعنی کیا چیز انہیں فائدہ دیتی ہے کہ وہ اسے اختیار کریں اور کیا چیز نقصان دیتی ہے کہ وہ اس کو ترک کردیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ۔۔۔۔ جیسا کہ تمام قوموں میں اس کی عادت ہے۔۔۔۔ ان کو تنگ دستی، فراخی اور او امر و نواہی کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے، تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں مگر وہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت پکڑتے ہیں۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔ مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے ایمان کو ٹٹولتا اور اس کی حفاظت کرتا رہے، اس کی تجدید اور نشونما کرتا رہے، تاکہ اس کا ایمان ترقی کی منازل کی طرف گامزن رہے۔ التوبہ
127 یعنی وہ منافقین جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان کے دلوں کا بھید کھول دے ﴿ وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ ﴾ ” جب ان پر کوئی سورت نازل کی جاتی ہے“ تاکہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کے مضامین پر عمل کریں ﴿نَّظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ﴾ ” تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔“ تاکہ اہل ایمان کی نظروں سے چھپے رہیں اور کہتے ہیں ﴿هَلْ يَرَاكُم مِّنْ أَحَدٍ ثُمَّ انصَرَفُوا﴾ ” کیا دکھتا ہے تم کو کوئی مسلمان، پھر کھسک جاتے ہیں“ یعنی کھسک کر نکل جاتے ہیں اورمنہ موڑ کر لوٹ جاتے ہیں۔ تب اللہ ان کے عمل کی جنس ہی سے انہیں جزا دیتا ہے۔ پس جیسے انہوں نے عمل سے منہ پھیر لیا ﴿صَرَفَ اللَّـهُ قُلُوبَهُم ﴾ ” اللہ نے ان کے دلوں کو (حق سے) پھیر دیا“ یعنی روک دیا اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ﴿بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ﴾ ” کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔“ یعنی وہ ایسی سمجھ نہیں رکھتے جو ان کو فائدہ دے،کیونکہ اگر وہ سمجھ رکھتے ہوتے، تو جب بھی کوئی سورت نازل ہوتی، وہ اس پر ایمان لا کر اس کے احکام کی تعمیل کرتے۔ اس کا مقصد جہاد و غیرہ شرائع ایمان سے ان کی شدت نفور کو بیان کرنا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتا ہے : ﴿فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ﴾ (محمد : 47؍20) ” جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا ذکر ہوتا ہے، تو جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے، آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس شخص کی طرح دیکھنے لگتے ہیں جس پر موت کی غشی طاری ہو۔‘‘ التوبہ
128 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے ان کے اندر نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا جو خود ان میں سے ہیں وہ آپ کا حال جانتے ہیں، وہ آپ سے اخذ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرنے کو ناپسند نہیں کرتے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے بے انتہا خیر خواہ اور ان کے مصالح کے لئے کوشش کرنے والے ہیں۔ ﴿عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ﴾ ”تمہاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے۔“ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہر وہ معاملہ بہت شاق گزرتا ہے جو تم پر شاق گزرتا ہے اور تمہیں تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔ ﴿حَرِيصٌ عَلَيْكُم﴾ ” حریص ہیں تمہاری بھلائی پر“ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے لئے بھلائی پسند کرتے ہیں اور تمہیں بھلائی تک پہنچانے کے لئے بھرپور کوشش کرتے ہیں، ایمان تک تمہاری راہ نمائی کے خواہش مند ہیں۔ آپ شر کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور شر سے تمہیں نفرت دلانے کے لئے پوری کوشش صرف کرتے ہیں۔ ﴿بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ﴾ ” اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے مہربان ہیں۔“ یعنی اہل ایمان کے لئے انتہائی رافت و رحمت کے حامل ہیں بلکہ وہ مومنوں کے لئے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر رحیم ہیں۔ بنا بریں آپ کا حق تمام مخلوق پر فائق اور مقدم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانا، آپ کی تعظم کرنا، آپ کی عزت و توقیر کرنا تمام امت پر فرض ہے۔ التوبہ
129 ﴿فَإِن﴾ ” پس اگر“ وہ ایمان لے آئیں تو یہ ان کی خوش نصیبی اور توفیق الٰہی ہے۔ اور اگر وہ ﴿تَوَلَّوْا ﴾ ” پھر جائیں۔“ یعنی ایمان و عمل سے روگردانی کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے راستے پر گامزن رہیں اور ان کو دعوت دیتے رہیں۔ ﴿فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ﴾ ” اور کہہ دیں ! کہ (تمام امور میں) میرے لئے اللہ کافی ہے۔“ ﴿ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ﴾ ” اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“ ﴿عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ﴾ ” میں نے اسی پر توکل کیا۔“ یعنی امور نافعہ کے حصول اور ضرر رساں امور کو دور ہٹانے کے لئے، میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرتا ہوں ﴿وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ﴾ ” اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔“ یعنی جب اللہ تعالیٰ اس عظیم عرش کا رب ہے جو تمام مخلوقات پر سایہ کناں ہے تو عرش سے کم تر مخلوق کا رب ہونا اولیٰ اور احریٰ ہے۔ التوبہ
0 یونس
1 ﴿الر ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ﴾ ” یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی“ اور وہ کتاب یہ قرآن ہے جو تمام تر حکمت و احکام پر مشتمل ہے جس کی آیت کریمہ حقائق ایمانی اور شریعت کے او امر و نواہی پر دلالت کرتی ہیں جن کو برضا و رغبت قبول کرنا اور جن پر عمل کرنا تمام امت پر فرض ہے۔ بایں ہمہ اکثر لوگوں نے اس سے روگردانی کی۔ وہ اس کا علم نہیں رکھتے اس لئے انہیں سخت تعجب ہے۔ یونس
2 ﴿أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ﴾ ” کہ ہم نے ان میں سے ایک مرد پروحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سنائے“ یعنی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انہیں اس کی ناراضی کا خوف دلائے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے ان کو نصیحت کرے۔ ﴿وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ ”اور خوش خبری دیں ایمان والوں کو“ جو صدق دل سے ایمان لائے ہیں ﴿ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ ۗ﴾ ” کہ ان کے لئے مقام صدق ہے ان کے رب کے پاس“ یعنی ان کے لئے اپنے رب کے پاس وافر جزا اور جمع کیا ہوا ثواب ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے صدق پر مبنی اعمال صالحہ پیش کئے تھے۔ کفار کو اس عظیم شخص پر سخت تعجب ہے اور اس تعجب نے ان کو اس کے انکار پر آمادہ کیا۔ ﴿ قَالَ الْكَافِرُونَ ﴾ ” اور کفار (اس کے بارے میں) کہتے ہیں“ ﴿إِنَّ هَـٰذَا لَسَاحِرٌ مُّبِينٌ﴾ ” یہ تو واضح طور پر جادو گر ہے۔“ ان کے زعم کے مطابق اس کا جادو گر ہونا کسی پر مخفی نہیں اور یہ ان کی سفاہت اور عناد کی دلیل ہے۔ وہ ایسی بات پر تعجب کرتے ہیں جو ایسی انوکھی چیز نہیں جس پر تعجب کیا جائے۔ تعجب تو ان کی جہالت اور اس چیز پر ہونا چاہئے کہ انہیں اپنے مصالح کی معرفت حاصل نہیں۔ وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کیسے ایمان نہیں لائے۔ جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہی میں سے چن کر رسول مبعوث کیا ہے وہ اسے اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح پہچاننے کا حق ہے۔ پس انہوں نے اس کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور اس کے دین کے ابطال کے سخت حریص ٹھہرے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو مکمل کر کے رہتا ہے خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔ یونس
3 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ربوبیت، الوہیت اور عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ﴾ “ بے شک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا“ اس کے باوجود کہ وہ زمین اور آسمان کو ایک لحظہ میں پیدا کرنے پر قادر ہے۔ مگر حکمت الٰہی انہیں اسی طرح تخلیق کرنے میں تھی وہ اپنے افعال میں بہت نرم اور مہربان ہے۔ یہ اس کی حکمت ہے کہ اس نے کائنات کو حق کے ساتھ اور حق کے لئے پیدا کیا، تاکہ اس کے اسماء و صفات کے ذریعے سے اس کی معرفت حاصل ہو نیز یہ کہ وہ اکیلا عبادت کا مستحق ہے۔ ﴿ثُمَّ﴾ ” پھر“ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد ﴿اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ﴾ ” وہ مستوی ہوا عرش پر۔“ وہ استواء ایسا ہے جو اس کی عظمت کے لائق ہے ﴿يُدَبِّرُ الْأَمْرَ﴾ ” وہ معاملے کا انتظام کرتا ہے۔“ یعنی وہ عالم علوی اور عالم سفلی کے تمام معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔ موت دینا، زندہ کرنا، رزق نازل کرنا، لوگوں کے درمیان گردش ایام، ضرر رسیدہ لوگوں سے تکلیف دور کرنا اور سوال کرنے والوں کی ضرورت پوری کرنا۔ پس مختلف انواع کی تمام تدابیر اسی کی طرف سے نازل ہوتی ہیں اور اسی کی طرف بلند ہوتی ہیں۔ تمام کائنات اس کے غلبہ کے سامنے مطیع اور اس کی عظمت اور طاقت کے سامنے سرافگندہ ہے۔ ﴿مَا مِن شَفِيعٍ إِلَّا مِن بَعْدِ إِذْنِهِ ﴾ ” کوئی سفارش نہیں کرسکتا، مگر اس کی اجازت کے بعد“ جب تک اللہ تعالیٰ اجازت نہ دے کوئی شخص۔۔۔۔ خواہ وہ مخلوق میں سے افضل ہستی ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے حضور کسی کی سفارش کے لئے آگے نہیں بڑگے گا اور وہ صرف اسی کے لئے سفارش کرے گا جس کے لئے اللہ تعالیٰ خود پسند کرے گا اور وہ صرف انہی کو پسند کرے گا جو اہل اخلاص اور اہل توحید ہوں گے۔ ﴿ذَٰلِكُمُ ﴾ “ یہی“ وہ ہستی جس کی یہ شان ہے ﴿ اللَّـهُ رَبُّكُمْ﴾ ” اللہ ہے، تمہارا رب“ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو اوصاف الوہیت اور صفات کمال کی جامع، اوصاف ربوبیت اور صفات افعال کی جامع ہے۔ ﴿ فَاعْبُدُوهُ﴾ ” پس تم اسی کی بندگی کرو“ یعنی عبودیت کی وہ تمام اقسام جن کو بجا لانے پر تم قادر ہو، صرف اس اکیلے کے لئے مخصوص کرو۔ ﴿ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ﴾ ” کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے“ کیا تم ان دلائل سے نصیحت حاصل نہیں کرتے جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ واحد معبود حمد و ثناء کا مستحق اور جلال و اکرام کا مالک ہے۔ یونس
4 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حکم کونی و قدری، یعنی تدبیر عام اور اپنے حکم دینی یعنی اپنی شریعت، جس کا مضمون اور مقصود صرف اسی کی عبادت ہے جس کا کوئی شریک نہیں، کا ذکر فرمایا تو اپنے حکم جزائی کا ذکر بھی فرمایا۔ یعنی انسان کے مرنے کے بعد اس کے تمام اعمال کی جزا دینا، چنانچہ فرمایا : ﴿إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا﴾ ” اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے“ یعنی وہ تمہارے مرنے کے بعد ایک مقرر وقت پر تم سب کو جمع کرے گا ﴿وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا﴾ ” اللہ کا وعدہ سچا ہے۔“ یعنی اس کا وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا ہونا لازمی ہے۔ ﴿ إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ﴾ ” وہی پیدا کرتا ہے پہلی بار، پھر دوبارہ پیدا کرے گا اس کو“ پس جو تخلیق کی ابتدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ اس کے اعادے پر بھی قادر ہے۔ لہٰذا وہ شخص جو ابتدائے تخلیق کو تسلیم کرتا ہے پھر وہ اعادہ تخلیق کا انکار کردیتا ہے، عقل سے عاری ہے جو دو مماثل اشیاء میں سے ایک کا انکار کرتا ہے حالانکہ وہ اس تخلیق کا اقرار کرچکا ہے جو زیادہ مشکل ہے۔۔۔۔ یہ زندگی بعد موت کی نہایت واضح عقلی دلیل ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقلی دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا ﴾ ” تاکہ بدلہ دے ان کو جو ایمان لائے“ جو صدق دل سے ان تمام امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ ” اور عمل کیے نیک“ وہ اپنے جوارح کے ذریعے سے واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں۔ ﴿بِالْقِسْطِ﴾ ” انصاف کے ساتھ“ یعنی اللہ تعالیٰ عدل کے ساتھ ان کے ایمان و اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ جزا اپنے بندوں کے سامنے بیان کردی ہے اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ یہ ایسی جزا ہے کہ کوئی نفس یہ نہیں جانتا کہ اس جزا میں اس کے لئے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا﴾ ” اور وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسول کی تکذیب کی۔ ﴿ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ﴾ ” ان کے لئے پینے کو نہایت گرم پانی ہوگا۔“ جو چہروں کو جھلسا کررکھ دے گا اور انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ ﴿وَعَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ” اور دردناک عذاب“ انہیں درد ناک عذاب کی تمام اصناف میں مبتلا کیا جائے گا۔ ﴿بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ﴾ ” اس لے کہ وہ کفر کرتے تھے“ یعنی یہ عذاب ان کے کفر اور ظلم کے سبب سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ یونس
5 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ربوبیت اور الوہیت کومتحقق کرنے کے بعد اپنے اسماء و صفات کے کمال پر عقلی اور آفاقی دلائل بیان کرتا ہے جو تمام آفاق، یعنی سورج،چاند، زمین و آسمان اور کائنات میں پھیلی ہوئی تمام مخلوقات پر محیط ہیں اور آگاہ فرماتا ہے کہ یہ نشانیاں ان لوگوں کے لئے ہیں ﴿لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴾ ” جو علم رکھتے ہیں“ اور ان کے لئے ہیں جو تقویٰ کا التزام کرتے ہیں، کیونکہ علم دلالت کی معرفت اور انتہائی مناسب طریقے سے دلائل کے استنباط کی کیفیت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ تقویٰ قلب میں بھلائی کی طرف رغبت اور برائی سے خوف کو جنم دیتا ہے۔ یہ دونوں دلائل و براہین اور علم و یقین سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ ان مخلوقات کی، اس وصف کے ساتھ مجرد تخلیق اس کی کامل قدرت، اس کے علم، اس کی حیات اور اس کی قیومیت پر دلالت کرتی ہے۔ اس کائنات میں جاری احکام، اس کا اتقان اور اس کا حسن و ابداع اللہ تعالیٰ کی حکمت، اس کے حسن تخلیق اور وسعت علم پر دلالت کرتے ہیں۔ اس کائنات میں پھیلے ہوئے منافع و مصالح۔۔۔۔ مثلاً سورج کی روشنی اور چاند کے نور سے جو ضروری فوائد حاصل ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اپنے بندوں پر اس کی عنایت، اس کی لامحدود نوازش اور اس کے احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ اس کائنات کی خصوصیات اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادہ نافذہ پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ سب کچھ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود، محبوب محمود، جلال و اکرام اور عظیم اوصاف کامالک ہے، رغبت و رہبت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ تمام امور میں مخلوقات و مربوبات، جو بذات خود اللہ کی محتاج ہیں، کی بجائے اپنی دعا میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارا جائے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کرنے اور ان کو عبرت کی نگاہ سے دیکھنے کی ترغیب ہے۔ اس لئے کہ اس سے بصیرت بڑھتی ہے، ایمان و عقل میں اضافہ ہوتا ہے اور ملکہ راسخ ہوتا ہے اور ان میں غور و فکر نہ کرنے سے ا للہ کے احکام سے بے پروائی، ایمان میں زیادتی کا راستہ بند اور قلب و ذہن میں جمود طاری ہوتا ہے۔ یونس
6 یونس
7 ﴿إِنَّ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا﴾ ” جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے۔“ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی خواہش نہیں رکھتے ہیں جو سب سے بڑی خواہش اور سب سے بڑی آرزو ہے، بلکہ وہ اس سے اعراض اور روگردانی کرتے ہیں اور بسا اوقات اس کی تکذیب کرتے ہیں ﴿وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ ” اور وہ دنیا کی زندگی سے خوش ہیں۔“ یعنی وہ آخرت کی بجائے دنیا پر راضی ہو گے۔ ﴿ وَاطْمَأَنُّوا بِهَا﴾ ” اور اسی پر مطمئن ہوگئے“ یعنی دنیا کی طرف مائل ہوگئے اور اسی کو اپنی منزل اور اسی کو اپنا مقصد زندگی بنا لیا۔ دنیا کے حصول کے لئے کوشاں رہے اس کی لذات و شہوات پر ٹوٹ پڑے۔ دنیا انہیں جس طریقے سے بھی حاصل ہوئی، انہوں نے اسے حاصل کرلیا۔ دنیا کی چمک انہیں جہاں کہیں بھی دکھائی دی یہ اس کی طرف لپکے۔ انہوں نے اپنے ارادوں اور نیتوں کو دنیا ہی میں مصروف رکھا، ان کے افکار و اعمال دنیا ہی کے محور پر گھومتی رہے۔ گویا کہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور گویا کہ دنیا ایک گزر گاہ نہیں جہاں سے مسافر ز ادراہ اکٹھا کر کے ہمیشہ رہنے والی منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں۔ اولین و آخرین اس منزل کی نعمتوں اور لذتوں کی طرف کوچ کرتے ہیں اور لپکنے والے انہی کی طرف لپکتے ہیں۔ ﴿وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ﴾ ” اور وہ ہماری آیتوں سے غافل ہیں۔“ پس یہ آیات قرآنی اور آیات نفس و آفاق سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور دلیل سے رو گردانی درحقیقت مدلول مقصود سے روگردانی اور غفلت کومستلزم ہے۔ یونس
8 ﴿أُولَـٰئِكَ﴾ جن کایہ وصف ہے ﴿مَأْوَاهُمُ النَّارُ ﴾ ” ان کا ٹھکانا آگ ہے۔“ یعنی ان کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہے جہاں سے کبھی کوچ نہیں کریں گے۔ ﴿بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ ” بہ سبب اس کے جو کماتے تھے“ جہنم کا یہ عذاب اس پاداش میں ہے کہ انہوں نے کفر، شرک اور مختلف قسم کے دیگر گناہوں کا ارتکاب کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نافرمانوں کے عذاب کا ذکر کرنے کے بعد اطاعت کرنے والے اہل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : یونس
9 ﴿ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ ” اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔“ یعنی انہوں نے ایمان اور ایمان کے تقاضے کو جمع کیا یعنی ایمان لانے کے بعد اخلاص اور اتباع کے ساتھ اعمال صالحہ بجا لائے جو اعمال قلوب اور اعمال جو ارح پر مشتمل ہیں۔ ﴿يَهْدِيهِمْ رَبُّهُم بِإِيمَانِهِمْ﴾ ”ہدایت کرے گا ان کو ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے سرمایہ ایمان کے سبب سے انہیں سب سے بڑا ثواب یعنی ہدایت عطا کرتا ہے۔ انہیں وہ علم عطا کرتا ہے جو ان کے لئے نفع مند ہے، وہ انہیں ان اعمال سے نوازتا ہے جو ہدایت سے جنم لیتے ہیں۔ وہ اپنی آیات میں غور و فکر کرنے کے لئے ان کی راہ نمائی کرتا ہے، اس دنیا میں انہیں راست دکھاتا ہے اور آخرت میں ان کو اس راستے پر گامزن کرتا ہے جو جنت کو جاتا ہے۔ بنا بریں فرمایا : ﴿ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ ﴾ ” ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں“ یعنی ہمیشہ بہنے والی نہریں ﴿ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ﴾ ” نعمت والے باغوں میں“ اللہ تعالیٰ نے جنت کو (نَعِيم ) ” نعمتوں والی“ کی طرف مضاف کیا ہے، کیونکہ جنت ہر طرح سے کامل نعمتوں پر مشتمل ہوگی۔ قلب کو فرحت و سرور، تروتازگی، اللہ رحمٰن کا دیدار، اس کے کلام کا سماع، اس کی رضا اور قرب کے حصول کی خوشی، دوستوں اور بھائیوں سے ملاقاتوں،ان کے ساتھ اکٹھے ہونے، طرب انگیز آوازوں،مسحور کن نغمات اور خوش کن مناظر کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ بدن کو مختلف انواع کے ماکولات و مشروبات اور بیویاں وغیرہ عطا ہوں گی جو انسان کے علم سے باہر ہیں جن کے بارے میں انسان تصور تک نہیں کرسکتا اور نہ کوئی اس کا وصف بیان کرتا ہے۔ یونس
10 ﴿دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّـهُمَّ ﴾ ” اس میں ان کی پکار ہوگی، اے اللہ تو پاک ہے“ یعنی جنت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اولین چیز تمام نقائص سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تنزیہ ہوگی اور آخر میں اس کے لئے حمد و ثنا۔ دارالجزا میں ان سے تمام تکالیف ساقط ہوجائیں گی۔ ان کے لئے سب سے بڑی لذت، جو لذیز ترین ماکولات سے بھی زیادہ لذیز ہوگی اور وہ ہوگا اللہ تعالیٰ کا ذکر، جس سے دل مطمئن اور روح خوش ہوگی اور ذکر الٰہی کی حیثیت ان کے لئے وہی ہوگی جو کسی متنفس کے لئے سانس کی ہوتی ہے، مگر کسی کلفت اور مشقت کے بغیر۔ ﴿وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا ﴾ ” اور اس میں ان کی دعائے ملاقات“ یعنی ملاقات اور ایک دوسرے کی زیارت کے وقت ایک دوسرے کو ﴿سَلَامٌ﴾ ”سلام ہوگی“ یعنی وہ سلام کہہ کر ایک دوسرے کو خوش آمدید کہیں گے، یعنی ان کی باہم گفتگو لغویات اور گناہ کی باتوں سے پاک ہوگی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ۔۔۔۔﴾ الایۃ ...کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ اہل جنت جب کھانے پینے کی حاجت محسوس کریں گے تو کہیں گے ﴿سُبْحَانَكَ اللَّـهُمَّ﴾ اور ان کے سامنے اسی وقت کھانا حاضر ہوجائے گا۔ ﴿وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ﴾ ”اور ان کی آخری بات“ جب وہ کھانے سے فارغ ہوں گے تو کہیں گے ﴿أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ ” تمام تعریفیں صرف اللہ رب العالمین کے لئے ہیں۔ “ یونس
11 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و احسان ہے کہ جب بندے برائی کے اسباب مہیا کرتے ہیں، تو اگر اللہ تعالیٰ ان کو اس برائی میں عجلت سے پکڑنا اور انہیں فوراً عذاب میں مبتلا کرنا چاہے، جس طرح وہ نیکی کرتے ہیں تو ان کے لئے جلدی سے ثواب لکھ لیا جاتا ہے، ﴿لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ﴾ ” تو ختم کردی جائے ان کی عمر“ یعنی عذاب ان کو ملیا میٹ کر دے۔۔۔۔ مگر اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے اور اپنے بہت سے حقوق کے بارے میں ان کی کوتاہیوں کو معاف کردیتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلم پر ان کا مواخذہ کرے، تو روئے زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے۔ اس آیت کریمہ میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ بسا اوقات انسان اپنے اہل و اولاد اور مال پر ناراض ہو کر بددعا کر بیٹھتا ہے اگر اس کی بددعا قبول ہوجائے تو سب ہلاک ہوجائیں اور اس سے اسے سخت نقصان پہنچے۔ مگر اللہ تعالیٰ نہایت حلیم اور حکمت والا ہے۔ (یعنی ایسی بددعاؤں کو قبول نہیں فرماتا) ﴿فَنَذَرُ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا﴾ ” پس ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان لوگوں کو جن کو ہماری ملاقات کی امید نہیں“ یعنی وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اسی لئے اس کے لئے کوئی تیاری نہیں کرتے اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کون سی چیز انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گی۔ ﴿ فِي طُغْيَانِهِمْ﴾ ” اپنی سرکشی میں۔“ یعنی اپنے باطل میں، جس کی بنا پر انہوں نے حق اور حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿يَعْمَهُونَ﴾ ” وہ حیران اور سرگرداں پھرتے ہیں“ انہیں کوئی راستہ نہیں ملتا اور نہ وہ کسی مضبوط دلیل کی توفیق سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور یہاں کے ظلم اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کی پاداش میں ان کے لئے سزا ہے۔ یونس
12 اس میں انسان کی فطرت کے بارے میں خبر دی گئی ہے کہ جب اسے کسی مرض یا مصیبت کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو خوب دعائیں کرتا ہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہے، اپنی دعاؤں میں گڑگڑاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف کو دور کر دے۔ ﴿فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَّسَّهُ﴾ ” پس جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو وہ (یوں) چلا جاتا ہے گویا کہ اس نے ہمیں کسی تکلیف کے پہنچنے پر پکارا ہی نہیں“ یعنی اپنے رب سے رو گردانی کرتے ہوئے غفلت میں مستغرق رہتا ہے گویا کہ اسے کوئی تکلیف ہی نہیں آئی، جسے اللہ تعالیٰ نے دور کیا ہو۔ اس سے بڑھ کر اور کون سا ظلم ہے کہ انسان اپنی غرض پوری کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اور جب اللہ تعالیٰ اس کی یہ غرض پوری کر دے تو پھر وہ اپنے رب کے حقوق کی طرف نہ دیکھے، گویا کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا کوئی حق ہی نہیں۔ یہ شیطان کا آراستہ کرنا ہے۔ شیطان ان تمام چیزوں کو مزین کرتا ہے جو انسانی عقل و فطرت کے مطابق انتہائی بری اور قبیح ہیں۔ ﴿كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ﴾ ” اسی طرح خوش نمابنا دیے گئے ہیں بے باک لوگوں کے لئے“ یعنی ان لوگوں کے لئے جو حدود سے تجاوز کرتے ہیں ﴿مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴾ ” جو عمل وہ کرتے تھے۔ “ یونس
13 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے گزشتہ قوموں کو ان کے کفر و ظلم کی بنا پر تباہ کردیا۔ رسولوں کے توسط سے ان کے پاس واضح دلائل آئے اور ان کے سامنے حق واضح ہوگیا مگر انہوں نے حق کو تسلیم نہ کیا اور وہ ایمان نہ لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کردیا جو کسی مجرم اور اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والے سے ہٹایا نہیں جاسکتا۔ تمام قوموں میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے۔ یونس
14 ﴿ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ﴾ ” پھر بنایا ہم نے تم کو“ یعنی اے مخاطبو ! ﴿خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ مِن بَعْدِهِمْ لِنَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ﴾ ” زمین میں جانشین ان کے بعد، تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو“ اگر تم نے گزشتہ قوموں سے عبرت حاصل کی اور نصیحت پکڑی، اللہ تعالیٰ کی آیات کی اتباع کی اور اس کے انبیاء و رسول کی تصدیق کی، تو تم دنیا و آخرت میں نجات پاؤ گے۔ اور اگر تم نے بھی وہی کام کئے جو تم سے پہلے ظالم قوموں نے کئے تھے، تو تم پر بھی وہی عذاب بھیج دیا جائے گا جو ان پر بھیجا گیا تھا۔ اور جس نے تنبیہ کردی اس نے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا۔ یونس
15 اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کرنے والے کفار کی ڈھٹائی اور تعصب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب ان کے سامنے آیات قرآنی کی تلاوتی کی جاتی ہے جو حق کو بیان کرتی ہیں تو یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور جب ان سے اس ڈھٹائی اور تعصب کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ ظلم اور جسارت کا ارتکاب کرتے ہوئے کہتے ہیں : ﴿ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَـٰذَا أَوْ بَدِّلْهُ ۚ ﴾ ” اس قرآن کے علاوہ کوئی اور لا، یا اس کو بدل دے۔“ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا برا کرے ! وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں کتنی بڑی گستاخی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ٹھکرا کر کتنا سخت ظلم کرتے ہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عظیم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان سے کہہ دیں : ﴿قُلْ مَا يَكُونُ لِي ﴾ ” کہہ دیجئے ! کہ مجھے یہ زیبا ہے نہ میرے لائق ہے“ ﴿أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي﴾ ” کہ میں اس کو اپنی طرف سے بدل دوں“ کیونکہ میں تو صرف رسول ہوں میرے اختیار میں کچھ نہیں۔ ﴿إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ﴾ ” میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے۔“ یعنی اتباع وحی کے علاوہ میرا کوئی اختیار نہیں، کیونکہ میں تو مامور بندہ ہوں۔ ﴿إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ﴾ ” میں ڈرتاہوں، اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی، بڑے دن کے عذاب سے“ یہ مخلوق میں بہترین ہستی کا قول ہے اور اللہ تعالیٰ کے اوامر اور وحی کے بارے میں یہ ادب ہے، تب یہ بیوقوف اور گمراہ لوگ، جنہوں نے جہالت اور گمراہی، ظلم اور عناد اور اللہ رب العالمین پر اعتراضات اور عجزکی طرف اس کی نسبت کو جمع کر رکھا ہے، کیوں کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے گریز کرسکتے ہیں، کیا وہ ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتے نہیں؟ اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ان آیات و معجزات کے ذریعے سے ان کے سامنے حق واضح ہوجائے، جن کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں، تو وہ اس بارے میں جھوٹے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات بیان کر دی ہیں جو انسان کے بس سے باہر ہیں، اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا ہے اپنی رحمت اور حکمت ربانی کے مطابق ان آیات میں تصرف کرتا ہے۔ یونس
16 ﴿قُل لَّوْ شَاءَ اللَّـهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَاكُم بِهِ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا ﴾ ” کہہ دیجئے ! اگر اللہ چاہتا تو میں پڑھتا اس کو تمہارے سامنے نہ وہ خبر کرتا تم کو اس کی، پس تحقیق میں رہ چکا ہوں تم میں ایک طویل عرصہ اس سے پہلے“ یعنی بہت طویل عرصہ تک میں تمہارے اندر رہا ہوں۔ ﴿مِّن قَبْلِهِ﴾ ” اس سے پہلے“ یعنی اس کی تلاوت اور تمہارے اس کو جان لینے سے قبل۔ اور میں نے کبھی اس کے بارے میں سچا ہی نہ تھا اور یہ چیز کبھی میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔ ﴿أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾ ” کیا پھر تم نہیں سوچتے‘‘ یعنی میں نے عمر بھر تمہارے سامنے اس کو تلاوت نہیں کیا اور مجھ سے کبھی کوئی ایسی چیز صادر نہیں ہوئی جو اس پر دلالت کرتی ہو، پھر اس کے بعد میں کیوں کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ سکتا ہوں۔ میں نے تمہارے اندر ایک لمبی عمر گزاری ہے، تم میری حقیقت حال سے خوب واقف ہو، میرے ماں باپ کو جانتے ہو، تم یہ بھی جانتے ہو کہ میں پڑھ سکتا ہوں نہ لکھ سکتا ہوں اور میں کسی سے درس لیتا ہوں نہ کسی سے تعلیم حاصل کرتا ہوں؟ پس میں تمہارے پاس ایک عظیم کتاب لے کر آیا ہوں جس نے بڑے علماء اور فصحاء کو عاجز اور لاچار کردیا، کیا اس کے باوجود یہ ممکن ہے کہ اس کتاب کو میں نے اپنی طرف سے تصنیف کرلیا ہو یا یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ یہ حکمت والے اور ستائش کے لائق اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے؟ اگر تم اپنی عقل و فکر کو استعمال کرو، میرے احوال اور اس کتاب کے حال میں تدبر کرو تو تمہیں قطعی یقین آجائے گا جس میں شک کی گنجائش نہیں کہ یہ حق ہے جس کے بعد گمراہی کے سوا کچھ باقی نہیں۔ مگر جب تم نے عناد کی بناء پر اسے جھٹلادیا تو اس میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ تم سخت ظالم ہو اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا؟ اگر میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑوں، تو میں لوگوں میں سب سے ظالم شخص اور فلاح سے محروم ہوں۔ میرے حالات تم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آیا ہوں، تم نے ان کو جھٹلایا، جس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ تم ظالم ہو۔ تمہارا معاملہ عنقریب مضمحل ہوجائے گا اور جب تک تم اپنی اس ڈگر پر چلتے رہو گے، ہرگز فلاح نہیں پا سکو گے۔ ٍ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ﴿ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ﴾ ” جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں۔“ دلالت کرتا ہے کہ جس چیز نے ان کو اس تعنت (کٹ حجتی) پر آمادہ کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے پر عدم ایمان اور اس کے ساتھ ملاقات ہونے پر عدم یقین جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ملاقات پر ایمان رکھتا ہے وہ لازمی طور پر اس کتاب کی اتباع کرتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے، کیونکہ وہ صحیح نیت والا ہے۔ یونس
17 یونس
18 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَيَعْبُدُونَ﴾ ” اور پرستش کرتے ہیں“ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کرنے والے مشرکین۔ ﴿مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ﴾ ” اللہ کے سوا، اس چیز کی جو ان کو نقصان پہنچا سکے نہ نفع“ یعنی ان کے معبودان باطل ان کو ذرہ بھر فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور نہ ان سے کسی ضرر کو دور کرسکتے ہیں۔ ﴿وَيَقُولُونَ﴾ ” اور وہ کہتے ہیں۔“ ایسی بات جو دلیل سے بالکل خالی ہے۔ ﴿هَـٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّـهِ﴾ ” یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں“ یعنی وہ ان معبودان باطل کی عبادت محض اس لئے کرتے ہیں، تاکہ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں اور اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں۔ یہ ان کی اپنی طرف سے گھڑی ہوئی بات ہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس عقیدے کا ابطال کرتے ہوئے فرمایا : ﴿قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّـهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ﴾ ” کہہ دیجئے ! کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو اس کو معلوم نہیں، آسمانوں میں اور زمین میں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے جس نے اپنے علم کے ذریعے سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے تمہیں آگاہ کیا ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے ساتھ کوئی معبود نہیں۔ پس اے مشرکو ! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسے معاملے کی خبر دے رہے ہو جو اللہ تعالیٰ سے مخفی ہے اور تم اسے جانتے ہو؟ کیا تم اللہ تعالیٰ سے زیادہ جانتے ہو؟ کیا اس عقیدے سے زیادہ باطل عقیدہ پایا جاسکتا ہے جو اس امر کا متضمن ہے کہ یہ گمراہ، جہال اور بیوقوف لوگ، اللہ رب العالمین سے زیادہ علم رکھتے ہیں؟ عقل مند شخص کے لئے اس عقیدے کا مجرد تصور ہی یہ جاننے کے لئے کافی ہے کہ یہ قطعی طور پر فاسد اور باطل عقیدہ ہے۔ ﴿سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴾ ” وہ پاک ہے اور ان کے شرک سے بہت زیادہ ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اس اس بات سے پاک اور منزہ ہے کہ کوئی اس کا شریک یا نظیر ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ واحد، فرد اور بے نیاز ہے، آسمانوں اور زمین میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس عالم علوی اور سفلی میں اللہ تعالیٰ کے سوا ہر معبود عقل، شرع اور فطرت کے اعتبار سے باطل ہے۔ ﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّـهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّـهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ(الحج : 22؍62) ” اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ ہی کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور اللہ ہی بلند اور بڑا ہے۔ “ یونس
19 ﴿وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ ” اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت“ یعنی تمام لوگ صحیح دین پر متفق تھے، پھر ان میں اختلاف واقع ہوگیا، تب اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے جو خوشخبری سنانے والے اور برے انجام سے ڈرانے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کتاب نازل فرمائی، تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اس بارے میں فیصلہ کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ ﴿وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ﴾ ” اور ار نہ ہوتی ایک بات جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے طے ہوچکی ہے“ کہ نافرمانوں کو مہلت دینی ہے اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کا فوری مواخذہ نہیں کرنا۔ ﴿لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ﴾ ” تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا“ بایں طور پر کہ ہم اہل ایمان کو بچا لیتے اور جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کردیتے اور یہ چیز ان کے درمیان امتیاز اور تفریق کی علامت بن جاتی۔ ﴿فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ﴾ ” ان چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے“ مگر اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے اور آزمائش میں مبتلا کرے، تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضح ہوجائے۔ یونس
20 ﴿ وَيَقُولُونَ﴾ ” اور یہ کہتے ہیں۔“ یعنی لغزشیں تلاش کرنے اور جھٹلانے والے کہتے ہیں : ﴿ لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ ﴾ ” کیوں نہیں اتاری گئی اس پر کوئی آیت اس کے رب کی طرف سے“ یعنی وہ آیات جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں، مثلاً وہ کہا کرتے تھے : ﴿لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا﴾ (الفرقان : 25؍7) ” اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا جو ڈرانے کو اس کے ساتھ رہتا“ اور جیسے ان کا یہ قول ہے ﴿وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا ﴾ (بنی سسرائیل : 17؍90) ” اور انہوں نے کہا : ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تم ہمارے لئے زمین میں سے چشمہ جاری نہ کر دو۔ “ ﴿ فَقُلْ﴾ جب وہ آ پ سے کسی آیت کا مطالبہ کریں تو آپ کہہ دیجئے ! ﴿ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّـهِ﴾ ” غیب کی بات تو اللہ ہی جانے“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے اپنے بندوں کے احوال کا احاطہ کئے ہوئے ہے، وہ اپنے علم اور انوکھی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان کی تدبیر کرتا ہے کسی حکم، کسی دلیل، کسی غایت و انتہا اور کسی تعلیل کی تدبیر میں کسی کا کوئی اختیار نہیں۔ ﴿فَانتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ﴾ ”پس انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں“ یعنی ہر ایک دوسرے کے بارے میں منتظر رہے جس کا وہ اہل ہے اور دیکھے کہ کس کا انجام اچھا ہوتا ہے؟ یونس
21 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّن بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُمْ﴾ ” اور جب چکھائیں ہم لوگوں کو مزا اپنی رحمت کا، ایک تکلیف کے بعد جو ان کو پہنچی تھی“ مثلاً مرض کے بعد صحت، تنگ دستی کے بعد فراخی اور خوف کے بعد امن، تو وہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں کیا تکلیف پہنچی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فراخی اور اس کی رحمت کا اس کا شکر ادا نہیں کرتے، بلکہ وہ اپنی سازشوں اور سرکشی پر جمے رہتے ہیں۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِذَا لَهُم مَّكْرٌ فِي آيَاتِنَا ﴾ ’’اسی وقت بنانے لگیں وہ حیلے ہماری آیتوں میں“ یعنی وہ باطل میں کوشاں رہتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو باطل ثابت کریں ﴿قُلِ اللَّـهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ﴾ ” کہہ دیجئے ! اللہ حیلے بنانے (تدبیر کرنے) میں زیادہ تیز ہے“ کیونکہ بری چالوں کا وبال چال چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔ ان کے برے مقاصد انہی پر پلٹ جاتے ہیں اور وہ برے انجام سے محفوظ نہیں رہتے، بلکہ فرشتے ان کے اعمال لکھتے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو محفوظ کرلیتا ہے پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔ یونس
22 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کے بارے میں ایک عام قاعدہ بیان فرمایا کہ تکلیف کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور تنگ دستی کے بعد فراخی کے وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے، تو اب ان کی اس حالت کا ذکر فرماتا ہے جو اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ ان کی وہ حالت ہے جب وہ سمندر کے اندر سفر کرتے ہیں اور سمندر سخت جوش میں ہوتا ہے اور ان کو اس کے انجام کا خوف ہوتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ﴾ ” وہی ہے جو تمہیں چلاتا ہے خشکی اور سمند میں“ یعنی ان اسباب کے ذریعے سے جو اس نے تمہیں مہیا کئے ہیں اور ان کی طرف تمہاری رہنمائی فرمائی ہے ﴿حَتَّىٰ إِذَا كُنتُمْ فِي الْفُلْكِ ﴾ ” یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو“ یعنی بحری جہازوں میں ﴿وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ﴾ ‘‘‘ اور لے کر چلیں وہ ان کو اچھی ہوا سے“ یعنی کے ہوا جو ان کی خواہش کے موافق بغیر کسی مشقت اور گھبراہٹ کے ان جہازوں کو چلاتی ہے ﴿وَفَرِحُوا بِهَا﴾ ” اور وہ خوش ہوں ساتھ ان کے“ اور ان ہواؤں پر نہایت مطمئن ہوتے ہیں اور وہ اسی حال میں ہوتے ہیں کہ ﴿جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ﴾ ” اچانک زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے“ یعنی کشتیوں پر سخت ہو آئی ﴿وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ﴾ ” اور آئی ان پر موج ہر جگہ سے اور انہوں نے جا ن لیا کہ وہ گھر گئے“ یعنی انہیں یقین ہوجاتا ہے کہ اب ان کی ہلاکت یقینی ہے، تب اس وقت مخلوق سے ان کے تمام تعلق منقطع ہوجاتے ہیں اور انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اس مصیبت اور سختی سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا، تب اس وقت ﴿دَعَوُا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ ” وہ دین کو اللہ کیلئے خالص کر کے اسی کو پکارتے ہیں“ اور الزامی طور پر اپنے آپ سے وعدہ کرتے ہیں، چنانچہ کہتے ہیں ﴿ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَـٰذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾ ”اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچا لے تو ہم تیرے شکر گزار ہوجائیں گے۔ “ یونس
23 ﴿فَلَمَّا أَنجَاهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ﴾ ” پس جب اللہ نے ان کو نجات دے دی، تو اسی وقت شرارت کرنے لگے زمین میں ناحق۔“ یعنی وہ اس سختی کو جس میں وہ مبتلا تھے، ان دعاؤں کو جو وہ مانگتے رہے تھے اور ان وعدوں کو جو انہوں نے اپنے اوپر لازم کئے تھے، فراموش کردیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں جس کے بارے میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی ہستی انہیں ان سختیوں سے نجات دے سکتی ہے نہ ان کی تنگی دور کرسکتی ہے۔ پس انہوں نے اپنی فراخی اور کشادگی میں عبادت کو اللہ کے لئے خالص کیوں نہ کیا جس طرح انہوں نے سختی میں اپنی عبادت کو اللہ کے لئے خالص کیا تھا مگر اس بغاوت اور سرکشی کا وبال انہیں پر پڑے گا۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ ” اے لوگو ! تمہاری شرارت تمہی پر پڑے گی، نفع اٹھا لو دنیا کی زندگی کا“ یعنی اللہ تعالیٰ سے سرکشی و بغاوت اور اس کے لئے اخلاص سے دور بھاگنے میںت ان کی غرض و غایت یہ ہے کہ وہ دنیا کے چند ٹکڑے اور اس کا مال و جاہ اور معمولی سے فوائد حاصل ہوں جو بہت جلد ختم ہوجائیں گے، سب کچھ ہاتھوں سے نکل جائے گا اور تم اسے چھوڑ کر یہاں سے کوچ کر جاؤ گے۔ ﴿ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ ﴾ ” پھر ہمارے پاس ہی تمہیں لوٹ کر آنا ہے“ یعنی قیامت کے روز ﴿فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴾ ” پھر ہم تمہیں بتلا دیں گے جو کچھ کہ تم کرتے تھے“ اس آیت کریمہ میں ان لوگون کو ان کے اپنے ان اعمال پر جمے رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔ یونس
24 یہ بہترین مثال ہے اور یہ مثال دنیا کی حالت سے مطابقت رکھتی ہے کیونکہ دنیا کی لذات و شہوات اور اس کا مال و جاہ دنیا کے حریص بندے کے لئے بہت پر کشش ہے اگرچہ اس کی چمک دمک بہت تھوڑے وقت کے لئے ہے۔ جب دنیا مکمل ہوجاتی ہے تو مضمحل ہو کر اپنے چاہنے والے سے زائل ہوجاتی ہے یا چاہنے والا دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ پس بندہ دنیا سے خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور اس کا دل حزن وغم اور حسرت سے لبریز ہوجاتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے ﴿كَمَاءٍ أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ﴾ ” مانند اس پانی کے جیسے ہم نے آسمان سے اتارا، پھر مل جل گیا اس سے سبزہ زمین کا“ یعنی زمین کے اندر ہر قسم کی نباتات اور خوبصورت جوڑے اگ آئے ﴿مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ ﴾ ” جو کہ کھائیں آدمی“ مثلاً غلہ جات اور پھل وغیرہ ﴿وَالْأَنْعَامُ ﴾ ” اور مویشی“ یعنی اور وہ چیزیں جو مویشی کھاتے ہیں، مثلاً مختلف اقسام کی گھاس پات، وغیرہ ﴿حَتَّىٰ إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ﴾ ” یہاں تک کہ جب پکڑی زمین نے اپنی رونق اور خوب مزین ہوگئی“ یعنی جب اس کا منظر خوبصورت ہوجاتا ہے اور زمین خوبصورت لباس پہن لیتی ہے، تو دیکھنے والوں کے لئے خوش منظر، غلم ہلکا کرنے والوں کے لئے ذریعہ تفریح اور بصیرت حاصل کرنے والوں کے لئے ایک نشانی بن جاتی ہے۔ تب تو عجیب نظارہ دیکھے گا جس میں سبز، زرد اور سفید رنگ دکھائی دیں گے۔ ﴿وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا﴾ ” اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ (فصل) ان کے ہاتھ لگے گی“ یعنی وہ سمجھنے لگتے ہیں یہ دنیا ان کے پاس ہمیشہ رہے گی، کیونکہ ان کا ارادہ اسی پر ٹھہرا ہوا ہے اور ان کی طلب کی انتہا یہی ہے۔ پس وہ اسی حالت میں ہوتے ہیں کہ ﴿أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ ﴾ ” ناگہاں پہنچا اس پر ہمارا حکم، رات کو یا دن کو، پھر کردیا اس کو کاٹ کر ڈھیر،گویا کہ کل یہاں آباد ہی نہ تھی“ یعنی دنیا کی یہ خوبصورتی کبھی تھی ہی نہیں۔ پس یہی حالت دنیا کی ہے، بالکل اس جیسی ہی۔ ﴿كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ﴾ ” ہم اسی طرح کھول کھول کر نشانیاں بیان کرتے ہیں“ یعنی ہم ان آیات کو، ان کے معانی کو قریب لا کر اور مثالیں بیان کر کے واضح کرتے ہیں ﴿لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴾ ” ان لوگوں کے سامنے جو غور و فکر کرتے ہیں“ یعنی اپنی فکر کو ان کاموں میں استعمال کرتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتے ہیں۔ رہا غفلت میں ڈوبا ہوا اور روگردانی کرنے والا شخص، تو یہ آیات اسے کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ ان کا بیان اس کے شک کو کم کرسکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کا حال اور اس کی نعمتوں کے حاصل کا ذکر کیا، تو اب ہمیشہ، باقی رہنے والے گھر کا شوق دلایا ہے، چنانچہ فرمایا : یونس
25 اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف عام دعوت اور اس اس کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ وہ جس کو اپنے لئے خالص کر کے چن لینا چاہتا ہے اس کیلئے ہدایت کو مخصوص کردیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس کے لئے اپنی رحمت کو مختص کردیتا ہے، یہ اس کا عدل و حکمت ہے اور حق و باطل کو بیان کردینے اور رسولوں کو مبعوث کرنے کے بعد کسی کے لئے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کو ” دارالسلام“ کے نام سے اس لئے موسوم کیا ہے کہ یہ تمام آفات اور نقائص سے محفوظ اور سلامت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نعمتیں کامل، ہمیشہ رہنے والی اور ہر طرح سے خوبصورت ہیں۔ یونس
26 اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف بلایا تو گویا ان نفوس کو ان اعمال کا اشتیاق پیدا ہوا جو ان کو اس گھر میں پہنچانے کے موجب ہیں۔ فرمایا : ﴿ لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ ﴾ ” ان لوگوں کے واسطے جنہوں نے بھلائی کی، بھلائی اور مزید ہے“ یعنی ان لوگوں کے لئے جنہوں نے خالق کی عبادت میں احسان سے کام لیا یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں مراقبہ اور خیر خواہی کے ساتھ اس کی عبادت کی اور مقدور بھر اس عبودیت کو قائم رکھا اور اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے بندوں سے احسان قولی اور احسان فعلی کے ساتھ پیش آئے اور ان کے ساتھ مالی اور بدنی احسانات سے کام لیا، نیکی کا حکم دیا، برائی سے روکا، جہلا کو تعلیم دی، روگردانی کرنے والوں کی خیر خواہی کی، نیکی اور احسان کے دیگر تمام پہلوؤں پر عمل کیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو احسان کے مرتبہ پر فائز ہوئے اور انہی کے لئے (الحسنی) ہے یعنی ایسی جنت جو اپنے حسن و جمال میں کامل ہے۔ مزید برآں ان کے لئے اور بھی انعام ہے۔ یہاں (زِيَادَة) ” مزید“ سے مراد اللہ تعالیٰ کے چہرہ انور کا دیدار، اس کلام مبارک کا سماع، اس کی رضا کا فیضان اور اس کے قرب کا سرور ہے۔ اس ذریعے سے انہیں وہ بلند مقامات حاصل ہوں گے کہ تمنا کرنے والے ان کی تمنا کرتے ہیں اور سوال کرنے والے اللہ تعالیٰ سے انہیں مقامات کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے محذورات کے دور ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلَا ذِلَّةٌ﴾ ” اور نہ چڑھے گی ان کے چہروں پر سیاہی اور نہ رسوائی“ یعنی انہیں کسی لحاظ سے بھی کسی ناگوار صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا،کیونکہ جب کوئی ناگوار امر واقع ہوتا ہے تو یہ ناگوار امر اس کے چہرے پر ظاہر ہوجاتا ہے اور چہرہ تغیر اور تکدر کا شکار ہوجاتا ہے۔ رہے یہ لوگ تو ان کی حالت ایسے ہوگی جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ﴾ (المطففین : 83؍24) ” تو ان کے چہروں میں نعمتوں کی تازی معلوم کرلے گا۔‘‘ ﴿أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ﴾ ” یہی ہیں جنت میں رہنے والے“ ﴿هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ ” وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“ یعنی وہ جنت سے منتقل ہوں گے نہ اس سے دور ہوں گے اور نہ وہ تبدیل ہوں گے۔ یونس
27 اصحاب جنت کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کا ذکر فرمایا کہ ان کی کل کمائی جس کا انہوں نے دنیا میں اکتساب کیا، برے اعمال ہیں جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے، مثلاً کفر کی مختلف انواع، انبیاء کی تکذیب اور گناہ کی مختلف اقسام۔ ﴿جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا﴾ ” تو برائی کا بدلہ بھی ویسا ہی ہوگا۔“ یعنی ان کو ایسی جزا دی جائے گی جو ان کے مختلف احوال اور ان کے برے اعمال کے مطابق بری ہوگی۔ ﴿وَتَرْهَقُهُمْ ﴾ ”اور ان کو ڈھانک لے گی۔“ ﴿ ذِلَّةٌ﴾ ” رسوائی“ یعنی ان کے دلوں میں ذلت اور اللہ کے عذاب کا خوب ہوگا۔ کوئی ان سے اس خوف کو دور نہیں کرسکے گا اور نہ کوئی بچانے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے گا۔ یہ باطنی ذلت ان کے ظاہر میں بھی سرایت کر جائے گی اور ان کے چہرے کی سیاہی بن جائے گی۔ ﴿كَأَنَّمَا أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ اللَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴾” گویا کہ ڈھانک دئے گئے ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے“ ان دو گروہوں کے احوال میں کتنا فرق ہے اور دونوں کے درمیان کتنا بعد اور تفاوت ہے ! ﴿وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ  تَظُنُّ أَن يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ﴾ (القیامۃ: 75؍22-25) ” اس روز بہت سے چہرے ترو تازہ ہوں گے، اپنے رب کا دیدار کر رہے ہوں گے اور بہت سے چہرے اداس ہوں گے اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان پر مصیبت نازل ہونے والی ہے۔“ ﴿ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ  ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ  أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ ﴾ (عبس : 80؍38۔46) ” بہت سے چہرے اس روز روشن اور خنداں و شاداں ہوں گے اور کتنے ہی چہرے ہوں گے جو گرد سے اٹے ہوئے ہوں گے سیاہی نے ان کو ڈھانک رکھا ہوگا۔ یہ فجار اور کفار ہیں۔ “ یونس
28 ﴿وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ﴾ ”اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔“ یعنی ایک مقرر دن میں ہم تمام مخلوقات کو جمع کریں گے، ہم مشرکین اور ان کے ان معبودان باطل کو بھی اکٹھا کریں گے جن کی یہ مشرکین عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ﴾ ”پھر ہم کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ، تم اور تمہارے شریک“ یعنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو، تاکہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے۔ ﴿فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ﴾ ” پھر ہم ان کے درمیان تفرقہ ڈال دیں گے۔“ یعنی ہم بعد بدنی اور بعد قلبی کے ذریعے سے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے، دنیا میں وہ ایک دوسرے کے لئے خالص محبت و مودت رکھتے تھے، اب ان کے درمیان سخت عداوت ہوگی۔ یہ محبت اور دوستی سخت عداوت اور بغض میں بدل جائے گی۔ ﴿وَقَالَ شُرَكَاؤُهُم﴾ ” اور ان کے شریک کہیں گے“ یعنی ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے۔ ﴿مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ ﴾ ” تم ہماری عبادت تو نہ کرتے تھے“ کیونکہ ہم تو اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس سے پاک اور منزہ گردانتے ہیں کہ اس کا کوئی شریک اور ہمسر ہو۔ یونس
29 ﴿فَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ﴾ ” پس اللہ کافی ہے گواہ، ہمارے اور تمہارے درمیان، یقیناً ہم تمہاری عبادت سے بے خبر تھے“ ہم نے تمہیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے تمہیں اس کی طرف بلایا تھا، بلکہ درحقیقت تم نے تو اس کی عبادت کی ہے جس نے تمہیں اس شرک کی طرف دعوت دی اور وہ ہے شیطان مردود، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا تھا : ﴿ أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴾ (یسین : 36؍60) ” اے اولاد آدم ! کیا میں نے تمہیں کہہ نہ دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَـٰؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ- قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِم ۖ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ ۖ أَكْثَرُهُم بِهِم مُّؤْمِنُونَ﴾ (سبا : 34؍40۔41) ”اور جس روز وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا، پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے، تو پاک ہے، ان کی بجائے تو ہمارا دوست ہے، بلکہ یہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر لوگ انہی کی بات مانتے تھے۔ “ اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتے، انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیائے عظام و غیر ہم قیامت کے روز ان لوگوں سے برات کا اظہار کریں گے جو ان کی عبادت کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو (اس الزام سے) بری کریں گے کہ وہ ان لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دیتے تھے اور وہ اپنی اس براءت میں سچے ہوں گے۔ تب اس وقت مشرکین کو اتنی زیادہ حسرت ہوگی کہ اس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ انہیں اپنے اعمال کی مقدار کا علم ہوجائے گا اور انہیں یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ ان سے کیا ردی خصائل صادر ہوتے رہے ہیں۔ اس روز ان پر عیاں ہوجائے گا کہ وہ جھوٹے تھے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کیا کرتے تھے۔ ان کی عبادتیں گم اور ان کے معبود نا بود ہوجائیں گے اور ان کے تمام اسباب و وسائل منقطع ہوجائیں گے۔ یونس
30 بنا بریں فرمایا : ﴿هُنَالِكَ﴾ ” وہاں“ یعنی اس روز ﴿تَبْلُو كُلُّ نَفْسٍ مَّا أَسْلَفَتْ﴾ ” جانچ لے گا ہر کوئی جو اس نے پہلے کیا“ یعنی ان کے اعمال کی پڑتال کی جائے گی اور ان کی نوعیت کے مطابق ان کو جزا دی جائے گی۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے، تو اچھی جزا ہوگی، اگر اعمال برے ہوں گے، تو جزا بھی بری ہوگی۔ ﴿وَرُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ ﴾ ” اور وہ اللہ کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے، جو ان کا سچا مالک ہے اور جاتا رہے گا ان سے جو جھوٹ باندھتے تھے“ یعنی اپنے شرک کے بارے میں انہوں نے بہتان طرازی کی تھی کہ یہ معبد ان باطل جن کی یہ عبادت کرتے تھے، ان کو فائدہ دے سکتے ہیں اور عذاب کو ان سے دور کرسکتے ہیں۔ (اس روز ان بہتانوں کی حقیقت واضح ہوجائے گی)۔ یونس
31 ﴿قُلْ﴾ یعنی ان کے تو حیدر بوبیت کے اقرار کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر حجت بناتے ہوئے ان مشرکین سے کہہ دیجئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ﴿مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ﴾ ” کون ہے جو تمہیں روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے“ یعنی آسمان سے رزق نازل کر کے اور زمین سے رزق کی مختلف اقسام کو نکال کر اور اس میں رزق کے اسباب کو آسان بنا کر؟ ﴿أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ ﴾ ” یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا“ یعنی کون ہے جس نے ان دونوں قویٰ کو تخلیق کیا اور وہ ان کا مالک ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر ان دونوں قویٰ کا ذکر فرمایا‘یہ مفضول پر فاضل کی فضیلت پر تنبیہ کے باب سے ہے، نیز ان کے شرف اور فوائد کی بنا پر ان کا ذکر کیا۔ ﴿وَمَن يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ﴾ ”اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے“ مثلاً شجر و نباتات کی تمام اقسام کو دانے اور گٹھلی سے پیدا کیا، مومن کو کافر سے جنم دیا اور پرندے کو انڈوں سے تخلیق کیا۔ ﴿وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ﴾ ” اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے“ یعنی مذکورہ تمام چیزوں کے برعکس ﴿وَمَن يُدَبِّرُ الْأَمْرَ﴾ ” اور کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔“ یعنی کون ہے جو عالم علوی اور عالم سفلی کی تدبیر کرتا ہے؟ اور اس میں تدابیر الٰہیہ کی تمام اقسام شامل ہیں۔ اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں ﴿فَسَيَقُولُونَ اللَّـهُ﴾ ” تو وہ کہیں گے، اللہ“ کیونکہ وہ ان تمام امور کا اقرار کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مذکورہ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿فَقُلْ﴾ تو الزامی حجت کے طور پر ان سے کہہ دیجئے ! ﴿أَفَلَا تَتَّقُونَ ﴾ ”پھر تم ڈرتے کیوں نہیں۔“ کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے کہ خالص اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرتے اور جھوٹے معبودوں اور بتوں کی بندگی کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکتے۔ یونس
32 ﴿فَذَٰلِكُمُ﴾ ” پس یہی“ یعنی وہ ہستی، جس نے اپنے مذکورہ اوصاف بیان کیے۔ ﴿اللَّـهُ رَبُّكُمُ ﴾ ”اللہ ہے، تمہارا رب“ وہ معبود محمود ہے جو مختلف نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوقات کا مربی ہے۔ ﴿الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ ۖ﴾ ” اور وہ حق ہے، پس حق کے بعد سوائے گمراہی کے کیا ہے؟“ یعنی وہ تمہارا پروردگار برحق ہے، حق کے بعد، گمراہی کے سوا کیا باقی رہ جاتا ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ اکیلا ہی تمام کائنات کا خالق اور اس کی تدبیر کرتا ہے، بندوں کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے عطا کی ہوئی ہے۔ تمام بھلائیاں وہی لاتا ہے اور تمام برائیوں کو وہی دور کرتا ہے، وہ اسمائے حسنیٰ سے موسوم، صفات کاملہ سے موصوف اور جلال و اکرام کا مالک ہے۔ ﴿فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ﴾ ” پس تم کہاں پھیرے جاتے ہو“ یعنی جس ہستی کے یہ اوصاف ہیں اسے چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کی طرف کیوں کر پھیرے جا رہے ہو جن کا وجود عدم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جو خود اپنی ذات کے لئے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ جن کا اقتدار میں کسی بھی لحاظ سے ذرہ بھر بھی حصہ اور شراکت نہیں۔ وہ اس کے پاس، اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتیں۔ پس ہلاکت ہے اس کے لئے جو ایسوں کو شریک ٹھہراتا ہے اور برائی ہے اس کے لئے جو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے۔ یقیناً اپنے دین سے محروم ہونے کے بعد وہ اپنی عقلوں سے بھی محروم ہوگئے، بلکہ وہ اپنی دنیا اور آخرت بھی کھو بیٹھے۔ یونس
33 بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا : ﴿كَذَٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ فَسَقُوا أَنَّهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾ ” اسی طرح ثابت ہوگئی تیرے رب کی بات ان لوگوں پر جو نافرمان ہوئے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔“ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو واضح نشانات اور روشن دلائل دکھائے جن میں عقل مندوں کے لئے عبرت’ اہل تقویٰ کے لئے نصیحت اور جہانوں کے لئے ہدایت ہے۔ یونس
34 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے معبودان باطل کی بے بسی اور ان کے ان صفات سے محروم ہونے کا، جو معبود گردانے جانے کی موجب ہیں، ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿قُلْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَبْدَأُ الْخَلْقَ﴾ ” کہہ دیجئے ! کیا ہے تمہارے شریکوں میں جو پیدا کرے مخلوق کو“ یعنی پہلی مرتبہ اسے بنائے؟ ﴿ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ﴾ ” پھر اسے دوبارہ زندہ کرے“ یہ استفہام بمعنی نفی اور اثبات کے ہے، یعنی مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو مخلوق کی تخلیق کی ابتدا اور پھر اس کا اعادہ کرسکتی ہو، وہ ایسا کرنے سے یکسر عاجز اور کمزور ہے۔ ﴿قُلِ اللَّـهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ﴾ ” کہہ دیجئے ! کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ہی بغیر کسی شریک کی شراکت اور بغیر کسی معاون کی مدد کے تخلیق کی ابتداء کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ﴿فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ﴾ ” پس کہاں پھرے جاتے ہوتم؟“ یعنی ہر اس ہستی کی عبادت سے منحرف ہو کر جو مخلوق کی ابتدا کرنے اور پھر اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے‘ ایسی ہستیوں کی عبادت کر رہے ہو جو کچھ تخلیق کرنے سے قاصر، بلکہ خود مخلوق ہیں۔ یونس
35 ﴿قُلْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ﴾ ” کہہ دیجئے ! کیا ہے تمہارے شریکوں میں سے جو حق کی طرف رہنمائی کرے“ یعنی اپنے بیان اور رہنمائی یا اپنے الہام اور توفیق کے ذریعے سے، حق کی طرف راہ نمائی کرسکتا ہو۔ ﴿قُلِ اللَّـهُ﴾ ” کہہ دیجئے اللہ“ یعنی اللہ تعالیٰ اکیلا ﴿يَهْدِي لِلْحَقِّ﴾ ” رہنمائی کرتا ہے حق کی طرف“ دلائل و براہین اور الہام و توفیق کے ذریعے سے حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور راست ترین راستے پر گامزن ہونے میں مدد دیتا ہے۔ ﴿أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّي إِلَّا أَن يُهْدَىٰ﴾ ” کیا پس جو شخص راہ بتائے صحیح، اس کی بات ماننی چاہئے، یا اس کی جو آپ راہ نہ پائے، مگر یہ کہ اس کو راہ بتلائی جائے۔“ یعنی اپنے عدم علم اور گمراہی کے سبب سے اور اس سے مراد ان کے گھڑے ہوئے شریک ہیں جو کسی کو ہدایت دے سکتے ہیں نہ خود ہدایت یافتہ ہیں، سوائے اس کے کہ خود ان کی راہ نمائی کی جائے۔﴿فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ﴾ ” تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا فیصلہ کرتے ہو۔“ یعنی کس چیز نے تمہیں اس پر آمادہ کیا ہے کہ تم یہ باطل فیصلہ کرتے ہو اور اس حقیقت پر دلیل و برہان کے ظاہر ہونے کے بعد کہ اللہ واحد کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کی عبادت کی صحت کا حکم لگاتے ہو۔ یونس
36 جب یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ ان کے معبود ان باطل میں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں‘وہ معنوی اور فعلی اوصاف موجود نہیں جو اس بات کا تقاضا کرتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جائے، بلکہ اس کے برعکس یہ معبودان باطل نقائص سے متصف ہیں جو ان کی الوہیت کے بطلان کا موجب ہیں، تب وہ کون سی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ انہیں بھی معبود قرار دیتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے لئے اس کو خوش نما بنا دینا شیطان کا کام ہے، یہ قبیح ترین بہتان اور سب سے بڑی گمراہی ہے، لیکن یہی اس کا دل پسند اعتقاد بن گیا ہے اور وہ اسی کو حق سمجھتا ہے حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ﴾ ” اور نہیں پیروی کرتے ان کے اکثر لوگ“ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی بجائے اپنے گھڑے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں ﴿ إِلَّا ظَنًّا ۚ﴾ ” مگر گمان کی۔“ یعنی وہ در حقیقت اللہ تعالیٰ کے شریکوں کو نہیں پکارتے، کیونکہ اصل میں عقلاً و نقلاً اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں، یہ لوگ محض اپنے ظن و گمان کی پیروی کرتے ہیں ﴿ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا﴾ ” اور بے شک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا‘‘ پس انہوں نے ان کو معبود کے نام سے موسوم کردیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی عبادات بھی کرنے لگے ﴿إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّـهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ﴾ (النجم : 53؍23) ” وہ تو صرف چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے گھڑ لئے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔“ ﴿إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ﴾ ” بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ ان کے افعال کو خوب جانتا ہے اور وہ ان افعال پر انہیں سخت سزا دے گا۔ یونس
37 ﴿وَمَا كَانَ هَـٰذَا الْقُرْآنُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ اللَّـهِ ﴾ ” اور نہیں ہے یہ قرآن کہ اسے گھڑ لیا جائے اللہ کے ورے ورے ہی“ یعنی یہ غیر ممکن اور غیر متصور ہے کہ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ پر گھڑ لیا گیا ہو کیونکہ یہ عظیم کتاب ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا : ﴿ لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ ﴾ (حم السجدۃ: 41؍42) ” باطل کا دخل اس میں آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ دانا اور قابل ستائش ہستی کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے۔“ یہ ایسی کتاب ہے ﴿ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ﴾ (بنی اسرائیل : 17؍88) ” اگر تمام انسان اور جن اس بات پر اکٹھے ہوجائیں کہ وہ اس قرآن جیسی کوئی کتاب بنا کر لائیں تو اس جیسے کوئی کتاب نہ لا سکیں گے خواہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔ “ یہ وہ کتاب ہے جس کے ذریعے سے جہانوں کے پروردگار نے بندوں کے ساتھ کلام کیا، تب مخلوق میں سے کوئی ہستی اس جیسے کلام یا اس کے قریب قریب کلام پر کیوں کر قادر ہوسکتی ہے۔ حالانکہ کلام متکلم کی عظمت اور اس کے اوصاف کے تابع ہوتا ہے۔ اگر کوئی ہستی اپنی عظمت اور اپنے اوصاف کمال میں اللہ تعالیٰ جیسی ہوسکتی ہے، تو اس کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ اس قرآن جیسی کتاب بنا لائے۔ اگر ہم فرض کرلیں کہ کسی نے اللہ تعالیٰ پر کتاب گھڑ لی ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور فوری سزا دیتا۔ ﴿ وَلَـٰكِن﴾ مگر اللہ تعالیٰ نے کائنات پر بے پایاں رحمت اور تمام بندوں پر حجت کے طور پر اس کتاب کو نازل فرمایا ﴿ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ﴾ ” تصدیق کرتی ہے پہلے کلام کی“ یعنی آسمانی کتابیں جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں ان کی تصدیق ہے، یہ کتاب ان کی موافقت اور ان کی شہادت کی بنا پر ان کی تصدیق کرتی ہے، ان کتابوں نے اس کے نازل ہونے کی خوشخبری سنائی تھی اور پھر اسی طرح ہوا جس طرح ان کتب الٰہیہ نے خبر دی تھی۔ ﴿وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ﴾ ” اور کتاب کی تفصیل ہے۔“ یعنی اس میں حلال و حرام، احکام دینیہ، احکام قدریہ اور اخبار صادقہ کی تفصیل ہے۔ ﴿ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ﴾ ”اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔“ یعنی کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں، بلکہ یہ یقینی حق ہے اور جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی پرورش اور اس کی تربیت کی۔ سب سے بڑی تربیت کی قسم یہ ہے کہ اس نے ان پر یہ کتاب نازل فرمائی جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح پر مبنی اور مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق پر مشتمل ہے۔ یونس
38 ﴿أَمْ يَقُولُونَ﴾ ” کیا یہ کہتے ہیں؟“ یعنی اس کتاب کی تکذیب کرنے والے عناد اور تعدی کی بنا پر کہتے ہیں : ﴿افْتَرَاهُ﴾ ” اس نے خود اسے بنا لیا ہے“ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو تصنیف کیا ہے۔ ﴿قُلْ﴾ ” کہہ دیجئے“ یعنی ان پر اس کو لازم کرتے ہوئے کہ وہ جس کا دعویٰ کرتے ہیں اگر اس پر قدرت رکھتے ہیں تو وہ (اس جیسی کتاب) لے آئیں ورنہ ان کی بات باطل ہے۔ ﴿وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ﴾ ’’اور بلا لو، جس کو تم بلا سکو اللہ کے سوا، اگر تم سچے ہو“ یعنی جو اس جیسی سورت بنا لانے میں تمہاری مدد کرے اور یہ محال ہے اگر ایسا کرنا ممکن ہوتا تو ضرور اس پر قدرت رکھنے کا دعویٰ کرتے اور اس جیسی کتاب لا دکھاتے۔ مگر چونکہ ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی ہے اس لئے ان کا قول باطل ہوگیا جو کہ دلیل سے محروم ہے۔ یونس
39 وہ چیز جس نے ان کو قرآن، جو حق پر مشتمل ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی حق نہیں، کی تکذیب پر آمادہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اس کا علم نہیں رکھتے۔ اگر وہ اس کا علم رکھتے ہوتے اور اگر انہوں نے اس کو سمجھ لیا ہوتا جیسا کہ سمجھنے کا حق ہے، تو وہ ضرور اس کی حقانیت کی تصدیق کرتے۔ اسی طرح اب تک ان کے پاس ان کے ساتھ کئے ہوئے اس وعدے کی حقیقت، کہ اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل کرے گا اور ان کو سزا دے گا، نہیں آٗئی۔ اور یہ تکذیب جو ان کی طرف سے صادر ہوئی ہے ان سے پہلے لوگوں کی طرف سے صادر ہونے والی تکذیب کی جنس سے ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ﴾ ” اسی طرح جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس دیکھو، کیسا انجام ظالموں کا“ اس سے مراد وہ عذاب ہے جس نے ان میں سے کوئی باقی نہ چھوڑا، لہٰذا ان لوگوں کو تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل ہوجائے جو انبیاء و رسل کو جھٹلانے والی اور ہلاک ہونے والی قوموں پر نازل ہوا۔ یہ آیت کریمہ تمام امور میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور اس سے یہ راہ نمائی بھی حاصل ہوتی ہے کہ انسان کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ کسی چیز کے بارے میں پوری حقیقت حال معلوم کئے بغیر اسے قبول یارد کر دے۔ یونس
40 ﴿ وَمِنْهُم مَّن يُؤْمِنُ بِهِ﴾ ”اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اس کے“ یعنی قرآن کریم اور اس کی لائی ہوئی تعلیم پر ایمان رکھتے ہیں ﴿وَمِنْهُم مَّن لَّا يُؤْمِنُ بِهِ ۚ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِينَ ﴾ ” اور بعض وہ ہیں جو اس کے ساتھ ایمان نہیں لاتے اور آپ کا رب شرارت کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔“ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے ظلم، عناد اور فساد کی بنا پر قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ اللہ تعالیٰ ان کے فساد کی پاداش میں انہیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ یونس
41 ﴿ وَإِن كَذَّبُوكَ ﴾ ” اگر وہ آپ کو جھٹلاتے ہیں“ تو آپ ان کو اپنی دعوت پہنچاتے رہئے، ان کے حساب میں سے کچھ بھی آپ کے ذمے نہیں اور نہ آپ کا حساب ان کے ذمے ہے، ہر شخص کا عمل اسی کے لئے ہے۔ فرمایا : ﴿فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ﴾ ” آپ کہہ دیجئے ! میرے واسطے میرا عمل ہے اور تمہارے واسطے تمہارا عمل، تم میرے عمل سے بری ہو اور میں تمہارے عملوں سے بری ہوں“ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے ﴿مَّنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ۗ﴾ (حم السجدہ : 41؍46)” جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے، جو کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی پر ہے۔ “ یونس
42 اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جنہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کی تکذیب کی، چنانچہ فرمایا : ﴿ وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُونَ ﴾ ” اور ان میں سے بعض کان لگاتے ہیں آپ کی طرف“ یعنی وحی کی قراءت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غور سے سنتے ہیں، رشد و ہدایت کے حصول کی خاطر نہیں، بلکہ تکذیب اور کمزوریاں تلاش کرنے کے لئے سنتے ہیں اور اس طرح کا سننا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور سننے والے کو کوئی بھلائی عطا نہیں کرتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پر توفیق کا دروازہ بند ہوگیا اور وہ سننے کے فائدے سے محروم ہوگئے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿أَفَأَنتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا لَا يَعْقِلُونَ ﴾ ” کیا آپ بہروں کو سنائیں گے، اگرچہ وہ سمجھ نہ رکھتے ہوں“ یہ استفہام بمعنی نفی متقرر (استفہام انکاری) ہے، یعنی آپ بہروں کو نہیں سنا سکتے جو بات کو غور سے نہیں سنتے خواہ آپ بآواز بلند کیوں نہ سنوائیں خاص طور پر جب کہ وہ عقل سے محروم ہوں۔ جب بہرے کو سنوانا محال ہے جو کلام کو سمجھنے سے قاصر ہے، تب یہ تکذیب کرنے والے بھی اسی طرح سننے سے قاصر ہیں آپ ان کو بھی نہیں سنوا سکتے جس سے یہ نفع اٹھا سکیں۔ رہا سماع حجت، تو انہوں نے اتنا ضرور سن لیا جس سے ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت بالغہ قائم ہو۔ سماعت حصول کے راستے میں سے ایک بہت بڑا راستہ ہے جو ان پر مسدود ہوچکا ہے اور یہ بھلائی سے متعلق مسموعات ہیں۔ یونس
43 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسرے راستے کو مسدودہونے کا ذکر فرمایا ہے اور وہ ہے نظر کا راستہ، چنانچہ فرمایا ﴿وَمِنْهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيْكَ﴾ ”اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔“ اور ان کا آپ کی طرف دیکھنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اور نہ آپ کو کوئی راحت دے سکتا ہے۔ پس جس طرح آپ اندھوں کو راہ نہیں دکھا سکتے جو بصارت سے محروم ہیں اسی طرح آپ بہروں کی بھی راہ نمائی نہیں کرسکتے۔ جب ان کی عقل، سماعت اور بصارت، جو حصول علم اور معرفت حقائق کا ذریعہ ہیں، خرابی کا شکار ہوجائیں تب ان کے لئے حق تک پہنچنے کا کون سا راستہ ہے؟ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد : ﴿وَمِنْهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيْكَ﴾ دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال، آپ کے طریقوں، آپ کے اخلاق اور آپ کے اعمال کو دیکھنا آپ اور آپ کی دعوت کی صداقت پر دلیل مہیا کرتا ہے اور یہ نظر، صاحب بصیرت کو دیگر دلائل سے مستغنی کردیتی ہے۔ یونس
44 ﴿إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا﴾ ” للہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا“ پس وہ لوگوں کی برائیوں کو بڑھاتا ہے، نہ نیکیوں میں کمی کرتا ہے۔ ﴿ وَلَـٰكِنَّ النَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ﴾ ” لیکن لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔“ ان کے پاس حق آتا ہے مگر یہ اسے قبول نہیں کرتے ہیں، تب اللہ تعالیٰ سزا کے طور پر ان کے دلوں، ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر مہر لگا دیتا ہے۔ یونس
45 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ دنیا نہایت سرعت سے ختم ہوجانے والی ہے اور اللہ تعالیٰ جس روز تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں، تو ان کو یوں لگے گا گویا کہ وہ دن کی ایک گھڑی ٹھہرے ہیں اور ان پر کسی نعمت یا تکلیف کے دن نہیں گزرے۔ وہ ایک دوسرے سے اس طرح متعارف ہوں گے جس طرح وہ دنیا میں متعارف تھے۔ اس روز متقی لوگ فائدے میں رہیں گے اور وہ لوگ نقصان اٹھائیں گے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو جھٹلایا، وہ راہ راست پر گامزن ہوئے نہ دین قویم پر چلے، کیونکہ وہ نعمتوں سے محروم ہوں گے اور جہنم کے مستحق ہوں گے۔ یونس
46 اے رسول ! ان جھٹلانے والوں کے بارے میں غمزدہ نہ ہوں اور نہ ان کے بارے میں عجلت سے کام لیں، کیونکہ وہ عذاب ان پر ضرور نازل ہوگا جس کا ہم ان کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں، تو یہ عذاب دنیا میں نازل ہوگا اور آپ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور آپ کا دل ٹھنڈا ہوگا یا ان کے مرنے کے بعد انہیں آخرت میں اس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا، انہیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو آگاہ فرمائے گا اس نے ان کے اعمال کو محفوظ کر رکھا ہے جبکہ انہوں نے فراموش کردیا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے۔ اس آیت کریمہ میں کفار کے لئے سخت وعید ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تسلی ہے جن کو ان کو قوم نے جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا۔ یونس
47 ﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ﴾ ” ہر امت کے لئے“ یعنی گزشتہ امتوں میں سے ہر امت کے لئے ﴿رَّسُولٌ﴾ ایک رسول مبعوث کیا گیا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ فَإِذَا جَاءَ رَسُولُهُمْ﴾ ” پس جب ان کا رسول آتا۔“ یعنی ان کے پاس آیات الٰہی لے کر آتا تو ان میں سے کچھ لوگ اس کی تصدیق کرتے اور دوسرے اس کو جھٹلاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرماتا، اہل ایمان کو نجات دیتا اور جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیتا۔ ﴿وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ﴾ ” اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا“ یعنی رسول بھیجنے اور حجت قائم کرنے سے پہلے یا کسی جرم کے بغیر ان کو عذاب نہیں دیا گیا، اس لئے آپ کو جھٹلانے والے گزشتہ زمانوں میں ہلاک کی گئی قوموں کی مشابہت سے بچیں۔ ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان قوموں پر نازل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں یہ نہ سمجھیں کہ وہ دیر سے آئے گا اور پھر وہ یہ کہتے پھریں یونس
48 ﴿مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴾ ” کب ہے یہ وعدہ، اگر تم سچے ہو“ یہ ان کی طرف سے سخت ظلم کا رویہ ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ آپ کی ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے اور لوگوں کے سامنے بیان کردینا ہے۔ رہا ان کا حساب و کتاب اور ان پر عذاب کا نازل کرنا تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ جب اس کی مدت معینہ اور حکمت الٰہیہ کے مطابق ان کا وقت مقررہ آن پہنچے گا، تو ان کے ساتھ ایک گھڑی کی تاخیر نہ کی جائے گی نہ تقدیم۔ اس لئے اس کی تکذیب کرنے والے جلدی مچانے سے بچیں، کیونکہ وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا عذاب جب نازل ہوتا ہے تو مجرموں کی قوم پر نازل ہونے سے اسے روکا نہیں جاسکتا۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : یونس
49 یونس
50 ﴿ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُهُ بَيَاتًا ﴾ ” کہہ دیجئے ! بتلاؤ، اگر تمہارے پاس اس کا عذاب آجائے راتوں رات۔“ یعنی رات کے وقت سوتے میں۔ ﴿أَوْ نَهَارًا﴾ ” یا دن کو“ یعنی تمہاری غفلت کے وقت ﴿مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُونَ﴾ ” و وہ کیا چیز ہے جس کے لئے مجرمین جلدی کا مطالبہ کر رہے ہیں؟“ یعنی وہ کون سی بشارت ہے، جس کے لئے یہ جلدی مچا رہے ہیں اور کون سا عذاب ہے، جس کی طرف یہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں؟ یونس
51 ﴿ أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنتُم بِهِ﴾ ” کیا پھر جب وہ عذاب واقع ہوچکے گا، تب اس پر تم ایمان لاؤ گے؟“ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا تو اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اس حال میں جب کہ وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ وہ ایمان لے آئیں ہیں، عتاب اور زجرو توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا : ﴿ آلْآنَ﴾ ” اب“ یعنی اب تم اس شدت اور سخت مشقت کی حالت میں ایمان لاتے ہو؟ ﴿وَقَدْ كُنتُم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ﴾ ” تم تو اس عذاب کے لئے بہت جلدی مچایا کرتے تھے۔“ اپنے بندوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وقوع عذاب سے قبل اگر وہ اسے منانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان سے اپنی ناراضی کو دور کردیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا عذاب واقع ہوجاتا ہے، تو کسی نفس کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دیتا، جیسا کہ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وہ ڈوبنے لگا، تو اس نے کہا : ﴿ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ (یونس : 10؍90) ” میں ایمان لایا کہ اس ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی اس کے سامنے سراطاعت خم کردینے والوں میں سے ہوں۔“ تو اس کو جواب دیا گیا : ﴿آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ﴾ (یونس : 10؍ 91)”اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا ہے اور فساد کرنے ولوں میں سے تھا۔“ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا  سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ  وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ ﴾ )المومن : 40؍85 (” پس جب وہ ہمارا عذاب دیکھ لیں گے تو اس وقت ان کا ایمان لانا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہیں۔ “ اور یہاں فرمایا : ﴿أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنتُم بِهِ﴾ ” کیا جب وہ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے؟ )تو کہا جائے گا( اب تم“ )ایمان کا دعویٰ کرتے ہو؟( ﴿ وَقَدْ كُنتُم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ﴾ ” اسی کے لئے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔“ یہ ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائی اور یہ ہے وہ، جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے۔ یونس
52 ﴿ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا﴾ ” پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا“ جب قیامت کے روز ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ ذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ﴾ ” چکھو عذاب ہمیشگی کا“ یعنی وہ عذاب جس میں تم ہمیشہ رہو گے، یہ عذاب تم سے ایک گھڑی کے لئے دور نہ ہوگا ﴿هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ﴾ ” اسی چیز کا بدلہ تمہیں دیا جا رہا ہے جو تم کماتے تھے“ یعنی کفر، تکذیب رسالت اور معاصی کی تمہیں جزا دی جا رہی ہے۔ یونس
53 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسْتَنبِئُونَكَ﴾ ” اور آپ سے دریافت کرتے ہیں۔“ یہ مکذبین تحقیق و تبیین اور طلب ہدایت کے لئے نہیں، بلکہ عناد و نکتہ چینی کے قصد سے آپ سے پوچھتے ہیں ﴿ أَحَقٌّ هُوَ ﴾ ” کیا آیا یہ سچ ہے؟“ یعنی کیا یہ بات صحیح ہے کہ انسانوں کے مرنے کے بعد قیامت کے روز انہیں دوبارہ زندہ کر کے جمع کیا جائے گا۔ پھر ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اچھے اعمال کا بدلہ اچھا ہوگا اور برے اعمال کا بدلہ برا ہوگا۔ ﴿قُلْ﴾ ” کہہ دیجئے !“ اس کی صحت پر قسم اٹھا کر اور واضح دلیل کے ذریعے سے اس پر استدلال کرتے ہوئے کہہ دیجئے ! ﴿ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ ﴾ ” قسم ہے میرے رب کی، یہ یقیناً حق ہے“ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ ﴾ ” اور تم عاجز نہ کرسکو گے۔“ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو دوبارہ اٹھانے سے عاجز اور بے بس نہیں کرسکتے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں تمہیں پیدا کیا ہے جبکہ تم کچھ بھی نہ تھے اسی طرح وہ دوبارہ تمہیں پیدا کرسکتا ہے، تاکہ وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے۔ یونس
54 ﴿وَ﴾ ” اور“ جب قیامت برپا ہوگی ﴿ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ﴾ اگر ہو ہر گناہ گار کے پاس جس نے کفر و معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا ﴿ مَا فِي الْأَرْضِ﴾ ” جو کچھ زمین میں ہے“ یعنی زمین میں جو سونا چاندی وغیرہ ہے، تو وہ سب کا سب اپنے کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے فدیہ میں دے دے۔ ﴿ لَافْتَدَتْ بِهِ﴾ ” تو وہ ضرور فدیے میں دے دے۔“ مگر یہ فدیہ دینا اس کے کسی کام نہ آئے گا، کیونکہ نفع و نقصان اور ثواب و عذاب تو نیک اور برے اعمال پر منحصر ہے۔ ﴿وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ﴾ ” اور چھپے چھپے پچھتائیں گے وہ جب دیکھیں گے“ یعنی وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا دل ہی دل میں اپنے اعمال پر پچھتائیں گے مگر اب رہائی کا کوئی وقت نہیں ہوگا۔ ﴿ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ ﴾ ” اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔“ یعنی کامل انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔ جس میں کسی پہلو سے بھی ظلم و جور نہیں ہوگا۔ یونس
55 ﴿ أَلَا إِنَّ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ ” خبردار! اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔“ وہ ان کے درمیان حکم دینی اور حکم قدری کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور قیامت کے روز حکم جزائی کے مطابق فیصلہ کرے گا، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ أَلَا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴾ ” خبردار، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ اسی لئے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لئے تیاری نہیں کرتے، بلکہ بسا اوقات وہ تو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی نہیں رکھتے، حالانکہ نہایت تواتر کے ساتھ قطعی دلائل اور عقلی اور نقلی براہین اس ملاقات پر دلالت کرتے ہیں۔ یونس
56 ﴿هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ﴾ ” وہی جان بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔“ یعنی وہ زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے اور وہ ہر قسم کی تدبیر کرتا ہے اور تدبیر کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں ﴿وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴾ ” اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔“ قیامت کے روز، پس وہ تمہیں تمہارے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔ یونس
57 اللہ تبارک و تعالیٰ کتاب کریم کے اوصاف حسنہ، جو بندوں کے لئے ضروری ہیں، بیان کر کے اس کی طرف متوجہ ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ﴾ ” اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی“ یعنی وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے اور وہ تمہیں ان اعمال سے ڈراتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے موجب اور اس کے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں۔ وہ ان اعمال کے اثرات اور مفاسد بیان کرکے تمہیں ان سے بچاتا ہے۔ ﴿وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ﴾ ” اور شفا دلوں کے روگ کی“ اور وہ یہی قرآن ہے جو امراض قلب، مثلاً امراض شہوات، جو شریعت کی اطاعت سے روکتے ہیں اور امراض شبہات، جو علم یقینی میں قادح ہیں۔۔۔۔ کے لئے شفا ہے۔ اس کتاب کریم کے اندر مواعظ، ترغیب و ترہیب اور وعد و وعید کے جو مضامین ہیں وہ بندے کے لئے رغبت و رہبت کے موجب ہیں۔ جب آپ اس کتاب کریم میں بھلائی کی طرف رغبت، برائی سے ڈر اور قرآن کے معانی میں بتکرار ایسا اسلوب پاتے ہیں‘ تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کے مراد کو نفس کی مراد پر مقدم رکھنے کی موجب بنتی ہے اور بندہ مومن کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی رضا شہوت نفس سے زیادہ محبوب بن جاتی ہے۔ اسی طرح اس کے اندر جو دلائل وبراہین ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے ذکر کیا ہے اور انہیں بہترین اسلوب میں بیان کیا ہے جو ایسے شبہات کو زائل کردیتا ہے جو حق میں قادح ہیں اور اس کے ذریعے سے قلب یقین کے بلند ترین مراتب پر پہنچ جاتا ہے اور جب قلب اپنی بیماری سے صحت یاب ہوجاتا ہے اور وہ لباس عافیت کو زیب تن کرلیتا ہے، تو جوارح اس کی پیروی کرتے ہیں اس لئے کہ جوارح، دل کی درستی سے درست رہتے ہیں اگر دل فاسد ہوجاتا ہے تو جوارح بھی خرابی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ﴿وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ﴾ ” اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت۔“ پس ہدایت حق کے علم اور اس پر عمل کرنے کا نام ہے۔ اور ”رحمت“ سے مراد وہ بھلائی، احسان اور دنیاوی و اخروی ثواب ہے جو ہدایت یافتہ انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ تب معلوم ہوا کہ ہدایت جلیل ترین وسیلہ اور رحمت کامل ترین مقصود و مطلوب ہے۔ اس کی طرف صرف اہل ایمان ہی کو راہ نمائی عطا ہوتی ہے اور اہل ایمان ہی رحمت سے نوازے جاتے ہیں۔ جب بندہ مومن کو ہدایت حاصل ہوتی ہے اور اسے ہدایت سے جنم لینے والی رحمت سے نواز دیا جاتا ہے تو وہ سعادت، فلاح، نفع، کامیابی، فرحت اور سرور کے حصول میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خوش ہونے کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا : ﴿ قُلْ بِفَضْلِ اللَّـهِ﴾ ” کہہ دیجئے ! اللہ کے فضل کے ساتھ“ فضل سے مراد قرآن ہے جو سب سے بڑی نعمت، احسان اور اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑافضل ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ ﴿وَبِرَحْمَتِهِ﴾ ” اور اس کی مہربانی کے ساتھ“ یعنی دین، ایمان، اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت اور اس کی معرفت۔ یونس
58 ﴿فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ﴾ ” پس اس پر انہیں خوش ہونا چاہئے، یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔“ یعنی دنیا کی متاع اور اس کی لذات سے بہتر ہے۔ دین کی نعمت، جس سے دنیا، آخرت کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔ دنیا کے تمام مال و متاع کا اس سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ دنیا کا مال و متاع تو عنقریب مضمحل ہو کر زائل ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت پر خوش ہونے کا صرف اس لئے حکم دیا ہے کہ یہ نفس کے انبساط، نشاط، اللہ تعالیٰ کے لئے اس کے شکر، اس کی قوت، علم و ایمان میں شدید رغبت کا موجب اور علم و ایمان میں ازدیاد کا داعی ہے۔ یہ فرحت اور خوشی محمود ہے۔ اس کے برعکس دنیا کی شہوات و لذات اور باطل پر خوش ہونا مذموم ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قارون کے بارے میں اس کی قوم کا قول نقل فرمایا ہے : ﴿ لَا تَفْرَحْ ۖ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ﴾ )القصص : 28؍76 )” خوشی میں اتراؤ مت ! اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو اپنے اس باطل پر اتراتے تھے جو انبیاء و رسل کی لائی ہوئی وحی کے متناقض تھا۔ ﴿فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ ﴾ (المومن : 40؍83) ” جب ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے، تو (بزعم خود)جو علم ان کے پاس تھا اس کی بنا پر اترانے لگے۔ “ یونس
59 مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دینے کے لئے تحریم و تحلیل کے جو ضابطے ایجاد کئے تھے، ان پر نکیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿قُلْ أَرَأَيْتُم مَّا أَنزَلَ اللَّـهُ لَكُم مِّن رِّزْقٍ﴾” کہہ دیجئے، بھلا بتلاؤ اللہ نے تمہارے لئے جو روزی اتاری“ یعنی حلال جانوروں کی مختلف اقسام جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ذریعہ رزق اور رحمت بنایا ہے۔ ﴿فَجَعَلْتُم مِّنْهُ حَرَامًا وَحَلَالً﴾ ” پس ٹھہرایا تم نے اس میں سے کچھ کو حرام اور کچھ کو حلال“ یعنی اس فاسد قول پر ان کو زجرو توبیخ کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجئے : ﴿ آللَّـهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى اللَّـهِ تَفْتَرُونَ﴾ ” کیا اللہ نے تمکو حکم دیا یا اللہ پر تم جھوٹ باندھتے ہو؟“ اور یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کا ہرگز حکم نہیں دیا پس ثابت ہوا کہ یہ لوگ افتراء پرداز ہیں۔ یونس
60 ﴿وَمَا ظَنُّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ ” اور کیا خیال ہے اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کا قیامت کے دن“ یہ کہ ان کو سزا دے گا اور ان پر عذاب نازل کرے گا‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ تَرَى الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّـهِ وُجُوهُهُم مُّسْوَدَّةٌ ۚ﴾ (الزمر : 39؍60) ” اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا‘ آپ قیامت کے روز دیکھیں گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہو رہے ہوں گے۔“ ﴿إِنَّ اللَّـهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ ﴾ ” بے شک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں پر بہت زیادہ فضل و احسان کرنے والا ہے۔ ﴿  وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ﴾ ” لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔“ یا تو اس کی صورت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے یا وہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی میں نافرمانیوں میں استعمال کرتے ہیں یا ان میں سے بعض نعمتوں کو حرام ٹھہرا کر ان کو ٹھکرا دیتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرتے ہیں اور پھر اس نعمت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ کھانے والی تمام اشیاء میں اصل حلت ہے جب تک کہ اس کی حرمت پر شرعی حکم وارد نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر نکیر فرمائی ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو حرام قرار دے دیا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے نازل کیا۔ یونس
61 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عمومی مشاہدہ کے بارے میں خبر دیتا ہے، نیز وہ فرماتا ہے کہ وہ بندوں کے تمام احوال اور ان کی حرکات و سکنات سے آگاہ اور اس ضمن میں اللہ تعالیٰ انہیں دائمی مراقبہ کی دعوت دیتا ہے۔ فرمایا : ﴿وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ﴾ ” اور تم جس حال میں ہوتے ہو“ یعنی آپ اپنے دینی اور دنیاوی احوال میں سے جس حال میں بھی ہوتے ہیں۔ ﴿وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ﴾ ” یا قرآن میں کچھ پڑھتے ہو“ یعنی آپ قرآن میں سے جو کچھ تلاوت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ﴾ ” اور جو بھی عمل آپ کرتے ہیں“ یعنی کوئی چھوٹا یا بڑا عمل۔ ﴿ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ ۚ﴾ ” مگر ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم مصروف ہوتے ہو اس میں“ یعنی تمہارے کام شروع کرنے اور اس کام میں تمہارے استمرار کے وقت، لہٰذا اپنے تمام اعمال میں اللہ تعالیٰ کی نگہبانی کو مد نظر رکھو اور تمام اعمال کو خیر خواہی اور خوب کوشش سے بجا لاؤ۔ جو امور اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں ان اسے بچو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام باطنی اور ظاہری امور سے آگاہ ہے۔ ﴿ وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ﴾ ” ور نہیں غائب رہتا آپ کے رب سے“ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم، اس کے سمع و بصر اور اس کے مشاہدہ سے باہر نہیں۔ ﴿مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ ﴾ ” ایک ذرہ بھر، زمین میں نہ آسمان میں اور نہ چھوٹا اس سے اور نہ بڑا، مگر وہ کھلی ہوئی کتاب میں ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے اس کا احاطہ کر رکھا ہے اور اس پر اس کا قلم جاری ہوچکا ہے۔ یہ دونوں مراتب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے مراتب ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اکثر ان کو مقرون بیان کیا ہے۔ ١۔ تمام اشیا کا احاطہ کرنے والا علم الٰہی۔ ٢۔ تمام حوادث کا احاطہ کرنے والی تقدیر (کتاب) الٰہی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ  إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ﴾ (الحج : 22؍70) ” یا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے یہ سب کچھ کتاب یعنی لوح محفوظ پر لکھا ہوا ہے اور بے شک یہ سب کچھ اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔ “ یونس
62 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اولیاء اور محبوب لوگوں کے بارے میں خبر دیتے ہوئے ان کے اعمال و اوصاف اور ان کا ثواب کا ذکر کرتا ہے‘ چنانچہ فرماتا ہے : ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّـهِ لَا خَوْف ٌعَلَيْهِمْ ﴾ ” خبردار ! اللہ کے جو دوست ہیں‘ ان پر کوئی خوف نہ ہوگا“ یعنی قیامت کے روز میدان محشر میں جو خوفناک اور ہول ناک حالات ہوں گے‘ وہاں انہیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ ﴿وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ ” اور نہ و غمگین ہوں گے“ ان اعمال پر جو انہوں نے پہلے کئے ہوں گے‘ کیونکہ انہوں نے اعمال صالحہ کے سوا کچھ نہیں کیا ہوگا۔ چونکہ انہیں کسی قسم کا خوف ہوگا نہ وہ غمزدہ ہوں گے‘ اس لئے وہاں ان کے لئے امن و سعادت اور خیر کثیر ہوگا جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یونس
63 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اولیاء اللہ کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا﴾’’وہ جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں، اس کی بھیجی ہوئی کتابوں، اس کے مبعوث کئے ہوئے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے اور تقویٰ کے استعمال، اللہ تعالیٰ کے اوامر کی فرمانبرداری اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے اپنے ایمان کی تصدیق کی۔ پس ہر وہ شخص جو مومن اور متقی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ولی ہے۔ یونس
64 اسی لئے فرمایا : ﴿لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ ﴾ ” ان کے لئے خوش خبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں“ دنیا کے اندر بشارت سے مراد، ثنائے حسن، مومنوں کے دلوں میں محبت و مودت، سچے خواب، بندہ مومن کا اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے بہرہ ور ہونا، اللہ تعالیٰ کا بہترین اعمال و اخلاق کے راستوں کو آسان کردینا اور بندے کو برے اخلاق سے دور کردینا اور آخرت کی بشارتوں میں اولین بشارت یہ ہے کہ روح قبض کئے جانے کے موقع پر ان کو بشارت دی جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ﴾ (حم السجدہ : 41؍30) ” بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے پھر وہ اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خوف نہ کرو اور نہ غم زدہ ہو اور جنت کی خبر سے خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔“ اور قبر میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کی خوشخبری دی جائے گی اور قیامت کے روز نعمتوں بھری جنت میں دخول اور دردناک عذاب سے نجات کے ساتھ اس خوشخبری کا اتمام ہوگا۔ ﴿لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّـهِ﴾ ” اللہ کے کلمات بدلتے نہیں“ بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے وہ حق ہے جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں، کیونکہ وہ اپنے قول میں سچا ہے اور اس کی مقرر کی ہوئی قضا و قدر میں کوئی شخص اس کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ ﴿ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴾ ”یہی ہے بڑی کامیابی“ کیونکہ یہ تمام محذورات سے نجات اور ہر محبوب چیز کے حصول میں ظفریابی پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ” فوز“ کو حصر کے ساتھ بیان کیا ہے، کیونکہ فوز و فلاح اہل ایمان اور اہل تقویٰ کے سواکسی کے لئے نہیں۔ اس کا ماحصل یہ ہے کہ بشارت ہر خیر و ثواب کو شامل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں ایمان اور تقویٰ پر مرتب فرمایا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس کو تقیید کے ساتھ نہیں، بلکہ مطلق بیان کیا ہے۔ یونس
65 یعنی جھٹلانے والوں کی باتوں میں سے کوئی بات، جن کے ذریعے سے وہ آپ پر اور آپ کے دین پر نکتہ چینی کرتے ہیں، آپ کو غم زدہ نہ کرے، کیونکہ ان کی یہ باتیں ان کو عزت فراہم کرسکتی ہیں نہ آپ کو کوئی نقصان دے سکتی ہے۔ ﴿إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّـهِ جَمِيعًا﴾ ” بے شک عزت سب کی سب اللہ ہی کے لئے ہے“ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے عزت عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے عزت سے محروم کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا﴾ (فاطر : 35؍ 10) ” جو کوئی عزت کا طلب گار ہے تو عزت تمام تر اللہ کے لئے ہے۔“ جسے عزت چاہیے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اسے طلب کرے اور اس کی دلیل بعد میں آنے والا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جو اس کی تائید کرتا ہے ﴿ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ ۚ﴾ (فاطر : 35؍ 10) ” پاک باتیں اسی کی طرف بلند ہوتی ہیں اور عمل صالح اس کو بلند کرتا ہے۔“ یہ بات معلوم ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزت صرف آپ اور آپ کے متبعین کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿وَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ ﴾ ( المنافقون : 63؍ 8) ” عزت تمام تر اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے لئے ہے۔“ ﴿هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴾ ” وہ سننے والا جاننے والا ہے۔“ یعنی اس کی سماعت نے تمام آوازوں کا احاطہ کر رکھا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے اور اس کا علم تمام ظاہری اور باطنی چیزوں پر محیط ہے۔ آسمانوں اور زمین میں، کوئی چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر بھی چیز اس سے اوجھل نہیں۔ وہ آپ کی بات سنتا ہے اور آپ کے بارے میں آپ کے دشمنوں کی باتیں بھی سنتا ہے اور پوری تفصیل کا علم رکھتا ہے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے علم اور کفایت کو کافی سمجھئے۔ اس لئے کہ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرا ہے اللہ اس کے لئے کافی ہے۔ یونس
66 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اسی کی ملکیت ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنے احکام کے ذریعے اس میں تصرف کرتا ہے۔ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی مملوک‘ اس کے سامنے مسخر اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ تمام مخلوق عبادت کا کچھ بھی استحقاق نہیں رکھتی اور کسی بھی لحاظ سے مخلوق اللہ تعالیٰ کی شریک نہیں بن سکتی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ شُرَكَاءَ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ﴾ ” اور یہ جو پیچھے پڑے ہوئے ہیں اللہ کے سوا شریکوں کو پکارنے والے‘ سو یہ کچھ نہیں‘ مگر پیری کرنے والے ہیں اپنے گمان کی“ یعنی وہ ظن اور گمان، جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا﴿ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ ﴾’’اور وہ محض اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس بارے میں محض اندازوں اور بہتان و افترا سے کام لیتے ہیں۔ اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینے میں اگر وہ سچے ہیں، تو ان کے وہ اوصاف سامنے لائیں جو ان کو ذرہ بھر عبادت کا مستحق قرار دیتے ہیں۔ وہ کبھی ایسا نہیں کرسکیں گے۔ کیا ان میں سے کوئی ایسا ہے جو کوئی چیز پیدا کرسکتا ہو؟ یا وہ رزق عطا کرتا ہو؟ یا وہ مخلوقات میں سے کسی چیز کا مالک ہو؟ یا وہ گردش لیل و نہار کی تدبیر کرتا ہو؟ جس نے اسے لوگوں کی روزی کا سبب بنایا؟ یونس
67 ﴿هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ ﴾ ” وہی اللہ ہے جس نے بنایا تمہارے واسطے رات کو، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو“ تاکہ اس تاریکی کے سبب سے جو تمام روئے زمین کو ڈھانک لیتی ہے، نیند اور راحت میں سکون پاؤ، اگر سورج کی روشنی ہمیشہ برقرار رہتی تو انہیں قرار و سکون نہ ملتا۔ ﴿وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ﴾ ” اور دن کو (بنایا) دکھلانے والا“ یعنی اللہ تعالیٰ نے دن کو روشن بنایا، تاکہ دن کی روشنی میں مخلوق دیکھ سکے، لوگ اپنی معاش اور اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے لئے چل پھر سکیں۔ ﴿ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ﴾ ” اس میں سننے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔“ جو سمجھنے، قبول کرنے اور شدو ہدایت طلب کرنے کے لئے سنتے ہیں۔ عناد اور نکتہ چینی کے لئے نہیں سنتے۔ اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں اور ان نشانیوں سے استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود اور معبود برحق ہے اور اس کے سوا ہر ایک ہستی کی الوہیت باطل ہے اور یہ کہ وہی رؤف و رحیم اور علم و حکمت والا ہے۔ یونس
68 اللہ رب العالمین کے بارے میں مشرکین کی بہتان طرازی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿قَالُوا اتَّخَذَ اللَّـهُ وَلَدًا﴾ ” انہوں نے کہا، ٹھہرالی ہے اللہ نے اولاد“ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو اس سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا : ﴿سُبْحَانَهُ﴾ ” وہ پاک ہے“ یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی طرف جو نقائص منسوب کرتے ہیں وہ ان سے بلند و برتر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں متعدد دلائل ذکر کئے ہیں : (1) ﴿هُوَ الْغَنِيُّ﴾ ” وہ بے نیاز ہے۔“ یعنی عناد (بے نیازی) اسی میں منحصر ہے اور عناد کی تمام اقسام کا وہی مالک ہے۔ وہ غنی ہے جو ہر پہلو، ہر اعتبار اور ہر لحاظ سے نائے کامل کا مالک ہے۔ جب وہ ہر لحاظ سے غنی ہے تب وہ کس لئے بیٹا بنائے گا؟ کیس اس وجہ سے کہ وہ بیٹے کا محتاج ہے؟ یہ تو اس کے عناد اور بے نیازی کے منافی ہے۔ کوئی شخص صرف ا پنے عناد میں نقص کی بنا پر بیٹا بناتا ہے۔ (2) دوسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ﴿لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ﴾ ” جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔“ یہ عام اور جامع کلمہ ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات اس کی ملکیت سے خارج نہیں‘ تمام موجودات اس کی مخلوق‘ اس کے بندے اور مملوک ہیں اور یہ بات معلوم اور مسلم ہے کہ یہ وصف عام اس بات کے منافی ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو، کیونکہ بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوگا جو مخلوق ہوگا نہ مملوک۔ پس آسمانوں اور زمین کا اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہونا ولادت (اولاد ہونے) کے منافی ہے۔ (3) تیسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ﴿ إِنْ عِندَكُم مِّن سُلْطَانٍ بِهَـٰذَا﴾ ” تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں“ یعنی تمہارے پاس تمہارے اس دعویٰ پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے۔ اگر ان کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ اسے ضرور پیش کرتے۔ جب انہیں دلیل پیش کرنے کے لئے کہا گیا اور وہ دلیل قائم کرنے سے عاجز آگئے، تو ان کے دعوے کا بطلان ثابت ہوگیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان کا قول بلا علم ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ ’’کیا تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگات ہو جو تم نہیں جانتے“ پس بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف بات منسوب کرنا سب سے بڑا حرام ہے۔ یونس
69 ﴿قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ ﴾ ” کہہ دیجئے ! جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندتے ہیں، وہ کامیاب نہیں ہوں گے“ یعنی وہ اپنا مطلوب و مقصود حاصل نہ کرسکیں گے، وہ دنیاوی زندگی میں اپنے کفر اور جھوٹ کے ذریعے سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں گے پھر لوٹ کر اللہ کے حضور حاضر ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت عذاب کا مزہ چکھائے گا۔ ﴿وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّـهُ وَلَـٰكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴾ (آل عمران : 3؍117) ” اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ “ یونس
70 یونس
71 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے : ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ﴾ ” اور ان کو سنائیے“ یعنی اپنی قوم کے سامنے تلاوت کر دیجئے ﴿ نَبَأَ نُوحٍ﴾ ” نوح کا حال“ یعنی جب نوح علیہ الصلوۃ السلام کی دعوت کا حال، جو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تھی وہ ایک طویل مدت تک ان کو دعوت دیتے رہے۔ پس وہ اپنی قوم کے درمیان نو سو پچاس برس تک رہے مگر ان کی دعوت نے ان کی سرکشی میں اضافہ ہی کیا اور وہ آپ کی دعوت سے اکتا گئے اور سخت تنگ آگئے۔ نوح علیہ السلام نے ان کی دعوت دینے میں کسی سستی کا مظاہرہ کیا نہ کوتاہی کا‘ چنانچہ آپ ان سے کہتے رہے : ﴿يَا قَوْمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُم مَّقَامِي وَتَذْكِيرِي﴾ ” اے میری قوم ! اگر بھاری ہوا ہے تم پر میرا کھڑا ہونا اور میرا نصیحت کرنا“ یعنی میرے تمہارے پاس ٹھہرنا اور تمہیں وعظ و نصیحت کرنا جو تمہارے لئے فائدہ مند ہے ﴿ بِآيَاتِ اللَّـهِ﴾ ”اللہ کی آیتوں سے“ یعنی واضح دلائل کے ذریعے سے اور یہ چیز تمہارے لئے بہت بڑی اور تم پر شاق گزرتی ہے اور تم مجھے نقصان پہنچانے یا دعوت حق کو ٹھکرانے کا ارادہ رکھتے ہو۔ ﴿فَعَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْتُ﴾ ” تو میں نے اللہ پر بھروسہ کیا ہے“ یعنی اس تمام شر کو دفع کرنے میں جو تم مجھے اور میری قوم کو پہنچانا چاہتے ہو، میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ یہی توکل، میرا لشکر اور میرا تمام ساز و سامان ہے اور تم اپنے تمام تر سر و سامان اور تعداد کے ساتھ جو کچھ کرسکتے ہو کرلو ﴿فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ ﴾ ” اب تم سب مل کر مقرر کرو اپنا کام“ تم تمام لوگ اکٹھے ہو کر، کہ تم میں سے کوئی پیچھے نہ رہے، میرے خلاف جدوجہد میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو۔ ﴿وَشُرَكَاءَكُمْ﴾ ” اور جمع کرو اپنے شریکوں کو“ یعنی ان تمام شریکوں کو بلالو، جن کی تم اللہ رب العالمین کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو اور انہیں تم اپنا ولی و مددگار بناتے ہو۔ ﴿ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً﴾ ” پھر نہ رہے تم کو اپنے کام میں اشتباہ“ یعنی اس بارے میں تمہارا معاملہ مشتبہ اور خفیہ نہ ہو، بلکہ تمہارا معاملہ ظاہر اور اعلانیہ ہو۔ ﴿ثُمَّ اقْضُوا إِلَيَّ﴾ ” پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو“ یعنی میرے خلاف جو کچھ تمہارے بس میں ہے، سزا اور عقوبت کا فیصلہ سنا دو۔ ﴿وَلَا تُنظِرُونِ ﴾ ” اور مجھے مہلت نہ دو۔“ یعنی تم مجھے دن کی ایک گھڑی کے لئے بھی مہلت نہ دو۔ یونس
72 یہ نوح علیہ السلام کی رسالت کی صحت اور آپ کے دین کی صداقت کی قطعی دلیل اور بہت بڑی نشانی ہے، کیونکہ آپ تنہا تھے ان کا کوئی قبیلہ تھا جو آپ کی حمایت کرتا نہ آپ کے پاس کوئی فوج تھی جو آپ کی حفاظت کرتی۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے اپنی حماقت انگیز آراء، فساد دین اور اپنے خود ساختہ معبودان کے عیوب کا پر چار کیا اور آپ کے ساتھ بغض اور عداوت کا مظاہرہ کیا جو پہاڑوں اور چٹانوں سے زیادہ سخت تھی وہ مشرکین قدرت اور سطوت رکھنے والے لوگ تھے۔ نوح علیہ السلام نے ان سے فرمایا ” تم، تمہارے گھڑے ہوے شریک اور جن کو تم بلانے کی استطاعت رکھتے ہو سب اکٹھے ہوجاؤ اور میرے خلاف جو چال تم چل سکتے ہو اگر قدرت رکھتے ہو تو چل کر دیکھ لو۔“ پس وہ کچھ بھی نہ کرسکے۔ تب معلوم ہوا کہ حضرت نوح علیہ السلام سچے، اور وہ اپنی دھمکیوں میں جھوٹھے تھے۔ اس لئے فرمایا : ﴿فَإِن تَوَلَّيْتُمْ﴾ ” پس اگر تم میری دعوت سے منہ موڑتے ہو“ اور اس کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ یہ بات تمہارے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ تم باطل کو چھوڑ کر حق کی طرف نہیں آتے، بلکہ اس کے برعکس تم تو حق سے منہ موڑ کر باطل کی طرف جا رہے ہو جس کے فاسد ہونے پر دلائل قائم ہوچکے ہیں۔ بایں ہمہ ﴿ فَمَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ﴾ ” میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا“ یعنی میں اپنی دعوت اور تمہاری لبیک پر تم سے کسی معاوضے کا مطالبہ نہیں کرتا تاکہ تم میرے بارے میں یہ نہ کہتے پھرو کہ یہ تو ہمارے مال ہتھیانے کے لیے آیا ہے اور اسی وجہ سے ہم اس کی دعوت قبول نہیں کرتے۔ ﴿إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ﴾ ” میرا معاوضہ تو اللہ کے ذمے ہے۔“ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے ثواب اور اجر کا طلب گار نہیں۔ ﴿ وَ﴾ نیز میں تمہیں کسی ایسی بات کا حکم نہیں دیتا جس کی مخالفت کر کے اس کے متضاد بات پر عمل کروں، بلکہ ﴿أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ ” مجھے حکم ہے کہ میں فرماں بردارہوں“ پس جن امور کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں سب سے پہلے میں خود ان میں داخل ہوتا ہوں اور سب سے پہلے میں خود اس پر عمل کرتا ہوں۔ یونس
73 ﴿فَكَذَّبُوهُ ﴾ ” پس انہوں نے نوح کو جھٹلایا“ حضرت نوح علیہ السلام نے ان کو شب و روز اور کھلے چھپے دعوت دی مگر آپ کی دعوت نے ان کے فرار میں اضافہ کے سوا کچھ نہ کیا ﴿فَنَجَّيْنَاهُ وَمَن مَّعَهُ فِي الْفُلْكِ﴾ ” پس ہم نے حکم دیا تھا کہ وہ اسے ہماری آنکھوں کے سامنے بنائیں۔ جب تنور سے پانی ابل پڑا تو ہم نے انھیں حکم دیا: ﴿احْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ﴾ (ھود :11؍40) ’’ہر قسم کے جانوروں میں سے جوڑا جوڑا لے لو اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے جس کی ہلاکت کا فیصلہ ہو چکا اور اس کو بھی ساتھ لے لینا جو ایمان لا چکا ہو۔‘‘ چنانچہ نوح علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمان کو حکم دیا اس نے زور دار مینہ برسایا اور زمین کے چشمے ابل پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہو چکا تھا جس کے بارے میں فیصلہ ہوچکا تھا﴿وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ ﴾(القمر:54؍13) ” اور ہم نے نوح کو ایک ایسی کشتی میں سوار کیا جو تختوں اور میخوں سے بنائی گئی تھی۔“ جو ہماری آنکھوں کے سامنے پانی پر تیر رہی تھی۔ ﴿ وَجَعَلْنَاهُمْ خَلَائِفَ﴾ ” اور ہم نے انہیں خلیفہ بنایا“ یعنی جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے انہیں زمین میں جانشین بنایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی نسل میں برکت ڈالی اور ان کی نسل ہی کو باقی رکھا اور ان کو زمین کے کناروں تک پھیلا دیا۔ ﴿وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنا﴾” اور ہم نے ان کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا“ یعنی جنہوں نے واضح کردینے اور دلیل قائم کردینے کے بعد بھی ہماری آیات کی تکذیب کی ﴿فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنذَرِينَ﴾ ” پس دیکھو ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جن کو ڈرایا گیا تھا۔“ ان کا انجام رسوا کن ہلاکت تھی اور مسلسل لعنت تھی جو ہر زمانے میں ان کا پیچھا کرتی رہی، آپ ان کے بارے میں صرف حرف ملامت ہی سنیں گے اور ان کے بارے میں برائی اور مذمت کے سوا کچھ نہیں دیکھیں گے۔۔۔۔۔ پس ان جھٹلانے والوں کو اس عذاب سے ڈرنا چاہئے جو انبیاء و رسل کو جھٹلانے والی ان قوموں پر ہلاکت انگیز اور رسوا کن عذاب نازل ہوا تھا۔ یونس
74 ﴿ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِ﴾ ” پھر بھیجے ہم نے اس کے بعد“ یعنی نوح علیہ السلام کے بعد ﴿رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ﴾ ” کئی پیغمبران کی قوموں کی طرف“ یعنی جھٹلانے والوں کی طرف، جو ان کو ہدایت کی طرف بلاتے تھے اور انہیں ہلاکت کے اسباب سے ڈراتے تھے۔ ﴿فَجَاءُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ﴾ ” پس وہ ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے“ یعنی ہر نبی نے اپنی دعوت کی تائید میں ایسے دلائل پیش کئے، جو ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتے تھے۔ ﴿فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِن قَبْلُ﴾ ” پس ان سے یہ نہ ہوا کہ وہ اس بات پر ایمان لے آئیں جسے وہ اس سے پہلے جھٹلا چکے تھے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اس وقت سزا دی جب ان کے پاس رسول آیا اور انہوں نے اس کی تکذیب میں جلدی کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور وہ ان کے اور ایمان کے درمیان حائل ہوگیا۔ وہ اس سے قبل ایمان لانے پر متمکن تھے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ (الانعام 6؍110) ” ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے اور جس طرح وہ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے تھے، نشانیاں آنے کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے۔“ بنا بریں یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿كَذَٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ﴾ ” اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں“ پس ان کے دلوں میں کسی قسم کی بھلائی داخل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود ہی حق کو ٹھکرا کر۔۔۔۔۔ جب حق ان کے پاس آیا اور اس کو اولین مرتبہ جھٹلا کر۔۔۔۔ اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ یونس
75 ﴿ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم﴾ ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا“ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿مُّوسَىٰ﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو، جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ ﴿ وَهَارُونَ ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ﴾ ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف“ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف، کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿بِآيَاتِنَا﴾ ” اپنی نشانیوں کے ساتھ“ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت اور دلالت کرتی تھیں جنہیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿فَاسْتَكْبَرُوا﴾ ” پس انہوں نے تکبر کیا“ یعنی انہوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ﴾ ” اور وہ گناہ گار لوگ تھے۔“ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ یونس
76 ﴿فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا ﴾ ” پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا“ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرا فگندہ ہوجاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العلمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر حق آیا تو انہوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿قَالُوا إِنَّ هَـٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِينٌ ﴾ ” اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے“ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انہوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انہوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کردیا۔۔۔۔ بلکہ انہوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے۔۔۔ بلکہ انہوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا۔۔۔۔ حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ یونس
77 اس لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے۔۔۔۔۔ ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے۔۔۔۔۔ ان کو زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا : ﴿أَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَكُمْ ﴾ ” کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمہارے پاس آیا“ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿أَسِحْرٌ هَـٰذَا﴾ ” کیا یہ جادو ہے؟“ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہوجاتا ہے کہ یہ حق ہے ﴿وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُونَ﴾ ” اور جادو گر فلاح نہیں پاتے“ یعنی جادو گر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لئے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انہیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام تھے جنہوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفر یاب ہوئے۔ یونس
78 ﴿قَالُوا ﴾ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا : ﴿أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ﴾ ” کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو، تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔“ مثلاً شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انہوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انہوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُونَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاءُ فِي الْأَرْضِ﴾ ” اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے“ یعنی تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰ (علیہ السلام) کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔ جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کرسکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا، کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے، لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کردیا جائے، تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مد مقابل کے قول کو رد کر دے، کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مد مقابل کو یہ نہ کہتا ” تیرا مقصد یہ ہے“ اور ” تیری مراد وہ ہے“ خواہ وہ اپنے مد مقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا۔۔۔۔۔۔ تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا۔۔۔۔۔۔ یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لئے فائدہ مند ہیں۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انہوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ ﴾ ” ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے“ یعنی انہوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ” ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔“ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارون علیہما السلام نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادہ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰ علیہ السلام پر لگا رہے تھے۔ یونس
79 ﴿وَقَالَ فِرْعَوْنُ﴾ ” اور فرعون نے کہا“ یعنی فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لئے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا : ﴿ ائْتُونِي بِكُلِّ سَاحِرٍ عَلِيمٍ﴾ ” سب ماہر فن جادو گروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔“ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادو گر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہر کارے دوڑائے، تاکہ وہ مختلف قسم کے جادو گروں کو اس کے پاس لے آئیں۔ یونس
80 ﴿فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ﴾ ” پس جب جادو گر آئے“ یعنی موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کے لئے ﴿قَالَ لَهُم مُّوسَىٰ أَلْقُوا مَا أَنتُم مُّلْقُونَ﴾ ” تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔“ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمہارے لئے کچھ مقرر نہیں کروں گا۔۔۔۔ اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کو ان پر غالب آنے کا پوریٰ یقین تھا، اس لئے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادوگر کون سا کرتب دکھاتے ہیں۔ یونس
81 ﴿ فَلَمَّا أَلْقَوْا ﴾ ” پس جب انہوں نے ڈالا“ یعنی جب انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں، تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں۔ ﴿قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ﴾ ” موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے“ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑاہونے کے باوجود ﴿إِنَّ اللَّـهَ سَيُبْطِلُهُ ۖ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ﴾ ” اللہ اسے باطل کر دے گا، یقیناً اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔“ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہوسکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے، تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہوجاتا ہے ہرچند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہوجاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار، تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشو ونما دیتا رہتا ہے۔ یونس
82 موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿وَيُحِقُّ اللَّـهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ﴾ ” اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو ناگوار ہو“ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے سامنے سر اطاعت خم کردیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انہوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور اپنے تمام ایمان میں ثابت قدم رہے۔ یونس
83 رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور اس کے متبعین، تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا، بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَمَا آمَنَ لِمُوسَىٰ إِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّن قَوْمِهِ ﴾ ” پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر، مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے“ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنہوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہوجانے کی وجہ سے خوف کے مقابل میں صبر سے کام لیا۔ ﴿عَلَىٰ خَوْفٍ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ﴾ ” فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں“ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْأَرْضِ﴾ ” اور بے شک فرعون ملک میں متکبر و متغلب تھا“ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لئے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿وَ﴾ ” اور“ خاص طور پر ﴿وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَ﴾ ” وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔“ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم۔۔۔۔۔۔ کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں۔ اس کے برعکس بوڑھے جنہوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسد راسخ ہوتے ہیں، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں۔ یونس
84 ﴿ وَقَال َمُوسَىٰ ﴾ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں، کہا : ﴿يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ﴾ ” اے میری قوم : اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر“ تو وظیفہء ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ ﴿فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ﴾ ” تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ یونس
85 ﴿ فَقَالُوا﴾ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا : ﴿عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ ” ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آ کر ہمیں آزمائش میں ڈالی اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ یونس
86 ﴿وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴾ ” اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔“ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہوسکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کرسکیں۔ یونس
87 ﴿وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ وَأَخِيهِ﴾ ” اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی“ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انہوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں، ﴿أَن تَبَوَّآ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًا﴾ ” کہ تم دونوں اپنی قوم کے لئے مصر میں گھر بناؤ“ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لئے کچھ گھر مقرر کرلیں جہاں وہ چھپ سکیں۔ ﴿وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً ﴾ ” اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھہراؤ“ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کرسکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ ” اور نماز قائم کرو“ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ” اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو۔“ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبہء دین کی خوشخبری سنا دیجئے‘ کیونکہ تنگی کے ساتھ کئی آسانیاں ہوتی ہیں اور یقیناً تنگی کے ساتھ کئی آسانیاں ہوتی ہیں۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہوجاتا ہے‘ تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کردیتا ہے۔ یونس
88 جب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا، تو ان کے لئے بددعا کی اور ہارون علیہ السلام نے اس پر آمین کہی‘ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی : ﴿رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً﴾ ” اے ہمارے رب ! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت“ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لئے زینت بناتے ہیں۔ ﴿وَأَمْوَالًا ﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ﴾ ” دنیا کی زندگی میں، اے ہمارے رب، تاکہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں“ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ﴿رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ ﴾ ” اے ہمارے رب ! ان کے مال کو برباد کر دے“ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کرسکیں۔ ﴿وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ﴾ ” اور ان کے دلوں کو سخت کر دے“ ﴿فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ﴾ ” پس نہ ایمان لائیں، یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں۔“ یہ بددعا انہوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی،کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰ علیہ السلام کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بد اعمالیوں کی سزا دے گا۔ یونس
89 ﴿قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا ﴾ ” اللہ نے فرمایا تمہاری دعا قبول ہوئی“۔۔۔۔۔ آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے جاتے تھے اور ہارون علیہ السلام آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسْتَقِيمَا﴾ ” پس دونوں ثابت قدم رہنا“ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾ ” اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔“ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنہوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انہوں نے اس بات سے بھی آگاہ کردیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیئے جو اعلان کرتے ہوئے ﴿ إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ﴾ ”یہ لوگ“ یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ﴿لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَائِظُونَ وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَاذِرُونَ﴾ ﴿الشعراء : 26؍54۔56 ” ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بساز و سامان تیار ہیں۔“ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لئے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انہیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔ یونس
90 ﴿وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ﴾ ”اور پار کردیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے“ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمند پر اپنا عصا ماریں، انہوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمند میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم مکمل طور پر سمند سے باہر آگئے اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے، تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کردیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ﴾ ”میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے“ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴾ ” اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے۔ یونس
91 اللہ تبارک و تعالیٰ نے۔۔۔۔۔۔۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا۔۔۔۔۔ فرمایا : ﴿آلْآنَ﴾ ” اب“ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ﴾ ” حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا“ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ﴾ ” اور تو شرارتیوں میں سے تھا“ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں، تو ان کا ایمان لانا انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا، کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ یونس
92 ﴿فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً ۚ﴾ ” پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں، تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لئے نشانی ہو“ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انہیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انہیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے، تاکہ وہ لوگوں کے لئے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ ﴾ ” اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں۔“ بنا بریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکر ار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے، کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیت ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنہیں رسول لے کر آئے ہیں۔ یونس
93 ﴿ وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍ﴾ ”اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ“ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔ ﴿ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ﴾ ” اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں“ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿فَمَا اخْتَلَفُوا﴾ ” پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی“ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتَّىٰ جَاءَهُمُ الْعِلْمُ﴾ ” حتیٰ کہ ان کے پاس علم آگیا“ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ﴾ ” بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں، تمہارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں، پھر کس لئے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں، ان کے نظم و ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہوجاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہوجاتے ہیں۔ اے اللہ ! ہم تیرے مومن بندوں کے لئے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے۔۔۔۔۔ یا ذالجلال و الاکرام یونس
94 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے: ﴿فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ﴾ ”اگر آپ اس کی بابت شک میں ہیں جو ہم نے آپ کی طرف اتارا“ کہ آیا یہ صحیح ہے یہ غیر صحیح ہے؟ ﴿فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ﴾ ”تو ان سے پوچھ لیں جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں“ یعنی انصاف پسند اہل کتاب اور راسخ العلم علماء سے پوچھئے وہ اس چیز کی صداقت کا اقرار کریں گے جس کی آپ کو خبر دی گئی ہے اور وہ یہ بھی اعتراف کریں گے کہ وہ اس ہدایت کے موافق ہے جو ان کے پاس ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ میں سے بہت سے لوگوں نے، بلکہ ان میں سے اکثر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی، آپ سے عناد رکھا اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ اہل کتاب سے اپنی صداقت پر گواہی لیں اور ان کو گواہی کو اپنی دعوت پر حجت اور اپنی صداقت پر دلیل بنائیں، تو یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ (1)جب شہادت کی اضافت کسی گروہ، کسی مذہب کے ماننے والوں یا کسی شہر کے لوگوں کی طرف کی جاتی ہے تو اس کا اطلاق صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو ان میں عادل اور سچے ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ دیگر لوگ خواہ اکثریت ہی میں کیوں نہ ہوں، ان کی شہادت معتبر نہیں، کیونکہ شہادت، عدالت اور صدق پر مبنی ہوتی ہے اور یہ مقصد بہت سے ربانی احبار کے ایمان سے حاصل ہوگیا تھا، مثلاً عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب اور بہت سے دیگر اہل کتاب جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خلفاء کے عہد میں اور بعد کے زمانوں میں ایمان لاتے رہے۔ (2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت پر اہل کتاب کی شہادت در اصل ان کی کتاب تورات، جس کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، کے بیان پر مبنی ہے جب تورات میں ایسا مواد موجود ہو جو قرآن کی موافقت اور اس کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی صحت کی شہادت دیتا ہو، تب اگر اولین و آخرین تمام اہل کتاب اس کے انکار پر متفق ہوجائیں، تو ان کا یہ انکار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے قرآن میں قادح نہیں۔ (3) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنے لائے ہوئے قرآن کی صداقت پر اہل کتاب سے استشہاد کریں اور ظاہر ہے کہ یہ حکم علی الاعلان دیا گیا تھا اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اہل کتاب میں بہت سے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کے ابطال کے بڑے حریص تھے۔ اگر ان کے پاس کوئی ایسا مواد موجود ہوتا جو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو رد کرسکتا، تو وہ ضرور اسے پیش کرتے، چونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی اس لئے دشمنوں کا عدم جواب اور مستجیب کا اقرار اس قرآن اور صداقت پر سب سے بڑی دلیل ہے۔ (4) اکثر اہل کتاب ایسے نہ تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو رد کردیا ہو، بلکہ ان میں سے اکثر ایسے لوگ تھے جنہوں نے آپ کی دعوت کو قبول کرلیا تھا اور انہوں نے اپنے اختیار سے آپ کی اطاعت کی، کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے تو روئے زمین میں اکثر لوگ اہل کتاب تھے۔ اسلام پر زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ شام، مصر، عراق اور ان کے آس پاس کے علاقوں کے اکثر لوگ مسلمان ہوگئے، یہ ممالک اہل کتاب کے مذہب کا گڑھ تھے۔ اسلام قبول کرنے سے صرف وہی لوگ باقی رہ گئے تھے جن کے پاس سرداریاں تھیں اور جنہوں نے اپنی سرداریوں کو حق پر ترجیح دی تھی، نیز وہ لوگ باقی رہ گئے جنہوں نے ان سرداروں کی پیروی کی جو حقیقی طور پر نہیں، بلکہ برائے نام اس دین کی طرف منسوب تھے، مثلاً فرنگی، جن کے دین کی حقیقت یہ ہے کہ دہریے ہیں اور تمام انبیاء و مرسلین کے مذاہب کے دائرے سے خارج ہیں اور صرف ملکی رواج کے طور پر اور اپنے باطل کے ملمع کی خاطر دین مسیح کی طرف منسوب ہیں۔ جیسا کہ ان کے حالات کی معرفت رکھنے والے جانتے ہیں۔ ﴿لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ﴾ ” تحقیق آگیا آپ کے پاس حق“ جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں ﴿مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ﴾ ”آپ کے رب کی طرف سے، پس آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں“ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ﴾ (الاعراف : 7؍2) ” یہ کتاب ہے جو آپ پر نازل کی گئی ہے، پس آپ کے دل میں کوئی تنگی نہیں آنی چاہیے۔“ یونس
95 ﴿ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّـهِ فَتَكُونَ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ ” اور آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، پس آپ خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔“ ان دونوں آیات کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (قرآن کریم کے بارے میں) دو چیزوں سے منع کیا ہے۔ 1۔ قرآن مجید میں شک کرنا اور اس کے بارے میں جھگڑنا۔ 2۔ اور اس سے بھی شدید تر چیز اس کی تکذیب کرنا ہے، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی واضح آیات ہیں جن کو کسی لحاظ سے بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا اور تکذیب کا نتیجہ خسارہ ہے اور وہ ہے منافع کا بالکل معدوم ہونا اور یہ خسارہ دنیا و آخرت کے ثواب کے فوت ہونے اور دنیا و آخرت کے عذاب سے لاحق ہوتا ہے۔ کسی چیز سے روکنا دراصل اس کی ضد کا حکم دینا ہے۔ تب قرآن کی تکذیب سے منع کرنا درحقیقت قرآن کی تصدیق کامل، اس پر طمانیت قلب اور علم و عمل کے اعتبار سے اس کی طرف توجہ دینے کا نام ہے اور یوں بندہ مومن نفع کمانے والوں میں شامل ہوجاتا ہے جو جلیل ترین مقاصد، بہترین خواہشات اور کامل ترین مناقب کے حصول میں کامیاب ہوجاتا ہے اور اس خسارے کی نفی ہوجاتی ہے۔ یونس
96 ﴿ إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ﴾ ” جن لوگوں کے بارے میں آپ کے رب کا حکم قرار پا چکا ہے۔“ یعنی وہ لوگ جن پر یہ بات صادق آئی کہ وہ گمراہ، بھٹکے ہوئے اور جہنمی ہیں، تو یہ لابدی ہے کہ وہ وہی کچھ کریں گے جو اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں مقدر ہوچکا ہے اگر ان کے پاس ہر قسم کی نشانی اور معجزہ بھی آجائے، تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ آیت و معجزات ان کی سرکشی اور گمراہی میں اضافہ ہی کرتے ہیں۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا، بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلا کر، جب حق ان کے پاس پہلی مرتبہ آیا خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر، کانوں پر اور آنکھوں پر مہر لگا دی اور اب وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس وقت حق یقین کے ساتھ معلوم ہوجائے گا کہ وہ اب تک جس راستے پر چلتے رہے ہیں وہ گمراہی کا راستہ ہے اور جو چیز رسول لے کر آئے ہیں وہ حق ہے مگر اس روز ان کا ایمان لانا انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اس روز ظالموں کی معذرت کسی کام نہ آئے گی اور ان کی کوئی معذرت قبول نہ ہوگی۔ آیات و معجزات صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتے ہیں جو دل رکھتے ہیں اور توجہ سے سنتے ہیں۔ یونس
97 یونس
98 ﴿فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ ﴾ ” پس کیوں نہ ہوئی کوئی بستی“ یعنی جھٹلانے والی بستیوں میں سے، ﴿ آمَنَتْ﴾ ” کہ وہ ایمان لائی“ جب انہوں نے عذاب دیکھا ﴿فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا ﴾ ” پھر کام آیا ہو ان کو ان کا ایمان لانا“ یعنی ان تمام بستیوں میں سے کسی بستی کو عذاب دیکھ کرا یمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوا جیسا کہ فرعون کے ایمان لانے کے بارے میں گزشتہ صفحات میں قریب ہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد گزر چکا ہے اور جیسے فرمایا : ﴿فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا ۖ سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ ۖ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ﴾ (المومن: 40؍84۔85) ” پس جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا، تو کہا ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور ان کا ہم نے انکار کیا جن کو ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے، لیکن ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کو ان کے ایمان لانے نے کوئی فائدہ نہیں دیا۔ یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔“ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚ كَلَّا ۚ ﴾ ﴿المومنون : 23؍ 99۔100) ” حتیٰ کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی، تو وہ کہے گا اے میرے پروردگار ! مجھے دنیا میں پھر واپس بھیج دے شاید کہ میں جسے پیچھے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کروں، ہرگز نہیں !“ اور اس میں حکمت ظاہر ہے کہ ایمان اضطراری حقیقی ایمان نہیں اگر اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو دور ہٹا لے جس سے مجبور ہو کر انہوں نے ایمان لانے کا اقرار کیا تھا، تو وہ پھر کفر کی طرف لوٹ جائیں گے۔ فرمایا : ﴿إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ﴾ ” سوائے یونس کی قوم کے، جب وہ ایمان لائی، (عذاب دیکھ لینے کے بعد) تو ہم نے ان پر سے ذلت کا عذاب اٹھا لیا دنیا کی زندگی میں اور ایک وقت تک ہم نے ان کو فائدہ پہنچایا“ پس حضرت یونس علیہ السلام کی قوم گزشتہ عموم سے مستثنیٰ ہے اس میں ضرور اللہ تعالیٰ ” عالم الغیب والشھادۃ“ کی حکت پوشیدہ ہے۔ جہاں تک پہنچنے اور اس کے ادراک سے ہمارا فہم قاصر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ۔۔۔۔۔۔۔ وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ﴾ (الصافات : 37؍139۔148) ” اور یونس اللہ کے رسولوں میں سے تھا جب وہ (گھر سے) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوا، اس وقت قرعہ ڈالا گیا تو اس نے زک اٹھائی پس اس کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ قابل ملامت کام کرنے والوں میں سے تھا۔ پس اگر وہ اللہ کی تسبیح بیان نہ کرتا تو قیام کے روز تک مچھلی کے پیٹ میں رہتا، پھر ہم نے اس کو (مچھلی کے پیٹ سے نکال کر) اس حالت میں کھلے میدان میں ڈال دیا کہ وہ بیمار تھا اور اس پر کدو کی بیل لگا دی اور اس کو ایک لاکھ یا کچھ اوپر لوگوں کی طرف مبعوث کیا۔ پس وہ ایمان لے آئے اور ہم نے ان کو ایک وقت مقرر تک فائدہ اٹھانے دیا۔ “ شاید اس میں حکمت یہ ہے کہ اگر حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے علاوہ کوئی اور قوم ہوتی اور ان پر سے عذاب کو ہٹا لیا جاتا تو وہ پھر اسی کام کا اعادہ کرتے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور رہا یونس علیہ السلام کی قوم کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں زیادہ جانتا تھا کہ وہ اپنے ایمان پر قائم رہیں گے، بلکہ وہ قائم رہے۔ واللہ اعلم۔ یونس
99 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے : ﴿وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ﴾ ” اگر آپ کا رب چاہتا تو زمین میں رہنے والے سب کے سب ایمان لے آتے“ یعنی ان کے دلوں میں ایمان الہام کردیتا اور ان کے دلوں کو تقویٰ کے لئے درست کردیتا۔ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان میں سے بعض لوگ ایمان لائیں اور بعض لوگ کافر رہیں۔ ﴿أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ﴾ ” کیا آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں“ یعنی آپ اس پر قدرت رکھتے ہیں نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ یہ چیز غیر اللہ کے اختیار اور قدرت میں ہے۔ یونس
100 ﴿وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ﴾ ” اور کسی سے نہیں ہوسکتا کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے حکم سے“ یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت اور اس کے قدرتی و شرعی حکم سے۔ پس مخلوق میں سے جو اس کے قبول کرنے کے قابل ہوتا ہے، تو ایمان اس کے پاس پھلتا پھولتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو توفیق سے نوازتا اور اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ﴾ ” اور ڈالتا ہے وہ گندگی“ یعنی شر و گمراہی ﴿عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ﴾ ” ان لوگوں پر جو سوچتے نہیں“ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے او امر و نواہی اور اس کے نصائح و مواعظ پر کان نہیں دھرتے۔ یونس
101 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین میں غور کریں اور اس سے مراد یہ ہے کہ تفکر اور عبرت کی نظر سے آسمان کو دیکھیں، ان میں جو کچھ موجود ہے اس میں تدبر کریں اور بصیرت حاصل کریں۔ ان میں اہل ایمان کے لئے نشانیاں اور اہل ایقان کے لئے عبرت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود محمود ہے، وہی صاحب جلال و اکرام و عظیم اسماء و صفات کا مالک ہے۔ ﴿وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ﴾” اور کچھ کام نہیں آتیں نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو جو ایمان لانے والے نہیں“ کیونکہ یہ لوگ اپنے اعراض اور عناد کی وجہ سے آیات الٰہی سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ یونس
102 ﴿ فَهَلْ يَنتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِهِمْ﴾ ” پس وہ لوگ صرف ان لوگوں کے سے واقعات کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔“ یعنی یہ لوگ جو آیات الٰہی کے واضح ہوجانے کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے کیا اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کو بھی اسی طرح عذاب بھیج کر ہلاک کردیا جائے، جیسے ان کے پہلوں کو عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔ ان کے اعمال بھی وہی تھے جو ان کے اعمال ہیں اور سنت الٰہی اور الین و آخرین میں جاری و ساری ہے۔ ﴿قُلْ فَانتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ﴾ ” کہہ دیجئے ! پس انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔“ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کا انجام اچھا ہے، دنیا اور آخرت میں نجات کس کے لئے ہے اور یہ نجات صرف انبیاء و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کے لئے ہے۔ یونس
103 بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا ﴾ ” پھر ہم اپنے رسولوں اور اہل ایمان کو (دنیا و آخرت کی تکالیف اور شدائد سے) نجات دیتے ہیں“ ﴿كَذَٰلِكَ حَقًّا عَلَيْنَا ﴾ ” اسی طرح ہمارے ذمہ ہے“ یعنی ہم نے اپنے اوپر واجب ٹھہرایا ہے کہ ﴿نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ” ایمان والوں کو نجات دیں گے۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ، مومن بندوں میں جذبہء ایمان کی مقدار کے مطابق، ان کا دفاع کرتا ہے اس سے انہیں تکلیف دہ امور سے نجات ملتی ہے۔ یونس
104 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول سید المرسلین، امام المتقین، خیر المؤقنین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے : ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي شَكٍّ مِّن دِينِي﴾ ” کہہ دیجئے اے لوگو ! اگر تم میرے لائے ہوئے دین کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو“ تو میں اس بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوں، بلکہ میں علم الیقین رکھتا ہوں کہ یہ حق ہے اور تم اللہ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہو، وہ سب باطل ہیں۔ میں اپنے اس موقف پر واضح دلائل اور روشن براہین رکھتا ہوں۔ بنا بریں فرمایا : ﴿فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ﴾ ” پس جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔“ یعنی میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تمہارے خود ساختہ ہمسروں اور بتوں کی عبادت نہیں کرتا، کیونکہ یہ پیدا کرسکتے ہیں نہ رزق عطا کرسکتے ہیں اور نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے۔ یہ تو خود مخلوق اور اللہ کی قدرت کے سامنے مسخر ہیں، ان میں کوئی ایسی صفات نہیں پائی جاتیں جو ان کی عبادت کا تقاضا کرتی ہوں ﴿وَلَـٰكِنْ أَعْبُدُ اللَّـهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ ﴾ ” لیکن میں تو اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو کھینچ لیتا ہے تمہاری روحیں“ یعنی وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، وہی تمہیں موت دے گا، پھر وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا اور تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔۔۔۔ پس وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اس کے لئے نماز پڑھی جائے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوا جائے۔ ﴿وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ” اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں شامل ہوں۔“ یونس
105 ﴿وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا﴾ ” اور یہ کہ سیدھا کر اپنا منہ دین پر یک طرفہ ہو کر“ یعنی اپنے ظاہری اور باطنی اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کیجئے اور یکسو ہو کر تمام شرائع کو قائم کیجئے، یعنی ہر طرف سے منہ موڑ کر صرف اللہ کی طرف اپنی توجہ کو مبذول رکھیے۔ ﴿وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ ” اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔“ ان کا حال اختیار کیجئے نہ ان کا ساتھ دیجئے۔ یونس
106 ﴿وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ﴾ ”اور اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو مت پکاریں جو آپ کو فائدہ پہنچا سکیں نہ نقصان“ کیونکہ یہ وصف ہر مخلوق کا ہے، مخلوق کوئی فائدہ دے سکتی ہے نہ نقصان، نفع اور نقصان پہنچانے والی ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ﴿فَإِن فَعَلْتَ ﴾ ” اگر ایسا کرو گے“ یعنی اگر آپ نے اللہ کے بغیر کسی ہستی کو پکارا جو کسی کو نفع دے سکتی ہے نہ نقصان ﴿ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِينَ﴾ ” تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔“ یعنی آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جنہوں نے ہلاکت کے ذریعے سے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ (لقمان : 31؍13 )” بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے“ اگر اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو پکارے تو اس کا شمار مشرکوں میں ہوجاتا ہے، تو دیگر لوگوں کا کیا حال ہوگا؟ یونس
107 یہ آیت کریمہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اکیلا عبادت کا مستحق ہے، کیونکہ نفع و نقصان اسی کے قبضہء قدرت میں ہے۔ وہی عطا کرتا ہے وہی محروم کرتا ہے۔ جب کوئی تکلیف مثلاً فقر اور مرض وغیرہ لاحق ہوتا ہے ﴿فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ﴾ ” تو اس کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا“ کیونکہ اگر تمام مخلوق اکٹھی ہو کر کوئی فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے اور اگر تمام مخلوق اکٹھی ہو کر کسی کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو اللہ تعالیٰ کے ارادے کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اس لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ﴾ ” اور اگر وہ آپ کو کوئی بھلائی پہنچانا چاہے، تو اس کے فضل کو کوئی پھیرنے والا نہیں“ یعنی مخلوق میں کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو اس کے فضل و احسان کو روک سکے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿مَّا يَفْتَحِ اللَّـهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۖ وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ ۚ﴾ (فاطر :35؍2) ”اللہ لوگوں کے لئے اپنی رحمت کا جو دروازہ کھول دے تو اس کو کوئی بند نہیں کرسکتا اور جو دروازہ بند کر دے اس کے بعد اسے کوئی کھول نہیں سکتا۔ “ ﴿يُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ﴾ ” وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، پہنچاتا ہے“ یعنی وہ مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص کرلیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔ ﴿وَهُوَ الْغَفُورُ﴾ اللہ تعالیٰ تمام لغزشوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندے کو مغفرت کے اسباب کی توفیق سے نوازتا ہے۔ بندہ جب ان اسباب پر عمل کرتا ہے تو اللہ اس کے تمام کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿الرَّحِيمُ﴾ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اس کا جو دواحسان تمام موجودات تک پہنچتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز لمحہ بھر کے لئے بھی اس کے فضل و احسان سے بے نیاز نہیں رہ سکتی۔ جب بندہ قطعی دلیل کے ذریعے سے معلوم کرلے کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے جو نعمتوں سے نوازتا ہے، وہی تکالیف کو دور کرتا ہے، وہی بھلائیاں عطا کرتا ہے، وہی برائیوں اور تکالیف کو ہٹاتا ہے اور مخلوق میں کوئی ہستی ایسی نہیں جس کے ہاتھ میں یہ چیزیں ہوں، سوائے اس کے جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ جاری فرما دے۔۔۔۔ تو اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے اور وہ ہستیاں، جنہیں یہ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں، سب باطل ہیں۔ یونس
108 بنا بریں، جب اللہ تعالیٰ نے واضح دلیل بیان کردی، تو اس کے بعد فرمایا : ﴿قُلْ ﴾ چونکہ دلیل و برہان واضح ہوگئی اس لئے اے رسول فرما دیجئے ! ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ﴾ ” اے لوگو ! تمہارے رب کے ہاں سے تمہارے پاس حق آچکا ہے“ یعنی تمہارے پاس سچی خبر آگئی ہے جس کی تائید دلائل و براہین سے ہوتی ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی کوئی شک نہیں اور یہ خبر تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے پہنچی ہے، جس کی تمہارے لئے سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے تم پر قرآن نازل کیا، جو ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے یہ قرآن مختلف انواع کے احکام، مطالب الٰہیہ اور اخلاق حسنہ پر مشتمل ہے جن میں تمہاری تربیت کا بہترین سامان موجود ہے۔ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ پس گمراہی سے ہدایت کا راستہ واضح ہوگیا اور کسی کے لئے کوئی شبہ باقی نہ رہا۔ ﴿فَمَنِ اهْتَدَىٰ﴾ ” اب جو کوئی راہ پر آئے“ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی کے ذریعے سے راہ ہدایت اپنا لی۔ وہ یوں کہ اس نے حق معلوم کرلیا اور پھر اسے اچھی طرح سمجھ لیا اور دیگر ہر چیز پر اسے ترجیح دی ﴿فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ﴾ ” پس وہ راہ پاتا ہے اپنے بھلے کو“ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے نیاز ہے۔ بندوں کے اعمال کے ثمرات انہی کی طرف لوٹتے ہیں ﴿وَمَن ضَلَّ﴾ ” اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے“ یعنی جو حق کے علم یا اس پر عمل سے روگردانی کر کے ہدایت کی راہ سے بھٹک جائے ﴿فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ﴾ ” تو وہ بہکا پھرے گا اپنے برے کو“ یعنی وہ اپنے لئے گمراہی اختیا ر کرتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، وہ صرف اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ﴿وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ﴾ ” اور میں تم پر داروغہ نہیں“ کہ تمہارے اعمال کی نگرانی کروں اور ان کا حساب کتاب رکھوں۔ میں تو تمہیں کھلا ڈرانے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ تمہارا نگران اور وکیل ہے۔ جب تک تم اس مہلت کی مدت میں ہو، اپنے آپ پر نظر رکھو۔ یونس
109 ﴿وَاتَّبِعْ ﴾ ” اور پیروی کیے جاؤ“ اے رسول! ﴿مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ﴾ ” اس کی جو حکم آپ کی طرف بھیجا جاتا ہے۔“ یعنی علم، عمل، حال اور دعوت میں اس وحی کی اتباع کیجئے جو آپ کی طرف بھیجی گئی ہے ﴿وَاصْبِرْ ﴾ ” اور )اس پر( صبر کیجئے“ کیونکہ یہ صبر کی بلند ترین نوع ہے اور اس کا انجام بھی قابل ستائش ہے۔ سستی اور کسل مندی کا شکار ہوں نہ تنگ دل ہوں، بلکہ اس پر قائم و دائم اور ثابت قدم رہیں۔ ﴿حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّـهُ ﴾ ” یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے“ یعنی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کے درمیان اور آپ کی تکذیب کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کر دے۔ ﴿وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ﴾ ” اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔“ کیونکہ اس کا فیصلہ کامل عدل و انصاف پر مبنی ہے جو قابل تعریف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور صراط مستقیم پر قائم رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کردیا۔ آپ کو آپ کے دشمنوں کے مقابلے میں دلائل و براہین کے ذریعے سے نصرت عطا کرنے کے بعد شمشیر و سناں کے ذریعے سے فتح و نصرت سے نوازا۔ پس اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے ہر قسم کی حمد و ستائش اور ثنائے حسن جیسا کہ اس کی عظمت و جلال، اس کے کمال اور اس کے بے پایاں احسان کے لائق ہے۔ یونس
0 ھود
1 ﴿كِتَابٌ ﴾ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ﴾ ” جس کی آیتیں مستحکم ہیں۔“ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے او امر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں۔ ﴿ثُمَّ فُصِّلَتْ﴾ ” پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی“ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ ﴾ ” حکمت والے کی طرف سے“ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِيرٍ ﴾ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔ جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔ ھود
2 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لئے نازل فرمایا ﴿أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ﴾ ” کہ عبادت صرف اللہ کی کرو“ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے خالص کرنے کے لئے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ إِنَّنِي  لَكُم﴾ ” بے شک میں تمہارے لئے“ ﴿مِّنْهُ ﴾ ” اس کی طرف سے“ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿نَذِيرٌ ﴾ ” ڈر سنانے والا“ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿وَبَشِيرٌ ﴾ ” اور خوشخبری دینے والا۔“ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔ ھود
3 ﴿ وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ﴾ ” اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو“ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں۔ ﴿ثُمَّ تُوبُواإِلَيْهِ﴾ ” پھر اس کی طرف توبہ کرو۔“ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انہیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ و استغفار پر مترتب ہوتے ہیں۔ فرمایا : ﴿يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا﴾ ” وہ تمہیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا“ یعنی وہ تمہیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ” ایک وقت مقرر تک“ یعنی تمہاری وفات تک ﴿ وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ﴾ ” اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔“ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل وکرم سے نوازے گا جو چیز انہیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَإِن تَوَلَّوْا ﴾ ” اگر تم نے روگردانی کی۔“ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمہیں پیش کی ہے، بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے۔ ﴿فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ ﴾ ” تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے“ اور وہ ہے روز قیامت، جس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا۔ ھود
4 ﴿ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ ﴾ ” تمہیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے“ تاکہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے اگر اعمال نیک ہوں گے، تو جزا اچھی ہوگی اور اگر اعمال برے ہوں گے، تو بدلہ بھی برا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ﴿وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ ” وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور مروں کو زندہ کرنا بھی ” ہر چیز“ کے زمرے میں شامل ہے اور اس کی خبر سب سے سچی ہستی نے دی ہے۔ پس اس خبر کا وقوع عقلاً اور نقلاً واجب ہے۔ ھود
5 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کی گمراہی کی شدت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے : ﴿ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ ﴾ ” وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں“ ﴿لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ ﴾ ” تاکہ اس (اللہ ) سے پردہ کریں۔“ یعنی‘ تاکہ اللہ تعالیٰ سے چھپائیں۔ پس ان کے سینے اللہ کے علم کے لئے رکاوٹ بن جائیں‘ تاکہ وہ ان کے احوال کو جان نہ سکے اور اس کی نگاہ کے لئے بھی‘ تاکہ وہ ان کے حالات کو دیکھ نہ سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس ظن باطل کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ ﴾ ” سن لو جس وقت اوڑھتے ہیں وہ اپنے کپڑے‘‘ یعنی جب وہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانک لیتے ہیں اللہ تعالیٰ اس حال میں بھی ان کو خوب جانتا ہے جو کہ مخفی ترین حال ہے، بلکہ ﴿ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ﴾ ” وہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں“ یعنی وہ جو اقوال و افعال چھپاتے ہیں ﴿وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ﴾ ” اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔“ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ ﴿إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ﴾ ” دلوں کی باتوں کو جانتا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ان ارادوں، وسوسوں اور سوچوں کو بھی جانتا ہے جن کو یہ سراًیا جہراً نطق زبان سے بھی ظاہر نہیں کرتے۔۔۔۔ تب تم اپنے حال کو اپنے سینے کو موڑ کر اس سے کیسے چھپا سکتے ہو؟ اس آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جھٹلانے والوں اور آپ کی دعوت سے غافل لوگوں کے اعراض کا ذکر کرتا ہے، یعنی جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتے ہیں تو شدت اعراض کی وجہ سے اپنے سینوں کو موڑ لیتے ہیں، تاکہ آپ ان کو دیکھ سکیں نہ ان کو اپنی دعوت سنا سکیں اور نہ ان کو ان باتوں کی نصیحت کرسکیں جو ان کے لئے مفید ہیں۔ کیا اس اعراض سے بھی بڑھ کر اعراض کی کوئی صورت ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ انہیں وعید سناتا ہے کہ وہ ان کے تمام احوال کو جانتا ہے اور وہ اس سے مخفی نہیں ہیں اور وہ عنقریب ان کو ان کے کرتوتوں کی سزا دے گا۔ ھود
6 روئے زمین پر چلنے والا ہر جاندار، خواہ انسان ہو یا حیوان، خشکی کا جانور ہو یا پانی کا جانور، ان کی خوراک اور رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ ﴿وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا﴾ ” اور وہ جہاں رہتا ہے اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔“ یعنی وہ تمام جانداروں کے ٹھکانوں کو جانتا ہے (مُسْتَقَر) سے مراد وہ جگہ ہے جہاں جانور رہتے ہیں، جسے ٹھکانا بناتے ہیں اور جہاں پناہ لیتے ہیں اور (َمُسْتَوْدَع) سے مرادوہ جگہ ہے جہاں، اپنی آمد و رفت اور مختلف احوال میں منتقل ہوتے ہیں۔ ﴿ كُلٌّ﴾ ” یہ سب کچھ“ ان کے احوال کی تمام تفاصیل ﴿ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ﴾ ” واضح کتاب میں ہے۔“ یعنی ہر چیز لوح محفوظ میں مرقوم ہے، جو ان تمام حوادث و واقعات پر مشتمل ہے جو اس کائنات میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ تمام حوادث کا اللہ تعالیٰ کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے۔ اس نے ہر چیز کی تقدیر لکھ دی ہے ہر چیز پر اس کی مشیت نافذ ہے اور ہر ایک کے لئے اس کا رزق وسیع ہے۔ دل، اس ہستی کی کفایت پر مطمئن ہوجانے چاہئیں، جو ان کے رزق کی کفالت کرتی ہے اور جسم کے علم نے مخلوق کی ذات و صفات کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ھود
7 اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اسی نے ﴿خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ﴾ ” پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں“ پہلا دن اتوار اور چھٹا دن جمعہ تھا اور جس وقت اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ﴿وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ﴾ ’’اس کا عرش پانی پر تھا“ ساتویں آسمان کے اوپر۔ پس آسمانوں اور زمین کو تخلیق کرنے کے بعد اپنے عرش پر مستوی ہوا، وہ تمام امور کی تدبیر کرتا ہے اور احکام قدریہ اور احکام شرعیہ میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اسی لئے فرمایا ﴿ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾ ” تاکہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے“۔ تاکہ وہ اپنے اوامر و نو اہی کے ذریعے سے تمہارا امتحان لے اور دیکھے کہ تم میں سے کون اچھے کام کرتا ہے۔ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : ” سب سے اچھا عمل وہ ہے جو سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح ہو۔“ ان سے پوچھا گیا ” سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح سے کیا مراد ہے؟“ فرمایا : ” اگر عمل خالص ہو مگر صحیح نہ ہو تو قبول نہیں ہوتا اور اگر عمل صحیح ہو مگر خالص نہ ہو تب بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قابل قبول نہیں۔ صرف وہی عمل قابل قبول ہوتا ہے جو خالص بھی ہو اور صحیح بھی ہو“۔ خالص عمل وہ ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو اور صحیح عمل وہ ہے جس میں شریعت اور سنت کی پیروی کی گئی ہو اور یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴾ (الذاریات:51؍56)” میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں“۔ اور اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : ﴿اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا ﴾(الطلاق :65؍12)اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ان کی مانند سات زمینیں اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کا حکم اترتا رہتا ہے، تاکہ تم لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ “ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام مخلوق کو اپنی عبادت اور اپنے اسماء و صفات کی معرفت کے لئے پیدا کیا ہے اور اسی چیز کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور اس ذمہ داری کو ادا کردیا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا وہ فلاح پانے والوں میں سے ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعراض کیا، تو یہی گھاٹے میں پڑنے والے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ضرور ان کو ایک جگہ جمع کرے گا اور پھر ان کو اپنے اوامراونواہی کی بنیاد پر جزا دے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جزا کے بارے میں مشرکین کی تکذیب کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿وَلَئِن قُلْتَ إِنَّكُم مَّبْعُوثُونَ مِن بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ﴾ ” اور اگر آپ کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے“۔ یعنی اگر آپ ان سے کہیں اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے بارے میں ان کو آگاہ کریں تو یہ آپ کی تصدیق نہیں کریں گے، بلکہ وہ نہایت شدت سے آپ کی تکذیب کریں گے اور آپ کی دعوت میں عیب چینی کریں گے اور کہیں گے ﴿ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ ﴾ ” یہ تو کھلے جادو کے علاوہ کچھ نہیں“ مگر آگاہ رہو کہ یہ واضح حق ہے۔ ھود
8 ﴿وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَىٰ أُمَّةٍ مَّعْدُودَةٍ﴾” اگر ہم روکے رکھیں ان سے عذاب ایک معلوم مدت تک“ یعنی ایک وقت مقررہ تک، جس کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دن بہت دیر سے آئے گا، تب وہ ظلم و جہالت کی بنا پر کہتے ہیں : ﴿مَا يَحْبِسُهُ ﴾ ” کون سی چیز اس (عذاب) کو روکے ہوئے ہے؟“ اس آیت کا مضمون ان کا رسول کو جھٹلانا ہے۔ وہ ان پر عذاب کے فوری طور پر نہ آنے کو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھوٹا ہونے پر دلیل بناتے ہیں جنہوں نے ان کو عذاب واقع ہونے کی وعید سنائی ہے۔ پس یہ کتنا بعید استدلال ہے ! ﴿أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ ﴾ ” دیکھو جس روز عذاب ان پر نازل ہوگا تو پھر ٹلے گا نہیں“ کہ وہ اپنے معاملے میں غور کرسکیں ﴿ وَحَاقَ بِهِم  ﴾ ” اور ان کو گھیر لے گا“ یعنی نازل ہوگا ان پر ﴿مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ  ﴾ ” وہ (عذاب) جس کے ساتھ یہ استہزا کیا کرتے تھے۔“ کیونکہ وہ اسے نہایت حقیر سمجھتے تھے حتیٰ کہ جو ان کو عذاب کی وعید سناتا تھا وہ قطعی طور پر اسے جھو ٹاسمجھتے تھے۔ ھود
9 اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ جاہل اور ظالم ہے بایں طور کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، مثلاً اسے صحت، رزق اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے، پھر وہ اس سے چھین لیتا ہے، تو مایوسی اور ناامیدی کے سامنے جھک جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ثواب کی اسے ذرہ بھر امید نہیں رہتی ہے اور اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ تمام چیزیں دوبارہ عطا کرسکتا ہے یا ان جیسی اور چیزوں سے یا ان سے بہتر چیزوں سے اسے نواز سکتا ہے۔ ھود
10 اور جب اللہ تعالیٰ اسے تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے، اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، تو خوش ہوتا ہے اور اتراتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ بھلائی کے پاس ہمیشہ رہے گی اور کہتا ہے ﴿ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ ﴾ ” دور ہوگئیں برائیاں مجھ سے، بے شک وہ تو اترانے والا، شیخی خورہ ہے“ یعنی اسے جو کچھ اس کی خواہشات نفس کے موافق عطا کیا گیا ہے اس پر خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کے بندوں کے سامنے فخر اور تکبر کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز اسے غرور، خود پسندی، مخلوق الہٰی کے ساتھ تکبر کرنے، ان کے ساتھ حقارت سے پیش آنے اور انہیں کم تر سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا عیب ہوسکتا ہے؟ ھود
11 یہ ہے انسان کی فطرت، سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ توفیق سے نواز دے اور اسے ان مذموم اخلاق سے نکال کر اخلاق حسنہ کی طرف لے جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مصائب اور تکالیف کے وقت پر اپنے نفس کو صبر پر مجبور کرتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے اور خوشی کے وقت بھی صبر کرتے ہیں۔ پس خوشی میں اتراتے نہیں ہیں اور نیکیوں میں واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں۔ ﴿أُولَـٰئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ  ﴾ ان کے لئے ان کے گناہوں کی مغفرت ہے، جس سے ہر خوف زائل ہوجاتا ہے۔ ﴿وَأَجْرٌ كَبِيرٌ ﴾ ” اور بڑا اجر ہے“ اور یہ نعمتوں سے بھر پور جنت کے حصول میں کامیابی ہے، جس میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی نفس چاہت کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ھود
12 اللہ تبارک وتعالیٰ کفار کی تکذیب پر اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ بَعْضَ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ وَضَائِقٌ بِهِ صَدْرُكَ أَن يَقُولُوا ﴾ ” شاید آپ پر کچھ چیز وحی میں سے جو آپ کے پاس آتی ہے چھوڑ دیں اور اس (خیال) سے آپ کا دل تنگ ہو کہ یہ (کافر) کہنے لگیں“ یعنی آپ جیسی ہستی کے لائق نہیں کہ ان کا قول آپ پر اثر انداز ہو اور آپ کو اپنے راستے سے روک دے اور آپ وحی کے کچھ حصے کو ترک کردیں اور ان کی عیب چینی اور ان کے اس قول پر تنگ دل ہوں کہ ﴿لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ كَنزٌ أَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ ﴾ ” کیوں نہ اترا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اس کے ساتھ فرشتہ“ کیونکہ یہ قول عیب چینی، ظلم، عناد اور دلائل سے جہالت کی بنا پر جنم لیتا ہے۔ پس آپ اپنے راستے پر گامزن رہیے اور ان کے یہ رکیک الفاظ آپ کی راہ کھوٹی نہ کرنے پائیں جو صرف ایک انتہائی بیوقوف آدمی ہی سے صادر ہوسکتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ تنگ دل نہ ہوں۔ کیا انہوں نے آپ کے سامنے کوئی ایسی دلیل پیش کی ہے، جس کا آپ جواب نہیں دے پائے؟ یا انہوں نے اس چیز کی برائی اس انداز میں بیان کی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں کہ وہ اس میں موثر ثابت ہوئی ہے اور جس سے اس کی قدر و منزلت کم ہوئی ہے۔ پس آپ اس سے تنگ دل ہوئے ہیں؟ یا ان کا حساب آپ کے ذمہ ہے اور آپ سے ان کی جبری ہدایت کا مطالبہ کیا گیا ہے ؟ ﴿ إِنَّمَا أَنتَ نَذِيرٌ ۚ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ﴾ ” آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا ذمے دار ہے۔“ پس وہ ان جھٹلانے والوں پر نگران ہے، وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔ ھود
13 ﴿أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ  ﴾ ” کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس (قرآن) کو از خود بنا لیا ہے“ یعنی اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : ﴿ قُلْ  ﴾ ان سے ” کہہ دیجیے !“ ﴿ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴾ ” اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس صورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا لو۔“ یعنی اگر اس قرآن کو تمہارے قول کے مطابق۔۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طرف سے تصنیف کیا ہے، تب تو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے تمہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان کوئی فرق نہیں اور تم حقیقی دشمن ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کے ابطال کے لئے انتہائی حریص ہو۔۔۔ اگر تم اپنے موقف میں سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں گھڑ لاؤ۔ ھود
14 ﴿فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ  ﴾ ” پس اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں“ یعنی وہ اس کا کوئی جواب نہ دیں ﴿ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنزِلَ بِعِلْمِ اللَّـهِ  ﴾ ” تو جان لو کہ قرآن تو اترا ہے اللہ کے علم سے“ دلیل و مقتضی کے قیام اور معارض کی نفی کی بنا پر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿وَأَن لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ﴾ ” اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں“ یعنی یہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہی الوہیت اور عبادت کا مستحق ہے۔ ﴿فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ  ﴾ ” تو کیا مسلمان ہوتے ہو؟“ یعنی کیا تم اس کی الوہیت کو مانتے ہو اور اس کی عبادت کے لئے سر تسلیم خم کرتے ہو ؟ ان آیات کریمہ میں اس امر کی طرف راہ نمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کے لئے مناسب نہیں کہ دعوت پر اعتراض کرنے والے معترضین کے اعتراضات اور دو قدح کی بنا پر دعوت دین سے رک جائے۔ خاص طور پر جبکہ اس رد و قدح پر کوئی دلیل نہ ہو اور دعوت میں کوئی خامی بھی نہ ہو۔ نیز یہ کہ داعی کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے اپنی دعوت پر مطمئن ہونا چاہیے، وہ اپنے راستے پر گامزن رہے اور اپنی منزل کو سامنے رکھے، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ داعی نئے نئے مطالبات پیش کرنے والوں کو اہمیت نہ دے، صرف دلائل ہی ان کے سامنے رکھے۔ تمام مسائل پر ایسے دلائل کا قائم کردینا جن کا توڑ نہ کیا جا سکے یہی کافی ہے۔ اور اس آیت کریمہ میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ یہ قرآن بنفسہ معجزہ ہے، کوئی بشر ایسی کتاب نہیں لا سکتا، کتاب تو کیا اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت ہی نہیں بنا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے بڑے بڑے بلغاء و فصحاء کو مقابلے کی دعوت دی مگر انہوں نے مقابلہ نہ کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایسی کتاب بنانے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ امور جن میں محض غلبہ ظن کافی نہیں، بلکہ علم یقینی مطلوب ہے، وہ ہیں علم القرآن اور علم التوحید، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ﴿فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنزِلَ بِعِلْمِ اللَّـهِ وَأَن لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ  ﴾ ” تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ “ ھود
15 ﴿ مَن كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا  ﴾ ” جو چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی رونق“ یعنی جس شخص کا بھی ارادہ، دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت ہی کے گرد گھومتا ہے، مثلاً عورتوں اور بیٹوں کے حصول کی خواہش، سونے اور چاندی کے خزانوں کی حرص، نشان زدہ گھوڑوں، مویشیوں اور کھیتیوں کی چاہت، اس نے اپنی رغبت، عمل اور کوشش کو صرف انہی چیزوں پر مرکوز کر رکھا ہے اور وہ آخرت کے گھر کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایسا شخص کافر کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا، کیونکہ اگر وہ مومن ہوتا تو اس کا ایمان اسے اس بات سے روک دیتا کہ اس کا تمام ارادہ صرف دنیا پر مرکوز رہے، بلکہ اس کا ایمان اور اس کے نیک اعمال، اس کے ارادہ آخرت ہی کے آثار ہیں۔ مگر یہ کافر بد بخت تو گویا صرف دنیا ہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے ﴿ نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا  ﴾ ” بھگتا دیں گے ہم ان کو ان کے عمل دنیا ہی میں“ یعنی ہم ان کو وہ دنیاوی ثواب عطا کردیتے ہیں جو ان کے لئے لوح محفوظ میں لکھا ہوتا ہے۔ ﴿وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ ﴾ ” اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔“ یعنی جو کچھ ان کے لئے مقرر کیا گیا ہوتا ہے اس میں ذرہ بھر کمی نہیں کی جاتی۔ مگر یہ ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کی منتہا ہے۔ ھود
16 ﴿ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ  ﴾ ” یہی ہیں جن کے واسطے آخرت میں کچھ نہیں ہے سوائے آگے کے‘‘ وہ اس میں ابد لا باد تک رہیں گے، ان کے عذاب میں کوئی وقفہ نہیں کیا جائے گا اور ثواب جزیل سے انہیں محروم کردیا جائے گا۔ ﴿ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا  ﴾ ”اور برباد ہوگیا جو کچھ انہوں نے کیا دنیا میں“ یعنی وہ سب اعمال باطل اور مضمحل ہوجائیں گے جو وہ حق اور اہل حق کے خلاف سازشوں کے لئے کرتے رہے ہیں اور نیکی کے اعمال بھی باطل ہوجائیں گے جن کی کوئی اساس ہی نہیں اور ان کی قبولیت کی شرط بھی مفقود ہے اور وہ ہے ایمان۔ ھود
17 اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے قائم مقام، آپ کے دین کو قائم کرنے والے آپ کے ورثاء کا حال اور اہل ایقان کے دلائل کا ذکر کرتا ہے اور یہ ایسے اوصاف ہیں جن سے ان کے سوا کوئی اور متصف نہیں ہے اور نہ ہی ان جیسا کوئی اور ہے۔ فرمایا : ﴿أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ ﴾ ” بھلا وہ شخص جو ہے واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے“ یعنی اس وحی کے ذریعے سے جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہم مسائل اور ان کے ظاہری دلائل نازل کئے ہیں پس ان سے یہ ثبوت اور دلیل مزید متیقن ہوجاتی ہے۔ ﴿وَيَتْلُوهُ﴾ ” اور اس کے پیچھے ہے“ یعنی اس دلیل اور برہان کے پیچھے ایک اور دلیل ہے۔ ﴿شَاهِدٌ مِّنْهُ ﴾ ” ایک گواہ اس کی طرف سے“ اور وہ ہے فطرت مستقیم، عقل سلیم۔ فطرت سلیم اس شریعت کی حقانیت کی گواہی دیتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے نازل اور مشروع فرمایا اور بندہ اپنی عقل کے ذریعے سے اس کے حسن کو معلوم کرلیتا ہے پس اس کے ایمان میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ ﴿وَ﴾ ” اور“ وہاں ایک تیسرا شاہد بھی ہے ﴿مِن قَبْلِهِ  ﴾ ” اس سے پہلے“ اور وہ ہے ﴿كِتَابُ مُوسَىٰ ﴾ ” موسیٰ علیہ السلام کی کتاب“ یعنی تورات ﴿إِمَامًا﴾ ” پیشوا“ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لئے امام ﴿وَرَحْمَةً ﴾ ” اور رحمت بنایا ہے۔“ یہ تورات قرآن کی صداقت پر گواہی دیتی ہے اور اس حق کی موافقت کرتی ہے جو اس کے اندر نازل کیا گیا۔۔۔ یعنی جس کا یہ وصف ہو کہ تمام شواہد ایمان اس کی تائید کرتے ہوں اور اس کے پاس تمام دلائل یقین قائم ہوں، کیا وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو تاریکیوں اور جہالتوں میں ڈوبا ہوا ہے اور ان میں سے نکل نہیں سکتا؟ یہ دونوں اللہ کے ہاں برابر ہیں نہ اللہ کے بندوں کے ہاں۔ ﴿أُولَـٰئِكَ ﴾ ” یہی“ یعنی وہ لوگ جن کو دلائل قائم کرنے کی توفیق عطا کی گئی ہے۔ ﴿ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۚ﴾ ” اس پر ایمان لاتے ہیں۔“ یعنی قرآن پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں ان کے نتیجے میں انہیں دنیا و آخرت کی ہر بھلائی عطا ہوتی ہے۔ ﴿وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ ﴾ ” اور جو منکر ہو اس سے سب فرقوں میں سے“ یعنی روئے زمین کے تمام گروہ، جو حق کو ٹھکرانے پر متفق ہیں۔ ﴿فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ ﴾ ” پس دوزخ اس کا ٹھکانا ہے“ وہ ضرور جہنم میں داخل ہوں گے۔ ﴿فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ ﴾ ” تو آپ اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔“ یعنی آپ اس کی طرف سے ادنیٰ سے شک میں بھی مبتلا نہ ہوں۔ ﴿إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ ﴾ ” بے شک وہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے“ یعنی یا تو جہالت کی بنا پر ایمان نہیں لاتے یا ظلم، عناد اور بغاوت کی بنا پر ایمان نہیں لاتے۔ ورنہ جس کا مقصد اچھا اور فہم درست ہے وہ اس پر ضرور ایمان لائے گا، کیونکہ اسے اس میں وہ صداقت نظر آتی ہے جو اسے ہر لحاظ سے ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے۔ ھود
18 ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا ﴾ ” اور وہ اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے“ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿ أُولَـٰئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَىٰ رَبِّهِمْ ﴾ ”یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کئے جائیں گے“ تاکہ وہ انہیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ ﴾ ” کہیں گے گواہی دینے والے“ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب وافترا پر گواہی دیں گے ﴿هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ ﴾ ” یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار ! اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے جھوٹوں پر۔“ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا، کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں۔ ھود
19 پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ﴾ ” جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے“ پس انہوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء و مرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلا تے ہیں۔ ﴿وَيَبْغُونَهَا  ﴾ ” اور اس میں چاہتے ہیں“ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں ﴿عِوَجًا ﴾ ” کجی“ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کریت ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اللہ ان کا برا کرے ﴿وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ ﴾ ” اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ ھود
20 ﴿أُولَـٰئِكَ لَمْ يَكُونُوا مُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ ﴾ ” وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں“ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے، کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿وَمَا كَانَ لَهُم مِّن دُونِ اللَّـهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ﴾ ” اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست“ جو ان کی تکلیف دور کرسکیں یا ان کے لئے کوئی فائدہ حاصل کرسکیں، بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہوجائیں گے۔ ﴿يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ ﴾ ” دوگنا ہے ان کے لئے عذاب“ ان کے لئے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا“ کیونکہ انہوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ ﴾ ” نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی“ یعنی حق کے خلاف بغض اور نفرت رکھنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن نہیں سکتے جس سے وہ منتفع ہوسکیں ﴿ فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ ﴾(المدثر:74؍49۔51) ” انہیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں گویا وہ بد کے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں۔“ ﴿وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ ﴾ ” اور نہ دیکھتے تھے“ یعنی وہ عبرت اور تفکر وتدبر کی نظر سے نہیں دیکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں۔ وہ تو بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں جو سوچنے، سمجھنے سے محروم ہیں۔ ھود
21 ﴿ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ ﴾ ” وہی لوگ ہیں جنہوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو“ کیونکہ وہ سب بڑے ثواب سے محروم ہوگئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے ﴿وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ ﴾ ” اور گم ہوگیا ان سے وہ جھوٹ باندھتے تھے“ یعنی ان کا وہ دین، جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے، مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آگیا، تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی عبادت کیا کرتے تھے۔ ھود
22 ﴿ لَا جَرَمَ ﴾ ” بلا شبہ“ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ ﴿أَنَّهُمْ فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْأَخْسَرُونَ  ﴾ ” وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کردیا ہے، بلکہ ان کے لئے شدید ترین خسارہ مقرر کیا، کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہوگا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ ھود
23 اللہ تبارک وتعالیٰ نے (بدبختوں کا حال اور اللہ کے ہاں ان کی جزابیان کرنے کے بعد خوش بخت لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے) فرمایا : ﴿ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ﴾ ” جو لوگ ایمان لائے۔“ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اصول دین اور اس کے قواعد پر ایمان لانے کا حکم دیا، تو انہوں نے ان امور کا اعتراف کیا اور ان کی تصدیق کی۔ ﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ  ﴾ ” اور عمل نیک کئے۔“ جو اعمال قلوب، اعمال جوارح اور اقوال لسان پر مشتمل ہیں۔ ﴿وَأَخْبَتُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ ﴾ ” اور عاجزی کی انہوں نے اپنے رب کے سامنے“ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے فرافگندہ ہوگئے، اس کی قوت و اقتدار کے سامنے تذلل اور انکساری اختیار کی، اپنے دل میں اس کی محبت، اس کا خوف اور اس پر امیدیں رکھتے ہوئے اس کی طرف لوٹے اور اس کے حضور اپنی عاجزی اور بے مائیگی کا اظہار کیا ﴿أُولَـٰئِكَ  ﴾ ” یہی“ یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام صفات جمع ہیں ﴿أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴾ ” جنتی ہیں، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔“ کیونکہ بھلائی کا کوئی ایسا مقصد نہیں جو انہوں نے حاصل نہیں کیا اور کوئی ایسی منزل نہیں جس کی طرف انہوں نے سبقت نہ کی ہو۔ ھود
24 ﴿ مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ  ﴾ ” مثال دو گروہوں کی“ یعنی بد بختوں کا گروہ اور نیک بختوں کا گروہ ﴿كَالْأَعْمَىٰ وَالْأَصَمِّ ﴾ ” اندھے اور بہرے کی مانند ہیں“ یعنی ان بدبختوں کا گروہ ﴿وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ ﴾ ” اور دیکھنے، سننے والے کے مانند ہیں“ یعنی سعادت مند لوگوں کی مثل۔ ﴿هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلً ﴾ ” کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہوسکتے ہیں؟“ یعنی مثال میں دونوں مساوی نہیں ہیں، بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ﴿أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ﴾ ” پس تم کیوں دھیان نہیں دیتے“ ان اعمال کی طرف جو تمہیں فائدہ دیں اور تم انہیں بجا لاؤ اور ان اعمال کی طرف، جو تمہارے لئے نقصان دہ ہیں، پس تم ان کو چھوڑ دو۔ ھود
25 ﴿ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا ﴾ ” اور ہم نے نوح علیہ السلام کو بھیجا۔“ یعنی ہم نے نوح علیہ السلام کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿ إِلَىٰ قَوْمِهِ  ﴾ ” ان کی قوم کی طرف۔“ جو انہیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انہوں نے اپنی قوم سے کہا : ﴿إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴾ ” میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔“ یعنی میں نے جس چیز سے تمہیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کردیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔ ھود
26 ﴿أَن لَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ ﴾ ” کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔“ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ ﴾ ” مجھے تمہاری نسبت درد ناک عذاب کا اندیشہ ہے۔“ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر درد ناک عذاب کا ڈر ہے۔ ھود
27 ﴿فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ  ﴾ ” تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔“ یعنی جناب نوح علیہ السلام کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیساکہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنہوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے : ﴿مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا ﴾ ” ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں“ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انہیں نوح علیہ السلام کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں، کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کرسکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کرسکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کرسکتا ہے۔ ﴿ وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا ﴾ ” اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں۔“ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے ( بزعم خود)رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں۔۔۔۔۔۔ حالانکہ وہ، در حقیقت، اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنہوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿بَادِيَ الرَّأْيِ  ﴾ ” سرسری نظر والے“ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں، بلکہ محض تیرےدعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں۔ حالانکہ انہیں معلوم نہیں کہ واضح حق ہی وہ ہے جس کی طرف عقل بد یہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ ﴾ ” اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔“ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمہاری اطاعت کریں ﴿بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ ﴾ ” بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا گمان کرتے ہیں“ انہوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا، کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کی تائید کے لئے نازل فرمایا تھا، کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کی تائید کے لئے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انہیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں۔ ھود
28 ﴿قَالَ ﴾ بناء بریں نوح علیہ السلام نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا : ﴿يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي ﴾ ” اے میری قوم ! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے“ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہوجاتی تھی۔ در حقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لئے، تمہیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿وَآتَانِي رَحْمَةً مِّنْ عِندِهِ  ﴾ ” اور وہ دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے“ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھ ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ ﴾ ” پھر اسے تمہاری آنکھ سے مخفی رکھا“ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لئے تم اسے قبول کرنے کے لئے نہ اٹھے۔ ﴿ أَنُلْزِمُكُمُوهَا  ﴾ ” کیا ہم تمہیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں“ جوہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو ؟ ﴿وَأَنتُمْ لَهَا كَارِهُونَ ﴾ ” جب کہ تم اسے ناپسند کرتے ہو“ یہاں تک کہ تم اس چیزکو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمہارا بہتان اور ہم پر تمہاری افتراپرادازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمہیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لئے تمہاری عدم اطاعت کی موجودگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔ جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمہیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کرسکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنا بریں فرمایا : ﴿ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمْ لَهَا كَارِهُونَ ﴾ ” کیا ہم اس کے لئے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں جب کہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔ “ ھود
29 ﴿وَيَا قَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا ﴾ ” اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں۔“ یعنی میں تمہیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ ﴾ ” میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے“ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں۔ اس لئے آپ نے فرمایا : ﴿وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا ﴾ ” اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انہیں نکالنے والا نہیں ہوں۔“ یعنی میرے لئے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکاردوں، بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿إِنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ ﴾ ” وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں“ پس وہ انہیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿وَلَـٰكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو“ کیونکہ تم مجھے اولیاء کو دھتکار نے اور اپنے سےدور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لئے رد کردیا ہے، کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں، اور اس لئے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لئے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ ھود
30 ﴿ وَيَا قَوْمِ مَن يَنصُرُنِي مِنَ اللَّـهِ إِن طَرَدتُّهُمْ ﴾ ” اور اے میری قوم ! اگر میں ان کو دھتکاردوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا ؟“ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ﴾ ” کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔“ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمہارے لئے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے ؟ ھود
31 ﴿وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ ﴾ ” اور میں تم سے نہیں کہتا ہے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں“ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں، میں تمہیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمہیں برے انجام سے ڈراتا ہوں، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں۔ ﴿وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ  ﴾ ” اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں“ کہ میں تمہارے سینے کے بھیدوں اور تمہارے ”رازوں“ کے بارے میں تمہیں آگاہ کرسکوں۔ ﴿وَلَا أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ ﴾ ’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔“ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں۔ ﴿وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ ﴾ ” اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمہاری آنکھوں میں حقیر ہیں“ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿لَن يُؤْتِيَهُمُ اللَّـهُ خَيْرًا ۖ اللَّـهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنفُسِهِمْ ﴾ ” اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے“ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لئے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿إِنِّي إِذًا ﴾ ” بے شک میں تب“ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿لَّمِنَ الظَّالِمِينَ ﴾ ” ظالموں میں سے ہوں گا“نوح علیہ السلام کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کرلیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔ ھود
32 جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت نوح علیہ السلام ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوح علیہ السلام سے اپنا مقصد حاصل نہ کرسکے تو انہوں نے نوح علیہ السلام سے کہا : ﴿ يَا نُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ﴾ ” اے نوح ! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آجو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے“ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انہوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انہوں نے یہ کیوں نہ کہا’’اے نوح ! (علیہ السلام) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملات کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کردیں، تاکہ ہم اس کی پیروی کرسکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں“۔۔۔۔۔ تو یہ اس شخص کے لئے انصاف پر مبنی جواب ہوتا ہے جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔ ھود
33 مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انہوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنابریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔ اس لئے نوح علیہ السلام نے جواب میں فرمایا : ﴿إِنَّمَا يَأْتِيكُم بِهِ اللَّـهُ إِن شَاءَ ﴾ ” اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔“ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا، تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ ﴾ ” اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کرسکتے“ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں۔ ھود
34 ﴿ وَلَا يَنفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ اللَّـهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ ۚ ﴾ ” اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں، اگر اللہ کا ارادہ تمہیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارادہ غالب ہے، کیونکہ اگر وہ تمہیں تمہارے حق کو ٹھکرادینے کی پاداش میں گمراہ کردے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمہاری خیر خواہی کروں۔۔۔۔۔۔ اور جناب نوح علیہ السلام نے ایسا کیا بھی۔۔۔۔۔۔ تب بھی میری یہ کوشش تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمْ ﴾ ” وہ تمہارا رب ہے“ تمہارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴾ ” اور اسی کی طر ف تم لوٹائے جاؤ گے“ پس وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔ ھود
35 اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : ﴿أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ﴾ ” کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے“ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوح علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہوجیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوح علیہ السلام کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ کہہ دے۔ ﴿قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ إِجْرَامِي وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تُجْرِمُونَ ﴾ ”کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو، تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمہارے گناہوں سے بری ہوں“ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ ﴾ (الانعام:6؍164)” کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ “ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کے قصہ کے اثناء میں، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنہیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت اور رسالت پردلالت کرتی ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا : ﴿أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ  ﴾ ” کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔“ یعنی قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے، کیونکہ انہیں علم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں، اہل کتاب کے علوم سیکھنے کے لئے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افتر اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت، حق سے عناد رکھتے ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا، بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں۔ اس لئے فرمایا : ﴿قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ إِجْرَامِي ﴾ ” کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ“ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تُجْرِمُونَ ﴾ ” اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں۔“ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کررہے ہو۔ ھود
36 ﴿ وَأُوحِيَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلَّا مَن قَدْ آمَنَ ﴾ ” نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا، مگر جو ایمان لا چکا“ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں۔ ﴿فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ﴾ ” پس آپ غم نہ کریں ان کا موں پر جو وہ کر رہے ہیں“ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جاسکتا۔ ھود
37 ﴿وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا ﴾ ” اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔“ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا ﴾ ” اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا“ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں۔ ﴿ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ  ﴾ ” بے شک یہ غرق ہوں گے“ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہوچکا ہے۔ ھود
38 نوح علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کردی ﴿ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأٌ مِّن قَوْمِهِ  ﴾ ” جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے“ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿سَخِرُوا مِنْهُ ۚ قَالَ إِن تَسْخَرُوا مِنَّا ﴾ ” تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر مذاق کرتے ہو ہم سے“ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿ فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ  فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيمٌ ﴾ ” تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔ ھود
39 اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب“ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر ؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انہیں معلوم ہوگیا۔ ھود
40 ﴿حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا ﴾ ” یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔“ یعنی جب وہ وقت آگیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لئے مقرر کیا تھا۔ ﴿وَفَارَ التَّنُّورُ ﴾ ” اور جوش مارا تنور نے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دئیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دئیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لئے جمع ہوگیا جو مقدر ہوچکا تھا۔ ﴿وَ  قُلْنَا ﴾ ” اور ہم نے کہا۔“ یعنی ہم نے نوح علیہ السلام سے کہا ﴿احْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ ﴾ ” ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں۔“ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کرلیں، تاکہ تمام مخلوق کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائدجانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لادلینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ ﴾ ” اور اپنے گھر والوں کو، مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم“ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں، مثلاً نوح علیہ السلام کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کرلیں۔ ﴿وَمَنْ آمَنَ ﴾ ” اور سب ایمان والوں کو“ ﴿وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿مَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ ﴾ ” ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔ ھود
41 ﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوح علیہ السلام نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا﴾ ” اس میں سوار ہوجاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا“ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ ” بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔“ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔ ھود
42 پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ﴿ وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔“ یعنی کشتی نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ﴾ ” پہاڑوں جیسی لہروں میں“ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادَىٰ نُوحٌ ابْنَهُ ﴾ ” اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا“ یعنی جب نوح علیہ السلام کشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا، تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہوجائے۔ ﴿وَ کَانَ﴾ ” اور وہ تھا۔“ یعنی نوح علیہ السلام کا بیٹا ﴿فِي مَعْزِلٍ ﴾ ”الگ“ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوح علیہ السلام چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہوجائے۔ اس لئے نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا : ﴿يَا بُنَيَّ ارْكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ الْكَافِرِينَ﴾ ” بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو“ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ ھود
43 ﴿ قَالَ ﴾ ” اس نے کہا۔“ یعنی نوح علیہ السلام کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ” عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا۔۔۔۔۔۔“ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا : ﴿سَآوِي إِلَىٰ جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ﴾ ” میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچا لے گا۔“ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہوجاؤں گا۔ ﴿ قَالَ﴾ نوح علیہ السلام نے کہا : ﴿لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ إِلَّا مَن رَّحِمَ﴾ ” آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں، مگر جس پر وہی رحم کرے“ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لئے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کرلے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔ ﴿وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ﴾ ” اور حائل ہوگئی دونوں کے درمیان موج، پس ہوگیا وہ“ یعنی بیٹا ﴿مِنَ الْمُغْرَقِينَ﴾ ” ڈوبنے والوں میں۔ “ ھود
44 ﴿وَ﴾ ” اور“ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کردیا اور حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿قِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ ﴾ ” حکم دیا گیا، اے زمین ! نگل لے اپنا پانی“ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿يَا سَمَاءُ أَقْلِعِي﴾ ” اور اے آسمان ! تھم جا“ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿وَغِيضَ الْمَاءُ ﴾ ” اور سکھا دیا گیا پانی“ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿وَقُضِيَ الْأَمْرُ ﴾ ” اور ہوچکا کام“ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ﴾ ” اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔“ یعنی کشتی ” جودی“ پر لنگر انداز ہوگئی جو سر زمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿وَقِيلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴾ ” اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لئے“ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ ھود
45 ﴿ وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ ﴾ ” اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے، اور تیرا وعدہ سچا ہے“ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا : ﴿احْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ﴾ ” ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کرلو اور اپنے گھر والوں کو بھی“ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے، تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ شاید کہ نوح علیہ السلام کی شفقت پدری نے جوش مارا ہو، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا، تو نوح علیہ السلام نے سمجھاکہ یہ وعدہ تمام لوگوں کوشامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں، اس لئے انہوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے دعامانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کردیا اور عرض کیا : ﴿ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ﴾ ” اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘ ھود
46 ﴿قَالَ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام سے فرمایا : ﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ﴾ ” وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے“ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ﴾ ” بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں“ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لئے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾ ” پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر“ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ﴾ ” میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔“ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کرکے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔ ھود
47 اس وقت نوح علیہ السلام اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا : ﴿قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُن مِّنَ الْخَاسِرِينَ﴾ ” اے میرے رب ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا، تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا“ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوح علیہ السلام کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لئے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا ۚ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ ﴾ ” ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا کہ وہ سب غرق ہوں گے۔“ بلکہ نوح علیہ السلام کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور سمجھے کہ ان کا بیٹا ﴿أَهْلَكَ ﴾ کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لئے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔ ھود
48 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ﴾ ” حکم ہوا اے نوح ! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوح علیہ السلام نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کئے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انہوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھردیا۔ ﴿وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ﴾ ” اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے“ یعنی دنیا میں ہم انہیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ” پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے درد ناک عذاب“ یعنی یہ نجات دینا، ہمارے لئے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا، تو ہم اس پر عذاب نازل کریں، بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لئے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا، تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔ ھود
49 یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔ جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے۔۔۔ اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا : ﴿ تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَـٰذَا﴾ ” یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے“ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ ﴾ ” بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے۔“ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوح علیہ السلام کی قوم کے مقابلے میں نوح علیہ السلام کا انجام اچھا تھا۔ ھود
50 ﴿ وَإِلَىٰ عَادٍ﴾ ” اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ” عاد“ ایک معروف قبیلہ تھا جو سر زمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿ أَخَاهُمْ ﴾ ” ان کے بھائی۔“ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُودًا ﴾ ” ہود کو“ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کرسکیں۔ ﴿ قَالَ﴾ ہود علیہ السلام نے ان سے کہا۔“ ﴿يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّـهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ ۖ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ﴾ ” اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تم بہتان باندھتے ہو“ یعنی ہود علیہ السلام نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیراللہ کی عبادت کو اختیار کرکے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔ ھود
51 پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿يَا قَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا﴾ ” اے میری قوم ! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔“ یعنی تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمہارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمہیں کہنا پڑے ” یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے“ میں تو تمہیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔ ﴿إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾ ” میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے“ یعنی جس کی طرف تمہیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ ھود
52 ﴿ وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ﴾ ” اور اے میری قوم ! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔“ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہوچکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ﴾ ” پھر اس کے آگے توبہ کرو۔“ یعنی آئندہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ﴾ ” وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سر سبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمْ﴾ ” اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں“ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لئے انہوں نے کہا تھا : ﴿مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾ (حم السجدۃ:41؍15)” ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے“ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اضافہ کر دے گا۔ ﴿وَلَا تَتَوَلَّوْا﴾ ” اور روگردانی نہ کرو۔“ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿مُجْرِمِينَ﴾ ” گناہ گار ہو کر“ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔ ھود
53 ﴿قَالُوا﴾ انہوں نے ہود علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا : ﴿ يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ﴾ ” اے ہود ! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر انہیں آیا“ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لئے لازم نہیں، بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہود علیہ السلام ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں، کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔ اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لئے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہود علیہ السلام کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں، تو ان کی صداقت پر دلیل کے لئے یہی چیز کافی تھی۔۔۔۔۔۔ بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادات معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کردیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم﴾ ” میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمہارا رب ہے“ ﴿إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ  فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ ﴾ ”ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔“ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہود علیہ السلام لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہود علیہ السلام کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں۔ اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔ کفار نے کہا : ﴿ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ﴾ ” اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں۔“ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر۔۔۔ ان کے زعم کے مطابق۔۔۔ کوئی دلیل نہیں، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ ” اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ہیں“ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہود علیہ السلام کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔ ھود
54 ﴿إِن نَّقُولُ﴾ ہم تیرے بارے میں یہی کہتے ہیں : ﴿إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ﴾ ” تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے“ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کرکے تجھے جنون لاحق کردیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کردیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کردی۔ انہوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا، تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔ اسی لئے ہود علیہ السلام نے واضح فرمایا کہ انہیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انہیں تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا : ﴿قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ  مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کرلو ﴿ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ﴾ ” پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔ “ ھود
55 ھود
56 ﴿إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ ﴾ ” میں نے اللہ پر توکل کیا۔“ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّي وَرَبِّكُم ﴾ ” جو میرا اور تمہارا رب ہے“ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمہاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ” جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔“ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمہیں مجھ پر مسلط نہ کرے، تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکتے اور اگر وہ تمہیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾ ” بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے“ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع و امر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔ ھود
57 ﴿فَإِن تَوَلَّوْا﴾ ” پس اگر تم روگردانی کرو۔“ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمہیں بلاتا ہوں ﴿فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ﴾ ” تو تحقیق میں پہنچا چکا تمہیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا تھا“ پس میرے ذمے تمہارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں۔ ﴿وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْمًا غَيْرَكُمْ ﴾ ” اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمہارے علاوہ کسی اور قوم کو“ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿وَلَا تَضُرُّونَهُ شَيْئًا﴾ ” اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے“ کیونکہ تمہارا ضرر تمہاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿مَّنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ  وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ﴾ (حم السجدۃ:41؍46)” جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لئے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لئے ہے۔“ ﴿إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ ﴾ ” بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔ “ ھود
58 ﴿وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا﴾ ” اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔“ یعنی جب نا مبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿مَا تَذَرُ مِن شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ﴾ (الذریات:51؍42)” جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کئے دیتی تھی۔“ ﴿ نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَنَجَّيْنَاهُم مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ﴾ ” تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا“ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کردی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔ ھود
59 ﴿وَتِلْكَ عَادٌ ﴾ ” یہ قوم عاد تھی“ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا، کیونکہ ﴿جَحَدُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ﴾ ” انہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا“ اور کہنے لگے : ﴿ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ﴾” تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے“ پس اس سے واضح ہوا کہ ہود علیہ السلام کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انہیں یقین تھا، انہوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿وَعَصَوْا رُسُلَهُ ﴾ ”اور انہوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔“ یعنی انہوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے، کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔ ھود
60 ﴿وَاتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ  ﴾ ” اور انہوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا“ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہوجاتا ہے۔ ﴿عَنِيدٍ  ﴾ ” سرکش“ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انہوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ ﴿وَأُتْبِعُوا فِي هَـٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً ﴾ ” اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار“ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ ﴾ ” اور قیامت کے روز بھی“ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ أَلَا إِنَّ عَادًا كَفَرُوا رَبَّهُمْ ﴾ ” خبردار ! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا“ انہوں نے اس ہستی کا انکار کردیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿أَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُودٍ ﴾ ” سنو ! ہود کی قوم عاد کے لئے دوری ہو“ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کردیا۔ ھود
61 ﴿وَإِلَىٰ ثَمُودَ ﴾ ” اور ثمود کی طرف۔“ یعنی نے ہم ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿أَخَاهُمْ  ﴾ ” ان کے بھائی۔“ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿صَالِحًا ﴾ ” صالح علیہ السلام کو“ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّـهَ ﴾ ” انہوں نے کہا، اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لئے خالص کرو۔ ﴿مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ ﴾ ” اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں“ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ﴾ ” اسی اللہ تعالیٰ ہی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا“ ﴿وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا ﴾ ” اور اس میں تمہیں بسایا“ یعنی تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمہیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمہیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسْتَغْفِرُوهُ ﴾ ” پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔“ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ  ﴾ ” پھر اس کے حضور توبہ کرو۔“ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُّجِيبٌ ﴾ ” بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو)قبول کرنے والا ہے۔“ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لئے پکارتا ہے یا عبادت کے لئے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کرکے اور اس کی دعا قبول کرکے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکارا کا جواب دیتا ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ  ﴾(ق:50؍16) ” اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔“ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں، اللہ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب ﴾(العلق:96؍19) ” سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔” میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔ اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد : ﴿ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ ﴾ (البقرۃ:2؍186) ”جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں )تو ان سے کہہ دیں( کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں۔“ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ ( اَلقَرِيب ) اور ( اَلمُجِيب) کو مقرون )ساتھ ساتھ( بیان کیا ہے۔ ھود
62 جب ان کے نبی صالح علیہ السلام نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کی ترغیب دی، تو انہوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَـٰذَا ﴾ ” انہوں نے کہا صالح ! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔“ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع کی تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالح علیہ السلام کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انہوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ” تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔ “ صالح علیہ السلام کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے : ﴿أَتَنْهَانَا أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا  ﴾ ” کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے“ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالح علیہ السلام میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباؤ اجداد کو بے عقل کہتے ہیں؟ اور کیسے وہ ان کو ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے ؟ صالح علیہ السلام نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کریں جو انہیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انہیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔ ﴿ وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ  ﴾ ” تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں۔“ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔ بزعم خود، اگر وہ صالح علیہ السلام کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ ھود
63 بناء بریں صالح علیہ السلام نے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي  ﴾ ” اے میری قوم ! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں۔“ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں۔ ﴿وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً ﴾ ” اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے“ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمہاری پیروی کروں؟ ﴿فَمَن يَنصُرُنِي مِنَ اللَّـهِ إِنْ عَصَيْتُهُ  فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ ﴾ ”پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو“ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لئے کسی چیز کا اضافہ نہیں کروگے۔ ھود
64 ﴿وَيَا قَوْمِ هَـٰذِهِ نَاقَةُ اللَّـهِ لَكُمْ آيَةً ﴾ ” اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمہارے لئے نشانی“ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دود پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لئے مقرر ہوگا۔ ﴿فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّـهِ ﴾ ”پس تم اسے چھوڑدو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں“ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ ﴾ ”اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا“ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيبٌ ﴾ ” ورنہ تمہیں بہت جلد عذاب آپکڑے گا۔‘‘ ھود
65 ﴿فَعَقَرُوهَا فَقَالَ ﴾ ” پس انہوں نے اس کے پاؤں کاٹ دئیے تو کہا“ یعنی جناب صالح علیہ السلام ﴿ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ۖ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ ﴾ ” تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہوگا“ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔ ھود
66 ﴿فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا ﴾ ” پس جب ہمارا حکم آگیا۔“ یعنی وقوع عذاب کا ﴿نَجَّيْنَا  صَالِحًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِئِذٍ  ﴾ ” تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے“ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ  ﴾ ” بیشک آپ کا رب زور آورغالب ہے“ یہ اس کی قوت ہے اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کردیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔ ھود
67 ﴿وَأَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ  ﴾ ” اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑنے آپکڑا۔“ یعنی ایک چنگھاڑکی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ ﴾ ” وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔“ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔ ھود
68 ﴿كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا ﴾ گویا کہ۔۔۔ جب ان پر عذاب آیا۔۔۔ وہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انہوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہوگا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿أَلَا إِنَّ ثَمُودَ كَفَرُوا رَبَّهُمْ ﴾ ” سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا“ یعنی ان کے پاس نمایاں نشانی آجانے کے بعد بھی انہوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿أَلَا بُعْدًا لِّثَمُودَ ﴾ ” سنو ! دوری ہے ثمود کے لئے“ پس کتنے بد بخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود ! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ ھود
69 ﴿وَلَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُنَا ﴾ ” تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے“ ہمارے قاصد ﴿إِبْرَاهِيمَ ﴾ ” ابراہیم )علیہ السلام( کے پاس“ ﴿بِالْبُشْرَىٰ ﴾ ” بشارت کے ساتھ“۔ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحق کی خوشخبری دیتے جائیں، تو جب فرشتے ابراہیم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے ﴿قَالُوا سَلَامًا  قَالَ سَلَامٌ ﴾ ” تو انہوں نے سلام کیا‘ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا۔“ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو اور ابراہیم علیہ السلام نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو، کیونکہ ان کا سلام جملہ فعلیہ کے ذریعے سے تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔ ﴿فَمَا لَبِثَ ﴾ ” انہوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔“ یعنی جب ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے تاخیر نہ کی ﴿أَن جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ ﴾ ” اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔“ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لئے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے : ﴿أَلَا تَأْكُلُونَ ﴾(الذاریات:51؍27) ” تم کھاتے کیوں نہیں؟ ھود
70 ﴿فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ ﴾ ” جب انہوں (ابراہیم علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت)کی طرف نہیں بڑھتے“ ﴿نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً  ﴾ ” تو انہیں کھٹکا لگا اور دل میں سے ان سے ڈرے“ ابراہیم علیہ السلام نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ ﴾ ” انہوں نے کہا، ڈریں نہیں، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں“ یعنی اللہ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوط علیہ السلام کی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ ھود
71 ﴿وَامْرَأَتُهُ ﴾ ” اور اس کی بیوی“ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی ﴿قَائِمَةٌ  ﴾ ” کھڑی تھی۔“ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتْ ﴾ ” وہ ہنس پڑی“ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انہیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ  ﴾ ” پس ہم نے اسے خوشخبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی“ اسے اس اس پر تعجب بھی ہوا۔ ھود
72 ﴿قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَـٰذَا بَعْلِي شَيْخًا  ﴾ ” وہ بولیں، کیا میں جنوں گی جب کہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے“ پس یہ دو امور (بظاہر)مانع ہیں ﴿إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ  ﴾ ” یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔ “ ھود
73 ﴿قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ ۖ ﴾ ” انہوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں، اس لئے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ ﴾ ” اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں“ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الہٰی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ ﴾ ” تم پر اے گھر والو ! بیشک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں، کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ ﴿ مَجِيد ﴾ اور ﴿ مَجَد﴾ سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔ ھود
74 ﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الرَّوْعُ ﴾ ” جب ابراہیم سے خوف دور ہوا“ جو مہمانوں کی آمد پر انہیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿وَجَاءَتْهُ الْبُشْرَىٰ ﴾ ” اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی“ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنےلگےاوران سے کہنےلگے:﴿ إِنَّ فِيهَا لُوطًا ۚ قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا ۖ لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ﴾(العنکبوت:29؍32)” کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انہیں زیادہ جانتے ہیں، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔ “ ھود
75 ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمٌ  ﴾ ” بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔“ یعنی ابراہیم علیہ السلام اخلاق والے اور کشادہ دل شخصیت تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ و غضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿أَوَّاهٌ ﴾ ” نرم دل تھے“ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيبٌ ﴾ ” رجوع کرنے والے تھے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لئے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کردیا تھا۔ ھود
76 ابراہیم علیہ السلام سے کہا گیا : ﴿ يَا إِبْرَاهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَـٰذَا  ﴾ ” اے ابراہیم اس اعراض کریے“ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑ دئیے۔ ﴿إِنَّهُ قَدْ جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ ﴾ ” تمہارے رب کا حکم آچکا ہے۔“ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہوچکا ہے۔ ﴿وَإِنَّهُمْ آتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍ ﴾ ” اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹا یا نہیں جائے گا“ اس لئے تمہارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ھود
77 ﴿وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا ﴾ ” اور جب ہمارے فرشتے آئے۔“ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوطًا سِيءَ بِهِمْ  ﴾ ” لوط لوط علیہ السلام کے پاس، تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔ ﴿وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ ﴾ ” اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے“ یعنی بہت حرج والا دن ہے، کیونکہ لوط علیہ السلام کو لعم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لئے ان کے بارے میں ان کے دل میں خیال گزرا تھا۔ ھود
78 ﴿وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ  ﴾ ” اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔“ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوط علیہ السلام کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جیسے وہ پہلے سے کرتے آئے ہیں، جیسے اللہ کا فرمان ہے : ﴿وَمِن قَبْلُ كَانُوا يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ ﴾ ” اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع (بدکاری) کیا کرتے تھے۔“ یعنی ایسی بدکاری جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿ قَالَ يَا قَوْمِ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ ﴾ ” انہوں نے کہا، اے میری قوم ! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ ہیں۔“ یعنی میری بیٹیاں تمہارے لئے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں۔ جناب لوط علیہ السلام کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کردیا جائے، کیونکہ انہیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوط علیہ السلام کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بد کاری کو روکنا تھا۔ ﴿فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَلَا تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي ﴾ ” پس اللہ سے ڈر و اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔“ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت کھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿ أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ ﴾ ” کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے“ جو تمہیں روکے اور تمہیں زجروتوبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔ ھود
79 ﴿ قَالُوا ﴾ انہوں نے لوط علیہ السلام سے کہا : ﴿لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ  ﴾ ” تو تو جانتا ہے ہمیں ٰ تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں، اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں“ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں۔ ھود
80 پس لوط علیہ السلام کو شدید قلق ہوا۔ ﴿ قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ  ﴾ ” انہوں نے کہا، کاش میرے پاس تمہارے مقابلے میٰں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا“ مثلاً کوئی قبیلہ ہوتا جو تمہاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انہوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوط علیہ السلام سب سے زیادہ، مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ھود
81 اس لئے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوا ﴾ فرشتوں نے لوط علیہ السلام سے کہا : ﴿ يَا لُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ” اے لوط ! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں۔“ یعنی فرشتوں نے لوط علیہ السلام کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا، تاکہ انہیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿لَن يَصِلُوا إِلَيْكَ ﴾ ” یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ” پھر حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنا پر ہلایا اور ان کو اندھا کردیا اور وہ لوط علیہ السلام کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ ﴾ ” رات کے کسی حصہ میں“ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں، تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں۔ ﴿وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ ﴾ ” اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔“ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمہارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿إِلَّا امْرَأَتَكَ ۖ إِنَّهُ مُصِيبُهَا  ﴾ ” بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔“ ﴿مَا أَصَابَهُمْ ﴾ ” وہی )عذاب( جو ان پر آئے گا۔“ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوط علیہ السلام کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ﴾ ” ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔“ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوط علیہ السلام کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہوجائے، چنانچہ ان سے کہا گیا : ﴿أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ  ﴾ ” کیا صبح قریب نہیں؟ ھود
82 “ ﴿فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا ﴾ ” تو جب ہمارا حکم آیا“ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آ پہنچا ﴿جَعَلْنَا ﴾ ” کردیا ہم نے“ ان کی بستیوں کو ﴿عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ” اوپر نیچے“ یعنی ہم نے تلپٹ کردیا ﴿وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ ﴾ ” اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے“ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿مَّنضُودٍ ﴾ ” تہ بہ تہ“ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔ ھود
83 ﴿مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ ﴾ ” نشان کئے ہوئے تیرے رب کے پاس“ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ ﴾ ” اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں۔“ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے، تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہوجائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔ ھود
84 ﴿وَإِلَىٰ مَدْيَنَ ﴾ ” اور مدین کی طرف بھیجا“ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿أَخَاهُمْ  ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيْبًا ﴾ شعیب علیہ السلام کو۔“ گویا وہ جناب شعیب علیہ السلام کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لئے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیب علیہ السلام نے ان سے کہا : ﴿يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّـهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ ﴾ ” اے میری قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔“ یعنی اس کے لئے عبودیت کو خالص کرو۔۔۔ کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لئے شعیب علیہ السلام نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿وَلَا تَنقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ ﴾ ” اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو“ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿إِنِّي أَرَاكُم بِخَيْرٍ ﴾ ” میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں۔“ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے، اس پر اس کا شکر کرو اور کفر ان نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيطٍ ﴾ ” اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب سے“ یعنی ایسا عذاب جو تمہیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔ ھود
85 ﴿وَيَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ﴾ ” اے میری قوم ! پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ“ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمہیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ ﴾ ” اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔“ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کرکے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ  ﴾ ” اور زمین میں فساد مت مچاؤ“ کیونکہ گناہوں پر اصرار، دیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کردیتا ہے۔ ھود
86 ﴿ بَقِيَّتُ اللَّـهِ خَيْرٌ لَّكُمْ ﴾ ” جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمہارے لئے بہتر ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمہارے لئے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستعفی ہو اور وہ تمہارے لئے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴾ ” اگر تم مومن ہو“ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ  ﴾ ” اور میں تم پر نگران نہیں ہوں۔“ یعنی میں تمہارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمہارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے میں تو تمہیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔ ھود
87 ﴿ قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلَاتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا ﴾ ” انہوں نے کہا، اے شعیب ! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے“ یہ بات انہوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لئے منع کرتا ہے کہ نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے، تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں، جس پر کوئی دلیل نہیں؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آباؤ اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کرسکتے ہیں؟ اسی طرح تمہارا ہمیں یہ کہنا ﴿أَن نَّفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ ﴾ ” یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں“ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کری، بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں، انہیں ادا کریں۔ ہم ایسا نہیں کریں گے، بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے، کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمہیں کوئی حق نہیں۔ بنا بریں انہوں نے از راہ تمسخر کہا ! ﴿إِنَّكَ لَأَنتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ  ﴾ ” تو تو بڑا بردباد اور راست باز ہے۔“ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حکم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد وہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا، تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔۔۔ یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد در حقیقت یہ تھا کہ شعیب علیہ السلام اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں۔۔۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباؤ اجداد احمق اور گمراہ ؟ اور یہ قول جس کی انہوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کرکے معاملے کو شعیب علیہ السلام کو قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔ ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں۔ بے شک شعیب علیہ السلام کی نماز انہیں حکم دیتی ہے کہ وہ انہیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباؤ اجداد، کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے۔۔۔ کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کونسا کام برا اور فحش ہوتا ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کرکے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیب علیہ السلام کا وصف تو حلم و رشد ہے۔ ھود
88 ﴿قَالَ ﴾ جناب شعیب علیہ السلام نے ان سے کہا : ﴿يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي ﴾ ” اے میری قوم ! بھلا بتاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے“ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا ﴾ ” اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی“ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ ﴾ ” اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمہیں روکتا ہوں“ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمہیں ناپ تول میں کمی سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں۔ ﴿إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ﴾ ” میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہوسکے“ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمہارے احوال کی اصلاح ہو اور تمہارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لئے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لئے قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّـهِ ﴾ ” اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے“ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں۔ ﴿ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ  ﴾ ” میں اسی پر توکل کرتا ہوں۔“ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿وَإِلَيْهِ أُنِيبُ ﴾ ” اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔“ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لئے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندہ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں : ١۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا ٢۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا۔۔۔ جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ  ﴾(ہود:11؍123) ” اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسا کر۔“ اور فرمایا : ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴾(الفاتحة:1؍4) ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ ھود
89 “ ﴿وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي ﴾ ” اے میری قوم ! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرا دے۔“ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمہیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿أَن يُصِيبَكُم ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہوجائے۔ ﴿مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ  وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ ﴾ ” جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے“ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں۔ ھود
90 ﴿وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ﴾ ” اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔“ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ ﴾ ” پھر اس کے حضور توبہ کرو۔“ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ ﴾ ” بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔“ یعنی جو کوئی توبہ کرکے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے اسماء حسنی میں (اَلوَدُود ) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔ (ودود) (فعول) کے وزن پر ” فاعل“ اور ” مفعول“ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ ھود
91 ﴿قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِّمَّا تَقُولُ ﴾ ” انہوں نے کہا، اے شعیب ! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔“ یعنی وہ شعیب علیہ السلام کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے“ یہ بات محض اس لئے کہتے تھے، کیونکہ انہیں شعییب علیہ السلام کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا ﴾ ” اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں“ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔ ﴿وَلَوْلَا رَهْطُكَ ﴾ یعنی اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا ﴿لَرَجَمْنَاكَ  وَمَا أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ ﴾ ” تو ہم تجھے سنگسار کردیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں“ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں۔ ہم تجھے چھوڑ کر در اصل تیرے قبیلے کا احترام کر رہے ہیں۔ ھود
92 ﴿قَالَ ﴾ حضرت شعیب علیہ السلام نے ان کو نرم کرنے کے لئے کہا : ﴿يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ ﴾ ” اے میری قوم ! کیا میرا قبیلہ تمہارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے ؟“ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا ۖ ﴾ ” اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر“ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا نہ کی اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ ﴾ ” بے شک میرا رب تمہارے عملوں کو گھیرنے والا ہے“ یعنی تمہارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں، پس وہ تمہارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔ ھود
93 ﴿وَ ﴾ ” اور“ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کرکے ان کو بے بس کردیا تو شعیب علیہ السلام نے ان سے کہا : ﴿يَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ  ﴾ ” اے میری قوم ! تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ“ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿إِنِّي عَامِلٌ ۖ ۖ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ ﴾ ” میں بھی کام کرتا ہوں، عنقریب تم جان لوگے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے“ یعنی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ ﴾ ” اور جھوٹا کون ہے۔“ یعنی یہ بھی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انہیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ ﴾ ” اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظا ر کرتا ہوں۔“ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ ھود
94 ﴿وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا ﴾ ” اور جب ہمارا حکم آ پہنچا۔“ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آ پہنچا ﴿نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ ﴾ ” تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے آ پکڑا اور ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ﴿ كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا ﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انہوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا ھود
95 ﴿أَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ  ﴾ ” سنو، پھٹکار ہے مدین کے لئے“ کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ ﴾ ” جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر“ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ” خطیب الانبیاء“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں۔ (١) کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور جس بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں، کیونکہ جناب شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔ (٢) ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے، تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔ (٣) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کرکے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے جیسے ارشاد ہے : ﴿ إِنِّي أَرَاكُم بِخَيْرٍ ﴾ ” میں تمہیں آسودہ ھال دیکھ رہا ہوں“ اس لئے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا کا باعث نہ بنو۔ (٤) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لئے بہتر ہے ﴿بَقِيَّتُ اللَّـهِ خَيْرٌ لَّكُمْ  ﴾ ” اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمہارے لئے بہتر ہے۔“ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافہ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔ (٥) یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔ (٦) اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضیلت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور ان شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندہ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔ (٧) وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے، کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کرکے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔ (٨) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیب علیہ السلام نے فرمایا : ﴿وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ ﴾ ” میں نہیں چاہتا کہ میں تمہیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں“ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ  ﴾ ” اے مومنو ! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔ “ (٩)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں۔۔۔ اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں۔ (٠١) جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے، تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔ (١١) بندہ مومن کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لئے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے، بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گا رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہوجائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہوجیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّـهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ ﴾ (٢١) اسم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لئے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا۔۔۔ اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لئے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔ (٣١)گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے در گزر کرکے اسے معاف کردیا گیا ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ” توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لئے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی“۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ ﴾ ” اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔ “ (٤١) اللہ تبارک وتعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیب علیہ السلام کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لئے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔ لہٰذا اس اصول کو مد نظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لئے کام کریں جس میں افرادیا جماعتوں کے لئے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کرسکیں، تو یہ اس صورتحال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لئے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے۔ البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے، لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہوسکے، تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔ ھود
96 ﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ ﴾ ” اور اہم نے بھیجا موسیٰ کو“ یعنی موسیٰ بن عمران کو ﴿ بِآيَاتِنَا ﴾ ” اپنی نشانیوں کے ساتھ “۔ جو ان کی دعوت کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں، مثلاً عصا اور ید بیضا اور دیگر معجزات، جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا۔ ﴿ وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ﴾ ” اور دلیل واضح ( کے ساتھ ) “ اور ایسی واضح دلیل کے ساتھ، جو سورج کی مانند عیاں تھی۔ ھود
97 ﴿إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ ﴾ ” فرعون اور اس کے اشرافیہ کی طرف“ کیونکہ اشرافیہ متبوع اور دیگر لوگ ان کے تابع ہوتے ہیں۔ ان اشرافیہ نے موسیٰ علیہ السلام کے ان معجزات کو نہ مانا جو جناب موسیٰ علیہ السلام نے ان کو دکھائے تھے جیسا کہ بسط و تفصیل کے ساتھ ان کا ذکر سورۃ اعراف میں گزر چکا ہے۔ ﴿فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَ مَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ ﴾ ” پس وہ پیچھے لگے فرعون کے حکم کے اور فرعون کا حکم اچھا نہیں تھا“ بلکہ وہ بھٹکا ہوا اور گمراہ ہے۔ وہ جس چیز کا حکم دیتا ہے وہ ضرر محض کے سوا کچھ نہیں۔ اس کی قوم نے اس کی اتباع کی اور اس نے ان کو ہلاک کردیا۔ ھود
98 ﴿یَـقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَاَوْرَدَہُمُ النَّارَ ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ ﴾: قیامت کے روز اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی قیادت میں ان کو جہنم میں جا اتارے گا، اور یہ بہت ہی برا مقام ہے جہاں یہ لوگ وارد ہوں گے۔ ھود
99 ﴿وَاُتْبِعُوْا فِیْ ہٰذِہٖ لَعْنَۃً﴾ اور اس میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی۔ یعنی اس دنیا میں﴿ وَّیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ﴾ اور قیامت کے دن بھی، یعنی اللہ تعالی، اس کے فرشتے اور تمام لوگ دنیا و آخرت میں ان پر لعنت بھیجیں گے۔ ﴿ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ﴾ ’’بہت ہی برا ہے جو ان کو عطیہ دیا گیا‘‘ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور دنیا و آخرت کی لعنت ان کا پیچھا کرے گی۔ ھود
100 اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و مرسلین کے ساتھ ان کی قوموں کے واقعات بیان کرنے کے بعد اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْقُرَىٰ نَقُصُّهُ عَلَيْكَ﴾’’یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض ہم آپ کو سناتے ہیں‘‘ تاکہ آپ کے ذریعے اپنی قوم کو ڈرائیں اور یہ چیز آپ کی رسالت پر دلیل اور اہل ایمان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔ ﴿مِنْہَا قَاۗیِٕمٌ ﴾ ’’ان میں سے بعض تو باقی ہیں۔‘‘ یعنی ان کی بستیوں کی بعض نشانیاں اب بھی باقی کھڑی ہیں یعنی تلف نہیں ہوئیں۔ جو ان قوموں کی تباہی پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿وَّ﴾ اور ان میں سے بعض نشانیاں ﴿حَصِیْدٌ ﴾ ’’ان کی جڑ کٹ گئی‘‘ یعنی ان کے مسکن منہدم ہوگئے، ان کے گھر نیست و نابود ہوگئے اور ان کے نشانات تک باقی نہ رہے۔ ھود
101 ﴿وَمَا ظَلَمْنٰہُمْ﴾ ’’اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔‘‘ یعنی مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ کر ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ ﴿وَلٰکِنْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ ﴾’’بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔‘‘ یعنی انہوں نے شرک، کفر اور عناد کے ذریعے سے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿فَمَآ اَغْنَتْ عَنْہُمْ اٰلِہَتُہُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَاۗءَ اَمْرُ رَبِّکَ ﴾’’پس نہ کام آئے ان کے وہ معبود جن کو وہ پکارتے تھے اللہ کو چھوڑ کر، کسی چیز میں، جب آپ کے رب کا حکم آیا۔‘‘ اسی طرح ہر وہ شخص جو مصیبت اور سختیوں کے وقت غیر اللہ کی پناہ لیتا ہے، اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ﴿ وَمَا زَادُوْہُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ ﴾” اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں کچھ نہ کرسکے۔‘‘ یعنی ان کی خواہشات کے برعکس خسارے اور تباہی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔ ھود
102 یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ عذاب کے ذریعے سے ظالموں کی کمر توڑ دیتا ہے اور ان کو تباہ و برباد کردیتا ہے اور وہ ہستیاں ان کے کسی کام نہیں آتیں جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ ھود
103 ﴿اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ﴾ بے شک ان میں یعنی عذاب کی مختلف انواع کے ذریعے سے ظالموں کو اللہ تعالیٰ کے پکڑنے میں۔ ﴿لَاٰیَۃً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَۃِ ﴾’’اس شخص کے لیے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے‘‘ یعنی اس میں عبرت اور دلیل ہے کہ جو لوگ ظلم اور جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے لیے دنیاوی سزا اور اخروی عذاب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذکر سے منتقل ہو کر آخرت کے وصف کا ذکر فرمایا ﴿ ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّہُ النَّاسُ ﴾ یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گےیعنی اس روز تمام لوگوں کو جزا و سزا کے لیے جمع کیا جائے گا، تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا عدل عظیم ظاہر ہوا اور اس کے ذریعے سے وہ اس کو اچھی طرح پہچان لیں ﴿وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْہُوْدٌ ﴾ اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا، یعنی اس روز اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام مخلوقات اس کا مشاہدہ کرے گی۔ ھود
104 ﴿وَمَا نُؤَخِّرُہٗٓ ﴾ہم اس میں تاخیر نہیں کر رہے۔ یعنی قیامت کے روز کی آمد کو ہم موخر نہیں کرتے ﴿اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ ﴾’’مگر وقت مقرر کے لیے‘‘ یعنی جب دنیا کی مدت اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر مقرر کیا ہے پورا ہوجائے گا اس وقت وہ ان کو ایک اور جہان میں منتقل کرے گا اور وہاں ان پر اپنے احکام جزائی اسی طرح جاری کرے گا جس طرح اس دنیا میں ان پر احکام شرعیہ نافذ کیے تھے۔ ھود
105 ﴿ یَوْمَ یَاْتِ ﴾ جس روز وہ آجائے گا، یعنی جس روز یہ دن آئے گا اور تمام مخلوق اکٹھی ہوگی۔ ﴿لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ﴾ اس کی اجزت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرے گا یہاں تک کہ اس روز انبیائے کرام اور مکرم فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کرسکیں گے۔ ﴿فَمِنْهُمْ ﴾پس ان میں سے بعض، یعنی تمام مخلوق میں سے،﴿  شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ ﴾بدبخت اور بعض نیک بخت ہیں۔ بدبخت وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور خوش بخت وہ لوگ ہیں جو مومن اور متقی ہیں۔ ھود
106 ﴿فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا ﴾ تو جو بدبخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو بدبختی، رسوائی اور فضیحت میں مبتلا ہوں گے۔ ﴿ فَفِی النَّارِ﴾ تو وہ جہنم کے عذاب میں غوطے کھائیں گے اور آگ کا نہایت سخت عذاب ان کو جکڑ لے گا ﴿لَہُمْ فِیْہَا ﴾ ’’ان کے لیے اس میں‘‘یعنی اس سختی کی وجہ سے جس میں وہ مبتلا ہوں گے۔ ﴿زَفِیْرٌ وَّشَہِیْقٌ﴾’’چیخنا ہے اور دھاڑنا ہوگا‘‘ اور یہ نہایت بری اور قبیح ترین آواز ہوگی۔ ھود
107 ﴿خٰلِدِیْنَ فِیْہَا﴾ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“ یعنی اس جہنم میں جس کا عذاب یہ ہے ﴿مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّکَ﴾جب تک رہے گا آسمان اور زمین، مگر جو چاہے آپ کا رب“ یعنی وہ اس میں ہہمیشہ رہیں گے سوائے اس مدت کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس مدت کے دوران جہنم میں نہ رہیں اور یہ مدت جہنم میں داخل ہونے سے قبل کی ہے۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ پس اس صورت میں استثناء جہنم میں دخول سے قبل کی مدت کی طرف راجع ہے، یعنی وہ تمام زمانوں تک جہنم میں رہیں گے سوائے اس زمانے کے جو جہنم میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جو چاہتا ہے، کرتا ہے‘‘ ہر وہ فعل جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے اور اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے، کر گزرتا ہے کوئی اسے اس کے ارادے سے روک نہیں سکتا۔ ھود
108 ﴿وَاَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا ﴾’’اور جو نیک بخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنہیں سعادت اور فوز و فلاح سے نوازا گیا ہے۔ ﴿فَفِی الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّکَ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں مگر جو چاہے آپ کا رب‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مزید تاکید کے طور پر فرمایا : ﴿ عَطَاءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ ﴾ ’’بخشش بے انتہا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور لذتیں عطا کرے گا وہ ہمیشہ رہیں گی اور کسی وقت بھی منقطع نہ ہوں گی۔ ہم اللہ کریم سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان خوش بخت لوگوں کی معیت عطا کرے۔ ھود
109 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے: ﴿فَلَا تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّمَّا یَعْبُدُ ہٰٓؤُلَاۗءِ﴾ ’’آپ ان معبودان باطل کی طرف سے کسی شک میں نہ رہیں جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں‘‘ یعنی آپ کو ان کے حال کے بارے میں کوئی شک نہ رہے وہ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ باطل ہے اور ان کے پاس کوئی شرعی اور عقلی دلیل نہیں ہے۔ ان کی دلیل اور شبہ تو بس یہ ہے کہ وہ ﴿مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا کَمَا یَعْبُدُ اٰبَاۗؤُہُمْ مِّنْ قَبْلُ﴾ ’’یہ انہی کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت اس سے قبل ان کے باپ دادا کرتے تھے‘‘ اور یہ واضح طور پر معلوم ہے کہ ان کے آباء و اجداد کا ان باطل معبودوں کی عبادت کرنا، دلیل ہونا تو کجا یہ تو شبہ کے زمرے میں بھی نہیں آتا، کیونکہ انبیاء کے سوا کسی کا قول حجت نہیں۔ خاص طور پر ان جیسے گمراہ لوگ، جو اصول دین میں بکثرت اغلاط اور فساد اقوال کے حامل ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے اقوال اگرچہ وہ ان کے ہاں متفق علیہ کیوں نہ ہوں خطا اور ضلالت پر مبنی ہیں۔ ﴿وَاِنَّا لَمُوَفُّوْہُمْ نَصِیْبَہُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ﴾ ’’اور ہم دینے والے ہیں ان کو ان کا حصہ بغیر کمی کیے‘‘ یعنی وہ لازمی طور پر دنیا کے حصے سے بہرہ ور ہوں گے جو ان کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔ خواہ یہ دنیاوی نصیب آپ کی نظر میں کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو مگر یہ ان کے احوال کے درست ہونے پر دلالت نہیں کرتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے بھی دنیا عطا کرتا ہے جس سے محبت کرتا ہے اور اسے بھی عطا کرتا ہے جس سے محبت نہیں کرتا مگر ایمان اور دین سے صرف اسی شخص کو نوازتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ گمراہ لوگوں کے اپنے گمراہ آباء و اجداد کے نظریات پر اتفاق کرلینے سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے اور نہ اس بات سے دھوکہ چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیاوی مال و متاع سے نواز رکھا ہے۔ ھود
110 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عطا کی، جس کو تورات کہا جاتا ہے جو اس کے اوامر و نواہی پر ان کے اتفاق و اجتماع کی موجب ہے۔ مگر اس کے باوجود تورات سے نسبت رکھنے والوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا جس نے ان کے عقائد اور ان کی دینی جمعیت کو سخت نقصان پہنچایا۔ ﴿وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ﴾ ’’اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی‘‘ ﴿ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ﴾’’تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا‘‘ یعنی ظالم پر عذاب نازل ہوچکا ہوتا۔ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے کو قیامت تک کے لیے مؤخر کردے اور یہ لوگ شک و شبہ ہی میں مبتلا رہیں۔ جب ان کا اپنی کتاب کے ساتھ یہ حال ہے، تو قرآن جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرح وحی کیا ہے یہود کے ایک گروہ کا یہ رویہ تعجب خیز نہیں ہے کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور اس کے بارے میں شک و ریب میں مبتلا ہیں۔ ھود
111 ﴿وَاِنَّ کُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّہُمْ رَبُّکَ اَعْمَالَہُمْ﴾ ’’اور جتنے لوگ ہیں، سب کو پورا دے گا آپ کا رب ان کے اعمال (کا بدلہ)‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان ضرور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو وہی سزا و جزا دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ ﴿اِنَّہٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ﴾ بے شک وہ اس سے جو عمل یہ کرتے ہیں‘‘ اچھے یا برے۔ ﴿خَبِیْرٌ﴾ ’’باخبر ہے۔‘‘ ان کے اعمال میں سے کوئی چھوٹی یا بڑی چیز اس پر مخفی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کی عدم استقامت کا ذکر کرنے کے بعد، جو ان کے اختلاف و افتراق کا باعث تھی، اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ صراط مستقیم پر گامزن رہیں جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا ہے اور اس شریعت کو لائحہ عمل بنائیں جو ان کے لیے مشروع کی گئی ہے اور ان اعتقادات صحیحہ کو اپنا عقیدہ بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے وحی کیے ہیں۔ اس سیدھے راستے کو چھوڑ کر دائیں، بائیں ٹیڑھی راہوں پر نہ چلیں اور دائمی طور پر اسی عقیدے اور اسی شریعت پر عمل پیرا رہیں اور سرکشی اختیار نہ کریں، یعنی استقامت کی ان حدود سے تجاوز نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمائی ہیں۔ ھود
112 ﴿اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴾ ’’وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ پر تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی مخفی نہیں اور وہ تمہیں ان اعمال کی جزا دے گا۔ ان آیات کریمہ میں استقامت کو مسلک بنانے کی ترغیب اور اس کے برعکس راستہ اختیار کرنے پر ترہیب دی گئی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف میلان رکھنے سے منع فرمایا جنہوں نے استقامت کو چھوڑ دیا۔ ھود
113 ﴿وَلَا تَرْکَنُوْٓا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ﴾’’اور مت جھکو ان لوگوں کی طرف جو ظالم ہیں۔‘‘ کیونکہ اگر تم ان کی طرف مائل ہوئے، ان کے ظلم و تعدی پر ان کی موافقت کی یا ان کے ظلم پر راضی ہوئے۔﴿ فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ﴾ تو تمہیں جہنم کی آگ آ لپٹے گی۔﴿ وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَاۗءَ﴾ ’’اور اللہ کے سوا تمہارے کوئی مددگار نہیں۔ جو تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں ظالم کی طرف میلان رکھنے سے روکا گیا ہے یہاں جب ظالموں کی طرف میلان رکھنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی شدید وعید ہے، تو خود ظالموں کا کیا حال ہوگا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے ظلم سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ ھود
114 اللہ تبارک و تعالیٰ کامل طور پر نماز کو قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔﴿ طَرَفَیِ النَّہَارِ﴾ ’’دن کے دونوں طرفوں میں۔‘‘ یعنی دن کے ابتدائی اور آخری حصے میں، اس میں فجر، ظہر اور عصر کی نماز شامل ہے۔ ﴿وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ﴾ ’’اور رات کے چھ حصوں میں‘‘ اور اس میں مغرب اور عشاء کی نماز داخل ہے۔ تہجد کی نماز بھی اسی میں شامل ہے، کیونکہ بندہ مومن تہجد کی نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔﴿ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ﴾’’بے شک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو۔‘‘ یعنی یہ نماز پنجگانہ اور اس سے ملحق نوافل سب سے بڑی نیکی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کہ نماز سب سے بڑی نیکی اور ثواب کی موجب ہے اور برائیوں کو مٹاتی بھی ہے۔ اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں جیسا کہ صحیح احادیث میں اس اطلاق کو مقید کیا گیا ہے، مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اگر مومن کبائر سے اجتناب کرتا ہے تو نماز پنج گانہ، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، یہ ان کے مابین ہونے والے گناہوں کو مٹا دینے والے عمل ہیں۔ بلکہ اس آیت کریمہ کے اطلاق کو سورۃ النساء کی اس آیت نے بھی مقید کردیا ہے فرمایا ﴿ إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا ﴾(النساء : 4؍31) ’’اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو مٹا دیں گے اور تمہیں عز و تکریم کی جگہ میں داخل کریں گے۔‘‘﴿ ذٰلِکَ﴾ شاید یہ گزشتہ باتوں کی طرف اشارہ ہے جیسے صراط مستقیم پر استقامت کا التزام، حدود الٰہی سے عدم تجاوز اہل ظلم کی طرف عدم میلان، اقامت صلوٰۃ کا حکم اور یہ بیان کہ نیکیاں تمام برائیوں کو مٹا دیتی ہیں یہ سب﴿ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ﴾ نصیحت ہے یاد رکھنے والوں کے لیے، وہ اس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کو سمجھتے ہیں اور ان تمام اوامر کی تعمیل کرتے ہیں جن کا ثمرہ نیکیاں ہیں جو شر اور برائی کو مٹاتی ہیں۔ مگر ان امور میں مجاہدہ نفس اور صبر کی سخت ضرورت ہے۔ بنا بریں فرمایا ھود
115 ﴿وَاصْبِرْ ﴾ ’’اور صبر کیجیے۔‘‘ یعنی اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم اور اس کی نافرمانی سے باز رکھیں اور اس کا ہمیشہ التزام کریں اور تنگ دل نہ ہوں۔﴿ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ﴾ اللہ نیکی کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ بلکہ وہ ان کے اچھے اعمال کو قبول فرماتا ہے اور ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا عطا کرتا ہے۔ جب نفوس ضعیفہ، انقطاع اور اکتاہٹ کا شکار ہو کر کمزور پڑجاتے ہیں تو آیت کریمہ میں ان کو صبر کے التزام کی ترغیب اور اللہ تعالیٰ کے ثواب کا شوق دلایا گیا ہے۔ ھود
116 جب اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا جنہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا، نیز یہ کہ ان میں سے اکثر وہ لوگ تھے جنہوں نے کتب سماویہ کے ماننے والوں سے انحراف کیا، حتی کہ ان لوگوں نے بھی جو کتب الٰہیہ کو ماننے والے تھے اور یہ چیز اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ گزشتہ ادیان انعدام و اضمحلال کا شکار ہوگئے تو اب ذکر فرمایا کہ گزشتہ قوموں میں ایسے اصحاب خیر کیوں نہ ہوئے جو لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتے رہتے، فساد اور ہلاکت سے روکتے رہتے، تو ان سے کچھ فائدہ حاصل ہوتا جب تک ان کے ادیان باقی رہتے۔ مگر ایسے لوگ بہت ہی قلیل تھے۔ اس سارے معاملے کی غرض و غایت یہ ہے کہ گزشتہ امتوں کے جو تھوڑے لوگوں نے نجات پائی تو انہوں نے انبیاء و مرسلین کی اتباع اور اقامت دین کی وجہ سے نجات پائی نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حجت بن گئے جس کو اس نے ان کے ہاتھوں پر جاری کیا، تاکہ جو ہلاک ہو تو دلیل کی بنا پر ہلاک ہو اور زندہ رہے تو دلیل ہی سے زندہ رہے۔ ﴿وَاتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِیْہِ ﴾’’اور پیچھے پڑے رہے ظالم اسی چیز کے جس میں ان کو عیش ملا۔‘‘ یعنی وہ جن نعمتوں اور آسائشوں سے متمتع ہو رہے تھے انہی کے پیچھے پڑے رہے اور ان چیزوں کے بدلے انہوں نے کچھ اور نہیں چاہا۔﴿ وَکَانُوْا مُجْرِمِیْنَ﴾ ’’اور تھے وہ گناہ گار۔‘‘ یعنی ان نعمتوں اور آسائشوں کے پیچھے پڑ کر انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا، لہٰذا وہ عتاب کے مستحق ٹھہرے اور عذاب نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ اس آیت کریمہ میں اس امت کو ترغیب دی گئی ہے کہ ان کے اندر ایسے ہوش مند مصلحین ہونے چاہئیں جو ان امور کی اصلاح کریں جن کو لوگوں نے فاسد کردیا ہے، جو اللہ کے دین کو قائم کرنے والے ہوں، بھٹکے ہوؤں کو ہدایت کی طرف بلاتے رہیں۔ اگر اس راہ میں تکلیفیں آئیں تو اس پر صبر کرتے رہیں اور وہ گمراہی کی تاریکیوں میں لوگوں کو بصیرت کی روشنی دکھاتے رہیں۔ یہ بندہ مومن کا بلند ترین حال ہے جس کی طرف رغبت کرنے والے راغب ہوتے ہیں اور اسی حال کو اختیار کرنے والا مرتبہ امامت پر فائز ہوتا ہے، کیونکہ اس کا عمل خالص رب العالمین کے لیے ہے۔ ھود
117 اللہ تبارک و تعالیٰ ظلم کے ساتھ بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا در آں حالیکہ وہ اصلاح کرنے والے ہوں، یعنی وہ درست روئیے پر قائم اور اس پر دوام کا التزام کرتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کو صرف اسی وقت ہلاک کرتا ہے جب وہ ظلم کا ارتکاب کریں اور ان کے خلاف حجت قائم ہوجائے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں کہ جب لوگ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلی تو تیرا رب ان بستیوں کو ان کے گزشتہ ظلم کی پاداش میں ہلاک نہیں کرے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کردے گا اور ان کے گزشتہ ظلم کو مٹا دے گا۔ ھود
118 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو تمام لوگوں کو دین اسلام پر مجتمع کر کے انہیں ایک امت بنا دیتا اس کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہ تھی اور کوئی چیز اس کی گرفت سے باہر نہیں۔ مگر اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اختلاف کرتے رہیں، صراط مستقیم کی مخالفت کریں اور جہنم کی طرف جانے والے راستوں پر رواں دواں رہیں اور ہر کوئی اپنی رائے کو حق اور دوسرے کے قول کو گمراہی سمجھے۔ ھود
119 ﴿اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ﴾مگر جن پر رحم کیا آپ کے رب نے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی علم حق کی طرف رہنمائی کی، انہیں اس پر عمل اور اس پر اتفاق کی توفیق بخشی۔ پس یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے سعادت کو لکھ دیا گیا تھا اور عنایت ربانی اور توفیق الٰہی نے ان کو جالیا تھا۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کو ان کے نفسوں کے حوالے کردیا گیا۔﴿ وَلِذٰلِکَ خَلَقَہُمْ﴾’’اور اسی لیے ان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی ان کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا، تاکہ ان میں سے کچھ لوگ خوش بخت اور کچھ لوگ بدبخت ہوں، ان میں کچھ لوگ اتفاق کرنے والے اور کچھ لوگ اختلاف کرنے والے ہوں۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نواز دیا اور ایک گروہ وہ ہو جو گمراہی کا حق دار قرار پایا، تاکہ بندوں پر اس کا عدل اور اس کی حکمت عیاں ہوجائے، نیز طبائع بشر میں جو کچھ بھی اچھائی اور برائی پنہاں ہے وہ ظاہر ہوجائے اور تاکہ جہاد اور ان عبادات کا بازار گرم ہو جو امتحان اور آزمائش کے بغیر درست اور مکمل نہیں ہوتیں اور اس لیے کہ﴿ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ﴾’’آپ کے رب کی وہ بات پوری ہوجائے (جس میں اس نے کہا تھا) کہ میں جہنم کو جنوں، انسانوں سب سے بھر دوں گا۔‘‘ پس لازم ٹھہرا کہ وہ جہنم کو اس میں رہنے والے مہیا کرے جو ایسے اعمال بجا لائیں جو جہنم میں پہنچاتے ہیں۔ ھود
120 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۃ مبارکہ میں انبیائے کرام کے حالات بیان فرمائے، تو اب اس میں پنہاں حکمت کا ذکر فرمایا: ﴿ وَکُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ﴾’’اور یہ سب چیز بیان کرتے ہیں ہم آپ کے پاس رسولوں کے احوال سے جس سے مضبوط کریں ہم آپ کے دل کو‘‘ تاکہ وہ مطمئن رہے، اس کو ثبات حاصل ہو اور وہ صبر کرے، جیسے اولو العزم انبیاء و مرسلین نے صبر کیا تھا، کیونکہ نفوس انسانی اقتدا سے مانوس ہوتے ہیں اور اعمال پر ان کو نشاط حاصل ہوتا ہے اور وہ دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، حق کے شواہد اور اس کو قائم کرنے والوں کی کثرت کا ذکر کرنے سے حق کی تائید ہوتی ہے۔ ﴿وَجَاۗءَکَ فِیْ ہٰذِہِ﴾’’اور آیا آپ کے پاس اس میں‘‘ یعنی اس سورۃ مقدسہ میں﴿ الْحَقُّ﴾ ’’حق‘‘ آپ کے پاس یقین آگیا اور اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں۔ اس کا علم، حق کا علم ہے جو نفس کے لیے سب سے بڑی فضیلت ہے۔ ﴿وَمَوْعِظَۃٌ وَّذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴾ ’’اور نصیحت اور یاد دہانی مومنوں کے لیے۔‘‘ یعنی وہ اس سے نصیحت پکڑتے ہیں پس برے کاموں سے باز رہتے ہیں اور محبوب کاموں کو یاد کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ اور جو ایمان نہیں رکھتے انہیں نصیحتیں اور مختلف انواع کی یاد دہانیاں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔ بنا بریں فرمایا ھود
121 ﴿وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴾ ’’اور ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو (دلائل قائم ہوجانے کے بعد بھی) ایمان نہیں لاتے۔‘‘ ﴿اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ﴾ ’’اپنی جگہ عمل کیے جاؤ‘‘ یعنی اسی حالت میں جس میں کہ تم ہو، عمل کرتے رہو۔﴿ اِنَّا عٰمِلُوْنَ﴾ ہم بھی (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کر رہے ہیں۔ ھود
122 ﴿وَانْتَظِرُوْا ﴾’’تم بھی انتظار کرو۔‘‘ یعنی ہم پر جو کچھ نازل ہوگا۔ تم اس کا انتظار کرو۔﴿ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ﴾ ’’ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔‘‘ اور تم پر جو کچھ نازل ہوگا، ہم اس کے منتظر ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں گروہوں کے درمیان جو فرق ہے اسے بیان کردیا۔ اس نے اپنے بندوں کو دکھا دیا کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد کرتا ہے اور انبیائے کرام کو جھٹلانے والے دشمنان الٰہی کا قلع قمع کرتا ہے۔ ھود
123 ﴿وَلِلّٰہِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾ ’’اور اللہ ہی کے پاس ہے چھپی بات آسمانوں اور زمین کی۔‘‘ یعنی تمام مخفی چیزیں اور غیبی امور جو آسمانوں اور زمین میں سر بستہ ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ ﴿وَاِلَیْہِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ کُلُّہٗ﴾ ’’اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کام۔‘‘ تمام اعمال اور عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کردے گا۔﴿ فَاعْبُدْہُ وَتَوَکَّلْ عَلَیْہِ﴾ ’’پس اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسہ رکھیں‘‘ یعنی اللہ کی عبودیت کو قائم کیجیے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ تمام احکام ہیں جن کی تعمیل پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قادر ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔﴿ وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴾’’آپ کا رب (ان اچھے اور برے) اعمال سے غافل نہیں ہے جن کو تم بجا لاتے ہو‘‘ بلکہ اس کا علم ان اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان پر اس کا قلم جاری ہوچکا ہے اور اب اس پر اس کا حکم اور جزا کا فیصلہ جاری ہوگا۔ ھود
0 یوسف
1 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قرآن کی آیات کتاب مبین کی آیات ہیں، یعنی جس کے الفاظ اور معانی واضح ہیں۔ اس کے واضح اور بین ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا جو سب سے زیادہ فضیلت کی حامل اور سب سے زیادہ واضح زبان ہے (الْمُبِين) سے مراد یہ ہے کہ یہ کتاب مقدس ان تمام حقائق نافعہ کو بیان کرتی ہے جن کے لوگ حاجت مند ہیں اور یہ سب ایضاح وتبیین ہے۔ یوسف
2 ﴿لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ﴾’’تاکہ تم سمجھو۔‘‘ یعنی تاکہ اس کی حدود، اس کے اصول و فروع اور اس کے اوامر و نواہی کو سمجھ سکو جب تم اس کو ایقان کے ساتھ سمجھ لوگے اور تمہارے دل اسی معرفت سے لبریز ہوجائیں گے تو اس کے ثمرات، جوارح کے عمل اور اطاعت کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور ﴿لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ﴾ یعنی تمہارے اذہان میں عالی شان معانی کی تکرار سے تمہاری عقل میں اضافہ ہوگا اور تم ادنیٰ حال سے اعلی و اکمل احوال میں منتقل ہوجاؤ گے۔ یوسف
3 ﴿نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ﴾ ’’ہم آپ پر بہت اچھا قصہ بیان کرتے ہیں۔‘‘ یعنی یہ قصہ اپنی صداقت، اپنی عبارت کی سلاست اور اپنے معانی کی خوبصورتی کی وجہ سے سب سے اچھا قصہ ہے۔﴿ بِمَآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ﴾ ’’اس واسطے کہ بھیجا ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن‘‘ یعنی وہ امور جن پر یہ قرآن مشتمل ہے جس کی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی کی اور اس کے ذریعے سے ہم نے آپ کو تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت بخشی۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے۔﴿ وَاِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ﴾ ’’اور یقیناً اس سے پہلے آپ بے خبروں میں سے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نزول وحی سے قبل آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا چیز ہے؟ مگر ہم نے اسے روشنی بنایا ہے اور اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ ہدایت دکھاتے ہیں۔ چونکہ یہ قرآن کریم جن قصوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی نیز ذکر فرمایا کہ یہ قصہ علی الاطلاق بہترین قصہ ہے اور تمام کتابوں میں کوئی قصہ ایسا نہیں ملتا جیسا اس قرآن میں پایا جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام، ان کے والد یعقوب علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کا نہایت خوبصورت اور تعجب انگیز قصہ ذکر فرمایا۔ یوسف
4 معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اس کتاب کریم میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہترین قصہ بیان فرمایا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ یہ قصہ نہایت بسط و تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا اور اس قصے کے متعلق تمام واقعات ذکر کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ قصہ نہایت کامل اور بہت خوبصورت ہے۔ جو کوئی اس قصہ کی ان اسرائیلیات کے ذریعے سے تکمیل اور اس کو مزین کرنا چاہتا ہے، جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے اور ان کو روایت کرنے والے کا نام تک معلوم نہیں جن میں سے اکثر جھوٹ پر مبنی ہیں، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ پر استدراک کرنا چاہتا ہے۔ وہ بزعم خود ناقص اور نامکمل چیز کی تکمیل کرتا ہے اور آپ کے لیے یہی کافی ہے اس لیے کہ بہت سی کتب تفسیر اس سورۃ مبارکہ سے کئی گنا زیادہ جھوٹے قصے کہانیوں اور انتہائی قبیح امور سے، جو اللہ کے بیان کردہ واقعات کے متناقض ہیں، لبریز ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے اکثر باتوں کو بیان نہیں فرمایا۔ اس لیے بندے پر فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ واقعات کو خوب اچھی طرح سمجھ لے اور ان تمام قصے کہانیوں کو چھوڑ دے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول نہیں ہیں۔ ﴿اِذْ قَالَ یُوْسُفُ ﴾ ’’جب یوسف علیہ السلام نے کہا۔‘‘ یعنی جب یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام نے کہا۔﴿ یٰٓاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَیْتُہُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ﴾’’ابا جان! میں نے دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔‘‘ یہ خواب یوسف علیہ السلام کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا مقدمہ ہے جن کی بنا پر وہ دنیا و آخرت میں بلند مقام پر فائز ہوئے۔ اسی طرح جب اللہ بڑے بڑے اصولی امور کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے پہلے تقدیم پیش کرتا ہے جو اس امر کے لیے تمہید اور تسہیل کا کام دیتی ہے اور بندے کو ان مشقوں کے لیے تیار کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کے طور پر بندے پر وارد ہوتی ہیں۔ یعقوب علیہ السلام نے اس خواب کی یہ تاویل کی، کہ سورج سے مراد یوسف علیہ السلام کی والدہ، چاند سے مراد والد اور ستاروں سے مراد ان کے بھائی ہیں۔ نیز یہ کہ یہ حالات ایسے حالات میں بدل جائیں گے کہ مذکورہ تمام لوگ یوسف علیہ السلام کے مطیع ہوں گے اور ان کی تعظیم و تکریم کے لیے ان کے سامنے سجدہ ریز ہوں گے۔ یہ سب کچھ صرف ان اسباب کی بنا پر ہوگا جو یوسف علیہ السلام کو پیش آئیں گے، اللہ تعالیٰ یوسف علیہ السلام کو اپنے فضل و کرم کے لیے چن لے گا اور علم و عمل کی نعمت سے ان کو مالا مال فرمائے گا اور زمین میں اقتدار عطا کر کے آپ پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرے گا اور اقتدار کی یہ نعمت تبعاً تمام آل یعقوب کو شامل ہوگی جو یوسف علیہ السلام کے سامنے سرافگندہ ہوں گے۔ یوسف
5 جب یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر مکمل کرلی تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام سے فرمایا: ﴿یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاکَ عَلٰٓی اِخْوَتِکَ فَیَکِیْدُوْا لَکَ کَیْدًا﴾ ’’اے بیٹے ! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا پھر وہ بنائیں گے تیرے واسطے کچھ فریب۔‘‘ یعنی تمہارے ساتھ اپنے حسد کی وجہ سے تمہارے خلاف کوئی چال چلیں گے کہ کہیں تم ان کے سردار اور سربراہ نہ بن جاؤ۔﴿ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ﴾’’بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔‘‘ وہ دن رات اور کھلے چھپے اس پر وار کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔ اس لیے ان اسباب سے دور رہنا بہتر ہے جن کے ذریعے سے وہ بندے پر تسلط حاصل کرتا ہے۔ یوسف علیہ السلام نے اپنے باپ کے حکم کی تعمیل کی اور انہوں نے اپنے بھائیوں کو اس خوب کے بارے میں کچھ نہ بتایا، بلکہ اس کو چھپائے رکھا۔ یوسف
6 ﴿وَکَذٰلِکَ یَجْتَبِیْکَ رَبُّکَ ﴾’’اور اسی طرح چن لے گا تجھ کو تیرا رب۔‘‘ یعنی اللہ جل شانہ تجھ کو اوصاف جلیلہ اور مناقب جمیلہ کی نعمتوں سے نواز کر چن لے گا۔﴿ وَیُعَلِّمُکَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ﴾ ’’اور سکھلائے گا تجھ کو ٹھکانے پر لگانا باتوں کا۔‘‘ یعنی خوابوں کی تعبیر اور کتب سماویہ میں وارد ہونے والے سچے واقعات کی تاویل وغیرہ۔﴿ وَیُـــتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ﴾ ’’اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا۔‘‘ اور دنیا و آخرت میں تجھ پر اپنی نعمت کی تکمیل کرے گا۔ یعنی وہ دنیا میں بھی تجھ کو بھلائی عطا کرے گا اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے گا۔﴿ کَمَآ اَتَمَّــہَا عَلٰٓی اَبَوَیْکَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْحٰقَ﴾ ’’جیسے اس نے پورا کیا اس نعمت کو اس سے پہلے تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر‘‘ اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم اور جناب اسحاق کو عظیم اور بے پایاں دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازا۔﴿ اِنَّ رَبَّکَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جاننے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا علم تمام اشیاء اور بندوں کے سینوں میں چھپے ہوئے اچھے برے خیالات کو محیط ہے۔ پس وہ سب کو اپنی حمد و حکمت کے مطابق عطا کرتا ہے۔ وہ حکمت والا ہے اور تمام اشیا کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔ یوسف
7 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَقَدْ کَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَاِخْوَتِہٖٓ اٰیٰتٌ﴾ ’’یقیناً یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں ہیں۔‘‘ یعنی قصہ یوسف میں عبرتیں اور بہت سے مطالب حسنہ پر دلائل ہیں۔﴿ لِّلسَّاۗیِٕلِیْنَ﴾ ’’پوچھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ہر اس شخص کے لیے جو زبان حال یا زبان قال کے ذیعے سے اس قصے کے بارے میں سوال کرتا ہے، کیونکہ سوال کرنے والے لوگ ہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور رہے روگردانی کرنے والے، تو وہ آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، نہ قصوں اور واضح دلائل سے۔ یوسف
8 ﴿اِذْ قَالُوْا ﴾’’جب انہوں نے کہا۔‘‘ یعنی جب انہوں نے آپس میں کہا۔ ﴿لَیُوْسُفُ وَاَخُوْہُ﴾’’یوسف اور اس کا بھائی۔‘‘ یعنی یوسف اور ان کے حقیقی بھائی بنیامین، ورنہ تو وہ سب ان کے بھائی تھے۔ ﴿اَحَبُّ اِلٰٓی اَبِیْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ﴾ ’’ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں۔‘‘ یعنی حالانکہ ہم بھائی ایک جماعت ہیں پھر وہ اپنی محبت اور شفقت میں ان دونوں کو کیوں فضیلت دیتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِ﴾’’یقیناً ہمارا باپ واضح غلطی پر ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے بغیر کسی موجب کے جس کو ہم دیکھ سکیں اور بغیر کسی ایسے سبب کے جس کا ہم مشاہدہ کرسکیں، ان دونوں کو ہم پر ترجیح دی ہے۔ یوسف
9 ﴿اقْــتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْہُ اَرْضًا ﴾’’یوسف کو مار ڈالو یا اس کو پھینک دو کسی زمین میں‘‘ یعنی کہیں دور علاقے میں لے جا کر اس کو باپ کی نظروں سے دور کردو جہاں وہ اپنے باپ کو نظر نہ آسکے۔ اگر تم نے ان دونوں امور میں سے کسی ایک پر عمل کرلیا۔﴿ یَّخْلُ لَکُمْ وَجْہُ اَبِیْکُمْ﴾’’تو خالص ہوجائے گی تمہارے باپ کی توجہ تمہارے لیے۔‘‘ یعنی وہ تمہارے لیے فارغ ہوگا اور تمہارا باپ تمہارے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آئے گا، کیونکہ وہ اس وقت یوسف کی محبت میں مشغول ہے تمہاری محبت کے لیے اس کے پاس فراغت نہیں۔ ﴿وَتَکُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِہٖ ﴾ ’’اور ہوجانا تم اس کے بعد‘‘ یعنی یہ کام کرنے کے بعد۔﴿ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ﴾ ’’نیک لوگ‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرلینا اور اپنے اس گناہ کی معافی مانگ لینا۔ انہوں نے گناہ کے صدور سے پہلے ہی توبہ کا عزم کیا، تاکہ گناہ کا ارتکاب آسان ہو، اس کی برائی زائل ہو اور اس گناہ پر آمادہ کرنے کے لیے ایک دوسرے میں حوصلہ پیدا کریں۔ یوسف
10 ﴿قَالَ قَاۗیِٕلٌ مِّنْہُمْ ﴾’’ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا۔‘‘ یعنی یوسف علیہ السلام کے بھائیوں میں سے کسی نے کہا جنہوں نے یوسف کو قتل کرنے یا جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا ﴿لَا تَـقْتُلُوْا یُوْسُفَ﴾’’یوسف کو قتل نہ کرو‘‘ کیونکہ اس کو قتل کرنا بہت بڑی برائی اور بہت بڑا گناہ ہے اور یہ مقصد کہ یوسف علیہ السلام کو اس کے باپ سے دور کردیا جائے، یوسف کو قتل کیے بغیر حاصل ہوجائے گا، اس لیے تم یہ کرو کہ باپ سے دور کرنے کے لیے اسے اندھے کنویں میں ڈال دو اور یوسف کو دھمکی دو کہ وہ بھائیوں کی اس کارستانی کے بارے میں کسی کو آگاہ نہ کرے اور اپنے بارے میں یہی بتائے کہ وہ بھاگا ہوا ایک غلام ہے۔ اس وجہ سے کہ ﴿یَلْتَقِطْہُ بَعْضُ السَّـیَّارَۃِ﴾ ’’کوئی قافلے والا نکال کر اسے لے جائے گا۔‘‘ جو کہیں دور جا رہے ہوں گے اور وہ یوسف علیہ السلام کو ساتھ لے جائیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے۔ اس قول کا قائل جناب یوسف علیہ السلام کے بارے میں سب سے اچھی رائے رکھنے والا اور اس پورے قضیے میں سب سے زیادہ نیک اور تقویٰ پر مبنی رویے کا حامل تھا، کیونکہ کچھ برائیاں دوسری برائیوں سے کم تر ہوتی ہیں اور کم تر نقصان کے ذریعے سے بڑے نقصان کو دور کرلیا جاسکتا ہے۔ پس جب وہ اس رائے پر متفق ہوگئے۔ یوسف
11 یعنی جناب یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے باپ سے کہا ﴿یٰٓاَبَانَا مَالَکَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰی یُوْسُفَ﴾اباجان کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے۔ یعنی کون سی چیز بغیر کسی سبب اور موجب کے یوسف کے بارے میں آپ کو ہم سے خائف کر رہی ہے اور حال یہ ہے کہ﴿ وَاِنَّا لَہٗ لَنٰصِحُوْنَ﴾’’ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔‘‘ یعنی ہم اس پر شفقت رکھتے ہیں اور ہم اس کے لیے وہی کچھ چاہتے ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں۔ برادران یوسف کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں کے ساتھ جنگل وغیرہ کی طرف نہیں جانے دیا کرتے تھے۔ جب انہوں نے اپنے آپ سے اس تہمت کو رفع کردیا جو یوسف علیہ السلام کو ان کے ساتھ بھیجنے سے مانع تھی تو انہوں نے یوسف علیہ السلام کے بارے میں اس مصلحت کا ذکر کیا جسے یعقوب علیہ السلام پسند کرتے تھے جو اس امر کا تقاضا کرتی تھی کہ وہ یوسف علیہ السلام کو ان کے ساتھ بھیج دیں۔ یوسف
12 تو کہنے لگے﴿ اَرْسِلْہُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَیَلْعَبْ﴾’’بھیج دو اس کو ہمارے ساتھ کل کو خوب کھائے اور کھیلے‘‘ یعنی وہ جنگل میں تفریح کر کے وحشت دور کرلے۔﴿ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ﴾ ’’اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔‘‘ یعنی ہم اس کا دھیان رکھیں گے اور ہر تکلیف دہ چیز سے اس کی حفاظت کریں گے۔ یعقوب علیہ السلام نے جواب میں ان سے فرمایا یوسف
13 ﴿ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْٓ اَنْ تَذْہَبُوْا بِہٖ﴾ ’’تمہارا اس یوسف کو محض ساتھ لے جانا ہی مجھے غم زدہ کرتا ہ‘‘اور مجھ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ میں اس کی جدائی برداشت نہیں کرسکتا خواہ یہ تھوڑے سے وقت کے لیے ہی کیوں نہ ہو اور یہ چیز یوسف علیہ السلام کو تمہارے ساتھ بھیجنے سے مانع ہے اور دوسرا مانع یہ ہے﴿ وَاَخَافُ اَنْ یَّاْکُلَہُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْہُ غٰفِلُوْنَ﴾’’مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ تم اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے۔‘‘ تمہارے، اس سے غفلت کرنے کی وجہ سے، کیونکہ وہ چھوٹا ہے اور اپنی حفاظت نہیں کرسکتا۔ یوسف
14 ﴿قَالُوْا لَیِٕنْ اَکَلَہُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ اِنَّآ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ﴾ ’’انہوں نے کہا، اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا اور ہم ایک قوی جماعت ہیں، یعنی ہم ایک جماعت ہیں اور اس کی حفاظت کے حریص ہیں۔‘‘ ﴿ اِنَّآ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ﴾ ’’تب تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘ یعنی اگر بھیڑیا یوسف علیہ السلام کو ہم سے چھین کر کھا جائے تب تو ہم میں کوئی بھلائی اور کوئی نفع نہیں جس کی امید کی جا سکے، جب انہوں نے اپنے باپ کے سامنے ان تمام اسباب کو تمہید کے ساتھ بیان کیا جویوسف علیہ السلام کو ساتھ بھیجنے کے داعی تھے اور عدم موانع کا ذکر کیا تو یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کو تفریح کے لیے ان کے ساتھ بھیج دیا۔ یوسف
15 یعنی جب وہ باپ کی اجازت کے بعد یوسف علیہ السلام کو ساتھ لے گئے اور انہوں نے اپنے میں سے ایک کی رائے کے مطابق، جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے، یوسف علیہ السلام کو اندھے کنوئیں میں پھینکنے کا عزم کرلیا اور اب وہ اپنے فیصلے پر عمل کرنے کی قدرت رکھتے تھے چنانچہ انہوں نے اپنے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے یوسف علیہ السلام کو اندھے کنوئیں میں پھینک دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب یوسف علیہ السلام کو جو کہ اس وقت سخت خوف کی حالت میں تھے اپنے لطف و کرم سے نوازتے ہوئے ان کی طرف وحی کی﴿ لَتُنَبِّئَنَّہُمْ بِاَمْرِہِمْ ھٰذَا وَہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴾ ’’کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ تجھ کو نہ جانیں گے۔‘‘ یعنی آپ عنقریب اس معاملے میں ان پر عتاب کریں گے اور ان کو اس بارے میں آگاہ کریں گے اور انہیں اس معاملے کا شعور تک نہ ہوگا۔ اس میں جناب یوسف علیہ السلام کے لیے بشارت تھی کہ وہ اس مصیبت سے ضرور نجات پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس حالت میں ان کو اپنے گھر والوں کے ساتھ اکٹھا کرے گا کہ عزت اور ملک کا اقتدار ان کے پاس ہوگا۔ یوسف
16 ﴿وَجَاۗءُوْٓا اَبَاہُمْ عِشَاۗءً یَّبْکُوْنَ﴾ ’’اور وہ اندھیرا پڑتے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے معمول کے مطابق آنے کے وقت سے تاخیر کر کے اور ان کا روتے دھوتے آنا ان کے حق میں دلیل اور ان کی صداقت کا قرینہ ہو۔ وہ جھوٹا عذر پیش کرتے ہوئے بولے: یوسف
17 ﴿ یٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَہَبْنَا نَسْتَبِقُ﴾ ’’اباجان ! ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے۔‘‘ ابا جان ! ہم مقابلہ کرنے لگ گئے تھے یہ مقابلہ یا تو دوڑ کا مقابلہ تھا یا تیر اندازی اور نیزہ بازی کا۔﴿ وَتَرَکْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا﴾ ’’اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔‘‘ ہم نے سامان کی حفاظت اور یوسف علیہ السلام کے آرام کی خاطر اسے سامان کے پاس چھوڑ دیا﴿ فَاَکَلَہُ الذِّئْبُ ﴾’’تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔‘‘ جب ہم مقابلہ کر رہے تھے تو ہماری عدم موجودگی میں اسے بھیڑیا کھا گیا۔﴿ وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ کُنَّا صٰدِقِیْنَ﴾ ’’اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچے بھی ہوں، باور نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی ہم یہ عذر پیش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ ہماری بات نہیں مانیں گے، کیونکہ آپ کا دل یوسف علیہ السلام کے بارے میں سخت غم زدہ ہے۔ مگر آپ کا ہماری بات کو نہ ماننا اس بات سے مانع نہیں کہ ہم آپ کے سامنے حقیقی عذر پیش کریں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے عذر پر تاکید کے لیے تھا۔ یوسف
18 ﴿وَ﴾ اور انہوں نے اپنی بات کو اس طرح مؤکد کیا۔﴿ وَجَاءُوا عَلَىٰ قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ ﴾ ’’وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے۔‘‘ اور دعویٰ کیا کہ یہ یوسف کا خون ہے اور یہ خون اس وقت لگا تھا جب بھیڑئیے نے یوسف کو کھایا تھا۔ مگر ان کے باپ نے ان کی بات کو تسلیم نہ کیا۔﴿ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا ﴾’’انہوں (یعقوب) نے کہا، بلکہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو۔‘‘ یعنی تمہارے نفس نے میرے اور یوسف علیہ السلام کے درمیان جدائی ڈالنے لیے ایک برے کام کو تمہارے سامنے مزین کردیا، کیونکہ قرائن و احوال اور یوسف (علیہ السلام) کا خواب، یعقوب علیہ السلام کے اس قول پر دلالت کرتے تھے۔﴿ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ ۭ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ ﴾ ’’اچھا صبر کہ وہی خوب ہے اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں اللہ ہی سے مدد مطلوب ہے۔‘‘ یعنی رہا میں، تو میرا وظیفہ، جس کو قائم رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ ہے کہ میں اس آزمائش پر صبر جمیل سے کام لوں گا۔ مخلوق کے پاس اللہ تعالیٰ کا شکوہ نہیں کروں گا۔ میں اپنے اس وظیفے پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہوں۔ میں اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ نہیں کرتا۔ جناب یعقوب علیہ السلام نے اپنے دل میں اس امر کا وعدہ کیا اور اپنے خالق کے پاس اپنے اس صدمے کی شکایت ان الفاظ میں کی﴿ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّـهِ ﴾﴿یوسف:12؍86 ’’میں تو اپنی پریشانی اور غم کی شکایت صرف اللہ کے پاس کرتا ہوں۔‘‘ کیونکہ خالق کے پاس شکوہ کرنا صبر کے منافی نہیں اور نبی جب وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا کرتا ہے۔ یوسف
19 جناب یوسف علیہ السلام کچھ عرصہ اس اندھے کنویں میں پڑے رہے۔﴿ وَجَاۗءَتْ سَیَّارَۃٌ ﴾ ’’ایک قافلہ آ وارد ہوا۔‘‘ یہاں تک کہ ایک قافلہ آیا جو مصر جا رہا تھا۔ ﴿فَاَرْسَلُوْا وَارِدَہُمْ ﴾’’انہوں نے اپنے ہر اول سقے کو بھیجا‘‘ اس سے مراد وہ شخص ہے جو قافلے کے لیے پانی تلاش کرتا ہے اور ان کے لیے حوض وغیرہ تیار کرتا ہے۔﴿ فَاَدْلٰی دَلْوَہٗ ﴾’’پس اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔‘‘ یعنی پانی تلاش کرنے والے اس سقے نے کنوئیں میں اپنا ڈول ڈالا تو یوسف علیہ السلام اس ڈول سے چمٹ کر باہر آگئے۔﴿ قَالَ یٰبُشْرٰی ھٰذَا غُلٰمٌ ﴾ یعنی وہ بہت خوش ہوا اور بولا یہ تو قیمتی غلام ہے۔﴿ وَاَسَرُّوْہُ بِضَاعَۃً ﴾’’اور اس کو تجارت کا مال سمجھ کر چھپا لیا‘‘ یوسف علیہ السلام کے بھائی بھی کہیں قریب ہی تھے۔ قافلے والوں نے یوسف کو ان کے بھائیوں سے خرید لیا۔﴿ بِثَمَنٍ بَخْسٍ ﴾’’بہت ہی معمولی قیمت میں۔‘‘ پھر اس کی تفسیر یوں بیان فرمائی﴿دَرَاہِمَ مَعْدُوْدَۃٍ ۚ وَکَانُوْا فِیْہِ مِنَ الزَّاہِدِیْنَ﴾ ’’چند درہموں میں اور وہ اس سے بیزار ہو رہے تھے۔‘‘ کیونکہ ان کا مقصد تو صرف یوسف علیہ السلام کو غائب کر کے اپنے باپ سے جدا کرنا تھا۔ ان کا مقصد یوسف علیہ السلام کی قیمت حاصل کرنا نہ تھا۔ اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ جب یوسف علیہ السلام اس قافلے کے ہاتھ لگ گئے تو قافلے والوں نے ان کے معاملے کو چھپانے کا عزم کرلیا، تاکہ وہ انہیں بھی اپنے سامان تجارت میں شامل کرلیں، حتیٰ کہ ان کے بھائی آگئے اور انہوں نے یوسف علیہ السلام کے بارے میں ظاہر کیا کہ وہ ان کا بھاگا ہوا غلام ہے۔ پس قافلے والوں نے انہیں اس معمولی قیمت پر خرید لیا اور انہوں نے قافلے والوں سے یقین حاصل کیا کہ وہ بھاگ نہ جائے۔ واللہ اعلم۔ یوسف
20 یوسف
21 یعنی قافلہ یوسف علیہ السلام کو لے کر مصر چلا گیا اور وہاں جا کر ان کو فروخت کردیا اور عزیز مصر نے انہیں خرید لیا۔ جب عزیز مصر نے یوسف علیہ السلام کو خریدا تو وہ ان کو اچھے لگے، چنانچہ اس نے یوسف علیہ السلام کے بارے میں اپنی بیوی کو وصیت کرتے ہوئے کہا﴿اَکْرِمِیْ مَثْوٰیہُ عَسٰٓی اَنْ یَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا﴾ ’’اس کو عزت سے رکھ، شاید یہ ہمارے کام آئے یا ہم اس کو بیٹا بنا لیں۔‘‘ یعنی یہ ہمیں یا تو اس طرح فائدہ دے گا جس طرح خدمت کے ذریعہ سے غلام فائدہ دیتے ہیں یا ہم اس سے اس انداز سے فائدہ اٹھائیں گے جیسے اولاد سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ یہ بات اس نے اس لیے کہی کہ شاید ان کے ہاں اولاد نہ تھی۔﴿ وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے جگہ دی یوسف کو اس ملک میں۔‘‘ یعنی جس طرح ہم نے نہایت آسان کردیا کہ عزیز مصر یوسف علیہ السلام کو خرید لے اور آپ کو عزت و تکریم دے، تو اسی طریقے سے ہم نے یوسف علیہ السلام کو اقتدار عطا کرنے کے لیے راہ ہموار کی۔﴿ وَلِنُعَلِّمَہٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ ﴾ ’’اور اس واسطے کہ اس کو سکھائیں کچھ ٹھکانے پر بٹھانا باتوں کا۔‘‘ یعنی انہیں کوئی شغل اور کوئی ہم و غم لاحق نہ رہا سوائے حصول علم کے اور یہ چیز ان کے لیے علم الاحکام اور علم التعبیر وغیرہ کے حصول کا باعث بن گئی۔﴿ وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہ﴾یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا حکم نافذ ہے کوئی ہستی اسے باطل کرسکتی ہے نہ اللہ تعالیٰ پر غالب آسکتی ہے۔﴿ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴾’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اسی وجہ سے ان سے اللہ تعالیٰ کے احکام قدریہ کے مقابلے میں افعال سرزد ہوتے ہیں حالانکہ وہ انتہائی عاجز اور انتہائی کمزور ہیں، کوئی مقابلہ کرنے والا اللہ تعالیٰ پر غالب نہیں آسکتا۔ یوسف
22 ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے۔‘‘ یعنی جب جناب یوسف علیہ السلام کے قوائے حسیہ اور قوائے معنویہ اپنے درجہ کمال کو پہنچ گئے اور ان میں یہ صلاحیت پیدا ہوگئی کہ وہ نبوت اور رسالت کا بھاری بوجھ اٹھا سکیں۔ ﴿آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا﴾’’تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو نبی، رسول اور عالم ربانی بنا دیا۔﴿ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ﴾’’اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو۔‘‘ یعنی جو پوری کوشش اور خیر خواہی سے خالق کی عبادت میں ” احسان“ سے کام لیتے ہیں اور اللہ کے بندوں کو نفع پہنچا کر ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آتے ہیں ہم ان کو ان کے اس احسان کے بدلے علم نافع عطا کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ یوسف علیہ السلام مقام احسان پر فائز تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی قوت، علم کثیر اور نبوت عطا کی۔ یوسف
23 یہ عظیم آزمائش اس سے بہت بڑی تھی جو جناب یوسف علیہ السلام کو اپنے بھائیوں کی طرف سے پیش آئی اور اس پر ان کا صبر کرنا بہت بڑے اجر کا موجب بنا، کیونکہ اس قبیح فعل کے وقوع کے لیے کثیر اسباب کے باوجود انہوں نے صبر کو اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو ان اسباب پر مقدم رکھا۔ اس لیے ان کا یہ صبر اختیاری تھا اور ان کو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں جو آزمائش پیش آئی وہاں ان کا صبر اضطراری تھا۔ جیسے مرض اور دیگر تکالیف بندے کے اختیار کے بغیر اسے لاحق ہوتی ہیں جن میں طوعاً یا کرہاً صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور آزمائش کا یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام عزیز مصر کے گھر میں نہایت عزت و اکرام کے ساتھ رہ رہے تھے۔ وہ کامل حسن و جمال اور مردانہ وجاہت کے حامل تھے اور یہی چیز ان کی آزمائش کا موجب بنی۔﴿ وَرَاوَدَتْہُ الَّتِیْ ہُوَ فِیْ بَیْتِہَا عَنْ نَّفْسِہٖ﴾’’تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔‘‘ یعنی یوسف علیہ السلام جس عورت کے غلام اور اس کے زیر دست تھے اس نے ان پر ڈورے ڈالنے شروع کردئیے۔ وہ ایک ہی گھر میں رہتے تھے جہاں کسی شعور اور احساس کے بغیر اس مکروہ فعل کے مواقع میسر تھے اور اس سے بھی بڑھ کر مصیبت یہ نازل ہوئی کہ﴿ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ﴾ ’’اس نے دروازے بند کردئیے۔‘‘ اور مکان خالی ہوگیا اور دروازوں کو بند کردینے کی بنا پر کسی کے وہاں آنے کا ڈڑ نہ رہا۔ اس عورت نے جناب یوسف کو اپنے ساتھ بدکاری کی دعوت دی۔ ﴿وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ ﴾ ’’کہنے لگی، جلدی آؤ۔‘‘ یعنی میرے پاس آؤ اور میرے ساتھ یہ فعل بد سر انجام دو۔ اس کے باوجود کہ یوسف علیہ السلام ایک غریب الوطن شخص تھے اور ایسا شخص اس طرح اپنے غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کرسکتا جس طرح وہ اپنے وطن میں جان پہچان کے درمیان ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے اور وہ اس عورت کے اسیر تھے اور وہ عورت ان کی آقا تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس عورت میں حسن و جمال تھا۔ یوسف علیہ السلام خود جوان اور غیر شادی شدہ تھے اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ عورت دھمکی دے رہی تھی کہ اگر یوسف علیہ السلام نے اس کی خواہش پوری نہ کی تو وہ انہیں قید خانے میں بھجوادے گی یا انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کردے گی۔ مگر بایں ہمہ، جناب یوسف علیہ السلام اپنے اندر اس فعل کا قوی داعیہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رکے رہے، کیونکہ جس فعل کا ارادہ انہوں نے کرلیا تھا اسے اللہ تعالیٰ کی خاطر ترک کردیا اور اللہ تعالیٰ کی مراد کو اپنے نفس کی مراد پر مقدم رکھا جو ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے۔ انہیں اپنے رب کی برہان نظر آئی، یعنی ان کے پاس جو علم و ایمان تھا وہ اس بات کا موجب تھا کہ وہ ہر اس چیز کو ترک کردیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے یہ برہان حق ان کو اس بڑے گناہ سے دور رکھنے کی باعث تھی۔﴿ قَالَ مَعَاذَ اللَّـهِ ﴾ ’’انہوں نے کہا، اللہ کی پناہ۔‘‘ یعنی میں اس انتہائی قبیح فعل کے ارتکاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جس پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے سے دور کردیتا ہے، نیز یہ فعل اپنے آقا کے حق میں خیانت ہے جس نے مجھے عزت و تکریم سے نوازا۔ پس مجھے یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ میں اس کی بیوی کے ساتھ اس بدترین فعل کے ذریعے سے اس کے احسانات کا بدلہ دوں۔ یہ تو سب سے بڑا ظلم ہے اور ظلم کبھی فلاح نہیں پاتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام نے اس قبیح فعل سے جن امور کو موانع قرار دیاوہ تھے تقوائے الٰہی، اپنے آقا کے حق کی رعایت جس نے ان کو عزت و اکرام سے نوازا تھا اور اپنے آپ کو ظلم کرنے سے بچانا، جس کا مرتکب کبھی فلاح نہیں پاتا۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جناب یوسف علیہ السلام کو ایمان کی برہان حق سے نوازا جو ان کے قلب میں جاگزیں تھا جو ان سے اوامر الٰہی کی اطاعت اور نواہی سے اجتناب کا تقاضا کرتا تھا۔ اس پورے معاملے میں جامع بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام سے بدی اور بے حیائی کو دور کردیا تھا، کیونکہ وہ ان بندوں میں سے تھے جو اپنی عبادات میں اخلاص سے کام لیتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور اپنے لیے خاص کرلی اور ان پر اپنی نعمتوں کی بارش کردی اور تمام ناپسندیدہ امور کو ان سے دور کر دیا۔ بنا بریں وہ اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق میں سے تھے۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام اس عورت کی طرف سے بدی کی سخت ترغیب کے باوجود اس کی خواہش پوری کرنے سے ممتنع رہے اور وہ اس عورت سے اپنے آپ کو چھڑا کر دروازے کی طرف تیزی سے بھاگے، تاکہ وہ بھاگ کر اس فتنہ سے بچ کر نکل جائیں تو وہ عورت بھی ان کے پیچھے بھاگی اور پیچھے سے ان کی قمیص کا دامن پکڑ لیا اور ان کی قمیص پھاڑ ڈالی۔ جب وہ دونوں اس حالت میں دروازے پر پہنچے تو انہوں نے دروازے پر عورت کے خاوند کو موجود پایا اس نے یہ معاملہ دیکھا تو اسے سخت شاق گزرا۔ اس عورت نے فوراً جھوٹ گھڑ لیا اور دعویٰ کیا کہ یوسف اس کے ساتھ زیادتی کرنا چاہتا تھا اور کہنے لگی یوسف
24 یوسف
25 ﴿ مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا ﴾ ’’اس شخص کی کیا سزا ہے جو تیری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے‘‘ اور یہ نہیں کہا، ﴿مَن فَعَلَ بِأَهْلِكَ سُوءًا ﴾’’جس نے تیری بیوی کے ساتھ برائی کی۔‘‘ کیونکہ وہ اپنے آپ کو اور یوسف علیہ السلام کو اس فعل سے بری ظاہر کرنا چاہتی تھی۔ تمام نزاع تو صرف برائی کے ارادے اور ڈورے ڈالنے کے بارے میں تھا﴿ اِلَّآ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴾’’مگر یہی کہ اسے جیل میں ڈال دیا جائے یا اسے دردناک سزا دی جائے۔‘‘ یوسف
26 یوسف علیہ السلام نے اس الزام سے، جو اس عورت نے لگایا تھا، اپنے آپ کو بری کرتے ہوئے کہا﴿  هِيَ رَاوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي ﴾ ’’اسی نے مجھ کو مائل کرنا چاہا تھا‘‘ اس صورت حال میں دونوں کی صداقت کا احتمال تھا مگر یہ معلوم نہیں کیا جاسکتا تھا کہ دونوں میں سے کون سچا ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق اور صداقت کی کچھ علامات اور نشانیاں مقرر فرمائی ہیں۔ جو حق کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں جنہیں بسا اوقات بندے جانتے ہیں اور بسا اوقات نہیں جانتے، چنانچہ اس قضیہ میں اللہ تعالیٰ نے سچے کی پہچان سے نوازا، تاکہ اس کے نبی اور چنیدہ بندے، جناب یوسف علیہ السلام کی براءت کا اظہار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے گھر والوں میں سے ایک شاہد کو کھڑا کردیا اور اس نے قرینے کی گواہی دی کہ جس کے پاس یہ قرینہ موجود ہوگا وہی سچا ہے۔ اس گواہ نے کہا﴿ اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَہُوَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ ﴾ ’’اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے تو وہ عورت سچی ہے اور وہ جھوٹا ہے‘‘ کیونکہ یہ صورت حال دلالت کرتی ہے کہ یوسف علیہ السلام ہی بڑھ کر اس عورت پر ہاتھ ڈالنے والے، اس کو پھسلانے والے اور زور آزمائی کرنے والے تھے اور وہ عورت تو بس اپنی مدافعت کر رہی تھی اور اس نے اپنی مدافعت کی حالت میں اس جانب سے یوسف کا کرتہ پھاڑ ڈالا۔ یوسف
27 ﴿ وَاِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَہُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ﴾ ’’اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے، تو وہ عورت جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے‘‘ کیونکہ یہ صورت حال جناب یوسف علیہ السلام کے اپنے آپ کو چھڑا کر بھاگنے پر دلالت کرتی ہے اور یہ کہ یہ عورت ہی ہے جس نے یوسف علیہ السلام پر ڈورے ڈالنے چاہے اور اس طرح کرتہ اس جانب سے پھٹ گیا۔ یوسف
28 ﴿ فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ ﴾ ’’پس جب عزیزی مصر نے ان کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا‘‘ تو اسے جناب یوسف علیہ السلام کی صداقت اور ان کی براءت کا یقین ہوگیا۔ نیز یہ کہ عورت جھوٹی ہے، تو عورت کے شوہر نے اس سے کہا ﴿اِنَّہٗ مِنْ کَیْدِکُنَّ ۭ اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ ﴾ ’’یہ ایک فریب ہے تم عورتوں کا، یقیناً تمہارا فریب بڑا ہے‘‘ اس سے بڑھ کر کوئی اور فریب ہوسکتا ہے کہ اس عورت نے بدی کا ارادہ کیا، اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش کی پھر اپنے آپ کو بری قرار دے کر اپنا کرتوت اللہ تعالیٰ کے نبی جناب یوسف کے سر تھوپ دیا۔ جب اس عورت کے شوہر کے سامنے سارا معاملہ متحقق ہوگیا تو اس نے حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا یوسف
29 ﴿ یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا﴾ ’’یوسف ! جانے دو اس ذکر کو‘‘ یعنی اس واقعہ کے بارے میں کوئی بات نہ کرو، اسے بھول جاؤ اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرو۔ وہ اپنی بیوی کے فعل پر پردہ ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿وَاسْتَغْفِرِیْ﴾ ’’اے عورت ! بخشش مانگ‘‘ ﴿  لِذَنبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ ﴾ ’’اپنے گناہ پر، بے شک تو ہی گناہ گار تھی‘‘ اس شخص نے یوسف علیہ السلام کو اس تمام معاملے کو نظر انداز کرنے کی درخواست کی اور اس عورت کو توبہ و استغفار کا حکم دیا۔ یوسف
30 یعنی اس واقعے کی خبر مشہور ہوگئی اور تمام شہر میں پھیل گئی اور اس بارے میں عورتوں نے چہ میگوئیاں کیں اور عزیز مصر کی بیوی کو ملامت کرنے لگیں اور کہنے لگیں :﴿ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَن نَّفْسِهِ ۖ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ﴾” عزیز کی بیوی، پھسلاتی ہے اپنے غلام کو اس کے جی سے، اس کا دل اس کی محبت میں فریفتہ ہوگیا ہے“ یہ کام بہت برا ہے یہ عورت ایک انتہائی معزز شخص کی معزز بیوی ہے، بایں ہمہ وہ اپنے غلام پر ڈورے ڈالتی رہی ہے جو زیردست اور اس کی خدمت پر مامور تھا، اس کے باوجود اس عورت کے دل میں اس غلام کی محبت جاگزیں ہوگئی﴿قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ﴾ ” اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی۔“ یعنی یوسف کی محبت عورت کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ محبت کا انتہائی درجہ ہے۔ ﴿إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴾’’یقیناً ہم اس کو کھلی گمراہی میں دیکھتی ہیں۔“ یہ عورت اس حالت کو پہنچ گئی ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں، یہ حالت لوگوں کے ہاں اس کی قدر و قیمت گھٹا دے گی۔ ان عورتوں کا اس قول سے مجرد ملامت اور محض لعن طعن مقصود نہیں تھا، بلکہ یہ ان کی ایک چال تھی۔ وہ درحقیقت یہ کہہ کر جناب یوسف تک رسائی حاصل کرنا چاہتی تھیں جن کی وجہ سے عزیز مصر کی بیوی فتنے میں پڑگئی۔۔۔ تاکہ یہ بات سن کر عزیز مصر کی بیوی غصے میں آئے اور ان کے سامنے آپ کو معذور ظاہر کرنے کے لئے یوسف کا دیدار کروا دے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو مکر قرار دیا۔ یوسف
31 چنانچہ فرمایا : ﴿فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ﴾” جب اس نے ان کا فریب سنا تو ان کو بولا بھیجا“ ان کو اپنے گھر ایک ضیافت پر بلایا ﴿وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً ﴾ ” اور ان کے لئے ایک مجلس تیار کی“ ان کے لئے ایک ایسی جگہ تیار کی جہاں مختلف اقسام کے فرش بچھے ہوئے تھے جن پر تکئے لگے ہوئے تھے اور کھانے سجے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں اس ضیافت میں عزیز مصر کی بیوی نے کچھ ایسے کھانے بھی پیش کئے جن میں چھری کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے، مثلاً لیموں وغیرہ﴿وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا  ﴾” اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دی“ تاکہ اس چھری سے وہ مخصوص کھانا کاٹ سکیں﴿ وَقَالَتِ﴾ اوریوسف علیہ السلام سے بولی : ﴿اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ﴾” ان کے سامنے نکل آؤ“ اپنے پورے جمال اور رعنائیوں کے ساتھ ان عورتوں کے سامنے آؤ۔ ﴿فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ﴾ ” پس جب انہوں نے اسے دیکھا تو اسے بہت بڑا سمجھا“ یعنی اپنے دل میں اسے بہت بڑا سمجھا اور انہیں ایک نہایت عمدہ اور سحر انگیز منظر نظر آیا کہ اس سے پہلے انہوں نے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ﴿وَقَطَّعْنَ ﴾ ” اور کاٹ لئے انہوں نے“ یعنی تحیر اور مدہوشی میں﴿أَيْدِيَهُنَّ ﴾ ” اپنے ہاتھ“ ان چھریوں سے جو ان کے پاس تھیں اپنے ہاتھ کاٹ لئے۔ ﴿وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّـهِ ﴾” اور کہنے لگیں اللہ تعالیٰ پاک ہے۔“ ﴿ مَا هَـٰذَا بَشَرًا إِنْ هَـٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ ﴾ ”یہ شخص انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے“ اس کی وجہ یہ تھی کہ جناب یوسف کو بے پناہ حسن و جمال، نورانیت اور مردانہ وجاہت عطا کی گئی تھی جو دیکھنے والوں کے لئے ایک نشانی اور غور کرنے والوں کے لئے عبرت تھی۔ یوسف
32 جب ان عورتوں کے سامنے یوسف علیہ السلام کا ظاہری جمال متحقق ہوگیا اور یوسف علیہ السلام ان کو بہت ہی اچھے لگے، تو عزیز مصر کی بیوی پر ان کا بہت کچھ عذر ظاہر ہوگیا۔ پھر اس نے چاہا کہ وہ ان عورتوں کو یوسف علیہ السلام کے باطنی جمال۔۔۔ یعنی عفت کامل۔۔۔ کا نظارہ کروائے چنانچہ اس عورت نے کسی چیز کے پروا کئے بغیر، کیونکہ آج عورتوں کی طرف سے ملامت منقطع ہوگئی تھی یوسف علیہ السلام سے اپنی شدید محبت کا اعلان کرتے ہوئے کہا : ﴿فَذَٰلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ ۖ وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ﴾” یہ وہی ہے کہ طعنہ دیا تھا تم نے مجھ کو اس کے بارے میں اور میں نے پھسلایا تھا اس کو اس کے جی سے، پس اس نے اپنے کو بچا لیا“ یعنی اس نے اپنے آپ کو بچا لیا گویا وہ اب بھی یوسف علیہ السلام کو پھسلانے کے موقف پر قائم تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بے قراری، محبت اور شوق وصال میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا۔ لہٰذا اس نے ان عورتوں کی موجودگی میں یوسف علیہ السلام سے کہا ﴿وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ الصَّاغِرِينَ ﴾ ” اگر اس نے وہ کام نہ کیا، جس کا حکم میں اس کو دے رہی ہوں، تو یہ یقیناً قید کردیا جائے گا اور بے عزت ہوگا“ تاکہ وہ اس دھمکی کے ذریعے سے جناب یوسف علیہ السلام سے اپنا مقصد حاصل کر کے سکے۔ یوسف
33 تب یوسف علیہ السلام نے اپنے رب سے پناہ مانگی اور ان عورتوں کے مکر و فریب کے مقابلے میں اپنے رب سے مدد کے طلب گار ہئے ﴿قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ ﴾ ” انہوں نے کہا، اے رب ! مجھے قید اس سے زیادہ پسند ہے جس طرح یہ مجھے بلا رہی ہیں“ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی مالکہ کا حکم مانیں اور ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام کو فریب سے پھسلانا شروع کردیا تھا۔ اس لئے یوسف علیہ السلام نے اس لذت کے مقابلے میں، جو اخروی عذاب کی موجب ہے، قید خانے اور دنیاوی عذاب کو پسند کیا۔ ﴿وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ﴾ ” اور اگر تو نے ان عورتوں کی چالوں اور مکر و فریب کو مجھ سے دور نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل ہو کر ان کے دام میں پھنس جاؤں گا“ کیونکہ میں تو ایک عاجز اور کمزور بندہ ہوں ﴿وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ﴾ ” اور میں جاہلوں سے ہوجاؤں گا“ کیونکہ یہ سب جہالت کا کام ہے، کیونکہ جاہل ختم ہوجانے والی قلیل لذت کو جنت میں حاصل ہونے والی دائمی لذات اور انواع و اقسام کی شہوات پر ترجیح دیتا ہے اور جو دنیا کی اس لذت کو جنت کی لذتوں پر ترجیح دیتا ہے اس سے بڑھ کر جاہل کون ہے؟ علم و عقل ہمیشہ بڑی مصلحت اور دائمی لذت کو مقدم رکھنے اور ان امور کو تج دینے کی دعوت دیتے ہیں جن کا انجام قابل ستائش ہوتا ہے۔ یوسف
34 ﴿فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ﴾ ” تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کرلی۔“ جب یوسف علیہ السلام نے دعا مانگی، اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرما لیا ﴿فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ﴾ ” پس ان سے ان عورتوں کا فریب پھیر دیا“ وہ عورت جناب یوسف علیہ السلام پر ڈورے ڈال کر ان کو اپنے دام فریب میں پھانسنے کی کوشش کرتی رہی اور اس سلسلے میں وہ تمام وسائل استعمال کرتی رہی جو اس کی قدرت و اختیار میں تھے۔ یہاں تک کہ یوسف علیہ السلام نے اس کو مایوس کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اس مکرو فریب کو یوسف علیہ السلام سے رفع کردیا۔ ﴿إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ ﴾اللہ تعالیٰ دعا مانگنے والے کی دعا کو سنتا ہے ﴿الْعَلِيمُ ﴾ اور اس کی نیک نیت اور کمزور فطرت کو خوب جانتا ہے جو اس کی مدد، معاونت اور اس کے لطف و کرم کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ دعا تھی جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے جناب یوسف علیہ السلام کو اس فتنہ اور بہت بڑی آزمائش سے نجات دی۔ رہے ان کے آقا تو جب یہ خبر مشہور ہوئی اور بات کھل گئی تو لوگوں میں سے کسی نے ان کو معذور سمجھا، کسی نے ملامت کی اور کسی نے جرح و قدح کی۔ یوسف
35 ﴿ بَدَا لَهُم ﴾ ” ان پر ظاہر ہوا۔“ ﴿مِّن بَعْدِ مَا رَأَوُا الْآيَاتِ﴾ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد جو یوسف علیہ السلام کی برأت پر دلالت کرتی تھیں ﴿لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّىٰ حِينٍ  ﴾” کہ ایک وقت تک ان کو قید میں رکھیں“ تاکہ اس طرح خبر منقطع ہوجائے اور لوگ اس واقعہ کو بھول جائیں، کیونکہ جب کوئی خبر شائع ہوجاتی ہے تو اس کا ذکر عام ہونے لگتا ہے اور وجود اسباب کے باعث یہ خبر پھیلتی چلی جاتی ہے۔ جب اسباب معدوم ہوجاتے ہیں اس واقعہ کو بھلا دیا جاتا ہے۔۔۔ چنانچہ انہوں نے اس میں یہی مصلحت دیکھی تو یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں ڈال دیا۔ یوسف
36 ﴿وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيَانِ﴾ ” اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی قید خانے میں داخل ہوئے۔“ جب یوسف علیہ السلام قید خانے میں ڈالے گئے تو ان کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قید کئے گئے۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے خواب دیکھا، انہوں نے تعبیر پوچھنے کی غرض سے اپنا اپنا خواب یوسف علیہ السلام کو سنایا﴿قَالَ أَحَدُهُمَا إِنِّي أَرَانِي أَعْصِرُ خَمْرًا ۖ وَقَالَ الْآخَرُ إِنِّي أَرَانِي أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِي خُبْزًا ﴾ ” ان میں سے ایک نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھا رہا ہوں“ اور یہ روٹی ﴿تَاْکُلُ الطَّیْرُمِنْہُ﴾ ” پرندے کھا رہے ہیں۔“ ﴿نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ ﴾” ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجئے۔‘‘ یعنی اس کی تفسیر سے ہمیں آگاہ کیجیے کہ اس خواب کا انجام کیا ہوگا۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے کہا : ﴿ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾ ” بے شک ہم آپ کو بھلائی کرنے والا دیکھتے ہیں“ یعنی آپ مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنے والے ہیں۔ آپ ہمیں ہمارے خوابوں کی تعبیر بتا کر ہم پر احسان کیجیے جیسا کہ آپ نے دوسرے لوگوں پر احسان کیا ہے۔ انہوں نے یوسف علیہ السلام کے احسان کو وسیلہ بنایا۔ یوسف
37 ﴿ قَالَ﴾ یوسف علیہ السلام نے ان کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا﴾” جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو ان کی تعبیر بتا دوں گا۔“ یعنی تمہیں دلی اطمینان ہونا چاہئے کہ میں تمہیں تمہارے خواب کی تعبیر ضرور بتاؤں گا میں تمہارا کھانا آنے سے بھی پہلے تمہیں تمہارے خواب کی تعبیر بتا دوں گا۔ شاید یوسف علیہ السلام یہ ارادہ رکھتے تھے کہ اس حال میں، جب کہ ان قیدیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی حاجت محسوس کی وہ ان قیدیوں کو ایمان کی دعوت دیں، تاکہ یہ حال ان کی دعوت کے لئے زیادہ مفید اور ان قیدیوں کے لئے زیادہ قابل قبول ہو۔ پھر یوسف علیہ السلام سے فرمایا : ﴿ذَٰلِكُمَا ﴾یعنی یہ تعبیر جو میں تم دونوں کو بتاؤں گا ﴿مِمَّا عَلَّمَنِي رَبِّي﴾” یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کیا ہے۔“ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا اور وہ احسان یہ ہے﴿ إِنِّي تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ ﴾ ” میں نے اس قوم کا دین چھوڑا جو اللہ پر یقین نہیں رکھتی اور وہ آخرت کے منکر ہیں“ (ترک) کا اطلاق جس طرح اس داخل ہونے والے پر ہوتا ہے جو داخل ہونے کے بعد وہاں سے منتقل ہوجاتا ہے اسی طرح اس شخص پر بھی ہوتا ہے جو اصلاً اس میں داخل ہی نہیں ہوتا۔ اس لئے یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ اس سے پہلے یوسف علیہ السلام ملت ابراہیم کے علاوہ کسی اور ملت پر تھے۔ یوسف
38 ﴿وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ﴾” اور میں نے پیروی کی اپنے باپ دادا کی ملت کی، ابراہیم، اسحٰق اور یعقوب کی“ اس کے بعد یوسف علیہ السلام نے ملت ابراہیم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿مَا كَانَ لَنَا أَن نُّشْرِكَ بِاللَّـهِ مِن شَيْءٍ﴾” ہمارے لائق نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں“ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کو ایک مانتے ہیں اور اسی کے لئے دین اور عبودیت کو خالص کرتے ہیں۔ ﴿ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ اللَّـهِ عَلَيْنَ