Maktaba Wahhabi

آیت نمبرترجمہسورہ نام
1 فہم القرآن: اللہ کائنات کے رب نے اپنی مخلوق کی پرورش کا بندوبست ایسے مضبوط نظام کے ساتھ فرمایا ہے کہ ہر چیز کو زندگی اور اس کی بقا کے لیے جو کچھ اور جس قد رچاہیے اسے اسی حالت اور مقام پر پہنچایا جارہا ہے۔ پتھر کا کیڑا چاروں طرف بند چٹان کے اندر اپنی خوراک لے رہا ہے، مرغی کا بچہ انڈے میں پل رہا ہے، مچھلیاں دریا میں، پرندے فضا میں اور درندے صحرا میں اپنی اپنی خوراک لے رہے ہیں اور اپنے ماحول میں مطمئن اور خوش وخرم دکھائی دیتے ہیں۔ ہر دانہ اپنی آغوش میں زندگی اور ہر بیج اپنے سینے میں نشوونما کا سامان لیے ہوئے ہے۔ یہاں تک کہ پھول کی کلی کو جس ہوا اور فضا کی ضرورت ہے اسے مہیا کی جارہی ہے۔ زندگی کے لیے ہوا اور پانی اس قدر لازمی جزہیں کہ ان کے بغیر زندگی لمحوں کی مہمان ہوتی ہے۔ یہ اتنے ارزاں اور وافر ہیں کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے قرآن نے اللہ کی ہستی کا تعارف رب اور اس کے نظام ربوبیت سے بات کا آغاز کیا ہے تاکہ انسان کا وجدان پکار اٹھے کہ مجھے اس ہستی کا شکر ادا کرنا اور تابع فرمان رہنا ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ اور یہ نظام اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کسی منتظم کے بغیر جاری اور قائم نہیں رہ سکتا ایک زندہ ضمیر شخص جب اپنے چاروں طرف رب کی ربوبیت کے اثرات ونشانات دیکھتا ہے تو اس کے دل کا ایک ایک گوشہ پکار اٹھتا ہے۔ ﴿فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ﴾ } المؤمنون : 14 { ” اللہ تعالیٰ برکت والا اور بہترین پیدا کرنے والا ہے۔“ مانگنے کا صحیح طریقہ اور اسلامی تہذیب کا جزو لازم ہے کہ انسان ہر حال میں اپنے رب کا حمد خواں اور شکر گزار رہے۔ حمدگوئی سے یہ بات خود بخود ثابت ہوتی ہے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی عطا اور ملکیت ہے۔ اور انسان انتہائی ناتواں اور بے بس ہے۔ اس سے انسان کے دل میں یہ عقیدہ بھی جڑ پکڑتا ہے کہ جمال وکمال کسی کا اپنا نہیں بلکہ اللہ ہی کا عطا کردہ ہے۔ اس لیے حقیقی اور ہمہ وقتی حمد وستائش اسی مالک کو زیبا ہے۔ پھر مالک بھی ایسا جو صرف انسانوں اور جنّات کا ہی نہیں وہ تو حیوانات، جمادات، نباتات حتی کہ ارض وسمٰوٰت کا رب ہے۔ جو ابتدا سے انتہا تک ہر چیز کی ضرورت کو کمال رحمت اور ربوبیت سے پورا کررہا ہے۔ حمد میں دوسرے کی ذات کی بڑائی اور اس کے احسانات کا احساس و اعتراف پایا جاتا ہے۔ قرآن مجید ابتداہی میں انسان کو یہ باور کرواتا ہے کہ کائنات کا ذرّہ ذرّہ اپنے رب کی تعریف وتوصیف اور حمد وشکر بیان کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ﴿سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } الحشر : 1 {” زمین و آسمان میں موجود ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے اور وہ غالب حکمت والاہے۔“ اے انسان! اشرف المخلوقات ہونے کی حیثیت سے تجھے مانگنے سے پہلے اپنے رب کی حمد وشکر اور اس کی عنایت و عطا کا اعتراف کرتے ہوئے پہلے اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ کیونکہ شکر گزار ہی تابع فرمان ہوا کرتے ہیں۔ رسول کریم {ﷺ}اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا یوں بیان کیا کرتے تھے : (أَللّٰھُمَّ أَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَآأُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَآ أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ) } رواہ مسلم : کتاب الصلاۃ، باب مایقال فی الرکوع والسجود{ ” اے اللہ! میں تیری رضا مندی کے ذریعے تیری ناراضی سے اور تیری معافی کے ذریعے تیری سزا سے پناہ مانگتاہوں اور میں تجھ سے تیری پناہ مانگتاہوں میں اس طرح تیری تعریف نہیں کرسکتا جس طرح تیری شایان شان ہے۔“ (سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ عَدَدَ خَلْقِہٖ وَرِضَانَفْسِہٖ وَزِنَۃَ عَرْشِہٖ وَمِدَادَ کَلِمَاتِہٖ) } رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والإستغفار، باب التسبیح أول النھار وعند النوم { ” اللہ کی پاکی اس کی تعریف کے ساتھ اس کی مخلوق کی تعداد، اس کے نفس کی رضا، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی مقدار کے برابر۔“ مسائل : 1۔ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں اور کائنات کا ذرّہ ذرّہ اس کی حمد وستائش کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے : 1۔ تمام تعریفیں جہانوں کو پالنے والے کے لیے ہیں۔ }الانعام : 45 { 2۔ اللہ کی حمدوثنا بیان کرنا مومنوں کی صفت ہے۔ } التوبۃ: 112 { 3۔ صبح وشام اللہ کی حمد بیان کرنے کا حکم ہے۔ } فاطر : 55 { 4۔ بجلی کی کڑک اور فرشتے بھی اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ } الرعد : 13 { 5۔ کائنات کی ہر چیز اللہ کی ثنا خواں ہے۔ }بنی اسرائیل : 44 { الفاتحة
2 فہم القرآن : رحمن فعلان کے وزن پر مبالغے یعنی سپر ڈگری (Super Degree) اور رحیم فعیل کے وزن پر اسم صفت مشبہ کے صیغے ہیں۔ اہل علم کے نزدیک رحمن کی صفت سب کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ کا رحیم ہونا صرف مومنوں کے لیے خاص ہے۔ ’’الرحمن ‘‘ لامتناہی اور رحمت مجسم کا ترجمان ہے اور لفظ ” الرحیم“ کائنات پر نازل ہونے والی مسلسل اور دائمی رحمت کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس لحاظ سے معنٰی یہ ہوا کہ وہ ” اللہ“ بے انتہا مہربان‘ ہمہ وقت اور ہر حال میں رحم فرمانے والا ہے۔ فرق یہ ہے کہ رحیم کسی مشفق شخصیت کو کہا جاسکتا ہے مگر کسی کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ ” الرحمن“ کہنا بہت بڑا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور رحیمیت کسی اضطرار اور مجبوری کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ اس کی رحمانیت کا عین تقاضا ہے۔ اس صفت کا تذکرہ قرآن مجید میں مختلف الفاظ اور انداز میں پایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان جس قدر سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے لیکن جب اللہ کے حضور یہ کہتے ہوئے آب دیدہ ہوتا ہے کہ الٰہی! میرے جرائم اور خطاؤں کی آندھیوں نے میرے گلشن حیات کو برباد کردیا ہے۔ جس طرح تو ویران وادیوں، تپتے ہوئے صحراؤں اور اجڑے ہوئے باغوں کو اپنے کرم کی بارش سے سرسبز وشاداب بنا دیتا ہے اسی طرح مجھے بھی حیات نو سے ہمکنار کردے۔ بندۂ مومن کی عاجزی اور سرافگندگی پر رحمن ورحیم کی رحمت کے سمندر میں ایک تلاطم برپا ہوجاتا ہے۔ جس کی وسعتوں کا تذکرہ رسول کریم {ﷺ}یوں فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کی رحمت اس قدر وسیع وعریض ہے جیسے بحر بیکراں میں سوئی ڈبو کر نکال لی جائے تو اس سے سمندر کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسے ہی کائنات کے تمام جن وانس کی حاجات اور تمناؤں کو پورا کردیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سمندر میں سوئی ڈبو کر باہر نکال لینے کے برابربھی کمی واقع نہیں ہوتی۔ } رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم{ اللہ تعالیٰ معافی اور درگزر سے کام لیتا ہے کیونکہ اس نے ابتدائے آفرینش سے لکھ رکھا ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔ } رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ ﴿ویحذرکم اللہ نفسہ﴾{ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میری رحمت وشفقت ہر آن ان کے قریب رہتی ہے۔ ﴿رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ﴾[ الأعراف : 156] ” میری رحمت تمام اشیاء پر محیط ہے۔“ ﴿کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ﴾[ الأنعام : 54] ” تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کرلیا ہے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ {ﷺ}یَقُوْلُ لَنْ یُّدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ قَالُوْا وَلَآ أَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ لَا وَلَآ أَنَا إِلَّا أَنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِفَضْلٍ وَّرَحْمَۃٍ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَلَا یَتَمَنَّیَنَّ أَحَدُکُمُ الْمَوْتَ إِمَّامُحْسِنًا فَلَعَلَّہٗ أَنْ یَّزْدَادَ خَیْرًا وَإِمَّا مُسِیْئًا فَلَعَلَّہٗ أَنْ یَّسْتَعْتِبَ) } رواہ البخاری : کتاب المرضٰی، باب تمنی المریض الموت{ ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ {ﷺ}سے سنا آپ فرماتے تھے کہ کسی کو اس کے عمل جنت میں داخل نہیں کریں گے۔ صحابہ کرام {رض}نے عرض کیا اے اللہ کے پاک نبی! آپ بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! میں بھی نہیں سواۓ اس کے کہ اللہ اپنے فضل و رحمت سے مجھے نوازدے۔ اس لیے میانہ روی اختیار کرو اور قریب قریب چلو۔ تم میں کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ وہ نیک ہوگا تو اس کے اعمال میں اضافہ ہوجائے گا۔ اگر وہ برا ہے تو ممکن ہے وہ توبہ کرلے۔“ رسول اکرم {ﷺ}کی دعا : (اَللّٰھُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُو فَلَا تَکِلْنِیْ إِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَّأَصْلِحْ لِیْ شَأْنِیْ کُلَّہٗ لَآإِلٰہَ إِلَّآ أَنْتَ) } رواہ ابوداؤد : کتاب الأدب، باب مایقول إذا أصبح { ” اے اللہ! میں تیری رحمت کا طلب گار ہوں مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرنا اور میرے سب کاموں کی اصلاح فرما تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ 2۔ اللہ کی شفقت ومہربانی نے زمین و آسمان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعتیں : 1-اللہ ایک ہے،بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ } البقرۃ: 163{ 2۔ سب کچھ جاننے کے باوجود نہایت ہی مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ }الحشر : 22{ 3-اس کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ }الاعراف : 156{ 4۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر مہربانی کرنا از خود اپنے آپ پر لازم قرار دے لیا ہے۔ }الانعام : 54{ 5۔ اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ }الزمر : 53{ 6۔ اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہوا کرتی ہے۔ }الاعراف : 56{ 7 - اللہ کی رحمت نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔} المؤمن: 7{ الفاتحة
3 فہم القرآن : اس سورۃ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی چوتھی صفت جو بیان ہورہی ہے وہ قرآن مجید کا تیسرا مرکزی مضمون ہے۔ اللہ جزاء وسزا کے دن کا مالک ہے۔ قیامت کے دن پر ایمان لانا اسلام کے بنیادی عقائد اور اس کی ابتدائی تعلیم میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت یعنی اس کی ان گنت نعمتوں اور بے پایاں رحمتوں کے تذکرے کے بعد ﴿مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ﴾کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ کہیں انسان اس کی رحمت و شفقت دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجائے کہ مجھے میرے کیے دھرے پر پوچھا ہی نہیں جائے گا اور انسان کو دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے۔ اس فرمان میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اے انسان! ناصرف تجھے موت آنی ہے بلکہ موت کے بعد تو اٹھایا اور اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا پھر تجھے اپنی ایک ایک حرکت اور عمل کا پورا پورا حساب دینا ہے اور جزا یا سزا سے تیرا واسطہ پڑنا ہے۔ قرآن مجید کے عظیم مفسر اور نکتہ دان حضرت امام فخر الدین رازی }رح{ لکھتے ہیں کہ سورۃ الفاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسم اعظم کے ساتھ چار صفات کا ذکر فرمایا ہے۔ جس میں یہ واضح کیا ہے کہ اے انسان! میں ہی وہ اللہ ہوں جس نے تجھے پیدا کیا اور میں ہی اپنی آغوش نعمت میں تیری پرورش کرتا ہوں۔ تجھ سے کوئی خطا ہوجائے تو بے پایاں رحمت کے ساتھ تیری پردہ پوشی کرتا ہوں۔ جب تو میری بارگاہ میں معذرت پیش کرتا ہے تو میں ہی تیری خطاؤں کو معاف کرنے والا ہوں۔﴿مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ﴾کی صفت میں یہ اشارہ دیا ہے کہ نیک اعمال کے بدلے قیامت کے دن تجھے پوری پوری جزائے خیر سے نوازا جائے گا۔ مالک کا لفظ استعمال فرما کر یہ واضح کردیا گیا کہ اس دن کا برپا ہونا بدیہی امر ہے۔ اس دن نیک وبد کو سزا دلوانے یا معاف کروانے کا کسی کو اختیار نہیں ہوگا۔ بڑے بڑے سرکش اور نافرمان خمیدہ کمر اور سر جھکائے رب کبریا کی عدالت میں ذلت ورسوائی کی حالت میں پیش کئے جائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دوسرا عکس ہے کیونکہ اس کے بغیر نیکوں کو پوری پوری جزا اور نافرمانوں کو ٹھیک ٹھیک سزا نہیں مل سکتی۔ اس لیے عقیدۂ آخرت ایمان کا اہم جزقرار پایا ہے۔ اس دن انبیائے کرام }علیہ السلام{ بھی نفسا نفسی کے عالم میں ہوں گے اور رب ذوالجلال دنیا کے سفّاک، ظالم اور متکبر حکمرانوں اور انسانوں کو اس طرح خطاب کرے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم {ﷺ}نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زمینوں اور آسمانوں کو یکجا کرکے اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے فرمائیں گے کہ میں ہی بادشاہ ہوں۔ ظالم وسفّاک اور نخوت وغرور رکھنے والے آج کہاں ہیں ؟ (یَقُوْلُ اَنَا الْمَلِکُ اَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ.) (رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار ) دین کے معانی : اطاعت وبندگی۔ (الزمر : 11) شریعت : (یونس : 104) قانون : (یوسف : 76) حکمرانی : (المومن : 56) جزاء وسزا (بدلہ): (الذاریات : 6) مسائل : 1۔ قیامت کے برپا ہونے میں کوئی شک نہیں اس دن نیکوں کو جزا اور بروں کو سزا ملے گی۔ 2۔ قیامت کے دن پر ایمان لانا فرض ہے۔ تفسیر بالقرآن : قیامت برپا ہو کر رہے گی : 1- قیامت قریب ہے۔ (الحج : ١) 2-قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ آج کس کی بادشاہی ہے؟۔ (المومن : 16) 3- قیامت کے دن کوئی کسی کو فائدہ نہیں دے سکے گا۔ (الانفطار : 19) 4-قیامت کے دن ” اللہ“ ہی کی بادشاہی ہوگی۔ (الفرقان : 26) 5- قیامت کے دن ” اللہ“ ہی فیصلے صادر فرمائے گا۔ (الحج : 56) مختلف مراحل کے حوالے سے قیامت کے اہم ترین نام: اَلسَّاعَۃُ (الاعراف : 187) گھڑی ( مقرر وقت) 2- یَوْمُ الْقِیَامَۃِ (البقرۃ:113) کھڑے ہونے کا دن (مردوں کے کھڑے ہونے کا دن) 3- اَلْیَوْمُ الْحَقُّ (النباء : 39) سچا دن (جس کے آنے میں نہ کوئی شک ہے اور نہ اس دن کسی فیصلہ میں کوئی غلطی ہوگی) 4- یَوْمٌ مَّعْلُوْمٌ (الشعراء :38) جانا ہوا دن یا مقررہ دن 5- اَلْوَقْتُ الْمَعْلُوْمُ (الحجر :38) جانا ہوا وقت یا مقررہ وقت 6- اَلْیَوْمُ الْمَوْعُوْدُ (البروج :2) وعدے کا دن 7- اَلْیَوْمُ الْاٰخِرُ (النساء :38) آخری دن 8- یَوْمُ الْاٰزِفَۃِ (المومن :18) قریب آنے والی مصیبت کا دن 9- یَوْمٌ عَسِیْرٌ (المدثر :9) سخت دن 10- یَوْمٌ عَظِیْمٌ (الانعام :15) بڑا دن 11- یَوْمٌ عَصِیْبٌ (ہود :77) سخت دن 12- یَوْمُ الْبَعْثِ (الروم :56) جی اٹھنے کا دن 13- یَوْمُ التَّلَاقِ (المومن :15) افسوس کا دن 14- یَوْمُ التَّنَادِ (المومن :32) پکار کا دن 16- یَوْمُ الْجَمْعِ (الشوری :7) اکٹھا ہونے کا دن 17- یَوْمُ الْحِسَابِ (ص :16) حساب کا دن 18-یَوْمُ الْحَسْرَۃِ (مریم :39) حسرت کا دن 19- یَوْمُ الْخُرُوْجِ (ق :42) قبروں سے نکلنے کا دن 20-یَوْمُ الْفَصْلِ (الدخان :4) فیصلے کا دن 21- اَلْقَارِعَۃُ (القارعۃ: 1) کھڑکھڑانے والی 22-اَلْغَاشِیَۃُ (الغاشیۃ: 1) چھا جانے والی 23-اَلطَّآمَّۃُ الْکُبْریٰ (النازعات :34) بڑی مصیبت 24-اَلنَّبَأُ الْعَظِیْمُ (النباء :2) بڑی خبر 25-اَلْحَآقَّۃُ (الحاقۃ: 1) ضرور آنے والی گھڑی 26- اَلْوَعْدُ (الانبیاء :38) وعدہ 27- اَلْوَاقِعَۃُ (الواقعۃ:1) وقوع پذیرہونے والا 28- اَمْرُ اللّٰہِ (الحدید :14) اللہ کا حکم 29- اَلصَّآخَّۃُ (عبس :34) بہرہ کرنے والی گھڑی 30-یَوْمُ الدِّیْنِ (الفاتحۃ:3) بدلے کا دن 31- یَوْمٌ کَبِیْرٌ (ہود :3) بڑا دن 32- یَوْمٌ اَلِیْمٌ (ہود :26) دردناک دن 33-یَوْمٌ مُّحِیْطٌ (ہود :84) گھیرنے والا دن 34- یَوْمٌ مَّشْہُوْدٌ (ہود :104) حاضری کا دن الفاتحة
4 فہم القرآن : ” اللہ“ کے حضور نمازی غلامانہ انداز میں ہاتھ باندھ کر اور سراپا عجزو انکساری کے ساتھ اس بات کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ اے اللہ ! تو ہی میرا معبود ہے اس لیے میں تیری ہی عبادت کرتاہوں۔ اس میں نہ کسی کو سہیم سمجھتا ہوں اور نہ کسی کو آپ کے ساتھ شریک کرتا ہوں۔ نمازی یہ عہد واقرار ابتداءً قیام کی حالت میں اور آخر میں تشہد میں بیٹھ کر کرتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ ابتدا میں اس نے جامع الفاظ میں اقرار کیا تھا اور تشہد میں فقیروں کی طرح دامن پھیلا کر عرض کرتا ہے کہ میری تمام مناجات وعبادات اور نذرو نیاز اللہ وحدہ لا شریک کے لیے ہیں۔ (اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّیِّبٰتُ) [ رواہ البخاری : باب التَّشَہُّدِ فِی الآخِرَۃِ] ” ہمہ قسم کی لسانی‘ بدنی اور مالی عبادات اللہ ہی کے لیے ہیں“۔ یہی وہ مطالبہ ہے جو رسالت مآب {ﷺ}کی زبان اطہر سے کروایا گیا ہے۔ اس میں یہ تقاضا بھی کیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت نہایت اخلاص اور بلا شرکت غیرے ہونی چاہیے۔ ﴿قُلْ إِنَّ صَلٰوتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ أُمِرْتُ وَاَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (الانعام :162-163) ” آپ اعلان کریں! یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر تسلیم خم کرنے والا ہوں۔“ اس کے بعد مومن دل کی اتھاہ گہرائیوں اور انتہائی عاجزی کے ساتھ عرض گزار ہوتا ہے کہ الٰہی ! یہ حاضری اور عاجزی تیری توفیق اور عنایت کا نتیجہ ہے کیونکہ کتنے ہی انسان ہیں جو صحت، فرصت اور تونگری کے باوجود تیری بارگاہ میں حاضر ہونے کی سعادت نہیں پاتے۔ اے اللہ! تیری مدد ہمیشہ میرے شامل حال رہے۔ میرا ایمان ہے کہ تیرے بغیر کوئی میری مدد نہیں کرسکتا۔ لہٰذا میں ہر دم تجھ سے مدد کا طلبگار اور تیری دستگیری کا خواستگار ہوں۔ میرا تیرے حضور یہ عہد ہے کہ میں تجھے مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہوئے تجھ ہی سے نصرت وحمایت کا طلبگارر ہوں گا کیونکہ تو داتا ہے میں محتاج، تو غنی ہے میں تیرے در کا فقیر، تو بے نیاز ہے میں نیاز مند، تو بادشاہ ہے میں فقیر بے نوا۔ اس لیے میری مدد فرما۔ میں تیری دستگیری اور مدد کے بغیر نہ اپنا ایمان سلامت رکھ سکتاہوں اور نہ اپنی عزت وجان کی حفاظت کرسکتاہوں۔ یہی عقیدہ رسول گرامی {ﷺ}نے سکھلایا اور اسی عقیدہ کو نماز کے بعد دعا کی صورت میں دہراتے اور مانگتے تھے۔ (اَللّٰھُمَّ لَامَانِعَ لِمَآ أَعْطَیْتَ وَلَامُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ۔۔) (بخاری : کتاب الأذان، باب الذکر بعد الصلوۃ) ” اے اللہ! جو چیز تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو نہ دے اسے کوئی دینے والا نہیں۔“ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {رض}قالَ کُنْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ {ﷺ}یَوْمًا فَقَالَ یَاغُلَامُ إِنِّیْ أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ احْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ احْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاھَکَ إِذَ ا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلآی أَنْ یَنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَیْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَیْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ.) (رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ و الرقائق والورع، باب منہ) ” حضرت عبداللہ بن عباس {رض}بیان کرتے ہیں ایک دن میں رسول کریم {ﷺ}کے پیچھے سوار تھا آپ {ﷺ}نے فرمایا : بچے! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں۔ اللہ کو یاد رکھنا وہ تجھے یاد رکھے گا، تو اللہ تعالیٰ کو یادرکھے گا تو اسے اپنے سامنے پائے گا، جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر، جب تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کر اور یقین رکھ کہ اگر پوری مخلوق تجھے کچھ نفع دینے کے لیے جمع ہوجائے تو وہ اتنا ہی نفع دے سکتی ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ رکھا ہے اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے پر تل جائے تو تجھے اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا تیرے حق میں لکھا گیا ہے، قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔“ مسائل : 1-ہر شخص کو صرف اللہ کی عبادت کرنا اور اس سے مدد کا طلب گار ہونا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : عبادت صرف اللہ کی ہونی چاہیے : 1- جنوں اور انسانوں کو اللہ نے صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ (الذّاریات :56) 2- ہر رسول، اللہ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ (النحل :36) 3- اللہ ہی کے لیے رکوع و سجود اور ہر عبادت ہونی چاہیے۔ (الحج :77) 4-اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ (النساء :36) 5- اللہ کی عبادت اخلاص کے ساتھ کرنی چاہیے۔ (الزمر :6) 6-اللہ کے سوا کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ (الانفال :10) 7- اللہ ہی سے مدد مانگنا چاہیے۔ (البقرۃ :45) 8-اللہ تعالیٰ غنی اور کائنات کے سارے انسان اس کے در کے فقیر ہیں۔ (فاطر :15) الفاتحة
5 فہم القرآن : اہل علم نے ہدایت کے مدارج کی بہت سی قسمیں بیان فرمائی ہیں لیکن بنیادی طور پر اس کی چار اقسام ہیں : 1 ۔طبعی اور فطری ہدایت ۔2 الہامی ہدایت 3 ۔توفیقی ہدایت 4 ۔ہدایت وحی۔ طبعی اور فطری ہدایت : چاند، سورج اور سیارے طبعی رہنمائی کے مطابق اپنے مدار میں رواں دواں ہیں۔ ہوائیں اسی اصول کی روشنی میں رخ بدلتی اور چلتی ہیں۔ بادل فطری رہنمائی سے ہی راستے تبدیل کرتے اور برستے ہیں حتیٰ کہ اسی اصول کے تحت درخت روشنی کی تلاش میں ایک دوسرے سے اوپر نکلتے ہیں۔ فطری ہدایت کے مطابق ہی مرغی کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی ماں کے قدموں میں پڑجاتا ہے، بطخ کا بچہ خود بخود پانی کی طرف چلتا اور انسان کا نومولود ماں کی چھاتی کے ساتھ چمٹتا ہے۔ اس طبعی اور فطری ہدایت کی قرآن نے اس طرح رہنمائی فرمائی ہے : ﴿وَھَدَیْنَاہ النَّجْدَیْنِ۔[ البلد :10] ” ہم نے اسے دو واضح راستے دکھا دیئے۔“ الہامی ہدایت : الہام وحی کی ایک قسم ہے لیکن وحی اور الہام میں فرق یہ ہے کہ وحی صرف انبیاء کے ساتھ خاص ہے جب کہ الہام انبیاء کے علاوہ نیک اور عام آدمی حتی کہ قرآن مجید نے شہد کی مکھیوں کے لیے بھی وحی یعنی الہام کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنٰی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں کوئی بات القا فرما دیتا ہے۔ اسے ہدایت وہبی بھی کہا جاتا ہے۔ ہدایت بمعنٰی توفیق اور استقامت : ہدایت کی تیسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی عنایت اور توفیق سے اپنے بندے کی رہنمائی کرتے ہوئے اسے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرما دے۔ رسول اللہ {ﷺ}اکثر یہ دعا کرتے تھے۔ (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ) (رواہ الترمذی : کتاب الدعوات) ” اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا۔“ (اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَأَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ) (رواہ الترمذی : کتاب الدعوات، باب ماء فی جامع الدعوات) ” اے اللہ! میری راہنمائی فرما اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما۔“ وحی اور حقیقی ہدایت : یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اس ہدایت کی دو شکلیں ہیں اور دونوں آپس میں لازم وملزوم اور ضروری ہیں۔ ایک ہدایت ہے ہر نیکی کی ظاہری حالت اور اس کی ادائیگی کا طریقہ جو ہر حال میں سنت نبوی کے مطابق ہونا چاہیے۔ دوسری اس کی روح اور اصل۔ اسے قرآن نے اخلاص سے تعبیر فرمایا ہے۔ اخلاص کے اثرات دل پر اثرا نداز ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل ہوگی جس کا بدلہ جنّت ہے۔ کردار پر مرتب ہوں گے تو نفس اور معاشرے میں پاکیزگی پیدا ہوگی جس سے آدمی کو دنیا میں نیک نامی اور کامیابی حاصل ہوگی۔ بندہ اللہ کے حضور ہاتھ باندھے، نظریں جھکائے، نہایت عاجزی اور بے بسی کے عالم میں عرض کرتا ہے۔ میرے خالق ومالک ! میں تیری بارگاہ میں عرض گزارہوں کہ میں دنیا کی رزم گاہ میں کمزور اور ناتواں ہوں۔ میرا دشمن بڑا ذلیل، طاقت ور، عیّار اور چالاک ہے جو چاروں طرف سے اپنے لشکروں کے ساتھ ہر آن مجھ پر حملہ آور ہو رہا ہے۔ اور میں اسے دیکھ بھی نہیں سکتا۔ وہ ہر دم مجھے پھسلانے کے درپے ہے۔ تیری دست گیری اور رہنمائی کے بغیر نہ میں اس کا مقابلہ کرسکتاہوں اور نہ ہی سیدھی راہ پر گامزن رہ سکتاہوں۔ دنیا کے گھٹا ٹوپ اندھیروں، مسائل کے طوفانوں اور مشکلات کے جھکڑوں میں میری عاجزانہ درخواست ہے کہ مجھے لمحہ لمحہ اور قدم قدم پر صراط مستقیم کی رہنمائی اور اس پر ثابت قدمی کی توفیق نصیب فرما۔ مومن اپنے ساتھ دوسروں کے لیے بھی ہدایت اور مدد کا طالب ہوتا ہے تاکہ ایک فرد کی بجائے ہدایت یافتہ لوگوں کا ایک قافلہ اور کارواں ہوتاکہ شیطانی لشکروں کا مقابلہ کرنا اور غلبۂ دین آسان ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم {ﷺ}کو گفتگو کا ملکہ اور ایسامعجزانہ اسلوب عنایت فرمایا تھا جو بنی نوع انسان میں کسی کو نہ حاصل ہوا نہ ہوگا۔ آپ نے بڑے بڑے پیچیدہ مسائل چند الفاظ اور انتہائی سادہ انداز میں بیان فرمادیے ہیں۔ لیکن صراط مستقیم کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظراس مسئلہ کو ایک نقشہ کے ذریعے سمجھانے کا طریقہ اختیار فرمایا تاکہ کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ {رض}قَالَ خَطَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}خَطًّا بِیَدِہٖ ثُمَّ قَالَ ھٰذَا سَبِیْلُ اللّٰہِ مُسْتَقِیْمًا قَالَ ثُمَّ خَطَّ عَنْ یَّمِیْنِہٖ وَشِمَالِہٖ ثُمَّ قَالَ ھٰذِہِ السُّبُلُ وَلَیْسَ مِنْھَا سَبِیْلٌ إِلَّا عَلَیْہِ شَیْطَانٌ یَدْعُوْ إِلَیْہِ ثُمَّ قَرَأَ ﴿وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ﴾) (مسند احمد : کتاب مسند المکثرین من الصحابۃ، باب مسند عبدا اللہ بن مسعود) ” حضرت عبداللہ بن مسعود {رض}بیان کرتے ہیں رسول اللہ {ﷺ}نے اپنے ہاتھ سے ایک لکیر کھینچی پھر فرمایا یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے پھر اس کے دائیں اور بائیں خط کھینچ کر فرمایا یہ راستے ہیں۔ ان میں ہر ایک پر شیطان کھڑا ہے اور وہ اس کی طرف بلاتا ہے پھر آپ {ﷺ}نے اس آیت کی تلاوت کی (بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے اسی پر چلتے رہنا اور پگڈنڈیوں پر نہ چلنا۔“ قرآن مجید نے اس راستے کو نبی {ﷺ}کا راستہ قرار دیا اور اسے بصیرت سے تعبیر کیا ہے۔ ﴿قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْ أَدْعُو إِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ﴾ (یوسف :108) ” آپ فرمادیجئے یہ میرا راستہ ہے میں اور میرے پیرو کار بصیرت کی بنیاد پر اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔“ (عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ یَقُوْلُ وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ {}مَوْعِظَۃً ذَرَفَتْ مِنْھَا الْعُیُوْنُ وَوَجِلَتْ مِنْھَا الْقُلُوْبُ فَقُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ إِنَّ ھٰذِہٖ لَمَوْعِظَۃُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْھَدُ إِلَیْنَا قَالَ قَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْبَیْضَآءِ لَیْلُھَا کَنَھَارِھَا لَایَزِیْغُ عَنْھَا بَعْدِیْ إِلَّاھَالِکٌ مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ فَسَیَرٰی اخْتِلَافًا کَثِیْرًا فَعَلَیْکُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاء الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ عَضُّوْا عَلَیْھَا بالنَّوَاجِذِ وَعَلَیْکُمْ بالطَّاعَۃِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِیًّا فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ کَالْجَمَلِ الْأَنِفِ حَیْثُمَا قِیْدَانْقَادَ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب المقدمۃ، باب اتباع سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین] ” حضرت عرباض بن ساریہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ {ﷺ}نے ایسا وعظ فرمایا جس سے آ نکھیں بہہ پڑیں اور دل ڈر گئے ہم نے کہا اللہ کے رسول یقیناً یہ تو الوداعی وعظ لگتا ہے لہٰذا آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا میں تمہیں واضح دین پر چھوڑ کر جارہا ہوں جس کی رات بھی دن کی مانند ہے ہلاک ہونے والے کے علاوہ کوئی اس سے نہیں ہٹے گا تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ تم پر جو میرا اور میرے صحابہ کا طریقہ پر چلنا لازم ہے اسے داڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑنا اور امیر کی اطاعت کرتے رہنا اگرچہ وہ حبشی ہی کیوں نہ ہو۔ مومن نکیل والے اونٹ کی طرح ہوتا ہے اسے جہاں بھی لے جایا جائے وہ جاتا ہے۔“ مسائل : 1- اللہ تعالیٰ سے ہر لمحہ اور ہر قدم پر صراط مستقیم کی درخواست کرتے رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : صراط مستقیم : 1- صراط مستقیم کی بنیاد۔ (آل عمران :101) 2- اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران :51) 3- صراط مستقیم کے سنگ میل۔ (الانعام : 151تا153) 4-ہر کسی کو صراط مستقیم کی ہی دعوت دینا چاہیے۔ ( الانعام :154) 5-اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا صراط مستقیم پر ہے۔ (یٰس :61) الفاتحة
6 فہم القرآن : (آیت 6 سے 7) اب انعام یافتہ اور ہدایت یافتہ جماعت کا راستہ، ان کے ساتھ محبت اور ان کی معیت کی درخواست کی جاتی ہے جب کہ دوسرے گروہ سے اجتناب اور نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ جس کارواں کے راستہ کی دعا کی جارہی ہے وہ محض عقیدت کی بنیاد پر ہی نہیں بلکہ ان کے کردار اور اعلیٰ مقام کی وجہ سے ہے۔ جو خدا کے فرستادہ، پسندیدہ اور انعام یافتہ انبیائے کرام علیہم السلام ہیں ان پر سب سے بڑا انعام یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پیغام اور کام کے لیے منتخب فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو سیدھا راستہ بتلائیں اور اس پر چل کر دکھائیں۔ اس قافلۂ قدسیہ کے معزز افراد ایک مشن کے داعی، خاندان نبوت کے افراد اور رشتۂ رسالت کے حوالے سے ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ رسالت مآب {ﷺ}نے فرمایا : (اَنَا اَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَالْأَنْبِیَآءُ إِخْوَۃٌ لِعَلَّاتٍ اُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی وَدِیْنُھُمْ وَاحِدٌ) (رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ ﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ﴾) ” لوگو! میں عیسیٰ بن مریم {علیہ السلام}کے دنیا وآخرت میں سب سے زیادہ قریب ہوں اور انبیاء کی جماعت علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں جدا جدا ہیں لیکن دین ایک ہے۔“ انعام یافتہ لوگوں کا تذکرہ : ﴿فَأُولٰئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْنَ وَحَسُنَ أُولٰئکَ رَفِیْقًا۔(النساء :69) ” تو وہ لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ۔ رفیق ہونے کے لحاظ سے یہ لوگ کتنے اچھے ہیں۔“ پہلے انبیاء کی نبّوتوں اور شخصیتوں کی تائید کرنا ہمارے لیے ضروری اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن سمع واطاعت صرف نبی آخر الزمان محمد رسول اللہ {ﷺ}کی کرنا ہوگی۔ اس سے اس نظریہ کی از خود نفی ہوجاتی ہے جو رسالت مآب {ﷺ}کے ارشادات کے مقابلہ میں کسی نبی یا شخصیت کے اقوال پیش کرتے ہیں۔ فاتحہ کے آخر میں جس گروہ سے نفرت کا اظہار اور جن کی عادات اور رسومات سے بچنے کی دعا کی جارہی ہے وہ صرف گروہ بندی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان سے اس لیے الگ رہنا ہے کہ وہ اپنی بے اعتدالیوں اور بد اعمالیوں کی وجہ سے اللہ کے غضب کے سزا وار ٹھہرے ہیں۔ ” آمین“ : (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}أَنَّ النَّبِیَّ {}قَالَ إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوْا فَإِنَّہٗ مَنْ وَّافَقَ تَأْمِیْنُہٗ تَامِیْنَ الْمَلآئِکَۃِ غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ) (رواہ البخاری : کتاب الأذان، باب جھر الإمام بالتأمین) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ نبی {ﷺ}نے فرمایا : جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے ہم آہنگ ہوگئی اس کے پہلے تمام گناہ معاف کردیے گئے۔“ آمین کی فضیلت واہمیت : (عَنْ أَبِیْ مُصَبِّحِ الْمَقْرَائِیِّ قَالَ کُنَّا نَجْلِسُ إِلٰی أَبِی زُھَیْرٍ النُّمَیْرِیِّ وَکَانَ مِنَ الصَّحَابَۃِ فَیَتَحَدَّثُ أَحْسَنَ الْحَدِیْثِ فَإِذَا دَعَا الرَّجُلُ مِنَّا بِدُعَاءٍ قَالَ اخْتِمْہُ بآمِیْنَ فَإِنَّ آمِیْنَ مِثْلُ الطَّابِعِ عَلَی الصَّحِیْفَۃِ )]رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب التأمین وراء الإمام[ ” حضرت ابو مصبح المقرائی {رض}فرماتے ہیں ہم ابو زہیر نمیری {رض}کے ہاں بیٹھے تھے جو صحابی تھے وہ اچھی اچھی باتیں بیان کرتے تھے۔ ہم میں سے ایک آدمی نے دعاشروع کی تو صحابی نے فرمایا دعا ” آمین“ کے ساتھ ختم کرو کیونکہ دعا کو آمین کے ساتھ ختم کرنا ایسے ہی ہے جیسے خط پر مہر لگادی جائے۔“ سورہ فاتحہ کی آیات کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے امام شافعی کے نزدیک بسم اللہ سورۃ فاتحہ کا حصہ ہے اور یہی ساتویں آیت ہے اور اس کا پڑھناواجب ہے۔ لیکن راجح قول کے مطابق بسم اللہ سورۃ فاتحہ کا حصہ نہیں بلکہ ﴿صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ﴾ الگ آیت ہے اور ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ الگ آیت ہے۔ (دیکھیے ایسر التفاسیرجلد 1صفحہ نمبر10) مسائل : 1- صراط مستقیم کے ساتھ دنیا اور آخرت میں انعام یافتہ لوگوں کی رفاقت کی دعا کرنا چاہیے۔ 2- مغضوب لوگوں کے طریقے سے اجتناب کرنا اور اللہ تعالیٰ کے غضب سے پناہ مانگنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : انعام یافتہ اور مغضوب لوگ : 1- انبیاء، صدیق، شہداء اور صالحین انعام یافتہ لوگ ہیں۔ (النساء :69) 2- حضرت آدم، نوح، ابراہیم اور یعقوب (علیہ السلام) انعام یافتہ حضرات تھے۔ (مریم :58) 3- مشرکوں پر اللہ کا غضب ہوتا ہے۔ (الاعراف :152) 4-بنی اسرائیل مغضوب لوگ ہیں۔ (البقرۃ:61) 5- مغضوب لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت برستی ہے۔ (الفتح: 6) 6-گمراہ اور مغضوب کو دلی دوست نہیں بنانا چاہیے۔ (الممتحنۃ :13) الفاتحة
7 الفاتحة
0 بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ البقرۃ کا تعارف : ” سورۃ البقرۃ“ کے چالیس رکوع اور دو سو چھیاسی آیات، چھ ہزار اکتیس الفاظ اور بیس ہزار حروف بنتے ہیں۔ اس سورۃ مبارکہ کی چند آیات کے سوا باقی تمام آیات مدینہ طیبہ میں نازل ہوئیں۔ اس میں بنی اسرائیل کے ایک مقتول کو دوسرے مقتول یعنی ذبیحہ گائے کے ذریعہ زندہ کیا گیا۔ جس سے بنی اسرائیل کے اندھے قتل کا فیصلہ سنایا گیا ہے اس لیے اس سورۃ کا نام ” البقرۃ“ قرار پایا۔ اس میں شرک کی نفی اور موت کے بعد جی اٹھنے کے عملی ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔ اس سورۃ مبارکہ کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں دوٹوک الفاظ میں بتایا ہے کہ اس کے من جانب اللہ ہونے، رشد وہدایت اور اس کی رہنمائی میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش اور نقصان کا اندیشہ نہیں لیکن اس سے وہی لوگ مستفید ہو پائیں گے جو اپنے رب کی رہنمائی کی چاہت، پیروی اور اس کی ممنوع کردہ چیزوں کو مسترد کریں گے۔ اس کے بعد ایمان اور اسلام کے بنیادی ارکان اور ان پر عمل کرنے والوں کو دنیا و آخرت کی کامیابی کا مژدہ سنایا گیا ہے۔ قرآن مجید کا انکار کرنے والوں کو ان کے انجام سے ڈرایا اور رسول اللہ {ﷺ}کو فرمایا ہے کہ خدا کے منکروں کو جس طرح چاہیں سمجھائیں یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ بعد ازاں متذبذب اور دو غلے کردار کے حامل اور مفاد پرست لوگوں کی نشان دہی اور ان کے انجام کے بارے میں واضح فرمایا ہے کہ یہ خطرناک‘ کذاب اور مسلمانوں کی آستینوں کے سانپ ہیں۔ ان سے بچ کر رہنا اور یہ دھوکہ باز اور ابن الوقت اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے۔ اس کے بعد قرآن مجید اور انبیاء کی دعوت یعنی اللہ کی توحید اور اس کے ایسے آفاقی اور ٹھوس دلائل دیئے ہیں۔ جن سے شہری‘ دیہاتی‘ ان پڑھ‘ تعلیم یافتہ غرض کہ ہر انسان کو واسطہ پڑتا ہے اور وہ ان سے استفادہ کرتا ہے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ زمین و آسمان اور دنیا و مافیہا کی چیزوں کو بنانے اور سجانے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ ان دلائل کے بعد ہر انسان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسے صرف ایک رب کی عبادت کرنا چاہیے پھر قرآن مجید کے بارے میں چیلنج دیا ہے کہ اگر تمہیں اس کے من جانب اللہ ہونے میں شک ہے تو اللہ تعالیٰ کے سوا سب مل کر کوئی ایک سورۃ بنا لاؤ۔ چوتھے رکوع میں آدم (علیہ السلام) کا مقام ومرتبہ بیان کرنے کے بعد شیطان کی شرارتوں اور سازشوں اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ اس کی عداوت اور کش مکش کا ذکر کرتے ہوئے آدم (علیہ السلام) کے پھسلنے اور ان کو زمین پر بھیجنے کا مقصد واضح فرمایا ہے کہ اگر شیطان کی شیطنت اور دنیا وآخرت کے خوف وخطر سے بچنا اور اپنا کھویا ہوا مقام جنت حاصل کرنا چاہتے ہو تو صرف اور صرف اللہ کی ہدایات کی پیروی کرتے رہنا۔ جس سے تمہیں دنیا میں امن نصیب ہوگا اور آخرت کے خوف و غم سے مامون ہوجاؤ گے۔ پھر دنیا کی اقوام میں ایک معزز اور منفرد قوم کے عروج وزوال کے اسباب کا نہایت ہی تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہوئے اس پر ناصحانہ انداز میں تبصرہ کیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کے سیاسی، جہادی اور مذہبی پیشواؤں کے کردار پر روشنی ڈالی گئی کہ وہ اس قدر دین کی حقیقت اور اخلاق کی دولت سے تہی دامن ہوئے کہ انہوں نے دین واخلاق کو دنیا کے حصول کا ذریعہ بنا لیا۔ پھر بنی اسرائیل کی مذہبی، اخلاقی اور سیاسی پستیوں کی نشاندہی فرمائی کہ جس وقت بنی اسرائیل پستیوں کا شکار ہوئے اور جب کبھی انہیں اپنی عزت رفتہ کا احساس ہو اتو انہوں نے اپنے کردار کو سنوارنے اور جدو جہد کا راستہ اپنا نے کے بجائے جادو ٹونے کے ذریعے عزت وعظمت کو پانے کی کوشش کی اور پھر اس سارے دھندے کو اللہ کے عظیم پیغمبرحضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ذمہ لگایا۔ حالانکہ جادو کفر ہے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہرگز کفر نہیں کرتے تھے۔ کبھی اپنے بوسیدہ اور پراگندہ خیالات کی تائید کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا سہارا لینے کی کوشش کی اور مقدس شخصیات کو اپنے ہم عقیدہ ثابت کرنے کی مذموم کوششیں کیں یہاں تک کہ ان زمینی حقائق کا بھی انکار کیا جو دنیا کے سینے پر بیت اللہ، صفا ومروہ اور زمزم کی شکل میں خاندان ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمات کا منہ بولتا ثبوت اور ان کی قبلہ گاہ ہے۔ بنی اسرائیل کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو سمجھایا گیا کہ اگر دنیا وآخرت کی بلندیوں کے طلب گار ہو تو پھر ابتلاء اور آزمائشوں کے لیے اپنے آپ کو تیار کرو کیونکہ آزمائش ایمان کی بلندی اور دنیا کی ترقی کا پیش خیمہ ہے جو لوگ حق و باطل کی رزم گاہ میں شہیدہوں انہیں مردہ مت کہو کیونکہ انہوں نے عظیم مقصد کے لیے قربانی دی ہے لہٰذا وہ زندہ ہیں لیکن ان کی زندگی کے بارے میں رائے زنی کرنے کی اجازت نہیں ہے اور تمہارے لیے بنی اسرائیل کے جرائم سے بچنا لازم ہے۔ اس کے بعد اس سورۃ مبارکہ میں انسانی زندگی کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ جس میں معاشی، سماجی، جہادی، معاشرتی، اخلاقی، خاندانی اور انفرادی مسائل کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر شعبے کے لیے اصولوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ معاشی مسائل کے حل اور ان میں ناہمواری ختم کرنے کے لیے صدقہ و خیرات کی ترغیب مؤثر اور مدلل انداز میں دیتے ہوئے فرمایا کہ غریبوں‘ مسکینوں اور اعزاء و اقربا کی مالی خدمت کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے مترادف ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ سات سو گنا سے بھی زیادہ کر کے قیامت کے دن واپس لوٹائے گا۔ جس دن نیکی کے علاوہ کوئی چیز کار آمد نہ ہوگی۔ صدقہ کی تحریک دینے کے بعد سود کو نہ صرف حرام قرار دیا بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول {ﷺ}کے ساتھ جنگ قرار دیا ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ اسلام سے بڑھ کر کوئی دین غریبوں اور مستحقین کا ہمدرد اور خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔ سود کے خاتمہ کے ساتھ صدقات اور تجارت کو فروغ دینے کی ترغیب دیتے ہوئے لین دین کے معاملات کو احاطۂ تحریر میں لانے کا حکم دیا۔ اس سورۃ کی ابتدا اسلام کے ارکان اور ایمان کے مدارج سے ہوئی اس کا اختتام بھی دین و ایمان کے بنیادی اصولوں پر کیا گیا ہے۔ آخر میں مومنوں کو ایک دعا سکھلائی گئی ہے کہ اپنے رب کے حضور یہ درخواست کرتے رہو کہ اے مولائے کریم! ہمارے عمل میں دانستہ و غیر دانستہ طور پر جو کوتاہی سرزد ہو تو اسے معاف اور صرف نظر فرماتے ہوئے کفار پر ہمیں غلبہ عطا فرما۔ یہی مسلمان کی زندگی کا مقصد ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخروہوجائے اور دنیا میں اسلام کا پرچم سر بلند رکھتے ہوئے کامیاب انسان کے طور پر زندگی بسر کرے۔ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یاربّ العالمین۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ {رض}أَنَّ رَسُول اللَّہِ {ﷺ}قَالَ لاَ تَجْعَلُوا بُیُوتَکُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّیْطَانَ یَنْفِرُ مِنَ الْبَیْتِ الَّذِی تُقْرَأُ فیہِ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ) (رواہ مسلم : باب استحباب صلوۃ النافلۃ) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ۔ بیشک اس گھر سے شیطان بھاگ جاتا ہے جس میں سورۃ بقرۃ کی تلاوت کی جاتی ہے۔“ البقرة
1 فہم القرآن : ربط سورۃ: فاتحہ دعا ہے اور قرآن اس کا جواب، فاتحہ خلاصہ ہے اور قرآن اس کی تفصیل۔ اپنے حجم اور مضامین کے لحاظ سے یہ فرقان حمید کی سب سے بڑی سورت ہے۔ الٓــمٓ حروف مقطعات ہیں جن کے مفسرین نے اپنی اپنی فہم و دانش کے مطابق کئی معانی لکھے اور بتلائے ہیں جن کی تفصیل مختلف تفاسیر میں موجود ہے۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم {رض}فرماتے ہیں یہ سورتوں کے نام ہیں۔ حضرت ابن عباس {رض}فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی قسموں میں سے قسمیں ہیں۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں ” الٓــمٓ “ اللہ تعالیٰ کے اسمائے اعظم میں سے ہے۔ جب کہ کچھ لوگ کہتے ہیں یہ قرآن کے اعجازکا نمونہ ہیں۔ لیکن اس بات پر تمام اہل علم متفق ہیں کہ یہ حروف مقطعات ہیں ان کا کوئی معنٰی رسول اللہ {ﷺ}سے ثابت نہیں البتہ جو مفہوم عقل کے قریب تر نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ اس زمانے میں اہل زبان حروف مقطعات کا استعمال کرنے کے بعد اپنی فصیح اللسانی اور شستہ کلامی کا مظاہرہ کرتے اور سامعین ان حروف کا معنٰی پوچھنے کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے۔ گویا کہ صاحب زبان ایسے الفاظ طرح مصرعہ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اسی وجہ سے صحابہ کرام {رض}نے نبی محترم {ﷺ}سے ان حروف کا معنٰی پوچھنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ کیونکہ ان کا شریعت کے مسائل اور معاملات سے کوئی تعلق نہیں لہٰذا امت کا اتفاق ہے کہ ان حروف کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ البتہ یہ قرآن مجید کا حصہ ہیں۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ {رض}یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِّنْ کِتَاب اللّٰہِ فَلَہٗ بِہٖ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا لَآ أَقُوْلُ الم حَرْفٌ وَلٰکِنْ أَلْفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِیْمٌ حَرْفٌ) (رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فیمن قرأ حرفا من القرآن مالہ من الأجر) ” حضرت عبداللہ بن مسعود {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی اور ہر نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے آپ {ﷺ}فرماتے ہیں کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ” الم“ ایک حرف ہے بلکہ ” الف“ ایک حرف ہے اور ” لام“ ایک حرف ہے ” اور ” میم“ ایک حرف ہے۔“ الٓــمٓ “ چھ سورتوں کی ابتدا میں استعمال ہوا ہے۔ البقرۃ، آل عمران، العنکبوت، الروم، لقمان، السجدۃ۔ البقرة
2 فہم القرآن : ربط الکلام: فاتحہ دعا ہے اور قرآن اس کا جواب، فاتحہ خلاصہ ہے اور قرآن اس کی تفصیل۔ یہ عظیم سورت مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی۔ یہاں یہود ونصارٰی آپ کے مخاطبین تھے۔ اس لیے ہٰذَاکی بجائے اسم اشارہ بعید ذَالِکَ استعمال کیا گیا ہے کہ یہ وہی کتاب ہے جس کا بیان اور تذکرہ تم توراۃ اور انجیل میں پاتے ہو۔ ذَالِکَ کا استعمال اس لیے بھی کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں اہل عرب کسی عظیم چیز کی طرف توجہ دلاتے وقت دور کا اشارہ قریب کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ اس دور میں اہل فارس بھی اپنی زبان میں قریب چیز کے لیے دور کے اشارات استعمال کرتے تھے اور انہی سے متاثر ہو کر اردو میں بھی آں جناب کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ پہلی امتوں بالخصوص یہود و نصارٰی نے آسمانی کتابوں میں اپنے رجحانات اور مفادات کی خاطر کئی قسم کے اضافے‘ التباسات اور مغالطے پیدا کردیے تھے۔ اس وجہ سے ان کتابوں پر لوگوں کا اعتماد ختم ہوچکا تھا۔ اس لیے آغاز ہی میں قرآن مجید کے بارے میں دو ٹوک الفاظ میں یہ وضاحت فرما دی گئی ہے کہ اس کے منزل من اللہ ہونے اور اس کے احکامات اور ارشادات میں کسی قسم کا شک اور تردّد کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے نفاذ اور اس پر عمل کرنے سے کسی نقصان کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ اس پر عمل کرنے سے یقینا تمہیں دنیا و آخرت میں بہترین نتائج اور ثمرات حاصل ہوں گے۔ یہ کتاب ہر لحاظ سے قیامت تک قابل اعتماد اور اس پر عمل کرنا فرض ہے۔ قرآن مجید کے من جانب اللہ اور مستند ہونے کے بارے میں جرمنی کی بین الاقوامی یونیورسٹی کی رپورٹ۔ ” یونانی زبان میں انجیل کے جتنے نسخے دنیا میں پائے جاتے تھے کامل ہوں یا جزئی ان سب کو جمع کرکے ان کے ایک ایک لفظ کا باہم مقابلہ (موازنہ) (Collation) کیا گیا۔ اس کی جو رپورٹ شائع ہوئی اس کے الفاظ یہ ہیں ” کوئی دو لاکھ اختلافی روایات ملتی ہیں“ اس کے بعد یہ جملہ ملتا ہے ” یہ ہے انجیل کا قصہ“ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد کچھ لوگوں کو قرآن کے متعلق حسد پیدا ہوا۔ اس لیے جرمنی کی میونخ یونیورسٹی میں ایک ادارہ قائم کیا گیا ” قرآن مجید کی تحقیقات کا ادارہ“ اس کا مقصد یہ تھا کہ ساری دنیا سے قرآن مجید کے قدیم ترین دستیاب نسخے خرید کر یا اس کے فوٹو لے کر جس طرح بھی ممکن ہو جمع کیے جائیں۔ جمع کرنے کا یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔ جب 1933ء میں پیرس یونیورسٹی میں تھا تو اس کا تیسرا ڈائریکٹر پریتسل (Pretzl) پیرس آیا تھا کہ پیرس کی پبلک لائبریری میں قرآن مجید کے جو قدیم نسخے پائے جاتے ہیں ان کے فوٹو حاصل کرے۔ اس پروفیسر نے بیان کیا کہ اس وقت ہمارے انسٹی ٹیوٹ میں قرآن مجید کے بیالیس ہزار نسخوں کے فوٹو موجود ہیں اور مقابلے (Collection) کا کام جاری ہے۔ بعد ازاں اس ادارہ نے رپورٹ شائع کی جس کے الفاظ یہ ہیں کہ ” قرآن مجید کے نسخوں میں مقابلے کا جو کام ہم نے شروع کیا تھا اس کا اب تک جو نتیجہ نکلا ہے وہ یہ ہے کہ ان نسخوں میں کہیں کہیں کتابت کی غلطیاں تو ملتی ہیں لیکن اختلاف روایت ایک بھی نہیں۔ گویا کہ قرآن مجید ہر قسم کے ردّ وبدل سے مبرّا ہے۔“ (ماخوذ : خطبات بہاولپور از ڈاکٹر حمیداللہ) بلاشبہ قرآن مجید عظیم اور شک وشبہ سے بالا، انسانوں کی راہنمائی اور خیر خواہی کے لیے آخری آسمانی کتاب ہے لیکن اس سے ہدایت پانے کے لیے تقو ٰی لازم قرار پایا ہے۔ تقویٰ کے بارے میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق {رض}نے جناب ابی بن کعب {رض}سے استفسار فرمایا کہ تقویٰ کیا ہے؟ حضرت ابی بن کعب {رض}نے اس سوال کا جواب دینے کی بجائے امیر المومنین سے عرض کی کہ جب آپ کسی ایسی پگڈنڈی پر گزرنے کا موقع پائیں جس کے چاروں طرف خار دار جھاڑیاں ہوں تو اس پر آپ کس طرح گزریں گے؟ امیر المومنین نے فرمایا اس راستے کا راہی دامن بچا کر ہی گزرے گا۔ ابی بن کعب {رض}فرمانے لگے کہ اسی کا نام تقو ٰی ہے۔ اور ایسے شخص کو متقی کہا جائے گا جو گناہوں کی آلائشوں سے بچ کر صراط مستقیم پر ثابت قدمی سے چل کر اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر) بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ کتاب پرہیزگاروں کے لیے ہے تو پھر اس کا کیا کمال ہے؟ شاید ان کا مقصد یہ ہے کہ کتاب تو ایسی ہونی چاہیے تھی جو فاسقوں‘ فاجروں اور مجرموں کو کھینچ کر صراط مستقیم پر گامزن کر دے۔ دراصل یہ لوگ اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور کی صلاحیتوں سے ہمکنار فرما کر یہ اختیار دیا ہے کہ وہ نیکی اور بدی، نفع اور نقصان، دائمی اور عارضی فوائد میں جس کا چاہے انتخاب کرے۔ برائی سے اجتناب نہ کرنے والے کی مثال اس مریض کی طرح ہے جس کو ایک خیر خواہ حکیم اور مہربان والدین بار بار دوائی کھلانے کی کوشش کریں لیکن مریض دوائی کھانے کی بجائے اپنا منہ بند کرلے اور اس کے مرض میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے۔ ایسے حضرات سے پوچھنا چاہیے کہ اس میں حکیم کی حکمت، ماں کی مامتا اور والد کی شفقت کا کیا قصور ہے؟ اس لیے جاننا چاہیے کہ انسان کے لیے ہدایت کو جبری کی بجائے اختیاری بنایا گیا ہے۔ اگر ہدایت آدمی پر مسلط کردی جاتی تو اس کو قبول کرنے میں انسان کا کیا کمال ہوتا؟ پھر حیوان اور انسان میں امتیاز چہ معنی دارد؟ لہٰذا یہ کتاب انہی کے لیے ہدایت ہے جو ہدایت کے طالب اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسائل : 1- قرآن مجید میں کوئی عیب اور نقص نہیں اور اس کے منجانب اللہ ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ 2- اللہ سے ڈرنے اور گناہوں سے بچنے والوں کے لیے قرآن مجید سر چشمۂ ہدایت ہے۔ تفسیر بالقرآن : تقویٰ کیا ہے؟ 1- اللہ کی ذات، احکام اور اس کے شعائرکے احترام کرنے کا نام تقویٰ ہے۔ (الحج :32) 2-تقویٰ نام ہے اللہ کے احکام پر عمل پیرا ہونے اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے کا۔ (النور :52) 3- تقویٰ نام ہے سمع و اطاعت کے باوجود اپنے رب سے ڈرتے رہنے کا۔ (التغابن :16) قرآن مجید کی عظمت وصداقت : 1-قرآن مجید سراپا رحمت اور کتاب ہدایت ہے۔ ( لقمان :3) 2-یہ بابرکت اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے۔ ( الانعام :92) 3-اس میں ہدایت کے متعلقہ ہر چیز واضح کی گئی ہے۔ ( النحل :98) 4-یہ روشن اور بین کتاب ہے۔ ( المائدۃ:15) 5-پہلی کتابوں کی حقیقی تعلیم کی نگہبان ہے۔ (المائدۃ:48) قرآن مجید کے اسمائے گرامی : 1-القرآن (الاسراء :88) 2-الفرقان (الفرقان :1) 3-الذکر (الانبیاء :50) 4-التنزیل (الشعراء :192) 5-الحدیث (الزمر :23) 6-الموعظۃ (یونس :57) 7-الحکمۃ (القمر :5) 8-الحکم (الرعد :37) 9-الحکیم (یٰس :2) 10-المحکم (ھود :1) 11-الشفاء (الاسراء :82) 12-الھدیٰ (البقرۃ:2) 13-الھادی (الاسراء :9) 14-الصراط المستقیم (المائدۃ:16) 15-الحبل (آل عمران :103) 16-الرحمۃ (الاسراء :82) 17-الروح (الشوریٰ:52) 18-القصص (یوسف :3) 19-البیان (آل عمران :138) 20-التبیان (النحل :89) 21-المبین (یوسف :1) 22-البصائر (الاعراف :203) 23-قول الفصل (الطارق :13) 24-المثانی (الزمر :23) 25-النعمۃ (الضحی :11) 26-البرہان (النساء :174) 27-البشیر (فصلت :4) 28-النذیر (فصلت :4) 29-القیم (الکھف :2) 30-المھیمن (المائدۃ:48) 31-النور (الاعراف :157) 32-العزیز (فصلت :41) 33-الکریم (الواقعہ :77) 34-العظیم (الحجر :87) 35-المبارک (الانبیاء :50) (بحوالہ تفسیررازی ) البقرة
3 فہم القرآن : ربط کلام : کتاب حق کے تعارف کے بعد اس کے پیغام کا بیان اور ہدایت پانے والوں کے چھ جامع اور مرکزی اوصاف کا تذکرہ۔ ایمان کا اولیّن تقاضا یہ ہے کہ انسان ان دیکھی حقیقتوں کا اقرار کرے۔ جس میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانا اور اس کے حکم کے مطابق ہر بات کو ماننا شرط اول ہے۔ یہی انسانیت کا شرف اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی پاسداری ہے۔ ان حقیقتوں پر ان دیکھے ایمان لانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ آدمی میں یہ استعداد اور طاقت نہیں کہ وہ اپنی آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی زیارت کرسکے اور نہ ہی اس میں ملائکہ اور قبر کے عذاب کو دیکھنے کی ہمت ہے حتی کہ انسان تو ان آنکھوں کے ساتھ جنت کے حسن و جمال کی جھلک بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ رسول محترم {ﷺ}کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ جب آپ {ﷺ}نے جبرئیل امین (علیہ السلام) کو اصلی حالت میں ملاحظہ فرمایا تو آپ کا جسم اطہر تھر تھرانے لگا، رونگٹے کھڑے ہوگئے آپ {ﷺ}اپنے آپ میں شدید خطرہ محسوس کرتے ہوئے گھر آ کر شدید گرمی کے موسم کے باوجود کمبل لے کرلیٹ گئے اور کچھ سکون کے بعد اپنی زوجہ مکرمہ سے اظہار فرمایا کہ میں اپنے بارے میں شدید اندیشہ محسوس کر رہا ہوں۔ (رواہ البخاری : کتاب بدء الوحی) قبر کے عذاب کے بارے میں فرمایا : ” اگر انسان اور جن قبر کا عذاب سن لیں تو بے ہوش ہوجائیں۔“ (رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب المیت) جنت کی حور کے بارے میں ارشاد ہوا : ” اگر وہ آسمان سے نیچے جھانکے تو ہر چیز منور ہوجائے۔“ (رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب الحور العین) گویا کہ انسان اپنی ہمت سے بڑھ کر نہ حسن و جمال دیکھ سکتا ہے اور نہ ہیبت ناک منظر برداشت کرسکتا ہے اس بنا پر غیب پر ایمان لانا ایمان کی اولین شرط ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا بندہ اور غلام ہے۔ غلام کا کام اپنے آقا کا حکم ماننا ہے، ہر حکم کی حقیقت جاننا نہیں۔ اقامت صلوٰۃ : اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ عبادت کا لفظ بڑا جامع ہے عبادت کی سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ صورت نماز ہے۔ اسی لیے پہلے انبیاء اور امتوں کو نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اور امت محمدیہ کو بھی یہی حکم ہوا ہے کہ وہ نماز قائم کریں(النور: 52)۔ دین اجتماعیت کا سبق دیتا ہے اور نماز اس کا عملی نمونہ پیش کرتی ہےتاکہ مسلمانوں میں وحدت اور اجتماعیت کا شعور پیدا ہو۔ اقامت صلوٰۃ سے مراد اس کے ظاہری آداب و شرائط بجا لانے کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور روحانی فوائد کا حصول ہے۔ اس لیے یہاں ” اقرء وا الصلوٰۃ“ یا صرف ” صلوا“ کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ﴿ اقیموا الصلوٰۃ﴾ کا جامع لفظ استعمال فرما کر واضح کیا گیا ہے کہ نماز پڑھنے اور ادا کرنے کے لحاظ سے جامع اور مکمل ہونی چاہیے۔ اس میں طہارت، ارکان کی صحیح ادائیگی، اخلاص اور جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم شامل ہے۔ اس طرح یہ پانچ وقت کا اجتماعی عمل ہے۔ ﴿اَقِیْمُوا الدِّیْنَ﴾ (الشوریٰ:13) کا لفظ پورے دین کے لیے بھی استعمال ہوا۔ جس طرح دین کا تقاضا صرف اس کے احکامات پڑھ لینے سے پورا نہیں ہوتا جب تک اسے پورے طور پر نافذ نہ کیا جائے ایسے ہی نماز پوری جامعیت کے ساتھ اس وقت قائم ہوگی جب اس کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ نمازی کو حکم ہے کہ نماز میں نظر کو ادھر ادھر نہ اٹھائے۔ یہی حکم نماز کے بعد ہے کہ غیر محرم عورتیں سامنے آئیں تو مرد اپنی نگاہوں کو نیچے رکھا کریں۔ تشہد میں نمازی درود اور التحیات میں سب کی سلامتی کی دعائیں مانگتا ہے۔ یہی جذبہ اسے نماز کے بعد بھی اختیار کرنا چاہیے۔ اسی طرح نماز کے اور بھی تقاضے ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ نماز میں اس قدر انہماک اور تعلق باللہ قائم ہونا چاہیے جیسے بندہ اپنے رب کی زیارت کر رہا ہو۔ (أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہٗ یَرَاکَ) (رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب سؤال جبریل النبی {}عن الإیمان والإسلام والإحسان) ” اپنے رب کی عبادت اس تصور کے ساتھ کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اگر یہ تصور پیدا نہیں ہوسکتا تو کم از کم یہ خیال کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“ زکوٰۃ کی فرضیت : قرآن نے لوگوں کو نماز با جماعت کی شکل میں مسجد میں پانچ وقت اکٹھا ہونے کا حکم دیا ہے تو یہ بات کس طرح گوارا ہوسکتی تھی کہ ایک شخص خوشحال زندگی بسر کر رہا ہو اور اس کے ساتھ کھڑا ہونے والا جسم پر چیتھڑے لپیٹے ہوئے زندگی کے تھپیڑے کھاتا رہے اور صاحب ثروت اس کی پرواہ نہ کرے۔ اسلام کا اجتماعی نظام دو بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے ایک روحانی اور دوسری مادی معاشرے کی تطہیر، تزکیۂ نفس اور تعلق باللہ کے لیے پانچ وقت نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ باہمی ہمدردی، قرابت اور معاشی استحکام کے لیے زکوٰۃ فرض قرار دی گئی تاکہ معاشرتی اونچ نیچ اور معاشی افراط و تفریط کو توازن کے پیمانے کے قریب رکھتے ہوئے باہمی محبت و اخوت کی فضاء قائم کی جائے۔ قرآن مجید نے بار بار صدقہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اس تحریک کو محض لوگوں کی مرضی پر نہیں چھوڑا کہ جس کا دل چاہے خرچ کرے ورنہ مال پر مست ہو کر پھرتا رہے۔ زکوٰۃ کو فرض قرار دیتے ہوئے اسے ایمان کی مبادیات میں شامل فرمایا۔ قرآن مجید میں زکوٰۃ اور نماز کا چھبیس مرتبہ اکٹھا ذکر ہوا ہے۔ نماز حقوق اللہ کی ترجمان ہے اور زکوٰۃ حقوق العباد کی پاسبان۔ یہاں لفظ زکوٰۃ کی بجائے ﴿رَزَقْنٰھُمْ﴾ استعمال فرما کر اشارہ دیا کہ اجتماعی زندگی کا میابی کے ساتھ گزارنے کے لیے زکوٰۃ ہی نہیں بلکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمایا ہے اس میں سے دوسروں پر خرچ اور صرف کرتا رہے۔ جسمانی قوت ہے تو نحیف اور ناتواں بندوں کی خدمت کرے، مالی استعداد ہے تو غریبوں اور ناداروں پر خرچ کرے، علم و بصیرت ہے تو لوگوں کی راہنمائی کرے، اقتدار اور اختیار ہے تو مجبوروں اور کمزوروں کی مدد کرتارہے۔ حضرت ابوبکر {رض}کا زکوٰۃ نہ دینے والوں کے متعلق حکم : (فَقَالَ وَاللَّہِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلاَۃِ وَالزَّکَاۃِ، فَإِنَّ الزَّکَاۃَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّہِ لَوْ مَنَعُونِی عَنَاقًا کَانُوا یُؤَدُّونَہَا إِلَی رَسُول اللَّہِ {}لَقَاتَلْتُہُمْ عَلَی مَنْعِہَا ) (رواہ البخاری : باب وجوب الزکٰوۃ) ” حضرت ابو بکر صدیق نے کہا اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں سے ضرور لڑائی کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کریں گے۔ یقیناً زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر لوگوں نے بکری کا بچہ دینے سے انکار کیا جو وہ اللہ کے رسول کے عہد میں دیا کرتے تھے۔ میں اس کے روکے جانے پہ لڑائی کروں گا۔“ مسائل : 1-غائب پر ایمان لاناضروری ہے۔ 2-نماز قائم کرنافرض ہے۔ 3-اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق سے خرچ کرنا چاہیے۔ 4-قرآن مجید اور پہلی کتابوں پر ایمان لانا اور آخرت کو یقینی جاننا ایمان کے بنیادی ارکان ہیں۔ 5-ارکان اسلام کے تقاضے پورے کرنے والے لوگ ہدایت یافتہ اور کامیاب ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن : نماز کی اہمیت : یہاں نماز اور زکوٰۃ کی فرضیت واہمیت کے چند دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔ ان شاء اللہ تفصیلی مسائل مرحلہ وار موقعہ بموقعہ بیان ہوں گے۔ 1- رسول اللہ {ﷺ}کو نماز کا حکم۔ (العنکبوت :45) 2-حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نماز۔ (ابراہیم :37) 3-حضرت موسیٰ {ﷺ}کو نماز کا حکم۔ (یونس :87) 4-حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نماز۔ (مریم :31) 5- بنی اسرائیل کو نماز کا حکم۔ (البقرۃ:83) 6- تمام امتوں کو اقامت صلوٰۃ کا حکم۔ (البینۃ:5) 7-نماز کا نظام قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ (الحج :44) البقرة
4 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ایمان کے مرکزی ارکان کا ذکر کرنے کے بعد لفظ ” ما“ استعمال فرما کر ایمان کی ان تمام مبادیات وشروعات کا احاطہ کیا گیا ہے جو ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔ اس کی تفصیلات کے لیے رسول کریم {ﷺ}کا ارشاد ملاحظہ فرمائیں جس میں آپ نے یہی لفظ ” مَا“ استعمال فرما کر اس بات کا واضح اشارہ دیا ہے کہ ایمان کی تکمیل اس جامع تصور کے بغیر ممکن نہیں۔ ( لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جئْتُ بِہٖ) (مشکوٰۃ : کتاب العلم : فصل ثالث) ” تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی خواہشات کو میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ کر دے۔“ اسلام کی وسعت تعلیم کا اندازہ لگائیں کہ وہ صرف قرآن مجید پر ہی نہیں بلکہ پہلی تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانا ضروری سمجھتا ہے۔ حالانکہ نزول قرآن کے بعد وہ منسوخ ہوچکی ہیں۔ اس کے باوجود قرآن مجید ان کی حقیقی تعلیمات اور پہلے انبیاء کی تائید کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام انبیاء کی شان اور مقام کے اعتراف و احترام کا حکم دیتا ہے کیونکہ پہلے انبیاء اللہ تعالیٰ کے فرستادہ تھے‘ ان پر نازل ہونے والی کتابیں من جانب اللہ تھیں اور دین کے بنیادی ارکان ہمیشہ سے ایک ہی رہے ہیں لیکن ہدایت کے لیے اب قرآن اور اس پر کماحقہ عمل کرنے کے لیے جناب محمد {ﷺ}کی ذات گرامی واجب الاتباع قرار پائی ہے۔ ایمان کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے آپ {ﷺ}نے جبریل امین (علیہ السلام) کے سوال کے جواب میں فرمایا : (اَنْ تُؤْمِنَ باللّٰہِ وَمَلائکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ)(رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب بیان الإیمان والإسلام والإحسان) ” تو اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، قیامت کے دن، اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لائے۔“ دوسرے مقام پر رسول محترم {ﷺ}نے فرمایا : (اَلْإِیْمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ شُعْبَۃً فَأَفْضَلُھَا قَوْلُ لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَدْنَاھَا إِمَاطَۃُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ وَالْحَیَاءُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْإِیْمَانِ) (رواہ مسلم : باب بیان عدد شعب الإیمان وأفضلھا وأدناھاوفضیلتُہُ) ” ایمان کے ستر سے کچھ اوپر اجزاء ہیں۔ ان میں افضل ترین ” لَا اِلٰہَ اِلَّااﷲُ“ کا اقرار ہے اور سب سے ادنیٰ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان میں شامل ہے۔“ ایمان کا معنٰی : ایمان کا معنٰی ہے دل سے تصدیق کرنا، زبان سے اس کا اظہار کرنے کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہونا۔ ایقان کا معنٰی : کسی سچائی کو دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اس طرح تسلیم کرنا کہ اس میں شک اور تردد کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ یہ ایقان کا درجہ ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو اس طرح مانتے اور عمل پیرا ہوتے ہیں وہی ایمان دارہیں۔ جب تک آدمی آخرت پر سچا ایمان نہ لائے اس وقت تک اس کی زندگی پر قرآن و سنت کے پورے اثرات مرتب نہیں ہو سکتے۔ قرآن مجید نے اللہ اور اس کے رسول {ﷺ}کی اطاعت کے بعد سب سے زیادہ عقیدۂ آخرت پر زور دیا ہے کیونکہ اس کے بغیر نیکو کاروں کو پورا پورا اجر اور نافرمانوں کو ٹھیک ٹھیک سزا نہیں مل سکتی۔ آخرت کی جواب دہی کا تصور ہی انسان کو درست رکھ سکتا ہے۔ مسائل : 1- قرآن مجید‘ پہلی آسمانی کتب اور آخرت پر ایمان لانا فرض ہے۔ تفسیر بالقرآن : آخرت پر یقین محکم ہونا چاہیے : 1- آخرت برحق اور اس کے برپا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ (الکہف :21) 2- ایمانداروں کی نشانی یہ ہے کہ وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ (البقرہ :3) 3- اللہ تعالیٰ کی آیات اور آخرت کو جھٹلانے والوں کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ (الاعراف :147) 4- آخرت کے منکروں کی خواہشات کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ ( الانعام :151) 5- اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ (العنکبوت :64) 6- اللہ اور آخرت پر یقین رکھنے والے کو کوئی ڈر نہیں ہوگا۔ (المائدۃ: 69) 7- آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی کی کوئی حقیقت نہیں۔ (الرعد: 26) 8-اخروی زندگی ہی بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ (الاعلی: 18) البقرة
5 فہم القرآن : ربط کلام : ایمان کے چھ اوصاف اپنانے اور ان کے تقاضے پورے کرنے والوں کو کامیابی کا مژدہ سنایا جاتا ہے۔ کتاب مبین کے الفاظ اور اس کی ہدایت پر کسی شک وتردد کے بغیر یقین کرنا، قرآن مجید کے بتلائے ہوئے ان دیکھے حقائق پر ایمان لانا، نماز کی شرائط کے مطابق اس کی ادائیگی اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا انفاق، قرآن و حدیث کی صورت میں جو کچھ جناب محمد کریم {ﷺ}پر نازل ہوا ہے اسے اعتقاداً، قولًا اور عملًاتسلیم کرنا، انبیاء کرام (علیہ السلام) اور پہلی کتب آسمانی کی تصدیق کرتے ہوئے آخرت کی جواب دہی پر یقین کامل رکھنے والوں کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ یہی وہ خوش نصیب ہیں جو اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح و کامیابی سے سر فراز ہونے والے ہیں۔ فلاح کسی ادھوری اور جزوی کامیابی کو نہیں کہتے بلکہ فلاح اس مکمل کامیابی کو کہا جاتا ہے جس کے دامن میں دنیا و آخرت کی سعادتیں اور برکتیں سمٹ آئی ہوں۔ لیس فی کلام العرب کلہ اجمع من لفظۃ الفلاح لخیری الدنیا و الاخرۃ کما قالہ ائمۃ اللغۃ.“ [ تاج العروس] ” ائمہ لغت نے تصریح کی ہے کہ عربی زبان میں فلاح کے لفظ سے زیادہ اور کوئی جامع لفظ نہیں جو دنیا وآخرت دونوں کی خیرات و برکات پر دلالت کرتا ہو۔“ مسائل : 1-اللہ تعالیٰ اور غائب پر ایمان لانا، نماز قائم کرنا۔ 2-اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق سے خرچ کرنا۔ 3-قرآن مجید، پہلی کتابوں اور انبیاء کرام پر ایمان لانا۔ 4-آخرت کو یقینی جاننا ایمان کے بنیادی ارکان ہیں۔ تفسیر بالقرآن : کامیاب کون؟ 1- ایمان کے تقاضے پورے کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ ( الاعراف :157) 2- رسول محترم {ﷺ}پر ایمان لانے اور آپ {ﷺ}کی عزت و تکریم کرنے والے کامیاب ہوں گے (الاعراف :157) 3-اللہ کے راستے میں مال و جان کے ساتھ جہاد کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (التوبۃ:88) 4-غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (الروم :38) البقرة
6 فہم القرآن : (آیت 6 سے 7) ربط کلام : لوگوں کی دوسری قسم جنہوں نے حق کا انکار کیا ان کے مزاج اور انجام کا بیان۔ لغت میں کفر کا معنٰی ہے کسی شے کو چھپانا۔ جو شخص نعمت کو چھپائے اور اس کا شکرادا نہ کرے اس کے فعل کو کفر اور کفران نعمت کہتے ہیں۔ سب سے بڑا کفر اللہ کی وحدانیت اور شریعت، نبوت کا انکار ہے۔ قرآن مجید میں کفر کا لفظ کفران نعمت اور کفر باللہ دونوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ (اَلْکُفْرُ عَدَمُ تَصْدِیْقِ الرَّسُوْلِ فِیْمَا عُلِمَ بالضَّرُوْرَۃِ مَجِیْئُہٗ بِہٖ) (تفسیر رازی : ص 306، ج1) ” کفر کے معنٰی یہ ہیں کہ رسول اور پیغمبر کی اس بات میں تصدیق نہ کرنا جس کا بدیہی اور قطعی طور پر دین سے ہونا معلوم ہوچکا ہے۔“ حقائق کا مسلسل انکار اور ہٹ دھرمی پر قائم رہنے والوں کی یہ حالت ہوچکی ہوتی ہے کہ ان کے لیے سمجھانا اور نہ سمجھانا یکساں ہوجاتا ہے۔ ان آیات میں ایک طرف نبی کریم {ﷺ}کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کا کام ” اللہ“ کا پیغام پہنچانا اور لوگوں کو سمجھانا ہے۔ اگر یہ لوگ حق کا مسلسل انکار کئے جا رہے ہیں تو آپ کو دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اور نہ ہی ایسے ہٹ دھرم لوگوں پر مزید صلاحیتوں کو صرف کرنا چاہیے کیونکہ ان کے سچ اور حق کو قبول کرنے والے اعضاء بے کار کردیے گئے ہیں۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر اللہ نے ہی ان کی قوت فہم و سماعت ختم کردی ہے اور ان کی بصارت پر پردے ڈال دیے ہیں تو ان کا کیا قصورہے ؟ در حقیقت یہ لوگ آیات کے سیاق و سباق سے ہٹ کر یہ معنٰی نکال کر اپنی کم فہمی یا منفی سوچ کا اظہار کرتے ہیں۔ جبکہ ان آیات کا مفہوم سمجھنے کے لیے ایک مشفق و مہربان حکیم کی مثال سامنے رکھنی چاہیے جو کسی مریض کو مرض کے نقصانات بتلا اور دوائی کے فائدے سمجھا کر بار بار دوائی کھلانے کی کوشش کرتا ہے لیکن مریض نہ صرف اپنا منہ بند کرلیتا ہے بلکہ ہر قسم کی بد پرہیزی اور حکیم کے ساتھ بد تمیزی کرنے میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ مریض کی بد تمیزی اور ہٹ دھرمی دیکھ کر اگر حکیم یہ کہہ دے کہ مریض اپنی موت کو دعوت دے رہا ہے لہٰذا اسے مرنے ہی دینا چاہیے تو اس میں حکیم کا قصور سمجھا جائے گا یا مریض کا؟ دوسرے مقام پر قرآن مجید نے واضح فرمایا ہے کہ ان کے گناہوں اور کفر کی وجہ سے ان کے کان بہرے، آنکھیں اندھی اور دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں۔ (الاعراف :179) ان آیات میں کفر و شرک کے مریض کی حالت اور نبی کریم {ﷺ}کی بھر پورکوششوں کا نقشہ پیش فرما کر رب کریم نے آپ {ﷺ}کو تسلی دی ہے اور انکار کرنے والوں پر ہمیشہ کی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان کو اس قدر ہولناک اور اذیت ناک عذاب ہوگا کہ وہ دنیا کی سب نعمتوں اور سہولتوں کو بھول جائیں گے۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}یُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَھْلِ الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُصْبَغُ فِی النَّارِ صَبْغَۃً ثُمَّ یُقَالُ یَاابْنَ آدَمَ ھَلْ رَأَیْتَ خَیْرًا قَطُّ ھَلْ مَرَّبِکَ نَعِیْمٌ قَطُّ فَیَقُوْلُ لَاوَاللّٰہِ یَارَبِّ وَیُؤْتٰی بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِی الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیُصْبَغُ صَبْغَۃً فِی الْجَنَّۃِ فَیُقَالُ لَہٗ یَا ابْنَ آدَمَ ھَلْ رَأَیْتَ بُؤْسًا قَطُّ ھَلْ مَرَّ بِکَ شِدَّۃٌ قَطُّ فَیَقُوْلُ لَا وَاللّٰہِ یَارَبِّ مَا مَرَّ بِیْ بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَیْتُ شِدَّۃً قَطُّ) (رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب صبغ أنعم أھل الدنیا فی النار.....) ” حضرت انس بن مالک {رض}بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول {ﷺ}نے فرمایا : روز قیامت دنیا میں سب سے زیادہ ناز و نعمت میں پلنے والے جہنمی کو لا کر آگ میں غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے کبھی کوئی بہتری دیکھی؟ کیا تجھے کوئی نعمت ملی؟ تو وہ کہے گا : اللہ کی قسم! اے میرے رب میں نے کوئی نعمت نہیں دیکھی۔ پھر ایک جنتی کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ تکلیفوں میں رہا اسے جنت میں داخل کر کے پوچھا جائے گا اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف اور سختی دیکھی؟ وہ عرض کرے گا نہیں اللہ کی قسم! مجھے کبھی کوئی تکلیف اور مصیبت نہیں آئی۔“ مسائل : 1- کفر پر پکے لوگوں کو سمجھانا یا نہ سمجھانا ایک جیسا ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : جن لوگوں کے دلوں پر اللہ نے مہریں لگائی ہیں : 1- ہم اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیا کرتے ہیں۔ (یونس: 74) 2- اللہ تعالی نے انکے کفر کی وجہ سے انکے دلوں پر مہر لگا دی۔ (النساء: 155) 3- اللہ کفار کے دلوں پر مہر ثبت کرتا ہے۔ (الأعراف: 101) 4- جو لوگ ایمان لائے اور اس کے بعد کفر کیا اللہ نے انکے دلوں پر مہر لگا دی۔ (المنافقون: 3) 5- اللہ ہر تکبر کرنے والے سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ (المؤمن: 35) 6-اللہ نے ان کے دلوں پر مہر ثبت فرمادی سو وہ نہیں جانتے۔ (التوبہ: 93) البقرة
7 البقرة
8 فہم القرآن : (آیت 8 سے 9) ربط کلام : ایمان کی مبادیات تسلیم کرنے سے انکار کرنے والوں کے بیان کے بعد تیرہ آیات میں منافقوں یعنی دوغلے لوگوں کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ معلوم ہو کہ نبی {ﷺ}اور ہر داعی حق کو تین قسم کے لوگوں سے سابقہ پیش آئے گا۔ لہٰذا گھبرانے اور حوصلہ ہارنے کی ضرورت نہیں بلکہ اس میدان کے غازی کو اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔ نفاق : دل میں کفر اور ظاہر میں اسلام کا اظہار کرنا نفاق کہلاتا ہے۔ نفاق کی دو قسمیں ہیں، اعتقادی نفاق اور عملی نفاق دونوں احکام کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ تین قسم کے لوگ : نظریاتی اعتبار سے دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوا کرتے ہیں۔ (1) حق اور سچ قبول کرنے والے۔ (2) حق کا انکار کرنے والے (3) ذاتی مفاد یا فکری انتشار کی وجہ سے ہمیشہ تذبذب کا شکار اور دنیوی مفاد کی خاطر اعراض کرنے والے لوگ جنہیں قرآن مجید نے منافق قرار دیا ہے۔ یہ ڈبل چہرے اور دوہرے کردار کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایسا شخص نہ قول کا سچا اور نہ کردار کا پختہ ہوتا ہے۔ اسے ہر بات میں دنیا کا مفاد عزیزہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے مقدّس نام اور دین کے پاکیزہ کام کو بھی اپنی ذات اور مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ حتی کہ آخرت کے عقیدے کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتا۔ منافق، مومنوں کی آستینوں میں گھسے ہوئے سانپ ہیں جو ہر وقت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور شرارتوں میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ اللہ اور مومنوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ کتنا برا اور بد بخت ہے وہ آدمی جو اپنی ذات کو دھوکے میں مبتلا رکھے۔ کیونکہ منافق اللہ کے رسول کو دھوکہ دیتے، دین اور دین داروں کو مذاق کرتے ہیں۔ دین اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور رسول کریم {ﷺ}کو بھی اسی نے مبعوث فرمایا ہے اور مومنوں کو بھی دین کی وجہ سے استہزا کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے دھوکہ کو اپنی ذات کے ساتھ دھوکہ اور مذاق قرار دیا ہے۔ رسول محترم {ﷺ}نے منافق کے کردار کو اس طرح بیان فرمایا ہے : (عَنِ ابْنِ عُمَرَ {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَائرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ تَعِیْرُإِ لٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً وَ إِلٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً) (رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین وأَحکامھم) ” حضرت عبداللہ بن عمر {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان پھرتی ہے کبھی ایک ریوڑکی طرف جاتی ہے کبھی دوسرے کی طرف۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ()۔۔ قَالَ مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنِّیْ) (رواہ مسلم : کتاب الإیمان باب قول النبی { }من غشنا فلیس منا) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا جس نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے نہیں۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ) (رواہ البخاری : باب علامۃ المنافق) ” حضرت ابوہریرہ {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔“ مسائل : 1-منافق اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن حقیقتاً وہ ایمان دار نہیں ہوتا۔ 2- منافق اللہ تعالیٰ اور ایمان داروں کو دھوکا دیتا ہے۔ 3۔ منافق حقیقی فہم و شعور سے عاری ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : منافق کا جھوٹا دعویٰ : 1- منافق دعوی ایمان کے باوجود ایمان دار نہیں۔ ( البقرۃ:8) 2- اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق دعویٰ ایمانی میں جھوٹے ہیں۔ ( المنافقون :1) 3- منافقین نے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا ہوا ہے۔ ( المنافقون :3) 4- منافق ایمان کے دعویٰ کی جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں۔ ( التوبۃ:56) منافق کی دھوکہ بازیاں : 1- منافق اللہ اور مومنوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ( البقرۃ:9) 2- منافق رسول {ﷺ}کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ( المنافقون :1) 3- منافق نماز بھی دھوکہ دینے کی خاطر پڑھتے ہیں۔ ( النساء :142) البقرة
9 البقرة
10 فہم القرآن : ربط کلام : منافقت ایک روحانی بیماری ہے جس سے کئی جرائم جنم لیتے ہیں۔ منافق جھوٹ بولنے کا عادی ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی روحانی اور اخلاقی بیماریوں میں اضافہ ہی ہوا جاتا ہے بالکل اس مریض کی طرح جس کے لیے بہترین خوراک بھی بیماری میں اضافے کا سبب بنتی ہو۔ یہاں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ انسان جسمانی طور پر ہی بیمار نہیں ہوتا اس کی روح بھی بیمار ہوتی ہے جسم مادی عناصر سے بنا ہے۔ اس کا علاج مادی عوامل سے ہوتا ہے۔ روح اللہ تعالیٰ کا حکم اور ملکوتی ہے۔ اس کا علاج روحانی یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کے نبی کی تابعداری سے ہوتا ہے۔ (إِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَایَعْلَمُھُنَّ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُھَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَعِرْضِہٖ وَمَنْ وَقَعَ فِی الشُّبُھَاتِ وَقَعَ فِی الْحَرَامِ کَالرَّاعِیْ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ أَنْ یَّرْتَعَ فِیْہِ أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہٗ أَلَا وَإِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَإِذَ فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ أَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ) (رواہ مسلم : کتاب المساقاۃ، باب أخذ الحَلال وترک الشبھات) ” یقیناً حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی۔ ان کے درمیان کچھ متشابہات ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے جو شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑگیا وہ حرام میں مبتلا ہوگیا۔ یہ اس چرواہے کی طرح ہے جو چراگاہ کے قریب جانور چراتا ہے ہوسکتا ہے وہ جانور چراگاہ میں چرنا شروع ہوجائیں۔ خبردار! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو! یقیناً جسم میں ایک ٹکڑا ہے وہ ٹھیک ہو تو سارا جسم درست ہوتا ہے اور وہ فاسد ہو تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے یاد رکھو! وہ دل ہے۔“ رسول اللہ {ﷺ}سے استفسار کیا گیا کہ کیا مومن جھوٹ بول سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں۔ (مؤطا امام مالک : کتاب الجامع، باب أن عبداللہ بن مسعود کان یقول علیکم بالصدق ) (إِیَّاکُمْ وَ الْکَذِبَ فَإِنَّ الْکَذِبَ یَھْدِیْ إِلَی الْفُجُوْرِ وَإِنَّ الْفُجُوْرَ یَھْدِیْ إِلَی النَّارِ وَمَایَزَال الرَّجُلُ یَکْذِبُ وَیَتَحَرَّی الْکَذِبَ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللّٰہِ کَذَّابًا) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ والآداب) ” تم جھوٹ سے کنارہ کش رہو۔ اس لیے کہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ دوزخ میں پہنچا دیتا ہے۔ جب ایک شخص ہمیشہ جھوٹ بولتا اور جھوٹ کا عادی ہوجاتا ہے تو وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔“ دل کی حالت : (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ {}قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْئَۃً نُکِتَتْ فِیْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ھُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَادَ زِیْدَ فِیْھَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَھُوَ الرَّانُ الَّذِیْ ذَکَرَ اللّٰہُ ﴿کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ﴾) (رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن) ” حضرت ابوہریرہ {رض}رسول اللہ {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پرسیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ گناہ چھوڑ دے اور توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل پالش ہوجاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو سیاہی اس کے دل پر چڑھ جاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہ (ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے زنگ چڑھ چکا ہے۔) “ مسائل: 1- منافقت دل کی بیماری ہے۔ 2- منافق جھوٹا ہوتا ہے۔ 3-منافقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ منافق کی بیماری کو بڑھا دیتا ہے۔ 4- منافق کو اذیت ناک عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : روحانی بیماریاں : 1- ریاکاری۔ ( البقرۃ: 264، النساء : 142، الأنفال : 47، الماعون : 4تا 6 ) 2- قساوت قلب۔ (المائدۃ: 13، الزمر :22) 3- کفر۔ (البقرۃ:10) 4-تکبر۔ (النحل : 22، لقمان : 18، النساء :172) 5- کجی۔ ( التوبۃ: 117، آل عمران : 7، الصف :5) 6- دل کا زنگ آلود ہونا۔ ( المطففین :14) 7-حسد۔ ( البقرۃ: 109، النساء :54) 8- سرکشی۔ ( البقرۃ: 90، 213، یونس :90) 9- بغض۔ (آل عمران : 118، المائدۃ: 91، الممتحنۃ:4) البقرة
11 فہم القرآن : (آیت 11 سے 12) ربط کلام : منافقت کی بیماری کی وجہ سے منافق کو اصلاح اور بگاڑ کے درمیان شعور نہیں رہتا۔ اصلاح و فساد کی ابتدا انسان کے ضمیر سے ہوتی ہے۔ ضمیر بگڑتا ہے تو طبیعت میں برائی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ جو آدمی کے کردار پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ جس سے اکثر اوقات سوچ کے زاویے اس قدر بگڑ جاتے ہیں کہ آدمی کو اصلاح اور بگاڑ میں فرق محسوس نہیں ہوتا۔ خاص کر ایسا شخص جو اپنے مفاد کے لیے اللہ تعالیٰ کے مقدس نام اور آخرت کے عقیدہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے۔ اس کا ضمیر اس حد تک پستی کا شکار ہوجاتا ہے کہ اس سے ہر گناہ اور جرم کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ایسے لوگوں پر جتنے نگران مقرر کردیے جائیں اور انہیں لاکھ سمجھائیں۔ اصلاح کی بجائے ان کے بگاڑ میں اضافہ ہی ہوا کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ رشوت کے خاتمہ کے لیے انسداد رشوت ستانی کے محکمہ سے رشوت کے ریٹ بڑھ جاتے ہیں۔ فروغ تعلیم کے نام پر جہالت، معلومات عامہ کے نام پر گندہ لٹریچر، کلچر کے نام پر بے حیائی، عدل و انصاف کے نام پر ججز اور وکلاء کی قانونی موشگافیاں، شیطان کی آنت کی طرح پھیلا ہوا عدالتی نظام بگڑتاہی چلا جاتا ہے۔ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد کے نام پر وسیع تر فساد کا جال بچھا دیا جاتا ہے۔ امن و امان قائم کرنے کے نام پر بے گناہوں کا قتل عام، یہ سب اصلاح اور فلاح کے نام پر ہی تو کیا جاتا ہے۔ ایسی حکومتوں، افسروں اور اداروں کے ذمہ داران کو سمجھا کر دیکھ لیجئے۔ جواب یہی ملے گا کہ ہم تو اصلاح احوال اور فلاح عوام کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ لوگ فسادی ہیں مگر حقیقی شعور سے محروم ہونے کی وجہ سے اصلاح اور فساد میں فرق نہیں سمجھتے جس وجہ سے اپنے آپ کو مصلح سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے مسلمانوں کو خبردار اور ہوشیار رہنے کا حکم دیا گیا کہ ان منافقوں اور فسادیوں سے بچتے رہنا۔ مسائل: 1- منافق فسادی ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مصلح سمجھتا ہے۔ 2- منافق حقیقی سمجھ سے تہی دامن ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : فسادی کون؟ 1-منافقین (البقرۃ:11) 2-زمین میں فساد لوگوں کے اعمال کا نتیجہ ہے (الروم :41) 3- یاجوج و ماجوج (الکہف : ٩٤) 4-فرعون (یونس :91) 5-یہودی (المائدۃ:64) 6-بچوں کے قاتل (القصص :4) البقرة
12 البقرة
13 فہم القرآن : ربط کلام : منافق دوغلا، جھوٹا اور فسادی ہی نہیں ہوتا بلکہ اپنی منافقت کے کھوٹ کی وجہ سے مخلص مسلمانوں کو بیوقوف کہتا اور سمجھتا ہے۔ منافق ابن الوقت اور مفاد پرست ہوتا ہے۔ اسی لیے مخلص، ایثار پیشہ اور با اصول شخص کو پسند نہیں کرتا۔ صحابہ کرام {رض}ایثار کے پیکر اور قربانی کے خوگر تھے۔ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور اسلام کی سر بلندی کی خاطر ہر چیز قربان کرنے کی بے مثال اور لا زوال مثالیں قائم کیں تھیں۔ منافقین ایسے مخلص حضرات کو کس طرح پسند کرسکتے تھے؟ ربِّ کریم نے جب منافقوں کو حکم دیا کہ تم بھی نبی {ﷺ}کے اصحاب کی طرح مخلصانہ ایمان اور فدا کاری کا رویہ اختیار کرو۔ منافقین نے تسلیم و رضا کا روّیہ اپنانے کی بجائے کہا : کیا ہم ان بے وقوفوں کی طرح کاروبار تباہ کرلیں اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیں؟ یہ تو سراسر حماقت کا راستہ ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اپنے خالق و مالک کا فرمان تسلیم کرنا اور اس کے حکم پر سب کچھ قربان کردینا بے وقوفی نہیں۔ حماقت اور بے وقوفی تو یہ ہے کہ آدمی اپنے رب کا نافرمان اور اس کے ساتھ عدم اخلاص کا رویّہ اور فانی دنیا کے لیے ہمیشہ کی زندگی کو برباد کرلے۔ اس فرمان میں رہتی دنیا تک صحابہ کرام {رض}کے ایمان کو جہان والوں کے لیے معیار قرار دیتے ہوئے صحابہ کو برا کہنے والوں کو احمق، منافق اور علم و آگہی سے نا بلد قرار دیا گیا ہے۔ مسائل: 1-منافق صحابہ کرام {رض}کو بیوقوف سمجھتے ہیں۔ 2- حقیقتاً منافق بے وقوف ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : بیوقوف کون؟ 1- ملت ابراہیم سے اعراض کرنے والابیوقوف ہے۔ (البقرۃ:130) 2- صحابہ کو برا کہنے والابیوقوف ہے۔ (البقرۃ:12) 3- حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ سے انحراف کرنے والابیوقوف ہے۔ (البقرۃ:13) 4- قبلہ پر اعتراض کرنے والے بیوقوف ہے۔ (البقرۃ:142) البقرة
14 فہم القرآن : ربط کلام : منافقت کے سبب اور حقیقی شعور سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے کردار میں کھوکھلہ پن پیدا ہوجاتا ہے۔ جس وجہ سے منافق ایسی گفتگو کرتا ہے۔ منافق جب ایمان داروں سے ملتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اسلام کی خوبیاں، رسول محترم {ﷺ}کے اوصاف اور مومنوں کے حسن کردار کا ذکر کرتے ہوئے ایمان کے دعویدار بنتے ہیں۔ لیکن جب اپنے لیڈروں کی طرف پلٹتے ہیں تو ان کو تسلی دیتے ہیں کہ ہمارے بارے میں فکر نہ کرنا ہم تمہارے ہی ہیں ہم تو مسلمانوں کے ساتھ شغل اور دکھاوے کے لیے ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں قرآن مجید نے ان کے بڑوں کو شیطان قرار دیا ہے کیونکہ ان کے بڑے شیطان کی طرح نہ صرف خود گمراہ ہیں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔ منافق اخلاقی لحاظ سے اس قدر سفلہ مزاجی کا شکار ہوتا ہے کہ وہ ایمان جیسے گراں قدر اور حساس معاملے کو بھی مذاق سمجھتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ان کے گناہ کی طرف توجہ دلائی جائے تو وہ اپنی خفت مٹانے اور شرمندگی چھپانے کے لیے کہتے ہیں کہ تم تو خواہ مخواہ سنجیدہ ہو رہے ہو ہم تو خوش طبعی کے طور ایسا کر رہے تھے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ {رض}قَالَ قَال النَّبِیُّ {}تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ اللَّہِ ذَا الْوَجْہَیْنِ، الَّذِی یَأْتِی ہَؤُلاَءِ بِوَجْہٍ وَہَؤُلاَءِ بِوَجْہٍ) (رواہ البخاری : باب ما قیل فی ذی الوجہین) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک لوگوں میں سے بدترین شخص دوچہروں والا (منافق) ہوگا۔ جو اس طرف ایک چہرے کے ساتھ آتا ہے اور دوسری طرف دوسرے چہرے سے۔“ مسائل: 1-منافق دوغلی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ 2- بڑے منافق شیطان کے قائم مقام ہوتے ہیں۔ 3- منافق اللہ اور اہل ایمان کو مذاق کرتے ہیں۔ البقرة
15 فہم القرآن : ربط کلام : منافقت اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ یہاں منافقین کے کردار کے بارے میں لفظ طغیان استعمال کیا ہے جو ایک محاورہ بھی ہے کہ دریا میں طغیانی ہے۔ یعنی دریا اپنی حد سے آگے بڑھ گیا ہے۔ یہی حالت گناہ کے وقت انسان کی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنی فطرت سلیم سے آگے بڑھ کر گناہ کرتا ہے۔ مذاق کرنا اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے لیکن منافقوں پر ناراضگی اور مومنوں سے مذاق کرنے کی وجہ سے منافقوں کے مذاق کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب فرما رہا ہے۔ کیونکہ مومنوں کو اللہ پر ایمان لانے کی وجہ سے مذاق نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ مذاق کرنے کے مترادف سمجھتا ہے۔ نبی کریم {ﷺ}نے اس بات کو وسیع ترین تناظر میں یوں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اعلان جنگ : (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}إنّ اللّٰہَ قَالَ مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہٗ بالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ أَحَبَّ إِلیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ إِلَیَّ بالنَّوَافِلِ حَتّٰی أُحِبَّہٗ فَإِذَا أَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یَبْصُرُبِہٖ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِھَا وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَا وَإِنْ سَأَلَنِیْ لَأُعْطِیَنَّہٗ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَأُعِیْذَنَّہٗ وَمَا تَرَدَّدْتُّ عَنْ شَیْءٍ أَنَا فَاعِلُہٗ تَرَدُّدِیْ عَنْ نَّفْسِ المُؤْمِنِ یَکْرَہُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَکْرَہُ مَسَاءَ تَہٗ) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب التواضع ) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ میں نے جو چیزبندے پر فرض کی اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں جس سے وہ میرا قرب حاصل کرے۔ بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ جب میں اس کے ساتھ محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا کرتاہوں‘ اگر مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے پناہ دیتاہوں۔ میں اپنے کسی کام میں اتنا تردُّد نہیں کرتاجتنا ایک مومن کی جان قبض کرنے میں کرتا ہوں کیونکہ بندہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اس کی تکلیف اچھی نہیں لگتی جس نے ولی کو تکلیف دی۔“ کوئی مجرم اللہ تعالیٰ کی دسترس سے باہر نہیں ہوسکتا اس کے باوجود اس نے منافق کو دین اور دین داروں کے ساتھ مذاق کرنے کی مہلت دے رکھی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہے۔ سخت ناراضگی کے اظہار کے طور پر مذاق کا لفظ ذات کبریا نے اپنی طرف منسوب کیا ہے جب ان کے لیڈر سازشوں کے بے نقاب ہونے کے خوف سے ان کو روکتے ہیں۔ تو ان کے چیلے چانٹے یہ کہہ کر ان کو مطمئن کرتے ہیں کہ ہم تو مسلمانوں کو مذاق کے طور پر ایسی باتیں کرتے ہیں۔ اس عیاری اور چالاکی کی وجہ سے ان کی عقل پر پردہ پڑچکا ہے۔ یہ جھوٹ، سازش اور منافقت کے پردہ چاک ہونے کے خوف سے دل ہی دل میں پریشان رہتے ہیں اور ایسی باتوں اور ساتھیوں پر خوش ہوتے ہیں۔ یاد رکھیے! گناہ کا نقصان صرف یہی نہیں کہ دنیا میں ذلّت اور آخرت میں سزا ہوگی بلکہ گناہ کا پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان کا دل گناہ کی وجہ سے پریشان رہتا اور گناہ سے آدمی کی طبیعت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گناہ گار ضمیر کا چور اور بزدل ہوجاتا ہے۔ جبکہ نیکی میں اطمینان ہے اور گناہ میں پریشانی۔ کبھی جرائم پیشہ اور بد کا رکو ٹٹول کر دیکھو بظاہر ہشاش بشاش نظر آنے کے باوجودوہ کس طرح پریشان ہوتا ہے۔ قرآن مجید اسی قلبی اضطراب کا ذکر کر رہا ہے کہ وہ اپنے نفس کی طغیانیوں اور نافرمانیوں میں پریشان رہتے ہیں۔ نفسیات کے معلّم اعظم {ﷺ}نے گناہ کی تعریف اس طرح فرمائی ہے : (اَلْإِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ وَکَرِھْتَ أَنْ یَّطَّلِعَ عَلَیْہِ النَّاسُ) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ، باب تفسیر البر والإثم) ” گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کو اس کا علم ہونا تجھے ناگوار محسوس ہو۔“ مسائل: 1- منافق کو روز قیامت استہزا کی سزا دی جائے گی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ منافق اور کافر کو دنیا میں ڈھیل دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : استہزا اور اس کی سزا : 1-انبیاء کے ساتھ استہزا کیا گیا۔ (الزخرف :7) 2-اللہ اور اس کی آیات سے مذاق کیا گیا۔ (التوبۃ:65) 3- نماز کے ساتھ استہزا کیا گیا۔ ( المائدۃ:58) 4-کفار نے نبی کریم {ﷺ}سے استہزا کیا۔ ( الأنبیاء :36) 5- استہزا کرنے والوں کو رسوا کن عذاب ہوگا۔ ( الجاثیۃ:9) 6-اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ۔ ( البقرۃ:231) 7- اللہ کی آیات اور انبیاء سے مذاق کی سزا جہنم ہے۔ ( الکہف :106) 8- اے نبی {ﷺ}ہم آپ سے مذاق کرنے والوں سے نمٹ لیں گے۔ (الحجر: 95) 9- جہاں اللہ کی آیات سے مذاق کیا جائے وہاں نہ بیٹھو۔ ( النساء :140) البقرة
16 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے سورۃ الصف میں ایمان، نیک اعمال اور جہاد کو اپنے ساتھ تجارت کرنے کے مترادف قرار دیا ہے منافق ایمان اور اعمال میں مخلص نہیں ہوتے اس لیے وہ اس تجارت میں ہدایت کے بدلے گمراہی کے خریدار بن جاتے ہیں اور دھوکہ باز کی تجارت دینی ہو یا دنیوی اس کا انجام آخر خسارہ ہوتا ہے۔ ایمان کے جھوٹے دعوے اور اس جھوٹ کے ذریعے مومنوں کو دھوکہ دینے کی بنا پر منافقوں کے دل ایمان کی روشنی اور صحیح فیصلہ کرنے کی بصیرت سے محروم ہوچکے ہیں۔ منافق کی حالت اس شخص جیسی ہوچکی ہے جو نقص بصر کی وجہ سے ہر چیز کو ٹیڑھا دیکھتا ہے۔ اسی بنا پر منافق ایمان اور بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے فساد کو اصلاح اور صحابہ کے ایمان کو غیر دانشمندانہ اقدام اور بے وقوفی قرار دیتے ہیں۔ مزید برآں کہ اللہ کی طرف سے ان کی رسی دراز ہوچکی ہے۔ جس بنا پر یہ عقل و دانش سے اندھے حقیقی اور دائمی نفع ونقصان میں فرق کرنے کی صلاحیت سے تہی دامن ہوچکے ہیں۔ اس وجہ سے نفع کی بجائے نقصان پانے والے سوداگر بن چکے ہیں۔ حالانکہ کم سے کم عقل رکھنے والا انسان بھی وہ کام کرتا ہے جس میں اسے زیادہ سے زیادہ فائدہ دکھائی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو نفع و نقصان کا اس قدر شعور بخشا ہے کہ ایک گنوار اور اَن پڑھ ریڑھی لگانے والے محنت کش کو معلوم ہوجائے کہ اس کے مال کی قیمت فلاں بازار یا شہر میں زیادہ ہے۔ تو وہ وہاں جانے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ لیکن اللہ اور اس کے بندوں کو دھوکہ دینے والے منافق اس قدر کوتاہ چشمی کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں کہ انہیں ایمان وایقان اور کفر و نفاق، آخرت اور دنیا کی نعمتوں میں فرق دکھائی نہیں دیتا۔ جب کہ دنیا آخرت کی کھیتی اور نیک اعمال آخرت کی نعمتوں کی قیمت ہیں۔ دنیا دارالعمل اور تجارت گاہ ہے اس بنا پر فطری طور پر انسان کے ہر عمل کے پیچھے نفع اور نقصان کی سوچ کار فرما ہوتی ہے۔ اچھی سوچ کے بدلے ہدایت نصیب ہوتی ہے ہدایت اور نیک عمل کے بدلے جنت عطا ہوگی۔ قرآن مجید نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا اور مال و جان کے ساتھ دین کی سر بلندی کے لیے کوشش کرنے کو بہترین نیکی اور تجارت قرار دیا ہے۔ (الصف : 11تا13) قتال فی سبیل اللہ کے بیان میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانوں کے بدلے جنت کا سودا کرلیا ہے۔ (التوبۃ:111) مومن اپنے رب کی تابعداری کرکے اس کی رضا کا طلب گار اور جنت کا خریدار بن جاتا ہے۔ منافق اپنی منافقت اور کافر اپنے کفر کی وجہ سے اس سودا گری میں دنیا کی ذلت اور آخرت کی سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ منافق جس عارضی عزت اور منفعت کے لیے جو کچھ کرتا ہے وہ حقیقت میں نقصان اور ہدایت سے محرومی کا نتیجہ ہے۔ جب کوئی شخص جان بوجھ کر خسارے کی تجارت کرنے سے باز نہ آئے تو اسے نفع کیونکر ہوسکتا ہے؟ یہی ہدایت کا معاملہ ہے لہٰذا گمراہی کا طالب ہدایت کس طرح پاسکتا ہے؟ اس لئے ارشاد ہوا کہ یہ لوگ ہدایت نہیں پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کرتے رہنا چاہیے : (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ {}أَنَّہُ کَانَ یَقُول اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْہُدَی وَالتُّقَی وَالْعَفَافَ وَالْغِنَی) (رواہ البخاری : باب التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ یَعْمَلْ) ” حضرت عبداللہ {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں کہ آپ {ﷺ}یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، تندرستی اور خوشحالی کا سوال کرتا ہوں۔“ سابقہ آیات میں منافقین کی نشانیاں : 1-منافق دعوی ایمان میں جھوٹا ہوتا ہے۔ 2-منافق شعور سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے۔ 3-منافقت دل کی بیماری ہے۔ 4-منافق اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتا ہے۔ 5-منافق احمق ہونے کے باوجود مومنوں کو بے عقل سمجھتا ہے۔ 6-منافق ایمان جیسی گراں قدر نعمت کو مذاق سمجھتا ہے۔ 7-منافق ہدایت کی بجائے گمراہی کا طلب گار ہوتا ہے۔ مسائل : 1- منافقین ہدایت کے بدلے گمراہی کے خریدار ہیں۔ 2- منافقین کی یہ تجارت سود مند نہ ہوگی۔ تفسیر بالقرآن : منافق کا کردار اور انجام : 1- منافق دغا باز، ریا کار اور بے توجہگی کے ساتھ نماز پڑھتا ہے۔ (النساء :142) 2- منافق کے کلمہ پر اعتبار نہیں کیونکہ وہ جھوٹا ہوتا ہے۔ (المنافقون :1) 3- منافق کی قسم پر اعتبار نہیں کیونکہ وہ اسے ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ (المنافقون :2) 4- منافق جہنم کے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ (النساء :145) 5- منافق کفار سے دوستی رکھتا ہے۔ (البقرۃ: 14) البقرة
17 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ منافق کے کردار کی مثال اس مثال کے ذریعے اسلام اور نفاق، منافقین اور سرور گرامی {ﷺ}کے درمیان فرق بیان کیا گیا ہے۔ آپ نے دن رات کی جدوجہد سے اسلام کے چہرۂ تاباں کو ایسے پیش فرمایا جس سے کفر اور اسلام، گمراہی اور ہدایت کے درمیان اس طرح امتیاز پیدا ہوا جس طرح روشنی اور اندھیرے کے درمیان فرق ہوا کرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود منافقوں کے لیے ان کے کفر و نفاق کی تاریکیاں اسلام کی روشن تعلیمات اور آپ {ﷺ}کی درخشاں سیرت کے درمیان حائل ہوگئیں یہ سب کچھ اس طرح ہوا جیسے ایک آدمی نے آگ جلا کر گھٹا ٹوپ راستے کو منور کردیا ہو۔ تاکہ اس راستے پر چلنے والے کو نشیب و فراز کا پتہ چل جائے۔ جونہی مسافر اس راستے پر چلنے کے لیے آمادہ ہوا تو اس کے خبث باطن کی وجہ سے اچانک راستہ خطرناک اندھیروں میں چھپ گیا۔ ذرا سوچیے اس مسافر کی کیا حالت ہوگی ؟ بالکل یہی کیفیت منافقوں کے ساتھ پیش آئی کہ نبی معظم {ﷺ}کی ذات اور آپ کی تعلیمات کو سچ جاننے کے باوجود ان کا کفرو نفاق اور دنیاوی مفاد اس طرح حائل ہواکہ اسلام کا راستہ روشن ہونے کے باوجود ان کو تاریک نظر آیا۔ اس کی وجہ ان کی منافقت اور گھناؤنا کردار تھا۔ جس بنا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا۔ اب صراط مستقیم کو دیکھنا اور اس پر چلنا ان کے بس کی بات نہیں کیونکہ اندھیروں میں کوئی چیز دکھائی نہیں دیا کرتی۔ یاد رہے کہ روشنی یعنی ہدایت ایک ہی ہے لیکن کفروضلالت کے اندھیرے کئی قسم کے ہوتے ہیں اس لیے اندھیرے کے لیے جمع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ منافق کا محشر کے دن حال : قرآن مجید نے دوسرے مقام پر اس کی یوں وضاحت فرمائی ہے کہ جن لوگوں نے دنیا میں نور ہدایت سے منہ موڑ لیا۔ ان کا محشر میں اس طرح حشر ہوگا کہ ﴿یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنَافِقُوْنَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِیْنَ آَمَنُوْا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُوْرِکُمْ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَاءَ کُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُورٍ لَہُ بَابٌ بَاطِنُہُ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاہِرُہُ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ﴾ (الحدید :13) ” اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف دیکھو ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے کو لوٹ جاؤ اور وہاں نور تلاش کرو۔ پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا اس کی اندرونی جانب تو رحمت ہے اور بیرونی جانب عذاب۔“ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}مَثَلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَاراً فَلَمَّا اَضَآءَ تْ مَا حَوْلَھَا جَعَلَ الْفِرَاشُ وَھٰذِہِ الدَّوَآبُّ الَّتِی تَقَعُ فِی النَّارِ یَقَعْنَ فِیْھَا وَجَعَلَ یَحْجُزُھُنَّ وَیَغْلِبْنَہٗ فَیَتَقَحَّمْنَ فِیْھَا فَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ وَأَ نْتُمْ تَقَحَّمُوْنَ فِیْھَا ھٰذِہٖ رِوَایَۃُ الْبُخَارِیِّ وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُھَا وَقَالَ فِیْ اٰخِرِھَا قَالَ فَذَالِکَ مَثَلِیْ وَمَثَلُکُمْ اَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ ہَلُّمَ عَنِ النَّارِ ھَلُمَّ عَنِ النَّارِ فَتَغْلِبُوْنِیْ تَقَحَّمُوْنَ فِیْھَا) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، رواہ مسلم : کتاب الفضائل) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم {ﷺ}نے فرمایا : میری مثال آگ روشن کرنے والے شخص کی طرح ہے۔ جب آگ سے اس کا آس پاس روشن ہوگیا تو پروانے اس میں گرنے لگے۔ آگ جلانے والے نے انہیں بچانے کی سر توڑ کوشش کی لیکن وہ اس سے بے قابو ہو کر گرتے رہے۔ بس میں تمہیں آگ سے بچانے کے لیے پیچھے سے پکڑتا ہوں لیکن تم ہو کہ اس میں گرتے جا رہے ہو۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں اور مسلم میں اس طرح ہے کہ میری اور تمہاری مثال ایسے ہے کہ میں تمہیں پیچھے سے پکڑ کر آگ سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے کہہ رہا ہوں کہ میری طرف آؤ اور آگ سے بچو، لوگو! آگ کی بجائے میری طرف آؤ۔ لیکن تم مجھ سے بے قابو ہو کر آگ میں گرے جا رہے ہو۔“ مسائل: 1-اسلام ایک روشنی ہے۔ 2- نفاق اور کفر اندھیرے ہیں۔ 3- نور ایمان کے بغیر ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ تفسیر بالقرآن : دین ایک روشنی ہے : 1-اسلام ایک روشنی ہے۔ (الصف :7) 2۔ ایمان اور دین نور ہے۔ (التغابن :8) 3۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) روشنی کی دعوت دیتے تھے۔ (ابراہیم :5) 4۔ نبی کریم {ﷺ}کی دعوت روشنی اور نور ہے۔ (ابراہیم :1) 5۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کو کفر کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ (البقرۃ:257) 6۔ اللہ تعالیٰ کی ذات زمین و آسمان کانورہے (النور :35) 7- جس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا گیا وہ اللہ تعالی کی روشنی پر ہے۔ ( الزمر: 22) البقرة
18 فہم القرآن : ربط کلام : منافقوں کا تذکرہ جاری ہے۔ منافقت کی بیماری کے ظاہری اعضا پر منفی اثرات۔ جو لوگ رسالت مآب {ﷺ}کی ذات اقدس کو پہچاننے اور دین اسلام کے اوصاف کو جاننے کے باوجود کفر و نفاق پر ڈٹے ہوئے ہیں وہ تو اس شخص کی طرح ہیں جو آنکھوں سے اندھا، کانوں سے بہرا اور زبان سے گونگا ہے۔ یعنی ایسے لوگ نہ عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں نہ نصیحت کی زبان سنتے ہیں اور نہ ہی سبق آموزی کے لیے سوچنے پر تیار ہیں۔ یہ تو چلتے پھرتے انسانی ڈھانچے اور لکڑی یا پتھر کے ستون کی طرح ہیں اس کے سوا کچھ نہیں۔ لکڑی اور پتھر تو نہیں سنا کرتے ہدایت پائیں تو کس طرح؟ کان، آنکھ اور لمس ہدایت پانے اور راہنمائی حاصل کرنے کے انسان کے جسمانی ذرائع ہیں یہ مفلوج ہوجائیں تو ایسے شخص کو کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ گونگا، بہرہ اور اندھا شخص کسی کا ہاتھ پکڑے بغیر تو کہیں جا نہیں سکتا۔ یہی حالت منافق کی ہوچکی ہوتی ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ {}قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْئَۃً نُکِتَتْ فِیْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ھُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَادَ زِیْدَ فِیْھَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَھُوَ الرَّانُ الَّذِیْ ذَکَرَ اللّٰہُ ﴿کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ﴾) (رواہ الترمذی : باب ومن سورۃ ویل للمطففین) ” حضرت ابوہریرہ {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : آدمی جب بھی کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک کالا نکتہ لگادیا جاتا ہے جب وہ بے چین ہو کر توبہ واستغفار کرتا ہے تو اس کے دل کو پالش کردیا جاتا ہے اور اگر پھر وہ گناہ کرتا ہے تو وہ نکتہ بڑھادیا جاتا ہے حتی کہ وہ پورے دل پر غالب آجاتا ہے اور یہی وہ زنگ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے کہ (ہرگز نہیں بلکہ جو وہ کماتے تھے اس کے سبب ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے)۔“ مسائل : 1۔ کافر اور منافق اندھے، بہرے، گُونگے ہونے کی وجہ سے اسلام کی روشنی سے مستفید نہیں ہو سکتے۔ تفسیر بالقرآن : کان، آنکھ اور دل سے کام نہ لینے والے لوگ : 1۔ کفار کان، آنکھ اور دل کو استعمال نہیں کرتے۔ (الاعراف :179) 2۔ دل، آنکھ اور کان سے استفادہ نہ کرنے والے جانوروں سے بدتر ہیں۔ (الاعراف :179) 3۔ جہنمی سماعت وبصیرت استعمال نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کریں گے۔ (الملک :10) البقرة
19 فہم القرآن: (آیت 19 سے 20) ربط کلام : دین کے بارے میں دوسری مثال، دین اسلام ایک ابر باراں ہے مگر اس میں منافق کی حالت زار بیان کی گئی ہے۔بارش کی تمثیل کے ساتھ اسلام کی روشنی اور نفاق کی تاریکیوں کا فرق واضح کیا جا رہا ہے۔ جس طرح بارش اوپر سے نازل ہوتی ہے اللہ کا دین بھی آسمانوں سے نازل ہوا ہے۔ اس سے نہایت لطیف انداز میں کفار کے الزام کی تردید ہو رہی ہے کہ دین کسی شخص کے ذہن کی اختراع اور زمین کی پیداوار نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے۔ بارش سے بیک وقت ہر چیز تر و تازہ ہوجاتی ہے ایسے ہی دین اسلام سے دل شاداب‘ کردار میں نکھار اور دنیا میں برکات نازل ہوتی ہیں جیسے بارش میں بسا اوقات اندھیرا اور گرج وچمک بھی ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح ہی دین اسلام اختیار کرنے، اس کے نفاذ سے اس کے متبعین کو دنیا میں فوائد بھی ملتے ہیں اور انہیں امتحانات اور کچھ دینوی نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ لیکن سچے اور پکے مسلمان ان مشکلات کو قبول کرتے ہوئے آگے ہی بڑھا کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ دنیا و آخرت میں اپنی منزل مراد کو پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس منافق بارش میں چلنے والے اس مسافر کی طرح ہوتا ہے جو بادل کی گرج اور بجلی کی چمک کی وجہ سے کانوں میں انگلیاں ڈال کر اپنے آپ کو بجلی کی چکا چوند روشنی سے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ حالانکہ ایسا کرنے سے نہ روشنی اس سے دور ہو سکتی ہے اور نہ وہ آسمانی بجلی کی چمک کڑک سے بچ سکتا ہے۔ جس طرح ساری دنیا مل کر بھی بارش کو نہیں روک سکتی ایسے ہی منافق اور کفار جتنی چاہیں کوشش کریں نہ یہ اسلام کی روشنی مٹا سکتے ہیں اور نہ ہی غلبۂ اسلام میں ان کی کوششیں اور سازشیں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ منافق کا کردار یہ ہوتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں سے فائدہ حاصل ہونے کی توقع ہو تو منافق مسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے بلکہ مخلص مسلمانوں سے بھی چار قدم آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن جوں ہی اس کے مفاد کو ٹھیس پہنچنے کا خدشہ ہو تو اس کے قدم جم جاتے ہیں۔ منافقوں کی حرکات اور منافقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی سمع و بصر کی حقیقی صلاحیتیں سلب کرلی ہیں۔ اگر ربِّ ذوالجلال چاہے تو ان کے کان اور آنکھوں کی جسمانی صلاحیتوں کو بھی مسخ کر دے کیونکہ قادر مطلق کی طاقت سے کوئی چیز بھی باہر نہیں ہے۔ (عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ مَثَلُ مَابَعَثَنِیَ اللّٰہُ بِہٖ مِنَ الْھُدٰی وَالْعِلْمِ کَمَثَلِ الْغَیْثِ الْکَثِیْرِ أَصَابَ أَرْضًا فَکَانَ مِنْھَا نَقِیَّۃٌ قَبِلَتِ الْمَآءَ فَأَنْبَتَتِ الْکَلَأَ وَالْعُشْبَ الْکَثِیْرَ وَکَانَتْ مِنْھَآ أَجَادِبُ أَمْسَکَتِ الْمَآءَ فَنَفَعَ اللّٰہُ بِھَا النَّاسَ فَشَرِبُوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوْا وَأَصَابَتْ مِنْھَا طَائِفَۃٌ أُخْرٰی إِنَّمَا ھِیَ قِیْعَانٌ لَاتُمْسِکُ مَاءً وَلَاتُنْبِتُ کَلَأً فَذٰلِکَ مَثَلُ مَنْ فَقُہَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ وَنَفَعَہٗ مَابَعَثَنِیَ اللّٰہُ بِہٖ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَّمْ یَرْفَعْ بِذٰلِکَ رَأْسًا وَلَمْ یَقْبَلْ ھُدَی اللّٰہِ الَّذِی أُرْسِلْتُ بِہٖ) (رواہ البخاری : کتاب العلم، باب فضل من علم) ” حضرت ابوموسیٰ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم {ﷺ}نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس علم اور ہدایت کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال زمین پر مسلسل برسنے والی بارش کی طرح ہے۔ زمین کا جو قطعہ اچھا تھا اس نے اسے قبول کیا۔ اس نے گھاس اور سبزے کو خوب اگایا۔ دوسری زمین سخت تھی پانی جذب ہونے کی بجائے اس پر کھڑارہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔ لوگوں نے خود پانی پیا اور جانوروں کو پلایا اور پھر اس سے کھیتی باڑی کی جبکہ تیسرا زمین کاٹکڑا چٹیل میدان تھا نہ اس نے پانی جذب کیا اور نہ ہی پانی اس کے اوپر ٹھہرا۔ اللہ تعالیٰ نے جو دین دے کر مجھے مبعوث فرمایا اس دین کی فہم حاصل کرنے والے اور اس سے نفع اٹھانے والے کی مثال ایسے ہے کہ اس نے علم سے فائدہ اٹھایا خود سیکھا اور لوگوں کو بھی تعلیم دی۔ دوسری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے بے پرواہی سے علم کی طرف توجہ نہ کی اور نہ ہی اس بات کو قبول کیا جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا۔“ مسائل: 1۔ دین اسلام باران رحمت ہے۔ 2۔ ا سلام پر عمل پیرا ہونے میں آزمائشیں بھی آتی ہیں۔ 3۔ منافق صرف فائدے کی بنیاد پر اسلام پر عمل کرتا ہے۔ 4۔ منافق کسی آزمائش میں پورا نہیں اترتا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو منافقین کے سمع وبصر ختم کردے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت وسطوت رکھنے والاہے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ کافروں کی گرفت کرنے والاہے۔ البقرة
20 البقرة
21 فہم القرآن : (آیت 21 سے 22) ربط کلام : ایمانداروں، کفار اور منافقین کے ذکر کے بعد توحید اور عبادت کا بیان ہوتا ہے۔ قرآن مجید کا مرکزی پیغام ” اللہ“ کی توحید اور اس کی ربوبیت کا اقرار ہے جس کا منطقی نتیجہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔ اکثر مفسرین نے عبادت کا معنی تذلّل یعنی نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پرستش کرنا بیان کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبادت میں عاجزی اور انتہا درجے کی انکساری ضروری ہے کہ آدمی اللہ کے حضور قیام کرے تو نا صرف زبان سے اقرار کرنے کے ساتھ اس کا پورا جسم خاموش گواہی دے کہ میرے جسم کا ایک ایک ریشہ تیرے حضور عاجز و بے بس ہے۔ جبین نیاز جھکائے تو اپنے آپ کو عجز و انکساری کی انتہا تک لے جائے گویا کہ وہ پستیوں کے سمندر میں ڈوب چکا ہے۔ زبان جنبش کرے تو اس کی حمد و ثنا کے گیت گائے، دست سوال دراز کرے تو سراپا التجا بن جائے۔ مال خرچ کرے تو اس عاجزی کے ساتھ کہ میں تو مالک کی ملکیت ہی واپس لوٹا رہا ہوں نہ میرا مال ہے اور نہ اس میں میرا کمال ہے۔ اس عہد کو نمازی پانچ وقت تشہد کی زبان میں دہراتا ہے کیوں کہ عبادت تین ہی طریقوں سے ہو سکتی ہے۔ (اَلتَّحَیَاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰاتُ وَالطَّیِّبَاتُ) (رواہ البخاری : باب التَّشَہُّدِ فِی الآخِرَۃِ ) ” تمام قسم کی قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے ہیں۔“ عبادت کا جامع تصور: ﴿قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ﴾ (الانعام : 162تا163) ” کہہ دیجیے! یقیناً میری نماز‘ میری قربانی‘ میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا اسلام لانے والا ہوں۔“ اس تصور کے ساتھ قرآن مجید نے عبادت کا وسیع تر تخیل پیش کیا ہے کہ آدمی منڈی اور بازار میں ہو تو امانت و دیانت کا نمونہبن جائے، کسی کے ہاں مزدور اور خدمت گزار ہو تو وفاداری کا پیکر ہوجائے، حکمران ہو یا کوئی ذمہ داری اٹھائے تو قوم کا خادم اور مالک حقیقی کا غلام بن کر رہے۔ غرضیکہ زندگی کا ایک ایک لمحہ اور شعبہ رب کی غلامی اور سرافگندگی کے لیے وقف کرنے کا نام ہی عبادت ہے۔ یہی انسان کی تخلیق کا مقصد اور اسی کے لیے انسان کا ہر عمل وقف ہونا چاہیے۔ انبیائے عظام {علیہ السلام}اپنی دعوت کا آغاز اسی سے کیا کرتے تھے۔ اس تصور عبادت سے ہٹنا مقصد حیات کی نفی اور غیر اللہ کی عبادت کرنے کے مترادف ہے۔ جس کا آدمی کو کسی حال میں بھی حق نہیں پہنچتا۔ ایمان، کفر اور نفاق کی بڑی بڑی نشانیاں ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بلا امتیاز تمام طبقات انسانی کو عبادت کا حکم دیتے ہوئے اپنی عبادت کے استحقاق کی یہ دلیل دی ہے کہ اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں، تمہارے آباؤ اجداد اور سب لوگوں کو پیدا فرمایا۔ اسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا اور آسمان کو سائبان، پھر آسمان سے پانی نازل کیا جس سے تمہارے رزق کا بندوبست فرمایا۔ یہ سب کچھ ایک رب نے پیدا کیا اور وہی تمہارا خالق و مالک ہے۔ یہ حقائق تم بھی جانتے ہو کہ تخلیقِ کائنات اور ان امور میں اللہ تعالیٰ کا دوسرا کوئی شریک اور سہیم نہیں ہے پھر ایسے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک بنانے کی کس طرح جرأت کرتے ہو ؟ جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں لہٰذا تمہیں صرف ایک اللہ کی ہی عبادت کرنا چاہیے۔ توحید ربوبیت اور خالقیت کا شعور دلا کر انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ کسی غیر کی نہیں بلکہ میں اپنے خالق، رازق اور مالک کی ہی عبادت کر رہا ہوں۔ ابتدا میں توحید کے طبعی‘ فطری اور آفاقی دلائل دئیے گئے ہیں تاکہ انسان کو توحید سمجھنے میں آسانی ہو۔ اسی سے قرآن مجید کا آغاز ہوا ہے کیونکہ توحید فطرت کی آواز اور انسان کے ضمیر کی ترجمان ہے۔ ﴿إِقْرَأْ باسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ﴾ (العلق :1) ” اپنے پیدا کرنے والے رب کے نام سے پڑھیے۔“ ایک مبلغ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے سامع کے سامنے او لاً ایسی دلیل پیش کرے جس کو سمجھنے اور تسلیم کرنے میں سننے والے کو آسانی ہو۔ لہٰذا یہاں پانچ دلائل ایسے بیان ہوئے ہیں جن کا بدترین منکر بھی انکار نہیں کرسکتا۔ یہاں تخلیق انسانی کے مختلف دلائل دیے جاتے ہیں باقی دلائل کی تفصیل اپنے اپنے مقام پر بیان ہوگی۔ ” اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا۔ پھر اس کو ایک محفوظ جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا۔ پھر نطفے کا لوتھڑا بنایا۔ پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اس کو نئی صورت بنا دیا۔ اللہ جو سب سے بہترین بنانے والا بڑا بابرکت ہے۔“ [ المومنون : 12تا14] اَنْدَادًا ” ند“ کی جمع ہے جس کا معنٰی ہے ہمسر اور شریک۔ رسول اللہ {ﷺ}نے اس کا سدِّ باب کرنے کے لیے ہر ایسے قول وفعل سے منع فرمایا ہے جس میں شرک کا شائبہ بھی پایا جاتاہو۔ ایک آدمی نے رسول اللہ {ﷺ}سے کہا :” مَاشَآء اللّٰہُ وَشِئْتَ“” جس طرح اللہ اور آپ چاہیں۔“ اس پر آپ نے فرمایا : ” جَعَلْتَ لِلّٰہِ نِدًّا“ ” تو نے مجھے اللہ کا شریک ٹھہرادیا ہے کہو ” مَا شَآء اللّٰہُ وَحْدَہٗ“ ” جو اللہ اکیلا چاہے۔“ (مسند احمد) مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ ہی تمام انسانوں کا خالق اور پالنے والا ہے۔ سب کو اپنے رب کی عبادت کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ ہی نے زمین کو فرش، آسمان کو چھت بنایا اور وہی آسمان سے بارش نازل کرتا اور ہمارے لیے رزق پیدا کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے۔ 4۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں۔ تفسیر بالقرآن : عبادت اور انبیاء {علیہ السلام}کی دعوت : 1۔ جن اور انسان اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ (الذّاریات :56) 2۔ تمام انبیاء اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے اور شیطان کی عبادت سے روکتے تھے۔ (الاعراف : 59، 65، 73) 3۔ عبادت کا مفہوم۔ (انعام :163) 4۔ اللہ کی عبادت کرنے میں کامیابی ہے۔ (الحج :77) تخلیق انسانی کے مراحل : 1۔ حضرت آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کیے گئے۔ (آل عمران :59) 2۔ حضرت حوا، حضرت آدم {علیہ السلام}سے پیدا ہوئی۔ (النساء :1) 3۔ انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل۔ (المؤمنون : 12تا14) 4۔ یقیناً ہم نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ (الحجر :26) 5۔ اللہ نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر :2) 6۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے نطفہ بنایا، پھر اس سے خون کا لوتھڑا، پھر اس سے بوٹی بنا کر۔ (الحج :5) 7۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ، پھر لوتھڑا بنا کر تمہیں پیدا کرتا ہے کہ تم بچے ہوتے ہو۔ (المومن :67) 8-کیا تو اس ذات کا کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الکہف :37) البقرة
22 البقرة
23 فہم القرآن (آیت 23 سے 24) ربط کلام : توحید کے بیان کے بعد قرآن مجید کے بارے میں چیلنج دیا گیا ہے کیونکہ قرآن نے ہی توحید کے دلائل اور دیگر مسائل بتلائے ہیں اس لیے ابتدا میں قرآن کی حقانیت کے بارے میں شک کرنے والوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ یہ قرآن من جانب اللہ ہے کسی انسان کی ذہنی اختراع نہیں ہے اگر پھر بھی تمہیں یقین نہیں آتا تو تم ایسا کلام بنا کر دکھاؤ۔ اہل مکہ جناب رسالت مآب {ﷺ}کی نبوت کے انکار کے لیے مختلف بہانے بنایا کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ نبوت کے منصب جلیلہ کے لیے معاشی اعتبار سے خوشحال، سیاسی لحاظ سے طاقتور اور خاندانی اعتبار سے کسی بڑے قبیلے کا سردار ہونا چاہیے تھا۔ پھر مکہ میں ابو الحکم بن ہشام یعنی ابوجہل اور کبھی طائف کے مختلف سرداروں کے نام لیتے تھے حالانکہ لوگوں کی نظروں میں آپ {ﷺ}کے مقابلہ میں کسی دوسرے کا نام جچتاہی نہیں تھا۔ کیونکہ سیرت و صورت کے حوالے سے آپ کا پلہ سب پر بھاری تھا۔ جب اس میں ناکامی کا منہ دیکھتے تو یہ پروپیگنڈہ کرتے کہ روم کے فلاں شخص سے خفیہ پیغام رسانی کے ذریعہ یہ کلام پیش کیا جا رہا ہے۔ قرآن مجید نے پہلے اور دوسرے اعتراض کا یہ جواب دیا کہ نبوت تو سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا انتخاب ہوا کرتا ہے۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ کون سا دل نور الٰہی کا اہل، کونسی زبان اس کے بیان کرنے پر قادر، اور کون سے کندھے اس بار گراں کو اٹھانے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔[ الانعام :124] دوسرے اعتراض کا جواب فقط اتنا دیا کہ جس شخص کو تم محمد {ﷺ}کا معلم و مرشد کہتے ہو وہ تو عربی کے حروف ابجد سے بھی واقف نہیں جبکہ قرآن مجید فصاحت و بلاغت کا سر چشمہ، حقائق و ہدایت کا بے مثل منبع اور عربی ادب کا شاہکار ہے۔[ النحل :103] ان دلائل کے باوجود کفار کو کئی کھلے چیلنج دیے جن میں یہ زور دار چیلنج مدینہ طیبہ میں دیا گیا کہ ہم نے اپنے محبوب بندے پر قرآن نازل کیا ہے اگر اس کے من جانب اللہ ہونے پر تمہیں شک ہے اور تم اپنے دعوی میں سچے ہو تو اللہ تعالیٰ کے سوا دنیا جہاں کے جن و انس اور جس کو چاہو اور جب چاہو اپنے ساتھ ملا کر انفرادی یا اجتماعی طور پر ایک ہی سورت بنا کرلے آؤ لیکن یاد رکھنا اب تک یہ نہ ہوا اور نہ قیامت تک ایسا ہو سکے گا۔ کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات کے لحاظ سے اعلیٰ و ارفع، لازوال اور بے مثال ہے اسی طرح اس کا کلام اعلیٰ، ارفع، لازوال اور بے مثال ہے۔ انسانوں کی اصلاح اور فلاح کے لیے اللہ کریم کی طرف سے نبی محترم {ﷺ}کو قرآن مجید کی شکل میں ایسا معجزہ عطا کیا گیا ہے جس کی طاقت سے نبی معظم {ﷺ}نے دنیا کے سخن وروں، قانون دانوں، شاعروں اور ادیبوں کو لا جواب کردیا ہے۔ اس کے باوجود ہر دور کے کافر قرآن مجید‘ فرقان حمید کی مخالفت کرتے آرہے ہیں لیکن بالآخر انہیں اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنا پڑا ہے۔ جس کی چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں تاکہ قرآن کے طالب علم کو معلوم ہوجائے کہ منکرین قرآن کس طرح اپنی نا کامی کا اعتراف کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ قرآن کا مقابلہ کرنا تمہارے بس کا روگ نہیں تو اس آگ سے بچو جس میں پتھروں اور انسانوں کو جھونکا جائے گا جو کفار کے لیے تیار کی گئی ہے۔ فرانس کا مشہور مستشرق ڈاکٹر مارڈریس جس کو حکومت فرانس کی وزارت معارف نے قرآن حکیم کی باسٹھ سورتوں کا ترجمہ فرانسیسی زبان میں کرنے پر مامور کیا تھا اس نے اعتراف کیا : ” بے شک قرآن کا طرز بیان اللہ تعالیٰ کا طرز بیان ہے، بلا شبہ جن حقائق ومعارف پر یہ کلام حاوی ہے وہ کلام الٰہی ہی ہوسکتا ہے، اور واقعہ یہ ہے کہ اس میں شک وشبہ کرنے والے بھی جب اس کی عظیم تاثیر کو دیکھتے ہیں تو تسلیم واعتراف پر مجبور ہوجاتے ہیں، پچاس کروڑ مسلمان (اس تحریر کے وقت مسلمانوں کی تعداد اتنی ہی تھی 2005 میں یہ تعداد سوا ارب سے زائد ہے) جو سطح زمین کے ہر حصہ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں قرآن کی خاص تاثیر کو دیکھ کر مسیح مشن میں کام کرنے والے بالاجماع اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔“ [ معارف القرآن مفتی محمد شفیع ] ڈاکٹر گستادلی بان نے اپنی کتاب ” تمدن عرب“ میں قرآن کی حیرت انگیزی کا اعتراف کیا، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” پیغمبر نبی اُمّی اسلام کی ایک حیرت انگیز سر گزشت ہے، جس کی آواز نے ایک قوم ناہنجار کو جو اس وقت تک کسی ملک کے زیر حکومت نہ آئی تھی رام کیا، اور اس درجہ پر پہنچا دیا کہ اس نے عالم کی بڑی بڑی سلطنتوں کو زیر و زبر کر ڈالا۔“ مسٹر وڈول جس نے قرآن مجید کا ترجمہ اپنی زبان میں کیا لکھتے ہیں : ” جتنا بھی ہم اس کتاب یعنی قرآن کو الٹ پلٹ کر دیکھیں اسی قدر پہلے مطالعہ میں اس کی مرغوبیت نئے نئے پہلوؤں سے اپنا رنگ جماتی ہے، فوراً ہمیں مسخر اور متحیر کردیتی ہے، اور آخر میں ہم سے تعظیم کرا کر چھوڑتی ہے، اس کا طرز بیان با عتبار اس کے مضامین کے، عفیف، عالی شان اور تہدید آمیز ہے اور جا بجا اس کے مضامین سخن کی غایت رفعت تک پہنچ جاتے ہیں، غرض یہ کتاب ہر زمانہ میں اپنا پر زور اثر دکھاتی رہے گی۔“ (شہادۃ الاقوام، ص13) مصر کے مشہور مصنف احمد فتحی بک زا غلول نے 1898ء میں مسٹرکونٹ ہنروی کی کتاب الاسلام کا ترجمہ عربی میں شائع کیا تھا، اصل کتاب فرنچ زبان میں تھی۔ اس میں مسٹر کونٹ نے قرآن کے متعلق اپنے تأثرات ان الفاظ میں بیان کئے ہیں : ” عقل حیران ہے کہ اس قسم کا کلام ایسے شخص کی زبان سے کیونکرادا ہوا جو بالکل ان پڑھ تھا، تمام مشرق نے اقرار کرلیا ہے کہ نوع انسانی لفظاً و معنا ہر لحاظ سے اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔ یہ وہی کلام ہے جس کی بلند انشاء پردازی نے عمر بن خطاب {رض}کو مطمئن کیا اور ان کو خدا کا معترف ہونا پڑا۔ یہ وہی کلام ہے کہ جب عیسیٰ {علیہ السلام}کی ولادت کے متعلق اس کے جملے جعفر بن ابی طالب {رض}نے حبشہ کے بادشاہ کے دربار میں پڑھے تو اس کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو جاری ہوگئے، اور بشپ چلّااٹھا کہ یہ کلام اسی سر چشمہ سے نکلا ہے جس سے عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلام نکلا تھا۔“ (شہادۃ الاقوام ص14) انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، جلد 16میں تحریر ہے : ” قرآن کے مختلف حصص کے مطالب ایک دوسرے سے بالکل موافق ہیں، بہت سی آیات دینی و اخلاقی خیالات پر مشتمل ہیں، مظاہر قدرت، تاریخ، الہامات، انبیاء کے ذریعہ اس میں خدا کی عظمت، مہربانی اور صداقت کی یاد دلائی گئی ہے، بالخصوص حضرت محمد {ﷺ}کے واسطہ سے خدا کو واحد اور قادر مطلق ظاہر کیا گیا ہے، بت پرستی کو بلا لحاظ ناجائز قرار دیا گیا ہے، قرآن کی نسبت یہ بالکل بجا کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا بھر کی موجودہ کتابوں میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔“ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے حضرت محمد {ﷺ}پر قرآن نازل فرمایا۔ 2۔ ساری مخلوق مل کر بھی قرآن کی ایک سورت جیسی سورت نہیں بنا سکتی۔ 3۔ جہنم میں پتھر اور ” اللہ“ کے نافرمان جھونکے جائیں گے۔ 4۔ رسول محترم {ﷺ}بشر تھے۔ 5۔ قرآن کے منکر جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ تفسیر بالقرآن : قرآن کا چیلنج : 1۔ جن اور انسان مل کر اس جیسا قرآن بنا لاؤ۔ (بنی اسرائیل :88) 2۔ کوئی دس سورتیں بنا لاؤ۔ (ھود :13) 3۔ کوئی اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ۔ (یونس :28) 4۔ قیامت تک نہیں بنا سکتے۔ (البقرۃ:23) 5- اس جیسی کوئی آیت لے آؤ اگر تم سچے ہو۔ (الطور: 34) البقرة
24 البقرة
25 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قرآن مجید اور نبوت کے بارے میں شک و انکار کرنے والوں کو سخت ترین عذاب کا انتباہ کرنے کے بعد اب ان لوگوں کو کامیابی کی نوید اور پیغام مسرت دیا جا رہا ہے جو ایمان خالص کے ساتھ نیک عمل کرتے ہیں۔ یاد رہے نیکی میں ایمان باللہ کے بعد تین چیزیں لازم ہیں : (1)۔ اخلاصِ نیّت (2)۔ سنت کی اتباع (3)۔ فرائض کی ہمیشہ ادائیگی نوافل میں پہلی دو شرائط لازمی ہیں اور تیسری شرط افضل ہے ضروری نہیں۔ جنت کے پھل شکل و صورت کے اعتبار سے دنیا کے پھلوں سے ہم رنگ اور ہم شکل ہوں گے۔ جنہیں دیکھتے ہی اہل جنت پکار اٹھیں گے کہ ان جیسے پھل تو دنیا میں بھی ہمیں دیے گئے تھے۔ شاید یہ اس لیے ہوگا کہ جنتیوں کو اتنی بھی زحمت اور پریشانی نہ اٹھانا پڑے کہ وہ جنت کے باغات اور پھلوں کے بارے میں ملائکہ یا ایک دوسرے سے پوچھنے کی زحمت اٹھائیں۔ یہ کیا ہے؟ اور وہ کونسا پھل ہے اور اسے کس طرح کھانا ہے؟ لہٰذا پہلے سے ہی ان کی شکلوں اور ناموں سے متعارف اور مانوس ہوں گے تاکہ انہیں ایک ناواقف کی طرح شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔ تاہم جنت کے پھل رنگت، حجم، لذت اور خوشبو کے اعتبار سے دنیا کے پھلوں سے ہمارے تصورات سے کہیں بڑھ کر مختلف ہوں گے۔ اسی طرح جنت کی عورتیں جسمانی آلائشوں اور بیماریوں سے پاک، خاوندوں کی نافرمانی سے محفوظ اور سوتنوں کے باہم حسدو رشک سے مبرا ہوں گی۔ ان کے حسن و جمال کے بارے میں رسول اللہ {ﷺ}اس طرح فرمایا کرتے تھے : (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَآ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ وَّاقْرَءُ وْٓا إِنْ شِئْتُمْ ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآاُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ﴾) (رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ ) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں رسول محترم {ﷺ}نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں، جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی ان کے متعلق کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال پیدا ہوا۔ اگر چاہو تو اس آیت کی تلاوت کرو۔ (کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کے رکھی گئی ہے)۔“ (وَلَوْ اَنَّ اِمْرَاَۃً مِّنْ نِّسَآءِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ اِلَی الْاَرْضِ لَاَضَآءَ تْ مَا بَیْنَھُمَا وَلَمَلَاَتْ مَا بَیْنَھُمَا رِیْحًا وَلَنَصِیْفُھَا یَعْنِی الْخِمَارَ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار) ” اگر اہل جنت کی عورتوں سے کوئی زمین کی طرف جھانک لے تو مشرق و مغرب اور جو کچھ اس میں ہے روشن اور معطر ہوجائے۔ نیز اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے قیمتی ہے۔“ قرآن مجید نے ” ازواج“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنٰی ہے جوڑا۔ جو اس طرح ہوگا کہ اگر نیک خاتون کا خاوند جہنم رسید ہوا تو اسے دوسرے جنتی کی زوجہ بنا دیا جائے گا اور جس کی بیوی جہنمی ہوگی اسے دنیا کی نیک خاتون عطا کی جائے گی۔ قرآن مجید نے عورتوں کی حیا کے پیش نظر یہ نہیں فرمایا کہ ان کے لیے خوبصورت مرد ہوں گے۔ ایسا کہنا قرآن کے اسلوب بیان کے خلاف تھا۔ مرد طبعی طور پر عورت سے نسبتاً کم حیا رکھتا ہے اس لیے فرمایا گیا کہ جنت میں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی۔ یہ اس لیے بھی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کودنیا میں نگران بنایا ہے اور جنت میں بھی ان کو عورتوں پر سردار بنائے گا۔ جنتیوں کو یہ خوشخبری بھی دی جا رہی ہے کہ جنت اور اس کی نعمتیں ان کے لیے ہمیشہ اور جنتیوں کو حیات جاوداں حاصل ہوگی۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا مائَۃَ سَنَۃٍ وَاقْرَءُ وْٓا إِنْ شِئْتُمْ ﴿وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ﴾) (رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ) ” حضرت ابوہریرہ {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ گھوڑے پر سوار شخص اس کے سائے میں سو سال تک چل سکتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو : اور سائے ہیں لمبے لمبے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ {رض}عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا) (رواہ مسلم : باب فی صفۃ خیام الجنۃ ....) ” حضرت عبداللہ بن قیس {رض}اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں آپ {ﷺ}کا فرمان ہے کہ جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے ہاں وہی جائے گا۔ کوئی کسی کو نہ دیکھ سکے گا۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}أَوَّلُ زُمْرَۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلٰی صُوْرَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ وَالَّذِیْنَ عَلٰی آثَارِھِمْ کَأَحْسَنِ کَوْکَبٍ دُرِّیٍّ فِی السَّمَآءِ إِضَآءَ ۃً قُلُوْبُھُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍلَاتَبَاغُضَ بَیْنَھُمْ وَلَاتَحَاسُدَ لِکُلِّ امْرِیءٍ زَوْجَتَانِ مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ یُرٰی مُخُّ سُوْقِھِنَّ مِنْ وَرَآءِ الْعَظْمِ وَاللَّحْمِ) (رواہ البخاری : باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھامخلوقۃ) ” حضرت ابوہریرہ {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں پہلا گروہ جنت میں چودھویں رات کے چاند کی صورت میں داخل ہوگا ان کے بعد کے لوگ آسمان میں چمکدار اور حسین ستارے کی مانند ہوں گے ان کے دل ایک ہی آدمی کے دل کی طرح ہوں گے ان کے درمیان نہ کوئی بغض ہوگا اور نہ ہی حسد۔ ہر ایک جنتی کے لیے حور العین میں سے دو بیویاں ہوں گی جن کی ہڈیوں کا گودا، گوشت اور ہڈیوں کے درمیان سے نظر آئے گا۔“ مسائل : 1۔ صاحب ایمان اور نیک اعمال کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت، ہرقسم کے پھل، پاکیزہ بیویاں اور جنت میں ہمیشہ رہنے کی خوشخبری ہے۔ تفسیر بالقرآن : جنت کی ازواج : 1۔ حوریں نوجوان، کنواریاں اور ہم عمرہوں گی۔ (الواقعہ : 25تا38) 2۔ یا قوت و مرجان کی مانند ہوں گی۔ (الرحمن :58) 3۔ خوبصورت اور خوب سیرت ہوں گی۔ (الرحمن :70) 4۔ خیموں میں چھپی ہوئی ہوں گی۔ (الرحمن :72) 5- شرم و حیا کی پیکر اور انہیں کسی نے چھوا نہیں ہوگا۔ (الرحمن :56) 6- خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والیاں ہوں گی۔ (الصافات: 48، 49) 7- جنتیوں کی ہم عمر ہوں گی۔ ( ص: 52) البقرة
26 فہم القرآن : ربط کلام : قرآن مجید کی ابتدا میں مرکزی اور بنیادی باتوں کا تذکرہ ہوا یہاں قرآن مجید میں بیان ہونے والی امثال کی وضاحت اور ان کے ردِّ عمل کا بیان ہوتا ہے۔ انسانی فطرت شروع سے اس بات کی متقاضی رہی ہے کہ جو بات مشکل یا لطیف ہو وہ مثال کے ذریعے سمجھائی جائے تو نہ صرف بات اس کی سمجھ میں آ جاتی ہے بلکہ وہ آدمی کو مدت تک یاد رہتی ہے۔ فطرت کے اس تقاضے اور فہم کی آسانی کے لیے قرآن مجید میں کئی مسائل کو امثال کے ذریعے سمجھایا گیا ہے۔ بالخصوص توحید کی حقانیت اور شرک کی ناپائیداری اور بے بضاعتی سمجھانے کے لیے جب یہ مثال دی گئی کہ شرک کا عقیدہ اور اس کے متعلقات مکڑی کے جالے کی طرح نا پائیدار اور کمزور ہیں جیسے مضبوط چھت کے ہوتے ہوئے مکڑی کا تانہ بانہ کمزور ہوتا ہے۔[ العنکبوت :41] جو نہ ہوا کو روکتا ہے اور نہ ہی مکڑی کا سردی اور گرمی میں دفاع کرتا ہے۔ بلکہ معمولی ہوا بھی جالے سمیت مکڑی کو اٹھا کر دور پھینک دیتی ہے۔ یہی مشرک کے عقیدے کی مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مضبوط سہارا چھوڑ کر کبھی مردوں کو پکارتا ہے اور کبھی بے جان شجر و حجر کو وسیلہ بناتا ہے۔ حالانکہ معبود ان باطل سے مکھی کوئی چیز اٹھا کرلے جائے تو وہ اس سے واپس نہیں لے سکتے۔ کس قدر طالب و مطلوب کمزور ہیں۔[ الحج :73] مکھی کی مثال سے یہ بھی واضح ہوا کہ جس طرح عام مکھی پھول اور گندگی پر بیٹھنے سے پرہیز نہیں کرتی۔ ایسے ہی مشرک توحید اور شرک میں فرق نہیں کرتا اور جگہ جگہ ٹکریں مارتا پھرتا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مشرک اور کافر ان مثالوں پر غور کرتے ہوئے اپنے باطل نظریہ پر نظر ثانی کرتے۔ اُلٹا انہوں نے یہ کہا کہ ربِّ جلیل کو اتنی حقیر چیزوں کی مثال نہیں دینا چاہیے تھی یہ امثال ذات کبریا کو زیبانہ تھیں۔ اس کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ مخلوق ہونے کے ناطے تم سب یکساں ہو۔ اللہ تعالیٰ چھوٹی بڑی مخلوق کا واحد خالق ہے۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے ذرا اپنی طرف غور کیجئے کہ ایک باپ کے بچے حسن و جمال‘ طاقت و صلاحیت اور اخلاق و کردار کے اعتبار سے ایک جیسے نہیں ہوتے اس کے باوجود باپ ہونے کے ناطے وہ سب سے ایک جیسا پیار کرتا ہے۔ بلکہ فطرتاً کمزور اولاد کے ساتھ زیادہ شفقت کرتا ہے۔ جب فطرت تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے تو خالق اپنی مخلوق کو کیوں حقیر سمجھے وہ تو سب سے زیادہ رحیم وکریم ہے۔ قرآن نے مچھر کی مثال بیان نہیں کی صرف اشارہ فرما کر کفار کو چوکنّا اور ذلیل کیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ کسی چیز کی مثال بیان کرے یا اس کی طرف اشارہ فرمائے بہر حال ساری کی ساری مخلوق اسی کی ہے۔ خالق اپنی مخلوق کے تذکرہ میں عار نہیں سمجھتا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایمان داروں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور انکار کرنے والوں کا کفر و تمرد اور زیادہ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے وہ چیز مادی ہو یا روحانی انسان کو نظر آئے یا اس کی آنکھیں اسے دیکھنے سے قاصر ہوں۔ سب کی سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور اس کے اختیار میں ہے اسی لیے وہ ہدایت اور گمراہی کو اپنی ملکیت قرار دے کر اسے اپنی طرف منسوب کرتا ہے کہ میں جس کو چاہوں ہدایت دوں اور جس کو چاہوں گمراہ کروں لیکن اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کا طلبگار ہے۔ اسی لیے اس نے انبیاء بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں تاکہ لوگ ہدایت پاجائیں لیکن لوگوں کی اکثریت ہمیشہ گمراہی کو پسند کرتی رہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کو اختیاری قرار دیا ہے وہ جبرًا کسی کو ہدایت دیتا ہے اور نہ گمراہ کرتا ہے اس لحاظ سے ﴿ یُضِلُّ﴾ کا معنٰی ہوگا کہ جو گمراہ ہونا چاہتا ہے۔ اسے وہ گمراہی میں آگے بڑھنے دیتا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کوئی مثال دینے میں عار محسوس نہیں کرتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ مثال پر ایمان والوں کا ایمان بڑھتا ہے اور کافر مزید گمراہ ہوجاتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر اعتراض کرنے والا فاسق ہوتا ہے۔ 4۔ فاسق ہدایت پانے کی بجائے مزید گمراہ ہوجاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : توحید و شرک کے بارے میں چند امثال : 1۔ ایک غلام کے دو مالک ہوں تو؟۔ (الزمر :29) 2۔ ناکارہ اور کار آمد غلام کی مثال۔ (النحل :76) 3۔ مشرک کی تباہی کی مثال۔ (الحج :31) 4۔ باطل معبودوں اور مکھی کی مثال۔ (الحج :73) 5۔ دھوپ اور سایہ کی مثال۔ (فاطر :21) 6۔ اندھیرے اور روشنی کی مثال۔ (فاطر :20) 7۔ اندھے بہرے، دیدے اور سننے والے کی مثال۔ (ھود :24) البقرة
27 فہم القرآن : ربط کلام : جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ قرآن مجید کی ابتدا اور البقرۃ کے آغاز میں ابتدائی‘ بنیادی اور مرکزی باتوں کا بیان ہوا ہے یہاں اس عہد کا ذکر ہورہا ہے جس کی پاسداری کا حکم ہے جو روز اول ہی سے بنی نوع انسان سے لیا گیا تھا۔ تمام مفسرین نے اللہ کے عہد سے مراد وہی عہد لیا ہے جس کا تفصیلی تذکرہ سورۃ الاعراف 172میں آیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو آدم (علیہ السلام) اور اس کی پوری اولاد سے عہد لیا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں؟ سب نے عہد کیا کہ تو ہی ہمارا رب ہے۔ اسی عہد کی یاد اور وفا داری کے لیے انبیاء عظام مبعوث فرمائے گئے۔ جنہوں نے ہر انداز سے تجدید عہد اور اس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنے کی کوششیں فرمائیں۔ لیکن ہر دور کی اکثریت نے اس عہد کی پاسداری کرنے کی بجائے کفر و شرک اور نافرمانی وسرکشی کو اختیار کیا۔ حالانکہ یہ عہد انسان کی جبلت میں اس حد تک رچا بسا ہے کہ انتہا درجہ کے مشرک، کافر کو بھی شرک اور اس کے کفر کی نشاندہی کی جائے تو وہ چونک اٹھتا ہے اور اس سے انکار کرتا ہے کیونکہ شرک وکفر فطرت کے خلاف ہے اور توحید فطرت کی آواز ہے۔ قرآن مجید نے عہد کے ساتھ میثاق کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس کا معنٰی ہے انتہائی پختہ عہد، لہٰذا توحید سے بڑھ کر پختہ عہد کوئی نہیں ہو سکتا۔ فطرت کے خلاف کرنا، رشتہ داریوں کو توڑنا، باہمی محبتوں کو قطع کرنا اور عہد شکنی کرنا۔ یہ امور فساد کی جڑ ہیں اور دنیا میں انہی کی وجہ سے فساد برپا ہوتا ہے ایسے لوگ دنیا اور آخرت میں ناقابل تلافی نقصان پائیں گے۔ (عَنْ أَنَسٍ {رض}قَالَ قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ {}إِلَّا قَالَ لَاإِیْمَانَ لِمَنْ لَّآ أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَادِیْنَ لِمَنْ لَّا عَھْدَ لَہٗ) (مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب مسند أنس بن مالک) ” حضرت انس {رض}فرماتے ہیں ہمیں جب بھی رسول اللہ {ﷺ}خطبہ ارشاد فرماتے تو کہتے کہ جو امانت دار نہیں وہ ایمان دار نہیں اور جو بدعہد ہے وہ دین دار نہیں۔“ (عَنْ عَائِشَۃَ {رض}قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}الرَّحِمُ مُعَلَّقَۃٌ بالْعَرْشِ تَقُوْلُ مَنْ وَصَلَنِیْ وَصَلَہُ اللّٰہُ وَمَنْ قَطَعَنِیْ قَطَعَہُ اللّٰہُ) (رواہ مسلم : باب صلۃ الرحم وتحریم قطیعتھا) ” حضرت عائشہ {رض}بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم {ﷺ}فرماتے ہیں رحم عرش کے ساتھ لپٹ کر کہتا ہے جو مجھے ملائے ” اللہ“ اسے ملائے اور جو مجھے کاٹے ” اللہ“ اسے کاٹ ڈالے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے عہد اور رشتہ داریوں کو توڑنے والے فسادی ہیں۔ 2۔ فساد کرنے والے دنیا و آخرت میں نقصان پائیں گے۔ تفسیر بالقرآن : نقصان پانے والے لوگ : 1۔ اسلام کا انکار کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (البقرۃ :121) 2۔ اسلام کے بغیر دین تلاش کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (آل عمران :85) 3۔ شیطان کی تابعداری کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (المجادلۃ:19) 4۔ مشرک نقصان پائیں گے۔ (الزمر :65) 5۔ کافر نقصان پائیں گے۔ (النحل :109) فسادی لوگ : 1۔ فساد کرنے سے رک جاؤ۔ (الاعراف :85) 2۔ حق کو خواہشات کے مطابق کرنا فساد کرنے کے مترادف ہے۔ (المومنون :71) 3۔ منافق فسادی ہوتے ہیں۔ (البقرۃ:11) 4۔ خدا کے نافرمان فسادی ہیں۔ (الروم :41) 5۔ یاجوج و ماجوج فسادی ہیں۔ (الکہف :94) 6۔ فرعون فساد کرنے والا تھا۔ (یونس :91) 7۔ یہودی فساد پھیلانے والے ہیں۔ (المائدۃ:64) 8۔ بچوں کا قتل فساد ہے۔ (القصص :4) 9۔ فسادیوں کی سزا۔ (المائدۃ:33) البقرة
28 فہم القرآن : ربط کلام : بنی آدم کا اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد توڑنے یعنی توحید کا انکار کرنے کا کوئی جواز نہیں اس پر سوا لیہ انداز میں انتباہ کیا گیا ہے کہ تمہارے پاس اس سے انکار کی کوئی عقلی، نقلی اور فطری دلیل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفروشرک، رسالت مآب {ﷺ}کا انکار، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے ابدی اور ازلی عہد کو توڑنا، باہمی تعلقات کو قطع کرنا اور زمین پر دنگا فساد کرنا یہ ایسے کام ہیں جن میں اعتقادی اور عملی طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور انکار پایا جاتا ہے۔ جس کا انسان کو کسی اعتبار سے حق نہیں پہنچتا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عدم سے وجود بخشا اور اس کے بعد موت سے ہمکنار کرکے دوبارہ زندہ کرنے کے بعد ابدی زندگی کے لیے اٹھائے گا یہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنے خالق کے سامنے بے بس ہے جب انسان اپنی موت و حیات اور وجود پر اختیار نہیں رکھتا تو اسے اتنی جرأت کیونکر کہ وہ قادر مطلق کا انکار کرے۔ حالانکہ اس کا اپنے اعمال سمیت رب ذو الجلال کے حضور پیش ہونا یقینی امر ہے جس میں ذرہ برابر شک کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ بے شک انسان کا جسم راکھ کی شکل اختیار کر کے ہواؤں کی نذر ہوجائے یا پانی میں حل ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ ان ذرّات کو مجتمع فرما کر انسانی جسم کو روح سمیت اپنے حضور پیش ہونے کا حکم صادر فرمائے گا۔ اس حقیقت کو قرآن اور رسول معظم {ﷺ}نے ان الفاظ میں بیان فرمایا : ﴿قُلْ کُوْنُوْاحِجَارَۃً أَوْ حَدِیْدًا۔ أَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُوْرِکُمْ﴾ (بنی اسرائیل :50) ” آپ فرمائیے تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔ یا اس سے بڑی مخلوق جو تمہارے دل میں آئے۔“ ﴿مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی﴾ (طٰہٰ:55) ” اس زمین سے ہی ہم نے تمہیں پیدا کیا اس میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ کَانَ رَجُلٌ یُسْرِفُ عَلٰی نَفْسِہٖ فَلَمَّا حَضَرَہُ الْمَوْتُ قَالَ لِبَنِیْہِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِ قُوْنِی ثُمَّ اطْحَنُوْنِی ثُمَّ ذَرُوْنِی فِی الرِّیْحِ فَوَ اللّٰہِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَیَّ رَبِّی لَیُعَذِّبَنِّی عَذَابًا مَا عَذَّبَہُ أَحَدًا فَلَمَّا مَاتَ فُعِلَ بِہٖ ذٰلِکَ فَأَمَرَ اللّٰہُ الْأَرْضَ فَقَالَ اجْمَعِی مَا فِیْکِ مِنْہُ فَفَعَلَتْ فَإِذَا ھُوَ قَآئِمٌ فَقَالَ مَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ قَالَ یَا رَبِّ خَشْیَتُکَ فَغَفَرَ لَہُ) (رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں نبی کریم {ﷺ}نے فرمایا کہ ایک آدمی اپنے آپ پر بڑا ظلم و ستم کرتا تھا۔ موت کے قریب اس نے اپنے بیٹوں کو کہا جب میں فوت ہوجاؤں تو میری لاش کو جلا کر راکھ ہواؤں میں اڑا دینا۔ اللہ کی قسم ! اگر مجھ پر میرے رب نے قابو پالیا تو مجھے ایسا عذاب دے گا کہ اس سے پہلے اس نے کسی کو عذاب نہ دیا ہوگا۔ چنانچہ اس کی موت پر اس کے ساتھ ایسے ہی کیا گیا اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ تیرے پاس جو کچھ ہے سب جمع کر دے۔ جمع کرنے کے بعد اس آدمی سے پوچھاکہ تو نے اس طرح کیوں کیا؟ جواباً اس نے عرض کی۔ اے اللہ! تیرے ڈر کی وجہ سے میں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرما دیا۔“ جہنمیوں کا اعتراف : ﴿قَالُوْارَبَّنَآ أَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَأَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَھَلْ إِلٰی خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ﴾ (المؤمن :11) ” کہیں گے اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں تو کیا یہاں سے نکلنے کی کوئی راہ ہے؟۔“ تمام مفسرین نے دو اموات سے مراد ایک وہ موت لی ہے جب انسان عدم کی حالت میں ہوتا ہے، دوسری موت انسانی زندگی کا خاتمہ ہے اسی طرح دنیوی زندگی اور دوسری جنت یا جہنم کی زندگی ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کو ہی موت و حیات پر اختیار ہے اور اسی کی طرف سب نے جمع ہونا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے اقتدار اور اختیار کا انکار کرنا کفر ہے۔ 3۔ انسان کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے رب کی ذات اور صفات کا انکار کرے۔ تفسیر بالقرآن: اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے کا کوئی جواز نہیں : 1۔ ” اللہ“ ہی خالق ہے اس کے ساتھ کفر کیوں؟ (البقرہ :85) 2۔ ” اللہ“ کی آیات پڑھی جانے کے باوجود کفر کا کیا معنی؟ (آل عمران :101) 3۔ زمین و آسمان بنانے اور بارش اتارنے والا ” اللہ“ ہے اس کے ساتھ دوسرا الٰہ کیوں؟ (النمل :60) 4۔ بحرو بر میں رہنمائی کرنے والا ” اللہ“ ہے اس کا انکار کیوں؟ (النمل :63) 5۔ زندہ کرنے والے اور رزق عطا فرمانے والے ” اللہ“ کے ساتھ کفر چہ معنی دارد؟ (النمل :64) 6۔ پریشانیوں کا مداوا کرنے والا صرف ” اللہ“ ہے اس کا انکار کیوں؟ (النمل :62) البقرة
29 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ موت وحیات کا مالک ہے اس نے انسان کو بے اختیار خلیفہ نہیں بنایا بلکہ سب کو اس کے لیے پیدا کیا اور ایک حد تک زمین کا نظام انسان کے حوالے کیا تاکہ اس کی آزمائش کرے۔ اس رکوع کی ابتدا توحید اور انسانی تخلیق کے تذکرے سے ہوئی تھی اب اس خطاب کا اختتام اللہ کی توحید پر کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ وہی تمہاری موت و حیات اور فناو بقا کا مالک ہے اور اسی کے سامنے تم نے پیش ہونا ہے۔ اس نے فقط تمہیں ہی پید انہیں فرمایا بلکہ زمین کی ہر چیز تمہارے لیے پیدا فرمائی۔ اس کے بعد عرش معلّٰی پر متمکن ہوا۔ جس طرح اس کی شایان شان ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے احترام و مقام کے پیش نظر یہ چیزیں پہلے اس لیے بنائی اور سجائی گئیں تاکہ مکیں سے پہلے مکاں، مہمان سے پہلے دسترخواں، مخدوم سے پہلے خدام، حاکم سے پہلے اس کی ریاست تشکیل پائے۔ نہ صرف ان کو آدم (علیہ السلام) کے لیے بنایا گیا بلکہ ان کو بنا کر بنی نوع انسان کے لیے مسخر بھی کردیا گیا ہے۔ (الجاثیۃ:13) استواء کا معنٰی اللہ تعالیٰ کا آسمانوں پر متمکن ہونا ہے۔ جس کی یہ وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا عرش پہلے پانی پر تھا۔ پھر جس طرح اس کی شایان شان ہے عرش پر مستوی ہوا۔ آیت کے آخر میں واضح کردیا گیا کہ اے انسان! اللہ تعالیٰ کا آسمانوں کے اوپر عرش پر استوا ہونے کا یہ معنی نہیں کہ اب وہ زمین اور اس کے ما فیہا سے بے خبر ہے۔ نہیں! کان کھول کر سن لو! اللہ تعالیٰ پل پل کی خبر اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کی ہر چیز انسان کے لیے پیدا فرمائی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ عرش پر متمکن ہے جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ 3۔ اللہ ہی نے سات آسمان بنائے وہی ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : 1۔ سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا۔ (ابراہیم :33) 2۔ رات دن کو تمہارے لیے مسخر کیا۔ (النحل :12) 3۔ نہروں اور کشتیوں کو مسخر فرمایا۔ (ابراہیم :33) 4۔ اللہ نے زمین و آسمان کی ہر چیز کو مسخر کردیا۔ (الحج :65) 5۔ زمین کی ہر چیز انسان کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ (البقرۃ:29) البقرة
30 فہم القرآن : ربط کلام : جس مکین کے لیے ہر چیز بنائی اور سجائی گئی اس کی تخلیق کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ زمین و آسمان کو بنانے اور سجانے کے بعد کائنات کی اعلیٰ ترین مخلوق ملائکہ کے پر شکوہ اجتماع میں پورے جلال و کمال کے ساتھ رب کائنات نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور خلافت کا اعلان فرمایا۔ اللہ اللہ کیا احترام و مقام ہے جناب آدم (علیہ السلام) کا! اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ اس کو بہترین سانچے میں استوار فرمایا۔ اپنی روح کو اس میں القاء کیا اور پھر خلافت کے منصب پر فائزفرماکراعلیٰ ترین مخلوق سے سجدہ کروایا اور اس کی خلافت کا اعلان فرمایا خلافت کا اعلان سنتے ہی ملائکہ نے اللہ کے حضور اس خدشہ کا اظہار کیا کہ یہ تو ایسی مخلوق ہے کہ جو زمین میں قتل و غارت اور دنگا فساد کرے گی جب کہ ہم تیری حمد وستائش کرتے ہیں۔ خلافت سے مراد اللہ تعالیٰ کی خلافت نہیں بلکہ زمین میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی حکمرانی ہے یا پھر حضرت آدم جنات کے خلیفہ ہیں کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے زمین کا نظام جنات کے سپرد تھا۔ ملائکہ کی تشویش کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں : (1) آدم کا متضاد عناصر سے تخلیق پانا۔ (2) قبل ازیں جنّات کی قتل و غارت گری اور نافرمانیوں کا مشاہدہ کرنا۔ (3) آدم کا اعلیٰ منصب پر فائز ہونا اور اس کو وسیع اختیارات ملنا۔ بعض مفسرین نے ملائکہ کے اس خدشہ سے یہ استدلال کیا ہے کہ وہ خود خلافت کے منصب کے امیدوار تھے جس کی وجہ سے انہوں نے جناب آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور تقرری پر اعتراض کیا تھا۔ ملائکہ حرص وہوس اور رشک و حسد سے پاک پیدا کیے گئے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط اور ایسا کہنے کی ان کے پاس کوئی دلیل بھی نہیں۔ پھر کسی کی کیا مجال ہے کہ وہ اللہ کے کسی کام پر معترضانہ گفتگو کرسکے : ﴿لَایُسْاَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَھُمْ یُسْاَلُوْنَ﴾ (الانبیاء :23) ” اللہ تعالیٰ کے کسی کام پر سوال نہیں ہوتا البتہ مخلوق سے سوال کیا جاتا ہے“ ﴿وَکُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ﴾ کا مفہوم جاننے کے لیے ہر ذی شعور سمجھتا ہے کہ جب چھوٹا آدمی کسی بڑے کے سامنے اس کے فرمان یا کام پر اظہار خیال کرتا ہے۔ بے شک اس ہستی نے ہی اظہار خیال یا تبصرہ کا موقعہ فراہم کیا ہو تو پھر بھی چھوٹا آدمی نہایت ادب اور دبی زبان بلکہ اکثر دفعہ اشارے، کنائے سے بات کرتا ہے۔ یہاں بھی سلسلۂ کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملائکہ نے ذات کبریا کے حضور چند الفاظ اور معمولی جذبات کا اظہار کیا تھا۔ جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ جو تم نے چھپایا میں اسے بھی جانتا ہوں۔ کچھ لوگوں نے ملائکہ کے سامنے تخلیق آدم کے تذکرے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشاورت کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ ذات کبریا کے متعلق مشورہ کے لفظ استعمال کرنا کئی لحاظ سے محل نظر اور اس سے گستاخی کا پہلو نکلتا ہے۔ کیونکہ مشورہ کرنے میں کسی نہ کسی سطح پر حاجت اور کمزوری پائی جاتی ہے۔ اگر مشورہ لینے والے میں کسی قسم کی کمزوری نہ بھی ہو اور وہ دل جوئی کے لیے دوسرے سے مشورہ لے رہا ہو تو اس دل جوئی کے پیچھے بھی مروت قائم رکھنے کی محتاجی پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام حاجتوں اور احتیاطوں سے مبرّاہے۔ میرے نقطہء نگاہ سے تخلیق آدم کے تذکرہ کو ایک اطلاع یا شاہانہ سرکاری اعلان کہنا چاہیے۔ اس بنا پر ہی ملائکہ کے اظہار تشویش پر فرمایا گیا کہ تمہیں کیا معلوم میں سب کچھ اور بہتر جانتا ہوں۔ مسائل: 1۔ انسان زمین میں اللہ تعالیٰ کا کی طرف سے حکمران ہے اسے دنگا فساد کرنے کی بجائے خلافت کا حق ادا کرنا چاہیے۔ 2۔ ملائکہ ہر دم اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل کرتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : خلافت اور اس کی ذمہ داریاں : 1۔ خلافت نیک لوگوں کا استحقاق ہے۔ (النور :55) 2۔ خلافت آزمائش ہے۔ (الانعام :165) 3۔ خلافت اللہ ہی عطا کرتا ہے۔ (الانعام : 133، الاعراف :129) 4۔ اللہ ہی لوگوں کو ایک دوسرے کا خلیفہ بناتا ہے۔ (فاطر :29) 5۔ خلافت کی ذمہ داریاں۔ (ص : 26‘ الحج :41) البقرة
31 فہم القرآن : (آیت 31 سے 33) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ خلیفہ کی علمی برتری اور فضیلت کا بیان۔ جناب آدم (علیہ السلام) کو ان تمام چیزوں کے ناموں سے آگاہ کردیا گیا جن سے انہیں واسطہ پڑناتھا۔ پھر ان اشیاکو ملائکہ کے سامنے پیش کرکے حکم دیا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتلاؤ۔ ملائکہ نے نام بتلانے سے معذوری ظاہر کی اور عرض کی کہ بار الٰہا! تیری ذات، احکام اور کام ہر کمزوری اور نقص سے پاک ہے ہم تو فقط اتنا ہی جانتے ہیں جو کچھ آپ نے ہمیں بتلایا ہے بلاشبہ تو ہر چیز کا علم بھی رکھنے والا ہے۔ ثابت ہوا کہ ملائکہ بھی غیب نہیں جانتے۔ اس کے بعد آدم (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ ملائکہ کو ان چیزوں کے نام بتلاؤ حکم پاتے ہی حضرت آدم (علیہ السلام) نے بلا تأمل ان کے نام بتلا دئیے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کیا میرا پہلے سے یہ فرمان نہیں تھا کہ میں زمین و آسمان کے ظاہر اور باطن کو جانتا ہوں؟ اور وہ کچھ بھی مجھے معلوم ہے جو تم ظاہر کر رہے تھے اور جو تم چھپائے ہوئے ہو۔ اس میں واضح طور پر ملائکہ کے لیے اشارہ ہے کہ یہ چیزیں تمہارے سامنے ہونے کے باوجود تم ان کے نام نہیں بتلا سکے تو تم آدم (علیہ السلام) کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو کیسے جان سکتے ہو اور جس طرح آدم (علیہ السلام) نے میرے عطا کردہ علم کے ذریعے تم پر برتری حاصل کرلی ہے اسی طرح ہی میری ہدایت کی روشنی میں خیر و شر اور نیکی و بدی میں امتیاز کرکے برتری حاصل کرے گا۔ بعض مفسرین غیر مستند روایات اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر لکھتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کو ان چیزوں کے نام ملائکہ سے الگ کرکے اور بعض کا خیال ہے کہ ملائکہ کی موجودگی میں ہی بتلائے گئے تھے۔ فرشتے اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے یہ نام بھول گئے جبکہ آدم (علیہ السلام) اپنی لیاقت کی بنیاد پر ان چیزوں کے نام یاد رکھنے اور بتلانے میں کامیاب رہے۔ قرآن مجید لا حاصل موشگافیوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا کیونکہ اس طرح انسان اصل مقصود اور عملی زندگی سے نکل کر قیل و قال کا ہو کررہ جاتا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام چیزوں کے نام بتلائے۔ 2۔ ملائکہ وہی کچھ جانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ انہیں بتلاتا ہے۔ 3۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے ملائکہ کو تمام چیزوں کے نام بتلادیے۔ 4۔ جس بات کا علم نہ ہو اس کے بارے میں عدم علم کا اعتراف کرنا ملکوتی صفت ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز جاننے والا ہے اور اس کا ہر کام اور حکم پُر حکمت ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ سب کچھ جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : مخلوق کے علم کا ماخذ : 1۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء {علیہ السلام}کی طرف وحی بھیجی۔ (الانبیاء: 25) 2۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ {ﷺ}کو پڑھنا سکھایا۔ (العلق :1) 3۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ کچھ بتلایا جو یہ نہیں جانتا تھا۔ (العلق :5) 4۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو لکھنا سکھایا۔ (العلق :4) 5۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بولنا اور بیان کرنا سکھلایا۔ (الرحمن :5) 6۔ انسان کو رحمٰن نے قرآن سکھایا۔ (الرحمن :6) 7۔ آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا۔ (البقرۃ:31) 8۔ فرشتوں نے بھی سب کچھ اللہ تعالیٰ سے سیکھا۔ (البقرۃ:32) 9۔ سدھائے ہوئے جانوروں کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ (المائدۃ:4) البقرة
32 البقرة
33 البقرة
34 فہم القرآن : ربط کلام : خلیفہ کی علمی برتری اور شان کے سامنے کائنات کی اعلیٰ اور مقدس ترین مخلوق ملائکہ کو جھکنے کا حکم۔ سجدہ کا حکم ہوتے ہی تمام ملائکہ آدم (علیہ السلام) کے حضور سر بسجود ہوئے لیکن شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا احترام و مقام دیکھ کر حسد اور تکبر کی وجہ سے سجدہ ریز ہونے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ وہ جرم پر جرم اور گستاخی پر گستاخی کرتا چلا گیا۔ اس جگہ اجمال ہے جبکہ دوسرے مقامات پر شیطان کے انکار کی تفصیلات یوں بیان کی گئی ہیں۔ ﴿ وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلآئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ قَالَ ءَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا۔ (الاسراء :61) ” اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا اور اس نے کہا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔“ ﴿ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ﴾ (الاعراف :12) ” میں آدم سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔“ ﴿ قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہ‘ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ﴾ (الحجر :33) ” شیطان نے کہا میں ایسا نہیں کہ انسان کو سجدہ کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔“ ﴿ قَالَ اَرَءَ یْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہ اِلَّا قَلِیْلًا۔ (الاسراء :62) ” شیطان کہنے لگایہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے شخصوں کے سوا اس (آدم (علیہ السلام) کی تمام اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا۔“ ﴿قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ﴾ (ص :82) ” کہنے لگا تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بہکا دوں گا۔“ حسد اور تکبر وہ بری چیز ہے کہ جس سے انسان کے تمام اعمال غارت اور بسا اوقات دنیا ہی میں ذلت و رسوائی سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ سرور دو عالم {ﷺ}نے تکبر کا مفہوم اور اس کے نقصانات یوں ذکر فرمائے ہیں : (اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ) (رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ) ” تکبر حق بات کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ) (رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ) ” حضرت عبداللہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ نبی {ﷺ}نے فرمایا : جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبرہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}أَنَّ النَّبِیَّ {}قَالَ إِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ) (رواہ ابوداؤد : کتاب الادب، باب فی الحسد) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ نبی {ﷺ}نے فرمایا : حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}یَقُوْلُ اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ الْکِبْرِیَاءُ رِدَائِیْ وَالْعَظْمَۃُ إِزَارِیْ مَنْ نَازَعَنِیْ وَاحِدًا مِّنْھُمَا أَلْقَیْتُہٗ فِیْ جَھَنَّمَ) (رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزھد، باب البراء ۃ من الکبر والتواضع ) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تکبر میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے جو ان میں سے کوئی ایک مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اس کو جہنم میں پھینک دوں گا۔“ غیر اللہ کو سجدہ کرنا جائز نہیں : (عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ {رض}قَالَ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَّھُمْ فَقُلْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ یُّسْجَدَ لَہٗ قَالَ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ {}فَقُلْتُ إِنّی أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَّھُمْ فَأَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ قَالَ أَرَأَیْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِیْ أَکُنْتَ تَسْجُدُ لَہٗ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا لَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَآءَ أَنْ یَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِھِنَّ لِمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَھُمْ عَلَیْھِنَّ مِنَ الْحَقِّ) (رواہ أبوداوٗد : کتاب النکاح، باب فی حق الزوج علی المرأۃ) ” حضرت قیس بن سعد {رض}بیان کرتے ہیں کہ میں حیرہ گیا تو میں نے وہاں کے لوگوں کو بادشاہ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے سوچا کہ اللہ کے رسول سجدے کے زیادہ لائق ہیں۔ میں نبی {ﷺ}کے پاس آیا تو میں نے عرض کی : میں نے حیرہ میں دیکھا کہ وہ اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول ! آپ زیادہ حقدار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں۔ آپ {ﷺ}نے فرمایا : بتلائیے! اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا اسے سجدہ کرو گے؟ میں نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : ایسے نہ کرو اگر میں نے کسی کو کسی کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دینا ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے مردوں کا عورتوں پر جو حق رکھا اس وجہ سے عورتوں کو حکم دیتاکہ وہ اپنے خاوندوں کے سامنے سجدہ ریز ہوں۔“ بریلوی مکتبہ فکر کے جید عالم پیر محمد کرم شاہ صاحب الأزھری کی نظر میں تعظیمی سجدہ حرام ہے : ” جب فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کی وسعت علم اور اپنے عجز کا اعتراف کرلیا تو پروردگار عالم نے انہیں حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ سجدہ کا لغوی معنی ہے تذلّل اور خضوع اور شریعت میں اس کا معنٰی ہے۔ ” وضع الجبھۃ علی الأرض“ پیشانی کا زمین پر رکھنا۔ بعض علماء کے نزدیک یہاں سجدہ کا لغوی معنٰی مراد ہے کہ فرشتوں کو ادب واحترام کرنے کا حکم دیا گیا لیکن جمہور علماء کے نزدیک شرعی معنیٰ مراد ہے۔ یعنی فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کے سامنے پیشانی رکھ دیں۔ اب اس سجدہ کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ پیشانی جھکانے والا یہ اعتقاد کرے کہ جس کے سامنے میں پیشانی جھکا رہا ہوں وہ خدا ہے تو یہ عبادت ہے اور یہ بھی کسی نبی کی شریعت میں جائز نہیں بلکہ انبیاء کی بعثت کا مقصد اولین تھا ہی یہی کہ وہ انسانوں کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور دوسروں کی عبادت سے منع کریں تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ جس چیز سے روکنے کے لیے انبیاء تشریف لائے اس فعل کا ارتکاب خود کریں یا کسی کو اجازت دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جس کے سامنے سجدہ کیا جارہا ہے اس کی عزت واحترام کے لیے ہو عبادت کے لیے نہ ہو تو اس کو سجدہ تحیہ کہتے ہیں۔ یہ پہلے انبیاء کرام کی شریعتوں میں جائز تھا لیکن حضور کریم {ﷺ}نے اس سے بھی منع فرمادیا۔ اب تعظیمی سجدہ بھی ہماری شریعت میں حرام ہے۔“ [ ضیاء القرآن، جلد اول‘ البقرہ :34] مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملائکہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے انکار اور تکبر کرنے والا کافر ہوجاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : متکبرین : 1۔ سب سے پہلے شیطان نے تکبر کیا۔ (ص :74) 2۔ تکبر کرنا فرعون اور اللہ کے باغیوں کا طریقہ ہے۔ (القصص :39) 3۔ تکبر کرنے والے کے دل پر اللہ مہر لگا دیتا ہے۔ (المؤمن :39) 4۔ متکبر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (النحل :23) 5۔ تکبر کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ (المومن :76) البقرة
35 فہم القرآن : ربط کلام : مسجود ملائکہ بننے کے بعد آدم (علیہ السلام) کے جنت میں قیام و طعام کا انتظام و انصرام اور خاص درخت سے احتیاط کا حکم۔ ارشاد ہوا کہ اے آدم! تو اور تیری بیوی جنت میں قیام کرو اور اس درخت کے سوا تم جو چاہو کھا پی سکتے ہو۔ ہاں اگر تم اس کے قریب چلے گئے تو ظالموں کی صف میں شامل ہوجاؤ گے۔1 ۔جنت میں رکھنے کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ جنت کی سہولتوں، بہاروں اور نعمتوں کو اچھی طرح دیکھ لیں اور ان سے لطف اندوز ہولیں۔ تاکہ دنیا کی عارضی نعمتوں کو جنت کے مقابلے میں خاطر میں نہ لائیں اور دوبارہ یہاں آنے کی کوشش کریں۔ 2 ۔شاید یہ اس لیے بھی موقع دیا گیا کہ وہ آسمانی نظام کا براہ راست مشاہدہ کرسکیں تاکہ بحیثیت خلیفہ زمین کے انتظامات کرنے میں انہیں سہولت رہے۔ 3 ۔بطور آزمائش اس درخت سے اس لیے منع کیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے منع کردہ امور سے بچنے کی تربیت پائیں اور غلطی ہونے کی صورت میں معذرت کا رویہ اختیار کریں۔ 4 ۔اس میں یہ حکمت بھی ہو سکتی ہے کہ انہیں شیطان کی عداوت اور دشمنی کا مزید مشاہدہ ہو۔ تاکہ دنیا میں جا کر شیطانی اثرات وحرکات سے بچنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہیں۔ مسائل : 1۔ آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی دنیا میں آنے سے پہلے جنت میں رہائش پذیر ہوئے۔ 2۔ اللہ کی نافرمانی کرکے انسان ظالم ہوجاتا ہے۔ تفسیر بالقر آن : ظالم کون؟ 1۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (الانعام :21) 2۔ شرک کرنے والا ظالم ہے۔ (لقمان :13) 3۔ اللہ کی مسجدوں سے روکنے اور ان میں خرابی پیدا کرنے والا ظالم ہے۔ (البقرۃ:114) 4۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا ظالم ہے۔ (الزمر :32) 5۔ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ (آل عمران :57) 6۔ ظالم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ (الانعام :21) 7۔ ظالم کی سزا جہنم ہوگی۔ (الانبیاء :29) البقرة
36 فہم القرآن : ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) سے شیطان کا پہلا انتقام۔ حکم تھا کہ اے آدم! تم میاں، بیوی نے اس درخت کے قریب نہیں جانا۔ اس کے باوجود دونوں نے درخت کا پھل کھالیا۔ اس طرح آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ کو بالآخر شیطان پھسلانے میں کامیاب ہوا۔ جس کی پاداش میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کو جنت سے نکل جانے کا حکم صادر ہوا۔ ان کے ساتھ ہی شیطان کو بھی زمین پر دھتکار دیا گیا۔ خروج کا حکم دیتے ہوئے پھر فرمایا تم ایک دوسرے کے دشمن ہو لہٰذا ایک مدت کے لیے اب زمین ہی تمہارے لیے جائے قرار ہوگی۔ سورۃ الاعراف کی آیت 189میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ حضرت حوا {علیہ السلام}کو آدم (علیہ السلام) سے ہی پیدا کیا گیا تھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) شیطان کے پھسلاوے میں آ کر اللہ تعالیٰ کا حکم بھول گئے اور اس درخت سے نہ بچ سکے۔ یہ واقعہ بیان فرما کر شیطان کے ہتھکنڈوں اور اس کے خوشنما مغالطوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود آدم (علیہ السلام) کے بیٹے اور بیٹیاں شیطان کی فریب کاریوں میں مبتلا ہوتے رہیں گے۔ ان سے وہی خوش نصیب بچ سکیں گے جنہوں نے اپنے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) اور اپنی والدہ حضرت حوا [ کے واقعہ کو پوری غیرت کے ساتھ ذہن میں رکھا اور شیطان کو اپنا دشمن سمجھا : (وَنَسِیَ اٰدَمُ فَنَسِیَتْ ذُرِّیَتُہٗ وَخَطِئَ اٰدَمُ فَخَطِئَتْ ذُرِّیَتُہٗ) (رواہ الترمذی : تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ الأعراف) ” آدم (علیہ السلام) بھول گئے ان کی اولاد بھی بھولتی رہے گی آدم (علیہ السلام) سے خطا ہوئی اس کی اولاد بھی خطا کرے گی۔“ (عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ {رض}أَنَ النَّبِیَّ {}قَالَ۔۔إِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِیْ مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ۔۔) (رواہ البخاری : کتاب الإعتکاف، باب زیارۃ المرأۃ زوجھا فی اعتکافہ ) ” حضرت علی بن حسین {رض}بیان کرتے ہیں نبی کریم {ﷺ}نے فرمایا یقیناً شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔“ بعض مفسرین نے علمی موشگافیوں کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے چونکہ شیطان کا جنت میں داخلہ ممنوع تھا اس لیے وہ سانپ کی شکل اختیار کرکے جنت میں داخل ہوا اور اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حواء کو ورغلایا۔ حالانکہ سانپ بننے کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں کیونکہ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے یہ قوت دی ہے کہ وہ انسان کے جسم میں داخل ہوئے بغیر اس پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے اس لیے شیطان کا سانپ بننا ضروری نہیں اور نہ ہی کسی حدیث میں اس کا ثبوت ملتا ہے۔ (عَنْ أَنَسٍ {رض}أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ {ﷺ}قَالَ لَمَّا صَوَّرَ اللّٰہُ اٰدَمَ فِی الْجَنَّۃِ تَرَکَہٗ مَاشَآء اللّٰہ أَنْ یَّتْرُکَہٗ فَجَعَلَ إِبْلِیْسُ یُطِیْفُ بِہٖ یَنْظُرُ مَاھُوَ فَلَمَّا رَآہُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّہٗ خُلِقَ خَلْقًا لَایَتَمَالَکُ) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ والآداب، باب خلق الانسان خلقا لایتمالک) ” حضرت انس {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں آدم (علیہ السلام) کی صورت گری کی تو اس کے بعد جتنی دیر اللہ تعالیٰ نے چاہا اس کو چھوڑے رکھا۔ شیطان ان کے ارد گرد چکر لگانے لگا اور دیکھنے لگا کہ یہ کیا ہے؟ جب اس نے آدم (علیہ السلام) کا پیٹ دیکھا تو اس نے پہچان لیا کہ یہ ایسی مخلوق ہے جو اپنے آپ پر کنڑول نہیں رکھ سکے گی۔“ مسائل : 1۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا کو شیطان نے پھسلادیا تھا۔ 2۔ درخت کا پھل چکھنے کی وجہ سے انہیں جنت سے نکال دیا گیا۔ 3۔ شیطان بنی نوع انسان کا ازلی دشمن ہے۔ 4۔ زمین میں انسان نے ہمیشہ نہیں رہنا۔ تفسیر بالقرآن : آدم (علیہ السلام) کو جنت سے نکالنے کے شیطانی ہتھکنڈے : 1۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے دل میں وسوسہ ڈالا اور انہیں پھسلا دیا۔ (الاعراف :20) 2۔ شیطان نے آدم (علیہ السلام) کی غلط رہنمائی کی۔ (الاعراف :22) 3۔ آدم (علیہ السلام) کو ورغلانے کے لیے شیطان نے قسمیں اٹھائیں۔ (الاعراف :21) 4۔ شیطان نے اپنے آپ کو آدم (علیہ السلام) کا خیر خواہ ثابت کیا۔ (الأعراف :21) 5۔ جنت میں ہمیشہ رہنے کا جھانسہ دیا۔ (طہ :120) البقرة
37 فہم القرآن : ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) کا سنبھلنا اور اپنے رب سے معافی کا خواستگار ہونا اور رب کریم کا انہیں معاف فرما دینا۔ جب آدم (علیہ السلام) کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو نہ صرف وہ اپنے رب کے حضور معافی کے خوستگار ہوئے بلکہ معافی کا طریقہ، انداز اور الفاظ کی درخواست بھی کر رہے تھے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی خطا کو اپنے بے پایاں کرم سے معاف کر دے۔ اس مقام پر تینوں بڑی مخلوقات کی فطرت کا فرق نمایاں ہوتا ہے۔ ملائکہ نے معمولی لغزش پر لفظ ” سبحان“ کے ذریعے معذرت کی اور انہیں اسی طرح تقرب حاصل رہا۔ شیطان اپنے جرم پر ڈٹا رہا تو ہمیشہ کے لیے پھٹکار کا مستحق اور راندۂ درگاہ ہوا۔ آدم (علیہ السلام) اپنی غلطی پر معذرت خواہ ہوئے تو ان کی معذرت نے شرف قبولیت پایا۔ کیونکہ ربِّ کریم ہمیشہ سے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ اس کا وعدہ ہے کہ جب بھی میری بارگاہ میں کوئی معذرت کا دامن پھیلائے گا تو میں اسے معاف ہی کرتا رہوں گا۔ (مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَّغْرِبِھَا تَاب اللّٰہُ عَلَیْہِ) (رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء، باب إستحباب الإستغفار والإستکثار منہ) ” جس نے مغرب سے سورج طلوع ہونے سے پہلے تو بہ کرلی اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ {رض}عَنِ النَّبِیِّ {ﷺ}قَالَ إِِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَالَمْ یُغَرْغِرْ) (رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزھد، باب ذکرا لتوبۃ) ” حضرت عبداللہ بن عمر {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یقینًا اللہ عزوجل بندے کی توبہ قبول کرتارہتا ہے جب تک جان حلق تک نہ پہنچ جائے۔“ بعض لوگوں نے اپنا من گھڑت عقیدہ ثابت کرنے کے لیے لکھا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی توبہ نبی محترم {ﷺ}کے وسیلہ سے قبول ہوئی تھی۔ حالانکہ قرآن و حدیث میں اس کا بالکل کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ قرآن مجید نے سورۃ الاعراف : 22، 23میں یہاں تک بیان فرمایا ہے کہ درخت کا پھل چکھنے کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوّا کا لباس اتر گیا، برہنہ ہوجانے کی بنا پر وہ اپنی شرم گاہوں کو جنت کے پتوں سے ڈھانپ رہے تھے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے آدم ! کیا میں نے تمہیں اس درخت کے قریب جانے سے نہیں روکا تھا؟ اگر حضرت آدم (علیہ السلام) نے نبی محترم {ﷺ}کا وسیلہ پیش کیا ہوتا تو قرآن مجید اس کا ضرور تذکرہ کرتا۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اصل حقیقت کو اپنے بندوں سے چھپا لیا ہے ؟ (نعوذ باللہ من ذالک) یہ ایسا الزام اور بہتان ہے جس کا ایک مومن تصور بھی نہیں کرسکتا۔ جن کلمات کے ذریعے توبہ قبول ہوئی ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے وہ کلمات اپنے رب سے سیکھ لیے جو یہ تھے : ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ﴾ (الأعراف :23) ” اے ہمارے رب ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے اگر تو نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو ہم گھاٹا پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔“ اللہ کا اپنے بندوں کو معاف کرنے کے لیے قسمیں اٹھانا : (فَأَقُولُ یَا رَبِّ ائْذَنْ لِی فیمَنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَیَقُولُ وَعِزَّتِی وَجَلاَلِی وَکِبْرِیَائِی وَعَظَمَتِی لأُخْرِجَنَّ مِنْہَا مَنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ) (رواہ البخاری : باب کلاَمِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ الأَنْبِیَاءِ وَغَیْرِہِمْ ) ” آپ {ﷺ}فرماتے ہیں میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار ! مجھے توحید پرست لوگوں کے متعلق سفارش کی اجازت دیجیے۔ اللہ فرمائیں گے مجھے میری عزت، جلال، کبریائی اور عظمت کی قسم ! میں توحید پرستوں کو خود جہنم سے نکالوں گا۔“ مسائل: 1۔ انسان کو اپنے رب کے حضور توبہ کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ رحم کرنے اور توبہ قبول کرنے والا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ غفور ہے۔ (الحجر :49) 2۔ اللہ تعالیٰ رحیم ہے۔ (الزمر :53) 3۔ اللہ تعالیٰ رحمن ہے۔ (الفاتحہ :2) 4۔ اللہ ہی بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ (الشورٰی :25) 5۔ اللہ بخشنے اور رحمت کرنے والا ہے۔ (الکہف :58) 6۔ اللہ کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے۔ (الاعراف :156) 7۔ کشتیوں کا غرق ہونے سے بچنا اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ (یٰس :43) 8۔ اللہ کی رحمت سے گمراہ ہی مایوس ہوتے ہیں۔ (الحجر :56) 9۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ (الزمر :53) 10۔ اللہ تعالیٰ کی مومنوں پر خاص رحمت ہوتی ہے۔ (الاحزاب :43) البقرة
38 فہم القرآن : ربط کلام : خلافت کے قیام کے لیے آدم (علیہ السلام) کو زمین پراُترنے کا حکم اور خلافت کی ذمہ داریاں پوری کرنے پر بے خوف اور تابناک مستقبل کی ضمانت۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری توبہ قبول ہوئی لیکن آسمان سے اترنا تمہارا یقینی ہے لہٰذا جنت سے نکل جاؤ اور تم زمین پر جا کر شیطان کی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے نبھانے کی کوشش کرو۔ یاد رکھنا تمہارا زمین پر جانے کا یہ معنٰی نہیں کہ تم شتر بے مہار کی طرح جدھر چاہو نکل کھڑے ہو بلکہ تمہیں مسلسل ہدایات اور ایک دستور حیات دیا جائے گا جس کے مطابق تم نے انفرادی، اجتماعی، سماجی، معاشرتی، معاشی، سیاسی زندگی کا ہر گوشہ اور زاویہ اس کے مطابق ڈھالنا ہوگا یہی خلافت کا تقاضا اور تمہاری زندگی کا مقصد ہے۔ جس نے اس ہدایت نامے کی پابندی کی اسے دنیا کی زندگانی میں امن و سکون ملے گا اور آخرت میں کوئی خوف اور کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوگی۔ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے والا خوف و غم سے محفوظ رہے گا۔ 2۔ انسان اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دستور حیات کا پابند ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت ہی کامل اور حقیقی ہدایت ہے۔ تفسیر بالقرآن: بے خوف کون؟ 1۔ اللہ کی ہدایت پر عمل کرنے والا بے خوف ہوگا۔ (البقرۃ:38) 2۔ ا ولیاء اللہ کو کوئی خوف نہیں ہوگا۔ (یونس :62) 3۔ اللہ اور آخرت پر یقین رکھنے والے کو کوئی ڈر نہیں ہوگا۔ (المائدۃ:69) 4۔ ایمان لانے کے بعد استقامت دکھلانے والوں پر کوئی خوف نہیں ہوگا۔ (الاحقاف :13) 5۔ رب کے سامنے اپنے آپ کو مطیع کردینے والا بے خوف ہوگا۔ (البقرۃ:112) البقرة
39 فہم القرآن : ربط کلام : جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی نہ کی ان کا انجام۔ قرآن مجید کا یہ انداز فکر اور اسلوب بیان ہے کہ جب انعام و اکرام کا تذکرہ کرتا ہے تو ساتھ ہی برائی کے مضمرات وعواقب کے انجام کے بارے میں بھی انتباہ کرتا ہے تاکہ قرآن کا مطالعہ کرنے والا بیک وقت یہ سمجھ جائے کہ نیکی کے کیا فوائدہیں اور برائی کے نقصانات کیا ہیں؟ یہاں اللہ تعالیٰ کے احکام و ارشادات کا انکار اور ان کی تکذیب کرنے والوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی ذات کے منکر اور اس کے احکامات کا انکارو تکذیب کرتے رہے تو تمہیں جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ {}قَالَ نَارُکُمْ جُزْءٌ مِّنْ سَبْعِیْنَ جُزْءً ا مِّنَ نَّارِ جَھَنَّمَ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃً قَالَ فُضِّلَتْ عَلَیْھِنَّ بِتِسْعَۃٍ وَّتِسْعِیْنَ جُزْءً ا کُلُّھُنَّ مِثْلُ حَرِّھَا) (رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار وأنھا مخلوقۃ) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں یقیناً اللہ کے رسول {ﷺ}نے فرمایا تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔ عرض کیا گیا اللہ کے رسول! یہی آگ جلانے کے لیے کافی تھی۔ آپ {ﷺ}نے فرمایا اس آگ سے وہ انہتر حصے زیادہ ہے ان میں سے ہر حصے کی گرمی اس جیسی ہے۔“ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکامات کا انکار اور تکذیب کرنے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن : جہنم میں ہمیشہ رہنے والے لوگ : 1۔ مشرک جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ:39) 2۔ کافر اور تکذیب کرنے والے جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ (الزخرف :74) 3۔ منافق ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (التوبہ :68) 4۔ اللہ و رسول کی نافرمانی جہنم میں ہمیشگی کا سبب ہوگی۔ (الجن :23) 5۔ اللہ کے دشمن جہنم میں ہمیشہ جلتے رہیں گے۔ (فصّلت :28) البقرة
40 فہم القرآن: ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد یعنی بنی اسرائیل کو امت محمدیہ سے پہلے دنیا میں سب سے زیادہ عزت و عظمت اور اقتدارو اختیار ملا مگر انہوں نے اس کی ناقدری اور ناشکری کی جس کی وجہ سے وہ ذلیل و خوار ہوئے ان کی ذلت و رسوائی کے اسباب کی تفصیل سورۃ البقرۃ کی سو آیات میں بیان ہوئی ہے۔ (عہد کی تفصیل دیکھیں البقرۃ :83) ہر دور میں اہل علم کا اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے جس کا عبرانی زبان میں معنٰی ہے۔ ” اللہ کا بندہ“ لہٰذا بنی اسرائیل کا معنٰی ہوا کہ اللہ کے بندے کی اولاد۔ تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کا اصلی وطن کنعان، فلسطین تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں یہ لوگ مصر میں آباد ہوئے۔ ان کے آنے کے بعد ان کے آبائی وطن کنعان، فلسطین اور پورے شام پر عمالقہ نامی قوم نے قبضہ کرلیا۔ جناب یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے جن میں چوتھے بیٹے کا نام یہودہ تھا۔ اسی نسبت سے بنی اسرائیل کو یہودی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنے دور میں بڑی معزز اور محترم قوم تھی ان میں ہزاروں جلیل القدر انبیاء ہوئے ہیں جن میں سب سے نمایاں حضرت موسیٰ اور آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوئے ہیں۔ مصر میں جب بنی اسرائیل پر فرعون نے مظالم ڈھانے شروع کیے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انتھک اور بے مثال جدو جہدکرکے ان کو فرعون کے جور وستم سے نجات دلوائی۔ فرعون دریا میں غرق ہوا تو اس کے بعد بنی اسرائیل کو عمالقہ سے جہاد کا حکم ہوا۔ بنی اسرائیل فلسطین کی طرف چلے تو قریب جا کر جب انہیں عمالقہ کی طاقت کا علم ہوا تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے صاف کہہ دیا کہ اے موسیٰ تم اور تمہارا خدا لڑو ہم تو یہیں ٹھہریں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا مگر انہوں نے جہاد سے انکار کردیا۔ جس کی پاداش میں انہیں چالیس سال تیہ کے صحرا میں بطور سزا رہنا پڑا۔ یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) فوت ہوئے پھر انہوں نے یوشع بن نون کی زیر کمان جہاد کیا اور فاتحانہ انداز میں فلسطین داخل ہوئے۔ بنی اسرائیل میں مجموعی طور پر یہودی اور عیسائی دونوں شامل ہیں۔ لیکن بعض مقامات پر بنی اسرائیل سے مراد صرف یہودی ہوتے ہیں۔ جس کا علم قرآن مجید کے سیاق وسباق سے ہوتا ہے۔ اس کے سیاسی ومذہبی راہنماؤں‘ حکمرانوں اور عوام کے گھناؤنے کردار کا قرآن مجید کی ابتدا میں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نزول قرآن کے وقت دنیا میں یہ دو بڑے مذاہب تھے۔ باقی مذاہب ان کی بگڑی ہوئی شکلیں تھیں۔ ہندوستان میں جسے قدیم تاریخ میں بلادالہند کہا جاتا ہے ہندو اپنے مذہب کو تین ہزار سال پرانا مذہب ثابت کرتے ہیں اس مذہب کی اکثر رسومات اور گائے پرستی کا تصور یہودی مذہب سے ہی لیا گیا ہے۔ ہندو مذہب کی اصلاح کے لیے بدھ مت کی تحریک چلی جو اپنی عادات و رسومات کے لحاظ سے عیسائیت کے زیادہ قریب ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہی وجوہات کی بنیاد پر سورۃ بقرۃ کو قرآن مجید کی ابتدا میں رکھا گیا ہے۔ تاکہ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والے شخص کے ذہن میں شروع ہی سے بنیادی امور اور یہ بات منقش ہوجائے کہ پہلی اقوام بالخصوص بنی اسرائیل کے عروج و زوال کے اسباب کیا تھے؟ وہ کیوں ذلت و رسوائی کے اندھے کنویں میں الٹے ہو کر گرے؟ اس کے پیچھے ان کے علماء اور سیاسی راہنماؤں کا کیا کردار تھا؟ بنی اسرائیل کے حوالے سے امت مسلمہ کو سمجھایا جا رہا ہے کہ اس عظیم قوم کا کردار سامنے رکھو کہ بزرگوں کی گدی نشینی‘ صاحب زادگی، مذہبی امتیازات‘ ابناء اللہ کے بھاری بھرکم دعوے، اقتدار اور وسیع اختیار ات بھی اس قوم کو ذلت سے نہ بچا سکے۔ اس سبق کے ساتھ ہی یہ بتلانا مقصود ہے کہ مدینہ اور اس کے گرد و پیش جتنے قبائل اور قومیں آباد تھیں وہ یہودیوں کو بزرگوں کی اولاد اور انبیاء کے وارث تصور کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے یہ قبائل یہودیوں کے نظریات کو سچ اور حق کی کسوٹی سمجھتے تھے۔ ان اسباب کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑے دلربا انداز میں سمجھاتے ہوئے یہ احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ اے میرے بندے یعقوب کی اولاد! میری عطا کردہ نعمتوں، فضیلتوں اور رفعتوں کا احساس کرتے ہوئے تمہارا اولین فرض بنتا ہے کہ نبی آخر الزماں {ﷺ}کی مخالفت کرنے کی بجائے ان کی نصرت و حمایت کرتے ہوئے حلقۂ اسلام میں داخل ہو کر اس عہد سے وفا کرو جو تم سے توحید اور خاتم النبیین کے بارے میں لیا گیا ہے۔ میں بھی ایفائے عہد کے بدلے تمہیں دوبارہ نعمتوں اور عزتوں سے سرفراز کروں گا۔ یاد رکھنا اگر سابقہ مقام کی بحالی اور عزت رفتہ کے خواہش مند ہو تو تمہیں نبی آخر الزماں {ﷺ}کی قیادت میں آئے بغیر یہ شرف نہیں مل سکتا۔ اس کے لیے درج ذیل امور کو بجا لانا ہوگا۔ چنانچہ بنی اسرائیل کو پہلے خطاب میں ابتدائی سبق اور تورات و انجیل کی بنیادی تعلیمات کی یاد دہانی کے طور پر سولہ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ 1۔ میری نعمتوں کو ہر دم یاد رکھا کرو۔ 2۔ تم عہد وفا کرو گے تو تمہارے ساتھ بھی ایفائے عہد ہوگا۔ 3۔ ہمیشہ اللہ ہی سے ڈرتے رہو۔ 4۔ قرآن مجید پر ایمان لاؤ۔ کیونکہ یہ تورات و انجیل کی تصدیق کرتا ہے۔ 5۔ سب سے پہلے تم ہی کفر کرنے والے نہ بنو۔ 6۔ دنیا کے معمولی مفاد کے بدلے اللہ کی آیات کو فروخت نہ کرو۔ 7۔ حق اور باطل کے التباس سے اجتناب کرو۔ 8۔ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش نہ کرو۔ 9۔ نماز ادا کرو۔ 10۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے رہو۔ 11۔ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کرو۔ یاد رہے کہ یہودیوں نے رکوع کو نماز سے نکال رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے رکوع کا خاص طور پر حکم دیا گیا ہے۔ 12۔ لوگوں کو نیکی کا حکم کرو مگر اپنے آپ کو بھول جانے سے بچو۔ 13۔ اللہ کی دی ہوئی عقل کا صحیح استعمال کرتے رہو۔ 14۔ مصائب پر صبر کرو۔ 15۔ اللہ تعالیٰ سے صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کیا کرو۔ 16۔ اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور اس کی بارگاہ میں پیش ہونے کا عقیدہ پختہ اور اس کے تقاضے پورے کرو۔ ان میں سے ہر فرمان ایک مضمون کا حامل اور اصلاح ذات اور فلاح جماعت کا جامع پروگرام پیش کر رہا ہے۔ پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان کے دعوے دار کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی بات کا انکار کرے جو اس کے نظریہ کی تائید کر رہی ہو گویا کہ اہل علم کی یہ شان نہیں کہ وہ کفر کے امام بنیں انہیں تو ہدایت کا پیش رو ہونا چاہیے۔ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد رکھنا چاہیے۔ 2۔ اللہ سے کیے ہوئے وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ 3۔ اس کا خوف دل و جان میں بسائے رکھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن وعدہ پورا کرنا چاہئے: 1-اللہ کے بندے وعدہ ایفاء کرتے ہیں۔ (البقرۃ: 177) 2-اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ (الانعام: 152) 3-ایماندار اللہ تعالی کے ساتھ اپنا عہد پورا کرتے ہیں۔ (الرعد: 20) 4-اللہ کے عہد کا ایفاء ضروری ہے۔ (النحل: 91) 5-قیامت کے دن ایفائے عہد کے بارے میں سوال ہوگا۔ (الاسراء: 34) 6-اے ایمان والو عہد پورے کرو۔ (المائدہ: 1) 7-جو اللہ کا عودہ پورا کرے گا اللہ تعالی اسکے ساتھ اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔ (البقرہ: 40) البقرة
41 فہم القرآن : ربط کلام : بنی اسرائیل کو عظمت رفتہ کی یاد دہانی اور اللہ کا خوف دلانے کے بعد نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو بلا چون و چرا تسلیم کرو اور دنیا کے مفاد کی خاطر ان سے روگردانی نہ کرو۔ سچائی کو قبول کرنے میں سب سے پہلے جو رکاوٹ پیش آیا کرتی ہے وہ دنیاوی مفاد، گروہی تعصبات اور آدمی کا قدیم رسومات ونظریات پر قائم رہنا ہے جنہیں چھوڑنا نہایت ہی مشکل ہوتا ہے۔ اس میں انسان کو وقتی مفادات، ماضی کے نظریات، آباء واجداد کی روایات اور معاشرے کی فرسودہ رسومات کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ ان کو چھوڑنے سے کئی قسم کے الزامات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ آدمی ہمیشہ سے انہی زنجیروں میں جکڑا رہتا ہے۔ ان جکڑ بندیوں سے نجات پانا اور حقیقت کو قبول کرنا بڑی جرأت و جوا نمردی کا کام ہے۔ اہل کتاب کو دعوت دی جا رہی ہے کہ تمہیں سب لوگوں سے پہلے قرآن مجید پر ایمان لانا چاہیے کیونکہ قرآن کوئی نیا دین پیش نہیں کرتا یہ تو تمہاری بنیادی تعلیمات کی تائید کرتا ہے۔ لہٰذا رکاوٹ بننے کی بجائے ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے آگے بڑھ کر قرآن کا پیغام سینے سے لگاؤ اور پرچم اسلام کو تھام لو۔ تمہیں وہ سب کچھ عزت کے ساتھ مل جائے گا جس کے چھن جانے کا تمہیں خوف ہے۔ لہٰذا دونوں آیات کے آخر میں تلقین کی گئی ہے کہ مفادات کے چھن جانے کا ڈر، لوگوں کا خوف اور مستقبل کے خدشات سے ڈرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ دنیا کے مفادات وتحفظات اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے مقابلے میں نہایت ہی معمولی چیزہیں۔ ” اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو تھوڑے داموں میں فروخت نہ کرو اور اگر منہ مانگے دام ملیں تو بیچ دو بلکہ مقصد یہ ہے کہ کسی قیمت پر حق کو نہ بیچو۔ کیونکہ ساری دنیا کے خزانے بھی اس کے مقابلے میں حقیر ترین معاوضہ ہیں۔“ [ ضیاء القرآن] بنی اسرائیل کو یہ کہہ کر سمجھایا جا رہا ہے کہ تمہیں میرے سوا کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اور تمہیں اس لیے بھی خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ قرآن تمہاری بنیادی اور صحیح باتوں کی تصدیق کرتا ہے اور اسے میں نے ہی اپنے بندے محمد عربی {ﷺ}پر نازل کیا ہے لہٰذا تمہارے لیے اس سے انکار کرنے کا کوئی علمی واخلاقی جواز نہیں بنتا۔ اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے آگے بڑھ کر اسے قبول کرو دنیا کے معمولی مفاد اور عارضی وقار کی خاطر میری آیات کے ساتھ سودے بازی نہ کرو کیونکہ میرے ارشادات کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت ذرہ کے برابر بھی نہیں ہے۔ اس حقیقت کو نبی محترم {ﷺ}نے ایک موقعہ پریوں بیان فرمایا ہے : (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ {رض}أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ {}مَرَّ بالسُّوْقِ دَاخِلًا مِّنْ بَعْضِ الْعَالِیَۃِ وَالنَّاسُ کَنَفَتُہٗ فَمَرَّ بِجَدْیٍ أَسَکَّ مَیِّتٍ فَتَنَاوَلَہٗ فَأَخَذَ بِأُذُنِہٖ ثُمَّ قَالَ أَیُّکُمْ یُحِبُّ أَنَّ ھٰذَا لَہٗ بِدِرْھَمٍ فَقَالُوْا مَانُحِبُّ أَنَّہٗ لَنَا بِشَیْءٍ وَمَا نَصْنَعُ بِہٖ قَالَ أَتُحِبُّوْنَ أَنَّہٗ لَکُمْ قَالُوْا وَاللّٰہِ لَوْکَانَ حَیًّاکَانَ عَیْبًا فِیْہِ لِأَنَّہٗ أَسَکَّ فَکَیْفَ وَھُوَ مَیِّتٌ فَقَالَ فَوَاللّٰہِ لَلدُّنْیَا أَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذَا عَلَیْکُمْ) (رواہ مسلم : کتاب الزھد والرقائق، باب ) ” حضرت جابر بن عبداللہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}بازار کی ایک جانب سے داخل ہوئے آپ کے ساتھ لوگ بھی تھے آپ ایک مردہ بکری کے بچے کے پاس سے گزرے آپ نے اس کے ایک کان کو پکڑ کر پوچھا کون اسے ایک درہم کے بدلے لینا پسند کرے گا؟ صحابہ کرام {رض}نے کہا : ہم تو اسے کسی چیز کے بدلے بھی لینا نہیں چاہتے اور ہم اس کا کیا کریں گے؟ آپ نے فرمایا : کیا تم اسے پسند کرتے ہو کہ یہ بکری کا بچہ تمہارا ہوتا؟ صحابہ کرام {رض}نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو کان چھوٹے ہونے کی وجہ سے اسے قبول نہ کیا جاتا۔ اب یہ مرا ہوا ہے تو ہم کیسے اسے پسند کریں گے۔ آپ نے فرمایا : جیسے تمہارے نزدیک یہ بکری کا مردہ بچہ بڑا ہی حقیر ہے۔ اللہ کی قسم! دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر اور ذلیل ہے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ {}قَالَ إِنَّہٗ لَیَأْتِی الرَّجُلُ الْعَظِیْمُ السَّمِیْنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَایَزِنُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ وَقَالَ اقْرَءُ وْا ﴿فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا﴾) (رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب أولئک الذین کفروا بآیات ربھم ولقاۂ) ” حضرت ابوہریرہ {رض}رسول اللہ {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : یقینًا روز قیامت ایک بڑا اور موٹا آدمی لایا جائے گا اللہ کے ہاں اس کا مچھر کے پر کے برا بر بھی وزن نہ ہوگا اور فرمایا : یہ آیت پڑھو ( قیامت کے دن ہم ان کافروں کے لیے ترازوقائم نہیں کریں گے)۔“ پادریوں کی دنیا پرستی : جس تورات و انجیل کی قرآن نے تصدیق کی وہ وہی تھیں جو موسیٰ و عیسیٰ {علیہ السلام}پر نازل ہوئیں۔ مگر نزول قرآن تک ان کتابوں کے کچھ حصے آمیزش اور تحریف و تناقص کا شکار ہوچکے تھے جبکہ بعض حصے بالکل ناپید ہوگئے تھے۔ لہٰذا قرآن نے جہاں ان کتابوں کی مجمل تصدیق کی‘ وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ تحریف اور تبدل کا شکار ہوچکی ہیں۔ گویا قرآن کے اپنے الفاظ میں اگر وہ ان کتابوں کا ” مصدق“ ہے تو وہ ان کا ” مہیمن“ بھی ہے۔ یعنی ان کی اصلی تعلیم کا محافظ و نگران اور اسے درست طور پر پیش کرنے والا ﴿وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتَابِ وَمُہَیْمِنًا عَلَیْہِ﴾ ” قرآن کی عظمت یہ ہے کہ اس نے ان حقائق کا اعلان اس وقت کیا جب یہودی اور عیسائی انہیں کسی قیمت پر ماننے کو تیار نہ تھے۔“ پاپاؤں اور کارڈینلوں کی ہوس زر‘ دنیا طلبی اور عیش پرستیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے تاریخ پاپائیت کا مستند مورخ کریٹن پوپ بونی فیس نہم کے بارے میں لکھتا ہے : His ends were purely temporal and had no care for the higher intrests of the Church. (M.Creighton: History of the Papacy, vol. 1, p. 182,183) ” اس کے مقاصد سراسر دنیاوی تھے اور اسے کلیسا کے اعلیٰ مفادات کی کوئی پرواہ نہ تھی۔“ حتیٰ کہ جب اس کے آخری وقت (last hour) پوچھا گیا کہ وہ کیسا ہے تو اس نے جواب دیا : If I had more money I should be wellenough. (M.Crieghton: History of the Papacy, vol. 1, p. 182,183) ” اگر مجھے مزید دولت مل جائے تو میں (اب بھی) ٹھیک ٹھاک ہوسکتا ہوں۔“ صلیبی جنگوں کا ایک اہم محرک بھی جلب زر اور حصول جاہ تھا۔ پوپ اربن دوم (1088) ء نے پہلی صلیبی جنگ پر ابھارتے ہوئے مسیحی شہزادوں اور بہادروں کو کہا تھا : The wealth of our enemies will be yours and you will despoil them of their treasures. ” ہمارے دشمنوں کی دولت تمہاری ہوجائے گی‘ اور تم انہیں ان کے خزانوں سے محروم کر دو گے۔“ [ عیسائیت تجزیہ ومطالعہ از پروفیسر ساجد میر ] مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو چھوڑ کر دنیا کمانا اس کی آیات کو معمولی قیمت پر فروخت کرنے کے مترادف ہے۔ 2۔ اللہ کی کتابوں پر پورا یقین رکھنا چاہیے۔ 3۔ اللہ سے ہی ڈرتے رہنا چاہیے۔ البقرة
42 فہم القرآن : (آیت 42 سے 43) ربط کلام : بنی اسرائیل کو خطاب جا ری ہے۔ دنیا کے فائدے کی خاطر حق و باطل کا التباس نہ کرو۔ بلکہ نماز کی صورت میں حقوق اللہ اور زکوٰۃ کی شکل میں حقوق العباد کا اہتمام کرتے ہوئے نماز میں رکوع کرتے ہوئے اسے جماعت کے ساتھ پڑھا کرو۔ بنی اسرائیل کے علماء اور سیاسی رہنما نہ صرف اپنے مفادات پر شریعت کے احکامات قربان کرتے بلکہ جو احکامات ان کی ” انا“ گروہی مفادات اور سیاسی سوچ کے خلاف ہوتے ان کو ہر ممکن چھپانے کی کوشش کرتے تھے۔ بصورت دیگر اپنے دھڑے کی حمایت کی خاطر ان کی تاویلات کرتے ہوئے اس طرح اپنے عقیدے کے سانچے میں ڈھالتے اور اس طرح التباسِ حق و باطل کرتے کہ پڑھنے اور سننے والا آسمانی کتاب اور علماء کی فقہ‘ فتاو ٰی جات، ذاتی نظریات کے بارے میں فرق نہیں کرسکتا تھا کہ ان میں تورات و انجیل کی اصل عبارت کونسی ہے۔ بلکہ وہ ان کے فروعی مسائل‘ فقہی تاویلات اور اصطلاحات کو بنیادی اور اصل دین تصور کرتا تھا۔ ان کے منصف مزاج لوگ اس بات کا کھلا اعتراف کرتے ہیں۔ (عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ صِفَةُ مُحَمَّدٍ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ يُدْفَنُ مَعَهُ) (رواہ الترمذی: باب فی فضل النبی ﷺ ]ضعیف[) محمد بن یوسف اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ تورات میں محمد (ﷺ) اور عیسی بن مریم (علیہ السلام) کی صفات لکھی ہوئی ہیں کہ عیسی (علیہ السلام) حضرت محمد (ﷺ) کے ساتھ دفن ہونگے۔ چنانچہ ایک مسیحی فاضل لکھتا ہے : Careful comparison of the Bibles published recently with the first and other early versions will show great differences; but by whose authority the sechanges havebeen made, no one seems to know. (J.R. Dore: op.cit., p.98) ” حال میں (یہ بات 1876میں کہی گئی تھی) شائع ہونے والے بائبل کے نسخوں کا اگر پہلے اور ابتدائی نسخوں سے مقابلہ کیا جائے، تو ان میں بہت زیادہ اختلافات ظاہر ہوں گے۔ لیکن یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ یہ تبدیلیاں کس سند اور اختیار کی رو سے کی گئی ہیں۔“ برنارڈ ایلن (Bernard M.Allen) نے درج ذیل تبصرہ اناجیل اربعہ پر کیا تھا‘ مگر یہی بات عہد عتیق اور بائبل کے دوسرے حصوں پر بھی صادق آتی ہے : We have, therefore, no security that the narratives and sayings as given in the Gospels necessarily represent what actually happened or what was actually said. (B.M. Allen: op. cit., p.9) ” ہمارے پاس اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اناجیل میں دیے ہوئے واقعات و اقوال لازماً وہی کچھ پیش کرتے ہیں جو حقیقت میں واقع ہوا اور جو کہا گیا تھا۔“ [ عیسائیت تجزیہ ومطالعہ] یہاں نماز کی تلقین اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دے کر انہیں سبق دیا جا رہا ہے۔ تمہیں اپنے مفادات کے سامنے جھکنے کی بجائے اللہ کے حضور سر نگوں ہونا چاہیے اور لوگوں سے مال بٹورنے کی بجائے زکوٰۃ کی صورت میں خرچ کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی رضا کی خاطر پوری زکوٰۃ ادا کرنے والا نہ بخیل ہوتا اور نہ لوگوں کا مال بٹورتا ہے۔ تنہا نماز پڑھنے کے بجائے مسلمانوں کے ساتھ مل کر رکوع کیا کرو۔ یہودیوں نے اپنی نماز میں رکوع کو خارج کردیا تھا۔ اس لیے رکوع کی ادائیگی کا بالخصوص ذکر فرما کر جماعت کی اہمیت کا احساس دلایا جارہا ہے کہ دین میں صرف نماز پڑھ لینا ہی کافی نہیں بلکہ نماز با جماعت ادا کرنے کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ نماز باجماعت : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ {رض}أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ {}قَالَ صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ تَفْضُلُ صَلَاۃَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً) (رواہ البخاری : کتاب الأذان، باب فضل صلاۃ الجماعۃ) ” حضرت عبداللہ بن عمر {رض}بیان کرتے ہیں رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہے۔“ رسول اللہ {ﷺ}نے جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھنے والوں کے بارے میں اپنے ارادے کا یوں بھی اظہار فرمایا : (وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَیُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بالصَّلَاۃِ فَیُؤَذَّنَ لَھَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَیَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلٰی رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَیْھِمْ بُیُوْتَھُمْ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُھُمْ أَنَّہٗ یَجِدُ عَرْقًا سَمِیْنًا أَوْ مِرْمَاتَیْنِ حَسَنَتَیْنِ لَشَھِدَ الْعِشَآءَ) (رواہ البخاری : کتاب الاذان، باب وجوب صلاۃ الجماعۃ) ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں جب اکٹھی ہوجائیں تو میں نماز کا حکم دوں نماز کے لیے اذان دی جائے پھر میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کروائے اور میں نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پاس جاؤں۔ ان پر ان کے گھروں کو جلا کر راکھ کردوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ان میں سے کوئی یہ جانتا کہ اسے نماز کے بدلے موٹی ہڈی یا دو پائے ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتے۔“ مسائل : 1۔ سچ اور جھوٹ کو خلط ملط کرنا بڑا گناہ ہے اور یہ یہودیوں کی عادت ہے۔ 2۔ حق جاننے کے باوجود حق بات کو چھپانابڑا گناہ ہے۔ 3۔ زکوٰۃ کی ادائیگی اور نماز باجماعت پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : اقامت صلوٰۃ کے تقاضے : 1۔ پہلے وضو کیا جائے۔ (المائدۃ:6) 2۔ نماز مقررہ اوقات پر ادا کی جائے۔ (النساء :103) 3۔ نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھو۔ ( النساء :43) 4۔ نماز میں غفلت اور ریا کاری نہیں ہونی چاہیے۔ ( الماعون : 5، 6) 5۔ نماز جماعت کے ساتھ پڑھی جائے۔ ( البقرۃ:43) 6۔ نماز میں عاجزی ہونی چاہیے۔ ( البقرۃ:238) 7۔ نماز خشوع کے ساتھ پڑھنی چاہیے۔ ( المؤمنون :2) 8۔ اقامت صلوٰۃ کا صلہ۔ (العنکبوت :45) زکوۃ کا حکم اور اسکے فائدے: 1-حضرت ابراہیم، لوط، اسحاق ویعقوب (علیھم السلام) کو زکوۃ کا حکم ۔ (الانبیاء: 73) 2-حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اپنے اہل خانہ کو زکوۃ کا حکم۔ (مریم: 55) 3-حضرت عیسی علیہ السلام کو زکوۃ کاحکم۔ (مریم: 31) 4-بنی اسرائیل کو زکوۃ کاحکم۔ (البقرہ: 83) 5-تمام امتوں کو زکوۃ کاحکم۔ (البینۃ: 5) 6-زکوۃمال کا تزکیہ کرتی کرتی ہے۔ (التوبۃ: 103) 7-ایمان، نماز اور زکوۃ مومن کو بے خوفاور بے غم کرتی ہے۔ (البقرۃ: 277) البقرة
43 البقرة
44 فہم القرآن : ربط کلام : بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے مگر اپنے آپ کو بھول جاتے تھے جو دانشمندی کے خلاف ہے۔ بنی اسرائیل کے علماء نے دین اور اس کی تبلیغ کو پیشہ کے طور پر اختیار کر رکھا تھا۔ بظاہر ان کا اوڑھنا بچھونا دین ہی تھا۔ لیکن دین کو محض ڈیوٹی اور پیشہ کے طور پر اختیار کئے ہوئے تھے۔ دینی فرائض کی بظاہرادائیگی اور نیکی کی نمائش کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ ایسے لوگوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ دینی مشغلے سے تمہیں وقتی مفاد تو حاصل ہوجائے گا۔ لیکن حقیقی اور دائمی فائدے سے محروم رہو گے۔ کتاب اللہ کا علم جاننے اور منصب امامت سنبھالنے کے باوجود ایسا کرنا عقل مندی کا تقاضا نہیں۔ اہل کتاب کے مذہبی پیشواؤں کا کردار : ” تاریخ اخلاق یورپ“ کے فاضل مؤلف نے اس شرمناک اور وحشت ناک صورت حال کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے : ... that inveterate prevalanceof incest among theclergy, which rendered it necessary angain and again to issue the most stringent enactments that priests should not be permitted to livewith their mothers and sisters. (W.Lecky: op.cit., p.231 -- H.C.Lea:op.cit., p.138) ” اہل کلیسا میں محرمات سے مباشرت کا چلن اتنا پختہ ہوچکا تھا کہ پادریوں کو اپنی ماؤں اور بہنوں کے ساتھ رہنے سے روکنے کی خاطر بار بار انتہائی سخت قوانین جاری کرنے کی ضرورت پیش آئی۔“ گریگوری دہم نے لے اونر (Lyons) کی دوسری کونسل میں شریک ہونے والے معزز ترین پادریوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : You are the ruin of the world. (Ibid., p.353) ” تم دنیا کی اخلاقی تباہی کے باعث ہو۔“ The History of Christian monasticism ...... during the1,000 years of the Church's complete domination of europe, is the most sordid chapter in the history of civilized religions ....... at least four-fiths of themonasteries of europe during the1,000 years were corrupt ..... a monastery was generally a nursery of sloth, sensuality and vice. (Rationalist encyclopaedia pp.398-399) ” مسیحی رہبانیت کی ان ہزار سالوں کی تاریخ جب یورپ پر کلیسا کا مکمل تسلط تھا‘ مہذب مذاہب کی تاریخ کا تاریک ترین باب ہے۔۔ ان ہزار سالوں کے دوران کم از کم 4/5 راہب خانے بدمعاشی کے اڈے تھے۔ ایک راہب خانہ عموماً کاہلی‘ شہوت پرستی اور اخلاقی خرابی کا گہوارہ ہوتا تھا۔“ [ عیسائیت تجزیہ ومطالعہ : مؤلف پروفیسر ساجد میر] بد عمل علماء کے بارے میں رسول اللہ {ﷺ}کا فرمان : (یُجَآء بالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُہٗ فِی النَّارِ فَیَدُوْرُ کَمَا یَدُوْرُ الْحِمَارُ بِرَحَاہُ فَیَجْتَمِعُ أَھْلُ النَّارِ عَلَیْہِ فَیَقُوْلُوْنَ أَیْ فُلَانُ مَاشَأْنُکَ أَلَیْسَ کُنْتَ تَأْمُرُنَا بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ قَالَ کُنْتُ آمُرُکُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَلَآ اٰتِیْہِ وَأَنْھَاکُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیْہِ) (رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار...) ” قیامت کے دن ایک آدمی کو لا کر آگ میں ڈالا جائے گا اس کی انتڑیاں آگ میں باہر نکل آئیں گی وہ ان کے گرد ایسے چکر کاٹے گا جیسے گدھا چکی کے گرد چکر کاٹتا ہے جہنمی اس کے پاس جمع ہو کر پوچھیں گے اے فلاں! تجھے کیا ہوا کیا تو ہمیں اچھی باتوں کا حکم اور برے کاموں سے منع نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا میں تمہیں اچھی باتوں کا حکم دیتا تھا لیکن خود نیکی نہیں کرتا تھا اور میں تمہیں برے کاموں سے روکتا تھا لیکن خود نہیں رکتا تھا۔“ مسائل: 1۔ لوگوں کو نیکی کا حکم دینا خود اس پر عمل نہ کرنا بے عقلی کی دلیل ہے۔ 2۔ مبلغ کو سب سے پہلے نیکی کے کام پر عمل کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن: قول وفعل کے تضاد کی ممانعت : 1۔ ایمان داروں کے قول وفعل میں تضاد کیوں؟۔ (الصف :2) 2۔ عمل نہ کرنے والوں کی مثال گدھوں جیسی ہے۔ ( الجمعۃ:5) 3۔ کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔ (البقرۃ:44) البقرة
45 فہم القرآن : ربط کلام : دوغلا پن اختیار کرنے کی بجائے، عُسرویُسر میں دین پر قائم رہو اور نماز اور صبر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی مدد کے طالب بنو۔ اے بنی اسرائیل ! تمہیں اپنے آپ کو شریعت کا پابند صبر و شکر کا خوگر اور نماز قائم کرنے والا بننا چاہیے لیکن یاد رکھو یہ کام نسبتاً مشکل ہیں۔ اس پر عمل کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ صبر و شکر اور نماز کی ادائیگی وہی لوگ کیا کرتے ہیں جن کے دل ” اللہ“ کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور انہیں یقین ہوتا ہے کہ ہم نے دنیا میں ہمیشہ نہیں بیٹھ رہنا بلکہ آخر کار ہمیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور فکر آخرت کے نتیجہ میں آدمی سے نیک اعمال کا ظہور ہوتا ہے۔ اس فکرکے بغیر دینی کام اچھی عادت اور پیشہ توہو سکتے ہیں مگر توشۂ آخرت نہیں ہو سکتے اور نہ ہی کردار میں اچھی تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نماز کے ذریعے مدد طلب کرنا : (إِذْ أَتٰی عَلٰی جَبَّارٍ مِّنَ الْجَبَابِرَۃِ فَقِیلَ لَہٗٓ إِنَّ ہَا ہُنَا رَجُلًا مَعَہُ امْرَأَۃٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فَسَأَلَہٗ عَنْہَا فَقَالَ مَنْ ہٰذِہٖ قَالَ أُخْتِیْ فَأَتٰی سَارَۃَ قَالَ یَا سَارَۃُ لَیْسَ عَلٰی وَجْہِ الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَیْرِی وَغَیْرَکِ وَإِنَّ ھٰذَا سَأَلَنِی فَأَخْبَرْتُہُ أَنَّکِ أُخْتِیْ فَلَا تُکَذِّبِیْنِیْ فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَیْہِ ذَہَبَ یَتَنَاوَلُہَا بِیَدِہٖ فَأُخِذَ فَقَالَ ادْعِی اللّٰہَ لِیْ وَلَا أَضُرُّکِ فَدَعَتِ اللّٰہَ فَأُطْلِقَ ثُمَّ تَنَاوَلَہَا الثَّانِیَۃَ فَأُخِذَ مِثْلَہَا أَوْ أَشَدَّ فَقَالَ ادْعِی اللّٰہَ لِیْ وَلَآ أَضُرُّکِ فَدَعَتْ فَأُطْلِقَ فَدَعَا بَعْضَ حَجَبَتِہٖ فَقَالَ إِنَّکُمْ لَمْ تَأْتُونِی بِإِنْسَانٍ إِنَّمَآ أَتَیْتُمُونِی بِشَیْطَانٍ فَأَخْدَمَہَا ہَاجَرَ فَأَتَتْہُ وَہُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فَأَوْمَأَ بِیَدِہٖ مَہْیَا قَالَتْ رَدَّ اللّٰہُ کَیْدَ الْکَافِرِ أَوِ الْفَاجِرِ فِیْ نَحْرِہٖ وَأَخْدَمَ ہَاجَرَ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ تِلْکَ أُمُّکُمْ یَا بَنِیْ مَاء السَّمَاءِ) (رواہ البخاری :، باب قول اللہ تعالیٰ ﴿واتخذ اللّٰہ ابراھیم خلیلا﴾) ” جب ( حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور بی بی سارہ) ایک ظالم حکمران کے ملک سے گزرے تو اس کے نوکر چاکروں نے بادشاہ کو کہا کہ ہمارے شہر میں ایک مسافر آیا ہے جس کی عورت بہت ہی زیادہ خوبصورت ہے۔ ظالم بادشاہ نے حکم دیا۔ ابراہیم کو فوراً میرے سامنے پیش کرو۔ ان سے پوچھا یہ عورت کون ہے؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا یہ میری بہن ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بادشاہ سے فارغ ہو کر حضرت سارہ کے پاس آئے اور کہا اے سارہ! اس سرزمین میں میرے اور تیرے سوا کوئی مومن نہیں۔ اس ظالم بادشاہ نے مجھے پوچھا ہے کہ یہ تیرے ساتھ عورت کون ہے؟ تو میں نے تجھے اپنی بہن کہا ہے کیونکہ دینی رشتہ کے اعتبار سے تو میری بہن ہے، تجھے اس کے سامنے یہی کہنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو میں جھوٹا ثابت ہوجاؤں۔ اس ظالم بادشاہ نے حضرت سارہ کو جبراً منگوایا جب وہ اس کے پاس پہنچائی گئی تو ظالم نے دست اندازی کی کوشش کی لیکن دھڑام نیچے گرا اور فریاد کرنے لگا اے نیک خاتون! اپنے رب سے میری عافیت کی دعا کر میں تجھے کچھ نہیں کہوں گا۔ حضرت سارہ کی دعا سے وہ اچھا ہوگیا پھر دوسری مرتبہ زیادتی کی کوشش کی دوبارہ پہلے کی طرح یا اس سے بھی زیادہ اللہ کی گرفت میں آیا۔ اب پھر التجا کی کہ اے نیک عورت ! اب کے بار پھر دعا کر میں اچھا ہوجاؤں تو میں تجھے کچھ نہیں کہوں گا۔ حضرت سارہ نے دعا کی تو اللہ کے فضل وکرم سے وہ پھر صحیح ہوگیا۔ اس بار اس نے اپنے نوکر کو بلا کر کہا تم کیسی عورت میرے پاس لائے ہو یہ عورت ہے یا شیطان ؟ ( بے شرم اپنی بے شرمی کو مٹانے کے لیے ایسا کہہ رہا تھا۔ (حالانکہ شیطان خودتھا) اس نے ہاجرہ کو حضرت سارہ کی خدمت میں دے دیا۔ جب حضرت سارہ جناب ابراہیم {علیہ السلام}کی خدمت میں آئیں تو آپ ” اللہ“ کے حضور نماز میں مصروف تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نماز کی حالت میں اشارہ سے پوچھتے ہیں کیا معاملہ ہوا؟ حضرت سارہ نے عرض کیا : اللہ ذوالجلال نے کافرو فاجر کی شرارت کو اس پر الٹ دیا ہے پھر سارا ماجرا ذکر کیا اور کہا بالآخر اس نے اپنی اس بیٹی کو خادمہ کے طور پر میرے حوالے کردیا ہے۔ جناب حضرت ابوہریرہ {رض}نے یہ حدیث مبارکہ ذکر کرنے کے بعد کہا اے بارش پر پلنے والو۔ (یعنی اے عرب قوم!) یہی تو تمہاری والدہ ہاجرہ ہیں۔“ مسائل: 1۔ مشکل کے وقت حوصلہ اور نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ 2۔ مشکل کے وقت صبر کرنا اور نماز پڑھنا بھاری کام ہیں مگر اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے آسان ہیں۔ 3۔ ہر شخص کی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری یقینی ہے۔ البقرة
46 البقرة
47 فہم القرآن : ربط کلام : بنی اسرائیل کو دوسراخطاب۔ بنی اسرائیل سے پہلے خطاب میں کچھ باتوں کا حکم دیا اور کچھ کاموں سے منع کیا تھا۔ اب دوسرے خطاب کا آغاز بھی نہایت دل کش انداز میں کرتے ہوئے نعمتوں کی یاد دہانی کروانے کے بعد قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے ڈراتے ہوئے بتلایا ہے کہ دنیا کی عدالتوں میں اثر ورسوخ، سفارش، رشوت یا جرمانہ دے کر تم چھوٹ جاتے ہو۔ رب کبریا کی عدالت میں مجرموں کا چھوٹنا محال اور ناممکن ہے وہاں سچا ایمان اور نیک اعمال کے علاوہ کچھ بھی کام نہیں آئے گا۔ یہاں سے بنی اسرائیل کے عدالتی نظام کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کس قدر اسے تباہی کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ آدمی کے ضمیر کو راغب کرنے اور جھنجھوڑنے کے لیے انعامات کا وعدہ اور خوف نہایت مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ یہاں خوف دلانے کے بعد احسانات کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ پچھلے خطاب میں فرمایا تھا اگر تم عہد کی پاسداری کرو گے تو ہم تمہیں دوبارہ نعمتیں عطا کریں گے تاکہ ان کے ضمیر میں احساس اور حیا پیدا ہوجس بنا پر وہ اسلام کی مخالفت سے باز آجائیں۔ بنی اسرائیل پر عظیم الشان احسانات جور و استبداد سے نجات : ﴿وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْٓ اِسْرَاءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُہِیْنِ﴾ ( الدخان :30) ” ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت آمیز عذاب سے نجات دی۔“ دریا میں راستہ بنانا : ﴿وَ اِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰاکُمْ﴾(البقرۃ:50) ” جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑا اور تمہیں نجات دی۔“ بچھڑے کی پرستش کے بعد توبہ قبول کی : ﴿ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ﴾ (البقرۃ:52) ” پھر ہم نے تمہیں معاف کردیا۔“ دوبارہ زندگی عطا کرنا : ﴿ثُمَّ بَعَثْنٰکُمْ مِّنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ۔ (البقرۃ:56) ” پھر ہم نے تمہاری موت کے بعد تم کو زندہ کیا تاکہ تم شکر ادا کرو۔“ بادلوں کا سایہ کیا : ﴿وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ﴾(البقرۃ:51) ” اور ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا۔“ من و سلویٰ اتارا : ﴿وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰی﴾(البقرۃ:57) ” اور ہم نے تم پر من و سلویٰ نازل کیا۔“ بارہ چشمے جاری کیے : ﴿فَانْفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْنًا﴾ (البقرۃ:60) ” پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔“ دنیا میں حکمران بنایا : ﴿وَ جَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا﴾ (المائدۃ:20) ” اور تمہیں بادشاہ بنایا“ اقوام عالم پر عزت عطا فرمائی : ﴿وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ﴾ البقرۃ:47) ” میں نے تمہیں اقوام عالم پر فضیلت دی۔“ 10۔ جو کچھ بنی اسرائیل کو دیاوہ کسی اور کو نہ دیا : ﴿وَ اٰتٰکُمْ مَا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ﴾ (المائدۃ:20) ” اور جو کچھ تمہیں دیا سارے عالم میں سے کسی کو نہیں دیا۔“ 11۔ تواتر کے ساتھ انبیاء (علیہ السلام) بھیجے گئے : ﴿وَ قَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہٖ بالرُّسُلِ﴾ (البقرۃ:87) ” ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بہت سے رسول بھیجے۔“ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ انسان کو نعمت اور فضل سے نوازے تو اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ 2-اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد رکھنا چاہئے۔ 3-اللہ تعالی کی نعمتوں کو شمار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ (ابراہیم: 34) 4-اگر لوگ اپنے رب کا شکر ادا کریں تو وہ مزید انعامات سے نوازے گا۔ (ابراہیم: 7) (اللَّهُم أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ، وحُسنِ عِبَادتِك) (رواه أَبُو داودباب في الاستغفار( صحيحٌ)) الہی !اپنے ذکر شکر اور بہترین طریقے سے عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ البقرة
48 فہم القرآن : ربط کلام : بنی اسرائیل سے دوسرا خطاب جاری ہے۔ دنیا کی عدالتوں میں مجرم جن طریقوں سے بچ نکلتے ہیں وہ چار ہیں۔ (1)۔ حقیقی مجرم کی جگہ دوسرے کو پھنسا دینا۔ (2)۔ شخصی سفارش کے ذریعے مجرم کو بچا لینا۔ (3)۔ رشوت کے ذریعے بچ نکلنے میں کامیاب ہونا۔ (4)۔ سیاسی دباؤ کے ذریعے مجرم کا رہائی پانا۔ یہاں بنی اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے ہر فرد کو باور کرایا جا رہا ہے کہ یہ ہتھکنڈے دنیا کی بے انصاف عدالتوں‘ رشوت خورججوں، کمزور اور غلط عدالتی نظام میں تو چل سکتے ہیں۔ جس وجہ سے مظلوم سر چھپاتے اور ظالم دندناتے پھرتے ہیں۔ لیکن اللہ کی عدالت میں ان باتوں کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ محشر کے میدان میں کسی مجرم کو دم مارنے اور آنکھ اٹھا کر دیکھنے اور بلا اجازت بولنے کی بھی جرأت نہ ہوگی۔ اس دن کوئی نفس اور کوئی متاع کام نہ آئے گا۔ قرآن مجید نے ان اصولوں کو مختلف مقامات اور انداز میں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ کسی مجرم کے دل میں چھوٹ جانے کا تصور بھی پیدا نہ ہوسکے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}قَالَ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}حِیْنَ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ﴾ قَالَ یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَھَا اشْتَرُوْٓا أَنْفُسَکُمْ لَآأُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیئًا یَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ لَآأُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیئًا یَاعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَآأُغْنِیْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیئًا وَیَاصَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ لَآأُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیئًا وَیَافَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ سَلِیْنِیْ مَاشِئْتِ مِنْ مَالِیْ لَآأُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیئًا) (رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب ھل یدخل النساء والولد فی الأقارب) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں جب یہ آیت (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) نازل ہوئی تو رسول اللہ {ﷺ}کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے قریش کے لوگو! اپنے لیے کچھ کر لومیں تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی فائدہ نہیں دے سکوں گا، اے بنی عبد منا ف میں تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکوں گا‘ اے عباس بن عبدالمطلب ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا، اور اے صفیہ ! رسول کی پھوپھی! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا اور اے فاطمہ بنت محمد! میرے مال سے جو چاہتی ہے مانگ لے میں تجھے اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکوں گا۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَۃٌ مُسْتَجَابَۃٌ فَتَعَجَّلَ کُلُّ نَبِیٍّ دَعْوَتَہٗ وَإِنِّی اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِأُمَّتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَھِیَ نَآئِلَۃٌ إِنْ شَآء اللّٰہُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِیْ لَایُشْرِکُ باللّٰہِ شَیئًا) (رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب اختباء النبی دعوۃ الشفاعۃ لأمتہ ) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : ہر نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے ہر نبی نے اپنی دعا کرنے میں جلدی کی میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے بچا کر رکھا ہوا ہے وہ میری امت کے ہر اس شخص کو فائدہ دے گی جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا۔“ مسائل: 1۔ قیامت کے دن رشتہ دار، غلط سفارش اور مال مجرم کو کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔ تفسیر بالقرآن سفارش کی گنجائش نہیں : 1۔ کون ہے جو اللہ کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے۔ (البقرۃ:255) 2۔ دوستی اور سفارش کام نہ آئے گی۔ (البقرۃ:254) 3۔ مجرموں کو سفارش کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ (المدثر :48) 4۔ ظالموں کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارشی۔ (المؤمن :18) 5۔ کافروں کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔ (انعام :51) 6۔ بزرگ اور سرداربھی سفارش نہ کریں گے۔ (الروم :13) نوٹ : فدیہ کے بارے میں البقرۃ:123 دیکھیے۔ البقرة
49 فہم القرآن : (آیت 49 سے 50) ربط کلام : بنی اسرائیل سے خطاب جاری ہے اس میں دو احسانات کا تذکرہ فرما کرنصیحت کی گئی ہے۔ اہل تاریخ بنی اسرائیل پر فرعون کے بد ترین مظالم کی دو وجوہات تحریر کرتے ہیں۔ ایک جماعت کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ اس وقت کے نجومیوں نے فرعون کو اس بات کی خبر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو بڑا ہو کر تیرے اقتدار کو چیلنج کرے گا۔ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل کی بڑھتی ہوئی افرادی قوت کے خوف سے فرعون نے ان کے بچوں کو قتل کرنے اور عورتوں کو باقی رکھنے کا حکم جاری کیا تھا۔ یاد رہے بنی اسرائیل کے جوانوں کا قتل عام اور ان کی بیٹیوں کو باقی رکھنے کا معاملہ دو ادوار میں ہوا ایک مرتبہ موسیٰ {علیہ السلام}کی پیدائش کے وقت اور دوسری مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے بعد۔ (المؤمن :23) یہاں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتوں کا احساس‘ آخرت کا خوف اور ان کے ماضی کے الم ناک دور کا حوالہ دیتے ہوئے سمجھایا ہے کہ آج تم کمزور اور بے خانماں مسلمانوں پر ظلم کررہے ہو تمہیں وہ وقت بھی یاد رکھنا چاہیے جب فرعون تمہارے جوانوں اور نونہالوں کو سر عام ذبح کرتا تھا اور تمہاری ماؤں اور بہو‘ بیٹیوں کو باقی رہنے دیتا تھا۔ قرآن مجید نے اسے بلائے عظیم قرار دے کر ان تمام مضمرات کی طرف اشارہ کیا ہے جو مظلوم اور غلام قوم کو پیش آیا کرتے ہیں اور ظالم مظلوم کی بہو بیٹیوں کے ساتھ وہ سلوک کیا کرتے ہیں جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اے بنی اسرائیل ! پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان عظیم کرتے ہوئے ان مظالم سے تمہیں نجات دلائی اور تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہارے بد ترین دشمن کو ذلت کی موت دیتے ہوئے اسے ہمیشہ کے لیے نشان عبرت بنا دیا۔ اس سے دنیا میں تمہاری عظمت و سچائی اور بزرگی کی دھوم مچ گئی کہ بنی اسرئیل کے لیے دریا رک گیا اور ان کی آنکھوں کے سامنے دنیا کا بد ترین مغروروسفّاک، خدائی اور مشکل کشائی کا دعوی کرنے والاڈبکیاں لیتے ہوئے دہائی دیتا رہا کہ لوگو! میں موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے رب پر ایمان لاتا ہوں لیکن آواز آئی کہ تیرا ایمان ہرگز قبول نہیں ہوگا اب تجھے آئندہ نسلوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔[ یونس :91] قیامت کے دن مظلوم بچیاں اس طرح سوال کریں گی : ﴿وَإِذَا الْمَوْءٗ دَۃُ سُئِلَتْ۔ بِأَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ۔ (التکویر : 8، 9) ” اور زندہ در گورلڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس جرم میں ماری گئی تھی؟۔“ یہاں انتباہ کیا گیا ہے کہ جو بچوں کو قتل کرتے ہیں قیامت کے دن وہ بچہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریاد کرے گا کہ مولائے کریم ! آج اس ظالم سے پوچھا جائے کہ مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا تھا بے شک قاتل والدین ہی کیوں نہ ہوں۔ ظلم کے بارے میں رسول محترم {ﷺ}کا ارشاد ہے : (اَلظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ) (رواہ البخاری : کتاب المظالم والغصب، باب الظلم ...) ” ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔“ مسائل : 1۔ فرعون بنی اسرائیل پر ظلم کرتا تھا۔ 2۔ فرعون بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل اور لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا۔ 3۔ ظلم مظلوم پر بھاری آزمائش ہوتی ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ڈبویا اور بنی اسرائیل کو بچایا لیا۔ تفسیر بالقرآن فرعون کے مظالم : 1۔ فرعون نے اپنی قوم میں طبقاتی کشمکش پیدا کی۔ (القصص :4) 2۔ بنی اسرائیل قتل وغارت کے عذاب میں دو مرتبہ مبتلا کئے گئے۔ (الاعراف : 127 تا 129) 3۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اقتدار بخشا تاکہ فرعون کو اپنی قدرت دکھلائے۔ (القصص : 5، 6) 4۔ فرعون نے ظلم کرنے کے لیے میخیں تیار کی ہوئی تھیں۔ (الفجر :10) 5۔ فرعون نے اپنی بیوی پر اس لیے ظلم کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی تھی۔ (التحریم :11) البقرة
50 البقرة
51 فہم القرآن : (آیت 51 سے 53) ربط کلام : بنی اسرائیل پر تیسرا اور چوتھا احسان۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کے علاقہ سے واپسی کے وقت سفر کے دوران نبوت سے سرفراز فرمایا اور دو معجزے عطا فرمائے۔ لاٹھی کا اژدہا بن جانا اور ہاتھ کا روشن ہونا۔ ان معجزات کے ساتھ موقع بموقع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایات ملتی رہیں۔ جن میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون {علیہ السلام}کو فرعون کے پاس جا کر نہایت نرمی کے ساتھ سمجھانے کی ہدایت‘ توحید کے دلائل‘ بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ مظلوم بنی اسرائیل کو صبر اور نماز کی تلقین اور ہر قسم کی راہنمائی کا بندوبست، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے مجادلہ کے نتیجہ میں جادوگروں سے مقابلہ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم کامیابی کا حصول جس کے نتیجے میں جادوگروں کا موقعہ پرہی اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہونا اور برملا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اعلان۔ جس کی تفصیل اپنے مقام پر بیان ہوگی۔ بالآخر فرعون اور اس کے لشکروں کا غرقاب ہونا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ فلسطین پر حملہ آور ہوجاؤ۔ اللہ اسے تمہارے ہاتھوں فتح کرے گا لیکن بزدل قوم نے کہا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تم اور تمہارا خدا لڑو ہم تو اتنے طاقت وروں کے ساتھ نہیں لڑ سکتے اس کی پاداش میں انہیں سینا کے ریگستان میں چالیس سال کے لیے انہیں مقید کردیا گیا۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ آپ کوہ طور پر تیس دن کے لیے حاضری دیں تاکہ آپ کو تحریری طور پر تختیوں کی شکل میں تورات عنایت کی جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور سینا پر فرو کش ہوئے تو تیس دن کی مدت کو چالیس دن میں تبدیل کردیا گیا۔ بنی اسرائیل اس قدر احسان فراموش اور سنگ دل قوم تھی کہ جوں ہی ان کا دشمن غرقاب ہوا۔ یہ دریا عبور کر کے ابھی تھوڑی ہی دیر چلے تھے کہ راستہ میں انہوں نے ایسے لوگوں کو دیکھا جو بتوں کے سامنے مراقبہ‘ اعتکاف اور طواف کر رہے تھے۔ بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے احسانات کو فراموش کرتے ہوئے بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کرنے لگے کہ ہمیں بھی ایساہی معبود بنادیجیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے شرک کے نقصانات بتاتے ہوئے فرمایا کہ یہ قوم تو ہلاکت اور بربادی کے کنارے پر کھڑی ہے۔ جن کی یہ پوجا کر رہے ہیں وہ باطل اور ان کا یہ عمل شرک ہے۔ کیا تم اللہ کے بغیر کسی اور کو معبود مانتے ہو؟ جبکہ اس نے تمہارے دشمن کو غرق کرکے پوری دنیا میں تمہیں ممتاز کردیا ہے۔ اس وقت تو یہ لوگ باز آئے لیکن غلامانہ ذہن رکھنے والی قوم شرک سے کس طرح باز آ سکتی تھی؟ جوں ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے لیے کوہ طور پر تشریف لے گئے تو سامری نام کے ایک آدمی نے سونے کا ایک بچھڑا بنا کر انہیں کہا کہ یہی وہ خدا ہے جس کی تلاش میں موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر بیٹھے ہیں۔ انہوں نے سب کچھ فراموش کرتے ہوئے بچھڑے کی عبادت شروع کردی۔[ طٰہٰ: 87، 88] مسائل: 1۔ غیر اللہ کی پوجا یعنی شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ آدمی کو ڈھیل دے تو اسے توبہ اور شکر کرنا چاہیے۔ 3۔ تورات موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی جو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا سرچشمہ تھی۔ 4۔ حضرت موسیٰ کو بڑے بڑے معجزات عنایت کیے گئے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کا موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ : 1۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے تیس راتوں کا وعدہ ہوا پھر مزید دس راتوں کا اضافہ کردیا گیا۔ (الاعراف :142) 2۔ اسی مدت میں انہیں تختیوں کی شکل میں تورات عنایت کی گئی۔ (الاعراف :143 تا 145) فرقان کیا ہے؟ 1۔ فرقان سے مراد معجزات۔ (البقرۃ :53) 2۔ قرآن مجید فرقان ہے۔ (الفرقان :1) 3۔ یوم بدر یوم فرقان ہے۔ (الانفال :41) 4۔ تقو یٰ فرقان کا ذریعہ ہے۔ (الانفال :29) البقرة
52 البقرة
53 البقرة
54 فہم القرآن : ربط کلام : سنگین جرم معاف کرتے ہوئے پانچواں احسان۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے اتر کر اپنی قوم کی طرف آئے تو انہوں نے بچھڑے کو جلا کر دریا میں پھینک دیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جن لوگوں نے شرک کا ارتکاب کیا ہے ان کے رشتہ داروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کردیں۔ یہی تمہاری توبہ ہے اور یہی توبہ کا طریقہ تمہارے رب کے ہاں مقبول ہے۔ جب مشرک ہزاروں کی تعداد میں قتل ہوچکے تو اللہ کی بار گاہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی معافی کی درخواست پیش کی جس کو قبول کرتے ہوئے رب کریم نے باقی ماندہ لوگوں کی توبہ قبول فرمائی کیونکہ اللہ تائب ہونے والوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ بنی اسرائیل کے مشرکوں کو ختم کرنے اور ایمانداروں کے ایمان کو پرکھنے کے لیے توبہ کا یہ طریقہ اس لیے مقرر کیا گیا تاکہ لوگ شرک کے بدترین گناہ اور اس کی سنگینی سے آگاہ ہوں اور آئندہ شرک کرنے کا تصور بھی ان کے دل میں پیدا نہ ہو سکے۔ توبہ کے متعلق نبی اکرم {ﷺ}کے ارشادات : 1۔ (عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَبْسُطُ یَدَہٗ باللَّیْلِ لِیَتُوْبَ مُسِیْءُ النَّھَارِ وَیَبْسُطُ یَدَہٗ بالنَّھَارِ لِیَتُوْبَ مُسِیْءُ اللَّیْلِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِھَا) (رواہ مسلم : کتاب التوبۃ، باب قبول التوبۃ من الذنوب وإن تکررت الذنوب والتوبۃ) ” حضرت ابوموسیٰ {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : یقیناً اللہ عزوجل رات کو اپنا ہاتھ بڑھاتے ہیں تاکہ دن کو خطائیں کرنے والا توبہ کرلے اور دن کو ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرلے یہ سلسلہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے تک جاری رہے گا۔“ 2۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَہٗ) (رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزھد، باب ذکرا لتوبۃ) ” حضرت عبداللہ بن مسعود {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی پاک ہوجاتا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔“ 3۔ (قَالَ رَسُول اللَّہِ {}اَللّٰہُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ حینَ یَتُوبُ إِلَیْہِ مِنْ أَحَدِکُمْ کَانَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ بِأَرْضِ فَلَاۃٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْہُ وَعَلَیْہَا طَعَامُہٗ وَشَرَابُہٗ فَأَیِسَ مِنْہَا فَأَتٰی شَجَرَۃً فَاضْطَجَعَ فِی ظِلِّہَا قَدْ أَیِسَ مِنْ رَاحِلَتِہٖ فَبَیْنَا ہُوَکَذَلِکَ إِذَا ہُوَ بِہَا قَائِمَۃً عِنْدَہٗ فَأَخَذَ بِخِطَامِہَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ اللّٰہُمَّ أَنْتَ عَبْدِیْ وَأَنَا رَبُّکَ أَخْطَأَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ) (رواہ مسلم : کتاب التوبۃ، باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بھا) ” رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : جب بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے توبہ کرنے پر اس بندے سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جو چٹیل میدان میں اپنی سواری پر تھا اور اس کی سواری گم ہوگئی جس پر اس کا کھانا، پینا تھا۔ وہ سواری اور زندگی سے ناامید ہو کر ایک درخت کے نیچے لیٹ گیا۔ اچانک اس کی سواری مل گئی وہ خوشی میں آکر غلطی سے یہ بات کہہ دیتا ہے کہ : اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔“ مسائل: 1۔ شرک کرنے والا اپنے اپ پر ظلم کرتا ہے۔ 2۔ ہر دم اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنی چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ تفسیر بالقرآن: توبہ کی اہمیت : 1۔ توبہ کرنا مومن کا شیوہ ہے۔ (التوبۃ:112) 2۔ توبہ کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ (البقرۃ:222) 3۔ توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ (البقرۃ:160) 4۔ توبہ کرنے والوں کے لیے فرشتے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ (المؤمن :7 تا 9) 5۔ توبہ کرنے والے کے گناہ نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ (الفرقان :70) 6۔ توبہ کرنے والے کا میاب ہوں گے۔ (القصص :67) البقرة
55 فہم القرآن: (آیت 55 سے 56) ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی بدترین گستاخی معاف کرتے ہوئے ان پر چھٹا احسان فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے آسمانی دستاویزات یعنی تورات کو یہ کہہ کر تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ جب تک ہم اللہ کے ساتھ ہم کلام اور اس کو خود نہیں دیکھ لیتے اس وقت تک ہم اس کتاب کی تصدیق نہیں کریں گے۔ اس نازک صورت حال کے پیش نظر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کی کہ اے رب کریم! انہیں اپنی ہم کلامی اور زیارت سے مشرف فرما۔ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ آپ اپنی قوم کے ستر نمائندہ لوگوں کو کوہ طور پر لے آئیں۔ جب یہ لوگ طور سینا پر پہنچے تو زور دار آسمانی دھماکے سے مرگئے۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے ” اللہ“ کے حضور عجز و انکساری سے فریاد کی کہ اے رب جلیل! ان لوگوں کی حماقت کی وجہ سے آپ نے انہیں تباہ کردیا ؟ اگر ایسا ہی کرنا تھا تو پہلے مار دیا ہوتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور انہیں دوبارہ زندہ کردیا گیا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کو دوبارہ زندہ فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی زیارت کے بارے میں نبی {ﷺ}کا ارشاد : (عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ {رض}قَالَ سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ {}ھَلْ رَأَیْتَ رَبَّکَ قَالَ نُوْرٌ أَنّٰی أَرَاہُ) (رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب فی قولہ نور أنی أراہ وفی قولہ رأیت نورا) ” حضرت ابوذر {رض}بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ {ﷺ}سے استفسار کیا کہ کیا آپ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوئے ہیں؟ جواباً آپ نے فرمایا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتاہوں۔“ شکر کا جامع مفہوم یہ ہے کہ آدمی کو جو کچھ میسّر ہو اس کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ یہ ایسی صفت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات والا صفات کی طرف منسوب فرمایا ہے۔ سورۃ النساءآیت 147میں ارشاد ہوا کہ لوگو! تمہیں عذاب کرنے سے اللہ تعالیٰ کو کچھ حاصل نہیں ہوتا اگر تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کا شکریہ ادا کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارا قدر دان ہوگا۔ یہاں شاکر کا لفظ استعمال فرما کر شکر کی اہمیت کو دو چند کردیا ہے۔ سورۃ ابراہیم آیت ٧ میں یہ خوشخبری عطا فرمائی کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو گے تو وہ تمہیں مزید عنایات سے نوازے گا۔ سورۃ ابراہیم میں شکر کے بالمقابل کفر کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معانی ناقدری اور احسان فراموشی کے ہیں اس لیے ہر زبان میں ناشکری کو کفران نعمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ابلیس لعین کو جب اس کے جرم کی پاداش میں ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ قرار دیا گیا تو اس نے بنی نوع انسان کے بارے میں ان الفاظ میں اپنے خبث باطن کا اظہار کیا تھا : ” جس وجہ سے مجھے راندہ درگاہ قرار دیا گیا ہے میں اس کے لیے صراط مستقیم میں رکاوٹ بنوں گا اور میں ان کے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں سے حملہ آور ہوں گا۔ اے اللہ! تو ان کی اکثریت کو شکر گزار نہیں پائے گا۔“ (الاعراف :16، 17) بنی آدم کو ناشکری کے گناہ سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بار بار اپنی نعمتوں کی قدر کرنے اور ہر دم شکر گزار رہنے کا حکم دیا ہے۔ نبی اکرم {ﷺ}اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کا اس قدر خیال رکھتے کہ آپ تہجد کی نماز میں اس قدر قیام کرتے کہ آپ کے قدم مبارک پر ورم آجایا کرتا تھا جنہیں دیکھ کر آپ کے اہل خانہ نے عرض کی کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیے ہیں تو آپ اس قدر کیوں مشقت اٹھاتے ہیں جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کیا میں ان نعمتوں پر اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟[ رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب قیام النبی اللیل] اسی بنا پر آپ {ﷺ}فرض نماز کے بعد اس دعا کا اہتمام کیا کرتے تھے : (أَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ) (رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب فی الإستغفار) ” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین طریقے سے عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔“ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ موت دے کر زندہ کرنے پر قادر ہے۔ 2۔ ہر دم اللہ کا شکر گزار رہنا چاہیے۔ 3۔ کسی کی عظمت اور احسان مندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کا شکر ادا کرے۔ تفسیر بالقرآن : شکر کی اہمیت : 1۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق پر اس کا شکریہ ادا کرو۔ (الانفال :26) 2۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو تمہارے تابع کیا جس سے تازہ مچھلی، زیبائش کا سامان نکلتا ہے اس پر اللہ کا شکریہ ادا کرو۔ (النحل :14) 3۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو باعث سکون اور دن کو کسب معاش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ اس کا شکر ادا کرو۔ (القصص :73) 4۔ شکر کے بارے میں حضرت داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کی دعائیں۔ (صٓ: 35، النمل :19) 5۔ اللہ تعالیٰ شکر گزار لوگوں کو زیادہ دیتا ہے۔ (ابراہیم :7) البقرة
56 البقرة
57 فہم القرآن : ربط کلام : بنی اسرائیل پر من و سلویٰ کی شکل میں ساتواں اور آٹھواں احسان۔ بنی اسرائیل کا آزادی کے بعدشکر کی بجائے شرک کرنا، جناب موسیٰ (علیہ السلام) پر عدم اعتماد کا اظہار اور اللہ تعالیٰ کو خود دیکھنے کا گستاخانہ مطالبہ، وطن کی آزادی کے لیے جہاد فی سبیل اللہ سے انکار جیسے پے در پے سنگین جرائم کرنے کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ ان کو صحرائے سینا میں تڑپ تڑپ کر بھوک سے مرنے دیا جاتا۔ لیکن اس کے باوجود رحیم و کریم رب نے انہیں پہلے سے زیادہ عمدہ و لذیذ کھانا‘ گھنے بادلوں کا سایہ، پینے کے لیے میٹھے اور صاف و شفاف چشموں کا پانی عنایت کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے ہم پر زیادتی نہیں کی وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ یعنی جو کچھ وہ کرتے تھے اللہ تعالیٰ کی ذات پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ وہ اپنے جرائم کے بدلے خود ہی ذلیل وخوار ہوتے رہے۔ چنانچہ حکم دیا کہ بس میری عبادت کرو، امن سے رہو اور دشمن کے مقابلے میں اپنے آپ کو جہاد کے لیے تیار کرو۔ اس میں یہ حکمت پنہاں تھی کہ فرعون کی غلامی میں پلنے والی نسل ختم ہو اور نئی نسل کھلی فضا اور آزاد ماحول میں پروان چڑھے جو جسمانی لحاظ سے تنو مند و کڑیل جوان اور فکری طور پر آزادی کے متوالے، اعتقاد و کردار کے اعتبار سے انتہائی پختہ ہوں اور جو قابض قوم عمالقہ سے نبرد آزما ہو کر اپنا آبائی وطن ملک فلسطین آزاد کروانے کی ہمت اور جرأت رکھتے ہوں۔ صحرائے سینا کا حدود اربعہ : یہ مثلث نما جزیرہ ہے جو بحر الکاہل (بحیرہ روم) (شمال کی طرف) اور ریڈسی (جنوب کی طرف) کے درمیان مصر میں واقع ہے اور اس کا رقبہ ساٹھ ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں سویز نہر مغرب کی طرف اور اسرائیل۔ مصر سرحد‘ شمال مشرق کی طرف ہیں۔ سینائی جزیرہ نما جنوب مغربی ایشیا میں واقعہ ہے۔ اسے مغربی ایشیا بھی کہتے ہیں یہ زیادہ درست جغرافیائی اصطلاح ہے جبکہ مصر کا باقی حصہ شمالی افریقہ میں واقعہ ہے جغرافیائی و سیاسی مقاصد کے لیے سینائی کو اکثر افریقہ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ سینائی تقریباً مکمل طور پر صحرا ہے اور تبا (Taba) میں سباہ ساحل (Sabah Coast) کے ساتھ ساتھ واقعہ ہے۔ (موجودہ اسرائیل قصبہ ایلٹ ( eilat) کے نزدیک) جہاں ایک ہوٹل اور رقص گاہ (Casino) ہے جب ساحل کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف حرکت کی جائے تو وہاں نیو ویبا (Nuweiba) داھاب (Dahab) اور شرم الشیخ (Sharmel Sheikh) و اقع ہیں سینائی العریش (el Arish) میں غزہ پٹی کے نزدیک شمالی ساحل پر بھی واقع ہے۔ جبل موسیٰ جسے جبل سینائی بھی کہتے ہیں۔ تورات میں اہمیت کا حامل ہے۔ اس جگہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خدائی احکام وصول کیے جنوبی سینائی جزیرہ نما میں واقع ہے۔ جس کے لیے دعویٰ ہے کہ یہ تورات کے سینائی پہاڑکی جگہ ہے۔ اس قصے کی تفصیلات بائبل کی کتاب‘ گنتی استثناء اور یشعو میں ملیں گی۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دشت فاران سے بنی اسرائیل کے بارہ سرداروں کو فلسطین کا دورہ کرنے کے لیے بھیجا تاکہ وہاں کے حالات معلوم کر کے آئیں۔ یہ لوگ چالیس دن دورہ کر کے وہاں سے واپس آئے اور انہوں نے قوم کے مجمع عام میں بیان کیا کہ واقعی وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ لیکن جو لوگ وہاں بسے ہوئے ہیں وہ زور آور ہیں۔ ہم اس لائق نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے وہ سب بڑے قد آور ہیں اور ہم نے وہاں بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں اور ہم تو اپنی ہی نگاہ میں ایسے تھے جیسے ٹڈے ہوتے ہیں اور ایسے ہی ان کی نگاہ میں تھے۔ یہ بیان سن کر سارا مجمع چیخ اٹھا کہ ” اے کاش ہم مصر ہی میں مر جاتے یا کاش اس بیابان میں ہی مرتے۔ خداوند کیوں ہمیں اس ملک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے؟ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے۔ کیا ہمارے لیے بہتر نہ ہوگا کہ ہم مصر واپس چلے جائیں؟ پھر وہ آپس میں کہنے لگے کہ آؤ ہم کسی کو اپنا سردار بنا لیں اور مصر لوٹ چلیں۔ اس پر ان بارہ سرداروں میں سے جو فلسطین کے دورے پر بھیجے گئے تھے۔ دو سردار یوشع اور کالب اٹھے اور انہوں نے اس بزدلی پر قوم کو ملامت کی۔ کالب نے کہا ” چلو ہم یک دم جا کر اس ملک پر قبضہ کرلیں کیونکہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصرف کریں۔“ پھر دونوں نے یک زبان ہو کر کہا ” اگر خداوند ہم سے راضی رہے تو وہ ہمیں اس ملک میں پہنچائے گا فقط اتنا ہو کہ تم خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ اس ملک کے لوگوں سے ڈرو اور ہمارے ساتھ خداوند ہے سو ان کا خوف نہ کرو۔“ مگر قوم نے جواب یہ دیا کہ ” انہیں سنگسار کردو۔“ آخر کار اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور اس نے فیصلہ فرمایا کہ اچھا اب یوشع اور کالب کے سوا اس قوم کے بالغ مردوں میں سے کوئی بھی اس سر زمین میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ یہ قوم چالیس برس تک بے خانماں پھرتی رہے گی یہاں تک کہ جب ان میں سے بیس برس سے لے کر اوپر کی عمر تک کے سب مرد مر جائیں گے اور نئی نسل جوان ہو کر اٹھے گی تب انہیں فلسطین فتح کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس دوران وہ سب لوگ مر کھپ گئے جو جوانی کی عمر میں مصر سے نکلے تھے۔ شرق اردن فتح کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد یوشع بن نون کے عہد خلافت میں بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلسطین فتح کرسکیں۔ ” من“ کے بارے میں نبی {ﷺ}کا ارشاد : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ {رض}قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ { }الْعَجْوَۃُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَفِیہَا شِفَاءٌ مِّنَ السُّمِّ وَالْکَمْأَۃُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُہَا شِفَاءٌ لِلْعَیْنِ) (رواہ الترمذی : باب ماجاء فی الکمأۃ والعجوۃ) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : عجوہ (کھجور کی ایک خاص قسم) جنت سے ہے اور اس میں زہر کے لیے شفا ہے اور کھنبی ” مَنْ“ سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا کا باعث ہے۔“ مسائل: 1۔ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل پر بادل سایہ فگن رہتا تھا۔ 2۔ اللہ نے حلال اور طیب چیزیں کھانے کا حکم دیا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔ 4۔ لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ 5۔ من کا معنٰی ہے میٹھی چیز، سلو ٰی نمکین تھا۔ 6۔ اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : ظالم کون؟ 1-اللہ تعالی کی آیات کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (الانعام: 21) 2-شرک کرنے والا ظالم ہے۔ (لقمان: 13) 3- اللہ کی مسجدوں سے روکنے اور ان میں خرابی پیدا کرنے والا ظالم ہے۔ (البقرۃ: 114) 4- اللہ تعالی پر جھوٹ بولنے والا ظالم ہے۔ (الزمر: 32) 5-اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ (آل عمران : 57) 6- ظالم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ (الانعام: 21) 7- ظالم کی سزا جہنم ہوگی۔ (الانبیاء: 29) ظالم کی سزا : 1۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ (الحج :10) 2۔ اللہ تعالیٰ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔ (آل عمران :140) 3۔ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہوتی ہے۔ ( الاعراف :44) 4۔ ظالم کامیاب نہیں ہوں گے۔ (الانعام :21) 5۔ قیامت کو ظالموں کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ (المؤمن :52) 6- ظالم پر لعنت ہوتی ہے۔ (ھود: 18) البقرة
58 فہم القرآن : (آیت 58 سے 59) ربط کلام : نواں احسان : دشمن پر غلبہ عطا فرمایا لیکن بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے ناشکری کی اور ظلم وزیادتی کا بازار گرم رکھا۔ بیت المقدس میں بنی اسرائیل کے داخل ہونے کے واقعہ کے بارے میں مفسرین کے دو نقطہ نگاہ ہیں۔ ایک مکتب فکر کا خیال ہے کہ ان کا داخلہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ہوا تھا اور دوسروں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قیادت میں بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے لیکن ٹھوس حقائق کی بنیاد پر اکثریت کا خیال یہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے۔ ” حطۃ“ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سر جھکائے اس سے معافی مانگتے ہوئے اور لوگوں کے ساتھ در گزر کا رویہ اختیار کرتے ہوئے داخل ہونا لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو یکسر تبدیل کردیا اور خدا فراموشی اور تکبر کا رویہ اختیار کر کے دنیا دار فاتحین کی طرح قتل و غارت اور لوٹ کھسوٹ کا مظاہرہ کیا جس کے بدلے میں ان پر طاعون کی بیماری مسلط کی گئی جس سے ان کی فتح کی خوشیاں غارت ہوئیں اور یہ ہزاروں کی تعداد میں موت کے گھاٹ اتر گئے۔ اللہ تعالیٰ ظالموں اور نافرمانوں کو ایسے بھی سزا دیا کرتا ہے۔ بظاہر بنی اسرائیل کا واقعہ بیان ہوا ہے لیکن اس میں ہر طاقت ور اور فاتح کے لیے ہدایت ہے کہ وہ متکبر اور ظالم بننے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے مفتوحہ قوم کے ساتھ زیادہ سے زیادہ درگزر کا مظاہرہ کرے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ قِیْلَ لِبَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ ﴿ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّۃٌ﴾ فَدَخَلُوْا یَزْحَفُوْنَ عَلٰی أَسْتَاھِھِمْ فَبَدَّلُوْا وَقَالُوْا حِطَّۃٌ حَبَّۃٌ فِیْ شَعَرَۃٍ) (رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب وإذقلنا ادخلوا ھذہ القریۃ۔۔) ” حضرت ابوہریرہ {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو کہا گیا : (دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور بخشش مانگنا) تو وہ اپنی پیٹھوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور ” حطۃ“ کی جگہ ” حَبَّۃٌ فِیْ شَعَرَۃٍ“ کہتے ہوئے داخل ہوئے۔“ (عَنْ أُسَامَۃَ {رض}قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ {}إِنَّ ہٰذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ سُلِّطَ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ أَوْ عَلٰی بَنِیْ إِسْرَائِیلَ فَإِذَاکَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوْا مِنْہَا فِرَارًا مِّنْہُ وَإِذَاکَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوہَا) (رواہ مسلم : کتاب السلام، باب الطاعون والطیرۃ والکھانۃ ونحوھا) ” حضرت اسامہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : طاعون کی بیماری وہ عذاب ہے جسے تم سے پہلے کسی قوم یا بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا تھا۔ جب طاعون کی بیماری کسی علاقے میں پھیلی ہوئی ہو تو اس بیماری کی وجہ سے وہاں سے نہ نکلو اور جب کسی علاقے میں طاعون پھیلا ہوا ہو تو وہاں مت جاؤ۔“ رسول کریم {ﷺ}اور صحابہ کرام {رض}کا کردار فتح مکہ کے موقع پر ملاحظہ فرمائیں کہ جب آپ نے مکہ فتح کیا تو اتنی عاجزی اور انکساری کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے کہ آپ کا سر مبارک اس حد تک جھکا جا رہا تھا کہ آپ کی مبارک داڑھی سواری کے پلان کے ساتھ لگ رہی تھی اور آپ کی زبان اطہر سے اللہ تعالیٰ کے شکرانے کے الفاظ جاری تھے۔ اس موقع پر مجاہدین کو حکم صادر فرمایا کہ جو مخالف بیت اللہ یا ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو یا اپنے گھر کے کواڑ بند کرلے اس پر کسی قسم کی دست درازی نہیں کرنا یہاں تک کہ مکہ سے نکل جانے والوں کا بھی پیچھا کرنے سے منع فرمایا۔ (ابن ہشام) مسائل: 1۔ نیکی کرنے والوں کو اللہ زیادہ دیتا ہے۔ 2۔ ظالم اللہ کے احکام تبدیل کردیتے ہیں۔ 3۔ نافرمانوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ 4۔ فتح حاصل ہونے پر اللہ کا شکرادا کرنا چاہیے۔ 5۔ فتح حاصل ہونے پر اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔ 6۔ فاتح کو مفتوح قوم کے ساتھ زیادہ سے زیادہ درگزر کرنی چاہیے۔ البقرة
59 البقرة
60 فہم القرآن : (آیت 60 سے 61) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ دسواں احسان : قبائل کی تعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے ٹھنڈے، میٹھے پانی کے بارہ چشمے جاری فرمائے لیکن اس قوم نے صبح وشام من وسلوی اور ٹھنڈا پانی ملنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی۔ قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ وہ کسی واقعہ کو زیب داستان اور حکایت گوئی کے لیے بیان نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے سوا باقی تمام واقعات کو مختلف اجزاء کی صورت میں موقع محل کے مطابق بیان کیا گیا ہے اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ کسی واقعہ کی کڑیوں اور اجزا کو تقدم و تاخر کے ساتھ بیان کرتے ہوئے ایک خاص نصیحت اور کیفیت پیدا کردی جاتی ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے تاکہ اس واقعہ میں یہودیوں کے مظالم اور نافرمانیوں کی فہرست یکجا بیان کی جائے قرآن کی تلاوت کرنے والا شخص فاسقوں اور نافرمانوں کی سرشت سے مکمل طور پر آگاہ ہو سکے۔ چنانچہ صحرائے سینا میں جب موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی کا مطالبہ کیا گیا تو بنی اسرائیل کے قبائل کی تعداد کے مطابق بارہ چشمے جاری کیے گئے اس لیے کہ یہ پانی پینے پلانے پر جھگڑا کرنے کی بجائے پر امن طریقے سے اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں اور دشمن کے خلاف بھرپور انداز میں جہاد کی تیاری کرسکیں لہٰذا حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اکل و شرب سے لطف اندوزی حاصل کرولیکن دنگا فساد سے بچو۔ اس حکم کے باوجود ناہنجار قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کر ڈالا کہ ایک ہی قسم کے کھانے پر اکتفا کرنا ہمارے لیے ہرگز ممکن نہیں ہمیں تو زمین کی پیدوار، ساگ، ترکاری، کھیرا، ککڑی، گیہوں، لہسن، پیاز اور دال چاہیے۔ جناب موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا کہ تم ادنیٰ کو اعلیٰ اور بہتر کو کم تر کے ساتھ بدلنا چاہتے ہو؟ اس مطالبہ سے باز آجاؤ اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری سے بچو لیکن بنی اسرائیل اپنے مطالبہ پر مصر رہے جس کے نتیجے میں انہیں حکم ہوا کہ شہر میں داخل ہوجاؤ جو کچھ تم نے چاہا ہے وہ تمہیں مل جائے گا۔ لیکن یاد رکھنا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری کی وجہ سے تم پر ذلت اور غربت مسلط کردی گئی ہے اس طرح وہ اللہ کے غضب اور مسکینی کے مستحق ٹھہرے۔ کیونکہ یہ بار بار اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار کرنے والے اور انبیا کو قتل کرنے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی ارب پتی ہونے کے باوجود نہ سیر چشم ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی ہوس کی آگ ماند پڑتی ہے اور دنیا میں اس قوم کو کبھی قرار نہیں حاصل ہوا۔ کبھی بخت نصر نے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا اور کبھی اہل روم نے انہیں اپنے ملک سے نکال دیا۔ سورۃ آل عمران آیت 112میں وضاحت فرمائی ہے کہ انہیں دنیا میں قرار دو ہی وجہ سے حاصل ہوسکتا ہے اللہ کے ہو کر رہیں یا پھر دوسروں کے دست نگر ہو کر زندگی بسر کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی مدت کے بعد یہودی اسرائیل کے نام پر امریکہ اور یورپ کے سیاسی گداگر بلا کر اسرائیل کی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ خوردونوش کی فراوانی عطا فرمائے تو دنگا فساد کرنے کی بجائے اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ 2۔ اعلیٰ کی بجائے ادنیٰ چیز کی طلب کرنا مغضوب قوم کا طریقہ ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری کرنے والے لوگ دنیا میں ذلیل اور آخرت کو سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ البقرة
61 البقرة
62 فہم القرآن: ربط کلام : انعام واحسان کا ادراک اور ذلت و رسوائی کا احساس دلانے کے بعد حقیقی ایمان اور عمل صالح کا صلہ بتلایا گیا ہے۔ اس فرمان میں اس بات کی دو ٹوک انداز میں وضاحت کی گئی ہے کہ خالی خولی ایمان‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے حوالے سے یہودی کہلوانا‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نسبت جوڑنا یا اپنے آپ کو صابی کہلوانے سے نجات نہیں ہوگی۔ نجات اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور صالح اعمال سے ہوگی۔ مفسرین نے صابی کے دو معنیٰ کیے ہیں۔ آتش پرست یا بےدین یعنی سیکولر۔ بعض لوگوں نے زرتشت مراد لیے ہیں جو نبی {ﷺ}کی بعثت سے پہلے کا فرقہ ہے اور ایران میں پایا جاتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ زرتشت بھی اللہ کے نبی تھے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسے دعوؤں اور حسب ونسب کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس کے حضور قابل قدر‘ اور لائقِ اجر بات اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور آخرت کی جواب دہی کی تیاری ہے۔ یہاں رسالت مآب {ﷺ}پر ایمان لانے کا اس لیے تذکرہ نہیں کیا کہ ایک تو ایمان باللہ مکمل ہی ایمان بالرسالت اور اس کے تقاضوں سے ہوتا ہے۔ دوسرا اس سے پہلے بنی اسرائیل کو یہی تو دعوت دی گئی ہے کہ جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا اس پر ایمان لاؤ۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آدمی یہودی ہو یا عیسائی یا کسی اور عقیدے پرہو اس کے لیے صرف اللہ پر ایمان لانا اور نیک اعمال ہی کافی ہیں۔ ان کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے قرآن مجید نے کئی مقامات پر اس بات کو کھول کر بیان کیا ہے کہ جب تک نبی آخر الزماں {ﷺ}پر ایمان اور اس کی اطاعت نہیں کرو گے تمہارا ایمان قابل قبول نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کو نبی آخر الزماں کی اطاعت کے ساتھ مشروط فرما دیا ہے۔ سورۃ آل عمران کی آیت ٣١ میں فرمایا کہ اگر تم میری محبت کے طلب گار ہو تو میرے رسول محمد مصطفی {ﷺ}کی اتباع کرو۔ اس سے نہ صرف تمہیں میری محبت حاصل ہوگی بلکہ تمہارے گناہ معاف اور تم پر رحم کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ ﴿یَٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا أَطِیْعُوا اللّٰہَ وَأَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْا أَعْمَالَکُمْ﴾ (محمد :33) ” اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال برباد نہ کرو۔“ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ {رض}أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ {رض}أَتَی النَّبِیَّ {}بِکِتَابٍ أَصَابَہٗ مِنْ بَعْضِ أَھْلِ الْکُتُبِ فَقَرَأَ ہُ النَّبِیُّ {}فَغَضِبَ فَقَالَ أَمُتَھَوَّکُوْنَ فِیْھَا یَاابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِھَا بَیْضَاءَ نَقِیَّۃً لَاتَسْأَلُوْھُمْ عَنْ شَیْءٍ فَیُخْبِرُوْکُمْ بِحَقٍّ فَتُکَذِّبُوْہُ بِہٖ أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوْا بِہٖ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ أَنَّ مُوسٰی {علیہ السلام}کَانَ حَیًّا مَاوَسِعَہٗ إِلَّا أَنْ یَّتَّبِعَنِیْ) (مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب باقی المسند السابق) ” حضرت جابر بن عبداللہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر {رض}کے پاس اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایک کتابچہ لے کر آئے۔ حضرت عمر {رض}وہ کتابچہ نبی کریم {ﷺ}کے پاس لائے۔ نبی {ﷺ}کے سامنے پڑھا اور جس پر آپ {ﷺ}نے غضب ناک ہو کر فرمایا : ابن خطاب ! کیا تم اس میں ذوق وشوق اور رغبت رکھتے ہو ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یقیناً میں تمہارے پاس صاف اور واضح شریعت لے کر آیا ہوں تم اہل کتاب سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کرو گے وہ تمہیں سچ بتائیں تم اس اسلام کو ان کی سچی خبر کی وجہ سے جھٹلادو یا ان کی جھوٹی خبر کی وجہ سے تصدیق کربیٹھو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوجائیں تو انہیں بھی میری اتباع کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوگا۔ مسائل: 1۔ قیامت کے دن نجات کا دارومدار خالی خولی ایمان یا کسی مذہبی نسبت پر نہیں بلکہ نجات کا انحصار سچے ایمان اور صالح اعمال پر ہے، ایسے لوگ ہی خوف و غم سے آزاد ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن : ہدایت یافتہ لوگ پریشانیوں سے محفوظ ہوں گے : 1۔ ہدایت کی پیروی کرنے والے کو کوئی خوف نہیں۔ (البقرۃ :38) 2۔ اللہ کے لیے خرچ کرنے والے کو کوئی خوف نہیں۔ (البقرۃ :262) 3۔ نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے والے کو کوئی خوف نہیں۔ (البقرۃ :277) 4۔ اللہ کے دوستوں کو کوئی خوف نہیں۔ (یونس :62) 5۔ ایمان پر استقامت دکھلانے والوں کو کوئی خوف نہیں۔ (الاحقاف :13) 6۔ متقی اور مصلح کو کوئی خوف نہیں۔ (الاعراف :35) البقرة
63 فہم القرآن : (آیت 63 سے 64) ربط کلام : گیا رھواں احسان۔ بار بار جرائم کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو معافی دی اور اللہ تعالیٰ کا انہیں اپنے فضل و کرم سے نوازنا۔ بعض لوگوں کا نقطۂ نگاہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو جبراً ہدایت کیوں نہیں دیتا ؟ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ انسان کو عقل و شعور کی دولت سے اس لیے مالا مال کیا گیا ہے کہ وہ حیوانوں اور جانوروں کے مقابلے میں اپنے نفع و نقصان کا خود فیصلہ کرسکے۔ تاکہ انسان اور حیوان کا فرق نمایاں رہے۔ اس لیے جبراً ہدایت دینے کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا۔ لیکن پھر بھی ربِّ کریم نے لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے بنی اسرائیل کا واقعہ پیش فرمایا ہے۔ کیونکہ جبری ہدایت دیرپا نہیں ہوتی یہ اسی وقت تک رہتی ہے جب تک جبر کا ماحول قائم رہتا ہے۔ جونہی جبر کا خاتمہ ہوگا ہدایت کو دل سے قبول نہ کرنے والا انسان پھر گمراہی کی طرف پلٹ جائے گا۔ دائمی اور دیر پاہدایت وہی ہوتی ہے جو دل کی گہرائی اور عقل و شعور کی رسائی سے حاصل ہو۔ جبری ہدایت کا مطالبہ کرنے والوں کے لیے بنی اسرائیل کے واقعات نظر کشائی کے لیے کافی ہیں۔ یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کی مسلسل نا فرمانیوں اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کے سروں پر کوہ طورمنڈلا کر حکم دیا گیا کہ مانتے ہو یا پہاڑ گرا کر تمہیں زمین کے ساتھ چپکا دیا جائے۔ اس موقعہ پر حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نصیحت یاد کرو اور اللہ کا خوف اختیار کرتے ہوئے گناہوں سے بچ جاؤ۔ یہ لوگ اس وقت تو ایمان لے آئے لیکن جونہی ان کے سروں سے پہاڑ ٹل گیا وہ پہلے کی طرح سر کشی پر اتر آئے۔ اس عہد شکنی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت سے انہیں مہلت عطا فرمائی تاکہ وہ از خود اپنی اصلاح کی طرف پلٹ آئیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا اور اے بنی اسرائیل ! تمہیں مہلت نہ دی جاتی تو تمہارا انجام تو اسی وقت ہی بدترین ہوتا اور تم ہمیشہ کے لیے نقصان پانے والوں میں سے ہوجاتے۔ یہاں واقعہ تو ماضی کا بیان کیا جا رہا ہے لیکن ضمائر مخاطب کی استعمال کی گئی ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ تمہارے اور تم سے پہلے لوگوں کے اعمال ایک جیسے ہوچکے ہیں۔ اور تم اپنے آپ کو انہی کا جانشین سمجھتے اور ان کا دفاع کرتے ہو۔ اگر ان کے سروں پر پہاڑ رکھا جا سکتا ہے تو تم پر عذاب نازل کرنا اللہ تعالیٰ کی قوت و سطوت سے کس طرح باہر ہو سکتا ہے۔ اس واقعہ سے یہ مسئلہ بھی واضح ہوا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو مسلم اتھارٹی جبراً اسلام کے احکام پر عمل کر وا سکتی ہے۔ اس لیے اسلامی حکومت پر حدود اللہ کا نفاذ فرض قرار دیا گیا ہے۔ جو حکمران اس کا نفاذ نہیں کرتے انہیں ظالم‘ فاسق اور کافر شمار کیا گیا ہے۔ [ المائدۃ:44 تا 47] بچوں کو جبراً نماز پڑھانا چاہیے : (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بالصَّلَاۃِ وَھُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا وَھُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوْا بَیْنَھُمْ فِی الْمَضَاجِعِ) (رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ) ” حضرت عمر و بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا {رض}سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں انہیں نماز کی وجہ سے سزا دو اور ان کے بستر جدا کر دو۔“ مسائل : 1۔ ایمان کے دعوے دار کو جبراً عمل کروانا چاہیے۔ 2۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے سے پرہیزگاری پیدا ہوتی ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ہر انسان گھاٹے میں ہے۔ تفسیر بالقرآن : بنی اسرائیل کے منحرف ہونے کے واقعات : 1۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے کا وعدہ کرنے کے بعد انحراف کیا۔ (البقرۃ:64) 2۔ اللہ کی عبادت، والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے، لوگوں کو اچھی بات کہنے اور صوم و صلاۃ کی پابندی کا عہد کرنے کے بعد انحراف کیا۔ (البقرۃ:83) 3۔ اپنوں کا خون بہانے اور قتل نہ کرنے کے عہد کے بعد منحرف ہوگئے۔ (البقرۃ:85) 4۔ قیدیوں کو رشوت دے کر چھڑانے کی ممانعت کے باوجود باز نہ آئے۔ (البقرۃ:85) 5۔ ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنے کی ممانعت کے باوجود مچھلیاں پکڑنا۔ (البقرۃ:65) البقرة
64 البقرة
65 فہم القرآن : (آیت 65 سے 66) ربط کلام : بنی اسرائیل کے انحراف کا مشہور واقعہ شکر گزاری کی بجائے بد عہدی کرتے ہوئے ہفتہ کے دن کی بے حرمتی کی اور اس کی سزا۔ بنی اسرائیل میں یہ واقعہ نسل در نسل زبان زدعام اور تورات وانجیل کے کئی صفحات پر پھیلا ہو اہے۔ اس لیے اس کی یاد دہانی کے لیے تفصیلات ذکر کرنے کے بجائے ایک اشارہ ہی کافی سمجھا گیا ہے۔ تاہم سورۃ الاعراف میں اس کی کچھ تفصیل بیان ہوئی ہے کہ تم وہ لوگ ہو کہ جب تمہاری ہی خواہش کے مطابق تمہارے لیے عبادت کا دن ” ہفتہ“ مقرر کیا گیا کہ اس دن تمہیں عبادت کرنے کے سوا کچھ نہیں کرنا چاہیے۔ تم نے اس دن میں بھی سر کشی اور تمرّد کے کئی راستے نکال لیے۔ ہوا یہ کہ مچھلیاں دوسرے دنوں کے بجائے ہفتہ کے روز کثرت کے ساتھ سمندر کی تہ پر تیرتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔ انہوں نے ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار نہ کیا لیکن سمندر کے متصل اس طرح کے بڑے بڑے گھاٹ تیار کیے کہ مچھلیاں خود بخود تالابوں میں بھر جاتیں اگلے دن انہیں پکڑ لیا جاتا۔ اس طرح انہوں نے ہفتہ کے دن کی بے حرمتی اور اللہ تعالیٰ کے قانون کی روح کو پامال کیا۔ جس کی پاداش میں ان کے چہروں کو تبدیل کر کے بندر کی شکل میں تبدیل کردیا تاکہ ان کے جیسے ذہن ہیں شکلیں بھی ویسی ہوجائیں۔ ان کے چہروں کو مسخ کر کے بستی کے گرد و جوار اور بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ اتنی ذلّت و رسوائی کے باوجودان کی اولادیں گناہوں سے بچنے کی بجائے اللہ کی نافرمانی میں آگے ہی بڑھتی چلی گئیں۔ نصیحت تو اللہ سے ڈرنے اور گناہوں سے بچنے والے ہی حاصل کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بندروں کی نسل انہی لوگوں سے ہے۔ حالانکہ حدیث میں وضاحت پائی جاتی ہے کہ وہ بندر بننے کے تین دن بعد مر گئے۔ (رواہ مسلم : کتاب الجمعۃ) (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}أَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ {}یَقُوْلُ نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ القِیَامَۃِ بَیْدَ أَنَّھُمْ أُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ثُمَّ ھٰذَا یَوْمُھُمُ الَّذِیْ فُرِضَ عَلَیْھِمْ فَاخْتَلَفُوْا فِیْہِ فَھَدَانَا اللّٰہُ فَالنَّاسُ لَنَا فِیْہِ تَبَعٌ الْیَھُوْدُ غَدًا وَالنَّصَارٰی بَعْدَ غَدٍ) (رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب فرض الجمعۃ) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ {ﷺ}کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم آخر میں آنے والے قیامت کے دن پہلے ہوں گے بے شک یہود ونصارٰی ہم سے پہلے کتاب دیئے گئے ہیں پھر ہفتہ اور اتوار کے دن کی عبادت ان پر فرض کی گئی انہوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت سے نواز دیا یہودی اور عیسائی ایام کے معاملہ میں ہمارے تابع ہیں یعنی شمار کرنے میں جمعہ کا دن پہلے ہفتہ اور اتوارکے دن بعد میں آتے ہیں۔ یہود ہفتہ اور عیسائی اتوار کے روز عبادت کرتے ہیں اور ہمارے لیے جمعہ افضل قرار دیا گیا ہے۔“ جمعہ کی فضیلت واہمیت : (عَنْ أَبِی الْجَعْدِ الضَّمْرِیِّ وَکَانَتْ لَہٗ صُحْبَۃٌ عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ مَنْ تَرَکَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَھَاوُنًا بِھَا طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قَلْبِہٖ) (رواہ النسائی : باب التشدید فی التخلف عن الجمعۃ) ” حضرت ابو الجعد الضمری کو نبی کریم {ﷺ}کی رفاقت حاصل رہی وہ نبی {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو آدمی تین جمعے سستی کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے اللہ رب العزت اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔“ (عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَتَطَھَّرَ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُھْرٍ ثُمَّ ادَّھَنَ أَوْ مَسَّ مِنْ طِیْبٍ ثُمَّ رَاحَ فَلَمْ یُفَرِّقْ بَیْنَ اثْنَیْنِ فَصَلّٰی مَاکُتِبَ لَہٗ ثُمَّ إِذَاخَرَجَ الْإِمَامُ أَنْصَتَ غُفِرَ لَہٗ مَابَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْأُخْرٰی) (رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب لایفرق بین اثنین یوم الجمعۃ) ” حضرت سلمان فارسی {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور حسب توفیق صفائی کی پھر اس نے تیل یا خوشبو لگائی پھر وہ مسجد آیا اس نے دو آدمیوں کے درمیان جدائی نہ ڈالی اور اس نے جو اس کے لیے لکھی گئی نماز ادا کی پھر جب امام نکلا خاموش رہا تو اس کے ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ { }قَال الصَّلَوَاۃُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَۃُ إِلَی الْجُمْعَۃِ کَفَّارَۃٌ لِّمَا بَیْنَھُنَّ مَالَمْ تُغْشَ الْکَبَائِرُ) (رواہ مسلم : باب الصلواۃ الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ۔۔) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا جب کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے تو پانچ نمازیں اور جمعہ۔ جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔“ مسائل: 1۔ یہودیوں کے لیے ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑنا ممنوع تھا۔ 2۔ یہودیوں نے ہفتہ کے دن کا احترام نہیں کیا۔ 3۔ شعائر اللہ کا احترام نہ کرنے سے قومیں ذلیل ہوجاتی ہیں۔ البقرة
66 البقرة
67 فہم القرآن : ربط کلام : بنی اسرائیل کے جرائم کی فہرست کا تسلسل جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کو توڑنا اور تعمیل حکم سے روگردانی کرنے بنانے والوں نے حضرت موسیٰ کو غیر سنجیدہ ہونے کا الزام دیا۔ حضرت موسیٰ نے ایک اندھے قتل (Blind Murder) کا فیصلہ کرنے کے لیے قوم کے مشکوک افراد کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا تمہیں حکم ہے کہ کوئی ایک گائے ذبح کر کے اس کے گوشت کا کوئی ٹکڑا مقتول کی لاش کے ساتھ لگاؤ تو مردہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کا پتہ بتلادے گا۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بڑی گستاخ اور بہانہ ساز تھی۔ انہوں نے قتل چھپانے اور قاتلوں کو بچانے کے لیے الٹا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ آپ تو سراسر مذاق کر رہے ہیں۔ کبھی اس طرح بھی قتل کے مقدمہ کا فیصلہ ہوا ہے اور مردے زندہ ہوا کرتے ہیں ان کے انکار کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ پہلے گائے پرستی کا شرک کرچکے تھے۔ جس کے اثرات باقی ہونے کی وجہ سے بہانے تراشنے لگے۔ مسائل: 1۔ شرعی اور سنجیدہ مسئلہ یا پریشان حال کو مذاق کرنا پرلے درجے کی جہالت ہے۔ 2۔ جہالت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : جاہل کون؟ 1۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ الٰہ بنانے والے جاہل ہیں۔ (الاعراف :138) 2۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ مذاق کرنا جہالت ہے۔ (البقرۃ:67) 3۔ اغلام بازی کرنے والے جاہل ہیں۔ (النمل :55) 4۔ نبی محترم کو جاہلوں سے اعراض کی ہدایت تھی۔ (اعراف :199) 5۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جہالت سے پناہ مانگی۔ (البقرۃ:67) 6۔ حضرت نوح کو جہالت سے بچنے کا حکم۔ (ہود :46) 7۔ جاہلوں سے بحث کی بجائے اجتناب اور اعراض کرنا چاہیے۔ (الفرقان :63) البقرة
68 فہم القرآن : (آیت 68 سے 71) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر آپ کے ساتھ غلط بیانی اور مذاق کروں۔ کیونکہ پریشانی کے وقت مذاق کرنا اور قتل جیسے مقدمے کو غیر سنجیدہ طور پر لینا سراسر جہالت ہے۔ پیغمبر کی شان تو انتہائی اعلیٰ اور ارفع ہوتی ہے۔ ایک ادنیٰ درجے کے معقول آدمی سے بھی توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ پریشانی کے موقعہ پر اس قسم کا مذاق کرے۔ لیکن حیلہ ساز اور مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہو۔ مکمل حکم آنے کے باوجود اپنا جرم چھپانے کے لیے۔ وہ سوال پر سوال کرتے چلے گئے۔ جن کے جواب میں یہ کہہ کر گائے کا تعین کیا گیا کہ وہ بوڑھی ہو نہ بچی بلکہ بھر پور جوان ہونی چاہیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر تم مجرموں کا سراغ لگانے میں سنجیدہ ہو تو تمہیں اس حکم پر عمل کرنا چاہیے۔ لیکن انہوں نے گائے کی رنگت کے بارے میں سوال کر ڈالا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہونا چاہیے تاکہ دیکھنے والوں کو بھلی اور خوبصورت لگے۔ رنگ اور عمرپوچھ لینے کے باوجود کہنے لگے یہ اوصاف تو کئی گائیوں میں پائے جاتے ہیں۔ اس کی مزید وضاحت ہونی چاہیے۔ بار بار کے حیلوں اور بہانوں کی وجہ سے ان کے ضمیر پر ایک بوجھ تھا۔ ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے، اپنی شرمندگی مٹانے اور گھمبیر صورت حال سے بچنے کے لیے انہوں نے کہا انشاء اللہ اس سوال کے بعد ہم اس حکم پر عمل کر گزریں گے۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھر وضاحت فرمائی کہ اس گائے کو آج تک ہل جوتنے اور کنواں چلانے میں استعمال نہ کیا گیا ہو۔ مزید یہ کہ اس کے پورے جسم پر کسی قسم کا کوئی داغ نہیں ہونا چاہیے۔ اس قدر بحث و تکرار اور سوالات واستفسارات کے بعد گائے ذبح کی۔ جس کے گوشت کا ایک ٹکڑا انہوں نے مقتول کی لاش کو لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اس مردہ کو زندہ کیا۔ قتل کا گناہ : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}لَاتُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ کِفْلٌ مِّنْ دَمِھَا لِأَنَّہٗ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ) (رواہ البخاری : باب خلق آدم وذریتہ ) ” حضرت عبداللہ {رض}بیان کرتے ہیں رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : جو بھی نفس ظلماً قتل کیا جاتا ہے اس کے خون کا گناہ آدم (علیہ السلام) کے پہلے بیٹے کو بھی ہوتا ہے کیونکہ اسی نے سب سے پہلا قتل کیا تھا۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ {رض}قَالَ قَال النَّبِیُّ {}أَوَّلُ مَایُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ فِی الدِّمَاءِ) (رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ ﴾) ” حضرت عبداللہ {رض}بیان کرتے ہیں نبی کریم {ﷺ}نے فرمایا : قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا۔“ مسائل : 1۔ شریعت کے احکام میں قیل و قال اور بہانے تلاش کرنا یہودیوں کا طریقہ ہے جس سے اجتناب کرنا لازم ہے۔ البقرة
69 البقرة
70 البقرة
71 البقرة
72 فہم القرآن : (آیت 72 سے 73) ربط کلام : بنی اسرائیل کی شریعت کے بارے میں عادات اور حیلہ سازیوں کے ذکر کے بعداصل واقعہ کا ذکر۔ چچاکی دولت پر قبضہ کرنے کے لیے رات کی تاریکیوں میں بھتیجوں نے چچا کو قتل کرکے اس کی لاش اپنے مخالفوں کے محلہ میں پھینک دی۔ جب صبح ہوئی تو خود ہی مدعی بن کر بے گناہوں کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرانے لگے۔ قریب تھا کہ اس کے رد عمل میں مزید قتل و غارت شروع ہوجاتی لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قاتلوں کا سراغ لگانے کے لیے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا حکم رکھا کہ ایک گائے ذبح کرکے اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کی لاش کو لگایا جائے اس طرح مردہ زندہ ہو کر اپنے قاتلوں کی نشاندہی کردے گا۔ متعدد سوالات کے جواب میں مجبورًاانہوں نے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے گائے ذبح کر کے اس کے گوشت کا ٹکڑا مقتول کی لاش کو لگایا۔ مقتول نے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتلایا جس سے یہ لوگ مزید قتل و غارت سے محفوظ ہوئے اور مجرموں کو سزا ہوئی۔ اس حکم کی تعمیل پر ان کے گائے پرستی کے تصور کو کاری ضرب لگی جس سے اس بات کا مشاہدہ کر وایا گیا کہ گائے مشکل کشا اور معبود نہیں ہے جو اپنی جان نہیں بچا سکتی وہ مشکل کشا کس طرح ہو سکتی ہے اور یہ بھی واضح ہوا کہ جس طرح اس مقتول نے زندہ ہو کر قتل کی واردات اور اپنے قاتل کا نام بتلایا ہے ایسے ہی سب انسان قبروں سے زندہ ہو کر اپنے اپنے اعمال کا اقرار کریں گے اور بالآخر ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزاء وسزا ملے گی۔ مسائل: 1-مقتول کا زندہ ہونا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ ہے جو مرنے کے بعد زندہ ہونے پر واضح دلیل ہے۔ نوٹ : موت کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت ” البقرۃ آیت 259“ کے تحت تفسیر بالقرآن میں ملاحظہ فرمائیں۔ البقرة
73 البقرة
74 فہم القرآن: ربط کلام : احکام الٰہی کے مقابلہ میں حیلے بہانے کرنے سے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔ انسان جب اللہ کے احکام سے سر تابی، مسلسل نافرمانیوں کا ارتکاب اور مسائل کی کھال اتارنے کی عادت اختیار کرلیتا ہے تو اس کا دل سخت سے سخت ہوجاتا ہے بالآخر مستقل طور پر گمراہی کے راستے پر چل نکلتا ہے۔ دل کی سختی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی علامت ہے۔ دل سخت ہوجائے تو ایمان کا بیج جسے آگے چل کر اعمال کی صورت میں پھل پھول لانے ہوتے ہیں وہ ابتدا ہی میں مردہ ہوجاتا ہے۔ جس طرح پتھروں کی کئی اقسام ہیں اسی طرح انسانوں کے دلوں کا حال ہے۔ پتھروں سے نہریں نکلتی، چشمے پھوٹتے اور خوف خدا سے ٹنوں وزنی پہاڑ سر کے بل زمین پر آ گرتے ہیں۔ لیکن افسوس انسانی دل گوشت کا ایک ٹکڑا ہونے کے باوجود پتھر سے سخت، پتھر سے سخت تر خوف خدا سے عاری ہوجاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے اور اس کے حکم کے سامنے سرنگوں ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور اس پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک گرنے والے پتھروں اور بہنے والے چشموں کی وہ قدرو منزلت نہیں جو انسان کے دل سے نکلنے والی آہوں، اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں اور اس کے حضور جھکنے والی پیشانیوں کی ہے۔ آخر میں یہ اشارہ فرمایا کہ اے انسان ! جو اللہ فلک بوس پہاڑوں کی اقسام، میلوں تک پھیلی غاروں، چٹانوں اور ان میں سے پھوٹنے والے چشموں‘ چلنے والی آبشاروں اور بہنے والے پانی کے قطرات کو جانتا ہے وہ تیرے دل اور اعمال سے کس طرح بے خبر ہوسکتا ہے ؟ دل نرم کرنے کا طریقہ : 1۔ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا : (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}أَنَّ رَجُلًا شَکَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ {}قَسْوَۃَ قَلْبِہٖ فَقَالَ لَہٗ إِنْ أَرَدْتَّ تَلْیِیْنَ قَلْبِکَ فَأَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْیَتِیْمِ) (مسند احمد : باب مسند أبی ھریرۃ) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ {ﷺ}سے اپنے دل کی سختی کے متعلق شکایت کی تو آپ نے فرمایا : اگر تو اپنے دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مسکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر۔“ 2۔ اللہ کا ذکر کرنا : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو {رض}عَنِ النَّبِیِّ { }أَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ إِنَّ لِکُلِّ شَیْءٍ صِقَالَۃٌ وَإِنَّ صِقَالَۃَ الْقُلُوْبِ ذِکْرُ اللّٰہِ وَمَا مِنْ شَیْءٍ أَنْجٰی مِنْ عَذَاب اللّٰہِ مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ۔۔) (صحیح الترغیب للألبانی :1495) ” حضرت عبداللہ بن عمرو {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں آپ فرمایا کرتے تھے ہر چیز کی پالش ہوتی ہے دلوں کی پالش اللہ کا ذکر ہے اور اللہ کے ذکر سے زیادہ کوئی چیز اللہ کے عذاب سے نجات دینے والی نہیں ہے۔“ 3۔ قرآن کی تلاوت کرنا : ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ إِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْھُمْ إِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ﴾ (الأنفال :2) ” مومن تو وہ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور جب انہیں اللہ کی آیات سنائی جائیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔“ مسائل: 1۔ گناہوں سے دل سخت ہوجاتے ہیں۔ 2۔ اللہ کے ذکر سے دل نرم ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : دل کی سختی کے اسباب : 1۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے سے دل سخت ہوتا ہے۔ (البقرۃ:74) 2۔ عہد شکنی کی وجہ سے دل سخت ہوتا ہے۔ (المائدۃ:13) 3۔ اللہ کی یاد سے غافل ہونے والے دلوں کے لیے جہنم ہے۔ ( الزمر :22) 4۔ برے اعمال کی وجہ سے دل زنگ آلود ہوجاتے ہیں۔ (المطففین :14) البقرة
75 فہم القرآن: ربط کلام : جن کے دلوں پر مہر قساوت لگ چکی ہو ان سے ایمان لانے کی توقع کرنا عبث ہے۔ اے امت محمدیہ کے لوگو! کیا تم اب بھی بہانہ باز، پتھر دل اور کلام اللہ کی تحریف کرنے والے لوگوں سے ایمان لانے کی امید باندھے ہوئے ہو ؟ حالانکہ ان کے جرائم اور عادات کا تفصیلی ریکارڈ تمہارے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ ایسے لوگوں سے ایمان اور خیر کی توقع رکھنا فضول ہے جو جان بوجھ کر قرآن مجید کا مفہوم ہی نہیں بدلتے بلکہ انہوں نے تورات و انجیل کے الفاظ تک بدل ڈالے ہیں۔ جس سے تورات و انجیل کے نزول کا مقصد فوت ہوگیا۔ یہودیوں نے تورات میں قطع و بریدکر کے بیت اللہ کے ساتھ اس کے بانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعلق منقطع کیا۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی جگہ جناب اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ ثابت کرنے کے لیے تاریخ کا ریکارڈ بدل ڈالا پھر اس سے بڑھ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے یہودی اور عیسائی ہونے کے جھوٹے دعوے کیے۔ حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) تورات اور انجیل کے نزول سے سینکڑوں سال پہلے رحلت فرما چکے تھے۔ ایسا وہ کسی غفلت یا لاعلمی کی بنا پر نہیں کرتے بلکہ جان بوجھ کر کرتے ہیں۔ مسائل: 1۔ کلام اللہ کی تحریف کرنے والے سے خیر کی توقع رکھنا فضول ہے۔ 2۔ پتھر دل، بہانہ ساز انسان کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ تفسیر بالقرآن : کلام اللہ میں اہل کتاب کی تحریف کے مختلف طریقے : 1۔ آیات کو ان کے محل سے آگے پیچھے کردینا۔ (النساء :46) 2۔ اپنی طرف سے کچھ باتیں گھڑ کر شامل کرنا۔ (البقرۃ:79) 3۔ زبان مروڑ کر مفہوم بدل ڈالنا۔ (آل عمران :78) 4۔ بنیادی باتیں چھوڑ کر مشتبہات کے پیچھے لگنا۔ (آل عمران :7) البقرة
76 فہم القرآن : (آیت 76 سے 77) ربط کلام : جس طرح یہودی بہانہ ساز اور متلوّن مزاج ہیں، منافقوں کی بھی یہی عادات ہیں۔ منافقوں کی عادات کا ذکر کرتے ہوئے آیت ١٣ میں یہ بتلایا گیا تھا کہ یہ لوگ ایمان والوں کو ملتے ہیں تو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ایمان کے دعویدار بنتے ہیں اور جب اپنے مذہبی پیشواؤں اور لیڈروں کے پاس جاتے ہیں تو انہیں یقین دہانیاں کرواتے ہیں کہ ہم تمہارے ہی ساتھی ہیں۔ یہاں اہل کتاب کے اندرون خانہ کا انکشاف کرتے ہوئے بتلایا جارہا ہے کہ ان کے مذہبی رہنما ان سے کہتے ہیں کہ تورات و انجیل میں بیان ہونے والے حقائق جن میں نبی آخر الزماں {ﷺ}اور قرآن مجید کی تصدیق پائی جاتی ہے۔ ان کا مسلمانوں کے سامنے ذکر کرنا دانشمندی کے خلاف ہے۔ پھر یہ کہہ کر انہیں خوفزدہ کرتے ہیں کہ اس طرح دنیا میں مسلمانوں کے سامنے لا جواب اور آخرت میں تمہارے رب کے ہاں مسلمان تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ اپنی بات کو مؤثر بنانے کے لیے ان کے خطبا اور پیشوا بڑے معصوم بن کر اپنے تقو ٰی کی دھاک بٹھاتے ہوئے فکر آخرت کا تصوردے کر لوگوں کو حقائق کے انکشاف سے روکتے تھے۔ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ ان حقائق کا انکشاف نہ کریں تو اللہ تعالیٰ سے یہ حقیقت چھپی رہ جائے گی؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہی تورات‘ انجیل نازل فرمائی ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید، لوگوں کی اعلانیہ اور پوشیدہ حرکات و افعال کو جانتا ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے جو وہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ آخرت میں ان کے ظاہر اور باطن کو طشت ازبام کردیا جائے گا۔ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ انسان کے باطن اور ظاہر سے واقف ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ البقرة
77 البقرة
78 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب کے علماء کی دیکھا دیکھی ان کا ان پڑھ طبقہ یعنی عوام الناس بھی بے بنیاداُمیدیں لگائے ہوئے ہے۔ یاد رہے کہ مذہبی پیشواؤں اور سیاسی راہنماؤں کے منفی اور مثبت اثرات عوام پر ضرور اثر انداز ہوا کرتے ہیں۔ علمائے یہود نے حسب ونسب، مصنوعی تقدُّس اور مذہب کا نام لے کر خود ساختہ رسومات کو عوام کے ذہن پر اس طرح مسلط کردیا تھا جس سے عوام سمجھنے لگے کہ فقط بزرگوں کا احترام‘ علماء کی خدمت اور مذہبی رسومات ہی اصل دین ہے۔ حالانکہ ان تصورات کی کوئی بنیاد نہیں تھی کہ جس اساس پر وہ اپنے آپ کو جنت کا ٹکٹ ہولڈر سمجھتے اور یہ امید لگابیٹھے تھے کہ بخشش کے لیے بزرگوں سے محبت اور ان کے دامن کے ساتھ وابستہ ہونا ہی کافی ہے۔ یہاں ان کے بے بنیاد نظریات کی نفی کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ دین صرف جذبات اور خوش کن تصورات کا نام نہیں ہے۔ اس کے لیے تو باطل نظریات کو چھوڑنا‘ بے بنیاد تصورات سے نجات پانا اور جان و مال کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ ( عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ قِرَادٍ {رض}أَنَّ النَّبِیَّ {}تَوَضَّأَ یَوْمًا فَجَعَلَ أَصْحَابُہٗ یَتَمَسَّحُوْنَ بِوَضُوْءِہٖ فَقَالَ لَھُمُ النَّبِیُّ {}وَمَاحَمَلَکُمْ عَلٰی ھٰذَا قَالُوْا حُبُّ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَقَال النَّبِیُّ {}مَنْ سَرَّہٗ أَنْ یُّحِبَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ أَوْ یُحِبُّہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ فَلْیَصْدُقْ حَدِیْثَہٗ إِذَا حَدَّثَ وَلْیُؤَدِّ أَمَانَتَہٗ إِذَا ائْتُمِنَ وَلْیُحْسِنْ جَوَارَ مَنْ جَاوَرَہٗ) (بیھقی فی شعب الإیمان۔1533) ” حضرت عبدالرحمن بن ابی قراد {رض}بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم {ﷺ}نے ایک دن وضو کیا۔ آپ {ﷺ}کے اصحاب آپ کے وضو کے پانی کو اپنے جسموں پر ملنے لگے۔ نبی محترم {ﷺ}نے ان سے استفسار فرمایا تم اس طرح کیوں کررہے ہو؟ انہوں نے عرض کی، اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی بنا پر۔ نبی کریم {ﷺ}نے فرمایا جس شخص کو یہ بات اچھی لگتی ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں تو اسے چاہیے کہ جب بات کرے تو سچ بولے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو امانت کا حق ادا کرے اور اپنے ہمسائیوں سے اچھا برتاؤ کرے۔“ مسائل: 1۔ بے بنیاد خواہشات نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔ البقرة
79 فہم القرآن: ربط کلام : اہل کتاب کا حال یہ ہے کہ ایک طرف اپنے نیک اور جنتی ہونے کے بلند و بالا دعوے کرتے ہیں اور دوسری طرف خود ساختہ تصورات اور ذاتی خیالات کو تورات و انجیل کی زبان میں ڈھال بنا کر لوگوں کا مال بٹورتے اور سیاسی مفادات حاصل کرتے ہیں۔ یہودونصاریٰ کے علماء اور ان کے حکام نے اپنی کتابوں کی صرف تاویلات و تحریفات اور ان کے الفاظ میں تغیر و تبدل ہی نہیں کیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اپنی تاویلات اور نظریات کو وحی الٰہی کا رنگ دے کر تورات وانجیل میں اس کا اندراج کردیا تھا۔ قرآن مجید کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے ذمہ لیا ہے جس کی وجہ سے امت محمدیہ کے پیشہ ورعلماء اور مفاد پرست حکمران قرآن مجید میں کمی بیشی اور تبدیلی تو نہیں کرسکے البتہ تشریح و تفسیر کے پردے میں قرآن مجید کے معانی ومفاہیم میں تبدیلی کرنے سے گریز نہیں کرتے اور اپنے اپنے گروہی نظریات اور شخصی تفردات کو قرآن وسنت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ذاتی اور جماعتی مفادات اٹھاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی کمائی اور ان کے اعمال جہنم میں داخلے کا باعث ہوں گے۔ تورات و انجیل میں ترمیم و اضافے : One story tells that man was created before the animals, while another tells us that the animals were created before man. (George Barcaly: The Making and Meaningof the Bible, p.48) ” ایک کہانی یہ بیان کرتی ہے کہ انسان جانوروں سے پہلے پیدا کیا گیا جبکہ دوسری ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جانور انسانوں سے پہلے بنائے گئے۔“ کتاب پیدائش کے دوسرے باب کے پہلے باب سے اس فرق کے بارے میں کیتھولک بائبل میں نوٹ لکھا ہے : This account ...... comes from a different source and is composed in a very differnt style. (Catholic Bible (RSV) p.995) ” یہ بیان کسی دوسرے ذریعے سے آیا ہے اور پہلے باب سے بالکل مختلف طرز تحریر میں لکھا ہوا ہے۔“ ایک اور مسیحی مصنف لکھتا ہے : So many different minds are represented in the pages of the New testament, so many writ ers with differing personalities and points of view. (William Neil: The Bible Story, London, 1975, p.215 --- Also see" Interprentation" --- A Journal of Bible The ecology, Viginia vol. 37 (July 1983) p.20) ” عہد جدید (اور بائبل کے دوسرے حصوں) کے صفحات بہت سے مختلف دماغوں اور بہت سے لکھنے والوں (کی کاوش) کا نتیجہ ہیں‘ جن کی شخصیات اور نقطہ ہائے نظر آپس میں مختلف ہیں۔“ ول ڈیورنٹ نے لکھا : It is clear that there are many contradictions between one Gospel and another, many dubious statements of history............ (Will Dusrant : The story of Civilisation, New York, 1957, vol. 3) ” یہ بات واضح ہے کہ ایک انجیل کے دوسری انجیل سے بہت تضادات ہیں‘ اور ان کے بہت سے بیانات تاریخی طور پر مشکوک ہیں۔“ [ عیسائیت تجزیہ ومطالعہ از ساجد میر] (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ { }مَرَّ بِسَخْلَۃٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَہَا أَہْلُہَا قَالَ تُرَوْنَ ہَذِہِ ہَیِّنَۃً عَلَی أَہْلِہَا؟ قَالُوا نَعَمْ قَالَ وَاللَّہِ لَلدُّنْیَا أَہْوَنُ عَلَی اللَّہِ مِنْ ہَذِہِ عَلَی أَہْلِہَا) (سنن دارمی : باب فی ہو ان الدنیا علی اللہ) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}کا گزر بکری کے مردہ بچے کے پاس سے ہوا۔ جس کو اسکے اہل والوں نے باہر پھینک دیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ تم ا سے اس کے اہل والوں پر بے فائدہ تصور کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں! آپ نے فرمایا اللہ کی قسم! دنیا اللہ کے نزدیک اس مردہ بکری کے بچے سے بھی کم تر ہے۔“ مسائل: 1۔ دین کی غلط تشریح کرکے دنیا کمانے والوں کے لیے جہنم اور ہلاکت ہے۔ تفسیر بالقرآن: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت : 1۔ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ (الاعلیٰ:17) 2۔ دنیا کھیل اور تماشا ہے۔ (الانعام :32) 3۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ (الرعد :26) 4۔ دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے۔ (الحدید :20) 5۔ دنیا عارضی اور آخرت پائیدار ہے۔ (المؤمن :39) البقرة
80 فہم القرآن : ربط کلام : نبی اکرم {ﷺ}کے زمانے میں اہل کتاب خود ساختہ عقائد کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرتے تھے اور آج ان کا دعوٰی ہے کہ ہم گنتی کے چند دن جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اس کے بعد جنت ہماری اور ہم جنت کے وارث ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک‘ نبی آخر الزماں {ﷺ}کی نبوت کا انکار اور بھاری جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود یہودیوں کی خوش فہمیوں کی انتہا یہ تھی اور ہے کہ وہ بڑی بے باکی کے ساتھ تورات کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے کے ناطے سے ہم جہنم میں نہیں جا سکتے۔ سوائے ان چند دنوں کے جن دنوں میں ہمارے بزرگوں نے بچھڑا پوجنے کی غلطی کی تھی۔ اس دعویٰ کی قلعی کھولنے کے لیے ان سے سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد لے رکھا ہے کہ جس کی خلاف ورزی کی اللہ تعالیٰ سے توقع نہیں کی جا سکتی؟ اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو تو تمہیں کوئی ثبوت پیش کرنا چاہیے۔ درحقیقت یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بے بنیاد اور جہالت کی بات کرتے ہیں۔ فرقہ پرستی کے مضمرات میں سے ایک یہ بات بھی ہے کہ ہمارے بعض علماء اور مشائخ نے اس سے دو قدم آگے بڑھ کر اپنے عقیدت مندوں اور مریدوں میں یہ تاثر پیدا کر رکھا ہے کہ جنت میں جانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کسی پیر کا مرید یا کسی امام کا مقلد ہوجائے۔ حالانکہ اس نظریہ کی دلیل قرآن وسنت میں نہیں پائی جاتی۔ مسائل : 1۔ یہودیوں کا عقیدہ شرعی حقائق کے منافی اور عدل و انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ 2۔ من گھڑت دینی مسائل اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہیں۔ تفسیر بالقرآن : قیامت کے دن کا معاملہ : 1۔ ہر ایک کو اس کے اپنے اعمال کام آئیں گے۔ (البقرۃ:134) 2۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الانعام :164) 3۔ کوئی کسی کے اعمال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔ (فاطر :43) 4۔ کسی کے گناہ کے متعلق کسی دوسرے سے نہیں پوچھا جائے گا۔ ( الرحمن :39) البقرة
81 فہم القرآن : (آیت 81 سے 82) ربط کلام : من گھڑت تصورات اور بد اعمالیاں آدمی کو جہنم میں لے جائیں گی جبکہ جنت کے وارث تو صاحب ایمان اور صالح اعمال کرنے والے لوگ ہی ہوں گے۔ اہل کتاب اور ہر فرد کو یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ بلند بانگ دعوے، دل کش نعرے، حسب ونسب کے امتیازات اور بزرگوں کے ساتھ نسبت اس شخص کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتے جو ایمان سے عاری اور تادم مرگ شرک وبدعت میں ملوث رہا ہو اسے ہر حال میں جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں جانا ہے اور ان میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ اس کے برعکس کوئی شخص اعلیٰ حسب و نسب اور بڑے بڑے امتیازات و القابات سے محروم‘ مگر صاحب ایمان وکردار ہو۔ ایسے لوگ جہاں کہیں کے رہنے والے اور جو بھی ہوں اگر ان کا دامن ایمان کی نعمت اور کردار کی دولت سے مالا مال ہے تو وہ جنت میں ضرور جائیں گے اور وہاں انہیں حیات جاوِداں حاصل ہوگی۔ یاد رہے کہ یہاں زندگی بھر گناہوں میں گھرے ہوئے سے مراد کفر و شرک اور بدعات میں ملوّث ہونے والا شخص ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ مِّنْ کِبْرٍ وَّلَا یَدْخُلُ النَّارَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِّنْ إِیْمَانٍ ) (رواہ الترمذی : کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی الکبر) ” حضرت عبداللہ بن مسعود {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔“ مسائل: 1۔ کفرو شرک اور کبیرہ گناہ کا مرتکب اگر توبہ کے بغیر مرجائے تو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ 2۔ ایمان خالص اور عمل صالح اپنانے والے لوگ ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ البقرة
82 البقرة
83 فہم القرآن: ربط کلام : یہودی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ لیا حالانکہ یہود نے اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ نہیں لیا البتہ اللہ تعالیٰ نے ضرور ان سے ان باتوں کا وعدہ لیا ہوا ہے۔ ہر دور میں دین کے بنیادی ارکان اور احکام ایک ہیں اور ان کی ترتیب بھی ایک جیسی ہی رہی ہے۔ سب سے پہلے خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا جسے حقوق اللہ کہا جاتا ہے۔ حقوق اللہ کے بعد والدین کی تابعداری اور ان کے ساتھ احسان کرنا ہے۔ اور ان کے ساتھ قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، لوگوں سے اچھی بات کہنا، نماز کا اہتمام کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ رب اور خالق ہے لیکن اس نے اپنی تخلیق اور ربوبیت کا ذریعہ والدین کو بنایا ہے اس لیے اپنی ذات کے بعد اس نے اس مقدس رشتہ کو تقدیس و تکریم دیتے ہوئے ہدایات فرمائیں کہ اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ ہر دم اچھا سلوک کرتی رہے۔ نبی کریم {ﷺ}نے قرآن مجید کی اسی ترتیب کا خیال رکھتے ہوئے ارشادات فرمائے : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ {رض}قَالَ سَأَلْتُ النَّبِیَّ {}أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ قَال الصَّلَاۃُ عَلٰی وَقْتِہَا قَالَ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ قَالَ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ الْجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ) (رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلوۃ ) ” حضرت عبداللہ بن مسعود {رض}بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم {ﷺ}سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا : نمازوقت پر ادا کرنا۔ پھر پوچھا تو فرمایا والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ اس کے بعد پوچھنے پر آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ (عَنْ بَھْزِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ {}مَنْ أَبَرّقَالَ أُمَّکَ ثُمَّ أُمَّکَ ثُمَّ أُمَّکَ ثُمَّ أَبَاکَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ) (رواہ ابو داؤد : باب فی بر الوالدین) ” بہز بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : میں نے پوچھا اللہ کے رسول {ﷺ}! میں کس سے اچھا سلوک کروں؟ آپ {ﷺ}نے فرمایا : اپنی ماں سے پھر اپنی ماں سے پھر اپنی ماں سے پھر اپنے باپ سے اور پھر قریبی رشتہ داروں سے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}کَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہٗ أَوْلِغَیْرِہٖ أَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ وَأَشَارَ مَالِکٌ بالسَّبَابَۃِ وَالْوُسْطٰی) (رواہ مسلم : باب الإحسان إلی الأرملۃ۔۔) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا اپنے رشتہ دار یا کسی دوسرے یتیم کی پرورش کرنے والا اور میں جنت میں ایسے ہوں گے۔ راوی نے درمیانی اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔“ (عَنْ عَائِشَۃَ {رض}أَنَّ الْیَھُوْدَ دَخَلُوْا عَلَی النَّبِیِّ {}فَقَالُوْا أَلسَّامُ عَلَیْکَ فَلَعَنَتْھُمْ فَقَالَ مَالَکِ قُلْتُ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَاقَالُوْا قَالَ فَلَمْ تَسْمَعِیْ مَاقُلْتُ وَعَلَیْکُمْ) (رواہ البخاری : باب الدعاء علی۔۔ ) اچھی بات کا حکم : ” حضرت عائشہ {رض}بیان کرتی ہیں کہ یہودیوں نے نبی {ﷺ}کے پاس آکر کہا : السّام علیک کہ تجھ پر ہلاکت ہو۔ حضرت عائشہ {رض}نے ان پر لعنت کی۔ آپ {ﷺ}نے پوچھا : عائشہ ! تجھے کیا ہوا ؟ حضرت عائشہ {رض}نے عرض کیا کہ آپ نے ان کی بات نہیں سنی۔ فرمایا تو نے میری بات نہیں سنی میں نے وعلیکم کہا کہ تم پر بھی ہو۔“ بیوہ اور مسکین کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت : (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}قَالَ قَال النَّبِیُّ {}السَّاعِیْ عَلَی الْأَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوِ الْقَائِمِ اللَّیْلَ الصَّائِمِ النَّھَارَ) (رواہ البخاری : باب فضل النفقۃ علی الأھل] ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا بیوہ اور مسکین پر نگران اللہ کی راہ میں مجاہد کی طرح ہے یا رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔“ مسائل: 1۔ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا، والدین سے حسن سلوک کرنا، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں سے اچھا برتاؤ کرنا اور ہمیشہ اچھی بات کہنا، نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرنا اللہ تعالیٰ سے عہد نبھانے کے مترادف ہے۔ تفسیر بالقرآن : مقام والدین : 1۔ بنی اسرائیل سے والدین کے ساتھ احسان کا عہدلیا گیا۔ (البقرۃ:83) 2۔ والدین سے نیکی کرنے کا حکم۔ (بنی اسرائیل :23) 3۔ والدین کو اف کہنا اور جھڑکناجائز نہیں۔ (بنی اسرائیل :23) 4۔ والدین کے سامنے عاجزی سے رہنا اور ان کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ (بنی اسرائیل :24) 5۔ غیر مسلم والدین کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ (لقمان :15) (دیگر احکام کے بارے میں اگلے مقامات پر وضاحت ہوگی) البقرة
84 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ عہد کا حصہ۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح بنی اسرائیل سے اپنی بندگی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک، یتامٰی و مساکین کے ساتھ تعاون اور لوگوں سے خوش اخلاقی و خوش گفتاری کے ساتھ پیش آنے، نماز اور زکوٰۃ کا عہد لیا تھا۔ اسی طرح ان سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ آپس میں دنگا فساد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے صلح وآشتی کے ساتھ رہنا۔ لیکن انہوں نے نہ صرف اس عہد کی مخالفت کی بلکہ قتل و غارت اور ظلم و زیادتی کا بازار گرم کیا۔ طاقت ور کمزور کے لیے وحشی درندے کی شکل اختیار کر گیا۔ ماضی میں جو کچھ فرعون ان کے ساتھ کیا کرتا تھا انہوں نے اس سے بڑھ کر اپنے لوگوں پر ظلم ڈھائے کہ کمزور طبقات کو ان کے گھروں سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ طاقتور قبائل اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے ایک دوسرے کو لڑایا کرتے اور پھر لوگوں کے سامنے سچا ہونے اور اپنے آپ کو مظلوموں کا خیر خواہ ثابت کرنے کے لیے حقوق انسانیت کے علمبردار بن جاتے اور مغلوب قبیلے کے قیدیوں کو رہائی دلانے کے لیے فدیے کا بندوبست کرتے تاکہ یہ لوگ ہمیشہ کے لیے ان کے ممنون رہیں۔ جس طرح امریکہ، برطانیہ اور دیگر اتحادیوں نے پہلے 2001 ء میں افغانستان اور عراق کے لاکھوں بے گناہ لوگوں کو شہید کیا اور پھر انسانیت اور تعمیر نو کے نام پر اپنے مفاد کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کیے اور لوگوں کو خوراک اور ادویات مہیا کیں تاکہ دنیا کو باور کرایا جائے کہ ہم ظالم نہیں خیر خواہ اور انسان دوست لوگ ہیں۔ مسائل : 1۔ بنی اسرائیل سے کشت و خون نہ کرنے کا عہد لیا گیا۔ 2۔ بنی اسرائیل سے اپنے لوگوں کو دربدر نہ کرنے کا عہد لیا گیا۔ البقرة
85 فہم القرآن: ربط کلام : بنی اسرائیل نے نہ صرف اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو توڑا بلکہ اس حد تک عہد شکن ثابت ہوئے کہ انہوں نے باہمی تعلقات کو توڑتے ہوئے اپنوں میں سے کمزور لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ اس بات پر یہودیوں کو سمجھایا گیا ہے کہ مظلوموں کی حالت زار تمہاری سیاست اور مذموم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے جبکہ تورات میں تمہیں اس بات سے منع کیا اور تم سے عہد لیا گیا تھا کہ اپنوں کو قتل کرنا اور کمزوروں کو ان کے گھروں سے نکالنا سنگین اخلاقی اور معاشرتی جرم ہے۔ یہاں بار بار مخاطب کی ضمیر لا کر انہیں شرم دلائی جارہی ہے کہ یہ تمہارے ہی ہم نسب اور ہم وطن ہیں۔ جن میں سے کچھ کو تم قتل کردیتے ہو اور کچھ کو ان کے گھروں سے نکال کر باہر پھینکتے ہو۔ تمہاری سازشوں کی وجہ سے وہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں۔ اس کے بعد فدیہ دے کر چھڑاتے ہو۔ ایسا کرنا نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے کہ کلام اللہ کے جس حصہ پر چاہا عمل کرلیا اور جس سے دنیا کے نقصان کا اندیشہ ہوا اسے چھوڑ دیا۔ اس طرح نہ صرف شریعت بازیچۂ ا طفال بن جاتی ہے بلکہ آدمی کی طبیعت میں مستقل طور پر منافقت اور مفاد پرستی پیدا ہوجاتی ہے۔ جس کی سزا دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں شدید ترین عذاب ہے۔ جو لوگ دین کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتے ہیں اور خیر خواہی کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں ان پر نہ آخرت کا عذاب ہلکا ہوگا اور نہ ہی کوئی ان کی مدد کرنے والا ہوگا۔ ” نبی کریم {ﷺ}کے زمانہ میں انصار ( جو اسلام سے قبل مشرک تھے) کے دو قبیلے تھے۔ اوس اور خزرج، ان کی آپس میں آئے دن جنگ رہتی تھی، اسی طرح یہود مدینہ کے تین قبیلے تھے۔۔ بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ یہ بھی آپس میں لڑتے رہتے تھے، بنو قریظہ اوس کے حلیف تھے اور بنو قینقاع اور بنو نضیر خزرج کے حلیف تھے، جنگ میں یہ اپنے اپنے حلیفوں کی مدد کرتے اور اپنے ہی ہم مذہب یہودیوں کو قتل کرتے، ان کے گھروں کو لوٹتے اور انہیں جلاوطن کردیتے۔ حالانکہ تورات کے مطابق ایسا کرنا ان کے لیے حرام تھا، پھر جو لوگ مغلوب ہونے کی وجہ سے قیدی بن جاتے تو انہیں فدیہ دے کر چھڑاتے اور کہتے کہ ہمیں تورات میں یہی حکم دیا گیا ہے۔ ان آیات میں یہودیوں کے اسی کردار کو بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے شریعت کو موم کی ناک بنالیا تھا، مرضی سے حکم پر عمل کرلیتے اور مرضی کے خلاف حکم کو کوئی اہمیت نہ دیتے۔ قتل، لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالنا اور ایک دوسرے کی ظلم پر مدد کرنا، ان کی شریعت میں حرام تھا، ان جرائم کا انہوں نے کھلم کھلا ارتکاب کیا اور جو فدیہ دے کر چھڑا لینے کا حکم تھا اس پر عمل کیا۔ حالانکہ اگر وہ پہلے تین امور کا لحاظ رکھتے (قتل وغارت گری سے باز رہتے، دوسروں کو جلاوطن نہ کرتے، ظلم وستم سے رک جاتے) تو فدیہ دے کر چھڑانے کی نوبت ہی نہ آتی۔“ (ماخوذ از ” تفسیر احسن البیان“ ) اہل کتاب کے ایک دوسرے پر مظالم : ہربرٹ ملر نے لکھا ہے : ” رومی بادشاہ تھیوڈو سیس نے دوسرے مذاہب کی عبادت گاہیں حکماً بند کردیں اور کیتھولک عیسائیت کو ملک کا واحد قانونی مذہب قرار دیتے ہوئے ان سب ” دیوانوں“ (madmen) سے ہر قسم کے شہری حقوق چھین لیے جو کیتھولک عیسائیت سے متفق نہ تھے۔“ When The odosius deprived heretics of civil rights, religious orthodoxy became the price of citizenship for the first time in history. (Herbert Muller: op.cit pp.86-87; Cambridge Modern History (1907) vol.10 p.152) ” جب تھیوڈو سیس نے ملحدین کو شہری حقوق سے محروم کیا‘ تو عقیدہ کی تبدیلی شہریت کی قیمت قرار پائی۔“ اور پوپ لیو دواز دہم نے تو رواداری (Toleration) کو صاف الفاظ میں سچے مذہب سے بے پروائی (Indifference) سے تعبیر کرتے ہوئے بتا دیا کہ عیسائیت میں نقطۂ نظر کے اختلاف کو برداشت کرنے کی قوت و صلاحیت کہاں تک ہے۔ عملاً بھی اس نے تنخواہ دار مخبرین (Informers) کی مدد سے مسلمہ عقائد سے ہٹے ہوئے افراد سے اپنی جیلیں بھر دیں۔ ” مشرکین“ (pagans) اور ” ملحدین“ (heretics) کے بعد جو طبقہ مسیحی عدم رواداری اور تشدد کا پہلا نشانہ بنا‘ وہ یہودی تھے۔ یہودیوں سے مسیح کے ” خون کا بدلہ“ لینے کے لیے انجیل کی اس آیت کا حوالہ استعمال کیا گیا جس میں مسیح کے وقت کے یہودیوں نے رومی حاکم پیلاطس کی مسیح کو مصلوب کرنے پر ہچکچاہٹ دیکھتے ہوئے کہا تھا ” اس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر!“ (متی27:25) : With the triumph of Christianity, the children of Israel had to repay his duffering a million fold. (Herbert Muller : op.cit., p.91) ” عیسائیت کے غلبہ کے بعد بنی اسرائیل کو مسیح کی تکالیف کا کئی لاکھ گنا بدلہ چکانا پڑا۔“ ملحدین‘ مشرکین اور یہود وغیرہ پر ظلم وتشدد اور ان کے قتل و غارت پر عیسائی حکمرانوں اور امراء کو اکساتے ہوئے ایک مشہور پوپ ہلڈر برینڈ (Hilderbrand) نے کہا تھا : Cursed be he that refraineth his sword from blood. (H.C.Lea: A history of the Inquisition in spain (New York 1906) vol. 1, pp.81, 115) ” جو اپنی تلوار کو (ان لوگوں کا) خون کرنے سے روک رکھے وہ لعنتی ہے۔“ (عیسائیت تجزیہ ومطالعہ) مسائل : 1۔ بنی اسرائیل عہد توڑنے والی قوم ہے۔ 2۔ بنی اسرائیل پر رشوت لینا حرام تھا۔ 3۔ دین کے کچھ ارکان پر عمل کرنا اور کچھ کو چھوڑ دینادنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب جہنم کا سبب ہوگا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔ البقرة
86 فہم القرآن : ربط کلام : یہود و نصاریٰ کی یہ عہد شکنیاں اس لیے تھیں کہ انہوں نے آخرت کو فراموش کر کے دنیا کو مقدم کرلیا تھا۔ دنیا کے لیے وہ تمام اخلاقی اور دینی حدیں پھاندنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ کفار اور مشرکین کے بارے میں قرآن مجید بار بار اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ ان لوگوں پر نہ عذاب ہلکا ہوگا اور نہ ہی انہیں جہنم سے نجات ملے گی۔ جس شخص کے بارے میں عذاب ہلکا ہونے کا امکان ہے وہ جناب ابو طالب ہیں۔ ان کے بارے میں نبی کریم {ﷺ}نے اس امید کا اظہار کیا ہے۔ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ {رض}أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ {}وَذُکِرَ عِنْدَہُ عَمُّہُ فَقَالَ لَعَلَّہُ تَنْفَعُہُ شَفَاعَتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَیُجْعَلُ فِی ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ، یَبْلُغُ کَعْبَیْہِ، یَغْلِی مِنْہُ دِمَاغُہُ) (رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب قصۃ ابی طالب) ” حضرت ابو سعید خدری {رض}بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ {ﷺ}سے سنا۔ آپ {ﷺ}کے پاس آپ کے چچا ابو طالب کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا شاید اسے میری شفاعت قیامت کے دن فائدہ دے۔ اسے آگ پر کھڑا کیا جائے گا۔ وہ آگ اس کے ٹخنوں تک پہنچتی ہوگی جس سے اس کا دماغ کھولے گا۔“ ” جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا یقیناً ہم انہیں جہنم واصل کریں گے جب ان کے جسموں کی کھال گل جائے گی تو ہم دوسری کھال سے بدل دیں گے تاکہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں اللہ تعالیٰ یقینًا زبردست اور حکمت والا ہے۔“ (النساء :56) مسائل: 1۔ آخرت کی زندگی پر دنیا کو ترجیح دینے والوں پر جہنم کا عذاب ہلکا نہیں ہوگا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کے بدلے مال اور منصب حاصل کرناحرام ہے۔ 3۔ دوزخیوں کی کوئی کچھ بھی مدد نہیں کرسکے گا۔ البقرة
87 فہم القرآن : (آیت 87 سے 88) ربط کلام : بنی اسرائیل سے عہد لینے کے بعد اس کی یاد دہانی کے لیے مسلسل انبیاء مبعوث کیے گئے مگر یہ لوگ تکبر اور ظلم میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے پختہ عہد سے انحراف، قومی جرائم اور اجتماعی ذلت کا احساس دلا کر بنی اسرائیل کو یاد کروایا گیا ہے کہ اپنی تاریخ کا ریکارڈ ذہن میں لاؤ۔ جب ہم نے تمہاری رہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت کی اور ان کے بعد اس عہد کی یاد دہانی اور ایفا کے لیے متواتر انبیائے کرام مبعوث فرمائے۔ یہاں تک کہ عیسیٰ {علیہ السلام}ایسے معجزات کے ساتھ مبعوث ہوئے کہ جن کے سامنے حاذق اطبا، معروف دانشور اور بڑے بڑے اہل علم طفل مکتب دکھائی دیتے تھے۔ لیکن اے اہل کتاب! تم نے ہر اس بات کا انکار کیا جو تمہارے رواج اور مزاج کے خلاف تھی۔ تم نے نا صرف روشن معجزات اور ٹھوس دلائل کا متکّبرانہ جواب دیا بلکہ انبیاء کی کثیر تعداد کی تکذیب کرتے ہوئے انہیں ماننے سے انکار کردیا اور کچھ انبیاء کو شہید ہی کر ڈالا۔ اب تم گناہوں اور اپنے استکبار کو چھپانے کے لیے کہتے ہو کہ ہم قرآن اور اس نبی کی رسالت کو اس لیے تسلیم نہیں کرتے کہ ہمارے دل علم و دانش کے گہوارے ہیں اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں اس نبی کی باتوں کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ ہمارے اور اس کے درمیان پردہ حائل ہوچکا ہے۔ یہی وہ بہانے ہیں جو ہر دور میں نام نہاد دانشور اور متعصب مذہبی لوگ کرتے آئے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دلائل سمجھنے اور حقائق کو جاننے کے باوجود یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ علم و معرفت رکھتے ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے ان پر خدا کی پھٹکار پڑچکی ہے۔ تکبر کا معنٰی اور انجام : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَّنَعْلُہٗ حَسَنَۃً قَالَ إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُّحِبُّ الْجَمَالَ الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ) (رواہ مسلم : باب تحریم الکبر وبیانہ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا کہ آدمی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور اس کے جوتے اچھے ہوں۔ آپ {ﷺ}نے فرمایا : اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْثَال الذَّرِّ فِیْ صُوَرِ الرِّجَالِ یَغْشَاھُمُ الذُّلُّ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَیُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِیْ جَھَنَّمَ یُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْھُمْ نَارُ الْأَنْیَارِ یُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ طِیْنَۃَ الْخَبَالِ) (رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ) ” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا {رض}سے وہ نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی صورت میں لائے جائیں گے انہیں ہر طرف سے ذلت ڈھانپے ہوئے ہوگی اور انہیں بولس نامی جہنم کی جیل میں لے جایا جائے گا۔ ان پر آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوں گے اور انہیں جہنمیوں کی زخموں کی پیپ پلائی جائے گی۔“ مسائل: 1۔ بنی اسرائیل نے کچھ انبیاء کو شہید کیا اور اکثر کو جھٹلا دیا۔ 2۔ منکرین حق بات ماننے کی بجائے یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل پردہ میں ہیں۔ تفسیر بالقرآن: لعنتی کون؟ 1۔ شیطان لعنتی ہے۔ (النساء :118) 2۔ کافر لعنتی ہیں۔ (الاحزاب :64) 3۔ اصحاب السبت لعنتی ہیں۔ ( النساء :47) 4۔ یہودی لعنتی ہیں۔ (المائدۃ:64) 5۔ جھوٹے لعنتی ہیں۔ (آل عمران :61) 6۔ ظالم پر لعنت ہوتی ہے۔ (ھود :18) 7۔ حق چھپانے والے لعنتی ہیں۔ (البقرۃ :159) 8۔ اللہ اور رسول کو تکلیف دینے والے لعنتی ہیں۔ (الاحزاب :57) البقرة
88 البقرة
89 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اہل کتاب ہمیشہ سے حق پہچاننے کے باوجود اس کے انکاری رہے ہیں اسی کا سبب ہے کہ ان پر اللہ کی پھٹکار برستی ہے۔ یہود اہل ثروت ہونے اور سماجی اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود عرب میں سیاسی اقتدار سے محروم تھے۔ اس وجہ سے وہ عیسائیوں، مشرکوں اور دوسرے مذاہب والوں کے ساتھ بحث و تکرار کرتے ہوئے کہا کرتے کہ عنقریب نبی آخر الزماں {ﷺ}تشریف لانے والے ہیں ہم اس کی رہنمائی اور قیادت میں تم سب پر غلبہ پائیں گے۔ اس کے لیے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھا کر نہایت آہ و زاری سے دعائیں کیا کرتے تھے اور لوگوں کے سامنے حلف دیتے کہ ہمارے پاس آخری نبی تشریف لائے تو ہم اس کی نصرت و حمایت کریں گے۔ [ البقرۃ:89] اسی اثناء میں محمد عربی {ﷺ}مدینہ طیبہ تشریف لائے اور آپ نے انہیں کتاب الٰہی کا پیغام دیتے ہوئے اپنے آپ پر ایمان لانے کی دعوت دی تو انہوں نے آپ کو اس طرح پہچان لیا جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھے۔ علامہ ابن کثیر ان آیات کی تفسیر میں حضرت ابن عباس {رض}کے حوالے سے لکھتے ہیں : ” رسول اللہ {ﷺ}کے مبعوث ہونے سے پہلے یہودی اوس اور خزرج پر فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ {ﷺ}کو نبوت سے سرفراز فرمایا تو یہودیوں نے اپنی بات کا انکار کردیا۔ معاذ {رض}اور بشر بن براء {رض}نے کہا اے یہودیو! اللہ سے ڈرو اور مسلمان ہوجاؤکیونکہ جب ہم مشرک تھے تو تم ہمیں نبی آخر الزماں {ﷺ}کا حوالہ دے کر فتح کی دعائیں کرتے تھے۔ اور تم ہمیں مبعوث ہونے والے نبی اور اس کی صفات کے متعلق بتلاتے رہتے تھے۔ سلام بن مشکم کہنے لگا : ہمارے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں آئی کہ جسے ہم پہچانتے ہوں۔ وہ کون سی چیز ہے جس کے متعلق ہم تمہیں بتلاتے تھے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿ولما جاء ھم﴾نازل فرمادی۔“ مولانا صفی الرحمن مبارکپوری ” الرحیق المختوم“ میں لکھتے ہیں : ” رسول اللہ {ﷺ}شرف وعظمت اور فضل وکمال کی سب سے بلند چوٹی پر جلوہ فگن تھے۔ عفت وامانت، صدق وصفا اور جملہ امور خیر میں آپ {ﷺ}کا وہ امتیازی مقام تھا کہ آپ {ﷺ}کے دشمنوں کو بھی آپ کی یکتائی وانفرادیت پر کبھی شک نہ گزرا۔ آپ کی زبان سے جو بات نکلی دشمنوں کو یقین ہوگیا کہ وہ سچی ہے اور ہو کررہے گی۔ واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں۔ ایک بار قریش کے ایسے تین آدمی اکٹھے ہوئے جن میں سے ہر ایک نے اپنے بقیہ دوساتھیوں سے چھپ چھپا کر تن تنہا قرآن مجید سنا۔ لیکن بعد میں ہر ایک کا راز دوسرے پر فاش ہوگیا۔ ان تینوں میں سے ایک ابو جہل بھی تھا۔ تینوں اکٹھے ہوئے تو ایک نے ابوجہل سے دریافت کیا کہ بتاؤ تم نے جو کچھ محمد {ﷺ}سے سنا ہے اس کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے؟ ابوجہل نے کہا : میں نے کیا سنا ہے؟ بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے اور بنو عبدِمناف نے شرف وعظمت میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے غرباء ومساکین کو کھلایا تو ہم نے بھی کھانا کھلایا، انہوں نے دادو دہش میں سواریاں عطا کیں تو ہم نے بھی دیں، انہوں نے لوگوں کو عطیات سے نوازا تو ہم نے بھی ایسا کیا، یہاں تک کہ جب ہم اور وہ ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوگئے اور ہماری اور ان کی حیثیت ریس کے دو مدِّ مقابل گھوڑوں کی ہوگئی تو اب بنو عبد مناف کہتے ہیں کہ ہم میں ایک نبی ہے جس کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔ بھلا بتائیے ہم اسے کب پاسکتے ہیں؟ خدا کی قسم! ہم اس شخص پر کبھی ایمان نہ لائیں گے اور اس کی ہرگز تصدیق نہ کریں گے۔“ مسائل: 1۔ رسول اللہ {ﷺ}کے ساتھ حسد و بغض کی وجہ سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا غضب، اور عذاب مسلّط ہوا۔ 2۔ حق کا انکار کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن : رسول اللہ {ﷺ}کی تشریف آوری کا انتظار: 1۔ بنی اسرائیل رسول اللہ {ﷺ}کی رسالت کے منتظر تھے۔ (فاطر :42) 2۔ یہود و نصاریٰ رسول اللہ {ﷺ}کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں۔ (البقرۃ :146) 3۔ رسول اللہ {ﷺ}کی آمد کی بنیاد پر لوگوں پر فتح یاب ہونے کی خواہش رکھتے تھے۔ (البقرۃ :89) البقرة
90 فہم القرآن : ربط کلام : یہود کے گھناؤنے کردار کے پیچھے دنیا کے مفاد کے ساتھ حسدو بغض بھی شامل ہے جس کی بنا پر نبی آخر الزماں {ﷺ}پر ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ ﴿بغیًا﴾ کا معنٰی ہے کسی کام یا بات پر خواہ مخواہ اڑ جانا۔ یہ لفظ حقیقت کے برعکس کام کرنے کے لیے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ یہود نے رسول کریم {ﷺ}کی اطاعت و حمایت کرنے کی بجائے اس بنا پر تمرّد اور انکار کا راستہ اختیار کیا کہ نبی تو ہم میں سے ہونا چاہیے تھا۔ کیونکہ نبوت صرف بنی اسرائیل کا استحقاق ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ نبوت کسی خاندان یا قوم اور علاقے کا استحقاق نہیں یہ تو سراسر اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب اور فضل ہے۔ وہ اپنے پیغام اور کام کے لیے جس کو چاہے پسند کرتا ہے۔ اہل کتاب دنیا کی حشمت اور آپ {ﷺ}سے بغض کی بنا پر کفر کا راستہ اختیار کرکے ہمیشہ کے لیے خدا کی پھٹکار اور ذلت کے مستحق قرار پائے۔ ایسے منکروں کے لیے ذلّت ناک عذاب تیار ہوچکا ہے۔ تورات کے منکر، انبیاء کے قاتل اور مزید یہ کہ سرور گرامی {ﷺ}کے ساتھ عداوت اور کتاب مبین کے ساتھ حسد کر کے ﴿غَضَبٌ عَلٰی غَضَبٍ﴾ کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے یہ لوگ دنیا کی ذلت اور آخرت کے ذلیل ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ مسائل: 1۔ یہودی دنیا میں بھی ذلیل ہو کر رہیں گے۔ 2۔ ضد انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے۔ 3۔ نبوت کسی کا استحقاق نہیں یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب ہوتا ہے۔ 4۔ حق کا انکار کرنیوالوں کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے آخری انتخاب نبی {ﷺ}کا فرمایا۔ البقرة
91 فہم القرآن : (آیت 91 سے 92) ربط کلام : اہل کتاب اپنے گھناؤنے کردار اور بغض کو چھپانے کے لیے یہ بہانہ بناتے ہیں کہ ہم اسی بات کو مانیں گے جو ہم پر نازل ہوئی اس کا جواب یہ دیا گیا کہ پھر تم نے پہلے انبیاء کو کیوں قتل کیا تھا؟ یہودیوں کو جب بھی دعوت دی گئی کہ اس کتاب پر ایمان لاؤ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد {ﷺ}پر نازل فرمائی ہے تو انہوں نے مذہبی عصبیت اور خود ساختہ علمی مقام کی بنا پر اعلان کیا کہ ہم تورات کے سوا ہر چیز کا انکار کرتے رہیں گے۔ بے شک اس میں ہماری تائید ہی کیوں نہ پائی جاتی ہو۔ اس انکار پر ان سے پوچھا جا رہا ہے اگر تم تورات پر فی الحقیقت ایمان رکھتے ہو تو تمہیں ان سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ کیونکہ یہ باتیں تو سراسر تمہارے عقیدے کے مطابق اور تورات میں پائی جاتی ہیں ان سے انحراف کا تمہارے پاس کیا جواز ہے؟ جس بات میں تمہاری تائید ہوتی ہو اس کے انکار کا کیا جواز ہے؟ تم نے انبیاء کرام کو کیوں قتل کیا جب کہ وہ تمام کے تمام بنی اسرائیل میں سے تھے؟ حضرت موسیٰ {ﷺ}کی چالیس دن کی غیر حاضری میں بچھڑے کی پرستش کیوں کی اور اب تک گائے پرستی کے کیوں قائل ہو جب کہ تورات میں واضح طور پر گائے پرستی سے منع کیا گیا ہے؟ در اصل تم حقیقی ایمان سے تہی دامن ہوچکے ہو اور تم نے باطل نظریات کو ایمان کا درجہ دے دیا ہے جس میں گائے پرستی کا گھٹیا عقیدہ بھی شامل ہے۔ حالانکہ شرک تمام گناہوں کا منبع اور سب سے بڑا ظلم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا : ﴿وَإِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لابْنِہٖ وَھُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَاتُشْرِکْ باللّٰہِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ﴾ (لقمان :13) ” اور جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کررہا تھا کہ پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔“ (عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا , وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ) (رواہ ابن ماجہ: باب الصبر علی البلاء] حسن[) ’’حضرت ابو درداء }رض{ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (ﷺ) نے وصیت کی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانااگرچہ تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں اور تجھے آگ میں جلادیا جائے۔‘‘ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ {رض}أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ {}قَالَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ قَتَلَہٗ نَبِیٌّ أَوْ قَتَلَ نَبِیًّا وَإِمَامُ ضَلَالَۃٍ وَمُمَثِّلٌ مِّنَ الْمُمَثِّلِیْنَ) (مسندا حمد : کتاب مسند المکثرین من الصحابۃ، باب مسند عبداللہ بن مسعود) ” حضرت عبداللہ بن مسعود {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : قیامت کے دن سخت ترین عذاب اس شخص کو ہوگا جس کو نبی نے قتل کیا یا اس نے نبی کو قتل کیا اور گمراہ امام اور تصویریں بنانے والے کو عذاب ہوگا۔“ مسائل: 1۔ یہودی تورات، قرآن اور کسی آسمانی کتاب کو نہیں مانتے وہ صرف اپنے خود ساختہ نظریات کو مانتے ہیں۔ 2۔ قرآن مجید پہلی کتب سماوی کی تصدیق کرتا ہے۔ 3۔ گائے پرستی شرک اور ظلم ہے۔ تفسیر بالقرآن : قتل انبیاء بد ترین جرم : 1۔ یہود انبیاء کے قاتل ہیں۔ (آل عمران :112) 2۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کی دھمکی دی۔ ( المؤمن :36) 3۔ یہودیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو پھانسی چڑھانے کی کوشش کی۔ (النساء :157) 4۔ کفار نے رسول اللہ {ﷺ}کو قتل کرنے کی سازش کی۔ (الانفال :30) بنی اسرائیل کے بچھڑے کا انجام : 1۔ بچھڑا کس نے بنایا ؟ (طٰہٰ:95، 96) 2۔ بچھڑا کس چیز سے بنایا گیا؟ (طٰہٰ:96) 3۔ بچھڑا آواز نکالتا تھا۔ (طٰہٰ:88) 4۔ بچھڑے کا انجام کیا ہوا۔ (طٰہٰ97) 5۔ بچھڑا پوجنے والوں پر ” اللہ“ کی لعنت برستی ہے۔ (طٰہٰ:87) البقرة
92 البقرة
93 فہم القرآن: ربط کلام : یہود کہتے ہیں کہ ہم تو وہی مانیں گے جو ہم پر نازل ہوا یہ اس بات میں بھی سچے نہیں کیونکہ ان پر طور پہاڑ بلند کرکے عہد لیا گیا تھا اس کے باوجود انہوں نے انکار کردیا تھا۔ ان کے شرک اور دنیا کی ہوس کا نتیجہ ہے۔ اس آیت کی تفسیر آیت 63کے ساتھ ملا کر پڑھیے جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے جبری ہدایت کی بجائے اختیاری ہدایت کا طریقہ پسند فرمایا ہے۔ جبری ہدایت کے نظریے کی تردید کے لیے بنی اسرائیل کا عملی تجربہ پیش فرمایا ہے جس میں یہ ثابت کیا ہے کہ جبری ہدایت دیر پا نہیں ہوا کرتی جب تک انسان اخلاص اور دل کی صفائی کے ساتھ حقیقت قبول نہ کرے۔ یہودیوں کے سر پر کوہ طور اٹھانے اور ان کے سننے اور سمجھنے کے باوجود انہوں نے ” اللہ“ کی نافرمانی کا اعلان کیا۔ جس کا بنیادی سبب شرک بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے کہ میں نے ہر انسان کے سینے میں دو کی بجائے ایک دل رکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک دل میں توحید اور شرک، اللہ کی محبت اور غیر کی محبت بیک وقت نہیں رہ سکتی۔ اللہ کی محبت غالب ہوگی تو انسان توحید کا اقرار کرتے ہوئے اللہ کی غلامی میں لذت محسوس کرے گا اور تابعداری میں آگے ہی بڑھتا جائے گا اگر غیر اللہ کی محبت غالب ہوگی تو انسان اللہ تعالیٰ سے دور اور اس کی نافرمانی کا راستہ اختیار کرے گا کیونکہ شرک توحید کے متوازی نظریے کا نام ہے اسی بنا پر یہودیوں نے بار بار اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی کیونکہ ان کے دلوں میں گائے پرستی کا نظریہ گھر کرچکا تھا۔ انسان کی ہر حرکت وعمل کے پیچھے نظریہ کی قوت ہی کارفرما ہوتی ہے اور انسان ویسا ہی عمل کرتا ہے جیسے اس کی فکری قوت اس کی راہنمائی کرتی ہے۔ اس لیے فرمایا ہے کہ جس طرح تمہارے عقائد ہیں جنہیں تم نے ایمان کا درجہ دے رکھا ہے ویسے ہی تمہارے اعمال برے ہوچکے ہیں۔ جس وجہ سے تم حقیقی ایمان سے تہی دامن ہوچکے ہو۔ کیونکہ ایمان ایک ایسی چیز ہے اگر وہ مضبوط ہو تو آدمی کے کردار میں نکھار پیدا ہوتا ہے آدمی کے اعمال اچھے ہوں تو ایمان میں تازگی اور احساس بڑھتا ہے۔ آدمی کا کردار اچھانہ ہو تو اس سے اس کا ایمان بھی متاثر ہوتا ہے ۔ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لینے کے لیے ان پر طور پہاڑ کو بلند کیا۔ 2۔ کفر کی وجہ سے بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کی محبت جاگزیں ہوچکی۔ 3۔ اسلام قبول کرنے کے بعد شرک کرنا برے عقیدہ کی نشانی ہے۔ تفسیر بالقرآن : یہودیوں کے جرائم : 1۔ یہودی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔ (آل عمران :117) 2۔ اللہ کی کتاب میں تحریف کرنا ظلم ہے۔ (البقرۃ:75) 3۔ دیہودیوں کا مریم صدیقہ پر الزام لگانا ظلم ہے۔ (النساء :156) 4۔ یہودیوں کا عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا دعویٰ کرنا ظلم ہے۔ (النساء :157) 5۔ آیات اللہ کا انکار کرناظلم ہے۔ (النساء :153) 6۔ یہودیوں کا انبیاء کو بغیر حق کے قتل کرنا ظلم ہے۔ (النساء :155) 7۔ یہودیوں کا ہفتہ کے دن میں زیادتی کرنا ظلم ہے۔ (النساء :154) 8۔ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنا ظلم ہے۔ (النساء :160) البقرة
94 فہم القرآن : (آیت 94 سے 96) ربط کلام : یہود یوں کے من گھڑت عقیدہ اور خود ساختہ دعویٰ کا جواب اور دنیا کے بارے میں ان کی حرص۔ یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ہم اللہ کے محبوب اور انبیاء کی اولاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کو ہمارے لیے ہی بنایا اور سجایا ہے بالفرض اگر ہمیں جہنم میں جانا بھی پڑا تو یہ چند دنوں کے لیے جانا ہوگا بالآخرہم جنت کے لیے اور جنت ہمارے ہی لیے ہے۔ ہم ہی اس کے وارث ہوں گے۔ وہ یہ بات اتنی شدّو مد کے ساتھ کہتے تھے اور کہتے ہیں کہ جس کی وجہ سے عوام الناس یہ سمجھ بیٹھے کہ جنت میں جانے کے لیے یہودی ہونا از حد ضروری ہے۔ اس کے بغیر کسی کو جنت کا خیال بھی دل میں نہیں لانا چاہیے۔ یہ یہودیوں کے باطل عقیدہ کے اثرات ہیں کہ جس بنا پر مسلمانوں میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہوچکا ہے جس کا خیال ہے کہ آدمی کے عمل جیسے بھی ہوں جنت میں جانے کے لیے بزرگوں سے نسبت اور محبت ہی جنت میں داخلے کی ضمانت ہے۔ لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے یہود کو مخاطب کرتے ہوئے چیلنج دیا گیا ہے کہ بزعم خود اگر تم جنت کے وارث اور اللہ کے پیارے ہو تو پھر تمہیں موت سے ڈرنے کی بجائے اس کا آرزو مند ہونا چاہیے تاکہ تم اپنے رب سے ملاقات کا شرف اور جنت کی ابدی نعمتوں سے لطف اندوز ہو سکو۔ مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ تم موت کے تصور سے کانپتے اور دنیا کی لذّت کی خاطر ہر ذلت برداشت کرنے کے لیے آمادہ رہتے ہو۔ تم اپنے نظریے اور جنت کی خاطر کوئی قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہو حالانکہ جس آدمی کے سامنے ایک مقصد اور منزل ہوتی ہے وہ تو اس کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ تم تو موت کے بارے میں مشرکوں سے بھی زیادہ ڈرتے ہوحالانکہ زندگی ہزار سال ہو یا اس سے زیادہ۔ وہ مجرم کو خدا کے عذاب سے نہیں بچا سکتی اور نہ ہی زندگی کے طویل ہونے سے انسان کا کوئی گوشہ حیات خدائے علیم و بصیر سے اوجھل ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پل پل کی خبر رکھنے والا اور تمہاری جلوت و خلوت سے خوب واقف ہے۔ (عَنْ ثَوْبَانَ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}یُوْشِکُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعٰی عَلَیْکُمْ کَمَا تَدَاعَی الْأَکَلَۃُ إِلٰی قَصْعَتِھَا فَقَالَ قَائِلٌ وَمِنْ قِلَّۃٍ نَحْنُ یَوْمَئِذٍ قَالَ بَلْ أَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ کَثِیْرٌ وَلٰکِنَّکُمْ غُثَاءٌ کَغُثَاء السَّیْلِ وَلَیَنْزَعَنَّ اللّٰہُ مِنْ صُدُوْرِ عَدُوِّکُمُ الْمَھَابَۃَ مِنْکُمْ وَلَیَقْذِفَنَّ اللّٰہُ فِیْ قُلُوْبِکُمُ الْوَھْنَ فَقَالَ قَائِلٌ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا الْوَھْنُ قَالَ حُبُّ الدُّنْیَا وَکَرَاھِیَۃُ الْمَوْتِ) (رواہ ابوداوٗد : کتاب الملاح، باب فی تداعی الأمم علی الإسلام) ” حضرت ثوبان {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : قریب ہے کہ قومیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں جیسے میزبان کھانے کی طرف دعوت دیتا ہے۔ پوچھنے والے نے عرض کی : کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہوگی آپ نے فرمایا : بلکہ تم اس وقت بہت زیادہ ہوگے لیکن تمہاری حیثیت سیلاب کے تنکوں جیسی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ تمہارا رعب تمہارے دشمن کے دلوں سے نکال دے گا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا۔ پوچھنے والے نے پوچھا : اللہ کے رسول وہن کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔“ (عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ وَمَنْ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ قَالَتْ عَائِشَۃُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِہٖ إِنَّا لَنَکْرَہُ الْمَوْتَ قَالَ لَیْسَ ذَاکِ وَلٰکِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَان اللّٰہِ وَکَرَامَتِہِ فَلَیْسَ شَیْءٌ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ فَأَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ وَأَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَاب اللّٰہِ وَعُقُوبَتِہٖ فَلَیْسَ شَیْءٌ أَکْرَہَ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ وَکَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب، من أحب لقاء اللّٰہ أحَب اللّٰہ لقاء ہ) ” حضرت عبادہ بن صامت {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ {رض}یا آپ {ﷺ}کی بیویوں میں سے کسی نے کہا کہ ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بات یہ نہیں حقیقت یہ ہے کہ جب مومن کی موت کا وقت ہوتا ہے تو اس کو اللہ کی رضامندی اور انعام و اکرام کی بشارت دی جاتی ہے۔ اس بشارت کی وجہ سے موت اسے تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوتی ہے اس وجہ سے وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور گرفت کی وعید سنائی جاتی ہے۔ یہ وعید اسے اپنے سامنے چیزوں سے سب سے زیادہ ناپسند ہوتی ہے اسی وجہ سے وہ اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ جہاں تک بزرگوں سے نسبت اور محبت کا تعلق ہے اگر ان کے صالح اعمال وتعلیمات کو نہ اپنایا جائے تو یہ نسبتیں اور محبتیں کوئی کام نہ آئیں گی۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}قَالَ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}حِیْنَ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ﴾ قَالَ یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَھَا اشْتَرُوْٓا أَنْفُسَکُمْ لَآأُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا یَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ لَآأُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیئًا یَاعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَآأُغْنِیْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا وَیَاصَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ لَآأُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا وَیَافَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ سَلِیْنِیْ مَاشِئْتِ مِنْ مَالِیْ لَآأُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا) (رواہ البخاری : باب ھل یدخل النساء والولد فی الأقارب) ” حضرت ابوہریرہ {رض}فرماتے ہیں جب یہ آیت (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) نازل ہوئی تو رسول اللہ {ﷺ}کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے قریش کے لوگو! اپنے لیے کچھ کر لومیں تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی فائدہ نہیں دے سکوں گا، اے بنی عبد منا ف میں تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکوں گا‘ اے عباس بن عبدالمطلب میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا، اور اے صفیہ رسول کی پھوپھی! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا اور اے فاطمہ بنت محمد! میرے مال سے جو چاہتی ہے مانگ لے میں تجھے اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکوں گا۔“ مسائل: 1۔ شرک اور دنیا کی بے جا محبت آدمی کو بزدل بنادیتی ہے۔ 2۔ مشرک اور یہودی دنیا کے بارے میں سب سے زیادہ حریص ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن: موت یقینی ہے : 1۔ ہر شے فنا ہوجائے گی۔ (الرحمن : 26، القصص :88) 2۔ قلعہ بند ہونے کے باوجود موت نہیں چھوڑتی۔ (النساء :78) 3۔ موت کی جگہ اور وقت مقرر ہے۔ (الاعراف :24) 4۔ پہلے انبیاء فوت ہوئے۔ (آل عمران :144) 5۔ رسول اللہ {ﷺ}بھی موت سے ہمکنار ہوں گے۔ (الزمر :30) البقرة
95 البقرة
96 البقرة
97 فہم القرآن : (آیت 97 سے 98) ربط کلام : اہل کتاب کے دیگر حیلوں کے ساتھ یہ حیلہ اور بہانہ بھی تھا کہ جبریل ہمارے ذاتی دشمن ہیں جس کی وجہ سے ہم رسول اللہ {ﷺ}کو تسلیم کرنے کے لیے اپنے آپ کو آمادہ نہیں پاتے۔ یہاں اس بات کا جواب دیا گیا ہے۔ بیّن حقائق اور ٹھوس دلائل کا مسلسل انکار کرنے کی وجہ سے یہود اس قدر بد حواس ہوچکے تھے کہ وہ نبی {ﷺ}سے پوچھتے ہیں اچھا یہ بتائیں کہ آپ پر کون سا فرشتہ وحی لاتا ہے؟ آپ {ﷺ}نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) جو ملائکہ کا سردار، امانت دار اور اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ پسندیدہ اور مقرب فرشتہ ہے۔ یہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات لایا اور اسی نے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل اتاری۔ یہودی جبریل امین (علیہ السلام) کا نام سنتے ہی کہنے لگے اب تو آپ پر ایمان لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ جبرائیل تو ہمارا ازلی دشمن ہے۔ اس نے ہمارے بزرگوں کے سروں پر کوہ طور رکھا تھا اور یہی ہمیں مشکلات اور عذاب میں مبتلا کرتا رہا ہے۔ ہاں اگر میکائیل ہوتے تو کچھ غور کیا جاسکتا تھا۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جبرئیل امین ہو یا میکائیل پیغام رسانی کا سلسلہ ہو یا قہر الٰہی کا معاملہ۔ جو کچھ بھی جبرائیل امین نے کیا ہے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا ہے۔ جبرائیل امین سے دشمنی دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام ملائکہ سے دشمنی رکھنے کے مترادف ہے کیونکہ حضرت جبرائیل اور ملائکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرتے۔ اگر تمہارے آباء واجداد پر عذاب نازل ہوا تو یہ ان کے اعمال کا نتیجہ تھا اور تم اسی روش پر چلتے رہے تو تمہارا انجام ان سے مختلف نہیں ہوگا۔ یہودی اپنے خبث باطن کی وجہ سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی اس لیے مخالفت کرتے ہیں کہ جب جبرائیل امین کو مشکوک ثابت کردیں گے تو محمد {ﷺ}کی نبوت کا معاملہ از خود ختم ہوجائے گا۔ ہمارے ہاں بھی یہودیوں کی طرح کچھ نام نہاد مسلمان اہل بیت کا نام لے کر مختلف بہانے بنا کر خلفائے راشدین اور اکابر صحابہ کرام کی تحقیر کرتے ہیں تاکہ اسلام کی پوری تاریخ کو مسخ کردیا جائے۔ کچھ لوگ حدیث کے ذخیرہ کو مشکوک بنانے کی سعی لاحا صل میں لگے ہوئے ہیں۔ بعض حضرات یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ قرآن کے ہوتے ہوئے ہمیں حدیث کی ضرورت نہیں۔ قرآن ہی کافی ہے۔ اسی سازش کا تسلسل ہے کہ اسلام دشمن لوگ چند علماء کو نشانہ بنا کر علمائے حق کو بدنام کرتے ہیں تاکہ دین کے سپوتوں کو لوگوں کی نظروں میں حقیر اور مشکوک کردیا جائے جس بنا پر لوگ از خود اسلام سے دور ہوجائیں گے۔ اس آیت کے آخر میں فرمایا جارہا ہے کہ جبریل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ قرآن آپ {ﷺ}کے قلب اطہر پر اتارا ہے۔ جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور تسلیم و رضا اختیار کرنے والوں کو ہدایت اور خوشیوں کا پیغام دیتا ہے۔ کیونکہ جبریل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کا پیغام رساں اور نمائندہ ہے کسی کے نمائندہ کے ساتھ دشمنی اصل اتھارٹی کے ساتھ دشمنی کرنے کے مترادف ہوتی ہے جس کا دفاع یا بدلہ لینا اتھارٹی کی ذمہ داری بنتی ہے اسی بنیاد پر نبی محترم {ﷺ}نے صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عثمان {رض}کے لیے بیعت لی تھی اور اسی وجہ سے آپ نے اردن میں موتہ کے مقام پر تین ہزار کا لشکر جرار حضرت زید بن حارثہ {رض}کی زیر کمان بھیجا۔ کیونکہ شرجیل بن عمرو غسانی نے آپ کے نمائندے حارث بن عمیر ازدی {رض}کو شہید کردیا تھا جو اس زمانے میں اعلان جنگ سے بڑھ کر اقدام تصور کیا جاتا تھا لہٰذا اس کا بدلہ لینا آپ {ﷺ}نے اپنی ذمہ داری سمجھی۔ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید حضرت جبریل کے ذریعے جناب محمد {ﷺ}کے قلب اطہر پر نازل کیا۔ 2۔ قرآن مجید مومنوں کو دنیا و آخرت میں خوشخبری کا پیغام دیتا ہے۔ 3۔ انبیاء، ملائکہ، میکائیل اور حضرت جبریل امین سے دشمنی رکھنا اللہ تعالیٰ سے دشمنی رکھنے کے مترادف ہے۔ 4- جبریل امین ملائکہ کے سردار ہیں۔ تفسیر بالقرآن : جبریل امین (علیہ السلام) کا مرتبہ ومقام : 1۔ جبریل (علیہ السلام) ملائکہ کے سردار ہیں۔ (التکویر :21) 2۔ جبریل (علیہ السلام) مقرب ترین فرشتہ ہے۔ (النجم :8) 3۔ جبریل (علیہ السلام) طاقتور فرشتہ ہے۔ (النجم :5) 4۔ جبریل (علیہ السلام) دیانت دار ہیں۔ (الشعراء :193) 5۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ {ﷺ}کے قلب اطہر پر قرآن اتارا ہے۔ (البقرۃ :97) 6۔ حضرت جبریل امین (علیہ السلام) ملائکہ کے سردار ہیں۔ (نبا :38) 7۔ شب قدر کی رات فرشتے اور جبریل اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں۔ (القدر :4) البقرة
98 البقرة
99 فہم القرآن : (آیت 99 سے 101) ربط کلام : گزشتہ مضمون کا تسلسل جس میں یہودیوں کا کردار پیش کیا جا رہا ہے۔ اے پیغمبر {ﷺ}! ہم نے آپ کی طرف واضح ہدایت اور احکامات نازل فرمائے۔ اس کے باوجود یہ لوگ ہدایت کا راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ ” اللہ“ کی ہدایات میں کوئی الجھاؤ اور پیچیدگی پائی جاتی ہے ایسا ہرگز نہیں ہماری ہدایات تو بدر منیر کی طرح روشن اور اس کے دلائل ناقابل تردید ہیں۔ ایسی ہدایات اور بیّن دلائل کا انکار تو وہی لوگ کرتے ہیں جنہوں نے دانستہ طور پر نافرمانی کا وطیرہ اپنا لیا ہو۔ ان کی تاریخ یہ ہے کہ جب بھی ان سے عہد لیا گیا تو ان کی اکثریت نے اس عہد کو توڑدیا۔ جب بھی اس وعدے کی یاد دہانی اور تجدید عہد کے لیے اللہ کے برگزیدہ رسول ان کے پاس آئے تو ان کے ایک طبقہ نے حقائق جاننے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے احکام سے اس طرح روگردانی اور ایسی لاپرواہی کے ساتھ اسے پس پشت ڈالا جیسا کہ ان کے پاس کوئی ہدایت پہنچی ہی نہیں۔ انسان کی اخلاقی پستی کی اس وقت انتہا ہوجاتی ہے جب اسے اپنے منہ سے نکلی ہوئی بات کا پاس اور کئے ہوئے وعدہ کا احترام نہ رہے۔ (عَنْ أَنَسٍ {رض}قَالَ قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ {}إِلَّاقَالَ لَاإِیْمَانَ لِمَنْ لَّاأَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَّا عَھْدَ لَہٗ) (مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب مسند أنس بن مالک) ” حضرت انس بن مالک {رض}بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی {ﷺ}نے ہمیں جب بھی خطبہ ارشاد فرمایا آپ نے یہ کلمات ضرور ارشاد فرمائے جو امانت دار نہیں وہ ایماندار نہیں اور جو عہد کا پاسدار نہیں وہ دیندار نہیں۔“ عہد شکن کی سزا : (عَنِ ابْنِ عُمَرَ {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُعْرَفُ بِہٖ) (رواہ البخاری : باب إذا غصب جاریۃ فزعم أنھاماتت فقضی بقیمۃ) ” حضرت عبداللہ بن عمر {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ہر غدار کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کا انکار کرنا پرلے درجے کی نافرمانی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے احکام بڑے واضح اور بیّن ہیں۔ 3۔ یہودی پرلے درجے کے عہد شکن اور کتاب اللہ سے پیٹھ پھیرنے والے ہیں۔ 4۔ یہود و نصاریٰ نے تورات و انجیل کو یکسر فراموش کردیا ہے۔ 5۔ لوگوں کی اکثریت ہمیشہ ایمان سے تہی دامن ہوا کرتی ہے۔ 6۔ یہود ونصار یٰ اپنے تصدیق کرنے والے کو بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ تفسیر بالقرآن : عہد شکن کون اور اس کی سزا ؟ 1۔ کافر عہد کی پروا نہیں کرتا۔ (الانفال :56) 2۔ بنی اسرائیل عہد شکن تھے۔ (النساء :155) 3۔ فاسق عہد شکن ہوتا ہے۔ (البقرۃ:27) 4۔ عہد شکنی کے باعث آدمی ملعون اور اس کا دل سخت ہوجاتا ہے۔ (المائدۃ:13) 5۔ عہد شکن کو آخرت میں عذاب ہوگا۔ (الرعد :25) 6- عہد شکن اور دغا باز لوگوں سے لڑنے کی اجازت ہے۔ (الانفال: 56، 57) البقرة
100 البقرة
101 البقرة
102 فہم القرآن : (آیت 102 سے 103) ربط کلام : اہل کتاب اپنے باطل نظریات کو ہی انبیاء کی طرف منسوب نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی بد اعمالیاں بھی انبیاء کے ذمہ لگاتے ہیں جیسے کہ انہوں نے جادو کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ذمہ لگا رکھا ہے۔ آیت کے پہلے حصے کے بارے میں بنی اسرائیل کی روایات کی بنا پر بعض مفسرین نے بڑی بے ہودہ باتیں درج کی ہیں جن کا عقل و نقل کے ساتھ دور کا بھی واسطہ دکھائی نہیں دیتا البتہ بنیادی اختلاف اہل علم کا یہ ہے کہ جو لوگ دوسرے ” ما“ کو نافیہ بناتے ہیں ان کے نزدیک معنٰی یہ بنتا ہے کہ ہاروت اور ماروت فرشتے ہونے کی بجائے شیطان تھے۔ جن کے ہاں لفظ ” ما“ موصولہ ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جادو فرشتوں پر نازل کیا گیا تھا۔ ہم دونوں تفاسیر پیش کررہے ہیں تاکہ قارئین کو دونوں کا نقطۂ نگاہ سمجھنے میں آ سانی ہو۔ ہمارے نزدیک قرآن مجید کا یہ مقام بھی مشتبہات میں سے ہے۔ تفہیم القرآن : اس آیت کی تاویل میں مختلف اقوال ہیں مگر جو کچھ میں نے سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ جس زمانے میں بنی اسرائیل کی پوری قوم بابل میں قیدی اور غلام بنی ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کو انسانی شکل میں ان کی آزمائش کے لیے بھیجا ہوگا۔ جس طرح قوم لوط کے پاس فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں گئے تھے‘ اسی طرح ان اسرائیلیوں کے پاس وہ پیروں اور فقیروں کی شکل میں گئے ہوں گے۔ وہاں ایک طرف انہوں نے بازار ساحری میں اپنی دکان لگائی ہوگی اور دوسری طرف وہ اتمام حجت کے لیے ہر ایک کو خبردار بھی کرتے ہوں گے کہ دیکھو‘ ہم تمہارے لیے آزمائش کی حیثیت رکھتے ہیں‘ تم اپنی عاقبت خراب نہ کرو۔ مگر اس کے باوجود لوگ ان کے پیش کردہ عملیات اور نقوش و تعویذات پر ٹوٹ پڑتے ہوں گے۔ فرشتوں کے انسانی شکل میں آ کر کام کرنے پر کسی کو حیرت نہ ہو۔ وہ سلطنتِ الٰہی کے کار پرداز ہیں۔ اپنے فرائضِ منصبی کے سلسلے میں جس وقت جو صورت اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ اسے اختیار کرسکتے ہیں۔ ہمیں کیا خبر کہ اس وقت بھی ہمارے گردو پیش کتنے فرشتے انسانی شکل میں آ کر کام کر جاتے ہوں گے۔ رہا فرشتوں کا ایک ایسی چیز سکھانا جو بجائے خود بری تھی‘ تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے پولیس کے بے وردی سپاہی کسی رشوت خوار حاکم کو نشان زدہ سِکّے اور نوٹ رشوت کے طور پر دیتے ہیں تاکہ اسے عین حالت ارتکاب جرم میں پکڑیں اور اس کے لیے بے گناہی کے عذر کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں۔ تفسیر ثنائی : جو ترجمہ میں نے اختیار کیا ہے وہی قرطبی نے پسند کیا ہے۔ چنانچہ تفسیر ابن کثیر اور فتح البیان وغیرہ میں مذکور ہے مولانا نواب محمد صدیق حسن خان صاحب مرحوم نے بھی نقل کیا ہے بلکہ ترجیح دی ہے کہ ہاروت وماروت شیاطین سے بدل ہے جس کو دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ شیاطین سے دو شخص ہاروت وماروت مراد ہیں۔ اگر قرآن مجید کی آیات پر غور کریں تو یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ پہلی آیات میں خدا نے شیاطین کا فعل تعلیم سحر فرمایا ہے ﴿یُعَلِّمُوْنَ النَّاس السِّحْرَ﴾ دوسری میں اسی تعلیم سحر کی کیفیت بتلائی ہے یعنی ﴿وَمَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلَآ﴾ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دونوں تعلیمات کے معلم ایک ہی ہے یعنی شیاطین، کیونکہ یہ نہایت قبیح اور فصاحت کے خلاف ہے کہ مجمل فعل کے ذکر کے موقع پر تو ایک کو فاعل بتلایا جائے اور تفصیل کے موقع پر کسی اور کو بتلایا جائے۔ رہا یہ سوال کہ یہ مبدل منہ جمع ہے یعنی شیاطین اور بدل تثنیہ ہے یعنی ہاروت ماروت سو اس کا جواب یہ ہے کہ مبدل میں جمعیت با عتبار اتباع کے ہیں اور بدل تثنیہ با عتبار ذات کے ہے۔ ضیاء القرآن : اس آیت میں دو احتمال ہیں پہلا یہ کہ اس میں ” ما“ نا فیہ ہے اور یہ جملہ معترضہ ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہود کا یہ کہنا کہ جادو بھی آسمان سے فرشتوں پر نازل ہوا اور فرشتوں نے ہی ہمیں یہ سکھایا۔ اس لیے یہ بھی صحائف آسمانی کی طرح آسمانی چیز ہے اور مقدس ہے۔ یہود کا یہ کہنا سراسر باطل ہے ﴿وَمَا اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ﴾ فرشتوں پر ہرگز کوئی جادو نازل نہیں کیا گیا۔ ہاروت اور ماروت بدل بعض ہوگا شیاطین سے یعنی شیاطین جن کے دو سر کردوں کے نام ہاروت اور ماروت ہیں وہ جادو سکھایا کرتے تھے۔ علامہ قرطبی {رض}نے لکھا ہے ( ہٰذَا أَوْلٰی مَاحَمِلَتْ عَلَیْہِ الْاٰیَۃِ مِنَ التَّاْوِیْلِ وَ اَصَحَّ مَا قِیْلَ فِیْہَا وَلاَ یَلْتَفِتُ اِلٰی سِوَاہٍ) یعنی آیت کی یہی تاویل کرنا چاہیے۔ یہی سب سے زیادہ صحیح قول ہے اور اس کے علاوہ کسی قول کی طرف التفات نہ کرنا چاہیے۔ واقعی اس تاویل سے کئی شبہات کا ازالہ ہوجاتا ہے۔ لیکن جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ ﴿مَا اُنْزِلَ﴾ میں ما موصولہ ہے اور اس کا عطف ﴿اتِبَّعُوْا﴾ کے تحت ہے یعنی یہودی فلسطین میں مروج جادو پر بھی عمل پیرا تھے اور جب بخت نصربیت المقدس کو تاخت وتاراج کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو جنگی قیدی بنا کر بابل لے گیا تو بجائے اس کے کہ اس کفر و الحاد کی بجائے دنیا میں وہ توحید کی تبلیغ کرتے الٹا وہاں کے لوگوں سے انہوں نے جادو سیکھا اور اس پر بھی عمل پیرا ہوئے۔ اب یہاں یہ خدشہ ہوتا ہے کہ ہاروت و ماروت جو معصوم فرشتے تھے انہیں کیونکر جادو کی تعلیم دینے کے لیے بابل میں اتارا گیا۔ تو اس کی حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس وقت ساری دنیا میں خصوصاً بابل کی مملکت میں جادو کا بہت رواج تھا۔ جادو کے زور سے لوگ طرح طرح کے کرشمے دکھاتے جس سے سادہ لوح لوگ دنگ رہ جاتے تھے۔ ان کے نزدیک جادو اور معجزہ میں کوئی فرق نہیں رہ گیا تھا۔ بلکہ وہ جادو کو علم کی ایک مفید ترین شاخ تصور کرنے لگے تھے اور جادو گروں کو مقدس ماننے لگے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دو فرشتے نازل کیے جو لوگوں کو جادو کی اصلیت سے آگاہ کریں تاکہ وہ آسانی سے جادو کی فریب کاری اور معجزہ کی حقیقت میں تمیز کرسکیں اور اگر انہوں نے جادو سیکھ کر اس پر عمل کرنا شروع کردیا تو یہ ان کی اپنی غلطی تھی۔ فرشتے تو انہیں صاف طور پر بتا دیتے کہ ہمیں تو فقط تمہاری آزمائش کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اگر تم نے جادو پر عمل شروع کردیا تو خوب سن لو کہ ایمان رخصت ہوجائے گا اور کافر ہوجاؤ گے۔ فہم القرآن : قرآن مجید یہودیوں کی تاریخ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتلاتا ہے کہ یہودی اس قدر دولت انصاف سے تہی دامن ہوگئے کہ اپنی حمایت میں آنے والے پیغمبروں کی تائید بھی ان کی طبیعتوں پر گراں اور ناگوار ثابت ہوئی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اس طرح پس پشت ڈالا اور اس حد تک لا پرواہی کا مظاہرہ کیا جیسا کہ کتاب ہدایت کے ساتھ ان کی کبھی نسبت ہی نہیں تھی۔ آسمانی ہدایت سے محروم ہونے کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ وہ جادو اور کفریہ وظائف کرنے لگے اور پھر اس کو عظیم پیغمبر اور منصف ترین حکمران جناب سلیمان (علیہ السلام) کے دامن پاک پر یہ کہہ کر داغ لگانے کی کوشش کی کہ وہ بھی تو جادو کے ذریعے ہی ہواؤں اور فضاؤں پر حکومت کیا کرتے تھے۔ جس کی وضاحت کرتے ہوئے اس کتاب عظیم میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی صفائی پیش کرنے کے ساتھ جادو کی حقیقت بتلائی جارہی ہے کہ جادو تو کفر ہے اور سلیمان (علیہ السلام) ہرگز ایسا نہیں کرسکتے تھے۔ جادو کی تاریخ : اہل لغت‘ مفسرین اور محدثین نے تحریر فرمایا ہے کہ جادو ایسا عجیب و غریب علم اور فن ہے جس سے سب سے پہلے لوگوں کی فکر ونظر کو متاثر کیا جاتا ہے اسی بناء پر انبیاء کرام (علیہ السلام) پر لگنے والے الزامات میں ایک سنگین الزام یہ بھی ہوا کرتا تھا کہ یہ رسول نہیں بلکہ جادو گر ہے۔ انبیاء کے مخالف اسی الزام کی بنیاد پر بہت سے لوگوں کو ان سے دور رکھنے میں کامیاب ہوا کرتے تھے کیونکہ ہر نبی کی گفتگو اس قدر مؤثر اور مدلّل ہوا کرتی تھی جس سے لوگوں کی سوچ کے زاویے تبدیل ہوجایا کرتے تھے اس لیے مخالف یہ کہہ کر لوگوں میں پروپیگنڈا کرتے کہ اس نبی کے قریب ہونے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ اس کی زبان میں جادو ہے۔ جادو کا معنٰی : عربی ڈکشنری کے حوالے سے اہل لغت نے سحر کے کئی معانی بیان کیے ہیں۔ سحر ایسا عمل جس کے ذریعے شیطان کی قربت یا اس کی مدد طلب کی جائے۔ الازھری کا خیال ہے کسی چیز کو اس کی اصلیت سے بدل دینے کا نام سحر ہے (تہذیب اللغتہ) صاحب المعجم الوسیط سحرکا مطلب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ایسا علم جس کی بنیاد انتہائی لطیف ہو۔ محیط المحیط کے مصنف لکھتے ہیں کہ سحر ایسا فن ہے جس سے کسی چیز کو اس طرح پیش کیا جائے جس سے لوگ ششدر رہ جائیں۔ شریعت کے حوالے سے علماء نے جادو کی مختلف تشریحات کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے : ( اَلسِّحْرُ ہُوَ عَقْدٌ وَرُقیً وَکَلَامٌ یُتَکَلَّمُ بِہٖ اَوْ یَکْتُبُہُ اَوْیَعْمَلُ شَیْئًا یُؤَ ثَّرُ فِیْ بَدَنِ الْمَسْحُوْرِ اَوْ قَلْبِہٖ اَوْ عَقْلِہٖ) (المغنی لابن قدامہ ) ” جادو! گرہ، دم اور ایسی تحریر یا حرکات پر مشتمل ہوتا ہے جس کے ذریعے دوسرے کے وجود اور دل و دماغ پر اثر انداز ہوا جاتا ہے۔“ علامہ ابن قیم {رض}جادو کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ( وَالسِّحْرُہُوَ مُرَکَّبُ مِّنْ تَأْ ثِیْرَاتِ الْاَرْوَاحِ الْخَبِیْثَۃِ وَانْفِعَالِ الْقُوَی الطَّبِیْعِیَّۃِ عَنْھَا) (زادالمعاد) ” جادو خبیث جنات کے ذریعے کیا جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے علاوہ خبیث جنات سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ جس سے لوگوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔“ جادو کی اقسام : مشہور مفسر امام رازی {رض}نے جادو کو آٹھ قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ ان کی تقسیم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں جادوگروں نے اپنے فن کے لیے کون کون سے طریقے ایجاد کر رکھے تھے۔ جادو کوئی مستقل اور مستند علم نہیں کہ جس کو کرنے کے لیے کوئی خاص طریقہ متعین کیا گیا ہو کیونکہ جادو تصنّع بازی کا نام ہے اس لیے ہر دور میں اس کی کرشمہ سازی اور اثر انگیزی میں اضافہ کرنے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کیے گئے۔ مندرجہ بالا بحث کا خلاصہ : 1۔ کفر یہ، شرکیہ الفاظ کے ہیر پھیر کے ذریعے جادو کرنا۔ 2۔ برے لوگوں، خبیث جنّات اور شیاطین کے ذریعے کسی پر اثر انداز ہونا۔ 3۔ علم نجوم کے ذریعے غیب کی خبریں دینا اور دوسرے کو متاثر کرنا۔ 4۔ توجہ سمریزم کی مخصوص حرکات، (ہیپناٹزم) کے ساتھ حواس خمسہ کو قابو کرنا۔ جادو کے انگلش میں نام : کالا جادو Black Magic سفید جادو White Magic قوت ارادی Will Power توجہ مرکوز کرنا Concentrate Pay heed, Pay attention مسمریزم Spell pound Force to concentrate by magic توجہ دینا‘ توجہ دلانا Concentrate= Focus = جادوگر بننے کے گھٹیا طریقے : غلط و ظائف، بھرپور شعبدہ بازی اور فنی مہارت کے باوجود جادوگر اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک جادوگر اللہ تعالیٰ کی کسی حلال کردہ چیز کو اپنے لیے حرام قرار نہ دے۔ اس کے ساتھ ہی اسے خاص قسم کی غلاظت اور بدترین قسم کا گناہ کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے جادوگرمرد ہو یا عورت اس سے خاص قسم کی بو آیا کرتی ہے۔ یہ لوگ جسمانی طور پر جس قدر گندے ہوں گے اسی رفتار سے ان کے شیطانی عمل دوسروں پر اثرانداز ہوں گے یہی وجہ ہے کہ ایک جادوگر اپنے شاگرد کو اپنا پیشاب پینے کا سبق دیتا ہے اور دوسرا پاخانہ کھانے کا حکم دیتا ہے اور کوئی غسل واجب سے منع کرتا ہے۔ گویا کہ کوئی نہ کوئی غلاظت اختیار کرنا جادوگر کے لیے ضروری ہے۔ البتہ آج کل لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اس قسم کی باتیں چھپاتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بغیر جادو اثرانداز نہیں ہوتا۔ بے شک جادوگر کتنا اچھا لباس پہنے ہوئے ہو۔ اس طرح ہی جادو کفریہ اور شرکیہ وظائف کے بغیر اثر انداز نہیں ہوتا۔ جادو کی فتنہ انگیزیاں : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جادو سے خوف زدہ ہوگئے : ﴿وَجَآء السَّحَرَۃُ فِرْعَوْنَ قَالُوْا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ۔ قَالُوْ ا یَامُوْسٰٓی اِمَّا اَنْ تُلْقِیَ وَاِمَّا اَنْ نَّکُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ۔ قَالَ اَلْقُوْا فَلَمَّا اَلْقَوْا سَحَرُوْا اَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْہَبُوْ ھُمْ وَجَآءُ وْا بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ﴾ (الاعراف : 113تا116) ” جادوگر فرعون کے پاس آکر کہنے لگے اگر ہم غالب آگئے تو کیا ہمیں صلہ بھی ملے گا؟ فرعون نے کہا ہاں میرے دربار میں منصب ملیں گے۔ پھر جادو گر کہنے لگے موسیٰ تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تم ہی ڈالو۔ پھر انہوں نے اپنی رسیاں وغیرہ پھینکیں تو انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور لوگ ان سے دہشت زدہ ہوگئے کیونکہ وہ زبردست جادو کے ساتھ آئے تھے۔“ ﴿فَاَجْمِعُوْاکَیْدَ کُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا وَقَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰی . قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِمَّا اَنْ تُلْقِیَ وَاِمَّا اَنْ نَّکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰی۔ قَالَ بَلْ اَلْقُوْا فَاِذَا حِبَالُھُم وَعِصِیُّھُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِہِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی۔ فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسٰی۔ قُلْنَا لَاتَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی﴾ ( طٰہٰ: 63تا68) ” اپنی سب تدبیریں جمع کرو اور متحد ہو کر مقابلہ میں آؤ اور سمجھ لو کہ آج جو غالب رہا وہ جیت گیا۔ کہنے لگے موسیٰ تم ڈالتے ہو یا پہلے ہم ڈالیں؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تم ہی ڈالو“ پھر ان کے جادو کے اثر سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کی رسیاں اور لاٹھیاں یک دم دوڑنے لگی ہیں۔ یہ دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) اپنے دل میں خوف زدہ ہوگئے ہم نے موسیٰ سے کہا ڈرو نہیں تم ہی غالب رہو گے۔“ رسول کریم {ﷺ}پر جادو کے اثرات : رسول اللہ {ﷺ}کی عمر مبارک تقریباً 60سال ہوچکی تھی یہود و نصاریٰ اور اہل مکہ ہر طرف سے ناکام و نامراد ہوگئے۔ تب اہل یہود نے آپ کی ذات پر جادو کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کی جس کے لیے لبیدبن اعصم نے اپنی بہنوں یا بیٹیوں سے مل کر کسی طریقے سے آپ {ﷺ}کے سر مبارک کے بال حاصل کیے اور ان میں گرہیں ڈالتے ہوئے کھجور کے گابے کا ایک پتلا بنا کر ہر گرہ میں ایک ایک سوئی داخل کردی اور ان پر جادو کیا۔ اس جادو کے اثرات کی وجہ سے آپ {ﷺ}کی طبیعت ایک مہینہ تک مضمحل رہی۔ اس تکلیف کے آخری ایام میں آپ رات کو بھی بے سکونی محسوس کرتے تھے۔ اس کیفیت کو حضرت عائشہ صدیقہ {رض}اس طرح بیان کرتی ہیں کہ جب آپ {ﷺ}صلح حدیبیہ سے واپس لوٹے تو آپ پر جادو کا شدید ترین حملہ ہوا جس کا آپ کے ذہن پر یہ اثرہواکہ آپ خیال کرتے کہ میں یہ کام کرچکا ہوں جبکہ آپ نے وہ کام کیا نہیں ہوتا تھا۔ اس صورت حال میں آپ اللہ کے حضور اٹھتے بیٹھتے دعائیں کرتے، بالآخر آپ {ﷺ}کو وحی کے ذریعے اس کربناک صورت حال سے آگاہ کردیا گیا۔ آپ {ﷺ}فرماتے ہیں : عائشہ ! اللہ تعالیٰ نے مجھے اس تکلیف سے نکلنے کی تدبیر بتا دی ہے۔ اب میں اس سے شفایاب ہوجاؤں گا وہ اس طرح کہ میرے پاس خواب میں دو فرشتے آئے ان میں ایک میرے سر کی طرف اور دوسرا پاؤں کی طرف کھڑا ہوا۔ ایک نے دوسرے سے میری تکلیف کے بارے میں پوچھا۔ وہ جواب دیتا ہے۔ آپ {ﷺ}کو جادو ہوگیا ہے۔ پہلے نے پوچھا جادو کس نے کیا ؟ دوسرے نے جواب دیا لبید بن اعصم یہودی نے۔ وہ پوچھتا ہے کہ کس چیز سے جادو کیا گیا ہے؟ دوسرے نے کہا آپ {ﷺ}کے بالوں اور نرکھجور کے خوشے میں کیا گیا ہے۔ یہ کہاں رکھا گیا ہے؟ فلاں ویران کنویں میں رکھا ہوا ہے۔ اس خواب کے بعد رسول اللہ {ﷺ}چند صحابہ کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے۔ حضرت عائشہ {رض}کا فرمان ہے کہ اس کنویں کے درختوں سے بھی خوف محسوس ہوتا تھا۔ جب وہ پتلا وہاں سے نکالا گیا توحضرت جبرائیل امین تشریف لائے انہوں نے بالوں کی گرہیں کھولنے اور جادو کے اثرات ختم کرنے کے لیے فرمایا آپ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی ایک ایک آیت پڑھتے جائیں یہ گیارہ آیات ہیں اس طرح گیارہ گرہیں کھولتے ہوئے سوئیاں نکال دی جائیں۔ آپ کی نگرانی میں صحابہ کرام {رض}نے ایسا کیا تو آپ {ﷺ}کی طبیعت اس طرح ہشاش بشاش ہوگئی جس طرح کسی جکڑے ہوئے انسان کو کھول دیا جائے۔ اس کے بعدآپ {ﷺ}کا معمول تھا کہ رات سوتے وقت ان سورتوں کی تلاوت کر کے جہاں تک آپ کے ہاتھ پہنچتے اپنے آپ کو دم کیا کرتے تھے جس کی تفصیل معوّذات کے باب میں بیان کی جائے گی۔ (رواہ البخاری : کتاب الطب، باب السحر) اس واقعہ پر ہونے والے اعتراضات اور ان کے جوابات : غیرمسلم اور منکرین حدیث اس واقعہ پر اعتراضات کرتے ہوئے درج ذیل سوالات اور شبہات پیدا کرتے ہیں : اعتراض : آپ {ﷺ}پر جادو کے اثرات تسلیم کرلیے جائیں تو کفار کے اس اعتراض کا جواب دینا مشکل ہوگا۔ ﴿وَقَال الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلاً مَّسْحُوْرًا﴾ (الفرقان :8) ” اور ظالموں نے کہا کہ تم صرف ایک جادو کے مارے ہوئے آدمی کی پیروی کرتے ہو۔“ جواب : 1۔ اہل مکہ نے آپ پر جادو ہونے کا الزام نبوت کے ابتدائی دور میں لگایا تھا اور یہ واقعہ مدینہ طیبہ میں صلح حدیبیہ کے بعد نبوت کے بیسویں سال پیش آیا یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی شخص نے اپنی تائید کے لیے اوپر دلیل کو پیش نہیں کیا۔ 2۔ نبی پر جادو ہونا ناممکن نہیں کیونکہ آپ زندگی میں بیمار بھی ہوئے اور غزوہ احد میں زخمی بھی ہوئے تھے بحیثیت انسان زندگی میں آپ کو متعدد بار روحانی پریشانیاں اور جسمانی تکالیف بھی اٹھانی پڑی تھیں۔ لہٰذا آپ پر جادو کا اثر انداز ہوناعقل وفکر اور فطرت کے خلاف نہیں۔ 3۔ جادو کے اثرات نبوت کے امور پر اثر انداز نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کار نبوت کی ادائیگی کا ذمّہ لیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تکلیف کے دوران کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ {ﷺ}نے کوئی مسئلہ پہلے سے الٹ بیان کردیا ہو۔ جادو، ٹونے کا شرعی علاج: جو شخص جادو یا جنات کے اثرات محسوس کرے اسے درج ذیل اقدامات کرنے چاہییں۔ کیونکہ دین نے ایسا کرنے کی رہنمائی فرمائی ہے۔ طہارت کا اہتمام : طہارت اور صفائی کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور ہر وقت باوضو رہنا سنّت بھی ہے اور مفید بھی۔ خوشبو کا استعمال : خوشبو سنت سمجھ کر لگائیں گے تو دنیا میں شفا اور آخرت میں جزا ملے گی۔ تلاوت قرآن مجید اور کثرت ذکر : ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے خاص کر گھر میں قرآن مجید کی تلاوت اور نوافل پڑھنا۔ یاد رکھیے کہ قرآن مجید کی تلاوت کم از کم اتنی آواز میں ہونی چاہیے کہ پڑھنے والے کو قرآن مجید کے الفاظ سنائی دیں۔ دَم : سورۃ البقرۃ، آیت الکرسی اور آخری تین سورتیں یعنی معوذات کے ساتھ صبح‘ شام تین تین مرتبہ پڑھ کر اپنے آپ کو دم کرنا سنت ہے۔ مسلسل دعا : (عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُحِرَ رَسُولُ اللهِ () حَتَّى أَنَّهُ لَيُخَيَّلُ لَهُ) (رواہ احمد: مسند عائشۃ ] صحیح[) حضرت عائشہ {رض}فرماتی ہیں کہ رسول کریم {ﷺ}پر جب جادو ہوا تو آپ بار بار اللہ تعالیٰ سے جاد و کے اثرات کو ختم کرنے کی دعا کرتے تھے۔ لہٰذا ایسی صورت حال میں مریض کو اٹھتے بیٹھتے ہر وقت دل اور زبان سے اللہ کے حضور اس مصیبت سے نجات کی التجائیں کرنی چاہیں۔ اذان دینا : (عَنْ أَبي هُريْرَةَ   (رض) قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أدْبَرَ الشَّيْطَانُ) (رواہ البخاری: باب فضل التأذین) اثرات زدہ گھر میں اذان کہنی چاہیے کیونکہ آپ {ﷺ}کا فرمان ہے کہ اذان سن کر شیطان دور بھاگ جاتا ہے۔ لعنت بھیجنا : جادو کرنے، کروانے والے اور شیطان کو ذہن میں رکھتے ہوئے کثرت کے ساتھ درج ذیل الفاظ پڑھنا چاہییں کیونکہ جب نماز کی حالت میں ایک جن نے آگ کا بگولہ آپ {ﷺ}کے چہرہ مبارک کے قریب کیا تھا تو آپ نے اس پر یہ الفاظ کہے تھے (عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ () يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ثُمَّ قَالَ أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ ) ( رواہ مسلم: جواز لعن الشیطان فی اثناء الصلاۃوالتعوذمنہ )آپ کا ارشاد ہے کہ جب کوئی لعنت کرنے والا لعنت کرتا ہے اگر واقعتا مظلوم ہے تو اس کی لعنت ظالم پر ضرور اثر انداز ہوگی۔ ” عَلَیْھِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَآئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ“ تفصیل کے لیے دیکھیے میری کتاب جادو کی تباہ کاریاں (عَنِ الْقَعْقَاعِ اَنَّ کَعْبَ الْاَحْبَارِ قَالَ لَوْلَاکَلِمَاتٌ اَقُوْلُہُنَ لَجَعَلَتْنِیْ یَہُوْدُ حِمَارًافَقِیْلَ لَہٗ مَاہُنَّ قَالَ اَعُوْذُ بِوَجْہِ اللّٰہِ الْعَظَیْمِ الَّذِیْ لَیْسَ شَیْءٌ اَعْظَمَ مَنْہُ وَبِکَلِمَات اللّٰہِ التَّامَاتِ الَّتِیْ لَایُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ وَلَافَاجِرٌ وَبِاَسْمَاء اللّٰہِ الْحُسْنیٰ مَا عَلِمْتُ مِنْہَاوَمَالَمْ اَعْلَمُ مِنْ شَرِّ مَاخَلَقَ وَذَرَاءَ وَبَرَاءَ) (رواہ مالک: باب ما یؤمر بالتعوذ ]صحیح[) ” حضرت قعقاع {رض}بیان کرتے ہیں کہ حضرت کعب احبار {رض}نے فرمایا اگر میں یہ دعا نہ پڑھتا ہوتا تو یہودی مجھے گدھا بنادیتے۔ حضرت کعب سے ان کلمات کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا وہ کلمات یہ ہیں : میں پناہ چاہتا ہوں تیرے عظیم چہرے کی بدولت جس سے بڑھ کر کوئی عظیم چیز نہیں اور اللہ کے ان کامل کلمات کے ساتھ جن سے کوئی نیک وفاجر سبقت نہیں لے جاسکتا اور اللہ کے اسمائے حسنیٰ کے ساتھ جو میں جانتا ہوں اور جو میں نہیں جانتا ہر اس چیز کی شر سے جسے اس نے پیدا کیا اور پھیلایا یا جس کے پاس سے میرا گزر ہوتا ہے۔“ مسائل : 1۔ جادو کرنا اور سیکھنا کفر ہے۔ 2۔ جادو گر شیطان سے مدد طلب کرتا ہے۔ 3۔ جادو بذات خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ 4۔ جادوگرقیامت کے دن عذاب سے دوچار ہوگا۔ تفسیر بالقرآن جادو کیا ہے ؟: 1۔ جادوکفر ہے۔( البقرۃ: 102) 2۔ جادو کی اصلیت نہیں ہوتی۔ (الاعراف :116) 3۔ جادو شیاطین کے ذریعے ہوتا ہے۔ (البقرۃ :102) 4۔ جادوگر کامیاب نہیں ہوتا۔ (طٰہٰ:69) البقرة
103 البقرة
104 فہم القرآن : ربط کلام : یہودی جبریل امین، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور پہلے انبیاء کے بدترین گستاخ تھے اور ہیں اسی عادت خبیثہ کی وجہ سے نبی آخر الزماں {ﷺ}کی گستاخیاں کیا کرتے ہیں جس کی سزا جہنم قرار دی گئی ہے۔ ہر زبان میں کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو دوسری زبان سے ملتے جلتے اور ہم آواز ہوتے ہیں۔ عربی کے جو الفاظ عبرانی زبان سے مشابہت اور مماثلت رکھتے ہیں ان میں ایک لفظ ﴿راعنا﴾ ہے۔ جس کو ذرا کھینچ کر ادا کیا جائے تو اس کے معانی بنتے ہیں احمق‘ اجڈ اور چرواہا۔ مسلمانوں کی عزت، اسلام کی عظمت ورفعت اور نبی محترم {ﷺ}کے احترام واکرام میں روز افزوں اضافہ دیکھ کر یہودی اپنے دلوں میں کڑھتے اور جلتے رہتے اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ نبی کریم {ﷺ}کے زمانے میں آپ کی مجلس میں آتے تو آپ کی گفتگو کے دوران ﴿راعنا﴾ کا لفظ استعمال کر کے یہ تأثر دینے کی کوشش کرتے کہ ہم آپ کی بات کو سمجھ نہیں سکے۔ بسا اوقات فہم کلام کے لیے مسلمان بھی آپ کی خدمت میں ﴿راعنا﴾ عرض کرتے لیکن دونوں کی ادائیگی اور نیت میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ صحابہ کا مقصد یہ تھا کہ رسول کریم {ﷺ}تھوڑاسا توقف فرمائیں تاکہ آپ کا ارشاد سمجھنے میں آسانی ہو۔ یہودی گستاخی کے انداز میں بولتے اور بعد ازاں اپنی مجلسوں میں مسلمانوں کا مذاق اڑاتے کہ دیکھو ان کا نبی اور یہ لوگ کس قدر نادان اور بیوقوف ہیں کہ انہیں اس لفظ کا مفہوم سمجھ نہیں آتا۔ اس موقع پر ارشاد خداوندی نازل ہوا کہ اے مسلمانو! اب کے بعد اس ذو معنیٰ لفظ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دو۔ اس کی بجائے ﴿ انظرنا﴾ کا لفظ استعمال کیا کرو جس کا معنٰی ہے اے رسول کریم {ﷺ}ہماری طرف نظر التفات فرمائیں۔ پھر جو کچھ آپ کی زبان اقدس سے الفاظ جاری ہوں انہیں پوری توجہ اور اخلاص کے ساتھ سنا کرو۔ ﴿وَاسْمَعُوْا﴾ کا لفظ استعمال فرما کر یہ اشارہ بھی دیا کہ دوران خطاب متکلم کو ٹوکنا سننے والے کی عدم توجہ کی دلیل ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا سامع کا فرض ہے کہ وہ دوسرے کے کلام کو ایسے انہماک کے ساتھ سنے کہ حتی الوسع اسے استفسار کرنے کی حاجت پیش نہ آئے۔ اس آیت میں فرمایا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے کلام کو عدم توجہ اور بد نیتی کے ساتھ سننے کی بجائے ہمہ تن گوش ہو کر سننا اور ماننا چاہیے۔ یہ بھی انتباہ فرمایا کہ رسول خدا کی گستاخی کرنا کفر ہے۔ یہودی انبیاء کے گستاخ نوح (علیہ السلام) اور شراب : بائبل میں لکھا ہے کہ ” اس نے مے پی اور اسے نشہ آیا اور وہ اپنے ڈیرے میں برہنہ ہوگیا۔“ اس کے بیٹے حام نے انہیں اس حالت میں دیکھا۔ (پیدائش6: 9‘9: 20۔22) لوط (علیہ السلام) اور ان کی بیٹیاں : بائبل کے بیان کے مطابق‘ لوط (علیہ السلام) کی دو سگی بیٹیوں نے انہیں شراب پلائی اور پھر باری باری ان سے ہم آغوش ہوئیں۔ (نعوذ باللہ) حتی کہ لوط (علیہ السلام) کی یہ دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہوئیں اور ان سے ایک ایک بیٹا پیدا ہوا۔ (پیدائش19: 30۔38) حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بیٹوں پر الزام : بائبل کے بیان کے مطابق‘ داؤد کا بیٹا امنون بھی عشق اور زناکاری کے مرحلہ سے گزرا‘ اور اس نے یہ کام اپنی سوتیلی بہن تمر سے کیا۔ اس نے مقصد برآوری کے لیے فریب اور جھوٹ سے کام لیا اور دھوکہ سے بہن کو الگ کمرہ میں بلا کر اس سے زبردستی کی۔ داؤد نے یہ سب سنا تو ” نہایت غصہ ہوا“ مگر امنون کو پورے دو سال تک کوئی سزا نہ ملی۔ یہاں تک کہ داؤد کے ایک دوسرے بیٹے اور تمر کے سگے بھائی ابی سلوم نے دھوکہ سے امنون کو مروا کر اپنی بہن کا بدلہ لے لیا۔ (سموئیل۔ باب13) حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر شرک کا الزام : ” اور سلیمان بادشاہ فرعون کی بیٹی کے علاوہ بہت سی اجنبی عورتوں سے محبت کرنے لگا اور اس کے پاس سات سو شہزادیاں اور تین سو حر میں تھیں۔ اس کی بیویوں نے اس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کرلیا اور اس کا دل خداوند کے ساتھ کامل نہ رہا، جیسا کہ اس کے باپ داؤد کا دل تھا۔۔ سلیمان نے خداوند کے آگے بدی کی اور اس نے خداوند کی پوری پیروی نہ کی جیسی اس کے باپ داؤد نے کی تھی۔ (سلاطین1: 1۔4) گستاخ اور شاتم رسول کی سزا : نبی کریم {ﷺ}کی عظمت و تکریم مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے۔ آپ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا آخرت میں سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوگا اور دنیا میں واجب القتل ہے۔ نبی کریم {ﷺ}نے اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں کو معاف فرما دیا لیکن چند بدبختوں کے بارے میں فرمایا کہ اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹ جائیں تو بھی انہیں قتل کردیا جائے۔ یہ فرمان ذاتی انتقام پسندی کی وجہ سے نہ تھا کیونکہ آپ {ﷺ}کے بارے میں حضرت عائشہ {رض}اور صحابہ کرام {رض}کی گواہی ہے کہ آپ {ﷺ}نے کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ شاتم رسول دوسروں کے دلوں سے عظمت و احترام رسول گھٹانے کی کوشش کرتا اور ان میں کفر و نفاق کے بیج بوتا ہے۔ اس لیے توہین رسول کو برداشت کرلینا، ایمان سے ہاتھ دھونے اور دوسروں کے ایمان چھن جانے کا راستہ کھولنے کرنے کے مترادف ہے۔ نیز رسالت مآب {ﷺ}چونکہ ہر زمانے کے مسلمانوں کی محبت عقیدت کا مرکز و محور ہے اور اس کے بغیر مسلمان کا ایمان اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہے اس لیے جو زباں رسول اللہ {ﷺ}پر طعن کے لیے کھلتی ہے۔ اگر اسے کاٹا نہ جائے اور جو قلم آپ کی گستاخی کے لیے اٹھتا ہے اگر اسے توڑا نہ جائے تو اسلامی معاشرہ اعتقادی و عملی فساد کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ نبی کریم {ﷺ}کو نازیبا الفاظ کہنے والا امام ابن تیمیہ {رض}کے الفاظ میں ساری امت کو گالی دیتا ہے نبی اکرم {ﷺ}نے مسلمانوں کے ایمان اور غیرت کی خاطر گستاخی کرنے والے کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ امام ابن تیمیہ {رض}اپنی کتاب ” الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ میں فرماتے ہیں کہ ائمہ اہلحدیث امام احمد {رح}اور امام مالک {رح}کے نزدیک شاتم رسول کی توبہ اسے قتل کی سزا سے نہیں بچا سکتی جبکہ امام شافعی {رح}سے اس سلسلہ میں توبہ کے قبول و عدم قبول کے دونوں قول منقول ہیں۔ البتہ امام ابو جعفر {رح}کے نزدیک اگر وہ سزا سے پہلے توبہ کرے تو سزا سے بچ سکتا ہے۔ امام ابن تیمیہ {رح}اکثر محدثین اور فقہا کی طرح اس بات کے قائل ہیں کہ شاتم رسول توبہ کے باوجود قتل کی سزا کا مستحق ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اپنی کتاب کے مختلف مقامات پر جو دلائل دیے ہیں ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔ (1)۔ شاتم رسول فساد فی الارض کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کی توبہ سے اس بگاڑ کی تلافی نہیں ہوسکتی جو اس نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے۔ (2)۔ اگر توبہ کی وجہ سے سزا نہ دی جائے تو اس سے دوسرے بدبختوں کو جرأت ہوگی کہ وہ جب چاہیں توہین رسول کا ارتکاب کریں اور جب چاہیں توبہ کر کے سزا سے بچ جائیں۔ اس طرح غیروں کو موقع ملے گا کہ وہ مسلمانوں کی غیرت ایمانی کو بازیچۂ طفلاں بنا لیں گے۔ (3)۔ نبی کریم {ﷺ}کی اہانت وتحقیر کے جرم کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہے اور حقوق العباد سے بھی۔ حقوق اللہ اللہ تعالیٰ چاہے معاف کر دے مگر حقوق العباد میں زیادتی اس وقت تک معاف نہیں ہوتی جب تک متعلقہ مظلوم اسے معاف نہ کرے۔ نبی اکرم {ﷺ}اپنی حیات مبارکہ میں اگر کسی کا یہ جرم معاف کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے۔ مگر اب اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ امت مسلمہ یا مسلمان حاکم آپ {ﷺ}کی طرف سے نیابۃً اس جرم کو معاف کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ (4)۔ قتل، زنا، سرقہ جیسے جرائم کے بارے میں بھی اصول یہی ہے کہ ان کا مجرم سچی توبہ کرنے سے آخرت کی سزا سے بچ سکتا ہے‘ مگر دنیاوی سزا سے نہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ قاتل‘ زانی یا چور گرفتار ہوجائے اور کہے کہ میں نے جرم تو کیا ہے مگر اب توبہ کرتا ہوں تو اسے چھوڑ دیا جائے اسے ہر صورت سزا دی جائے گی۔ اسی طرح شاتم رسول کا مرتکب بھی جرم کے بعد توبہ کا اظہار کرے تو دنیاوی سزا سے نہیں بچ سکتا اور اس کا جرم مذکورہ جرائم سے زیادہ سنگین ہے۔ گستاخ رسول کے بارے میں احکامات: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعدَّلَہُمْ عَذَابًا مُہِیْنًا﴾(الأحزاب :57) ” بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول {ﷺ}کو تکلیف دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت ہے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ گستاخ رسول کا قتل : ( اِنَّ أعْمٰی کَانَتْ لَہٗ اُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِیَّ {}وَ تَقَعُ فِیْہِ فَیَنْہَا ہَا فَلَا تَنْتَہِیْ وَیَزْجُرُہَا فَلَا تَنْزَجِرُ فَلَمَّا کَانَتْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِی النَّبِیِّ {}وَتَشْتُمُہٗ فَاخَذَا لْمِغْوَلَ فَوَ ضَعَہٗ فِیْ بَطْنِہَا وَتَّکَأَ عَلَیْہَا فَقَتَلَہَا فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُکِرَ ذَلِکَ للنَّبِیِّ {}فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ اُنْشِدُ رَجُلًا فَعَل مَا فَعَلَ لِیْ عَلَیْہِ حَقُّٗ اِلَّا قَامَ قَالَ فَقَامَ الْاَعْمٰی یَتَخَطَّی النَّاسَ وَہُوَ یَتَدَلْدَلُ حَتّٰی قَعَدَبَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ {}فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَنَا صَاحِبُہَا کَانَتْ تَشْتُمُکَ وَتَقَعُ فِیْکَ فَاَنْہَاہَا فَلَا تَنْتَہِیْ وَأَزْجُرُہَا فَلاَ تَنْزَجِرُ وَلِیَ مِنْہَا اِبْنَانِ مِثْلُ الْلُؤلُؤَتَیْنِ وَکَانَتْ بِیْ رَفِیْقَۃً فَلَمَّا کَانَ الْبَارِحَۃُ جَعَلَتْ تَشْتُمُکَ وَتَقَعُ فِیْکَ فَاخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُہُ فِیْ بَطْنِہَا وَاتَّکَأْتُ عَلَیْہِ حَتّٰی قَتَلْتُہَا فَقَال النَّبِیُّ {}أَلَا أَشْہِدُوْا أَنَّ دَمَہَا ہَدَرٌ) (رواہ ابوداؤد : کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی) ” ایک اندھے شخص کی ایک ام ولد لونڈی تھی جو رسول اللہ {ﷺ}کو گالیاں دیا کرتی تھی وہ اسے منع کرتا۔ وہ گالیاں دینے سے باز نہیں آتی تھی وہ اسے جھڑکتا تھا۔ مگر وہ نہ رکتی تھی۔ ایک رات اس لونڈی نے رسول اللہ {ﷺ}کو گالیاں دینا شروع کیں تو نابینا صحابی نے ایک چھرا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کرتے ہوئے اسے زور سے دبایا جس سے وہ مر گئی۔ صبح اس کا ذکر رسول اللہ {ﷺ}کے پاس ہوا تو آپ نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا۔ میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے کیا‘ جو کچھ کیا۔ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہوجائے۔ رسول اللہ {ﷺ}کی یہ بات سن کر ایک نابینا صحابی کھڑا ہوا۔ اضطراب کی کیفیت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا نبی اکرم {ﷺ}کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ! میں اسے منع کرتا تھا مگر وہ اس کی پروا نہیں کرتی تھی۔ اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں اور وہ میری رفیقۂ حیات تھی۔ گزشتہ رات جب وہ آپ کو گالیاں دینے لگی تو میں نے چھرا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کرتے ہوئے اسے زور سے دبایا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ رسول اللہ {ﷺ}نے گفتگو سننے کے بعد فرمایا تم گواہ رہنا کہ اس عورت کا خون رائیگاں ہوا۔“ حضرت علی {رض}فرماتے ہیں : (قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ { }مَنْ سَبَّ نَبِّیًا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ اَصْحَابَہٗ جُلِدَ) (رواہ الطبرانی فی الصغیر صفحہ 236 جلد 1) ” رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا جس نے نبی {ﷺ}کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے اس کے صحابہ کو گالی دی اسے کوڑے مارے جائیں۔“ مشرک گستاخ رسول کا قتل : (اِنَّ رَجُلًا مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ شَتَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ {}فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}مَنْ یَّکْفِیْنِیْ عَدُوِّی فَقَام الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ فَقَالَ اَنَا فَبَارَزَہٗ فَاَعْطَاہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ { }سَلَبَہٗ) (الصارم المسلول177) ” مشرکین میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ {ﷺ}کو گالی دی تو رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا میرے اس دشمن کی کون خبر لے گا؟ تو حضرت زبیر بن عوام کھڑے ہو کر عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔ حضرت زبیر {رض}نے اسے قتل کردیا۔ تو رسول اللہْ {ﷺ}نے اس کا سامان زبیر کو دے دیا۔“ ابو لہب کا عبرت ناک انجام : سورۃ لہب کے نزول پر ابھی آٹھ سال ہی گزرے تھے کہ جنگ بدر میں بڑے بڑے سرداران قریش مارے گئے۔ مکہ میں بدر کی شکست کی اطلاع پہنچی تو سب سے زیادہ دکھ اور رنج ابولہب کو ہوا۔ یہ اسی صدمے اور رنج میں بیمار پڑگیا۔ ساتویں روز بیماری کوڑھ کی شکل اختیار کرگئی۔ جس وجہ سے اس کے گھر والوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کے بیٹوں نے اس کے ساتھ کھانا پینا ترک کردیا۔ بالآخر وہ نہایت بے کسی کی موت مرا۔ مرنے کے بعد بھی اس کے بیٹے اس کے قریب نہ گئے یہاں تک کہ اس کی لاش سے بو پھیلنے لگی۔ تب لوگوں نے اس کے بیٹوں کو طعنے دیے تو انہوں نے ایک حبشی کو مزدوری دی۔ جس نے گڑھا کھودا اور لکڑی سے لاش کو دھکیل کر گڑھے میں پھینکا اور مٹی ڈال دی۔ گستاخ رسول کو قبر نے باہر پھینک دیا : حضرت انس {رض}فرماتے ہیں : (کَانَ رَجُلٌ نَصْرانِیًّا فَأسْلَمَ وَقَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ فَکَانَ یَکْتُبُ للنَّبِیِّ {}فَعَادَ نَصْرَانِیًّا فَکَانَ یَقُوْلُ مَایَدْرِی مُحَمَّدٌ الاَّ مَا کَتَبْتُ لَہٗ فَأَمَاتَہُ اللّٰہُ فَدَ فَنُوْہُ فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الْاَرْضُ فَقَالُوْ ہَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَ اَصْحَابِہٖ لَمَّا ہَرَبَ مِنْہُمْ نَبَشُوْا عَنْ صَاحِبِنَا فَأَلْقَوْہُ فَحَفَرُوْا لَہٗ فَأَعْمَقُوْا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الْاَرْضُ فَقَالُوْا ہَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَاَصْحَابِہٖ نَبَشُوْا عَنْ صَاحِبِنَا لَمَّا ہَرَبَ مِنْہُمْ فَأَلْقَوْہُ فَحَفَرُوْا لَہٗ وَأَعْمَقُوْا لَہٗ فِی الْاَرْضِ مَاسْتَطَاعُوْا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الْاَرْضُ فَعَلِمُوْا اَنَّہُ لَیْسَ مِنَ النَّاسِ فَالْقَوْہُ) (رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام) ” ایک شخص عیسائی تھا وہ مسلمان ہوگیا سورۃ بقرۃ اور آل عمران پڑھ چکا تھا وہ کاتب وحی تھا۔ پھر وہ مرتد ہو کر عیسائی ہوگیا اور کہنے لگا کہ محمد {ﷺ}کے لیے جو کچھ میں نے لکھ دیا ہے اس کے سوا اسے کچھ معلوم نہیں۔ اس کی موت واقع ہوگئی تو اس کے ساتھیوں نے اسے دفن کیا۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر کی بجائے زمین کے اوپر پڑی ہے۔ عیسائیوں نے کہا کہ یہ محمد {ﷺ}اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا۔ اس لیے انہوں نے قبر کھود کر لاش کو باہر پھینک دیا ہے۔ چنانچہ دوسری قبر کھودی جو بہت گہری تھی لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ محمد اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے اس کی قبر کھود کر انہوں نے لاش باہر پھینک دی ہے۔ پھر انہوں نے قبر کھودی جتنی گہری ان کے بس میں تھی اور اس میں ڈال دیا لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر پڑی تھی۔ اب انہیں یقین ہوگیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں بلکہ یہ آدمی عذاب خداوندی میں گرفتار ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسے یونہی زمین پر پھینک دیا۔“ امام احمد بن حنبل (رح): (کُلُّ مَنْ شَتَمَ النَّبِیَّ {}اَوْ تَنَقَّصَہٗ مُسْلِمًا کَانَ اَوْ کَافِرًا فَعَلَیْہِ الْقَتْلُ وَأَرٰی اَنْ یُقْتَلَ وَلَا یُسْتَتَابَ) (الصارم المسلول :33) ” جو آدمی نبی {ﷺ}کو گالی دیتا ہے یا آپ کی شان میں گستاخی کرتا ہے وہ مسلمان ہو یا کافر اس کا قتل کرنا واجب ہے اور میری رائے یہ ہے کہ اسے توبہ کرنے کی مہلت نہ دی جائے بلکہ فوراً قتل کردیا جائے۔“ امام مالک (رح) : خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک {رض}سے نبی اکرم {ﷺ}کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کے بارے میں پوچھا۔ امام مالک (رح) نے فرمایا : (مَابَقَاءَ الْاُمَّۃِ بَعْدَ شَتْمِ نَبِیِّہَا) (الشفاء للقاضی عیاض : 2/233) ” اس امت کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں جس کے نبی کو گالیاں دی جائیں۔“ امام ابن تیمیہ (رح) : (اِنَّ مَنْ سَبَّ النَّبِیَّ {}مِنْ مُسْلِمٍ اَوْ کَافِرٍ فَاِنَّہ یَجِبُ قَتْلُہُ ہَذَا مَذْہَبُ عَامَۃِ اَہْلِ الْعِلْمِ) (الصارم المسلول :31) ” جو آدمی نبی {ﷺ}کو گالی دے خواہ مسلمان ہو یا کافر اس کو قتل کرنا واجب ہے۔“ ستمبر 2005ء میں ڈنمارک کے بدنام زمانہ صحافی نے رسول محترم {ﷺ}کے خاکے شائع کیے جس سے تو پورے عالم اسلام میں ایسا اضطراب پیدا ہوا کہ مسلمان تڑپ اٹھے اور پوری دنیا میں جلوس، ہڑتالیں اور بے مثال مظاہرے ہوئے اس میں سعودی عرب نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ ڈنمارک کے گستاخانہ عمل کی وجہ سے سعودی عرب نے عالم اسلام کی ترجمانی کرتے ہوئے 26جنوری کو ڈنمارک سے اپنا سفیر واپس بلا لیا اور سعودی عرب سے ڈنمارک کی اشیاء کے بائیکاٹ کا آغاز ہوگیا جو تمام عرب ریاستوں‘ مصر‘ لیبیا‘ ایران اور دوسرے مسلمان ممالک تک پھیل گیا۔ ٤ فروری کو پاکستان نے ڈنمارک‘ ناروے‘ فرانس‘ جرمنی‘ اٹلی‘ سپین‘ سوئٹزر لینڈ‘ ہینگری‘ ہالینڈ اور جمہوریہ چیک ری پبلک کے سفیروں کو طلب کر کے گستاخانہ خاکوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ پاکستان نے خاکوں کے شائع کرنے والے ممالک سے ادویات درآمد کرنے پر پابندی لگا دی‘ فرانس اور ڈنمارک کی چار میڈیسن کمپنیوں کی تقریباً ایک سو گیارہ ادویات پاکستانی میڈیکل سٹورز پر فروخت کی جاتی تھیں۔ ڈاکٹرز صاحبان نے ان ادویات کے بجائے متبادل ادویات تجویز کردیں۔ شام، لبنان اور لیبیا میں ڈنمارک کے سفارت خانوں کو آگ لگا دی گئی۔ مسلم ممالک نے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا۔ بس جس ملک سے جو بن پڑا اور جس دینی‘ سیاسی اور رفاہی تنظیم سے جو ہوسکا اس نے اپنی اسلامی غیرت کا ثبوت فراہم کرکے اپنے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ جس کو دیکھ کر عالم کفر کے بعض حکمرانوں اور اخبارات کے ایڈیٹرز اور مالکان نے معذرت کا رویہ اپنایا جن میں چند ایک یہ ہیں : ناروے کے اخبار کے ایڈیٹر انچیف ” ویجیو ان سیلبک“ نے معافی مانگی جس کو ناروے کی اسلامی کونسل نے قبول کرلیا۔ فرانس کے اخبار کے مالک نے ایڈیٹر کو نوکری سے برطرف کردیا۔ 31جنوری کو ڈنمارک کے اخبار نے معافی نامہ جاری کیا اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے معافی مانگی۔ مسائل: 1۔ ذو معنٰی لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ 2۔ کلام اللہ اور حدیث رسول توجہ کے ساتھ سننی چاہیے۔ 3۔ رسول محترم {ﷺ}کا گستاخ کافر اور واجب القتل ہے۔ البقرة
105 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب کی ساری خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ وہ کسی طرح بھی مسلمانوں کو ملنے والی بھلائی کو پسند نہیں کرتے اس کے لیے وہ ہر جرم کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ نبی آخر الزمان {ﷺ}کی شان میں گستاخیاں بھی کرتے رہتے ہیں۔ قرآن مجید مسلمانوں کو باربار باور کرواتا ہے کہ اہل کتاب اور مشرکوں کو اپنا خیر خواہ اور دوست نہ سمجھو کیونکہ ان کی سر توڑ کوشش اور دلی خواہش ہے کہ مسلمانوں کو کوئی بھلائی حاصل نہ ہوسکے۔ اسی منفی سوچ کے پیش نظر وہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ جہاں تک ہوسکے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جائے۔ حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ اہل کتاب مذہب کے دعوے دار ہونے کے پیش نظر مسلمانوں کے ہمدرد اور ان کے قریب ہوتے لیکن ان کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ یہ لوگ ہر آڑے وقت میں مسلمانوں کا ساتھ دینے کی بجائے کفار اور مشرکوں کا ساتھ دیا کرتے ہیں۔ تاریخ عالم اٹھا کر دیکھیں کہ اہل کتاب نے ہمیشہ مسلمانوں کے مقابلے میں کفار اور مشرکین کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان امریکہ کے زیادہ قریب رہا ہے۔ اور ہر آڑے وقت میں امریکہ کی حمایت کی لیکن پاکستان پر جب مشکل وقت آیا تو امریکہ نے ہمیشہ ہندوستان کا ساتھ دیا ہے۔ اس سے ارباب سیاست کو قرآنی حقائق کا اندازہ کرنا چاہیے۔ لہٰذا امت مسلمہ کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ تمہیں ایسے لوگوں سے چوکس اور چوکنا رہنا چاہیے جو تمہیں ہر وقت نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ اس فرمان میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو اپنی رحمت کے ساتھ مخصوص فرمالیا تھا۔ اس لیے اب اہل کتاب کی سازشیں، کفار اور مشرکوں کی شرارتیں مسلمانوں کو چنداں نقصان نہیں پہنچا سکتیں کیونکہ جس پر اللہ تعالیٰ فضل فرمانے کا فیصلہ فرما لیتا ہے دنیا کی کوئی طاقت اس کے فضل اور فیصلے کے درمیان رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ رحمت سے مراد بعض اہل علم نے نبوت لی ہے کہ اہل کتاب رسول اللہ {ﷺ}کا نبی ہونا پسند نہیں کرتے حالانکہ نبوت کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اختصاص ہے وہ جسے چاہے نبوت کے لیے منتخب فرمائے۔ اب سلسلہ نبوت حضرت محمد {ﷺ}پر قیامت تک ختم ہوچکا ہے۔ مسائل : 1۔ یہود و نصاریٰ اور مشرک نہیں چاہتے کہ مسلمانوں پر خیر نازل ہو۔ 2۔ اللہ تعالیٰ صاحب فضل وکرم ہے جسے چاہتا ہے، اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ البقرة
106 فہم القرآن : ( آیت 106 سے 107) ربط کلام : اہل کتاب اس قدر بے باک اور مسلمانوں کی دشمنی میں آگے جا چکے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں مداخلت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ اپنی کتاب میں ترمیم و اضافہ کرے۔ اس بہانے وہ کتاب اللہ پر اعتراض اور نبی اکرم {ﷺ}کی نبوت پر تنقید کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے دلوں میں حسد ہے جس بنا پر ایسی باتیں کرتے ہیں۔ نسخ کا معنٰی ہے کسی بات کو مٹانا یا اس کا ازالہ کرنا ہے۔ اس کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں : (1) ایک حکم خاص مدت کے لیے ہو، دوسری مدت کے لیے دوسرا حکم نازل ہوجائے۔ (2) تربیت اور خاص مصلحت کی خاطر پہلے حکم میں نرمی اور کچھ گنجائش رکھی گئی ہو بعد ازاں مکمل اور دائمی حکم نازل کردیا جائے۔ جس طرح شراب کی حرمت، قبلہ کی تبدیلی اور دوسرے معاملات کے بارے میں تدریجاً احکامات نازل ہوئے۔ قرآن مجید میں اس کے برعکس بھی مثال موجود ہے کہ قتال کے سلسلہ میں پہلا حکم سخت تھا لیکن اس کے بعد اس میں نرمی کردی گئی۔ (3) پہلا حکم لوگوں کی خاص حالت کے بارے میں ہوبعدازاں حالات کی تبدیلی کی وجہ سے اسے کلیۃً منسوخ کردیا جائے اور اس کی جگہ اس سے ملتا جلتا یا اس سے جامع اور کثیر المقاصد حکم نازل ہو۔ قرآن مجید میں تینوں اقسام کی امثال موجود ہیں۔ جن علماء نے ان تینوں اقسام کو ناسخ اور منسوخ میں شامل کیا ہے انہوں نے درجنوں آیات کو اس زمرہ میں شامل کردیا حالانکہ ناسخ‘ منسوخ کو حقیقی اور کلی معنوں میں لیا جائے تو ان کی تعداد چند آیات سے زیادہ نہیں ہے۔ اس بنا پر شاہ ولی اللہ {رض}نے صرف پانچ آیات کو منسوخ شمار کیا ہے۔ ناسخ اور منسوخ کے حوالے سے اہل کتاب اور مشرک دو قسم کے اعتراض کیا کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو فکری الجھاؤ میں مبتلا کر کے ان کے ایمان وا یقان میں تذبذب پیدا کیا جا سکے۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ تورات اور انجیل اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں اور یہ قرآن ان کی تائید کرتا ہے تو پھر انہیں منسوخ کرنے اور الگ کتاب نازل کرناچہ معنی دارد؟ دوسرا اعتراض یہ تھا اور ہے کہ قرآن مجید میں فلاں مقام پر یہ مسئلہ پہلے اس طرح تھا اور اب اس میں ترمیم و اضافہ کیوں کیا گیا ہے؟ ان اعتراضات کا جواب دینے سے پہلے یہاں بنیادی بات یہ ارشادفرمائی کہ یہ حاکم مطلق کی مرضی اور اس کی مشیّت ہے کہ شریعت کے جس حکم کو چاہے معطل یا منسوخ کرے۔ اس میں مخلوق کا نہ تو عمل دخل ہے اور نہ ہی کسی کو اعتراض کرنے کی گنجائش ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کو منسوخ کرنا کسی شخص کا اختیار نہیں۔ یہاں تک کہ جس شخصیت گرامی پر اللہ کی کتاب نازل ہوئی ہے حضرت محمد {ﷺ}بھی اس میں زیروزبر کی تبدیلی کا اختیار نہیں رکھتے۔ یہ تو اس قادر مطلق اور شہنشاہ عالم کا اختیار ہے کہ وہ اپنے حکم کو جس طرح چاہے جب چاہے اور جس قدر چاہے اس میں تبدیلی کرے۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اختیارات پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اس لیے ان آیات کے آخر میں پر جلال اور حاکمانہ انداز میں فرمایا ہے کہ اللہ ہی قادر مطلق با اختیار اور زمین و آسمان کا مالک ہے وہ تمہاری خیر خواہی کے لیے اپنے ضابطوں میں تبدیلی کرتا ہے۔ اس کے بغیر کوئی تمہارا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین ومنکرین کسی خیر خواہی کی بنیاد پر نہیں بلکہ یہ بد نیتی وبددیانتی کی بنا پر اس قسم کے اعتراضات اٹھاتے ہیں۔ متعدد مقامات پر قرآن مجید نے پہلے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اے اہل کتاب تم نے اپنی کتابوں میں اس قدر تحریف کی کہ ان کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا اور یہ بھی یاد رکھو کہ وہ مخصوص مدت کے لیے ہی نازل کی گئیں تھیں۔ جس طرح حکومتوں کے بدلنے سے قانون بدلتے ہیں اس طرح ایک رسول کے بعد دوسرے رسول کے آنے پر شریعت میں تبدیلی لائی جاتی رہی ہے۔ یہ تو محمد عربی {ﷺ}کا اعزازوا کرام ہے کہ آپ قیامت تک کے لیے رسول ہیں اور آپ پر نازل کردہ قرآن بھی قیامت تک رہے گا۔ اس میں ترمیم و اضافہ کرنے کا کوئی مجاز نہیں اور اللہ تعالیٰ نے تا قیام قیامت اس کی حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے۔ دوسرے سوال کا جواب یہ عنایت فرمایا کہ تمہارے لیے بہت سی چیزیں حرام تھیں اب انہیں حلال کردیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ تمہاری بہتری کے لیے ہی کیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ اعتراض بھی تمہیں زیب نہیں دیتا۔ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے احکام منسوخ کرنے یا ان میں ردّ وبدل کرنے کا پورا حق ہے۔ 2۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملک ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ البقرة
107 البقرة
108 فہم القرآن : ربط کلام : ایک طرح نبی {ﷺ}اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر اعتراض یہودیوں کے لیے معمول کی بات ہے کیونکہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی کتاب پر اس سے زیادہ نامناسب اعتراضات وسوالات کیے تھے۔ حصول علم اور طلب ہدایت کے لیے سوال کرنا‘ ناصرف جائز ہے بلکہ شریعت نے اس کی ترغیب دیتے ہوئے فرض قرار دیا ہے۔ البتہ خواہ مخواہ اور حیلہ سازی کے لیے سوال کرنا ناجائز قرار دیا ہے۔ یہودیوں کی یہ عادت تھی کہ وہ تعمیل حکم سے بچنے کے لیے مختلف بہانے تراشا کرتے تھے۔ ان کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ وہ پے در پے بے مقصد سوال پر سوال کیے جاتے تھے تاکہ کسی طرح اس مسئلے سے ان کی جان چھوٹ جائے۔ ایک قتل کی تفتیش کے دوران جب انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم صادر ہوا تو انہوں نے گائے ذبح کرنے کی بجائے کئی قسم کے سوال کر ڈالے بالآخر مجبور ہو کر گائے ذبح کرنے کے لیے تیار ہوئے۔ سوال کرنے کی عادت میں یہودی اس قدر عادی مجرم تھے کہ انہوں نے جناب موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ سوال بھی کیا کہ آپ اس قدر حیاکیوں اختیار کرتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کو جنسی مرض لاحق ہوچکا ہو اور اس بات کو اس قدر اچھالا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی برأت فرمائی۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ کَانَتْ بَنُوْ إِسْرَائِیْلَ یَغْتَسِلُوْنَ عُرَاۃً یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ إِلٰی بَعْضٍ وَکَانَ مُوْسٰی یَغْتَسِلُ وَحْدَہٗ فَقَالُوْا وَاللّٰہِ مَایَمْنَعُ مُوْسٰی أَنْ یَّغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّہٗ آدَرُ فَذَھَبَ مَرَّۃً یَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَہٗ عَلٰی حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِہٖ فَخَرَجَ مُوْسٰی فِیْ إِثْرِہٖ یَقُوْلُ ثَوْبِیْ یَاحَجَرُ حَتّٰی نَظَرَتْ بَنُوْ إِسْرَائِیْلَ إِلٰی مُوْسٰی فَقَالُوْا وَاللّٰہِ مَابِمُوْسٰی مِنْ بَأْسٍ وَأَخَذَ ثَوْبَہٗ فَطَفِقَ بالْحَجَرِ ضَرْبًا) (رواہ البخاری : باب من اغتسل عریاناوحدہ ) ” حضرت ابوہریرہ {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بنی اسرائیل کے لوگ ننگے نہایا کرتے اور ایک دوسرے کو دیکھا کرتے تھے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) اکیلے ہی غسل کرتے تھے۔ یہودیوں نے کہا اللہ کی قسم ہمارے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) اس وجہ سے غسل نہیں کرتے کہ ان کے خصیتین میں بیماری ہے۔ ایک مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کپڑے پتھر پر رکھ کر غسل کررہے تھے تو پتھر کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہواچنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) پتھر کے پیچھے یہ کہتے ہوئے بھاگے کہ اے پتھر ! میرے کپڑے دے دے۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو برہنہ حالت میں دیکھ کر کہا : اللہ کی قسم ! موسیٰ (علیہ السلام) کو کوئی تکلیف نہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے کپڑے پکڑ کر پتھر کو مارنا شروع کردیا۔“ بہانہ سازی کی عادت خبیثہ سے مسلمانوں کو محفوظ و مامون رکھنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کا حوالہ دے کر منع کیا جارہا ہے کہ کیا تم رسول {ﷺ}سے ایسے ہی سوالات کرنا چاہتے ہوجس طرح بے مقصد اور بے ہودہ سوال یہودیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کیے تھے؟ رسول اللہ {ﷺ}نے مسلمانوں کو بے جا سوال کرنے سے منع فرمایا ہے : (ذَرُوْنِیْ مَاتَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِھِمْ وَاخْتِلَافِھِمْ عَلٰی أَنْبِیَائِھِمْ فَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْءٍ فَأْتُوْا مِنْہُ مَااسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَھَیْتُکُمْ عَنْ شَیْءٍ فَدَعُوْہُ) (رواہ مسلم : کتاب الحج، باب فرض الحج مرۃ ( ” مجھے چھوڑے رکھو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں یقیناتم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے کی وجہ اور انبیاء سے اختلاف کرنے کی بنا پر تباہ وبرباد ہوگئے۔ جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اپنی طاقت کے مطابق اس پر عمل کرو اور جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اس کو چھوڑ دو۔“ مسائل: 1۔ یہودیوں کی طرح شریعت میں قیل و قال اور اعتراض وسوال نہیں کرنے چاہئیں۔ 2۔ شریعت کو بدلنے والا پرلے درجے کا گمراہ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : یہودیوں کے بے ہودہ سوالات : 1۔ گائے کے متعلق موسیٰ (علیہ السلام) سے سوالات۔ (البقرۃ: 67تا71) 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کہ اللہ ہمیں سامنے دکھایا جائے۔ (النساء :153) 3۔ ہمارے لیے بھی مشرکوں کی طرح معبود بنائے جائیں۔ (الاعراف :138) 4۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کے لیے پانی طلب کرنا۔ (البقرۃ:60) 5۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقتول کے بارے میں سوال کرنا۔ (البقرۃ:72) البقرة
109 فہم القرآن : ربط کلام : تمام اعتراضات کے پیچھے یہود ونصاریٰ کا ایک ہی مقصد ہے کہ تم سچے دین سے مرتد ہوجاؤ اور اس کے پیچھے دنیاوی مفادات کے ساتھ ان کا حسد بھی کار فرما ہے ان سے درگزر کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھو۔ رسول کریم {ﷺ}کی رسالت سے یہود و نصاریٰ کے انکار کابنیادی سبب یہ تھا کہ وہ سمجھتے تھے نبوت ہماری وراثت ہے کیونکہ نبوت کا سلسلہ صدیوں سے ہماری نسل میں چلا آ رہا ہے اب ہماری وراثت بنی اسماعیل کو کیوں منتقل کردی گئی ہے؟ اس صورت میں چاہیے تو یہ تھا کہ اہل مکہ یہود و نصاریٰ کے حسد و بغض کا ادراک کرتے ہوئے سرور دو عالم {ﷺ}کے ہم رکاب اور ہم زبان ہوجاتے لیکن وہ شرک و کفر کے مرض میں مبتلا ہو کر کہنے لگے منصب رسالت تو کسی سرمایہ دار، وڈیرے اور نواب کو ملنا چاہیے تھا اتنا بڑا منصب ایسے شخص کو کیونکر مل سکتا ہے؟ جو مالی لحاظ سے کنگال اور سماجی اعتبار سے یتیم ہے۔ اس سوچ کے پیش نظر اہل مکہ اور اہل کتاب سر توڑ کوشش میں لگ گئے کہ کسی طرح مسلمانوں کو رسالت مآب {ﷺ}سے برگشتہ اور ایمان کی متاع گراں مایہ سے محروم کردیا جائے۔ یہاں مسلمانوں کو یہ بتلایا اور سمجھایا جا رہا ہے کہ تمہارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے یہ کسی غلط فہمی کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق تو بالکل نمایاں ہوچکا ہے۔ اہل کتاب محض حسد کی بنیاد پر تمہاری مخالفت کے در پے ہیں لہٰذا انہیں معاف یا ان سے صرف نظر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب کر دے۔ اس فرمان کا مقصد یہ ہے اے مسلمانوں ابھی تم کمزور ہو اس لیے صبر کرو اور وقت کا انتظار کرو۔ حسد ایسی مہلک اور منفی قوت ہے اس میں جو بھی مبتلا ہوتا ہے وہ کسی کی بھی عزت وعظمت کو برداشت نہیں کرپاتا۔ مزید یہ کہ وہ کسی بڑی سے بڑی حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ بسا اوقات یہ بیماری اس قدر خطرناک صورت اختیار کرلیتی ہے کہ حاسد کو اپنی عزت کا خیال بھی نہیں رہتا۔ یہی حالت آپ کے مخالفوں کی تھی۔ اس لیے قرآن مجید کے اختتام سے پہلے سورۃ الفلق میں حاسد اور اس کے حسد سے پناہ مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ آپ {ﷺ}نے امت کو حسد سے بچنے کی تلقین اور اس کے مضرات سے متنبہ فرمایا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}أَنَّ النَّبِیَّ { }قَالَ إِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ) (رواہ ابو داؤد : کتاب الادب، باب فی الحسد) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں نبی معظم {ﷺ}نے فرمایا : حسد سے بچو کیونکہ وہ نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے سوکھی لکڑیوں کو آگ بھسم کردیتی ہے۔“ حضرت ابوہریرہ {رض}بیمار ہوئے تو رسول اللہ {ﷺ}نے ان کی عیادت کے وقت فرمایا : ابوہریرہ! میں تجھے وہی دم کروں جو مجھے جبریل (علیہ السلام) نے کیا تھا؟ انہوں نے عرض کی کیوں نہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ {ﷺ}نے یہ دم تین مرتبہ کیا : (بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیْکَ وَاللّٰہُ یَشْفِیْکَ مِنْ کُلِّ دَاءٍ فِیْکَ مِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِی الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ) (رواہ ابن ماجۃ: کتاب الطب، باب ماعوذ بہ النبی {}وماعوذ بہ) ” اللہ کے نام سے تجھے دم کرتاہوں اللہ تجھے ہر بیماری سے شفادے جو تجھے لاحق ہے اور گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔“ مسائل: 1۔ یہود و نصاریٰ حسد و بغض کی وجہ سے مسلمانوں کو مرتد کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ 2۔ یہود و نصاریٰ اچھی طرح دین اسلام اور نبی کریم {ﷺ}کی ذات کو پہچانتے ہیں۔ 3۔ اہل کتاب سے بحث و تکرار کرنے کی بجائے انہیں صرف نظر کردینا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کا حکم غالب ہو کر رہتا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : حسد وبغض اور اس کا علاج : 1۔ اہل کتاب کی مذموم سوچ اور حاسدانہ کردار۔ (البقرۃ:120) 2۔ کسی سے حسد کرنے کی بجائے اللہ سے مانگنا چاہیے۔ (النساء :32) 3۔ حسد سے پناہ مانگنی چاہیے۔ (الفلق :5) 4۔ شیطان چاہتا ہے کہ تمھارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے۔ (المائدۃ:91) 5۔ اللہ نے یہود و نصاریٰ کے درمیان بغض اور دشمنی قیامت تک کے لیے ڈال دی ہے۔ (المائدۃ:14) البقرة
110 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب کے پیچھے پڑ کر وقت اور صلاحیتیں ضائع کرنے کی بجائے اپنے دین کی طرف توجہ دو اور نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑو اور زکوٰۃ ادا کر کے اپنے بھائیوں کی مدد کرو۔ پچھلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ایسے لوگوں سے الجھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت کا انتظار کرو۔ اللہ ہر بات اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ لیکن یاد رکھنا اللہ کی مدد کی اولین شرائط میں سچے ایمان کے بعد نماز اور زکوٰۃ ادا کرنا ہے کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کے قرب اور باہمی اتحاد کا ذریعہ ہے۔ زکوٰۃ ایک دوسرے سے تعاون اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا زینہ ہے۔ جن لوگوں میں یہ اوصاف ہوں گے وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کے حقدار اور آخرت میں سرخرو ہوں گے۔ جو کچھ بھی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں محفوظ پاؤ گے۔ محکم یقین رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ تیسویں پارے میں فرمایا کہ جس نے ذرہ برابر نیکی کی وہ اسے پا لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی وہ بھی اسے اپنے سامنے پائے گا۔[ زلزال : 7،8] نماز اللہ تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ ہے : (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}إِنَّ اللّٰہَ قَالَ مَنْ عَادٰ ی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہٗ بالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ أَحَبَّ إِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُہٗ عَلَیْہِ وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ إِلَیَّ بالنَّوَافِلِ۔۔) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب التواضع) ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے ولی سے دشمنی کی میں اس کے ساتھ اعلان جنگ کرتاہوں اور میرا بندہ کسی چیز کے ساتھ بھی میرا قرب حاصل نہیں کرسکتا جو مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوں جو میں نے اس پر فرض کی ہیں اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے۔۔“ زکوٰۃ تعاون کا ذریعہ ہے : ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {رض}أَنَّ النَّبِیَّ {}بَعَثَ مُعَاذًا إِلَی الْیَمَنِ فَقَالَ ادْعُھُمْ إِلٰی شَھَادَۃِ أَنْ لَّاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ فَإِنْ ھُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَأَعْلِمْھُمْ أَنَّ اللّٰہَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ فَإِنْ ھُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَأَعْلِمْھُمْ أَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ صَدَقَۃً فِیْ أَمْوَالِھِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَائِھِمْ وَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِھِمْ) (رواہ البخاری : کتاب الزکوٰۃ، باب وجوب الزکوٰۃ) ” حضرت عبداللہ بن عباس {رض}بیان کرتے ہیں نبی کریم {ﷺ}نے حضرت معاذ {رض}کو یمن کی طرف بھیجتے ہوئے فرمایا انہیں دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یقینًا میں اللہ کا رسول ہوں اگر وہ تیری بات مان لیں تو انہیں بتلائیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر وہ تیری اس بات میں اطاعت کریں تو انہیں بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے اموال میں زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے امیروں سے لے کر ان کے غریبوں کو دی جائے گی۔“ مسائل : 1۔ مسلمانوں کو دین، نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی پر کاربند رہنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دنیا اور آخرت میں اجرو ثواب سے نوازیں گے۔ تفسیر بالقرآن : نماز کا حکم : 1۔ (البقرۃ:43، 83، 110) 2۔ (النساء : 77، 103) 3۔ (الانعام :72) 4۔ (یونس :87) 5۔ (الحج :78) 6۔ (النور :56) 7۔ (الروم :31) 8۔ (المجادلۃ :13) 9۔ (المزمل :20) زکوٰۃ کی اہمیت : 1۔ حضرت ابراہیم، لوط، اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) کو زکوٰۃ کا حکم۔ (الانبیاء :73) 4۔ بنی اسرائیل کو زکوٰۃ کا حکم۔ ( البقرۃ:83) 2۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا اپنے اہل خانہ کو زکوٰۃ کا حکم۔ (مریم :55) 5۔ تمام امتوں کو زکوٰۃ کا حکم۔ (البینۃ:5) 3۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو زکوٰۃ کا حکم۔ (مریم :31) 6۔ زکوٰۃ مال کا تزکیہ کرتی ہے۔ (التوبۃ:103) البقرة
111 فہم القرآن : (آیت 111 سے 112) ربط کلام : اہل کتاب قرآن کے منکر‘ مسلمانوں کے دشمن اور ایک دوسرے کو کافر کہنے کے باوجود جنت کے ٹھیکیدار بنتے تھے۔ یہاں ان کے دعوے کی قلعی کھولتے ہوئے ایک اصول بیان کیا گیا ہے کہ نیک اور جنت کا وارث وہ ہے جس نے اپنے آپ کو اللہ کے حکم کے تابع کردیا۔ انبیاء کے نافرمان اور نبی آخر الزماں {ﷺ}کے گستاخ اللہ تعالیٰ کے اختیارات پر اعتراضات کرنے والے حسد و بغض کے پیکر یہود و نصاریٰ مسلمانوں کو دولت ایمان سے محروم کرنے کی سازشیں کرنے اور صلوٰۃ و زکوٰۃ سے عملاً انحراف کرنے کے باوجود سمجھتے ہیں کہ ہم ہی جنت کے مالک ہوں گے۔ حالانکہ ” اللہ“ کی جنت اتنی ارزاں اور کم حیثیت نہیں کہ جو چاہے اپنے من ساختہ تصورات، دعوؤں اور نعروں کی بنیاد پر اسے حاصل کرلے یہ تو ایمان، اخلاص کی دولت اور اعمال کی گراں قدر قیمت پیش کرنے سے ہی مل سکے گی۔ لہٰذا اگر تم جنت کے حقدار ہو تو اس کے لیے کوئی ثبوت اور سرمایۂ عمل پیش کرو۔ ہاں جنت میں وہ شخص ضرور جائے گا جس نے اپنے چہرے اور عمل کو اپنے رب کے لیے حوالے کردیا ہے۔ چہرہ حوالے کرنے سے مراد کلی طور پر تابع فرمان ہونا ہے۔ جس میں یہ امر بھی لازم ہے کہ اس کے عمل پر خاتم النبیین {ﷺ}کی سنت کی مہر لگی ہوئی ہو۔ یہودی عیسائی گٹھ جوڑ : 1492 ء تک سارے مغرب میں یہودیوں کا داخلہ بند تھا۔ یہودیوں کے بارے میں عیسائی یہ یقین رکھتے تھے کہ اللہ کی پیدا کردہ مخلوقات میں سب سے بدترین اور شریر ترین مخلوق یہودی ہیں۔ یہودیوں پر سب سے زیادہ تشدد اور ظلم عیسائیوں ہی نے کیا ہے عیسائی انہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قاتل سمجھتے تھے یہ دور یہودیوں پر عیسائیوں کے بدترین تشدد کا دور تھا۔ ان کے لیے دنیا میں کوئی جائے پناہ نہ تھی۔ لیکن عجیب اتفاق ہے کہ 1948 ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد عیسائیوں کی یہود دشمنی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ یہودیوں سے بھی زیادہ اسرائیل کی توسیع اور استحکام کے وکیل بنے ہوئے ہیں۔ ان کے بڑے بڑے مبلّغین مثلاً جیری فال ویل اور جمی سوا گراٹ جنہیں امریکہ کی بہت بڑی اکثریت انتہائی انہماک سے سنتی ہے امریکی اسے اپنا مذہبی راہنما قرار دیتے ہیں۔ یہودیوں کی وکالت کر رہے ہیں سابق صدر جمی کارٹر کا کہنا ہے کہ ” اسرائیل کا قیام بائبل کی پیشین گوئی کی تکمیل ہے۔“ اسی طرح سابق صدر رونالڈ ریگن نے بھی کہا تھا کہ ” عنقریب دنیا فنا ہوجائے گی۔“ (صرف عیسائی اور یہودی زندہ رہیں گے) حالانکہ حیرت انگیز طور پر صدر کینیڈی تک امریکہ کے بیشتر صدور اسرائیل اور یہودیوں کے سخت ترین مخالف تھے۔ صدر آئزن ہاور یہودیوں کی توسیع پسندی کے سخت دشمن تھے۔ امریکہ کے ایک صدر جارج بش واشنگٹن نے اپنے عوام کو متنبہ کیا تھا کہ ” یہودی خون چوسنے والی چمگادڑیں ہیں اور اگر تم نے انہیں امریکہ بدر نہ کیا تو دس سال سے بھی کم عرصہ میں یہ تمہارے ملک پر حکمرانی کرنے لگیں گے اور تمہاری آزادی کو سلب کرلیں گے۔“ (بیان ایمسٹرڈم چیمبر 22-9-1654) خوش قسمتی سے اسی زمانے میں کو لمبس نے امریکہ دریافت کیا تھا۔ چنانچہ یہودیوں نے خود کو محفوظ رکھنے کی خاطر امریکہ کو اپنا وطن بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے دور اندیشی کی بنیاد پر نیویارک کی بندرگاہوں کو اپنے لیے منتخب کیا تاکہ سمندری و تجارتی راستے سے وہ پہلے امریکہ اور پھر ساری دنیا پر قبضہ کرسکیں۔ ان کے اسی فیصلے کے بعد آج نیو یارک کو جیویارک بھی کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف پروٹسٹنٹ عیسائی بھی امریکہ چلے گئے۔ اس طرح امریکہ میں آج تک یہی فرقہ اکثریت میں موجود رہا۔ یہ پروٹسٹنٹ عیسائی ہی تھے جنہوں نے یہودیوں کے لیے عیسائیوں کے دلوں میں نرم گوشہ پیدا کیا اور ان کی حمایت کی۔ ان کے اثرات ہی کی وجہ سے عیسائیوں کی بڑی آبادی اس بات کی قائل ہوئی کہ فلسطین کو یہودیوں کی سرزمین قرار دیا جائے۔ یہودیوں کے ساتھ ان کی ہمدردی کا یہ حال تھا کہ صیہونی (اسرائیلی) تحریک سے پہلے قیام اسرائیل کا مطالبہ کرنے والے یہودی نہیں بلکہ خود عیسائی تھے۔ عیسائیوں کا کہنا تھا کہ ارض مقدس میں یہودیوں کی واپسی نزول مسیح کا پیش خیمہ ہے۔ عیسائیوں کو یہودیوں سے اس لیے بھی ہمدردی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد کے بعد تمام یہودی آخر کار عیسائیت اختیار کرلیں گے۔ مسائل: 1۔ یہود و نصاریٰ ایمان و عمل کے بغیر جنت میں جانے کے دعوے دار بنتے ہیں۔ 2۔ جنت میں جانے کے لیے نبی آخرالزماں {ﷺ}پر ایمان اور عمل صالح کی ضرورت ہے۔ تفسیر بالقرآن جنت کے تقاضے : 1۔ جنت دعووں اور نعروں کی بنیاد پر نہیں ملے گی۔ (البقرۃ:111) 2۔ جنت مشکلات برداشت کئے بغیر نہیں ملے گی۔ (البقرۃ :214) 3۔ ایمان اور عمل صالح کی بنیاد پر جنت الفردوس حاصل ہوگی۔ (الکہف :107) 4۔ جنت آزمائش میں گزرے بغیر حاصل نہیں ہوگی۔ (العنکبوت :3) البقرة
112 البقرة
113 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب مسلمانوں کے خلاف شروع سے ہی متحد ہیں حالانکہ ان کی باہمی منافرت اور فرقہ واریت کا عالم یہ ہے کہ ایک دوسرے کو کافر گردانتے ہیں۔ مسلمانوں کے مقابلے میں یہود و نصاریٰ اکٹھے ہو کر کہا کرتے تھے کہ ہماری جماعتوں کے علاوہ کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہو پائے گا۔ حالانکہ مسلمانوں کے خلاف اتحاد کے باوجود ان کی باہمی منافرت اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا عالم یہ تھا کہ وہ آپس کے جنگ وجدال میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ یہودیوں نے انجیل کے بارے میں کہا یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہی نہیں ہوئی۔ پھر تعصب میں اس قدر اندھے ہوئے کہ جناب عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ پر رقیق حملے کیے۔ عیسائیوں نے دو ہاتھ آگے بڑھتے ہوئے نہ صرف تورات کا منزل من اللہ ہونے کا انکار کیا بلکہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی ذات گرامی پر بھی تہمتیں لگائیں۔ ان کی دیکھا دیکھی مشرکین بھی کہنے لگے کہ جب تک یہ لوگ ہمارے معبودوں کو مشکل کشا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں انہیں وسیلہ قرار نہیں دیں گے اس وقت تک ان کی نجات مشکل ہوگی۔ اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ تو اللہ ہی فیصلہ کرے گا کہ کس کے پلے میں کیا ہے؟ اور حق و باطل کے حوالے سے کوئی کس مقام پر کھڑا تھا؟ اس فرمان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امّتِ محمدیہ کے خلاف ابتداء ہی سے کفر کے حامی یکجارہے ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں عبداللہ بن عباس {رض}سے مروی ہے : ” جب نجران کے عیسائی رسول اللہ {ﷺ}کے پاس آئے تو ان کے پاس یہودیوں کے علماء بھی آئے اور انہوں نے رسول اللہ {ﷺ}کے پاس جھگڑا کیا۔ رافع بن حریملہ نے کہا : تم کسی دین پر نہیں ہو اور ساتھ ہی عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کے ساتھ کفر کردیا اور اہل نجران کے عیسائیوں میں سے ایک شخص نے یہودیوں کو کہا : تم کسی دین پر نہیں اور اس کے ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات کے ساتھ کفر کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہی باتوں کے متعلق فرمایا اور یہ آیت نازل فرمائی کہ ( یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ حق پر نہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہودی حق پر نہیں حالانکہ یہ لوگ تورات پڑھتے ہیں)۔“ عیسائیوں اور یہودیوں کی باہم ہرزہ سرائی : یہودیوں اور عیسائیوں کی دشمنی ہزاروں سال پرانی ہے۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دور سے شروع ہوئی تھی اور رسول اللہ {ﷺ}کی بعثت سے تقریباً سو سال پہلے شدو مد سے جاری تھی عیسائیوں کے نزدیک یہودیوں کے درج ذیل بڑے بڑے یہ جرائم تھے اور جن کی بنیاد پریہودی قابل گردن زدنی سمجھے جاتے تھے۔ 1۔ یہودی حضرت مریم ( علیھا السلام) پر (نعوذ باللہ) بدکاری کا الزام لگاتے ہیں۔ 2۔ یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تختۂ دار پر لٹکانے کا دعو ٰی کرتے ہیں۔ 3۔ یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کو (نعوذ باللہ) (خاکم بدہن) ناجائز بچہ قرار دیتے ہیں۔ 4۔ قرب قیامت یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد کو (نعوذ باللہ) دجال کی آمد تصور کرتے ہیں۔ 5۔ یہودی عیسائیت کا انکار کرتے ہیں۔ 6۔ عیسائیوں کے خیال کے مطابق یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاتل ہیں۔ چنانچہ انہی جرائم کی بنیاد پر عیسائیوں کے نزدیک یہودی قوم انتہائی قابل نفرت قوم رہی ہے۔ عیسائی انہیں روئے زمین پر سب سے شریر اور خبیث مخلوق قرار دیتے تھے اور جہاں پاتے تھے قتل کردیتے تھے۔ حال یہ تھا کہ ابتدائی دور میں جب یورپ میں طاعون (یا کالی وبا) پھیلی جس کے باعث لاتعداد ہلاکتیں ہوئیں تو عیسائیوں نے اس کا سبب یہودیوں کو ٹھہرایا حالانکہ خود عیسائی بھی اس مرض میں ہلاک ہو رہے تھے۔ یہودیوں کی جلاوطنی : 586 ء میں شاہ بابل نے یروشلم پر قبضہ کیا اور عبادت خانے کو تباہ کردیا۔ 472 ق م میں یونانی بادشاہ انہولنس نے یروشلم پر حملہ کر کے سلیمانی ہیکل کا نام و نشان مٹا دیا اور اسے بت خانے میں تبدیل کردیا۔ 135 میں رومی بادشاہ ہیڈریان نے یروشلم کو ایک بار پھر تباہ و برباد کردیا۔ 1228 ء اسپین میں یہودیوں کو قانونی طور پر لباس کے اوپر نمایاں نشان آویزاں کرنے کا حکم دیا گیا۔ 1266 ء پولینڈ کے گرجاؤں نے فیصلے صادر کئے کہ یہودی عیسائیوں کے ساتھ اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ 1321 ء فرانس میں ایک گڑھے میں 160 یہودی دفن کئے گئے۔ 1355 ء اسپین میں ایک مشتعل ہجوم نے بارہ ہزار یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ 1391 ء میجور کا جزیرے میں پچاس ہزار یہودی تہ تیغ کئے گئے۔ 1391 ء سسلی میں بڑے پیمانے پر یہودیوں کا قتل عام کیا گیا۔ 1422 ء ” کیسٹائل“ میں یہودیوں کو علیحدہ علاقے میں رہنے اور امتیازی پٹی پہننے پر مجبور کیا گیا۔ 1420 ء لیؤن : فرانس سے یہودیوں کو نکال باہر کیا گیا۔ 1492 ء اسپین میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار یہودی ملک بدر کئے گئے۔ 1492 ء سسلی اور مالٹا سے یہودیوں کو نکال باہر کیا گیا۔ پولینڈ نے پہلی مرتبہ یہودی حد بندی کا آغاز کیا۔ (یہودیوں کو ایک مخصوص علاقہ میں محدود کرنے کو یورپ میں Ghetto کی اصطلاح سے پکارا جاتا ہے۔) 1498 ء پرتگال میں ایک بھی یہودی باقی نہ رہنے دیا گیا۔ 1935 ء تا 1941 ء۔ ہٹلر نے ہزاروں یہودیوں کو انسانیت سوز سلوک سے دو چار کر کے عظیم تباہی مچائی۔ (یہودی اس سانحے کو ہولو کاسٹ Holocaust کہہ کر پکارتے اور بے حد مبالغے سے کام لے کر دنیا کی ہمدردیاں سمیٹتے ہیں۔ (حوالہ کتاب : عرب اور اسرائیل‘ ازرون ڈیوڈ صفحہ 75 اور صفحہ 108) مسائل : 1۔ یہود و نصاریٰ اپنے آپ کو جنت کا وارث سمجھنے کے باوجود ایک دوسرے کو کافر گردانتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ روز قیامت ہر قسم کے اختلافات کا فیصلہ فرمائیں گے۔ تفسیر بالقرآن: یہود ونصاریٰ کے باہمی اختلافات : 1۔ مسلمان یہودیوں اور عیسائیوں کو متحد سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ باہم ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ (البقرۃ:113) 2۔ یہود و نصاری قیامت تک باہم اختلاف کرتے رہیں گے۔ (المائدۃ:14) 3۔ یہودیوں کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر الزام۔ (النساء :156) 4۔ یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کے دعویدار ہیں۔ (النساء :157) البقرة
114 فہم القرآن : ربط کلام : نیا خطاب شروع ہوا ہے جس میں اہل کتاب کے ساتھ مشرکین مکہ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ یہود و نصاریٰ نے نا صرف ایک دوسرے کی آسمانی کتابوں کی نفی کی بلکہ اس سے آگے بڑھ کرانبیاء کرام (علیہ السلام) کی عظیم شخصیات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہاں تک کہ عبادت گاہوں کو فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے مذہبی منافرت کے مورچے بنا لیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک دوسرے کے معبد خانوں پر حملہ آور ہوئے اور طاقتوروں نے عبادت گاہوں کے تقدس و احترام کو پامال کیا۔ بسا اوقات ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی جیسا کہ بیت المقدس کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے۔ ایسا ہی کردار مشرکین مکہ کا تھا۔ بیت اللہ جس کی تعمیر کا مقصد ہی اس میں اللہ کی عبادت کرنا اور اسے زیارت گاہ قرار دیتے ہوئے مرکزِتوحید ٹھہرایا گیا ہے۔ ایک عرصہ تک نبی محترم {ﷺ}اور مسلمانوں کو اس کی زیارت سے محروم رکھا اور اس میں عبادت کرنے سے منع کردیا گیا۔ یہ تو اسلام کی خصوصیت ہے کہ جس نے نظریاتی اختلافات کے باوجود ہر عبادت گاہ کو احترام کی نظر سے دیکھنے کا حکم دیا ہے۔ جس کی آپ نے اس وقت عملاً اعلیٰ مثال قائم فرمائی جب نجران کے عیسائی آپ سے اسلام کے بارے میں مذاکرات کرنے لیے مسجد نبوی میں حاضر ہوئے گفتگو کے دوران ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو آپ {ﷺ}یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے کہ ہمیں اب نماز پڑھنا ہے۔ یہ سنتے ہی وفد کہنے لگا کہ اگر اجازت ہو تو ہم بھی اپنے طریقے اور قبلہ کے مطابق آپ کی مسجد میں نماز ادا کرلیں؟ آپ نے بڑی خوشی کے ساتھ انہیں نماز پڑھنے کی اجازت دے کر عملًا یہ ثابت کیا کہ واقعتا مسجدیں اللہ کا گھر ہیں اور ان میں ہر کسی کو اللہ کی عبادت کرنے کا حق ہے اور ملنا چاہیے۔ [ تفسیر ابن کثیر : آل عمران :61] بشرطیکہ باطل نظریات کا پرچار اور اس میں بد نظمی نہ کی جائے کیونکہ کسی شخص کو دوسرے کی عبات گاہ میں جا کر اپنے نظریات پھیلانے کا حق نہیں پہنچتا۔ مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتاکہ انہوں نے کسی علاقے میں بھی اپنے دور حکومت میں دوسروں کے معبد خانوں میں جا کر تبلیغ کی ہو بلکہ مسلم حکمرانوں نے ان کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کیا۔ البتہ کسی کو مسجدوں میں شور و غل اور بدنظمی پیدا کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ مسجد بالخصوص بیت اللہ کا ماحول خراب کرنے والے کو اللہ تعالیٰ دنیا میں ذلیل اور آخرت میں شدید عذاب میں مبتلا کرے گا۔ مسجدوں کا ماحول اتنا سنجیدہ اور عبادت گزاری کا ہونا چاہیے کہ کوئی بد تمیزی اور شر پسندی کی کوشش کرے تو اپنے آپ میں خفّت اور ذلّت محسوس کیے بغیر نہ رہ سکے جو لوگ مسجدوں میں بحث و تکرار اور لڑائی جھگڑا کرتے ہیں ایسے لوگ بالآخر لوگوں کی نظروں میں ذلیل ہوجاتے ہیں۔ آپ نے مسجد اور بازار کا فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مسجدوں میں اس طرح بلند آواز سے گفتگو نہیں کرنا چاہیے جس طرح منڈی اور بازار میں کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن مجید کی تلاوت مناسب آواز سے کرنا چاہیے تاکہ ہر آدمی یکسوئی اور پورے انہماک کے ساتھ ذکر و فکر اور اللہ کی عبادت کرسکے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}لِیَلِیَنِیْ مِنْکُمْ أُولُوا الْأَحْلَامِ وَالنُّھٰی ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثَلَاثًا وَّإِیَّاکُمْ وَھَیْشَاتِ الْأَسْوَاقِ) [ رواہ مسلم : کتاب الصلوۃ، باب تسویۃ الصفوف وإقامتھا] ” حضرت عبداللہ بن مسعود {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں کہ آپ {ﷺ}نے فرمایا میرے قریب عقلمند لوگ کھڑے ہوا کریں۔ پھر ان سے کم۔ یہ کلمات آپ نے تین دفعہ دہرائے اور فرمایا مسجدوں میں بازاروں کی طرح شور و غوغا نہ کیا کرو۔“ مسائل: 1۔ اللہ کے گھروں سے لوگوں کو روکنے والا ظالم ہے وہ دنیا و آخرت میں ذلیل ہوگا۔ 2۔ شرارتی لوگوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن: مسجد کا مقام واحترام : 1۔ مسجدیں صرف اللہ کی عبادات کے لیے ہیں۔ (الجن :18) 2۔ مسجدیں شرک سے پاک ہونی چاہییں۔ (الحج :26) 3۔ مسجدوں کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ (الحج :26) 4۔ مسجدیں نماز اور اعتکاف کے لیے ہوتی ہیں۔ (البقرۃ:125) 5۔ مسجدیں آباد کرنا صرف ایمانداروں کا حق ہے۔ (التوبۃ:18) 6۔ مشرک کو بیت اللہ میں داخل ہونے کا حق نہیں ہے۔ (التوبۃ:28) البقرة
115 فہم القرآن : ربط کلام : سابقہ آیات میں مساجد کے احترام و اکرام اور ان کا مقصد بیان فرمایا کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہونا چاہیے۔ یہاں اس بات کی وضاحت فرمائی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی توجہ صرف مسجدوں تک محدود نہیں بلکہ پوری زمین مشرق سے لے کر مغرب تک اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ اس کی توجہ زمین کے چپے چپے اور ذرّے ذرّے پر ہے۔ اسلام حقیقت پسندی کا مذہب ہے اور اس کی تعلیم یہ ہے کہ شعائر کا احترام اور خیال رکھنے کے باوجود آدمی کی نظر ہمیشہ حقائق اور اصلیت پر رہنی چاہیے۔ کیونکہ قومیں جب ظاہر پرستی میں مبتلا ہوجائیں تو ان میں حقیقی روح اور جذبہ ختم ہوجایا کرتا ہے۔ یہی صورت حال عیسائیوں اور یہودیوں میں پیدا ہوئی جس کی وجہ سے عیسائیوں نے بیت المقدس میں اس جگہ کو زیادہ افضل قرار دیا جس مشرقی کونے میں حضرت مریم (علیہا السلام) نے اپنے آپ کو عبادت کے لیے وقف کیا تھا اور جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی تھی جسے بیت اللحم کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں یہودیوں نے مغربی جانب کو اپنے لیے زیادہ محترم قرار دیا کہ ہیکل سلیمان یہاں واقع ہے۔ مسلمانوں پر بھی ایسا دور گزرا ہے کہ جب بیت اللہ کو فکری اور جغرافیائی طور پر تقسیم کردیا گیا۔ ملک عبد العزیز آل سعود کی حکومت سے پہلے ترکوں کی طرف سے مکہ کے گورنر جسے شریف مکہ کہا جاتا ہے اس کے دور میں بد قسمتی سے اتحاد کے نام پر بیت اللہ میں چار مصلے بچھا دیے گئے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حطیم کی طرف کھڑے ہونے والے اس لیے دوسرے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے کہ ہم فلاں ہیں اور ہماری جائے نماز زیادہ افضل ہے۔ ان کے مقابلے میں رکن یمانی کی جانب کھڑے ہونے والے اپنے آپ کو زیادہ حق پر سمجھتے کہ ہماری جانب حجر اسود کی طرف ہے۔ علی ھٰذا القیاس افسوس ! مرکز توحید و اتحاد میں بھی ملت تقسیم ہو کر رہ گئی۔ یہاں وضاحت فرمائی گئی ہے کہ بے شک تمہارے لیے ایک قبلہ مقرر کردیا گیا ہے جو تمہارے لیے یکسوئی اور اتحاد کی علامت بنایا گیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی توجہ اس میں محدود نہیں ہوگی۔ اس کی توجہ ہر جانب یکساں اور متواتر ہوا کرتی ہے۔ انسان کوتاہ نظر اور کم ظرف ہے۔ ورنہ اللہ کے فضل وعطاکی وسعتیں اور عفو ودرگزر کی جہتیں بے مثال ولا محدود ہیں۔ مسائل: 1۔ انسان جدھر بھی منہ کرے اللہ تعالیٰ کی اس طرف توجہ ہوتی ہے۔ 2۔ اللہ مشرق و مغرب کا مالک اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ نوٹ : قبلہ کے بارے میں بحث دوسرے پارے کی ابتدا میں ملاحظہ فرمائیں۔ البقرة
116 فہم القرآن : (آیت 116 سے 117) ربط کلام : جب زمین و آسمان کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ تو اسے اولاد کی کیا ضرورت وہ تو کن کہتا ہے اور ہر چیز اس کی مرضی کے مطابق معرض وجود میں آجاتی اور اس کی غلامی میں لگ جاتی ہے۔ اولاد کی حاجت انسان کو ہے اللہ تعالیٰ ان حاجات اور کمزوریوں سے پاک ہے۔ سلسلۂ کلام سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ انبیاء کے گستاخ، دین کے لیے ننگ و عار‘ عبادت خانوں کی بے رونقی کا باعث اور اللہ تعالیٰ کی توہین کرنے والے ہیں۔ جس کی بنا پر یہودیوں نے جناب عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہا اور عیسائیوں نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے حضرت مریم کو خدا کی بیوی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا بیٹا ٹھہرایا۔ مشرکین مکہ نے بتوں کو خدا کا اوتار تصور کیا اور کچھ اقوام نے ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ یہاں اس بات کی سختی کے ساتھ تردید کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں وہ اس کمزوری سے بالکل مبرّا اور پاک ہے کیونکہ اولاد سلسلۂ نسب کے تسلسل کے لیے ضروری‘ انسان کی ضرورت اور اس کی طبعی محبت کا تقاضا ہے۔ آدمی کی اولاد نہ ہو تو وہ اپنے گھر ہی میں ویرانی، بے رونقی اور تنہائی محسوس کرتا ہے اور اپنے آپ کو کمزور اور بے سہارا سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ان تمام کمزوریوں سے مبرّا ہے۔ اسے کسی لحاظ سے بھی نہ سہارے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسے تنہائی اور کمزوری کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کی محبت میں مبتلا ہے۔ حاکم کل اور قادر مطلق ہے۔ کیونکہ جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہے ہر چیز اس کی غلام اور تابع فرمان ہے۔ اس نے زمین و آسمان کو بغیر نقشے اور میٹریل کے پیدا کیا وہ تو صرف اتنا حکم دیتا ہے کہ ہو جاوہ چیز ٹھیک ٹھیک اس کے حکم کے مطابق معرض وجود میں آ جاتی ہے۔ اس سے ان اقوام اور سائنسدانوں کے نظریے کی تردید ہوتی ہے جن کا کہنا ہے کہ روح اور مادہ تو پہلے ہی موجود چلا آ رہا ہے۔ خدا تو صرف اسے ایک شکل اور وجود دینے والا ہے۔ (قَال النَّبِیُّ {}قَال اللّٰہُ کَذَّبَنِی ابْنُ آدَمَ وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ ذٰلِکَ وَشَتَمَنِیْ وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ ذٰلِکَ فَأَمَّا تَکْذِیْبُہٗ إِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لَنْ یُعِیْدَنِیْ کَمَا بَدَأَنِیْ وَلَیْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ إِعَادَتِہٖ وَأَمَّا شَتْمُہٗ إِیَّایَ فَقَوْلُہُ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا وَأَنَاالْأَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُوْلَدْوَلَمْ یَکُنْ لِیْ کُفْوًا أَحَدٌ) [ رواہ البخاری : کتاب تفسیرا لقرآن، باب یقال لاینون أحد أی واحد] ” نبی {ﷺ}نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے یہ اس کے لیے جائز نہیں۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اسے یہ بھی زیب نہیں دیتا۔ اس کا یہ کہنا کہ جس طرح اللہ نے مجھے پیدا کیا ہے دوبارہ ہرگز نہیں لوٹائے گا مجھے جھٹلانے کے مترادف ہے حالانکہ پہلی بار پیدا کرنا دوسری بار لوٹانے سے مجھ پر بھاری نہیں۔ ابن آدم کا یہ کہنا کہ اللہ کی اولاد ہے مجھے برا کہنا ہے حالانکہ میں ایک اور بے نیاز ہوں نہ میں والد ہوں اور نہ ہی مولود اور نہ ہی کوئی میرا ہمسر ہے۔“ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی ضرورت نہیں کیونکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی ملک اور تابعدار ہے۔ 2۔ ہر کام اس کے ” کن“ کہنے سے ہوجاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن: اللہ ایک ہے : 1۔ اللہ اولاد سے پاک ہے۔ (الانعام :101) 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اور مریم ( علیہا السلام) اِلٰہ نہیں اللہ کے بندے تھے۔ (المائدۃ:75) 3۔ اللہ کی اولاد قرار دینا سنگین ترین جرم ہے۔ (مریم : 91، 92) 4۔ اللہ تعالیٰ کو کسی نے جنم نہیں دیا نہ اس نے کسی کو جنم دیا ہے۔ (الاخلاص :3) زمین و آسمان کی تخلیق : 1۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر نمونے کے زمین و آسمان بنائے۔ (البقرۃ :117) 2۔ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان اور سات زمینیں بنائیں۔ (البقرۃ:29) 3۔ اس نے آسمان و زمین کو برابر کیا۔ (البقرۃ:29) 4۔ آسمان کو چھت اور زمین کو فرش بنایا۔ (البقرۃ :22) 5۔ زمین اور آسمانوں کو چھ دنوں میں بنایا۔ (الاعراف :54) البقرة
117 البقرة
118 فہم القرآن : (آیت 118 سے 119) ربط کلام : جس طرح لوگوں کا اللہ تعالیٰ کی اولاد ٹھہرانا غلط ہے۔ اسی طرح ان کا براہ راست اللہ تعالیٰ کو دیکھنے یا اس سے براہ راست بات کرنے کا مطالبہ بھی غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کی زیارت دنیا کی آنکھوں سے کرنا نا ممکنات میں سے ہے۔ اہل کفر کی ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ جب بھی وہ انبیاء کے مقابلے میں لا جواب ہوئے تو یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جس خدا نے آپ کو نبی بنایا ہے وہ براہ راست ہمیں اپنے آپ پر ایمان لانے کا حکم کیوں نہیں دیتا؟ یا پھر ہمارے پاس ایسے دلائل و معجزات کیوں نہیں آتے؟ جن کو دیکھتے ہی ہم آپ کی رسالت اور خدا کی خدائی پر ایمان لانے کے لیے مجبور ہوجائیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہم کلامی کے مطالبہ کو اس لیے در خور اعتناء نہیں سمجھا گیا کیونکہ اس سے زیادہ جہالت پر مبنی کوئی مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ مشرکین مکہ سے پہلے بنی اسرائیل نے مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کوہ طور پر خدا کے نور کی ایک جھلک دیکھی تو سارے کے سارے بے ہوش ہوگئے۔ قرآن مجید صاف‘ صاف بتلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں انسان کی آنکھ ربِّ کبریا کو نہیں دیکھ سکتی جب کہ اللہ تعالیٰ سب کو دیکھ رہا ہے۔ (الانعام :103) اگر اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو براہ راست حکم دینا اور بات کرنی ہے اور ہر کوئی انبیاء کی طرح پاکباز اور با صلاحیت ہو تو پھر پیغمبروں کی آمد کا مقصد ہی باقی نہیں رہتا۔ اس بے ہودہ سوال کا جواب دینے کی بجائے فقط اتنا فرمایا کہ ان کی زبان اور دل ان لوگوں کی طرح ہوچکے ہیں جنہوں نے ہمیشہ انکار اور تمرّد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ایسا مطالبہ کیا ہے۔ جہاں تک کھلے اور واضح دلائل اور معجزات کا تعلق ہے وہ اس سے زیادہ کیا ہو سکتے ہیں کہ ان کے سامنے چاند کا دو ٹکڑے ہونا‘ آپ کا آسمانوں کی رفعتوں سے بلند سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا، قرآن مجید کی ایک ایک پیش گوئی کا حرف بحرف سچ ہونا، معجزات اور آیات کا نازل ہونا۔ پھر آپ {ﷺ}کی ذات گرامی کی شکل میں ایک چلتا پھرتا معجزۂ مجسم بھی ان کے سامنے تھا۔ جس کی نظیر و مثال قیامت تک کوئی پیش نہیں کرسکتا اتنے واضح و بیّن براہین ودلائل پر ایمان تو وہی لوگ لاتے ہیں جو یقین و اعتماد کی صلاحیتوں سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ بلا شبہ ہم نے آپ {ﷺ}کو ایسی سچائی کے ساتھ جلوہ گر کیا ہے کہ جس پر ایمان لانے والوں کے لیے دنیا و آخرت کی بشارتیں اور منکروں کے لیے دنیا میں پریشانیاں اور آخرت میں پشیمانیاں ہوں گی۔ میرے نبی! آپ اپنا کام کرتے جائیں۔ آپ برے کاموں پر انتباہ کرنے اور اچھے کاموں کی اچھی خوشخبری دینے والے ہیں۔ ہم قیامت کے دن یہ سوال نہیں کریں گے کہ آپ کے ہوتے ہوئے یہ جہنم کے سزا وار کیوں ٹھہرے؟ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {رض}أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ {}قَالَ أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَھُنَّ نَبِیٌّ قَبْلِیْ وَلَا أَقُوْلُھُنَّ فَخْرًا بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَھْرٍ وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِیْ وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَھُوْرًا وَّأُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ فَأَخَّرْتُھَا لِأُمَّتِیْ فَھِیَ لِمَنْ لَّایُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْئًا) [مسند احمد : کتاب ومن مسند بنی ھاشم، باب بدایۃ مسند عبداللہ بن العباس] ” حضرت عبداللہ بن عباس {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا مجھے ایسی پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں اور میں ان کے بارے میں فخر سے بات نہیں کرتا میں تمام سرخ وسیاہ لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں اور ایک مہینے کی مسافت تک میری رعب کے ساتھ مدد کی گئی ہے اور میرے لیے غنیمت کا مال حلال قرار دیا گیا ہے جب کہ مجھ سے پہلے کسی امت کے لیے حلال نہ تھا اور میرے لیے زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنادی گئی ہے اور مجھے شفاعت عطا کی گئی میں نے اسے اپنی امت کے لیے مؤخر کردیا ہے اور وہ ہر اس شخص کی نجات کا ذریعہ بنے گی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا۔“ مسائل: 1۔ جاہل اور کافر لوگ اللہ تعالیٰ کو براہ راست دیکھنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ 2۔ انبیاء کا کام لوگوں کو جہنم سے کھینچنا نہیں بلکہ ان کو اچھے، برے سے آگاہ کرنا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم {ﷺ}کو خوشخبری دینے اور انتباہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تفسیر بالقرآن: اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا : 1۔ بنی اسرائیل نے اللہ کو دیکھنے اور اس سے ہم کلامی کا مطالبہ کیا۔ (النساء :153) 2۔ اللہ تعالیٰ براہ راست کسی سے کلام نہیں فرماتا۔ (الشورٰی :51) 3۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ پر دے میں بات کرتا تھا۔ ( الشورٰی :51) البقرة
119 البقرة
120 فہم القرآن : (آیت 120 سے 121) ربط کلام : اہل کفر اور یہود و نصاریٰ کے تمام کے تمام مطالبات بھی مان لیے جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے لہٰذا اے رسول ! آپ اپنا کام کرتے رہیں کیونکہ آپ {ﷺ}کو ان کا ہر مطالبہ پورا کرنے اور ہر حال میں انہیں راضی کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ آپ حق کی شہادت اور ان کے برے کاموں کے انجام سے ڈراتے ہیں۔ ہدایت تو وہی لوگ پائیں گے جو کتاب اللہ کو اخلاص نیت کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ صحابہ کرام {رض}کو رہ رہ کر یہ خیال آتا تھا کہ اہل کتاب پڑھے لکھے اور اپنے دین پر قائم ہونے کے دعویدار ہونے کے باوجود رسالت مآب {ﷺ}پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ انہی کو تسلی دینے کے لیے براہ راست رسول محترم {ﷺ}کو خطاب کرتے ہوئے یہود و نصاریٰ کی فطرت خبیثہ کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ اس وقت تک آپ سے خوش نہیں ہو سکتے جب تک آپ لوگ اپنا دین چھوڑ کر ان کے دین کو قبول نہ کرلیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہدایت تو وہی ہے جس پر وہ قائم ہیں۔ اے نبی! ان سے فرما دیجیے جسے تم ہدایت سمجھتے ہو وہ ہرگز ہدایت نہیں۔ ہدایت تو وہ ہے جس کی رہنمائی اور توفیق اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔ یہاں ہمیشہ کے لیے یہ اصول بیان کردیا کہ ہدایت وہ نہیں جس کو کوئی انسان‘ قوم یا کوئی پارلیمنٹ متعین کرے بلکہ حقیقی ہدایت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی صورت میں آپ پر نازل فرمایا ہے۔ اگر علم و معرفت کے باوجود آپ ان کی طرف جھک گئے تو یاد رکھیں کہ جن لوگوں کی حمایت اور خوشی کے لیے آپ ایسا کریں گے وہ تو در کنار کوئی بھی ذات کبریا کے سوا آپ کا خیر خواہ اور مددگار ثابت نہیں ہوگا۔ اس فرمان کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو پیش نگاہ رکھنا چاہیے۔ اگر مسلمان دوسروں کو خوش کرنے کے لیے اپنا دین اور تہذیب چھوڑدیں گے تو اس طرح یہود و نصاریٰ تو وقتی طور پر خوش ہوں گے لیکن مسلمان اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت سے محروم ہوجائیں گے۔ جو اللہ تعالیٰ کی نصرت وحمایت سے محروم ہوا اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی وضاحت فرمائی جا رہی ہے کہ اہل کتاب میں وہی لوگ محمد عربی {ﷺ}کی رسالت اور قرآن کی صداقت پر ایمان لائیں گے جو ذہنی تحفظات اور گروہی تعصبات سے بالا تر ہو کر تورات‘ انجیل اور قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں۔ حصول ہدایت کا یہی وہ بنیادی اصول ہے جس کے لیے قرآن بار بار اس بات کی دعوت دیتا ہے۔ کہ اے دنیا جہاں کے لوگو ! کتاب ہدایت میں تدبر وتفکر کرو تاکہ تمہارے لیے ہدایت کا راستہ واضح اور آسان ہوجائے۔ جنہوں نے کتاب اللہ میں تدبر و تفکر سے اجتناب اور اس کے حقائق کا انکار کیا وہ بالآخر نقصان پائیں گئے۔ (عَنْ أَبِی ذَرٍ {رض}قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ {}إِنَّ بَعْدِی مِنْ أُمَّتِی أَوْ سَیَکُونُ بَعْدِیْ مِنْ أُمَّتِی قَوْمٌ یَقْرَءُ وْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَلَاقِیمَہُمْ یَخْرُجُونَ مِنْ الدِّینِ کَمَا یَخْرُجُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ ثُمَّ لَا یَعُوْدُوْنَ فیہِ ہُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِیقَۃِ) [ رواہ مسلم : کتاب الزکوۃ، باب الخوارج شر الخلق والخلیقۃ] ” حضرت ابوذر {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : میرے بعد ایک قوم آئے گی وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلقوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر اپنے ہدف سے نکل جاتا ہے۔ پھر وہ دین کی طرف نہیں لوٹ سکیں گے۔ وہ انسانوں اور جانوروں میں سے بدترین ہوں گے۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ مَا أَذِنَ اللّٰہُ لِشَیْءٍ مَا أَذِنَ للنَّبِیِّ أَنْ یَّتَغَنّٰی بالْقُرْآنِ) [ رواہ البخاری : کتاب، فضائل القرآن، باب من لم یتغن بالقرآن] ” حضرت ابوہریرہ {رض}نبی کریم {ﷺ}سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کسی اور چیز کی نبی کو اتنی اجازت نہیں دی جتنی کہ قرآن کو خوبصورت آواز کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔“ (عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ {رض}قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ {}زَیِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِکُمْ) [ رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب استحباب الترتیل فی القراء ۃ ] ” حضرت براء بن عازب {رض}بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : قرآن کو اپنی آوازوں کے ساتھ مزین کرو۔“ مسائل : 1۔ جب تک مسلمان یہودی یا عیسائی نہ ہوجائیں یہود ونصاریٰ راضی نہیں ہو سکتے۔ 2۔ کتاب و سنت کی اتباع کے بغیر اللہ تعالیٰ کی ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ 3۔ قرآن و سنت کی اتباع کیے بغیر خدا کی نصرت و حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ 4۔ قرآن مجید کی تلاوت اس کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کرنی چاہیے۔ 5۔ قرآن کی راہنمائی کا انکار کرنے والے دنیا و آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ تفسیر بالقرآن : خواہشات کی پیروی کرنا جرم ہے : 1۔ اللہ کی راہنمائی آجانے کے بعد اپنی خواہشات کی پیروی نہیں کرنا چاہیے۔ (ص :26) 2۔ فیصلہ کرتے وقت خواہشات کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ (المائدۃ:49) 3۔ علم کے باوجود خواہشات کی پیروی کرنے والا اللہ کی ضمانت سے نکل جاتا ہے۔ (الرعد :27) 4۔ اپنی خواہش کی پیروی کرنا اپنے نفس کو رب بنانا ہے۔ (الفرقان : 43) 5۔ حق کو خواہشات کے تابع کرنے سے نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا۔ (المؤمنون :71) 6۔ نبی کی بات نہ ماننا اپنی خواہش کی پیروی کی علامت ہے۔ (القصص :50) تلاوت قرآن کے آدا ب : 1۔ قرآن کی تلاوت کا حق ادا کرنا چاہیے۔ (البقرۃ:121) 2۔ قرآن کی تلاوت کے وقت تدبر کرنا چاہیے۔ (النساء :82) 3۔ سحری کے وقت تلاوت کرنا افضل ہے۔ (الاسراء:78) البقرة
121 البقرة
122 فہم القرآن : ربط کلام : سورۃ البقرۃ میں اہل کتاب بنی اسرائیل کو تیسری بار خطاب کیا جار ہا ہے۔ جس میں بیت اللہ کی تاریخ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا ذکر خاص کر اس دعا کا ذکر ہے جس میں انہوں نے مکہ میں مبعوث ہونے والے آخری پیغمبر کے لیے اللہ کے حضور کی تھی۔ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو تیسری مرتبہ اپنی عطا کردہ نعمتیں اور فضیلتیں یاد کرواکر احساس دلا رہا ہے کہ تم جس عزت رفتہ کے حصول کے خواہش مند ہو وہ نبی آخر الزماں {ﷺ}کی مخالفت کے راستے پر چل کر حاصل نہیں ہوسکتی۔ آج تم مسلمانوں کے خلاف ایک دوسرے کے معاون اور مددگار بن رہے ہو اس دن کی ہولناکیاں اپنے احاطۂ خیال میں لاؤ جس دن تم رائی کے دانے کے برابر بھی ایک دوسرے کی مدد نہیں کر سکوگے۔ تمہارے لیے یہ بات کہیں بہتر ہے کہ تم خواہ مخواہ مخالفت اور نا شکری کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے اپنے جدِّ امجد کا راستہ اختیار کرو اور خاتم المرسلین {ﷺ}کی اتباع کروتاکہ تمہیں پہلے کی طرح عزت وعظمت سے نوازا جائے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ میرے بندے یعقوب (علیہ السلام) کے فرزندو اور میرے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) کے خانوادے کے ساتھ تعلق رکھنے والو ! سنو، غور کرو اور میری نعمتوں کو ایک دفعہ پھر اپنے ذہن میں تازہ کرو جو میں نے دنیا کے تمام لوگوں سے بڑھ کر تمہیں عنایت فرمائی تھیں۔ اگر تم عزت رفتہ اور انعامات گزشتہ کا اعادہ اور حصول چاہو تو پھر یوم احتساب سے پہلے اپنے کردار پر نظر ثانی کرو۔ چہ جائے کہ وہ دن وارد ہوجائے جب عزیز اپنے عزیز‘ ماں اپنے جگر گوشے اور باپ اپنے لخت جگر کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے گا اور نہ ہی دولت مند کی دولت اس کے کام آئے گی اور نہ کسی کی سفارش اور اثر و رسوخ دوسرے کا معاون اور مددگار ثابت ہو سکے گا۔ اسی کے پیش نظر رسول کریم {ﷺ}نے اپنے جگر گوشہ بتول حضرت فاطمہ {رض}کو مخاطب کرتے ہوئے نصیحت فرمائی تھی : (یَافَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ یَاصَفِیَّۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَابَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَاأَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا سَلُوْنِیْ مِنْ مَّالِیْ مَا شِئْتُمْ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب فی قولہ وأنذر عشیرتک الأقربین[ ” اے محمد کی بیٹی فاطمہ اور عبدالمطلب کی بیٹی صفیہ اور اے عبدلمطلب کی اولاد میں تمہارے لیے اللہ کے ہاں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں گا البتہ میرے مال میں سے جتنا چاہو مطالبہ کرسکتے ہو۔“ ﴿یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَأَخِیْہِ۔ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤْوِیْہِ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ۔ کَلَّا﴾ [ المعارج : 11تا15] ” مجرم چاہے گا کہ اس دن بیٹوں کا فدیہ دے کر عذاب سے بچ جائے اور اپنی بیوی، اپنے بھائی اور اپنے اس کنبہ کا جو اسے پناہ دیا کرتے تھے اور جو کچھ بھی زمین میں ہے سب کچھ دے کر نجات پالے ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔“ ﴿اَلْأَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍ م بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِیْنَ﴾ [ الزخرف :67] ” اس دن متقین کے علاوہ سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دنیا کی نعمتوں اور عظمتوں سے سرفراز فرمایا تھا۔ 2۔ قیامت کے دن مجرموں کی کوئی کسی لحاظ سے مدد نہیں کرسکے گا۔ 3۔ انسان کو ہر وقت اپنے دل میں قیامت کا ڈر رکھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : قیامت کے دن فدیہ اور سفارش قبول نہ ہوگا : 1۔ کسی جان سے قیامت کے دن فدیہ قبول نہ ہوگا۔ (البقرہ :48) 2۔ کفار سے عذاب کے بدلے زمین بھر سونا بھی قبول نہ ہوگا۔ (آل عمران :91) 3۔ ہر جان اپنا بوجھ خود اٹھائے گی۔ (النجم :38) 4۔ قیامت کے دن کسی کی چالیں کفایت نہ کریں گی۔ (الطور :46) البقرة
123 البقرة
124 فہم القرآن : ربط کلام : بنی اسرائیل کے جد امجد ابراہیم (علیہ السلام) کا کردار اور ان کا اللہ تعالیٰ کی آزمائشوں میں پورا اترنے کے بعد مقام ومرتبہ۔ اے بنی اسرائیل آج تم اپنے فرسودہ نظریات‘ مذہبی تعصبات اور معمولی مفادات کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ تمہارے جد امجد ابراہیم (علیہ السلام) کی شان تو یہ تھی کہ جب اس کے رب نے اسے امتحانات کے ذریعے آزمایا تو اس نے اولاد‘ وطن‘ عزت و اقبال گویا کہ ہر چیز اللہ کے راستے میں قربان کردی۔ اس طرح وہ آزمائشوں سے گزر کر اپنے رب کے ہاں سرخرو ہوئے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بھاری آزمائشوں کے لیے چند کلمات کا لفظ استعمال فرما کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مقابلے میں یہ بڑے مختصر اور معمولی امتحانات تھے۔ چند کلمات کے الفاظ میں یہ راز بھی مضمر ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو انسان کو ایک ایک نعمت کے بدلے آزما لے تاکہ دنیا میں ہی فیصلہ ہوجائے کے کون سا انسان کس نعمت کا قدر دان اور کس کی ناقدری کرتا ہے۔ آزمائش کا مقصد بندے کو تکلیف دینا نہیں ہوتا بلکہ اسے اور اس کے حوالے سے دوسروں کو نعمتوں کا احساس دلانا، اس کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور آزمائشوں کی گزر گاہ سے گزار کردنیا اور آخرت کی ترقیوں سے سرفراز کرنا ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب ابتلا کی دشوار گزار گھاٹیوں کو عبور کرچکے تو ان کو رہتی دنیا تک کے لوگوں کا قائد اور امام بنا دیا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پدری اور فطری جذبے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور عرض کی کہ یہ اعزازواکرام اور منصب و مقام میری اولاد کو بھی ملنا چاہیے۔ جواباً ارشاد ہوا کہ منصب امامت اور حقیقی عزت ظالموں کو نہیں ملا کرتی۔ لہٰذا فاسق و فاجر لوگوں کے ساتھ ہمارا وعدہ نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جس قدر شریعتیں نازل ہوئیں اور جتنے انبیاء مبعوث ہوئے وہ سب کے سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے کے پابند کردیئے گئے۔ یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفی {ﷺ}کو بھی یہی حکم ہوا کہ آپ بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے کو اپنے اور اپنی امت کے لیے لازم ٹھہرائیں۔ ﴿ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًاوَّمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ﴾ [ النحل :123] ” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ یکسو رہنے والے ابراہیم کی ملت کی اتباع کرو اور وہ مشرک نہ تھا۔“ ﴿قُلْ صَدَقَ اللّٰہُ فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا وَّ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ﴾ [ آل عمران :95] ” فرمادیں اللہ نے سچ فرمایا ہے لہٰذا تمہیں ابراہیم کے طریقہ کی اتباع کرنی چاہیے جو اللہ ہی کے ہوگئے تھے اور مشرک نہیں تھے۔“ مسائل : 1۔ ابراہیم (علیہ السلام) تمام امتحانات میں کامیاب ہوئے۔ 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو آزمائشوں میں سرخروئی کے بدلے دنیا کی امامت عطا ہوئی۔ 3۔ حقیقی عزت و سرفرازی ظالم لوگوں کو نصیب نہیں ہوا کرتی۔ تفسیر بالقرآن: حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے امتحانات اور ان کا مقام ومنزلت : 1۔ ( ابرہیم (علیہ السلام) کا اسماعیل (علیہ السلام) کو قربانی کے لیے پیش کرنا) بہت بڑا امتحان تھا۔ (الصٰفٰت :106) 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید کی خاطر آگ میں پھینکا جانابہت بڑی آزمائش تھا۔ (الانبیاء :68) 3۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی بیوی اور نو مولود بچے کو بے آب وگیاہ وادی میں چھوڑ کر آنا بہت بڑی آزمائش تھا۔ (ابرہیم :37) 4۔ ابراہیم (علیہ السلام) امت محمدیہ کے لیے نمونہ ہیں۔ (الممتحنۃ:4) 5۔ ابراہیم (علیہ السلام) نبی کریم {ﷺ}کے مقتدٰی ہیں۔ (النحل :123) 6۔ ابراہیم (علیہ السلام) امت کے مقتدٰی ہیں۔ (آل عمران :95) 7۔ ابراہیم (علیہ السلام) اکیلے ہی ایک جماعت تھے۔ (النحل :120) 8۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دوست بنایا۔ (النساء :125) 9۔ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے نہ عیسائی۔ (آل عمران :67) 10۔ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) بیت اللہ کے بانی ہیں۔ (البقرۃ:127) 11۔ ابراہیم (علیہ السلام) پر مصحف نازل کیے گئے۔ (الاعلیٰ:19) 12۔ ابراہیم (علیہ السلام) بردبار اور نرم خو تھے۔ ( التوبۃ:114) البقرة
125 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بیت اللہ کا متولی ہونے کا ثبوت فراہم کیا گیا۔ اس جہان رنگ و بو میں بے شمار خوبصورت سے خوبصورت ترین عمارات و محلات موجود ہیں۔ جن کے حسن و جمال میں اضافہ کرنے کے لیے لاکھوں، کروڑوں، اربوں روپے خرچ ہوئے اور کیے جا رہے ہیں۔ ان کو دیکھو تو عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن کوئی ایسی جگہ یا عمارت نہیں جس کے دیدار کو اہل جہاں کے لیے لازم قرار دیا گیا ہو اور جس کے لیے اتنی دنیا کے دل تڑپتے ہوں یہ اکرام و اعزازصرف ایک عمارت کو نصیب ہوا جس کو عام پتھروں سے اٹھایا گیا ہے۔ اللہ رب العزت نے اس کو بیت اللہ قرار دیا یعنی اللہ کا گھر۔ ﴿وَلِلّٰہِ عَلٰی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا﴾[ آل عمران :97] ” اور اللہ کے لیے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھتے ہوں۔“ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دین حنیف کی تبلیغ کے لیے اردن‘ شام اور حجاز مقدس کو مرکز قرار دیا تھا اردن میں حضرت لوط، حجاز میں حضرت اسماعیل اور شام فلسطین میں بذات خود اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) دین حنیف کی خدمت کررہے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) گاہے گاہے ان مراکز کا دورہ کرتے اور ہدایات فرماتے رہتے تھے۔ اس طرح آپ حسب معمول حکم خداوندی حضرت ہاجرہ[ اور جناب اسماعیل (علیہ السلام) کی خبر گیری کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے اسی اثنا میں تعمیر کعبہ کا حکم ہوا جس کی نبی رحمت {ﷺ}کی زبان اطہر سے بخاری شریف میں ان الفاظ میں تفصیل موجود ہے : (ثُمَّ لَبِثَ عَنْہُمْ مَّاشَآء اللّٰہُ ثُمَّ بَعْدَ ذَلِکَ وَ إسْمٰعِیْلُ یُبْرِیْ نَبْلًا لَّہٗ تَحْتَ دَوْحَۃٍ قَرِیْبًا مِّنْ زَمْزَمَ فَلَمَّا رَاٰہٗ قَامَ إلَیْہِ فَصَنَعَا کَمَا یَصْنَعُ الْوَالِدُ بالْوَلَدِ ثُمَّ قَالَ یَا إسْمَاعِیْلُ إِنَّ اللّٰہَ أَمَرَنِیْ أَنْ اَبْنِیَ ہٰہُنَا بَیْتًا وَأَشَارَ إلٰی اَکْمَۃٍ مُرْتَفِعَۃٍ عَلٰی مَا حَوْلَہَا قَالَ فَعِنْدَ ذٰلِکَ رَفَعَا الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ فَجَعَلَ إسْمَاعِیْلُ یَأْتِیْ بالْحِجَارَۃِ وَ اِبْرَاہِیْمُ یَبْنِیْ حَتّٰی اِذَا ارْتَفَعَ الْبِنَاءُ جَآءَ بِہٰذَا الْحَجَرِ فَوَضَعَہٗ لَہٗ فَقَامَ عَلَیْہِ وَہُوَ یَبْنِیْ وَ إسْمَاعِیْلُ یُنَاوِلُہُ الْحِجَارَۃَ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ﴿ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا ﴾] ” پھر جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے ملک (فلسطین) میں ٹھہرے رہے اس کے بعد جب اسماعیل (علیہ السلام) کے پاس تشریف لائے تو اسماعیل (علیہ السلام) زمزم کے پاس ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر تیر ٹھیک کر رہے تھے۔ جب اسماعیل (علیہ السلام) نے اپنے والد مکرم کو دیکھا تو اٹھ کر استقبال کیا چنانچہ دونوں اس طرح ملے جس طرح باپ اپنے بیٹے سے ملتا ہے پھر فرمانے لگے : بیٹا اسماعیل! مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس اونچی جگہ پر بیت اللہ کو تعمیر کروں۔ اسماعیل (علیہ السلام) نے عرض کی میں حاضر خدمت ہوں۔ نبی اکرم {ﷺ}ارشاد فرماتے ہیں اسی جگہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھائیں۔ اسماعیل (علیہ السلام) پتھر لائے جا رہے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر فرما رہے تھے جب دیواریں اونچی ہوگئیں اور زمین پر کھڑے ہو کر پتھر لگانا مشکل ہوگیا تو جبرائیل (علیہ السلام) یہ پتھر لے کر آئے جس کو مقام ابراہیم کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس پتھر پر چڑھ کر کعبہ کی تکمیل فرمائی اور اسماعیل (علیہ السلام) معاونت کرتے رہے۔“ ﴿وَإذْ یَرْفَعُ إبْرَاہِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ إسْمٰعِیْلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴾ [ البقرہ :127] اور یاد کرو جب ابراہیم اور اسماعیل {علیہ السلام}بیت اللہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے اے ہمارے پروردگار ! ہماری یہ خدمت قبول فرما تو سب کی سننے اور جاننے والا ہے۔“ پاک صاف رکھنے کا معنٰی صرف یہی نہیں کہ اس کو کوڑے کرکٹ سے پاک صاف رکھا جائے بلکہ اس کے ساتھ اس کو شرک وبدعات کی روحانی گندگی اور فتنہ فساد سے بھی محفوظ رکھا جائے جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقام میں واضح ارشاد موجود ہے کہ مشرک کو حرم میں داخل نہ ہونے دیا جائے کیونکہ مشرک روحانی طور پر گندہ اور پلید ہوتا ہے۔ ﴿یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا إِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا۔۔ [ التوبۃ:28] ” اے ایمان والو! مشرکین ناپاک ہیں اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔“ ﴿مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ أَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰھِدِیْنَ عَلٰٓی أَنْفُسِھِمْ بالْکُفْرِ أُولٰئِکَ حَبِطَتْ أَعْمَالُھُمْ وَفِی النَّارِ ھُمْ خَالِدُوْنَ﴾ [ التوبۃ:18] ” مشرکین کو کوئی حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے معمار بنیں درآں حالیکہ وہ اپنے اوپر خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں۔ ان کے تو سارے اعمال ضائع ہوگئے اور جہنم میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔“ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا مانگی تھی خدایا مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچائے رکھنا۔ ﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ أَنْ نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ۔ رَبِّ إِنَّھُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ۔۔[ ابراہیم : 35، 36] ” اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور دعا کی کہ پروردگار اس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ یارب ! اس لیے کہ ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔“ اس لیے نبی اکرم {ﷺ}نے جب مکہ فتح کیا تو تمام بتوں کو مسمار کردیا اور کعبہ میں داخل ہو کر ان تصویروں کو بھی مٹایا جو مشرکین نے دیواروں پر ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کی بنائی ہوئی تھیں۔ رسول اللہ {ﷺ}نے فتح مکہ کے موقع پر ارشاد فرمایا : ” یقینا اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت والا بنایا ہے جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا ہے یہ اللہ کی حرمت کی وجہ سے قیامت تک محترم ہے نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا نہ ہی بعد میں کسی کے لیے حلال ہوگا میرے لیے بھی تھوڑی دیر کے علاوہ کبھی حلال نہ ہوگا۔ نہ اس کا شکار بھگایا جائے نہ اس کا کانٹا اکھاڑا جائے اور نہ ہی گھاس کاٹی جائے اور وہاں کسی کی گری ہوئی چیز اعلان کرنے والے کے علاوہ کوئی نہ اٹھائے۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب {رض}کہنے لگے اللہ کے رسول! اذخر نامی گھاس مستثنیٰ کریں کیونکہ وہ لوہاروں اور گھروں کے لیے ضروری ہے آپ خاموش رہے پھر فرمایا ہاں اذخر گھاس حلال ہے۔“ [ رواہ البخاری : کتاب الجزیۃ، باب إثم الغادر] مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کو مرکز خلائق اور جائے امن بنایا ہے۔ ٢۔ مقام ابراہیم کو جائے نماز بنانا چاہیے۔ 2۔ بیت اللہ کو ہر آلائش سے پاک صاف رکھنا لازم ہے۔ تفسیر بالقرآن بیت اللہ کا مقام ومرتبہ : 1۔ بیت اللہ ہدایت کا مرکز ہے۔ (آل عمران :96) 2۔ اہل مکہ کو بیت اللہ کی وجہ سے امن، رزق اور احترام ملاہے۔ (قریش : 3، 4) 3۔ بیت اللہ جائے امن ہے۔ (آل عمران :97) 4۔ بیت اللہ جائے ثواب ہے۔ (البقرۃ:125) 5۔ بیت اللہ قبلہ ہے۔ (البقرۃ:144) البقرة
126 فہم القرآن : ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور مکہ کے مرکز ہونے کا ثبوت اور ان کی اہل مکہ کے لیے خصوصی دعائیں۔ سورۃ ابراہیم آیت ٣٧ میں بیان ہوا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اہل خانہ کو بیت اللہ کے پڑوس میں چھوڑ کر جا رہے تھے۔ تو انہوں نے دوسری دعاؤں کے ساتھ یہ بھی التجا اور دعا کی تھی کہ بار الہٰا ! میں اپنی رفیقۂ حیات اور لخت جگر کو ایسی سر زمین پر چھوڑ رہا ہوں جو بنجر اور غیر آباد ہے۔ اس لیے ان کی روزی کا انتظام فرما۔ ساکنین مکہ کے لیے رزق کی دعا کرتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تخصیص کے ساتھ عرض کی کہ الٰہی! رزق صرف ان لوگوں کو ملنا چاہیے جو تیری ذات کبریا اور آخرت کی جزا و سزا پر یقین رکھتے ہوں۔ اس تخصیص کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی غیرت ایمانی کی بنا پر جس کی وجہ سے بسا اوقات خدا کے منکروں کی عیش و عشرت دیکھ کر مومن محسوس کرتا ہے کہ ان وسائل سے یہ لوگ اور زیادہ نافرمان ہوئے جا رہے ہیں۔ انہیں تو رزق ملنے کی بجائے بھوکا مرنا چاہیے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جب جناب ابرہیم (علیہ السلام) کو امامت کے منصب سے نوازا گیا تھا تو انہوں نے یہ اعزاز اپنی اولاد کے لیے بھی مانگا تھا۔ جس کی وضاحت میں ارشاد ہوا تھا کہ ظالموں کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہو پائے گا۔ تب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سوچا کہ شاید رزق کا معاملہ بھی ایساہی ہو لہٰذا انہوں نے مومنوں کے لیے ہی رزق کی دعا کی۔ جس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ رزق تو سب کو دیا جائے گا لیکن ناشکروں اور نافرمانوں کو قیامت کے دن ان کے کفر و شرک کی وجہ سے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ یہاں جہنمی کو جہنم میں داخل کرنے کے لیے اضطرار کا لفظ استعمال فرمایا ہے کیونکہ جہنم کو دیکھ کر جہنمی چیخیں چلائیں گے کہ ہمیں جہنم میں داخل نہ کیا جائے لیکن یہ چیخ و پکار انہیں جہنم سے نہیں بچا سکے گی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اہل مکہ کے لیے رزق کی دعا کرتے ہوئے ثمرات کا لفظ استعمال کیا ہے اس کا معنٰی صرف میوہ جات وثمرات نہیں بلکہ ہر قسم کی آمدنی ہے۔ جیسا کہ ہر زبان میں محاورہ ہے کہ یہ اجر فلاں محنت کا نتیجہ و ثمرہ ہے۔ اس کی وضاحت سورۃ قصص آیت 57میں فرمائی گئی ہے : ﴿وَقَالُوْا إِنْ نَتَّبِعِ الْہُدٰی مَعَکَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا أَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَہُمْ حَرَمًا آَمِنًا یُجْبَی إِلَیْہِ ثَمَرَاتُ کُلِّ شَیْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَّا وَلٰکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴾[ القصص :57] ” اور کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اچک لیے جائیں۔ کیا ہم نے ان کو حرم میں جو امن کا مقام ہے، جگہ نہیں دی۔ جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائیں جاتے ہیں اور رزق ہماری طرف سے ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔“ یاد رہے پھل کے لیے قرآن میں فَاکِھَۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کی جمع عربی میں ”فَوَاکِھَۃ“ آتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی رفیقۂ حیات حضرت ہاجرہ اور لخت جگر کو مکہ میں چھوڑتے وقت سب سے پہلے جو دعا کی وہ امن وا مان کے بارے میں تھی۔ کیونکہ اس وقت حضرت ہاجرہ اور ان کے لخت جگر اسماعیل کے سوا کوئی اور یہاں آباد نہ تھا۔ اتنے لق ودق صحرا اور سنگلاخ بیابان میں بس ماں بیٹا ہی تو تھے۔ اس لیے ان کے حفظ و امان کی فکر ایک فطری بات تھی۔ اس دعا میں یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ جس مقام پر امن و امان نہ ہو وہاں بسنے والے زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتے۔ لہٰذا کسی جگہ پر ٹھہرنے کے لیے پہلی ضرورت یہی ہوا کرتی ہے کہ وہاں کے باسیوں کو ہر قسم کا سکون میسر ہو۔ اس کے بغیر کوئی علاقہ ترقی نہیں کرسکتا۔ اس لیے چادر اور چار دیواری کی حفاظت حکومت کی اوّلین ترجیح ہونا چاہیے۔ اس دعا کے جواب میں ارشاد ہوا کہ رزق اور دنیا کے فائدے تو ان لوگوں کو بھی عطا کروں گا جو سرے سے میری ذات کے انکاری ہوں گے کیونکہ میں خالق و رازق ہوں۔ البتہ آخرت میں کفر و الحاد اور انکار واعراض کی وجہ سے انہیں سخت عذاب میں دھکیل دیا جائے گا۔ مسائل : 1۔ اہل مکہ کو ہر قسم کے پھل ملنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ رزق عطا کرنے میں کافرو مسلمان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا کیونکہ وہ سب کا رازق ہے۔ 3۔ آخرت کے مقابلے میں پوری دنیا متاع قلیل ہے۔ ٤۔ قیامت کے دن کافر جہنم میں دھکیلے جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں : 1۔ نیک اولاد کے لیے دعا۔ (الصفت :100) 2۔ اللہ تعالیٰ سے قوت‘ حکم اور جنت کی دعا۔ (الشعراء : 82تا85) 3۔ باپ کے لیے بخشش کی دعا جو قبول نہیں ہوئی۔ (الشعراء :86) البقرة
127 فہم القرآن : (آیت 127 سے 128) ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا بانی کعبہ ہونے کا مزید ثبوت کیونکہ باقاعدہ بیت اللہ کا حج انہی کے زمانے سے شروع ہوا اور انہی پر مناسک حج اتارے گئے تھے۔ تاریخ عالم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ بانئ کعبہ کے نام سے مشہور ہیں اس اعزاز پر فخر کرنے کی بجائے اپنے رب کے سامنے حضور قلب اور عجز کے ساتھ فریاد کر رہے ہیں اے رب کریم! تیرے گھر کی تولیّت اور تعمیر محض تیرے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ ورنہ ہماری کیا حیثیت کہ ہم تیرے گھر کی تعمیر اور خدمت کا اعزاز پائیں۔ ہماری التجا ہے کہ اسے دنیا میں سکون کا گہوارہ‘ مرکزہدایت اور لوگوں کی عقیدت و احترام کا مرجع بنادے اور ہماری طرف سے دنیا و آخرت میں یہ معمولی اور ناچیز محنت تیرے حضور شرف قبولیت پائے۔ نیکی کا حقیقی معیار اور مقام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور منظور ہوجائے۔ تکمیل کعبہ کے بعد عظیم باپ اور اس کے کریم بیٹے نے مل کر یہ دعائیں بھی کیں کہ بارِ الٰہ! ہمیں ہمیشہ اپنا تابع فرمان رکھنا اور ہماری اولادبھی آپ کی تابع فرمان رہے تاکہ ہمارے بعد اس مشن کی پشتیبانی کرتے رہیں اور یہ سلسلۂ ہدایت قیامت تک قائم و دائم رہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بیت اللہ کی حاضری کے آداب اور حج کے مناسک کی راہنمائی کے لیے درخواست پیش کرتے ہوئے یہ بھی فریاد کی کہ اے ہمارے خالق و مالک ! ہم پر ہمیشہ اپنے کرم کی توجہ فرماناکیونکہ تیری نظر کرم اور مہربانی سے ہی ہماری خطائیں معاف اور دنیاوآخرت میں سرخروئی حاصل ہوگی۔ بے شک آپ توبہ قبول کرنے والے اور نہایت مہربان ہیں۔ تاریخ کعبۃ اللہ : ﴿إِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ للنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًاوَّ ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ﴾ [ آل عمران :96] ” بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی۔ وہ مکہ مکرمہ میں ہے اس کو خیر وبرکت دی گئی ہے اور اہل دنیا کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا ہے۔“ حافظ ابن حجر عسقلانی {رض}نے فتح الباری شرح جامع صحیح بخاری میں ایک روایت ذکر کی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بیت اللہ کی سب سے پہلی اساس حضرت آدم (علیہ السلام) کے ہاتھوں رکھی گئی اور اللہ کے فرشتوں نے ان کو اس جگہ کی نشاندہی کی پھر طوفان نوح اور ہزاروں سال کے حوادث نے اس کو بے نشان کر دیاتھا۔ (عَنْ عَبْد اللَّہ بن عَمْرو {رض}مَرْفُوعًا : بَعَثَ اللَّہ جِبْرِیل إِلَی آدَم فَأَمَرَہُ بِبِنَاءِ الْبَیْت فَبَنَاہُ آدَم، ثُمَّ أَمَرَہُ بالطَّوَافِ بِہِ وَقِیلَ لَہُ أَنْتَ أَوَّل النَّاس وَہَذَا أَوَّل بَیْت وُضِعَ للنَّاسِ ) [ شرح فتح الباری : ج 10، ص146] ” حضرت عبداللہ بن عمرو بیان مرفوع روایت بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو آدم (علیہ السلام) کے پاس بھیجا اور انہیں بیت اللہ بنانے کا حکم دیا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کی تعمیر کی، پھر انہیں طواف کا حکم ہوا اور ان سے کہا گیا تو لوگوں میں سے سب سے پہلا ہے اور یہ پہلا گھر ہے جو لوگوں کے لیے تعمیر کیا گیا ہے۔“ مسائل : 1۔ نیکی قبول ہونے کی دعا کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نیتوں کو جانتا اور ہر بات کو سننے والا ہے۔ 3۔ اپنے اور اولاد کے لیے مسلمان رہنے کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سے حج کی توفیق مانگنا چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ تو بہ قبول کرنے والا، نہایت ہی شفیق و رحیم ہے۔ تفسیر بالقرآن : بیت اللہ کی فضیلت : 1۔ بیت اللہ کی نشاندہی اللہ تعالیٰ نے فرمائی۔ (الحج :26) 2۔ دنیا میں سب سے پہلے تعمیر ہونے والا گھر بیت اللہ ہے۔ (آل عمران :96) 3۔ بیت اللہ کو ابراہیم و اسماعیل {علیہ السلام}نے تعمیر کیا۔ (البقرۃ:127) 4۔ بیت اللہ کی زیارت ہر صاحب استطاعت پر فرض ہے۔ (آل عمران :97) البقرة
128 البقرة
129 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبی آخر الزماں جناب محمد رسول اللہ {ﷺ}کی نبوت کے لیے خصوصی دعا جس میں واضح ثبوت ہے کہ آخری نبی بنی اسماعیل میں سے مکہ میں ہوگا۔ قرآن مجید کے الفاظ سے ثابت ہورہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلی دعا اس وقت کی جب انہوں نے اپنی رفیقۂ حیات اور لخت جگر کو بیت اللہ کے قریب ٹھہرایا تھا۔ کچھ دعائیں تعمیر کعبہ کے دوران اور باقی تکمیل کے بعد اللہ کے حضور کی گئیں۔ آخری دعا میں ایک ایسے نبی کی ضرورت کا تذکرہ ہے جو نا صرف اسی قوم سے ہو بلکہ اس کی پیدائش بھی مکہ معظمہ میں ہونے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس دعا میں نبوت کی غرض و غایت اور اس کے چار بنیادی فرائض کا ذکر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری دعاؤں کے ساتھ اس دعا کو بھی شرف قبولیت بخشتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نبی آخر الزماں کی بشارت سے نوازا۔ (قَدْ أُسْتُجِیْبَ لَکَ وَہُوَ کَائِنٌ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ) [ تفسیر ابن کثیر ] ” کہ تیری دعا مقبول ہے اور وہ نبی آخر زمانہ میں ہوگا۔“ (عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ {رض}قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَا کَانَ أَوَّلُ اَمْرِکَ قَالَ دَعْوَۃُ أَبِیْ إِبْرَاہِیْمَ وَبُشْرٰی عِیْسٰی وَرَأَتْ أُمِّیْ أَنَّہٗ یَخْرُجُ مِنْھَا نُوْرٌ أَضَاءَ تْ مِنْھَا قُصُوْرُ الشَّامِ) [ مسند احمد : کتاب باقی مسند الانصار، باب حدیث أبی امامۃ الباہلی الصدی بن عجلان] ” حضرت ابو امامہ {رض}بیان کرتے ہیں میں نے رسول محترم {ﷺ}سے پوچھا کہ آپ کی نبوت کی ابتدا کس چیز سے ہوئی؟ آپ {ﷺ}نے فرمایا : میرے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا‘ عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور میری ماں نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محل روشن ہوگئے۔“ مسائل : 1۔ کتاب اللہ کی تبلیغ، تعلیم، لوگوں کو دانش سکھلانا اور تربیت کرنا نبوت کے بنیادی کام ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت ہوتی ہے۔ البقرة
130 فہم القرآن : (آیت 130 سے 132) ربط کلام : سابقہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عقیدے کی وضاحت ان کو بیت اللہ کا بانی ثابت کرنا ان کا اہل مکہ سے خصوصی تعلق اور نبی کریم کی نبوت کے بارے میں واضح ثبوت دیتے ہوئے یہ وضاحت کی جارہی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو بھی اسی عقیدے کی وصیت فرمائی تھی جس کی دعوت نبی آخر الزمان {ﷺ}پیش کررہے ہیں۔ جو شخص ابراہیم (علیہ السلام) کے عقیدہ اور ان حقائق کو نہیں مانتا اس کی حماقت میں کیا شک ہوسکتا ہے؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے رب کے حضور اطاعت گزاریاں‘ قربانیاں‘ دعائیں بالخصوص یہ ا لتجا جس میں نبی آخر الزماں کی بعثت کی آرزو کی گئی ہے ان سے وہی شخص اعراض و انحراف کرسکتا ہے جس نے اپنے آپ کے لیے حماقت اور نقصان کا راستہ پسند کرلیا ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمات اور امتحانات کی وجہ سے انہیں دنیا میں نیک نامی‘ عظمت اور رہتی دنیا تک امامت کے منصب سے سرفراز فرمایا ہے اور آخرت میں یقیناً وہ خدا کے پسندیدہ اور برگزیدہ لوگوں میں ہوں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اطاعت شعاری کا یہ حال تھا کہ جب بھی ان کے رب نے انہیں حکم فرمایا کہ تابعدار ہوجاؤ۔ وہ یہ کہتے ہوئے پورے اخلاص اور مکمل انہماک کے ساتھ اپنے رب کے فرمانبردار ہوئے کہ فرمانبرداری میرا کمال اور احسان نہیں میں تو اس رب کی فرمانبرداری کر رہا ہوں جس کی سب کو فرمانبرداری کرنا چاہیے۔ کیونکہ وہ تو سب کو پالنے والا اور تمام جہانوں کا مالک ہے۔ یہ فرمانبرداریاں ان کی ذات اور بیٹوں تک محدود نہیں تھیں بلکہ ان کے پوتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اپنی نسل کو اسی طریقے اور دین پر مر مٹنے کی ہدایت کی تھی۔ لیکن اے اہل کتاب ! تمہاری حالت یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وراثت کے دعویدار ہونے کے باوجود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بنائے ہوئے گھر کو تسلیم نہیں کرتے ہو اور نہ ہی ان کی دعا کے صلہ میں مبعوث ہونے والے محمد عربی خاتم النبیین {ﷺ}کو ماننے کے لیے تیار ہو۔ تم ہی بتاؤ اس سے زیادہ حماقت اور کیا ہو سکتی ہے؟ آدمی کے انجام کا دارومدار اس کے خاتمہ پر ہے لہٰذا آدمی کو اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے۔ جس کے بارے میں نبی کریم {ﷺ}یوں فرمایا کرتے تھے : (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ {رض}أَنَّ رَسُول اللّٰہِ {}قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِیلَ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ثُمَّ یُخْتَمُ لَہٗ عَمَلُہٗ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِیلَ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِثُمَّ یُخْتَمُ لَہٗ عَمَلُہٗ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ) [ رواہ مسلم : کتاب القدر، باب کیفیۃ خلق الآدمی فی بطن امہ۔۔] ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : آدمی طویل عرصہ جنتیوں والے اعمال کرتارہتا ہے پھر اس کا خاتمہ جہنمیوں والے اعمال پر ہوجاتا ہے اور ایک آدمی لمبا عرصہ جہنمیوں والے اعمال کرتارہتا ہے پھر اس کا خاتمہ جنتیوں والے اعمال پر ہوجاتا ہے۔“ مسائل : 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرز حیات سے منہ پھیرنے والا احمق ہوگا۔ 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دنیا میں معزز ترین اور آخرت میں صالحین میں سے ہیں۔ 3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) زندگی بھر اپنے رب کے تابع فرمان رہے۔ 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے پوتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو مرتے دم تک مسلمان رہنے کی وصیت فرمائی۔ تفسیر بالقرآن : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سب کے پیشواہیں : 1۔ ابراہیم (علیہ السلام) سب کے پیشوا ہیں۔ (البقرۃ :124) 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) سب کے لیے اسوہ ہیں۔ (الممتحنۃ:4) 3۔ نبی آخر الزمان {ﷺ}کو ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کا حکم ہوا ہے۔ (النحل :123) 4۔ ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کا سب کو حکم ہے۔ ( آل عمران :95) البقرة
131 البقرة
132 البقرة
133 فہم القرآن : (آیت 133 سے 134) ربط کلام : پہلی آیات میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وصیتکا بیان تھا۔ جس کا اہل کتاب انکار کرتے ہیں۔ لہٰذا ان سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا تم ان کی وفات کے وقت موجود تھے کہ انہوں نے یہ نصیحت نہیں کی تھی؟ انبیائے عظام کے ذمہ قوموں کی رہنمائی کا فریضہ ہوا کرتا ہے۔ اس جان کٹھن اور ہمہ وقت بھاری ذمہ داری کے باوجود انبیاء اپنے اہل خانہ کی ذمہ داریوں سے لمحہ بھر کے لیے غافل نہیں ہوا کرتے تھے۔ ان کی کوشش ہوتی کہ ان کی ذات اہل خانہ اور لوگوں کے لیے بہترین نمونہ ثابت ہوں۔ اس بارے میں وہ اس قدر فکر مند ہوتے تھے کہ جب موت کا فرشتہ سرہانے کھڑا جان قبض کرنے کی اجازت لے رہا ہوتا۔ جن نازک لمحات میں انسان کی نگاہیں دنیا کی بجائے اگلی منزل پر مرکوز ہوتی ہیں دوسری کوئی چیز سوجھائی نہیں دیتی۔ انبیاء اس وقت بھی اپنی ذمہ داری کے بارے میں فکر مند ہوتے تھے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اسی فکر مندی میں اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے ایک عہد لے رہے ہیں کہ جان پدر! میرے چل چلاؤ کا وقت آن پہنچا ہے۔ لیکن میں اس اطمینان اور تسلی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہونا چاہتا ہوں وعدہ کیجیے کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی دعاؤں اور کوششوں کا نتیجہ تھا کہ ان کی اولاد بیک زبان عرض کرتی ہے ہم آپ کے معبود اور اپنے عظیم آباء حضرت ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق (علیہ السلام) کے معبود کی عبادت کیا کریں گے۔ ان سب کا ایک ہی معبود تھا لہٰذا ہم ایک ہی الٰہ کے تابع فرمان اور اس کی عبادت کریں گے۔ اس واقعہ میں بتلایا جا رہا ہے کہ والدین کو اپنی ذمہ داریوں کا کس قدر خیال رکھنا چاہیے۔ ساتھ ہی اہل کتاب کو باور کروایا گیا ہے کہ اگر تم واقعی اپنے آپ کو اس عظیم خاندان کا وارث سمجھتے ہو تو تمہیں صالح اولاد کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے باپ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت اور عہد کا خیال رکھنا چاہیے۔ ان کا عقیدہ توحید پر مبنی اور کردار اللہ تعالیٰ کے فرمان کے تابع تھا۔ اگر تم نے اپنے عقیدہ اور کردار کو ان جیسا بنانے کی کوشش نہ کی اور آخرالزمان نبی {ﷺ}پر ایمان نہ لائے تو قیامت کے دن محض عقیدت اور نسبت کچھ کام نہ آسکے گی اور دنیا میں بھی کوئی قوم صرف حسب ونسب کی بنیاد پر عزت و رفعت حاصل نہیں کرسکتی۔ نبی معظم {ﷺ}نے اس اصول کا اس طرح تذکرہ فرمایا ہے۔ (۔۔ مَنْ بَطَّأَ بِہٖ عَمَلُہٗ لَمْ یُسْرِعْ بِہٖ نَسَبُہٗ) [ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء ] ” جو اعمال کی وجہ سے پیچھے رہ گیا اسے حسب ونسب کام نہیں دے گا۔“ اس کے ساتھ یہ اصول بھی بیان فرما دیا گیا کہ کوئی کسی کے اعمال کی وجہ سے نہ پکڑا جائے گا اور نہ بخشا جائے گا اور یہی اصول اسلامی حکومت کے لیے لازم قرار پایا۔ رسول اللہ {ﷺ}کا ارشاد ہے : (لا يُقادُ والدٌ بوَلَدِه ) [ مسند احمد : کتاب مسند العشرۃ المبشرین بالجنۃ ] ” باپ کے بدلے بیٹا نہیں پکڑا جا سکتا۔“ مسائل : 1۔ ماں باپ کو اپنی اولاد سے توحید اور خدا کی عبادت کا عہد لینا چاہیے۔ 2۔ تمام انبیاء ایک اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ 3۔ لوگوں کو قیامت کے دن ان کے اپنے اپنے اعمال کے بارے میں سوال ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : اللہ کا پسندیدہ دین اسلام ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو پسند فرمایا ہے۔ (المائدۃ:3) 2۔ اللہ تعالیٰ اسلام کی دعوت دیتا ہے۔ (یونس :25) 3۔ اسلام فرمانبرداری کا نام ہے۔ (آل عمران :83) 4۔ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہونا چاہیے۔ (البقرۃ:208) 5۔ اسلام پر ہی مرمٹنا چاہیے۔ (آل عمران :102) 6۔ یوسف (علیہ السلام) بھی یہی دعا کرتے تھے۔ ( یوسف :101) البقرة
134 البقرة
135 فہم القرآن : ( آیت 135 سے 136) ربط کلام : اہل کتاب لوگوں کو یہودی اور عیسائی ہونے کی دعوت دیتے ہیں حالانکہ لوگوں کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت دینا چاہیے۔ لہٰذا اے نبی آخر الزماں حضرت محمد {ﷺ}آپ لوگوں کو وہی دعوت دیں جو ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد عالی دیا کرتی تھی۔ وہ دعوت توحید خالص اور دین اسلام کی دعوت تھی۔ فکر و عمل کے لحاظ سے کمزور جماعتیں لوگوں کو اپنی طرف راغب رکھنے اور اپنے بوسیدہ نظریات کو منوانے کے لیے ہمیشہ سے بزرگوں کا نام ناجائز استعمال کرتی آئی ہیں۔ ایسے لوگ فکری دولت سے اس قدر محروم ہوتے ہیں کہ وہ صدیوں پہلے فوت شد گان بزرگوں کو بھی اپنے بوسیدہ نظریات کا حامل ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ بھی اسی فکری بیچارگی کا شکار تھے اور ہیں۔ لہٰذا جب بھی انہیں دین اسلام کی دعوت پیش کی جاتی ہے تو وہ اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور جناب یعقوب (علیہ السلام) کو یہودی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ یہاں ایک بار پھر واضح کیا جا رہا ہے کہ جن بزرگوں کو تم اپنے نظریات کا حامل ثابت کر رہے ہو ان کا تو تمہارے نظریات کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں تھا اور نہ ہی مشرکین کے ساتھ ان کا تعلق جوڑا جا سکتا ہے لہٰذا سرور گرامی {ﷺ}کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ دو ٹوک انداز میں اس بات کا اظہار فرمائیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے انبیاء کا نظریہ یہود و نصاریٰ اور اہل مکہ کے نظریات سے یکسر مختلف تھا۔ وہ تو ایک رب کی توحید کو ماننے والے اور زندگی بھر اسی کے تابع فرمان رہنے والے تھے۔ اسی دعوت کا اقرار اور اظہار مسلمانوں سے کروایا جا رہا ہے کہ ہم اسی عقیدے کے حامل اور اسی دعوت کے داعی ہیں جو عظیم المرتبت ہستیاں اور ان کی نیک اولاد پھر انہی کی پیروی کرنے والے جلیل القدر پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دیا کرتے تھے۔ ہم بلا تفریق ان کی پیغمبرانہ حیثیت کو تسلیم اور ان کی شریعتوں کی تائید کرتے ہیں۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ {رض}قَالَ کَانَ أَہْلُ الْکِتَابِ یَقْرَءُ وْنَ التَّوْرَاۃَ بالْعِبْرَانِیَّۃِ وَیُفَسِّرُونَہَا بالْعَرَبِیَّۃِ لِأَہْلِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ {}لَا تُصَدِّقُوا أَہْلَ الْکِتَابِ وَلَا تُکَذِّبُوْہُمْ وَقُوْلُوْا﴿ آمَنَّا باللّٰہِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَیْنَا﴾ الْآیَۃَ) [ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا ﴾] ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب تورات کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی زبان میں کرتے تھے تو رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : نہ تم اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ ان کو جھٹلاؤ بلکہ تم کہو کہ ہم اللہ پر اور جو ہماری طرف اتارا گیا اس پر ایمان لے آئے ہیں۔“ مسائل : 1۔ ہدایت کا سرچشمہ صرف ملت ابراہیم ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اور قرآن مجید، پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانا اور تمام انبیاء کو بلا تفریق تسلیم کرنا ہی اسلام ہے۔ 3۔ انبیاء کے درمیان فرق کرنا کفر ہے۔ 4۔ انبیاء میں سے کسی کی گستاخی کرناجائز نہیں۔ تفسیر بالقرآن : انبیاء کا مقام اور کتب آسمانی کا احترام : 1۔ تمام انبیاء پر ایمان لانا فرض ہے۔ (البقرۃ:136) 2۔ پہلی کتب آسمانی پر ایمان لانا لازم ہے۔ (البقرۃ:4) 3۔ اللہ تعالیٰ اور انبیاء کے درمیان فرق کرنا کفر ہے۔ (النساء :150) البقرة
136 البقرة
137 فہم القرآن : (آیت 137 سے 138) ربط کلام : صحابہ کرام {رض}نبی {ﷺ}کی دعوت کے وارث اور اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے جس وجہ سے ان کے ایمان کو ایمان کی کسوٹی قرار دیا گیا ہے۔ اے یہود و نصاریٰ اور دنیا کے لوگو! اگر تم صحابہ کرام {رض}کی طرح ایمان اور تسلیم و رضا کا رویہ اختیار کرلو تو ہدایت پا جاؤ گے۔ اگر لوگ نبی کی دعوت اور صحابہ کے طریقہ کا انکار کریں تو پھر سمجھ جائیے کہ یہ لوگ مخالفت برائے مخالفت کی روش کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مسلمانو! بے پرواہ ہوجاؤ کفار کا حسد و بغض اور اختلاف تم کو حقیقی اور دائمی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شرارتوں سے تمہیں محفوظ رکھنے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ اللہ ان کی زبان درازیوں اور سازشوں کو جاننے اور سننے والا ہے۔ دنیا کے مختلف مذاہب نے اپنی پہچان کے لیے اپنے طور پر کچھ شعار اور نشان مقرر کر رکھے ہیں نبی اکرم {ﷺ}کے دور میں غیر یہودی یہودیت میں داخل ہوتا تو یہودی اسے خاص طریقے سے غسل دیتے اور عیسائی اپنے مذہب میں داخل ہونے والے کو رنگ دار پانی کے ساتھ نہانے کا حکم دیتے۔ جسے اصطباع کا نام دیا گیا تھا۔ بعدازاں یہودیوں نے مذہبی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے آہستہ آہستہ یہ عقیدہ بنا لیا کہ نسلی یہودی کے علاوہ غیر مذہب کا کوئی شخص یہودی مذہب قبول نہیں کرسکتا عیسائیوں نے بپتسمہ کی رسم ایجاد کی ان کی دیکھا دیکھی ہندوؤں نے تلک ایجاد کیا کہ جب کوئی ہندو مذہب قبول کرے تو باقی رسومات کے ساتھ اس کے ماتھے پر صنوبر کا نشان لگایا جائے جسے وہ تلک کا نام دیتے ہیں۔ ہندوؤں اور دوسرے مذاہب سے منفرد ہونے کے لیے سکھوں نے اپنے لیے پانچ نشان مقرر کیے۔ کیس‘ کرپان‘ کلائی میں کڑا‘ جیب میں کنگھا اور کچھا اپنا مذہبی نشان قرار دیا ہے۔ زرتشت جو ایران میں پائے جاتے ہیں چین‘ جاپان‘ ہندوستان‘ سری لنکا اور دیگر ممالک میں بسنے والے بدھ مت کے پیرو کاروں نے اپنے لیے ایک عہد تیار کیا ہے۔ ان کے مذاہب میں داخل ہونے والا۔ مخصوص الفاظ میں ایک عہد کا اظہار کرتا ہے۔ لیکن اسلام ایسا دین ہے جس نے مسلمان ہونے کے لیے کلمہ پڑھنا لازم قرار دیا ہے۔ جس کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ مسلمان ہونے والا اقرار کرتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا معبود‘ خالق‘ مالک‘ رازق‘ حاکم‘ حاجت روا اور مشکل کشا نہیں سمجھتا اور میرے راہنما‘ مرشد اور قائد حضرت محمد رسول اللہ {ﷺ}ہیں جو میرے لیے کامل واکمل نمونہ ہیں اور میں اسی کو دنیاوآخرت کی فوزوفلاح کا ذریعہ سمجھتاہوں اور اسی طریقہ پر زندگی بسر کروں گا جب اس عقیدے کا رنگ انسان کے کردار پر چڑھ جائے تو اسے کوئی خوف اور لالچ اپنے مقصد سے نہیں ہٹا سکتا۔ اس عقیدہ کو ” صِبْغَۃَاللّٰہِ“ کا نام دیا گیا ہے۔ جس کے مختلف شیڈ (Shade) ہیں جن کا تذکرہ سورۃ الاحزاب کی آیت 22اور سورۃ التوبہ کی آیات 20تا 22میں کیا گیا ہے۔ زرتشت اور بدھ کا عہد : بپتسمہ عیسائیوں کی وہ رسم ہے جو عیسائی مذہب میں شامل ہونے کے وقت ادا کی جاتی ہے اور اس رسم کی ادائیگی کے بغیر کوئی عیسائیت میں داخل نہیں ہوسکتا اور اس رسم کا تعلق ایک طرح سے عقیدہ کفارہ سے ہے۔ ان کے خیال میں اس رسم کی ادائیگی کے بعد انسان گناہوں سے بالکل پاک ہوجاتا ہے اسے مختلف انداز سے سر انجام دیا جاتا ہے۔ عام طور پر ایسے شخص کو جسے بپتسمہ دیا جائے ایک کمرے میں لٹا کر اس کے پورے جسم پر تیل کی مالش کی جاتی ہے جس کے بعد اسے غسل دیا جاتا ہے اور اس سے پوچھا جاتا ہے۔ کیا تم باپ بیٹے اور روح القدس پر مکمل ایمان رکھتے ہو؟ اس کے اقرار کرنے کے بعد اسے سفید کپڑے پہنائے جاتے ہیں اور پھر وہ تمام اشخاص جو بپتسمہ لے چکے ہیں اجتماعی طور پر کلیسا میں جاتے ہیں اور عشائے ربانی میں شرکت کرتے ہیں۔ بپتسمہ کا ذکر انجیل مارک میں ملتا ہے۔ ” یوحنا لوگوں کو بپتسمہ دیتا اور لوگوں کو ان کے گناہوں سے پاک کرتا تھا۔ یروشلم کے بہت سے لوگ اس کے پاس آئے اور اپنے گناہوں کا اقرار کرکے بپتسمہ لیا اور یوحنا اس بات کا اقرار کرتا تھا کہ میرے بعد وہ شخص آئے گا جو مجھ سے زیادہ طاقت والا ہوگا اور تمہیں روح القدس سے بپتسمہ دے گا۔“ اس انجیل میں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح نے یوحنا سے بپتسمہ لیا۔ عشائے ربانی : عیسائی عقیدہ میں اس رسم کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ بقول عیسائی حضرات اس رسم کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنفس نفیس محفل میں تشریف لاتے ہیں۔ اس کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ اتوار کو گرجا میں سروس اور پھر دعا وغیرہ کے بعد پادری باپ بیٹے اور روح القدس کی برکت سے دعا کرتا ہے اور روٹی شراب میں بھگو کر تقسیم کی جاتی ہے۔ تاکہ عقیدہ کفارہ کی یاد تازہ کی جائے اور یہ روٹی اور شراب عیسائی حضرات کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح کا گوشت اور خون بنتے ہیں۔ یہ عبادت اس یاد میں کی جاتی ہے کہ جب گرفتاری سے قبل یسوع مسیح نے حواریوں کے ساتھ کھانا کھایا تھا اور ان سے کہا کہ : And as they were eating, Jesus took bread, and blessed it, and brake it, and gave it to the discibles, and said Take, eat; this is my body. And he took the cup, and gave thanks, and gave it to them, saying, Drink ye all of it: For this is my blood of the new testament, which is shed for many for the remission of sins. ” جب وہ کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی لی اور برکت دے کر توڑی اور شاگردوں کو دے کر کہا لو کھاؤ یہ میرا بدن ہے پھر پیالہ لے کر شکر کیا اور ان کو دے کر کہا کہ تم سب اس میں سے پیو کیونکہ یہ میرا وہ عہد کا خون ہے جو بہتیروں کے لیے گناہوں کی معافی کے واسطے بہایا جاتا ہے۔“ (ادیان ومذاہب کا تقابلی مطالعہ، ڈاکٹر عبدالرشید، کراچی یونیورسٹی) مسائل : 1۔ ہدایت کا سرچشمہ صرف ملت ابراہیم ہے۔ 2۔ صحابہ کرام کا ایمان امت کے لیے کسوٹی ہے۔ صحابہ کے ساتھ حسد، بغض اور اختلاف رکھنے والا دین کا دشمن ہے۔ 3۔ صحابہ کے دشمنوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ حفاظت کرنے والا ہے۔ 4۔ خدا کی عبادت اور توحید کا رنگ دنیا کے ہر رنگ اور نشان سے خوبصورت ہے، پورے اخلاص کے ساتھ اسے اختیار کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : شان صحابہ {رض}: 1۔ اللہ نے صحابہ کے ایمان کو آزمالیا۔ (الحجرات :3) 2۔ صحابہ ایمان کا معیار ہیں۔ (البقرۃ :137) 3۔ صحابہ اللہ کی جماعت ہیں۔ (المجادلۃ:22) 4۔ صحابہ {رض}کو براکہنے والے بیوقوف ہیں۔ (البقرۃ :13) 5۔ صحابہ {رض}دنیا و آخرت میں کامیاب ہوئے۔ (المجادلۃ:22) 6۔ صحابہ {رض}کو اللہ نے اپنی رضا کی ضمانت دی ہے۔ (البینۃ:8) 7۔ صحابہ {رض}بھی اللہ پر راضی ہوگئے۔ (البینۃ:8) البقرة
138 البقرة
139 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عبادت سے انحراف اور اس کے احکام کا انکار کرنے والا عملًا اللہ تعالیٰ سے جھگڑا کرتا ہے۔ اے نبی {ﷺ}! اب ان سے پوچھیے کیا تم ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتے ہو جس کی توحید اور اطاعت کا رنگ ہم نے اختیار کرلیا ہے جو ہمارا مالک‘ ہمیں پالنے والا اور تمہارا مالک اور تمہیں بھی روزی مہیا کرنے والا ہے۔ جب ہم ایک ہی مالک کی مخلوق اور ایک ہی رازق کے در کے سوالی اور محتاج ہیں تو پھر اس ذات کبریا کے بارے میں ہمارے ساتھ کیوں جھگڑتے ہو؟ ایک مالک‘ خالق اور ایک ہی رازق ماننے والوں کو ایک ہی امت ہونا چاہیے اگر تم دنیا وآخرت کی سب سے بڑی سچائی توحید کو ماننے کے لیے آمادہ نہیں اور اللہ تعالیٰ کی غلامی میں آنے کے لیے تیار نہیں تو پھر ہم نے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے اور تم اپنے کردار کے بارے میں جواب دہ ہو گے۔ ہاں ہم تمہاری طرح اپنے فکر و عمل میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کی شراکت اور عقیدۂ توحید میں کوئی ملاوٹ گوارا نہیں کرتے۔ ہمارا عمل اور عقیدہ اسی ذات کے لیے خالص اور بلا شرکت غیرے ہے جو سب کا رب ہے۔ یہی وہ جھگڑا ہے جس بنا پر ہر زمانے میں کافر اور مشرک اللہ کے مخلص بندوں سے ٹکراتے آ رہے ہیں۔ اس فرمان میں ایک مخصوص انداز میں مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ ان سے الجھنے کی بجائے ان کو انہی کے حال پر چھوڑ دو کیونکہ ہر شخص اپنے ہی اعمال کا جواب دہ ہے۔ مسائل : 1۔ سب کا رب ایک اللہ ہے۔ 2۔ ہر کوئی اپنے اعمال کا جواب دہ ہے۔ 3۔ سچا مسلمان وہ ہے جو اپنے رب کے لیے مخلص ہوجائے۔ تفسیر بالقرآن : اخلاص کی اہمیت : 1۔ نبی {ﷺ}کو اخلاص کا حکم۔ (الزمر :11) 2۔ تمام امتوں کو اخلاص کا حکم۔ (الاعراف : 29) 3۔ اخلاص والے مومن ہیں۔ (النساء :146) 4۔ مخلص بندوں پر شیطان قابو نہ پاسکے گا۔ (ص :83) البقرة
140 فہم القرآن : (آیت 140 سے 141) ربط کلام : انبیائے کرام فرقہ واریت سے مبرّا حضرات تھے اور ان کو فرقہ واریت میں گھسیٹنا اللہ تعالیٰ کی شہادت کو ٹھکرانے اور چھپانے کے مترادف ہے۔ یہود ونصاریٰ انتہائی ہٹ دھرم لوگ ہیں جو جغرافیائی حقائق‘ تاریخی شواہد اور الہامی دلائل سننے کے باوجود بھی رسول معظم {ﷺ}کے زمانے سے لے کر آج تک اپنی ضد پر قائم اور جھوٹا دعو ٰی کیے جا رہے ہیں کہ ہدایت کا راستہ یہودی اور عیسائی ہونے میں ہے اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم‘ حضرت اسماعیل‘ حضرت اسحاق‘ حضرت یعقوب {علیہ السلام}اور ان کے بعد آنے والے انبیاء کو یہودی اور عیسائی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا آپ {ﷺ}کو حکم دیا جارہا ہے کہ اے نبی {ﷺ}! آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ ان پیغمبروں کے متعلق اور ان کے عقائد کے بارے میں تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ علیم و خبیر اور علام الغیوب زیادہ جانتا ہے؟ یہ اللہ کی وہ شہادت ہے جس پر تورات‘ انجیل اور قرآن گواہی دے رہے ہیں۔ وہ شخص انتہا درجے کا ظالم ہے جو اللہ تعالیٰ کی اس عظیم شہادت کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے جو ہر اعتبار سے کامل اور اکمل ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی قول و فعل سے غافل وبے خبر نہیں ہے۔ جن ہستیوں کو تم اپنے کھاتہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی ایک برگزیدہ جماعت تھی جو گزر چکی۔ ان کے اعمال کا صلہ انہی کے لیے ہے اور تمہارے اعمال کا نتیجہ تمہارے سامنے ہوگا۔ تمہیں ان کے اعمال کی بجائے اپنے اعمال کی فکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ تمہیں ہرگز ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عدالت کا ایسا اصول ہے جس سے ہر انسان میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے ساتھ ان تمام سہاروں کو کاٹ دیتا ہے جن سے افراد اور قوموں میں بد عملی پیدا ہوا کرتی ہے۔ ﴿مَا کَانَ إِبْرَاہِیمُ یَہُودِیًّا وَلَا نَصْرَانِیًّا وَلَکِنْ کَانَ حَنِیفًا مُسْلِمًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ [ آل عمران :67) ” ابراہیم یہودی اور عیسائی نہ تھے۔ لیکن وہ توحید پرست مسلمان تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔“ مسائل : 1۔ حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد یہودی اور عیسائی نہیں تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی قائم کی ہوئی شہادت کو چھپانا بڑا گناہ اور ظلم ہے۔ 3۔ فوت شدگان کے بارے میں ہمیں اور ہمارے بارے میں انہیں نہیں پوچھا جائے گا۔ 4۔ ہر شخص اپنے اعمال کا جواب دہ ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : بڑا ظالم کون؟ 1۔ اللہ کی مساجد کو ویران کرنے والا۔ (البقرۃ:114) 2۔ اللہ کی گواہی کو چھپانے والا۔ (البقرۃ:140) 3۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والا۔ (الانعام :12) 4۔ نبوت کا دعو ٰی کرنے والا۔ (الانعام :93) 5۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والا۔ (الاعراف :37) 6۔ اللہ کی آیات سن کر اعراض کرنے والا۔ (الکہف :57) 7۔ حق بات کو جھٹلانے والا۔ (العنکبوت :68) 8۔ سچ بات کو جھٹلانے والا۔ (الزمر :32) 9۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم ظالم تھی۔ (النجم :52) 10۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے مانگنے والا۔ (یونس :106) 11۔ قرآن کی نصیحت سے منہ موڑنے والا۔ (الکہف :57) البقرة
141 البقرة
142 فہم القرآن : ربط کلام : پہلے پارہ کے اختتامی رکوعات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے خاندان کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے وضاحت فرمائی تھی کہ بیت اللہ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے صاحبزادے نے تعمیر کیا تھا۔ پھر یہود و نصارٰی کو ملت ابراہیم پر متفق ہوجانے کی دعوت دی تھی۔ پارہ کی آخری آیت میں ارشاد ہوا کہ یہ ایک امت تھی جن کے عقائد و نظریات ایک ہی تھے اور وہ اس دنیا سے جہان آخرت کی طرف رخت سفر باندھ چکے لہٰذا اب ان کی شریعت کے حوالہ سے کوئی ثبوت دینا، اس پر مصر ہونا اور بیت المقدس کے قبلہ ہونے پر اصرار کرنا بڑی بے وقوفی کی علامت ہے جس کا یہ لوگ عنقریب برملا اظہار کریں گے۔ لیکن اے مسلمانو! گھبرانے کی بجائے اس سچائی پر قائم رہنا۔ یہاں یہود و نصارٰی کے پروپیگنڈہ کے مقابلہ کے لیے رسول محترم {ﷺ}اور صحابہ کرام {رض}کو ذہنی طور پر تیار کیا گیا ہے۔ قبلہ کا لفظی معنی جانب اور سمت ہے۔ شرعی اصطلاح میں نماز کے وقت مسجد حرام کی جانب منہ کرنے کی سمت کو قبلہ کہا گیا ہے۔ اب بیت اللہ کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مسلمان اعتقادی طور پر ایک رب کی عبادت کرنے والے ہیں اسی طرح عبادت کے وقت بھی ان کا رخ ایک ہی طرف ہونا چاہیے تاکہ فکری اور عملی طور پر امت میں وحدت ویگانگت پیدا ہوسکے۔ تحویل قبلہ کے وقت دنیا کے دو بڑے مذہب عیسائی اور یہودی عبادت کے وقت بیت المقدس کی طرف رخ کرتے تھے اور مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد نبی کریم {ﷺ}بھی سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ لیکن آپ کی خواہش اور تمنا یہ تھی کہ جس طرح ہمیں ملت ابراہیم کی اتباع کا پابند کیا گیا ہے اسی طرح ہمارا قبلہ بھی بیت اللہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے مرکز ہدایت اور مرجع خلائق بنایا ہے۔ اس خواہش کی تکمیل سے پہلے آپ اور مسلمانوں کو اتنی بڑی تبدیلی کے لیے ذہنی طور پر تیار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ عنقریب نادان لوگ کہرام مچائیں گے کہ تبدیلئ قبلہ کی کیا ضرورت تھی؟ پہلے قبلہ میں کونسی خرابی واقع ہوئی ہے؟ یہ تو محض مخالفت برائے مخالفت کا نتیجہ ہے۔ اس کے جواب میں اعتراض کرنے والوں کو سمجھایا کہ مشرق ومغرب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور اسی کے اختیار میں ہے وہ جس طرف چاہے رخ پھیرنے کا حکم صادر فرمائے۔ وہ بھی ایک سمت تھی اور یہ بھی ایک جانب اور سمت ہے۔ لیکن فرق اتنا بڑا ہے کہ پہلے آپ اپنی مرضی سے بیت المقدس کی طرف رخ کرتے تھے اب اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھتے ہوئے بیت اللہ کی طرف رخ پھیرلیں۔ ہدایت رسم ورواج، پرانی اور غیر مستند روایات کوا پنا نے کا نام نہیں۔ ہدایت تو وہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ نشاندہی اور رہنمائی فرماتا ہے۔ یہ انہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان اور ہدایت کے طالب ہوا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم پر اعتراض کرنے والے بیوقوف ہوتے ہیں اور جان بوجھ کر بے وقوف بننے والوں کو ہدایت نصیب نہیں ہوا کرتی۔ مسائل: 1۔ اللہ ہی کے لیے مشرق ومغرب ہے۔ 2۔ اللہ کے حکم پر اعتراض کرنا بے وقوفی ہے۔ 3۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہی صراط مستقیم ہے۔ تفسیر بالقرآن : ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے : 1۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ:120) 2۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص :56) 3۔ وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ :213) 4۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے بغیر کوئی ہدایت نہیں پا سکتا۔ (الاعراف :43) 5۔ ہدایت جبری نہیں اختیاری چیز ہے۔ (الدھر :3) 6۔ نبی اکرم {ﷺ}بھی کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے۔ (القصص :56) 7۔ ہدایت پانا اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ (الحجرات :17) 8۔ رسولِ اکرم {ﷺ}کی تابعداری انسان کی ہدایت کی ضمانت ہے۔ (النور :57) 9۔ صحابہ کرام {رض}کا ایمان ہدایت کی کسوٹی ہے۔ (البقرۃ:137) 10۔ ہدایت پر استقامت کی دعا کرنا چاہیے۔ (آل عمران :8) البقرة
143 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ مستقبل قریب میں تحویل قبلہ کی طرف اشارہ فرما تے ہوئے لفظ ” کَذٰلِکَ‘ ا ستعمال کیا ہے۔ اصل لفظ ” ذَالِکَ“ ہے جس میں حرف ” ک“ کا اضافہ فرمایا گیا ہے۔ اسے عربی زبان میں حرف تشبیہ کہا جاتا ہے‘ جس کا معنی’ مانند‘ جیسے ہے۔ یہاں اشارتاً یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جس طرح جغرافیائی لحاظ سے تمہارا قبلہ زمین کے وسط میں واقع ہے اسی طرح ہی ہدایت اور فکر وعمل کے اعتبار سے تمہیں امت عدل اور وسط بنایا گیا ہے۔ محشر کے دن جب پہلی امتوں سے ان کے انبیاء کے بارے میں سوال ہوگا کہ انبیاء نے میرا پیغام آپ تک پہنچایا تھا یا نہیں؟ بعض اُمتیں واضح طور پر اپنے نبیوں کی جدوجہد کی نفی کردیں گی۔ اس کے بعد انبیاء (علیہ السلام) کو اپنی تائید کے لیے گواہ لانے کا حکم ہوگا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کریں گے کہ ہماری گواہی امّتِ محمد یہ کے لوگ دیں گے۔ تب آپ {ﷺ}کی امت کے لوگ عرض کریں گے کہ یا الٰہی! یہ لوگ غلط بیانی کررہے ہیں ان کے انبیاء نے توتیرا پیغام ٹھیک ٹھیک ان تک پہنچایا تھا۔ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}یُدْعٰی نُوْحٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہٗ ھَلْ بَلَّغْتَ فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیُدْعٰی قَوْمُہٗ فَیُقَالُ لَھُمْ ھَلْ بَلَّغَکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ مَا اَتَانَا مِنْ نَّذِیْرٍ أَوْ مَآ أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَیُقَالُ لِنُوْحٍ مَنْ یَّشْھَدُ لَکَ فَیَقُوْلُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُہٗ قَالَ فَذٰلِکَ قَوْلُہٗ ﴿وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا﴾) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب : مسند أبی سعید الخدری] ” حضرت ابو سعید خدری {رض}بیان کرتے ہیں رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا روز قیامت نوح (علیہ السلام) کو بلا کر پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ جواب دیں گے ہاں پھر ان کی قوم کو بلا کر پوچھا جائے گا کیا نوح (علیہ السلام) نے تمہیں تبلیغ کی اور میرا پیغام پہنچایاتھا۔ وہ کہیں گے ہمارے پاس تو ڈرانے والا کوئی بھی نہیں آیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا جائے گا آپ کی گواہی کون دے گا؟ وہ کہیں گے، محمد {ﷺ}اور اس کی امّت۔ آپ {ﷺ}نے فرمایا یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ (اسی طرح ہم نے تمہیں امّتِ وسط بنایا ہے)۔“ امت محمدیہ امت عدل اور وسط ہے: اسی لیے اس امت کو عدل کا لقب عطا کیا گیا۔ کیونکہ عدالت میں عادل کی گواہی معتبر ہوا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہجرت مدینہ کے ابتدائی ایام میں تحویل قبلہ کا حکم دے سکتا تھا۔ لیکن ایسا اس لیے نہیں کیا گیا تاکہ تحویل قبلہ کے ذریعے لوگوں کو آزمایا جائے کہ کون اللہ کا حکم سمجھ کر اپنا قبلہ تبدیل کرتا ہے کیونکہ ہدایت یافتہ لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں حالات اور سمت نہیں دیکھا کرتے۔ تحویل قبلہ بہت بڑی آزمائش اور اقدام تھا۔ اللہ تعالیٰ کا کرم وفضل دیکھیے کہ بیت اللہ قبلہ مقرر فرمانے کے باوجود اسے سمت مقرر نہیں کیا گیا بلکہ مسجد حرام کی جانب چہرے کرنے کا حکم دیا تاکہ قبلہ کی سمت متعین کرنے میں دقّت نہ اٹھانی پڑے۔ رسول اللہ {ﷺ}نے اس میں اور وسعت کرتے ہوئے فرمایا : (بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَۃٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب الصلوۃ] ” قبلہ مشرق ومغرب کے درمیان ہے۔“ تحویل قبلہ کے بارے میں فرمایا جارہا ہے کہ بے شک یہ بڑا مشکل مسئلہ اور مرحلہ ہے لیکن ان کے لیے معمولی کام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا ہے۔ جہاں تک شہادت کا حق ادا کرنے کا معاملہ ہے آپ {ﷺ}نے اسے اس طرح ذمہ داری اور شاندار طریقہ سے ادا کیا کہ امّت کا ایک ایک فرد پکار اٹھا کہ اے رسول {ﷺ}! آپ نے کمال طریقے سے یہ حق ادا فرمادیا ہے۔ لہٰذا اب امّت کا فرض ہے کہ وہ اس ذمہ داری میں کوتاہی نہ کرے۔ آپ (ﷺ) نے ابلاغ کا حق ادا کردیا ہے: (عَنْ أَبِیْ بَکْرَۃَ {رض}قَالَ خَطَبَنَا النَّبِیُّ {}یَوْمَ النَّحْرِ فَإِنَّ دِمَآئَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا إِلٰی یَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ أَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ قَالُوْا نَعَمْ۔۔) [ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب الخطبۃ أیام منی] ” حضرت ابو بکرہ {رض}بیان کرتے ہیں نبی {ﷺ}نے حج کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا یقیناً تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیساکہ تمہارے لیے آج کا دن، مہینہ اور یہ شہر قیامت تک کے لیے حرام ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے؟ تو لوگوں نے جواب دیا ہاں۔“ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے صفت رؤف کا ذکر فرما کر مخلص اور تابعدار بندوں کو تسلی دی ہے کہ مخالف جس قدر چاہیں پروپیگنڈہ کریں تمہاری پہلی نمازیں ہرگز ضائع نہیں ہوں گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ انتہائی رحم اور شفقت فرمانے والا ہے۔ اَلرَّءُ وْفَ: کہتے ہیں جو کسی کو نقصان سے بچا کر مزید نوازنے والا ہو۔ یہاں نماز اور ایمان کو باہم مترادف قرار دیا گیا ہے۔ نماز کی اہمیت سمجھنے کے لیے رسول اللہ {ﷺ}کا ارشاد ملاحظہ فرمائیں : (بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب بیان إطلاق إسم الکفر علی من ترک الصلاۃ] ” مسلمان اور کفر و شرک کے درمیان ترک نماز کا فرق ہے۔“ مسائل : 1۔ آپ {ﷺ}کی امت معزز اور عدل کرنے والی ہے۔ 2۔ یہ امت فکر و عمل کے لحاظ سے معتدل قرار پائی ہے۔ 3۔ امّتِ محمدیہ پہلی امتوں پر اور آپ {ﷺ}اس امت پر گواہ ہوں گے۔ 4۔ تحویل قبلہ بہت بڑی آزمائش اور اتباع رسول کی کسوٹی ہے۔ 5۔ نماز اور ایمان باہم مترادف ہیں۔ 6۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشنے والے اور انتہائی مہربان ہیں۔ تفسیر بالقرآن : شہادتِ حق امت محمدیہ کا اعزاز : 1۔ نبی {ﷺ}کی امت تمام امتوں میں امّتِ خیر قرارپائی۔ (آل عمران :110) 2۔ آپ {ﷺ}کی امت نے امّتِ وسط کا اعزاز پایا۔ (البقرۃ:143) 3۔ آپ کی امت کو داعی الی الخیر کا منصب ملا۔ (آل عمران :104) 4۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شاہد، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ (الفتح :8) 5۔ آپ {ﷺ}کا منصب لوگوں پر شہادت قائم کرنا ہے۔ (المزمل :15) 6۔ آپ {ﷺ}اور دوسرے انبیاء {علیہ السلام}اپنی اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے۔ (النساء :41) 7۔ امت محمدیہ لوگوں پر گواہی دے گی۔ (البقرۃ:143) البقرة
144 فہم القرآن : ( آیت 144 سے 145) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ بیت اللہ میں رسول محترم {ﷺ}نماز کے لیے اس طرح کھڑے ہوتے کہ بیک وقت آپ کا رخ بیت اللہ اور بیت المقدس کی جانب ہوا کرتا تھا۔ جب ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو وہاں متضاد جوانب کے ساتھ واسطہ پڑا۔ اگر آپ بیت اللہ کی طرف رخ کرتے تو بیت المقدّس پیٹھ کی طرف ہوتا اور اگر بیت المقدّس کی طرف رخ کرتے تو بیت اللہ پیچھے کی جانب ہوتا تھا۔ اس صورت حال میں رسول کریم {ﷺ}کی تمنّا تھی کہ ہمارا قبلہ مرکز ابراہیمی یعنی بیت اللہ ہونا چاہیے۔ اسی انتظار میں سولہ سترہ ماہ گزر گئے۔ اس دوران آپ کے اشتیاق اور اضطراب میں اضافہ ہی ہوتا رہا جس کی وجہ سے بسا اوقات آپ کا چہرہ بے ساختہ آسمان کی طرف اٹھ جایا کرتا تھا۔ آپ دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے تبدیلئ قبلہ کی آرزو کرتے۔ یہ اشتیاق ربِّ رحیم کو اس قدر بھلا لگا کہ قیامت تک اس کا منظر قرآن مجید میں محفوظ فرما دیا۔ جو نہی تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا کہ آپ {ﷺ}اور آپ کی امت کے لوگ نماز میں اپنے چہرے بیت اللہ کی طرف کیا کریں۔ تو اہل کتاب نے پروپیگنڈہ کا طوفان برپا کردیا جس کا ذکر پارے کی ابتدا میں کیا گیا ہے۔ اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اہل کتاب یہ جانتے ہیں کہ نبئ آخر الزماں {ﷺ}کا قبلہ بیت المقدس کی بجائے بیت اللہ ہوگا۔ یہ سب کچھ وہ تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجود ان کا اعتراض کرناحق چھپانے اور اظہار حسد کا بہانہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے کسی صورت بھی چھپا نہیں سکتے۔ اب فیصلہ ہوچکا ہے لہٰذا میرے پیغمبر! آپ جتنے بھی دلائل دیں اور انہیں جس انداز سے سمجھائیں یہ مسجد حرام کو قبلہ نہیں مانیں گے۔ بیت المقدس کو قبلہ تسلیم کرنے کے باوجود ان کی حالت یہ ہے کہ یہودی بیت المقدس میں کھڑے ہوتے وقت اپنا منہ دیوار گریہ کی طرف کرتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ ہیکل سلیمانی کی بنیاد ہے۔ عیسائی عبادت کے دوران اپنے چہرے اس جانب کرتے ہیں جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے۔ گویا کہ ایک قبلہ ہونے کے باوجود یہ ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ جب یہ اپنے قبلہ پر متفق نہیں ہیں تو آپ ان سے یہ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ یہ آپ کے قبلہ پر اتفاق کریں گے لہٰذاقیامت تک آپ بھی ان کے قبلہ کو تسلیم کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا حکم معلوم ہوجانے کے بعد اگر آپ خوش کرنے کے لیے ان کی خواہشات کے پیچھے لگیں گے تو یاد رکھیں آپ اس وقت ظالموں میں شمار ہوں گے۔ آپ {ﷺ}کی ذات اقدس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آپ اللہ تعالیٰ کا حکم جاننے کے باوجود اس کے برعکس کوئی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ کیونکہ رسول براہ راست اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں زندگی گزارتا ہے۔ یہاں مسئلہ کی اہمیت اور بنیادی اصول کی وضاحت کے پیش نظر آپ کو مخاطب کیا گیا ہے کہ حق کے مقابلے میں اپنی خواہشات کی پیروی کرنا، اپنے آپ پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ ایسا بنیادی مسئلہ ہے جس کے بارے میں رسول معظم {ﷺ}فرمایا کرتے تھے : (لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ) [ مشکوٰۃ : باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ] ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایماندار نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ کردے۔“ رسول اللہ {ﷺ}اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کیا کرتے تھے : (اَللّٰھُمَّ انِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ مُّنْکَرَاتِ الْأَخْلَاقِ وَالْأَعْمَالِ وَالْأَھْوَآءِ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات، باب الدعوات] ” الٰہی میں برے اخلاق، اعمال اور خواہشات کی پیروی سے تیری پناہ چاہتاہوں۔“ آپ {ﷺ}نے فرمایا : اہل کتاب کے بہتر فرقے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی۔ (وَإِنَّہٗ سَیَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِیْ أَقْوَامٌ تَتَجَارٰی بِھِمْ تِلْکَ الْأَہْوآءُ کَمَا یَتَجَارَی الْکَلْبُ بِصَاحِبِہٖ لَا یَبْقٰی مِنْہُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَہٗ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب السنۃ، باب شرح السنۃ] ” عنقریب میری امت میں ایسی قومیں ظہور پذیر ہوں گی کہ خواہشات ان میں ایسے سماجائیں گی جیسے باؤلے کتے کے کاٹنے سے لاحق ہونے والی بیماری رگ رگ اور ہر جوڑ میں سرایت کر جاتی ہے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے آپ {ﷺ}کی پسند کے مطابق قبلہ تبدیل فرمادیا۔ 2۔ مسلمان جہاں کہیں بھی ہوں‘ نماز میں مسجد الحرام کی طرف ہی منہ کیا کریں۔ 3۔ اہل کتاب علمی طور پر مانتے ہیں کہ خانہ کعبہ ہی قبلۂ حق ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ یہود و نصارٰی اور کسی شخص کے کردار سے غافل نہیں ہے۔ 5۔ حق اور سچ ہونے کے باوجود یہود و نصارٰی بیت اللہ کو قبلہ تسلیم نہیں کرتے۔ 6۔ حقیقت کا علم ہونے کے باوجود اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا ظالم ہے۔ تفسیر بالقرآن : خواہشات کی پیروی کرنے کے نقصانات : 1۔ علم ہونے کے باوجود دوسروں کے خیالات کی پیروی کرنیوالا اللہ کی نصرت سے محروم ہوجاتا ہے۔ (البقرۃ:120) 2۔ علم ہونے کے باوجود کفار کے خیالات کو اپنانا ظالموں میں شامل ہونا ہے۔ (البقرۃ:145) 3۔ کتاب اللہ کے مقابلے میں لوگوں کی خواہشات پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔ (المائدۃ:48) 4۔ خواہشات کی اتباع کے بجائے کتاب اللہ کے مطابق فیصلے ہونے چاہییں۔ (المائدۃ:29) 5۔ لوگوں کی خواہشات کے پیچھے لگنے والا گمراہ ہوجاتا ہے۔ (صٓ:26) 6۔ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا تباہ ہوجاتا ہے۔ (طٰہٰ:16) 7۔ سب سے بڑا گمراہ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا ہے۔ (القصص :50) 8۔ خواہشات کی پیروی کرنے والا خواہشات کو الٰہ بنا لیتا ہے۔ (الفرقان :43) 9۔ حق کو چھوڑ کر خواہشات کی پیروی کرنے سے زمین و آسمان میں فساد پیدا ہوتا ہے۔ (المؤمنون :71) البقرة
145 البقرة
146 فہم القرآن : (آیت 146 سے 147) ربط کلام : یہاں معنوی ربط ہے کہ اہل کتاب جس طرح رسول اللہ {ﷺ}کی نبوت کو پہچانتے ہیں اسی طرح بیت اللہ کو قلبی طور پر قبلہ تسلیم کرتے ہیں۔ جہاں تورات و انجیل میں آپ کی نبوت کے ثبوت ہیں وہاں بیت اللہ کے قبلہ ہونے کا ثبوت بھی موجود ہے۔ اظہارِ حق اور نبی کریم {ﷺ}کے اطمینان اور مسلمانوں کی تسلی کے لیے مزید فرمایا جا رہا ہے کہ اہل کتاب آپ {ﷺ}کی ذات اور حیثیت کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کو پہچاننے میں ذرّہ برابر شک نہیں کرتا، جب انہوں نے آپ کو اچھی طرح پہچان لیا ہے تو پھر آپ کی نبوت سے انحراف اور قبلہ کے انکار کا کیا معنیٰ ؟ لیکن اس کے باوجود کتمانِ حق کا جرم ہمیشہ سے ان میں سے ایک فریق کرتا آرہا ہے۔ لہٰذا قبلہ کی تبدیلی اور سلسلۂ وحی آپ کے رب کی طرف سے ہے اس لیے آپ کو رائی کے دانے کے برابر بھی اس میں شک نہیں کرنا چاہیے۔ (عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ {رض}قَالَ قَالَ یَھُوْدِیٌّ لِصَاحِبِہِ اذْھَبْ بِنَآ إِلٰی ھٰذَا النَّبِیِّ فَقَالَ صَاحِبُہٗ لَا تَقُلْ نَبِیٌّ إِنَّہٗ لَوْ سَمِعَکَ کَانَ لَہٗ أَرْبَعَۃُ أَعْیُنٍ فَأَتَیَارَسُوْلَ اللّٰہِ {}فَسَاَلَاہُ عَنْ تِسْعِ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ فَقَالَ لَھُمْ لَا تُشْرِکُوْا باللّٰہِ شَیْئًا وَلَا تَسْرِقُوْا وَلَا تَزْنُوْا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بالْحَقِّ وَلَا تَمْشُوْابِبَرِیءٍ إِلٰی ذِیْ سُلْطَانٍ لِیَقْتُلَہٗ وَلَا تَسْحَرُوْا وَلَا تَأْکُلُوا الرِّبَا وَلَا تَقْذِفُوْا مُحْصَنَۃً وَلَا تُوَلُّوا الْفِرَارَ یَوْمَ الزَّحْفِ وَعَلَیْکُمْ خَآصَّۃَ الْیَھُوْدَ أَنْ لَّاتَعْتَدُوْا فِی السَّبْتِ قَالَ فَقَبَّلُوْا یَدَہٗ وَرِجْلَہٗ فَقَالَا نَشْھَدُ أَنَّکَ نَبِیٌّ قَالَ فَمَا یَمْنَعُکُمْ أَنْ تَتَّبِعُوْنِیْ قَالُوْا إِنَّ دَاوٗدَ دَعَا رَبَّہٗ أَنْ لاَّ یَزَالَ فِیْ ذُرِّیَتِہٖ نَبِیٌّ وَإِنَّا نَخَافُ إنْ تَبِعْنَاکَ أَنْ تَقْتُلَنَا الْیَھُوْدُ) [ رواہ الترمذی : کتاب الإستئذان، باب ماجاء فی قبلۃ الید والرجل] ” حضرت صفوان بن عسال {رض}کہتے ہیں ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا کہ مجھے اس نبی کے پاس لے چلو اس نے کہا تو اسے نبی نہ کہہ اس لیے کہ اگر اس نے سن لیا تو اس کی چار آنکھیں ہوجائیں گی یعنی بہت خوش ہوگا۔ ان دونوں نے رسول اللہ {ﷺ}کے پاس آکرنو آیات بیّنات کے متعلق سوال کیے تو رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، چوری نہ کرو، زنانہ کرو اور قتل ناحق نہ کرو، کسی بے گناہ کو حاکم کے ہاں اسے قتل کرانے کے لیے نہ لے جاؤ، جادونہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاکدامن عورت پر تہمت نہ لگاؤ، میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو ” اور یہودیو! تم پر خصوصی طور پر لازم ہے کہ ہفتے کے دن زیادتی نہ کرو۔“ راوی کہتے ہیں دونوں نے آپ کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دیا اور کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ رسول کریم {ﷺ}نے فرمایا : پھر میری اتباع کرنے سے کونسی چیز مانع ہے؟ انہوں نے جواب دیاحضرت داود (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ نبوت انہی کے خاندان میں رہے اور ہمیں خطرہ ہے کہ اگر ہم نے آپ کی اتباع کرلی تو یہودی ہمیں قتل کردیں گے۔“ حضرت صفیہ {رض}بیان کرتی ہیں کہ میرے والد حیی بن اخطب اور چچا ابو یاسر صبح کے وقت رسول محترم {ﷺ}کی خدمت میں پہنچ کر اسلام کے بارے میں مذاکرات کرتے ہیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ حقیقتًا آپ {ﷺ}نبی آخر الزماں ہیں۔ جب آپ سے گفتگو کرنے کے بعد مغرب کے وقت واپس آئے تو نہایت تھکے ماندے دکھائی دے رہے تھے۔ چچا ابو یاسر میرے والد سے پوچھتے ہیں :أَھُوَ ھُوَ ؟ ” کیا یہی وہ نبی ہے جس کا تذکرہ تورات وانجیل میں پایا جاتا ہے؟“ والد کہتے ہیں کیوں نہیں یہ وہی رسول ہے۔ پھر وہ پوچھتے ہیں :أَتَعْرِفُہٗ وَتُثَبِّتُہٗ ؟ ” کیا واقعی تو اسے پہچانتا ہے؟“ تو انہوں نے کہا : ہاں میں اچھی طرح پہچانتاہوں۔ چچا ابویاسر کہتے ہیں : فَمَافِیْ نَفْسِکَ مِنْہُ ؟ ” پھر آپ کا کیا ارادہ ہے؟“ تو میرے والد جواب دیتے ہیں : عَدَاوَۃٌ وَاللّٰہِ مَابَقِیْتُ ” کہ اللہ کی قسم! جب تک زندہ ہوں مخالفت کرتا رہوں گا“۔ [ ابن ہشام : شہادۃ عن صفیۃ] یہی حالت اہل مکہ کی تھی کہ وہ اچھی طرح پہچان چکے تھے کہ محمد {ﷺ}واقعی ہی اللہ تعالیٰ کے فرستادہ ہیں لیکن اپنی انا اور باطل عقیدہ کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ بدر کے معرکہ کے موقعہ پر ابو جہل سے کسی نے یہ سوال کیا کہ کیا محمدنے زندگی میں ہم سے جھوٹ بولاہے؟ اس نے کہا : ہرگز نہیں اس شخص نے پھر کہا کہ جو شخص لوگوں کے ساتھ جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کس طرح غلط بیانی کرسکتا ہے ؟ خصوصًا جب اس کی کنپٹیوں کے بال بھی سفید ہوچکے۔ اس پر ابوجہل نے کہا کہ دراصل ہمارے اور ان کے قبیلے کی آپس میں ہر معاملے میں مقابلہ بازی رہی ہے اس لیے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اس کی سربراہی قبول کرلیں۔ مسائل : 1۔ یہود ونصارٰی رسول اکرم {ﷺ}کی ذات اور رسالت کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں۔ 2۔ اہل کتاب جان بوجھ کر حق چھپالیتے ہیں۔ 3۔ قرآن مجید اور بیت اللہ کے قبلہ ہونے پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ البقرة
147 البقرة
148 فہم القرآن : (آیت 148 سے 149) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ ہر مذہب کے لوگوں نے عبادت کے لیے ایک جہت مقرر کر رکھی ہے۔ وہ اسی طرف ہی راغب اور رخ کیے ہوئے ہیں۔ ہندو اپنے عبادت خانوں میں مورتی (بت) کی طرف اور اگر مورتی یعنی بت نہ ہو تو سورج کی طرف منہ کرتے ہیں۔ سکھ اپنی کتاب گرنتھ کی جانب منہ کرتے ہیں۔ کتاب موجود نہ ہونے کی صورت میں جس طرف چاہیں چہرہ کرلیتے ہیں۔ بدھ مت بدھا کی مورتی کی طرف، یہودی بیت المقدس میں بھی دیوار گریہ کی طرف اور عیسائی مسجد اقصیٰ کی اس جانب منہ کرتے ہیں جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) نے جنم لیا تھا۔ یہ تو مسلمانوں کا امتیاز ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں بیت اللہ کی طرف منہ کرتے ہیں۔ اس لیے ارشاد ہورہا ہے کہ تمہارے رب نے تمہارے چہروں کو اپنے گھر کی طرف پھیرنے کا حکم دیا ہے بس تم اسے قبول کرنے میں سبقت حاصل کرو۔ کیونکہ کا رِ خیر میں سبقت اختیار کرنے سے ایک ولولۂ تازہ پیدا ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ امّتِ مسلمہ کو صرف نیکی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا ارشاد ہوا ہے۔ کیونکہ دنیا میں کوئی شعبہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا صحت مند رجحان پیدا نہ ہو۔ سبقت کے جذبہ کے بغیر قوموں کی زندگی میں مردگی پیدا ہوجاتی ہے۔ بالآخر زندگی مردہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ زندہ اور بیدار قومیں اسی لیے مختلف شعبوں میں مقابلے کروا یا کرتی ہیں۔ قرآن مجید نے جذبۂ مسابقت کو پروان چڑھانے کے لیے ” سَابِقُوْا اور سارِعُوْا“ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ نیکیوں میں سب سے بڑی نیکی نماز ہے‘ جس کے بارے میں رسول اللہ {ﷺ}سے پوچھا گیا : (أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ) ” کونسا عمل اللہ کے ہاں زیادہ پسندیدہ ہے ؟“ آپ {ﷺ}نے فرمایا : اَلصَّلَاۃُ عَلٰی وَقْتِھَا :” وقت پر نماز ادا کرنا اللہ کو بہت محبوب ہے۔“ [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلوۃ] یہاں ہر قسم کی نیکی میں سبقت اور سورۃ الحدید آیت 21میں مغفرت اور جنت کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے گئے۔ جب کہ سورۃ آل عمران : آیت 123میں رب تعالیٰ کی مغفرت اور جنت کے حصول کے لیے تیزروی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر سورۃ الواقعہ : آیت ١٠ تا ١٢ میں اس کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : نیکیوں میں سبقت کرنے والے ہی قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔ جس طرح آج تمہیں اللہ تعالیٰ کے گھر کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا جارہا ہے، قیامت کے روز تمہیں اسی گھر کے مالک کے حضور پیش ہونے کا حکم ہوگا اور تم سب کے سب اس کی بارگاہ میں سر جھکائے حاضر ہوگے۔ اب تو تبدیلی قبلہ کا حکم آنے کے باوجود لوگ مختلف سمتوں کی طرف چہرے کیے ہوئے ہیں لیکن وہاں ہر حال میں سب کو ایک ہی بار گاہ اور ایک ہی عدالت میں جمع ہونا ہوگا۔ بلا شک اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہارے اعمال کو اپنے حضور پیش کرنے پر قادر ہے کیونکہ وہ قطرے قطرے، پتّے پتّے اور ذرّے ذرّے پر قدرت رکھتا ہے۔ تحویل قبلہ کا حکم آتے ہی صحابۂ کرام {رض}نے سمع واطاعت کا وہ نمونہ پیش کیا کہ جس کی دنیا کی تاریخ میں مثال ملنا مشکل ہے۔ ” حضرت عبداللہ بن عمر {رض}فرماتے ہیں کہ لوگ مسجد قبا میں صبح کی نماز ادا کررہے تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی نے آکرکہاکہ نبی {ﷺ}پر آج رات قرآن نازل ہوا۔ اس میں حکم دیا گیا ہے کہ وہ کعبہ کی طرف منہ کریں لہٰذا تمہیں بھی کعبہ کی طرف رخ کرنا چاہیے۔ لوگوں کے چہرے شام کی طرف تھے۔ اسی وقت انہوں نے اپنے چہروں کو کعبہ کی طرف پھیرلیا۔“ [ رواہ البخاری : کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی القبلۃ .....] مسائل : 1۔ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہیے۔ 2۔ لوگ جہاں کہیں بھی ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس جمع کرلے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ذرّے ذرّے اور چپّے چپّے پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن: ہر امت کا قبلہ : 1۔ نبی {ﷺ}کو بھی قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہے۔ (البقرۃ:149) 2۔ ہر امّت نے اپنے لیے ایک جہت مقرر کرلی ہے۔ (البقرۃ :148) 3۔ آدمی مسجد حرام میں ہو یا باہر اسے حالت نماز میں قبلہ کی طرف ہی منہ کرنا چاہیے۔ (البقرۃ:144) البقرة
149 البقرة
150 فہم القرآن: ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ : پہلے بھی بیان ہوا ہے کہ تحویل قبلہ معمولی اقدام نہیں تھا۔ اس لیے رسول کریم {ﷺ}کو تیسری مرتبہ اور صحابہ {رض}کو دوسری بار مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم نماز کے وقت جہاں کہیں ہوبہر حال اپنے چہروں کو مسجد حرام کی طرف پھیرلو۔ قرآن مجید میں صرف یہی ایسا مسئلہ ہے جس پر عمل درآمد کروانے کے لیے آپ کو تین بار حکم دیا گیا ہے۔ اس تاکید کے باوجود فرمان کے آخر میں مزید حکم دیا ہے کہ لوگوں سے ڈرنے کے بجائے صرف مجھ سے ڈرو۔ کیونکہ آدمی جب اللہ کا ڈر اپنے آپ میں پید اکرلیتا ہے تو پھر کسی کا خوف اس پر غلبہ نہیں پاسکتا۔ قبول حق اور اس کے ابلاغ کے لیے یہ بات شرط اول کی حیثیت رکھتی ہے کہ انسان صرف اپنے رب سے ڈرتا رہے۔ مسائل : 1۔ اللہ ہی سے ڈرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ سے ڈرنے کی وجہ سے نعمتوں کا اتمام اور ہدایت نصیب ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم اور اس کا صلہ : 1۔ لوگ اللہ سے ڈرنے کے بجائے لوگوں سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ (النساء :77) 2۔ اللہ سے خلوت میں ڈرنے والے کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ (یٰس :11) 3۔ لوگوں سے ڈرنے کے بجائے اللہ سے ہی ڈرنا چاہیے۔ (آل عمران :175) البقرة
151 فہم القرآن : ربط کلام : خوف خدا کے بغیر آدمی نعمت ہدایت نہیں پاسکتا اور ہدایت کے لیے سنت رسول اور تعلیم نبوت لازم ہے۔ یہ فرد کی اصلاح اور قوموں کی فلاح کا راستہ ہے۔ اور یہی رسول محترم {ﷺ}کی بعثت کا مقصد ہے۔ نبوّت کے مرکزی فرائض (1) تلاوت آیات : تلاوت سے مراد اللہ تعالیٰ کے ارشادات واحکامات سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے، قرآن مجید کے ظاہری و باطنی آداب بتلانا، اس پر عمل کرنے اور اس کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ اس کی تلاوت کرنا اور تحفیظ القرآن کی ترغیب دینا ہے۔ (2) تعلیم : تعلیم سے مراد باقاعدہ قرآن مجید کے اسراروعلوم سمجھنا ہے۔ کیونکہ آدمی کسی علم میں مہارت اور اس کے حقیقی مطالب حاصل نہیں کرسکتا جب تک متعلقہ علم کے ماہر کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہ کرے۔ یہ تو صرف اور صرف رسول کی شان ہوا کرتی ہے کہ وہ کسی آدمی سے علم سیکھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے براہ راست علم اور معرفت حاصل کرتا ہے۔ لہٰذا نبی کے علاوہ ہر انسان اس بات کا محتاج ہے کہ وہ جو سیکھنا چاہتا ہے اس کے لیے متعلقہ استاد سے استفادہ کرے۔ جیسا کہ قرآن مجید نے وضاحت فرمائی ہے کہ رسول اکرم {ﷺ}نے براہ راست اپنے رب سے تعلیم پائی ورنہ آپ اس سے پہلے کچھ نہیں جانتے تھے۔ اسی کے بارے میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو وہ کچھ سکھلاتا ہے جو آپ پہلے نہیں جانتے تھے۔ جن لوگوں کا یہ دعو ٰی ہے کہ قرآن مجید کے بعد حدیث کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی کسی زمانے میں بھی اہل عقل و فکر نے تائید نہیں فرمائی۔ کیونکہ محض کتاب کسی کے ہاتھ میں تھما دینے سے کوئی شخص ٹھیک ٹھیک اس سے استفادہ نہیں کرسکتا بے شک وہ اس کتاب کی زبان سے کتنا ہی واقف کیوں نہ ہو؟ اس حقیقت کو جاننے کے لیے آج بھی کسی انگریزی دان کو انجینئرنگ یا طبّ کے متعلق کوئی کتاب دے کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس نے استاد کے بغیر طب اور انجینئرنگ میں کیا دسترس حاصل کی ہے اس لیے نبوت کے کار منصبی میں یہ فرض شامل ہے کہ نبی لوگوں کو باضابطہ طور پر کتاب اللہ کی تعلیم سے ہمکنار کرے تاکہ نبوت کا کام نسل در نسل چلتا رہے۔ لہٰذا رسول مقبول {ﷺ}نے تلاوت قرآن اور وعظ وخطاب کے ساتھ باقاعدہ طور پر مردوں کے لیے مسجد نبوی میں صفہ کے مقام پر اور خواتین کے لیے الگ تعلیم کا سلسلہ جاری فرمایا۔ ” ابو سعید خدری {رض}بیان کرتے ہیں ایک عورت نے نبی {ﷺ}سے آکر کہا کہ مرد ہم سے تعلیم کی وجہ سے آگے بڑھ گئے ہیں‘ آپ ہمارے لیے بھی کوئی دن مقرر کریں جس میں آپ ہمیں وہ کچھ سکھائیں جو اللہ نے آپ کو سکھایا آپ نے فرمایا فلاں فلاں دن جمع ہوجایا کرو۔ آپ تشریف لا کر انہیں اللہ تعالیٰ کا بتلایا ہوا علم سکھلاتے۔“ [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب : ھل یجعل للنساء یوم علی حدۃ فی العلم] ( عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃُ ٗ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ) [ مشکوۃ کتاب العلم] ” حضرت انس {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے“ علم کی عظمت وفضیلت : علم وہ نعمت ہے جس سے ایک انسان ہی نہیں بلکہ حیوان بھی اپنی جنس میں ممتاز ہوجاتا ہے جیسا کہ کتے کی مثال ہے کہ اگر برتن چاٹ جائے تو اسے سات دفعہ دھونا ضروری قرار دیا گیا ہے لیکن اگر کتا سدھایا ہوا ہو تو اس کا پکڑا ہوا شکار حلال ہوتا ہے۔ (المائدۃ:4) بے شک انسان اشرف المخلوقات ہے لیکن تعلیم کے بغیر اندھا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا پہلا شرف علم ہی تھا جس کی وجہ سے انہوں نے ملائکہ پر برتری حاصل کی تھی۔ نبی کریم {ﷺ}کی نبوت کا آغاز ہی ” اِقْرَأ“ سے ہوا ہے۔ اس لیے آپ {ﷺ}نے اپنی امت کو زیور علم سے آراستہ کرنے کے لیے خصوصی توجہ فرمائی اور ان پڑھ قوم میں وہ علمی تحریک پیدا فرمائی کہ صحابہ کرام {رض}میں ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو اپنے بنیادی فرائض سے غافل اور ناواقف ہو۔ بے شک علوم میں سب سے اعلی اور دنیا وآخرت میں مفید ترین علم قرآن وسنت کا علم ہے لیکن قرآن و حدیث میں ہر اس علم کی حوصلہ افزائی پائی جاتی ہے جس سے انسانیت کو فائدہ پہنچے اس لیے آپ {ﷺ}علم میں اضافے کے لیے دعا کیا کرتے تھے ” رَبِّ زِدْنِیْ عِلْماً“ ” اے رب! میرے علم میں اضافہ فرما“ اور امت کو ہدایت فرمائی کہ اگر کسی کو قرآن وسنت کا ایک فرمان بھی یاد ہو تو اس کا فرض ہے کہ وہ اسے آگے پہنچائے گویا کہ قیامت تک یہ تحریک جاری رہے اور اس طرح دیے سے دیا جلتا رہنا چاہیے۔ (عَنْ مُّعَاوِیَۃَ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَیرًا یُّفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ وَاِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَّاللّٰہُ یُعْطِیْ) [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب من یرد اللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین] ” حضرت معاویہ {رض}رسول اکرم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم {ﷺ}نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر خواہی کرنا چاہتے ہیں اسے دین کی سمجھ عنا یت فرماتے ہیں میں تقسیم کرنے والاہوں اور اللہ مجھے عنایت فرمانے والا ہے۔“ (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}لَا حَسَدَ اِلَّا فِی اثْنَیْنِ رَجُلٌ اٰتَاہ اللّٰہُ مَالًا فَسَلَّطَہُ عَلٰی ھَلَکَتِہٖ فِی الْحَقِّ وَرَجُلٌ اَتَاہ اللّٰہُ الْحِکْمَۃَ فَھُوَ یَقْضِیْ بِھَا وَیُعَلِّمُھَا)[ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب انفاق المال فی حقہ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود {رض}بیان کرتے ہیں رسول مکرم {ﷺ}نے فرمایا صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا جائز ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال عنایت فرمایا اور اسے نیکی کے کاموں پر خرچ کرنے کی توفیق دی، دوسرا جس کو اللہ تعالیٰ نے دانشمندی عطاکی وہ اس کی روشنی میں فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔“ سلسلہ تعلیم کو آپ {ﷺ}کے اصحاب نے وقت کے ساتھ ساتھ اس قدر وسعت سے ہمکنار کیا کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق {رض}نے مدارس ومساجد قائم کرنے کے ساتھ مملکت کے سول اور فوجی عہدے داران کو حکم دیا کہ وہ عوام اور فوج میں قرآن وسنت کی تعلیم کو عام کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کریں۔ اس کوشش اور توجہ کا ثمرہ تھا کہ حضرت عمر {رض}نے جب فوجی افسروں کو خط لکھا کہ حفاظ کرام کی فہرست میرے پاس بھیجو تو حضرت سعد بن ابی وقاص {رض}نے جواب میں لکھا کہ صرف میری چھاؤنی میں تین سو حفاظ کرام موجود ہیں۔ (الفاروق) (3) تزکیۂ نفس : نفس مضمون اور علم کتنا ہی اہم اور اعلیٰ کیوں نہ ہو اس وقت تک اس کے مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے جب تک اس کے مطابق تربیت کا انتظام نہ کیا جائے۔ تربیت کے لیے انفرادی اور اجتماعی ماحول کا ہونا ضروری ہے۔ فرد کی اصلاح کیے بغیر قوم کی اصلاح کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تزکیہ نفس کے لیے نبی کریم {ﷺ}لوگوں کی انفرادی اصلاح بھی فرماتے اور اجتماعی بھی۔ تب جا کر ایک ایسی جمعیت معرض وجود میں آئی۔ جس کی مثال تاریخ میں پیش کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ (4) حکمت : اہل لغت اور مفسرین نے حکمت کے معانی‘ فہم وفراست‘ علم وحلم‘ عدل وانصاف‘ حقیقت اور سچائی تک پہنچنا اور دین کی سمجھ حاصل کرنا بیان کیے ہیں۔ جب کہ اکثر اہل علم نے حکمت سے مراد رسول کریم {ﷺ}کی سنت اور حدیث لی ہے۔ کیونکہ آپ کی ذات اطہر پر قرآن نازل ہوا اور آپ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق اس کی تفسیر بیان کرنے والے ہیں۔ سنت سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کے اس لفظ کا کیا معنی ہے کیونکہ آپ نے اپنے ارشاد اور عمل سے قرآن کے احکامات کا حقیقی مفہوم واضح فرمایا ہے۔ پھر آپ کی سنت اور حدیث ہی سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک فردا ورمعاشرے پر قرآن کا نفاذ کس طرح کرنا چاہیے؟ آپ {ﷺ}نے ہی دنیا کو عقل ودانش سے ہمکنار فرمایا۔ رسول کریم {ﷺ}کا صرف یہی فرض نہیں تھا کہ آپ قرآن کی تلاوت، تبلیغ، تعلیم اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی حکمت کا تعیّن فرمائیں بلکہ آپ نے قرآن مجید کی روشنی میں اپنے اسوۂ مبارکہ کے ذریعے قرآن مجید کے مقصود کو لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس طرح راسخ فرمایا جس سے لوگوں کے نظریات کی تطہیر ہوئی۔ اخلاق میں نکھار اور کردار میں سنوار پیدا ہوا۔ کل کے جاہل آج قوموں کے معلّم اور راہبر بنے، ماضی میں لوٹ مار کرنے والے لوگوں کی عزت ومال کے محافظ ہوئے۔ لہٰذا کسی بھی حقیقی انقلاب اور طریقۂ حکومت کے یہی چار بنیادی اصول ہیں‘ جن کے بغیر فرد اور معاشرے میں صحت مند اور جامع تبدیلی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ یہی اسلام کا وہ نظام تعلیم اور تزکیۂ نفس کا پروگرام ہے جس کو اختیار کرکے ہر شخص روحانی منازل طے کرسکتا ہے‘ اس میں نہ تصور شیخ کی گنجائش ہے اور نہ قبروں کے سامنے مراقبہ کرنے اور نہ غاروں میں چلّہ کشی کی ہی ضرورت ہے۔ جن لوگوں نے تزکیۂ نفس کے مختلف طریقے ایجاد اور اختیار کیے ہیں انہوں نے سنت کے خلاف راستہ اختیار کیا ہے۔ لہٰذا کتاب وسنت میں ایسے طریقوں اور تصوف کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ مسائل : 1۔ رسول محترم {ﷺ}انسانوں میں سے ہی ایک انسان تھے۔ 2۔ رسول لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے احکامات سناتا ہے۔ 3۔ رسول لوگوں کی تربیت و تزکیہ نفس کرتا ہے۔ 4۔ رسول تعلیم اور دانش مندی سکھاتا ہے۔ تفسیربالقرآن: نبوت کے اغراض ومقاصد : 1۔ نبوت کے منصبی فرائض۔ (البقرۃ:151) 2۔ آپ {ﷺ}کو کتاب وحکمت کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا گیا۔ (الجمعۃ:2) 3۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں میں ان فرائض کا تذکرہ موجود ہے۔ (البقرۃ:129) 4۔ رسول اللہ {ﷺ}لوگوں کے بوجھ اتارنے اور غلامی سے چھڑانے کے لیے تشریف لائے۔ (الاعراف :157) 5۔ نبوت اللہ تعالیٰ کا مومنوں پر احسان عظیم ہے۔ (آل عمران :164) 6۔ آپ لوگوں کو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے۔ (الاحزاب :45) 7۔ آپ کو ہدایت کا سورج بنایا گیا۔ (الاحزاب :46) البقرة
152 فہم القرآن : ربط کلام : نعمتوں کے بدلے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور شکر کرنا چاہیے۔ بیت اللہ کو مرکز بنانا‘ امّتِ مسلمہ کو پیشوائی کے منصب پر فائز کرنا، تبدیلی سے قبل کی نمازوں کا اجر عطا فرمانا، بیت اللہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دینے کے بجائے صرف اس سمت رخ کرنے کی سہولت عنایت فرمانا، نبی آخر الزماں {ﷺ}کی صورت میں مہربان مربیّ اور عظیم قائد عطا فرما کر حکم دیا جارہا ہے کہ ہمیشہ مجھے یاد رکھنا اور میرے شکر گزار رہتے ہوئے میرے احکام کی بجاآوری کرتے رہنا کسی کا خیال اور خوف دل میں ہرگز نہ لانا تاکہ تمہیں ہدایت کے راستے پر استقامت اور مزید رہنمائی سے نوازا جائے۔ ذکر کی اہمیّت : ذکر کی جامع تعریف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی بجا آوری کے ساتھ اس کی ذات اور صفات پر کامل یقین رکھتے ہوئے اسے دل اور زبان کے ساتھ یاد رکھا جائے۔ تمام عبادات ذکر ہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ لیکن ان کی ادائیگی کے بعد بھی حکم دیا گیا ہے کہ اپنے رب کو کثرت کے ساتھ یاد رکھاکرو‘ جب تم نماز پوری کرلو تو اٹھتے‘ بیٹھتے اور لیٹتے وقت اللہ کو یاد کیا کرو۔ ﴿فَإِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ﴾ [ النساء :103] ” جب تم نماز ادا کر چکو تو کھڑے بیٹھے اور پہلوؤں پر اللہ کا ذکر کرو۔“ ذکر کی مختلف صورتیں : (اِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَاف بالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَرَمْیُ الْجِمَارِ لِاِقَامَۃِ ذِکْرِ اللّٰہِ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب المناسک‘ باب فی الرمل] ” یقیناً ! بیت اللہ کا طواف‘ صفا ومروہ کی سعی اور شیاطین کو کنکریاں مارنا اللہ کا ذکر بلند کرنے کے لیے مقرر کیے گئے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَال اللّٰہُ تَعَالٰی أَنَا مَعَ عَبْدِیْ حَیْثُمَا ذَکَرَنِیْ وَتَحَرَّکَتْ بِیْ شَفَتَاہُ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ لاتحرک بہ لسانک الخ] ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ نبی {ﷺ}نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتاہوں‘ وہ جہاں کہیں بھی میرا ذکر کرے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر میں حرکت کریں۔“ فضیلت شکر : یہاں شکر کے مقابلے میں کفر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا معنیٰ ہے ناشکری اور ناقدری کرنا۔ گویا اللہ تعالیٰ کے احسانات اور نعمتوں کی ناقدری کرنے والا بالفعل کفر ہی کا ارتکاب کرتا ہے۔ شرف انسانیت کا تقاضا ہے کہ آدمی ہر حال میں اپنے رب کا شکر گزار بننے کی کوشش کرے۔ شکر رب سے مانگنے کا سلیقہ اور زوال نعمت سے محفوظ رہنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مزید عنایات کا دروازہ کھولتا ہے۔ انسان شکر تبھی ادا کرتا ہے جب اس کے دل میں اپنے رب کی نعمتوں اور احسانات کا شعور اور احساس پیدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دین کے کسی عمل کے بارے میں بیک وقت یہ نہیں فرمایا کہ اس کے کرنے سے تم عذاب سے محفوظ اور مزیدملنے کے حق دار بن جاؤ گے۔ صرف شکر ہی ایک ایسا عمل ہے جس کے بارے میں واضح طور پر فرمایا ہے : کہ تمہیں عذاب سے محفوظ رکھنے کے ساتھ مزید عنایات سے نوازا جائے گا۔ اس دوہرے انعام کی وجہ سے شیطان نے سر کشی اور بغاوت کی حدود پھاندتے ہوئے کہا تھا : ﴿وَلَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شَاکِرِیْنَ﴾ [ الأعراف :17] ” اے رب تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔“ رسول گرامی {ﷺ}نے معاذ بن جبل {رض}کو یہ دعا سکھلائی کہ اسے ہر نماز کے بعد پڑھا جائے۔ (أَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب فی الإستغفار] ” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین طریقے سے عبادت پر میری مدد فرما۔“ مسائل : 1۔ ذکر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ہر حال میں یاد رکھتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا ہر دم شکریہ ادا کرتے رہنا چاہئے۔ 3۔ ناشکری کفر کے مترادف ہے۔ تفسیر بالقرآن: شکر کی فضیلت : 1۔ اللہ تعالیٰ شکر گزار بندوں کا قدر دان ہے۔ (النساء :147) 2۔ شیطان کا مقصد انسان کو ناشکر ا بنانا ہے۔ (الاعراف :17) 3۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔ (سبا :13) 4۔ اللہ تعالیٰ نے آنکھ‘ کان اور دل اس لیے دیئے ہیں کہ اس کا شکر ادا کیا جائے۔ (السجدۃ:9) 5۔ شکر ادا کرنے والے کو مزید عطا کیا جاتا ہے۔ (ابراہیم :7) البقرة
153 فہم القرآن : ربط کلام : ذکر اور شکر کی بہترین صورت نماز ہے۔ شکر سے اعراض اور نماز کا انکار کفر ہے۔ اگلی آیات میں شہادت اور مختلف قسم کی آزمائشوں کا آنا یقینی فرمایا ہے۔ لہٰذا آزمائشوں اور کفار کے پروپیگنڈہ سے گھبرانے کے بجائے پہلے نماز اور صبر کے ذریعے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔ صبر ایک ایسی اخلاقی قدر اور قوت ہے جو انسان کی منفی قوتوں پر کنٹرول اور مثبت صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے ساتھ ان صلاحیتوں میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ قرآن مجید نے صبر کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کی حضرت خضر (علیہ السلام) کے ساتھ گفتگو کے ضمن میں کئی بار یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت خضر (علیہ السلام) کے ساتھ کچھ معاملات کی حکمت جاننے کے لیے ان کے ہمسفر ہوئے تو انہوں نے کئی بار فرمایا کہ جناب موسیٰ ! آپ میرے معاملات پر حوصلہ نہیں کر پائیں گے۔ کلیم اللہ نے کہا کہ میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ میرے صبرکے بندھن ٹوٹنے نہ پائیں۔ گویا کہ صبر کا معنیٰ ہے اپنے آپ پر قابورکھنا اور مشکل کے وقت استقامت اختیار کرنا۔ تو اس طرح صبر اور استقامت کا تعلق آپس میں چولی دامن کا تعلق بنتا ہے۔ غریب آدمی صبر کا دامن چھوڑ دے تو وہ خود کشی کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ جو ان کے اندر صبر کی قوت کمزور ہوجائے تو اس سے بے حیائی کی ایسی حرکات ثابت ہوتی ہیں کہ ساری زندگی اسے پچھتاوا رہتا ہے۔ صاحب اقتدار آدمی صبر سے تہی دامن ہو تو وہ اپنے وقت کا فرعون ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس یہی لوگ صبر وحوصلہ کا مظاہرہ کریں تو زندگی ان کے لیے آسان ہوجاتی ہے۔ بہادر اور بااختیار شخص حوصلہ سے کام لے تو کمزوروں کے لیے اللہ کی رحمت ثابت ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے زندگی کے ہر موڑ پر صبر وحوصلے کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی دستگیری کی خوشخبری دی ہے۔ صبر کے لیے آپ {ﷺ}کو یوں مخاطب کیا گیا : ﴿وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاھْجُرْھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلًا﴾ [ المزمل :10] ” لوگوں کی دل آزار باتوں پر صبر کرتے ہوئے انہیں اچھے انداز سے چھوڑ دیجیے۔“ ﴿وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَھُوَ خَیْرٌ لِّلصَّابِرِیْنَ﴾ [ النحل :126] ” صبر کا رویّہ اختیار کرو یہ بہترین انجام کی ضمانت ہے۔“ ﴿اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴾ [ الزمر :10] ” صبر کرنے والوں کو ہی بغیر حساب کے پورا پورا اجر دیا جائے گا۔“ یہاں اللہ تعالیٰ کی نصرت وحمایت کے حصول کے لیے دوسرا مؤثر ذریعہ نماز قرار دی گئی ہے۔ اگر آدمی نماز کو صحیح انداز میں ادا کرتے ہوئے یہ تصور قائم کرلے کہ میں مشفق ومہربان آقا کے حضور درخواست گزارہوں اور وہی میری روح کے کرب کو جانتا اور میرے دکھوں کا مداوا کرسکتا ہے تو انسان کا غم فوری طور پر ہلکا ہوجاتا ہے۔ اسی بنا پر رسول اللہ {ﷺ}فرمایا کرتے تھے : مجھے نماز میں سکون ملتا ہے اور آپ ہر مشکل وقت مصلّے کی طرف لوٹا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی زندگی کے نازک مراحل میں نماز کے ذریعے ہی اللہ تعالیٰ کی نصرت وحمایت طلب کیا کرتے تھے۔ (1) (جُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ )[ رواہ النسائی : کتاب عشرۃ النساء، باب حب النساء] ” نماز میں میری آنکھوں کے لیے ٹھنڈک ہے۔“ (2) (یَابِلَالُ ! اَرِحْنَا بالصَّلَاۃِ) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند الانصار، باب أحادیث رجال من أصحاب النبی {ﷺ}] ” اے بلال ! نماز کے ذریعے ہمیں سکون پہنچاؤ۔“ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نماز : (3) (فَلَمَّا دَخَلَ أَرْضَہٗ رَاٰھَا بَعْضُ أَھْلِ الْجَبَّارِ أَتَاہُ فَقَالَ لَہٗ لَقَدْ قَدِمَتْ أَرْضَکَ امْرَأَۃٌ لَا یَنْبَغِیْ لَھَا أَنْ تَکُوْنَ إِلَّا لَکَ فَأَرْسَلَ إِلَیْھَا فَأُتِیَ بِھَا فَقَامَ إِبْرَاھِیْمُ إِلَی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَیْہِ لَمْ یَتَمَالَکْ أَنْ بَسَطَ یَدَہٗ إِلَیْھَا قُبِضَتْ یَدُہٗ قَبْضَۃً شَدِیْدَۃً فَقَالَ لَھَا ادْعِی اللّٰہَ أَنْ یُطْلِقَ یَدِیْ وَلَا اَضُرُّکِ فَفَعَلَتْ فَعَادَ فُقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَۃِ الْأُوْلٰی فَقَالَ لَھَا مِثْلَ ذٰلِکَ فَفَعَلَتْ فَعَادَ فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ فَقَالَ ادْعِی اللّٰہَ أَنْ یُطْلِقَ یَدِیْ فَلَکِ اللّٰہُ أَنْ لَّاأَضُرَّکِ فَفَعَلَتْ وَأُطْلِقَتْ یَدُہٗ وَدَعَا الَّذِیْ جَاءَ بِھَا فَقَالَ لَہٗ إِنَّکَ إِنَّمَا أَتَیْتَنِیْ بِشَیْطَانٍ وَلَمْ تَأْتِنِیْ بِإِنْسَانٍ فَأَخْرِجْھَا مِنْ أَرْضِیْ وَأَعْطِھَا ھَاجَرَ قَالَ فَأَقْبَلَتْ تَمْشِیْ فَلَمَّا رَاٰھَا إِبْرَاہِیْمُ {علیہ السلام}انْصَرَفَ فَقَالَ لَھَا مَیْھَمْ قَالَتْ خَیْرًا کَفَّ اللّٰہُ یَدَ الْفَاجِرِوَأَخْدَمَ خَادِمًا) [ رواہ مسلم : کتاب الفضائل، باب من فضائل إبراھیم الخلیل (علیہ السلام) ] ” جب ابراہیم اس جابر بادشاہ کی سرزمین میں داخل ہوئے تو بادشاہ کے کارندے نے انہیں دیکھ کر بادشاہ سے کہا کہ آپ کے علاقے میں ایک عورت آئی ہے جو صرف آپ کے پاس ہی ہونی چاہیے۔ بادشاہ نے اپنا اہلکار بھیج کر اسے منگوایاتو ابراہیم (علیہ السلام) نے نماز شروع کردی۔ حضرت سارہ[ جب اس کے پاس گئیں تو اس نے ان کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا لیکن بادشاہ کا ہاتھ سختی سے پکڑ لیا گیا۔ اس نے حضرت سارہ[ سے کہا کہ : اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ میرا ہاتھ چھوڑ دیا جائے۔ میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ ہاتھ چھوڑدیا گیا تو اس نے دوبارہ دست درازی کی کوشش کی لیکن ہاتھ پہلے سے زیادہ سختی سے پکڑ لیا گیا۔ پھر اس نے ہاتھ چھڑانے کے لیے اللہ سے دعا کروائی اور وعدہ کیا کہ اب ایسے نہ کروں گا تو ہاتھ چھوڑ دیا گیا۔ تیسری دفعہ پھر اس نے ہاتھ بڑھایا تو ہاتھ پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیا گیا۔ اب پھر اس نے حضرت سارہ[ سے دعا کے لیے کہا کہ اللہ کی قسم! میرا ہاتھ چھوٹ جائے تو میں تیرے ساتھ زیادتی نہیں کروں گا۔ حضرت سارہ[ کی دعا پر ہاتھ چھوڑ دیا گیا۔ بادشاہ نے اس اہلکار کو بلاکر کہا کہ : تو میرے پاس انسان کے بجائے کوئی شیطان لے آیا ہے۔ اسے میری سرزمین سے جانے دیجیے اور اسے ہاجرہ بھی ساتھ دے دیجیے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب سارہ[ کو آتے ہوئے دیکھا تو نماز کے بعد خیریت پوچھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس فاجر کے ہاتھوں کو روک لیا اور میں سلامت رہی، اس نے ایک خادمہ خدمت کے لیے مجھے دی ہے۔“ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}الْمُؤْمِنُ الَّذِیْ یُخَالِطُ النَّاسَ وَیَصْبِرُ عَلٰی أَذَاھُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِّنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِیْ لَایُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا یَصْبِرُ عَلٰی أَذَاھُمْ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الفتن، باب الصبر علی البلاء] ” حضرت عبداللہ بن عمر {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم {ﷺ}نے فرمایا : جو مومن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے وہ اس مومن سے زیادہ اجر والا ہے جو نہ لوگوں میں گھل مل کررہتا ہے اور نہ ان کی دی ہوئی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے۔“ مسائل : 1۔ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ مستقل مزاج اور صبر کرنے والوں کی دستگیری فرماتا ہے۔ تفسیربالقرآن : صبر کی اہمیت اور اجر : 1۔ صبر اہم کاموں میں اہم ترین کام ہے۔ (الاحقاف :35) 2۔ نبی {ﷺ}کو صبر کا حکم دیا گیا۔ (المعارج :5) 3۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ :153) 4۔ صبر کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ (الحجرات :5) 5۔ صبر کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (المومنون :111) 6۔ مسلمان صابر کی آخرت اچھی ہوگی۔ (الرعد :24) 7۔ صبر کرنے والوں کو جنت میں سلامتی کی دعائیں دی جائیں گی۔ (الفرقان :75) 8۔ صابر بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ (الزمر :10 ) البقرة
154 فہم القرآن: ربط کلام : شہادت کے وقت صبر کرنا کیونکہ یہ فوت ہونے والے اور لواحقین کے لیے بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے۔ شہداء کے مرتبہ ومقام، ان کے عظیم اور مقدس مشن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کے نام کو عزت وتکریم دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ جن لوگوں نے میرے راستے میں اپنے جسم کے ٹکڑے کروائے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ان کو مردہ شمار کرنے کے بجائے زندہ وجاوید تصور کیا جائے۔ بظاہر ان کے گرامی قدر وجود دنیاۓ فانی سے دار جاودانی میں منتقل ہوچکے ہیں۔ لیکن وہ اپنی بے مثال غیرت ایمانی اور قربانی کی وجہ سے اپنی قوم اور معاشرے میں یاد رکھے جائیں گے۔ کیونکہ ان کی موت سے قوم میں زندگی کا نیا جذبہ، جوش اور ولولۂ ایمان پیدا ہوتا ہے۔ جس سے یہ محاورہ زبان زد عام ہوا ” شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے“ یہ جوانمرد اپنی جانیں نچھاور کرکے قوم کی عزت، بہوبیٹیوں کی عفت، ملک کی حفاظت اور اسلام کی عظمت کے رکھوالے ثابت ہوئے ہیں۔ ایسے جانفروشوں، فداکاروں اور جرأت وبہادری کی داستانیں رقم کرنے والوں کو غیرت خدا وندی گوارا نہیں کرتی کہ انہیں مردہ کے لفظ سے پکارا جائے۔ بلکہ ان کا نام اور کام نسلوں تک باقی رہتا ہے۔ تاریخ کے اوراق میں ان کے نام اور کام کی ہر وقت زیارت کی جاسکتی ہے۔ شہدائے بدر و احد سے لے کر آج تک شہید ہونے والے خوش بختوں کے جب بھی نام لیے جاتے ہیں تو دل میں احترام ومقام تازہ ہونے کے ساتھ ان کی عظیم شہادت کی وجہ سے آدمی کا خون کھول اٹھتا ہے۔ مسلمان چشم تصور میں تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو رات کی تاریکی میں بستر پر لیٹے ہونے کے باوجود اس کا دل میدان کارزار میں پہنچنے کے لیے تڑپ اٹھتا ہے۔ یہی وہ سرمایۂ حیات ہے جس بنا پر انہیں مردہ کہنے کی بجائے شہید کے عظیم اور مقدس لقب سے ملقب فرمایا گیا ہے۔ جہاں تک دنیاوی زندگی کا معاملہ ہے وہ اس طرح ہی اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں جس طرح طبعی موت سے آدمی اس دنیا سے دار آخرت کی طرف رخت سفر باندھتا ہے۔ اسی وجہ سے شہداء کی بیوگان کو آگے نکاح کرنے کی اجازت اور ان کی وراثت اسلامی قانون وراثت کے تحت ہی تقسیم ہوا کرتی ہے۔ اس بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح کیا ہے کہ ان کی زندگی کے بارے میں خود ساختہ تصورات اور کسی قسم کی قیل وقال سے پرہیز کرنا چاہیے۔ جہاں تک عالم برزخ میں جسد خاکی کی بقا کا معاملہ ہے تو انبیائے عظام کے اجسام مطہرہ کے بارے میں گارنٹی موجود ہے‘ رسول اللہ {ﷺ}کا ارشادِگرامی ہے : (إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَرَّ مَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِیَاءِ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب الصلوۃ، باب فصل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعۃ]” یقینًا اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کا جسم کھانا حرام کردیا ہے۔“ شہداء کے جسد خاکی کے بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی مستقل ضابطہ موجود نہیں۔ البتہ جس کے لیے اللہ چاہے اس کے وجود کو سلامت رکھتا ہے۔ جس کی تاریخ میں کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود بعض لوگوں نے اپنے فرسودہ عقائد کو تقویت اور دنیاوی مفادات کے تحفظ کے لیے ان کی حیات اخروی کو دنیا کی زندگانی سے مماثل کرنے کی بے معنی کوشش کی ہے۔ جن میں عصر حاضر کے ایک مفسر تفسیر مظہری کے حوالے سے یوں رقمطراز ہیں : قلت بل معیۃ غیر متکیفۃ یتضح علی العارفین۔ یعنی اس سنگت سے وہ خاص سنگت مراد ہے جس کی کیفیت بیان نہیں ہوسکتی۔ صرف عارف ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ (ضیاء القرآن) رسول اللہ {ﷺ}نے شہید کی زندگی کے بارے میں یوں فرمایا : (عَنْ عَائِشَۃَ {رض}قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}لِجَابِرٍ یَاجَابِرُ أَلَاأُبَشِّرُکَ قَالَ بَلٰی بَشِّرْنِیْ بَشَّرَکَ اللّٰہُ بالْخَیْرِ قَالَ أَشَعَرْتَ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَحْیَاأَبَاکَ فَأَقْعَدَہٗ بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ تَمَنَّ عَلَیَّ عَبْدِیْ مَاشِئْتَ أُعْطِکَہٗ فَقَالَ یَارَبِّ مَاعَبَدْتُّکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ أَتَمَنّٰیْ عَلَیْکَ أَنْ تَرُدَّنِیْ إِلَی الدُّنْیَا فَأُقَاتِلُ مَعَ النَّبِیِّ {}مَرَّۃً أُخْرٰی فَقَالَ سَبَقَ مِنِّیْ إِنَّکَ إِلَیْھَا لَاتَرْجِعُ) [ المستدرک علی الصحیحین : 3/223] ” حضرت عائشہ {رض}بیان کرتی ہیں۔ رسول اللہ {ﷺ}نے حضرت جابر {رض}سے فرمایا جابر! کیا میں تجھے بشارت نہ دوں؟ انہوں نے عرض کی کیوں نہیں! اللہ آپ کو بہتری اور خیر کی بشارت دے۔ آپ {ﷺ}نے فرمایا : تجھے معلوم ہے کہ اللہ نے تمہارے والد کو زندہ کرکے اپنے سامنے بٹھاکر فرمایا کہ میرے بندے تو جو چاہتا ہے مجھ سے تمنا کر میں تجھے عطا کروں گا۔ انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میں نے تیری عبادت کا حق ادا نہیں کیا میں تمنا کرتاہوں کہ آپ مجھے دنیا میں بھیج دیں تاکہ میں نبی {ﷺ}کے ساتھ مل کر قتال کروں اور پھر تیری راہ میں شہید ہوں اللہ تعالیٰ نے جوابًا فرمایا : میرا فیصلہ ہوچکا ہے کہ تودنیا میں دوبارہ نہیں جائے گا۔“ مسائل : 1۔ شہداء کو مردہ نہیں کہنا چاہیے۔ 2۔ شہداء کی زندگی ہمارے علم سے باہر ہے۔ تفسیربالقرآن: شہداء کا مقام وزندگی : 1۔ اللہ کے راستے میں شہید ہونے والے زندہ ہیں۔ (البقرۃ:154) 2۔ شہداء اللہ کے ہاں رزق پاتے ہیں۔ (آل عمران :169) 3۔ شہداء اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر راضی ہیں۔ (آل عمران :170) 4۔ شہداء اپنے لواحقین کو خوشخبری کا پیغام دیتے ہیں۔ (آل عمران :170) البقرة
155 فہم القرآن : (آیت 155 سے 156) ربط کلام : غم اور آزمائش کی مختلف صورتیں۔ اسلام کے اوصاف حمیدہ میں یہ وصف بھی شامل ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو کسی مبالغہ آمیزی اور خوش فہمی کا شکار نہیں ہونے دیتا کہ جو نہی تم اپنی زبان سے کلمہ ادا کرو گے تو بہاریں لوٹنے کے ساتھ ہر قسم کی کامیابیاں تمہارے دامن میں سمٹ آئیں گی۔ اسلام اور کسی نظریے کی تاریخ بھی اس بات کی تائید نہیں کرتی کہ جو نہی کسی نے اسے قبول کیا تو ان کے لیے نعمتوں اور سہولتوں کے دروازے کھل گئے ہوں۔ اس کے برعکس یہ ہوا کرتا ہے کہ تحریک کے ابتدائی معاون بیش بہا قربانیاں پیش کیا کرتے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے صبر واستقامت کا مظاہرہ کریں تو ایک وقت آیا کرتا ہے کہ اسی یا آئندہ نسل کے لیے دنیا میں آسانیوں کے راستے ہموار ہوجایا کرتے ہیں۔ شدید کشمکش اور قربانیوں سے پہلے ان سہولتوں کا تصور کرنا خوش فہمیوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ ایسی ہی صورت حال کے پیش نظر یہاں تحویل قبلہ کے احکامات کے دوران شہادتوں اور آزمائشوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ ترک وطن اور جانی قربانیوں کے ساتھ دشمن کا خوف، غربت وافلاس، مال ودولت کی کمی، اعزاء و اقرباء کی جدائی، موت کی صورت میں ہو یا ہجرت کی شکل میں اور اناج کی کمی سے تمہیں آزمایا جائے گا۔ یہاں پہلے شہادت کا ذکر فرما کر یہ تصوّر دیا کہ اللہ کے بندے جان کی پروا نہیں کرتے لہٰذا ان کے لیے دنیا کا مال ومتاع کیا حیثیت رکھتا ہے گویا کہ بڑی آزمائشوں سے گزرنے والے چھوٹی چھوٹی آزمائشوں سے نہیں گھبرایا کرتے۔ صحابہ کرام {رض}کو فتح مکہ تک پے درپے تمام امتحانات اور آزمائشوں سے گزارا گیا اور وہ ہر امتحان میں سرخرو ہوئے تب جا کر ان کے لیے کامیابیوں کے دروازے کھول دیئے گئے۔ آزمائش زندگی کا جز ولاینفک ہے‘ بالخصوص دین اسلام کی سر بلندی کے لیے یہ اس قدر اہم اور ضروری ہے کہ اس کے لیے دو حرف تاکید استعمال کیے گئے ہیں۔ عربی کے طلبہ جانتے ہیں کہ جب بیک وقت لام مفتوح اور تشدید کے ساتھ نون آئے تو یہ تاکید مزید کا پتہ دیتے ہیں۔ جس کا مفہوم یہ ہوا کہ آزمائش کے کربناک مراحل سے تمہیں ہر حال میں گزرنا ہوگا۔ اسی بات کو قرآن مجید نے دوسرے انداز اور الفاظ میں یوں بیان فرمایا ہے : ﴿اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْـرَكُـوٓا اَنْ يَّقُوْلُوٓا اٰمَنَّا وَهُـمْ لَا يُفْتَنُـوْنَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ صَدَقُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِيْن﴾ [ العنکبوت : 2، 3] ” کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ” اٰمَنَّا“ کہہ کر انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور آزمائش میں مبتلا نہ کیے جائیں گے؟ ہم نے ان سے پہلوں کو بھی آزمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ سچوں اور جھوٹوں کو ضرور دیکھ لے گا۔“ یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش مومن کو ذلیل کرنے کے لیے نہیں آتی بلکہ آزمائش انسان کی خوابیدہ صلاحیتیں ابھارنے اور آخرت میں اس کے مراتب میں اضافہ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ دنیا میں مجرموں کے لیے مثال بنتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو کر بھی اپنے رب کے احسان مند اور شکر گزار بننے کے لیے تیار نہیں ہو جب کہ اس کے بندے نعمتیں چھنوا کر بھی اس کے حضور صبروشکر کا مظاہرہ کیے ہوئے ہیں۔ رسول کریم {ﷺ}کو فرمایا گیا ہے کہ آپ ایسے صبر و حوصلہ کرنے والوں کو دنیا اور آخرت میں مسرت وشادمانی کا پیغام دیجیے۔ کیونکہ یہ آزمائش کے وقت سر پیٹنے اور واویلا کرنے کے بجائے یہ کہہ کر اپنے آپ کو مطمئن اور حوصلہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ چھننے والی نعمت کیا چیز ہے ہماری جان عزیز بھی رب کریم کی امانت ہے۔ یہ نعمت تو آج مجھ سے رخصت ہورہی ہے جب کہ مقررہ وقت پر میں نے بھی اسی کے حضور لوٹنا ہے۔ صبر وہ نیکی ہے کہ آدمی کو جب بھی سابقہ تکلیف یاد آئے اور اس پر ” اِنَّا لِلّٰہِ“ کے الفاظ ادا کرے۔ اس کو پہلے کی طرح اجرِعظیم سے نوازاجائے گا۔ [ رواہ مسلم : کتاب الجنائز، باب مایقال عند المصیبۃ] مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو خوف، غربت، مال کی کمی، پیاروں کی موت اور رزق کی قلّت کے ساتھ آزماتا ہے۔ 2۔ مصائب پر صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ خوشخبری کا پیغام دیتا ہے۔ 3۔ مصیبت کے وقت ’’ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ“ پڑھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : آزمائش : 1۔ ایمان کے لیے آزمائش شرط ہے۔ (العنکبوت :2) 2۔ اللہ نے پہلے لوگوں کو بھی آزمایا۔ (البقرۃ :214) 3۔ آزمائش میں ثابت قدمی کے بعد اللہ کی مدد یقینی اور قریب ہوا کرتی ہے۔ (البقرۃ:214) 4۔ جنت میں داخلے کے لیے آزمائش ضرور ہوتی ہے۔ (آل عمران :142) البقرة
156 البقرة
157 فہم القرآن : ربط کلام : صبروشکر اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے‘ مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنیوالے اور مصائب میں جزع‘ فزع کرنے کی بجائے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے والے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور ہدایت کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔ صبر کا معنی ہے کہ آدمی مصیبت کے وقت اپنے آپ پر قابو پائے اور ہر حال میں اپنے آپ کو شریعت کا پابند رکھے۔ جب کوئی اپنے آپ کو رب کی رضا اور اس کے احکام کے تابع رکھ کر آزمائش میں ثابت قدم رہتا ہے تو اس کے صلہ میں وہ رب کی رحمت اور عنایات کا حق دار ٹھہرتا ہے۔ اللہ کی رحمت وعنایات کے مستحق لوگ ہی ہدایت یافتہ قرار پاتے ہیں۔ کیونکہ اس فرمان سے قبل نعمتوں کا چھن جانا، جگر گوشوں کی جدائی اور آزمائشوں سے دوچار ہونا یقینی امر قرار دیا ہے۔ ان کی تلافی اور مومنوں کی تسلی کے لیے صلوات اور رحمت کے نزول کا اطمینان دلایا جارہا ہے۔ عنایات سے مرادیہاں چھن جانے والی نعمتوں اور سہولتوں کی تلافی ہوگی اور رحمت سے نعمتوں میں استقرار اور ان کی وسعتوں میں اضافہ ہوگا۔ رب کریم کی رحمت سے سوکھی ہوئی کھیتیاں سرسبز وشاداب، ویران بستیاں آباد و بارونق، پریشان و پشیمان دل ایقان واطمینان کا گہوارہ اور گناہوں سے آلودہ دامن پاک وشفاف ہوجاتے ہیں۔ یہ اس کی رحمت ہی تو تھی جس نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو دوبارہ اولاد، مال اور صحت وتندرستی سے نوازا تھا۔ اس بے پایاں رحمت وعنایات کا ہی صلہ تھا کہ صحابہ کرام {رض}نے جھونپڑیاں چھوڑیں اور مکانات کے مالک بنے، معمولی مال چھوڑا تو اس کے بدلے میں دولت کے انبار نصیب ہوئے، دین کی خاطر دنیا کی نظر میں عارضی طور پر خفت اٹھانی پڑی تو اس کے بدلے میں عزت وعظمت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔ مکہ چھوڑا تو دنیا کے حکمران قرار پائے۔ دنیا و آخرت کی نعمتیں، سہولتیں، عزتیں اور رفعتیں اللہ کی رحمت کا پر تو ہیں۔ اسی بنا پر سرور دوعالم {ﷺ}یہ دعا کیا کرتے تھے : (اَللّٰھُمَّ رَحْمَتَکَ اَرْجُوْ فَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَّاَصْلِحْ لِیْ شَأْنِیْ کُلَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الأدب، باب مایقول إذا أصبح] ” اے اللہ! میں تیری رحمت کا امید وار ہوں مجھے لمحہ بھر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرنا، میرے تمام کاموں کو سنوارنا‘ تیرے سوا کوئی معبودِ حق نہیں۔“ مسائل : 1۔ صاحب ایمان، مستقل مزاج اور صابر لوگوں پر اللہ کا فضل و کرم اور ان کو مزید ہدایت سے نوازا جاتا ہے۔ البقرة
158 فہم القرآن : ربط کلام : پارے کی ابتدا سے تحویل قبلہ کا بیان ہورہا ہے۔ اس دوران زندگی میں پیش آنے والی مشکلات پر ثابت قدم رہنے والوں کو خوشخبری سنائی گئی۔ اب صفا ومروہ کی سعی کے حوالے سے گذشتہ مضمون سے پیوستہ کردیا گیا ہے۔ اسلام سے قبل اہل مکہ کے چار بڑے بت تھے جنّ میں سے ہبل کو بیت اللہ میں رکھا گیا اور مناۃ بحر احمر کے کنارے اور لات کو شہر طائف میں رکھا گیا۔ جب کہ عزی کو وادئ نخلہ میں نصب کیا گیا تھا۔ صفا اور مروہ کی دو مقدس پہاڑیوں پر اسا ف اور نائلہ کے بت رکھے گئے تھے۔ اہل مکہ چونکہ اساف اور نائلہ کو خدائی اوتار تسلیم نہیں کرتے تھے‘ جس کی وجہ سے مناۃ کے ماننے والے صفا اور مروہ کی سعی سے گریز کرتے تھے۔ دین اسلام کی آمد پر مسلمانوں کے دلوں میں یہ وہم پیدا ہوا کہ کہیں صفا اور مروہ کی سعی شرک کے زمرہ میں تو نہیں آتی؟ اس تصور کی نفی کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے مسلمانو! انشراح صدر کے ساتھ صفا اور مروہ کی سعی کیا کرو کیونکہ یہ دونوں شعائر اللہ میں شامل ہیں۔ ان کے درمیان کی جانے والی سعی کا شرکیہ اعمال کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو تمہاری والدۂ ماجدہ حضرت ہاجرہ کے توَکل عَلَی اللّٰہِ اور بے بسی کے عالم میں ان کے گھومنے کا مقام اور ترجمان ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے شعائر اللہ میں سے شمار فرمایا ہے۔ شَعَائِرْ“ شعار کی جمع ہے جس کا معنی ہے کہ ایسی جگہ یا نشانی جس سے اللہ تعالیٰ کی طرف انسان کی راہنمائی ہوتی ہو۔ اس لیے شعائر اللہ کی تعظیم کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ذات کا احترام کرنا اور اس کا تقو ٰی قرار پایا ہے۔ لہٰذا ان کی سعی میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ یا در کھیے! جو شخص بھی دل کی گہرائی کے ساتھ نیکی کرے گا‘ اللہ تعالیٰ اس کی نیکی کو جاننے اور اس کی قدر افزائی فرمانے والاہے۔ دنیا میں بڑے بڑے پہاڑ اپنی بلندی اور فلک بوسی کے اعتبار سے مشہور ہیں‘ ان میں مر مر اور یاقوت وعقیق بھی پائے جاتے ہیں‘ صفا اور مروہ بظاہر معمولی پہاڑیاں ہیں مگر احترام واکرام اور نیکی کے اعتبار سے اپنے دامن میں ایک تاریخی پس منظر اور شعائر اللہ کا تقدس لیے ہوئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے حضرت ہاجرہ [ کو یہاں چھوڑ کر جانے لگے تو انہوں نے عرض کیا کہ میرے سرتاج مجھ سے کوئی گستاخی ہوئی ہے یا اللہ کا حکم اس طرح ہے؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : کہ اللہ کا حکم سمجھ کر اسے تسلیم کیجیے۔ تب حضرت ہاجرہ (علیھا السلام) عرض کرتی ہیں کہ آپ مطمئن ہو کر تشریف لے جائیں : اِذًا لَا یُضَیِّعَنَا اللّٰہُ ” پھر ہمیں اللہ تعالیٰ ضائع نہیں ہونے دے گا۔“ [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہِ تعالیٰ ﴿وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا ﴾] غور فرمائیں! میلوں پھیلے ہوئے فلک بوس پہاڑ، بے آب وگیاہ سنگلاخ زمین اور دوردور تک انسانی زندگی کے لیے ضروری اسباب ووسائل کا فقدان ہونے کے باوجود کائنات کی عظیم ترین خاتون نے ایک ایسا جملہ ادا فرمایا جو اپنے اندر زمین و آسمان کی وسعتیں اور پہاڑوں سے زیادہ وزن لیے ہوئے ہے۔ اسی عقیدہ کی یاد دہانی اور مشکل ترین حالات میں اللہ پر توکل کرنے اور آزمائش میں ثابت قدمی کا سبق یاد دلانے کے لیے صفا ومروہ کی سعی کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے کو طواف سے تعبیر فرمایا ہے۔ لیکن حدیث رسول میں اس کے لیے سعی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تاکہ طواف سے لوگوں کو یہ غلط فہمی نہ پید اہو جائے کہ صفا سے صفا تک ایک چکر بنتا ہے۔ بلکہ آپ نے صفا سے مروہ تک ایک جانب کو ایک چکر شمار کیا ہے اس طرح یہ سعی مروہ پر مکمل ہوتی ہے۔ آپ صفا پر چڑھ کر یہ کلمات ادا کیا کرتے تھے۔ ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِاعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَإِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ﴾ [ البقرۃ:158] ” بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں چنانچہ جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر صفا مروہ کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور جو شخص خوشی سے نیکی کرے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے۔“ (لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ أَنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہٗ)[ رواہ مسلم : کتاب الحج] مسائل : 1۔ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانات ہیں۔ 2۔ صفا اور مروہ کا طواف نیکی سمجھ کر کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : شعائر اللہ کی تعریف : 1۔ صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔ (البقرۃ :158) 2۔ قربانی کا جانور اللہ کے شعائر میں سے ہے۔ (الحج :36) 3۔ اللہ کے شعائر کا احترام کرنے کا حکم ہے۔ (المائدۃ:2) 4۔ شعائر اللہ کی تعظیم کرنا تقو ٰی کی نشانی ہے۔ (الحج :32) البقرة
159 فہم القرآن : (آیت 159 سے 160) ربط کلام : اہل کتاب نے رسول اکرم {ﷺ}کی رسالت کے اوصاف اور بیت اللہ کے قبلۂ حق ہونے کو لوگوں سے چھپا رکھا تھا‘ جس پر حق چھپانے کی سزا بیان کی جارہی ہے۔ اہل کتاب نے رسول اللہ {ﷺ}کی رسالت کا ہی انکار نہیں کیا بلکہ ہر اس نشانی کو چھپانے اور مٹانے کی کوشش کی جس سے آپ کی رسالت کی نشاندہی ہوتی تھی۔ ان میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ نے بے قراری کے عالم میں صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگائے تھے لیکن یہود و نصارٰی نے تاریخ کے اس اہم ترین حصّہ کو اپنی کتابوں سے نکال باہر کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان مقامات کو شعائر اللہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حقائق اور احکامات کو چھپانا اتنا سنگین جرم ہے کہ اس جرم کی وجہ سے لا تعداد بلکہ بعض دفعہ تو نسل در نسل لوگ قبول حق سے محروم ہوجاتے ہیں لہٰذا ایسامجرم عالم ہو یا غیر عالم اس پر اللہ تعالیٰ اور کائنات کے ایک ایک ذرّہ کی لعنت ہوتی ہے۔ یہاں قرآن مجید نے لعنت کرنے والے افراد کو متعین نہیں فرمایا کہ یہ لعنت کرنے والے کون ہیں اس وجہ سے حضرت عبداللہ بن عباس {رض}کے شاگرد رشید اور مشہور مفسرِقرآن حضرت مجاہد اور عکرمہ {رض}فرمایا کرتے تھے کہ عدم تعین میں یہ واضح اشارہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز کتمانِ حق کرنے والوں پر پھٹکار کرتی ہے۔ یہاں حق چھپانے سے مراد صرف قرآن مجید کے ارشادات ہی نہیں بلکہ جو لوگ اپنے مذموم مقاصد کے لیے صحیح اسناد کے ساتھ امت تک پہنچنے والی احادیث کو جھٹلاتے یا چھپاتے ہیں ان پر بھی اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہوگی کیونکہ صحابہ کرام {رض}رسول کریم {ﷺ}کے ارشادات چھپانے کو بھی اس جرم میں شمار کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت معاذ {رض}نے یہی بات کہہ کر ایک حدیث اس وقت بیان فرمائی جب وہ اس دنیائے فانی سے کوچ کررہے تھے۔ (حَدَّثَنَا اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمُعَاذُ ٗ رَدِیْفَہٗ............قَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَفَلاَ اُخْبِرُبِہِ النَّاسَ فَیَسْتَبْشِرُوْا قَال اذاً یَّتَّکِلُوْا وَاَخْبَرَبِہَا مُعَاذُ ٗ عِنْدَ مَوْتِہٖ تَأَثُّمًا) [رواہ البخاری : کتاب العلم، باب من خص بالعلم قوما الخ] حدیث معاذ {رض}سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دینی مصلحت کی خاطر کسی بات کو کچھ عرصہ کے لیے بیان نہ کیا جائے تو اس میں کوئی جرم نہیں البتہ ایسے موقع پر حق بات چھپانا جس سے حق والوں کی ہزیمت ہو اور غلط بات حق کا درجہ اختیار کر جائے یا حق کے ہمیشہ دب جانے کا اندیشہ ہو تو حق چھپانا بہت بڑا گناہ ہے۔ اس گناہ سے بچنے اور اعلان حق کے لیے صحابہ کرام‘ ائمہ عظام اور علمائے حق نے بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں۔ لیکن جو آدمی دنیوی مفاد کی خاطر حق چھپاتا ہے اس شخص پر اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق پھٹکار کرتی ہے۔ البتہ ان لوگوں کو معاف کردیا جائے گا جنہوں نے اخفائے حق سے توبہ کی اور سابقہ اخفائے حق کی تلافی کے لیے حق بات کو کھول کر بیان کیا۔ یعنی جہاں جہاں اس جرم کے اثرات پہنچے ان کی تلافی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تاکہ حق واضح ہوجائے اور اس میں کوئی ابہام باقی رہنے نہ پائے۔ مسائل : 1۔ حق چھپانے والوں پر اللہ اور اس کی تمام مخلوق لعنت کرتی ہے۔ 2۔ توبہ کرنے والے کو اپنی سابقہ غلطیوں کے اثرات بھی ختم کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ 3۔ توبہ کرنے اور حقائق بیان کرنے والوں کو معاف کردیا جائے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ تفسیربالقرآن : توبہ اور اس کی قبولیت کی شرائط : 1۔ اعتراف جرم کے باعث توبہ قبول ہوتی ہے۔ (البقرۃ :37) 2۔ ظلم سے اجتناب اور اصلاح احوال کے بعد توبہ قبول ہوتی ہے۔ (المائدۃ:39) 3۔ جہالت کے سبب گناہ ہوجائے تو اس کی اصلاح کرنے پر توبہ قبول ہوتی ہے۔ (الانعام :54) 4۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ (البقرۃ:160) 5۔ اللہ جس کی چاہتا ہے توبہ قبول کرتا ہے۔ (التوبۃ:27) 6۔ اللہ تعالیٰ مومن مردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ (الاحزاب :73) 7۔ توبہ کرنے والوں کی برائیاں نیکیوں میں تبدیل کردی جاتی ہیں۔ (الفرقان :70) البقرة
160 البقرة
161 فہم القرآن : ( آیت 161 سے 162) ربط کلام : جن لوگوں نے حق قبول کرنے، اخفائے حق کے گناہ کو ترک کرنے اور حق کھول کر بیان کرنے سے انکار کیا پھر اسی حالت میں مر گئے ایسے مجرموں پر اللہ تعالیٰ اور سب کی طرف سے پھٹکار ہوگی اور حق چھپانے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ یہودو نصارٰی کے علماء کی اکثریت کا یہ حال تھا کہ وہ دنیاوی مفادات کے حصول، علمی برتری اور ظاہری تقدس کے تحفظ کی خاطر کتاب الٰہی کو اپنے تک ہی محدود رکھتے تھے۔ جس طرح ہندو مذہب میں شودر کو مذہبی کتاب اور مندروں سے دور رکھا جاتا ہے۔ اہل کتاب کے علماء حکمرانوں اور بڑے لوگوں کے سامنے کلمۂ حق کہنے کے بجائے ان کی چاپلوسی اور مدح سرائی کیا کرتے تھے تاکہ ان سے بڑے بڑے مناصب اور مفادات حاصل کرسکیں۔ نبی معظم {ﷺ}نے ان کی اخلاقی پستی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے : (إِنَّ أَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلٰی بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ کَان الرَّجُلُ یَلْقَی الرَّجُلَ فَیَقُوْلُ یَاھٰذَا اتَّقِ اللّٰہَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَإِنَّہٗ لَایَحِلُّ لَکَ ثُمَّ یَلْقَاہُ مِنَ الْغَدِ فَلَا یَمْنَعُہٗ ذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ أَکِیْلَہٗ وَشَرِیْبَہٗ وَقَعِیْدَہٗ فَلَمَّا فَعَلُوْا ذٰلِکَ ضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ ثُمَّ قَالَ ﴿لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ بَنِیْ إِسْرَآءِیْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ﴾ إِلٰی قَوْلِہٖ ﴿فَاسِقُوْنَ﴾ ثُمَّ قَالَ کَلَّا وَاللّٰہِ لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ وَلَتَأْخُذُنَّ عَلٰی یَدَیِ الظَّالِمِ وَلَتَأْطُرُنَّہٗ عَلَی الْحَقِّ أَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّہٗ عَلَی الْحَقِّ قَصْرًا) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی] ” پہلی خرابی بنی اسرائیل میں یہ آئی تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا اور اس سے کہتا اللہ سے ڈر اور اپنی حرکات سے باز آجا ؤیہ کام تیرے لیے درست نہیں ہے۔ جب دوسرے دن اس سے ملتا تو یہ کام اسے اس کے ساتھ کھانے پینے اور بیٹھنے سے نہ روکتا۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے انکے ایک دوسرے کے ساتھ دل ملا دیے۔ مزید فرمایا : بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر داوٗد اور عیسیٰ {علیہ السلام}کی زبان سے لعنت کی۔۔۔ پھر فرمایا : ہرگز نہیں‘ اللہ کی قسم! تم ضرور نیکی کا حکم دو اور برے کاموں سے منع کرو اور ظالم کے ہاتھ پکڑ کر اس کو حق کی طرف اس طرح جھکاؤ گے جیسا اسے جھکانے کا حق ہے اور اس کو حق پر ٹھہراؤ جیساکہ حق پر ٹھہرانے کا حق ہے۔“ نیکی قائم کرو جس طرح قائم کرنا چاہیے۔ اور حق پر اس کی مدد کرو جب جنّتی جنت میں جلوہ افروز ہوں گے تو ایک دن جہنم کے کنارے جاکر ایسے علماء سے پوچھیں گے کہ تم کس جرم کی پاداش میں یہاں ذلیل ہورہے ہو ؟ جہنمی اپنے بیٹوں، بیٹیوں، رشتے داروں اور مقتدیوں کے سامنے زارو قطار روتے ہوئے کہیں گے کہ ہم حق چھپایا کرتے تھے۔ جنّتی ترس کھانے کے بجائے ان کو کہیں گے کہ پھر تم پر رب ذوالجلال کی مزید پھٹکار ہونی چاہیے۔ اف! یہ کتنا ذلت آمیز اور ہیبت ناک منظرہو گا۔ انہیں ان خوفناک اور درد ناک سزاؤں میں نہ صرف ہمیشہ رہنا ہے بلکہ ان کی سزاؤں میں ذرہ برابر بھی تخفیف نہیں کی جائے گی۔ یہ مجبور ہو کر باربار جہنم کے نگران فرشتے سے آرزو کریں گے کہ ہمیں موت ہی آجائے جوابًا کہا جائیگا کہ اب تمہیں ہمیشہ یہاں ہی رہنا پڑے گا اور کوئی کسی اعتبار سے بھی تمہاری مدد نہیں کرسکے گا۔ ﴿وَنَادَوْا یٰمٰلِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ قَالَ إِنَّکُمْ مَّاکِثُوْنَ﴾ [ الزخرف :77] ” اور جہنمی پکاریں گے کہ اے فرشتے تیرا رب ہمیں موت ہی دے دے وہ جواب دے گا یقیناً تم یہیں رہنے والے ہو۔“ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : (مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَکَتَمَہٗ اُلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِلِجَامٍ مِنْ نَّارٍ) [ رواہ ابن ماجۃ: المقدمۃ، باب من سئل عن علم فکتمہ] ” جس سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا لیکن اس نے اسے چھپا لیا ایسے عالم کو جہنم میں آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔“ مسائل : 1۔ کفر کی حالت پر مرنے والوں پر اللہ تعالیٰ، اس کے ملائکہ اور سب کی لعنت ہوتی ہے۔ 2۔ حق چھپانے اور کفر پر مرنے والوں پر عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔ تفسیربالقرآن : ظالم کو مہلت میسر نہیں آئے گی : 1۔ نبی سے کیا جانے والا مطالبہ منظور ہونے کے بعد مہلت نہیں دی جاتی۔ (الانعام :8) 3۔ مرتدین کو مہلت نہ دی جائے گی۔ (آل عمران :88) 2۔ کتمانِ حق کرنے والوں کو عذاب سے مہلت نہ دی جائے گی۔ (البقرۃ:162) 4۔ ظالموں کو مہلت نہ دی جائے گی۔ (النحل :85) البقرة
162 البقرة
163 فہم القرآن : (آیت 163 سے 164) ربط کلام : جس طرح تمہارا رسول، قرآن، قبلہ اور دین ابراہیم ایک ہے اسی طرح تمہارا معبودِ بر حق بھی ایک ہی ہے۔ اب اس کی الوہیت کے دلائل سنو اور ان پر غور کرو! وہ ایک ہی الٰہ ہے‘ حاکم مطلق، معبود اور مسجود وہی بحروبرّ، زمین و آسمان‘ اور فضاؤں پر کلی اختیار رکھنے والا ہے۔ وہ ہر چیز کا خالق اور واحد مالک ہونے کے باوجود اپنے اختیارات ظلم وزیادتی کی بنیاد پر نہیں بلکہ نہایت ہی رحم وکرم کی اساس پر استعمال کرتا ہے۔ کائنات کے ذرّے ذرّے پر اس کی شفقت ومہربانی کی گھٹائیں برس رہی ہیں۔ اس کی ذات اور شان کی جھلک دیکھنا چاہتے ہو تو غور کرو کہ اس نے زمین و آسمان کو کس طرح پیدا کیا بظاہر زمین ایک ہی دکھائی دیتی ہے لیکن یہ تہ بہ تہ سات طبقات پر بچھائی گئی ہے۔ پھر جس زمین پر تمہارا ٹھکانہ اور بسیرا ہے‘ اس کی ہزاروں اقسام اور قطعات ہیں۔ کہیں یہ زمین ہزاروں میلوں تک ریت کی شکل میں حد نظر تک سراب کا نقشہ پیش کررہی ہے۔ کہیں سیم و تھور کی وجہ سے پانی کا منظر پیش کرتی ہے۔ پھر کسی مقام پر زمین پوٹھو ہار کا روپ دھار لیتی ہے اور اس کے سینہ پر اربوں سنگلاخ ریزے دکھائی دیتے ہیں‘ کہیں ٹیلوں اور پہاڑوں کا سلسلہ جاری ہے‘ اور کہیں ڈھلوان کی صورت میں درجنوں فٹ نیچے ہی نیچے چلی جاتی ہے۔ ایک طرف اس کی چھاتی پر سر سبز وشاداب باغات ہیں اور دوسری طرف صحراء وبیابان کا لامتناہی سلسلہ ہے۔ اس کا ایک حصّہ ایک بیج کو اپنی گود میں لے کر اس کی نشوونما کرتا ہے‘ دوسراحصّہ اسی بیج کو تلف کردیتا ہے۔ زمین کے ایک حصہ پر ایک فصل لہلہا رہی ہوتی ہے‘ جب کہ اس کے ساتھ ہی دوسرا رقبہ اس فصل کو اگانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی صورت زمین کی تہوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ ایک علاقے میں کوئلے کے ذخائر ہیں تو اس کے ساتھ والی زمین سونے اور چاندی کے خزانے لیے ہوئے ہے۔ ایک جگہ پانی اتنا کڑواہے کہ زبان کاٹ رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی زیر زمین میٹھے پانی کا دریا بہہ رہا ہے۔ یہ زمین اپنے اوپر پہاڑوں، دریاؤں کھربوں انسانوں، حیوانات اور دیگر اشیاء کا بوجھ اٹھانے کے باوجود نہ جھکتی ہے نہ تھکتی ہے۔ اَب آسمان کو دیکھو کہ وہ لاکھوں کروڑوں سالوں سے بغیر ستونوں کے سائبان بنا ہوا ہے۔ کیا مجال ہے کہ ایک انچ بھی اوپر نیچے ہوپائے۔ اس میں غور کے ساتھ دیکھنے سے بھی کوئی جھول نظر نہیں آتا۔ یہاں تک کہ نہ اس کا رنگ بدلا ہے اور نہ اس میں کوئی دراڑ واقع ہوئی ہے‘ جب کہ اس کا بنیادی مادہ دھواں قرار دیا گیا ہے ( الدخان :10) حالانکہ ایک آسمان کی موٹائی اور ایک سے دوسرے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت بیان کیا گیا ہے۔[ مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب مسند السابق] رات اور دن کے فرق کو دیکھا جائے تو رات ٹھنڈی اور دن گرم ہے۔ رات سر شام ہی تاریکی کا نقاب اوڑھ لیتی ہے جب کہ دن ہر جگہ روشن دکھائی دیتا ہے۔ رات کو اکثر فصلیں نمو پاتی ہیں جب کہ دن کی گرمی اور روشنی پھلوں کے پکنے میں مدد دیتی ہے۔ کبھی رات اپنے دامن کو طویل کردیتی ہے اور کبھی دن اس کی چادر کو لپیٹ کر اسے مختصر کرتے ہوئے خود طوالت اختیار کرلیتا ہے۔ پھر سال میں ایسے اوقات بھی آتے ہیں کہ دونوں اپنی طوالت کے لحاظ سے یکساں ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد مسلسل ان کے درمیان گھٹنے اور بڑھنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے کبھی دن صبح کے وقت بڑھنا شروع ہوتا اور کبھی دونوں جانب سے سکڑنا شروع ہوتا ہے۔ سمندر کے سینے پر چلنے والی کشتیوں اور بڑے بڑے جہازوں کی طرف توجہ کی جائے تو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ جو پانی اپنے اوپر ایک سوئی کو برداشت نہیں کرسکتا اسی پانی کی لہریں کشتیوں اور جہازوں کو ساحل مراد تک پہنچانے میں خدّام بنی ہوئی ہیں جو ٹنوں کے حساب سے بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں‘ اور نقل وحمل کا یہ سب سے بڑا اور مفید ترین ذریعہ ہیں۔ اس طرح ابتدائے آفرینش سے ہی دنیا کی سب سے بڑی تجارت بحری راستوں کے ذریعے ہی ہورہی ہے اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اب اس اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اندازہ کیجیے جو آسمان سے بارش کی صورت میں خاص مقدار اور رفتار سے پانی نازل کرتا ہے جس سے پھول کی نازک ترین پتی بھی غسل کرتی اور پیاس بجھاتی ہے۔ اس طرح جو زمین موت کی ویرانی کا ہولناک منظر پیش کررہی تھی چند لمحوں میں اس میں جل تھل کا سماں دکھائی دیتا ہے۔ جس سے انسان ہی نہیں بلکہ زمین پر رینگنے والے حشرات الارض بھی برابر مستفید ہوتے ہیں۔ پھر ہوا اور اس کی رفتار پر غور کیجیے اگر اللہ تعالیٰ ایک لمحہ کے لیے ہوا کو رنگ دار بنادے تو آنکھیں ہونے کے باوجود دیدہ ور اندھے کی طرح ٹھوکریں کھاتا پھرے۔ یہ ہوا ہی تو ہے جو سمندر کے کڑوے کسیلے پانی کو جراثیم اور مہلک گیسوں سے پاک کر کے بلندیوں کی مخصوص سطح تک لے جاتی ہے۔ پھر ان بادلوں کو دھکیل کر وہاں پہنچادیتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ بادلوں کو برسنے کا حکم دیتا ہے۔ بسا اوقات وہ برسنے کے قریب ہوتے ہیں لیکن چند لمحوں میں ہوا بھاری بھر کم بادلوں کو کہیں اور ہانک کرلے جاتی ہے یہ قدرت کے وہ عظیم الشان آٹھ نشانات ہیں‘ جن میں کوئی بھی اس اِلٰہِ بر حق کا شریک وسہیم نہیں ہے۔ اگر تم عقل ودانش کا معمولی استعمال بھی کرو تو ان چیزوں کے پیدا کرنے والے خالق کو ہر اعتبار سے ایک مانے اور یہ کہے بغیر نہ رہ سکو۔ ﴿فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ﴾ ” اللہ جو سب سے بہتر بنانے والا ہے بڑا ہی بابرکت ہے“ [ المومنون :14] مسائل : 1۔ اللہ ہی معبودِ بر حق ہے۔ 2۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ 3۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش اور ہر چیز کی تخلیق میں دانش مندوں کے لیے عبرت کے دلائل ہیں۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ ہی الٰہ اور رب ہے : 1۔ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں۔ (النساء :87) 2۔ معبود حقیقی صرف اللہ ہے۔ (النساء :171) 3۔ اللہ کے علاوہ کوئی خالق نہیں۔ (فاطر :3) 4۔ اللہ رحمٰن ورحیم ہے۔ (الفاتحۃ:3) 5۔ اللہ ہی رزّاق ہے۔ (الذاریات :58) 6۔ اللہ ہی مشکل کشا ہے۔ (الانعام :17) 7۔ اللہ ہی حاجت رواہے۔ (الانبیاء :87) لیل ونہار کی گردشیں : 1۔ رات دن ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں۔ (الاعراف :54) 2۔ رات دن کو اور دن رات کو ڈھانپ لیتا ہے۔ (الزمر :5) 3۔ رات اور دن کا بڑھنا، گھٹنا۔ (الحدید :6) 4۔ رات آرام اور دن کام کے لیے ہے۔ (الفرقان :47) البقرة
164 البقرة
165 فہم القرآن : ربط کلام : زمین و آسمانوں کا خالق اور انسانوں کو آفاقی اسباب کے ذریعے روزی اور فوائد پہنچانے والا اللہ ہے تو پھر محبت اسی سے ہونی چاہیے نہ کہ دوسرے سے۔ سابقہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کے آٹھ ایسے آفاقی دلائل دیئے ہیں۔ جن سے ایک دیہاتی، شہری، جاہل اور تعلیم یافتہ، موٹی عقل والا آدمی یا انتہائی دانشور، سیاست دان یا سائنس دان سب کے سب اپنی اپنی لیاقت اور صلاحیت کے مطابق ان سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ ایسے ہمہ گیر اور ٹھوس دلائل ہیں جن سے ہر آدمی کا واسطہ پڑتا ہے اور وہ ان سے استفادہ کرتا ہے۔ یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ آفاق کے تمام عناصر ایک ہی ہستی کے پیدا کردہ اور اسی کے تابع فرمان ہیں۔ جب ان تمام آفاقی عناصر کی پیدائش اور انہیں مسخر اور مقید رکھنے میں زندہ اور مردہ باطل خداؤں، نیک و بد، حکمرانوں اور سائنس دانوں کا عمل دخل نہیں بلکہ پورے کا پورا نظام ایک ہی ہستی کے زیر اقتدار ہے تو پھر اسی مالک کو الٰہ مانو اور اسی سے محبت کا رشتہ جوڑو جو پورے نظام کو سنبھالے ہوئے ہے۔ لیکن مشرک حقیقی عقل سے عاری ہوتا ہے۔ چاہے وہ کتنا ہی پڑھا لکھا کیوں نہ ہو۔ وہ کائنات کے خالق ومالک سے محبت وتعلق قائم کرنے کے بجائے اپنے رب سے بڑھ کر دوسروں سے محبت اور تعلق قائم کرتا ہے‘ حالانکہ حقیقی اور دائمی محبت سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونی چاہیے۔ باقی تمام محبتیں اس کی محبت کے تابع ہوناضروری ہیں۔ لیکن مشرک ایسی محبت کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی محبت کے مقابلے میں دوسروں کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کے برعکس موحّد کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے اس طرح لبریز ہوتا ہے کہ وہ اس کے مقابلے میں دنیا کی کسی چیز کی محبت کو ترجیح نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی اولاد اور جان سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی محبت کو عزیز سمجھتا ہے اور اس کی ہر سوچ اور کام کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا حکم ہی مقدم ہوتا ہے۔ رسول محترم {ﷺ}اسی بات کی راہنمائی اور دعا کیا کرتے تھے۔ محبت وہ فطری جذبہ ہے جو ہر انسان اور حیوان میں پایا جاتا ہے۔ محبت کرنے کے کچھ اسباب اور وجوہات ہوا کرتی ہیں جن کی وجہ سے دوسروں کے ساتھ محبت کرنے سے منع نہیں کیا گیا۔ مطالبہ صرف یہ ہے کہ تم اپنے رب سے سب سے زیادہ محبت کرنے کی کوشش کرو۔ اگر تم کسی کے احسان کی وجہ سے محبت کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ تمہارا محسن ہے۔ تم کسی سے قرابت داری کی وجہ سے محبت کرتے ہو تو وہ سب سے بڑھ کر تمہارے قریب ہے، اگر تم جمال وکمال کی وجہ سے کسی سے محبت کرتے ہو تو کائنات کا سار اجمال وکمال اسی کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ اجمل واکمل ہے۔ اگر تم کسی کے اقتدار اور اختیار کی بنا پر اس سے الفت کرتے ہو تو اس سے بڑھ کر کسی کے پاس اختیار اور اقتدار نہیں ہے۔ غرضیکہ کسی سے صحیح محبت کرنے کے جو بھی محرکات اور اسباب ہو سکتے ہیں ان سب کا مالک تمہارا اللہ ہے‘ پھر اسی کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کیوں نہ کی جائے؟ اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ اس کے رسول محمد مصطفی‘ احمد مجتبیٰ {ﷺ}کے ساتھ بھی محبت ساری مخلوق سے بڑھ کر ہونی چاہیے تب جا کر آدمی کا ایمان مکمل ہوتا ہے۔ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : (لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب حب الرسول من الإیمان] ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتاجب تک میں اسے اپنے والدین‘ اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔“ مسائل : 1۔ مشرک باطل معبودوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ جیسی محبت کرتے ہیں۔ 2۔ صاحب ایمان لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت میں متشدّد ہوتے ہیں۔ 3۔ قیامت کے دن مشرک عذاب دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی قوت و سطوت کا اعتراف کریں گے۔ تفسیربالقرآن : اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود ماننا اور اس کی عبادت کرناحرام ہے : 1۔ حضرت عیسیٰ اور مریم (علیہ السلام) کو عیسائیوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا۔ (النساء :171) 4۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے بتوں کو معبود بنایا۔ (نوح :23) 2۔ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا ٹھہرایا۔ (التوبہ :30) 5۔ مکے کے مشرک بتوں کی تعظیم اور عبادت کرتے تھے۔ (الانعام :136) 3۔ یہودیوں نے بچھڑے کو معبود بنایا۔ (الاعراف :152) 6۔ مشرک غیر اللہ کو خدا کے قرب کا ذریعہ بناتے ہیں۔ (الزمر :2) البقرة
166 فہم القرآن : (آیت 166 سے 167) ربط کلام : مشرک سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے اور دنیا میں غیر اللہ کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے پر پھٹکار کرتے ہوئے ایک دوسرے سے بیزار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہی واحد معبود ہے اور وہی کائنات کا خالق ومالک اور کائنات کے نظام کو چلائے ہوئے ہے۔ اس کے نظام میں کوئی ذرّہ برابر بھی دخل ڈالنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس نے نظام کائنات میں کسی کو اپناہمسر اور شریک کار نہیں بنایا اور آخرت میں بھی کوئی اس کے اختیارات اور نظام میں کوئی دم مارنے کی ہمت نہیں پائے گا۔ جو لوگ دنیا میں پیروں، فقیروں، حکمرانوں اور باطل معبودوں یہاں تک کہ دنیاوی مفادات کی خاطر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی بات سے بڑھ کر دوسروں سے محبت کرتے اور تعلق جوڑتے ہیں قیامت کے دن یہ ظالم اور مشرک رب ذوالجلال کی جلالت وجبروت اور عذاب کو دیکھیں گے تو ان کے تمام واسطے اور رابطے کٹ جائیں گے۔ یہاں تک کہ پیرمُرید سے، طالب مطلوب سے، حاکم محکوم سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ جو مذہبی پیشوا اور سیاسی رہنما اپنی ذات اور مفاد کی خاطر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے فرمان سے ہٹایا کرتے تھے جب وہ پوری طرح جان جائیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ کی قوت وطاقت کے سوا کسی کی کوئی طاقت نہیں اور نہ کوئی وسیلہ کار گر ثابت ہوسکتا ہے تو وہ ایک دوسرے پر پھٹکار بھیجیں گے۔ ور کر اور مرید اللہ تعالیٰ سے آرزو کریں گے کہ اِلٰہی! ہمیں دنیا میں جانے کا موقع دے تاکہ ہم ان ظالم رہنماؤں اور مشرک پیروں سے اسی طرح نفرت کا اظہار کریں جس طرح آج وہ ہم سے بیزاری کا اظہار کررہے ہیں۔ حکم ہوگا کہ اب تم نے ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔ اس دن سے ان کی پریشانیوں اور حسرتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا اور ان کو عذاب سے کوئی نکالنے والا نہیں ہوگا۔ دنیا کے تمام اعمال ضائع، رہنماؤں کے وعدے اور سہارے جھوٹے ثابت ہوئے ہوں گے۔ واپسی کے تمام راستے بند اور ہر قسم کی آہ و زاریاں بے کارثابت ہوں گی، یہ مایوس ہو کر دوسری درخواست پیش کریں گے کہ اے رب ذوالجلال! پھر ظالم سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کودُگنے عذاب میں مبتلا کیجیے۔ (الاحزاب :67) جواب آئے گا سب کو دوگنا عذاب دیا جارہا ہے۔ (الاعراف :38) مسائل : 1۔ عذاب دیکھ کر پیر اپنے مریدوں اور لیڈر اپنے ور کروں سے براءت کا اظہار کریں گے۔ 2۔ جہنم کا عذاب دیکھ کر جہنمیوں کی تمام امیدیں ختم ہوجائیں گی۔ 3۔ جہنمی دنیا میں واپس آنے اور اپنے پیروں، لیڈروں سے قطع تعلق کرنے کی تمنا کریں گے۔ 4۔ جہنمی اپنے اعمال پر ہمیشہ حسرت و افسوس کا اظہار کرتے رہیں گے۔ 5۔ مشرک اور کافر جہنم سے کبھی نہیں نکل سکیں گے۔ تفسیربالقرآن : قیامت کے دن باطل عابد و معبود میں نفرتیں اور بیزاریاں : 1۔ عابد و معبود ایک دوسرے سے بیزار ہوں گے۔ (یونس : 28تا30) 2۔ جب مشرک شریکوں کو دیکھیں گے کہیں گے یہی ہیں وہ جنہیں ہم تیرے سو اپکارتے تھے۔ تو وہ ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو۔ (النحل :86) 3۔ اگر تم انہیں پکارو وہ تمہاری پکار نہیں سنتے۔ اگر سن بھی لیں تو جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے۔ (فاطر :14) 4۔ جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کی دشمن ہوں گے اور اپنی پرستش سے انکار کریں گے۔ (الاحقاف :6) 5۔ ان کے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں کے انکاری ہوجائیں گے۔ (الروم :13) 6۔ جن کو وہ پکارا کرتے تھے۔ وہ سب ان سے غائب ہوں گے۔ (حٰمٰ السجدہ :48) البقرة
167 البقرة
168 فہم القرآن : ربط کلام : یہاں پہلی آیات کے ساتھ معنوی ربط پایا جارہا ہے۔ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر شرک اور حرام وحلال کا مسئلہ ایک ہی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ [ الانعام : 137تا 140۔ النحل :35] آیات ملاحظہ فرمائیں۔ حلال وطیب کھانے کے بارے میں قرآن مجید نے بنی نوع انسان کے تینوں طبقات کو مخاطب کرتے ہوئے ایک جیسے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ آغاز میں عوام الناس کو مخاطب کیا جارہا ہے اور اس کے بعد ٹھیک چوتھی آیت میں مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ سورۃ المومنون آیت 51میں انبیاء کی مقدس جماعت کو خطاب کرتے ہوئے حلال کھانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یہ مسئلہ اتنا اہم ہے کہ جب تک اس پر اپنے اپنے مقام پر سب لوگ عمل نہیں کرتے توحید کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے اور نہ معیشت کرپشن سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ اس مسئلے کا تعلق بیک وقت حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ساتھ ہے۔ حقوق اللہ کے ساتھ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ پاک جسم کی عبادت ہی قبول کرتا ہے۔ حلال، طیب کھانے والا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی میں لذت محسوس کرتا ہے‘ اس کے دل میں سرور، طبیعت میں استغناء، دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور ان کے حقوق کا خیال رکھنے کے ساتھ سخاوت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ حقوق العباد کے ساتھ تو اس کا اتنا گہرا تعلق ہے کہ جب معاشرے میں حلال وحرام کی تمیز اٹھ جائے تو معاشی استحاصل‘ ڈاکہ‘ چوری‘ دھوکہ دہی‘ فریب کاری کی وارداتیں عام ہوجاتی ہیں۔ جس سے معاشی ناہمواری کے ساتھ سماجی زندگی تباہی کے راستے پر چل پڑتی ہے۔ اس لیے تمام لوگوں کو بیک وقت حلال، طیب کھانے کی تلقین کی جارہی ہے۔ خوراک ظاہری گندگی سے پاک نہ ہو تو جسمانی بیماریاں پیدا ہوں گی۔ کھانے اور کمانے میں شریعت کا لحاظ نہ رکھا جائے تو روحانی زندگی اور اخلاقی قدریں اس قدر کمزور ہوجاتی ہیں بالآخر آدمی زندہ ہونے کے باوجوداس کے روح کی موت اور اجتماعیت بکھر کررہ جائے گی اور یہی شیطان کا مقصد ہے۔ لہٰذا حرام کھانے والا شیطان کے قدم بقدم چلتا ہوا دنیا میں ذلیل اور حریص کہلوائے گا اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنے گا۔ اس لیے متنبہ کیا جارہا ہے کہ شیطان تمہارا ابدی دشمن ہے اس سے ہر صورت بچ کر رہنے کی کوشش کرتے رہنا اور کوئی غیرت مند آدمی اپنے دشمن کی چال میں نہیں آیا کرتا۔ حرام خوری کے نقصانات : رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : (لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ‘ اَلنَّارُ أَوْلٰی بِہٖ) [ مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب مسند جابر بن عبد اللّٰہ] ” حرام سے پلنے والا جسم جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اسے آگ زیادہ لائق ہے۔“ حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم {ﷺ}کا ارشاد ہے : ” لوگو! یقیناً اللہ پاک ہے اور پاک ہی قبول کرتا ہے اور اللہ نے مومنوں کو اسی چیز کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا ہے۔ فرمایا : اے رسولو! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو جو کچھ تم کرتے ہو یقیناً میں اسے جاننے والا ہوں۔ اور فرمایا : اے مومنو! ہم نے جو تمہیں رزق دیا اس میں سے پاک کھاؤ۔“ (ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیْلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ یَمُدُّ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَاءِ یَارَبِّ یَا رَبِّ وَمَطْعَمُہٗ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہٗ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہٗ حَرَامٌ وَغُذِیَ بالْحَرَامِ فَأَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذَلِکَ) [رواہ مسلم : کتاب الزکوٰۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب وتربیتھا] پھر آپ {ﷺ}نے ایک آدمی کا تذکرہ کیا جو لمبا سفر کرتا ہے‘ اس کے بال پراگندہ اور پاؤں خاک آلود ہیں، وہ آسمان کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائے یارب! یارب! کی صدائیں بلند کرتا ہے اس کی حالت یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور وہ حرام سے پرورش پایا ہے ایسے آدمی کی دعا کیسے قبول کی جائے گی؟“ مسائل : 1۔ ہر شخص کو حلال اور پاک کھانا چاہیے۔ 2۔ حرام کھانا شیطان کی پیروی کرنا ہے۔ 3۔ شیطان انسان کا واضح دشمن ہے، اس کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ تفسیربالقرآن : اکل حلال کی اہمیت : 1۔ ایمان داروں کو حلال کھانے کا حکم ہے۔ (البقرۃ :172) 2۔ رسولوں کو اکل حلال کی تلقین۔ (المومنون :51) 3۔ تمام لوگوں کو اکل حلال کا حکم ہے۔ (البقرۃ :168) البقرة
169 فہم القرآن : ربط کلام : حلال کے فوائد کے بعد حرام خوری کے نقصانات بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے حرام کھانے والا بالفعل شیطان کا حکم مانتا ہے۔ شیطان تو انسان کو بے حیائی اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بے اعتقادی اور بدگمانی پیدا کرتا ہے۔ حرام سے اجتناب نہ کرنا اور اپنی مرضی سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرلینا درحقیقت شیطان کی پیروی کرنے کے مترادف ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔ حرام کھانے پر آمادہ کرنے کے بعد شیطان کے لیے یہ کام نہایت ہی آسان ہوجاتا ہے کہ وہ حرام خور کو برائی اور بے حیائی کی طرف مائل کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا آدمی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنے ضمیر میں حیا محسوس نہیں کرتا۔ جب ضمیر حیا سے خالی ہوجائے تو ظلم کرنا، کاروبار میں ہیرا پھیری، اشیاء میں ملاوٹ‘ جھوٹ بول کرسودا بیچنا اور دوسرے کا حق مارنا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کر گاہک کو دھوکہ دینے میں بھی یہ شخص باک محسوس نہیں کرتا۔ رسول محترم {ﷺ}بے حیائی کا نقصان ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے : (اِنَّ مِمَّا اَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَام النُّبُوَّۃِ الْاُؤلٰی إِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَاشِئْتَ) [ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب إذا لم تستحی فاصنع ماشئت ] ” جو کچھ لوگوں نے پہلے انبیاء کی تعلیم سے پایا وہ یہ ہے کہ جب تجھ سے حیا ختم ہوجائے تو جو چاہے کر گزر۔“ حرام کی دولت جب کسی گھر میں داخل ہوتی ہے تو اس میں بے حیائی کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ پردہ نشین عورتوں کے نقاب اترنا شروع ہوجاتے ہیں‘ بچیوں کے سروں سے دوپٹے سرکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، نوجوان اچھی روایات کو چھوڑ کر بری عادات کو فیشن کے طور اپنانے میں فخر اور شرافت کے ماحول میں گھٹن محسوس کرتے ہیں۔ ایسے شخص کے پاس اگر مال کی فراوانی اور جوانی ہو تو وہ برائی اور بدکاری میں آگے ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اگر ان لوگوں کو سمجھایاجائے تو کچھ لوگ حد سے آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہی سب کچھ کھاپی رہے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی حرام خوری کو اللہ رب العزّت کے ذمہ لگاتے ہیں۔ جس کو قرآن مجید نے سورۃ النحل کی آیت 35میں مشرکوں کا کردار بتاتے ہوئے یوں بیان فرمایا ہے کہ :” مشرک کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے آباء و اجداد اللہ کے علاوہ نہ کسی کی عبادت کرتے اور نہ کسی چیز کو حرام ہی قرار دیتے۔“ مسائل : 1۔ شیطان انسان کو برائی، بے حیائی اور اللہ تعالیٰ کے متعلق غلط باتیں سکھلاتا ہے۔ البقرة
170 فہم القرآن : (آیت 170 سے 171) ربط کلام : تقلید آباء بھی شیطان کی پیروی کا نتیجہ ہے۔ جس طرح شیطان بے حیائی اور انسان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں لایعنی گفتگو کا حکم دیتا ہے اسی طرح وہ یہ بات بھی دلیل کے طور پر آدمی کو سمجھاتا ہے کہ آخر پہلے لوگ اور بزرگ کوئی غلط اور گمراہ تھے؟ حالانکہ یہ سوچ عقل کے خلاف اور جانوروں کا طریقہ ہے۔ جب انہیں حرام وحلال اور دیگر مسائل کے حوالے سے کتاب اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے کہا جائے تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو انہی روایات پر چلیں گے جن پر ہمارے آباء و اجداد چلا کرتے تھے۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ان کے بزرگ دین کی سمجھ نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی ہدایت یافتہ تھے۔ اس ارشاد سے یہ بات بڑی واضح ہوتی ہے کہ بزرگوں کی روایات کو اس وقت اپنایا جائے گا جب وہ کتاب الٰہی کے مطابق ہوں گی۔ بصورت دیگر ہر فرد پر انہیں مسترد کرنا فرض ٹھہرے گا۔ اگر رسومات اور بزرگوں کی روایات کو من و عن قبول کرلیا جائے تو پھر شریعت کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے ؟ درحقیقت یہ وہ اندھی تقلید ہے جسے بہانہ بنا کر لوگ گمراہی کے راستہ پر چلنا اپنے لیے فخرسمجھتے ہیں۔ دین کے راستے میں یہی وہ رکاوٹ ہے جو انبیاء کرام کے سامنے سب سے پہلے پیش کی جاتی تھی۔ تقلید خاندانی روایات کی صورت میں ہو یا ائمہ کرام کے حوالے سے، مقلدین ہمیشہ سے جذباتی فضاپیدا کرتے ہوئے دوہی جواز پیش کرتے ہیں۔ ایک جوازجو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خطاب کے جواب میں فرعون نے پیش کیا تھا کہ اے موسیٰ ! جو ہمارے بزرگ پہلے فوت ہوچکے ہیں کیا وہ سب کے سب گمراہ اور جہنمی تھے؟ جس کا جواب پیغمبرانہ شان کے مطابق دیتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ پہلوں کے بارے میں خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ وہ نا بھٹکا ہے اور نا بھولتا ہے۔ [ طٰہٰ: 51، 52] دوسرا جواز یہ بیان کیا جاتا ہے کہ کیا ائمہ کرام اور بڑے بڑے علماء کو اس مسئلہ کا علم نہیں تھا ؟ اگر تقلید جامد کے مؤ یّدین کے نزدیک قرآن وسنت ہی معیار ہو تو انہیں یہ انداز گفتگو کس طرح زیب دیتا ہے ؟ بسا اوقات اس کا جواب اس قدرحساس صورت حال پیدا کردیتا ہے کہ اعتراض کرنے والا اپنے گریبان میں جھانکے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اگر یہ بزرگ واقعتًا اس اختلافی مسئلہ میں کتاب و سنت کا علم رکھتے تھے تو وہ قرآن وسنت کے واضح دلائل کے خلاف کس طرح عمل کرسکتے تھے ؟ اگر اس مسئلہ کے بارے میں قرآن وسنت کے دلائل سامنے ہونے کے باوجود انہوں نے اسے تسلیم نہیں کیا تو ان کی عظیم شخصیات کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے؟ اس نازک صورت حال میں سلامتی کا یہی راستہ ہے کہ ہم قرآن وسنت کو معیار ٹھہراتے ہوئے ان کے بارے میں یہ نقطۂ نگاہ قائم کریں کہ علم کی اشاعت کم ہونے کی وجہ سے مطلوبہ دلائل ان کی نگاہ سے اوجھل رہے۔ جس کی وجہ سے ان کی طرف منسوب موقف نظر ثانی کے لائق ہے۔ لیکن مقلدانہ ذہن رکھنے والے حضرات اہمیتِ مسئلہ اور ان کی شخصیات کا لحاظ رکھے بغیر تقلید پر اصرار کرنا دین کا حصّہ تصور کرتے ہیں۔ قرآن مجید اس طرز فکر کو عقل وہدایت کا راستہ تصور نہیں کرتا۔ اس لیے اندھے مقلدین کے بارے میں یہ تبصرہ فرمایا کہ ان کی مثال تو جانوروں کی طرح ہے جو عقل وفکر اور کسی اصول کی پیروی کیے بغیر محض اپنے سے پہلے جانور کی اتباع میں چلے جا رہے ہیں اور مقلد بھی جانوروں کی طرح بات کا مفہوم سمجھے بغیر محض ایک پکار‘ دعو ٰی اور ایک عادت کے طور چلتے ہیں۔ اب یہ سننے، بولنے اور دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکے ہیں۔ جس کی وجہ سے عقل وفہم کے دروازے ان پر بند ہیں اور یہ حقیقی عقل سے عاری ہوچکے ہیں۔ جب عقل ہی اپنے ٹھکانے نہ رہی تو ہدایت کس طرح پاسکتے ہیں ؟۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مقابلے میں آباء و اجداد کی اتّباع نہیں کرنا چاہیے۔ 2۔ کافر لوگ جانوروں کی طرح بلانے والے کی صرف آواز سنتے ہیں غور و فکر نہیں کرتے۔ 3۔ کافر جانوروں سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ تفسیربالقرآن : اندھی تقلید کا انجام : 1۔ مشرک اپنے آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔ (البقرۃ:170) 2۔ المائدۃ: 103 3۔ الاعراف : 28 4۔ یونس : 78 5۔ الانبیاء : 53 6۔ الشعراء : 74 7۔ لقمان : 21 8۔ الصافات : 69، 70 9۔ الزخرف : 22تا 25 البقرة
171 البقرة
172 فہم القرآن : ربط کلام : پہلے تمام لوگوں کو حلال کھانے کا حکم دیا تھا اب خاص کر مومنوں کو یہ کہہ کر حلال کھانے کا حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنے کا تقاضا ہے کہ حلال کھانے کا اہتمام کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ حرام خور کی عبادت قبول نہیں کرتا۔ قبل ازیں بنی نوع انسان کو حلال وطیب کھانے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ حلال وطیب کا اہتمام نہ کرنے والا درحقیقت شیطان کی پیروی کرتا ہے۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ وہ حرام خوری کے ذریعے نہ صرف تمہیں تمہارے خالق سے دور رکھ کر تمہارے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کرتا ہے بلکہ وہ حرام کھانے اور کمانے کے ذرائع کے ذریعے بھی تمہارے درمیان نفرتیں اور عداوتیں پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ حرام ذرائع کے ساتھ دولت کمانے سے لامحالہ دوسرے کے مالی حقوق کو نقصان پہنچتا ہے جس سے لوگوں کے درمیان نفرتیں پروان چڑھتی ہیں۔ ان نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایمان داروں کو خصوصی خطاب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اے ایمان وایقان رکھنے والو! تمہیں پاک چیزیں کھانی چاہییں جو ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں۔ اِدھر ادھر ہاتھ مارنے کے بجائے انہی پر صابر و شاکر رہنے کی کوشش کرو۔ حلال پر صبر وشکر تب ہی کر پاؤ گے جب تم اپنے آپ کو ہماری غلامی اور عبادت کے لیے خالص کرلو گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ طیبات کھانے والوں کی ہی عبادت قبول کرتا ہے۔ (عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ {رض}قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ {}یَقُوْلُ الْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَایَعْلَمُھُنَّ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُھَاتِِ اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَعِرْضِہٖ وَمَنْ وَقَعَ فِی الشُّبُھَاتِ وَقَعَ فِی الْحَرَامِ کَالرَّاعِیْ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ أَنْ یَّرْتَعَ فِیْہِ أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہٗ أَلَا وَإِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ أَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ) [ رواہ مسلم : کتاب المساقاۃ، باب أخذ الحلال وترک الشبھات] ” حضرت نعمان بن بشیر {رض}بیان کرتے ہیں میں نے رسول اکرم {ﷺ}کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی مگر ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں۔ جن سے اکثر لوگ واقف نہیں۔ جو شخص ان مشکوک چیزوں سے بچا رہا اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ رکھا۔ اور جو ان میں ملوث ہوگیا اس کی مثال ایسے چرواہے کی ہے جو اپنے جانوروں کو سرکاری چراگاہ کے قریب لے جاتا ہے۔ بہت ممکن ہے وہ جانور اس چراگاہ میں گھس جائیں۔ اچھی طرح سن لو! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ خبردار جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم ہی خراب ہوجاتا ہے۔ سنو! وہ دل ہے۔“ حلال کے بارے میں احادیث : (عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یْکرِبَ الزُّبَیْدِیِّ {رض}عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ {}قَالَ مَا کَسَبَ الرَّجُلُ کَسْبًا أَطْیَبَ مِنْ عَمَلِ یَدِہٖ وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلٰی نَفْسِہٖ وَ أَہْلِہٖ وَوَلَدِہٖ وَخاَدِمِہٖ فَہُوَ صَدَقَۃٌ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب التجارات، باب الحث علی المکاسب] ” حضرت مقدام بن معدیکرب {رض}رسول اکرم {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : آدمی کے ہاتھ کی کمائی سے بڑھ کر اور کوئی کمائی پاکیزہ نہیں آدمی اپنے نفس، اہل، اولاد اور خادم پر جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے۔“ (عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {ﷺ}إِنَّ مِنْ أَطْیَبِ مَآ أَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہٖ وَوَلَدُہٗ مِنْ کَسْبِہٖ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب البیوع، باب فی الرجل یأکل من مال ولدہ] ” حضرت عائشہ {رض}بیان کرتی ہیں رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : بہترین اور پاکیزہ مال وہ ہے جو آدمی اپنی کمائی سے کھاتا ہے اس کی اولادبھی اس کی کمائی ہے۔“ (لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ وَ دَمٌ نَبْتَا عَلٰی سُحْتٍ فَالنَّارُ اَولٰی بِہٖ) [ رواہ الترمذی : کتاب الصلاۃ، باب ما ذکر فی فضل الصلٰوۃ] ” جنت میں وہ گوشت اور خون داخل نہیں ہوگا جو حرام سے پلا ہوگا اس کے لیے دوزخ ہی مناسب ہے۔“ مسائل : 1۔ صاحب ایمان لوگوں کو پاک روزی کھانا چاہیے۔ 2۔ ہر دم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ حلال کمایا اور کھایاجائے۔ تفسیربالقرآن : اکل حلال کی اہمیت : 1۔ ایمان داروں کو حلال کھانے کا حکم۔ (البقرۃ :172) 2۔ رسولوں کو اکل حلال کی تلقین۔ (المومنون :51) 3۔ تمام لوگوں کو اکل حلال کا حکم۔ (البقرۃ :168) البقرة
173 فہم القرآن : ربط کلام : جس طرح حلال کھانا لازم ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھنا اور ان سے پوری طرح اجتناب کرنا بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے کھانے کا حکم دیا ہے وہ انسان کے لیے ہر اعتبار سے مفید ہیں اور جن سے منع فرمایا ہے وہ روحانی اور جسمانی لحاظ سے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کی حرمت کی وجوہات معلوم کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر کوئی غیر مسلم کو مطمئن کرنے کے لیے ایسا کرتا ہے تو اس میں حرج کی بات نہیں۔ اگر یہ کاوش اس لیے کی جائے کہ حرمت کی حکمت سمجھے بغیر وہ اس سے رکنے کے لیے تیار نہیں تو ایسے شخص کو اپنے ایمان پر غور کرنا چاہیے۔ بھلا کون سی حکومت ہے جو اپنے تمام قوانین کی توجیہ بیان کرتی ہو؟ اس طرح تو قانون کا حجم پھیلتا ہی چلا جائے گا۔ اگر حکم کی حکمت جاننے کے بعد اس پر عمل کرتا ہے تو پھر اتھارٹی کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ حکمت جانے اور اطمینان کیے بغیر حکم نہ ماننے والے شخص نے تو اپنی عقل اور اطمینان کو خدا کا درجہ دے دیا ہے۔ اکل حلال کا حکم دینے کے بعد یہاں چار بڑے محرمات کا ذکر کیا گیا ہے: (1) ہرقسم کے مردار کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے دوچیزوں کے رسول کریم {ﷺ}فرمایا کرتے تھے : (اُحِلَّتْ لَنَا مَیْتَتَانِ اَلْحُوْتُ وَالْجَرَادُ) [ رواہ ابن ماجہ : کتاب الصید، باب صید الحیتان والجراد] ” ہمارے لیے دو مردار حلال کیے گئے ہیں۔ مچھلی اور ٹڈی۔“ (2) نزول قرآن کے وقت وحشی قبائل نہ صرف مردار کھایا کرتے بلکہ وہ جانوروں کا خون بھی پی جاتے تھے۔ جس طرح آج بھی افریقہ کے کئی وحشی قبائل جانوروں کا ہی نہیں بلکہ انسانوں کا بھی خون پینے سے گریز نہیں کرتے۔ جدید تحقیق کے مطابق خون میں کئی ایسے جراثیم ہوتے ہیں جن سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ نے مردہ یا زندہ جانور کا خون پینے سے منع فرما دیا ہے البتہ کسی کی زندگی بچانے کے لیے خون کا میڈیکل استعمال جائز ہے۔ (3) خنزیر کا گوشت کھانا بھی حرام ہے۔ اس کے بارے میں جدید اور قدیم اطباء کا اتفاق ہے کہ اس کا گوشت کھانے سے انسان کے جسم میں نہ صرف مہلک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ آدمی میں بے حیائی اور بے شرمی کے جذبات ابھرتے ہیں۔ کیونکہ خنزیر جانوروں میں سب سے زیادہ بے غیرت جانور ہے۔ کوئی بھی جانور اپنی جنم دینے والی مادہ کے ساتھ اختلاط کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا جب کہ خنزیر کی طبیعت میں اس کام میں کوئی جھجک نہیں پائی جاتی۔ (4) غیر اللہ کے نام پر ذبح کی یا پکائی ہوئی چیز اس لیے حرام کی گئی کہ اس سے روح، عزت اور ایمان کی موت واقع ہوتی ہے۔ ایک غیرت مند ایماندار سے یہ کس طرح توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ گردانے گئے شریک کے نام پر چڑھائی گئی چیز کھانے یا اسے استعمال کرنے پر آمادہ ہوجائے ؟ یہ نہ صرف غیرت ایمانی کے منافی ہے بلکہ فطرت بھی اس بات کو گوارا نہیں کرتی بشرطیکہ کسی کی فطرت مسخ نہ ہوچکی ہو۔ فطرت سلیم کا ثبوت اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے مکہ میں پایا گیا ہے۔ (عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ {}أَ نَّہٗ لَقِیَ زَیْدَ بْنَ عَمْرِ و بْنِ نُفَیْلٍ بِأَسْفَلَ بَلْدَحٍ وَذَاکَ قَبْلَ أَنْ یُّنْزَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ {}الْوَحْیُ فَقُدِّمَتْ إِلَی النَّبِیِّ {}سُفْرَۃٌ فَأَبٰی أَنْ یَّأْکُلَ مِنْھَا ثُمَّ قَالَ زَیْدٌ إِنِّیْ لَسْتُ آکُلُ مِمَّا تَذْبَحُوْنَ عَلٰی أَنْصَابِکُمْ وَلَا آکُلُ إِلَّا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ) [ رواہ البخاری : کتاب الذبائح والصید] ” وحی نازل ہونے سے پہلے بلدح کے نشیبی علاقے میں رسول کریم {ﷺ}کی ملاقات زید بن عمر وبن نفیل سے ہوئی۔ رسول معظم {ﷺ}کے سامنے ایک دستر خوان لایا گیا جس پر غیر اللہ کے نام کی کوئی چیز تھی۔ آپ نے کھانے سے انکار کردیا۔ اسکے ساتھ ہی جناب زید نے کہا کہ میں بھی ان ذبیحوں کا گوشت نہیں کھاتا جو تم اپنے آستانوں پر ذبح کرتے ہو اور نہ ان جیسی کوئی اور چیز کھاتاہوں سوائے اس چیز کے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔“ ابو قلابہ کہتے ہیں : (حَدَّثَنِیْ ثَابِتُ بْنُ الضَّحَاکِ {رض}قَالَ نذَرَ رَجُلٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ {}أَنْ یَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَأَتَیاالنَّبِیَّ {}فَقَالَ إِنِّیْ نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَقَال النَّبِیُّ {}ھَلْ کَانَ فِیْھَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاھِلِیَّۃِ یُعْبَدُ قَالُوْا لَا قَالَ ھَلْ کَانَ فِیْھَا عِیْدٌ مِنْ أَعْیَادِھِمْ قَالُوْا لَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}أَوْفِ بِنَذْرِکَ فَإِنَّہٗ لَاوَفَاءَ لِنَذْرٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا فِیْمَا لَا یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الأیمان والنذور باب مایؤمربہ من وفاء النذر] ” مجھے ثابت بن ضحاک {رض}نے بتایا کہ رسول اللہ {ﷺ}کے دور میں ایک آدمی نے بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ اس نے رسول اللہ {ﷺ}کے پاس آکر عرض کی میں نے نذر مانی ہے کہ میں بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کروں گا تو آپ {ﷺ}نے فرمایا : کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے پھر پوچھا : کیا وہاں کوئی ان کا میلہ لگتا تھا؟ صحابہ نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ نذر پوری کرنالازم ہے جس کی انسان طاقت نہیں رکھتا۔“ اللہ تعالیٰ کا رحم وکرم تو دیکھیے کہ ان چار چیزوں سے سختی کے ساتھ منع کرنے کے باوجود ایسے شخص کے لیے ان کو کھانے کی اجازت دی ہے جسے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہو۔ لیکن اس کے ساتھ یہ شرط رکھی کہ نہ وہ پہلے سے ان چیزوں کے کھانے کا عادی ہو اور نہ ہی حرام خوری کی طرف اس کا دل مائل ہو۔ عمومًا یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس جانور پر ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام لیا جائے، صرف وہی حرام ہوتا ہے۔ یہ تصور بالکل غلط ہے، کیونکہ قرآن کے الفاظ میں نہ جانور کا ذکر ہے نہ ذبح کا بلکہ ” ما“ کا لفظ ہے جس میں عمومیت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اس کا معنی یہ ہوگا کہ جو چیز کسی بزرگ‘ دیوی، دیوتا کا تقرب حاصل کرنے اور اس کے نام پر مشہور کردی جائے جیسے امام جعفر کے کو نڈے، بی بی کی صحنک، مزار کے لیے بکرا وغیرہ یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ بعض علماء لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے کہتے ہیں دودھ، چاول حلال ہیں اگر کوئی چیز کسی کے نام پر پکائی جائے یہ حرام کس طرح ہوگئی بے شک وہ چیزجو فی نفسہٖ حلال ہو اور اس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام ہی کیوں نہ لیا جائے وہ حرام ہی رہے گی۔ کیونکہ غیر اللہ کے نام کی نیت رکھنے سے ہی وہ چیز حرام ہوجائے گی۔ اس لیے کہ اللہ کی عطا کردہ چیزوں کی قربانی یا نذر ونیاز صرف اسی کے نام کی ہونا چاہیے اس میں کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ ہاں اگر کوئی شخص صدقہ وخیرات یا قربانی کرتا ہے اور اس سے اس کی نیت یہ ہو کہ اس کا ثواب میرے فوت شدہ والدین یا فلاں رشتہ دار یا فلاں بزرگ کو پہنچے تو اس میں کوئی حرج نہیں، یہ نیک عمل ہے اور سنت سے ثابت ہے۔ مسائل : 1۔ مردار کھانا، خون پینا، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کی چیز کھانا ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ 2۔ بھوک کی حالت میں مرنے کے خوف سے یہ چیزیں معمولی مقدار میں کھانے پر کوئی گناہ نہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ مجبوری کے عالم میں حرام کھانے والوں کو معاف کرنے والا‘ مہربان ہے۔ تفسیربالقرآن : اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء : 1۔ مردار‘ خون‘ خنزیر کا گوشت‘ غیر اللہ کے نام پر مشہور کی ہوئی چیز‘ گلا گھٹنے سے مرا ہوا جانور کسی چوٹ سے مرا ہوا‘ اونچی جگہ سے گر کر مرا ہوا‘ سینگ لگنے سے مرا ہوا‘ جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو اور جو آستانوں پر ذبح کیا جائے حرام ہیں۔ (المائدۃ:3) 2۔ جس کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو وہ بھی حرام ہے۔ (الانعام :121) البقرة
174 فہم القرآن : (آیت 174 سے 176) ربط کلام : اہل کتاب نے حرام و حلال کی فہرست میں تبدیلی کرنے کے ساتھ بے شمار حقائق کو پیٹ کے دھندے کی خاطر چھپا لیا تھا جس پر انہیں جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ اہل ایمان کو ان سے بچنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ اہل کتاب کے علماء نے صرف رسول معظم {ﷺ}کے اوصاف حمیدہ ہی نہیں چھپائے بلکہ اپنی شکم پروری اور بڑے لوگوں کی عیاشی اور مفادات کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکام بھی چھپانے کے جرم میں ملوّث ہوئے۔ جن میں حلال وحرام کی وضاحت کی گئی تھی۔ اس طرح بے شمارامور کو اپنے لیے جائز اور حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنے کی جسارت کے مرتکب ہوئے۔ انہوں نے شکم پروری، سیاسی مفاد، مذہبی مقام اور آخرت کی عظیم اور لامحدود نعمتوں کے بدلے دنیا کی معمولی اور عارضی چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے فتویٰ فروشی کی۔ ایسے انواع واقسام کے نوالے کھانے والے ضمیر اور ایمان فروشوں کے ساتھ قیامت کے دن رب کبریا کلام نہیں کرے گا اور نہ ہی انہیں معاف کیا جائے گا‘ انہیں اذیت ناک اور ذلت آمیز عذاب ہوگا کیونکہ یہ لوگ جانتے بوجھتے ہدایت کے بدلے گمراہی اور اللہ کی شفقت ومغفرت کے عوض اس کے قہرو غضب اور ہمیشہ کی زندگی کے مقابلے میں قلیل اور حقیر دنیا کا انتخاب کرنے والے ہیں۔ مزید انتباہ فرمایا کہ آج تو یہ دین کے بدلے درہم ودینار کی شکل میں جہنم کے انگارے جمع کر اور نگل رہے ہیں لیکن قیامت کے دن جب یہ مال حقیقتاً آگ کے شعلے بن چکا ہوگا تب یہ اسے کس طرح برداشت اور اس پر صبر کرسکیں گے؟۔ ذرا غور کیجیے ! کہ جو رحیم وکریم مالک دنیا میں ندامت کے ایک آنسو سے ریت کے ذرّات کے برابر گناہوں کو معاف کردیتا ہے‘ جو توبہ کی غرض سے اٹھنے والے ہاتھوں کی لاج رکھتے ہوئے پہاڑوں سے بڑی بلاؤں کو ٹال دیتا ہے۔ جو اپنے حضور افسردہ چہروں اور کانپتے ہوئے ہونٹوں کی اس حد تک قدر کرتا ہے کہ جو نہی گناہ گار بندوں سے رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا سنتا تو اس کی رحمتوں، بخششوں اور مہربانیوں کے سمندر میں تلاطم پید اہو جایا کرتا۔ لیکن آج حق چھپانے کے جرم کی پاداش میں رب ذوالجلال اس حد تک غضب ناک ہوچکے ہیں کہ نظر کرم سے دیکھنے، شفقت سے التفات کرنے اور ایسے لوگوں کو گناہوں سے پاک کرنے کے بجائے سخت ترین عذاب میں مبتلا کیے جارہا ہے۔ درحقیقت یہ لوگ اختلاف وعصبیت اور مفاد پرستی و خود غرضی میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ حق میں سچائی نظر ہی نہیں آتی۔ یہ اختلاف اور تعصب بالآخر انہیں جہنم میں لے جائے گا۔ یہ ہے پڑھے لکھے بالخصوص ایسے مذہبی پیشواؤں کی سزا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حق کو چھپایا اور بات بات میں شریعت کا مفہوم بگاڑا اور اس میں اختلافات پیدا کیے۔ مسائل : 1۔ حق بات چھپانے کے بدلے میں دنیا کمانے والے اپنے پیٹوں میں آگ ڈالتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو درد ناک عذاب سے نجات نہیں دیں گے۔ 3۔ ہدایت کے بدلے گمراہی اور بخشش کے مقابلے میں عذاب کو ترجیح دینے والوں کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں اختلاف کرنے والا پرلے درجے کا ضدی ہوتا ہے۔ تفسیربالقرآن: دنیا کی حیثیت : 1۔ اللہ کی آیات کے مقابلے میں پوری دنیا قلیل ہے۔ (البقرۃ :174) 2۔ دنیا کا فائدہ قلیل ہے۔ (النساء :77) 3۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا قلیل ہے۔ (التوبۃ:38) 4۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مدت کم اور قلیل ہے۔ (الاسراء :52) البقرة
175 البقرة
176 البقرة
177 فہم القرآن : ربط کلام : پہلی آیت میں حق چھپانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے بدلے دنیا کمانے کی سزا بیان کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ بیت اللہ کو قبلہ نہ ماننا، رسالت مآب کی نبوت‘ ایک خدا کا انکار کرنا اور مسائل کو چھپانے کا بنیادی سبب باہمی اختلاف کا نتیجہ ہے۔ یہ رویہ اور سوچ سراسر نیکی کے خلاف ہے۔ حقیقی نیکی کے اعمال یہ ہیں۔ یہودونصارٰی وقفے وقفے کے بعد قبلہ کی بحث چھیڑتے تاکہ مسلمانوں کو رسمی اور لفظی بحث میں الجھایا جائے۔ حالانکہ تحویل قبلہ کے ابتدائی احکامات میں واضح کردیا گیا تھا کہ اس پر اعتراض کرنا اور اس بحث میں الجھنا بیوقوفوں کا کام ہے۔ کیونکہ مشرق و مغرب اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور اسے اختیار ہے کہ وہ جس طرف چاہے تمہیں رخ کرنے کا حکم صادر فرمائے۔ اب اس بحث کو سمیٹتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ نیکی کی روح اور حقیقت صرف یہ نہیں کہ آدمی اپنا منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلے۔ یہ تو نیکی کی روح تک پہنچنے کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے جو طریقہ اور راستہ تمہارے لیے منتخب کیا ہے اسے اختیار کرو اور یاد رکھو کبھی راستے اور طریقے منزل نہیں ہوا کرتے۔ اصل نیکی تو یہ ہے کہ ان راستوں اور طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا تلاش کی جائے۔ الفاظ کے گورکھ دھندوں میں الجھنے اور ظاہری طریقوں پر اکتفا کرلینے سے مقصود حاصل نہیں ہوا کرتا۔ اسی فلسفہ کو رسول کریم {ﷺ}نے اس طرح بیان فرمایا کہ ایک وقت آئے گا اسلام کے ظاہری ارکان باقی رہ جائیں گے۔ (عَنْ عَلِیٍّ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَایَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّاإِسْمُہٗ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ إِلَّا رَسْمُہٗ مَسَاجِدُھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَاءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِیْمِ السَّمَآءِ مِنْ عِنْدِ ھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ) [ سنن البہیقی، شعب الایمان باب یوشک ان یاتی علی الناس زمان] ” حضرت علی {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم {ﷺ}نے فرمایا : لوگوں پر ایک دور آئے گا کہ اسلام کا صرف نام رہ جائے گا‘ قرآن کی تلاوت رسم کے طور پر کی جائے گی‘ ان کی مساجد تو آباد ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی‘ ان کے علماء آسمان کی چھت تلے شریر ترین لوگ ہوں گے‘ انہی سے فتنہ ظہور پذیر ہوگا اور انہی کی طرف لوٹ جائے گا۔“ اس آیت میں وضاحت کی جارہی ہے کہ مشرق ومغرب کی طرف منہ کرنا ہی نیکی نہیں بلکہ نیکی کی روح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے فرمان پر ایمان لا کر اس کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ اس عقیدے کے ساتھ کہ آخرت میں ان کے بارے میں جواب طلبی ہونے والی ہے اور بالآخر یہ دِن برپا ہو کر رہے گا۔ ملائکہ پر اس طرح ایمان لایا جائے کہ وہ خدائی نظام حکومت کے تابع فرمان، اہلکار، ہمارے نگران اور صبح وشام ہماری زندگی کے ایک ایک لمحے کی رپورٹ لکھ کر اللہ کے حضور پیش کر رہے ہیں۔ انبیاء کی ذات اور خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان پر ایمان لایا جائے، مال کی محبت کے باوجود اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوالیوں اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نماز کا اہتمام اور زکوٰۃ کی ادائیگی کی جائے۔ چاہے تم امن اور خوشحالی میں ہو یا بدحالی اور حالت جنگ میں گویا کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر صبرو استقامت کا مظاہرہ کرنے والے ہی قول کے سچے سمجھے جائیں گے۔ یہی لوگ در حقیقت نیکو کار اور پرہیزگار ہیں۔ اس فرمان میں کتاب مبین کی ابتدا سے لے کر اب تک جو احکامات بیان ہوئے ہیں اعتقادات، عبادات اور معاملات کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ ان احکامات کی تفصیل اپنے اپنے مقام پر بیان ہوگی یہاں قرآن کے اتّباع میں اجمال پر ہی اکتفا کرنا چاہیے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ، آخرت، ملائکہ، آسمانی کتابوں اور انبیاء پر ایمان لانا، اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ مقامات پر خرچ کرنا، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی، عہد کی پاسداری، جہاد اور مخدوش حالات میں صبر کرنے والے سچے، نیک اور متقی لوگ ہیں۔ البقرة
178 فہم القرآن : (آیت 178 سے 179) ربط کلام : متقین کی صفات میں یہ بات بھی شامل ہے اور ہونی چاہیے کہ معاشرے کو جرائم سے بچانے کے لیے وہ اسلام کا حدود و قصاص کانظام نافذ کریں یہی سمجھ داری، تقو ٰی کا تقاضا اور اس طرح ہی جرائم سے بچا جاسکتا ہے۔ اسلام کے نظام عدل سے پہلے دنیا میں قانون کے وجود اور اس کے نفاذ میں کئی قسم کے اختلافات، تضادات اور امتیازات پائے جاتے تھے۔ یہودیوں کا نقطۂ نگاہ یہ تھا اور ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہیے۔ ان کے ہاں کمزور کے لیے معافی کی کوئی صورت نہیں۔ ان کے برعکس انجیل کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی زیادتی کرے تو اس سے بدلہ لینے کی بجائے اپنے چہرے کا دوسرا رخ پیش کردینا چاہیے۔ اس طرح یہود میں سختی ہی سختی اور عیسائیت میں نرمی ہی نرمی کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ اسلام نے دونوں قسم کی فلاسفی کے درمیان راستہ اختیار کیا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کو عمدًا قتل کرتا ہے تو مقتول کے وارثوں کو تین باتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ اس کے لیے حکومت وقت کافرض ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو ایسا ماحول فراہم کرے۔ جس میں وہ تینوں میں سے کوئی ایک بات اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ پر کوئی دباؤ محسوس نہ کریں۔ (1) قتل کے بدلے قتل (2) قتل کے بدلے دیت (3) قاتل کو معاف کرنا۔ یہ بات ذہن میں راسخ ہونی چاہیے کہ یہ کام عدالت یا ذمہ دار اتھارٹی کے ذریعے ہونا ضروری ہے۔ ورنہ اچھے ثمرات کی بجائے مضرّات کا زیادہ خدشہ ہے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ” کُتِبَ عَلَیْکُمْ“ کے الفاظ میں مضمر ہے۔ جس کی روشنی میں نبی محترم {ﷺ}نے ورثاء کے لیے مجرم کو از خود سزا دینے کی اجازت نہیں دی۔ (عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ {رض}أَنَّ رَجُلًا أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ {}فَقَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَرَأَیْتَ رَجُلًا رَأٰی مَعَ امْرَأَتِہٖ رَجُلًا أَیَقْتُلُہٗ فَتَقْتُلُوْنَہٗ أَمْ کَیْفَ یَفْعَلُ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ مَا ذُکِرَ فِی الْقُرْآنِ مِنَ التَّلَاعُنِ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}قَدْ قُضِیَ فِیْکَ وَفِی امْرَأَتِکَ قَالَ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاھِدٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ {}فَفَارَقَھَا فَکَانَتْ سُنَّۃً أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَ الْمُتَلَاعِنِیْنَ وَکَانَتْ حَامِلًا فَأَنْکَرَ حَمْلَھَا وَکاَنَ ابْنُھَا یُدْعٰی إِلَیْھَا ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّۃُ فِی الْمِیْرَاثِ أَنْ یَرِثَھَا وَتَرِثُ مِنْہُ مَا فَرَضَ اللّٰہُ لَھَا) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب والخامسۃ أن لعنۃ اللّٰہ الخ] ” حضرت سھل بن سعد {رض}بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ {ﷺ}کے پاس آکرکہنے لگا۔ اے اللہ کے رسول ! ایسے آدمی کے متعلق کیا خیال ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پاتا ہے کیا وہ اسے قتل کردے تو آپ اسے قتل کردیں گے یا وہ کیا کرے ؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں لعان کے متعلق آیات نازل فرمائیں۔ اللہ کے رسول {ﷺ}نے اسے فرمایا : تیرے اور تیری بیوی کے متعلق فیصلہ ہوچکا ہے سہل {رض}کہتے ہیں پھر ان دونوں نے لعان کیا اور میں رسول اللہ {ﷺ}کے پاس موجود تھا۔ سنت طریقہ یہ ہے کہ لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کردی جائے۔ وہ عورت حاملہ تھی اس کے خاوند نے اس کے حمل کا انکار کیا پھر اس کا بیٹا اس عورت کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ پھر میراث میں یہ طریقہ جاری کیا گیا کہ وہ اس کا وارث بنے گا اور وہ اس کی وارث بنے گی جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کیا ہے۔“ جہاں تک پہلی اقوام کے قانون کی تنفیذ کا تعلق ہے۔ انہوں نے قانون کو موم کی ناک بنا رکھا تھا کہ حسب ضرورت جس طرف چاہا اس کا رخ موڑ دیا۔ اگر بڑے آدمی سے جرم سر زد ہوتا تو ان کی کوشش ہوتی کہ اس پر قانون کا اطلاق نہ ہونے پائے یا اس کے بدلے اس کے غلام کو سزا وار ٹھہرایا جائے۔ کوئی غیر مؤثر آدمی جرم کرتا تو اس پر قانون کا شکنجہ اس طرح کس دیا جاتا کہ نکلنے نہ پائے کی فضا پید اکر دی جاتی۔ آپ {ﷺ}نے اس عملی تضاد کے بھیانک نتائج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ پہلی اقوام اس وجہ سے تباہ ہوئیں کہ وہ عدل نہیں کرتی تھیں : ( عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ قُرَیْشًا أَھَمَّھُمْ شَأْنُ الْمَرْأَۃِ الْمَخْزُوْمِیَّۃِ الَّتِیْ سَرَقَتْ فَقَالُوْا وَمَنْ یُکَلِّمُ فِیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ {}قَالُوْا وَمَنْ یَجْتَرِ ئُ عَلَیْہِ إِلَّا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حِبُّ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَکَلَّمَہٗ أُسَامَۃُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}أَتَشْفَعُ فِیْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَھْلَکَ الَّذِیْنَ قَبْلَکُمْ کَانُوْا إِذَا سَرَقَ فِیْھِمُ الشَّرِیْفُ تَرَکُوْہُ وَإِذَا سَرَقَ فِیْھِمُ الضَّعِیْفُ أَقَامُوْاعَلَیْہِ الْحَدَّ وََأَیْمُ اللّٰہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَھَا) [ رواہ البخا ری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار] ” حضرت عائشہ {رض}بیان کرتی ہیں کہ قریش اس مخزومی عورت کے متعلق بڑے فکر مند ہوئے جس نے چوری کی تھی انہوں نے سوچا کہ اس معاملے میں اللہ کے رسول سے کون بات کرسکتا ہے؟ انہوں نے کہا یہ کام اسامہ بن زید {رض}کے سوا اور کوئی نہیں کرسکتا وہ اللہ کے رسول کا محبوب ہے۔ چنانچہ اسامہ {رض}نے اللہ کے رسول سے عرض کی تو آپ نے فرمایا : کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے متعلق سفارش کرتے ہو؟ پھر آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا : یقیناً تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے تباہ ہوئے کہ جب ان میں کوئی بڑاچوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اگر کمزور چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“ قرآن مجید دو ٹوک انداز میں قانون کے نفاذ میں بے انصافی کا تدارک کررہا ہے چنانچہ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت ہی قتل کی جائے گی اس کے بر خلاف کرنے کی ہرگز اجازت نہ ہوگی۔ قاتل کی جو بھی حیثیت ہو بدلے میں اسے ہی قتل کیا جائے گا۔ آپ نے اس امتیاز کو ختم کرنے کے اقدامات کے ساتھ قانون کے نفاذ کو یقینی بنایا تاکہ قرآن کی منشا کے مطابق زندگی عدل وانصاف کے اصولوں پر استوار ہوسکے۔ اس سے مجرموں کے حوصلے پست اور مظلوموں میں احساس زندگی پیدا ہونے کے ساتھ معاشرہ جرم درجرم کے بدترین عمل سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ یہی معاشرے کی بقا اور زندگی کی روح ہے۔ مظلوموں کو معاف کردینے کا حق دے کر اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اسلام صرف سزاؤں کے ذریعے جرائم کی بیخ کنی کا تصور پیش نہیں کرتا۔ بلکہ اس نے غیرعادی مجرموں کے لیے معافی کا راستہ کھول رکھا ہے کہ سہواً یا غیر ارادی طور پر کسی سے جرم سر زد ہو تو اسے معاف کردینے کے نتائج بدلہ لینے سے بہترہوا کرتے ہیں۔ معافی کا اختیار حکومت کو نہیں بلکہ یہ بھی مظلوم کے ورثاء کا حق ہے۔ اگر وہ معاف کردیں تو فریق ثانی کو حتی المقدور مظلوموں کے ساتھ بھر پور طریقے سے مالی اور اخلاقی تعاون کرنا چاہیے تاکہ ان کا زخم جلد از جلد مندمل ہوسکے۔ یہاں رحمت اور تخفیف کے الفاظ بیان فرما کر اشارہ کیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو ” کُتِبَ“ کے حکم کی فرضیت کو مِنْ وَعَنْ قائم رکھتے۔ لیکن یہ اس کی طرف سے رحمت اور نرمی کا مظاہرہ ہے کہ اس نے تمہیں معاف کردینے کا اختیار دے کر حالات کی سنگینی کو حسن سلوک کے ذریعے سد ھارنے کا اختیار عطا کیا ہے۔ البتہ جو اس کے بعد بھی زیادتی کرے گا اس کے لیے ہولناک عذاب ہوگا۔ مسائل : 1۔ مقتول کے ورثاء معاف کردیں تو ان کے ساتھ پھر بھی احسان کرنا ہے۔ 2۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت قتل کی جائے گی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنے احکام میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ 4۔ جو قصاص اور دیت لینے دینے کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ 5۔ قتل کا قصاص لینے میں زندگی کی بقاء ہے۔ البقرة
179 البقرة
180 فہم القران : (آیت 180 سے 182) ربط کلام : حرمت جان کے بعد حرمت مال اور پسماند گان کے حقوق کے احترام کا حکم۔ قرآن مجید کا مال کے بارے میں عمومی نقطۂ فگاہ یہ ہے کہ مال اگرچہ حلال اور جائز طریقے سے کمایا گیا ہو تب بھی آدمی کے لیے ایک بھاری آزمائش ہے۔ البتہ آزمائش ہونے کے باوجود مال آدمی کی زندگی کے لیے استحکام اور احترام کا باعث بنایا گیا ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے اسے خیر، فضل، رحمت اور نعمت سے تعبیر فرمایا ہے۔ جمع شدہ مال کے بارے میں جو احکامات اور ہدایات جاری فرمائیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب آدمی قریب المرگ ہو تو اسے مال کے متعلق اپنے والدین اور وراثت میں حق دار رشتے داروں کے بارے میں وصیّت کرنی چاہیے۔ یہاں وصیّت اور وراثت کے بارے میں اصلاحات سے لوگوں کو آگاہ فرمایا جارہا ہے کہ وصیّت کرتے ہوئے اپنوں کو چھوڑ کر دوسروں کے لیے وصیّت کرنا جائز نہیں۔ عرب کے لوگ مرتے وقت والدین اور دوسرے حق دار حضرات کو محروم کر کے وراثت صرف اپنی بیوی اور اولاد میں تقسیم کردیا کرتے تھے۔ بسا اوقات اپنے دوست کے حق میں وصیّت کردیتے۔ اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ موت کے وقت لواحقین کو اس قسم کی وصیت پر عمل کے لیے نہ کہا جائے کہ جس سے کچھ حق داروں کو محروم کرکے چند اقرباء میں پورے کا پورا مال تقسیم کردیا جائے۔ بعد ازاں اس حکم کی وضاحت میں رسول کریم {ﷺ}نے یہ بھی اصلاح فرمائی کہ فوت ہونے والا تیسرے حصّہ سے زیادہ وصیّت نہیں کرسکتا : (عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ {رض}قَالَ جَاء النَّبِیُّ {}یَعُوْدُنِیْ وَأَنَا بِمَکَّۃَ وَھُوَ یَکْرَہُ أَنْ یَّمُوْتَ بالْأَرْضِ الَّتِیْ ھَاجَرَ مِنْھَا قَالَ یَرْحَمُ اللّٰہُ ابْنَ عَفْرَاءَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أُوْصِیْ بِمَالِیْ کُلِّہٖ قَالَ لَا قُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ لَا قُلْتُ الثُّلُثُ قَالَ فَالثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ إِنَّکَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَاءَ خَیْرٌ مِّنْ أَنْ تَدَعَھُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُوْنَ النَّاسَ فِیْ أَیْدِیْھِمْ)[ رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب أن یُترک ورثتہٗ أغنیاء خیر من أن یتکففو ا] ” سعد بن ابی وقاص {رض}بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ میں تھا۔ نبی اکرم {ﷺ}میری تیمار داری کے لیے تشریف لائے۔ میں مکہ میں موت کو اس لیے ناپسند کرتا تھا کہ یہاں سے میں ہجرت کرچکا تھا۔ آپ {ﷺ}نے فرمایا : اللہ ابن عفراء پر رحم کرے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اپنے سارے مال کے متعلق وصیت کرتاہوں۔ آپ نے فرمایا : نہیں میں نے کہا : آدھے کی۔ آپ نے فرمایا : نہیں میں نے کہا : تیسرے حصے کی۔ آپ نے فرمایا : تیسرا حصہ بھی زیادہ ہے۔ اگر تو اپنے ورثاء کو مال دار چھوڑ کر جائے تو یہ اس بات سے کہیں بہتر ہے کہ تو ان کو ایسی حالت میں چھوڑ کر جائے کہ وہ کنگال ہوں اور لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔“ وصیّت کرتے وقت وراثت میں حق داروں کی اجازت کے بغیر وراثت میں شریک کسی ایک کے لیے وصیت کرنا جائز قرار نہیں دیا گیا۔ کیونکہ اس سے دوسروں سے بے انصافی ہونے کے ساتھ فوت ہونے والے کے بارے میں ہمیشہ کے لیے نفرت پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : (لَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ) ” وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں۔“ [ رواہ النسائی : کتاب الوصایا باب إبطال الوصیۃ للوارث] تاہم اس بات کی مکمل گنجائش رکھی گئی کہ اگر فوت ہونے والا کسی وجہ سے غلط وصیّت کرتا ہے تو اس کی وصیّت کو شریعت کے مطابق درست کرنا لواحقین پر ایک اہم فرض ہے۔ ایسی صورت میں اصلاح کنند گان پر کوئی گناہ نہیں۔ البتہ شریعت کے مطابق کی گئی وصیت کو تبدیل کرنے والا سخت گناہ گار ہوگا۔ ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ لوگوں سے تو جرم چھپا سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپا سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے اور ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنی دو صفات کا ذکر فرما کر اس طرف اشارہ کررہے ہیں کہ اگر تم غلط وصیّت کی اصلاح کرو گے تو یقینًا غَفُوْرٌ رَّحِیْم اصلاح کے اس عمل کے باعث فوت شدہ آدمی سے سر زد ہونے والی سہوًا یا عمدًاغلطی کو معاف فرمادیں گے۔ اس طرح تم ناانصافی اور باہمی اختلافات سے بھی بچ جاؤ گے۔ مسائل : 1۔ فوت ہونے والے کو شریعت کی حدود میں رہ کر اپنے مال کے بارے میں وصیّت کرنی چاہیے۔ 2۔ وصیّت کو بدلنا بڑا گناہ ہے۔ 3۔ غلط وصیّت کی اصلاح کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں۔ البقرة
181 البقرة
182 البقرة
183 فہم القرآن : (آیت 183 سے 184) ربط کلام : روزہ دار اللہ تعالیٰ کا حکم مانتے ہوئے حلال چیزیں چھوڑدیتا ہے اس بناء پر اسے حرام چھوڑنا مشکل نہیں رہتا تزکیۂ نفس اور حقیقی تقو ٰی روزے سے حاصل ہوتا ہے بشرطیکہ روزے کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ سال کے گیارہ مہینے مسلمان کو حلال کھانے کی کھلی چھٹی تھی کہ وہ جو چاہے اور جس وقت چاہے کھاپی سکتا ہے۔ لیکن جونہی رمضان کا چاند نمودار ہوا یکدم اس پر پابندی لاگو کردی گئی کہ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے کی کسی چیز کو خوردو نوش کی نیت سے ہاتھ نہ لگائے اور نہ بیوی سے جماع کرے۔ حرام کھانے پر تو دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہی قدغن لگ چکی تھی اب تو حلال پر بھی دن بھر کے لیے پابندی عائد کردی گئی۔ گیارہ مہینے کی آزاد طبیعت کو اس پابندی کا خوگر بنانے کے لیے اس کے نفسیاتی پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے فرمایا ہے کہ روزے تم پر ہی نہیں بلکہ تم سے پہلی امّتوں اور ملّتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے۔ بس یہ گنتی کے چنددن ہیں حوصلہ کیجیے یہ دیکھتے ہی دیکھتے گزر جائیں گے۔ ہاں اگر کوئی تم میں سے ان دنوں میں بیمار ہویا اسے سفر درپیش ہو تو وہ اتنے دن کے روزے بعد میں پورے کرے۔ یہاں مریض کو یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ رمضان کے مہینے میں تکلیف کی وجہ سے اس سے جتنے روزے چھوٹ جائیں وہ سال کے گیارہ مہینوں میں جب چاہے ان کی گنتی پوری کرسکتا ہے۔ اس میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جو بچے کی پیدائش یا اس کے دودھ پینے کی صورت میں روزہ نہ رکھ سکتی ہوں۔ حضرت عائشہ {رض}فرماتی ہیں : (کَانَ یَکُوْنُ عَلَیَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أَقْضِیَ إِلَّا فِیْ شَعْبَانَ) [رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب متی یقضی قضاء رمضان] ” میرے ذمہ رمضان کے کچھ روزے ہوتے جنہیں میں شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں نہیں رکھ سکتی تھی۔“ البتہ دائمی مریض جسے بظاہر بیماری سے نجات پانے کی کوئی امید نہ ہو تو وہ کسی مستحق کو رمضان کے چھوڑے ہوئے روزوں کی گنتی کے مطابق فدیہ دے گا۔ سفر میں روزے کے حوالے سے رسول رحمت {ﷺ}نے اس قدر نرمی اور آسانی کا ماحول پیدا فرمایا کہ فتح مکہ کے سفر میں جہاد اور موسم کی شدت کے پیش نظر آپ نے نہ صرف لوگوں کو روزہ توڑنے کا حکم دیا بلکہ نماز عصر کے بعد اپنی سواری پر جلوہ افروز ہو کر لوگوں کو دکھا کر پانی نوش فرمایا۔ حالانکہ سورج غروب ہونے میں تھوڑا ہی وقت باقی تھا۔[ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ الفتح فی رمضان] اسی سنّتِ مبارکہ کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام {رض}سفر میں روزہ چھوڑنے کو قابل اعتراض نہیں سمجھتے تھے اور نہ ہی سفر میں روزہ رکھنے کو غیرمعمولی نیکی تصور کرتے تھے۔ جہاں تک سفر کی مسافت کا تعلق ہے آپ کے مختلف اسفار کو سامنے رکھتے ہوئے سفر کی مسافت کے تعیّن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام بخاری (رح)، امام احمد بن حنبل (رح) اور امام ابو حنیفہ {رض}48 میل سے کم مسافت کو سفر شمار نہیں کرتے۔ جب کہ دوسرے علماء اپنے شہر کی حدود کے باہر 13 میل تقریبًا 23 کلو میٹر کو سفر تصور کرتے ہیں۔ آیت کے آخر میں تدریجی حکمت عملی کا خیال رکھتے ہوئے پہلے اجازت دی گئی کہ جو روزہ نہیں رکھنا چاہتا وہ کسی مسکین کو فدیہ دے تاہم روزہ رکھنا بہتر ہے۔ بعد ازاں اگلی آیت میں اس حکم کو منسوخ فرما کر معذورین کے سوا سب پر روزہ فرض کردیا گیا۔ روزہ فارسی کا لفظ ہے عربی میں اسے صوم کہا جاتا ہے۔ عربی ڈکشنری کے لحاظ سے روزہ کا لغوی معنی ہے کسی کام سے رک جانا‘ شرعی اصطلاح میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے‘ جماع کرنے سے رک جانے اور فسق وفجور سے بچنے کا نام روزہ ہے۔ برکات رمضان (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ {}قَالَ إذَا کَانَتْ اَوَّلُ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّیاطیْنُ وَمَرَدَۃُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ اَبْوَاب النَّارِ فَلَمْ یُفْتَحْ مِنْھَا بَابٌ وَفُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ فَلَمْ یُغْلَقْ مِنْھَا بَابٌ وَنَادٰی مُنَادٍ یَا بَاغِیَ الْخَیْرِ اَقْبِلْ وَ یَا بَاغِیَ الشَّرِّاَقْصِرْ وَلِلّٰہِ عُتَقَاءٌ مِّنَ النَّارِ وَذٰلِکَ فِیْ کُلِّ لَیْلَۃٍ) [ رواہ ابن ماجۃ، کتاب الصیام، باب ماجاء فی فضل شہر رمضان] ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا رمضان کی پہلی رات شیاطین اور سرکش جن گرفتار کرلیے جاتے ہیں اس کے ساتھ ہی جہنم کے تمام دروازے بند کردیے جاتے ہیں ان میں کوئی ایک دروازہ بھی کھلا نہیں رہنے دیا جاتا پھر جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک دروازہ بھی بند نہیں رہنے دیا جاتا اور ایک منادی کرنے والافرشتہ اعلان کرتا ہے اے بھلائی کے چاہنے والے! آگے بڑھ اور اے شر کے خوگر! رک جا۔ اور اللہ تعالیٰ دوزخ سے لوگوں کو آزاد کرتے ہیں اور یہ آزادی رمضان کی ہر رات ہوتی ہے۔“ فضیلت صوم : (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}قَال اللّٰہُ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ لَہُ إِلَّا الصِّیَامَ فَإِنَّہُ لِیْ وَأَنَا أَجْزِیْ بِہِ وَالصِّیَامُ جُنَّۃٌ فَإِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ أَحَدِکُمْ فَلَا یَرْفُثْ وَلَا یَصْخَبْ فَإِنْ سَابَّہُ اَحَدٌ اَوْقَاتَلَہُ فَلْیَقُلْ إِ نِّی امْرُؤٌ صَائِمٌ وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَخَلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْیَبُ عِنْدَاللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ للصَّاءِمِ فَرْحَتَانِ یَفْرَحُھُمَا اِذَا اَفْطَرَ فَرِحَٖ وَاِذَا لَقِیَ رَبَّہُ فَرِحَ بِصَوْمِہٖ) [ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب ھل یقول إنی صائم ] ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}کا ارشاد گرامی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ابن آدم کا ہر عمل اس کی ذات کے لیے ہے مگر روزہ میرے لیے ہے اس لیے میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ روزہ ڈھال ہے جب تم میں کوئی روزہ دار ہو تو وہ فحش گوئی اور بد کلامی سے اجتناب کرے۔ اگر کوئی اس سے گالی گلوچ یا لڑنے کی کوشش کرے تو وہ فقط اسے اتنا کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد {ﷺ}کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہوگی۔ روزہ دار کے لیے خوشی کے دو مواقع ہیں جن سے وہ مسرت وانبساط حاصل کرتا ہے اولاً جب وہ روزہ افطار کرتا ہے۔ ثانیاً جب قیامت کے دن اپنے رب سے روزہ کے بدلے میں انعام پائے گا تو انتہائی خوش ہوگا۔“ ثواب کی حدہی نہیں : (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آَدَمَ یُضَاعَفُ الْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا إِلٰی سَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ قَال اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّہُ لِیْ وَاَنَا أُجْزٰیْ بِہٖ) [ رواہ مسلم : کتاب الصیام، باب فضل الصیام ] ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم {ﷺ}نے فرمایا کہ آدمی کے ہر اچھے عمل کا اجر دس سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ لیکن روزے کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔“ دومقبول ترین سفارشی : (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍ و {رض}اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ {}قَال الصِّیَامُ وَالْقُرْاٰنُ یَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ یَوْمَ الْقیامَۃِ یَقُوْلُ الصِّیَامُ اَیْ رَبِّ مَنَعْتُہُ الطَّعَامَ وَالشَّھْوَات بالنَّھَارِ فَشَفِّعْنِیْ فیْہِ وَیَقُوْلُ الْقُرْاٰنُ مَنَعْتُہُ النَّوْمَ بالَّلیلِ فَشَفِّعْنِیْ فیْہِ قَالَ فیُشَفَّعَانِ) [ مسند أحمد : کتاب مسند المکثرین من الصحابۃ، باب مسند عبدا اللہ ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو {رض}ذکر کرتے ہیں کہ رسول کریم {ﷺ}نے فرمایا روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا اے میرے رب ! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور خواہشات سے روکے رکھا لہٰذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ قرآن کہے گا اے میرے رب! میں نے اس بندے کو تلاوت کی وجہ سے سونے سے روکے رکھا لہٰذا اس کے بارے میں میری گذارش قبول فرما۔ اللہ تعالیٰ دونوں کی سفارش قبول فرما لیں گے۔“ (عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْد {رض}عَنِ النَّبِیِّ {}قَالَ اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ بَابًا یُقَالُ لَہُ الرَّیَّانُ یَدْخُلُ مِنْہُ الصَّآئِمُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَا یَدْخُلُ مِنْہُ اَحَدٌ غَیرُھُمْ) [ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب الریان للصائمین] ” حضرت سہل بن سعد {رض}کہتے ہیں نبی کریم {ﷺ}نے فرمایا! جنت کے ایک دروازے کا نام ہی ” الریان“ رکھ دیا گیا ہے۔ جس سے قیامت کے دن روزہ دار گزر کر جنت میں داخل ہوں گے۔ ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی دوسرا داخل نہیں ہو سکے گا۔“ مسلمان پر ارکان اسلام فرض ہیں اور ہر مسلمان ان کی ادائیگی کا پابند ہے۔ حدیث میں ارشاد ہواکہ جنت کے دروازے کا نام یہ اور یہ رکھا گیا ہے۔ آدمی کو اس نیکی کی بناء پر خصوصی طور پر مخصوص دروازے سے بلایا جائے گا اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ باقی ارکان اور نیکیاں کرنے کے ساتھ اس نیکی میں زیادہ رغبت اور لذّت محسوس کرتا ہے اس فرمان کے ساتھ جذبہ اور ترغیب پیدا کرنا مقصودبھی ہے کہ مومن کو ہر نیکی پوری توجہ اور للہیت سے ادا کرنی چاہیے۔ جو لوگ ہر نیکی رغبت سے کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا۔ جیساکہ حضرت ابوبکر {رض}کے ایک سوال کے جواب میں آپ {ﷺ}نے فرمایا کہ ابو بکر تو انہی حضرات میں شامل ہے جنہیں جنت کے ہر دروازے سے پکارا جائے گا۔ [ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب الریان للصائمین] روزے کا مقصد گناہوں سے بچنا ہے۔ اگر سنّت کے مطابق کچھ بھوک رکھ کر روزہ رکھا جائے تو آدمی گناہوں کی معافی کے ساتھ کئی بیماریوں سے بچ سکتا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں میری کتاب : برکات رمضان) مسائل : 1۔ روزے ہر امت پر فرض تھے۔ 2۔ روزے کا مقصد تقو ٰی میں اضافہ کرنا ہے۔ 3۔ بیماری اور سفر کی وجہ سے چھوڑے ہوئے روزے بعد میں پورے کرنا فرض ہے۔ 4۔ روزہ رکھنا ہر لحاظ سے بہتر ہے۔ 5۔ تقویٰ نام ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور گناہوں سے بچنے کا۔ البقرة
184 البقرة
185 فہم القرآن : ربط کلام : روزہ اور قرآن مجید کا باہمی تعلق بیان کرتے ہوئے روزے داروں کو تسلی دی جارہی ہے کہ روزے تمہیں تنگ کرنے کے لیے فرض نہیں کیے بلکہ ان سے تقویٰ، خدا کی کبریائی کا تصور اور شکریہ کا جذبہ پیدا کرنا مقصود ہے۔ ماہ رمضان کی عظمت وفضیلت کی سب سے بڑی دلیل رب جلیل نے یہ دی ہے کہ اس مہینے میں قرآن نازل کیا گیا ہے۔ جس میں قوموں کی رشدو ہدایت اور ان کی اصلاح اور فلاح کا نہایت ہی جامع پروگرام دیا گیا ہے۔ یہ ہدایت اتنی واضح اور اس کے دلائل اس قدر روشن ہیں کہ اس سے بہتر راہنمائی کوئی اور نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی صحیح فلسفۂ حیات کی تائید کے لیے اس سے قوی دلائل پیش کیے جاسکتے ہیں۔ جونہی قرآن مجید کے دلائل فکری اور عملی میدان میں پیش کیے جاتے ہیں تو کوئی بھی ذی شعور اور سلیم الفطرت انسان قرآنی ہدایت اور اس کے دلائل کے سامنے سرجھکائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے قرآن کو ” اَلْفُرْقَانَ“ بھی کہا گیا ہے۔ یعنی ایسی کتاب جو حق وباطل اور کھرے کھوٹے میں امتیاز پیدا کردے۔ قرآن مجید سے مستفید ہونے کے لیے اس کی پہلی آیت میں تقو ٰی کو شرط لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس تقو ٰی کے حصول کے لیے رمضان کے روزے مقرر کیے گئے ہیں۔ لہٰذا روزے کا مقصد تقو ٰی کا حصول ہے۔ تقویٰ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور گناہوں سے بچے۔ اس لحاظ سے رمضان اور قرآن کا آپس میں چولی دامن کا تعلق ہے۔ سلسلۂ کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں اس غلطی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ تمہارے رب نے پہلے حکم میں مریضوں اور مسافروں کو روزہ نہ رکھنے کی جو رخصت عنایت فرمائی تھی۔ اس فرمان میں وہ رعایت واپس لے لی گئی ہے۔ یہاں پھر مریضوں اور مسافروں کے لیے من وعن وہی الفاظ دہرا کر اس رعایت کو بحال رکھا گیا ہے تاکہ انہیں مزید اطمینان ہو کہ اگر ہم تکلیف میں مبتلا ہوئے ہیں تو ہمیں آسانی بھی دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی اور آسانی کرتا ہے۔ اسی لیے اس نے لوگوں کی مجبوریوں اور معذوریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے ضابطوں میں نرمی اور ترمیم فرمائی ہے۔ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان کا عملی پہلو سامنے رکھیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح نمایاں ہوجائے گی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تکلیف مالا یطاق سے بچانے کے لیے اسلام کے تمام احکام اور مسائل میں نرمی اور آسانی کے پہلو کو سامنے رکھا ہے۔ نماز ہی کو لے لیجیے جو ہر بالغ مسلمان پر فرض ہے لیکن اس میں کتنی رعائتیں دی گئی ہیں تاکہ آدمی فرض ادا کرنا چاہے تو کوئی رکاوٹ بھی اس کے سامنے حائل نہ ہوسکے گی۔ کھڑا ہو کر نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر نماز ادا کرلے۔ اگر بیٹھنا دشوار معلوم ہو تو لیٹ کر ادا کرسکتا ہے۔ لیٹنے کی حالت میں چہرہ قبلہ کی جانب نہیں ہوسکتا تو ارشاد ہوتا ہے کہ میرے بندے ! تجھے افسردہ ہونے کی ضرورت نہیں تیرا چہرہ جس جانب بھی ہوگا۔ میری نظر کرم اسی طرف اس کے استقبال میں ہوگی۔ اسی طرح حج کے مناسک کو لے لیجیے ایک دو کو چھوڑ کر معذوری کی حالت میں باقی تمام مناسک کوئی دوسرا ادا کرے تو یہ ادائیگی معذور آدمی کی طرف سے ہی تصور ہوگی۔ یہاں تک کہ اگر کسی پر حج فرض ہو لیکن وہ جسمانی یا اور کسی شرعی مجبوری کی وجہ سے بیت اللہ میں حاضری نہیں دے سکتا تو وہ حج بدل کے ذریعے یہ فریضہ سرانجام دے سکتا ہے۔ یہ آسانیاں اور مہربانیاں اس لیے ہیں تاکہ مسلمان حتی المقدور خدا کے احکام پورے کرسکیں۔ فرائض کی ادائیگی کا یہ احساس اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتا جب تک اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا تصور دل ودماغ میں جاگزیں نہ ہوجائے۔ اس لیے روزے کے مسائل کے بیان میں اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی کا احساس یاد دلا رہے ہیں کہ جس نے خدا کی کبریائی کا تصور پختہ کرلیا اس کے لیے روزہ رکھنا اور اپنے رب کے احکامات پر عمل کرنا آسان ہوجائے گا۔ خدا کے احکامات کی بجاآوری ہی حقیقی شکریہ ہے اور شکر گزار بندے ہی ہدایت پایا کرتے ہیں۔ مسائل : 1۔ قرآن مجید رمضان المبارک میں نازل ہوا۔ 2۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے، اس میں ہدایت کے بڑے بڑے دلائل ہیں۔ 3۔ یہ حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ سختی کرنے کے بجائے نرمی اختیار کرتا ہے۔ 5۔ ہدایت نصیب ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن: اللہ تعالی اپنے بندوں کے ساتھ سختی نہیں نرمی کرتا ہے۔ 1-(البقرۃ: 185) 2-(البقرۃ: 186) 3-( اعلی: 7) البقرة
186 فہم القرآن: ربط کلام : رمضان کی راتوں اور روزہ کی حالت میں دعا جلد قبول اور اللہ تعالیٰ کی قربت نصیب ہوتی ہے۔ اس لیے دعا سے متعلق سوال کا جواب دینا یہاں مناسب سمجھا گیا تاکہ مومن دل کھول کر اپنے رب سے مانگیں۔ دعا کا معنٰی ومفہوم : دعا عبادات کا خلاصہ، انسانی حاجات اور جذبات کا مرقّع، بندے اور اس کے رب کے درمیان لطیف مگر مضبوط واسطہ، اللہ تعالیٰ کے مزید انعامات کا حصول اور نقصانات سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ اس سے ضمیر کا بوجھ ہلکا اور پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے دعا مکمل یکسوئی، خلوص نیت اور انتہائی توجہ، اصرار اور تکرار کے ساتھ کرنی چاہیے۔ ارض و سماء کے مالک کی خوشی اور اس کا حکم ہے کہ اس سے براہ راست مانگا جائے۔ اللہ تعالیٰ سے نہ مانگنا تکبر ہے۔ فوت شدگان کے واسطے، حرمت، طفیل اور وسیلے سے دعا کرنا شرک ہے۔ نبی کریم {ﷺ}نے دعا کے مقصدو مفہوم کو نہایت ہی مختصر مگر جامع کلمات میں بیان فرمایا ہے : ( اَلدُّعَاءُ ہُوَ الْعِبَادَۃُ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلوۃ، باب الدعاء] ” دعا عبادت ہے۔“ دعا بمعنٰی عبادت : تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے بے پروائی کرتے ہیں انہیں ذلیل وخوار کرکے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔[ المؤمن :60] دعا بمعنٰی مدد طلب کرنا : اللہ کے سوا اپنے مدد گاروں سے مدد مانگواگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔[ البقرۃ:23] دعا بمعنٰی پکار : اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکا رو جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان اگر تو ایسا کرے گا تو ظالموں میں سے ہوگا۔ [ یونس :106] دعا کی اہمیت : (عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ {رض}عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ {}قَالَ لَنْ یَّنْفَعَ حَذْرٌ مِنْ قَدْرٍ وَلٰکِنَّ الدُّعَاءَ یَنْفَعُ مِمَّا نُزِّلَ وَمِمَّا لَمْ یُنْزَلْ فَعَلَیْکُمْ بالدُّعَاءِ عِبَاد اللّٰہِ) [ مسند أحمد : کتاب مسند الأنصار، باب حدیث معاذ بن جبل] ” حضرت معاذ بن جبل {رض}آنحضرت {ﷺ}سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا کوئی بھی احتیاط اور پرہیز تقدیر سے نہیں بچا سکتی، لیکن دعا نازل شدہ اور آئندہ نازل ہونے والے مصائب وتکالیف سے فائدہ پہنچاتی ہے۔ پس اے بندگان خدا دعا ضرور کیا کرو۔“ دعا کے آداب درود، توبہ، استغفار : اخلاقیات کے حوالے سے اس بات کو کبھی بھی پسندیدہ قرار نہیں دیا گیا کہ کمزور آدمی اور حاجت مند کسی بڑے سے سوال کرے تو وہ آداب واکرام کو بالائے طاق رکھ کر سوال پر سوال ڈالتا چلا جائے۔ اس انداز سے نہ صرف مانگنے والا محروم رہ سکتا ہے بلکہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ دینے والا اس طرح مانگنے پر ناراض ہوجائے۔ لہٰذا جب رب کی بارگاہ میں دست سوال دراز کیا جائے تو پہلے حمد وستائش اور اس کی عنایات کا اعتراف واقرار کیا جائے۔ اس کے بعد نبی کریم {ﷺ}کی ذات اطہر پر درود پڑھا جائے جو بذات خود بہترین دعا ہے۔ رسول اللہ {ﷺ}کا ارشاد ہے کہ ” جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمتیں نازل فرماتا ہے۔“ [ رواہ مسلم : کتاب الصلٰوۃ، باب الصلٰوۃ علی النبی] آپ {ﷺ}نے ابی بن کعب {رض}کو سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ اگر تو اپنی دعا میں تمام وقت درود پڑھنے پر صرف کرے تو تیرے سارے دکھوں کے لیے کافی اور گناہوں کی بخشش کا باعث ہوگا۔[ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق، باب منہ] درود کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کا احترام ومقام اور انسانیت کا شرف یہ ہے کہ کچھ مانگنے سے پہلے اس کے حضور اپنے گناہوں کی معافی اور بخشش طلب کی جائے۔ عاجزی، درماندگی : ﴿اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً﴾ [ الاعراف :55] ” اپنے رب کو عاجزی اور خوف کے ساتھ پکارو۔“ دعا کے آداب میں شکر، حمد، درود اور توبہ و استغفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جلالت ومنزلت کا تقاضا اور فقیرکا کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مانگتے وقت غایت درجے کی انکساری اور در ما ندگی کے ساتھ اس کے سامنے دست سوال دراز کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کو انکساری اس قدر پسند ہے کہ جب انسان پریشانیوں کے ہجوم، مسائل کے گرداب اور مصائب کے بھنور میں پھنس جائے اعزہ واقرباء اور رفقاء واحباب منہ پھیر جائیں، حالات کے تھپیڑوں نے زمین کی پستیوں پر دے مارا ہو، تمام وابستگیاں ختم اور ہر قسم کی امیدیں دم توڑ گئی ہوں‘ نہ اٹھنے کی ہمت ہو نہ بیٹھنے کی سکت اور آدمی اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہو تو اس وقت یہ اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلا کر التجا کرے کہ اے اللہ! میں نے اپنے گلشن حیات کو اپنی خطاؤں اور گناہوں کے جھکڑوں، غلطیوں اور جرائم کی آندھیوں سے برباد کرلیا ہے۔ میری وادئ حیات کو تیرے بغیر کوئی سیراب نہیں کرسکتا۔ مجھے تیرے ہی در کی امید اور تیری ہی رحمتوں کا سہار ا ہے۔ جس طرح تو ویران وادیوں، تپتے صحراؤں اور اجڑے ہوئے باغوں کو اپنے کرم کی بارش سے سر سبز وشاداب بنا دیتا ہے اسی طرح مجھے حیات نو سے ہمکنار کر دے۔ جب یہ کہتے ہوئے اس کا دل موم اور آنکھیں پر نم ہوجاتی ہیں۔ تو اسی لمحے رحمت خداوندی اس کی روح کو تھپکیاں اور دل کو تسلیاں دیتے ہوئے ان الفاظ میں اسے حیات نو کی امید دلا رہی ہوتی ہے۔ ﴿قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمیْعًا إِنَّہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیمُ﴾ [ الزمر :53] ” اے نبی! کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ۔ یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کرنے والا ہے‘ وہ غفور الرحیم ہے۔“ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں : (رُوْحُ الدُّعَاءِ اَنْ یَّرٰی کُلَّ حَوْلٍ وَقُوَّۃٍ مِنَ اللّٰہِ وَیَصِیْرُ کَالْمَیّتِ فِیْ یَدِ الْغُسَّالِ) [ حجۃ اللّٰہ] ” دعا کی روح یہ ہے کہ دعا کرنے والا ہر قسم کی طاقت وقوت کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو تصور کرے اور اس کی قوت وعظمت کے سامنے اپنے آپ کو اس میت کی طرح سمجھے جو نہلانے والے کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔“ ہاتھ آگے بڑھائیے! انسان کی عزت وشرف اور غیرت و حمیّت کا تحفظ کرتے ہوئے دین کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے۔ مگر بارگاہ ایزدی میں ہاتھ پھیلانے کا حکم ہی نہیں یہ تو انسانیت کا شرف ہونے کے ساتھ دعا کے آداب میں سے ہے۔ رسول اکرم {ﷺ}فرمایا کرتے تھے جب دعا مانگنے والا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بندے کے ہاتھ خالی لوٹاتے ہوئے حیا محسوس کرتا ہے۔ (عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}إِنَّ رَبَّکُمْ حَیِیٌّ کَرِیْمٌ یَسْتَحْیِیْ مِنْ عَبْدِہٖ إِذَارَفَعَ یَدَیْہِ اَنْ یَّرُدَّھُمَا صِفْرًا) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب الدعاء] ” حضرت سلمان فارسی {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم {ﷺ}نے فرمایا تمہارا رب نہایت ہی مہربان اور بڑا ہی حیا والا ہے۔ بندہ جب اس کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھاتا ہے تو خالی ہاتھ لوٹاتے ہوئے اسے شرم آتی ہے۔“ یقین کے ساتھ مانگیے رسول اللہ {ﷺ}ارشاد فرمایا کرتے تھے دعا مانگنے والے کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ اور یقین ہونا چاہیے کہ میری دعا اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرمائے گا۔ کیونکہ آدمی جس طرح اللہ کے بارے میں گمان کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اسی طرح کا سلوک فرمائے گا۔ لہٰذا دعا کرتے ہوئے یقین محکم ہونا چاہیے کہ میری دعا ضرور قبول ہوگی۔ ہر دعا قبول ہونے کی گارنٹی : 1۔ دعا کا فی الفور قبول ہوجانا۔ 2۔ زندگی کے کسی حصّہ میں مستجاب ہونا۔ 3۔ مقصود حاصل ہونے کے بجائے اس کے بدلے میں کسی ناگہانی مصیبت کا ٹل جانا۔ 4۔ زندگی میں دعا قبول نہیں ہوئی تو اس کا آخرت میں پورا پورا بدلہ چکا دیا جائے گا۔ رِفعتیں اور قربتیں : انسان اپنے گناہوں اور غلطیوں کی وجہ اور اللہ تعالیٰ کے عرش پر متمکن ہونے کے عقیدے سے انسان یہ بات سمجھتا رہا ہے کہ جس طرح میرا اللہ تک پہنچنا مشکل ہے اس طرح میری فریاد بھی اس تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس لیے مجھے ایسے طریقے اور وسائل بروئے کار لانے چاہییں جس سے میری آواز خالق حق تک پہنچ سکے۔ ابتداءً ایسا ہی خیال رسول کریم {ﷺ}کے رفقائے کرام کے دل میں پیدا ہوا وہ اس فکری الجھن کی وجہ سے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ اے ذات اقدس! ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا رب ہم سے کتنی دوری اور مسافت پر جلوہ افروز ہے تاکہ ہم اپنی آواز کو اسی قدر بلند کرنے کی کوشش کریں۔ اس محدود سوچ اور فکری الجھن کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا کہ میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کرتے ہیں کہ میں ان سے کتنا دور ہوں۔ اے نبی! آپ ان کو اطمینان اور یقین دلائیں کہ میں قدرت وسطوت اور اپنے فضل وکرم کے لحاظ سے ہر وقت ان کے ساتھ ہی ہوا کرتا ہوں۔ میری رفاقت اس قدر پکی اور ان کے قریب ہے کہ میں انسان کی شہ رگ سے بھی قریب تر ہوں۔ یہاں تک کہ انسان کے دل میں پیدا ہونے والے جذبات اور اس کے ذہن میں ابھرنے والے خیالات سے ہر لمحہ مجھے آگاہی حاصل رہتی ہے۔ ﴿وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَإِنِّیْ قَرِیْب۔ [ البقرۃ:186] ” جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو انہیں فرمائیے کہ میں ان کے بالکل قریب ہوں۔“ ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ وَنَحْنُ اَقْرَبُ إِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ [ قٓ:16] ” ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات تک کو ہم جانتے ہیں ہم اس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔“ ﴿اِنَّہُ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ﴾ [ الملک :13] ” یقیناً وہ سینے کے رازوں کو جانتا ہے۔“ وسیلہ کی بحث المائدۃ آیت :35 میں آئے گی ان شاء اللہ۔ نوٹ : مزید تفصیل میری کتاب ” انبیاء کا طریقۂ دعاء“ میں ملاحظہ فرمائیں۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ بندے کے قریب اور اس کی دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔ 2۔ بندوں کو بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہوئے اس کا حکم ماننا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کا حکم ماننے سے رشدو ہدایت حاصل ہوتی ہے۔ 4۔ دعا بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان قریب ترین واسطہ ہے۔ 5۔ حلال کھانے والے مواحد کی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔ تفسیربالقرآن : دعا کا مفہوم قرآن مجید میں : 1۔ اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لیے زمین میں سے نباتات پیدا فرمائے۔ (البقرۃ:61) 2۔ مساجد اللہ کے لیے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ (الجن :18) 3۔ اور ان کا آخری قول اللہ تعالیٰ کی حمدو تعریف ہوگی۔ (یونس :10) 4۔ مشرک دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے۔ (البقرۃ:221) 5۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو قبول کرو جب وہ تم کو بلائیں۔ (الانفال :24) 6۔ اگر تم کہتے ہو کہ آپ نے اس قرآن کو ازخود بنا لیا ہے تو تم بھی ایسی دس سورتیں لے آؤ اور جن کو تم بلا سکتے ہو بلالو۔ (ہود :13) 7-اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چھپ کر پکارو۔ (الاعراف: 55) 8۔ اللہ کو خوف ور امید سے پکارو۔ (الاعراف: 56) البقرة
187 فہم القرآن : ربط کلام : روزہ کے اوقات کا تعین، ماہ رمضان کی راتوں میں بیویوں سے جماع اور رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کے مسائل۔ یہودیوں کے ہاں یہ دستور تھا کہ روزہ افطار کرنے کے وقت اگر کوئی شخص سو جائے تو اسے اگلے دن کی مغرب سے پہلے کھانے پینے کی اجازت نہ تھی۔ اسی طرح روزہ کی راتوں میں عورتوں سے مباشرت کے بارے میں ان پر پابندی تھی۔ فرضیت رمضان کے ابتدائی دور میں صحابہ {رض}نے یہودیوں کے روزے پر قیاس کرتے ہوئے اپنے آپ پر یہ پابندیاں عائد کرلی تھیں۔ جن کی وجہ سے انہیں بڑی مشکلات کا سامنا کرناپڑتا تھا۔ بعض دفعہ ان پابندیوں کے برعکس عمل کر بیٹھتے تو اپنے ضمیر میں ایک خلش محسوس کرتے۔ ان خود ساختہ پابندیوں کو اٹھاتے ہوئے ﴿اُحِلَّ لَکُمْ﴾ کے الفاظ استعمال فرما کر یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ ہماری طرف سے یہ پابندیاں نہ تھیں۔ بعض مفسرین نے ﴿اُحِلَّ لَکُمْ﴾ کے بارے میں لکھا ہے کہ پہلے یہ پابندی تھی لیکن اس ارشاد کے بعد اٹھا لی گئی۔ لہٰذا تم رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں کے ساتھ مباشرت کرسکتے ہو، اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم اپنے طور پر پابندی سمجھنے کے باوجود اس کی خلاف ورزی کررہے تھے۔ مباشرت کی اجازت دیتے ہوئے اس کے لیے نہایت ہی جامع اور خوبصورت الفاظ استعمال فرمائے کہ میاں بیوی آپس میں لباس کی طرح ہیں۔ اس سے میاں بیوی کے درمیان اپنائیت کے جذبات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ جس طرح لباس آدمی کے لیے زینت، حفاظت اور وقار کا باعث ہوتا ہے اسی طرح میاں بیوی کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات، جذبات اور احساسات ہونے چاہییں۔ لباس جسم کے نشیب وفراز ڈھانپتا ہے اور دنیا کی کوئی چیز لباس سے زیادہ آدمی کے قریب تر نہیں ہوتی۔ میاں بیوی کی قربت بھی اسی انداز کی ہونی چاہیے۔ پھر ازدواجی زندگی کا مقصد بیان فرمایا کہ یہ تعلقات حیوانی لذّت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے طالب کے طور پر ہونے چاہییں۔ تاکہ نسل انسانی کی بقاء کے ساتھ ساتھ اولاد ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دل کا سکون، زندگی کا سہارا اور اللہ تعالیٰ کی تابع فرمان ثابت ہو۔ اس کے بعد روزے کے اوقات متعین فرماتے ہوئے صبح کا ذب اور صبح صادق کافرق واضح کرنے کے لیے سفیدوسیاہ دھاگے کی اصطلاح استعمال فرمائی کیونکہ رات کی تاریکی چھٹنے کے وقت صبح کی ابتدا افق پر باریک اور سفیددھاگے کی طرح طویل ہوتی ہے۔ لہٰذا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک روزے کے تحفظات کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہاں اس بات کی خصوصی طور پر وضاحت کردی گئی کہ جب تم مساجد میں اعتکاف کی حالت میں ہو تو پھر اپنی بیویوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات سے مکمل اجتناب کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں۔ ان کے قریب جانے سے ہر حال میں بچنا چاہیے، کیونکہ ارشاد الٰہی کا مقصد ہی اس کا احترام کرنا ہے سحری اور افطاری کے بارے میں رسول اللہ {ﷺ}نے امت کی خیر خواہی کے لیے ہدایات جاری فرمائیں : (عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ {رض}قَالَ قَال النَّبِیُّ {}تَسَحَّرُوْا فَإِنَّ فِی السُّحُوْرِ بَرَکَۃً) [ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب برکۃ السحور من غیرِ إیجاب] ” سحری کرو! کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“ (عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ {رض}أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ {}قَالَ : لاَیَزَال النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ) [ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب تعجیل الإفطار] ” جب تک لوگ افطار میں جلدی کریں گے اس وقت تک لوگ بھلائی پر رہیں گے۔“ جلدی افطار سے مراد یہ نہیں کہ ابھی سورج نظرآرہا ہو تو افطار کرلیا جائے اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج غروب ہونے کے فورًا بعد ہی روزہ افطار کردینا چاہیے۔ مسائل : 1۔ رمضان کی راتوں میں بیوی سے مباشرت جائز ہے۔ 2۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے لباس کا درجہ رکھتے ہیں۔ 3۔ مباشرت کا مقصد نیک اولاد کا حصول ہونا چاہیے۔ 4۔ روزے کی ابتدا صبح صادق اور انتہا غروب آفتاب ہے۔ 5۔ اعتکاف مساجد میں ہونا چاہیے اور معتکف اپنی بیوی سے مباشرت اور بوس وکنار نہیں کرسکتا۔ 6۔ اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرنا ہی تقو ٰی ہے۔ تفسیربالقرآن : روزوں کے مسائل : 1۔ روزے پہلی امتوں پر بھی فرض تھے۔ (البقرۃ:183) 2۔ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھ سکے تو بعد میں قضا دے۔ (البقرۃ:184) 3۔ جو روزہ نہ رکھ سکتے ہوں وہ فدیۃً ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ (البقرۃ:184) 4۔ رمضان پانے والے کو روزے رکھنے چاہییں۔ (البقرۃ:185) 5۔ رمضان کی راتوں میں عورتوں کے پاس جانا اور صبح تک کھانا پینا درست ہے۔ (البقرۃ:187) 6۔ روزہ صبح صادق سے غروب آفتاب تک رکھنا چاہیے۔ (البقرۃ:187) 7۔ دوران اعتکاف عورتوں سے مباشرت نہیں کرنا۔ (البقرۃ:187) 8۔ روزوں کا مقصد تقو ٰی کا حصول ہے۔ (البقرۃ:183) 9۔ رمضان اور قرآن کا گہرا تعلق ہے۔ (البقرۃ:185) 10۔ لیلۃ القدر رمضان المبارک میں آتی ہے۔ (القدر: ) 11۔ لیلۃ القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے یہ رات طلوع فجر تک بابرکت ہے۔ (القدر) تفصیل جاننے کے لیے میری کتاب پڑھیں ” برکات رمضان“ البقرة
188 فہم القرآن : ربط کلام : جب تم اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر دن کے وقت روزہ میں کھانے پینے، عورتوں سے مباشرت اور اعتکاف کی حالت میں رات کے وقت بھی اپنی بیویوں سے جماع نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کا حکم جانتے ہوئے ہمیشہ کے لیے حرام خوری اور ناجائز ذرائع سے بچ جاؤ۔ حرام کے بارے میں حکم امتناعی جاری کرنے سے پہلے آیت ١٤٨ میں ارشاد فرمایا تھا کہ ” لوگوجو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال اور طیّب پیدا کیا ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو وہ تمہار اکھلا اور واضح دشمن ہے۔“ یہاں دو ٹوک انداز میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے کھانے اور ہتھیانے سے منع کیا جارہا ہے اور یہ امتناعی حکم روزے کے احکام، آداب اور اوقات کا تعین فرماتے ہوئے دیا جارہا ہے جس میں یہ فلاسفی پائی جاتی ہے کہ روزہ کا مقصد گناہوں سے بچنا اور پرہیزگاری ہے۔ جب تم اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر صبح سے شام تک اپنے جائز حقوق اور حلال چیزوں سے ہاتھ اٹھالیتے ہو تو اسی مالک کا حکم جان کر تمہیں حرام مال سے ہاتھ اٹھا لینا چاہیے۔ حرام مال کے لیے باطل کا لفظ استعمال فرما کر واضح کیا جارہا ہے کہ ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال بے شک وہ عرف عام میں حلال کی فہرست میں شامل کیوں نہ ہو تین غلط ذرائع سے حاصل ہونے کی وجہ سے حرام ہوجاتا ہے۔ پھر جذبۂ اخوّت کو بیدار کرنے کے لیے ” آپس کے مال کی“ اصطلاح استعمال فرمائی تاکہ باہمی ہمدردی کا احساس ایک دوسرے کا مال ہڑپ اور ضبط کرنے سے لوگوں کو روک سکے۔ اس کے ساتھ ہی اس طریقے کی نفی کی گئی جس کے ذریعے مقدّمہ باز اور حرام خور دوسرے کے مال کو اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ایسے لوگوں کا ضمیر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ قانونی جنگ جیتنے کے باوجود یہ مال میرے لیے جائز نہیں۔ ضمیر کی اس خلش کا یہ کہہ کر ذکر فرمایا ہے کہ تم خود بھی اس حرام کام اور حرام خوری سے واقف ہو۔ کاش! ایسا دھندہ کرنے والے مسلمان اس قسم کی مقدمہ بازی کے مضمرات اور اس سے پیدا ہونے والی نفرتوں سے آگاہ ہوجائیں۔ رسول کریم {ﷺ}نے اس برے دھندے اور اس سے حاصل شدہ مال کے بارے میں اس طرح ارشاد فرمایا ہے : (إِنَّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ إِلَیَّ وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَّکُوْنَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہٖ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِیَ لَہٗ عَلٰی نَحْوِ مِمَّا أَسْمَعُ مِنْہُ فَمَنْ قَطَعْتُ لَہٗ مِنْ حَقِّ أَخِیْہِ شیئًا فَلَا یَأْخُذْ ہُ فَإِنَّمَاأَقْطَعُ لَہٗ بِہٖ قِطْعَۃً مِّنَ النَّارِ) [ رواہ مسلم : کتاب الأقضیۃ] ” تم میرے پاس فیصلے لاتے ہو شاید تم میں سے کچھ لوگ دوسروں کی نسبت اپنی دلیل پیش کرنے میں زیادہ فصیح ہوں اور میں اس کی بات سن کر اس کے حق میں فیصلہ کردوں۔ فیصلہ کرتے ہوئے میں جس شخص کو اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ دوں تو وہ اسے نہ لے بلا شبہ میں اسے آگ کا ایک ٹکڑا دے رہا ہوں۔“ کمائی کے حرام طریقے : (عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ {رض}أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ {}قَالَ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِیءٍ مُّسْلِمٍ بِیَمِیْنِہٖ فَقَدْ أَوْجَبَ اللّٰہُ لَہُ النَّارَوَحَرَّمَ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ وَإِنْ کَانَ یَسِیْرًا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَا لَ وَإِنْ کَانَ قَضِیْبًا مِّنْ أَرَاکٍ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان : باب : وعید من اقتطع حق امری مسلم بیمین فاجرۃ بالنار] ” حضرت ابوامامہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}نے فرمایا : جو شخص قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے دوزخ واجب کردیتا ہے اور جنت اس پر حرام کردیتا ہے۔“ کسی نے آپ {ﷺ}سے پوچھا اگرچہ یہ حق تلفی معمولی قسم کی ہو؟ ” فرمایا : اگرچہ وہ پیلوں کے درخت کی شاخ ہی کیوں نہ ہو۔“ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {رض}قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ {}لِأَصْحَابِ الْمِکْیَالِ وَالْمِیْزَانِ إِنَّکُمْ قَدْ وُلِّیْتُمْ أَمْرَیْنِ ھَلَکَتْ فِیْہِ الْأُمَمُ السَّالِفَۃُ قَبْلَکُمْ) [ رواہ الترمذی : کتاب البیوع، باب فی المکیال والمیزان] ” حضرت عبداللہ بن عباس {رض}بیان کرتیہیں رسول اللہ {ﷺ}نے ماپ تول کرنے والوں کو فرمایا : بلاشبہ تم دو ایسے کاموں کے ذمہ دار بنائے گئے ہو کہ تم سے پہلی قومیں اسی جرم کی پاداش میں ہلاک ہوئیں۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ {رض}أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ {}مَرَّ عَلٰی صَبُرَۃِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ یَدَہٗ فِیْھَا فَنَالَتْ أَصَابِعُہٗ بَلَلًا فَقَالَ مَاھٰذَا یَا صَاحِبَ الطَّعَامِ قَالَ أَصَابَتْہُ السَّمَاءُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ أَفَلَا جَعَلْتَہٗ فَوْقَ الطَّعَامِ کَیْ یَرَاہ النَّاسُ مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنِّیْ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان : باب : قول النبی من غشنا فلیس منا] ” حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ {ﷺ}کا ایک غلہ کے ڈھیر پر گزر ہوا۔ آپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا تو انگلیوں کو نمی محسوس ہوئی۔ آپ نے پوچھا : اے اناج والے ! یہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگا : یارسول اللہ! اس پر بارش ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا : تو نے اس نمدار غلے کو ڈھیر کے اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ سکتے۔ پھر فرمایا : جس نے دھوکا دیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔“ مسائل : 1۔ ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے نہیں کھانا چاہیے۔ 2۔ جھوٹی مقدّمہ بازی سے اجتناب کرنا چاہیے۔ 3۔ ناجائز طریقہ سے کمایا ہوا مال حرام ہوجاتا ہے۔ 4۔ کسی کا مال ناجائز طریقے سے کھانا حرام ہے۔ البقرة
189 فہم القرآن : ربط کلام : روزے کا چاند سے تعلق ہے لہٰذا ضمناً چاند کے بارے میں ایک سوال کا جواب عنایت فرما دیا گیا ہے۔ کارخانۂ کائنات میں چاند مظاہر فطرت و قدرت میں سے ایک ہے جس کا انسانی زندگی اور ذہن پر خاص اثر پڑتا ہے۔ چاند کا جمال وکمال انسان کے لیے ہمیشہ سے دلرُبا رہا ہے۔ ماں کی مامتا بے ساختگی کے عالم میں اپنے لخت جگر کو چاند کہہ کر پکارتی ہے‘ شاعروں نے اسے اپنے کلام کا موضوع بنایا اور غلط ذہن لوگ اپنے محبوب کو چاند سے تشبیہ دیتے آئے ہیں چاندکی حسن صورت کو دیکھ کر انسان اس کے سامنے سرنگوں ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبیلہ اور قوم چاند کو اپنا معبود تصور کرنے لگی۔ اسی لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کے دوران چاند، سورج اور ستارہ پرستوں کو خطاب کرتے ہوئے سمجھایا تھا کہ غائب اور غروب ہونے والے کبھی مشکل کشا اور خدا نہیں ہوسکتے ” الانعام : 77اور حٰم السجدۃ: آیت 37“ میں فرمایا گیا کہ کائنات کی بڑی سے بڑی اور خوب تر سے خوب صورت ترین چیز بھی سجدہ کے لائق نہیں ہوسکتی۔ یہ تو تمہارے خدمت گار اور تابع دار کردیے گئے ہیں۔ قرآن مجید نے اپنے مخصوص اسلوب بیان کے پیش نظر چاند کے گھٹنے اور بڑھنے کے عوامل کا ذکر نہیں کیا بلکہ سوال کا رخ موڑتے ہوئے یہ بتلایا ہے کہ چاند کا گھٹنا اور بڑھنا‘ اس کا طلوع اور غروب ہونا تمہارے لیے کھلے کیلنڈر کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس سے تم اپنی زندگی کے ادوار، عبادت کے اوقات اور حج کے ایّام معلوم کرسکتے ہو۔ مسلمانوں کے لیے حج، روزہ، عید اور دیگر عبادات کا شمار شمسی حساب کے بجائے قمری حساب پر رکھا گیا ہے۔ قمری مہینے کی تاریخ طلوع چاند کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے قمری مہینہ انتیس یا تیس دن کا قرار پاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں شمسی مہینوں میں فرق زیادہ ہے۔ حتی کہ کچھ سالوں کے بعد ایک سال کو لیپ کا سال قرار دینا پڑتا ہے۔ شمسی حساب کا آغاز دن کی ابتداء کے بجائے رات 12 بجے شروع کیا جاتا ہے جو بذات خود عجیب محسوس ہوتا ہے۔ لیکن افسوس ! ملت کو اس کا احساس بھی جاتا رہا اور آج مسلمانوں کی غالب اکثریت کو قمری مہینوں کے نام تک یاد نہیں۔ چاند کے فوائد کا ذکر کرنے کے ساتھ ہی عربوں کی خود ساختہ رسم کی نفی کی گئی ہے کہ ضرورت کے وقت حج کے دوران اپنے گھروں میں آنا پڑے تو ان کے پچھواڑے سے دیواریں پھلانگ کر آنے کے بجائے دروازوں کے راستے آیا جایا کرو۔ کیونکہ تمہارا رب تمہاری خود ساختہ عبادات اور رسومات پر راضی نہیں ہوتا‘ نہ ہی دین کی بنیاد رسومات اور توہّمات پر رکھی گئی ہے۔ اس کی بنیاد تو حقیقی خوفِ الٰہی پر رکھی گئی ہے۔ یہی کامیابی کا زینہ اور وسیلہ ہے۔ لہٰذا تم ہر حال میں اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکام کا خوف واحترام قائم رکھو، تاکہ تم دنیا وآخرت میں کامیاب ہوجاؤ۔ چاند کے بارے میں جدید تحقیق : بُعد قمر : (1) زمین سے چاند کا بعد اوسط 240000 میل ہے، قطر 2160 میل‘ اس کا حجم زمین کے حجم کا ٤٩/١ حصہ ہے اور وزن زمین کے وزن کا 81/1حصہ‘ اس کی سطحی کشش زمین کی سطحی کشش کا تقریبًا 6/1حصہ ہے۔ لہٰذا جس چیز کا وزن سطح زمین پر 6پونڈ ہے سطح قمر پر اس کا وزن ایک پونڈ ہوگا۔ (2) چاند زمین کے ارد گرد 27 دن 7 گھنٹے 34 منٹ میں دورہ پورا کرتا ہے۔ (3) البتہ زمین کی سالانہ حرکت کے سبب ایک نئے چاند سے دوسرے نئے چاند تک ساڑھے انتیس دن لگتے ہیں۔ ٹھیک ٹھیک حساب کریں تو یہ مدت 29 دن 12 گھنٹے 14 منٹ اور 2.8 سیکنڈ میں ختم ہوتی ہے۔ اس مدت کو ایک قمری مہینہ کہتے ہیں۔ مظاہر قمر : (1) چاند روشن کرہ نہیں بلکہ اس کی روشنی سورج کی روشنی کے انعکاس کا نتیجہ ہے۔ اس کا نصف حصہ سورج کے سامنے ہونے کی وجہ سے ہمیشہ منوّر ہوتا ہے لیکن ہمیں اس کے مختلف مظاہر نظر آتے ہیں۔ (2) 28،29 تاریخ کو روشن حصہ آفتاب کی طرف اور تاریک پہلو زمین کی جانب ہوتا ہے اور وہ بالکل نظر سے غائب ہوجاتا ہے۔ اس حالت کو محاق کہتے ہیں۔ حالت محاق میں شمس وقمر ایک سمت میں ہوتے ہیں۔ (3) پھر چاند آہستہ آہستہ سورج سے مشرق کی جانب ہوتا جاتا ہے۔ یکم کو اس کے چمکتے ہوئے چہرے کا صرف ایک باریک کنارہ ہمیں نظر آتا ہے۔ یہ ہلال کہلاتا ہے۔ (ماخوذ از فلکیات جدیدہ) مسائل : 1۔ چاند کے ذریعے لوگوں کو حج اور دوسرے معاملات طے کرنے کے لیے اوقات معلوم ہوتے ہیں۔ 2۔ ہر دم اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ 3۔ گناہوں سے بچنے اور تقو ٰی اختیار کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔ 4۔ رسومات سے بچنا کامیابی کی ضمانت ہے۔ البقرة
190 فہم القرآن : (آیت 190 سے 193) ربط کلام : حرمت کے مہینوں کا تعلق بھی چاند سے ہے۔ اس لیے حرمت کے مہینوں کے بیان میں ان سے متعلقہ مسائل کا بیان ضروری سمجھا گیا۔ رسول محترم {ﷺ}اور مسلمانوں کو کفار کے ظلم وستم سہتے ہوئے اٹھارہ سال گزر چکے تھے۔ اس دوران مسلمانوں پر یکے بعد دیگرے بدر، احد اور خندق کی جنگیں بھی مسلط کی گئیں۔ لیکن آپ اور مسلمانوں نے ہمت نہیں ہاری۔ نبوت کے اٹھارہویں سال ایک غیبی اشارے کی بنیاد پر عمرہ کی نیت سے آپ عازم مکہ ہوئے۔ لیکن اہل مکہ نے قومی اخلاق اور حرم کی دینی اقدار کی پرواہ کیے بغیر رسول اللہ {ﷺ}کو عمرہ کرنے سے روک دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ عمرہ کی نیت سے مکہ کی طرف چلے تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس میں اہل مکہ کے لیے یہ پیغام تھا کہ مسلمان اخلاقی اور عسکری لحاظ سے اس قابل ہوچکے ہیں کہ وہ جب چاہیں مرکز ملت بیت اللہ کو کفار سے واگزار کرواسکتے ہیں۔ اہل مکہ نے اس حقیقت کو محسوس کرتے ہوئے اس شرط پر خصوصی طور پر اصرار کیا کہ اس سال تو بہر حال تمہیں واپس ہی جانا پڑے گا۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ حرم کی تولیّت ہمارا قومی اور دینی حق ہے اگر ہم نے اس حال میں مسلمانوں کو مکے میں داخلہ کی اجازت دے دی تو ہمارے قومی اور ملی وقار کو شدید دھچکا لگے گا۔ رسول اللہ {ﷺ}نے تصادم سے بچنے کے لیے اپنا ارادہ ملتوی فرمایا اور اگلے سال آنے کی شرط قبول فرمائی۔ جب اگلے سال مسلمان مکہ جانے لگے تو ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہونا فطری امر تھا کہ اگر اس سال بھی ہم روک دیے گئے تو کیا ہوگا؟ اس کے جواب میں جہاد کا حکم دیتے ہوئے بارہ ہدایات جاری فرمائی گئی ہیں : 1۔ لڑائی کرنے والوں سے جنگ کرو۔ 2۔ زیادتی نہ کرو۔ 3۔ زیادتی کرنے والوں کو جہاں پاؤ قتل کردو۔ 4۔ جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا وہاں سے انہیں بھی نکال دو۔ 5۔ فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے۔ 6۔ مسجد حرام کے نزدیک جب تک وہ نہ لڑیں تم بھی نہ لڑو۔ 7۔ اگر وہ تم سے مسجد حرام میں قتال کریں تو تم بھی مسجد حرام میں قتال کرو۔ 8۔ اگر باز آجائیں تو اللہ معاف کرنے والا ہے۔ 9۔ فتنہ ختم ہونے تک قتال کرو۔ 10۔ حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں کے بدلے میں ہیں۔ 11۔ حرمت میں قصاص ہے۔ 12۔ جتنی وہ زیادتی کریں تم بھی اتنی ہی کرو۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃ أَنَّ خُزَاعَۃَ قَتَلُوا رَجُلاً مِنْ بَنِی لَیْثٍ عَامَ فَتْحِ مَکَّۃَ بِقَتِیلٍ مِنْہُمْ قَتَلُوہُ، فَأُخْبِرَ بِذَلِکَ النَّبِیُّ {}فَرَکِبَ رَاحِلَتَہُ، فَخَطَبَ فَقَالَ إِنَّ اللَّہَ حَبَسَ عَنْ مَکَّۃَ الْقَتْلَ أَوِ الْفِیلَ شَکَّ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَسَلَّطَ عَلَیْہِمْ رَسُول اللَّہِ وَالْمُؤْمِنِینَ، أَلاَ وَإِنَّہَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِی أَلاَ وَإِنَّہَا حَلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارَ.........)ٍ[ رواہ البخاری : باب کِتَابَۃِ الْعِلْمِ] حضرت ابوہریرہ {رض}بیان کرتے ہیں بیشک خزاعہ قبیلے کے لوگوں نے فتح مکہ والے سال بنی لیث کا ایک آدمی قتل کردیا۔ اس واقعہ کی اطلاع نبی کریم {ﷺ}کو دی گئی آپ {ﷺ}سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا یقینا اللہ نے مکہ میں قتل وغارت کو ممنوع قرار دیا ہے۔ یا آپ نے فیل کے لفظ استعمال فرمائے راوی کو شک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار پر اپنے رسول اور مومنوں کو مسلط فرمایا خبردارمیرے سے پہلے بھی کسی کے لیے مکہ کی حرمت کو پامال کرنا جائز تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے جائز ہوگا۔ اور میرے لیے کچھ وقت کے لیے اس میں لڑائی کو حلال قرار دیا گیا تھا۔“ مسائل : 1۔ مسلمانوں کے خلاف لڑنے والوں کے ساتھ جہاد کرنا چاہیے۔ 2۔ کسی پر زیادتی کرنا جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ 3۔ کفار حدود حرم میں مسلمانوں پر حملہ آور ہوں تو حرم میں ان کے ساتھ لڑنا جائز ہے۔ 4۔ مسلمانوں کے ساتھ لڑنے والے کفار کی سزا یہ ہے کہ انہیں قتل کردیا جائے۔ 5۔ اگر کافر لڑنے سے اجتناب کریں تو مسلمانوں کو بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ ہر حال میں معاف کرنے والا‘ مہربان ہے۔ 7۔ غلبہ دین ہونے تک کفار کے ساتھ لڑنا چاہیے۔ البقرة
191 البقرة
192 البقرة
193 البقرة
194 فہم القرآن : (آیت194 سے 195) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ ان بارہ ہدایات میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کفار حرمتوں کی آڑ میں تم پر حملہ آور ہونے کی کوشش کریں تو تم بھی کسی حرمت کی پروا کیے بغیر ان کے خلاف برسر پیکار ہوجاؤ۔ کفار کے مقابلے میں حرمت کے بدلے ہی عزت وحرمت کا خیال رکھاجاسکتا ہے کیونکہ اللہ کے بندوں کو اس کی بندگی سے روکنا، کفر کو دین حق پر مسلط کرنا، کمزوروں پر ظلم ڈھانا اور مشرکوں کا بیت اللہ پر قبضہ جمانے سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں ہوسکتا اگر کفار مزاحم ہونے اور لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آجائیں تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کفار نے اٹھارہ سال تمہارے اوپر ظلم کیے ہیں لیکن یاد رکھنا کسی لمحہ بھی تمہیں زیادتی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے غفور رحیم صفت بیان فرما کر اشارہ دیا ہے کہ اگر تم معاف کردو تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس حکم سے واضح ہواکہ اسلام کسی صورت میں بھی کسی پر زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ رسول کریم( ﷺ) غزوات میں ہدایات جاری فرماتے کہ کسی بوڑھے، بچے اور عورت یہاں تک کہ معبد خانوں میں عبادت کرنے والے اور اپنے گھروں کے کواڑ بند کرنے والوں پر زیادتی نہ کی جائے۔ آپ (ﷺ) نے معاہدات میں اس بات کا مکمل خیال اور غیر مسلموں کو پورا پورا تحفظ عنایت فرمایا۔ نجران کے عیسائیوں سے جو معاہدہ کیا اس سے اسلام کی امن وسلامتی اور لوگوں کے حقوق کی رعایت کھل کر واضح ہوجاتی ہے وہ معاہدہ یہ ہے : ” نجران اور اس کے رہنے والوں کی جانیں، ان کا مذہب، ان کی زمینیں، ان کا مال، ان کے حاضرو غائب، ان کی مورتیاں، ان کے قافلے اور قاصد، اللہ کی امان اور اس کے رسول (ﷺ) کی ضمانت میں ہوں گے، ان کی موجودہ حالت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی ان کے حقوق میں سے کسی حق میں مداخلت نہیں کی جائے گی، کوئی اسقف اپنی اسقفیت سے، کوئی راہب اپنی رہبانیت سے، کنیسہ کا کوئی منتظم اپنے عہدہ سے ہٹایانہ جائے گا، اور جو کچھ بھی ان کے قبضے میں ہے اسی طرح رہے گا ان کے زمانۂ جاہلیت کے کسی جرم یا خون کا بدلہ نہ لیا جائے گا، نہ ان سے فوجی خدمت لی جائے گی اور نہ ان پر عشر لگایا جائے گا اور نہ اسلامی فوج ان کے علا قے کو پامال کرے گی۔ ان میں سے جو شخص اپنے کسی حق کا مطالبہ کرے گا تو اس کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ نہ ان کو ظلم کرنے دیا جائے گا اور نہ ان پر ظلم ہوگا۔ ان میں سے جو شخص سود کھائے گا وہ میری ضمانت سے بری ہے۔ اس صحیفہ میں جو لکھا گیا ہے اس کے ایفا کے بارے میں اللہ کی امان اور محمد (ﷺ) کی ذمہ داری ہے یہاں تک کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی دوسرا حکم نازل نہ ہو۔ جب تک یہ لوگ مسلمانوں کے خیر خواہ رہیں گے ان کے ساتھ کئے ہوئے معاہدہ کی پابندی کریں گے ان کو جبرًاکسی بات پر مجبور نہ کیا جائیگا۔“ ان ہدایات کا مسلمانوں نے ہر دور اور ہر حال میں خیال رکھا۔ اسلام میں جہاد کا تصوّر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر اس کے باغیوں کے بجائے صرف اس کے تابع فرماں بندوں کا قبضہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ کوئی بھی حکومت ملک، قوم اور ملی نظریے سے بغاوت کرنے والوں کو گوارا نہیں کرسکتی۔ لہٰذا جہاد ذاتی اغراض اور کشور کشائی کے لیے نہیں بلکہ صرف اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں آخری حکم میں فرمایا جارہا ہے کہ جہاد فرض ہونے کی صورت میں اپنے آپ کو بچانا اور مال محفوظ رکھنا خودکشی کے مترادف ہوگا۔ کیونکہ جب دشمن سر پر چڑھ آئے تو نہ مال و منال بچا کرتا ہے اور نہ عزّت وجان سلامت رہتی ہے۔ نازک حالات میں ہر چیز قربان کرنے کے جذبے سے ہی قومیں اپنا وقار اور وجود قائم رکھ سکتی ہیں۔ غزوات نبوی (ﷺ) اور پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے درمیان نقصان کا تقابل : نبی (ﷺ) کے دور میں کل مسلمان شہداء 387 اور مخالف 732 تھے۔ ( رحمۃ للعلمین از قاضی سلیمان منصورپوری) لیکن افسوس غیر مسلموں کی تاریخ میں ان قدروں کا کبھی بھی خیال نہیں رکھا گیا۔ مہذب دنیا کے راہنماؤں نے اپنے ہم مذہب اور دوسرے ممالک کا پہلی جنگ عظیم 1914 تا 1919 میں اور دوسری جنگ عظیم 1939 تا 1945 میں جو قیامت برپا کی اس کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں۔ پہلی جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی تفصیل اس طرح ہے۔ جرمنی کے سب سے زیادہ 18 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد سوویت یونین کے 17 لاکھ، فرانس کے 13 لاکھ 85 ہزار، آسٹریلیا کے 12 لاکھ اور برطانیہ کے 9 لاکھ 47 ہزار افراد مارے گئے۔ جاپان کے 8 لاکھ، رومانیہ کے 7 لاکھ 50 ہزار، سربیان کے 7 لاکھ 8 ہزار، اٹلی کے 4 لاکھ 80 ہزار، ترکی 3 لاکھ 25 ہزار، بیلجئیم کے 2 لاکھ 27 ہزار، یونان کے 2 لاکھ 30 ہزار، امریکہ کے 1 لاکھ 37 ہزار، پرتگال کے 1 لاکھ، کینیڈا کے 69 ہزار، بلغاریہ کے 88 ہزار اور مونٹے نیگرو کے 50 ہزار مارے گئے۔ دوسری جنگ عظیم میں سپر پاور بننے کے لیے سوویت یونین کو سب سے بھاری جانی ومالی قیمت چکانا پڑی۔ اس کے 3 کروڑ 55 لاکھ 68 ہزارفوجی اور سویلین ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد چین کا نمبر آتا ہے جس کے 1 کروڑ 13 لاکھ 24 ہزار مارے گئے، پولینڈ کے 68 لاکھ 50 ہزار، جاپان کے 18 لاکھ 6 ہزار، یوگو سلاویہ کے 17 لاکھ، رومانیہ کے 9 لاکھ 85 ہزار، فرانس 8 لاکھ 10 ہزار، یونان 5 لاکھ 20 ہزار، امریکہ 4 لاکھ 95 ہزار، آسٹریا 4 لاکھ 80 ہزار، اٹلی 4 لاکھ 10 ہزار، برطانیہ 3 لاکھ 88 ہزار، ہالینڈ 2 لاکھ 50 ہزار اور بیلجئیم کے 85 ہزار مارے گئے۔ اس کے علاوہ فن لینڈ کے 79 ہزار، کینیڈا 42 ہزار، ہندوستان 36 ہزار، آسٹریلیا 29 ہزار، البانیہ 28 ہزار، سپین 22 ہزار، بلغاریہ 21 ہزار، نیوزی لینڈ 12 ہزار، ناروے 10 ہزار، جنوبی افریقہ 9 ہزار، لکسمبرگ 5 ہزار اور ڈنمارک کے 4 ہزار مارے گئے جب کہ حالیہ عراق اور افغانستان جنگ میں مرنے والوں کی تعداد 65 ہزارسے اوپر پہنچ چکی ہے۔ ان جنگوں پر اخراجات بھی کم نہیں ہوئے۔ 1990 میں ڈالر کی قیمت کے مطابق پہلی عالمی جنگ میں 196 ارب 50 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے جبکہ دوسری عالمگیر جنگ میں 2091 ارب 30 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ تیسری جاری عالمی جنگ میں اب تک 1 کھرب 79 ارب 19 کروڑ 51 لاکھ 11 ہزار ڈالر خرچ ہوچکے ہیں اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی (2004) میں امریکہ جو دنیا میں تہذیب وتمدن کا علمبردار بنا ہوا ہے۔ اس نے عراق کے تاریخی مقامات اور تمام شہروں بالخصوص نجف، بغداد اور فلوجہ میں جس طرح مساجدومدارس اور خواتین کی بے حرمتی کی اور قبرستانوں پر بلڈوزر چلائے ان مظالم کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہاں تک کہ ابو غریب جیل میں قیدیوں کو پاخانہ کھانے اور اپنا پیشاب پینے پر مجبور کیا گیا جس پر امریکہ کے حلیف اور دیگر ممالک میں اس کے خلاف کہرام برپا ہوا جس کے رد عمل میں امریکہ کے صدر بش کو دنیا کے سامنے معافی مانگنی پڑی پھر بھی ان کے رویّے میں کوئی تبدیلی رونما نہ ہوسکی۔ انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت اور اس کے دلائل: حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا: جس شخص نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا بلا شبہ اللہ تعالی صرف حلال چیزوں سے صدقہ قبول فرماتا ہےتو اللہ تعالی اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہوئے شرف قبولیت بخشتے ہیں۔ پھر اسکو اس طرح بڑھاتے ہیں جیسا کہ تم اپنے بچھڑے کی پرورش کر کے اسے بڑا کرتے ہو۔ یہاں تک کہ ایک کھجور کا ثواب پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ (رواہ البخاری: باب الصدقۃ من کسب طیب) حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم (ﷺ) نے فرمایا: صدقہ کرنے سے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی۔معاف کرنے سے اللہ تعالی بندے کو مزید عزت سے نوازتے ہیں اور جو شخص بھی اللہ کی رضا کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اس شخص کو لوگوں کی نگاہوں میں معزز فرمادیتے ہیں۔ (رواہ مسلم: باب استحباب العفو والتواضع) مسائل : 1۔ حرمت والے مہینوں اور حرمات میں قصاص ہے۔ 2۔ زیادتی کے بدلے میں اتنی ہی زیادتی کرنا جائز ہے۔ 3۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ 5۔ ہر حال میں نیکی کرنا چاہیے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ البقرة
195 البقرة
196 فہم القرآن : ربط کلام : چاند کے ساتھ روزے اور حج کا خصوصی تعلق ہے۔ لہٰذا حج کے مسائل کی تفصیل اور ان کے درمیان دور جہالت کی بدعات اور رسومات کا بیان ہوگا۔ حج عبادات کا مرقع ہے۔ اسلام کے پانچویں رکن کی ادائیگی مقررہ ایّام میں متعیّن اور مقدّس مقامات پر ادا ہوتی ہے۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت، عبادت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع وعریض پلیٹ فارم ہے۔ شریعت نے امت مسلمہ کو اپنے اور دنیا بھر کے تعلقات ومعاملات کا جائزہ لینے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے تاکہ مسلمان حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی وبیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ و استغفار اور حالات کی درستگی کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ جہاں اپنے کردار و گفتار کا جائزہ لینا ہے وہاں ملت کفر کے حالات و واقعات اور ان کے فکرو عمل پر کڑی نظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ یہ احتساب و عمل کی ایسی تربیت گاہ ہے جس سے مسلمانوں کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہی وہ سوچ و حکمت تھی کہ جس کے لیے سّیدنا عمر فاروق (رض) حج کے موقع پر مملکت کے گورنروں اور اعلیٰ حکام کا اجلاس منعقد کرتے اور ان علاقوں کے عمائدین سے وہاں کے حالات و واقعات اور حکام و رعایا کے طرز عمل کے بارے میں استفسار فرماتے ہوئے موقع پر ہدایات جاری کرتے تھے۔ (سیرت فاروق) دین حنیف میں ہر کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پھر حج اور عمرہ کے لیے یہ خصوصی حکم کیوں دیا گیا کہ حج اور عمرہ اللہ ہی کے لیے ہونے چاہییں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین نے نہ صرف حج کے تمام مناسک میں اپنے بتوں کو شریک کرلیا تھا بلکہ انہوں نے بیت اللہ‘ صفا و مروہ اور عرفات میں بھی بت سجا رکھے تھے۔ جن کی حرمت ووسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے۔ یہاں تک کہ وہ احرام باندھتے تو ان الفاظ میں تلبیہ کہتے۔ (لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًاھُوَ لَکَ تَمْلِکُہٗ وَمَامَلَکَ) [ رواہ مسلم : کتاب الحج، باب التلبیۃ ...] ” میں حاضرہوں ! اللہ تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جس کو تو نے اپنا ساتھی بنا لیا ہے۔ تو اس کا بھی اور اس چیز کا بھی مالک ہے جس کا وہ مالک ہے۔“ یہاں مشرکین کو نہایت لطیف پیرائے میں شرک سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ حج اور عمرہ میں کسی کو اللہ کا شریک بنانے کے بجائے صرف اور صرف اللہ کے لیے حج اور عمرہ کرو۔ یہاں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ حج محض ایک رسم اور نیکی کی شکل میں مال کی نمائش کا نام نہیں۔ یہ تو اللہ کے گھر میں اس عقیدے کے ساتھ حاضری دینا ہے کہ میں صرف تیرے ہی در کا فقیر ہوں۔ جس طرح آج میں اپنا گھر بار چھوڑ کر حاضر ہوں اسی طرح مرنے کے بعد تیری جناب میں مجھے پیش ہونا ہے۔ لہٰذا میں معافی کا خواست گار ہوں‘ تیرے بغیر کوئی بھی میرے گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔ یہاں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ حج اور عمرہ اکٹھے کرسکتے ہو جبکہ دور جہالت میں لوگ حج اور عمرہ اکٹھا کرنا ٹھیک نہیں سمجھتے تھے۔ اس آیت کی ابتدا میں حکم ہے کہ حج اور عمرہ کو پورا کرنا چاہیے۔ تاہم اگر کسی وجہ سے راستے میں رکاوٹ پیدا ہوجائے یا کوئی بیماری لاحق ہو تو عمرہ اور حج کرنے والے کو کیا کرنا چاہیے؟ فرمایا کہ اگر راستے میں رکاوٹ پیش آجائے تو قربانیاں کسی دوسرے ذرائع کے ذریعے مکہ روانہ کردی جائیں۔ اس وقت تک سرنہ منڈوایا جائے جب تک قربانی مکہ پہنچ جانے کا یقین نہ ہو۔ البتہ اگر قربانی مکہ پہنچانے کا کوئی انتظام نہ ہو تو اسی مقام پر قربانی ذبح کرکے آدمی حلال ہوجائے گا۔ جیسا کہ آپ (ﷺ) اور صحابہ (رض) نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا۔ اگر کسی کو ایسی تکلیف لاحق ہو یاسر منڈوانا تکلیف کی وجہ سے ناگزیر ہو تو اسے تین روزے یاچھ مساکین کا کھانا یا پھر ایک جانور ذبح کرنا ہوگا۔ اگر حج اور عمرہ اکٹھا کرنے والا اگر قربانی نہیں پاتا تو اسے حج کے دوران تین روزے رکھنے چاہییں اور جب وطن واپس پہنچے تو سات روزے رکھے۔ گویا کہ قربانی نہ کرنے کی وجہ سے دس روزے رکھنے پڑیں گے۔ اسے حدیث میں حج قرآن کہا گیا ہے حج تمتع ان لوگوں کو کرنے کی اجازت ہے جو حرم کی حدود میں رہنے والے نہ ہوں۔ کیونکہ انہیں حج کے لیے دور سے آنا پڑتا ہے۔ حرم میں رہنے والوں کو اس کی اجازت نہیں۔ شاید اس کا فلسفہ یہ ہے کہ بیت اللہ کی رونق ہر حال میں روز افزوں رہے۔ تمتع سے مراد حج اور عمرہ اکٹھا کرنا ہے۔ آیت کے آخر میں یہ انتباہ کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر حج اور عمرہ میں افراط وتفریط، خود ساختہ رسومات اور شرک کی آمیزش ترک کردو ورنہ یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ سخت ترین گرفت کرنے والا ہے اور اس کی گرفت اور عذاب سے تمہیں بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ مسائل : 1۔ اللہ ہی کے لیے حج اور عمرہ کے مناسک پورے کرنے چاہییں۔ 2۔ محصور ہوجانے کی صورت میں قربانیاں مکہ بھیج دی جائیں۔ 3۔ قربانی سے پہلے سر نہ منڈوایا جائے۔ 4۔ تکلیف کے باعث سر منڈواناپڑے تو تین روزے یا چھ آدمیوں کو کھانا کھلانا یا جانور ذبح کرنا چاہیے 5۔ حج اور عمرہ اکٹھے کیے جاسکتے ہیں۔ 6۔ حج تمتع میں قربانی نہ کرنے والا تین روزے حج کے دوران اور سات واپسی پر رکھے گا۔ 7۔ حدود حرم کے اندر رہنے والوں کو حج تمتع کی اجازت نہیں ہے۔ 8۔ ہر دم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے وہ سخت عذاب والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : بیت اللہ کا حج : 1۔ لوگوں میں حج کے لیے نداء کر دو کہ تمہاری طرف پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر جودور دراز رستوں سے چلے آتے ہوں (سوار ہو کر) چلے آئیں۔ (الحج :27) 2۔ لوگوں پر خدا کا حق ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے۔ (آل عمران :97) 3۔ حج کے مہینے معلوم ہیں تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے، نہ کوئی برا کام کرے، نہ کسی سے جھگڑے اور جو نیک کام تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہے اور زاد راہ ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے اور اے عقل والو! مجھ سے ڈرتے رہو۔ (البقرہ :197) 4۔ تمہارے لیے دریا کا شکار اور ان کا کھانا حلال کردیا گیا ہے یعنی تمہارے اور مسافروں کے فائدہ کے لیے اور جنگل کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں ہو تم پر حرام ہے اور اللہ سے جس کے پاس تم جمع کیے جاؤ گے، ڈرتے رہو۔ (المائدۃ:96) 5۔ تاکہ اپنے فائدے کے کاموں کے لیے حاضر ہوں اور قربانی کے ایام میں چہار پایان مویشی، جو اللہ نے ان کو دیئے ہیں۔ ان پر اللہ کا نام لیں۔ اس میں تم بھی کھاؤ اور فقیر درماندہ کو بھی کھلاؤپھر چاہیے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور نذریں پوری کریں اور بیت اللہ کا طوا ف کریں۔ (الحج : 28، 29) البقرة
197 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے حج کے مہینے ایک ہی چلے آرہے تھے۔ جنہیں ہر دور کے ہزاروں‘ لاکھوں اور ان کی وساطت سے نسل درنسل کروڑوں لوگ جانتے ہیں۔ اتنی عظیم الشان اور مسلسل ہونے والی عبادت کے مہینے بتلانے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ البتہ حدیث میں ان کی وضاحت موجود ہے۔ یہ ایام یکم شوال، ذی القعدہ اور ذی الحجہ کی دس تاریخ تک ہیں۔ (قَالَ ابْنُ عُمَرَ (رض) أَشْھُرُ الْحَجِ شَوَّالٌ وَذُو الْقَعْدَۃِ وَعَشْرٌ مِّنْ ذِی الْحَجَّۃِ) [ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب قول اللّٰہِ تعالیٰ الحج أشھر معلومات] ” عبدا للہ بن عمر (رض) نے فرمایا : حج کے مہینے شوال، ذو القعدہ اور ذو الحجہ کے دس دن ہیں۔“ اس حدیث میں 10 ذی الحجہ ایام حج قرار دیے گئے۔ اس سے مراد ہے کہ حج 10 ذوالحجہ کے بعد نہیں ہوسکتا۔ حج کرنے والا انہی ایام میں احرام باندھے گا۔ اگر اس سے پہلے وہ حج کا سفر کرے تو احرام نہیں باندھ سکتا۔ البتہ دوردراز علاقے کے رہنے والے لوگ ذرائع آمد ورفت سست رفتار یا کم ہونے کی بنا پر حج کے لیے پہلے بھی سفر کا آغاز کرسکتے ہیں۔ جس طرح آج سے اسّی سال پہلے لوگ پیدل حج کے لیے جایا کرتے تھے۔ طوالت سفر کی وجہ سے وہ شوال سے پہلے ہی اپنے سفر کا آغاز کرتے اس طرح حج کے لیے چھ سے آٹھ ماہ لگ جاتے۔ ایسے حالات میں حج کے مہینوں سے پہلے سفر شروع کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ہر شخص احرام یکم شوال سے باندھے گا اور میقات پر پہنچ کر احرام کی پابندیاں شروع ہوں گی۔ عمرہ کے لیے کوئی دن اور مہینہ مقرر نہیں۔ آدمی جب چاہے عمرہ کرسکتا ہے۔ یہاں حج کی فرضیت سے مراد اس کی ادائیگی ہے کیونکہ مفسرین کا اتفاق ہے کہ حج تین ہجری آل عمران کی آیت 97 کے نزول کے وقت فرض ہوا تھا۔ جب کہ یہ آیات چھ ہجری صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئیں۔ اس فرمان میں حج کے آداب بتائے جارہے ہیں کہ حج میں تین کاموں سے سختی کے ساتھ پرہیز کیا جائے۔ اس موقع پر اجتناب اور احتیاط کے باوجود مرد و زن کا ایک ہی وقت اور ایک ہی مقام پر مناسک حج ادا کرنے سے لامحالہ کچھ نہ کچھ اختلاط پید اہوسکتا ہے۔ مختلف ممالک کے متفرق مزاج لوگوں کا جذبۂ شوق کے عالم میں اکٹھا ہو کر نیکی اور خیر کے کام میں ایک دوسرے سے مسابقت کرنے کی وجہ سے مزاج میں تیزی اور مستعدی پیدا ہونا فطری بات ہے جس کی وجہ سے باہم تصادم کے خطرہ کا امکان ہوسکتا ہے۔ اس لیے خصوصی طور پر حکم صادر فرمایا کہ اللہ کے حضور حج کے احکام بجا لاتے ہوئے بیوی سے شہوانی باتیں اور حرکات، فسق وفجور اور جنگ وجدال سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ اللہ ! اللہ ! مسلمانوں کی اطاعت شعاری ملاحظہ فرمائیں کہ صدیوں سے یہ اجتماع منعقد ہو رہا ہے۔ جس میں بوڑھے، جوان، شاہ و گدا، کالے، گورے اور مرد و زن موجود ہوتے ہیں۔ سفر کی صعوبتوں اور دیگر مشکلات کے باوجود مسلمان ایسی سنجید گی اور جذبۂ عبادت کے ساتھ فریضۂ حج ادا کرتے ہیں کہ غیر مسلم دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔ یہاں یہ بھی حکم ہوا ہے کہ حج کے دوران زاد راہ لے لیا کرو۔ کیونکہ کچھ لوگ خاص کریمن کے رہنے والے اس غرض سے سفر کا خرچ نہیں لیتے تھے کہ ہم اللہ کے گھر میں حاضری دینے جارہے ہیں وہی ہمارے لیے اسباب مہیا کرے گا‘ ہمیں وسائل لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ وسائل لینا توکل اور تقو ٰی کے خلاف ہے۔ اس پر حکم ہوا کہ ادھر ادھر سے مانگنے اور جھانکنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ وسائل کو بروئے کار لاؤ۔ دوسرے کی طرف جھانکنے سے بہتر ہے کہ زاد راہ ساتھ لیاجائے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے پرہیز کرنا اور گناہوں سے بچنا ہی تقو ٰی ہے۔ یہی عقل مندی کا تقاضا اور صاحب دانش لوگوں کا وطیرہ ہونا چاہیے۔ انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول (ﷺ) ! (أَعْقِلُھَا وَأَتَوَکَّلُ أَوْ أُطْلِقُھَا وَأَتَوَکَّلُ قَالَ اعْقِلْھَا وَتَوَکَّلْ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق] ” میں اونٹ کو باندھ کر توکل کروں یا اسے چھوڑ دوں اور توکل کروں آپ (ﷺ) نے فرمایا : اونٹ کو باندھو اور توکل کرو۔“ مسائل : 1۔ شوال، ذی قعدہ، اور دس ذی الحجہ تک حج کے مہینے اور ایام ہیں۔ 2۔ حج میں بیوی سے شہوانی باتیں‘ فسق و فجور اور لوگوں سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ حج کے لیے زاد راہ لینا ضروری ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہی دانشمندی ہے۔ تفسیر بالقرآن: تقوی اور اسکے فائدے: 1۔ متقین کے لیے کامیابی ہے۔ (الانبیاء: 31 تا 33) (یونس: 26، 27) 2۔ متقین کا بہترین انجام ہے۔ (ہود: 49) 3۔ متقین کے لیے جنت ہے۔ (الحجر: 45) (القلم: 34) (الطلاق: 4 تا 5) 4۔ اللہ تعالی نے متقین کا ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہےاور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد: 35) البقرة
198 فہم القرآن : ربط کلام : حج کے مناسک کا بیان جاری ہے۔ اسلام کے ورود مسعود سے پہلے لوگوں نے حج جیسے باوقار اور عبادات کے مجموعہ کو ایک میلہ اور تجارتی منڈی میں تبدیل کردیا تھا۔ لیکن جب یہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو ان کی سوچ کے زاویے یکسر تبدیل ہوگئے۔ صحابہ کرام (رض) نے سب کچھ اپنے رب کی رضا کے لیے قربان کردیا تھا۔ لہٰذا اب وہ حج کی ادائیگی کے دوران تجارت کرنے کے بارے میں کس طرح سوچ سکتے تھے؟ وہ یہاں تک محتاط ہوئے کہ ایک مزدوری کرنے والا صحابی حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس آیا اور یہ سوال کیا کہ ہمارا پہلے سے یہ پیشہ ہے کہ ہم اونٹوں کے ذریعے سواری اور باربرداری کا کام کرتے ہیں کچھ لوگ ہمارے اونٹ حج کے لیے کرایہ پر لے جاتے ہیں ہم ان کے ساتھ جاتے ہیں اور حج کرتے ہیں کیا ہمارا حج ہوگا؟ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : کہ ایک شخص رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، اور اس نے آپ سے یہی سوال کیا تھا جو تم مجھ سے کررہے ہو آنحضرت (ﷺ) نے اس کو اس وقت کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : ﴿لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ﴾ اس وقت رسول کریم (ﷺ) نے اس شخص کو بلوایا اور فرمایا کہ ہاں تمہارا حج صحیح ہے۔ [ معارف القرآن] اسی طرح ہی حج سے فراغت کے بعد آپس میں لین دین اور تجارت کرلی جائے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ بلکہ رزق حلال کا حصول اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ جسے حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہو۔ جب تم عرفات سے مشعر حرام کی طرف پلٹو۔ تو تمہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس کی توفیق اور رہنمائی سے تم اس کے گھر کے مہمان بنے اور ہدایت پائے اس رہنمائی سے پہلے تم گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہے تھے۔ لہٰذا رب کی راہنمائی کے مطابق اس کا شکریہ ادا کرتے رہو۔ یاد رہے کہ مشعر حرام مزدلفہ میں ایک پہاڑی ہے جسے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا گیا ہے۔ مزدلفہ میں قیام کا طریقہ : عرفات میں غروب آفتاب کے فوراً بعد نماز مغرب ادا کیے بغیر مزدلفہ روانہ ہونے کا حکم ہے۔ اب بے خانماں قافلہ رات کے اندھیروں میں ٹھوکریں کھاتا ہوا مزدلفہ کی سنگلاخ زمین پر آن پہنچا ہے۔ جسم تھکن سے چور، طبیعت نڈھال، نیند کا غلبہ اور آرام کی حاجت کے باوجود لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تاکہ نماز مغرب وعشاء کی نماز ادا کرتے ہوئے اللہ کے حضور سرافگندگی کا اظہار کیا جائے۔ اس کے بعد آرام اور قیام کی ضرورت تھی جس بنا پر نبی محترم (ﷺ) نے اپنی امت پر شفقت ومہربانی کرتے ہوئے نہ خود اس رات تہجد پڑھی اور نہ ہی لوگوں کو تلقین فرمائی تاکہ سفر کی صعوبتوں اور تھکاوٹوں کی بنا پر لوگوں کو آرام کا موقع میسر آجائے۔ اور 10ذوالحجہ کے لیے تازہ دم ہوجائیں کیونکہ 10ذوالحجہ کا دن مناسک حج کے اعتبار سے بہت مشکل ترین دن ہے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ (رض) یَقُوْلُ أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِیُّ () لَیْلَۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ فِیْ ضَعْفَۃِ أَھْلِہٖ) [ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب من قدم ضعفۃ أھلہ بلیل الخ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا جن کو رسول اللہ (ﷺ) نے مزدلفہ کی رات اپنے گھروالوں کے ساتھ پہلے روانہ کردیا تھا۔“ (عَنْ جَابِرٍ (رض) قَالَ أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () وَعَلَیْہِ السَّکِیْنَۃُ وَأَمَرَھُمْ أَنْ یَرْمُوْا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِیْ وَادِیْ مُحَسَّرٍ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب المناسک، باب التعجیل من جمع] ” حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) مزدلفہ سے واپس پلٹے تو آپ پر سکینت طاری تھی اور آپ (ﷺ) نے صحابہ کرام (رض) کو حکم دیا کہ چنے کے برابر کنکریاں ماریں اور آپ وادی محسّر سے تیزی کے ساتھ گزرے۔“ کیونکہ یہاں ابرہہ کے لشکر کو ابابیل کے ذریعے تہس نہس کردیا گیا تھا۔ جو یمن کا حکمران تھا اور اس نے بیت اللہ کے مقابلے میں ایک گھر تعمیر کیا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ بیت اللہ کے بجائے اس کے بنائے ہوئے گھر کا طواف اور زیارت کیا کریں۔ جب لوگوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو اس نے حسد میں آکر بیت اللہ کو شہید کرنے کے لیے لشکر کشی کی جب لشکر ہاتھیوں پر سوار مزدلفہ کے قریب وادی محسّر میں پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے ابابیل کے جھنڈ بھیج کر انہیں کھائے ہوئے بھس کی طرح کردیا اور یہ پرندے اپنی چونچ اور پروں میں کنکریاں اٹھا اٹھا کر ان کے اوپر پھینکتے تھے جس کا تذکرہ سورۃ الفیل میں کیا گیا ہے۔ مسائل : 1۔ حج میں لین دین اور تجارت کی جا سکتی ہے۔ 2۔ مشعرالحرام مزدلفہ میں ایک پہاڑی کا نام ہے۔ 3۔ مزدلفہ میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر آدمی گمراہ ہوتا ہے۔ البقرة
199 فہم القرآن : ربط کلام : حج کے مناسک میں قریش کے خود ساختہ امتیاز اور بدعت کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ یہاں لوٹنے سے مراد عرفات پہنچ کر مزدلفہ واپس آنا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق حج کرنے والے نسل در نسل نو ذو الحجہ کو منٰی سے عرفات جاتے اور عرفات سے واپس مزدلفہ ٹھہرتے۔ مگر قریش نے اپنے مذہبی تقدس اور قومی تفاخر کے باعث یہ عقیدہ بنایا اور لوگوں میں پھیلایا ہوا تھا کہ ہم بیت اللہ کے متولّی اور مجاور ہیں اس لیے ہمارا مقام لوگوں سے ممتاز ہے لہٰذا ہمیں حدود حرم سے باہر جانے کی ضرورت نہیں۔ یاد رہے کہ عرفات حدود حرم سے باہر ہے۔ وہ مزدلفہ ہی میں قیام کرتے جب کہ لوگ عرفات سے ہو کر مزدلفہ آیا کرتے تھے۔ قریش کی دیکھا دیکھی ان کے حلیف قبائل نے بھی اپنے لیے یہ امتیاز قائم کرلیا۔ اس خود ساختہ تقدس کی نفی اور رسم کے خاتمہ کے لیے یہ حکم نازل ہواکہ ہر کسی کے لیے عرفات جانا لازم اور حج کا حصہ ہے۔ رسول کریم (ﷺ) نے عرفات کو حج کارکن اعظم قرار دیا ہے۔ جو شخص دسویں ذوالحجہ کی صبح تک بھی عرفات نہیں پہنچ سکا باقی مناسک ادا کرنے کے باوجود اس کا حج اد انہیں ہوگا اور اسے دوبارہ حج کرنا پڑے گا۔ [ رواہ أبوداوٗد : کتاب المناسک، باب من لم یدرک عرفۃ] عرفات میں سمع واطاعت کا نقطۂ عروج : عرفات میں حاضری حج کارکن اعظم ہونے کے باوجود حکم یہ ہے کہ یہاں غروب آفتاب کے فورًا بعد نماز مغرب ادا کیے بغیر مزدلفہ روانہ ہوا جائے۔ مسلمان کی سمع واطاعت کا اندازہ کیجئے کہ وہ مومن جو نماز کے وقت کا انتظار کیا کرتا تھا اور نماز کا وقت ہوتے ہی ہر تعلق سے لا تعلق ہو کر اس کے قدم مسجد کی طرف اٹھ جایا کرتے تھے‘ وہ نماز جس کی پابندئ وقت کا حکم ہے : ﴿إِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا۔ [ النساء :103] ” مومنوں کے لیے نماز کے اوقات مقرر کردیے گئے ہیں۔“ لیکن مغرب کا وقت ہونے کے باوجود حکم ہوا ہے کہ یہاں نماز پڑھنے کے بجائے یونہی آگے چل دیجئے اور مزدلفہ میں دونوں نمازوں کو ادا کیا جائے۔ ایک لمحہ ٹھہر کے ذرا سوچئے ! کہ بندہ اپنے رب کے حکم کے سامنے کس طرح بے اختیار وبے بس ہے؟ کہ پہلے بیماری یا کسی مجبوری کے بغیر اس نے ظہر اور عصر جمع کی۔ اور اب مغرب کی نماز پڑھنا تو درکنار یہاں ٹھہرنے کی بھی اجازت نہیں۔ عرفات وہی مقام مقدس ہے کہ جہاں رسول اکرم (ﷺ) نے انسانیت کو دونوں جہاں کی کامیابی کی گارنٹی دیتے ہوئے ایک عالمگیر چارٹر سے متعارف کروایا تھا۔ جس کے چند نکات یہ ہیں : (1) جب تک قرآن وسنت کو تھامے رکھو گے دنیا کی کوئی سازش اور طاقت تمہیں گمراہ نہیں کرسکے گی۔ (2) میں آج کے بعد ہر قسم کی عصبیتوں کو اپنے پاؤں تلے روند تاہوں۔ (3) معاشی استحاصل کو ختم کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے سود کو حرام قرار دیا اور فرمایا کہ سب سے پہلے میں اپنے چچا کا سود معاف کرتا ہوں۔ وہ اس کے بعد اصل رقم کے بغیر کسی سے ایک دمڑی بھی سود وصول نہیں کرسکتے۔ (4) سابقہ تمام قتل و غارت معاف ہے اور سب سے پہلے اپنے قبیلے کا قتل معاف کرتاہوں۔ (5) سب انسان برابر ہیں مگر تقو ٰی و کردار کے لحاظ سے فرق برقرار رہے گا۔ اللہ کی قربتیں اسی کو حاصل ہوں گی جو اس کا تقو ٰی اختیار کرے گا۔ مسائل : 1۔ اہل حرم اور سب کو عرفات پہنچنا لازم ہے۔ 2۔ مناسک حج اخلاص اور سنت کے مطابق ادا کرنے چاہییں۔ 3۔ مانگ کر حج کرنا جائز نہیں۔ 4۔ اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت رحیم ہے۔ 5۔ حج میں تجارت کی جاسکتی ہے۔ حج کا مختصر طریقہ : میقات : نبی اکرم (ﷺ) نے مکہ کے چاروں جانب سمندر میں میقات مقرر فرمائے ہیں : یلملم (سعدیہ) یہ مکہ سے 45کلو میٹر کے فاصلے پر جنو بی ایشیاء کے ممالک پاکستان، افغانستان، بھارت بنگلہ دیش اور چین وغیرہ کا میقات ہے۔ قرن منا زل : مکہ سے عرفات کی طرف 94کلومیٹر پر اہل نجد اور دوسرے ممالک کے لیے ہے۔ جحفہ : مکہ سے شمال مغرب کی طرف 187کلومیٹر کے فاصلے پر شام اور مصر وغیرہ کے لیے ہے۔ ذوالحلیفہ : مکہ معظمہ سے مدینہ کی طرف 450کلومیٹر پر ہے۔ یہ اہل مدینہ کا میقات ہے۔ ذات عرق : مکہ سے شمال مشرق کی طرف 94کلومیٹر دور ہے اسے ایران‘ عراق اور شمال مشرق کے مما لک کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ احرام باندھنے کا طریقہ : حج یا عمرہ کرنے والے کو میقات پر پہنچ کر احرام باندھنا چاہیے۔ لیکن پاکستان کا میقات یلملم سمندر میں ہے۔ ہوائی جہاز میں احرام باندھنے میں دقّت پیش آتی ہے۔ اس لیے اپنے گھر یا ایئر پورٹ سے احرام باندھ لیا جائے۔ البتہ احرام کی پابندیاں اور تلبیہ میقات پر پہنچ کر شروع کرنا ہوگا۔ احرام سے پہلے ضرورت ہو تو حجامت کروائے ورنہ غسل کے بعد خوشبو لگا کر احرام باندھنا چاہیے احرام کے دو نفل رسول کریم (ﷺ) سے ثابت نہیں کیونکہ جب آپ نے احرام باندھا تھا تو فرض نماز کا وقت تھا۔ اس لیے آپ نے مدینہ سے باہر میقات پر احرام کے بعد دو فرض ادا کیے تھے۔ تاہم احرام کے بعداکثر علماء دو نفل جائز سمجھتے ہیں۔ آدمی دو سفید چادروں میں احرام باندھے ایک تہبند اور دوسری کو سر ننگا رکھتے ہوئے اوپر لے۔ دایاں کندھا صرف پہلے طواف کے پہلے تین چکروں میں ننگا رکھنا ہے۔ یہ پہلا طواف عمرہ کا ہو یا حج کا اس سے پہلے یا بعد میں کندھا ننگا رکھنا جائز نہیں۔ کچھ علماء نے جدہ میں پہنچ کر احرام باندھنے کی اجازت دی ہے جس کا حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔ عورت کا احرام اور مخصوص ایّام : عورت اپنے روایتی لباس میں ہی احرام کی نیت کرے گی تاہم اس کے ہاتھ اور چہرہ ننگا ہونا چاہیے۔ مرد ہو یا عورت اسے ایسا جوتا پہننا چاہیے جو ٹخنوں سے نیچے ہو۔ عورت کو غیر محرم کے سامنے آنے پر چہرہ ڈھانپنا چاہیے۔ لیکن نقاب چہرے سے ہٹاہو نا چاہیے۔ اگر عورت کو مخصوص حالت پیش آ جائے تو احرام باندھ کر نماز پڑھے بغیر حج کے مناسک ادا کرے۔ اگر یہی حالت رہے تو بیت اللہ کا طواف بھی بعد میں کرنا ہوگا۔ بعض ملکوں میں قومی شناخت کے طور پر عورت کو خصوصی احرام کا پابند کیا گیا ہے یہ پابندی شریعت میں موجود نہیں۔ احرام میں جائز اور ناجائزکام : * احرام سے پہلے غسل اور خوشبو لگانا سنت ہے * احرام باندھ لینے کے بعد خوشبو لگانا جائز نہیں * مرد کا احرام دو سفید چادریں ہیں * عورت جس رنگ کا چاہے لباس پہن سکتی ہے مگر شوخ نہ ہو* مرد کا سر 249 چہرہ 249 ہاتھ اور پاؤں ننگے ہونے چاہییں* عورت غیر محرم کے سامنے آنے پر چہرہ ڈھانپے گی* احرام میں چپل پہننے کا رواج پڑگیا ہے ورنہ ایسا جوتا پہنا جا سکتا ہے جو ٹخنوں سے نیچے ہو* احرام میں نہانا، احرام بدلنا یا دھونا جسم یا سر کو کھجلانا بالکل جائز ہے* احرام کی حالت میں مرد کو نفل یا فرض نماز میں سر ڈھانپنے پر دم دینا پڑے گا۔* جان بوجھ کر مکھی، چیونٹی حتیٰ کہ جوئیں تک مارنا حرام ہے۔ ایسے ہی مباشرت اور نکاح جائز نہیں * البتہ سانپ اور بچھو مارا جاسکتا ہے * احرام میں چھتری استعمال کی جاسکتی ہے۔ اقسامِ حج حجِ اَفراد : صرف حج کی نیت سے احرام باندھا جائے جس میں عمرہ شامل نہ ہو۔ حج قران : جس میں یہ نیت ہو کہ حج اور عمرہ اکٹھے ادا کیے جائیں گے۔ یہ شخص عمرہ مکمل ہونے کے باوجود احرام نہیں اتار سکتا اسے عمرے والے احرام کے ساتھ ہی حج کرنا ہوگا۔ چاہے حج اور عمرے کے درمیان کتنے دن کیوں نہ ہو۔ حجِ تَمَتُّعْ: تمتع کا معنٰی ہے فائدہ اٹھانا۔ اس میں حج اور عمرہ اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ احرام باندھنے کے مقام (میقات) پر پہنچ کر یہ نیت کی جائے کہ میں صرف عمرہ کا احرام باندھ رہا ہوں۔ عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دوں گا۔ اب یہ شخص آٹھ ذوالحجہ کو دوبارہ مکہ میں جہاں رہ رہا ہے۔ وہاں سے ہی حج کے لیے احرام باندھے گا اسے میقات پر جانے کی ضرورت نہیں۔ حج تمتع اہل حرم کے لیے جائز نہیں۔ حج ایک نظر میں : 1۔ میقات پر احرام باندھنا اور تلبیہ کہنا۔ 2۔ 8 ذوالحجہ کو منٰی پہنچنا۔ 3۔ 9 ذوالحجہ کو عرفات میں قیام کرنا۔ اور ظہر، عصر اکٹھی پڑھنا اور قصد کرنا۔ 4۔ مغرب و عشاء مزدلفہ میں جمع کرنا اور قصرپڑھنا‘ رات گزارنا اور ١٠ ذوالحجہ کی صبح طلوع آفتاب کے قریب منٰی روانہ ہونا۔ 5۔ 10 ذوالحجہ کو کنکریاں مارنا قربانی کرنا‘ حجامت کروانا‘ اور بیت اللہ کا طواف کر کے واپس منٰی پہنچنا۔ 6۔ ایّام تشریق میں کنکریاں مارنا۔ 7۔ ایام تشریق کے دو یا تینوں دن منیٰ میں گزارنا۔ مذکورہ 10 ذو الحجہ کے مناسک کی ادائیگی میں تقدیم وتاخیر ہوجائے تو کوئی گناہ نہیں۔ البقرة
200 فہم القرآن : (آیت 200 سے 202) ربط کلام : حج کو عام اجتماع اور میلہ کا رنگ دینے کے بجائے اس میں عبادت اور ذکر و اذکار کا ماحول ہونا چاہیے۔ کفار اور مشرکین نے حج کے مقدس اجتماع کو دنیا کے فائدے اور خود غرضی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ یہاں تک کہ دعا کرتے ہوئے رب کے حضور دنیا ہی کے طلبگار ہوتے تھے۔ گویا کہ دین اور عبادت بھی ان کی نظروں میں دنیا کا ہی مقصود ٹھہری تھی۔ جیسے آج کل بعض لوگ کسی کو کھانا کھلائیں تو فقط دعا اور نمائش کی خاطر‘ مسجد میں اعتکاف کریں تو صرف دنیا کے مصائب سے چھٹکارا پانے کے لیے‘ مساجد ومدارس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں تو نمائش اور شہرت کے لیے‘ حج دنیاوی مشکلات سے نجات پانے اور دولت کی نمائش کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جب مصائب سے نجات پاتے ہیں تو نہ وہ زہد وتقو ٰی رہتا ہے اور نہ ہی علماء کا احترام واکرام بلکہ نماز اور روزے سے بھی غافل ہوجاتے ہیں۔ ان کے بارے میں سورۃ حج آیت 11میں فرمایا گیا ہے کہ کچھ لوگ تو بس کنارے پر بیٹھ کرہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اگر انہیں فائدہ پہنچے تو مطمئن ہوجاتے ہیں۔ اگر آزمائش میں مبتلا ہوں تو پیٹھ پھیر جاتے ہیں۔ ان کو دنیا اور آخرت میں بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یہاں بنیادی طور پر دو قسم کی سوچ بیان کی جارہی ہے ایک ان لوگوں کی جن کے صبح وشام اور لیل ونہار دنیا ہی کے حصول کے لیے وقف ہیں۔ دنیا کے علاوہ ان کے احاطۂ خیال میں کوئی چیز نہیں آتی۔ انہیں دنیا تو اپنے حصہ کے مطابق مل جائے گی مگر آخرت میں وہ یکسر طور پر تہی دامن ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے آخرت کے لیے کچھ نہیں کیا ہوگا اور نہ ہی وہ آخرت کے طلب گار تھے۔ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی تعریف کی جارہی ہے جو دنیا میں رہ کر آخرت پرنظر رکھے ہوئے ہیں۔ مومن اور دنیا دار کی سوچ کافرق سمجھنے کے لیے حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص (رض) کے فرمان سے بہتر کسی امتی کا اس بات کے حوالے سے ارشاد نہیں ہوسکتا : (إِحْرِزْلِدُنْیَاکَ کَأَنَّکَ تَعِیْشُ أَبَدًا وَاعْمَلْ لآخِرَتِکَ کَأَنَّکَ تَمُوْتُ غَدًا) [ مسند الحارث زوائد الہیثمی: کیف العمل للدنیا والآخرۃ (صحیح)] ” دنیا اس طرح کماؤ گویا تو نے دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے اور آخرت کے لیے ایسے اعمال کرو جیسے تو نے کل فوت ہوجانا ہے۔“ یہی فرق ہے ایک کافر اور دنیا دارمومن کی جدوجہد کے درمیان۔ کیونکہ بے شمار کام ایسے ہیں جو کافر اور مومن کو فطری طور پر ایک جیسے کرنے پڑتے ہیں۔ جن کو سمجھنے کے لیے معمولی درجے کی چند مثالیں ذہن میں تازہ فرمائیں۔ کافر بھی کھانا کھاتا ہے اور مومن بھی کھانے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ دنیا دار بھی کپڑے پہنتا ہے اور مسلمان کا بھی لباس کے بغیر گزارہ نہیں۔ ایمان سے تہی دامن انسان بھی سوتا ہے جب کہ ایمان دار کو بھی نیند پوری کرنا ہوتی ہے۔ لیکن ان کے کرنے کے انداز اور ان کے پیچھے کار فرما جذبات کا زمین و آسمان سے زیادہ فرق ہے۔ مومن کا سونا بھی عبادت ہے جب کہ کافر کی عبادت بھی خدا کے ہاں عبادت کا درجہ نہیں رکھتی۔ کیونکہ اس کے پیچھے نہ ایمان کا تصور ہے اور نہ کرنے کا انداز سنت نبوی کے مطابق ہے۔ یہاں دونوں قسم کے لوگوں کو بتلایا گیا ہے کہ جو کمائے گا وہی پائے گا۔ اللہ تعالیٰ عنقریب ایک ایک لمحہ کا حساب لے گا۔ لہٰذا دعا کی صورت میں یہ فکر دی جارہی ہے کہ کامل اور بہتر سوچ یہ ہے کہ دنیا اور آخرت کو سنوارنے کے لیے نہ صرف بیک وقت بھر پور کوشش کی جائے بلکہ رب کے حضور دعا بھی ہونی چاہیے کہ ” اے ہمارے رب! ہماری دنیا بھی بہتر فرما اور آخرت بھی اور ہمیں جہنم کی ہولناکیوں سے محفوظ فرما۔“ رسول کریم (ﷺ) اکثر یہ دعامانگتے اور طواف کے دوران رکن یمانی سے لے کر حجر اسود تک اس دعا کا التزام کرتے تھے۔ (رواہ البخاری، کتاب الحج) مسائل : 1۔ مناسک حج پورے کرنے کے بعد منٰی میں اللہ کا ذکر کثرت سے کرنا چاہیے۔ 2۔ دنیا دار لوگ آخرت کے بجائے صرف دنیا ہی کے طلب گار ہوتے ہیں۔ 3۔ صرف دنیا کے طلب کرنے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرنا چاہیے۔ 5۔ ہمیشہ جہنم کے عذاب سے پناہ مانگنا چاہیے۔ 6۔ اللہ سے بڑھ کر کوئی جلد حساب لینے والا نہیں۔ البقرة
201 البقرة
202 البقرة
203 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ کفّار نے منٰی کو تفریح کامیدان اور اس کے اجتماع کو ایک اجتماع عام کارنگ دے کر تفاخر کاذریعہ بنالیا تھا۔ شاعر اپنا اپنا کلام پیش کرتے جس میں عشق وعاشقی کی داستانیں اور اپنے آباء واجداد کے کارناموں کو اس طرح بڑھا چڑھا کر بیان کرتے جس میں دوسرے قبائل کی توہین پائی جاتی۔ بسا اوقات لوگوں میں تصادم کی صورت پید اہوجاتی۔ اللہ تعالیٰ نے چند دن کا لفظ استعمال فرما کر یہ احساس دلایا ہے کہ ان قیمتی ایام میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔ تم نے انہیں بھی فخروغرور کاذریعہ بنا لیا ہے۔ حالانکہ تمہیں اپنے رب کا شکر گزار اور اسے کثرت کے ساتھ یاد کرنا چاہیے۔ جس کی توفیق سے تمہیں حج کی سعادت اور اس کے گھر کی حاضری کا شرف نصیب ہوا۔ یہاں اس فکری اختلاف کو بھی ختم کردیا گیا ہے جو منٰی میں قیام کے بارے میں پایا جاتا تھا۔ کچھ لوگ دو کے بجائے تین دن ٹھہرنا ضروری سمجھتے تھے اور وہ منٰی میں دو دن قیام کرنے والوں سے مجادلہ اور تکرار کرتے کہ ہم تم سے بہتر ہیں۔ اس طرح دویوم قیام کرنے والے تین دن ٹھہرنے کو برا سمجھتے۔ یہاں یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ تم چاہو تو تین دن ٹھہرو نہیں تو دو دن۔ دونوں میں سے کوئی ایک مدت ٹھہرنے والوں پر کوئی گناہ نہیں۔ یہ اجر تو اس شخص کے لیے ہے جو فخر و غرور اور دنیاوی رسومات سے پرہیز کرتا ہے اور اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پایا جاتا ہے۔ یاد رکھو جس طرح تم یہاں اکٹھے ہوئے ہو ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جب تمام کے تمام رب کبریا کی عدالت میں دست بستہ جمع کیے جاؤ گے۔ وہاں تقو ٰی اور رب کی یاد ہی کام آئے گی۔ مسائل : 1۔ ایام تشریق میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے۔ 2۔ منٰی میں دو یا تین دن ٹھہرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے وہ سب کو اکٹھا کرنے والا ہے۔ البقرة
204 فہم القرآن : (آیت 204 سے 207) ربط کلام : پہلے دو قسم کی سوچ اور فکر کے درمیان فرق بیان ہوا تھا اب مخلص‘ اور غیر مخلص‘ مصلح اور فساد کرنے والے کے درمیان فرق بتلایا گیا ہے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ کیونکہ جب تک انسان دنگہ فساد سے پرہیز نہیں کرتا۔ منیٰ میں قیام اور ایّام تشریق کا مسئلہ بیان کرنے سے پہلے لوگوں کی دو قسم پر مبنی سوچ کا ذکر ہورہا تھا۔ اب دو کرداروں کو بیان کیا جارہا ہے، پہلا کردار دنیا پرست کا ہے جس کے قول وفعل میں اس قدر تضاد ہوتا ہے کہ اس کی زبان میٹھی ہے اور وہ اپنے کردار کی کھوٹ اور گفتگو کی چوری کو چھپانے کے لیے ہر بات پر اللہ تعالیٰ کے مقدّس نام کو استعمال کرتا ہے۔ اس کا کسی سے الجھاؤ ہوجائے تو وہ پرلے درجے کا جھگڑالو ثابت ہوتا ہے اور جب بھی اسے وسائل اور کچھ اقتدار حاصل ہوتا ہے تو اس کی پالیسیاں اور کردار لوگوں کے لیے تباہ کن اور آئندہ نسلوں کے لیے مہلک ثابت ہوتا ہے۔ اس شخص کو جب اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی غلطی کا احساس دلایاجائے تو اصلاح کی بجائے اسے اپنی توہین تصور کرتا ہے۔ ایسے شخص کے فکر وعمل میں خیر کی تبدیلی آنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ یہ گناہ چھوڑنے اور اپنی اصلاح کرنے کے بجائے دنگا فساد کرنے پر اتر آتا ہے۔ اس کے جھوٹے وقار اور تکبر کے خاتمہ کے لیے جہنم کی سزا ہی ہوسکتی ہے۔ اس کا ٹھکانہ دنیا کے بجائے جہنم ہی ہونا چاہیے۔ جس میں اس کے فکرو عمل کی ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔ رسول کریم (ﷺ) کا ارشاد ہے کہ جب فاسق وفاجر شخص دنیا سے کوچ کرتا ہے تو روئے زمین پر تمام مخلوق اس کے جانے پر خوشی کا اظہار کرتی ہے یہاں تک کہ زمین اسے دبوچ کر اپنا بوجھ ہلکا کرتی ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق‘ باب سکرات الموت] مفسرین نے اس آیت کی تشریح میں اخنس بن شریک منافق کے کردار کی نشاندہی کی ہے جو آپ (ﷺ) کے پاس حاضر ہوتا تو چکنی چپڑی باتیں کرتے ہوئے اسلام کی تائید کرتا جب اپنے ساتھیوں میں جاتا تو آپ (ﷺ) اور اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے دوسروں کو سازشوں کے لیے آمادہ کرتا تھا۔ اس کے برعکس ایک مومن کا کردار یہ ہوا کرتا ہے کہ وہ گفتارکے بجائے کردار کا غازی ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہ صرف اپنی انا کی قربانی دیتا ہے بلکہ وقت آنے پر سب کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لٹا کراس کی رضا کا طالب ہوتا ہے۔ اس آیت کے شان نزول میں حضرت ابویحییٰ صہیب رومی (رض) کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ جب وہ مدینہ طیبہ کے لیے نکلے ابھی مکہ معظمہ سے تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ کفار نے انہیں آگھیرا۔ حضرت صہیب (رض) نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ میں تم سے بہتر تیر انداز ہوں اور میرا نشانہ کم ہی خطا ہوا کرتا ہے۔ اگر میری طرف بڑھوگے تو میں تمہیں ایک ایک کرکے نشانہ بناؤں گا۔ جب میرے ترکش سے تیر ختم ہوجائیں گے تو تلوار سے مقابلہ ہوگا۔ لہٰذا میرے راستے میں حائل ہونے کی کوشش نہ کرو۔ اگر تم مال لے کر میرا پیچھا چھوڑنا چاہو تو میرا اتنا سرمایہ میرے مکان کے فلاں کونے میں دفن ہے۔ تم جاکر اسے حاصل کرسکتے ہو۔ کفار خزانے کے لالچ میں واپس پلٹے اور جناب صہیب رومی (رض) کے مدینہ پہنچنے پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی جس میں ایثاروقربانی سے بھر پور کردار کی تعریف کے ساتھ یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے کردار کے لوگوں کے ساتھ نہایت ہی شفقت فرماتا ہے۔ مسائل : 1۔ چکنی چپڑی باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ 2۔ جھوٹی بات پر اللہ تعالیٰ کو گواہ بنانا بڑا گناہ ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ 4۔ گناہ کو عزت کا باعث سمجھنا جہنم کو ٹھکانہ بنانا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ نہایت ہی مشفق و مہربان ہے۔ تفسیر بالقرآن: اللہ تعالی اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ 1۔ اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے زیادہ مہربان ہے۔ (یوسف: 22) (الکہف: 58) 2۔ یہی لوگ اللہ تعالی کی رحمت کے امیدوار ہیں اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (البقرۃ: 218) (المؤمنون: 109) 3۔ اللہ نیک لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گایقینا وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (التوبۃ: 99) البقرة
205 البقرة
206 البقرة
207 البقرة
208 فہم القرآن : (آیت 208 سے 210) ربط کلام : منافق اور سب لوگوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ اپنی سوچ اور کردار کو کلی طور پر دائرہ اسلام میں داخل کرو یہی سلامتی کا راستہ اور شیطان کی پیروی سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے۔ اس کے سوا گمراہی ہے۔ اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام (رض) جو رسول اللہ (ﷺ) کی ہجرت مدینہ کے معًا بعد مسلمان ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک مجلس میں ان خیالات کا اظہار کیا کہ کیا حرج ہے اگر ہم ہفتہ کے دن کی تعظیم کریں اور اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیں؟ اس طرح ہمارے اور یہودیوں کے درمیان مفاہمت کی فضا پید اہوسکتی ہے۔ اس صورت حال پر یہ حکم نازل ہوا کہ اے مسلمانو! لوگوں کے دباؤ یا مفاہمت کے جذبہ کی خاطر باطل نظریات کی پاسداری کرنے کے بجائے دین اسلام میں کامل اور مکمل طور پر داخل ہوجاؤ۔ یہ تمہاری زندگی کے تمام تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور اور تمہارے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ لہٰذا تمہاری معاشرت، معیشت، سیاست‘ جلوت و خلوت اور انفرادی اجتماعی زندگی کا ماحول اسلامی نظریۂ حیات کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر تم اسلام میں داخل ہو کر من مرضی اور خود غرضی کا مظاہرہ کرو اور اسلام کے ساتھ باطل نظریات کی پیوند کاری کا سوچو گے تو یہ اللہ کی تابعداری نہیں بلکہ شیطان کی اتباع تصور ہوگی۔ شیطان تمہارا ابدی، ازلی اور کھلا دشمن ہے۔ ایسے دشمن سے خیر کی توقع رکھنے والا کبھی خیر نہیں پاسکتا۔ تمہاری ہر قسم کی سلامتی اور دنیا وآخرت کی بھلائی اسلام میں مضمر ہے۔ کیونکہ اسلام کا نام اور پیغام ہر قسم کی سلامتی کا ضامن ہے۔ اگر تم واضح ہدایات کے باوجود سلامتی کے اس راستے سے ہٹ گئے تو یاد رکھو اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب کرنے والا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اپنی قوت اور طاقت کے ذریعے منکروں کو حلقۂ اسلام میں داخل کرسکتا تھا۔ لیکن اس کے ہر کام میں حکمت اور دانائی پنہاں ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ ہدایت کا معاملہ جبر کی بجائے لوگوں کے فہم و شعور اور مرضی پر چھوڑ دیا جائے۔ جن لوگوں کو تم راضی کرنے کے درپے ہو ان کے پاس ہر قسم کے دلائل آچکے ہیں۔ اب تو یہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ بذات خود ملائکہ کا لشکر لے کر بادلوں کے سایہ میں ان کے سامنے جلوہ گر ہو اور انہیں اسلام کی دعوت دے۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ فرشتوں کو کسی کام کے فیصلے کے لیے بھیجتے ہیں تو پھر نہ اس میں تاخیر ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے فیصلے کے سامنے کوئی دم مار سکتا ہے۔ قوم نوح‘ قوم لوط اور قوم عادو ثمود کی بستیاں اور علاقے زبان حال سے بول بول کر اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ اللہ کی نافرمانی کرنے والو ہمیں نگاہ عبرت سے دیکھو کہ ہمارا انجام کیا ہوا؟ ایسے لوگوں کو جلد بازی کے بجائے انتظار کرنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار اختیار سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ بالآخر سب کچھ اسی کے حضور پیش ہونے والا ہے۔ مسائل : 1۔ اسلام میں کامل طور پرداخل ہونا چاہیے۔ 2۔ اسلام سے باہر اٹھنے والا قدم شیطان کی اتباع تصور ہوگا۔ 3۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ غالب اور اس کے کاموں میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔ 5۔ ہدایت کے بعد گمراہ ہونے والوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ 6۔ فیصلے کا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور سب کچھ اسکے حضور پیش ہونے والا ہے۔ 7۔ ملائکہ اللہ کے حکم کے مطابق کاروائی کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : اللہ ہی مختار کل ہے : 1۔ ہر کام اللہ کے سپرد کرنا چاہیے۔ (البقرۃ:210) 2۔ ہر کام کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔ (الحج :41) 3۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (البروج :16) 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرہ :20) 5۔ نبی (ﷺ)کسی پر عذاب نازل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ (آل عمران: 128) 6۔ رسول اللہ (ﷺ) کو منافقین کے لیے دعا اور ان کی قبروں پر جانے سے روک دیا گیا۔ (التوبۃ:84) 7۔ نبی مشرک کے لیے دعائے مغفرت کرنے کا مجاز نہیں۔ (التوبۃ: 113) 8۔ اللہ تعالی رسول اللہ (ﷺ) کی رضا کا پابند نہیں۔ (التوبۃ: 96) 9۔ رسول اللہ (ﷺ) نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ (الجن: 21) (القصص: 56) البقرة
209 البقرة
210 البقرة
211 فہم القرآن : (آیت 211 سے 212) ربط کلام : بنی اسرائیل کے مطالبات کے بعد ان سے سوال کیا گیا کہ تم مزید معجزات اور دلائل کا مطالبہ کرتے ہو یہ بتاؤ کہ تم نے پہلے دلائل اور معجزات کا کیا مثبت جواب دیا ہے؟ دراصل تم دنیا پر فریفتہ ہونے کی وجہ سے حق سے جی چراتے ہودنیا تو عارضی ہے جب کہ آخرت ہمیشہ کے لیے ہے۔ مکہ والوں کے سامنے بے شمار حقائق اور دلائل واضح ہوچکے تھے لیکن اس کے باوجودوہ مزید براہین کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ ان کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اگر انہیں مزید دلائل کی ضرورت ہے تو بنی اسرائیل کے منصف مزاج لوگوں کو خاص کر ان میں جو مسلمان ہوچکے ہیں ان سے پوچھیں کہ جب ان کے آباء و اجداد کو لاتعداد نعمتوں سے نوازا گیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یکے بعد دیگرے ایک سے بڑھ کر ایک معجزات پیش کیے تو کیا اس کے بعد انہوں نے حق قبول کرلیا تھا؟ نہیں! بلکہ انہوں نے حق قبول کرنے کے بجائے نعمتوں کی ناقدری اور دین کو تبدیل کرنے کی مذموم کوششیں کیں‘ انہیں فرعون کے مظالم سے نجات ملی تو برسر اقتدار آکر وہی ظلم روا رکھے‘ فرعون کے غرق ہونے کے بعد دریا عبور کرکے ابھی راستے ہی میں تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بتوں کے سامنے اعتکاف کرنے اور ان کی عبادت کی اجازت مانگنے لگے۔ جناب موسیٰ (علیہ السلام) طورپرگئے تو بچھڑے کو معبود بنالیا، بیت المقدس میں فتح کی ضمانت ملنے کے باوجود داخلے سے انکار کردیا، وادئ تیہ میں چالیس سال کی سزا بھگتنے کے بعد جب بیت المقدس میں داخل ہوئے تو عاجزی اور استغفار کرنے کے بجائے حِطَّۃٌ کو حِنْطَۃٌ میں تبدیل کرکے اللہ سے بخشش مانگنے کے بجائے گندم کا مطالبہ شروع کردیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے حکم اور دین کی شکل بگاڑنے کی کوششیں کی۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کا حوالہ دے کر منافقوں‘ مشرکوں اور اہل کتاب کو سمجھایا جارہا ہے کہ جو بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناقدری اور اس کو تبدیل کرے گا‘ دنیا میں رسوائی اور آخرت میں اس کے لیے بربادی ہوگی۔ یہاں نعمت سے مراد دین حق کی نعمت ہے۔ دین حق کی بے حرمتی اور ناقدری کے بنیادی اسباب میں سب سے بڑا سبب دنیا کی زیب وزینت پر منکرین آخرت کافریفتہ ہونا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا سب کے لیے حسین اور پر کشش ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ مومن نعمتوں کو اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بناتا ہے اور بےدین انسان اسی پر قانع ہو کر اپنی آخرت تباہ کرلیتا ہے۔ مومن ایمان کی دولت کے بدلے دنیا کی دولت کو ترجیح نہیں دیتا‘ چاہے دنیا کی نظر میں اسے کروڑوں کا نقصان برداشت کرنا پڑے اور اپنے ہم عصروں اور برادری سے کتنا ہی پیچھے رہنا پڑے۔ جب کہ کافر دنیا کی زیب وزینت پرنظر جمائے ہوتا ہے۔ وہ چند دمڑیوں کی خاطر ایمان اور جاہ و حشمت کے لیے اپنی غیرت وضمیر کا سودا کرنے سے باز نہیں آتا۔ ایسے دنیا پرست کی نظر میں مومن کا کردار کس طرح معیاری اور قابل رشک ہوسکتا ہے ؟ اسی بنا پر وہ مومنوں کو بے وقوفی اور تمسخر کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ان احمقوں اور رذیلوں کی پیروی کریں ؟ کیا یہی لوگ انقلاب برپا کریں گے ؟ اس فرمان میں واضح کیا جا رہا ہے کہ ایمان کے بغیر دنیا کی نعمتوں اور برتری میں اللہ تعالیٰ کی رضا نہیں ہے۔ وہاں تو ایمان کی نعمت اور خوفِ الٰہی کی دولت ہی کام آئے گی۔ اسی کی بدولت مومن آخرت میں کفار سے ممتاز اور بلند وبالا ہوں گے۔ دنیا میں مومن پر حرام کمانے اور کھانے کی پابندی تھی۔ جس کی وجہ سے کفار اور حرام خور لوگ مومنوں سے دنیاوی ترقی میں آگے نکل گئے لیکن قیامت میں مومنوں کو بے انتہا رفعت وعظمت اور بے حساب رزق سے نواز اجائے گا اور منکرین کو ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مسائل : 1۔ دین کو تبدیل کرنے والا سخت عذاب کا مستحق ہوگا۔ 2۔ کفار کے لیے دنیا دلفریب بنادی گئی ہے۔ 3۔ صاحب تقو ٰی ایمان دار قیامت کے دن کافروں سے بلند ہوں گے۔ 4۔ رزق اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے جتنا اور جسے چاہے عطا فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بدلنے کی سزا : 1۔ نعمت تبدیل کرنے والے کو سخت ترین عذاب ہوگا۔ (البقرۃ :211) 2۔ نعمت تبدیل کرنے والا دنیا وآخرت میں ذلیل ہوگا۔ (البقرۃ:61) 3۔ دین اسلام کے سوا دوسرا دین تلاش کرنے والے سے دوسرا دین قبول نہ ہوگا۔ (آل عمران :85) البقرة
212 البقرة
213 فہم القرآن: ربط کلام : دنیاوی فوائد، سماجی، سیاسی، اور مذہبی اختلافات کی وجہ سے امت کی وحدت ختم ہوگئی۔ وحدت اور دین حق کے احیاء کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء مبعوث فرمائے۔ لوگوں نے ان سے بھی اختلاف کیا حالانکہ انبیاء‘ اختلافات مٹانے کے لیے آئے تھے۔ قرآن و حدیث کے علم سے بے بہرہ دین دشمن مستشرقین اور نام نہاد دانش مندوں نے کئی نسلوں سے یہ پروپیگنڈہ کر رکھا ہے کہ انسان تخلیقی طور پر تاریکی اور شرک کے ماحول میں پیدا ہوا ہے۔ اسی لیے انسان نے نسل در نسل ارتقاء کے بعد آہستہ آہستہ اپنے خالق کو پہچانا ہے۔ یہ باطل نظریات انگلش لٹریچر میں منظم طریقے کے ساتھ پھیلائے گئے ہیں اسی نظریے کی بنیاد پر عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر گناہگار پیدا ہوا ہے۔ قرآن مجید ایسے نظریے اور معلومات کی نفی کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ انسان اپنی تخلیق کے وقت ہی توحید کے تصور سے اس قدر آشنا ہوچکا تھا کہ اسے اپنے خالق کا اعتراف کرتے ہوئے ذرّہ برابر بھی تأمّل نہ ہوا۔ اس کی گرہ کشائی کے لیے سورۃ الاعراف آیت 172تا 174کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔ ” اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں ! ہم سب گواہ ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے۔ یا یوں کہو کہ پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا؟ ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں تاکہ وہ باز آجائیں۔“ یہاں اسی نقطہ کی وضاحت کی جارہی ہے کہ انسان فطری وبنیادی طور پر ایک نظریے کے حامل ہونے کی بنا پر ایک ہی جماعت تھے اور ان کی فطرت میں دین اسلام سمودیا گیا ہے۔ لیکن بعد ازاں وہ توحید کے نظریے سے دور ہوئے اور ان کی وحدت بھی پارہ پارہ ہوتی چلی گئی۔ رسول محترم (ﷺ) نے اپنے مخصوص الفاظ میں انسانی فطرت کی اس طرح ترجمانی فرمائی ہے : (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ أَوْیُنَصِّرَانِہٖ أَوْیُمَجِّسَانِہٖ کَمَثَلِ الْبَھِیْمَۃِ تُنْتِجُ الْبَھِیْمَۃَ ھَلْ تَرٰی فِیْھَا جَدْعَاءَ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز‘ باب ماقیل فی أولاد المشرکین] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا : ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی، یا عیسائی، یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ چوپائے کی طرح جب جانور جنم لیتا ہے تو کیا تم اس میں کوئی کان کٹا ہوا پاتے ہو؟“ چنانچہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت ادریس (علیہ السلام) کی وفات تک پوری انسانیت نظریۂ توحید پر قائم رہتے ہوئے ایک جماعت اور کنبے کے طور پر زندگی بسر کر رہی تھی۔ اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) سے قبل لوگوں میں پہلی دفعہ شرک پھیلنے لگا۔ شرک کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی لوگ ایک دوسرے سے دور اور منتشر ہوتے چلے گئے کیونکہ توحید وحدت کا سبق دیتی ہے اور شرک انتشار کاسبب ہوتا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت اور انہیں یکجا رکھنے کے لیے حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد (ﷺ) تک سلسلۂ نبوت جاری فرمایا۔ ان میں سے کئی انبیاء کو ضخیم کتابیں اور کچھ نبیوں کو صحائف اور باقی کو ایک دوسرے کی تائید کے لیے مبعوث فرمایا تاکہ وہ پیش آمدہ مسائل اور اختلافات میں لوگوں کو حق اور سچ کی طرف بلائیں اور ان کے باہمی اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ اختلاف پیدا کرنے میں پیش پیش رہے جن کے پاس پہلے سے آسمانی ہدایت اور دلائل آچکے تھے۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی بنیادی وجہ حسد وبغض، اور ایک دوسرے پر مذہبی، معاشی، سیاسی اور شخصی بالا دستی حاصل کرنے کی کوشش تھی۔ جسے ﴿بَغْیًا بَیْنَھُمْ﴾ سے تعبیر کیا گیا۔ ایسے نام نہاد تعلیم یافتہ لوگوں نے اختلافات کو اس قدر ہوادی کہ جس میں حقیقت کو پہچاننا عام انسان کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا گیا۔ تاہم وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہر دور میں ہدایت پاتے رہے جنہوں نے اخلاصِ نیّت کے ساتھ ہدایت کی جستجو کی۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہی سے دوچار کرتا ہے۔ اگر ان الفاظ کا وہی معنی لیا جائے جو حیلہ سازلوگ لیتے ہیں کہ ہدایت اور گمراہی اللہ کے اختیار میں ہے تو ہدایت نہ پانے میں ہمارا کیا قصور ہے؟ ایسے لوگوں کی بات تسلیم کرلی جائے تو انبیاء کی تشریف آوری، ان کی لازوال جدوجہد اور قیامت کے دن جزاء وسزا کا تصور ہی ختم ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت کو جاننے کے لیے عقیدہ کے اس بنیادی اصول کو سامنے رکھیے جس میں انسان کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جس طرح کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملک ہے۔ اسی طرح ہدایت اور گمراہی بھی اللہ کی ملک اور اس کے اختیار میں ہے۔ کائنات میں سب سے گراں قدر نعمت ہدایت ہے۔ یہ انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو اس کے طالب اور متلاشی ہوا کرتے ہیں۔ جوہدایت سے انحراف کرتے ہیں ان کے لیے گمراہی کاراستہ آسان ہوتا ہے۔ اس مفہوم کو قرآن مجید ﴿یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ﴾ [ النحل :93] کے الفاظ سے بیان کرتا ہے۔ مسائل : 1۔ ہر انسان فطرت سلیم اور عقیدۂ توحید پر پیدا ہوتا ہے۔ 2۔ حق پہنچانے اور اختلافات مٹانے کے لیے انبیاء مبعوث ہوئے۔ 3۔ اختلافات کی بنیادی وجہ توحید سے بغاوت اور ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کی رہنمائی کرتا ہے۔ 5۔ ہدایت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے دے دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : نبوت کے مقاصد : 1۔ بعثت انبیاء کے مقاصد۔ (البقرہ : 213، المزمل : 15، الجمعۃ:2) 2۔ انبیاء تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتے ہیں۔ (ابراہیم : 1، 5) 3۔ انبیاء کا مقصد لوگوں میں عدل وانصاف قائم کرنا۔ (النساء :105) 4۔ نبی کو حق کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ (صٓ:26) 5۔ رسول (ﷺ) حق کے ساتھ فیصلہ کرنے والے ہیں۔ (المائدۃ:42) 6۔ رسول (ﷺ) شاہد اور مبشر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ (الأحزاب :45) 7۔ رسول (ﷺ) رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث کیے گئے۔ (الأنبیاء :107) 8۔ رسول (ﷺ) شفیق ومہربان بناۓ گئے ہیں۔ (آل عمران :159) البقرة
214 فہم القرآن : ربط کلام : مومن دنیا کی لذات اور باہمی اختلافات سے بچنے کے لیے اکثر اوقات نقصان اٹھاتے ہیں۔ اس سے انہیں تسلی دی جارہی ہے کہ جنت کی بیش بہا نعمتوں کے لیے یہ نقصان اٹھانا ہی پڑے گا۔ اس کے لیے اپنے سے پہلے ایمان والوں کا کردار سامنے رکھو کہ انہوں نے کیا کچھ نہیں کیا تب جا کر اللہ تعالیٰ کی مدد کے مستحق قرار پائے۔ مکہ میں مسلمانوں کا ہر طرف سے حلقۂ حیات تنگ کردیا گیا، معاشی بائیکاٹ اور کمزوروں کو ہر قسم کے مظالم کا تختۂ مشق بنایا گیا۔ یہاں تک کہ معصوم خواتین پر جور واستبداد سر عام ہورہا تھا۔ ان حالات میں مجبوروں اور مظلوموں کے دلوں کا غم سے چور چور ہونا اور ان کا رسول کریم (ﷺ) کی خدمت میں فریاد کرنا ایک فطری عمل تھا۔ جب آپ کے حضور یہ رودادِ غم پیش کی جارہی تھی تو آپ بیت اللہ کے ساتھ ٹیک چھوڑ کر سیدھے بیٹھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے ساتھیو! کیا تم ابھی سے حوصلہ پست کربیٹھے ہو؟ جب کہ ہم سے پہلے ایمان داروں پر اس قدر ظلم کیے گئے کہ انہیں آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کردیا گیا اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کے جسم تارتار کردیے گئے لیکن پھر بھی وہ دین حق پر قائم رہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب مالقی النبی () وأَصحابہ من المشرکین بمکۃ] اس پس منظر کے ساتھ مسلمانوں کو سمجھایا جارہا ہے کہ کیا تم امتحانات سے گزرے اور آزمائشوں میں مبتلا ہوئے بغیر نعمتوں اور عزتوں سے بھر پور جنت میں داخل ہوجاؤ گے؟ ایسا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جتنی منزل اہم اور مقصد عظیم ہوتا ہے اس کے لیے اتنی ہی جدوجہد اور قربانیاں دیناپڑتی ہیں۔ کیا تم نے پہلے لوگوں کی بے پناہ مشکلات اور لازوال جدوجہد پر غور نہیں کیا کہ جب ان کو جنگ وجدل‘ غربت وافلاس اور امتحانات ومشکلات کے ساتھ اس قدر آزمایا گیا کہ ان کے عزم واستقلال سے بھر پور قدم بھی ڈگمگانے لگے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ وقت کارسول اور اس کے عظیم ساتھی شدت غم سے بہ تقاضائے بشریت بے ساختہ پکار اٹھے کہ اے اللہ تعالیٰ تیری مدد کب آئے گی؟ جونہی وہ کربناک حالات میں سرخرو ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دامن رحمت میں لیتے ہوئے تشفی دی کہ یقین رکھو! گھبرانے نہ پاؤ میری رحمت تمہارے سروں پر سایہ فگن ہوچکی ہے۔ اس میں رسول اللہ (ﷺ) اور آپ کے متّبعین کے لیے یہ پیغام تسلی ہے کہ اے نبی! تم عظیم ترین انسان اور رسول ہو آپ کی امت بھی امتوں میں عظیم تر ہے۔ تمہیں اپنے قدموں میں کمزوری لانے کے بجائے مضبوط اور بھر پور طریقے کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ تمہاری بے مثال جدو جہد تمہارے رب کے سامنے ہے۔ وہ قادر مطلق تمہاری اس طرح مدد فرمائے گا کہ تمہارا نام اور کام ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔ چنانچہ کائنات کا ذرّہ ذرّہ اس حقیقت پر گواہ ہے کہ آپ (ﷺ) پر اللہ کی رحمت ونصرت اس طرح نازل ہوئی کہ مکہ اور جزیرہ نمائے عرب ہی نہیں بلکہ قیصرو کسریٰ بھی آپ کے سامنے سر نگوں ہوئے اور قرآن مجید میں بارہا یہ اعلان ہوا کہ اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہوا اور وہ اپنے رب پہ راضی ہوگئے۔ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَ ۃَ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () قَالَ : حُجِبَتِ النَّار بالشَّھَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بالْمَکَارِہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب حجبت النار بالشھوات ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ جہنم کی آگ کو شہوات سے اور جنت کو مشکلات سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ اَوْفٰی (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () قَالَ : وَاعْلَمُوْآ أَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَال السُّیُوْفِ) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر، باب الجنۃ تحت بارقۃ السیوف] ” عبداللہ بن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جان لو ! یقینًا جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔“ مسائل : 1۔ جنت آزمائشوں کے بغیر نہیں ملتی۔ 2۔ حق پر قائم رہنے والے کی اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ بندے کے قریب ہوا کرتی ہے۔ تفسیر بالقرآن: آزمائش شرط ہے : 1۔ جنت میں داخلہ کے لیے آزمائش شرط ہے۔ (العنکبوت :2) 2۔ پہلے لوگوں کو بھی آزمایا گیا۔ (العنکبوت :3) 3۔ ڈر سے آزمائش۔ (البقرۃ:155) 4۔ فاقوں سے آزمائش۔ (البقرۃ:155) 5۔ مال و جان کی کمی کے ساتھ آزمائش۔ (البقرۃ:155) البقرة
215 فہم القرآن : ربط کلام : اس سوال کا جواب یہاں اس لیے دیا گیا ہے کہ لوگو! مشکلات اور مصائب میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔ کیونکہ صدقہ رد بلا ہوتا ہے۔ اللہ کی رضا کے طالب عسر و یسر میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ مومنوں کی صفت ہے۔ یہاں پے در پے چھ سوالات کے جواب دیئے جارہے ہیں۔ جب کہ دوسوالوں کے جواب دعا اور چاند کے متعلق دیئے جاچکے ہیں۔ قرآن مجیدنے زیادہ سوالات کرنے کی حوصلہ شکنی کی ہے لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ ضرورت کے تحت بھی سوال نہ کیا جائے۔ بعض سوال اس قدر ناگزیرہوتے ہیں جن کے بغیر سامعین حقیقت حال کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتے۔ لہٰذا جائز سوال کرنے کی اجازت ہی نہیں بلکہ حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کا تفصیل کے ساتھ جواب دیتے ہوئے ضمنی وضاحتیں بھی کردی گئیں۔ چنانچہ آیت 215سے 223تک یہی اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ کیا خرچ کریں؟ فرمایا : اپنے مال سے خرچ کرو۔ یہاں مال کو خیر قرار دیتے ہوئے فرمایا تم جو بھی کروگے اللہ تعالیٰ اسے اچھی طرح جانتا ہے پھر اس کی مدّات کی تفصیل پیش فرمائی کہ سب سے پہلے والدین کی خدمت، دلجوئی اور ان کے ساتھ احسان سے پیش آیاجائے۔ کیونکہ ہر والدین حسب استطاعت پہلے اپنی اولاد پر خرچ کرتے ہیں لہٰذا جب اولاد اس قابل ہو تو انہیں بھی والدین کو اولیّت دینی چاہیے۔ ان کے بعد مستحق رشتہ داروں کی باری آتی ہے۔ پھر معاشرہ کے نہایت ہی پسماندہ طبقہ یتیموں کا حق ہے اور ان کے بعد مساکین اور غریب الوطن لوگوں کا استحقاق بنتا ہے۔ رسول کریم (ﷺ) سے اس ضمن میں سوال ہوا تو ارشاد فرمایا : والدین میں ماں کی خدمت کیجیے ! تین دفعہ یہی ارشاد فرمانے کے بعد والد کا نام لیا اور پھر فرمایا کہ (ثم الاقرب فالأقرب) پھر جو ان کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ [ رواہ أبو داوٗد : کتاب الأدب، باب فی بر الوالدین] یہ ترتیب ایسی ہے جس کے لیے بڑے بڑے رجسٹروں اور دفاتر کی ضرورت نہیں۔ شہری ہو یا دیہاتی ہر کوئی اپنے رشتہ داروں کو جانتا ہے۔ کون ان میں ضرورت مند اور کون سا شخص صدقات سے مستغنی ہے؟ پھر دنیا میں شاید ہی کوئی بد قسمت ہوگا جس کا کوئی بھی قریبی نہ ہو۔ خدانخواستہ اگر کوئی بالکل لاوارث ہے تو بیت المال اس کی کفالت کرے گا۔ یہ ایسا فطری اور جانا پہچانا نظم ہے کہ جس سے کوئی بھی غریب اور مسکین محروم نہیں رہ سکتا لیکن افسوس! مسلمانوں نے جس طرح شریعت کے دوسرے احکامات کا حلیہ بگاڑ ا ہے۔ ایسے ہی اس فطری فہرست اور نظم کو توڑ کر گدا گری میں اضافہ کیا ہے۔ جس سے گداگر تو کئی جگہوں سے تعاون حاصل کرلیتے ہیں لیکن سفید پوش حضرات غربت کی چکّی میں اسی طرح پستے رہتے ہیں۔ اگر مسلمان مالدار منہ ملاحظوں اور خوشامدوں سے پرہیز کرتے تو نظم قائم رہنے کے ساتھ باہمی محبتیں بھی برقرار رہتیں۔ یہاں صدقہ سے مراد فرضی صدقات نہیں۔ کیونکہ زکوٰۃ والدین پر خرچ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ عام صدقات انفرادی طور پر خرچ کرنا بہتر ہیں اور زکوٰۃ اجتماعی طور پر صرف کرنا افضل ہے۔ ابن السبیل : جہاں تک مسافر کے ساتھ تعاون کا تعلق ہے۔ آپ نے مسافر کی پریشانی کو اس قدر اہمیت دی اور ارشاد فرمایا : (لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلٰی فَرَسٍ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب الزکوٰۃ، باب حق السائل ] ” اگر سائل گھوڑے پر سوار ہو کر کسی کے ہاں آکر سوال کرے تو اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔“ نامعلوم وہ کس حادثے کا شکار ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے بظاہر خوشحال دکھائی دیتے ہوئے بھی سوال کرنے پر مجبور ہے۔ مسائل : 1۔ رزق خیر ہے۔ 2۔ تعاون کے پہلے مستحق والدین ہیں۔ 3۔ والدین کے بعد رشتہ دار‘ یتیم‘ مسکین اور ضرورت مند مسافر۔ 4۔ صدقہ کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر نیکی کو جاننے والا ہے۔ تفسیربالقرآن : انفاق فی سبیل اللہ کانظام : 1۔ وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کس طرح مال خرچ کریں؟ کہہ دو جو مال خرچ کرنا چاہووہ والدین، قریبی رشتہ داروں یتیم، مساکین اور مسافروں پر خرچ کرو۔ (البقرۃ:215) 2۔ صدقات مفلسوں، محتاجوں، عاملین، تالیف قلب، غلاموں کی آزادی، قرض داروں، اللہ کی راہ اور مسافروں کے لیے ہیں۔ (التوبۃ:60) 3۔ اپنے صدقات ان فقرأ پر خرچ کرو جو اللہ کی راہ میں محبوس کردیے گئے ہیں۔ (البقرہ :273) البقرة
216 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا اور جان قربان کرنا دونوں مشکل ترین کام ہیں۔ اس لیے انہیں ایک دوسرے کے بعد ذکر کیا ہے جہاد میں دونوں لازم وملزوم ہوتے ہیں۔ ہرمعاشرے اور قوم میں ایسے لوگ بھی ہوا کرتے ہیں جو مشکل حالات میں جذباتی ہو کر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوجایا کرتے ہیں۔ لیکن کفار کے ساتھ باضابطہ مقابلے کے وقت آگے بڑھنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ میدان کارزار میں اترنا ہر کسی کے دل گردہ کی بات نہیں۔ لہٰذا لوگوں کو انگیخت دینا اور تیار کرنا پڑتا ہے۔ اس فرمان میں ایسی ہی صورت حال کی طرف اشارات پائے جارہے ہیں۔ جس سے اس الزام کی از خود نفی ہورہی ہے جو غیر مسلم مسلمانوں پر لگایا کرتے ہیں کہ مسلمان بنیادی طور پرجنگجو اور جارح قوم ہے۔ یہاں تو عیاں ہورہا ہے کہ رسول کریم (ﷺ) کے زمانے میں بھی کچھ مسلمان ابتداءً جنگ سے کتراتے تھے۔ لیکن جب مسلمانوں پر ایسے حالات ٹھونس دیے جائیں کہ جنگ کے بغیر چارہ کار نہ ہو تو پھر لڑنے مرنے کا فیصلہ کرنا مسلمانوں کا اختیار نہیں رہتا ان حالات میں آسمانی حکم ہے۔ ایسی صورت حال میں لڑائی سے جی چرانا اپنے آپ کو دشمن کے کے حوالے کرنا ہے۔ اللہ عالم الغیب جانتا ہے کہ بہتری اور خیر کس کام میں زیادہ ہے۔ کیا کوئی شخص یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ اس کام میں خیر زیادہ اور دوسرے میں بہتری کم ہے ؟ فرمایا ہرگز نہیں! خیر اور نقصان کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ تمہاری خیر اللہ کے حکم ماننے میں ہے۔ لہٰذا مال بھی خرچ کرو اور جان بھی لڑاؤ۔ اس سے دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے ہر صورت اس پر عمل کرنا مسلمان پر فرض ہے۔ مسائل : 1۔ خیر وشر کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ 2۔ انسان کسی چیز کو اپنے لیے بہتر سمجھتا ہو تو ضروری نہیں وہ بہتر ہو۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر کام کی حکمت جانتا ہے انسان نہیں جانتا۔ البقرة
217 فہم القرآن : ربط کلام : سوال و جواب کا سلسلہ جاری ہے۔ جس میں قتال فی سبیل اللہ کے بارے میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ حرمت کے مہینوں میں قتال کرنے میں ابتدا نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی جائے تو پھر حرمت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کی مکمل طور پر اجازت ہے۔ سورۃ التوبۃ کی آیت 36میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق فرمائی اسی وقت سے سال کے بارہ مہینے مقرر کیے اور ان میں چار مہینوں کو حرمت والے قرار دیا جن کے نام حدیث میں ذی قعدہ‘ ذوالحجہ‘ محرم اور رجب ہیں۔ اسی وقت سے لے کر لوگوں میں ان کا احترام پایا جاتا ہے۔ اہل عرب اپنی خود غرضی کی بنا پر ان مہینوں کی جگہ دوسرے مہینے شمار کرکے حرمت کے مہینوں میں لوٹ کھسوٹ اور جنگ وجدال کرلیا کرتے تھے لیکن بنیادی طور پر ان مہینوں کے احترام کے قائل تھے۔ ہوایہ کہ اہل مکہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے رسول کریم (ﷺ) نے عبداللہ بن جحش (رض) کی سر کردگی میں آٹھ آدمیوں کا ایک دستہ نخلہ کے مقام پر بھیجا۔ جو طائف اور مکہ کے درمیان ایک علاقہ ہے۔ یونٹ کے سربراہ کو ایک بند لفافہ دیا کہ دو دن کا سفر طے کرنے کے بعد اسے کھول کر میری ہدایات کے مطابق عمل کرنا۔ چنانچہ دو دن کے بعد حضرت عبداللہ (رض) نے تحریر دیکھی تو اس میں یہ درج تھا ” جب میری یہ تحریرپڑھوتواس کے مطابق آگے بڑھتے جاؤ یہاں تک کہ مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں اترو۔ وہاں قریش کے ایک قافلے کی گھات میں لگ جاؤ اور ہمارے لیے ان کی خبروں کا پتہ لگاؤ۔“ انہوں نے سمع وطاعت کی اور اپنے رفقاء کو اس کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا کہ میں کسی پر جبر نہیں کرتا۔ (مَنْ کَانَ لَہُ رَغْبَۃًفِیْ الشَّھَادَۃَ فَلْیَنْطَلِقْ مَعِیَ فَاِنِیْ مَاضٍ لِاَمْرِ رسُوْلُ اللّٰہِ () وَمَنْ کَرِہ فَلْیَرْجِعْ فَاِنَّ رَسُوْلُ اللّٰہ () قَدْ نَہَا نِیْ اَنْ اُسْتُکْرَہُ مِنْکُمْ اَحَدا فَمَضٰی مَعَہُ الْقَوْمُ) [ سنن البیہقی : باب قسمۃ الغنیمۃ فی دار الحرب] ” جسے شہادت محبوب ہو وہ اٹھ کھڑا ہو اور جسے موت ناگوار ہو وہ واپس چلاجائے۔ باقی رہا میں ! تو میں بہر حال آگے جاؤں گا۔ اس پر سارے رفقاء اٹھ کھڑے ہوئے اور منزل مقصود کے لیے چل پڑے۔“ البتہ راستے میں سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان (رض) کا اونٹ غائب ہوگیا جس پر یہ دونوں بزرگ باری باری سفر کررہے تھے۔ اس لیے یہ دونوں پیچھے رہ گئے۔ حضرت عبداللہ بن جحش (رض) نے طویل مسافت طے کر کے نخلہ میں نزول فرمایا۔ وہاں سے قریش کا ایک قافلہ گزرا جو کشمش، چمڑا اور دیگرسامان تجارت لیے ہوئے تھا۔ قافلہ میں عبداللہ بن مغیرہ کے دو بیٹے عثمان اور نوفل اور ان کے ساتھ عمرو بن حضرمی اور حکیم بن کیسان مولیٰ مغیرہ تھے۔ مسلمانوں نے باہم مشورہ کیا کہ آخر کیا کریں؟ آج رجب کا آخری دن ہے اگر ہم لڑائی کرتے ہیں تو اس حرام مہینے کی بے حرمتی ہوتی ہے اور رات بھر رک جاتے ہیں تو یہ لوگ حدود حرم میں داخل ہوجائیں گے۔ اس کے بعد سب کی یہی رائے ہوئی کہ حملہ کردینا چاہیے۔ چنانچہ ایک شخص نے عمرو بن حضرمی کو تیر مارا اور اس کا کام تمام کردیا۔ باقی لوگوں نے عثمان اور حکیم کو گرفتار کرلیا البتہ نوفل بھاگ نکلا۔ اس کے بعد یہ لوگ دونوں قیدیوں اور سامان لیے ہوئے مدینہ پہنچے۔ انہوں نے مال غنیمت سے خمس بھی نکال لیا تھا اور یہ اسلامی تاریخ کا پہلا خمس، پہلا مقتول اور پہلے قیدی تھے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ان کی اس حرکت پر باز پرس کی اور فرمایا کہ میں نے تمہیں حرام مہینے میں جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا ؛ اور سامان قافلہ اور قیدیوں کے سلسلے میں کسی بھی طرح کے تصرف سے ہاتھ روک لیا۔ اس کے باوجودمکہ والوں کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو انہوں نے اس ہنگامی اور اتفاقی واقعہ کو مذہبی رنگ دے کر مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کا طوفان برپا کردیا کہ مسلمان ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کا خیال نہیں رکھتے اور ملّتِ ابراہیم (علیہ السلام) کے شعار کو پامال کرتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی مذہب نہیں۔ ان الزامات کا جواب دینے سے پہلے وضاحت فرمائی کہ یہ حرمت والے مہینے ہیں اور ان میں قتال کرنا واقعی گناہ ہے۔ لیکن یہاں کفار کو بھی ان کے اعمال کا آئینہ دکھاتے ہوئے ان کے مظالم کی ایک فہرست سامنے رکھ دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں رکاوٹ بننا، دین حق کا انکار کرنا، بیت اللہ سے صحابہ کو روکنا اور مکہ سے مسلمانوں کو نکالنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے سے کئی گنا بڑے جرائم ہیں۔ پھر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا قتل سے بدتر جرم ہے۔ اس وضاحت اور تنبیہ کے بعد مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کفار کے عزائم سے آگاہ رہوکہ اگر ان کا بس چلے تو ان کی اوّل وآخر کوشش ہوگی اور ہے کہ تمہیں تمہارے سچے دین سے پھیر دیں۔ یاد رکھو جو کوئی دین حق سے مرتد ہوگیا اور کفر کی حالت میں اسے موت آگئی تو ایسے لوگوں کے تمام اعمال دنیا وآخرت میں ضائع کردیے جائیں گے۔ دنیا میں اعمال ضائع ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اپنے نظریہ اور صحیح موقف سے پھرجانے والے پر کوئی اعتماد نہیں کیا کرتا۔ دنیا میں اس کا نام ذلّت ورسوائی کا نشان بن کے رہ جاتا ہے۔ آخرت میں یہ لوگ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔ جس میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : (مَنْ بَدَّل دِیْنَہٗ فَاقْتُلُوْہُ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھادوالسیر] ” جس نے اپنے دین کو تبدیل کرلیا اسے قتل کردو۔“ مسائل : 1۔ حرمت کے مہینوں میں جنگ کرنا گناہ ہے۔ 2۔ اللہ کے راستے میں رکاوٹ بننا، دین کا انکار کرنا، بیت اللہ سے لوگوں کو منع کرنا، کمزوروں کو ہجرت پر مجبور کرنا اور دین و مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا قتل اور لڑائی سے بڑا گناہ ہے۔ 3۔ مرتد کے دنیا اور آخرت میں تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں اور وہ واجب القتل ہے۔ 4۔ ارتداد اور کفر کی حالت میں مرنے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ تفسیربالقرآن : مرتد کی سزا : 1۔ مرتد ہونے والے کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔ (آل عمران :90) 2۔ ارتداد میں مرنے والوں کو عذاب ہوگا۔ (البقرۃ :217) 3۔ مرتد ہونے والا اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ (آل عمران :144) البقرة
218 فہم القرآن : ربط کلام : کفار کی جدّو جہد دین اور مسلمانوں کے خلاف ہے۔ لہٰذا ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ مسلمانوں کی کوشش وکاوش اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ہمیشہ کی جنت ہے۔ جس میں انہیں حیات جاوداں نصیب ہوگی۔ بعض لوگ سچے ایمان اور صالح کردار کے بغیر جنت کے وارث بننے کا دعو ٰی کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کا فرمان ہے کہ جب تک مسلمان مخلص ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے مال و جان کی قربانی پیش نہیں کرو گے۔ اس وقت تک تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت نصیب نہیں ہوسکتی۔ اسی نظریہ کی دو ٹوک وضاحت کی جارہی ہے کہ بلا شک جو لوگ خلوص دل کے ساتھ ایمان لائے، عزم واستقامت کا مظاہرہ کیا اور ایمان و ایقان کی خاطر انہیں باغ وبہار‘ کاروبار اور مکان ومقام بھی چھوڑنے پڑے تو وہ بے پروا ہو کر نکل پڑے۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی سر بلندی کے لیے میدان جنگ وجدال میں اترنا پڑا تو قربانیوں کی ایسی داستانیں رقم کرتے چلے گئے کہ رہتی دنیا تک ان کی جرأت وبہادری کو شہسوارِجنگ خراج تحسین پیش کرتے رہیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اپنے رب کی رحمتوں اور نعمتوں کا حق دار ٹھہرا لیا ہے۔ اگر ان سے بتقاضائے بشریت خطائیں سرزد ہوگئیں تو انہیں پورا یقین رکھنا چاہیے کہ ان کا رب ان کو ضرور معاف کرے گا۔ وہ تو ہمیشہ سے معاف فرمانے والا اور نہایت ہی شفیق ومہربان ہے۔ یاد رہے کہ علمی، مالی، جانی اور ذاتی صلاحیتوں کو اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے وقف کرنے کا نام جہاد ہے۔ تفسیربالقرآن : خدا کی رحمت کے مستحق کون؟ 1۔ رب کریم کی رحمت کے امیدوار اور ان کی صفات۔ (البقرۃ : 218، الاعراف :156) 2۔ گناہ گار کو رحمتِ الٰہی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ (الزمر :53) 3۔ اللہ کی رحمت محسنین کے قریب ہوا کرتی ہے۔ (الاعراف :56) 4۔ اللہ کی رحمت کی وسعت وکشادگی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ (المؤمن :7) البقرة
219 فہم القرآن : ربط کلام : درمیان میں مومنوں کا کردار ذکر کرنے کے بعد اب پھر ایک سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ خمر کا معنی : عربی میں ہراس چیز کو خمر کہتے ہیں جو پردہ ڈال دے، اسی مناسبت سے عورتوں کی اوڑھنیوں کو بھی قرآن مجید میں خمر کہا گیا ہے۔[ النور :31] کیونکہ عورت اس سے اپنا سر، چہرہ اور جسم ڈھانپتی ہے۔ شراب کو خمر اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ آدمی کی عقل وفکر پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اسلام کے دوسرے ضابطوں اور قوانین کی طرح شراب کے حکم امتناعی کی تکمیل بھی تدریجًا نازل ہوئی۔ یہاں حرمت شراب کا پہلا حکم جاری کرتے ہوئے لوگوں کو نفع اور نقصان کی بنیاد پر سمجھایا جارہا ہے کہ شراب اور جوئے میں عارضی اور معمولی فائدے بھی ہیں لیکن دوررس نتائج کے اعتبار سے ان کے نقصانات ان کے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔ اگر شراب پینے سے عارضی طور پر جسم میں قوت وحرکت اور دلیری پیدا ہوتی ہے تو شراب کانشہ ختم ہونے کے بعد آدمی اتنی ہی کمزوری محسوس کرتا ہے۔ شراب کا عادی شخص اپنی عمر سے کہیں پہلے بوڑھا ہوجاتا ہے۔ آدمی شراب پی کر ایسی حرکات کرتا اور خرافات بکتا ہے کہ جس کا صحیح حالت میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس لیے شراب کسی مذہب میں بھی جائز قرار نہیں دی گئی۔ شراب کے بارے میں دور حاضر کے ڈاکٹر بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اس کے فائدے نہایت ہی عارضی اور معمولی ہیں لیکن جسمانی اور معاشرتی نقصان اور مضمرات لامحدود اور ناقابل تلافی ہیں۔ رسول معظم (ﷺ) نے شراب کو علاج کے طور پر استعمال کرنے سے منع ہی نہیں فرمایا ہے بلکہ اسے بیماری قرار دیتے ہوئے ابتداءً اس میں استعمال ہونے والے برتنوں سے بھی منع فرمادیا۔ (أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَیْدِ الْجُعْفِیَّ (رض) سَأَلَ النَّبِیَّ () عَنِ الْخَمْرِ فَنَھَاہُ أَوْکَرِہَ أَنْ یَّصْنَعَھَافَقَالَ إِنَّمَا أَصْنَعُھَا للدَّوَآءِ فَقَالَ إِنَّہٗ لَیْسَ بِدَوَاءٍ وَلٰکِنَّہٗ دَاءٌ) [ رواہ مسلم : کتاب الأشربہ، باب تحریم التداوی بالخمر] ” طارق بن سوید جعفی (رض) نے نبی (ﷺ) سے شراب کے متعلق سوال کیا آپ نے اسے استعمال کرنے سے منع کیا یا ناپسند کیا تو اس نے کہا میں اسے بطور دوا استعمال کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا دوا نہیں یہ تو بیماری ہے۔“ رسول اللہ (ﷺ) کے فرمان کی تائید میں حضرت عثمان (رض) نے تاریخ کا ایک واقعہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ شراب سے بچو ! کیونکہ یہ ام الخبائث ہے۔ تم سے پہلے ایک آدمی بڑا عبادت گزار گزرا ہے۔ اس سے ایک بدکار عورت کو محبت ہوگئی اس نے اپنی لونڈی کو یہ کہہ کر اس آدمی کی طرف بھیجا کہ ہمیں کسی معاملہ میں آپ کی گواہی چاہیے۔ وہ آدمی اس کی لونڈی کے ساتھ چل پڑا۔ جس دروازے سے داخل ہوتا اسے بند کردیا جاتا یہاں تک کہ وہ ایک خوبصورت عورت تک جا پہنچا۔ جس کے پاس ایک بچہ اور شراب کا پیالہ تھا۔ اس عورت نے کہا : اللہ کی قسم! میں نے تجھے شہادت دینے کے بجائے اپنے ساتھ بدکاری کرنے یاشراب کا پیالہ پینے یا بچہ قتل کرنے کے لیے بلایا ہے۔ اس نے کہا مجھے شراب پلادوجب اس نے شراب پی لی تو نشہ کی حالت میں اس نے عورت کے ساتھ زنا بھی کیا اور بچہ بھی قتل کردیا۔[ رواہ النسائی : کتاب الأشربۃ‘ باب ذکر الآثام المتولدۃ عن شرب الخمرالخ] (عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ (رض) قَالَ کُنَّا نُؤْتٰی بالشَّارِبِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ () وَإِمْرَۃِ أَبِیْ بَکْرٍوَصَدْرًا مِنْ خِلَافَۃِ عُمَرَفَنَقُوْمُ إِلَیْہِ بِأَیْدِیْنَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِیَتِنَا حَتّٰی کَانَ آخِرُإِمْرَۃِ عُمَرَ فَجَلَدَ أَرْبَعِیْنَ حَتّٰی إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوْا جَلَدَ ثَمَانِیْنَ) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب الضرب بالجرید والنعال] ” حضرت سائب بن یزید (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم (ﷺ) کے زمانے اور ابو بکر و عمر (رض) کے ابتدائی دور میں شرابی پکڑا دیا جاتاہم اسے اپنے ہاتھوں، جوتوں اور چادروں کے ساتھ مارتے اور جب عمر (رض) کی خلافت کا آخری دور آیا تو انہوں نے چالیس کوڑے مارے اور جب لوگ شراب نوشی میں بڑھ گئے تو پھر عمر (رض) نے اسی کوڑے مارے۔“ جوئے کو میسر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے میسر کالفظی معنی آسان ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جوا کھیلنے والا بغیر کسی جسمانی اور ذہنی محنت کے مال حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ عرب کے لوگ بسا اوقات اس لیے بھی جوا کھیلتے تھے کہ اس سے حاصل شدہ رقم غریبوں میں تقسیم کردی جائے۔ جس طرح آج کل کئی فن کار ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والی رقم قحط زدہ یا معذور اور بیمار لوگوں پر خرچ کردیتے ہیں۔ جوئے کے بارے میں بھی اس قسم کے منافع کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن اس میں بھی نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہوتے ہیں۔ کاروبار میں رقم لگاتے وقت آدمی کے ذہن میں نفع اور نقصان دونوں ہوتے ہیں۔ پھر کاروبار میں تاجر سوچ وبچار کرتے ہوئے نقصان سے بچنے کے لیے محنت بھی کرتا ہے اگر اسے ایک کاروبار میں مسلسل نقصان ہورہا ہو تو وہ اسے چھوڑنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ محنت ومشقت سے حاصل ہونے والی رقم آدمی سمجھ سوچ کر خرچ کرتا ہے۔ جب کہ جوئے میں یہ تمام صورتیں مفقود ہوتی ہیں۔ جوئے پر رقم لگانے والا جواری نقصان کے بجائے فائدے کے بارے میں بڑا جذباتی ہوتا ہے۔ جوئے سے حاصل شدہ رقم اکثر اللّے تللّوں پر خرچ ہوتی ہے۔ جوا کھیلنے والا ہارنے کے باوجود مسلسل قسمت آزمائی کرتا چلا جاتا ہے۔ کاروبار میں نقصان یا مندا ہونے میں آدمی جذباتی ہونے کے بجائے سوچ وبچار کرتا ہے اور بسا اوقات فیکٹری یا کاروبار کو کچھ عرصہ کے لیے بند کردیتا ہے۔ جوئے میں یہ صورت نہیں ہوتی۔ جوّے باز جیتنے کے لالچ سے چند لمحوں میں ہر چیز سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ کاروبار میں حاصل ہونے والا منافع مزید تجارت کے لیے استعمال ہوتا ہے جب کہ جوئے سے حاصل ہونے والی رقم سے کبھی بھی لوگ کاروبار کرتے نہیں دیکھے گئے۔ اکثر جوا باز جیت جائیں تو عیاشی کے طور پر اور اگر ہار جائیں تو غم دور کرنے کے لیے شراب پیتے ہیں۔ اس وجہ اور دیگر وجوہات کی بنا پر جوئے اور شراب کا ذکر اکٹھا کیا گیا ہے۔ پھر شراب اور جوئے کی وجہ سے باہم نفرتیں اور لڑائی جھگڑے پید اہوتے ہیں ان اسباب کی بنا پر مسلمانوں کو شراب نوشی اور جوا بازی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی سورت کی آیت ٢١٥ میں سوال یہ تھا کہ کیا اور کہاں خرچ کریں ؟ اب سوال کیا جارہا ہے کہ کتنا خرچ کیا جائے ؟ جوابًا ارشاد ہوتا ہے کہ اپنی ضرورت سے زائد۔ اس فرمان سے اشتراکی نظام جس کی تعریف یہ ہے کہ ہر چیز کی مالک حکومت ہوتی ہے۔ اشتراکی نظام حکومت میں انفرادی ملکیت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اس کے حاملین نے اسلام کے معاشی نظام کی غلط توجیہ کرتے ہوئے اشتراکی نظام کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ان کی توجیہ اسلام اور نظام فطرت کے خلاف تھی۔ جس کی وجہ سے چند ہی سالوں میں وہ نظام نہ صرف اپنے انجام کو پہنچا بلکہ روس جیسی عظیم مملکت اس نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے تباہی کے گھاٹ اتر گئی۔ سوویت یونین جو دنیا میں دوسری سپر پاور سمجھی جاتی تھی آج اپناوجود سلامت رکھنے کے لیے اپنے مخالفوں سے قرض کی بھیک مانگنے پر مجبو رہے۔ دراصل ﴿قُلِ الْعَفْوَ﴾ کا حکم ایک جنگ کے دوران نازل ہوا تھا اور اسی کی روشنی میں دوران سفر رسول محترم (ﷺ) نے لوگوں کو توجہ دلائی کہ جس کے پاس اپنی ضرورت سے زائد اسباب ہوں۔ وہ دوسرے بھائی کو عنایت کردے۔ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ (رض) قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ فِیْ سَفَرٍ مَعَ النَّبِیِّ () إِذْ جَآءَ رَجُلٌ عَلٰی رَاحِلَۃٍلَہٗ قَالَ فَجَعَلَ یَصْرِفُ بَصَرَہٗ یَمِیْنًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَنْ کَانَ مَعَہٗ فَضْلَ ظَھْرٍ فَلْیُعِدْبِہٖ عَلٰی مَنْ لاَّ ظَھْرَ لَہٗ وَمَنْ کَانَ لَہٗ فَضْلٌ مِنْ زَادٍفَلْیُعِدْ بِہٖ عَلٰی مَنْ لَا زَادَ لَہٗ قَالَ فَذَکَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَکَرَ حتّٰی رَأَیْنَآ أَنَّہٗ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِّنَّا فِیْ فَضْلٍ) [ رواہ مسلم : کتاب اللقطہ، باب استحباب المؤساۃ بفضول المال] ” حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی (ﷺ) کے ساتھ تھے کہ اچانک ایک آدمی اپنی سواری لے کر آیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ اللہ کے رسول (ﷺ) نے فرمایا : جس کے پاس ضرورت سے زائد سواری ہو وہ اس شخص کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں مگر اس کے پاس سفر کا زائد خرچ ہو وہ اس کو دے دے جس کے پاس زاد راہ نہیں۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے مال کی اور بھی کئی اقسام کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھ لیا کہ ضرورت سے زائد مال میں ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔“ ہنگامی حالات میں ذمہ دار قومیں ایسا ہی رویّہ اختیار کرتی ہیں۔ کیونکہ دشمن کے مقابلے میں جب تک تن من دھن اور ہر چیز نہ جھونک دی جائے کامل اور مکمل فتح حاصل نہیں ہوا کرتی۔ عَفْو“ کا معنی جن لوگوں نے من مرضی سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے فرد کی ضروریات کا تعین کیا جاسکے۔ کیونکہ اپنی ضروریات کو جو آدمی خود سمجھتا ہے کوئی دوسراشخص یا حکومت نہیں سمجھ سکتی۔ ایک آدمی کا آنا جانا اس قدر کم ہے کہ اسے سائیکل کی بھی ضرورت نہیں۔ اس کے مقابلے میں ایسا شخص ہے جس کے گھر کے ایک ایک فرد کو سواری کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ایک آدمی کپڑوں کے دو جوڑوں میں گزارا کرسکتا ہے جب کہ دوسرے کو ہر روز لباس تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کسی کی ضرورت کا تعین کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ البتہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مسلمان کو سادگی اختیار کرتے ہوئے اپنے اعزاء و اقرباء اور پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ عفو سے جن لوگوں نے اجتماعی معیشت کا تصور لیا ہے وہ ہر لحاظ سے اسلام کے معاشی نظام کے متصادم ہے۔ کیونکہ اگر ضرورت سے زائد چیزیں حکومت کی ملکیت قرار دے دی جائیں تو قرآن و حدیث میں زکوٰۃ اور وراثت کے احکامات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ اپنے احکام کو اس لیے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ ان پر غوروفکر کیا جائے۔ مسائل : 1۔ شراب اور جوئے میں فائدے کی نسبت نقصانات زیادہ ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات پر غور و فکر کرنا چاہیے۔ تفسیربالقرآن : شراب وجوا کے نقصانات : 1۔ شراب، جوئے کے فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ (البقرۃ :219) 2۔ نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہیں جانا چاہیے۔ (النساء :43) 3۔ شراب اور جوا حرام ہیں۔ (المائدہ :90) 4۔ شراب وجوا دشمنی کا سبب اور اللہ کے ذکر میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ (المائدۃ:91) البقرة
220 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ کلام کا تسلسل اور سوال وجواب کاسلسلہ جاری ہے۔ لہٰذا اب یتیموں کی اصلاح اور ان کے ساتھ معاشرت کے اصول بیان کیے جارہے ہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے یتیموں کے بارے میں یہ احکامات نازل ہوچکے تھے کہ یتیموں کا مال کھانا پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرنے کے مترادف ہے۔ اس انتباہ کی وجہ سے صحابہ کرام (رض) اس قدر خوف زدہ اور محتاط ہوئے کہ انہوں نے یتیموں کا کھانا پینا اور ان کے معاملات یکسر طور پر اپنے سے الگ کردیے۔ لیکن اس صورت حال سے نئے مسائل پیدا ہونے شروع ہوئے۔ جس کے لیے یتیموں کے بارے میں مزید وضاحت کی ضرورت پیش آئی۔ چنانچہ وضاحت کی جارہی ہے کہ دراصل اللہ تعالیٰ کے احکام کا منشاء یہ ہے کہ یتیموں کے مال اور ذات کی اصلاح اور خیر خواہی ہونی چاہیے لہٰذا ان کے ساتھ مل جل کر رہنا، ایک ہی جگہ مل کر کھانا، پینا اور ترقی کے نقطۂ نظر سے ان کے مال کو اپنے کاروبار میں شامل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ پسماندہ اور والدین کی سرپرستی سے محروم ہونے اور اخوت اسلامی کی بنا پر وہ تمہارے بھائی ہیں۔ ان کے ساتھ ایک بھائی جیسی ہی خیر خواہی ہونی چاہیے۔ یہ وضاحت اور آسانی اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے ورنہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم پر سخت احکامات نازل کرسکتا تھا۔ لیکن یاد رکھنا اللہ تعالیٰ تمہاری نیّتوں اور طرز عمل کو جانتا ہے۔ اسے خوب معلوم ہے کہ کون زیادتی اور خرابی اور کون اصلاح کے ارادے سے یتیموں کے مال کو اپنے مال کے ساتھ شامل کررہا ہے۔ بے شک تم عارضی اور وقتی طور پر کمزوروں اور یتیموں پر بالا دست ہو۔ مگر زیادتی نہ کرنا اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ بالا دست اور حکمت والا ہے۔ یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کے بارے میں رسول اکرم (ﷺ) کے فرمودات : (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَ ۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () کَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہٗ أَوْلِغَیْرِہٖ أَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ وَأَشَارَ مَالِکٌ بالسَّبَابَۃِ وَالْوُسْطیٰ) [ رواہ مسلم : کتاب الزھد، باب الإحسان إلی الأرملۃِ والمسکین والیتیم] ” حضرت ابوہریرہ (رض) رسول گرامی (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : قریبی یا کسی دوسرے یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں ان دوانگلیوں کی طرح ہوں گے۔ راوی نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کا اشارہ کیا۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَجُلًا شَکَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ () قَسْوَۃَ قَلْبِہٖ فَقَالَ لَہٗ إِنْ أَرَدْتَ تَلْیِیْنَ قَلْبِکَ فَأَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْیَتِیْمِ) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب مسند أبی ھریرۃ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی (ﷺ) کو دل کے سخت ہونے کی شکایت کی تو آپ (ﷺ ) نے فرمایا : اگر چاہتا ہے کہ تیرا دل نرم ہوجائے تو پھر مسکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَ ۃَ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () اَلسَّاعِیْ عَلَی الْأَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوِالْقَائِمِ اللَّیْلَ الصَّائِمِ النَّھَارَ) [ رواہ البخاری : کتاب النفقات بابفضل النفقۃ علی الأھل] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : بیوگان اور مساکین کی کفالت کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے یا دن کو روزہ اور رات بھر قیام کرنے والے کی طرح ہے۔“ مسائل : 1۔ یتیموں کی اصلاح کرنا نیکی کا کام ہے۔ 2۔ ان کے ساتھ مل جل کر رہنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والے اور اصلاح کرنے والے کو جانتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور حکمت والا ہے۔ تفسیربالقرآن : یتیموں کے حقوق کا تحفظ : 1۔ یتیم تمہارے بھائی ہیں۔ (البقرۃ :220) 2۔ یتیموں کی اصلاح میں ہی بہتری ہے۔ (البقرۃ :220) 3۔ یتیم کو جھڑکنے کی ممانعت ہے۔ (الضحیٰ :9) 4۔ یتیموں کے سمجھ دار ہونے پر ان کا مال ان کے حوالے کرنا چاہیے۔ (النساء :6) 5۔ مال حوالے کرتے وقت گواہ بنانے چاہییں۔ (النساء :6) 6۔ یتیم کا مال کھانا بہت بڑا گناہ ہے۔ (النساء :2) البقرة
221 فہم القرآن : ربط کلام : سورۃ کے مرکزی مضمون سے وابستہ احکام۔ معاشرتی اور عائلی مسائل کے سلسلہ میں اب ایک اہم اور بنیادی مسئلے کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ کیونکہ جوں جوں اسلام پھیل رہا تھا اس کے ساتھ ہی معاشرہ میں نئے نئے مسائل پیدا ہورہے تھے۔ ان میں سے اہم ترین مسئلہ یہ تھا کہ ایک آدمی مسلمان ہوجاتا ہے اور اس کی بیوی کفر و شرک کی حالت پر قائم رہتی ہے۔ اسی طرح اس کے برعکس صورت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ یا دوسری صورت میں ایک مسلمان کو ازدواجی زندگی اپناتے ہوئے کون سے بنیادی اصولوں کا خیال رکھنا چاہیے ؟ اس کے بارے میں بنیادی اصول یہ قرار پایا کہ ” آج کے بعد کوئی مرد کافرہ اور مشرکہ کے ساتھ اور کوئی مومن خاتون کسی کافر اور مشرک کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتی۔ چاہے جمال وکمال کے اعتبار سے وہ مرد اور عورت کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں ؟ یہاں تک کہ وہ حلقۂ اسلام میں داخل ہوجائیں۔ ان کے مقابلے میں ایک غلام مسلمان عورت ہو یا مرد کہیں بہتر ہیں۔ حالانکہ معاشرتی طور پر آزاد کے مقابلے میں غلام مرد ہو یا عورت اس کی حیثیت آزاد کے برابر نہیں ہوسکتی۔ خاص کر عرب معاشرے میں غلاموں کی حیثیت ایک زرخرید جانور سے زیادہ نہیں تھی۔ لیکن شرک اور کفر ایسے جرم ہیں جن سے آدمی کی حیثیت حقیقی طور پر ایک غلام سے بھی زیادہ ابتر ہوجاتی ہے۔ اس کے نقصانات دینی اور سماجی اعتبار سے اتنے زیادہ ہیں جن پر کنٹرول کرنا کسی کے بس کا روگ نہیں رہتا۔ کفریہ اور شرکیہ عقیدہ رکھنے والا مردہویاعورت درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار اور اس کے ساتھ شرک کرکے عملًا اس سے بغاوت کا اقرار کرتا ہے۔ کوئی ایمانی غیرت رکھنے والا شخص ایسے باغی کے ساتھ زندگی کابندھن قائم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا۔ سماجی لحاظ سے وہ ایک ایسی ذہنی کش مکش میں مبتلا ہوتا ہے جس سے چھٹکارا پانا ناممکنات میں سے ہے۔ کیونکہ ایماندار خاوند اپنی اولاد کو ایمان اور جنت کی ہی دعوت دے گا۔ جب کہ اس کی مشرک بیوی اولاد کو اپنے عقیدے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے گی جو سراسر خدا سے بغاوت اور جہنم کے راستے پرچلنے، چلانے کے مترادف ہے۔ یہی صورت ایک مومنہ بیوی کی مشرک اور کافر خاوند کے ساتھ پیدا ہوگی۔ ایسی صورت میں اولاد، خاندان اور معاشرے پر کس قدر منفی اور باہمی کش مکش کے اثرات مرتب ہوں گے ؟ اگر مسلمانوں کو کفرو شرک کے اختلاط سے منع نہ کیا جائے تو امت کا اپنا تشخص کس طرح قائم ہوسکتا ہے ؟ اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ تمہیں جہنم کی آگ کی دعوت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنا کر تمہیں اپنی بخشش اور جنت کے راستے کی رہنمائی کی ہے تاکہ ان حقائق کو سامنے رکھ کر تم نصیحت حاصل کرو۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِھَا وَلِحَسَبِھَا وَلِجَمَالِھَا وَلِدِیْنِھَا فَاظْفُرْ بِذَات الدِّیْنِ تَرِبَتْ یَدَاکَ) [ رواہ البخاری : کتاب النکاح، باب الأکفاء فی الدین] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا : عورت سے چار وجوہات کی بنیاد پر شادی کی جاتی ہے۔ مال کی وجہ سے، حسب ونسب کی بناء پر، اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی بنیاد پر۔ پس تم دین دار کو پسند کرو تاکہ تم کامیاب اور تروتازہ رہو۔“ اہل کتاب کے ساتھ نکاح کرنے کا مسئلہ (المائدہ :5) چھٹے پارے میں بیان ہوگا۔ ان شاء اللہ مسائل : 1۔ مشرک مرد اور عورت سے نکاح جائز نہیں۔ 2۔ مومن غلام اور کنیز آزاد مشرک مردوزن سے بہتر ہیں۔ 3۔ مشرک جہنم کی طرف بلانے والے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی بخشش اور جنت کی دعوت دیتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے احکام نصیحت حاصل کرنے کے لیے ہیں۔ تفسیربالقرآن: کن عورتوں سے نکاح جائز نہیں ؟ 1۔ مشرکہ اور کفار عورتوں سے نکاح جائز نہیں۔ (البقرۃ : 221۔ الممتحنۃ :10) 2۔ زانیہ سے نکاح جائز نہیں۔ (النور :3) 3۔ محرمات سے نکاح جائز نہیں۔ (النساء : 23، 24) البقرة
222 فہم القرآن : ربط کلام : عورتوں کے متعلقہ مسائل کا بیان جاری ہے۔ سوال وجواب کے حوالے سے سلسلۂ کلام جاری ہے۔ یہاں ازدواجی زندگی کے ایک اہم اور فطری مسئلے کے متعلق پھر ایک سوال کا جواب دیا جارہا ہے کہ حیض کی حالت میں میاں بیوی کے تعلقات کی کیا نوعیت ہونی چاہیے ؟ کیونکہ اس بارے میں لوگ افراط وتفریط کا شکار تھے۔ عیسائی حیض کے ایام میں اپنی بیویوں سے مجامعت جاری رکھتے اور یہودی ان سے اس قدر دور رہتے اور نفرت کرتے کہ بیویوں کے قریب بیٹھنا اور ان کے ساتھ کھانا پینا تو در کنار ان کے برتن اور رہائش بھی الگ کردیتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ بے چاری مخصوص ایام میں اپنے معصوم بچوں سے پیار بھی نہ کرسکتی تھی۔ مسئلے کی وضاحت کرنے سے پہلے فرمایا کہ حیض عورت کے لیے ایک تکلیف دہ امر ہے اس سے عورت کے اندرونی نظام میں کچھ منفی اور مثبت تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ میڈیکل کی زبان میں عورت کے جسم کا مخصوص حصہ فلٹرائز ہورہا ہوتا ہے لہٰذا ان ایام میں عورت کے ساتھ مباشرت کرنا مرد اور بیوی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے اس لیے تمہیں اس وقت تک صحبت کی غرض سے عورتوں کے قریب نہیں جانا چاہیے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں۔ پاک ہونے سے مراد عورت کا غسل کرنا ہے اور عورت کے غسل کرنے سے پہلے مجامعت جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک باز اور توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ یہاں قرآن مجید نے ﴿لَا تَقْرَبُوْھُنَّ﴾ کے الفاظ استعمال فرمائے ” کہ ان کے قریب نہ جاؤ۔“ جس سے مراد مجامعت کرنا ہے۔ سوال کا جواب دیتے ہوئے آخر میں فرمایا کہ اپنی عورتوں کے پاس جاؤ جس طریقے اور حالت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اجازت عطا فرمائی ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ گناہوں سے بچنے اور پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ نبی محترم (ﷺ) نے عورتوں کے ساتھ کی جانے والی افراط وتفریط کو ختم کرنے کے لیے اپنی خلوت کو بیان کرنے کی اجازت دی تاکہ لوگ سمجھ جائیں کہ حیض کی حالت میں خاوند کس حد تک تعلقات قائم کرسکتا ہے۔ 1 ۔(عَنْ عَائِشَۃَ (رض) قَالَتْ کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِیُّ () مِنْ إِنَآءٍ وَاحِدٍ وَّکِلَانَا جُنُبٌ وَکَانَ یَأْمُرُنِیْ فَأَتَّزِرُ فُیُبَاشِرُنِیْ وَأَنَآ حَآئِضٌ وَکَانَ یُخْرِجُ رَأْسَہٗ إِلَیَّ وَھُوَ مُعْتَکِفٌ فَأَغْسِلُہٗ وَأَنَا حَآئِضٌ) [ روا البخاری : کتاب الحیض، باب مباشرۃ الحیض] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں اور نبی (ﷺ) ایک ہی برتن میں بحالت جنابت غسل کرلیا کرتے۔ آپ مجھے ازار باندھنے کا حکم دیتے ازار باندھنے کے بعد وہ مجھ سے مباشرت کرتے یعنی صرف میرے ساتھ لیٹتے اور میں حائضہ ہوتی۔ آپ اعتکاف کی حالت میں اپنا سر باہر نکالتے اور میں حیض کی حالت میں آپ کا سر مبارک دھو دیتی۔“ 2۔ (عَنْ عَائِشَۃَ (رض) قَالَتْ کُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَآئِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُہُ النَّبِیَّ () فَیَضَعُ فَاہُ عَلٰی مَوْضِعِ فِیَّ فَیَشْرَبُ وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَآئِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُہُ النَّبِیَّ () فَیَضَعُ فَاہُ عَلیٰ مَوْضِعِ فِیَّ) [ رواہ مسلم : کتاب الحیض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجھاوترجیلہ وطھارۃ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں بحالت حیض کوئی چیز پیتی پھر اسی برتن میں نبی کریم (ﷺ) کو دیتی تو آپ اسی جگہ منہ رکھ کر پیتے جہاں سے میں نے پیا ہوتا۔ اور میں حیض کی حالت میں ہڈی سے گوشت نوچتی پھر وہ نبی (ﷺ) کو دیتی تو آپ بھی وہاں ہی منہ لگا لیتے۔“ 3 ۔(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () فِی الَّذِیْ یَأْتِی امْرَأَتَہٗ وَھِیَ حَآئِضٌ قَالَ یَتَصَدَّقُ بِدِیْنَارٍ أَوْ نِصْفِ دِیْنَارٍ)[ رواہ أبو داوٗد : کتاب الطہارۃ، باب فی إتیان الحائض] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نبی کریم (ﷺ) سے اس شخص کے متعلق بیان فرماتے ہیں جو اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں جماع کرتا ہے فرمایا وہ ایک دینا ریا آدھا دینار صدقہ کرے۔“ آج کے حساب سے ایک دینار کی قیمت 158 روپے 85 پیسے ہے۔ مسائل : 1۔ حیض پلیدی اور تکلیف ہے اس میں عورتوں سے الگ رہنا چاہیے۔ 2۔ بیویوں سے مجامعت پاک حالت میں کرنی چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ گناہ اور گندگی سے پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ تفسیربالقرآن: صفائی اور پاکی کی فضیلت : 1۔ اللہ تعالیٰ پاک لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ (البقرۃ :222) 2۔ نیک لوگ پاک صاف رہنا پسند کرتے ہیں۔ (التوبۃ :108) البقرة
223 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ چونکہ پہلے حکم میں مخصوص ایّام کے دوران عورتوں سے صحبت کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس لیے یہاں طبیعتوں کی گھٹن دور کرنے اور ازدواجی زندگی کے بنیادی مقصد کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ جس طرح کھیتی باڑی کے کچھ اصول اور ہر فصل کے مخصوص ایّام ہوتے ہیں اسی طرح ازدواجی زندگی کے مقاصد اور خلوت کے بھی کچھ اصول ہیں۔ تاہم جس طرح زمیند ار کو اپنی زمین اور کھیتی باڑی میں کھلا اختیار ہوتا ہے ایسے ہی تمہیں اپنی بیویوں کے بارے میں اختیارات حاصل ہیں کہ جب اور جس طرح چاہو مجامعت کرسکتے ہو۔ یہاں ازدواجی زندگی کو کھیتی کے ساتھ تشبیہ دے کر واضح کیا جارہا ہے کہ جس طرح کوئی زمیندار بے مقصد ہل نہیں چلایا کرتا بلکہ اس کے پیش نظر اناج کی شکل میں اپنی محنت کا صلہ ہوتا ہے اسی طرح محض شہوت رانی کی غرض سے یہ کام نہیں ہونا چاہیے۔ میاں بیوی کے اس عمل اور جذبات میں اپنے آپ کو گناہوں سے پاک رکھنا، اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ہونا اور نیک اولاد کی تمنا شامل ہونی چاہیے تاکہ دنیاوی فوائد کے ساتھ آخرت میں اس چیز کا اجر ملے۔ جیسے زمیندار اپنے اور قوم کے لیے غلہ مہیا کرتا ہے ایسے ہی ازدواجی تعلقات کے ذریعے نسل کا تسلسل، قوم کی بقاء اور دین اسلام کے لیے اچھے مسلمان تیار کرنا ہے۔ جس طرح زمیندار اپنی زمین اور فصل کا خیال اور خدمت کرتا ہے۔ تمہیں اپنی بیویوں اور اولاد کا اس سے بڑھ کر خیال اور ان کی خدمت کرنا چاہیے۔ اس میں بیوی کی صحت، گھریلو مصروفیات، عبادات اور بچے کا پورے دو سال دودھ پلانے کا اشارہ بھی شامل ہے۔ اگر میاں بیوی ان امور کا خیال کریں تو انہیں تولید میں وقفہ کے لیے کسی غیر شرعی طریقہ کی حاجت نہیں رہتی۔ آج کے مصنوعی طریقے صحت کے لیے مضر ہیں۔ یہ بات ذہن میں ہر دم تازہ رکھو کہ تم اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہو اور وہ تمہاری جلوتوں اور خلوتوں کو جانتا ہے۔ تمہاری پوشیدہ اور ظاہری زندگی اس طرح ہونی چاہیے کہ اپنے رب کے ہاں تمہیں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔ جو جلوت اور خلوت میں اس بات کا خیال رکھے گا ایسے صاحب ایمان لوگوں کے لیے مسرّت وشادمانی کا پیغام ہے۔ ازدواجی زندگی کے بارے میں رسول معظم (ﷺ) کے ارشادات : (عَنْ مَعْقَلِ بْنِ یَسَارٍ (رض) قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ () فَقَالَ إِنِّیْ أَصَبْتُ امْرَأَۃً ذَاتَ حَسْبٍ وَّجَمَالٍ وَّإِنَّھَالَاتَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُھَا قَالَ لَا ثُمَّ اَتَاہ الثَّانِیَۃَ فَنَھَاہُ ثُمَّ اَتَاہ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَإِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب النکاح، باب النھی عن تزویج من لم یلد من النساء] ” حضرت معقل بن یسار (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) کے پاس ایک آدمی نے آکر پوچھا ایک عورت حسب ونسب اور حسن و جمال والی ہے لیکن ہے وہ بانجھ۔ کیا میں اس سے شادی کرلوں ؟ آپ نے اسے روک دیا۔ دوسری اور تیسری مرتبہ آنے پر بھی منع کرتے ہوئے فرمایا محبت کرنے اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت تعداد کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔“ (عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ السُّلَمِیِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () إِذَا أَتٰی أَحَدُکُمْ أَھْلَہٗ فَلْیَسْتَتِرْ وَلَا یَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعَیْرَیْنِ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب النکاح، باب التستر عند الجماع] ” حضرت عتبہ بن عبدالسلمی (رض) بیان کرتے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت کرے تو وہ پردہ کرے اور گدھوں کی طرح ننگا نہ ہو۔“ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : وہ شخص لعنتی ہے جو اپنی بیوی سے اس کی دبر کی جگہ جماع کرتا ہے۔“ [ رواہ أبو داوٗد : کتاب النکاح، باب فی جامع النکاح ] (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدنٍ الْخُدْرِیّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللّٰہِ مَنْزِلَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الرَّجُلُ یُفْضِیْ إِلَی امْرَأَتِہٖ وَتُفْضِیْ إِلَیْہِ ثُمَّ یَنْشُرُ سِرَّھَا)[ رواہ مسلم : کتاب النکاح، باب تحریم إفشاء سر] ” حضرت ابوسعید خدری (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن بدترین شخص وہ ہوگا جو اپنی بیوی سے ملتا ہے اور بیوی اپنے خاوند سے ملتی ہے اور پھر وہ اس کے راز فاش کرتا ہے۔“ مسائل : 1۔ بیویاں خاوندوں کے لیے کھیتیوں کی مانند ہیں۔ 2۔ اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے کیونکہ بالآ خر اس سے ملاقات ہونا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں خوشخبریاں ہیں۔ تفسیر بالقرآن : بیوی کی حیثیت : 1۔ بیوی لباس ہے۔ (البقرۃ:187) 2۔ بیوی نسل انسانی کا ذریعہ ہے۔ (النساء :1) 3۔ بیوی سکون کا باعث ہے۔ (الروم :21) 4۔ بیوی خاوند کی نائب ہے۔ (النساء :34) البقرة
224 فہم القرآن : (آیت 224 سے 227) ربط کلام : میاں بیوی کے درمیان کسی مسئلہ میں تکرار ہوجائے تو بسا اوقات معاملہ بحث وتکرار سے بڑھ کر قسم تک پہنچ جاتا ہے لہٰذا جذباتی قسم کے بارے میں رعایت دی گئی ہے۔ ازدواجی وعائلی مسائل کے دوران قسم کے مسئلہ کی وضاحت اس لیے ضروری سمجھی گئی کہ اس زمانے میں اور آج بھی باہمی مخالفت یا طیش میں آکر لوگ قسم اٹھا لیتے ہیں کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ اتنے دن کلام سے اجتناب، بائیکاٹ یا فلاں کام نہیں کروں گا۔ حالانکہ اس موقع پر قسم اٹھانا مناسب بات نہیں ہوتی۔ جہاں تک بیوی سے ایلاء یعنی بائیکاٹ کا معاملہ ہے اس فرمان میں ایلاء کی آخری مدت چار ماہ مقرر کردی گئی۔ خاوند کو اس کے بعد رجوع کرنا یا پھر طلاق دینا ہوگی۔ مسلمان کو ایسی قسم اٹھانے سے روک دیا گیا ہے جو نیکی اور خیر کے کام میں رکاوٹ بنتی ہو۔ یہ قسم اس لحاظ سے عجیب اور غیر دانش مندی کا مظہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر آدمی کسی نیک کام سے رک جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نیکی کا حکم دیتا اور ہر قسم کی برائی سے منع کرتا ہے۔ یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بابرکت اور عظیم نام ہی نیکی میں رکاوٹ بنادیا جائے۔ اس لیے یہاں حکم دیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کو نیکی اور اصلاح بین الناس کے درمیان رکاوٹ نہ بناؤ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم کس نیت اور غرض سے اس کے عظیم نام کو استعمال کررہے ہو؟ (عَنْ زَھْدَمَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ أَبِیْ مُوْسَی الأَشْعَرِیِّ (رض) قَالَ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ () فِیْ نَفَرٍ مِنَ الْأَشْعَرِیِّیْنَ فَوَافَقْتُہٗ وَھُوَ غَضْبَانُ فَاسْتَحْمَلْنَاہُ فَحَلَفَ أَنْ لاَّ یَحْمِلَنَا ثُمَّ قَالَ وَاللّٰہِ إِنْ شَآء اللّٰہُ لَآ أَحْلِفُ عَلٰی یَمِیْنٍ فَأَرٰی غَیْرَھَا خَیْرًا مِّنْھَآ إِلَّآ أَتَیْتُ الَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ وَتَحَلَّلْتُھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الأیمان والنذور، باب الیمین فیما لایملک الخ] ” حضرت زھدم (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم ابو موسیٰ اشعری (رض) کے پاس تھے وہ فرماتے ہیں میں نبی کریم (ﷺ) کے پاس اشعری قبیلہ کے کچھ افراد کے ہمراہ اس وقت حاضر ہوا جب آپ غصہ میں تھے۔ ہم نے سواری کا مطالبہ کیا تو آپ نے قسم اٹھادی کہ میں تمہیں کچھ نہیں دوں گا۔ پھر آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم! اگر اللہ کی مشیت شامل حال ہو تو جس کام پر میں قسم کھاتا ہوں اگر میں اس کے بجائے دوسرے کام کو بہتر سمجھوں تو میں افضل کام کرکے قسم کا کفارہ ادا کردیتا ہوں۔“ یہاں اس بات کی بھی وضاحت فرمادی گئی کہ اللہ تعالیٰ تمہارا انہی قسموں پر مؤاخذہ کرے گا جو تم نے نیتًا اٹھائی ہوں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ ظرف ہونے اور اپنی بخشش کی وجہ سے تمہاری لغو قسموں پر مؤاخذہ نہیں کرتا۔ حالانکہ تم اس کا پاک اور عظیم نام کو بے مقصد کام کے لیے استعمال کرتے ہو۔ لغو کے بارے میں سورۃ المؤمنون آیت : ٣ کی تلاوت کیجئے : ﴿وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ [ المومنون :3] ” مؤمن وہ ہیں جو لغو اور بے مقصد کام اور کلام سے پرہیز کرتے ہیں۔“ رسول مکرم (ﷺ) فرمایا کرتے تھے : (مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَالَا یَعْنِیْہِ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزھد] ” آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ بے مقصد کام چھوڑ دے“۔ البتہ جس نے عزم کے ساتھ قسم اٹھائی اور پھر اس قسم کو پورا نہ کیا اس کی سزا ساتویں پارے میں یوں بیان کی گئی ہے۔ ﴿لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ باللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ وَ لٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَدْتُّمُ الْاَیْمَانَ فَکَفَّارَتُہ‘ ٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ اَوْکِسْوَتُھُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیْمَانِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْط وَ احْفَظُوْٓا اَیْمَانَکُمْ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیَاتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ﴾ [ المائدۃ:89] ” اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو۔ اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا کھلانا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھروالوں کو کھلاتے ہویا ان کو کپڑا پہنچانایا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور جس کو مقدور نہ ہوتوتین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھالو اور اپنی قسموں کا خیال رکھو۔ اللہ تعالیٰ تمہارےلیے اپنے احکام اس لیے بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔“ مسائل : 1۔ نیکی اور اصلاح بین الناس سے رکنے یا روکنے کے لیے قسم اٹھانا جائز نہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بے ارادہ قسموں پر مؤاخذہ نہیں کرتا۔ 4۔ عزم کے ساتھ اٹھائی ہوئی قسم پر مؤاخذہ ہوگا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی حوصلے اور معاف کرنے والا ہے۔ 6۔ بیوی سے ایلاء کی مدت چار ماہ ہے۔ 7۔ ایلاء کا معنی ہے بیوی سے بائیکاٹ کرنا۔ تفسیربالقرآن : جھوٹی قسم کا گناہ : 1۔ قسم کو ڈھال نہ بنائیں۔ (البقرۃ:224) 2۔ قسموں کو پورا کرنا چاہیے۔ (النمل :91) 3۔ ناجائز قسموں پر عمل نہ کیا جائے۔ (التحریم : 1، 2) 4۔ صدقہ نہ دینے کی قسم ممنوع ہے۔ (النور :22) 5۔ غلط قسموں کے ذریعے مال بٹورنے والوں کا انجام کیا ہوگا؟ (آل عمران :77) 6۔ جھوٹی قسمیں کھانے والوں کا انجام۔ (التوبۃ:95) 7۔ بلا قصد قسموں پر مؤاخذہ نہیں۔ (المائدۃ:89) قسم کی وجہ سے بیوی سے علیحدگی کی عدّت : 1۔ عورتوں سے علیحدگی کی قسم کی مدت چارماہ ہے۔ (البقرۃ:226) 2۔ چار ماہ کے بعد رجوع ہے یا طلاق دینا ہوگی۔ (البقرۃ: 226، 227) البقرة
225 البقرة
226 البقرة
227 البقرة
228 فہم القرآن : ربط کلام : عورتوں کے متعلقہ مسائل کا بیان جاری ہے۔ اگر ایلاء کرنے والے نے طلاق دینے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے تو مطلقہ عورت کو تین حیض انتظار کرنا چاہیے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سمیع وعلیم کی صفات کا تذکرہ فرماکر ایک قسم کی تنبیہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ طلاق تک نوبت پہنچنے میں خاوند‘ بیوی اور خاندان کے کس کس آدمی کا کتنا ہاتھ ہے لہٰذا تمہیں خوب سمجھ سوچ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ رسول معظم (ﷺ) کا ارشاد ہے : (ثَلَاثٌ جِدُّھُنَّ جِدٌّ وَھَزْلُھُنَّ جِدٌّ النَّکِاحُ وَالطَّلَاقُ وَالرَّجْعَۃُ) [ رواہ الترمذی : کتاب الطلاق، باب ماجاء فی الجد والھزل فی الطلاق] ” تین کام ایسے ہیں جو حقیقتاً اور بطور مذاق بھی ثابت ہوجاتے ہیں۔ نکاح، طلاق اور رجوع۔“ یہاں مطلقہ عورت سے مراد وہ عورت ہے جسے طلاق رجعی ہو۔ رجعی کا معنٰی ہے جس میں میاں بیوی کو آپس میں رجوع کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ ایسی مطلقہ کو تین حیض انتظار کرنا چاہیے۔ یہاں عورت کو بالخصوص یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے تو جو کچھ اس کے رحم میں ہے اسے ہرگز نہیں چھپانا چاہیے۔ کیونکہ عورت کے حاملہ ہونے کا صرف اسی کو علم ہوسکتا ہے۔ خاص کر ابتدائی ایام میں اس کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں ہوتاکہ وہ خالی الرحم ہے یا صاحب امید ہے۔ اسے اللہ اور آخرت کا واسطہ دے کر احساس دلایا جارہا ہے کہ اسے آگے نکاح کرنے کے لیے یہ خیانت نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح کرنا نہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہے بلکہ رحم کی کیفیت کو چھپاتے ہوئے کسی دوسرے سے نکاح کرتی ہے تو وہ اس حرکت کے ساتھ کئی بھاری جرائم کا ارتکاب کرے گی۔ پہلا جرم تو یہ ہے کہ اس طرح اس کا دوسرے شخص سے نکاح کرنا ہی ناجائز ہے۔ دوسرا جرم یہ ہے کہ اس کے رحم میں جو بچہ ہے اس کی ولدیت کا معاملہ بھی خلط ملط ہوجائے گا۔ کیونکہ ایسے بچے کی ولدیت کا حقیقی علم ہوجائے تو وہ دونوں طرف سے وراثت سے محروم ہوجائے گا۔ بیوی کا پہلاخاوند اس لیے اس بچے کو اپنا وارث نہیں بنائے گا کہ اس کی ماں نے طلاق کے وقت اسے بتلانے سے انکار کردیا تھا عورت کا موجودہ خاوند انکار کرنے میں اس لیے حق بجانب ہوگا کہ حقیقتًا وہ اس کا بچہ ہی نہیں۔ اسی طرح آگے چل کریہ فیصلہ کرنابھی مشکل ہوگا کہ یہ بچہ یا بچی کس کے لیے محرم ہے ؟ اگر حاملہ ہونے کے باوجودعورت اپنا رحم خالی بتلاتی ہے تاکہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرسکے جب کہ اس کی عدّت وضع حمل ہے تو غلط بیانی سے کام لے کر اپنے خاوند کو رجوع کے حق سے محروم کرتی ہے اور بچے کے نسب کو خلط ملط کرتی ہے۔ جو شرعی طور پر خاوند اور اس کے خاندان کے ساتھ خیانت کے مترادف ہے۔ اس لیے اللہ اور آخرت کے نام سے اسے تاکید کی جارہی ہے کہ اسے اس معاملے کو چھپانا نہیں چاہیے۔ اگر اس کا خاوند طلاق رجعی کی مدت میں عدت گزرنے کے بعد نکاح کی خواہش کرے تو اس کو عقد ثانی کرنے کا زیادہ حق پہنچتا ہے بشرطیکہ وہ باہمی طور پر اپنی اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں۔ یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق ٹھہرائے ہیں تاہم مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے کیونکہ مرد خاندان کی اکائی اور کنبے کا کفیل ہوتا ہے۔ رسول معظم کا ارشاد ہے کہ جان بوجھ کر نسب کو خلط ملط کرنا حرام ہے۔ (عَنْ رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتِ الْاَنْصَارِیِّ (رض) قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ () حِیْنَ افْتَتَحَ حُنَیْنًا فَقَامَ فِیْنَا خَطِیْبًا فَقَالَ: لَا یَحِلُّ لِإمْرِی ءٍ یُّؤْمِنُ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ أَنْ یَّسْقِیَ مَاءَ ہٗ زَرْعَ غَیْرِہٖ الخ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب النکاح، باب فی وطء السبایا] ” حضرت رویفع بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ فتح حنین کے موقعہ پر میں نبی (ﷺ) کے ساتھ تھا۔ آپ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے کے لیے یہ بات حلال اور جائز نہیں کہ وہ اپنے پانی سے کسی اور کی کھیتی سیراب کرتا پھرے۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ () یَقُوْلُ مَنِ ادَّعٰی إِلٰی غَیْرِ أَبِیْہِ أَوِ انْتَمیٰ إِلٰی غَیْرِ مَوَالِیْہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ الْمُتَتَابِعَۃُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الأدب، باب فی الرجل ینتمی الخ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (ﷺ) سے سنا آپ فرماتے تھے جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کے باپ کو اپنا باپ بنانے کا دعو ٰی کیا یا کسی نے اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے آقا کی طرف اپنے آپ کو منسوب کیا تو اس پر قیامت کے دن تک لگا تار ” اللہ“ کی لعنت ہوتی رہے گی۔“ مسائل : 1۔ مطلقہ عورت کی عدّت تین حیض ہے۔ 2۔ مطلقہ عورت کو اپنے رحم کی حالت نہیں چھپانا چاہیے۔ 3۔ طلاق رجعی کی عدّت گزرنے کے بعد پہلا خاوندنکاح کرنے کا زیادہ حق دارہے۔ 4۔ میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں۔ 5۔ خاوندوں کا بیویوں پر درجہ بلند ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔ تفسیربالقرآن : عدّت کے مسائل : 1۔ مطلقہ کی عدّت تین حیض ہے۔ (البقرۃ :228) 2۔ حیض نہ آنے کی صورت میں عدّت تین ماہ ہے۔ (الطلاق : 4، 5) 3۔ بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ (البقرۃ :234) 4۔ حاملہ کی عدّت وضع حمل ہے۔ (الطلاق :4) 5۔ عدّت کے دن گننے چاہئیں۔ (الطلاق :1) 6۔ عورت شوہر کے گھر عدّت گزارسکتی ہے۔ (الطلاق :1) 7۔ خاوند کے ہاتھ لگائے بغیر طلاق دینے کی صورت میں عدّت نہیں۔ (الاحزا ب :49) 8۔ عدّت والی حمل نہ چھپائے۔ (البقرۃ:228) 9۔ عدّت والی حاملہ ہو تو بچہ جنم دینے تک مکان اور نفقہ کی حق دار ہے۔ (الطلاق :6) 10۔ عدّت میں منگنی کا اشارہ کرنے میں گناہ نہیں۔ (البقرۃ :235) 11۔ دورانِ عدّت نکاح جائز نہیں۔ (البقرۃ:235) البقرة
229 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ عربوں نے عورت کے لیے طلاق کو کنددھار آلہ بنا لیا تھا۔ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا جب اس کی عدّت ختم ہونے کے قریب آتی تو وہ اس سے رجوع کرلیتا تھا۔ اس طرح باربار طلاق دیتا اور رجوع کرتا یہاں تک کہ اس کو اسی حالت پر رہنے دیتا۔ اس حالت میں نہ وہ بیوی کے طور پر گھر میں زندگی بسر کرتی اور نہ ہی اس کی جان چھوٹتی۔ انہی خیالات کے تحت ایک انصاری صحابی (رض) نے ایک دن اپنی بیوی سے کہا کہ میں تمہیں ایسی سزادوں گا جس سے چھٹکارا پانا تیرے بس کا روگ نہیں ہوگا۔ اس نے عرض کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ انصاری نے کہا کہ میں ہر طلاق کے بعد عدّت گزرنے سے پہلے رجوع کرتا رہوں گا تاکہ تو اسی کش مکش میں مبتلا رہے۔ یہ سزا سن کربیچاری کانپ اٹھی اور موقع پاتے ہی رسول اکرم (ﷺ) کے گھر پہنچی۔ آپ گھر میں موجود نہ تھے حضرت عائشہ (رض) سے عرض کیا کہ میرے ساتھ یہ ظلم ہونے والا ہے۔ مجھے ان حالات میں کیا کرنا چاہیے۔ [ رواہ الترمذی : ابواب الطلاق واللعان، باب ماجاء فی طلاق المعتوہ] اس صورت حال پر رسول کریم (ﷺ) پروحی نازل ہوئی کہ آج کے بعد مرد کو صرف دو رجعی طلاقیں دینے کا حق ہوگا۔ اگر وہ اس دوران رجوع کرتا ہے تو ٹھیک ورنہ تیسری طلاق کے بعد نکاح ختم ہوجائے گا اور مردوں کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ جو کچھ انہوں نے اپنی بیویوں کو بھلے وقت میں دیا ہے وہ ان سے واپسی کا مطالبہ کریں۔ اگر دونوں اس بات کا خطرہ محسوس کریں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ اخلاقی حدود کا احترام نہیں کرسکیں گے۔ ایسی صورت میں عورت حق مہر واپس کرے یا مزید کوئی چیز دے کر طلاق حاصل کرلے۔ اس لین دین میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں جن میں کسی صورت بھی تجاوز نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنی متعین کردہ حدود کو اس لیے واضح فرماتا ہے کہ تم احترام کرو اور ان کا حدود اربعہ سمجھ جاؤ۔ اسلام کے نظام معاشرت اور عائلی قوانین میں اس قدر توازن برقرار رکھا گیا ہے کہ باوجود اس کے کہ مرد مرتبے اور اختیارات کے لحاظ سے عورتوں پر ناظم اور نگران بنائے گئے ہیں لیکن مرد کو اس طرح کے اندھا دھند اختیارات نہیں دیے گئے کہ وہ آزاد اور محصنات عورتوں کو لونڈیاں بناڈالے۔ بلکہ اس حکم خدا وندی میں عورت کو بھی ایک درجہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر وہ غیر جذباتی انداز اور پوری سوچ وبچار کے بعد اس فیصلے پر پہنچتی ہے کہ میرا اس خاوند کے ہاں اب رہنا مشکل ہوگیا ہے تو اس صورت حال میں عورت کو طلاق لینے کا حق دیا گیا ہے جسے شریعت کی زبان میں خلع کہا جاتا ہے۔ خلع کا مطلب ہے کہ عورت طلاق لینا چاہتی ہے تو خاوند کے مطالبہ پر اسے اس کی کچھ نہ کچھ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ یہ قدغن اس لیے لگائی گئی کہ عورت جذباتی اور مرد کے مقابلے میں معاشرتی حالات کو پوری طرح نہیں جانتی تاکہ وہ خلع حاصل کرنے کے لیے اچھی طرح غوروخوض کرلے۔ ایساہی واقعہ رسول محترم (ﷺ) کی خدمت میں پیش ہوا کہ ثابت بن قیس (رض) کی بیوی نے آپ کی خدمت میں عرض کیا (یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَیْہِ فِیْ خُلُقٍ وَلَا دِیْنٍ وَلٰکِنِّیْ أَکْرَہُ الْکُفْرَ فِی الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () أَتَرُدِّیْنَ عَلَیْہِ حَدِیْقَتَہٗ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () إِقْبَلِ الْحَدِیْقَۃَوَطَلِّقْھَا تَطْلِیْقَۃً) [ رواہ البخاری : کتاب الطلاق، باب الخلع وکیف الطلاق فیہ] ” اے اللہ کے رسول (ﷺ) ! میں ثابت بن قیس کے دین اور اخلاق میں کوئی نقص محسوس نہیں کرتی لیکن اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں۔ آپ نے پوچھا کیا تو اس کا باغ اسے واپس لوٹا دے گی۔ اس نے اثبات میں جواب دیا تو رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا۔ ثابت باغ قبول کرو اور اسے طلاق دے دو۔“ لیکن اس کے باوجود عورتوں کو یہ مسئلہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جو عورت بغیر کسی عذرکے خلع مانگتی ہے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہوگی۔[ رواہ أبود اوٗد : کتاب الطلاق، باب ماجاء فی المختلعات] مسائل : 1۔ طلاق رجعی دو مرتبہ ہے۔ 2۔ بیوی کو دئیے ہوئے تحائف واپس نہیں لینے چاہییں۔ 3۔ عورت خاوند کے مطالبہ پر کچھ نہ کچھ دے کر خلع حاصل کرسکتی ہے۔ 4۔ اللہ کی حدود میں تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ 5۔ اللہ کی حدود کو پامال کرنے والے ظالم ہیں۔ البقرة
230 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اگر میاں بیوی کے درمیان اکٹھا رہنے کی کوئی شکل باقی نہ رہے اور عورت کو تیسری بار طلاق بھی دے دی جائے تو پھر وہ آپس میں رجوع نہیں کرسکتے کیونکہ ایسی طلاق کو طلاق مغلظہ کہتے ہیں۔ اب ان کامیاں بیوی بن کر رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ سوائے اس کے کہ یہ عورت کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرے اور اس نکاح میں یہ شرط ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ میں اتنی مدت کے بعد تجھ سے طلاق حاصل کروں گی یا اس کا بننے والا خاوند اس ارادے کے ساتھ نکاح کرے کہ میں مجامعت کرنے کے بعد اسے طلاق دے دوں گا۔ ایسے ملاپ اور نکاح کو حدیث میں حلالہ کہا گیا ہے اور حلالہ کرنے اور کروانے والے پر رسول معظم (ﷺ) نے لعنت کی ہے۔ [ رواہ أبوداوٗد : کتاب النکاح، باب فی التحلیل] اس طرح کا نکاح زنا کے زمرے میں آتا ہے اور اس انداز سے دی ہوئی طلاق پہلے خاوند کے ساتھ نکاح کرنے کا جواز پید انہیں کرسکتی۔ قرآن مجید کے نقطۂ نگاہ سے تین طلاقیں ہوجانے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح اس صورت میں جائز ہوگا جب یہ خاوند کسی جبر اور پیشگی طے شدہ بات یا نیت کے بغیر صرف باہمی نباہ نہ ہونے کی صورت میں طلاق دے پھر اس عورت کا پہلے خاوند کے ساتھ اس شر ط کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں خلوص نیت کے ساتھ یہ عہد کریں کہ آئندہ وہ اللہ تعالیٰ کی متعین کردہ حدود کا پوری طرح احترام کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حدود کو اس لیے واضح اور کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ ان کا احترام کریں۔ مسائل : 1۔ طلاق مغلظہ کے بعد نکاح نہیں ہوسکتا۔ 2۔ دوسرا خاوند بلا شرط نکاح اور طلاق دے تو پہلے خاوند سے نکاح ہوسکتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنی حدود اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ لوگ سمجھ جائیں اور ان کا احترام کریں۔ البقرة
231 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ بیوی کو طلاق دینا جائز قرار دینے کے باوجود اسلام میں اس قدر مشکل بنا دیا گیا ہے کہ آدمی طلاق دینے سے پہلے بار بار اس پر غور اور اس کے مضرات سمجھنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ شریعت کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ جس حد تک ممکن ہو میاں بیوی کے درمیان یہ بابرکت اور پاکیزہ بندھن ٹوٹنا نہیں چاہیے۔ رسول معظم (ﷺ) فرمایا کرتے تھے : ( أَ بْغَضُ الْحَلَالِ إِلَی اللّٰہِ الطَّلَاقُ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب الطلاق‘ باب فی کراھیۃ الطلاق] ” اللہ تعالیٰ کے ہاں طلاق جائز ہونے کے باوجود ناپسندیدہ عمل ہے۔“ لہٰذا اگر میاں بیوی کے درمیان ناچاقی اور نااتفاقی کا ماحول پیدا ہوجائے تو اس خلیج کو پاٹنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے کئی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان پر عمل کیے بغیر کوئی طلاق دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک طرح کا مجرم تصور ہوگا۔ کیونکہ عام تعلقات اور رشتہ داریوں کے بارے میں ارشاد ہے کہ جس نے رشتہ داری اور صلہ رحمی کو منقطع کیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو اپنے رشتۂ رحمت سے کاٹ دے گا۔ [ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب من وصل وصلہ اللّٰہ] شریعت نے طلاق سے پہلے جو اقدامات تجویز فرمائے ہیں وہ مرحلہ وار ایک طویل سلسلہ ہے جس کا اختصار پیش کیا جاتا ہے۔ 1۔بیوی کو مسلسل نصیحت کرنا۔ 2۔ بیوی کی عادت پسند نہیں تو پھر بھی گزارا کرنا۔ 3۔ بستر الگ کردینا۔ 4۔ ہلکی پھلکی سزا دینا۔ 5۔فریقین کے خاندان میں سے دو ثالث مقرر کرنا۔ 6۔طلاق طہر کی حالت میں دینا۔ مطلقہ اپنے خاوند کے گھر میں عدّت گزارنے کی مجاز ہے۔ حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل تک اپنے خاوند کے گھر رہنے کا اسے حق دینا ہے۔ اس صورت میں وضع حمل تک خاوند اپنی بیوی کے نان ونفقہ اور دیگر ضروریات کا ذمہ دار ہوگا۔ طلاق رجعی کی صورت میں رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاکہ نباہ کی کوئی نہ کوئی شکل پیدا ہوجائے اور انہیں بار بار سمجھنے‘ سوچنے اور حالات کو نارمل کرنے کا موقع میسر آئے یہ سب کے سب اقدامات اگر بے نتیجہ ثابت ہوتے ہیں تو پھر حکم ہے کہ اچھے طریقے کے ساتھ اسے الوداع کیا جائے اور خاوند کے لیے حکم ہے کہ وہ عورت کو تکلیف دینے کے لیے عورت کے آگے نکاح کرنے میں کسی قسم کی منفی حرکت اور رکاوٹ پیدا نہ کرے۔ جس نے ایسا کیا حقیقتاً وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ ظاہر ہے کوئی عقل مند اپنے آپ پر ظلم نہیں کیا کرتا اپنے آپ پر ظلم کا معنیٰ ہے دنیا میں اس کی عزت میں فرق آئے گا اور قیامت کے دن پکڑ ہوگی اس ظلم سے باز رکھنے کے لیے مختلف انداز سے چار دفعہ سمجھایا گیا ہے۔ جب کہ پچھلی آیات میں میاں بیوی کے درمیان اخلاقی قدروں اور ازدواجی بندھن کو حدود اللہ قراردیا گیا ہے۔ یہاں انتباہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو مذاق سمجھنے کی جرأت نہ کرنا۔ اس نے جو تمہیں باہم رہنے کے اصول اور تنازعات ختم کرنے کے ضابطے اور اکٹھا رہنے کے بار بار مواقع فراہم کیے ہیں۔ یہ سراسر اس کی طرف سے انعامات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی کتاب اور پر حکمت احکام اس لیے عطا فرماتا ہے کہ وہ ان سے استفادہ اور نصیحت حاصل کرے۔ پھر انتباہ کرتے ہوئے اپنی ذات سے ڈرایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر رہنا سیکھو اور جانو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری گھریلو اور پبلک زندگی کی ہر ہر حرکت سے واقف ہے۔ مسائل : 1۔ عدّت کے دوران عورت کو اچھے انداز سے رکھنا یا اچھے انداز سے فارغ کرنا چاہیے۔ 2۔ عورت کو کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے سے روکنا اپنے آپ پر ظلم کرنا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو مذاق نہیں بنانا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد رکھنا چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے کتاب و حکمت اس لیے نازل فرمائے کہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ 6۔ ہر دم اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے البقرة
232 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اس سے پہلے طلاق رجعی کا بیان جاری ہے کہ جس عورت کو طلاق رجعی دی جائے اور وہ اپنی عدت گزارلے تو کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے میں سابقہ خاوند رکاوٹ نہ بنے۔ یہاں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ طلاق رجعی کی صورت میں اگر مطلقہ عورت کی عدت گزرجائے اب میاں بیوی آپس میں اچھے انداز میں رہنے کا عزم کرتے ہوئے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو ولی کو بھی اس نکاح میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے شخص کے لیے نصیحت ہے جو حقیقتاً دل کی گہرائیوں سے اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ فرمایا یہی صورت تمہارے لیے مناسب اور بہتر ہے۔ کیونکہ انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا بھالا ہوا ہے اور وہ ایک عرصہ اکٹھے رہے ہیں اور اولاد ہونے کی صورت میں تو نہایت ہی مستحسن فیصلہ ہوگا۔ خاص کر جب انہوں نے ماضی کی تلافی اور آئندہ اچھے انداز سے رہنے کا عہد کرلیا ہو تو یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ کوئی دوسرا راستہ تلاش کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جب کہ لوگوں کو حالات کا کماحقہ علم نہیں ہوتا۔ لہٰذا ایسی عورتوں کو اپنے خاوندوں کے ساتھ نکاح کرنے سے ہرگز نہیں روکنا چاہیے۔ جیسا کہ رسول اللہ (ﷺ) کے زمانے میں اس قسم کا واقعہ پیش آیا : (عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ (رض) أَنَّہٗ زَوَّجَ أُخْتَہٗ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ () فَکَانَتْ عِنْدَہٗ مَاکَانَتْ ثُمَّ طَلَّقَھَا تَطْلِیْقَۃًلَمْ یُرَاجِعْھَا حَتَّی انْقَضَّتِ الْعِدَّۃُ فَھَوِیَھَا وَھَوِیَتْہُ ثُمَّ خَطَبَھَا مَعَ الْخُطَّابِ فَقَالَ لَہٗ یَا لُکَعْ أَکْرَمْتُکَ بِھَا وَزَوَّجْتُکَھَا فَطَلَّقْتَھَا وَاللّٰہِ لَاتُرَاجِعُ إِلَیْکَ أَبَدًا آخِرُ مَا عَلَیْکَ قَالَ فَعَلِمَ اللّٰہُ حَاجَتَہٗ إِلَیْھَا وَحَاجَتَھَا إِلٰی بَعْلِھَا فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَھُنَّ﴾ إِلٰی قَوْلِہٖ ﴿وَأَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ﴾ فَلَمَّا سَمِعَھَا مَعْقِلٌ قَالَ سَمْعًا لِّرَبِّیْ وَطَاعَۃً ثُمَّ دَعَاہُ فَقَالَ أُزَوِّجُکَ وَأُکْرِمُکَ) [ رواہ الترمذی : کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ البقرۃ] ” حضرت معقل بن یسار (رض) نے رسول اللہ (ﷺ) کے دور میں مسلمانوں کے ایک آدمی سے اپنی بہن کی شادی کردی وہ اس کے پاس کچھ عرصہ رہی پھر اس کے خاوندنے اسے ایک طلاق دی اور عدت بھی گزر گئی لیکن رجوع نہ کیا۔ پھر میاں بیوی ایک دوسرے کو چاہنے لگے اس آدمی نے نکاح کے لیے آدمی بھیجا تو معقل بن یسار (رض) نے کہا‘ کمینے! میں نے تیری عزت کرتے ہوئے اس کے ساتھ شادی کی اور تو نے اسے طلاق دے دی اللہ کی قسم! اب کبھی بھی یہ تیرے پاس نہیں لوٹے گی یہ آخری باری تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں میاں بیوی کی خواہش کے پیش نظر یہ آیت نازل فرمائی ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَھُنَّ﴾ جب معقل بن یسار (رض) نے یہ آیت سنی تو فرمایا کہ میں نے اپنے رب کی بات کو سنا اور مان لیا۔ پھر انہوں نے اس آدمی کو بلایا اور کہا میں تیرا نکاح بھی کرتا ہوں اور عزت بھی۔“ تاہم عقد ثانی کی صورت میں اگر عورت چاہے تو وہ نیا حق مہر اور شرائط مقرر کرسکتی ہے کیونکہ پہلا نکاح ختم ہوجانے کی وجہ سے دوسرے نکاح کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مسائل : 1۔ عدّت پوری ہونے کے بعد عورتیں اپنے خاوندوں سے نکاح کرنا چاہیں تو انھیں روکنا نہیں چاہیے۔ 2۔ نصیحت اس شخص پر اثر انداز ہوتی ہے جو اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے جبکہ لوگ بہت کمعلم رکھتے ہیں۔ تفسیربالقرآن : اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ 1۔ اللہ دلوں کے راز جانتا ہے۔ (ہود :5) 2۔ جوا للہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ (البقرہ :216) 3۔ اللہ کا علم فرشتے بھی نہیں جانتے۔ (البقرہ :30) 4۔ ہر گرنے والا پتا اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ (الانعام :59) 5۔ اللہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ (المومن :19) 6۔ اللہ خشکی اور تری کی پوشیدہ چیزوں سے واقف ہے۔ (الانعام :59) البقرة
233 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ طلاق ہونے کی صورت میں ماں کی گود میں نو نہال اور معصوم بچہ ہو تو اس کا کون محافظ اور نگران ہونا چاہیے؟ بالخصوص جب کہ بچہ کھانا کھانے اور اپنے ہاتھ سے پانی پینے کے قابل نہ ہو۔ رب کریم نے اس نونہال کی پرورش اور نگرانی کا ایسا انتظام فرمایا کہ جس میں ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی باپ کو تنگ کرنے کے لیے ماں بچے کا بہانہ بنائے بلکہ باہمی مشاورت کے ساتھ بچے کی رضاعت اور حفاظت کا معاملہ طے ہونا چاہیے۔ اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ طلاق ہونے کے باوجود سابقہ میاں بیوی اور دونوں کے خاندانوں کے درمیان دشمنی کے بجائے ممکن حد تک قربت باقی رہنے کا امکان رہے گا۔ لہٰذا باہم رضامندی کے ساتھ ماں اپنے بچے کو مکمل دو سال دودھ پلائے اور اس دوران بچے اور اس کی والدہ کے کھانے پینے اور رہنے سہنے کے اخراجات بچے کے والد کے ذمّہ ہوں گے۔ والد کے فوت ہوجانے پر یہ ذمّہ داری وارث نبھائیں گے۔ کفالت کے سلسلے میں بھی اس اصول کو پیش نظر رکھا جائے کہ جس سے ایک دوسرے کو تکلیف پہنچانے کے بجائے خاوندعورت کی ضروریات کا خیال رکھے اور بچے کی ماں اپنے سابقہ خاوند کی مالی حیثیت کو سامنے رکھ کر اخراجات کا تقاضا کرے۔ پھر تیسری گنجائش یہ بھی رکھ دی گئی ہے کہ اگر بچے کا والد کسی وجہ سے اس کی ماں کا دودھ نہیں پلوانا چاہتا یا عورت کسی مجبوری یا آئندہ نکاح کے پیش نظر اپنے لخت جگر کو دودھ پلانے سے عاجز ہے تو ایسی صورت میں کسی دایہ کے ہاں بچے کی رضاعت کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ دودھ پلانے والی کو اچھے انداز میں اس کا حق الخدمت ادا کیا جائے۔ یہاں اس مسئلہ کی وضاحت بھی فرمادی گئی کہ ماں اپنے بچے کو دوسال دودھ پلائے گی اور رضاعت کی مدت دو سال ہوگی۔ اس سے رضاعت کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے کہ میں نے معراج کی رات دیکھا کہ کچھ عورتوں کے پستانوں سے سانپ چمٹے ہوئے ہیں۔ میرے پوچھنے پر بتلایا گیا کہ یہ وہ مائیں ہیں جو بلاوجہ اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتی تھیں۔ [ سلسلۃ الصحیحۃ: للألبانی :3951] الحمد للہ جدید میڈیکل سائنس نے ثابت کردیا ہے کہ جو مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں وہ سینے کے کینسر سے محفوظ رہتی ہیں۔ آج اس کے لیے سالانہ واک کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں نے رضاعت کی مدت سورۃ الاحقاف کی آیت 15سے استدلال کرتے ہوئے اڑھائی سال بتلائی ہے اس استدلال کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔ قرآن مجید کا اسلوب ہے کہ وہ ہر اہم مسئلہ کے بعد اللہ تعالیٰ کا خوف اور لوگوں کو اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر کیا کرو۔ کیونکہ وہ تمہاری ہر حرکت کو جاننے اور دیکھنے والا ہے۔ یہ تصور یہاں اس لیے دہرایا اور تازہ کیا گیا ہے کہ معصوم بچے اور اس کی مطلقہ ماں کے بارے میں وہی اچھا سلوک کرے گا جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہے۔ مسئلہ رضاعت: رضاعت کی مدت دوسال ہے۔ ﴿وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ﴾ [ البقرۃ:233] ” مائیں اپنے بچوں کو پورے دوسال دودھ پلائیں۔ یہ مدت مکمل دودھ پلانے کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے ہے۔“ ان سالوں میں بچہ جس عورت کا دودھ پیے گا وہ اس کی رضاعی ماں کہلائے گی اور جتنے رشتے حقیقی ماں کی وجہ سے اس پر حرام تھے اتنے ہی رضاعی ماں کی وجہ سے حرام ہوں گے۔ رسول محترم (ﷺ) کا ارشاد ہے : (یَحْرُ مُ مِنَ الرَّضَاعِ مَایَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ) [ رواہ البخاری : کتاب الشھادات، باب الشھادۃ علی الأنساب] ” جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں وہ رضاعت کے سبب بھی حرام ہوجاتے ہیں۔“ پردہ کی آیات کے نزول کے بعد حضرت عائشہ (رض) کے پاس افلح ابو القعیس کا بھائی آیا تو حضرت عائشہ (رض) نے قسم اٹھا کر کہا کہ جب تک میں نبی کریم( ﷺ) سے نہ پوچھ لوں تب تک میں تجھے اپنے ہاں آنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ حضرت عائشہ (رض) نے نبی کریم (ﷺ) سے یہ بھی سوال کیا کہ مجھے تو ابو القعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے نہ کہ ابو القعیس کے بھائی نے آپ (ﷺ) نے فرمایا : (إِئْذِنِیْ لَہٗ فَإِنَّہٗ عَمُّکِ تَرِبَتْ یَمِیْنُکِ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب] ” تیرے ہاتھ خاک آلودہ ہوں ! اسے اجازت دے کیونکہ وہ تیرا چچا ہے۔“ ہاتھ آلودہ ہونا عرب کا محاورہ تھا جو تعجب دلانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ رضاعت کب تک ثابت ہوسکتی ہے؟ اس مسئلہ میں صحابہ (رض) کی غالب اکثریت کا فیصلہ ہے کہ رضاعت اتنی مدّت کے دوران ہی ثابت ہوگی جتنی دیر تک بچے کو دودھ پلانے کی اجازت ہے۔ اور وہ قرآن مجید کے مطابق دوسال ہے :[ البقرۃ:233] نبی کریم (ﷺ) کا ارشاد ہے : (لَا یُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ إِلَّا مَافَتَقَ الْأَمْعَاءَ فِی الثَّدْیِ وَکَانَ قَبْلَ الْفِطَامِ) [ رواہ الترمذی : کتاب الرضاع، باب ماجاء ماذکرأن الرضاعۃ لاتحرم إلا فی الصغر ] ” رضاعت اس وقت ثابت ہوگی جب دودھ سے انتڑیاں سیر ہوجائیں اور یہ رضاعت دودھ چھڑانے کی مدت کے دوران ہے۔“ (بچہ پانچ بار خوب سیر ہو کر دودھ پئے تب رضاعت ثابت ہوگی کیونکہ حدیث میں پانچ بار کی شرط ہے ) مسائل : 1۔ مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔ 2۔ دودھ پلانے کے دوران ماں اور بچے کے اخراجات خاوند کے ذمہ ہوں گے۔ 3۔ بچے کے بہانے میاں بیوی ایک دوسرے کو اذیت نہ پہنچائیں۔ 4۔ باپ کے فوت ہونے کی صورت میں اس کے وارث بیوہ اور اس کے بچے کی کفالت کے ذمہ دار ہوں گے۔ 5۔ میاں بیوی یا وارث باہمی رضامندی سے بچے کو دودھ دوسری عورت سے پلوانا چاہیں تو کوئی حرج نہیں۔ 6۔ دایہ کو اس کا حق ہر صورت ادا کرنا چاہیے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے کیونکہ وہ سب کے اعمال دیکھ رہا ہے۔ تفسیر بالقرآن : رضاعت کے اصول : 1۔ مدت رضاعت دو برس ہے۔ (البقرۃ:233) 2۔ دودھ پلانے والی کا نان ونفقہ اور کپڑے بچے کے والد کے ذمّے ہیں۔ (البقرۃ:233) 3۔ دودھ پلانے میں کسی کو تکلیف نہ دی جائے۔ (البقرۃ:233) 4۔ رضامندی سے بچے کی ماں کا دودھ چھڑانا گناہ نہیں۔ (البقرۃ:233) 5۔ دودھ پلانے کے دوران مطلقہ کو اخراجات دینے چاہییں۔ (الطلاق :6) البقرة
234 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ یہاں ازدواجی اور معاشرتی مسائل کے تذکرہ میں ایک اور اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ جن عورتوں کے خاوندفوت ہوجائیں انہیں چار مہینے دس دن اسی گھر میں رہنا اور عدّت گزارنی چاہیے۔ جب وہ اپنی عدّت گزار لے تو اسے اپنے مستقبل کے بارے میں شریفانہ انداز میں فیصلہ کرنے کا حق دینا چاہیے۔ پھر خبردار فرمایا کہ بیوہ، اس کے لواحقین اور سب لوگوں کے اعمال سے اللہ تعالیٰ بہت اچھی طرح باخبر ہے۔ لہٰذا ہر کسی کو پوری ہوش مندی کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہیے۔ بیوی کی چار مہینے دس دن عدت کے بارے میں اہل علم کے مختلف موقف ہیں۔ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہ عدّت اس لیے مقرر کی گئی ہے تاکہ اچھی طرح معلوم ہوسکے کہ بیوہ صاحب امید ہے یا کہ خالی الرحم اور دوسروں کا خیال ہے کہ چار مہینے دس دن خاوند کی وفات پر اس کی بیوی افسوس کے طور پر گزارے گی جب کہ خاوند کے علاوہ کسی دوسرے کی وفات پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا شرعًا جائز نہیں۔ چار مہینے دس دن عدت ہر اس عورت کے لیے ہے چاہے فوت ہونے والے اس کے خاوند نے اس کے ساتھ مجامعت کی ہو یا نہ کی ہو‘ بوڑھی ہو یا جوان۔ البتہ حاملہ کی عدّت بچہ جنم دینے تک ہے۔ [ الطلاق :4] ایسی عورت اس کے بعد کسی دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے بیوہ عدّت کے دوران زیب وزینت، بناؤ سنگھار نہیں کرسکتی اور نہ ہی بلا ضرورت گھر سے باہر جاسکتی ہے۔ البتہ مجبوری کی حالت میں گھر تبدیل کرنا اور ضرورت کے تحت کام کاج کرنے کی اجازت ہے۔ ” جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق دے دی گئی۔ اس نے اپنے باغ سے کھجوریں اتارنے کا ارادہ کیا تو ایک شخص نے اسے باہر نکلنے سے روک دیا۔ وہ نبی کریم (ﷺ) کے پاس آئیں تو آپ نے فرمایا : اپنی کھجوریں اتارو ہوسکتا ہے کہ تم صدقہ کرو یا دوسرا نیکی کا کام کرو۔“ [ رواہ مسلم : کتاب الطلاق، باب جواز خروج المعتدۃ] مسائل : 1۔ بیوہ کی عدّت چار مہینے دس دن ہے۔ 2۔ عدت پوری ہونے کے بعد عورت اپنے بارے میں فیصلہ کرسکتی ہے۔ البقرة
235 فہم القرآن : ربط کلام : عورتوں کے مسائل جاری ہیں۔ بیوہ عورت اپنے خاوندکی وفات کے بعد چار مہینے دس دن کی عدت گزارے گی بشرطیکہ وہ حاملہ نہ ہو۔ حاملہ ہونے کی صورت میں اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہوگی۔ اس عدت کے دوران اس کے ساتھ نکاح کرنے کا خواہش مند شخص کسی ایسے طریقے اور انداز سے اسے اپنے ارادے سے آگاہ نہیں کرسکتا جس سے نکاح کرنے کا کھلا اشارہ پایا جائے البتہ کنایہ کی زبان استعمال کرسکتا ہے۔ یہ شرط عورت کی پریشان حالی کی وجہ سے عائد کی گئی ہے کیونکہ عدّت اور صدمے کے ایّام میں اس کے ساتھ نکاح کی واضح بات کرنا ہمدردی کے بجائے اس کی افسردگی میں اضافہ اور دکھے ہوئے دل پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔ شاید ہی کوئی بیوہ ہو جس کے لیے اس کے خاوند کا فوت ہونا معمولی بات ہو ورنہ خاوند کے اٹھ جانے کے خیال سے ہی ایک شریف عورت جدائی اور تنہائی کے تصور سے کانپ جاتی ہے۔ اگر اس کے چھوٹے چھوٹے بچے اور مالی حالات بہتر نہ ہوں تو اس کی زندگی ویران اور مستقبل تاریک ہوجاتا ہے۔ بیوہ کی عدّت کے دوران نکاح کا واضح پیغام بھیجنا اخلاقی قدروں کے منافی ہے ایسی صورت میں دیکھنے اور سننے والا یہ سمجھے گا کہ شاید یہ اپنے خاوند کے مرنے کے انتظار میں تھی۔ ہاں اشارے، کنائے سے آگاہ کرنے کی اجازت دینا اپنے دامن میں کئی حکمتیں لیے ہوئے ہے۔ سب سے بڑی اور جامع حکمت اسی حکم میں بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اشارے کی زبان استعمال کرنے کی اس لیے اجازت دی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ نکاح کے خواہشمند لوگ ضرور کسی انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کریں گے۔ اس اخلاقی جرم سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے از راہ کرم تمہیں کنایہ استعمال کرنے کی اجازت عطا فرمائی ہے تاہم یہ اشارات اس وقت تک نکاح کے عزم کے ترجمان نہیں ہونے چاہییں جب تک اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ضابطہ اپنے وقت کو نہ پہنچ جائے یعنی عدت پوری نہ ہوجائے۔ عزم نکاح کے اظہار سے اس لیے بھی منع کیا گیا کہ کہیں عورت غم اور پریشانی کے عالم میں اپنے مستقبل کے بارے میں غلط فیصلہ نہ کربیٹھے۔ آخر میں ارشاد ہوتا ہے کہ لوگو! یہ بات یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے جذبات اور عزائم کو اچھی طرح جانتا ہے لہٰذا اس کی نافرمانیوں سے بچ کر رہنا اور یہ بھی یاد رکھو اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے کے باوجود معاف کرنے والا نہایت ہی برد بار ہے۔ عدّت کے مسائل : (عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ کُنَّا نُنْھٰی أَنْ نُحِدَّ عَلٰی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلٰی زَوْجٍ أَرْبَعَۃَ أَشْھُرٍ وَّعَشْرًا وَلَانَکْتَحِلَ وَلَا نَطَّیَّبَ وَلَا نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوْغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّھْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِیْضِھَا فِیْ نُبْذَۃٍ مِنْ کُسْتِ أَظْفَارٍ وَکُنَّا نُنْھٰی عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَآئِزِ) [ رواہ البخاری : کتاب الطلاق، باب القسط للحادۃ عند الطھر] ” حضرت ام عطیہ (رض) کہتی ہیں ہمیں منع کیا جاتا تھا کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کریں سوائے شوہر کے۔ شوہر کے مرنے پر چار مہینے دس دن سوگ کریں اور عدت کے زمانے میں نہ سرمہ لگائیں نہ خوشبو لگائیں نہ رنگا ہوا کپڑا پہنیں سوائے اس کپڑے کے جو بننے سے پہلے رنگا گیا ہو۔ البتہ ہمیں اس بات کی اجازت تھی کہ جب ماہواری کے غسل کے بعد خوشبو کے پھنبے کو خون کی جگہ پر پھیر لیں۔ اور جنازے کے پیچھے جانے سے بھی روکا جاتا تھا۔“ ” رسول اللہ (ﷺ) فرماتے ہیں بیوہ عدّت کے دوران نہ زرد کپڑا پہنے نہ زیور پہنے اور نہ خضاب لگائے۔“ [ رواہ ابو داوٗد : کتاب الطلاق، باب فیما تجتنبہ المعتدۃ فی عدتھا] مسائل : 1۔ بیوہ کو عدّت کے دوران نکاح کا پیغام بھیجنا منع ہے۔ 2۔ عدّت کے دوران بیوہ کو نکاح کا اشارہ دیاجاسکتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کے حال سے واقف ہے۔ 4۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت ہی بردبار ہے۔ البقرة
236 فہم القرآن : (آیت 236 سے 237) ربط کلام: میاں بیوی کے مسائل کا بیان جاری ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ اب ایسے ہنگامی حالات اور واقعات کے بارے میں ہدایات دی جارہی ہیں جو اس دنیا میں پیش آ ہی جاتے ہیں۔ ان حالات کے کئی اسباب ہوا کرتے ہیں۔ نکاح کے وقت حق مہر پرجھگڑا، نکاح سے پہلے ایک دوسرے کو دی گئی معلومات کا غلط ثابت ہونا اور بعض دفعہ موقع پر اچانک کسی شریر کی شرارت اس قدر شر انگیز اور زوداثر ہوتی ہے کہ خوشی کے موقع پر جمع ہونے والے خاندان کے ذمہ دار افراد آپس میں لڑ کر جدا ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر یہ واقعات اچانک رونما ہوتے ہیں جو فریقین کے لیے نہایت ہی خفت کا باعث اور خاص طور پر بیٹی والوں کے لیے ایسا معاملہ نہایت ہی دل خراش اور سبکی کا باعث ہوتا ہے۔ اس سارے ہنگامے میں سب سے زیادہ متاثر دلہن ہوتی ہے جس کا چند لمحوں بعد نکاح ہونے والا ہوتا ہے۔ لہٰذا نہایت ہی ضروری تھا کہ جس لڑکی کو اس کے خاوند نے چھوئے اور حق مہر مقرر کیے بغیر چھوڑ دیا ہے اس کی دل جوئی کا سامان اور اس کے مستقبل کو کئی قسم کے خدشات اور الزامات سے بچایا جائے۔ کیونکہ اس صورت حال سے اس کا مستقبل خدشات اور شبہات کے حوالے ہوچکا ہے۔ لہٰذا دلخراش اور ہنگامی صورت حال میں حکم دیا کہ صاحب حیثیت اپنے وسائل کے مطابق اور مالی لحاظ سے کمزور اپنی طاقت کے مطابق عورت کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ نیک لوگوں پر اس لیے لازم ہے کہ اس سے طرفین کی پریشانی میں کمی اور عورت کا مستقبل کافی حد تک غلط افواہوں اور الزامات سے محفوظ ہوگا اور دونوں خاندان مزید اختلافات سے بھی بچ جائیں گے۔ نکاح کے بعد یہ صورت بھی پیش آسکتی ہے کہ حق مہر مقرر ہوچکا ہو لیکن میاں بیوی کے باہم ازدواجی تعلقات قائم ہونے سے پہلے طلاق ہوجائے۔ جس کی کئی ہنگامی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جن میں ایک بڑی وجہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کو ناپسند کرنا ہے۔ نعوذ باللہ یہ کوئی فرضی مسئلہ بیان نہیں کیا جارہا بلکہ غیرمسلم معاشروں کی طرح مسلمان معاشرے میں بھی اس قسم کے واقعات ایک حد تک رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اسلام کی ہمہ جہت رہنمائی، شفقت اور جامعیت کا تصور ذہن میں لائیں کہ وہ زندگی کے تمام اہم شعبوں کی رہنمائی کے لیے کس قدر جامع اور تفصیلی ہدایات جاری کرتا ہے۔ مسلمان معاشرہ میں ہونے والے اس قسم کے ہنگامی واقعات کو مستقل دشمنی کا روپ دھارنے سے پہلے اس کا حل پیش کردیا گیا ہے تاکہ رشتہ داری اور اخوت کے مضبوط قلعہ میں واقعہ ہونے والی دراڑوں کو حتی المقدور پر کرنے کی سعی ہوسکے۔ حق مہر مقرر ہوجانے اور خاوند کا اپنی بیوی سے مجامعت کرنے سے پہلے طلاق دینا خاندانی نظام اور میاں بیوی کے لیے شدید دھچکا ہوا کرتا ہے۔ ایک حد تک اس کی تلافی کے لیے یہ اصول نافذ فرمایا کہ ایسی صورت میں بہتر ہوگا کہ عورت اپنا حق معاف کردے یا اس کا خاوند پورے کا پورا حق مہر دے دے۔ مردو! اگر تم معاف کرو تو یہ تقو ٰی کے زیادہ قریب ہے۔ یہاں تقو ٰی سے مراد باہمی بدگمانیوں اور آئندہ مزید اختلافات اور قلبی نفرتوں سے بچنا ہے۔ یہ تبھی ہوسکتا ہے کہ علیحدگی کے عمل کے دوران سابقہ تعلقات اور رشتہ داریوں کو پیش نظر رکھا جائے اس بات کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ سب کے پوشیدہ اور ظاہر کردار کو دیکھنے والا ہے۔ اس سے تمہاری کوئی زیادتی اور حرکت پوشیدہ نہیں ہے۔ مسائل : 1۔ غیر معمولی حالات میں بیوی کو چھوئے بغیر طلاق دی جاسکتی ہے۔ 2۔ مرد کی طرف سے سارا حق مہر چھوڑ دینا تقو ٰی کی علامت ہے۔ 3۔ طلاق کا معاملہ کرتے ہوئے سابقہ محبت کو نہیں بھولنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے عمل کو دیکھ رہا ہے۔ تفسیربالقرآن : مطلقہ کے حقوق : 1۔ طلاق والی عورتوں کو مالی وسعت کے مطابق خرچ دینا ہوگا۔ (البقرۃ:236) 2۔ طلاق یافتہ عورتوں کو خرچ دینامتقین پر لازم ہے۔ (البقرۃ:241) البقرة
237 البقرة
238 فہم القرآن: (آیت 238 سے 239) ربط کلام : ازواجی مسائل کے بیان کے دوران خصوصی نصیحت۔ سلسلۂ کلام منقطع فرما کر یہاں حفاظت نماز اور خاص کر درمیانی نماز کی حفاظت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسلام کے عملی نظام میں نماز ایسی پنجگانہ تربیت ہے کہ اگر کوئی شخص شریعت کی ہدایات کے مطابق نماز ادا کرے اور اس کے تقاضے سمجھنے کی طرف توجہ دے تو نمازی دین اور دنیا کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک منفرد اور ذمہ دار شخصیت بن جاتا ہے۔ کیونکہ پانچ وقت اس بات کا آرزو مند ہوتا ہے کہ اس کے گناہ معاف کردیے جائیں اور قدم قدم پر اس کی رہنمائی کا اہتمام ہوجائے اور روز محشر اپنے رب کے حضور اس حالت میں پیش ہو کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے والا بندہ شمار ہوسکے۔ گویا کہ مومن بظاہر تو دنیا میں زندگی بسر کر رہا ہے لیکن اعتقادی اور فکری طور پراپنے آپ کو میدان محشر میں اپنے رب کے حضور سمجھتا ہے۔ نماز خود احتسابی کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ حضرت عمر (رض) اپنی حکومت کے اہل کاروں کو فرمایا کرتے تھے کہ میں تمہاری کارکردگی کو نماز کی حفاظت کے آئینہ میں دیکھتا ہوں۔ (سیرت الفاروق) کیونکہ جو شخص نماز کی پابندی اور اسے احسن انداز سے ادا نہیں کرتا وہ اپنی دوسری ذمّہ داریاں پوری کرنے میں بھی کوتاہی کا مرتکب ہوگا۔ انسان کی معاشرتی ذمہ داریوں کی ابتداو انتہا اس کے اہل خانہ کے حوالے سے ہوا کرتی ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے : (خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَھْلِہٖ وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِأَھْلِیْ) [ رواہ الترمذی : کتاب المناقب عن رسول اللہ] ” وہی شخص اعلیٰ اخلاق وکردار کا مالک ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہتر طریقے سے رہتا ہے اور میں تم سے اپنے گھر والوں کے معاملہ میں بہتر ہوں۔“ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں معاشرتی اور ازدواجی مسائل کے درمیان حفاظت نماز کے حکم کا یہی منشا ہے۔ کہ آدمی اپنی ذمہ داریوں کو پہچانے۔ صلوۃِ وسطیٰ سے مراد اکثر اہل علم کے نزدیک عصر کی نماز ہے۔ کیونکہ نبی محترم (ﷺ) نے غزوۂ خندق کے موقع پر کفار کو ملعون کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اللہ ان کا ستیا ناس کرے کہ انہوں نے آج ہماری نماز وسطیٰ کو بھی مؤخر کرادیا ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ الخندق ] نماز عصر کی اہمیت اور فضیلت اس لیے زیادہ ہے کہ گھر پلٹنے والا مسافر گھر پہنچنے کے لیے تیز گام ہوجاتا ہے۔ دفتر سے رخصت کا وقت دن کا پچھلا پہر ہی ہوا کرتا ہے۔ کاروباری لوگ ذہنی طور پر عصر کے وقت ہی معاملات سمیٹنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ مزدوری کا اختتام اور مالک سے معاوضہ لینے کا بھی یہی وقت ہوتا ہے۔ گویا کہ یہ وقت ہجوم کار کا سنگھم اور ان کی انتہا ہے۔ اس لیے اس نماز کے فوت یا مؤخر ہونے کے زیادہ خدشات ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) فرمایا کرتے تھے کہ جس کی نماز عصر ضائع ہوگئی گویا اس کی تمام دن کی کمائی غارت ہوگئی۔ [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلاۃ، باب إثم من فاتتہ العصر] جس طرح مزدوردن کے آخر میں معاوضے کا طلب گار ہوتا ہے یہی صورت نمازی کی ہے کہ اس وقت ملائکہ اللہ تعالیٰ کے حضور آدمی کے سارے دن کی رپورٹ پیش کرتے ہیں۔ گویا کہ جس کی نماز عصر ضائع ہوئی وہ اس دن اللہ تعالیٰ سے اجر لینے میں محروم رہے گا۔ نماز کی ادائیگی کے بارے میں یہ حکم دیا ہے کہ نہایت خاموشی اور عاجزی کے ساتھ اللہ کے حضور کھڑا ہواجائے۔ نماز میں بے جاحرکت نہیں کرنا چاہیے نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا : (اُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلٰی سَبْعَۃٍ لَاأَکُفُّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا)[ رواہ البخاری : کتاب الاذان] ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں اور بالوں اور کپڑوں کو نہ لپیٹوں۔“ یہاں نماز خوف کا طریقہ بھی بتلایا ہے کہ اگر انتہائی خطر ناک اور ہنگامی حالات ہوں تو سواری پر نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ البتہ امن کی حالت میں پہلے طریقے پر ہی نماز ادا کی جائے گی۔ نماز خوف کے ہنگامی حالات کے مطابق کئی طریقے احادیث کی کتابوں میں موجود ہیں جن کی تفصیل إن شاء اللہ سورۃ المائدۃ میں آئے گی۔ حالت جنگ میں اللہ تعالیٰ کو زیادہ سے زیادہ یاد کرنا چاہیے۔ ﴿فاذْکُرُوا اللّٰہ﴾ سے مراد نماز کے بعد کے اذکار ہو سکتے ہیں نماز اسی طرح پڑھو اور قائم کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کی تعلیم دی ہے۔[ تفسیرابن کثیر] مسائل : 1۔ نمازوں کی حفاظت کرنا چاہیے بالخصوص عصر کی نماز کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ 2۔ نماز میں عاجزی کے ساتھ کھڑا ہونا اور بلا وجہ حرکات نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ نماز کے بعد اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن: فرضیت نماز: 1۔ نماز قائم کرو، زکوۃادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ (البقرۃ: 43) 2۔ مؤمنین پر نماز مقررہ وقت پر فرض کی گئی ہے۔ (النساء: 103) 3۔ نماز قائم کرو اور مشرک نہ بنو۔ (الروم: 31) البقرة
239 البقرة
240 فہم القرآن : (آیت 240 سے 242) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ مضمون۔ جس عورت کا خاوند فوت ہوتے وقت وصیت کرجائے کہ اسے ایک سال گھر سے نہ نکالا جائے تو اس صورت میں اسے شوہر کے گھر رہنے اور نان و نفقہ کی ذمہ داریاں وارثوں پر ہوں گی۔ اگر وہ اپنے طور پر اپنے میکے یا کہیں اور رہنے کا انتظام کرے تو وارثوں پر اس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اس حکم کے بارے میں تمام مفسرین کا خیال ہے کہ جب بیوہ کو باضابطہ طور پر اس کے فوت شدہ خاوند کی وراثت میں حصہ دار بنا دیا گیا تو یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنے احکام کے بارے میں ترمیم واضافہ کرنے کا حق رکھنے اور ان کی حکمت کو سمجھنے والا ہے۔ آخر میں پھر ہدایت کی جارہی ہے کہ مطلقہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک اور تعاون کرنا صاحب تقو ٰی لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس لیے اپنے احکامات کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاندانی الجھنوں اور آخرت کی سختیوں سے مامون ہوجائیں۔ مسائل : 1۔ بیوہ اپنی عدّت کے بعد رہائش کا فیصلہ کرنے میں خود مختار ہے۔ 2۔ مطلقہ عورتوں کو اچھے انداز میں فائدہ پہنچانا لازم ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے احکام پر غور و خوض کرنا چاہیے۔ البقرة
241 البقرة
242 البقرة
243 فہم القرآن : (آیت 243 سے 244) ربط کلام : نیاخطاب بدر، احد سے پہلے مسلمانوں کو جہاد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے سورۃ البقرۃ آیت : 191تا 193میں دفاعی جنگ کا حکم دیا گیا تھا اور یہاں بھی ایسے تناظر میں جہاد کا ذکر ہورہا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی جائے تو انہیں موت کی پروا کیے بغیردشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانا چاہیے۔ کیونکہ بات کا آغاز ہی بنی اسرائیل کے اس واقعے سے کیا جارہا ہے جو ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے صرف اس لیے نکلے تھے کہ کہیں یہاں رہتے ہوئے انہیں موت نہ دبوچ لے۔ چند اہل علم کو چھوڑ کر باقی سب نے ایک خاص واقعے اور علاقے کا ذکر کیا ہے کہ وہاں بنی اسرائیل پر طاعون کی وبا پھیلی اور وہ موت کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس حرکت کو ناپسند کرتے ہوئے ان پر موت وارد کی اور وہ سب کے سب موت کی آغوش میں چلے گئے۔ ایک مدت گزرنے کے بعد حضرت سموئیل (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندگی عطا کی۔ اس واقعہ سے بیک وقت دو نتائج لوگوں کے سامنے رکھے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ اور دوسری یہ بات بتلائی کہ جو لوگ موت سے ڈر کراپنے گھروں سے نکلے تھے موت نے انہیں آلیا۔ یاد رکھو ہر کسی کی موت کا وقت اور مقام مقرر ہے وہ اس سے بھاگ نہیں سکتا بلکہ ان لوگوں کی طرح چل کر خود ہی موت کے مقام تک پہنچ جائے گا اس لیے بزدلوں کی طرح دشمن کے آگے بھاگنے اور بھیڑ بکریوں کی طرح اس کے ہاتھوں قتل ہونے کی بجائے دشمن کے سامنے ڈٹ جاؤ۔ موت تو اپنے وقت اور مقام پر ہی آئے گی۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنی قدرت کے معجزات اس لیے دکھاتا ہے تاکہ وہ ہدایت پاکر اس کا شکریہ ادا کریں لیکن اکثر لوگ شکر گزار نہیں ہوتے۔ مرنے کے بعد اٹھنا قرآن مجید کا بنیادی نظریہ ہے جس کے ثبوت میں یہ دوسراواقعہ بیان ہورہا ہے۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت محمدی کی طرح بنی اسرائیل کے لیے بھی یہی قانون تھا کہ اگر کسی علاقے میں طاعون یا کوئی وبا پھیل جائے تو اسے چھوڑنا نہیں چاہیے۔ حضرت اسامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : (اَلطَّاعُوْنُ رِجْسٌ أُرْسِلَ عَلٰی طَآئِفَۃٍ مِّنْ بَنِیْ إِسْرَآئِیْلَ أَوْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِہٖ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوْا عَلَیْہِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِھَا فَلَا تَخْرُجُوْا فِرَارًا مِّنْہُ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار] ” طاعون عذاب ہے جو بنی اسرائیل یا تم سے پہلے کسی قوم پر بھیجا گیا۔ جب تمہیں معلوم ہو کہ فلاں علاقے میں طاعون کی بیماری پھیل گئی ہے تو وہاں نہ جاؤ۔ اگر تمہارے علاقے میں طاعون کی وباپھوٹ پڑے تو وہاں سے فرار اختیار نہ کرو۔“ طاعون کی بیماری کے وقت اپنا گھر بار چھوڑ کر نکلنے کا اس لیے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے جو کسی بنا پر بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتا قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے جرائم کی وجہ سے پکڑنا چاہے تو زمین میں ایک جاندار بھی باقی نہ رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی موت تک مہلت دیتا ہے جب موت کا وقت آجاتا ہے تو لوگوں کی اجل ایک لمحہ بھی آگے پیچھے نہیں ہوا کرتی۔ طاعون سے شاید اس لیے بھی فرار کی اجازت نہیں دی کہ اس طرح مخصوص علاقہ کے جراثیم دور تک پھیلنے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ مسائل : 1۔ موت سے بھاگنے والا موت کی ہی طرف جاتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی مارنے اور زندہ کرنے والا ہے۔ 3۔ اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کے شکرگزار نہیں ہوتے۔ 4۔ جہاد صرف اللہ کے لیے ہونا چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا اور ہر بات کو سننے والا ہے۔ دنیا میں مر کر دوبارہ زندہ ہونے والوں کے واقعات اور دلائل البقرہ آیت 259کے تحت دیکھیں۔ تفسیر بالقرآن: لوگوں کی اکثریت کا حال: 1۔ اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف: 21) 2۔ لوگوں کی اکثریت شکر نہیں کرتی: (یوسف: 38) 3۔ آپ کے چاہنے کے باوجود لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی۔ (یوسف: 103) 4۔ یہ آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ (ھود: 17) 5۔ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ مؤمن ہیں اور انکی اکثریت نافرمان ہے۔ (آل عمران: 110) البقرة
244 البقرة
245 فہم القرآن : ربط کلام : جہاد میں مال کی بڑی اہمیت ہے لہٰذا دفاعی فنڈ میں حصہ لینا اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے برابر ہے۔ جہاد کے لیے مجاہد کی جسمانی جدوجہد کے ساتھ جو اہم ترین چیز ہے وہ مال ہے۔ جہاد میں مال اور جان دونوں لازم وملزوم ہیں۔ دشمنوں کے مقابلے میں نہتا مجاہد کب تک لڑ سکتا ہے؟ اس لیے اسلحہ اس کی پہلی اور بنیادی ضرورت ہے۔ اسلحہ مال کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے ساتھ ہی مجاہد کے لیے فوجی لباس، طعام، سواری یہاں تک کہ اس کے بال بچوں کے اخراجات کی بھی ضرورت ہے۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مال ناگزیر ہے اس لیے قرآن مجید میں اکثر مقامات پر جہاد بالنفس سے پہلے جہاد بالمال کا حکم ہوا ہے۔ یہ مال بظاہر تو مجاہد کی ضروریات پر خرچ ہوتا ہے لیکن حقیقتاً یہ اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے مترادف ہے کیونکہ مجاہد کو اللہ ہی کے لیے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ پر خرچ کرنے کو اپنی ذات عالی کو قرض دینا قرار دیا ہے۔ لیکن جس طرح جہاد محض فی سبیل اللہ ہونا چاہیے اس طرح قرض بھی کسی اور غرض کی بجائے اللہ ہی کی رضا کے لیے دینا چاہیے۔ یہی قرض حسنہ کا معنٰی ہے کہ جس کے دینے میں کوئی ذاتی غرض نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کا ذرا تصور کیجیے کہ جو کچھ اس نے بندوں کو عطا کیا ہے وہ اسی کی مہربانی ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنا عطا کیا ہوا مال اپنے بندوں سے قرض کے طور پر حاصل کرتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ تم جس ذات کریم کو قرض دے رہے ہو وہ تمہیں کئی گنا اضافے کے ساتھ واپس لوٹائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مال دیتے ہوئے کمی کا خوف محسوس نہ کرو۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہارے مال کو کسی اور طریقے سے کم کرسکتا ہے۔ زمیندار ہے تو فصل تباہ ہونے کی شکل میں، دکاندار ہے تو خسارے کی صورت میں، تنخواہ دارہے تو بیماری اور حادثے کی شکل میں‘ تاجر ہے تو نقصان کی صورت میں مال میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ اس طرح کسی بھی حادثے کے ذریعے مال کم ہوسکتا ہے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کے لیے کمی کرنا کوئی مشکل نہیں وہ بڑھانے اور کم کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ طبع انسانی میں یہ بات ہمیشہ موجود رہتی ہے کہ اسے آنے والے کل کے لیے کچھ جمع کرنا چا ہے کیونکہ آج وہ صحت مند اور صاحب روز گار ہے۔ نہ معلوم آ نے والے وقت میں اس کے ساتھ کیا حا دثہ پیش آ جائے۔ اس فکر کی بنا پر ہر آ دمی کچھ نہ کچھ بچا کر رکھنے کا عا دی ہوتا ہے تاکہ کل خود اور اس کے اہل وعیال اس مال سے مستفید ہو سکیں۔ اس طرح کی انشور نس کے لیے دنیا میں بے شمار ناجائز سکیمیں جاری ہیں۔ مسلمان کا جب یہ عقیدہ ہے کہ یہ دنیا عا رضی ہے اور موت کے بعد لا محدود زندگی کا آغاز ہونے والا ہے اور اس کا انحصار اعمال کے نتا ئج پر ہوگا تو صحیح فہم و فراست کا تقاضا ہے کہ آدمی اس جہان کے لیے ضرور اہتمام کرے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اسی انشورنس کی بنیاد پر ہی اسے آخرت کی مراعات میسر ہوں گی گویا کہ صدقہ وخیرات آدمی کے لیے الٰہی انشورنس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس انشورنس کی ضمانت اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍمِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ وَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بَیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ فَلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتی ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جس نے پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ کیا اور اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتے ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہیں پھر اس کو صدقہ کرنے والے کے لیے بڑھاتے رہتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھٹرے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ آدمی کا کیا ہوا صدقہ پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے مترادف ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ رزق کم اور زیادہ کرنے والا ہے۔ 3۔ ہر کسی نے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔ تفسیربالقرآن : بہترین قرض حسنہ : 1۔ اللہ کو قرض حسنہ دینے کا حکم۔ (المزمل :20) 2۔ اللہ اسے بڑھا کر واپس کرے گا۔ (الحدید :11) 3۔ اللہ اسے سات سو گناہ سے بھی زیادہ بڑھائے گا۔ (البقرہ :261) 4۔ صدقہ صرف اللہ کی رضا کے لیے دینا چاہیے۔ (البقرۃ:265) البقرة
246 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ مضمون سے پیوستہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کی بد اعمالیوں کی بنا پر ان پر قوم عمالقہ کو مسلط کردیا گیا۔ جنہوں نے بنی اسرائیل پر پے در پے حملے کیے اور ان کو بیت المقدس سے نکال دیا۔ یہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے۔ بنی اسرائیل کا شیرازہ اس طرح بکھر کر رہ گیا کہ باپ بیٹے اور بھائی بھائی کا چہرہ دیکھنے کو ترستا گیا۔ قرآن مجیدان حالات کا نقشہ انہی کی زبان سے بیان کررہا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے جہاد کے لیے کمانڈر کا مطالبہ کیا۔ وقت کے پیغمبر نے انہیں سمجھایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر جہاد فرض کردیا جائے اور تم جہاد کرنے سے انکار کرنے لگو ؟ انہوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے جی چرائیں۔ جب کہ ہم پر اس قدر ظلم ہوا ہے کہ ہمیں ہمارے گھروں سے نکال دیا گیا اور ہم اپنے بچوں سے الگ کردیئے گئے ہیں۔ یاد رہے قوموں کے عروج وزوال کا دارومدار غرباء اور ضعفاء پر نہیں ہوا کرتا۔ یہ طبقہ تو عضو محض اور لکیر کا فقیر ہوتا ہے قوم کی ترقی وتنزل کا تعلق قوم کے کھاتے پیتے اور سربرآوردہ لوگوں پر ہوا کرتا ہے اگر یہ طبقہ باشعور اور بہتر فکر وعمل کا حامل ہو تو قوم ترقی کی منازل طے کیا کرتی ہے۔ جب یہ لوگ عیاش، بدکردار اور بے عمل ہوجائیں تو قوم کی تباہی یقینی ہوجاتی ہے۔ بنی اسرائیل کے حالات جب بہتر ہونے کو آئے تو ان کے سرداروں نے اس بات کا احساس کیا کہ ہمارا ملک چھن گیا ہے اور ہم در بدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں ہمارے لیے بہتر ہے کہ ذلت کی موت مرنے کے بجائے شہادت کی باعزت موت مرجائیں چنانچہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے مضبوط اور جوان قیادت کا مطالبہ کیا۔ وقت کا پیغمبر بوڑھا ہوچکا تھا جس بنا پر اللہ تعالیٰ نے نبی کی دعا اور قوم کے مطالبہ پر طالوت کو ان کا کمانڈر مقرر فرمادیا کیونکہ جب تک ایک اور مضبوط قیادت نہ ہوقوم ترقی نہیں کرسکتی۔ جنگ کی تمنا نہ کیا کرو : (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ لَاتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ فَإِذَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاصْبِرُوْا) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، باب لاتمنوا لقاء العدو] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان فرماتے ہیں آپ (ﷺ) نے فرمایا : دشمن سے ٹکرانے کی آرزو نہ کرو اور جب تمہارا ان سے سامنا ہوجائے تو پھر جم جاؤ۔“ قوم کی تباہی کا باعث طبقہ : ﴿وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ أَکٰبِرَ مُجْرِمِیْھَا لِیَمْکُرُوْا فِیْھاَ وَمَا یَمْکُرُوْنَ إِلَّا بِأَنْفُسِھِمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ﴾ [ الأنعام :123] ” اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں ہی کو جرائم کا مرتکب بنایا تاکہ وہ لوگ وہاں فریب کریں۔ اور وہ لوگ اپنے ہی ساتھ فریب کررہے ہیں اور ان کو ذرا خبر نہیں۔“ ﴿وَکَمْ أَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَھَا فَتِلْکَ مَسٰکِنُھُمْ لَمْ تُسْکَنْ مِّنْ بَعْدِھِمْ إِلَّا قَلِیْلًا وَکُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِیْنَ﴾ [ القصص :58] ” اور ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کردیں جو اپنی عیش وعشرت میں اترانے لگی تھیں، یہ ہیں ان کی رہنے کی جگہیں جو ان کے بعد بہت ہی کم آباد کی گئیں اور ہم ہی ہیں آخر سب کے وارث۔“ ﴿فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَکْبَرُوْا فِی الْأَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً أَوَلَمْ یَرَوْا أَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَھُمْ ھُوَ أَشَدُّ مِنْھُمْ قُوَّۃً وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ﴾ [ حمٓ السجدۃ:15] ” اب عاد نے بے وجہ زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے کہ ہم سے زور آور کون ہے؟ کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے (بہت ہی) زیادہ زور آور ہے۔ اور وہ ہماری آیات کا انکار کرنے والے تھے۔“ مسائل : 1۔ ارباب حل و عقد ہی قوموں کے بگاڑ و سنوار کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ 2۔ مظلوم کو ظالم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ 3۔ جہاد کرنے والے لوگ تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔ البقرة
247 فہم القرآن : (آیت 247 سے 248) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ وہی ہوا جس کا پیغمبر نے خدشہ ظاہر کیا تھا۔ جب سرداران قوم کے مطالبہ پر جناب طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کردیا گیا تو بنی اسرائیل حسب عادت بہانے تراشتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ ہمارا بادشاہ بن جائے ؟ جب کہ اس کے پاس مال واسباب کی فراوانی نہیں۔ پیغمبر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جسمانی اور علمی صلاحیتوں سے تم پر برتری عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے حکومت سے سرفراز کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انہیں اطمینان نہ ہوا انہوں نے یہ مطالبہ کرڈالا کہ اس کے سربراہ ہونے کی کوئی نشانی ہونی چاہیے۔ حضرت شمویل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کے بادشاہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ وہ صندوق جو تم سے چھن چکا ہے اسے فرشتے اٹھائے ہوئے تمہارے پاس لائیں گے جس میں تمہارے رب کی طرف سے سامان اطمینان‘ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے تبرکات اور وہ عصا بھی اس میں موجود ہوگا جسے موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھینکتے تو اژدہا بن جاتا۔ اس کے ذریعے پانی جاری ہوتا اور کبھی اس سے دریا کی لہریں اس طرح تھم گئیں کہ درمیان میں خشک اور ہموار راستے بن گئے۔ اگر تم تسلیم کرنے والے ہو تو طالوت کی تائید میں یہ بہت بڑے دلائل وبراہین ہیں۔ بالآخر انہوں نے جناب طالوت کی سر کردگی کو قبول کرلیا۔ اس واقعہ سے دنیا پرست مال داروں کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ قیادت بھی سرمایہ کی بنیاد پر ان کا حق بنتا ہے۔ حالانکہ قائد میں علم وفراست اور جسمانی قوت وصلاحیت کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ اس کی دیانت وامانت بھی مسلّمہ ہونی چاہیے۔ یہاں تک کہ اس میں منصب کی خواہش بھی نہیں ہونا چاہیے۔ (عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی (رض) قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ قَوْمِیْ فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَیْنِ أَمِّرْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَہٗ فَقَالَ إِنَّا لَانُوَلِّیْ ھٰذَا مَنْ سَأَلَہٗ وَلَا مَنْ حَرَصَ عَلَیْہِ) [ رواہ البخاری : کتاب الأحکام، باب مایکرہ من الحرص علی الإمارۃ] ” حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے قبیلے کے دو آدمی رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ دونوں میں سے ایک نے کہا : اے اللہ کے رسول! مجھے عہدہ دیجیے اور دوسرے نے بھی ایسا ہی مطالبہ کیا آپ (ﷺ) نے فرمایا : یقینًا ہم ایسے شخص کو عہدہ نہیں دیتے جو عہدہ طلب کرے اور نہ ہی ایسے شخص کو عہدہ دیتے ہیں جو عہدے کا حریص ہو۔“ حکمران کے اوصاف (1) مسلمان ہو : قرآن کریم میں اولوالامر کا مسلمان ہونا شرط قرار دیا گیا ہے۔[ النساء :59] لہٰذا امیر کا مسلمان ہونا بدرجۂ اولیٰ ضروری ہے۔ کیونکہ غیر مسلموں کو اپنے معاملات میں دخیل اور شریک کرنا جائز نہیں ہے۔ [ آل عمران : 118، التوبۃ:16] (2) مرد ہو : مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔[ النساء :34] رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا ہے وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے عورت کو اپنا حاکم بنا لیاہو۔[ رواہ البخاری : کتاب الفتن، باب الفتنۃ التی تموج کموج البحر] رسول اللہ (ﷺ) کا یہ بھی ارشاد ہے کہ جب تمہارے معاملات عورتوں کے حوالے کردیے جائیں تو تمہارے لیے پھر موت ہی بہتر ہے۔[ رواہ الترمذی] فقہائے اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ عورت خلیفہ اور سربراہ حکومت نہیں بن سکتی۔ (3) عادل اور صالح ہو : قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ ظالم لوگ مسلمانوں کی امامت اور قیادت کے مستحق نہیں ہیں۔[ البقرۃ:124] غافل اور مسرفین ومفسدین کی اطاعت جائز نہیں ہے۔[ الکہف : 28، الشعراء : 151، 152] اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محترم وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو۔[ الحجرات :13] (4) صاحب علم ہو : قرآن کریم میں اولوا لامر کے لیے استنباط اور اجتہادی بصیرت کا حامل ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ [ النساء :83] قیادت کے لیے علمی اور جسمانی صلاحیتوں کا ہونا ضروری ہے۔ [ البقرۃ:247] عالم اور غیر عالم برابر نہیں ہیں۔[ الزمر :9] (5) آزاد ہو : یعنی کسی کا غلام، ہمہ وقتی ملازم اور قیدی نہ ہو اور فرائض کی ادائیگی کے لیے فارغ ہو۔ (6) بالغ ہو : نابالغ بچہ اس بوجھ کو جسمانی اور ذہنی کمزوری کی وجہ سے نہیں اٹھاسکتا۔ اس لیے نادان اور نابالغ بچوں کو اپنے مال میں تصرف کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔[ النساء :5] (7) عاقل ہو : دماغی طور پر مریض نہ ہو۔ (8) سلیم الاعضاء ہو : جسمانی طور پر ناکارہ شخص یہ عظیم خدمت انجام نہیں دے سکتا۔ (9) دلیر اور شجاع ہو : بزدل شخص نہ ملک کا دفاع کرسکتا ہے اور نہ امن قائم کرسکتا ہے۔ (10) معاملہ فہم ہو : حالات سے باخبر اور معاملہ فہم ہو۔ البقرة
248 البقرة
249 فہم القرآن : ربط کلام : واقعہ طالوت وجالوت کی تفصیل جاری ہے۔ جناب طالوت قوم کے حالات اور عادات کو جانتے تھے اس لیے انہوں نے مناسب سمجھا کہ پہلے ان کی آزمائش کرنا چاہیے تاکہ دشمن کے مقابلے میں ان کی طاقت وصلاحیت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ اسی سے ٹریننگ اور فوجی مشقوں کا اصول نکلا ہے۔ جنا بِ طالوت نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے راستے میں ایک نہر آنے والی ہے اور وہ نہر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے آزمائش ہوگی۔ جس نے نہر سے سیر ہو کر پانی پی لیا وہ میرا ساتھی نہیں ہوگا چلو بھر پانی پینا تمہارے لیے جائز قرار دیا گیا ہے۔ جو نہی وہ نہر کے کنارے پہنچے تو چند لوگوں کو چھوڑ کر ان کی اکثریت نے خوب سیر ہو کر پانی پیا۔ جنہوں نے پانی نہیں پیا تھا ان کی تعداد تین سو تیرہ (313) تھی۔ (عَنِ الْبَرَاءِ (رض) قَالَ کُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ () نَتَحَدَّثُ أَنَّ عِدَّۃَ أَصْحَابَ بَدْرٍ عَلٰی عِدَّۃِ أَصْحَابِ طَالُوْتَ الَّذِیْنَ جَاوَزُوا النَّھْرَ وَلَمْ یُجَاوِزُوْا مَعَہٗ إِلَّا مُؤْمِنٌ بِضْعَۃَ عَشَرَ وَثَلَاث مائَۃٍ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی : باب عدۃ أصحاب بدر] ” حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت رسول کریم (ﷺ) کے ساتھی باہم گفتگو کیا کرتے تھے کہ اصحاب بدر کی تعداد طالوت کے ان ساتھیوں کی تعداد کے برابر تھی جنہوں نے نہر پار کی تھی اور ان کے ساتھ صرف 313 مومن تھے۔“ جب ان کا سامنا جالوت کی فوج کے ساتھ ہوا تو سیر ہو کر پانی پینے والوں نے لڑنے سے انکار کردیا۔ بعض مفسرین نے اسرائیلی روایات کے حوالے سے لکھا ہے کہ سیر ہو کر پانی پینے والوں کے پیٹ پھول گئے۔ جب فوجوں کا آمنا سامنا ہوا تو انہوں نے جہاد سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ہم میں جالوت کے لشکر کے ساتھ لڑنے کی ہمت نہیں ہے۔ اس صورت حال سے عہدہ برآ ہونے اور بزدلوں کو جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر سچا یقین رکھنے والے مجاہدوں نے کم ہمت لوگوں کو بار بار سمجھایا کہ کم ہمتی اور بزدلی نہ دکھاؤ۔ ہمت کرو اور یقین جانو کہ تاریخ میں بار ہا دفعہ ایسا ہوا کہ قلیل جماعتیں کثیر جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آتی رہی ہیں۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ اسلام کا تابناک ماضی اس پر گواہ ہے کہ مسلمان اسلحہ اور افرادی قوت کے اعتبار سے کبھی بھی اپنے دشمن سے زیادہ نہیں رہے لیکن جب تک یہ منظم‘ مستقل مزاج، پر عزم، صاحب کردار اور حوصلہ مند یعنی صابر رہے یہی غالب آتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مستقل مزاج لوگوں کا ساتھ دیا کرتا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں کے ساتھ لوگوں کو آزماتا ہے۔ 2۔ دشمن کے مقابلے سے پہلے ٹریننگ اور تربیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی مدد سے قلیل کثیر پر غالب آیا کرتے ہیں۔ 4۔ اللہ کے نافرمان بزدل ہوتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ حوصلہ مند لوگوں کی مدد فرماتا ہے۔ 6۔ جناب طالوت کے ثابت قدم رہنے والے ساتھی 313 تھے۔ 7۔ آزمائش کے وقت ایک دوسرے کو ثابت قدم رہنے کی تلقین کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن: اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے: 1۔ اے ایمان والو!نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کرو یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ: 153) 2۔ بہت سی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں۔ یقینا اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ: 249) 3۔ صبر کرو یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (الانفال: 46) البقرة
250 فہم القرآن : (آیت 250 سے 251) ربط کلام: گزشتہ سے پیوستہ جب طالوت کے لشکر کا جالوت کے لشکروں کے ساتھ آمنا سامنا ہوا تو جذبۂ ایمان سے سرشارمجاہد اپنے رب کے حضور دعائیں مانگنے لگے کہ بارِ الٰہا ! ہمیں حوصلہ، ثابت قدمی اور کفار پر غلبہ عطا فرما ! سو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ جناب داوٗد (علیہ السلام) نے کفار کے کمانڈر جالوت کو قتل کیا۔ جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داوٗد (علیہ السلام) کو بہت بڑی مملکت سونپتے ہوئے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ یہ وہی داوٗد علیہ السلامہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا جو پیغمبر بھی تھے اور حکمران بھی۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنا علم وفضل عطا کرتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ ہٹائے تو زمین پر فساد عظیم برپا ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ اہل جہاں پر انتہائی فضل فرمانے والا ہے۔ بنی اسرائیل کے ان دو واقعات میں ایک طرف اہل مکہ کے مظالم کی طرف اشارہ ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو بتلایا جارہا ہے کہ تمہیں بنی اسرائیل کی طرح جنگ کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔ بے شک تمہارے ساتھ اہل مکہ وہی کچھ کر رہے ہیں جو عمالقہ نے بنی اسرائیل کے ساتھ کیا تھا۔ ہاں اگر تم پر جنگ مسلط کردی جائے توبنی اسرائیل کے ایمان دار مجاہدوں کی طرح تمہیں بھی پوری غیرت اور جرأت کے ساتھ ڈٹ جانا چاہیے۔ جیسے انہوں نے میدان کارزار میں اترنے سے پہلے اپنے رب سے نصرت وحمایت طلب کی تھی تمہیں بھی اپنے رب کی نصرت ودستگیری مانگنا چاہیے جس طرح بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے دشمن کے مدّ مقابل ہونے کے بعد اپنے کمانڈر سے غداری کی تھی۔ ایسے ہی حالات تمہیں بھی درپیش ہوسکتے ہیں جو تھوڑے ہی عرصہ کے بعد احد میں منافقین کے کردار کی وجہ سے پیش آئے۔ جب منافقین کفار کو دکھا دکھا کر ٹولیوں کی صورت میں مسلمانوں سے الگ ہوئے تھے۔ وہ طالوت کی سربراہی پر یہ کہہ کر معترض ہوئے تھے کہ اس کے پاس مال نہیں۔ منافق یہ کہہ کر الگ ہوئے تھے کہ اس موقع پر مدینہ میں رہ کر لڑنے کی ہماری تجویز تسلیم نہیں کی گئی ہے۔ حالانکہ رسول مکرم (ﷺ) بھی مدینہ میں رہ کر دفاع کرنے کے حق میں تھے لیکن مسلمانوں کی بھاری اکثریت کا احترام کرتے ہوئے میدان احد میں تشریف لے گئے۔ طالوت کے ساتھیوں کی طرح مکہ والے بھی یہی کہتے تھے کہ یہ نبی تو غریب ہے پیغمبری تو ابو الحکم (ابوجہل) یا طائف کے سرداروں میں سے کسی کو ملنا چاہیے تھی۔ ازل سے اللہ تعالیٰ کا یہی دستور ہے کہ وہ جہاد اور دوسرے ذرائع سے ظالم اور سفّاک لوگوں کو کمزوروں اور مظلوموں کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا کرتا ہے۔ جس کی ایک حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو دنیا کا نظام درہم برہم ہوکررہ جائے جو اللہ تعالیٰ کوہر گز گوارا نہیں۔ مسائل : 1۔ قیادت کا انتخاب مال نہیں علمی اور جسمانی صلاحیت پر ہونا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کشادگی اور علم والا ہے۔ 3۔ مجاہد کی تربیت اور آزمائش ہونا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھوڑے زیادہ پر غالب آیا کرتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ صابروں کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔ 6۔ جنگ سے پہلے اور اس کے دوران اللہ تعالیٰ سے مدد اور حوصلہ مانگنا چاہیے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے حکومت اور حکمت عطا کرتا ہے۔ 8۔ اللہ تعالیٰ زمین میں امن قائم رکھنے کے لیے ظالم کو مظلوموں کے ذریعے ہٹایا کرتا ہے۔ تفسیربالقرآن : طالوت وجالوت کا واقعہ اور حکمران کے اوصاف : 1۔ بنی اسرائیل کا بادشاہ کی تقرری کے لیے درخواست کرنا۔ (البقرۃ:246) 2۔ حکمران کے دو بڑے اوصاف۔ (البقرۃ:247) 3۔ طالوت کے پاس بطور نشانی تابوت سکینہ کا آنا۔ (البقرۃ:248) 4۔ لشکر کا کم ہمتی دکھانا۔ (البقرۃ:249) 5۔ طالوت کا جالوت پر فتح حاصل کرنا۔ (البقرۃ: 250، 251) 6۔ فتح وشکست کا معیار کثرت وقلت نہیں ہے۔ (البقرۃ:249) البقرة
251 البقرة
252 فہم القرآن : ربط کلام : قلیل اور ضعیف جماعت کا اپنے سے طاقت ور اور زیادہ پر غالب آنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے اس فرمان میں آپ (ﷺ ) کی کامیابی کی پیش گوئی ہے۔ جو واقعات، حقائق اور نتائج ہم آپ کے سامنے پڑھتے ہیں یہ بالکل سچ ہیں۔ جس طرح بنی اسرائیل کو ہم نے معزز اور محترم امت بنایا تھا۔ ان کی راہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بعد حضرت داوٗد (علیہ السلام) کو پیغمبر بنایا گیا تاآنکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے۔ بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور سخت ترین احکامات، حضرت داوٗد (علیہ السلام) کی حکومت وحکمت اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مافوق الفطرت خلقت، حلیمی اور برد باری حلقۂ ایمان میں داخل نہ کرسکی۔ اگر یہ لوگ حقائق‘ معجزات اور آپ کا اخلاق و اخلاص دیکھ کر حلقہ اسلام میں داخل نہیں ہو رہے تو آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں؟ یقین فرمائیں کہ آپ بھی اسی مقدس جماعت انبیاء کے ایک فرد اور اسی مشن کے داعی ہیں۔ لہٰذا آپ کو اپنے بارے میں شک نہیں کرنا چاہیے اعتماد کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنے ضابطے کے مطابق بالآخر ظالموں کو مٹا کر آپ کو غلبہ عطا کرنے والا ہے اور یہ انقلاب آکر رہے گا۔ ظالموں کا ظلم کبھی اس سیل حق کے سامنے نہ رکاوٹ بنا اور نہ بن سکے گا۔ ﴿ھُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ [ ا لصف :9] ” اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کردے اگرچہ یہ بات مشرکوں کو ناپسند لگے۔“ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : (لَیَبْلُغَنَّ ھٰذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُوَلَایَتْرُکُ اللّٰہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَّلَا وَبَرٍإِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ ھٰذَا الدِّیْنَ) [ مسند أحمد : کتاب مسند الشامیین، باب حدیث تمیم الداری] ” یہ دین ضروربضرور وہاں تک پہنچے گا جہاں رات کی تاریکی اور دن کی روشنی پہنچتی ہے اور اللہ تعالیٰ ایک ایک شہر اور بستی کے ہر گھر میں اس دین کو داخل کردے گا۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے احکام حق اور سچ ہیں۔ 2۔ نبی محترم (ﷺ) مرسلین میں سے ایک ہیں۔ البقرة
253 فہم القرآن : ربط کلام : جلیل القدر انبیاء کرام اور ان کے معجزات دیکھ لینے کے باوجود سب کے سب لوگوں کا ایمان نہ لانا اللہ تعالیٰ کے اختیار سے متجاوز نہیں یہ اس کی مشیّت کے عین مطابق ہے۔ جس طرح انبیاء کے مراتب اور ان کی جدوجہد کے نتائج میں فرق ہے اسی طرح حق کو قبول کرنے اور کفر سے اجتناب کرنے میں لوگوں میں فرق پایا جاتا ہے۔ اے رسول کریم! آپ کو ان کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے یقین رکھنا چاہیے کہ آپ بالیقین مرسلین کے سرخیل ہیں۔ تمام انبیاء خاندان نبوت کے افراد اور گلدستۂ رسالت کے پھول ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) فرمایا کرتے تھے ( أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ و الْأَنْبِيَاءُ إخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الانبیاء ] لوگوں میں سے عیسی بن مریم ( علیہ السلام) کے دنیا وآخرت میں سب سے زیادہ میں قریب ہوں اور انبیاء رشتہ نبوت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے بھائی ہیں لیکن ان کی مائیں مختلف ہیں لیکن دین ایک ہے۔ پھر سلسلۂ نبوت کو ایک عالی شان اور خوبصورت محل کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا : (إِنَّ مَثَلِیْ وَمَثَلَ الْأَنْبِیَاءِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَیْتًا فَأَحْسَنَہٗ وَأَجْمَلَہٗ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍمِنْ زَاوِیَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ وَیَعْجَبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ ھَلَّا وُضِعَتْ ھٰذِہِ اللَّبِنَۃُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَۃُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ) [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب خاتم النبیین] ” بے شک میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا پھر اس کو خوبصورت اور مزین کیا لیکن صرف ایک اینٹ کی جگہ ایک کونے میں رہ گئی۔ لوگ اس گھر کو دیکھتے اور اس ایک اینٹ کی جگہ خالی پا کر تعجب کرتے ہوئے کہتے : یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا : میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔“ رسول کریم (ﷺ) نے فرمایا : (أَنَا سَیِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ وَبِیَدِیْ لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ وَمَا مِنْ نَبِیٍّ یَوْمَئِذٍ اٰدَمُ فَمَنْ سِوَاہُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِیْ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ) [ رواہ الترمذی : کتاب المناقب ] ” میں قیامت کے دن آدم کی ساری اولاد کا سردار ہوں گا مگر اس اعزاز پر فخر نہیں کرتا اور میرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اس پر میں اتراتا نہیں اور قیامت کے دن آدم (علیہ السلام) سمیت تمام نبی میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں قیامت کے دن سب سے پہلے اپنی قبر سے اٹھوں گا اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔“ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ” جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب وحکمت دوں پھر تمہارے پاس کوئی دوسرا رسول اسی چیز کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو پہلے تمہارے پاس موجود ہے تو تمہارے لیے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو ؟ سب نے کہا کہ ہم اقرار کرتے ہیں‘ فرمایا اب گواہ رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔“ [ آل عمران :81] رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : (لَاتُفَضِّلُوْا بَیْنَ أَنْبِیَاء اللّٰہِ )[ رواہ البخاری : أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالیٰ وإن یونس لمن المرسلین]” انبیاء کو آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو۔“ انبیاء کے درمیان مراتب کا تفاوت سمجھنے کے لیے طلبہ کی ایک کلاس کو سامنے رکھیں۔ استاد کی نظر میں تمام طلبہ عزیز ہوتے ہیں اور ہونے چاہییں۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ میرا ہر طالب علم ایک دوسرے پر سبقت لے جائے۔ اس کے باوجود پوری کلاس میں مجموعی طور پر ایک ہی طالب علم قابلیت اور لیاقت کے اعتبار سے سب سے آگے ہوتا ہے۔ جب کہ جزوی لیاقت اور صلاحیت کے لحاظ سے کئی طلبہ کو ایک دوسرے پر برتری حاصل ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے مجموعی طور پر سرفہرست آنے والے طالب علم سے دوسرا طالب علم سائنس کے مضمون میں اس سے زیادہ نمبر حاصل کرتا ہو۔ اور یہی کیفیت دوسرے طالب علم کی کسی دوسرے مضمون میں ہو سکتی ہے۔ یہاں بھی انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت و عظمت دینے کا یہی مفہوم ہوسکتا ہے کہ زمانے اور اقوام کے مزاج کے پیش نظر ایک نبی کو ایسے معجزات دیے گئے جو اس کے بعد آنے والے نبی کے دور اور مزاج کے لیے ضروری نہیں تھے۔ مثال کے طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں جادو کا علم اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا ہوئے کہ دنیا کے قابل ترین جادوگر شکست ماننے پر مجبور ہوئے۔ ان کے بعد ہر دور کے مطابق انبیاء معجزات کے ساتھ مبعوث کیے گئے یہاں تک کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا ہوئے کہ ان کے سامنے ارسطو اور افلاطون کی طب ماند پڑگئی۔ پھر یہودیوں کی چیرہ دستیوں اور سازشوں سے محفوظ رکھنے کے لیے حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کے ذریعے ان کی حفاظت کا انتظام کیا گیا تاآنکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) زندہ آسمان پر اٹھالیے گئے۔ اتنے عظیم المرتبت پیغمبروں کی تشریف آوری اور ان کی گراں مایہ تعلیمات اور بے مثال جدوجہد کے باوجود بھی نہ صرف لوگ انکاری ہوئے بلکہ باطل نظریات کی خاطر انبیاء کرام سے لڑتے جھگڑتے رہے۔ یہ جرأت ان کو اس لیے حاصل نہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و سطوت سے باہر تھے بلکہ یہ اس لیے ہوتا رہا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ حقائق لوگوں کے سامنے کھول کر رکھنے کے بعد دیکھا جائے کہ کون دل و دماغ اور بصارت و بصیرت سے کام لے کر ہدایت کے راستے پر گامزن ہوتا ہے اور کون ہدایت کا انکار کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انہیں اپنی طاقت کے ذریعے روکنا چاہتاتو وہ ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق ہی سب کچھ کیا کرتا ہے لہٰذا ان میں ایمان لانے والے بھی تھے اور کفروالحاد قبول کرنے والے بھی ہوئے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا فرمائی۔ 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم کلامی کا شرف عطا کیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی جبریل امین سے تائید فرمائی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو لوگ آسمانی ہدایت آنے کے بعد اختلاف نہ کرتے۔ تفسیربالقرآن : انبیاء کے مراتب میں فرق : 1۔ آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے خلیفہ بنایا۔ (البقرۃ:30) 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا۔ (النساء :125) 3۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ نے سب سے بڑا حکمران بنایا۔ (ص :35) 4۔ داوٗد (علیہ السلام) کو اللہ نے دانائی عطا فرمائی۔ (ص :20) 5۔ یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ نے صبر جمیل عطا فرمایا۔ (یوسف :83) 6۔ یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے حکمرانی اور پاک دامنی عطا فرمائی۔ (یوسف :31) 7۔ ادریس (علیہ السلام) کو اللہ نے مقا مِ علیا سے سرفراز کیا۔ (مریم :57) 8۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے ہم کلامی کا شرف بخشا۔ (طٰہٰ: 12تا14) 9۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا کلمہ قرار دیا۔ (النساء :171) 10۔ نبی مکرم (ﷺ) کو رحمۃ للعالمین وخاتم النبیّین بنایا۔ (الانبیاء : 107، الاحزاب :40) البقرة
254 فہم القرآن : ربط کلام : انبیاء (علیہ السلام) کے مراتب‘ ان کے ادوار اور جدوجہد کے انداز کا فرق بیان کرنے کے بعد انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا جو دنیا میں کامیابی کا اہم عنصر اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی عدالت عظمیٰ کے اصول بتلاتے ہیں کہ جس دن تمہیں اس کے حضور پیش ہونا ہے اس دن کوئی لین دین نہیں ہوگا۔ آج وہ تمہیں بار بارحکم دیتا ہے کہ آؤ میرے راستے میں خرچ کرو۔ یہ میرے ساتھ تمہارا لین دین ہے۔ تمہارا خرچ کرنا رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ تمہیں اس کے بدلے کئی گنا زیادہ عطا ہوگا۔ مگر یہ لین دین صرف دنیا کی زندگی میں ہے۔ اس کے بعدآخرت میں اپنی نجات کے بدلے تم سب کچھ دینے کے لیے تیار ہوگے لیکن کوئی لینے اور قبول کرنے والا نہیں ہوگا۔ تمہاری ایک دوسرے کے ساتھ دوستی اور محبت کام نہ آئے گی اور کوئی سفارش بھی فائدہ مند نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہ کرنے اور قیامت کا انکار کرنے والے ہی ظالم ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) کا فرمان ہے کہ لوگوآگ سے بچو ! اگرچہ تمہیں کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کرنا پڑے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الزکوٰۃ، باب إتقوا النار ولوبشق تمرۃ ] مسائل : 1۔ مرنے سے پہلے پہلے اللہ کی راہ میں صدقہ کرنا چاہیے۔ 2۔ قیامت کا انکار کرنے والے ظالم ہیں۔ 3۔ قیامت کے دن لین دین، دوستی اور کوئی سفارش قبول نہیں ہوگی۔ تفسیربالقرآن : اللہ تعالیٰ کی عدالت کے ضابطے : 1۔ قیامت کے دن دوستی اور سفارش کام نہ آئے گی۔ (ابراہیم :31) 2۔ قیامت کو لین دین نہیں ہوسکے گا۔ (البقرۃ:254) 3۔ قیامت کے دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آئے گا۔ (الدخان : 41، 42) 4۔ قیامت کے دن متقین کے سوا سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ (الزخرف :67) البقرة
255 فہم القرآن : ربط کلام : صاحب ایمان مخیر حضرات کو ان کے نیک اعمال اور صدقات کا بدلہ عطا کرنے والا اور ظالموں کو ٹھیک ٹھیک سزا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے جس کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہیں۔ لہٰذا وہی دنیا و آخرت میں تمہارا مالک‘ خالق اور نگران ہے۔ آخرت میں کوئی اس کے سامنے دم نہیں مار سکے گا۔ البتہ دنیا میں اس نے بطور آزمائش تمہیں کچھ اختیار دے رکھے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ کسی پر ہدایت مسلط نہیں کرتا۔ اس آیت مبارکہ کو آیت الکرسی کہا گیا ہے۔ کچھ اہل علم نے کرسی کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کا اقتدار لیا ہے لیکن صحابہ اور تابعین کی اکثریت نے اس سے مراد کرسی لی ہے۔ اس آیت کی عظمت و فضیلت کے بارے میں رسول کریم (ﷺ) نے ابی بن کعب (رض) سے یوں ارشاد فرمایا : ” اے ابو منذر! تجھے علم ہے کہ کتاب اللہ کی عظیم آیت کونسی ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے پھر دریافت فرمایا ابو منذر! تو جانتا ہے کہ قرآن کی عظیم آیت کونسی ہے؟ ابی بن کعب کہتے ہیں میں نے جواباً عرض کیا کہ ﴿أَللّٰہُ لَاإِلٰہَ إِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ﴾ (یعنی آیت الکرسی) آپ نے میرے سینے پرتھپکی دیتے ہوئے فرمایا اے ابو منذر! اللہ تجھے تیرا علم مبارک کرے۔“ [ رواہ مسلم : کتاب صلوۃ المسافرین وقصرھا] اس عظیم آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے معبودِ حق ہونے کی چودہ صفات بیان فرمائی ہیں جو انسان، جنات، ملائکہ اور کائنات کی کسی چیز میں نہیں پائی جاتیں۔ گویا کہ وہ اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے بے مثال، لازوال اور لا شریک ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ” اللہ“ کے بارے میں امام رازی نقل کرتے ہیں کہ یہ ” اَلَھْتُ اِلَی فُلاَنٍ“ سے مشتق ہے۔ اس کے معنی ہیں ” سَکَنْتُ اِلٰی فُلاَنٍ“ یعنی وہ ہستی جس کے نام سے سکون حاصل کیا جائے اور وہ معبود برحق ہے۔ زمین و آسمان اور پوری کائنات میں اس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں وہی اِلٰہ واحد ہے۔ اہل علم نے لفظ اِلٰہ کے جتنے مصادر بیان کیے ہیں ہر ایک کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور الوہیت کا کامل تصور رکھتا ہے۔ جس کے معانی ہیں اونچی شان والا، کائنات کی نظروں سے پوشیدہ، سب کی ضرورتیں پوری کرنے والا اور جس کی ذات سے پناہ طلب کی جائے۔ جس سے سب سے زیادہ محبت کی جائے اس کی عبادت کرنی چاہیے۔ اکیلا ہی عبادت کے لائق، ہمیشہ زندہ رہنے والا اور ہر چیز کو حیات بخشنے والا، ہر دم اور ہر لحاظ سے قائم رہنے والا اور جب تک چاہے کائنات کی ہر چیز کو قائم رکھنے والا۔ ایسی ذات جسے نہ اونگلاہٹ آئے اور نہ ہی اس کی ذات کے بارے میں نیند کا تصور کیا جا سکے۔ زمین و آسمان میں ذرّہ ذرّہ اسی کی ملکیت ہے۔ اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی بات اور سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا وہ سب کچھ جانتا ہے جو ہوچکا‘ جو موجود ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے۔ اس کے علم سے کوئی کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتا سوائے اس کے جسے وہ خود کچھ عطا کرنا چاہے۔ اس کا اقتدار اور اختیار زمین اور آسمانوں پر ہمیشہ سے قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہیگا۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ان کی حفاظت سے اسے نہ تھکاوٹ ہوتی ہے اور نہ اکتاہٹ۔ وہ اپنے مقام و مرتبہ اور ذات و صفات کے لحاظ سے بلند و بالا اور رفعت و عظمت والا ہے۔ حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جس نے ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت ہی مانع ہے۔[ صحیح الجامع الصغیر للألبانی :6464] حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے مجھے صدقۂ فطر کی حفاظت پر مقرر کیا۔ ایک شخص آیا اور غلہ چوری کرنے لگا میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا : میں تجھے رسول اکرم (ﷺ) کے پاس لے جاؤں گا ؟ وہ کہنے لگا میں محتاج، عیالدار اور سخت تکلیف میں ہوں چنانچہ میں نے اسے چھوڑ دیا۔ جب صبح ہوئی تو آپ (ﷺ) نے مجھ سے پوچھا : ابوہریرہ! آج رات تمہارے قیدی نے کیا کہا؟ میں نے عرض کی یارسول اللہ! اس نے محتاجی اور عیالداری کا شکوہ کیا۔ مجھے رحم آیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا دھیان رکھنا وہ جھوٹا ہے وہ پھر تمہارے پاس آئے گا۔ چنانچہ اگلی رات وہ پھر آیا اور غلہ اٹھانے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا آج تو ضرور میں تمہیں آپ (ﷺ ) کے پاس لے جاؤں گا۔ وہ کہنے لگا مجھے چھوڑ دو میں محتاج اور عیالدار ہوں آئندہ نہیں آؤں گا۔ مجھے پھر رحم آگیا اور اسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو آپ نے مجھے پوچھا ابوہریرہ تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ میں نے کہا یارسول اللہ! اس نے سخت محتاجی اور عیالداری کا شکوہ کیا مجھے رحم آگیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا خیال رکھناوہ جھوٹا ہے وہ پھر آئے گا۔ چنانچہ تیسری بار میں تاک میں رہا وہ آیا اور غلہ سمیٹنے لگا میں نے اسے پکڑ لیا۔ اس نے کہا مجھے چھوڑ دو میں تمہیں چند کلمے سکھاتا ہوں جو تمہیں فائدہ دیں گے۔ میں نے کہا وہ کیا ہیں؟ کہنے لگا جب تو سونے لگے تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کر۔ اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ تیرا نگہبان ہوگا اور صبح تک شیطان تیرے پاس نہیں آئے گا۔ چنانچہ میں نے اسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو آپ (ﷺ) نے مجھ سے پوچھا تیرے قیدی نے آج رات کیا کیا؟ میں نے آپ (ﷺ) کو ساری بات بتلادی تو آپ (ﷺ) نے فرمایا اس نے یہ بات سچی کہی حالانکہ وہ کذاب ہے۔ پھر آپ (ﷺ) نے مجھ سے کہا ابوہریرہ (رض) جانتے ہو تین راتیں کون تمہارے پاس آتارہا ہے؟ میں نے عرض کی نہیں۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا : وہ شیطان تھا۔ [ رواہ البخاری : کتاب الوکالۃ، باب إذا وکل رجلا فترک الوکیل شیئا الخ] مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے پہلے اور بعد کے حالات جانتا ہے۔ 2۔ اس کی مرضی کے بغیر اس کے علم سے کوئی کچھ حاصل نہیں کرسکتا۔ تفسیربالقرآن : اللہ تعالیٰ ہمیشہ رہنے والا ہے : 1۔ ہر چیز تباہ ہوجائے گی صرف اللہ کی ذات کو دوام حاصل ہے۔ (الرحمن :27) 2۔ اللہ کے علاوہ ہر شے ہلاک ہوجائے گی۔ (القصص :88) 3۔ اللہ ہی ازلی اور ابدی ذات ہے۔ (الحدید :3) قیامت کے دن سفارش کے اصول : 1۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں ہوسکے گی۔ (البقرۃ:255) 2۔ سفارش بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوگی۔ (النبا :38) 3۔ اللہ تعالیٰ اپنی پسندکی بات ہی قبول فرمائیں گے۔ (طٰہٰ:109) 4۔ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کا حقدار نہ ہوگا۔ (یونس :3) 5۔ سفارش کا اختیار اسی کو ہوگا جسے رحمن اجازت دے گا۔ (مریم :87) 6۔ اگر رحمن نقصان پہنچانا چاہے تو کسی کی سفارش کچھ کام نہ آئے گی۔ (یٰس :23) 7۔ سفارشیوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی۔ (المدثر :48) 8۔ وہی سفارش کرسکے گا جس کی سفارش پر رب راضی ہوگا۔ (الانبیاء :28) البقرة
256 فہم القرآن : ربط کلام : قدرت و سطوت ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو منوانے کا جبری طریقہ اختیار نہیں فرمایا۔ اس فرمان میں واضح اشارہ ہے کہ توحید کا دوسرا نام دین ہے۔ اس کے بغیر نہ لوگوں کا دین صحیح اور پختہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی تعلق باللہ مضبوط ہو سکے گا عقیدہ توحید اپنانا مضبوط رسی تھامنے کے مترادف ہے جس طرح رسی تھامنے والا بھنور میں نہیں ڈوبتا۔ اسی طرح عقیدہ توحید پر قائم رہنے والا اختیار کرنے والا دنیا و آخرت کے مسائل اور مصائب میں نہیں ڈولتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہنمائی اور دستگیری کرنے والا ہے جبکہ شیطان اللہ کے منکروں کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلتا ہے۔ یہاں لفظ دین سے پہلی مراد اللہ تعالیٰ کی توحید ہے۔ اس کی نہایت مختصر مگر جامع تعریف آیت الکرسی میں کردی گئی ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور ہر چیز اس کے حکم کی غلام اور تابع فرمان ہے۔ کوئی اس کے سامنے دم نہیں مار سکتا کوئی راز اور بات اس سے مخفی نہیں‘ نہ ہی وہ کسی بات سے غافل ہے۔ وہ ہمیشہ سے قائم دائم اور جب تک کسی چیز کو چاہے اسے زندہ اور قائم رکھنے والا ہے۔ زمین و آسمان کی حفاظت و نگرانی سے نہ تھکتا ہے اور نہ اکتاہٹ محسوس کرتا ہے۔ اس کی حکومت ہواؤں اور فضاؤں حتی کہ زمین کے ذرّے ذرّے اور آسمان کے چپّے چپّے پر قائم ہے۔ اس کے اقتدار و اختیار کی وسعتیں لامحدود ہیں۔ وہ ہر چیز پر بلند و بالا اور اپنی عظمت و سطوت قائم رکھے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود اس نے اپنی ذات اور بات منوانے کے لیے جبر و اکراہ کا اندازاختیار نہیں فرمایا۔ ذرا سوچیے کہ انسان نے دنیا میں آکر کون سے جرائم اور بغاوتیں نہیں کیں؟ اگر اللہ تعالیٰ روکنا چاہتاتو اس کی قوت وطاقت سے کچھ بھی باہر نہ تھا لیکن اس نے ہدایت کو گمراہی سے کئی گنا واضح اور آسان فرما کر انسان کو سمجھایا کہ اگر تو اپنے رب کی ذات اور اس کی بات پر ایمان لے آئے تو تیرا رب کے ساتھ ایسا تعلق اور رشتہ قائم ہوجائے گا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اس کی ذات اور فرمان کو بلا شرکت غیرے تسلیم کرتے ہوئے ہر شیطانی قوت کا انکار کرے۔ دنیا میں جتنے بھی حلف لیے جاتے ہیں ان میں حلف اٹھانے والا صرف یہی کہتا ہے کہ میں فلاں قانون، دستور اور سلطنت یا مملکت کا وفا دار رہوں گا۔ اسلام صرف اس شخص کا حلف تسلیم کرتا ہے جو پہلے غیر اللہ کا انکار کرے اور پھر اپنے خالق ومالک کی ذات و صفات کا اقرار کرے تب جا کر حلف مکمل اور آدمی حلقۂ اسلام میں داخل ہوتا ہے۔ جہاں تک دین میں جبر نہ کرنے کا تعلق ہے اس کے بارے میں کچھ لوگ تو واقعتاغلط فہمی میں مبتلا ہیں لیکن زیادہ تر غلط فہمی پیدا کرنے والے ہیں۔ غلط فہمی پیدا کرنے والے کوئی ان پڑھ، دیہاتی اور اجڈلوگ نہیں بلکہ نہایت تعلیم یافتہ، ترقی پسند اور اپنے آپ کو مہذب ترین سمجھنے والے ہیں۔ انہیں انفرادی طور پر دین کی دعوت دی جائے یا ملک میں نفاذ شریعت کی بات چلے تو وہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ جبرًا کسی کو مسجدوں کی طرف نہیں دھکیلا جا سکتا‘ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے‘ اس میں حکومت کو بھی دخل اندازی کا کوئی حق نہیں اور جبری عبادت تو ویسے ہی قبول نہیں ہوتی۔ پھر یکدم اس آیت کریمہ کے الفاظ یا اس کے مفہوم کا حوالہ دیتے ہیں۔ بالخصوص حدود کے نفاذ کی بات ہو تو ان کو فوری خطرات لاحق ہوتے ہیں کہ اس طرح تو لوگوں کے ہاتھ کٹ جائیں گے۔ اسلام کے حوالے سے چوری کی روک تھام کی بات کی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگوں کے روزگار کا بندوبست کیا جائے۔ گویا کہ ان کے نزدیک جب تک ملک میں شہد کی نہریں نہ چل نکلیں کسی چور اور ڈاکو کو سزا نہیں ملنی چاہیے۔ کچھ جرأت مند بےدین تو حدوداللہ کو ویسے ہی وحشیانہ قانون قرار دیتے ہیں۔ سختی کا حکم : جہاں تک قانون اور حدود کا تعلق ہے تو دنیا میں کونسا ایسا ملک ہے جہاں چور، ڈاکو اور قاتل کو سزا دینے کی بجائے تمغۂ جرأت عطا کیا جاتا ہے؟ ہر ملک میں ایسے لوگوں کو کچھ نہ کچھ سزائیں ضرور دی جاتی ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کے وجود کا مقصدہی ملک میں اجتماعی نظام کی حفاظت اور قانون کا نفاذ ہوا کرتا ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرسکیں۔ اگر کوئی قانون کا احترام نہیں کرتا اور اس پر قانون کا نفاذنہ کیا جائے تو حکومت اور مملکت کے اجتماعی نظام کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ اس بات سے ہی اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ اگر اسلامی مملکت میں مجرم کو شریعت کے مطابق سزا نہ دی جائے تو پھر حدودو قصاص کی آیات اور احادیث کا کیا مقصد ہوگا؟ اگر حدود نافذ کرنا حکومت کا لوگوں کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرنا ہے تو پھر کیا لوگوں کو ایک دوسرے پر قانون نافذ کرنے کی اجازت دے دینی چاہیے یا معاشرے کو کھلا چھوڑ دینا چاہیے؟ دین میں جبر نہ ہونے کا فقط اتنا ہی مفہوم ہے کہ غیر مسلم کو جبرًامسلمان نہیں بنایا جا سکتا۔ جہاں تک اس معاملہ میں ملت اسلامیہ کے کردار و اخلاق کا تعلق ہے مسلمان تقریباً نو سو سال تک مشرق سے مغرب اور جنوب سے شمال تک بلا شرکت غیرے حکمران رہے۔ کیا انہوں نے کسی معبد خانے، کلیسا اور آتش کدہ میں جا کر تلوار کی دھار اور نیزے کی نوک سے لوگوں کو مسلمان بنایا ؟ ہرگز نہیں! ایسا کرنا تو درکنار انہوں نے دوسروں کے عبادت خانوں میں جا کر دعوت اسلام دینا بھی اخلاقیات کے منافی اور دوسروں کے حقوق میں مداخلت سمجھا تاکہ غیر مسلم جبر کا پہلو محسوس نہ کریں۔ یہاں تک کہ حالت جنگ میں بھی کسی کو جبرًامسلمان بنانے کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی کیونکہ مسلمان کو روز اول ہی سے حکم ہوا ہے کہ دین میں جبرنہیں۔ تاہم جو لوگ حلقۂ اسلام میں داخل ہونے کا اعلان کردیں ان کو جبراً نماز پڑھانا، ان سے زکوٰۃ وصول کرنا اور ان پر اسلامی قانون جاری کرنا حکومت کا فرض ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (ﷺ) نے انتقال فرمایا اور حضرت ابوبکر (رض) کو خلیفہ بنایا گیا تو عرب کے کچھ قبائل نے زکٰو ۃ دینے سے انکار کردیا۔ حضرت ابو بکر صدیق (رض) نے فرمایا میں ان کے خلاف جہاد کروں گا۔ یہاں تک کہ یہ لوگ زکٰوۃ ادا کریں۔ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا آپ ان لوگوں سے کیسے لڑیں گے جب کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا ہے کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے جب تک وہ لاإلہ إلا اللہ نہ کہیں۔ جس نے یہ شہادت دے دی اس نے اپنا مال اور اپنی جان مجھ سے بچالیے إلا یہ کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جس سے سزا کے طور پر اس کے کوئی جرمانہ، دیت وصول کی جائے یا اسکو جسمانی سزا دی جائے۔ اس کے جواب میں حضرت ابوبکر (رض) نے کہا اللہ کی قسم! میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا۔ اس لیے کہ زکوٰۃ اللہ کا حق ہے اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ زکوٰۃ کی مد میں مجھے بکری کا ایک بچہ نہ دیں جو رسول اللہ (ﷺ) کو دیا کرتے تھے تو میں ان سے ضرور لڑوں گا۔ تب حضرت عمر (رض) نے کہا اللہ کی قسم! اس کے بعد میں سمجھ گیا کہ ابوبکر (رض) کے دل میں جو جہاد کا ارادہ پیدا ہوا ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کے دل میں ڈالا ہے اور میں سمجھ گیا کہ حضرت ابوبکر (رض) کی رائے درست ہے۔“ [ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب وجوب الزکوۃ] (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بالصَّلَاۃِ وَھُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا وَھُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوْا بَیْنَھُمْ فِی الْمَضَاجِعِ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلوۃ] ” عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا جب تمہارے بچے سات سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز کی تلقین کرو جب دس سال کے ہوں تو انہیں جبراً نماز پڑھاؤ اور ان کے بستر جدا کردو۔“ ان دلائل سے ثابت ہوا کہ کلمہ گو کو جبراً شریعت پر چلایاجائے گا۔ الکرسی سے مرا دکرسی ہی لینی چاہیے۔ کچھ لوگوں نے کرسی سے مرا داللہ تعالیٰ کا اقتدار لیا ہے۔ واللہ اعلم مسائل : 1۔ دین میں جبر نہیں کیونکہ ہدایت گمراہی سے نمایاں ہوچکی ہے۔ 2۔ طاغوت کا انکار اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لانانہ ٹوٹنے والی رسی کو پکڑنا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور جاننے والاہے۔ تفسیربالقرآن : دین میں جبر نہیں : 1۔ دین میں جبر نہیں۔ (البقرۃ:256) 2۔ نبی (ﷺ) کو لوگوں پر داروغہ نہیں بنایا گیا۔ (بنی اسرائیل :54) 3۔ نبی کسی کو ہدایت کے لیے مجبور نہیں کرسکتا۔ (القصص :56) 4۔ نبی کسی پر نگران نہیں ہوتا۔ (النساء :80) البقرة
257 فہم القرآن : ربط کلام : عقیدہ توحید اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق جوڑنے کا نام ہے جب آدمی اللہ تعالیٰ سے مخلصانہ تعلق قائم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ از راہ کرم اسے اپنا دوست بنا کر روشن مستقبل کی رہنمائی فرماتا ہے۔ جب آدمی اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان لائے اور شیطانی قوتوں کا انکار اور ان کے خلاف سینہ سپر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنی ہدایت کے راستے کھول دیتا ہے۔ یہاں ہدایت کو نور اور طاغوتی راستوں کو ظلمات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیوں کہ شاہراہ ہدایت ایک ہی ہے اور شیطان کے راستے بے شمار ہیں جیسا کہ روشنی ایک ہے اور اندھیرے کئی قسم کے ہیں۔ یہی ایمان قیامت کے دن نور بن کر جنتیوں کے لیے مشعل راہ ہوگا۔ کفر و نفاق تاریکی بن کر جنت کے راستے میں حائل ہوجائے گا۔ ایسے لوگ جہنم میں دھکیلے جائیں گے جس میں انہیں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ [ الحدید :13] جب آدمی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے تو اللہ بندے کو اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ اسے اپنی طرف آنے کی توفیق بخشتا اور اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ جوں جوں بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار اور اس کے حکم پر نثار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی آنکھ، کان اور جوارح پر چھا جاتا ہے اور وہ اپنے دوستوں کی رہنمائی ہی نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے بندے کے دشمن کا دشمن ہوجاتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ میرے دوستوں کو دنیا و آخرت میں کوئی خوف نہ ہوگا۔ اس کے برعکس شیطان اپنے دوستوں کو نور ہدایت سے نکال کر گمراہی کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () إنّ اللّٰہَ قَالَ مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہٗ بالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ أَحَبَّ إِلیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ إِلَیَّ بالنَّوَافِلِ حَتّٰی أُحِبَّہٗ فَإِذَا أَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یَبْصُرُبِہٖ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِھَا وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَا وَإِنْ سَأَلَنِیْ لَأُعْطِیَنَّہٗ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَأُعِیْذَنَّہٗ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَیْءٍ أَنَا فَاعِلُہٗ تَرَدُّدِیْ عَنْ نَفْسِ المُؤْمِنِ یَکْرَہُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَکْرَہُ مَسَاءَ تَہٗ)[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب التواضع ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ میں نے جو چیزبندے پر فرض کی اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں جس سے وہ میرا قرب حاصل کرے بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ جب میں اس کے ساتھ محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر سوال کرے تو میں اسے عطا کرتاہوں‘ اگر مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے پناہ دیتاہوں۔ میں اپنے کسی کام میں اتنا تردُّد نہیں کرتاجتنا ایک مومن کی جان قبض کرنے میں کرتا ہوں کیونکہ بندہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اس کی تکلیف اچھی نہیں لگتی۔“ (عَنْ أَنَسٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () فِیْمَا یَرْوِیْہِ عَنْ رَبِّہٖ قَالَ إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ إِلَیَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَیْہِ ذِرَاعًا وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّیْ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْہُ بَاعًا وَإِذَا أَتَانِیْ یَمْشِیْ أَتَیْتُہٗ ھَرْوَلَۃً) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید] ” حضرت انس (رض) نبی کریم (ﷺ) سے وہ بات بیان کرتے ہیں جو آپ اللہ تعالیٰ سے بیان کرتے ہیں یعنی یہ حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب بندہ میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتاہوں اور جب وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ بڑھتاہوں اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتاہوں۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کا دوست ہے اور انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتا ہے۔ 2۔ شیطان اپنے دوستوں کو روشنی سے اندھیروں میں دھکیلتا ہے۔ 3۔ شیطان کے دوست ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ النور : 1۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کا نور ہے۔ (النور :35) 2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی روشنی نہیں دے سکتا۔ (النور :40) 3۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو روشنی کی طرف لاتا ہے۔ (البقرۃ:257) 4۔ رسول لوگوں کو روشنی کی دعوت دیتا ہے۔ (ابراہیم :1) 5۔ تورات وانجیل نور ہیں۔ (المائدۃ:46) 6۔ قرآن بھی نور ہے۔ (المائدۃ:15) البقرة
258 فہم القرآن : ربط کلام: جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ روح کو نور ایمان سے زندہ کرتا ہے اسی طرح وہ مردہ جسم کو دوبارہ زندگی عطا کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کو لوگوں کو زندہ فرمائے گا جس کی امثال پیش کی جارہی ہیں۔ ایک دنیا پرست اور کوتاہ نظر انسان کی عادت ہوتی ہے کہ جونہی اسے کوئی نعمت و افر مقدار میں میسر ہو تو اس کی فطرت بغاوت پر اتر آتی ہے۔ جن نعمتوں کے ملنے کے بعد آدمی بہت جلد غرور اور تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے ان نعمتوں میں اقتدار اور اختیار ایسی چیز ہے جب اس کانشہ دماغ پر غالب آتا ہے تو آدمی اپنے محسنوں کو بھول ہی نہیں جاتا بلکہ بسا اوقات ان کی جان کا دشمن بن جاتا ہے۔ خیر خواہی کرنے والوں کو مخالف اور چاپلوسی کرنے والوں کو خیر خواہ سمجھتا ہے۔ ایسے شخص کے پاس زیادہ عرصہ اقتدار رہے تو وہ اس زعم باطل میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ سب کچھ میری ذاتی صلاحیتوں اور کارکردگی کا نتیجہ ہے بالآخر وہ عملاً اپنے آپ کو خدائی مقام پر فائز سمجھتا ہے۔ نمرود جب اس خمار میں مبتلا ہوا تو اس نے اپنے آپ کو زمین پر خدائی اوتارکے طور پر متعارف کروایا۔ اس قسم کے حکمرانوں کی بنیادی سوچ یہ ہوتی ہے کہ ہر قانون ان کے تابع ہو اور دین کا دنیاوی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جس کو آج کل کی زبان میں یوں کہا جاتا ہے کہ سیاست اور دین دو متضاد چیزیں ہیں۔ دین کا ریاست اور سیاست کے معاملات میں کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کے بقول دین ملک کی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نمرود سے واسطہ پڑا جو کہ نبوت کی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا۔ اس سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) عوام الناس کو تبلیغ کیا کرتے تھے اور کسی حکمران کے ساتھ دین کے حوالے سے بالمشافہ گفتگو کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔ جونہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے اللہ تعالیٰ کی توحید پیش فرمائی تو اس نے اپنے سیاسی تحفظات کی بنا پر رب کائنات کی ہستی کا انکار کیا اور پھر اپنے مؤقف کے بارے میں باطل اور فرسودہ دلائل دینے لگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھایا کہ میں اس خالق حقیقی کی بات کر رہا ہوں جو موت و حیات کا مالک ہے۔ اللہ کا باغی کہنے لگا یہ کام تو میں بھی کرسکتا ہوں۔ میں چاہوں تو جلاد کو حکم دوں کہ فلاں آدمی کو قتل کردیا جائے۔ جب جلاّد تلوار اٹھائے تو میں اسے ایسا کرنے سے روک دوں لہٰذا مارنا اور زندہ کرنا کونسا مشکل کام ہے۔ اکثر مفسّرین نے لکھا ہے کہ اس نے موت کی سزاپانے والے قیدی کو رہا کردیا اور رہا ہونے والے کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کا تکبر اور ہٹ دھرمی دیکھ کر اپنی دلیل کی لطافت سمجھانے اور اس کے ساتھ الجھنے کے بجائے یک دم فرمایا میں اس رب کی بات کر رہا ہوں جو سورج کو مشرق سے طلوع کر کے مغرب میں غروب کرتا ہے اگر تو اپنے آپ کو خدا سمجھتا ہے تو سورج کو مغرب سے طلوع کر۔ یہ ایسی اچانک، واضح اور ٹھوس دلیل تھی جس کا وہ جواب نہ دے سکا۔ یہاں بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ اگر وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہتا کہ تیرا رب سورج کو مغرب سے طلوع کرکے دکھائے تو اللہ تعالیٰ اس کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تائید میں ایسا کردیتے لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے دلیل کی تاب نہ لاکر نمرود اس قدر بوکھلا چکا تھا کہ اس کے حواس ٹھکانے نہ رہے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بات کرنے کاسلیقہ معجزہ کے طور پر عطا ہوا تھا۔[ الشعراء :83] جب وہ اپنے مخالفوں سے بات کرتے تو لوگ ان کے سامنے دم بخود رہ جاتے تھے۔ چنانچہ نمرود کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ یہی سچے دین کی خوبی ہے کہ وہ ہر دور میں علمی برتری اور ٹھوس دلائل کے حوالے سے باطل نظریات پر غالب رہا ہے اور ہمیشہ بالادست رہے گا۔ جو لوگ حقائق کے سامنے لاجواب ہو کر بھی حق قبول نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا کیونکہ ہدایت کے لیے عاجزی اور سچی طلب ضروری ہوا کرتی ہے۔ مسائل : 1۔ موت و حیات کا صرف اللہ ہی مالک ہے۔ 2۔ شمس و قمر سمیت اللہ کے نظام میں کوئی دخل نہیں دے سکتا۔ 3۔ اللہ کے منکروں کو بالآخر پریشانی اٹھاناپڑتی ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ تفسیربالقرآن : اللہ ہی موت وحیات کا مالک ہے : 1۔ اللہ ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (آل عمران :156) 2۔ اللہ ہی موت وحیات کا خالق ہے۔ (الملک :2) 3۔ اللہ تعالیٰ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کرتا ہے۔ (آل عمران :27) 4۔ اللہ تعالیٰ مارنے کے بعد زندہ کرے گا۔ (البقرۃ:73) البقرة
259 فہم القر آن : ربط کلام : سلسلہ مضمون جاری ہے لہٰذا یہاں مرنے کے بعددوبارہ زندہ ہونے کی ایک مثال پیش کی گئی ہے۔ اس شخص سے مراد اکثر مفسّرین نے حضرت عزیر (علیہ السلام) لیے ہیں اور جس بستی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ بیت المقدس تھی جسے بخت نصر نے تہس نہس کردیاتھا۔ اس تاریخی اور مقدس شہر کو ویران اور سنسان دیکھ کر حضرت عزیر (علیہ السلام) کو شدید دھچکا لگا اور خیالات کی دنیا میں سوچنے لگے کہ کبھی اس کے بازار پُر رونق، اس کے مکان اپنے مکینوں سے آباد، یہاں چہل پہل اور شہر کی ایک شان ہوا کرتی تھی۔ اب یہاں ہُو کا عالم ہے اب تو اس میں سے گزرتے ہوئے بھی دل کانپتا ہے۔ جوں ہی یہ خیال پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس اجڑی ہوئی بستی کو دوبارہ کس طرح رونقیں عطا کرے گا؟ اس سوچ میں غلطاں ہو کر کہنے لگے ﴿اَنّٰی یُحِیْ ہٰذہ اللّٰہ بَعْدَ مَوتہا﴾ اللہ تعالیٰ اس کی موت کے بعد اسے کس طرح زندہ کرے گا“ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو سو سال تک موت کی آغوش میں سلادیا۔ جب دوبارہ اٹھایا تو فرمایا کہ اے عزیر! تم کتنی مدت تک یہاں رہے ہو؟ انہوں نے عرض کی الٰہی! میں ایک دن یا اس کا کچھ حصہ یہاں ٹھہرا ہوں۔ ارشاد ہوا کہ ہرگز نہیں! تو یہاں ایک صدی ٹھہرا رہا ہے۔ اب اپنے کھانے پینے کی طرف دیکھ اس میں نہ بساند پیدا ہوئی اور نہ ہی اس کا ذائقہ تبدیل ہوا ہے۔ پھر اپنے گدھے کی طرف دیکھ تاکہ تجھے اور اس پورے واقعہ کو لوگوں کے لیے مر کر اٹھنے پر ایک دلیل کے طور پر پیش کیا جائے۔ اب گدھے کی ہڈیوں کی طرف دیکھ کہ ہم کس طرح انہیں اکٹھا کر کے اس پر گوشت پوست چڑھاتے ہیں۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے گدھے کی بوسیدہ ہڈیاں صحت مند ہڈیوں کی شکل اختیار کر گئیں اور باہم جڑ کر گدھے کا ڈھانچہ بن گیا اور پھر اس پر گوشت اور بالوں سمیت کھال نمودار ہوئی یہ دیکھتے ہی حضرت عزیر (علیہ السلام) پکار اٹھے میں اچھی طرح جان چکا کہ اللہ ہی زندہ کرنے پر قادر اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجب نظائر ہیں کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو سو سال تک موت کی آغوش میں دے کر پہلی حالت میں صحیح سالم اٹھانا، بہت جلد خراب ہونے والے کھانے اور پانی کو اسی طرح اپنی حالت پر برقرار رکھنا کہ اس میں معمولی تغیرّبھی پیدا نہ ہوپایا۔ گدھا جو زندہ رہ سکتا اور اپنے طور پر وادی میں کھا پی سکتا تھا اسے مار کر از سر نوزندہ فرما کر حضرت عزیر (علیہ السلام) کے سامنے تجربے اور مشاہدے کے ذریعے ثابت کرنا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح ہی اجڑی ہوئی بستیوں کو آباد کرتا اور صحراؤں اور ریگستانوں کو گل و گلزار بناتا ہے۔ اگر کوئی پانی میں ڈوب جائے یا جل کر راکھ ہوجائے تو اللہ تعالیٰ بکھرے ہوئے اجزاء کو اکٹھا کر کے اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا اور یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب بھی ہے اور اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت بھی ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ اجڑی بستیوں کو آباد اور مردوں کو زندہ کرتا ہے اور کرے گا۔ 2۔ مرنے والے کو اپنے مرنے کی مدّت بھی یاد نہیں ہوتی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بقا اور فنا کا مالک اور ہر چیز پر قادر ہے۔ تفسیربالقرآن : موت کے بعد زندہ ہونے کی مثالیں : 1۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے مقتول کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ:73) 2۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ:259) 3۔ چار پرندوں کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ :260) 4۔ اصحاب کہف کو تین سو سال کے بعد اٹھایا۔ (الکہف :25) 5۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا۔ (البقرۃ:243) البقرة
260 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ مردہ کو زندہ کرنے کی ایک اور مثال۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ التّکاثر میں انسانی علم کے تین مدارج ذکر فرمائے ہیں۔ علم، علم الیقین اور عین الیقین۔ عین الیقین ایسا علم ہے جو تجربے اور مشاہدے سے ثابت ہوجائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو عین الیقین کے تناظر میں سمجھنا چاہیے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حیات بعد الممات کے بارے میں کبھی بھی تشکیک کا شکار نہیں ہوئے۔ ان کے بارے میں دو ٹوک انداز میں الانعام 57میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو پہلے روز سے ہی رشد و ہدایت سے نوازا تھا۔ انبیاء کرام نبوت سے پہلے بھی کفر اور شرک کا ارتکاب نہیں کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر نبی کو ابتداء ہی سے اپنی نگرانی میں رکھتے اور پالتے ہیں اور ہر نبی کو اس کے حالات کے مطابق اپنی قدرت کے نشانات دکھلایا کرتے ہیں تاکہ ان کے کلام اور خطاب میں انقلابی تاثیر پیدا ہوجائے اس انقلابی تاثیر کی بنا پر لوگ انبیاء کا انکار کرنے کے باوجوددل میں ان کی سچائی کے قائل ہوا کرتے تھے۔ یہاں عین الیقین کے درجے کو پانے کے لیے جناب ابراہیم (علیہ السلام) اپنے رب کے حضور سوال پیش کر رہے ہیں۔ رب حکیم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لوگوں کے الزام سے بچانے کے لیے ہی یہ سوال فرمایا کہ کیا ابراہیم (علیہ السلام) تم بھی اس بات پر یقین نہیں رکھتے؟ ابراہیم (علیہ السلام) جواباً عرض کرتے ہیں کہ میرے رب کیوں نہیں ! میں تو اطمینان قلب کے لیے یہ درخواست کر رہا ہوں تاکہ قیامت کو اٹھنے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے میرے دل کا ایک ایک گوشہ اور ریشہ گواہی دے رہا ہو کہ مرنے کے بعد جی اٹھنا اور اللہ کے حضور پیش ہونا یقینی ہے۔ حکم ہوا کہ ابراہیم چار پرندے پکڑ کر انہیں کچھ مدّت کے لیے اپنے ساتھ مانوس کرو۔ اس کے بعد انہیں ذبح کر کے ان کے اعضاء مختلف پہاڑوں پر رکھ کر انہیں اپنی طرف آنے کے لیے آواز دو‘ آواز سنتے ہی وہ تمہاری طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر کام کرنے پر قادر ہے اور اس کے ہر کام اور حکم میں بہت سی حکمتیں پنہاں ہوتی ہیں۔ پرندوں کو اپنے ساتھ مانوس کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ پرندے زندہ ہونے کے بعد ڈر کر ادھر ادھر نہ اڑ جائیں۔ اُڑ کر آنے کے بجائے چل کر آنے کی وضاحت فرمائی کہ بعد میں آنے والے قیامت کے منکر لوگ یہ نہ کہہ پائیں کہ ذبح ہونے والے پرندے زندہ نہیں ہوئے تھے بلکہ کوئی اور پرندے اتفاقاً اڑ کر موقع پر پہنچ گئے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ پرندے اڑنے کے بجائے چل کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے جس سے ہر قسم کے شبہات کا ازالہ کردیا گیا۔ پرندوں کے اجزاء اس لیے مختلف چٹانوں پر بکھیر دیے گئے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ آدمی جس حال میں مرے اللہ تعالیٰ اسے ہر صورت میں اپنے سامنے پیش کرے گا۔ مر کر اٹھنے کے عقیدے کو قرآن مجید اس طرح زور دار طریقے سے بیان کرتا ہے کہ اس کے بعد اس عقیدے کے بارے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔ ﴿قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً أَوْحَدِیْدًا أَوْخَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُوْرِکُمْ﴾ [ بنی اسرائیل : 50، 51] ” اے پیغمبر! قیامت کے منکروں کو فرما دو۔ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا یا ایسی مخلوق بن جاؤ جو تمہارے خیالات میں بڑی ہو۔“ (اللہ تعالیٰ پھر بھی تمہیں اٹھائے گا) (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () أَنَّ رَجُلًا کَانَ قَبْلَکُمْ رَغَسَہُ اللّٰہُ مَالًا فَقَالَ لِبَنِیْہِ لَمَّا حُضِرَ أیَّ أَبٍ کُنْتُ لَکُمْ قَالُوْا خَیْرَ أَبٍ قَالَ فَإِنِّیْ لَمْ أَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ فَإِذَا مِتُّ فَأَحْرِ قُوْنِیْ ثُمَّ اسْحَقُوْنِیْ ثُمَّ ذَرُوْنِیْ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ فَفَعَلُوْا فَجَمَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَقَالَ مَا حَمَلَکَ قَالَ مَخَافَتُکَ فَتَلَقَّاہُ بِرَحْمَتِہٖ)[ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الانبیاء، باب حدیث الغار] ” حضرت ابو سعید (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ تم سے پہلے ایک آدمی کو اللہ نے مال سے نوازا۔ اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میں تمہارا کیسا باپ ہوں؟ انہوں نے جواب دیا آپ بہترین باپ ہیں۔ اس آدمی نے کہا میں نے کبھی اچھا کام نہیں کیا لہٰذا میرے مرنے کے بعد مجھے جلا کر میری راکھ تیزہواؤں میں اڑا دینا انہوں نے ایسے ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کر کے اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا تھا ؟ اس نے عرض کی : الٰہی! تیرے خوف کی وجہ سے ایسا کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اسے معاف کردیا۔“ مسائل : 1۔ اطمینان قلب کے لیے سوال کرنا جائز ہے۔ 2۔ مشاہدہ انسان کے دل میں یقین پیدا کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسان کے ایک ایک جز کو اکٹھا کریں گے۔ البقرة
261 فہم القرآن: ربط کلام : یہاں سے صدقات کے بارے میں خطاب شروع ہوتا ہے۔ سابقہ آیات میں صدقہ کرنے کا حکم تھا اور صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے مترادف قرار دیا گیا۔ اب صدقہ کی فضیلت‘ اس کی قبولیت کے اصول اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے گئے صدقات کے دنیا اور آخرت میں ثمرات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی ابتداء میں ایمان کے مرکزی اور بنیادی اصولوں میں تیسرا اصول یہ بیان ہوا ہے کہ صاحب ایمان لوگوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔ اب اسی بنیادی رکن کی مختلف زاویوں سے وضاحت شروع ہوتی ہے جس میں فضیلت، فرضیت اور احتیاطی ہدایات مسلسل 23 آیات میں بیان کی گئی ہیں جو چار رکوع پر مشتمل ہیں۔ صدقات کی ترغیب سے پہلے موت کے بعد اٹھنے کے تین دلائل دیے گئے ہیں۔ ان کی حکمت یہ ہے کہ مرنے کے بعد جس طرح دوسرے اعمال کی جزا اور سزا ملے گی اسی طرح اللہ کے راستے میں کیے گئے صدقات کا نیت اور صدقے کے مطابق پورا پورا اجر ملے گا۔ لہٰذا ترغیب دی جارہی ہے کہ مرنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ اپنے لیے آگے بھیجو۔ تاکہ مشکل وقت میں تمہارے کام آسکے۔ صدقے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ صدقہ ہر حال میں اللہ کی رضا اور اس کی منشا کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایسے صدقے کی مثال اس بیج کی طرح ہے جس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی سو دانہ اٹھائے ہوئے ہو۔ یہ اس صورت میں ہوگا جب کاشتکار نے صحیح بیج‘ مناسب وقت اور زرخیز زمین پر کاشتکاری کر کے اس کی اچھی طرح آبیاری اور نگرانی کی ہو۔ ایسی برکت اللہ تعالیٰ ہر اس صدقے میں پیدا فرمائے گا جو اخلاص، للہیت، رزق حلال اور مستحق جگہ اور سنت کے مطابق خرچ کیا جائے۔ ایسے صدقہ کے بارے میں سات سو گنا بڑھانے کی حد بندی نہیں بلکہ ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والے کے اخلاص اور جذبات کے مطابق اسے اس سے زیادہ برکت سے نوازیں گے کیونکہ اللہ وسعت وکشادگی دینے اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ دنیا میں آج تک کوئی بینک یا مالیاتی ادارہ قائم نہیں ہوا اور نہ ہی ہوسکتا ہے جو اس قدر اپنے شیئر ہولڈر کو منافع دینے کے لیے تیار ہو۔ جس قدر اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو عطا کرتا ہے اور کرے گا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِّنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَّلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ فَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ فُلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا جو آدمی کھجور کے برابر اپنی پاک کمائی سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ کے ہاں صرف پاک چیز ہی قبول ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر اس کو اس طرح پالتا اور بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی بچھڑے کو پالتا ہے حتیٰ کہ صدقہ پہاڑکی مانند ہوجاتا ہے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ بَیْنَا رَجُلٌ بِفَلَاۃٍ مِّنَ الْأَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِیْ سَحَابَۃٍ إِسْقِ حَدِیْقَۃَ فُلَانٍ فَتَنَحّٰی ذٰلِکَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَاءَ ہٗ فِیْ حَرَّۃٍ فَإِذَا شَرْجَۃٌ مِنْ تِلْکَ الشَّرَاجِ قَدِاسْتَوْعَبَتْ ذٰلِکَ الْمَاءَ کُلَّہٗ فَتَتَبَّعَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِیْ حَدِیْقَتِہٖ یُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِہٖ فَقَالَ لَہٗ یَاعَبْدَ اللّٰہِ مَااسْمُکَ قَالَ فُلَانٌ لِلْإِسْمِ الَّذِیْ سَمِعَ فِی السَّحَابَۃِ فَقَالَ لَہٗ یَاعَبْدَ اللّٰہِ لِمَ تَسْأَلُنِیْ عَنِ اسْمِیْ فَقَالَ إِنِّیْ سَمِعْتُ صَوْتًا فِی السَّحَابِ الَّذِیْ ھٰذَا مَاءُ ہٗ یَقُوْلُ اسْقِ حَدِیْقَۃَ فُلَانٍ لِإِسْمِکَ فَمَا تَصْنَعُ فِیْھَا قَالَ أَمَّا إِذْ قُلْتَ ھٰذَا فَإِنِّیْ أَنْظُرُ إِلٰی مَایَخْرُجُ مِنْھَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِہٖ وَآکُلُ أَنَا وَعِیَالِیْ ثُلُثًا وَأَرُدُّ فِیْھَا ثُلُثَہٗ) [ رواہ مسلم : کتاب الزھد والرقائق، باب الصدقۃ فی المساکین] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : صحرا میں ایک آدمی نے بادلوں میں آواز سنی کہ فلاں آدمی کے باغ کو پانی پلاؤ تو وہ بادل دوسرے بادلوں سے علیحدہ ہوگیا اور اپنا پانی ایک پتھریلی زمین پر برسایا وہاں ایک نالا پانی سے بھر گیا وہ آدمی اس کے پیچھے پیچھے چلا ایک آدمی اپنے باغ میں کھڑا اپنی کسّی کے ساتھ پانی لگارہا تھا۔ اس آدمی نے پوچھا اللہ کے بندے تیرا نام کیا ہے؟ اس نے کہا : فلاں، وہی نام جو مسافر نے بادلوں میں سناتھا۔ نام بتانے والے نے وجہ پوچھی تو سائل نے جواب دیا کہ میں نے اس بارش برسانے والے بادل میں یہ سنا کہ فلاں آدمی کے باغ کو پانی پلاؤ۔ آپ ایسا کونسا عمل کرتے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ آپ نے پوچھ لیا ہے تو سنیں کہ میں اس باغ کی کل آمدنی سے ایک تہائی صدقہ کرتاہوں‘ ایک تہائی سے گھر کے اخراجات چلاتاہوں اور ایک تہائی اس پر لگاتاہوں۔“ مسائل : 1۔ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والے کو سات سو گنا سے زیادہ اجر ملے گا۔ تفسیربالقرآن : صدقہ میں برکت : 1۔ صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینا ہے۔ (الحدید :11) 2۔ اللہ تعالیٰ اسے دگنا تگنا کرکے واپس کرے گا۔ (التغابن :17) 3۔ اللہ سات سو گنا تک بڑھا دیتا ہے۔ (البقرۃ:261) 4۔ اللہ کے ہاں اضافے کی کوئی حد نہیں ہے۔ (البقرۃ:261) البقرة
262 فہم القرآن: (آیت 262 سے 263) ربط کلام : انفاق فی سبیل اللہ سے ثواب میں اضافہ تب ہی ہوگا جب احسان جتلانے اور تکلیف دینے سے صدقہ پاک ہوگا۔ احسان جتلانے اور تکلیف سے بہتر ہے کہ آدمی دوسرے سے معذرت ہی کرلے۔ صدقہ کا بھاری اور بے انتہا اجر انہیں موصول ہوگا۔ جنہوں نے حالت ایمان میں انفاق فی سبیل اللہ کی شرائط پوری کرتے ہوئے اپنے صدقہ کو ایذاء اور احسان سے محفوظ رکھا ہو۔ ضروری نہیں کہ احسان اور تکلیف زبان سے ہی دی جائے۔ بسا اوقات صدقہ کرنے والا اپنے ملازم سے اس لیے زیادہ کام لیتا ہے کہ تنخواہ کے علاوہ بھی اسے کچھ دیتا ہے۔ اپنا اعزہ و اقرباء پر خرچ کرنے والے اکثر لوگ ان سے خدمت اور غیر معمولی احترام کی توقع کرتے ہیں۔ اسی طرح مسجد، مدرسہ اور کسی رفاہی ادارے پر خرچ کرنے کے بعد ریا کار اور کم ظرف لوگ ایسے اداروں کے خدمت گاروں اور علماء کو ملازم اور اپنا احسان مند رکھنے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جس سے ملازم، رشتہ دار اور دین کی خدمت کرنے والوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور بسا اوقات اس قسم کے مخیر اور شہرت کے خواہش مند لوگ حکومت کے اداروں میں خرچ کرنے کے بعد سرکاری افسران سے مفادات اٹھاتے ہیں۔ جس سے صدقہ کرنے والے کے ثواب میں کمی اور صدقہ ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ جس نے اپنے صدقے کو ان کمزوریوں سے بچا لیا اس کے لیے اس کے رب کے ہاں بے انتہا اجر ہے اور اسے کوئی خوف و خطر نہیں ہوگا۔ ایسا صدقہ جو اخلاقی بیماریوں سے محفوظ ہو۔ وہ دنیا میں بھی آدمی کو بے شمار نقصانات اور آزمائشوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس سے نیک نامی‘ دل میں سکون اور باہمی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہاں صدقہ کرنے والے کو عاجزی اختیار کرنے اور گفتگو کا طریقہ بتلایا گیا ہے بالخصوص اس وقت جب آدمی کے پاس سائل کو دینے کے لیے کچھ نہ ہو توسائل کو ڈانٹنے کے بجائے اچھے طریقے سے ٹالنا اور معذرت کرنا چاہیے۔ یہ انداز اس صدقے سے کہیں بہتر ہے جس صدقہ کے بعد مستحق کو احسان جتلا کر یا کسی اور طریقے سے اذیت پہنچائی جائے۔ صدقہ دینے والے کو ایسا اس لیے بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے کہ اس نے اس کو اس قابل بنایا کہ اس کے سامنے دوسرے لوگ محتاج بن کر حاضر ہوتے ہیں۔ صاحب ثروت کو ہر دم یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہمیشہ دینے والی اللہ کی ذات ہے۔ وہ آدمی کی کمزوریوں سے صرف نظر فرما کر اپنی عطاؤں سے نوازتا ہے۔ لہٰذا آدمی کو بھی برد باری اور سخاوت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ البتہ جو شخص صحت مند اور حقیقتاً محتاج نہ ہو اسے دینے کے بجائے سمجھانا چاہیے۔ اگر وہ پھر بھی مانگنے سے باز نہ آئے تو اسے ڈانٹنے کی گنجائش ہے جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمر (رض) نے ایسے مانگت سے مانگا ہوا اس کی ضرورت سے زائد مال چھین کر آئندہ گداگری سے منع کردیا۔ [ سیرت فاروق] (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُِّ () مَایَزَال الرَّجُلُ یَسْأَلُ النَّاسَ حَتّٰی یَأْتِیَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ فِیْ وَجْھِہٖ مُزْعَۃُ لَحْمٍ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب من سأل الناس تکثرا] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا آدمی ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہوگا۔“ (عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یَنْظُرُ إلَیْھِمْ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ قَالَ فَقَرَأَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ () ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ أَبُوْ ذَرٍّ (رض) خَابُوْا وَخَسِرُوْامَنْ ھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ () قَالَ الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَہٗ بالْحَلْفِ الْکَاذِبِ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب بیان غلظ تحریم إسبال الإزار والمن بالعطیۃ] ” حضرت ابوذر (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا قیامت کے دن تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ نہ کلام کرے گا نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا۔ ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ ابوذر (رض) نے عرض کی یارسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں ؟ وہ تو ناکام ونامراد ہوگئے۔ آپ نے فرمایا : 1 اپنا ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا 2 احسان جتلانے والا 3 جھوٹی قسمیں اٹھا کر اپنا مال فروخت کرنے والا۔“ مسائل : 1۔ احسان جتلانے اور تکلیف دینے سے بچنے والا دنیا و آخرت میں بے خوف و خطر ہوگا۔ 2۔ معذرت کرنا تکلیف دینے اور احسان جتلانے سے بہتر ہے۔ البقرة
263 البقرة
264 فہم القرآن : ربط کلام : اس سے پہلے عمومی انداز میں سمجھایا گیا تھا کہ اللہ کے لیے خرچ کرو اور صدقہ لینے والے کو تکلیف نہ دو اور نہ ہی اس پر احسان جتلاؤ۔ یاد رکھو کہ حقیقی غنی وہ ذات اقدس ہے جس نے اپنی غنا کے خزانوں سے تمہیں عطا فرمایا ہے۔ تم تو تھوڑا سادے کر بے حوصلہ ہوجاتے ہو اس مالک کی طرف دیکھو جو تمہیں صبح وشام کھلانے پلانے اور خزانے عطا کرنے کے باوجود تمہاری گستاخیاں اور نافرمانیاں برداشت کرتا ہے۔ اب براہ راست صاحب ایمان لوگوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ ایذاء رسانی اور احسان جتلا کر اپنے صدقات کو ہرگز ضائع نہ کرنا۔ کیونکہ جس حاجت مند کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا جائے اس کے دل میں صدقہ دینے والے کے بارے میں دعا اور ہمدردی کے بجائے نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ احسان جتلانے اور ایذاء پہنچانے والے آدمی کے بارے میں معاشرہ میں نفرت اور حقارت پیدا ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنے آپ کو تبدیل نہ کرے تو ایسارویّہ اس کی کمینگی کی علامت بن جاتا ہے۔ معاشرہ میں صدقہ کرنے سے جو مثبت اثرات پیدا ہونے تھے۔ اس کی بجائے منفی اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ گویا کہ اس طرز عمل سے صدقہ دینے والے کی عزت اور خدمت برباد ہوجاتی ہے۔ آخرت کے بارے میں رسول معظم (ﷺ) کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو نظر کرم کے ساتھ نہیں دیکھے گا۔ [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب بیان غلظ تحریم إسبال الإزار والمن بالعطیۃ] صدقہ کرنے کے بعد ایذا پہنچانے والے شخص کو ریا کار کے ساتھ تشبیہ دی جارہی ہے۔ جس کا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں ہوتا کیونکہ اگر اس کا اللہ اور آخرت پر حقیقی ایمان ہوتا تو اسے نمودو نمائش کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس نے آخرت میں اپنے رب سے اجر لینے کے بجائے لوگوں سے تحسین اور شہرت کی صورت میں اجر لینے کی کوشش کی ہے۔ اس کے اس عمل کی مثال تو ایسی ہے جس طرح ایک چٹان کے اوپر معمولی سی مٹی ہو جو ہلکی سی بارش سے صاف ہوجائے۔ اس چٹان پر گل و گلزار کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے ؟ یہی حالت ریا کار اور اس شخص کی ہے جو صدقہ کرنے کے بعد احسان اور ایذارسانی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ اس کا کردار تو کفار کے ساتھ ملتا جلتا ہے کیونکہ کافر نہ آخرت پر یقین رکھتا ہے نہ ہی اس کا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے پہلے تین آدمیوں کا فیصلہ کیا جائے گا ایک شہید ہوگا اس کو اللہ کے دربار میں پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنی نعمتیں یاد کروائے گا وہ ان نعمتوں کا اعتراف کرے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے ان نعمتوں سے کیا فائدہ اٹھایا؟ وہ کہے گا : میں نے تیرے راستے میں جہاد کیا یہاں تک کہ میں شہید ہوگیا۔ اللہ فرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے تو نے تو اس لیے جہاد کیا تھا تاکہ کہا جائے تو بڑا بہادر ہے۔ دنیا میں تجھے بہادر کہہ دیا گیا۔ اس کے بعد اس کو الٹے منہ گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اسی طرح ایک عالم اور ایک سخی کو بھی لایا جائے گا جنہوں نے دکھلاوے کی خاطر علم پڑھا اور پڑھایا اور صدقہ کیا پھر ان کے ریاکاری کرنے کی وجہ سے ان کو بھی الٹے منہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ] مسائل : 1۔ تکلیف دینے اور احسان جتلانے سے صدقہ ضائع ہوجاتا ہے۔ 2۔ ریا کار اللہ اور آخرت پر حقیقی ایمان نہیں رکھتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ تفسیربالقرآن : ریا کاری اور احسان جتلانا : 1۔ ریاکاری دھوکہ ہے۔ (النساء :142) 2۔ ریاکار نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے۔ (الماعون :6) 3۔ ریاکاری کفار کرتے ہیں۔ (الانفال :47) 4۔ منافق ریا کارہوتے ہیں۔ (النساء :142) 5۔ کسی سے زیادہ حاصل کرنے کے لیے احسان نہیں کرنا چاہیے۔ (المدثر :6) 6۔ احسان جتلانے سے ثواب ضائع ہوجاتا ہے۔ (البقرۃ:264) البقرة
265 فہم القرآن : (آیت 265 سے 266) ربط کلام : ریا کاری‘ احسان جتلانے اور تکلیف والے صدقہ کے مقابلہ میں لِوَجْہِ اللّٰہِ کیے گئے صدقہ کے ثمرات وانجام۔ یہاں دو مثالوں کے ذریعے دو قسم کا کردار واضح کیا جارہا ہے۔ پہلی مثال میں ایسے سخی کی بات تھی جو کسی کو صدقہ دینے کے بعد احسان جتلاتا اور اذیّت دے کر اپنے صدقے کو اس طرح ضائع کر بیٹھتا ہے جیسے نمود و نمائش کرنے والے کا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین نہیں ہوتا جس وجہ سے اس کا اجر ضائع ہوجاتا ہے۔ اس صدقے کی مثال ایک چٹان اور اس پر پڑی ہوئی مٹی سے دی گئی تھی جو بارش کے چند قطروں سے صاف ہوجائے۔ گویا کہ ریا کار اور اس قسم کے آدمی کے صدقے کی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالانکہ پتھر پر مٹی کے ذرات ہوں تو بارش کے بعد اس پر کچھ نہ کچھ ضرور اگتا ہے۔ ایسے ہی اگر اخلاص کے ساتھ صدقہ کیا جائے تو اس کے مخیّر کے دل اور معاشرہ پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن جس طرح چٹان پر بارش کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایسے ہی ریا کار کو صدقہ کرنے کا کوئی اجر و ثواب حاصل نہیں ہوگا۔ اس کے بعد اس صاحب دل اور خوش قسمت انسان کی مثال دی جارہی ہے جو اپنے دل کے اطمینان، روح کی خوشی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صدقہ کرتا ہے۔ اس کی مثال اس باغ جیسی ہے جو بلند اور ہموار زمین پر ہوجس پر بارش نہ بھی ہو تو اسے شبنم ہی کفایت کرتی ہے۔ اخلاص نیت کے ساتھ کیے جانے والے صدقہ میں اگر کوئی کمی وکمزوری رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی تلافی فرما دے گا۔ کیونکہ صدقہ کرنے والا اس نیت کے ساتھ کر رہا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہی مال تھا جو میں نے اس کے کمزور بندوں پر خرچ کیا ہے اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔ ایسا شخص نمود و نمائش، احسان جتلانے اور تکلیف دینے سے اجتناب کرتا ہے۔ دوسری مثال میں مخیر حضرات کی توجہ اس جانب دلائی جارہی ہے کہ کیا تم میں کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں پر مشتمل ایک بہترین باغ ہو اور اس میں آب پاشی کا خود کار نظام ہو‘ اس باغ کا مالک بوڑھا اور اس کی چھوٹی چھوٹی اولاد ہو اور وہ باغ بھر پور طریقے سے پھل دے رہا ہو۔ اچانک اس باغ کو آگ کا بگولہ خاکستر کر دے۔ بتائیے کہ ایسے سانحہ فاجعہ پر اس بوڑھے مالک کی کیا حالت ہوگی ؟ جو لوگ خرچ کرنے کے بعد شہرت کے طالب اور مسکین کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ قیامت کے دن ان کا معاملہ باغ کے بوڑھے مالک کی طرح ہوگا جسے بڑھاپے میں ایک ایک پائی کی ضرورت تھی اور بچے کمزور اور کمانے کے لائق نہیں تھے جو بچے اس سانحہ کے وقت بچے اپنے باپ کی کوئی مدد نہ کرسکے جب کہ بوڑھے باپ اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے سامنے باغ جل رہا تھا۔ بوڑھا اسے بچانے کی کوشش کے باوجود نہ بچا سکا۔ نمود و نمائش اور صدقہ کرنے کے بعد احسان جتلانے اور تکلیف دینے والے کو قیامت کے دن ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے کمینے پن کی وجہ سے آج اس کے سامنے اس کی امیدیں ختم ہورہی ہیں۔ جب اسے جہنم کی طرف دھکیلا جارہا ہوگا تو اولاد سمیت کوئی بھی اس کی مدد نہیں کرسکے گا۔ اس نازک ترین صورت حال کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا کوئی دنیا میں ایسا شخص ہوسکتا ہے جو اپنے اور اپنی اولاد کے لیے ایسا حادثہ پسند کرتا ہو؟ ظاہر ہے کوئی پسند نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنے احکامات اس لیے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے فکر و عمل پر غور کرو۔ مسائل : 1۔ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والا خسارہ نہیں اٹھاتا۔ 2۔ ریا کاری اور احسان جتلانے سے اعمال غارت ہوجاتے ہیں۔ تفسیربالقرآن : لوجہ اللہ خرچ کرنے کا ثواب : 1۔ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والے کو پورا پورا اجر ملے گا۔ (البقرۃ: 272) 2۔ اللہ کی رضا کے لیے کیے گئے کام کابڑا اجر ہے۔ (النساء :114) 3۔ اللہ کی رضا کے متلاشیوں کا انجام بہترین ہوگا۔ (الرعد :22) 4۔ مخلص، مخیرحضرات لوگوں کے شکریہ اور جزا سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ (الدھر :9) البقرة
266 البقرة
267 فہم القرآن : (آیت 267 سے 268) ربط کلام : سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے مومنوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ جو تم کمائی کرتے ہو یا جو کچھ ہم تمہارے لیے زمین سے نکالتے ہیں اس میں سے پاک اور طیّب مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں صدقہ کیا کرو۔ یہاں طیّب سے مراد حلال، پاک اور نفیس مال ہے کیونکہ ایسا مال خرچ کرنے سے منع کیا گیا ہے جو آدمی کسی سے خود لینے کے لیے تیار نہ ہو۔ اس حرکت سے نفرت دلانے کے لیے ایسے صدقے اور مال کو خبیث کہا گیا ہے جس میں وہ تمام نقائص شامل ہوجائیں جو ایک شریف آدمی کے لیے نہایت ہی ناگوار ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ تم ایسے مال کو کسی مجبوری یا چشم پوشی کے سوا قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کس طرح تصور کرتے ہو کہ وہ تمہارا مسترد اور ناپسندیدہ مال پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمائے گا؟ ایسے صدقے سے نہ تو دل بخل سے پاک ہوتا ہے اور نہ ہی لینے والے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا شخص اجرو ثواب سے بھی محروم رہے گا۔ لہٰذا بطور انتباہ فرمایا جارہا ہے کہ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ کو ایسے صدقہ کی ضرورت نہیں وہ ہر چیز سے بے نیاز اور ہر حال میں لائقِ تعریف ہے۔ صدقہ کرتے ہوئے ناقص مال دینا یاحرام مال اللہ کے راستے میں خرچ کرکے اجر کی توقع رکھنا یہ شیطان کی طرف سے جھوٹی امید کا نتیجہ ہے۔ شیطان تمہیں غریب ہوجانے کا خوف دلاتا ہے۔ ناقص اور حرام مال خرچ کرنے کی ترغیب دے کر حقیقتاً شیطان تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔ یہ عقل مند مسلمان کے سچے جذبات کے منافی ہے کہ صدقے کے نام پر حرام مال خرچ کرے جس کے لینے سے ہی اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ گویا کہ انتہاء درجے کی بے حیائی اور ڈھٹائی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حرام سے منع کرے اور تم اس کے نام حرامچیز دو اور پھر اس میں ثواب کی امید بھی رکھو۔ یہ سراسر شیطانی عمل ہے جب کہ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے کے بدلے تمہارے گناہ معاف کرنے اور مزید عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () أَیُّھَاالنَّاسُ إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَایَقْبَلُ إِلَّا طَیِّبًا وَإِنَّ اللّٰہَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا أَمَرَ بِہِ الْمُرْسَلِیْنَ فَقَالَ ﴿یَاأَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْامِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا إِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ﴾ وَقَالَ ﴿یَا أَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنٰکُمْ﴾) [ رواہ مسلم : کتاب الزکوٰۃ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : لوگو ! اللہ پاک ہے ا ورپاک چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ نے مومنوں کو وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے رسولو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو جو کچھ تم کرتے ہو میں اسے جانتا ہوں اور فرمایا : اے مومنو! ہم نے جو تمہیں دیا ہے اس میں سے حلال کھاؤ۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ () قَالَ مَانَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِّنْ مَّالٍ وَّمَازَاد اللّٰہُ عَبْدًابِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَّمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰہِ إِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ والآداب] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور کسی بھائی کو معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے کو مزید عزت بخشتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سر بلندفرماتا ہے۔“ مسائل : 1۔ اللہ کی راہ میں پاک مال دینا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور حمد و ستائش کے لائق ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے، شیطان غربت اور بے حیائی کا وعدہ کرتا ہے۔ تفسیربالقرآن : شیطان کے وعدے تباہی کا پیش خیمہ ہیں : 1۔ شیطان بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔ (البقرۃ:169) 2۔ شیطان مفلسی سے ڈراتا اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔ (البقرۃ:268) 3۔ شیطان کا وعدہ فریب ہے۔ (بنی اسرائیل :64) البقرة
268 البقرة
269 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سمجھنا اور اس کی راہ میں حلال و طیب مال خرچ کرنا عقل و دانش کا کام ہے۔ اہل علم نے حکمت کے بے شمار معانی بیان فرمائے ہیں لیکن حکمت کاسب سے جامع معنیٰ حدیث رسول ہے کیونکہ رسول محترم (ﷺ) نے قرآن کا وہی مفہوم بیان فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی منشا ہے۔ تفسیر بحر المحیط کے مصنف سورۃ البقرہ آیت 251کی تفسیر میں حضرت داوٗد (علیہ السلام) کے حوالے سے لکھتے ہیں : (اَلْحِکْمَۃُ وَضْعِ الْاُمُوْرِ فِیْ مَحَلِّہَا عَلَی الصَّوَابِ وَکَمَالِ ذٰلِکَ اَنَّمَا یَحْصِلُ بالنَّبُوَّۃِ) ” حکمت کا حقیقی معنی ہر چیز کو ٹھیک طور پر اس کے مقام پر رکھنا ہے۔ حکمت کی تکمیل نبوت کے ذریعے ہوا کرتی ہے لہذا حکمت وہ ہے جو اللہ کے رسول کا ارشاد ہے۔“ [ بحوالہ معارف القرآن مفتی محمد شفیع ] امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں فرمایا کہ حکمت کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اس کا معنٰی تمام چیزوں کی مکمل معرفت اور ان کی ٹھیک ٹھیک ایجاد ہے۔ اور جب اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف نسبت ہو تو اس سے مراد معرفت اور اس کے مطابق عمل کرنا ہے۔ حدیث کی مقدس دستاویزات میں لفظ حکمت کو کئی معنوں میں استعمال کیا گیا ہے صدقات کے مسائل اور احکامات کے بیان کے بعد حکمت کو بہت بڑی خیر قرار دینے میں جو حکمت سجھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک دانا اور سمجھ دار آدمی یہ حرکت کبھی نہیں کرسکتا کہ وہ ایسا مال اللہ کے راستے میں خرچ کرے جسے وہ خود لینے کے لیے تیار نہ ہو اور نہ ہی کسی دانشور سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ آخرت کے بدلے دنیا کے مال کو ترجیح دے کر بخل کا مظاہرہ کرے یا نمود و نمائش کے لیے خرچ کرے۔ نصیحت تو اہل دانش ہی قبول کیا کرتے ہیں۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ حکمت و دانش بہت بڑا خزانہ ہے۔ 2۔ عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ تفسیربالقرآن : انبیاء علم وحکمت کے داعی تھے : 1۔ خاتم الانبیاء (ﷺ) کی تعلیمات حکمت پر مبنی ہیں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا۔ (البقرۃ:129) 2۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو حکمت سے نوازا۔ (البقرۃ:251) 3۔ نبی کریم (ﷺ) کو کتاب وحکمت سکھانے کے لیے بھیجا گیا۔ (آل عمران :164) البقرة
270 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ مضمون سے پیوستہ۔ ایسا کام جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کسی آدمی نے خود اپنے آپ پرلازم قرار دے لیا ہو اسے منّت یا نذر سے تعبیر کیا گیا ہے اس کا کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ غیر اللہ کے نام کی نذر ماننا شرک ہے جس کی ہرگز اجازت نہیں۔ نذر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہونی چاہیے یہ جسمانی عبادت بھی ہوسکتی ہے اور صدقہ بھی۔ اگر کسی نے غلطی یا بے علمی سے کوئی غیر شرعی کام کرنے کی نذر مانی ہو تو اسے پورا نہیں کرنا چاہیے۔ اگر نذر مانتے وقت قسم اٹھائی ہو تو غلط کام پر اٹھائی ہوئی قسم کا کفارہ دینا چاہیے جس کی تفصیل دیکھنے کے لیے سورۃ المائدۃ آیت 89کی تلاوت کیجیے۔ نذر ماننے کا یہ طریقہ ناپسندیدہ ہے کہ کوئی شخص یہ ارادہ کرے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرا فلاں کام کردیا تو میں اتنا صدقہ، نفل یاحج کروں گا۔ اگر یہ کام نہ ہوا تو پھر میں نذر پوری نہیں کروں گا۔ ایسی نذر کے بارے میں آپ (ﷺ) کا فرمان : ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا کہ نذر کسی چیز کو ٹالتی نہیں۔ نذر کے ذریعے صرف بخیل کا مال نکالا جاتا ہے۔“ [ رواہ البخاری : کتاب القدر] رسول اللہ (ﷺ) کے فرمان کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو صدقہ کرتے ہی رہنا چاہیے۔ رب ذوالجلال کے ساتھ شرط لگاناآدمی کو زیب نہیں دیتا کیونکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے پھر اس کے ساتھ شرط لگانے کا کیا معنٰی؟ اگر کوئی شخص نذر مان کر اس پر عمل درآمد نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے کیونکہ وہ بیک وقت چار گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ اپنے خالق اور رازق سے شرط لگانا، اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے سے انکار کرنا، عہد شکنی اور نعمت کی ناقدری کرنا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کی مدد نہیں کرتا۔ ” حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا نافرمانی کے کام میں نذر کو پورا نہ کیا جائے اور جو چیز انسان کے قبضہ میں نہیں اس کی نذر نہ مانی جائے۔ ایک اور روایت میں ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں نذر نہیں ہے۔“ [ رواہ مسلم : باب لا وفاء لنذر فی معصیۃ] مسائل : 1۔ نیکی کے کام پر مانی ہوئی نذر کو پورا کرنا لازم ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کی حمایت نہیں کرتا۔ البقرة
271 فہم القرآن : ربط کلام : صدقہ کے متعلق وضاحت اور اخروی فائدہ۔ نیت خالص ہو تو دوسرے کی خود داری کو مدنظر رکھ کر حالات کے مطابق خفیہ کی بجائے علانیہ صدقہ دیا جاسکتا ہے۔ کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ زکوٰۃ اور فرضی صدقات علانیہ طور پر دینا چاہییں تاکہ لوگوں کو ترغیب دی جا سکے۔ عام صدقات خفیہ طور پر دینا زیادہ افضل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شریعت کا مزاج یہی ہے کیونکہ اکثر اوقات خفیہ طور پر صدقہ کرنے سے دینے اور لینے والوں پر نہایت ہی دور رس اور پاکیزہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جس سے مسکین کی خود داری اور صدقہ کرنے والے کی لِلّٰہیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم یہ بات انسان کی نیت اور مساکین کے حالات پر منحصر ہے کہ صدقہ کب اور کس انداز میں دینا چاہیے؟ یہاں اعلانیہ کو بہتر اور خفیہ کو خیر قرار دیا ہے اور یہ بھی ضمانت دی گئی ہے کہ اخلاص نیت کے ساتھ صدقہ کرنے والے کے گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔ آخری الفاظ اس بات کے ترجمان ہیں کہ صدقہ خفیہ ہو یا اعلانیہ تم جن جذبات کے ساتھ صدقہ کرو گے اللہ تعالیٰ اس جذبے اور صدقہ کے ایک ایک ذرّے سے باخبر ہے۔ ” رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : ایک آدمی نے کہا میں ضرور صدقہ کروں گا وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا تو اس نے صدقہ ایک چور کو دے دیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے باتیں کیں کہ رات کسی نے چور کو صدقہ دے دیا ہے۔ اس نے کہا اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں میں پھر صدقہ کروں گا۔ وہ پھر صدقہ لے کر نکلا اور اس نے ایک بدکار عورت کو صدقہ دے دیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگ باتیں کرنے لگے کہ رات زانیہ پر صدقہ کیا گیا ہے۔ اس نے کہا : میں پھر صدقہ کروں گا۔ تیسری مرتبہ پھر صدقہ لے کر نکلا اور اس نے صدقہ ایک مالدار کو دے دیا تو صبح کے وقت لوگ باتیں کرنے لگے کہ رات کسی شخص نے مالد ار کو صدقہ دیا ہے۔ تو اس نے کہا : اے اللہ! چور، بدکارہ اور مالدار کو صدقہ دینے پر تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں۔ پھر اس کو خواب میں کہا گیا کہ شاید تیرے صدقہ دینے سے چور چوری اور بدکار بدکاری سے باز آجائے اور مالدار عبرت پکڑ کر اللہ کے دیئے ہوئے مال سے صدقہ کرنے لگے۔“ [ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب إذا تصدق علی غنی وہو یعلم] مسائل : 1۔ صدقہ علانیہ اور خفیہ دونوں طرح دیا جاسکتا ہے۔ 2۔ صدقہ کرنے والے کے گناہ معاف اور اسے برکت نصیب ہوتی ہے۔ البقرة
272 فہم القرآن : ربط کلام : جس طرح حکمت و دانائی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ اسی طرح ہدایت پانا اور صدقہ کی توفیق ملنا بھی اسی کا کرم ہے۔ اے رسول کریم (ﷺ) ! تمہاری ذمہ داری لوگوں کو سمجھانا ہے۔ ہدایت سے ہمکنار کرنا آپکا اختیار نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیّت اور حکمت ہے جسے چاہے ہدایت سے سرفراز فرمائے۔ صدقات کے بیان میں یہ جملہ اس لیے لایا گیا ہے کہ ابتدائی دور میں بے شمار ایسے صحابہ کرام (رض) تھے جن کی کافروں اور مشرکوں کے ساتھ قریبی رشتہ داریاں تھیں۔ مال دار صحابہ ایمان لانے کے بعد بھی کفارکے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ لیکن اب انہوں نے ایمان کی بنیاد پر ایسے لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ جس پر یہ فرمان نازل ہوا جس میں وضاحت فرمائی کہ جو کچھ بھی تم اللہ کی رضا کے لیے غریبوں اور مسکینوں پر خرچ کرو گے اس کا پورا پورا اجر عنایت کیا جائے گا۔ ایسا ہی واقعہ حضرت عائشہ (رض) کی بہن حضرت اسماء (رض) کے ساتھ پیش آیا ان کی والدہ اپنی بیٹی اسماء (رض) سے تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ سے مدینہ آئی جس پر حضرت اسماء (رض) آپ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھتی ہیں کہ میری والدہ مجھ سے تعاون کی امید رکھتی ہے۔ کیا میں مشرکہ والدہ کے ساتھ تعاون کرسکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا : تمہیں اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الھبۃ وفضلھا، باب الھدیۃ للمشرکین] بعض اہل علم نے یہ تفسیر فرمائی ہے کہ عام صدقہ مستحق کافر اور مشرک کو دیا جاسکتا ہے لیکن زکوٰۃ کافر کو نہیں دینا چاہیے البتہ قربانی کا گوشت مشرک، کافر کو دینے میں کوئی حرج نہیں۔ صدقہ اور خیرات کی وسعتوں کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ (ﷺ) فرمایا کرتے تھے : (مَامِنْ مُّسْلِمٍ غَرَسَ غَرْسًا فَأَکَلَ مِنْہُ إِنْسَانٌ أَوْ دَآبَّۃٌ إِلَّا کَانَ لَہٗ بِہٖ صَدَقَۃٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب] ” جس مسلمان کے کھیت سے کسی انسان یا جانورنے دانہ کھایا اسے بھی صدقہ کا ثواب ملے گا۔“ (کُلُّ سُلَامٰی عَلَیْہِ صَدَقَۃٌ کُلَّ یَوْمٍ یُعِیْنُ الرَّجُلَ فِیْ دَابَّتِہٖ یُحَامِلُہٗ عَلَیْھَا أَوْ یَرْفَعُ عَلَیْھَا مَتَاعَہٗ صَدَقَۃٌ وَالْکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ وَکُلُّ خُطْوَۃٍ یَمْشِیْھَا إِلَی الصَّلٰوۃِ صَدَقَۃٌ وَدَلُّ الطَّرِیْقِ صَدَقَۃٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر] ” روزانہ ہر جوڑ پر صدقہ ہے کسی آدمی کو سواری کے لیے سواری دے دینا یا کسی کے سامان کو سواری پر رکھ لینا صدقہ ہے اور اچھی بات کہناصدقہ ہے۔ نماز کے لیے جاتے ہوئے ہرقدم کا بدلہ صدقہ ہے۔ کسی کو راستہ بتلانا صدقہ ہے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () بَیْنَمَا کَلْبٌ یُطِیْفُ بِرَکِیَّۃٍ کَادَ یَقْتُلُہُ الْعَطْشُ إِذْ رَأَتْہُ بَغِیَّۃٌ مِّنْ بَغَایَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ فَنَزَعَتْ مُوْقَھَا فَسَقَتْہُ فَغُفِرَلَھَا بِہٖ) [رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (ﷺ) کا ارشاد ہے کہ ایک کتا کنوئیں کے کنارے چکر لگارہا تھا قریب تھا وہ پیاس سے مر جائے۔ اچانک بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے دیکھ کر اپنے موزے کے ذریعے اسے پانی پلایا۔ اس وجہ سے اس عورت کو بخش دیا گیا۔“ مسائل : 1۔ اللہ کے نبی کا کام رہنمائی کرنا ہے کسی کو ہدایت پر گامزن کرنا نہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے ہدایت سے نوازتا ہے۔ 3۔ صدقہ کرنے میں بہتری ہے۔ 4۔ صدقہ کرنے والے کو پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ 5۔ قیامت کے دن کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ تفسیربالقرآن : اللہ کی توفیق سے ہی ہدایت ملتی ہے : 1۔ ہدایت پر چلانا انبیاء کی ذمہ داری نہیں۔ (البقرۃ:272) 2۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر کوئی شخص ہدایت یافتہ نہیں ہو سکتا۔ (الاعراف :43) 3۔ اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔ (القصص :56) 4۔ جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے۔ (الکہف :17) 5۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ:142) البقرة
273 فہم القرآن : ربط کلام : پہلے صدقہ کرنے کا حکم تھا اب مستحق حضرات کو پہچاننے کا حکم ہے۔ اس مقام پر خود دار اور پاک باز لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے جو نہ کسی سے سوال کرتے ہیں اور نہ ہی مزدوری کے پیچھے بھاگتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو تعلیم وتعلّم، ترویج اسلام، جہاد فی سبیل اللہ بالفاظ دیگر اپنے آپ کو خدمت اسلام کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ وہ مزدوری کرسکتے ہیں لیکن اس لیے نہیں کرتے کہ کہیں فریضۂ تبلیغ میں کوتاہی واقع نہ ہوجائے۔ پہلے انفاق کے احکامات میں فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا حکم تھا اور اب خود دار مستحق لوگوں کو فی سبیل اللہ کے مقام پر فائز کرتے ہوئے اغنیاء کو خرچ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے انہیں سرزنش کی گئی ہے کہ ایسے مال دار‘ لوگ جاہلوں کا ساکردار رکھتے ہیں۔ جو حاجت مند خود دار لوگوں کو ضرورت مند نہیں سمجھتے۔ اللہ کے راستے میں وقف لوگ اس قدر غیّور، خود دار، شرم وحیا کے پیکر اور بے نیاز ہیں کہ کسی سے سوال کرنا ان کے ضمیر کے خلاف ہے۔ یہاں چمٹ کر سوال کرنے کا یہ معنٰی نہیں کہ اس کے سوا کسی اور انداز میں سوال کرنا اپنے لیے روا رکھتے ہیں بلکہ اس انداز کلام سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ وہ کسی حال میں بھی دوسرے کے سامنے دست سوال دراز کرنے کے قائل نہیں۔ لہٰذا مخیر حضرات کا فرض ہے کہ وہ خود آگے بڑھ کر ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ ان کی ضرورتوں کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں گو ان کے ہاتھ اور زبانیں بند ہیں لیکن ان کے چہرے‘ لباس اور بودو باش عسرت کے ترجمان ہیں کیونکہ اگر یہ لوگ اپنے آپ کو تبلیغ دین کے لیے وقف نہ کریں تو دینی درسگاہیں بانجھ، مساجد ائمہ کرام سے خالی اور دین کا نسل درنسل چلنے کا سلسلہ بند ہوجائے گا۔ یہاں یہ بات بھی نمایاں ہوتی ہے کہ دین کے نام پر جائیدادیں بنانا اور تبلیغ کو پیشہ کے طور پر اختیار کرنا کسی لحاظ سے بھی مناسب نہیں۔ قرآن کا منشاء یہ ہے کہ دین کا کام کرنے والے لوگ پوری بے نیازی کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھیں۔ مخیر حضرات کا فرض ہے کہ وہ از خود ان کی ضروریات کا خیال رکھیں ان کے مقام ومرتبہ کو پیش نظر رکھ کر ان کے ساتھ فی سبیل اللہ تعاون کرتے رہیں۔ جن پاک باز لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی وہ اصحاب صفّہ (رض) کا مقدس گروہ تھا جن کو رسول کریم (ﷺ) حسب ضرورت تبلیغ اور دوسرے دینی کاموں کے لیے بھیجا کرتے تھے۔ جونہی یہ لوگ اس فرض سے فارغ ہوتے تو مسجد نبوی کے متصل ایک چبوترے پر اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے۔ اصحابِ صُفَّہ (رض) کی خود داری : ان میں سے ایک عظیم ہستی جن کا اسم گرامی حدیث کی مقدس دستاویزات میں بڑی کثرت کے ساتھ آیا ہے وہ جناب ابوہریرہ (رض) ہیں جو اپنے بارے میں بیان کرتے ہیں : (إِنَّکُمْ تَزْعُمُوْنَ أَنَّ أَبَاھُرَیْرَۃَ یُکْثِرُ الْحَدِیْثَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ () وَاللّٰہُ الْمَوْعِدُ إِنِّیْ کُنْتُ امْرَأً مِسْکِیْنًا أَلْزَمُ رَسُوْلَ اللّٰہِ () عَلٰی مِلْءِ بَطْنِیْ وَکَانَ الْمُھَاجِرُوْنَ یَشْغَلُھُمُ الصَّفْقُ بالْأَسْوَاقِ وَکَانَتِ الْأَنْصَارُ یَشْغَلُھُمُ الْقِیَامُ عَلٰی أَمْوَالِھِمْ فَشَھِدْتُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ () ذَاتَ یَوْمٍ وَقَالَ مَنْ یَّبْسُطُ رِدَاءَ ہٗ حَتّٰی أَقْضِیَ مَقَالَتِیْ ثُمَّ یَقْبِضُہٗ فَلَنْ یَّنْسٰی شَیْئًا سَمِعَہٗ مِنِّیْ فَبَسَطْتُّ بُرْدَۃًکَانَتْ عَلَیَّ فَوَ الَّذِیْ بَعَثَہٗ بالْحَقِّ مَا نَسِیْتُ شَیئا سَمِعْتُہٗ مِنْہُ) [ رواہ البخاری : کتاب الإعتصام، باب الحجۃ علی من قال إن أحکام النبی] ” اے لوگو! تم کہتے ہو کہ ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (ﷺ) کی حدیثیں بہت بیان کرتا ہے۔ اللہ کی قسم ! میں مسکین آدمی تھا پیٹ بھرنے کی خاطر رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ چمٹا رہتا تھا۔ مہاجرین منڈی میں کاروبار کرنے میں مصروف رہتے اور انصار اپنے مال کو سنبھالنے میں مشغول ہوتے۔ ایک دن میں رسول اللہ (ﷺ ) کے پاس حاضرہوا تو آپ نے فرمایا : کون اپنی چادر پھیلاتا ہے یہاں تک کہ میں اپنی بات پوری کرلوں؟ پھر وہ اپنی چادر کو لپیٹ لے۔ وہ جو کچھ بھی مجھ سے سنے گا کبھی نہیں بھولے گا۔ میں نے اپنی چادر بچھائی جو میں نے اپنے اوپر لے رکھی تھی۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں نے جو کچھ بھی آپ سے سنا کبھی نہیں بھولا۔“ مسائل : 1۔ صدقات فقراء وغرباء میں تقسیم کرنے چاہییں۔ 2۔ اللہ کے راستے میں وقف لوگوں کی از خود خدمت کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ کے کام میں گھرے ہوئے خود دار مسکین لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے۔ 4۔ انسان جو کچھ بھی خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ البقرة
274 فہم القرآن : ربط کلام : پہلے ریاکاری کی مذمت کی گئی ہے اب وضاحت فرمائی ہے کہ نیت میں اخلاص ہو تو اعلانیہ صدقہ کرنا ریاکاری میں شامل نہیں۔ صدقہ کرنے کے انداز اور طریقہ کے بارے میں پہلے ارشاد یہ تھا کہ چھپا کر صدقہ کرو یا اعلانیہ دونوں صورتیں تمہارے لیے بہتر ہیں۔ اس کے بدلے تمہارے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا۔ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ رات کی تاریکی میں صدقہ کریں یا دن کی روشنی میں سب کے سامنے کریں یا چھپ کر ایسے لوگوں کے اخلاص‘ جذبات اور صدقات کے مطابق ان کے رب کے ہاں نہایت ہی عمدہ اجر ہے۔ جس میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی کمی نہیں کی جائے گی۔ اس اجر کے ساتھ انہیں یہ بھی انعام سنایا جاتا ہے کہ انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ اور فکر مند ہونے کا اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ غربت کے خوف اور دولت کے لالچ سے بے نیاز ہو کر مستحق غریب کو معاشی غم سے نجات دلایا کرتے ہیں اس کے بدلے ان پر نہ خوف طاری ہوگا اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی پریشانی اور پشیمانی ہوگی۔ دنیا میں بھی ان کا مال کم نہیں ہوگا۔ مسائل : 1۔ صدقہ دن رات، چھپ کر یا اعلانیہ کیا جائے اس کا اجر اللہ کے ہاں محفوظ ہے۔ 2۔ صدقہ کرنے والے کو کوئی خوف و خطر نہیں ہوگا۔ تفسیربالقرآن : خوف وغم سے مبرّا حضرات : 1۔ ہدایت پر عمل پیرا ہونے والا خوف زدہ اور غمگین نہیں ہوگا۔ (البقرۃ:38) 2۔ ایمان اور عمل صالح کرنے والے خوف زدہ نہ ہوں گے۔ (البقرۃ:62) 3۔ رضائے الٰہی کے لیے خرچ کرنے والے بے خوف وبے غم ہوں گے۔ (البقرۃ:262) 4۔ ایمان، نماز اور زکوٰۃ مومن کو بے خوف وبے غم کرتی ہے۔ (البقرۃ:277) 5۔ ایمان پر قائم رہنے والوں اور اصلاح کرنے والوں پر خوف وغم نہ ہوگا۔ (الانعام :48) البقرة
275 فہم القرآن : ربط کلام : سودی نظام صدقہ کی تحریک میں سب سے زیادہ رکاوٹ ہے لہٰذا سود خور کا انجام بیان کرنے کے بعد سود اور تجارت کا فرق بتلایا گیا ہے۔ سود کو قدیم زمانے سے ربا کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے بھی اس کے لیے یہی لفظ استعمال کیا ہے۔ ربا کا معنٰی ہے اضافہ یا زیادتی۔ فارسی میں اس کو سود کہتے ہیں جس کا مطلب ہے فائدہ یا اضافہ۔ انگلش میں اس کا نام (USURY) ہے۔ ایسا معاملہ جس میں سرمایہ کار کو مہلت کی بنا پر اپنی رقم پر منافع ملے۔ یہ کاروبار انفرادی طور پر ہو یا اجتماعی سطح پر ہو، رباتصور ہوگا۔ سود کا دھندا پہلی اقوام میں بھی پایا جاتا تھا جیسا کہ یہود کے بارے میں قرآن مجید نے بڑی وضاحت کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ وہ سود کھانے اور کھلانے والی قوم تھی حالانکہ تورات میں انہیں سختی کے ساتھ اس دینی اور معاشی جرم سے منع کیا گیا تھا۔ (النساء :161) عیسائیوں کے متعلق انجیل میں موجود ہے کہ ان کا ایک گروہ ہیکل سلیمانی میں بیٹھ کر سود کا دھندا کیا کرتا تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ایک دفعہ ان کے کاروبار کو یہ کہہ کر الٹ ڈالا تھا کہ تم کیسے ناہنجار لوگ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اور مقدس گھر میں بھی اس جرم سے باز نہیں آتے۔ ہندؤوں کی پرانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو سودی کاروبار کے واضح ثبوت ملتے ہیں۔ یہاں تک کہ دارا شکوہ نے ایک پنڈت سے گفتگو کرتے ہوئے اس سے سود کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا کہ ہمارے مذہب میں بھی اسی طرح سود حرام ہے جس طرح دوسرے مذاہب میں اس کی حرمت کا ذکر ہوا ہے۔ افلاطون نے اپنی کتاب ” جمہوریہ“ میں سودی کاروبار کو مکھیوں کے چھتے کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ جس طرح شہد کی مکھیوں میں کچھ ایسی مکھیاں ہوتی ہیں جو شہد بنانے کے بجائے دوسری مکھیوں کے بنائے ہوئے شہد کو کھاجاتی ہیں۔ جب یہ چوری مکھیوں کی ملکہ کے نوٹس میں آتی ہے تو وہ اس مکھی کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے یہی صورت حال معاشرے کے ساتھ سود خور کی ہے لہٰذا افلاطون کہتا ہے کہ سود خور کو فوری طور پر قتل کردینا چاہیے۔[ معارف القرآن] عربوں کے ہاں دونوں طرح کا سود رواج پاچکا تھا ذاتی غرض اور مجبوری کے وقت یا کاروبار کو ترقی دینے کے لیے سود پر رقم حاصل کرنا۔ حضرت عباس (رض) (رض) حرمت سود نازل ہونے سے پہلے اس کام میں پیش پیش تھے۔ [ رواہ مسلم : کتاب الحج، باب حجۃ النبی () ] سود کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ جسے اپنے رب کی نصیحت پہنچے اور سود خوری سے باز آجائے تو جو کچھ وہ پہلے کھاچکا سو کھاچکا اور اس کا سابقہ معاملہ اللہ کے حوالے ہوگا۔ یہاں واضح طور پر معافی کا اعلان نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا کہ جو گزر گیا سو گزر گیا اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ یہ معاف کردینے ہی کا ایک انداز ہے لیکن سود کے جرم کے پیش نظر واضح طور پر معافی کا اعلان نہیں کیا تاکہ سود خوروں کو اس جرم کی سنگینی کا احساس ہو اور وہ آئندہ اس جرم سے بچتے رہیں۔ جو اس کے باوجود سودی دھندہ کریں گے۔ وہ یقینا جہنم میں پھینکے جائیں گے اور انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ (عَنْ جَابِرٍ (رض) قَالَ لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () اٰکِلَ الرِّبَا وَمُوْکِلَہٗ وَشَاھِدَیْہِ وَقَالَ ھُمْ سَوَاءٌ) [ رواہ مسلم : کتاب المساقاۃ، باب لعن آکل الربوا وموکلہ] ” حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول (ﷺ) نے سود کھانے، کھلانے اور گواہی دینے والوں پرلعنت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب برابرہیں۔“ (عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () رَأَیْتُ اللَّیْلَۃَ رَجُلَیْنِ أَتَیَانِیْ فَأَخْرَجَانِیْ إِلٰی أَرْضٍ مُّقَدَّسَۃٍ فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا عَلٰی نَھْرٍ مِّنْ دَمٍ فِیْہِ رَجُلٌ قَائِمٌ وَعَلٰی وَسْطِ النَّھْرِ رَجُلٌ بَیْنَ یَدَیْہِ حِجَارَۃٌ فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِیْ فِی النَّھْرِ فَإِذَا أَرَاد الرَّجُلُ أَنْ یَّخْرُجَ رَمَی الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِیْ فِیْہِ فَرَدَّہٗ حَیْثُ کَانَ فَجَعَلَ کُلَّمَا جَآءَ لِیَخْرُجَ رَمٰی فِیْ فِیْہِ بِحَجَرٍ فَیَرْجِعُ کَمَا کَانَ فَقُلْتُ مَاہٰذَا فَقَالَ الَّذِیْ رَأَیْتَہٗ فِی النَّھْرِ آکِلَ الرِّبَا) [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب آکل الربا وشاھدہ وکاتبہ] ” حضرت سمرۃ بن جندب (رض) کہتے ہیں اللہ کے نبی (ﷺ) نے فرمایا رات میں نے دیکھا میرے پاس دو آدمی آئے اور وہ مجھے ایک مقدس زمین کی طرف لے گئے ہم چلتے رہے حتیٰ کہ ہم ایک خونی نہر پر پہنچ گئے۔ ایک آدمی اس کے اندر تھا اور دوسرا آدمی باہر کھڑا تھا جس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ نہر میں کھڑا شخص جب باہر نکلنے کا ارادہ کرتا تو دوسرا آدمی اس کے منہ پر پتھر مار کر واپس کردیتا۔ جب بھی وہ نکلنا چاہتا اسے باہر والا آدمی پتھر مار کر واپس لوٹا دیتا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ فرشتے نے جواب دیا خون کی نہر میں کھڑا شخص سود خور ہے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () اَلرِّبَا سَبْعُوْنَ حُوْبًا أَیْسَرُھَا أَنْ یَّنْکِحَ الرَّجُلُ أُمَّہٗ ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا] ” حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا سود کے گناہ کے ستر درجات ہیں۔ سب سے ہلکا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح جیسا عمل کرے۔“ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا شب معراج میں جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو میں نے کڑک سنی اور بجلی دیکھی اس کے بعد ہم ایسی قوم پر گزرے جن کے پیٹ بڑے بڑے مکانات کی طرح بڑھے ہوئے تھے اور ان میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو باہر سے بھی نظر آرہے تھے۔ میں نے جبریل امین (علیہ السلام) سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ سود خور ہیں۔“ [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین ] صدقات کی ترغیب، احکامات اور آداب بیان کرنے کے بعد سود کی حرمت ومذمت کے احکام جاری فرمائے گے کیونکہ سود انفرادی اور اجتماعی معیشت کی تباہی کا بڑا سبب اور جذبۂ ایثار وہمدردی اور باہمی تعاون کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ سودکی حرمت اس نظریۂ باطل کی مذمت سے شروع کی گئی جس کا سود خور صدیوں سے پروپیگنڈہ کرتے آرہے ہیں۔ سود خور حرص وہوس کی وجہ سے دماغی طور پر اس قدر غیر متوازن ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کا انکار ہی نہیں کرتا بلکہ اپنے خبث باطن کی وجہ سے اس حکم کی ایسی تاویل کرتا ہے جو کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کے حکم کے برخلاف اور اس کا استہزاء کرنے کے مترادف ہے۔ سود خور کی پہلی سزا یہ ہوگی کہ قبر سے اٹھتے ہی یہ ایسی حرکات کرے گا کہ لوگ دیکھتے ہی پہچان جائیں گے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ باغی اور قومی مجرم ہے جو دنیا میں سود کھایا کرتا تھا۔ اس کی حواس باختگی کو شیطان کے خبط کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ اندازہ کیجیے جس شخص کے اوپر شیطان مسلط ہوجائے کیا اس سے کسی بھلے کام کی توقع کی جاسکتی ہے ؟ ہرگز نہیں۔ اس پر یہ سزا اس لیے مسلط ہوگی کہ یہ دنیا میں کہا کرتا تھا کہ تجارت اور سود میں کوئی فرق نہیں حالانکہ تجارت اور سود میں مماثلت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ تجارت اور سود میں فرق : 1تجارت میں نفع ونقصان دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔ سود میں بظاہر نقصان کا کوئی احتمال نہیں ہوتا۔ 2تجارت میں منافع کا تعین نہیں ہوتا۔ سود میں منافع کی حد مقرر ہوتی ہے۔ 3تجارت میں نفع ونقصان کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ سود میں پہلے دن ہی نفع کی وصولی کے لیے وقت مقرر کرلیا جاتا ہے۔ 4تجارت میں کسی سودے پر ایک ہی دفعہ منافع لیا جاتا ہے۔ سود میں بار بار منافع وصول کیا جاتا ہے۔ 5تجارت میں دونوں طرف سے کچھ نہ کچھ محنت ہوتی ہے۔ سود میں صرف سود ادا کرنے والا ہی محنت کرتا ہے۔ 6تجارت دونوں طرف سے لوگوں کے روز گار کا ذریعہ بنتی ہے۔ سود میں ایک طرف سے ہی آدمی شریک ہوتا ہے۔ 7تجارت کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے۔ سود اللہ اور رسول کے خلاف جنگ کرنے کے مترادف ہے۔ 8تجارت کرنے کا حکم اور اس میں برکت ہے۔ سود حرام اور اس میں برکت نہیں ہوتی۔ 9تاجر صدقہ کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ سود خور لوگوں کا خون نچوڑ نے سے خوش ہوتا ہے۔ 10تجارت ملک وقوم کی ترقی کا باعث بنتی ہے۔ سود تباہی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ 11صدقہ کرنے والے پر اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔ سود خورمجرم ہے اس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ 12نیک تاجر صدیقین اور شہداء کا ساتھی اور جنتی ہے۔ سود خور شیطان کا ساتھی اور جہنمی ہے۔ مسائل : 1۔ سود خور قیامت کے دن پاگلوں کی طرح کھڑے ہوں گے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے سود حرام اور تجارت جائز قرار دی ہے۔ 3۔ نصیحت قبول کرنے والے سے اللہ تعالیٰ در گزر فرماتا ہے۔ 4۔ نصیحت سننے کے باوجود گناہ کرنے والا دوزخ میں جائے گا۔ تفسیربالقرآن : سودکی تباہ کاریاں : 1۔ سود حرام ہے۔ (البقرۃ: 275، آل عمران :130) 2۔ اللہ سود کو مٹانا چاہتا ہے۔ (الروم :39) 3۔ سودخوروں کی اللہ و رسول سے جنگ ہے۔ (البقرۃ:279) 4۔ سود کی حرمت کے بعد سود کھانے کی سخت سزا ہے۔ (البقرۃ:275) البقرة
276 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ سود خور سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ سود کے بارے میں اسلام نے صرف انفرادی اور اخلاقی سطح پر مذّمت نہیں کی بلکہ اسے قانونی شکل دے کر انفرادی اور اجتماعی نظام میں سرکاری سطح پر حرام قرار دیا۔ اس فرمان میں پھر کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کو ہر صورت مٹانا اور صدقات کو بڑھانا چاہتا ہے۔ جو لوگ سود کے حق میں پروپیگنڈہ اور اقدام کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ فکری ونظری اور علمی و عملی طور پر نافرمان اور مجرم ٹھہریں گے۔ رسول معظم (ﷺ) نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر یہ اعلان فرمایا کہ آج کے بعد سود کے واجبات کا لین دین حرام قرار دیتا ہوں اور سب سے پہلے اپنے چچا عباس کے واجبات کو چھوڑتا ہوں۔ آپ کے اعلان کے بعد مسلمانوں نے جو غیر مسلموں اور ایک دوسرے سے سودی واجبات لینے تھے انہیں یکسر چھوڑ دیا۔ اسی بنیاد پر آئمہ کرام اور فقہاء نے اسلامی حکومت میں کسی غیر مسلم کو بھی سودی کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی۔ نبی کریم (ﷺ لم) نے جب نجران کے عیسائیوں سے معاہدات کیے تو ان میں ایک شق یہ بھی تھی کہ اگر تم نے اسلامی مملکت میں سودی کاروبار کا دھندا کیا تو ہماری طرف سے یہ معاہدہ فی الفور ختم ہوجائے گا۔ [ فتوح البلدان‘ کتاب الخراج امام ابو یوسف] سود کا متبادل : عالم اسلام بالخصوص پاکستان میں جب کبھی سود کے خلاف آواز اٹھتی ہے تو سود خور اور اس نظام سے منسلک افراد یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ علماء کرام کو چاہیے کہ وہ سودی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کرنے سے پہلے اس کا متبادل نظام پیش کریں۔ حالانکہ متبادل نظام پیش کرنا معاشیات کے ماہر سرکاری کارندوں کی ذمّہ داری ہے جن میں اکثریت کو بھاری تنخواہوں پر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے درآمد کیا جاتا ہے۔ علماء کا کام تو دینی رہنمائی کرنا ہے اگر حکومت اس استحاصلی نظام سے مخلصانہ طور پر نجات حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے اسلام نے دو واضح صورتیں پیش کی ہیں جنہیں صدیوں مسلمانوں نے انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنایا اور اس کے نتیجے میں مسلمان بین الاقوامی منڈیوں پر غالب آئے اور معاشیات میں قوموں کے رہبر و رہنما بنے۔ مسلمان تاجروں نے تجارت میں اپنی دیانت اور امانت کے ذریعے عام لوگوں پر وہ اثرات مرتب کیے۔ جن کی وجہ سے بڑی بڑی قومیں حلقۂ اسلام میں داخل ہوئیں۔ قدیم تاریخ کے مطابق شام اور جدید دنیا میں انڈونیشیا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یاد رہے کہ انڈو نیشیا کو مسلمانوں نے تلوار کی بجائے کاروباری اخلاق اور دینی اطوار کے ذریعے فتح کیا تھا۔ اسلام میں تجارت کی دو بڑی قسمیں مضاربت اور مشارکت ہیں۔ مضاربت کا معنیٰ یہ ہے کہ مال ایک کا ہو اور محنت دوسرے کی اور دونوں نفع ونقصان میں شامل ہوں۔ نقصان ہونے کی صورت میں صاحب ثروت کا مال ضائع ہوگا اور محنت کرنے والے کی محنت رائیگاں جائے گی۔ مشارکت آج کے مالی ادارے اور کمپنیوں کے مترادف ہے۔ ماضی کی طرح یہ نظام آج بھی بابرکت اور ترقی کا ضامن بن سکتا ہے بشرطیکہ درج ذیل اصولوں کی پاسداری کی جائے اور یہی سودی نظام کا متبادل ہے۔ حکومت کی طرف سے مشارکہ کمپنیوں اور کاروباری افراد کو اندرون اور بیرون ملک نفع بخش پراجیکٹ فراہم کیے جائیں جس طرح ترقی یافتہ ملک کرتے ہیں۔ شراکت داروں کے نمائندوں کا خفیہ انتخاب کے ذریعے بورڈ بنایا جائے جو شراکت داروں کو نفع ونقصان سے آگاہ رکھیں۔ بد دیانت افراد کو سخت ترین سزائیں دینے کے ساتھ ان سے پائی پائی وصول کی جائے۔ کھاتہ داروں کو قانونی تحفظ اور بھرپور اعتماد فراہم کیا جائے۔ صدقہ : اللہ تعالیٰ سود کے خاتمہ کے ساتھ ارشاد فرماتے ہیں کہ تمہارے رب کا فرمان اور منشا یہ ہے کہ سود لینے دینے کی بجائے صدقہ و خیرات عام کیا جائے اس کی روشنی میں نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : (عَنْ زَیْنَبَ امْرأَۃِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَتْ کُنْتُ فِی الْمَسْجِدِ فَرَأَیْتُ النَّبِیَّ () فَقَالَ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِیِّکُنَّ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب الزکاۃ علی الزوج ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی بیوی زینب (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم (ﷺ) کو مسجد میں دیکھا آپ (ﷺ) نے فرمایا : راہ خدا میں صدقہ کیا کرو اگرچہ تمہیں اپنے زیورات میں سے دینا پڑے۔“ (عَنْ اَسْمَاءَ (رض) قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () أَنْفِقِیْ وَلَا تُحْصِیْ فَیُحْصِی اللّٰہُ عَلَیْکِ وَلَا تُوْعِیْ فَیُوْعِی اللّٰہُ عَلَیْکِ) [ رواہ مسلم : کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الإنفاق وکراھیۃ الإحصاء] ” حضرت اسماء (رض) بیان کرتی ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا خرچ کر اور اسے شمار نہ کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھے گن کر دے گا اور نہ ہی حساب کرو، ورنہ وہ بھی تجھ سے حساب کرے گا۔“ یعنی فراخ دلی اور کشادہ دستی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہنا چاہیے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ سود کو مٹانا اور صدقات کو بڑھانا چاہتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ناشکرے اور گناہگار کو پسند نہیں کرتا۔ تفسیر بالقرآن: سود کی حرمت: 1۔ سود حرام ہے۔ (البقرۃ: 275، آل عمران: 130) 2۔ سود خوروں کی اللہ اور رسول سے جنگ ہے۔ (البقرۃ: 279) 3۔ اللہ سود کو مٹانا چاہتا ہے۔ (الروم: 39) 4۔ سود کی حرمت کے بعد سود کھانے کی سخت سزا ہے۔ (البقرۃ: 275) البقرة
277 فہم القرآن : ربط کلام : قرآن مجید اپنے اسلوب کے مطابق احکامات جاری کرتے ہوئے نصیحت بھی کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہونے کے لیے ذہن ازخود آمادہ ہوجائے۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب ہے کہ جب قانون اور ضابطے بیان کرتا ہے تو اس دوران لوگوں کے اخلاق میں نکھار پیدا کرنے اور ایمان کو جلا بخشنے کے لیے نماز، آخرت، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور جزا‘ سزا میں سے کسی ایک کی طرف توجہ دلاتا ہے تاکہ دین کے احکام لوگوں کے ذہن میں محض ضابطے اور قانون کے طور پر نہیں بلکہ عبادت، قیامت میں پیشی کا تصور، خوف خدا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے طور پر سامنے رہیں۔ سماجی تعلقات ہوں یا کاروباری معاملات، امتناعی احکامات ہوں یا ترغیبی ارشادات ان کے دوران اسی فلسفہ کے تحت یہ اسلوب اختیار کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی سود کی حرمت اور قباحت واضح کرنے کے دوران فکر آخرت، نماز اور زکوٰۃ کا حکم دے کریہ تصور دیا گیا ہے کہ جس طرح تم خدا کا حکم سمجھ کر نماز میں اس کے سامنے سرفگندہ ہوتے ہو اور نماز کا صلہ اللہ کے پاس تمہارے لیے موجود ہے اور تمہیں مستقبل میں کوئی خوف وخطر نہیں ہوگا۔ اسی طرح ہی سود اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر چھوڑدو اور اس اللہ کے سامنے جھک جاؤ اس کا تمہیں اجر ملے گا۔ لہٰذا سود لینے اور لوگوں کا مال کھانے کی بجائے صدقہ اور زکوٰۃ دینے والے بن جاؤ۔ مسائل : 1۔ ایماندار، نیکو کار، نمازی، اور زکوٰۃ دینے والے کو نہ خوف ہوگا نہ غم۔ تفسیر بالقرآن : خوف سے بے نیاز حضرات : 1۔ اولیاء اللہ خوف اور غم سے پاک ہوں گے۔ (یونس :62) 2۔ استقامت دکھلانے والے خوفزدہ وغمگین نہ ہوں گے۔ (الاحقاف :13) 3۔ جنتی لوگوں کو خوف وغم نہ ہوگا۔ (الاعراف :49) البقرة
278 فہم القرآن : (آیت 278 سے 279) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ سود خوروں کو آخری انتباہ۔ نماز اور زکوٰۃ کا حکم دینے کے بعد ایک دفعہ پھر دلرُبا اور عزت افزا لقب کے ساتھ مخاطب کیا جارہا ہے۔ اے میرے مومن بندو! سو دکامعمولی اور عارضی فائدہ حاصل کرنے کی بجائے دائمی سکون، اطمینان اور میرے ہاں اجر پانے کے لیے مجھ سے ڈرو اور جو کچھ سود کے بقایا جات ہیں انہیں ترک کردواگر تم حقیقتاً میرا حکم ماننے اور مجھ پر ایمان لانے والے ہو۔ حقیقی ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ تم سود سے کنارہ کش ہوجاؤاگر تم نے اس نعمت کے باوجود سود نہ چھوڑا تو یاد رکھو یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کھلی جنگ ہوگی۔ ہاں اگر تم تائب ہوجاؤ تو پھر اصل مال لینے کا تمہیں پورا پورا حق ہے۔ نہ ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ سود خور پر ظلم کرے گا۔ بلکہ اس کا معنٰی ہے کہ سود معاشی ظلم ہے جس کا رد عمل ظلم ہوا کرتا ہے۔ سود قانونی اور معاشی جرم ہی نہیں بلکہ اس سے انسان اخلاق باختہ ہوجاتا ہے۔ سود خور فقط منافع کی نظر سے دیکھتا، بولتا اور معاملات کرتا ہے۔ اس میں دن بدن انسانی ہمدردی ختم ہوجاتی ہے۔ ہر دور اور معاشرے میں سینکڑوں واقعات ایسے ملتے ہیں کہ سود خور نے مصیبت زدہ حقیقی بھائی کو قرض حسنہ دینے کے بجائے سود پر رقم دی اور وہ بیچارہ کنگال سے کنگال ہوتاچلا گیا۔ حکومت کے نظام میں تو ہزاروں واقعات تاریخ کا حصہ ہیں کہ سودی قرضہ کی وجہ سے غریبوں کی جائیدادیں ضبط ہوئیں، مکانات گروی ہوئے یہاں تک کہ انہیں کئی کئی سال جیل میں رہنا پڑا حالانکہ انہوں نے ذاتی مجبوری اور حقیقی ضرورت کے لیے بینک یا حکومت کے کسی مالیاتی ادارے سے قرض لیا تھا۔ کیا پسماندہ لوگوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا، انہیں مالی سہارا دینا، ان کو وسائل فراہم کرنا، بیماروں کا علاج کروانا اور تعلیم کا انتظام کرنا حکومت کے فرائض میں شامل نہیں ؟ لیکن غریبوں، معذوروں، مجبوروں اور بیماروں کے ساتھ عملی ہمدردی کی بجائے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑدیے جاتے ہیں۔ اس عمل کو اللہ تعالیٰ اپنے اور اپنے رسول کے خلاف جنگ قرار دے رہے ہیں۔ کیا دنیا میں کوئی ایسا مذہب اور حکومت ہے جو غریبوں اور مجبوروں کی اس قدر خیر خواہ ہو کہ ان پر ہونے والی زیادتی کو براہ راست اپنے آپ پر ظلم تصور کرے؟ یہ خیر خواہی تو صرف دین اسلام میں ہی پائی جاتی ہے کاش غریب لوگ اسلام کے سایۂ عاطفت میں آکر اپنی دنیا اور آخرت سنوار لیں۔ اس فرمان کے آخر میں حکم دیا ہے کہ اے صاحب ثروت حضرات! کسی پر ظلم نہ کرو تاکہ تم پر بھی ظلم نہ کیا جائے۔ کسی معاشرے اور قوم میں جب سود خوروں کی بہتات ہوجائے تو پھر غریب عوام کے لیے اس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں رہتا کہ مظلوم کے ہاتھ ظالم کے گریبان تک پہنچیں، پھر یہ لوگ استحاصلی طبقہ کے محلات اور فیکٹریوں پر حملہ آور اور ہڑتالیں کرتے ہیں۔ ماضی قریب میں روس، یوگو سلاویہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ جب غریب لوگ سرمایہ داروں کے خلاف سینہ سپر اور منظم ہوئے تو پھر انہوں نے نہ صرف امیروں کی جائیدادوں پر قبضہ کیا بلکہ کیمو نزم کے نام پر ایک نیا نظام دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہ نظام غیر فطری اور پہلے نظام سے زیادہ ظالمانہ تھا۔ اس لیے نہ صرف یہ نظام ناکام ہوا بلکہ روس جیسی عظیم مملکت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔ اس طرح ان قوموں نے ایک دوسرے پر ظلم کیا۔ لہٰذا سودی نظام قوم اور معاشرے کے لیے مہلک ہے۔ انہی اخلاقی ومعاشی برائیوں کی وجہ سے سودی نظام کو اپنے آپ پر ظلم کرنے اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ قرار دیا گیا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمْوْبِقَاتِ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَاھُنَّ قَالَ اَلشِّرْکُ باللّٰہِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بالْحَقِّ وَأَکْلُ الرِّبَاوَأَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ وَالتَّوَلِّیْ یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ) [ رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب قول اللہ تعالیٰ إن الذین یأکلون أموال الیتامی ظلما] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچ جاؤ صحابہ کرام (رض) نے عرض کی اے اللہ کے رسول (ﷺ) ! وہ گناہ کون کون سے ہیں؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا‘ جادو کرنا‘ ناحق کسی جان کو قتل کرنا‘ سود کھانا‘ یتیم کا مال کھانا‘ میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور پاکدامن‘ مومن‘ بے خبر عورتوں پر تہمت لگانا۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر سود اور اس کی باقیات کو چھوڑ دیا جائے۔ 2۔ سود نہ چھوڑنے والے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرتے ہیں۔ 3۔ سود سے توبہ کے بعد اصل مال وصول کیا جاسکتا ہے۔ 4۔ سود خور نہ ظلم کریں اور نہ ان پر ظلم ہو۔ البقرة
279 البقرة
280 فہم القرآن : (آیت 280 سے 281) ربط کلام : اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ضرورت مند پر صدقہ کیا جائے یاقرض حسنہ کے ساتھ اس سے تعاون کیا جائے اس لیے سود کی حرمت ومذّمت کرنے کے بعد تجارت کے مسائل بیان ہورہے ہیں۔ قرض حسنہ کے بارے میں حکم ہے کہ اگر مقروض کوشش کے باوجود قرض کی ادائیگی کا اہتمام نہ کرسکے تو اسے مہلت دینا ہوگی۔ اگر قرض معاف ہی کردیا جائے تو یہ صاحب مال کے لیے بہت ہی بہتر ہوگا۔ یہاں فکر آخرت کے حوالے سے سمجھایا جارہا ہے کہ اے مالدارو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو یہ سب کچھ یہیں کا یہیں رہ جائے گا اور بالآخر تم نے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہونا ہے اگر تم قرض معاف کردو یا تنگ دست کو مہلت دو تو دونوں صورتوں میں تمہیں پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ یہاں کُلُّ نَفْسٍ کا لفظ استعمال فرما کر قرض دہندہ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اگر جان بوجھ کر قرض کی ادائیگی میں تاخیر کی تو یہ اللہ کے ہاں ظلم تصور ہوگا۔ ” حضرت ابو قتادہ (رض) کا کسی آدمی پر قرض تھا جب اس کے پاس قرض لینے جاتے تو وہ آگے پیچھے ہوجاتا۔ ایک دن وہ اس کے گھر گئے تو ایک بچہ نکلا حضرت ابو قتادہ (رض) نے بچے سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا۔ اس نے کہا وہ گھر میں کھاناکھا رہا ہے انہوں نے آواز دی کہ اے فلاں! باہر آؤ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم یہیں ہو۔ وہ آدمی آیا تو انہوں نے پوچھا کہ تو مجھ سے کیوں غائب ہوجاتا ہے؟ اس نے کہا میں تنگدست ہوں اور میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ ابو قتادہ (رض) نے پوچھا اللہ کی قسم! کیا تو واقعی تنگدست ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ ابو قتادہ (رض) نے روتے ہوئے کہا میں نے اللہ کے رسول (ﷺ) سے سنا ہے کہ جس شخص نے اپنے قرض دار پر نرمی کی یا اس کا قرض معاف کردیا تو وہ روز قیامت عرش کے سایہ تلے ہوگا۔“ [ مسند احمد : کتاب باقی مسند الأنصار، باب حدیث أبی قتادہ] (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ کَانَ تَاجِرٌ یُدَایِنُ النَّاسَ فَإِذَا رَأٰی مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْیَانِہٖ تَجَاوَزُوْا عَنْہُ لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یَتَجَاوَزَ عَنَّا فَتَجَاوَزَ اللّٰہُ عَنْہُ) [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب من أنظر معسرا] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ایک تاجر لوگوں سے لین دین کرتا تھا۔ جب وہ کسی تنگدست کو دیکھتا تو اپنے خادموں سے کہتا کہ اسے معاف کردوشاید اللہ ہمیں معاف فرما دے تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرمادیا۔“ (عَنْ کَعْبٍ (رض) قَالَ تَقَاضَی ابْنَ اَبِیْ حَدْرَدٍ دَیْنًا کَانَ لَہٗ عَلَیْہِ فِی الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُھُمَا حَتّٰی سَمِعَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ () وَھُوَ فِیْ بَیْتِہٖ فَخَرَجَ إِلَیْھِمَا حَتّٰی کَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِہٖ فَنَادٰی یَاکَعْبُ ! قَالَ لَبَّیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ ضَعْ مِنْ دَیْنِکَ ہٰذَا وَأَوْمَأَ إِلَیْہِ أَیْ الشَّطْرَ قَالَ لَقَدْ فَعَلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ قُمْ فَاقْضِہٖ) [ رواہ البخاری : کتاب الصلوۃ، باب التقاضی والملازمۃ فی المسجد] ” حضرت کعب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن ابی حدرد (رض) سے کچھ ادھار لینا تھا۔ میں نے مسجد میں اس کا مطالبہ کیا۔ ہماری آوازیں سن کر رسول کریم( ﷺ) نے اپنے حجرہ کا پردہ ہٹاکرگھر سے نکلتے ہوئے آواز دی اے کعب! میں نے عرض کیا : لبیک یارسول اللہ ! فرمایا : اسے آدھا قرض معاف کردو۔ میں نے آدھا معاف کردیا۔ آپ (ﷺ) نے ابن ابی حدرد کو حکم دیا جاؤ باقی قرض واپس کرو۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () قَالَ مَطْلُ الْغَنِیِّ ظُلْمٌ فَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُکُمْ عَلٰی مَلِیٍّ فَلْیَتْبَعْ) [ رواہ البخاری : کتاب الحوالات، باب الحوالۃ وھل یرجع فی الحوالۃ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا : صاحب استطاعت کا قرض واپس کرنے سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ جب مہلت کا مطالبہ کیا جائے تو قرض دار کو اسے مہلت دینی چاہیے۔“ مسائل : 1۔ مقروض کو مہلت دینا یا اسے معاف کردینا بہتر ہے۔ 2۔ ہر کسی نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ 4۔ ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا ملے گی کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ البقرة
281 البقرة
282 فہم القرآن : ربط کلام : سود کی لعنت تین طریقوں سے ختم ہوسکتی ہے صدقہ، قرض دینا اور تجارت بڑھانا لہٰذا قرض اور تجارت کے معاملات کو ضبط تحریر میں لانے کی ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔ اسلام کی منشایہ ہے کہ جس کے پاس اپنی ضرورت سے زائد مال ہو یا وہ کسی سبب سے خود تجارت نہیں کرسکتا تو اس کے لیے دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مالی لحاظ سے کمزور بھائی پر صدقہ کرے یا اس کو قرض حسنہ دے۔ یہاں قرض کا لین دین کرنے والوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ وہ قرض کی ماعہد اور اس کے متعلقہ معاملات ضبط تحریر میں لائیں تاکہ قرض دینے والے کو قانونی تحفظ حاصل ہونے کے ساتھ یہ اطمینان ہو کہ اس کی رقم کسی حقیقی سبب کے بغیر ضائع نہیں ہوپائے گی۔ اس سے قرض دار کو بر وقت ادائیگی کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ قرض دینے والے محسن کا احسان ذہن میں رکھتے ہوئے مقررہ میعاد تک پائی پائی واپس کرنے کی کوشش کرے۔ ان دستاویزات کو مکمل قانونی شکل اور تحفظ دینے کے لیے دو ایسے گواہ ہونے چاہییں جن پر فریقین کا پورا پورا اعتماد ہو اور اگر مردوں میں دو مناسب گواہ نہ مل سکیں تو پھر دو عورتیں ایک مردکی گواہی کے قائم مقام شہادت دیں گی تاکہ اگر ایک عورت اپنا بیان دیتے ہوئے کوئی بات بھول جائے تو دوسری عورت اسے یاد کروادے۔ ایک مرد کے مقابلے میں دو عورتوں کی گواہی کو برابر ٹھہرایا گیا ہے کیونکہ عورتیں مالی معاملات میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتیں اور نہ ہی اسلامی معاشرے میں معیشت کی ذمّہ داری عورتوں پر ڈالی گئی ہے۔ اس بنا پر ان کا مالی معاملات سے پوری طرح واقف نہ ہونا فطری اور شرعی امر ہے۔ جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے دو عورتوں کی گواہی مرد کی ایک گواہی کے برابر ٹھہرائی گئی ہے۔ بعض لوگ اسلام دشمن عناصر سے متاثر ہو کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ عورت کی نصف گواہی کے اصول میں عورت کی تذلیل پائی جاتی ہے۔ حالانکہ اس طرح عورت کو بہت بڑی ذمہ داری سے سبک دوش اور کئی الجھنوں سے بچایا گیا ہے۔ اسلام کے نقطۂ نظر سے عورت خاتون خانہ ہے یہ کس طرح مناسب ہوسکتا ہے کہ ایک پردہ نشین، باحیا اور کاروباری معاملات سے لا تعلق خاتون خانہ کو تھانوں، کچہریوں اور مردوں کے کاروباری معاملات میں پھنسایا جائے؟ یہ اصول عورت کوتکریم اور تحفظ فراہم کرتا ہے کہ ایک خاتون خانہ کیوں عدالت میں فریقین کے سامنے وکلاء کے اوٹ پٹانگ سوالات کا نشانہ بنے ؟ عدالت کے ماحول میں تو بڑوں بڑوں کے حواس گم ہوجاتے ہیں جب آپ یکایک بھری محفل یا عدالت میں خاتون خانہ کو لاکھڑا کریں گے تو اس کے ذہن پر ماحول کا دباؤ اور منفی اثرات کا مرتب ہونا ایک طبعی اور فطری امر ہے۔ قرآن مجید نے عورت کے ساتھ خیر خواہی کرتے ہوئے ایک کی بجائے دو عورتوں کورکھا۔ اکیلی عورت عدالت میں جانے کے بجائے اپنی ہم جنس کے ساتھ پہنچے تاکہ آنے جانے، عدالت میں بیٹھنے اٹھنے، جرح کے وقت اور عدالتی وقفے کے دورانیہ میں وہ اپنی ساتھی عورت سے مشورہ اور وقت گزارنے کے لیے بات چیت کرسکے۔ پھریہ بات بھی میڈیکل سائنس نے ثابت کی ہے کہ عورتوں کی غالب اکثریت مردوں کے مقابلے میں دماغی لحاظ سے کمزور واقع ہوئی ہے۔ اس لیے اگر وہ گواہی دیتے بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد کروائے تاکہ اس طرح ایک دوسرے کی معاون بنتے ہوئے گواہی ٹھیک طرح سے دے سکیں۔ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ (رض) قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () فِیْ أَضْحٰی أَوْفِطْرٍ إِلَی الْمُصَلّٰی فَمَرَّ عَلَی النِّسَاءِ فَقَالَ یَامَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّیْ أُرِیْتُکُنَّ أَکْثَرَ أَھْلِ النَّارِ فَقُلْنَ وَبِمَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ مَارَأَیْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِیْنٍ أَذْھَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاکُنَّ قُلْنَ وَمَانُقْصَانُ دِیْنِنَا وَعَقْلِنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ أَلَیْسَ شَھَادَۃُ الْمَرْأَۃِ مِثْلَ نِصْفِ شَھَادَۃِ الرَّجُلِ قُلْنَ بَلٰی قَالَ فَذٰلِکَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِھَا أَلَیْسَ إِذَاحَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ قُلْنَ بَلٰی قَالَ فَذٰلِکَ مِنْ نُقْصَانِ دِیْنِھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الحیض، باب ترک الحائض الصوم] ” حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) عید الاضحی یا عید الفطر کے لیے عیدگاہ کی طرف نکلے عورتوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو۔ مجھے جہنم میں تمہاری اکثریت دکھلائی گئی ہے۔ عورتوں نے کہا اللہ کے رسول! کس وجہ سے؟ آپ نے فرمایا : تم اکثر لعنت کرتی اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے عقل اور دین کے اعتبار سے تم سے بڑھ کر کسی کو کم عقل نہیں دیکھا جو ایک عقلمند آدمی کو حواس باختہ کر دے۔ عورتوں نے پوچھا اللہ کے رسول! ہماری عقل اور دین میں کیا کمی ہے؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا کیا ایک عورت کی گواہی مرد کے مقابلے میں آدھی نہیں ؟ عورتوں نے کہا ایسے ہی ہے۔ آپ (ﷺ ) نے فرمایا یہ تمہاری کم عقلی ہے۔ دوبارہ پوچھاکہ کیا ایسے نہیں کہ عورت حائضہ ہوجائے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزے رکھتی ہے۔ عورتوں نے کہا ہاں ایسے ہی ہے۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا یہ تمہارے دین میں کمی ہے۔“ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اسلام میں ہر معاملہ میں عورت کی آدھی گواہی مقرر نہیں کی گئی بلکہ کئی ایسے معاملات ہیں جن میں عورت کی گواہی مرد کے مقابلے میں زیادہ ثقہ اور مکمل سمجھی گئی ہے۔ مثال کے طور پر رضاعت اور حمل کے معاملات۔ عورت کی آدھی گواہی کے بارے میں سورۃ نور میں بحث ہوگی۔ (ان شاء اللہ) نظام عدالت، معاملات اور مقدمات کو صحیح خطوط پر چلانے کے لیے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ گواہوں کو گواہی دینے سے بلا عذر شرعی انکار نہیں کرنا چاہیے۔ کاروباری معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کے لکھنے کا اہتمام کرنا، حصول انصاف اور معاملات کو صحیح خطوط پر استوار رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔ کاروباری معاملہ دست بدست اور نقد ہونے کی صورت میں اگر تحریر نہ ہوسکے تو اس میں کوئی حرج نہیں تاہم بہتری اسی میں ہے کہ اسے بھی کیش میمو، رسید، یا کسی شکل میں ریکارڈ میں لایاجائے۔ جس سے نہ صرف کاروباری الجھنوں سے بچاجاسکتا ہے بلکہ مسلمانوں کو اپنی تجارت کا سالانہ اندازہ کرنے اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں آسانی پیدا ہوگی۔ یہاں یہ بھی فرمایا کہ معاہدہ ضبط تحریر میں لاتے ہوئے کاتب کو لکھنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہی اسے اس صلاحیّت سے نوازا ہے۔ اس لیے اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ عدل وانصاف کے اصول پیش نگاہ رکھے۔ معاہدہ لکھوانا مقروض کی ذمّہ داری ہے۔ اگر مقروض کم عقل، کمزور یا املاء نہ کرواسکتاہو تو اس کا ولی یا وکیل معاہدہ تحریر کروائے تاکہ کسی کمی بیشی کا امکان اور الزام کا موقع پیدا نہ ہوسکے۔ اس طرح فریقین کو اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے ہر قسم کی خیانت سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ کاتب اور گواہوں کو کسی صورت تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے اسی بنا پر دانشوران اسلام نے لکھا ہے کہ کاتب کے آنے جانے اور کھانے پینے کے اخراجات بھی ادا کرنے ہوں گے۔ جو کوئی ان قواعد کی خلاف ورزی کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ہوگا لہٰذا ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر قرآن مجید کے ضابطوں کے مطابق اپنے معاملات طے کرنے چاہییں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اصول سمجھانے کا مقصد ہی یہی ہے کہ مسلمان اپنے معاملات کو صحیح سمت پر چلائیں اور یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کو ایک ایک لمحہ اور ہر چیز کا علم ہے۔ مسائل : 1۔ ادھار کا معاملہ ضبط تحریر میں لانا چاہیے۔ 2۔ کاتب کو انکار کرنے کے بجائے انصاف کے ساتھ تحریر کرنا چاہیے۔ 3۔ معاہدہ لکھوانے کا حق قرض دار کو ہے۔ ٤۔ تحریر میں کمی وبیشی نہیں کرنی چاہیے۔ 4۔ نادان، کمزور، اور معذور کی طرف سے اس کا وکیل عدل کے ساتھ تحریر کروائے۔ 5۔ فریقین کی طرف سے مردوں میں سے دو گواہ ہونے چاہییں۔ 6۔ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوگی۔ 7۔ گواہوں کو گواہی سے انکار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ 8۔ معاہدہ کے مطابق انصاف کے ساتھ چھوٹے بڑے معاملے کو لکھنا چاہیے۔ 9۔ معاملہ کو درست رکھنے کا بہترین طریقہ اسے تحریر کرنا ہے۔ 10۔ نقد لین دین کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ 11۔ کاتب اور گواہ کو تکلیف سے بچانا چاہیے۔ 12۔ معاہدہ میں گڑ بڑ کرنا اور کاتب و گواہ کو تکلیف دینا اللہ کی نافرمانی کرنا ہے۔ البقرة
283 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ ہدایات۔ اگر سفر کے دوران ادھارلینے کی نوبت پیش آئے تو کاتب کی عدم موجودگی اور باہمی اعتماد نہ ہونے کی صورت میں قرض لینے والے کی کوئی چیز گروی رکھی جاسکتی ہے۔ (عَنْ عَائِشَۃَ (رض) قَالَتِ اشْتَرٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ () مِنْ یَھُوْدِیٍّ طَعَامًا بِنَسِیْئَۃٍ وَرَھَنَہٗ دِرْعَہٗ) [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب شراء الإمام الحوائج بنفسھا] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ایک یہودی سے کچھ مدت کے لیے غلہ حاصل کیا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس بطور رہن رکھی۔“ یاد رکھیں کہ ( آپ (ﷺ) کا کسی سے اپنی ذات کیلیے قرض لینا ثابت نہیں۔ بیت المال کمزور ہونے کی وجہ سے آپ غریب مسلمانوں کے لیے قرض لیتے تھے)۔“ جو چیزکسی کے ہاں گروی رکھی جائے اس کا عارضی مالک اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اگر یہ فائدہ اٹھائے گا تو وہ بھی سود کے زمرے میں سمجھا جائے گا۔ سوائے اس کے کہ اگر کوئی جانور وغیرہ ہو تو اس کا دودھ پینا یا اس پر سواری کرنا اس کے لیے جائز ہے۔ کیونکہ یہ اس جانور کے چارے کا انتظام کرتا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () اَلرَّھْنُ یُرْکَبُ بِنَفَقَتِہٖ إِذَا کَانَ مَرْھُوْنًا وَلَبَنُ الدَّرِّ یُشْرَبُ بِنَفَقَتِہٖ إِذَا کَانَ مَرْھُوْنًا وَعَلَی الَّذِیْ یَرْکَبُ وَیَشْرَبُ النَّفَقَۃُ) [ رواہ البخاری : کتاب الرھن، باب الرھن مرکوب ومحلوب] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (ﷺ) کا ارشاد ہے گروی چیز پر خرچ کرنے کی وجہ سے سواری کی جاسکتی ہے جب اسے گروی رکھا جائے اور دودھ والے جانور کا دودھ جانور کو چارہ کھلانے کی وجہ سے پیا جاسکتا ہے۔ جب اس قسم کا جانور گروی رکھاجائے تو سواری کرنے یا دودھ پینے والے پر اسے چارہ کھلانا ہے۔“ سفر سے گھر پہنچنے اور معاملے کی میعاد پوری ہوجانے کے بعد یہ گروی شدہ چیز مالک کو صحیح سالم واپس لوٹانا ہوگی۔ آخر میں پھر حکم دیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہووہی تمہارا پالنہار اور مالک ہے۔ لہٰذا گواہی کو ہرگز نہ چھپایا جائے۔ جو شخص شہادت کو چھپائے گا یقینًا اس کا دل گناہ سے آلودہ ہوچکا ہے۔ گویا کہ وہ گندے دل کا مالک ہے اور ایسے دل والے سے ہر گناہ کی توقع کی جاسکتی ہے۔ گواہی چھپانے والے کے لیے اس لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے کہ اس کے شہادت چھپانے کی وجہ سے حق دار کی حق تلفی کا خطرہ اور نظام عدالت کے ناکام ہوجانے کا انتہائی اندیشہ ہے کیونکہ عدالت شرعی ہو یا غیر شرعی اس کا دارو مدار بالآخر شہادت پر ہی قائم ہے۔ شہادت چھپانے والے نے گویا کہ نظام عدل کی بنیاد ہی اکھاڑ ڈالی ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو ادراک ہونا چاہیے کہ جو بھی وہ حرکت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی واقف ہے۔ مسائل : 1۔ حالت سفر میں کاتب نہ ملنے کی صورت میں کوئی چیز گروی رکھی جاسکتی ہے۔ 2۔ مدّت مکمل ہونے کے بعد امانت واپس لوٹانا لازم ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کو شہادت نہیں چھپانی چاہیے۔ 4۔ شہادت چھپانے والے کا دل گنہگار ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : سچی گواہی : 1۔ سچی گواہی دینے کا حکم۔ (المائدۃ:8) 2۔ سچی گواہی چھپانے کا گناہ۔ (البقرۃ:283) 3۔ گواہی چھپانے والے ظالم ہیں۔ (البقرۃ:140) 4۔ جھوٹی گواہی سے بچنے والوں کی تعریف۔ (الفرقان :72) 5۔ گواہی پر قائم رہنے والوں کی جنت میں تکریم ہوگی۔ (المعارج :33) البقرة
284 فہم القرآن : ربط کلام : صدقہ کرنے، قرض حسنہ دینے اور سود سے دست کش ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان یہ تسلیم کرے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اس لیے مجھے حقیقی مالک کی مرضی کے مطابق لین دین اور مالی معاملات کو چلانا چاہیے۔ عام طور پر شہادت کسی مفاد یا خوف کی وجہ سے ہی چھپائی جاتی ہے جس سے عدالتی نظام کے بگاڑ کے ساتھ حق دار اپنے حق سے محروم ہوجاتا ہے۔ شہادت چھپانے والے کو یہاں یہ باور کرایا گیا ہے کہ شہادت چھپانے سے پہلے تجھے ہزار بار سوچنا چاہیے کہ یہ وقتی مفاد اور عارضی خوف ہے۔ جب کہ نفع ونقصان اور زمین و آسمان کی ہر چیز کا اصلی مالک تو اللہ تعالیٰ ہے جو ہر کسی کے مفاد کی حفاظت کرنے والا ہے۔ جس کا حق مارا گیا اس کے لیے بھی یہ الفاظ سرمایۂ اطمینان ہیں کہ دنیا میں تو یہ حق مارا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں تیرا حق محفوظ ہے۔ آگے فرمایا لوگو! کوئی چیز تم اپنے دلوں میں چھپاؤ یا اسے ظاہر کرو اللہ تعالیٰ اس کا محاسبہ کرے گا اور جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ وہ اللہ ذرّے ذرّے پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اس لیے گواہی سوچ سمجھ کردینا چاہیے۔ جھوٹی گواہی دے کر متاثرہ فریق کو اپنی چرب لسانی سے مطمئن کرلو لیکن اللہ تعالیٰ تو تمہارے دلوں کو جانتا ہے کہ تمہارا ظاہر کیا ہے اور دل میں کیا چھپاۓ ہوئے ہو۔ یہاں دلوں کے خیالات پر محاسبے کا ذکر ہوا ہے۔ اس کے متعلق قرآن و حدیث میں دو قسم کے اصول بیان ہوئے ہیں۔ کفر، شرک، نفاق، حسد، کینہ اور ریاکاری کے خیالات سے اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کی بجائے انہیں دانستہ دل میں جمائے رکھتا ہے اور عقیدے کے طور پر اپناتا ہے تو ان پر نہ صرف محاسبہ ہوگا بلکہ ایسے لوگ شدید عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ باقی خیالات کے بارے میں معاف کردیا گیا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَعَنْ أُمَّتِیْ مَاحَدَّثَتْ بِہٖ أَنْفُسُھَا مَالَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَکَلَّمْ) [ رواہ البخاری : کتاب الطلاق، باب الطلاق فی الإغلاق والکرہ والسکران والمجنون] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان فرماتے ہیں آپ (ﷺ) نے فرمایا یقینًا اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لوگوں کے دلوں کے وسوسے اس وقت تک کے لیے معاف کردیے ہیں جب تک وہ ان پر عمل نہ کریں یا ان کے مطابق کلام نہ کی جائے۔“ دل کی پاکیزگی کے بارے میں نبی اکرم (ﷺ) کی دعائیں : (عَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ () یَقُوْلُ اللّٰھُمَّ طَھِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِیْ مِنَ الرِیَاءِ وَلِسَانِیْ مِنَ الْکَذِبِ وَعَیْنِیْ مِنَ الْخِیَانَۃِ فَإِنَّکَ تَعْلَمُ خَائِنَۃَ الْأَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ) [ مشکوۃ المصابیح : کتاب الدعوات، الفصل الثالث ] ” حضرت ام معبد (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو کہتے ہوئے سنا اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے، میرے عمل کو دکھلاوے سے، میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھوں کو خیانت سے پاک کردے یقینًا تو آنکھوں کی خیانت اور جو کچھ دلوں میں ہے اسے جانتا ہے۔“ (عَنْ أَنَسٍ (رض) قَالَ کَان النَّبِیُّ () یَدْعُوْ یَقُوْلُ اللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ وَالْبُخْلِ وَالْھَرَمِ وَالْقَسْوَۃِ وَالْغَفْلَۃِ وَالذِّلَّۃِ وَالْمَسْکَنَۃِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْکُفْرِ وَالشِّرْکِ وَالنِّفَاقِ وَالسُّمْعَۃِ وَالرِّیَاءِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبُکْمِ وَالْجُنُوْنِ وَالْبَرْصِ وَالْجَذَامِ وَسَیِّءِ الْأَسْقَامِ ) [ صحیح ابن حبان : کتاب الرقائق، باب الأدعیۃ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) دعا کرتے ہوئے فرماتے اے اللہ! بے شک میں تجھ سے بے بسی، سستی، بخیلی، بڑھاپا، سختی، غفلت، ذلت اور مسکنت سے پناہ مانگتاہوں اور میں تجھ سے فقر، کفر، شرک، نفاق اور ریاکاری سے پناہ مانگتاہوں اور بہرے پن، گونگے پن، جنون، پھلبہری، کوڑھ اور بری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتاہوں۔“ مسائل : 1۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کے لیے ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کا احتساب کرے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا معاف کرے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ البقرة
285 فہم القرآن : ربط کلام : سورۃ البقرۃ کی ابتدا ایمانیات سے ہوئی اختتام بھی انہی ہدایات سے کیا گیا ہے جب ہر چیز کا مالک اللہ ہے اور وہی گناہوں کو معاف فرمانے اور سزا دینے والا ہے تو اسی پر ایمان لاؤ جس پر کائنات کی عظیم ہستی حضرت محمد (ﷺ) اور مومن ایمان لائے۔ سورۃ البقرۃ کے آغاز میں ایمان کے بنیادی ارکان کا ذکر ہوا ہے اب اس سورۃ مبارکہ کا اختتام بھی عقائد کے بیان سے ہورہا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ایمان کامل کے بغیر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہونا اور ان کی قبولیت ناممکن ہے۔ ابتدا میں اہل ایمان کے حوالے سے دین کے بنیا دی عقائد کا ذکر تھا اور اب رسول اللہ (ﷺ) کی ذات پر اختتام کیا جارہا ہے کہ یہ وہ عقائد، نظریات، اصول اور احکام ہیں جن پر میرا رسول محمد عربی (ﷺ) ایمان لایا اور تمام مومن یعنی صحابہ کرام (رض) اللہ تعالیٰ، اس کے ملائکہ، اس کی نازل کردہ کتب اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ رسول کریم (ﷺ) اور مومن پہلے رسولوں کے درمیان کسی قسم کا فرق نہیں کرتے۔ رسولوں کے درمیان فرق نہ کرنے کا معنٰی ہے کہ وہ اپنے زمانے میں اللہ تعالیٰ کے رسول تھے۔ لیکن اب سب پر حضرت محمد مصطفی (ﷺ) کی اتباع فرض ہے رسول (ﷺ) اور مومن ان جذبات کا اظہار کرتے ہیں کہ الٰہی! ہم نے تیرے پیغامات کو سنا اور اس پر ایمان لائے۔ ہمارے رب ! ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو معاف کیجیے۔ ہم تیرے حضور ہی حاضر ہونے والے ہیں۔ یہاں دعا کی صورت میں مومنوں کے ایمانی جذبات اور کردار کی ترجمانی کی جارہی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کا رسول سب سے پہلے اپنے رب کے احکام پر ایمان لانے والا اور اس پر عمل کرکے مومنوں کے لیے نمونہ ہوا کرتا ہے۔ یہی نیک قائد اور مذہبی پیشوا کا عمل ہونا چاہیے تاکہ اپنے اور بیگانے سبھی اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے میں رغبت محسوس کریں۔ (عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ کِتَابًا قَبْلَ أَنْ یَخْلُقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ بِأَلْفَیْ عَامٍ أَنْزَلَ مِنْہُ آیَتَیْنِ خَتَمَ بِھَا سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ وَلَا یُقْرَآنِ فِیْ دَارٍ ثَلَاثَ لَیَالٍ فَیَقْرَبُھَا شَیْطَانٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی آخرسورۃ البقرۃ] ” نعمان بن بشیر (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل ایک کتاب لکھی اس کتاب کی دو آیتیں نازل کیں جن سے سورۃ البقرہ کا اختتام کیا جس گھر میں یہ تین راتیں پڑھی جائیں وہاں شیطان نہیں جاتا۔“ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ () قَالَ بَیْنَمَاجِبْرِیْلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِیِّ () اِذْ سَمِعَ نَقِیْضًا مِّنْ فَوْقِہٖ فَرَفَعَ رَأْسَہٗ فَقَالَ ھٰذَا بَابٌ مِّنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْیَوْمَ لَمْ یُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْیَوْمَ فَنَزَلَ مِنْہُ مَلَکٌ فَقَالَ ھٰذَا مَلَکٌ نَزَلَ إِلَی الْأَرْضِ لَمْ یَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْیَوْمَ فَسَلَّمَ وَقَالَ أَبْشِرْ بِنُوْرَیْنِ أُوْتِیْتَھُمَا لَمْ یُؤْتَھُمَا نَبِیٌّ قَبْلَکَ فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ وَخَوَاتِیْمُ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِّنْھُمَا إِلَّا أُعْطِیْتَہٗ) [ رواہ مسلم : کتاب صلاۃ المسافرین] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت جبریل (علیہ السلام) رسول اللہ (ﷺ ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس دوران انہوں نے ایک زور دار آواز سنی اور اپنا سر اٹھانے کے بعد فرمایا کہ آسمان کا جو دروازہ آج کھولا گیا ہے یہ اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔ اس دروازے سے ایک ایسا فرشتہ نازل ہوا ہے جو آج سے پہلے زمین پر نہیں اترا۔ اس فرشتے نے رسول اللہ (ﷺ) کو سلام کیا اور کہا دو نوروں کی خوشخبری سنیے جو آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کیے گئے ان میں سے ایک فاتحۃ الکتاب اور دوسرا سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات ہیں۔ آپ ان دونوں میں سے کوئی کلمہ تلاوت کریں گے تو آپ کی مانگی مراد پوری ہوجائے گی۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ، ملائکہ، آسمانی کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانا فرض ہے۔ 2۔ مومن بندے انبیاء کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ 3۔ مومن بندے سننے، ماننے اور اپنے رب سے معافی طلب کرنے والے ہوتے ہیں۔ 4۔ ہر نفس نے اللہ تعالیٰ کی طرف ہی پلٹنا ہے۔ تفسیربالقرآن : انبیاء ( علیہ السلام) کے درمیان فرق نہیں کرنا چاہیے : 1۔ مومن اللہ اور اس کے رسولوں میں فرق نہیں کرتے۔ (النساء :152) 2۔ رسولوں کے درمیان فرق کرنا کفر ہے۔ (البقرۃ:285) 3۔ کافر اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرتے ہیں۔ (النساء :150) البقرة
286 فہم القرآن : ربط کلام : ایمان لانا اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا مشکل کام نہیں یہ عین انسان کی فطرت اور اس کی وسعت ہمت کے مطابق ہے ان پر اپنی ہمت کے مطابق عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے بخشش، رحمت اور مدد طلب کرنی چاہیے یہی اسلام کے غلبہ اور کفار پر فتح پانے کا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سورۃ کے اختتام میں از راہ کرم اپنے بندوں کے لیے یہ وضاحت فرماتا ہے کہ تمہارے رب نے جو احکامات نازل فرمائے ہیں۔ وہ ایسے نہیں کہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا گیا ہو۔ لہٰذا جو ان کے مطابق عمل کرے گا اس کا اسی کو فائدہ پہنچے گا اور جس نے ان احکامات کی مخالفت کی وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ مومن تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے باوجود اس کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں کہ اے ہمارے خالق ومالک ! اگر ہم سے بھول یا دانستہ خطا ہوجائے تو ہمیں اپنی گرفت سے بچائے رکھنا۔ اے ہمارے پالنہار ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالنا جس طرح پہلے لوگوں پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ڈالا گیا تھا۔ مومن تو اپنے رب کے حضور دست بستہ دعا کرتے ہیں کہ ہمارے رب ! ہم سے غلطی ہوجائے تو اس سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو۔ جس کی ہم میں ہمت نہ ہو۔ الٰہی ! ہم سے در گزر کر، ہماری خطاؤں کو معاف فرما اور ہم پر رحم کر۔ تو ہی تو ہمارا مولا ہے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری نصرت وحمایت فرما۔ آمین۔ (عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ نَوْفَلِ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَمَّا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَدْعُوْ بِہِ اللّٰہَ قَالَتْ کَانَ یَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَالَمْ أَعْمَلْ) [ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء، باب التعوّذ من شر ماعمل ومن شر ما لم یعمل] ” حضرت فروہ بن نوفل اشجعی (رض) نے حضرت عائشہ (رض) سے نبی کریم (ﷺ) کی دعاؤں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا آپ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ! میں نے جو کام کیے اور جو نہیں کیے ان کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں۔“ (عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ (رض) قَالَ کَانَ عَآمَّۃُ دُعَاءِ نَبِیِّ اللّٰہِ ( )اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَاأَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُّ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا جَھِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُّ ) [ مسند احمد : کتاب اول مسند البصریین، باب حدیث عمران بن حصین ] ” حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) کی یہ دعا ہوا کرتی تھی کہ اے اللہ! میری خطاؤں کو جو میں نے جان بوجھ کر‘ پوشیدہ‘ ظاہری‘ بے علمی سے اور عمداً کی ہیں سب کو معاف فرما۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ 2۔ ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزاء و سزا ملے گی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سے اپنی خطاؤں اور بھول کی معافی مانگنا اور اس کی سختی سے پناہ طلب کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : دین میں آسانیاں : 1۔ مریض ومسافر کو روزوں میں تاخیر کرنے کی اجازت۔ (البقرۃ:185) 2۔ نماز میں قصر۔ (النساء :101) 3۔ رمضان کی راتوں میں مباشرت کی اجازت۔ (البقرۃ:187) 4۔ حج صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے۔ (آل عمران :97) 5۔ ہمت کے مطابق اللہ تعالیٰ کا تقو ٰی اختیار کرنے کا حکم۔ (التغابن :16) تفصیل کے لیے میری کتاب ” دین تو آسان ہے“ کا مطالعہ فرمائیں البقرة
0 بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ آل عمران : اس سورۃ مبارکہ کا نام آل عمران ہے یہ آیت 33 سے لیا گیا ہے۔ حضرت عمران حضرت مریم علیہا السلامکے والد گرامی اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے نانا محترم ہیں۔ یہ سورۃ مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی اس کے 20 رکوع اور 200 آیات ہیں۔ ربط سورۃ: ” الفاتحہ“ کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی توحید سے اور ” البقرۃ“ کا آغاز قرآن مجید کے تعارف سے ہوا تھا۔ سورۃ آل عمران کی ابتداء ان دونوں مضامین سے ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اسی ذات لم یزل نے یہ کتاب حق اور سچ کے ساتھ نازل فرمائی۔ جس نے تورات اور انجیل کو نازل فرمایا۔ یہ قرآن ان کی تائید و تصدیق کرتا ہے۔ سورۂ آل عمران میں توحید کے دو ایسے پہلو نمایاں کیے گئے ہیں جن میں جلالت وجبروت اور اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ زندہ اور قائم رہنابیان ہوا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ جب کچھ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ کی ذات اس وقت بھی موجود اور قائم تھی اور جب ہر چیز فنا کے گھاٹ اتر جائے گی تو اس وقت بھی ذات کبریا قائم و دائم رہے گی۔ اس سورۃ کے نازل ہونے کا پس منظر یہ ہے کہ نجران کا علاقہ جو شام اور مدینہ منورہ کے درمیان واقع ہے۔ وہاں سے عیسائیوں کا ایک نمائندہ وفد رسول کریم (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام اور عیسائیت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور ساتھ ہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اپنے عقیدے کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شامل ہیں۔ اس سورت کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں اجمالی اشارے دیے گئے ہیں کہ یہ صفات عیسیٰ (علیہ السلام) اور کائنات کی کسی چیز میں نہیں پائی جاتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہی واحد اور معبود برحق ہے۔ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ماں کے رحم کے اندر جس طرح اور جیسے چاہے بچہ پیدا کرتا ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اس کی خالقیت کا ایک نمونہ ہیں۔ اس کے بعد قرآن مجید کا تعارف کروایا گیا کہ یہ تورات‘ انجیل اور ان سے پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید ہدایت کا سر چشمہ ہے لیکن اس سے ہدایت پانے کے لیے چار بنیادی اصول ہیں : 1۔ قرآن مجید کو ہدایت حاصل کرنے کے لیے پڑھا جائے۔ 2۔ قرآن مجید میں غور وخوض کیا جائے۔ 3۔ قرآن مجید کی تشریح وتوضیح کے لیے بنیادی اور مرکزی آیات کو رہنما اصول بنایا جائے۔ 4۔ قرآن مجید پر عمل کیا جائے۔ جو شخص ان اصولوں کو چھوڑ کر قرآن مجید کی تشریح و تفسیر کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے بھٹکنے کا اندیشہ ہے۔ جس کے بارے میں اس سورۃ کی ابتدا میں وضاحت کردی گئی ہے کہ جن کے دلوں میں ٹیڑھ اور سوچ میں کجی ہے۔ وہ فرقہ واریت اور فتنہ پروری کے لیے بنیادی آیات کو چھوڑ کر متشابہات کو اپنے فکر کی بنیادبناتے ہیں حالانکہ متشابہات کا مفہوم اللہ تعالیٰ اور اہل علم کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ” سورۃ البقرۃ“ میں زیادہ تر یہودیوں کے کردار اور اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جس میں ضمنًا عیسائیوں کا ذکر ہوا تھا لیکن اس سورۃ مبارکہ میں خطاب کا اکثر رخ عیسائیوں کی طرف ہے جس میں ان کے عقائد ونظریات اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں ان کے شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔ سورۃ البقرۃ میں تحویل قبلہ کے احکام کے بعد واضح کیا گیا تھا کہ مسلمانو! تم محض پراپیگنڈہ سے خوفزدہ ہوئے جارہے ہو جب کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دشمن کے خوف، اعزہ واقرباء کی شہادت، مال وجان کے نقصان‘ بھوک و پیاس اور غربت و افلاس کے ساتھ بہر حال آزمانے والا ہے۔ چنانچہ احد میں مسلمانوں کو ان آزمائشوں سے حقیقتاً واسطہ پڑا۔ پھر احد کے نتائج اور عارضی شکست پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے آخری اصول واضح کیا کہ دنیا میں حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہا کرتے۔ اگر تم سر بلند رہنا چاہتے ہو تو تمہیں مسلمان بن کر رہنا ہوگا۔ ” سورۃ البقرۃ“ کی ابتدا اور اس کے آخر میں ایمان کے بنیادی ارکان کا ذکر ہوا تھا جس بنا پر اسلام کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ سورۃ آل عمران میں یہ ارشاد ہوا کہ ایمان کی مبادیات کی طرح اسلام کی عمارت کے بنیادی ستون بھی ہمیشہ سے ایک رہے ہیں اور اسلام ہی اللہ کا پسندیدہ دین ہے۔ یہی تمہارے لیے ضابطۂ حیات اور دستور زندگی ہے۔ جو فرد یا قوم اس کے علاوہ دوسرا راستہ تلاش کرے گی۔ اللہ تعالیٰ اس کے نظریۂ حیات اور کردار کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ اس کے بعد اہل کتاب کو مشترکہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا جس دین اور نظریات پر تم فخر اور ناز کررہے ہو۔ اس کا دور ختم ہوچکا ہے اب اسلام کا سکہ چلے گا اور تمہاری مخالفت کچھ کام نہیں آسکتی۔ کیوں کہ عزت، ذلّت، اقتدار اور اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ جسے چاہے جب چاہے عنایت فرمائے اور جب چاہے محروم کر دے۔ اس کے سامنے کوئی دم نہیں مار سکتا۔ اگر تم عظمت رفتہ کے خواہاں اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے طلب گار ہو تو تمہیں نبی آخر الزماں (ﷺ) کی اتباع کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی قربت ومحبت کا کوئی ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندان کی بزرگی اور عظمت کا ذکر مرحلہ وار کرتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش، معجزات اور ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کی وضاحت کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں یہودیوں کے دعو ٰی کی تردید کی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نہ قتل ہوئے اور نہ ہی انہیں تختہء دار پر لٹکایا گیا انہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں آسمانوں پر صحیح سالم اٹھا لیا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں وضاحتی اور دعوتی خطاب 31 آیات تقریبًا 3 رکوع پر مشتمل ہے۔ اس تفصیلی خطاب کے بعد ایک دفعہ پھر یہود ونصارٰی کو اہل کتاب کے باعزت لقب سے مخاطب کرتے ہوئے رسول کریم (ﷺ) کی طرف سے دعوت دی گئی ہے کہ آؤ اس کلمہ پر متفق ہوجائیں جو ہمارے اور تمہارے درمیان بنیاد اور قدر مشترک کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی دعوت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تورات وانجیل کے نزول سے پہلے دیا کرتے تھے۔ یقین جانو کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی، عیسائی اور مشرک نہیں تھے وہ تو ادھر ادھر اور دائیں بائیں کی نسبتوں کے بجائے صاف، سیدھے، مواحد اور کامل مسلمان تھے۔ اس کے بعد اہل کتاب کی سازشوں اور شرارتوں کا ذکر کیا اور فرمایا عیسیٰ (علیہ السلام) تو اللہ کے جلیل القدر نبی اور رسول تھے۔ اللہ تعالیٰ جس شخص کو کتاب، نبوت اور حکومت عطا کرے تو اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ لوگوں کو اللہ کی توحید سمجھانے اور اس کا بندہ بنانے کے بجائے اپنا بندہ بنانے کی کوشش کرے۔ تم انبیاء اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذمہ شرک لگاتے ہو۔ کیا وہ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننے کے باوجود کفر و شرک کا حکم دے سکتے تھے ؟ انبیاء کا حال تو یہ تھا کہ انہوں نے ابتدائے آفرینش اپنے رب کے حضور یہ عہد کیا تھا کہ ہم تیری توحید کا اقرار اور اس کا پرچار کرنے کے ساتھ نبی آخر الزماں، خاتم المرسلین حضرت محمد (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی تائید کریں گے۔ انبیاء کے عہد کے بعد بیت اللہ کا تذکرہ اور اسے مرکزامن وہدایت قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ اگر اہل کتاب اور بنی نوع انسان امن وامان، رشدو ہدایت چاہتے ہیں تو انہیں توحید کا اقرار اور رسول کی اتباع کرتے ہوئے ایک ہی مرکز کو اپنا نا ہوگا۔ جس طرح سورۃ البقرۃ کا اختتام قرآن کے الفاظ میں مومنوں کی دعاؤں کے ساتھ ہوا ہے اسی طرح آل عمران کا اختتام مومنوں کی دعاؤں سے ہوتا ہے۔ رسول محترم (ﷺ) نے سورۃ البقرۃ اور آل عمران کو دو نور اور الزھراوین قرار دیا ہے : (اِقْرَءُ وا الْقُرْاٰنَ فَإِنَّہٗ یَأْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَفِیْعًا لِاَّصْحَابِہٖ اِقْرَءُ وا الزَّھْرَاوَیْنِ الْبَقَرََۃَ وَسُوْرَۃَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّھُمَا تَأْتِیَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَنَّھُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ کَاَ نَّہُمَا غَیَابَتَانِ کَأَنَّھُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَیْرٍ صَوَآفَّ تُحَآجَّانِ عَنْ أَصْحَابِھِمَا اِقْرَءُ و سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ فَإِنَّ أَخْذَھَا بَرْکَۃٌ وَتَرْکَھَا حَسْرَۃٌ وَلَا یَسْتَطِیْعُھَا الْبَطَلَۃُ) [ رواہ مسلم : کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب فضل قراء ۃ القرآن وسورۃ البقرۃ] ” قرآن کی تلاوت کیا کرو کیونکہ یہ روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی ہوگا دو روشن سورتیں البقرۃ اور آل عمران پڑھو یہ قیامت کے دن دو بدلیاں یا پرندوں کی طرح صفیں باندھے جھرمٹ کی طرح ہوں گی جو اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے تکرار کریں گی۔ سورۃ البقرۃ کی تلاوت کیا کرو اس کا پڑھناباعث برکت اور چھوڑنا حسرت کا سبب ہے اور جہاں یہ پڑھی جائے وہاں جادو اور جنات اثر انداز ہونے کی جرأت نہیں کرتے۔“ آل عمران
1 فہم القرآن: (آیت 1 سے 4) ربط کلام : سورۃ البقرۃ کا اختتام ایمان کے بنیادی ارکان اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگنے کی دعا پر ہوا ہے۔ سورۃ آل عمران کی ابتداء میں بتلایا گیا ہے کہ جس اللہ پر تم نے ایمان لانا ہے۔ وہ ہمیشہ قائم دائم اور زندہ جاوید رہنے والا ہے۔ اسی نے لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے تورات و انجیل نازل فرمائی اور اب اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے قرآن مجید نازل کیا ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ نافرمانوں سے سخت انتقام لے گا۔ حروف مقطعات کے بعد اس عظیم سورۃ کی ابتدا توحید باری تعالیٰ سے ہوتی ہے۔ یہاں توحید کے دو ایسے پہلو نمایاں کیے گئے ہیں۔ جن میں جلالت وجبروت کے لہجے میں اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے کابیان ہوا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ جب کچھ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ کی ذات موجود اور قائم تھی۔ جب ہر چیز ختم ہوجائے گی تو اس وقت بھی اس کی ذات کبریا موجود اور قائم ہوگی گویا کہ وہ ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والی ذات ہے اور کائنات کو اپنی حکمت اور مرضی کے مطابق قائم رکھے ہوئے ہے۔ جس طرح اور جس وقت تک چاہے ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے ان اوصاف میں اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ جب کائنات میں کوئی ہستی اس جیسی نہیں تو سب کا وہی معبود ومسجود ہونا چاہیے اور ہے۔ اسی ذات اعلیٰ نے حضرت محمد (ﷺ) کی ذات اقدس پر کتا بِ حق نازل فرمائی اور اسی نے اس سے پہلے تورات اور انجیل نازل فرمائی تھیں جو اپنے اپنے دور میں لوگوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ تھیں۔ اب قرآن مجید نازل فرمایا جو پہلی کتابوں کے من جانب اللہ ہونے کی تصدیق اور ان میں لوگوں نے جو ترمیم واضافے کیے ان کی نشاندہی کرتا ہے تاکہ لوگوں کے سامنے حق اور باطل واضح ہوجائے اس امتیاز اور حق کو پہچاننے کے باوجود جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کا انکار کرتے ہیں ان کے لیے شدید ترین عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان سے اس جرم کا بدلہ لینے پر غالب ہے۔ قرآن مجید کے بنیادی اور مرکزی اوصاف میں ایک خوبی یہ ہے کہ یہ پہلی کتابوں کے حقیقی مضامین کی تصدیق کرنے کے ساتھ قیامت تک کے لیے حق وباطل کے درمیان حد فاصل اور نگران کی حیثیت رکھتا ہے۔ ” اور ہم نے تیری طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی جو اپنے سے ماقبل کتب کی تصدیق کرنے والی اور ان پر نگران و نگہبان ہے۔“ [ المائدۃ:48] گویا کہ حق وباطل کا فیصلہ کرنا لوگوں کی عقل ودانش اور کسی پارلیمنٹ کے اختیار پر نہیں بلکہ قرآن لوگوں کی رہنمائی کا ضامن اور صحیح و غلط میں تمیز کرنے کا معیار ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () لَایُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ) [ مشکوٰۃ: باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا آدمی جب تک اپنی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ کردے تب تک وہ ایمان والا نہیں ہوسکتا۔“ مسائل : 1۔ اللہ ہی اکیلا معبود اور وہی ہمیشہ زندہ و قائم رہنے والا ہے۔ 2۔ اس نے تورات، انجیل اور قرآن مجید نازل فرمایا۔ 3۔ اب تورات اور انجیل نہیں صرف قرآن ہی ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ 4۔ قرآن مجید پہلی کتب آسمانی کی تصدیق کرتا ہے۔ 5۔ انکار کرنے والوں کے لیے سخت ترین عذاب ہوگا۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ سخت بدلہ لینے والا ہے۔ تفسیربالقرآن : فرقان کا مفہوم : 1۔ قرآن فرقان ہے۔ (الفرقان :1) 2۔ معجزات فرقان ہیں۔ (الانبیاء :48) 3۔ بدر کا معرکہ فرقان ہے۔ (الانفال :41) 4۔ فرقان سے مراد قوت فیصلہ بھی ہے۔ (الانفال :29) 5۔ حق وباطل کے درمیان فرق کرنے والی کتاب یعنی قرآن مجید کو فرقان کہا گیا ہے۔ (البقرۃ:185) آل عمران
2 آل عمران
3 آل عمران
4 آل عمران
5 فہم القرآن : (آیت 5 سے 6) ربط کلام : بدلہ اور سزا دینے والی ہستی کے لیے ضروری ہے کہ وہ حالات‘ واقعات سے اچھی طرح باخبر ہو چنانچہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے۔ جس سے زمین و آسمان کی کوئی چیز مخفی نہیں وہ ماں کے رحم میں ہونے والی تبدیلوں کو جانتا ہی نہیں بلکہ جس طرح چاہتا ہے انسان کی شکل و صورت بناتا اور اسے خاص ڈھانچے میں ڈھالتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ انسان کی ہر نقل و حرکت سے واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان میں کوئی چیز پوشیدہ نہیں وہ زمین کی گہرائیوں اور اس کے ذرّے ذرّے‘ آسمان کی بلندیوں اور اس کے چپے چپے سے واقف ہے۔ وہ تمہاری پیدائش کے ابتدائی مراحل سے آگاہ ہی نہیں بلکہ ماں کے رحم کے اندر لمحہ بہ لمحہ جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں انہیں بھی جانتا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتوں اور قسمتوں کا فیصلہ کرتا ہے۔ وہ ایسا کرنے پر غالب بھی ہے اور اس کے ہر کام اور فیصلے کے پیچھے حکمتیں بھی کار فرما ہوتی ہیں۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ پیدا ہونے والے کو طاقتور بنانا ہے یا کمزور، خوبصورت پیدا کرنا ہے یا قبول صورت، اس کا غریب ہونا بہتر ہے یا امیر، یہ نیک ہوگا یا بد۔ اللہ تعالیٰ تمام اور ہر قسم کے حالات جانتا ہے اور اسے ہر فیصلے پر اختیار ہے اور تم نہ دنیا میں اس کی دسترس سے باہر ہو اور نہ مرنے کے بعد۔ وہ ہر حال میں تم پر غالب ہونے کے باوجود تمہیں مہلت دیے ہوئے ہے۔ اس مہلت کے پیچھے اس کی بہت سی حکمتیں پنہاں ہیں۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ () وَھُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہٗ فِیْ بَطْنِ أُمِّہٖ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًانُطْفَۃً ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللّٰہُ مَلَکًا فَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ وَیُقَالُ لَہٗ أُکْتُبْ عَمَلَہٗ وَرِزْقَہٗ وَأَجَلَہٗ وَشَقِیٌّ أَوْ سَعِیْدٌ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحُ فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْکُمْ لَیَعْمَلُ حَتّٰی مَایَکُوْنُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجَنَّۃِ إِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ کِتَابُہٗ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ النَّارِ وَیَعْمَلُ حَتّٰی مَایَکُوْنُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ النَّارِ إِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں صادق و مصدوق رسول مکرم (ﷺ) نے بیان فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن ٹھہرتا ہے تو جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر چالیس دن بعد گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتے ہیں اسے آدمی کا عمل، رزق، موت اور نیک وبد ہونا لکھنے کا حکم ہوتا ہے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ تم میں ایک بندہ عمل کرتارہتا ہے حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے وہ جہنمیوں والے کام شروع کردیتا ہے۔ ایسے ہی آدمی برے عمل کرتا رہتا ہے حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو وہ جنتیوں والے اعمال شروع کردیتا ہے۔“ اس حدیث میں آدمی کے انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زندگی بھر ماحول کے اثر، بزرگوں کے خوف، ذاتی مفاد اور اسلامی حکومت کے جبر سے بظاہر نیک اعمال کرتے ہیں لیکن ایمان ان کے دل میں راسخ نہیں ہوتا محض ماحول کے جبر کی وجہ سے ظاہری طور پر نیک ہوتے ہیں۔ جو نہی انہیں موقعہ ملتا ہے وہ برائی کی طرف لپکے چلے جاتے ہیں ایسے ہی بے شمار لوگ سوسائٹی یا گھریلو اثرات کی وجہ سے نیکی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے لیکن فطرتًا نہایت ہی سعادت مندطبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ جب کبھی انہیں نیکی کا ماحول میسر آئے تو بہت سے نیک لوگوں سے بڑھ کر ذوق وشوق سے نیک کام سرانجام دیتے ہیں۔ موت کے قریب اس قسم کے لوگوں کی نیک نیتی اور حقیقی کردار ان کو اصلی انجام کی طرف کھینچ لیتا ہے۔ اس کے برعکس فطری اور قلبی طور پر برا شخص موت کے وقت کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ نبی کریم (ﷺ) کے فرامین میں اسی فطری انجام کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان میں کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ 2۔ وہی ماں کے رحم میں انسان کی شکل و صورت بناتا ہے۔ 3۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ غالب‘ حکمت والا ہے۔ تفسیربالقرآن : اللہ تعالیٰ صورتیں بنانے اور اولاد دینے والا ہے : 1۔ لوگوں کی شکلیں اللہ تعالیٰ بناتا ہے۔ (آل عمران :6) 2۔ اللہ ہی بیٹے، بیٹیاں دیتا ہے۔ (الشوری :49) 3۔ اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ (الانعام :102) 4۔ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ (الزمر :62) آل عمران
6 آل عمران
7 فہم القرآن : ربط کلام : قرآن مجید کتاب مبین ہے جو پہلی کتابوں کا مصدق ہے۔ اس کے احکامات محکم ہیں جن میں کوئی ٹیڑھ اور زیغ نہیں۔ زیغ اور ٹیڑھ تو منکرین کے دلوں میں ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے۔ اللہ ان کی حرکات و سکنات اور اعمال و افعال سے واقف ہے وہ دلوں کے اسرار و رموز اور کجی و زیغ بھی جانتا ہے۔ قرآن مجید کو سمجھنے اور اُمّت کے اختلافات کو جاننے کے لیے یہ آیت بنیادی اور کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں یہ وضاحت پائی جاتی ہے کہ قرآن مجید کے احکامات اور ارشادات دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ احکامات ہیں جو الفاظ و معانی اور مفہوم کے اعتبار سے دو اور دو‘ چار کی طرح واضح ہیں یہی قرآن کی اساس ہیں اور یہ فہم قرآن کے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب کہ دوسری آیات میں دونوں قسم کے مفہوم تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ جن کے دل حق سے اجتناب کرنے والے اور فتنہ جو ہیں وہ محکم اور بیّن آیات کو چھوڑ کر دوسری آیات کو رہنما اور مقدم سمجھتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے اپنی انفرادیت، برتری اور الگ عقیدے کی بنیاد رکھیں۔ یہ لوگ متشابہ آیات کا اپنی مرضی سے معنیٰ متعین کرتے ہیں۔ (عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ تَلَا رَسُوْلُ اللّٰہِ () ھٰذِہِ الْآیَۃَ ﴿ھُوَ الَّذِیْ أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ أُمُّ الْکِتٰبِ وَأُخَرُ مُتَشٰبِھٰتٌ فَأَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآءَ تَأْوِیْلِہٖ وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیْلَہٗٓ إِلَّا اللّٰہُ م وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ لا کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا یَذَّکَّرُ إِلَّآ أُولُوا الْأَلْبَابِ﴾ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () فَإِذَا رَأَیْتِ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ فَأُولٰئِکَ الَّذِیْنَ سَمَّی اللّٰہُ فَاحْذَرُوْھُمْ) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں رسول کریم (ﷺ) نے ﴿ھُوَ الَّذِیْ أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ۔۔ آیت پڑھنے کے بعد ارشاد فرمایا : عائشہ! جب تو متشابہات کے پیچھے لگنے والے لوگوں کو دیکھے تو سمجھ لے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نام لے کر بتایا ہے کہ ان سے بچتے رہنا۔“ متشابہات کا مفہوم اور حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ یہاں اہل علم کے دونظریے پائے جاتے ہیں۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ ﴿إِلَّا اللّٰہُ﴾ پر وقف کرنا چاہیے اور اس کا معنی ہے کہ ان آیات کا مفہوم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ دوسرے علماء کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ﴿إِلَّا اللّٰہُ﴾ کو ﴿ وَالرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ﴾ کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے۔ جس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تو جانتا ہی ہے مگر خداد اد صلاحیت سے کچھ اہل علم بھی ان کا مفہوم جانتے ہیں جو خداداد علم وبصیرت کی بنیاد پر ان آیات کا صحیح مفہوم متعین کرسکتے ہیں۔ قرآن مجید لوگوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے اور اس میں مقطعات کے سوا کوئی ایسی آیت نہیں جس کا معنی پوری امت سے مخفی رکھا گیا ہو۔ باوجود اس کے کہ اہل علم ان آیات کا مفہوم جانتے ہیں مگر اپنے متعین کردہ مفہوم پر اصرار کرنے کی بجائے عجز و انکساری کا مظاہرہ اور حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ ہمارے رب کی طرف سے ہی نازل ہوا ہے۔ ایسی منصفانہ بات کہنا اور محکم آیات کو مقدم سمجھنا، فتنہ جوئی اور غلط تاویل سے بچناہی صاحب دانش لوگوں کا کردار ہوا کرتا ہے۔ قرآن ہی پہلی کتاب عظیم ہے جس نے دنیا کے اہل علم کو یہ اصول دیا کہ کسی قانون اور دستور میں اختلاف ہو تو اس کے بنیادی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی باقی شقوں کی تشریح کرنا چاہیے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہی قرآن مجید نازل فرمایا۔ 2۔ قرآن مجید میں واضح اور متشابہ دونوں طرح کی آیات ہیں۔ 3۔ گمراہ لوگ فتنہ پروری کے لیے متشابہات کو مقدم جانتے ہیں۔ 4۔ پختہ علم، نیک اور سمجھ دار علماء فتنہ پروری اور قرآن مجید کی غلط تاویل سے پناہ مانگتے ہیں۔ تفسیربالقرآن : نبی (ﷺ) کی ذات کے متعلق محکم آیات : 1۔ رسول انسان (بشر) ہوتے ہیں۔ (ابراہیم :11) 2۔ رسول اللہ (ﷺ) بشر اور عبد ہیں۔ (الکہف :110) 3۔ رسول اللہ (ﷺ) غیب دان نہیں ہیں۔ (الانعام :50) 4۔ نبی مختار کل نہیں ہوتا۔ (القصص :56) 5۔ رسول محترم اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں تھے۔ (الجن :21) آل عمران
8 فہم القرآن : (آیت 8 سے 9) ربط کلام : حقیقت جاننے کے باوجود ٹیڑھا پن اور کج روی اختیار کرنا عقل مندی نہیں۔ عقل مندی تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی طلب اور کج روی سے دوری اختیار کی جائے۔ اس سے پہلے قرآن فہمی کے بارے میں کج بحث، فتنہ جو اور گمراہ لوگوں کا ذکر کرنے کے بعد علم میں یدِطولیٰ رکھنے والے علماء کی مثبت سوچ، عاجزی اور اعتراف حقیقت کے اظہار کا ذکر ہوا ہے۔ ایسے علماء کی یہ بھی خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنی بصیرت پر ناز‘ موقف پر فخر اور علم پر اترانے کے بجائے اپنے رب سے آرزوئیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت عطا کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی اور گمراہی سے بچائے رکھناکیونکہ کتنے ہی علم والے ہیں جن کا علم ان کی گمراہی کا سبب اور ان کی تحقیق ان کے لیے حجاب بن گئی اور وہ گمراہی کے سرغنہ ثابت ہوئے۔ اللہ! ہماری تیرے حضور یہ فریاد ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنی رحمت سے نوازتے رہنا یقیناتوہی عطا کرنے والا ہے۔ اے ہمارے رب! یہاں تو لوگ حق پر اکٹھے نہیں ہوئے لیکن قیامت کے دن لوگوں کو تواکٹھا کرنے والا ہے جس کے قائم ہونے میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا۔ الٰہی! اس دن بھی ہمیں اپنی رحمتوں سے ہمکنار اور اپنی عطاؤں سے سرفراز فرمانا، بے شک تو کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ (عَنْ أَنَسٍ (رض) قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () یُکْثِرُ أَنْ یَّقُوْلَ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ فَقُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! اٰمَنَّا بِکَ وَبِمَا جِئْتَ بِہٖ فَھَلْ تَخَافُ عَلَیْنَا قَالَ نَعَمْ إِنَّ الْقُلُوْبَ بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللّٰہِ یُقَلِّبُھَا کَیْفَ یَشَآءُ) [ رواہ الترمذی : کتاب القدر، باب ماجاء أن القلوب ...] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں رسول کریم (ﷺ) اکثر دعا کرتے۔ اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھنا۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول! ہم آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لائے۔ کیا آپ ہمارے بارے میں خطرہ محسوس کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں! دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ اللہ انہیں جیسے چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔“ آل عمران
9 آل عمران
10 فہم القرآن : (آیت 10 سے 13) ربط کلام : جس مال اور افرادی قوت کی بنیاد پر اہل مکہ حقائق کا انکار کرتے ہیں آل فرعون بھی اسی بنا پر گمراہ ہوئے اور تباہی کے گھاٹ اترے تھے۔ اہل مکہ بھی عنقریب دنیا میں بدر کے معرکہ میں اور آخرت میں جہنم میں داخل ہونے کی بنا پر کافر ذلیل ہوں گے۔ سورۂ آل عمران کا آغازبڑے جاہ و جلال سے ہوا۔ جس میں واشگاف لہجے میں واضح کیا گیا ہے کہ ہمیشہ قائم و دائم رہنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ اس نے لوگوں کی رہنمائی کے لیے اپنی آخری کتاب نازل فرمائی‘ منکروں کے لیے اس کا عذاب بڑا سخت ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے زبردست انتقام لینے والا ہے۔ وہ سب کو اپنے حضور اکٹھا کرے گا اور یہ وعدہ اٹل ہے۔ اے کفر کرنے والو! جب تمہیں جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا تو یہ مال و منال‘ اولاد و احفاد اور دنیا کی جاہ وحشمت تمہارے کچھ کام نہیں آئے گی۔ تمہارا انجام بھی دنیا اور آخرت میں آل فرعون کی طرح ہونے والا ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تکذیب کی اس کو اس کے جرائم کی وجہ سے شدید عذاب میں مبتلا کیا گیا۔ فرعون کا غرور، اقتدار، اختیار اور مال واسباب فرعون کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نہ بچا سکا۔ اے رسول معظم! دوٹوک اور بلا جھجک اعلان فرمائیں کہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے منکروں کو دنیا میں سرنگوں اور آخرت میں جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ غزوۂ بدرکے بعد رسول اللہ (ﷺ) نے اہل یہود کو مخاطب کرتے ہوئے سمجھایا کہ تمہیں اسلام کی مخالفت اور کفر کی حمایت چھوڑ کر ہمارے ساتھ شامل ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے بڑی رعونت کے ساتھ کہا کہ بدر میں تمہارا مقابلہ اپنے ہم وطنوں اور ناتجربہ کار لوگوں سے ہوا ہے۔ جب ہمارے ساتھ تمہاری پنجہ آزمائی ہوگی تو تمہارا جہاد کا شوق پورا کردیا جائے گا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہو دونصارٰی اور اہل کفر غزوۂ بدر سے عبرت حاصل کرتے کیونکہ دنیا کی تاریخ میں یہ ایسا معرکہ تھا کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کے راستے میں کٹ مرنے کا جذبہ اور دوسری طرف خدا کے نافرمان تھے۔ جن کے درمیان طاقت کے عدم توازن کا یہ عالم تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت بے خانماں، افرادی قوت کے اعتبار سے تھوڑے اور اسباب کے حوالے سے نہایت ہی کمزور اپنے سے کئی گناطاقت ور دشمن کے خلاف برسر پیکار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے کفار کی نظروں میں مسلمانوں کو دوگنا کردکھایا اور ملائکہ کے ساتھ اپنے بندوں کی نصرت وحمایت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے جتنی چاہے جس کی چاہے مدد کرتا ہے۔ اس معرکۂ حق وباطل کو یوم الفرقان کے لقب سے ملقب فرمایا اور دنیا والوں کے لیے اس طرح عبرت قرار دیا جس طرح فرعون اور اس سے پہلے لوگ عبرت کا سامان بنائے گئے۔ اسے فرقان اس لیے بھی کہا گیا کہ جنگ بدر کے بعد جب رسول اللہ (ﷺ) مدینہ پہنچ گئے تو آپ نے صحابہ کرام (رض) سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا یارسول اللہ! یہ لوگ چچیرے بھائی اور برادری‘ قبیلے کے لوگ ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لیں اس طرح جو کچھ ہم لیں گے وہ کفار کے خلاف ہماری قوت کا ذریعہ ہوگا اور یہ بھی متوقع ہے کہ اللہ انہیں ہدایت دے دے اور وہ ہمارے دست و بازو بن جائیں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا ابن خطاب! تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا واللہ میری وہ رائے نہیں ہے جو ابوبکر کی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ فلاں کو (جو حضرت عمر (رض) کا قریبی تھا) میرے حوالے کریں میں اس کی گردن ماردوں۔ عقیل بن ابی طالب کو علی (رض) کے حوالے کریں وہ اس کی گردن ماریں اور فلاں کو جو حمزہ (رض) کا بھائی ہے حمزہ (رض) کے حوالے کریں وہ اس کی گردن ماردیں۔ تاکہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لیے ذرّہ برابر بھی نرم گوشہ نہیں ہے اور یہ لوگ مشرکین کے ائمہ اور اکابر ہیں۔ حضرت عمر (رض) کا بیان ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ابوبکر (رض) کی بات پسند فرمائی اور میری بات پسند نہ کی گئی، چنانچہ قیدیوں سے فدیہ لینا طے کرلیا اس کے بعد جب اگلا دن آیا تو میں صبح ہی صبح رسول اللہ (ﷺ) اور ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا وہ دونوں رورہے تھے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! بتائیں آپ اور آپ کا ساتھی کیوں رو رہے ہیں؟ اگر مجھے رونے کی وجہ ہوئی تو روؤں گا اور اگر نہ معلوم ہوسکی تو آپ حضرات کے رونے کی وجہ سے روؤں گا۔ رسول اللہ (ﷺ ) نے فرمایا فدیہ قبول کرنے کی وجہ سے تمہارے اصحاب پر جو چیز پیش کی گئی ہے اسی وجہ سے رو رہا ہوں۔ آپ نے ایک قریبی درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مجھ پر اللہ کا عذاب اس درخت سے بھی زیادہ قریب کردیا گیا۔ [ الرحیق المختوم، بدرکے قیدیوں کا قضیہ] مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کفار کو ان کے مال اور اولاد کچھ فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ 2۔ کفار جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون اور ان سے پہلے مجرموں کی سخت گرفت کی۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔ 5۔ عنقریب کفار مغلوب اور جہنم میں اکٹھے کیے جائیں گے۔ 6۔ جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے۔ 7۔ معرکۂ بدر بصیرت والوں کے لیے قدرت کا بہت بڑا نشان ہے۔ 8۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے جس کی چاہے اور جب چاہے مدد فرماتا ہے۔ تفسیربالقرآن : قوموں کی تباہی کے اسباب : 1۔ قوم نوح کی ہلاکت کا سبب بتوں کی پرستش تھی۔ (نوح :23) 2۔ قوم لوط کی تباہی کا سبب اغلام بازی کرنا تھی۔ (الاعراف :81) 3۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا سبب ماپ تول میں کمی تھی۔ (ھود : 84، 85) 4۔ قوم عاد کی تباہی کا سبب رسولوں کی نافرمانی تھی۔ (ھود :59) 5۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے قوم! یہ اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے، اسکو چھوڑ دو تاکہ اللہ کی زمین میں چرے اور اس کو کسی طرح تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔ مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو صالح نے کہا تین دن فائدہ اٹھا لو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔ (ھود : 64، 65) 6۔ فرعونیوں نے اپنے پروردگار کے پیغمبر کی نافرمانی کی تو اللہ نے بھی ان کو سخت پکڑا۔ (الحاقۃ:10) آل عمران
11 آل عمران
12 آل عمران
13 آل عمران
14 فہم القرآن : ربط کلام : حق سے انحراف اور قوموں کی تباہی میں دنیا پرستی کا عنصر ہمیشہ غالب رہا ہے اس لیے اس کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ ہدایت کے راستے میں جو چیزیں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہیں۔ ان میں سر فہرست عورت، بیٹے، سونا، چاندی، سواری، مال، مویشی اور کھیتی باڑی ہے۔ ہر انسان ان میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرورت سے زیادہ محبت کرتا ہے اور یہی چیز راہ ہدایت میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ خواہشات کے میدان میں عام طور پرسب سے پہلی خواہش عورت کے ساتھ مرد کی وابستگی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بطور آزمائش آدمی کے دل میں ان چیزوں کی محبت اور رغبت پیدا فرمائی ہے تاکہ دنیا کا نظام چلتا رہے۔ اگر عورت کے ساتھ مرد کی رغبت اور محبت نہ ہو تو نسب کا سلسلہ آگے نہیں چل سکتا۔ اسی تعلق کی خاطر اور ضرورت سے آدمی بیوی کو کھلاتا پلاتا اور اس کی آسائش وآرام کا خیال رکھتا ہے۔ اگر اولاد نہ ہو تو آدمی کی دنیا سے رغبت کم ہوجاتی ہے پھر اولاد میں بیٹوں کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ بیٹا ماں باپ کا سہارا اور ان کے سلسلۂ نسب اور جائیداد کا وارث ہوتا ہے۔ بیٹی کی پیدائش پر باپ اپنی ذمہ داریوں میں اضافہ محسوس کرتا ہے۔ جب کہ بیٹے کو اپنا معاون اور مستقبل کا سہارا سمجھتا ہے۔ طبع انسانی کا خیال رکھتے ہوئے بیٹوں کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ بیوی اور بیٹوں کے بعد دنیا کا نظام چلانے اور سہولیات حاصل کرنے کے لیے سونا اور چاندی ہمیشہ سے انسان کے لیے پر کشش سرمایۂ حیات رہا ہے۔ سونے اور چاندی کی بدولت ہی دنیا میں لین دین اور تجارت ہوا کرتی ہے۔ کاروبار کے بعد اچھی سواری آدمی کے لیے آرام کے ساتھ ساتھ باعث عزت ہوتی ہے۔ ہر دور میں گھوڑے کی سواری آدمی کے لیے شان وشوکت کا باعث سمجھی گئی ہے اور آج بھی موٹر کاروں اور مشینری کی پاور کا اندازہ کرنے کے لیے گھوڑے کی طاقت [HORSE POWER] کو معیار بنایا گیا ہے۔ گھڑسواری ہمیشہ لوگوں کے لیے باعث فخر و انبساط رہی ہے۔ یہ جانور بہترین سواریوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان چیزوں کے بعد کھیتی باڑی اور چوپایوں کی باری آتی ہے جو انسانی بقا کے لیے غلہ، رہائش، دودھ، مکھن، گوشت اور خوراک کا کام دیتے ہیں۔ دیہاتی زندگی اور زمیندار کی یہی چیزیں متاع حیات ہیں۔ اس لحاظ سے انسانی زندگی کا دارو مدار عورت، اولاد، سونا، چاندی، رہائش اور خوراک پر ہے باقی تمام نعمتیں انہی کے متعلّقات اور لوازمات ہیں۔ ان نعمتوں کی افادیت اپنی جگہ مسلّم اور انہیں دنیا کی زندگی کے بہترین اسباب اور زینت قرار دیا گیا ہے۔ لیکن آدمی کی دانشمندی یہ ہے کہ وہ عارضی زندگی اور اس کے اسباب پر نگاہ جمانے اور اکتفا کرنے کی بجائے حیات جاوداں‘ لازوال نعمتوں اور ان کے خالق و مالک کی طرف توجہ رکھے اور دنیا کے ذریعے آخرت کے انعامات حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے جو رب کریم کے پاس صاحب ایمان وکردار لوگوں کے لیے محفوظ ہیں۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () قَالَ لَوْ أَنَّ لِإِبْنِ آدَمَ وَادِیًا مِّنْ ذَھَبٍ أَحَبَّ أَنْ یَکُوْنَ لَہٗ وَادِیَانِ وَلَنْ یَمْلَأَ فَاہُ إِلَّا التُّرَابُ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب مایتقی من فتنۃ المال] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اگر آدم کے بیٹے کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں۔ اس کے منہ کو مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ اللہ جس پر چاہتا ہے توجہ فرماتا ہے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ خَطَّ النَّبِیُّ ( ) مُرَبَّعًا وَخَطَّ خَطًّا فِی الْوَسْطِ خَارِجًا مِّنْہُ وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا إِلٰی ھٰذَا الَّذِیْ فِی الْوَسْطِ مِنْ جَانِبِہِ الَّذِیْ فِی الْوَسْطِ وَقَالَ ھٰذَا الْإِنْسَانُ وَھٰذَا أَجَلُہٗ مُحِیْطٌ بِہٖ أَوْ قَدْ أَحَاطَ بِہٖ وَھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ خَارِجٌ أَمَلُہٗ وَھٰذِہِ الْخُطَطُ الصِّغَارُ الْأَعْرَاضُ فَإِنْ أَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَشَہٗ ھٰذَا وَإِنْ أَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَشَہٗ ھٰذَا) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب فی الأمل وطولہ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی (ﷺ) نے ایک مربع نمالکیر کھینچی اور اس کے درمیان سے باہر نکلی ہوئی لکیر لگائی پھر اس درمیانی لکیر کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت اسے گھیرے ہوئے ہے اور جو اس خانے سے باہر لکیر ہے یہ اس کی خواہشات ہیں اور یہ چھوٹی لکیریں آفات ہیں اگر ایک سے بچتا ہے تو دوسری اسے دبوچ لیتی ہے۔ اگر اس سے بچتا ہے تو اور کوئی اسے آ لیتی ہے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے عورتوں، بیٹوں، سونا، چاندی، گھوڑوں، چوپایوں اور کھیتیوں کو لوگوں کے لیے خوش نما بنایا ہے۔ 2۔ یہ دنیا کی زندگی کے اسباب ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے پاس اس سے بہتر مقام اور انعام ہے۔ آل عمران
15 فہم القرآن : (آیت 15 سے 17) ربط کلام : دنیا پرستی کے بجائے آدمی کی نظر آخرت کی دائمی نعمتوں پر ہونی چاہیے ایسا وہی لوگ کرتے ہیں جن میں یہ اوصاف پائے جاتے ہیں۔ اور وہ اپنے رب سے معافی مانگتے ہیں۔ میرے محبوب فرمائیں کہ اے دنیا دارو! آؤ میں تمہیں ان نعمتوں سے بڑھ کر نعمتیں بتاتا ہوں۔ جو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے پرہیزگار بندوں کے لیے جنت میں تیار فرمائی ہیں۔ ایسی جنت جس کے نیچے نہریں اور آبشاریں جاری ہیں۔ اس میں متقین کے لیے پارسا و باوفا اور حسن وجمال کی پیکر بیویاں ہوں گی۔ اس جنت کے وارث ایسے پرہیزگار ہوں گے جو نیکی اور پارسائی کے باوجود اپنے رب سے اپنے گناہوں اور خطاؤں کی معافی طلب کرتے اور ہر دم جہنم کی ہولناکیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ ان کے اوصاف یہ بھی ہیں کہ وہ نیک کاموں پر مستقل مزاج، مصائب ومشکلات پر حوصلہ مند، سچ کے داعی‘ حق پر قائم رہنے والے، ہر حال میں اپنے رب کے فرماں بردار، عُسرو یسر میں خرچ کرنے والے اور سحری کے وقت توبہ و استغفار سے ماضی کی کوتاہیوں پر معذرت اور اپنے آپ کا محاسبہ کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور معافی کے خواستگار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ہر قسم کے اعمال پر نگاہ رکھے ہوئے ہے کہ کون دنیا کی آسائشوں کو مقدم جاننے والے اور کون اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دینے والے ہیں۔ ایسے کردار کے حامل لوگ جنت کے وارث ہوں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ اپنی رضا مندی کا اظہار فرمائیں گے۔ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَقُوْلُ لِأَھْلِ الْجَنَّۃِ یَا أَھْلَ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُوْنَ لَبَّیْکَ رَبَّنَا وَسَعْدَیْکَ فَیَقُوْلُ ھَلْ رَضِیْتُمْ فَیَقُوْلُوْنَ وَمَالَنَا لَانَرْضٰی وَقَدْ أُعْطِیْنَا مَالَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ فَیَقُوْلُ أَنَآ أُعْطِیْکُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ قَالُوْا یَارَبِّ وَأَیُّ شَیْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِکَ فَیَقُوْلُ أُحِلُّ عَلَیْکُمْ رِضْوَانِیْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَیْکُمْ بَعْدَہٗ أَبَدًا) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار] ” حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اہل جنت کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار فرمائیں گے اے جنت میں رہنے والو! جنتی کہیں گے ہمارے رب! ہم حاضر ہیں آپ کے حضور پیش ہیں۔ ہر قسم کی بھلائی آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا تم خوش ہو؟ وہ عرض کریں گے : اے ہمارے رب! بھلا ہم کیوں نہ خوش ہوں ؟ تو نے تو ہمیں ایسی نعمتیں عطاکی ہیں جو آپ نے اپنی مخلوق میں کسی کو عطا نہیں کیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں تمہیں اس سے بھی بہتر نعمت عطانہ کروں؟ وہ عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار! اس سے بڑھ کر اور نعمت کیا ہوسکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں تم پر ہمیشہ کے لیے خوش ہوں اب کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔“ مسائل : 1۔ جنتیوں پر اللہ ہمیشہ راضی رہے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نیکو کار اور مجرموں کو دیکھ رہا ہے۔ 3۔ نیکو کار ہر دم اپنے گناہوں کی معافی اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگتے ہیں۔ 4۔ اللہ کے بندے صابر، سچے، تابعدار، مخیر اور سحری کے وقت استغفار کرنے والے ہوتے ہیں۔ تفسیربالقرآن : مومنین کی صفات : 1۔ زمین پر اللہ کا نظام رائج کرنے والے ہیں۔ (الحج :41) 2۔ اللہ کا ڈر رکھنے والے ہوتے ہیں۔ ( المومنون :57) 3۔ زمین پر امن کے داعی ہیں۔ ( القصص :83) 4۔ کروٹ کروٹ اللہ کو پکارتے ہیں۔ (السجدۃ:16) 5۔ اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے ہوتے ہیں۔ (الاحزاب :35) 6۔ صبح و شام معافی مانگنے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں۔ (آل عمران :17) آل عمران
16 آل عمران
17 آل عمران
18 فہم القرآن : ربط کلام : اوصاف حمیدہ کا تقاضا اور خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی توحید اور انصاف پر قائم رہنا ضروری ہے۔ سورۃ کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی توحید سے ہوئی تھی اور اب پھر اسی مضمون کا اعادہ شہادت کے الفاظ میں ہورہا ہے۔ سب سے پہلے رب ذو الجلال اپنی ذات، صفات اور وحدانیت پر خود گواہی دے رہا ہے کہ میرے بغیر کائنات کا کوئی خالق ومالک نہیں اور میں ہی معبودِ بر حق اور واحد ہوں اس کے بعد ملائکہ کی شہادت ڈالی جارہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور بادشاہت کے عینی گواہ ہیں۔ ان کے بعد اہل علم کی گواہی پیش کی جارہی ہے جو انصاف کی گواہی دینے والے اور ہر حال میں اس پر قائم رہنے والے ہیں۔ یہاں ” اُولُوا الْعِلْمِ“ سے مراد سب سے پہلے انبیاء کرام ہیں اور ان کے بعد درجہ بدرجہ ان کے اصحاب، شہداء اور مومن ہیں۔ اس فرمان سے یہ بات عیاں ہورہی ہے کہ حقیقی اہل علم اور علمائے حق وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید کا پرچار کرنے والے اور اس پر قائم ہیں۔ کائنات میں توحید سے بڑھ کر کوئی انصاف کی بات نہیں ہوسکتی جسے قسط کہا گیا ہے۔ قسط کا معنی ہے ” ہر چیز اپنے اپنے دائرۂ کار میں ٹھیک ٹھیک کام کرتی رہے“ جسے اللہ تعالیٰ نے سورۃ الرحمن کی ابتدا میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ شمس و قمر، نجم وشجر، زمین و آسمان اور ہوا و فضا میں جو کچھ بھی ہے وہ اصول قسط کے تحت رواں دواں اور قائم دائم ہے۔ یہ سب پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہی نظام کائنات پر غالب‘ مالک اور تدبیر وحکمت کے ساتھ اس کا انتظام وانصرام کرنے والا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ اپنی وحدانیت پر خود گواہی دیتا ہے۔ 2۔ ملائکہ اور اہل علم اس کی توحید پر گواہ ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الہٰ نہیں اور وہی غالب‘ حکمت والا ہے۔ تفسیربالقرآن : اللہ تعالیٰ کی شہادت : 1۔ اللہ تعالیٰ کی توحید پر شہادت (آل عمران :18) 2۔ رسول کی وحی پر شہادت۔ (النساء :166) 3۔ حضرت محمد (ﷺ) کی رسالت پر شہادت۔ (النساء :79) آل عمران
19 فہم القرآن : (آیت 19 سے 20) ربط کلام : توحید اور اسلام دونوں مترادف ہیں۔ توحید اور اسلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کردے۔ کائنات کا پورا نظام مالک واحد کی ذات اور اس کے حکم کے تابع اور عدل وقسط کے اصول پر چل رہا ہے۔ یہی توحید کی روح اور اس کا تقاضا ہے کہ بنی نوع انسان کے انفرادی اور اجتماعی معاملات بھی تقاضائے توحید کے مطابق چلنے چاہییں۔ توحید ہی اسلام کی بنیاد ہے اور یہی ایسا دین ہے جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ، معتبر اور مقبول ہے۔ جس کے بنیادی ارکان اور اصول ہمیشہ سے ایک رہے اور تمام انبیاء کرام اسی اسلام کی دعوت دیتے رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو ایک جماعت قرار دیتے ہوئے فرمایا : ﴿اِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ﴾ [ الانبیاء :92] ” یقینًا تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو۔“ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر جناب خاتم الانبیاء تک انبیاء کی دعوت میں کبھی اختلاف نہیں رہا اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔ ہر نبی اپنے اپنے وقت میں لوگوں کے پاس دین اسلام لایا۔ لوگوں نے حقیقت معلوم ہوجانے کے باوجود اس دین کو ماننے سے انکار کیا اور انبیاء کرام کے جانے کے بعد دین کے ماننے والوں نے دین کے حصّے بخرے کردیے۔ یہودی 71 فرقوں میں تبدیل ہوئے عیسائیوں نے 72 گروہ بنا لیے۔ رسول اللہ (ﷺ) کا فرمان ہے میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ سوائے ایک کے باقی سب کے سب جہنمی ہوں گے۔[ رواہ الترمذی : کتاب الإیمان، باب ماجاء فی افتراق ہذہ الأمۃ] حضرت محمد کریم (ﷺ) اور دین اسلام کے ساتھ یہود و نصارٰی اور کفار و مشرکین کے اختلاف کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں دین سمجھنے میں کوئی غلط فہمی یا دقّت پیش آئی۔ قرآن مجید دوٹوک انداز میں اختلافات کا سبب بیان کرتا ہے کہ دین اسلام کا انکار کرنے والوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا۔ حالانکہ وہ آپ کی ذات اور دین کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔ مگر ذاتی برتری، معاشرتی رجحانات، جماعتی تعصبات اور مالی مفادات کی بنیاد پر انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا کیونکہ دین اللہ تعالیٰ نے ہی نازل فرمایا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ہی ان سے حساب چکائیں گے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ اے رسول (ﷺ) ! اگر حقیقت عیاں ہوجانے کے باوجود یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں تو تم ان سے کہہ دو، مانو یا نہ مانو میں نے تو اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان کرلیا ہے۔ اس سے مراد کلی تابعداری ہے کیونکہ چہرہ ہی انسان کے جذبات اور اس کے رجحانات کا ترجمان ہوتا ہے۔ ہر زبان میں چہرے کی سپردگی کو پورے وجود کی سپرد داری سمجھا جاتا ہے لہٰذا رسول اللہ (ﷺ) کو حکم ہوتا ہے کہ آپ اختلافات، حالات اور ان کے تعصبات سے بے پروا ہو کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی غلامی اور دین کی سر بلندی کے لیے وقف کردیں۔ تمہارے پیروکاروں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی اہل کتاب‘ کفار‘ اَن پڑھ اور پڑھے لکھے لوگوں سے یہ پوچھیے کہ کیا تم بھی اپنے آپ کو زمین و آسمان کے خالق ومالک کے تابع فرمان کرنے کے لیے تیار ہو؟ اگر تم ایسا کرو گے تو ہدایت پاجاؤ گے کیونکہ ہدایت کا دارو مدار اور معیار صرف اسلام ہے۔ اگر یہ لوگ انکار کریں تو تمہارا کام سمجھانا ہے منوانا نہیں، پہنچانا ہے جھگڑنا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں اور نافرمانوں کو خوب دیکھ رہا ہے۔ اس سے ان لوگوں کی خود بخود نفی ہوجاتی ہے جو اسلامی طریقہ سے ہٹ کر دوسرے کاموں میں نیکی اور خیر سمجھتے ہیں۔ حضرت جعفر (رض) کا نجاشی کے سامنے اسلامی تعلیمات کے بارے میں خطاب : مکہ کے مہاجر مسلمانوں کے ترجمان حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) نے کہا ” اے بادشاہ! ہم ایسی قوم تھے جو جاہلیت میں مبتلا تھی۔ ہم بت پوجتے تھے مردار کھاتے تھے‘ بدکاریاں کرتے تھے‘ قرابتداروں سے تعلق توڑتے تھے‘ ہمسایوں سے بدسلوکی کرتے تھے اور ہم میں سے طاقتور کمزور کو کھا رہا تھا ہم اسی حالت میں تھے کہ اللہ نے ہم میں سے ایک رسول بھیجا۔ اس کی عالی نسبی‘ سچائی‘ امانت داری‘ پاکدامنی ہمیں پہلے سے معلوم تھی۔ اس نے ہمیں اللہ کی طرف بلایا اور سمجھایا کہ ہم صرف ایک اللہ کو مانیں اور اسی کی عبادت کریں اور اس کے سوا جن پتھروں اور بتوں کو ہم پوجتے تھے انہیں چھوڑ دیں۔ اس نے ہمیں سچ بولنے‘ امانت ادا کرنے‘ قرابت جوڑنے‘ پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے اور حرام کاری و خونریزی سے باز رہنے کا حکم دیا۔ اور فواحش میں ملوث ہونے‘ جھوٹ بولنے‘ یتیم کا مال کھانے اور پاکدامن عورتوں پر جھوٹی تہمت لگانے سے منع کیا۔ اس نے ہمیں یہ بھی حکم دیا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اس نے ہمیں نماز‘ روزہ اور زکوٰۃ کا حکم دیا۔“ اسی طرح حضرت جعفر (رض) نے اسلام کے کام گنوانے کے بعد فرمایا : ” ہم نے اس پیغمبر کو سچا مانا‘ اس پر ایمان لائے اور اس کے لائے ہوئے دین میں اس کی پیروی کی چنانچہ ہم نے صرف اللہ کی عبادت کی‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا اور جن باتوں کو اس پیغمبر (ﷺ) نے حرام بتایا انہیں حرام مانا‘ اور جن کو حلال بتایا انہیں حلال جانا اس پر ہماری قوم ہم سے بگڑ گئی اس نے ہم پر ظلم و ستم کیا اور ہمیں ہمارے دین سے پھیرنے کے لیے فتنے اور سزاؤں سے دو چار کیا۔ تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر بت پرستی کی طرف پلٹ جائیں اور جن گندی چیزوں کو حرام سمجھتے تھے انہیں پھر حلال سمجھنے لگیں۔ جب انہوں نے ہم پر بہت ظلم و جبر کیا‘ ہمارے لیے زمین تنگ کردی۔ ہمارے اور ہمارے دین کے درمیان رکاوٹ بن کر کھڑے ہوگئے تو ہم نے آپ کے ملک کی راہ لی اور دوسروں پر آپ کو ترجیح دیتے ہوئے آپ کی پناہ میں رہنا پسند کیا اور یہ امید کی کہ اے بادشاہ! آپ کی طرف سے ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ [ سیرت ابن ہشام] مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی مقبول ہے۔ 2۔ اہل کتاب محض تعصب کی بنیاد پر اسلام کی مخالفت کرتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ 4۔ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنے والا ہدایت پائے گا۔ 5۔ رسول اللہ (ﷺ) کا کام تبلیغ کرنا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ تفسیربالقرآن : تابعداری کا حکم : 1۔ نبی کریم (ﷺ) کو مطیع ہونے کا حکم۔ (الانعام :14) 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو مطیع ہونے کا حکم۔ (البقرۃ:131) 3۔ اولاد ابراہیم (علیہ السلام) کو تابعدار ہونے کا حکم۔ (البقرۃ: 132، 133) 4۔ سب کو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے کا حکم۔ (الحج :34) 5۔ اسلام میں ہی پوری کی پوری ہدایت مضمر ہے۔ (آل عمران :20) آل عمران
20 آل عمران
21 فہم القرآن : (آیت 21 سے 22) ربط کلام : اسلام چھوڑ کر جس نے کفر کا راستہ اختیارکیا، انبیاء اور نیک لوگوں کو قتل کیا اس کے لیے سزا عذاب الیم ہے۔ اہل کتاب اور کفار کو باربار اسلام کی دعوت دی گئی۔ لیکن انہوں نے تسلیم کرنے کے بجائے انکار اور مخالفت کا راستہ اپنایا بالخصوص یہودیوں کی یہ تاریخ ہے کہ جب بھی ان کے پاس کوئی نبی اور مصلح آیا تو انہوں نے سمع واطاعت کی بجائے ان کے خلاف سازشوں اور تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ علامہ ابن جریر نے کئی حوالوں کے ساتھ تحریر فرمایا ہے کہ یہودی اس قدر سازشی اور تخریب کارتھے کہ انہوں نے ایک ہی دن میں صبح کے وقت 43 انبیاء کرام (علیہ السلام) اور دن کے پچھلے پہر 170 مذہبی رہنماؤں کو شہید کردیا۔ تاریخ کے اس المناک سانحہ کی نشاندہی کرتے ہوئے رسول اللہ (ﷺ) اور آپ کے رفقاء گرامی کو چوکس کیا جارہا ہے کہ یہودیوں کی ملمع سازی اور چکنی چپڑی باتوں سے بچتے رہیے۔ یہ ایسی قوم ہے کہ جن کی تاریخ گھناؤنے جرائم سے بھری ہوئی ہے۔ مدینے کے یہودیوں نے بھی آپ کے خلاف بارہا سازش کی کہ آپ کو شہید کردیا جائے۔ ایک دفعہ آپ ایک مکان کے صحن میں تشریف فرما تھے یہودیوں نے پروگرام بنایا کہ کچھ لوگ آپ کو گفتگو میں مصروف رکھیں اور دوسرے آدمی چھت کے اوپر سے آپ پر بھاری پتھر پھینک کر آپ کا خاتمہ کردیں۔ (البدایہ والنہایہ) ابن اسحاق کا بیان ہے کہ ایک بوڑھا یہودی شاش بن قیس ایک بار صحابہ کرام (رض) کی ایک مجلس کے پاس سے گزرا۔ جس میں اوس و خزرج دونوں قبیلوں کے لوگ بیٹھے محبت و الفت کی باتیں کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر کہ ان کے درمیان جاہلیت کی باہمی عداوت و شقاوت کی جگہ اسلام کی الفت و اجتماعیت نے لے لی ہے۔ بوڑھایہودی سخت رنجیدہ ہو کر کہنے لگا۔ بخدا اشراف کے اتحاد کے بعد تو ہمارا یہاں گزر نہیں ہو سکتا۔“ چنانچہ اس نے ایک نوجوان یہودی کو حکم دیا کہ انصار اور مہاجرین کی مجالس میں جائے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر پھر جنگ بعاث اور اس کے واقعات کا ذکر کرے۔ اس سلسلے میں دونوں جانب سے جو اشعار کہے گئے ہیں انہیں سنائے۔ اس یہودی نے ایسا ہی کیا۔ اس کے نتیجے میں اوس و خزرج میں تو تو میں میں شروع ہوگئی۔ لوگ جھگڑنے لگے اور ایک دوسرے پر خنجر اٹھا لیے یہاں تک کہ دونوں قبیلوں کے آدمی ایک دوسرے کے خلاف گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ ایک نے اپنے مد مقابل سے کہا اگر چاہو تو ہم اس جنگ کو پھر جو ان کر کے پلٹا دیں۔ اس پر دونوں فریقوں کو تاؤ آگیا اور بولے چلو ہم تیار ہیں حرہ میں مقابلہ ہوگا۔ اسلحہ۔۔ ! اسلحہ کی آوازیں بلندہوئیں! اور لوگ اسلحہ لے کر حرہ کی طرف نکل پڑے۔ قریب تھا کہ خونریز جنگ ہوجاتی لیکن رسول اللہ (ﷺ) کو بروقت خبر ہوگئی۔ آپ مہاجرصحابہ کو ہمراہ لے کر جھٹ ان کے پاس پہنچے اور فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت ! اللہ سے ڈرو کیا میرے ہوتے ہوئے اور اسلام قبول کرنے کے باوجود آپس میں لڑ رہے ہو؟ سازشوں کا یہ سلسلہ رسول اللہ (ﷺ) کی حیات مبارکہ کے آخری دور تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ ہجرت کے ساتویں سال لبید بن اعصم یہودی نے آپ پر جادو کا ایسا وار کیا کہ آپ کی طبیعت کئی دنوں تک نڈھال اور پریشان رہی۔ گویا اس زمانے میں سب سے بڑے تخریب کار اور تشدد پسند یہودی تھے اور آج بھی بین الاقوامی سازشوں اور تخریب کاریوں کے پیچھے یہودی ہی کار فرما ہیں۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار، انبیاء اور نیک لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ اس قدر ناراض ہوتا ہے کہ انہیں اذیت ناک عذاب کی تنبیہ کرنے کے بجائے خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کے دنیا اور آخرت میں اعمال غارت ہوں گے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () قَالَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ قَتَلَہٗ نَبِیٌّ أَوْ قَتَلَ نَبِیًّا) [ مسند احمد : کتاب مسند المکثرین من الصحابۃ، باب مسند عبدا اللہ بن مسعود] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول کریم (ﷺ) نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب اس آدمی کو ہوگا جسے کسی نبی نے قتل کیا یا اس نے کسی نبی کو قتل کیا۔“ مسائل : 1۔ اللہ کے احکامات کے منکر اور انبیاء و علماء کے قاتل جہنم میں جائیں گے۔ 2۔ دنیاو آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہوں گے اور ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ تفسیربالقرآن : یہودیوں کا گھناؤنا کردار : 1۔ یہودی انبیاء کے قاتل ہیں۔ (آل عمران :112) 2۔ یہودیوں نے انبیاء کی تکذیب 8 کی اور انہیں قتل کیا۔ (المائدۃ:70) 3۔ یہودی مشرک ہیں۔ (التوبۃ:30) 4۔ یہودی سازشی ہیں۔ (آل عمران :54) 5۔ یہودی لعنتی ہیں۔ (المائدۃ:78) 6۔ یہودی جھوٹے اور سودخورہیں۔ (المائدۃ:63) 7۔ یہودی اللہ تعالیٰ کے گستاخ ہیں۔ (المائدۃ:64) آل عمران
22 آل عمران
23 فہم القرآن : (آیت 23 سے 25) ربط کلام : اہل کتاب ہی پہلے کفر کرنے والے ہیں ان کے کفر کی بنیاد ان کا من ساختہ عقیدہ ہے کہ ہم چند دن جہنم میں جائیں گے حالانکہ وہاں ایک کے اعمال دوسرے کے لیے فائدہ مند نہیں ہوں گے۔ اے نبی (ﷺ) ! کیا آپ نے اہل کتاب کے رویّے پر غور نہیں فرمایا کہ جب بھی انہیں تنازعات کا فیصلہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تو بلاوا سنتے ہی ان میں ایک گروہ سراسر منہ پھیر لیتا ہے۔ ایسا اس لیے کرتا ہے کہ ان کا دعو ٰی ہے کہ ہمیں جہنم کی آگ مَس نہیں کرے گی سوائے چند دنوں کے جن میں ہمارے بزرگوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی۔ دراصل ان کا خود ساختہ دین ہی ان کے لیے فریب نفس اور ہدایت کے لیے سدِّراہ بن چکا ہے۔ ان کی خود فریبیوں کا عالم یہ ہے کہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بیٹے قرار دیتے ہیں اور لوگوں میں یہ تاثّر پیدا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ چند دنوں کے علاوہ ہمیں ہرگز سزا نہیں دے گا۔ افسوس ! یہی فریب کاریاں اور خوش فہمیاں آج امّتِ محمدیہ کی غالب اکثریت میں پیدا ہوچکی ہیں۔ کوئی آل رسول کا نام لے کر اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے‘ کسی نے عشق رسول کا نعرہ لگا کر لوگوں کو شریعت سے آزاد کردیا ہے اور کچھ لوگوں نے دنیا میں ہی بہشتی دروازے کھول رکھے ہیں اور ان کے مذہبی پیشوا اور پیر ومرشد برملا اپنے مریدوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ جنت میں جانے کے لیے نیک اعمال کی ثانوی حیثیت ہے۔ بزرگوں کو راضی رکھنا جنت کا سر ٹیفکیٹ حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ اسی بناء پر مرشد پکڑنا اور کسی امام کی تقلید ضروری قرار دی جاتی ہے۔ ان خود ساختہ دعوؤں اور وعدوں کی نفی کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اس وقت ان لوگوں کی کسمپرسی کا کیا عالم ہوگا؟ جب اللہ تعالیٰ محشرکے میدان میں انہیں اپنے حضور جمع کرے گا؟ وہاں نہ تو نسب کام آئے گا نہ بزرگ فائدہ پہنچا سکیں گے اور نہ ہی پر کشش نعرے سودمند ہوں گے۔ وہاں تو مجرموں کو دیکھتے ہی ہر کوئی ان سے دور بھاگ جائے گا۔ یہاں تک کہ جنم دینے والی ماں، پرورش کرنے والا باپ، فدا ہونے والے بھائی، اور جانثار بیوی، بیٹے اور بیٹیاں بھی ساتھ چھوڑ جائیں گی۔ پیر مریدوں سے اور مرید اپنے پیروں سے رفو چکر ہوجائیں گے اور ہر شخص کو اس کے اچھے برے اعمال کی پوری پوری جزاء وسزا دی جائے گی کسی پر ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں ہونے پائے گا۔ مسائل : 1۔ اہل کتاب کو اسلام کی دعوت دی جائے تو ان کی اکثریت اعراض کرتی ہے۔ 2۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ ہم چند دن ہی جہنم میں جائیں گے۔ 3۔ یہودیوں کے خود ساختہ دین نے ہی انہیں گمراہ کردیا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کو جمع کرے گا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو پورا پورا بدلہ دے گا اور کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ تفسیربالقرآن : کتاب اللہ سے اعراض کا نتیجہ : 1۔ قرآن سے اعراض کرنے والے ظالم اور گمراہ ہیں۔ (الکہف :57) 2۔ قرآن سے منہ پھیرنے والوں کی سزا۔ (السجدۃ:22) 3۔ قرآن سے اعراض کرنے والے قیامت کے دن اندھے ہوں گے۔ (طٰہٰ: 124، 125) 4۔ اعراض اور گناہوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ (طٰہٰ: 100، 101) 5۔ قرآن کا انکار برے لوگ ہی کرتے ہیں۔ (البقرۃ:99) 6۔ انہیں دنیا اور آخرت میں دوہرا عذاب ہوگا۔ (بنی اسرائیل :75) آل عمران
24 آل عمران
25 آل عمران
26 فہم القرآن : (آیت 26 سے 27) ربط کلام : اہل کتاب اسلام کی عظمت، غلبہ اور نبی محترم (ﷺ) کی عزت ختم کرنے کے درپے ہیں جب کہ عزت وذلت، اختیارواقتدار، موت وحیات اور ہر چیز اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ یہودی اپنے آپ کو سلسلۂ نبوت کا وارث سمجھتے ہیں جس بنا پر انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو تختہ دار پر لٹکانے کی سازش کی اور اسی بنا پر یہ رسول محترم (ﷺ)، اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کے درپے ہوئے اور رہتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا میں سب سے پاک، معزز اور اللہ تعالیٰ کے مقرب یہودی ہیں لہٰذا جب بھی غلبۂ اسلام یا مسلمانوں کی عزت واقبال کی بات ہو تو یہ لوگ اپنے آپ سے باہر ہوجاتے ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) کے زمانے میں ان کا حسدوبغض اپنے عروج پر پہنچا ہوا تھا۔ جب کبھی مسلمانوں کو تابناک مستقبل کے بارے میں خوشخبری سنائی جاتی تو یہودی طعنہ زن ہوتے کہ جنہیں پہننے کے لیے کپڑا، کھانے کے لیے روٹی، سر چھپانے کے لیے مکان میسر نہیں اور جن کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں کیا یہ لوگ سلطنت رومہ پر قابض اور ایران کے فاتح بنیں گے؟ ایسے لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے آپ (ﷺ) کو یہ عظیم دعا سکھلائی گئی جو دعابھی ہے مستقبل کی پیش گوئی بھی اور مسلمانوں کے عقیدے کی ترجمانی بھی کرتی ہے۔ اس میں مسلمان اپنے مولا کے حضور اس خواہش کا اظہار اور فریاد کرتا ہے کہ الٰہی! اس لا محدود اور بے کنار مملکت کا تو ہی مالک اور بادشاہ ہے تیرے اختیار میں ہے کہ تو گداؤں کو بادشاہ بنادے اور بادشاہوں کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردے۔ عزت والوں کو ان کی سر مستیوں کی وجہ سے ذلیل کردے اور لوگوں کی نظروں میں ناچیز اور حقیروں کو معزز اور محترم ٹھہرادے۔ پوری کی پوری خیر تیرے ہی قبضہ میں ہے بلاشک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ لیکن یہودیوں کی طرح کتنے لوگ اور حکمران ہیں جو ”أَنَا وَلَا غَیْرِیْ“ کے نعرے لگاتے ہیں کہ ہمارے اقتدار اور اختیار کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں۔ ہماری طرف بڑھنے والے ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔ لیکن جب احکم الحاکمین کا فیصلہ صادر ہوا تو جو ہاتھ بادشاہوں، افسروں اور لیڈروں کے گلے میں پھول پہنایا کرتے تھے وہی ہاتھ ان کی موت کا سبب ثابت ہوئے۔ یہاں اسی عقیدے کی ترجمانی کی گئی ہے۔ الٰہی ! توہی رات کو دن میں اور دن کی روشنی کو رات کی تاریکیوں میں گم کرتا ہے۔ تو مردہ سے زندہ پیدا کرتا اور زندہ سے مردہ نکالتا ہے۔ تیرے ہی ہاتھ میں ہماری روزی ہے تو جسے چاہے بغیر حساب کے عطا فرماتا ہے۔ دعا کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح رات کے اندھیروں کے بعد دن کا اجالا ہوتا ہے اسی طرح مصائب اور مشکلات کے بعد آسانیاں ہوا کرتی ہیں۔ جس طرح دن کی روشنی کو رات کی تاریکیاں آلیتی ہیں ایسے ہی تندرستی کے بعد بیماری، دولت کے بعد غربت اور کامیابی کے بعد ناکامی آدمی کا مقدر بن جاتی ہے۔ گویا کہ جس طرح زندگی دن رات سے عبارت ہے اسی طرح غمی و خوشی اور بیماری و تندرستی آپس میں جڑے ہوئے اور زندگی کا حصہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بے حساب رزق دینے کا معنیٰ یہ ہے کہ جب وہ دینے پر آتا ہے تو لینے والے کو بھی اندازہ نہیں رہتا۔ یہ اس کے بے حساب رزق دینے کا ہی نتیجہ ہے کہ مالداروں نے اپنا حساب و کتاب رکھنے کے لیے کئی کئی کیشیئر اور کلرک رکھے ہوتے ہیں۔ اب تو کیش گننے کے لیے کمپیوٹر اور مشینیں ایجاد ہوچکی ہیں۔ اس کے باوجود بھی مال داروں کو اپنی جائیداد اور سرمایہ کا اندازہ نہیں ہوتا اس میں سرمایہ دار کی محنت سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی رزّاقی اور اس کی مشیت کا دخل ہوتا ہے جس کی حکمت وہی جانتا ہے۔ مسائل : 1۔ اقتدار و زوال اور عزّت و ذلّت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ 2۔ ہر قسم کی خیر اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرنے والا ہے۔ 4۔ وہ زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ نکالتا اور بے حساب رزق دینے والا ہے۔ تفسیربالقرآن : اللہ تعالیٰ کے اختیارات : 1۔ اللہ زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ (آل عمران :27) 2۔ اللہ جسے چاہتا ہے معزز اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے۔ (آل عمران :26) 3۔ اللہ مردے کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ (الاحقاف :33) 4۔ اللہ سب کو مار کر دوسری مخلوق پیدا کرسکتا ہے۔ (النساء :133) آل عمران
27 آل عمران
28 فہم القرآن : (آیت 28 سے 30) ربط کلام : جب عزت وذلت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تو ذاتی مفاد اور دنیوی عزت کی خاطر اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ قلبی محبت اور تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ دنیا میں جو لوگ جان بوجھ کر گناہوں سے نہیں بچتے قیامت کے دن خواہش کرنے کے باوجود عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔ مدینہ طیبہ میں ہجرت کے ابتدائی ایّام تک کئی مسلمان کافروں کو اپنا دوست اور خیر خواہ سمجھتے تھے۔ یہاں مسلمانوں کو کفار کے ساتھ رہنے کے بنیادی اصول سے آگاہ کیا جارہا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کفار کو اپنا دلی دوست بنائے اور اسے مومن بھائی سے مقدّم سمجھنے کی کوشش کرے۔ جو ایسا کرے گا اللہ تعالیٰ پر اس کی کوئی ذمّہ داری نہ ہوگی کیونکہ عزّت و ذلّت، غربت و دولت اور اختیار واقتدار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ عام طور پر یہی چیزیں ایک غریب آدمی کو امیر کے سامنے دست نگربناتی اور قریب کرتی ہیں۔ جب ہر قسم کی خیر اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تو پھر مومن کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے ہم عقیدہ بھائی کو چھوڑ کر یا مومن سے زیادہ اللہ کے باغیوں کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھائے۔ البتہ وقتی طور پر کسی خوف یا مصلحت کی خاطر دوستی رکھی جاسکتی ہے۔ تفصیل کے لیے سورۃ توبہ رکوع 9 کی تلاوت کریں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں صرف اپنی ذات سے ڈرنے کا حکم دیتا ہے اور اسی کی طرف تم نے پلٹ کر جانا ہے۔ تم کوئی چیز چھپاؤ یا اسے ظاہر کرو، اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے کیونکہ وہ آسمانوں کے چپے چپے اور زمین کے ذرّے ذرّے سے واقف اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ وہ تمہیں اس دن جمع کرے گا جس دن ہر کسی کے سامنے اس کے اچھے یا برے کام پیش کیے جائیں گے۔ مجرم اس وقت اس خواہش کا اظہار کرے گا کہ کاش! میرے اور میرے جرائم کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہوجائے۔ سورۃ النباء آیت 40میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَیَقُوْلُ الْکَافِرُ یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا﴾ ” کافر کہے گا کاش میں مٹی کے ساتھ مٹی ہوتا۔“ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے۔ اس کی جلالت سے ڈرانے کا مقصد یہ ہے کہ تم کفار اور اپنے مفاد کے چھن جانے سے نہ ڈروبلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کبریا سے ڈرتے رہو۔ جو اس سے ڈرتے ہیں وہ کسی سے نہیں ڈرا کرتے۔ اللہ تعالیٰ اپنے تابع فرمان بندوں کے ساتھ نہایت ہی شفقت ومہربانی کرنے والا ہے۔ مسائل : 1۔ کافر کو دلی دوست بنانا جائز نہیں۔ 2۔ مصلحت کی خاطر کافر سے عارضی دوستی ہوسکتی ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سے ہی ڈرنا چاہیے، سب نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ 4۔ ہم کوئی چیز چھپائیں یا ظاہر کریں اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ 5۔ قیامت کے دن ہر آدمی کے سامنے اس کے نیک اور برے اعمال پیش کئے جائیں گے۔ 6۔ مجرم اپنے جرائم سے دور بھاگنے کی تمنا کرے گا۔ 7۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو ڈرانے والا اور نیکوں کے ساتھ شفقت کرنے والا ہے۔ تفسیربالقرآن : کفار سے قلبی دوستی کی اجازت نہیں : 1۔ کافروں سے دوستی کی ممانعت۔ (آل عمران :28) 2۔ کافروں کو خوش کرنے کی ممانعت۔ ( الانعام :150) 3۔ کفار کی پیروی کا نقصان۔ ( آل عمران :149) 4۔ جب تک یہود و نصارٰی کی پیروی نہ کی جائے یہ خوش نہیں ہوتے۔ (البقرہ :120) 5۔ یہود و نصارٰی کی پیروی پر انتباہ۔ (البقرہ :120) آل عمران
29 آل عمران
30 آل عمران
31 فہم القرآن : (آیت 31 سے 32) ربط کلام : اسلام کے دشمنوں سے محبت رکھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے محبت کرو اور یہ اطاعت رسول کے بغیر ممکن نہ ہوگی۔ دنیا میں ہر مذہب کے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قربت ومحبت کے حصول کے لیے اپنے اپنے طریقے ایجادکررکھے ہیں۔ یہودی اپنے آپ کو انبیاء کی اولاد اور خود کو ان کا وارث سمجھتے ہیں۔ اس بنا پر ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ مقرب ہیں۔ مشرکوں نے اپنے بزرگوں، بتوں اور مزارات کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا وسیلہ ٹھہرا لیا ہے کچھ لوگوں نے دنیا سے لاتعلق ہو کر گوشہ نشینی، صحرا نور دی اور چلہ کشی کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ بنایا ہے۔ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام)‘ ان کی والدہ، پوپ اور پادری کو درجہ بدرجہ اللہ تعالیٰ کے تقرب کا زینہ بنایا ہے۔ مسلمانوں نے زندہ اور فوت شدہ بزرگوں کو وسیلہ بنا لیا ہے۔ یہاں مثبت اور لطیف انداز میں ان طریقوں کی نفی کرتے ہوئے رسول اللہ (ﷺ) سے اعلان کروایا گیا ہے کہ اے لوگو! اگر تم اللہ تعالیٰ کی محبت کے طلب گار ہو تو اس کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ تم صرف اور صرف میری فرمانبرداری کرو۔ کیونکہ آپکی اطاعت ہی اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرتے ہوئے تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ اللہ معاف کرنے والا‘ نہایت ہی مہربان ہے۔ مسلمان اور کافر کے درمیان یہی بنیادی فرق ہے ورنہ عیسائی، یہودی، مجوسی، ہندو، سکھ، بدھ مت، غرضیکہ دنیا میں کوئی ایسی قوم نہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا اعتراف اور اس کی عبادت نہ کرتی ہو۔ آخر کیا وجہ ہے کہ قرآن مجید انہیں کافر گردانتا ہے؟ اگر مسلمان بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنے اپنے انداز میں مانیں اور اس کی عبادت اپنے اپنے طریقے سے کریں تو مقام رسالت اور آپ کی اتباع کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے ؟ کاش کہ مسلمان اتباع رسول کو سمجھنے کی کوشش کریں اور آپ کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی محبت کا وسیلہ بنا کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے سرفراز ہوجائیں۔ مقام نبوت اور رسول اللہ (ﷺ) کی اتباع کو سمجھنے کے لیے عقل مند کے لیے آپ کا ایک ہی ارشاد کافی ہے جو شخص اس کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے انحراف کرتا ہے اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انکار کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ ایک دن رسول اللہ (ﷺ) اور حضرت ابو بکر (رض) تشریف فرما تھے کہ حضرت عمر (رض) نے اچانک آپ کے سامنے تورات کا کچھ حصہ پڑھنا شروع کیا جس میں قرآن مجید کے احکامات کی تائید پائی جاتی تھی۔ جوں جوں حضرت عمر (رض) تورات پڑھ رہے تھے آپ کا چہرہ متغیر ہورہا تھا۔ حضرت ابو بکر (رض) نے یہ صورت حال دیکھی تو انہوں نے عمر (رض) کی توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ آپ تورات پڑھے جارہے ہیں جب کہ سرور دو عالم (ﷺ) اس پر خوش نہیں ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے معذرت خواہانہ انداز میں عرض کیا کہ میں تو اللہ اور اس کے رسول پر مطمئن اور راضی ہوں تب آپ (ﷺ) نے یہ ارشاد فرمایا جو ہر مسلمان کے لیے مشعل زندگی ہونا چاہیے۔ آپ نے فرمایا : ( وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ أَنَّ مُوْسٰی () کَانَ حَیًّا مَا وَسِعَہٗ إِلَّا أَنْ یَّتَّبِعَنِیْ) [ مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب باقی مسند السابق] ” اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتّباع کیے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔“ مسائل : 1۔ رسول محترم (ﷺ) کی اتباع ہی اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذریعہ ہے۔ 2۔ رسول اللہ (ﷺ) کی اتباع کے سبب اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کفار سے محبت نہیں کرتا۔ تفسیربالقرآن: رسول معظم (ﷺ) کی اطاعت کے ثمرات : 1۔ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔ (النساء :80) 2۔ اطاعت میں کامیابی ہے۔ (الاحزاب :71) 3۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی رسول اللہ (ﷺ) کی اطاعت میں ہے۔ (آل عمران :132) 4۔ رسول اللہ (ﷺ) کی اطاعت اللہ کی محبت اور بخشش کاذریعہ ہے۔ (آل عمران :31) 5۔ اطاعت رسول سے نبیوں، صدیقوں، شہداء اور صالحین کی رفاقت نصیب ہوگی۔ (النساء :69) 6۔ رسول اللہ (ﷺ) کی اطاعت کرنے والوں کو جنت میں داخلہ نصیب ہوگا۔ (الفتح :17) آل عمران
32 آل عمران
33 فہم القرآن : (آیت 33 سے 36) ربط کلام : یہاں سے خطاب کا رخ عیسائیوں کی طرف کیا جارہا ہے۔ جس کی ابتدا حضرت آدم، حضرت نوح‘ حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندانی حالات سے کی گئی ہے کہ یہ سب انسان تھے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کس طرح خدا بن گئے؟ عیسائیوں کے نظریات کی اصلاح، حضرت عیسیٰ اور مریم ( علیہ السلام) کے بارے میں ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے سے پہلے دنیا کی عظیم ترین شخصیات کا اس لیے حوالہ دیا جارہا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے کلمہ اور محبوب پیغمبر ہیں‘ مگر ان شخصیات سے عظیم تر نہیں بلکہ وہ انہی کے روحانی اور نسبی فرزند ہیں۔ چنانچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا خاندانی پس منظر اس طرح ہے کہ جب ان کے نانا حضرت عمران (علیہ السلام) کی بیوی نے اپنے رب کے حضور یہ نذر مانی کہ اے اللہ! میرے بطن میں جو ہے میں اسے تیرے لیے وقف کرتی ہوں۔ تو میری طرف سے اسے قبول فرما۔ لیکن جب اس نے جنم دیا تو وہ بیٹے کی بجائے بیٹی تھی اس نے اپنے رب کے حضور عرض کی کہ الٰہی! یہ تو بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا جو اس نے جنم دیا ہے بلا شبہ لڑکی لڑکے کی مانند نہیں ہوسکتی۔ زوجہ عمران نے اس کا نام مریم رکھنے کے بعد دعا کی کہ الٰہی! میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان لعین سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی فریاد کو خوب قبول فرمایا اور حضرت مریم (علیہ السلام) کی بہترین نشوونما فرمائی اور اس کی کفالت حضرت زکریا (علیہ السلام) کے ذمہ ٹھہری۔ حضرت مریم علیہا السلام کی پیدائش کے بارے میں مشہور مفسر امام رازی لکھتے ہیں کہ مریم کی والدہ نہایت ہی بوڑھی ہوچکی تھیں۔ ایک دن ایک درخت کے نیچے تشریف فرما تھیں۔ کیا دیکھتی ہیں کہ ایک پرندہ اپنے بچوں کے منہ میں منہ ڈال کر دانہ کھلا رہا ہے اس منظر نے ان کی طبیعت میں عجیب احساس پیدا کیا۔ فوراً اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کرنے لگیں کہ الٰہی! اگر تو مجھے بیٹا عطا فرمائے تو میں اسے تیری راہ میں وقف کروں گی جس کے نتیجے میں مریم علیہا السلام پید اہوئیں۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو فرماتے ہوئے سنا کہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان مس کرتا ہے۔ بچہ شیطان کے چھونے کی وجہ سے چیختا ہے لیکن مریم اور عیسیٰ (علیہ السلام) اس سے مستثنیٰ ہیں۔ پھر ابوہریرہ (رض) نے اس آیت کی تلاوت کی ﴿وَإِنِّیْ أُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ﴾ [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ واذکر فی الکتاب مریم] (عَنْ عَائِشَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ مَنْ نَذَرَ أَنْ یُّطِیْعَ اللّٰہَ فَلْیُطِعْہُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ یَّعْصِیَہٗ فَلَا یَعْصِہٖ) [ رواہ البخاری : کتاب الأیمان والنذور، باب النذر فی الطاعۃ] ” حضرت عائشہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتی ہیں آپ (ﷺ) نے فرمایا جس نے نذرمانی کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو اسے پورا کرنا چاہیے اور جو اس کی نافرمانی کی نذر مانے اسے اس سے باز رہنا چاہیے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) آل ابراہیم اور آل عمران کو منتخب کرلیا تھا۔ 2۔ نذر پوری کرنی چاہیے۔ 3۔ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے شیطان کے شر سے محفوظ رکھا۔ تفسیربالقرآن : اللہ تعالیٰ کے منتخب کردہ حضرات : 1۔ آدم، نوح (علیہ السلام)، آل ابراہیم اور آل عمران۔ (آل عمران :33) 2۔ حضرت مریم علیہا السلام۔ (آل عمران :42) 3۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام)۔ (الاعراف :144) 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) منفرد اور منتخب۔ (البقرۃ:130) 5۔ حضرت اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) اللہ کے منتخب کردہ ہیں۔ (ص : 45تا 47) 6۔ رسول اللہ (ﷺ) رحمۃ للعالمین اور خاتم النبیین ہیں۔ (الانبیاء : 107‘ الاحزاب :40) آل عمران
34 آل عمران
35 آل عمران
36 آل عمران
37 فہم القرآن : (آیت 37 سے 39) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ حضرت مریم علیہا السلام جب بڑی ہوئیں تو انہیں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں دیا گیا۔ اس زمانے کے مذہبی رواج کے مطابق اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف لوگ تارک الدّنیا ہو کر مسجد اقصیٰ میں تعلیم وتربیت اور ذکر واذکار میں مصروف رہتے تھے۔ ان میں وہ عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو دنیا کے معاملات سے الگ کرلیا ہوتا تھا۔ چنانچہ حضرت مریم علیہا السلام انہی ذاکرات میں شامل ہو کر اپنے حجرے میں محو عبادت رہا کرتی تھیں۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام ان کے خالو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے سپر دتھا۔ ایک دن زکریا (علیہ السلام) ان کے ہاں حجرے میں تشریف لائے تو ان کے پاس غیر موسمی عمدہ پھل دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ بیٹی مریم یہ پھل کہاں سے آئے ہیں ؟ مریم علیہا السلامنے جواب دیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بلا حساب رزق سے نوازتا ہے۔ یہ سنتے اور خدا کی قدرت دیکھتے ہی حضرت زکریا (علیہ السلام) کے رونگٹے کھڑے ہوئے اور وجود تھرّانے لگا اور بے ساختہ ہاتھ اللہ کے حضور اٹھے اور فریاد کرنے لگے کہ اے میرے رب! مجھے بھی اپنی جناب سے نیکو کار اولاد نصیب فرما یقینًا تو دعا سننے والا ہے زکریا (علیہ السلام) ابھی اسی حجرے میں نماز کی حالت میں کھڑے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ کا نزول ہوا اور انہوں نے آپ کو یہ نوید سنائی کہ اے زکریا! خوش ہوجائیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا عطا فرمائیں گے جس کا نام یحییٰ ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کے کلمے کی تصدیق کرے گا اور وہ سردار ہوگا نہایت ہی پاک باز، اپنے آپ کی حفاظت کرنے والا اور انبیاء میں سے ہوگا۔ کلمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی کتاب اور عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ حصورًا کا معنی ہے کہ مجرّد رہیں گے جس کی غالبًا حکمت یہ تھی کہ یہود دنیا کے بندے بن چکے تھے۔ دنیا سے بے رغبتی دلانے کے لیے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اپنی ذات کو نمونہ کے طور پر پیش کیا تاکہ ان میں دنیا کے بارے میں بے رغبتی پیدا ہوسکے۔ مسائل : 1۔ حضرت مریم علیہا السلامکو اللہ تعالیٰ نے خصوصی نشو و نما سے نوازا تھا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بلا حساب رزق دیتا ہے۔ 3۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سردار اور شرم وحیا والے نبی تھے۔ تفسیربالقرآن : حضرت مریم علیہا السلام کی کفالت : 1۔ کفالت میں جھگڑا۔ (آل عمران :44) 2۔ جھگڑے کے حل کا طریقہ کار۔ (آل عمران :44) 3۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کفیل ہوئے۔ (آل عمران :37) اولاد کی بشارت : 1۔ زکریا (علیہ السلام) کو یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت۔ (مریم :7) 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسماعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری۔ (الصافات : 101، الذاریات :28) 3۔ مریم علیہا السلام کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت۔ (مریم : 17، 19) 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور پوتے کی خوشخبری۔ (ھود :71) آل عمران
38 آل عمران
39 آل عمران
40 فہم القرآن : (آیت 40 سے 41) ربط کلام : خطاب کا تسلسل جاری ہے۔ قدرت کاملہ کی طرف سے دنیا میں کچھ واقعات ایسے رونما ہوتے ہیں کہ جن کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے آدمی ان کی توقع نہیں کرسکتا۔ لیکن انسان کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ سامنے آجاتے ہیں اور آدمی ان کو دیکھ کر حیرت کی تصویر بن جاتا ہے ایسے واقعات پر تعجب کا اظہار کرنے سے کوئی شخص مستثنیٰ نہیں ہوا کرتا۔ یہاں تک کہ کچھ واقعات پر انبیاء کرام (علیہ السلام) بھی تعجب میں مبتلا ہوجاتے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور زندگی سے متعلقہ کئی واقعات ایسے ہیں جو زمانے میں پہلی اور ایک ہی دفعہ رونما ہوئے۔ ان واقعات میں ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم علیہا السلام کے پاس بے موسم پھل دیکھے تو پوچھا کہ مریم! یہ پھل کہاں سے آئے ہیں ؟ حضرت مریم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ خالو جان! یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت کا نتیجہ ہیں وہ جسے چاہے بغیر اسباب اور بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔ جناب زکریا (علیہ السلام) کے کلیجے پر چوٹ لگی کہ مریم کو بے موسم پھل اس حجرے میں مل سکتے ہیں تو مجھے اس عمر میں اولاد کیوں نہیں مل سکتی؟ چنانچہ بے ساختہ دعا نکلی اے رب العالمین! مجھے بھی اپنی قدرت کاملہ سے نیک اولاد عطا فرما۔ اس دعا کے صلہ میں جب ملائکہ نے انہیں بیٹے کی خوشخبری سنائی اور کہا کہ اس کا نام یحییٰ ہوگا اور اس سے پہلے اس نام کا کوئی شخص نہیں ہوا۔ تو زکریا (علیہ السلام) حیرت زدہ ہو کر اللہ کے حضور عرض کرتے ہیں کہ بارِ الٰہ! مجھے کس طرح بیٹا نصیب ہوگا جب کہ میں بوڑھا اور میری بیوی جسمانی طور پر بچہ جننے کے لائق نہیں؟ حالانکہ وہ اس سے پہلے دعا کیا کرتے تھے کہ میری بیوی بانجھ اور میرے بال بڑھاپے سے سفید ہوچکے ہیں اس کے باوجوداللہ! میں تیرے کرم سے مایوس نہیں ہوا۔ (مریم 2تا7) لیکن ملائکہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری سنائی تو تعجب کا اظہار فرمانے لگے مگر تعجب کا اظہارملائکہ سے کرنے کے بجائے براہ راست اللہ تعالیٰ سے کرتے ہیں۔ کیونکہ اولاد دینے والا تو وہی ہے اور یہ خوشخبری بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔ فرشتہ تو محض پیغام رساں ہے۔ زکریا (علیہ السلام) کے تعجب کے جواب میں ارشاد ہوا کہ میرے بندے ! اللہ اپنے کام کو خود ہی جانتا ہے اور وہ اسی طرح ہی کرتا ہے جس طرح اس کی منشا ہوا کرتی ہے۔ پھر عرض کرنے لگے : اے رب! میرے لیے بیٹے کی کوئی واضح نشانی ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارے کے علاوہ کلام نہیں کرسکو گے ان دنوں خاص طور پر صبح وشام اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکریہ ادا کرتے رہو۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے وہ جس طرح چاہے کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ بانجھ عورت کو بچہ دے سکتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کو صبح و شام کثرت کے ساتھ یاد کرنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ بڑھاپے میں بھی اولاد دیتا ہے۔ تفسیربالقرآن : اللہ تعالیٰ بڑھاپے میں اولاد دینے پر قادرہے : 1۔ زکریا (علیہ السلام) کو بڑھاپے میں اولاد دی۔ (مریم : 7، 8) 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بڑھاپے میں اولاد عطا فرمائی۔ (ھود : 71، 72) اللہ کا ذکر : 1۔ اللہ کا ذکر بڑی چیز ہے۔ (العنکبوت :45) 2۔ اللہ کا ذکر کرنے کا حکم۔ (البقرۃ:152) 3۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ (الانفال :45) 4۔ اللہ کو گڑگڑا کر صبح وشام آہستہ یاد کرو۔ (الأعراف :205) 5۔ اللہ کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔ (الرعد :28) 6۔ اللہ کے ذکر سے غافل لوگوں پر شیطان کا تسلط ہوتا ہے۔ (الزخرف :36) 7۔ اللہ کے ذکر سے غافل لوگ گھاٹے میں ہیں۔ (المنافقون :9) 8۔ اللہ کے ذکر سے اعراض کرنا اس کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ (الجن :17) آل عمران
41 آل عمران
42 فہم القرآن : (آیت 42 سے 44) ربط کلام : خطاب کا رخ حضرت مریم علیہا السلامکی طرف ہوتا ہے۔ سلسلۂ کلام یہاں تک پہنچا کہ حضرت مریم علیہا السلامکی والدہ جو حضرت عمران (علیہ السلام) کی بیوی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی نانی ہیں انہوں نے نذر مانی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے بیٹا عطا فرمائے گا تو وہ اس کو اللہ تعالیٰ کی نذر کر دے گی لیکن بیٹے کے بجائے مریم پیدا ہوئی تو اس نے مریم کو ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف کردیا جو مسجد اقصیٰ کے متصل ایک حجرے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتی تھی۔ جب حضرت مریم علیہا السلام سن بلوغت کو پہنچی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملائکہ نے یہ پیغام دیا کہ اے مریم! اللہ نے تجھے منتخب فرمالیا ہے گناہوں، حیض ونفاس اور لوگوں کے الزامات سے پاک کردیا ہے اور تجھے دنیا کی عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے لہٰذا اے مریم! اپنے رب کی تابعدار بن جا، اس کے حضور سجدہ ریز ہوتی رہو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہو۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا (رض) یَقُوْلُ سَمِعْتُ النَّبِیَّ () یَقُوْلُ خَیْرُنِسَائِھَا مَرْیَمُ ابْنَۃُ عِمْرَانَ وَخَیْرُ نِسَائِھَا خَدِیْجَۃُ)[ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب وإذ قالت الملائکۃ یامریم] ” حضرت عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں میں نے حضرت علی (رض) سے سنا وہ کہتے تھے میں نے نبی کریم (ﷺ) کو فرماتے ہوئے سنا کہ عورتوں میں مریم بنت عمران (علیہ السلام) اور خدیجہ (رض) بہترین عورتیں ہیں۔“ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () فَاطِمَۃُ سَیِّدَۃُ نِسَاءِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ) [ مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب مسند أبی سعید الخدری] ” حضرت ابو سعید (رض) فرماتے ہیں نبی (ﷺ) کا ارشاد ہے کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے۔“ (عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () فَضْلُ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَآءِ کَفَضْلِ الثَّرِیْدِ عَلٰی سَآئِرِ الطَّعَامِ کَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ کَثِیْرٌ وَّلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْیَمُ بْنَتُ عِمْرَانَ وَآسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ ﴿إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ﴾] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں نبی (ﷺ) نے فرمایا : عورتوں میں عائشہ کی فضیلت ایسے ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی ہے‘ مردوں میں کامل لوگ بہت ہیں لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ زوجۂ فرعون کے علاوہ کوئی کامل نہیں۔“ علامہ رازی نے امام اوزاعی کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت مریم علیہا السلاماس قدر نماز میں طویل قیام کرتی کہ ان کے پاؤں سے خون رسنا شروع ہوجاتا۔ واقعہ کے بیان میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ میرے پیغمبر! یہ غیب کی خبریں ہیں جو تمہارے سامنے بیان کی جارہی ہیں کیونکہ تم اس وقت موجود نہیں تھے جب لوگ مریم کو اپنی کفالت میں لینے کے لیے باہم جھگڑتے ہوئے قلموں کے ذریعے قرعہ اندازی کر رہے تھے۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ اس زمانے میں مذہبی لوگوں میں رواج تھا کہ جب کسی بات کا فیصلہ نہ ہوپاتا تو وہ ان قلموں کو پانی میں پھینکتے جن کے ذریعے تورات کی کتابت کی جاتی تھی جس کا قرعہ نکلتا اس کا قلم پانی کے بہاؤ کی طرف بہنے کے بجائے وہیں ٹھہرا رہتا یا الٹا چلنا شروع ہوجاتا۔ اس طرح حضرت زکریا (علیہ السلام) کا نام نکلا جو رشتہ میں حضرت مریم علیہا السلام کے خالو لگتے تھے۔ حضرت مریم علیہا السلام کی کفالت پر یہ لوگ اس لیے جھگڑتے تھے کہ حضرت مریم علیہا السلام کو اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں ہی اپنے ہاں ایک مقام سے نوازا تھا۔ وہ بچپن میں نہایت ہی معصوم، شرم وحیا کا مجسمہ اور حسن وجمال کی پیکر تھی۔ ان کے وجود کی برکات اور کرامات لوگ دیکھ چکے تھے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کو ہر قسم کے عیب سے پاک اور عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ 2۔ حضرت مریم علیہا السلام عبادت گزار اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار تھی۔ 3۔ یہ غیب کی خبریں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (ﷺ) پر وحی فرمائی ہیں۔ تفسیربالقرآن : رسول اللہ (ﷺ) حاضر وناظر نہیں ہیں : 1۔ مریم علیہا السلا م کی کفالت کے وقت رسول اللہ (ﷺ) حاضر نہ تھے۔ (آل عمران : 24) 2۔ اخوان یوسف کے مکر کے وقت رسول اللہ (ﷺ) موجود نہ تھے۔ (یوسف :102) آل عمران
43 آل عمران
44 آل عمران
45 فہم القرآن : (آیت 45 سے 46) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اب وہ وقت آن پہنچا جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کو پاک، معزز اور اس زمانے کی عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی تھی۔ چنانچہ حضرت مریم علیہا السلام کے پاس فرشتے حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بیٹے کی خوشخبری کا اشارہ دیتے ہوئے بتلاتے ہیں کہ اس کا لقب مسیح اور نام عیسیٰ بن مریم جو دنیا وآخرت میں نہایت ہی وجیہ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقرب بندوں میں ہوگا۔ وَجِیْھاً کا معنیٰ ہے معزز، تروتازہ وہشاش بشاش، نہایت ہی خوبصورت چہرے والا۔ یہی وجہ ہے کہ جب رسول محترم (ﷺ) معراج سے واپس آکر انبیاء کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں صحابہ کرام (رض) کو تفصیل بتارہے تھے تو آپ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : (رَبْعَۃٌ أَحْمَرُکَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِیْمَاسٍ یَعْنِی الْحَمَّامَ) [ رواہ البخاری :أحادیث الانبیاء، باب قول اللہ واذکر فی الکتاب مریم] ” درمیانے قد اور سرخ رنگ کے تھے گویا کہ وہ حمام سے غسل فرما کر ابھی نکلے ہوں۔“ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دو وجہ سے مسیح کہا جاتا ہے ایک یہ کہ اس زمانے میں نیک اور معزز شخص کو مذہبی لوگ ایک خاص قسم کا تیل لگاتے تھے دوسری وجہ حضرت ابن عباس (رض) بیان فرماتے ہیں چونکہ ان کے ہاتھ پھیرنے سے کوڑھی صحت مند اور پیدائشی نابینا‘ بینا ہوجاتا تھا اس لیے انہیں مسیح کہا جاتا ہے۔ عبرانی میں عیسیٰ کا معنیٰ سردار ہے۔ فرشتوں نے یہ بھی کہا کہ وہ گہوارہ اور بڑی عمر میں پہنچ کر لوگوں سے گفتگو کرے گا اور نیک سیرت ہوگا۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو حضرت مریم علیہا السلامپر لوگوں نے تہمت لگائی تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت صاف اور مؤثر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا فرمائی ہے۔ ہر حال میں مجھے برکت دی گئی ہے اور میں اپنی والدہ کا خدمت گزار ہوں گا۔ (تفصیل کے لیے سورۃ مریم کی آیات 30تا 43تلاوت کیجیے۔) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی اور پینتیس سال کی عمر میں انہیں آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ ﴿ کَہْلًا﴾ یعنی وہ بڑھاپے میں بھی لوگوں سے خطاب اور گفتگو کریں گے۔ اس لیے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب دنیا میں تشریف لائیں گے اور میری اتّباع میں دین اسلام کی سربلندی کے لیے کام کریں گے گویا انہیں بڑھاپے کی عمر بھی دیکھنا نصیب ہوگی۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِِّ() قَالَ لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَنْزِلَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا مُقْسِطًاوَإِمَامًا عَادِلًا فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیْضُ الْمَالُ حَتّٰی لَایَقْبَلَہٗ أَحَدٌ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ ابن مریم] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب تک عیسیٰ بن مریم منصف حکمران اور عادل امام بن کر نہیں آتے۔ اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی وہ صلیب کو توڑیں گے‘ خنزیر کو قتل کریں گے‘ جزیہ ختم کریں گے اور مال کی فراوانی ہوگی یہاں تک کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہیں ہوگا۔“ اس سے یہودیوں کے دعو ٰی کی تردید ہوتی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) پھانسی دیئے گئے ہیں۔ دوسری طرف عیسائیوں کے شرک کی نفی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ولادت، بچپن اور بڑھاپا جیسی تبدیلیوں سے مبرّا ہے جب کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں بہت سے مدو جزر ہوئے اور قرب قیامت ان کے متعلق مزید واقعات رونما ہوں گے لہٰذاعیسیٰ (علیہ السلام) رب نہیں اللہ کا بندہ ہے۔ مسائل : 1۔ عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا و آخرت میں عزت والے اور اللہ کے مقرب ہیں۔ 2۔ حضرت قرب قیامت آسمانوں سے زمین پر اتریں گے۔ تفسیربالقرآن : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اوصاف : 1۔ بغیر باپ کے پیدا ہونا۔ (آل عمران :47) 2۔ بچپن وبڑھاپے میں کلام کرنا۔ (آل عمران :46) 3۔ مٹی سے پرندہ بنانا۔ (المائدۃ:110) 4۔ ماد رزاداندھے اور کوڑھی کو درست کرنا۔ (آل عمران :49) 5۔ لوگوں کی ذخیرہ شدہ اشیاء کی خبردینا۔ (آل عمران :49) 6۔ باذن اللہ مردوں کو زندہ کرنا۔ (المائدۃ:110) 7۔ روح اور جسم سمیت آسمانوں پر اٹھایا جانا۔ (آل عمران :55) آل عمران
46 آل عمران
47 فہم القرآن : (آیت 47 سے 50) ربط کلام : حضرت مریم علیہا السلام کو ولادت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اوصاف، معجزات اور ان کے مشن کا بیان۔ ملائکہ کی گفتگو ابھی جاری تھی کہ حضرت مریم (علیہ السلام) شرمندگی اور گھبراہٹ کے عالم میں فرشتوں کی بجائے اللہ تعالیٰ سے عرض کرنے لگیں کیونکہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دے رہے تھے۔ اے میرے رب! مجھے کیونکربیٹا ہوگا؟ جب کہ کسی بشر نے آج تک مجھے چھوا ہی نہیں۔ ارشاد ہواکہ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ صرف اس کام کے ہوجانے کا حکم دیتا ہے اور وہ کام اسی طرح ہوجا تا ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام یہ سوچنے لگی کہ میں کنواری ہوں میرے ماں باپ نے مجھے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ معاشرہ مجھے نیک اور باحیا سمجھتا ہے۔ قوم میں میرے خاندان کی نیک نامی کا شہرہ ہے‘ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں وہ انہی خیالات میں گم تھیں کہ اچانک حضرت جبریل امین (علیہ السلام) انسان کی شکل میں ظاہر ہوئے۔ حضرت مریم علیہا السلام چونک اٹھیں کہ میں تجھے رب رحمٰن کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ اگر تم واقعی نیک ہو تو میرے قریب نہ آنا۔ جبریل امین (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تیرے رب کی طرف سے بھیجا ہواہوں تاکہ تجھے نیک بچہ عطا کروں۔ (سورۂ مریم آیت19) حضرت جبریل (علیہ السلام) نے حضرت مریم علیہا السلام کو عیسیٰ (علیہ السلام) کے اوصاف، خصوصیات، مرتبہ میں بتلاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسے کتاب اور حکمت ودانائی کی تعلیم دے گا تورات اور انجیل بھی سکھلائے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو لکھنے کا طریقہ سکھلایا‘ ان کی گفتگو اتنی حکیمانہ ہوتی کہ لوگ حیران رہ جاتے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں انجیل سے نوازا اور تورات پر انہیں اتنا عبور تھا کہ اگر کوئی یہودی ان سے سوال کرتا تو وہ تورات کی عبارت کا زبانی حوالہ دے کر اسے قائل اور خاموش کردیتے۔ فرشتوں نے مریم علیہا السلام کے سامنے یہ بات بھی واضح کی کہ وہ بنی اسرائیل کارسول ہوگا۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ میں تمہارے رب کی طرف سے کھلے دلائل اور معجزات لے کر آیا ہوں، میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندہ بنا کر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اڑنے لگتا ہے پیدائشی نابینے کو بینا، کوڑھی کو صحیح اور مردے کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ کرتا ہوں پھر میں تمہیں یہ بھی بتلاتا ہوں کہ تم اپنے گھروں میں کیا کھاتے اور کیا جمع کرتے ہو ؟ یقیناً ان معجزات اور دلائل میں تمہارے لیے ہدایت کے بڑے ثبوت ہیں۔ اگر تم ایمان لانے کے لیے تیار ہو۔ میں تورات کی تائید کرتا ہوں اور ان چیزوں کو تمہارے لیے حلال کرتا ہوں جو تمہاری نافرمانیوں اور گستاخیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام قراردیں ہیں۔ ان چیزوں کو بھی تمہارے لیے جائز قرار دیتا ہوں جو تمہارے مذہبی پیشواؤں نے اپنی مرضی سے تم پر حرام کی ہیں۔ میں یہ سب دلائل و معجزات تمہارے رب کی طرف سے پیش کرتا ہوں لہٰذا اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری تابع داری میں لگ جاؤ۔ یہ بات پہلے بھی بیان ہوچکی ہے کہ نبی جس قوم میں مبعوث کیا جاتا ہے وہ قوم جس فن میں ید طولیٰ رکھتی ہو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی نبوت ثابت کرنے کے لیے اسے ایسے معجزات عطا فرماتا ہے کہ جس سے ظاہری اسباب کے حوالے سے بھی نبی کی صداقت لوگوں کے سامنے اظہر من الشمس ہوجائے اور لوگ نبی کے دلائل کے سامنے لاجواب ثابت ہوں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے اس زمانے کے اہل علم طب، جراحت اور جادوگری میں اپنے کمال کو پہنچے ہوئے تھے انہیں لاجواب کرنے کے لیے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا فرمائے کہ لوگ یہ معجزات دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے۔ یادرہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ان معجزات کی نسبت اپنی طرف کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں کہ جس طرح میں اللہ کا رسول ہوں اسی طرح یہ معجزات اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ہیں اس میں میرا کمال اور اختیار نہیں ہے۔ یہودیوں پر حرام کردہ چیزیں : ﴿وَعَلٰی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ شُحُوْمَھُمَا إِلَّا مَاحَمَلَتْ ظُھُوْرُھُمَا أَوِ الْحَوَایَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذٰلِکَ جَزَیْنٰھُمْ بِبَغْیِھِمْ وَإِنَّا لَصٰدِقُوْنَ فَإِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ رَبُّکُمْ ذُوْ رَحْمَۃٍ وَّاسِعَۃٍ وَلَا یُرَدُّ بَأْسُہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ﴾ [ الأنعام : 146، 147] ” اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کردیے تھے اور گائے اور بکری میں سے ان دونوں کی چربی ان پر ہم نے حرام کردی تھی مگر وہ جو ان کی پشت پر یا انتڑیوں میں لگی ہو یا جو ہڈی سے ملی ہو۔ ان کی شرارت کے سبب ہم نے ان کو یہ سزا دی اور ہم یقیناً سچے ہیں۔ پھر اگر یہ تمہیں جھٹلائیں تو کہہ دو کہ تمہارا رب بڑی وسیع رحمت والا ہے اور اس کا عذاب مجرم لوگوں سے نہ ٹلے گا۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ جو حکم دیتا ہے وہ ہوجاتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب، حکمت، تورات اور انجیل سکھلائی۔ 3۔ عیسیٰ (علیہ السلام) صرف بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے۔ 4۔ عیسیٰ (علیہ السلام) تورات کی تصدیق کرتے تھے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہودیوں کے لیے حرام چیزیں حلال ہونے کا اعلان فرمایا۔ 6۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے بیماروں کو شفاء اور مردے زندہ کرتے تھے۔ 7۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی تابعداری اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیتے تھے۔ 8۔ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ آل عمران
48 آل عمران
49 آل عمران
50 آل عمران
51 فہم القرآن : ربط کلام : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیغام اور عقیدہ توحید تھا۔ یہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ تمام انبیاء رشتۂ نبوت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بھائی ہیں بالخصوص بنی اسرائیل کے انبیاء کی اکثریت نسب کے اعتبار سے بھی آپس میں رشتہ دار تھی اور سب انبیاء کی دعوت کے بنیادی اصول بھی ایک ہی ہوا کرتے تھے۔ اسی لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) صاحب انجیل ہونے کے باوجود تورات سے اپنی تائید میں اکثر حوالہ پیش کیا کرتے تھے۔ واضح اور ٹھوس دلائل دینے اور بے مثال معجزات دکھانے کے بعد جناب عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ایک ہی دعوت دیا کرتے تھے۔ اس اللہ کی عبادت کرو جو تمہارا اور میرا رب ہے۔ یاد رہے کہ وہ میرا اور تمہارا باپ نہیں کہتے تھے جس طرح انجیل میں ان کی طرف بار بار باپ کے الفاظ منسوب کیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ میرا اور تمہارے رب کے مقدس اور واضح الفاظ استعمال فرماتے تاکہ معجزے دیکھ کر لوگوں کو ان کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہ پید اہو۔ فرماتے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور صرف اسی ایک کی عبادت کرنا صراط مستقیم ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا فرمان : پرانے عہد نامہ کی کتاب استثناء میں مرقوم، قوم اسرائیل کا مشہور کلمہ شمع (Shama) (=عربی : اسمع) اپنے مفہوم کے اعتبار سے اسلام کے کلمۂ شہادت اور قرآن کی سورۃ اخلاص کی پہلی آیت سے چنداں مختلف نہیں ہے۔ خصوصًا اپنے عربی و عبرانی متن میں اس کے الفاظ مبارک اس آیت کی باز گشت ہیں ملاحظہ فرمائیے : عربی : اسمع یا اسرائیل إن الرب الھنارب واحد۔ عبرانی :Shama Yisrael Adonoielohem. Adonoiehod شمع یاسرائیل ادونائی الوھیم ادونائی احاد۔ [ بائبل عبرانی واردو، کتاب استثناء ٦: ٤۔ الکتاب المقدس عربی 0ط۔ بیروت 1899ء) پرانے اور نئے عہد نامہ کی وضاحت کے لیے دیکھئے باب ہفتم۔] ” سن اے اسرائیل ! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خدا ہے۔“ کتاب استثناء میں دوسری جگہ ہے : ” خدا وند ہی خدا ہے اور اس کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں۔“ [ استثناء : 4، 35] نیز فرمایا : ” میرے آگے اور معبودوں کو نہ ماننا۔“ [ استثناء : 5، 7] پرانے عہد نامہ کی کتاب میں مذکور ہے حضرت داوٗد (علیہ السلام) کی دعا میں یہ الفاظ موجود ہیں : ” تو ہی واحد خدا ہے۔“ [ زبور :86: 10] عہد نامہ قدیم میں ایک اور جگہ لکھا ہے : ” مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہے اور میرے بعد بھی کوئی نہ ہوگا۔۔ خدا وند فرماتا ہے میں ہی خدا ہوں۔“ [ یسعیاہ :43: 10، 12] نیز فرمایا : ” میں خدا وند سب کا خالق ہوں، میں ہی اکیلا آسمان کو تاننے اور زمین کو بچھانے والا ہوں، کون میرا شریک ہے۔“ [ یسعیاہ : 44: 24] برناباس۔ باب 11میں ہے : ” تو احمق ہے۔ تو اس خدا کی عبادت کر جس نے تجھے پیدا کیا ہے اور وہی تجھے صحت عطا کرے گا کیونکہ میں ویسا ہی ایک انسان ہوں جیسا تو ہے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ سب کا رب ہے لہٰذا صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔ 2۔ اللہ کی عبادت کرنا ہی صراط مستقیم ہے۔ تفسیر بالقرآن : تمام انبیاء کی دعوت : 1۔ تمام انبیاء (علیہ السلام) اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے۔ (الانبیاء :25) 2۔ نوح (علیہ السلام) کا فرمان کہ اللہ کی عبادت کرو۔ (ھود :26) 3۔ یوسف (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کرنے کی طرف بلایا۔ (یوسف :40) 4۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ (المائدۃ:72) 5۔ ھود (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ (الاعراف :65) 6۔ صالح (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ (الاعراف :73) 7۔ شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کرنے کی طرف بلایا۔ (الاعراف :85) 8۔ نبی (ﷺ) نے بھی اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ (آل عمران :64) آل عمران
52 فہم القرآن : (آیت 52 سے 53) ربط کلام : عیسائیوں کا اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی پکار۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے جناب موسیٰ (علیہ السلام) نے یہودیوں کو راہ راست پر لانے کے لیے لازوال اور انتھک جدوجہد فرمائی اور ایسے معجزات دکھائے جن کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ مگر یہودی اس قدر متلوّن مزاج، موقع شناس، نافرمان اور مکار قوم ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جانے کے بعد انہوں نے انبیاء اور مصلحین کے ساتھ ایسا گھناؤ نا کردار ادا کیا کہ دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسے معجزات پیش فرمائے جو اپنی تاثیر اور نوعیت کے اعتبار سے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات سے بڑھ کر تھے۔ خطاب اور گفتگو کا ملکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی معجزانہ طور پر عطا ہوا تھا۔ وہ ایسی مدلّل، مؤثر اور حکیمانہ گفتگو فرماتے کہ بڑے سے بڑا مخالف بھی انہیں قلبی طور پر اللہ کا بندہ اور نبی تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ زبور کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بارہ سال کی عمر میں حضرت مسیح نے پہلی بار ہیکل میں تعلیم دی۔ اس کم سنی کے باوجود ان کی تعلیم میں حکمت ومعرفت، فصاحت وبلاغت اور لب ولہجہ میں عظمت وجلالت اور رعب و دبدبہ کا عالم یہ تھا کہ فقیہ، فریسی، سردار، کاہن اور ہیکل کا تمام عملہ دم بخود رہ گیا۔ حیرانی کے عالم میں وہ ایک دوسرے سے پوچھتے پھرتے تھے کہ یہ کون ہے؟ جو اس شان سے بات کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے اس کو خاص ملکہ عطا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے زمانے کے اہل علم اور یہودیوں کو ایسے معجزات دکھائے کہ لوگ ورطۂ حیرت میں ڈوب گئے۔ اس وقت یونان کے لوگ طب میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اس دور میں بقراط، ارسطو، افلاطون اور بڑے بڑے شہرۂ آفاق اطباء اور سائنسدان ہوچکے تھے وہ پیدائشی نابینے اور کوڑھے کا علاج نہ کرسکے لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ایسے معجزے پیش کیے کہ یہ لوگ ان کے سامنے طفل مکتب کے طور پر کھڑے بے بس دکھائی دیتے تھے۔ مٹی کا پرندہ بنانا، مردے کو زندہ کرنا، لوگوں کے کھائے پیے اور جمع پونجی کے بارے میں خبر دینا، بڑے بڑے حکماء اور نجومی ان باتوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور خطبات نے بنی اسرائیل میں ایک حرکت اور انقلاب برپا کردیا۔ وہ جہاں جاتے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے۔ ان کا پر جمال اور ہشاش بشاش چہرہ دیکھ کر لوگ پروانہ وار ان کی طرف لپکے آتے گویا کہ قوم میں ایک انقلاب برپا ہوچکا ہے۔ یہ صورت حال دیکھ کر یہودی غضب ناک ہوئے اور انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف الزامات کا طوفان اٹھایا اور لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے ان کے خلاف سازشوں کا ایک طویل منصوبہ تیار کیا۔[ یوحنا باب 94بحوالہ تدبر قرآن] حالات اس قدر نازک صورت حال اختیار کرگئے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باہر نکلنا بھی مشکل ہوگیا۔ اس صورت حال میں انہوں نے ہر جگہ لوگوں کو بتلایا اور سمجھایا کہ میری دعوت قبول کرو اسی میں تمہاری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے لیکن حکومت کے خوف، یہودیوں کے الزامات اور سازشوں کے ڈر سے لوگ ان سے دور بھاگ گئے۔ بالآخر انہوں نے اپنے شاگردوں کو اللہ کے نام پردہائی دی کہ کون ہے جو اللہ کے لیے میرا ساتھ دے؟ ہزاروں شاگردوں میں سے صرف بارہ آدمیوں نے موت کی پروا کیے بغیر کہا کہ ہم ہیں اللہ کی خاطر آپ کی نصرت وحمایت کرنے والے اور اللہ پر ایمان لانے والے ہیں۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یقین دلایا اور کہا کہ گواہ رہنا کہ ہم اسلام پر مرتے دم تک قائم رہیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کے حضور بھی ہماری فریاد ہے کہ وہ ہمیں آپ کا تابع دار اور آپ کے ساتھ کلمہ حق کی شہادت دینے والے شمار فرمائے۔ مسائل : 1۔ داعی اپنے متبعین کی جانچ اور ان کا امتحان لے سکتا ہے۔ 2۔ اللہ کے رسول کی اتباع کرنا حق کی شہادت دینا ہے۔ 3۔ اللہ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان لانا چاہیے۔ تفسیربالقرآن : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری : 1۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے انصار۔ (الصف :14) 2۔ حواریوں کی پکار کہ ہم انصار اللہ ہیں۔ (الصف :14) 3۔ امت محمدیہ کو حکم کہ ایمان والو! اللہ کے انصار بن جاؤ۔ (الصف :14) 4۔ اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ (محمد: 7) آل عمران
53 آل عمران
54 فہم القرآن : (آیت 54 سے 55) ربط کلام : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیغام کا ردّ عمل اور ان کی حفاظت کے ساتھ اہل ایمان کی برتری کا اعلان۔ حالات اس نہج پر پہنچے کہ یہودیوں کے مذہبی اور سیاسی رہنما حاکم وقت کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوگئے کہ یہ شخص یہودیت کے لیے زہر قاتل اور مذہب کی آڑ میں حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔ اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں میں سے یہودا نامی شخص کو بھاری رشوت دے کر وعدہ معاف گواہ بنایا اس نے سرکاری اہلکاروں کو مخبری کردی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) فلاں پہاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس گرفتاری سے بچنے کے لیے بارہ حواریوں کے سوا باقی سب حواری عیسیٰ (علیہ السلام) کو چھوڑ کر رفوچکر ہوگئے۔ قیصرِروم کے نمائندے شام کے گورنر ہیرو ڈیس نے آپ کو گرفتار کیا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ گرفتاری کے وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے چہرۂ مبارک پر تھپڑ مارے گئے۔ یہ بات اس لحاظ سے غلط معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے وہ جلال بخشا تھا کہ بڑے بڑے گستاخ یہودی دائیں بائیں تو ان کی ولادت باسعادت کے بارے میں تہمت لگاتے تھے لیکن ان کے سامنے ایسا کہنے کی جرأت نہیں کرسکتے تھے۔ بہرحال عیسیٰ (علیہ السلام) گرفتار ہوئے مقدمہ چلا اور وقت کی حکومت نے انہیں الزامات سے بری الذمہ قرار دیا لیکن یہودیوں کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے ایسا ماحول پیدا کردیا کہ بالآخر شام کے گورنر نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے نائب بلاطوس کے حوالے کیا۔ اس نے رائے عامہ کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہ کہتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) کوسولی پر لٹکانے کا فیصلہ دیا کہ یہ جرم میری گردن کے بجائے تمہاری گردن پر ہوگا۔ یہودیوں نے متفق ہو کر کہا کہ ہمیں یہ منظور ہے۔ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کو تختہ دار پر لے جانے کے لیے آدمی آگے بڑھے تو بعض روایات کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سوئے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی حالت میں آسمانوں پر اٹھا لیا اور جو لوگ انہیں لینے کے لیے آگے بڑھے ان میں سے یہودا کو عیسیٰ (علیہ السلام) کے مشابہ کردیا گیا سرکاری اہلکاروں نے اسے عیسیٰ سمجھ کر سولی چڑھا دیا۔ اس لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں قرآن مجید نے یہ الفاظ استعمال فرمائے۔ ﴿وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَاَ صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ﴾ [ النساء :157] کہ انہوں نے نہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا اور نہ ہی سولی پر چڑھا سکے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک شخص کو مشابہ کردیا۔ اسی واقعہ کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف مکروفریب کیا۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے پر حکمت تدبیر کے ذریعے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی بہتر تدبیر کرنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہودیوں کے الزامات اور مقدمات سے محفوظ فرماکر اپنے ہاں رفعت مکانی سے ہمکنار کیا اور فرمایا کہ قیامت کے دن تم سب نے میرے ہاں لوٹ کر آنا ہے اور میں تمہارے اختلافات کا قطعی اور آخری فیصلہ کروں گا۔ تاہم جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین ہیں انہیں قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات اور ان کی نبوت کا انکار کرنے والوں پر بلند رکھوں گا۔ مفسّرین نے ان الفاظ کے دو مفہوم درج فرمائے ہیں کہ عیسائی علمی اور سیاسی طور پر ہمیشہ یہودیوں پر غالب رہیں گے۔ چنانچہ آج بھی اسرائیل کے علاوہ یہودیوں کی کہیں حکومت اور عزت نہیں پائی جاتی۔ اسرائیلی حکومت بھی امریکہ، برطانیہ اور دوسرے عیسائی ملکوں کے سہارے قائم ہے ان کے بغیر یہودی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے۔ بعض عیسائی قرآن مجید کے اس مقام سے مسلمانوں کو یہ مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھیں تمہارا قرآن ہماری بالا دستی کی گواہی دے رہا ہے حالانکہ یہ بات قرآن کے مفہوم اور تاریخی حقائق کے سراسر خلاف ہے کیونکہ مسلمان تقریبًا ایک ہزار سال تک دنیا میں بلاشرکت غیرے حکومت کرتے رہے ہیں اور عیسائی مسلمانوں کے زیر دست اور ذمی بن کررہے ہیں اس لحاظ سے صحیح مفہوم یہ ہے کہ جو عیسائی مسلمان ہوجائیں وہ یہودیوں پر بالادست رہیں گے۔ اگر عیسائیوں اور یہودیوں کا مقابلہ کیا جائے تو عیسائی سیاسی اور علمی طور پر یہودیوں پر غالب رہیں گے۔ یاد رہے کہ عربی میں مکر کا معنی فریب، دھوکہ دہی اور سازش ہوا کرتا ہے لیکن جب اس لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کی طرف ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے تدبیر کرنا۔ یہاں اسی فرق کے ساتھ یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع آسمانی پر یہودیوں، عیسائیوں اور مرزائیوں کے مؤقف کا جواب : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پوری زندگی معجزات سے عبارت ہے۔ وہ بن باپ پیدا ہوئے، جھولے میں اپنی والدہ ماجدہ کی براءت اور صاحب کتاب نبی ہونے کا اعلان فرمایا، یہودیوں نے تختۂ دار پر چڑھانے کی کوشش کی تو جسد اطہر سمیت آسمانوں پر اٹھا لیے گئے۔ ان کے رفع آسمانی کے بارے میں یہاں قدرے اجمال کے ساتھ بیان ہوا ہے لیکن سورۃ النساء : آیت 157، 158میں کھل کر اس بات کی تردید کی گئی کہ جو لوگ یہ دعو ٰی کرتے ہیں کہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر چڑھا دیا ہے وہ سراسر اٹکل پچو اور غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھالیا اور پھانسی دینے والوں نے کسی دوسرے آدمی کو سولی پر چڑھادیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اتنی واضح اور دوٹوک تردید کے بعدبھی یہودی اپنے خبث باطن کی تسکین اور بے بنیاد کامیابی پر اتراتے ہوئے دعو ٰی کرتے ہیں کہ ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو پھانسی پر چڑھا دیا ہے۔ عیسائیوں کے ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سب نے یہودیوں کا جواب دینے کے بجائے اپنے مفادات اور لوگوں کو آوارگی کا سر ٹیفکیٹ دینے کے لیے یہ عقیدہ بنایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سولی پر چڑھ کر ہمارے گناہوں کا کفارہ بن چکے ہیں۔ گویا کہ یہودی جہنم میں چند دن جانے کے قائل ہیں عیسائیوں نے جہنم کا قصہ ہی پاک کردیا ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی مرزا قادیانی نے یہ کہہ کر نبوت کا دعو ٰی کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تو فوت ہوئے۔ قرب قیامت جس مسیح موعود کی بشارت دی گئی ہے وہ میں ہی ہوں۔ اپنے موقف کو سچا ثابت کرنے کے لیے مرزائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قبر بھی کشمیر میں ڈھونڈ نکالی تاکہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا جاسکے رسالت مآب (ﷺ) کا معجزہ ہے کہ کسی جھوٹے نبی کی نبوت زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ ہر دور کے لوگوں نے جلد ہی ایسے کذّاب سے اللہ کی زمین کو پاک کردیا لیکن ہندوستان میں مرزائیوں کو انگریز کی وجہ سے ساز گار ماحول میسر ہوا۔ اس لیے یہ جھوٹا نبی ہندؤوں، عیسائیوں اور اسلام دشمن لوگوں کی سرپرستی میں محفوظ رہا لیکن علمی اور اعتقادی طور پر علماء نے اسے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ مسلمانوں نے اپنی گروہی تفریق کے باوجود مرزائیوں کا ناطقہ بند کردیا اس سلسلہ میں تمام علماء اور مذہبی جماعتوں کی خدمات لائقِ تحسین ہیں۔ سب سے پہلے مرزا کے خلاف مولانا محمد حسین بٹالوی (رح) نے کفر کا فتویٰ جاری کرنے کی ابتدا کی۔ جب کہ مرزا کا انجام شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری (رح) کے ہاتھوں ہوا۔ انہی کے ساتھ مرز انے مباہلہ کیا جس کے نتیجے میں لاہور برانڈرتھ روڈ پر احمدیہ مارکیٹ میں اپنے ایک مرید کے گھر لیٹرین میں واصل جہنم ہوا۔ اس کے بعد 1973 ء میں علماء کی زبردست تحریک پر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آئینی طور پر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ مسائل : 1۔ اللہ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو جسد اطہر سمیت آسمان پر اٹھا لیا۔ 3۔ سب نے اللہ تعالیٰ کے ہاں پیش ہونا ہے اور وہی اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ تفسیربالقرآن : رفع حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) : 1۔ آسمانوں پر اٹھانے کا اعلان۔ (آل عمران :55) 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) قتل نہیں ہوئے۔ (النساء :157) 3۔ عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان پر اٹھالیے گئے۔ (النساء :158) آل عمران
55 آل عمران
56 فہم القرآن : (آیت 56 سے 58) ربط کلام : قرآن اپنے اسلوب کے مطابق بیک وقت حق کے منکروں اور اہل ایمان کے انجام کا فرق بیان کرتا ہے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار اور دین حق سے انحراف کیا۔ وہ دنیا اور آخرت میں شدید عذاب سے دوچار کیے جائیں گے اور ان کا کوئی حامی ومدد گار نہیں ہوگا۔ آخرت کے عذاب کے بارے میں قرآن مجید کافر کی خوفناک موت سے لے کر جہنم میں اس کے دخول اور سزاؤں کا موقع بموقع تفصیل کے ساتھ ذکر کرتا ہے۔ جہاں تک دنیا کے عذاب کا تعلق ہے اس کی کئی شکلیں اور صورتیں ہوسکتی ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق صاحب کردار ایمان داروں کو ایسا غلبہ نصیب فرمائے گا کہ اللہ کے باغی اور منکر دنیا میں ان کے سامنے سرنگوں ہو کر رہیں۔ جس طرح قرون اولیٰ میں اللہ کے منکرذلیل ورسوا ہوئے تھے اسی طرح قرب قیامت امام مہدی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ان کا ذلیل ہونا یقینی ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () قَالَ لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُقَاتِلَ الْمُسْلِمُوْنَ الْیَھُوْدَ فَیَقْتُلُھُمُ الْمُسْلِمُوْنَ حَتّٰی یَخْتَبِیءَ الْیَھُوْدِیُّ مِنْ وَّرَآءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ فَیَقُوْلُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ یَامُسْلِمُ یَاعَبْدَ اللّٰہِ ھٰذَا یَھُوْدِیٌّ خَلْفِیْ فَتَعَالْ فَاقْتُلْہُ إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّہٗ مِنْ شَجَرِ الْیَھُوْدِ) [ رواہ مسلم : کتاب الفتن وأَشراط الساعۃ، باب لا تقوم الساعۃ حتی یمر الرجل بقبر الرجل فیتمنی الخ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول مکرم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہ کریں۔ مسلمان ان کو قتل کریں گے یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپے گا تو وہ پتھر اور درخت کہے گا۔ اے مسلمان! اے اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ تو آگے بڑھ کر اسے قتل کردے لیکن غرقد درخت ایسا نہیں کہے گا کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔“ قرآن مجید کا یہ اسلوب ہے کہ وہ جہنم کے ساتھ جنت اور کفار کی ذلت کے ساتھ مومنوں کی عظمت اور اللہ کا فضل وکرم بیان کرتا ہے تاکہ قرآن کی تلاوت کرنے والے کے دل پر اس بات کا اثر اور اس کے لیے حق وباطل کے درمیان فیصلہ کرنا آسان ہوجائے۔ یہاں مزید فرمایا کہ یہ اللہ کی کتاب کی آیات ہیں جو آپ پر پڑھی جارہی ہیں اور یہ حکمتوں سے لبریز نعمت ہے جس کا دل چاہے اسے قبول کرے۔ مسائل : 1۔ کافر دنیا اور آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ 2۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پورا پورا اجر عطا فرمائیں گے۔ 3۔ آخرت میں کفار کی کوئی مدد نہیں کرسکے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات نصیحت اور حکمت سے لبریز ہوتے ہیں۔ تفسیربالقرآن : دنیا وآخرت میں عذاب پانے والے : 1۔ یہودی دنیا میں ذلیل اور آخرت میں سخت عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔ (البقرۃ:85) 2۔ اللہ کی مسجدوں سے روکنے والے دنیا وآخرت میں ذلیل ہوں گے۔ (البقرۃ:114) 3۔ کفار کو دنیا وآخرت میں شدید عذاب ہوگا۔ (الرعد : 34، آل عمران :56) 4۔ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن اور فسادی دنیا وآخرت میں عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔ (المائدۃ:33) 5۔ بچھڑے کے پجاری دنیا وآخرت میں ذلیل ہوں گے۔ (الاعراف :152) 6۔ منافقین کو دنیا وآخرت میں سزا ہوگی۔ (التوبۃ:74) 7۔ فحاشی پھیلانے والوں کو دنیا وآخرت میں ذلت اٹھانی پڑے گی۔ (النور :19) 8۔ دین حق جھٹلانے والوں کو دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب عظیم ہوگا۔ (الزمر :26) 9۔ امور دین میں شکوک وشبہات سے باہر نہ نکلنے والے دنیا اور آخرت میں حقیقی نقصان اٹھانے والے ہیں۔ (الحج: 11) آل عمران
57 آل عمران
58 آل عمران
59 فہم القرآن : (آیت 59 سے 60) ربط کلام : عیسائیوں سے خطاب کے آغاز میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندان۔ ان کی پیدائش کے مراحل‘ حضرت مریم علیہا السلامکا تعجب‘ عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت توحید‘ اس کا رد عمل اور اب ان کی ذات کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے۔ قرآن مجید نے صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی تفصیلات ہی نہیں بتائیں بلکہ دنیا کے سامنے ان کے پورے خاندان کی تاریخ رکھ دی ہے۔ جس میں ان کی نانی کی نذر ماننے سے لے کر حضرت مریم علیہا السلام کی پیدائش، بیت المقدس میں ان کے خالو کے ہاں ان کی تربیت‘ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا تذکرہ‘ ان کی پیدائش پر حضرت مریم علیہا السلام پر یہودیوں کا الزام اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا جواب گویا کہ ان کی زندگی کے اہم مراحل اور خاندانی پس منظر سے لے کر آسمانوں پر اٹھائے جانے تک کی تفصیلات کھول کر بیان کردی ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک ہی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو ” کُنْ“ کہہ کر مٹی سے پیدا فرمایا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دیتے ہوئے حضرت مریم علیہا السلامکو بھی ” کُنْ“ کے الفاظ صادر فرمائے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بات کا فیصلہ فرماتا ہے تو اس کے لیے لفظ کُنْ سے حکم صادر فرماتا ہے۔[ یٰسٓ:82] عیسائی لوگوں کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہیں اور وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان میں اپنی روح پھونکی لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم سے مل کر اللہ تعالیٰ کی خدائی مکمل ہوتی ہے۔ اس کو عرف عام میں تثلیث کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں آدم (علیہ السلام) کی مثال دے کرواضح فرمایا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بن باپ پیدا ہونے کی وجہ سے تم کہتے ہو کہ یہ اللہ ہیں یا اللہ کا حصہ ہیں تو تمہارا آدم (علیہ السلام) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ان کی تخلیق تو عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی بڑھ کر تھی۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی تو والدہ تھی جب کہ آدم (علیہ السلام) کا نہ باپ تھا اور نہ ہی ماں۔ کیا پھر آدم (علیہ السلام) کو اللہ یا اس کا جزو قرار دینے کے لیے تیار ہو؟ حالانکہ تمہارا بھی عقیدہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور اوّل البشر ہیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں خطاب کا اختتام ان الفاظ سے کیا جارہا ہے کہ جو تفصیلات تمہارے سامنے بیان کی گئی ہیں۔ یہ سب تمہارے رب کی طرف سے حق اور سچ ہے۔ لہٰذا تم اور کسی مسلمان کو اس میں شک نہیں کرنا چاہیے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ خَلَقَ اللَّہُ اٰدَمَ عَلَی صُورَتِہِ، طُولُہُ سِتُّونَ ذِرَاعًا ) [ رواہ البخاری : باب بدء السلام] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اس کی صورت کے مطابق بنایا، اس کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔“ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مماثلت اور فرق : آدم (علیہ السلام) بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) باپ کے بغیر پیدا ہوئے۔ اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنے دست مبارک اور ” کُنْ“ کہہ کر پیدا فرمایا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو صرف ” کُنْ“ کہہ کرپیدا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) میں اپنی روح پھونکی۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو حضرت جبریل کے ذریعے روح سے پیدا فرمایا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نبی اور اوّل البشر تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) صاحب کتاب نبی اور رسول تھے۔ تفسیربالقرآن : الحق سے مراد : 1۔ درست بات۔ (البقرۃ:146) 2۔ ثابت شدہ حقیقت۔ ( یٰس : 7، المائدۃ:48) 3۔ واجب۔ (ص :14) 4۔ استحقاق۔ (الانعام :93) 5۔ علم۔ (یونس :36) 6۔ یقینی بات۔ (یونس :94) 7۔ معجزات۔ (یونس :76) 8۔ قرآن۔ (الانعام :5) 9۔ نعمت۔ (البقرۃ:146) 10۔ عدل وحکمت۔ (الانعام :73) 11۔ ایثار۔ (الانفال :6) 12۔ توحید۔ (الرعد :14) 13۔ اسلام۔ (اسراء :81) آل عمران
60 آل عمران
61 فہم القرآن : (آیت 61 سے 63) ربط کلام : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اللہ کا بندہ اور رسول ہونا حق ہے۔ دلائل کے باوجود جو حق تسلیم نہیں کرتا اسے سمجھانے کا آخری طریقہ مباہلہ ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور ان کے خاندان کی مرحلہ وار تاریخ کے واضح دلائل اور روشن حقائق کے ساتھ نجران کے وفد کو دعوت دی۔ لیکن وہ اس کے باوجود کہنے لگے کہ ہم تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا سمجھتے ہیں۔ اس موقع پر آیت مباہلہ نازل ہوئی۔ مباہلہ کا معنٰی ہے عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کرنا کہ حق والا سرخرو ہو اور جھوٹے پر اللہ کی پھٹکار نازل ہو۔ رسول اللہ (ﷺ) نے نجران کے وفد کو فرمایا کہ کل میں اپنے اہل بیت کو لے کر فلاں وقت حاضر ہوں گا اور تم بھی اپنے ارکان کے ساتھ جمع ہوجانا۔ تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کریں کہ جھوٹے پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہو۔ بعض روایات کے مطابق اگلے دن آپ حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حسن وحسین (رض) کو لے کر تشریف لائے۔ نجران کے وفد کے سربراہ اسقف اور ان کے پادری شرحبیل نے یہ کہہ کر اپنے وفد کو مباہلہ سے باز رکھا کہ محمد (ﷺ) واقعی نبی آخر الزمان ہیں اور نبی کی بد دعا مسترد نہیں ہوا کرتی۔ اگر مباہلہ ہوا تو ہم نیست ونابود ہو کر رہتی دنیا تک عیسائیوں کے لیے ننگ و عار ثابت ہوں گے۔ چنانچہ انہوں نے جزیہ دینے کی ذلت قبول کرلی۔ لیکن نعمت ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس آیت کی تفسیر میں بریلوی مکتب فکر کے مفکرّ پیر کرم شاہ فرماتے ہیں : بعض لوگوں نے یہاں یہ ثابت کرنے کی بے جاکوشش کی ہے کہ نبی کریم (ﷺ) کی صرف ایک صاحبزادی حضرت فاطمہ (رض) ہی اہل بیت میں شامل کی گئی ہیں۔ ورنہ دوسری صاحبزادیاں بھی اس روز مباہلہ میں شرکت کرتیں۔ تو ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ تاریخ کی تمام معتبر کتب اور ناسخ التواریخ اور کافی وغیرہ میں موجود ہے کہ حضور (ﷺ) کی چار صاحبزادیاں تھیں۔ اس روز خاتون جنت کا اکیلے تشریف لانا اس لیے تھا کہ باقی صاحبزادیاں انتقال فرما چکی تھیں۔ حضرت رقیہ نے 2 ہجری میں، حضرت زینب نے 8 ہجری میں اور حضرت ام کلثوم نے 9 ہجری میں انتقال فرمایا جب کہ یہ واقعہ 10 ہجری میں پیش آیا۔ اس لفظ سے بعض لوگوں نے حضرت علی (رض) کی خلافت بلا فصل پر استدلال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انفسنا سے مراد حضرت علی (رض) ہیں۔ جس سے ثابت ہوا کہ آپ نفس رسول ہیں۔ گویا آپ رسول جیسے ہیں۔ تو جب آپ حضور کے مساوی ہوگئے تو پھر آپ سے زیادہ خلافت کا حقدار اور کون ہوسکتا ہے ؟ تو اس کے متعلق التماس ہے کہ حضرت علی کا شمار ابناءنا میں ہے۔ کیونکہ آپ نبی (ﷺ) کے داماد تھے۔ اور داماد کو بیٹا کہا جاتا ہے۔ اور اگر انفسنا میں ہی شمار کریں تو عینیت اور مساوات کہاں سے ثابت ہوئی ؟ کیونکہ یہ لفظ تو ان لوگوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو قریبی رشتہ داریا دینی اور قومی بھائی ہوں۔ ان آیات اور تفصیلات کے بعد اس آیت میں ان سب کا ما حصل بیان فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی اللہ اور معبود نہیں۔ جو کسی مخلوق کو اللہ یا اللہ کا بیٹا تسلیم کرتا ہے وہ راہ راست سے بھٹک جاتا ہے۔ حقائق جھٹلانے والوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ توحید کا انکار اور حقائق سے انحراف کرنے والے فسادی ہیں۔ [ ضیاء القرآن : پیر کرم شاہ] مسائل : 1۔ جھگڑالو کے ساتھ مباہلہ کرنا جائز ہے۔ 2۔ جھوٹے پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ 3۔ فسادی اللہ کے علم اور اس کی دسترس سے باہر نہیں ہوتے۔ 4۔ قرآن مجید کے بیان کردہ واقعات کہانیاں نہیں بلکہ حق اور سچ ہیں۔ تفسیربالقرآن : قصص قرآن کی حقیقت : 1۔ قرآن کے بیانات حق ہیں۔ (آل عمران :62) 2۔ قرآن کے قصے بہترین ہیں۔ (یوسف :3) 3۔ قرآن کے قصے نصیحت آموز ہیں۔ (یوسف :111) آل عمران
62 آل عمران
63 آل عمران
64 فہم القرآن : ربط کلام : توحید حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور تمام انبیاء کی مشترکہ دعوت اور مشن ہے۔ لہٰذا اہل کتاب کو اس کی پھر دعوت دی جارہی ہے۔ سورۃ البقرہ میں یہودیوں کو اور سورۃ آل عمران میں نصاریٰ کو مفصل خطاب کرنے کے بعداب دونوں کو ایسی بات کی طرف دعوت دی جارہی ہے جو تمام انبیاء کی دعوت کی ابتدا اور انتہا ہوا کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف پیرائے میں اس بات کی وضاحت و صراحت فرمائی ہے کہ ہم نے جتنے انبیاء مبعوث کیے وہ یہی دعوت دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور ہر قسم کے طاغوت کا انکار کردو۔ الانعام : 88میں اٹھارہ پیغمبروں کا نام بنام ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر یہ شرک کرتے تو ان کے سب اعمال ضائع کردیے جاتے۔ یہاں حکم دیا جارہا ہے کہ اے خاتم المرسلین! ان کو دعوت عام دو کہ آؤ اس بات پر متفق ہوجائیں۔ جو آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت تھی وہی ہماری دعوت ہے۔ اگر لوگ یہ دعوت قبول کرنے سے انکار کردیں تو آپ فرما دیں کہ گواہ رہنا ہم تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور اس کے تابع فرمان ہیں۔ اس دعوت کے تین بنیادی اصول ہیں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔2۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ 3۔ اللہ کی ذات کے سوا کسی کو معبود کا مقام نہ دیا جائے اس دعوت کا منطقی نتیجہ ہے نبی معظم کو اللہ کا آخری رسول ماناجائے کیونکہ آپ ہی توحید کی دعوت دینے والے ہیں۔ یہی دعوت آپ نے سلطنت رومہ کے فرماں روا ہرقل کو ایک مراسلہ کے ذریعے دی تھی۔ [ رواہ البخاری : کتاب بدء الوحی] مسائل : 1۔ اہل کتاب اور مسلمانوں کے درمیان قدر مشترک توحید ہے۔ 2۔ سب کو توحید کی دعوت دینا چاہیے۔ آل عمران
65 فہم القرآن : (آیت 65 سے 68) ربط کلام : اہل کتاب اپنے غلط اور مشرکانہ موقف کی تائید کے لیے عیسائی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو عیسائی اور یہودی ان کو یہودی ثابت کرنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔ اس کی تردید اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے کی سراحت اور ان سے امت مسلمہ کے تعلق کی وضاحت کی گئی ہے۔ قومیں جب گمراہی کا شکار ہوتی اور الٹے پاؤں چلتی ہیں تو وہ صرف مذہب کا حلیہ ہی نہیں بگاڑا کرتیں بلکہ تاریخ کے مسلّمہ حقائق کو تبدیل کرتے ہوئے اپنے اختلافات میں ان بزرگوں کو گھسیٹ لاتی ہیں جن کا ان کے اختلافات سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ صرف اپنے موقف کو سچا ثابت کرنے کے لیے ان شخصیات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہودیوں نے عیسائیوں پر برتری ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہودی اور عیسائیوں نے یہودیوں پر اپنا سکہ جمانے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو عیسائی ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ان کی دیکھا دیکھی مشرکین مکہ نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ ہم اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد اور کعبہ کے متولّی ہیں۔ اگر ہم ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث اور تولیت کے اہل نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گھر کا متولّی اور نگران نہ بناتا۔ لہٰذا محمد اور اس کے ساتھیوں کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کوئی تعلق نہ ہے۔ ان لوگوں کی تردید اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا رسول کریم اور آپ کی امت محمدیہ کے ساتھ رشتہ ثابت کرنے کے لیے ان کے عقیدے اور شخصیت کی وضاحت کی جارہی ہے کہ تورات وانجیل تو عرصۂ دراز کے بعد نازل ہوئیں۔ تم اپنی جہالت کی بنیاد پر ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو؟ وہ نہ یہودی تھے نہ عیسائی اور نہ ہی مشرکین کے ساتھ ان کا کوئی تعلق تھا اور ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے تعلق محمد عربی (ﷺ) اور ان کے ماننے والوں کا ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) صرف ایک ہی رب کی عبادت کرنے اور اس کی توحید کی دعوت دینے والے اور اللہ کے تابع فرمان تھے۔ افسوس! اسی مرض میں امت محمدیہ مبتلا ہوچکی ہے کہ آج قرآن وسنت کے داعی حضرات کو مقلد حضرات طعنہ دیتے ہیں کہ تمہارا کوئی امام نہیں اور بغیر امام کے کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ کچھ علماء غلو کرتے ہوئے یہاں تک کہتے ہیں کہ صحابہ کرام (رض) بھی مقلد تھے۔ (نعوذ باللہ) حالانکہ تقلید چار سو سال بعد شروع ہوئی۔ مزید تفصیل کے لیے سورۃ البقرۃ آیت : 170 ملاحظہ فرمائیں۔ اہل تشیع نے اخلاق کی تمام حدیں پھلانگتے ہوئے واقعۂ کربلا کو اس قدر پھیلایا ہے کہ تین خلفاء اور چند اصحاب کے علاوہ باقی صحابہ کرام (رض) کو شہادت حسین میں ملوث سمجھتے ہوئے ان پر دشنام کرتے ہیں۔ جب کہ یہ واقعہ حضرت ابو بکر (رض) کے 47 سال بعد حضرت عمر (رض) کے 36 سال بعد اور حضرت عثمان (رض) کے 26 سال بعد رونما ہوا۔ اور انکا واقعہ کربلا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسائل : 1۔ تورات و انجیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد نازل ہوئیں۔ 2۔ جس مسئلہ کا علم نہ ہو اس میں بحث نہیں کرنی چاہیے۔ 3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی، عیسائی اور مشرک نہیں تھے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کا دوست ہے۔ 5۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے تعلق حضرت محمد (ﷺ) اور مسلمانوں کا ہے۔ تفسیربالقرآن : رسول اللہ (ﷺ) کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے تعلق خاص : 1۔ نبی کریم (ﷺ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ (الحدید :26) 2۔ نبی کریم (ﷺ) کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ نسبت ہے۔ (آل عمران :68) 3۔ نبی کریم (ﷺ) کے بارے میں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا۔ (البقرۃ:129) 4۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی رسول اللہ (ﷺ) اور امت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ (الممتحنۃ:6) آل عمران
66 آل عمران
67 آل عمران
68 آل عمران
69 فہم القرآن : (آیت 69 سے 72) ربط کلام : اہل کتاب یہ جاننے کے باوجود کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی اور عیسائی نہیں تھے۔ پھر بھی اپنے مذہب کو تقویت دینے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے ان کی شخصیت کا حوالہ دیتے ہیں۔ گمراہ فرقوں کی ایک یہ بھی نشانی ہوتی ہے کہ وہ دلائل کی کمزوری کو شخصیات سے نسبت اور ان کی عقیدت کے حوالے سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن مجید مسلمانوں کو باربار اہل کتاب کی سازشوں اور عادتوں سے آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح تمہیں صراط مستقیم سے گمراہ کردیں۔ ان کی بد حرکتوں اور ان کے خبث باطن کے باوجود قرآن مجید انہیں سمجھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا۔ قرآن جب بھی انہیں خطاب کرتا ہے تو اہل کتاب کے معزز لقب کے ساتھ‘ تاکہ انہیں اپنے مرتبے کا احساس ہو اور وہ بری عادتیں چھوڑنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ اسی لیے ایک دفعہ پھر انہیں سمجھایا جارہا ہے کہ حقیقت جاننے کے باوجود تم اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ اے اہل کتاب تمہیں حق چھپانے اور حق کو باطل کے ساتھ ملانے سے بھی باز آنا چاہیے۔ کیونکہ تم اس کے گناہ اور نقصان سے واقف ہو۔ جب کسی معاشرے کے پڑھے لکھے لوگ حقائق کا انکار کریں یا حق وباطل کے التباس کے جرم میں ملوث ہوجائیں تو پھر عوام الناس کا ہدایت تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ دراصل عیسائیوں اور یہودیوں کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ لوگوں میں اسلام اور نبی آخر الزمان (ﷺ) کے بارے میں اس قسم کے شکوک وشبہات پیدا کردیے جائیں کہ جن سے لوگ از خود اسلام سے دور رہنے کی کوشش کریں۔ اسی ذہنیت سے انہوں نے سازشوں کونیا رنگ دے کر یہ منصوبہ بنایا کہ اپنے میں سے کچھ لوگوں کو صبح کے وقت محمد عربی (ﷺ) کے پاس بھیجا جائے۔ وہ ان کے سامنے اسلام کے اوصاف گنواتے ہوئے برملا ایمان لانے کا اظہار کریں لیکن ٹھیک دن کے آخر میں اسلام سے براءت کا اعلان کردیں تاکہ ہم مسلمانوں کو باور کروا سکیں کہ اگر اسلام میں سچائی اور آپ کے نبی میں کوئی خوبی ہوتی تو یہ پڑھے لکھے اور سمجھ دار لوگ مسلمان ہونے کے بعد کیوں اسے چھوڑتے؟ اس طرح مسلمان شکوک وشبہات کا شکار ہوں اور وہ بھی واپس پلٹنے کے لیے سوچیں۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ اگر اہل کتاب بالخصوص یہودیوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس بات کا پتہ چلتا ہے انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے بہی خواہ بن کر ملت اسلامیہ کو بار ہانقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ جس کی ابتدا عبداللہ بن سبا نے حضرت عثمان (رض) کی خلافت میں کی تھی اور اس کے نتیجے میں جنگ جمل اور جنگ صفین واقع ہوئیں اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ کاش ! مسلمان اور ان کے سیاسی و مذہبی راہنما اہل کتاب خاص کر یہودیوں کی سازشوں کو سمجھ جائیں۔ مسائل : 1۔ اہل کتاب مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ 2۔ کسی کو گمراہ کرنے والا خود گمراہ ہوا کرتا ہے۔ 3۔ اہل کتاب حقائق جاننے کے باوجود دین اسلام کا انکار کرتے ہیں۔ 4۔ اہل کتاب جان بوجھ کر حق و باطل کی آمیزش کرتے ہیں۔ 5۔ اہل کتاب میں سے ایک گروہ ہمیشہ سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتا آرہا ہے۔ تفسیربالقرآن : اہل کتاب کے مذموم خیالات : 1۔ اہل کتاب کی کوشش ہے کہ مسلمان بہک جائیں۔ (آل عمران :69) 2۔ اہل کتاب حقائق جاننے کے باوجود اللہ کی آیات کے منکر ہیں۔ (آل عمران :70) 3۔ اہل کتاب جانتے ہوئے بھی حق کو باطل کے ساتھ ملاتے اور کتمان حق کرتے ہیں۔ (آل عمران :71) 4۔ اہل کتاب کا مسلمانوں کو ورغلانے کا عجب انداز۔ (آل عمران : 72، 73) آل عمران
70 آل عمران
71 آل عمران
72 آل عمران
73 فہم القرآن : ربط کلام : کسی کے نعروں اور دعووں سے دھوکہ کھانے اور اعتماد کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل کسی شخص کی ذات یافرقہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی رحمت کی بدولت ہوا کرتا ہے۔ اہل کتاب رسول اللہ (ﷺ) اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے کے باوجود فکر مند رہتے تھے کہ مسلمانوں کی تعداددن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ جو شخص بھی آپ سے ملاقات کرتا اور قرآن سنتا ہے وہ آپ ہی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اہل کتاب کے سامنے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں اس کی طویل لسٹ تھی۔ اکثریہ ہوا کہ اہل مکہ اور اہل کتاب کانمائندہ بن کر جانے والاشخص آپ کی پرجمال شخصیت اور دل ربا گفتگو سن کر اپنے دین سے دستبردار ہوجاتا۔ اس سے بچاؤ کے لیے انہوں نے اپنی عوام میں پرزور مہم چلائی اور خاص کر سازشوں میں کردار ادا کرنے والوں کو تین باتیں سمجھائیں۔1 اپنے پیشواؤں کے بغیر کسی کی بات نہ ماننا۔ 2 صرف اس بات کو تسلیم کرنا جس کا وجود اور ثبوت تورات اور انجیل میں پایا جاتا ہو۔ 3 تیسری بات یہ باور کروائی جاتی کہ دیکھنا کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے دین کے بارے میں کوئی کمزور بات کرو یا اسے چھوڑنے کا مسلمانوں کو عندیہ دو۔ یاد رکھنا! روز محشر مسلمان تمہارے خلاف اللہ تعالیٰ کے حضور جھگڑا کریں گے۔ تمہیں وہاں کوئی چھڑانے والا نہیں ہوگا۔ اس طرح کی بے محل مصنوعی فکر آخرت کا خوف دلا کر لوگوں کو ڈرایا کرتے تھے۔ باطل نظریات کے حامل لوگ شروع سے حق کے خلاف یہی ہتھیار استعمال کرتے آرہے ہیں۔ اس کے جواب میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئیں۔ اے اہل کتاب تمہارا صبح کے وقت ایمان لانا اور شام کے وقت انکار کرنا اہل حق کو صراط مستقیم سے نہیں ڈگمگا سکتا کیونکہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ جب وہ کسی کو ہدایت سے سرفراز کرتا ہے تو دنیا کی کوئی سازش اس کے قدموں کو ڈگمگا نہیں سکتی۔ یہ بھی یاد رکھو کہ ہدایت وہ نہیں جسے اہل کتاب یا دنیا کا کوئی شخص ہدایت قرار دے۔ ہدایت حقیقتاً وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر نازل فرمائی۔ جو سراسر اللہ کا فضل ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے نبوت اور ہدایت کے لیے منتخب فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، وسعتوں اور اس کے لامحدود فضل کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () إِنَّ قُلُوبَ بَنِی آدَمَ کُلَّہَا بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ کَقَلْبٍ وَاحِدٍ یُصَّرِفُہُ حَیْثُ یَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُول اللَّہ () اللَّہُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَی طَاعَتِکَ)[ رواہ مسلم : باب تصریف اللہ القلوب حیث یشاء] ” حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا بے شک بنی آدم کے دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں۔ وہ ان کو پھیرتا ہے جیسے چاہتا ہے۔ پھر آپ (ﷺ) نے یہ دعا فرمائی۔ اے اللہ دلوں کو پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف پھیرے رکھنا“ مسائل : 1۔ اہل کتاب اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے کی بجائے اپنے عقیدہ کو حق سمجھتے ہیں۔ 2۔ جماعتوں اور انسانوں کا من گھڑت عقیدہ ہدایت نہیں ہوا کرتا۔ 3۔ ہدایت اللہ کی طرف سے ہے اور اس کے فضل سے ملتی ہے۔ 4۔ فضل سارے کا سارا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ وسعت اور علم والا ہے۔ تفسیربالقرآن : ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے : 1۔ ہدایت کا اختیار نبی (ﷺ) کو بھی حاصل نہیں۔ (القصص :56) 2۔ نبی کسی کو ہدایت پر گامزن کرنے کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔ ( البقرہ :272) 3۔ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (ابراہیم :4) 4۔ جسے اللہ گمراہ کر دے کوئی اسے ہدایت نہیں دے سکتا۔ (الاعراف :186) آل عمران
74 آل عمران
75 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب کی علمی خیانت کے بعد مالی بددیانتی کا تذکرہ۔ اہل کتاب کا کثیر طبقہ ہمیشہ سے علمی خیانت کے ساتھ مالی بددیانتی کا شکار رہا ہے۔ اس کی وجہ دین سے لاعلمی، بشری کمزوری اور صرف مالی ہوس نہیں۔ بلکہ بنیادی سبب ان کا یہ عقیدہ ہے کہ ہم رسول اللہ (ﷺ) کی نبوت پر اس لیے ایمان نہیں لاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ ہم موسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ کسی کو رسول تسلیم نہ کریں۔ اسی طرح ان کا یہ نظریہ بھی ہے کہ غیر یہودی اور اَن پڑھ لوگوں کے بارے میں ہمیں پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ ان کا مال لوٹنا ہمارے لیے جائز ہے۔ ان کے نزدیک اَن پڑھ سے مرادخاص طور پر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہے۔ ان کی کتابوں میں یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کسی یہودی کے ہاں ایسا مقدمہ پیش ہو جس میں ایک فریق غیر یہودی ہو تو یہودی جج کا فرض ہے کہ وہ ہر طریقے سے اپنے یہودی بھائی کو فائدہ پہنچائے۔ یہاں تک کہ ان کے ہاں غیر یہودی کو قتل کرکے اس کا مال ہڑپ کرنا بھی جائز ہے۔ اس باطل نظریے کی وجہ سے ان میں اس قدر بے باکی پیدا ہوئی کہ اگر اس نظریہ کے حامل لوگوں کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اسے غصب کرنا شرعی حق اور ہر قسم کی عہد شکنی کو اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ امانت رکھنے والا ان کے سر پر سوار ہوجائے بصورت دیگر ان سے امانت کی واپسی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر اس خیانت اور بددیانتی کا جواز تورات سے پیش کرتے ہیں۔ اس کا دوسرے لفظوں میں مطلب یہ ہے کہ وہ دین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بول رہے ہیں۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خیانت کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ قرآن مجید کی انصاف واصول پسندی پر قربان جائیے کہ اس نے یہودیوں میں جودیانتدار لوگ ہیں ان کو یہ کہہ کر مستثنیٰ قرار دیا ہے کہ ان میں دیانت دار بھی ہیں۔ جن کے پاس ایک خزانہ بھی رکھ دیا جائے تو وہ اس کی پائی پائی لوٹانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ امام رازی (رض) فرماتے ہیں کہ یہی لوگ ہی آپ کی نبوت پہ ایمان لانے والے ہیں۔ یہودیوں کے بارے میں اسرائیلی اخباروبزنس ڈیٹاکی رپورٹ : یہ یہودی فلاسفی ہے‘ کہ یہودی دنیا میں اعتماد‘ یقین‘ لین دین‘ وعدے وعید اور پیسے روپے کے معاملہ میں بدترین قوم ہیں۔ چاروں آسمانی کتابیں متفق ہیں کہ یہودی وعدے کے کمزور ہوتے ہیں۔ بات کر کے مکر جانا ان لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے اور پانچ ہزار سال کی تاریخ بتاتی ہے یہ لوگ جس جگہ رہتے ہیں اس جگہ کا امن و سکون اور اطمینان غارت ہوجاتا ہے وہ جگہ ” دارالحرب“ بن جاتی ہے۔ اس جگہ جنگیں اور لڑائیاں ہوتی ہیں۔ یہ ان لوگوں پر وہ سیاہ دھبے ہیں۔ جنہیں شاید اب دنیا کی کوئی طاقت نہیں دھو سکتی۔ یہ لوگ کرپٹ بھی ہوتے ہیں‘ اسی اخبار میں عالمی بنک کے اعداد و شمار چھپے ہیں ان اعدادو شمار میں انکشاف ہوا کہ اسرائیل کا شمار اس وقت کے کرپٹ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ (بحوالہ جنگ اخبار 10 ستمبر 2005 ء) مسائل : 1۔ دین کا نام لے کر جھوٹ بولنا بالواسطہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا ہے۔ 2۔ ایسے لوگوں کا ضمیر انہیں ملامت کرتا ہے۔ تفسیربالقرآن : اہل کتاب کی اکثریت بددیانت اور حرام خورہے : 1۔ اہل کتاب رشوت خور ہیں۔ (البقرۃ:85) 2۔ اہل کتاب حرام خورہیں۔ (البقرۃ:174) 3۔ اہل کتاب بددیانت ہیں۔ (آل عمران :75) 4۔ اہل کتاب سود خورہیں۔ (النساء :161) 5۔ اہل کتاب کی اکثریت گناہ اور زیادتی کے کاموں میں جلدی کرنیوالی اور سود خور ہے۔ (المائدۃ:62) آل عمران
76 فہم القرآن : ربط کلام : یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے عہد لیا ہے کہ موسیٰ کے علاوہ کسی نبی کو تسلیم نہ کریں۔ یہاں اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو تمام انبیاء سے رسول (ﷺ) پر ایمان لانے کا عہد لیا تھا۔ لہٰذا جو شخص انبیاء کے عہد کی پاسداری کرتے ہوئے نبی آخرالزماں (ﷺ) پر ایمان لائے اور اللہ کی نافرمانی سے بچے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ انسان کا تعلق کسی مذہب سے ہو وہ فطری اور شرعی طور پر تین باتوں کا مکلّف ہوتا ہے۔ تخلیق آدم کے وقت اللہ تعالیٰ سے ﴿ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ﴾ کے جواب میں توحید کا اقرار کرنا، ہر نبی کے عہد اور اعلان کے مطابق نبی آخر الزمان (ﷺ) پر ایمان لانا اور ایک دوسرے کے ساتھ کیے گئے عہد کی پاسداری کرنا۔ جو شخص بھی وعدہ ایفاء کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے یقینًا اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللَّہِ () إِلاَّ قَالَ لاَ إِیمَانَ لِمَنْ لاَ أَمَانَۃَ لَہُ وَلا دینَ لِمَنْ لاَ عَہْدَ لَہُ )[ رواہ احمد] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا آپ نے فرمایا اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جس میں امانتداری نہیں اور اس شخص کا کوئی دین نہیں جس میں عہد کی پاسداری نہیں۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ سے عہد اور اس کے تقاضے پورے کرنے چاہییں۔ 2۔ ایک دوسرے سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : ایفائے عہد کا حکم : 1۔ وعدہ پورا کرنے کا حکم۔ (المائدۃ:1) 2۔ قیامت کو عہد کی باز پرس۔ (بنی اسرائیل :34) 3۔ عہد پورا کرنے والے متقی۔ (البقرۃ:177) 4۔ عہد پورا کرنے والے عقل مند۔ (الرعد : 19، 20) 5۔ عہد پورا کرنے والوں کو اجر عظیم۔ (الفتح :10 6۔ عہد پورا کرنے والے جنتی ہیں۔ (المومنون : 10، 11) آل عمران
77 فہم القرآن : ربط کلام : سلسلہ کلام گزشتہ سے پیوستہ۔ اہل کتاب عہدشکن اور ایمان فروش ہیں دنیوی مفاد کے لیے عہد توڑنے اور ایمان فروشی کی سزا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم، دین اور اس کی عظمت کے مقابلے میں دنیا کی بادشاہت اور دولت کی کوئی حیثیت نہیں۔ دین میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ سے عہد کرنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عہد اور حکم کو دنیا کی خاطر چھوڑنا عہد اور دین بیچنے کے مترادف ہے۔ اس جرم میں وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جو قسموں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے نام کو ڈھال اور دنیاوی مفاد کا ذریعہ بناتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بازار میں اپنا سودا لگایا اور دوسرے مسلمان کو یہ کہہ کر سودا فروخت کیا کہ اللہ کی قسم ! مجھے اس کا اتنا منافع ملتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ [ رواہ البخاری : کتاب الشھادات، باب قول اللہ تعالیٰ ﴿ان الذین یشترون﴾ الخ] دین کے نام پر سیاسی، مالی اور سماجی مفادات اٹھانا دین کو بیچنے کے برابر ہے۔ اہل کتاب کے علماء کا یہ بھی شیوہ تھا کہ انہوں نے دین کو محض پیشہ کے طور پر اختیار کر رکھا تھا۔ وہ تعلیم وتعلّم اور تبلیغ واشاعت کا اتنا ہی کام کرتے تھے۔ جتنا ان کو معاوضہ ملتا اور فائدہ پہنچتا۔ ایسے مذہبی مجرموں کے لیے پانچ سزاؤں کا اعلان کیا گیا ہے 1۔ ان کے لیے آخرت میں کوئی اجر نہیں ہوگا ۔2 ۔اللہ تعالیٰ ان سے کلام نہیں کرے گا۔ 3 ۔اللہ تعالیٰ انہیں نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا۔ 4۔ انہیں گناہوں سے پاک نہیں کیا جائے گا ۔5 ۔ان کے لیے اذیت ناک عذاب ہوگا۔ مسائل : 1۔ آخرت کے مقابلے میں پوری دنیا حقیر اور قلیل ہے۔ 2۔ دین کے بدلے دنیا کمانے والوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کو اذّیت ناک عذاب دیں گے۔ آل عمران
78 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب کے کردار کی مزید وضاحت کہ تاریخی حقائق بدلنے اور ان کا انکار کرنے کے ساتھ لسانی کرتب کے ذریعے باطل کو حق بنا کر پیش کر کے اس کو اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتے ہیں۔ اہل کتاب نے اپنی طرف سے شریعت بنانا، حق وباطل کو خلط ملط کرنا، دنیا کی خاطر دین و ایمان فروخت کرنا اور حق چھپانا اپنے مذہب کا حصہ بنا لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان میں سے ایک گروہ تورات اور انجیل کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے دعو ٰی کرتا ہے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے تاکہ سننے والا اس پر ایمان لے آئے۔ انہوں نے اس میں بیشمار ترامیم و اضافے کیے اور لوگوں کو باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ تورات اور انجیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہیں۔ اس طرح جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ افسوس ! آج امت محمدیہ کے بیشتر علماء اور فرقوں کا بھی یہی طرز عمل ہے کہ وہ اپنے گروہی نظریات، ذاتی خیالات اور فقہی مسائل کو متبادل دین کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اپنے خطبات اور فتاویٰ میں قرآن وسنت کا حوالہ دینے کے بجائے فقہ کی کتب کا حوالہ دیتے ہیں۔ حتی کہ مدارس میں زیادہ وقت قرآن و حدیث پڑھانے کے بجائے کئی کئی سال اپنے فرقہ کی فقہ ہی پڑھائی جاتی ہے۔ مسائل : 1۔ اہل کتاب گروہی خیالات کو کتاب اللہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ 2۔ اہل کتاب دانستہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ تفسیربالقرآن : 1۔ اہل کتاب زبان کے ہیر پھیرسے کتاب کو بدلتے ہیں۔ (آل عمران :78) 2۔ زبان کے ہیر پھیر سے نبی (ﷺ) کی گستاخیاں کرتے ہیں۔ (البقرۃ:104) 3۔ اہل کتاب الفاظ کے ادل بدل سے کلام اللہ کا مفہوم بدلتے ہیں۔ (النساء :46) آل عمران
79 فہم القرآن : (آیت 79 سے 80) ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو کتاب‘ نبوت اور حکمرانی سے نوازا۔ اس لیے ان کے بہانوں میں ایک بہانہ یہ تھا کہ ہمیشہ سے کتاب‘ نبوت اور حکومت ہمیں ملتے آئے ہیں۔ اب ہم کسی دوسرے شخص کو نبی کیوں تسلیم کریں۔ یہاں اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اللہ تعالیٰ اسے کتاب‘ حکومت اور نبوت سے نوازے تو وہ لوگوں کو اللہ کا بندہ بنانے کی بجائے اپنا بندہ بنانے کی کوشش کرے۔ لہٰذا تمہیں لوگوں کو اپنا بندہ بنانے کی بجائے خود اللہ کے بندے بننا چاہیے یہی اسلام کی دعوت اور مسلمان ہونے کا تقاضا ہے۔ نبی اکرم (ﷺ) کے پاس وفد نجران آیا آپ نے ان کو عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق وحی کی صورت میں جب ٹھوس اور مکمل معلومات فراہم کردیں تو وہ لاجواب اور کھسیانے ہو کر کہنے لگے تو پھر ہمیں آپ کی عبادت کرنی چاہیے؟ ہمیں تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے اسی طرح عبادت کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے جواب میں یہ وضاحت نازل ہوئی کہ کسی بشر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ اسے کتاب‘ نبوت وحکومت کے ساتھ سرفراز فرمائے تو وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کا حکم دینے کے بجائے اپنی بندگی پر آمادہ کرے۔ پیغمبر تو لوگوں کو رب کے بندے بنانے کے لیے مبعوث کیے جاتے ہیں اسی کی وہ تعلیم دیتے اور تبلیغ کرتے ہیں۔ وہ اس بات کا حکم بھی نہیں دیتے کہ لوگ ملائکہ اور انبیاء کورب یا اس کا جزو بنالیں وہ تمہیں کیونکر کفر کا حکم دے سکتے ہیں جب کہ تم مسلمان ہو۔ جہاں تک عیسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق ہے تو وہ دوٹوک الفاظ میں کہا کرتے تھے کہ میرا اور تمہارا رب ایک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ محشر کے میدان میں جب ان سے یہ سوال ہوگا کہ اے عیسیٰ ! کیا تو نے عیسائیوں کو یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو الٰہ بنالو ؟ تو عیسیٰ (علیہ السلام) تھر تھر اتے ہوئے رب ذو الجلال کے حضور عرض کریں گے کہ بارِالٰہ! ایسی بات میں کیونکر کہہ سکتا تھا جسے کہنے کی مجھے اجازت نہ تھی۔ اگر میں نے ایسی بات کہی ہے تو تجھے معلوم ہے۔ تو میرے دل کی حالت سے بھی واقف ہے جب کہ میں تیرے فیصلے کو نہیں جانتا۔ میں نے تو صرف یہ بات کہی تھی کہ اس اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے (المائدۃ:116، 117)۔ یہی بات رسول اللہ (ﷺ) نے اس موقع پر ارشاد فرمائی جب ایک صحابی نے ملک فارس سے واپسی پر آپ کے قدموں پر سجدہ کرنے کی کوشش کی تو آپ نے اسے پیچھے ہٹا تے ہوئے فرمایا کہ اگر میں نے سجدہ کرنے کی اجازت دینا ہوتی تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کے سامنے سجدہ ریز ہواکرے۔ لیکن یادرکھو! اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے اور کسی کے سامنے جھکنے کی اجازت نہیں ہے۔ (عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ (رض) قَالَ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَھُمْ فَقُلْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ یُّسْجَدَ لَہٗ قَالَ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ () فَقُلْتُ إِنّیْ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَھُمْ فَأَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ نَّسْجُدَ لَکَ قَالَ أَرَأَیْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِیْ أَکُنْتَ تَسْجُدُ لَہٗ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا لَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَآءَ أَنْ یَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِھِنَّ لِمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَھُمْ عَلَیْھِنَّ مِنَ الْحَقِّ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب النکاح، باب فی حق الزوج علی المرأۃ] ” حضرت قیس بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں حیرہ گیا تو میں نے انہیں بادشاہ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے سوچا کہ اللہ کے رسول سجدے کے زیادہ لائق ہیں۔ میں نبی (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کی کہ میں نے حیرہ میں دیکھا کہ وہ اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول ! آپ زیادہ حقدار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا بتلائیے! اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا اسے سجدہ کرو گے؟ میں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو۔ اگر میں نے کسی کو کسی کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دینا ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے مردوں کا عورتوں پر جو حق رکھا ہے۔ اس وجہ سے عورتوں کو حکم دیتاکہ وہ اپنے خاوندوں کے سامنے سجدہ ریز ہوں۔“ مسائل : 1۔ کسی پیغمبر کو بھی اختیار نہیں کہ وہ لوگوں کو اپنا بندہ بنانے کی کوشش کرے۔ 2۔ اللہ کے پیغمبر لوگوں کو اللہ ہی کا بندہ بننے کی تلقین فرماتے تھے۔ 3۔ آسمانی کتاب‘ حکومت اور کسی کو نبوت دینا اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔ 4۔ ملائکہ اور انبیاء یا کسی دوسرے کو الٰہ کا درجہ نہیں دینا چاہیے۔ 5۔ ملائکہ‘ انبیاء اور کسی بزرگ کو خدائی درجہ دینا کفر ہے۔ 6۔ شرک اور کفر باہم مترادف ہیں۔ آل عمران
80 آل عمران
81 فہم القرآن : (آیت 81 سے 82) ربط کلام : عیسائیوں اور یہودیوں کے الزام‘ بہانے اور جھوٹ کی تردید۔ یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نام لے کر اور عیسائی جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے کہتے ہیں۔ ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ ہم اپنے انبیاء کے علاوہ کسی نبی پر ایمان نہ لائیں۔ ان کی کذب بیانی کی تردید کرتے ہوئے اس عہد کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم کے وقت انبیائے کرام سے لیا تھا کہ میں تمہیں کتاب وحکمت سے سرفراز کروں گا۔ لیکن ایک آخر الزمان پیغمبر آنے والا ہے جو تمہاری شریعتوں کی تائید کرے گا۔ جس کے دور میں وہ پیغمبر آئے اس نبی کا فرض ہوگا کہ وہ اس پر ایمان لائے اور اس کی نصرت وحمایت کرے۔ فرمایا کہ کیا تم اس بات کا اقرار اور میرے ساتھ وعدہ کرتے ہو؟ تمام انبیاء نے بیک زبان ہو کر اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ ہم نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے ہوئے اس کی مدد کریں گے۔ فرمایا پھر گواہ رہنا اور میں بھی اپنی شہادت تمہارے ساتھ ثبت کرتا ہوں۔ یاد رکھنا! کہ جس نے اس عہد سے انحراف کیا وہ نافرمان سمجھا جائے گا۔ چنانچہ ہر نبی اور رسول نے اپنے دور نبوت میں اپنی امت کو ہدایت کی کہ جوں ہی خاتم المرسلین تشریف لائیں تو تمہارا فرض ہوگا کہ تم میری نبوت چھوڑ کر اس پر ایمان لا کر اس کی نصرت و حمایت کرنا۔ رسول اللہ (ﷺ) کی رسالت کے لیے حضرت ابراہیم (ﷺ) نے دعامانگی اور اپنی دعا میں اس تمنا کا اظہار کیا کہ بارِالٰہ ! وہ آخری نبی مکہ معظمہ میں مبعوث فرمانا۔ اس طرح انہوں نے علاقے اور ایک شہر کی نشاندہی فرما دی (البقرۃ :129) ان کے بعد آپ کی رسالت کا ہر نبی اعلان کرتا رہا یہاں تک کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) نے آپ کے اسم گرامی سے بنی اسرائیل کو آگاہ فرمایا اس آخری رسول کا نام نامی اسم گرامی احمد ہوگا۔ (الصف :6) بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ یہ عہد انبیاء سے لینے کے بجائے ان کی وساطت سے ان کی امتوں سے لیا گیا تھا۔ حالانکہ قرآن مجید دوٹوک انداز میں واضح کررہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ عہد انبیاء سے براہ راست لیا تھا۔ دراصل ان حضرات کو ﴿فَمَنْ تَوَلّٰی﴾ (کہ تم میں سے عہد سے پھر جائے) کے الفاظ سے مغالطہ ہوا ہے اس لیے کہ نبی تو عام آدمی کے ساتھ عہد شکنی نہیں کرتا چہ جائے کہ اللہ کے ساتھ انبیاء کی وعدہ خلافی کے بارے میں کچھ کہا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیاء کے بارے میں یہ سوچنا گناہ ہے لیکن بات کی اہمیت کے پیش نظر قرآن مجید نے کئی مقامات پر یہ اسلوب اختیار فرمایا ہے۔ یہ انداز اس لیے بھی اپنایا گیا کہ معاملہ رب ذوالجلال کے ساتھ ہورہا ہے۔ لہٰذا یہ عہد انبیائے عظام سے ہوا کیونکہ خالق کو اپنی مخلوق پر حق ہے کہ جس طرح چاہے خطاب فرمائے۔ یہاں عہد کے بجائے میثاق کا لفظ استعمال فرمایا جو اہمیت کے اعتبار سے بلند درجہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول محترم (ﷺ) اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کو اس طرح بھی خطاب فرمایا ہے : ﴿لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ﴾ [ الزمر :65] ” اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے اعمال برباد ہوجائیں گے۔“ ﴿وَلَوْ أَشْرَکُوْالَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾ [ الانعام :88] ” اور اگر یہ تمام انبیاء بھی شرک کا ارتکاب کرتے تو ان کے اعمال ضائع ہوجاتے۔“ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وصیت : ” میں دنیا میں اس لیے آیاہوں کہ اس اللہ کے رسول کی آمد کے لیے راستہ ہموار کروں جو دنیا کو نجات دلائے گا۔ لیکن خبردار! دھوکہ نہ کھانا، کیونکہ بے شمار جھوٹے نبی آئیں گے جو میرا نام لیں گے اور میری انجیل میں ملاوٹ کریں گے۔“ [ برناباس۔ باب71] ” وہ تمہارے وقتوں میں نہیں آئے گا بلکہ تمہارے کچھ عرصے کے بعد آئے گا جب کہ میری انجیل مسترد کردی جائے گی۔ وہ دنیا سے بت پرستی کا خاتمہ کرے گا اور ان لوگوں سے بدلہ لے گا جو مجھے آدمی سے بڑھ کر کچھ اور تصور کریں گے۔“ [ برناباس۔ باب71] مسائل : 1۔ رسول اللہ (ﷺ) کی رسالت کا تمام انبیاء نے اقرار کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی شہادت ثبت فرمائی۔ تفسیربالقرآن : انبیاء ایک دوسرے کے مصدّق تھے : 1۔ نبی کریم (ﷺ) نے پہلے انبیاء کی تصدیق کی۔ (الصافات :37) 2۔ قرآن پہلی کتب کا مصدق ہے۔ (آل عمران :3) 3۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کی تصدیق کی۔ (آل عمران :50) 4۔ حضرت یحییٰ، عیسیٰ (علیہ السلام) کے مصدق تھے۔ (آل عمران :39) آل عمران
82 آل عمران
83 فہم القرآن : (آیت 83 سے 85) ربط کلام : اہل کتاب اور اللہ کے نافرمانوں کو بار بار سوچنا چاہیے کہ تمہاری بد عہدی اور نافرمانی سے رب کی خدائی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے خالق و مالک کی تابعدار ہے۔ جب ساری مخلوق تابعدار اور تمام انبیاء نے نبی (ﷺ) کی نبوت کا اقرار اور اس سے عہد کیا تو تم نبوت کا انکار اور اللہ کی بغاوت کرنے والے کون ہوتے ہو؟ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکامات ماننے کا نام دین ہے۔ اے اہل کتاب اور دنیا جہان کے لوگو! کیا اللہ تعالیٰ کی اطاعت چھوڑ کر کسی اور کی تابعداری کرنا چاہتے ہو ؟ ذراغور کرو اور سوچو کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی فرمانبرداری میں لگی ہوئی ہے۔ سورج اس کے حکم کے مطابق ڈیوٹی دے رہا ہے، چاند اس کی اطاعت میں اپنی منازل طے کرتا ہے، ستارے اسی کے نظام کے مطابق چھپتے اور ظاہر ہوتے ہیں۔ دریا اور سمندر اس کے حکم سے رواں دواں ہیں۔ ہوائیں اس کی فرمانبرداری میں چلتی اور رکتی ہیں، رات اور دن اس کے حکم سے ایک دوسرے کے آگے پیچھے چل رہے ہیں جونہی حکم ہوگا پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے، ہوائیں تھم جائیں گی، سمندر جامد ہوجائیں گے، سورج اپنا رخ موڑلے گا، اور لیل ونہار کی گردشیں رک جائیں گی گویا کہ پورے کا پورا نظام لفظ ” کُنْ“ سے جامد، ساکت اور الٹ پلٹ ہوجائے گا۔ جب پورا نظام اللہ تعالیٰ کی سمع وطاعت اور اس کے حکم سے انسان کی خدمت میں لگا ہوا ہے تو حیف ہے انسان پر جو اس کی ذات کا انکار اور اس کے حکم سے سرتابی کرتے ہوئے پورے نظام کے ساتھ بغاوت اور اس کے خلاف چلتا ہے۔ لہٰذا انتباہ کے انداز میں سوال کیا جا رہا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے نظام قدرت کے خلاف چلنا چاہتے ہو ؟ جب کہ زمین و آسمان کی ہر چیز چاروناچار اس کے حکم کی فرمانبردار ہے۔ لفظ ﴿کَرْھًا﴾ استعمال فرما کر باغی انسانوں کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ وہ اللہ ہواؤں کا رخ موڑدیتا ہے، سمندروں کو پرسکون بنا دیتا ہے، پہاڑوں کو پھاڑکر چشمے چلا دیتا ہے، شمس وقمر اپنے وجود عظیم کے باوجود اس کے سامنے بے بس ہیں، آسمان اپنی بلندیوں کے باوجود اس کے زیر تسلط ہیں، زمین کی وسعت وکشادگی اس کی کرسی اقتدار کے سامنے ایک انگوٹھی کے مانند ہے تو اے انسان! تم اس رب کی دسترس سے کس طرح باہر ہوسکتے ہو؟ اس کی دی ہوئی مہلت کے بعد بالآخر تم نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ دین کی روح اور مدعا اللہ تعالیٰ کی سمع وطاعت کا نام ہے اور یہی انبیاء کرام کی دعوت ہے اور اسی پر وہ ایمان لائے اور اسی کی اطاعت کرتے رہے۔ لہٰذا اے رسول! تم اس بات کا اعلان کرو کہ میں ہی نہیں بلکہ ہم سب کے سب اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور جو کچھ ہم پر اور ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، موسیٰ اور عیسیٰ پر نازل کیا گیا ہم ان میں سے کسی ایک کی نبوت کی نفی اور ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اسی کے ماننے والے ہیں اور یہی انبیاء کا دین اور طریقۂ حیات تھا۔ جو بھی اس طرز بندگی اور سمع وطاعت کے طریقہ سے ہٹ کر زندگی بسر کرے گا اس کی کوئی نیکی اور کاوش اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوگی اور اس کا انجام بالآخر نقصان پانے والوں میں ہوگا۔ مسائل: 1۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تابع فرمان ہے۔ لہٰذا جن و انس کو بھی اللہ کی اطاعت کرنا چاہیے۔ 2۔ سب نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ 3۔ اسلام کے سوا دوسرادین قبول نہیں کیا جائے گا۔ 4۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ انبیاء کی کتابوں کا من جانب اللہ ہونا بلاتفریق تسلیم کیا جائے۔ 5۔ دین اسلام کے خلاف چلنے والا بالآخر نقصان اٹھائے گا۔ تفسیربالقرآن : اسلام کی اہمیّت : 1۔ اسلام کے بغیر کوئی دین قبول نہیں۔ (آل عمران :85) 2۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے۔ (آل عمران :19) 3۔ یوسف (علیہ السلام) کی اسلام پر موت کی دعا۔ (یوسف :101) 4۔ سب کو اسلام پر ہی مرنے کا حکم۔ (البقرۃ:132) آل عمران
84 آل عمران
85 آل عمران
86 فہم القرآن : (آیت 86 سے 88) ربط کلام : انبیاء کے مشن اور نظام کائنات کے خلاف چلنے والے کفار کی دنیا میں سزا اور آخرت میں اس کا انجام۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ایمان کے بعد کفر اختیار کرنے والوں سے مراد اہل کتاب ہیں۔ کیونکہ تورات اور انجیل کے حوالے سے وہ رسول اللہ (ﷺ) کی رسالت کے بارے میں قلبی طور پر مانتے ہیں کہ یہ حق ہے۔ اس فرمان کے مخاطب اہل کتاب ہوں یا مرتدین آپ کی رسالت کی حقیقت کے ٹھوس دلائل جاننے کے باوجود جو بھی تسلیم ورضا کارویّہ اختیار نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کیا کرتا۔ جو شخص اپنے آپ پر ظلم کرنے کے درپے ہوجائے اس کا ہاتھ پکڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ ہرزبان میں محاورہ ہے کہ ” سوئے ہوئے کو تو جگایا جاسکتا ہے۔ لیکن جاگتے کو جگانامحال ہوتا ہے“ یہاں بھی ایسے ہی لوگوں کو مخاطب کیا جارہا ہے کہ جنہوں نے آپ کی رسالت کو اس طرح پہچان لیا ہے جس طرح باپ اپنے بیٹے کو پہچان لیا کرتا ہے لیکن پھر بھی تعصب یا کسی مفاد کے چھن جانے کے خوف سے آپ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ایسے ظالموں کو ہدایت دینا تو درکنار ان پر اللہ تعالیٰ‘ ملائکہ اور دنیا جہان کے انسان پھٹکار بھیجتے ہیں۔ ایسا پھٹکارا ہوا شخص ہدایت پائے تو کس طرح؟ انہیں تو اس پھٹکار کی حالت میں ہمیشہ رہنا ہے اور یہ پھٹکار انہیں بالآخر جہنم میں لے جائے گی۔ جہاں ان پر نہ کبھی عذاب ہلکا ہوگا اور نہ وہ اس سے چھٹکارا پاسکیں گے۔ مسائل : 1۔ جان بوجھ کر حق کا انکار کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ 2۔ کفار پر اللہ تعالیٰ اور پوری مخلوق لعنت کرتی ہے۔ آل عمران
87 آل عمران
88 آل عمران
89 فہم القرآن : ربط کلام : کفار کے لیے توبہ کی گنجائش اور توبہ کرنے پر مہربانی کا وعدہ۔ توبہ کا معنٰی پلٹنا ہے جس سے مراد آدمی کا اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے کیونکہ یہ شخص اپنے گناہوں اور جرائم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے الگ اور اس کی رحمت سے دور ہوگیا تھا۔ اب یہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا ہے اور اس نے توبہ کی ایسے شخص کو تائب کہتے ہیں۔ جب لفظ توبہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو معنٰی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر توجہ فرمائی۔ توبہ کی تکمیل کے لیے دو شرطیں ازحد ضروری ہوا کرتی ہیں۔ 1۔ سابقہ گناہوں کی معافی طلب کرنا جسے قرآن و حدیث میں استغفار کہا گیا۔2 ۔دوسری شرط یہ ہے کہ آدمی اخلاص نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرے کہ اِلٰہی آئندہ میں اس گناہ سے بچنے کی کوشش کروں گا۔ ذاتی اصلاح کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی وجہ سے معاشرے میں جو گناہ پھیلاہے اس کی تردید اور اس کے اثرات ختم کرنے کے لیے بھی کوشش کرتارہے۔ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ یقیناً اس کے گناہوں کو معاف فرمائے گا کیونکہ وہ معاف فرمانے والا‘ نہایت مہربان ہے۔ مسائل : 1۔ توبہ اور اصلاح کرلینے والوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔ تفسیربالقرآن : توبہ کی شرائط : 1۔ اعتراف جرم کے سبب توبہ قبول ہوتی ہے۔ (البقرۃ:37) 2۔ ظلم سے اجتناب اور اصلاح احوال کے بعد توبہ قبول ہوتی ہے۔ (المائدۃ:39) 3۔ جہالت کے سبب گناہ کرکے اصلاح کرنے پر اللہ توبہ قبول کرتا ہے۔ (الانعام :54) 4۔ توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔ (التوبۃ:27) 5۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا۔ (آل عمران :135) آل عمران
90 فہم القرآن : (آیت 90 سے 91) ربط کلام : توبہ اور اصلاح کا موقعہ ملنے کے باوجود جو لوگ کفر و شرک پر ہیں۔ ان کے بارے میں حتمی سزا کا اعلان۔ بلا شبہ جن لوگوں نے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا اور پھر اپنی اصلاح اور ایمان کی طرف پلٹنے کی بجائے کفر میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں کرے گا اور یہی لوگ گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اگر انہیں اسی حالت میں موت آگئی تو ایسے لوگ قیامت کے دن اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے زمین بھر سونا بھی پیش کریں تو وہ قبول نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ مرنے کے بعد انسان کے پاس اچھے یابرے اعمال کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہوگی۔ اس کے باوجود یہاں فدیہ کی بات ہورہی ہے۔ اس کا معنٰی ہے کہ ایسے لوگوں کے پاس نہ مرنے کے بعد کچھ ہوگا نہ ہی یہ لوگ عذاب سے نجات پائیں گے اور نہ ہی ان کا کوئی حامی ومدد گار ہوگا۔ (عَنْ أَنَسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () یُؤْتٰی بالرَّجُلِ مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُ لَہٗ یَاابْنَ آدَمَ کَیْفَ وَجَدْتَّ مَنْزِلَکَ فَیَقُوْلُ أَیْ رَبِّ خَیْرُ مَنْزِلٍ فَیَقُوْلُ سَلْ وَتَمَنَّ فَیَقُوْلُ مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنّٰی إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِیْ إِلَی الدُّنْیَا فَأُقْتَلَ فِیْ سَبِیْلِکَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَایَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّھَادَۃِ وَیُؤْتٰی بالرَّجُلِ مِنْ أَھْلِ النَّارِ فَیَقُوْلُ لَہٗ یَا ابْنَ آدَمَ کَیْفَ وَجَدْتَّ مَنْزِلَکَ فَیَقُوْلُ أَیْ رَبِّ شَرُّّ مَنْزِلٍ فَیَقُوْلُ لَہٗ أَتَفْتَدِیْ مِنْہُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَھَبًا فَیَقُوْلُ أَیْ رَبِّ نَعَمْ فَیَقُوْلُ کَذَبْتَ فَقَدْ سَأَلْتُکَ أَقَلَّ مِنْ ذٰلِکَ وَأَیْسَرَ فَلَمْ تَفْعَلْ فَیُرَدُّ إِلَی النَّارِ) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب باقی المسند السابق] ” رسول محترم (ﷺ) نے فرمایا ایک جنتی کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا اے ابن آدم تو نے اپنا مقام کیسا پایا؟ وہ جواب دے گا اے میرے رب! بہترین رہنے کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کسی اور تمنا کا اظہار کر۔ وہ عرض کرے گا نہ میری کوئی تمنا ہے نہ سوال سوائے اس کے کہ آپ مجھے دنیا میں دوبارہ بھیج دیں میں تیری راہ میں دس مرتبہ شہید کردیا جاؤں یہ شہادت کی فضیلت کی وجہ سے تمنا کرے گا۔ پھر ایک جہنمی آدمی لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا۔ اے ابن آدم تو نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ جواب دے گا اے میرے رب! بدترین ٹھکانا ہے اللہ تعالیٰ اسے کہیں گے کیا تو زمین بھر سونا فدیہ کے طور پر دے گا؟ وہ کہے گا ہاں میرے رب۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے کم اور آسان کام کا مطالبہ کیا تھا جو تو نے نہ کیا۔ پھر اسے جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی لِأَھْوَنِ أَھْلِ النَّارِ عذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَوْ أَنَّ لَکَ مَافِی الْأَرْضِ مِنْ شَیْءٍ أَکُنْتَ تَفْتَدِیْ بِہٖ فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیَقُوْلُ أَرَدْتُّ مِنْکَ أَھْوَنَ مِنْ ھٰذَا وَأَنْتَ فِیْ صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَّاتُشْرِکَ بِیْ شَیْئًا فَأَبَیْتَ إِلَّآأَنْ تُشْرِکَ بِیْ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار] ” حضرت انس بن مالک (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتی ہیں آپ نے فرمایا ایک جہنمی آدمی سے روز قیامت کہا جائے گا تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تیرے پاس زمین میں جو کچھ ہے تو وہ جہنم کے عذاب کے بدلے فدیہ دے ؟ وہ کہے گا ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے تو تجھ سے اس سے ہلکی اور کم چیز کا مطالبہ کیا تھا۔ میں نے تیرے باپ آدم کی پشت میں عہد لیا تھا کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گا لیکن تو نے انکار کیا اور میرا شریک ٹھہرایا۔“ مسائل : 1۔ حالت ارتداد پر قائم رہنے والے کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ 2۔ کفر کی حالت میں مرنے والے کی معافی نہیں۔ تفسیربالقرآن : قیامت کو کفار سے کچھ بھی قبول نہیں کیا جائے گا : 1۔ قیامت کو کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (البقرۃ:123) 2۔ اسلام کے علاوہ کوئی دین قبول نہ کیا جائے گا۔ (آ ل عمران :85) 3۔ جہنمیوں سے زمین کے برابر سونا بھی قبول نہ ہوگا۔ (آل عمران :91) 4۔ قیامت کے دن ایمان لانا نفع بخش نہ ہوگا۔ (الانعام :158) 5۔ دوستیاں کام نہ آئیں گی۔ (البقرۃ:254) 6۔ خرید وفروخت کا موقعہ نہیں ہوگا۔ (البقرۃ:254) آل عمران
91 آل عمران
92 فہم القرآن : ربط کلام : کفر اللہ تعالیٰ سے دوری اور آخرت میں ذلّت کا باعث ہوگا۔ صدقہ اللہ تعالیٰ کی قربت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ بِرّ“ ایسی نیکی کو کہتے ہیں جسے اس کے پورے تقاضوں کے ساتھ ادا کیا جائے۔ لہٰذاحکم ہوا ہے کہ اے لوگو! تم اس وقت تک صدقے کے حق اور نیکی کی روح کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اللہ کی راہ میں وہ چیز خرچ نہ کرو جس کے ساتھ تم انتہائی محبت کرتے ہو۔ بِرّ“ کا معنی جنت بھی کیا گیا ہے۔ (تفسیر کبیر رازی) دوسرے الفاظ میں تم جنت کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی محبوب چیز اللہ کی راہ میں قربان نہ کرو۔ یہاں لطیف پیرائے میں یہودیوں کے کھوکھلے دعووں اور ان کے بخل کی نشان دہی کرنے کے ساتھ مسلمانوں کو عزیز ترین چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جونہی یہ حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام (رض) نے اپنی اپنی متاع عزیز کو فی سبیل اللہ صدقہ کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنی وفادار اور سلیقہ شعار کنیز کو آزاد کیا، حضرت زید بن حارثہ (رض) نے قیمتی گھوڑا بیت المال میں دینے کا اعلان کیا جسے رسول اکرم (ﷺ) نے اس کے بیٹے اسامہ کو عنایت فرمایا جو الگ گھر والے تھے۔ جس پر جناب زید دل گرفتہ ہوئے کہ ہمارا صدقہ ہمیں ہی واپس لوٹا دیا گیا ہے۔ ان کی تسلی کے لیے آپ (ﷺ) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا صدقہ قبول فرما لیا ہے۔ [ ابن جریر و طبرانی] (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ () فَقَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَیُّ الصَّدَقَۃِ أَعْظَمُ أَجْرًا قَالَ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِیْحٌ شَحِیْحٌ تَخْشَی الْفَقْرَ وَتَأْمَلُ الْغِنٰی وَلَاتُمْھِلُ حَتّٰی إِذَابَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ قُلْتَ لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُلَانٍ کَذَا وَقَدْ کَانَ لِفُلَانٍ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب فضل صدقۃ الشحیح الصحیح] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک آدمی نبی اکرم (ﷺ) کے پاس آکر پوچھنے لگا کہ کونسا صدقہ زیادہ اجر والا ہے؟ فرمایا جب تو تندرستی کی حالت میں مال کی خواہش ہوتے ہوئے محتاجی کے خوف اور مالدار بننے کی خواہش کے باوجود خیرات کرے۔ اتنی دیر نہ کر کہ جان حلق تک آ پہنچے اس وقت تو کہے کہ اتنا فلاں کو دو اتنا فلاں کو دو۔ حالانکہ اب تو سارا ہی فلاں فلاں کا ہوچکا۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) یَقُوْلُ کَانَ أَبُوْطَلْحَۃَ أَکْثَرَ أَنْصَارِیٍّ بالْمَدِیْنَۃِ نَخْلًا وَکَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِہٖ إِلَیْہِ بَیْرُحَاءُ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () یَدْخُلُھَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِیْھَا طَیِّبٍ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ﴾ قَامَ أَبُوْ طَلْحَۃَ فَقَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ﴾ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِیْ إِلَیَّ بَیْرُحَاءُ وَإِنَّھَا صَدَقَۃٌ لِلّٰہِ أَرْجُوْبِرَّھَا وَذُخْرَھَا عِنْدَ اللّٰہِ فَضَعْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ حَیْثُ أَرَاک اللّٰہُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () بَخْ ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ ذٰلِک مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَاقُلْتَ وَإِنِّیْ أَرٰی أَنْ تَجْعَلَھَا فِی الْأَقْرَبِیْنَ قَالَ أَبُوْ طَلْحَۃَ أَفْعَلُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَسَمَھَا أَبُوْ طَلْحَۃَ فِیْ أَقَارِبِہٖ وَفِیْ بَنِیْ عَمِّہٖ) [ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب لن تنالوا البرحتی تنفقوا مما تحبون] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں ابو طلحہ (رض) انصار میں سب سے زیادہ کھجوروں والے تھے ان باغات میں بیرحاء نامی باغ ان کا سب سے بہترین مال تھا۔ جو مسجد کے سامنے تھا نبی (ﷺ) اس میں جاتے اور وہاں سے پانی پیا کرتے تھے جب آیت ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ﴾ نازل ہوئی۔ حضرت ابو طلحہ (رض) رسول کریم (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں اے اللہ کے رسول (ﷺ) ! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جب تک تم اپنی محبوب ترین چیز خرچ نہ کرو کبھی نیکی تک نہ پہنچ سکو گے۔ یقینًامیرے پاس ” بیرحاء“ کا باغ ہے جو میری پوری جائیداد میں میرے نزدیک قیمتی اور عزیز ہے میں اس کے بدلے اللہ کے ہاں نیکی اور آخرت کے خزانے کا خواہشمند ہوں لہٰذا آپ اسے جہاں چاہیں استعمال کریں۔ آپ (ﷺ) نے اس جذبہ کی تحسین کرتے ہوئے فرمایا : یہ مال بڑا نفع بخش ہے یہ مال بڑا فائدہ مند ہے جو تم نے کہا میں نے سن لیا۔ تم اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ چنانچہ حضرت ابو طلحہ (رض) نے باغ اپنے چچا زاد بھائیوں اور عزیزوں میں تقسیم کردیا۔“ یاد رہے! یہ وہی ابو طلحہ (رض) ہیں جنہوں نے مہمان کو کھانا کھلانے کے لیے اپنی بیوی کو کہا تھا کہ جونہی ہم کھانا شروع کریں تو دیا بجھا دیا جائے تاکہ مہمان کو کھانے کی کمی کا احساس نہ ہو۔ آیت کے آخر میں تمام صدقات کی یہ کہہ کر حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ جو کچھ بھی تم اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔ اللہ تعالیٰ اسے اور تمہاری نیت کو خوب جانتا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ کی راہ میں محبوب چیز خرچ کرنا چاہیے۔ 2۔ آدمی جو کچھ خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : نیکی کیا ہے ؟ 1۔ نیکی کے کام۔ (البقرۃ:177) 2۔ نیکی میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔ (المائدۃ:2) 3۔ نیکی کے عوض برائیاں معاف ہوتی ہیں۔ (ھود :114) 4۔ محبوب چیز خرچ کیے بغیر نیکی کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ (آل عمران :92 ) آل عمران
93 فہم القرآن : ربط کلام : تیسرے پارے کی آخری آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے خاندان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کا دین یہی اسلام ہے۔ جو کوئی اسلام سے انحراف کرے گا اس سے کوئی دوسرا دین قبول نہ ہوگا۔ جس پر یہودیوں نے یہ اعتراض کیا کہ یہ نبی اور اس کے پیروکار اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں۔ حالانکہ یعقوب (علیہ السلام) پر اونٹ کا گوشت حرام تھا لہٰذا ملت ابراہیم پر ہم ہیں تم نہیں۔ یہاں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو جبکہ اللہ کا فرمان سچا ہے۔ یہودیوں کا دعو ٰی ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر اونٹ کا گوشت حرام تھا جس کی وجہ سے یہودی اونٹ کا گوشت نہیں کھاتے۔ حالانکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو عرق النساء کی تکلیف تھی۔ جس سے پوری ٹانگ میں ایک درد اٹھتا ہے بسا اوقات یہ تکلیف اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ مریض کے لیے ٹانگ گھسیٹ کر چلنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس تکلیف میں پرہیز کے طور پر اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ انہوں نے نذر مانی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے شفا عطا فرمائی تو میں کھانے کی محبوب چیز ترک کر دوں گا۔ جس وجہ سے انہوں نے اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا۔ ان کی شریعت میں ایسی نذر جائز تھی۔ اسلام میں ایسا کرنا جائز نہیں ہے باوجود اس کے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر اونٹ کا گوشت حلال تھا۔ یہودیوں نے اسے اپنے طور پر حرام قرار دے لیا۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجود یہودی پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے کہ یہ عجیب رسول ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو اپنے لیے حلال قرار دے دیا ہے۔ لہٰذا یہ نبی ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان اور ان کی ملّت کے خلاف ہے۔ اس الزام کی وضاحت اس طرح کی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر پاک اور حلال کھانا اس میں اونٹ کا گوشت بھی شامل ہے حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر حلال اور جائز قرار دیا تھا۔ سوائے اس کے جو کھانا حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے تورات نازل ہونے سے پہلے علاج کے طور پر اپنے لیے حرام قرار دے لیا تھا۔ انہیں فرمائیں اگر تورات میں اونٹ کا گوشت حرام کیا گیا ہے تو میرے سامنے تورات لا کر پڑھو۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ اتنے کھلے چیلنج کے باوجود آج تک کوئی یہودی اصلی توراۃ میں یہ بات نہیں دکھا سکا۔ لیکن پھر بھی یہودی دعو ٰی کیے جا رہے ہیں کہ اونٹ کا گوشت حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر حرام تھا حالانکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نزول تورات سے پہلے فوت ہوچکے تھے۔ پھر حلال و حرام کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے کوئی بھی نبی اللہ تعالیٰ کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کرسکتا۔ ] التحریم :1] البتہ بطور علاج یا کسی چیز کو کھانے پر طبیعت آمادہ نہ ہو تو اسے چھوڑنے میں کوئی گناہ نہیں۔ جس طرح رسول اللہ (ﷺ) کے سامنے ضب (گوہ) کا سالن رکھا گیا آپ نے اس طرف ہاتھ نہیں بڑھایا جب کہ بعض صحابہ آپ کے سامنے کھا رہے تھے۔ انہوں نے آپ (ﷺ) سے عرض کی کہ آپ کیوں نہیں تناول فرماتے ؟ آپ نے فرمایا میری قوم میں یہ نہیں ہوتی اس لیے میری طبیعت اسے کھانے پر آمادہ نہیں ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الاطعمۃ] (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ حَضَرَتْ عِصَابَۃٌ مِّنَ الْیَھُوْدِ رَسُوْلَ اللّٰہِ () فَقَالُوْا یَاأَبَاالْقَاسِمِ حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُکَ عَنْھُنَّ لَایَعْلَمُھُنَّ إِلَّا نَبِیٌّ فَکَانَ فِیْمَا سَأَلُوْہُ أَیُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَاءِیْلُ عَلٰی نَفْسِہٖ قَبْلَ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاۃُ قَالَ فَأَنْشُدُکُمْ باللّٰہِ الَّذِیْ أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوْسٰی ھَلْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّ إِسْرَاءِیْلَ یَعْقُوْبَ مَرِضَ مَرَضًا شَدِیْدًا فَطَالَ سَقَمُہٗ فَنََذَرَ لِلّٰہِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاہ اللّٰہُ مِنْ سَقَمِہٖ لَیُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ فَکَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ وَأَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ أَلْبَانُھَا فَقَالُوْا اللّٰہُمَّ نَعَمْ) [ رواہ احمد : کتاب ومن مسند بنی ھاشم، باب بدایۃ مسند عبداللہ بن عباس] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) کے پاس یہودیوں کے ایک گروہ نے آپ سے کہا اے ابو القاسم! ہم آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتے ہیں جسے نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ ان سوالوں میں ایک سوال یہ تھا کہ وہ کون سا کھانا ہے جو یعقوب (علیہ السلام) نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے آپ پر حرام کرلیا تھا آپ نے فرمایا : میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتاہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی کہ تمہیں معلوم ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) ہت زیادہ بیمار ہوگئے اور بیماری نے طوالت اختیار کی تو انہوں نے اللہ کے لیے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں شفا یاب کرے گا۔ تو وہ اپنے آپ پرسب سے محبوب کھانا‘ پینا (چھوڑ) حرام کرلیں گے اور ان کا پسندیدہ کھانا اونٹ کا گوشت اور پینا اونٹوں کا دودھ تھا انہوں نے کہا ہاں اللہ کی قسم ایسے ہی ہے۔“ مسائل : 1۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر ہر حلال چیز کھانا جائز تھی۔ 2۔ بیماری کی وجہ سے حلال چیز کھانا چھوڑی جا سکتی ہے۔ تفسیر بالقرآن : 1۔ پیغمبر اللہ تعالیٰ کی حلال چیز کو حرام نہیں کرسکتا۔ (التحریم :1) 2۔ یہودیوں کی نافرمانی کی وجہ سے کچھ حلال چیزیں ان پر حرام کردی گئیں تھی۔ (النساء :160) 3۔ یہودیوں پر جانوروں کی چربی حرام کردی گئی تھی۔ (الانعام :146) 4۔ یہودیوں پر سود کھانا حرام تھا۔ (النساء :161) آل عمران
94 فہم القرآن : (آیت 94 سے 95) ربط کلام : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا کسی وجہ سے اونٹ کا گوشت کھاناچھوڑنے کو یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اونٹ کا گوشت حرام کیا تھا سراسر جھوٹ ہے جس کی تردید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تورات میں اونٹ کا گوشت یا دودھ حرام نہیں کیا۔ تورات کے حوالے سے اسے حرام قرار دینا تمہارا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ظالم لوگ ہی جھوٹ باندھا کرتے ہیں۔ اے رسول معظم (ﷺ) ! آپ فرما دیں کہ یہودیو! تمہاری بات غلط اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد سچا ہے۔ لہٰذا ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہر طرف سے کٹ کر اللہ ہی کے ہوچکے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مشرکوں کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔ یہی ملت ابراہیم ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو اپنے لیے حلال اور اس کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اپنے لیے حرام سمجھے۔ اور بلاشرکت غیرے اور کسی کی پروا کیے بغیر اللہ تعالیٰ کا حکم مانتا رہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا ظالم ہے۔ 2۔ سب کو ملّتِ ابراہیم کی اتّباع کرنے کا حکم ہے۔ تفسیر بالقرآن : ملّتِ ابراہیم کی اتباع : 1۔ نبی کریم (ﷺ) کو ملّت ابراہیم کی اتّباع کا حکم۔ (النحل :123) 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی امت محمدیہ کے لیے نمونہ ہے۔ (الممتحنۃ:6) 3۔ ابراہیم (علیہ السلام) مشرک نہ تھے۔ (آل عمران :95) 4۔ ابراہیم (علیہ السلام) یکسو اور پکّے مسلمان تھے۔ (آل عمران :67) 5۔ نبی کریم (ﷺ) اور حقیقی مسلمانوں کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خاص تعلق ہے۔ (آل عمران :68) 6۔ یہود و نصاریٰ کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کوئی تعلق نہیں۔ (آل عمران :67) 7۔ تورات اور انجیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد نازل ہوئیں۔ (آل عمران :65) آل عمران
95 آل عمران
96 فہم القرآن : (آیت 96 سے 97) ربط کلام : یہود و نصارٰی کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ تعمیر نہیں کیا تھا جس کی یہاں بھرپور طریقہ سے تردید کی گئی ہے۔ یہودی یہ دعو ٰی بھی کرتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کی بجائے پہلے بیت المقدس تعمیر کیا اور یہی ان کا قبلہ تھا۔ اے نبی! آپ یہ اعلان فرمائیں کہ دنیا میں سب سے پہلے لوگوں کے لیے جو گھر تعمیر ہوا وہ مکہ معظمہ میں بیت اللہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے ہدایت کا مرکز قرار دیا اور اس میں بے پناہ برکات رکھی ہیں۔ (عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ (رض) قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَیُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِی الْأَرْضِ أَوَّلَ قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ الْمَسْجِدُ الْأَقْصٰی قُلْتُ کَمْ کَانَ بَیْنَھُمَا قَالَ أَرْبَعُوْنَ سَنَۃًثُمَّ أَیْنَمَا أَدْرَکَتْکَ الصَّلَاۃُ بَعْدُ فَصَلِّہٖ فَإِنَّ الْفَضْلَ فِیْہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللّٰہ إبراھیم خلیلا] ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! روئے زمین پر کون سی مسجد سب سے پہلے بنائی گئی؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا مسجد حرام۔ میں نے دوبارہ سوال کیا کہ پھر کونسی ؟ آپ نے جواب دیا پھر مسجد اقصیٰ۔ میں نے ان دونوں کے درمیان مدت کے بارے میں پوچھا تو آپ (ﷺ) نے فرمایا ان دونوں کے درمیان چالیس سال کی مدت ہے۔ پھر فرمایا جہاں بھی تو نماز کا وقت پائے وہاں نماز پڑھ لے کیونکہ یہی افضل ہے۔“ مفسرین نے بیت اللہ اور بیت المقدس کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سب سے پہلے بیت اللہ کو آدم (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا۔ طوفان نوح کے بعد اس کے نشانات معدوم ہوگئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کی نشاندہی پر بیت اللہ تعمیر فرمایا۔ جہاں تک بیت المقدس کی تاریخ ہے اس کی پہلی تعمیر حضرت اسحاق (علیہ السلام) نے فرمائی بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی بنیاد رکھی اور بعد ازاں انہیں بنیادوں پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے تعمیر کیا۔ نبی محترم کے ارشاد کے مطابق حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کی تعمیر کے درمیان چالیس سال کا فرق ہے۔ اس لحاظ سے یہودیوں کا بیت المقدس کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ قرار دینا سراسر خلاف حقیقت ہے۔ کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جس شہر میں اللہ کا گھر تعمیر کیا تھا اس کا نام ” بکہ“ ہے بکہ مکہ معظمہ کا قدیمی نام ہے۔ تاریخ میں اسے مکہ اور بکہ دونوں طرح ہی یاد کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر قرآن میں ” بکہ“ اور حدیث میں اس کا نام ” مکہ“ آیا ہے۔ اس جہان رنگ وبو میں بے شمارعمارات ومحلاّت خوبصورت سے خوبصورت ترین موجود ہیں جن کے حسن وجمال میں اضافہ کرنے کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے لگائے گئے اور مزید خرچ کیے جارہے ہیں۔ ان کو دیکھیں تو عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ لیکن کوئی ایسی جگہ یا عمارت نہیں جس کے دیدار کو اہل جہاں کے لیے لازم قرار دیا گیا ہو اور جس کے لیے اتنی دنیا کے دل تڑپتے ہوں یہ اکرام ومقام صرف ایک عمارت کو نصیب ہوا جس کو عام پتھروں سے اٹھایا گیا ہے۔ اللہ رب العزّت نے جس کو بیت اللہ قرار دیا۔ یہی لوگوں کی ہدایت کا مرکز اور بابرکت گھر ہے۔ اسی کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں کھڑے ہو کر دعائیں مانگی تھیں اور یہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی پر قرآن مجید کے نزول کا آغاز فرمایا تھا۔ یہی گھر بھٹکی ہوئی انسانیت کے لیے ہدایت کا مرکز ہے۔ آج بھی اس گھر کی عظمت و فضیلت دیکھ کر ہزار ہا لوگ ہر سال ہدایت کی دولت سے مالا مال ہو رہے ہیں اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس میں مقام ابراہیم ہے اور ہر دور میں لوگوں کو اس میں امن ملتا رہا اور قیامت تک اسی طرح ہی ملتا رہے گا۔ کائنات میں صرف یہی گھر ہے جس کی زیارت کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔ اس کی زیارت کی اس قدر تاکید فرمائی ہے کہ جو شخص استطاعت کے باوجود اس گھر کی زیارت نہیں کرتا اللہ تعالیٰ نے اس سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا اور ایسے شخص کو کافر قرار دیا ہے۔ (عَنْ عَلِیٍّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَنْ مَّلَکَ زَادًا وَّرَاحِلَۃً تُبَلِّغُہٗ إِلٰی بَیْتِ اللّٰہِ وَلَمْ یَحُجَّ فَلَا عَلَیْہِ أَنْ یَّمُوْتَ یَہُوْدِیًّا أَوْ نَصْرَانِیًّا وَذٰ لِکَ أنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ فِیْ کِتَابِہٖ ﴿وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا﴾) [ رواہ الترمذی : ابواب الحج، باب ماجاء فی التغلیظ فی ترک الحج] ” حضرت علی (رض) رسول کریم (ﷺ) کا ارشاد بیان کرتے ہیں کہ جس کے پاس بیت اللہ پہنچنے کے لیے زاد راہ اور سواری ہو۔ پھر بھی وہ حج نہیں کرتا تو اللہ کو کوئی پروا نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ صاحب استطاعت لوگوں پر حج کرنا لاز م ہے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قالَ خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ () فَقَالَ أَیُّھَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ فَحَجُّوْا فَقَالَ رَجُلٌ أَکُلَّ عَامٍ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! فَسَکَتَ حَتّٰی قَالَھَا ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْوَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ثُمَّ قَالَ ذَرُوْنِیْ مَاتَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِھِمْ وَاخْتِلَافِھِمْ عَلٰی أَنْبِیَائِھِمْ فَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْءٍ فَأْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَھَیْتُکُمْ عَنْ شَیْءٍ فَدَعُوْہُ) [ رواہ مسلم : کتاب الحج] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول کریم (ﷺ) نے ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا لوگو! یقینًا اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے تم حج کرو۔ ایک آدمی نے اٹھ کر سوال کیا۔ اللہ کے رسول! کیا ہر سال حج کرنا ہوگا؟ نبی (ﷺ) خاموش رہے حتی کہ اس نے اپنا سوال تین مرتبہ دہرایا۔ پھر آپ (ﷺ) نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج فرض ہوجاتا۔ تم اس کی طاقت نہ رکھتے۔ پھر آپ (ﷺ) نے فرمایا مجھے چھوڑے رکھو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں۔ تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں سے اختلاف اور کثرت سوال کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو حسب ہمت وہ کام کرو اور جس چیز سے تمہیں روکوں اسے چھوڑ دو۔“ مسائل : 1۔ سب سے پہلے مکہ میں بیت اللہ تعمیر ہوا۔ 2۔ بیت اللہ بابرکت اور لوگوں کے لیے ہدایت کا مرکز ہے۔ 3۔ مکہ معظمہ کا پرانا نام بکہ ہے۔ 4۔ بیت اللہ میں مقام ابراہیم ہے۔ 5۔ بیت اللہ میں داخل ہونے والے کو امن نصیب ہوتا ہے۔ 6۔ صاحب استطاعت پر بیت اللہ کا حج فرض ہے۔ 7۔ جو حج سے بے پروائی کرے اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ تفسیربالقرآن : بیت اللہ کی عظمت : 1۔ بیت اللہ دنیا میں پہلا گھر ہے جو بابرکت اور ہدایت کا مرکز ہے۔ (آل عمران :96) 2۔ بیت اللہ امن کا گہوارہ ہے۔ (البقرۃ:125) 3۔ بیت اللہ کے باسیوں سے محبت کی جاتی ہے (القریش :1) 4۔ بیت اللہ کے طواف کا حکم ہوا ہے۔ (الحج :29) 5۔ پیدل اور سوار دور سے اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ (الحج :27) آل عمران
97 آل عمران
98 فہم القرآن :(آیت 98 سے 99) ربط کلام : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے حوالے سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بانئ کعبہ تسلیم نہ کرنا اور ملت ابراہیم سے انحراف کرنا کفر ہے۔ اہل کتاب ایسے حقائق کا انکار کرتے ہیں جو قیامت تک زندہ شہادت کے طور پر دنیا میں موجود ہیں اور رہیں گے۔ یعنی بیت اللہ کا مرکز ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت کا مرجع قرار پانا‘ زم زم کی برکات اور اس کا ہر وقت رواں دواں رہنا‘ مقام ابراہیم کی شکل میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں کے نشانات ثبت ہونا‘ صفا اور مروہ کا حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی سعی کی خاموش گواہی دینا۔ زمین کی چھاتی پر نسل در نسل کروڑہا انسانوں کا خاندان ابراہیم کی خدمات کی شہادت دینا۔ اتنی عظیم اور زندہ وجاوید شہادتوں کو مسترد کردینے والی قوم کو قرآن مجید اہل کتاب کے معزز لفظ سے پکارتے ہوئے بار بار متوجہ کرتا ہے کہ اے اہل کتاب! اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا انکار کیوں کرتے ہو اور ہدایت یافتہ لوگوں کو منحرف کرنے کی کوشش کے کیوں درپے ہو؟ جبکہ تمہارا ضمیر قرآن مجید کی تصدیق‘ نبی آخر الزّماں کا اعتراف اور شعائر اللہ کی شہادت دیتے ہوئے تمہارے کفر پر تمہیں ملامت کرتا ہے۔ مسائل : 1۔ اہل کتاب جان بوجھ کر حقائق کا انکار کرتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ انسان کی ہر حرکت کو جانتا ہے۔ تفسیربالقرآن : اللہ تعالیٰ گواہ ہے : 1۔ اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ (الحج :17) 2۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے عمل پر گواہ ہے۔ (یونس :46) 3۔ اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔ (الاعلیٰ:7) آل عمران
99 آل عمران
100 فہم القرآن : (آیت 100 سے 101) ربط کلام : پہلی آیت میں اہل کتاب کو اسلام کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے سے روکا گیا ہے۔ اب مسلمانوں کو متنبہ فرمایا کہ اہل کتاب کی پیروی نہ کرنا یہ تمہیں گمراہ کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ قرآن مجید متعدد مقامات پر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ اگر تم اہل کتاب کو راضی کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ہرگز راضی نہیں ہوں گے۔ ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ تمہیں ایمان سے منحرف کر کے کافر بنا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد (ﷺ) کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا میرے پیغمبر! جب تک آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں گے تب تک یہ آپ پر بھی راضی نہ ہوں گے۔ [ البقرۃ:120] اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ تم کس طرح اپنے لیے کفر کا جواز پیدا کرو گے ؟ جبکہ رسول مکرم (ﷺ) جیسا عظیم رہنما اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر عمل کر کے تمہارے سامنے بہترین نمونہ پیش کرتا ہے جس سے تم براہ راست تربیت پا رہے ہو۔ لہٰذا تمہیں اہل کتاب کو راضی کرنے کے بجائے اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنا چاہیے۔ جس نے اللہ تعالیٰ سے ایمان کا رشتہ مضبوط کرلیا یقیناً وہی صراط مستقیم پائے گا۔ مسائل : 1۔ ایمان داروں کو یہود ونصاریٰ کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ 2۔ یہود و نصاریٰ لوگوں کو مرتد کرنا چاہتے ہیں۔ 3۔ قرآن و حدیث کے ہوتے ہوئے مسلمان کو کافر ہونے کا کوئی جواز نہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاناصراط مستقیم پرچلنا ہے۔ آل عمران
101 آل عمران
102 فہم القرآن : (آیت 102 سے 103) ربط کلام : اہل کتاب کی اتباع سے بچنے اور ان سے ڈرنے کی بجائے مسلمانوں کو صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اسی کے حکم پر مر مٹنا چاہیے۔ اب براہ راست مسلمانوں سے مسلسل خطاب ہوتا ہے۔ تقو ٰی کا عمومی معنٰی پرہیزگاری ہے لیکن جب ” اِتَّقِ اللّٰہَ“ کے الفاظ استعمال ہوں تو اس کا معنٰی ہوا کرتا ہے کہ اپنے رب کی نافرمانیوں سے ڈرو‘ اس کی ذات اور احکام کا احترام کرو۔ نفس مضمون کے اعتبار سے یہاں یہ بات بھی تقو ٰی میں شامل ہے کہ اہل کتاب کے الزامات اور سازشوں سے ڈرنے کے بجائے صرف اللہ سے ڈرو۔ جس طرح اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حق ہے۔ خلوت ہو یا جلوت‘ نفع ہو یا نقصان‘ حاکم ہو یا محکوم‘ امیر ہو یا غریب‘ پڑھے لکھے ہو یا ان پڑھ۔ گویا کہ سب کے سب اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ خوفِ الٰہی کا اجتماعی ماحول اور ایک سماں پیداہو جائے۔ جس میں تمہارے لیے نیکی کرنا آسان اور برائی سے بچنا سہل ہوجائے گا۔ تقو ٰی وقتی اور عارضی نہیں بلکہ اس میں ہمیشگی ہونی چاہیے یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے۔ دوسرے لفظوں میں مرنا گوارا کرلینا لیکن غیر اللہ سے ڈرنا قبول نہ کرنا۔ گویا کہ تقو ٰی اور اسلام لازم و ملزوم ہیں۔ تقو ٰی اور اسلام کا تقاضا ہے کہ تم اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو۔ اتحاد کے لیے پہلی شرط اللہ کا خوف ہے اگر آدمی کا دامن خوفِ الٰہی سے خالی ہو تو وہ اپنے مفادات کی خاطر چھوٹی سی بات کو پہاڑ بنا کر پیش کرتا ہے۔ اتحاد امت کے لیے سب سے بڑی بنیاد خدا خوفی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رسی کو تھامنا ہے۔ گویا کہ مسلمانوں کا اتحاد اللہ کا ڈراختیار کیے اور کتاب وسنت تھامے بغیر نہیں ہوسکتا۔ یہی اتحاد دیرپا اور بابرکت ہوتا ہے۔ اس کے بغیر اتحاد ناپائیدار اور عارضی ہوگا۔ رسی کی وضاحت کرتے ہوئے آپ (ﷺ) نے فرمایا : (کِتَاب اللّٰہِ ھُوَحَبْلُ اللّٰہِ) [ جامع الصغیر للألبانی] ” اللہ کی کتاب ہی اللہ کی رسی ہے۔“ یہاں رسی کا لفظ استعمال فرما کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جس طرح رسی سے لکڑیوں کا گٹھا یا جانور باندھا جاتا ہے اس طرح تم بھی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رسی کے ساتھ باندھ لو۔ آیت میں رسی کو مضبوط پکڑنے کے ساتھ مزید حکم دیا کہ باہمی تفرقے سے بچتے رہو۔ اختلافات سے نہ صرف ذات اور جماعت کی ساکھ اکھڑتی ہے بلکہ اس سے بے سکونی اور بے برکتی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ آدمی ایک دوسرے کے خلاف حسد و بغض کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔ اکثر اوقات اس کا انجام قتل و غارت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہاں اختلاف کو بھڑکتی ہوئی آگ اور اتحاد کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیا گیا ہے۔ یہاں صحابہ کرام (رض) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اپنے ماضی کو سامنے رکھو۔ تم اسلام سے قبل کس قدر باہمی اختلاف کی آگ میں بھسم ہوئے جا رہے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہارے دلوں سے رنجش و کدورت کو نکال کر انہیں محبت و الفت سے لبریز کردیا۔ اس اختلاف سے مراد اوس اور خزرج کی وہ طویل ترین جنگ ہے جو تقریباً سو سال تک جاری رہی۔ جس میں سینکڑوں عورتیں بیوہ، ہزاروں بچے یتیم اور قیمتی جانیں ضائع ہونے کے ساتھ شاداب کھیتیاں‘ اور لہلہاتے ہوئے باغ اور پر رونق آبادیاں ویران ہوئیں۔ نقصانات سے بچنے اور مسلمانوں کے اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : ” تم بد گمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی بہت بڑا جھوٹ ہے۔ تم کسی کی عیب جوئی، جاسوسی اور حسد نہ کرو، نہ پیٹھ پیچھے باتیں کرو‘ نہ ہی دشمنی کرو۔ اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔“ [ رواہ البخاری : کتاب الأدب] مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ رہنے والا ہمیشہ صراط مستقیم پاتا ہے۔ 2۔ صاحب ایمان لوگوں کو صحیح طور پر اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ 3۔ ایمان داروں کو اللہ کی غلامی میں موت آنی چاہیے۔ 4۔ فرقہ بندی کے بجائے قرآن و سنّت کے ساتھ وابستہ رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : اتحاد نعمت اور اختلاف آگ ہے : 1۔ اتحاد واتفاق اللہ کی توفیق کا نتیجہ ہے۔ (الانفال :63) 2۔ اتحاد واتفاق اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ (آل عمران :103) 3۔ کتاب اللہ کارشتہ نہ ٹوٹنے والا ہے۔ (البقرۃ:256) 4۔ باہمی اختلاف اللہ کا عذاب ہوتا ہے۔ (الانعام :65) 5۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ تمّسک کا نتیجہ صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران :101) آل عمران
103 آل عمران
104 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کے لیے اپنے احکامات بیان کرتا ہے لہٰذا مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے لوگوں کو تبلیغ کرتے رہیں۔ خاص کر ایک جماعت کو مسلسل یہ فریضۂ سرانجام دینا چاہیے۔ تھوڑا سا آگے چل کر آیت 110میں اس امت کے وجود کی غرض و غایت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے وجود کا مقصدہی یہ ہے کہ تم لوگوں کو نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکتے رہو۔ چونکہ امت میں ہر آدمی اتنا وقت نہیں دے سکتا جس سے فریضۂ تبلیغ کا حق ادا ہو سکے اور نہ ہی ہر کسی میں اتنی صلاحیت ہوا کرتی ہے کہ وہ دلائل کی بنیاد پر دوسرے کو مطمئن کرسکے۔ اس لیے یہاں امت میں ایسی جماعت ہونے کا تقاضا کیا گیا ہے۔ جو لوگوں کو ہمہ وقت تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ خیر کی دعوت اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکتی رہے۔ ایسے لوگ اپنے مقاصد میں کامیاب اور آخرت میں سرخرو ہوں گے۔ جو لوگ فریضۂ تبلیغ ادا نہیں کرتے ان پر خدا کی لعنت ہوا کرتی ہے۔ جس طرح بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل پر حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے پھٹکار کی کیوں کہ یہ لوگ اللہ کے نافرمان اور اس کی حدّوں کو توڑنے والے تھے۔ ان پر اس لیے بھی لعنت کی گئی کہ وہ لوگوں کو برائی سے روکنے کے بجائے خود بھی گناہوں میں ملّوث ہوگئے اور یہ برے کردار کے حامل لوگ تھے۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () إِنَّ اَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلٰی بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ کَان الرَّجُلُ یَلْقَی الرَّجُلَ فَیَقُوْلُ : یَا ہٰذَا !إِتَّقِ اللّٰہَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَإِنَّہٗ لَایَحِلُّ لَکَ ثُمَّ یَلْقَاہُ مِنَ الْغَدِ فَلَا یَمْنَعُہٗ ذٰلِکَ أَنْ یَّکُوْنَ أَکِیلَہٗ وَشَرِیْبَہٗ وَقَعِیدَہٗ فَلَمَّا فَعَلُوْا ذٰلِکَ ضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِہِمْ بِبَعْضٍ ثُمَّ قَالَ:﴿لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ﴾ إِلٰی قَوْلِہٖ ﴿فَاسِقُوْنَ﴾ ثُمَّ قَالَ کَلَّا وَاللّٰہِ لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْہَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لَتَأْخُذُنَّ عَلٰی یَدَیِ الظَّالِمِ) [ رواہ أبو داؤد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا بنی اسرائیل میں پہلا نقص یہ پیدا ہوا کہ کوئی آدمی کسی کو برا کام کرتے دیکھتا تو اسے اللہ کا خوف دلاتے ہوئے اس کام سے منع کرتاکہ ایسا کام نہیں کرنا چاہیے۔ اگلے دن اسے منع نہ کرتا بلکہ اس کے ساتھ مل کر کھاتا‘ پیتا‘ اٹھتا‘ بیٹھتا ان کی جب یہ حالت ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل بھی ایک جیسے کردیے۔ پھر فرمایا بنی اسرائیل پر بزبان داوٗد اور عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) لعنت کی گئی۔ اس کے بعد فرمایا سنو! اللہ کی قسم! تمہیں ضرور بالضرور نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرتے ہوئے ظالم کا ہاتھ روکنا ہوگا۔“ ایک اور موقع پر نبی (ﷺ) نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عمل کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کشتی میں سوار لوگوں کی مثال بیان فرمائی : (مَثَلُ الْقَائِمِ عَلٰی حُدُوْدِ اللّٰہِ وَالْوَاقِعِ فِیْھَا کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَھَمُّوْا عَلٰی سَفِیْنَۃٍ فَأَصَابَ بَعْضُھُمْ أَعْلَاھَا وَبَعْضُھُمْ أَسْفَلَھَا فَکَانَ الَّذِیْنَ فِیْ أَسْفَلِھَا إِذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَاءِ مَرُّوْا عَلٰی مَنْ فَوْقَھُمْ فَقَالُوْا لَوْ أَنَّا خَرَقْنَا فِیْ نَصِیْبِنَا خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا فَإِنْ یَتْرُکُوْھُمْ وَمَا أَرَادُوْاھَلَکُوْا جَمِیْعًآ وَإِنْ أَخَذُوْا عَلٰی أَیْدِیْھِمْ نَجَوْا وَنَجَوْا جَمِیْعًا) [ رواہ البخاری : کتاب الشرکۃ، ھل یقرع فی القسمۃ والإستھام فیہ] ” اللہ تعالیٰ کی حدود پر قائم رہنے والے اور اس میں ملوث ہونے والوں کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے ایک بحری جہاز کے بارے میں قرعہ اندازی کی۔ بعض کو اوپر والے حصے میں اور کچھ کو نیچے والے حصے میں جگہ ملی۔ نیچے والوں کو جب پانی کی ضرورت پڑتی تو اوپر والوں کے پاس جاتے۔ نیچے والوں نے کہا کہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیتے ہیں اور اوپر والوں کو تکلیف نہیں دیتے۔ اگر اوپر والے انہیں اسی حالت پر چھوڑ دیں تو تمام ہلاک ہوجائیں گے اور اگر ان کے ہاتھوں کو روک لیں تو وہ سب بچ جائیں گے۔“ مسائل : 1۔ امت محمدیہ کا مقصد نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ 2۔ نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن : امّتِ محمدیہ کے اجتماعی فرائض : 1۔ اپنے آپ اور اعزاء واقرباء کو جہنم کی آگ سے بچانا۔ (التحریم :6) 2۔ تبلیغ کے لیے ایک جماعت کا ہونا ضروری ہے۔ (آل عمران :104) 3۔ اجتماعی زندگی میں شریعت نافذ کرنا فرض ہے۔ (الحج :41) 4۔ باہمی معاملات مشورہ سے طے کرنے چاہییں۔ (آل عمران :159) 5۔ عہدہ اہل شخص کو دینا چاہیے۔ (النساء :58) آل عمران
105 فہم القرآن : (آیت 105 سے 107) ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکام کو مضبوطی سے تھامنا اور متحد ہو کر لوگوں تک پہنچانا۔ اختلاف کی صورت میں تبلیغ غیر مؤثر ہوجاتی ہے اس لیے باہمی اختلاف سے منع فرمایا ہے۔ اتحاد و اتفاق اور فریضۂ تبلیغ کی ادائیگی کے ساتھ ایک دفعہ پھر امت کو تاکید کی جارہی ہے کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو آپس میں گروہ بندی کا شکار ہوئے۔ ٹھوس اور واضح دلائل آجانے کے باوجود انہوں نے اپنے دین میں تفرقہ بازی اور اختلافات پیدا کیے۔ اس فرمان میں عام لوگوں اور خاص کر علماء اور مبلّغین کو مخاطب کیا گیا ہے کیونکہ عام مسلمان امت میں محدود انتشار کا باعث ہوتے ہیں لیکن راہنما اور علماء انتشا رکا زیادہ سبب ہوا کرتے ہیں۔ ایسے رہنما، علماء اور عوام کو وارننگ دی جارہی ہے کہ وہ وقت ذہن میں لاؤ کہ جب تمہارے چہروں کی ترو تازگی اور حسن و جمال کو جہنم کی سیاہی اور دنیا کی شہرت کو آخرت کی رسوائی سے بدلتے ہوئے نرم و نازک اجسام کو آگ کے انگاروں میں جھونک دیا جائے گا اور حکم ہوگا کہ اب ہمیشہ کے لیے جہنم کا عذاب چکھتے رہو۔ اے دنیاکی جاہ وعزت‘ شہرت اور دولت کی خاطر دین اور امت میں انتشار پیدا کر کے گل چھڑے اڑانے والو‘ اب تمہیں جہنم میں رہنا اور عذاب عظیم برداشت کرنا ہوگا۔ (عَنْ صُہَیْبٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ اِذَا دَخَلَ اَہْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی تُرِیْدُوْنَ شَیئًا اَزِیْدُکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ اَلَمْ تُبَیِّضْ وُجُوْہَنَا اَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّۃَ وَ تُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ قَالَ فَیَکْشِفُ الْحِجَابَ فَمَا اُعْطُوْا شَیْئًا اَحَبَّ اِلَیْہِمْ مِنَ النَّظَرِ اِلٰی رَبِّہِمْ عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ ﴿لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ﴾ [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین فی الآخرۃ ربھم سبحانہ] ” حضرت صہیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی (ﷺ) نے فرمایا جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم مزید کسی نعمت کو چاہتے ہو کہ میں تمہیں عطا کروں؟ وہ عرض کریں گے اے اللہ! کیا آپ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں فرمایا؟ آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا؟ اور آپ نے ہمیں دوزخ سے نہیں بچایا؟ رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا تب اللہ تعالیٰ اپنے چہرہ نور سے پردہ اٹھائیں گے۔ انہیں ایسی کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی ہوگی جو پروردگار کے دیدار سے انہیں زیادہ محبوب ہو۔ اس کے بعد آپ (ﷺ) نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” جن لوگوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے جنت ہے اور مزید بھی۔“ مسائل : 1۔ آپس میں اختلاف کرنا عذاب الیم کو دعوت دینا ہے۔ 2۔ قیامت کے دن ایمانداروں کے چہرے روشن اور کفار کے منہ کالے ہوں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا۔ 4۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے۔ 5۔ اللہ ہی کے پاس ہر کام کا انجام اور اختیار ہے۔ تفسیر بالقرآن : جنتیوں اور جہنمیوں کے چہروں میں فرق : 1۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (الحج :73) 2۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (القیامۃ:22) 3۔ کفار کے چہرے مرجھائے اور اڑے ہوئے ہوں گے۔ (القیامۃ:24) 4۔ مومنوں کے چہرے خوش وخرم ہوں گے۔ (العبس :38) 5۔ کفارکے چہروں پر گردوغبار ہوگا۔ (العبس :40) 6۔ مجرموں کے چہرے ڈرے اوراُوندھے ہوں گے۔ (الغاشیۃ:2) 7۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (الغاشیۃ:8) آل عمران
106 آل عمران
107 آل عمران
108 فہم القرآن : (آیت 108 سے 109) ربط کلام : اس سے پہلے مجرموں کو سزا سنائی گئی تھی یہاں وضاحت فرمائی ہے کہ مجرموں کے چہرے کالے ہونا اور ان کا جہنم میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے زیادتی نہیں بلکہ یہ تو ان کے اعمال کا نتیجہ اور بدلہ ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے ضابطے اور فیصلے ہیں جو ذات کبریا خود آپ (ﷺ) کے سامنے پڑھ رہی ہے۔ اس کے منزل من اللہ ہونے میں ذرّہ برابر بھی شک نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق اور سچ ہیں۔ جو فرد اور قوم ان پر عمل پیرا ہوگی وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہوئے نہ صرف دنیا میں ساحل مراد تک پہنچیں گی بلکہ آخرت میں ایک لامتناہی روشن مستقبل ان کا منتظر ہوگا اور جو لوگ ان کا انکار کریں گے ان کے لیے دنیا میں بربادی ہے اور آخرت میں روسیاہی ہوگی۔ برے انجام کے ساتھ دوچار ہونا ان کا یقینی ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہ ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نہ صرف لوگوں کو ظلم سے روکتے ہیں بلکہ اس نے اپنی ذات اقدس پر ظلم وزیادتی حرام قرار دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی پر زیادتی کرنے کی اس لیے بھی ضرورت نہیں کیونکہ زمین و آسمان کا ذرّہ ذرّہ اس کا تابع فرمان اور زیر اقتدار ہے زیادتی تو وہ کرے جس کے اختیارات سے بڑھ کر کوئی نافرمانی کرنے والا ہو۔ انسان نافرمانی کرتا ہے تو اس مہلت کے مطابق کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھی ہے۔ آخرکار ہر کوئی اپنے اعمال کے ساتھ اس کے حضور پیش ہونے والا ہے اور آخرت میں ہر ایک کو اس کے کردار کا بدلہ چکا دیا جائے گا۔ (یَاعِبَادِیْ إِنِّیْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِیْ وَجَعَلْتُہٗ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوْا) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ وا آداب، باب تحریم الظلم] ” اے میرے بندو! یقینًا میں نے اپنے آپ پر ظلم کرنا حرام کردیا ہے اور میں اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیتاہوں پس تم آپس میں ظلم نہ کیا کرو۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ 2۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ ہی کے لیے ہے۔ 3۔ تمام معاملات اللہ کی طرف ہی لوٹائے جاتے ہیں۔ 4۔ ہر کام کا انجام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ آل عمران
109 آل عمران
110 فہم القرآن : (آیت 110 سے 111) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ جس میں امت محمدیہ کا مقام اور کام بتلایا گیا ہے۔ امام رازی (رض) نے ایک نظریہ پر اکٹھا ہونے والے لوگوں کو امت قرار دیا ہے یہاں مسلمانوں کو صرف ایک امت نہیں بلکہ امت خیر کے معزز ترین لقب سے ملقب فرمایا گیا ہے اور یہ اعزاز صرف اس امت کو حاصل ہوا ہے۔ اس اعتبار سے امت محمدیہ پہلی تمام امتوں پر برتر اور فضیلت کی حامل قرار پائی ہے۔ جس کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ پر کامل اور بلاشرکت غیرے ایمان لانا۔ (2) نیکی پر عمل پیرا ہو کر دوسروں کو اس کی دعوت دینا (3) برائی سے بچنا اور لوگوں کو اس سے منع کرنا، یہی امت کا اجتماعی فریضہ ہے۔ یہ فرض اتنا مشکل‘ عالمگیر اور ہمہ وقت کرنے کا ہے جو ایک جماعت کے کرنے سے بھی کما حقہ پورا نہیں ہوتا جب تک کہ امت کا ایک ایک فرد اپنے مقام پر اس کے لیے کوشاں نہ ہوجائے۔ رسول محترم (ﷺ) کا ارشاد گرامی ہے : (مَنْ رأٰی مِنْکُمْ مُّنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الْاِیْمَانِ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب بیان کون النھی عن المنکر من الإیمان] ” تم میں جو آدمی کوئی برائی دیکھے اسے اپنے ہاتھ سے روکے، طاقت نہ ہو تو زبان کے ساتھ منع کرے اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں ہی اسے برا محسوس کرے لیکن یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔“ یہ فرض امت کے ہر فرد پر اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس حکم میں امر اور نہی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور امر ونہی کے الفاظ قوت و اقتدار کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ قوت و اقتدار کے بغیر کسی حکم کا نافذ ہونا ممکن نہیں لہٰذا اس کے لیے اجتماعی قوت کی ضرورت ہے۔ یہ کام محض عوامی تحریک یا اجتماعی قوت کے طور پرہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے للہیت اور ایمان کی روشنی ہونی چاہیے تب جا کر اقامت دین کا تقاضا پورا ہوسکتا ہے۔ ﴿اَلَّـذِيْنَ اِنْ مَّكَّنَّاهُـمْ فِى الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلَاةَ وَاٰتَوُا الزَّكَاةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَـهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلّـٰهِ عَاقِـبَةُ الْاُمُوْرِ﴾ (الحج: 41) یہ وہ لوگ ہیں جنہیں! اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ جہاں تک اہل کتاب کا تعلق ہے اگر وہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے لازم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے آخری رسول پر ایمان لاتے ہوئے ابلاغ دین کے کام میں لگ جائیں اگر وہ ایسا کریں تو نہ صرف وہ امّتِ خیر میں شامل ہوں گے۔ بلکہ دنیا اور آخرت کی بھلائی کے حق دار ٹھہریں گے۔ ان میں کچھ لوگ تو ایمان لاتے ہیں جبکہ اکثریت نے نافرمانی کا رویّہ اختیار کیا ہوا ہے۔ ایسے لوگ اپنی ہرزہ سرائی اور شرارتوں کے ذریعے مسلمانوں کو عارضی اور معمولی نقصان تو پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کو کامرانی کے راستے سے ہٹانا ان کے لیے ناممکن ہوچکا ہے کیونکہ مسلمان اتحاد و تقو ٰی اور ایمان باللہ کی بنیاد پر غزوۂ خندق کے بعد اس لائق ہوچکے تھے کہ اب انہیں قابل ذکر نقصان پہنچانا ان کے بس کا روگ نہیں رہا تھا۔ اسلام کے دشمن رزم گاہ حق و باطل میں اترنے کی کوشش کریں گے تو مقابلے کی تاب نہ لا کر پیٹھ پھیر کر بھاگنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کی مدد کے لیے کوئی تیار نہیں ہوگا۔ بعض مفسرین نے اس آیت مبارکہ کو قرآن کی پیش گوئیوں میں شمار کیا ہے جس کی کامل ابتدا غزوۂ تبوک سے ہوئی اور پھر صدیوں تک یہود و نصارٰی مسلمانوں کی تاب نہ لا سکے۔ مسائل : 1۔ امت محمدیہ تمام امتوں سے بہتر ہے۔ 2۔ امت محمدیہ نیکی کا حکم دینے، برائی سے رکنے اور روکنے والی ہے۔ 3۔ اہل کتاب ایمان لائیں تو ان کے لیے بہتر ہوگا۔ 4۔ اہل کتاب میں ایمان لانے والے تھوڑے‘ کفر اور فسِق و فجور اختیار کرنے والے زیادہ ہیں۔ 5۔ سچے مسلمان متحد ہو کر اہل کتاب کے خلاف لڑیں تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن : مشرکین اور اہل کتاب کی پسپائیاں : 1۔ بدر میں مشرکین پسپا ہوئے۔ (آل عمران : 123تا127) 2۔ 8 ہجری کو اہل مکہ مغلوب ہوئے۔ (الفتح :1) 3۔ غزوۂ حنین میں مشرک شکست خوردہ ہوئے۔ (التوبۃ:26) 4۔ جنگ خندق میں مشرکین اور اہل کتاب کو شکست ہوئی۔ (الاحزاب : 25تا27) آل عمران
111 آل عمران
112 فہم القرآن : ربط کلام : مسلمانوں کی راہ میں رکاوٹ بننے والے اہل کتاب خاص کر یہودیوں کے بارے میں دو ٹوک فیصلہ۔ خندق اور فتح مکہ کے بعد مسلمان اس قابل ہوگئے کہ سرزمین حجاز میں مشرک ان کے سامنے سر نگوں ہوئے‘ یہودیوں کو ہمیشہ کے لیے جزیرہ نمائے عرب سے نکال دیا گیا۔ نصارٰی کی طاقت تبوک کے میدان میں ہزیمت کا شکار ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد یہود و نصارٰی ذمّی بن کر رہنے اور جزیہ دے کر اسلام کی قوت کے مقابلہ میں رسوا ہوئے۔ یہودیوں کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کردی گئی کہ ان پر ہمیشہ ذّلت اور مسکنت مسلط کردی گئی ہے۔ یہ جہاں کہیں بھی ہوں گے دو صورتوں میں سے ایک کو اختیار کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یا تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر اس کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام کر اس امت کا حصہ بن کر معزز ہوجائیں یا پھر دوسروں کے سیاسی گداگر بن کر زندگی بسر کریں۔ ایسی صورت میں ان پر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا غضب رہے گا اور مال ومتاع ہونے کے باوجود ان کے دلوں سے حرص و ہوس اور غربت نہیں نکل پائے گی۔ ان کا جرم یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا ہمیشہ انکار اور انبیائے کرام کو ناحق قتل کرنے والے ہیں۔ ان جرائم میں اس لیے ملوث ہوئے کہ یہ لوگ پرلے درجے کے نافرمان اور حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور رسول معظم (ﷺ) کو یہ لوگ قتل نہیں کرسکے اور آپ کے بعد تو سلسلۂ نبوت ختم ہوا پھر ان یہودیوں اور ان کے بعد آنے والوں پر یہ سزا کیوں مقرر کی گئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک عیسیٰ (علیہ السلام) اور رسول اکرم (ﷺ) کو یہ لوگ قتل نہیں کرسکے اور نہ ہی اب کسی نبی نے آنا ہے اس کے باوجود ان پر اس سزا کا مسلط ہونا اس لیے ہے کہ یہ اپنے بڑوں کی صفائی ہی پیش نہیں کرتے بلکہ ان کے گھناؤنے جرائم کی تائید کرتے ہیں اور آج بھی مسلمانوں اور مصلحین کو قتل کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار اور سیاسی طور پر ذلیل اور معاشی اعتبار سے ارب پتی ہونے کے باوجود یہودی کی نگاہ سیر ہوتی ہے نہ پیٹ بھرتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہودی دنیا کی مالدار ترین قوم ہونے کے باوجود کنجوس اور دل کے بھوکے ہوتے ہیں اور ہمیشہ دنیا میں در بدر پھرتے رہے ہیں۔ 1947 ء میں تین عیسائی حکومتوں برطانیہ‘ فرانس اور امریکہ کی مدد سے یہودیوں نے مختصر سے خطہ پر اپنی ایک الگ حکومت قائم کی جسے کئی ممالک نے تاحال تسلیم ہی نہیں کیا اور عیسائیوں نے مسلمانوں سے انتقام کے طور پر ان کے ممالک کے درمیان یہ اسرائیلی حکومت قائم کرکے مسلمانوں کے جگر میں خنجر گھونپا ہے اور آج بھی اسرائیل کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے اور اسی کے دم قدم سے یہ اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے۔ اگر امریکہ‘ برطانیہ کا سایہ اس کے سر سے اٹھ جائے تو اس کا وجود فوراً ختم ہوجائے۔ اسرائیل غیر قانونی ریاست : اسرائیل فلسطین میں اپنی ریاست کے قیام کی بنیاد جن تین بڑے ماخذوں پر تعمیر کرتا ہے : (1) انجیل میں عہد نامہ قدیم کی میراث۔ (2) 1917 ء میں حکومت برطانیہ کا اعلان بالفور (3) 1947 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سفارش جس میں فلسطین کو عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ حالانکہ تاریخی لحاظ سے یہودی فلسطین کے قدیم ترین باشندے نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے وہاں اتنا عرصہ حکومت کی جتنی دوسری اقوام نے کی ہے۔ جدیدماہرین آثار قدیمہ اب اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ یہاں کے قدیم ترین باشندے یعنی 3000 سال قبل مسیح سے لے کر تقریبًا 1700 قبل مسیح تک کنعانی اور مصری تھے۔ جن کا ذکر قدیم کتب میں ملتا ہے۔ ان کے یکے بعد دیگرے دوسری اقوام مثلًا ہکسو، حطی اور فلسطینی آئے۔ یہودی حکومت کا عہد 875 قبل مسیح سے شروع ہو کر 1020 قبل مسیح تک رہا اس کے بعد اسرائیلیوں کو اسیرین، اہل بابل، مصریوں اور شامیوں نے روند ڈالا۔ پھر 83 قبل مسیح میں سلطنت رومانے یروشلم فتح کرکے یہودی معبدگھروں کو مسمار کرڈالا اور یہودیوں کو دوسرے علاقوں کی طرف بھگادیا۔ مجموعی طور پر فلسطین کی پانچ ہزارسالہ دستاویزی تاریخ میں قدیم یہودیوں نے اسے یا اس کے ایک بڑے حصہ کو محض چھ سو سال تک کنڑول کیا یعنی کنعانیوں، مصریوں، مسلمانوں اور رومیوں سے بہت کم امریکی ” کنگ کرین کمیشن“ کے مطابق اسرائیل کا 1919 ئکے دوہزار سال پیشتر قبضہ کو بنیاد بنا کر دعو ٰی ملکیت کرنا سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا۔ 14 مئی 1947 ء کو تل ابیب میں جو میٹنگ ہوئی جس میں جو ” قدرتی اور تاریخی حق“ کے طور پر اعلان آزادی کیا گیا تھا اس میں صرف یہودیوں کے 37 افراد شریک ہوئے تھے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے اس اقدام کی بین الأقوامی عالمی قانون میں کوئی مستند حیثیت نہیں بنتی کیونکہ وہ اس وقت کی آبادی کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے تھے۔ در حقیقت ان میں سے صرف ایک فلسطین کا پیدائشی شہری تھا بقیہ 35 یو رپی ممالک سے تھے اور ایک یمن کا باشندہ تھا۔ بقول ایک فلسطینی دانشور عیسیٰ نخلح کے ” یہودی اقلیت کو ایک ایسے علاقے میں اپنی آزاد ریاست کے قیام کا اعلان کرنے کا کوئی حق نہیں تھا جہاں فلسطینی عرب قوم آباد تھی۔“ امریکہ کی مالی امداد کا سہارا : ہر سال اسرائیل کو دی جانے والی امریکن امداد کسی بھی دوسرے ملک کو دی جانے والی امداد سے زیادہ ہوتی ہے۔ صرف 1987 ء سے لے کر 2003 ء تک براہ راست دی جانے والی معاشی اور فوجی امداد تین ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ علاوہ ازیں جو دوسرے مالی معاملات صرف اور صرف اسرائیل کے لیے خصوصی طور پر طے پاتے ہیں ان کو شامل کرکے یہ امداد تقریبًا پانچ ارب ڈالرسالا نہ تک جاپہنچتی ہے۔ اس میں اسرائیل کو دیے جانے والے قرضہ جات شامل نہیں ہیں۔ امریکی قانون کے مطابق کسی بھی ملک کو امداد چاہے وہ اقتصادی ہو یا فوجی! یکسر ختم کردینی چاہیے اگر وہ ملک جوہری ہتھیار بنالے یا پھر وہ ” عالمی طور پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کی پامالی کا مرتکب ہورہا ہو“ امریکی حکومت کو سالہا سال سے اسرائیل کے جوہری اسلحہ خانے کے انبار کا اور اس کے حقوق انسانی کی لگاتار پامالی کا علم ہے لیکن کسی بھی صدر یا کانگرس نے قانون کے مطابق امداد کو ختم کرنے کے اقدامات تو کجا اس کو کم کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ [ بحوالہ اسرائیل کی دیدہ ودانستہ فریب کاریاں/پال فنڈ ] مسائل : 1۔ یہودی اللہ تعالیٰ کی پناہ اور لوگوں کے سہارے کے بغیر ہر جگہ ذلیل و خوار رہیں گے۔ 2۔ یہودی انبیاء کے قاتل، اللہ کی آیات کے منکر اور حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : یہود ونصارٰی کی ذلّت کے اسباب : 1۔ اللہ تعالیٰ کے گستاخ ہیں۔ (آل عمران :181) 2۔ انبیاء کے گستاخ ہیں۔ (آل عمران :21) 3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکاری ہیں۔ (البقرۃ:61) 4۔ شرک کی وجہ سے ذلیل ورسوا ہوئے۔ (المائدۃ:18) 5۔ اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی کی وجہ سے رسوا ہوئے۔ (البقرۃ: 83تا85) 6۔ کتاب اللہ میں تحریف کرنے کی وجہ سے خوار ہوئے۔ (النساء :46) 7۔ سود اور لوگوں کا مال ناحق کھانے کی بنا پر تباہ ہوئے۔ (النساء :161) آل عمران
113 فہم القرآن : (آیت 113 سے 115) ربط کلام : اہل کتاب سارے ایک جیسے نہیں اور نہ ہی تمام پر ذلت اور پھٹکار ہوگی۔ ان میں وہ مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور نیکی کا حکم دینے والے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں۔ ان سے مراد وہ بھی اہل کتاب ہوسکتے ہیں جو نبی اکرم سے پہلے تورات، انجیل پر عمل کرتے تھے اور آپ کی بعثت سے پہلے فوت ہوگئے۔ یہاں ان لوگوں کو اللہ کی پھٹکار اور ذلت و رسوائی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جو اہل کتاب میں سے رسول معظم (ﷺ) پر ایمان لائے اور امّتِ خیر کے وصف سے متّصف ہوئے۔ انہیں مسلمانوں میں شامل کرتے ہوئے امت کے لفظ سے یاد فرمایا ہے کہ یہ لوگ رات کی تاریکیوں میں اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی آیات کی تلاوت کرتے اور اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھنے کے ساتھ ان کے دل فکر آخرت سے لرزاں رہتے ہیں‘ نیکی کا حکم دینے‘ برائی سے منع کرنے‘ ہر کار خیر میں آگے بڑھنے والے اور صالحین میں شامل ہیں اور جو کوئی بھی نیکی کا طلب گار اور ان اوصاف کا حامل ہوگا وہ امیر ہو یا غریب‘ چھوٹا ہو یا بڑا‘ اس کے صالح اعمال کی ہرگز ناقدری نہیں ہونے پائے گی۔ نجاشی شاہ حبشہ جس کا نام اصحمہ جو اہل کتاب میں سے تھا۔ اس نے مسلمانوں کی اس وقت بھرپور حمایت کی جب مسلمان ہجرت کر کے حبشہ پہنچے اور قریش مکہ کا ایک وفد انہیں واپس لانے کے لیے شاہ حبشہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ شاہ نے نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کو واپس نہیں کیا اور انہیں پناہ دی بلکہ برملا اعتراف کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور مریم علیہا السلام کے معاملہ میں مسلمانوں کے عقائد بالکل درست اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات کے عین مطابق ہیں۔ پھر مسلمانوں کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کیا۔ اور مسلمان ہوگیا جب وہ فوت ہوا تو رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں کو اس کی وفات پر مطلع کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو۔ چنانچہ اس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب الصفوف علی الجنازۃ۔۔] عبداللہ بن سلام یہود کے ممتاز علماء میں سے تھے لیکن مفاد پرست اور جاہ طلب ہونے کی بجائے حق پرست تھے۔ جب آپ (ﷺ) ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے اور عبداللہ بن سلام نے آپ میں وہ نشانیاں دیکھیں جو تورات میں نبی آخر الزماں (ﷺ) کی بتلائی گئی تھیں تو چند سوالات پوچھنے کے بعد اسلام لے آئے۔ اس نے رسول محترم (ﷺ) کو یہود کی سرشت سے آگاہ کیا‘ چنانچہ یہود ان کے دشمن بن گئے۔ بعد ازاں زنا کے ایک مقدمہ میں یہود نے تورات سے رجم کی آیت کو چھپانا چاہا تو عبداللہ بن سلام (رض) نے ہی اس آیت کی نشاندہی کر کے یہود کو نادم اور رسوا کیا تھا۔ [ رواہ ابوداوٗد : کتاب الحدود، باب فی رجم الیہودیین] عبداللہ بن سلام (رض) کو ایک خواب آیا تھا جس کی تعبیر رسول اللہ (ﷺ) نے یہ بتلائی کہ عبداللہ بن سلام آخری دم تک اسلام پر ثابت قدم رہیں گے۔ [ رواہ البخاری : کتاب المناقب‘ باب مناقب عبداللہ بن سلام] مسائل : 1۔ اہل کتاب سب ایک جیسے نہیں۔ 2۔ اہل کتاب میں سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہوئے اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں۔ 3۔ اللہ و آخرت پر ایمان‘ امر بالمعروف‘ نہی عن المنکر اور نیکیوں میں جلدی کرنے والے صالح ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کسی کی نیکی کی ناقدری نہیں کرتا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ متقی کون ہے۔ تفسیر بالقرآن : اہل کتاب میں اچھے لوگوں کے اوصاف : 1۔ اللہ تعالیٰ‘ آخرت اور اللہ کی نازل کردہ کتب اور قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں۔ (آل عمران :199) 2۔ اللہ کی آیات کے بدلے دنیا کا مال نہیں بٹورتے۔ (آل عمران :199) 3۔ رات کو اٹھ اٹھ کر کتاب اللہ یعنی قران مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ (آل عمران :113) 4۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ (آل عمران :114) 5۔ امانتوں کا خیال رکھتے ہیں۔ (آل عمران :75) آل عمران
114 آل عمران
115 آل عمران
116 فہم القرآن : (آیت 116 سے 117) ربط کلام : اہل ایمان کے بعد اہل کفر کا انجام ذکر ہوتا ہے۔ اسلام کے مخالف اپنی انا کی خاطر مسلمانوں کے خلاف مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ انہیں اس خرچ کرنے کی حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ بالآخر اس کا انجام کیا ہوگا۔ صاحب ایمان اور صالح کردار لوگوں کی ہرگز ناقدری نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے کفر کا رویّہ اختیار کیا ان کے مال اور اولادربِّ ذوالجلال کے ہاں انہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکیں گے۔ کفار اور اہل کتاب رسول معظم (ﷺ) اور صحابہ کرام (رض) کو غریبی کے طعنے دیتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اگر آپ لوگ سچے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ضرور تمہیں دنیا کے اسباب سے مالا مال کرتا۔ اگر ہم اس کی بارگاہ میں غلط ہوتے تو وہ ہمیں مال اور اولاد سے کیوں نوازتا؟ اس خیال کی تردید اور اہل کفر کے کان کھولنے کے لیے بتلایا جارہا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معیار دنیا کی بجائے آدمی کا عقیدہ اور صالح کردار ہے۔ جو لوگ اس سے تہی دامن ہوئے انہیں جہنم میں جھونکا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے آپ (ﷺ) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : ﴿ لَایَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ ثُمَّ مَاْوٰہُمْ جَہَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمِہَادُ﴾ [ آل عمران : 196، 197] ” آپ کو کفار کا شہروں اور بستیوں میں چلنا پھرنا دھوکے میں نہ ڈالے یہ تھوڑا سا فائدہ ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بدترین ٹھکانہ ہے۔“ اس عقیدہ کے حامل لوگ دنیا میں فلاح و بہبود اور نیکی کے کاموں پر لاکھوں روپے خرچ کریں تو بھی انہیں کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ جس طرح لہلہاتے ہوئے باغ‘ کھلے ہوئے پھول اور سرسبز و شاداب کھیتیاں باد صرصر سے خاکستر ہوجایا کرتی ہیں۔ عقیدۂ کفر و شرک کی وجہ سے ان کے اعمال بھی اسی طرح ضائع ہوجائیں گے۔ ان کے صدقات اور عبادات کا غارت ہونا ظلم کی بنا پر نہیں بلکہ ان کے اپنے عقیدے اور کردار کی وجہ سے ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ کفار کے اعمال کے بارے میں حدیث مبارکہ میں یوں آیا ہے : (عَنْ عَائِشَۃ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ () ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہٗ قَالَ لاَ یَنْفَعُہٗ إِنَّہُ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِ اغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب الدلیل علی من مات علی الکفر لاینفعہ عمل] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں میں نے نبی کریم (ﷺ) سے سوال کیا کہ ابن جدعان جاہلیت میں صلہ رحمی اور مساکین کو کھانا کھلایا کرتا تھا کیا اسے یہ چیزیں نفع دیں گی؟ آپ نے فرمایا نہیں کیونکہ اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ اے میرے رب ! قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف فرمادینا۔ (یعنی اس کا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں تھا )۔“ مسائل : 1۔ کفار کے مال اور اولاد اللہ کے ہاں کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔ 2۔ کفار جہنمی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ 3۔ کفار کا سب کچھ ضائع ہوجائے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : قیامت کے دن کفار کو کوئی چیز فائدہ نہ دے گی : 1۔ کافر زمین کے برابر سونا دے کر بھی جہنم سے نجات نہیں پاسکتے۔ (آل عمران :91) 2۔ قیامت کے دن ان کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔ (الانعام :51) 3۔ کافر بغیر حساب کے جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔ (الکہف :105) 4۔ کافروں کو ان کی جمعیت اور تکبر کام نہ آسکے گا۔ (الاعراف :48) 5۔ کفار کے مال واولاد ہرگزان کے کام نہ آسکیں گے۔ (آل عمران :10) آل عمران
117 آل عمران
118 فہم القرآن : ربط کلام : جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مال خرچ کریں اور ہر قسم کی دشمنی روا رکھیں ان کے ساتھ قلبی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو کفار اور اہل کتاب کے بارے میں مسلسل بتلایا جا رہا ہے کہ ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ تمہیں دین حق سے پھیر دیں۔ اب دو ٹوک انداز میں حکم دیا گیا ہے کہ انہیں اپنا راز دان بنانے کی کوشش نہ کرنا یہ دین اسلام سے منحرف کرنے کے ساتھ چاہتے ہیں کہ تمہیں ہر قسم کا نقصان پہنچے یہ تمہاری ذات اور دین کے دشمن ہیں، کئی بار اپنی زبان سے حسد و بغض کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کے سینوں میں حسد اور دشمنی کی جو آگ بھڑک رہی ہے اس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہم نے تمہارے سامنے حقیقت حال بیان کردی ہے تاکہ تم عقل و فکر سے کام لو۔ عربی زبان میں ﴿ بِطَانَۃُ ٗ استر کو کہتے ہیں جو لباس کے اندر پہنا جاتا ہے جسے بنیان کہا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اہل کتاب کے ساتھ اس طرح خلط ملط ہونے کی کوشش نہ کرو کہ وہ تمہاری پالیسیوں اور کمزوریوں سے واقف ہو کر تمہیں نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں۔ اہل کتاب کی دشمنی کی تصویر کا ایک رخ : خیبر کی فتح کے بعد سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث نے رسول اللہ (ﷺ) کے پاس بھنی ہوئی بکری کا ہدیہ بھیجا۔ اس نے پوچھ رکھا تھا کہ رسول اللہ (ﷺ) کون سا گوشت زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اسے بتایا گیا کہ دستی کا گوشت پسند فرماتے ہیں۔ اس لیے اس نے دستی میں زہر ملایا اور بعد ازاں بقیہ حصہ بھی زہر آلود کردیا پھر اسے رسول اللہ (ﷺ) کے سامنے رکھا۔ آپ نے دستی اٹھا کر اس کا ایک ٹکڑا چبایا لیکن نگلنے کے بجائے تھوک دیا۔ فرمایا کہ یہ دستی مجھے بتلا رہی ہے کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے زینب کو بلایا تو اس نے اقرار کرلیا۔ آپ نے پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا میں نے سوچا کہ اگر یہ بادشاہ ہے تو ہمیں اس سے نجات مل جائے گی۔ اگر نبی ہے تو اسے خبر دے دی جائے گی۔ اس پر آپ نے اسے معاف کردیا۔ اس موقع پر رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ حضرت بشر بن براء بھی تھے۔ انہوں نے ایک لقمہ نگل لیا تھا جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی۔ روایت میں اختلاف ہے کہ آپ (ﷺ) نے اس عورت کو معاف کردیا تھا یا قتل کردیا تھا تطبیق اس طرح دی گئی ہے کہ پہلے تو آپ نے معاف کردیا تھا۔ لیکن جب حضرت بشر (رض) کی موت واقع ہوگئی تو پھر قصاص کے طور پر قتل کردیا گیا۔ [ فتح الباری : 497/7] ایک دفعہ امیر المومنین حضرت عمر (رض) کے پاس کسی صحابی نے ایک اہل کتاب کی سفارش کی کہ یہ فن کتابت اور حساب کا ماہر ہے آپ اسے اپنا منشی اور کاتب رکھ لیں۔ امیر المومنین (رض) نے فرمایا کہ میں اسے مسلمانوں کا رازدان نہیں بنا سکتا۔ پھر اس آیت کا حوالہ دیا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہیکہ اہل کتاب کو اتنا قریب نہ کرو۔[ ابن کثیر] حضرت عمر (رض) کے فرمان کا مقصد یہ تھا کہ غیر مسلموں کو اس قسم کے اہم عہدے نہیں دینے چاہییں۔ اسی وجہ سے وہ فوج کے کمانڈروں کو حکم دیتے کہ کفار کے ساتھ جب تمہارے مذاکرات ہوں یا کہیں مشترکہ اجلاس ہوں تو ان کے ساتھ اس طرح خلط ملط نہ ہونا کہ وہ تمہاری فوجی اور اخلاقی کمزوریوں سے واقف ہوجائیں۔ (سیرت الفاروق) ملت اسلامیہ کو سب سے پہلے جو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اس کا بنیادی سبب مسلمانوں کی یہی کمزوری تھی۔ امیر المومنین حضرت عمر (رض) کو ابولؤلؤایرانی مجوسی نے صبح کی نماز کے وقت پے در پے خنجر مار کر زخمی کردیا۔ جب اس تکلیف میں حضرت عباس (رض) اور کچھ صحابہ حضرت عمر (رض) کے پاس اظہار افسوس کے لیے آئے تو انہوں نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں توجہ نہیں دلایا کرتا تھا کہ غیر مسلم غلام اپنے قریب نہ آنے دیا کرو۔ لیکن آپ لوگوں نے اسے درخور اعتنانہ سمجھا۔ اب اس کا نتیجہ دیکھ رہے ہو۔ [ البدایۃ والنہایۃ] مسائل : 1۔ کفار سے دلی دوستی کرنا منع ہے۔ 2۔ کفار مسلمانوں کو تکلیف دینے میں ذرہ بھر کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ 3۔ کفار مسلمانوں کو ہر وقت تکلیف میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : کفار اور یہود ونصارٰی کے ساتھ دوستی منع ہے : 1۔ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کی ممانعت۔ (الممتحنۃ:1) 2۔ کفار کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ (الانعام :150) 3۔ کفار کی اطاعت کا نقصان۔ (آل عمران :149) 4۔ اہل کتاب چاہتے ہیں کہ مسلمان مشکلات میں پھنسے رہیں۔ (آل عمران :118) 5۔ اہل کتاب مسلمانوں کو اپنے پیچھے لگائے بغیرخوش نہیں ہوسکتے۔ (البقرۃ:120) 6۔ کافر مسلمانوں کے ہمدرد نہیں ہو سکتے۔ (آل عمران : 119۔120) آل عمران
119 فہم القرآن : (آیت 119 سے 120) ربط کلام : اسلام کے دشمنوں سے دوستی نہ رکھنے کی مزید وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ مسلمانوں کا ضمیر جھنجھوڑنے اور غیرت دلانے کے لیے اب نیا انداز اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ تم کیسے لوگ ہو کہ تم ان سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو اور وہ تمہارے ساتھ کوئی الفت نہیں رکھتے۔ تم خلوص نیت کے ساتھ قرآن مجید پر ایمان لائے ہو ان کی حالت یہ ہے کہ تمہارے ساتھ ملتے ہیں تو زبانی جمع خرچ کے طور پر ایمان کا دعو ٰی کرتے ہیں اور جب تم سے الگ ہوتے ہیں تو غیظ و غضب کی وجہ سے اپنی انگلیاں کاٹتے ہیں۔ ان سے کہو کہ تم اپنے غصے کی آگ میں جل مرو۔ اللہ تعالیٰ سب کے دلوں کے حال کو جاننے والا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت علیم کے ذریعے مسلمانوں کو یہ باور کروایا ہے کہ کفار کے غیظ و غضب اور ان کے سینے کی حالت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ تو تمہارے اعمال اور دلوں کی کیفیّات کو بھی جانتا ہے کہ تم کس حد تک کفار کی دوستی سے اجتناب کرنے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے والے ہو۔ اگر تمہیں کوئی فائدہ اور اچھائی پہنچتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر تمہیں نقصان اور مصیبت پہنچے تو اس پر شاداں و فرحاں ہوتے ہیں۔ ہاں اگر تم صبر کرو، اللہ تعالیٰ کا خوف اختیار کرو اور کفار سے بچتے رہو تو ان کی سازشیں اور شرارتیں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی دسترس سے کسی کا عمل اور سازش بڑھ نہیں سکتی۔ یہاں مسلمانوں کو اہل کتاب کے چار اخلاقی جرائم بتلا کر ان کے ساتھ قلبی محبت سے روکا گیا ہے۔ تم ان سے محبت کرتے ہو جبکہ وہ تم سے محبت نہیں کرتے۔ تم اللہ تعالیٰ کی کتاب پر مکمل ایمان رکھتے ہو جبکہ وہ صرف تمہارے سامنے ایمان کے دعوے دار ہیں۔ تمہارا فائدہ انہیں برا لگتا ہے اور تمہارے نقصان پر وہ خوش ہوتے ہیں۔ وہ تمہارے ساتھ حسد و بغض رکھتے اور ہر وقت تمہارے نقصان کے درپے رہتے ہیں۔ یہود کا غیظ وغضب : بنوکلاب کے دو مقتولوں جنہیں عمرو بن امیہ ضمری نے غلطی سے قتل کردیا تھا۔ ان کی دیت میں اعانت پر بات چیت کرنے کے لیے رسول اللہ (ﷺ) حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت علی اور صحابہ کرام (رض) کی ایک جماعت کے ساتھ یہود کے پاس تشریف لے گئے انہوں نے کہا : ابوالقاسم! آپ تشریف رکھیں ہم آپ کا مطالبہ پورا کیے دیتے ہیں۔ آپ صحابہ کے ہمراہ ان کے وعدے کی تکمیل کے انتظار میں ان کے گھروں میں سے ایک گھر کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ یہودیوں نے تنہائی میں یہ مشورہ کیا کیوں نا ہم نبی کو ختم کردیں۔ انہوں نے آپس میں کہا : کون اس چکی کے پاٹ کو لے کر اوپر جائے وہاں سے اسے آپ کے سر پر گراکر آپ کو کچل دے؟ عمرو بن جحاش بدبخت یہودی نے اس کام کو اپنے ذمے لیا۔ ان میں سے سلام بن مشکم نے یہ کہہ کر روکا بھی کہ ایسا نہ کرو کیونکہ اللہ اسے اس بات کی خبر دے دے گا اور ہمارے آپس کے عہدوپیمان ختم ہوجائیں گے لیکن وہ نہ مانے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (ﷺ) کو جبریل (علیہ السلام) کے ذریعے یہودیوں کے ارادے سے آگاہ کردیا۔ آپ فورًا اٹھے اور تیزی کے ساتھ مدینے کی طرف چل پڑے۔ صحابہ کرام (رض) بھی آپ کے پیچھے پیچھے اٹھ آئے۔ پھر آپ نے صحابہ کرام کو سارا واقعہ بیان کیا۔ اس کے بعد محمد بن مسلمہ کو بنی نضیر کی طرف روانہ کیا۔[ ملخص ازالرحیق المختوم، غزوہ بنی نضیر] مسائل : 1۔ یہود ونصارٰی اور منافق علیحدگی میں مسلمانوں کے خلاف اپنے غیظ و غضب کے باعث اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں۔ 2۔ اہل کتاب مسلمانوں کی ترقی پر ناخوش اور نقصان پر خوش ہوتے ہیں۔ 3۔ یہود و نصارٰی اور کفار کے ساتھ قلبی تعلق منقطع کرنے سے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں ہو سکتا۔ 4۔ مسلمانوں کو لوگوں سے ڈرنے کے بجائے صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ 5۔ کفار کو راضی کرنے کے بجائے قرآن وسنت پر ثابت رہنا چاہیے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ آل عمران
120 آل عمران
121 فہم القرآن : (آیت 121 سے 122) ربط کلام : کفار کا مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور اس پر خوش ہونے کی پہلی مثال غزوۂ احد ہے۔ جس کا نقشہ پیش کیا جار رہا ہے۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان فتح سے نوازا تھا۔ شکست سے بچنے کے لیے نظم و ضبط‘ حوصلہ اور تقو ٰی نہایت ضروری ہے۔ مسلمانوں نے ٢ ہجری ١٧ رمضان المبارک کے دن بدر کے میدان میں اہل مکہ کو شکست فاش دی تھی۔ جس کا بدلہ لینے کے لیے مکہ والوں نے شوال ٣ ہجری میں مدینہ پر یلغار کردی۔ رسول اللہ (ﷺ) نے دفاعی منصوبہ بندی کے لیے مشاورت کا اہتمام فرمایا جس میں آپ کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ مدینہ سے باہر جانے کے بجائے شہر میں رہ کر دفاع کیا جائے۔ عبداللہ بن ابی اور منافقین نے اس بات کی بھرپور تائید کی۔ لیکن صحابہ (رض) کی اکثریت کی رائے یہ تھی کہ مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنا چاہیے۔ چنانچہ جمعہ ادا کرنے کے بعد آپ نے مدینہ سے باہر نکلنے کا فیصلہ فرمایا۔ آپ اپنے گھر تشریف لائے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر (رض) نے آپ کی دو زرہیں پہننے میں معاونت کی۔ جب آپ جرنیلی شان کے ساتھ گھر سے باہرنکلے تو صحابہ کرام (رض) نے اپنی رائے پر نظر ثانی کرتے ہوئے عرض کی کہ ہمیں آپ کی رائے کے مطابق مدینے میں ہی دفاع کرنا چاہیے لیکن ارشاد ہوا کہ نبی کی شان اور غیرت کے منافی ہے کہ وہ پختہ عزم کرنے کے بعد فیصلہ کن جنگ کیے بغیر جنگی لباس اتار دے۔ اس طرح آپ احد کے قریب پہنچے اور ہفتہ کی صبح کو مورچہ بندی کا آغاز فرمایا۔ جونہی مورچہ زن ہونے کا آغاز ہوا تو عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر اس احتجاج کے ساتھ واپس ہوا کہ ہماری رائے کا احترام نہیں کیا گیا۔ منافقین کے اس اقدام نے کفار کے حوصلے بڑھائے جبکہ مسلمانوں میں سراسیمگی پھیلی۔ یہاں تک کہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے لوگوں نے بھی واپس جانے کے لیے چہ میگوئیاں کیں۔ ان آیات میں اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ مسلمانو! وہ وقت یاد کرو۔ جب اللہ کا رسول تمہاری صف بندی کر رہا تھا اور عین اس وقت تم میں سے دو گروہوں نے کم ہمتی کا مظاہرہ کرنا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ثابت قدم رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ محبت رکھتا تھا جس کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے۔ مومنوں کو چاہیے کہ حالات اچھے ہوں یا برے ہر حال میں اللہ پر بھروسہ کرتے رہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرمایا کرتے تھے کہ اس آیت میں ہماری کمزوری کی نشان دہی کی گئی ہے جس میں ہماری پستی کا پہلو نکلتا ہے لیکن باوجود اس کمزوری کے ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے ” وَلِیُّھُمَا“ کا ارشاد فرما کر ہمیں اپنی محبت اور دوستی کا اعزاز بخشا ہے۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) یَقُوْلُ فِیْنَا نَزَلَتْ ﴿إِذْ ھَمَّتْ طَّائِفَتَانِ مِنْکُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا﴾ قَالَ نَحْنُ الطَّائِفَتَانِ بَنُوْ حَارِثَۃَ وَبَنُوْ سَلِمَۃَ وَمَانُحِبُّ أَنَّھَا لَمْ تُنْزَلْ لِقَوْلِ اللّٰہِ ﴿وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا﴾ )[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب ﴿إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا ﴾] ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی تھی کہ جب تم میں سے دو جماعتیں ہمت ہارنے کا سوچ چکی تھیں۔ کہتے ہیں ہم دو جماعتیں بنو حارثہ اور بنو سلمہ تھے ہمارے جذبات کے برعکس یہ آیت نازل ہوئی جبکہ اس میں ہے کہ اللہ دونوں گروہوں کا سر پرست اور مددگار ہے۔“ مسائل : 1۔ مومنوں کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ 2۔ جہاد میں بزدلی دکھانا اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں۔ 3۔ اللہ کی رحمت شامل حال ہو تو آدمی کی بگڑی حالت درست ہوجاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کن کا دوست؟ 1۔ اللہ مومنوں کا دوست ہے۔ (آل عمران :68) 2۔ اللہ متقین کا دوست ہے۔ (الجاثیۃ:19) 3۔ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو روشنی کی طرف لاتا ہے۔ (البقرۃ:257) 4۔ اللہ کے دوستوں کو کوئی خوف و غم نہیں ہوگا۔ (یونس :62) آل عمران
122 آل عمران
123 فہم القرآن : (آیت 123 سے 127) ربط کلام : احد اور بدر کے حالات کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔ اُحد کی شکست کے عوامل اور محرّکات پر تبصرہ کرنے سے پہلے بدر کی کامیابی‘ اس وقت کے حالات اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ کی شکل میں نصرت و حمایت کا تذکرہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ مسلمانوں کا غم ہلکا اور مورال بلند ہو سکے۔ اے مسلمانو! میدان بدر کی طرف دیکھو جب تم کمزور اور تعداد میں تھوڑے ہونے کی وجہ سے کفار کی نگاہوں میں حقیر اور کمزور سمجھے جارہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی تاکہ تم اللہ سے ڈر کر اپنی کمزوریوں کو دور کر کے اس کا شکریہ ادا کرتے رہو۔ واقعہ اس طرح ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) کو معلوم ہوا کہ کفار ایک ہزار کا لشکر لے کر بدر کے میدان میں اترنے والے ہیں تو آپ مدینہ سے 313 صحابہ کو لے کر تقریباً 80 میل کا سفر طے کرتے ہوئے بدر میں کفار کے مد مقابل ہوئے۔ صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے ایک ہزار فرشتوں کی مدد کی خوشخبری سنائی جس کا ذکر سورۃ الانفال آیت : 9 میں کیا گیا ہے۔ لیکن جنگ کا میدان گرم ہونے سے پہلے کفار نے افواہ پھیلائی کہ کرز بن جابر بھاری کمک کے ساتھ ہماری مدد کے لیے پہنچنے والا ہے۔ اس صورت حال میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسول للہ (ﷺ) نے اعلان فرمایا کہ اے مومنو! کیا تم کافی نہیں سمجھتے کہ اللہ تمہاری مدد کے لیے تین ہزار مخصوص نشان والے فرشتے نازل کرے؟ بلکہ اگر تم جرأت و حوصلہ اور تقو ٰی میں آگے بڑھو گے تو فوری طور پر ملائکہ کی کمک کو پانچ ہزار کردیا جائے گا۔ ملائکہ کی بھاری نفری اس لیے اتاری جا رہی ہے تاکہ تمہارے دل مطمئن اور تم خوش ہوجاؤ۔ جب کہ حقیقی مدد تو اللہ غالب حکمت والے کی ہی ہوا کرتی ہے۔ کفار کی تباہی کے لیے ایک فرشتہ ہی کافی تھا لیکن جنگ میں افرادی قوت مجاہدین کے لیے خوشی‘ تقویت اور حوصلے کا باعث ہوا کرتی ہے اس لیے فرشتوں کی تعداد کو بشارت کے طور پر بڑھا دیا گیا۔ اتنی بڑی حمایت کے باوجود اس بات کی وضاحت کی گئی کہ پانچ ہزار فرشتوں کی بجائے کائنات کے جن و بشر اور ملائکہ بھی تمہاری حمایت کے لیے آجاتے تو وہ تمہیں فتح نہیں دلوا سکتے تھے کیونکہ نصرت و حمایت‘ فتح و شکست کی طاقت کسی کے پاس نہیں صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہی غالب حکمت والا ہے۔ بدر میں کفار کے ستر سرخیل زمین بوس ہوئے اور ستر کو گرفتار کیا گیا۔ یہ اس لیے ہوا تاکہ کفار کی کمر ٹوٹ جائے اور وہ دنیا کے سامنے ذلیل و خوار ہوجائیں۔ مسائل : 1۔ تقو ٰی شکر گزاری کا سبب ہے۔ 2۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے تین ہزار مخصوص ملائکہ کے ساتھ مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ صابر اور متقی مجاہدین کی مدد میں اضافہ فرماتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کامیابی کی ضمانت اور دلوں کا سکون ہوتی ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی مدد نہیں کرسکتا وہ غالب اور حکمت والا ہے۔ 6۔ مسلمانوں کو اللہ کی مدد پہنچنے کے بعد کافر ہمیشہ ذلیل وخوار ہوتے ہیں۔ تفسیربالقرآن : اللہ تعالیٰ اپنے کمزور بندوں کی مدد کرتا ہے : 1۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے کمزوروں کی مدد فرمائی۔ (آل عمران :123) 2۔ غار ثور میں نبی (ﷺ) اور ابو بکر (رض) کی مدد فرمائی۔ (التوبۃ:40) 3۔ ابرہہ کے مقابلے میں بیت اللہ کا تحفظ فرمایا۔ (الفیل : مکمل) 4۔ بنی اسرائیل کے کمزوروں کی مدد فرمائی۔ (القصص :5) آل عمران
124 آل عمران
125 آل عمران
126 آل عمران
127 آل عمران
128 فہم القرآن : (آیت 128 سے 129) ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بغیر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ اسی طرح معاف کرنا یا کسی کو عذاب دینا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے کیونکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ غزوۂ احد میں مسلمانوں کے سر کردہ جنگجو یہاں تک کہ حضرت حمزہ (رض) بڑی بیدردی کے ساتھ شہید کردیے گئے اور رسول مکرم (ﷺ) کی ذات اقدس کو بھی زخم آئے، رباعی دانت شہید ہوا اور آپ بے ہوش ہو کر ایک گھاٹی میں جا گرے جونہی ہوش سنبھالا تو آپ کی زبان اطہر سے بے ساختہ بددُعا نکلی : (کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوْا نَبِیَّھُمْ وَکَسَرُوْا رُبَاعِیَتَہٗ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ إِلَی اللّٰہِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ ﴿لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْءٌ﴾) [ رواہ مسلم : کتاب الجھاد والسیر، باب غزوۃ أحد] ” وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کاسر پھوڑ ڈالا اور اس کا دانت شہید کردیا؟ حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ میرے محبوب! آپ کو کسی چیز کا اختیار نہیں ہے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَر (رض) أَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ () إِذَ ارَفَعَ رَأْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ مِنَ الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ مِنَ الْفَجْرِ یَقُوْلُ اللّٰھُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا بَعْدَ مَایَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ ﴿لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْءٌ﴾إِلٰی قَوْلِہٖ ﴿فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ﴾ وَعَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () یَدْعُو عَلٰی صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ وَسُھَیْلِ بْنِ عَمْرٍو وَالْحَارِثِ بْنِ ھِشَامٍ فَنَزَلَتْ ﴿لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْءٌ﴾إِلٰی قَوْلِہٖ ﴿فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ﴾) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب﴿لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْءٌ﴾ ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (ﷺ) سے سنا جب آپ فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے سر اٹھا نے اور سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد دعا کر رہے تھے۔ اے اللہ! فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔ تب اللہ تعالیٰ نے ﴿لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْءٌ۔۔ فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ﴾ آیت نازل فرمائی۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے سالم بن عبداللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (ﷺ) صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے لیے بد دعا کرتے تو ﴿لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْءٌ۔۔ فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ﴾ آیت نازل ہوئی۔“ اس فرمان میں آپ کی توجہ مبذول کروائی گئی ہے کہ میرے محبوب! آپ کو دل شکستہ اور حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے کیونکہ کسی کو معاف کرنا یا اسے عذاب دینا آپ کے اختیار میں نہیں یہ تو رب کبریا کے فیصلے ہیں جو اس کی حکمت کے مطابق صادر ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے اور وہ لا محدود اختیارات اور ہر چیز کی ملکیت رکھنے کے باوجود معاف کرنے والا اور نہایت ہی مہربان ہے۔ آپ کو بددعا سے منع کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ تھوڑے ہی عرصے بعد احد میں کفار کے لشکر کی کمان کرنے، رسول اللہ (ﷺ) اور مسلمانوں کوسب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے خالد بن ولید، عمرو بن عاص، ابوسفیان بن حرب اور بڑے بڑے لوگ مسلمان ہوئے یہاں تک کہ پورے عرب میں لوگ حلقۂ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ مسائل : 1۔ حقیقتاً کسی کو معاف کرنا یا عذاب دینا صرف اللہ کا اختیار ہے۔ 2۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ ہی مختار کل ہے : 1۔ نبی (ﷺ) کسی پر عذاب نازل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ (آل عمران :128) 2۔ رسول اللہ (ﷺ) کو منافقین کے لیے دعا اور ان کی قبروں پر جانے سے روک دیا گیا۔ (التوبۃ:84) 3۔ نبی مشرک کے لیے دعائے مغفرت کرنے کا مجاز نہیں۔ (التوبۃ:113) 4۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ (ﷺ) کی رضا کا پابند نہیں۔ (التوبۃ:96) 5۔ رسول اللہ (ﷺ) نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ (الجن :21) 6۔ رسول اللہ (ﷺ) جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے۔ (القصص :56) آل عمران
129 آل عمران
130 فہم القرآن : (آیت 130 سے 133) ربط کلام : سود خوری آدمی میں لالچ پیدا کرتی ہے۔ احد میں درّہ چھوڑنے کے پیچھے لالچ ہی کار فرما تھا۔ حرمت سود سے پہلے بعض صحابہ بھی اس کام میں ملوّث تھے۔ جس کے منفی اثرات کا نتیجہ تھا کہ جونہی درّے پر مامور اصحاب نے مجاہدین کو مال غنیمت لوٹتے ہوئے دیکھا تو اپنے کمانڈر سے بے قابو ہو کر غنائم اکٹھا کرنے پر ٹوٹ پڑے۔ اس اخلاقی کمزوری کو دور کرنے کے لیے حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے سود کو چھوڑ دو تاکہ تم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکو اور اس آگ سے ڈرو جو اللہ کے حکم کا انکار کرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ بغاوت اور انکار کی روش اختیار کرنے کی بجائے ہمیشہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگے رہو تاکہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی شفقت و مہربانی نازل کرتا رہے۔ دنیا کے مال کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور جنت کے حصول کے لیے جلدی کرو۔ دنیا کا مال عارضی، اس کی سہولتیں ناپائیدار‘ یہاں کے بنگلے اور محلاّت مسمار اور دنیا کے باغ و بہار ویرانوں میں تبدیل ہونے والے ہیں جبکہ جنت کے باغات سدا بہار اور اس کی نعمتیں لا محدود اور ہمیشہ رہنے والی ہیں جو اللہ سے ڈرنے اور گناہوں سے بچنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو صرف نیکی کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ نیکیوں میں آگے بڑھنے اور جنت کی طرف سبقت لے جانے کا حکم دیا ہے۔ جس معاشرے میں نیکی اور اہم مقصد کے لیے آگے بڑھنے کا جذبہ ختم ہوجائے وہ معاشرہ اور قوم بالآخر مردگی کا شکار ہوجایا کرتی ہے۔ زندہ اور بیدار قومیں اپنی منزل کے حصول کے لیے نئے جذبوں اور تازہ ولولوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے مسلسل منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ مسلمانوں کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہے اس لیے قرآن مجید نے مختلف مقامات پر ترغیب دی ہے کہ اس مقصد کے لیے آگے بڑھو اور بڑھتے ہی چلے جاؤ۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا مائَۃَ سَنَۃٍ وَاقْرَأُوْا إِنْ شِئْتُمْ ﴿وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ﴾) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ گھوڑے پر سوار شخص اس کے سائے میں سو سال تک چل سکتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو ( اور سائے ہیں لمبے لمبے)۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ (رض) عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا) [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب فی صفۃ خیام الجنۃ .....] ” حضرت عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) نے فرمایا جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے پاس وہی جائے گا دوسرا کوئی کسی کو نہ دیکھ سکے گا۔“ مسائل : 1۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے سود خوری چھوڑ دینا چاہیے۔ 2۔ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ 3۔ اللہ کے نافرمان اور سود خوروں کے لیے جہنم کی آگ تیار کی گئی ہے۔ 4۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی شفقت و مہربانی ہوتی ہے۔ 5۔ اللہ کی بخشش اور اس کی جنت کے لیے جلدی کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : اطاعت رسول (ﷺ) کے فائدے : 1۔ اللہ کی شفقت ومہربانی حاصل ہوتی ہے۔ (آل عمران :132) 2۔ اللہ کی محبت اور بخشش حاصل ہوتی ہے۔ (آل عمران :31) 3۔ اطاعت رسول (ﷺ) سے اعمال ضائع ہونے سے محفوظ ہوتے ہیں۔ (محمد :23) 4۔ دنیا وآخرت کی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ (الاحزاب :71) 5۔ قیامت کے دن انبیاء، صدیقوں، شہداء اور صلحاء کا ساتھ نصیب ہوگا۔ (النساء :69) آل عمران
131 آل عمران
132 آل عمران
133 آل عمران
134 فہم القرآن : (آیت 134 سے 136) ربط کلام : سود اور جہنم سے بچنے کا حکم، جنت اور صدقہ کی ترغیب دینے کے بعد جنّتیوں کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ یہاں جنتیوں کے چھ اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 یہ لوگ عسر ویسر میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ 2 طیش اور غضب کی حالت میں اپنے آپ پر ضبط رکھتے ہیں۔ 3 ساتھیوں اور بھائیوں کے ساتھ معافی کا وطیرہ اختیار کرتے ہیں۔4 جب ان سے بری حرکت یا گناہ کی صورت میں اپنے آپ پر زیادتی ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا احساس، اس کے عذاب کا خوف اور اس کی ذات کبریا کا تصور کرتے ہوئے اس کے حضور اپنے گناہوں اور خطاؤں کی معافی مانگتے ہیں۔ 5 اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں 6 وہ ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے گناہوں پر اترانے اور اصرار کرنے پر تیار نہیں ہوتے کیونکہ گناہوں کے نتائج اور نقصانات کو وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ نیک لوگ منصوبہ بندی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب نہیں کرتے اور نہ ہی وہ شیطان کی طرح اپنی غلطی پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ تو اپنی غلطی کا اعتراف اور اس پر استغفار کرتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے رب کے ہاں بخشش اور جنت ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ لوگ بہترین اجر پائیں گے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () قَالَ: لَیْسَ الشَّدِیْدُ بالصُّرْعَۃِ إِنَّمَا الشَّدِیْدُ الَّذِیْ یَمْلِکُ نَفْسَہٗ عِنْدَ الْغَضَبِ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب الحذر من الغضب] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کسی کو پچھاڑنے والا طاقتور نہیں ہے طاقتور تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“ ” نبی کریم (ﷺ) کے صحابی سلیمان بن صرد (رض) بیان کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) کے پاس دو آدمیوں کا جھگڑا ہوا۔ ایک آدمی ان میں اتنا غضبناک ہوا کہ اس کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا۔ آپ نے فرمایا میں ایک کلمہ جانتا ہوں اگر وہ پڑھ لے تو اس کا ساراغصہ ختم ہوجائے۔ ایک آدمی نے اسے جاکر رسول اللہ (ﷺ) کی بات بتائی اور کہا کہ شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ اس نے جوابًا کہا کیا مجھ میں کوئی بیماری نظر آرہی ہے یا میں مجنون ہوں؟ چل تو چلاجا۔“ ( اس کا مقصد یہ تھا کہ آپ کا فرمان سن کر میں اپنے غصہ پر ضبط کرتا ہوں) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب] مسائل : 1۔ مسلمانوں کو اپنے رب کی بخشش اور جنت کے حصول کی کوشش کرنا چاہیے۔ 2۔ جنت کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے جو گناہوں سے بچنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ 3۔ ایمان دار لوگ آسانی اور تنگی میں خرچ کرنے والے، غصہ پر ضبط کرنے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہوتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نیکو کار لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ 5۔ ایمان والے اپنے آپ پر ظلم یا بے حیائی کا ارتکاب کر بیٹھیں تو اللہ کو یاد کرتے اور اس سے معافی مانگتے ہیں۔ 6۔ صاحب ایمان لوگ اپنی غلطی پر اصرار نہیں کرتے۔ 7۔ اللہ کے بغیر کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں۔ 8۔ معافی مانگنے والوں کے لیے ان کے رب کی طرف سے بخشش اور جنت ہے۔ تفسیر بالقرآن : جنت کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے : 1۔ اللہ کی مغفرت اور جنت کی کوشش کرو۔ (الحدید :21) 2۔ نیکی کے حصول میں جلدی کرو۔ (البقرۃ:148) 3۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے سب سے اعلیٰ ہوں گے۔ (فاطر :32) 4۔ سبقت کرنے والے اللہ کے مقرب ہوں گے۔ (الواقعہ : 10، 11 ) آل عمران
135 آل عمران
136 آل عمران
137 فہم القرآن : (آیت 137 سے 138) ربط کلام : اگر لوگ گناہوں سے بچنے‘ جنت میں داخل ہونے‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس سے معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں تو ظالم کو اپنی عارضی کامیابی پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ اس کا انجام برا ہی ہوا کرتا ہے۔ اُحد کی عارضی فتح پر کفار نے بڑے گھمنڈ اور غرور کا مظاہرہ کیا۔ ابو سفیان نے نعرہ لگاتے ہوئے کہا ’ ہبل زندہ باد‘ پھر اس نے احد کے معرکہ کو بدر کا بدلہ قرار دیا جس پر رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے قریبی ساتھیوں کو حکم دیا کہ اس کا فوری جواب دیا جائے۔ چنانچہ صحابہ نے جواباً نعرہ لگایا : ( اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ) ” اللہ بلند و بالا اور عظمت والا ہے“ حضرت عمر (رض) نے یہ بھی فرمایا کہ احد بدر کا بدلہ نہیں ہوسکتا کیونکہ تمہارے مرنے والے جہنم کا ایندھن بنے اور ہمارے شہیدجنت کے مہمان قرار پائے ہیں۔ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ أحد] اس پر روشنی ڈالتے ہوئے قرآن مجید ظالموں کو حکم دیتا ہے کہ اگر تم تاریخ کے اوراق سے بے بہرہ ہو تو ذرا ان جگہوں اور مقامات کو نگاہ عبرت سے دیکھوجہاں ظالموں کو تباہ وبرباد کیا ہے کہ پیغمبروں کو جھٹلانے‘ شریعت کو ٹھکرانے اور اللہ سے ٹکرانے والوں کا کیا انجام ہوا؟ اے اہل کفر! تمہارا انجام بھی ایسا ہی ہونے والا ہے۔ چنانچہ ٹھیک اگلے سال غزوۂ احزاب میں کافر ذلیل ہوئے۔ ٨ ہجری میں اہل مکہ اس طرح سرنگوں ہوئے کہ بیت اللہ میں سب کے سامنے رسول معظم (ﷺ) سے معافی کے خواستگار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کے تخت الٹ گئے یہاں تک کہ ہندوستان کی سرزمین پر راجہ داہر جیسا ظالم محمد بن قاسم (رح) کے ہاتھوں جہنم واصل ہوا۔ اس طرح کفار اور کذاب لوگوں کا عبرت انگیز انجام ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔ رہنمائی حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے تاریخ کے اوراق ہمیشہ کے لیے رقم ہوچکے ہیں جن سے عبرت حاصل کرنا چاہیے۔ مسائل : 1۔ جھوٹے لوگوں کا انجام دیکھنے کے لیے ان کی اجڑی ہوئی بستیوں کو دیکھنا چاہیے۔ 2۔ یہ تاریخی واقعات گناہوں سے بچنے والوں کے لیے عبرت اور نصیحت ہیں۔ آل عمران
138 آل عمران
139 فہم القرآن : (آیت 139 سے 141) ربط کلام : احد کی ہزیمت کے بعد تسلی دینے کے ساتھ کامیابی کی مشروط ضمانت دی گئی ہے۔ غزوۂ احد میں مسلمانوں کے ستر (70) زعماء شہید ہوئے۔ جن میں شیر دل اور بہادر جوان حضرت حمزہ (رض) بھی شامل تھے جنہوں نے معرکۂ بدر میں سب سے زیادہ کفار کو نقصان پہنچایاتھا۔ انہیں احد میں خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کی شہادت کے بعد آتش انتقام کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کفار نے ان کے جسد اطہر کا مثلہ کیا اور سینہ مبارک چیر کر کلیجہ چبانے کی کوشش کی گئی۔ اس بھاری جانی نقصان کے ساتھ رسول محترم (ﷺ) کی ذات گرامی کو شدید زخم آئے۔ درّہ والوں کی کوتاہی کی وجہ سے یہ سب کچھ آنًا فاناً ہوا۔ اس شدید نقصان کے بارے میں مسلمان سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ خاص کر ایسے مجاہد جنہوں نے ایک سال پہلے بدر میں کفار کی کمر توڑ دی تھی۔ اس صورت حال پر انتہائی مغموم اور دل گرفتہ ہوئے۔ یہاں ان کی ڈھارس بندھانے اور ان کا حوصلہ بلند رکھنے کے لیے تسلی دی گئی ہے کہ غمزدہ ہونے اور کمزوری دکھانے کی ضرورت نہیں ہم لوگوں کے درمیان گردشِ ایّام کرتے ہیں۔ مجاہد کا ہارنا‘ شہسوار کا گرنا‘ اقتدار کا چھننا‘ جوان کا بوڑھا ہونا‘ تندرست کا بیمار پڑنا‘ امیر کا غریب ہونا‘ غریبوں کو تونگر بنانا‘ کمزوروں کو طاقت بخشنا‘ اوقات کا تبدیل ہونا‘ ایّام کا بدلنا اور قوموں کا عروج و زوال ہماری مشیّت و حکم کا مظہر ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کی قدرت وسطوت کا اعتراف ہوتا رہے۔ ہاں ہمیشہ تم ہی سربلند رہو گے بشرطیکہ تم ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہو۔ رہی بات تمہیں زخم پہنچنے کی تو اس سے بڑھ کر تم انہیں بدر کے میدان میں زخمی کرچکے ہو۔ وہ شدید زخمی ہونے، جانی ومالی نقصان اٹھانے کے باوجود ہمت نہیں ہارے بلکہ اس سے کئی گنا پرجوش ہو کر تم پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ تمہارے پاس حوصلہ ہارنے اور غیر معمولی افسردہ ہونے کا کیا جواز ہے؟ یہ تو گردشِ ایّام ہے جس کو لوگوں کے اعمال اور کردار کی وجہ سے ہم پھیرتے رہتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو ممتاز کر کے ان سے منافقوں کو الگ کر دے۔ تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کے درجے پر فائز فرما دے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کٹ مرنے والا اپنے خون جگر سے عملاً اللہ کے کلمہ کو بلند رکھنے کی گواہی دیتا ہے اس لیے اسے شہید کہا جاتا ہے۔ امام رازی (رض) فرماتے ہیں کہ قرآن و حدیث کے مطابق مرنے کے بعد مومنوں کی ارواح مقام علّیّین میں ہوتی ہیں لیکن شہداء کی ارواح اللہ تعالیٰ کے عرش معلّٰی کے نیچے ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے وہ قیامت سے پہلے ہی اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں شہید کہا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر رہنے والے۔ مفسّرین نے اللہ تعالیٰ کا منافقوں کو جاننے کا معنٰی ان کو لوگوں کے سامنے ظاہر کرنا لیا ہے۔ عربی میں اس طرح کلام کرنے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ مسائل : 1۔ مسلمانوں کو کسی حال میں غمگین اور سست نہیں ہونا چاہیے۔ 2۔ مسلمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں تو ہمیشہ سر بلند رہیں گے۔ 3۔ احد میں مسلمانوں کو زخم آئے ان کے مقابلہ میں کفار بدر میں زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان دن پھیرتے رہتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو مٹانا اور مومنوں کو ممتاز کرنا چاہتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ کا حکم اور مومن سر بلند رہیں گے : 1۔ اللہ کا حکم بلند رہے گا۔ (التوبۃ:40) 2۔ مومن ہی ہر حال میں بلند رہیں گے۔ (آل عمران :139) 3۔ مومن اللہ کا لشکر ہیں اور غالب رہیں گے۔ (المجادلۃ:22) گردشِ ایّام : 1۔ بدر میں مومنوں کو فتح ہوئی۔ (آل عمران :123) 2۔ احد میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ (آل عمران :140) 3۔ احزاب میں مسلمان فاتح ہوئے۔ (الاحزاب : 25تا27) 4۔ مکہ میں فتح یاب ہوئے۔ (الفتح :1) 5۔ حنین میں تکلیف دیکھنا پڑی۔ (التوبۃ:25) آل عمران
140 آل عمران
141 آل عمران
142 فہم القرآن : (آیت 142 سے 143) ربط کلام : آزمائش سے قوموں کے کردار میں پختگی پیدا ہوتی ہے احد کی عارضی شکست اسی سلسلہ کی کڑی سمجھنا چاہیے۔ دنیا کی یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ آدمی کا مقصد جتنا بلند اور اہم ہوتا ہے اتنی ہی وہ محنت اور اس کے لیے تکلیف اٹھاتا ہے۔ مومن کی زندگی کا مقصد دین کو سر بلند کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنا ہے جس کا ما حصل جنت ہے۔ یہ مقصد عظیم خالی دعوؤں اور کھوکھلے نعروں سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے مال لٹانا، پیٹ پر پتھر باندھنا‘ گھر بار چھوڑنا‘ اولاد قربان کرنا اور جسم کٹواتے ہوئے صابر و شاکر رہنا پڑتا ہے تب جا کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ممکن ہوا کرتا ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے (حُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بالْمَکَارِہِ) ” کہ جنت مصائب اور مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔“ [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق] اب یہاں ایک لطیف سرزنش کے ساتھ مسلمانوں کو باور کروا یا جا رہا ہے کہ تم خود ہی تو موت کی تمنا کر رہے تھے۔ یعنی جو لوگ کسی وجہ سے بدر کے معرکہ میں شامل نہ ہو سکے وہ تمنا کرتے تھے کہ کفار کے ساتھ پھر کب لڑائی ہو جس میں ہم اللہ کے راستے میں کٹ مریں۔ جب احد میں موت سے تمہارا آمنا سامنا ہوا اور کچھ لوگ موت کا لقمہ بنے تو تم اس پر حیرانگی کا اظہار کر رہے ہو کہ ہمیں یہ جانی نقصان کیوں اٹھانا پڑا؟ یہاں موت کی تمنا سے مراد شہادت ہے۔ جو مومن کی منزل مقصود اور جنت کے حصول کا مؤثر زینہ ہے کیونکہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد ] مسائل : 1۔ صبر اور جہاد کے بغیر کوئی ایماندار جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ 2۔ قتال فی سبیل اللہ میں مجاہد موت کو اپنے قریب دیکھتا ہے۔ نوٹ : صبر کی فضیلت کے بارے میں البقرۃ آیت 153 کی تفسیر بالقرآن دیکھیں۔ آل عمران
143 آل عمران
144 فہم القرآن : ربط کلام : احد میں نبی محترم (ﷺ) کی شہادت کی خبر کی وجہ سے بعض صحابہ بددل ہوئے جس کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ شخصیات تو آنی جانی ہیں اصل مشن تو ان کی دعوت ہے جسے جاری رہنا اور رکھنا چاہیے۔ جنگی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ میدان جنگ میں جونہی فوج کا سپہ سالار زخمی ہو کر گرا۔ اس کے گرنے کے ساتھ ہی بڑے بڑے بہادروں اور جنگجوؤں کے قدم اکھڑ گئے۔ سپہ سالار کا گرنا اور مرنا تو بڑی بات ہے فوج کا پرچم سرنگوں ہوجائے تو لڑنے والوں کے حوصلے پست ہوجایا کرتے ہیں۔ غزوۂ احد میں اسلامی فوج کا پرچم ہی سر نگوں نہیں ہوا بلکہ جلیل القدر صحابہ شہید ہوئے اور رسول کریم (ﷺ) کے بارے میں یہ آواز اٹھی کہ آپ کو شہید کردیا گیا ہے۔ ایسے موقع پر صحابۂ کرام (رض) کے قدم اکھڑنا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ آپ (ﷺ) جرنیل ہی نہیں بلکہ جرنیل اعظم تھے۔ فاطمہ (رض) کے باپ اور حسن و حسین (رض) کے نانا ہی نہیں پوری امت کے روحانی باپ تھے۔ بیواؤں کے سرپرست‘ یتیموں کے ملجا اور مسکینوں کے ماویٰ تھے۔ آپ صحابہ کی عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز‘ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سرور تھے۔ اگر صحابہ اس خبر پر دل برداشتہ اور غمزدہ نہ ہوتے تو اس سے بڑھ کر دنیا میں کس کے لیے پریشان ہوا جاتا؟ لیکن اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد آپ کی زندگی کا مقصود تھا اگر آپ کے بعد اسلام کا پرچم سرنگوں ہوجائے تو نہ صرف آپ کی محنت دنیا میں ضائع ہوجاتی بلکہ اتنی بڑی جماعت بنانے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا۔ اس طرح ایک نہیں دو ناقابل تلافی نقصان ہوتے۔ لہٰذا اس خطاب کا آغاز ہی یہاں سے کیا گیا ہے کہ محمد (ﷺ) خدا نہیں اللہ کا رسول ہے۔ اللہ تو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ محمد (ﷺ) تو انسان ہیں اور ہر ذی روح نے اس دنیا سے کوچ کرنا ہے۔ رسول کا معنی ہی قاصد اور پیغام دینے والاہے۔ جس ہستی نے آپ کو اپنے کام اور پیغام کے لیے مبعوث فرمایا ہے۔ وہ جب چاہے جس حال میں چاہے آپ کو واپس بلا سکتی ہے۔ آپ سے پہلے رسول گزر چکے جن میں کچھ طبعی موت فوت ہوئے اور کچھ شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ کیا آپ کو طبعی موت یا شہادت نصیب ہوجائے تو تم اسلام اور جہاد سے منہ موڑ جاؤ گے؟ یاد رکھو! جو بھی اپنی ایڑیوں کے بل پھرجائے گا وہ اللہ تعالیٰ کو ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس خطاب کا مقصد یہ ہے کہ شخصیات کتنی ہی گراں قدر اور اہم کیوں نہ ہوں اصل تو ان کا مشن ہوا کرتا ہے۔ ذمہ دار اور زندہ قومیں اپنے قائد کے صحیح نظریات‘ اس کا مشن اور ان کے صحت مند کارناموں کو ہمیشہ آگے بڑھاتی ہیں۔ تم میں جو دنیا کے لیے کوشش کرے گا اسے دنیا مل جائے گی اور جو آخرت کے لیے کوشاں ہوگا اسے آخرت میں جزا ملے گی۔ اسی فلسفہ کی ترجمانی کرتے ہوئے ٹھیک ساڑھے سات سال بعد آپ کی وفات کے وقت حضرت ابو بکر صدیق (رض) نے یہ ارشاد فرمایا تھا : (مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْمَاتَ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَإِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب الدخول علی المیت بعد الموت إذا أدرج فی أکفانہ] ” جو کوئی محمد (ﷺ) کی عبادت کرتا تھا تو حضرت محمد (ﷺ) اپنی طبعی موت فوت ہوچکے ہیں اور جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے وہ کبھی فوت نہیں ہوگا۔“ امام رازی (رض) اپنی تفسیر کبیر میں ان الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ﴿أَفَإِنْ مَّاتَ﴾ سے واضح ہو رہا ہے کہ آپ کو طبعی موت آئے گی اور اس کے ساتھ ہی حضرت سعید بن جبیر (رض) کا قول نقل کرتے ہیں کہ کسی رسول کو آج تک میدان کارزار میں قتل نہیں کیا گیا۔ آیت کے آخر میں ﴿شَاکِرِیْنَ﴾ کا لفظ اس لیے بھی لایا گیا ہے تاکہ واضح ہو کہ اللہ کے حقیقی شکر گزار بندے وہی ہوتے ہیں جو غم اور خوشی اور نفع و نقصان میں اللہ کے دین پر کاربند رہتے ہیں۔ حضرت علی (رض) فرمایا کرتے تھے کہ اس فرمان سے مراد حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ شاکر رہنے والے تھے۔ [ معارف القرآن] مسائل : 1۔ حضرت محمد (ﷺ) اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ 2۔ آپ (ﷺ) سے پہلے آنے والے رسول دنیا سے جا چکے اور آپ بھی فوت ہوں گے۔ 3۔ جو شخص اسلام سے پھر جائے وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ شکر گزار بندوں کو جزا دینے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : نبی (ﷺ) اور ہر کسی نے فوت ہونا ہے : 1۔ رسول اللہ (ﷺ) فوت ہوں گے اور آپ کے مخالف بھی۔ (الزمر :30) 2۔ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ (آل عمران :185) 3۔ کسی بشر کو دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا۔ (الانبیاء :34) 4۔ رب ذوالجلال کے سوا سب کچھ فنا ہوجائے گا۔ (الرحمن :26) آل عمران
145 فہم القرآن : ربط کلام : رسول اللہ (ﷺ) کی موت کا اشارہ دے کر ہر کسی کا مرنا یقینی بتلایا ہے اور حوصلہ دیا ہے کہ موت سے ڈرنا اور موت کی وجہ سے نیکی کے کام اور جہاد سے پیچھے ہٹنا گناہ ہے۔ موت ایسی حقیقت ہے کہ اس سے کوئی شخص محفوظ نہیں۔ موت کا وقت اور اس کی جگہ کا تعین کردیا گیا ہے۔ کوئی ذی روح اس ضابطے سے بچ نہیں سکتا۔ جب موت یقینی‘ اس کا وقت مقرر اور اس کی جگہ متعین کردی گئی ہے تو اس سے ڈرنے کا کیا مطلب ؟ اسلام نے موت کا تصور اس انداز میں پیش کیا ہے کہ جس سے انسان میں بیک وقت شجاعت اور احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے کہ ہر انسان جان لے کہ اس نے مر کر ملیا میٹ نہیں ہونا بلکہ اپنے ایک ایک عمل کا اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دینا ہے۔ موت پر یقین محکم ہو تو آدمی گھمسان کے رن میں اتر کر بھی خوف زدہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کی موت کا دن اور جگہ متعین ہے۔ اسی جذبہ کے پیش نظر مجاہد تلوار کی دھار‘ نیزے کی نوک کے سامنے اور توپ کے برستے ہوئے گولوں میں مسکرایا کرتا ہے۔ وہ موت کو سامنے آتے ہوئے دیکھ کر کترانے کی بجائے اس سے نبرد آزما ہونے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اسے یقین کامل ہے کہ موت ہر وقت اور ہر جگہ نہیں آسکتی۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ () أَنَّہٗ قَالَ مِنْ خَیْرِ مَعَاش النَّاسِ لَھُمْ رَجُلٌ مُمْسِکٌ عِنَانَ فَرَسِہٖ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَطِیْرُ عَلٰی مَتْنِہٖ کُلَّمَا سَمِعَ ھَیْعَۃً أَوْ فَزْعَۃً طَارَ عَلَیْہِ یَبْتَغِی الْمَوْتَ وَالْقَتْلَ مَظَانَّہٗ أَوْ رَجُلٌ فِیْ غَنِیْمَۃٍ فِیْ رَأْسِ شَعَفَۃٍ مِنْ ھٰذِہِ الشَّعَفِ أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ ھٰذِہِ الْأَوْدِیَۃِ یُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَیُؤتِیَ الزَّکٰوۃَ وَیَعْبُدُ رَبَّہٗ حَتّٰی یَأْتِیَۃُ الْیَقِیْنُ لَیْسَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا فِیْ خَیْرٍ) [ رواہ مسلم : کتاب الأمارۃ، باب فضل الجھاد والرباط] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر زندگی اس آدمی کی ہے جو جہاد میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے ہوئے اس کی پیٹھ پر اڑتا پھرتا ہے جب بھی کوئی شور یا ہنگامہ سنتا ہے تو وہ اس پر اڑتا ہواپہنچتا ہے موت اور قتل کی جگہوں کو تلاش کرتا ہے یا وہ آدمی سب سے بہتر زندگی والا ہے جو پہاڑ کی چوٹیوں میں کسی چوٹی یا وادیوں میں سے کسی وادی میں اپنی بکریوں کے ساتھ رہتا ہے۔ وہاں نماز پڑھتا‘ زکوٰۃ ادا کرتا اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت کرتا رہتا ہے وہ لوگوں میں بہترین آدمی ہے۔“ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ان کا چچا غزؤہ بدر میں حاضر نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ میں نبی کریم (ﷺ) کی پہلی جنگ میں غیر حاضر تھا اگر اللہ تعالیٰ نے نبی (ﷺ) کے ساتھ کسی جنگ میں شرکت کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیسی بہادری کے ساتھ لڑتا ہوں۔ غزوۂ احد کے موقع پر جب مسلمانوں کی جماعت میں افراتفری پھیلی تو انہوں نے کہا : اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں اس معاملہ میں معذرت کرتا ہوں جو مسلمانوں نے کیا اور میں مشرکین کے مسلمانوں پر غلبہ پانے سے تیرے حضور برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھے تو سعد بن معاذ کو ملے۔ کہنے لگے اے سعد! کہاں جا رہے ہو؟ میں تواُحد کی دوسری طرف جنت کی خوشبو پا رہا ہوں۔ پھر وہ آگے بڑھے اور شہید ہوگئے۔ پہچانے نہ گئے یہاں تک کہ میں نے ان کی انگلیوں کے پوروں سے ان کی لاش کو پہچانا۔ ان کے جسم پر نیزہ‘ تیر اور تلوار کے 80 سے اوپر زخم آئے تھے۔ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ أحد] حضرت خالد بن ولید (رض) نے اپنی وفات کے وقت مدینے کے نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے یہی فلسفہ بیان کیا تھا کہ آج تم موت سے ڈرتے اور کتراتے ہو میری طرف دیکھو کہ میرے جسم پر درجنوں نشانات ہیں اور میں ہمیشہ میدان جنگ میں ہر اول دستہ کے طور پر لڑتا رہا ہوں لیکن افسوس! مجھے شہادت نصیب نہیں ہوئی۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھیں نمناک ہوگئیں اور ہونٹ کانپنے لگے۔ تب ایک بزرگ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو رسول معظم (ﷺ) نے ” سیف من سیوف اللّٰہ“ کا خطاب دیا تھا اگر یہ تلوار کفار کے ہاتھوں ٹوٹ جاتی تو رسول اللہ (ﷺ) کے فرمان پر آنچ اور اسلام کے لیے آپ کی موت طعنہ بن جاتی۔ کفار کہتے کہ ہم نے اللہ کی تلوار توڑ دی ہے۔ (سیرت خالد بن ولید (رض) مسائل : 1۔ کوئی ذی روح اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہیں مرتا۔ 2۔ ہر کسی کے لیے موت کا دن اور جگہ مقرر ہے۔ 3۔ دنیا چاہنے والے کو دنیا اور آخرت چاہنے والے کو اللہ تعالیٰ آخرت کا اجر دیں گے۔ تفسیر بالقرآن : دنیا اور آخرت کے طلب گار میں فرق : 1۔ دنیا دار صرف دنیا طلب کرتے ہیں۔ (البقرۃ:220) 2۔ نیکو کار دنیا وآخرت کی اچھائی چاہتے ہیں۔ (البقرۃ:201) 3۔ دنیا چاہنے والوں کو دنیا اور آخرت چاہنے والوں کو آخرت ملتی ہے۔ (آل عمران :145) 4۔ دنیا کی زیب وزینت عارضی اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ (الکہف :46) آل عمران
146 فہم القرآن : (آیت 146 سے 148) ربط کلام : مسلمانوں کواُحد میں پہنچنے والی تکلیف پر تبصرہ جاری ہے جس میں تلقین کی جارہی ہے کہ حوصلہ ہارنے کے بجائے اپنے سے پہلے اللہ والوں کی تابناک تاریخ پر نظر رکھو۔ مصائب ومشکلات کے باوجود وہ اللہ کی راہ میں کس طرح ڈٹے رہے۔ اے اسلام کے مجاہدو‘ بدر کے غازیو اور محمد عربی (ﷺ) کے ساتھیو! کیا تم ایک ہی معرکہ میں عارضی شکست کھانے کے بعد کم ہمتی اور دل چھوٹے کیے بیٹھے ہو۔ ذرا تاریخ کے دریچوں میں جھانک کر دیکھو کہ کتنے ہی نبی اور ان کے ساتھ رب والے اللہ کے راستے میں جان توڑ کر لڑے۔ ان کے بچے یتیم ہوئے‘ عورتیں بیوہ ہوئیں‘ گھر بار لٹ گئے، انہیں زخم پر زخم اور صدمہ پر صدمے برداشت کرنے پڑے۔ وہ آگ کے انگاروں میں جھونکے گئے، ان کی چمڑیاں ادھیڑ دی گئیں‘ ان پر مصیبتوں اور پریشانیوں کی آندھیاں چلیں‘ مصائب کے پہاڑ ٹوٹے‘ صدموں اور زخموں سے چور چور ہوئے اس کے باوجود وہ پوری استقامت کے ساتھ بہادروں اور جوانمردوں کی طرح میدان کارزار میں سینہ سپر رہے۔ وہ دشمن کے مقابلے میں نہ بزدل ہوئے اور نہ ہی کم ہمت۔ ﴿اَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَأْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَّسَّتْہُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ أَلَاإِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ﴾ [ البقرۃ:214] ” تم سمجھتے ہو کہ جنت میں یوں ہی داخل ہوجاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ سختیوں اور بدحالیوں سے دو چار ہوئے اور انہیں جھنجھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ ان پر ایمان لائے تھے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سنو! اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔“ یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ دین پر مستقل مزاج رہنے اور پریشانیوں میں صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ کے بندے اپنی محنتوں اور قربانیوں پر اترانے کی بجائے نہایت ہی عاجزی اور سرافگندگی کے ساتھ اپنے رب کے حضور اپنی کوتاہیوں‘ لغزشوں اور اطاعت وجہاد میں کمی وبیشی کی معافی طلب کرتے ہوئے کفار کے مقابلہ میں استقامت اور اللہ تعالیٰ سے نصرت و حمایت طلب کیا کرتے تھے۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں عزت و عظمت عطا فرمائی اور دین کی خدمت کی توفیق بخشی۔ یہی لوگ آخرت میں بے پناہ اجر و ثواب کے مستحق ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ یہاں ﴿فِیْ اَمْرِنَا﴾ (ہمارا کام) کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ والے دین کی خدمت اور جہاد فی سبیل اللہ کو کسی پر احسان کے طور پر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر ادا کیا کرتے ہیں۔ مسائل : 1۔ بہت سے انبیاء کے ساتھ کثیر تعداد میں نیک لوگ جہاد کرتے رہے۔ 2۔ انہوں نے جہاد فی سبیل اللہ میں نہ ہمت ہاری اور نہ دب کر رہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ حوصلہ مند لوگوں کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ 4۔ اللہ کے بندے اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اجر عطا فرماتا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے مجاہد ساتھی : 1۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اور حواریوں کی جانثاری۔ (الصف :14) 2۔ جالوت وطالوت کا معرکہ۔ (البقرۃ:249) 3۔ نبی کریم (ﷺ) اور آپ کے صحابہ کا جہاد۔ (الفتح :29) 4۔ مجاہدین ہی بلند وبالا ہوں گے۔ (النساء :95) آل عمران
147 آل عمران
148 آل عمران
149 فہم القرآن : (آیت 149 سے 151) ربط کلام : جب تمہارے دشمن احد میں تمہیں عظیم نقصان پہنچا چکے اور تمہیں کافر بنانے کے درپے ہیں تو ان سے خیر کی توقع کا کیا معنٰی؟ مسلمانوں تمہار امولیٰ اور خیر خواہ صرف اللہ تعالیٰ ہے بس اس پر بھروسہ رکھو۔ سورۃ آل عمران کی آیت 100میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر تم کفار اور منافقین کے پیچھے چلو گے تو وہ تمہیں کافر بناکر چھوڑیں گے۔ اب دوبارہ تاکید کی جارہی ہے کہ اے مومنو! تم کافروں کے پیچھے لگو گے تو وہ تمہیں یکسر الٹے پاؤں پھیر دیں گے جس سے تمہیں دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یاد رکھو! صرف اللہ ہی تمہاری مدد کرنے والا ہے عنقریب وہ کفار کے دلوں میں تمہارا رعب اور دبدبہ ڈال دے گا کیونکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ جس کی اللہ تعالیٰ نے کسی صورت بھی تائید نہیں فرمائی۔ ان کا ٹھکانہ دہکتی ہوئی آگ ہے اور یہ ظالموں کے لیے بدترین ٹھکانہ ہوگا۔ غزوۂ احد کی ہزیمت کے بعد منافقوں کی سرگرمیاں اس قدر تیز ہوئیں کہ وہ مسلمانوں کے گھروں میں جا جا کر پروپیگنڈہ کرتے کہ اگر یہ رسول سچا ہوتا تو اللہ اس کی نصرت و حمایت ضرور کرتا اور تمہیں اس طرح اپنی قیمتی جانوں سے محروم نہ ہونا پڑتا۔ تم اپنی خیر اور تحفظ چاہتے ہو تو ہمارے ساتھ مل جاؤ تاکہ ہم اپنے رئیس عبداللہ بن ابی کے ذریعے اہل مکہ سے تمہیں حفظ و امان کی گارنٹی لے دیں۔ یہاں کمزور مسلمانوں کو ارتداد اور منافقت سے بچانے کے لیے ایک دفعہ پھر حکم دیا گیا ہے کہ اگر تم منافقوں کے پیچھے چلو گے تو یقیناً وہ تمہیں مرتد کردیں گے۔ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی تمہارا خیر خواہ اور مددگار نہیں ہو سکتا۔ عنقریب اللہ تعالیٰ کفار پر تمہارا رعب اور دبدبہ ڈال دے گا۔ چنانچہ احد کے دورانیہ میں دو دفعہ کفار پر ایسا رعب پڑا کہ وہ خود بخود پسپا ہوئے اور اس پسپائی پر ہمیشہ شرمندہ رہے۔ ایک اس وقت جب درّے کے راستہ مسلمانوں پر ان کے عقب سے انہوں نے حملہ کیا اور جونہی مسلمان اکٹھے ہوئے تو انہوں نے بھاگنے میں اپنی عافیت سمجھی۔ دوسری دفعہ جب مدینے سے کچھ میل دور جا کر مسلمانوں پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔ رسول اللہ (ﷺ) کو معلوم ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ ہمارے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے وہی لوگ نکلیں جو احد کی جنگ میں شریک تھے۔ کچھ تازہ دم لوگوں نے بھی نکلنا چاہا لیکن آپ نے ایک آدمی کے سوا کسی کو اجازت نہیں دی (الرحیق المختوم) جب تھکے ماندے اور انتہائی زخمی احد کے مجاہدوں کے ساتھ آپ نکلے تو کافروں نے صورت حال جان کر مکے کی راہ لی۔ اس طرح دوسری مرتبہ کفار پر مسلمانوں کا دبدبہ طاری ہوا۔ ایسے موقع پر رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا : (نُصِرْتُ بالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَھْرٍ) [ رواہ البخاری : کتاب التیمم] ” اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا رعب عطا کردیا ہے کہ میرا دشمن ایک مہینے کی مسافت پر بیٹھا ہوا بھی کانپتا رہے گا۔“ اسی رعب کا نتیجہ تھا کہ جب آپ نے مکہ پر یلغار کی تو مکہ والوں نے مقابلہ کرنے کی بجائی آپ سے معافی مانگ کر جان بچائی۔ اس کے بعد حنین والے پسپا ہوئے اور آخر میں سلطنت روم کے حکمران جو اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور تھی تبوک کے مقام پر آپ کا سامنا کرنے کی تاب نہ لا سکے۔ مسائل : 1۔ مسلمانوں کو کفار کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ 2۔ کافر مسلمانوں کو مرتد بنا کر دنیا و آخرت کے نقصان میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا مالک اور بہترین مدد کرنے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کفار کے دل میں مسلمانوں کا رعب ڈالتا ہے۔ 5۔ کافروں کے پاس اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔ 6۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن : شرک بے بنیاد نظریہ ہے : 1۔ شرکیہ عقیدے کی کوئی دلیل نہیں۔ (المومنون :117) 2۔ شرک سے آدمی ذلیل ہوجاتا ہے۔ (الحج :31) 3۔ بتوں کے الٰہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ (النجم :23) 4۔ مشرک پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ:72) 5۔ مشرک کو اللہ تعالیٰ کسی صورت معاف نہیں کرے گا۔ (النساء :48) آل عمران
150 آل عمران
151 آل عمران
152 فہم القرآن : ربط کلام : احد میں ہونے والے افتراق کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ آئندہ اس سے بچا جاسکے۔ مجاہدین کی صفوں میں اختلافات ہوں تو وہ دشمن کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ غزوۂ احد کے دن رسول اللہ (ﷺ) نے خواب بیان فرمایا کہ میں نے رات کو اپنے گردو پیش بہت سی گائیں ذبح ہوتی دیکھی ہیں۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ میری تلوار کو دندانے پڑگئے ہیں۔ میں پھر دیکھتا ہوں کہ میں نے اپنے ہاتھ میں ایک مضبوط کڑا پکڑا ہوا ہے جس کی آپ نے یوں تعبیر فرمائی کہ پہلے ہمیں فتح ہوگی اس کے بعد نقصان اٹھانا پڑے گا اور بعد ازاں ہم محفوظ ہوجائیں گے۔ [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الإسلام] اُحد کی عارضی شکست پر منافقین نے ہرزہ سرائی کی چونکہ یہ رسول اپنے دعوائے رسالت میں سچا نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت و حمایت کا وعدہ کیا ہوتا تو وہ ضرور پورا کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا وعدہ اس وقت پورا ہوگیا تھا۔ جب مسلمان اللہ تعالیٰ کے حکم سے کفار کو قتل کر رہے تھے پھرتم نے آپس میں اختلاف کیا اور مال غنیمت کو دیکھ کر اپنے رسول کی نافرمانی کی۔ کچھ تم میں دنیا اکٹھی کر رہے تھے جبکہ دوسرے آخرت کے طلبگار تھے۔ یہ درّہ والوں کی طرف اشارہ ہے کہ جن پچاس آدمیوں میں سے دس نے اپنے یونٹ کے سردار کے ساتھ جان دے دی لیکن درّہ نہیں چھوڑا۔ جب کہ دوسرے مال غنیمت سمیٹنے میں لگ گئے حالانکہ رسول اللہ (ﷺ) نے ان کو تعینات کرتے ہوئے فرمایا تھا : (إِنْ رَأَیْتُمُوْنَا تَخْطَفُنَا الطَّیْرُ فَلَا تَبْرَحُوْا مَکَانَکُمْ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد] ” اگر پرندوں کو ہماری بوٹیاں نوچتے ہوئے دیکھو تو پھر بھی تم نے درّہ کو نہیں چھوڑنا۔“ جب پہلے مرحلہ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی اور وہ مال غنیمت اکٹھا کرنے لگے تو درّہ پر مامور لوگ ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ ہمیں بھی شریک ہونا چاہیے ورنہ ہم مال غنیمت سے محروم رہ جائیں گے۔ دستے کے سالار حضرت عبداللہ بن جبیر (رض) نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ رسول معظم (ﷺ) نے ہمیں یہیں جمے رہنے کا حکم دیا ہے لیکن دس آدمیوں کے سوا باقی سب درّہ چھوڑ کر مال غنیمت اکٹھا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ درّہ خالی دیکھ کر خالد بن ولید کی سربراہی میں کفار نے حملہ کیا اور درّے والوں کو شہید کرتے ہوئے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے جس سے حواس باختہ ہو کر مسلمان ادھر ادھر پہاڑ پر چڑھنے لگے۔ جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کفار سے بچا لیا تاکہ تمہیں آزمائے اور پھر تمہیں معاف کردیا اللہ تعالیٰ مومنوں پر بڑا ہی فضل کرنے والا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (ﷺ) کا خواب سچا کردیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ مومنوں پر بڑا فضل کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ صاحب فضل وکرم ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ جہان والوں پر فضل کرنے والا ہے۔ (البقرۃ:243) 2۔ اللہ تعالیٰ مومنوں پر اپنا فضل فرماتا ہے۔ (آل عمران :152) 3۔ اللہ کا فضل نہ ہو تو آدمی شیطان کے تابع ہوجاتا ہے۔ (النساء :73) 4۔ اللہ کا فضل نہ ہو تو انسان خسارہ پاتا ہے۔ (البقرۃ:64) 5۔ اللہ کے فضل وکرم کے بغیر تکلیف سے نہیں بچا جاسکتا۔ (النور :14) 6۔ فضل سارے کا سارا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ (آل عمران :73) آل عمران
153 فہم القرآن : ربط کلام : احد میں سرزد ہونے والی کمزوریوں میں ایک اور کمزوری کی نشاندہی کی ہے کہ جب اکثر صحابہ رسول اللہ (ﷺ) کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے اور رسول معظم انہیں واپس بلا رہے تھے۔ معرکۂ احد کی ابتدا میں میدان صحابہ کرام (رض) کے ہاتھ رہا کفار نے بھاگنے میں اپنی عافیت سمجھی۔ صحابہ اسلحہ ایک طرف رکھ کر مال غنیمت اکٹھا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ درّہ خالی دیکھ کر خالد بن ولید نے اتنی مستعدی اور منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کیا کہ درّہ پر مامور دس اصحاب کو ان کے سالار سمیت شہید کرتے ہوئے غنیمت لوٹنے والوں پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑا۔ افرا تفری کے عالم میں صحابہ کا جس طرف منہ ہوا بھاگناشروع کردیا لیکن رسول معظم (ﷺ) زخمی ہونے کے باوجود صبر و استقلال کا پہاڑ اور استقامت کا پیکر بن کر اپنی جگہ پر ڈٹے ہوئے تھے۔ چہرے پر پریشانی اور نہ لہجہ میں گھبراہٹ اپنے حواس پر مکمل کنٹرول، پورے تدبر و تفکر کے ساتھ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے بھاگنے والوں کو آواز پر آواز دے رہے تھے : (یَا عِبَادَاﷲِإِلَیَّ عِبَادَ اللہ) [ تفسیر البغوی تفسیر آیت ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ﴾] ” اے اللہ کے بندو! کہاں بھاگے جا رہے ہو پلٹ کر میری طرف آؤ۔“ لیکن حالات نے اس قدر اچانک پلٹاکھایا کہ کسی کو کچھ بھی سوجھائی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کیا کرے سوائے چودہ صحابہ کے جن میں سات مہاجر اور سات انصار تھے۔ ان میں سر فہرست حضرت ابو بکر صدیق، حضرت طلحہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) تھے۔ جناب سعد بن ابی وقاص (رض) اس طرح جانثاری کے ساتھ آپ کا دفاع کر رہے تھے کہ رسول اللہ (رض) نے ان کے بارے میں فرمایا : (یَاسَعْدُ ارْمِ فَدَاکَ أَبِیْ وَأُمِّیْ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی] ” اے سعد! تیر پھینکئے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔“ حضرت طلحہ (رض) ڈھال ٹوٹ جانے کی وجہ سے آپ کی طرف آنے والے تیروں کو دبوچنے کی کوشش کرتے جس کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے ان کا ایک بازو مفلوج ہوگیا : جیسا کہ قیس بن حازم کہتے ہیں کہ (رَأَیْتُ یَدَ طَلْحَۃَ الَّتِیْ وَقٰی بِھَا النَّبِیَّ () قَدْ شَلَّتْ) [ رواہ البخاری : کتاب المناقب] ” میں نے طلحہ (رض) کے ہاتھ کو دیکھا جس کے ساتھ انہوں نے نبی (ﷺ) کا دفاع کیا تھا وہ مفلوج ہوچکا تھا۔“ حضرت طلحہ (رض) کبھی کبھار بڑے ناز کے ساتھ مدینہ کے نوجوانوں کو اپنا معذور بازو دکھلاکر فرماتے کہ احد کے دن میں نے اسے ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ایک موقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا احد طلحہ کا دن تھا۔ (سیر الصحابہ) اس ہنگامی صورت حال میں کفار کی طرف سے یہ افواہ پھیلائی گئی کہ مسلمانوں کے نبی کو قتل کردیا گیا ہے۔ یہاں اسی کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ مسلمانو! وہ وقت یاد کرو جب تم پر غم پر غم ٹوٹ رہے تھے۔ مال غنیمت کا ہاتھ سے نکل جانا، ستر صحابہ کا شہید ہونا، حضرت حمزہ (رض) کا مثلہ کیا جانا‘ رسول کریم (ﷺ) کا زخمی ہو کر نیچے گرنا‘ آپ کے دانت ٹوٹنا، پیشانی پر زخم آنا، فتح کا شکست میں تبدیل ہونا اور کفارکا خوش ہونا ایک سے ایک بڑھ کر صدمہ تھا۔ انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یہ لچک اور وسعت رکھی ہے کہ اکثر اوقات یہ ہلکا غم برداشت نہیں کرتا لیکن بڑے غم کو حوصلے کے ساتھ برداشت کرلیتا ہے۔ گردشِ ایّام کے ساتھ احد میں ہزیمت کا فلسفہ یہ تھا کہ مسلمان اپنے آپ کو آئندہ حالات کے لیے تیار کرلیں کیونکہ افراد اور قومیں وہی آگے بڑھا کرتی ہیں جو مصائب پر نڈھال اور دل برداشتہ ہونے کے بجائے مضبوط اعصاب کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے والی ہوتی ہیں۔ مسائل : 1۔ متواتر غم سہنے سے آدمی میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ 2۔ جماعت کے قائد کو مشکل حالات میں بہادری اور استقامت دکھانا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے اعمال کی خبر رکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : غم کا بہتر ردّ عمل : 1۔ غم سے مومن کی تربیت اور اس میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ (الحدید : 22، 23) 2۔ غم میں صبر واستقامت کی دعا کرنا چاہیے۔ (البقرۃ:250) 3۔ جو چھن جائے اس پر پچھتانا نہیں چاہیے جو ملے اس پر اترانا نہیں چاہیے۔ (الحدید :23) 4۔ پریشانی انسان کے اپنے عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ (الشوریٰ :30) 5۔ ایسے حالات میں صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرنی چاہیے ۔ (البقرۃ: 153) آل عمران
154 فہم القرآن : (آیت 154 سے 155) ربط کلام : احد کے بارے میں تبصرہ جاری ہے۔ احد کے میدان سے ایک دفعہ ہٹنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحابہ پر سکینت کا نزول۔ اُحد میں سراسیمگی اور پے درپے صدمات کے عالم میں اچانک اللہ کی رحمت کا نزول ہوا جہاں جہاں کوئی تھا۔ لمحہ بھر کے لیے اسے اونگھ آئی جس سے کئی دنوں کی تھکاوٹ اور دماغ کا بوجھ ہلکا ہوا۔ صحابہ (رض) اس طرح تازہ دم ہوئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ حضرت طلحہ (رض) اپنی کیفیت ذکر کرتے ہیں : (کُنْتُ فِیْمَنْ تَغَشَّاہ النُّعَاسُ یَوْمَ أُحُدٍ حَتّٰی سَقَطَ سَیْفِیْ مِنْ یَدِیْ مِرَارًا یَسْقُطُ وَآخُذُہٗ وَیَسْقُطُ فَآخُذُہٗ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب ثم أنزل علیکم من بعد الغم الخ] ” میں ان لوگوں میں تھا جنہیں اونگھ نے آلیا حتیٰ کہ میرے ہاتھ سے کئی مرتبہ تلوار گری اور میں اسے اٹھاتا رہا۔“ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں نہ اونگھ آئی اور نہ ہی انہیں کچھ سکون حاصل ہوا۔ وہ اللہ تعالیٰ پر بد ظنی کا اظہار کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ کاش! ہمارے پاس فیصلہ کرنے کا کچھ اختیار ہوتا۔ یہ لوگ اپنے دلوں میں بہت کچھ چھپائے ہوئے تھے۔ یہ بھی کہے جا رہے تھے کہ اگر ہماری بات چلتی تو ہم یہاں مرنے اور کٹنے کے بجائے اپنے گھروں میں ٹھہرے رہتے انہیں سمجھاتے ہوئے یہ عقیدہ بتلایا گیا ہے کہ کلی اختیارات صرف اللہ کے پاس ہیں۔ اگر تم اپنے گھروں میں بستروں پر لیٹے ہوتے تو پھر بھی موت کے وقت اپنے مقتل پر پہنچ جاتے۔ گو شکست تمہاری اپنی کمزوریوں کا نیتجہ ہے لیکن حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس میں آزمائش ہے تاکہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے وہ ظاہر ہوجائے اور تمہیں معلوم ہو کہ تم ایمان کے کس مقام پر کھڑے ہو؟ اللہ تعالیٰ دلوں کے حالات سے خوب واقف ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ منافقوں کے ساتھ بعض کمزور مسلمانوں نے بھی ایسے خیالات کا اظہار کیا تھا جن کے متعلق یہ تبصرہ کیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے احد کے دن پیٹھ دکھائی درحقیقت ان کی کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے انہیں ایسا کرنے پر اکسایا تھا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا ہے اور اللہ تعالیٰ نہایت ہی معاف فرمانے والا، بُردبار ہے۔ حافظ ابن حجر (رض) اس فرمان کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انسان کے اعمال لشکر کی طرح ہیں جو آدمی کو اپنے مطابق گھسیٹ لیتے ہیں اگر نیک اعمال ہوں گے تو وہ نیکی کی طرف کھینچ لیں گے اور اگر برے اعمال ہوں گے تو وہ برائی کی طرف لے جائیں گے۔ یہاں معافی کا اعلان ان مسلمانوں کے لیے ہے جو درّہ اور میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے سامنے کسی شخص نے حضرت عثمان (رض) پر اعتراض کیا کہ وہ تین اہم موقعوں پر غیر حاضر تھے۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ صلح حدیبیہ کے وقت حضرت عثمان کو نبی کریم (ﷺ) نے اپنی اور مسلمانوں کی طرف سے مکہ میں نمائندہ بنا کر بھیجا تھا کہ وہ کفار کے ساتھ مذاکرات کریں۔ جب آپ نے صحابہ سے بیعت لی تو اپنے ہاتھ کو عثمان (رض) کا ہاتھ قرار دیا تھا۔ اس سے بڑھ کر کونسا اعزاز ہوسکتا ہے؟ غزوۂ بدر میں حضرت عثمان (رض) کی غیر حاضری اس لیے تھی کہ ان کی بیوی جو نبی کریم کی بیٹی تھی وہ ان دنوں شدید بیمار تھیں۔ آپ نے اس کی تیمار داری کے لیے حضرت عثمان (رض) کو گھر میں رہنے کی اجازت دی تھی۔ جہاں تک احد میں میدان چھوڑ کر بھاگنے کا تعلق ہے۔ اس میں چودہ صحابہ (رض) کے علاوہ باقی سب شامل تھے۔ حضرت عثمان (رض) تنہا نہیں تھے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان سب کو معاف کردینے کا اعلان کردیا ہے۔ اس کے بعدابن عمر (رض) نے یہ آیت پڑھتے ہوئے فرمایا کہ تجھے معلوم نہیں کہ اللہ نے انہیں معاف کردیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں رہتا۔ ﴿ظَنَّ الْجَاھِلِیَّۃ﴾ سے مرا دایسا خیال ہے جو عقیدہ توحید اور شریعت کے اصولوں کے خلاف ہو۔ کچھ لوگوں نے یہ کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مدد کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ ﴿إِنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ باللَّہِ الْغَرُورُ﴾[ لقمان :33] ” بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے چنانچہ تمہیں دنیاکی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ شیطان اللہ کے بارے میں دھوکے میں رکھے۔“ مسائل : 1۔ تمام اختیارات اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں۔ 2۔ مرنے کے وقت آدمی خود بخود موت کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ 3۔ مرنے کے وقت آزمائش میں انسان کا امتحان ہوتا ہے۔ 4۔ اللہ کا کرم نہ ہو تو شیطان آدمی کو پھسلا دیتا ہے۔ 5۔ اللہ سینوں کے رازوں کو جانتا ہے۔ 6۔ اللہ بخشنے والا‘ حوصلے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : ظَنّ کے معانی : 1۔ ظن کا معنٰی یقین۔ (الحاقۃ20) 2۔ ظن کا معنی گمان کرنا۔ (یوسف :42) (موقعہ کی مناسبت سے معنٰی کا تعین کیا جاتا ہے) موت ہر کسی کا مقدر ہے : 1۔ موت کا وقت مقرر ہے۔ (آل عمران :145) 2۔ موت کی جگہ متعین ہے۔ (آل عمران :154) 3۔ موت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ (آل عمران :168) 4۔ موت سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ (النساء :78) 5۔ سب کو موت آنی ہے۔ (الانبیاء :35) 6۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر کسی نے مرنا ہے۔ (الرحمن : 26، القصص :88) آل عمران
155 آل عمران
156 فہم القرآن : ربط کلام : منافقین نے اپنے عزیزوں کی موت پر حسرت وافسوس کا اظہار کیا جس پر مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ تمہیں منافقوں اور بزدلوں کی طرح اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ موت وحیات تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اے صاحب ایمان لوگو! تمہاری سوچ اور زبان کفار جیسی نہیں ہونی چاہیے جنہوں نے اپنے رشتے داروں کو یہ کہا کہ اگر تم قتال کے لیے نہ نکلتے اور ہمارے ہاں ٹھہرے رہتے تو قتل ہونے سے بچ جاتے دراصل یہ لوگ اپنی حد سے بڑھ کر بات کرتے ہیں۔ کیونکہ موت و حیات کے فیصلے صرف اللہ کے اختیار میں ہیں۔ کسی نیک کی نیکی‘ برے کی برائی‘ دانش مند کی دانش مندی اور محتاط کی احتیاط موت کو ٹال سکتی ہے اور نہ ہی کسی کو اس کی موت کی جگہ سے ہٹا سکتی ہے۔ یہ تو کفار کی سوچ ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو یوں ہوجاتا اور یوں ہوتا تو اس طرح ہوجاتا۔ ایسے لوگ زندگی بھر ایسی حسرتوں کا شکار رہتے ہیں کہ کاش وسائل ہوتے تو یہ اور وہ ہوجاتا حالانکہ ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ایسی گفتگو اور سوچ سے منع فرمایا ہے : (عَنْ أبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () اَلْمُؤْمِنُ الْقَوِیُّ خَیْرٌ وَّاأحَبُّ إِلَی اللّٰہِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِیْفِ وَ فِیْ کُلٍّ خَیْرٌ إِحْرِصْ عَلٰی مَا یَنْفَعُکَ وَاسْتَعِنْ باللّٰہِ وَلَا تَعْجَزْ وَإِنْ أَصَابَکَ شَیْ ءٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّی فَعَلْتُ کَانَ کَذَا وَ کَذَا وَلٰکِنْ قُلْ قَدَّرَ اللّٰہُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ) [ رواہ مسلم : کتاب القدر، باب فی الأمربالقوۃ وترک العجز والإستعانۃ باللہ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول (ﷺ) نے فرمایا ہے طاقتور مومن اللہ کے ہاں کمزور مومن سے بہتر اور پسندیدہ ہے تاہم بہتری اور خیر دونوں میں ہے۔ تجھے نفع بخش چیز کی طلب کرتے ہوئے اللہ سے مدد طلب کرنا چاہیے اور عاجز نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی تکلیف آئے تو یہ نہ کہنا چاہیے کہ اگر میں یہ کام کرتا تو ایسے ہوجاتا بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اللہ نے جو تقدیر میں لکھا اور جو چاہا کردیا۔ کیونکہ لفظ ” اگر سے شیطان اپنے کام کی ابتدا کرتا ہے۔“ رسول اللہ (ﷺ) کے فرمان کا مقصد یہ ہے کہ پریشانی کے موقعہ پر آدمی کے اگر مگر کہنے سے شیطان آدمی کا عقیدہ کمزور کرنے اور اسے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔“ رسول اکرم (ﷺ) کی تعلیم : آپ نے بچوں کے ذہنوں میں بھی یہ بات پختہ کردی کہ جو فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کر رکھا ہے وہ ہو کر رہنے والا ہوتا ہے۔ نہ وہ ٹل سکتا ہے اور نہ اسے کوئی روک سکتا ہے آپ نے عبداللہ بن عباس (رض) کو یہ عقیدہ سکھایا : (وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلٰی أَنْ یَنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَیْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَیْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع] ” یقین رکھ کہ اگر پوری دنیا تجھے کچھ نفع دینے کے لیے جمع ہوجائے تو وہ اتنا ہی نفع دے سکتی ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ رکھا ہے اور اگر وہ تجھے کچھ نقصان دینے پہ تل جائے تو تجھے اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا تیری قسمت میں لکھا گیا ہے، قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔“ مسائل : 1۔ مسلمانوں کی سوچ اور گفتگو کفار جیسی نہیں ہونی چاہیے۔ 2۔ مسلمانوں کو جہاد سے پھسلانا یا ہٹانا کفریہ سوچ ہے۔ 3۔ موت اور زندگی اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ تفسیر بالقرآن : حسرت زدہ لوگ : 1۔ اسلام کا انکار کرناحسرت کا سبب ہوگا۔ (الحاقۃ:50) 2۔ مشرکین قیامت کے دن حسرت کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ:167) 3۔ قیامت کے منکرین حسرت وافسوس کریں گے۔ (الانعام :31) 4۔ قیامت کے دن مجرم دنیا کی بری دوستی پر اظہار افسوس کریں گے۔ (الفرقان : 27تا29) آل عمران
157 فہم القرآن : (آیت 157 سے 158) ربط کلام : منافق قتل ہوں یا طبعی موت مریں ان کے لیے حسرتیں ہیں مسلمان شہید ہوں یا فطری موت مریں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دنیا کی کوئی دولت مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یہاں تجزیاتی انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص جو اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے میدان کار زار میں اترتا ہے اور شہید ہوجاتا ہے یا اسے اللہ تعالیٰ کی سمع واطاعت میں طبعی موت آجاتی ہے اس کا صلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی زندگی کی فرو گزاشتوں کو اپنے کرم سے معاف فرمائیں گے اور اس کے اعمال سے کہیں بڑھ کر اپنی رحمت سے نوازیں گے۔ یہ اجر و ثواب دنیا کی دولت و ثروت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ جس کو لوگ زندگی بھر جمع کرتے رہتے ہیں۔ ایسے مومن کو جب موت آتی ہے تو ملائکہ اس کا استقبال کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی مہمان نوازی کا اہتمام ہوتا ہے۔ ان کے مقابلہ میں جو لوگ بدکردار اور اللہ کے نافرمان ہوتے ہیں۔ وہ بری موت مرتے ہیں اور ان کا انجام جہنم ہوگا۔ یہاں کفار کی حسرتوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم دنیا میں کتنی مدت ٹھہرے رہو گے ؟ اگر تم قتل ہوجاؤ یا تمہیں طبعی موت آئے بالآخر تم نے اللہ کے حضور ہی جمع ہونا ہے۔ پھر موت سے فرار اور ان حرکتوں کا کیا فائدہ؟ ذرا سوچیے کہ کتنا فرق ہے ایک اللہ کے حضور عزت و تکریم کے ساتھ مہمان کی حیثیت سے حاضر ہے اور اسے دائمی آرام و انعام سے نوازا جا رہا ہے۔ دوسرا رو سیاہ‘ ذلیل و خوار اور مجرم بن کر پیش ہو رہا ہے اور اسے ہمیشہ کے لیے جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں پھینکا جا رہا ہیلہٰذا سوچو دنیا بہتر ہے یا آخرت۔ مسائل : 1۔ اللہ کا فرمانبردار اور اس کی راہ میں جہاد کرنے والا بخشا جائے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت دنیا کے مال و متاع سے بے انتہا گنا بہتر ہے۔ 3۔ کوئی طبعی موت مرے یا قتل ہوجائے سب کو اللہ کے ہاں جمع ہونا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ کی رحمت و بخشش دنیا کے خزانوں سے بہتر : 1۔ اللہ کا فضل ورحمت دنیا کے مال ومتاع سے بہتر ہے۔ (یونس :58) 2۔ اللہ کی رحمت دنیا کے خزانوں سے بہتر ہے۔ (الزخرف :32) 3۔ حکمت وبصیرت خیر کثیر ہے۔ (البقرۃ:269) آل عمران
158 آل عمران
159 فہم القرآن : ربط کلام : احد میں درّہ والوں کی کوتاہی اور صحابہ کے منتشر ہونے کی وجہ سے نقصان ہوا۔ جس پر نبی کریم (ﷺ) نے صبر وحوصلہ کا مظاہرہ فرمایا۔ اس پر آپ (ﷺ) کے اخلاق عالیہ کی تعریف کی گئی اور خطا کرنے والوں کو معاف کردینے اور اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی بخشش کی دعا کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اُحد میں تین سو منافقوں کا واپس لوٹنا، درّے والوں کا درّہ خالی کرنا‘ گھمسان کے رن میں صحابہ کی اکثریت کا آپ کو تنہا چھوڑ جانا‘ اس قدر ذاتی اور جماعتی نقصان کا اٹھانا۔ ان میں کوئی ایک معاملہ بھی نبی کریم (ﷺ) کو مشتعل کرنے کے لیے کافی تھا۔ ایسے موقعہ پر بڑے سے بڑا بہادر اور حوصلہ مند انسان کا پِتّہ پانی ہوجایا کرتا ہے۔ لیکن رسول اللہ (ﷺ) نے کسی اشتعال‘ خفگی اور ترش کلامی کا مظاہرہ نہیں فرمایا۔ بلکہ نہایت حوصلہ اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ حالات پر کنٹرول کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو خراج تحسین سے نوازتے ہوئے فرمایا کہ میرے محبوب ! یہ صرف تیرے رب کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے کہ آپ بردبار‘ رحمدل‘ نرم خو اور اعلیٰ اخلاق کے پیکر ہیں۔ اگر آپ سخت خو‘ جذباتی اور ترش کلام ہوتے تو یہ لوگ نفرت کھا کر آپ سے دور بھاگ جاتے۔ لہٰذا انہیں دل سے معاف فرما دیجیے اور اپنے رب کے حضور ان کی معافی کی درخواست کیجیے۔ یہ نہیں کہ پہلے مشورہ کرنے سے نقصان ہوا ہے اور آئندہ مشورہ کرنے سے آپ احتراز کریں بلکہ مشاورت جاری رہنی چاہیے۔ مشاورت کے بعد آپ کو فرمایا گیا ہے کہ مکمل تیاری اور باہمی مشورہ کے بعد اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجئے وہی عزت وذلت اور فتح وشکست کا مالک ہے۔ کام کرنے کے لیے جو وسائل اور مشاورت درکار ہوں اس کے لیے بھرپور کوشش کریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے عزم بالجزم کے ساتھ کام کا آغاز کردینا چاہیے۔ مشاورت کی اہمیت اور غرض وغایت : قرآن پاک نے قائد کو مشاورت کا حکم دیا ہے تاکہ مسلمان اجتماعی مسائل کو جماعتی انداز میں حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرز عمل کے بیک وقت کئی فوائد ہیں ایک طرف اراکین جماعت کی دلجوئی ہے اور دوسری جانب ان کی صلاحیتوں سے اجتماعی فائدہ اٹھانا اور ان کی انفرادی فکر کو اجتماعی نظم میں لانا ہے۔ یہ خیرو برکت سے بھرپور عمل ہے جس سے نبی اکرم (ﷺ) کی ذات والا صفات کو بھی مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا۔ حالانکہ آپ مسلسل اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور ہدایات میں زندگی گزارتے ہوئے لوگوں کی راہنمائی فرمارہے تھے۔ نبی اکرم (ﷺ) ان احکامات کے نزول سے قبل بھی صحابہ (رض) سے مشورہ کرتے تھے لیکن نزول حکم کے بعد یہ حالت ہوگئی کہ آپ ہر کام میں صحابہ سے مشورہ فرماتے تھے۔ آپ کی ذات گرامی کو مزید حکم ہوا : ﴿ وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ﴾ [ آل عمران :159] ” اور معاملات میں ان کو شریک مشورہ رکھا کرو، پھر جب آپ کا عزم کسی رائے پر پختہ ہوجائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں“۔ اس کار خیر کی اہمیت وافادیت کو اجاگر اور ممتاز رکھنے کے لیے پانچ رکوع پر مشتمل ایک سورۃ کا نام ہی الشورٰی رکھ دیا گیا تاکہ رہتی دنیا تک مسلمان مشاورت کے اصولوں کو اپناتے ہوئے اجتماعی زندگی بسر کرتے رہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مشورہ کن امور میں کرنا چاہیے؟ مشاورت کا حدود اربعہ کیا ہے ؟ جہاد کے سلسلے میں بدر، احد، خندق غرضیکہ ہر اہم معاملہ میں آپ (ﷺ) صحابہ کرام (رض) سے مشورہ فرماتے۔ جنگ سے پہلے شورٰی کے اجلاس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ جہاد کرنا چاہیے یا نہیں۔ واضح احکامات کے بعد ان پر عمل کرنے کے بارے میں مشورہ کرناتو درکنار ان کے بارے میں سوچنا بھی کبیرہ گناہ ہے۔ مشاورت تو اس بات پر کرنا ہے کہ دشمن پر حملہ کرنے کا وقت اور طریقہ کار اور میدان جنگ کا انتخاب وغیرہ۔ ان امور کو اللہ تعالیٰ نے امت کے ذمہ داران پر چھوڑ دیا ہے۔ بعض لوگوں نے لفظی موشگافیوں میں پڑ کر مشاورت کے حکم کو بازیچۂ اطفال بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعت کا امیر اربابِ حل و عقد سے ان کی دلجوئی کی خاطر مشورہ کرے گا لیکن اس پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ امیر جس سے چاہے مشورہ کرے وہ باضابطہ شور یٰ کو تشکیل دینے اور اس کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔ رسول کریم (ﷺ) کی صحابہ کرام (رض) سے مشاور ت : بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ : رسول اللہ (ﷺ) نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے تجویز پیش کی کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دینا چاہیے جبکہ حضرت عمر (رض) کا خیال تھا کہ انہیں قتل کردینا چاہیے۔ نبی محترم (ﷺ) نے حضرت ابوبکر (رض) کی رائے کو ترجیح دی اور بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر رہا کردیا۔ حنین کے قیدیوں کے بارے میں رائے طلب کرنا : غزوۂ حنین کے موقعہ پر بے شمار قیدی اور مال غنیمت ہاتھ آیا۔ حنین کے نمائندہ لوگوں نے جب آپ سے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تو آپ نے اس بارے میں صحابہ سے رائے طلب کی آراء میں اختلاف دیکھا تو حکم دیا کہ اپنے خیموں میں جا کر باہمی مشاورت کے بعد اپنے نمائندوں کو میرے ہاں بھیجو تاکہ مجھے فیصلہ کرنے میں آسانی ہوجائے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الایمان] اُحد میں دفاع کے متعلق مشاور ت : احد سے پہلے مشاورت کی کہ شہر میں رہ کر دفاع کرنا چاہیے یا مدینہ سے باہر نکل کر؟ لوگوں کی اکثریت نے باہر نکل کر لڑنے کا مشورہ دیا تو رسول اللہ (ﷺ) نے ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے احد کے دامن کا انتخاب فرمایا حالانکہ آپ کی رائے مدینہ میں رہ کر دفاع کرنے کے بارے میں تھی۔ (ابن کثیر) گورنر کی تقرری کے لیے مشاور ت : حضرت معاذبن جبل (رض) کو یمن کا گورنر بناتے وقت شورٰی بلائی گئی۔ ارکان شوریٰ نے اپنی اپنی رائے پیش کی اور کافی غوروخوض کے بعد معاذبن جبل (رض) کی تقرری کا اعلان ہوا۔ [ کنزالعمال] حضرت ابوبکر (رض) کی مشاورت اور فیصلوں کی بنیاد : جمہوریت کی مخالفت میں بعض لوگ حضرت ابوبکر (رض) کے فیصلوں کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے صحابہ سے مشورہ کیا لیکن اکثریت کی رائے کو درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ لہٰذا خلیفہ اکثریت کی رائے کا پابند نہیں۔ حالانکہ ان واقعات سے ایسے استدلال کی گنجائش نہیں نکلتی کیونکہ حضرت ابوبکر (رض) نے صحابہ کی رائے کے مقابلے میں رسول محترم (ﷺ) کی سنت اور فرمان پیش کیے تھے جو آپ کی وفات کے صدمہ اور پے درپے مشکلات کی وجہ سے صحابہ کے ذہن سے اوجھل ہوچکے تھے۔ جوں ہی خلیفۃ المسلمین نے ان کا حوالہ دیا تو صحابہ کرام (رض) اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے۔ خلیفۂ اول کا پہلا اقدام : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم (ﷺ) کی وفات کے بعد عرب قبائل مرتد ہونے لگے اور کچھ قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا۔ ادھر لشکر اسامہ کی روانگی کا مسئلہ بھی تھا جسے خود نبی اکرم (ﷺ) نے اپنی حیات مبارکہ میں روانہ کیا تھا۔ اس صورت حال کے پیش نظر حضرت ابوبکر (رض) نے پہلے جیش اسامہ کی روانگی کے متعلق مشورہ کیا تو نازک حالات میں شوریٰ فوری طور پر لشکر کی روانگی کے خلاف تھی لیکن حضرت ابو بکر (رض) نے فرمایا : (وَالَّذِیْ نَفْسُ اَبِیْ بَکْرٍ بِیَدِہٖ لَوْ ظَنَنْتُ اَنَّ السِّبَاعَ تَخْطَفِیْ لَاَنْفَذْتُ بَعْثَ اُسَامَۃَ کَمَا اَمَرَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ () وَلَوْ لَا یَبْقَ فِی الْقُرٰی غَیرُہُ لَاَنْفَذْتُہُ) [ طبری : ج 2، ص522] ” اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں ابوبکر کی جان ہے اگر مجھے یہ یقین ہو کہ وحشی جانور مجھے نوچ لیں گے اور ان آبادیوں میں میرے سوا کوئی بھی شخص باقی نہ رہے۔ تو بھی میں لشکر اسامہ روانہ کروں گا کیونکہ نبی اکرم (ﷺ) نے اس کو روانگی کا حکم دیا ہے۔“ مانعین زکوٰۃ اور حضرت ابوبکر (رض) کا فیصلہ : مانعین زکوٰۃ کے متعلق حضرت ابو بکر (رض) نے مہاجرین وانصار کو جمع کر کے فرمایا آپ کو معلوم ہے کہ بعض عربوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ہے مشورہ دیں کہ اس صورت حال میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیونکہ میں بھی تم میں سے ایک انسان ہوں البتہ تمہاری نسبت مجھ پر بوجھ زیادہ ہے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا اے خلیفۂ رسول! میری رائے تو یہ ہے کہ آپ اس وقت لوگوں کی نماز ادائیگی کو ہی غنیمت سمجھیں اور زکوٰۃ چھوڑنے پر گرفت نہ فرمائیں۔ یہ لوگ ابھی ابھی اسلام میں داخل ہوئے ہیں آہستہ آہستہ یہ تمام اسلامی فرائض واحکام کو تسلیم کرنے کے بعد سچے مسلمان بن جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اسلام کو مزید قوت دے گا تو ہم منکرین زکوٰۃ کے مقابلہ میں اٹھ کھڑے ہوں گے لیکن اس وقت ہم میں عرب وعجم کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ حضرت عمر (رض) کی رائے سننے کے بعد حضرت ابوبکر (رض)، حضرت عثمان (رض) کی طرف متوجہ ہوئے انہوں نے بھی حضرت عمر (رض) کی تائید کی۔ پھر حضرت علی (رض) نے بھی اس کی تائید کی۔ ان کے بعد تمام انصار ومہاجرین اسی رائے کی تائید میں یک زبان ہوگئے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر (رض) منبر پر چڑھے اور فرمایا : اسی موقع پر انہوں نے حضرت عمر فاروق (رض) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تم کفر میں بڑے تندو تیز اور بہادر تھے، کیا اسلام میں آکر بزدل ہوگئے ہو؟ میں ضرور ان لوگوں کے خلاف جہاد کروں گا جو نماز ادا کرتے ہیں مگر زکوٰۃ دینے سے انکاری ہیں۔ (وَاللّٰہِ لَا اَبْرَحُ اَقُومُ بِاَمْرِاللّٰہِ وَاُجَاھِدُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْجِزَاللّٰہُ تَعَالٰی وَیَفِیَ لَنَا عَھْدَہُ) ” اللہ کی قسم ! میں اس موقف پر ڈٹ جاؤں گا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا رہوں گا۔ جب تک اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا نہ فرمادے۔“ دور فاروقی میں کمانڈر‘ مفتوحہ علاقوں اور طاعون کے بارے میں مشاور ت : عراق میں پیش قدمی کے سلسلہ میں اسلامی فوج کی کمان کا مسئلہ پیش آیا۔ یاد رہے اس وقت عراق، فارس (ایران) کے ماتحت تھا خلیفہ ثانی فاروق اعظم (رض) کا خیال تھا کہ اس فوج کی کمان مجھے خود کرنا چاہیے لیکن حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) اور دوسرے جلیل القدر صحابہ (رض) کی رائے یہ تھی کہ آپ مدینہ طیبہ میں رہ کر ہدایات جاری فرماتے رہیں۔ خدانخواستہ اگر فوج کو ہزیمت اٹھانی پڑی یا آپ کو کچھ ہوگیا تو اس نقصان کی تلافی مشکل ہوجائے گی۔ اس صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے امیر المؤمنین نے فرمایا کہ میں تو عراق جانے کے لیے ہی مدینہ سے نکلا تھا مگر اصحاب رسول کی رائے اس کے برعکس ہے۔ اب بتائیں کہ اس فوج کی کمان کس کے سپرد کی جائے؟ لوگوں کی اکثریت نے حضرت سعدبن ابی وقاص (رض) کا نام پیش کیا کیونکہ ابو عبیدہ (رض) اور حضرت خالد (رض) شام کے محاذ پر بر سر پیکار تھے۔ (سیرت الفاروق) مفتوحہ علاقے : حضرت عمر فاروق (رض) خلیفۂ اول اور نبی کریم (ﷺ) کی سنت مبارکہ کی اتباع کرتے ہوئے ہر معاملہ میں اہل الرائے سے مشورہ لیتے یہاں تک کہ مفتوحہ علاقوں کی زمین کے لیے بھی انہوں نے کئی دن تک مجلس مشاورت کے اجلاس منعقد کئے۔ حضرت بلال (رض)، عبدالرحمن بن عوف (رض) اور کئی صحابہ کی رائے یہ تھی کہ یہ زمینیں مجاہدین میں تقسیم ہونا چاہییں۔ حضرت عمر (رض) اور ان کے ہم خیال حضرات کی رائے یہ تھی کہ زمینیں حکومت کی ملکیت ہونا چاہییں تاکہ آنے والے حضرات بھی اس سے مستفید ہوتے رہیں۔ اس ضمن میں دونوں طرف سے کوئی واضح شرعی دلیل نہ تھی۔ بالآخر حضرت عمر فاروق (رض) نے قرآن پاک کی آیت تلاوت کی : ﴿وَالَّذِیْنَ جَاءُ وْا مِنْ بَعْدِھِمْ۔۔ پڑھ کر فرمایا : (فَکَانَتْ ھٰذِہٖ عَامَۃُ ٗ مَنْ جَآءَ مِنْ بَعْدِھِمْ فَقَدْصَادَ ھٰذَا اَلْفَیْ بَیْنَ ھٰؤُلآءِ جَمِیْعاً فَکَیْفَ تَقْسِمُہٗ لِھٰؤُلَآءِ وَنَدَعُ مَنْ تَخَلَّفَ بَعْدَھُمْ) [ الفاروق] ” یہ آئندہ آنے والے تمام لوگوں کے لیے ہے پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں موجودہ لوگوں کو تقسیم کردوں۔ ان لوگوں کو محروم کردوں جو ان کے بعد آنے والے ہیں۔“ طاعون اور مجلس شوریٰ : ” عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) ملک شام کے دورے کے لیے نکلے جب آپ سرغ کے مقام پر پہنچے تو وہاں شام کے کمانڈر ابو عبیدہ بن جراح (رض) اور دوسرے اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا اور وہاں کے حالات بیان کرتے ہوئے عرض کرنے لگے کہ شام میں طاعون کا مرض پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے مسئلہ پیدا ہوا کہ آگے جانا چاہیے یا واپس پلٹ جائیں۔ عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ مجھے امیر المؤمنین نے حکم دیا کہ مہاجرین کو بلاؤ۔ جب وہ آئے تو ان سے اس صورت حال پر مشورہ طلب کیا گیا۔ ان کی آراء میں اختلاف تھا۔ کچھ نے کہا کہ آپ دینی کام کے لیے نکلے ہیں آپ کو واپس نہیں جانا چاہیے جبکہ دوسرے اصحاب کہتے تھے آپ کے ساتھ بہت سے اصحاب رسول ہیں خواہ مخواہ موت کو دعوت نہیں دینا چاہیے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا انصار کو بلایا جائے انہوں نے بھی مہاجرین کی طرح مختلف تجاویز پیش کیں۔ فاروق اعظم (رض) نے فرمایا کہ آپ یہاں سے چلے جائیں۔ پھر حکم دیا قریش کے ان سرداروں کو بلایا جائے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے ہجرت کی تھی۔ یہ سب بالاتفاق کہنے لگے کہ آپ کو آگے جانے کی بجائے واپس پلٹ جانا چاہیے۔۔ تب امیر المؤمنین (رض) نے اعلان فرمایا کہ ہم صبح مدینہ واپس جارہے ہیں، یہ سنتے ہی ابو عبیدہ بن جراح (رض) آگے بڑھ کر کہنے لگے کہ آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے کاش یہ بات ابو عبیدہ کے سوا کوئی اور کہتا! کیونکہ یہ بات ابو عبیدہ (رض) کی دانشمندی کے خلاف تھی۔ آپ نے جواب دیا کہ ہاں میں اللہ کی تقدیر سے اللہ ہی کی تقدیر کی طرف جار ہا ہوں۔ عبدالرحمن بن عوف (رض) جو کسی مصروفیت کی وجہ سے غیر حاضر تھے تشریف لائے اور کہنے لگے ایسی صورت حال کے بارے میں نبی اکرم (ﷺ) کا فیصلہ کن ارشاد موجود ہے۔ (سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ () یَقُوْلُ إِذَا سَمِعْتُمْ بِہٖ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوْا عَلَیْہِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِھَا فَلَاتَخْرُجُوْا فِرَارًا مِّنْہُ قَالَ فَحَمِدَ اللّٰہَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ) [ رواہ مسلم : کتاب السلام، باب الطاعون والطیرۃ والکھانۃ ونحوھا] ” میں نے نبی محترم (ﷺ) سے سنا ہے کہ جب کسی علاقے میں طاعون پھیلا ہوا ہو تو وہاں داخل نہیں ہونا چاہیے اور جس زمین میں طاعون واقع ہوجائے وہاں سے بھاگنا نہیں چاہیے۔ یہ سن کر امیر المومنین (رض) نے اللہ کا شکر ادا کیا اور مدینہ واپس تشریف لے گئے۔“ فیصلہ کا طریقہ کار اور ﴿فَاِذَا عَزَمْتَ﴾ کا مفہوم : آدمی جب اپنے ذہن میں ایک بات بٹھا اور جما لیتا ہے تو پھر ہر بات کو اسی زاویہ نگاہ سے دیکھتا اور پرکھتا ہے۔ یہی حالت ان دوستوں کی ہے جو علمی دنیا میں تنہا پرواز کے قائل اور انتہا پسندی کی روش کو اختیار کیے رکھتے ہیں۔ پہلے ان کی سر توڑ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح ثابت کیا جائے کہ اکثریت کی کوئی حیثیت نہیں۔ انہیں لفظ اکثریت سے اس حد تک چڑ ہوتی ہے کہ وہ اہل حق کی اکثریت کو بدنام زمانہ جمہوریت سے مماثل قرار دے کر حقائق کو رد کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں اور جذباتی لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا ہم کسی کے مقلد ہیں؟ حالانکہ قرآن وسنت کے بعد خاص کر تنظیمی اور اجتماعی معاملات میں اجتماعیت کو قابل قدر حیثیت دینا ضروری ہے۔ کیونکہ اجتماعی زندگی کا نظام چلانے کے لیے یہ آخری اصول ہے۔ اس کے بغیر امت کو متحد رکھنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ اس کے باوجود کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ امیر صرف لوگوں کی دلجوئی کی خاطر پیش آمدہ مسئلہ میں شوریٰ کی تجاویز سے فائدہ اٹھانا چاہے تو اس کی ذرہ نوازی ہے ورنہ کوئی اصول امیر کو پابند نہیں کرسکتا۔ پھر ان کا یہ بھی فرمان ہے کہ اس طرح تو امیر مامور اور ربڑ کی مہر بن جاتا ہے۔ بقول ان کے قرآن پاک نے ﴿فَاِذَا عَزَمْتَ﴾ کے الفاظ استعمال کر کے امیر کو اجتماعی معاملات میں مختار کل بنا دیا ہے۔ کاش یہ حضرات طبیعت کے بے لگام گھوڑے کو قابو رکھتے ہوئے اس بات پر غور کرتے کہ ارکان شوریٰ مشورہ دینے کے لیے تشریف لائے ہیں نہ کہ مشورہ لینے کے لیے۔ صاحب امر کو تو مشورہ لینے کا حکم ہو رہا ہے لہٰذا یہاں صیغہ بھی واحد حاضر کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اگر اراکین شوریٰ کو ایک دوسرے سے مشورہ لینے کے لیے اکٹھا کیا جاتا تو پھر ﴿شَاوِرْ ھُمْ فیْ الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ﴾ کے بجائے یہ ہونا چاہیے تھا ” تَشَاوَرُوْا فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتُمْ فَتَوَکَّلُوْا عَلَی اللّٰہِ یَتَشَاوَرُوْنَ فِی الْاَمْرِ فَاِذَاعَزَمُوْا“ اس لیے صحیح نقطہ نگاہ یہ ہے کہ عزم کا معنٰی وہ نہیں جو کچھ علماء نے سمجھا ہے۔ ایسے ہی آزاد استدلال کی وجہ سے مسلمانوں کے حکمران آمر، ڈکٹیٹر، ظالم اور سفاک ثابت ہوئے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے علاوہ ہم سے پوچھنے کا کسی کو اختیار نہیں اور نہ ہی ہم کسی کے پابند ہیں۔ مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں قابل عمل نقطۂ نگاہ یہی ہے کہ امیر قرآن وسنت، واضح شواہد وقرائن اور شوریٰ کی اکثریت کا پابند ہونا چاہیے۔ اس طرز عمل میں نہ صرف ملک وملت کی بہتری ہے بلکہ امیر کے لیے بھی عافیت کا راستہ ہے کیونکہ وہ اکیلا ذمہ دار ہونے کی بجائے پوری جماعت ذمہ دار ہوگی اور قرآن وسنت اور صحابہ کا عمل بھی اس بات کی مکمل رہنمائی کر رہا ہے۔ اب ﴿فَاِذَا عَزَمْتَ﴾ کا معنٰی نبی اکرم (ﷺ) کی ذات گرامی اور صحابہ کرام (رض) کے طرز حیات سے سمجھنے کی کوشش فرمائیں۔ (عَنْ عَلِیٍّ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () عَنِ الْعَزْمِ فَقَالَ مُشَاوَرَۃُ اَھْلِ الرَّاْیِ ثُمَّ اتِّبَاعُھُمْ) [ ابن کثیر] ” حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم (ﷺ) سے عزم کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے عزم کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ عزم کے معنٰی ہیں اہل رائے سے مشورہ لینا اور پھر اس کا اتباع کرنا۔“ اس آیت کی روشنی میں امام ابو بکر جصاص (رح) لکھتے ہیں : (وَغَیْرُ جَائِزٍ اَنْ یَّکُوْنَ الْاَمْرُ بالْمُشَاوَرَۃِ عَلٰی جِھَۃٍ تَطِیْبُ نَفُوْسُھُمْ وَرَفْعِ اَقْدَارِھِمْ وَلِتَقْتَدِی الْاُمَّۃُ بِہٖ فِی مِثْلِہٖ لِاَنَّہُ لَوْ کَانَ مَعْلُوْمًا عِنْدَھُمْ إِنَّھُمْ إِذَا اسْتَغْرَغُوْا مَجْھُوْدُھُمْ فِی اِسْتِنْبَاطِ مَاشُوْرٍ وَافِیۃٌ وَصَوَابُ الَّذِیْ فیہ ْمَا سَلُوْا عَنْہُ ثُمَّ لَمْ یَکُنْ ذَالِکَ مَعْمُوْلًا عَلَیْہِ وَلَا مُلْتَقِیْ مِنْہُ بالْقَبُوْلِ بِوَجْہٍ لَمْ یَکُنْ فِی ذٰلِکَ تَطِیْبُ نَفُوْسُھُمْ وَلَا رَفْعُ لِاَقْدَارِ ھِمْ بَلْ فِیہِ اِیْحَاشُھُمْ وَاَعْلَامُھُمْ بِاَنَّ آرَاءَ ھُمْ غَیْرَ مَقْبُوْلَۃٍ وَلَا مَعْمُوْلَ عَلَیْھَا فَھَذَا تَاوِیْلٌ سَاقِطٌ مَعْنًی لَہُ) [ احکام القرآن] ” نبی اکرم (ﷺ) کو مشورہ لینے کا جو حکم دیا گیا وہ صرف صحابہ کی دلجوئی اور عزت افزائی کے لیے نہیں تھا۔ اگر صحابہ کرام (رض) کو یہ معلوم ہوتا کہ کسی خاص معاملے میں مشورہ طلب کیا جارہا ہے اور وہ مکمل غوروخوض کے ساتھ پیش آمدہ مسئلے میں ٹھیک ٹھیک مشورہ اور رائے کا اظہار کریں گے تو بھی اسے قبول نہیں کیا جائے گا اس طرح تو ان کی دلجوئی اور عزت افزائی کی صورت نہیں نکلتی بلکہ اس میں ان کی حوصلہ شکنی کا پہلو نکلتا ہے۔“ اگر تعصب کی عینک اتار کر اور جذبات کے پردے ہٹا کر نبی اکرم (ﷺ) اور خلفائے راشدین (رض) کے مبارک دور میں ہونے والی مجالس شوریٰ کے فیصلوں پر غور کیا جائے تو روز روشن کی طرح یہ حقیقت چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق (رض) نے لشکر اسامہ (رض) کی روانگی کا فیصلہ کرتے ہوئے اگر اکثریت کی رائے کو مسترد کیا تو اس کے پیچھے نص قطعی یعنی نبی اکرم (ﷺ) کا حکم موجود تھا۔ مانعین زکوٰۃ کے بارے میں بھی قرآن پاک کی نص قطعی موجود تھی جو حالات کی بحرانی کیفیت کی وجہ سے صحابہ (ﷺ) کے ذہن سے اوجھل ہوچکی تھی۔ جب خلیفۂ وقت نے توجہ دلائی تو صحابہ کے دل ودماغ روشن ہوگئے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں صحیح فیصلہ : 1۔ قرآن وسنت کی موجودگی میں کثرت وقلت اور عقل وفکر کی کوئی حیثیت نہیں۔ 2۔ ٹھوس فکری، نظری، دلائل اور واضح قرائن کے بعد جمہوریت کوئی معنیٰ نہیں رکھتی۔ 3۔ دونوں طرف دلائل برابر ہوں تو اجتماعی زندگی میں اہل حق کی اکثریت کی اتباع امیر اور سب کے لیے لازم ہے۔ مسائل : 1۔ نبی کریم (ﷺ) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بڑے نرم خو اور خلیق تھے۔ 2۔ سر براہ بد اخلاق ہو تو لوگ اس سے دور بھاگتے ہیں۔ 3۔ سربراہ کو قومی کاموں میں لوگوں سے مشورہ کرنا چاہیے۔ 4۔ مشورہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا لازم ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : داعی اور قائد کے اوصاف : 1۔ داعی اور قائد کو ہمدرد ہونا چاہیے۔ (التوبۃ:128) 2۔ داعی کو لوگوں سے مشورہ کا خواہش مند ہونا چاہیے۔ (یوسف :103) 3۔ لوگوں کی خیر خواہی کے لیے جان قربان کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔ (الکہف :6) 4۔ قائد کو مشورہ لینا چاہیے۔ (آل عمران :159) 5۔ قائد میں عفو ودرگزر کا جذبہ ہونا چاہیے۔ (المائدۃ:13) 6۔ قائد اور مومنین کو اللہ پر توکل کرنا چاہیے۔ (الزمر : 38‘ التوبۃ:51) نوٹ : مزید ’ ’ البقرہ 247“ کی تفسیرملاحظہ فرمائیں۔ آل عمران
160 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ‘ اس میں منافقوں کے پروپیگنڈہ کا جواب دیتے ہوئے بنیادی عقیدہ سمجھایا گیا ہے کہ عزت وذلت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور مومنوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ رسول محترم (ﷺ) ہر کام کرنے سے پہلے اس پر غور و خوض اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس کو عملی جامہ پہناتے تھے۔ احد میں بھی ایسا ہی کیا گیا لیکن چند ساتھیوں کی کمزوری کی وجہ سے آپ اور مسلمانوں کو مالی‘ جانی نقصان اٹھانا پڑا جس پر کمزور مسلمانوں نے غیر محتاط انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور منافقوں نے اسے ایک دوسرے انداز میں اچھالا۔ اس موقعہ پر یہ بنیادی اصول بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرنے کا فیصلہ صادر فرمائے تو ساری دنیا جمع ہو کر بھی تم پر غالب نہیں آ سکتی۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں رسوا کرنا چاہے تو تمہیں کوئی بھی عزت نہیں دے سکتا لہٰذا مسلمانوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اللہ پر توکل کا یہ معنیٰ نہیں کہ آدمی حاصل شدہ وسائل کو استعمال کرنا چھوڑ دے بلکہ توکل کا معنی ہے ہر قسم کی استعداد حاصل کرنے کی کوشش کرے اور پھر وسائل پر بھروسہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد اور یقین رکھے۔ انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں ایک آدمی نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! (أَعْقِلُھَا وَأَتَوَکَّلُ أَوْ أُطْلِقُھَا وَأَتَوَکَّلُ قَالَ اعْقِلْھَا وَتَوَکَّلْ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق] ” میں اونٹ کو باندھ کر توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ دوں اور توکل کروں آپ (ﷺ) نے فرمایا : اونٹ کو باندھو اور توکل کرو۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہو تو آدمی کو کوئی مغلوب نہیں کرسکتا۔ 2۔ جسے اللہ تعالیٰ ذلیل کرے اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ 3۔ اللہ ہی پر مومنوں کو ہمیشہ بھروسہ کرنا چاہیے۔ (التوبہ :129) آل عمران
161 فہم القرآن : ربط کلام : جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوا ہے کہ منافقین رسول محترم (ﷺ) کو پریشان اور مسلمانوں کو رسوا کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ بدر کے موقع پر ایک قیمتی چادر سامان میں آگے پیچھے ہوگئی تو منافقوں نے یہ کہہ کر بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کی کہ آپ نے اس کو اپنے لیے رکھ لیا ہوگا۔ بظاہر یہ چھوٹی سی بات ہے لیکن یہ بدگمانی آپ کی ذات اطہر کے بارے میں تھی اس لیے سخت اور دو ٹوک الفاظ میں اس کی وضاحت کی گئی۔ اگر اس موقعہ پر یا وہ گوئی کرنے والوں کی زبانیں بند نہ کی جاتیں تو آئندہ چل کر کسی بڑی خیانت کا الزام بھی آپ کی ذات پر چسپاں کیا جاسکتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا اور کہ مستقبل میں مسلمانوں کو کتنے قیمتی غنائم حاصل ہونے والے تھے اس لیے فرمایا کہ کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے بلکہ نبی کے بارے میں ایسا سوچنا بھی عظیم گناہ ہے۔ جو بھی خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اس خیانت کے ساتھ پیش کیا جائے گا پھر وہاں ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا ملے گی اور کسی پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَامَ فِیْنَا النَّبِیُّ () فَذَکَرَ الْغُلُوْلَ فَعَظَّمَہٗ وَعَظَّمَ أَمْرَہٗ قَالَ لَا أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہٖ شَاۃٌ لَھَا ثُغَاءٌ عَلٰی رَقَبَتِہٖ فَرَسٌ لَہٗ حَمْحَمَۃٌ یَقُوْلُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَغِثْنِیْ فَأَقُوْلُ لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ۔۔) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، باب الغلول وقول اللہ تعالیٰ ومن یغلل ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (ﷺ) نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر خیانت کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے بہت سنگین گردانتے ہوئے فرمایا : میں تم میں سے کسی کو روز قیامت اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کے کندھے پر بکری ممیارہی ہو اور کسی کے کندھے پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو اور وہ کہے کہ اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجیے تو میں کہوں کہ میں تو کچھ نہیں کرسکتا میں نے تجھے پہلے ہی باخبر کردیا تھا۔“ مفسّرین نے ﴿غَلَّ﴾ کے دو معنٰی کیے ہیں کہ ” کسی کے بارے میں اپنے دل میں غصہ رکھنا“ اُحد میں درّے والوں نے درّہ خالی کرکے غلطی کی اور بعض صحابہ (رض) نے میدان سے بھاگ کر غلطی کی تھی اس پر فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر! آپ کو معاف کردینے کے بعد دل میں غصہ نہیں رکھنا چاہیے۔ دوسراغَلَّ کا معنی ہے کہ ” مسلمانوں کے اجتماعی مال میں خیانت کرنا“ جس کا گناہ عام چوری سے زیادہ ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو مال غنیمت میں ہمیں سونا اور چاندی نہیں ملا تھا بلکہ گائے‘ اونٹ‘ سامان اور باغات ملے تھے پھر ہم رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ وادی القریٰ کی طرف لوٹے۔ رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ ایک مدعم نامی غلام تھا جو بنی ضباب کے ایک صحابی نے آپ کو ہدیہ دیا تھا وہ رسول اللہ (ﷺ) کی سواری سے کجاوہ اتار رہا تھا کہ کسی نامعلوم سمت سے ایک تیر آکر اس کو لگالوگوں نے کہا اسے شہادت مبارک ہو۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو چادر اس نے خیبر میں تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے چرائی تھی وہ اس پر آگ کا شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے۔ یہ سن کر ایک صحابی ایک یا دو تسمے لے کر رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ میں نے اٹھا لیے تھے آپ (ﷺ) نے فرمایا کہ یہ جہنم کے تسمے ہیں۔“ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر ] (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) أَنَّ النَّبِیَّ () قَالَ أَرْبَعٌ مَّنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِّنْھُنَّ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِّنَ النِّفَاقِ حَتّٰی یَدَعَھَا إِذَا اءْتُمِنَ خَانَ وَإِذَاحَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا عَاھَدَ غَدَرَ وَإِذَاخَاصَمَ فَجَرَ) [ رواہ البخاری : کتاب الإیمان، باب علامۃ المنافق] ” حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا : چار خصلتیں جس میں ہوں وہ پکّا منافق ہوگا اور ان میں سے جس میں ایک علامت ہو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی جب تک کہ اسے چھوڑتا نہیں۔ (1) جب امانت رکھی جائے تو خیانت کرے (2) بات کرے تو جھوٹ بولے (3) جب وہ عہد کرے تو غداری کرے (4) اور معمولی تکرار پر گالی گلوچ پر اتر آئے۔“ مسائل : 1۔ کوئی نبی بھی خائن نہیں ہوا۔ 2۔ قیامت کے دن خائن خیانت کے ساتھ پیش ہوگا۔ 3۔ ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا وسزا ملے گی کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : نبی خائن نہیں ہوتا : 1۔ نبی اللہ کی وحی میں خیانت نہیں کرتا۔ (التکویر :24) 2۔ نبی وحی کو نہیں چھپاتا۔ (المائدۃ:67) 3۔ نبی مال میں خیانت نہیں کرتا۔ (آل عمران :161) 4۔ نبی خائن کی حمایت نہیں کرتا۔ (النساء :105) آل عمران
162 فہم القرآن : (آیت 162 سے 163) ربط کلام : امانت ودیانت میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہے، خیانت وبددیانتی پر اللہ کی ناراضگی اور غضب ہوتا ہے ایک اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب اور دوسرا اس کے غضب کا سزا وار ہے کیا دونوں کردار کے حامل انسان برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ اب دو قسم کے کرداروں کا موازنہ کیا جارہا ہے کہ کیا ایسے کردار کے حامل انسان انجام اور اعمال کے حوالہ سے برابر ہو سکتے ہیں ؟ ان میں ایک وہ ہے جو سراپا سمع و اطاعت ہے اور اس کے ہر کام کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی رضا کار فرما ہوتی ہے۔ دوسرا وہ جو کفر اور نافرمانی میں آگے ہی بڑھتا چلا جا رہا ہے یہاں تک کہ آخر دم تک اللہ تعالیٰ کی بغاوت میں ہی سرگرم عمل رہا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہے جو لوٹنے کی بدترین جگہ ہے۔ پہلے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین درجات‘ اعلیٰ مقامات اور ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ دوسرے کے لیے جہنم ہے۔ یاد رکھو کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے اور وہ انسان کے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے والا اور اللہ کی ناراضگی مول لینے والا برابر نہیں ہوسکتے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے والوں کے لیے بڑے درجات ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والا جہنم میں جائے گا۔ تفسیر بالقرآن : مومن اور نافرمان برابر نہیں ہیں : 1۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہیں۔ (السجدۃ:18) 2۔ جنتی اور جہنمی برابر نہیں ہو سکتے۔ (الحشر :20) 3۔ سیدھا اور الٹا چلنے والا برابر نہیں ہو سکتا۔ (الملک :22) 4۔ اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتا۔ (الانعام :50) 5۔ روشنی اور اندھیرا برابر نہیں ہو سکتے۔ (فاطر :20) آل عمران
163 آل عمران
164 فہم القرآن : ربط کلام : اکثریت کی رائے کا احترام کرنا، ساتھیوں کی غلطیوں کو معاف کردینا۔ انسان کو شرف انسانیت سے سرفراز فرمانا‘ توحید کی دولت سے مالا مال کرنا اور بھٹکتے ہوئے انسان کو کامیابی کے راستے پر گامزن کرنا رسول معظم (ﷺ) ہی کی ذات اور قیادت کا کمال ہے جسے اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر بطور احسان ذکر فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان پر اس قدر احسانات فرمائے ہیں کہ وہ ان کا شمار کرنا چاہے تو جدید مشینری کے ذریعے بھی انہیں شمار نہیں کرسکتا۔ تمام احسانات و انعامات میں سب سے بڑا احسان اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رہنمائی ہے۔ دنیا میں ہدایت کا مؤثر‘ مدلل‘ قابل اعتماد اور براہ راست ذریعہ انبیاء کی شخصیات ہوا کرتی تھیں۔ ان شخصیات میں سب سے ممتاز شخصیت رسول محترم (ﷺ) کی ذات گرامی ہے جنہوں نے انسانیت کی اصلاح اور فلاح کے لیے سب سے بڑھ کر کوششیں اور تکلیفیں اٹھائیں ہیں۔ اس لیے مومنوں کو یہ احسان جتلایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ خاص احسان ہے کہ اس نے تم ہی سے یعنی انسانوں میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرمایا ہے جو تمہارے اپنے آپ سے بھی تم پر زیادہ مہربان اور درگزر کرنے والا ہے۔ اس کی شب و روز کی محنتیں، صبح و شام کی دعائیں اور ہر وقت یہ تمنا اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنائے، گناہوں اور جرائم سے پاک کرے اور تمہیں کتاب و حکمت کے ذریعے دنیا و آخرت کی ترقیوں سے سرفراز کرے۔ نبی آخرالزماں (ﷺ) کی تشریف آوری اور آپ کی تعلیمات سے پہلے تم سراسر گمراہی اور جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے۔ آپ کی کوششوں اور محبت و اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج انسانیت نے اپنا مقام پایا، غلاموں کو آزادی نصیب ہوئی‘ عورتوں کو حقوق ملے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا طریقہ اور دنیا میں رہنے سہنے کا سلیقہ آیا۔ یہ دنیا کی مسلمہ حقیقت ہے کہ رسول معظم (ﷺ) کی بعثت سے پہلے انسانیت ہر قسم کی جہالت اور تاریکی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہی تھی۔ خصوصاً عرب اور مکہ کی حالت یہ تھی کہ یہاں کے دانشور اس سوچ میں غلطاں تھے کہ ہم تاریکیوں سے کس طرح نجات پائیں۔ اسی کے نتیجے میں حلف الفضول کا معاہدہ طے پایا جس میں اہل دانش نے بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا کہ معاشرے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کا تدارک اس انداز میں کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (ابن ہشام) اسی سلسلہ کی دوسری کڑی یہ تھی کہ ایک موقع پر ورقہ بن نوفل‘ زید بن عمرو اور چند دوسرے لوگ حرم میں یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ تمام مروجہ مذاہب کا جائزہ لے کر طے کیا جائے کہ کونسا مذہب سچا ہے؟ اس کے لیے یہ بزرگ اٹھ کھڑے ہوئے جس کے نتیجے میں ورقہ بن نوفل عیسائیت کے قریب ہوئے اور کچھ نے یہودیت کو مناسب سمجھا۔ لیکن حضرت زید بن عمرو نے سب سے براءت کا اعلان کیا۔ چنانچہ وہ بیت اللہ میں سجدہ ریز ہو کر زاروقطار روتے ہوئے دعا کیا کرتے تھے کہ اے کعبہ کے رب! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ تیری عبادت اس طرح کرنی ہے تو میں اس طرح کرنے کو تیار ہوں لیکن آسمانی ہدایت مفقود ہوجانے کی وجہ سے وہ دین کی روشنی سے محروم رہے تاہم ایک سوال کے جواب میں رسول معظم (ﷺ) نے اس کے بارے میں فرمایا تھا (نَعَمْ إِنَّہٗ یُبْعَثُ أُمَّۃً وَّاحِدَۃً) کیوں نہیں! وہ ایک امت کی حیثیت سے اٹھایا جائے گا۔ (ابن ہشام) آپ (ﷺ) کی آمد سے قبل کی جہالت اور تاریکی کی نشاندہی کرتے ہوئے حضرت علی (رض) کے برادر مکرم حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب نے حبشہ کے حکمران نجاشی کے سامنے اس کا یوں اعتراف کیا تھا کہ ہم گمراہ تھے، ہمارے اندر ہر قسم کے گناہ اور جرائم پائے جاتے تھے ہم ایک دوسرے پر ظلم کرنے والے تھے پس اللہ نے ہم میں ایک شخص کو نبی بنایا جس کو ہم ہر لحاظ سے جانتے ہیں اس نے ہماری اصلاح اور تربیت کی جس کے نتیجے میں ہم مسلمان ہوئے۔ (ابن ہشام) اسی کے بارے میں قرآن حکیم نے ﴿وَإِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ﴾ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے آپ کی بعثت کو احسان عظیم قرار دیا ہے۔ مسائل : 1۔ رسول محترم (ﷺ) کو مبعوث فرماکر اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بڑا احسان فرمایا ہے۔ 2۔ رسول اللہ (ﷺ) کی نبوت کا مقصد لوگوں کو قرآن سنانا، ان کی تربیت کرنا اور ان کو کتاب و دانشمندی سکھانا ہے۔ 3۔ رسول کریم (ﷺ) کی تشریف آوری سے پہلے لوگ واضح گمراہی میں تھے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کے احسانات : 1۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور احسان ان گنت ہیں۔ (ابراہیم :34) 2۔ ایمان نصیب ہونا اللہ کے احسان کا نتیجہ ہے۔ (الحجرات :16) 3۔ رسالت مآب (ﷺ) کی بعثت اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے۔ (آل عمران :164) 4۔ کمزوروں کو خلافت دینا اللہ کا احسان ہے۔ (القصص :5) 5۔ اللہ جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے۔ (ابراہیم :11) آل عمران
165 فہم القرآن : ربط کلام : احد کی شکست اور اس کے عوامل پر تبصرہ جاری ہے اس میں مسلمانوں کی انتظامی اور اخلاقی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی جا رہی ہے۔ اُحد کی شکست کے اسباب میں دو سبب بڑے نمایاں تھے۔ منافقوں کا کردار اور مسلمانوں کا نبی (ﷺ) کے حکم پر پوری طرح عمل کرنے کی بجائے درہ چھوڑنا۔ لہٰذا مختلف انداز اور الفاظ میں منافقوں کے کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ یہ ناقابل اعتماد اور آستین کے سانپ ہیں۔ ان سے ہر وقت بچنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے سبب پر تبصرہ کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تم مسلمان ہو اور اللہ کا رسول تم میں موجود ہے لیکن تم نے رسول کے حکم کی نافرمانی کی۔ پہلے درّہ خالی کیا اور بعد میں میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے اور اب تم یہ کہتے ہو کہ یہ شکست کیونکر ہوئی؟ اگر تم اپنے کیے پر توجہ کرو تو اس کا جواب تمہیں اپنے آپ سے مل جائے گا کہ یہ شکست تمہاری اپنی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ یہاں ایک اور اصول بیان کیا ہے کہ انسان کو جو بھی مصائب اور پریشانیاں آتی ہیں حقیقتاً وہ اس کے اپنے ہی کیے دھرے کا نتیجہ ہوا کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہارے اعمال کی سزا دنیا میں دے یا اسے آخرت کے لیے مؤخر کر دے۔ ذرا ماضی کے آئینہ میں جھانک کر دیکھو کہ تم اس سے دوگنا نقصان انہیں پہنچا چکے ہو۔ بدر میں ان کے ستر سر کردہ آدمی واصل جہنم ہوئے جن کی وہ لاشیں بھی نہ اٹھا سکے۔ ستر قیدی ہوئے جو فدیہ دے کر چھوٹے اور ان کا کافی سامان تمہارے ہاتھ آیا۔ ان کے مقابلے میں تمہارا نقصان احد میں کئی گنا کم ہوا اور وہ بھی تمہاری کوتاہی کی وجہ سے۔ مسائل : 1۔ انسان کو پہنچنے والے مصائب اس کی اپنی وجہ سے ہوتے ہیں۔ 2۔ جنگ میں اپنے اور کفار کے نقصان کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ 3۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ آل عمران
166 فہم القرآن : (آیت 166 سے 167) ربط کلام : احد کے واقعات پر تبصرہ رواں ہے تاکہ امت آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کی کوشش کرے۔ ساتھ ہی منافقین کا ردّ عمل اور کردار بتلایا گیا ہے۔ اُحد کے دن کفار کے ساتھ ٹکراؤ میں مسلمانوں کو جو کچھ پیش آیا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تھا۔ اس ارشاد کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقدّر میں اسی طرح لکھا تھا اور دوسرا معنٰی یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر کفار کے خلاف برسر پیکار ہوئے جس کے نتیجے میں تمہیں زخم اور پریشانی اٹھانا پڑی۔ اس کے پیچھے یہ فلسفہ کار فرما تھا کہ مومنوں اور منافقوں کے درمیان حد فاصل قائم ہوجائے۔ جب مخلص مسلمان منافقوں کو سمجھا رہے تھے کہ آؤ اللہ کے راستے میں قتال کرو اگر تم لڑنے پر آمادہ نہیں ہو تو کم از کم ہمارے ساتھ شامل ہو کر دفاع کو مضبوط بناؤ۔ لیکن منافق تو یہی کہے جا رہے تھے کہ اگر ہم اسے قتال فی سبیل اللہ سمجھتے تو ضرور تمہارے ساتھ شامل ہوتے کیونکہ اتنے بڑے لشکر کے ساتھ لڑنا سرا سر خود کشی کرنے کے مترادف ہے۔ ایسی صورت میں ہم تمہارے ساتھ کس طرح کھڑے رہ سکتے ہیں؟ بہر حال منافقین نے واپسی کا فیصلہ کیا تو اس نازک ترین موقعہ پر حضرت جابر (رض) کے والد عبداللہ بن عمرو (رض) نے انہیں ان کا فرض یاد دلانا چاہا کہ واپس آؤ۔ اللہ کی راہ میں لڑو یا دفاع کرو مگر انہوں نے جواب میں کہا کہ اگر ہم جانتے کہ واقعی جہاد ہے تو ہم ضرور تمہارے ساتھ شامل ہوتے یہ جواب سن کر حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) یہ کہتے ہوئے واپس آئے کہ اللہ کے دشمنو! تم پر اللہ کی مار ہو۔ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ اپنے نبی (ﷺ) کو تم سے بے نیاز کر دے گا۔ [ الرحیق المختوم : عبداللہ بن أبی اور اس کے ساتھیوں کی سرکشی] درحقیقت منافق یہ بہانہ بنا کر مسلمانوں کو کمزور اور کفار پر اپنی ہمدردیاں ظاہر کرنا چاہتے تھے کیونکہ حقیقت میں منافق مسلمانوں کے بجائے کفار کے قریب ہوا کرتے ہیں اور اس دن بھی ایسا ہی تھا۔ منافق مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لیے وہ کچھ اپنی زبان سے ظاہر کرتے ہیں جو ان کے دل کی آواز نہیں تھی۔ وہ مسلمانوں سے اپنا خبث باطن چھپاسکتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں وہ کچھ نہیں چھپا سکتے۔ مسائل : 1۔ احد کے دن پہنچنے والی مصیبت میں مومنوں کا امتحان تھا۔ 2۔ منافق ایمان کے بجائے کفر کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ 3۔ منافق کا دعو ٰی فریب پر مبنی ہوتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ آزمائش کے ذریعے مومن اور منافق کے درمیان امتیاز پیدا کرتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے جو لوگ چھپاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : منافق کی نشانیاں : 1۔ منافق کو مسلمان کی بھلائی اچھی نہیں لگتی۔ (آل عمران :120) 2۔ منافق صرف زبان سے حق کی شہادت دیتا ہے۔ (المنافقون :1) 3۔ منافق کفار سے دوستی رکھتا ہے۔ (البقرۃ:14) 4۔ منافق دنیا کے فائدے کے لیے اسلام قبول کرتا ہے۔ ( البقرۃ:60) 5۔ منافق اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ (البقرہ :14) 6۔ منافق مسلمانوں کو حقیر سمجھتا ہے۔ (المنافقون :8) 7۔ منافق کفر کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ (آل عمران :167) 8۔ منافق ریا کار ہوتا ہے۔ (النساء :142) 9۔ منافق جھوٹا ہوتا ہے۔ (البقرہ :10) آل عمران
167 آل عمران
168 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ بدر میں مسلمانوں کے ساتھ منافق شامل نہیں تھے اس لیے مسلمان پوری یکسوئی کے ساتھ جان توڑ کر لڑے۔ احد کا معاملہ نہایت ہی مختلف تھا کہ پہلے دن کی مشاورت سے لے کر دونوں جماعتوں کے مد مقابل آنے تک منافقوں کی بھاری تعداد مسلمانوں کے ساتھ شامل رہی۔ منافق ایک سوچی سمجھی گہری سازش کے تحت اس وقت مسلمانوں کو چھوڑ کر الگ ہوئے جب اہل مکہ یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ منافقین نے جان بوجھ کر مسلمانوں میں ہر قسم کی غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلمان بددل ہو کر کفار کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ اس طرح ایک تیر سے دو شکار ہوجائیں۔ ایک طرف مسلمان ذلیل ہوں اور دوسری طرف منافقت کا پردہ چاک نہ ہونے پائے۔ اسی سازش کا تسلسل تھا کہ وہ آخر تک مسلمانوں کو بزدل بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ میدان جنگ میں منافق جب ٹولیوں کی صورت میں کفار کو دکھا دکھا کر نکل رہے تھے تو بعض صحابہ جن میں سر فہرست جابر کے والد جناب عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری (رض) تھے انہوں نے سر توڑ کوشش کی کہ کسی طریقے سے منافق مسلمانوں سے الگ ہونے سے باز آجائیں لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اُحد میں مسلمان شہید ہوئے تو منافقین نے ان کے لواحقین کو بداعتقادی کا شکار کرنے اور ان کی پریشانی میں اضافہ کرنے کے لیے کہا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو اس طرح قتل نہ کیے جاتے‘ خواہ مخواہ اور بے مقصد ان لوگوں نے اپنی جانوں کو ضائع کیا ہے۔ خاص طور پر حضرت جابر (رض) کے والد عبداللہ بن عمرو (رض) کے بارے میں انہوں نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ یہ تو جانور کی موت مرا کیونکہ افرا تفری کے عالم میں حضرت عبداللہ (رض) کو اپنے ہی کسی ساتھی کی تلوار کا وار لگا اور وہ شہید ہوگئے۔ اس پر منافقین کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں چیلنج دیا گیا کہ جب تمہیں موت آئے گی تو اسے اپنے سے دھکیل کراپنے آپ کو بچا کر دکھانا اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو ؟ مسائل : 1۔ موت سے کوئی بھی چھٹکارا نہیں پاسکتا۔ 2۔ منافق مسلمانوں کے ساتھ مخلص نہیں ہوتا۔ آل عمران
169 فہم القرآن : (آیت 169 سے 171) ربط کلام : شہداء کا مرتبہ اور منافقوں کی ہرزہ سرائی کا جواب۔ منافقوں نے احد کے شہداء کے بارے میں بھی ہرزہ سرائی کی کہ یہ بے وجہ اور فضول موت مرے ہیں۔ اس لیے شہداء کے بارے میں فرمایا ہے کہ انہیں مردہ نہ کہو۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے خون کا آخری قطرہ بہا کر آنے والی نسلوں کے لیے یہ ثابت کردیا کہ اللہ کے دین کا پرچم سربلند رکھنے کے لیے ہر چیز قربان کردینا چاہیے کیونکہ شہید اللہ تعالیٰ کا دین اور کام سربلند رکھتا ہے اس لیے اس کا صلہ یہ ہے کہ اس کا نام بھی رہتی دنیا تک سربلند رکھا جائے۔ اس بنا پر حکم دیا کہ انہیں مردہ سمجھنا اور کہنا جائز نہیں۔ یہ گراں مایہ لوگ اللہ کے ہاں زندہ اور انہیں ہر قسم کی نعمتوں سے نوازا جا رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عنایات پر اتنے خوش ہیں کہ اپنے سے پیچھے رہ جانے والوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ شہادت کے میدان میں آگے بڑھو اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں کٹ مرو۔ کیونکہ اس کے بعدنہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی حزن و ملال۔ شہداء اپنے سے پیچھے رہنے والے مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے فضل و کرم کا پیغام دیتے ہوئے یقین دہانی کرواتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اجر میں ذرّہ برابر کمی نہیں کرے گا کیونکہ وہ کسی کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ رسول محترم (ﷺ) نے شہداء کا مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے خاص کر حضرت جابر (رض) کے والد گرامی کا ذکر فرمایا۔ واقعہ یوں ہے کہ حضرت عبداللہ (رض) کا ایک بیٹا جابر (رض) اور سات یا نو بیٹیاں تھیں۔ حضرت جابر نو عمرتھے ان کے والد نے خاصہ قرض چھوڑا۔ باپ کی شہادت‘ قرض اور جوان بہنوں کی وجہ سے حضرت جابر (رض) مغموم رہا کرتے تھے ایک دن آپ نے جابر کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کو اپنے حضور بلا کر پوچھا کہ تم مزید کیا چاہتے ہو؟ اس نے عرض کی کہ الٰہی ! مجھے دنیا میں واپس بھیجا جائے تاکہ تیرے راستے میں دوبارہ شہادت کا مرتبہ پاؤں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا تو پھر میرا پیغام لوگوں تک پہنچا دیا جائے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب المقدمۃ، باب فیما انکرت الجھمیۃ ] حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا قرض اور اس کی ادائیگی کا انتظام : (عَنْ جَابِر (رض) قَالَ تُوُفِّیَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ (رض) وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فَاسْتَعَنْتُ النَّبِیَّ () عَلٰی غُرَمَائِہٖ أَنْ یَّضَعُوْا مِنْ دَیْنِہٖ فَطَلَبَ النَّبِیُّ () إِلَیْھِمْ فَلَمْ یَفْعَلُوْا فَقَالَ لِیَ النَّبِیُّ () اذْھَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَکَ أَصْنَافًا الْعَجْوَۃَ عَلٰی حِدَۃٍ وَعَذْقَ زَیْدٍ عَلٰی حِدَۃٍثُمَّ أَرْسِلْ إِلَیَّ فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَرْسَلْتُ إِلَی النَّبِیِّ () فَجَاءَ فَجَلَسَ عَلٰی أَعْلَاہُ أَوْ فِیْ وَسَطِہٖ ثُمَّ قَالَ کِلْ لِلْقَوْمِ فَکِلْتُھُمْ حَتّٰی أَوْفَیْتُھُمُ الَّذِیْ لَھُمْ وَبَقِیَ تَمْرِیْ کَأَنَّہٗ لَمْ یَنْقُصْ مِنْہُ شَیْءٌ) [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب الکیل علی البائع والمعطی] ” حضرت جابر (رض) نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن عمروبن حرام (رض) (میرے باپ) شہید ہوگئے تو ان کے ذمہ لوگوں کا قرض باقی تھا۔ میں نے نبی کریم (ﷺ) کے ذریعے کوشش کی کہ قرض خواہ اپنے قرض میں کچھ معاف کردیں۔ نبی کریم (ﷺ) نے ان سے فرمایا لیکن وہ نہ مانے۔ آپ نے مجھے فرمایا کہ جاؤ اپنی تمام کھجورکی قسموں کو الگ الگ کرلو۔ عجوہ ایک خاص قسم کی کھجور کو الگ رکھو اور عذق زید کھجور کی قسم کو الگ کرکے مجھے بلا لینا۔ میں نے ایسا ہی کیا اور نبی کریم (ﷺ) کو کہلا بھیجا۔ آپ تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیرکے درمیان بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اب ان قرض خواہوں کو ناپ کردیتے رہو۔ میں نے ناپنا شروع کیا جتنا قرض لوگوں کا تھا میں نے سب ادا کردیا پھر بھی کھجوریں جوں کی توں تھی۔ اس میں سے ایک دانہ برابر کی بھی کمی نہیں ہوئی۔“ مسائل : 1۔ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے مردہ نہیں ہوتے۔ 2۔ شہید اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں۔ 3۔ شہید اللہ کے فضل کے ساتھ خوش اور اپنے سے پیچھے لوگوں کو خوشخبری کا پیغام دیتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ 5۔ شہداء کا مرتبہ ومقام البقرۃ آیت ١٥٤ کے تحت دیکھیں۔ آل عمران
170 آل عمران
171 آل عمران
172 فہم القرآن : (آیت 172 سے 174) ربط کلام : احد کی ہزیمت کے بعد کفار کی دھمکی کا مسلمانوں کی طرف سے ردّ عمل جس میں ان کے ایمان کی تعریف کی گئی ہے۔ منافقوں کے کردار اور ان کی ہرزہ سرائی کے ذکر کے بعد اللہ کے راستے میں کٹ مرنے والوں کی حیات جاوداں اور دنیا و آخرت میں ان کے مقام و انعام کا ذکر کرتے ہوئے ان کے احترام کا لحاظ رکھنے کی تلقین کرنے کے بعد غازیوں اور مجاہدوں کا ایک دفعہ پھر تذکرہ ضروری سمجھا گیا جنہیں احد کی شکست کے فوراً بعد کفار کے لشکر کے کمانڈر ابو سفیان نے یہ چیلنج دیا تھا کہ میں تم پر دوبارہ حملہ آور ہو رہا ہوں۔ جس کی تفصیل اس طرح ہے کہ احد کے میدان میں مسلمانوں کو بھاری نقصان پہنچانے کے باوجود کفار کو مزید ٹھہرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ کچھ دور جا کر انہوں نے سوچ و بچار کے بعد اس طرح بے مراد لوٹنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ بالآخر یہ طے کیا کہ ہمیں مدینے پر حملہ کر کے مسلمانوں کی رہی سہی طاقت کو تہس نہس کردینا چاہیے۔ اس کے لیے اعصابی حربہ استعمال کرتے ہوئے انہوں نے نعیم بن مسعود اشجعی کو انعام کا لالچ دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ جا کر مسلمانوں کو اس طرح مرعوب کرے کہ وہ ہمارے مدِّ مقابل آنے کی تاب نہ لا کر ہمارے سامنے ہتھیار پھینک دیں۔ اس نے ایسا ہی کیا لیکن مسلمانوں کا ردّ عمل اس قدر شدید اور ایمان افروز تھا کہ انہوں نے بیک زبان ہو کر کہا ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں‘ ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے جو بہترین کارساز ہے۔ البتہ ابو سفیان کے اعصابی حملے کا جواب دیتے ہوئے رسول کریم (ﷺ) نے معبد بن ابی معبد الخزاعی کو بھیجا یہ شخص کافر ہونے کے باوجود مسلمانوں سے ہمدردی رکھتا تھا جس کی وجہ سے یہ احد کی شکست کے بعد مدینہ آیا اور اس نے آپ سے عرض کی کہ ان حالات میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں؟ تب آپ (ﷺ) نے اسے ذمہ داری سونپی کہ وہ ابوسفیان کے پاس جا کر اس طرح کی گفتگو کرے کہ کفار کے چھکے چھوٹ جائیں۔ چنانچہ اس نے یہ فریضہ انجام دیتے ہوئے ابو سفیان کے سامنے مسلمانوں کی طرف سے حالات کا ایسا نقشہ پیش کیا کہ اس کے اعصاب ٹوٹ گئے اور اس نے مکہ کی راہ اختیار کرنے میں اپنے لیے عافیت سمجھی۔ اس نازک موقعہ پر صحابہ (رض) کے غیر معمولی کردار کو خراج تحسین سے نوازتے ہوئے فرمایا کہ جن لوگوں کو گہرے زخم آئے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہا اور کفار سے ڈرنے کے بجائے ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ وہ کفّارکے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے یہ قدم اٹھایا تھا جس کے بدلے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمن کو مرعوب اور پسپا کردیا۔ رسول اللہ (ﷺ) نے وہاں دس دن قیام فرمایا یہ مقام تجارتی قافلوں کی گزر گاہ کے قریب تھا۔ بعض صحابہ نے خوب تجارت کی اس طرح مسلمان کاروباری فوائد کے ساتھ بڑی شان و شوکت کے ساتھ مدینہ واپس آئے۔ (الرحیق المختوم) اس آیت میں صحابہ کی تجارت‘ ایمان سے لبریز ولولہ اور کفار کے مقابلہ میں کامیابی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ مسائل : 1۔ تقو ٰی اختیار کرنے، اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننے والوں کے لیے اجر عظیم ہے۔ 2۔ مسلمان کفار سے ڈرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کو اپنا کار ساز سمجھیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرنے اور اس کی رضا چاہنے والوں پر اللہ کا فضل عظیم ہوتا ہے۔ تفسیربالقرآن : اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے : 1۔ رسول کریم (ﷺ) کو اللہ پر توکل کرنے کی ہدایت۔ (النمل :79) 2۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم۔ (المجادلۃ:10) 3۔ انبیاء اور نیک لوگ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (یوسف :67) 4۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق :3) 5۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ (التوبۃ:129) آل عمران
173 آل عمران
174 آل عمران
175 فہم القرآن : ربط کلام : احد میں مقابلہ یا اس کے بعد کفار کی دھمکیاں دراصل شیطانی ہتھکنڈے ہیں جن سے ڈرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ اس واقعہ کے بعد مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے سمجھا دیا گیا کہ کبھی اور کسی حال میں بھی شیطان اور اس کے چیلوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مکرو فریب بظاہر بڑے مضبوط اور خوفناک نظر آتے ہیں لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور کامل ایمان کے ساتھ قائم رہو گے توکفار کی سازشیں اور شرارتیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ شیطان اور غیروں کے خوف کی بجائے اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے سینوں میں جاگزیں کرو۔ جس کا خاصہ یہ ہے کہ آدمی بڑی سے بڑی طاقت اور سازش سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایک وقت میں دل میں ایک ہی کا خوف سما سکتا ہے۔ کامیابی کے لیے یہی بنیادی اصول ہے کہ مسلمان غیر سے ڈرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے اور اپنی زندگی ایمان کے سانچے میں ڈھال لینے والے کبھی ناکام اور نامراد نہیں ہوا کرتے۔ مسائل : 1۔ شیطان اپنے دوستوں سے مسلمانوں کو ڈراتا ہے۔ 2۔ ان سے ڈرنے کے بجائے اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ تفسیربالقرآن : اللہ کا خوف : 1۔ مومنوں کو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ (البقرۃ:150) 2۔ اللہ کے بندے صرف اللہ سے ہی ڈرتے ہیں۔ (المائدۃ:28) 3۔ نبی صرف اللہ سے ڈرتا ہے۔ (یونس : 15، الزمر :3) 4۔ اللہ سے ڈرنے والے ہی کامیاب ہوا کرتے ہیں۔ (النور :52) 5۔ مومنوں کی استقامت دیکھ کر شیطان خود ڈر جاتا ہے۔ (الانفال :48) 6۔ کفار اور منافق اللہ تعالیٰ کے بجائے لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ (النساء :77) آل عمران
176 فہم القرآن : (آیت 176 سے 177) ربط کلام : کفار کی سازشوں اور شیطان کے ساتھیوں کی شرارتوں سے دل گیر نہیں ہونا چاہیے انہیں دنیا اور آخرت میں اذیت ناک سزا ملنے والی ہے۔ رسول محترم (ﷺ) نے ہمیشہ منافقوں کے ساتھ درگزر کا رویّہ اختیار کیا اور ہر موقع پر انہیں سمجھاتے رہے تاکہ ان کی دنیا اور آخرت سدھر جائے۔ لیکن وہ سدھرنے کے بجائے شرارتوں اور منافقت میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ آپ کی درگزر اور اعلیٰ ظرفی سے انہوں نے ہمیشہ غلط فائدہ اٹھایا اور ہر نازک موقعہ پر خبث باطن کا اظہار اور اسلام کے دشمنوں کے ساتھ ساز باز کرتے رہے۔ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کا پلڑا ہلکا رہا جس سے انہیں امید ہوگئی کہ اب مسلمان ختم ہوجائیں گے اس لیے سر عام مسلمانوں سے الگ ہوگئے۔ ان کے منافقت میں آگے بڑھنے اور مسلمانوں سے الگ ہونے کی وجہ سے رسول اللہ (ﷺ) کو دلی رنج پہنچا کہ یہ کیسے ناعاقبت اندیش اور بدنصیب لوگ ہیں؟ جو سدھرنے کی بجائے نافرمانیوں میں آگے ہی بڑھتے جا رہے ہیں اس پر آپ کو تسلی دی گئی کہ میرے نبی! اطمینان خاطر رکھو کیونکہ آپ کا کام تو فقط سمجھانا ہے جس میں آپ نے کسی غفلت کا ارتکاب نہیں کیا۔ یہ جو چاہیں کرلیں اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رہے۔ بلاشبہ جو لوگ ایمان کے مقابلے میں کفر کو ترجیح دیتے ہیں وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ان کے لیے عظیم اور اذیت ناک عذاب ہوگا۔ مسائل : 1۔ کفار کی سرگرمیاں رسول محترم (ﷺ) کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں۔ 2۔ ایمان کے بجائے کفر کو ترجیح دینے والے اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ آل عمران
177 آل عمران
178 فہم القرآن : (آیت 178 سے 179) ربط کلام : دنیا کی بجائے کافر کو آخرت میں مکمل سزا دینا، کفریہ کاموں میں ان کا جلدی کرنا، احد میں معمولی کامیابی حاصل کرلینا یہ مہلت دینے کا مقصد یہ ہے کہ یہ دل بھر کر گناہ کرلیں تاکہ قیامت کو انہیں ٹھیک ٹھیک سزادی جائے۔ اُحد میں کفار مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار تھے اور منافق ہمدرد اور خیر خواہ بن کر ان کے حق میں خفیہ کردار ادا کر رہے تھے۔ جس کی وجہ سے کبھی کافروں کے کردار پر تنقید کی جاتی ہے اور کبھی منافقوں کے رویے کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ بسا اوقات منافقوں کے کردار اور اعتقاد کی بنا پر ان کے لیے بھی کفر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس فرمان میں منافق اور کافردونوں ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ تاہم کفار کو سمجھایا جا رہا ہے کہ اگر احد میں تھوڑی سی کامیابی اور دنیا میں تمہیں کچھ مہلت میسر ہے تو اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہم جو مہلت دیے جا رہے ہیں اس میں تمہارے لیے کوئی خیر ہو سکتی ہے۔ اگر اللہ کی گرفت سے بچے ہوئے ہو تو اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان حرکتوں سے بے خبر ہے یا اس کی دسترس سے تم باہر ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری رسی ڈھیلی اور دراز کر رکھی ہے تاکہ گناہ کرنے میں تمہیں کوئی حسرت باقی نہ رہے۔ جب اللہ تعالیٰ گرفت کی رسی کھینچے گا تو وہ تمہاری گردن میں اس طرح پھندا بن جائے گی جس سے چھٹکارا پانا ممکن نہ ہوگا اور کافر ہمیشہ کے لیے ذلیل کردینے والے عذاب میں سزائیں بھگتتے رہیں گے۔ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہمیشہ کسمپرسی کی حالت میں اور منافقوں کو ان کے ساتھ خلط ملط رہنے دے بلکہ اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کر رہا ہے جس سے منافق الگ ہوتے جارہے ہیں جیسا کہ احد میں ہوا۔ یہاں مومنوں کے وجود اور کردار کو طیب اور منافقوں کے کردار کو خبیث کہا گیا ہے۔ جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں مومن کتنے عمدہ‘ پاک اور منافق کس قدر گندے ہیں۔ اللہ کے ہاں یہ بھی درست نہیں کہ وہ ہر کسی کو اپنی تقدیر یعنی امور غائب سے مطلع کرتا رہے۔ ایک تو اس لیے کہ ہر شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے بھید پانے اور برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے غیب کی اطلاع کے لیے پیغمبروں کو منتخب کر رکھا ہے۔ ان میں بھی جس پیغمبر کو جتنا چاہا امور غیب سے آگاہ فرمایا۔ لوگوں کا فرض ہے کہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں اگر کافر اور منافق بھی ایمان لائیں تو ایمانداروں کی طرح یہ بھی اجر عظیم پائیں گے۔ بعض لوگ پیروں‘ فقیروں اور علماء کے حوالے سے ایسے واقعات لکھتے اور بیان کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ بھی غیب کے واقعات جانتے تھے۔ یہاں دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کی نفی کی گئی ہے۔ جہاں تک انبیاء کا معاملہ ہے ان کے بھی درجنوں واقعات ہیں کہ وہ غیب کا علم ہرگز نہیں جانتے تھے۔ اس کے باوجود بعض علماء نے اس آیت سے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ انبیاء کرام خود تو غیب کا علم نہیں جانتے تھے لیکن انہیں عطائی علم غیب ضرور تھا۔ عطائی کا معنیٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بتلایا ہوا اور عطا کردہ علم۔ علم غیب کی یہ تعریف بذات خود مضحکہ خیز ہے۔ جب اللہ تعالیٰ انبیاء یا کسی کو کوئی بات بتلا دے تو وہ غیب کس طرح رہا۔ یہ بات علم غیب کی تعریف میں نہیں آتی اس لیے رسول کریم (ﷺ) کی زبان اطہر سے کئی بار یہ اعلان کروایا گیا کہ آپ از خود یہ اعلان فرمائیں کہ میں غیب کا علم نہیں جانتا۔ اس کی تفصیل ان شاء اللہ سورۃ الانعام کی تفسیر میں کی جائے گی۔ مسائل : 1۔ کفارکے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ڈھیل بہتر نہیں ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کے بغیر کسی کو غیب کی خبریں نہیں دیتا۔ 3۔ ایمان اور تقو ٰی اختیار کرنے والوں کے لیے اجر عظیم ہے۔ تفسیربالقرآن : کفار کے لیے مہلت مفید نہیں : 1۔ ڈھیل کفار کے لیے گناہوں کا باعث بنتی ہے۔ (آل عمران :178) 2۔ کفار اور بخیل کے لیے مہلت نقصان دہ ہے۔ (آل عمران :180) 3۔ کفار کے لیے دنیا کی فراوانی نقصان دہ ہے۔ (الانعام :44) نبی غیب نہیں جانتے: 1۔ اللہ ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (الانعام: 59) 2۔ آپ فرما دیں کہ غیب اللہ ہی کے لئے ہے۔ (یونس : 20) (النمل: 65) (ھود: 31) آل عمران
179 آل عمران
180 فہم القرآن : ربط کلام : مال اور جان اللہ کے راستے میں قربان کرنے چاہییں۔ منافق مخلص مسلمانوں کو جہاد پر خرچ کرنے سے روکتے تھے اس لیے احد کے غزوہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بخل کی مذمت کی گئی ہے۔ منافق مسلمانوں کو صرف جہاد فی سبیل اللہ سے دلبرداشتہ اور منع ہی نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو مایوس کرنے کی کوشش بھی کرتے۔ ان کا اپنا حال یہ تھا کہ جہاد فی سبیل اللہ سے دور بھاگتے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے بچنے کی کوشش کرتے۔ اس طرح وہ مال خرچ کرنے کی بجائے اسے جمع رکھنے کے روییّ پر گامزن تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے یہاں تک مہم چلائی اور زبان درازی کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ قطعاً تعاون نہیں کرنا چاہیے تاکہ یہ تنگ آکر مدینہ خالی کردیں اس طرح مدینہ گھٹیا لوگوں سے پاک ہوجائے گا۔ [ المنافقون :8] یہاں منافقوں کے حوالے سے ہر کسی کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ جو لوگ غریبوں‘ مسکینوں اور جہاد فی سبیل اللہ پر خرچ کرنے کے بجائے بخل کرتے ہیں وہ ہرگز گمان نہ کریں کہ جو مال اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا ہے وہ جمع کرنے کی صورت میں ان کے لیے بہتر ہوگا بلکہ جس مال کو اپنے مستقبل کی بہتری کے لیے جمع کر رہے ہیں وہ ان کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ عنقریب درہم و دینار اور سونا چاندی جہنم میں تپا کر قیامت کے دن ان کے گلے کا ہار بنادیے جائیں گے۔ ان بخیلوں اور کنجوسوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقتاً اللہ ہی زمین و آسمان کی میراث کا وارث ہے۔ اگر یہ پلٹ کر دیکھیں تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ زمین کی ملکیت کا دعو ٰی کرنے اور دنیا کا مال و متاع جمع کرنے والے ان سے پہلے لوگ کہاں ہیں؟ ان پر بھی وقت آئے گا جب ان کی جائیداد کا وارث دوسرابنے گا تو پھر کیوں نہ یہ اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کے مجبور بندوں پر خرچ کیا کریں۔ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کی خوب خبر رکھنے والا ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿یَوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُھُمْ وَجُنُوْبُھُمْ وَظُھُوْرُھُمْ ھٰذَا مَاکَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَاکُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ﴾ [ التوبۃ:35] ” روز قیامت مال کو جہنم کی آگ میں گرم کر کے ان کی پیشانیوں‘ پہلوؤں اور پیٹھوں پر داغا جائے گا۔ یہ ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تم چکھو جو تم جمع کرتے تھے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ () قَالَ مَامِنْ رَجُلٍ لَا یُؤَدِّیْ زَکَاۃَ مَالِہٖ إِلَّا جَعَلَ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِیْ عُنُقِہٖ شُجَاعًا ثُمَّ قَرَأَ عَلَیْنَا مِصْدَاقَہُ مِنْ کِتَاب اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ﴿وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ﴾ الآیۃَ) [ رواہ الترمذی : کتاب : تفسیرالقرآن، باب ومن سورۃ آل عمران] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اس بات کو نبی کریم (ﷺ) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ روز قیامت یہ مال اس کی گردن میں گنجا سانپ بنا کر ڈالے گا۔ پھر آپ نے کتاب اللہ سے اس آیت کی تلاوت کی ﴿وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ﴾ ۔“ مسائل : 1۔ بخیل کے لیے اس کا بخل کرنا کبھی بہتر نہیں ہوگا۔ 2۔ رزق حلال اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خرچ کرتے رہنا چاہیے۔ 4۔ قیامت کے دن بخیل کا مال سانپ بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ 5۔ زمین و آسمان کی حقیقی اور دائمی ملکیت اللہ ہی کی ہے۔ 6۔ اللہ ہر کسی کے اعمال سے باخبر ہے۔ تفسیربالقرآن : بخل اور بخیل کا انجام : 1۔ خزانے جمع کرنے والوں کو عذاب کی خوشخبری۔ (التوبۃ:34) 2۔ بخیل اپنا مال ہمیشہ باقی نہیں رکھ سکتا۔ (ھمزہ :3) 3۔ بخیل کے مال کے ذریعے ہی اسے سزادی جائے گی۔ (التوبۃ:35) آل عمران
181 فہم القرآن : (آیت 181 سے 182) ربط کلام : مسلمانوں میں بخل کا ماحول پیدا کرنے کے لیے یہودیوں نے منافقوں کو یہ کہہ کر مالی تعاون سے منع کیا کہ مسلمانوں کا رب کنگال ہوگیا ہے اور ہم مال ودولت والے ہیں یہاں بخل کی مذمت اور اس گستاخی کی سزا سنائی گئی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) فنحاص یہودی عالم کے پاس بیت المدراس میں گئے۔ اسے کہنے لگے اللہ سے ڈرتے ہوئے مسلمان ہوجاؤ۔ کیونکہ تو جانتا ہے کہ آپ (ﷺ) سچے رسول ہیں اور یہ بات تورات وانجیل میں بھی لکھی ہوئی ہے۔ فنحاص نے جواب دیا کہ ہم اللہ کے محتاج نہیں۔ البتہ وہ ضرور ہمارا محتاج ہے اگر وہ ہمارا محتاج نہ ہوتا تو ہم سے قرضے کا مطالبہ نہ کرتا۔ حضرت ابوبکرصدیق (رض) غصے میں آئے اور اس کے منہ پر تھپڑ رسید کیا اور ساتھ یہ فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر ہمارا آپس کا معاہدہ نہ ہوتا تو اے اللہ کے دشمن ! میں تیری گردن اڑا دیتا۔ فنحاص یہ معاملہ نبی کریم (ﷺ) کے پاس لے گیا۔ آپ (ﷺ) نے ابوبکرصدیق (رض) سے وجہ دریافت کی تو انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا۔ فنحاص نے جب اپنی بات کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی تصدیق میں یہ آیات نازل فرمائیں۔[ تفسیر ابن کثیر] انفاق فی سبیل اللہ کی تحریک کے خلاف منافقوں نے اپنے طریقہ کے مطابق کوشش اور زبان درازی کی۔ لیکن یہودیوں نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ اب یہ نبی اور اس کا خدا لوگوں سے قرض کے نام پر چندہ مانگ رہے ہیں۔ در حقیقت مسلمانوں کا خدا فقیر اور کنگال ہوگیا ہے ہم ان کے مقابلے میں غنی اور دولت مند ہیں۔ جو خود لوگوں سے مانگتا ہے وہ ہمیں کہاں سے دوگنا تگنا کر کے واپس کرے گا؟[ الرحیق المختوم] اس ہرزہ سرائی اور یا وہ گوئی کے بارے میں سخت ناراضگی کے عالم میں فرمایا کہ جو کچھ یہ اپنی زبانوں سے نکال رہے ہیں۔ ہم نے اس کا ایک ایک حرف لکھ لیا ہے جس طرح ان کا انبیاء کو ناحق قتل کرنا ریکارڈ ہوچکا ہے۔ گویا کہ جس طرح انہوں نے انبیاء کو قتل کیا اس طرح ہی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی سزا یہ ہے کہ ہم قیامت کے دن انہیں کہیں گے کہ جس مال کو تم بچا بچا کر رکھتے تھے اب اسی مال کے ساتھ جہنم کا جلا دینے والا عذاب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چکھتے رہو۔ جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا اس کی سزا پائیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے زیادتی نہیں ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ذرہ برابر بھی زیادتی نہیں کرتا۔ بے شک انسان کتنا باغی‘ کافر اور متکبر کیوں نہ ہو اسے اتنی ہی سزا ملے گی جتنا اس نے جرم کیا ہوگا۔ (عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () فِیْمَا رَوٰی عَنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنَّہٗ قَالَ یَاعِبَادِیْ إِنِّیْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِیْ وَجَعَلْتُہٗ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَاتَظَالَمُوْا۔۔)[ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم] ” حضرت ابوذر (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندو! یقینًا میں نے اپنے آپ پر ظلم کرنا حرام کرلیا ہے اور میں اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیتاہوں۔ پس تم آپس میں ظلم نہ کیا کرو۔“ مسائل : 1۔ یہودی اللہ تعالیٰ کو فقیر اور اپنے آپ کو مال دار کہتے ہیں۔ 2۔ ہر زہ سرائی اور انبیاء کو ناحق قتل کرنے کی وجہ سے انہیں جلا دینے والا عذاب ہوگا۔ 3۔ لوگوں کو قیامت کے دن وہی کچھ ملے گا جو آگے بھیجیں گے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ بندوں پر کبھی ظلم نہیں کرتا۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ غنی ہے فقیر نہیں : 1۔ اللہ کے ہاتھ فراخ ہیں جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ (المائدۃ:64) 2۔ زمین و آسمان کے خزانوں کا مالک اللہ ہی ہے۔ (المنافقون :7) 3۔ زمین و آسمان کی کنجیوں کا مالک اللہ ہے۔ (الزمر :63) 4۔ اللہ تعالیٰ رزق بڑھاتا اور کم کرتا ہے۔ (العنکبوت :62) اللہ تعالیٰ ظلم پسند نہیں کرتا : 1۔ اللہ تعالیٰ بلاوجہ عذاب دینا پسند نہیں کرتا۔ (النساء :147) 2۔ اللہ تعالیٰ ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا۔ (النساء :40) 3۔ اللہ تعالیٰ نبی بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں دیتا۔ (بنی اسرائیل :15) 4۔ اللہ تعالیٰ قیامت کو بھی کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ (قٓ :29) آل عمران
182 آل عمران
183 فہم القرآن : (آیت 183 سے 184) ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ پر فقر کا الزام لگا کر یہودی مسلمانوں میں بخل کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی طرح آپ کی ذات اور دین سے روکنے کے لیے قربانی کے جل کر خاکستر ہونے کی جھوٹی شرط پیش کرتے جس کی یہ کہہ کر تردید کی گئی ہے کہ پہلے انبیاء میں سے کچھ نے یہ معجزہ بھی دکھایا تھا پھر تم نے انہیں کیوں قتل کیا؟ یہودی کسی صورت بھی رسول اللہ (ﷺ) پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تھے اور ایسا ہی ان کا رویّہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا۔ بات بات پر اعتراضات، ہرمسئلے کو سوالات کے ذریعے الجھانے اور بال کی کھال اتارنے کی کوشش کرتے۔ جب نبی محترم (ﷺ) کے سامنے ہر طرح لا جواب ہوتے تو اللہ تعالیٰ کے ذمّہ بات لگاتے کہ در اصل اے محمد (ﷺ) ! ہم آپ پر اس لیے ایمان نہیں لاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے عہد لیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کسی رسول پر ایمان نہیں لانا جب تک وہ رسول قربانی ذبح نہ کرے جسے تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سے آئی ہوئی آگ نگل جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں کے بار بار مطالبہ کی وجہ سے بعض انبیاء کے دور میں یہ واقعات رونما ہوئے کہ جو نہی قربانی پیش کی گئی آسمان سے آگ آئی اس نے اسے جلا کر خاکستر کردیا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اس شخص کی قربانی اللہ کی بارگاہ میں مستجاب ہوچکی ہے اور یہ نبی سچا ہے۔ اس بات کو یہود نے اس طرح توڑ مروڑ کر پیش کیا جیسے یہ نبوت کے لیے لازمی نشانی ہو۔ حالانکہ تورات اور انجیل میں نبی آخرالزمان (ﷺ) پر ایمان لانے کے لیے ایسی کسی شرط کا ذکر موجود نہیں ہے۔ اے نبی! ان سے پوچھیے کہ مجھ سے پہلے بے شمار رسول ٹھوس اور واضح دلائل کے ساتھ آئے اور وہ چیز بھی انہوں نے کر دکھائی جس کا تم مطالبہ کرتے ہو اگر تم اپنی اس حجت میں سچے ہو تو بتاؤ کہ قربانی کے جل کر راکھ ہونے اور واضح دلائل آنے کے باوجود تم نے پہلے انبیاء کو قتل کیوں کیا؟ اس کے بعد آپ کو اطمینان دلاتے ہوئے فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو بلاشبہ پہلے انبیاء کو بھی جھٹلایا گیا ہے۔ جبکہ یہ انبیاء واضح دلائل لے کر آئے تھے اور حضرت داوٗد اور عیسیٰ ( علیہ السلام) بھی روشن کتابوں اور کھلے معجزات کے ساتھ آئے تھے۔ جھٹلانے والوں نے ان کی بھی تکذیب کی۔ سورۂ یٰس میں یہاں تک بیان ہوا کہ ایک بستی میں پہلے ایک رسول آیا پھر دوسرے رسول بھیجے گئے اور ان کے بعد تیسرے نبی مبعوث کیے گئے جنہوں نے ایک دوسرے کی تائید اور تصدیق فرمائی لیکن اس کے باوجود لوگوں نے تینوں نبیوں کو جھٹلایا اور ان کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ ﴿وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ اِذْجَآءَ ہَا الْمُرْسَلُوْنَ اِذْ اَرْسَلْنَآ اِلَیْہِمُ اثْنَیْنِ فَکَذَّبُوْہُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْا اِنَّآ اِلَیْکُمْ مُّرْسَلُوْنَ﴾ [ یٰسین : 13، 14] ” ان کے سامنے اس بستی کے رہنے والوں کی مثال بیان کرو۔ جن کے پاس پیغمبر تشریف لائے جب ہم نے ان کی طرف دو رسول مبعوث کیے تو انہوں نے دونوں کو جھٹلایا۔ ہم نے تیسرے کو بھیجا تینوں پیغمبروں نے لوگوں کو بتلایا کہ ہم رسول اور پیغمبر ہیں۔“ لہٰذا اے محبوب پیغمبر! تمہیں دل چھوٹا کرنے اور حوصلہ ہارنے کی ضرورت نہیں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا : ﴿فَإِنَّھُمْ لَایُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظَّالِمِیْنَ بآیَات اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ﴾ [ الانعام :33] ” یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔“ مسائل : 1۔ یہودی اپنی صداقت کے لیے من گھڑت دعوے اور جھوٹی نشانیاں پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 2۔ رسول اللہ (ﷺ) سے پہلے انبیائے عظام کو معجزات اور آسمانی کتابیں پیش کرنے کے باوجود جھٹلایا گیا۔ تفسیربالقرآن : حقائق کو جھٹلانا اہل کفر کا وطیرہ ہے : 1۔ اہل کفر انبیاء کو جھٹلایا کرتے تھے۔ (صٓ :14) 2۔ باطل پرست اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ (المائدۃ:86) 3۔ کفار قیامت کو جھٹلاتے ہیں۔ (الروم :16) 4۔ کفار اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ (المائدۃ:103) آل عمران
184 آل عمران
185 فہم القرآن : ربط کلام : موت اور فکر آخرت کے ذریعے نصیحت کی گئی ہے کہ دنیا کے جس جاہ وجلال اور مال پر اترا کر نبی (ﷺ) کی نبوت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں خرافات بکتے ہو یہ تو ختم ہونے والی ہے۔ منکرین توحید و رسالت کا کردار بتلانے کے بعد رسول اللہ (ﷺ) کو تسلی دیتے ہوئے موت کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اے رسول (ﷺ) آپ کے مخالفوں نے دنیا میں ہمیشہ نہیں بیٹھے رہنا بالآخر ہر کسی نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور پھر قیامت کے دن تمہارے اعمال کے مطابق تمہیں مکمل جزا اور ان کے کردار کی انہیں پوری پوری سزا دی جائے گی۔ جسے جہنم کی ہولناکیوں سے بچا کر جنت میں داخل کردیا گیا یقیناً وہ کامیاب ہوا۔ یہ دنیا کی زندگانی محض نظر کا فریب اور دماغ کا غرور ہے۔ اسی وجہ سے یہ آپ کی ذات اور اللہ تعالیٰ کی آیات جھٹلا رہے ہیں حالانکہ یہ کرّ وفرّ اور سازو سامان عارضی ہے۔ اس کے مقابلے میں آخرت کی جزا وسزا مستقل اور دائمی ہے۔ جب دنیا عارضی اور موت یقینی ہے تو عقل ودانش کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ رہنے والی زندگی کی فکر کرنی چاہیے۔ مسائل : 1۔ ہر کسی کو موت آکر رہے گی۔ 2۔ یہ دنیا مکرو فریب کا سامان ہے۔ 3۔ قیامت کے دن ہر کسی کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ 4۔ جہنم کی آگ سے بچ کر جنت میں داخل ہونے والا ہی کامیاب ہے۔ تفسیربالقرآن : نیکی کا پورا پورا اجر ملے گا : 1۔ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرے گا۔ (آل عمران :171) 2۔ اللہ تعالیٰ محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (ھود :115) 3۔ سب کو پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ (النساء :173) آل عمران
186 فہم القرآن : ربط کلام : احد میں مالی، جانی نقصان اور یہودیوں کی اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہرزہ سرائی اور نبی (ﷺ) کی نبوت کی تصدیق کے لیے غلط ثبوت کا مطالبہ مسلمانوں کے لیے پریشانی کا باعث تھا۔ اس لیے انہیں تسلی دیتے ہوئے صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ دنیا ہر کسی کے لیے آزمائش ہے خاص کر انبیاء اور مومنوں کے لیے اسے امتحان گاہ اور کڑی آزمائش کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ مومن کا مال اور اس کی جان آزمائش کی بھٹی میں اس لیے جھونکے جاتے ہیں تاکہ مال کا حق ادا کرنے کے بعد مومن کا مال خالص ہوجائے۔ مومنوں کو اس لیے آزمایا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے نمونہ بن کر زندگی بسر کریں۔ آزمائش اور امتحان کا یہ بھی مقصد ہے کہ مومن دین کی سربلندی اور لوگوں کی خیر خواہی کے لیے قربانیاں پیش کریں۔ اس کے باوجود بھی غیر مسلم حسد و بغض کا مظاہرہ کرتے ہیں جس پر تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوتا ہے اے مسلمانو! تم اللہ کی راہ میں سب کچھ قربان کرنے کے باوجود یہود و نصاریٰ اور مشرکین سے باتیں سنو اور تکلیفیں اٹھاؤگے۔ اگر صبر اور پرہیزگاری اختیار کرتے رہو گے تو یہ بڑے ہی عظمت والے کام ہیں۔ صاحب عزیمت لوگ ہی اللہ تعالیٰ کے دین کو سربلند کرنے والے اور دنیا وآخرت میں سرخرو ہوں گے۔ چنانچہ وہ کونسی اذیت اور طعن ہے جو رسول محترم (ﷺ) کو نہیں دیا گیا۔ اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے آپ اور صحابہ کرام (رض) نے وہ دکھ اٹھائے کہ جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ مسائل : 1۔ مسلمانوں کو مال اور ان کی جانوں کے ساتھ ضرور آزمایا جائے گا۔ 2۔ یہود ونصاریٰ اور مشرکوں سے مسلمان بڑی تکلیفیں اٹھائیں گے۔ 3۔ تکالیف پر صبر کرنا اور گناہوں سے بچنا بڑے عظیم کام ہیں۔ آل عمران
187 فہم القرآن : ربط کلام : یہودیوں کے من گھڑت بہانے کی تردید کرنے کے بعد انہیں اظہارِ حق کے عہد کی یاد دہانی کروائی گئی ہے۔ یہود و نصاری نہ صرف نبی آخر الزماں (ﷺ) کے اوصاف اور آپ کی نبوت کے ٹھوس دلائل چھپاتے ہیں۔ بلکہ انہوں نے ہر اس بات کو تورات اور انجیل سے نکال دیا ہے جو ان کے مفادات کے خلاف ہے حالانکہ ان سے اللہ تعالیٰ نے پختہ عہد لیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے احکامات کو چھپانے کی بجائے انہیں کھول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرو گے۔ انہوں نے اس عہد کو اس طرح فراموش کردیا اور دور پھینکا جس طرح کوئی شخص کسی چیز کو اپنے پیچھے پھینک کر الٹے منہ دیکھ نہیں سکتا۔ دنیا کے وقتی وقار، عارضی اقتدار، معمولی فائدے اور چند دمڑیوں کی خاطرانہوں نے اللہ کے احکام کو بیچ ڈالا۔ پھر اپنے کیے پر افسوس کا اظہار کرنے کی بجائے اس پر اترایا کرتے تھے۔ بڑا ہی برا کردار اور سودا ہے جو انہوں نے اختیارکیا۔ حضرت حسن بصری کی والدہ حضرت ام المومنین امّ سلمہ (رض) کی کنیز تھیں۔ اس بدولت حسن بصری نے حضرت ام المومنین امّ سلمہ (رض) کے ہاں پرورش پائی وہ اس آیت کی تصریح میں فرمایا کرتے تھے کہ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے بالواسطہ امت محمدیہ کے علماء سے بھی لیا ہے کہ وہ حق کو چھپانے کے بجائے اسے ہر حال میں بیان کرتے رہیں گے۔ حضرت حسن بصری (رض) کا اپنا کردار یہ تھا کہ وہ حجاج بن یوسف پر سر عام تنقید کرتے۔ ایک دن حجاج نے انہیں بلا کر تلوار لہراتے ہوئے پوچھاکہ آپ میرے بارے میں یہ یہ باتیں کرتے ہیں؟ حضرت حسن بصری (رض) نے وہی باتیں حجاج کے رو برو کہتے ہوئے فرمایا کہ ہاں جب تک تم ان جرائم سے باز نہیں آؤ گے میں تمہیں ٹوکتا رہوں گا۔ اس کے بعد انہوں نے مذکورہ آیات کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے سچ بولنے کا وعدہ لیا ہے جس کی پاسداری کرنا ہمارا فرض ہے۔ (تفسیررازی) مسائل : 1۔ اہل کتاب نے دنیا کے تھوڑے سے مفاد کی خاطر اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈالا اور تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ دیا۔ آل عمران
188 فہم القرآن : ربط کلام : قرآن مجید تحریری شکل میں نازل نہیں ہوا یہ پر مغز خطابی انداز میں نازل ہوا ہے اس لیے مخاطب کو سمجھانے کے لیے جس پیرائے اور الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے وہی استعمال ہوتے ہیں جو موقعہ کے مطابق ہوں جس بنا پر بات کا تعلق بہت پیچھے کی بات سے جوڑ کر اسے کسی دوسرے انداز میں سمجھایا جاتا ہے یہاں یہ سمجھایا گیا ہے کہ جس دین کی مخالفت اور دنیا کی خاطر تم بخل اور خوشامد کرتے ہو اس وجہ سے جو تمہارا انجام ہونے والا ہے اس کی طرف توجہ دو۔ انسان کی اخلاقی گراوٹ کی انتہا دیکھنا ہو تو اس شخص کے کردار کی طرف دیکھیے جو گناہ پر معذرت کرنے کے بجائے اس پر اصرار کرتے ہوئے خوش ہوتا اور فخر محسوس کرتا ہے۔ ایسے آدمی کی عادت ہوجاتی ہے کہ وہ صرف صحت مند تنقید سننا گواراہی نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے عمل اور ناپسندیدہ کردارکی بھی تعریف چاہتا ہے۔ جس شخص کی یہ حالت ہوجائے اس کے سنورنے کی تمام صورتیں ختم ہوجایا کرتی ہیں۔ اگر ایسا شخص کسی ملک یا قوم کا سربراہ ہو تو ہلاکت اس قوم کا مقدر ہوا کرتی ہے۔ اہل کتاب کے علماء اور زعماء کی یہی حالت تھی کہ وہ ہر حال میں اپنی تعریف سننا پسند کرتے تھے یہاں تک کہ جس کام کے ساتھ ان کا دور کا تعلق نہ ہوتا اس کی بھی تعریف چاہتے تھے۔ حتیٰ کہ مفاد پرست اور جاہل لوگ ان کی ذات اور خاندان میں وہ وہ خوبیاں ظاہر کرنے کی کوشش کرتے جن کا ان کے ہاں تصور بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ اپنی کردہ اور ناکردہ خدمات کی تعریف چاہنے والا شخص مغرور‘ ریا کار اور خود پسند ہوجایا کرتا ہے۔ اس قسم کے کردار کے حامل لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ آخرت میں بھی ان کی تعریف اور خوشامدہو گی اور وہ کامیاب ہوجائیں گے۔ ہرگز نہیں ان کے لیے تو رب ذوالجلال نے نہایت ہی تکلیف دہ عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس طرح کی اخلاقی بیماریوں سے بچنے اور بچانے کے لیے رسول اللہ (ﷺ) نے کسی کے رو برو تعریف کرنے والے کے بارے میں فرمایا ایسا شخص دوسرے کو کند چھری کے ساتھ ہلاک کرتا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ () أنْ نَّحْثُوَ فِیْ أَفْوَاہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزھد، باب ماجاء فی کراھیۃ المدحۃ والمداحین] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اللہ کے رسول (ﷺ) نے حکم دیا کہ ہم کسی کے منہ پر تعریف کرنے والے کے منہ میں مٹی ڈالیں۔“ (عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاس (رض) قَبْلَ مَوْتِھَا عَلٰی عَائِشَۃَ وَھِیَ مَغْلُوْبَۃٌ قَالَتْ أَخْشٰی یُثْنِیَ عَلَیَّ فَقِیْلَ ابْنُ عَمِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ () وَمِنْ وُجُوْہِ الْمُسْلِمِیْنَ قَالَتْ إِئْذَنُوْا لَہٗ فَقَالَ کَیْفَ تَجِدِیْنَکِ قَالَتْ بِخَیْرٍ إِنِ اتَّقَیْتُ قَالَ فَأَنْتِ بِخَیْرٍ إِنْ شَآء اللّٰہُ زَوْجَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ () وَلَمْ یَنْکِحْ بِکْرًا غَیْرَکِ وَنَزَلَ عُذْرُکِ مِنَ السَّمَاءِ وَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَیْرِ خِلَافَہٗ فَقَالَتْ دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ (رض) فَأَثْنٰی عَلَیَّ وَوَدِدْتُّ أَنِّیْ کُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب ﴿وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا ﴾] ” ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں حضرت عائشہ (رض) جب موت کے قریب تھیں تو اس وقت عبداللہ بن عباس (رض) نے ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تعریف نہ کرنے لگیں۔ کسی نے عرض کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) کے چچا زاد بھائی اور خود بھی عزت دار ہیں اس پر انہوں نے کہا کہ انہیں اندر بلالو۔ ابن عباس (رض) نے ان سے پوچھا کہ آپ کس حال میں ہیں؟ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اگر میں اللہ سے ڈرنے والی ہوں تو اچھا ہی اچھا ہے۔ عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا ان شاء اللہ آپ اچھی ہی رہیں گی آپ رسول اللہ (ﷺ) کی زوجہ مطہرہ ہیں اور آپ کی براءت آسمان سے نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے تشریف لے جانے کے بعد آپ کی خدمت میں ابن زبیر (رض) حاضر ہوئے۔ حضرت عائشہ (رض) نے ان سے فرمایا کہ ابھی ابن عباس آئے تھے اور میری تعریف کی کاش! میں بھولی بسری گمنام ہوتی۔“ مسائل : 1۔ جو لوگ ہر کام پر اپنی تعریف چاہتے ہیں وہ آخرت کے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔ تفسیربالقرآن : اپنی تعریف کروانا بہتر نہیں : 1۔ خواہ مخواہ تعریف کروانے والا جہنم میں جائے گا۔ (آل عمران :188) 2۔ اپنی پاک دامنی کا دعو ٰی کرنا بہتر نہیں۔ (النجم :32) 3۔ اللہ کے نیک بندے شکریہ سے مبرّا ہوتے ہیں۔ (الدھر :9) 4۔ پاک وہی ہے جسے اللہ پاک کرے۔ (النساء :49) آل عمران
189 فہم القرآن : (آیت 189 سے 190) ربط کلام : ریاکاروں، کنجوسوں، خوشامدیوں اور اللہ کے منکروں کو سوچنا چاہیے کہ زمین و آسمان کی بادشاہی اور ملکیت کس کے پاس ہے ؟ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تعریف تو اس کی ہونا چاہیے۔ اگر سمجھنا چاہو تو اس نے زمین و آسمان کے درمیان اور لیل ونہار کے آنے جانے میں بہت سی نشانیاں رکھ دی ہیں دوسری طرف مسلمانوں کو سمجھایا کہ جس طرح رات اور دن کا آنا جانا ہے اسی طرح زندگی میں دکھ، سُکھ، خوشی، غم، کامیابی اور ناکامی ایک دوسرے کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ اس میں مومن کے لیے خوش خبری اور اطمینان کاسبق ہے۔ لُبْ“ کا معنی ہے عقل اور الباب اس کی جمع ہے۔ زمین و آسمان کی ملکیت توایک اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی خدائی کا ثبوت چاہتے ہو تو زمین و آسمان کی پیدائش اور لیل و نہار کی گردشوں پر غور کرو۔ لہٰذاہر قسم کی تعریف ذات کبریا کو لائق ہے اور وہی زمین و آسمان کا مالک اور ان کے چپے چپے پر اختیار اور اقتدار رکھنے والا ہے۔ لیکن نشانات قدرت پر عقل مند ہی غور و خوض کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر خوش ہونے اور اپنی تعریف کروانے والے لوگ اس کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔ کیونکہ ہر چیز پر اسی کا کنٹرول ہے۔ مسائل : 1۔ آسمانوں اور زمین کی ملکیت اللہ کے لیے ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ 2۔ زمین و آسمان کی تخلیق، رات اور دن کی تبدیلی میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانات ہیں۔ تفسیربالقرآن : سب کچھ اللہ ہی کی ملکیت ہے : 1۔ مشرق ومغرب اللہ کے لیے ہے۔ (البقرۃ:142) 2۔ زمین و آسمان اللہ کی میراث ہیں۔ (آل عمران :180) 3۔ زمین و آسمان پر اللہ کی بادشاہی ہے۔ (آل عمران :189) 4۔ قیامت کو بھی اللہ تعالیٰ ہی کی حکومت ہوگی۔ (الفرقان :26) آل عمران
190 آل عمران
191 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ کے بندے ہر حال میں اس کے شکر گزار‘ اس کی عبادت میں محو اور اس کے ذکر و فکر میں مشغول رہتے ہیں، یہی دانشمندی ہے۔ اللہ تعالیٰ خالق کل اور حاکم مطلق ہے۔ اگر وہ چاہتا تو صرف حکم دیتا کہ میری ذات اور بات مانو لیکن اس نے اپنی ذات کو حاکم کی حیثیت سے ہی نہیں بلکہ خالق و مالک اور رحمن و رحیم کے طور پر تسلیم کرنے کی دعوت دی ہے اس لیے وہ انسان کو اس کی تخلیق، اپنی قدرتوں اور کائنات کی بناوٹ اور سجاوٹ پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ عقل و فکر اور دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اس پر ایمان لایا جائے۔ ایسا ایمان ہی آدمی کی فکر میں تبدیلی اور اس کے کردار میں نکھار پیدا کرتا ہے۔ اسی بنا پر قرآن مجید بار بار آدمی کی توجہ کائنات کی تخلیق اور اللہ کی قدرت وسطوت کی طرف دلاتا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن انسان کو اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتا ہے کیونکہ یہی لوگ غور و فکر اور دلائل کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی بات اور ذات کو پہچانتے اور یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے کے تین طریقے ہیں کیونکہ آدمی تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں ہی ہوتا ہے۔ کھڑا، بیٹھا اور لیٹا ہوا۔ چلنے پھرنے کی حالت کھڑے ہونے میں شمار ہوتی ہے۔ ذکر کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا ادراک واعتراف کرتے ہوئے اس کے حکم کے مطابق اس کی عبادت کی جائے۔ جب اللہ تعالیٰ کی ذات کا شعور نصیب ہوجائے تو پھر انسان ان تینوں حالتوں میں جس حالت میں بھی ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتا ہے۔ نماز افضل ترین ذکر ہونے کی بنا پر فرض ہے۔ اس کے بارے میں رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ملاحظہ فرمائیں : (عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ (رض) قَالَ کَانَتْ بِیْ بَوَاسِیْرُ فَسَأَلْتُ النَّبِیَّ () عَنِ الصَّلَاۃِ فَقاَلَ : صَلِّ قَاءِمًا فإِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَقاَعِدًا فَإِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فعَلٰی جَنْبٍ) [رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب إذا لم یطق قاعدا صلی علی جنب] ” حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہمجھے بواسیر کی تکلیف تھی تو میں نے نبی (ﷺ) سے نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا : کھڑے ہو کر نماز پڑ ھو کھڑے ہو کر پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تو پھر بیٹھ کر پڑھ اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو لیٹ کر۔“ شعور کی دولت اور اللہ تعالیٰ کی محبت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان اس کی تخلیقات اور زمین و آسمان کی بناوٹ وسجاوٹ پر فکر و تدبر اختیار کر ے۔ پھر انسان اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس کے جسم کا ایک ایک رونگٹا اور دل کا ایک ایک گوشہ پکار اٹھتا ہے کہ اے ہمارے رب! تو نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے۔ وہ بے مقصد پیدا نہیں فرمایا۔ اس لیے ہر چیز تیری حکمت اور حکم کے مطابق اپنی تخلیق کے مقصد پر لگی ہوئی ہے۔ اے ہمارے رب! تو ہر عیب سے پاک ہے۔ ہم نے نافرمانیاں کر کے اپنے آپ کو ناپاک بنایا اور اپنی زندگی کے مقصد کو کھویا اور ضائع کرلیا ہے۔ ہماری تیرے حضور التجا ہے کہ ہمیں معاف فرما کر آگ کے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ (آمین) غور وفکر کے نتائج اور سائنسدانوں کے مشاہدات : ماہر طبقات الأرض جے‘ ڈبلیوڈاسن : ” حق تو یہ ہے کہ عبادت کا فلسفیانہ تصور پیدا کرنے کے لیے اصول وقوانین پر ایمان لانا لابدی ہے۔ اگر کائنات بے ترتیب اتفاقات کا نتیجہ ہوتی یا محض کسی ضرورت یاحاجت کی پیداوار ہوتی تو سوچ سمجھ کر عبادت کرنے کی ضرورت کبھی پیش نہ آتی۔ جب ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کائنات ایک حکیم ودانا کی تدبیر کا مظہر ہے وہی ذات بے ہمتا اسے کمال حکمت ودانائی سے چلا رہی ہے اسی حالت میں ہمارے دل میں یہ احساس ابھرتا ہے کہ ہم اس بے مثل ذات کو ہر چیز کا آقا ومولیٰ تصور کرکے، اس کی بے پناہ دانائی اور محبت پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے حضور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں۔“ جہاں تک میرے شعبے کا تعلق ہے ہم لوگ ہر چیز کو وسیع پیمانے پر دیکھنے کے عادی ہیں۔ وقت کا شمار تاریخ ارضی کے پچاس کھرب سال اکائیوں میں کرتے ہیں اور فضا کا اندازہ زمین کے محیط سے اور عمل کائنات کا اندازہ عالمی گردش سے کرتے ہیں۔ ان تمام اندازوں کی وسعت سے ناگزیر طور پر عقیدہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو انسان مذہب کا دلدادہ نہ ہو وہ بھی ان حیرت پرور اشیاء کو دیکھ کر اپنے دل میں خوف وہیبت محسوس کرتا ہے اور اسے بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ : ” آسمان خدا کی عظمت کے شاہد ہیں اور یہ کائنات اس کے کرشمۂ تخلیق کا ثبوت ہے۔“ مرلن گرانٹ سمتھ (ماہر ریاضیات وفلکیات): خدا کے بارے میں انسان کے دل میں جو سوال پیدا ہوتا ہے اس کا خالق اور مخلوق دونوں کے سامنے جواب دہی سے بڑاقریبی تعلق ہے اس لیے جواب کا فیصلہ کرنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے اگر خدا ہے تو وہ صرف ہمارا پیدا کرنے والا ہی نہیں ہے بلکہ ہمارا مالک وآقا بھی ہے اس لیے ہمیں اس کے دونوں قسم کے پسندیدہ افعال واعمال کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہئیں، یعنی ان افعال کے بارے میں بھی جن کا تعلق براہ راست خدا سے ہے اور ان کے بارے میں بھی جن کا تعلق ہمارے ہم جنس انسانوں سے ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بہت چوٹی کے اہل علم نے حال ہی میں اس بات کا بالواسطہ یا بلا واسطہ اعتراف کیا ہے کہ خدا ہے۔ میں ان میں چند اقوال یہاں پیش کرنے کی اجازت چاہتاہوں۔ مثلًا سرجیمر جینز کہتے ہیں : ” ہماری کائنات ایک بڑی مشین کے مقابلے میں ایک عظیم خیال سے زیادہ مشابہ ہے یہ بات ایک سائنسی حقیقت کی طرح نہیں بلکہ گمان کے طور پر کہتاہوں کہ یہ کائنات کسی بڑے آفاقی ذہن کی پیداوارہے جو ہمارے تمام ذہنوں سے مطابقت رکھتا ہے اور سائنس کے تصوّرات بھی اب اسی طرف اقدام کرتے نظر آتے ہیں۔“ جارج رومینس جو ایک بڑا فاضل حیاتیات ہے لکھتا ہے : ” علم نجوم کی نئی معلومات سے جن کا حصول نئی میکانیات اور ذراتی علم کی بنا پر ممکن ہوا ہے کائنات کی طبیعیاتی بلندیوں خصوصًا اس مسلسل عمل اور ردّ عمل کو دیکھ کر ہمارے دماغ چکراگئے ہیں جو وہاں نظر آرہا ہے۔ یہ تمام بلکہ ان سے اور بھی زیادہ معلومات کا حصول اس مسلسل تلاش وجستجو کامر ہون منّت ہے جو اسباب اور ان کے پس پردہ نتائج معلوم کرنے کے لیے جاری ہے۔ اسباب ونتائج کو ایک دوسرے سے جد انہیں کیا جاسکتا۔ یہ دونوں معنوی طور پر ایک وحدت ہیں۔ ہم انسان اور ہمارے گردوپیش کی دنیا سب مل کر نتائج کا ایک مجموعہ ہیں اور اس مجموعہ کی تہہ میں اس کے پس پشت ایک غیر مرئی سبب اور ازلی علّت موجود ہے جس کو میں خدا کہتاہوں۔“ [ ماخوذ از : خدا موجود ہے، چالیس سائنسدانوں کی شہادت] مسائل : 1۔ اللہ کے بندے اٹھتے بیٹھتے اور اپنے بستروں پر اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی قدرتوں پر غور و خوض کرتے ہیں۔ تفسیربالقرآن : دعوت فکر : 1۔ حق پہچاننے کے لیے آفاق پر غور کرنے کی دعوت۔ (حمٓ السجدۃ:53) 2۔ اپنی ذات پر غور وفکر کی دعوت۔ (الذاریات :21) 3۔ رات کے سکون پر غور کرنے کی دعوت۔ (القصص :72) 4۔ دن رات کے بدلنے میں غور و خوض کی دعوت۔ (المومنون :80) 5۔ شہد کی بناوٹ پر غور کرنے کی دعوت۔ (النحل :69) 6۔ ہم نے بابرکت کتاب نازل کی تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور وفکر کریں اور نصیحت حاصل کریں۔ (ص: 29) آل عمران
192 فہم القرآن : (آیت 192 سے 195) ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی یاد کا تقاضا ہے کہ انسان کی فکر کا نتیجہ مثبت ہو اور وہ اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اس کے عذاب سے پناہ اور اس کی عطاؤں کا طلب گار رہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایسے فکر وعمل کا حامل مرد ہو یا عورت اللہ تعالیٰ کسی ایک کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔ حقیقی دانشمند لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانات اور عجائبات دیکھنے کے بعد نہ صرف ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکامات کو یاد رکھتے ہیں بلکہ وہ برملا اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے خالق و مالک نے زمین و آسمان کی کسی چیز کو بھی بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی تخلیق کے مقصد کو پورا کر رہی ہے۔ اس حقیقت کے اعتراف کے بعد انہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ انسان بھی ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ مقصد اللہ تعالیٰ کی غلامی میں رہتے ہوئے دنیا میں اس کی خلافت کا حق ادا کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول میں صادر ہونے والی کمزوریوں کا احساس کرتے ہوئے انسان پکار اٹھتا ہے۔ الٰہی ! ہم نے اس مقصد کو پانے میں کوتاہی کی۔ ہماری تیرے حضور عاجزانہ التجا ہے کہ تو اپنی ناراضگی اور جہنم کی آگ سے بچائے رکھ۔ کیونکہ جو جہنم کی آگ میں داخل ہوا اس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا اور وہ ذلیل و خوار ہوجائے گا۔ اس کے بعد مومنوں کی چھ دعاؤں کا ذکر اور ان کی قبولیت کا بیان ہوتا ہے۔ ہمیں ان دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اے ہمارے رب! ہم نے تیری قدرتوں کے نشانات دیکھے! ہم نے تیرے رسول کی دعوت کو قبول کیا۔ ہم تیری ذات پر ایمان لائے کہ تو ہی ہمارا خالق‘ رازق اور مالک ہے۔ ہماری عاجزانہ درخواست ہے کہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما‘ ہمیں گناہوں اور غلطیوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ فرما اور جو تو نے اپنے انبیاء کے ذریعے اپنے بندوں کے ساتھ وعدے فرمائے وہ سب کچھ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ذلت ورسوائی سے محفوظ رکھ۔ بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ مومنوں کا کردار اور اخلاص دیکھ کر اللہ تعالیٰ اپنی شفقت و مہربانی سے جواب عنایت فرماتا ہے کہ ان کے رب نے ان کے اخلاص‘ کردار اور دعاؤں کو قبول کرلیا ہے۔ اس کا اعلان ہے کہ مرد ہو یا عورت کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرے گا۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی یا انہیں ان کے گھروں سے جبراً نکال دیا گیا میرے راستے میں انہوں نے دکھ اٹھائے‘ لڑے اور شہید ہوئے ان کے گناہوں کو ضرور معاف کیا جائے گا اور ان کے لیے باغات ہوں گے۔ جن میں نہریں جاری ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے اجر و ثواب ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے پاس بہترین عطا اور جزا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَقُوْلُ لِأَھْلِ الْجَنَّۃِ یَاأَھْلَ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُوْنَ لَبَّیْکَ رَبَّنَا وَسَعْدَیْکَ فَیَقُوْلُ ھَلْ رَضِیْتُمْ فَیَقُوْلُوْنَ وَمَالَنَا لَانَرْضٰی وَقَدْ أَعْطَیْتَنَا مَالَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ فَیَقُوْلُ أَنَا أُعْطِیْکُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ قَالُوْا یَارَبِّ وَأَیُّ شَیْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِکَ فَیَقُوْلُ أُحِلُّ عَلَیْکُمْ رِضْوَانِیْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَیْکُمْ بَعْدَہٗ أَبَدًا ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار] ” حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ جنتیوں کو فرمائے گا کہ اے جنتیو! جنتی عرض کریں گے اے ہمارے رب! ہم حاضر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم راضی ہو؟ جنتی کہیں گے ہم کیوں راضی نہ ہوں۔ کیونکہ آپ نے ہمیں وہ کچھ عطا کیا ہے جو آپ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی عطا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز دینا چاہتاہوں۔ جنتی کہیں گے اے ہمارے رب ! اس سے افضل چیز کون سی ہو سکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تم پر راضی ہوگیا ہوں اور اس کے بعد تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔“ مسائل : 1۔ جسے اللہ تعالیٰ نے آگ میں داخل کردیا وہ ذلیل ہوا اور اس کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ 2۔ نیک اعمال کرنے والی عورت ہو یا مرد اللہ تعالیٰ کسی کا عمل ضائع نہیں کرے گا۔ 3۔ اللہ کے راستے میں لڑنے‘ مرنے‘ تکلیف اٹھانے اور ہجرت کرنے والے کے گناہ معاف کر کے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ تفسیربالقرآن : اللہ تعالیٰ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرے گا : 1۔ اللہ تعالیٰ کسی کی نماز ضائع نہیں کرے گا۔ (البقرۃ:143) 2۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (آل عمران :171) 3۔ نیکو کار کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔ (التوبۃ:120) 4۔ مصلح کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔ (الاعراف :170) 5۔ نیک عمل کرنے والے کا عمل برباد نہیں ہوگا۔ (الکہف :30) 6۔ کسی مرد وزن کی نیکی ضائع نہیں ہوگی۔ (آل عمران :195) 7۔ اللہ تعالی محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (ھود: 115) 8۔ سب کو پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ (النساء: 173) آل عمران
193 آل عمران
194 آل عمران
195 آل عمران
196 فہم القرآن : (آیت 196 سے 197) ربط کلام : اپنی بادشاہی اور زمین و آسمانوں کے عبرت انگیز نشانات وآثارات کی نشاندہی‘ ان پر مومنوں کی طرز فکر اور دعاؤں کے ذکر کے بعدمومنوں کے بہتر انجام کے بیان کے ساتھ نصیحت کی جارہی ہے کہ کفار کے کرّوفر پر فریفتہ نہیں ہونا، یہ تو دنیا کی زندگی کا عارضی سامان ہے تمہیں جنت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ قرآن مجید انسان کو بار بار یہ حقیقت بتلاتا اور سمجھاتا ہے کہ دنیا اور اس کی ہر چیز عارضی، ناپائیدار اور بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔ نادان ہے وہ انسان جو اس کی زیب و زینت پر فریفتہ ہو کر اپنی زندگی کے اصل مقصد کو کھو بیٹھتا ہے۔ اس دنیا کی شادابی اور حسن و زیبائی نظر کا فریب اور دماغ کا دھوکا ہے جس کے پیچھے لگ کر آدمی اپنی دائمی زندگی اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو فراموش کرتا اور لامتناہی مستقبل کو تاریک کرکے جہنم کا خریداربن جاتا ہے۔ یہ طرز حیات ایک مومن کا نہیں بلکہ اللہ کے منکر اور باغی کا ہوا کرتا ہے۔ مسئلہ کی اہمیّت کے پیش نظر بظاہر نبی محترم (ﷺ) کو مخاطب کیا ہے لیکن حقیقتاً ایمانداروں کو تاریک مستقبل اور جہنم کی ہولناکیوں سے بچنے کا احساس دلایا گیا ہے کہ دنیا کاسروسامان اور عیش و عشرت نہایت مختصر ہے۔ لہٰذا کفار کے کرّو فر، شان و شوکت اور ان کی زندگی کی چہل پہل مومنوں کو عظیم مقصد سے غافل اور اس غلط فہمی کا شکار نہ کردے کہ شاید اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہے جس کی وجہ سے انہیں دنیا کی ترقی سے نوازا گیا ہے۔ جب کہ دنیا کی حقیقت یہ ہے : ( لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَاسَقٰی کَافِرًا مِّنْہَا شُرْبَۃَ مَاءٍ )[ رواہ الترمذی : کتاب الزھد] ” اگر دنیاکی قدرو منزلت اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو دنیا میں کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہوتا۔“ ” حضرت عبد اللہ (رض) فرماتے ہیں نبی کریم (ﷺ) ایک چٹائی پر سوئے تو آپ کے پہلو پر نشان پڑگئے۔ ہم نے عرض کی اللہ کے رسول! اگر ہم آپ کے لیے اچھا سا بستر تیار کردیں ؟ آپ نے فرمایا میرا دنیا کے ساتھ ایک مسافر جیسا تعلق ہے جو کسی درخت کے نیچے تھوڑا سا آرام کرتا ہے پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دیتا ہے۔“ [ رواہ الترمذی : کتاب الزھد] مسائل : 1۔ کفار کی ترقی اور عیش و عشرت سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ 2۔ کافروں کے لیے بالآخر جہنم ہوگی۔ آل عمران
197 آل عمران
198 فہم القرآن : ربط کلام : کفار کی شان وشوکت پر فریفتہ ہونے کی بجائے جنت کی نعمتوں پر نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو اسلام کی سربلندی‘ ذاتی کردار اور اپنی ترقی پر محنت کرنا چاہیے۔ قرآن مجید اپنے اسلوب کو برقرار رکھتے ہوئے یہاں پھر کفار کی سزا کا ذکر کرنے کے فوراً بعد مومنوں کے صلہ اور انعام کا ذکر کرتا ہے۔ تاکہ کتاب الٰہی کی تلاوت کرنے والا فوری طور پر دو کرداروں اور ان کے انجام کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی اصلاح پر غور کرے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے اجتناب اور دنیا پر فریفتہ ہونے سے بچے رہے۔ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں باغ و بہار ہیں جن میں ہر دم نہریں اور آبشاریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کو وہاں نہ مشقت ہوگی اور نہ کسی قسم کی پریشانی‘ بلکہ وہ تو ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوں گے۔ ایسے نیکو کار لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا ہی انعام و اکرام ہوگا۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی گرامی (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا جنت میں اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ تم تندرست ہی رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے، تم ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی فوت نہ ہو گے‘ تم ہمیشہ جوان رہو گے کبھی تمہیں بڑھاپا نہیں آئے گا اور تم ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے ان سے تمہیں محروم نہیں کیا جائے گا۔ یہ اللہ کا فرمان ہے کہ جنتیوں کو آواز دے کر بتایا جائے گا کہ یہ جنت ہے جس کا تمہیں وارث بنایا گیا ہے کیونکہ تم نیک اعمال کرتے تھے۔“ [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا] مسائل : 1۔ رب سے ڈرنے والوں کے لیے ہمیشہ کی جنت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوں گے۔ تفسیربالقرآن : اللہ تعالیٰ کی مہمان نوازی : 1۔ مومن جنت الفردوس میں مہمان ہوں گے۔ (الکہف :107) 2۔ مومنوں کی جنت میں مہمان نوازی ہوگی۔ (السجدۃ:19) 3۔ مہمان نوازی رب رحیم کی طرف سے ہوگی۔ (حمٓ السجدۃ:32) آل عمران
199 فہم القرآن : ربط کلام : مسلمانوں کے بعد اہل کتاب میں سے ا یمان والوں کا خصوصی ذکر اور اجر۔ اس سورت میں یہودیوں کے کردار کا ضمناً اور عیسائیوں کے کردار اور عقائد کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔ جس میں ان کے فکر و عمل کی کمزوریوں کی نشان دہی کی گئی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وضاحت فرمائی کہ اہل کتاب تمام کے تمام ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے‘ شب زندہ دار، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والے بھی ہیں۔ اس فرمان سے پہلے مومنوں کی دعاؤں کی قبولیت اور بلا امتیاز ان کو اجر و ثواب کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اب اختتام پر ضروری سمجھا گیا ہے کہ اہل کتاب کے ان لوگوں کو اطمینان دلایا جائے جو، تورات اور انجیل کے بعد قرآن مجید پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو دنیا کی حقیر اور قلیل قیمت کے بدلے فروخت کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ انہوں نے دنیا میں معمولی صلہ پانے کی بجائے آخرت کے اجر وثواب کی خاطر ایسا کیا ہے۔ جس بنا پر انہیں یہ تسلی دی گئی ہے کہ ان کا اجر ان کے رب کے ہاں محفوظ ہے۔ جوا نہیں اللہ تعالیٰ بہت جلد عطا کرنے والا ہے۔ ” حضرت عبداللہ بن قیس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا تین آدمی ہیں جنہیں دوہرا اجر ملے گا۔1 اہل کتاب میں سے جو اپنے نبی اور محمد کریم (ﷺ) پر ایمان لایا۔2 غلام جو اللہ کا حق ادا کرنے کے ساتھ اپنے مالک کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ 3 ایسا آدمی جس کے پاس لونڈی ہو اس نے اس کی اچھی تعلیم وتربیت کی پھر اسے آزاد کرکے اس کے ساتھ نکاح کرلیا۔“ [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ وأھلہ] مسائل : 1۔ اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کے لیے اللہ کے ہاں بڑا اجر ہوگا۔ 2۔ اللہ جلد حساب لینے والاہے۔ آل عمران
200 فہم القرآن : ربط کلام : جنت کی نعمتوں کے حصول اور اسلام کی سربلندی کے لیے مومنوں کو امن ہویاجنگ ہر حال میں اللہ سے ڈرنا اور ثابت قدم رہنا ہوگا۔ سورۃ کی اختتامی آیات میں کفار کی دنیاوی شان و شوکت کا بیان ہوا اور اس پر مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی کہ ہر مسلمان کو زندگی کے نشیب و فراز اور اسلام دشمنوں کے مقابلہ میں صبر و استقلال اختیار کرنا چاہیے اور اپنے مسلمان بھائی کو اس کی تلقین کرتے ہوئے ایک دوسرے سے بڑھ کر صبر و استقلال کا مظاہرہ اور باہم رابطہ رکھتے ہوئے جہاد کی تیاری کرنا چاہیے۔ مشکلات پر قابو پانے کا یہی مؤثر ذریعہ ہے کہ آدمی ایک دوسرے کی ڈھارس بندھاتے ہوئے آگے بڑھے۔ ﴿ رَابِطُوْا﴾ کا دوسرا معنی کفار کے خلاف منصوبہ بندی اور جنگی تیاری کرنا ہے اور رات کے وقت مجاہدین کی نگرانی اور حفاظت کرنے کو رباط کہا گیا ہے۔ (عَنْ سَلْمَانَ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ () یَقُوْلُ رِبَاطُ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ خَیْرٌ مِّنْ صِیَامِ شَھْرٍ وَقِیَامِہٖ وَإِنْ مَاتَ جَرٰی عَلَیْہِ عَمَلُہُ الَّذِیْ کَانَ یَعْمَلُہٗ وَأُجْرِیَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ وَأَمِنَ الْفَتَّانَ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃ] ” حضرت سلمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک دن اور رات کا پہرہ مہینہ بھر روزے رکھنے اور ان کی راتوں کا قیام کرنے سے بہتر ہے۔ اگر پہرے دار اسی حالت میں فوت ہوجائے تو جو عمل کرتا تھا اس کا اجر اسے برابر ملتا رہے گا اور اس کا رزق جاری ہونے کے ساتھ وہ آخرت کے فتنوں سے محفوظ رہے گا۔“ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : (اَلصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْأُوْلٰی) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز] ” اجر ابتداً مصیبت پر صبر کرنے پر ہے۔“ مسائل : 1۔ ایمان داروں کو خود صبر کرتے ہوئے ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنے کے ساتھ جہاد کے لیے مستعدرہنا چاہیے۔ تفسیربالقرآن : صبر کی تلقین : 1۔ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنے کا حکم۔ (آل عمران :200) 2۔ کامیاب لوگ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ (العصر :4) 3۔ صابر بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ (الزمر :10) آل عمران
0 بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ النساء مقام نزول مدینہ۔ آیات 176۔ الفاظ 335اور اس کے 24رکوع ہیں۔ ربط سورۃ: البقرہ میں مرکزی مضمون بنی اسرائیل کا کردار تھا اور اکثر مقامات میں بنی اسرائیل سے مراد یہودی ہیں۔ سورۃ آل عمران میں سر فہرست عیسائیوں کے عقیدہ و کردار پر بحث کی گئی ہے۔ سورۃ النساء میں مسلمانوں کے باہمی حقوق کے بیان کے ساتھ درج ذیل مضامین ذکر کیے گئے ہیں۔ (1) سورۃ النساء کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے ڈرنے کا حکم دینے کے بعد لوگوں کو یہ بتلایا ہے کہ تم ایک ہی جان سے پیدا کیے گئے ہو۔ اس لیے اللہ سے ڈرتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق پورے کرو۔ بالخصوص یتیموں اور عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنا پھر مالی‘ معاشرتی اور اخلاقی حدود و قیود کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ان حقوق کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچو گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل فرمائے گا۔ (2) کردار کی پاکیزگی کے بعد جسمانی طہارت کے لیے غسل‘ وضو اور تیمم کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ (3) عقیدہ کی پختگی اور اس کے نکھار کے لیے شرک سے اجتناب کرنے کا حکم دیا اور شرک کو بدترین گناہ قرار دیا ہے۔ (4) اہل کتاب کو بار بار انتباہ کرنے کے بعد وارنگ دی گئی اگر تم باز نہ آئے تو تم پر ایسا عذاب مسلط ہوگا جس سے تمہارے چہرے مسخ ہوجائیں گے۔ (5) اہل کتاب نے ہر قسم کی امانت میں خیانت کی تھی لہٰذا اس سے بچنے کے لیے امت کو امانتوں کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے۔ (6) مسلمانوں کو ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول اللہ (ﷺ) اور خلیفہ وقت کی اطاعت کرنی چاہیے خلیفہ سے اختلاف اور باہمی تنازعات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانے کا حکم دیا گیا ہے اور جو شخص اللہ کے رسول کو فیصل تسلیم نہیں کرتا اس کے ایمان کی یکسر نفی کردی گئی ہے۔ (7) مسلمانوں کو ہر حال میں اپنا بچاؤ کرنے کا حکم دیتے ہوئے جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت‘ معذورین کو رخصت دی اور مسلمانوں کو موت سے بے خوف ہونے کا تصور دیا ہے۔ (8) حالت جہاد میں کوئی کافر حلقہ اسلام میں داخل ہونے کا اعلان کرے تو اس کے اسلام قبول کرنے کا حکم دیا اور مومن کی حرمت کا حکم دیتے ہوئے اس کے قتل کی سزا بیان کی گئی ہے۔ (9) کتاب اللہ کے نازل کرنے کی غرض و غایت یہ بیان فرمائی کہ مسلمانوں کے تمام فیصلے اسی کے مطابق ہونے چاہییں۔ (10) منافقوں کی عادات اور کردار بیان کرتے ہوئے ان کا انجام ذکر کیا گیا ہے کہ وہ جہنم کے نچلے طبقے میں ہوں گے۔ (11) اہل کتاب کو شرک اور دین میں غلو کرنے سے روکا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو فقط حضرت مریم کا بیٹا اور اللہ کا رسول اور کلمہ قرار دیا ہے۔ (12) سورت کی ابتدا اخلاقی حدود کے بیان سے ہوئی اور اس کے آخر میں مالی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ النسآء
1 فہم القرآن : ربط سورۃ: سورۃ آل عمران کے اختتام میں ﴿ اِتَّقُوْا اللّٰہَ ﴾ فرما کر تقو ٰی کو مسلمانوں کی کامیابی کی ضمانت قرار دیا ہے۔﴿ اِتَّقُوْا اللّٰہَ ﴾ میں جلالت اور تمکنت پائی جاتی ہے۔ سورۃ النساء کا آغاز ﴿اِتَّقُوْا رَبَّکُمْ﴾ سے ہوتا ہے۔ اسمِ رب میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اظہار ہوتا ہے جس میں شفقت‘ الفت اور قربت کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس سورۃ میں انسانی معاشرے کے ابتدائی یونٹ کو مضبوط بنانے کے لیے اس کے بنیادی حقوق و فرائض کا بیان ہوا ہے۔ سورۃ النساء کے ابتدائی الفاظ اور کلمات میں توحید اور وحدت انسانی کا سبق دیا گیا ہے کہ جس طرح تم سب ایک ہی خالق کی مخلوق اور اسی کی ربوبیت کے مرہون منت ہو۔ اسی طرح تم ایک ہی خاندان کے افراد اور ارکان ہو جس کی ابتدا دو کی بجائے ایک سے ہوئی۔ پھر اس ایک سے دوسرے کو یعنی آدم (علیہ السلام) سے اس کی بیوی حواکو پیدا کیا گیا پھر بے شمار مرد اور عورتیں پیدا کرنے کا سلسلہ جاری فرمایا جو قیامت تک جاری رہے گا۔ اس رب سے ڈرو جو تمہارا اللہ ہے جس کی عظمت و تقدیس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے سوال اور ہمدردی کے طلبگار ہوتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے ساتھ رشتے داریوں کو توڑنے سے بھی ڈرو اور اجتناب کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر نگران کی حیثیت سے قائم دائم ہے۔ لفظ ارحام کا واحد رحم ہے۔ رسول کریم (ﷺ) نے رحم کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا۔ (إِنَّ الرَّحِمَ شَجْنَۃٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَقَال اللّٰہُ مَنْ وَصَلَکَ وَصَلْتُہٗ وَمَنْ قَطَعَکَ قَطَعْتُہٗ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب من وصل وصلہ اللّٰہ] ” رحم رحمٰن سے نکلا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رحم سے فرمایا جو تجھے ملائے گا میں اسے ملاؤں گا۔ جس نے تجھے کاٹ دیا میں اسے کاٹ دوں گا۔“ رسول اللہ (ﷺ) کا یہ بھی فرمان ہے : (لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَاطِعٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب إثم القاطع] ” رشتے داریوں کو توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ صلہ رحمی کی برکات کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرمایا کرتے تھے۔ (لَیْسَ الْوَاصِلُ بالْمُکَا فِیئ وَلٰکِنَّ الْوَاصِلُ الَّذِیْ إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُہٗ وَصَلَھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب لیس الواصل بالمکافی] ” ادلے کا بدلہ صلہ رحمی نہیں بلکہ صلہ رحمی یہ ہے کہ دوسرا آدمی صلہ رحمی نہ بھی کرے تجھے اس کا خیال رکھنا چاہیے۔“ مسائل : 1۔ لوگوں کو اپنے رب سے ڈر کر رشتے داریوں کا احترام کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کی نگرانی فرما رہا ہے۔ تفسیربالقرآن : نسل انسانی کی افزائش کے مراحل : 1۔ حضرت آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کیے گئے۔ (آل عمران :59) 2۔ حضرت حوا علیہا السلام نے آدم (علیہ السلام) سے تخلیق پائی۔ (الروم :21) 3۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور حوا علیہا السلام سے بے شمار مردوزن پید افرمائے۔ (النساء :1) 4۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو قبائل میں تقسیم فرمایا۔ (الحجرات :13) تخلیق انسان کے مختلف مراحل پارہ 14: رکوع :8 اور پارہ 18 رکوع 1 کی تفسیر میں دیکھیں۔ النسآء
2 فہم القرآن : ربط کلام : سورت کی پہلی آیت میں بنی نوع انسان کو ایک کنبہ قرار دے کر ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم دیا اب معاشرے کے پسماندہ لوگوں کے حقوق کا چھ آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ پسماندہ لوگوں میں سرِفہرست یتیم ہیں جو بلوغت سے پہلے باپ کے سہارے سے محروم ہوچکے ہوں۔ یتیم کا مال ہڑپ کرنے کے لیے اپنے مال کے ساتھ ملانے کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ ایسا کرنے والا حرام کو حلال کے ساتھ ملاتا ہے جس سے نفرت دلانے کے لیے خبیث کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ خبیث ناپاک اور گندی چیز کو کہتے ہیں۔ لفظ خبیث استعمال کرنے کا مقصد یہ ہے تاکہ پاک ذہن اور با ضمیر شخص یتیم کا مال کھانے کا تصور بھی نہ کرسکے۔ اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ جب یہ حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام (رض) نے اس پر اتنی سختی اور جلدی کے ساتھ عمل کیا کہ آپ کی محفل سے اٹھے اور گھر جانے کے بعد جن کے ہاں یتیم پرورش پا رہے تھے۔ ان کا کھانا پینا اور برتن الگ کردیے۔ جسے یتیموں نے شدّت کے ساتھ محسوس کیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ ماجرا عرض کیا۔ تب قرآن مجید میں اس کی وضاحت نازل ہوئی : ﴿وَیَسْأَلُو نَکَ عَنِ الْیَتٰمٰی قُلْ اِصْلَاحٌ لَّہُمْ خَیْرٌ وَاِنْ تُخَالِطُوْہُمْ فَاِخْوَانُکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْشَآء اللّٰہُ لَأَعْنَتَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ﴾ [ البقرۃ:220] ” اور وہ آپ سے یتیموں کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرما دیں کہ ان کی اصلاح کرنا بہتر ہے اور اگر تم انہیں اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اللہ تعالیٰ مصلح اور مفسد کو جانتا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔“ (عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () قَالَ یَاأَبَاذَرٍّ إِنِّیْ أَرَاکَ ضَعِیْفًا وَإِنِّیْ أُحِبُّ لَکَ مَاأُحِبُّ لِنَفْسِیْ لَاتَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَیْنِ وَلَاتَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیْمٍ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃ، باب کراھۃ الإمارۃ بغیر ضرورۃ] ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اے ابوذر! میں تجھے کمزور پاتاہوں اور میں تمہارے لیے وہی پسند کرتاہوں جو اپنے لیے پسند کرتاہوں، تم دو آدمیوں کے امیر نہ بننا اور نہ ہی یتیم کے مال کا والی بننا۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ خَیْرُ بَیْتٍ فِی الْمُسْلِمِیْنَ بَیْتٌ فِیْہِ یَتِیْمٌ یُحْسَنُ إِلَیْہِ وَشَرُّ بَیْتٍ فِی الْمُسْلِمِیْنَ بَیْتٌ فِیْہِ یَتِیْمٌ یُسَاءُ إِلَیْہِ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الأدب، باب حق الیتیم] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا مسلمانوں میں بہترین گھرانہ وہ ہے جس میں یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتاہو۔ مسلمانوں میں بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ بدسلوکی کے ساتھ پیش آیا جاتا ہو۔“ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِِّ () فَقَالَ لَاأَجِدُ شَیْئًا وَلَیْسَ لِیْ مَالٌ وَلِیَ یَتِیْمٌ لَہٗ مَالٌ قَالَ کُلْ مِنْ مَالِ یَتِیْمِکَ غَیْرَ مُسْرِفٍ وَلَامُتَأَثِّلٍ مَالًا قَالَ وَأَحْسِبُہٗ قَالَ وَلَا تَقِیَ مَالَکَ بِمَالِہٖ) [ ابن ماجۃ: کتاب الوصایا، باب قولہ ومن کان فقیرًا فلیأکل بالمعروف] ” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) کے پاس ایک آدمی نے آکر کہا میرے پاس کوئی مال نہیں البتہ میرے پاس ایک یتیم ہے جس کا مال بھی ہے۔ آپ نے فرمایا اپنے یتیم کے مال سے فضول خرچی اور اپنے مال کے ساتھ نہ ملاتے ہوئے اس کے مال میں سے کھالیاکر۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا اپنا مال اس کے مال کے ذریعے نہ بچانا۔“ مسائل : 1۔ یتیموں کا مال واپس کرنا چاہیے۔ 2۔ یتیموں کا مال کھانا بڑا گناہ ہے۔ تفسیر بالقرآن : یتیموں کے حقوق : 1۔ یتیم تمہارے بھائی ہیں۔ (البقرۃ:220) 2۔ یتیموں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم۔ (البقرۃ:83) 3۔ یتیموں کا مال واپس کیا جائے۔ (النساء :2) 4۔ یتیموں کا مال بلوغت کی عمر کو پہنچنے پر واپس کرو۔ (النساء :6) 5۔ یتیموں کو مال دو تو اس پر گواہ کرلو۔ (النساء :6) 6۔ یتیم کو جھڑکنے کی ممانعت۔ (الضحیٰ:9) 7۔ یتیموں کا مال کھانا بڑا گناہ ہے۔ (النساء :2) النسآء
3 فہم القرآن : ربط کلام : یتامیٰ میں بھی یتیم بچیوں کا خیال رکھنے کا حکم ہے کیونکہ یتیم لڑکا تو کسی نہ کسی طریقے سے گزارہ کرلیتا ہے لیکن یتیم بچی جائے تو کدھر جائے۔ اگر بالغ ہوجائے تو اسے تحفظ فراہم کرنے کے لیے اس سے مشروط نکاح کی ترغیب دی گئی ہے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے یتیموں کے بعض سر پرست محض اس کے مال پر قبضہ کرنے کے لیے یتیم لڑکی کے بالغ ہونے پر اس کا نکاح اپنے یا اپنے بیٹے کے ساتھ کردیتے۔ ایسا ہی واقعہ آپ کی بعثت کے بعد پیش آیا۔ (عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَجُلًا کَانَتْ لَہٗ یَتِیْمَۃٌ فَنَکَحَھَا وَکَانَ لَھَا عَذْقٌ وَکَانَ یُمْسِکُھَا عَلَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ لَّھَا مِنْ نَّفْسِہٖ شَیْءٌ فَنَزَلَتْ ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتَامٰی۔۔﴾) [ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب ﴿ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا ﴾] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں ایک آدمی کی پرورش میں ایک یتیم لڑکی تھی جس کی ملکیت میں کھجور کا ایک باغ تھا اسی باغ کی وجہ سے وہ اس کی پرورش کرتا رہا۔ حالانکہ اس کو اس سے کوئی خاص لگاؤ نہ تھا۔ اس سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی۔“ یعنی اگر تم یتیم بچیوں کے بارے میں انصاف نہیں کرسکتے تو پھر دوسری عورتوں کے ساتھ اپنی پسند کے مطابق دو دو، تین تین‘ چار چار نکاح کرسکتے ہو۔ اس میں بھی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم ان کے درمیان عدل نہیں کر پاؤ گے تو پھر ایک سے ہی نکاح کرو۔ البتہ تم لونڈیاں رکھ سکتے ہو۔ عدل و انصاف کی شرط اس لیے لگائی گئی ہے کہ کہیں تم ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ۔ (عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () یَقْسِمُ فَیَعْدِلُ وَیَقُوْلُ اللّٰھُمَّ ھٰذَا قَسْمِیْ فِیْمَا أَمْلِکُ فَلَا تَلُمْنِیْ فِیْمَا تَمْلِکُ وَلَا أَمْلِکُ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب النکاح، باب فی القسم بین النساء ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) باری تقسیم کرنے میں عدل کرتے اور یہ فرماتے تھے اے اللہ ! یہ میری تقسیم ہے جس کا مجھے اختیار ہے اور مجھے ملامت نہ کر اس میں جس کا تو مالک ہے اور کیونکہ اس پر مجھے اختیار نہیں (یعنی دل)۔“ چار بیویوں کا مسئلہ : غیر مسلموں نے قرآن مجید کے اس فرمان پر بڑے اعتراضات اور سوالات اٹھائے ہیں وہ اس آیت کی خود ساختہ تشریح کرتے ہوئے کہتے اور لکھتے ہیں کہ قرآن نے مسلمانوں کو چار بیویاں کرنے کا حکم دیا ہے حالانکہ قرآن مجید نے چار بیویاں کرنے کا حکم نہیں دیا۔ چار بیویاں کرنے کی صرف رخصت عنایت فرمائی ہے۔ اس میں بھی ہر قسم کا عدل و انصاف قائم رکھنا ضروری ہے ورنہ اسلامی حکومت ایسے شخص کا نوٹس لے سکتی ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِذَا کَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَلَمْ یَعْدِلْ بَیْنَھُمَا جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَشِقُّہٗ سَاقِطٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب النکاح، باب ماجاء فی التسویۃ بین الضرائر] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) نے فرمایا : جس آدمی کے پاس دوبیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان عدل نہ کرے۔ وہ قیامت کے دن فالج زدہ جسم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔“ قرآن مجید نے جن وجوہات کی بنیاد پر تعدّدِ ازواج کی اجازت دی ہے۔ یہ وجوہات اور ضرورت ہر دور میں رہی ہیں اور قیامت تک باقی رہیں گی۔ مردوں کو یہ اجازت عورتوں کی کفالت اور تحفظ کے لیے دی گئی ہے کیونکہ اس کے بغیر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا ناممکن ہے۔ جن قوموں نے صرف ایک بیوی رکھنے کا قانون بنا کر داشتائیں رکھنے کی اجازت دی ہے۔ ان میں بے حیائی، معصوم بچوں کا قتل، اسقاط حمل، جسمانی اور روحانی بیماریوں کی بہتات کی وجہ سے ان کا معاشرہ پرلے درجے کی آوارگی کا شکار ہوچکا ہے۔ اسلام کے اصولوں کے مطابق اگر بیویوں کے درمیان ہرقسم کا عدل و انصاف کیا جائے تو عورتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا حل بڑی عمدگی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے اس کے بغیر اس کا کوئی حل نہیں ہو سکتا۔ 1۔ افغانستان پر دس سال تک روس کا جنگ مسلط کرنا بعد ازاں افغانستان اور عراق پر امریکی حملہ جس میں دونوں مسلمان ملکوں کے کم از کم پندرہ سے بیس لاکھ مرد شہید ہوئے جس کی وجہ سے ان ملکوں میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں چار گنا زیادہ ہوچکی ہیں۔ جنگی اور ہنگامی حالات کی بناء پر مرد کو چار بیویاں رکھنے کی رخصت دی گئی۔ 2۔ شرح پیدائش کے اعتبار سے عورتوں کی کثرت خاص کر قرب قیامت عورتوں کا زیادہ ہونا ہے۔ 3۔ ٹریفک حادثات میں عورتوں کے مقابلے میں مردوں کا زیادہ ہلاک ہونا کیونکہ عورتوں کی نسبت مرد زیادہ سفر کرتے ہیں۔ 4۔ جنسی طاقت کی بنیاد پر مرد کو اجازت دینا تاکہ بے شرمی رواج پانے کی بجائے شرم و حیا کا تحفظ ہو سکے۔ 5۔ پہلی بیوی کے بانجھ ہونے کی صورت میں یا نرینہ اولاد کی خواہش میں دوسری شادی کی ضرورت ہونا۔ 6۔ یاد رکھیے نکاح کا مقصد شہوت زنی نہیں تفصیل کے لیے النساء آیت ٩٤ کی تشریح ملاحظہ فرمائیں۔ رسول محترم (ﷺ) اور اُمہات المؤمنین : رسول معظم (ﷺ) کی ذات اطہر پر وہی شخص اعتراض کرنے کی جسارت کرسکتا ہے جو منکر نبوت اور جاہل ہو کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے تھے۔ اللہ کا حکم آنے سے پہلے جہاں کہیں آپ نے کسی مسئلہ میں استدلال فرمایا اگر وہ شریعت کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوراً اس کی تردید یا تصحیح کردی گئی۔ ایک منصف مزاج شخص کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ دیانتداری کے ساتھ مذکورہ بالا اصول پر غور کرے اور آپ کی حیات مبارکہ کا وہ دور دیکھے۔ جب آپ پچیس سال کے جوان رعنا تھے‘ صحت اور حسن و جمال کے حوالے سے پوری دنیا میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ آپ کو روکنے اور سمجھانے والے والدین بھی سر پر موجود نہیں تھے۔ آپ کی شرم و حیا، دیانت و امانت عرب میں ضرب المثل تھی۔ شادی کا وقت آیا تو آپ نے اپنے سے پندرہ سال بڑی ایک ایسی عورت کے ساتھ نکاح کیا جس کے دو خاوند پہلے فوت ہوچکے تھے۔ پھر اسی ایک کے ساتھ پچیس سال کا عرصہ گزارا تاآنکہ حضرت خدیجہ (رض) دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ ان کے بعد حضرت سودہ (رض) سے نکاح کیا جو معمّر عورت تھی۔ جب وہ آپ کے گھر آئیں تو اس وقت آپ کی عمر مبارک 54سال ہوچکی تھی۔ حضرت سودہ (رض) کے بعد حضرت عائشہ سے 2؁ ھجری میں نکاح کیا۔ آپ نے پچپن سال میں حضرت حفصہ (رض) کے ساتھ اور اسی سال کے آخر میں حضرت زینب (رض) کے ساتھ، 4؁ ہجری میں حضرت اُمّ سلمہ (رض) آپ کے نکاح میں آئیں، 5؁ہجری حضرت زینب بنت جحش (رض) کے ساتھ 6؁ ہجری میں، حضرت جویریہ (رض) 7؁ ہجری میں، حضرت ام حبیبہ (رض) اور 7؁ھجری کے آخر میں حضرت صفیہ (رض) اور حضرت میمونہ (رض) کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا۔ مزید وضاحت کے لیے سیرت رحمۃ اللعالمین کا مطالعہ فرمائیں۔ مسائل : 1۔ بیک وقت چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے۔ 2۔ انصاف نہ کرسکے تو صرف ایک بیوی رکھنی چاہیے۔ النسآء
4 فہم القرآن : ربط کلام : عورتوں کے اخلاقی‘ ازدواجی حقوق بیان کرنے کے بعد ان کا حق مہر اور مالی حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ان کے معاشی تحفظ کے ساتھ شخصی وقار میں اضافہ ہوجائے۔ اسلام سے پہلے عورتوں پر یہ ظلم بھی ہوتا تھا کہ انہیں حق مہر سے محروم کردیا جاتا اس ظلم کی چار شکلیں تھیں۔ 1۔ یتیم اور کمزور گھرانوں کی بچیوں کا سرے سے حق مہر مقرر ہی نہیں کیا جاتا تھا۔ 2۔ بعض دفعہ عورت کا ولی حق مہر خود ہی کھا جاتا تھا۔ 3۔ حق مہر مقرر کرنے کے باوجود عورت کو حق مہرنہ دیا جاتا یا ادا کرنے میں کئی کئی سال اجتناب کیا جاتا۔ تاآنکہ عورت کے مطالبہ پر میاں بیوی کے درمیان تلخیاں پیدا ہوجاتیں۔ 4۔ خاوند ایسا رویّہ اختیار کرتا جس سے مجبور ہو کر عورت اپنا حق مہر چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتی تھی۔ قرآن مجید نے ﴿ نِحْلَۃً﴾ کا لفظ استعمال فرما کر اس بات کی طرف واضح اشارہ کیا ہے کہ حق مہر دل کی خوشی اور رغبت کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔ حق مہر خاوند کی طرف سے بیوی کے لیے شب زفاف کا تحفہ اور محبت کا اظہار ہے۔ اس سے آدمی کو پہلے دن ہی ازدواجی زندگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اگر کوئی عورت اپنی خوشی سے حق مہر خاوند کو معاف کر دے تو خاوند کو چاہیے کہ وہ اس انداز سے اسے استعمال کرے۔ جس سے اس کی استغناء ظاہر ہوتی ہو۔ ایسا کرنے سے آدمی ہلکے پن اور لالچی ہونے کے الزام سے بچ جائے گا۔ بصورت دیگر عورت کی نظر میں خاوند کا ہلکا پن اور اس کے لالچی ہونے کا شبہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ جس کے لیے یہ ہدایت فرمائی کہ اسے کھاؤ مگر خوشگوار طریقے کے ساتھ۔ حق مہر کا تعیّن : لڑکے اور لڑکی کے نکاح کی صورت اس وقت ہی پیش آتی ہے جب دونوں خاندانوں کے درمیان قربت اور مودّت پیدا ہوجائے۔ اس قربت اور مودّت کو آگے بڑھانے اور دونوں خاندانوں اور افراد کو مالی بوجھ سے بچانے کے لیے شریعت نے اپنی طرف سے حق مہر کا تعین کرنے کی بجائے لڑکے، لڑکی اور اس کے ولی پر معاملہ چھوڑ دیا ہے۔ اب ان کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مالی استعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے خوشگوار ماحول اور باہمی رضا مندی سے حق مہر کا تعین کریں۔ اس لیے حدیث کے مقدس ریکارڈ میں بیوی کو چند آیات حفظ کروانے سے لے کر حق مہر میں بھاری رقم دینے کا ثبوت ملتا ہے۔ قرآن مجید نے حق مہر کے لیے ﴿قِنْطَاراً﴾ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنیٰ خزانہ ہے۔ اس سے مراد کثیر رقم ہے۔ لہٰذا جو علماء شرعی حق مہر 32 روپے یا اپنی طرف سے کسی قسم کی رقم کا تعین کرتے ہیں۔ دین میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا بلکہ یہ عورت پر زیادتی کرنے کے مترادف ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) چند صحابہ (رض) میں تشریف فرما تھے ایک عورت نے اپنے حالات سے مجبور ہو کراپنے آپ کو نکاح کے لیے آپ کی خدمت میں پیش کیا آپ (ﷺ) خاموش رہے۔ اتنے میں ایک شخص عرض کرنے لگا اگر آپ آمادہ نہیں تو میں اس عورت کے ساتھ نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں۔ رسول اللہ (ﷺ) فرماتے ہیں کہ تیرے پاس حق مہر کے لیے کچھ ہے؟ اس نے عرض کیا یہ چادر جو میں نے لپیٹ رکھی ہے اس کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں۔ فرمایا کہ چادر اپنے پاس رکھو اور حق مہر کے لیے لوہے کی انگوٹھی ہی لے آؤ۔ کوشش کے باوجود اسے انگوٹھی بھی میسر نہ ہوسکی۔ وہ خالی ہاتھ واپس آیا۔ آپ پوچھتے ہیں کہ تجھے قرآن مجید یاد ہے؟ تو اس نے عرض کی کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ سورتیں حق مہر کے طور پر اپنی بیوی کو یاد کروا دینا۔ [ بخاری : کتاب النکاح، باب تزویج المعسر] ایک دفعہ امیر المومنین حضرت عمر (رض) نے خطبہ جمعہ میں فرمایا : ( أَلَا لَاتُغَالُوْا صَدْقَۃَ النِّسَاءِ فَإِنَّھَا لَوْ کَانَتْ مَکْرُمَۃً فِی الدُّنْیَاأَوْ تَقْوٰی عِنْدَ اللّٰہِ لَکَانَ أَوْلَاکُمْ بِھَا نَبِیُّ اللّٰہِ () مَاعَلِمْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ () نَکَحَ شَیْئًا مِّنْ نِّسَائِہٖ وَلَاأَنْکَحَ شَیئًا مِنْ بَنَاتِہٖ عَلٰی أَکْثَرَ مِّنْ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ أُوْقِیَّۃً) [ رواہ الترمذی : کتاب النکاح، باب منہ ] ” خبردار! عورتوں کے حق مہر بڑھا چڑھا کر مقرر نہ کیا کرو۔ اگر یہ بات عظمت اور تقو ٰی کا باعث ہوتی تو رسول کریم (ﷺ) اس کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کی کسی بیوی یا بیٹی کا حق مہر بارہ تولے چاندی سے زیادہ نہیں تھا۔“ حضرت عمر (رض) کے فرمان کا مقصد حق مہر میں اعتدال قائم رکھنے کی طرف توجہ دلانا تھا۔ اس کے باوجود کسی شخص کو عورتوں کے حق مہر کی رقم متعین کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اسی لیے حضرت عمر کے خطبہ کے دوران ایک عورت نے کہا تھا کہ امیر المومنین آپ حق مہر کی رقم مقرر نہیں کرسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قنطار کا لفظ استعمال فرما کر حق مہر کے مسئلہ کو کھلا چھوڑ دیا ہے۔ اگر کوئی آدمی حق مہر میں خزانہ بھی دینا چاہے تو کوئی حرج نہیں امیر المومنین نے اس عورت کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا کہ عورت کو مسئلہ یادرہا اور مجھ سے خطا ہوئی۔[ عون المعبود] مسائل : 1۔ عورتوں کے حق مہر ادا کرنے چاہییں عورت خود معاف کر دے تو اسے اچھے طریقے سے کھانا چاہیے تھا۔ 2۔ حق مہر مقرر کرتے وقت اعتدال قائم رکھنا چاہیے۔ النسآء
5 فہم القرآن : (آیت 5 سے 6) ربط کلام : سابقہ فرامین میں یتامیٰ اور عورتوں کے مالی حقوق کی ادائیگی کا حکم تھا۔ اب فرمایا کہ یتیموں کو ان کا مال واپس لوٹاتے ہوئے اچھی طرح اندازہ کرلو کہ کہیں وہ ناتجربہ کاری یا صغر سنی کی وجہ سے اپنا مال ضائع نہ کربیٹھیں۔ قرآن مجید نے دوسری آزمائشوں کے ساتھ مال کو بھی آدمی کے لیے ایک بڑی آزمائش اور فتنہ قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رزق حلال کو اللہ تعالیٰ کا فضل‘ نعمت‘ زندگی کا لازمہ اور اسے تقویت کا باعث ٹھہرایا ہے۔ یتیموں کے لیے بالخصوص مال سہارا اور تقویت کا باعث ہوتا ہے کیونکہ عام طور پر ان کا کمانے والا کوئی نہیں ہوتا بلکہ ان کی جائیداد کا بھی کوئی دوسرا نگران ہوتا ہے۔ یہاں یتیموں کے سر پرست کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ ان کے مال کو اپنا تصور کرتے ہوئے اس کی حفاظت اور نگرانی کرے اور جب تک یتیم میں فہم و شعور اور مال سنبھالنے کی صلاحیت پیدا نہ ہو۔ اس وقت تک ان کا سرپرست ان کے مال سے ان کے کھانے پینے اور پہننے کا انتظام کرتا رہے۔ ان کی طرف سے اگر کوئی مطالبہ یا غلط فہمی پیدا ہو تو نہایت محبت اور پیار کے ساتھ ان کو بہلاتا اور سمجھاتا رہے۔ یہاں تک کہ یتیم اپنا مال سنبھالنے کے قابل ہوجائے۔ یتیموں کے لیے ناسمجھ کا لفظ دو وجہ سے استعمال ہوا ہے۔ ایک تو یہ مال کی حفاظت اور اس کو استعمال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نو عمر اور یتیم ہونے کی وجہ سے یہ لوگوں کے پروپیگنڈہ کا شکار ہو کر اپنے سر پرست اور خیر خواہ سے اکثر بدظن ہو کر مال واپس لے کر اسے ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے : (أَلَا مَنْ وَلِیَ یَتِیْمًا لَہٗ مَالٌ فَلْیَتَّجِرْ فِیْہِ وَلَا یَتْرُکْہٗ حَتّٰی تَأْکُلَہٗ الصَّدَقَۃُ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزکاۃ، باب ماجاء فی الزکاۃ من مال الیتیم] ” خبردار! جو کسی یتیم کا سرپرست بنے اور یتیم کے پاس مال ہو تو وہ اس کے مال کو کارو بار میں لگائے۔ کہیں آہستہ آہستہ زکوٰۃ سے اس کا مال ختم نہ ہوجائے۔“ یتیموں کے مال کی حفاظت کے پیش نظر یہ اصول بھی قائم فرمایا کہ جب تک وہ بالغ نہ ہوجائیں اور ان میں مالی معاملات سمجھنے کی کچھ نہ کچھ صلاحیت پیدا نہ ہوجائے۔ ان کا مال اس وقت تک نہیں لوٹانا چاہیے جب وہ شعور کو پہنچ جائیں تو انہیں ان کا مال لوٹاتے ہوئے اس پر گواہ بنالینے چاہییں تاکہ جس آدمی نے سر پرستی کی صورت میں ان کی خدمت کی ہے وہ ہر قسم کے الزامات سے محفوظ رہ سکے۔ سر پرست کو یہ حکم بھی دیا کہ اگر وہ امیر ہے تو یتیموں کے مال کی نگرانی اور سرپرستی کے عوض ان کے مال سے کچھ نہ لے اور اگر اس کی اپنی گزران تنگ ہے تو مناسب طریقے سے اس میں سے کھا سکتا ہے۔ یتیم اور ان کے سرپرست کو ہر دم خیال رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے حساب و کتاب کو خوب جانتا ہے اور اس کے ہاں تمام معاملات لکھے اور پیش کیے جاتے ہیں اور قیامت کے دن پائی پائی کا حساب لے گا۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے مال کو لوگوں کے لیے استحکام کاذریعہ بنایا ہے۔ 2۔ یتیموں سے نرم لہجے میں پیش آنا چاہیے۔ 3۔ یتیموں کا مال کھانا منع ہے۔ 4۔ یتیموں کو آزمانے اور ان میں سمجھداری دیکھنے کے بعد ان کا مال ان کے سپرد کرنا چاہیے۔ 5۔ یتیموں کا کفیل مالدار ہو تو اسے ان کے مال سے کچھ نہیں لینا چاہیے۔ 6۔ یتیموں کا کفیل تنگ دست ہو تو معروف طریقے سے ان کے مال میں سے کھا سکتا ہے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کا حساب لینے کے لیے کافی ہے۔ النسآء
6 النسآء
7 فہم القرآن : (آیت 7 سے 10) ربط کلام : پہلے عورتوں اور یتیموں کے مالی اور سماجی حقوق کے تحفظ کا حکم دیا۔ اب قانون وراثت کے ذریعے سب کے مالی حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ قبل از اسلام اور آج بھی دنیا میں تقسیم وراثت کے بارے میں چار قانون نافذ العمل ہیں۔ 1۔ عورتوں کو مالی حقوق سے یکسر محروم رکھنا۔ 2۔ خاوند فوت ہونے کے بعد بیوہ اور بیٹیوں کو متروکہ جائیداد سے خارج کردینا۔ 3۔ باپ کے فوت ہونے کے بعد صرف بڑے بیٹے کو وراثت کا حقدار ٹھہرانا۔ 4۔ باپ کی وراثت میں صرف بیٹوں کا ہی حق دار قرار پانا۔ اسلام نے اس استحاصل کو یکسر ختم کر کے حکم دیا کہ مرد ہو یا عورت‘ چھوٹا ہو یا بڑا جو اس کے والدین اور اقرباء چھوڑ جائیں اس میں شریعت کے مقرر کردہ قریبی رشتہ داروں کا حصہ ہے۔ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ حصہ ہر کسی کو ملنا چاہیے۔ اخلاقی قدروں کا خیال رکھتے ہوئے یہ بھی حکم دیا کہ تقسیم کے وقت غریب رشتہ دار‘ یتیم اور مسکین اگر موجود ہوں وہ جائیداد میں حصہ دار تو نہیں لیکن انہیں کھانے پینے کے لیے کچھ ضرور دینا چاہیے۔ ان کی حاضری کو گراں سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ منفی رویہ اختیار کرنے کے بجائے ان کے ساتھ مروّت اور اچھے انداز میں گفتگو کی جائے۔ اس کے بعد فوت ہونے والوں کو تلقین فرمائی کہ وہ مرنے کے قریب اس طرح شاہ خرچ نہ بنیں جس سے ان کے چھوٹے چھوٹے بچے مالی طور پر کنگال ہوجانے کی وجہ سے دوسروں کے دست نگر ہوجائیں۔ کچھ مفسّرین نے یہ حکم میّت کے لواحقین پر لاگو کیا ہے کہ انہیں یتیموں کے ساتھ تلخ رویّہ اور ان کے مال میں زیادتی کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ اگر وہ اپنے بچوں کو اس حالت میں چھوڑ جائیں تو ان کے کیا احساسات ہوں گے؟ لہٰذا یتیموں کے ساتھ گفتگو نہایت نرم اور محبت آمیز لہجہ میں کرنا چاہیے۔ وراثت کا مسئلہ شروع کرنے سے پہلے ایک مرتبہ پھر یتیموں کے بارے میں حکم دیا ہے کہ ان کا مال ظلم کے ساتھ نہ کھاؤ۔ یہ کھلم کھلا پیٹ میں آگ کے انگارے ڈالنے کے مترادف ہے۔ یتیم کا مال کھانے والے عنقریب جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے۔ وہاں ان کے آگے پیچھے اور اوپر نیچے آگ ہی آگ ہوگی۔ حضرت سعدبن ابی وقاص (رض) فتح مکہ کے موقع پر سخت بیمار ہوئے۔ انہوں نے رسول کریم (ﷺ) سے عرض کی کہ میرے پاس بہت سا مال ہے ایک بیٹی کے علاوہ کوئی وارث نہیں۔ میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے انہیں اجازت عنایت نہ فرمائی۔ پھر انہوں نے نصف کی اجازت طلب کی۔ آپ نے اس کی بھی اجازت نہ دی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی اجازت مانگی تو آپ نے یہ فرماکر اجازت دی کہ یہ بھی زیادہ ہے۔ اپنی اولاد کو مال دار چھوڑناان کو محتاج چھوڑنے سے کہیں بہتر ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الفرائض، میراث البنات] مسائل : 1۔ مردوں کے لیے ان کے والدین اور اقرباء کے ترکہ میں حصہ ہے۔ 2۔ عورتیں بھی اپنے والدین اور اقرباء کی وراثت میں حصے دار ہیں۔ 3۔ وراثت تقسیم کرتے وقت یتیموں اور مسکینوں کو کچھ نہ کچھ کھلانا پلانا چاہیے۔ 4۔ وراثت کے بارے میں واضح ہدایت دینا چاہیے۔ 5۔ یتیموں کا مال زیادتی کے ساتھ کھانے والے آگ کے انگارے نگلتے ہیں۔ 6۔ یتیموں کا مال کھانے والے جہنم میں داخل ہوں گے۔ النسآء
8 النسآء
9 النسآء
10 النسآء
11 فہم القرآن : (آیت 11 سے 12) ربط کلام : گزشتہ مضمون سے پیوستہ۔ اس آیت کا شان نزول حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی محترم (ﷺ) کے ساتھ ہمارا گزر ایک بازار میں ہوا۔ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رسول کریم (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگی کہ اے اللہ کے رسول! یہ ثابت بن قیس (رض) کی بچیاں ہیں جو غزوۂ احد میں شہید ہوچکے ہیں۔ ان کا چچا ان کی میراث پر قبضہ کرچکا ہے اب ان کے لیے کچھ باقی نہیں بچا۔ اس معاملہ میں آپ کیا حکم صادر فرماتے ہیں؟ اللہ کی قسم! اگر وراثت واپس نہ ہوئی تو ان لڑکیوں کے ساتھ کوئی شخص نکاح کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ نازل فرمائیں گے۔ اس کے بعد یہ فرمانِ الٰہی نازل ہوا۔[ رواہ ابوداؤد کتاب الفرائض] اس میں نہایت مختصر مگر کھول کر بیان کردیا گیا ہے کہ مرنے والے کے بعد اس کی جائیداد کا وارث کون کون اور کس حساب سے ہوگا؟ اس میں بیک وقت موروثی معاملات کو نمٹانے کے ساتھ محروم طبقات کا تحفظ، جاگیر داری نظام کا خاتمہ اور دولت کو چند ہاتھوں میں مرکوز ہونے کی بجائے اس کی اس طرح تقسیم کردی گئی ہے کہ ” حقدار راحق رسید“ کا قانون منہ بولتا دکھائی دیتا ہے۔ جائیداد کی تقسیم کا فارمولہ مرد کے بجائے عورت کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ کیونکہ حکم ہے ﴿ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ جس میں عورت کے مالی حقوق کو فوقیت دی گئی ہے۔ یہی حکمت اس سورۃ مبارکہ کے نام ” النساء“ سے معلوم ہوتی ہے تاکہ عورتوں کے اخلاقی‘ معاشی اور معاشرتی حقوق نمایاں کیے جائیں۔ وراثت کی تقسیم سے قبل تین بنیادی باتوں کو پیش نگاہ رکھنا چاہیے ان سے پہلے وراثت تقسیم کرنا جائز نہیں۔ فوت ہونے والے کے کفن دفن کا انتظام کرنا، اس کے ذمہ قرض ہو تو وراثت سے اس کی ادائیگی کا اہتمام کرنا۔ مرنے والے نے اگر شریعت کی حدود میں رہ کر اپنے مال کے بارے میں صدقہ کرنے کی وصیت کی ہو تو اس پر عمل درآمدکرانا ورثاء پر ضروری ہے کیونکہ اس فرمان سے پہلے عورتوں کے حقوق اور ان کے بارے میں عدل وانصاف کی تاکید کی گئی ہے۔ اس سے ان لوگوں کا پروپیگنڈہ بے وجہ ثابت ہوتا ہے جس میں یہ تأثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حاکم بدہن اسلام نے عورت کے مالی حقوق کا چنداں خیال نہیں کیا۔ حالانکہ تعمق نگاہی سے دیکھا جائے تو اسلام ہی فقط ایک دین ہے جس میں عورتوں کو اخلاقی، سماجی اور خاندانی اعتبار سے تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان کے مالی حقوق کا پورا اور مکمل خیال رکھا گیا ہے۔ اسلام کے قانون وراثت کے تحت بسا اوقات ایک عورت مختلف انداز میں تین رشتوں سے اپنا حصہ وصول کرتی ہے اس کے باوجود عورتوں کو ان کے حق سے محروم رکھنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جہیز کے بہانے اس کو اصل وراثت سے محروم کرنا بالخصوص یتیم بچیوں کو اپنی سرپرستی میں اس لیے لینا کہ شادی کے بعد ان کی جائیداد پر قبضہ کرنا آسان ہو۔ بعض لوگ ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں کہ جس سے وراثت میں حصہ دار بہنیں باہمی تلخی کے خوف اور بھائیوں سے تعلقات استوار رکھنے کی خواہش میں اپنا حصہ معاف کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ ایسی معافی سے قانون کے نفاذ سے تو بچا جاسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں سرخروئی حاصل کرنا مشکل ہوگی۔ قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعدورثاء میں تقسیم : (1) اولاد (2) والدین (3) خاوند (4) زوجہ (5) بہن بھائی۔ اولاد : 1۔ لڑکیاں لڑکے ملے جلے ہوں تو لڑکے کو لڑکی کے حصے سے دوگنا ملے گا ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ۔۔ 2۔ صرف لڑکیاں دو سے زیادہ ہوں تو ان کو کل مال کا دو تہائی ملے گا۔ ﴿فَإِنْ کُنَّ نِسَاءً فَوْقَ۔۔ 3۔ اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہی ہو تو کل مال کا نصف اسے ملے گا۔ ﴿وَإِنْ کَانَتْ وَاحِدَۃً۔۔ والدین : 1۔ میت کے والدین بھی ہوں اور اولاد بھی تو ماں باپ دونوں کو چھٹا چھٹا حصہ ملے گا۔ ﴿وَلِأَبَوَیْہِ لِکُلِّ۔۔ 2۔ میت کے والدین ہوں اور اولاد نہ ہو تو ماں کو کل مال کا تیسرا حصے ملے گا۔ ﴿فَإِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلَدٌ وَّوَرِثَہٗ 3۔ وارثوں میں میت کے والدین کے ساتھ اولاد تونہ ہو لیکن دوسے زیادہ بہن بھائی ہوں تو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا (باقی باپ کو)۔ ﴿فَإِنْ کَانَ لَہٗ إِخْوَۃٌ۔۔ (یا اس کو درج ذیل طریقہ کے مطابق سمجھیں ) صرف ماں کے حصے : 1۔ میت کی اولاد ہو (صرف مذکر کی شرط ہے) تو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا۔ ﴿وَلِأَبَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ۔۔ 2۔ میت کی اولاد نہ ہو تو ماں کو تیسراحصہ ملے گا۔ ﴿فَإِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلَدٌ۔۔ صرف باپ کے حصے : 1۔ میت کی اولاد ہو تو باپ کو کل مال کا چھٹا حصہ ملے گا۔ ﴿وَلِأَبَوَیْہِ لِکُلِّ۔۔ 2۔ میت کی اولاد نہ ہو تو باپ عصبہ کی صورت میں باقی ماندہ مال لے گا۔ ﴿فَإِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلَدٌ۔۔ 3۔ جب میت کی بیٹی، پوتی وغیرہ نیچے تک کوئی موجود ہو تو باپ صاحب فرض اور عصبہ ہونے کے لحاظ سے وارث بنے گاْ۔ خاوند : 1۔ بیوی کی اگر کوئی اولاد اس خاوند سے یا پہلے کسی خاوند سے نہ ہو تو خاوند کو کل ترکے کا نصف ملے گا۔ ﴿وَلَکُمْ نِصْفُ مَاتَرَکَ أَزْوَاجُکُمْ۔۔ 2۔ اگر بیوی کی اس سے یا پہلے خاوند سے کوئی اولاد ہو تو خاوند کو اس کے کل ترکے سے چوتھا حصہ ملے گا۔ ﴿فَإِنْ کَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ۔۔ بیوی : 1۔ خاوند کی اگر کوئی اولاد نہ ہو تو بیوی کو کل مال کا چوتھا حصے ملے گا۔ ﴿وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا۔۔ 2۔ خاوند کی اگر کوئی اولاد ہو تو بیوی کو کل مال کا آٹھواں حصہ ملے گا۔ ﴿فَإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ۔۔ بہن، بھائی : 1۔ میت کی اولاد در اولاد اور باپ دادا وغیرہ نہ ہوں اور ماں کی طرف سے ایک بہن یا ایک بھائی وارث بن رہا ہو تو اسے کل مال کا چھٹا حصہ ملے گا مذکر و مونث کی تمیز نہ ہوگی۔ ﴿وَإِنْ کَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ کَلَالَۃً۔۔ 2۔ میت کی اولاد در اولاد اور باپ دادا وغیرہ نہ ہوں اور ماں کی طرف سے بہن بھائی یا ایک سے زیادہ ہوں تو ان تمام کو کل مال کا تیسرا حصہ دیا جائے گا، مذکر و مونث اس میں برابر کے حصہ دار ہوں گے۔ ﴿فَإِنْ کَانُوْا أَکْثَرَ مِنْ۔۔ نوٹ : 1۔ اولاد ہونے کی صورت میں پوتے پوتی کو کچھ نہ ملے گا۔ 2۔ باپ کی موجودگی میں دادا کو کچھ نہ ملے گا اگر باپ نہیں تو دادا باپ والا حصہ لے گا۔ 3۔ صرف اولاد یا صرف باپ یا اولاد اور باپ کی موجودگی میں میت کے بہن بھائی کو کچھ نہیں ملے گا۔ 4۔ صرف باپ یا ماں باپ کی طرف سے بہن بھائیوں کی وراثت کا بیان سورۃ کی آخری آیت میں آئے گا۔ مسائل : 1۔ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ 2۔ صرف لڑکیاں ہوں اور دو سے زیادہ ہوں تو انہیں دو تہائی دیا جائے گا۔ 3۔ صرف ایک لڑکی وارث ہونے کی صورت میں اسے آدھا مال ملے گا۔ 4۔ میت کے متروکہ مال میں ماں باپ میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہوگا۔ 5۔ میت کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں اس کی ماں تیسرے حصے کی وارث ہوگی۔ 6۔ مرنے والے کے بہن بھائی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ ہوگا۔ 7۔ فوت ہونے والی بیوی کی اولاد نہ ہو تو خاوند کو نصف حصہ ملے گا۔ 8۔ مرنے والی کی اولاد ہو تو خاوند کا چوتھا حصہ ہوگا۔ 9۔ آدمی کی اولاد نہ ہو تو اس کی بیوی کو چوتھا حصہ ملے گا۔ 10۔ فوت ہونے والے کی اولاد ہو تو اس کی بیوی کا آٹھواں حصہ ہوگا۔ 11۔ فوت ہونے والے مرد یا عورت کی اولاد، ماں باپ اور دادی دادا نہ ہوں تو بھائی اور بہن (ماں جائے) ہونے کی صورت میں ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ 12۔ کلالہ کے بہن بھائی (ماں جائے) زیادہ ہوں تو وہ تیسرے حصے کے حق دار ہوں گے۔ 13۔ یہ تقسیم کفن دفن اور قرض کی ادائیگی اور میت وصیت پر عمل کرنے کے بعد ہوگی۔ النسآء
12 النسآء
13 فہم القرآن : (آیت 13 سے 14) ربط کلام : ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے میراث کے احکام کو اپنی حدود قرار دینے کے بعداسکے ماننے والوں کو جزا اور نہ ماننے والوں کو سزا سنائی ہے۔ ان آیات میں ماں باپ، اولاد اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے درمیان میّت کی چھوڑی ہوئی متروکہ جائیداد کی وراثت کے بارے میں اصول متعین کر کے انہیں میت کا وارث بنایا گیا۔ لیکن حدیث میں کچھ جرائم کے مرتکب افراد کو بعض حالتوں میں وراثت سے محروم کردیا گیا ہے۔ جن میں سر فہرست مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا یعنی ایک آدمی پہلے کافر تھا اب مسلمان ہوا لہٰذانئے دین میں شامل ہونے کی وجہ سے دوسرے دین کے حامل کا وارث نہیں ہوسکتا۔ اس کے برعکس اگر ایک شخص پہلے مسلمان تھا بد قسمتی سے عیسائی‘ یہودی یا کسی اور مذہب میں داخل ہوگیا تو وہ بھی وراثت کا حقدار نہیں ہو سکتا۔ [ رواہ البخاری : کتاب الفرائض] 1۔ باپ کا قاتل بیٹا ہو یا بیٹی وہ وراثت سے محروم ہوجائیں گے۔ 2۔ قاتل اگر مقتول کی وراثت میں حصہ دار ہے تو قتل عمد کی صورت میں وہ بھی اپنے حصہ سے محروم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی حدود کے بارے میں رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے : (إِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَایَعْلَمُھُنَّ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُھَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَعِرْضِہٖ وَمَنْ وَقَعَ فِی الشُّبُھَاتِ وَقَعَ فِی الْحَرَامِ کَالرَّاعِیْ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ أَنْ یَّرْتَعَ فِیْہِ أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہٗ أَلَا وَإِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَإِذَ فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ أَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ ) [ رواہ مسلم : کتاب المساقاۃ، باب أخذ الحَلال وترک الشبھات] ” یقیناً حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی ان کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے جو شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں واقع ہوا وہ حرام میں داخل ہوگیا۔ یہ اس چرواہے کی طرح ہے جو چراگاہ کے قریب جانور چراتا ہے ہوسکتا ہے وہ جانور چراگاہ میں چرنا شروع ہوجائیں۔ خبردار! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو! یقیناً جسم میں ایک ٹکڑا ہے جب وہ ٹھیک ہو تو سارا جسم درست ہوتا ہے اور جب وہ فاسد ہو تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے یاد رکھنا! وہ دل ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی حدود کا خیال رکھنے والے کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ در حقیقت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے۔ دنیا میں اس نے اللہ کی رضا کے لیے اپنی لذّت اور مفاد کو چھوڑا۔ آخرت میں اس کا بدلہ جنت ہے جس میں نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی جس نے حدود اللہ کا لحاظ اور احترام نہ رکھا وہ حقیقت میں باغی انسان ہے جس کو جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں جھونکا جائے گا۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ اس کو اذیتّ ناک اور ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا۔ تاہم رسول اللہ (ﷺ) نے حدود اللہ اور کبیرہ گناہ کے بارے میں یہ صراحت فرمائی ہے کہ موحّد ہونے کی صورت میں تزکیہ یعنی سزا بھگتنے کے بعد اسے جنت میں داخل کردیا جائے گا : (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ یَدْخُلُ أَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ وَأَھْلُ النَّار النَّارَ ثُمَّ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی أَخْرِجُوْا مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ مِّنْ إِیْمَانٍ فَیُخْرِجُوْنَ مِنْھَا قَدِ اسْوَدُّوْا فَیُلْقَوْنَ فِیْ نَھْرِ الْحَیَاۃِ فَیَنْبُتُوْنَ کَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّۃُ فِیْ جَانِبِ السَّیْلِ أَلَمْ تَرَ أَنَّھَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِیَۃً) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب تفاضل أھل الإیمان فی الأعمال] ” حضرت ابو سعید خدری (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ جنت والے جنت اور جہنم والے جہنم میں داخل ہوجائیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آگ سے ہر اس آدمی کو نکال لیا جائے جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے۔ فرشتے آگ سے لوگوں کو نکالیں گے جو جل کر سیاہ ہوچکے ہوں گے انہیں نہر حیات میں غسل دیا جائے گا وہ ایسے نمو پائیں گے جس طرح سیلاب کے کنارے دانہ بہترین حالت میں اگتا ہے۔“ مسائل : 1۔ وراثت کے مسائل اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں۔ 2۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے کو جنت نصیب ہوگی۔ 3۔ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور حدود سے تجاوز کرنے والے کو ذلیل ترین عذاب ہوگا۔ النسآء
14 النسآء
15 فہم القرآن : (آیت 15 سے 16) ربط کلام : معاشرتی اور معاشی استحاصل ختم کرنے کے احکامات کے بعد اخلاقی بے راہ روی کے خاتمہ کا حکم۔ نزول اسلام سے پہلے روم‘ ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ عرب معاشرہ میں ایک طبقہ پرلے درجے کی بے حیائی‘ فحاشی اور بدکاری میں مبتلا تھا۔ بعض شہروں میں جن میں مدینہ بھی شامل تھا باقاعدہ فحاشی کے اڈے قائم ہوچکے تھے۔ بے حیائی کا ارتکاب کرنے والی عورتیں اپنے گھروں پر جھنڈا نما کپڑا لٹکا یا کرتی تھیں تاکہ بے حیالوگ آسانی کے ساتھ راغب ہو سکیں۔ یہ دھندہ کنواری عورتیں ہی نہیں بلکہ شادی شدہ عورتیں بھی کیا کرتی تھیں۔ اسلام نے اس بے حیائی کو روکنے اور ایسے مقدّمات کی تحقیق کے لیے ایک نظام اور طریق کار وضع فرمایا کہ جرم ثابت ہونے پر پہلے نسبتاً ہلکی سزا تجویز کی گئی کہ اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت بد کاری کا ارتکاب کرے تو اس پر چار عادل گواہ پیش کیے جائیں جو صرف عادل مردوں سے ہونے چاہییں اگر وہ اسلامی تقاضوں کے مطابق ٹھیک ٹھیک گواہی دیتے ہیں تو پھر ایسی عورتوں کو ان کے گھروں میں اس وقت تک محصور رکھا جائے جب تک اللہ تعالیٰ کوئی اور حکم نازل نہیں فرماتے یا پھر انہیں اس حالت میں موت آ جائے۔ اس سے اگلی آیت میں ہم جنسی کرنے والے دو مردوں کی سزا بیان کی ہے کہ انہیں اس جرم کے بدلے اذیّت دی جائے۔ اگر وہ تائب ہوجائیں اور اپنی اصلاح کا وعدہ کریں تو پھر انہیں چھوڑ دیا جائے یقیناً اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ بعد میں اس سزا میں اضافہ کیا گیا کہ شادی شدہ زانی مرد ہو یا عورت اسے سنگسار کیا جائے اور غیر شادی شدہ مرد ہو یا عورت اسے سو کوڑے مارے جائیں۔ اس کی تفسیر سورۃ نور میں آئے گی۔ ان شاء اللہ۔ قرآن مجید نے یہاں ﴿ وَالَّذَانِ﴾ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے اہل علم نے دو معانی کیے ہیں۔ ﴿وَالَّذَان﴾ اسم موصول مذکر کے لیے استعمال ہوتا ہے مؤنث کا مذکر کے تابع ہونے کی وجہ سے یہاں مذکر اشارۃً لایا گیا ہے اس لیے بعض اہل علم نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ﴿ وَالَّذَانِ﴾ کا معنیٰ ہے مرد اور عورت یعنی غیر شادی شدہ۔ 2۔ دو مردوں کا آپس میں ہم جنسی کرنے کے بارے میں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا یہ قوم لوط کا فعل ہے جن کو اس جرم کی پاداش میں زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب لے جا کر الٹا پھینکا گیا پھر ان لوگوں پر آسمان سے سنگ باری کی گئی۔“ قرآن میں ان کے جرم اور اس کی سزا الاعراف آیت 80تا 84کی تلاوت کریں۔ مسائل : 1۔ بدکاری کے ثبوت کے لیے چار گواہ ہونے چاہئیں۔ 2۔ ہم جنسی جرم ہے۔ 3۔ اللہ توبہ قبول فرمانے اور رحم کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : ہم جنسی کرنے والوں کی سزا : 1۔ ہم جنسی کی ابتدا قوم لوط نے کی۔ (الاعراف :80) 2۔ ہم جنسی کی سزا۔ (الاعراف :84) بدکاری کی سزا : 1۔ شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کا حکم۔ (مسلم : کتاب الحدود) 2۔ کنوارے زانی مرد وزن کو سو کوڑے مارنے کا حکم۔ (النور :2) 3۔ تہمت لگانے والے کی سزا۔ (النور :4) النسآء
16 النسآء
17 فہم القرآن : (آیت 17 سے 18) ربط کلام : اخلاقی بے راہروی کی سزا اور اس کی توبہ اور اب ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جن کی توبہ قبول ہوگی اور جن کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ قرآن مجید کے اسلوب بیان میں بیشمار لطافتیں اور حکمتیں ہیں ان میں یہ بھی حکمت ہے کہ یہ محض قانون اور ضابطوں کی کتاب نہیں کہ جس میں پھیکا پن، جرم کی تفصیل اور صرف سزاؤں کا تذکرہ ہو قرآن مجید کی لطافت و بلاغت یہ ہے کہ وہ کسی قانون اور سزا کو محض ضابطے کے طور پر نہیں بلکہ اسے نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر بیان اور نافذ کرتا ہے۔ بدکار لوگوں کی سزا کا ذکر کرنے کے فوراً بعد توبہ کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ جہالت سے سرزد ہونے والے گناہ کے فوراً بعد توبہ کریں گے اللہ تعالیٰ ان کی توبہ ضرور قبول فرمائے گا۔ البتہ ان لوگوں کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوگی جو پے در پے گناہ کرتے رہے یہاں تک کہ موت نے انہیں آ لیا یا وہ کفر کی حالت میں مرے ان کے لیے نہایت ہی تکلیف دہ عذاب تیار کیا گیا ہے۔ جہالت کی تعریف کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے شاگرد حضرت عکرمہ (رض) فرمایا کرتے تھے جو کام بھی اللہ تعالیٰ کی تابعداری سے خارج ہو وہ جہالت تصور کیا جائے گا۔ لہٰذا جس شخص سے گناہ سرزد ہو اسے فوراً توبہ کرنی چاہیے۔ توبہ کے متعلق رسول اللہ (ﷺ) کے ارشادات : 1۔ توبہ کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے اور ہر شخص کی توبہ نزع کے وقت سے پہلے قبول ہو سکتی ہے۔ نزع سے مراد موت کی وہ گھڑی ہے جب مرنے والے کو دنیا کی بجائے آخرت نظر آنے لگتی ہے۔ 2۔ (کُلُّ بَنِیْ اٰدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّآئِیْنَ التَّوَّابُوْنَ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزھد، باب ذکر التوبۃ] ” آدم کی ساری اولاد خطا کار ہے اور بہترین خطا کار توبہ کرنے والے ہیں۔“ 3۔ (مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ یُغَرْغِرَ نَفْسُہٗ قَبِلَ اللّٰہُ مِنْہُ) [ احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب أحادیث رجال من أصحاب النبی (ﷺ) ] ” جس نے موت کے آثار ظاہرہونے سے پہلے توبہ کرلی اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔“ 4۔ ( اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزھد] ” گناہ سے توبہ کرنے والا گناہ نہ کرنے کے برابر ہوجاتا ہے۔“ توبہ کی شرائط : توبہ کرنے والا اپنے گناہ پر نادم، آئندہ رک جانے کا عہد اور گناہ کے اثرات کو مٹانے کی کوشش کرے۔ مسائل : 1۔ جہالت کی وجہ سے گناہ کرنے والا توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جاننے والا‘ حکمت والا ہے۔ 3۔ موت کے وقت توبہ کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ 4۔ کفار کے لیے دردناک عذاب ہے۔ تفسیر بالقرآن : کس کی توبہ قبول نہیں ہوتی : 1۔ موت کے وقت توبہ قبول نہیں۔ (النساء :18) 2۔ فرعون کی غرق ہونے کے وقت توبہ قبول نہیں ہوئی۔ (یونس : 90، 91) 3۔ عذاب کے وقت ایمان قبول نہیں ہوتا۔ (المومن :85) 4۔ مرتد کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ (البقرۃ:217) النسآء
18 النسآء
19 فہم القرآن : ربط کلام : بدکاری کی سزا اور اس کی توبہ کے بیان سے پہلے عورتوں کے حقوق کا ذکر ہو رہا تھا اب اس کا تسلسل بحال ہوتا ہے۔ عورتوں کے بارے میں عربوں کی جہالت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ وہ عورت کو منڈی کا مال سمجھتے تھے۔ اگر کسی عورت کا خاوند فوت ہوجاتا تو نہ صرف وہ اپنی وراثت سے محروم ہوتی بلکہ مرنے والے کے وارث اس عورت کو اپنی ملک سمجھتے ہوئے اس سے من مرضی کا سلوک کرتے جس کی چار صورتیں تھیں۔ 1۔ بیوہ کو جبراً نکاح میں لینا یہاں تک کہ بعض قبائل میں لوگ اپنی سوتیلی والدہ کو بیوی بنا لیا کرتے تھے۔ 2۔ عورت کو طلاق دینے کے باوجود آگے نکاح کرنے سے روکنا۔ 3۔ عورت کی جائیداد اور حق مہر پر قبضہ کرنا۔ 4۔ ذاتی اور قومی عصبیت کی بنیاد پر بیوہ یا مطلقہ کو نکاح سے روکنا۔ یہاں صرف ایک صورت میں عورت کا حق مہر لینے کی اجازت دی ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی انتہاء درجے کی گستاخ ہو یا اس نے بدکاری کا ارتکاب کیا ہو تو ایسی صورت میں خاوند کو حق ہے کہ وہ سزا کے طور پر اس کا حق مہر ضبط کرلے۔ اس آیت میں دوسرا حکم یہ ہے کہ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے ان میں اگر کوئی عادت تمہیں پسند نہیں تو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بیوی کی وجہ سے تمہیں خیر کثیر عطا فرمائے۔ خیر کثیر سے مراد نیک اولاد، بیوی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ رزق میں برکت اور عزت میں اضافہ فرمادے اور بیوی خاوند کی خیرخواہ ہو اور اپنی اولاد کی تربیت کا خصوصی خیال رکھنے والی ہو۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () اسْتَوْصُوْا بالنِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَرْأَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَیْءٍ فِی الضِّلَعِ أَعْلَاہُ فَإِنْ ذَھَبْتَ تُقِیْمُہٗ کَسَرْتَہٗ وَإِنْ تَرَکْتَہٗ لَمْ یَزَلْ أَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوْا بالنِّسَاءِ) [ رواہ البخاری : کتاب أَحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم وذریتہ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ کیونکہ یہ ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور سب سے ٹیڑھی پسلی اوپر والی ہوتی ہے اگر تو اسے سیدھا کرنا چاہے تو اسے توڑ دے گا اور اگر تو اسے چھوڑ دے گا تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“ (عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَۃُ خَمْسَھَا وَصَامَتْ شَھْرَھَا وَحَفِظَتْ فَرْجَھَا وَأَطَاعَتْ زَوْجَھَا قِیْلَ لَھَاادْخُلِی الْجَنَّۃَ مِنْ أَیِّ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شِئْتِ) [ مسند احمد : کتاب منسد العشرۃ المبشرین بالجنۃ، باب حدیث عبدالرحمن بن عوف] ” حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا جب عورت پانچ نمازیں ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی عفت کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو اسے کہا جائے گا کہ تو جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجا۔“ مسائل : 1۔ عورتوں کی وراثت پر قبضہ کرنا حرام ہے۔ 2۔ عورتوں سے حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ تفسیربالقرآن : بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا : 1۔ بیویوں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم۔ (النساء :19) 2۔ بیویوں کو تکلیف نہ دی جائے۔ (الطلاق :6) 3۔ حق زوجیت ادا کیا جائے۔ (النساء :3) 4۔ حق مہر خوشی سے ادا کرنا چاہیے۔ (النساء :4) 5۔ حق مہر واپس نہیں لینا چاہیے۔ (النساء :20) 6۔ بچے کی وجہ سے ماں‘ باپ کو تکلیف نہ دی جائے۔ (البقرۃ:233) النسآء
20 فہم القرآن : (آیت 20 سے 21) ربط کلام : عورتوں کے حقوق وفرائض کا تذکرہ جاری ہے۔ بیوی کی کوئی بات ناگوار ہو تو پھر بھی اس کے ساتھ گزارا کرنا چاہیے‘ بصورت دیگر طلاق دیتے ہوئے اس سے حق مہر واپس لینے کی اجازت نہیں۔ پہلے حکم تھا اگر بیوی کی کوئی عادت ناگوار ہو تب بھی اس کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنا چاہیے اور جبرًا کسی عورت کو نکاح میں لینا یا بیوی کی کسی چیز پر قبضہ کرنا جائز نہیں۔ اب اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر بیوی کے ساتھ نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے اور خاوند نے بیوی بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہو تو ایسی صورت میں اس کو دیا ہوا حق مہر یا کوئی تحفہ بے شک وہ کتنا ہی گرانقدر اور قیمتی کیوں نہ ہو اس میں کچھ بھی واپس لینے کی اجازت نہیں۔ پہلی آیت میں اس بات کی اجازت تھی کہ اگر عورت بدکاری کا ارتکاب کرے یا حد سے زیادہ گستاخی کرے تو اس کا حق مہر ضبط کیا جا سکتا ہے۔ اب اس اجازت کو غلط استعمال کرنے سے منع کرنے کے لیے حکم دیا ہے کہ بلاوجہ عورت پر الزام لگا کر اسے دی ہوئی چیز واپس لینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تہمت لگانے کے مترادف اور بہت بڑا گناہ ہے۔ بیوی کو ہبہ کی ہوئی چیز اس لیے واپس نہیں لی جا سکتی جب کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ خلوت اور پختہ عہد کرچکے ہوں۔ ﴿اَفْضٰی﴾ کا معنی ہے ” بلا تکلّف ایک دوسرے کے قریب ہونا“ جس سے مراد میاں بیوی کی قربت ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اگر میاں بیوی نے مجامعت نہ بھی کی ہو تو پھر بھی بیوی سے حق مہر لینا جائز نہیں۔ پختہ عہد کا مفہوم نکاح ہے کیونکہ عورت نکاح کے وقت اپنے آپ کو برضاء و رغبت خاوند کے حوالے کرتی ہے۔ قرآن مجید نے دوسرے مقام پر یہ ارشاد فرمایا کہ : ﴿وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ [ البقرۃ:227] ” باہمی محبت کو فراموش نہ کرو۔“ جس کا مقصد یہ ہے کہ طلاق ہونے کے باوجود میاں بیوی میں دشمنی کا رویّہ پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ مسائل : 1۔ بیوی کو چھوڑتے وقت اس کو ددیئے ہوئے تحائف واپس لینا بڑا گناہ ہے۔ النسآء
21 النسآء
22 فہم القرآن : (آیت 22 سے 23) ربط کلام : عورت کی عفت و تکریم کے تحفظ‘ گھر کے ماحول میں آزادی کی نعمت اور باہمی شرم و حیا اور حد درجہ احترام کے لیے کچھ رشتے مستقل طور پر اور چند رشتوں کو حسد وبغض سے بچانے اور تقدس کے تحفظ کی خاطر مخصوص مدّت کے لیے حرام قرار دیا۔ مستقل طور پر حرام کردہ رشتے درج ذیل ہیں : 1۔ ماں‘ دادی‘ نانی‘ اوپر تک۔ 2۔ بیٹیاں‘ پوتیاں نیچے تک اور نواسیاں۔ 3۔ سگی بہنیں۔ 4۔ باپ یا ماں کی طرف سے یعنی سوتیلی بہنیں جنہیں علاتی اور اخیافی بہنیں کہا جاتا ہے۔ 5۔ پھوپھیاں۔ 6۔ خالائیں‘ خواہ یہ سگی ہوں یا اخیافی یا علاتی۔ 7۔ بھتیجیاں اور ان کی بیٹیاں۔ 8۔ بھانجیاں اور ان کی بیٹیاں۔ 9۔ رضاعی مائیں۔ 10۔ رضاعی بہنیں اور رضاعت کی بنیاد پر وہ سب رشتے حرام ہیں جو رشتۂ نسب کی بنیاد پر حرام ہیں۔ 11۔ ساس اور سالیاں جب تک ان کی بہن نکاح میں ہو۔ 12۔ سوتیلی بیٹیاں‘ جن کی ماں کے ساتھ خلوت ہوچکی ہو۔ اگر اس کے ساتھ جماع نہ کیا ہو تو پھر اس کی پہلی بیٹیوں کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے۔ 13۔ حقیقی بیٹے کی بیوہ یعنی بہو سے نکاح حرام ہے۔ 14۔ دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ 15۔ تمام شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں۔ (عَنْ عَائِشَۃَ (رض) أَنَّھَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّ عَمَّھَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ یُسَمّٰی أَفْلَحَ اسْتَأْذَنَ عَلَیْھَا فَحَجَبَتْہُ فَأَخْبَرَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ () فَقَالَ لَھَا لَاتَحْتَجِبِیْ مِنْہُ فَإِنَّہٗ یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ) [ رواہ مسلم : کتاب الرضاع، باب تحریم الرضاعۃ من ماء الفحل] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ان کا رضاعی چچا جس کا نام افلح تھا اس نے ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی تو انہوں نے اس سے پردہ کیا پھر رسول اللہ (ﷺ) کو یہ واقعہ بتلایا آپ نے فرمایا اس سے پردہ نہ کر کیونکہ جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں رضاعت کے سبب بھی حرام ہیں۔“ النسآء
23 النسآء
24 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ جن عورتوں کے خاوند موجود ہوں وہ بھی حرام ہیں۔ البتہ جو عورتیں جنگی قیدی یعنی لونڈیاں بن کر تمہاری ملک (capture) میں آجائیں اور ان کے خاوند دار الحرب میں رہ جائیں تو وہ عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں۔ کیونکہ قیدی ہونے کی وجہ سے ان کا سابقہ نکاح ختم تصور ہوگا۔ مذکورہ عورتوں کے علاوہ دوسری عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے۔ یہاں نکاح کا مقصد بیان فرمایا کہ یہ کام عیاشی کے لیے نہیں بلکہ بدکاری سے بچنے کے لیے ہونا چاہیے بشرطیکہ آزاد عورتوں کے حق مہر ادا کیے جائیں۔ حق مہر کی ادائیگی کے معاملہ میں باہمی رضامندی سے کچھ طے کرلیا جائے تو اس میں گناہ کی بات نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں۔ یاد رکھو! اللہ خوب جانتا ہے کہ تم کس حد تک اس کے احکام کی پابندی کرنے والے ہو۔ قیدیوں کے بارے میں حالات کے مطابق چار صورتوں میں سے کوئی صورت اسلامی حکومت اختیار کرسکتی ہے : 1۔بلامعاوضہ آزاد کردیا جائے۔ 2۔ فدیہ لے کر چھوڑا جائے۔ 3۔ قیدیوں کا باہمی تبادلہ کرلیاجائے۔ 4۔ قومی مصلحت کے تحت ان کے شرعی واخلاقی حقوق ادا کرتے ہوئے غلام بنا کر رکھاجائے۔ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا خالق‘ رازق اور مالک ہے اس کا حق اور انسان کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے اور اس کی غلامی میں زندگی گزارے۔ جو شخص یا قوم اللہ کی غلامی سے انکار اور اس کے حکم سے سرتابی کرتی ہے۔ وہ دنیا میں دنگا و فساد کا موجب بنتی ہے۔ اسے اخلاقی حدود میں رکھنے اور امن قائم کرنے کے لیے پہلے تبلیغ اور آخر میں قتال فی سبیل اللہ فرض قرار دیا گیا ہے۔ معرکۂ حق و باطل میں ضروری نہیں ہر بار مسلمان ہی غالب آئیں۔ بسا اوقات مسلمان اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہزیمت کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں جانی‘ مالی نقصان کے ساتھ ایک دوسرے کے مردو زن قیدی بنا لئے جاتے ہیں۔ اس صورت میں کوئی چارہ کار نہ تھا کہ بامر مجبوری غلامی کی کوئی ایک صورت ایک حد تک باقی رکھی جائے۔ چنانچہ گھمبیر حالات سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے قیدیوں کے متعلق تین باتوں میں سے کوئی ایک اختیار کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ 1۔ فدیہ لے کر چھوڑنا۔ 2۔ قیدیوں کا باہمی تبادلہ۔ 3۔ شخصی غلامی یا 4۔ ملک کے جیل خانہ میں رکھنا۔ البتہ عادی اور بھاری مجرموں کو قتل کرنے کی اجازت ہے۔ جس طرح فتح مکہ کے موقعہ پر چار مجرموں کو قتل کیا گیا تھا۔ [ رواہ النسائی: باب الحکم فی المرتد (صحیح)] مندرجہ بالا تین صورتوں میں سے کوئی صورت نہ پائے تو پھر مسئلہ کا حل غلامی کے بغیر نہیں رہتا۔ اس صورت میں بھی قومی مصلحت کے تحت فیصلہ ہوگا کہ عام جیل خانہ میں رکھنا چاہئے یا قومی بوجھ سے بچنے اور قیدیوں کی دینی، اخلاقی تربیت کے لئے شخصی غلامی میں دینا چاہئے۔ شخصی غلامی کی صورت میں درج ذیل پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ جو لوگ ناگزیر صورت میں بھی غلامی کے قانون پر اعتراض کرتے ہیں انہیں غور کرنا چاہئے کیا کوئی غیور مسلمان یہ گوارا کر سکتا ہے کہ ہمارے قیدی تو دشمن کے قبضہ میں رہیں اور دشمن کے قیدی چھوڑ دیے جائیں۔ مسلمان تو درکنار کوئی قوم بھی اس طرح کرنے کا تصور نہیں کر سکتی۔ اس نا گزیر صورت حال میں اسلام نے قیدیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھنے کے احکامات جاری فرمائے اور جن پر ہر دور کے مسلمانوں نے عمل کیا ہے۔تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ غلامی کے بارے میں جو غلط فہمی پیدا کی ہے وہ یہ ہے کہ جو قیدی جس کے ہاتھ میں آئے وہ اس کی ملکیت ہے۔ اس کے ساتھ جو چاہے سلوک کرے حالانکہ اس پکڑ دھکڑ کا اسلام میں کوئی تصور نہیں۔ رسول کریم (ﷺ) کا خادم آپ کی سورای کا پلان سیدھا کر رہا تھا کہ دشمن کا تیر لگنے سے موقعہ پر فوت ہوگیا۔ صحانہ رضی اللہ عنھم نے تبصرہ کیا کہ کتنا خوش قسمت ہے کہ ابھی چند ہوئے مسلمان ہوا اور شہادت کا رتبہ پا لیا۔ نبی محترم (ﷺ) نے فرمایا کہ ہرگز نہیں میں اسے آگ میں لپٹا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ کیونکہ اس نے مال غنیمت سے بلا اجازت ایک کمبل ہتھیا لیا تھا۔ (روہ البخاری: کتاب المغازی: باب غزوۃ خیبر) اندازہ فرمائیں جو دین بلا اجازت ایک کمبل بھی کسی مجاہد کے ہاتھ میں گوارا نہیں کرتا وہ قیدیوں بالخصوص خواتین قیدیوں کے بارے میں برداشت کر سکتا ہے کہ بھیڑ بکریوں کی طرح جس کا دل چاہے ہانک کر لے جائے اور ان کو عیاشی کا سامان سمجھ بیٹھے اب ہم غلامی کے بارے میں رسول معظم (ﷺ) کے جاری کردہ چند اصول بیان کرتے ہیں تاکہ آپ سمجھ لیں کہ اسلام کے دشمنوں یا نادان لوگوں نے اس مسئلہ میں کس قدر غلط فہمیاں پیدا کر رکھی ہیں۔ بلا اجازت مال غنیمت میں سے کوئی چیز لینا حرام ہے: 1۔ رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے ایک دن خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہا سنو! میں تم کو وہ بات بتانا چاہ رہا ہوں جو میں نے رسول معظم (ﷺ) سے سنی۔ آپ نے حنین کے دن فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنا پانی کسی دوسرے کے کھیت کو پلائے یعنی غیر حاملہ عورت سے صحبت کرے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ قیدی عورت کے استبراء سے پہلے اس سے صحبت کرے اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کے لیے یہ جائز نہیں کہ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اس چیز کا لین دین کرے۔ (رواہ ابو داؤد: کتاب النکاح: باب فی وطیء السبایا [حسن]) (استبراء کا معنی ہے عورت کا بچے کی ولادت سے فارغ ہونا) 2۔ ماہواری سے پہلے لونڈی سے مجامعت کرنا حرام ہے: (عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ () أنَّهُ أَتَى بامْرَأَةٍ مُجِحٍّ علَى بَابِ فُسْطَاطٍ، فَقالَ: لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُلِمَّ بهَا، فَقالوا: نَعَمْ، فَقالَ رَسولُ اللهِ ()لَّمَ: لقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ معهُ قَبْرَهُ، كيفَ يُوَرِّثُهُ وَهو لا يَحِلُّ له؟ كيفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهو لا يَحِلُّ له؟) (رواہ مسلم: کتاب النکاح، باب تحریم وطء الحامل المسبیۃ) ’’ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی معظم (ﷺ) ایک حاملہ عورت کے قریب سے گزرے۔ آپ نے اس کے متعلق پوچھا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا وہ فلاں شخص کی لونڈی ہے۔ آپ نے پوچھا کیا وہ اس سے مجامعت کرتا ہے ؟ صحابہ نے کہا جی۔ آپ نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر تک اس کے ساتھ جائے۔ وہ اس بچہ سے کیسے خدمت کروائے گا؟ یا اس کو کیسے وارث بنائے گا، جبکہ اس کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں تھا۔‘‘ 3۔ غلام کو وہی کچھ کھلانا اور پہنانا چاہیے جو مالک خود کھاتا اور پہنتا ہے: (عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () إِخْوَانُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ جَعَلَ اللَّهُ أَخَاهُ تَحْتَ يَدِهِ، فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلاَ يُكَلِّفُهُ مِنَ العَمَلِ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ) (رواہ البخاری: باب ما ینھی من السب اللعن) ’’حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا:...... تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالی نے انہیں تمہارے زیر دست کر دیا ہے۔ اللہ تعالی نے جس کے بھائی کو اس کے ماتحت کر رکھا ہو، تو وہ اسے وہی کچھ کھلائے جو خود کھاتا ہے اور اسی طرح کا پہنائے جیسا خود پہنتا ہے اور اس سے اتنا کام نہ لے جو اس کے لیے مشکل ہو اگر اس سے مشکل کام لے تو اس کام میں اس کی مدد کرے۔ غور فرمائیں کہ نبی (ﷺ) نے غلام کے لیے بھائی کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ 4۔ غلام کو سزا دینے کی بجائے آزاد کردینا چاہیے: (عَنْ ابْنَ عُمَرَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ (ﷺ) يَقُولُ: «مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، أَوْ لَطَمَهُ، فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ) (رواہ مسلم: باب صحبۃ الممالیک وکفارۃ من لطم عبدہ) ’’ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (ﷺ) سے سنا آپ فرما رہے تھے جس شخص نے اپنے غلام کو حد لگائی جب کہ اس نے وہ غلطی نہ کی ہو یا اس کو طمانچہ مارا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کردے۔‘‘ (عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ () قَالَ قَالَ اللَّهُ ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ ) (رواہ البخاری: کتاب البیوع) ’’حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا تین آدمیوں کے متعلق جھگڑا کروں گا 1۔ ایسا آدمی جس نے میری بیعت کرنے کے بعد غداری کی، 2۔ جس نے کسی آزاد آدمی کو فروخت کر کے اس کی قیمت کھائی، 3۔ جس نے کسی آدمی کو مزدور رکھا اور اس سے کام پورا لیا اور اجرت نہ دی۔‘‘ 1۔ آزاد آدمی کو غلام بنانا یا فروخت کرنا حرام ہے۔ اس بنا پر کسی باپ کو بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے بیٹے یا بیٹی کو فروخت کرے۔ جس لونڈی کے ہاں بچہ پیدا ہوجائے اسے اور اسکی اولاد کو فروخت نہیں کیا جا سکتا: (عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى عُمَرُ عَنْ بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ , فَقَالَ: " لَا تُبَاعُ وَلَا تُوهَبُ وَلَا تُورَثُ , يَسْتَمْتِعُ بِهَا سَيِّدُهَا مَا بَدَا لَهُ , فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ ".) (سنن کبری بیہقی باب الرجل یطأ أمتہ بالملک فتلد لہ) ’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے چھوٹے بچوں والی لونڈیاں بیچنے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ انہیں نہ بیچا جائے، نہ ہبہ کیا جائے اور نہ وراثت میں کسی کو دیا جائے، جب تک اس کا مالک زندہ ہے وہ اس سے فائدہ اٹھائے گا اور جب فوت ہوجائے گا تو وہ آزاد ہو جائے گی۔‘‘ مذکورہ بالا اختصار کے ساتھ پیش کئے گئے چند فرامین پر غور فرمائیں کہ ان پر عمل کرنے کے بعد جنگ میں قید ہونے والے قیدی کے لیے حالت مجبوری میں مسلمان کی غلامی نعمت ہے یا سزا؟ مسائل: 1۔ شوہر والی عورت سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ 2۔ نکاح کا مقصد برائی سے بچنا ہے شہوت رانی نہیں۔ 3۔ عورتوں کا حق مہر ادا کرنا چاہیے۔ 4۔ عورت کی رضا مندی سے اس کا حق مہر کھانا جائز ہے۔ تفسیر بالقرآن: محصنات کا مفہوم: 1۔ شادی شدہ (النساء: 24) 2۔ آزاد کنواری عورت (النساء: 25) 3۔ پاکدامن (النساء: 25) النسآء
25 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ جو شخص آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کے اخراجات کی طاقت نہیں رکھتا وہ مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرسکتا ہے کیونکہ مسلمان رشتۂ اسلام کے اعتبار سے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ یہ لوگوں کے اپنے پیدا کردہ حالات کا نتیجہ ہے کہ ان میں سے کچھ غلام بنا لیے گئے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے سب کو آزاد پیدا فرمایا ہے۔ لونڈی سے نکاح کے لیے اس کے مالک سے اجازت لینے کے ساتھ اس کو حق مہر بھی ادا کرنا ہوگا۔ اس لونڈی کا بھی فرض ہے کہ وہ محض شہوت رانی کے بجائے مستقل نکاح کی نیت رکھتے ہوئے پاک دامنی کے ارادے سے ازدواجی بندھن میں آئے اور کسی سے پوشیدہ دوستی رکھنے سے بھی مکمل اجتناب کرے۔ اگر منکوحہ لونڈی بدکاری کا ارتکاب کربیٹھے تو آزاد عورت کے مقابلے میں اسے آدھی سزا ہوگی۔ تخفیف سزا کی بنیادی وجوہات یہ ہیں : 1۔ آزاد عورت کو اپنے خاوند، خاندان اور والدین کی حفاظت ونگرانی حاصل ہوتی ہے۔ جبکہ لونڈی پر اتنی نگرانی نہیں ہوتی۔ 2۔ لونڈی کسی کی ملکیت میں ہونے کی وجہ سے مجبور ہوتی ہے کہ مالک اسے جہاں اور جن لوگوں کے پاس چاہے کام کے لیے بھیج سکتا ہے جب کہ آزاد عورت اس طرح مجبور نہیں ہوتی۔ 3۔ کسی کی لونڈی ہونے کی وجہ سے نفسیاتی طور پر خاوند کا رعب اور وقار اتنا نہیں سمجھتی جتنا آزاد عورت سمجھتی ہے کیونکہ یہ لونڈی اپنے مالک کے ماتحت ہوتی ہے۔ ان وجوہات کی وجہ سے لونڈی سے بدکاری ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جس وجہ سے سزا میں بھی تخفیف کردی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آزاد عورتوں کو چھوڑ کر لونڈیوں سے شادی کرنے کی دو وجوہ بیان کی ہیں انہیں ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ 1۔ آزاد عورت سے شادی کے اخراجات برداشت نہ کرسکتاہو۔ 2۔ آدمی اپنے آپ میں کسی گناہ میں ملوث ہونے کا خوف محسوس کرتاہو۔ ان دو وجوہات کے علاوہ اسے لونڈی سے شادی کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ لونڈی سے نکاح کرنے کی قباحتیں : 1۔ غیور آدمی کو یہ بات مسلسل کھٹکتی رہے گی کہ میری بیوی دوسرے کی لونڈی ہے۔ 2۔ لونڈی کی اولاد اس کے خاوند کی بجائے شرعی طور پر آقا کی ملکیت ہوتی ہے۔ 3۔ لونڈی اپنے خاوند کے حق زوجیت ادا کرنے کے علاوہ باقی معاملات میں اپنے آقا کی پابند ہوتی ہے۔ مسائل: 1۔ آزاد عورت کے ساتھ نکاح کرنے کی استعداد نہ ہو تو مومنہ لونڈی رکھنا جائز ہے۔ 2۔ بدکار لونڈی کی سزا نصف ہے۔ النسآء
26 فہم القرآن : (آیت 26 سے 28) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عورتوں کے حقوق اور دیگر مسائل کے بارے میں دنیا کے دوبڑے مذاہب یہود و نصاریٰ نے بہت سے حقائق چھپا رکھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مسائل کو کھول کھول کر بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے کھول کر بیان کیے ہیں تاکہ تمہیں پہلے انبیاء اور صلحاء کا راستہ دکھلایا جائے اور تمہیں معلوم ہو کہ اللہ کے برگزیدہ لوگوں کی زندگی کا کیا اسلوب ہوا کرتا ہے تاکہ تم صالح زندگی اختیار کرکے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حقدار بن جاؤ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنے کرم و فضل کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے۔ جو لوگ اپنے نفس کے پجاری، خواہشات کے بندے اور رسومات کے غلام بن چکے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم صراط مستقیم اور اللہ کے کرم سے محروم ہوجاؤ۔ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دین میں کوئی ایسی بات نہیں رکھی جو تمہاری قوت عمل سے باہر ہو۔ دینی احکام کو اس لیے آسان رکھا گیا کیونکہ انسان نہایت کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌوَلَنْ یُّشَادَّ الدِّیْنَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَہٗ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَأَبْشِرُوْا وَاسْتَعِیْنُوْا بالْغُدْوَۃِ وَالرَّوْحَۃِ وَشَیْءٍ مِّنَ الدُّلْجَۃِ) [ رواہ البخاری : کتاب الإیمان، باب الدین یسر] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا دین آسان ہے کوئی شخص اسلام پر غالب نہیں آسکتا بلکہ دین ہی غالب ہوگا۔ اجروثواب کا راستہ اور میانہ روی اختیار کرو، لوگوں کو خوشخبریاں دو، صبح و شام اور رات کے کچھ حصے میں اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرتے رہو۔“ رسول کریم (ﷺ) اور صحابہ کرام (رض) کے بعد کچھ نام نہاد علماء اور جاہل صوفیوں نے مصنوعی تقویٰ، گروہی تعصبات اور دنیوی مفادات کی خاطر دین اسلام میں بے پناہ اضافے کیے۔ مذہبی پیشواؤں کی مجرمانہ حرکت، لوگوں کی بے علمی اور دین سے عدم دلچسپی کی وجہ سے آسان ترین دین آج لوگوں کو مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ دین نہایت ہی آسان اور فطرت انسانی کے مطابق بنایا ہے۔ عادی مجرموں، پیشہ ور ظالموں اور اس پر جان بوجھ کر عمل نہ کرنے والوں کے سوا سب کے لیے دین آسان ہے۔ جو شخص خلوص نیت کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرے گا اسے نہ صرف دین آسان دکھائی دے گا بلکہ اس کی دنیا و آخرت کی مشکلات آسان ہوجائیں گی۔ بشرطیکہ اجتماعی ضابطوں پر اجتماعی طور پر اور انفرادی قوانین پر انفرادی سطح پر عمل پیرا ہوا جائے۔ اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگنا : یقینا اسلام فطرت کے موافق اور آسان بنایا گیا ہے۔ انسانی طبائع کیونکہ ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتیں۔ دنیاوی ترغیبات، معاشرتی اور کاروباری مشکلات انسان پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں جن کی وجہ سے آدمی سستی، کم ہمتی اور بے توجہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے سستی سے بچنے کی دعا مانگنی چاہیے۔ گرامی قدر رسول (ﷺ) بڑے اہتمام کے ساتھ اللہ کے حضور یہ دعائیں کیا کرتے تھے : (اَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِ کَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ) [ رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ] ” الٰہی! اپنے ذکر، شکر اور اچھی طرح عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔“ (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْھَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات] ” اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی اور بخیلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ہدایت دینا اور ان کی توبہ قبول کرنا چاہتا ہے۔ 2۔ بدکار لوگ نیک لوگوں کو بے حیا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 3۔ انسان کی کمزوری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام میں آسانی پیدا فرمائی ہے۔ تفسیر بالقرآن : دین تو آسان ہے : 1۔ بیماری یا سفر میں روزہ چھوڑ کر بعد میں گنتی پوری کرنا چاہیے۔ (البقرہ :184) 2۔ حالت سفر میں نماز قصر کی اجازت ہے۔ (النساء :101) 3۔ غسل یا وضو کے لیے پانی نہ ملے تو تیمم کا حکم۔ (المائدۃ:6) (تفصیل کے لیے دیکھیں میری کتاب ” دین تو آسان ہے‘‘) النسآء
27 النسآء
28 النسآء
29 فہم القرآن : (آیت 29 سے 30) ربط کلام : حرمت رشتہ اور حرمت اموال کا باہم معنوی تعلق ہے کیونکہ دونوں کا خیال نہ رکھنے سے رنجشیں پیدا ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حرمت پامال ہوتی ہے۔ سورت کی ابتدا میں اب تک خاندان، یتامیٰ اور لونڈیوں کے معاشرتی و مالی حقوق کا ذکر اور ان کے ساتھ مقدس رشتوں کی حرمت و تکریم کا بیان ہوا ہے۔ اب مالی حقوق کو قدرے وسعت کے ساتھ یوں بیان فرمایا کہ تم اپنے ہی مال آپس میں باطل طریقے کے ساتھ نہ کھا یا کرو۔ البتہ باہمی رضا مندی کے ساتھ ایک دوسرے سے لین دین کے ذریعے مال لینا اور کھانا جائز ہے۔ جس طرح تم اپنے مال ناجائز طریقے سے نہیں کھاسکتے اسی طرح تمہیں اپنے آپ کو قتل بھی نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ مہربانی کرنا چاہتا ہے۔ اس کی مہربانی کا یہ تقاضا ہے کہ تم بھی مالی، اخلاقی اور جسمانی ظلم کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور مہربانی کا سلوک کرو۔ جذبۂ اخوت کو بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کے مال جیسے الفاظ استعمال کرنے کی بجائے ایسی ضمیریں استعمال فرمائی ہیں۔ جن سے باہمی قربت و شفقت کا احساس بیدار ہو سکے۔ جو شخص اس حکم اور نصیحت کے باوجود کسی پر مالی اور جانی ظلم کرے گا دنیا میں شاید وہ اس کی سزا سے بچ جائے لیکن آخرت کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ایسے ظالموں کو سزا دینا ذرّہ برابر بھی مشکل نہیں۔ دنیا تو نہایت مختصر اور جلد ہی ختم ہوجانے والی ہے اور اس کے بعد اسے جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں جھونک دیا جائے گا۔ وہاں نہ ان جرائم کی معافی ہوگی اور نہ ہی سزا کے بغیر تلافی ہو سکے گی۔ آپ نے دھوکا دہی، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی و بیشی، حرام چیزوں کی خرید و فروخت اور رشوت سے منع فرمایا۔ اب ہم احادیث کے حوالہ جات سے قدرے تفصیل کے ساتھ جائز اور ناجائز طریقوں کا ذکر کریں گے۔ قتل کے بارے میں سورۃ المائدۃ میں تفصیل بیان ہوگی۔ سود اور اس کی تمام قسمیں حرام ہیں : سورۃ البقرۃ کی آیت 275 میں سود کو مطلقاً حرام قرار دیا ہے اس کی تفصیل مذکورہ آیت کے ضمن میں دیکھیں اور ہر وہ کاروبار ناجائز ہوگا جس میں سود یا اس کی کوئی شکل پائی جاتی ہو۔ 1۔ حضرت ابو امامہ (رض) رسول اللہ (ﷺ) کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم اٹھا کر کسی مسلمان کا حق کھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم لازم اور جنت حرام کردیتے ہیں۔ ایک شخص نے آپ سے عرض کیا اگرچہ یہ حق تلفی تھوڑی ہو؟ فرمایا اگرچہ وہ پیلو کے درخت کی ایک ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔ [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب وعید من اقتطع الخ] 2۔ حضرت ابوذر غفاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے ہم کلام نہیں ہوگا اور نہ ہی انہیں نظر کرم سے دیکھے گا اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا بلکہ انہیں درد ناک عذاب دیا جائے گا۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! وہ کون ہیں؟ ایسے لوگ تو نامراد اور خسارے میں پڑگئے۔ آپ نے فرمایا ٹخنوں سے نیچے تہ بند لٹکانے والا، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر مال بیچنے والا۔[ رواہ مسلم : کتاب الایمان] ماپ تول میں کمی کرنا : حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم اس جرم کی وجہ سے دنیا سے نیست و نابود کردی گئی۔ [ الأعراف :85] رسول اللہ (ﷺ) نے ماپ تول میں کمی کرنے والوں کو فرمایا یقیناً تم دو ایسے کاموں کے ذمہ دار بنائے گئے ہو۔ جن میں کوتاہی کی وجہ سے پہلی قومیں تباہ ہوگئیں۔ [ رواہ الترمذی : کتاب البیوع، باب فی المکیال والمیزان ] ایک مرتبہ رسول اللہ (ﷺ) بازار تشریف لے گئے ایک تولنے والے کو دیکھا کہ وہ کوئی جنس تول رہا ہے۔ اسے فرمایا تولیے مگر جھکتا ہوا۔[ رواہ النسائی : کتاب البیوع، باب الرجحان فی الوزن] حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی تجارت حرام قرار دی ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب بیع المیتۃ والأصنام] حضرت ابو مسعود انصاری (رض) رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ذکر کرتے ہیں کہ آپ نے کتے کی قیمت، فاحشہ کی کمائی اور نجومی کی اجرت سے منع فرمایا۔ [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب ثمن الکلب] تجارت میں دھوکا دینا حرام ہے : واثلہ بن اسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (ﷺ) نے فرمایا : جس شخص نے کوئی عیب دار چیز عیب بتلائے بغیر فروخت کی وہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں مبتلا رہے گا اور فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب التجارات] رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے سودا کرنے والے جب تک آپس میں جدا نہ ہوں انہیں سودا منسوخ کرنے کا اختیار ہے۔ اگر انہوں نے سچ بولا اور صاف گوئی سے کام لیا تو ان کی تجارت میں برکت ہوگی اگر اس کا عیب چھپایا اور جھوٹ بولا تو سودے سے برکت اٹھالی جائے گی۔ [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب إذا بین البیعان......] حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) ایک دن منڈی تشریف لے گئے اور ایک غلے کے ڈھیر میں ہاتھ ڈال کر نکالا تو انگلیوں پر نمی محسوس فرمائی۔ غلہ کے مالک سے پوچھا یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کی کہ اللہ کے رسول رات بارش ہوئی تو میں نے گیلا اناج نیچے کردیا آپ نے فرمایا تجھے اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا۔ جس نے دھوکا دیا وہ ہم سے نہیں ہے۔ [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، بابقول النبی () من غشنا فلیس منا] کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا غلط ہے : حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے مجبور آدمی کی تجارت سے فائدہ اٹھانے، دھوکے کی تجارت اور پھلوں کے پکنے سے پہلے سودا کرنے سے منع فرمایا۔ [ رواہ ابوداوٗد : کتاب البیوع، باب فی بیع المضطر ] ابوحرہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا خبردار کسی پر ظلم نہ کرو۔ کسی کا مال اس کی رضا مندی کے بغیر حلال نہیں ہوتا ہے۔ [ مسندأحمد : کتاب : اول مسند البصریین، باب حدیث عم ابی حرہ] چوری کا مال خریدنا : آپ (ﷺ) کا ارشاد ہے جس شخص نے اپنا مال کسی کے پاس پایا وہ اس سے واپس لینے کا زیادہ حقدارہے جس نے مسروقہ مال خریدا ہے وہ اس کے چور کو تلاش کر ے۔ [ رواہ النسائی : کتاب البیوع، باب الرجل یبیع السلعۃ فیستحقھا مستحق ] مسائل : 1۔ مسلمانوں کا ایک دوسرے کا مال کھانا اور قتل و غارت کرنا حرام ہے۔ 2۔ ظالم اور زیادتی کرنے والا جہنم میں داخل ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : مال کمانے کے باطل طریقے : 1۔ سود لینا۔ (البقرۃ:275) 2۔ رشوت لینا۔ (البقرۃ :85) 3۔ کم تولنا۔ (المطففین :1) 4۔ لوٹ مار کرنا۔ (المائدۃ :33) 5۔ غلط مقدمات کے ذریعے مال حاصل کرنا۔ (البقرۃ :188) النسآء
30 النسآء
31 فہم القرآن : ربط کلام : رشتوں کی حرمت کو پامال کرنا اور حرام کھانا کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ جو کبیرہ گناہوں سے بچے گا اس کے لیے چھوٹے گناہوں سے بچاؤ آسان ہوجاتا ہے۔ اگر چھوٹے گناہ بتقاضائے بشریت سرزد ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ یقیناً معاف فرما دیں گے۔ رب کریم نے اس فرمان میں مومنوں کو ایک تسلی اور اطمینان دلایا ہے کہ اگر تم بڑے اور سنگین نوعیت کے گناہوں سے اجتناب کرو تو تمہارے چھوٹے چھوٹے گناہ ہم اپنے کرم سے از خود ہی معاف فرما دیں گے۔ اس فرمان کی تفسیر رسول معظم (ﷺ) نے یوں فرمائی مسلمان جب وضو کرتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔ جب کلی کرتا ہے تو زبان کے، منہ دھوتا ہے تو آنکھوں، کان اور چہرے کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں گناہوں سے پاک ہوجاتے ہیں۔ جب نماز ادا کرتا ہے تو وہ اس طرح گناہوں سے پاک اور صاف ہوجاتا ہے جس طرح موسم خزاں میں درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ (عَنْ أَبِیْ ذَرٍ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ () خَرَجَ فِیْ زَمَنِ الشِّتَآءِ وَالْوَرَقُ یَتَھَافَتُ فَأَخَذَ بِغُصْنَیْنِ مِنْ شَجَرَۃٍ قَالَ فَجَعَلَ ذٰلِکَ الْوَرَقُ یَتَھَافَتُ قَالَ فَقَالَ یَاأَبَاذَرٍّ! قُلْتُ لَبَّیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لَیُصَلِّی الصَّلَاۃَ یُرِیْدُ بِھَا وَجْہَ اللّٰہِ فَتَھَافَتُ عَنْہُ ذُنُوْبُہٗ کَمَا یَتَھَافَتُ ھٰذَا الْوَرَقُ عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ) [ مسند احمد : کتاب مسند الأنصار، باب حدیث أبی ذر (رض) ] ” حضرت ابوذر غفاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم (ﷺ) سردیوں کے موسم میں باہر تشریف لائے اور پتے گر رہے تھے آپ نے درخت کی دو ٹہنیوں کو پکڑا جس سے ٹہنی کے پتے زمین پر گر پڑے پھر فرمایا ابوذر! میں نے عرض کی کہ حاضرہوں! اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا مسلمان آدمی جب اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی گر جاتے ہیں جس طرح اس درخت کے پتے گر رہے ہیں۔“ اس طرح بعض اذکار کے فوائد بیان فرمائے کہ ان سے گناہ معاف اور پڑھنے والے کے مرتبے بلند ہوتے ہیں۔ البتہ کبیرہ گناہ سچی توبہ اور اس کے تقاضے پورے کرنے سے ہی معاف ہوتے ہیں۔ آپ نے امت کو ایسے گناہوں سے بچنے کے لیے کبیرہ گناہوں کی ایک فہرست پیش کی ہے۔ ان گناہوں کے ساتھ علماء نے قرآن و سنت کو سامنے رکھتے ہوئے ہر اس گناہ کو کبیرہ گناہ قراردیا ہے۔ جنہیں کرنے والا اللہ تعالیٰ سے بے خوف ہو کر اور تکبر سے کرتا ہے بظاہر وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ کچھ علماء نے ان گناہوں کو بھی کبیرہ گناہ شمار کیا ہے جن کے کرنے پر لعنت کی گئی ہے۔ تاہم یہاں ان گناہوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جن کا نام لے کر رسول اللہ (ﷺ) نے انہیں کبیرہ گناہ قرار دیا ہے (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () الْکَبَآئِرَ فَقَال الشِّرْکُ باللّٰہِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ فَقَالَ أَلَآ أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ قَالَ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب عقوق الوالدین من الکبائر] ” حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ” بڑے گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق خون کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا۔“ پھر فرمایا کیا میں تمہیں بڑے گناہ سے آگاہ نہ کروں؟ وہ جھوٹی گواہی دینا ہے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَاھُنَّ قَال الشِّرْکُ باللّٰہِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بالْحَقِّ وَأَکْلُ الرِّبَا وَأَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ وَالتَّوَلِّیْ یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب رمی المحصنات] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا سات تباہ کردینے والے گناہوں سے بچ جاؤ صحابہ کرام (رض) نے کہا اے اللہ کے رسول! وہ کون کون سے ہیں؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا اللہ کے (1) ساتھ شرک کرنا،(2) جادو کرنا،(3) ناحق کسی کو قتل کرنا،(4) سود کھانا،(5) یتیم کا مال کھانا، (6) میدان جنگ سے پیٹھ موڑ کر بھاگنا اور (7) پاکدامن غافل مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا۔“ مسائل : 1۔ اگر لوگ بڑے گناہوں سے بچ جائیں تو اللہ تعالیٰ چھوٹے گناہوں کو معاف فرما کر ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ تفسیر بالقرآن : قرآن مجید میں مذکور کبیرہ گناہ : 1۔ شرک۔ (النساء :48) 2۔ والدین کی نافرمانی۔ (بنی اسرائیل : ٢٣) 3۔ زنا۔ (الفرقان : 68، 69) 4۔ قتل ناحق (النساء :93) 5۔ دختر کشی کرنا۔ (التکویر : 8، 9) 6۔ سود کھانا۔ (البقرۃ :275) 7۔ یتیموں کا مال کھانا۔ (النساء :10) النسآء
32 فہم القران : ربط کلام : جس طرح بڑے گناہ آدمی کو ہلاک کردیتے ہیں اسی طرح حسد بھی آدمی کے اعمال کو ضائع کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے اظہار اور دنیا کے نظام کو چلانے کے لیے لوگوں کے درمیان تفاوت اور اونچ نیچ رکھی ہے تاکہ انسان ایک دوسرے کی ضرورت محسوس کرکے باہمی تعاون اور احترام کریں۔ جس کو نعمت میسر آئی ہے وہ شکر ادا کرے اور جسے محروم رکھا گیا ہے وہ صبر کرے۔ چھوٹے بڑے کا فرق عام انسانوں کے علاوہ بسا اوقات ایک باپ کی اولاد میں بھی پایا جاتا ہے۔ ایک خوبصورت دوسرا عام صورت ہے‘ ایک تنو مند اور طویل قدوقامت لیے ہوئے، جبکہ دوسرا پست قد اور ناتواں جسم کا مالک ہے‘ ایک معمولی محنت کے بعد دولت میں کھیل رہا ہے دوسرا سخت مشقت اٹھانے کے باوجود غربت کے تھپیڑے کھا رہا ہے‘ ایک دانا دوسرا نادان ہے۔ اس فطری تفاوت کے بارے میں حکم دیا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ جلنے اور حسد کرنے کے بجائے اسے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سمجھ کر قبول کرو۔ یاد رکھو کہ تمہارے رب کے نزدیک طاقت ور اور کمزور، گورے اور کالے، غریب اور امیر، شاہ اور گدا، عربی اور عجمی میں کوئی فرق نہیں۔ اس کی بارگاہ میں چہرے نہیں دل دیکھے جاتے ہیں۔ نعرے نہیں آدمی کا کردار دیکھا جاتا ہے۔ اسی کو رسول اللہ (ﷺ) نے حجۃ الوداع کے موقع پر یوں بیان فرمایا : (یَآ أَیُّھَا النَّاسُ !أَلَآ إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلی أَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ إِلَّا بالتَّقْوٰی) [ مسند أحمد : کتاب مسند الأنصار، باب حدیث رجل من أصحاب النبی (ﷺ) ] ” اے لوگو! خبردار یقینًا تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے خبردار! کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ کو کالے پر اور کسی کالے کو سرخ پر سوائے تقویٰ کے کوئی فضیلت حاصل نہیں۔“ رسول اللہ (ﷺ) نے غریبوں کو خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا : (یَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِیْنَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ أَغْنِیَائِھِمْ بِنِصْفِ یَوْمٍ وَّھُوَ خَمْسُ مائَۃِ عَامٍ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزھد، باب ماجاء أن فقراء المھاجرین یدخلون الجنۃ قبل أغنیائھم] ” غریب مسلمان امیر لوگوں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔“ لہٰذا قدرت کے فرق کو مٹانے یا حسد کے ساتھ آگے بڑھنے میں اپنی صلاحیتیں ضائع نہ کرو۔ بلکہ اپنے آپ کو سنوارنے اور آخرت بنانے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل کے طلب گار اور اس کا قرب تلاش کرنے والے ہوجاؤ۔ اس کے خزانے لامحدود، اس کی رحمت بے کراں اور اس کا فضل بے حد و حساب ہے۔ وہاں مرد وزن میں فرق کیے بغیر ہر کسی کے اعمال اور اس کی نیت و کردار کے مطابق اجر دیا جائے گا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قالَ إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیْثِ وَلَاتَحَسَّسُوْا وَلَاتَجَسَّسُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَکُوْنُوْا عِبَاد اللّٰہِ إِخْوَانًا) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ بدگمانیوں سے بچو کیونکہ گمان سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور نہ ٹوہ لگاؤ، نہ جاسوسی کرو، نہ پیٹھ پیچھے باتیں کرو اور نہ ہی آپس میں بغض رکھو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے مرد و زن کے حصّے مقرر فرما دیے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا فضل مانگنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن: فضل کا معنٰی و مفہوم : 1۔ فضل سے مراد مال۔ (البقرۃ:198) 2۔ فضل سے مراد احسان کرنا۔ (البقرۃ:64) 3۔ فضل سے مراد فضیلت۔ (النساء :70) 4۔ فضل سے مراد مال غنیمت۔ (النساء :73) النسآء
33 فہم القرآن : ربط کلام : مردوں اور عورتوں کے معاشرتی اور اخلاقی حقوق بیان کرنے کے بعد مالیاتی حقوق کا تحفظ فرمایا گیا ہے۔ اوپر کی آیت میں مرد اور عورت کی کمائی کو الگ الگ تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہاں عربوں کے اس رواج کی اصلاح کی گئی ہے جس میں مرنے والا اپنے حقیقی وارثوں کو محروم کرکے کسی دوست یا رشتہ دارکے نام اپنی جائیداد وقف کردیتا تھا۔ فرمایا کہ مرد ہو یا عورت ہر ایک کا حصّہ اور اس کے وارثوں کا تعیّن کردیا گیا ہے۔ اب ان کے حصہ میں کمی وبیشی کرنا کسی طرح جائز نہیں۔ سوائے اس کے جو اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے تم نے کسی کے ساتھ عہد کیا ہو۔ اسے عہد کے مطابق اتنا حصہ دے سکتے ہو۔ لیکن اس کے بعد ایسا کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے انصار اپنے مہاجر بھائیوں کو وراثت میں حصہ دار ٹھہرایا کرتے تھے۔ اس حکم کے نازل ہونے کے بعد یہ سلسلہ ختم کردیا گیا اور فرمایا کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) فتح مکہ کے موقع پر سخت بیمار ہوئے۔ انہوں نے رسول محترم (ﷺ) سے عرض کیا کہ میرے پاس بہت سا مال ہے ایک بیٹی کے علاوہ کوئی وارث نہیں۔ میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے انہیں اجازت عنایت نہیں فرمائی۔ پھر انہوں نے نصف کی اجازت طلب کی۔ آپ نے اس کی بھی اجازت نہیں دی اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی اجازت مانگی تو آپ نے یہ فرما کر اجازت دی کہ یہ بھی زیادہ ہے۔ اپنی اولاد کو مال دار چھوڑناان کو محتاج چھوڑنے سے زیادہ بہتر ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الفرائض، باب میراث البنات] مسائل : 1۔ وراثت کی تقسیم شریعت کے مطابق ہونی چاہیے۔ نوٹ : وراثت کا بیان سورۃ النساء 11: کے تحت دیکھئے۔ النسآء
34 فہم القرآن : (آیت 34 سے 35) ربط کلام : معاشرتی‘ مالی حقوق اپنی جگہ مسلّم لیکن خاندانی یونٹ کو متوازن اور مستحکم رکھنے کے لیے مرد کو گھر کا ناظم مقرر کیا گیا ہے اگر میاں بیوی کے درمیان تنازعہ ہوجائے تو اس کا طریقہ کار بھی طے کردیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے گھر یلو زندگی کو ایک یونٹ قرار دے کر مرد کو اس کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ جس کے لیے ﴿قَوَّامَ﴾ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنی ہے ہر قسم کی نگرانی اور انتظام کرنے والا۔ گھر کا منتظم اس لیے مقرر کیا تاکہ گھر کا نظام مضبوط اور صحت مند خطوط پر چلتا رہے۔ مرد کو منتظم بنانے کی دو وجوہات بیان فرمائیں تاکہ عورت کے ذہن میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے۔ پہلی یہ کہ مرد ذہنی اور جسمانی لحاظ سے عورت کے مقابلے میں مضبوط اور برتر پیدا کیا گیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مرد پر بیوی بچوں کی حفاظت اور ان کے اخراجات کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ تاکہ عورت باہر کی الجھنوں سے بچ کر سکون کے ساتھ خاوند کی خدمت‘ بچوں کی تربیت اور صنف نازک ہونے کی وجہ سے آرام کی زندگی گزار سکے۔ اگر غور سے سوچا جائے تو عورت کی گھریلو مصروفیات اس قدرزیادہ ہیں کہ وہ باہر کے کاموں کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتی۔ چہ جائیکہ اس پر ملازمت یا کاروبار کی دوہری ذمہ داری ڈال دی جائے۔ معاشرہ اس بات کا گواہ ہے کہ جو عورتیں کسی مجبوری یا محض گھریلو بجٹ میں اضافہ کرنے کے لیے ملازمت کرتی ہیں۔ انہیں گھر اور بچوں کو سنبھالنے کے لیے کوئی ملازمہ رکھنا پڑتی ہے۔ بصورت دیگر ان کے گھر کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے یہاں تک کہ ان کے پاس کھانا پکانے کا وقت بھی نہیں ہوتا۔ ایسے جوڑے اپنی ڈیوٹی سے گھر آتے وقت کھانا بھی ہوٹل سے لاتے ہیں۔ ان مسائل کی بنا پر عورت کو گھر کی ملکہ اور خاوند کو مشکل معاملات کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔ جب سے مسلمان خواتین نے بلا مجبوری مرد کی ذمہ داریوں میں حصہ لینا شروع کیا ہے اس وقت سے عورت میں خود سری اور نخوت پیدا ہونے کے ساتھ مسلمان معاشرہ توڑ پھوڑ کا شکار، گھروں کا سکون برباد اور اولاد ماں باپ کی نافرمان ہوچکی ہے۔ کتنا ہی بہتر ہوتا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی تقسیم کے مطابق اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے تو اولاد کی نافرمانیوں‘ گھروں کی بربادی اور معاشرتی بے حیائی سے محفوظ رہتے۔ نیک بیوی کے کردار میں دو خوبیاں نمایاں ہونی چاہییں۔ خاوند کی مطیع اور اس کی عزت و ناموس، مال اور اولاد کی حفاظت کرنے والی ہو۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے گھر کی نگرانی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر عورت مرد کے مقابلے میں آئے اور اس کی بغاوت کرے تو اسے بہتر الفاظ اور اچھے انداز میں نصیحت کرنی چاہیے۔ ٹکراؤ کی صورت میں گھریلو زندگی بے چینی اور عدم توازن کا شکار ہوگی بلکہ اولاد پر بھی برے اثرات مرتب ہوں گے۔ خاص کر بیٹیوں کے مستقبل پر اس کے نہایت ہی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نفع ونقصان سمجھانے کے باوجود بیوی اگر اپنی روش ترک کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو خاوند کو اس کے ساتھ اپنی قربت ختم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ جس کے لیے قرآن مجید نے بستر الگ کردینے کا حکم دیا ہے جو حیا دار اور خاندانی عورت کے لیے بہت بڑی سزا ہے۔ عورت میں اگر معمولی عقل اور حیا ہوگی تو وہ ضرور سوچنے پر مجبور ہوگی کہ ایک گھر میں رہتے ہوئے بیگانگی اور ایک دوسرے سے بیزاری اچھی نہیں۔ بصورت مجبوری تیسرا اور آخری اقدام یہ ہے اسے ہلکی پھلکی جسمانی سزا دی جائے تاکہ اس کی آنکھیں کھل جائیں کہ اب گھر کی ملکہ کے بجائے میں لونڈی کے مقام پر آکھڑی ہوں اور میرا گھر عقوبت خانہ اور اس کا ماحول میرے لیے اچھوت بن چکا ہے۔ کوئی عورت اگر اس قدر جاہل اور ہٹ دھرم ہو کہ وہ سدھرنے کا نام نہ لے تو پھر دونوں خاندانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قریبی رشتہ داروں سے دو آدمی ثالث مقرر کریں۔ ثالثوں کا دونوں طرف سے رشتہ دار ہونا اس لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف کھل کر بات چیت اور معاملات سلجھا سکتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ میاں بیوی اور خاندان کی عزت بھی سلامت رہ سکے گی۔ بالفاظ دیگر گھر کا معاملہ گھر ہی میں نمٹ جائے گا۔ اگر ثالث اور میاں بیوی اخلاص کے ساتھ معاملہ سدھارنا چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں ہمت اور توفیق نصیب فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ان میں کون زیادہ قصور وار اور کون اخلاص کے ساتھ صلح کی کوشش کررہا ہے؟ (عَنْ حَکِیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْقُشَیْرِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! مَاحَقُّ زَوْجَۃِ أَحَدِنَا عَلَیْہِ قَالَ أَنْ تُطْعِمَھَاإِذَا طَعِمْتَ وَتَکْسُوَھَا إِذَا اکْتَسَیْتَ وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْہَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَھْجُرْ إِلَّا فِی الْبَیْتِ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب النکاح، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا] ” حضرت حکیم بن معاویہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! ہم پر ہماری بیویوں کے کیا حقوق ہیں؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا : جب تو کھانا کھائے تو اسے بھی کھلائے جب تو کپڑے پہنے اسے بھی پہنائے منہ پر نہ مارے‘ نہ گالی دے اور اسے نہ چھوڑ مگر گھر میں۔“ عورت کی سربراہی : بعض نام نہاد دانشور غیر مسلموں سے متاثر ہو کرنا صرف اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ عورت کو مرد کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہیے بلکہ وہ مغربی جمہوریت کی پیروی میں عورت کو ملک کا سربراہ بنانے میں حرج نہیں سمجھتے۔ اس کے لیے ” سورۃ النمل“ سے ملکہ سبا کی حکومت کا حوالہ دیتے ہیں۔ ایسے دانشور یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ مملکت سبا کی ملکہ بلقیس اس وقت تک ہی اپنے ملک کی حکمران رہی تھی جب تک وہ کافرہ تھی۔ جو نہی وہ اپنے وقت کے نبی حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر ایمان لائی تو اس نے اپنے آپ کو ان کے حوالے کردیا۔ اس کے بعداس کی حکمرانی کا تاریخ میں ثبوت نہیں ملتا۔ کچھ لوگ جنگ جمل میں حضرت عائشہ (رض) کی سربراہی کا حوالہ دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات بھی انصاف کے ترازو پر پوری نہیں اترتی۔ کیونکہ حضرت عائشہ (رض) نے زندگی بھر کبھی مسلمانوں کی خلیفہ بننے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ وہ تو شدید ہنگامی حالات میں مسلمانوں کے درمیان صلح کی غرض سے نکلی تھیں۔ لیکن حالات کی پیچیدگی میں پھنس کر رہ گئیں۔ اس لیے وہ زندگی بھر اپنے اس اقدام پر پریشان اور پشیمان رہیں۔ جب بھی قرآن مجید کی اس آیت ﴿وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ﴾ [ الاحزاب :33] کی تلاوت کرتیں تو زارو قطار رویا کرتی تھیں۔ [ طبقات ابن سعد] عورت کی حکمرانی اور اسلام : ہم یہاں مولانا سید جلال الدین انصر کی کتاب ” عورت اسلامی معاشرے میں“ سے کچھ اقتباس درج کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں : ” قدیم تاریخ کے متعلق کسی قدر مفصل اور مستند معلومات ہمیں یونانیوں اور رومیوں کے عہد سے ملتی ہیں۔ انہوں نے تہذیب وتمدن اور علوم وفنون میں اس قدر ترقی کی کہ اس کی بنیاد پر بہت سی تہذیبیں اور بہت سے علوم وجو میں آئے لیکن بایں ہمہ ترقی، ان کے ہاں عورت کا مقام بہت ہی پست تھا۔ وہ اس کو انسانیت پر بار سمجھتے تھے اس کا مقصد ان کے نزدیک سوائے اس کے کچھ نہیں تھا کہ خادمہ کی طرح گھر والوں کی خدمت کرتی رہے۔ اہل یونان اپنی معقولیت پسندی کے باوجود عورت کے بارے میں ایسے ایسے تصورات رکھتے تھے جن کو سن کر ہنسی آتی ہے لیکن ان سے اس بات کے سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ان کی نگاہ میں عورت کی کیا قدر وقیمت تھی اور وہ اپنے درمیان اسے کیا حیثیت دیتے تھے۔ ان کا قول تھا آگ سے جل جانے اور سانپ کے ڈسنے کا علاج ممکن ہے لیکن عورت کے شر کا مداوا محال ہے۔ پنڈور انامی ایک عورت کی بابت ان کا عام اعتقاد تھا کہ وہی تمام دنیاوی آفات ومصائب کی جڑ ہے۔ ایک یونانی ادیب کہتا ہے : دو مواقع پر عورت مرد کے لیے باعث مسرت ہوتی ہے ایک تو شادی کے دن دوسرا اس کے انتقال کے دن۔“ لیکی نے اپنی کتاب ” تاریخ اخلاق یورپ“ میں لکھا ہے : ” بہ حیثیت مجموعی باعصمت یونانی بیوی کا مرتبہ نہایت پست تھا اس کی زندگی مدۃ العمر غلامی میں بسر ہوتی تھی لڑکپن میں اپنے والدین کی، جوانی میں اپنے شوہر کی، بیوگی میں اپنے فرزندوں کی وراثت میں اس کے مقابلہ میں اس کے مرد اعزہ کا حق ہمیشہ رائج سمجھا جاتا تھا۔ طلاق کا حق اسے قانوناً ضرور حاصل تھا تاہم عملًا وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکتی تھی۔ کیونکہ عدالت میں اس کا اظہار یونانی ناموس وحیا کے منافی تھا۔۔ افلاطون نے بلاشبہ مرد اور عورت کی مساوات کا دعویٰ کیا تھا لیکن یہ تعلیم محض زبانی تھی۔ عملی زندگی اس سے بالکل غیر متاثر رہی۔ ازدواج کا مقصد خالص سیاسی رکھا گیا۔ یعنی یہ کہ اس سے طاقتور اولاد پیدا ہوجوحفاظت ملک کے کام آئے۔“ (عورت اسلامی معاشرہ میں صفحہ :19،20، 21) یہ تو تھا یونانی تہذیب میں عورت کا مقام ومرتبہ جس کی معقولیت پسندی کا تاریخ کے اوراق میں آج بھی شہرہ ہے۔ اب ذرا مذکورہ مصنف لیکی ہی کی زبان سے رومی تہذیب میں عورت کے احوال کا تذکرہ کیا سماعت فرمالیں وہ لکھتا ہے : ” عورت کا مرتبہ رومی قانون نے عرصہ دراز تک نہایت پست رکھا، افسر خاندان جو باپ ہوتا تھا یا شوہر، اسے اپنے بیوی بچوں پر پورا اختیار حاصل تھا۔ وہ عورت کو جب چاہے گھر سے نکال سکتا تھا۔ جہیز یا دلہن کے والد کو نذرانہ دینے کی رسم کچھ بھی نہ تھی اور باپ کو اس قدر اختیار حاصل تھا کہ جہاں چاہے اپنی لڑکی کو بیاہ دے بلکہ بعض دفعہ تو وہ کی کرائی شادی کو توڑ دیتا تھا۔ زمانہ مابعد یعنی دور تاریخی میں یہ حق باپ کی طرف سے شوہر کی طرف منتقل ہوگیا اور اب اس کے اختیارات یہاں تک وسیع ہوگئے ہیں کہ وہ چاہے تو بیوی کو قتل کرسکتا تھا۔20 5 ء تک طلاق کا کسی نے نام نہ سنا تھا۔“ غلاموں کی طرح عورت کا مقصد بھی خدمت اور چاکری سمجھا جاتا تھا۔ مرد اسی غرض سے شادی کرتا تھا کہ وہ بیوی سے فائدہ اٹھاسکے گا۔ وہ کسی عہدے کی اہل نہیں سمجھی جاتی تھی۔ حتی کہ کسی معاملہ میں اس کی گواہی تک کا اعتبار نہیں تھا۔ البتہ اس کی طبعی کمزوریوں کی بناء پر اس کو بعض سہولتیں دی گئی تھیں۔ اس میں شک نہیں کہ بعد کے ادوار میں رومیوں نے اس کو حقوق بھی دیے لیکن اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کو مرد کے مساوی درجہ کبھی نہیں دیا۔“ (عورت اسلامی معاشرہ میں صفحہ نمبر :21، 22) [ بحوالہ انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا، عورت کی سماجی ومعاشرتی حالت][ ماخوذ از ” عورت کی حکمرانی اور اسلام“ مصنف فخرا لدین صدیقی] مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر برتری عنایت فرمائی ہے۔ 2۔ مرد اپنی کمائی سے عورتوں کی کفالت کرتے ہیں۔ 3۔ عورتوں کو خاوندوں کی تابعداری اور اپنی عزت و عفت کی حفاظت کرنا چاہیے۔ 4۔ نافرمان بیویوں کو نصیحت کرنا۔ 5۔ دوسرا قدم خواب گاہوں میں ان سے علیحدگی اختیار کرنا۔ 6۔ تیسرا قدم ہلکی پھلکی سزا دینا ہے۔ 7۔ اطاعت شعار بیوی پر زیادتی کرنا جائز نہیں۔ 8۔ میاں بیوی کے درمیان اختلافات پہلی تینوں صورتوں سے حل نہ ہوں تو دونوں کی طرف سے رشتہ دار ثالثان مقرر کرنے چاہییں۔ تفسیر بالقرآن : نیک عورتوں کے اوصاف : 1۔ پاک دامن، حیا دار اور با پردہ۔ (المائدۃ: 5، القصص :25) 2۔ مطیع‘ توبہ کرنے والی‘ عبادت گزار اور روزے دار۔ (التحریم :5) 3۔ صدقہ کرنے والی‘ صابرہ‘ ڈرنے والی‘ سچی‘ پاکدامنہ‘ اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والی۔ (الاحزاب :35) النسآء
35 النسآء
36 فہم القرآن : ربط کلام : میاں بیوی کے حقوق کے بعد اللہ تعالیٰ کی عبادت بلا شرکت غیرے کرنے کا حکم نیز والدین‘ قریبی رشتہ داروں اور مستحق لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین۔ گویا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا بیک مقام تذکرہ کیا گیا ہے۔ انسان اس وقت تک کسی کے حقوق اخلاص کے ساتھ پوری طرح ادا نہیں کرسکتا جب تک صحیح معنوں میں اپنے آپ کو بلا شرکت غیرے اللہ تعالیٰ کی غلامی اور تابعداری میں نہ لے آئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کبھی احکامات جاری کرنے کے بعد اور کبھی ان کی ابتدا میں اپنی توحید اور تقویٰ یاد دلاتے ہیں تاکہ انسان اپنے آپ کو اس کے حضور مکمل طور پر سر نگوں کر دے۔ ذات کبریا کے بعد والدین ہی انسان کے سب سے زیادہ ہمدرد، محسن، مربیّ اور قریب ہوتے ہیں۔ انسان ماں کی آغوش میں باپ کی کمائی سے نشوونما پاتا ہے۔ اس لیے اللہ اور اس کے رسول کے بعد آدمی کی اطاعت کے سب سے زیادہ حقدار اس کے والدین ہیں۔ والدین‘ یتامیٰ اور مساکین کے تفصیلی مسائل و فضائل کے لیے [ سورۃ البقرۃ آیت 83] کی تفسیر ملاحظہ کیجیے۔ ان کے بعد معاشرے میں ہمسایہ اور بے سہارا ہونے والے طبقات یعنی، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور غلاموں کا ذکر ہوا ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے کہ جبریل امین (علیہ السلام) اس قدر ہمسایوں کے بارے میں مجھے تلقین کرتے رہے کہ میں نے سمجھا شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک بنا دیں گے۔“ [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ، باب الوصیۃ بالجارو الإحسان إلیہ] حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (ﷺ) سے استفسار کیا کہ میرے دو پڑوسی ہیں میں پہلے کس کو تحفہ بھیجوں؟ آپ نے فرمایا جس کا دروازہ تیرے زیادہ قریب ہے۔[ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب حق الجوار فی قرب الأبواب] رسول اللہ (ﷺ) نے ایک موقع پر تین مرتبہ قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ وہ شخص مومن نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کون مومن نہیں ؟ فرمایا جس کی تکلیف سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہ ہو۔ [ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب إثم من لایأمن جارہ بوائقہ] مسافر کے حقوق: رسول معظم (ﷺ) کے زمانے میں بالخصوص عرب میں شہر اور بستیاں ایک دوسرے سے بہت ہی دور ہوا کرتی تھیں اور آج کی طرح ہوٹلوں کا انتظام نہیں تھا۔ مسافر لوگ اونٹوں، گھوڑوں اور گدھوں پر سفر کرتے اور اپنا زاد راہ ساتھ رکھا کرتے تھے۔ بسا اوقات راستہ بھول جانے یا مسافت کا اندازہ کرنے میں غلطی ہوجانے کی وجہ سے زاد راہ ختم ہوجاتا۔ بعض اوقات پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہوتا تھا۔ ایسے سفر کے بارے میں ہمارے لیے کیا حکم ہے : (عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ (رض) أَنَّہُ قَالَ قُلْنَا یَا رَسُول اللَّہِ إِنَّکَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلاَ یَقْرُونَنَا فَمَا تَرَی، فَقَالَ لَنَا رَسُول اللَّہِ () إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَکُمْ بِمَا یَنْبَغِی للضَّیْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ یَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْہُمْ حَقَّ الضَّیْفِ الَّذِی یَنْبَغِی لَہُم)ْ[ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب إکرام الضیف وخدمتہ إیاہ بنفسہ] ” حضرت عقبہ بن عامر (رض) نے رسول اللہ (ﷺ) سے سوال کیا کہ آپ ہمیں کسی مہم پر روانہ کرتے ہیں اگر ہم ایسے لوگوں کے پاس سے گزریں یا اتریں جو ہماری مہمان نوازی کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ اس صورت حال میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اگر لوگ تمہارا خیال رکھیں تو اچھی بات ہے بصورت دیگر تمہیں ان سے اپنی مہمانی کا حق وصول کرنا چاہیے۔“ مراد یہ ہے کہ بھوکا مرنے کے بجائے ان سے کھانا پینا مانگا جاسکتا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کی بلا شرکت غیرے عبادت کرنا، والدین اور دیگر رشتہ دار، تعلق داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا لازم ہے۔ 2۔ اللہ متکبر کو پسند نہیں کرتا۔ تفسیر بالقرآن : حقوق اللہ اور حقوق العباد : 1۔ ایک اللہ کی ہی عبادت کی جائے۔ ( البقرۃ:21) 2۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ ( لقمان :13) 3۔ والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے۔ ( الاحقاف :15) 4۔ ہمسایوں کا خیال رکھا جائے۔ (النساء :36) 5۔ یتامیٰ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم۔ ( البقرۃ:83) 6۔ اقرباء کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم۔ (النحل :90) النسآء
37 فہم القرآن : (آیت 37 سے 38) ربط کلام : اس سے پہلے والدین، عزیز و اقارب، یتامی، مساکین، پڑوسیوں اور مسافروں کے ساتھ مالی تعاون کرنے کا حکم ہے۔ اس لیے یہاں بخل کی مذمت کی گئی ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے مال و اسباب کو اپنا فضل قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے سرفراز فرمائے ان کا فرض ہے کہ وہ بخل کرنے کی بجائے سخاوت کا مظاہرہ کریں۔ بخل کا ماحول پیدا کرنے یا مستحق حضرات پر خرچ نہ کرنے کا حکم دینے اور مال کو چھپا کر رکھنے کی بجائے لوگوں کو صدقہ وخیرات کرنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ مال چھپا چھپا کر رکھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خرچ کرنا چاہیے۔ جو لوگ بخل کرنے کے ساتھ دوسروں کو بخل کے لیے کہتے ہیں ایسے ناشکروں اور نافرمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی رسوا کن عذاب تیار کیا ہے۔ یہاں صرف خرچ کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔ جو لوگ نمود ونمائش اور دوسروں پر اپنی دھاک بٹھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں درحقیقت وہ لوگ اللہ تعالیٰ اور آخرت پریقین نہیں رکھتے۔ کیونکہ انکا اللہ اور آخرت پر یقین ہوتا تو یہ بطور احسان، نمود و نمائش اور لوگوں سے خوشامد کی صورت میں اپنے صدقہ کا معاوضہ نہ لیتے۔ اگر ان کا آخرت پر یقین ہوتا تو یہ دنیا میں عارضی شہرت کی خاطر آخرت کا دائمی اجر ضائع نہ کرتے۔ اس ہلکے پن اور جلد بازی کا حقیقی سبب شیطان کا پھسلانا اوراُکسانا ہے۔ شیطان تو آدمی کا بدترین ساتھی ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَثَلَ الْبَخِیْلِ وَالْمُتَصَدِّقِ کَمَثَلِ رَجُلَیْنِ عَلَیْھِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِیْدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَیْدِیْھِمَا إِلٰی ثَدِیِّھِمَا وَتَرَاقِیْھِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ کُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ انْبَسَطَتْ عَنْہُ حَتّٰی تَغْشٰی أَنَامِلَہٗ وََتَعْفُوَ أَثَرَہٗ وَجَعَلَ الْبَخِیْلُ کُلَّمَا ھَمَّ بِصَدَقَۃٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ کُلُّ حَلْقَۃٍ بِمَکَانِھَا قَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ (رض) فَأَنَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ () یَقُوْلُ بِإِصْبَعِہٖ ھٰکَذَا فِیْ جَیْبِہٖ فَلَوْ رَأَیْتَہٗ یُوَسِّعُھَا وَلَا تَتَوَسَّعُ) [ رواہ البخاری : کتاب اللباس، باب جیب القمیص من عند الصدر وغیرہ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال دی کہ اس کی مثال دو آدمیوں کی طرح ہے جو ہاتھ، سینے اور حلق تک فولادی قمیض پہنے ہوئے ہوں۔ صدقہ دینے والا جب بھی صدقہ کرتا ہے تو اس کا جبہ کشادہ ہوجاتا ہے اور وہ اس کی انگلیوں تک بڑھ جاتا ہے اور قدموں کو ڈھانک لیتا ہے اور بخیل جب صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا جبہ اس سے چمٹ جاتا ہے یہاں تک ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم (ﷺ) کو دیکھا آپ اپنی انگلیوں سے اپنے گریبان کی طرف اشارہ کرکے بتا رہے تھے کہ تم دیکھو گے کہ وہ اس کو کھولنا چاہے گا لیکن وہ نہیں کھلے گا۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ () قَالَ مَامِنْ یَوْمٍ یُّصْبِحُ الْعِبَادُ فِیْہِ إِلَّا مَلَکَانِ یَنْزِلَانِ فَیَقُوْلُ أَحَدُھُمَا اَللّٰھُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَیَقُوْلُ الْآخَرُ اللّٰھُمَّ أَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا) [ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب قول اللّٰہِ تعالیٰ فأما من أعطی واتقی وصدق بالحسنیٰ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک یہ آواز لگاتا ہے اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اور عطا فرما۔ دوسرا یہ آواز لگاتا ہے اے اللہ! نہ خرچ کرنے والے کا مال ختم کردے۔“ مسائل : 1۔ بخل کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ذلت آمیز عذاب دیں گے۔ 2۔ نمود و نمائش کے لیے خرچ کرنے والے شیطان کے ساتھی ہیں۔ تفسیر بالقرآن : شیطان بد ترین ساتھی ہے : 1۔ شیطان انسان کا دشمن ہے۔ (البقرۃ :168) 2۔ شیطان کی رفاقت کا بدترین انجام۔ (الفرقان : 27، 29) 3۔ شیطان بے وفائی سکھلاتا ہے۔ (الحشر :16) 4۔ شیطان بدترین ساتھی ہے۔ (النساء :38) 5۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ دشمنی کی۔ (الاعراف : 20تا22) النسآء
38 النسآء
39 فہم القرآن : (آیت 39 سے 40) ربط کلام : ریا کاری اور بخل سے اجتناب اور انفاق فی سبیل اللہ تبھی قبول ہوسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین کامل ہو کہ جو کچھ صدقہ وہ کرے یا کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا اجر ضائع نہیں کرتاقیامت کو اس کو پورا پورا اجر ملے گا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِّنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَّلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ فَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ فُلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا جو آدمی کھجور کے برابر اپنی پاک کمائی سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ کے ہاں صرف پاک چیز ہی قبول ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر اس کو اس طرح پالتا اور بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی بچھڑے کو پالتا ہے حتیٰ کہ صدقہ پہاڑکی مانند ہوجاتا ہے۔“ مسائل : 1۔ لوگوں کو اخلاص کے ساتھ اللہ اور آخرت پر ایمان لانے کے ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا : 1۔ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ (آل عمران :182) 2۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتے۔ (النساء :40) 3۔ اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ (آل عمران :117) النسآء
40 النسآء
41 فہم القرآن : (آیت 41 سے 42) ربط کلام : آخرت کے دن ظالم اپنا انجام دیکھ کر اپنے اعمال کا انکار کرتے ہوئے یہاں تک کہیں گے کہ دنیا میں ہمیں کسی نبی اور مبلغ نے کچھ سمجھایا ہی نہیں تھا۔ اے رب! ورنہ ہم تیری نافرمانی نہ کرتے۔ اس دن خدا کے باغی یہ آرزو کریں گے کاش! ہم زمین میں دھنس جائیں اور ہم پر زمین برابر کردی جائے۔ خواہش کے باوجود نہ چھپ سکیں گے اور نہ ہی وہ کوئی بات چھپا سکیں گے۔ محشر کا دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔ اس میں کئی مراحل ہوں گے ہر مرحلہ دنیا کے سینکڑوں سالوں کے برابر ہوگا۔ ان مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ جب مجرم قسمیں اٹھا اٹھا کر اس بات کا انکار کریں گے کہ الٰہی ہم نے تیری ذات کا نہ انکار کیا اور نہ ہی کسی کو تیرا شریک ٹھہرایا۔ ہمارے ذمہ جو اعمال لگائے گئے ہیں ہم نے یہ ہرگز نہیں کیے۔ انبیاء کے بارے میں کہیں گے کہ انہوں نے ہمیں ایک بار بھی نہ سمجھایا۔ اس دروغ گوئی کی وجہ سے ان کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی۔ اب ان کے اعضاء گواہی دیں گے۔ اس کے بعد اور شہادتیں پیش کی جائیں گی جن میں سب سے بڑی اور معتبر شہادت انبیاء کی ہوگی۔ وہ عرض کریں گے اے رب ذوالجلال! ہم نے تیرا پیغام مِن و عَن پہنچا دیا تھا لیکن مجرم پھر بھی نہیں مانیں گے۔ اس پر سرور دو عالم (ﷺ) گواہی دیں گے کہ اے رب کریم ! انبیاء کرام نے تیرا پیغام ٹھیک ٹھیک طریقے سے پہنچایا تھا۔ ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (ﷺ) نے مجھے قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے لیے فرمایا میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! کیا میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤ ں؟ حالانکہ آپ پر قرآن نازل ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں! میں نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی جب اس آیت کریمہ پر پہنچا (پس کیا حالت ہوگی جب ہر امت سے گواہ لائیں گے اور ان سب پر تمہیں گواہ بنا کر لائیں گے۔) آپ نے فرمایا رک جائیے! میں نے دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔“ [ رواہ البخاری : کتاب فضائل القرآن] اس شہادت کے بارے میں حجۃ الوداع کے موقعہ پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے لوگوں سے پوچھا :”أَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ“ کیا میں نے پہنچا دیا ؟ تو لوگوں نے کہا کیوں نہیں آپ (ﷺ) نے ہمیں اللہ کے احکام پہنچا دئیے۔ اس وقت آپ نے ارشاد فرمایا : ”أَللّٰھُمَّ اشْھَدْ أَللّٰھُمَّ اشْھَدْ“ اے اللہ ! گواہ رہنا‘ اے اللہ ! گواہ رہنا۔“ [ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب الخطبۃ أیام منی] اُمت محمدیہ کی گواہی : (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () یُدْعٰی نُوْحٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہٗ ھَلْ بَلَّغْتَ فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیُدْعٰی قَوْمُہٗ فَیُقَالُ لَھُمْ ھَلْ بَلَّغَکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ مَآأَتَانَا مِنْ نَّذِیْرٍ أَوْ مَآ أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَیُقَالُ لِنُوْحٍ مَنْ یَّشْھَدُ لَکَ فَیَقُوْلُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُہٗ قَالَ فَذٰلِکَ قَوْلُہٗ ﴿وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا﴾) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب : مسند أبی سعید الخدری] ” حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا روز قیامت نوح (علیہ السلام) کو پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے میرا پیغام پہنچا یا تھا؟ وہ جواب دیں گے ہاں پھر ان کی قوم کو بلا کر پوچھا جائے گا کیا انہوں نے تمہیں تبلیغ کی اور میرا پیغام پہنچایا۔ وہ کہیں گے ہمارے پاس تو ڈرانے والا کوئی نہیں آیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا جائے گا آپ کی گواہی کون دے گا؟ وہ کہیں گے محمد (ﷺ) اور اس کی امّت۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ (اسی طرح ہم نے تمہیں امّتِ وسط بنایا ہے)۔“ مسائل : 1۔ قیامت کے دن ہر امت کا رسول اس پر گواہ ہوگا اور حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) امت محمدیہ اور پہلے انبیاء کے بارے میں گواہی دیں گے۔ 2۔ قیامت کے دن کافر اور رسول کا نافرمان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجانے کی آرزو کرے گا۔ تفسیر بالقرآن : قیامت کے دن ظالم کی آرزوئیں : 1۔ مٹی کے ساتھ مٹی ہوجانے کی خواہش۔ (النساء : 42، النباء :40) 2۔ دنیا میں واپس آنے کی آرزو۔ (البقرۃ :167) 3۔ دنیا میں لوٹ کر نیک عمل کرنے کی تمنا۔ (السجدۃ:12) 4۔ ظالم اپنے ہاتھ کاٹتے ہوئے کہے گا‘ کاش میں رسول کی اتباع کرتا۔ (الفرقان :27) 5۔ کاش میں فلاں کو دوست نہ بناتا۔ (الفرقان :28) 6۔ جہنم کے داروغہ سے درخواست کرنا۔ (الزخرف :77) 7۔ اپنے مرشدوں اور لیڈروں کو دوگنی سزا دینے کا مطالبہ کرنا۔ (الاحزاب :68) 8۔ اللہ تعالیٰ سے مریدوں کا مرشدوں کو اپنے پاؤں تلے روندنے کا تقاضا کرنا۔ (السجدۃ:29) النسآء
42 النسآء
43 فہم القرآن : ربط کلام : آخرت کی تیاری کے لیے سچا ایمان اور پاکیزگی کی حالت میں نماز پڑھنا فرض ہے۔ پہلے بھی عرض کیا گیا ہے کہ قرآن مجید محض قانون کی کتاب نہیں۔ بلکہ قرآن مجید قانون اور ضابطے بیان کرنے کے بعد نصیحت کرتا ہے تاکہ ان پر عمل کرنا آسان ہو۔ سورۃ البقرۃ آیت ٢١٩ میں فقط اتنا احساس دلایا تھا کہ شراب میں فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ اب حکم ہوتا ہے کہ شراب پی کر نماز کے قریب نہ جاؤ۔ یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ تم کیا کہہ اور مانگ رہے ہو۔ ساتھ ہی طہارت اور وضو کا طریقہ بتلایا گیا ہے۔ سکارٰی کا لفظ استعمال فرماکر بتلایا گیا ہے کہ بے ہوشی نشہ کی ہو یا نیند کی ایسی حالت میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ جس کی وضاحت رسول اللہ (ﷺ) نے یوں فرمائی : (عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () قَالَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُکُمْ وَھُوَ یُصَلِّیْ فَلْیَرْقُدْ حَتّٰی یَذْھَبَ عَنْہُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا صَلّٰی وَھُوَ نَاعِسٌ لَایَدْ رِیْ لَعَلَّہٗ یَسْتَغْفِرُ فَیَسُبُّ نَفْسَہٗ) [ رواہ البخاری : کتاب الوضوء، باب الوضوء من النوم ومن لم یرمن النعسۃ والنعستین أو الخفقۃ وُضواءً] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز کے دوران اونگھ آئے تو وہ نیند دور ہونے تک آرام کرے کیونکہ جب تم میں سے کوئی نیند کی حالت میں نماز پڑھتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ خیر مانگنے کی بجائے اپنے لیے برائی مانگ رہا ہو۔“ سکارٰی سے مراد ہر قسم کا نشہ ہے چاہے شراب سے ہویا کسی اور چیز سے۔ دوسرے حکم میں جنبی اور محتلم کو جب تک غسل نہیں کرلیتا۔ اسے نماز کے قریب جانے سے منع کیا ہے۔ نماز ہی نہیں بلکہ مسجد میں داخل ہونے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ یہاں ” عَابِرِیْ سَبِیْل“ کا اشارہ دے کر کوئی اور راستہ نہ ہونے کی صورت میں مسجد سے گزرنے کی اجازت عنایت فرمائی ہے۔ اس کے ساتھ مریض، مسافر اور قضائے حاجت سے فارغ ہونے والا وضو کے لیے پانی نہ پائے تو اس کے لیے پاک مٹی سے تیمم کرنا ہی کافی ہوگا۔ ہاں جنبی یا محتلم غسل کے لیے پانی نہ پائے یا اس کے لیے پانی کا استعمال مضرہو تو اسے تیمم کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان حالتوں میں یہ رعایت عطا فرمائی ہے کیونکہ وہ درگزر اور معاف کرنے والا ہے۔ اس آیت میں عورتوں کو چھونے کے بعد غسل یا تیمم کرنے کا حکم دیا ہے چھونے سے مراد تمام مفسرین نے جماع لیا ہے۔ بعض اہل علم بیوی کو چھونے پر وضو ٹوٹ جانے کے قائل ہیں حالانکہ رسول محترم (ﷺ) نے اپنے عمل سے اس طرح تشریح فرمائی تاکہ امت کو کسی قسم کا وسوسہ باقی نہ رہے۔ (عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ () کَانَ یُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِہٖ ثُمَّ یُصَلِّیْ وَلَا یَتَوَضَّأُ) [ رواہ النسائی : کتاب الطھارۃ، باب ترک الوضوء من القبلۃ ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) اپنی بیویوں میں سے کسی کا بوسہ لیتے پھر وضو کیے بغیرنماز ادا کرتے۔“ (بشرطیکہ آدمی کی کیفیت نارمل رہے) غسل کا طریقہ : رسول معظم (ﷺ) جنبی ہونے کی حالت میں پہلے جسم کا مخصوص حصہ یعنی شرمگاہ دھوتے اور اس کے بعد نماز جیسا وضو کرتے اور بعدازاں اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتے اس کے بعد جسم کے دائیں حصہ سے غسل کا آغاز کرتے اور اس کی تکمیل کرتے۔“ [ رواہ البخاری : کتاب الغسل] حضرت اُمّ سلمہ (رض) نے رسول اللہ (ﷺ) سے پوچھا کہ میں غسل واجب کرتے ہوئے اپنے سر کے بال کھول دوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ [ رواہ مسلم : کتاب الحیض] (بالوں کا خلال ہی کافی ہے) تیمم کا طریقہ : حضرت سعید بن عبدالرحمن اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے امیر المومنین حضرت عمر (رض) سے مسئلہ پوچھا کہ اگر میں جنبی ہوجاؤں اور مجھے پانی نہ ملے تو کیا کروں ؟ حضرت عمار بن یاسر (رض) نے حضرت عمر (رض) سے عرض کیا کہ آپ یاد فرمائیں جب ہم دونوں ایک سفر میں اس حالت سے دوچار ہوئے تو آپ نے اس حالت میں نماز ادانہ کی جبکہ میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہونے کے بعد نماز ادا کرلی۔ بعد ازاں میں نے رسول کریم (ﷺ) سے یہ واقعہ عرض کیا۔ آپ نے فرمایا تجھے اتنا ہی کافی تھا کہ اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر مار کر اور ان میں پھونک مارتے ہوئے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرلیتا۔ [ رواہ البخاری : کتاب التیمم، باب المتیمم ھل ینفخ فیھما] بعض لوگ تیمم کے لیے دو مرتبہ مٹی پر ہاتھ مارنے اور کہنیوں تک مسح کرنے کے قائل ہیں لیکن مستند روایت میں اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ تکلیف کی حالت میں غسل کی بجائے تیمم کافی ہے : (عَنْ جَابِرٍ (رض) قَالَ خَرَجْنَا فِیْ سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلًا مِّنَّاحَجَرٌ فَشَجَّہٗ فِیْ رَأْسِہٖ ثُمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابَہٗ فَقَالَ ھَلْ تَجِدُوْنَ لِیْ رُخْصَۃً فِی التَّیَمُّمِ فَقَالُوْا مَانَجِدُ لَکَ رُخْصَۃً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَی الْمَاءِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ () أُخْبِرَ بِذٰلِکَ فَقَالَ قَتَلُوْہُ قَتَلَھُمُ اللّٰہُ أَلَا سَأَلُوْا إِذْ لَمْ یَعْلَمُوْا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعَیِّ السُّوَالُ إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیْہِ أَنْ یَتَیَمَّمَ وَیَعْصِرَ أَوْ یَعْصِبَ عَلٰی جُرْحِہٖ خِرْقَۃً ثُمَّ یَمْسَحَ عَلَیْھَا وَیَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِہٖ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب الطہارۃ، باب فی المجروح یتیمم] ” حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں ہم ایک سفر میں تھے ہمارے ایک ساتھی کو سر پر پتھر لگا جس سے وہ زخمی ہوگیا رات کو اسے احتلام ہوا صبح اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کیا میں تکلیف کی وجہ سے تیمم کرسکتا ہوں؟ انہوں نے کہا کہ ہرگز نہیں کیونکہ تو پانی استعمال کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس نے غسل کیا جس سے اس کی تکلیف بڑھ گئی بالآخر وہ اسی وجہ سے فوت ہوگیا۔ جب ہم رسول محترم (ﷺ) کے پاس آئے۔ آپ کے سامنے یہ واقعہ عرض کیا گیا تو آپ (ﷺ) نے فرمایا مسئلہ بتانے والوں نے اس بیچارے کو مار ڈالا۔ اللہ ان کو مار ڈالے جب انہیں مسئلہ کا علم نہیں تھا تو وہ کسی سے پوچھ لیتے۔ کیونکہ بے علمی کا حل کسی سے پوچھ لینا ہے۔ اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ کر اس پر مسح کرتا اور باقی جسم کا غسل کرلیتا۔“ مسائل : 1۔ نشہ اور پلیدی کی حالت میں نماز کے قریب نہیں جانا چاہیے۔ 2۔ پانی نہ ملنے یا تکلیف کے باعث پاک مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ 3۔ چہرے اور ہاتھوں کا تیمم ایک ہی مرتبہ مٹی لے کر کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : وضو اور تیمم کے مسائل اور طریقہ : 1۔ وضو۔ (المائدۃ:6) 2۔ تیمم۔ (النساء :43) النسآء
44 فہم القرآن : (آیت 44 سے 45) ربط کلام : سورت کی ابتدا میں تمام انسانوں کو اس کے بعد مسلمانوں کو اور اب اہل کتاب کو مخاطب کیا جارہا ہے۔ اس سورۃ کا آغاز ﴿اَیُّھَا النَّاسُ﴾ کہہ کر کیا اور باور کروایا کہ تم ایک ہی ماں، باپ کی اولاد اور ایک ہی اللہ کی مخلوق ہو لہٰذا تمہیں اپنے خالق سے ڈرتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو میاں بیوی کے حوالے سے اور پھر ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کے احکام جاری فرمائے۔ اب اہل کتاب کو خطاب کرتے ہوئے ان کی غلطیوں کی نشاندھی کرنے کے بعد نہایت ہی خیر خواہی کے انداز میں سمجھانے کے ساتھ مسلمانوں کو ان کے کردار پر کڑی نظر رکھنے اور اپنے آپ کو گمراہی سے بچانے کی تلقین کی گئی ہے اور تسلی دی ہے کہ ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کے لیے کافی ہے۔ خصوصی توجہ کے لیے فرمایا کہ کیا تم نے ان لوگوں کے کردار پر غور نہیں کیا ؟ جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا۔ قرآن مجید نے اہل کتاب کو خطاب کرتے ہوئے یہ الفاظ کئی مرتبہ استعمال فرمائے ہیں کہ جن لوگوں کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا۔ ان الفاظ کے اہل علم نے تین مفہوم بیان کیے ہیں۔1۔ کچھ حصہ سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے تورات اور انجیل کے کافی حصہ کو اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کی خاطر ضائع کردیا تھا۔ جو ان کے ہاں کتابی شکل میں تورات اور انجیل پائی جاتی ہے اس میں بھی بے شمار ترامیم و اضافے کیے۔ اس لحاظ سے تورات اور انجیل کے حقیقی اجزاء تھوڑے ہی باقی تھے۔2۔ یہ کہ تمہیں تورات اور انجیل کی شکل میں جو احکام دیئے گئے ہیں وہ اپنے وقت کے مطابق کافی تھے لیکن ان سے دین مکمل نہیں ہوجاتا کہ تم انہیں پر جم کر بیٹھے رہو۔ وہ نامکمل دین تھا لہٰذا اب جامع دین نازل ہو رہا ہے جو عنقریب مکمل ہوجائے گا۔ اس لیے تمہیں جامع اور اکمل دین کی پیروی کرنی چاہیے۔ لیکن تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اپنے مفاد اور عناد کی خاطر نہ صرف اس دین سے انحراف کر رہے ہو بلکہ گمراہی کے خریدار بن کر مسلمانوں کی گمراہی کے درپے ہوچکے ہو۔ اس صورت حال سے آگاہ کرکے مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں اور ان کے عزائم کو اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے بشرطیکہ تم اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت پر ثابت قدم رہو۔ اللہ تمہارا سرپرست خیر خواہ اور مددگار ہے۔ ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَـرِىْ لَـهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ بِغَيْـرِ عِلْمٍ وَّيَتَّخِذَهَا هُزُوًا اُولٰٓئِكَ لَـهُـمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ﴾ (لقمان: 6) ’’ اور لوگوں میں سے ایسا بھی ہے جو بے ہودہ کلام خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکےاور جہالت کے ساتھ گمراہ کرے اور اس دوعت حق کو مذاق بنائے۔ ایسے لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ ‘‘ گمراہی کے خریدار : دنیا میں گمراہی خریدنے کی کئی شکلیں ہیں : اللہ تعالیٰ کے احکامات کو مقدم اور بہتر سمجھنے کی بجائے دنیا کے مفاد کو مقدم اور اپنے لیے بہتر تصور کرنا۔ بے حیائی اور برائی کے کاموں کو فروغ دے کر شہرت اور دولت حاصل کرنا۔ دین کو سیاسی اور معاشی مفاد کے لیے استعمال کرنا۔ شریعت کے حرام کردہ کاروبار کو اختیار کرنا۔ مسائل : 1۔ اہل کتاب گمراہی کے خریدار ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ 2۔ اللہ ہی مسلمانوں کا حمایتی اور مدد گا رہے۔ تفسیر بالقرآن : اہل کتاب کی بدترین تجارت : 1۔ رشوت لینے والے۔ (البقرۃ: 85، 86) 2۔ کفر کا سودا کرنے والے۔ (البقرۃ: 89، 90) 3۔ دین کے بدلے مال بٹورنے والے۔ (البقرۃ:174) 4۔ گمراہی کے خریدار۔ (البقرۃ:175) 5۔ ایمان کے بدلے کفر کو پسند کرنے والے۔ (آل عمران :177) 6۔ دنیا کے بدلے بد عہدی کا ارتکاب کرنے والے۔ (النحل :95) 7۔ اللہ کی آیات کو فروخت کرنے والے۔ (التوبۃ:9) النسآء
45 النسآء
46 فہم القرآن : (آیت 46 سے 47) ربط کلام : اس آیت میں یہودیوں پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے ان کی بد ترین عادتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس شخص یا گروہ میں یہ عادتیں پائی جائیں وہ معاشرے کے لیے ناسور، مذہب کا بدترین دشمن اور لوگوں کی ہدایت میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بجائے اس کی لعنت کے سزاوار ہوتے ہیں۔ ان سے چھٹکارا پائے بغیر معاشرہ جرائم سے پاک نہیں ہوسکتا۔ اس لیے رسول اللہ (ﷺ) نے یہودیوں کو ہمیشہ کے لیے مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا اور اپنی حیات مبارکہ کے آخری لمحات میں ان پر لعنت اور پھٹکار کی۔ جن عادتوں کی وجہ سے یہودیوں پر لعنت کی گئی وہ یہ ہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس کے سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کرنا۔ 2۔ سچ سننے اور سمجھنے کے باوجود اس کا انکار کرنا۔ 3۔ خدا کے رسول کو بہرہ ہونے کی بد دعا دینا اور آپ کو چرواہا کہہ کر گستاخی کا ارتکاب کرنا۔ 4۔ دین اسلام میں عیب نکالنا۔ ان بھاری جرائم کے باوجود انہیں نہایت ہی دلرُباانداز میں سمجھایا گیا ہے کہ کاش یہ لوگ سننے کے بعد سمع و اطاعت کا مظاہرہ کرتے اور رسول کریم (ﷺ) کے مزید ارشادات سننے کے لیے ﴿ راعنا﴾ کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے نہایت ادب کے ساتھ عرض کرتے کہ اے رسول محترم! ہماری طرف توجہ فرمائیں۔ اس لفظ کی تشریح پہلے صفحہ 174میں گزر چکی ہے۔ ایسا کرنا اور کہنا ان کے لیے نہایت ہی بہتر اور درست ثابت ہوتا لیکن ان کی بری نیت اور بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر پھٹکار کی۔ اب ان میں نہایت ہی تھوڑے ہوں گے جو ہدایت پائیں گے۔ اس کے باوجود ایک دفعہ پھر قرآن مجید نے یہ بات کہہ کر انہیں ایمان لانے کی دعوت دی ہے کہ یہ کتاب تمہارے انبیاء کی تصدیق اور تورات و انجیل کی تائید کرتی ہے لہٰذا تمہیں اس پر ایمان لانا چاہیے۔ اس برے وقت سے پہلے جب تمہارے چہروں کو مسخ کر کے گدیوں کے بل الٹا کردیا جائے یا تم پر ہفتہ والوں کی طرح لعنت کی جائے۔ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ ﴿ اَصْحَاب السَّبْتِ﴾ سے مراد یہودیوں کے وہ آباء و اجداد ہیں جنہیں ہفتہ کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کے بجائے حیلہ سازی سے کام لیتے ہوئے دریا کے کنارے تالاب تیار کیے اس میں مچھلیاں خود بخود آجاتیں۔ ہفتہ کی بجائے انہیں اتوار کے روز پکڑ لیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار ہوئی اور ان کو ذلیل بندر بنا دیا گیا۔ جس کی تفصیل پہلے اور چھٹے پارے میں دیکھنی چاہیے۔ مسائل : 1۔ یہودی اللہ کی کتاب میں تحریف کرتے ہیں۔ 2۔ یہودی نبی کریم (ﷺ) کا نام بگاڑکر لیتے ہیں۔ 3۔ یہودی دین اسلام میں عیب جوئی کرتے ہیں۔ 4۔ یہودیوں پر ان کے کفر اور کلام اللہ میں تحریف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی پھٹکار برستی ہے۔ 5۔ اہل کتاب کو عذاب الٰہی سے پہلے قرآن مجید پر ایمان لانا چاہیے۔ 6۔ ہفتہ کے دن زیادتی کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بر سی ہے۔ النسآء
47 النسآء
48 فہم القرآن : ربط کلام : یہودی اخلاقی جرائم کے ساتھ شرک جیسے بدترین گناہ میں ملوث تھے اور ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہیں اور اس نے ہمارے تمام گناہ معاف کردیے ہیں۔ اخلاقی جرائم کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد شرک کے بارے میں واضح کیا ہے کہ جو شخص شرک کی حالت میں فوت ہوگا اسے ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ تمام انبیاء کرام کے کلمے کے پہلے جز میں شرک کی نفی اور دوسرے جز میں توحید کا اثبات ہے۔ اس لیے ان کی دعوت کا آغاز یہاں سے ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور عبادات میں کسی قسم کا شرک نہ کیا جائے۔ شرک نام ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کسی کو ملانا یا اس کی صفات وعبادات میں دوسرے کو برابر یا حصہ دار تصور کرنا۔ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اس لیے اللہ کا بیٹا قرار دیا کہ وہ سو سال فوت ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کیے گئے، عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی غیر معمولی ولادت، بے مثال معجزات اور ان کی والدہ کی کرامات دیکھ کر انہیں اللہ کا جزء قرار دیا۔ اسی بناء پر رسول اللہ (ﷺ) نے محبت و عقیدت میں مبالغہ کرنے سے منع کیا ہے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاس (رض) سَمِعَ عُمَرَ (رض) یَقُوْلُ عَلَی الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ النَّبِیَّ () یَقُوْلُ لَاتُطْرُوْنِیْ کَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَی ابْنَ مَرْیَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہٗ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہِ تعالیٰ واذکر فی الکتاب مریم ] ” عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمر (رض) سے سنا کہ وہ منبر پر فرما رہے تھے میں نے نبی کریم (ﷺ) کو ارشاد فرماتے سنا کہ جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی شان میں غلو کیا تم میری شان میں اس طرح غلو نہ کرنا۔ میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ یہاں تک کہ آپ (ﷺ) نے اپنی ذات کے بارے میں فرمایا کہ مجھے حضرت یونس ( علیہ السلام) سے نہ بڑھایا جائے۔ [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہِ تعالیٰ ﴿ وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى ﴾] شرک تمام گناہوں اور جرائم کا منبع ہے جس وجہ سے حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر آپ کی ذات اطہر تک تمام انبیاء اور صلحاء نے اس کی مذمت کی ہے خاص کر عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے یہ الفاظ ادا کروائے گئے۔ ﴿إِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ﴾ [ المائدۃ:72] ” جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے یقینًا اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔“ ” رسول اللہ (ﷺ) فرمایا کرتے تھے کہ محشر میں میری سفارش مشرک کے سوا ہر کلمہ پڑھنے والے کو فائدہ دے گی۔ شرک کرنے والا نہ صرف اپنے خالق ومالک کے ساتھ غدّاری کا ارتکاب کرتا ہے بلکہ وہ اپنے عقیدے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھتا ہے۔ وہ شرک کرتے ہوئے یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان بزرگوں سے خوش ہو کر انہیں کچھ اختیارات دے رکھے ہیں یا اللہ تعالیٰ ان پر اتنا مہربان ہے کہ وہ انہیں کسی صورت ناراض نہیں کرسکتا۔ اس عقیدے کی وجہ سے مشرک کو کذاب کہا گیا ہے۔“ [ الزمر :3] (عَنْ أَبِی مُوسَی (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ () أُعْطِیتُ خَمْساً بُعِثْتُ إِلَی الأَحْمَرِ وَالأَسْوَدِ وَجُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ طَہُوراً وَمَسْجِداً وَأُحِلَّتْ لِیَ الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِمَنْ کَانَ قَبْلِی وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ شَہْراً وَأُعْطِیت الشَّفَاعَۃَ وَلَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ إِلاَّ وَقَدْ سَأَلَ شَفَاعَۃً وَإِنِّی اخْتَبَأْتُ شَفَاعَتِی ثُمَّ جَعَلْتُہَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِی لَمْ یُشْرِکْ باللَّہِ شَیْئاً )[ مسند احمد] ” حضرت ابی موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا مجھے پانچ خصوصیات عطا کی گئی ہیں مجھے ساری دنیا کے لیے نبی بنایا گیا ہے اور ساری زمین میرے لیے پاک ہے اور مسجد بنا دی گئی ہے اور میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں اور میری مدد کی گئی ہے ایک مہینے کی مسافت سے اور مجھے شفاعت کا حق دار قرار دیا گیا ہے اور کوئی بھی نبی ایسا نہیں مگر اس نے سفارش کا سوال کیا اور بے شک مجھے شفاعت کے لیے چن لیا گیا اور میں اپنی امت میں سے ہر اس شخص کی سفارش کروں گا جس نے شرک نہیں کیا ہوگا۔“ مسائل : 1۔ شرک کے علاوہ اللہ تعالیٰ جو اور جس کے چاہے گناہ معاف کردے گا۔ 2۔ شرک بہت بڑا گناہ اور بہتان ہے۔ تفسیر بالقرآن : شرک بدترین گناہ ہے : 1۔ شرک کی ممانعت۔ (البقرۃ :22) 2۔ شرک بڑا ظلم ہے۔ (لقمان :13) 3۔ مشرک ناپاک ہے۔ (التوبۃ:28) 4۔ مشرکوں کے اعمال برباد ہوجاتے ہیں۔ (الانعام :88) 5۔ مشرکوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ (الفتح :6) 6۔ مشرکوں پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ:72) 7۔ شرک معاف نہیں ہوگا۔ (النساء :48) 8۔ اٹھارہ جلیل القدر انبیاء ( علیہ السلام) کا تذکرہ کر کے فرمایا اگر یہ شرک کرتے تو ان کے اعمال برباد ہوجاتے۔ (الانعام : 83تا86) 9۔ نبی آخری الزماں (ﷺ) کو خطاب کہ شرک سے آپ کے اعمال بھی برباد ہوجائیں گے۔ (الزمر :65) النسآء
49 فہم القرآن : (آیت 49 سے 50) ربط کلام : یہودیوں کا زعم ہے کہ ہم انبیاء (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کی بنا پر پوری دنیا سے ممتاز اور پاک لوگ ہیں اور عیسائی سمجھتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) سولی پر لٹک کر ہمارے گناہوں کا کفارہ بن چکے ہیں۔ یہاں یہود ونصاریٰ کے حوالے سے ہر آدمی کو سمجھایا گیا ہے کہ کوئی بزرگوں سے نسبت کی بنیاد یا کسی کو اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھ کر اپنی پاک دامنی کا دعویٰ نہ کرے کیونکہ ہر آدمی اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ انبیاء کی اولاد ہونے یا کسی کے ساتھ عقیدت و محبت کی بنیاد پر آدمی پاک دامن نہیں ہوجاتا۔ جب تک وہ عقیدے کے اعتبار سے موحّد اور عمل کے لحاظ سے نبی آخرالزمان (ﷺ) کی پیروی کرنے والا نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی آدمی کا یہ عقیدہ بھی ہونا چاہیے کہ صرف ظاہری نیکی کی بنیاد پر انسان کا دل پاک نہیں ہوسکتاجب تک وہ نیکی کی روح کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔ جس کا نام اخلاص اور تقو ٰی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی عنایت اور توفیق کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پاک وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے پاک کرکے جہنم سے محفوظ فرمادیاہو۔ اس کے باوجود لوگ یہ ذہن رکھتے ہیں کہ ہم بزرگوں سے نسبت اور ان کے طفیل جہنم سے بچ جائیں گے۔ یہودی تورات سے، عیسائی انجیل سے، بد عقیدہ مسلمان قرآن وسنت سے غلط استدلال کرتے ہیں۔ گویا کہ یہ بالواسطہ طور پر اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی کرتے ہیں۔ یہ گناہ انہیں جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہے۔ رسول محترم (ﷺ) نے مصنوعی تقویٰ اور ایسے نام رکھنے سے منع فرمایا ہے جس سے خواہ مخواہ پاکدامنی کا اظہار ہوتا ہو۔ (عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمَّیْتُ ابْنَتِیْ بَرَّۃَ فَقَالَتْ لِیْ زَیْنَبُ بِنْتُ أَبِیْ سَلَمَۃَ (رض) إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () نَھٰی عَنْ ھٰذَا الْإِسْمِ وَسُمِّیْتُ بَرَّۃَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () لَاتُزَکُّوْا أَنْفُسَکُمْ اَللّٰہُ أَعْلَمُ بِأَھْلِ الْبِرِّ مِنْکُمْ فَقَالُوْا بِمَ نُسَمِّیْھَا قَالَ سَمُّوْھَا زَیْنَبَ) [ رواہ مسلم : کتاب الآداب] ” محمد بن عمرو بن عطاء (رح) کہتے ہیں میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ رکھا۔ مجھے زینب بنت ابوسلمہ (رض) نے کہا کہ اللہ کے رسول (ﷺ) نے یہ نام رکھنے سے منع کیا ہے۔ میرا نام بھی برہ رکھا گیا تھا۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اپنے آپ کو پاک نہ گردانو۔ اللہ جانتا ہے تم میں سے کون پاک ہے۔ انہوں نے پوچھاہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ نے فرمایا اس کا نام زینب رکھو۔“ (عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ (رض) قَالَ أَثْنَی رَجُلٌ عَلَی رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِی () فَقَالَ وَیْلَکَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ، قَطَعْتَ عُنَقَ صَاحِبِکَ مِرَارًا ثُمَّ قَالَ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَادِحًا أَخَاہُ لا مَحَالَۃَ فَلْیَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا، وَاللَّہُ حَسِیبُہُ، وَلاَ أُزَکِّی عَلَی اللَّہِ أَحَدًا، أَحْسِبُہُ کَذَا وَکَذَا إِنْ کَانَ یَعْلَمُ ذَلِکَ مِنْہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الشھادات، باب إذازکی رجل کفاہ] حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرۃ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم (ﷺ) کے پاس ایک آدمی نے آکر کسی کی تعریف کی۔ آپ نے فرمایا تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ کر رکھ دی۔ آپ نے یہ کلمات تین دفعہ دہرا کر فرمایا اگر کوئی ضرور کسی کی تعریف کرنا چاہتا ہے تو یہ کہے کہ فلاں آدمی کے بارے میں میرا یہ خیال ہے اللہ تعالیٰ اس کی حقیقت خوب جانتا ہے اور وہ یہ الفاظ تبھی کہہ سکتا ہے جب حقیقتاً اس شخص کو ایسا پائے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں تم کسی کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ مسائل : 1۔ آدمی کو اپنی پاکدامنی کا دعو ٰی نہیں کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر آدمی پاک اور نیک نہیں ہوسکتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والے کو بس یہی گناہ کافی ہے۔ تفسیر بالقرآن : اہل کتاب کی کذب بیانی : 1۔ آگ میں تھوڑی دیر رہنے کا دعو ٰی۔ (البقرۃ:80) 2۔ جنت کے ٹھیکیدار بننا۔ (البقرۃ:111) 3۔ ” اللہ کے محبوب“ ہونے کا دعو ٰی۔ (المائدۃ:18) 4۔ من گھڑت باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا۔ (آل عمران :78) 5۔ اپنے لیے جنت مخصوص سمجھنا۔ (البقرۃ:111) 6۔ ہدایت کو اپنے تک محدود کرنا۔ (البقرۃ:135) 7۔ نبوت کو تسلیم کرنے کے لیے قربانی کی شرط لگانا۔ (آل عمران :185) 8۔ اللہ تعالیٰ کی گستاخی کرنا۔ (المائدۃ:64) 9۔ بشر کی نبوت کا انکار کرنا۔ (الانعام :91) النسآء
50 النسآء
51 فہم القرآن : (آیت 51 سے 52) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اہل کتاب کے کردار کی مزید تفصیل اللہ تعالیٰ کے سوا جس کی بھی عبادت اور اطاعت کی جائے وہ طاغوت کی عبادت اور اطاعت ہوگی۔ غزوۂ احد میں مسلمانوں کو وقتی طور پر ہزیمت اٹھانی پڑی لیکن اس کے باوجود یہودی سمجھتے تھے کہ مسلمان دن بدن آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس کی روک تھام کے لیے مدینے کا ایک وفد کعب بن اشرف کی سر کردگی میں مکہ معظمہ پہنچا تاکہ کفار کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکا جاسکے۔ لیکن ابو سفیان اور اہل مکہ یہودیوں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جس کی وجہ سے انہوں نے یہ شرط پیش کی کہ جب تک تم ہمارے بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اکٹھے رہنے کا یقین نہیں دلاتے ہم آپ پر اعتماد نہیں کرسکتے۔ یہودی مشرک ہونے کے باوجود بتوں کی پوجا سے نفرت کرتے تھے بالخصوص کعب بن اشرف بتوں کو سجدہ کرنے کا سخت مخالف تھا لیکن اہل مکہ کو اعتماد دلانے کے لیے اس نے بتوں کے سامنے سجدہ کیا۔ اس موقعہ پر ابو سفیان نے کعب سے پوچھاکہ ہم تو اتنا علم نہیں رکھتے آپ بتائیں کہ ہم راہ راست پر ہیں یا محمد؟ کعب بن اشرف اور اس کے وفد نے کہا کہ تم زیادہ ہدایت یافتہ ہو جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ تم نے ان لوگوں کے کردار پر غور نہیں کیا جو اہل کتاب ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود بتوں اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ حسد و بغض میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ مسلمانوں کے مقابلے میں اہل کفر کو یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ تم مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔ باطل عقائد رکھنے والوں کا یہی طریقہ ہوتا ہے۔ جس کی مثال آج بھی دیکھی جاسکتی ہے کہ یہودی اور عیسائی اہل کتاب ہونے کے باوجود باطل مذاہب کے اس قدر دشمن نہیں ہیں جس طرح مسلمانوں کے دشمن ہیں یہی حالت مسلمانوں کے اندر باطل عقائد رکھنے والوں کی ہے۔ وہ اہل توحید اور سنت پر عمل کرنے والوں کی زیادہ مخالفت کرتے ہیں۔ طاغوت کی پوجا کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کی ہے۔ مشرک اور کافرجس طرح چاہیں آپس میں گٹھ جوڑ کرلیں اللہ تعالیٰ کے بغیر ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ یہی کچھ ہوا کہ ٹھیک دو سال کے بعد غزوۂ خندق سے فارغ ہونے کے بعد رسول اللہ (ﷺ) نے یہودیوں کو ہمیشہ کے لیے جزیرۂ عرب سے نکال دیا۔ (1) (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَ دَخَلَ النَّبِیُّ () مَکَّۃَ وَحَوْلَ الْکَعْبَۃِ ثَلَاث مائَۃٍ وَّسِتُّوْنَ نُصُبًا فَجَعَلَ یَطْعَنُھَا بِعُوْدٍ فِیْ یَدِہٖ وَجَعَلَ یَقُوْلُ ﴿جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ﴾ الآیۃ) [ رواہ البخاری : کتاب المظالم والغصب، باب ھل تکسر الدنان التی فیھا الخمر] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (ﷺ) مکہ میں داخل ہوئے اور کعبے کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت تھے آپ انہیں اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھڑی سے گراتے اور کہتے : (حق آ چکا اور باطل بھاگ گیا)۔“ (2) (عَنْ أَبِی الْہَیَّاجِ الأَسَدِیِّ قَالَ قَالَ لِی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ (رض) أَلاَّ أَبْعَثُکَ عَلَی مَا بَعَثَنِی عَلَیْہِ رَسُول اللَّہِ () أَنْ لاَ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلاَّ طَمَسْتَہُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّیْتَہُ)[ رواہ مسلم : کتاب الجنائز] ” ابو الھیاج اسدی کہتے ہیں مجھے علی بن ابی طالب (رض) نے کہا کیا میں تجھے اس کام پر نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ (ﷺ) نے بھیجا تھا کہ ہر تصویرکو مٹادے اور جو اونچی قبر دیکھے اسے برابر کردے۔“ مسائل : 1۔ اہل کتاب بتوں اور شیاطین پر ایمان رکھتے ہیں۔ 2۔ اہل کتاب مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کو ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں۔ 3۔ اہل کتاب پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور لعنتی اپنے لیے کوئی مددگار نہیں پاسکتا۔ تفسیر بالقرآن : طاغوت : 1۔ طاغوت کے انکار کا حکم۔ (النساء :60) 2۔ کفار طاغوت کے ساتھ ہیں۔ (البقرۃ:257) 3۔ کفار طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں۔ (النساء :76) 4۔ اہل کتاب میں سے بھی طاغوت کی عبادت کرنے والے ہیں۔ (المائدۃ:60) 5۔ طاغوت کا انکار کرنے والا مضبوط کڑے کو تھامتا ہے۔ (البقرۃ:256) 6۔ طاغوت کی عبادت سے بچنے والے کے لیے خوشخبری ہے۔ (الزمر :17) النسآء
52 النسآء
53 فہم القرآن : (آیت 53 سے 55) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ابھی تو یہودیوں کے پاس کوئی اقتدار اور اختیار نہیں۔ اگر ان کے پاس اقتدار اور اختیار ہو تو یہ کسی کو دمڑی بھی نہ دیں اور نہ ہی کسی کو دم مارنے دیں۔ اہل کتاب رسول کریم (ﷺ) کے ساتھ اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل کے یتیم کو نبوت کا تاج اور قوموں کی قیادت کیوں عطا فرمائی ہے جو روز بروز عملاً غلبہ پارہی ہے۔ یہ جس قدر چاہیں حسد کا مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں آپ کو عزت و عظمت، امامت و قیادت اور دین کو غلبہ دے گا۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو امامت و حکومت اور نبوت عطا کی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنے اور وطن سے نکالنے والے بالآخر ناکام ہوئے تھے اسی طرح انجام کے لحاظ سے یہ بھی ناکام ہوں گے۔ چنانچہ رسول معظم (ﷺ) نے یہ بات لوگوں کو اس وقت بتلائی جب خندق کھودنے کے دوران کچھ صحابہ کو ایسی چٹان سے واسطہ پڑا جس کو توڑنا ان کے لیے مشکل ہوا۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں اس پریشانی کا اظہار کیا۔ آپ نے وہاں پہنچ کر اتنے زور سے کدال ماری کہ پہلی اور دوسری ضرب پر پتھر سے چنگاریاں نکلیں۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا کہ میرے صحابہ خوش ہوجاؤ! اللہ تعالیٰ نے قیصرو کسریٰ کے خزانوں کی چابیاں مجھے عطا فرمادیں ہیں۔ [ مسند احمد : کتاب اول مسند الکوفیین، باب حدیث البراء بن عازب] رہی بات ان لوگوں کی جو آپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی آل میں بھی ایسے لوگ رہے ہیں جنہوں نے حسد و بغض اور باہمی مخالفت کی بنیاد پر اپنے باپ دادا کے دین سے انحراف کیا تھا۔ یہ لوگ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کے ساتھ نسبت کا دعویٰ رکھنے کے باوجود آپ کی ذات اور دعوت سے انکاری ہیں۔ ایسے بغیض اور حاسدوں کے لیے جہنم ہی کافی ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ () قَالَ:إِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَفَإِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ) [ رواہ أبو داؤد : کتاب الأدب، باب فی الحسد] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑیوں کو کھاجاتی ہے۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () یُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَھْلِ الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُصْبَغُ فِی النَّارِ صَبْغَۃً ثُمَّ یُقَالُ یَاابْنَ آدَمَ ھَلْ رَأَیْتَ خَیْرًا قَطُّ ھَلْ مَرَّبِکَ نَعِیْمٌ قَطُّ فَیَقُوْلُ لَاوَاللّٰہِ یَارَبِّ وَیُؤْتٰی بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِی الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیُصْبَغُ صَبْغَۃً فِی الْجَنَّۃِ فَیُقَالُ لَہٗ یَا ابْنَ آدَمَ ھَلْ رَأَیْتَ بُؤْسًا قَطُّ ھَلْ مَرَّ بِکَ شِدَّۃٌ قَطُّ فَیَقُوْلُ لَا وَاللّٰہِ یَارَبِّ مَا مَرَّ بِیْ بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَیْتُ شِدَّۃً قَطُّ) [ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب صبغ أنعم أھل الدنیا فی النار وصبغ أشدھم بؤسا فی الجنۃ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول (ﷺ) نے فرمایا روز قیامت دنیا میں سب سے زیادہ ناز و نعمت میں پلنے والے جہنمی کو لا کر آگ میں غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے کبھی کوئی خیر دیکھی؟ کیا کبھی تجھے کوئی نعمت میسر ہوئی؟ تو وہ کہے گا نہیں اللہ کی قسم! میرے رب میں نے کوئی نعمت نہیں دیکھی۔ پھر ایک جنتی کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ تکلیفوں میں رہا اسے جنت میں داخل کر کے پوچھا جائے گا اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف اور سختی دیکھی تو وہ جواباً کہے گا نہیں اللہ کی قسم! مجھے کبھی کوئی تکلیف اور مصیبت نہیں آئی۔“ مسائل : 1۔ آدمی کو حسد سے بچنا چاہیے۔ 2۔ یہودی بدترین قسم کے بخیل ہوتے ہیں۔ 3 ۔یہودی دوسروں پر حسد کرتے ہیں۔ 4۔ اہل کتاب لوگوں کو ہدایت سے روکتے ہیں۔ 5۔ لوگوں کو ہدایت سے روکنے والے جہنم میں جائیں گے۔ النسآء
54 النسآء
55 النسآء
56 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب بالخصوص یہودی حسد کی بنا پر اسلام اور مسلمانوں سے عداوت رکھتے ہیں لہٰذاحاسدوں اور منکروں کا انجام بیان ہوتا ہے۔ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ قرآن مجید کا یہ مستقل اسلوب ہے کہ برے لوگوں کے مقابلے میں نیک لوگوں کا اور جہنم کی سزاؤں کے مقابلے میں جنت کی عطاؤں کا ذکر کرتا ہے۔ تاکہ قرآن کی تلاوت کرنے والا اپنے انجام کا موقع پر ہی فیصلہ کرسکے۔ چنانچہ جو لوگ کفر کی حالت میں کوچ کریں گے وہ مرنے کے بعد جہنم کے گھاٹ اتریں گے۔ جہاں ان کو آگ میں جلایا جاتا رہے گا۔ جب ان کی چمڑیاں جل جائیں گی تو سزا کے لیے ان کے جسموں کو باربار تبدیل کیا جائے گا تاکہ ان کو پوری پوری سزا مل سکے۔ وہ جہنم سے بھاگ سکیں گے اور نہ ہی جل کر راکھ ہوں گے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () ضِرْسُ الْکَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلْظُ جِلْدِہٖ مَسِیْرَۃُ ثَلَاثٍ) [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ، باب النار یدخلھا الجبارون والجنۃ یدخلھا الضعفاء] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر اور اس کی جلد تین دن کی مسافت کے مساوی موٹی ہوگی۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ مَابَیْنَ مَنْکِبَی الْکَافِرِمَسِیْرَۃَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ للرَّاکِبِ الْمُسْرِعِ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا کافر کے دونوں کندھوں کا درمیانی فاصلہ تیز ترین گھوڑے کے تین دن دوڑنے کے برابر ہوگا۔“ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () قَالَ نَارُکُمْ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِیْنَ جُزْءً مِنْ نَارِ جَھَنَّمَ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃً قَالَ فُضِّلَتْ عَلَیْھِنَّ بِتِسْعَۃٍ وَّ سِتِّیْنَ جُزْءً کُلُّھُنَّ مِثْلُ حَرِّھَا) [ متفق علیہ : وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِیِّ] وَفِیْ رِوَایَۃِ مُسْلِمٍ نَارُکُمُ الَّتِیْ یُوْقِدُ ابْنُ اٰدَمَ وَفِیْھَاعَلَیْھَا وَکُلُّھَا بَدَلَ عَلَیْھِنَّ وَکُلُّھُنَّ۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں۔ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا تمہاری آگ، دوزخ کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک ہے آپ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول! جلانے کو تو دنیا کی آگ ہی کافی تھی۔ آپ نے فرمایا دوزخ کی آگ کو دنیا کی آگ سے انہتر ڈگری بڑھا دیا گیا ہے۔ ہر ڈگری دنیا کی آگ کے برابر ہوگی۔ (بخاری و مسلم) یہ بخاری کے الفاظ ہیں اور مسلم کی روایت میں ہے‘ کہ تمہاری آگ جسے ابن آدم جلاتا ہے۔ نیز اس میں عَلَیْھِنَّ وَکُلُّھِنَّ کی بجائے عَلَیْہَا وَ کُلُّھَا کے الفاظ ہیں۔“ (عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () إِنَّ أَھْوَنَ أَھْلِ النَّارِ عَذَابًامَّنْ لَّہٗ نَعْلَانِ وَشِرَاکَانِ مِنْ نَّارٍ یَغْلِیْ مِنْھُمَا دِمَاغُہٗ کَمَایَغْلِی الْمِرْجَلُ مَایَرٰی أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّمِنْہُ عَذَابًا وَّإِنَّہٗ لَأَھْوَنُھُمْ عَذَابًا) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب أھون أھل النار عذابا] ” حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں۔ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا۔ یقیناً دوزخیوں میں سب سے معمولی عذاب پانے والے کے پاؤں میں آگ کے جوتے اور تسمے ہوں گے۔ جس کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھول رہا ہوگا۔ وہ یہ خیال کرے گا کہ کسی دوسرے شخص کو اس سے زیادہ عذاب نہیں ہو رہا‘ حالانکہ وہ سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا ہوگا۔“ مسائل : 1۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے والوں کو جہنم میں جلایا جائے گا۔ 2۔ ان کی کھالوں کو بار بار بدلا جائے گا تاکہ ان کو پوری پوری سزا مل سکے۔ تفسیر بالقرآن : عذاب کی مختلف شکلیں : 1۔ آنتوں اور کھالوں کا بار بار گلنا۔ (النساء :56) 2۔ دوزخیوں کی کھال کا بار بار بدلنا۔ (الحج :20) 3۔ کانٹے دار جھاڑیوں کا کھانا۔ (الغاشیہ :6) 4۔ لوہے کے ہتھوڑوں سے سزا پانا۔ (الحج : 21، 22) 5۔ کھانا گلے میں اٹک جانا۔ (المزمل :13) 6۔ دوزخیوں کو کھولتا ہوا پانی دیا جانا۔ (الانعام :70) 7۔ دوزخیوں کو پیپ پلایا جانا۔ (النبا :25) 8۔ آگ کا لباس پہنایا جانا۔ (الحج :19) النسآء
57 فہم القرآن : ربط کلام : کفر اور حسد کرنے والوں کے مقابلہ میں صاحب ایمان اور صالح کردار لوگوں کا صلہ اور انجام۔ جو لوگ ایمان لائے اور صالح کردار کے حامل ہوئے جو نہی وہ دنیا کے امتحانات سے نکل کر عالم عقبیٰ میں پہنچیں گے ان کے لیے ایسے باغات ہوں گے جن میں نہریں اور آبشاریں چلتی ہوں گی۔ صاحب ایمان اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس میں نہایت پاک و صاف، وفادار اور جانثار بیویاں ہوں گی۔ انہیں سر سبز وشاداب اور لہلہاتے ہوئے باغوں کے گھنے سایوں میں داخل کیا جائے گا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () قَال اللّٰہُُ أَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ فَاقْرَءُ وْا إِنْ شِئْتُمْ ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ﴾) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں خیال پیدا ہوا چاہو تو اللہ کا فرمان پڑھ لو ” کوئی بھی نہیں جانتا کہ جنتیوں کے لیے کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک پوشیدہ رکھی گئی ہے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا مائَۃَ سَنَۃٍ وَاقْرَءُ وْا إِنْ شِئْتُمْ ﴿وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ﴾ [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ ....] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک سوار سو برس تک چلتا رہے تب بھی ختم نہ ہوگا اگر چاہو تو اللہ کا فرمان ﴿وَظِلِّ مَّمْدُوْدٍ﴾ پڑھو۔“ (عَنْ اَنَسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () غَدْوَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَافِیْھَا وَلَوْ أَنَّ امْرَاأۃً مِّنْ نِّسَاءِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ إِلَی الْأَرْضِ لَأَضَاءَ تْ مَابَیْنَھُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَیْنَھُمَارِیْحًا وَلَنَصِیْفُھَا عَلٰی رَأْسِھَا خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق‘ باب صفۃ الجنۃ والنار] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ اگر اہل جنت کی عورتوں سے کوئی ان کی طرف جھانک لے‘ تو مشرق ومغرب اور جو ان کے درمیان ہے روشن اور معطر ہوجائے۔ نیز اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے قیمتی ہے۔“ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا ماءَۃَ سَنَۃٍ وَاقْرَءُ وْا إِنْ شِئْتُمْ ﴿وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ﴾ وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِکُمْ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِّمَّا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ اَوْتَغْرُبُ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا : جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سایہ میں سو سال چلتا رہے تب بھی اس کو عبور نہ کرسکے گا۔ اگر تم چاہو تو اللہ کا یہ فرمان پڑھ لو ” لمبے لمبے سائے“ اور یقیناً جنت میں تم میں سے کسی ایک شخص کی کمان کے برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔“ مسائل : 1۔ صاحب ایمان وکردار جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ 2۔ جنتیوں کے لیے پاک بیویاں اور گھنے سائے ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن : ازواج جنت کا حسن و جمال : 1۔پاک بیویاں۔ (البقرۃ:25) 2۔ خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والیاں۔ (الصافات : 48،49) 3۔ جنتیوں کی ہم عمر۔ (ص ٓ:52) 4۔ یاقوت و مونگے کی طرح خوبصورت۔ (الرحمن :58) 5۔ چھپائے ہوئے موتی۔ (الواقعہ :23) 6۔ کنواری اور ہم عمرہوں گی۔ (الواقعہ : 36، 37) النسآء
58 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب سے تورات و انجیل میں نبی (ﷺ) پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا تھا۔ جس کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا امانت داری کا تقاضا تھا لیکن انہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد اور اس امانت میں خیانت کی تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ہر شعبہ میں پرلے درجہ کے خائن ثابت ہوئے۔ امت کو مالی‘ اخلاقی، سیاسی اور عدالتی خیانت سے بچانے کے لیے ہر قسم کی ذمہ داری اس کے اہل لوگوں کے سپرد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ آیت فتح مکہ کے موقعہ پر نازل ہوئی۔ جس کا پس منظر یہ ہے کہ رسول معظم (ﷺ) نے ہجرت سے پہلے بیت اللہ میں داخل ہونے کے لیے عثمان بن طلحہ سے چابی طلب فرمائی لیکن اس نے چابی دینے سے انکار کردیا۔ اس موقعہ پر آپ نے فرمایا عثمان وہ وقت ذہن میں لاؤ۔ جب یہ چابی میرے پاس ہوگی اور جس کو چاہوں گا عطا کروں گا۔ عثمان نے غصہ میں آکر کہا کہ کیا ہم اس وقت مر چکے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا نہیں تم زندہ ہو گے لیکن اس کے باوجود چابی میرے پاس ہوگی۔ چنانچہ جب آپ نے مکہ فتح کیا تو بیت اللہ میں داخل ہونے کے لیے عثمان بن طلحہ سے چابی طلب فرمائی جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوا تھا۔ عثمان نے بڑی بے چارگی کے عالم میں آپ کو چابی پیش کرتے ہوئے عرض کی اللہ کے رسول ! اسے امانت سمجھیے۔ آپ نے بیت اللہ میں داخل ہو کر دو نفل ادا کیے اور آپ کے ساتھ حضرت بلال (رض) بھی تھے۔ جب نیچے تشریف لائے تو حضرت علی (رض) نے درخواست کی کہ یہ چابی ہمیں ملنی چاہیے کیونکہ حجاج کو زم زم پلانے کی ذمہ داری ہمارے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا یہ ایفائے عہد کا دن ہے لہٰذا چابی عثمان بن طلحہ کو دی جائے گی۔ پھر عثمان بن طلحہ کو بلاکر یہ فرماتے ہوئے چابی عطا کی کہ یہ چابی ہمیشہ تمہارے پاس رہے گی۔ جس شخص نے تم سے چابی چھیننے کی کوشش کی وہ ظالم ہوگا۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ آپ اس وقت اس آیت کی تلاوت کر رہے تھے۔“ [ تفسیر ابن کثیر : النساء58] بے شک یہ آیت مبارکہ خاص موقعہ پر نازل ہوئی لیکن اس میں ہر قسم کی امانتوں کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے جس میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ اے مسلمانو! قیادت و امامت اہل کتاب سے چھین کر تمہارے سپرد کی جارہی ہے انہوں نے اس کا حق ادا نہیں کیا لیکن تم اس کا حق ادا کرنا۔ اس آیت کی تفسیر میں مولانا امین احسن اصلاحی (رض) لکھتے ہیں : اس امانت کا انہوں نے حق ادا نہیں کیا جس منصب شہادت پر ان کو مامور کیا گیا اس کو انہوں نے چھپایا، جو کتاب ان کی تحویل میں دی گئی اس میں انہوں نے تحریف کی، جس شریعت کا ان کو حامل بنایا گیا اس میں انہوں نے اختلاف پیدا کیا، جن حقوق کے وہ امین بنائے گئے ان میں انہوں نے خیانت کی، جو فرائض ان کے سپرد ہوئے ان میں وہ چور ثابت ہوئے، جو عہد انہوں نے باندھے وہ سب توڑ ڈالے۔ اے امت محمدیہ کے لوگو! اب تمہاری اولین ذمہ داری یہ ہے کہ تم اس عظیم امانت کو ٹھیک ٹھیک ادا کرو یہاں لفظ امانت کے بجائے اما نات استعمال ہوا ہے جس میں اخلاقی، سیاسی امانتیں لوٹانے کے ساتھ رقم کی امانت بھی شامل ہے۔[ تدبر قرآن] اس لیے مفسرین نے سیاسی‘ مالی‘ اخلاقی اور اسلامی امانتوں کے ساتھ حقوق اللہ کو شامل کیا ہے۔ امانت میں سب سے بڑی امانت جس سے دنیا کا نظام بگڑتا اور سنورتا ہے وہ اختیارات کا استعمال ہے۔ اختیارات تبھی صحیح استعمال ہو سکتے ہیں جب یہ اہل اور صحیح لوگوں کو دیے جائیں۔ اگر نااہل، بددیانت اور اوباش لوگوں کو اختیارات سونپ دیے جائیں تو بہتر سے بہترین قانون اور منصب بھی نہ صرف اپنی افادیت کھو بیٹھتا ہے بلکہ یہ دنیا کی نظروں میں حقیر اور بے مقصد ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب تمہارے حکمران نا اہل‘ حق سننے اور کہنے میں گونگے‘ بہرے ہوں گے تو پھر تمہیں قیامت کا انتظار کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس عادل اور ذمہ دار حکمرانوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے دائیں جانب چمکتے ہوئے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے۔ [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ] نااہل آدمی کو ذمہ داری دینے والا ملعون ہوتا ہے : رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے کہ جس شخص کو مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری دی جائے اور وہ صرف تعلق اور قرابت کی بنیاد پر کسی نااہل آدمی کو منصب سونپ دے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے اور اس کی نفلی اور فرضی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ اسے جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ [ جمع الفوائد بحوالہ معارف القرآن] صحیح مشورہ دینا امانت ہے : رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے جس شخص سے مشورہ لیا جائے وہ ایک طرح سے امین ہوتا ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی سمجھ اور معلومات کے مطابق بلا رعایت صحیح مشورہ دے۔ اگر اس نے جان بوجھ کر غلط مشورہ دیا تو اس کے نتائج کا ذمہ دار ہوگا آپ نے اس کو جامع الفاظ میں یوں بیان فرمایا : (اَلْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب الأدب، باب إن المستشار مؤتمن] ” جس سے مشورہ لیا جائے وہ صاحب امانت ہوتا ہے۔“ مجالس بھی امانت ہوتی ہیں : عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہی شخص امانت دار ہوتا ہے جس کے پاس روپیہ پیسہ یا کوئی سامان رکھا جائے حالانکہ قرآن و سنت میں دیانت وامانت کا وسیع تصور پایا جاتا ہے۔ جس کی تفسیر میں رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے کہ باضابطہ مجالس بھی امانت ہوتی ہیں کیونکہ بسا اوقات مال و اسباب کا نقصان آدمی برداشت کرلیتا ہے یا اس کی تلافی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کسی اجلاس اور مجالس کا راز افشا کردیا جائے تو فرد اور خاندان ہی نہیں قوموں اور ملکوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔ اس لیے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : ( اَلْمَجَالِسُ بالْأَمَانَۃِ) [ رواہ أبو داؤد : کتاب الأدب، باب فی نقل الحدیث] ” مجالس امانت ہوا کرتی ہیں۔“ مسائل : 1۔ مسلمان اہل لوگوں کو اپنے معاملات کا ذمہ دار بنائیں۔ 2۔ ذمہ دار لوگوں کا فرض ہے کہ وہ عدل و انصاف قائم کریں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بہت ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : عدل و انصاف کا حکم : 1۔ عدل و انصاف کا حکم۔ (الاعراف :29) 2۔ فیصلہ کرتے وقت عدل و انصاف کا خیال رکھنا چاہیے۔ (صٓ:26) 3۔ فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ (المائدۃ:48) 4۔ انصاف کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ (المائدۃ:42) النسآء
59 فہم القرآن : ربط کلام : اپنے میں سے کسی کو حاکم بنانے کا یہ مقصد نہیں کہ حکمران حاکم مطلق بن جائے بلکہ وہ بھی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے تابع ہیں۔ امانتوں کی ادائیگی اور اختیارات کا صحیح استعمال کرنے کا حکم دینے کے بعد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا اس لیے فوری ذکر کیا ہے تاکہ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ کوئی اپنے اختیارات میں آزاد ہے۔ اس بات کو مزید واضح کرنے کی خاطر ﴿اُولِی الْاَمْرِ﴾ کے لیے لفظِ ” اطاعت“ استعمال کرنے کے بجائے فقط واؤ کے عطف سے اس کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے تاکہ راعی اور رعیت، امیر اور مامور اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر اپنے آپ کو صرف اللہ اور اس کے رسول کے تابع فرمان سمجھیں۔ اسی سورۃ کی آیت ٦٤ اور ٨٠ میں واضح کیا کہ رسول کی اطاعت فی ذاتہٖ نہیں بلکہ در حقیقت وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا حقیقی منشاء سمجھنا اور اس کے مطابق سو فیصد عمل کرکے دکھلانا رسول کا کام ہوتا ہے۔ اگر رسول سے بتقاضاۓ بشریت کوئی چوک ہوجائے تو اللہ تعالیٰ فوراً اس کی درستگی فرما دیتا ہے۔ اس لیے رسول امت کے ہر شخص کے لیے اسوۂ حسنہ اور واجب الاتباع ہوتا ہے۔ رسول کے علاوہ کوئی شخص غیر مشروط اطاعت کے لائق نہیں۔ اگر امیرالمومنین یا بڑے سے بڑا عالم اور امام غلطی کرے یا اس کے ساتھ کسی مسئلہ میں اختلاف ہوجائے تو اس معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں وہ معاملہ قرآن و سنت کے سامنے رکھا جائے۔ پھر اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے سامنے ہر کسی کو سر تسلیم خم کرنا لازم ہے۔ یہی اللہ اور آخرت پر ایمان لانے کا تقاضا ہے۔ اس طرز عمل میں دنیا کی بہتری اور آخرت کی خیرمضمر ہے اور اسی طریقے سے امت متحد رہ سکتی ہے۔ اگر کسی مسئلہ میں دلائل برابر ہوں تو اہل علم کی اکثریت کی پیروی کرنا ہوگی۔ امیر کا انتخاب اور اس کی اطاعت : اس فرمان میں امیر کے لیے ﴿مِنْکُمْ﴾ آیا ہے اور ﴿ کُمْ﴾ ضمیر استعمال کی ہے کہ وہ تم میں سے ہو۔ جس سے دوٹوک انداز میں واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا امیر مسلمان اور انہی کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ کیونکہ امارت اور خلافت کی بنیاداُوپر سے نہیں نیچے سے قائم کی گئی ہے۔ تاکہ فکری اور عملی طور پر اس کی جڑیں گھر اور عوام میں ہوں اور ہر فرد اس ذمہ داری میں اپنے آپ کو برابر کا شریک سمجھے۔ جہاں تک امت میں سیاسی، گروہی اور مذہبی جماعتوں کا تعلق ہے۔ اس کا شریعت میں صرف جواز کے سوا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔ لہٰذا ان جماعتوں کے امراء اور سربراہوں کی حیثیت سفری امیر سے زیادہ نہیں۔ جس طرح اس کے وقتی اور محدود اختیارات ہوتے ہیں اسی طرح جماعتوں کے امراء کو اپنے حقوق و فرائض کا تعین کرنا چاہیے۔ مسائل : 1۔ مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول اور نیک حکمرانوں کی اطاعت کرنی چاہیے۔ 2۔ تنازعات کو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ 3۔ قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کرنا اور کروانا ایمان داروں کے لیے فرض ہے اسی میں دنیا اور آخرت کی بہتری ہے۔ تفسیر بالقرآن : اختلافات کا حل : 1۔ معاملہ اللہ کی طرف لوٹایا جائے۔ (الشوریٰ:10) 2۔ کتاب اللہ میں مسائل کا حل ڈھونڈا جائے۔ (المائدۃ:47) 3۔ اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کو فیصل تسلیم کیا جائے۔ (النساء :59) 4۔ جو اللہ کے رسول کو فیصل تسلیم نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں۔ (النساء :65) 5۔ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد مومن کو کوئی اختیار نہیں باقی رہتا۔ (الاحزاب :36) 6۔ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والا ظالم، کافر اور فاسق ہے۔ (المائدہ : 44، 45، 46) نوٹ : مزید تفصیل کے لیے دیکھیں میری کتاب ” اتحاد امت اور نظم جماعت“ النسآء
60 فہم القرآن : (آیت 60 سے 61) ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دے کر من گھڑت ایمان‘ نمائشی اطاعت کی تردید اور شیطان کی اتباع سے منع کیا گیا ہے۔ اہل کتاب کے بعد خطاب کا رخ منافقین کی طرف کردیا گیا۔ منافقین کا دعویٰ اور خیال تھا کہ وہ قرآن مجید اور پہلی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ ان کا حال یہ ہے کہ منع کرنے کے باوجود چاہتے ہیں کہ ان کے فیصلے طاغوت کے ذریعے ہوں۔ یہ اس لیے کہ شیطان چاہتا ہے کہ انہیں دور کی گمراہی میں دھکیل دے تاکہ یہ ہدایت کی طرف نہ پلٹ سکیں۔ حافظ ابن حجر (رض) نے اس آیت کے تحت ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے منافقوں کی ذہنیت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ ہوا یوں کہ ایک منافق اور یہودی کے درمیان کسی معاملہ میں جھگڑا ہوا۔ یہودی نے مسلمان سے کہا کہ اس کا فیصلہ آپ کے نبی سے کروانا چاہیے لیکن منافق نے کہا کہ نبی کی بجائے یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف سے فیصلہ لینا زیادہ بہتر ہے۔ منافق یہودی کے اصرار پر آپ (ﷺ) کے سامنے جانے کے لیے اس لیے مجبور ہوا کہ کہیں میری منافقت کا پتہ نہ چل جائے۔ جب ان دونوں نے رسول محترم (ﷺ) کے پاس مقدمہ پیش کیا تو آپ نے یہودی کا موقف صحیح سمجھ کر اس کے حق میں فیصلہ صادر فرمادیا۔ لیکن منافق نے یہ فیصلہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور یہودی کو کہا کہ چلوعمر سے فیصلہ لیتے ہیں۔ کیونکہ منافق سمجھتا تھا کہ حضرت عمر (رض) یہودیوں کے سخت خلاف ہیں۔ اس لیے وہ تعصب کی بنیاد پر یہودی کے خلاف فیصلہ کریں گے۔ معاملہ جب حضرت عمر (رض) کے سامنے پیش ہوا تو یہودی نے کہا کہ اس پر آپ کے نبی پہلے فیصلہ دے چکے ہیں۔ تب حضرت عمر (رض) نے تلوار لا کر منافق کا سر قلم کرتے ہوئے فرمایا : (ھٰذَا قَضَآئِیْ مَنْ لَمْ یَرْضَ بِقَضَآءِ رَسُوْلِ اللّٰہِ) [ فتح الباری : کتاب المساقاۃ] ” جو رسول معظم (ﷺ) کے فیصلہ کو نہیں مانتا اس کے بارے میں میرا یہی فیصلہ ہے۔“ ﴿وَمَا کَانَ لِمُوْمِنٍ وَلَا مُوْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَمْراً اَنْ یَکُوْنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُمِنْ اَمْرِ ہِمْ وَمَنْ یَعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْ لَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَا لاً بَعِیْداً﴾۔ [ الاحزاب :26] ” کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردے تو پھر اسے اس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑگیا۔“ مسائل : 1۔ قرآن و سنت کے خلاف فیصلہ کرنا اور کروانا شیطان کی پیروی کرنے کے مترادف ہے۔ 2۔ شیطان آدمی کو دور کی گمراہی میں ڈال دیتا ہے۔ 3۔ منافق اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات سے انحراف کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : شیطانی ہتھکنڈے : 1۔ انسان کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کی اللہ تعالیٰ کے سامنے قسمیں۔ (صٓ:82) 2۔ شیطان کی خفیہ چالیں۔ (الاعراف :27) 3۔ شیطان گناہوں کو مزین و خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔ (الانعام :43) 4۔ شیطان خیالات کے ذریعے گمراہ کرتا ہے۔ (النّاس :5) 5۔ شیطان انسان سے کفر کروا کر خود پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ (الحشر :16) 6۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کو نور ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ (البقرۃ:257) 7۔ کفار کے دوست طاغوت ہوتے ہیں جو انہیں ظلمات کی طرف لے جاتے ہیں۔ (البقرۃ:25) النسآء
61 النسآء
62 فہم القرآن : (آیت 62 سے 63) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ ہونے کے ساتھ منافقین کی دوغلی پالیسی سے نبی (ﷺ) کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کو وعظ ونصیحت جاری رکھیں۔ اس فرمان میں آپ کو خبر دی جارہی ہے کہ آج تو منافقین اپنی سازشوں اور شرارتوں پر اتراتے اور دندناتے پھرتے ہیں۔ لیکن عنقریب وقت آنے والا ہے کہ جب ان کے کرتوت سامنے آئیں گے تو یہ اپنے کیے پر پچھتاتے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر حلف اٹھاتے ہوئے یہ کہہ کر اپنی صفائی پیش کریں گے کہ اس کام میں ہماری یہ مصلحت تھی اور یہ کام ہم نے فلاں وجہ سے کیا ہے۔ ہمارا مقصد صرف اور صرف باہمی یگانگت اور موافقت پیدا کرکے اچھا ماحول پیدا کرنا تھا چنانچہ اس پیش گوئی اور خوشخبری کا ایک ایک حرف غزوۂ تبوک کے موقعہ پر پورا ہوا۔ جب آپ اس غزوہ سے واپس لوٹے تو پیچھے رہ جانے والے منافقین نے آپ کی خدمت میں آ آکر معذرتیں پیش کیں۔ لیکن آپ ان کے جواب میں خاموشی اور درگزر سے کام لیتے رہے۔ مزید گیا رھویں پارے کی ابتدائی آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ منافقین کی غلط بیانی اور ملمع سازی پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جو کچھ اپنے دلوں میں چھپائے بیٹھے ہیں۔ زبان سے اس کے خلاف دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ اپنی باتیں دنیا والوں سے تو چھپا سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپا سکتے وہ تو ان کے دلوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ لہٰذا میرے محبوب ! ان سے الجھنے کے بجائے اعراض فرمائیں، مسلسل نصیحت کرتے رہیں اور ان کو سمجھانے کے لیے اچھا انداز اور مؤثر الفاظ استعمال فرمائیں۔ اس میں آپ کی ذات گرامی کے حوالے سے ہر مبلغ کے لیے اصول ہے کہ وہ مخالفوں اور منافقوں کے ساتھ الجھنے کے بجائے بہتر رویہ اختیار کرے جس کا نتیجہ دنیا اور آخرت میں یقیناً بہتر ہوگا۔ حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے رسول کریم (ﷺ) سے عرض کی کہ آپ اجازت دیں تو میں عبداللہ بن ابی منافق کا سر قلم کر دوں لیکن آپ نے منع فرمایا اور کہا لوگ کہیں گے کہ محمد (ﷺ) اپنے ساتھیوں کو قتل کراتا ہے۔ [ رواہ البخاری : تفسیر القرآن، قولہ﴿ يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ﴾] تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ ابن ابی اپنے اصل کردار کی وجہ سے اس قدر لوگوں کی نظروں میں حقیر ہوا کہ کوئی اس کے پروپیگنڈہ کی طرف توجہ نہیں کرتا تھا۔ اور اس طرح رسول اللہ (ﷺ) کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔ مسائل : 1۔ مصیبت کے وقت منافق قسم اٹھا کر مسلمانوں کی رفاقت کا دعو ٰی کرتا ہے۔ 2۔ منافقوں سے چشم پوشی کر کے انہیں اچھی نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : منافقین کی چالیں : 1۔ دوغلی زبان اور دوغلا کردار۔ (البقرۃ: 13، 14) 2۔ اسلام کا دعویٰ مگر طاغوت کے فیصلہ پر خوش ہونا۔ (النساء :60) 3۔ مسلمانوں کوتکلیف پہنچا کر صفائی کی قسمیں اٹھانا۔ (النساء :62) 4۔ بغیر تحقیق کے افواہیں اڑانا۔ (النساء :82) 5۔ صرف دنیا کی کامیابی کی چاہت رکھنا۔ (النساء :141) 6۔ زبان اور دل میں تضاد ہونا۔ (آل عمران :167) وعظ و نصیحت کا انداز کیا ہونا چاہیے؟ 1۔ نرم انداز میں گفتگو کرنی چاہیے۔ (طٰہٰ:44) 2۔ وعظ میں مؤثر انداز اختیار کرنے کا حکم (النساء :63) 3۔ جھگڑے کی بجائے احسن انداز اختیار کرنا۔ (النحل :125) 4۔ حکمت کے ساتھ موثر دعوت دینا چاہیے۔ (النحل :125) 5۔ بصیرت کے ساتھ دعوت دینا چاہیے۔ (یوسف :108) النسآء
63 النسآء
64 فہم القرآن : ربط کلام : خطاب کا تسلسل جاری ہے۔ اس میں منافقوں کو توبہ کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے رسول کا مرتبہ اور مقام بیان کرنے کے ساتھ اپنی شفقت ومہربانی کا ذکر فرمایا ہے۔ رسول معظم (ﷺ) کے بارے میں فرمایا کہ اس کی شان اور مقام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ اس میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ ملمع سازی یا محض دعووں کی بنیاد پر رسول کی ذات کو خوش کرلیا جائے تو اس سے کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ جب تک حقیقتاً قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق آپ کی اطاعت نہ کی جائے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی لاتعداد رحمتوں کا تعلق ہے وہ اس قدر بے کنار ہیں کہ جب بھی کوئی شخص خواہ اس کا ماضی کتنا ہی گھناؤنا اور منافقانہ کیوں نہ ہو۔ اخلاص نیت کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ کے رسول کے تابع کرکے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا تو وہ اپنے رب کو شفیق و مہربان پائے گا۔ یہی بات منافقوں کو کہی گئی کہ کتنا ہی بہتر ہوتا کہ وہ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھنے کے بعد رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے اپنی بخشش کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی درخواست کرتے۔ بلا شبہ اللہ کو اپنے بارے میں معاف کرنے والا اور انتہائی مہربان پاتے۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک مفسر نے اپنے عقائد کی حمایت میں قرطبی کے حوالے سے ایک واقعہ ذکر کیا ہے جو نہ صرف قرآن و سنت کے نقطۂ نظر کے خلاف ہے بلکہ تاریخی حقائق بھی اس کی تائید نہیں کرتے وہ لکھتے ہیں : ” سیدنا حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی (ﷺ) کے وصال کے تین روز بعد ایک اعرابی ہمارے پاس آیا اور فرط رنج و غم سے مزارِ پُرانوار پر گر پڑا اور خاک پاک کو اپنے سر پر ڈالا اور عرض کرنے لگا۔ اے اللہ کے رسول! جو آپ نے فرمایا ہم نے سنا جو آپ نے اپنے رب سے سیکھا وہ ہم نے آپ سے سیکھا۔ اسی میں یہ آیت بھی ہے ﴿وَلَوْأَنَّھُمْ إِذْظَّلَمُوْا﴾ الخ میں نے اپنی جان پر بڑے بڑے ستم کیے ہیں اب آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں۔ اے سراپاۓ شفقت و رحمت! میری مغفرت کے لیے دعا فرمایئے۔ فَنُوْدِیَ مِنَ الْقَبْرِ أَنَّہٗ قَدْ غُفِرَلَکَ۔ ” تو مرقد منور سے آواز آئی تجھے بخش دیا گیا۔“ نوٹ: اس واقعہ کی سند سخت ضعیف ہے۔ مزید تفصیل کے لئے البانی رحمہ اللہ کی کتاب ’’وسیلہ اور اس کے احکام‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔ قرآن مجیدنے دو ٹوک انداز میں فرمایا ہے ﴿وَمَا یَسْتَوِی الْأَحْیَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّہَ یُسْمِعُ مَنْ یَشَاءُ وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِی الْقُبُور﴾[ فاطر :22] کہ رسول اللہ (ﷺ) بھی قبر والوں کو سنا نہیں سکتے چہ جائیکہ ایک اعرابی آپ کو آکر کوئی فریاد سنائے اور آپ جواب دیں۔ اگر یہ عقیدہ کسی لحاظ سے بھی ثابت ہوتا یا اس کی ذرّہ برابر گنجائش ہوتی تو آپ کی وفات کے وقت جب آپ کا جسدِ مُبارک موجود تھا تو صحابہ میں تین بڑے اختلافات ابھر کر سامنے آئے۔ آپ کو کہاں دفن کیا جائے؟ خلافت کے لیے کون سی شخصیت زیادہ موزوں ہے؟ یہاں تک کہ آپ کے فوت ہونے پر بھی دو نقطۂ نظر تھے۔ حضرت عمر (رض) کی رائے تھی کہ ابھی مدینہ میں منافق موجود ہیں اور اسلام کا غلبہ بھی پوری طرح نہیں ہوا لہٰذا آپ کو موت نہیں آئی۔ حضرت ابو بکر صدیق (رض) نے حضرت عمر (رض) کے موقف کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول محترم (ﷺ) فوت ہوچکے ہیں پھر انہوں نے اپنے خطبہ میں یہ الفاظ ارشاد فرمائے : (مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْمَاتَ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُاللّٰہَ فَإِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لَایَمُوْتُ) ” تم میں سے جو محمد (ﷺ) کی عبادت کرتا تھا یقینًا محمد (ﷺ) وفات پاگئے اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو یقینًا اللہ تعالیٰ زندہ ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔“ پھر اس آیت کی تلاوت کی : (﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّرَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ﴾ الخ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب الدخول علی میت الخ] ” محمد (ﷺ) تو ایک رسول ہیں ان سے پہلے بھی رسول گزر گئے۔“ یاد رہے کسی صحابی نے یہ بات نہیں فرمائی کہ بھائیو کیوں جھگڑتے ہو چلو آپ کے جسد اطہر سے عرض کرتے ہیں۔ حالانکہ اس وقت آپ (ﷺ) کا جسد اطہر ابھی قبر سے باہرجلوہ نما تھا۔ مسائل : 1۔ رسول کی بعثت کا مقصد اس کی اطاعت کرنا ہے۔ 2۔ لوگوں کو ہر دم اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتے رہنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی مہربان اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش کی دعوت : 1۔ منافق اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگنے سے انحراف کرتے ہیں۔ (المنافقون :5) 2۔ گناہ اللہ ہی بخشتا ہے۔ (آل عمران :135) 3۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ (الزمر :53) 4۔ انبیاء کی دعوت اللہ سے بخشش مانگنا ہے۔ (نوح :10) 5۔ اللہ تعالیٰ کا اعلان کہ میں بخشنے والا ہوں۔ (الحجر :49) النسآء
65 فہم القرآن : ربط کلام : پہلی آیات میں منافقین کو رسول کو مطاع تسلیم کرنے اور اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اب قطعی انداز میں رسول معظم (ﷺ) کو فیصل ماننے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا فیصلہ کُن انداز میں منافقوں، کافروں اور سب لوگوں کی غلط فہمی دور کی جارہی ہے کہ کسی کا ایمان اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوسکتا جب تک حضرت محمد (ﷺ) کو زندگی کے تمام معاملات میں حکم تسلیم نہ کرلیا جائے۔ جونہی آپ کا فیصلہ سامنے آئے تو اسے دل کی رغبت اور طبیعت کی چاہت کے ساتھ من وعن تسلیم کرنا ہوگا اور اس کے تسلیم کرنے میں کسی قسم کا تردد اور تأمل نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں قرآن مجید نے ” شجر“ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنیٰ ایسا درخت جس کی شاخیں ایک دوسرے کے ساتھ پھنسی اور الجھی ہوئی ہوں۔ اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ تمہارے معاملات خواہ کتنے ہی الجھے اور بگڑے ہوئے کیوں نہ ہوں تمہیں ہر حال میں اللہ کے رسول کو حکم تسلیم کرنا پڑے گا۔ معاملات سیاسی ہوں یا معاشی، اخلاقی ہوں یا معاشرتی، انفرادی ہوں یا اجتماعی غرض کہ زندگی کا کوئی معاملہ اور شعبہ ہو۔ اس میں اللہ کے رسول کو حکم تسلیم کرنا لازم ہے۔ اس آیت کا شان نزول حضرت زبیر (رض) اس طرح بیان کرتے ہیں : (أَنَّ رَجُلًا مِّنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَیْرَ عِنْدَ النَّبِیِّ () فِیْ شِرَاجِ الْحَرَّۃِ الَّتِیْ یَسْقُوْنَ بِھَا النَّخْلَ فَقَالَ الْأَنْصَارِیُّ سَرِّحِ الْمَآءَ یَمُرُّ فَأَبٰی عَلَیْہِ فَاخْتَصَمَا عِنْدَ النَّبِیِّ () فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () لِلزُّبَیْرِ أَسْقِ یَا زُبَیْرُ ثُمَّ أرْسِلِ الْمَآءَ إِلٰی جَارِکَ فَغَضِبَ الْأَنْصَارِیُّ فَقَالَ أَنْ کَانَ ابْنَ عَمَّتِکَ فَتَلَوَّنَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ () ثُمَّ قَالَ اسْقِ یَا زُبَیْرُ ثُمَّ احْبِسْ الْمَآءَ حتّٰی یَرْجِعَ إِلَی الْجَدْرِ فَقَال الزُّبَیْرُ وَاللّٰہِ إِنِّیْ لَأَحْسِبُ ھٰذِہِ الْآیَۃَ نَزَلَتْ فِیْ ذٰلِکَ ﴿فلَاَ وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ﴾ [ رواہ البخاری : کتاب المساقاۃ، باب سکر الأنھار] ” انصار کے ایک آدمی کا حضرت زبیر (رض) سے پانی کے نالے کے بارے میں اختلاف ہوگیا جس سے وہ کھجوروں کو پانی دیتے تھے۔ انصاری نے کہا پانی چھوڑو اسے آگے آنے دو۔ حضرت زبیر (رض) نے انکار کیا دونوں اپنا جھگڑا رسول گرامی (ﷺ) کی خدمت میں لائے تو آپ نے حضرت زبیر (رض) سے فرمایا زبیر! پانی لگا کر ہمسائے کے لیے چھوڑ دو۔ انصاری نے غضبناک ہو کر کہا وہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہوا۔ آپ (ﷺ) کا چہرہ متغیر ہوگیا پھر رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا زبیر! پانی لگا جب تک وہ منڈیروں تک نہ پہنچ جائے پانی کو روکے رکھنا۔ حضرت زبیر (رض) فرماتے ہیں۔ اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت ﴿فَلاَ وَرَبِّکَ﴾ اس موقعہ پر نازل ہوئی ہے۔“ ” حضرت معقل بن یسار (رض) نے رسول اللہ (ﷺ) کے دور میں مسلمانوں کے ایک آدمی سے اپنی بہن کی شادی کی وہ اس کے پاس کچھ عرصہ رہی پھر اس نے اسے ایک طلاق دی اور عدت بھی گزر گئی لیکن رجوع نہ کیا۔ اب پھر دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگے پھر اس آدمی نے منگنی کے لیے آدمی بھیجا تو معقل بن یسار (رض) نے کہا : کمینے! میں نے تیری عزت کرتے ہوئے اس کے ساتھ شادی کی اور تو نے اسے طلاق دے دی۔ اللہ کی قسم اب کبھی یہ تیرے پاس نہیں لوٹے گی یہ آخری باری تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں میاں بیوی کے جذبات کو قبول کیا تو یہ آیت نازل فرمائی ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَھُنَّ﴾ جب معقل بن یسار (رض) نے یہ آیت سنی تو کہا کہ’’ سَمْعًا لِّرَبِّیْ وَطَاعَۃً ‘‘میں نے اپنے رب کی بات کو سنا اور مان لیا۔ پھر انہوں نے اس آدمی کو بلایا اور کہا میں تیری شادی بھی کرتا ہوں اور عزت بھی۔“ [ رواہ الترمذی : کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ البقرۃ] مسائل : 1۔ رسول اللہ (ﷺ) کو فیصل تسلیم کیے بغیر لوگ ہرگز ایمان دار نہیں ہو سکتے۔ 2۔ رسول محترم (ﷺ) کا فیصلہ دل و جان سے ماننا ایمان ہے۔ تفسیر بالقرآن : مقام نبوت : 1۔ رسول محترم بہترین اسوہ ہیں۔ (الاحزاب :21) 2۔ ہر معاملہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا چاہیے۔ (النساء :59) 3۔ اللہ اور رسول سے آگے نہ بڑھو۔ (الحجرات :1) 4۔ رسول جو تمہیں دے اسے پکڑلو۔ (الحشر :7) 5۔ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔ (النساء :80) 6۔ اللہ کی محبت رسول کی اطاعت میں ہے۔ (آل عمران :31) 7۔ رسول کی مخالفت سے اعمال برباد ہوجاتے ہیں۔ (محمد :33) النسآء
66 فہم القرآن : (آیت 66 سے 68) ربط کلام : منافقین مشکل حکم ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے لوگوں پر ایسے احکام نازل کیے جو نرمی اور آسانی پر مبنی ہیں۔ اگر یہ احکام سخت اور مشکل ہوتے تو لوگوں کو ان پر عمل کرنا دشوار اور ناممکن ہوتا۔ اس صورت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ اگر ہم لوگوں کو اپنے آپ کو قتل کرنے یا اپنے جگر گوشوں کو گھروں سے نکال دینے کا حکم دیتے یعنی جو نافرمان اور سرکش ہیں انہیں قتل کرنے یا گھروں سے نکال باہر کرنے کا حکم دیتے تو چند لوگوں کے سوا کوئی بھی ان پر عمل نہ کرسکتا۔ یا جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم پر شرک کی یہ سزا تجویز کی گئی تھی کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں تو انہیں قتل کرنا پڑا تھا۔ یہاں یہ بتلانا مقصود ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) کو اپنے معاملات میں فیصل تسلیم کرو۔ اس میں تمہارے لیے نرمی بھی ہے اور بھلائی بھی۔ (عَنْ عَائِشَۃَ (رض) أَنَّھَا قَالَتْ مَاخُیِّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () بَیْنَ أَمْرَیْنِ إِلّآ أَخَذَ أَیْسَرَھُمَا مَالَمْ یَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْہُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () لِنَفْسِہٖٓ إِلَّا أَنْ تُنْتَھَکَ حُرْمَۃُ اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ بِھَا) [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب صفۃ النبی (ﷺ) ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) کو دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ دونوں میں سے آسان کام کو اختیار کرتے جو کام گناہ کا نہ ہوتا۔ اگر وہ کام گناہ کا ہوتا تو لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہتے اور آپ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہ لیا البتہ جب اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لیے انتقام لیتے۔“ اگر منافق اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے تو ان کے لیے یہ بہتر اور ایمان کی پختگی کا باعث ہوتا۔ اس کے بدلے انہیں عظیم اجر اور مزید صراط مستقیم کی رہنمائی سے بھی نوازا جاتا۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام بظاہر عمل کرنے میں مشکل کیوں نہ ہوں پھر بھی ان پر عمل کرناآدمی کے لیے بہتر ہوا کرتا ہے۔ ابن جریر طبری بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ایک آدمی نے کہا کہ اگر ہمیں ایسا کرنے کا حکم ہوتا تو ہم ضرور کر گزرتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہم سے درگزر فرمائی ہے یہ بات آپ (ﷺ) تک پہنچی تو آپ نے فرمایا میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں جن میں پہاڑوں سے زیادہ مضبوط ایمان ہے۔ امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب رسول اللہ (ﷺ) نے ﴿وَلَوْ أَنَّا کَتَبْنَا﴾ تلاوت فرمائی تو آپ (ﷺ) نے اپنے ہاتھ سے عبداللہ بن رواحہ (رض) کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : ( لَوْ أَنَّ اللّٰہَ کَتَبَ ذٰلِکَ لَکَانَ ھٰذَا مِنْ أُولٰئِکَ الْقَلِیْلِ) ” اگر اللہ تعالیٰ یہ کام لازم کردیتے تو عبداللہ بن رواحہ (رض) بھی انہی تھوڑے لوگوں میں سے ہوتے جو اللہ کا حکم مان کر اپنے آپ کو قتل کرتے۔“ ( ابن کثیر) حضرت عمر (رض) نے اظہار تشکر کے طور پر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا بے پناہ فضل و کرم ہوا ہے کہ اس نے ہمیں اپنے آپ کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔ اگر یہ حکم نازل ہوجاتا تو ہم اس پر عمل کرنے سے ہرگز گریز نہ کرتے۔ اس بات کا عملی ثبوت انہوں نے غزوۂ بدر کے موقعہ پر دیا تھا کہ جب قیدیوں کے بارے میں مشاورت ہوئی کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ تو دو تجاویز سامنے آئیں جن میں حضرت صدیق اکبر (رض) کی رائے یہ تھی کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑدینا چاہیے۔ اس میں مسلمانوں کی مالی امداد کے ساتھ کفار کے لیے ہدایت کا آخری موقعہ فراہم کرنا تھا۔ حضرت عمر (رض) کی تجویز یہ تھی کہ یہ لوگ ناقابل معافی اور ناقابل اصلاح ہیں۔ ان کو قتل کرنے سے ہمیشہ کے لیے کفر کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ ان کی تجویز تھی کہ ہر کوئی اپنے قریبی رشتہ دار قیدی کو قتل کرے سب سے پہلے میں اپنے رشتہ دار قیدیوں کو قتل کروں گا۔ [ الرحیق المختوم‘ غزوۂ بدر کے قیدیوں کا قضیہ] مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرنا ہر حال میں انسان کے لیے بہتر ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو عظیم اجر اور مزید ہدایت سے سرفراز فرماتے ہیں۔ 3۔ صراط مستقیم کی ہدایت اطاعت رسول میں پنہاں ہے۔ النسآء
67 النسآء
68 النسآء
69 فہم القرآن : (آیت 69 سے 70) ربط کلام : اطاعت رسول کے دنیا میں فوائد اور قیامت کے دن اس کے ثمرات۔ رسول اللہ (ﷺ) کے فیصلہ اور فرمان کو زندگی کے ہر شعبہ میں قطعی طور پر لائقِ اتباع اور باعث نجات سمجھنے والے کو دنیا اور آخرت کے آٹھ انعامات کی خوشخبری دی گئی ہے۔ دنیا میں ہر اعتبار سے بھلائی کا حصول۔ ایمان پر ثابت قدمی کی توفیق۔ عظیم اجر۔ صراط مستقیم کی رہنمائی کے ساتھ اور قیامت کو اللہ تعالیٰ کے عظیم المرتبت انبیاء، صدیق، شہداء اور صالح لوگوں کی رفاقت اور معیّت نصیب ہوگی۔ یہاں چار شخصیات کے حوالے سے درحقیقت چار قسم کے مراتب اور مقام کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جنت میں لوگوں کی انہی چار مراتب کے لحاظ سے درجہ بندی کی جائے۔ آدمی کو شش کرے تو تین مراتب کو کسی نہ کسی حد تک حاصل کرسکتا ہے۔ جن میں صدیق بننا، شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونا اور صالح کردار کا حامل بننا ہے۔ جہاں تک نبوت کا مرتبہ اور مقام ہے وہ تو اعمال کے ذریعے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب ہے۔ جس کو چاہے اپنے پیغام کے لیے منتخب فرما لے اور یہ سلسلہ بھی محمد کریم (ﷺ) کی ذات پر اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ لہٰذا اب کوئی شخص یا گروہ یہ دعو ٰی کرے کہ حسن اعمال کی بنیاد پر آدمی منصب نبوت پر فائز یا نبوت میں حصہ دار ہوسکتا ہے یہ سراسر گمراہی ہے۔ اس لیے یہاں رفاقت کا لفظ استعمال فرمایا ہے یعنی اسے نبی کی رفاقت نصیب ہوگی جس سے واضح طور پر اس باطل عقیدہ کی نفی ہوتی ہے کہ کوئی شخص قیامت تک ظلّی یا بروزی نبی نہیں بن سکتایہ بحث سورۃ الاحزاب آیت : ٤٠ میں ختم نبوت کے سلسلہ میں ہوگی۔ صدیق : صدیق سے مراد ایسا شخص جو ہر حال میں سچ بولنے والا‘ سچ پر قائم رہنے والا اور سچ کے لیے ہر چیز قربان کردینے والا ہو، امت میں اس مقام پر سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق (رض) فائز ہوئے۔ جن کے بارے میں رسول محترم (ﷺ) نے اپنی زبان اطہر سے ان کے اعزاز کا اعلان فرمایا۔ باقی لوگ درجہ بدرجہ اس مقام کے حامل ہو سکتے ہیں۔ شہید : ایسی شخصیت کو کہتے ہیں جو دل کی سچائی کے ساتھ اسلام میں داخل ہو اور دین کی سربلندی کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے لیے آمادہ اور تیار رہے اور میدان کارزار میں کٹ مرنے والے کو شہید کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے خون جگر سے حق کی گواہی دیتا ہے۔ رسول اکرم (ﷺ) نے شہادت کے کئی مراتب ذکر فرماتے ہوئے مختلف قسم کے لوگوں کو شہداء میں شامل فرمایا ہے۔ امام رازی نے سورۃ آل عمران آیت ١٨ سے استدلال کیا ہے کہ عدل و انصاف کی گواہی دینے والے بھی شہداء میں شمار ہوں گے۔ صالحین : صالح سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر قائم اور خلوص نیت کے ساتھ نبی آخر الزماں (ﷺ) کی اتباع کرنے والا ہو۔ اس طرح امت کے تمام موحّد اور نیک لوگ درجہ بدرجہ صالحیت کے مقام پر فائز اور اپنے عمل کے لحاظ سے جنت میں مقام پائیں گے۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول محترم (ﷺ) مسجد سے باہر نکل رہے تھے دروازے پر آپ کو ایک آدمی ملا اور عرض کرنے لگا اللہ کے نبی! قیامت کب برپا ہوگی؟ آپ نے اس سے فرمایا کہ تو نے قیامت کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے؟ عرض کرتا ہے کہ میں نے نفلی کام تو زیادہ نہیں کیے تاہم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : (فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ والآداب، باب المرء مع من أحب] ” تو اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ تو محبت کرتا ہے۔“ یہ مقام اور مراتب محض اعمال کی بنیاد پر نہیں بلکہ سراسر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا صلہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے افکار اور اعمال کو جانتا ہے۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ کے فضل کا ذکر کرتے ہوئے آپ (ﷺ) نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے اعمال کی بنیاد پر جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ایک شخص نے عرض کیا آپ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہوگا؟ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا! ہاں میں بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔[ رواہ البخاری : کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت] مسائل : 1۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والا قیامت کے دن انبیاء، صدیقین، شہداء اور صلحاء کے ساتھ ہوگا۔ 2۔ جنت میں نیک لوگوں کی رفاقت نصیب ہونا اللہ کا بڑا فضل ہوگا۔ النسآء
70 النسآء
71 فہم القرآن : (آیت 71 سے 73) ربط کلام : اطاعت رسول کا حکم اور اس کے ثمرات بیان کرنے کے بعد جہاد کا حکم دیا ہے تاکہ اطاعت رسول کرنے والے جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوں۔ اسلام اور کفر کی پندرہ سالہ کشمکش اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ معرکۂ بدر میں مسلمانوں کو بے مثال کا میابی حاصل ہوئی اور احد میں کفار کا پلڑا بھاری رہا۔ جس سے کفار اور یہود و نصارٰی کے حوصلے اس قدر بلند ہوئے کہ وہ سوچنے لگے کہ مسلمانوں کو ختم کرنا ناممکن کام نہیں لہٰذا اب فیصلہ کن مرحلہ آن پہنچا ہے کہ ایک فریق ہمیشہ کے لیے سرنگوں ہوجائے۔ اس بنا پر اہل مکہ اور یہود نے مدینہ کی چاروں جانب سازشوں کے جال بننا شروع کردیئے جس کی وجہ سے رسول اللہ (ﷺ) صحابہ (رض) کو گشت کے لیے بھیجا کرتے تھے تاکہ کفار کی نقل و حرکت کا بروقت علم ہو سکے۔ انہی حالات میں یہ حکم نازل ہوا کہ مسلمانو! ہر وقت چاک و چوبند رہو اور اپنا اسلحہ پکڑے رکھو۔ مراد یہ ہے کہ اسلحہ اس قدر قریب اور تیار ہونا چاہیے کہ ہنگامی حالت میں وقت ضائع کیے بغیر دشمن کا مقابلہ کیا جاسکے۔ پھر جنگ کے بارے ہدایات دیں کہ حالات کے مطابق تم گوریلا جنگ کرویا منظم طریقہ کے ساتھ جماعت کی صورت میں حملہ آور ہوتمہیں ہر طرح میدان کار زار میں اترنے کے لیے آمادہ و تیار رہنا چاہیے۔ اسی سے جنگ کے متعلق قوموں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مضبوط دفاع ہی قوموں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے لہٰذا دشمن کی جارحیت سے بچنے کے لیے ہر وقت چوکس رہنا چاہیے۔ اس کے بعد منافقوں کے عزائم سے آگاہ کیا گیا کہ یہ تمہاری آستینوں کے سانپ اور گھر کے بھیدی ہیں ان کی سازشوں سے آگاہ رہنا نہایت ضروری ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ اگر تمہیں کوئی مشکل اور افتاد آ پڑتی ہے تو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ہم پر انعام کیا کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ نہیں تھے۔ اگر تمہیں کامیابی نصیب ہو تو حسرت و افسوس سے کہتے ہیں کہ کاش! ہم بھی اس عظیم کامیابی میں مسلمانوں کے ساتھ ہوتے۔ (عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَۃَ بْنَ الأَکْوَعِ قَالَ مَرَّ النَّبِیّ () عَلَی نَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ یَنْتَضِلُونَ فَقَال النَّبِیُّ () ارْمُوا بَنِی إِسْمَاعِیلَ، فَإِنَّ أَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِی فُلاَنٍ قَالَ فَأَمْسَکَ أَحَدُ الْفَرِیقَیْنِ بِأَیْدِیہِمْ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ () مَا لَکُمْ لاَ تَرْمُونَ قَالُوا کَیْفَ نَرْمِی وَأَنْتَ مَعَہُمْ قَال النَّبِیُّ () ارْمُوا فَأَنَا مَعَکُمْ کُلِّکُمْ) [ رواہ البخاری : باب التَّحْرِیضِ عَلَی الرَّمْیِ] ” حضرت یزید بن ابی عبید کہتے ہیں میں نے سلمہ بن اکوع (رض) سے سناکہ ایک دن نبی اکرم (ﷺ) کا اسلم قبیلہ کے چند لوگوں پر گذر ہوا جو تیر اندازی میں مقابلہ کر رہے تھے آپ (ﷺ) نے فرمایا اے اسماعیل کی اولاد تیر اندازی کرو یقیناً تمھارے آباء بھی تیر انداز تھے تیر اندازی کرو میں فلاں قبیلہ کے ساتھ ہوں تو دوسرے فریق نے مقابلہ کرنا چھوڑدیا رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا تم تیر اندازی کیوں نہیں کرتے انہوں نے عرض کی کہ ہم تیر اندازی کیونکر کریں جبکہ آپ ان کے ساتھ ہیں آپ (ﷺ) نے فرمایا تم تیر اندازی کرو میں سبھی کے ساتھ ہوں“ مسائل : 1۔ امت کو انفرادی اور اجتماعی طور پر جہاد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ 2۔ مسلمانوں کو ہر وقت اپنا دفاع مضبوط رکھنا چاہیے۔ 3۔ حالات کے مطابق جہاد انفرادی اور اجتماعی طور پر کرنا چاہیے۔ 4۔ منافق مسلمانوں کی آزمائش میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ 5۔ منافق کو دنیا اور آخرت میں پچھتاوا ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : ہر حال میں مضبوط دفاع : 1۔ تھوڑے ہو یا زیادہ دفاع مضبوط رکھو۔ (النساء :71) 2۔ کفار کے مقابلے میں ہر دم تیار رہو۔ (الانفال :60) 3۔ دفاعی قوت کے ذریعے اسلام دشمنوں کو مرعوب رکھو۔ (الانفال :60) 4۔ اسلحہ سے غافل نہ رہو۔ (النساء :102) 5۔ نماز میں اسلحہ اپنے پاس رکھو۔ (النساء :102) منافق کی حسرتیں : 1۔ جنگ میں نہ جاتے تو زندہ رہتے۔ (آل عمران :156) 2۔ با اختیار ہوتے تو قتل نہ ہوتے۔ (آل عمران :154) 3۔ ہماری بات مان لیتے تو نہ مرتے۔ (آل عمران :168) 4۔ کاش ہم فتح کے وقت مسلمانوں کے ساتھ ہوتے۔ (النساء :73) النسآء
72 النسآء
73 النسآء
74 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اب پھر مسلمانوں کو جہاد پر یہ کہہ کر تیار کیا جارہا ہے کہ ان لوگوں کو جنہوں نے دنیا پر آخرت کو مقدم سمجھ رکھا ہے اللہ کے راستے میں ضرور لڑنا چاہیے۔ انہیں کسی نقصان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تو پہلے ہی دنیا کو خیر باد کہہ چکے ہیں لہٰذا یہ اللہ کی راہ میں کٹ مریں یا غالب آئیں انہیں ہر دو صورتوں میں اجر عظیم سے نوازا جائے گا۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ () قَالَ تَکَفَّلَ اللَّہُ لِمَنْ جَاہَدَ فِی سَبِیلِہِ، لاَ یُخْرِجُہُ إِلاَّ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِہِ، وَتَصْدِیقُ کَلِمَاتِہِ، بِأَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ، أَوْ یَرْجِعَہُ إِلَی مَسْکَنِہِ الَّذِی خَرَجَ مِنْہُ، مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ )[ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قولہ تعالیٰ ولقد سبقت کلمتنا] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کا ذمہ لے لیا جسے اس کے راستے میں صرف جہاد اور اس کے کلمے کی تصدیق نے نکالا ہو کہ اسے جنت میں داخل کرے گا یا اسے اس کے اس گھر میں اجر یا مال غنیمت کے ساتھ لوٹائے گا۔“ مسائل : 1۔ منافق کامیابی کے وقت اپنی عدم حاضری پر پچھتاتا ہے۔ 2۔ کفار کے خلاف جہاد کرنے میں کامیابی یا شہادت دونوں ہی اجر عظیم کا باعث ہیں۔ تفسیر بالقرآن : مجاہد کا اجر و ثواب : 1۔ مجاہد اور غیر مجاہد برابر نہیں (النساء :95) 2۔ مجاہدین عذاب الیم سے نجات پائیں گے۔ (الصف : 10، 11) 3۔ مجاہد کے لیے جنت۔ (محمد :6) 4۔ شہید کے لیے مغفرت۔ (آل عمران :157) 5۔ مجاہدین سے اللہ تعالیٰ کی محبت۔ (الصف :4) 6۔ شہید زندہ ہیں وہ اللہ کے ہاں رزق پاتے اور بے خوف و غم ہوتے ہیں۔ (آل عمران : 170، 171) النسآء
75 فہم القرآن : ربط کلام : جہاد کے متعلق خطاب جاری ہے اور اس میں مظلوم کی مدد کرنا لازم قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وطن اور گھر کی محبت انسان ہی نہیں درندوں اور پرندوں کے دل میں بھی پیدا فرمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درندے اپنی غار کی اور پرندے اپنے گھونسلے کے ایک ایک تنکے کی حفاظت کرتے ہیں اور ہر جاندار شام کو اپنے ٹھکانے کی طرف پلٹتا ہے۔ کوئی جاندار اپنے گھر اور وطن کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ لیکن جب کسی کو اس قدر ستایا جائے کہ اسے اپنی جان کے لالے پڑجائیں تو وہ ہر چیز چھوڑنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ یہی صورت انسان کی ہے جب مکہ معظمہ میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم توڑے گئے کہ ظالم اور سفاک لوگوں نے مسلمان خواتین اور معصوم بچوں کو بھی معاف نہ کیا۔ جس کی وجہ سے مرد، عورتیں اور بچے بلبلا اٹھے کہ بارِ الٰہی! ظالموں کی بستی سے نکلنے کے لیے اپنی طرف سے ہمارا سر پرست اور مددگار پیدا فرما۔ تاکہ ہم اپنے ایمان اور جان و مال کو بچا سکیں۔ اس دعا میں کمزور مسلمانوں کی مظلومیت کا نقشہ پیش کرنے کے ساتھ ان کی ہمدردی اور مدد کے لیے مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت واضح کی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ اسلامی جہاد کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں۔ 1۔ دفاعی۔ 2۔ مظلوم مسلمان اور انسانیت کی مدد کرنا۔ 3۔ اللہ کے باغیوں کو سرنگوں کرکے پرچم اسلام کو سر بلند رکھنا۔ کیونکہ زمین و مافیہا اللہ کی ملکیت ہے۔ لہٰذا باغی انسانوں کو سرنگوں کرنا اور رکھنا اللہ والوں کی ذمہ داری ہے۔ جہاں تک مظلوم انسانیت کی مدد کرنے کا معاملہ ہے دنیا میں دوسری قوموں کے مقابلے میں مسلمان لازوال تاریخ رکھتے ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے اپنی اغراض کے بجائے محض اللہ کی رضا اور انسانیت کی حمایت کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ ہسپانیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ جب عیسائی حکمران راڈرک نے اپنے ہی گورنر کی معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کی تو گورنر نے مجبور ہو کر اپنے ہم منصب مسلمان ملک کے سرحدی گورنر موسیٰ بن نصیر کو خط لکھا۔ جس کے جواب میں طارق بن زیاد نے اسپین پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں تقریباً 8 سو سال تک اسپین امن وامان کا گہوارہ بنا۔ ہسپانوی مورخ اسے ہسپانیہ کی تاریخ کا سنہری دور تصور کرتے ہیں۔ ایسی ہی صورت حال سندھ میں پیدا ہوئی کہ جب مسلمان مسافروں پر راجہ داہر کے غنڈوں نے حملہ کیا تو ایک مسلمان بیٹی نے عراق کے گورنر حجاج بن یوسف کو دہائی دی۔ حجاج نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو مظلوموں کی مدد کے لیے بھیجا۔ جس سے تقریباً ایک ہزار سال تک ہندو ستان میں اسلام کا پھریرا بلند رہا اور اس ملک میں وحدت پیدا ہوئی۔ لوگوں کو سیاسی‘ علمی شعور ملنے کے ساتھ امن و سکون نصیب ہوا اور پاکستان وجود میں آیا۔ اسی جہاد کی ترجمانی قادسیہ میں جو اس وقت ایرانی حکومت کا دارالحکومت تھا حضرت ربیع (رح) نے رستم کے سامنے ان الفاظ میں کی تھی : (إِنَّا قَدْ أُرْسِلْنَا لِنُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ ظُلُمَاتِ الْجَھَالَۃِ إِلٰی نُوْرِ الْإِیْمَانِ وَمِنْ جَوْرِ الْمُلُوْکِ إِلٰی عَدْلِ الْإِسْلَامِ) [ البدایہ والنہایہ] ” (ہم خود نہیں آئے) ہمیں بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر نور ایمان میں لا کھڑا کریں۔ عوام الناس کو بڑے لوگوں کے جورو ستم سے نکال کر اسلام کے عادلانہ نظام میں زندگی گزارنے کا موقعہ فراہم کریں۔“ مسائل : 1۔ کفار کے مظالم سے مسلمانوں کو چھڑانا چاہیے۔ 2۔ مظلوم کو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ تفسیر بالقرآن : مظلوم کی مدد کرنا چاہیے : 1۔ مظلوم مسلمانوں کو جہاد کرنے کی اجازت ہے۔ (الحج :39) 2۔ مظلوموں کی مدد کے لیے جہاد کرنا لازم ہے۔ (النساء :75) 3۔ مسلمانوں کو نظر انداز کرنا ظلم ہے۔ (الانعام: 52) 4۔ ظالموں سے سختی سے نمٹو۔ (البقرۃ: 193) النسآء
76 فہم القرآن : ربط کلام : جہاد فی سبیل اللہ اور لڑائی کا فرق بیان کیا گیا ہے۔ یہاں دو جماعتوں اور لشکروں کی محاذ آرائی اور باہمی جنگ و جدل کی وجوہات‘ محرکات اور ان کے مشن کا فرق نمایاں کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ صاحب ایمان لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے جنگ و جدل کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں کفار طاغوت کے مشن کی بالا دستی کے لیے برسر پیکار ہوتے ہیں۔ تیسرے پارے میں وضاحت گزر چکی ہے کہ طاغوت سے مراد ہر وہ قوت جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف ہو یہ حکمرانوں یا سیاستدانوں کی شکل میں ہوں یا عام انسانوں کے روپ میں‘ کفار ہوں یا اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے منافق گویا اللہ اور اس کے رسول کے مخالف کہ جس شکل و صورت میں ہوں۔ وہ طاغوت کے ساتھی تصور ہوں گے۔ پہلی آیت میں مظلوموں کی مدد کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ کفار کی اصل طاقت کا پول کھول دیا جائے تاکہ مجاہد کسی کمزوری اور گھبراہٹ کے بغیرآگے بڑھیں۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ کفار کا کروفر محض دکھاوا ہے اندر سے یہ کمزور اور کھوکھلے ہیں۔ پھر اس کی کمزوری کی وجہ بیان فرمائی کہ اپنے خالق کے باغی اور سچا مشن نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دلوں میں جرأت اور ان کے قدموں میں استقامت پیدا نہیں ہوتی۔ مسلمان ایمان کی دولت اور اپنے وسائل کے مطابق مکمل تیاری‘ باہمی اتحاد‘ اور کلمۃ اللہ کی سربلندی کے لیے سینہ سپر ہوں تو دنیا کی کوئی قوت مسلمانوں کو سرنگوں نہیں کرسکتی کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ مجاہدو! تم ہی غالب آؤ گے بشرطیکہ ایمان کامل کے اسلحہ سے لیس ہوجاؤ۔ مسلمانوں کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ مسلمان جب بھی ایمان‘ اتحاد اور جہاد کے جذبہ سے سرشار ہو کر میدان کارزار میں اترے فتح و کامرانی نے ان کے قدم چومے اور اللہ کی مدد کالی گھٹا اور موسلا دھار بارش کی طرح مسلمانوں پر سایہ فگن رہی۔ کفار اور اشرار بالآخر ہر میدان میں منہ کی کھا کر واپس ہوئے۔ کیونکہ قوت و جبروت اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ مکرو فریب اور ضعف و کمزوری شیطان کے حصہ میں آئی ہے۔ مسائل : 1۔ ایمان دار اللہ کے لیے لڑتے ہیں اور کافر شیطان کے لیے برسر پیکار ہیں۔ 2۔ شیطان کے ساتھی اور ان کے حربے نہایت کمزور ہوا کرتے ہیں۔ النسآء
77 فہم القرآن : ربط کلام : کمزور مسلمانوں کو جنگ میں پہل کرنے کی بجائے اپنے آپ کو منظم اور اخلاق و ایمان کے لحاظ سے مضبوط کرنا چاہیے۔ مفسرین نے اس آیت کی متضاد مفہوم اخذ کیے ہیں۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ یہ آیت مظلوم مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے مظالم سے تنگ آکر رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں مطالبہ کیا کہ ہمیں لڑنے کی اجازت عنایت فرمائی جائے۔ امام نسائی (رح) نے کتاب الجہاد میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) اور ان کے ساتھی رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ اللہ کے رسول ! ہم مشرک ہونے کے باوجود معزز اور باوقار لوگ تھے اب ایمان لانے کے بعد ہم ذلیل ہو رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں لڑنے کی اجازت دیں۔ آپ نے جواباً ارشاد فرمایا ابھی تک اللہ تعالیٰ نے مجھے جنگ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب ہم مدینہ پہنچے تو ہمیں قتال کا حکم ہوا لیکن بعض لوگوں نے لڑنے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا‘ جس پر یہ فرمان نازل ہوا۔ جبکہ دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کے بجائے منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جہاد کا حکم آنے سے پہلے وہ ڈینگیں مارتے تھے کہ ہمیں مشرکوں کے مقابلے میں کٹ مرنا چاہیے۔ جس سے ان کا مطلب مصنوعی اخلاص کا اظہار تھا۔ یا پھر منافق چاہتے تھے کہ مسلمان طاقتور اور منظم ہونے سے پہلے کفار کے ساتھ ٹکرا جائیں تاکہ مسلمانوں کی طاقت ابتداء ہی میں پاش پاش ہوجائے۔ لہٰذا مسلمانوں کو سمجھایا اور روکا جارہا ہے کہ ابھی میدان جہاد میں اترنے کا وقت نہیں آیا۔ کیونکہ تم تعداد میں تھوڑے اور تربیت کے لحاظ سے ناپختہ اور غیر منظم ہو۔ اس لیے پہلے زکوٰۃ کی ادائیگی کی صورت میں مالی قربانی کا جذبہ پیدا کرو۔ اخلاقی، روحانی اور تنظیمی تربیت کے لیے نماز پڑھتے رہو۔ جب تم ایک امام کی اتباع میں قیام اور رکوع و سجود کرو گے تو تمہیں ہر حال میں نظم و ضبط قائم رکھنے کا سلیقہ آئے گا۔ جہاد میں مال بھی خرچ ہوتا ہے اور نظم بھی ضروری ہوتا ہے جو زکوٰۃ اور نماز کے بغیر ممکن نہیں۔ لیکن جب جہاد فرض ہوا تو وہ اس طرح ڈر رہے تھے جیسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ خوف زدہ ہو کر کہتے تھے کہ ہمارے رب نے ہم پر قتال کیوں فرض کیا ہے؟ کاش کہ ہمیں مزید مہلت دی جاتی۔ ان کے جواب میں فرمایا گیا کہ اے رسول! انہیں سمجھاؤ تم تھوڑی سی مہلت مانگتے ہو یہ دنیا تو بذات خود قلیل اور اس میں رہنے کی مدّت انتہائی تھوڑی ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں آخرت کی نعمتیں بیش بہا، دائمی اور اخروی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ وہاں کسی پر کھجور کی گٹھلی کے دھاگے کے برابر بھی زیادتی نہ ہوگی۔ بلکہ ہر کسی کو پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ کھجور کی گٹھلی کے درمیان لکیر میں جو دھاگہ نما پردہ ہوتا ہے۔ اسے عربی میں ” فتیل“ کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے : (لَاتَمَنَّوْا لِقَآءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ فَإِذَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاصْبِرُوْا) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، باب لاتمنوا لقاء العدو] ” دشمن سے ملنے کی آرزونہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو، جب تمہارا ٹکراؤ دشمن سے ہوجائے تو پھر حوصلہ رکھو۔“ مسائل : 1۔ جنگ کی خواہش کرنے کے بجائے نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے اپنا کردار مضبوط بنانا چاہیے۔ 2۔ جہاد فرض ہوجائے تو ڈرنے کے بجائے ڈٹ جانا چاہیے۔ 3۔ بنی اسرائیل پہلے جہاد کا مطالبہ کرتے اور پھر اس سے راہ فرار اختیار کیا کرتے تھے۔ 4۔ دنیا کا مال و متاع آخرت کے مقابلے میں نہایت ہی تھوڑا ہے۔ 5۔ صاحب تقویٰ لوگوں کے لیے آخرت بہتر ہے۔ تفسیر بالقرآن: لوگوں سے ڈرنے کے بجائے اللہ سے ڈرنا چاہیے: 1۔ لوگ اللہ سے ڈرنے کے بجائے لوگوں سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ (النساء: 77) 2۔ اللہ سے خلوت میں ڈرنے والے کے لئے خوشخبری ہے۔ (یس: 11) 3۔ لوگوں سے ڈرنے کے بجائے اللہ سے ہی ڈرنا چاہئے۔ (آل عمران: 175) النسآء
78 فہم القرآن : ربط کلام : جہاد وہی کرسکتا ہے جو موت سے ڈرنے والا نہ ہو۔ موت کا تعلق قتال کے ساتھ نہیں۔ موت کا وقت‘ مقام اور سبب مقرر ہے۔ موت اپنے وقت اور مقام پر آئے گی چاہے کوئی قلعہ بند ہوجائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر کسی کو زندگی عزیز، اولاد محبوب اور مال و جان پیارے ہوتے ہیں۔ لیکن مومن اور دوسروں کا فرق یہ ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کے حکم کو دنیا جہاں کی ہر چیز سے عزیز تر سمجھ کر بے خوف و خطر میدان جنگ میں کود پڑتا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ تصور ہوتا ہے کہ گھر ہو یا باہر، امن ہو یا جنگ میرے لیے موت کا وقت اور جگہ مقرر ہے۔ پھر منافقوں کی طرح چھپنا اور بزدلوں کی طرح پیچھے ہٹنے کا کیا مقصد؟ یہ جذبہ اس کے دل سے موت کا خوف نکال دیتا ہے تبھی تو وہ چمکتی ہوئی تلواروں اور برستے ہوئے گولوں میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ موت اپنی مقررہ جگہ اور وقت کے بغیر ہرگز نہیں آسکتی۔ دنیا میں کتنے ہی سپہ سالار اور حکمران گزرے ہیں جن کی حفاظت کے لیے ہزاروں کمانڈوز حصار بنائے رکھتے تھے۔ لیکن جب موت کا وقت آیا تو کوئی بھی ان کی حفاظت نہ کرسکا۔ ماضی قریب میں امریکہ کا صدر کینیڈی گولی لگنے سے اس وقت ہلاک ہوا جب پولیس کے ہزاروں جوان، درجنوں انٹیلی جنس ایجنسیاں اور انتہائی چاک و چوبند مسلح گارڈز اس کی حفاظت کر رہے تھے۔ اس کے مقابلہ میں فلسطین کے صدر یاسر عرفات پر اسرائیل نے بارہا دفعہ سینکڑوں گولے برسائے یہاں تک کہ اس کے صدر مقام رملہ کا اسرائیل نے کئی مہینے محاصرہ کیے رکھا، مسلسل بمباری کی، اس کا دفتر اور رہائش کا بیشترحصہ تباہ ہوگیا لیکن موت یاسرعرفات کے قریب نہ پہنچ سکی، جب وقت آیا تو فرانس کے ایک ہسپتال سے اس کا جسد خاکی اٹھا۔ امریکہ جسے اپنے سیٹلائٹ سسٹم پر بڑا ناز ہے۔ اس کی انٹیلی جنس سے مرعوب ہو کر جنگی جغاوری بھی کہتے ہیں کہ امریکہ سے زمین پر گری ہوئی سوئی بھی نہیں چھپ سکتی۔ لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ 2002 ء سے لے کر 2005 ء ختم ہوچکا ہے۔ افغانستان کا چپہ چپہ چھان مارنے‘ بستیوں کی بستیاں تباہ کرنے کے باوجود امریکہ اسامہ بن لادن تلاش کرسکا اور نہ کروڑوں ڈالر کی پیش کش کے باوجود کوئی اسامہ کو قتل کرسکا۔ یہاں منافقوں کی ایک اور عادت بد کا ذکر کیا گیا ہے کہ اگر ان کو کوئی فائدہ اور اچھائی پہنچے تو کہتے ہیں یہ ہماری حسن تدبیر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا ہے۔ جب کوئی نقصان پہنچتا ہے تو رسول اللہ (ﷺ) کو اذیت اور صدمہ پہنچانے کے لیے ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ یہ تمہاری بے تدبیری کا نتیجہ ہے۔ اے نبی! انہیں فرمائیں کہ نفع و نقصان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا کرتا ہے۔ کوئی کسی کو نقصان پہنچانا چاہے تو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو ہمیں جد وجہد کرنے کی کیا مصیبت پڑی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جو ہمارے لیے لکھ چھوڑا ہے وہ ہو کر رہے گا دراصل یہ شیطان کا حربہ ہے جس کو استعمال کرکے یہ لوگ نیکی کے کاموں سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔ کیا ایسے لوگ دنیا کے معاملات کے بارے میں بھی یہ عقیدہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں؟ جہاں تک رسول گرامی (ﷺ) کا تعلق ہے آپ دنیا کے لیے رحمت اور محسن اعظم بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ آپ تو کسی کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے بلکہ آپ تو انسانیت کی خاطر بڑی بڑی تکالیف اور نقصانات اٹھاتے رہے ہیں۔ منافق کیسے بد فطرت اور غیر دانشمند لوگ ہیں کہ اس حقیقت کو بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ مسائل : 1۔ انسان قلعہ بندہو یا جہاں بھی چھپ جائے موت اسے دبوچ لے گی۔ 2۔ منافقوں کو کوئی تکلیف پہنچے تو وہ دوسروں کے ذمہ لگاتے ہیں۔ 3۔ ہر تکلیف بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔ 4۔ منافق اور کافر حقیقت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ تفسیربالقرآن : موت کا ایک دن مقرر ہے : 1۔ موت کا وقت مقرر ہے۔ (آل عمران :145) 2۔ موت کی جگہ متعین ہے۔ (آل عمران :154) 3۔ موت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ (آل عمران :168) 4۔ موت سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ (النساء :78) 5۔ سب کو موت آنی ہے۔ (الانبیاء :35) 6۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر کسی نے مرنا ہے۔ (الرحمن : 26، القصص :88) النسآء
79 فہم القرآن : (آیت 79 سے 80) ربط کلام : نقصان پہنچنے پر منافق رسول کریم (ﷺ) کی ذات کو ذمہ دار ٹھہراتے اس ہرزہ سرائی کا جواب دیتے ہوئے اصل حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ نفع و نقصان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ لیکن انسان کو پہنچنے والے نقصان کا بنیادی سبب اس کے ذاتی کسب و عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پہلی آیت میں یہ فرمایا ہے کہ نفع ہو یا نقصان ہر ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ کیونکہ وہی مختار کل اور نفع و نقصان کا مالک ہے۔ اس آیت میں اس کی یوں تشریح فرمائی ہے کہ انسان کو پہنچنے والی اچھائی اور فائدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ جہاں تک برائی اور نقصان کا معاملہ ہے یہ انسان کی اپنی کوتاہی اور بے تدبیری کا صلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہے تودنیا میں کسی کی غلطی سے درگزر فرمائے نہ چاہے تو کوتاہی کے بدلے سرزنش یا سزا کے طور پر آدمی کی گرفت فرمائے۔ یہی بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید سمجھاتے ہوئے بیان فرمائی تھی کہ شفاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور بیماری اپنی طرف سے ہوتی ہے۔ [ الشعراء :80] یہاں یہ اصول سمجھانے کے بعد فرمایا اے رسول مکرم! آپ کو دل چھوٹا کرنے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آپ خود لوگوں کے سامنے کھڑے نہیں ہوئے یہ تو ہم نے آپ کو پوری انسانیت کی طرف اپنا پیغام دینے والا بنا کر بھیجا اور کھڑا کیا ہے۔ لوگ تمہاری رسالت کی گواہی دیں تو یہ ان کی خوش نصیبی ہے اگر یہ انکار کردیں تو تمہیں بھیجنے والا اللہ شہادت دیتا ہے کہ آپ اس کے سچے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی شہادت تمام شہادتوں سے بڑھ کر ہے کوئی گواہی اس کی گواہی سے بہتر اور معتبر نہیں ہو سکتی۔ اس کی گواہی کے بعد کسی گواہی کی ضرورت نہیں رہتی۔ در اصل لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ آپ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ جس نے آپ کی اطاعت کی حقیقتاً اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ اے نبی (ﷺ) ! تمہیں ہم نے ان پر نگہبان اور دربان بنا کر نہیں بھیجا اور نہ ہی آپ سے سوال ہوگا کہ آپ کے ہوتے ہوئے یہ لوگ کافر و مشرک کیوں رہے؟ آپ کا کام تو بات سمجھانا اور پہنچانا ہے یہ فرض آپ کما حقہٗ پورا کر رہے ہیں۔ نفع و نقصان کے بارے میں نبی (ﷺ) کا عقیدہ اور فرمان : (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ کُنْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ () یَوْمًا فَقَالَ یَاغُلَامُ إِنِّیْ أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ اِحْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ احْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاھَکَ إِذَ ا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلی أَنْ یَّنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَّمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَیْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلی أَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْءٍ لَّمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَیْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں ایک دن میں رسول کریم (ﷺ) کے پیچھے سوار تھا آپ نے فرمایا : بچے! میں تجھے چند کلمات سکھاتاہوں تو اللہ کے احکامات کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا تو اللہ کو یاد کر تو اسے اپنے سامنے پائے گا، جب سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر، جب مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کرنا اور یقین رکھ کہ اگر تمام لوگ تجھے کچھ نفع دینے کے لیے جمع ہوجائیں۔ وہ اتنا ہی نفع دے سکتے ہیں جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ رکھا ہے اور اگر وہ تجھے نقصان دینے پہ تل جائیں۔ تجھے اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا تیرے حق میں لکھا گیا ہے، قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔“ مسائل : 1۔ اچھائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور نقصان انسان کی کوتاہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) کو نفع و نقصان کا مالک نہیں بنایا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی پر گواہ ہے۔ 4۔ رسول اللہ (ﷺ) کی اطاعت حقیقت میں اللہ کی اطاعت ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (ﷺ) کو لوگوں پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ تفسیر بالقرآن : عالمگیر نبوت : 1۔ رسول اللہ (ﷺ) پوری دنیا کے رسول ہیں۔ (الاعراف :158) 2۔ رسول اللہ (ﷺ) سب کے رسول ہیں۔ (سباء :28) 3۔ رسول اللہ (ﷺ) مبشر اور نذیر ہیں۔ (الاحزاب :45) 4۔ رسول اللہ (ﷺ) رحمت عالم ہیں۔ (الانبیاء :107) 5۔ رسول اللہ (ﷺ) خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب :40) النسآء
80 النسآء
81 فہم القرآن : ربط کلام : منافقوں کے کردار کا تذکرہ جاری ہے۔ منافق کی یہ بھی عادت ہوتی ہے کہ دوغلی بات کرتا ہے۔ منافق کی عادت ہوتی ہے کہ وہ سامنے جی حضوری اور بعد میں اس کے الٹ بات کرتا ہے۔ یہی عادت آپ کے دور کے منافقوں کی تھی۔ رسول اللہ (ﷺ) کے رعب اور مسلمانوں کے ماحول سے مرعوب ہو کر اور ظاہری رکھ رکھاؤ کے لیے آپ (ﷺ) کے سامنے آتے تو ایسے الفاظ اور انداز اختیار کرتے کہ جن سے آپ کو یقین ہوجائے کہ یہ واقعتا مخلص لوگ ہیں۔ لیکن جونہی آپ کی محفل سے باہرجاتے بالخصوص رات کے وقت خفیہ میٹنگوں میں مشورے کرتے کہ اسلام سے کس طرح چھٹکارا پائیں اور آپ کو کس طرح نقصان پہنچایا جائے؟ ان کی خفیہ مجالس کو طشت ازبام کرکے بتلایا جارہا ہے کہ جو کچھ یہ کہتے اور کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے لکھ رہا ہے اور کراماً کاتبین ان کا ایک ایک لفظ اور تمام حرکات کو ضبط تحریر میں لا رہے ہیں۔ قیامت کے روز مکمل ریکارڈ ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ یہاں نہایت بلیغ انداز میں منافقوں کو ایسی حرکات سے بازرہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس کے بعد رسول کریم (ﷺ) کو سمجھایا گیا کہ آپ ایسی باتوں کے پیچھے پڑنے کے بجائے درگزر فرمایا کریں۔ کیونکہ صاحب عزیمت لوگ سفلہ مزاج لوگوں کی عادات سے صرف نظر ہی کیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور اپنا کام کرتے جائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی پوری طرح حفاظت کرنے والا، کار ساز اور ان کی سازشیں ناکام کرنے والا ہے۔ مسائل : 1۔ منافق لوگ رسول اللہ (ﷺ) کی مجلس میں اطاعت کا اعلان کرتے جبکہ بعد میں انکار کرتے تھے۔ 2۔ لوگوں کے اعراض اور بے ہودہ اعتراضات پر افسردہ ہونے کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ النسآء
82 فہم القرآن : ربط کلام : اگر آدمی قرآن مجید کے نصائح اور فرمودات پر غور کرے تو اس کے قول و فعل میں تضاد نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ قرآن تضادات کے بجائے سیدھی اور صاف بات کہتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید پر آدمی مخلصانہ طریقہ پر غور اور عمل کرے تو وہ منافقت اور قول و فعل کے تضاد سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب ہے کہ وہ کسی حقیقت کو منوانے کے لیے تحکم کی بجائے سوچ و بچار اور غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ توحید کی دعوت دی تو زمین و آسمان کی تخلیق، رات اور دن کی گردش، سمندر کی لہروں اور تہوں گویا کہ بحروبر کی تمام نشانیوں کو پیش فرمایا یہاں تک کہ انسان کو اپنے آپ پر غور کرنے کا حکم دیا اور یہی دعوت قرآن مجید کے بارے میں دی ہے۔ یہاں منافقوں اور قرآن کے منکروں کے اس الزام اور شبہ کی تردید کے لیے خود قرآن ہی کو ان کے سامنے پیش فرمایا کہ آؤ قرآن کا ایک ایک لفظ پرکھو اور اس پر غور کرو۔ اگر تمہارے زعم کے مطابق یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی بجائے کسی اور کا کلام ہوسکتا ہے تو اس میں کسی قسم کے اختلاف، انحطاط اور تضاد کا ثبوت پیش کرو۔ لیکن تم کبھی ایسا نہیں کرسکو گے۔ ہاں یہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں ضرور سینکڑوں اختلافات اور تضادات ہوتے۔ کیونکہ دنیا میں کوئی تحریک اور شخصیت ایسی نہیں جس کے مختلف ادوار اور خطابات و بیانات کو سامنے رکھا جائے تو وہ اونچ نیچ اور تضاد فکری سے خالی ہو۔ کسی لائق سے لائق انسان کی پوری زندگی کا کلام اخلاقی قدروں، علمی بنیادوں اور فکری ارتقاء کے لحاظ سے یکساں نہیں ہوا کرتا۔ جبکہ قرآن مجید کا ایک ایک لفظ انگوٹھی کے نگینے کی طرح موزونیت لیے ہوئے ہے اس میں شہد جیسی مٹھاس، گلاب کے پھول سے بڑھ کر دلربائی‘ چنبیلی کی خوشبو سے زیادہ کشش، دریا کے طوفان سے زیادہ جوش و خروش اور بجلی کے کڑکے سے زیادہ رعب پایا جاتا ہے۔ قرآن کے بیان کردہ واقعات تاریخ کی روشنی میں دیکھیں تو اس کا ہر لفظ صداقت کا آئینہ دار اور حق کی گواہی دے رہا ہے۔ اس کی پیشگوئیوں کا ایک ایک حرف ٹھیک ثابت ہوا اور ہوتا رہے گا۔ اس کے بتلائے ہوئے معاشی، سیاسی اور سائنسی اصول و حقائق اپنی جگہ پر ہر دور میں مسلمہ رہے ہیں اور رہیں گے۔ ” یہ کتاب تیئس سال کے عرصۂ دراز میں وقفہ وقفہ سے نازل ہوئی۔ اس میں تضاد و اختلاف کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ یہ وہ ہنگامہ خیز اور پُر آشوب عرصہ ہے جس میں داعی اسلام، اس کے ماننے والوں اور خود اس دعوت کو شدید قسم کے مختلف مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ ظلم و ستم کے پہاڑ بھی توڑے گئے اور عقیدت و محبت کے پھول بھی برسائے گے۔ ایسے حالات بھی رونما ہوئے کہ ظاہر بیں نگاہوں کو یقین ہونے لگا کہ چراغ حق ابھی بجھا چاہتا ہے۔ ایسا دور بھی آیا کہ اس چراغ کو پھونکیں مار مار کر بجھانے والے وحشیوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑے۔ صلح بھی اور جنگ بھی، فتح بھی اور پسپائی بھی، خوف بھی اور امن بھی ہر قسم کے حالات روپذیر ہوئے۔ گوناگوں اور بو قلموں ادوار میں یہ کتاب نازل ہوتی رہی اور اس میں ایک بھی ایسی آیت کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی جس سے اسلام کے اصولوں میں تضاد کا شائبہ تک ہو۔ علامہ بیضاوی (رح) نے ایک جملہ میں سب کچھ بیان کر کے رکھ دیا۔ (من تناقض المعنی و تفاوت النظم) یعنی اس کی کوئی آیت نہ معنوی لحاظ سے دوسری آیت کے خلاف ہے نہ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے کوئی حصہ دوسرے حصہ سے فروتر ہے۔ یہ معانی و حقائق کا سمندر ہے جس کی لہروں میں آویزش نہیں اور جس کی ہر موج اور ہر قطرہ گل کا رنگ و بُولیے ہوئے ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کے کلام الہٰی ہونے کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے؟ [ ضیاء القرآن] تد بّرِ قرآن کی اہمیت : قرآن مجید کی تلاوت کے جو آداب اور تقاضے مقرر کیے گئے ہیں ان میں ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ تلاوت کے دوران قرآن مجید کے الفاظ، انداز اور اس کے فرمان پر غور و خوض کیا جائے۔ رسول اللہ (ﷺ) کی عادت مبارکہ تھی کہ تہجد میں تلاوت کے دوران قرآن مجید کے احکامات پر غور کرتے اور عذاب کی آیات پر اللہ تعالیٰ سے پناہ اور معافی طلب کرتے اور زاروقطار روتے۔ جب بشارت کی آیات پڑھتے تو اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے حصول کے طلب گار ہوتے۔ قرآن مجید میں تدبّرو تفکّر کرنا حسب لیاقت ہر آدمی پر فرض ہے۔ تدبّرکے اصول : قرآن مجید کے تدبر کے بارے میں بنیادی اصول یہ ہے کہ اس کا معنی اور مفہوم وہی متعین کرنا چاہیے جو قرآن مجید کے الفاظ کے سیاق و سباق اور دعوت قرآن کے مطابق ہو۔ جہاں مفہوم سمجھنے میں مشکل پیش آئے تو حدیث رسول کے ذریعے اس کا مفہوم متعین کرنا چاہیے۔ اگر قرآن و حدیث کے حوالے سے بھی بات سمجھنے میں دقّت محسوس ہو۔ جس کی گنجائش بہت کم ہے تو صحابہ کرام (رض) کے اقوال کے مطابق قرآن کا مفہوم لینا ہوگا۔ کیونکہ صحابہ (رض) براہ راست قرآن کے مخاطب تھے اور انہوں نے بلاو اسطہ رسول اللہ (ﷺ) سے قرآن پڑھا، سنا اور سمجھا تھا۔ محض عربی لغت اور ادبی محاورات کی بنیاد پر قرآن مجید کا معنی و مفہوم متعین کرنا قطعاً جائز نہیں۔ اس لیے علماء نے قرآن مجید سے مسائل اخذ کرنے اور اس کی تفسیر کے لیے کچھ اصول مقرر کیے ہیں۔ جب تک ان اصولوں کا خیال نہ رکھا جائے۔ آدمی نہ صرف خود بھٹک سکتا ہے بلکہ دوسروں کی گمراہی کا سبب ثابت ہوگا۔ بعض لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ دین اور قرآن پر علماء کی اجارہ داری چہ معنیٰ دارد؟ ہر کسی کو قرآن و سنت سے مسائل کے استنباط کا حق ہونا چاہیے۔ اس مغالطہ کی عام طور پر دو وجوہات ہوتی ہیں۔ اکثر لوگ اپنی سادگی اور اخلاص کی بنیاد پر جبکہ دوسرے اس زعم میں مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم علماء سے زیادہ سمجھدار اور پڑھے لکھے ہیں۔ ذرا غور سے سوچاجائے تو دونوں قسم کے حضرات کا مطالبہ اور موقف دنیا کے مسلَّمہ اصولوں پر پورا نہیں اترتا۔ دنیا میں کونسا ایسا فن ہے جسے مستقل اختیار کرنے کے لیے استاد اور تجربہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیا حکمت اور ڈاکٹری نہ جاننے والا مریض کا باقاعدہ علاج کرسکتا ہے؟ اسے مریض کی جان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت ہونی چاہیے؟ کوئی معمولی عقل والا جان بوجھ کراناڑی ڈرائیور کے ساتھ سفر کرنے کے لیے آمادہ ہوگا؟ دور نہ جائیں ایک اَن پڑھ اور دیہاتی نے اپنا مکان بنانا ہو تو وہ کسی ناتجربہ کار کاریگر سے کچا مکان بنانے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ آپ دنیا میں کوئی ایسا تعلیمی ادارہ دکھا سکیں گے جس میں ریاضی کے ٹیچر کو اردو پڑھانے کے لیے اور انگلش جاننے والے کو عربی کا سبجیکٹ دیا جاتا ہو؟ کیا ایسی اجازت دینے والے ادارہ کا سربراہ دانشور تسلیم کیا جائے گا؟ نہیں ! تو پھر دین کا معاملہ اتنا عارضی اور ہلکا ہے کہ اس کی باقاعدہ تبلیغ و تدریس اور مسائل کے استدلال کے لیے ہر کسی کو اجازت دے دی جائے۔ اس کا یہ معنیٰ ہرگز نہیں کہ غیر عالم قرآن سمجھنے یا کسی کو مسئلہ بتلانے کی کوشش نہ کرے۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی باقاعدہ تدریس و تبلیغ اور قرآن و سنت سے مسائل مستنبط کرنا چاہتا ہے تو اسے باضابطہ طور پر عربی جاننا اور قرآن و حدیث کا علم سیکھنا چاہیے ورنہ وہ گمراہی کا سبب بنے گا جس سے رسول اللہ (ﷺ) نے دوٹوک الفاظ میں منع فرمایا ہے۔ (عن عبد الله بن عمرو بن العاص -رضي الله عنهما-، قال: سمعت رسول الله () يقول: «إنَّ اللهَ لاَ يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعاً يَنْتَزعهُ مِنَ النَّاسِ، وَلكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِماً، اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُوساً جُهَّالاً، فَسُئِلُوا فَأفْتوا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأضَلُّو) [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب کیف یقبض العلم] ’’حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ( ﷺ )کو یہ فرماتے سنا: ’’اللہ تعالیٰ دین کے علم کو ایسے نہیں اٹھائے گا کہ بندوں کے سینوں سے نکال لے بلکہ اہل علم کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا لیں گے۔ ان سے مسائل پوچھے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتوے دے کر خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘ دیہاتی کی غلط فہمی اور مفکر اسلام حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا جواب : بسا اوقات اپنی کم فہمی اور علمی کم مائیگی کی بنیاد پر آدمی قرآن مجید میں تضادات محسوس کرتا ہے۔ ایسا ہی تأثر اس اعرابی کا تھا جس نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے سامنے یہ اعتراضات کئے کہ دیکھئے اس مقام پر قرآن مجید میں تضادات پائے جاتے ہیں۔ اسے کیا خبر تھی کہ میں جس شخصیت کے سامنے یہ اعتراضات رکھ رہا ہوں اسے تو سرور دو عالم (ﷺ) نے فہم دین کی دعا دی تھی جس کی برکت سے وہ مفکر اسلام ہوئے۔ چنانچہ جب حضرت ابن عباس (رض) نے ایک ایک کر کے تسلی بخش جواب دیے تو اعرابی پکار اٹھا کہ واقعی قرآن مجید میں کسی قسم کے تضاد اور اختلاف کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کے انشراح صدر اور دلچسپی کے لیے من و عن اس مکالمے کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔ حضرت سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے ایک آدمی نے کہا کہ قرآن میں کئی آیات ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔ پھر اس نے قرآنی آیات کا اختلاف پیش کیا کہ ایک آیت میں ہے کہ قیامت کے دن لوگ ایک دوسرے سے سوال نہیں کریں گے دوسری آیت میں ہے کہ وہ آمنے سامنے آکر ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ ایسے ہی ایک آیت میں ہے کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے کچھ چھپا نہیں سکے گا۔ دوسرے مقام میں ہے کہ مشرک کہیں گے کہ ہمارے رب ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر ایک آیت میں آسمان کی پیدائش زمین سے پہلے ذکر کی گئی ہے۔ جبکہ دوسری آیت میں زمین کی پیدائش کا آسمان سے پہلے ذکر ہوا ہے۔ ایک اور مقام میں ہے اللہ تعالیٰ بخشنے اور رحم کرنے والا غالب، حکمت والا، سننے والا اور جاننے والا تھا گویا کہ اب نہیں۔ ان اعتراضات کا جواب عبداللہ بن عباس (رض) نے اس طرح دیا کہ جس آیت میں ہے کہ لوگ آپس میں سوال نہیں کریں گے۔ وہ پہلے نفخہ کا ذکر ہے اور جس آیت میں ایک دوسرے سے سوال کرنے کا تذکرہ ہے وہ دوسرے نفخہ کے بعد ہوگا۔ وہ جو کہیں گے کہ ہمارے مالک ہم مشرک نہیں تھے۔ تو یہ اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ مومنوں کو بخش دیں گے تو مشرک آپس میں کہیں گے کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کو کہتے ہیں کہ ہم نے شرک نہیں کیا تھا۔ اس وقت ان کے مونہوں پر مہریں لگا دی جائیں گی پھر ان کے ہاتھ اور پاؤں بولیں گے۔ جب مجرم جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کو چھپایا نہیں جاسکتا تب کافر کہیں گے کاش ہم بھی مسلمان ہوتے! !! زمین و آسمان کی پیدائش میں اختلاف کا جواب یہ ہے کہ اللہ نے زمین کو دو دنوں میں پیدا فرما کر پھر آسمان کو پیدا کیا آسمان کو دو دنوں میں برابر کر کے زمین کو پھیلایا اس میں سے پانی‘ پہاڑ‘ ٹیلے اور جو کچھ آسمان و زمین کے درمیان ہے دو دنوں میں بنایا لہٰذا زمین اور اس کی تمام اشیاء چار دن اور آسمان دو دنوں میں پیدا کیا گیا۔ آخری اعتراض تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ماضی میں تھیں اب نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ازل سے ہی یہ اللہ کی صفات ہیں اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کر دکھاتا ہے۔ یہ سارا قرآن اللہ کی طرف سے ہے تجھے اس میں اختلاف محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ [ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب قولہ ونفخ فی الصور.....] مسائل : 1۔ قرآن مجید میں تدبر و تفکّر کرنا چاہیے۔ 2۔ قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے اس میں تعارض نہیں پایا جاتا۔ 3۔ قرآن مجید اگر اللہ تعالیٰ کا کلام نہ ہوتا تو اس میں بے شمار اختلافات پائے جاتے۔ تفسیر بالقرآن : قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے : 1۔ قرآن کے بارے میں کفار کا الزام۔ (الفرقان :4) 2۔ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ (الشعراء :192) 3۔ قرآن کسی کاہن و شاعر کا کلام نہیں۔ (الحاقہ : 41، 42) 4۔ یہ شیطان کی شیطنت سے پاک ہے۔ (التکویر :25) النسآء
83 فہم القرآن : ربط کلام : منافق اپنی دوغلی پالیسی اور فکر کی وجہ سے مسلمانوں کو بھی دوغلے پن سے دوچار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ افواہوں اور جھوٹی خبروں کے ذریعے مسلمانوں میں دھڑے بندی کردی جائے۔ مدینہ کے یہودیوں اور منافقوں نے دشمنان اسلام کے ساتھ مل کر نبی کریم (ﷺ) کو پریشان کرنے اور مسلمانوں کے اعصاب توڑنے کے لیے افواہ سازی اور جھوٹی خبروں کا ایک سلسلہ قائم کر رکھا تھا۔ یہ لوگ اہل مکہ کی معمولی سرگرمیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے تاکہ مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں۔ کبھی کفار کی طاقت کا معمولی تأثر دیتے کہ مسلمان جوابی کاروائی کرنے میں غفلت کا مظاہرہ کریں۔ بسا اوقات معمولی معاشرتی واقعہ کو ایسے رنگ میں پیش کرتے کہ مسلمانوں کے اخلاقی نظام کی بنیادیں کھوکھلی ہوجائیں۔ انہی افواہوں کا شاخسانہ تھا کہ جب حضرت عائشہ صدیقہ (رض) ایک سفر کے دوران رات کے وقت قضائے حاجت کے لیے اپنے خیمے سے نکل کر باہر تشریف لے گئیں وہاں ان کا ہار گم ہوگیا۔ اس کی تلاش میں واپس لوٹنے میں تاخیر ہوئی جب اپنی جائے قیام پر واپس تشریف لائیں تو قافلہ کوچ کرچکا تھا۔ آپ دوسرے صحابی کی سواری پر سوار ہو کر قافلے کے ساتھ شامل ہوئیں۔ اس دوران وہ صحابی اونٹ کی مہار تھامے پیدل چلتا رہا اور آپ دوپہر کے وقت قافلے سے آملیں۔[ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، ﴿لولا إذ سمعتموہ ظن المومنون والمومنات بأنفسھم خیرا﴾] اتنے سے واقعہ کو منافقین نے ایسا رنگ دیا کہ جس نے کچھ دنوں کے بعد ایک تہمت اور مہم کی شکل اختیار کرلی جس کی تفصیل اور برأت سورۃ نور میں بیان ہوئی ہے۔ اس قسم کے واقعات کی تحقیق اور افواہوں کے منفی اثرات ختم کرنے اور ان کی روک تھام کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ اصول اور طریقۂ کار عطا فرمایا ہے کہ افواہ اچھی ہو یا خوفزدہ کرنے والی بالخصوص جنگ کے دوران اس کی چھان بین اور تجزیہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ورنہ ملک وملت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایسی خبروں کو رسول معظم (ﷺ) اور ذمہ دار لوگوں کے سامنے پیش کرنا لازم ہے تاکہ وہ اس کی تحقیق اور اس کے نفع و نقصان اور حسن و قبح پر غور کرسکیں۔ لہٰذا عوام الناس کا فرض ہے کہ ایسی باتوں کو آگے پھیلانے کے بجائے متعلقہ اور ذمہ دار لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ جس معاشرے اور قوم میں اس قسم کا نظام قائم نہ ہو اسے کسی وقت بھی معاشرتی، سیاسی اور حربی نقصان ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نقصان سے بچانے کے لیے سورۃ نور میں مسلمانوں کو تین مرتبہ فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو دنیا و آخرت میں تم عذاب عظیم میں مبتلا کیے جاتے اور چند لوگوں کے سوا باقی شیطان کے پیچھے چل پڑتے‘ دوسرے لفظوں میں افواہ سازی اور اس پر یقین کرنا شیطانی کام ہے۔ آج یہ شیطانی دھندہ سائنسی شکل اختیار کرچکا ہے۔ کروڑوں ڈالر ایجنسیوں، اداروں، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر لگائے جارہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو اسلام کے بارے میں متزلزل اور ان کے اخلاق کو بگاڑا جاسکے۔ افسوس ! کہ مسلمانوں کے پاس کوئی ایسا نظام نہیں جو ایسے اداروں کا مؤثر جواب دے سکے۔ جب کہ قرآن مطالبہ کر رہا ہے کہ اس قسم کی خبروں، افواہوں اور پروپیگنڈہ کے توڑکے لیے افراد ہونے چاہییں جو منفی اثرات سے مسلمانوں کو بچاسکیں۔ یہاں اسلامی صحافت کے لیے بھی رہنمائی ملتی ہے کہ وہ ہر خبر کی بلا تحقیق اشاعت کرنے سے پرہیز کرے۔ رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے : (کَفٰی بالْمَرْءِ کَذِبًا أَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ) [ رواہ مسلم : کتاب المقدمۃ، باب النھی عن الحدیث ....] ” آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کردے۔“ مسائل : 1۔ منافق اور غیر ذمہ دار لوگ مسلمانوں میں افواہیں پھیلاتے ہیں۔ 2۔ افواہیں پھیلانے کے بجائے معاملہ کتاب و سنت اور صاحب علم لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر آدمی ہر وقت گمراہ ہوسکتا ہے۔ 4۔ شیطان آدمی کو ہر وقت گمراہ کرنے کے درپے رہتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : افواہیں اڑاناجرم ہے : 1۔ بلا تحقیق بات کرنا ندامت کا باعث بنتا ہے۔ (الحجرات :6) 2۔ منافق افواہیں پھیلاتے ہیں۔ (النساء :83) 3۔ بے بنیاد افواہوں اور جھوٹے الزمات لگانے کی سزا۔ (النور :4) النسآء
84 فہم القرآن: ربط کلام : بیٹھ رہنے والوں سے مجاہد افضل ہے۔ لہٰذا افضل کام کو اپنانے اور جہاد کو مضبوط رکھنے کے لیے رسول معظم (ﷺ) کو حکم ہوتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو چوکس و مستعد رکھ کر مسلمانوں کو ہر دم قتال کے لیے آمادہ و تیار رکھیں۔ مومنوں کو مخاطب کرتے ہوئے جہادی خطاب کا آغاز یوں کیا تھا کہ اپنے بچاؤ کے لیے ہر وقت اسلحہ پکڑے رکھو اور جنگی حالات کے مطابق گوریلا جنگ کرو یا پورے کے پورے دشمن پر ٹوٹ پڑو۔ پھر منافقوں کی عادات کا ذکر کیا کہ وہ ابن الوقت اور اپنے مفاد کے بندے اور تمہارے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا اللہ کی راہ میں تمہیں لڑنا چاہیے۔ چاہے کمزور ہو یا طاقت ور اور جو بھی رسول معظم (ﷺ) کی اطاعت کرے گا حقیقتاً وہ اللہ تعالیٰ کا تابع فرماں اور مطیع ہوگا۔ اب رسول محترم (ﷺ) کو براہ راست اللہ کے راستے میں لڑنے کا یہ کہہ کر حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ مومنوں کو قتال کے لیے ترغیب دیں اور اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر تنہا نکلنا پڑے تو نکلیں۔ گویا کہ پہلے مجاہدین کو خطاب تھا اور اب ان کے کمانڈر کو حکم دیا ہے پھر تسلی اور خوشخبری دی ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ کفار کو بے بس کر دے گا۔ وقت آنے والا ہے کہ جب منافقوں کی سازشیں اور کفار کی شرارتیں دم توڑ جائیں گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی طاقت والا اور لڑنے میں جری نہیں ہو سکتا۔ دشمن کی جارحیت سے بچنے کے لیے یہ بنیادی اصول ہے کہ قوم کو ہر دم چوکس، مستعد اور چاک و چوبند رکھنے کے لیے قوم کے ذمہ دار اور فوج کے عہدہ دار نمونے کے طور پر اپنے آپ کو مرنے مارنے کے لیے تیار رکھیں۔ تب جا کر فوج اور قوم کے ایک ایک فرد میں دشمن کے خلاف صف آراء ہونے کا جذبہ اور ولولہ پیدا ہوتا ہے۔ آپ (ﷺ) نے ولولہ انگیز جذبات کا یوں اظہار فرمایا : (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃ (رض) قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ () یَقُوْلُ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْلَآ أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَاتَطِیْبُ أَنْفُسُھُمْ أَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنِّیْ وَلَآ أَجِدُ مَآ أَحْمِلُھُمْ عَلَیْہِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِیَّۃٍ تَغْزُوْفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوَدِتُّ أَنِّیْ أُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلُ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد، باب تمنی الشھادۃ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم (ﷺ) کو فرماتے ہوئے سنا اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ایمانداروں کو یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ وہ مجھ سے پیچھے رہیں اور میرے پاس اتنی سواریاں نہیں کہ میں ان کو سوار کروں تو میں کسی غزوہ سے بھی پیچھے نہ رہتا۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے راستے میں شہید کردیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کردیا جاؤں پھر زندہ کردیا جاؤں پھر شہید ہوجاؤں۔“ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ لَا یُکْلَمُ أَحَدٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِمَنْ یُّکْلَمُ فِیْ سَبِیْلِہٖٓ إِلَّا جَآءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَجُرْحُہٗ یَثْعَبُ الَلَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِیْحُ رِیْحُ مِسْکٍ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃ، باب فضل الجھادو الخروج فی سبیل اللّٰہِ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی (ﷺ) نے فرمایا جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہوجاتا ہے اور یہ اللہ جانتا ہے کہ حقیقتاً کون اس کے راستے میں زخمی ہوا تو وہ زخمی قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا‘ اس کا رنگ خون جیسا ہوگا مگر اس کی خوشبو کستوری کی طرح ہوگی۔“ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَنْ مَّاتَ وَلَمْ یَغْزُ وَلَمْ یُحَدِّثْ بِہٖ نَفْسَہٗ مَاتَ عَلٰی شُعْبَۃٍ مِّنْ نِّفَاقٍ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃِ، باب ذم من مات ولم یغزولم یحدث نفسہ بالغزو] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا جس نے نہ تو جہاد کیا اور نہ ہی دل میں جہاد کا خیال لایا تو وہ منافقت کی ایک قسم پر فوت ہوا۔“ مسائل : 1۔ مسلمانوں کے سربراہ کو لوگوں کو جہاد پر آمادہ کرنا چاہیے۔ 2۔ مسلمان مر مٹنے کے لیے تیار ہوجائیں تو اللہ کافروں کا زور توڑ ڈالے گا۔ تفسیر بالقرآن : جہاد کی ترغیب : 1۔ مومنوں کو جہاد کی ترغیب دلائیے۔ (الانفال :65) 2۔ مظلوم مسلمانوں کے لیے جہاد کیجیے۔ (النساء :75) 3۔ کفارکو ایسی مار مارو کہ ان کے پچھلے بھی بھاگ کھڑے ہوں۔ (الانفال :57) 4۔ اللہ کی راہ میں کما حقہ جہاد کرو۔ (الحج: 78) 5۔ جب تک فتنہ ختم نہ ہو جائے اور دین کاغلبہ نہ ہو جائے مشرکین سے جہاد کرتے رہو۔ (البقرۃ: 193) النسآء
85 فہم القرآن : ربط کلام : جہاد کے لیے مسلمانوں کو ابھارنا اور دین کی نشرو اشاعت کی تبلیغ کرنا بھی جہاد ہے۔ جہاد کے دوران پیدا ہونے والے ضمنی مسائل میں مسلمانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے جہاد کی ترغیب اور دین کی تبلیغ کو اچھی سفارش اور اس کوشش کو جہاد کا حصہ شمار کیا ہے۔ کیونکہ ترغیب دلائے بغیر کوئی آدمی لڑنے مرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ترغیب اور تبلیغ کو قرآن مجید نے سورۃ الفرقان آیت ٥٢ میں جہاد کبیر قرار دیا ہے۔ اسی کی وضاحت کرتے ہوئے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا ہے کہ افضل ترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔ [ رواہ ابو داؤد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی] اسے یہاں سفارش کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اس میں رسول اللہ (ﷺ) اور نیکی کی سفارش کرنے والے ہر شخص کو تسلی اور مسلسل ملنے والی جزائے خیر کی خوش خبری دی گئی ہے بشرطیکہ وہ خود بھی حتی المقدور اس پر عمل کرنے والا ہو۔ سفارش کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں۔ نیکی اور خیر کے کام کے لیے کسی کو آمادہ اور تیار کرنا‘ اس کے مقابلے میں برائی کی سفارش اور اس کی ترغیب دینا۔ نیکی کی سفارش اور تبلیغ پر مسلسل اور برابر ثواب ملتا رہتا ہے جبکہ برائی پر آمادہ کرنایا اس کی سفارش اور ترغیب دینے والا اس کے گناہ میں حصہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اور تنبیہ کے طور پر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر کسی پرنگران ہے۔ سفارش کے مطابق ہر شخص جزاء و سزا پائے گا لہٰذا سفارش سمجھ سوچ کر کرنی چاہیے۔ غلط سفارش مجرم کی رہائی کے لیے ہو یا کسی نااہل کو منصب دلانے کی خاطر ہوجائز نہیں کیونکہ مجرم کی سفارش کرنے سے جرائم کی حوصلہ افزائی اور مظلوم پر مزید ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ جس قوم میں یہ سلسلہ عام ہوجائے اس کا تباہی کے گھاٹ اترنا یقینی ہوجاتا ہے۔ جہاں تک کسی نااہل آدمی کو نوکری اور منصب دلانے کا معاملہ ہے اس سے حقدار کا حق تلف ہونے کے ساتھ آہستہ آہستہ پورا نظام ہی بگاڑ اور کمزوری کا شکار ہوجاتا ہے۔ نااہل اور کرپٹ شخص جتنے بڑے منصب پر ہوگا اتنا ہی ملک و ملت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ رسول اللہ (ﷺ) نے اس قسم کی سفارش قبول کرنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ ایسی سفارش کرنے سے منع کیا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ () !أَلَا تَسْتَعْمِلُنِیْ قَالَ فَضَرَبَ بِیَدِہٖ عَلیٰ مَنْکِبِیْ ثُمَّ قَالَ یَا أَبَا ذَرٍّ ! إِنَّکَ ضَعِیْفٌ وَإِنَّھَآ أَمَانَۃٌ وَإِنَّھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ خِزْیٌ وَّنَدَامَۃٌ إِلَّا مَنْ أَخَذَھَا بِحَقِّھَا وَأَدَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ فِیْھَا) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃ، باب کراھۃ الإمارۃ بغیر ضرورۃ] ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے عامل یا عہدیدار نہیں بنائیں گے؟ آپ نے میرے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے فرمایا ابو ذر! آپ کمزور ہیں اور یہ عہدہ امانت ہے جو روز قیامت باعث ذلّت اور ندامت ہوگا۔ بچے گا وہی جس نے اس کا حق ادا کیا اور اس کو فرض سمجھا۔“ (عَنْ أَبِیْ مُوْسیٰ (رض) قَالَ دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ () أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِیْ عَمِیْقٍ فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَیْنِ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَمِّرْنَا عَلٰی بَعْضِ مَاوَلَّاک اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ ذٰلِکَ فَقَالَ إِنَّا لَا نُوَلِّیْ عَلٰی ھٰذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَہٗ وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَیْہِ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃ، باب النھی عن طلب الإمارۃ والحرص علیھا] ” حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اور بنو عمیق کے دو آدمی نبی کریم (ﷺ) کے پاس حاضر ہوئے ان میں سے ایک نے کہا اللہ کے رسول (ﷺ) ! اللہ تعالیٰ نے جو علاقے آپ کے سپرد کیے ہیں ان پر ہمیں بھی والی بنائیں دوسرے نے بھی عہدے کا مطالبہ کیا تو آپ (ﷺ) نے فرمایا : ہم یہ عہدے کسی مطالبہ کرنے اور اس کا لالچ رکھنے والے کو نہیں سونپتے۔“ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : (مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَہٗ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِہٖ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃ، باب فضل إعانۃ الغازی ....] ” جس نے کسی نیکی کے کام کی رہنمائی کی اس کو نیکی کرنے والے کے برابر اجر وثواب ملے گا۔“ مسائل : 1۔ نیکی کی سفارش اور تبلیغ کرنے والے کو مسلسل اور برابر حصہ ملتا رہتا ہے۔ 2۔ برائی کی سفارش اور اشاعت کرنے والا برائی میں برابر کا ذمہ دار ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : نیکی اور برائی کی سفارش کا صلہ : 1۔ نیکی کی سفارش پر اجر۔ (النساء :85) 2۔ برائی کی سفارش پر سزا۔ (النساء :85) النسآء
86 فہم القرآن : (آیت 86 سے 87) ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ کا معنٰی ہر وقت اور ہر کسی سے لڑنا نہیں بلکہ جو بھی اسلام اور مسلمانوں کی طرف مائل ہو اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا لازم ہے۔ فرمایا جو تمہیں ہدیہ دے تو تم بھی اسے اس سے بہتر یا اس جیسا تحفہ دو۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی پر محاسب و نگہبان اور وہی معبود برحق ہے۔ جو تمہیں دنیا میں پیار، محبت اور توحید کی بنیاد پر اکٹھا رہنے کا حکم دیتا ہے۔ وہی قیامت کے دن تمہیں اکٹھا کرے گا۔ لوگوں کو جمع کرنے اور قیامت کے آنے میں ذرہ برابر شک نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فرمان سچا اور اس سے بڑھ کر کسی کی بات سچی نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا سچ سنو، اسے قبول کرو اور اس پر قائم ہوجاؤ۔ یہاں تحفہ سے مراد مفسرین نے دو قسم کے تحائف لیے ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے عام تحائف کے بارے میں فرمایا کہ مسلمانو! ایک دوسرے کو تحفہ دیا کرو کیونکہ اس سے باہمی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ [ مؤطا امام مالک : کتاب الجامع، باب ماجاء فی المھاجرۃ] لیکن تحائف کے تبادلہ میں ایک بات نہایت ضروری ہے کہ اس میں تکلف نہیں ہونا چاہیے۔ تکلف ایک دوسرے کے لیے بوجھ کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے یہ سلسلہ دیرپا نہیں چلتا۔ ایسے تحائف میں نمائش کا عنصر غالب اور بسا اوقات فخر و غرور پیدا ہوتا ہے۔ جس سے محبت کی بجائے نفرت پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ مسلمان کو اعتدال کے ساتھ خرچ کرنے کا حکم اور تکلف سے منع کیا گیا ہے۔ یہاں مفسرین نے تحفہ سے مراد ایک دوسرے کو السلام علیکم کہنا بھی لیا ہے۔ ایک دوسرے کو سلام کہنے کی ابتداء حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوئی ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔ جونہی آدم (علیہ السلام) نے آنکھیں کھولیں اور اپنے وجود میں جنبش محسوس کی تو اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ اے آدم وہ ملائکہ کا ایک گروہ بیٹھا ہوا ہے‘ تم جاؤ اور انہیں سلام کرو۔ جواب میں ملائکہ جو الفاظ استعمال کریں گے وہی تیری اولاد کے لیے ملاقات کا طریقہ اور اسلوب مقرر کیا جائے گا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے جواب میں فرشتوں نے ” وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ“ کے الفاظ کہے“ [ رواہ البخاری : أحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم وذریتہ] اس گھڑی سے لے کر ملاقات کا یہی طریقہ پسند کیا گیا۔ اس لیے ہمیں ادھر ادھر کے الفاظ کہنے کے بجائے فطری اور طبعی طریقے کو اختیار کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس میں اس قدر جامعیت ہے کہ ایک دوسرے کے لیے ہر لحاظ سے خیر سگالی کے جذبات، خیالات اور دعائیہ کلمات کا اظہار ہوتا ہے۔ دنیا کے کسی مذہب اور سوسائٹی میں ملاقات کے وقت اس قدر سلامتی کے جامع الفاظ اور جذبات نہیں ہوتے۔ دنیا میں ہر قوم کے ایک دوسرے سے ملنے کے کچھ آداب ہیں۔ جن سے باہم خیر سگالی اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسلامی تہذیب کے مقابلے میں ہر قوم کے آداب میں وقتی اور جزوی جذبات کا اظہار ہے۔ ہندو ملنے کے وقت پرنام یعنی ہاتھ جوڑ تے ہیں، انگریز گڈ مارننگ اور گڈنائٹ کے الفاظ کہتے ہیں، مجوسی صرف جھکتے ہیں، یہودی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہیں، عیسائی منہ پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ نبوت سے پہلے عرب صباح الخیر وغیرہ کے الفاظ استعمال کرتے تھے۔ جب کہ اسلام کی تہذیب یہ ہے کہ ملاقات کے وقت ” السلام علیکم و رحمۃ اللہ“ کہا جائے۔ یہ کلمات پورے دین کے ترجمان اور ہر لمحہ سلامتی کی دعا ہے اور جنتی جنت میں ایک دوسرے سے انہی کلمات کے ساتھ ملاقات کریں گے اور جنت میں ہر جانب سے سلامتی کی صدائیں بلند ہوں گی۔ [ یونس :10] اس حقیقت کی ترجمانی نبی اکرم (ﷺ) کے الفاظ سے اور زیادہ نمایاں ہوتی ہے کہ جب ایک مسلمان دوسرے سے ملاقات کرے تو اس کے چہرے پر تبسم اور مسکراہٹ ہونی چاہیے اور اس کو انسانی جسم کی سخاوت قرار دیا : (أَنْ تَلْقَ أَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلہ، باب استحباب طلاقۃ الوجہ عند اللقاء] ” کسی کو خوش روئی سے ملنا بھی نیکی ہے۔“ مسلمانوں میں باہمی الفت و عقیدت، احترام و اکرام کو فروغ دینے کے لیے رسول اللہ (ﷺ) نے ہاتھ ملانے یعنی مصافحہ کرنے کی فضیلت کا تذکرہ ان الفاظ میں فرمایا : (إِذَا الْتَقَی الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَاسْتَغْفَرَاہُ غُفِرَلَھُمَا) [ رواہ ابو داوٗد : کتاب الأدب] ” جب دو مسلمانوں کی باہم ملاقات ہو اور وہ مصافحہ کریں اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اپنے لیے مغفرت طلب کریں تو ان دونوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔“ کچھ مدّت کے بعد ملنے پر بغل گیر ہونا اسلامی معاشرت کا حصہ قرار دیا ہے۔ حضرت ابوذر غفاری (رض) اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی (ﷺ) نے مجھے اپنے ہاں آنے کا پیغام بھیجا میں گھر میں موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا (وَھُوَ عَلٰی سَرِیْرِہٖ فَالْتَزَمَنِیْ فَکَانَتْ تِلْکَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ) آپ (ﷺ) اپنی چار پائی پر بیٹھے میرے ساتھ بغلگیر ہوئے۔ آپ کا ملنا بہت ہی اچھا تھا۔ [ رواہ ابو داوٗد : کتاب الأدب، باب فی المعانقۃ] پھر ملاقات کے آداب میں مسلم معاشرے کو رعونت و غرور اور اخلاقی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ اصول لاگو فرمایا کہ سوار پیدل کو اور چلنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے۔ اگر یہی اصول ٹھہرایا جاتا کہ ہر حال میں چھوٹا بڑے کو‘ کمزور طاقتور کو اور محکوم حاکم کو سلام کرے تو مسلم سوسائٹی واضح طور پر طبقاتی کشمکش کا شکار ہوجاتی۔ آپ کا ارشاد ہے۔ (یُسَلِّمُ الرَّاکِبُ عَلَی الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیْ عَلَی الْقَاعِدِ وَالْقَلِیْلُ عَلَی الْکَثِیْرِ) [ رواہ الترمذی : کتاب الإستئذان، باب ماجاء فی تسلیم الراکب علی الماشی] ” سوار پیدل کو اور چلنے والا بیٹھنے والے کو، تھوڑے زیادہ کو دوسری حدیث میں ہے کہ چھوٹا بڑے کو اسی طرح آنے والا پہلے سے موجود کو السلام علیکم کہے۔“ ہاں اگر ملنے والے ایک جیسی حالت میں ہوں تو احترام کی طبعی اور بین الاقوامی قدروں کا بھی خیال رکھا گیا کہ چھوٹا بڑے کو سلام کرے تاکہ مسلم معاشرہ ادب و احترام کے ثمرات سے لطف اندوز ہو سکے۔ اونچ نیچ کے مرض کے تدارک کے لیے یہ اصول بھی وضع فرمایا کہ کوئی سر جھکا کر نہ ملے اس سے بندگی کا انداز ظاہر ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ (ﷺ) کا ارشاد عالی ہے : (لَوْکُنْتُ اٰمِرًا أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَآءَ أَنْ یَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِھِنَّ) [ رواہ ابو داوٗد : کتاب النکاح، باب فی حق الزوج علی المرأۃ] ” اگر میں نے کسی کو یہ حکم دینا ہوتا کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے سامنے سر جھکائے تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کے سامنے سجدہ کیا کریں۔“ مسائل : 1۔ تحفہ کے بدلے میں بہتر تحفہ دینا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ قیامت کے دن سب کو اکٹھاکرے گا۔ 3۔ قیامت برپا ہو کر رہے گی۔ 4۔ اللہ کے فرمان سے کسی کی بات سچی نہیں ہو سکتی۔ تفسیر بالقرآن : تحائف کا تبادلہ کرتے رہیں : 1۔ احسان کا بدلہ احسان۔ (الرحمان :60) 2۔ احسان کا بہتر بدلہ دینا چاہیے۔ (النساء :86) النسآء
87 النسآء
88 فہم القرآن : ربط کلام : منافق مسلمانوں میں بزدلی اور انتشار پیدا کرتے ہیں‘ جس سے مسلمانوں کو چوکنا اور بچنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ مکہ معظمہ اور اس کے گردونواح میں ایسے لوگ اور قبائل موجود تھے جو دنیاوی اغراض اور تعلق داری کی بنا پر کفار کے ساتھ مسلمانوں سے بھی ہمدردی کا اظہار کرتے تھے۔ جب ہجرت کا فیصلہ کن حکم آیا کہ دارالکفر کو چھوڑ کر سب مسلمان دارالاسلام مدینہ میں جمع ہوجائیں تاکہ طاقت مجتمع، مرکز مضبوط، اور دین پر عمل کرنے کیلئے بہتر ماحول پاسکیں تو انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو ترجیح دینے کی بجائے کفار کے ساتھ رہنا پسند کیا۔ مدینہ میں رہنے والے منافقین کی حالت بھی یہی تھی کہ جب کبھی فیصلہ کا وقت آتا تو ان کی ہمدردیاں کفار اور یہود و نصاری کے ساتھ ہوا کرتی تھیں۔ جس کا مظاہرہ وہ غزوۂ احد کے وقت کرچکے تھے۔ جو نہی مسلمانوں سے مشکل وقت گزر جاتا تو یہ لوگ قسمیں کھا کر اپنی صفائی پیش کرتے جس سے کئی سادہ لوح مسلمان متاثر ہو کر ان کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے حق میں اپنے ساتھیوں سے بحث کرتے تھے۔ اس صورت حال سے مسلمانوں کے درمیان فکری انتشار ہی نہیں بلکہ دو جماعتیں بننے کا خطرہ پیدا ہوگیا جس پر یہ کہہ کر توجہ دلائی گئی ہے کہ مسلمانو! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تم منافقین کے بارے میں آپس میں ایک رہنے کے بجائے دو ہوتے جارہے ہو۔ کیا منافقین کی خاطر باہمی محبت کمزور اور اتحاد کو پارہ پارہ کرلو گے؟ حالانکہ انہوں نے تمہارے مقابلے میں کفار کو ترجیح دی ہے۔ تم انہیں مخلص سمجھتے ہو جبکہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اندرون خانہ تمہیں گمراہ کرنے اور نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ کیا تم ایسے لوگوں کو ہدایت دینا چاہتے ہو جو ہدایت حاصل کرنے کے بجائے تمہیں بھی اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں؟ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں گمراہی میں زیادہ کردیا اور انہیں اسی طرف پھیر دیا ہے جدھر وہ رہنا اور جانا پسند کرتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اسے کوئی بھی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ مسائل : 1۔ مسلمانوں کو منافقوں کی حمایت کرنا جائز نہیں۔ 2۔ منافق کو اس کے کردار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ الٹا کردیتا ہے۔ 3۔ جسے اس کی بد اعمالیوں کی وجہ سے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ النسآء
89 فہم القرآن : ربط کلام : منافق حقیقتاً کافر ہوتا ہے اور مسلمانوں کو اسے اس طرح ہی دیکھنا چاہیے۔ اس لیے اس سے قلبی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ منافقوں کو ہرگز دوست نہ بناؤ جب تک اللہ کی رضا کے لیے ہجرت نہ کریں۔ اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو انہیں حالت جنگ میں جہاں پاؤ‘ پکڑو اور قتل کر دو۔ ایسے لوگوں کو اپنا دوست اور مددگار نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہجرت کا لغوی معنٰی : ہجرت کا لغوی معنٰی ہے کسی چیز کو ترک کرنا، چھوڑ دینا۔ عرف عام میں دین کی خاطر کسی مقام کو چھوڑنے کا نام ہجرت ہے۔ شریعت کے وسیع تر مفہوم میں ہر اس چیز کو چھوڑ دینا۔ جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے ہجرت کہلاتا ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کا فرمان ہے : (وَالْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ مَانَھَی اللّٰہُ عَنْہُ) [ رواہ البخاری : کتاب الإیمان، باب المسلم من سلم المسلمون] ” مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے۔“ کن حالات میں ہجرت کا حکم ہے؟ جیسا کہ ابھی ذکر ہوا کہ مقصد حیات (ایمان) کے لیے ہر چیز قربان کردینا ہی کامل ایمان کی نشانی ہے۔ ایسے ہی جذبات کا مندرجہ ذیل آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ ﴿یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِنَّ أَرْضِیْ وَاسِعَۃٌ فَإِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ﴾ [ العنکبوت :56] ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو! میری زمین بہت وسیع ہے بس تم میری بندگی کئے جاؤ۔“ اس آیت مبارکہ میں و اضح اشا رہ موجود ہے اگر مکے میں اللہ کی بند گی کرنا مشکل ہو رہی ہے تو ملک چھوڑ کر نکل جاؤ۔ ملک خدا تنگ نیست۔ اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے جہاں بھی تم اللہ کے بندے بن کر رہ سکتے ہو و ہاں چلے جاؤ۔ (عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ () یَقُوْلُ إِنَّمَا الْأَعْمَال بالنِّیَّۃِِ وَإِنَّمَا لِإِمْرِیءٍ مَانَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ إِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہٗ إِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ إِلٰی دُنْیَا یُصِیْبُھَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُھَا فَھِجْرَتُہٗ إِلٰی مَاھَاجَرَ إِلَیْہِ) [ رواہ البخاری : کتاب الأیمان والنذور، باب النیۃ فی الأیمان] ” حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو فرماتے ہوئے سنا کہ تمام اعمال کا انحصار نیت پر ہے۔ آدمی جس چیز کی نیت کرے گا وہ اس کے مطابق اجر پائے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی بس اس کی ہجرت تو واقعی اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے لیکن جس نے دنیا کی خاطر ہجرت کی کہ اس کو دنیا مل جائے یا کسی عورت کے لیے ہجرت کی تاکہ اس سے نکاح کرے اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی۔“ ہجرت ایمان کی کسوٹی ہے : اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ یہ ایسی پل صراط ہے جس کی دھار تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے ہجرت کی تکالیف ومشکلات ایمان سے خالی دل کو ننگا کردیتی ہیں یہ ایسا ترازو ہے جس میں ہر آدمی نہیں بیٹھ سکتا۔ اس پیمانے سے کھرے کھوٹے کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے اسے ایمان کا معیار قرار دیا ہے۔ (مزید دلائل دیکھنا چاہیں تو میری کتاب سیرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مطالعہ فرمائیں) مسائل : 1۔ کفار کو کبھی اپنا خیر خواہ اور دوست نہیں سمجھنا چاہیے۔ 2۔ منافق اور کافر حالت جنگ میں جہاں کہیں ملیں انھیں قتل کردینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : منافق و کفار کو دوست نہ بناؤ: 1۔ منافق و کفار کو دوست نہ بناؤ۔ (المائدۃ:57) 2۔ منافق و کفار آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ (المائدۃ:51) 3۔ مومن کفار کو اپنا دوست نہ بنائیں۔ (آل عمران :28) 4۔ محض دنیا کی عزت کی خاطر کفار سے دوستی نہیں رکھنی چاہیے۔ (النساء :139) النسآء
90 فہم القرآن : ربط کلام : ایسے منافقوں اور کافروں سے لڑنا اور انہیں قتل کرنا ضروری ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار ہوں۔ یہاں ان کفار اور منافقوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کا بقائے باہمی کا معاہدہ ہو یا وہ اسلام اور مسلمانوں کے راستے میں حائل نہ ہوں۔ یہ بات پہلے بھی بیان ہوچکی ہے کہ اسلام جنگ جو مذہب نہیں اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ وہ ایسے لوگوں سے لڑنے کی اجازت نہیں دیتا جو صلح جو ہوں اور اسلام کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ یہاں اس بات کا اعادہ فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں سے لڑنے کی تمہیں اجازت نہیں جو تمہاری حلیف قوم کے ساتھی ہیں یا وہ تمہارے ساتھ مل کر لڑنا یا تمہارے مخالفوں کے ساتھ مل کر تم سے لڑنا پسند نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ تمہیں ہرگز نہیں لڑنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردیتا۔ اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ لڑنے سے گریز کریں اور تم سے صلح کرنا چاہتے ہوں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے لڑنے کا تمہارے لیے کوئی جواز نہیں بنایا۔ مسائل : 1۔ عہد و پیمان والے کفار کے ساتھ لڑنا جائز نہیں۔ النسآء
91 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ پہلے امن پسند کفار سے لڑنے کی ممانعت فرمائی تھی اب شر پسندوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ البتہ تم ایسے منافق اور دغا باز لوگ ضرور پاؤ گے جو تم سے اور تمہارے دشمنوں سے امن میں رہنے کے نام نہاد دعوے دار ہیں۔ لیکن جونہی کوئی فتنہ اٹھتا ہے تو اس میں کود پڑتے ہیں اگر یہ لوگ تمہاری طرف صلح کا ہاتھ نہ بڑھائیں اور تم سے جنگ کرنے سے اجتناب نہ کریں تو انہیں جنگ کے دوران جہاں پکڑو مارو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی منافقت اور غداری کی وجہ سے تمہارے لیے ان کو قتل کرنے کی واضح حجت بنا دی ہے۔ مسائل : 1۔ عہد شکنی کرنے والے کے ساتھ لڑنا جائز ہے۔ 2۔ نہ لڑنے والوں سے لڑنا درست نہیں۔ تفسیر بالقرآن : جہاد کی حدود : 1۔ کفار مسلمانوں کو اذیت دیں تو انکے خلاف جہاد کرو۔ (النساء :75) 2۔ خوف دور کرنے کے لیے جہاد کرنا چاہیے۔ (النساء :84) 3۔ عہد شکن اور دغا باز لوگوں سے لڑنے کی اجازت ہے۔ (الانفال : 56، 57) 4۔ حرمت کے مہینوں میں صرف بدلے کے لیے لڑناجائز ہے۔ (البقرۃ:217) 5۔ خیانت کا اندیشہ ہو تو انہیں آگاہ کر کے عہد توڑ دو۔ (الانفال :58) 6۔ نہ لڑنے والوں سے لڑنا درست نہیں۔ (النساء :91) 7۔ اللہ اور رسول کے منکرین اور حرام کو حلال کرنے والوں سے جہاد کرو۔ (التوبۃ:29) النسآء
92 فہم القرآن : ربط کلام : کافروں اور منافقوں کو قتل کرنے کا حکم ہے لیکن مومن کو قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے اگر جنگ یا کسی ہنگامی کیفیت میں مومن‘ مومن کے ہاتھوں قتل ہوجائے تو اس کی سزا کا ذکر۔ یہاں منافق اور مومن کی شخصیت کا بھی موازنہ کیا گیا ہے۔ اسلام میں انسانی شرف اور اس کی جان کی حرمت کا اس قدر خیال رکھا گیا ہے کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا گویا کہ وہ پوری انسانیت کا قاتل ٹھہرا۔ اس کی تفصیل ” المائدہ آیت 32“ میں بیان کی گئی ہے۔ یہاں پہلی آیات میں منافقوں اور کفار کو حالت جنگ میں قتل کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ اگر غلط فہمی کی بنیاد پر مومن کو قتل کردیا جائے جسے قتل خطا کہا گیا ہے جس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں جن میں ٹریفک حادثات، باہمی لڑائی جھگڑا جس میں دونوں طرف سے ارادۂ قتل شامل نہ ہو۔ جنگ کے دوران مسلمان کا اپنوں کے ہاتھوں قتل ہونا شامل ہے جیسا کہ رسول اللہ (ﷺ) کے زمانے میں دو واقعات پیش آئے۔ ان میں سے ایک واقعہ حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول (ﷺ) نے ہمیں قبیلہ جہینہ کی سرکوبی کے لیے بھیجا ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور وہ شکست سے دوچار ہوئے میں نے ایک انصاری کے ساتھ مل کر ایک شخص پر قابو پایا تو اس نے ” لَآ اِلٰہَ الاَاللّٰہ‘ پڑھا۔ میرے ساتھی نے اسے چھوڑ دیا لیکن میں نے آگے بڑھ کر اسے نیزہ مارا جس سے وہ مر گیا۔ جب ہم رسول محترم (ﷺ) کے پاس حاضر ہوئے تو آپ کو اس واقعہ کی اطلاع پہلے ہی پہنچ چکی تھی۔ آپ نے مجھے فرمایا : (أَقَالَ لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَقَتَلْتَہٗ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ إِنَّمَا قَالَھَا خَوْفًا مِّنَ السِّلَاحِ قَالَ أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہٖ حَتّٰی تَعْلَمَ أَقَالَھَا أَمْ لَا فَمَا زَالَ یُکَرِّرُھَا عَلَیَّ حَتّٰی تَمَنَّیْتُ أَنِّیْ أَسْلَمْتُ یَوْمَئِذٍ)[ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب تحریم قتل الکافر بعد أن قال لاإلہ إلا اللّٰہ] ” کیا تو نے اس کے کلمہ پڑھنے کے باوجود اسے قتل کردیا؟ میں نے عرض کیا کہ اس نے اسلحہ سے ڈر کر کلمہ پڑھا تھا۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا کہ تجھے معلوم ہوجاتا کہ اس نے کلمہ دل سے پڑھا ہے یا اسلحہ کے خوف سے۔ آپ نے یہ سوال کئی مرتبہ دہرایا یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کاش میں آج اسلام قبول کرتا۔“ ایسا ہی واقعہ حضرت خالد بن ولید (رض) کے ہاتھوں رونما ہوا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ بَعَثَ النَّبِیُّ () خَالِدَ بْنَ الْوَلِیْدِ إِلٰی بَنِیْ خَزِیْمَۃَ فَدَعَاھُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ فَلَمْ یُحْسِنُوْآ أَنْ یَّقُوْلُوْآ أَسْلَمْنَا فَجَعَلُوْا یَقُوْلُوْنَ صَبَأْنَا صَبَأْنَا فَجَعَلَ خَالِدٌ یَقْتُلُ مِنْھُمْ وَیَأْسِرُ وَدَفَعَ إِلٰی کُلِّ رَجُلٍ مِّنَّا أَسِیْرَہٗ حَتّٰی إِذَا کَانَ یَوْمٌ أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ یَّقْتُلَ کُلُّ رَجُلٍ مِّنَّا أَسِیْرَہٗ فَقُلْتُ وَاللّٰہِ لَآ أَقْتُلُ أَسِیْرِیْ وَلَایَقْتُلُ رَجُلٌ مِّنْ أَصْحَابِیْ أَسِیْرَہُ حَتّٰی قَدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ () فَذَکَرْنَاہُ فَرَفَعَ النَّبِیُّ () یَدَہٗ فَقَال اللّٰھُمَّ إِنِیْ أَبْرَأُ إِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ مَّرَّتَیْنِ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب بعث النبی () خالد بن ولید إلی بنی خزیمۃ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) نے بنی جزیمہ کی طرف خالد بن ولید (رض) کو بھیجا۔ انہوں نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہیں ( أَسْلَمْنَا) ” ہم مسلمان ہوئے“ کہنا نہ آیا وہ (صَبَأْنَا صَبَأْنَا) ” ہم بےدین ہوگئے، ہم بےدین ہوگئے“ کہنا شروع کردیا۔ حضرت خالد بن ولید (رض) نے کچھ کو قتل کردیا اور کچھ کو قیدی بنالیا اور ہم میں سے ہر ایک کو اس کا قیدی دیا۔ ایک دن آیا کہ حضرت خالد (رض) نے یہ حکم جاری کیا کہ ہر کوئی اپنے قیدی کو قتل کردے تو میں نے کہا اللہ کی قسم! نہ میں اپنے قیدی کو قتل کروں گا اور نہ ہی دوسرا کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ ہم نے نبی کریم (ﷺ) کے پاس پہنچ کر معاملہ ذکر کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے دو مرتبہ فرمایا اے اللہ! میں خالد بن ولید کے کیے پر تیری بارگاہ میں برأت کا اظہار کرتاہوں۔“ جس پر یہ حکم نازل ہوا کہ اگر کسی مومن کو غیر ارادی طور پر قتل کردیا جائے تو اس کی سزا ایک غلام آزاد کرنا اور اس کی دیّت اس کے وارثوں کو دینا ہے الاّ یہ کہ وہ معاف کردیں۔ اگر مقتول مومن دشمن قوم کا ہو تو پھر صرف ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ اگر مقتول مومن ایسی قوم کے ساتھ تعلق رکھتا ہو جس کے ساتھ مسلمانوں کا بقائے باہمی کا معاہدہ ہے تو اس کے وارثوں کو دیت دینے کے ساتھ ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ غلام نہ ملنے یا اس کے آزاد کرنے کی طاقت نہ ہونے کی صورت میں قاتل کو متواتر دومہینے روزے رکھنا ہوں گے۔ توبہ کا یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنے احکام کی حکمت جاننے والا ہے۔ یاد رہے روزے رکھنے کے دوران شرعی عذر کے بغیر ناغہ کرنے والے کو ازسر نو روزوں کی گنتی کا آغاز کرنا اور ان کی تعداد پوری کرنا ہوگی۔ گویا کہ روزے متواتر رکھنے کا حکم ہے۔ مسائل : 1۔ مومن کا مومن کو قتل کرنا جائز نہیں۔ 2۔ مومن کو غلطی سے قتل کرنے کی سزا مقتول کے ورثاء کو دیّت دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا ہے۔ 3۔ مقتول مومن کافر قوم کے ساتھ تعلق رکھتا ہو تو صرف ایک مومن غلام آزاد کرنا ہوگا۔ 4۔ معاہد قوم کا مسلمان قتل کرنے کی صورت میں اس کی دیّت دینے کے ساتھ ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے۔ 5۔ مومن غلام آزاد کرنے کی استعداد نہ ہو تو متواتر دو مہینے روزے رکھنے ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن : قتل کی سزا : 1۔ انسان کا احترام و مقام۔ (المائدۃ:32) 2۔ دنیا میں پہلا قتل۔ (المائدۃ: 27، 31) 3۔ قتل کی سزا قصاص۔ (البقرۃ:178) 4۔ قصاص میں زندگی۔ (البقرۃ:179) 5۔ مومن کے قاتل کی سزا۔ (النساء :93) 6۔ قتل کی اقسام و بدلہ۔ (النساء :92) النسآء
93 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جان بوجھ کر مومن کو قتل کرنے کی سزا۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ایک موقع پر بیت اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ کے گھر! تیرا احترام و اکرام اور جلالت و منزلت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں مومن کی عزت تجھ سے بڑھ کر ہے۔ [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الفتن، باب حرمۃ دم المؤمن ومالہ] ایک مرتبہ آپ (ﷺ) ایک سفر سے واپس تشریف لا رہے تھے راستے میں ایک جگہ پڑاؤ فرمایا۔ کچھ صحابہ کرام ” وَنْ“ کے درختوں پر چڑھ کر پیلو توڑ رہے تھے جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود بھی شامل تھے۔ آپ کے ساتھ کھڑا ایک صحابی عبداللہ بن مسعود (رض) کی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر مسکرانے لگا۔ یہ صورت حال دیکھ کر رسول اللہ (ﷺ) نے مومن کی شان کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ یہ پنڈلیاں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہیں۔ [ مسند احمد : کتاب مسند العشرۃ المبشرین بالجنۃ، باب مسند علی (رض) ] اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کے نزدیک ایمان اور کلمے کی اتنی قدر ہے کہ آپ سے حضرت مقداد بن اسود نے استفسار کیا اگر میری کسی کافر کے ساتھ مڈھ بھیڑ ہو اور وہ تلوار سے میرا ہاتھ کاٹ دے۔ جب میں اس پر وار کروں تو وہ درخت کی اوٹ میں جان بچانے کے لیے کلمۂ شہادت پکاراُٹھے تو ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ آپ نے فرمایا تجھے اپنا ہاتھ روکنا ہوگا۔ بے شک اس نے تجھے زخمی کیا ہے اگر تو نے اس پر حملہ کیا۔ تو تو اس کے مقام پر کھڑا ہوگا یعنی وہ مظلوم اور تو ظالم ہوگا۔ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب شھود الملائکۃ بدرا] قرآن مجید کے اس فرمان میں مومن کو عمداً قتل کرنے والے کی پانچ سزاؤں کا بیان ہوا ہے : (1) جہنم میں داخلہ (2) اس میں ہمیشگی (3) اللہ کا غضب (4) اللہ کی لعنت (5) عذاب عظیم۔ اس لیے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : (سِبَابُ الْمُسْلِم فُسُوْقٌ وَقِتَالُہٗ کُفْرٌ) مومن کو گالی دینا اللہ کی نافرمانی اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الإیمان‘ باب خوف المؤمن من أن یحبط عملہ] مسائل : 1۔ بلاوجہ مومن کو قتل کرنے والے پر اللہ کا غضب، اس کی لعنت اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ النسآء
94 فہم القرآن : ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ میں احتیاط کو ملحوظ رکھنا چاہیے تاکہ کسی پر ظلم یا غلطی سے مسلمان نشانہ نہ بن جائیں۔ اسلام میں جہاد و قتال کا یہ معنٰی نہیں کہ کفار کی دشمنی میں مجاہد اس حد تک آگے بڑھ جائے کہ اس کی تلوار کے سامنے جو آئے اسے تہ تیغ کرتا چلا جائے۔ اسلامی جہاد اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جس علاقہ پر حملہ کرنا مقصود ہو۔ وہاں کے بارے میں پہلے اچھی طرح معلومات حاصل کی جائیں۔ اگر وہاں مسلمان موجود ہوں تو اندھا دھند حملہ کرنے کے بجائے ایسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جس سے مسلمان محفوظ رہ سکیں۔ کیونکہ مسلمانوں کا نقصان ملت کا نقصان اور مجاہدین کے لیے بدنامی کا باعث ہوگا۔ رسول اللہ (ﷺ) نے جب مکہ پر حملہ کیا تو ایسی منصوبہ بندی فرمائی کہ جس سے مکہ کی حرمت قائم رہے اور مسلمانوں کا نقصان بھی نہ ہونے پائے۔ اعلان فرمایا کہ جو شخص بھی بیت اللہ میں داخل ہوجائے یا اپنے گھر کے کواڑ بند کرلے یا ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے۔ اسے حفظ و امان دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ” سورۃ الفتح آیت 25“ میں اس حکمت عملی کو اپنا انعام قرار دیا ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کا ہمیشہ یہ معمول تھا کہ جس علاقے کے متعلق آپ کے پاس معلومات نہ ہوتیں وہاں حملہ آور ہونے کے بجائے رات بھر انتظار فرماتے اگر صبح کی اذان سنائی نہ دیتی تو آپ حملہ کرنے کا حکم دیتے جیسا کہ حدیث میں حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : (عَنِّ النَّبِیّ () کَانَ إِذَا غَزَابِنَا قَوْمًا لَمْ یَکُنْ یُغِیْرُ بِنَا حَتّٰی یُصْبِحَ وَیَنْظُرَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا کَفَّ عَنْھُمْ وَإِنْ لَمْ یَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَیْھِمْ۔۔) [ رواہ البخاری : کتاب الأذان، باب مایحقن بالأذان من الدماء] ” نبی کریم (ﷺ) کسی قوم پر صبح ہونے سے پہلے حملہ نہ کرتے، صبح کے وقت آپ دیکھتے اگر اذان سنتے تو ان پر حملہ نہ کرتے اور اگر اذان نہ سنتے تو ان پر حملہ کردیتے۔۔“ اس کا مقصد یہ تھا کہ کہیں مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچ پائے۔ اس آیت میں اسی احتیاط کا حکم دیا گیا ہے کہ اے مسلمانو! جب تم اللہ کے راستے میں نکلو اور کوئی تمہارے سامنے اپنا ا سلام پیش کرے تو غنائم کے لالچ میں اسے ٹھکرا نے کی بجائے اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔ پھر تنبیہ فرمائی کہ آخر تم بھی تو ان حالات سے گزرے ہو کہ جب تم میں کئی لوگ دشمنوں کے خوف کی وجہ سے اپنا ایمان چھپاتے تھے اور تم بھی پہلے کافر تھے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنا کرم فرمایا کہ تمہیں آزاد مملکت نصیب فرمائی اور دشمن پر غلبہ عطا کیا اور مسلمان ہونے کی توفیق دی۔ یہاں اس سانحہ کی طرف اشارہ ہے جو خالد بن ولید (رض) کے ہاتھوں رونما ہوا کہ جب ایک چھوٹی سی جھڑپ کے دوران کچھ لوگوں نے ان کے سامنے اپنے اسلام لانے کا اظہار کیا تو خالد بن ولید (رض) نے ان پر یقین کرنے کی بجائے انہیں شہید کرڈالا۔ جس پر رسول کریم (ﷺ) نے براءت کا اظہار کیا۔[ رواہ البخاری : کتاب المغازی ] آیت کے آخر میں تنبیہ کے طور پر فرمایا کہ جو کچھ اور جس نیت سے تم کوئی عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کی اچھی طرح خبر رکھنے والا ہے۔ مسائل : 1۔ جہاد کے دوران کافر اور مسلمان کی تمیز اور تحقیق کرنا مجاہد پر لازم ہے۔ 2۔ دنیا کے مال کی خاطر کلمہ پڑھنے والے کو قتل کرنا جائز نہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ تفسیر بالقرآن : دوران جہاد تحقیق کرنا : 1۔ فاسق کی خبر کی تحقیق کرنا چاہیے۔ (الحجرات :6) 2۔ کسی کے دعوی اسلام کی تحقیق کرنا لازم ہے۔ (النساء :94) 3۔ مشرک اور کافر کے اسلام لانے کی تحقیق کی اجازت۔ (الممتحنۃ:10) النسآء
95 فہم القرآن : (آیت 95 سے 96) ربط کلام : خطاب جہاد میں پہلے مسلمانوں کو حالات کے مطابق انفرادی اور اجتماعی طور پر قتال فی سبیل اللہ کا حکم دیا اس کے بعد جہاد کے احکامات اور اس کے متعلق ضمنی ہدایات دیتے ہوئے قتال فی سبیل اللہ کی عظمت اور برکت بیان فرمائی پھر قتال میں ہونے والی کوتاہیوں اور غفلتوں کے بارے میں احتیاط کا حکم دیا۔ اب مجاہدین کا مرتبہ و مقام بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر مومن کی بڑی قدرو منزلت ہے۔ لیکن ایسے مومن جو بغیر کسی مجبوری اور شرعی عذر کے قتال فی سبیل اللہ میں براہ راست حصہ لینے کی بجائے دنیاوی کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے مال نچھاور اور جانیں نثار کرتے ہیں ان کا مرتبہ و مقام دوسرے مومنوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ گو اللہ تعالیٰ نے ہر ایمان دار کے ساتھ اس کے اعمال اور اخلاص کے مطابق درجات کی بلندی اور جنت کے وعدے کیے ہیں جو ہر صورت پورے ہو کر رہیں گے۔ لیکن اس کے باوجود مومن مجاہدین کا مرتبہ جہاد سے پیچھے رہنے والوں کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ عام مومنوں کی رو حیں عالم برزخ میں مقام علّیّین میں ہوتی ہیں جبکہ مجاہدین کی ارواح اللہ تعالیٰ کے عرش تلے جلوہ افروز اور براہ راست جنت کے نظارے کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بخشتے ہوئے انہیں اپنی خصوصی رحمت سے نوازتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَأَقَام الصَّلٰوۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ جَاھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْجَلَسَ فِیْ أَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ فِیْھَا فَقَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَفَلَا نُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ : إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ مائَۃَ دَرَجَۃٍ أَعَدَّھَا اللّٰہُ لِلْمُجَاھِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَابَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہٗ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ أُرَاہُ قَالَ وَ فَوْقَہٗ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْھَارُ الْجَنَّۃِ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا جو اللہ و رسول پر ایمان لایا اس نے نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے۔ اسے جنت میں داخل کرنا اللہ پر حق ہے اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو یا اپنی پیدائش کے علاقہ میں بیٹھا رہا۔ صحابہ نے کہا اللہ کے رسول! تو کیا ہم لوگوں کو خوشخبری نہ دے دیں؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے جنت میں سو درجات بنائے ہیں ہر دو درجے کا درمیانی فاصلہ زمین و آسمان کے درمیانی فاصلہ جتنا ہے جب تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس مانگا کرو کیونکہ یہ جنت کا وسط اور اعلیٰ جگہ ہے راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس کے اوپررحمان کا عرش ہے اور وہاں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔“ (عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یْکَرِبَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () لِلشَّھِیْدِ عِنْدَ اللّٰہِ سِتُّ خِصَالٍ یُغْفَرُ لَہٗ فِیْ أَوَّلِ دَفْعَۃٍ وَیَرٰی مَقْعَدَہٗ مِنَ الْجَنَّۃِ وَیُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَیَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَکْبَرِ وَیُوْضَعُ عَلٰی رَأْسِہٖ تَاجُ الْوَقَارِ الْیَاقُوْتَۃُ مِنْھَا خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَافِیْھَا وَیُزَوَّجُ اثْنَتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ زَوْجَۃً مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ وَیُشَفَّعُ فِیْ سَبْعِیْنَ مِنْ أَقَارِبِہٖ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل الجھاد، باب فی ثواب الشھید] ” حضرت مقدام بن معدیکرب (رض) بیان کرے ہیں کہ اللہ کے رسول (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ہاں شہید کے چھ انعامات ہیں (1) اس کے سب گناہ معاف کرکے اسے جنت میں اس کا مقام دکھلایا جاتا ہے۔ (2) قبر کے عذاب سے محفوظ ہوگا۔ (3) روز قیامت گھبراہٹ سے مامون ہوگا۔ (4) قیامت کے دن اس کے سر پر عزت ووقار کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک موتی دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔ (5) اس کی بہتر حوروں سے شادی کی جائے گی۔ (6) اور اس کے ستر قریبی رشتہ داروں کے بارے میں سفارش قبول کی جائے گی۔“ (عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدِ السَّاعِدِیِّ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () قَالَ رِبَاطُ یَوْمٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَاعَلَیْھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللّٰہ] ” حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول (ﷺ) نے فرمایا اللہ کے راستے میں ایک دن کا پہرہ دینا دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے۔“ مسائل : 1۔ گھروں میں بیٹھنے والے مومنوں سے مجاہدین بہتر ہیں۔ 2۔ مجاہدین کو اللہ تعالیٰ نے بلندمرتبہ و مقام عطا فرمایا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مومن کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق جزا کا وعدہ فرمایا ہے۔ 4۔ مجاہدین اور دوسروں کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش اور رحمت ہوگی۔ تفسیر بالقرآن: مجاہدین کا مرتبہ: 1۔ مجاہد اور غیر مجاہد برابر نہیں۔ (النساء: 95) 2۔ مجاہدین عذاب الیم سے نجات پائیں گے۔ (الصف: 10، 11) 3۔ شہید کے لیے مغفرت۔: (آل عمران: 157) 4۔ مجاہد کے لیے جنت۔ (محمد: 6) 5۔ مجاہدین سے اللہ تعالی کی محبت۔ (الصف: 4) 6۔ شہید زندہ ہیں وہ اللہ کے ہاں رزق پاتے اور بے خوف وغم ہوتے ہیں۔ (آل عمران: 170، 171) النسآء
96 النسآء
97 فہم القرآن : (آیت 97 سے 99) ربط کلام : دارالکفر میں رہنے کی بجائے صاحب ہمت لوگوں کو دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنا چاہیے یہ دنیا جب سے معرض وجود میں آئی ہے اسی وقت سے لے کر حق و باطل کے معرکے پیش آتے رہے ہیں۔ حق و باطل کی اس آویزش میں ہمیں بے شمار ہجرتیں دکھائی دیتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عراق سے ہجرت کر کے شام‘ مصر اور ارض مقدس کی طرف جانا اور پھر حجاز میں تشریف لا کر اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کے ذریعے حجاز کو مرکز دعوت مقرر کرنا‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور جناب یوسف (علیہ السلام) کی ہجرت مصر کی طرف، سیدنا لوط (علیہ السلام) کی ہجرت علاقہ سدوم کی جانب حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی پہلی ہجرت مدین کی طرف اور اس کے بعد ہزاروں ساتھیوں سمیت فلسطین کی طرف ہجرت کرنے کا ثبوت قرآن میں موجود ہے۔ شرعی اصطلاح میں دین کی خاطر وطن چھوڑنے والے کو مہاجر اور اس عمل کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نظریۂ اسلام جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا دوسرا نام ہے اس کی خاطر ہر چیز قربان کرنا لازم ہے۔ جو شخص ایمان کے لیے قربانی نہیں دیتا اور اس پر دوسری باتوں کو مقدم جانتا ہے۔ ایسا شخص ایماندار ہونے کا حق دار نہیں۔ ہجرت میں بھی یہی فلسفہ ہے کہ ناگزیر حالات میں ہمیشہ دب کر اور کمزور رہنے کے بجائے مسلمانوں کو ایسے علاقے سے ہجرت کر کے اپنی افرادی قوت کو مجتمع کر کے کفار کے مقابلے میں کھڑا ہونے کے اقدامات کرنے چاہییں۔ ہجرت ایمان کی کسوٹی ہے : اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ یہ ایسی پل صراط ہے جس کی دھار تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے ہجرت کی تکالیف و مشکلات ایمان سے خالی دل کو ننگا کردیتی ہیں یہ ایسا ترازو ہے جس میں ہر آدمی پورا نہیں اتر سکتا۔ اس پیمانے سے کھرے کھوٹے کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے اسباب اور طاقت رکھنے کے باوجود ہجرت نہ کرنے والوں کو جہنم کی وعید سنائی ہے۔ کیونکہ انہوں نے ایمان کی نعمت‘ مسلمانوں کی اجتماعیت‘ اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر اپنے کاروبار‘ مکانات اور دنیاوی مفاد کو ترجیح دی ہے۔ البتہ وہ لوگ جو ہجرت کے لیے کوئی سبیل اور وسیلہ نہیں پاتے انہیں معاف کردینے کی امید دلائی گئی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ درگزر کرنے اور معاف فرمانے والا ہے۔ مسائل : 1۔ شرعی عذر کے بغیر اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کرنے والے ظالم ہیں۔ 2۔ جان بوجھ کر ہجرت نہ کرنے والے کو موت کے وقت فرشتے ہجرت نہ کرنے کا طعنہ دیں گے۔ 3۔ ظالموں کے لیے جہنم بدترین ٹھکانا ہے۔ 4۔ مجبور اور معذور لوگ ہجرت سے مستثنیٰ ہیں۔ 5۔ معذور اور مجبور لوگوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرمادے گا۔ 6۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمانے اور بخش دینے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن: اللہ تعالی معاف کرنے والا مہربان ہے: 1۔ اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے زیادہ مہربان ہے۔ (یوسف: 22) 2۔ تیرا پروردگار بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ (الکہف: 58) 3۔ یہی لوگ اللہ تعالی کی رحمت کے امیدوار ہیں اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (البقرۃ: 218) 4۔ اے رب ہمیں معاف کردے اور ہم پر رحم فرماتو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ (المومنون: 109) النسآء
98 النسآء
99 النسآء
100 فہم القرآن : ربط کلام : مہاجر کو تسلی دی گئی ہے کہ گھبرانے اور دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رزق کو ایک جگہ مقید نہیں رکھا ہوارزق تو انسان کے ساتھ‘ ساتھ رہتا ہے۔ لہٰذا اللہ کے راستے میں بےدھڑک نکلو اللہ تمہارا رزق کشادہ کردے گا۔ ہجرت کا حکم دینے اور معذور لوگوں کو معاف کرنے کے اعلان کے بعد مہاجرین کو تسلی دی جارہی ہے۔ میرے نام اور کام پر بے خانماں ہونے اور در بدر کی ٹھوکریں کھانے والو! دل چھوٹا کرنا نہ حوصلہ ہارنا۔ تم ایسے خالق و مالک کے حکم سے وطن چھوڑ رہے ہو جو پتھر کے کیڑے کو چٹان میں‘ گوشت خور درندوں کو جنگل میں‘ پانی کے جانوروں کو سمندر کی لہروں اور تہوں میں‘ پرندوں کو صحراؤں میں رزق پہنچاتا ہے۔ تم تو اشرف المخلوقات اور اس کے راستے کے راہی ہو۔ وہ تمہیں کس طرح کسمپرسی کی حالت میں رہنے دے گا۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا‘ اپنے رب پر اعتماد کرو۔ ذرا یقین کی آنکھ سے تاریخ کے دریچوں میں جھانک کر دیکھو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عراق چھوڑا تو ملک شام اور سرزمین مقدس کے مالک بنے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کا خاندان اپنے وطن سے نکلا تو سینکڑوں سال مصر کا فرما نروا ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکلے تو ان کے پیرو کار بیت المقدس کے حکمران ہوئے۔ غرض یہ کہ ہر دور میں اور ہر قافلۂ مہاجرین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا۔ انہیں دنیا میں بے پناہ وسعت اور لامحدود فضل سے نوازا۔ صحابہ کرام (رض) کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا کہ جب مہاجرین مکہ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو بے خانماں اور کنگال تھے لیکن ہجرت کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) اپنی روئیداد بیان کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے۔ ایک وقت تھا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ اب یہ حال ہے کہ مٹی اٹھاتا ہوں تو وہ بھی سونا بن جاتی ہے۔ زکوٰۃ کے علاوہ لاکھوں روپے صدقہ کیے۔ اس کے باوجود وفات کے وقت اڑھائی کروڑ کے مالک تھے۔ حضرت زبیر (رض) بے حساب صدقہ کرنے کے بعد بھی پانچ کروڑ کی جائیداد چھوڑ کر دنیا سے گئے۔ حضرت ابو طلحہ انصاری (رض) پر ایک وقت وہ تھا جب مہمان کا کھانا کم ہونے کی وجہ سے بیوی کو حکم دیتے ہیں کہ جب ہم کھانا شروع کریں تو دیا بجھا دینا۔ میں یوں ہی منہ سے آواز نکالتا رہوں گا تاکہ مہمان سیر ہو کر کھالے۔ پھر ایسا دور آیا کہ لاکھوں درہم کا باغ اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتے ہیں۔ غرضیکہ جن صحابہ نے کاروبار کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں بے حساب نعمتوں سے نوازا۔ [ التجارات فی الاسلام] دنیا کی نعمتوں اور وسعتوں کے ساتھ ان لوگوں کو آخرت کے اجر کی گارنٹی بھی دی گئی ہے۔ جو اپنے گھروں سے نکلے لیکن دارالہجرت نہ پہنچ پائے راستے ہی میں موت نے آ لیا۔ ان میں حضرت خالد بن حزام (رض) بھی ہیں جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی دوران سفر سانپ کے ڈسنے کی وجہ سے دنیا سے کوچ کر گئے۔ ( عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَال خَرَجَ ضَمْرَۃُ بن جُنْدُبٍ (رض) مِنْ بَیْتِہِ مُہَاجِرًا فَقَالَ لأَہْلِہِ احْمِلُونی فَأَخْرِجُونی مِنْ أَرْضِ الْمُشْرِکِینَ إِلَی رَسُول اللَّہِ () قَالَ فَمَاتَ فِی الطَّرِیقِ قَبْلَ أَنْ یَصِلْ إِلَی النَّبِیِّ (ﷺ)، قَالَ فَنَزَلَ الْوَحْیُ ﴿وَمَنْ یَخْرُجْ مِنْ بَیْتِہِ مُہَاجِرًا إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ ﴾حَتَّی بَلَغَ ﴿وَکَان اللَّہُ غَفُورًا رَحِیمًا﴾) [ مسند ابی یعلیٰ الموصلی : باب ﴿وَمَنْ یَخْرُجْ مِنْ بَیْتِہِ مُہَاجِرًا ] حضرت سمرہ بن جندب (رض) مدینہ کی طرف نکلے تو راستے میں وفات پا گئے جناب ابو حمزہ بن العیض زرقی نابینا تھے معذور ہونے کے باوجود مدینہ طیبہ کی طرف رواں دواں ہوئے۔ ابھی مکہ سے کچھ دور تنعیم کے مقام پر پہنچے تھے تو موت نے آلیا۔ [ ابن کثیر، ابن ابی حاتم] کفار اور منافقین نے پروپیگنڈہ کیا کہ یہ لوگ نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔ اس پر رحمتِ الٰہی جوش میں آئی اور خوشخبری سنائی کہ ہجرت کے لیے اپنے گھروں سے نکلنے والے خوش نصیبوں کے اجر اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیے ہیں جو ہرگز ضائع نہیں ہوں گے۔ مسائل : 1۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والا وسعت اور کشادگی پائے گا۔ 2۔ ہجرت کے دوران فوت ہونے والے کو پورا پورا اجر ملے گا۔ تفسیر بالقرآن: ہجرت کی اہمیت : 1۔ ہجرت کا اجر و ثواب اور فضیلت۔ (آل عمران :195) 2۔ ہجرت کے دوران مرنے والے کو پورا ثواب ملے گا۔ (النساء :100) 3۔ ہجرت کا دنیا میں اجر۔ (النحل : 41، 42) 4۔ ہجرت نہ کرنے والوں کی سزا۔ (النساء : 97، 99) النسآء
101 فہم القرآن : (آیت 101 سے 102) ربط کلام : دین اپنے ماننے والوں کو بے جا تکلیف میں مبتلا نہیں کرتا۔ حالت جنگ میں اور سفر کے دوران آدمی تکلیف میں ہوتا ہے۔ لہٰذا جہاد‘ اور سفر کی حالت میں نماز جیسی عظیم عبادت میں تخفیف فرما دی گئی ہے۔ ایمان لانے کے بعد مسلمانوں پر سب سے زیادہ زور نماز کی ادائیگی اور اس کے قیام پر دیا گیا ہے۔ قیام صلوٰۃ سے مراد اس کے ارکان کی سنت کے مطابق ادائیگی اور اس کے روحانی اور معاشرتی تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ اس فرض کی ادائیگی کے لیے ہر قسم کی رعایت بخشی گئی۔ حالت مجبوری میں نماز کے لیے تیمم ہی کافی سمجھا گیا۔ کسی وجہ سے قبلہ کی طرف منہ کرنا مشکل ہو تو یہ شرط بھی ختم کردی گئی۔ نماز میں قیام اور رکوع و سجود کرنے فرض ہیں۔ لیکن کوئی شخص کھڑا نہیں ہوسکتا تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھ لے‘ بیٹھ کر نماز ادا نہیں ہوتی تو لیٹ کر ادا کرے۔ اگر یہ بھی ممکن نہیں تو اشارے کے ساتھ نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ لیکن نماز چھوڑنا کفر کے مترادف قرار پایا۔ لہٰذا نماز بقائمی ہوش و حواس ہر حال میں فرض ہے اور اسے جماعت کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔ حالت جنگ میں خوف، اضطراب اور عجلت ہوتی ہے۔ اور حالت سفر میں بھی آدمی کو منزل مقصود تک پہنچنے کی جلدی اور گھر سے دور ہونے کی وجہ سے اضطراب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر نہایت مہربانی فرماتے ہوئے سفر میں قصر کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ حالت جنگ میں ناصرف نماز فرض ہے بلکہ جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم ہوا ہے چاہے اسلحہ اٹھا کر ہی پڑھنی پڑے۔ تاہم اس کی رکعات میں تخفیف کردی گئی کہ حالت جنگ میں سنن اور نوافل کی ادائیگی معاف کرنے کے ساتھ فرض کی چار رکعات کو دو میں تبدیل کردیا گیا یہاں تک کہ شدید ہنگامی حالات میں ایک رکعت بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ حالت جنگ میں نماز باجماعت کی ادائیگی کی کئی صورتیں رسول اللہ (ﷺ) سے ثابت ہیں جن میں چند ایک صورتیں درج ذیل ہیں : 1۔ کچھ مجاہد امام کے ساتھ نماز ادا کریں اور باقی پہرہ دیں اور امام دورکعت پڑھ کر بیٹھا رہے اس کے ساتھ پڑھنے والے مجاہد دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیں۔ پھر دوسرے لوگ آکر امام کی تیسری اور چوتھی رکعت کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کریں۔ اس طرح امام کی چار اور مجاہدین کی دو دورکعت نماز ہوگی۔ 2۔ امام دورکعت نماز پڑھائے گا ایک جماعت اس کے ساتھ ایک رکعت مکمل کرنے کے بعد پیچھے ہٹ کر دوسری رکعت از خود پڑھے گی۔ اب باقی لوگ امام کے ساتھ ایک رکعت ادا کرنے کے بعد دوسری رکعت خودمکمل کریں گے۔ اور امام دورکعت کے بعد سلام پھیرے گا۔ 3۔ تیسری صورت میں سب لوگ امام کے ساتھ نماز کے لیے کھڑے ہوں گے۔ پہلی صفوں کے لوگ امام کے ساتھ سجدہ کریں گے جبکہ پچھلے لوگ اسی طرح کھڑے رہیں گے۔ اب یہ لوگ آگے بڑھ کر سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد امام کے پیچھے کھڑے ہوں گے اور پہلے لوگ پچھلی صفوں میں کھڑے ہو کر قیام اور رکوع کرنے کے بعد کھڑے رہیں گے۔ اب یہ لوگ سجدے کرتے ہوئے تشہد بیٹھنے کے بعد امام کے ساتھ اکٹھے سلام پھیریں گے۔ (مشکوٰۃ باب نماز خوف) 4۔ شدید خوف، گھمسان کارن یا موجودہ طرز جنگ کے مطابق فوجی اپنے اپنے مورچوں میں جس حالت میں مناسب سمجھیں نماز ادا کرسکتے ہیں۔ بے شک تیمم کے ساتھ جوتوں سمیت پڑھنی پڑھے۔ مجبوری کی حالت میں قبلہ کی پابندی بھی اٹھا دی گئی۔ فرمان عالی ہے : ﴿اَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ﴾ [ البقرۃ:115] ” تم جس طرف بھی اپنے چہرے کرو گے اسی طرف ہی اللہ تعالیٰ کی توجہ کار فرما ہوگی۔“ یہ رعایتیں اس لیے عنایت فرمائیں کہ کفار کی یہ خواہش ہے کہ مسلمانوں کو کسی وقت بھی غافل پا کر یکبارگی حملہ کرکے ختم کردیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی بقا اور ہر لحاظ سے ترقی اور ان کا تحفظ چاہتا ہے۔ جس کی وجہ سے عبادت کے دوران بھی دفاع سے غفلت کی اجازت نہیں دی گئی۔ کاش مسلمان اس نکتہ کو سمجھتے ہوئے دفاعی اور حربی طاقت کو بڑھاتے اور آج غیروں کے سامنے سرنگوں اور ذلیل نہ ہوتے۔ یہاں ایک اور بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ اے محبوب (ﷺ) ! آپ ان میں موجود ہوں تو بنفس نفیس امامت کروائیں کیونکہ آپ کے ہوتے ہوئے کسی کا مقام نہیں کہ وہ امامت و قیادت کرے۔ اسی سے استدلال کرتے ہوئے صحابہ (رض) نے آپ کے جسد اطہر کے ہوتے ہوئے صرف درود پڑھا تھا۔ نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔ یہاں یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ سرکاری افسران اور قوم کے رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ میں اتنی صلاحیت پیدا کریں کہ وہ امامت کروائیں۔ جب سے دینی اور دنیوی قیادت الگ الگ ہوئی۔ اسی وقت سے مذہب اور سیاست میں تفریق پیدا ہوئی۔ سیاست بےدین لوگوں کی وجہ سے کرپشن اور فساد کا منبع بنی اور امامت غریب لوگوں کی بنا پر غیر اہم ہوگئی۔ نبی اکرم (ﷺ) کے اسفار کو سامنے رکھتے ہوئے مسافت کے تعین میں علماء کرام کی مختلف آراء ہیں امام بخاری (رض)‘ امام احمد بن حنبل (رح) اور امام ابو حنیفہ (رح) 48میل جبکہ دوسرے علماء شہر کی حدود سے باہر عرب کے ٩ میل، ہمارے پرانے ساڑھے تیرہ میل اور موجودہ پیمائش کے مطابق (تقریباً 22کلو میٹر) کے قائل ہیں۔ بعض علماء علمی موشگافیوں میں پڑ کر یہ کہتے ہیں کہ اس وقت سفر کی سہولتوں کا فقدان تھا۔ آج سڑکیں ہموار اور سواریاں تیز رفتار ہیں اس وجہ سے ٩ میل کی مسافت پر قصر نہیں کرنا چاہیے بعض علماء تو اس طرح نماز پڑھنے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ معلوم ہونا چاہیے کہ شریعت کے پیش نظر کوئی مخصوص علاقہ یا زمانہ نہیں ہوتا۔ آج بھی پہاڑی علاقوں میں پگڈنڈیوں کے ذریعے ٩ میل بالخصوص میدانی علاقے کے رہنے والوں کے لیے دل ہلا دینے والا سفر ہے۔ شریعت کا مطمع نظر لوگوں کو سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ لہٰذا شریعت کے مقصد کو فوت کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ کیونکہ خالق کائنات کو معلوم تھا اور ہے کہ دنیا میں کون کون سی ایجادات ہوں گی۔ اس لیے شریعت کو مکمل سمجھنا چاہیے اور اپنی طرف سے قیل و قال کر کے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہییں۔ قصر کتنے دن ؟ جس طرح مسافت کی تعیین میں علماء کے مختلف خیالات ہیں اسی طرح قصر کے ایام کے بارے میں اختلافات ہیں کیونکہ بعض وجوہات کی وجہ سے نبی اکرم (ﷺ) سے قصر کے ایام میں کمی بیشی ثابت ہے جو لوگ تین سے زیادہ دن قصر کرنے کے قائل ہیں وہ اپنے موقف کی تائید میں انہی روایات کا حوالہ دیتے ہیں جو علماء تین دن کے قائل ہیں وہ ان روایات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) تردد کی کیفیت میں تھے جیسا کہ فتح مکہ کے موقعہ پر پندرہ سے انیس دن قصر کرنے کی روایات ہیں ان کا موقف یہ ہے کہ انتظامی امور نمٹانے کی وجہ سے آپ (ﷺ) تردد میں تھے کہ آج رخصت ہوتے ہیں یاکل۔ ایسی صورت میں پندرہ یوم کجا کئی مہینے بھی قصر کی جاسکتی ہے لہٰذا تین دن کے قائل علماء کے دلائل یہ ہیں کہ آپ نے مہمان نوازی تین دن قرار دی ہے۔[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق] اس کے بعد مہمان کے ساتھ مقیم جیسا سلوک کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح حج کے موقع پر آپ (ﷺ) کا ارشاد تھا کہ مکہ سے باہر رہنے والے لوگ تین دن سے زیادہ مکہ میں قیام نہ کریں۔[ رواہ النسائی : کتاب تقصیر الصلاۃ فی السفر] کیونکہ صحابہ مکہ سے ہجرت کرچکے تھے اس لیے تین دن سے زیادہ ٹھہرنا مقیم ہونے کے مترادف ہوگا۔ سفر میں نفلی نماز : (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) یَقُوْلُ صَحِبْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ () فَکَانَ لَایَزِیْدُ فِی السَّفَرِ عَلٰی رَکْعَتَیْنِ وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ کَذٰلِکَ) [ رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب من لم یتطوع فی السفر دبرا لصلاۃ وقبلھا] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (ﷺ)، ابو بکر، عمر عثمان (رض) کے ساتھ رہا ہوں وہ سفر میں صرف دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔“ دو نمازوں کو اکٹھا کرنا : (عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ (رض) أَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () إِذَا أَرَادَ أَنْ یَّسِیْرَ یَوْمَہٗ جَمَعَ بَیْنَ الظُّھْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَّسِیْرَ لَیْلَہٗ جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ) [ مؤطا امام مالک : کتاب النداء للصلاۃِ] ” حضرت علی بن حسین (رض) کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ (ﷺ) جب دن کے وقت سفر کا ارادہ کرتے تو ظہر اور عصر کی نماز کو جمع فرماتے اور جب رات کو سفر کرنا چاہتے تو مغرب اور عشاء کی نماز کو اکٹھا کرتے تھے۔“ مسائل : 1۔ سفر کے دوران نماز قصر کرنے کی اجازت ہے۔ 2۔ کفار مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑتے۔ 3۔ کافر مسلمانوں کے کھلے دشمن ہیں۔ 4۔ جنگ کے دوران حالت نماز میں اسلحہ پہنے رکھنے کی اجازت ہے۔ 5۔ مسلمانوں کو سستی اور غفلت کی بنا اپنے آپ پر کفار کو حملہ کرنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔ 6۔ بارش اور جسمانی تکلیف کی وجہ سے حالت نماز میں اسلحہ رکھ دینا جائز ہے۔ 7۔ حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کو امامت کے فرائض خود سر انجام دینے چاہییں۔ 8۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ النسآء
102 النسآء
103 فہم القرآن : ربط کلام : حالت جنگ اور سفر میں نماز مختصر پڑھنے کی اجازت تھی اب مقیم کو بروقت اور پوری نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ نماز کے بعد اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو۔ ذکر ایسی عبادت ہے کہ جسے کثرت کے ساتھ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ نماز بذات خود بہت بڑا ذکر ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دو مقامات پر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کثرت کے ساتھ یادِ الٰہی میں مصروف رہنے کا حکم فرمایا۔ رسول اللہ (ﷺ) کے بارے میں حضرت عائشہ (رض) کا بیان ہے کہ آپ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔[ رواہ البخاری : کتاب الأذان، باب ھل یتتبع المؤذن فاہ ھھناوھھنا] یہاں تک کہ رات جاگتے تو کروٹ بدلتے ہوئے بھی کوئی نہ کوئی تسبیح پڑھتے۔ اس لیے مومنوں کو حکم ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہر حال یعنی چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اپنے بستروں اور کروٹوں پر اللہ تعالیٰ کو یاد کیا کریں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ تم دشمن کے مقابلہ میں کامیاب، دین و دنیا کے معاملات میں سرخرو اور اپنے خالق کی دستگیری کا شرف پاؤ گے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے اس آیت مبارکہ کی روشنی میں نماز کے اوقات مقرر فرمائے ہیں اور ہر نماز کے ابتدائی اور آخری وقت کی وضاحت فرمائی۔ لہٰذا نماز ہمیشہ اول وقت پر ادا کرنی چاہیے۔ گرمی میں نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرنے کے یہ معنٰی نہیں کہ اصل وقت سے تجاوز کردیا جائے۔ جو لوگ ظہر کا وقت دو مثل قرار دیتے ہیں۔ وہ فقہ کے علاوہ قرآن و حدیث سے کوئی دلیل نہیں پیش کرسکتے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے کفارکے لیے ذلیل کردینے والا عذاب تیار کیا ہے۔ 2۔ نماز کی ادائیگی کے بعد چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اور لیٹنے کی حالت میں اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کے اوقات مقرر کیے ہیں جن کا خیال رکھنا فرض ہے۔ النسآء
104 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ جہاد کے مضمون سے پیوستہ۔ جہاد کے مسائل اور احکامات کا اس موقعہ پر اختتام کرنے سے پہلے حسب معمول تربیت اور نصیحت کے پہلو کو نمایاں فرمایا۔ کیونکہ سفر میں نماز پڑھنا خاص کر اوّل وقت پر ادا کرنا عام حالات کی نسبت مشکل ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا نماز کی ادائیگی اور اس کے اوقات کی پابندی کا ذکر فرمانے کے بعد جہادی خطاب کے آخر میں مجاہدین کو تسلی اور امید دلائی گئی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہیں جہاد کے راستے میں مشکلات پہنچیں۔ تم زخمی ہوئے ہو تو وہ بھی زخمی ہوئے ہیں۔ لیکن یاد رکھو تمہارے دشمن اس سے دگنی مشکلات میں مبتلا ہیں۔ اگر بدر و احد کو ملا کر دیکھا جائے تو وہ تم سے زیادہ قتل اور زخمی ہوئے ہیں۔ اگر وہ تمہارا تعاقب کرنے میں سست اور بزدل نہیں ہوئے تو تمہیں بھی سستی اور بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا وعدہ کیا ہے لہٰذا جس رحمت کی تم امید رکھتے ہو وہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو مجاہد کو کثرت و قلت اور بے سرو سامانی کی پرواہ کیے بغیر کفار کے مقابلہ میں لاکھڑا کرتا ہے۔ اسی کی بدولت مسلمان کفار پر غالب آتے رہے ہیں۔ جس کی تاریخ میں سینکڑوں مثالیں پائی جاتی ہیں۔ آج بھی مسلمان اسی جذبہ کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قالَ قَالَ رَجُلٌ للنَّبِیِّ () یَوْمَ أُحُدٍ أَرَأَیْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَیْنَ أَنَا قَالَ فِی الْجَنَّۃِ فَأَلقٰی تَمَرَاتٍ فِیْ یَدِہٖ ثُمَّ قَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ أحد] ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے غزوۂ احد کے دن نبی کریم (ﷺ) سے پوچھا اگر میں شہید ہوجاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ نے فرمایا : جنت میں اس کے ہاتھ میں جو کھجوریں تھیں اس نے وہ پھینک دیں پھر لڑا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔“ مسائل : 1۔ زخمی ہونے کے باوجود مجاہدین کو حالت جنگ میں ہمّت نہیں ہارنا چاہیے۔ 2۔ مجاہد اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امید وار ہے جبکہ کافر کو کوئی امید نہیں ہوتی۔ النسآء
105 فہم القرآن : (آیت 105 سے 106) ربط کلام : امت کو خارجی خطرات سے بچانے کے لیے اسلحہ اور مسلسل جہاد کی ضرورت ہے۔ داخلی انتشار سے محفوظ رکھنے کے لیے کرپٹ لوگوں کی طرفداری سے بچنا اور سب کے لیے قانون شریعت یکساں طور پر نافذ کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید صرف اس لیے نازل نہیں فرمایا کہ اسے گلدانوں میں سجا کر رکھ دیا جائے۔ نزول قرآن کا مقصد یہ ہے کہ اخلاص، توجہ اور غور و خوض کے ساتھ اس کی تلاوت کی جائے۔ تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے ہوئے اسے اللہ کا قانون سمجھ کر اللہ کے بندوں پر نافذ کیا جائے۔ تاکہ انفرادی اور اجتماعی معاملات عدل و انصاف کے ساتھ چلتے رہیں۔ باہمی اختلاف کی صورت میں قرآن مجید ہی ان کے درمیان فیصل ہو۔ اسی لیے تو رات و انجیل نازل کی گئی تھیں۔ جس معاشرے میں قرآن مجید کا حکم جاری نہیں ہوتا ایسے لوگوں کو ظالم، فاسق اور کافر قرار دیا گیا ہے۔ جس کی تفصیل سورۃ المائدہ آیت 45تا 50میں بیان ہوئی ہے۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () قَالَ إِقَامَۃُ حَدٍّ مِّنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنْ مَطَرِ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً فِیْ بِلَاد اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب إقامۃ الحدود] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ کی حدود میں سے کسی حد کو کسی ملک میں نافذ کرنا چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔“ یہاں ایک پیش آمدہ واقعہ اور مقدمہ کے سلسلہ میں آپ کو ہدایات دی گئی ہیں۔ جو عدل و انصاف کے اصولوں کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جج کا غیر جانب دارہونا، کتاب و سنت کے مطابق فیصلے کرنا، وکیل ہویا رشتہ دار اس کا مجرم کی حمایت سے اجتناب کرنا‘ اس کے بعد شہادتوں کا درست ہونا ضروری ہے۔ یہ وہ چار بنیادی تقاضے ہیں جن کے بغیر کسی معاشرے میں عدل و انصاف کا بول بالا نہیں ہوسکتا۔ جج کو اپنی معلومات کے مطابق صحیح فیصلہ کرنا چاہیے اگر وہ بے علمی میں غلط معلومات کی بنا پر غلط فیصلہ کرتا ہے تو اس کا سارا گناہ غلط معلومات دینے والوں کو ہوگا۔ جانتے بوجھتے غلط فیصلہ کی بنیاد پر لیا ہوا مال حلال نہیں آگ کا ٹکڑا ہوگا۔ آپ (ﷺ) فیصلہ کرنے سے پہلے بعض اوقات یہ بات بیان بھی کیا کرتے تھے جیساکہ حدیث میں ہے : (عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ إِلَیَّ وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَّکُوْنَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہٖ مِنْ بَعْضٍ وَأَقْضِیَ لَہٗ عَلٰی نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہٗ مِنْ حَقِّ أَخِیْہِ شَیْئًا فَلَایَأْخُذْ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَہٗ قِطْعَۃً مِّنَ النَّارِ) [ رواہ البخاری : کتاب الحیل، باب إذا غضب جاریۃ فزعم أنھا ماتت ] ” حضرت ام سلمہ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا تم میرے پاس اپنے فیصلے لے کر آتے ہومیں ایک بشر ہوں ہو سکتا ہے کہ تم میں کوئی دوسرے سے دلائل پیش کرنے میں زیادہ مہارت رکھتاہو۔ میں تو اسی بنیاد پر فیصلہ کرتاہوں جو بات سنتا ہوں میں جس کے لیے اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کردوں۔ تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوتاہوں۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے۔ 2۔ کسی شخص کو مجرم کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔ 3۔ ہر دم اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنی چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی رحیم اور بخشنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : قیام عدل : 1۔ فیصلہ انصاف سے کرنا چاہیے۔ (النساء :58) 2۔ فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ (المائدۃ:49) 3۔ اللہ کا حکم نافذ نہ کرنے والے کافر ہیں۔ (المائدۃ:44) 4۔ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والا ظالم ہوتا ہے۔ (المائدۃ:45) 5۔ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے فاسق ہیں۔ (المائدۃ:47) النسآء
106 النسآء
107 فہم القرآن : (آیت 107 سے 108) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں پیش ہونے والے مقدمہ کی روئیداد اس طرح ہے کہ انصار قبیلہ کے بنی ظفر خاندان میں سے ایک شخص نے انصاری کے گھر سے آٹے کی بوری اور ایک زرہ چوری کرلی۔ جب اس کا کھوج شروع ہوا تو اس نے اپنے آپ کو الزام سے بچانے کے لیے چوری کا سامان ایک یہودی کے گھر میں امانت رکھ دیا۔ اہل محلہ نے سامان یہودی کے گھر پاکر اسے چور ٹھہرایا لیکن یہودی نے انصاری کا نام لیا۔ جس پر انصاری کے رشتے داروں نے مل بیٹھ کر مشورہ کیا کہ رسول معظم (ﷺ) کے سامنے یہودی کو چور ثابت کیا جائے۔ جب مقدمہ آپ کی خدمت میں پیش ہوا تو انہوں نے یہودی کو چور ثابت کردیا۔ قریب تھا کہ آپ یہودی پر حد جاری کرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو پوری صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے نبی ! یہ آپ کی شان نہیں کہ آپ خائن اور بددیانت لوگوں کی حمایت کریں۔ اب تک جو کچھ ہوا اس پر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے آئندہ آپ کی طرف سے خائن لوگوں کی حمایت نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خائن اور مجرموں کو پسند نہیں کرتا۔ ایسے لوگ دوسروں سے تو اپنے گناہ اور جرائم چھپا سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز نہیں چھپا سکتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار اور علم وخبر کے لحاظ سے ہر وقت لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جہاں تک یہ لوگ رات کے وقت ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف ہوتی ہیں اس وقت بھی اللہ تعالیٰ ان کی ہر بات اور عمل کا احاطہ کیے ہوتا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَامَ فِیْنَا النَّبِیُّ () فَذَکَرَ الْغُلُوْلَ فَعَظَّمَہٗ وَعَظَّمَ أَمْرَہٗ قَالَ لَاأُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہٖ شَاۃٌ لَھَا ثُغَاءٌ عَلٰی رَقَبَتِہٖ فَرَسٌ لَہٗ حَمْحَمَۃٌ یَقُوْلُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَغِثْنِیْ فَأَقُوْلُ لَاأَمْلِکُ لَکَ شَیْءًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ وَعَلٰی رَقَبَتِہٖ بَعِیْرٌ لَہٗ رُغَاءٌ یَقُوْلُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَغِثْنِیْ فَأَقُوْلُ لَاأَمْلِکُ لَکَ شَیْءًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ) [رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر، باب الغلو وقول اللّٰہ تعالیٰ ﴿وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ ﴾] ” حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی (ﷺ) نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر خیانت کا تذکرہ کرتے ہوئے خیانت اور ایسے معاملہ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے فرمایا میں قیامت کے دن تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر بکری ممیارہی ہو اور کسی کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو وہ مجھ سے کہے اللہ کے رسول! میری مدد کیجیے۔ تو میں کہوں کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ میں نے تجھے پہنچا دیا اور کسی کی گردن پر اونٹ آواز نکال رہا ہو وہ کہے اللہ کے رسول میری مدد کیجئے۔ تو میں کہوں کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا میں نے تجھے آگاہ کر دیاتھا۔“ مسائل : 1۔ خائن لوگوں کی حمایت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔ 2۔ آدمی لوگوں سے چھپ سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے چھپ سکتا ہے اور نہ کچھ چھپاسکتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار، اختیار اور علم کی بنا پر ہر آدمی کے ساتھ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ ہر وقت انسان کے ساتھ ہوتا ہے : 1۔ انسان جہاں کہیں بھی ہو اس کی ہر حرکت اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی ہے۔ (الحدید : 4۔ التوبہ :40) 2۔ اللہ تعالیٰ انسان کی شاہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ (ق : 16، الواقعہ :85) 3۔ انسان جدھر بھی رخ کرے اللہ تعالیٰ کی توجہ اس کی طرف ہوتی ہے۔ (البقرۃ:115) 4۔ آدمی جہاں کہیں ہو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ (الحدید :4) 5۔ آدمی تین ہوں تو چوتھا اللہ ہوتا ہے پانچ ہوں تو چھٹا اللہ ہوتا ہے اس سے زیادہ ہوں یا کم وہ ہر وقت آدمی کے پاس ہوتا ہے۔ (المجادلۃ:7) خائن کا انجام : 1۔ خائن قیامت کے دن اپنی خیانت کے ساتھ پیش ہوگا۔ (آل عمران :161) 2۔ خائن کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (الانفال :58) النسآء
108 النسآء
109 فہم القرآن : (آیت 109 سے 112) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ جن لوگوں نے عزیز داری کی بنیاد پر چور کی حمایت اور تعصب کی بنا پر یہودی پر الزام لگایا تھا۔ اب انہیں مخاطب کیا جارہا ہے کہ تم ایسے لوگ ہو جو طرف داری اور تعصب کی بنیاد پر اس دنیا میں مجرم کے حق میں جھگڑتے ہو۔ بتاؤ قیامت کے دن رب ذوالجلال کے سامنے مجرموں کی طرف سے کون جھگڑا اور ان کی وکالت کرسکے گا؟ اس فرمان کا صاف مطلب ہے کہ کسی شخص کو مجرم کی پاسداری اور اس کے جرم کی وکالت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ فرمان ہر وکیل کے لیے تازیانۂ عبرت رکھتا ہے۔ اس کے بعد چار مرتبہ لفظ ﴿ مَنْ﴾ استعمال کیا کہ دنیا میں کوئی بھی جان بوجھ کر گناہ کرے یا بھول کر خطا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہو تو اللہ تعالیٰ یقیناً اسے معاف فرما دے گا۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے اور بڑی شفقت فرمانے والا ہے۔ اس کے بعد پھر فرمایا کہ جو بھی گناہ کرے گا اس کا بوجھ دنیا اور آخرت میں اسے ہی اٹھانا پڑے گا۔ اس سے ان لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہم فلاں کے واسطے اور وسیلے سے نجات حاصل کرلیں گے اور بزرگوں کے طفیل ضرور جنت میں داخل ہوں گے۔ قرآن مجید مختلف پیرائے میں یہ بات سمجھاتا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا لہٰذا پیر ہو یا مرید‘ نبی ہو یا امتی ہر کسی کو اپنے اپنے اعمال کی جزا یا سزا پانا ہوگی۔ ہر شخص کو خوب جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کی نیت و عمل کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اور جس شخص نے کوئی غلطی یا گناہ کیا اور پھر اس کا الزام ایسے آدمی پر لگایا جو اس سے بری الذمہ ہے۔ ایسے شخص نے بیک وقت تہمت لگانے اور گناہ میں ملوث ہونے کا ارتکاب کیا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کھلا گناہ ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں جب یہ آیت ﴿وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ ” اپنی جانیں خرید لو یعنی نیک کاموں کے بدلے بچا لو“ نازل ہوئی تو رسول اللہ (ﷺ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے قریش کے لوگو! اپنے لیے کچھ خرید لومیں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ بچا نہیں سکوں گا، اے بنی عبد منا ف میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ پہنچا نہیں سکوں گا، اے عباس بن عبدالمطلب میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ کفایت نہیں کرسکوں گا، اور اے صفیہ رسول اللہ (ﷺ) کی پھوپھی! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ کفایت نہیں کرسکوں گا، اور اے فاطمہ (محمد (ﷺ) کی بیٹی)! مجھ سے میرے مال سے جو چاہتی ہے مانگ لے میں تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکوں گا۔“ [ رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب ھل یدخل النساء والولد فی الأقارب] مسائل : 1۔ قیامت کے دن کوئی کسی کی غلط حمایت نہیں کرسکے گا۔ 2۔ گناہ سر زدہو نے کے بعد انسان کو فوراً اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر کسی کو معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ 4۔ توبہ نہ کرنے کی صورت میں ہر کسی کو اپنے گناہوں کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا اور اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ 6۔ اپنے گناہ کو دوسرے کے ذمہ لگانے والا بہتان اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : گناہوں کا بوجھ خود اٹھانا ہوگا : 1۔ کوئی نفس کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الانعام :164) 2۔ ہر ایک اپنے معاملے کا خود ذمہ دار ہے۔ (البقرہ :141) 3۔ عزیز واقارب اور ہر کوئی ایک دوسرے سے بھاگ جائے گا۔ (عبس : 34، 36) 4۔ روز محشر دوست کام نہ آئیں گے۔ (البقرہ :254) النسآء
110 النسآء
111 النسآء
112 النسآء
113 فہم القرآن : ربط کلام : خطاب جاری ہے۔ پہلے بیان ہونے والے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے پیغمبر (ﷺ)! اگر اللہ تعالیٰ کا آپ پر فضل و کرم نہ ہوتا تو ان میں سے ایک گروہ نے تمہیں عدل و انصاف کے راستے سے ہٹا دینے کا پکا منصوبہ بنا لیا تھا۔ اگر آپ ان کی مرضی کے مطابق فیصلہ صادر فرما دیتے تو اس سے آپ کی سیرت پر حرف گیری ہوتی اور عدل و انصاف کا ترازو جھک جاتا۔ تاہم آپ کی ذات اقدس کا حقیقتاً نقصان نہ ہوتا کیونکہ آپ نے ظاہری شواہد کے مطابق فیصلہ کرنا تھا۔ معلوم ہوا کہ اگر جج سے غلط معلومات اور جھوٹی شہادتوں کے ذریعے ناحق فیصلہ کروالیا جائے تو وہ عنداللہ گناہ گار نہیں ہوگا۔ البتہ آدمی کو شعوری اور لاشعوری طور پر ہونے والے گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہنا چاہیے۔ جیسا کہ اوپر کی آیت میں رسول اللہ (ﷺ) کو حکم دیا گیا ہے۔ لیکن سچ کو جھوٹ بنانے اور دوسروں پر الزام لگانے والے مجرم دنیا اور آخرت میں ضرور نقصان اٹھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بروقت اس واقعہ کی حقیقت بتائی اور کتاب و حکمت عطا فرما کر وہ کچھ سکھلا دیا جو آپ اس سے پہلے نہیں جانتے تھے۔ کسی شخص کو اللہ کی طرف سے کسی غلطی پر بروقت رہنمائی ہونا اس کا بڑا ہی فضل ہوا کرتا ہے۔ آپ پر اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل ہوا کہ دنیا اور آخرت میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ہوگا ﴿ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمْ﴾ کے الفاظ سے ان لوگوں کے باطل عقیدہ کی نفی ہوتی ہے جو آپ کی ذات کے بارے میں یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ آپ جو ہوچکا اور جو کچھ ہونے والا ہے سب کچھ جانتے تھے جیسا کہ ایک مکتبہ فکر کے ترجمان نے ابن جریر کے ضعیف قول سے اپنے عقیدے کو تقویت دینے کی ناکام کوشش کی ہے کہ نبی کریم (ﷺ) کو’’ ماکَان ‘‘ اور ’’ماھُوْکَائِنْ ‘‘ کا علم عطا فرمایا گیا تھا پھر انہوں نے مسلم شریف کی حدیث سے غلط مفہوم اخذ کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) سب کچھ جانتے تھے حالانکہ خود ہی لکھتے ہیں : ” قرآن مجید نے کئی موقعوں پر آپ (ﷺ) کے عالم الغیب ہونے کی نفی کی ہے یہاں تک آپ کے بارے میں سورۃ الشورٰی میں فرمایا کہ اسی طرح ہم نے بذریعہ وحی بھیجا آپ کی طرف ایک جانفزا کلام اپنے حکم سے نہ آپ یہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے۔ لیکن ہم نے بنا دیا اس کتاب کو (سراپا) نور ہم ہدایت دیتے ہیں اس کے ذریعہ جس کو چاہتے ہیں اپنے بندوں سے۔ اور بلاشبہ آپ رہنمائی فرماتے ہیں صراط مستقیم کی طرف۔“ ﴿قُلْ لَّآ أَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلَّا ضَرًّا إِلَّا مَاشَآء اللّٰہُ وَلَوْ کُنْتُ أَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَامَسَّنِیَ السُّوْٓءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴾ [ الأعراف :188] ” آپ کہہ دیجیے کہ ” مجھے خود اپنے نفع یا نقصان کا اختیار نہیں مگر اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت سی بھلائیاں حاصل کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچتی میں تو محض ایک ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں، ان کے لیے جو ایمان لے آئیں۔“ ﴿وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَایَعْلَمُھَا إِلَّاھُوَ وَیَعْلَمُ مَافِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ إِلَّا یَعْلَمُھَا وَلَاحَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْأَرْضِ وَلَارَطْبٍ وَّلَایَابِسٍ إِلَّا فِیْ کِتَابٍ مُّبِیْنٍ﴾ [ الانعام :59] ” اور غیب کی چابیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا بحرو بر میں جو کچھ ہے اسے وہ جانتا ہے اور کوئی پتہ تک نہیں گرتا جسے وہ نہ جانتا ہو نہ ہی زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ ہے جس سے وہ باخبر نہ ہو اور تر اور خشک جو کچھ بھی ہو سب کتاب مبین میں موجود ہے۔“ مسائل : 1۔ دوسرے کو گمراہ کرنے والا خود گمراہ اور نقصان میں رہتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتاب و حکمت عطا فرمائی اور وہ کچھ سکھلایا جو آپ پہلے نہیں جانتے تھے۔ تفسیر بالقرآن : نبی محترم (ﷺ) کے خلاف سازشیں : 1۔ نبی (ﷺ) کو قتل اور ملک بدر کرنے کی سازش۔ (الانفال :30) 2۔ نبی (ﷺ) کو اللہ کی ہدایت سے پھیر دینے کی سازش۔ (البقرۃ:109) 3۔ منافقین کی سازش مسجد ضرار۔ (التوبہ :107) (مزید دیکھیے البقرہ105) النسآء
114 فہم القرآن : ربط کلام : منافقین کے کردار کے مختلف پہلوبیان کرنے کے ساتھ ان کی مجالس میں ہونی والی سازشوں کو طشت ازبام کیا ہے۔ برے لوگوں کی مجالس بھی اکثر طور پر بری ہی ہوا کرتی ہیں۔ خاص کر ان کی خفیہ مجالس کبھی شر سے خالی نہیں ہوا کرتیں۔ ایسے لوگ برائی، بے حیائی، چوری چکاری، سازش اور شرارت کے لیے ہی سوچ و بچار کرتے ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے اس قسم کے لوگوں کی مجلس کو لوہار کی بھٹی کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ (عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ وَالسُّوْءِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ الْکِیْرِ فَحَامِلُ الْمِسْکِ إِمَّآ أَنْ یُّحْذِیَکَ وَإِمَّآ أَنْ تَبْتَاعَ مِنْہُ وَإِمَّآ أَنْ تَجِدَ مِنْہُ رِیْحًاطَیِّبَۃً وَنَافِخُ الْکِیْرِ إِمَّآ أَنْ یُّحْرِقَ ثِیَابَکَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِیْحًاخَبِیْثَۃً) [ رواہ البخاری : کتاب الذبائح والصید، باب المسک] ” حضرت ابوموسیٰ (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اچھے اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے اور بھٹی میں پھونکنے والے کی طرح ہے۔ کستوری بیچنے والا یا تو تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خرید لو گے یا تم اس سے اچھی خوشبو پاؤ گے اور بھٹی میں پھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑوں کو جلا دے گا یا تو اس سے بری بو محسوس کرے گا۔“ قرآن مجید نے ایسی مجالس کو خیر سے خالی قرار دیا ہے۔ سوائے اس کے جن میں صدقہ و خیرات، اچھے کام اور لوگوں کی فلاح اور اصلاح کے بارے میں کوئی پروگرام ترتیب دیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں اس آیت میں باہم مل بیٹھنے اور مجالس کی غرض و غایت کا اشارہ دیا ہے کہ برے لوگوں کو مل کر سازش اور شرارت کے منصوبے بنانے کے بجائے نیکی اور خیر کے پروگرام ترتیب دینے چاہییں یہ پروگرام محض نمود و نمائش کے لیے نہیں بلکہ ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی مطلوب ہونی چاہیے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ایک موقعہ پر چوراہوں میں بیٹھنے سے منع فرمایا تو صحابہ (رض) نے سماجی اور معاشرتی مجبوریوں کا ذکر کیا آپ نے ہدایت فرمائی کہ اگر تمہارے لیے چوراہوں میں بیٹھنا ناگزیر ہو تو تمہیں ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِ عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِیَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ بالطُّرُقَاتِ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! مَالَنَا بُدٌّ مِنْ مَّجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِیْھَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ِ () إِذَآ أَبَیْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِیْقَ حَقَّہٗ قَالُوْا وَمَا حَقُّہٗ ؟ قَالَ: غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الْأَذٰی وَرَدّالسَّلَامِ وَ الْأَمْرُ بالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ) [ رواہ مسلم : کتاب السلام، باب من حق الجلوس علی الطریق رد السلام] ” حضرت ابو سعید خدری (رض) نبی کریم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا رستوں اور چوراہوں میں بیٹھنے سے بچا کرو۔ صحابہ نے عرض کی کہ اللہ کے رسول ! بیٹھنا ہماری مجبوری ہے ہم وہاں تبادلہ خیال کرتے ہیں آپ نے فرمایا اگر تمہارا بیٹھنا ضروری ہے تو راستے کا حق ادا کیا کرو۔ صحابہ نے اس کا حق پوچھا تو آپ نے فرمایا نظر نیچی رکھنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا۔“ مسائل : 1۔ بےدین لوگوں کی اکثر مجالس خیر سے خالی ہوتی ہیں۔ 2۔ مجالس میں لوگوں کی فلاح و بہبود اور اچھے کاموں کی مشاورت ہونی چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کام کرنے والا بڑا اجر پائے گا۔ تفسیر بالقرآن : یہود و نصارٰی اور کفار کی مجالس : 1۔ مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے دوغلی پالیسی اختیار کرنا۔ (البقرۃ:14) 2۔ نئے مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے سازشیں کرنا۔ (آل عمران :73) 3۔ مسلمانوں کو ارتداد کی طرف لانے کے لیے کوششیں اور منصوبے بنانا۔ (البقرۃ:217) 4۔ زمین میں فساد کرنے کی کوشش کرنا۔ (البقرۃ:205) 5۔ یہود و نصارٰی کی سرگرمیاں۔ (المجادلۃ:8) النسآء
115 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ) کو لوگوں کے لیے رہنما اور مقتدا بنا کر بھیجا ہے۔ رسول محترم (ﷺ) کی پیروی اور اتباع کو اپنی اتباع قرار دیا، اپنی محبت اور بخشش کو رسول کی اطاعت کے ساتھ مشروط فرمایا ہے۔ اس لیے جلوت اور خلوت میں رسول کی اتباع ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جو شخص یا جماعت رسول کی ہدایت اور سنت سامنے ہونے کے باوجود رسول معظم (ﷺ) کی پیروی سے انحراف اور صحابہ کرام کے طریقہ کو چھوڑتے ہیں وہ لوگ جدھر چاہیں اور جس طرح چاہیں منہ اٹھا کر چل نکلیں وہ جہنم میں ہی گرنے والے ہیں جو بدترین جائے قرار ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے اتباع رسول کے ساتھ صحابہ کی اتباع کا بھی حکم دیا ہے۔ کیونکہ انہوں نے رسالت مآب (ﷺ) سے براہ راست رہنمائی اور فیض حاصل کیا۔ البقرۃ آیت 13اور آیت 137میں ان کے ایمان کو ہمیشہ کے لیے مثال اور نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا : ﴿فَإِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ آمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اھْتَدَوْا﴾ [ البقرۃ:137] ” اگر وہ تمہارے یعنی صحابہ جیسا ایمان لے آئیں تو یقیناً وہ ہدایت سے سر فراز ہوجائیں گے“ اس لیے امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس کام پر صحابۂ کرام (رض) کا اجماع ہو۔ وہ امت کے لیے دلیل اور واجب اتباع ہوگا۔ بعض لوگ حدیث رسول (ﷺ) اور اجماع صحابہ (رض) کو چھوڑ کر کسی ایک صحابی کے انفرادی عمل کو اپنے لیے قابل حجت سمجھتے ہیں۔ جو سراسر قرآن کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ جہاں تک کسی صحابی کے انفرادی عمل کا تعلق ہے اگر وہ صحیح سند کے ساتھ ثابت ہوجائے تو اس کی تاویل کرنا ہوگی کہ اس صحابی کو رسول معظم (ﷺ) کا فرمان نہیں پہنچا، یا اسے سمجھنے میں سہو ہوئی ہے۔ جس کی مثال حضرت ابوذر غفاری (رض) کا تین دن سے زیادہ کسی چیز کو گھر میں رکھنا خلاف شرع سمجھنا ہے۔ بعض لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے ایک آدھ انفرادی عمل کو اپنے لیے حجت قرار دیتے ہوئے تائید کے طور پر حدیث رسول پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) کا فرمان ہے : (أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ)[ جامع الاصول من احادیث الرسول] ” میرے صحابہ ہدایت کے چمکتے ہوئے ستارے ہیں جس نے کسی صحابی کی پیروی کی وہ ہدایت پا جائے گا“ حالانکہ یہ روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہے۔ (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ یَجِئُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَۃُ اَحَدِھِمْ یَمِیْنَہٗ وَیَمِیْنُہٗ شَہَادَتَہٗ)[ رواہ البخاری : باب لاَ یَشْہَدُ عَلَی شَہَادَۃِ جَوْرٍ إِذَا أُشْہِدَ ]. ” حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ سول محترم (ﷺ) نے فرمایا میرے زمانہ کے لوگ سب سے بہتر ہیں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ اس کے بعد کچھ لوگ آئیں گے‘ جن کی گواہی کی قسم سے‘ اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔“ جہاں تک کسی دور کے علماء کے اجماع کا تعلق ہے وہ قرآن و سنت کے تابع ہو تو قابل حجت ہوگا۔ بصورت دیگر اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ شریعت میں دلیل معیار ہے اقلیت اور اکثریت معیار نہیں ہے۔ لہٰذا صحابہ کا اجتماعی طرز فکر اور عمل امت کے لیے حجت ہے۔ سورۃ فاتحہ کے آخری کلمات اسی راستے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جو اس راستے سے جتنا ہٹے گا اتنا ہی گمراہی کی طرف جائے گا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿فَلَمَّا زَاغُوْا أَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ﴾ [ الصف :5] ” جب وہ سیدھی راہ سے ہٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے دلوں میں کجی پید اکردی۔“ ﴿وَنَذَرُھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ﴾ [ الانعام :110] ” انہیں ان کی سرکشی میں رہنے دیتے ہیں اور وہ حیران پھرتے ہیں۔“ مسائل : 1۔ رسول اللہ (ﷺ) کے راستے کو چھوڑنا جہنم کا راستہ اپنانے کے مترادف ہے۔ 2۔ جہنم بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ تفسیر بالقرآن : اتباع صحابہ (رض) : 1۔ انعام یافتہ لوگوں کے راستے پر چلنے کی دعا۔ (الفاتحہ :6) 2۔ صحابہ کا ایمان ہدایت کی کسوٹی۔ (البقرۃ:137) 3۔ مومن کو مومنوں کا دوست ہونا چاہیے۔ (التوبۃ:71) 4۔ الٰہی ہمیں شاہدین کے ساتھ لکھنا۔ (آل عمران :53) 5۔ موت کے بعد نیک لوگوں کی رفاقت۔ (آل عمران :193) 6۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دعا۔ (یوسف :101) النسآء
116 فہم القرآن : ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا انکار کرنا کفر ہے اور اس کی ذات و صفات اور عبادت میں کسی کو شریک ٹھہرانا شرک ہے جو سب سے بڑا گناہ، ظلم عظیم اور پرلے درجے کی گمراہی ہے۔ کفر و شرک کے سوا اللہ تعالیٰ جسے چاہے اور جو چاہے معاف فرما دے گا اس میں حقوق العباد بھی شامل ہیں۔ خاص کر ایسا شخص جو دوسروں کے حق کی ادائیگی اور اپنی زیادتی کی تلافی کرنا چاہتا تھا لیکن غفلت یا عدم وسائل کی وجہ سے تلافی نہیں کرسکا۔ اللہ تعالیٰ یقیناً اسے معاف فرما کر حق دار کی داد رسی فرما دے گا۔ جیسا کہ بخاری شریف میں کئی مقامات میں رسول معظم (ﷺ) کا فرمان درج ہے جس میں آپ نے توحید کی برکات کا یوں ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ محشر کے میدان میں اعلان فرمائیں گے جو دنیا میں کسی کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پاس چلا جائے۔ مشرک اپنے اپنے پیروں اور معبودوں کے پاس چلے جائیں گے لیکن کچھ لوگ کھڑے رہیں گے۔ جن میں فاجر لوگ بھی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے سوال فرمائیں گے کہ تم کیوں نہیں جاتے؟ وہ عرض کریں گے کہ ہم دنیا میں تیرے ساتھ کسی کو مشکل کشا، حاجت روا، دستگیر اور آپ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہیں گردانتے تھے اب بھی تیری ذات کبریا کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ چنانچہ شرک سے اجتناب کرنے اور توحید کے صلہ میں انہیں معاف کردیا جائے گا۔[ رواہ البخاری تفسیر سورۃ النساء۔ مسلم : کتاب الإیمان، باب معرفۃ طریق الرؤیۃ ] مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والا انتہا درجے کا گمراہ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : شرک کے نقصانات : 1۔ شرک بدترین گناہ ہے۔ (النساء :48) 2۔ شرک ظلم عظیم ہے۔ (لقمان :13) 3۔ شرک سے اعمال غارت ہوجاتے ہیں۔ (الزمر :65) 4۔ شرک کے بارے میں انبیاء کو انتباہ۔ (الانعام :88) 5۔ شرک کرنے سے آدمی ذلیل ہوجاتا ہے۔ (الحج :31) 6۔ مشرک پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ:72) النسآء
117 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ یہاں شرک کی ایک اور قسم بیان کی گئی ہے۔ یہاں شرک کی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ یہ لوگ دیویوں کی عبادت کرتے ہیں جو حقیقتاً شیطان کی عبادت کرنے کے مترادف ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے شرک نوح (علیہ السلام) کی قوم میں پیدا ہوا۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اپنے بزرگوں کے مجسمے تراشے ان میں سب سے بڑے بت کا نام سواع تھا سواع عورت کی شکل پر بنایا گیا اس کا معنی ہے ” انتظام و انصرام کرنے والی دیوی“۔ مشرکین مکہ لات، منات اور عزیٰ کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا وسیلہ بناتے تھے۔ یہ سب کے سب عورتوں کے نام ہیں۔ ہندؤوں اور بدھ مت کے مندروں میں جاکر ملاحظہ فرمائیں جن مورتیوں کو وہ اللہ کا اوتار سمجھتے ہیں ان کی شکلیں نہایت ہی پرکشش، جاذب نظر عورتوں کے مشابہ بنائی گئی ہیں۔ یونان میں بھی دیویوں کی پوجا ہوتی تھی اور بعض قومیں فرشتوں کی اس لیے عبادت کرتی ہیں کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی پاک اور خوبصورت بیٹیاں گردانتے ہیں۔ گویا کہ دنیا میں ہر دور کے مشرکوں کی اکثریت عورتوں کی پرستار رہی ہے۔ یہاں تک کہ عیسائی بھی حضرت مریم علیہا السلام کو اللہ تعالیٰ کی بیوی یا ذات کبریا کا حصہ سمجھ کر اس کی عبادت کرتے ہیں۔ جس کی اللہ تعالیٰ نے یوں تردید فرمائی : اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کو کسی نمونے اور اسباب کے بغیر پیدا کرنے والا ہے لہٰذا اس کی اولاد اور بیوی کس طرح ہو سکتی ہے؟ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ [ الانعام :102] سورۃ اخلاص میں بڑے سادہ اور مختصر الفاظ میں ہر قسم کے شرک کی تردید کی گئی ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارنے والے عورتوں اور شیطان کو پکارتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : مشرک شیطان کی عبادت کرتا ہے : 1۔ اے بنی آدم ! شیطان کی عبادت نہ کرو۔ (یٰس :60) 2۔ آزر کو شیطان کی عبادت نہ کرنے کی تلقین۔ (مریم :44) بتوں کے نام عورتوں کے نام پر : 1۔ مشرک ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں سمجھ کر عبادت کرتے ہیں۔ (النجم :28) 2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے دور کے بتوں کے نام۔ (نوح :23) 3۔ مشرکین مکہ کے بتوں کے نام۔ (النجم : 19، 20) النسآء
118 فہم القرآن : (آیت 118 سے 119) ربط کلام : شرک دراصل شیطان کا حکم ماننا اور اس کی عبادت کرنا ہے۔ شیطان پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے لہٰذا مشرک پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ شیطان نے صرف آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار نہیں کیا بلکہ وہ جرم پر جرم کرتا چلا گیا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر معذرت کرنے کی بجائے اپنے جرم کے دلائل دیتے ہوئے قسمیں اٹھائیں کہ میں ہر حال میں بنی نوع انسان کو گمراہ کرتا رہوں گا۔ یہاں تک کہ ان میں سے کثیر تعداد کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ میں انہیں پر کشش اور دلفریب امیدیں دلاؤں گا اور انہیں جانوروں کے کان چیرنے اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدلنے کا حکم دوں گا۔ چنانچہ ابتدائے آفرینش سے لے کر اب تک مشرک یہی کچھ کرتے آئے ہیں کہ جن جانوروں کو غیر اللہ کے نام پر وقف کرتے ہیں ان کے کان چیر کر مخصوص نشان لگاتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ جس نے شیطان کو اللہ تعالیٰ کے سوا اپنا خیر خواہ اور دوست بنایا وہ بھاری اور صریح نقصان میں پڑگیا۔ ﴿قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّھُمْ مِّنْ م بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَ مِنْ خَلْفِھِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِھِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِھِمْ وَ لَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شٰکِرِیْنَ﴾ [ الأعراف :17] ” شیطان نے کہا تو نے مجھے اس کی وجہ گمراہی میں مبتلا کیا ہے لہٰذا اب میں بھی تیرے صراط مستقیم پر ان (کو گمراہ کرنے) کے لیے بیٹھوں گا۔ پھر انسانوں کو آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے غرض ہر طرف سے گھیر لوں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔“ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ لَأَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکُمْ أَجْمَعِیْنَ﴾ [ الأعراف :18] ” کہ جس نے لوگوں میں سے تیری پیروی کی میں تم سب سے جہنم کو ضرور بھروں گا۔“ لعنت کا معنٰی : اللہ کا کسی کو خیر سے دور اور محروم کرنا۔ لعنت کرنا (عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَالَ : وَعِزَّتِكَ يَا رَبِّ ، لَا أَبْرَحُ أُغْوِي عِبَادَكَ مَا دَامَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ ، قَالَ الرَّبُّ : وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي) [رواہ الحاکم فی المستدرک: کتاب التوبۃ والانابۃ (صحیح)] ’’ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں بے شک رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: شیطان نے کہا اے میرے رب! تیری عزت کی قسم میں ہمیشہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتا رہوں گاجب تک ان کے جسموں میں روحیں موجود ہیں۔ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا: مجھے میری عزت اور جلال کی قسم! میں ہمیشہ انہیں معاف کرتا رہوں گاجب تک یہ مجھ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے۔ ‘‘ مسائل : 1۔ شیطان لعنتی ہے اور دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ 2۔ شیطان نے انسان کو ہر طرح سے گمراہ کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ 3۔ شیطان کے ساتھ تعلق رکھنے والا ہمیشہ نقصان پائے گا۔ تفسیر بالقرآن : شیطان کے ہتھکنڈے : 1۔ شیطان آدمی کو ہر طرف سے گمراہ کرتا ہے۔ (الاعراف :17) 2۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پھسلایا۔ (البقرۃ:36) 3۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پھسلانے کے لیے قسمیں اٹھائیں۔ (الأعراف :21) 4۔ شیطان جھوٹی قسموں سے ورغلاتا ہے۔ (الاعراف :21) 5۔ شیطان اپنی فریب کاری سے پھسلاتا ہے۔ (الاعراف :22) 6۔ شیطان بے حیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے۔ (البقرۃ:169) 7۔ شیطان برے اعمال کو فیشن کے طور پر پیش کرتا ہے۔ (النمل :24) 8۔ شیطان نے انسان کو گمراہ کرنے کے لیے قسمیں اٹھائیں۔ (الاعراف :2) 9۔ شیطان کی پیروی کرنے سے بچنے کا حکم ہے۔ (البقرۃ:208) 10۔ شیطان کی پیروی اس کی عبادت کرنا ہے۔ (یٰس :6) 11۔ قیامت کے دن شیطان جہنمیوں سے برأت کا اعلان کرے گا۔ (ابراہیم :22) النسآء
119 النسآء
120 فہم القرآن : (آیت 120 سے 121) ربط کلام : شیطان گمراہی پر آدمی کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ عمر بھر اس کے پھندے میں پھنسا رہے اور گناہوں میں آگے ہی بڑھتاچلا جائے۔ اسی وجہ سے شیطان انسان کو ہر قسم کی امیدیں دلاتا ہے۔ علامہ عبدالرحمن ابن جوزی (رح) نے شیطان کے پھندوں اور دلفریب وعدوں پر ” تلبیس ابلیس“ کے نام پر ایک مفصل کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے سینکڑوں ایسے واقعات درج کیے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان آدمی کی طبیعت اور اس کا رجحان دیکھ کر اسے گمراہ کرتا ہے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ وہ کسی سخی انسان کو کنجوسی کی طرف رغبت دے بلکہ وہ سخی کو فضول خرچی و اسراف پر آمادہ کرتا ہے۔ بخیل کو فقر کا خوف دلا کر مزید کنجوس بناتا ہے۔ یہاں تک کہ ایسا آدمی اپنے آپ پر خرچ کرنے سے بھی گریز کرتا ہے۔ اسی طرح شیطان توحید کے نام پر یہ کہہ کر گناہوں پر دلیری دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ سب کچھ معاف کر دے گا۔ وہ محبت کے نام پر بے حیائی کا سبق دیتا اور بزرگوں کی عقیدت کے ذریعے شرک کے راستے پر ڈالتا ہے۔ یہ سراسر دین کے نام پر جھوٹی امیدیں دلانا اور دھوکہ دینا ہے۔ دین کے نام پر دھوکے کو قرآن مجید نے سورۃ آل عمران میں یوں بیان فرمایا ہے۔ ﴿وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّآ أَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ۔۔ [ النساء :41] ” اور انہوں نے کہا ہمیں چند گنتی کے دنوں کے علاوہ ہرگز آگ نہ چھوئے گی۔“ یہودیوں کا یہ کہنا کہ ہم صرف چند دنوں کے لیے جہنم میں جائیں گے۔ اس کے بعد ہمارے لیے دائمی عیش و عشرت ہوگی۔ اسی فریب کے ذریعے عیسائیوں کو شیطان نے عقیدہ سمجھایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) سولی پر لٹک کر تمہارے گناہوں کا کفارہ بن چکے ہیں۔ شیطان کی پیروی اور یہود و نصاریٰ کی دیکھا دیکھی مسلمانوں کی غالب اکثریت ابلیس کی فریب کاریوں میں آ کریہ کہتے سنائی دیتی ہے کہ جنت میں جانے کے لیے بزرگوں کی عقیدت اور کسی پیر کا مرید ہونا کافی ہے۔ ایسے لوگ شیطان کی پیروی میں اس عقیدے پر بڑاناز اور فخر کرتے ہیں‘ ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ جس طرح زندگی بھر شیطان کے فریب میں مبتلا رہے اور جھوٹی امیدوں میں گھرے رہے اسی طرح جہنم میں ہمیشہ کے لیے گھرے رہیں گے اور ان کے لیے اس سے نجات کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ شیطان کا دھوکہ اور فریب : ﴿کَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اکْفُرْ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ إِنِّیْ بَرِیْءٌ مِّنْکَ إِنِّیْ أَخَاف اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ فَکَانَ عَاقِبَتَہُمَآ أَنَّہُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْہَا وَذٰلِکَ جَزٰؤٓا الظّٰلِمِیْنَ﴾ [ الحشر : 16، 17] ” شیطان کی طرح جب اس نے انسان کو کہا کہ کفر کر پھر اس نے کفر کرلیا تو کہنے لگا میں تجھ سے بری ہوں یقیناً میں تو رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور یہی ظالموں کی سزا ہے۔“ مسائل : 1۔ شیطان کے وعدے مکرو فریب کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔ 2۔ شیطان اور اس کے ساتھیوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اس سے کبھی نجات نہیں پائیں گے۔ تفسیر بالقرآن : جہنم سے چھٹکارا ممکن نہیں : 1۔ جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ (البقرۃ:167) 2۔ جہنم سے چھٹکارا پانا مشکل ہے۔ (الزخرف :77) 3۔ جہنم میں موت و حیات نہیں ہوگی۔ (طٰہٰ:74) 4۔ دنیا میں لوٹ آنے کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔ (الانعام :27) 5۔ جہنم کی سزا میں وقفہ نہیں ہوگا۔ (فاطر :36) 6۔ جہنم کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔ (الفرقان :65) 7۔ جہنم بدترین ٹھکانا ہے۔ (آل عمران :197) 8۔ جہنم کے عذاب سے پناہ مانگنی چاہیے۔ (الفرقان :65) 9۔ جہنمیوں کو آگ کے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا۔ (الہمزہ :90) النسآء
121 النسآء
122 فہم القرآن : ربط کلام : مشرک جہنم میں جائیں گے شرک سے پاک ایمان اور نیک عمل کے حاملین جنت میں داخل ہوں گے۔ جو لوگ ایمان لائے اور شریعت کے مطابق نیک عمل کرتے رہے ان کے بارے میں رب کریم فرماتے ہیں کہ ہم انہیں ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری و ساری ہوں گی۔ اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق اور سچاہے کہ مشرک جہنم میں اور مومن جنت میں جائیں گے۔ مومنوں کو انتہا درجے کی تسلی دینے کے لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سے بڑھ کر کسی اور کا وعدہ اور فرمان سچا نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا صاحب ایمان لوگوں کو جنت کے حصول کے لیے پوری کوشش کرنی اور اس کے حصول کے لیے دن رات ایک کردینا چاہیے۔ رسول اللہ (ﷺ) سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا میرے بندوں نے جنت دیکھی ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر وہ جنت دیکھ لیں ؟ تو فرشتے جواباً کہتے ہیں پھر تو وہ مزید اس کی جستجو کریں گے۔ [ روہ البخاری : کتاب الدعوات، باب فضل ذکراللّٰہ عزوجل] مسائل: 1۔ ایمان دار‘ صاحب کردار لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل فرمائے گا۔ 2۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے‘ اس کے وعدے اور بات سے سچی بات کسی کی نہیں ہو سکتی۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کا ارشاد سچا اور اس کا وعدہ پکا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ کی بات سے کسی کی بات سچی نہیں۔ (النساء :87) 2۔ اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ (آل عمران :9) النسآء
123 فہم القرآن: ربط کلام : جنت محض دعووں‘ نعروں اور کسی فرقہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ جو برائی اور شرک سے بچے گا وہی جنت کا مستحق ہوگا۔ بصورت دیگر برا شخص جنت اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم رہے گا۔ قرآن مجید ایک بار پھر اپنے اسلوب بیان کا اعادہ فرماتے ہوئے دو قسم کے اعمال اور ان کے انجام کا بیک مقام موازنہ کرتا ہے تاکہ قرآن کا قاری تجزیہ کرے کہ اسے کس کردار کا انتخاب اور آخرت کی کونسی منزل کے لیے کوشش کرنی چاہیے؟ یہ حقیقت بار بار واضح کی گئی ہے کہ کسی شخص کی نجات نعروں اور دعووں کی بنیاد پر نہیں ہوگی بلکہ نجات سچے ایمان اور صالح عمل پر ہوگی۔ یہاں ایک مرتبہ پھر اہل کتاب کے دعوے کی تردید کی جارہی ہے کہ نجات کا دارومدار کسی خاندانی نسبت یا محض دعوئ محبت پر نہیں بلکہ اس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور شرک سے بچنا لازم ہے۔ جس شخص نے شرک کا ارتکاب کیا اور برے اعمال میں مبتلا رہا وہ قیامت کے دن اللہ کے سوا اپنے لیے کوئی خیر خواہ اور مددگار نہیں پائے گا۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ہونے کے باوجود اپنے باپ کو جہنم سے نہیں بچا سکیں گے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ یَلْقٰی إِبْرَاہِیْمُ أَبَاہُ آزَرَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلٰی وَجْہِ آزَرَ قَتَرَۃٌوَغَبَرَۃٌ فَیَقُوْلُ لَہٗ إِبْرَاہِیْمُ أَلَمْ أَقُلْ لَّکَ لَا تَعْصِنِیْ فَیَقُوْلُ أَبُوْہُ فَالْیَوْمَ لَآ أَعْصِیْکَ فَیَقُوْلُ إِبْرَاہِیْمُ یَارَبِّ إِنَّکَ وَعَدْتَّنِیْ أَنْ لَّا تُخْزِیَنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ فَأَیُّ خِزْیٍ أَخْزٰی مِنْ أَبِی الْأَبْعَدِفَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِنِّیْ حَرَّمْتُ الْجَنَّۃَ عَلَی الْکَافِرِیْنَ ثُمَّ یُقَالُ یَآ إِبْرَاہِیْمُ مَا تَحْتَ رِجْلَیْکَ فَیَنْظُرُ فَإِذَا ھُوَ بِذِیْخٍ مُتَلَطِّخٍ فَیُؤْخَذُ بِقَوَآئِمِہٖ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالیٰ ﴿وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا﴾] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی گرامی (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) روز قیامت اپنے باپ آزر سے ملیں گے اس کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہوگا۔ ابراہیم (علیہ السلام) اسے کہیں گے میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ میری نافرمانی نہ کرو تو وہ جواباً کہے گا آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) فرمائیں گے اے میرے رب آپ نے مجھ سے قیامت کے دن رسوا نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا میرے باپ سے زیادہ بڑھ کر اور کونسی رسوائی ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے جنت کافروں پر حرام کردی ہے۔ پھر کہا جائے گا ابراہیم اپنے پاؤں کی طرف دیکھو۔ وہ دیکھیں گے کہ ان کا باپ کیچڑ میں لتھڑا ہوا بجو ہے۔ جسے اس کی ٹانگوں سے پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔“ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد ان کو توحید کی دعوت سے روکا کرتے تھے لیکن آپ (ﷺ) کے چچا ابو طالب آپ کے بہت زیادہ حمایتی اور ہمدرد تھے ان کی ہمدردی کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب قریش وفد لے کر ان کی خدمت میں پہنچے کہ اپنے بھتیجے کو روک لو ورنہ کوئی فتنہ کھڑا ہوگا۔ جناب ابوطالب نے نبی اکرم (ﷺ) کو کہا کچھ نرمی اختیار کیجئے آپ نے جواب دیا چچا سورج میرے دائیں ہاتھ پر اور چاند بائیں ہاتھ پر رکھ دیا جائے میں تب بھی دعوت توحید سے باز نہیں آؤں گا تب ابوطالب نے کہا بیٹا جاؤ جو جی چاہے کرو۔ جب تک میں زندہ ہوں تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا لیکن انہوں نے اسلام قبول نہ کیا۔ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ (رض) أَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ () وَذُکِرَ عِنْدَہٗ عَمُّہٗ أَبُوْطَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّہٗ تَنْفَعُہٗ شَفَاعَتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُجْعَلُ فِیْ ضَحْضَاحٍ مِّنَ النَّارِ یَبْلُغُ کَعْبَیْہِ یَغْلِیْ مِنْہُ أُمُّ دِمَاغِہٖ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار] ” حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ (ﷺ) سے سنا آپ کے پاس آپ کے چچا ابو طالب کا تذکرہ کیا گیا آپ نے فرمایا شاید قیامت کے دن میری سفارش اسے فائدہ دے اور اسے جہنم کی اوپر والی سطح میں رکھاجائے جو اس کے ٹخنوں تک پہنچتی ہو اس سے اس کا دماغ کھول اٹھے گا۔“ ﴿ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا امْرَاَۃَ نُوحٍ وَّامْرَاَۃَ لُوْطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتَاہُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْہُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا وَّقِیْلَ ادْخُلا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِیْنَ﴾ [ التحریم :10] ” اللہ تعالیٰ کافروں کے لیے نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کو بطور مثال بیان کرتا ہے وہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے نکاح میں تھیں مگر انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی تو وہ اللہ کے مقابلے میں ان دونوں کے کچھ کام نہ آسکے اور دونوں سے کہہ دیا گیا کہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔“ مسائل: 1۔ جنت صرف دعووں اور آرزؤوں سے نہیں مل سکتی۔ تفسیر بالقرآن: آرزؤوں اور تمناؤں کی حیثیت : 1۔ بلندوبانگ دعوے کام نہ آئیں گے۔ (البقرۃ:62) 2۔ اللہ تعالیٰ سچوں اور جھوٹوں کو پرکھتے ہیں۔ (العنکبوت :3) 3۔ یہود و نصاری کے جنتی ہونے کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ (البقرۃ:111) النسآء
124 فہم القرآن : ربط کلام : مومنوں کو دوبارہ تسلی دی گئی ہے کہ نیک عمل کرنے والا ایماندار خواہ مرد ہو یا عورت اسے بہترین جزا ملے گی۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ذات پات اور مذکر و مؤنث کا کوئی امتیاز نہیں۔ اعمال کا انجام ذکر کرنے کے بعد حسب معمول صالح کر دار لوگوں کا صلہ بیان کرتے ہوئے مرد و زن کو تسلی دی گئی ہے کہ نیک عمل کرنے والا مرد ہو یا عورت بشرطیکہ اس نے نیک عمل حالت ایمان میں کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے گا اور اس کو جنت میں ضرور داخل فرمائے گا اور ان کے اجر و ثواب میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ اسی بات کو تفصیل کیساتھ یوں بیان فرمایا ہے۔ ” بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، صبر کرنیوالے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزے دار مرد اور روزے دار عورتیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔“ [ الاحزاب :35] مسائل : 1۔ نیک عمل کرنے والا صاحب ایمان مرد ہو یا عورت جنت میں داخل ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : نیکی میں ہرگز کمی نہ ہوگی : 1۔ کسی کا عمل ضائع نہ کیا جائے گا۔ (آل عمران :195) 2۔ اجر میں مرد و زن برابر ہیں۔ (الاحزاب :35) 3۔ ذرہ برابر نیکی اور بدی کا بدلہ ملے گا۔ (الزلزال : 7، 8) 4۔ ہر عمل آدمی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ (الکہف :49) 5۔ کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل :71) النسآء
125 فہم القرآن : (آیت 125 سے 126) ربط کلام : اچھی تمناؤں کے لیے اچھے اعمال کرناضروری ہیں جن کی بنیاد ملّتِ ابراہیم ہے۔ اس سے پہلے اہل کتاب کی بے بنیاد تمناؤں کی نفی کرکے وضاحت فرمائی کہ جہنم سے نجات اور جنت میں داخلہ محض نیک تمناؤں، خوش کن جذبات اور بلند بانگ دعووں کی بنیاد پر حاصل نہیں ہو سکتا۔ کا میابی کا انحصار ایمان اور نیک اعمال پر ہے جس کی دین اسلام رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام نام ہے اللہ تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم کرنے کا۔ جس سے مراد کلی طور پر اپنے جذبات اور اعمال کو اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان کرنا ہے۔ ایسا شخص ہی محسن یعنی نیکو کار کہلانے کا حقدار ہے۔ اس کے لیے یہودیت، عیسائیت اور دائیں بائیں کے راستے نہیں بلکہ ایک اور صرف ایک ہی راستہ ہے جسے ملت ابراہیم کے نام سے بیان کیا گیا ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ہر تعلق سے لاتعلق ہو کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان کردیا تھا۔ جس کا یہ صلہ عطا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت میں صرف ایک ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے ہر امت کو اور خاص کر آخری رسول (ﷺ) کے پیروکاروں کو حکم ہوا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی محبت کے خواہاں اور دنیا و آخرت کی کامیابی چاہتے ہو تو پھر تمہیں ملت ابراہیم پر چلنا ہوگا۔ یہاں یہ بھی وضاحت فرمائی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم کرنا تھا۔ یہ عمل اور نظریہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ انسان اور زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور مملوک کا فرض ہے کہ وہ اپنے مالک کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے اس کے سامنے مکمل طور پر سرنگوں رہے۔ جس طرح زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی ڈیوٹی نبھا رہی ہے۔ ایسے ہی انسان کو بھی اپنے خالق و مالک کا تابع فرمان ہونا چاہیے اور یاد رکھو ! کوئی اللہ کا دوست ہو یا دشمن وہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور اختیار سے باہر نہیں اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا پڑھا کرتے تھے : ﴿إِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَآ أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ﴾ [ الانعام :79] ” بلاشبہ میں نے تو یکسو ہو کر اپنا چہرہ اس کی طرف کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکین سے نہیں ہوں۔“ رسول اللہ (ﷺ) بھی ان کی اتباع کرتے ہوئے ابتداء نماز میں یہ دعا پڑھتے : ﴿إِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا۔۔ [ الانعام :79] ” میں نے تو اپنا چہرہ یکسو ہو کر اس طرف کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔“ [ رواہ ابوداؤد : کتاب الصلاۃ، باب مایستفتح بہ الصلاۃ من الدعاء ] خلیل کا معنٰی : خلیل کا لفظ خلت سے ہے جس کا معنی ہے ایسا دوست کہ جس سے بڑھ کر کوئی محبوب نہ ہودلی دوست۔ خیر خواہ۔ کمزور بدن والا۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ () أَلاَ إِنِّی أَبْرَأُ إِلَی کُلِّ خِلٍّ مِنْ خِلِّہِ وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیلاً لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ خَلِیلاً إِنَّ صَاحِبَکُمْ خَلِیل اللَّہِ ) [ رواہ مسلم : باب مِنْ فَضَائِلِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیق ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا میں ہر ایک کی دوستی سے برأت کا اظہار کرتا ہوں اگر میں کسی کو اپنا جگری دوست بنا تا تو وہ ابو بکر (رض) ہوتا تمھارا ساتھی اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔ یعنی اللہ کی دوستی سب سے مقدم ہے۔“ مسائل : 1۔ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنے والابہترین مسلمان ہے۔ 2۔ ہر حال میں ملت ابراہیم کی پیروی کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا دوست بنایا ہے۔ 4۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تابع ہے۔ تفسیر بالقرآن : کس کا دین بہتر؟ 1۔ اللہ کے سامنے مطیع ہونے والے کا دین سب سے بہتر ہے۔ (النساء :125) 2۔ اللہ کے سامنے جھک جانے والامحسن ہے۔ (لقمان :22) 3۔ ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے مطیع و تابع فرمان تھے۔ (البقرۃ: 131، الانعام :79) 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کلی طور پر اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار تھے۔ (البقرۃ:68) 5۔ نبی محترم (ﷺ) کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کرنے کا حکم۔ (النحل :123) 6۔ امت محمدیہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کا حکم۔ (آل عمران :95) 7۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکوں سے بیزاری کا اعلان کیا۔ (الانعام :14) 8۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی اسوۂ حسنہ قرار پائی۔ (الممتحنۃ:4) النسآء
126 النسآء
127 فہم القرآن : ربط کلام : نیا خطاب شروع ہوا۔ قرآن مجید میں یتیموں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کی ترغیب و فضیلت کے بارے میں تیئس مقامات پر ذکر ہوا ہے۔ جن میں یتیم بچیوں کے متعلق اس سورت کی آیت 4 میں حکم دیا تھا کہ یتیم بچیاں نکاح کے قابل ہوجائیں تو ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ ان کا حق مہر خوشی کے ساتھ ادا کیا جائے۔ یہ لوگ پھر آپ سے یتیم لڑکیوں کے بارے میں فتویٰ چاہتے ہیں انہیں فرمائیں فتویٰ تو اللہ تعالیٰ پہلے ہی دے چکے ہیں لہٰذا اس پر عمل کرو۔ جن کے دلوں میں چور ہے وہ چاہتے ہیں کہ یتیموں کے حقوق سے جان چھوٹ جائے حالانکہ ان کا حال یہ ہے کہ یتیم بچیوں کے مال اور جمال کی وجہ سے ان کے ساتھ نکاح کرنا اور ان کے مال اور نام سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں لیکن حقوق دینے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ کا فتویٰ اور حکم وہی ہے جو یتیموں کے متعلق پہلے بیان ہوچکا ہے اس میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہے نہ ہوگی۔ لہٰذا یتیموں کے بارے میں انصاف کرنے پر قائم ہوجاؤ اور اچھی طرح جان لو جو بھی نیکی کرو گے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری نیت اور عمل کو پوری طرح جانتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) رسول گرامی (ﷺ) کا فرمان بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : (کَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہٗ أَوْلِغَیْرِہٖ أَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ وَأَشَارَ مَالِکٌ بالسَّبَابَۃِ وَالْوُسْطیٰ) [ رواہ مسلم : کتاب الزھد‘ باب الإحسان إلی الأرملۃِ والمسکین والیتیم] ” اپنے یا عزیز رشتہ دارکسی یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں ان دوانگلیوں کی طرح ہوں گے۔ راوی نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کا اشارہ کیا۔“ النسآء
128 فہم القرآن : ربط کلام : تسلسل جاری ہے یتامیٰ اور عورتوں کے حقوق کا تعین کیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے بار بار مردوں کو حکم دیا ہے کہ عورتوں کے حق مہر خندہ پیشانی اور دل کی رغبت کے ساتھ دیا کرو۔ اگر وہ اپنی خوشی سے حق مہر معاف کریں تو بھی اس انداز سے کھاؤ اور استعمال کرو کہ انہیں تمہارے بارے میں ہلکے پن اور حریص ہونے کا گمان پیدا نہ ہو۔ یہاں عورتوں کو تلقین فرمائی جا رہی ہے کہ اگر کسی عورت کو ایسے خاوند کے ساتھ واسطہ پڑا ہے جو حریص اور لالچی ہے یا کسی وجہ سے مجبور ہو کر چاہتا ہے کہ اسے حق مہر معاف کردیا جائے‘ بصورت دیگر خاوند کی طرف سے اعراض اور اختلاف کا خطرہ ہے تو تنازعہ کھڑا کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ عورت اپنے خاوند کے اختلاف اور اعراض سے بچنے کے لیے اپنے حقوق سے دست بردار ہونے کے بارے میں غور کرے۔ ایسا کرنے کا اسے اختیار ہے اس پر اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ گھر اجاڑنے سے بہتر ہے کہ عورت اپنے حقوق میں نرمی اختیار کرلے۔ اس سے عورت کا بھرم قائم رہنے کے ساتھ گھریلو ماحول میں خوشگوار تبدیلی آئے گی۔ یہ ہدایت اس لیے کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں خوش حال اور تمہارے گھروں کو آباد دیکھنا چاہتا ہے۔ یہاں دونوں کو ہر حال میں صلح کارویہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے گو انسان حریص واقع ہوا ہے لیکن اس کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرکے اختلافات سے بچنا چاہیے۔ اگر عورت بوڑھی ہوچکی ہو یا خاوند کو اس کی کوئی عادت پسند نہیں تو بھی نباہ کرنا چاہیے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ اچھی طرح خبر گیر ہے کہ کون تم میں صلح جو، ایثار پسند اور گھر آباد رکھنا چاہتا ہے اور کون ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ مسائل : 1۔ میاں بیوی کے درمیان صلح جوئی اور اصلاح کا ماحول ہونا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نیکی اور تقویٰ اختیار کرنے والے کو جانتا ہے۔ النسآء
129 فہم القرآن : ربط کلام : اس سورت کی تیسری آیت میں عدل و انصاف کی شرط کے ساتھ بیک وقت چار تک عورتیں نکاح میں رکھنے کی اجازت دی تھی۔ اب ایک سوال کے جواب میں اس کے متعلقات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ پہلے حکم میں عدل کا مفہوم مالی اور اخلاقی معاملات کے ساتھ ہے۔ اب اخلاقی معاملے میں حکم ہے۔ جہاں تک قلبی میلان کا تعلق ہے اس میں تم بیویوں کے درمیان مساوات اور انصاف کرنا چاہوبھی تو پوری طرح انصاف نہیں کرسکتے کیونکہ دل کے رجحانات اور جذبات پر قابو پانا انسان کے بس کا روگ نہیں۔ اگر کسی بیوی کا حسن و جمال اور اس کے اخلاق کی وجہ سے تمہارا دل اس کی طرف زیادہ مائل ہے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ لیکن کوشش کرو کہ تم ایک ہی کے ہو کر نہ رہ جاؤ۔ بلکہ ظاہری محبت میں سب کی دلجوئی کرنی چاہیے تاکہ ایک بیچاری تمہارا منہ تکتے ہوئے معلق ہو کر نہ رہ جائے۔ لہٰذا جذبات محبت پر کنٹرول کرتے ہوئے بے انصافی سے بچو۔ اگر تم منصفانہ برتاؤ اور سب کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرو گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ تمہاری کمزوریوں کو معاف کرنے والا مہربان ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کی دعا ہے : (اَللّٰھُمَّ ھٰذَا قَسْمِیْ فِیْمَا أَمْلِکُ فَلَا تَلُمْنِیْ فِیْمَاتَمْلِکُ وَلَآ أَمْلِکُ) [ رواہ أبو داؤد : کتاب النکاح] ” اے اللہ! میرا عدل اور مساوات اسی حد تک ہے جو میرے اختیار میں ہے جو تیرے اختیار میں ہے وہ میرے اختیار میں نہیں اس پر مجھے ملامت نہ کیجئے گا۔“ ( مَنْ کَانَتْ لَہُ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَی إِحْدَاہُمَا جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَشِقُّہُ مَائِلٌ ) [ رواہ ابوداود : باب القسمۃ بین النساء] بیویوں کے درمیان عدل نہ کرنے والا روز قیامت فالج زدہ انسان کی طرح اٹھایا جائے گا۔ مسائل : 1۔ بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کرنا فرض ہے۔ 2۔ اپنی اصلاح کرتے ہوئے اللہ سے ڈرو گے تو اللہ کو بخشنے والا پاؤ گے۔ النسآء
130 فہم القرآن : ربط کلام : اکٹھا رہنے کی کوئی شکل باقی نہ رہے تو جدائی کی صورت میں دونوں کو تسلی دی گئی ہے۔ گھر کی چار دیواری اور میاں بیوی کے تعلقات معاشرے کی اکائی اور بنیادی یونٹ کی حیثیت رکھتے ہیں یہ یونٹ جس قدر خوشحال اور اس کا ماحول جتناخوشگوار ہوگا۔ اتنا ہی معاشرہ مضبوط اور اچھے خطوط پر استوار ہوگا۔ اس یونٹ کو توڑ پھوڑ سے بچانے کے لیے قرآن مجید نے متعدد ہدایات جاری فرمائی ہیں۔ لیکن بسا اوقات معاملات اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ان پر قابو پانا کسی کے اختیار میں نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں مرد کو طلاق دینے اور عورت کو خلع لینے کا اختیار دیا ہے۔ یہ انقطاع طلاق کی صورت میں ہو یا خلع کی شکل میں بہتر سے بہتر صورت میں وقوع پذیر ہونا چاہیے۔ یہاں تک فرمایا کہ میاں بیوی کو آپس میں علیحدگی اختیار کرتے وقت سابقہ تعلقات اور محبت کو نہیں بھولنا چاہیے۔[ البقرۃ:237] علیحدگی کی صورت میں فریقین کو یہ تسلی دی جارہی ہے کہ اگر تم نے آپس میں علیحدگی کا فیصلہ کرلیا ہے تو گھبرانے اور حوصلہ ہارنے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ دونوں کو اپنے اپنے مقام پر اپنی رحمت سے نوازے گا اور ایک دوسرے سے بے نیاز کر دے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ وسعت و کشادگی کا مالک ہے۔ اگر اس نے تمہیں ناگزیر حالت میں ایک دوسرے سے الگ ہونے کی اجازت عنایت فرمائی ہے تو اس کی حکمت یہ ہے کہ مزید لڑائی جھگڑے سے بچاؤ معاشرے میں تمہاری عزت، خاندان میں بھرم اور اولاد کے مستقبل پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب نہ ہونے پائیں۔ ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس (رض) کی بیوی نبی کریم (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا اے اللہ کے رسول! میں ثابت بن قیس (رض) کے اخلاق اور دین پر کوئی عیب نہیں لگاتی لیکن میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں تو رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کیا تو اس کا باغ اس کو واپس کرے گی ؟ اس نے کہا ہاں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ثابت بن قیس کو فرمایا باغ کو قبول کرو اور اسے ایک طلاق دے دو۔“ [ رواہ البخاری : کتاب الطلاق، باب الخلع وکیف الطلاق فیہ ] مسائل : 1۔ ناگزیر صورت حال میں میاں‘ بیوی رشتہ توڑ سکتے ہیں۔ 2۔ میاں بیوی کے درمیان تفریق ہونے کی صورت میں ہر کسی کا اللہ کفیل ہے۔ النسآء
131 فہم القرآن : (آیت 131 سے 132) ربط کلام : پچھلی آیت میں دونوں کو تسلی دی تھی۔ یہاں فرمایا کہ میاں بیوی اور زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہے۔ وہ سب کا رازق اور وارث ہے۔ البتہ اس کا تمہیں اور سب لوگوں کو یہی حکم تھا اور ہے کہ ظلم و زیادتی اور اللہ کی نافرمانی سے بچ کر رہنا۔ یہاں مزید تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک گھر آباد نہیں رہا تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کا مالک ہے وہ تمہارے لیے کسی اور گھر کا انتظام کر دے گا۔ یہی ہدایات ان لوگوں کو دی گئیں جنہیں تم سے پہلے تورات، انجیل، زبور اور آسمانی کتابیں دی گئیں تھیں۔ تمہیں بھی یہی نصیحت کی جاتی ہے کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اگر تم کفر، نافرمانی اور آپس میں ظلم وزیادتی کا رویہ اختیار کرو گے تو اللہ کی بادشاہی میں کوئی خلل واقع نہیں ہوگا۔ آسمانوں کا چپہ چپہ اور زمین کا ذرہ ذرہ اسی کے زیر اقتدار ہے اور اللہ تعالیٰ بے نیاز اور حمد و ستائش کے لائق ہے کیونکہ کسی گھر کا اجڑنا اور خاندان کا بکھرنا معمولی بات نہیں لہٰذا بار بار اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہی اور اختیارات کا ذکر فرما کر دونوں کو ایک دوسرے پر زیادتی کرنے سے باز رہنے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے کی تلقین فرما رہا ہے تاکہ میاں بیوی اپنے معاملات درست رکھنے کی کوشش کریں۔ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ (رض) أَنَّ رَجُلًا جَاءَ ہُ فَقَالَ أَوْصِنِیْ فَقَالَ سَأَلْتَ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ () مِنْ قَبْلِکَ أُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَإِنَّہٗ رَأْسُ کُلِّ شَیْءٍ۔۔) [ مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب مسند أبی سعید الخدری] ” حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی نے آکر کہا مجھے نصیحت کیجئے انہوں نے کہا تو نے مجھ سے اس چیز کا سوال کیا ہے جس کے متعلق میں نے تجھ سے پہلے رسول اللہ (ﷺ) سے سوال کیا تھا۔ میں تجھے اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتاہوں کیونکہ تقویٰ ہر خیر کا سرچشمہ ہے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () عَنْ أَکْثَرِ مَایُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّۃَ قَالَ تَقْوَی اللّٰہِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ) [ رواہ الترمذی : کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی حسن الخلق ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) سے کثرت کے ساتھ لوگوں کو جنت میں داخل کرنے والے عمل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ کا ڈر اور اچھا اخلاق۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مسلمانوں کو تقوٰی کی وصیّت فرمائی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والا اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا مالک اور ہر چیز کا کار ساز ہے۔ تفسیر بالقرآن : قرآن کے چندوصایا کا ذکر : 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام)، حضرت ابراہیم (علیہ السلام)‘ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ( علیہ السلام) کو وصیّت۔ (الشوری :13) 2۔ شرک نہ کرنے اور والدین کے ساتھ احسان کرنے کی وصیّت۔ (الانعام :151) 3۔ یتیموں کے مال اور ماپ تول پورا کرنے کی وصیّت۔ (الانعام :152) 4۔ صراط مستقیم پر چلنے کی وصیّت۔ (الانعام :153) 5۔ والدین سے احسان کرنے کی وصیّت۔ (العنکبوت : 8، لقمان : 14، الاحقاف :15) 6۔ اہل کتاب اور مسلمانوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیّت۔ (النساء :131) 7۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو صلوٰۃ و زکوٰۃ کی وصیّت۔ (مریم :13) 8۔ وراثت کی تقسیم کے بارے میں وصیّت۔ (النساء :11) 9۔ وارثوں کو تکلیف نہ دینے کی وصیّت۔ (النساء :12) 10۔ جانوروں کی حلّت و حرمت کے بارے میں وصیّت۔ (الانعام :144) النسآء
132 النسآء
133 فہم القرآن : (آیت 133 سے 134) ربط کلام : اگر تم اللہ کی بغاوت اور نافرمانی کرو گے تو یاد رکھو تم اس کی قدرت سے باہر نہیں ہو وہ جب چاہے گا تمہاری صف لپیٹ کر کسی اور قوم کو زمین کا وارث بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا کرنا قطعاً دُشوار نہیں ہے وہ کلی طور پر ایسا کرنے پر قادر ہے۔ دنیا کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر معاشرے کے کمزور طبقہ کو غالب کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش اس بات پر زندہ ثبوت ہے۔ یہودی اپنی حد سے باہر ہوئے تو ان پر عیسائیوں کو مسلط فرمایا۔ عیسائی حدود پھلانگنے لگے تو کسی دوسری قوم کو غلبہ عطا ہوا۔ مسلمانوں کی تاریخ بھی اسی حقیقت کی ترجمانی کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک گروہ کو دوسرے پر کس طرح مسلط فرمایا۔ مکہ مکرمہ مرکز ہونے کے باوجود مدینہ والوں کے زیر نگین ہوا۔ حجاز پر شامیوں نے حکومت کی۔ امویوں کو اقتدار سے ہٹایا تو پانچ سو سال تک عباسیوں کا پھریرا بلند ہوا۔ پھر عباسیوں پر ترکوں کا غلبہ ہوا۔ علیٰ ھذاا لقیاس ہر دور اور قوم پر اللہ تعالیٰ کا فرمان غالب رہا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر قادر اور فیصلہ صادر کرنے والا ہے۔ لہٰذا جو دنیا کے صلہ کے لیے کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی کوشش اور اپنی حکمت ومشیّت کے مطابق اسے دنیا نصیب فرمائے گا۔ جو دنیا کے ساتھ آخرت کا خواہاں ہوگا اللہ اسے بھی اس کی کوشش اور اپنی حکمت اور تقسیم کے مطابق اجر عطا فرمائے گا۔ یہاں دنیا کے طالب کو دنیا کے اجر کا اشارہ فرما کر آخرت کے ثواب کا ذکر اس لیے کیا تاکہ لوگ صرف دنیا کے لیے نہیں بلکہ دنیا و آخرت کے صلہ و ثواب کے لیے کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو موجودہ انسانوں کو ختم کر کے دوسروں کو لاسکتا ہے۔ 2۔ دنیا اور آخرت میں اجر سے نوازنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ النسآء
134 النسآء
135 فہم القرآن : ربط کلام : سابقہ فرمان سے اس کا تعلق معنوی ہے کہ گھرسے لے کر عدالت تک انصاف پر قائم رہنا چاہیے۔ بنیادی طور پر امت مسلمہ فریضۂ شہادت کی ادائیگی کے لیے منتخب کی گئی ہے تاکہ دنیا میں اپنے قول اور فعل کے ساتھ حق کے ترجمان اور توحید کی گواہی دیتے رہیں۔ آخرت میں پہلی امتوں کے بارے میں انبیاء کی تائید اور ان کی نبوت کی شہادت دیں گے۔ جسے قرآن مجید اور رسول محترم (ﷺ) نے یوں بیان فرمایا ہے : ﴿لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ﴾ [ البقرۃ:143] ” تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ۔“ (أَنْتُمْ شُھَدَآءُ لِلّٰہِ فِی الْأَرْضِ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ثناء الناس علی المیت] ” مسلمانو! تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔“ لیکن اس آیت میں لفظ ” قسط“ استعمال فرماکر عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہی انبیاء کی بعثت اور آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے رسولوں کو واضح دلائل اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان عدل قائم کریں اور لوہا نازل کیا جس میں بڑی قوت اور لوگوں کے لیے بڑے فوائد ہیں۔[ الحدید :25] یہاں شہادت سے مراد وہ گواہی ہے جو کسی واقعہ یا مقدمہ کے ثبوت کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ اس پر قائم ہونے کا حکم دیا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ اس پر پوری قوت اور صلاحیت کے ساتھ قائم رہا جائے۔ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے حکم کی تعمیل اور احترام کا جذبہ کار فرما ہونا چاہیے تاکہ معاشرے میں حق و انصاف کا بول بالا اور عدالتوں میں عدل کا ترازو قائم رہے۔ اس کے لیے گواہی کا عدل و انصاف کے اصول پر پورا اترنا اور قائم ہونا بے حد ضروری ہے۔ مقدمے کا ریکارڈ بھی تحریری شہادت کا درجہ رکھتا ہے۔ جج اس کا پابند ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اچھی طرح گواہی کی چھان بین کرے کیونکہ گواہی کا مقدمے میں بنیادی کردار ہوتا ہے۔ کتنے مقدمات کے فیصلے اس بات پر شاہد ہیں کہ جھوٹی شہادتوں کی وجہ سے بے گناہ شخص پھانسی کے پھندے پر لٹک گیا اور اصل مجرم نہ صرف دندناتے پھرتے ہیں بلکہ مزید جرائم کا ارتکاب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لہٰذا گواہی اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر بلا رعایت اور لحاظ واقعات کے مطابق دینی چاہیے۔ بے شک یہ گواہی انسان کے اپنے نفس، والدین، اعزہ واقرباء، مالدار یا کنگال کے خلاف ہو خواہ تمہیں ان کا مفاد اور جان کتنی ہی عزیز کیوں نہ ہو۔ والدین کا رشتہ مقدس اور قابل صد احترام، اعزہ واقرباء تمہیں بڑے پیارے، دولت مند مؤثر اور غریب قابل رحم اور خیر خواہی کے لائق ہے لیکن یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب کا تم سے زیادہ خیر خواہ اور ہمدرد ہے۔ تم کسی کو نہ نفع دے سکتے ہو اور نہ نقصان سے بچا سکتے ہو لہٰذا تم اچھے برے جذبات کے پیچھے لگنے کے بجائے شہادت عدل پر قائم ہوجاؤ۔ اس میں بے انصافی، لچک اور کسی قسم کا اغراض نہیں ہونا چاہیے۔ یقین جانو اللہ تعالیٰ تمہاری نیت اور عمل سے پوری طرح باخبر ہے۔ (عَنْ أَنَسٍ (رض) قَالَ سُئِلَ النَّبِیُّ () عَنِ الْکَبَآئِرِ قَالَ الْإِشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ) [ رواہ البخاری : کتاب الشھادات، باب ماقیل فی شھادۃ الزور] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) سے کبیرہ گناہوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دیناکبیرہ گناہ ہیں۔“ مسائل : 1۔ مسلمانوں کو صرف اللہ کے لیے عدل وانصاف پر قائم ہونا چاہیے۔ 2۔ عدل و انصاف کے راستے میں کسی رشتہ دار اور خواہش کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : عدل و قسط کی اہمیت : 1۔ نبی (ﷺ) کو عدل و انصاف کا حکم۔ (الاعراف :29) 2۔ انصاف کی بات کہنے کا حکم۔ (الانعام :152) 3۔ صلح بھی عدل و انصاف سے کروانا چاہیے۔ (الحجرات :9) 4۔ رسولوں کی بعثت کا مقصد انصاف قائم کرنا تھا۔ (الحدید :25) 5۔ کسی کی دشمنی عدل و انصاف میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ (المائدۃ:8) 6۔ اللہ تعالیٰ عدل وانصاف کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔ (المائدۃ:42) النسآء
136 فہم القرآن : ربط کلام : شہادتِ حق و عدل پر وہی قائم رہ سکتا ہے جو حقیقی معنوں میں ایمان کے تقاضے پورے کرتا ہو۔ ایمان کے سوا گمراہی کا راستہ ہے۔ قرآن مجید میں یہی آیت مبارکہ ہے جس میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے دوبارہ ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے تین آراء قائم کی ہیں۔ ایک طبقہ کا خیال ہے کہ یہاں ایمان داروں سے مراد صرف دعو ٰی ایمان رکھنے والے منافقین کو خطاب کیا گیا ہے۔ امام رازی (رح) اور ان کے ہمنوا اہل علم کا خیال ہے ﴿اٰمِنُوْا﴾ سے مراد یہودی ہیں کیونکہ یہودی علماء کا ایک وفد رسول مکرم (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام)، حضرت عزیر (علیہ السلام) اور تورات پر ایمان رکھتے ہوئے آپ اور قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں لیکن ان کے علاوہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء اور آسمانی کتابوں کو نہیں مانتے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مراد یہ ہے کہ اے لوگو! جو موسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) اور محمد کریم (ﷺ) پر ایمان لانے کا اظہار کرتے ہو تمہیں اللہ، اس کے رسول اور قرآن مجید کے ساتھ تمام انبیاء پر ایمان لانا چاہیے۔ تیسرے طبقہ کا خیال ہے کہ اس میں مسلمانوں کو ہی خطاب کیا گیا ہے جس کا معنی ہے اے ایمان کے دعویدار لوگو ! اسلام کو مکمل طور پر اپناتے ہوئے اس پر پوری استقامت کے ساتھ کاربند ہوجاؤ۔ یہاں اللہ، اس کے رسول اور قرآن مجید پر ایمان لانے کے ساتھ پہلے رسولوں اور کتابوں پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے۔ پھر ایمان کے پانچ اجزاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا جو ان کا انکار کرتا ہے وہ صرف گمراہ ہی نہیں بلکہ دور کی گمراہی میں بھٹکتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا تقاضا ہے کہ اسے اس کی ذات اور صفات کے لحاظ سے تنہا اور یکتا تسلیم کرتے ہوئے اس کے احکام کی پورے اخلاص کے ساتھ اطاعت کرو۔ ملائکہ کو اس کی بیٹیاں یا خدائی اختیارات میں شریک سمجھنے کے بجائے اس کی مخلوق تصور کیا جائے۔ پہلی کتابوں اور انبیاء پر ایمان لانے کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے اپنے وقت میں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے داعی اور اس کے فرستادہ تھے۔ آخرت پر ایمان کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا قائم ہونا یقینی ہے اور ہر کسی نے دو بارہ زندہ ہو کر اپنے اچھے اور برے اعمال کا اچھا یا برا صلہ پانا ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس سے آدمی کے نظریات اور کردار میں سنوار اور نکھار پیدا ہوتا ہے۔ آدمی اپنے آپ کو دنیا اور آخرت کے حوالہ سے ذمہ دار سمجھتا ہے۔ (عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُول اللَّہِ () ذَاتَ یَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ شَدِیدُ بَیَاض الثِّیَابِ شَدِیدُ سَوَاد الشَّعَرِ لاَ یُرَی عَلَیْہِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلاَ یَعْرِفُہُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّی جَلَسَ إِلَی النَّبِیِّ () فَأَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ إِلَی رُکْبَتَیْہِ وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلَی فَخِذَیْہِ قَالَ فَأَخْبِرْنِی عَنِ الإِیمَانِ قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ باللَّہِ وَمَلائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَتُؤْمِنَ بالْقَدَرِ خَیْرِہِ وَشَرِّہِ )[ رواہ مسلم : باب مَعْرِفَۃِ الإِیمَانِ وَالإِسْلاَمِ ] ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (ﷺ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی سفید کپڑوں میں ملبوس سیاہ بالوں والا جس پر سفر کے کوئی آثار نہیں تھے اور ہم سے کوئی اسے پہچانتا نہیں تھا وہ آکر نبی (ﷺ) کے سامنے دو زانوں ہو کر بیٹھ گیا اور اپنی ہتھیلیوں کو اپنی رانوں پر رکھتے ہوئے عرض کی مجھے ایمان کے متعلق بتائیے آپ نے فرمایا کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے۔“ مسائل : 1۔ مسلمانوں کو اللہ، اس کے رسول، قرآن مجید اور آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنا چاہیے۔ 2۔ کامل ایمان ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ، ملائکہ، کتب آسمانی، رسولوں اور قیامت کا انکار کرنے والا پرلے درجے کا گمراہ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : ایمان کے بنیادی ارکان : 1۔ غیب پر ایمان لانا۔ (البقرۃ:1) 2۔ قرآن مجید اور پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ:4) 3۔ اللہ اور کتب سماوی پر ایمان لانا۔ (البقرۃ:136) 4۔ آخرت پر یقین رکھنا۔ (البقرۃ:4) 5۔ انبیاء پر ایمان لانا اور ان میں فرق نہ کرنا۔ (آل عمران :84) 6۔ رسولوں اور مومنوں کے ایمان کی تفصیل۔ (البقرۃ:285) 7۔ فرشتوں اور رسولوں سے دشمنی اللہ سے دشمنی کرنا ہے۔ (البقرۃ:98) 8۔ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے درمیان فرق نہ کرنا۔ (النساء :151) النسآء
137 فہم القرآن : ربط کلام : ایمان کے بعد کفر اور پھر کفر پر ڈٹ جانے والا ہدایت اور بخشش کا مستحق نہیں رہتا۔ اس آیت کا مفہوم مفسرین نے دو طرح اخذ کیا ہے۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ اس آیت کے مخاطب یہود ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے اور انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنالیا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے اعتکاف کے بعد طور پہاڑ سے نیچے اترے تو ان کے سمجھانے پر یہودی دوبارہ ایمان لائے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے تو انہوں نے ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا اور پھر کفر میں یہ آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ نبی آخرالزمان (ﷺ) کے بھی منکر ہوئے۔ دوسری جماعت کا کہنا ہے کہ ایمان کے بعد کفر اختیار کرنا پھر ایمان لانا اور اس کے بعد ایسا کفر اختیار کرنا کہ اس میں سخت سے سخت ہوتے گئے۔ ان سے مراد منافق ہیں جو ہمیشہ کفرو نفاق کی کشمکش میں رہتے ہیں۔ اس آیت کا یہی مفہوم لینا زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہاں مسلسل آٹھ آیات میں منافقوں کے کردار کو نمایاں کیا گیا ہے کہ وہ دنیا کے مفاد کی خاطر کبھی اسلام کی طرف آتے ہیں اور کبھی کفر میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نہ معاف کرتا ہے اور نہ ہی صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے کیونکہ ہدایت کے لیے اخلاص اور استقامت نہایت ضروری ہے۔ مگر منافقین دنیا کے مفاد کی خاطر دونوں کو اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ مرتد کو دنیا میں ہی قتل کردینے کا حکم ہے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہٗ فَاقْتُلُوْہُ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، باب لایعذب بعذاب اللّٰہ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا جس نے اپنا دین تبدیل کرلیا اسے قتل کردو۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ کَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ وَکَانَ یَکْتُبُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ () فَانْطَلَقَ ھَارِبًا حَتّٰی لَحِقَ بِأَھْلِ الْکِتَابِ قَالَ فَرَفَعُوْہُ قَالُوْا ھٰذَا قَدْ کَانَ یَکْتُبُ لِمُحَمَّدٍ فَأُعْجِبُوْا بِہٖ فَمَالَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللّٰہُ عُنُقَہٗ فِیْھِمْ فَحَفَرُوْا لَہٗ فَوَارَوْہُ فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْھِھَا ثُمَّ عَادُوْا فَحَفَرُوْا لَہٗ فَوَارَوْہُ فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْھِھَا ثُمَّ عَادُوْا فَحَفَرُوْا لَہٗ فَوَارَوْہُ فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْھِھَا فَتَرَکُوْہُ مَنْبُوْذًا) [ رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین وأحکامھم، باب ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے بنی نجار قبیلے کا ایک آدمی تھا جو سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران پڑھ چکا تھا اور رسول اللہ (ﷺ) کے پاس کتابت کیا کرتا تھا۔ بھاگ کر اہل کتاب کے ساتھ جاملا۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے یہ کہتے ہوئے اسے مقام دیا کہ یہ محمد (ﷺ) کا کاتب تھا تو وہ اس وجہ سے متعجب ہوئے کچھ ہی عرصے بعد اللہ تعالیٰ نے ان میں ہی اس کی گردن توڑ دی۔ انہوں نے گڑھا کھود کر اسے دفن کیا صبح زمین نے اسے باہر پھینکا ہوا تھا۔ انہوں نے پھر گڑھا کھود کر اسے دفن کیا زمین نے اسے پھر باہر پھینک دیا پھر انہوں نے گڑھا کھود کر دفنایا زمین نے پھر اسے باہر پھینک دیا پھر انہوں نے اسے باہر ہی رہنے دیا۔“ مسائل : 1۔ بار بار کفر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نہ معاف کرتا ہے اور نہ ہی انہیں ہدایت دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : ہدایت اور بخشش سے محروم لوگ : 1۔ ظالموں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (البقرۃ:258) 2۔ مرتدین ہدایت و بخشش سے محروم ہوں گے۔ (النساء :137) 3۔ کافروں کو معافی اور ہدایت نہیں دی جاتی۔ (النساء :168) 4۔ فاسقوں کو ہدایت سے نہیں نوازا جاتا۔ (المائدۃ:108) 5۔ جھوٹوں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (الزمر :3) 6۔ مشرک اللہ کی ہدایت سے محروم ہوتا ہے۔ (النساء :48) النسآء
138 فہم القرآن : ربط کلام : منافق کفر اور ایمان کے درمیان رہتا ہے لیکن آخر میں اس کا انجام کفر پر ہوتا ہے۔ پہلے پارے کے دوسرے رکوع کی تفسیر میں واضح کیا جاچکا ہے کہ منافق کا لفظ نفق سے نکلا ہے۔ جس کا معنی ہے چوہے کی ایسی بل جس کے دو منہ ہوں۔ جب تک دونوں طرف سے بل بند نہ کی جائے چوہا قابو نہیں آسکتا۔ یہی حالت منافق کی ہوتی ہے اسے مسلمانوں کی طرف سے فائدہ ہو تو اسلام اسلام کرتا ہے اگر کفار کی طرف سے فائدہ پہنچنے کی امید ہو تو ان کا طرف دار ہوجاتا ہے۔ گویا کہ منافق عقیدے کے اعتبار سے کذّاب، کردار کے لحاظ سے دغا باز اور اخلاق کے حوالے سے مکّار اور مفاد پرست ہوتا ہے۔ اگلی آٹھ آیات میں منافق کی آٹھ بد ترین عادتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس بنا پر اسے خوفناک عذاب کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ (1) بار بار کفر اختیار کرنا۔ (2) مسلمانوں کی کامیابی کا مخالف ہونا اور کفار سے دلی ہمدردی رکھنا۔ (3) ایمان میں ہمیشہ متذبذب رہنا۔ (4) اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کرنا اور ان کا مذاق اڑانا۔ (5) اللہ اور اس کے رسول کو دھوکہ دینے کی کوشش کرنا۔ (6) جان بوجھ کر نماز میں غفلت اور سستی اختیار کرنا۔ (7) اللہ تعالیٰ کے بجائے کفار سے عزت طلب کرنا۔ (8) نماز اور نیکی کے کام نمائش کے لیے کرنا۔ مسائل : 1۔ منافقوں کو درد ناک عذاب کی خوشخبری ہے۔ تفسیر بالقرآن : عذاب کی خوشخبری کے مستحق : 1۔ منافقین۔ (النساء :138) 2۔ کفار۔ (التوبہ :3) 3۔ گانے بجانے والا اور متکبر۔ (لقمان :7) 4۔ متکبر گنہگار و بہتان باز۔ (الجاثیۃ:8) 5۔ انبیاء اور منصف لوگوں کے قاتل۔ (آل عمران :21) 6۔ زکوٰۃ نہ دینے والے۔ (التوبہ :34) النسآء
139 فہم القرآن : ربط کلام : ان آیات میں منافقین کے کردار اور ان کے انجام کے متعلق بیان ہو رہا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق و مالک ہے اسی طرح وہ عزت و ذلّت کا بھی مالک ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اس کے حسن کردار کی وجہ سے عزت سے نوازتا ہے اور جسے چاہے اس کے گناہوں کی وجہ سے ذلت سے دوچار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بغیر نہ کوئی عزت دے سکتا ہے اور نہ ہی آدمی کو کوئی ذلیل و خوار کرسکتا ہے۔ ہر چیز اس کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ اس عقیدہ کی ترجمانی اور عزت کی طلب، ذلت سے محفوظ رہنے کے لیے آل عمران آیت 26 میں دعا سکھلائی گئی ہے۔ دعا کیجیے کہ اے کائنات کے مالک تو جسے چاہتا ہے حکومت سے سرفراز کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے اور جسے تو چاہے عزتوں سے سرفراز فرماتا اور جس کو چاہے ذلیل و خوار کردیتا ہے۔ ہر قسم کی خیر تیرے ہاتھ میں ہے۔ بلاشک تو ہر چیز پر قدرت و سطوت رکھنے والا ہے۔ لیکن منافق کا حال یہ ہے کہ وہ دنیا کی عزت کی خاطر کافر اور بے ایمان شخص سے بھی عزت کا طالب ہوتا ہے۔ اس کی کاسہ لیسی اور چاپلو سی کرتا ہے چاہے اسے اپنی غیرت اور ایمان کا سودا کرنا پڑے حالانکہ ہر قسم کی عزت و رفعت اللہ ذوالجلال کے ہاتھ میں ہے۔ مسائل : 1۔ ہر قسم کی عزت اللہ کے اختیار میں ہے۔ 2۔ کفار کو دوست نہیں بنانا چاہیے۔ تفسیربالقرآن : عزت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے : 1۔ عزت اللہ کے پاس ہے۔ (فاطر :10) 2۔ عزت اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے۔ (المنافقون :8) 3۔ اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے۔ (آل عمران :26) النسآء
140 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافق اور برے لوگوں کی مجالس کے بارے میں اسی سورت کی آیت 114میں نشان دہی کی گئی ہے کہ ان کی اکثر مجلسیں خیر اور نیکی کے کام سے خالی ہوتی ہیں۔ وہاں ایسی مجالس سے اجتناب کا اشارہ دیا گیا تھا اور یہاں واضح حکم دیا ہے کہ جب تم کسی مجلس میں اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار اور مذاق ہوتا ہوا سنو۔ تو ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے وہاں سے اٹھ جاؤ۔ (الانعام :68) سوائے اس کے کہ تمہارے سمجھانے یا تمہاری حاضری کا احساس کرکے وہ لوگ اس قسم کی گفتگو ترک کردیں جس کا مطلب ہے کہ سماجی، معاشرتی ضرورت کے تحت ایسے لوگوں کی مجلس میں بیٹھنا گناہ نہیں لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا دیکھو اور بیٹھے رہو۔ تو تم بھی ان جیسے شمار ہوگے۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے منافقین اور کفار کو ڈھیل دے رکھی ہے لیکن جہنم میں ان سب کو اکٹھا کردیا جائے گا۔ کیونکہ دنیا میں کافر اور منافق حقیقتًا ایک جیسا کردار اور عقیدہ رکھتے تھے لہٰذا قیامت میں ان کا انجام اور مقام جہنم ہوگا۔ دوسرے مقام پر فرمایا کہ منافق جہنم کے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ (النساء :145) مسائل : 1۔ جس مجلس میں اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار اور مذاق کیا جارہا ہو اس میں بیٹھنا کفر و استہزاء کا ساتھ دینا ہے۔ تفسیر بالقرآن : بری مجالس کا بائیکاٹ کرو : 1۔ جہاں اللہ کی آیات سے مذاق ہو وہاں نہ جاؤ۔ (الانعام :68) 2۔ دین کو کھیل تماشا بنانے والوں کو چھوڑ دو۔ (الانعام :70) 3۔ سازشیوں کی مجلسیں اچھی نہیں ہوتیں۔ (النساء :114) النسآء
141 فہم القرآن : ربط کلام : منافق ابن الوقت اور مفاد کا بندہ ہوتا ہے اس لیے کافر اور مسلمان کا ساتھ دینے میں مخلص نہیں ہوتا۔ اپنے مفاد کا غلام ہونے کی وجہ سے وہ اس انتظار میں ہوتا ہے کہ جدھر سے اسے فائدہ پہنچے وہ اس فریق کے ساتھ اپنی رفاقت اور ہمدردی کا اظہار کردے۔ رسول محترم (ﷺ) کے زمانہ کے منافقوں کی یہی حالت تھی۔ غزوۂ احد کے موقع پر مسلمانوں سے الگ ہو کر کفار کی تقویّت کا باعث بنے اور فتح مکہ کے وقت مسلمانوں کی قوت دیکھ کر ان سے وفا کا دم بھرتے رہے۔ جب بھی صحابہ کرام (رض) کو اللہ تعالیٰ کے فضل وکر م سے کامیابی حاصل ہوتی تو وہ اپنی نمازوں اور ظاہری مسلمانی کا واسطہ دے کر یقین دہانی کرواتے کہ ہم ذاتی مجبوریوں اور جماعتی مصلحت کی خاطر کفار کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ جبکہ ہمارا اٹھنا بیٹھنا تمہارے ساتھ ہے لیکن جوں ہی کفار کا پلڑا بھاری دیکھتے ہیں تو انہیں اعتماد دلاتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھی ہیں۔ حقیقت میں ہم ہی نے تمہیں مسلمانوں سے بچایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو انتباہ کررہا ہے کہ دنیا میں تمہیں مہلت دی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے تم مسلمانوں اور کافروں کے ساتھ خلط ملط ہوئے رہتے ہو۔ قیامت کے دن کھرے اور کھوٹے کو الگ الگ کر کے ان کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ منافقوں کو مومنوں پر ہرگز فوقیت نہیں دے گا۔ آیت کے آخر میں منافق کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے کافر کا لفظ استعمال فرما کر واضح کیا ہے کہ یہ لوگ حقیقتاً کافر ہیں۔ اس آیت کے آخری الفاظ کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اے مومنو! پورے اخلاص اور استقامت کے ساتھ ڈٹے رہو۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی ایسے حالات پیدا کرے گا کہ منافق مسلمانوں کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے۔ چنانچہ غزوۂ تبوک کے موقعہ پر منافقوں کو آپ سے سر عام معافی مانگنا پڑی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا : ﴿یَعْتَذِرُوْنَ إِلَیْکُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَیْھِمْ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَکُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰہُ مِنْ أَخْبَارِکُمْ وَ سَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَ رَسُوْلُہ‘ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّھَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ سَیَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ لَکُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَیْھِمْ لِتُعْرِضُوْا عَن ھُمْ فَأَعْرِضُوْا عَنْھُمْ إِنَّھُمْ رِجْسٌ وَّ مَاْوٰ ھُمْ جَھَنَّمُ جَزَآءً بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْن یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْھُمْ فَإِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ﴾ [ التوبۃ: 94تا96] ” جب تم ان کے پاس آؤ گے وہ تمہارے سامنے معذرت کریں گے۔ ان سے کہہ دیجیے بہانے نہ بناؤ ہم تمہاری باتوں پر یقین نہیں کریں گے کیونکہ اللہ نے ہمیں تمہارے حالات بتلا دیے ہیں اور آئندہ بھی اللہ اور اس کا رسول تمہارے کام دیکھ لیں گے پھر تم ایسی ذات کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے سب حالات جانتا ہے وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے۔“ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں ایک دفعہ میں نے رسول اللہ (ﷺ) سے اجازت چاہی کہ میں عبداللہ بن ابی کو قتل کروں لیکن آپ نے مجھے یہ فرما کر منع کیا کہ اس طرح لوگ کہیں گے کہ محمد (ﷺ) نے اپنے ساتھیوں کو قتل کروانا شروع کردیا ہے۔ چنانچہ تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ آپ کی حکمت عملی کا یہ نتیجہ نکلا کہ منافقین ہمارے سامنے بے بس ہوگئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کا وعدہ دنیا میں ہی پورا ہوا۔ [ البدایۃ والنہایۃ] مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کفار کو مومنوں پر ہرگز فوقیت نہیں دے گا۔ 2۔ مسلمان فتح حاصل کریں تو منافق ان کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ 3۔ کفار فاتح بنیں تو منافق ان کے ساتھ ہمدری کا اظہار کرتے ہیں۔ 4۔ قیامت کو اللہ تعالیٰ سب کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن : مسلمانوں کی کفار پر بالا دستی : 1۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہو سکتے۔ (السجدۃ:18) 2۔ مومن اور کافر برابر نہیں ہیں۔ (الانعام :122) 3۔ مومن کافروں سے سربلند ہیں۔ (آل عمران :55) 4۔ متقین قیامت کو سربلند ہوں گے۔ (البقرۃ:212) النسآء
142 فہم القرآن : (آیت 142 سے 143) ربط کلام : منافقین کا کردار اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں۔ آدمی جب مسلسل دھوکہ اور فراڈ کرنے کا روّیہ اختیار کرلے اور اس پر اس کی گرفت نہ ہو تو شیطان اس کے دل میں یہ خیال اور دلیری پیدا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات اس قدر نا پسند ہوتی تو مجھے ایسا کرنے کی اجازت اور طاقت نہ دیتا۔ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی مہلت دینے کے اصول کو بھول جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے گھناؤنے کردار میں آگے ہی بڑھتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت اس کے لیے خود فریبی اور دھوکے کا باعث بنتی ہے اس مہلت کو وہ شخص اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے کے مترادف سمجھتا ہے حالانکہ مکڑی کے جالے کی طرح خود ہی اس میں پھنسا رہتا ہے۔ نماز میں سستی اور غفلت جسمانی کمزوری اور ذہنی پریشانی کی وجہ سے ہو تو اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ رسول اللہ (ﷺ) نے نماز میں جمائیاں لینے کو شیطانی عمل قرار دے کر اسے روکنے کا حکم دیا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ () قَال التَّثَاؤُبُ فِی الصَّلَاۃِ مِنَ الشَّیْطَانِ فَإِذَا تَثَائَبَ أَحَدُکُمْ فَلْیَکْظِمْ مَااسْتَطَاعَ) [ رواہ الترمذی : کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی کراھیۃ التثاؤب فی الصلاۃ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا نماز میں جمائی شیطان کی طرف سے آتی ہے جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ پوری کوشش سے اسے روکے۔“ نبی محترم (ﷺ) کا سستی سے پناہ مانگنا : (عَنْ أَنَسٍ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ () کَانَ یَدْعُوْ یَقُوْلُ اللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْھَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات، باب ماجاء فی جامع الدعوات] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ! میں تجھ سے سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخیلی، مسیح الدجال کے فتنے اور عذاب قبر سے پناہ چاہتاہوں۔“ فطری سستی اور غفلت منافقت کے زمرہ میں نہیں آتی۔ منافق تو جان بوجھ کر نماز میں لاپرواہی اور غفلت اختیار کرتا ہے کیونکہ اس کے دل میں اخلاص کے بجائے کھوٹ ہوتا ہے۔ اسی سبب وہ اپنے اعتقاد اور عمل کے حوالہ سے اسلام کے بارے میں متذبذب رہتا ہے۔ نہ مسلمانوں سے مخلص ہوتا ہے اور نہ پوری طرح کفار کے ساتھ ہوتا ہے۔ کافر اور گنہگار کے لیے توبہ کی چار شرطیں ہیں (1) آئندہ گناہ کرنے سے رکنے کا عہد (2) سابقہ گناہوں کی معافی طلب کرنا (3) گناہ پر شرمندگی اور ندامت (4) اگر کسی کا حق ضبط کیا ہو تو ادا کرے۔ جبکہ منافق کی توبہ کے لیے مزید دو شرائط رکھی گئی ہیں کہ توبہ اور اصلاح کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ایمان باللہ پر اخلاص کے ساتھ استقامت اور اپنے دین میں مخلص ہوجائے۔ (عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ الْأَنْصَارِیِّ (رض) أَنَّہٗ قَالَ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () نَھٰی فِی الصَّلٰوۃِ عَنْ ثَلَاثٍ نَقْرِ الْغُرَابِ وَافْتِرَاش السَّبُعِ وَأَنْ یُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَقَامَ الْوَاحِدَ کَإِیْطَانِ الْبَعِیْرِ) [ مسند احمد : کتاب مسند المکیین، باب زیادۃ فی حدیث عبدالرحمن بن شبل] ” حضرت عبدالرحمن بن شبل انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے نماز میں تین کاموں سے منع کیا۔ (1) کوے کی طرح ٹھونگیں مارنا (2) درندے کی طرح بازو بچھانا۔ (3) اور اونٹ کی طرح ایک جگہ کو پکڑے رکھنا۔“ مسائل : 1۔ منافق دھوکہ باز اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور ذکر سے جی کترانے والا ہوتا ہے۔ 2۔ منافق کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ 3۔ منافق نماز میں جان بوجھ کر سستی کرتا ہے۔ 4۔ منافق دکھلاوے کے لیے نیک عمل کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : منافقین کی نماز : 1۔ نماز میں سستی۔ (الماعون :5) 2۔ نماز میں ریا کاری۔ (الماعون :6) النسآء
143 النسآء
144 فہم القرآن : (آیت 144 سے 145) ربط کلام : کفار کے کفر اور منافقین کے گھناؤنے کردار کی وجہ سے قرآن مجید مسلمانوں کو بار بار حکم دیتا ہے کہ ان کے ساتھ قلبی دوستی سے اجتناب کیا جائے کیونکہ یہ غیرت ایمانی اور ملّی مفاد کے خلاف ہے۔ کفار اور منافقین کے ساتھ معاشرتی، سیاسی اور کاروباری تعلقات رکھے جاسکتے ہیں لیکن انہیں اپنا ہمدرد اور خیر خواہ سمجھنا مسلمانوں کا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا کیونکہ یہ ملت اسلامیہ کے نقصان کے خواہاں، اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں جس کا مشاہدہ میدان احد سے لے کر ہر دور میں کیا گیا ہے۔ 2003 ء میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کا فیصلہ کیا تو ابتداء میں روس سمیت کئی ملکوں نے مخالفت کی لیکن جونہی امریکہ نے انہیں مفادات کا لالچ دیا تو روس عراق کا پرانا حلیف ہونے کے باوجود امریکہ کے ساتھ کھڑا ہوا۔ اس طرح پوری دنیا کا کفر مسلمانوں کے خلاف متحد ہوگیا۔ جب مسلمان کسی نکتہ پر اکٹھا ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو کفار مسلمانوں کو تنگ نظری کا طعنہ دیتے ہیں حالانکہ ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم 1939 میں برطانیہ نے اپنے کئی شہریوں کو اس لیے حراست میں رکھا تھا کہ ان کے تعلقات جرمن قوم کے ساتھ پائے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ متحدہ ہندوستان کے وائسرائے لارڈ مونٹ بیٹن کا والد جو برطانوی بحری فوج کا اعلیٰ افسر تھا اسے بھی زیر حراست رکھا گیا کیونکہ وہ جاپان نژ اد تھا۔ حتی کہ جرمنوں کے ساتھ اس جنگ میں امریکہ نے اپنے ملک میں بعض لوگوں کے ساتھ بھی یہی رویّہ اختیار کیا جب کہ اسلام کفار کے ساتھ دلی دوستی اور کفار کو مسلمانوں سے مقدم سمجھنے کے سوا ان کے ساتھ سیاسی معاشرتی اور کاروباری تعلقات رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ مسائل : 1۔ کفار کو دوست بناکر ایمانداروں کو اپنے خلاف حجّت قائم نہیں کرنی چاہیے۔ 2۔ منافق جہنم کے نچلے طبقہ میں ہوں گے اور کوئی ان کی مدد نہیں کرسکے گا۔ النسآء
145 النسآء
146 فہم القرآن : (آیت 146 سے 147) ربط کلام : کفر اور منافقت سے سچی توبہ اور اپنے کیے کی اصلاح کرنے والوں کے لیے اجر عظیم کا وعدہ اور اس بات کی وضاحت کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے کفر پر نہیں شکر پر راضی ہوتا ہے کیونکہ وہ مومنوں اور شکر گزاروں کا قدر دان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی انتہا ہے کہ منافقوں کا کردار اور ان کا انجام ذکر کرنے کے باوجود ان کے لیے نہ صرف توبہ اور بخشش کا دروازہ کھلا رکھا بلکہ انہیں توبہ کرنے کی صورت میں انعام و اکرام اور مومنوں کی رفاقت کی خوشخبری سنائی ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مومنوں کے ساتھ اجر عظیم سے سرفراز کرے گا اور تمہارے اعمال و خدمات کی قدر افزائی کی جائے گی بشرطیکہ گناہوں پر اصرار کرنے کے بجائے توبہ کرو، فساد اور بگاڑ کی جگہ اپنی اصلاح کرتے ہوئے مومنوں کا ساتھ دو، متذبذب رہنے اور ابن الوقت بننے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان کا مضبوط رشتہ قائم کرکے اس کی رضا کے لیے اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ۔ تمہارے عمل اور اخلاص کو نہایت ہی نظر استحسان سے دیکھا اور تمہیں بے پناہ اجر دیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سزا دینے کی بجائے جزا دینا زیادہ پسند کرتا ہے بشرطیکہ وہ تسلیم و رضا کا رویہ اختیار کریں۔ بندے کا شکریہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور نعمتوں پر دل سے مطمئن ہو، زبان سے شکرو اعتراف کرے اور اپنے عمل سے محسن حقیقی کا اطاعت گزار بن کر رہے۔ اللہ تعالیٰ کے شاکر ہونے سے مراد بندے کی حقیر اور ناچیز اطاعت کی قدر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اللہ تعالی کا بندے کی قدر افزائی کرنا: (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِّنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَّلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ فَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ فُلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا جو آدمی کھجور کے برابر اپنی حلال کمائی سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ کے ہاں صرف پاک چیز ہی قبول ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول کرکے اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر اس کو اس طرح پالتا اور بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی بچھڑے کو پالتا ہے حتیٰ کہ صدقہ پہاڑکی مانند ہوجاتا ہے۔“ توبہ کا فائدہ : (اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لاَّ ذَنْبَ لَہٗ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزھد، باب ذکر التوبۃ] ” گناہ سے توبہ کرنے والا گناہ نہ کرنے والے کی طرح ہے۔“ مسائل : 1۔ توبہ اور اپنی اصلاح کرنے اور اللہ سے تعلق مضبوط رکھنے والے مومن کو اجر عظیم دیا جائے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو عذاب دے کر خوش نہیں ہوتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور شرک سے بچنے والے کی قدر افزائی کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اخلاص فی الدّین : 1۔ پہلے لوگوں کو اخلاص کا حکم۔ (البینۃ:5) 2۔ نبی (ﷺ) کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کا حکم۔ (الزمر :11) 3۔ سب کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کا حکم۔ (المومن :65) 4۔ نبی کریم (ﷺ) کو مخلص لوگوں کے ساتھ رہنے کی ہدایت۔ (الکہف :28) النسآء
147 النسآء
148 فہم القرآن : (آیت 148 سے 149) ربط کلام : سابقہ آیات میں منافقوں کی دین اور مسلمانوں کے بارے میں ہرزہ سرائی اور نماز میں جان بوجھ کر غفلت اختیار کرنے کی سزا بیان کرنے کے بعد تائب ہونے والوں کو قدر افزائی کا مژدہ سنایا۔ ہرزہ سرائی سے باز نہ آنے والوں کی ایذا رسانی کے مقابلے میں مومنوں کو ایک حدتک ان کے خلاف لب کشائی کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ بد اخلاقی کے مقابلے میں بھی بدخلقی کو پسند نہیں کرتا لیکن انسان کمزور اور کم حوصلہ واقع ہوا ہے اس لیے دشمن کی ایذا رسائی کے مقابلہ میں مظلوم اور دکھیارے مسلمانوں کو اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کو آشکار اکر سکیں تاکہ مظلوم کے ردّ عمل اور معاشرے کے اخلاقی دباؤ کی وجہ سے ظالم اپنے آپ میں شرمندگی محسوس کرتے ہوئے ظلم سے باز آ جائے۔ دکھی انسان کو اس لیے بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ غم میں اس کا دم گھٹنے نہ پائے اور اظہار غم سے اس کا دکھ ہلکا اور جذبات ٹھنڈے ہوجائیں۔ مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور ان کے شاگرد رشید حضرت قتادہ (رض) کا قول ہے کہ اس فرمان میں مظلوم کو ظالم کے خلاف بد دعا کرنے کا مکمل حق دیا گیا ہے اور یہ بھی اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنی بپتادوسروں کو سنائے اور ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرسکے۔ البتہ احتجاج کرتے ہوئے کسی مظلوم کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اخلاقی حدوں سے تجاوز کرتے ہوئے ظلم کی حدود میں داخل ہوجائے کیونکہ قرآن کا طے شدہ اصول ہے۔ تاہم مظلوم کو بد زبانی کے مقابلہ میں لب کشائی کا حق دینے کے باوجود بردباری اور حوصلہ مندی کا سبق دیا ہے کہ تم اعلانیہ معاف کرو یا دل ہی دل میں اس تکلیف کی ٹیس کو برداشت کرو۔ اگر یہ نہیں ہو سکتاتو درگزر سے کام لینا چاہیے۔ اس سے برائی بڑھنے کی بجائے دب جائے گی اور یہ اس لیے بھی بہتر ہے کہ جو لوگ منافقوں اور ان کی سازشوں کو نہیں جانتے وہ یہ پروپیگنڈہ بھی نہ کرسکیں گے کہ مسلمان آپس میں دست وگریبان ہیں جس سے مسلمانوں کی ساکھ اور وقار کو دھچکا لگنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ایک موقعہ پر حضرت عمر (رض) نے عبداللہ بن ابی کی شرارتوں اور سازشوں سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے رسول کریم (ﷺ) سے اجازت طلب کی تھی کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں عبداللہ بن ابی کا سر قلم کردوں لیکن آپ (ﷺ) نے یہ کہہ کر منع فرمایا کہ لوگ کہیں گے (اِنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ اَصْحَابَہٗ)[ رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ، بَاب نَصْرِ الْأَخِ ظَالِمًا ...]” کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔“ معافی اور درگزر کا سبق دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی چار صفات کا ذکر فرمایا ہے کہ تمہارا رب سب کچھ سننے اور جاننے کے باوجود لوگوں کو معاف کرنے والاہے۔ اس لیے اللہ والوں کی یہ شان ہونی چاہیے کہ وہ ظلم کا بدلہ لینے کی طاقت رکھنے کے باوجود لوگوں کو معاف کرنے کی عادت اپنائیں۔ سننے اور جاننے کی صفت بیان فرما کرظالم اور مظلوم کو آگاہ کیا ہے کہ ظالم کا ظلم اور مظلوم کی مظلومیت اللہ سے پوشیدہ نہیں اس میں ظالم کو انتباہ اور مظلوم کو ایک گنا تسلی دی گئی ہے۔ (قِیْلَ نَزَلَتِ الْآیَۃُ فِیْ أَبِیْ بَکَرٍ (رض)، فَإِنَّ رَجُلاً شَتَمَہٗ فَسَکَتَ مِرَاراً، ثُمَّ رَدَّ عَلَیْہِ فَقَام النَّبِیُّ ()، فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ شَتَمَنِیْ وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَیْہِ قُمْتَ، قَالَ إِنَّ مَلِکًا کَانَ یُجِیْبُ عَنْکَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَیْہِ ذَہَبَ ذٰلِکَ الْمَلَکُ وَجَاء الشَّیْطَانْ، فَلَّمْ أَجْلِسُ عِنْدَ مُجِیْءِ الشَّیْطَانِ) (تفسیر الرازی) ” ایک موقعہ پر حضرت ابو بکر صدیق (رض) سے ایک شخص بد زبانی کر رہا تھا تنگ آکر جناب ابو بکر صدیق (رض) نے اس جیسی زبان استعمال کی تو نبی (ﷺ) نے فرمایا کہ تم صبر اور درگزر کر رہے تھے تو تمہاری طرف سے ایک فرشتہ جواب دے رہاتھا جب تم نے اس کا جواب دیاتو اس کی جگہ اب شیطان آ گیا ہے۔“ (رازی) آپ (ﷺ) کا فرمان ہے : (لَیْسَ الشَّدِید بالصُّرَعَۃِ إِنَّمَا الشَّدِیدُ الَّذِی یَمْلِکُ نَفْسَہُ عِنْدَ الْغَضَبِ) [ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب الحذر] ” قوی اور طاقت ور وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ بری بات کو پسند نہیں کرتا۔ 2۔ مظلوم کی زبان سے نکلی ہوئی بری بات پر کوئی مؤ ا خذہ نہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے والا اور جاننے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرنے پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کس بات کو پسند نہیں کرتا : 1۔ اللہ تعالیٰ بے حیائی کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء :22) 2۔ اللہ تعالیٰ فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء :36) 3۔ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء :107) 4۔ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (المائدۃ:64) 5۔ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (الانعام :142) 6۔ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (النحل :23) 7۔ اللہ تعالیٰ اترانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ القصص :76) 8۔ اللہ تعالیٰ کفر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (الروم :45) 9۔ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (الشوریٰ :40) النسآء
149 النسآء
150 فہم القرآن : (آیت 150 سے 151) ربط کلام : منافقوں کے بعد کفار کی ایک اور قسم اور ان کے کفر کا بیان۔ یہاں کفار کے ایسے کفر کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے کچھ لوگ مخلص مسلمانوں کو مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نبی آخر الزمان (ﷺ) یا کسی ایک نبی کا انکار کرتا ہے تو اسے اسلام سے خارج نہیں سمجھنا چاہیے ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ ایمان کا پہلا اور آخری تقاضا یہ ہے کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا حکم تسلیم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے جس ایمان کا انسان سے مطالبہ کیا ہے اس کے کئی اجزاء ہیں جسے شرعی اصطلاح میں ایمان مفصّل کہا جاتا ہے جب تک ایمان کے تمام اجزاء کو تسلیم نہیں کیا جاتا کسی آدمی کو ایمان دار کہلوانے کا حق نہیں پہنچتا۔ ایمان کے تین بنیادی اجزاء ہیں ایمان باللہ، ایمان بالرسالت اور ایمان با لآخرت۔ یہ مجمل ایمان ہے باقی اجزاء اس کی تفصیل ہیں یہاں ایمان کے دوسرے بنیادی جزء یعنی ایمان بالرسالت کی تفصیل بیان ہوئی ہے کہ جو شخص کچھ انبیاء کو مانتا ہے اور کچھ یا کسی ایک کا انکار کرتا ہے اس کا ایمان نہ صرف قابل قبول نہیں بلکہ وہ حقیقت میں پکا کافر ہے۔ اس لیے کہ تمام کے تمام انبیاء ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے فرستادہ اور ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرنے والے تھے کسی ایک نبی کے منکر کو اس لیے بھی ایماندار تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ ہر نبی اور اس کی تعلیمات رسالت مآب (ﷺ) کی تصدیق کرتی ہیں لیکن انکار کرنے والا محض ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنیاد پر نبی آخر الزماں (ﷺ) یا کسی نبی کا انکار کرتا ہے یہ احمقانہ بات ہے اور اسلام ایسی حماقت کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ اسی بنیاد پر یہودی اور عیسائی کافر قرار پاتے ہیں کیونکہ یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان حضرت محمد (ﷺ) کو نبی نہیں مانتے اور عیسائی رسالت مآب (ﷺ) کے منکر ہیں۔ کفر کی دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص قرآن کو مانتا ہے لیکن مستند حدیث کو یہ کہہ کر رد کرتا ہے کہ بس ہمیں قرآن ہی کافی ہے۔ ایسا شخص اللہ اوراُسکے رسول کے فرامین کے درمیان تفریق پیدا کرتا ہے۔ جو اللہ اور اسکے رسول کے درمیان تفریق ڈالنے کے مترادف ہے۔ ایسا عقیدہ رکھنے و الا شخص بھی دائرہ اسلام سے خارج تصور ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو صحیح طور پر سمجھنے اور ان پر کما حقہ عمل کرنے کے لیے نبی آخرالزمان (ﷺ) کو مبعوث کیا گیا ہے جس کی عملی تفسیر نمونہ حدیث ہے۔ جو رسول (ﷺ) کی تفسیر اور آپ کی سنت نہیں مانتا اسے کیونکر مسلمان تسلیم کیا جائے؟ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان میں تفریق کرتے ہیں وہ کافر ہیں۔ ان کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب تیار کیا گیا ہے۔ (عَنْ أَبِی رَافِعٍ (رض) وَغَیْرِہٖ رَفَعَہُ قَالَ لَا أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ مُتَّکِئًا عَلَی أَرِیکَتِہٖ یَأْتِیہٖ أَمْرٌ مِمَّا أَمَرْتُ بِہِ أَوْ نَہَیْتُ عَنْہُ فَیَقُولُ لاَ أَدْرِی مَا وَجَدْنَا فِی کِتَاب اللَّہِ اتَّبَعْنَاہُ) [ روا ھ الترمذی : کتاب العلم] ” حضرت ابورافع (رض) ان کے علاوہ اور صحابہ کرام (رض) بھی اس حدیث کو نبی اکرم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ (ﷺ) نے فرمایا میں تم سے کسی کو اس طرح نہ پاؤں کہ اس کے پاس میرا کوئی فرمان آئے جس میں کسی چیز کا حکم یا کسی کام سے منع کیا گیا ہو تو وہ کہے میں اسے نہیں جانتا ہم تو فقط اس کی پیروی کریں گے جو اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔“ مسائل : 1۔ کسی ایک نبی کا انکار کرنا دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے مترادف ہے۔ 2۔ اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات میں تفریق کرناکفر ہے۔ 3۔ کافروں کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : تفریق سے بچنا چاہیے : 1۔ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے درمیان تفریق جائز نہیں۔ (النساء : 80۔150) 2۔ مومن انبیاء کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ (البقرۃ:285) 3۔ دین کو قائم کرو اور تفریق میں نہ پڑو۔ (الشوریٰ:13) 4۔ مومن پہلی کتب آسمانی پر ایمان لاتے ہیں۔ (البقرۃ:4) 5۔ بہت سے راستوں کی اتباع نہ کرو ورنہ تفریق میں پڑجاؤ گے۔ (الانعام :154) 6۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو پکڑ لو اور تفریق سے بچو۔ ( آل عمران :103) 7۔ تفریق اور اختلاف کرنے والوں کی طرح نہ ہوجاؤ۔ (آل عمران :105) 8۔ مومن سب انبیاء پر ایمان لاتے ہیں۔ (البقرۃ:285) النسآء
151 النسآء
152 فہم القرآن : ربط کلام : منافقین اور کفار کا ذکر کرنے کے بعد سچے اور پکے مسلمان کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ ایمان کامل کا یہ تقاضا ہے کہ اللہ کے تمام رسولوں پر ایمان لایا جائے کہ وہ اپنے اپنے زمانے میں اللہ کے برگزیدہ رسول تھے اور انہوں نے ٹھیک ٹھیک طریقہ سے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچایا۔ جس بنا پر مقام رسالت کے حوالے سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کیا جاسکتا۔ پہلے انبیاء پر صحیح ایمان لانے کا تقاضا تبھی پورا ہوسکتا ہے کہ جب جناب رسالت مآب محمد (ﷺ) کو آخری نبی تسلیم کیا جائے کیونکہ تمام انبیاء اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کی نبوت کا اقرار کرچکے ہیں۔ (آل عمران :81) انہوں نے اپنی اپنی امت کو یہی پیغام دیا تھا بالخصوص حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آپ کے لیے دعا کی اور آپ کی جائے نبوت کی نشان دہی فرمائی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو کہ آپ سے پہلے نبی ہیں انہوں نے بنی اسرائیل کو آپ کی تشریف آوری کی خوشخبری دی اور آپ کے اسم گرامی سے آگاہ فرمایا۔ لہٰذا جو لوگ اس طرح ایمان لائیں گے وہ اللہ کے ہاں بے حد و حساب اجر پائیں گے۔ بتقاضائے بشریت سرزد ہونے والی ان کی خطاؤں اور گناہوں کو معاف کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ ﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمِ﴾[ البقرہ :129] ” اے ہمارے رب ان میں ایک رسول بھیج جو انہی میں سے ہو وہ ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاکیزہ بنائے بلاشبہ تو غالب اور حکمت والاہے“ ﴿وَإِذْ قَالَ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیٓ إِسْرَآءِیلَ إِنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلَیْکُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَأْتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُہُ أَحْمَدُ﴾[ الصّف :6] ” اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں یقیناً تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور پہلے سے نازل شدہ تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا۔ اس کا نام احمد ہوگا۔“ ﴿وَاِذْاَخَذَاللّٰہُ مِیْثَا قَ النَّبِیّٖنَ لِمَا اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَ کُمْ رَسُوْلُ ٗ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُوْا وَاَنَامَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ﴾ [ آل عمران :81] ” اور جب اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ عہد لیا کہ اگر میں تمہیں کتاب وحکمت عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو اس کتاب کی تصدیق کرتا ہے جو تمہارے پاس ہے تمہیں لازماً ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنا ہوگی اللہ تعالیٰ نے پوچھا کیا تم اقرار کرتے ہو اور میرے اس عہد کی ذمہ داری قبول کرتے ہو ؟ انبیاء نے کہا ہم اقرار کرتے ہیں فرمایا گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں“ ( عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ () یَقُولُ إِنِّی عَبْدُ اللّٰہِ فِی أُمِّ الْکِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِیِّینَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِی طینَتِہٖ وَسَأُنَبِّئُکُمْ بِتَأْوِیلِ ذٰلِکَ دَعْوَۃِ أَبِی إِبْرَاہِیمَ وَبِشَارَۃِ عیسیٰ (علیہ السلام) قَوْمَہُ وَرُؤْیَا أُمِّی الَّتِی رَأَتْ أَنَّہُ خَرَجَ مِنْہَا نُورٌ أَضَاءَ تْ لَہُ قُصُور الشَّامِ وَکَذٰلِکَ تَرٰی أُمَّہَات النَّبِیِّینَ صَلَوَات اللّٰہِ عَلَیْہِمْ)[ رواہ احمد] ” حضرت عرباض بن ساریہ سلمی (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں قرآن مجید میں مجھے خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے اس وقت سے جب حضرت آدم (علیہ السلام) ابھی مٹی اور روح کے درمیان تھے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور اپنی والدہ ماجدہ کا خواب ہوں میری والدہ نے دیکھا کہ ان کے وجود سے ایک روشنی نکلی جس سے ملک شام کے محلات روشن ہوگئے۔ اور اسی طرح ہی انبیائے کرام (علیہ السلام) کی مائیں دیکھا کرتی تھیں۔“ مسائل : 1۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ بلا تفریق تمام انبیاء پر ایمان لایا جائے۔ 2۔ کامل ایمان والوں کے لیے بے حدو حساب اجر ہوگا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔ النسآء
153 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب موقعہ بموقعہ مختلف الفاظ اور انداز میں نبی کریم (ﷺ) کی نبوت پر اعتراض اٹھاتے رہتے تھے اسی سبب سے وہ آپ کی نبوت کا انکار اور انبیاء کے درمیان تفریق کرتے تھے جس کا سورۃ الانعام، آیت : 124میں یہ جواب دیا گیا۔ کسی کو نبوت عطا کرنا اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہوا کرتا ہے جس کے بارے وہی جانتا ہے کہ کون سے کندھے بار نبوت اٹھا سکتے ہیں اور کس کا سینہ انوار نبوت کو سما سکتا ہے اور کون سی زبان اس کا حق ادا کرسکتی ہے اہل کتاب کے اعتراض کا مقصد یہ تھا کہ نبوت ہماری بجائے اسماعیل (علیہ السلام) کے خاندان کو نہیں ملنی چاہیے تھی اب اہل کتاب اس بات کو دوسرے انداز میں پیش کرتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ اے محمد کتاب تجھ پر نازل ہوئی ہے اور ہم پر نہیں اتری۔ ہم تب ایمان لائیں گے کہ جب ہم پر کتاب نازل کی جائے اور اس میں ہمیں براہ راست ایمان لانے کی دعوت دی جائے۔ یہاں اس بیہودہ سوال کا جواب فقط اتنا ہی دیا گیا ہے کہ یہ لوگ اس سے بڑھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو لایعنی سوال کرچکے ہیں۔ جب کوہ طور سے موسیٰ (علیہ السلام) لکھی ہوئی کتاب ان کے پاس لائے تو یہ کہنے لگے کہ ہم اس کتاب کی تصدیق تب ہی کرسکتے ہیں کہ جب ہم براہ راست اللہ تعالیٰ کو خود دیکھ لیں ہمیں یقین ہو کہ واقعی ہی اللہ تعالیٰ کوہ طور پر آ کر آپ سے ہم کلامی کرتا ہے تب ان کے گستاخانہ مطالبے کی پاداش میں کڑک نے انہیں آ لیا اور وہ اس وقت مر گئے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے صلہ میں انہیں دوبارہ زندہ کیا گیا۔ (الاعراف :155) اس جواب کے ساتھ ان کے جرائم پر مشتمل درج ذیل فرد جرم عائدکر دی گئی جس میں نبی کریم (ﷺ) کو تسلی دی گئی ہے کہ ایسی باتیں کرنا ان کا پرانا وطیرہ ہے اس کے ساتھ بھی مسلمانوں کو بے مقصد سوال کرنے سے احتراز کرنے کی نصیحت کی گئی ہے اور یہود کو انتباہ کیا گیا ہے کہ باز آجاؤ تمہاری بھلائی اسی میں ہے ورنہ تمہارے آباؤ اجداد کی طرح تمہیں بھی نیست و نابود کردیا جائے گا۔ ہاں تم وہی لوگ ہو جنہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے بڑے معجزات دکھائے جن میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ کا چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنا، لاٹھی کا اژدہا بن کر جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل جانا، ملک کے جادو گر جو مصر کے چنے ہوئے دانشور تھے ان کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانا، بنی اسرائیل یعنی تمہارا بحفاظت دریا عبور کرنا، فرعون اور اس کے لشکروں کا غرقاب ہونا۔ ان عظیم معجزات کے باوجود جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور پر گئے تو تمہارا بچھڑے کو مشکل کشا اور معبود بنا ناان بڑے جرائم کے باوجودہمارا تم کو معاف کردینا۔ یہودیوں کی گستاخیاں اور بے ہودہ اعتراض : 1۔ سرور دوعالم (ﷺ) پر اعتماد اور یقین کرنے کے بجائے اپنے آپ پر کتاب نازل کیے جانے کا مطالبہ کرنا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کو براہ راست دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔ 3۔ بچھڑے کو معبود بنانا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے پختہ عہد کو توڑنا۔ 5۔ سجدہ کرنے کی بجائے کلام اللہ کو بدلنا اور تمرداختیار کرنا۔ 6۔ ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنا۔ 7۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرنا۔ 8۔ انبیاء (علیہ السلام) کو ناحق قتل کرنا۔ 9۔ تعصب اور حسد کی وجہ سے اپنے دلوں کو ملفوف قرار دینا۔ 10۔ حضرت مریم علیہا السلام پر بدکاری کا الزام لگانا۔ 11۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا دعوی کرنا۔ مسائل : 1۔ بے مقصد سوال کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا پرلے درجے کی گستاخی ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو واضح دلائل عطا فرمائے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو بار بار معاف کیا۔ تفسیر بالقرآن : یہودیوں کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبات : 1۔ ہم اللہ کو اپنے سامنے دیکھنا چاہتے ہیں۔ (البقرۃ:55) 2۔ ہم ایک کھانے پر اکتفا نہیں کرسکتے۔ (البقرۃ :61) 3۔ گائے کے بارے میں بار بار سوال کرنا۔ (البقرۃ:68) 4۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کے لیے پانی طلب کرنا۔ (البقرۃ:60) 5۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقتول کے بارے میں سوال کرنا۔ (البقرۃ:72) 6۔ قوم کا مختلف عذابوں سے نجات کے لیے درخواست کرنا۔ (الاعراف :134) النسآء
154 فہم القرآن : (آیت 154 سے 155) ربط کلام : یہودی نبی (ﷺ) کی نبوت پر ہی اعتراض اور سوال نہیں کرتے بلکہ انھوں نے ہر نبی کی ذات پر الزامات لگائے اور اس کی نبوت پر اعتراض کیے۔ ایسا کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کو براہ راست دیکھنے کا مطالبہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی چند دنوں کی غیر حاضری پر بچھڑے کو معبود بنانا اور بعدازاں اللہ تعالیٰ نے ان کے سروں پر کوہ طور منڈلاکر اس بات کا عہد لیا کہ آئندہ تورات کے احکامات پر سختی کیساتھ عمل کرتے رہوگے۔ یہاں اہل کتاب سے مراد صرف یہودی ہیں جو کوہ طور پر اللہ تعالیٰ سے پختہ اقرار کرنے کے باوجود اپنے عہد سے منحرف ہوگئے فتح ایلیاء یعنی بیت المقدس کی کامیابی کے وقت انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ تم اللہ کے حضور سجدہ کرتے اور معافی مانگتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہونا۔ لیکن انھوں نے نہ صرف استکبار اور جور واستبداد کا مظاہرہ کیا بلکہ سرے سے ہی فرمان الٰہی حِطَّۃٌ کو حِنْطَۃٌ میں تبدیل کردیا، جب انہیں ہفتہ کے دن میں عبادت کرنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے مچھلیاں پکڑنے کے لیے حیلہ بازی سے کام لیا۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی آیات کا مسلسل انکار کرنے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کو ناحق قتل کرنے کے سنگین جرم میں ملوث ہوئے، جب انہیں ان جرائم سے باز رہنے کی تلقین کی جاتی تو دنیاوی مفادات کے حصول اور طبعی رعونت کی بنا پر انبیاء اور صالحین کو جواب دیتے کہ ہمیں تمہاری باتیں سمجھ میں نہیں آتیں جسکا دوسرا معنی یہ تھا کہ تم جس قدر چاہو ہمیں سمجھاؤ۔ ہم اپنی ضد سے باز آنے والے نہیں ہیں۔ اس طرح حق کے مقابلہ میں تعصب کی انتہا کو پہنچ چکے تھے۔ جس تعصب اور رعونت پر وہ فخر کرتے تھے وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے غضب کا نتیجہ تھا۔ جس وجہ سے ان کے دلوں پر کفر کی مہریں ثبت کردی گئیں ا سی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے حضرت مریم علیہا السلام جیسی پاکدامنہ خاتون پر بد کاری کا سنگین الزام عائد کیا اور اب تک یہودی ایسی یاوا گوئی کرتے ہیں۔ اسی لیے یہودیوں میں بہت کم لوگ اسلام قبول کرتے ہیں۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو عاجزی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ 2۔ بنی اسرائیل عہد شکن قوم ہے۔ 3۔ یہودی انبیاء کے قاتل ہیں۔ 4۔ آدمی کی بار بار سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ ہی رفعت عطا کرنے والا ہے : 1۔ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کیا۔ (الرعد :2) 2۔ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی۔ (الانعام :166) 3۔ ہم نے حضرت ادریس کو اعلیٰ مقام پر اٹھایا۔ (مریم :57) 4۔ اللہ ہی درجات بلند کرنے والا ہے۔ (الانعام :83) 5۔ اللہ نے اہل علم کے درجات کو بلند فرمایا ہے۔ (المجادلۃ :11) 6۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ (النساء :158) 7۔ نیک عمل اللہ تعالیٰ کی طرف بلند ہوتے ہیں۔ (الفاطر :10) النسآء
155 النسآء
156 فہم القرآن : ربط کلام : یہودیوں کے جرائم کی فہرست جاری ہے۔ یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اس قدر تعصب کا شکار ہوئے کہ انہوں نے نہ صرف عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی سازش کی بلکہ انکی عابدہ اور عفیفہ ماں حضرت مریم علیہا السلام پر بد کاری کا الزام عائد کیا حالانکہ حضرت مریم علیہا السلام کی حیات طیبہ اور ان کے خاندان کا تقدس ضرب المثل اور شہرہ آفاق تھا۔ اس کیساتھ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ ماجدہ کی برأت کی شہادت اور اپنی نبوت کی اس وقت گواہی دی جب آپ چند دنوں کے نومولود تھے۔ اس معجزانہ اور معصومانہ گواہی کے چرچے سارے عالم میں اس طرح مشہور اور گہرے اثرات کے حامل ہوئے جس سے لوگ حضرت مریم علیہا السلام کی تقدیس و تکریم کے اس قدر معترف ہوئے کہ کوئی بدکار سے بدکار شخص بھی حضرت مریم کے بارے میں برے خیالات کا اظہار تو درکنار منفی سوچ کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن جونہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تیس سال کے بعد توحید خالص کا پرچار اور پیغمبر (ﷺ)انہ دعوت کا آغاز کرتے ہوئے یہود کے سیاسی رہنماؤں اور مذہبی پیشواؤں کو ان کی کوتاہیوں پر ٹوکا تو یہ لوگ نہ صرف عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالف ہوئے بلکہ کمینگی میں اتنا آگے بڑھے کہ حضرت مریم علیہا السلام پر بدکاری اور بے حیائی کا الزام لگایا تاکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ولد الزنا ثابت کرکے لوگوں کو ان سے متنفر کیا جائے۔ یہود کی بد زبانی اور الزام تراشی کا جواب دیتے ہوئے قرآن مجید نے نہ صرف عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ معظمہ کی برات کا اظہار فرمایا بلکہ ان کے خاندانی پس منظر 249 عظیم تقدس اور ان کے نانا حضرت عمران کی کرامات اور ان کی نانی محترمہ کی عظیم قربانی جو انہوں نے حضرت مریم کو اللہ کی عبادت کے لیے وقف کرنے کی صورت میں دی اس کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے یہ عیسائیوں پر قرآن مجید کا اتنا بڑا احسان ہے کہ جس کا وہ قیامت تک بدلہ نہیں چکا سکتے۔ مسائل : 1۔ یہودیوں کے کفر اور حضرت مریم علیہا السلام پر الزام لگانے کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہوئی۔ 2۔ حضرت مریم علیہا السلام پاکباز اور پاکدامن خاتون تھیں۔ النسآء
157 فہم القرآن : (آیت 157 سے160) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح نبی آخر الزماں (ﷺ) کو ارشاد فرمایا کہ میرے رسول بےدھڑک اپنا کام کرتے جائیے ہم آپ کو لوگوں کی سازشوں اور شرارتوں سے محفوظ رکھیں گے۔ اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ تیرے دشمن جتنی چاہیں سازشیں اور شرارتیں کرلیں وہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ میں تجھے تیرے دشمنوں سے بچاؤں گا چنانچہ یہودیوں نے جب عیسیٰ (علیہ السلام) کو تختہ دار پر لٹکانے کی کوشش کی تو جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) محصور کیے گئے تھے انہیں لینے کے لیے یہودا نامی شخص اندر گیا جس کے بارے میں قرآن مجید نے اشارہ کیا ہے کہ یہ غدّارجب باہر آیا تو اسے عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہم شکل کردیا گیا۔ قرآن مجید کی اس وضاحت کے باوجود بائبل میں لکھا ہے کہ سولی کے وقت عیسیٰ (علیہ السلام) کے چہرہ پر تھوکا گیا اور انہیں کانٹوں کا ہار پہنا کر بڑی ذلت کے ساتھ تختۂ دار پر لٹکایا گیا اگر ان روایات کو صحیح مان لیا جائے تو اس سے مراد وہ شخص ہے جو آخری وقت تک واویلا کرتا رہا کہ میں عیسیٰ نہیں یہودا ہوں۔ لیکن اس کے باوجود اسے سولی پر لٹکادیا گیا جہاں تک عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات اقدس کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں اس قدر جمال اور جلال بخشا تھا کہ کوئی شخص انکے سامنے ایسی حرکت کرنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا اور ہر آڑے و قت میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبریل امین (علیہ السلام) انکی مدد کیا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق انہیں آسمانوں پر اٹھا لیا اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اہل کتاب کے شرک اور بغاوت کے خلاف شہادت دیں گے۔ لوگوں کے تعجب کو دور کرنے اور نام نہاد دانشوروں کی دانش کو لگام دینے کے لیے ﴿عَزِیْزاً حَکِیْماً کے الفاظ کے ذریعے وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انہیں آسمان کی طرف اٹھانے اور ان کے دشمنوں سے بچانے پر قادر ہے اللہ تعالیٰ انھیں آسمان پر اٹھانے اور قیامت کے قریب زمین پر بھیجنے کاراز جانتا ہے لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع آسمانی کے بارے میں اختلاف کرنے والے صرف اٹکل پچوسے کام لے رہے ہیں۔ یہاں یہودیوں کے دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) سولی نہیں چڑھائے گئے۔ مزید ارشاد فرمایا کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے اس بات پر ایمان لائیں گے یہاں اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرب قیامت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زمین پر آمد اور انکی وفات کے وقت موجود ہوں گے۔ بعض لوگوں نے کچھ اقوال کی بنیاد پر لکھا ہے کہ ﴿قَبْلَ مَوْتِہِ﴾ سے مرادہر مرنے والا عیسائی اور یہودی ہے۔ جب یہودی اور عیسائی کو موت آتی ہے تو اس کے سامنے ایسے قرائن لائے جاتے ہیں جس سے اسے یقین آجاتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ابھی زندہ ہیں لیکن اس بات کو کسی ٹھوس دلیل کے ساتھ ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ﴿قَبْلَ مَوْتِہٖ﴾الفاظ کا حقیقی معنی احادیث کی روشنی میں متعین ہوچکا ہے۔ یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر لٹکانے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کی تائید میں عیسائیوں کی اکثریت نے اپنے مفاد کی خاطریہ عقیدہ گھڑ لیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) واقعی ہی فوت ہوچکے ہیں۔ حالانکہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے۔ یہودیوں کے دلائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزائی کہتے ہیں کہ واقعی عیسیٰ (علیہ السلام) مصلوب ہوچکے ہیں جس عیسیٰ مسیح کے دوبارہ آنے کا حدیث میں ذکر ملتا ہے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نہیں بلکہ مرزا ہے جو مسیح بن کر آ چکا ہے لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) دوبارہ نہیں آئیں گے۔ (عنَ أَبَی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنْ رَسُول اللّٰہِ () قَالَ لَا تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی یَنْزِلَ فیکُمْ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا مُقْسِطًا فَیَکْسِرَ الصَّلِیبَ وَیَقْتُلَ الْخِنْزِیرَ وَیَضَعَ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیضَ الْمَالُ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہُ أَحَدٌ)[ رواہ البخاری : کتاب ا لمظالمِ، بَاب کَسْرِ الصَّلِیبِ وَقَتْلِ الْخِنْزِیر] حضرت ابوہریرہ (رض) نبی معظم (ﷺ) کا بیان نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) عادل حکمران کی حیثیت سے نہیں آئیں گے وہ صلیب کو توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے۔ جزیہ ختم کردیں گے۔ مال ودولت کی اس قدربہتات ہوگی کہ صدقہ وخیرات لینے والا نہیں ہوگا۔“ (عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ (رض) عَنْ أَبِیہٖ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ مَکْتُوبٌ فِی التَّوْرَاۃِ صِفَۃُ مُحَمَّدٍ وَصِفَۃُ عیسَی ابْنِ مَرْیَمَ یُدْفَنُ مَعَہُ) [ رواہ الترمذی : کتاب المناقب، بَاب فِی فَضْلِ النَّبِیِّ (ﷺ) ] ” حضرت عبداللہ بن سلام (رض) اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ تورات میں حضرت محمد (ﷺ) اور حضرت عیسیٰ ابن مریم ( علیہ السلام) کی صفات لکھی ہوئی ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت محمد (ﷺ) کے ساتھ دفن ہوں گے۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ () أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ، وَالأَنْبِیَاءُ إِخْوَۃٌ لِعَلاَّتٍ، أُمَّہَاتُہُمْ شَتَّی، وَدِینُہُمْ وَاحِدٌ ) [ رواہ البخاری : باب ﴿واذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَہْلِہَا ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا میں دنیا و آخرت میں عیسیٰ بن مریم کے زیادہ قریب ہوں اور تمام انبیاء (علیہ السلام) علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں مختلف ہیں اور دین ایک ہی ہے۔“ مسائل : 1۔ یہودیوں نے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو نہ قتل کیا اور نہ ہی انہیں سولی پر لٹکایا۔ 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت کے بارے میں لوگ اپنی طرف سے اٹکل پچو لگاتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر کام کرنے پر غالب اور اس کے ہر کام میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔ النسآء
158 النسآء
159 النسآء
160 النسآء
161 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ : یہودیوں کے جرائم کی فہرست جاری ہے۔ یہودیوں کی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر زیادتیوں اور پے درپے حیلہ سازیوں، گستاخیوں اور تہمتوں کی وجہ سے جن میں انبیاء کو قتل کرنا، شرک کا ارتکاب کرنا، سود کو جائز قرار دینا حالانکہ ان پر حرام کیا گیا تھا، دوسروں کا ناجائز طریقے سے مال کھانے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی اور تمرد میں کمی لانے اور انکی ہوس زر کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چند حلال چیزوں کو ان پر حرام قراردے دیا۔ جس طرح مریض کو بیماری سے بچانے کے لیے حکیم حاذق اس پر کچھ پابندیاں اور احتیاطیں لازم قراردیتا ہے اگر مریض صحت یاب ہوجائے تو پابندیاں اٹھالی جاتی ہیں ورنہ انہی پابندیوں کے ساتھ مریض موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے یا مراعات یافتہ آدمی کو اس کی غلطی پر سرزنش کرنے کے لیے اس سے کچھ مراعات اور اختیارات واپس لے لیے جاتے ہیں۔ یہودیوں کیساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا تاکہ وہ اپنی سرکشی و بغاوت سے باز آجائیں لیکن انہوں نے اپنی روایتی بغاوت کو برقرار رکھا اور پابندیوں اٹھائے ہوئے انکی نسلیں ختم ہوگئیں جنہیں قیامت کے دن ہولناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تقریباً پانچ سو سال کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) نے آکر کچھ پابندیاں ختم فرمائیں جن کا تذکرہ قرآن مجید کی آیت میں کیا گیا ہے۔ یہودیوں پر جو پابندیاں عائد کی گئی تھیں سورۃ الانعام 146میں بیان ہوئی ہیں۔ ﴿وَعَلَی الَّذِینَ ہَادُواْ حَرَّمْنَا کُلَّ ذِی ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ شُحُومَہُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُہُورُہُمَا أَوِ الْحَوَایَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذٰلِکَ جَزَیْنَاہُم بِبَغْیِہِمْ وِإِنَّا لَصَادِقُونَ﴾[ الأنعام :146] ” اور ان لوگوں پر جو یہودی ہوئے ہم نے ہر ناخن والا جانور حرام کیا تھا نیز ان پر گائے اور بکری کی چربی بھی حرام کی الّا یہ کہ وہ پشتوں، آنتوں سے لگی ہو یا ہڈیوں سے چمٹی ہوئی ہو۔ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا کے طور پر ایسا کیا اور ہم بالکل سچ کہہ رہے ہیں۔“ مسائل : 1۔ آدمی کی ناشکری کی وجہ سے اللہ کی نعمتیں چھن جاتی ہیں۔ 2۔ یہودیوں کی سرکشی کم کرنے کے لیے چند حلال چیزیں ان پر حرام کی گئیں۔ 3۔ اللہ کے راستے سے روکنا بہت بڑا گناہ ہے۔ 4۔ سود اور ناجائز مال کھانے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : یہودونصاریٰ کے ظلم : 1۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پھانسی دینے کی کوشش کی۔ (النساء :157) 2۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں تحریف کرنا۔ (النساء :46) 3۔ زبان مروڑ کر کلام اللہ کا مفہوم بدلنا۔ (آل عمران :78) 4۔ اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دینا، اللہ کے راستہ سے روکنا، سود کھانا اور لوگوں کا مال غلط طریقہ سے کھانا۔ (النساء : 160، 161) 5۔ بار بار وعدہ کی خلاف ورزی کرنا، اللہ کی آیات کا انکار اور انبیاء کو قتل کرنا، حضرت مریم علیہا السلام پر الزام لگانا۔ (النساء :155) النسآء
162 فہم القرآن : ربط کلام : یہودیوں سے اچھے لوگوں کا استثنیٰ اور ان کی خوبیوں کا ذکر۔ قران مجید کے اسلوب بیان اور انصاف پسندی پر قربان جائیں جو نہی یہود و نصاریٰ کے جرائم کی فہرست اور انکے مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کے گھناؤنے کردار کا ذکر کرتا ہے۔ معاً ان کے نیک علماء اور زعما کے اچھے کردار کی تحسین کرتا ہے کہ بے شک انکی اکثریت برے لوگوں پر مشتمل ہے لیکن یہ تمام کے تمام ایسے نہیں ان میں ایسے لوگ بھی ہیں اور ہوں گے کہ جب بھی ان کے سامنے حقائق منکشف ہوتے ہیں تو وہ مذہبی تعصب اور گروہ بندی کی دیواریں توڑ کر حلقہ اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں اور تمام اعمال بجا لاتے ہیں جن کا اسلام انہیں کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے دامن عمل میں ہر خیر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جن سے انکا رب راضی ہوتا ہے۔ ایسے خوش نصیب اور عظیم لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ عنقریب ان کو دنیا میں عزت و رفعت ملے گی اور آخرت میں ا جر عظیم سے نوازا جائے گا۔ راسخ العلم کی سورۃ آل عمران آیت ٧ میں تعریف کی گئی ہے کہ وہ متشابہات کے پیچھے لگنے کی بجائے مرکزی اور بنیادی احکام کو سامنے رکھتے ہوئے متشابہ آیات کا مفہوم متعین کرتے ہیں اور ان کے اوصاف یہ ہیں کہ یہ لوگ ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس سے استقامت اور رحمت کے طلبگار رہتے ہیں یہاں دین کے چار بنیادی عناصر کا ذکر کیا گیا ہے۔ کتب آسمانی اور قرآن مجید پر مکمل ایمان لانا نماز کو اس کے تقاضوں کے ساتھ ادا کرنا، زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرنا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لانا شامل ہے ایسے لوگوں کے اجر عظیم کے بارے میں رسول کریم (ﷺ) نے یوں ارشاد فرمایا ہے : (عن أَبی بُرْدَۃَ (رض) أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ عَنْ النَّبِیِّ () قَالَ ثَلَاثَۃٌ یُؤْتَوْنَ أَجْرَہُمْ مَرَّتَیْنِ الرَّجُلُ تَکُونُ لَہُ الْأَمَۃُ فَیُعَلِّمُہَا فَیُحْسِنُ تَعْلِیمَہَا وَیُؤَدِّبُہَا فَیُحْسِنُ أَدَبَہَا ثُمَّ یُعْتِقُہَا فَیَتَزَوَّجُہَا فَلَہُ أَجْرَانِ وَمُؤْمِنُ أَہْلِ الْکِتَابِ الَّذِی کَانَ مُؤْمِنًا ثُمَّ اٰمَنَ بالنَّبِیِّ () فَلَہُ أَجْرَانِ وَالْعَبْدُ الَّذِی یُؤَدِّی حَقَّ اللّٰہِ وَیَنْصَحُ لِسَیِّدِہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد و السیر، بَاب فَضْلِ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابَیْنِ ] ” حضرت ابوبردہ (رض) نے اپنے والد گرامی کو نبی مکرم (ﷺ) کا فرمان بیان کرتے ہوئے سنا سرکار دوعالم (ﷺ) نے فرمایا تین طرح کے افراد کو دوہرا اجر عنایت فرمایا جائے گا ان میں سے ایک وہ ہوگا جس کے پاس لونڈی ہو اس نے اسے اچھی طرح تعلیم دی اور اس کو ادب سکھایا اچھے انداز سے اس کی تربیت کی پھر وہ اس کو آزاد کرتے ہوئے اس سے نکاح کرلے۔ دوسرایہود و نصاریٰ کا وہ شخص جو اپنے دین میں پکا تھا اور بعد ازاں نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لے آیا اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے تیسرا وہ شخص جو غلام ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے ہوئے اپنے مالک کے کام اور خدمت میں اس کی خیرخواہی کرتا ہے۔“ مسائل : 1۔ ارکان اسلام پر عمل کرنے والوں کے لیے اجر عظیم ہے۔ 2۔ آخرت پر یقین ایمان کا حصہ ہے۔ 3۔ قرآن مجید کے ساتھ پہلی کتب سماوی پر بھی ایمان لانا فرض ہے۔ تفسیر بالقرآن : ایمان کی مبادیات اور راسخ العلم کی صفت : 1۔ غیب پر ایمان لانا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا۔ (البقرۃ:3) 2۔ پہلی کتابوں پر مجموعی طور پر اور قرآن مجید پر کلی طور پر ایمان لانا۔ (البقرۃ:4) 3۔ اللہ، ملائکہ، اللہ کی کتابوں، اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ:285) 4۔ راسخ العلم کی صفت۔ (النساء :162) 5۔ صحابہ کرام جیسا ایمان لانا فرض ہے۔ ( البقرۃ:137) النسآء
163 فہم القرآن : (آیت 163 سے 164) ربط کلام : دین کے جن بنیادی ارکان کا پہلے ذکر ہوا ہے۔ اسی کی تبلیغ یہ عظیم المرتبت شخصیات کرتی رہی ہیں۔ یہودیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتلایا گیا ہے کہ دین کے بنیادی احکامات ہمیشہ سے ایک تھے اور ہیں۔ وہ لوگوں پر براہ راست نازل ہونے کی بجائے وحی کے ذریعے انبیاء ( علیہ السلام) پر نازل ہوتے رہے۔ جو مختلف انداز اور الفاظ میں اتارے گئے۔ قرآن مجید تحریری مسودہ کے بجائے لوگوں کی سہولت اور اصلاح احوال کی خاطر خطاب در خطاب کی صورت میں نازل ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر خطاب میں نصیحت کے جامع پہلو کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظریہودیوں کے اس مطالبہ پر کہ ان پر براہ راست کتاب کیوں نہیں نازل کی جاتی اس کے جواب میں نصیحت کے کئی پہلو اختیار کیے گئے ہیں۔ 1۔ پہلے سرزنش کی گئی کہ تم موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بڑھ کر سوالات کرچکے ہو جن میں تمھارے اکثر سوال پورے ہوچکے ہیں لیکن اس کے باوجود تم بڑے بڑے جرائم میں ملوث رہے اور اب بھی ان گناہوں کا اعتراف کرتے ہو۔ ان سے تائب ہونے کی بجائے ان پر فخر کرتے اور ان کا ارتکاب کیے جا رہے ہو۔ 2۔ کسی امت پر بھی براہ راست کتاب نازل نہیں کی گئی اللہ تعالیٰ کے احکام وحی کے ذریعے ہی انبیاء پر نازل ہوتے رہے ہیں جن اولو العزم شخصیات پر وحی نازل ہوئی ان میں چند ایک کا ذکر کیا جاتا ہے جو شان و مرتبہ اور جدوجہد کے اعتبار سے سب سے نمایاں تھے جن کی اکثریت کا تعلق تمھارے آباؤ اجداد سے ہے۔ 3۔ ان انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین ہمیشہ ایک ہی رہا ہے جس کے بنیادی اصول یہ ہیں کہ توحیدخالص پر ایمان لانا، تمام آسمانی کتب کو تسلیم کرنا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا اور آخرت پر کامل یقین رکھنا ہے۔ 4۔ تمام انبیاء (علیہ السلام) کی دعوت کا مقصد لوگوں کے اچھے اعمال کے بدلے دنیا اور آخرت کی کامیابی کی خوشخبری دینا اور برے اعمال کے برے انجام سے لوگوں کو ڈرانا تھا۔ 5۔ انبیاء کی بعثت کا مقصد لوگوں کو سینہ زوری سے منوانا نہیں ان کا کام بتلانا اور سمجھانا تھا تاکہ محشر میں لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی عدالت میں کوئی حجت باقی نہ رہے۔ 6۔ بڑے بڑے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے تذکرے کا مقصد نبی محترم (ﷺ) کو تسلی دینا ہے۔ اس لیے آدم (علیہ السلام) سے انبیاء کا ذکر کرنے کی بجائے حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع کیا ہے کیونکہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کی تشریف آوری سے کچھ عرصہ پہلے تک لوگ توحید اور فطرت سلیم پر قائم رہے بعد ازاں لوگ شرک میں مبتلا اور دین سے منحرف ہوگئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال بڑی جانفشانی سے جدوجہد فرمائی لیکن چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب گمراہی پر قائم رہے جنھیں طوفان نے آلیا اور وہ نیست و نابود کردیے گئے۔ ان کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان میں نسل در نسل انبیاء ( علیہ السلام) کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ جن میں ایسے انبیاء بھی تھے جو نبوت کے منصب کے ساتھ حکمران بھی تھے ان میں موسیٰ (علیہ السلام) ایسے پیغمبر (ﷺ) ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف پایا۔ ان کی شخصیت، جدوجہد اور حالات و واقعات کو نبی آخر الزماں (ﷺ) کے ساتھ مماثل قرار دیا گیا ہے (المزمل :15) ان انبیاء کے آخر اور نبی محترم (ﷺ) سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) عظیم الشان معجزات کے ساتھ تشریف لائے۔ یہ تمام کے تمام انبیاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری دینے والے اور اس کی نافرمانیوں سے ڈرانے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چیدہ چیدہ انبیاء کا ذکر فرمایا ہے باقی کا ذکر نہیں کیا۔ جن کے ذکر نہ کرنے کی وہی حکمت جانتا ہے اللہ تعالیٰ ہر بات اور ہر کام پر غالب ہے اور اس کے ہر فرمان اور کام میں حکمت ہوتی ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ () أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ، وَالأَنْبِیَاءُ إِخْوَۃٌ لِعَلاَّتٍ، أُمَّہَاتُہُمْ شَتَّی، وَدِینُہُمْ وَاحِدٌ ) [ رواہ البخاری : باب ﴿واذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَہْلِہَا ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا میں دنیا و آخرت میں عیسیٰ ابن مریم کے زیادہ قریب ہوں اور تمام انبیاء (علیہ السلام) علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں مختلف ہیں اور دین ایک ہی ہے۔“ مسائل : 1۔ نبی اکرم (ﷺ) پر پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) ہی کی طرح وحی نازل ہوئی۔ 2۔ قرآن کی طرح پہلے انبیاء (علیہ السلام) پر بھی کتابیں نازل کی گئیں۔ 3۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے از خود کلام فرمایا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم (ﷺ) کو کچھ انبیاء (علیہ السلام) کے واقعات بیان فرمائے اور کچھ کا ذکر نہیں فرمایا۔ تفسیر بالقرآن: انبیاء (علیہ السلام) کا اجتماعی ذکر : 1۔ اٹھارہ انبیاء کرام کا ذکر۔ (الانعام : 83تا90) 2۔ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد موسیٰ، عیسیٰ اور دیگر انبیاء ( علیہ السلام)۔ (البقرۃ:136) 3۔ نبی محترم (ﷺ) کا ذکر گرامی ( آل عمران : اور احزاب : 144، محمد : 2، الفتح : 29) موسیٰ (علیہ السلام) کا مرتبہ و مقام : 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست کلام کیا۔ (النساء :164) 2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دو عظیم معجزے عطا فرمائے۔ (طٰہٰ: 17تا22) 3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو برتری عطا فرمائی۔ (الاعراف :144) 4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہود کے الزام سے پاک کیا۔ (الاحزاب :69) 5۔ موسیٰ اور نبی کریم (ﷺ) کے درمیان مماثلت قرار دی گئی۔ (المزمل :15) 6۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں عطا فرمائیں۔ (بنی اسرائیل :101) النسآء
164 النسآء
165 فہم القرآن : (آیت 165 سے 166) ربط کلام : نبی اکرم (ﷺ) کسی انوکھی نبوت کے ساتھ نہیں آئے ان سے پہلے بے شمار انبیاء آئے لہٰذا بڑے بڑے انبیاء کا نام بنام ذکر کرنے کے بعد ان کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین میں اپنا خلیفہ نامزد فرمایا اور اسے عقل و فکر کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کم ازکم اتنی عقل و فکر ضرور عطا فرمائی ہے کہ وہ اچھے و برے اور نفع و نقصان میں تمیز کرسکے۔ اس کے ساتھ ہی اپنی پہچان کے لیے دنیا میں بے شمار شواہد و قرائن پیدا فرمائے پھر جزوی تشریحات کو چھوڑ کر دین کے بنیادی ارکان کو ہمیشہ سے ایک رکھا۔ تاکہ جس دین کے بغیر گزارہ نہیں اسے سمجھنا اور اپنا ناانسان کے لیے آسان رہے۔ اس فطری، ماحولیاتی، اور آفاقی رہنمائی کے باوجود انسان پر یہ کرم کیا کہ پے درپے انبیاء کا سلسلہ جاری فرمایا۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) ایسی بے مثال شخصیات تھیں جو پیدائشی طور پر گفتار کے سچے، کردار کے پکے اور اس قدر خیر خواہ اور مخلص ہوا کرتے تھے کہ جن کو دیکھ کر پتھر بھی پکار اٹھے کہ یہ واقعی اللہ کا بھیجا ہوا نبی ہے۔ پھر ہر نبی کو اس کے حالات کے مطابق ایسے ایسے معجزات عطا کے گئے کہ ان کے جانی دشمن بھی تنہائی میں ان کے سچے ہونے کا اعتراف کیا کرتے تھے۔ انبیاء اس قدر مخلصانہ اور بے پناہ جدوجہد کرتے اور اس کے بدلے ایک پائی بھی وصول کرنے کے روا دار نہیں ہوتے تھے۔ انھوں نے اپنے مشن کے لیے جان کی بازی لگا دی اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار اور انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت کو مسترد کردیا۔ ایسا اس لیے نہیں ہوا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہرتھے یہ اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کو لوگوں کے لیے اختیاری رکھا ہے اور انبیاء (علیہ السلام) کو صرف بتلانے اور سمجھانے والا بنا کر بھیجا تھا۔ جن کی تبلیغ و تعلیم کا مقصد لوگوں کو اچھے برے اعمال اور ان کے انجام سے آگاہ کرنا ہے۔ تاکہ محشر کے دن خدا کے حضور مجرم پیش ہوں تو ان کے پاس یہ حجت نہ ہو کہ ہمیں یاد دلانے اور سمجھانے والا نہیں آیا تھا۔ اس لیے فرمایا ہے کہ اے رسول ! یہود و نصاریٰ کی سازشوں اور لوگوں کے انکار سے دلبرداشتہ اور ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں اگر یہ لوگ ہٹ دھرمی اور دنیا پرستی کی وجہ سے آپ کی رسالت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کے احکامات سے انحراف کرتے ہیں تو اس سے خدا کی خدائی اور آپ کی پیغمبر (ﷺ)انہ شان اور کام میں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ دنیا کا منصب اور عہدہ نہیں کہ جس کو لوگ مسترد کردیں گے تو اسے نامزد کرنے والا بالآخر واپس بلانے پر مجبور یا صاحب منصب خود بھاگ جائے گا۔ یہ تو نبوت کا مقام عالی ہے کہ ساری مخلوق بھی ٹھکرا دے تو نبی کی نبوت اور اس کے اجر و ثواب میں رائی کے دانے کے برابر بھی کمی نہیں آتی۔ اس لیے آپ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچاتے جائیں اسے معلوم ہے کہ کون اس کے پیغام کا حق ادا کرتا ہے اور کس کس نے اس کا انکار کرنا ہے زمین و آسمان کا مالک گواہی دیتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں اور اسی نے اپنے علم کے مطابق آپ پر قرآن مجید نازل فرمایا ہے لہٰذا اپنا کام جانفشانی اور پورے اخلاص کے ساتھ جاری رکھیں لوگ تائید نہیں کرتے تو نہ کریں اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے آپ کی نبوت، اخلاص اور کار نبوت کی ادائیگی پر گواہ ہیں یاد رکھیں کہ اللہ کی گواہی سے بڑھ کر کسی کی گواہی معتبر نہیں ہوسکتی ہے۔ مسائل : 1۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد لوگوں تک اللہ کے پیغامات پہنچانا ہے۔ 2۔ رسول لوگوں کو جنت کی خوش خبری اور عذاب سے ڈرانے والے تھے۔ 3۔ رسول اتمام حجت کے لیے مبعوث کیے جاتے تھے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے گواہی دیتے ہیں کہ جو کچھ نبی (ﷺ) پر نازل ہوا وہ حق ہے۔ النسآء
166 النسآء
167 فہم القرآن : (آیت 167 سے 169) ربط کلام : انبیاء ( علیہ السلام) کے مشن کی مخالفت کرنے والوں کی سزا۔ کفر کا معنٰی ہے حقیقت پر پردہ ڈالنا، شرعی اصطلاح میں اللہ اور اس کے رسول اور قیامت کا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے۔ جو لوگ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں وہی لوگ اللہ کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی راہ سے مراد صراط مستقیم اور دین کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار اور اس کی راہ میں رکاوٹ بننے کی درج ذیل صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہوسکتی ہے۔ 1۔ خود کفر اختیار کرنا، اپنے کردار اور طریقۂ کار سے لوگوں کو دین سے روکنا۔ 2۔ اسلام کا اقرار کرنے کے باوجود جان بوجھ کر کفار جیسا عقیدہ اور کردار رکھنا جس سے لوگوں کی نظروں میں اسلام اور مسلمانوں کا وقار ختم ہوجائے ایسے لوگ بیک وقت کفر اور ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نہ انھیں معاف کرتا ہے اور نہ ہی صراط مستقیم کی توفیق دیتا ہے۔ ان کے پسندیدہ راستے پر چلنے کے لیے انھیں کھلا چھوڑ دیتا ہے جو راستہ جہنم کا راستہ ہے۔ اس جہنم میں انھیں ابدالاباد تک رہنا نافرمان بڑا ہو یا چھوٹا اسے جہنم میں پھینکنا اللہ تعالیٰ کے لیے ذرّہ برابر مشکل نہیں۔ یہاں ان کی نہ فریاد سنی جائے گی اور نہ کوئی ان کی مدد کرنے والا ہوگا۔ کفار اور مشرکین ہمیشہ جہنم میں رہیں گے : ﴿وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ﴾[ البقرۃ:39] ” وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اور ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں وہ آگ والے ہیں اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔“ ﴿اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَ مَاْوٰاہ النَّارُوَ مَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ﴾ [ المائدۃ:72] ” جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس کے لیے جنت حرام ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے اور لوگوں کو حق سے روکنے والے گمراہ ہیں۔ 2۔ ظلم اور کفر کرنے والوں کو اللہ معاف نہیں فرمائے گا۔ 3۔ کافروں کے لیے جہنم کا دائمی عذاب ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کفار کو عذاب دینا مشکل نہیں۔ تفسیر بالقرآن : کفار کے لیے معافی نہیں : 1۔ موت کی تمنا پوری نہ ہوگی۔ (البقرۃ:94) 2۔ عذر قبول نہ ہوگا۔ (البقرۃ:123) 3۔ سفارش قبول نہ ہوگی۔ (البقرۃ:123) 4۔ جہنم میں رخصت نہ ہوگی۔ (طہ :74) 5۔ جہنم سے نہیں نکل سکیں گے۔ (البقرۃ:167) 6۔ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران :91) 7۔ دنیا میں واپس نہیں آسکیں گے۔ (السجدۃ:12) النسآء
168 النسآء
169 النسآء
170 فہم القرآن : ربط کلام : منکرین نبوت کو ایک مرتبہ پھر نبی آخر الزماں (ﷺ) کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے انکار کرنے والوں کو انتباہ کیا ہے کہ تمہارے کفر سے خدا کی خدائی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہود کے بعد دعوت عام دی جا رہی ہے کہ اے لوگو! یہودیوں کی طرح بہانہ تراشی اور حیلہ سازی کرنے کی بجائے سرور دو عالم (ﷺ) پر ایمان لاؤ۔ جو تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے حق کے ساتھ مبعوث کیے گئے ہیں۔ یہی تمھارے لیے بہتر راستہ ہے اگر تم ایمان لانے اور حق کا ساتھ دینے سے گریزاں ہو تو یاد رکھو۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں کوئی فرق نہیں پڑتا زمین و آسمان کا ذرّہ ذرّہ اور چپہ چپہ اس کے تابع فرمان ہے۔ صرف باغی انسان ہی پوری کائنات کے طرزعمل کے خلاف طریقہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہ ڈھیل انسان کو اس لیے نہیں دی گئی کہ انسان کے اعمال و خیالات اللہ کے علم سے باہر ہیں اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے کے باوجود اپنی حکمت و مشیّت کے تحت انسان کو ایک وقت مقرر تک چھوڑے ہوئے ہے جب اس کی گرفت اور عتاب کا وقت آئے گا تو باغی اور ظالم کو چھڑانے اور بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ حق (اَلْحَقُّ) اللہ کے 99صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔ (مشکوٰۃ: باب اسماء اللہ ) ” حق“ سے مراد قرآن اور اللہ کا پیغام ہے آپ کی نبوت کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہصرف دعا کی بلکہ مکہ شہر کی نشاندہی بھی فرمائی کہ اس شہر اور اس قوم میں آخری نبی ہونا چاہیے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے آگے بڑھ کر آپ کا اسم گرامی لے کر بنی اسرائیل کو آپ کی نبوت کی بشارت سے نوازا۔ (عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ () یَقُولُ إِنِّی عَبْدُ اللّٰہِ فِی أُمِّ الْکِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِیِّینَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِی طینَتِہٖ وَسَأُنَبّئُکُمْ بِتَأْوِیلِ ذَلِکَ دَعْوَۃِ أَبِی إِبْرَاہِیمَ وَبِشَارَۃِ عیسَی قَوْمَہُ وَرُؤْیَا أُمِّی الَّتِی رَأَتْ أَنَّہُ خَرَجَ مِنْہَا نُورٌ أَضَاءَ تْ لَہُ قُصُور الشَّامِ وَکَذٰلِکَ تَرٰی أُمَّہَات النَّبِیِّینَ صَلَوَات اللّٰہِ عَلَیْہِمْ) [ رواہ احمد] ” حضرت عرباض بن ساریہ سلمی بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں قرآن مجید میں مجھے خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے جب حضرت آدم (علیہ السلام) ابھی مٹی اور روح کے درمیان تھے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور اپنی والدہ ماجدہ کا خواب ہوں انھوں نے دیکھا کہ ان کے وجود سے ایک روشنی نکلی جس سے ملک شام کے محلات روشن ہوگئے۔ اور اسی طرح ہی انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مائیں دیکھا کرتی تھیں۔“ (یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِی شَیْئًا)[ رواہ مسلم : باب تَحْرِیم الظُّلْمِ] ” اے میرے بندو اگر تمھارے پہلے، پچھلے جن و انس سارے کے سارے فاجر انسان کی طرح ہوجائیں میری بادشاہت میں کسی چیز کی کمی واقع نہیں ہوسکتی۔“ مسائل : 1۔ نبی (ﷺ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق لے کر مبعوث ہوئے ہیں۔ 2۔ کفر و شرک کرنے والے اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : رسول محترم (ﷺ) کا مرتبہ و مقام : 1۔ آپ (ﷺ) کو پوری دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا۔ (الاعراف :158) 2۔ آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا۔ (الانبیاء :107) 3۔ آپ (ﷺ) خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب :40) 4۔ آپ کو پوری دنیا کے لیے داعی، بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔ (الاحزاب : 45۔46) 5۔ نبی کریم (ﷺ) کو تمام انسانوں کے لیے رؤف، رحیم بنایا گیا ہے۔ (التوبۃ :128) 6۔ آپ (ﷺ) کی بعثت مومنوں پر اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے۔ (آل عمران :164) النسآء
171 فہم القرآن : ربط کلام : اگر اہل کتاب اپنے دین میں غلو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتے تو یقیناً نبی اکرم (ﷺ) کی نبوت کو مانتے ہوئے ہدایت کا راستہ اختیار کرتے لیکن وہ مذہبی عصبیت اور دین میں غلو کی وجہ سے گمراہ ہوئے۔ خطاب کا آغاز یہود سے ہوا تھا جس میں انھیں مختلف طریقوں سے سمجھایا گیا۔ ان کے بعد تمام لوگوں کو دعوت حق قبول کرنے کی تلقین کی گئی۔ اب عیسائیوں کی دین کے بارے میں بنیادی خرابی یعنی ” غلو“ کرنے سے روکا جا رہا ہے جو ان کی گمراہی کا اصل سبب ہے غلو کا معنی ہے محبت یا تعصب میں آکر افراط و تفریط کرنا۔ یہودیوں نے تعصب کی بنا پر عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں غلو کیا اور وہ اس میں اتنا آگے نکل گئے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی پاکباز والدہ پر الزامات لگائے جناب عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر نازل ہونے والی کتاب انجیل کا انکار کیا حالانکہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے بار ہا دفعہ فرمایا تھا کہ میں کوئی الگ شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ تورات کی تعلیمات کی تکمیل کے لیے آیا ہوں لیکن ستیاناس ہو اس غلو کا جس کے نتیجہ میں یہودیوں نے ہر سچائی کو ٹھکرا دیا۔ ان کے برعکس عیسائیوں نے دوسری انتہا کو اختیار کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور مریم علیہا السلام کو خدا کی بیوی قرار دیا یہودی عداوت کی بنیاد پر گمراہ ہوئے اور عیسائی محبت میں غلو کرنے کی وجہ سے گمراہ ٹھہرے۔ عیسائیوں کو اس لیے روکا اور ٹوکا جا رہا ہے کہ تمھیں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں غلو نہیں کرنا چاہیے ان کی حیثیت تو یہ تھی کہ وہ مریم کے بیٹے اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں خدا کی خدائی میں ان کا کوئی دخل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں اور یہودیوں کے عقیدہ کے حوالے سے ہر شخص کے باطل نظریہ کی نفی فرمائی ہے کہ کوئی ذات ادنیٰ ہو یا اعلیٰ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا حصہ اور اس کی صفات کی حامل نہیں ہو سکتی اس عقیدہ کو سورۃ اخلاص میں کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ 1۔ رسول کا مقام : دنیا میں انسان تو کروڑوں اور اربوں گزرے ہیں اور ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے پیغام کے لیے ایسے انسانوں کو منتخب فرماتا ہے جو ظاہری وباطنی کمال، کردار کی پاکیزگی اور قلبی طہارت کے لحاظ سے اپنے دور کے سب سے بلند اور ممتاز انسان ہوا کرتے تھے۔ انسان اور ضرورتوں کے ناتے سے وہ لوگوں کے ہم شکل اور ہم مثل ہوتے تھے لیکن خوبیوں اور صلاحیتوں کے لحاظ سے انسانوں کے ساتھ ان کی کوئی نسبت نہیں ہوا کرتی تھی۔ اس لیے آپ نے ایک موقعہ پر فرمایا تھا ” اَیُّکُمْ مِثْلِیْ“ تم میں سے کون میری مثل ہے؟ گویا کہ رسول شرف انسانیت کی انتہا اور خدا کی مخلوقات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع ہوتا ہے۔ لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) رسول اللہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس اعزاز سے بڑا کوئی اعزاز نہیں ہوسکتا۔ ھُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ : عیسیٰ (علیہ السلام) کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ رسول کا معنی ہے پیغام پہنچانے والا، ظاہر ہے کہ جس کی طرف سے کوئی پیغام دینے والا ہو اس کا بھیجنے والا اس سے اعلیٰ اور بہتر ہوا کرتا ہے۔ بھیجنے والاجب چاہے اپنے رسول کو واپس بلا سکتا ہے اس لیے ہر پیغمبر (ﷺ) اپنی زندگی گزار کر موت کی آغوش میں چلا گیا اور یہی بات رسول کریم (ﷺ) کے بارے میں ارشاد ہوئی ہے۔ ” ہم نے آپ سے پہلے کسی انسان کو ہمیشگی نہیں دی۔ اگر آپ فوت ہوجائیں تو کیا وہ ہمیشہ رہیں گے؟“ [ الانبیاء :34] 3۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں : قرآن مجید میں کلمہ کا لفظ تین معنوں میں استعمال ہوا ہے : 1۔ کلمہ کا معنی ہے خوشخبری اور بشارت سورۃ آل عمران کی آیت 45میں اس طرح استعمال ہوا ہے۔ ” اور جب فرشتوں نے مریم سے کہا : بلاشبہ اے مریم ! اللہ تجھے اپنے کلمہ کی بشارت دیتا ہے اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا وہ دنیا اور آخرت میں معزز ہوگا اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔“ [ آل عمران :45] 2۔ کلمہ کا معنی آیت اور نشانی ہے۔ ” اور مریم بنت عمران جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی پھر ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کے کلمات اور کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار تھی۔“ [ التحریم :12] 3۔ کلمہ کا معنی کلام۔ ” امید ہے اب میں نیک عمل کروں گا جسے میں چھوڑ آیا ہوں ہرگز نہیں۔ یہ بس ایک بات ہوگی جسے اس نے کہہ دیا اور ان کے درمیان دوبارہ اٹھنے تک کے دن تک ایک آڑ ہوگی۔“ [ المومنون :100] عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ اور کلمۃ اللہ ہونے کے ساتھ ان کا تیسرا اعزاز یہ ہے کہ وہ اللہ کی روح ہیں یہی وہ لفظ ہے جس سے عیسائی مغالطہ کا شکار ہوئے یا وہ جان بوجھ کر مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو اپنی روح قرار دے کر مریم میں اس کا القاء فرمایا لہٰذا مریم اور اللہ تعالیٰ کو ملا کر ایک مثلّث بنتی ہے جسے وہ عرف عام میں تثلیث قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ ان کی من ساختہ اختراع ہے کیونکہ قرآن مجید میں لفظ روح کا استعمال مختلف انداز میں ہوا ہے۔ ’ تو جب میں اسے درست کر چکوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا۔“ [ الحجر :29] اگر عیسائیوں کی باطل دلیل کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر ہر فرد اور ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی روح کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ جس سے حلول جیسے بدترین شرک کا تصور سامنے آتا ہے جس کی تائید معمولی عقل رکھنے والا شخص بھی نہیں کرسکتا اس بنیاد پر اہل کتاب کو مخاطب کرتے ہوئے سمجھایا گیا ہے کہ بس اللہ اور اس کے رسولوں پر اسی طرح ایمان لاؤ جس طرح تمھیں ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے اور تثلیث کے باطل عقیدہ کو یک لخت چھوڑ دو۔ اسے چھوڑ دینے میں ہی تمھاری بہتری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کے لحاظ سے یکتا اور تنہا ہے اس کی ذات اور صفات میں اس کا کوئی ہمسر اور شریک نہیں ہے۔ اس کی ذات ان سہاروں اور رشتوں سے ممتاز اور پاک ہے۔ تم عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے ہو اللہ تعالیٰ کو اولاد کی ضرورت نہیں ہے اولاد تو انسان کی ضرورت اور کمزوری ہے۔ 1۔ اولاد کی ضرورت اس لیے ہے کہ اس کا سلسلہ نسب جاری رہے تاکہ اس کا نام اور کام باقی رہے۔ 2۔ اولاد نہ ہو تو انسان اپنے آپ میں تنہائی اور اداسی محسوس کرتا ہے۔ 3۔ اولاد آدمی کا سہارا اور اس کی ضروریات میں معاون ہوتی ہے۔4۔ ماں، باپ اولاد کے ساتھ محبت کرنے میں طبعاً مجبور ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نہ محبت کے ہاتھوں مجبور ہے اور نہ ہی تنہائی محسوس کرتا ہے نہ اس کو خدمت اور سہارے اور معاون کی ضرورت ہے۔ وہ تو محبت عطا کرنے والا اور کائنات کی ہر چیز کو سہارا دینے والا ہے وہ ان کمزوریوں سے یکسر بے نیاز ہے اسے کسی کی حاجت نہیں کیونکہ زمین و آسمان کا چپہ چپہ اور ذرہ ذرہ اس کی غلامی اور فرما نبرداری میں لگا ہوا ہے۔ اس کا تعلق مخلوق کے ساتھ باپ اور بیٹے یا کسی کا حصہ ہونے کی بنا پر نہیں اس کا تعلق مخلوق کے ساتھ خالق اور مالک اور مملوک کا ہے جسے دنیا کے کسی رشتے کے ساتھ نسبت نہیں دی جا سکتی۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () أُرَاہُ یَقُول اللَّہُ شَتَمَنِی ابْنُ آدَمَ وَمَا یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَشْتِمَنِی، وَتَکَذَّبَنِی وَمَا یَنْبَغِی لَہُ، أَمَّا شَتْمُہُ فَقَوْلُہُ إِنَّ لِی وَلَدًا وَأَمَّا تَکْذِیبُہُ فَقَوْلُہُ لَیْسَ یُعِیدُنِی کَمَا بَدَأَنِی ) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی ﴿وَہُوَ الَّذِی یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُہُ﴾] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی (ﷺ) نے فرمایا کہ میرا خیال ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آدم کا بیٹا مجھے گالیاں دیتا ہے اور یہ اس کے لیے لائق نہیں اور وہ میری تکذیب کرتا ہے اور وہ بھی اس کے لیے لائق نہیں اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ میں نے اولاد پکڑی ہے اور مجھے جھٹلانا اس کا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے دوبارہ نہیں لوٹایا جائے گا جس طرح مجھے پہلی بار پیدا کیا گیا۔“ مسائل : 1۔ دین کے معاملہ میں افراط و تفریط سے بچنا چاہیے۔ 2۔ اللہ کی نسبت سے صرف حق بات ہی کہنی چاہیے۔ 3۔ الٰہ صرف ایک ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ اولاد اور بیوی سے پاک ہے۔ تفسیر بالقرآن : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حیثیت اور حضرت مریم علیہا السلام کا مقام : 1۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور صاحب کتاب نبی تھے۔ (مریم :30) 2۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعہ مدد کی گئی۔ (البقرۃ:253) 3۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کھانا کھاتے تھے۔ (المائدۃ:75) 4۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم نے بنی اسرائیل کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا۔ (المائدۃ:72) 5۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی بشارت دی گئی۔ (آل عمران :45) 6۔ حضرت عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے معجزات عطا فرمائے۔ ( آل عمران : 46تا49) 7۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا و آخرت میں عزت والے ہیں۔ (آل عمران :45) 8۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کی کفالت کی گئی۔ (آل عمران :44) النسآء
172 فہم القرآن : (آیت 172 سے 173) ربط کلام : عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدائی کا مرتبہ دیا حالانکہ وہ اللہ کے بندے تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ یعنی اس کا غلام اور فرمانبردار ہونے سے قطعاً کوئی انکار نہ تھا جو اپنے آپ کو اللہ کا بندہ ہونے سے انکار کرے گا اس کی سزادرد ناک عذاب ہے۔ عبد کا معنی ہے۔۔ انسان اور غلام (المنجد) قرآن مجید نے دو ٹوک الفاظ اور انداز میں واضح کیا ہے کہ جتنے پیغمبر (ﷺ) دنیا میں مبعوث کیے گئے وہ سارے کے سارے عبد اور بشر تھے خاص طور پر جن انبیاء ( علیہ السلام) کی عبدیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ان کی سوانح حیات کو قرآن مجید نے اتنا واضح انداز میں بیان کیا ہے کہ جس سے ان کے عبد ہونے میں ذرہ برابر بھی شبہ باقی نہیں رہتا۔ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کے بارے میں جب یہ نظریہ گھڑا کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں تو اس باطل نظریہ کی تردید کے لیے حضرت عزیر (علیہ السلام) کی زندگی کا اہم ترین واقعہ یوں بیان کیا کہ اس شخص کی مثال سامنے رکھیے کہ جو ایک بستی کے قریب سے گزرا اور اس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ اللہ تعالیٰ اس بستی کو کس طرح زندہ کرے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے اسے سو سال تک فوت کیے رکھا پھر اسے اٹھا کر پوچھا کہ اے میرے پیغمبر (ﷺ) تم کتنی دیر یہاں ٹھہرے ہو؟ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو یہ خبر نہ تھی کہ وہ کتنی مدت تک مردہ پڑے رہے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے جواب دیا کہ بارالہا ! میں ایک دن یا اس کا کچھ وقت یہاں ٹھہرا ہوں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں تم سو سال تک مردہ پڑے رہے ہو۔ اب اپنے کھانے پینے کو دیکھو کہ وہ جوں کا توں ترو تازہ ہے اور اس میں کوئی سڑا ندھ پیدا نہیں ہوئی۔ پھر اپنے گدھے کی طرف دیکھو کہ ہم تجھے کس طرح لوگوں کے لیے دلیل بناتے ہیں اپنے گدھے کی ہڈیوں کی طرف دیکھیے پھر ان کے سامنے گدھے کی ہڈیاں جڑیں اور اس کے اوپر گوشت چڑھا اس پر کھال اور بال اگے جب یہ سب کچھ واضح اور ثابت ہوا توحضرت عزیر (علیہ السلام) پکار اٹھے کہ میں جان چکا ہوں کہ اللہ ذرے ذرے پر اقتدار اور اختیار رکھنے والا ہے۔ (البقرہ :259) معجزات کی بنا پر ہی عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں عیسائیوں نے من گھڑت عقیدہ قائم کیا کہ وہ تین میں سے ایک ہیں یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں تو اس باطل نظریہ کی تردید کے لیے قرآن مجید میں آل عمران کے نام سے ایک مفصل سورت نازل کی گئی جس میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندانی پس منظر، ان کی نانی محترمہ کا اللہ تعالیٰ کے حضور نذر ماننا، بیٹے کی بجائے حضرت مریم کا پیدا ہونا، حضرت زکریا (علیہ السلام) کا مریم کی کفالت کرنا، مریم کی والدہ کا مریم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف کرنا۔ اس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندانی پس منظر کیساتھ ان کی سوانح حیات کو پوری طرح کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح یحییٰ (علیہ السلام) کا خدا کا بیٹا ہونے کی نفی کرتے ہوئے ان ہی کی زبان سے وضاحت کروائی گئی کہ میں اللہ کا بندہ اور رسول ہونے کے سوا کچھ نہیں ہوں۔ (مریم :30) اسی بنیاد پر یہاں وضاحت کی گئی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے یہاں یہ بات بھی واضح ہوجانی چاہیے اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا اور ہے کہ نبی آخر الزمان (ﷺ) کی امت میں بھی باطل عقائد کے لوگ ہوں گے جس کی بنا پر حضرت محمد (ﷺ) کے بارے میں بھی متعدد آیات میں روز روشن کی طرح یہ حقیقت واضح کردی گئی کہ آپ اللہ کے رسول اس کے بندے اور بشر ہیں اس عقیدہ کا یہاں تک التزام کردیا گیا کہ آدمی اس وقت تک دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہوسکتا جب تک وہ کلمۂ شہادت میں نبی (ﷺ) کی عبدیت کا اقرار نہیں کرلیتا اور اس کی پنجگانہ نماز مکمل نہیں ہو سکتی جب تک تشہد میں آپ کی عبدیت کی شہادت نہیں دیتا۔ یاد رہے کہ انبیاء ( علیہ السلام) کی عبدیت انسانیت کا شرف ہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) شرف انسانیت کی شان اور ترجمان ہوا کرتے تھے۔ اس لیے ان کو عبد اور بشر ہونے میں ذرہ برابر بھی تأمل نہیں تھا۔ اس ضمن میں سند کی طرف توجہ کیے بغیر ہم تفسیرضیاء القرآن سے ایک حوالہ نقل کرتے ہیں۔ ” حضور رحمۃ للعالمین (ﷺ) معراج کی رات مقام قرب کی انتہا تک پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے پوچھا ” بما اشرفک یامحمد“۔ اے سراپا ستائش و خوبی ! میں آج تجھے کس اعزاز سے مشرف کروں تو حضور (ﷺ) نے عرض کی ” بنسبتی الیک بالعبودیۃ“ ” مجھے اپنا بندہ ہونے کا شرف عطا فرما“ شاید یہی حکمت ہے کہ جس سورۃ میں معراج کا ذکر ہے وہاں حضور کے متعلق عبدہ کا لفظ مذکو رہے۔“ اسی لیے اس فرمان کے آخر میں فرمایا کہ جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی اس حیثیت پر ایمان لائیں گے اور صالح کر دار اپنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا صلہ دینے کے ساتھ اپنی طرف سے مزید اجر سے نوازیں گے۔ اور جنھوں نے عقیدہ توحید اور اللہ کی الوہیت سے انکار کیا۔ ان کے لیے اذیت ناک عذاب ہوگا۔ کوئی ان کی خیر خواہی اور مدد نہیں کرسکے گا۔ مسائل : 1۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے تھے اور بندہ ہونا اپنے لیے عار نہیں سمجھتے تھے۔ 2۔ اللہ کی بندگی کو عار نہیں سمجھنا چاہیے۔ 3۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بندگی کو عار نہیں سمجھتے۔ 4۔ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کو عار سمجھے گا اسے اذیت ناک سزا دی جائے گی۔ 5۔ ایمان لانے اور عمل صالح کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نوازتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مرتبہ و مقام اور ان کا اقرار کہ میں اللہ کا بندہ ہوں : 1۔ حضرت عیسیٰ کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم جیسی ہے۔ (آل عمران :59) 2۔ حضرت عیسیٰ کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ (النساء :158) 3۔ عیسیٰ بن باپ کے پیدا ہوئے۔ (آل عمران :59) 4۔ عیسیٰ نے اپنی والدہ کی گود میں اپنی نبوت اور بندہ ہونے کا اعلان فرمایا۔ (مریم : 29، 30) 5۔ عیسیٰ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرتے تھے (آل عمران :49) 6۔ عیسیٰ مٹی سے اڑنے والا پرندہ بناتے تھے۔ (آل عمران :49) 7۔ عیسیٰ لوگوں کے اندوختے کی خبر دیتے تھے۔ (آل عمران :49) 8۔ حضرت عیسیٰ کی حضرت جبریل امین خصوصی معاونت فرماتے تھے۔ (البقرۃ:253) النسآء
173 النسآء
174 فہم القرآن : (آیت 174 سے 175) ربط کلام : اس سورت کی ابتداء بھی ﴿یَاَ ایُّھَا النَّاسُ﴾ کے الفاظ سے ہوئی تھی۔ اور اختتام بھی انھی الفاظ اور مسائل سے کیا جارہا ہے۔ اس سورۃ مبارکہ میں یہود و نصاریٰ اور مومنوں کے ساتھ تیسری مرتبہ تمام لوگوں کو دعوت عام دی گئی ہے کہ اے لوگو! ادھر ادھر کے اعمال اور عقائد کی اتباع چھوڑ کر صرف اس برہان کی پیروی اور واضح روشنی کے پیچھے چلو جو تمھارے لیے دو جہاں کے راستوں کو منور کر دے گی۔ برہان سے مراد مفسرین نے رسول مکرم (ﷺ) کی ذات اور نور سے مراد قرآن مجید کی تعلیمات لی ہیں۔ رسول کی آمد کے بعد لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی عدالت عظمیٰ میں حجت ختم ہوجاتی ہے۔ اللہ کا رسول آچکا اور اس نے زندگی کے تمام شعبوں میں قرآن مجید پر عمل کرکے دکھلا دیا۔ لہٰذا لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں یعنی اس کی توحید کو سمجھیں اور اس کے تقاضے پورے کریں اور قرآن و سنت کے ساتھ اعتصام کرتے ہوئے اپنی زندگی سنواریں۔ جس کے بدلے اللہ تعالیٰ انھیں اپنے فضل و کرم سے نوازتے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی توفیق دے گا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ (رض) خَطَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ () خَطًّا بِیَدِہٖ ثُمَّ قَالَ ھٰذَا سَبِیْلُ اللّٰہِ مُسْتَقِیْمًا قَالَ ثُمَّ خَطَّ عَنْ یَّمِیْنِہٖ وَشِمَالِہٖ ثُمَّ قَالَ ھٰذِہِ السُّبُلُ وَلَیْسَ مِنْھَا سَبِیْلٌ إِلَّا عَلَیْہِ شَیْطَانٌ یَدْعُوْ إِلَیْہِ ثُمَّ قَرَأَ ﴿وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ﴾) [ رواہ احمد ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے ہاتھ سے ایک لکیر کھینچی پھر فرمایا یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے پھر اس کے دائیں اور بائیں خط کھینچ کر فرمایا یہ راستے ہیں ان سب میں سے ہر ایک پر شیطان کھڑا ہے اور وہ اس کی طرف بلاتا ہے پھر آپ (ﷺ) نے اس آیت کی تلاوت کی (بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے اسی پر چلتے رہنا اور پگڈنڈیوں پر نہ چلنا۔) “ (الانعام :153) مسائل : 1۔ قرآن مجید ہدایت کا سر چشمہ ہے۔ 2۔ قرآن کو مضبوطی سے تھامنے والے اللہ کے فضل و کرم سے ہمکنار ہوں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے ذریعے لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ 4۔ قرآن مجید چمکتا ہوا نورہے۔ تفسیر بالقرآن : نور کیا ہے ؟ 1۔ اللہ تعالیٰ کی ذات زمین و آسمان کا نور ہے۔ (النور :35) 2۔ قرآن نور ہے۔ (النساء :174) 3۔ توحید نور ہے۔ (البقرۃ:257) 4۔ حضرت محمد (ﷺ) نور کی طرف بلاتے تھے۔ ( الطلاق : 11، ابراہیم :1) 5۔ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے کتاب مبین کی صورت میں نور آگیا۔ ( المائدۃ :15) 6۔ توراۃ و انجیل نور ہیں۔ (المائدۃ : 44۔46) 7۔ وہ ذات جس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور بنایا۔ ( یونس :5) النسآء
175 النسآء
176 فہم القرآن : ربط کلام : اس سورۃ کی ابتدا معاشرہ کے پسماندہ طبقہ یعنی یتیموں کے مالی حقوق سے ہوئی تھی اور اس کا اختتام بھی معاشرتی اعتبار سے کمزور افراد کے مالی تحفظ سے کیا گیا ہے۔ سورۃ النساء کی ابتدا میں بنی نوع انسان کو ایک کنبہ قرار دیتے ہوئے یتیموں اور عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اب اس سورۃ کا اختتام خاندانی لحاظ سے کمزور ترین انسان کے متعلقہ مسائل سے کیا جا رہا ہے۔ جسے قرآن نے کلالہ کے نام سے متعارف کروایا ہے۔ کلالہ کی تعریف : کلالہ وہ شخص ہے جس کے نہ والدین ہوں نہ دادا، دادی اور نہ اولاد اور نہ پوتے پوتیاں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ بے شک اس کے بہن بھائی ہوں کلالہ ہی تصور ہوگا۔ اخیافی بہن بھائیوں کا حصہ 1/3 ہے۔ اور اگر ایک بہن اور ایک بھائی ہو تو ہر ایک کا 1/6 ہے۔ اور اگر بہن بھائی زیادہ ہوں تو بھی انھیں 1/3 سے زیادہ نہیں ملے گا اور یہ 1/3 ان میں برابر تقسیم ہوگا۔ مرد کو عورت سے دو گنا نہیں ملے گا۔ اور اگر صرف ایک ہی بھائی یا صرف ایک ہی بہن ہو تو اسے 1/6 ملے گا۔ باقی پہلی صورت میں 2/3 اور دوسری صورت میں 5/6 بچ جائے گا۔ کلالہ باقی حصہ کے متعلق وصیت کرسکتا ہے یا پھر یہ حصہ ذوی الارحام میں تقسیم ہوگا بشرطیکہ کوئی عصبہ نہ مل رہا ہو۔ اولاد کی تین قسمیں ہیں : 1۔ عینی : وہ بہن بھائی جو سگے ہوں۔ 2۔ علاتی : جن کا باپ ایک ہو اور مائیں الگ الگ ہوں۔ 3۔ اخیافی : جن کی ماں ایک اور باپ الگ الگ ہو۔ اخیافی بہن بھائیوں کے متعلق احکامات اسی سورت کی آیت نمبر 12میں بیان ہوچکے ہیں۔ جو اس آیت 176میں بیان ہو رہے ہیں یہ حقیقی یا سوتیلے بہن بھائیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کلالہ کی میراث کی تقسیم میں دو باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ اگر کلالہ کے حقیقی اور سوتیلے دونوں قسم کے بہن بھائی موجود ہوں تو سوتیلے کو محروم رکھا جائے گا۔ اور اگر حقیقی نہ ہوں تو پھر سوتیلے بہن بھائیوں میں جائیداد تقسیم ہوگی۔ دوسرا یہ کہ کلالہ کے بہن بھائیوں میں تقسیم میراث کی بالکل وہی صورت ہوگی جو اولاد کی صورت میں ہوتی ہے۔ یعنی اگر صرف ایک بہن ہو تو اس کو آدھا حصہ ملے گا۔ دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں تو ان کو دو تہائی ملے گا۔ اگر صرف بھائی ہی ہو تو تمام تر کہ کا واحد وارث ہوگا۔ اگر بہن بھائی ملے جلے ہوں تو ان میں سے ہر مرد کو دو حصے اور ہر عورت کو ایک حصہ ملے گا۔ یہاں یعنی آیت 176میں بہن سے مراد سگی اور باپ کی طرف سے جو بہن ہو اس کا ذکر ہو رہا ہے۔ ایسی بہن کو نصف ترکہ ملے گا اور بقیہ نصف اگر کوئی عصبہ ہو یعنی چچا، چچا زاد بھائی تو ان کو یہ نصف ملے گا ورنہ یہ نصف بھی بہن کی طرف لوٹ آئے گا۔ پھر اگر دو بہنیں ہوں تو ان کو دو تہائی ملے گا اور بقیہ ثلث عصبہ کو ملے گا اور اگر عصبہ کوئی نہ ہو تو یہ بھی ثلث ان کو ملے گا۔ دو یا دو سے زیادہ بہنوں کا یہی حکم ہے۔ اگر کلالہ کے وارثوں میں بھائی اور بہن دونوں ہوں تو بھائی کو دو حصے اور بہن کو ایک حصہ ملے گا۔ مسائل : 1۔ کلالہ کی صرف بہن ہو تو وہ نصف ترکہ کی مالک ہوگی۔ 2۔ اگر کلالہ کی دو بہنیں ہیں تو ان کے لیے دو تہائی ہے۔ 3۔ اگر کلالہ کے بہن بھائی ہوں تو ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾ کے تحت وراثت تقسیم ہوگی۔ النسآء
0 سورۃ المائدۃ کی آیت نمبر 5کے سو ا باقی تمام آیات مدینہ طیبہ اور اس کے گرد ونواح میں نازل ہوئی ہیں۔ جس بنا پر اس سورت مبارکہ کو مدنی کہا جاتا ہے۔ اس کی آیات ایک سو بیس (120) رکوع سولہ (16) اور اس کے حروف بارہ ہزار چار سو چونسٹھ ہیں۔ اس کا نام آیت 114کی بنا پر رکھا گیا ہے جس کا معنی ہے دستر خوان کیونکہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے آسمان سے دستر خوان نازل ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ سورت کے نزول کا آغاز صلح حدیبیہ کے زمانہ میں ہوا اور اس کی تکمیل حجۃ الوداع کے موقعہ پر میدان عرفات میں ہوئی۔ اس میں دوٹوک انداز میں اعلان ہوا ہے کہ اے مسلمانوں ! آج کے بعد کفار تمہارے دین سے قطعی طور پر مایوس ہوچکے ہیں کیونکہ انہیں پوری طرح باور ہوچکا ہے کہ اس دین (جن کفار کو پوری طرح باور ہوگیا کہ ” اسلام“ دین حق ہے وہ اسے قبول کرکے مسلمان ہوگئے) کو مٹانا کسی کے بس کا روگ نہیں دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مخاطب فرمایا کہ اب تمہارے دشمن کا زور ٹوٹ چکا ہے ان کی ہر سازش اور شرارت ناکام ہوئی اور انہیں ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑی لہٰذا اب دین اسلام کے غلبہ اور تمہارے عروج کا دور ہے کہیں ایسانہ ہو کہ تم اقتدار اور اختیار کے نشہ میں آکر دین اسلام کی اخلاقی اقدار کو پامال کرو۔ تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ ہر قسم کے عہدکی پاسداری کرنا چاہے وہ ایمان کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ہو یا ایک فرد یا قوم کا دوسرے فرد اور قوم کے ساتھ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد کی پاسداری کا تقاضا ہے کہ اس کے حلال کو حلال سمجھو اور اس کی حرام کردہ چیزوں کو حرام جانو۔ کسی قوم کی دشمنی تمہیں شریعت کی حدود اور اخلاقی قدروں کو پامال کرنے پر آمادہ نہ کرپائے۔ اس کے بعد تیسرے رکوع میں بنی اسرائیل سے لیے گے عہد کا تذکرہ کیا تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو کہ دین کے بنیادی تقاضے ہمیشہ ایک رہے ہیں جو بندے کا اللہ تعالیٰ سے عہد کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے بعد یہود ونصارٰی کے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے کہ جو وہ لوگوں پر اپنا تقدس قائم کرنے کے لیے کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔ اس میں یہ واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں اور اس کا محب وہی ہوسکتا ہے جو قرآن مجید کی تعلیمات کو تسلیم کرنے اور نبی آخرالزمان (ﷺ) پر ایمان لانے والا ہو۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کا جہاد سے انحراف بیان کیا اور آدم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کا اپنے بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے کا واقعہ بیان کرنے کے ساتھ دین کے فوجداری قوانین ذکر فرمائے، پھر مسلمانوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں شخصیات کو وسیلہ بنانے کی بجائے جہاد فی سبیل اللہ اور تقوٰی کے ذریعے اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرو۔ آیت نمبر 56سے لیکر نمبر 66میں یہ بیان کیا کہ یہود ونصارٰی مسلمانوں کے دلی دوست اور کبھی خیرخواہ نہیں ہوسکتے لہٰذا اے رسول مکرم (ﷺ) آپ کو رائے عامہ کے خوف اور یہود ونصارٰی سے ڈرے بغیر رسالت کے پیغام کو من وعن لوگوں تک پہنچانا چاہیے یہ تو وہ لوگ ہیں جن کے باطل عقیدہ اور گھناؤنے کردار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء نے ان پر لعنت کی ہے حضرت داؤد اور جناب عیسیٰ کا اس لیے ذکر کیا کہ یہودی موسیٰ کے بعد حضرت داؤد (علیہ السلام) اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تاہم یہ وضاحت فرمائی کہ عیسائیوں میں ایک فرقہ ایسا ہے کہ جو مسلمانوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتا ہے اور اسی نرمی کی بناء پر ان میں کئی لوگ قرآن مجید سن کر نبی آخرالزمان (ﷺ) پر ایمان لے آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنے فضل وکرم کے ساتھ جنت میں داخل کرے گا۔ آیت نمبر 87تا 108تک قسم کے کفارے کا بیان ہے شراب، جوا، بتوں اور مختلف طریقوں سے اپنی قسمت معلوم کرنے کو ناجائز قرار دیا ہے احرام کی حالت میں خشکی کا شکار کرنا حرام اور بحری سفر میں دریائی شکار کو جائز قرار دیا ہے۔ ان مسائل کے بعدمسلمانوں کو یہ تلقین فرمائی کہ نزول قرآن کے زمانہ میں سوالات کرنے سے اجتناب کرو اور اپنے آباؤ اجدادکی تقلید کرنے کی بجائے رسول کی اتباع کو مقدم جانو اگر تم ایساکرو گے تو تمہارے دشمن تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ سورۃ المائدۃ کے اختتام میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے عظیم الشان معجزات بیان کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ اتنے عظیم معجزات ملنے کے باوجودعیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک دستر خوان نازل ہونا چاہیے تاکہ ہم اس سے کھا کر مطمئن اور لطف اندوز ہوں۔ اس سورت کا اختتام اس بات پر کیا گیا کہ محشر کے میدان میں عیسائیوں کے مشرکا نہ عقیدہ کی وجہ سے حضرت عیسیٰ سے وضاحت طلب کی جائے گی کہ اے عیسیٰ کیا آپ نے عیسائیوں کو یہ عقیدہ پڑھایا اور سمجھا یا تھا کہ وہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کا شریک بنا لیں جس کے جواب میں حضرت عیسیٰ نہایت ہی عاجزانہ انداز میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے عرض کریں گے کہ اے مولائے کریم! اگر میں نے یہ بات کہی تو آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کیونکہ آپ دلوں کے بھید اور سینوں کے راز جاننے والے ہیں۔ اس التجا کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ بھی عرض کریں گے اے رب ذوالجلال ! اگر آپ ان کو عذاب کریں تو یہ تیرے ہی بندے ہیں اگر آپ معا ف فرمادیں تو آپ کو کوئی روکنے والا نہیں کیونکہ آپ فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور آپ کے حکم میں بڑی حکمتیں پنہاں ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کی در خواست کو یہ کہہ کر مسترد فرما دیں گے کہ آج سچے لوگوں کو ان کی سچائی کا ہی فائدہ پہنچے گا۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ یہاں سچائی سے مراد اللہ کی توحید کا عقیدہ ہے جس کے بغیر کوئی نیک سے نیک عمل بھی اللہ کے حضور قبول نہیں ہوگا۔ المآئدہ
1 فہم القرآن : ربط کلام : سورۃ النساء کا آغاز عام لوگوں کے خطاب سے ہوا۔ سورۃ المائدۃ کا آغاز مومنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ایمان کا معنی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی ذات اور ان کے احکام کو تسلیم کرنا۔ جس کا مفہوم یہ ہوا کہ ” اے صاحب ایمان لوگو! تمہارا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ایک عہد ہے۔ لہٰذا اس عہد کی پاسداری کرو۔ عقود عقد کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ” کسی سے پختہ عہد کرنا۔“ اس کی تین اقسام ہیں۔ 1۔ بندے کا اللہ تعالیٰ سے عہد۔ جو ایمان لانے کی صورت میں کرتا ہے۔ 2۔ انسان کا اپنے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد کرنا۔ 3۔ آدمی کا دوسرے کے ساتھ عہد کرنا۔ حاکم اور رعیت کا ایک دوسرے کے ساتھ، کسی خاندان کا دوسرے خاندان اور ایک قوم کا دوسری قوم کے ساتھ عہد کرنا عقود میں شامل ہے میاں بیوی کے نکاح کے لیے بھی قرآن مجید نے عقد کا لفظ استعمال کیا ہے۔ کیونکہ نکاح میاں، بیوی کے درمیان ایک پختہ عہد ہے۔ یہ بات بھی عہد کی پاسداری میں شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو جانور حلال کیے ہیں۔ انھیں ہی کھایا جائے۔ سوائے ان کے جن کا شکار کرنا احرام کی حالت میں منع کیا گیا ہے۔ البتہ حدیث میں اس بات کی رخصت دی گئی کہ اگر محرم نے شکار کرنے میں کسی قسم کی معاونت نہ کی ہو تو وہ غیر محرم کا کیا ہوا شکار کھا سکتا ہے۔ احرام وہ لباس ہے جو عمرہ اور حج کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر میں حاضری دینے والوں کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ احرام اور بیت اللہ کی حاضری کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی شریعت کی عائد کردہ دوسری پابندیوں کے ساتھ شکار کرنے سے بھی اجتناب کرے۔ بہیمہ سے مراد وہ جانور ہیں جو گوشت کھانے کی بجائے زمین کی پیداوار سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ گوشت خور جنھیں عرف عام میں درندہ کہا جاتا ہے۔ ان کو حرام کرنے کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ جانور وحشی طبیعت کے ہوتے ہیں۔ جن کے کھانے سے انسان میں وحشت اور درندگی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ عہد کی پاسداری کا حکم دینے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے حکم جاری کرتا ہے۔ انسان کی طبیعت کھانے پینے میں کسی قسم کی پابندی کو اپنے لیے بوجھ تصور کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ ہر چیز کے حرام، حلال کا فلسفہ جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ جب اسے اس چیز کا فلسفہ سمجھ نہیں آتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر لب کشائی کرنے کی جسارت کرتا ہے۔ جس سے یہ کہہ کر منع کیا گیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ جس چیز کو چاہے حلال کرے اور جس کو چاہے حرام قرار دے۔ حرمت و حلت کا اختیار اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھی عطا نہیں فرمایا۔ (التحریم :1) اس لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ماننا ہی عہد کی پاسداری اور ایمان کا تقاضا ہے (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللَّہِ () إِلاَّ قَالَ لاَ إِیمَانَ لِمَنْ لاَ أَمَانَۃَ لَہُ وَلا دینَ لِمَنْ لاَ عَہْدَ لَہُ) [ مسند احمد،13: مسند انس بن مالک] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (ﷺ) نے ہمیں جب کبھی بھی خطبہ ارشاد فرمایا تو الفاظ ضرور ادا فرمائے کہ اس بندے کا ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور اس بندے کا دین نہیں جو وعدے کی پاسداری نہیں کرتا۔“ مسائل : 1۔ عہد کی پاسداری کرنی چاہیے۔ 2۔ حالت احرام میں شکار کرنا جائز نہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے فیصلے کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : ایفاء عہد کا حکم : 1۔ اللہ کے بندے وعدہ ایفاء کرتے ہیں۔ (البقرۃ:177) 2۔ اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ (الانعام :152) 3۔ ایماندار اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا عہد پورا کرتے ہیں۔ (الرعد :20) 4۔ اللہ کے عہد کا ایفاء ضروری ہے۔ (النحل :91) 5۔ قیامت کے دن ایفائے عہد کے بارے میں سوال ہوگا۔ (الاسراء :34) 6۔ جو اللہ کا وعدہ پورا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔ (البقرۃ:40) المآئدہ
2 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ حرمت و حلت کے سلسلہ میں انسان حد سے زیادہ حساس واقع ہوا ہے۔ اس لیے پھر ﴿یَاَیّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ کے خطاب سے حرمت و حلت کے مسائل کی تفسیر بیان کی جار ہی ہے۔ جس کا مفہوم یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ اے ایمان کا دعوی کرنے والو۔ اپنے ایمان کو تازہ اور پختہ کرو اور حرمتوں کا احترام کرو حرمتوں کے لیے ﴿ شعائر اللّٰہ﴾ کا لفظ استعمال کیا تاکہ ان کی اہمیت کا مزید احساس پیدا ہو شعائر ” شعیر ۃ“ کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہے کہ دین کی ایسی علامت جس سے دین یا اس کے کسی رکن کی شناخت اور تکریم واضح ہوتی ہو۔ شعائر اللہ میں سے چار کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ بعض اہل علم نے شعائر میں کسی قوم یا ملک کی اس نشانی کو بھی شامل کیا ہے جس سے کسی قوم کی قومی اور مذہبی شناخت ہوتی ہے۔ جیسا کہ قومی پرچم اور مخصوص قومی لباس ہے۔ انھیں قومی شعائر تو کہا جا سکتا ہے لیکن یہ چیزیں شعائر اللہ کا مقام حاصل نہیں کرسکتیں۔ 1۔ حرمت والے مہینے۔ ذیقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب، یہ مہینے اس وقت سے محترم قرار پائے ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا ہے۔ (التوبۃ :36) مفسرین نے ان کی یہ حکمت بیان کی ہے کہ ان مہینوں میں لوگ حج کرنے کے لیے بیت اللہ آیا کرتے تھے۔ اس لیے ابتدائے آفرینش سے انھیں محترم قرار دیا گیا تاکہ دور دراز سے آنے جانے والے زائرین کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ان میں تین مہینے تو متواتر ہیں جبکہ چوتھا مہینہ رجب ہے جو رمضان المبارک سے دو مہینے پہلے آتا ہے اس کو اس لیے محترم ٹھہرایا گیا کہ قدیم زمانے سے لوگ اس میں بیت اللہ کی زیارت اور عمرہ کے لیے آیا کرتے تھے۔ (2) (الھدی) اس سے مراد وہ جانور ہے جس کو بیت اللہ میں قربانی کے لیے نامزد کیا گیا ہو۔ (3) (القلآئد) اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو بیت اللہ بھیجے جانیوالے جانوروں کے گلے میں ڈالی جاتی تھیں۔ یہ پرانی جوتی، دھاگہ یا اس کے جسم پر ہلکی سی خراش دے کر اس کے بالوں پر خون لگا دیا جاتا تھا تاکہ معلوم ہو کہ یہ جانور اللہ کے لیے قربانی کرنے کے لیے رکھا گیا ہے۔ (4) زائرین حرم۔ یہ لوگ اللہ کی راہ کے مسافر، اس کے گھر کے مہمان اور اس کے فضل و کرم کے طلبگار ہوتے ہیں اس لیے ان کا احترام و اکرام کرنا بھی واجب قرار دیا گیا ہے۔ احرام کی حالت میں شکار کھیلنے پر پابندی تھی اب اس کی اجازت عنایت فرمائی کہ جب تم احرام کھول دو تو شکار کرنے کی اجازت ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی (ﷺ) اور آپ کے صحابہ کو کفار نے مکہ داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ جو عربوں کی دینی اور ملّی روایات کے خلاف تھا۔ خطرہ تھا کہ صحابہ کرام اس حالت میں مدینہ واپس لوٹیں گے تو مدینہ کے راستے سے بیت اللہ کی زیارت کرنے والے کفار کو اس طرح روکنے کی کوشش کریں۔ جس طرح صحابہ کو روکا گیا تھا لہٰذا سختی کے ساتھ منع کردیا گیا کہ کسی قوم کا رد عمل بیت اللہ کی طرف آنے والے مسافروں کے لیے رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں یہ مسلمانوں کی شان کے منافی ہے کہ وہ کفار جیسا وطیرہ اختیار کریں۔ مسلمان کی شان اور کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ ہر نیکی اور تقوٰی کے کام میں تعاون کرے۔ چاہے نیکی کرنے والا مسلمان کا مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ مسلمانوں کو ظلم اور گناہ کی معاونت ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ بے شک ظلم اور گناہ کرنے والے ان کے عزیز و اقرباء کیوں نہ ہوں۔ مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتے ہوئے نیکی اور تقوٰی کے کام میں تعاون کرے بصورت دیگر۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سخت پکڑنے والا ہے۔ الا یہ کہ نیکی اور تقوٰی کا نام لے کر کوئی شخص اس کے پس منظر میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کسی سازش کا ارتکاب کرے تو بظاہر نیکی ہونے کے باوجود ایسے آدمی سے تعاون نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے حضرت علی (رض) نے خارجیوں سے یہ کہہ کر عدم تعاون کا اعلان کیا تھا کہ یہ لوگ نیکی کے پردے میں باطل کی تائید کر رہے ہیں۔ (کَلِمَۃَ حَقٍ اَرِیْدَ بِہْ الْبَاطِلَ) [ البدایہ والنہایہ] مسائل : 1۔ اللہ کی نشانیوں (مناسک حج وغیرہ) کی بے حرمتی کرنا جائز نہیں۔ 2۔ عازمین حج کا احترام کرنا لازم ہے۔ 3۔ باہمی رنجش کی وجہ سے کسی کو بیت الحرام سے روکناجائز نہیں۔ 4۔ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ 5۔ گناہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ کا فضل : 1۔ انسان کا خسارے سے بچنا اللہ کے فضل کا نتیجہ ہے۔ (البقرۃ:64) 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔ (البقرۃ:243) 3۔ اللہ جس پر چاہتا ہے اپنا فضل کرتا ہے۔ (آل عمران :74) 4۔ اللہ مومنوں پر اپنا فضل کرتا ہے۔ (آل عمران :152) 5۔ اللہ کے فضل کے بغیر آدمی شیطان کا غلام بن جاتا ہے۔ (النساء :83) 6۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل پر خوش ہونا چاہیے۔ (یونس :58) المآئدہ
3 فہم القرآن : ربط کلام : حرام و حلال کی مزید تفصیل۔ دین کے معانی : دین اسلام اپنے کام اور نظام کے اعتبار سے کامل اور اکمل ہی نہیں بلکہ یہ تو اپنے نام کے دامن میں بھی پوری جامعیت اور دنیا وآخرت کے معاملات کا احاطہ کیے ہوئے ہے چنانچہ دین کا معنی ہے (1) تابع دار ہونا (2) دوسرے کو اپنا تابع فرمان بنانا (3) مکمل اخلاص اور یکسوئی کا اظہار کرنا۔ (4) قانون (5) مکمل ضابطۂ حیات (6) جزاء وسزا اور قیامت کے دن کے لیے بھی لفظ دین بولا جاتا ہے۔ ذیل میں چند حوالے ملاحظہ فرمائیں۔ اطاعت : ﴿اِنَّآ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدَّیْنَ۔ اَلاَ لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ﴾ [ الزمر : 2، 3] ”(اے نبی) یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے۔ لہٰذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو (اطاعت) کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ خبردار، اطاعت خالص اللہ کا حق ہے۔“ تابع بنانا : ﴿ہُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَہُ بالْہُدٰی وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ﴾[ التوبۃ:33] ” وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو سب ادیان پر غالب کردے چاہے مشرک ناپسند ہی کریں۔“ قانون اور ضابطہ : ﴿فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِھِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْہِ ثُّمَّ اسْتَخْرَجَھَا مِنْ وِّعَاءِ اَخِیْہِ کَذٰلِکَ کِدْنَا لِیُوْسُفَ مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِی دِیْنِ الْمَلِکِ﴾ [ یوسف :76] ” تب یوسف نے اپنے بھائی سے پہلے ان دوسروں کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی‘ پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کرلی۔ اس طرح ہم نے یوسف کی تائید اپنی تدبیر سے کی۔ اسے یہ اختیار نہ تھا کہ بادشاہ کے دین یعنی مصر کے شاہی قانون میں اپنے بھائی کو پکڑتا۔“ نظام حکومت : ﴿وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْ اَقْتُلْ مُوْسٰی وَلْیَدْعُ رَبَّہٗ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَکُمْ اَوْ اَنْ یُّظْھِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ﴾[ مومن :26] ” ایک روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا‘ چھوڑو مجھے میں اس موسیٰ کو قتل کیے دیتا ہوں اور پکار دیکھے یہ اپنے رب کو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا۔“ دین بمعنی دین : ﴿قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَلَا بالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَایُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَایَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ﴾ [ التوبہ :29] ” جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔“ روز قیامت : ﴿یَّصْلَوْنَھَا یَوْمَ الدِّ یْنِ وَمَا ھُمْ عَنْھَا بِغَآئِبِیْنَ وَمَآ اَدْرٰکَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِ ثُمَّ مَآ اَدْرٰکَ مَایَوْمُ الدِّیْنِ﴾ [ الانفطار : 15تا18] ” جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے اور اس سے ہرگز غائب نہ ہو سکیں گے۔ اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کا دن کیا ہے ؟ ہاں تمہیں کیا خبر کہ وہ جزا کا دن کیا ہے۔“ جزاء و سزا : ﴿مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ﴾ [ فاتحۃ:3] ” روز جزا کا مالک ہے۔“ مذہب اور دین میں بنیادی فرق : عربی لغت میں مذہب نام ہے رسومات‘ چند عبادات اور طریقے کا۔ جبکہ دین عبادات‘ احکامات‘ معاملات‘ اخلاقیات گویا کہ دنیا وآخرت کے تمام امور دین میں شامل ہیں لفظ مذہب عربی زبان کا لفظ ہونے کے باوجود قرآن و احادیث کے وسیع ترین علمی ذخیرہ میں دین کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ جبکہ دین قرآن مجید اور عربی ادب میں ان تمام معنوں میں استعمال ہوا اور تمام معانی اور مفاہیم کا لفظ ” دین اسلام“ نے احاطہ کرلیا ہے۔ اسلام کا مرکزی اور جامع معنی سلامتی اور سپردگی کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء گرامی میں ایک اسم مبارک ” سلام“ ہے۔ اسم پاک ہونے کی وجہ سے اس کا معنی ٰ سلامتی والا اور سلامتی عطا فرمانے والا ہے۔ اسلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے امن وسلامتی کا پیغام اور اپنے ماننے والوں کو سلامتی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ قائم و دائم اور ہمیشہ سے سلامتی والا ہے اور رہے گا۔ اس طرح دین اسلام ہمیشہ قائم اور تسلیم ورضا اختیار کرنے والوں کو دنیاوآخرت کی سلامتی فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے اور دیتا رہے گا۔ دین اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ آدمی دل کی گہرائیوں اور عمل کی تمام اکائیوں کے ساتھ اس کے حلقۂ اثر میں شامل ہوجائے۔ اسلام کا مفہوم : ” ابراہیم کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا ” مسلم ہوجا“ تو اس نے فورًا کہا میں مالک کائنات کا تابع ہوگیا۔ اس طریقے پر چلنے کی ہدایت اس نے اپنی اولاد کو بھی کی تھی اور اسی کی وصیّت یعقوب اپنی اولاد کو کر گئے۔ انہوں نے کہا میرے بچو‘ اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے لہٰذا مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔“ [ البقرۃ: 131‘132] ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔“ [ آل عمران : 102، 103] اسلام مکمل تابع داری کا تقاضا کرتا ہے : ” اے ایمان والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آ جاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“ [ البقرۃ:208] ” کہیے! میری نماز‘ میرے تمام مراسم عبودیت‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العٰلمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں۔ کہیے کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے۔“ [ الانعام : 162تا164] دین فطرت : قرآن مجید نے اسلام کو دین فطرت قرار دیا ہے کہ اس کا ہر حکم اور ارشاد انسان کی فطرت اور طبیعت کے عین مطابق ہے فطرت کو سمجھنے کے لیے کسی بھی نو مولود بچے کی عادات وحرکات پر غور فرمائیں۔ تجربہ اور مشاہدہ اس بات پر گواہ ہے کہ بطخ کا بچہ پیدا ہوتے ہی پانی کی طرف بھاگتا ہے، مرغی کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی مرغی کے پاؤں اور پروں میں سکون پاتا ہے، انسان کا نومولود اپنی مامتا کی چھاتی کی طرف لپکتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ اس کی فطرت اسے ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی فطرت کی ترجمانی کرتے ہوئے آپ (ﷺ) فرمایا کرتے تھے کہ ہر گھر کے آنگن میں پیدا ہونے والا بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ (مَامِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ اَوْیُمَجِّسَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ) [ مشکٰوۃ: باب الایمان بالقدر] ” ہرجنم لینے والا بچہ فطرت سلیم پر پیدا ہوتا ہے یہ تو والدین کی تربیت کے اثرات ہونگے کہ اسے یہودی، عیسائی یا آتش پرست بنا دیں۔“ بھینس کا بچہ اگر کچھ لمحوں کے لیے بھول کر بھینس کے تھنوں کی بجائے اگلی ٹانگوں میں منہ ڈالتا ہے تو مالک کے ایک اشارے کے بعد دوبارہ دودھ پینے والی جگہ کو نہیں بھولتا۔ انسانی فطرت کا خود اپنا تقاضا ہے کہ وہ اپنے رب سے مانگے اور اس کے سامنے جھکتارہے۔ اس کے باوجود پیدا ہوتے ہی اس کے کانوں میں اذان اور اقامت کہہ کر اسے بتلایا ہے گیا کہ اب تمہیں یہ سبق نہیں بھولنا کہ تیرا الٰہ ایک ہے اس نے ہی تجھے پیدا کیا اور تجھے ہر حال میں اس کے سامنے جھکنا ہوگا۔ جو شخص بڑا ہو کر توحید کے اس فطری راستے اور تقاضے کو چھوڑ کر شرک کی پگڈنڈیوں پر چلتا ہے وہ اپنے رب کا نافرمان ہی نہیں بلکہ اپنی فطرت سے بھی بغاوت کررہا ہوتا ہے۔ ان آیات میں انسان کو بغاوت و سرکشی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے اسی فطرت کا حوالہ دیا جا رہا ہے : ” پس اے نبی اور نبی کے ماننے والو! یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف قائم کرو۔ جس فطرت پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت بدلنے کی اجازت نہیں ہے‘ یہی بالکل راست اور درست دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ قائم ہوجاؤ اس بات پر اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور ڈرو اس سے اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں شامل نہ ہوجاؤ۔“ [ الروم : 30، 31] مومن اور مشرک کے درمیان یہی بنیادی فرق ہے کہ موحّد کی فطرت اپنی اصلّیت پر قائم رہتی ہے جس کی وجہ سے وہ ہر حال میں اپنے خالق ومالک کی طرف رجوع کرتا ہے۔ مشرک نے اپنی فطرت سے انحراف کیا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ خوش حالی اور امن وسکون کی حالت میں اپنے سچے اور حقیقی خالق کو براہ راست پکارنے کی بجائے دوسروں کے توسُّط سے سوال کرتا ہے لیکن ایسا شخص جب مسائل اور مصائب کے گرداب میں پھنس کر اسباب و وسائل سے مایوس ہوجاتا ہے تو وہ بے ساختہ پکار اٹھتا ہے کہ الٰہی تیرے سوا کوئی میری مدد کرنے والا نہیں۔ گویا کہ فطرت اور اللہ تعالیٰ کے درمیان اسباب کے حجاب اور وسائل کے پردے اٹھ گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کو براہ راست پکار رہا ہے۔ یہی وہ فطرت صحیحہ اور اس کی حقیقی آواز ہے جس سے انسان وسائل کی وجہ سے بغاوت کرتا ہے۔ ” اور جب سمندر میں ان لوگوں پر ایک موج سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہے تو یہ صرف ایک اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو بالکل اسی کے لیے خالص کر کے‘ پھر جب وہ بچا کر انہیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اغماض برتتا ہے اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو غدار اور ناشکرا ہے۔“ [ لقمٰن :32] مسائل : 1۔ غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور حرام ہے۔ 2۔ شرک کی جگہ پر ذبح کیا ہوا جانور بھی حرام ہے۔ 3۔ کفار سے مرعوب ہونے کی بجائے اللہ پر ایمان پختہ رکھنا چاہیے۔ 4۔ دین اسلام مکمل ہوچکا ہے۔ 5۔ انتہائی مجبوری کی حالت میں بعض حرمت والی چیزیں جائز ہیں۔ تفسیر بالقرآن : اسلام کا معنی اور مفہوم : 1۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم فرمانبردار بن جا تو ابراہیم اسی وقت رب کے مطیع ہوگئے۔ (البقرۃ:131) 2۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے مطیع ہونے کا نام اسلام ہے۔ (الصافات : 103تا105) 3۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے۔ (سورۃ آل عمران :19) 4۔ جو اسلام کے علاوہ دوسرا دین تلاش کرے گا وہ خسارہ اٹھائے گا۔ (آل عمران :85) 5۔ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ (الانعام :125) 6۔ جس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا گیا وہ اللہ تعالیٰ کی روشنی پر ہے۔ (الزمر :22) 7۔ جس نے اپنے چہرے کو اللہ کے سامنے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والاہے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا۔ (لقمان :22) المآئدہ
4 فہم القرآن : ربط کلام : حرام کے بعد حلال کی وضاحت۔ سابقہ آیات میں حرام کی ایک فہرست پڑھی گئی ہے اس لیے سوال پیدا ہوا کہ یہ چیزیں تو حرام ہیں لیکن حلال کونسی ہیں ؟ اس کے بارے میں وضاحت نازل ہوئی کہ تمہارے لیے ہر طیب چیز حلال کردی گئی ہے۔ سابقہ مذاہب میں یہ تھا کہ جو چیزیں ان کے مذہب میں حلال تھیں ان کے سوا باقی سب حرام تھا۔ دین اسلام نے اس کے خلاف فارمولا پیش فرمایا کہ حرام کے علاوہ تمام چیزیں اس شرط پر حلال ہیں کہ وہ پاک ہوں۔ پاک کے بارے میں اہل علم نے وضاحت کی ہے کہ جو شریعت کے کسی اصول کے تحت حرام نہ ہوں اور اسے فطرت سلیم کھانا پسند کرے۔ وہ جانور بھی حلال ہوگا جو شکاری کتے کے ذریعے شکار کیا گیا ہو۔ جسے تم نے سدھا یاہو۔ اللہ تعالیٰ کے سدھانے سے یہاں مرادشکار کرنے کے اصول و ضوابط ہیں۔ جس کی تین بنیادی شرائط ہیں۔ 1۔ کتایا باز سدھا یا ہوا ہو۔ جس کی فقہاء نے یہ صفت بیان کی ہے کہ جب اسے شکار پر چھوڑا جائے تو وہ شکار کرے اور جب اسے روکا جائے تو رک جائے۔ یہاں تک کہ اگر وہ شکار پکڑنے کے لیے دوڑے یا اڑے۔ مالک اسے رک جانے کا اشارہ دے تو وہ واپس آجائے۔ 2۔ شکار خود کھانے کی بجائے مالک کے لیے شکار کرے اگر اس نے اس میں خود کھالیا تو وہ سدھایا ہوا تصور نہیں ہوگا اور نہ اس کا کیا ہوا شکار حلال ہوگا۔ 3۔ اسے چھوڑتے وقت ” بسم اللّٰہ واللّٰہ اکبر“ پڑھا گیا ہو۔ اس صورت میں شکار مر جائے تو پھر بھی حلال تصور ہوگا۔ یہی حکم بندوق سے شکار کرنے کا ہے۔ اس بات سے علم کی فضیلت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ جس کتے کے ایک دفعہ برتن چاٹنے سے اسے ایک دفعہ مٹی کے ساتھ اور چھ مرتبہ پانی کے ساتھ دھونا پڑتا ہے۔ صرف علم کی بنیاد پر وہ اپنی نسل سے اس قدر ممتاز ہوا کہ اس کے ہاتھوں مرا ہوا جانور بھی حلال قرار پایا ہے۔ آیت کے آخر میں ﴿واتقو اللّٰہ﴾ اور ﴿سریع الحساب﴾ کے الفاظ استعمال فرما کر شکار کرنے والوں کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شکار ان شرائط پر پورا نہ اترے اور تم گوشت خوری کے شوق میں یونہی نوش کر جاؤ۔ ایسا کرنا حرام اور اللہ تعالیٰ کی سخت نافرمانی ہوگی۔ لہٰذا یاد رکھو اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب چکانے والا ہے۔ اس سے ڈرتے رہو واتقواللّٰہ کا یہ مفہوم بھی اخذ کیا گیا ہے کہ شکار کے جنون میں آکر فرض نمازوں سے غافل نہ ہونا جیسا کہ عام شکاری سارا دن شکار کے پیچھے دوڑتے ہوئے نماز کا خیال نہیں کرتے۔ (عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ کَلْبَکَ وَسَمَّیْتَ فَأَمْسَکَ وَقَتَلَ فَکُلْ وَإِنْ أَکَلَ فَلَا تَأْکُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَکَ عَلَی نَفْسِہٖ وَإِذَا خَالَطَ کِلَابًا لَمْ یُذْکَرْ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہَا فَأَمْسَکْنَ وَقَتَلْنَ فَلَا تَأْکُلْ فَإِنَّکَ لَا تَدْرِی أَیُّہَا قَتَلَ وَإِنْ رَمَیْتَ الصَّیْدَ فَوَجَدْتَّہُ بَعْدَ یَوْمٍ أَوْ یَوْمَیْنِ لَیْسَ بِہٖ إِلَّا أَثَرُ سَہْمِکَ فَکُلْ وَإِنْ وَقَعَ فِی الْمَاءِ فَلَا تَأْکُلْ) ” حضرت عدی بن حاتم (رض) نبی معظم (ﷺ) کا فرمان ذکر کرتے ہیں کہ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا جب تو اللہ کا نام لے کر کتا شکار کے لیے چھوڑے تو وہ شکار کرکے تیرے لیے پکڑے رکھے تو اس کو کھالو۔ اگر وہ کتا اس کو تھوڑا بہت کھالے تو پھر نہ کھانا۔ کیونکہ اس نے اپنے لیے شکار کیا ہے۔ اگر اس کے ساتھ کوئی اور کتا شامل ہوجائے جس کو اللہ کا نام لے کر نہیں چھوڑا گیا اور وہ دونوں شکار کریں تو اس سے نہ کھانا کیونکہ تم نہیں جانتے کہ کس نے شکار کیا ہے۔ اگر تم تیر کے ساتھ شکار کرو اور تم اپنے شکار کو ایک یا دو دن بعد پاؤ (بشرطیکہ وہ کھانے کے قابل ہو) تو اگر اس پر صرف تیرے ہی تیر کا نشان ہے تو اس کو کھالو اور اگر وہ پانی میں گرگیا ہو تو پھر نہ کھانا۔“ [ رواہ البخاری : کتاب الذبائح، ] مسا ئل : 1۔ تمام پاک و صاف چیزیں حلال ہیں۔ 2۔ سدھائے ہوئے جانور کا شکار حلال ہے۔ 3۔ شکار کرتے ہوئے بھی بسم اللہ اللہ اکبرپڑھنا ضروری ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے احتساب سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ المآئدہ
5 فہم القرآن : ربط کلام : حرام اور حلال کی مزید وضاحت۔ آج کے دن سے مراد نو ذوالحجہ ہے جس کے بارے میں پیچھے بیان ہوچکا ہے کہ یہ دن تکمیل دین، اتمام نعمت اور مسلمانوں کے لیے شوکت اسلام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں یہ بھی اعلان ہوا کہ باقی حلال چیزوں کے ساتھ تمہیں یہ بھی اجازت دی جاتی ہے کہ اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ اہل کتاب کا کھانا جس طرح کا بھی ہو وہ مسلمانوں کے لیے جائز ہوگا۔ بلکہ اس میں اسلام کی حلال و طیب کی شرائط کا ہونا ضروری ہے۔ جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ چیز نہ تو غیر اللہ کے نام پر پکائی گئی ہو اور نہ ہی ذبح کرتے وقت کسی غیر کا نام لیا گیا ہو۔ اہل کتاب سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں جو آسمانی کتابوں پر یقین رکھتے ہوں بے شک وہ عمل اور عقیدے کے اعتبار سے کمزور ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ جن اہل کتاب کے متعلق اجازت دی گئی ہے ان کے جرائم کی قرآن مجید طویل فہرست پیش کرتا ہے۔ عقیدہ میں شرک کی آمیزش، کتاب اللہ میں تحریف کرنے والے اور سود خوربھی تھے۔ تیسری اجازت اس بات کی دی گئی کہ اہل کتاب کی باکردار اور با حیا عورتوں سے مسلمان کے لیے نکاح کرنا جائز ہے بشرطیکہ ان کا حق مہر ادا کیا جائے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے جاری کیے ہوئے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی وہ کفر کا مرتکب ہوا۔ اس کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور آخرت میں وہ نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔ اعمال ضائع ہونے سے یہ بھی مراد ہے کہ بد کردار عورت سے نکاح کرنے میں آدمی کا وقار، عزت اور غیرت ختم ہوجاتی ہے۔ ایسی عورت سے جو اولاد ہوگی اسے بھی تشکیک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ جہاں تک اہل کتاب کی عورت سے نکاح کرنے کا تعلق ہے وہ اتنا کھلا اجازت نامہ نہیں جس طرح کہ لوگوں نے اپنی عیاشی کے لیے سمجھ رکھا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ایک مثال ہی کافی ہونی چاہیے۔ ابو بکر جصاص نے احکام القرآن میں شقیق بن سلمہ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان (رض) جب مدائن پہنچے تو وہاں ایک یہودی عورت سے نکاح کرلیا۔ حضرت فاروق اعظم (رض) کو اس کی اطلاع ملی تو ان کو خط لکھا کہ اس کو طلاق دیدو۔ حضرت حذیفہ (رض) نے جواب میں لکھا کہ کیا وہ میرے لیے حرام ہے، تو پھر امیر المومنین فاروق اعظم (رض) نے جواب میں تحریر فرمایا کہ میں حرام نہیں کہتا لیکن ان لوگوں کی عورتوں میں عام طور پر عفت و پاکدامنی نہیں ہے۔ اس لیے مجھے خطرہ ہے کہ آپ لوگوں کے گھرانہ میں اس راہ سے فحاشی و بدکاری داخل نہ ہوجائے۔ امام محمد بن حسن (رح) نے کتاب الآثار میں اس واقعہ کو بروایت امام ابو حنیفہ اس طرح نقل کیا ہے کہ دوسری مرتبہ فاروق اعظم (رض) نے جب حضرت حذیفہ (رض) کو خط لکھا تو اس کے یہ الفاظ تھے : (اعزم علیک ان لا تضع کتابی حتّٰی تخلی سبیلھا فانی اخاف ان یقتدیک المسلمون فیخنارو النساء اہل الذمۃ لجمالھن وکفٰی بذلک فتنۃ لنساء المسلمین۔) (کتاب الآثار، ص :156) ” یعنی آپ کو قسم دیتا ہوں کہ میرا یہ خط اپنے ہاتھ سے رکھنے سے پہلے ہی اس کو طلاق دے کر آزاد کر دو۔ کیونکہ مجھے یہ خطرہ ہے کہ دوسرے مسلمان بھی آپ کی اقتدا کریں گے اور اہل ذمہ اہل کتاب کی عورتوں کو ان کے حسن و جمال کی وجہ سے مسلمان عورتوں پر ترجیح دینے لگیں گے۔ مسلمان عورتوں کے لیے اس سے بڑی مصیبت کیا ہوگی۔“ مؤرخ اس کے جواب میں لکھتا ہے کہ حضرت حذیفہ (رض) نے امیر المومنین کا خط پڑھتے ہی اپنی پسندیدہ بیوی کو طلاق دے دی۔ مسائل : 1۔ اہل کتاب کا کھانا حلال ہے۔ 2۔ اہل کتاب کا ذبیحہ بھی حلال ہے۔ 3۔ اہل کتاب کی عورتوں سے مشروط نکاح جائز ہے۔ 4۔ ایمان لانے سے انکار کرنے والے آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ المآئدہ
6 فہم القرآن : ربط کلام : غذائی پاکیزگی کے بعد جسمانی طہارت کا حکم۔ سورۃ النساء کی آیت 43میں غسل اور تیمم کا مسئلہ بیان کیا گیا تھا۔ اب حکم ہوا ہے کہ اے صاحب ایمان لوگو! جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو۔ اپنے سروں کا مسح کیا کرو اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا کرو۔ اگر حالت جنابت میں ہو تو غسل کرکے پاک ہوجاؤ۔ کوئی شخص بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہوا ہو یا اس نے اپنی بیوی سے مجامعت کی ہو اور اسے پانی نہ ملے تو پاک مٹی پر ہاتھ مار کر منہ اور چہرے کا مسح کرو۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر سختی کا ارادہ نہیں رکھتا وہ تمہیں پاک کرنے اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کرنا چاہتا ہے تاکہ مسلمان شکر گزار بن جائیں۔ وضو کی حالت میں بیوی کے ساتھ کس حد تک لمس جائز ہے ؟: آپ (ﷺ) نے وضو کے بعد اپنی بیوی سے بوس و کنار کیا تاکہ قرآن کا مفہوم متعین ہو اور امت کے لیے سہولت نکل آئے۔ (عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِہٖ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلا ۃِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ) [ رواہ البخاری : کتاب الطہارۃ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ بلاشبہ نبی اکرم (ﷺ) نے اپنی کسی زوجہ محترمہ سے بوس و کنار کیا۔ پھر دوبارہ وضو کیے بغیر ہی نماز ادا کی۔“ وضو کا طریقہ : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لاَ وُضُوءَ لَہُ وَلاَ وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ تَعَالَی عَلَیْہِ )[ رواہ ابو داؤد : باب التَّسْمِیَۃِ عَلَی الْوُضُوءِ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی اور بسم اللہ کے بغیر وضو نہیں ہوتا۔“ (عن عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ (رض) اَنَّہٗ دَعَا بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ عَلٰی کَفَّیْہِ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَغَسَلَہُمَا ثُمَّ أَدْخَلَ یَمِینَہُ فِی الْإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَیَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہٖ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِلَی الْکَعْبَیْنِ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِی ہٰذَا ثُمَّ صَلٰی رَکْعَتَیْنِ لَا یُحَدِّثُ فیہِمَا نَفْسَہُ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ) [ رواہ البخاری : کتاب الو ضوء، بَاب الْوُضُوءِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا] ” حضرت عثمان بن عفان (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے پانی والا برتن منگوایا۔ اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے ہوئے انھیں تین مرتبہ دھویا۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ سے برتن سے پانی لے کر کلی کی اور ناک صاف کیا۔ پھر تین مرتبہ اپنے چہرے کو دھونے کے ساتھ بازوؤں کو کہنی تک دھویا۔ پھر سر کا مسح کرتے ہوئے اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک تین مرتبہ دھویا۔ پھر کہا رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا تھا کہ جس نے میرے وضو جیسا وضو کیا پھر دو رکعت نماز ادا کی۔ اس دوران اس نے دل میں کسی سے گفتگو نہ کی تو اس کے پہلے سارے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔“ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ () مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ اللَّہُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ التَّوَّابِینَ وَاجْعَلْنِی مِنْ الْمُتَطَہِّرِینَ فُتِحَتْ لَہُ ثَمَانِیَۃُ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یَدْخُلُ مِنْ أَیِّہَا شَاءَ )[ رواہ الترمذی : باب فیما یقال بعد الوضوء] ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ ! مجھے توبہ کرنے والوں میں اور پاک صاف رہنے والوں میں شامل فرما اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہاں سے چاہے داخل ہوجائے۔“ تیمم کا طریقہ : ( عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزٰی (رض) عَنْ أَبِیہٖ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (رض) فَقَالَ إِنِّی أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبْ الْمَاءَ فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمَا تَذْکُرُ إِنَّا کُنَّا فِی سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّکْتُ فَصَلَّیْتُ فَذَکَرْتُ للنَّبِیِّ () فَقَال النَّبِیُّ () إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیکَ ہٰکَذَا فَضَرَبَ النَّبِیُّ () بِکَفَّیْہِ الْأَرْضَ وَنَفَخَ فیہِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ)[ رواہ البخاری : کتاب التیمم، باب الْمُتَیَمِّمُ ہَلْ یَنْفُخُ فیہِمَا ] ” سعید بن عبدالرحمن بن ابزی (رض) اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا تو اس نے کہا میں جنبی ہوگیا ہوں۔ میرے پاس پانی نہیں ہے، حضرت عمار بن یاسر (رض) نے عمربن خطاب (رض) سے کہا کیا آپ کو یاد ہے کہ ہم دونوں ایک سفر میں تھے آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی اور میں نے مٹی پر لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی تھی میں نے یہ بات نبی اکرم (ﷺ) سے کی تو نبی معظم (ﷺ) نے فرمایا آپ کو صرف اتنا ہی کافی تھا نبی اکرم (ﷺ) نے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارا۔ ان میں پھونکا اور پھر ان دونوں کو اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مل لیا۔“ مسائل : 1۔ نماز کے لیے وضو کرنا لازم ہے۔ 2۔ پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو پاک صاف دیکھنا چاہتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مشقت میں نہیں ڈالتا۔ المآئدہ
7 فہم القرآن : ربط کلام : دین اسلام کی تکمیل، حلال چیزوں کی فہرست میں وسعت و کشادگی، پاکیزگی کے احکامات، نعمتوں کی یاد دہانی کے بعد وہ عہد یاد کروایا ہے جو انسانیت نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں اپنی تخلیق کے وقت کیا تھا، کلمۂ طیبہ اس عہد کی تائید ہے کیونکہ انسان اس میں یہ اقرار کرتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اس کی عبادت اور اس کے حکم میں شریک نہیں کروں گا۔ وہی عبادت کے لائق اور احکم الحاکمین ہے بندہ اس میں یہ بھی اقرار کرتا ہے کہ میرے قائد اور پیشوا حضرت محمد (ﷺ) ہیں۔ میں انہی کے فرمان اور طریقہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عبادت اور زندگی کے تمام معاملات طے کرتا رہوں گا۔ مفسرین نے اس عہد سے مرادصحابہ کا صلح حدیبیہ کا عہد بھی لیا ہے۔ انسان جو بھی اللہ تعالیٰ سے عہد کرتا ہے اسے ہر حال میں پورا کرنا اور اس پر سختی کے ساتھ کاربندرہنا چاہیے۔ عہد کی پاسداری کے لیے یہاں دو چیزیں بیان کی گئی ہیں ایک اللہ تعالیٰ کا خوف اس کے بغیر صحیح معنوں میں نہ آدمی صالح کردار ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی عہد کی پاسداری کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ فرمایا یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات سے پوری طرح واقف ہے جس کا معنی یہ ہے کہ تمہارا ظاہر اور باطن ایسا ہونا چاہیے کہ جس پر خدا خوفی کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دیں۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد رکھنے والا اور اس کا تقوٰی اختیار کرنے والا ہی اپنے عہد کی پاسداری کیا کرتا ہے۔ (عَنْ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ (رض) یَقُولُ قَالَ لَنَا رَسُول اللّٰہِ () وَنَحْنُ فِی مَجْلِسٍ تُبَایِعُونِی عَلٰی أَنْ لَا تُشْرِکُوا باللّٰہِ شَیْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ وَلَا تَأْتُوا بِبُہْتَانٍ تَفْتَرُونَہُ بَیْنَ أَیْدِیکُمْ وَأَرْجُلِکُمْ وَلَا تَعْصُوا فِی مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَفٰی مِنْکُمْ فَأَجْرُہُ عَلَی اللّٰہِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فَعُوقِبَ فِی الدُّنْیَا فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَہُ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فَسَتَرَہُ اللّٰہُ فَأَمْرُہُ إِلَی اللّٰہِ إِنْ شَاءَ عَاقَبَہُ وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْہُ فَبَایَعْنَاہُ عَلٰی ذٰلِکَ)[ رواہ البخاری : باب بَیْعَۃِ النِّسَاءِ] ” حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (ﷺ) نے ہمیں ایک مجلس کے دوران فرمایا کہ تم ان باتوں پر میری بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور نہ تم چوری اور نہ ہی زنا کرو۔ اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو اور تم کسی پر من گھڑت بہتان نہ باندھو۔ اور نہ ہی نیکی کے کاموں میں نافرمانی کرو۔ جس نے اس بیعت کی پاسداری کی اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمّہ ہے جس کسی نے ان باتوں کا ارتکاب کیا اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں سزا دے گا جو اس کے لیے کفارہ ہوگا۔ جس نے ان گناہوں کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہوں پر پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے چاہے سزا دے اور چاہے تو اس سے درگزر فرمائے۔ ہم سب نے اس پر بیعت کی۔“ جب رسول محترم گفتگو فرماتے تو وہ خاموشی کے ساتھ سنتے۔ اور تعظیم کی بنا پر آپ کی طرف نظر اٹھا کر نہ بات کرتے۔ مکے والوں کا نمائندہ عروہ بن مسعود اپنے ساتھیوں کی طرف پلٹا تو کہا اے میری قوم میں وفود کے ساتھ بادشاہوں کے پاس گیا۔ مجھے قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں بھی جانے کا موقع ملا مگر اللہ کی قسم جتنی عزت و تعظیم محمد (ﷺ) کے ساتھی اس کی کرتے ہیں کسی بادشاہ کی رعایا اتنی تعظیم اس کی نہیں کرتی۔ اللہ کی قسم وہ تھوک نہیں پھینکتے مگر وہ اس کے ساتھیوں کے ہتھیلیوں میں گرتی ہے اور وہ اسے اپنے چہروں اور جسم کے ساتھ مل لیتے اور جب وہ کسی کام کا حکم دیتے ہیں تو وہ اس کی تعمیل میں جلدی کرتے ہیں اور جب وہ وضو کرتے ہیں تو قریب ہے کہ اس کے ساتھی اس کے وضو کے پانی پر لڑ پڑیں اور جب وہ کلام کرتا ہے تو وہ اپنی آوازوں کو پست کرلیتے ہیں اور آپ کی طرف آپ کی عظمت کی وجہ سے نگاہ نہیں اٹھاتے اور تحقیق اس نے تمھارے سامنے ایک عظیم چیز پیش کی ہے اسے قبول کرلو۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہر وقت یاد رکھنی چاہییں۔ 2۔ وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : تقویٰ کیا ہے ؟ 1۔ جنگ اور مصیبتوں میں صبر اختیار کرنا سچ بولنا تقوٰی ہے۔ (البقرۃ:177) 2۔ حلال روزی کھانا، اللہ پر ایمان لانا اور اس سے ڈرنا تقوٰی ہے۔ (المائدۃ:88) 3۔ اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم دینا اور اس پر قائم رہنا تقوٰی ہے۔ (طٰہٰ:132) 4۔ شعائر اللہ کا احترام کرنا تقویٰ ہے۔ (الحج :32) 5۔ حج کے سفر میں زاد راہ لینا تقوٰی ہے۔ (البقرۃ:197) المآئدہ
8 فہم القرآن : ربط کلام : تکمیل دین کی خوش خبری درحقیقت اسلامی انقلاب کے غلبہ کی نوید ہے اس لیے صحابہ (رض) اور مسلمانوں کو عدل و انصاف پر قائم رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اہل مکہ اور دیگر قبائل نے جس جس انداز سے نبی (ﷺ) اور آپ کے رفقاء پر جو رواستبداد کیا تھا اس کا تقاضا یہ تھا کہ صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین جب اہل کفر پر غالب آتے تو ان سے گن گن کر بدلے لیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت یہ ہدایت فرمائی کہ ” اے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والو! تمہیں ہر حال میں اپنے رب کی رضا کے لیے عدل و انصاف پر قائم رہنا چاہیے۔“ (النساء :135) میں اس سے ملتا جلتا حکم پہلے گزر چکا ہے وہاں گواہی کے بارے میں اپنی ذات اور اعزاء و اقرباء کی طرف داری سے روکا گیا تھا۔ دوسری بات جو عدل کے معاملہ میں رکاوٹ بنتی ہے وہ کسی فرد یا قوم کی دشمنی اور عداوت ہوا کرتی ہے لہٰذا یہاں اس بات سے روکا گیا ہے کہ بے شک کسی فرد یا قوم کے ساتھ تمہاری دشمنی ہی کیوں نہ ہو یہ عدل و انصاف کی راہ میں آڑے نہیں آنی چاہیے دونوں آیات میں یہ تلقین فرمائی ہے کہ یہ کام عقیدت و عداوت سے بالا تر ہو کر محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔ یہی انصاف کا تقاضا اور خدا خوفی کا خاصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور ہر دم یہ عقیدہ تازہ رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری حرکات و سکنات اور اعمال و کردار کی خبر رکھنے والا ہے۔ شہادت کی تفسیر کرتے ہوئے معارف القرآن کے مصنف مفتی محمد شفیع (رض) لکھتے ہیں :” ڈاکٹر کا میڈیکل سر ٹیفکیٹ جاری کرنا، مہتمم کا طالب علموں کے پیپروں پر نمبر لگانا، انتخاب کے وقت کسی کو ووٹ دینا بھی شہادت کے زمرے میں آتا ہے۔“ فرماتے ہیں کہ ووٹ کی دو حیثیتیں ہیں۔ 1۔ ووٹ دینا شہادت ہے جو آدمی تحریراً یا ہاتھ اٹھا کر کسی آدمی کے اہل ہونے کے بارے میں دیتا ہے۔ 2۔ ووٹ دیناکسی کو اپنے ذاتی اور قومی معاملات میں وکیل بنانے کے مترادف ہے۔ لہٰذا یہاں بھی عدل و انصاف کو پیش نگاہ رکھ کردینا چاہیے کیونکہ اس کے مضمرات ایک فرد نہیں بلکہ ملک و ملت کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔“ (عَنْ أَنَسٍ (رض) قَالَ سُئِلَ النَّبِیُّ () عَنْ الْکَبَائِرِ قَالَ الإِْشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَشَہَادَۃُ الزُّورِ) [ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب ماقیل فی شھادۃ الزور] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (ﷺ) سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا، آپ (ﷺ) نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔“ مسائل : 1۔ ہمیشہ سچی اور انصاف پر مبنی گواہی دینی چاہیے۔ 2۔ باہم چپقلش کی وجہ سے انصاف کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ 3۔ عدل کرنا تقوٰی کے زیادہ قریب ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے باخبر ہے۔ تفسیر بالقرآن : عدل کی اہمیت : 1۔ عدل کرو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو اللہ سینوں کے بھیدوں سے واقف ہے۔ (المائدۃ:8) 2۔ اور جب فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کا فیصلہ کرو۔ (النساء :58) 3۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھارے درمیان عدل و انصاف کا فیصلہ کروں۔ (الشوریٰ:15) 4۔ اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کا فیصلہ کریں اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (المائدۃ:42) 5۔ کہہ دیجیے مجھے میرے رب نے انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ (الاعراف :29) 6۔ جب مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان عدل سے فیصلہ کریں۔ اللہ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (الحجرات :9) 7۔ جب بات کرو تو عدل وانصاف کی کرو۔ ( الانعام :152) 8۔ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل وانصاف کرنے کا حکم دیتا ہے۔ (النحل :90) المآئدہ
9 فہم القرآن : (آیت 9 سے 10) ربط کلام : اللہ کی نعمتوں کی شکر گزاری اور عہد کی پاسداری کا صلہ، اس کے مقابلے میں ناقدری و عہد شکنی اور تکفیر وتکذیب کی سزا بیان کی گئی ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے کہ قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ جب وہ اچھے اور برے اعمال کا ذکر کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اچھے کام کا اجر اور برے کام کے انجام کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ تصویر کے دونوں رخ آدمی کے سامنے ہوں تاکہ اس کے لیے اچھے اور برے کی تمیز اور ان کے درمیان فیصلہ کرنا آسان ہوجائے۔ مراد یہ ہے جس ایمان پر قائم رہنے اور صالح کردار کو اختیار کرنے کا تم سے عہد لیا گیا ہے اگر اس پر پورا اتر و گے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر عظیم اور اس کی مغفرت و رحمت کے حق دار ہوں گے۔ اس کے مقابلے میں کفر اختیار کروگے اور برے اعمال کے مرتکب ہوگے تو تمہیں دہکتی ہوئی جہنم میں رہنا ہوگا۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے بخشش کا وعدہ فرمایا ہے۔ 2۔ نیک اعمال کرنے والوں کے لیے بہت زیادہ اجر ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والے جہنم میں ہوں گے۔ المآئدہ
10 المآئدہ
11 فہم القرآن : ربط کلام : نعمتوں کی یاد دہانی اور ان کی قدر شناسی کے بعد دو قسم کے انجام کا ذکر ہوا۔ اب دشمن کے مقابلہ میں تحفظ فراہم کرنے کا انعام یاد کرایا جا رہا ہے۔ علامہ ابن کثیر نے اس آیت کا شان نزول ذکر کرتے ہوئے ایک واقعہ تحریر کیا ہے کہ رسول محترم (ﷺ) چند صحابہ (رض) کے ساتھ یہودیوں کے قبیلہ بنی نضیر کے ہاں پہنچے آپ کسی معاملہ کے بارے میں گفتگو فرمار ہے تھے۔ یہودیوں نے عمرہ بن جحش کو کہا کہ تم مکان کی چھت سے ایک بھاری پتھر نبی کے اوپر گراؤ تاکہ اس کا خاتمہ ہوجائے۔ کچھ اہل علم نے تنعیم کے واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار کی ایک جماعت نے صحابہ پر شب خون مارنے کی سازش کی۔ لیکن صحابہ (رض) کے جذبہ اطاعت شعاری سے اس قدر مرعوب ہوئے کہ انھوں نے آگے بڑھنے کی بجائے پسپائی میں خیر جانی۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے بطور نعمت ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و کرم کو یاد کرو جب لوگوں نے تم پر جارحیت کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے اعصاب توڑ دیے۔ واقعہ یاد کروانے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے دین کو اپنانے اور اسے نافذ کرنے میں کسی قسم کا خوف خاطر میں نہیں لانا چاہیے اور غیروں پر بھروسہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ اور اعتماد کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والے کبھی نقصان نہیں اٹھاتے کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں کافی ہوتا ہے۔ (الطلاق :3) اللہ تعالیٰ کا خوف اختیار کرنے سے مسلمان کے کردار میں پرہیزگاری اور نکھار پیدا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے سے غیروں کے مقابلہ میں حوصلہ، جرأت اور خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ ( عَنْ أَبِی مُوسٰی (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () مَثَلُ الَّذِی یَذْکُرُ رَبَّہُ وَالَّذِی لَا یَذْکُرُ رَبَّہُ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَیِّتِ)[ رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ عزوجل] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) رسول اللہ (ﷺ) کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ اپنے پروردگار کا ذکر کرنے والے کی مثال زندہ اور نہ کرنے والے کی مثال مردہ شخص کی سی ہے۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () یَقُول اللّٰہُ تَعَالَی أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِی وَأَنَا مَعَہُ إِذَا ذَکَرَنِی فَإِنْ ذَکَرَنِی فِی نَفْسِہٖ ذَکَرْتُہُ فِی نَفْسِی وَإِنْ ذَکَرَنِی فِی مَلَإٍ ذَکَرْتُہُ فِی مَلَإٍ خَیْرٍ مِنْہُمْ )[ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب یحذرکم اللہ نفسہ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے میں اپنے بندے کے ساتھ اپنے بارے میں اس کے ظن کے مطابق معاملہ کرتا ہوں۔ وہ جب میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ میرا ذکر اپنے دل میں کرتا ہے تو میں اس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ میرا ذکر کسی گروہ میں کرتا ہے تو میں اس کا ذکر اس سے بہتر گروہ میں کرتاہوں۔“ (عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَان النَّبِیُّ () یَذْکُرُ اللَّہَ عَلَی کُلِّ أَحْیَانِہِ) [ رواہ مسلم : باب ذِکْرِ اللَّہِ تَعَالَی فِی حَالِ الْجَنَابَۃِ وَغَیْرِہَا] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کائنات (ﷺ) ہر حال میں اللہ کا ذکر فرماتے تھے۔“ مسائل : 1۔ ہرو قت اللہ تعالیٰ کے احسان یاد رکھنے چاہییں۔ 2۔ اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی حفاظت کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن: اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے : 1۔ مومنوں کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ (آل عمران :122) 2۔ جب کسی کام کا عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ (آل عمران :159) 3۔ احد کے غازیوں نے کہا ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے اور وہی ہمیں کافی ہے۔ (آل عمران :173) 4۔ مومن اپنے رب پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔ (الانفال :2) 5۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے اللہ ہی اس کو کافی ہے۔ (الطلاق :3) المآئدہ
12 فہم القرآن : ربط کلام : دین کے بنیادی اصول ہمیشہ سے ایک رہے ہیں۔ انہی کا بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا تھا۔ جس کے بڑے بڑے اصول یہ ہیں، جن کی پاسداری کا اسلام نے حکم دیا ہے۔ لہٰذا یہود و نصاریٰ کو انہی پر ایمان لانا چاہیے۔ قرآن مجید نے مختلف مقامات پر بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد کی اٹھارہ باتوں کا ذکر کیا ہے۔ ان پر عمل درآمد کروانے کے لیے کوہ طور کو ان کے سروں پر منڈلایا گیا اور ان کے قبائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ان میں بارہ 12نقیب مقرر کیے۔ نقیب کا معنیٰ ہے کڑی نگرانی اور دوسرے کے معاملات کو کنٹرول کرنے والا۔ ان نقباء کی تعیناتی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کو تعینات فرمایا تھا۔ جن باتوں کا بنی اسرائیل سے بار بارعہد لیا گیا ان کا خلاصہ اس آیت میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے بنی اسرائیل اگر ان باتوں پر سختی سے عمل پیرا ہوجاؤ تو نہ صرف اللہ کی دستگیری اور معیت تمہیں حاصل ہوگی۔ بلکہ گناہوں کی معافی اور تمہارا جنت میں داخلہ یقینی ہوگا۔ جس نے اس عہد کی خلاف ورزی کی وہ ہماری دستگیری سے محروم اور صراط مستقیم سے گمراہ تصور ہوگا۔ ” سواء السبیل“ سے مراد شریعت کا متوازن اور معتدل راستہ ہے جو ہر قسم کی افراط و تفریط سے پاک ہے۔ عہد کی بنیادی شرائط اور اہمیت : 1۔ نماز قائم کرنا : ہر دین میں نماز اللہ تعالیٰ کی نہایت ہی پسندیدہ عبادت رہی ہے۔ جو فکر وعمل کی پاکیزگی کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کے حقوق کی ترجمان ہے۔ 2۔ زکوٰۃ : یہ غرباء سے عملی ہمدردی کا مظہر، بخل کا علاج اور تزکیۂ مال کے ساتھ غریبوں کے حقوق کی محافظ ہے۔ 3۔ انبیاء پر ایمان لانا اور ان کی تکریم و معاونت کرنا کیونکہ انبیاء ہی اللہ تعالیٰ کے ترجمان اور اس کی مرضی کے مطابق عمل کرکے دکھلانے والے ہیں۔ لہٰذاان کی تکریم اور تابعداری فرض ہے۔ ایمان لانے اور تکریم کرنے میں بدرجۂ اولیٰ نبی آخر الزمان (ﷺ) شامل ہیں۔ کیونکہ ہر نبی اور رسول آپ (ﷺ) کی آمد کا اعلان کرتا رہا۔ اور سب انبیاء سے نبی (ﷺ) پر ایمان لانے اور آپ (ﷺ) کی تائید کرنے کا عہد لیا گیا ہے۔ صدقہ سے مراد عام صدقہ بھی ہے اور زکوٰۃ بھی : صدقہ کرنے کی یہ کہہ کر تلقین فرمائی کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے مترادف ہے قرض کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا تاکہ دینے والے کے دل میں حوصلہ اور امید پیدا ہو کہ مجھے اس سے زیادہ ملنے والاہے۔ عہد کی پاسداری کا صلہ : اے بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ سے عہد کی پاسداری کرتے رہو اس سے تمہیں اللہ تعالیٰ کی دستگیری اور تائید حاصل ہوگی تمہاری بشری کوتاہیوں کو معاف کرکے تمہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد کی شرائط : ﴿ لاَ تَعْبُدُوْنَ إِلاَّ اللّٰہَ﴾۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا۔ ﴿وَبِالْوَالِدَیْنِ إِ حْسَاناً﴾۔ والدین کے ساتھ احسان کرنا۔ ﴿وَذِی الْقُرْبٰی﴾۔ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ ﴿وَالْیَتَامٰی﴾۔ یتیموں کے ساتھ ﴿وَالْمَسَاکِیْنِ﴾۔ اور غریبوں کے ساتھ احسان کرنا۔ ﴿وَقُوْلُوْا للنَّاسِ حُسْنًا﴾۔ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ ﴿وَأَقِیْمُوا الصَّلاَۃَ﴾۔ نماز قائم کرنا۔ ﴿وَآتُوا الزَّکٰوۃَ﴾۔ زکوٰۃ ادا کرنا۔ (البقرۃ:83) ﴿ لاَ تَسْفِکُوْنَ دِمَاءَ کُمْ﴾۔ آپس میں خون نہ بہانا۔ 10۔﴿ وَلاَ تُخْرِجُوْنَ أَنْفُسَکُم مِنْ دِیَارِکُم﴾۔ کمزوروں کو ان کے گھروں سے نہ نکالنا۔ (البقرۃ:84) 11۔ ﴿خُذُوْا مَا آتَیْنَاکُم بِقُوَّۃٍ﴾۔ اللہ کے احکام کو پوری قوت کے ساتھ پکڑے رکھنا۔ 12۔﴿ وَاسْمَعُوْا﴾۔ اللہ کے احکام سننا۔ (البقرۃ:93) 13۔﴿ لَتُبَیِّنُنَّہٗ للنَّاس﴾۔ انھیں لوگوں کے سامنے بیان کرنا۔ 14۔ ﴿وَلاَ تَکْتُمُوْنَہٗ﴾۔ انھیں ہرگز نہ چھپانا۔ (اٰل عمران :187) 15۔ ﴿آمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ﴾۔ اللہ کے انبیاء پر ایمان لانا۔ 16۔ ﴿وَعَزَّرْتُمُوْھُمْ﴾۔ ان کی تعظیم کرنا۔ 17۔ ﴿وَأَقْرَضْتُمُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا﴾۔ اللہ کو قرض دینا یعنی صدقہ کرنا۔ (المائدۃ:12) مسائل : 1۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبائل اور بارہ سردار تھے۔ 2۔ نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے والوں کا اللہ مددگار ہوتا ہے۔ 3۔ نیکی کے کام کرنے سے برائیاں مٹ جاتی ہیں۔ 4۔ اللہ کے عہد کی پاسداری نہ کرنے والے گمراہ ہوجاتے ہیں۔ 5۔ نیکی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائیں گے۔ المآئدہ
13 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ بار بار عہد لینے، اور بارہ نگران مقرر کرنے کے باوجود بنی اسرائیل کو جو نہی کچھ ڈھیل حاصل ہوتی تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی ایک ایک شق کو نہ صرف ٹھکراتے بلکہ اس کے مفہوم کو بدل دیتے یہاں تک کہ الفاظ بھی تبدیل کرکے ہر نصیحت اور سرزنش کو فراموش کردیتے۔ جس کا بنیادی سبب ان کی مسلسل نافرمانیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر پڑنے والی لعنت اور پھٹکار تھی۔ لعنت کا معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور اور محروم ہونا ہے۔ جو شخص یا قوم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوجائے ان کے دل سخت ہوجاتے ہیں۔ جس کے سبب اپنے آپ کو بدلنے کی بجائے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو بدلنے کے درپے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی یہ عادت خبیثہ اور فطرت ثانیہ بن جاتی ہے، جس وجہ سے ان کی اکثریت ہر قسم کی خیانت کو جائز سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل یہود کی تاریخ عہد شکنی، مالی اور اخلاقی خیانت سے بھرپور ہے۔ یہاں پھر اس بات کی وضاحت کردی گئی کہ ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خیانت کے حوالے سے مستثنیٰ قرار دیے جا سکتے ہیں۔ آیت کے آخر میں نبی (ﷺ) کو یہ تعلیم دی گئی ہے اے نبی (ﷺ) آپ ان سے الجھنے کی بجائے معاف کریں یا درگزر فرمائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنْ رَسُول اللّٰہِ () قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیئَۃً نُکِتَتْ فِی قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَاءُ فَإِذَا ہُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہُ وَإِنْ عَاد زیدَ فیہَا حَتَّی تَعْلُوَ قَلْبَہُ وَہُوَ الرَّانُ الَّذِی ذَکَرَ اللّٰہُ ﴿کَلَّا بَلْ رَانَ عَلَی قُلُوبِہِمْ مَا کَانُوا یَکْسِبُونَ﴾ قَالَ ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ )[ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ ویل للمطفین] ” حضرت ابوہریرہ (رض) رسول معظم (ﷺ) کا فرمان بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا بلاشبہ جب بندہ ایک غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے جب وہ توبہ استغفار کرتا ہے تو اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے اور اگر وہ اس غلطی کا اعادہ کرتے ہوئے مزید گناہ کرے تو اس سیاہ نکتے میں اضافہ کردیا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ پورے دل کو لپیٹ میں لے لیتا ہے اور وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے : ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ لگا دیا گیا ہے۔“ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ () یَقُولُ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یُنْصَبُ لِغَدْرَتِہِ) [ رواہ البخاری : باب إِثْمِ الْغَادِرِ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (ﷺ) سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ ہر بد عہد کے لیے جھنڈا ہوگا جو اس کی بد عہدی کے مطابق نمایاں ہوگا۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ وعدہ پورا نہ کرنے والوں پر لعنت کرتا ہے۔ 2۔ وعدہ پورا نہ کرنے کی و جہ سے دل سخت ہوجاتے ہیں۔ 3۔ نیکی کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : یہودیوں پر لعنت کے اسباب : 1۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدلنے کی وجہ سے یہودیوں پر لعنت کی گئی۔ (النساء :46) 2۔ بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے کفر کی وجہ سے حضرت داؤد اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے لعنت کی۔ (المائدۃ:78) 3۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے میثاق کو توڑنے پر لعنت ہوئی۔ (الرعد :25) 4۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھپانے کی وجہ سے لعنت کی گئی۔ (البقرۃ:159) 5۔ اللہ تعالیٰ پر الزام لگانے کی وجہ سے ان پر لعنت ہوئی۔ (ھود :18) المآئدہ
14 فہم القرآن : ربط کلام : یہودیوں کے بعد عیسائیوں کے کردار کا بیان۔ اہل کتاب اور بنی اسرائیل سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں لیکن کبھی کبھی اہل کتاب اور بنی اسرائیل سے مراد صرف یہودی ہوتے ہیں۔ یہ فرق متعلقہ آیات کے سیاق و سباق دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے، یہاں پہلی آیات میں یہودیوں کو مخاطب کیا گیا تھا اور اب عیسائیوں سے خطاب ہو رہا ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو عہد یہودیوں سے لیا گیا تھا وہی عہد عیسائیوں سے بھی لیا گیا۔ انجیل سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا فرمان ہے کہ میں تورات کی تکمیل اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید کے لیے آیا ہوں۔ اس بنا پر یہاں فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں انھوں نے بھی اللہ تعالیٰ کا عہد توڑتے ہوئے انجیل میں تحریف اور اس میں نازل شدہ نصیحتوں کو یکسر فراموش کردیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس طرح یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوئی اسی طرح عیسائی بھی مستوجب عذاب قرار پائے۔ جو اللہ کی کتاب لوگوں کو متحد رکھنے کے لیے نازل ہوئی تھی جب اس میں تغیر و تبدّل کردیا گیا تو وہ ناقابل اعتمادبن گئی اب اس کا منطقی نتیجہ تھا کہ عیسائی بھی یہودیوں کی طرح کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اب ان کی باہمی مخاصمت اور عداوت قیامت تک باقی رہے گی جس کا انجام اللہ تعالیٰ ان کے سامنے لائے گا۔ باہمی عدوات سے مراد یہودیوں اور عیسائیوں کی عداوت بھی ہو سکتی ہے۔ (عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ () افْتَرَقَتِ الْیَہُودُ عَلَی إِحْدَی وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً فَوَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَسَبْعُونَ فِی النَّارِ وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَی عَلَی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً فَإِحْدَی وَسَبْعُونَ فِی النَّارِ وَوَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِی عَلَی ثَلاَثٍ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً فَوَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِی النَّار قیلَ یَا رَسُول اللَّہِ مَنْ ہُمْ قَالَ الْجَمَاعَۃُ ) [ رواہ ابن ماجۃ: باب افْتِرَاقِ الأُمَم] ” حضرت عوف بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا یہودی اکہتر فرقوں میں بٹے تھے ان کے ستر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں اور عیسائی بہتر فرقوں میں بٹے تھے ان میں سے اکہتر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے میری امت تہتر فرقوں میں بٹے گی ان میں سے بہتر جہنمی ہوں گے اور ایک جنتی، صحابہ نے عرض کی جنت میں جانے والے کون ہیں آپ نے فرمایا وہ جماعت (جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر چلنے والے) ہے۔“ مسائل : 1۔ یہودیوں کی طرح عیسائیوں سے بھی پختہ عہد لیا گیا۔ 2۔ یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ 3۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو آشکار فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن: اللہ تعالیٰ کن لوگوں سے محبت کرتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ پر ہیز گاروں سے محبت کرتا ہے۔ (آل عمران :76) 2۔ بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (الممتحنۃ:8) 3۔ غصہ پینے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے۔ (آل عمران :134) 4۔ اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (آل عمران :146) 5۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے سے محبت کرتا ہے۔ (آل عمران :148) 6۔ اللہ تعالیٰ پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (التوبۃ:108) 7۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اللہ کی راہ میں منظم ہو کر لڑتے ہیں۔ (الصف :4) المآئدہ
15 فہم القرآن : (آیت 15 سے 16) ربط کلام : یہود و نصاریٰ کو الگ، الگ خطاب کرنے کے بعد مشترکہ خطاب۔ اب یہود و نصاریٰ کو اکٹھا خطاب کرتے ہوئے نصیحت کی جا رہی ہے کہ اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا آخری رسول آپہنچا ہے جو تورات اور انجیل کی ایسی حقیقتیں منکشف کر رہا ہے جن کو تم نے کلی طور پر چھپا رکھا تھا اور بہت سی تمہاری ذاتی کمزوریوں سے صرف نظر کرتا ہے یقیناً تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا نور اور واضح کتاب پہنچ چکی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی خوشی کا طلب گارہے اور اس کی جستجو کرتا ہے اللہ اپنے حکم سے اسے تاریکیوں سے نکال کر روشن فضا اور سیدھے راستے پر گامزن کرتا ہے۔ سبل السلام سے مراد وہ سیدھا راستہ ہے جس کی صراط مستقیم کہہ کر وضاحت کی گئی ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت 257میں ” ظلمات“ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا جا چکا ہے کہ دنیا میں شرک و بدعت، رسومات وخرافات اور دیگر گمراہیوں کی شکل میں بہت سے اندھیرے ہیں لیکن روشنی ایک ہی ہے جو ہدایت کی صورت میں ہمیشہ سے ایک ہی چلی آرہی ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کا متلاشی اور ہدایت کے راستے کا راہی بنتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ یقیناً ہدایت سے سرفراز فرماتا ہے۔ یہاں ایک مفسر نے اپنے باطل عقیدہ کو ثابت کرنے کے لیے تفسیر ابن جریر سے ایک غیر مستند قول نقل کیا ہے کہ نور سے مراد رسول محترم (ﷺ) کی ذات ہے جبکہ ایک معمولی گرائمر جاننے والا شخص بھی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ﴿ نوروکتاب مبین﴾ سے مراد ایک ہی چیز ہے۔ ﴿یھدی بہ﴾ میں ضمیر تثنیہ کی بجائے واحد کی استعمال کی گئی ہے۔ اس لیے اہل علم نے اس کی تفسیر کتاب مبین کی ہے اس آیت میں قرآن کو واضح طور پر نور قرار دیا ہے۔ جہاں تک نبی اکرم (ﷺ) کی ذات اقدس کا معاملہ ہے۔ آپ بشر اور انسان تھے۔ مسائل : 1۔ نبی معظم (ﷺ) نے دین کو کھول کر بیان فرمادیا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو قرآن مجید کے ذریعے ہدایت دیتا ہے۔ 3۔ قرآن مجید ہدایت کے لیے نور ہے۔ 4۔ اہل کتاب اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات چھپاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : نور سے مراد : 1۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور (ہدایت دینے والا) ہے۔ (النور :35) 2۔ اللہ ہی اندھیرے اور روشنی پیدا کرنے والا ہے۔ (الانعام :1) 3۔ کفار اور مشرک اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔ (التوبۃ:32) 4۔ اندھیرا اور نور برابر نہیں ہو سکتے۔ ( الرعد :16) 5۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا دوست ہے انھیں اندھیروں سے نور کی طرف لاتا ہے۔ (البقرۃ:257) 6۔ نبی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتے ہیں۔ (ابراہیم :5) 7۔ اللہ جس کی چاہتا ہے اپنے نور (قرآن) کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ (النور :35) تمام انبیاء (علیہ السلام) بشر اور بندے تھے : 1۔ انبیاء (علیہ السلام) کا اقرار کہ ہم بشر ہیں۔ (ابراہیم :11) 2۔ ہم نے آپ سے پہلے جتنے نبی بھیجے وہ بشر ہی تھے۔ (النحل :43) 3۔ نبی آخر الزمان (ﷺ) کا اعتراف کہ میں تمھاری طرح بشر ہوں۔ (الکہف :110) 4۔ ہم نے آدمیوں کی طرف وحی کی۔ (یوسف :109) 5۔ کسی بشر کو ہمیشگی نہیں ہے۔ (الانبیاء :34) المآئدہ
16 المآئدہ
17 فہم القرآن : ربط کلام : یکے بعد دیگرے یہود و نصاریٰ کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔ درمیان میں رسول کریم (ﷺ) کی تشریف آوری اور کتاب مبین کا مقصد بیان کرنے کے بعد اب پھر عیسائیوں کے عقیدہ کی کمزوری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ قرآن مجید یہ حقیقت منکشف کرتا ہے کہ جب کوئی فرد یا قوم شرک میں مبتلا ہوجاتی ہے تو وہ اس قدر ژود نگاہی اور کج فکری کا شکار ہوتی ہے کہ اسے خبر نہیں ہوتی کہ اس کے نظریات میں کس قدر تضاد اور الجھاؤ پایا جاتا ہے۔ ایسی ہی صورت حال میں عیسائی مبتلا ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت مریم، حضرت عیسیٰ اور اللہ تعالیٰ کو ملا کر خدا مکمل ہوتا ہے غور فرمائیں کہ عیسائی ایک طرف اللہ تعالیٰ کی وحدت کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسی زبان سے تثلیث پر بھی اصرار کیے جا رہے ہیں۔ جس چیز کو بنیاد بنا کر عیسائی تثلیث کا مغالطہ دیتے ہیں وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بن باپ پیدا ہونا ہے جن کے بارے میں ایک چھوٹے سے گروہ کو چھوڑ کر عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ ہمارے گناہ معاف کروانے کی خاطر سولی پر لٹک چکے ہیں۔ یہ تو قرآن مجید کا عیسائیت پر احسان ہے کہ اس نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نہ سولی چڑھائے گئے اور نہ ہی انھیں قتل کیا گیا ہے۔ تاہم قرآن مجید انھیں یہ باور کرا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ عیسیٰ اور اس کی والدہ کو ہلاک اور زمین و آسمان کو نیست و نابود کرنا چاہے تو دنیا کی کون سی طاقت ہے جو انھیں بچا اور تحفظ دے سکے گی؟ کیونکہ زمینوں، آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے سب کا سب اللہ کی ملکیت اور اس کے اختیار میں ہے۔ اسی کے اختیار کا یہ مظہر ہے کہ اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کیا جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے جس طرح چاہے اس کو پیدا فرماتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قدرت وسطوت رکھنے والا ہے۔ عیسائیوں پر تعجب ہے کہ ایک طرف عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف انھیں مصلوب بھی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جو اپنی موت و حیات پر اختیار نہیں رکھتا وہ اللہ یا اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے، کیا فنا ہونے والا اور باقی رہنے والا یا با اختیار اور بے اختیار دونوں برابر یا ایک دوسرے کے شریک ہو سکتے ہیں۔ مسائل : 1۔ کسی کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دینا کفر ہے۔ 2۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم ( علیہ السلام) اللہ کا بیٹا نہیں۔ 3۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ 5۔ جس کو اللہ تعالیٰ نقصان پہنچانا چاہے اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔ تفسیر بالقرآن : اللہ ہی خالق ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ (البقرۃ:22) 2۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم :20) 3۔ اللہ ہی نے انسان کو بڑی اچھی شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔ (التین :4) 4۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفے سے پیدا کیا۔ (الدھر :2) 5۔ اللہ نے ایک ہی جان سے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ (الاعراف :189) 6۔ اللہ ہی پیدا کرنے والاہے اور اس کا ہی حکم چلنا چاہیے۔ (الاعراف :54) 7۔ لوگو اس رب سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (النساء :1) المآئدہ
18 فہم القرآن : ربط کلام : اب عیسائیوں اور یہودیوں کو مشترکہ خطاب ہوتا ہے۔ قرآن مجید کا فرمان ہے کہ جب کوئی فرد یا قوم شرک میں مبتلا ہوتی ہے تو اس کی گمراہی کی کوئی حد نہیں رہتی۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء :116) جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا گو یا وہ آسمان سے گرا اور پر ندوں نے اسے نوچ ڈالا یا وہ تیز ہواؤں نے اسے کسی گہری کھڈ میں دے مارا۔ (الحج :31) یہ شرک کی نحوست کا نتیجہ ہے کہ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا ٹھہرایا۔ اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا جزء قرار دیا پھر آگے چل کر مذہبی تقدس کی دھاک بٹھانے اور سیاسی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے بزعم خود اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہونے کا اعلان کیا۔ اور یہ بھی باور کرو ایا کہ ہم اس کے ایسے بیٹے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ بڑی محبت کرتا ہے۔ اس کے جواب میں ان پر اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے پسند یدہ لوگ ہو تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب اور ذلت میں کیوں مبتلا کرتا رہا اور کرتا ہے۔ کوہ طور کے دامن میں موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی کے باوجود تمہارے ستر زعما کا ہلاک ہونا۔ جنھیں موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے بدلے میں حیات نو سے نوازا گیا۔ اصحاب سبت پر پھٹکارکا نازل ہونا جس کے بدلے میں انھیں ذلیل بندر بنا دیا گیا۔ تمہارے سروں پرکوہ طورکا منڈلایا جانا۔ اس طرح دیگر عذابوں کا نازل ہونا اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے پسندیدہ لوگ ہو تو یہ عذاب تم پر کیوں نازل ہوئے؟ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کوئی مشفق اور مہر بان باپ اپنی محبوب اور تابع فرمان اولاد کو اپنے ہاتھوں سے پر یشانیوں اور عذاب میں مبتلا کرے ؟ تم تو انسانوں کی طرح ہی انسان ہو جیسے اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو پیدا کیا ہے۔ ایسے ہی اس نے تمہیں پیدا فرمایا۔ وہ جس کی چاہے خطاؤں کو معاف فرما دے اور جسے چاہے اس کی بد اعمالیوں کی سزا دے۔ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اللہ کی ملک ہے اور ہر کسی نے اس کے ہاں پلٹ کر جانا ہے مسائل : 1۔ یہود و نصاریٰ اللہ کے محبوب اور اس کے بیٹے نہیں ہیں۔ 2۔ سزا و جزا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ 3۔ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ 4۔ سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہ جسے چاہے معاف فرمائے گا اور جسے چاہے عذاب کرے گا۔ تفسیر بالقرآن: زمین اور آسمان اللہ ہی کی ملکیت ہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے۔ (البقرۃ:107) 2۔ مالک الملک اللہ تعالیٰ ہے۔ (آل عمران :26) 3۔ اللہ جسے چاہتا ہے اسے حکومت دیتا ہے۔ (آل عمران :26) 4۔ اللہ جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔ (آل عمران :26) 5۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہی ہے۔ (الشوریٰ :49) 6۔ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ (الملک :1) 7۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے وہ جسے چاہے معاف کرے گا۔ (الفتح :14) المآئدہ
19 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : یہاں اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ دونوں ہیں جنھیں بطور نعمت اور احسان کے اس بات کی یاد دہانی کروائی جا رہی ہے کہ اے اہل کتاب اپنے ماضی کو ذرا جھانک کر دیکھو۔ جب تم مایوس ہو کر کہا کرتے تھے اب ہماری رہنمائی کے لیے قیامت تک کوئی پیغمبر (ﷺ) مبعوث نہیں کیا جائے گا۔ اہل کتاب بالخصوص یہودیوں نے انبیاء (علیہ السلام) پر جو مظالم ڈھائے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک عرصہ تک ان میں انبیائے کرام کی بعثت کا سلسلہ منقطع کردیا ﴿ فترۃ﴾ کا معنی ہوتا ہے تسلسل کو روکنا یا ایک خاص مدت کے لیے کسی کام میں وقفہ پیدا کرنا۔ اس سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کی مدت اور وقفہ ہے کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک تقریباً سترہ سو سال میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں مسلسل انبیاء مبعوث فرمائے جن میں نہ صرف انبیاء تھے بلکہ ایسے انبیاء بھی مبعوث کیے گئے جو اپنے وقت کے حکمران بھی تھے لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تقریباً چھ سو سال تک کوئی نبی مبعوث نہیں کیا گیا تاآنکہ نبی آخر الزمان جناب محمد رسول اللہ (ﷺ) کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا۔ آپ کی آمد سے پہلے بنی اسرائیل مایوس ہو کر کہتے تھے کہ اب ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا نہیں آئے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کرم فرماتے ہوئے ایسا رسول بھیجا جو تمام انبیاء کے اوصاف کا مرقع اور ان کی شریعتوں کا ترجمان ہے۔ لہٰذا اے بنی اسرائیل اور دنیا کے لوگو! تمہیں بنی اسماعیل کے محمد عربی (ﷺ) کو آخری رسول مان لینا چاہیے۔ اس کی اتباع میں تمہاری بہتری اور نجات ہے۔ اگر تم انکار کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ کو تمھارے کفر و شرک سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ()۔۔ وَبُعِثْتُ إِلٰی کُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ)[ رواہ مسلم : کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ] ” حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا میں ہر سرخ وسیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔“ مسائل : 1۔ نبی معظم (ﷺ) جنت کی خوشخبری سنایا کرتے تھے۔ 2۔ رسول اکر م (ﷺ) دوزخ کے عذاب سے ڈرایا کرتے تھے۔ 3۔ نبی اکرم (ﷺ) اتمام حجت کے لیے مبعوث کیے گئے۔ 4۔ نبی اکرم (ﷺ) نے کھول کھول کر حقائق بیان فرما دیے۔ تفسیر بالقرآن : نبی بشیر اور نذیر ہوتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (البقرۃ:119) 2۔ اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ (المائدۃ:19) 3۔ نبی آخر الزمان (ﷺ) ڈرانے اور بشارت دینے والے ہیں۔ (الاعراف :188) 4۔ آپ کا اعلان بے شک میں اللہ کی طرف سے تمہیں ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔ (ھود :2) 5۔ اے نبی ہم نے تجھے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (بنی اسرائیل :105) 6۔ اے نبی ہم نے آپ کو سب لوگوں کے لیے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (سبا :28) المآئدہ
20 فہم القرآن : (آیت 20 سے 21) ربط کلام : اب پھر یہودیوں کو خطاب ہوتا ہے۔ اپنی قوم کا مزاج دیکھتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارض مقدّس میں داخل ہونے کا حکم دینے سے پہلے انھیں اللہ تعالیٰ کے انعامات اور ماضی کی عزت رفتہ اور اقتدار یاد دلا کر حکم دیا کہ میری قوم ارض مقدس کی طرف پیش قدمی کرو۔ اس کے ساتھ ہی خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے فتح کو یقینی بنا دیا ہے یہاں دوسرے انعامات کے ساتھ بالخصوص دو انعام کا نام لے کر یہ احساس دلایا کہ یہ مقدس زمین انبیاء کی سرزمین ہے اور یہاں تمہارے آباؤ اجداد نے سینکڑوں سال تک حکومت کی ہے اور تمہیں وہ کچھ عنایت فرمایا تھا جو دنیا میں تم سے پہلے کسی کو نہیں دیا گیا۔ اس یاد دہانی کرانے کا مقصد یہ تھا کہ اس سرزمین میں داخل ہونا تمہارا مذہبی اور سیاسی حق بنتا ہے لہٰذا پیچھے نہ ہٹنا ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔ دشمن کے مقابلہ میں پیچھے ہٹنا کبیرہ گناہ ہونے کے ساتھ دنیا میں ذلت اٹھانا پڑتی ہے بسا اوقات ایسی قوم اپنا سب کچھ کھو بیٹھتی ہے۔ اس سے مؤرخین کی اس غلط فہمی کا ازالہ ہوتا ہے کہ جن کا خیال ہے کہ فلسطین میں بنی اسرائیل کے عروج کی تاریخ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شروع ہوتی ہے جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے خطاب میں اپنے سے پہلے بنی اسرائیل کے شاندار ماضی کا حوالہ دے رہے ہیں۔ جس کے بارے میں قرآن مجید نے واضح فرمایا ہے کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو عظیم مملکت سے نوازا تھا۔ ظاہر بات ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جناب موسیٰ (علیہ السلام) سے سینکڑوں سال پہلے گزر چکے تھے۔ یہاں اہل علم نے نکتہ وردی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ انبیاء کا ذکر کرتے ہوئے ” فیکم“ کے الفاظ استعمال کیے جس کا معنیٰ ہے تم میں سے کچھ شخصیات کو نبی بنایا جس سے ثابت ہوا کہ نبوت لوگوں کا انتخاب نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ جس کو چاہے نبوت کے لیے منتخب فرمائے ” وجعلکم“ کا مفہوم یہ ہے کہ تمہیں حکمران بنایا کسی قوم اور ملک کا حکمران تو ایک ہی ہوتا ہے۔ لیکن خبر جمع لائی گئی ہے جس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ صحیح حکمران وہ ہوتا ہے جو لوگوں کو ساتھ لے کر چلے یعنی اپنے اقتدار میں عوام کو شرکت کا حق دے۔ (عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ (رض) عَنْ رَسُول اللّٰہِ () قَالَ خِیَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِینَ تُحِبُّونَہُمْ وَیُحِبُّونَکُمْ وَیُصَلُّونَ عَلَیْکُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَیْہِمْ وَشِرَارُ أئِمَّتِکُمْ الَّذِینَ تُبْغِضُونَہُمْ وَیُبْغِضُونَکُمْ وَتَلْعَنُونَہُمْ وَیَلْعَنُونَکُمْ قیلَ یَا رَسُول اللّٰہِ أَفَلَا نُنَابِذُہُمْ بالسَّیْفِ فَقَالَ لَا مَا أَقَامُوا فیکُمْ الصَّلَاۃَ وَإِذَا رَأَیْتُمْ مِنْ وُلَاتِکُمْ شیئًا تَکْرَہُونَہُ فَاکْرَہُوا عَمَلَہُ وَلَا تَنْزِعُوا یَدًا مِنْ طَاعَۃٍ)[ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب خیار الائمۃ وشرارھم] ” حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) فرماتے ہیں میں نے رسول معظم (ﷺ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن کو تم پسند کرو اور وہ تم سے مروت رکھیں تم ان کے لیے رحمت مانگو اور وہ تمہارے لیے رحمت کی دعائیں مانگیں اور تمہارے برے حکمران وہ ہوں گے جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے نفرت کریں تم ان پر لعن طعن کرو اور وہ تمہیں ملعون قرار دیں۔ صحابی رسول فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا کہ کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں؟ نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا : نہیں جب تک وہ نماز قائم کریں جب تم اپنے حکمرانوں میں کوئی ایسی چیز دیکھو جس کو تم نا پسند کرتے ہو تو ان کے فقط اس عمل کو ناپسند کرو اور ان کی فرمانبرداری سے ہاتھ نہ کھینچو۔“ مسائل : 1۔ انبیاء کو مبعوث فرمانا اور بادشاہت کا عطا فرمانا اللہ کا انعام ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو وہ کچھ عطا فرمایا جو پہلے اور ان کی ہم عصراقوام کو نہیں دیا گیا تھا۔ 3۔ اللہ کے رسول (ﷺ) کے احکامات نہ ماننے والے نقصان اٹھائیں گے۔ تفسیر بالقرآن : بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات : 1۔ اے بنی اسرائیل میری نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام فرمائیں۔ (البقرۃ:47) 2۔ بنی اسرائیل کو ساری دنیا پر فضیلت دی گئی۔ (البقرۃ:47) 3۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون سے نجات دی۔ (البقرۃ:49) 4۔ بنی اسرائیل کے لیے سمندر کو پھاڑا گیا۔ ( البقرۃ:50) 5۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے بارہ چشمے جاری فرمائے۔ (الاعراف :160) 6۔ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے بادلوں کا سایہ کیا اور من و سلویٰ نازل فرمایا۔ (البقرۃ:57) المآئدہ
21 المآئدہ
22 فہم القرآن : (آیت 22 سے 23) ربط کلام : قوم کا موسیٰ (علیہ السلام) کو جواب۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکمت عملی کے تحت قوم کے سرداروں کو فلسطین کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے یہ کہہ کر روانہ کیا کہ ان کی فوجی طاقت کا جائزہ لے کر مجھے رپورٹ دینا لیکن یاد رکھنا یہ خبر بنی اسرائیل یعنی عوام کو نہیں پہنچنا چاہیے۔ اس کے باوجود بارہ میں سے دس لیڈروں نے موسیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنے اپنے قبائل کے چیدہ چیدہ افراد کو صورت حال بتلائی کہ جس سر زمین کی طرف ہمیں پیش قدمی کا حکم دیا جا رہا ہے۔ وہاں بڑے بڑے کڑیل جوان، جنگ جو اور بہادر لوگ ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنا ہمارے بس کا روگ نہیں چنانچہ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو جہاد کی تیاری کا حکم دیا اور فرمایا آگے بڑھنا پیچھے نہ ہٹنا۔ ورنہ شکست ہوگی دنیا میں ذلیل اور آخرت میں تمہیں اس فرار اور انکار کی سزا ملے گی۔ دو لیڈروں کے سوا باقی سب نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہاں ہمارے مقابلے میں انتہائی طاقت ور لوگ رہتے ہیں۔ ہم ان کا ہرگز مقابلہ نہیں کرسکتے ہم تبھی ارض مقدس میں داخل ہوں گے جب وہ لوگ خود بخود وہاں سے نکل جائیں لیکن ان میں سے دور ہنما ایسے تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے ثابت قدم رہنے کا انعام فرمایا تھا کیونکہ وہ خوف خدا رکھنے والے تھے نہ انھوں نے راز افشا کیا اور نہ ہی جہاد سے فرار اختیار کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مؤقف کی پر زور تائید کرتے ہوئے اپنی قوم کو سمجھایا کہ حوصلہ نہ ہارو اور دل چھوٹا نہ کرو۔ اگر تم ایماندار ہو توجناب موسیٰ (علیہ السلام) کے فرمان پر یقین رکھو۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو جوں ہی تم اس سرزمین پر قدم رکھو گے فتح تمہاری ہوگی۔ لیکن سمجھانے اور کوشش کے باوجود انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ ہمارے وہاں داخل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگر آپ کو فتح کا اتنا ہی شوق اور یقین ہے تو تم اور تمہارا رب جہاد کرے ہم تو یہاں بیٹھے رہیں گے۔ مسائل : 1۔ اللہ سے ڈرنے والوں پر اللہ کا انعام ہوتا ہے۔ 2۔ اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننے والے غالب آتے ہیں۔ 3۔ مومن ہر حال میں اللہ تعالیٰ پہ توکل کرتے ہیں۔ 4۔ نیک لوگوں کو دوسروں کو نیکی کی تلقین کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے : 1۔ رسول کریم کو اللہ پر تو کل کرنے کی ہدایت۔ (النمل :79) 2۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم۔ (المجادلۃ:10) 3۔ انبیاء اور نیک لوگ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (یوسف :67) 4۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق :3 5۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ (التوبۃ:129) 6۔ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران :159) 7۔ اللہ صبر کرنے والوں اور توکل کرنے والوں کو بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ (العنکبوت :59) 8۔ اللہ پر ایمان لانے والوں اور توکل کرنے والوں کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ (الشوریٰ :36) المآئدہ
23 المآئدہ
24 فہم القرآن : (آیت 24 سے 26) ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ تعالیٰ کے حضور التجاء : جب نا ہنجار اور نافرمان قوم نے نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم کا انکار کیا بلکہ پرلے درجے کی گستاخی کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تو اور تیرا رب جاکرقتال کریں۔ غور فرمائیں، جس قوم کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بے شمار مصائب وآلام برداشت کیے اور جس کے لیے اتنی جدوجہد کی کہ اس کا جواب کتنا گستاخانہ اور بزدلانہ ہے۔ یہ سن کر جناب موسیٰ (علیہ السلام) کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ لیکن اس کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں کچھ کہنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں فریاد کی کہ الٰہی ! میں اپنی اور اپنے بھائی کی ذمہ داری لیتا ہوں جس کا یہ معنی ہے کہ ہم تو تیری راہ میں لڑنے مرنے کے لیے تیار ہیں اگر یہ نافرمان اپنے فائدے کی خاطر بھی تیرے راستے میں لڑنے کے لیے تیار نہیں۔ بس تو ہمارے اور ان کے درمیان علیحدگی فرما دیجیے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان پر ارض مقدس کو حرام کیا اور انھیں چالیس سال تک تیہ کے صحرا میں ٹھوکریں کھانے کے لیے چھوڑ دیا اور ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا کہ آپ کو نافرمان قوم پر افسردہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ کچھ مدت کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) یکے بعد دیگرے اللہ کو پیارے ہوئے۔ ان کے بعد یوشع بن نون کی قیادت میں بنی اسرائیل ارض مقدس میں داخل ہوئے لیکن اس وقت بھی انھوں نے بغاوت کا مظاہرہ کیا جس کا ذکر گزر چکا ہے۔ جغرافیہ دانوں نے اس صحرا کا رقبہ 27فرسخ طول اور 9فرسخ عرض بیان کیا جس کا مطلب ہے کہ یہ صحرا 90میل لمبا اور 27میل چوڑا ہے جس میں تقریباً 70لاکھ کے قریب بنی اسرائیل مقید کیے گئے جس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ صبح سے شام تک اس کو شش میں سرگرداں رہتے کہ کسی طرح وہ واپس پلٹ جائیں لیکن مغرب کے وقت اسی مقام پر ہوتے جہاں سے انھوں نے سفر شروع کیا ہوتا تھا گویا کہ وہ بغیر کسی دیوار اور بیڑیوں کے اللہ تعالیٰ کی جیل میں جکڑ دیے گئے تھے تاہم اس دوران انھیں صبح و شام کھانے کے لیے من اور سلویٰ دیا جاتا اور پینے کے بارہ چشموں کا انتظام اور دھوپ سے بچاؤ کے لیے بادلوں کا سا یہ کیا گیا۔ یہ مثلث نما جزیرہ ہے جو بحر الکاہل (بحیرہ روم) (شمال کی طرف) اور ریڈسی بحر احمر (جنوب کی طرف) کے درمیان مصر میں واقع ہے اور اس کا رقبہ ساٹھ ہزار مربع کلومیٹر ہے اس کی زمینی سرحدیں سویز نہر مغرب کی طرف اور اسرائیل۔ مصر سرحد، شمال مشرق کی طرف ہیں۔ سینائی جزیرہ نما جنوب مغربی ایشیا میں واقعہ ہے اسے مغربی ایشیا بھی کہتے ہیں یہ زیادہ درست جغرافیائی اصطلاح ہے جبکہ مصر کا باقی حصہ شمالی افریقہ میں واقعہ ہے جغرافیائی وسیاسی مقاصد کے لیے زیادہ سینائی کو اکثر افریقہ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ سینائی تقریباً مکمل طور پر صحرا ہے مگر تبا (Taba) میں سبا ساحل (Sabah Coast) کے ساتھ ساتھ واقع ہے (موجودہ اسرائیل قصبہ ایلٹ ( eilat) کے نزدیک) جہاں ایک ہوٹل اور رقص گاہ (Casino) ہے جب ساحل کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف حرکت کی جائے تو وہاں نیوویبا (N (علیہ السلام) weba) داھاب (Dahab) اور شرم الشیخ (Sharmel sheikh) واقع ہیں سینائی العریش ( I Arishel) یں غزہ پٹی کے نزدیک شمالی ساحل پر واقع ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ کے رسول کے حکم کو نہ ماننے والے فاسق ہیں۔ 2۔ اللہ کا حکم نہ ماننے والے رسوا ہوتے ہیں۔ 3۔ مغضوب قوم کے لیے زمین تنگ کردی جاتی ہے۔ 4۔ نافرمان لوگوں پر عذاب نازل ہو تو افسوس نہیں کرنا چاہیے۔ المآئدہ
25 المآئدہ
26 المآئدہ
27 فہم القرآن : ربط کلام : قابیل اور ہابیل کا واقعہ پڑھنے کا مقصد یہودیوں کو بتانا ہے کہ تمہارے اور قابیل کے کردار میں کوئی فرق نہیں جس طرح وہ اپنے بھائی پر ظلم کرنے کے بعد پچھتایا تھا۔ عنقریب تمہیں بھی اپنے کیے پر پچھتاوا ہوگا۔ کیونکہ تم بھی اپنے بعد والی امت پر ظلم کر رہے ہو۔ قربانی کا لفظ ” قربان“ بروزن ” سلطان“ سے نکلا ہے عربی محاورات میں قربان ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے جیسا کہ امام ابو بکر جصاص مرحوم نے احکام القرآن میں نقل کیا۔ ” والقربان مایقصد بہ القرب من رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ من اعمال البرّ“”’ قربان ہر اس نیک کام کو کہا جاتا ہے جس کا مقصد اللہ کی قربت حاصل کرنا ہو۔“ لیکن عرف عام میں دسویں ذوالحجہ کو بکرے، دنبے، گائے اونٹ ذبح کرنے کا نام قربانی ہے۔ واقعہ بیان کرنے سے پہلے اس کے متعلق گارنٹی دی گئی کہ واقعہ اور اس کے حقائق اتنے برحق ہیں کہ ان کے بارے میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں یہ ہر لحاظ سے حق پر مبنی ہے۔ اس میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے جس طرح قابیل قتل کرنے کے بعد نادم اور پریشان ہوا تھا نبی آخر الزمان (ﷺ) اور آپ کے ساتھیوں پر ظلم کرنے والے بھی یقینی طور پر ندامت اور پریشانی کا سامنا کریں گے۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تاریخی واقعات کو من و عن اور بلا کم و کاست بیان کرنا چاہیے۔ جس میں نہ مبالغہ ہو اور نہ ہی کمی کی جائے۔ عَلَیْہِمْ ضمیر کا اشارہ یہود کی طرف ہے جس کا ذکر ان آیات کے سیاق وسباق سے واضح ہے مگر واقعہ میں جو نصیحت ہے وہ سب کے لیے ہے۔ یہود کو اس لیے مخاطب کیا کہ جس طرح آج تم اپنے سے بعد میں آنے والی امت محمدیہ جو کہ رشتۂ انسانی کی ترتیب کے لحاظ سے تمہارے چھوٹے بھائی ہیں تم حسد وبغض کی وجہ سے ان کو ختم کرنے کے درپے ہوچکے ہو بالکل اسی طرح آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں میں صورت حال پیدا ہوئی کہ ایک نے دوسرے کی عزت اور شرف کو تسلیم نہیں کیا بلکہ حسدو دشمنی میں بہت آگے نکل گیا نتیجتاً اللہ کی زمین پر قتل جیساعظیم سانحہ پیش آیا اور سفاکانہ کردار رکھنے والے کو پچھتانا پڑا۔ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ نسل انسانی کی ابتدائی حالت کے پیش نظر اور انسان کی افزائش کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک حمل میں بچی اور بچہ ہوا کرتے تھے۔ جب یہ جوان ہوجاتے تو بحکم خداوندی پہلے لڑکے کی شادی دوسری لڑکی، دوسرے کی پہلی کے ساتھ یعنی الٹ کرکے ازدواجی تعلق قائم کردیا جاتا تھا۔ جب قابیل کی شادی کا وقت آیاتو اس نے دوسری لڑکی کے ساتھ نکاح سے اس لیے انکار کردیا کہ وہ لڑکی اسے پسند نہ تھی۔ کہنے لگا میں تو اپنی ہم جائی کے ساتھ نکاح کروں گا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا لیکن وہ نہ سمجھا بالآخر حضرت آدم (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ تم دونوں اللہ کے راستے میں قربانی دو۔ جس کی قربانی قبول ہوجائے اس کی خواہش کے مطابق نکاح کردیا جائے گا۔ قابیل نے ناقص اور پھر خدائے ذوالجلال کی رضا کی بجائے صرف مفاد کی خاطر قربانی دی جبکہ ہابیل نے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے قربانی پیش کی چھوٹے یعنی ہابیل کی قربانی قبول اور بڑے کی مسترد کردی گئی تو اس نے حسد اور بغض سے اپنے چھوٹے بھائی کو قتل کردیا۔ دنیا میں چونکہ یہ پہلا قتل تھا اس لیے قاتل کو یہ پتہ نہ تھا کہ بھائی کی لاش کس طرح دفنائے۔ بالآخر اللہ نے کوّے کو حکم دیا تو کوّے نے دوسرے کوّے کو مار کر اس کے سامنے مٹی میں دفن کیا اس کو دیکھ کر قابیل نے اپنے مقتول بھائی کو دفن کیا اور پھر حسرت کے ساتھ کہنے لگا ہائے افسوس! میں توکوّے سے بھی بدتر نکلا۔ لہٰذا روز اول سے بتا دیا گیا کہ قربانی اور تمام اعمال کی قبولیت کا انحصار تقوی پر ہوگا۔ مسائل : 1۔ ہر نیک کام اخلاص سے کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ متقین کے اعمال قبول کرتا ہے۔ 3۔ آدم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی مسترد کردی گئی۔ 4۔ نیکی قبول کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ تفسیر بالقرآن : قرآن مجید میں قربانی کا بیان : 1۔ آدم کے دو بیٹوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کی۔ (المائدۃ:27) 2۔ ہر امت کے لیے ایک طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ (الحج :34) 3۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی۔ (الصافات :102) 4۔ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔ (الکوثر :2) 5۔ قربانی کے اونٹوں کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے شعائر بنایا ہے۔ (الحج :36) المآئدہ
28 فہم القرآن : (آیت 28 سے 29) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قابیل کے چھوٹے بھائی ہابیل نے جب یقین کرلیا کہ قابیل مجھے قتل کرنے کا مصمّم ارادہ کرچکا ہے تو اس نے بڑے ادب سے کہا کہ اگر آپ مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں گے تو میں آپ کو قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے نہیں بڑھاؤں گا۔ جس میں یہ احساس دلانا مقصود تھا کہ میں تجھ سے لڑنا نہیں چاہتا۔ لہٰذا تجھے بھی مجھ پر زیادتی نہیں کرنا چاہیے۔ پھر بھی تمہیں اس بات کا احساس نہیں تو یاد رکھنا تیرے گناہ کے ساتھ میرا گناہ بھی تیرے ذمہ ہوگا اس کا معنیٰ یہ نہیں کہ انھوں نے اپنا دفاع نہیں کیا ہوگا بلکہ اپنی جان بچانا، عزت و مال کی حفاظت کرنا، ہر کسی کا فطری حق اور شرعی طور پر ایسا کرنا لازم ہے، ہابیل نے قابیل کو ظلم سے روکنے کے لیے پانچ باتیں کہی تھیں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ متقین کی قربانی قبول کرتا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ تجھے مفاد کے بجائے اخلاص کے ساتھ قربانی پیش کرنا چاہیے تھی۔ 2۔ تیرے ہاتھ بڑھانے کے باوجود میں تیری طرف ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ 3۔ میں ظالم بننے کی بجائے مظلوم بننا پسند کروں گا۔ 4۔ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔ جس کا معنیٰ یہ ہے کہ تجھے بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ 5۔ اگر تو ظلم سے باز نہ آئے گا تو تیرا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ ( عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ () یَقُولُ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِہٖ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُون دینِہٖ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِہٖ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَہْلِہٖ فَہُوَ شَہِیدٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدیات، بَاب مَا جَاء فیمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیدٌ] ” حضرت سعید بن زید (رض) فرماتے ہیں میں نے رسول معظم (ﷺ) کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ جو کوئی اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، جو کوئی اپنے دین کی حفا ظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، جو کوئی اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے اور جو کوئی اپنے گھروالوں کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَال النَّبِیُّ () أَوَّلُ مَا یُقْضٰی بَیْنَ النَّاس بالدِّمَاء) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، بَاب الْقِصَاصِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی مکرم (ﷺ) نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا“ مسائل : 1۔ کسی پر زیادتی نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ ہر وقت اللہ رب العالمین سے ڈرنا چاہیے۔ 3۔ ظالم کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ 4۔ کسی پر زیادتی کرنے کی وجہ سے اس کے گناہوں کا بھی بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ تفسیر بالقرآن : گناہوں کا انجام : 1۔ قیامت کے دن برے کاموں کی سزا ملے گی۔ (النجم :31) 2۔ جو گناہوں میں گھرارہا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ (البقرۃ:81) 3۔ جہنمی اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے۔ (الملک :11) المآئدہ
29 المآئدہ
30 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نفس انسانی کی تین حالتیں بیان کی ہیں۔ نفس مطمئنہّ۔ ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا نفس۔ (الفجر :27) نفس لوّامہ۔ گناہ پر ملامت کرنے والا نفس (القیامۃ:2) نفس امّارہ۔ گناہ پر ابھارنے والا نفس (یوسف :53) یہ انسان کے دل کی تین حالتیں ہیں نفس مطمئنہ صرف انبیاء کو نصیب ہوتا ہے باقی انسانوں کے نفس کی دو کیفیتیں ہوتی ہیں۔ (1) نفس امارہ اور نفس لوامہ۔ ان کے درمیان مقابلہ رہتا ہے اگر نفس لوامہ جیت جائے تو انسان کو نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے۔ جب نفس امارہ غالب آجائے تو آدمی برائی کا مرتکب ہوتا ہے۔ ﴿فطوعت لہ نفسہ﴾ سے یہی کشمکش مراد ہے۔ چنانچہ قابیل نے وہی کیا جس کا وہ اعلان کرچکا تھا۔ قتل کرنے کے بعد اس کے دل کا سکون جاتا رہا۔ رہتی دنیا تک بدنامی اس کے مقدر میں آئی، ظلم و زیادتی کی بری روایت قائم کی۔ آخرت میں جہنم کا ایندھن اور ظالموں کا ساتھی بنا۔ اس سے زیادہ اور نقصان کیا ہوسکتا ہے اور جب بھی کوئی شخص ظلم کرتا ہے اسے ایسی ہی کیفیات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ نیکی میں اطمینان اور برائی میں پریشانی و پشیمانی ہوا کرتی ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () لَیْسَ مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا إِلَّا کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ کِفْلٌ مِنْہَا وَرُبَّمَا قَالَ سُفْیَانُ مِنْ دَمِہَا لِأَنَّہُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ أَوَّلًا)[ رواہ البخاری : کتاب الاعتصام بالکتاب و السنہ، بَاب إِثْمِ مَنْ دَعَا إِلَی ضَلَالَۃٍ أَوْ سَنَّ سُنَّۃً سَیِّئَۃً ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا آدم (علیہ السلام) کے پہلے بیٹے پر ہر ظلم کے ساتھ قتل کیے جانے والے کے گناہ کا حصہ ہے اور شاید سفیان نے خون کا لفظ بولا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے قتل کرنے کی بنیاد رکھی۔“ المآئدہ
31 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے قتل اور فوت ہونے والا شخص ہابیل تھا اس لیے قابیل کو معلوم نہ تھا کہ میت کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ اس بات کے ساتھ اس کا دوسرا مفہوم بھی ذہن میں رکھنا چاہیے جو واقعہ کے ساتھ گہری نسبت رکھتا ہے جب قاتل کسی شخص کو قتل کرتا ہے تو وہ اپنا جرم چھپانے کے لیے لاش کو آگے پیچھے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ممکن ہے قابیل اسی کشمکش میں مبتلا ہو گھبراہٹ اور بے قراری کے عالم میں اس کی عقل پر پردہ پڑگیا ہو۔ کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کہاں ٹھکانے لگائے جس کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک کوّے کے ذریعے یہ کام کروایا۔ ایک کوّے نے دوسرے کوّے کو مار کر اس کی لاش زمین میں دفن کی جب قابیل نے یہ نقشہ دیکھا تو سخت پریشانی کے عالم میں پکار اٹھا ہائے افسوس میں تو کوّے سے بھی کم تر ثابت ہوا۔ بعد ازاں اس نے اپنے بھائی کو زمین میں دفن کیا اسی وقت سے لے کر فطری اور شرعی طریقہ یہی ہے۔ جلانے کی بجائے میّت کو عزت و احترام کے ساتھ دفنانا چاہیے۔ اسلام کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ نہ صرف میت کو دفنانے کا حکم دیتا ہے بلکہ اس کی تعلیم یہ ہے کہ اچھی طرح غسل دینے کے بعد صاف اور اجلا سفید رنگ کا کفن پہنا کر خوشبو لگائی جائے اور نہایت اخلاص کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر، دفنانے کے بعد قبر پر کھڑے ہو کر دعا کی جائے اور میّت کے لیے ایصال ثواب کا اہتمام بھی کیا جانا چاہیے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ () قَالَ إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ أَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہٖ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُو لَہُ) [ رواہ مسلم : کتاب الوصیہ، بَاب مَا یَلْحَقُ الْإِنْسَانَ مِنْ الثَّوَابِ بَعْدَ وَفَاتِہِ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع کردیے جاتے ہیں مگر صرف تین ذرائع سے اسے اجر ملتا رہتا ہے۔ (1) صدقہ جاریہ۔ (2) ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں۔ (3) نیک اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرے۔“ (عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ (رض) أَنَّہُ قَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ فَأَیُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ قَالَ الْمَاءُ قَالَ فَحَفَرَ بِئْرًا وَقَالَ ہَذِہِ لِأُمِّ سَعْدٍ)[ رواہ ابوداؤد : کتاب الزکاہ، بَاب فِی فَضْلِ سَقْیِ الْمَاءِ ] ” حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے رسول معظم (ﷺ) سے استفسار کیا اے اللہ کے رسول! ام سعد وفات پا گئی ہیں کون سا صدقہ سب سے افضل ہے آپ نے فرمایا پانی پلانا۔ حضرت سعد نے کنواں کھدوایا اور کہا یہ ام سعد کے لیے ہے۔“ (عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَّاصٍ (رض) قَالَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی ہَلَکَ فیہِ الْحَدُوا لِی لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَیَّ اللَّبِنَ نَصْبًا کَمَا صُنِعَ بِرَسُول اللّٰہِ (ﷺ) [ رواہ مسلم : کتاب الجنائز، باب فی اللحد ونصب اللبن علی المیت] ” عامر بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد (رض) نے اپنے مرض الموت کے وقت حکم دیا کہ میرے لیے لحد بنانا اور لحد کے اوپر کچی اینٹیں رکھنا جس طرح رسول اللہ (ﷺ) کے لیے کیا گیا تھا۔“ مسائل: 1۔ میت کو دفنانا چاہیے۔ 2۔ قاتل کف افسوس ملتا رہ جاتا ہے اور ندامت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن : نادم ہونے والے لوگ : 1۔ آدم کا بیٹا کہنے لگا کاش میں اس کوے کی طرح ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا تو وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگیا۔ (المائدۃ:31) 2۔ قریب ہے اللہ فتح عطا کر دے یا اپنی طرف سے کوئی حکم نازل فرما دے پس یہ اپنے آپ پر نادم ہوں۔ (المائدۃ:52) 3۔ اپنی غلطیوں پر نادم ہونے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ (المومنون :40) 4۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء :157) 5۔ اے ایمان والو ! فاسق کی خبر کی تحقیق کرلیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔ (الحجرات :6) المآئدہ
32 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عربی گرائمر میں ” مَنْ“ کا لفظ سبب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اس کے دو مفہوم ہیں یہ قانون روز آفرنیش سے ہی لاگو کیا گیا تھا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسی وجہ سے یعنی قتل و غارت کو روکنے کے لیے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ قانون نافذ کیا کہ اگر کسی شخص نے دوسرے کو ناحق قتل کیا تو قاتل کو اس کے بدلے میں قتل کردیا جائے۔ اور یہی سزا قتل و غارت کرنے والوں کی ہوگی۔ کیونکہ جس نے ایک جان کو قتل کیا گویا کہ وہ پوری انسانیت کا قاتل ٹھہرا۔ جس نے کسی ایک کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کا تحفظ کیا۔ دین اسلام سے بڑھ کر دنیا میں کوئی مذہب اور قانون انسان کو تحفظ نہیں دے سکتا۔ قانون سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پے درپے انبیاء مبعوث فرمائے۔ تاکہ لوگوں کی اخلاقی تربیت فرمائیں کہ لوگ قتل و غارت اور دنگا فساد کرنے سے اجتناب کریں لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت آپس میں زیادتی کرنے والی ہے۔ (عن عَبْدِ اللّٰہِ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ قَالَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُہُ کُفْرٌ)[ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب خوف المومن من ان یحبط عملہ وہو لا یشعر] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے“ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ لَزَوَال الدُّنْیَا أَہْوَنُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ) [ رواہ النسائی : باب تَعْظِیم الدَّمِ] ” حضرت عبداللہ بن عمر و (رض) نبی (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا دنیا کا ختم ہوجانا اللہ کے ہاں ایک مسلمان کے قتل سے کم تر ہے۔“ مسائل : 1۔ ایک انسان کا قاتل ساری انسانیت کا قاتل ہے۔ 2۔ ایک انسان کی زندگی بچانے والا ساری انسانیت کی زندگی بچانے والا ہوتا ہے۔ 3۔ دلائل و براہین کے آجانے کے بعد ظلم و زیادتی نہیں کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : اسراف کرنے والے لوگ : 1۔ جو اسراف کرے اور اللہ کی آیات پر ایمان نہ لائے اسے سزا دی جائے گی۔ (طہ :127) 2۔ فصل کاٹتے وقت اس کا حق ادا کرو اور اسراف نہ کرو۔ (الانعام :142) 3۔ کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو کیونکہ اسراف کرنے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔ (الاعراف :31) 4۔ رحمن کے بندے خرچ کرتے وقت اسراف نہیں کرتے۔ (الفرقان :67) 5۔ اسراف نہ کرو اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔ (الانعام :141) 6۔ اسراف کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔ ( بنی اسرائیل :27) المآئدہ
33 فہم القرآن : ربط کلام : ظلم واستبداد کو روکنے کے لیے ابتدا ہی سے فوج داری ضابطے نازل فرمائے گئے تاکہ ظالم دنیا ہی میں سزا پائیں اور آئندہ ایسے مظالم سے باز آجائیں۔ اسلام نے قتل انسان کو بڑا سنگین جرم قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود لوگ انسانی اقدار کو پامال کرتے ہوئے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ایسے درندوں کے لیے اسلام سخت ترین سزا تجویز کرتا ہے تاکہ امن و امان قائم اور چادر اور چار دیواری کا تحفظ یقینی ہو سکے۔ اگر کسی ملک میں شاہراہیں غیر محفوظ اور لوگوں کی آمد و رفت پر خطربنا دی جائے تو اسلام ایسی صورت حال کو لمحہ بھر کے لیے بھی برداشت نہیں کرتا۔ ایسے لوگوں سے نمٹنے کے لیے اسلام سخت ترین کارروائی کا حکم دیتا ہے۔ اور اس صورت حال کو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کے مترادف تصوّر کرتا ہے ان خطرناک اور پیشہ ور ظالموں کے قلع قمع کے لیے حکم صادر فرمایا کہ ایسے لوگوں کو چار سزاؤں میں سے حسب جرم کوئی ایک سزا سرعام دینا چاہیے۔ تاکہ یہ لوگ دنیا میں عبرت کا نشان ثابت ہوں۔ اور آخرت میں انھیں عذاب عظیم سے دو چار ہونا پڑے گا۔ (1) قتل کردیا جائے۔ (2) تختۂ دار پر لٹکا دیا جائے۔ (3) مخالف سمت میں ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں۔ (4) ملک بدر کردیا جائے۔ مفسرین نے ان سزاؤں کی تنفیذ کا ذکر کرتے ہوئے تشریح کی کہ یہ اسلامی عدالت کے اختیار میں ہوگا کہ وہ موقعۂ واردات اور جرم کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی ایک سزا تجویز کرے۔ جہاں تک ملک بدر کردینے کی سزا کا تعلق ہے حضرت عمر (رض) ایسے مجرموں کو جیل میں بند کیا کرتے تھے۔ کیونکہ اس طرح ان لوگوں سے عوام الناس مامون ہوجاتے تھے۔ ” حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس (رض) نے انہیں بتایا کہ ” عکل اور عرینہ (قبیلوں) کے کچھ لوگ نبی اکرم (ﷺ) کے پاس مدینہ میں آئے اور کلمہ پڑھنے لگے۔ انھوں نے کہا۔ یا رسول اللہ ! ہم بھیڑ بکریاں چرانے والے لوگ ہیں کسان نہیں۔ انھیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ آپ (ﷺ) نے چند اونٹ اور ایک چرواہا ان کے ساتھ کیا اور کہا کہ تم لوگ (جنگل میں) چلے جاؤ۔ ان اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پیتے رہو۔ وہ حرہ کے پاس اقامت پذیر ہوئے اور اس علاج سے وہ خوب موٹے تازے ہوگئے۔ پھر ان کی نیت میں فتور آگیا اور اسلام سے مرتد ہوگئے۔ آپ (ﷺ) کے چرواہے (یسار) کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر کر اسے کئی طرح کی تکلیفیں پہنچا کر مار ڈالا اور اونٹ بھگا کر چلتے بنے۔ آپ (ﷺ) کو اطلاع ہوئی تو آپ (ﷺ) نے انھیں گرفتار کرنے کے لیے آدمی روانہ کیے۔ جب وہ گرفتار ہو کر آئے تو آپ (ﷺ) کے حکم سے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں۔ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے گئے اور حرہ کے ایک کونے میں پھینک دیے گئے۔ وہ اسی حال میں مر گئے۔“ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب قصۃ عکل وعرینہ] مسائل : 1۔ اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) سے لڑائی کرنے اور زمین میں فساد پھیلانے والوں کو قتل کردینا چاہیے۔ 2۔ تخریب کار کو سولی پر لٹکا دینا چاہیے۔ 3۔ ڈاکوکے ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دینے چاہییں۔ 4۔ تخریب کار کو ملک بدر کردینا چاہیے۔ 5۔ اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کے ساتھ لڑائی کرنے والے دنیا و آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن : فساد کرنے والوں کی سزا : 1۔ زمین میں فساد نہیں کرنا چاہیے۔ (الاعراف :56) 2۔ اللہ فساد کرنے والوں کے کام کو نہیں سنوارتا۔ (یونس :81) 3۔ فساد کی کوشش نہ کرو کیونکہ اللہ فساد کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (القصص :77) 4۔ خشکی و تری میں لوگوں کے اعمال کی وجہ سے فساد پھیلتا ہے۔ (الروم :41) 5۔ فساد کرنے والوں کا انجام۔ (النمل :14) 6۔ زمین میں فساد کی غرض سے نہ چلو۔ (البقرۃ:60) 7۔ اللہ فساد کرنے والوں کو جانتا ہے۔ (آل عمران :63) 8۔ فساد کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ (الرعد :25) المآئدہ
34 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اسلامی سزاؤں کا فلسفہ یہ ہے کہ جرائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ مگر صرف سزا کا نفاذ ہی اصلاح کا ذریعہ نہیں ہوا کرتا اگر مجرموں کو سزا پر سزا دی جاتی رہے تو بسا اوقات وہ قومی مجرم اور پیشہ ور لٹیرے ثابت ہوتے ہیں۔ اس لیے اسلام نے دوسرے جرائم کی طرح سنگین جرائم کے مرتکب افراد کے لیے بھی توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ لیکن اس کی ایک بڑی شرط یہ ہے کہ وہ انتظامیہ کی پکڑ میں آنے اور عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہونے سے پہلے تائب ہوجائیں۔ اس میں بھی کچھ صورتوں کو ناقابل معافی قرار دیا گیا ہے۔ اگر ایسے شخص نے کوئی قتل کیا ہے تو اسے قتل کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ اس نے کسی کا مال لوٹا ہو تو اس سے واپس لے کر اس کے مالک کو دلوانا حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ یہ طریقۂ کار فوج داری اور دیوانی مقدمات میں ہوگا۔ اخلاقی مقدمات مثلاً زنا کاری کے مقدمہ میں نہ بدلہ ہے اور نہ ہی شہادتیں قائم ہونے کے بعد عدالت معافی دے سکتی ہے۔ توبہ کا دروازہ کھولتے ہوئے اعلان فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ آئندہ کے لیے سچے دل سے توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت ہی مہربانی کرنے والا ہے۔ اگر یہ لوگ اسلامی سزا کے بعد یا عدالت میں پہنچنے سے پہلے اخلاص کے ساتھ توبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرما دے گا۔ (عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () التَّائِبُ مِنْ الذَّنْبِ کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَہُ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ] ” حضرت ابوعبیدہ بن عبداللہ (رض) اپنے والد سے بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو“ (عَنْ أَبِی مُوسَی (رض) عَنْ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَبْسُطُ یَدَہُ باللَّیْلِ لِیَتُوبَ مُسِیء النَّہَارِ وَیَبْسُطُ یَدَہُ بالنَّہَارِ لِیَتُوبَ مُسِیء اللَّیْلِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا )[ رواہ مسلم : کتاب التوبہ، باب قبول التوبۃ من الذنوب] ” حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ رات کو اپنا دست رحمت پھیلاتا ہے تاکہ دن بھر کا گنہگار توبہ کرلے اور دن کو دست شفقت بڑھاتا ہے تاکہ رات بھر کا گنہگار توبہ کرلے، سورج کے مغرب سے نکلنے یعنی قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔“ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ ) [ رواہ ابن ماجۃ: باب ذِکْرِ التَّوْبَۃِ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں آپ (ﷺ) نے فرمایا کہ اللہ بندے کی توبہ کو قبول فرماتا ہے جب تک اس کا سانس حلق میں نہیں اٹک جاتا۔“ (عَنْ أَنَسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ () کُلُّ بَنِی آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّاءِیْنَ التَّوَّابُوْنَ) [ رواہ ابن ماجۃ: باب ذِکْرِ التَّوْبَۃِ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا آدم کا ہر بیٹا خطا کار ہے اور ان میں سے بہتر وہ ہے جو خطا کرنے کے بعد توبہ کرنے والا ہے۔“ مسائل : 1۔ گرفتاری سے پہلے توبہ کرنے والوں کو اللہ معاف فرما دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کن لوگوں پر رحم کرتا ہے : 1۔ اللہ کی مہربانی کے بغیر گناہ سے بچنا مشکل ہے۔ (یوسف :53) 2۔ اللہ توبہ کرنے والوں کو اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے بے شک اللہ معاف اور رحم کرتا ہے۔ (التوبۃ:99) 3۔ اللہ توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (التوبۃ:27) 4۔ اللہ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ (المائدۃ:74) 5۔ جو سچے دل سے تائب ہوجائے ایمان کے ساتھ اعمال صالح کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا کیونکہ اللہ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ (الفرقان :70) 6۔ گناہ گار کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ (الزمر :53) المآئدہ
35 فہم القرآن : ربط کلام : یہود و نصاریٰ کی طرح خدا کی نافرمانی اور اس سے دور ہونے کی بجائے اس کی قربت تلاش کرو۔ زمین میں دنگا فساد کرنے کی بجائے جہاد فی سبیل اللہ کے لیے اپنی قوت و طاقت استعمال کرو اس طرح تم کامیاب ہو گے۔ وسیلہ کی حقیقت : اردو میں وسیلہ کا معنی ہے ذریعہ اور واسطہ جس سے بے شمار مسلمانوں کو قرآن کے لفظ وسیلہ کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے جبکہ قرآن مجید میں اس کا معنی اللہ تعالیٰ کا قرب چاہنا ہے۔ ادھر ادھر کے واسطوں کے ذریعے نہیں بلکہ تقوٰی اور نیکی کے کاموں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کی کوشش کرو۔ حدیث میں وسیلہ کا معنی مقام علیا ہے جس پر فائز ہو کر نبی کریم (ﷺ) قیامت کے دن رب کریم کے حضور سجدہ ریز ہو کر امت کی سفارش کریں گے اس کا تذکرہ اذان کے بعد کی دعا میں موجود ہے۔ آپ نے اسی مقام کے لیے دعا کرنے کی تلقین کی ہے۔ یہ دنیا عالم اسباب ہے اس کا پورا نظام اسباب اور وسائل پر چل رہا ہے جب تک وسائل کو بروئے کار نہیں لایا جائے گا اس وقت تک دنیا کے معاملات صحیح سمت پر چلنے تو درکنار زندگی کا باقی رہنا ناممکن ہے۔ ایک شخص کتنا ہی متوکل علی اللہ کیوں نہ ہوا گر پیاس کے وقت پانی نہیں پیتا اور بھوک کے وقت کھانا نہیں کھاتا تو موت کا لقمہ بن جائے گا۔ بیمار کے لیے پرہیز اور دوائی لازم ہے۔ بغیر اسباب کے کسی چیز کو باقی رکھنا یہ صرف خالق کائنات کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ لہٰذا شریعت نے کمزور کے ساتھ تعاون اور بے سہارا کو سہارا دینا اور بے وسیلہ کا وسیلہ بننے کا حکم دیا ہے۔ اس وسیلہ اور اسباب کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اختیارات کے بارے میں دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کسی وسیلہ اور واسطہ کی ضرورت نہیں وہ مسبب الاسباب اور انسان کی شہ رگ سے زیادہ قریب اور دلوں کی دھڑکنوں کو جاننے والا ہے۔ توہین آمیز اور مضحکہ خیزمثال : لیکن آج کا خطیب وسیلے کے جواز کے لیے یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ پھر ایک دوسرے کی مدد کرنا ٗگاڑی استعمال کرنا اور عینک لگانا بھی شرک ہے۔ وہ جانتے ہوئے اس بات کو فراموش کردیتا ہے کہ دنیا کے معاملات میں اسباب اختیار کرنے کا شریعت میں حکم ہے۔ واعظ کا یہ بھی فرمان ہے کہ چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت ہے۔ اور افسر کو ملنے کے لیے کسی سفارش کا ہونا ضروری ہے۔ ذرا سوچئے چھت تو جامد اور ساکت ہے وہ اوپر سے نیچے نہیں آسکتی اور نہ ہی آدمی چھلانگ لگا کر چھت پر چڑھ سکتا ہے اس لیے سیڑھی کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی افسر توانسان ہے جب تک اسے معاملہ بتلایا نہ جائے۔ وہ نہیں جان سکتا یہاں تک کہ اس کے لیے سفارش ڈھونڈنے کا تعلق ہے وہ بھی ایک طرح کی کمزوری ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ہر قسم کی کمزوریوں سے پاک ہے۔ اس کی قدرت وسطوت تو ہر جگہ موجود ہے وہ دلوں کی دھڑکنوں کو جانتا ہے یہاں تو و سیلے و سفارش اور سیڑھی کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا آدمی کو کسی اعتبار سے بھی اس ذات کبریا کو اپنے آپ پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کو چھت اور انسان کے ساتھ مشابہ قرار دینا ناقابل معافی گناہ ہی نہیں بلکہ ذات کبریا کی شان میں پرلے درجے کی گستاخی ہے۔ وسیلہ کی گنجائش ہی نہیں : ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِْنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ وَنَحْنُ اَقْرَبُ إِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ﴾[ ق :16] ” اور بلاشبہ ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم جانتے ہیں اس کا نفس جو وسوسے ڈالتا ہے اور ہم اس سے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔“ ﴿اِنَّہُ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ﴾ [ الملک :13]” بے شک وہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ سینوں میں ہے۔“ ذات کبریا کا احترام کرو : ﴿فَلاَ تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاَمْثَالَ﴾[ النحل :74]” اللہ کے لیے ایسی مثالیں بیان نہ کیا کرو۔“ ﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ﴾[ الزمر :67] ” اور نہ قدر پہچانی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جس طرح قدر پہچاننے کا حق تھا۔“ اس عقیدہ کے اخلاقی اور دینی نقصانات : * انسان خود نیکی کرنے کی بجائے دوسرے کی نیکی پر بھروسہ کرتا ہے۔ * انسان توبہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کے بجائے پہلے کی طرح دور رہتا ہے۔ * وسیلہ کی آڑ میں جعلی پیر لوگوں کی عزت اور مال لوٹتے ہیں۔ * اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں وسیلہ اور واسطے کو پسند نہیں کرتا۔ * وسیلہ کے عقیدہ سے اللہ تعالیٰ کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔ * یہ طریقہ ہندوؤں اور غیر مسلموں کے مشابہ ہے۔ اخلاص اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کیجیے : 1۔ فوت ہونے والے بزرگ بیمار ہوئے، ہزار دعاؤں اور دواؤں کے باوجود صحت یاب نہ ہو سکے۔ 2۔ فوت ہوئے تو گھر میں میت ہونے کے باوجود روتی ہوئی بیٹیوں، تڑپتی ہوئی والدہ، بلکتی ہوئی بیوی، سسکتے ہوئے بیٹے اور آہ و بکا کرنے والے مریدوں کو تسلی نہ دے سکے۔ 3۔ شرم و حیا کے پیکر ہونے کے باوجود اپنے آپ استنجا کرسکے نہ غسل۔ 5۔ زندگی میں خود اپنی قبر بنوانے والے بھی اپنے پاؤں پر چل کر قبر تک نہ پہنچ سکے۔ 5۔ جو زندگی میں صرف پنجابی یا کوئی ایک زبان جانتے تھے فوت ہونے کے بعد قبر پر آنے والوں اور دوسری زبانوں میں فریاد کرنے والوں کی زبان سے کس طرح واقف ہوگئے ؟ 6۔ جو خوداولاد سے محروم تھے دوسرے کو کس طرح اولاد عطا کرسکتے ہیں؟ 7۔ جو خراٹے لینے والی نیند یا کسی وجہ سے بے ہوشی کے عالم میں دیکھ اور سن نہیں سکتے اب موت کے بعد کس طرح سننے اور دیکھنے کے قابل ہوئے؟ 8۔ جو زندگی میں دیوار کی دوسری طرف نہیں دیکھ سکتے تھے اب قبر کی منوں مٹی اور مضبوط پتھروں کے درمیان کس طرح دیکھ سکتے ہیں؟ 9۔ جو اپنی حالت سے کسی کو آگاہ نہیں کرسکتے۔ دوسرے کی حالت رب کے حضور کس طرح پیش کرسکتے ہیں؟ 10۔ جو زندگی میں بیک وقت ایک یا دو‘ تین آدمیوں سے زیادہ کی بات سن اور سمجھ نہیں سکتے تھے اب بیک وقت سینکڑوں، ہزاروں آدمیوں کی فریاد کس طرح سن سکتے ہیں؟ وسیلے تو خود اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں : ﴿یَٓایُّھَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِاجْتَمَعُوْا لَہٗ وَإِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ﴾ [ الحج :73] ” اے لوگو! ایک مثال بیان کی جارہی ہے پس غور سے سنو اسے! بے شک جن معبودوں کو تم پکارتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یہ تو مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ وہ سب جمع ہوجائیں اس (معمولی سے) کام کے لیے اور اگر چھین لے ان سے مکھی بھی کوئی چیز تو وہ نہیں چھڑا سکتے اسے اس مکھی سے (آہ!) کتنا بے بس ہے ایسا طالب اور کتنا بے بس ہے ایسا مطلوب۔“ (تفسیر ضیاء القرآن) اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات کو وسیلہ بنائیں : سمع اطاعت کا تقاضا یہ ہے کہ بندۂ مسلم اللہ تعالیٰ کے حضور وہی واسطہ اور وسیلہ پیش کرے جس کی ذات کبریا نے اجازت دے رکھی ہے۔ ایک احمق ترین شخص بھی جان بوجھ کر یہ حرکت نہیں کرسکتا کہ جس سے وہ کچھ مانگنا چاہتا ہے وہ اپنے محسن کے سامنے ایسا طریقہ اختیار کرے کہ جس سے وہ عطا کرنا تو درکنار الٹا ناراض ہوجائے۔ لہٰذا دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اس کے اسمائے مبارکہ اور صفات مقدسہ کو وسیلہ بنایا جائے۔ سرور دو عالم (ﷺ) کسی شخصیت کے واسطے‘ حرمت‘ صدقے اور طفیل کی بجائے اللہ کی صفات کے واسطے سے دعا کیا کرتے تھے۔ ﴿وَلِلّٰہِ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا﴾ [ الأعراف :18] ” اللہ تعالیٰ کے نہایت ہی خوبصورت نام ہیں انہی ناموں سے دعا کیا کرو۔“ (اَللّٰہُمَ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ ذُوْالْجَلاَلِ وَالإِْکْرَامِ وَالْعِزَّۃِ الَّتِی لاَ تَرَامُ أَسْأَلُکَ یَااَللّٰہُ یَارَحْمٰنُ بِجَلاَلِکَ وَنُوْرِ وَجْہِکَ) [ رواہ الترمذی : باب فی دعاء الحفظ ] ” اے زمین و آسمان کو ابتداء سے پیدا کرنے والے‘ اے ذوالجلال والاکرام تیری عزت کو پانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اے اللہ‘ اے رحمٰن تیرے جلال اور تیرے چہرے کے جمال کے واسطے سے ہم تجھ سے مانگتے ہیں۔“ (یَا رَبِّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلَالِ وَجْہِکَ وَلِعَظِیمِ سُلْطَانِکَ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الاداب، باب فضل الحامدین] ” اے اللہ ! تیرے لیے تمام تعریفات ہیں جس طرح تیرے چہرے کی جلالت اور عظیم با دشاہی کے لائق ہے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ () یَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمْ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا یَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَیَّ فَإِنَّہُ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ صَلَاۃً صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ بِہَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا اللّٰہَ لِی الْوَسِیلَۃَ فَإِنَّہَا مَنْزِلَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ لَا تَنْبَغِی إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَاد اللّٰہِ وَأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَنَا ہُوَ فَمَنْ سَأَلَ لِی الْوَسِیلَۃَ حَلَّتْ لَہُ الشَّفَاعَۃُ)[ رواہ مسلم : کتاب الصلوۃ، باب اسْتِحْبَابِ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ انہوں نے نبی مکرم (ﷺ) سے سنا آپ (ﷺ) نے فرمایا جب تم مؤذن کی اذان سنوتو اس کے ساتھ وہی کلمات دہراتے چلے جاؤ پھر مجھ پر درود پڑھو۔ اذان کے بعد جس نے مجھ پر درود پڑھا۔ اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ اس کے بعد میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو بلاشبہ وہ جنت کا بلند ترین مقام ہے۔ جو اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو نصیب ہوگا مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہی وہ عطا کرے گا۔ جس مسلمان نے میرے لیے اس مقام کی دعا کی میری سفارش اس پر واجب ہوگی۔“ مسائل : 1۔ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنا چاہیے۔ 4۔ کافر زمین و آسمان کے خزانے خرچ کرکے بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے 5۔ کفار کے لیے المناک عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : وسیلہ کی حیثیت : 1۔ اے ایمان والو اللہ سے ڈرواس کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔ (المائدۃ:35) 2۔ جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ خود اللہ کا قرب تلاش کرتے ہیں۔ (الاسراء :57) 3۔ وسیلہ کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے کے قریب تر ہے۔ (البقرۃ:186) 4۔ وسیلہ کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ (ق :16) المآئدہ
36 فہم القرآن : (آیت 36 سے 37) ربط کلام : اے لوگو! فساد فی الارض میں صلاحیتیں ضائع کرنے اور اللہ سے دوری اختیار کرنے کی بجائے جہاد فی سبیل اللہ میں اپنی قوتیں صرف کرو تاکہ تمہیں اللہ کا قرب اور کامیابی حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ کے منکر نہ صرف اس کے قرب سے محروم ہوں گے بلکہ انھیں جہنم میں پھینکا جائے گا جس سے ان کے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ جو لوگ نیک اعمال کرکے اللہ تعالیٰ کا قرب چاہنے اور پانے کی بجائے یہود و نصاریٰ کا رویہ اختیار کرتے اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں فلاح اور کامیابی کے راستے پر چلنے کی بجائے بغاوت اور سرکشی کا راستہ اختیار کرتے ہیں انھیں قیامت کے دن جہنم میں جھونکا جائے گا۔ جس سے نکلنے کے لیے آہ و زاریاں کریں گے لیکن ان کی فریاد اور کوئی وسیلہ کام نہیں آئے گا۔ جو دنیا میں یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ ہم فلاں فلاں کی و جہ سے دنیا کی عدالتوں سے چھوٹ جاتے ہیں اور قیامت کے دن بھی بزرگ اور بڑے ہمیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچالیں گے وہ اپنی نجات کے لیے سب کچھ پیش کرنے کی درخواست کریں گے باوجود اس کے کہ ان کے پاس نیکی اور برائی کے سوا کوئی چیز نہیں ہوگی لیکن پھر بھی ایسی پیشکشیں کریں گے۔ ان سے کچھ قبول نہیں کیا جائے گا۔ وہ جہنم کی آگ سے نکلنے کی کوشش کریں گے لیکن نکل نہیں پائیں گے۔ انھیں ہمیشہ وہاں رہنا ہوگا۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () ضِرْسُ الْکَافِرِ أَوْ نَابُ الْکَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلَظُ جِلْدِہٖ مَسِیرَۃُ ثَلَاثٍ)[ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ ونعیمھا، باب النَّارُ یَدْخُلُہَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّۃُ یَدْخُلُہَا الضُّعَفَاءُ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا جہنم میں کافر کا دانت احد پہاڑ جتنا ہوگا اور اس کی جلد کی موٹائی تین دن کی مسافت جتنی ہوگی۔“ ﴿وَہُمْ یَصْطَرِخُونَ فِیْہَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَجَآءَ کُمُ النَّذِیرُ فَذُوقُوْا فَمَا للظَّالِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ﴾[ فاطر :37] ” اور وہ چیخ چیخ کر کہیں گے : ہمارے رب! ہمیں (اس سے) نکال کہ ہم نیک عمل کریں ویسے نہیں جیسے پہلے کیا کرتے تھے (اللہ فرمائے گا) کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں کوئی نصیحت حا صل کرنا چاہتا توکر سکتا تھا ؟ تمہارے پاس ڈرانے والا آیا تھا اب عذاب کو چکھو یہاں ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔“ مسائل : 1۔ مجرموں سے زمین اور اس کے برابر فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ 2۔ مجرم جہنم سے نہیں نکل سکیں گے۔ 3۔ مجرموں کے لیے ہمیشہ قائم رہنے والا اور ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : قیامت کے دن کوئی معاوضہ نہیں قبول ہوگا : 1۔ قیامت کے دن سے ڈر جاؤ جس دن کوئی معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (البقرۃ:48) 2۔ قیامت کو مجرم زمین بھر سونا کر دے تب بھی قبول نہیں ہوگا۔ (آل عمران :91) 3۔ مجرم خواہش کرے گا کہ میں جو کچھ زمین میں ہے سب کچھ معاوضہ دے کر بچ جاؤں۔ (المعارج : 11تا14) 4۔ کوئی معاوضہ اس دن قبول نہیں کیا جائے گا۔ (المائدۃ:36) المآئدہ
37 المآئدہ
38 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ آیات میں ڈاکہ اور رہزنی کی سزا بیان کی گئی تھی درمیان میں حسب دستور نصیحت اور تنبیہ کی گئی۔ اب چور کی سزا بیان ہوتی ہے۔ ہر قوم اور معاشرے میں طاقت اور قوت کے زور پر مال لوٹنے والے کو ڈاکو اور چھپ کر کوئی چیز اٹھانے والے کو چور کہا جاتا ہے۔ اس لیے اہل لغت اور شارحین نے چوری کی یہ تعریف کی ہے ” ایسا مال جس کو حفاظت میں رکھا گیا ہو اسے ہتھیانے والے کو چورکہیں گے ایسے شخص پر چوری کی سزا نافذ کی جائے گی“ پہلی دفعہ چوری کرنے والے سے مال وصول کرتے ہوئے اس کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اگر دوسری دفعہ چوری کرتا ہے۔ تو اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا جائے گا۔ بعض لوگ غیر مسلموں کے پروپیگنڈہ میں آکر اسلام کی مقرر کردہ سزاؤں کو غیر مہذب سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو مہذب سمجھنے کے باوجود مظلوم کی خیر خواہی کرنے کی بجائے ڈاکو، چور اور بدکار لوگوں کی حمایت کرتے ہیں۔ جو اخلاق، دین اور معاشرتی آداب کے کسی اصول کے مطابق نہیں ہے۔ قرآن مجید جرائم کی بیخ کنی کے لیے سنگین جرائم کی نہ صرف سخت ترین سزا تجویز کرتا ہے۔ بلکہ اس کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ایسے لوگوں کو سر عام سزا دی جائے گی۔ اس آیت میں لفظ ” نکالاً“ کا یہی مفہوم ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ لَعْنَ اللّٰہُ السَّارِقْ یَسْرِقُ الْبَیْضَۃَ فَتُقْطَعُ یَدُہٗ وَیَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ یَدُہٗ) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب لعن السارق اذا لم یسم] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) نے فرمایا اللہ چور پر لعنت کرے ایک انڈے کی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور ایک رسی کی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔“ مسائل : 1۔ چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹے جائیں۔ 2۔ عبرت کے لیے یہ ان کی دنیا میں سزا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سزا کی حکمتوں کو خوب جانتا ہے۔ المآئدہ
39 فہم القرآن: ربط کلام : مجرموں کے لیے توبہ اور اصلاح کا دروازہ کھلا رکھ کر انہیں توبہ اور اصلاح کی ترغیب دی گئی ہے۔ دنیا کے دسا تیر اور قوانین میں اس بات کا اہتمام نہیں کیا جاتا کہ ایک مجرم کو سزا دینے کے بعد اس کی اصلاح کا اہتمام کیا جائے۔ یہ اعزاز بھی صرف دین اسلام کو حاصل ہے کہ وہ مجرم کو سزا دینے کے بعد نہ صرف اسے اپنی اصلاح کا موقع دیتا ہے بلکہ وہ اسے اس بات کی یقین دہانی کرواتا ہے کہ جو شخص بھی سچے دل اور اصلاح کے ارادے کے ساتھ توبہ کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کو رحیم وکریم پائے گا۔ اللہ کے نبی (ﷺ) مجرم کو توبہ کی تلقین کیا کرتے تھے۔ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍنِ الْخُدْرِیِّ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ کَانَ فِی بَنِی إِسْرَاءِیلَ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ إِنْسَانًا ثُمَّ خَرَجَ یَسْأَلُ فَأَتٰی رَاہِبًا فَسَأَلَہُ فَقَالَ لَہُ ہَلْ مِنْ تَوْبَۃٍ قَالَ لَا فَقَتَلَہُ فَجَعَلَ یَسْأَلُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ اءْتِ قَرْیَۃَ کَذَا وَکَذَا فَأَدْرَکَہُ الْمَوْتُ فَنَاءَ بِصَدْرِہٖ نَحْوَہَا فَاخْتَصَمَتْ فیہِ مَلَاءِکَۃُ الرَّحْمَۃِ وَمَلَاءِکَۃُ الْعَذَابِ فَأَوْحَی اللّٰہُ إِلٰی ہَذِہٖ أَنْ تَقَرَّبِی وَأَوْحَی اللّٰہُ إِلٰی ہَذِہٖ أَنْ تَبَاعَدِی وَقَال قیسُوا مَا بَیْنَہُمَا فَوُجِدَ إِلٰی ہٰذِہٖ أَقْرَبَ بِشِبْرٍ فَغُفِرَ لَہُ) [ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء، باب حدیث الغار] ” حضرت ابو سعید خدری (رض) رسول اللہ (ﷺ) سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص نے ننانوے قتل کیے تھے۔ پھر وہ توبہ کے لیے استغفار کر رہا تھا وہ ایک راہب کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟ راہب نے جواب دیا نہیں۔ اس نے اسے بھی قتل کردیا۔ پھر وہ مسئلہ پوچھنے گیا، اسے اس شخص نے ایک بستی کی طرف رہنمائی کی۔ راستے میں اس کو موت نے آلیا تو وہ اپنے سینے کے بل اس بستی کی طرف گرا۔ اس شخص کے بارے میں رحمت اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو حکم دیا کہ مرنے والے کے قریب ہوجائے اور چھوڑی ہوئی بستی کو اس سے دوری کا حکم دیا۔ پھر دونوں کے درمیان فاصلہ ناپنے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ منزل مقصود کے بالشت بھر قریب پا یا گیا اس لیے اس کو معاف کردیا گیا۔“ (عَنْ أَبِی مُوسَی (رض) عَنْ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَبْسُطُ یَدَہُ باللَّیْلِ لِیَتُوبَ مُسِیء النَّہَارِ وَیَبْسُطُ یَدَہُ بالنَّہَارِ لِیَتُوبَ مُسِیء اللَّیْلِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا ) [ رواہ مسلم : کتاب التوبہ، باب قبول التوبۃ من الذنوب] ” حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ رات کو اپنا دست رحمت پھیلاتا ہے تاکہ دن بھر کا گنہگار توبہ کرلے اور دن کو دست شفقت بڑھاتا ہے تاکہ رات بھر کا گنہگار توبہ کرلے، سورج کے مغرب سے نکلنے یعنی قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔“ (کُلُّ بَنِیْ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّآءِیْنَ التَّوَّابُوْنَ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزھد، باب ذکر التوبۃ] ” آدم کی ساری اولاد خطا کار ہے اور بہترین خطا کار توبہ کرنے والے ہیں۔“ (مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ یُغَرْغِرَ نَفْسُہٗ قَبِلَ اللّٰہُ مِنْہُ )[ احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب أحادیث رجال من أصحاب النبی (ﷺ) ] ” جس نے موت کے آثار ظاہرہونے سے پہلے توبہ کرلی اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔“ ( اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزھد] ” گناہ سے توبہ کرنے والا گناہ نہ کرنے کے برابر ہوجاتا ہے۔“ تفسیر بالقرآن : توبہ کی شرائط : 1۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور صاف پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (البقرۃ:222) 2۔ توبہ اور اپنی اصلاح کرنے والے کی اللہ توبہ قبول کرتا ہے۔ (البقرۃ: 159تا160) 3۔ جو گناہ کے بعد توبہ کرے اور نیک ہوجائے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ (المائدۃ:39) 4۔ برائی کرنے کے بعد توبہ کرنے پر اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے۔ (الاعراف :153) 5۔ ایمان والو سچے دل سے توبہ کرلواللہ تبارک وتعالیٰ تمہاری برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا۔ (التحریم :8) 6۔ سچی اور صحیح توبہ اس کی ہے جو توبہ کے بعد نیک اعمال کرتا رہے اور گناہ سے بچے۔ (الفرقان :71) 7۔ توبہ کے بعد گناہوں سے باز آنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے جو اپنی موت تک گناہوں سے باز نہ آئے اور توبہ بھی کرتا رہے اس کی توبہ قبول نہیں۔ (النساء : 17، 18) 8۔ اگر کبیرہ گناہوں سے بچا جائے تو پھر چھوٹے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ (النساء :31) المآئدہ
40 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ، سزاء وجزا کا کلی اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ چوری کی سزا بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے جس کا معنی ہے کہ وہ اپنے فیصلے نافذ کرنے کی پوری قوت اور اختیار رکھتا ہے۔ اور اس کے ہر قانون اور فیصلے میں بڑی حکمتیں پائی جاتی ہیں۔ یہاں ہر انسان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ باور کروا یا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون پر معترض، توبہ اور اپنی اصلاح سے اعراض کرنے والے کو یہ جاننا چاہیے کہ زمین و آسمان کی بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ کوئی انسان اللہ کی بادشاہی سے نہ باہر نکل سکتا ہے اور نہ ہی اسے چیلنج کرسکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہے کہ اس نے انسان کو ایک مدت کے لیے اختیار اور مہلت دے رکھی ہے۔ اس کا اختیار ہے وہ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کر دے وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا مالک و مختار ہے۔ 2۔ عذاب دینا اور معاف کرنا صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ ہر چیز پر قادر ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ:20) 2۔ اللہ آسمانوں وزمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن :29) 3۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائیگا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ:148) 4۔ اللہ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے معاف کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ:284) المآئدہ
41 فہم القرآن : ربط کلام : نیاخطاب شروع ہوتا ہے۔ رسول کریم (ﷺ) کی شب و روز کی پر خلوص محنت کے باوجود منافق آپ کو تکلیف دینے، مسلمانوں کا مذاق اڑانے اور اسلام کے خلاف ہر زہ سرائی کرنے میں آگے ہی بڑھتے جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ یہودیوں کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے جھوٹ سننے اور اسے آگے پھیلانے کا مستقل مشغلہ اختیار کر رکھا تھا۔ 1۔ یہودی اپنے علماء سے جھوٹے مسائل سنتے اور ان کو آگے پھیلاتے تھے۔ 2۔ یہودی جھوٹ سننا پسند کرتے اور جھوٹی باتیں لوگوں تک پہنچاتے تھے تاکہ لوگ نبی اکرم (ﷺ) اور اسلام سے دور رہیں۔ یہودیوں کی دوسری بدترین عادت یہ تھی اور ہے کہ یہ نبی (ﷺ) کے ارشادات کو توڑ مروڑ کر اور قرآن کو اس کے سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ اسلام کے بارے میں تشکیک کا شکار رہیں۔ اور لوگوں کو یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اگر محمد (ﷺ) ہمارے عقائد کے مطابق مسائل بیان کریں تو انھیں قبول کرلو اگر ایسا نہ کریں تو ہرگز قبول نہ کرو۔ اس کا صاف مطلب تھا اور ہے کہ دین ان کی مرضی کے مطابق نازل ہونا چاہیے اس صورت حال پر نبی محترم (ﷺ) بتقا ضائے بشریت رنجیدہ خاطر ہوتے جس پر آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ اے پیارے رسول آپ کو لوگوں کی ہرزہ سرائی اور بد اعمالیوں پر دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ یاد رکھیں جسے اللہ اس کی بد اعمالیوں کی وجہ سے گمراہی میں مبتلا کر دے اسے آپ کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا ہے کہ ان کے دلوں کو نفاق اور گندگی سے کبھی پاک نہیں کرے گا، ان کے لیے دنیا میں ذلت اور آخرت میں بڑا عذاب ہوگا۔ جن لوگوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انھیں زمینی کشمکش میں مبتلا کردیا ہے۔ اے رسول! ایسے لوگوں کی آپ رہنمائی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ یہ لوگ اپنے قلوب و اذہان کو اس گندگی سے پاک نہیں کرنا چاہتے۔ جس وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی انھیں طہارت قلبی کی توفیق نہیں دیتا۔ ایسے لوگوں کے لیے بالآخر دنیا میں ذلت و رسوائی ہے۔ اور آخرت میں انھیں عذاب الیم میں مبتلا کیا جائے گا۔ ” حضرت حفص بن عاصم (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بیان کرے۔“ [ رواہ مسلم : فی المقدمۃ] (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّ الصِّدْقَ یَہْدِی إِلَی الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ یَہْدِی إِلَی الْجَنَّۃِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَصْدُقُ حَتَّی یَکُونَ صِدِّیقًا، وَإِنَّ الْکَذِبَ یَہْدِی إِلَی الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ یَہْدِی إِلَی النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَکْذِبُ، حَتَّی یُکْتَبَ عِنْدَ اللَّہِ کَذَّابًا ) [ رواہ مسلم : باب قُبْحِ الْکَذِبِ وَحُسْنِ الصِّدْقِ وَفَضْلِہِ] ” حضرت عبداللہ (رض) نبی (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا بے شک سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے اور بے شک جھوٹ برائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور برائی آگ کی طرف لے جاتی ہے اور بے شک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے حتی کہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔“ مسائل: 1۔ کفر کی طرف راغب ہونے والے اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ 2۔ یہو دی جھوٹ گھڑتے اور بولتے ہیں۔ 3۔ یہودی اللہ تعالیٰ کے کلام میں تحریف کرتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ جس کو آزمائش میں مبتلا کرے اسے کوئی نہیں بچا سکتا۔ 5۔ جھوٹ گھڑنے والے اور کلام اللہ میں تحریف کرنے والوں کے دل پاک نہیں ہوتے۔ 6۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں ذلّت اور آخرت میں عظیم عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : دنیا اور آخرت میں ذلیل لوگ : 1۔ دنیا وآخرت میں ذلیل ہونے والے مجرم۔ (المائدۃ :41) 2۔ کفار کے لیے دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب کے سوا کچھ نہیں۔ ( البقرۃ :85) 3۔ کفار کے لیے دنیا میں ذلت اور آخرت میں برا عذاب ہے۔ (البقرۃ:114) 4۔ کافروں کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔ (المائدۃ:41) 5۔ کفارکے لیے دنیا میں ذلت ورسوائی ہے اللہ قیامت کو سخت عذاب چکھائے گا۔ (الحج :9) 6۔ اللہ کفار کو دنیا میں ذلت ورسوائی چکھاۓ گا اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔ (الزمر :26) 7۔ جو مسلمان ظاہرہ اور باطنی گناہ کرنا ترک نہ کرے اسے آخرت میں سزا ملے گی۔ (التحریم : 8۔ الانعام :120) المآئدہ
42 فہم القرآن : (آیت 42 سے 43) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ جب جھوٹ سننا اور حرام کھاناکسی فرد یا قوم کی عادت ہوجائے تو پھر اس کی اصلاح کے تمام راستے مسددد ہوجایا کرتے ہیں کیونکہ صالح کردار کے لیے اکل حلال اور صدق مقال شرط ہے۔ جھوٹ بولنے اور حرام کھانے میں کوئی قوم یہودیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی بعض مفسرین نے ﴿سُحْتَ﴾ کا معنٰی رشوت خوری بھی کیا ہے۔ رشوت کا لین دین ہو یا حرام خوری کا معاملہ یہودی اس سلسلہ میں ہمیشہ سرفہرست دکھائی دیں گے۔ یہاں مفسرین نے اس آیت کا پس منظر بیان کرتے ہوئے خیبر میں ہونے والی بدکاری کا ایک واقعہ بیان کیا ہے جو خیبر کے کھاتے پیتے گھرانے کے ایک مرد اور عورت سے سرزدہوئی یہودیوں کے ہاں زنا کی سزا وہی تھی جو قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے۔ لیکن انھوں نے اپنی بدنامی سے بچنے اور تورات کی حد سے اجتناب اختیار کرنے کے لیے یہ مقدمہ نبی (ﷺ) کی خدمت میں پیش کیا آپ نے یہودیوں سے سوال کیا کہ تورات میں اس کی کیا سزا بیان ہوئی ہے ؟ انھوں نے کہا ہمارے ہاں ایسے مجرم کی سزا یہ ہے کہ اس کا منہ کالا کرکے الٹے منہ گدھے پر بٹھایا جائے آپ (ﷺ) نے فرمایا ہرگز نہیں تورات میں بھی اس جرم کی وہی سزا ہے۔ جو قرآن مجید میں ہے اس وضاحت کے باوجود یہودیوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ تب آپ نے یہودیوں کے ایک جید عالم کو بلا کر اسے فرمایا کہ تجھے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے مظالم سے نجات دلائی تھی یہ سنتے ہی یہودی عالم نے اقرار کیا کہ واقعی اس معاملہ میں تورات اور قرآن میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ تب عورت اور مرد کو سنگسار کردیا گیا۔ اس فرمان میں آپ کو یہ اختیار دیا گیا ہے اگر یہودی آپ کے پاس کوئی مقدمہ پیش کریں تو آپ کو حق حاصل ہے کہ اس کی سماعت سے انکار کریں یا فیصلہ صادر فرمائیں۔ انکار کی صورت میں یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے البتہ فیصلہ کرنے کی صورت میں آپ تعصب اور جانب داری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے عدل و قسط کے ساتھ فیصلہ کریں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اہل علم نے یہاں اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ اگر کسی غیر مسلم قوم کے ساتھ مسلمانوں کا عہد ہو تو اس صورت میں قاضی کو مقدمہ سننے یا انکار کرنے کا مکمل اختیار ہے اگر مقدمہ پیش کرنے والے اسلامی مملکت کی رعایا ہوں تو پھر عائلی قوانین کے علاوہ دیگر مقدمات کو سننا اور اس کا فیصلہ دینا اسلامی عدالت کا فرض ہے۔ یاد رکھیے کہ یہودی کس طرح آپ کو فیصل تسلیم کریں گے کیونکہ جو حکم آپ نے دینا ہے وہ تو تورات میں بھی موجود ہے۔ جس سے یہ انحراف کرتے ہیں۔ یہ خلوص نیت کے ساتھ آپ کے پاس نہیں آتے۔ اگر کسی سماجی مجبوری کی وجہ سے آپ کے پاس آبھی جائیں تو وہ آپ کے فیصلے کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے کیونکہ یہ کسی آسمانی کتاب کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسائل : 1۔ یہودی جھوٹ پسند کرنے والے اور سود خور ہیں۔ 2۔ فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔ 3۔ نبی اکرم (ﷺ) کو یہودیوں کا فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ 5۔ یہودی نبی اکرم (ﷺ) کو فیصل نہیں مانتے۔ المآئدہ
43 المآئدہ
44 فہم القرآن : ربط کلام : تورات کی تعلیمات کی مزید وضاحت۔ قانون کی بالادستی اور حدود اللہ کا نفاذ۔ حدود الٰہی کو دل و جان سے تسلیم کرنا مجرمانہ ذہنیت کے لیے ہمیشہ سے مشکل رہا ہے۔ انسانوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ جب کسی معاشرے میں جرم سرزد ہوتا ہے تو وہ سخت نفرت کا اظہار اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن جونہی کچھ عرصہ گزر جائے تو اکثریت کی ہمدردیاں مظلوم کے ساتھ نہ صرف ختم ہوجاتی ہیں بلکہ مجرم کو سزا دینے کے وقت ان کو مجرم پر ترس آنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے سورۃ نور آیت 2میں حکم دیا کہ جب مجرموں کو سزا دی جائے تو مومنوں کو اس پر ترس نہیں آنا چاہیے۔ حدود کے نفاذ اور اس کی اہمیت کے پیش نظر یہاں تورات کی روشن تعلیمات کا ذکر کرنے سے پہلے ﴿ اناانزلنا﴾ کے الفاظ لائے گئے ہیں کہ اس کے نفاذ اور تعلیم میں ذرّہ برابر شک اور رعایت کی گنجائش نہیں کیونکہ تورات اور اس میں نازل ہونے والے احکامات اللہ تعالیٰ نے ہی نازل فرمائے ہیں۔ جو لوگوں کی رہنمائی کے لیے اتنے واضح اور روشن ہیں کہ ان میں کسی قسم کا کوئی اشتباہ نہیں پایا جاتا۔ انھی ہدایات پر انبیاء ( علیہ السلام) بنی اسرائیل اور ان کے صالح کردار حکمران عمل پیرا تھے اور آج بھی منصفانہ مزاج رکھنے والے لوگ تورات کی سچی تعلیمات اور اس میں درج شدہ حدود کی شہادت دیتے ہیں۔ جب یہ ہدایت روشن اور فی الواقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہیں۔ تو پھر اس پر عمل کرنے میں لوگوں سے ڈرنے کی بجائے، صرف اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرنا چاہیے۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی بجائے لوگوں سے ڈرتے اور دنیا کے فائدے کو اللہ تعالیٰ کی آیات پر مقدم جانتے ہوئے ان کا نفاذ نہیں کرتے وہ لوگ کافر ہیں۔ (عَنْ عَائِشَۃَ (رض) أَنَّ قُرَیْشًا أَہَمَّہُمْ شَأْنُ الْمَرْأَۃِ الْمَخْزُومِیَّۃِ الَّتِی سَرَقَتْ فَقَالَ وَمَنْ یُکَلِّمُ فیہَا رَسُول اللّٰہِ () فَقَالُوا وَمَنْ یَجْتَرِئُ عَلَیْہِ إِلَّا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حِبُّ رَسُول اللّٰہِ () فَکَلَّمَہُ أُسَامَۃُ فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ () أَتَشْفَعُ فِی حَدٍّ مِنْ حُدُود اللّٰہِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَہْلَکَ الَّذِینَ قَبْلَکُمْ أَنَّہُمْ کَانُوا إِذَا سَرَقَ فیہِمْ الشَّرِیفُ تَرَکُوہُ وَإِذَا سَرَقَ فیہِمْ الضَّعِیفُ أَقَامُوا عَلَیْہِ الْحَدَّ وَایْمُ اللّٰہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَہَا)[ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب حَدِیثُ الْغَارِ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ قریش کے قبیلہ بنو مخزومیہ کی عورت جس نے چوری کی تھی اس کی وجہ سے خفت محسوس کرنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بارے میں اللہ کے رسول کے ہاں کون سفارش کرے گا ؟ تو انھوں نے اللہ کے رسول (ﷺ) کے پیارے صحابی اسامہ بن زید (رض) کو اس کی ہمت و الا پایا۔ اسامہ بن زید (رض) نے اس عورت کی سفارش کی تو اللہ کے رسول (ﷺ) نے فرمایا کیا تم اللہ کے مقرر کردہ حد کے متعلق سفارش کرتے ہو۔ پھر نبی اکرم (ﷺ) خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا تم سے پہلے لوگوں کی ہلاکت کی وجہ یہ بھی تھی جب ان میں معزز قبیلے کا فرد چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی کمزور کسی جرم کا مرتکب ہوتا تو اس پر قانون کا نفاذ کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ (رض) بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“ مسائل : 1۔ یہودی تورات نہیں مانتے۔ 2۔ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے کافر ہیں۔ 3۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول (ﷺ) کی بات کو نہ ماننے والا مومن نہیں ہو سکتا۔ المآئدہ
45 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، یہاں تورات میں جو حدود و قصاص کے احکامات کی تفصیل بیان فرمائی ہے انجیل کا اس لیے ذکر نہیں کہ انجیل تورات ہی کا تتمّہ ہے۔ پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جن احکامات کا تورات میں ذکر ہے اگر وہ قرآن مجید میں من و عن یا ان کا جو حصہ قرآن مجید میں بطور نفاذ ذکر کیا گیا ہو تو اس پر عمل کرنا لازم ہے۔ یہاں تو رات اور قرآن مجید کی متفق علیہ حدود کا ذکر کرنے سے پہلے نصیحت کی گئی کہ لوگوں سے ڈرنے کی بجائے صرف اللہ سے ڈرا کرو اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کو دنیاوی مفادات کے لالچ میں آکر ہرگز نہ چھوڑو کیونکہ ان کانفاذ اللہ تعالیٰ نے سب پر فرض قرار دیا ہے۔ ھم“ کی ضمیر بظاہر تو یہود و نصاریٰ کی طرف ہے لیکن نبی (ﷺ) نے ان پر عمل پیرا ہونا امت کے لیے لازم قرار دیا ہے آپ نے اپنی حیات مبارکہ میں ان حدود کو عملاً نافذ فرمایا کیونکہ جو حاکم جان بوجھ کر ان پر عمل نہیں کرتا۔ وہ کافر، ظالم اور فاسق یعنی کسی ایک زمرے میں ضرور شامل ہوگا۔ البتہ اس بات کی پوری گنجائش رکھی گئی ہے کہ فوجداری مقدمات عدالت میں آنے سے پہلے مجروح یا مقتول کے وارث معاف کردیں تو یہ معافی ظالم کے لیے اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے گی۔ اگر معافی کی صورت نہ نکلے تو حاکم کا فرض ہے کہ قصاص دلوائے اگر ایسا نہ کیا جائے تو حاکم ظالموں میں شمار ہوں گے۔ کیونکہ ان کی وجہ سے مظلوم اپنے حق سے محروم ہوا اور معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہوگا۔ (عَنْ أَنَسٍ (رض) قَالَ کَسَرَتْ الرُّبَیِّعُ وَہْیَ عَمَّۃُ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ثَنِیَّۃَ جَارِیَۃٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَطَلَبَ الْقَوْمُ الْقِصَاصَ فَأَتَوْا النَّبِیَّ () فَأَمَرَ النَّبِیُّ () بِالْقِصَاصِ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ لَا وَاللّٰہِ لَاتُکْسَرُ سِنُّہَا یَا رَسُول اللّٰہِ فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ () یَا أَنَسُ کِتَاب اللّٰہِ الْقِصَاصُ فَرَضِیَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الْأَرْشَ فَقَالَ رَسُولُ () إِنَّ مِنْ عِبَاد اللّٰہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَأَبَرَّہُ)[ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب قولہ والجروح قصاص] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں حضرت انس بن مالک کی چچی نے انصار کی ایک بچی کا دانت توڑ دیا تو انھوں نے قصاص کا مطالبہ کیا اور نبی کریم (ﷺ) کے پاس آئے نبی (ﷺ) نے قصاص کا حکم دیا۔ انس بن نضر (رض) جو کہ انس بن مالک کے چچا ہیں۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم! اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا اے انس قصاص اللہ کا حکم ہے اچانک قوم دیت لینے پر راضی ہوگئی تو رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا اللہ کے بندوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں اگر قسم اٹھالیں تو اللہ اس کو بری کردیتے ہیں۔“ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) یَقُولُ قَالَ رَسُول اللَّہِ () حَدٌّ یُعْمَلُ فِی الأَرْضِ خَیْرٌ لأَہْلِ الأَرْضِ مِنْ أَنْ یُمْطَرُوا ثلاَثِینَ صَبَاحًا )[ رواہ النسائی : باب التَّرْغِیبِ فِی إِقَامَۃِ الْحَدِّ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا زمین میں اللہ کی ایک حد پر عمل کرنا زمین والوں کے لیے تیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔“ مسائل : 1۔ تورات کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔ 2۔ تورات میں ہدایت اور روشنی ہے۔ 3۔ انبیاء (علیہ السلام) کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔ 4۔ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ 5۔ کتاب اللہ کا حکم نہ ماننے والے کافر، ظالم، فاسق ہیں۔ 6۔ یہودیوں پر بھی قصاص فرض تھا۔ تفسیر بالقرآن : نفاذ دین کی فرضیت : 1۔ جو شخص اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا وہ کافر ہے۔ (المائدۃ:44) 2۔ جو شخص اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ فاسق ہیں۔ (المائدۃ:47) المآئدہ
46 فہم القرآن : (آیت 46 سے 47) ربط کلام : تورات کے بعد انجیل کی ہدایات اور اس کے احکامات کی اہمیت کا بیان۔ اس سے متصل پہلی آیات میں تورات کے منزل من اللہ ہونے اور اس کے احکامات کے نفاذ کا ذکر ہوا تھا اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا ثبوت اور انجیل کا تورات کی تائید کرناثابت کیا گیا ہے۔ اس لیے انجیل کی ہدایات اور احکامات کو انہی الفاظ میں بیان کیا گیا ہے جن الفاظ میں تورات کی اہمیت اور ہدایات کا تعارف کروا یا گیا ہے۔ یہ کتب اپنے اپنے وقت میں لوگوں کے لیے روشنی کا مینار اور ہدایت کا سرچشمہ تھیں یاد رہے جو الفاظ تورات اور انجیل کے بارے میں آئے ہیں ایسے ہی الفاظ قرآن مجید کے بارے میں ارشاد ہوئے ہیں۔ یہ قرآن مجید کی حقانیت اور اس کی کشادہ ظرفی کا منہ بولتا ثبوت ہونے کے ساتھ اس بات کا اعلان ہے کہ جس طرح تورات اور انجیل اپنے اپنے دور میں لوگوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور روشنی کا مینار تھیں اسی طرح ہی آج قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت کا منبع، روشن قندیل ہے اور اس کے احکامات رہتی دنیا تک قابل عمل اور نافذ العمل رہیں گے۔ تورات و انجیل اپنے دور کے لیے لوگوں کے نصیحت و موعظت کا مرقع تھیں اور اب قرآن ان کے بنیادی احکامات اور ہدایات کا ترجمان اور لوگوں کے لیے راہ عمل ہے جس طرح تورات و انجیل کے احکامات نافذ نہ کرنے والے درجہ بدرجہ کافر، ظالم اور فاسق تھے اگر آج مسلمان اپنی انفرادی زندگی اور اجتماعی نظام میں قرآن نافذ نہیں کرتے تو وہ بھی اسی زمرے میں سمجھے جائیں گے جس طرح تورات و انجیل پر عمل نہ کرنے والے کافر، ظالم اور فاسق ٹھہرے تھے۔ مسائل : 1۔ ہر نبی پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا تھا۔ 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے انجیل عطا کی تھی۔ 3۔ انجیل میں ہدایت اور روشنی ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی نازل شدہ کتاب کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے فاسق ہیں۔ تفسیر بالقرآن : کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ ہونا چاہیے : 1۔ ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی تاکہ آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں۔ (النساء :105) 2۔ ہم نے انبیاء پر کتابیں نازل کیں تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں۔ (البقرۃ:213) 3۔ اور انجیل والے اس کے مطابق فیصلہ کریں۔ (المائدۃ:47) 4۔ آپ ان کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں۔ (المائدۃ:48) 5۔ اللہ تعالیٰ نے جو احکام آپ پر اتارے ہیں ان کے مطابق فیصلہ کیجیے۔ (المائدۃ:49) المآئدہ
47 المآئدہ
48 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اس آیت مبارکہ میں پہلی مرتبہ استعمال ہونے والے لفظ ﴿ الکتاب﴾ سے مراد قرآن مجید ہے۔ جو پہلی کتب آسمانی کی تائید اور تصدیق کرتا ہے اور جو کچھ ان کتابوں میں احکام بیان کیے گئے۔ وہ قرآن مجید میں محفوظ کرلیے گئے ہیں۔ ﴿مھیمن﴾ کا معنیٰ ہے کسی چیز کو ڈھانپ لینا یا اس کی حفاظت اور نگرانی کرنا کیونکہ دین کے مرکزی اور بنیادی اصول شروع سے ایک ہی رہے ہیں اس لیے وہ تمام احکام اور اصول جو پہلی کتابوں میں نازل کیے گئے اور جن کے نفاذ کا ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا۔ قرآن مجید ان کا امین اور ترجمان ہے۔ پہلی آیات میں تورات اور انجیل کے نفاذ کا حکم ان کے حاملین کو دیا گیا تھا۔ اب قرآن مجید کے نازل ہونے کے بعد وہ کتابیں منسوخ ہوچکی ہیں۔ البتہ ان کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق کرنی چاہیے۔ تورات اور انجیل کے بنیادی احکام جو قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں۔ نبی (ﷺ) کو براہ راست ان کے بارے میں حکم دیا گیا ہے ان کا نفاذ کریں تاکہ اس شبہ کا ازالہ ہو سکے کہ ان احکام کا نفاذ پہلی امتوں کے لیے ہی نہیں تھا بلکہ یہ امت ان کے نفاذ میں اتنی ہی پابند ہے جتنا پہلی امتوں کو پابند کیا گیا تھا۔ لہٰذا قرآن مجید کے نفاذ میں کسی کے منفی خیالات اور رجحانات کی پرواہ نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ حق پہنچ چکا اور نفاذ دین کے بغیر مسلمانوں کا اجتماعی نظام مستحکم نہیں ہوسکتا اور ان کی ترقی نہیں ہو سکتی۔ جس کی اہمیت کے پیش نظر براہ راست نبی (ﷺ) کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ان کا من و عن نفاذ کریں اور کسی کی خواہش اور مخالفت کو خاطر میں نہ لائیں۔ فرمان کے آخر میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ ہر امت کے لیے اس کی الگ، الگ شریعت اور علیحدہ طریقہ تھا۔ یہ اس لیے نہیں تھا کہ لوگوں کو ایک جگہ پر اکٹھا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل تھا بلکہ مصلحت اور حکمت یہ تھی کہ لوگوں کو اس بات میں آزمایا جائے کہ وہ نئے نبی اور اس کی شریعت پر ایمان لاتے ہیں یا اپنے اپنے مذہب اور ملتوں کے ساتھ منسلک رہتے ہیں۔ اس میں یہ حکمت بھی پنہاں تھی کہ پہلی امتوں کے مزاج اور ان کے حالات کے مطابق انھیں شریعت اور اس پر عملدر آمد کا طریقہ وہی دیا جائے جس کو اپنانا ان کے لیے آسان تھا۔ جس کی اہل علم نے یہ توجیہ فرمائی ہے کہ دین ایک ہونے کے باوجود شریعتوں کا مختلف ہونا انسانی ذہن کی ارتقاء کی بنا پر کیا گیا ہے۔ لہٰذا دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ان اختلافات میں الجھنے اور اپنی صلاحیتیں ضائع کرنے کی بجائے نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہیے۔ کار خیر میں مسابقت ہی زندہ اور بیدار قوموں کا شعار ہوا کرتا ہے۔ قرآن مجید مسلمانوں کو صرف نیکی کرنے کا حکم نہیں دیتا بلکہ اس کا فرمان ہے کہ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔ کیونکہ جس شعبہ میں مسابقت ختم ہوجائے وہ شعبہ زندگی کی روح کھو بیٹھتا ہے اس لیے سورۃ التکاثر میں ان لوگوں کو سخت انتباہ کیا ہے جو دنیا کے لیے اس قدر ہلکان کا شکار ہوگئے کہ قبر کی دیواروں تک دنیا ہی کے پیچھے بھاگتے رہے اور اپنی آخرت کو تباہ کر بیٹھے۔ اس لیے حکم فرمایا کہ مسلمانو نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ نیکی میں سبقت کرنے والے ہی اللہ کے مقرب ہوں گے۔ حقیقت آشکارا ہونے کے باوجود خواہ مخواہ اختلافات میں الجھنے والوں کا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کے درمیان ان کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمائیں گے۔ مسائل : 1۔ قرآن مجید منزل من اللہ ہے۔ 2۔ قرآن مجید پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ 3۔ قرآن مجید پہلی کتابوں کا نگران ہے۔ 4۔ قرآن مجید کے احکامات کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔ 5۔ حق آ جانے کے بعد کسی اور کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ اپنے احکامات کے ذریعے لوگوں کو آزماتا ہے۔ 7۔ نیکی کے کاموں میں سبقت اختیار کرنی چاہیے۔ 8۔ سب نے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ یوم قیامت لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن : قانون الٰہی کے بغیر فیصلے کرنے والے مجرم ہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ نے جو کتاب آپ پر نازل کی ہے لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں۔ (المائدۃ:48) 2۔ جو کتاب اللہ کے بغیر اپنی مرضی سے فیصلہ کرے گا اللہ کے راستے سے بھٹک جائے گا۔ (ص :26) 3۔ قانون الٰہی کے خلاف فیصلہ دینے والے فاسق ہیں۔ (المائدۃ:47) 4۔ جو قانون الٰہی کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ کافر ہے۔ (المائدۃ:44) 5۔ جو قانون الٰہی کے خلاف فیصلہ کرے وہ ظالم ہے۔ (المائدۃ:45) 6۔ امت کو قرآن کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے قرآن وسنت کو چھوڑ کر دوسرے کی اتباع نہیں کرنی چاہیے (الاعراف :3) المآئدہ
49 فہم القرآن : (آیت 49 سے 50) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : یہود و نصاریٰ نبی اکرم (ﷺ) کو پریشان اور پھسلانے کے لیے آئے دن کوئی نہ کوئی شرارت اور سازش کیا کرتے تھے ان کی خواہش اور کوشش تھی کہ اللہ کے پیغمبر (ﷺ) سے کوئی ایسا کام کروائیں جس سے اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوں اور آپ کے دامن پاک پر کوئی ایسا دھبہ لگ جائے کہ لوگ آپ سے بد ظن ہوجائیں۔ اسی کے پیش نظر یہودیوں کے مذہبی رہنما آپ کی خدمت میں ایک مقدمہ پیش کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اگر آپ اس کا فیصلہ ہماری مرضی کے مطابق کردیں تو نہ صرف ہم مسلمان ہونے کے لیے تیار ہیں بلکہ ہمارے ہزاروں متبعین مشرف بہ اسلام ہوجائیں گے۔ اس موقعہ پر یہ حکم نازل ہوا کہ اے نبی ! آپ ان کی خواہشات کا خیال رکھنے اور ان کی سازشوں سے خوفزدہ ہونے کی بجائے انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دیں۔ آپ صرف اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کو نافذ فرمائیں اگر یہ لوگ اللہ کے حکم سے انحراف کریں گے تو یہ انحراف ان کے گناہوں کا سبب اور سزا ہوگی۔ جو اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق سمجھنی چاہیے۔ یقین جانیں کہ لوگوں کی اکثریت نافر مانوں پر مشتمل ہوا کرتی ہے۔ نبی اور اس کے سچے متبعین کو ایسی اکثریت کی تابعداری نہیں کرنی چاہیے کیا جو لوگ جاہلیت کا قانون پسند کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم اور قانون دنیا اور آخرت کے نتائج کے اعتبار سے ہر قانون سے بہتر ہے لیکن اسے وہی لوگ تسلیم کرتے ہیں جنھیں یقین و ایمان کی دولت نصیب ہوتی ہے جہالت سے مراد ہر وہ کام اور مسئلہ ہوتا ہے جو وحی الٰہی کے خلاف ہو اور اس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پائی جائے۔ مسائل : 1۔ ہر فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق ہونا چاہیے اور کسی کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ 2۔ بعض لوگ کتاب اللہ سے منحرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 3۔ لوگوں کی اکثریت نافرمان ہوتی ہے۔ 4۔ گمراہ لوگ جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے قانون سے بہتر کوئی قانون نہیں ہے۔ تفسیر بالقرآن : اکثریت کا حال : 1۔ اللہ تعالیٰ بڑے فضل والاہے لیکن لوگوں کی اکثریت شکر گزار نہیں ہوتی۔ (البقرۃ:243) 2۔ اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے اکثریت اس حقیقت کو نہیں جانتی۔ (الاعراف :187) 3۔ قرآن آپ کے رب کی طرف سے حق ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی۔ (ھود :17) 4۔ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ نافذ کرنے پر قادر ہے لیکن لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی۔ (یوسف :21) 5۔ لوگوں کی اکثریت شکر گزار نہیں ہوتی۔ (یوسف :38) 6۔ لوگوں کی اکثریت بے عقل ہوتی ہے۔ (المائدۃ:103) 7۔ لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لاتی۔ (الرعد :1) المآئدہ
50 المآئدہ
51 فہم القرآن : ربط کلام : یہود و نصاریٰ کا کردار بتلانے کے بعد ان سے حقیقی اور قلبی تعلقات رکھنے سے منع کیا ہے۔ اسلام اور کفر کی کشمکش روز افزوں تھی جس کی بنا پر نو وارد مسلمان بالخصوص منافقین اس کوشش میں تھے کہ ہمارے تعلقات یہود و نصاریٰ کے ساتھ پہلے کی طرح استوار رہیں تاکہ یہود و نصاریٰ کی کامیابی کی صورت میں ہم نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔ اسی بنا پر مسلمانوں کے راز یہود و نصاریٰ تک پہنچاتے تاکہ ان کی دلی ہمدردیاں حاصل کرسکیں۔ حق و باطل کے اس معرکہ میں اسلام یہ بات کس طرح گوارا کرسکتا تھا کہ ان لوگوں کو آستینوں کا سانپ سمجھنے کے باوجود اس حالت میں رہنے دیا جائے کہ یہ مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہیں۔ اسلام تو دور بینی کا دین ہے۔ ایسی صورت حال تو کوئی باطل نظریہ کی حامل اور کمزور جماعت بھی گوارا نہیں کرسکتی۔ لہٰذا سازشوں کا قلع قمع اور مذموم سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے قرآن مجید مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ غیر مسلم بالخصوص یہود و نصاریٰ کے ساتھ رازد ارانہ تعلقات سے کامل اجتناب کریں۔ جو اس حکم کے باوجود غیر مسلموں کے ساتھ دوستی سے باز نہیں آتا وہ انھی میں شمار ہوگا اور ایسے ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے سرفراز نہیں کرتا۔ واضح رہے کہ اسلام سماجی تعلقات اور کاروباری معاملات میں اپنوں کو ترجیح دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ لیکن غیر مسلموں سے سماجی تعلقات اور کاروبار کرنے سے منع نہیں کرتا۔ البتہ ان سے قلبی تعلق اور ان کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (عَنْ ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (ﷺ) مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ) [ رواہ ابوداؤد : کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) بیان فرماتے ہیں جو کوئی کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں شمار ہوگا۔“ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَ لَعَنَ اللّٰہُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ اَلْمُغَیِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰہِ فَجَاءَ تْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ اِنَّہٗ بَلَغَنِیْ اَنَّکَ لَعَنْتَ کَیْتَ وَکَیْتَ فَقَالَ مَالِیْ لَا اَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () وَمَنْ ہُوَ فِیْ کِتَاب اللّٰہِ فَقَالَتْ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَیْنَ اللَّوْحَیْنِ فَمَا وَجَدْتُّ فِیہِ مَا تَقُوْلُ قَالَ لَئِنْ کُنْتِ قَرَأْتِیْہِ لَقَدْ وَجَدْتِّیْہِ اَمَا قَرَأْتِ﴿ مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فُخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا﴾ قَالَتْ بَلٰی قَالَ فَاِنَّہٗ قَدْ نَھٰی عَنْہُ۔)[ متفق علیہ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ سرمہ بھرنے والیوں اور بھروانے والیوں بھنووں ( اور رخسار کے بال) اکھیڑنے والیوں اور خوب صورتی کے لیے دانتوں کو باریک بنانے والیوں اور اللہ کی تخلیق کو بدلنے والیوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ ایک عورت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آئی اور کہا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ (رض) نے فلاں فلاں عورت کو ملعون قرار دیا ہے؟ عبداللہ بن مسعود (رض) نے جواب دیا کہ میں کیوں اس پرلعنت نہ کروں جس پر رسول اکرم (ﷺ) نے لعنت کی ہے۔ اور جس پر اللہ کی کتاب میں لعنت کی گئی ہے۔ اس عورت نے کہا‘ میں نے دونوں تختیوں کے درمیان (یعنی پورے) قرآن مجید کی تلاوت کی ہے‘ مجھے اس میں وہ بات نہیں ملی جو آپ کہہ رہے ہیں۔ ابن مسعود (رض) نے وضاحت فرمائی کہ اگر تو نے قرآن مجید کی تلاوت کی ہوتی تو اس میں اس حکم کو پالیتی کیا تو نے قرآن مجید میں نہیں پڑھا ” تمہیں جو چیز رسول دیں اس پر عمل کرو اور جس بات سے منع کریں اس سے رک جاؤ“ (الحشر) اس عورت نے جواب دیا کہ بالکل عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا‘ تو نبی کریم (ﷺ) نے ان باتوں سے منع فرمایا ہے۔“ مسائل : 1۔ مومن یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بنائیں۔ 2۔ یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ 3۔ یہود و نصاریٰ سے دوستی کرنے والا انہی میں سمجھاجائے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ تفسیر بالقرآن : یہود و نصاریٰ کو دوست نہیں بنانا چاہیے : 1۔ اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ۔ (الممتحنۃ : 1تا2) 2۔ اے ایمان والو! جن پر اللہ کا غضب ہوا انھیں اپنا دوست مت بناؤ۔ (الممتحنۃ:13) 3۔ اے ایمان والو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جنھوں نے تمہارے دین کو کھیل بنا لیا ہے۔ (المائدۃ: 56تا57) 4۔ اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ (المائدۃ:51) 5۔ اے ایمان والو! مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ (النساء :144) المآئدہ
52 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : منافقین کی دلی کیفیت اور ان کے قلبی خوف کو طشت ازبام کیا گیا ہے۔ منافقانہ عقیدہ اور کردار کو قرآن مجید ایک مرض قرار دیتا ہے جس میں آدمی کفر و اسلام کے درمیان تذبذب کا شکار رہتے ہوئے ہمیشہ دنیاوی مفاد کو پیش نظر رکھتا ہے۔ یہی حالت رسول اکرم (ﷺ) کے زمانے میں منافقین کی تھی۔ جب انھیں اس روش سے باز رہنے کی تلقین کی جاتی تو وہ اپنے جذبات کو ان الفاظ میں بیان کرتے کہ ہم فریقین کے ساتھ اس لیے تعلقات رکھے ہوئے ہیں کہ کسی ایک فریق کو شکست ہونے کی صورت میں ہمیں نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تسلی دینے کے ساتھ منافقین کو انتباہ کر رہا ہے کہ جس بات سے تم ڈرتے ہو۔ وہ عنقریب ہو کر رہے گی۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح سے نوازے گا یا اپنی طرف سے کامیابی کا دوسرا راستہ کھول دے گا۔ جس میں منافقین کے لیے ندامت کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ چنانچہ غزوۂ بدر سے لے کر غزوۂ تبوک تک منافقوں کو معمولی فائدہ پہنچنے کے سوا ہر قدم پر ندامت اور خفت اٹھانا پڑی آخرت میں ان کے لیے ذلت اور نقصان کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ سورۃ البقر ۃ کے دوسرے رکوع میں منافقین کی عادات کا ذکر ہوا۔ جس میں ہم نے لکھا ہے کہ منافق کا لفظ نفق سے نکلا ہے جس کا معنی ہے کہ چوہے کی ایسی بل جسکے دو منہ ہوں، اگر ایک منہ بند کیا جائے تو چوہا دوسری طرف سے نکل جاتا ہے جب تک دونوں بل کے منہ بند نہ کیے جائیں چوہا قابو میں نہیں آسکتا۔ منافق کی یہی حالت ہوتی ہے۔ کہ جب تک بیک وقت کفار اور مسلمانوں کی طرف سے دھتکارا نہ جائے اسے نقصان نہیں ہوتا۔ منافق اس نقصان سے بچنے کے لیے ددنوں فریقوں سے رابطہ رکھتا ہے۔ اس آیت میں ان کی اسی کمزوری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن دنیا کا یہ مفاد منافقین کو آخرت کے نقصان سے نہیں بچا سکتا اگر مسلمان منافقین کو سمجھ جائیں اور ان کے ساتھ وہ سلوک کریں جس کے کرنے کا حکم قرآن دیتا ہے تو منافق دنیا میں بھی ذلیل ہوجائیں گے جس طرح نبی اکرم (ﷺ) کے زمانے کے منافق بالآخر رسوا ہوئے تھے۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () اٰیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلٰثٌ زَادَ مُسْلِمٌ وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ ثُمَّ اتَّفَقَا اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اءْتُمَنَّ خَانَ) (رواہ مسلم : باب خصائل المنافق) ” حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (ﷺ) کا فرمان ذکر کرتے ہیں منافق کی تین نشانیاں ہیں۔1 جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے 2 جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے 3 جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ (متفق علیہ) مسلم شریف میں ان الفاظ کا اضافہ ہے ” چاہے روزے رکھتا اور نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔“ مسائل : 1۔ منافق یہود ونصاریٰ سے دوستی کرتے ہیں۔ 2۔ مومنوں کی کامیابی کو منافق برامحسوس کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : نادم ہونے والے لوگ : 1۔ آدم کا بیٹا کہنے لگا کاش میں اس کوے کی طرح ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا تو وہ نادم ہونے والوں میں سے ہو گیا۔ (المائدۃ:31) 2۔ قریب ہے اللہ فتح عطا کر دے یا اپنی طرف سے کوئی حکم نازل فرما دے پس یہ اپنے آپ پر نادم ہوں۔ (المائدۃ:52) 3۔ اپنی غلطیوں پر نادم ہونے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ (المومنون :40) 4۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء :157) 5۔ اے ایمان والو ! فاسق کی خبر کی تحقیق کرلیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔ (الحجرات :6) المآئدہ
53 فہم القرآن : ربط کلام : مومنوں کا منافقین پر تعجب کا اظہار اور منافقین کے اعمال کا غارت ہونا۔ اس سے پہلی آیت میں مسلمانوں کو کامیاب ہونے کی خوشخبری سنانے کے ساتھ اس بات سے آگاہ کیا گیا ہے کہ عنقریب وہ وقت آئے گا کہ مسلمان کامیاب اور منافق اپنی سازشوں اور شرارتوں پر نادم ہوں گے اور اس وقت مسلمان انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہیں گے کیا یہی وہ لوگ تھے جو قسمیں اٹھا اٹھا کر ہمیں یقین دہانی کرایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی منافقوں کو شرمندہ کیا اور آخرت میں جب منافق جہنم میں داخل کیے جائیں گے تو مومن ان سے یہ پوچھیں گے کیا تم وہی لوگ ہو جو دنیا میں حلف اٹھا اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ ہم بھی ایماندار اور تمہارے ساتھی ہیں۔ دنیا میں منافقوں کو شرمندگی اٹھانا پڑے گی اور آخرت میں ذلت سے دو چار ہوں گے۔ ان کے تمام اعمال بے فائدہ اور غارت ہوجائیں گے اعمال کی قبولیت کا دارومدار اخلاص پر ہے۔ منافق اخلاص سے تہی دامن ہوتا ہے جس وجہ سے نہ صرف آخرت میں یہ لوگ نقصان اٹھائیں گے بلکہ دنیا میں بھی ان کی منافقت کا پردہ چاک ہوجائے گا۔ ان کی حالت اس جانور کی ہوگی جس کے بارے میں محاورہ زبان زد عام ہے کہ نہ گھر کا اور نہ گھاٹ کا، منافق ایسی صورت حال سے دو چار ہوا کرتا ہے۔ (عَنْ ابْنِ عُمَر َ عَنْ النَّبِیِّ () قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَائِرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ تَعِیرُ إِلٰی ہٰذِہِ مَرَّۃً وَإِلٰی ہٰذِہِ مَرَّۃٌ) [ رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین واحکامھم] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا منافق کی مثال دو ریوڑوں کے درمیان بکرے کی تلاش میں پھرنے والی بکری کی طرح ہے۔ ایک مرتبہ اس جانب جاتی اور دوسری مرتبہ دوسری جانب جاتی ہے۔“ المآئدہ
54 فہم القرآن : ربط کلام : منافقوں کی خصلتوں کے مقابلے میں مومنوں کی خوبیوں کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو ایک طرح کا چیلنج دیتا ہے کہ اگر تم اپنے دین سے مرتد ہوجاؤ تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اللہ عنقریب ایسے لوگوں کو دین کے میدان میں لاکھڑا کرے گا۔ جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرئے گا اور وہ لوگ اللہ سے محبت کریں گے وہ دین اور اللہ کی محبت میں اس قدر فنا ہوں گے کہ اپنوں کے ساتھ نرم اور کفار پر سخت ہوں گے۔ یہی جذبہ انھیں جہاد فی سبیل اللہ پر آمادہ کرے گا اور انھیں جہاد کرتے ہوئے ملامت کرنے والوں کی ملامت اور کسی کے پراپیگنڈہ کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔ اس آیت مبارکہ میں یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے کہ کفار کا مسلمانوں کے خلاف یہ بھی ایک حربہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو جہاد سے روکنے کے لیے پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ مسلمان وحشی اور جنگجو لوگ ہیں۔ اسلام دنیا کے امن کو تباہ کردینے والا مذہب ہے۔ ذرا غور فرمائیں کہ قرآن نے صدیوں پہلے کفار کی جس ملامت کی طرف اشارہ کردیا تھا وہ کس طرح حرف بحرف پوری ہورہی ہے۔ آج پوری دنیا کے کافر جب خودعراق، افغانستان، بوسنیا اور کشمیر پر بم باری کرتے ہیں تو انھیں کوئی شرم نہیں آتی جب مجاہدین دفاع کرتے ہیں تو انھیں تخریب کار اور کیا کیا لقب دیتے ہیں کاش مسلمان سربراہ قرآن کی آواز سنیں اور دشمن کے ایجنٹ کا کردار ادانہ کریں۔ اکثر محدثین نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس میں مسلمانوں کو آئندہ ہونے والے کچھ لوگوں کے ارتداد کے بارے میں خبر دی گئی ہے۔ اور ان لوگوں کو خوشخبری سنائی گئی ہے جو ارتداد کے دور میں دین پر پکے اور مرتدین کے خلاف جہاد کریں گے۔ چنانچہ رسول اکرم (ﷺ) کی وفات کے فوراً بعد صحابہ کرام (رض) کو مرتدین کا سامنا کرنا پڑا۔ مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ جس کی سرکوبی کے لیے خلیفہ اوّل حضرت ابو بکر صدیق (رض) نے خالد بن ولید (رض) کی کمان میں فوج روانہ کی اس جنگ میں کئی صحابہ (رض) شہید ہوئے۔ ان میں بہت سے حفاظ صحابہ (رض) بھی شامل تھے۔ اس کے بعد کچھ قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا۔ حضرت ابو بکر صدیق (رض) نے ان سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے جہاد کا اعلان کیا۔ بڑے بڑے صحابہ (رض) نے یہ کہہ کر اس کی مخالفت کی کہ ان کے خلاف جہاد کیونکر ہوسکتا ہے ؟ جبکہ یہ لوگ دین کے باقی ارکان پر عمل پیرا ہیں۔ لیکن صدیق اکبر (رض) نے فرمایا جو زکوٰۃ اور نماز میں فرق کرے گا میں اس کے خلاف جہاد ضرور کروں گا۔ بالآخر حضرت عمر (رض) اور ان کے ہم نوا صحابہ کرام (رض) کو اس مسئلہ میں انشراح صدرہوا اور انھوں نے خلیفۃ المسلمین کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ جس کے نتیجے میں مانعین زکوٰۃ نے زکوٰۃ دینے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ ان بحرانوں کے ساتھ ہی یہ مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ لشکر اسامہ کو روانہ کیا جائے یا کہ بحرانی کیفیت کی بنا پر کچھ عرصہ کے لیے روک لیا جائے۔ اس پر خلیفہ اول نے بڑا مضبوط موقف اختیار فرمایا۔ جس سے امت اعتقادی، مالی، اور سیاسی بحران سے بچ گئی۔ ان حالات میں بہت سے لوگوں نے حضرت ابو بکرصدیق (رض) کو مشورہ دیا کہ وہ وقت کی نزاکت کے پیش نظر جیش اسامہ کو نہ بھیجیں، کیونکہ اسے امن وسلامتی کی حالت میں تیار کیا گیا تھا۔ مشورہ دینے والوں میں حضرت عمر بن خطاب (رض) بھی شامل تھے، مگر حضرت ابو بکر (رض) نے اس بات کو قبول نہ کیا اور جیش اسامہ کو روکنے سے سختی سے انکار کیا اور فرمایا خدا کی قسم ! میں اس جھنڈے کو نہیں کھولوں گا جس کو اللہ کے رسول (ﷺ) نے باندھا ہے۔ خواہ پرندے اور درندے ہمیں مدینے کے ارد گرد سے اچک لیں۔ اگر امہات المومنین کے پاؤں کو کتے گھسیٹ لیں تو بھی میں ضرور جیش اسامہ کو بھیجوں گا۔ اور مدینہ کے ارد گرد کے محافظوں کو حکم دوں گا کہ وہ اس کی حفاظت کریں اور جیش اسامہ کا اس حالت میں جانابڑے مفاد میں رہا اور وہ عرب کے جس قبیلے کے پاس سے بھی گزرے وہ ان سے خوف زدہ ہوجاتا اور وہ لوگ کہتے کہ یہ لوگ اس لیے نکلے ہیں کہ ان کو بڑی قوت حاصل ہے۔ (البدایہ والنہایہ) اس آیت میں مومنین کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں۔ 1۔ مومن اللہ سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔ 2۔ مومن آپس میں نرم خو اور خیر خواہ ہوتے ہیں۔ 3۔ کفار کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے کی بجائے ان کے کفر سے شدید نفرت کرتے ہیں 4۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے کوشش پیہم میں مصروف رہتے ہیں۔ 5۔ دین کی محبت اور جہاد کے راستے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتے۔ جہاں تک کفار کے ساتھ سخت گیر ہونے کا تعلق ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ مسلمان سماجی اور معاشرتی لحاظ سے بداخلاق ہوتے ہیں بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان وہ ہے جو اپنے دین پر غیر متزلزل ایمان رکھتا ہو اور جہاد کے وقت کسی رشتہ اور مروّت کی پروا کیے بغیر کفار کے خلاف ڈٹ جائے۔ اس راستے میں بھی حضرت ابو بکر صدیق (رض) تمام صحابہ سے افضل ہیں۔ جب غزوۂ بدر کے بعد ان کا بیٹاعبدالرحمن مسلمان ہوا تو اس نے بدر کا معرکہ بیان کرتے ہوئے اپنے والد ابو بکر (رض) سے کہا جنگ کے دوران ایک موقع ایسا بھی آیا تھا جب آپ میرے نشانے پر تھے، لیکن میں نے اس لیے آپ پر وار نہ کیا کہ آپ میرے والد گرامی ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت ابو بکر صدیق (رض) نے فرمایا کہ اگر تم میرے نشانے میں ہوتے تو میں تم پر وار کرنے سے ہرگز نہ چوکتا۔ (البدایہ والنہایہ) اللہ تعالیٰ سے اس کی اور نیک لوگوں کی محبت مانگنی چاہیے : (عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (رض) قَالَ احْتُبِسَ عَنَّا رَسُول اللَّہِ ()۔۔ أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُ إِلَی حُبِّکَ )[ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن عن رسول اللہ، باب ومن سورۃ ص ] ” حضرت معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول (ﷺ) ہمارے پاس آنے سے رک گئے۔۔ اے اللہ میں تم سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس کی محبت جو تم سے محبت رکھتا ہے اور ایسے عمل کی محبت جو مجھے تمھاری محبت کے قریب کر دے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی کوئی پروا نہیں ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ایسے مسلمانوں کو پسند فرماتا ہے جو آپس میں نرم اور کافروں پر سخت ہوں۔ 3۔ مومن اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہیں۔ 4۔ مومن کسی کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔ المآئدہ
55 فہم القرآن : (آیت 55 سے 56) ربط کلام : مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کی باہمی محبت کے ذریعے تسلی دی جارہی ہے۔ خطاب کے آغاز اور رکوع کی ابتدا میں مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کے ساتھ قلبی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ جس میں یہ اندیشہ ہوسکتا ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو تنہا محسوس کریں۔ اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ تمہیں غیروں سے دوستی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جب اللہ اور اس کا رسول تمہارے ساتھ محبت کرتے ہیں کیونکہ تم اللہ ہی کے لیے دین کے دشمنوں کے ساتھ برسرپیکار ہو۔ تم اللہ تعالیٰ کے حضور نماز کی حالت میں جھکنے والے اور اس کی رضا کی خاطر زکوٰۃ کی شکل میں غرباء سے تعاون کرنے والے رکوع کرتے ہوئے عاجزی اختیار کرنے والے ہو۔ گویا کہ جب تک مسلمانوں میں یہ اوصاف ہوں گے کہ وہ اللہ کے حضور نماز کی صورت میں جھکنے والے، زکوٰۃ کی شکل میں کمزور ساتھیوں سے تعاون کرنے والے، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے۔ تو انہیں کسی کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے یہ اللہ کی فوج ہیں اور اللہ کی فوج ہی دنیا میں غالب رہے گی۔ چنانچہ دنیا نے کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھا جب تک مسلمانوں میں یہ اوصاف رہے مسلمان سربلند رہے۔ یہاں رکوع سے مراد اکثر مفسرین نے عاجزی اور انکساری لی ہے تاہم یہ سورۃ ا لبقرۃ میں ذکر ہوچکا ہے کہ نماز کے ساتھ رکوع کا خصوصی ذکر اس لیے کیا جاتا ہے کہ یہودیوں نے رکوع فرض ہونے کے باوجود اپنی نماز سے خارج کردیا ہے یہاں کفار اور منافقوں کو متنبہ کرنے کے ساتھ مومنوں کو خوشخبری سنائی گئی ہے کہ تمہیں غیروں سے دوستی اس لیے بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ کامیابی تمہارا مقدر ہے۔ (الاسلام یعلوولا یعلیٰ) [ ارواء الغلیل حدیث نمبر :1268] ” اسلام غالب آئے گا اور اس پر کوئی غالب نہیں آئے گا۔“ ﴿کَتَبَ اللّٰہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِی إِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیزٌ﴾ [ المجادلۃ:21] ” اللہ تعالیٰ نے لکھ رکھا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔“ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) أَنَّ رَسُول اللَّہِ () قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوا أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّہِ، وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ، وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ عَصَمُوا مِنِّی دِمَاءَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلاَّ بِحَقِّ الإِسْلاَمِ، وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللَّہِ ) [ رواہ البخاری : باب ﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاَۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ فَخَلُّوا سَبِیلَہُمْ﴾] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا مجھے لوگوں کے ساتھ لڑائی کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے جب انھوں نے یہ کام کرلیا تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے مال کو محفوظ کرلیا مگر اسلام کے حقوق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“ مسائل : 1۔ مومن اللہ اور اس کے رسول کے دوست ہوتے ہیں۔ 2۔ مومن نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے اور اللہ کے سامنے رکوع کرتے ہیں۔ 3۔ اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں سے دوستی کرنے والے غالب رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن: اللہ کن کا دوست ہے : 1۔ اللہ ایمان والوں کا دوست ہے۔ (البقرۃ:257) 2۔ اللہ مومنین کا دوست ہے۔ (آل عمران :68) 3۔ اللہ متقین کا دوست ہے۔ (الجاثیۃ :19) 4۔ اللہ مومنوں کا دوست ہے۔ (المائدۃ:55) 5۔ مشرک اور اللہ تعالیٰ کی آیات جھٹلانے والوں کا کوئی دوست نہیں۔ (العنکبوت :23) 6۔ مسلمانوں کے لیے جنت اور اللہ تعالیٰ کی دوستی ہوگی۔ (الانعام :126) المآئدہ
56 المآئدہ
57 فہم القرآن : (آیت 57 سے 58) ربط کلام : یہود و نصاریٰ اور کفار سے قلبی تعلقات نہ رکھنے کے مزید تین اسباب : یہود ونصاریٰ اہل کتاب اور اہل مکہ کعبہ کے متولی اور ملت ابراہیم کے دعوے دار ہونے کے باوجود اسلام جیسے سچے دین، نماز جیسی افضل ترین عبادت اور اس کی پکار یعنی اذان کو کھیل تماشا اور استہزاء کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ (الانفال :35) میں ذکر ہوا ہے کہ جب مسلمان نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ لوگ سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے۔ ان کا خبث باطن اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ جب آپ بیت اللہ میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھے تو انھوں نے اونٹ کی بھاری بھرکم گندگی سے بھری ہوئی اوجڑی آپ کے کمر مبارک پر رکھ دی تھی۔ ان کی یہ باقیات سیئات فتح مکہ کے موقعہ پر بھی موجود تھیں۔ جب آپ (ﷺ) نے حضرت بلال (رض) کو کعبہ میں اذان کہنے کا حکم دیا تو مکہ کے گلی کوچوں میں ابو محذورہ اور ان کے شریر ساتھی جو کہ اس وقت نو عمر تھے۔ حضرت بلال (رض) کی نقلیں اتارا کرتے تھے۔ ایک موقع پر نبی کریم (ﷺ) کو دیکھتے ہوئے انھوں نے اذان کی نقل اتاری تو آپ نے کریمانہ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابو محذورہ کو بلایا اور سمجھایا۔ آپ کے مشفقانہ رویہ سے متاثر ہو کر ابو محذورہ نے کلمہ پڑھ لیا۔ تو آپ نے اسے بیت اللہ یعنی مسجد حرام کا مؤذن مقرر فرمایا۔ ” حضرت عبداللہ بن محیریز سے روایت ہے وہ یتیم تھے اور انھوں نے ابو محذورہ کے گھر پرورش پائی ابو محذورہ نے ان کو شام کی طرف بھیجا وہ کہتے ہیں میں نے ابومحذورہ سے کہا میں ملک شام کی طرف جا رہا ہوں اور مجھے خیال ہے کہ وہ لوگ مجھ سے آپ کی آذان کے متعلق پو چھیں گے تو میری رہنمائی کریں۔ ابو محذورہ نے کہا میں چند لوگوں کے ساتھ حنین کی طرف جا رہا تھا جبکہ رسول معظم (ﷺ) حنین سے واپس پلٹ رہے تھے میری کسی راستے میں ان سے ملاقات ہوئی رسول (ﷺ) کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان کہی ہم نے مؤذن کی آواز سنی تو اس وقت ہم ان سے کچھ دور تھے ہم نے اذان کی نقل اتارتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا۔ رسول اکرم (ﷺ) نے آواز سنی تو ہمیں بلایا ہم آپ کے سامنے حاضر ہوئے رسول اللہ (ﷺ) نے پوچھا میں نے تم میں سے کس کی اس قدر بلند آواز سنی ہے میرے ساتھیوں نے سچ بولتے ہوئے میری طرف اشارہ کیا نبی اکر م نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے وہیں روکے رکھا۔ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا کھڑے ہو کر اذان کہیے۔ رسول اکر م (ﷺ) نے مجھے اذان سکھائی فرمایا کہیے اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہََ إِلَّا اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ پھر فرمایا اپنی آواز کو لمبا کرتے ہوئے دوبا رہ کہو أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہََ إِلَّا اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہََ إِلَّا اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاح اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہََ إِلَّا اللّٰہُ پھر آپ نے میرے لیے دعا کی جب میں نے اذان ختم کی تو آپ (ﷺ) نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی۔ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول (ﷺ) مجھے مکہ میں اذان کہنے کی اجازت فرمائیں۔ رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا میں تجھے اس پر مامور کرتا ہوں۔ میں عتاب بن اسید جو کہ مکہ میں رسول اکرم (ﷺ) کے مقرر کردہ عامل تھے ان کے پاس گیا، پھر میں نے ان کے پاس مکہ میں رسول اللہ (ﷺ) کے حکم کے مطا بق اذان کہتا۔“ [ رواہ النسائی : کتاب الاذان، باب کیف الاذان] مسائل : 1۔ ایمان والے دین کے ساتھ مذاق کرنے والوں سے دوستی نہیں کرتے۔ 2۔ ایمان والے صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ 3۔ کافر لوگ دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ 4۔ کفار حقیقتاً بے عقل ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : بے عقل لوگ کون ہیں : 1۔ جنہوں نے دین کو ہنسی اور کھیل بنا لیا وہ عقل والے نہیں۔ (المائدۃ:58) 2۔ اگر ہم سنتے اور عقل کرتے تو اہل جہنم سے نہ ہوتے۔ (الملک :10) 3۔ آپ ان کو اکٹھا گمان کرتے ہیں حالانکہ ان کے دل جدا، جدا ہیں یہ قوم بے عقل ہے۔ (الحشر :14) 4۔ وہ لوگ جو آپ کو حجرات کے پیچھے سے بلاتے ہیں وہ بے عقل ہیں۔ (الحجرات :4) 5۔ آپ فرما دیں سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اکثر لوگ عقل نہیں رکھتے۔ (العنکبوت :63) 6۔ ہم نے جو کتاب نازل کی ہے اس میں تمہارے لیے نصیحت ہے تم عقل کیوں نہیں کرتے۔ (الانبیاء :10) 7۔ جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے تم عقل کیوں نہیں کرتے۔ (القصص :60) المآئدہ
58 المآئدہ
59 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب کا گھناؤنا کردار ذکر کرنے کے بعد ان کو مزید احساس دلانے کے لیے براہ راست سوال۔ اہل کتاب سے سوال کرنے کے دو مقصد ہیں کہ انہیں اس بات کا احساس دلایاجائے کہ اسلام کو مذاق سمجھنے اور نماز اور اذان کو استہزاء کانشانہ بنانے کا تمہارے پاس کیا جواز ہے ؟ کیا اس پر تمہارے ضمیر تمہیں کوئی ملامت نہیں کرتے ؟ ہاں یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ ہمیں عطا کیا گیا ہے اور جو ہم سے پہلے نازل کیا گیا ہم اس کو بھی مانتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ تم دوسروں سے دو قدم آگے بڑھ کر قرآن مجید پر ایمان لاتے کیونکہ قرآن مجیدتمہاری کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور ہم تورات اور انجیل کو ان کے دور کی منزل من اللہ کتابیں سمجھتے ہیں۔ دنیا میں وہ شخص کتنا عاقبت نااندیش ہے جس کے نظریہ کی تائید کی جائے وہ اس پر خوش ہونے کی بجائے الٹا اپنے مؤید کی مخالفت پر کمربستہ ہوجائے اہل کتاب تمہارا یہی حال ہے دراصل تمہاری مخالفت کا بنیادی سبب یہ ہے کہ تمہاری اکثریت نافرمان لوگوں پر مشتمل ہے۔ اللہ کے نافرمان اس حد تک حقیقی شعور سے تہی دامن ہوتے ہیں کہ وہ نیکی کی بجائے فسق وفجور کے مددگار بن جاتے ہیں جن کی یہ حالت ہو وہ اللہ کی رحمت کی بجائے اس کے غضب کے سزا وارہونے کی وجہ سے انسانیت کے شرف سے محروم ہو کر بدترین مخلوق قرار پائے۔ مسائل : 1۔ اہل کتاب مسلمانوں سے دین اسلام کی وجہ سے دشمنی رکھتے ہیں۔ 2۔ اہل کتاب میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ المآئدہ
60 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب کی دنیا میں سزا اور آخرت میں بدترین انجام۔ اہل کتاب کی اکثریت ماضی کے جرائم اور اپنے آباؤاجداد کے کردار سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے ان کے گھناؤنے کردار پر فخر کرتی ہے۔ جس وجہ سے قرآن مجید ہر دور کے اہل کتاب کو انہی میں شمار کرتا ہے چنانچہ رسول محترم (ﷺ) کو ارشاد ہوا کہ آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ کیا تمہیں ان لوگوں کے انجام سے آگاہ نہ کیا جائے جو اپنے کردار کی وجہ سے اللہ کے ہاں اس حد تک بدترین ٹھہرے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب اور پھٹکار ہوئی۔ جس کے نتیجہ میں انہیں بندر، خنزیر اور شیطان کے بندے بنادیا گیا۔ یہ لوگ دنیا میں صراط مستقیم سے بھٹک چکے اور آخرت میں ان کا بدترین اور عبرت ناک انجام ہوگا۔ امام رازی (رح) نے مختلف ذرائع سے لکھا ہے کہ یہودیوں میں ہفتہ کے روز زیادتی کرنے والوں کو ذلیل بندر بنادیا گیا اور عیسائیوں میں جن لوگوں نے آسمانی دسترخوان کا مطالبہ کیا پھر نافرمانیوں میں آگے بڑھتے چلے گئے۔ انہیں خنزیر بنادیا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرمایا کرتے تھے کہ امت محمدیہ کے لوگ خنزیر اور بندر تو نہیں بنائے جائیں گے لیکن ان کا ذہن بندروں کی طرح شریر اور ان کا کردار خنزیروں کی طرح بے حمیت ہوجائے گا۔ یہ بات سورۃ البقرہ آیت نمبر 65، 66 میں بیان ہوچکی ہے کہ جس قوم کی اللہ تعالیٰ شکلیں مسخ کرتا ہے وہ تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہا کرتے۔ اس لیے جن لوگوں نے بندر اور خنزیر کی نسل کو یہود و نصاریٰ کے ساتھ وابستہ کرنے کی کوشش کی ہے ان کا نقطۂ نگاہ کسی اعتبار سے پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتا۔ مسائل : 1۔ طاغوت کی عبادت کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکارپڑتی ہے۔ 2۔ طاغوت کی عبادت کرنے والوں میں سے اللہ تعالیٰ نے بعض کو بندر اور بعض کو خنزیر بنادیا۔ 3۔ طاغوت کی عبادت کرنے والے سب سے بدتر اور سیدھی راہ سے بھٹکے ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : اللہ کے راستے سے گمراہ لوگ : 1۔ جو ایمان کو کفر کے ساتھ بدل دے وہ سیدھے راستہ سے گمراہ ہوگیا۔ (البقرۃ:108) 2۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء :116) 3۔ جو اللہ کے ساتھ کفر کرے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ (النساء :136) 4۔ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والاگمراہ ہوگیا۔ (الاحزاب :36) 5۔ جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ (الرعد :33) 6۔ اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ مثال کے ساتھ فاسق ہی گمراہ ہوتے ہیں۔ ( البقرۃ:26) 7۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پامال کرنے والا سیدھے راستہ سے بھٹک جاتا ہے۔ (المائدۃ:12) 8۔ کفار سے دوستی کرنے والا سیدھی راہ سے دور چلا جاتا ہے۔ (الممتحنۃ:1) 9۔ دین کے معاملات میں غلو کرنے والا سیدھی راہ سے گمراہ ہوجاتا ہے۔ (المائدۃ :77) 10۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانے والا سیدھے راستہ سے بھٹک گیا۔ (ابراہیم :30) المآئدہ
61 فہم القرآن : (آیت 61 سے 62) ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور اپنی طبیعتوں کی مکاری کی وجہ سے اہل کتاب گناہ، ظلم اور حرام خوری میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کے غضب میں مغضوب لوگوں کی شکلیں تبدیل نہ بھی ہوں تو بھی برے اعمال کی وجہ سے شیطان کے بندے اور غلام بن جاتے ہیں۔ جس وجہ سے وہ کفر اور ایمان کے درمیان تمیز نہیں کرسکتے ان کی اکثریت کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ گناہ، زیادتی اور اکل حرام میں بڑے مستعد اور تیز رفتار ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ کفر اور اسلام میں امتیاز نہیں کرتے اور اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ ان کا کردار لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے۔ جس کے متعلق انہیں انتباہ کیا گیا ہے ہوسکتا ہے تمہارا برا کردار مومنوں کی نظروں سے اوجھل رہ جائے۔ لیکن یاد رکھنا تمہاری کوئی حرکت اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے اللہ تمہارے جھوٹے دعوے کو خوب جانتا ہے۔ جس کا تم رسول اللہ (ﷺ) کے سامنے اظہار کرتے ہو۔ حالانکہ تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تم ایمان کا اظہار کر رہے ہوتے ہو تو اس وقت بھی تم کفر کی حالت میں ہوتے ہو۔ جب نبی (ﷺ) کی مجلس سے اٹھ کر جاتے ہو تب بھی تم کفر ہی میں مبتلا ہوتے ہو۔ امام رازی (رض) نے ” اثم“ سے مراد عام گناہ لیا ہے اور ” عدوان“ کا معنیٰ یہ کرتے ہیں کہ ایسا گناہ جس کے اثرات لوگوں پر مرتب ہوتے ہوں اور اس میں زیادتی کا عنصر بھی پایاجائے۔” سحت“ کا معنی رشوت اور حرام خوری کیا گیا ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ لَعَنَ رَسُول اللّٰہِ () الرَّاشِیَ وَالْمُرْتَشِیَ)[ رواہ الترمزی : کتاب الاحکام عن رسول اللہ، باب ماجاء فی الراشی والمرتشی] ” حضرت عبداللہ بن عمر و بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔“ مسائل : 1۔ محض زبانی دعویٰ کرنے سے کوئی شخص مومن نہیں بنتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہے۔ 3۔ اہل کتاب کی اکثریت گناہ اور زیادتی کے کاموں اور حرام خوری میں تیز ہے۔ 4۔ گناہ وزیادتی اور حرام خوری برے عمل ہیں۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ چیز کو جانتا ہے : 1۔ اللہ ہی غیب کا جاننے والا ہے۔ (الجن :26) 2۔ کیا لوگوں کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے۔ (التوبۃ:78) 3۔ غیب کی چابیاں اللہ ہی کے پاس ہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (الانعام :59) 4۔ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت ساری بھلائیاں اکٹھی کرلیتا۔ نبی اکرم (ﷺ) کا اعلان۔ (الاعراف :188) 5۔ یہ غیب کی باتیں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ (ھود :49) 6۔ نبی اکرم (ﷺ) غیب نہیں جانتے۔ (ھود :31) 7۔ آپ (ﷺ) فرما دیں کہ ہر قسم کا غیب اللہ ہی جانتا ہے۔ (یونس :20) المآئدہ
62 المآئدہ
63 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب کے عوام کا کردار بیان کرنے کے بعد ان کے علماء اور نام نہاد صلحاء کے گھناؤنے کردار کا تذکرہ۔ علامہ بیضاوی (رح) ” لولا“ کے الفاظ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر یہ الفاظ ماضی پر داخل ہوں تو اس کا معنی انتباہ (Warning) ہوتا ہے اگر یہ الفاظ مضارع پر وارد ہوں تو اس کا معنی کسی کو آمادہ اور کام پر اکسانا ہوتا ہے۔ ربی کی جمع ربیون ہے یہودی اپنے عالم کو ربی کہہ کر بلاتے ہیں اور حِبَرْ کی جمع احبار ہے جس کا معنی ہے تارک الدنیا اور درویش۔ یہ اصطلاح عام طور پر عیسائیوں میں استعمال ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ربی اور احبار یہود یوں کی اصطلاحات ہیں بہرحال یہاں یہود ونصاریٰ کے علماء اور نام نہاد صلحاء کو مخاطب کرتے ہوئے ترغیب دی جارہی ہے کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم لوگوں کو برائی اور حرام خوری سے منع نہیں کرتے۔ تمہیں اپنے برے کردار پرنظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ ایسا کردار کسی شریف آدمی کو زیب نہیں دیتا بالخصوص علماء اور صلحاء کی شان کے بالکل منافی ہے۔ علماء کا کام تو لوگوں کی اصلاح اور فلاح کی کوشش کرنا ہے۔ (عَنْ أَبِی سَعِیدِنِ الْخُدْرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ () قَالَ إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْجِہَادِ کَلِمَۃُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ) [ رواہ الترمذی : کتاب الفتن عن رسول اللہ، باب ماجاء فی افضل الجہاد کلمۃ عدل عند سلطان جائر] ” حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ جابر سلطان کے سامنے عدل کی بات کہنا بڑا جہاد ہے۔“ (عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ رُؤَیْبَۃَ قَالَ رَأَی بِشْرَ بْنَ مَرْوَان َ عَلَی الْمِنْبَرِ رَافِعًا یَدَیْہِ فَقَالَ قَبَّحَ اللّٰہُ ہَاتَیْنِ الْیَدَیْنِ لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُول اللّٰہِ () مَا یَزِیدُ عَلَی أَنْ یَقُولَ بِیَدِہِ ہَکَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِہِ الْمُسَبِّحَۃِ)[ رواہ مسلم : کتاب الجمعۃ، باب تَخْفِیف الصَّلاَۃِ وَالْخُطْبَۃِ] ” حضرت عمارہ بن رویبہ (رض) کہتے ہیں انہوں نے بشر بن مروان (رض) کو دونوں ہاتھ منبر پر اٹھاتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا اللہ ان دو نوں ہا تھوں کو تباہ کردے میں نے رسول معظم (ﷺ) کو دیکھا وہ صرف اپنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا کرتے تھے۔“ ( عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () لَمَّا وَقَعَتْ بَنُو إِسْرَاءِیلَ فِی الْمَعَاصِی نَہَتْہُمْ عُلَمَاؤُہُمْ فَلَمْ یَنْتَہُوا فَجَالَسُوہُمْ فِی مَجَالِسِہِمْ وَوَاکَلُوہُمْ وَشَارَبُوہُمْ فَضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوبَ بَعْضِہِمْ بِبَعْضٍ وَلَعَنَہُمْ عَلٰی لِسَانِ دَاوُدَ وَعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُوا یَعْتَدُونَ قَالَ فَجَلَسَ رَسُول اللّٰہِ () وَکَانَ مُتَّکِءًا فَقَالَ لَا وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ حَتَّی تَأْطُرُوہُمْ عَلَی الْحَقِّ أَطْرًا) [ رواہ الترمذی : کتاب التفسیر، باب و من سورۃ المائدۃ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا جب بنی اسرائیل کے لوگ گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے علماء نے ان کو روکاجب وہ نہ رکے۔ ان کے علماء نے بھی ان کی مجالس میں بیٹھنا شروع کردیا حتیٰ کہ ان کے ساتھ ہی کھانا پینا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں با ہم نفرت ڈال دی۔ حضرت داؤد اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے ان پر لعنت فرمائی یہ اس وجہ سے کہ یہ گناہ اور زیادتی کرنے والے تھے۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) ٹیک لگا کر تشریف فرما تھے سیدھے بیٹھ کر آپ نے فرمایا نہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! یہاں تک کہ تم ان کے خلاف حق کی خاطر پوری طرح ڈٹ جاؤ۔“ (عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ یَزِیدَ أَنَّہَا سَمِعَتِ النَّبِیَّ () یَقُولُ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ یَرْضَ اللّٰہُ عَنْہُ أَرْبَعِینَ لَیْلَۃً فَإِنْ مَاتَ مَاتَ کَافِرًا وَإِنْ تَابَ تَاب اللّٰہُ عَلَیْہِ) [ مسند احمد : کتاب من مسند القبائل، باب من حدیث اسماء بنت یزید] ” حضرت اسماء بنت یزید فرماتی ہیں میں نے نبی مکرم (ﷺ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا جو بھی شراب پیے اللہ تعالیٰ اس سے چالیس دن تک راضی نہیں ہوگا۔ اگر وہ مر گیا تو وہ کفر کی حالت میں مرے گا۔ اگر اس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمائے گا۔“ (عَنْ أَبِیْ سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ (رض) سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ () یَقُولُ مَنْ رَأَی مُنْکَرًا فَغَیَّرَہُ بِیَدِہِ فَقَدْ بَرِءَ وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یُغَیِّرَہُ بِیَدِہِ فَغَیَّرَہُ بِلِسَانِہِ فَقَدْ بَرِءَ وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یُغَیِّرَہُ بِلِسَانِہِ فَغَیَّرَہُ بِقَلْبِہِ فَقَدْ بَرِءَ وَذَلِکَ أَضْعَفُ الإِیمَانِ) [ رواہ النسائی : باب تَفَاضُلِ أَہْلِ الإِیمَانِ] ” حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (ﷺ) سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص نے برائی کو دیکھا تو اس نے اسے اپنے ہاتھ سے ختم کیا تو وہ بری ہوگیا اور اگر اس نے اس برائی کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں پائی تو اس نے اسے اپنی زبان سے روکا تو وہ بھی بری ہوگیا اگر اس نے زبان سے روکنے کی طاقت نہ پائی تو اس نے اسے اپنے دل سے برا جانا تو وہ بھی بری ہوگیا اور یہ سب سے کمتر ایمان ہے۔“ مسائل : 1۔ درویشوں اور علماء لوگوں کو حرام خوری اور برے کاموں سے منع کرنا چاہیے۔ 2۔ برائی سے نہ روکنا بھی برائی ہے۔ المآئدہ
64 فہم القرآن : ربط کلام : یہودیوں کے علماء کا کردار اور عوام کی اصلاح سے عدم التفات کی وجہ سے ان کے عوام پر لے درجے کے گستاخ ہوچکے ہیں۔ یہودی زبان درازی اور شقاوت قلبی کے اعتبار سے اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ مطلب براری کے لیے انتہائی لجاجت اور میٹھی زبان کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن جونہی مطلب نکل جائے تو اپنا خبث باطن ظاہر کرنے اور دوسرے کو زیر کرنے میں ذرا تامل نہیں کرتے۔ ان کی گستاخیوں کا سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں قدرے ذکر ہوا ہے۔ یہ نہ صرف انبیاء کے گستاخ اور قاتل ہیں بلکہ مشکل وقت آنے پر اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے ذرہ برابر جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ چنانچہ جونہی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو رزق کی کشادگی سے نوازا اور یہودیوں کی تجارت اور کاروبار محدود ہوا تو انہوں نے اپنی اصلاح کرنے کی بجائے برملا اس گستاخی کا اظہار کیا کہ ہمارے رزق میں کمی اور تجارت میں اس لیے خسارہ ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ بند کرلیے ہیں خاکم بدہن بقول ان کے اللہ تعالیٰ کنجوس اور بخیل ہوگیا، ان کے جواب میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کشادہ ہیں اور وہ ہر وقت مخلوق کو اپنی عطاؤں سے نواز رہا ہے اگر وہ اپنے جود وکرم کا ہاتھ ایک لمحہ کے لیے بند کرلے تو دنیا کی کوئی چیز باقی نہ رہے۔ جہاں تک رزق کی کمی و بیشی کا تعلق ہے اس میں اس کی حکمت کار فرما ہے اور اکثر اوقات انسان کی اپنی کمی کمزوری کا دخل ہوتا ہے۔ جہاں تک یہودیوں کی فطرت کا معاملہ ہے یہودی بظاہر کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہو وہ پرلے درجے کا کنجوس اور اس کی سیاست اور کاروباری معاملات پر لوگ لعنت ہی کیا کرتے ہیں۔ اسی کا سبب ہے کہ یہ قرآن مجید سے خاص عداوت رکھتے ہیں اس کے ساتھ ہی یہود ونصاریٰ آپس میں خاص کر یہودیوں کے درمیان بے انتہا اختلافات ہیں۔ ایک مذہب پر ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی لعنت کے سبب ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی حسد اور بغض رکھتے ہیں اور دنیا میں جس قدر جنگ وجدال ہوتا ہے اس میں کسی نہ کسی صورت میں یہودیوں کا ہاتھ کار فرما ہوتا ہے۔ یہاں نبی کریم (ﷺ) کو یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ ان کی خباثتوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں یہ جب آپ کو کسی سازش اور لڑائی میں جھونکنے کی کوشش کریں گے اللہ تعالیٰ آپ کو اس آگ سے بچالے گا لیکن اس کے باوجود یہ دنیا میں لڑائی اور فساد کرتے رہیں گے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ یہودیوں کی سازشوں اور شرارتوں سے محفوظ رکھنے کا وعدہ نبی کریم (ﷺ) کے ساتھ خاص نہیں بلکہ آج بھی مسلمان رسول اکرم (ﷺ) کے بتلائے ہوئے طریقہ کو اختیار کرلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں بھی یہودیوں کی سازشوں سے محفوظ کرے گا۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط نظریہ رکھنے کی وجہ سے یہود پر لعنت وپھٹکار ہوئی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا ہیں رزق عطا کرتا ہے۔ 3۔ قرآن مجید کے نازل ہونے کے بعد اہل کتاب کی کفروسرکشی میں اضافہ ہوگیا۔ 4۔ اہل کتاب میں سے اکثر فساد کرانے میں لگے رہتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ المآئدہ
65 فہم القرآن : (آیت 65 سے 66) ربط کلام : اہل کتاب گستاخیاں اور نافرمانیاں کرنے کی بجائے ایمان اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو آخرت میں ہی نہیں دنیا میں بھی جنت کی جھلک پاتے۔ اگر اہل کتاب اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرنے کی بجائے اس کی نازل کردہ ہدایات پر ایمان لاتے اور اجتماعی زندگی میں تورات وانجیل کانفاذ کرتے تو دنیا و آخرت کے ثمرات سے سرفراز کیے جاتے۔ اہل کتاب کے جرائم کی وجہ سے ان میں سے کچھ لوگوں کو دنیا میں بندر اور خنزیر بنادیا گیا اور باقی کے درمیان ہمیشہ کے لیے حسد وبغض اور عداوت ودشمنی پیدا کردی گئی۔ اب اس کا نتیجہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں دنگا فساد برپا کرنے کے درپے رہتے ہیں حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ہدایات پر ایمان لاتے اور اپنے دور میں تورات وانجیل کو اپنے لیے ضابطۂ حیات مقرر کرتے تونہ صرف ان کے گناہ معاف کردیے جاتے۔ بلکہ دنیا میں بھی بابرکت رزق سے مستفید ہوتے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں جنت کی نعمتوں سے سرفراز فرماتے۔ یہاں دنیا کی فراوانی کے لیے فرمایا ہے کہ یہ لوگ اپنے اوپر، نیچے سے رزق پاتے یعنی زمین ان کے لیے اپنے خزانے اگلتی اور آسمان سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا جس کی ظاہری شکل بارش کابر وقت ہونا اور لوگوں کا آفاقی آفتوں سے محفوظ رہنا ہے۔ اس کے لیے شرط یہ تھی کہ سچے ایمان کے ساتھ وہ تورات اور انجیل کو اجتماعی زندگی میں بالفعل نافذ کرتے۔ یہی اقامت دین کا مفہوم ہے لیکن انہوں نے انفرادی زندگی میں بداعمالیوں کو اپنا یا اور اجتماعی زندگی میں دین کو کلیتاً خارج کردیا دوسرے لفظوں میں نظام حکومت سے تورات اور انجیل کو نکال کر اپنی مرضی کے قوانین نافذ کیے۔ یوں ان کی پوری زندگی تورات اور انجیل کے احکامات سے خالی ہوگی۔ جس کے نتیجے میں ان کے کردار سے دیانت وامانت، شرم وحیا اور شرافت ونجابت کا خاتمہ ہوا۔ دنیا کی فراوانی کے باوجود ان سے برکت اٹھالی گئی تاہم ان میں ایسے خوش قسمت بھی ہیں جنہوں نے اعتدال کا رویہ اختیار کرتے ہوئے نہ صرف تورات وانجیل پر عمل کیا بلکہ نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر دونوں جہانوں میں سرخرو ہوئے۔ (عن ابی ہُرَیْرَۃ َ یَقُولُ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () حَدٌّ یُعْمَلُ فِی الْأَرْضِ خَیْرٌ لِأَہْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ یُمْطَرُوا ثَلَاثِینَ صَبَاحًا)[ رواہ النسائی : کتاب قطع السارق، باب الترغیب فی اقامۃ الحد ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کیا کرتے تھے رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا زمین پر ایک حد کا نفاذ اہل دنیا کے لیے تیس دن کی بارش سے بھی بہتر ہے۔“ (یہاں تیس دن کی بارش سے مراد مناسب وقت پر بارشوں کا ہونا ہے۔ ) (حَدَّثَنِی أَبُو بُرْدَۃَ (رض) عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ () ثَلاَثَۃٌ لَہُمْ أَجْرَانِ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ آمَنَ بِنَبِیِّہِ وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ (ﷺ)۔۔)[ رواہ البخاری : باب تَعْلِیم الرَّجُلِ أَمَتَہُ وَأَہْلَہُ] ” حضرت ابو بردہ (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں انھوں نے کہا رسول کریم (ﷺ) نے فرمایا تین آدمیوں کے لیے دوہرا اجر ہے ایک وہ آدمی جس کا تعلق اہل کتاب سے وہ اپنے نبی پر بھی ایمان لایا اور محمد (ﷺ) پر بھی ایمان لایا۔۔“ مسائل : 1۔ ایمان وتقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے۔ 2۔ ایمان و تقویٰ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ جنت کا داخلہ عطا فرمائے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کرنے کی وجہ سے رزق میں فراوانی ہوتی ہے۔ 4۔ اہل کتاب کی اکثریت بدعمل ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کے قانون قصاص میں دنیوی فائدے : 1۔ قصاص لینا فرض ہے اور اس میں تمہاری زندگی ہے۔ (البقرۃ:178) 2۔ قصاص میں برابری ضروری ہے۔ (البقرۃ:178) 3۔ اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تم بھی واپسی اس پر زیادتی کرسکتے ہو۔ (البقرۃ:194) 4۔ بدلہ لینا ضروری ہے جو معاف کردے یہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔ (المائدۃ:45) 5۔ دیت قبول کرنے کے بعد زیادتی کرنے والے کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ:178) المآئدہ
66 المآئدہ
67 فہم القرآن : ربط کلام : اس سے پہلے آیت 58میں مسلمانوں کی طرف یہود ونصارٰی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم ہماری اس لیے مخالفت کرتے ہو کہ ہم اپنے رب پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔ پھر یہو دو نصارٰی کی با ہمی دشمنی کا ذکر کیا ہے اور سمجھایا ہے کہ اگر یہ لوگ اپنے زمانے میں تورات اور انجیل پر عمل کرتے تو دنیا اور آخرت کی نعمتوں سے ہم کنار ہوتے۔ اب نبی (ﷺ) کو فرمایا جارہا ہے کہ آپ ان کی پرواہ کیے بغیر اپنا کام جاری رکھیں اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے گا۔ الرّسول سے مراد سرور دوعالم (ﷺ) کی ذات اقدس ہے یہاں لفظ الرّسول استعمال فرما کر آپ کو باور کروایا گیا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول یعنی اس کی طرف سے پیغام رساں ہیں، لہٰذا حالات جیسے بھی ہوں اور دشمن کتنا ہی طاقتور اور مخالف کیوں نہ ہو آپ کو ہر حال میں لوگوں تک اپنے رب کا پیغام من وعن پہنچانا ہے۔ اگر آپ نے اس میں ذرہ برابر کوتاہی کی تو اس کا یہ معنی ہوگا کہ آپ نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔ یہ آیت مبارکہ اعلان نبوت کے پندرہ سال بعد غزوۂ احد کے معرکہ کے بعد نازل ہوئی۔ اس سے پہلے آپ قدم بقدم رسالت کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے بڑے بڑے مصائب کا مقابلہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ مدینہ طیبہ میں تشریف لائے یہاں کے حالات کے پیش نظر آپ کے ساتھ مسلح پہرے دار موجود ہوتے تھے جب تک اللہ تعالیٰ نے واضح اعلان نہیں فرمایا اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رہا جب آپ کی حفاظت کا فرمان نازل ہوا تو آپ نے اپنا پہرہ ہٹاتے ہوئے فرمایا کہ اب مجھے پہرہ کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ حدیث کی مقدس دستاویزات اور سیرت طیبہ سے سے پتہ چلتا ہے کہ کیسے کٹھن حالات میں آپ نے لوگوں کی اصلاح اور فلاح کے لیے کام کیا اور جتنے آپ پر شب خون مارے گئے اور حملے کیے گئے شاید ہی دنیا کے کسی مصلح پر اتنے حملے کیے گئے ہوں۔ مفسر قرآن مولانا عبدالرحمن کیلانی نے اپنی تفسیر میں اسی آیت کے ضمن میں جن المناک واقعات کا تفصیلی احاطہ کیا ہے ان کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ 1۔ آپ (ﷺ) کی ذات اقدس پر پہلا حملہ اس وقت ہوا جب آپ نے حرم کعبہ میں جا کر توحید کا اعلان کیا جس سے مکہ میں ہلچل پیدا ہوئی اور لوگ آپ پر حملہ آور ہوئے حضرت خدیجہ (رض) کے پہلے خاوند سے بیٹے حارث بن ابی حالہ آپ کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوگئے یہ اسلام کے پہلے شہید تھے۔ (الاصابہ فی تمیز الصحابہ ) 2۔ ابوجہل نے پتھر سے آپ (ﷺ) کا سر مبارک کچلنے کی کوشش کی حالانکہ آپ بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز تھے جو نہی وہ آگے بڑھا تو ایک خونخوار اونٹ اس کو دبوچنے کے لیے دوڑا آرہا تھا ابو جہل گھبرا کر پیچھے کی طرف بھاگا۔ اپنے ساتھیوں کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اگر میں ایک قدم اور آگے بڑھتا تو اونٹ مجھے کھا جاتا۔ میں نے اتنا خوفناک اونٹ آج تک نہیں دیکھا (ابن ہشام۔ الرحیق المختوم ) 3۔ آپ (ﷺ) بیت اللہ میں کھڑے ہو کر توحید کا پیغام سنارہے تھے کہ مشرکین آپ پر ٹوٹ پڑے جن میں عقبہ بن ابی معیط نے آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر اتنے بل دیے کہ آپ کا چہرہ مبارک خون سے سرخ ہوگیا اور بے ساختہ آواز نکل گئی اس موقع پر اچانک حضرت ابوبکر صدیق (رض) آن پہنچے۔ انہوں نے آپ کو چھڑانے کی کوشش کی جس پہ ان کو اس قدر پیٹا گیا کہ وہ کئی دن تک اٹھنے کے قابل نہ رہے۔ (رواہ البخاری : کتاب المناقب فضائل ابو بکر) 4۔ جناب عمر (رض) کا مشہور واقعہ کہ آپ (ﷺ) کو قتل کرنے کے ارادے سے باہر نکلے۔ راستے میں انہیں بتایا گیا کہ تمہاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہوچکے ہیں جسے سنتے ہی عمر اپنی بہن کے گھر گئے اور بہن اور بہنوئی کو پیٹنا شروع کردیا۔ 5۔ آپ کی عظیم جدوجہد سے مجبور ہو کر مکے کے زعماء ابوطالب کے پاس جا کر پیشکش کرتے ہیں کہ آپ مکہ کے نامور سردار ولید بن مغیرہ کے بیٹے عمارہ کو قبول فرمائیں اور اس کے بدلے محمد (ﷺ) کو ہمارے حوالے کردیں۔ ان کا مقصد رسول کریم (ﷺ) کو قتل کرنا تھا۔ (ابن ہشام، الرحیق المختوم) 6۔ ہجرت سے پہلے رات کے وقت آپ (ﷺ) کے گھر کا گھیراؤ کرنا تاکہ آپ صبح کے وقت نکلیں تو یکبارگی حملہ کرکے آپ کا کام تمام کردیا جائے (الانفال آیت 30کی تفسیر دیکھئے) 7۔ ہجرت کے دوران 100اونٹ کے لالچ میں سراقہ بن مالک کا پیچھا کرنا تاکہ زندہ یا قتل کرنے کی صورت میں انعام حاصل کیا جائے (بخاری کتاب الانبیاء باب ہجرت النبی (ﷺ) 8۔ غزوۂ بدر کے بعد صفوان بن امیہ کا عمیر بن وہب کو قتل کے ارادے سے مدینہ بھیجناعمیر جب آپ کے پاس پہنچا تو آپ (ﷺ) نے بذریعہ وحی اسے پوری بات بتلائی کہ صفوان بن امیہ نے تیرا قرض چکانے اور اہل وعیال کی ذمہ داری اٹھائی ہے تاکہ تو مجھے قتل کردے یہ سن کر عمیر بن وہب ششدر رہ گیا۔ اس نے اس بات کا اقرار کیا اور ساتھ ہی مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ تفصیل جاننے کے لیے ابن ہشام اور الرحیق المختوم کی طرف رجوع کریں۔ 9۔ ثمامہ بن اثال کی گرفتاری کا مشہور واقعہ ہے جس کی تفصیل میں الرحیق کے مصنف لکھتے ہیں کہ یہ بھی آپ (ﷺ) کو قتل کرنے کے ارادے سے نکلا تھا لیکن گرفتار ہوگیا اور آپ کا حسن اخلاق دیکھ کر مسلمان ہوگیا۔ 10۔ مدینہ میں آپ (ﷺ) ایک قضیہ کے تصفیہ کے لیے یہودیوں کے محلے میں تشریف لے گئے آپ کی گفتگو کے دوران یہودیوں نے ایک آدمی کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ چپکے سے مکان پر چڑھ کر بھاری پتھر لڑھکائے جس سے آپ جانبر نہ ہوسکیں لیکن بذریعہ وحی آپ کو خبر ہوئی آپ اس سے پہلے ہی اٹھ کر چلے آئے۔ (الرحیق المختوم) 11۔ خیبر کے موقع پر آپ (ﷺ) کو ختم کرنے کے لیے یہودی عورت کا آپ کی دعوت کرنا جس میں زہر ملا دیا گیا تھا لیکن لقمہ منہ میں ڈالتے ہی آپ کو احساس ہوا جس سے آپ نے کھانا چھوڑ دیا تاہم یہ زہر اس قدر ہلاکت انگیز تھا کہ وفات کے وقت بھی آپ نے اس کے زہریلے اثرات بڑی شدت کے ساتھ محسوس فرمائے۔ (بخاری کتاب الطب) 12۔ صلح حدیبیہ کے بعد اشاعت دین کے لیے رسول محترم (ﷺ) نے مختلف حکمرانوں کو مراسلات لکھے جن میں ایران کے فرما نروا خسرو پرویز کو بھی خط لکھا اس نے نہ صرف آپ کا نامہ مبارک پھاڑ دیا بلکہ یمن کے گورنر کو حکم دیا کہ نبوت کے دعویدار کو گرفتار کرکے میرے پاس بھیجا جائے تب یمن کے اہلکاروں نے آپ کے پاس آکر خسروپرویز کا حکم نامہ سناتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے گرفتاری پیش نہ کی تو آپ کے علاقے کو تہس نہس کردیا جائے گا۔ (ابن ہشام، بخاری) 13۔ یہود کی تمام سازشیں اور شرارتیں ناکام ہوگئیں تو انہوں نے ایک بہت بڑے جادوگر کے ذریعے آپ (ﷺ) پر جادو کا ایسا وار کیا جس سے کئی ہفتے آپ کی طبیعت انتہائی پریشان، مضمحل اور بے چین رہی، رات کی نینداڑ گئی اور دن کا چین جاتارہا اس حالت میں جبریل امین تشریف لائے اور انہوں نے جادو کا علاج بتلاتے ہوئے اس کنویں کی نشاندہی فرمائی جہاں آپ کا مجسمہ بنا کر آپ کے بالوں کو گرہیں دیتے ہوئے جادو کیا گیا تھا۔ تفصیل جاننے کے لیے (رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، کتاب الادب) (میری کتاب جادو کی تباہ کاریاں اور ان کا شرعی حل) 14۔ غزوہ ذات الرقاع سے واپسی پر آپ (ﷺ) اسلحہ اتار کر ایک درخت کے نیچے آرام فرماتھے کہ ایک دشمن قبیلے کا آدمی موقعہ پاکر آپ کی تلوار لہراتے ہوئے کہتا ہے کہ اب تجھے مجھ سے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے کسی مرعوبیت کے بغیر فرمایا اللہ ہی مجھے بچانے والا ہے یہ سنتے ہی اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ گئی وہ معافی کا خواستگار ہوا آپ نے اسے معاف کردیا بعض روایات کے مطابق وہ شخص آپ کا حسن اخلاق دیکھ کر مسلمان ہوگیا۔ (رواہ البخاری : کتاب الجہاد) 15۔ عمیر بن وہب کا واقعہ نمبر 8گزر چکا ہے اس کا بیٹا فضالہ فتح مکہ کے موقع پر کافر تھا فتح کے بعد جب آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو اس نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا جسے آپ بھانپ گئے آپ نے اسے قریب بلاکر اس کے مذموم ارادے سے متنبہ فرمایا تو وہ فوراً مسلمان ہوگیا۔ (الرحیق المختوم ) 16۔ اسلام کا پیغام حجاز کی سرزمین سے گزر کر روم کی سرحدات میں پہنچ چکا تھا جس وجہ سے روم کے حکمران اپنے لیے خطرہ محسوس کر رہے تھے انہوں نے حفظ ما تقدم کے طور پر اپنی افواج کو پیش قدمی کے لیے تیار کیا اس صورت حال کو دبانے کے لیے رسول اکرم (ﷺ) نے 30000ہزار مجاہدین لے کر روم کے دروازے پر دستک دی آپ کا جرأتمندانہ اقدام دیکھ کر رومی سامنے آنے کی تاب نہ لا سکے۔ کچھ دن قیام کرنے کے بعد آپ مدینہ واپس آرہے تھے کہ رات کی تاریکی میں منافقوں نے آپ کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا کہ جب آپ کسی تنگ گزرگاہ کے درمیان پہنچیں تو آپ پر یکبارگی حملہ کردیا جائے منافقوں کے جتھے نے چہرے چھپائے ہوئے تھے تاہم وحی کے ذریعے آپ کو اطلاع ہوئی تو آپ نے حذیفہ بن یمان کو حکم دیا کہ منافقوں کی سواریوں کو دور ہانک دیاجائے۔ اس کے ساتھ ہی آپ (ﷺ) نے انہیں منافقوں کے نام بتائے اور کریمانہ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے نام کسی اور کو نہ بتلائے جائیں۔ (رواہ مسلم : کتاب صفۃ المنافقین، ابن ہشام، الرحیق المختوم) 17۔ آپ (ﷺ) کے خلاف آخری سازش عامر بن طفیل نے تیار کی جس نے بئر معونہ کے مقام پر ستر قرّاء کو شہید کر وایا یہ ایک وفد لے کر مدینہ آیا اور منصوبے کے تحت آپ سے گفتگو کر رہا تھا کہ اس کے ایک ساتھی نے آپ (ﷺ) کے پیچھے ہو کر تلوار کا وار کرنا چاہا جس کی بذریعہ وحی آپ کو خبر ہوگئی آپ نے ان کی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے درگزر سے کام لیا تاہم اس کے لیے بددعا کی جس کی وجہ سے وہ ذلیل ہو کر مرا۔ (رواہ البخاری : کتاب المغازی) مسائل : 1۔ رسول اکرم (ﷺ) کو من وعن شریعت پہنچانے کا حکم دیا گیا تھا۔ 2۔ نبی کریم (ﷺ) کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمادیا تھا۔ 3۔ شریعت کا انکار کرنے والوں کو ہدایت نہیں دی جاتی۔ المآئدہ
68 فہم القرآن : ربط کلام : دوبارہ اہل کتاب کو خطاب۔ نبی کریم (ﷺ) کو خطاب کرنے سے پہلے یہود ونصاریٰ کو مخاطب کیا جا رہا تھا۔ اس کے بعد آپ کو آپ کے عظیم منصب کے حوالے سے مخاطب کرتے ہوئے معنوی لحاظ سے تسلی دی گئی کہ یہود ونصاریٰ آپ کو الرسول تسلیم کریں یا نہ کریں آپ حقیقتاً اللہ کے رسول ہیں لہٰذا حالات جیسے بھی ہوں آپ بے خوف وخطر اپنے رب کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے جائیں اس تسلی اور تاکید کے بعد اب خطاب کا رخ پھر اہل کتاب کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔ اے رسول! آپ واشگاف الفاظ میں اہل کتاب کو باور کرائیں کہ تم اس وقت تک ذرہ برابر حقیقت پر نہیں ہوسکتے جب تک تورات وانجیل کے احکامات کو مانتے ہوئے قرآن مجید کی ہدایت پر عمل نہیں کرتے۔ یہاں تورات وانجیل پر قائم رہنے کا جو منطقی تقاضا بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن مجید کو من جانب اللہ تسلیم کرتے ہوئے اس کی ہدایات اور احکامات کو مانا جائے۔ کیونکہ قرآن مجید تورات اور انجیل کے احکامات کا ضامن اور محافظ ہے۔ لہٰذا قرآن مجید پر عمل کرنا تورات اور انجیل کے احکامات کو ماننے کا تسلسل ہے۔ اسی تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے پہلے انبیاء کی تصدیق اور تائید لازم قرار پائی۔ اہل کتاب کی اکثریت کا عالم یہ ہے وہ مخالفت برائے مخالفت کی بنیاد پر قرآن مجید کے ساتھ کفر کرتے ہوئے آگے ہی بڑھتے جا رہے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں قرآن من جانب اللہ اور نبی اکرم (ﷺ) اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اسی بنا پر آپ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنْ رَسُول اللَّہِ () أَنَّہُ قَالَ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لاَ یَسْمَعُ بِی أَحَدٌ مِنْ ہَذِہِ الأُمَّۃِ یَہُودِیٌّ وَلاَ نَصْرَانِیٌّ ثُمَّ یَمُوتُ وَلَمْ یُؤْمِنْ بالَّذِی أُرْسِلْتُ بِہِ إِلاَّ کَانَ مِنْ أَصْحَاب النَّارِ) [ رواہ مسلم : باب وُجُوبِ الإِیمَانِ بِرِسَالَۃِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ (ﷺ) ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میں محمد کی جان ہے یہودیوں اور عیسائیوں میں سے جس شخص تک میرا پیغام پہنچ جائے اور پھر وہ اسی حالت میں مرجائے اور وہ مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جہنم میں داخل ہوگا۔“ کیونکہ قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ اہل کتاب کے ایمان اور اعمال کی کوئی حیثیت نہیں۔ جب تک وہ آپ پر جو نازل ہوا اس پر ایمان نہیں لاتے۔ یہاں واضح الفاظ میں آپ (ﷺ) کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ اہل کتاب کی سرکشیوں اور نافرمانیوں پر آپ کو افسردہ اور دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے آپ اللہ کے رسول ہیں اور رسول کا کام لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچانا ہے منوانا نہیں۔ مسائل : 1۔ یہودی اور عیسائی جب تک قرآن کو نہیں مانتے وہ کسی دین پر نہیں سمجھے جا سکتے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات پس پشت ڈال کر کوئی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کو نہ ماننے والے کفرو سرکشی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں۔ 4۔ کافروں کے کفر پر غمزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : یہودو نصاریٰ کی اندرونی حالت : 1۔ یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کو مرتد کہتے ہیں۔ (البقرۃ:113) 2۔ آپ (ﷺ) ان کو اکٹھا تصور کرتے ہیں حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں۔ (الحشر :14) 3۔ اللہ نے ان کے دلوں میں قیامت تک کے لیے دشمنی ڈال دی ہے۔ (المائدۃ:14) المآئدہ
69 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب کی روش اور کردار کو کفر قرار دینے کے بعد ایمان کے بنیادی ارکان، تقاضوں اور اس کے صلہ کا ذکر کیا گیا ہے اس حقیقت کو سورۃ البقرۃ کی آیت 62میں بیان کیا جا چکا ہے۔ اللہ کے ہاں خالی ایمان کا دعویٰ اور مذہبی فرقہ واریت کے لیبل کی کوئی حیثیت نہیں اسلام سچے عقیدے اور حسن کردار کا نام ہے۔ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان اور آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اسلام کے منتخب اور پسندیدہ اعمال کو اختیار کرے۔ اس میں ایمان با للہ کے بعد نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج لازم ہیں جو ان اعمال اور ان کے متعلقات کو پورا کرے گا اسے دنیا میں سکون و اطمینان اور آخرت میں کوئی خوف و غم نہیں ہوگا۔ یہاں ایمان کے باقی ارکان کا ذکر کرنے کی بجائے صرف دو ارکان کا بیان ہوا ہے۔ یعنی اللہ اور آخرت پر ایمان لانا یہ اختصار قرآن مجید کے اور مقامات میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان وہی شخص لائے گا جو نبی آخر الزماں (ﷺ) کی رسالت کو تسلیم کرے گا۔ کیونکہ آپ اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ کی رسالت کا انکار کرنے والا ایمان باللہ کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا اور آخرت میں کامل ایمان اور نیک اعمال کے بغیر نجات کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے قرآن مجید ارکان ایمان کے بارے میں بسا اوقات تفصیلات چھوڑ کر ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے ذکر پر اکتفا کرتا ہے کیونکہ جو ان کو دل کی گہرائی اور سچائی کے ساتھ مانتا ہے وہ دوسرے ارکان کا انکار نہیں کرسکتا۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں زبانی کلامی دعوؤں کی قدر نہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لانے والے لوگ خوف وغم سے محفوظ رہیں گے۔ المآئدہ
70 فہم القرآن : ربط کلام : بنی اسرائیل سے ایمان باللہ، آخرت پر یقین اور دیگر انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ نبی آخر الزماں (ﷺ) پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا تھا۔ اگر وہ اس پر عمل کرتے تو مغضوب ہونے کے بجائے دنیا اور آخرت میں بے خوف ہوجاتے۔ بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ نے جو عہد لیا تھا اس کی تفصیل سورۃ البقرہ آیت 83المائدہ 12میں گزر چکی ہے البقرہ آیت 83میں یہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت تمام انبیاء کرام سے یہ عہد لیا تھا کہ جس نبی کی نبوت کے دور میں خاتم المرسلین حضرت محمد (ﷺ) تشریف لائیں اسے اپنی نبوت کاسلسلہ ختم کرتے ہوئے آخری نبی کی رسالت کا پرچم اٹھانا ہوگا اس عہد کی بنیاد پر ہر رسول اور نبی اپنی امت سے یہ عہد لیا کرتا تھا کہ جونہی نبی آخرالزماں جلوہ افروز ہوں۔ ہر کسی کافرض ہوگا کہ وہ آخری نبی کا کلمہ پڑھے اور آپ کے لائے ہوئے دین کو اختیار کرے لیکن بنی اسرائیل کی اکثریت نہ صرف اس عہد سے منحرف ہوئی بلکہ انہوں نے اپنے میں سے مبعوث ہونے والے ہر نبی کی مخالفت کی۔ ان کا مزاج تھا اور ہے کہ یہ اپنے آپ کو شریعت کے حوالے کرنے کی بجائے شریعت کو اپنا غلام بنانے کی مذموم کوشش میں مصروف رہتے ہیں اسی بناء پر ہی انہوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور اسی وجہ سے ہی انبیاء کو قتل کرتے رہے اس آیت مبارکہ میں بھی ایک انداز سے آپ کے لیے ڈھارس کا سامان ہے اے رسول اقدس! آپ کو ایسے لوگوں پر دل گرفتہ ہونے کی بجائے اپنا کام کرتے رہنا چاہیے اگر یہ قرآن مجیدکی مخالفت اور آپ کو جھٹلاتے ہیں تو یہ ان کی فطرت ثانیہ اور جبلت قدیمہ ہے۔ مسائل : 1۔ بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا گیا کہ انبیاء پر ایمان لائیں۔ 2۔ بنی اسرائیل نے کچھ انبیاء کی تکذیب کی، اور کچھ انبیاء کو قتل کیا۔ المآئدہ
71 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ سے باربار عہد شکنی، شریعتوں کی تکذیب، انبیاء (علیہ السلام) پرزیادتی کرنے اور اپنی خواہش کا بندہ بننے کی وجہ سے اہل کتاب بصیرت سے تہی دامن ہوگئے۔ جب کوئی قوم ایمان کی دعوے دار ہو کر اپنی خواہشات کو مقدم سمجھے، حقائق کی تکذیب کرے، مصلحین کی گستاخ اور ان کی جان کے درپے ہوجائے تو وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوجایا کرتی ہے کہ اب انہیں کوئی روکنے، ٹوکنے والا نہیں ہے۔ یہود ونصاریٰ اس جرم میں مبتلا ہونے کے بعد اسی خوش فہمی کا شکار ہوئے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ حقائق دیکھنے اور سننے سے بے بہرہ اور اندھے ہوگئے یہ تو اپنے آپ کو دیکھنے سے اندھے ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ تو ان کے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر اور ہر دور میں ایسے حکمران مسلط کیے کہ جنہوں نے ان کو ایسی سزائیں دیں جو پہلے کسی قوم کو نہیں دی گئیں تھیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر کرم فرماتے ہوئے انہیں آزادی کی نعمت سے ہمکنار فرمایا لیکن بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور اپنے اعمال کو شریعت کے سانچے میں ڈھالنے کی بجائے پھر اندھے اور بہرہ پن کا مظاہرہ کیا۔ ﴿وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَہُمْ قُلُوبٌ لَا یَفْقَہُونَ بِہَا وَلَہُمْ أَعْیُنٌ لَا یُبْصِرُونَ بِہَا وَلَہُمْ آَذَانٌ لَا یَسْمَعُونَ بِہَا أُولَئِکَ کَالْأَنْعَامِ بَلْ ہُمْ أَضَلُّ أُولَئِکَ ہُمُ الْغَافِلُونَ﴾[ الاعراف :179] ”” اور بلاشبہ ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم کے لیے ہی پیدا کیے ہیں ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں یہی ہیں جو بالکل بے خبر ہیں۔“ امام رازی (رح) نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل پہلی مرتبہ حضرت زکریا (علیہ السلام)، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں مکمل طور پر اندھے اور بہرے پن کا شکار ہوئے اور دوسری مرتبہ نبی آخر الزماں (ﷺ) کی بعثت کے وقت اس مرض میں مبتلا ہوئے، سوائے چند لوگوں کے باقی یہود ونصاریٰ نے سرورگرامی (ﷺ) کی مخالفت کی تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ) اور صحابہ کرام (رض) کو غلبہ نصیب فرمایا۔ یہودیوں کی باربار عہد شکنی اور سازشوں کی وجہ سے غزوہ خندق کے بعد نبی معظم (ﷺ) نے ان کو ہمیشہ کے لیے سر زمین عرب سے نکال دیا۔ چودہ سو سال سے زائد عرصہ ہو چلا ہے یہودی ہزاروں کوششوں کے باوجود مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے حالانکہ یہودی ہر دور میں اپنی قوم سے وعدہ لوگوں کے سامنے کرتے آ رہے ہیں کہ ہم عنقریب مدینہ پر قبضہ کرنے والے ہیں۔ لیکن ایسانہ ہوسکا اور نہ ہی قیامت تک ہو سکے گا۔ ان شاء اللہ مسائل : 1۔ خوش فہمی انسان کو مروا دیتی ہے۔ 2۔ آنکھیں اور کان بند کرلینے سے مصیبت سے چھٹکارا نہیں ملتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سب کے اعمال کو دیکھتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اندھے اور بہرے لوگ : 1۔ اللہ نے یہودیوں پر رجوع فرمایا لیکن یہ پھر اندھے ہوگئے۔ (المائدۃ:71) 2۔ جن پر اللہ کی لعنت ہو وہ اندھے اور بہرے ہوجاتے ہیں۔ (محمد :23) 3۔ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں ہدایت کی طرف نہیں آیا کرتے۔ (البقرۃ:171) 4۔ ہدایت سے اندھے، بہرے اور گونگے لوگ چوپاؤں سے بھی بدتر ہوا کرتے ہیں۔ (الاعراف :179) 5۔ کافر، اہل کتاب اور مشرکین بد ترین مخلوق ہیں۔ (البینۃ:6) المآئدہ
72 فہم القرآن : ربط کلام : یہود کے بعد عیسائیوں کے عقائد اور کردار کابیان۔ یہ حقیقت پہلے بھی بیان ہوچکی ہے کہ یہودی انبیاء ( علیہ السلام) کی تکذیب اور ان کو قتل کرنے کی وجہ سے گمراہ ہوئے جبکہ عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت اور ان کی والدہ کے احترام میں غلو کی وجہ سے صراط مستقیم سے ہٹ گئے۔ عیسائیوں کی گمراہی کے دو اسباب ہیں ان میں کچھ لوگ تو اس غلط فہمی کا شکار ہوئے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنا کلمہ قرار دیا ہے جس کا منطقی مفہوم یہ بنتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا جزو یعنی اس کی ذات کا حصہ ہے۔ عیسائیوں کے دوسرے گروہ نے جان بوجھ کر عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور اس کی والدہ حضرت مریم کو خدا کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تینوں کو ملا کر خدا کی ذات مکمل ہوتی ہے۔ کچھ عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی خدا ہیں۔ اس طرح یہ لوگ ایک گورکھ دھندے میں پھنسے ہوئے ہیں جو علم کی دنیا میں ایک مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں۔ پھر عیسائیوں نے یہ عقیدہ گھڑا کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو تختہ دار پر لٹکا کر اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی تاکہ ہمارے گناہوں کا کفارہ بن سکے حالانکہ عیسیٰ (علیہ السلام) نہ سولی پر لٹکائے گئے اور نہ انہوں نے شرک کی تائید کی وہ تو باربار فرماتے رہے کہ اے بنی اسرائیل صرف ایک اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ یاد رکھو جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں شرک کیا اللہ تعالیٰ نے اس پر ہمیشہ کے لیے جنت کو حرام قرار دیا ہے۔ اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ ایسے ظالموں کے لیے قیامت کے دن کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ یاد رہے سب سے بڑا ظلم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے افسوس پاکستانی مسلمانوں کی اکثریت یہود و نصاریٰ کو مات دیتے ہوئے کہتی ہے۔ یا عبدالقادر شیأً للّٰہِ ! وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر اتر پڑا مدینے میں مصطفٰی ہو کر مسائل : 1۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی شان میں گستاخی کرنے سے انسان کافر ہوجاتا ہے 2۔ انبیاء (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیتے تھے۔ 3۔ مشرک پر جنت حرام ہے۔ 4۔ مشرک کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ 5۔ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : شرک کی مذمت : 1۔ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ (لقمان :13) 2۔ شرک بہت بڑی گمراہی ہے۔ (النساء :116) 3۔ شرک بہت بڑی ذلت اور گراوٹ ہے۔ (الحج :31) 4۔ شرک سے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ (الزمر :65) 5۔ اللہ تعالیٰ شرک معاف نہیں کرتاز کیونکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ (النساء :48) 6۔ اللہ تعالیٰ شرک کے سوا جس کے چاہے گا گناہ معاف فرمادے گا۔ (النساء :116) المآئدہ
73 فہم القرآن : (آیت 73 سے 74) ربط کلام : عیسائیوں کے باطل عقیدہ کی تردید اور انہیں اس عقیدہ سے توبہ کی تلقین کی گئی ہے۔ آدمی جب حقائق دیکھنے سے اندھا اور دلائل سننے سے بہرہ ہوجائے تو وہ کفر کی وادیوں میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے عیسائی اس جرم کے مرتکب ہوئے تو حقائق جاننے کے باوجود عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت میں اندھے ہو کر یہ کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے مرتکب ہوئے کہ اللہ، عیسیٰ اور مریم ایک دوسرے سے ہیں اور اللہ اس مثلث میں سے ایک ہے۔ توحید کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہ سمجھے شرک تمام گناہوں کا منبع، آخری درجے کا ظلم اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ غداری کرنے کے مترادف ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی توحید سے آگاہ فرماتے ہوئے انسانی رشتوں کے درجہ بدرجہ احترام کا حکم دیا ہے لیکن کوئی انسان کس قدر نیک، صالح اور دین و دنیا کے لحاظ سے کتنا ہی بلندوبالا کیوں نہ ہو وہ بالآخر انسان ہی رہتا ہے لہٰذاانسان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا بندہ ہونے کے سوا کوئی رشتہ نہیں رکھتا۔ سورۃ اخلاص میں اس عقیدہ کو نہایت سادہ لیکن مکمل انشراح کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے کہ اللہ وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا ہے نہ اس سے کوئی چیز نکلی اور پیدا ہوئی ہے اور نہ اس کی کوئی برابری کرنے والا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک ہے اور بے مثال ہے لیکن افسوس مشرک اس بات کو سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ سب سے پہلے یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا۔ عیسائی دو قدم آگے بڑھتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور مریم علیہا السلام کو اللہ کی بیوی قرار دیتے ہیں اور اس عقیدہ کا نام تثلیث رکھا۔ افسوس امت مسلمہ کی اکثریت شرک کی تمام اقسام کا ارتکاب کر رہی ہے جبکہ ہر نبی اپنی امت کو اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو صرف اور صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہی ایک معبود حقیقی ہے لہٰذا انسان کو ایک اللہ ہی کو اپنا معبود، مشکل کشا، حاجت روا اور خالق ومالک سمجھ کر اس کی عبادت کرنی چاہیے جو لوگ عقیدہ تثلیث اور شرک سے باز نہیں آئیں گے اللہ تعالیٰ انہیں درد ناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔ البتہ جنھوں نے شرک سے توبہ کی اور اللہ کے حضور معافی کے خواستگار ہوئے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے گا کیونکہ وہ نہایت ہی معاف کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ (عن ابی وائل (رض) قالَ سَمِعْتُ رسول اللہ () یَقُولُ یُجَاء بالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُہُ فِی النَّارِ فَیَدُورُ کَمَا یَدُورُ الْحِمَارُ بِرَحَاہُ فَیَجْتَمِعُ أَہْلُ النَّارِ عَلَیْہِ فَیَقُولُونَ أَیْ فُلَانُ مَا شَأْنُکَ أَلَیْسَ کُنْتَ تَأْمُرُنَا بالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ قَالَ کُنْتُ آمُرُکُمْ بالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِیہِ وَأَنْہَاکُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیہِ)[ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النا ر] ” حضرت ابو وائل (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو یہ فرما تے ہوئے سنا آپ (ﷺ) نے فرمایا قیامت کے دن ایک آدمی کو جہنم میں پھینکا جائے۔ وہ آگ میں اپنی انتڑیوں کے گرد چکر لگائے گا جس طرح گدھا کنویں کے گرد چکر لگاتا ہے جہنم کے لوگ اکٹھے ہو کر اسے کہیں گے تمہیں کیا ہوگیا ہے کیا تم ہمیں نیکی کی ترغیب اور برے کا موں سے روکتے نہیں تھے وہ کہے گا میں تم لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتا تھا مگر خود نہیں کیا کرتا تھا۔ تمہیں برائی سے منع کرتا تھا اور خود اس کا مر تکب ہوا کرتا تھا۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ () قَالَ اَ للّٰہُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ أَحَدِکُمْ إِذَا اسْتَیْقَظَ عَلَی بَعِیرِہِ قَدْ أَضَلَّہُ بِأَرْضِ فَلَاۃٍ )[ رواہ مسلم : کِتَاب التَّوْبَۃِ، بَاب فِی الْحَضِّ عَلَی التَّوْبَۃِ وَالْفَرَحِ بِہَا] حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں رسول مکرم (ﷺ) نے فرمایا اللہ اپنے بندوں کے توبہ کرنے سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کو اس کا اونٹ بے آب و گیاہ علاقے میں چھوڑ کر دوبارہ ملے۔“ ﴿لَّقَدْ کَفَرَ الَّذِینَ قَالُواْ إِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ وَمَا مِنْ إِلَہٍ إِلاَّ إِلَہٌ وَاحِدٌ وَإِن لَّمْ یَنتَہُواْ عَمَّا یَقُولُونَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِینَ کَفَرُواْ مِنْہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ﴾[ المائدۃ:73] ” بلاشبہ وہ لوگ کافر ہوچکے جنھوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے حالانکہ اِلٰہ تو صرف وہی اکیلا ہے اگر یہ لوگ اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو انکار کرتے رہے انھیں المناک عذاب ہوگا۔“ مسائل : 1۔ تین الٰہ کا عقیدہ رکھنے والے کافر ہیں۔ 2۔ ا لٰہ ایک ہی ہے۔ 3۔ شرکیہ عقائد سے باز نہ آنے والوں کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی کا طلب گار رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ ہی ایک الٰہ ہے : 1۔ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے؟ (النمل :60) 2۔ اللہ نے زمین کو جائے قرار بنایا اس میں پہاڑ اور دو سمندروں کے درمیان پردہ بنایا کیا اس کے ساتھ اور بھی الٰہ ہے؟ (النمل :61) 3۔ کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل :62) 4۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سواکون رہنمائی کرتا ہے کیا کوئی اور بھی اس کے ساتھ الٰہ ہے۔ (النمل :63) 5۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنا اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے؟ (النمل :64) 6۔ آپ فرما دیں سوائے ایک الٰہ کے آسمان وز میں کے غیب کو کوئی نہیں جانتا۔ (النمل :65) 7۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے سوا ہے جو رات ختم کرکے دن لائے ؟ (القصص :71) 8۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے علاوہ کوئی اور الٰہ ہے جو دن ختم کرکے رات لائے ؟ (القصص :72) 9۔ بس اس ایک الٰہ کے سوا کوئی دوسرے الٰہ کو نہ پکارو۔ (القصص :88) 10۔ تمھارا الٰہ ایک ہی وہ رحمن، رحیم ہے۔ (البقرۃ:163) المآئدہ
74 المآئدہ
75 فہم القرآن : ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ : عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو اللہ کا جزو قرار دیا جو صریح کفر کرنے کے مترادف ہے حالانکہ عیسائیوں اور دنیا کے مشرکوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بنانے کی کوئی دلیل نہیں۔ الٰہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کبریا ہے جو ایک ہی ہے عیسائیوں کو ان کے باطل عقیدہ پر انتباہ کرتے ہوئے متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر یہ توبہ کے بغیر مر گئے تو انہیں اذیت ناک عذاب دیا جائے گا اب عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ کے الٰہ نہ ہونے کے طبعی اور فطری دلائل دیے گئے ہیں۔ 1۔ عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت مریم علیہا السلام کے بیٹے ہیں جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) الٰہ نہیں کیونکہ اسے مریم علیہا السلام نے جنم دیا ہے اور ان کی پیدائش باپ کے بغیر ہوئی جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے جس کے بارے میں سورۃ آل عمران کی آیت 34تا 60یعنی 26آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نانی کی نذر ماننے سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع آسمانی تک کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور سورۃ مریم میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے وقت حضرت مریم علیہا السلام کا اضطرار اور پریشانی کا بیان اور لوگوں کا مریم علیہا السلام کو الزام دینا، حضرت عیسیٰ [ کا مریم کی گود میں قوم کو مفصل اور کامل جواب دینا اور اپنے بارے میں اس بات کی وضاحت کرنا کہ میں غیر انسانی مخلوق ہونے کی بجائے اللہ کا بندہ ٗاس کا رسول ہوں اور میری ولادت سے لے کر میرے محشر کے دن اٹھنے تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر سلامتی ہوگی۔ ( مریم 17تا37) 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ان سے پہلے بھی بے شمار رسول آئے اور فریضۂ نبوت سرانجام دینے کے بعددنیا سے رخصت ہوئے ظاہر ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اپنا فرض ادا کرنے کے بعد دنیا سے رخصت ہوجائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اٹھالیا ہے اور قیامت کے قریب ان کا نزول ہوگا اور دنیا میں چالیس سال گزارنے کے بعد فوت ہوں گے۔ 3۔ یہودی حضرت مریم علیہا السلام پر ( خاکم بدہن) بدکاری کا الزام لگاتے ہیں جس کی تردید کے لیے حضرت مریم علیہا السلام کو صدیقہ کے عظیم لقب سے نوازا گیا ہے۔ جو لفظ صدیق کی مؤنث ہے۔ نبوت کے بعد صدیق کا مقام ہے۔ 4۔ حضرت مریم علیہا السلام کی پاکدامنی اور ہر اعتبار سے طاہرہ، طیبہ ہونے کی شہادت دینے کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کے بارے میں طبعی اور فطری یہ دلیل دی گئی ہے کہ وہ دونوں اکل وشرب کے محتاج تھے جبکہ اللہ تعالیٰ کھانے پینے اور مخلوق کی حاجات سے بے نیاز اور مبرّا ہے۔ ان دلائل کے بعد حکم ہوا کہ غور کیجئے کہ ہم نے سچائی واضح کرنے کے لیے کتنے کھلے دلائل بیان کیے ہیں اور اس پر بھی غور کیجئے کہ کتنے ٹھوس اور واضح دلائل ہونے کے باوجود لوگ حقائق کا انکار اور شرک کا ارتکاب کرکے کس طرح گمراہی میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے امام رازی (رح) درج ذیل نکات اٹھاتے ہیں۔ (1) دوسرے انبیاء معجزات دکھانے سے الٰہ نہیں ہوئے تو عیسیٰ (علیہ السلام) معجزات کی بناء پر کس طرح الٰہ ہو سکتے ہیں ؟ (2) حضرت آدم (علیہ السلام) ماں باپ کے بغیر پیدا ہوئے جبکہ عیسیٰ (علیہ السلام) صرف باپ کے بغیر پیدا ہوئے ہیں تو انہیں کس طرح الٰہ کا درجہ دیاجاسکتا ہے ؟ (3) جو چیز معرض وجود میں آئے یا جو کسی سے جنم پائے وہ حادث ہوتی ہے جس کا معنی ہے کہ وہ پہلے موجود نہیں تھی اور یہ دلیل ہے کہ عدم سے وجود میں آنے والا الٰہ نہیں ہوسکتا۔ ” وہی اول ہے اور وہی آخر ہے وہ ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔“ [ الحدید :3] اسی طرح انجیل میں خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق ہے کہ جب ان کے شاگردان کو ایک روح سمجھ کر ان سے ڈرے تو انھوں نے بھنی ہوئی مچھلی کا ایک قتلہ ان کے سامنے کھا کر ان کو اطمینان دلایا کہ وہ کوئی روح نہیں بلکہ آدمی ہیں۔ لوقا میں ہے : ” وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ یسوع آپ انکے بیچ میں کھڑا ہوا اور ان سے کہا تمہاری سلامتی ہو مگر انھوں نے گھبرا کر اور خوف کھا کر یہ سمجھاکہ کسی روح کو دیکھتے ہیں۔ اس نے ان سے کہا تم کیوں گھبراتے ہو اور کس واسطے تمہارے دل میں شک پیدا ہوتے ہیں۔ میرے ہاتھ اور میرے پاؤں دیکھو کہ میں ہی ہوں۔ مجھے چھو کر دیکھو کیونکہ روح کے گوشت اور ہڈی نہیں ہوتی، جیسا مجھ میں دیکھتے ہو اور یہ کہہ کر اس نے اپنے ہاتھ اور پاؤں دکھائے۔ جب مارے خوشی کے ان کو یقین نہ آیا اور تعجب کرتے تھے تو اس نے ان سے کہا کیا یہاں تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے ؟ انھوں نے اسے بھنی ہوئی مچھلی کا قتلہ دیا۔ اس نے لے کر ان کے رو برو کھایا۔“ (لوقا : باب24: 36۔43) مسائل : 1۔ مسیح ابن مریم اللہ کے رسول تھے۔ 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کھانا کھاتے تھے۔ 3۔ واضح دلائل کے باوجود حقیقت کو نہ ماننے والا گمراہ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : بہکے ہوئے لوگ : 1۔ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنا، زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کرنا اللہ ہی کا کام ہے تم کہاں بہک گئے ہو؟ (الانعام :95) 2۔ تمہارا رب ہر چیز کو پیدا کرنے والاہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تم کہاں بہک گئے ہو ؟ (المومن :62) 3۔ ان کو کس نے پیدا کیا؟ جو اب دیں گے اللہ نے۔ تو پھر یہ کہاں بہک گئے ہیں؟ (الزخرف :87) 4۔ آپ فرما دیں اللہ ہی نے تخلیق کی ابتداء کی پھر دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم کہاں بہک گئے ہو؟ (یونس :34) 5۔ نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر رسول اس سے پہلے کئی رسول گزر چکے ان کی والدہ صدیقہ ہیں۔ وہ کہاں بہک گئے ہیں؟ (المائدۃ:75) المآئدہ
76 فہم القرآن : (آیت 76 سے 77) ربط کلام : عقیدۂ تثلیث کی تردید کرنے کے بعد اہل کتاب اور ان کے حوالے سے تمام لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی نفع ونقصان کا مالک نہیں۔ عبادت کا معنٰی ہے نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی غلامی اختیار کرنا ہے، انسان بڑا کمزور اور عاجز واقع ہوا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر انعام کرتے ہوئے اجازت ہی نہیں دی بلکہ حکم دیا ہے کہ اے انسان مجھے اپنی حاجات کے لیے پکارا کر۔ میں تیری دستگیری اور دادرسی بھی کروں گا اور یہ پکار میری بارگاہ میں تیری عبادت بھی سمجھی جائے گی لیکن شرط یہ ہے کہ میرے سوا کسی کو اپنا مشکل کشا اور حاجت روا نہ سمجھنا۔ بے شک کوئی نبی ہو یا ولی ٗ حاکم ہو یا غنی ٗ کوئی بھی ہوتجھے میرے اذن کے بغیر نفع ونقصان نہیں پہنچا سکتا۔ پہلی بات عیسائیوں کو سمجھائی گئی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم علیہا السلام اللہ کی مخلوق ہیں اگر وہ نفع ونقصان کے مالک ہوتے تو حضرت مریم عیسیٰ ( علیہ السلام) کو جنم دیتے ہوئے یہ نہ کہتی کہ کاش میں اس سے پہلے بے نام ونشان ہوچکی ہوتی سورۃ مریم : آیت 23اسی طرح اگر عیسیٰ (علیہ السلام) حاجت روا اور مشکل کشا ہوتے تو انہیں تختہ دار پر چڑھانے کی کوشش اور سازش نہ کی جاتی۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ () یَقُولُ إِنَّ اللّٰہَ لَا یَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا یَنْتَزِعُہُ مِنَ الْعِبَادِ وَلَکِنْ یَّقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتّٰی إِذَا لَمْ یُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُ وسًا جُہَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَیْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا) [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب کیف یقبض العلم] ” حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول مکرم (ﷺ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے علم نہیں چھینے گا بلکہ علم کو علماء کے ساتھ قبض کرلے گا۔ یہاں تک کہ زمین پر کوئی عالم نہیں بچے گا۔ لوگ جاہلوں کو اپنے عالم بنا لیں گے ان سے سوال ہوگا تو وہ بغیر علم کے فتوٰی جاری کریں گے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نفع ونقصان کا مالک نہیں سمجھنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سننے والا اور سب کچھ جاننے والاہے۔ 4۔ اہل کتاب دین میں غلو کرتے ہیں۔ 5۔ بھٹکے ہوئے لوگوں کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ کے سوا کوئی نفع و نقصان کا مالک نہیں : 1۔ اللہ کے سوا کسی کو نہ پکاروجو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے۔ (یونس :106) 2۔ اللہ کے سوا کوئی ذرہ بھر بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ (الانبیاء :66) 3۔ اے نبی آپ اعلان فرمادیں کہ میں اپنے بارے میں بھی نفع ونقصان کا مالک نہیں ہوں (الاعراف :188) 4۔ کیا تم انکی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نفع و نقصان نہیں پہچاسکتے۔ (الانبیاء :66) المآئدہ
77 المآئدہ
78 فہم القرآن : (آیت 78 سے 80) ربط کلام : دین میں غلو کرنے، خود گمراہ اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا سبب بننے کی وجہ سے اہل کتاب لعنت کے سزاوار ٹھہرے۔ امام رازی (رح) نے مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے حوالے سے نقل فرمایا ہے کہ اہل کتاب پر موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء ( علیہ السلام) نے لعنت کی یہاں تک کہ قرآن مجید نے بھی انہیں مغضوب، گمراہ اور لعنت کا مستحق قرار دیا ہے اس مقام پر حضرت داوٗد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خصوصی ذکر کرنے کا مفہوم یہ سمجھ میں آتا ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت کا دم بھرتے ہیں اور یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت داوٗد (علیہ السلام) کو سب سے محبوب سمجھتے ہیں یہاں دونوں فریقوں کی نام نہاد محبت و عقیدت کا پردہ چاک کرنے کے لیے خصوصی طور پر حضرت داوٗد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے اہل کتاب پر پھٹکار کا ذکر کیا گیا ہے۔ لعنت کا معنی ہے نیکی کرنے کی توفیق سے محروم ہونا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سزاوار ٹھہرنا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اہل کتاب خود بھی بد عمل تھے اور ہیں۔ لوگوں کے لیے برائی کا سبب بنے اور یہ اسی روش پر آج تک قائم ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی اکثریت مسلمانوں سے محبت کرنے کی بجائے کفار کے ساتھ محبت کرتی ہے حالانکہ عیسائی اور یہودی اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانے کے دعوے دار اور انبیاء کے قائل ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے دعویٰ میں سچے ہوتے تو اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ یہ کفار کی بجائے مسلمانوں سے محبت کرتے لیکن انھوں نے ہمیشہ مسلمانوں پر کفار کو ترجیح دی ہے۔ جس کا واضح ثبوت امریکہ اور یورپ کا عربوں کی بجائے اسرائیل کے ساتھ اور پاکستان کے مقابلہ میں ہندوستان کو ترجیح دینا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور آخرت میں ہمیشہ کے لیے جہنم میں دھکیلے جائیں گے۔ بنی اسرائیل کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ارشادات : ” اے ریا کار فقیہو اور فریسیو، تم پر افسوس ! تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو کہ ایک مرید کرنے کے لیے تری اور خشکی کا دورہ کرتے ہو اور جب وہ مرید ہو چکتا ہے تو اپنے سے دونا جہنم کا فرزندبنا دیتے ہو۔ اے اندھے راہ بتانے والو، تم پر افسوس ! جو کہتے ہو کہ اگر کوئی مقدس کی قسم کھائے تو کچھ بات نہیں لیکن اگر مقدس کے سونے کی قسم کھائے تو اس کا پابند ہوگا۔ اے احمقو اور اندھو، کون سابڑا ہے، سونا یا مقدس جس نے سونے کو مقدس کیا اور پھر کہتے ہو کہ اگر کوئی قربان گاہ کی قسم کھائے تو کچھ بات نہیں لیکن جو نذر اس پر چڑھی ہو اگر اس کی قسم کھائے تو اس کا پابند ہوگا۔ اے اندھو، کون سی بڑی ہے نذر یا قربان گاہ جو نذر کو مقدس کرتی ہے۔ اے ریا کارفقیہو اور فریسیو، تم پر افسوس ! کہ تم سفیدی پھری ہوئی قبروں کے مانند ہو جو اوپر سے تو خوب صورت دکھائی دیتی ہیں مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہوئی ہیں۔ اسی طرح تم بھی ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بےدینی سے بھرے ہو۔ ارے ریا کار فقیہو اور فریسیو، تم پر افسوس ! کہ نبیوں کی قبریں بناتے اور راست بازوں کے مقبرے آراستہ کرتے ہو اور کہتے ہو کہ اگر ہم اپنے باپ دادا کے زمانے میں ہوتے تو نبیوں کے خون میں ان کے شریک نہ ہوتے۔ اس طرح تم اپنی نسبت گواہی دیتے ہو کہ تم نبیوں کے قاتلوں کے فرزند ہو۔ غرض اپنے باپ دادا کا پیمانہ بھر دو۔ ارے سانپوں کے بچو ! تم جہنم کی سزا سے کیوں کر بچو گے ؟ اس لیے دیکھو میں نبیوں اور داناؤں اور فقیہوں کو تمہارے پاس بھیجتا ہوں، ان میں سے تم بعض کو قتل کرو گے اور صلیب پر چڑھاؤ گے اور بعض کو اپنے عبادت خانوں میں کوڑے مارو گے اور شہر بہ شہر ستاتے پھرو گے تاکہ سب راست بازوں کا خون جو زمین پر بہایا گیا تم پر آئے۔ راست باز ہابیل کے خون سے لے کر برکیاہ کے بیٹے زکریا کے خون تک جسے تم نے مقدس اور قربان گاہ کے درمیان قتل کیا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس زمانہ کے لوگوں پر آئے گا۔“ [ متّٰی :23: 14۔39] (بحوالہ : تدبر قرآن ) مسائل : 1۔ برائی سے منع نہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ 2۔ برائی سے منع نہ کرنا بڑا گناہ ہے۔ 3۔ بنی اسرائیل نے ایک دوسرے کو برائی سے منع کرنا چھوڑ دیا تھا۔ 4۔ بنی اسرائیل کی اکثریت کفار سے دوستی کرتی ہے۔ 5۔ برے اعمال کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : لعنت زدہ لوگ : 1۔ شیطان لعنتی ہے۔ (النساء :118) 2۔ کافر لعنتی ہیں۔ (الاحزاب :64) 3۔ اصحاب السبت لعنتی ہیں۔ (النساء :47) 4۔ یہودی لعنتی ہیں۔ (المائدۃ:64) 5۔ جھوٹے لعنتی ہیں۔ (آل عمران :61) 6۔ ظالم پر لعنت برستی ہے،(ھود :18) 7۔ حق چھپانے والے لعنتی ہیں۔ (البقرۃ:159) 8۔ اللہ اور رسول کو تکلیف دینے والے لعنتی ہیں۔ (الاحزاب :57) المآئدہ
79 المآئدہ
80 المآئدہ
81 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب پر ناراضگی کا اظہار کرنے کے باوجود ان کو ایک موقع اور دیا گیا ہے کہ اگر ایمان لائیں تو آخرت کے عذاب اور دنیا کی ذلت سے بچ سکتے ہیں۔ اہل کتاب پھٹکار کے مستحق قرار دیے گئے ہیں تو یہ ان کے عقیدہ اور کردار کا نتیجہ ہے تاہم اگر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول پر خالص ایمان لائیں۔ قرآن کی اتباع کریں، خدا کے باغیوں اور منکروں سے محبت کرنے کی بجائے مسلمانوں سے محبت واخوت کا رشتہ جوڑیں تو لعنت کی بجائے اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پائیں گے یہاں اللہ، اس کے رسول اور قرآن مجید پر ایمان کے ساتھ تیسری شرط یہ بیان ہوئی ہے کہ ان کی ہمدردیاں، رشتہ داریاں کفار کی بجائے مسلمانوں کے ساتھ ہونی چاہئیں یہی ان کی عزت رفتہ کا زینہ ہے یہاں یہ بات دو ٹوک انداز میں واضح کردی ہے کہ اہل کتاب دنیا اور آخرت کی ذلت مول لے لیں گے لیکن اللہ، اس کے رسول پر مخلصانہ ایمان لانے اور مسلمانوں سے رشتۂ اخلاص قائم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے کیونکہ ان کی غالب اکثریت فاسق افراد پر مشتمل ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی اور کتاب اللہ پر ایمان لانے والے کفار سے دوستی نہیں کرتے۔ 2۔ بنی اسرائیل کی اکثریت نافرمان ہے۔ المآئدہ
82 فہم القرآن : ربط کلام : اہل کتاب میں اچھے لوگوں کا کردار۔ قرآن مجید کا کمال یہ ہے کہ جب وہ اہل کتاب کی غالب اکثریت کی برائی اور کمزوری کا ذکر کرتا ہے تو ان میں سے اچھے لوگوں کی تعریف کرنا بھی ضروری سمجھتا ہے اسی اصول کے پیش نظر یہودیوں اور مشرکوں کے بارے میں وضاحت کردی گئی کہ یہ عیسائیوں کی نسبت مسلمانوں کے بارے میں زیادہ متشدد ہیں ان کے مقابلے میں عیسائی مسلمانوں کے بارے میں نرم واقع ہوئے ہیں مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے یہاں عیسائیوں سے مراد سب عیسائی نہیں بلکہ عیسائیوں کا وہ فرقہ مراد ہے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کے نام سے منسوب کرتا ہے یہ مدینہ اور خیبر کے درمیان میں آباد تھے اور عقیدہ کے لحاظ سے دوسرے عیسائیوں سے بہتر اور مسلمانوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔ آج بھی عیسائیوں میں اس فرقہ کے لوگ اپنے آپ کو یہودیوں کی نسبت مسلمانوں کے قریب سمجھتے ہیں۔ لیکن افسوس یہ لوگ تعداد اور اثر و رسوخ کے لحاظ سے ہمیشہ تھوڑے رہے ہیں۔ یہ تخصیص اس لیے حق پر مبنی معلوم ہوتی ہے کہ ابتدا سے لے کر آج تک مسلمانوں کی عیسائیوں کے ساتھ ہی معرکہ آرائی ہوتی رہی ہے یہودی پیچھے رہ کر عیسائیوں اور دوسری اقوام کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں عیسائیوں میں جن لوگوں کو مسلمانوں کا ہمدرد قرار دیا گیا ہے اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ اس فرقہ میں ایسے علماء اور درویش موجود ہیں جو تکبر و غرور سے اجتناب کرنے والے ہیں اس آیت کی تشریح میں کچھ اہل علم کا خیال ہے ان عیسائیوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو حلقۂ اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں۔ مسائل : 1۔ یہودی اور مشرک مومنوں کے سخت ترین دشمن ہیں۔ 2۔ نصاریٰ مومنین کے ساتھ محبت کرنے میں قریب تر ہیں۔ 3۔ نصاریٰ میں عبادت گزار، عالم وزاہد اور تکبر سے اجتناب کرنے والے لوگ ہیں۔ تفسیر بالقرآن : یہود اور مشرکین مسلمانوں کے بڑے دشمن ہیں : 1۔ اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ (الممتحنۃ:1) 2۔ مومنوں کو کفار کے ساتھ دوستی نہیں کرنی چاہیے،(ال عمران :28) 3۔ اے ایمان والو کفار کو دوست نہ بناؤ(النساء :144) 4۔ اے ایمان والو یہود ونصاریٰ کو دوست مت بناؤ(المائد ۃ:51) 5۔ اے ایمان والو ان کو اپنا دوست مت بناؤ جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ (الممتحنۃ:13) 6۔ اے ایمان والو ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جنھوں نے تمہارے دین کو کھیل بنا لیا ہے۔ (المائدۃ: 57تا58) 7۔ اگر وہ اللہ اور اس کے نبی پر اور اللہ کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لانے والے ہوتے تو کفار کو دوست نہ بناتے۔ (المائدۃ :81) 8۔ اے ایمان والو اگر تمہارے اٰباؤاجداد کفر کو پسند کریں تو انہیں اپنا دوست نہ بناؤ۔ (التوبۃ:23) 9۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ متقین کا دوست ہے۔ (الجاثیۃ:19) 10۔ ایمان والے شیاطین کے دوست نہیں ہوا کرتے۔ (الاعراف :27) المآئدہ
83 فہم القرآن : (آیت 83 سے 86) ربط کلام : پہلی آیت میں یہودیوں کے مقابلہ میں عیسائیوں کی نرمی کی بات کی گئی تھی۔ اب اس کا عملی ثبوت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ مسئلہ بھی سمجھا دیا کہ تکبر سے اجتناب اور اللہ کے خوف کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی قرآن مجید کی تلاوت سنے تو حق کو پہچانتے ہوئے اپنے رب سے عاجزانہ درخواست کرے کہ اسے اس کا رب توحید اور حق کی شہادت دینے والوں میں شامل فرمائے۔ مکہ معظمہ میں جوں جوں اسلام کی ترویج ہو رہی تھی۔ اسی رفتار سے اہل مکہ کے جو رواستبداد میں اضافہ ہوتاجا رہا تھا ان کی ایذا رسانیوں سے تنگ آکر نبوت کے پانچویں سال مسلمانوں کے 83آدمی اور 18عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کیا۔ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے نبی کریم (ﷺ) نے امید ظاہر فرمائی کہ اللہ تعالیٰ یقیناً تمھیں وہاں امن وسکون سے نوازے گا۔ کیونکہ حبشہ کا حکمران منصف مزاج انسان ہے۔ چنانچہ ستم رسیدہ لوگ حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے لیکن اہل مکہ نے اس اقدام کو گوارا نہ کیا۔ انھوں نے عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ربیعہ کو جو انتہائی دانشور اور سفارتی معاملات کی اونچ نیچ کو سمجھنے والے تھے گراں قدر تحائف دے کر حبشہ کے حکمران نجاشی کے پاس بھیجا۔ انھوں نے حبشہ پہنچ کر سب سے پہلے نجاشی کے وزیروں اور مذہبی رہنماؤں سے رابطہ کیا جو اس کے سب سے زیادہ قریب سمجھے جاتے تھے۔ مکی وفد کی گفتگو اور تحائف سے متاثر ہو کر ان لوگوں نے وعدہ کیا کہ جب تم نجاشی سے اپنی آمد کا مقصد بیان کر چکو تو ہم تمھاری بھرپور تائید کریں گے۔ اگلے دن مکی وفد نجاشی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اس کے حضور شاہی آداب کی بجا آوری اور اپنے علاقے کے نادر تحائف پیش کرنے کے بعد اپنا مقصد اس طرح بیان کیا۔ ” اے بادشاہ! آپ کے ملک میں ہمارے کچھ ناسمجھ نوجوان بھاگ آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے۔ لیکن آپ کے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے بلکہ ایک نیا دین ایجاد کیا ہے جسے نہ ہم جانتے ہیں نہ آپ۔ ہمیں آپ کی خدمت میں انہی کی بابت ان کے والدین، چچاؤں اور کنبے قبیلے کے عمائدین نے بھیجا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے ساتھ واپس بھیج دیں کیونکہ وہ لوگ ان پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں اور ان کی خامی اور ناراضگی کے اسباب کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔“ جب یہ دونوں اپنا مدعا عرض کرچکے تو اس کے مصاحبین نے کہا :” بادشاہ سلامت ! یہ دونوں ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ آپ ان جوانوں کو ان کے حوالے کردیں ہم انہیں ان کی قوم اور ان کے ملک میں واپس پہنچا دیں گے۔“ لیکن حکمران نے یکطرفہ کارروائی کرنے کے بجائے مسلمانوں کو اپنی خدمت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ نجاشی مسلمانوں سے سوال کرتا ہے یہ کون سا دین ہے جس بنا پر تم نے اپنے اعزاء و اقارب، کا روبار اور گھر بار چھوڑدیا ہے ؟ وفد کے ترجمان حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) نے مفصل جواب دیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم غریبوں، مسافروں اور پڑوسیوں پر ظلم کرنے والے تھے۔ ہمارے رسول نے ہمیں اس سے منع کرتے ہوئے سمجھایا کہ لوگوں پر ظلم کرنے کے بجائے ان کے معاون اور مددگار بن جاؤ۔ حضرت جعفر (رض) نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ ہم پتھر اور لکڑی کے بنے ہوئے بتوں کی عبادت کرتے تھے ہمارے نبی (ﷺ) نے اسے ناجائز قرار دیتے ہوئے حکم دیا تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کیا کرو۔ حضرت جعفر (رض) نے اپنا نظریہ اور مؤقف اتنا دلگداز طریقے سے پیش کیا کہ نجاشی نے ان کا خطاب سنتے ہی حکم صادر فرمایا کہ میں مظلوموں کو اپنے ملک میں پناہ دیتا ہوں۔ اس ناکامی پر مکی وفد نے آخری حربہ استعمال کرتے ہوئے اگلے دن نجاشی کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ کہہ کر توہین کرتے ہیں کہ عیسیٰ اللہ کا بندہ، رسول اور فقط ابن مریم ہے۔ قریب تھا عمرو بن عاص کا یہ حربہ کارگر ثابت ہوتا لیکن حضرت جعفر (رض) نے سورۃ مریم کی آیات ایسے رقت آمیز لہجے میں تلاوت کیں کہ جس سے شاہی دربار میں ایک سماں پیدا ہوا۔ شاہ حبشہ نے کہا کہ قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے یہی حق ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اس میں کوئی توہین نہیں پائی جاتی۔ اس طرح مسلمانوں کو سکون ملا اور مکہ کا وفد ناکام لوٹا۔ اس واقعہ کے کئی سال بعد حبشہ سے ستر زعماء پر مشتمل رسول محترم (ﷺ) کی خدمت میں عیسائیوں کا وفد آیا جب یہ لوگ اسلام کے بارے میں نبی معظم (ﷺ) سے گفتگو کر رہے تھے تو آپ نے ان کے سامنے سورۃ یٰس کی تلاوت فرمائی سنتے ہی وفد کی آنکھوں سے چھم چھم آنسو بہنے لگے وہ جوں جوں قرآن مجید کی تلاوت سن رہے تھے زارو و قطار رونے کے ساتھ اس بات کا اقرار کر رہے تھے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو حق سمجھ کر پہچان لیا ہے۔ ہماری اس کے حضور عاجزانہ التجا ہے کہ وہ ہمیں حق کی شہادت دینے والوں میں شامل فرمالے۔ حق پہچان لینے کے بعد ہمارے پاس اب کوئی حُجّت نہیں کہ ہم حق کا انکار کریں لہٰذا ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں اپنے نیک بندوں میں شمار فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ایمان قبول کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہمیشہ رہنے والی جنت کا وعدہ فرمایا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں محسنین کے لیے ایسا ہی بدلہ تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر و تکذیب کا رویہ اختیار کریں گے انھیں دہکتی ہوئی جہنم میں جھونکا جائے گا۔ مسائل: 1۔ حق جان لینے کے بعد اسے مان لینا چاہیے۔ 2۔ حق کی گواہی دینا باعث نجات ہے۔ 3۔ نیک لوگوں کی صحبت کی دعا کرنی چاہیے۔ 4۔ شریعت الٰہی پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائے گا۔ 5۔ اللہ کی آیات کا انکار کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ 6۔ اللہ کے بندے قرآن مجید سن کر رو پڑتے ہیں۔ 7۔ نیکوں کو ان کی نیکی اور بروں کو ان کی برائی کی پوری پوری جزاء و سزا ملے گی۔ تفسیر بالقرآن : ایمان قبول کرنے والوں کی دعائیں : 1۔ فرعون کی مومنہ بیوی کی ظلم سے نجات کی دعا۔ (التحریم :11) 2۔ جادوگروں کی ایمان کے بعد صبر اور ثابت قدمی کی دعا۔ (الاعراف : 120تا126) 3۔ ایمان لانے کے بعد طرح طرح کے ادعیہ ماثورہ کا ذکر۔ (البقرۃ: 285تا286) 4۔ ہمارے رب ہم نے ایمان کی دعوت قبول کی تو ہماری خطاؤں کو معاف فرما۔ (آل عمران : 193تا194) 5۔ اے رب ہمارے ! ہمیں اور ہمارے مومن بھائیوں کو معاف فرما۔ (الحشر :10) 6۔ جب طالوت اور جالوت کے لشکر بالمقابل ہوئے تو انھوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہم پر صبر نازل فرما اور ہمیں ثابت قدم فرما اور کافروں کی قوم پر ہماری مدد فرما۔ (البقرۃ:250) 7۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب بے شک ہم ایمان لائے ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔ (آل عمران :16) المآئدہ
84 المآئدہ
85 المآئدہ
86 فہم القرآن : (آیت 86 سے 88) ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر و تکذیب کا رویہ اختیار کرنے کی وجہ سے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اے صاحب ایمان لوگو! تم اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو اپنی مرضی سے حرام کرکے زیادتی کے مرتکب نہ ہوجانا، زیادتی کرنے والے اور حد سے بڑھنے والے لوگ عملاً کفر و تکذیب کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس آیت میں بنیادی حکم یہ دیا گیا ہے کہ مومنوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حلال اور طیّب چیزوں کو من مرضی سے حرام قرار دیں۔ حرام و حلال کی تاریخ دیکھی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ لوگوں نے لذت نفس کی خاطر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیا اور کچھ لوگوں نے تقویٰ اور نیکی کے حصول کے لیے حلال کو حرام ٹھہرایا۔ جس طرح کہ بعض صوفیاۓ کرام، ہندو پنڈت، جوگی، بدھ مت کے پیروکار اور عیسائیوں میں بعض پادریوں نے من ساختہ نیکی کے حصول کے لیے لذّات سے اجتناب اور تارک الدّنیا ہونے کا عقیدہ اختیار کیا۔ دین اسلام نے اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دی کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دیں اور حدود اللہ سے تجاوز کر جائیں۔ یاد رہے کہ نبی اکرم (ﷺ) نے ایک موقع پر یوں فرمایا ہے کہ ہر حکومت کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اگر کوئی شخص اپنے مویشی سرکاری چراگاہ کی حدود کے قریب لے جائے گا تو خطرہ ہے کہ کسی وقت بھی اس کے جانور چراگاہ میں داخل ہوجائیں۔ احتیاط اور تقویٰ کی بات یہ ہے کہ کسی گلہ بان کو اپنا ریوڑسرکاری چراگاہ کے قریب نہیں لے جانا چاہیے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ کے حرام و حلال کے ضابطوں کے اندر رہ کر زندگی بسر کرنا ہی تقویٰ ہے۔ اس سے صوفیائے کرام کے اس نظریے کی تردید ہوتی ہے جنھوں نے خدا کی معرفت حاصل کرنے کے لیے اس کی نعمتوں کو ترک کرتے ہوئے نفس کشی کا رویہ اختیار کیا حالانکہ نبی (ﷺ) کا ارشاد ہے کہ صحت مند مومن کمزور مومن سے بہتر ہے۔ البتہ طبعی کراہت یا پرہیز کی خاطر کسی چیز کو ترک کرنا حرام کے زمرے میں نہیں آتا ہے بشرطیکہ آدمی خدا کی حلال کردہ چیزکو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھتا ہو۔ اگر کسی کو حقیقی ایمان نصیب ہو تو یہ بات سمجھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں کہ اسی میں تقویٰ اور تزکیہ نفس ہے۔ ” حضرت عبداللہ بن دینار (رض) بیان کرتے ہیں انھوں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو فرماتے سنا کہ نبی اکرم (ﷺ) سے سانڈھے (گوہ) کے متعلق پوچھا گیا۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا میں اس کو کھاتا ہوں نہ اس کو حرام کرتا ہوں۔“ ( عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ (رض) یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ () یَقُولُ الْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَہُمَا مُشَبَّہَاتٌ لَا یَعْلَمُہَا کَثِیرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الْمُشَبَّہَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِینِہٖ وَعِرْضِہٖ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب فضل من استبرألدینہ] ” حضرت نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں میں نے رسول معظم (ﷺ) سے سنا آپ نے فرمایا حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے دونوں کے درمیان متشابہ چیزیں ہیں ان کو لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی ہے جو کوئی متشابہ چیزوں سے بچے گا اس نے اپنا دین اور عزت محفوظ کرلی۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ()۔۔ قَالَ ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ﴾ ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیل السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ یَمُدُّ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَاءِ یَا رَبِّ یَا رَبِّ وَمَطْعَمُہُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہُ حَرَامٌ وَغُذِیَ بالْحَرَامِ فَأَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ)[ رواہ مسلم : کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب وتربیتھا] ” حضرت ا بو ہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اے ایمان والو ! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں، پھر آپ (ﷺ) نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبے سفر کی وجہ سے پراگندہ بالوں کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف پھیلاتا ہے اے میرے رب ! اے میرے رب ! کہتا ہے اس کا کھانا پینا حرام، اس کا لباس بھی حرام اور اس کا سامان بھی حرام مال کا ہے تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام نہیں گرداننا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ پاکیزہ چیزیں ہی کھانی چاہییں۔ 4۔ تقویٰ ہی مومنین کو اعتدال و فرمانبرداری کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا : 1۔ زیادتی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (البقرۃ:190) 2۔ اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (آل عمران :57) 3۔ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (المائدۃ:64) 4۔ اسراف کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ (الانعام :141) 5۔ خیانت کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ (انفال :58) 6۔ تکبر کرنے والے کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ (النحل :23) المآئدہ
87 المآئدہ
88 المآئدہ
89 فہم القرآن : ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانا ناجائز ہے اس طرح اللہ کے عظیم نام کو غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا انسان پر یہ بھی کرم ہے کہ وہ اپنے نام کو بے وجہ استعمال کرنے کے باوجود اس پر گرفت نہیں کرتا۔ لغو کا معنی بے ہودہ، بے وجہ اور بلا ارادہ ہے۔ البتہ لغو کام اور بات سے منع کیا گیا ہے۔ عزم اور شعوری طور پر اٹھائی ہوئی قسم پر مؤاخذہ ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اور مقدس نام کی لاج رکھنا مسلمان پر فرض ہے۔ انسان کی جبلت میں یہ بات شامل ہے کہ جب اپنی بات کو مؤثر اور مضبوط کرنا چاہتا ہے تو شواہد اور دلائل کے ساتھ کسی عزیر یا محترم چیز کی قسم اٹھایا کرتا ہے تاکہ سننے والا اس کی بات پر اعتماد اور یقین کرلے۔ اس لیے ہر دور کے مشرک اپنے باطل خداؤں کی قسمیں اٹھایا کرتے ہیں۔ نبی محترم (ﷺ) نے اس طریقۂ گفتگو کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا کہ بلاوجہ قسمیں اٹھانے سے پرہیز کرنا چاہیے اور اگر قسم اٹھانا ناگزیر ہو تو غیر اللہ کی قسم اٹھانے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھانا چاہیے۔ دوسری طرف آپ (ﷺ) نے اس بات کو بہت ہی برا جانا ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے مقدس نام کو دنیاوی فائدے اور محض ڈھال کے طور پر استعمال کرے۔ قسم اٹھانا درحقیقت اللہ تعالیٰ کو گواہ بنانے کے مترادف ہے اس لیے آدمی کو حتی المقدور کوشش کرنی چاہیے کہ وہ منہ سے نکلی ہوئی قسم اور بات کی پاسداری کرے قسم کے لیے یمین کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی دایاں ہاتھ ہے۔ پہلے وقتوں میں لوگ حلف اٹھاتے وقت ایک دوسرے کا دایاں ہاتھ پکڑ لیا کرتے تھے جس سے قسم اٹھانے والا اپنی بات کو قوی اور مؤکد کیا کرتا تھا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ لغو قسموں سے مراد ایسی قسمیں ہیں جو انسان تاکید کلام کے طور پر کہتا ہے جیسے لاواللہ۔ وغیرہ (رواہ البخاری : کتاب التفسیر) کفّارہ کا لفظ کفر سے مشتق ہے کفر کا ایک معنی ستر ڈھانپنا ہے۔ قسم توڑنے کی وجہ سے جس گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے کفارہ اس گناہ کو ڈھانپ دیتا ہے۔ قسم کا کفارہ درج ذیل میں سے کوئی ایک ہے۔ 1۔ دس غریب لوگوں کو کھانا کھلانا۔2۔ دس آدمیوں کو لباس پہنانا۔ 3۔ غلام آزاد کرانا۔4۔ تین روزے رکھنا۔ (عن ابن عمر (رض) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ () قَالَ اِنَّ اللّٰہَ یَنْھٰکُمْ اَنْ تَحْلِفُوْا بِاٰ بَآئِکُمْ مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ باللّٰہِ اَوْلِیَصْمُتْ)[ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب کیف یستحلف] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ہی بیان کرتے ہیں : رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کے نام کی قسمیں کھاؤ۔ جسے قسم اٹھانی ہو وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائے یا خاموش رہے۔“ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِِ النَّبِیِّ () قَالَ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِیْ حَلْفِہٖ بِِاللَّاتِِ وَالْعُزّٰی فَلْیَقُلْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِہٖ تَعَالَ اُقَامِرْکَ فَلْیَتَصَدَّقْ) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب افرایتم اللات والعزی] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی رحمت (ﷺ) کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جس نے لات وعزٰی کی قسم کھائی وہ دوبارہ لا الہٰ الا اللہ پڑھے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ جوا کھیلیں‘ وہ صدقہ کرے۔“ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا بلاشبہ آدمی کے بہترین اسلام کی نشانی یہ ہے کہ وہ فضول یعنی لا حاصل باتوں کو چھوڑ دے۔“ [ رواہ الترمذی : کتاب الزہد،] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا تمھاری وہی قسم قابل اعتماد ہوگی جس کی تصدیق قسم لینے والا کرے گا اور عمرو (رض) نے کہا کہ تمھاری تصدیق تمھارا ساتھی کرے گا۔“ [ رواہ مسلم : باب یمین الحالف علیٰ نیۃ المستحلف] مسائل : 1۔ لغو قسموں سے احتراز کرنا چاہیے۔ 2۔ قسم پوری ذمہ داری کے ساتھ اٹھانی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : قسم کے مسائل : 1۔ قسموں کو پورا کرنے کا حکم ہے۔ (النحل : 91تا94) 2۔ صدقہ نہ کرنے پر قسم کھانا منع ہے۔ (النور : 22تا24) 3۔ بلا اراداہ ٹھائی جانے والی قسموں پر مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ (البقرۃ:225) 4۔ ڈھال کے طور پر اللہ کی قسم نہیں کھانا چاہیے۔ (البقرۃ:224) 5۔ اللہ کے عہد اور قسموں کے ذریعے مال کمانے والوں کو عذاب الیم ہے۔ (آل عمران :77) المآئدہ
90 فہم القرآن : (آیت 90 سے 91) ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کے نام کا تقدس ہے کہ اسے ناجائز استعمال نہیں کرنا اسی طرح اس کے حکم کا تقاضا ہے کہ شراب اور شیطانی کاموں کو چھوڑ دیا جائے۔ سورۃ البقرۃ کی تشریح میں بتایا گیا ہے کہ عربی میں ہر اس چیز کو خمر کہتے ہیں جو دوسرے پر پردہ ڈال دے۔ اسی مناسبت سے عورتوں کی اوڑھنیوں کو بھی قرآن مجید میں خمر کہا گیا ہے (سورۃ النور :31) کیونکہ عورت اس سے اپنا سر، چہرہ اور جسم ڈھانپتی ہے شراب کو خمر اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ آدمی کی عقل و فکر پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اسلام کے دوسرے ضابطوں اور قوانین کی طرح شراب کے حکم امتناعی کی تکمیل بھی تدریجاً ہوئی ہے۔ شراب کی جسمانی اور اخلاقی قباحتوں کی وجہ سے اسے مطلقاً حرام قرار دیا گیا ہے۔ شراب کا عادی شخص اپنی عمر سے کہیں پہلے بوڑھا ہوجاتا ہے آدمی شراب پی کر ایسی حرکات کرتا اور خرافات بکتا ہے کہ جس کا صحیح حالت میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس لیے شراب کسی بھی مذہب میں جائز قرار نہیں دی گئی۔ شراب کے بارے میں دور حاضر کے ڈاکٹر بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اس کے فائدے نہایت عارضی اور معمولی ہیں لیکن روحانی، جسمانی، اخلاقی، معاشرتی اور معاشی نقصان لامحدود اور ناقابل تلافی ہیں۔ رسول معظم (ﷺ) نے شراب کو علاج کے طور پر استعمال کرنے سے منع ہی نہیں فرمایا ہے بلکہ اسے بیماری قرار دیتے ہوئے ابتدا میں اس کے لیے استعمال ہونے والے برتنوں سے بھی منع فرما دیا۔ (أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَیْدٍ الْجُعْفِیَّ (رض) سَأَلَ النَّبِیَّ () عَنِ الْخَمْرِ فَنَہَاہُ أَوْ کَرِہَ أَنْ یَصْنَعَہَا فَقَالَ إِنَّمَا أَصْنَعُہَا للدَّوَاءِ فَقَالَ إِنَّہُ لَیْسَ بِدَوَاءٍ وَلَکِنَّہُ دَاءٌ )[ رواہ مسلم : کتاب الاشربہ، باب تحریم التداوی بالخمر] ” طارق بن سوید جعفی (رض) نے نبی کریم (ﷺ) سے شراب کے متعلق سوال کیا تو آپ نے اسے پینے سے منع کیا یا ناپسند کیا تو اس نے کہا کیا میں اسے بطور دوا استعمال کرسکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا یہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔“ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) عَنْ رَسُول اللّٰہِ () قَالَ إِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ الْخَمْرَ وَالْمَیْسِرَ وَالْکُوبَۃَ وَقَالَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ)[ رواہ احمد] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم پر شراب، جوا اور شترنج کو حرام کردیا ہے مزید فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ () قَالَ مَا أَسْکَرَ کَثِیرُہُ فَقَلِیلُہُ حَرَامٌ) [ رواہ الترمذی : باب الاشربہ] ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول مکرم (ﷺ) نے فرمایا جس چیز کی کثیر مقدار حرام ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہوتی ہے۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ لَعَنَ رَسُول اللَّہِ () فِی الْخَمْرِ عَشْرَۃً عَاصِرَہَا وَمُعْتَصِرَہَا وَشَارِبَہَا وَحَامِلَہَا وَالْمَحْمُولَۃُ إِلَیْہِ وَسَاقِیَہَا وَبَاءِعَہَا وَآکِلَ ثَمَنِہَا وَالْمُشْتَرِی لَہَا وَالْمُشْتَرَاۃُ لَہُ)[ رواہ الترمذی : کتاب البیوع، باب النہی ان یتخذ الخمر خلا ] ” حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (ﷺ) نے شراب کے متعلق دس آدمیوں پر لعنت کی ہے۔ 1۔ شراب نچوڑنے والا۔ 2۔ نچڑوانے والا۔ 3۔ لینے والا۔ 4۔ اٹھانے والا۔ 5۔ جس کے لیے لے جائی جائے۔ 6۔ پلانے والا 7۔ بیچنے والا۔ 8۔ اس کی قیمت کھانے والا۔ 9۔ خریدنے والا۔ 10۔ جس کے لیے خریدی جائے۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ () أُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَہُ بِجَرِیدَتَیْنِ نَحْوَ أَرْبَعِینَ قَالَ وَفَعَلَہُ أَبُو بَکْرٍ فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ اسْتَشَار النَّاسَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخَفَّ الْحُدُودِ ثَمَانِینَ فَأَمَرَ بِہِ عُمَرُ (رض) )[ رواہ مسلم : کتاب الحدود، باب حد الخمر] ” حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی (ﷺ) کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی ہوئی تھی۔ آپ نے اسے دو چھڑیوں سے چالیس ضربیں لگائیں۔ اور حضرت ابو بکر (رض) نے اپنے دور خلافت میں بھی ایسا ہی کیا۔ پھر حضرت عمر (رض) کا دور خلافت آیا تو انھوں نے اس بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا۔ عبدالرحمن بن عوف (رض) نے کہا کہ سب حدوں میں سے ہلکی حد اسّی کوڑے ہیں۔ (یعنی حد قذف جو قرآن میں مذکور ہے) حضرت عمر (رض) نے شرابی کے لیے اسّی کوڑوں کی حد کا حکم دیا۔“ میسر : ہر وہ عقد جس کی رو سے ہارنے والا جیتنے والے کو ایک معین اور پہلے سے طے شدہ رقم ادا کرے اس کو میسر کہتے ہیں، یہ ” یسر“ سے ہے جس کا معنی آسانی ہے۔ اسے عرف میں جوا کہتے ہیں جوئے کے ذریعے جیتنے والے فریق کو ہارنے والے فریق کی رقم آسانی سے مل جاتی ہے۔ اس لیے اس کو میسر کہتے ہیں۔ ازلام : تیروں کی شکل میں پتلی پتلی لکڑیاں، ان سے زمانۂ جاہلیت میں قسمت کا حال اور شگون لیا کرتے اور فال نکالتے تھے۔ جس کے ہر دور میں کئی طریقے اختیار کیے جاتے رہے ہیں جیسا کہ آج کے زمانے میں طوطے کو سکھلا کر اس سے کاغذ کی پرچیاں اٹھوائی جاتی ہیں۔ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ إِنَّ رَسُول اللّٰہِ () لَمَّا قَدِمَ أَبَی أَنْ یَدْخُلَ الْبَیْتَ وَفِیہِ الْآلِہَۃُ فَأَمَرَ بِہَا فَأُخْرِجَتْ فَأَخْرَجُوا صورَۃَ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ فِی أَیْدِیہِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ () قَاتَلَہُمْ اللّٰہُ أَمَا وَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّہُمَا لَمْ یَسْتَقْسِمَا بِہَا قَطُّ فَدَخَلَ الْبَیْتَ فَکَبَّرَ فِی نَوَاحِیہٖ وَلَمْ یُصَلِّ فیہٖ) [ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب من کبر فی نواحی الکعبۃ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں بلاشبہ جب رسول معظم (ﷺ) حرم میں آئے تو کعبہ میں داخل ہونے سے انکار کردیا۔ کیونکہ وہاں بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ (ﷺ) نے انہیں نکالنے کا حکم دیا۔ ان کو نکال دیا گیا۔ لوگوں نے حضرت ابراہیم اور اسماعیل ( علیہ السلام) کے مجسمیجن کے ہاتھوں میں تیر تھے، اللہ کے رسول (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو برباد کرے اللہ کی قسم! یہ جانتے تھے کہ یہ ان کی قسمت کا حال کبھی نہیں بتا سکتے۔ تب نبی اکرم (ﷺ) بیت اللہ میں داخل ہوئے آپ نے اس کے کو نوں میں تکبیر کہی اور وہاں نماز نہ ادا کی۔“ انصاب : بتوں کے پاس نصب شدہ پتھر جن کی عبادت کی جاتی تھی اور بتوں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ان پر جانور ذبح کیے جاتے تھے۔ (المفردات ج 2ص :638) رجس : جو چیز حسًا یا معنًا گندی اور ناپاک ہو، انسان کی طبیعت اس سے گھن کھائے یا عقل اس کو برا جانے یا شریعت نے اس کو ناپاک قرار دیا ہو وہ رجس اور حرام ہے۔ مسائل : 1۔ شراب، جوا، وغیرہ شیطانی کام ہیں۔ 2۔ شیطانی کاموں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ 3۔ دنیا و آخرت کی کامیابی برے کاموں سے بچنے میں ہے۔ 4۔ شیطان اپنے افعال سے مسلمانوں کو باہم لڑاتا ہے۔ 5۔ شراب اور جوا نماز اور ذکر الٰہی سے روکتے ہیں تفسیر بالقرآن : شراب کے مسائل : 1۔ شراب کا نقصان فائدہ سے زیادہ ہے۔ (البقرۃ:219) 2۔ شراب پینا شیطانی عمل ہے۔ (المائدۃ :90) 3۔ شراب اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روکتی ہے۔ (المائدۃ:91) 4۔ شراب حرام ہے اس کے پینے سے بچنا چاہیے۔ (المائدۃ :90) المآئدہ
91 المآئدہ
92 فہم القرآن : (آیت 92 سے 93) ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول نے خمر، جوئے اور دیگر محرمات سے اجتناب کا حکم دیا ہے۔ اس حکم پر عمل کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچو۔ قرآن مجید نے بار ہا اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ رسول کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے پیغام من و عن لوگوں تک پہنچائے اور اس پر خود عمل کرکے اپنے آپ کو نمونہ کے طور پر پیش کرے۔ تاکہ لوگوں کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہے۔ یہاں یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ممنوعات سے بچنا اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا ہے۔ اس بات کو اس طرح بھی بیان فرمایا جو کچھ تمھیں رسول دیتا ہے اسے قبول کرو اور جس سے روکتا ہے اس سے رک جاؤ کیونکہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ یہاں ماضی کے حوالے سے ایک استفسار کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ جب شراب حرام ہونے کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام (رض) نے کہا اے اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا حال ہوگا جو شراب پیتے تھے اور اسی دور میں فوت ہوگئے اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (مسند احمد) اس فرمان میں تقویٰ، ایمان اور عمل صالح کو لازم ملزوم قرار دیا کیونکہ تقویٰ کے بغیر ایمان قابل قبول نہیں اور ایمان صالح اعمال کے بغیر آدمی کو خاطر خواہ فائدہ نہیں دیتا۔ پہلی مرتبہ تقویٰ اور ایمان کے بعد صالح اعمال کا ذکر کیا ہے اور دوسری مرتبہ ایمان کو تقویٰ سے مقدّم رکھتے ہوئے صالح اعمال کی جگہ ﴿اَحْسِنُوْا﴾ کا لفظ استعمال فرما کر محسنین کو اپنی محبت کا یقین دلایا ہے۔ احسان کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ حقیقتاً عمل صالح ہوتا وہی ہے جس میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ اور اسے اس جذبہ کے ساتھ بجا لایا جائے گویا کہ انسان اللہ تعالیٰ کو دیکھ کر اس کی منشا کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ جب کسی کام کی ادائیگی میں یہ جذبہ اور تخیل پیدا ہوجائے تو نہ صرف نیکی کرنے میں ذوق شوق پیدا ہوتا ہے بلکہ اس انداز سے نیکی کرنے والا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت کی لذّت محسوس کرتا ہے۔ اس طرح اسے دنیا میں ہی رب کریم کی محبت کا کیف محسوس ہوتا ہے۔ اور یہ نیکی کی قبولیت کا واضح ثبوت ہے۔ کچھ مفسرین نے تقویٰ اور ایمان کے تکرار کے بارے میں لکھا ہے کہ اس تکرار سے مراد تقویٰ اور ایمان میں مبالغہ مقصود ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ تقویٰ اور ایمان کی تکرار سے اس کے مختلف درجات مراد ہیں۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِذَا أَحَبَّ اللّٰہُ عَبْدًا نَادٰی جِبْرِیلَ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّہُ فَیُحِبُّہُ جِبْرِیلُ فَیُنَادِی جِبْرِیلُ فِی أَہْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوہُ فَیُحِبُّہُ أَہْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ یُوضَعُ لَہُ الْقَبُولُ فِی أَہْلِ الْأَرْضِ)[ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (ﷺ) کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت رکھتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ جبرائیل (علیہ السلام) اس سے محبت کرتے ہوئے آسمان والوں کے سامنے اعلان کرتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے تو تم بھی اس سے محبت کرو اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر اس بندے کے لیے زمین میں شرف قبولیت بخش دیا جاتا ہے۔“ مسائل : 1۔ اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی ہی اطاعت کرنی چاہیے۔ 2۔ رسول مکرم (ﷺ) کے حکم سے اعراض نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ کسی بھی چیز کا حکم سامنے آجانے پر اس پر عمل کرنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن: تقویٰ اور اس کے فائدے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد :35) 2۔ صبر کرو متقین کا بہتر انجام ہے۔ (ہود :49) 3۔ متقین کے لیے جنت ہے۔ (الحجر :45) 4۔ قیامت کے دن متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : 26۔27) المآئدہ
93 المآئدہ
94 فہم القرآن : (آیت 94 سے 95) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : تقویٰ اور ایمان کا یہ بھی تقاضا ہے کہ احرام کی حالت میں شکار کرنے سے اجتناب کرو۔ امام ابن ابی حاتم (رض) نے تحریر کیا ہے کہ یہ آیات صلح حدیبیہ کے سال نازل ہوئیں۔ جب مسلمان عمرہ کرنے کی غرض سے مدینہ طیبہ سے نکلے تو چند لوگوں کے سوا سب نے میقات پر پہنچ کر احرام باندھا اس حالت میں مسلمانوں کو شکار کرنے سے منع کیا گیا۔ جبکہ شکار مسلمانوں کے اتنا قریب تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جانوروں کی گردنیں دبوچ سکتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچنے کے بعد جن لوگوں نے احرام باندھا ہوا تھا انھوں نے شکار پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ کی۔ اس حکم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ محرم شخص غیر محرم کو شکار کرنے کا اشارہ بھی نہیں کرے۔ کیونکہ اس حکم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” وہ تمھیں آزمانا چاہتا ہے کہ کون تم میں غیب کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔“ غیب سے مراد یہ نہیں کہ انسان کسی لمحہ اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ اور اس کی قدرت سے باہر ہوتا ہے۔ غائب سے مراد انسان کی ایسی خلوت ہے جب اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا۔ احرام کی حالت میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کا حکم سمجھ کرشکار کرنے سے بچنا اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رکنا ہی حقیقی ایمان اور تقویٰ ہے۔ یہاں یہ بھی انتباہ کیا کہ جو شخص خلوت میں اللہ تعالیٰ سے بے خوف ہو کر اس کی نافرمانی کرتا ہے اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اسے اذیت ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم جب حدیبیہ کے سفر پر روانہ ہوئے تو میرے سوا تمام صحابہ (رض) نے احرام باندھا ہوا تھا۔ میرے ساتھیوں نے راستہ میں ایک جنگلی گدھا دیکھا اور ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔ میں اپنا جوتا سینے میں مشغول تھا لیکن انھوں نے مجھے نہیں بتلایا اگرچہ وہ چاہتے تھے کہ میں اسے دیکھ لوں۔ اچانک میں نے نظراٹھائی تو گدھا دیکھا۔ گدھا سے مراد نیل گائے ہے۔ میں گھوڑے پر زین کس کر اس پر سوار ہوا اور جلدی میں کوڑا اور نیزہ لینا بھول گیا میں نے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے کوڑا اور نیزہ اٹھا کر پکڑا دو۔ انھوں نے کہا اللہ کی قسم! ہم اس کام میں تمھاری کچھ مدد نہیں کرسکتے۔ مجھے غصہ آیا۔ لیکن میں نے اتر کر کوڑا اور نیزہ پکڑا اور سوار ہوگیا۔ پھر میں نیل گائے پر حملہ آور ہوا اور نیزہ مار مار کر اسے روک لیا میں نے اس دوران ان سے مدد طلب کی انھوں نے میری مدد کرنے سے انکار کردیا۔ پھر ہم سب نے اس میں سے کھایا۔ اس کے بعد میں رسول اکرم (ﷺ) سے جا ملا۔ میں نے آپ سے عرض کی کہ ہم نے ایک جنگلی گدھے کا شکار کیا ہے۔ آپ نے صحابہ (رض) سے پوچھا کیا تم میں سے کسی نے شکار کیا یا حملہ کرنے کو کہا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا یا کسی قسم کی مدد کی تھی ؟ صحابہ نے عرض کی نہیں پھر آپ نے محرم صحابہ سے فرمایا تم اسے کھا سکتے ہو۔ پوچھا کیا تمھارے پاس اس میں سے کچھ باقی ہے ؟ میں نے نیل گائے کی دستی پیش کی جسے آپ نے کاٹ کر کھایا۔ (رواہ مسلم : کتاب الحج، بخاری : ابواب العمرۃ) مطلب یہ ہے کہ احرام کی حالت میں شکار کرنے میں کسی قسم کی مدد نہ کی ہو تو محرم اس شکار میں سے کھا سکتا ہے۔ البتہ جو شخص احرام کی حالت میں ارادۃً شکار کرے اس کا جرمانہ شکار کے برابر حلال جانور بیت اللہ کے قریب قربان کرنا ہوگا جس کا فیصلہ دو منصف مزاج مسلمان کریں گے۔ اگر اس نے نیل گائے شکار کیا ہو تو وہ اس کے برابر گائے یا بکرا قربان کرے گا۔ اگر اس سے چھوٹا جانور شکار کیا ہو تو اس کے برابر کوئی جانور ذبح کرنے کا منصف فیصلہ دیں گے اگر کوئی شخص ایسا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کا کفارہ دو مسکینوں کو کھانا کھلانا یا دوروزے رکھنا ہوں گے یہ جرمانہ اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی غلطی کی سزا پائے، ہاں جو یہ حکم آنے سے پہلے ہوچکا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف کرنے والا ہے جو جان بوجھ کر احرام کی حالت میں شکار کرنے کی غلطی کا اعادہ کرے گا اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بدلہ لے گا اور وہ بدلہ لینے کی ہر اعتبار سے قوت رکھتا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ مومنین کے ایمان کو پرکھتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ احرام کی حالت میں شکار ممنوع ہے۔ 4۔ احرام کی حالت میں شکاری کی مدد بھی نہیں کرنا چاہیے۔ 5۔ جو مسئلہ جاننے کے باوجود احرام میں شکار کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا۔ 6۔ اللہ تعالیٰ زبردست انتقام لینے پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ سے اس وقت بھی ڈرنا چاہیے جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو : 1۔ جو اللہ سے غیب میں ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔ (الملک :12) 2۔ جو رحمٰن سے غیب میں ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش کی خوشخبری ہے۔ (یٰس ٓ:11) 3۔ آپ (ﷺ) ان لوگوں کو ڈرانے والے ہیں جو اپنے رب سے غیب میں ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ (الفاطر :18) المآئدہ
95 المآئدہ
96 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : پہلے زمانے میں بحری سفر بڑا طویل اور مشکل ہوا کرتا تھا جیسا کہ کچھ ملکوں کے لیے آج بھی یہ سفر بڑا طویل اور دشوارہوتا ہے ان ملکوں کے لوگ کئی کئی ہفتے بحری سفر کرنے میں مجبور ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ زائر اپنے ساتھ ایک حد تک ہی زاد راہ لے سکتا ہے۔ کبھی کبھار بحری سفر کے دوران جہاز کا اپنے راستہ سے بھٹکنے یا کسی بھنور میں مبتلا ہونے کی وجہ سے سفر کے ایام غیر معینہ مدت تک بڑھ جاتے ہیں اور پہلے زمانے میں یہ اکثر ہوا کرتا تھا کہ باد مخالف کی وجہ سے بحری جہاز کئی کئی دن تک ٹھہرے رہتے تھے اور بسا اوقات جہاز اپنے راستے سے کئی میل دور ہٹ جایا کرتا تھا۔ ان وجوہات کی بنا پر زادراہ کا ختم ہوجانا بحری سفر کا حصہ شمار کیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خاص کرم فرماتے ہوئے بحری سفر میں زائرین کعبہ کے لیے یہ رعایت بخشی کہ اگر وہ عمرہ یا حج کے لیے بحری سفر اختیار کریں تو حالت احرام میں بحری شکار کرنے، اس کے کھانے اور ذخیرہ کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ تاہم یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ اس سفر کو عبادت سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اس اجازت کا ہرگز معنی نہیں کہ احرام کی حالت میں آدمی عبادت کا ماحول اپنانے کے بجائے شکار کی پکڑ دھکڑ میں مصروف رہے اس لیے اجازت دینے کے ساتھ ہی حکم فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے یہ سفر کرو کیونکہ بالآ خر تم اس کے حضور پیش ہونے والے ہو۔ مسائل : 1۔ احرام کی حالت میں سمندری شکار حلال ہے 2۔ خشکی کا شکار کرنا احرام کی حالت میں قطعاً جائز نہیں۔ 3۔ تمام لوگوں کو اللہ کے حضور اکٹھا ہونا ہے۔ المآئدہ
97 فہم القرآن : (آیت 97 سے 98) ربط کلام : احرام کی حالت میں تمہیں شکار سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ اللہ کے گھر کا مقام اور احترام کا یہی تقاضا ہے جس کا تمھیں خیال رکھنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ نے اسے امن وسکون کا گہوارا بنایا ہے۔ لفظ کعبہ کا معنی بیان کرتے ہوئے معارف القرآن کے مؤلف مفتی شفیع مرحوم لکھتے ہیں کہ عربی میں کعبہ ایسی عمارت کو کہتے ہیں جو چوکور ہو یعنی جو چار کو نوں پر استوار اور اونچی جگہ پر ہو پھر ان کا بیان ہے کہ عرب میں کعبہ کے نام پر خشعم قبیلہ کی ایک عمارت تھی جسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا۔ قرآن مجید نے اس مغالطے سے بچانے کے لیے کعبہ کے ساتھ بیت الحرام کی تخصیص فرمائی ہے جو لوگوں کے لیے باعث قیام ٹھہرایا گیا ہے۔ بیت اللہ لوگوں کے لیے باعث قیام اس لیے ہے کہ جب تک لوگ اس کا احترام اور اس جانب منہ کرکے نماز پڑھتے رہیں گے اسی وقت تک ہی یہ دنیا قائم رہے گی۔ جب لوگ کعبہ کی طرف منہ کرکے اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑ دیں گے تو دنیا کو نیست و نابود کردیا جائے گا۔ ﴿اَلنَّاسْ﴾ کے مفسرین نے تین مفہوم بیان کیے ہیں : 1۔ مکہ معظمہ اور اس کے آس پاس میں رہنے والے لوگ۔ 2۔ حج اور عمرہ کے لیے بیت اللہ تک پہنچنے والے زائرین۔ 3۔ پوری دنیا کے لوگ۔ اس آیت میں بیت اللہ کے ساتھ چار حرمت والے مہینے یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب اور حج وعمرہ کے موقع پر کی جانے والی قربانیاں اور اس کے علاوہ وہ جانور بھی محترم قرار دیے گئے ہیں جنھیں عرب بیت اللہ کے لیے وقف کرتے ہوئے ان کے گلے میں کسی قسم کا ہار ڈال دیا کرتے تھے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ کچھ لوگ بیت اللہ کی زیارت کا سفر باندھتے تو اپنے گلے میں کوئی ہار ڈال لیا کرتے تھے تاکہ ہر قسم کی زیادتی سے مامون ہوجائیں۔ بیت اللہ کی حرمت و برکت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ یہ محرمات اس لیے مقرر کیے گئے ہیں تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی وجہ سے تمھیں کس قدر عزت و تکریم اور اپنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمھاری ضروریات کا خیال رکھا ہے۔ اس کا تمھیں احساس ہونا چاہیے کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے کیونکہ وہ زمین و آسمان کے چپے چپے اور ذرّے ذرّے سے واقف ہے اور تمھیں یہ بھی اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو شدید ترین عذاب دینے والا اور تابع فرمان لوگوں کی کوتاہیوں کو معاف کرنے والا اور ان پر رحم کرنے والا ہے۔ ” حضرت انس (رض) فرماتے ہیں بے شک رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والے لوگ ہیں۔“ [ رواہ مسلم : کتاب الایمان] قرآن مجید نے سورۃ آل عمران آیت 96میں بیان کیا ہے کہ سب سے پہلے جو گھر معرض وجود میں آیا وہ بیت اللہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے مبارک اور ہدایت کا مرکز قرار دیا ہے۔ نبی مکرم (ﷺ) کا ارشاد ہے کہ قیامت کے قریب حبشہ کا ایک آدمی جس کی پنڈلیاں عام لوگوں سے لمبی ہوں گی بیت اللہ کو شہید کرے گا۔ اس سے ثابت ہوا کہ جب تک بیت اللہ ہے اس وقت دنیا قائم رہے گی۔ بیت اللہ کا لوگوں کے لیے باعث قیام ہونے کا یہ مفہوم بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی برکت کی وجہ سے اس کی زیارت کرنے والوں کو حفظ و امان سے نوازا ہے اور بے آب و گیاہ سر زمین میں اللہ تعالیٰ اس کے زائرین اور اس کے گرد و پیش رہنے والوں کو انواع و اقسام کے کھانوں، پھلوں اور نعمتوں سے نوازرہا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے کعبہ تمام لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ 3۔ اللہ نافرمانوں کو سخت سزا دینے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ فرمانبرداروں پر بہت رحمت کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ (الحجرات :16) 2۔ وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے۔ (الحدید :4) 3۔ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ (المجادلۃ :7) 4۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ (التغابن :4) 5۔ اللہ ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں جنھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ بحر و برّ کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ (الانعام :59) المآئدہ
98 المآئدہ
99 فہم القرآن : (آیت 99 سے 100) ربط کلام : رسول کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کو حق وباطل اور اچھے، برے سے آگاہ کرے لوگوں کا فرض یہ ہے کہ وہ برائی کے رواج اور اسکی کثرت سے مرعوب ہونے کے بجائے رسول کی اطاعت کریں اسی میں کامیابی ہے۔ اس جاری خطاب کی آیت نمبر 92میں یہ مضمون بیان ہوا تھا کہ ہمارے رسول کا منصب لوگوں تک پیغام پہنچانا ہے جبراً منوانا نہیں۔ یہاں پھر فرمایا ہے کہ رسول کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے پیغام ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچانا ہے۔ اس کا کام لوگوں کے پیچھے پیچھے رہنا اور ان کی خلوتوں کی نگرانی کرنا نہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ جو کچھ تم چھپاتے یا ظاہر کرتے ہو وہ تمھارے ایک ایک لمحہ اور کام کو جانتا ہے۔ رسول کا کام فقط یہ ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے برے بھلے اور نیک و بد کی تمیز واضح کر دے، بے شک برائی کتنی غالب اور لوگوں کی نظر میں کتنی بھلی معلوم ہوتی ہو۔ رسول کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ لوگوں کو خوف خدا سے آگاہ کرے تاکہ صاحب دانش اللہ تعالیٰ سے ڈریں۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہی دانائی کی علامت اور کامیابی کا راستہ ہے۔ جہاں تک خبیث اور طیب یعنی اچھے اور برے اور نیک اور بد کا تعلق ہے یہ فرق ہر چیز اور کام میں پایا جاتا ہے۔ ہر چیز مفید بھی ہوتی ہے اور اس میں نقصان اور ضرر بھی موجود ہوتا ہے۔ انسانوں میں بھی نیک و بد پائے جاتے ہیں اس طرح کچھ کام دنیا اور آخرت کے لحاظ سے مفیدہوتے ہیں جبکہ کئی کام آدمی کے لیے دنیا میں نقصان اور آخرت میں خسارے کا باعث ہیں اور یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی کام دنیا کے لحاظ سے بظاہر فائدہ مند ہو لیکن آخرت کے اعتبار سے دائمی نقصان کا باعث ہو حقیقی عقل اور خدا خوفی کا تقاضا ہے کہ آدمی وہی کام کرے جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کے لحاظ سے اس کے لیے بہتر ہو۔ لہٰذا ہر انسان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا اور معاف کردینے والا، نہایت مہربان ہے۔ اسی کو کائنات کے عظیم دانشور نبی محترم (ﷺ) نے یوں بیان فرمایا ہے : (عَنْ أَبِی یَعْلٰی شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () الْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہُ ہَوَاہَا ثُمَّ تَمَنَّی عَلَی اللّٰہِ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزہد، باب ذکر الموت والاستعداد لہ] ” حضرت ابو یعلی شداد بن اوس (رض) بیان کرتے ہیں رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا عقلمند وہ ہے جو اپنے آپ کو پہچانتا ہے اور مرنے کے بعد فائدہ دینے والے اعمال سر انجام دیتا ہے اور نادان وہ ہے جس نے اپنے آپ کو اپنے نفس کے پیچھے لگایا اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ سے تمنا کرے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ تمام ظاہری و پوشیدہ چیزوں کا علم رکھنے والا ہے۔ 2۔ اللہ کے فرمانبردار اور نافرمان کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ 3۔ برائی کا چلن خواہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو وہ گناہ ہی رہتا ہے۔ 4۔ تقویٰ اختیار کرنے میں ہی کامیابی ہے۔ تفسیر بالقرآن : فلاح پانے والے حضرات : 1۔ نمازوں میں خشوع کرنے والے مومن فلاح پا گئے۔ (المومنون : 1تا11) 2۔ جس نے اپنے آپ کو پاک کرلیا وہ فلاح پا گیا۔ (الاعلیٰ:14) 3۔ اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (البقرہ :189) 4۔ اللہ کا قرب تلاش کرو اور اس کے راستہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدۃ:35) 5۔ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (الاعراف :69) 6۔ اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (الجمعۃ :10) 7۔ اپنے رب کی ہدایت پر چلنے والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔ (لقمان : 5، البقرۃ:5) 8۔ جو نفس کی بخیلی سے بچ گیا وہ فلاح پا گیا۔ (التغابن : 16۔ الحشر :9) المآئدہ
100 المآئدہ
101 فہم القرآن : (آیت 101 سے 102) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جب رسول (ﷺ) اپنی ذمہ داری کما حقہ نبھاتے ہوئے اچھائی اور برائی میں فرق واضح کر رہے ہیں تو تمہیں بے وجہ سوال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ادب کے منا فی ہونے کے ساتھ تمہارے لیے مشکل کا با عث ہوگا۔ نزول قرآن کے وقت سوال کرنے سے اس لیے منع کیا گیا تھا کہ جب رسول اکرم (ﷺ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے نا زل کردہ وحی من وعن لوگوں تک پہنچا رہے ہیں جس میں حلال وحرام، خبیث اور طیّب، جائز اور نا جائز کے درمیان پوری طرح فرق کیا جارہا ہے تو پھر خواہ مخواہ بال کی کھال اتارنا جائز نہیں۔ اس میں ایک طرف گستاخی کا پہلو نکلتا ہے اور دوسری طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی طرح اپنے لیے مزید مشکلات پیدا کرنا ہے جو کسی طرح بھی جائز نہیں۔ اس لیے نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا کہ جب میں کوئی مسئلہ بیان کروں تو اسے سنو اور اس پر حتی المقدور عمل کرو۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ کوئی بات کرتے ہوئے بھولتا نہیں۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ خَطَبَنَا وَقَالَ مَرَّۃً خَطَبَ رَسُول اللّٰہِ () فَقَالَ أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْفَرَضَ عَلَیْکُمْ الْحَجَّ فَحُجُّوا فَقَالَ رَجُلٌ أَکُلَّ عَامٍ یَا رَسُول اللّٰہِ فَسَکَتَ حَتّٰی قَالَہَا ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ () لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ثُمَّ قَالَ ذَرُونِی مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلَافِہِمْ عَلٰی أَنْبِیَاءِہِمْ فَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَہَیْتُکُمْ عَنْ شَیْءٍ فَدَعُوہُ)[ رواہ احمد] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ رسول معظم (ﷺ) نے خطبہ ارشاد فرما تے ہوئے فرمایا اے لوگو! بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے تو تم حج کرو۔ ایک شخص نے کہا اے رسول مکرم ! کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ (ﷺ) خاموش ہوگئے یہاں تک کہ اس شخص نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا۔ رسول محترم (ﷺ) نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر حج واجب ہوجا تا اگرچہ تم میں سے اس کی کوئی طا قت نہ رکھتا۔ پھر آپ (ﷺ) نے فرمایا جن معاملات کے متعلق میں نے تم کو چھوڑ دیا ہے تم بھی اس کے بارے میں مجھے چھوڑ دو بلاشبہ تم سے پہلے لوگ کثرت سوال اور انبیاء کے بارے میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ جب میں تم کو کسی کام کا حکم دوں تو حسب استطاعت اس کو پورا کرو اور جب کسی چیز سے روکوں تو اس کو چھوڑ دو۔“ بے مقصد سوال کرنے والا مجرم ہے : (عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ (رض) عَنْ أَبِیہِ أَنَّ النَّبِیَّ () قَالَ إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِینَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَیْءٍ لَمْ یُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِہِ ) [ رواہ البخا ری : باب مَا یُکْرَہُ مِنْ کَثْرَۃِ السُّؤَالِ وَتَکَلُّفِ مَا لاَ یَعْنِیہِ] ” سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (ﷺ) نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جس کو لوگوں پر حرام قرار نہیں دیا گیا تھا لیکن اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کو حرام قرار دے دیا گیا۔“ مسائل : 1۔ خواہ مخواہ مسئلہ سے مسئلہ نہیں نکالنا چاہیے۔ 2۔ بے مقصد سوال نہیں کرنے چاہییں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت بردبار ہے۔ 4۔ جن لوگوں نے بے مقصد سوال کرنے کا وطیرہ اختیار کیا وہ پریشان ہوئے۔ 5۔ بے مقصد سوالات اٹھانے والوں کی اکثریت گمراہ ہوجاتی ہے۔ المآئدہ
102 المآئدہ
103 فہم القرآن : ربط کلام : سلسلۂ کلام کے درمیان ادب سکھلانے کے بعد اب پھر مزید حرام چیزوں کی نشا ندہی کی جارہی ہے۔ اس سے پہلی آیات میں کثرت سوال سے منع فرمایا تھا۔ اس آیت میں فرمایا ہے کہ مشرکوں نے از خود بعض جانوروں کو حرام کرلیا تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حرام نہیں کیا بلکہ وہ بدستور حلال ہیں۔ جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام نہ کیا ہو اس کو حرام قرار دے کر شریعت سازی نہ کرو۔ بحیرہ : وہ جانور ہوتا تھا جس کا دودھ بتوں کی نذر کردیا جاتا تھا کوئی شخص اس کو دوہ نہیں سکتا تھا۔ اس کے کان چیر کر اس کو آزاد چھوڑ دیا جاتا۔ اس پر سواری کی جاتی نہ اس پر سامان لادا جاتا اور نہ ہی اس کا دودھ دوہا جاتا یہ جس چراگاہ سے مرضی چرے اور پانی پیے۔ سائبہ : وہ جانور ہے جس کو بتوں کے نام منسوب کیا جاتا اور اس پر کسی قسم کابوجھ نہیں ڈالا جاتا تھا تو اس اونٹنی کو آزاد کرکے بتوں کے نام کردیتے تھا ایسی اونٹنی کو سائبہ کا نام دیا جاتا۔ وصیلہ : اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جو پہلی بار اور دوسری بار مادہ بچہ جنم دے ان دوبچوں کے درمیان کوئی نر بچہ نہ ہو تو اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے۔ حام : اس نر اونٹ کو کہتے ہیں جو ایک خاص تعداد کے مطابق جفتی کرچکا ہو اور اسے بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جائے۔ سعید بن مسیب (رض) بیان کرتے ہیں بحیرہ وہ اونٹنی سمجھی جاتی جس کا دودھ دوہنا بتوں کی وجہ سے منع کردیا جاتا تھا اور کوئی شخص اس کا دودھ نہیں دوہتا تھا۔ سائبہ وہ اونٹنی ہے جس کو وہ اپنے بتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے اور اس پر کسی چیز کو لادا نہیں جاتا تھا۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا وہ دوزخ میں اپنی آنتوں کو گھسیٹ رہا تھا کیونکہ یہی وہ شخص تھا جس نے سب سے پہلے سائبہ اونٹنیوں کو چھوڑا تھا۔“ [ رواہ البخاری : باب قصۃ خزاعۃ] مسائل : 1۔ من گھڑت رسوم و رواج کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہیے۔ 2۔ کافر لوگ اللہ کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ 3۔ مشرکین حق کو پہچاننے کے لیے عقل سے کام نہیں لیتے۔ المآئدہ
104 فہم القرآن : ربط کلام : اہل مکہ نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام کسی دلیل کی بنیاد پر اپنے آپ پر حرام نہیں کی تھیں بلکہ اس کا سبب آباؤ اجداد کی تقلید تھا جس وجہ سے یہاں تقلید کا رد بھی کردیا ہے۔ ساتھ مسلمانوں کو اطمینان دلایا ہے کہ تم ہدایت پر پکے رہوگے تو دوسروں کی گمراہی کا تم پر چنداں اثر نہیں پڑے گا۔ اور نہ تم ان کے مسؤل بنائے گئے ہو۔ بس تم اپنی فکر کرو۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو پیش آنے والی پانچ رکاوٹیں : 1۔ لوگوں کا پرانے نظریات پرجمے رہنا۔ 2۔ ادیان باطلہ کے تعصبات و تحفظات۔ 3۔ انبیاء کرام کی ذات سے حسد و بغض۔ 4۔ حبّ جاہ اور دنیا پرستی۔ 5۔ بزرگوں اور آباؤ اجداد کی تقلید ۔ یہ تقلید کا ہی نتیجہ تھا کہ مذکورہ جانور کسی آسمانی شریعت میں حرام نہیں کیے گئے تھے۔ لیکن اہل مکہ نے اپنے سے پہلے لوگوں کی دیکھا دیکھی انھیں نہ صرف اپنے آپ پر حرام قرار دیا بلکہ دعویٰ کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے بزرگوں پر حرام قرار دیے تھے۔ جس بنا پر سے ہم بھی ان سے استفادہ کرنا اپنے آپ پر جائز نہیں سمجھتے۔ تقلید آباء کا عقیدہ ان کے ذہن میں اس قدر پختہ ہوچکا تھا کہ جب انھیں اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی طرف دعوت دی جاتی تو وہ بلا جھجھک کہتے ہمیں وہی کچھ کافی ہے جو ہمارے بزرگ کرتے رہے ہیں۔ اس پر گرفت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کیا ان کے آباؤ اجداد ہدایت نہ پانے اور شریعت کا علم نہ رکھنے کے باوجود ان کے رہنما ٹھہرے ہیں؟ مقلدین کی گمراہی کا اندازہ لگائیں کہ وہ جانتے بوجھتے ایسی باتوں کو شریعت سمجھ کر اپناتے ہیں جن کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کے مقابلے میں ان لوگوں کو رہنما سمجھتے ہیں جن کی گمراہی اور بے علمی کی قرآن گواہی دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ہدایت نصیب ہو تو کس طرح ؟ جہاں تک ائمہ کرام اور بزرگان دین کی تقلید کا تعلق ہے اس کی بھی دین میں کوئی گنجائش نہیں جس کے دو بنیادی اسباب ہیں۔ (1) امت مسلمہ کو بزرگان دین کی اتباع کی بجائے صرف اور صرف نبی آخر الزمان حضرت محمد (ﷺ) کی اتباع کا پابند کیا گیا ہے کیونکہ انسان اللہ اور اس کے رسول کا کلمہ پڑھ کر حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے جس میں دین کے بارے میں کسی دوسرے کی اتباع کی گنجائش نہیں ہے۔ (2) ائمہ کرام اور بزرگان دین کی تقلید سے امت اس لیے بھی آزاد ہے کہ ہر امام نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ حدیث مصطفی (ﷺ) کے مقابلے میں میری بات اور فتویٰ کو فی الفور مسترد کردیا جائے کیونکہ وہی سچے ایمان کی نشانی ہے۔ تقلید کے بارے میں ائمہ کے اقوال : امام ابو حنیفہ (رض) کا قول : (اِذَا صَحَّ الْحَدِیْثُ فَھُوَ مَذْھَبِیْ) [ تفسیر مظہری] ” جب صحیح حدیث موجود ہو تو وہی میرا مذہب ہے۔“ امام مالک (رح) کا قول : امام مالک نے روضۃ النبی (ﷺ) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ” ہر شخص کی بات تسلیم کی جاسکتی ہے اگر درست ہو۔ اور اسے ٹھکرایا جا سکتا ہے جب درست نہ ہو۔ مگر اس روضے والے کی بات کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔“ [ حیات امام مالک۔ از امام زہری] امام شافعی (رح) کا قول : (اَجْمَعَ ا لْمُسْلِمُوْنَ عَلٰی اَنَّ مَنِ اسْتَبَانَ لَہٗ سُنَّۃٌ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ () لَایَحِلُّ لَہٗ اَنْ یَّدَعَھَا لِقَوْلِ اَحَدٍ) [ اعلام المعوقین] ” اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جب رسول کریم (ﷺ) کی سنت سامنے آجائے، پھر اس بات کی گنجائش نہیں رہتی کہ اسے کسی کے قول کی بنا پر ترک کردیا جائے۔“ امام احمدبن حنبل (رح) کا قول : (مَنْ رَدَّ حَدِیْثَ رَسُوْلِ اللّٰہِ () فَھُوَ عَلٰی شَفَا ھَلَکَتِہِ)[ ابن جوزی] ” جس نے رسول کریم (ﷺ) کی حدیث کو رد کیا وہ تباہی کے کنارے پر پہنچ گیا۔“ مسائل : 1۔ آباء واجداد کی تقلید کے بجائے قرآن و سنت کی پیروی کرنا چاہیے۔ 2۔ آخرت کو مقدم رکھنا چاہیے۔ 3۔ اللہ کے سامنے حاضری کی فکر کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : تقلید آباء کا نتیجہ اور بہانہ : 1۔ جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تو کہتے ہیں جو ہمارے آباء واجداد کرتے تھے ہمیں وہی کافی ہے۔ (المائدۃ:104) 2۔ جب قرآن کی طرف بلایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کی اتباع کریں گے۔ (لقمان :21) المآئدہ
105 فہم القرآن : ربط کلام : ایک مخلص داعی دلائل کے ساتھ جب کسی شخص کو ہدایت کی دعوت دیتا ہے۔ اور سامع اس کے مقابلے میں بوسیدہ نظریات پیش کرتے ہوئے اپنی جہالت پر اصرار کرے۔ تو داعی کا اس پر دل گرفتہ ہونا فطری بات ہے اسی کیفیت سے صحابہ کرام (رض) دو چار ہوا کرتے تھے جس پر انھیں تسلی دی گئی ہے۔ صحابہ کرام (رض) اپنے اخلاص اور جدوجہد کے مقابلے میں کفار اور اہل کتاب کی ہٹ دھرمی دیکھتے تو انھیں اس بات پر سخت رنج پہنچتا۔ دل گرفتگی کے عالم میں بار بار سوچتے کہ یہ لوگ کس قدر نا عاقبت اندیش ہیں کہ ہم ان کی دنیا وآخرت کی بھلائی کی بات کرتے ہیں اور یہ اسے قبول کرنے کے بجائے ہماری جان کے درپے ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال پر مسلمانوں کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ تمھیں دل گرفتہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ تمھارا کام حق بات پہنچانا ہے ہدایت دینا نہیں۔ اگر تم ہدایت پر قائم ہو تو گمراہ لوگ تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ بالآخر تم سب نے اپنے اللہ کی طرف لوٹ کرجانا ہے وہ ہر کسی کو اس کے اچھے برے عمل اور اس کے انجام سے آگاہ فرمادے گا۔ ہدایت ایسا گراں قدر سرمایہ ہے جو چاہت اور محنت کے بغیر حاصل نہیں ہوا کرتا۔ اگر یہ لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے کے لیے تیار نہیں تو ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب سب کے سب بے چون و چراں رب کبریا کی بارگاہ میں حاضر کیے جائیں گے۔ وہ انھیں ایک ایک پل کی خبر اور ہر برے عمل کی سزا دے گا۔ وہاں انھیں نہ بزرگ بچا سکیں گے اور نہ ہی ان کے آباؤ اجداد چھڑا سکیں گے۔ بعض لوگ اس آیت سے غلط استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آدمی کو کسی دوسرے کی فکر کرنے کے بجائے اپنا خیال اور اپنے کام کی طرف دھیان رکھنا چاہیے۔ اس کی بلا سے کوئی جو چاہے کرتا رہے۔ ایسے نام نہاد دانشور تمام احکامات کو جان بوجھ کر فراموش کردیتے ہیں جن میں ہر شخص کو اپنے متعلقین کا مسؤل بنایا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ اس امت کے وجود کی ہی نفی کردیتے ہیں حالانکہ اس امت کا مقصد اپنی اور لوگوں کی اصلاح کرنا ہے۔ ﴿کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَلَوْٓ اٰمَنَ أَہْلُ الْکِتَابِ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَکْثَرُہُمُ الْفَاسِقُونَ﴾[ آل عمران :110] ”(اے مسلمانو!) تم بہترین امت ہو جنہیں لوگوں (کی اصلاح وہدایت) کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ تم لوگوں کو بھلے کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ ان میں سے کچھ لوگ مومن ہیں مگر ان کی اکثریت فاسق ہے۔“ (عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَاب (رض) سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ () یَقُولُ مَنْ رَأٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الْإِیمَانِ)[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب کون النھی عن المنکر من الایمان وان الایمان۔۔ الخ] ” حضرت طارق بن شھاب (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم (ﷺ) سے سنا آپ (ﷺ) نے فرمایا جو کوئی تم میں سے برائی دیکھے اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے اگر اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو زبان کے ساتھ روکے اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہوتووہ دل سے برا جانے۔ یہ ضعیف ایمان کی نشانی ہے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ (رض) یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ () یَقُولُ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ) [ رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب جمعۃ فی القری والمدن] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم (ﷺ) سے سنا آپ (ﷺ) نے فرمایا تم میں سے ہر کوئی ذمہ دار ہے اور وہ اپنی ذمہ داری کا جواب دہ ہے۔“ مسائل : 1۔ دوسروں کے بجائے اپنی فکر مقدم ہونی چاہیے۔ 2۔ حقیقی ہدایت یافتہ لوگوں کو کوئی بھی گمراہ نہیں کرسکتا۔ 3۔ تمام لوگوں کو اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ 4۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر کسی کو اس کے اچھے برے اعمال کی جزا اور سزادے گا۔ المآئدہ
106 فہم القرآن : (آیت 106 سے 108) ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں مخصوص حالات میں مسلمانوں کو اپنے آپ کی فکر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جس میں بعض لوگوں سے فریضۂ تبلیغ سے کوتاہی کا اندیشہ ہوسکتا تھا۔ اسے دور کرنے کے لیے یہ حکم نازل ہوا کہ فریضۂ تبلیغ ایک شہادت ہے شہادت کی ایک قسم گواہی ہے۔ مشکل اور نازک وقت میں بھی اسے ٹھیک طور پر ادا کرنا چاہیے۔ آیت کا پس منظر مفسرین نے اس طرح ذکر کیا ہے جو بخاری کتاب الوصایا میں مختصر لیکن احادیث اور سیرت کی دوسری کتب میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ بنو سہم قبیلے کا ایک مسلمان جس کا نام بدیل تھا تمیم داری اور عدی کے ساتھ سفر میں تھا تمیم اور عدی اس وقت عیسائی تھے۔ حضرت بدیل راستے میں بیمار ہوئے اور فوت ہوگئے۔ انھوں نے فوت ہونے سے پہلے اپنے سامان کی ایک فہرست تیار کرکے چپکے سے اپنے سامان میں رکھ دی۔ اس سامان میں ایک قیمتی پیالہ تھا جسے سونے کی تار سے جوڑا گیا تھا۔ فوت ہونے والے نے وصیت کی کہ یہ سامان میرے ورثاء تک پہنچا دیا جائے۔ واپسی پر عدی اور تمیم داری نے یہ سامان مرحوم کے ورثاء کے حوالے کیا۔ سامان کھولنے پر جب فہرست ملی تو اس میں سے پیالہ غائب تھا جسے عدی اور تمیم داری نے مدینے کے ایک سنار کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا مرحوم کے ورثاء نے ان دونوں سے پوچھا کہ فوت ہونے والے نے سامان سے اپنے علاج کے لیے کوئی چیز فروخت تو نہیں کی تھی؟ انھوں نے نفی میں جواب دیا تب مرنے والے کے ورثاء نے سامان کی فہرست پیش کرتے ہوئے ان سے اس قیمتی پیالے کا مطالبہ کیا لیکن دونوں نے اس کا انکار کیا۔ بالآخر مقدمہ نبی معظم (ﷺ) کے ہاں پیش ہوا گواہی نہ ہونے کی وجہ سے عدی اور اس کا ساتھی بری قرار پائے۔ تھوڑے عرصہ کے بعد پیالہ سنار کے ہاں پایا گیا تب بدیل کے ورثاء نے دوبارہ اللہ کے نبی (ﷺ) کے سامنے یہ بات رکھی آپ نے عدی اور تمیم کو بلایا اور ورثا نے آپ کی موجودگی میں ان دونوں کے سامنے قسم اٹھائی کہ ہم بالکل سچی قسم اٹھارہے ہیں اور ان کی قسمیں جھوٹی ہیں۔ یہ حلف نماز عصر کے بعد دیا گیا تھا اور آپ کو یقین ہوگیا کہ بدیل کے ورثاء کی قسم سچی ہے جس بناء پر دونوں عیسائیوں سے پیالے کی قیمت ایک ہزار درہم وصول کرکے ورثاء کو دی گئی بعد ازاں عدی اور تمیم مسلمان ہوئے تو انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا واقعی ہم نے پیالہ چوری کیا تھا۔ اس وقت سے یہ قانون جاری ہوا کہ سفر کی حالت میں ایسا واقعہ پیش آجائے اور بیمار کو اپنی موت کا یقین ہونے لگے تو وہ اپنا سامان دوسرے کے حوالے کرتے ہوئے دو مسلمان گواہ بنائے۔ اگر مسلمان نہ ہوں تو غیر مسلموں میں بھی دو عادل گواہ مقرر کیے جا سکتے ہیں قسم اٹھانے والے نماز عصر کے بعد کھڑے ہو کر ان الفاظ کے ساتھ اللہ کی قسم اٹھائیں کہ ہم ذاتی مفاد اور کسی عزیز کی طرفداری کیے بغیر اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھتے ہوئے اور کوئی چیز چھپائے بغیر حلف دیتے ہیں کہ اگر جھوٹی قسم اٹھائیں گے تو ہم مجرم ہوں گے۔ اس موقع پر قرآن مجید کا یہ ارشاد سامنے رکھتے ہوئے نبی (ﷺ) حلف دینے والے کو اس کے حلف سے پہلے اللہ تعالیٰ کا خوف دلایا کرتے تھے۔ لہٰذا حلف لینے والے کی ذمہ داری ٹھہری کہ وہ قسم لینے سے پہلے اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرے۔ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ہِلَالَ بْنَ أُمَیَّۃَ قَذَفَ امْرَأَتَہُ فَجَاءَ فَشَہِدَ وَالنَّبِیُّ () یَقُولُ إِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَکُمَاکَاذِبٌ فَہَلْ مِنْکُمَا تَائِبٌ ثُمَّ قَامَتْ فَشَہِدَتْ)[ رواہ البخاری : کتاب الطلاق، باب یبدء الرجل بالتلاعن] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہلال بن امیہ (رض) نے اپنی بیوی پر الزام لگایا تو وہ آئے اور گواہی دی تو نبی (ﷺ) نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ کیا تم میں کوئی ہے جو تو بہ کرے ؟ پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے گواہی دی۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) عَنْ النَّبِیِّ () قَالَ الْکَبَائِرُ الْإِشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَالْیَمِینُ الْغَمُوسُ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان والنذور، باب یمین الغموس] ” عبداللہ بن عمرو (رض) نبی (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ (ﷺ) نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور جھو ٹی قسم اٹھا نا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔“ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ یَقْتَطِعُ بِہَا مَالَ امْرِءٍ، ہُوَ عَلَیْہَا فَاجِرٌ، لَقِیَ اللَّہَ وَہْوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی ﴿إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً﴾ الآیَۃَ)[ رواہ البخاری : باب الخصومۃ ] ” حضرت عبداللہ (رض) نبی (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو آدمی کسی کا مال بٹورنے کے لیے قسم اٹھاتا ہے اور وہ اس میں جھوٹا ہے۔ وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی (بے شک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور قسموں کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں ) “ مسائل : 1۔ گناہ میں ملوث لوگوں کے بجائے دوسرے لوگ گواہی دیں۔ 2۔ گواہی دینے والوں کو کسی پر زیادتی نہیں کرنی چاہیے۔ 3۔ اگر مسلمان عادل گواہ نہ ملیں تو غیر مسلم کو بھی گواہ بنایا جا سکتا ہے۔ 4۔ ذاتی مفاد اور رشتہ داری سے بالا تر ہو کر گواہی دینا چاہیے۔ 5۔ گواہ پر شک ہو تو قسم بھی لی جا سکتی ہے اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ 6۔ جھوٹی گواہی دینا ظلم اور کبیرہ گناہ ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا : 1۔ اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (البقرۃ:258) 2۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (البقرۃ:264) 3۔ اللہ تعالیٰ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المائدۃ:108) 4۔ آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (النحل :107) 5۔ گمراہی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (النحل :37) 6۔ اللہ تعالیٰ جھوٹے لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں فرماتا۔ (الزمر :3) المآئدہ
107 المآئدہ
108 المآئدہ
109 فہم القرآن : ربط کلام : حق کی شہادت دینا مسلمان کا فریضہ ہے جو انبیاء کا مشن ہے۔ جب انبیاء کرام (علیہ السلام) سے ان کے مشن کے بارے میں سوال ہوگا تو انکے متبعین کس طرح مسؤ لیت سے بچ سکتے ہیں۔ اسلام کے بنیادی عقائد میں تین باتیں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کو یکتا جانتے ہوئے اس پر کامل ایمان رکھنا، حضرت محمد (ﷺ) کو خاتم المرسلین مانتے ہوئے ان کی رسالت پہ ایمان لانا، تیسرا بنیادی عقیدہ یہ ہے آدمی کا قیامت پر ایمان ہو کہ وہ قائم ہوگی اور ہم سب نے رب کبریا کی عدالت میں اپنی ہر بات اور عمل کا جواب دینا ہے۔ قیام قیامت کے بارے میں قرآن مجید میں بڑی شرح و بسط کے ساتھ دلائل دیے گئے ہیں یہ ایسا دن ہے کہ جبرائیل امین (علیہ السلام) اور تمام ملائکہ ( علیہ السلام) قطار اندر قطار رب کبریا کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے۔ یہ پچاس ہزار سال کا دن ہوگا۔ اس میں ہر نبی وقت مقررہ پر اپنی امت کو لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوگا۔ یہاں ہر فرد کو اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بارے میں سوال ہوگا۔ قرآن مجید کی تلاوت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب انبیاء (علیہ السلام) اپنی امتوں کے ساتھ پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ پہلے اس امت کے نبی سے سوال کرے گا کہ آپ نے میرا پیغام ٹھیک ٹھیک طریقے سے پہنچایا یا نہیں ؟ اس کے جواب میں تمھاری امت نے کیا وطیرہ اختیار کیا ؟ انبیاء کرام (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کناں ہوں گے کہ الٰہی ہم تو نہیں جانتے آپ ہی غیب کو جاننے والے ہیں۔ انبیاء کا لا علمی کا اظہار کرنے کے بارے میں مفسرین نے تین قسم کی تفسیر کی ہے : ﴿لاَ عِلْمَ لَنَا﴾ کہ ہمیں علم نہیں سے مراد علم کا مل ہے۔ کیونکہ علاَّمُ الغیوب کے لفظ ظاہر کر رہے ہیں کہ انبیاء صرف انھی حالات سے واقف تھے اور ہوتے ہیں جو ان کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں۔ لوگوں کی خلوت کی زندگی کو انبیاء (علیہ السلام) نہیں جانتے۔ ﴿لاَ عِلْمَ لَنَا﴾ کا یہ معنی ہے کہ جب تک ہم ان میں موجود رہے اس وقت تک تو ہمیں کچھ نہ کچھ ان کے حالات کا علم ہے لیکن ان کے بارے میں کامل اور اکمل علم تیرے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ﴿فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِن کُلِّ أمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلاء شَہِیدًا﴾[ النساء :41) ” بھلا اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے، پھر ان پر (اے نبی (ﷺ) آپ کو گواہ بنا دیں گے۔“ 3۔ انبیاء اپنی امتوں کے بارے میں شہادت دیں گے لہٰذا اس آیت کا یہ مفہوم لینے میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتاکہ اللہ تعالیٰ کے جلال اور دبدبہ کی وجہ سے انبیاء کرام (علیہ السلام) پہلے لا علم لنا کا اظہار کریں گے۔ بہر حال قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات مسلمہ ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) وہی کچھ جانتے تھے جس کا علم اللہ تعالیٰ انھیں عطا کیا تھا یا جو کام ان کی موجودگی میں ہوا کرتے تھے۔ مسائل : 1۔ قیامت کے دن تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) سے بھی سوال ہوگا۔ 2۔ انبیاء و رسل ( علیہ السلام) سے ان کی رسالت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ 3۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ ہی غیب جانتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے غیب کے بارے میں جانتا ہے۔ (البقرۃ:33) 2۔ اللہ تعالیٰ چھپی ہوئی چیزوں کے بارے میں خوب جانتا ہے۔ (البقرۃ:33) 3۔ اللہ تعالیٰ سینوں میں چھپی باتوں کو جانتا ہے۔ (فاطر :38) 4۔ اللہ تعالیٰ ہر عمل کو خوب جانتا ہے۔ (الحجرات :18) 5۔ اللہ کے پاس ہی غیب کی چابیاں ہیں۔ (الانعام :59) 6۔ نبی اکرم (ﷺ) غیب نہیں جانتے۔ (الانعام :50) 7۔ کہہ دیجیے غیب اللہ کے لیے ہے تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ (یونس :20) 8۔ آسمان و زمین کا غیب اللہ جانتا ہے۔ (النحل :77) المآئدہ
110 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عیسائیوں کے باطل عقیدہ اور برے اعمال کی وجہ سے یہ وقت بھی آئے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے پیغمبر (ﷺ) عیسیٰ (علیہ السلام) سے اس انداز سے سوال فرمائے گا کہ جس کا ایک ایک لفظ جلالت و تمکنت سے لبریز ہوگا اور عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور بے چارگی کا مجسمہ بنے ہوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو انعامات یاد کرائیں گے کہ میں نے تیری والدہ کو خصوصی کفالت و تربیت سے نوازتے ہوئے زمانے کی عورتوں میں معزز اور محترم ٹھہرایا۔ ان کے لیے بے موسم پھولوں کا انتظام کیا جب ان کی پاک دامنی پر حرف آیا تو تجھ جیسے نو مولود سے ان کی برأت کا اس طرح اظہار کروایا کہ پھر ان کی زندگی میں کوئی شخص ان پر الزام لگانے کی جرأت نہ کرسکا۔ اور تجھے جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ذریعے معاونت بخشی اور تو نے مہد میں نہ صرف اپنی والدہ کی پاک دامنی کی گواہی دی بلکہ اپنی نبوت کا بھی اعلان کیا۔ تجھے یہ بھی شرف بخشا کہ تو ادھیڑ عمر میں لوگوں سے باتیں کرتا رہا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تقریباً ٣٥ سال کی عمر میں آسمانوں پر اٹھالیے گئے نامعلوم لاکھوں کروڑوں سالوں کے بعد جب وہ قرب قیامت تشریف لائیں گے تو وہ بوڑھے ہونے کے بجائے پورے حسن و جمال کے ساتھ جوان ہوں گے یہ بھی ان پر اللہ کا منفرد احسان ہوگا کہ صدیاں گزرنے کے باوجود ظاہری اور جوہری صلاحیتوں سے ہر طرح ہم کنار ہوں گے عیسیٰ (علیہ السلام) کو لکھنا، پڑھنا، حکمت و دانش اور نہ صرف انجیل یاد کروائی بلکہ تورات بھی انھیں پوری طرح ازبرتھی۔ حکمت میں انھیں اس قدر ید طولیٰ عطا کیا گیا کہ بڑے بڑے اطباء اور حکماء ان کے سامنے طفل مکتب کی مانند پیش ہوتے تھے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے مادر زاد اندھے کو بینائی دی اور کوڑھی کے جسم پر ہاتھ پھیرا تو وہ صحت یاب ہوگیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے مردہ کو زندہ کیا یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوا جہاں تک پرندہ بنانے اور اسے اڑانے کا تعلق ہے تفسیر بیضاوی میں لکھا ہے کہ لوگوں نے ان سے چمگادڑ بنانے اور اس میں روح ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے زمین سے مٹی اٹھائی اور اسے چمگادڑ کی شکل دی اس میں پھونک ماری تو چمگادڑ اڑنے لگا۔ چمگادڑ کا مجسمہ بنانا عیسیٰ (علیہ السلام) کا کام تھا لیکن اس میں روح ڈالنا اور اڑنے کی طاقت بخشنا اللہ تعالیٰ کا کمال تھا۔ صاحب بیضاوی کا کہنا ہے کہ لوگوں نے چمگادڑ بنانے کا اس لیے مطالبہ کیا تھا کہ یہ جانور دوسرے جانوروں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس کے جسم میں ہڈی نہیں ہوتی یہ صرف گوشت اور خون کا بنا ہوتا ہے۔ یہ پرندوں کی طرح اڑتا ہے اور حیوانوں کی طرح بچے دیتا ہے۔ پرندے انڈے دیتے ہیں یہ دودھ دیتا ہے۔ اسے عورت کی طرح حیض آتا ہے، اور انسان کی طرح ہنستا ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کو دوسری نعمتوں کی یاد دہانی کے ساتھ یہ بھی یاد کروایا جائے گا کہ اے عیسیٰ میں نے تجھے یہودیوں کی دستبرد سے بچایا اور تیرے بارے میں تیرے شاگردوں کے دل میں خصوصی محبت اور ایمان کا جذبہ بخشا۔ سورۃ آل عمران آیت 49میں ہر معجزے کے بعد باذ ن اللہ کے الفاظ بھی آئے ہیں جہاں نعمتوں کی یاد دہانی کے بعد اللہ تعالیٰ نے ﴿ بِاِذْنِیْ﴾ کے الفاظ استعمال کیے ہیں کہ سب کچھ میری عطا اور میرے حکم سے ہوا تھا۔ تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا کمال تھا۔ لیکن افسوس بار بار کی صراحت کے بعد عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو اللہ تعالیٰ کا جز ٹھہراتے ہوئے کفر کرتے ہیں۔ جس کا قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) صاف صاف انکار کریں گے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خاص شرف بخشاتھا۔ 2۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جبرائیل امین کی تائید حاصل تھی۔ 3۔ تمام کاموں کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ تفسیر بالقرآن : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات : 1۔ مٹی سے پرندہ بنا کر اڑانا، مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو باذن اللہ اچھا کرنا۔ ( آل عمران :49) 2۔ آسمان سے دستر خوان کا اترنا۔ (المائدۃ: 112تا115) 3۔ روح القدس کی تائید پانا۔ (البقرۃ:253) 4۔ آپ کلمۃ اللہ ہیں۔ دنیا و آخرت میں عزت پانے والے ہیں۔ (آل عمران :45) 5۔ بن باپ کے پیدا ہونا۔ (آل عمران :47) 6۔ زندہ آسمانوں پر اٹھایا جانا۔ (النساء :158) 7۔ ابتدائی دنوں میں اپنی نبوت کا اعلان کرنا۔ (مریم :30) 8۔ اپنی والدہ کی براءت کا اعلان کرنا۔ (آل عمران :47) 9۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کالوگوں کو انکی کھانے پینے اور ذخیرہ کی ہوئی چیزوں کے بارے مطلع کرنا۔ (آل عمران :49) المآئدہ
111 فہم القرآن : (آیت 111 سے115) ربط کلام : قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دوسرے احسانات کے ساتھ یہ احسان بھی یاد کرایا جاۓ گا۔ اس فرمان کا پس منظر یوں معلوم ہوتا ہے کہ جب یہودیوں کی سازشوں اور پروپیگنڈہ کی بنا پر کوئی شخص بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر خاص کرم فرماتے ہوئے کچھ لوگوں کے دل ہدایت کے لیے کھول دیے۔ جس کو بیان کرتے ہوئے ﴿اَوْحَیْتُ﴾ کے الفاظ استعمال فرماۓ کہ اے عیسیٰ ! اللہ ہی نے تمھارے حواریوں کے دل میں القا کیا کہ آگے بڑھ کر عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاؤاور اس کے دست وبازو بن جاؤ۔ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر اس کی یوں وضاحت ہے۔ ﴿یَآأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا أَنْصَار اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیِّیْنَ مَنْ أَنصَارِیْٓ إِلٰی اللّٰہِ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ أَنْصَار اللّٰہِ فَاٰمَنَتْ طَّائِفَۃٌ مِّنْ بَنِی إِسْرَائِیْلَ وَکَفَرَتْ طَّآئِفَۃٌ فَأَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّہِمْ فَأَصْبَحُوْا ظَاہِرِیْنَ﴾[ الصف :14] ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگار بن جاؤ۔ جیسے عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا اللہ کی طرف (بلانے میں) میرا کون مددگار ہے؟ تو حوا ریوں نے کہا تھا کہ ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں پھر بنی اسرائیل کا ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور دوسرے گروہ نے انکار کردیا ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی لہٰذا وہی غالب رہے۔“ حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اعلان تو کردیا لیکن ساتھ ہی نہا یت ادب کے ساتھ ملتمس ہوئے کہ جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کیا یہ ممکن ہے آپ کا رب آسمان سے ہمارے لیے کھانوں سے بھر پور دستر خوان نازل کرے؟﴿ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ﴾ کے معنی یہ نہیں کہ انہیں شک تھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے دستر خوان نازل نہیں کرسکتا۔ یقیناً وہ جانتے تھے کہ جو رب من وسلوی اور بارش نازل کرسکتا ہے وہ پکا پکایا کھانا بھی نازل کرسکتا ہے۔ کیا آپ کا رب طاقت رکھتا ہے؟ کا مقصد یہ تھا کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی اور اس کی حکمت کے منافی نہ ہو تو وہ ہم پر دسترخوان نازل فرمائے تاکہ ہم یہ فوائد حاصل کرسکیں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ پکوان کو خوب مزے لے لے کر سیر ہو کر کھائیں۔ 2۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے پرندوں کا معجزہ ظاہر ہوا اور وہ اطمینان قلب کی دولت سے مالا مال ہوئے ہم بھی دستر خوان سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ قلبی اطمینان چاہتے ہیں۔ 3۔ اس اطمینان قلب اور انشراح صدر کے بعد ہم لوگوں کے سامنے شدّو مدّاور بھرپور طریقہ کے ساتھ آپ کی نبوت کا پر چار کریں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں تم پر اپنی نعمتوں سے بھر پور دستر خوان نازل کروں گا لیکن یاد رکھنا اس کے بعد جس کسی نے انکار کیا تو اسے ایسے عذاب سے دوچار کیا جائے گا کہ جس کی مثال دنیا میں پہلے نہ ہوگی۔ دستر خوان کے نزول کے بارے میں مفسرین کی دو آرا پائی جاتی ہیں ایک طبقہ کا خیال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا جب کہ دوسرے فریق کا خیال ہے کہ عذاب کی وارننگ سن کر حواریوں نے اس مطالبہ سے توبہ کرلی تھی۔ (واللہ اعلم) مسائل : 1۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے خصوصی کھانے کی دعا کی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی آیات نازل ہونے پر اتمام حجت ہوجاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن : 1۔ اللہ ہی سب کو رزق دینے والا ہے : (المائدہ:114) 2۔ اے اللہ ہمیں رزق عطا فرما تو ہی بہتر رزق دینے والا ہے۔ ( المائدہ :114) المآئدہ
112 المآئدہ
113 المآئدہ
114 المآئدہ
115 المآئدہ
116 فہم القرآن : (آیت 116 سے 118) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عیسائیوں کے باطل عقیدہ کی وجہ سے یہ وقت بھی آئے گا کہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کے سامنے بڑے جلال کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کرے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تو نے عیسائیوں کو یہ تبلیغ کی تھی کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنا لو؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھر تھرکانپتے ہوئے ہونٹوں اور لڑکھڑاتی زبان سے اپنے رب کے حضور التجا کریں گے کہ اے رب ذوالجلال والاکرام میں وہ بات کہنے کی کس طرح جرأت کرسکتا تھا جس کے کہنے کا مجھے اختیار نہ تھا۔ الٰہی اگر میں نے یہ بات ان لوگوں کو کہی ہوتی میرے الفاظ اور میرے دل کی حالت کو آپ جانتے ہیں جس کا دوسرا مفہوم ہے کہ میں ایسی بات کہنا تو درکنار سوچ بھی نہیں سکتا۔ آپ میرے دل کی سچائی اور عاجزی سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ البتہ میں نہیں جانتا آپ میرے بارے میں کیا فیصلہ فرمانے والے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی فریاد کو جاری رکھتے ہوئے عرض کریں گے۔ کہ میں نے تو انہیں پوری زندگی یہی بات باربار کہی اور سمجھائی کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ میں ان کے بارے میں اتنی ہی شہادت دے سکتا ہوں جب تک میں ان میں موجود رہا جب تو نے مجھے فوت کرلیا۔ تو ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہی ان کے عقیدے اور عمل کو جاننے والا ہے۔ امام ابن کثیر (رض) نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ فریاد کرتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) اس قدر عاجزی وانکساری کا اظہار کریں گے کہ انکے جسم کے ایک ایک رونگٹے سے پسینا بہنا شروع ہوجائے گا۔ بالآخر سراپا التجا بن کر عرض گزار ہوں گے کہ تو انہیں عذاب کرے تیرے ہی بندے ہیں اگر معاف فرما دے تو تجھے روکنے اور ٹوکنے والا کوئی نہیں۔ تو اپنے فیصلے صادر کرنے پر غالب اور نہایت حکمت والا ہے۔ اس عاجزی اور بار بار فریاد کرنے کے باوجود رب ذوالجلال فرمائے گا کہ آج سچے لوگوں کو ان کی سچائی کاہی فائدہ پہنچے گا۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کریں گے۔ 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مافوق الفطرت انسان ہی ہیں۔ 3۔ مرنے کے بعد انبیاء کو بھی دنیا کے حالات کا علم نہیں ہوتا۔ 4۔ اللہ جسے چاہے معاف کرے اور جیسے چاہے عذاب میں مبتلا کرے۔ المآئدہ
117 المآئدہ
118 المآئدہ
119 فہم القرآن : ربط کلام : عیسیٰ (علیہ السلام) کی معذرت اور فریاد کے باوجود اللہ تعالیٰ مشرکوں کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی فریاد قبول نہ کرتے ہوئے فرمائے گا کہ آج کے دن سچے شخص کو اس کی سچائی کا فائدہ پہنچے گا۔ اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دی گئی ہے اے عیسیٰ جو کچھ تم نے کہا سچ کہا کہ واقعی تو اور تیری والدہ نے لوگوں کو شرک کی دعوت نہیں دی تھی لہٰذا تجھے مطمئن رہنا چاہیے آج ہر شخص کو فائدہ پہنچے گا جو سچ پر قائم رہا اور سچ کی دعوت دیتا رہا۔ ان آیات کے سیاق و سباق سے یہ حقیقت بالکل واضح اور نمایاں ہوتی ہے۔ یہاں صدق سے مراد اللہ تعالیٰ کی توحید ہے کیونکہ توحید کے بغیر دنیا کی کوئی سچائی قیامت کے دن انسان کی نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ توحید کے مقابلہ میں شرک ہے اور شرک کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا سورۃ النساء، آیت : 116میں فیصلہ ہے کہ اس نے شرک کو ہرگز معاف نہیں کرنا جبکہ دوسرے جس کو چاہے گا اس کے دوسرے گناہ معاف کر دے گا۔ جہاں تک توحید کے علاوہ دوسرے اعمال کا تعلق ہے نیکی کرنے والے کو اسکی نیکی کا دنیا میں فائدہ پہنچے گا لیکن شرک کی وجہ سے قیامت کے دن اس کے سب اعمال غارت ہوجائیں گے۔ اس کے مقابلے میں عقیدۂ توحید پر قائم رہنے اور اس کے مطابق نیک اعمال کرنے والوں کے لیے ایسی جنت ہے جس کے نیچے نہریں اور چشمے جاری ہوں گے۔ اس میں صادقین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داخلہ نصیب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہوگا اور یہ اپنے رب پر خوش و خرم ہوں گے ان کے لیے عظیم کامیابی ہے۔ (عَنْ عمرو بن العاص (رض) قال أَتَیْتُ النَّبِیَّ () فَقُلْتُ ابُسُطْ یَمِینَکَ فَلْأُبَایِعْکَ فَبَسَطَ یَمِینَہُ قَالَ فَقَبَضْتُ یَدِی قَالَ مَا لَکَ یَا عَمْرُو قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُّ أَنْ أَشْتَرِطَ قَالَ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا قُلْتُ أَنْ یُّغْفَرَ لِی قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہٗ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب کون الاسلام یھدم ماقبلہ وکذا الھجرۃ والحج] ” حضرت عمر و بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی اے اللہ کے رسول اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجیے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔ جب آپ (ﷺ) نے اپنا دایاں ہاتھ آگے کیا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ تب آپ (ﷺ) نے پوچھا اے عمرو! کیا ہوا ؟ میں نے عرض کی کہ ایک شرط کے ساتھ بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ ارشاد ہوا کہ وہ کون سی شرط ہے؟ میں نے عرض کی کہ میرے گناہ معاف کردیے جائیں۔ فرمایا عمرو تجھے معلوم نہیں اسلام پہلے گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔“ مسائل : 1۔ عقیدۂ توحید اور صالح اعمال والے ہی سچے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی رضا بہت بڑی نعمت ہے۔ 3۔ جنت کا حصول بہت بڑی کامیابی ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کی رضامندی سب سے بڑی نعمت ہے : 1۔ اللہ نے مومن مرد اور عورتوں سے جنت کا وعدہ کیا ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ اللہ کی رضامندی بڑی بات ہے۔ (التوبۃ:72) 2۔ آج کے دن سچائی فائدہ دے گی۔ ان کے لیے جنت ہے۔ اللہ ان سے راضی ہوا۔ وہ اللہ پر راضی ہوگئے یہی بڑی کامیابی ہے۔ (المائدۃ:119) 3۔ صحابہ کرام (رض) اللہ پر راضی ہوئے اور اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہوگیا۔ (المجادلۃ:22) 4۔ اللہ کی رضا بہت بڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ:100) 5۔ ایمان دار، اعمال صالح کرنے والوں سے اللہ راضی ہوگا اور وہ اللہ پر راضیہوں گے۔ (البینۃ : 7تا8) المآئدہ
120 فہم القرآن : ربط کلام : اس سورۃ کی ابتدا میں عہد کی پاسداری کا حکم دیا تھا عہد میں سب سے بڑا عہد بندے کا اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنا ہے اب سورۃ کا اختتام شرک کی نفی اور توحید کے اثبات اور اقرار پر ہو رہا ہے۔ سورۃ کے اختتام میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اسے اپنی ملکیت قرار دیتے ہوئے اس کے ذرّے ذرّے اور چپے چپے پر قادر ہونے کا اعلان فرمایا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اے لوگو اگر تم اللہ کی توحید سے منحرف ہو کر اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد توڑ دو اس کی نافرمانی اور شرک جیسے عظیم گناہ میں ملوث ہوجاؤ۔ تو اللہ تعالیٰ کی ملکیت، اس کے اقتدار اور اختیار میں ذرّہ برابر کمی واقع نہیں ہوتی۔ دوسرے لفظوں میں یہ خدا کے نافرمان اور باغیوں کو ایک چیلنج ہے جس کی رسول محترم (ﷺ) نے تفصیل یوں بیان فرمائی ہے ۔ مسائل : 1۔ زمین و آسمان کی بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ 2۔ کائنات کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن : ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے : 1۔ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران :189) 2۔ بے شک زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (التوبۃ:116) 3۔ کیا آپ نہیں جانتے ؟ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ (البقرۃ:107) المآئدہ
0 سورۃ الانعام کا تعارف : اس سورۃ مبارکہ کا نام آیت 136سے لیا گیا ہے۔ الانعام کا لفظ پورے قرآن میں 30مرتبہ اور اس سورۃ میں 6مرتبہ آیا ہے۔ اس کی آیات 165اور بیس 20رکوع ہیں۔ چند آیات کے سوا پوری کی پوری سورۃ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی۔ اس سورۃ مبارکہ کا مرکزی مضمون اللہ تعالیٰ کی توحید ہے مکہ اور اس کے گرد ونواح کا وسیع ترین علاقہ بلکہ پورا حجاز شرک کی غلاظت میں کلی طور پر ملوث تھا جس بناء پر اس میں اللہ کی توحید کے ایسے دلائل دیے گئے ہیں جن کا انکار کرنا کسی عقلمند اور شریف آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔ سورۃ کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش سے ہوتی ہے کیونکہ وہ ایسی ذات ہے جس نے زمین و آسمان، ظلمت اور روشنی پیدا فرمائی۔ وہی ذات ہے جس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر انسان کی زندگی کا تعین فرمایا وہ زمین و آسمان کی ہر چیز اور انسانوں کی جلوت و خلوت کی حرکات سے ہر لمحہ مکمل آگاہی رکھنے والا ہے۔ لیکن مشرکین اس عقیدہ کو تسلیم کرنے کی بجائے دعوت توحید دینے والی شخصیات کا ہمیشہ سے مذاق اڑاتے آرہے ہیں۔ اگر یہ لوگ دنیا کی تاریخ اور جغرافیہ پر توجہ کریں تو انھیں معلوم ہوجائے گا کہ عقیدہ توحید کی مخالفت کرنے والوں کا دنیا میں کیا انجام ہوا۔ توجہ دلاتے ہوئے یہ بھی بتادیا گیا ہے اگر اللہ تعالیٰ نے اب تک انھیں نہیں پکڑا تو اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اس نے اپنی ذات پر لوگوں پر شفقت و مہربانی کرنالازم قرار دے لیا ہے اس کے بعد درج ذیل توحید کے دلائل دیے ہیں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان پیدا کرنے والا اور لوگوں کو کھلانے، پلانے والا ہے جبکہ وہ خود کھانے پینے کا محتاج نہیں ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کسی کو تکلیف پہنچانا چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے بچا نہیں سکتی اگر وہ کسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرما لے تو اس خیر کو کوئی روک نہیں سکتا۔ 3۔ توحید کا اقرار سب سے بڑی گواہی اور شہادت ہے جس پر ایک داعی کو ہر حال میں قائم رہنا چاہیے۔ 4۔ توحید کا منکر حقیقتاً آخرت کا انکاری ہوتا ہے۔ 5۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کی بصیرت و بصارت اور سماعت کو کلیتاً ختم کر دے تو زمین و آسمان میں کوئی ایسی طاقت نہیں جو ان صلاحیتوں کو واپس لوٹا سکے۔ (46) 6۔ اللہ کے خزانوں اور زمین و آسمان کے غائب کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (50) 7۔ اللہ ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اور وہ بحر و بر کی ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا میں بیک وقت کھربوں کی تعداد میں درختوں سے گرنے والے پتے بھی اس کے علم اور شمار میں ہوتے ہیں۔ (60) 8۔ وہ ہر اعتبار سے اپنے بندوں پر غالب ہے۔ (61) 9۔ ان دلائل کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نمرود کے ساتھ مکالمہ ذکر کیا ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شمس و قمر اور ستاروں کے حوالے سے توحید کے وہ دلائل دیے کہ نمرود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے ششدر اور خاموش ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چیلنج کا ذکر کیا گیا ہے جس میں انہوں نے بےدھڑک ہو کر فرمایا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارے شریکوں سے ذرہ کے برابر بھی ڈرنے کے لیے تیار نہیں، اور یا درکھو حقیقی امن مواحد کو حاصل ہوتا ہے۔ اس گفتگو کی تائید میں اٹھارہ انبیاء کا نام لے کر ذکر کیا ہے کہ وہ سب کے سب اللہ کی توحید کے داعی اور شرک کے خلاف بر سر پیکار رہنے والے تھے وضاحت فرمائی کہ شرک اتنا سنگین جرم ہے کہ اگر یہ عظیم شخصیات شرک کا ارتکاب کرتی تو ان کے اعمال بھی ضائع کردیے جاتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نباتات، صبح وشام، رات دن، شمس وقمر اور کا ئنات کی بڑی بڑی چیزوں کو اپنی وحدت کی تائید میں دلیل کے طور پر پیش کرتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں فرمایا ہے کہ اللہ کی ذات ہر اعتبار سے وحدہ لا شریک ہے وہ لوگوں کو براہ راست دیکھتا ہے لیکن اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اس کے بعد آیت 157میں سرور دوعالم کو تسلی دی کہ آپ اپنا کام ایک مبلغ کی حیثیت سے کرتے جائیں اور یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منکرین پر چوکیدار بنا کر نہیں بھیجا۔ ان لوگوں کی حالت تو ہے کہ اگر ان پر فرشتے نازل کردیے جائیں اور ان کے مدفون آباو اجداد زندہ ہو کر انہیں سمجھائیں یہاں تک کہ ہر چیز ان کے سامنے اللہ کی توحید کی گواہی دے پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ یہ اپنی جہالت پر ڈٹ چکے ہیں۔ (111) توحید کے دلائل دینے کے بعد حلال وحرام کے مسائل کا ذکر کیا گیا ہے اور حلال وحرام کے سلسلے میں مشرکین کے خود ساختہ اصولوں کی حقیقت بیان کی کہ ان لوگوں نے اپنی طرف سے طے کرلیا کہ فلاں فلاں جانور کا کھانا ان کے مردوں کے لیے جائز مگر ان کی عورتوں کے لیے حرام ہے۔ پھر مشرکین سے ان کے حلال وحرام کے قواعد کے بارے میں سوالات کرتے ہوئے انہیں چیلنج دیا کہ اگر تمہارے پاس ان کے حق میں کوئی علمی دلائل ہیں تو پیش کرو۔ (148) اس کے بعد آیت 151تا 154میں توحیدو شرک کا بیان، والدین سے حسن سلوک، اولاد کے حقوق، ہر قسم کی بے حیائی سے اجتناب، قتل وغارت سے روکتے ہوئے یتیموں کے ساتھ حسن سلوک، لین دین اور ہر معاملے میں عدل وانصاف کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ یہی صراط مستقیم ہے لوگوں کو اسی کی اتباع کرنا چاہیے۔ سورۃ کا اختتام ان مسائل پر فرمایا کہ اے محبوب (ﷺ) آپ یہ اعلان فرمائیں کہ اللہ کی توحید پر قائم رہنا، اس کی دعوت دینا، غیر اللہ کا انکار کرنا اور نماز، قربانی، موت وحیات کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنے کا نام ہی دین اور صراط مستقیم ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ ہی تمہیں ایک دوسرے کا خلیفہ بناتا ہے تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم اپنے اپنے مقام پر کس قسم کا کردار ادا کرتے ہو۔ اور یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد تمہارا حساب چکا دینے والا ہے اور حساب لیتے ہوئے ظلم کی بجائے وہ معافی اور شفقت کو زیادہ پسند کرتا ہے۔ الانعام
1 فہم القرآن : قرآن مجید نے اس حقیقت کو بار بار واضح فرمایا ہے کہ زمین کا ذرہ ذرہ اور آسمانوں کا چپہ چپہ۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش میں رطب اللّسان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کائنات کا خالق و مالک ہے۔ اسی بنا پر اس سورۃ کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ اپنی حمد کا استحقاق بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا اور اسی نے ظلمات اور نور بنایا لیکن کافر اتنے ناعاقبت اندیش ہیں کہ وہ اس عظیم الشان ہستی کا نہ صرف انکار کرتے ہیں بلکہ وہ دوسروں کو اس کے برابر گردانتے ہیں حالانکہ وہ ایسی ہستی ہے جس نے نہ صرف سب کو پیدا فرمایا ہے بلکہ ہر کسی کی ضرورت کے مطابق اس کی پرورش کا انتظام فرمایا ہے۔ یہاں زمین و آسمانوں کے لیے تخلیق کا لفظ استعمال فرمایا۔ اندھیروں اور روشنی کے لیے ﴿جَعَلَ﴾ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ شاید اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو جو موجودہ سائنس دانوں نے ہمارے سامنے پیش کی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے جس طرح زمین ایک کرَّہ ہے اسی طرح سورج چاند اور بے شمار کرّہ جات ہیں۔ جس طرح سورج کے عکس سے چاند روشن ہوتا ہے اسی طرح بلندی پر جاکر دیکھیں تو زمین چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور ہر کرّہ ایک دوسرے کو روشن کیے ہوئے ہے۔ پھر اندھیرے کے لیے جمع کا لفظ استعمال کیا اور روشنی کو واحد قرار دیا۔ اس لیے اکثر مفسرین نے واضح فرمایا کہ اندھیرے کئی قسم کے ہیں اور روشنی ایک ہی ہوتی ہے۔ ظلمات سے مراد مختلف قسم کی گمراہیاں ہیں اور نور کا مفہوم ہدایت لیا گیا ہے کیونکہ ہدایت ہمیشہ سے ایک ہی رہی ہے اور گمراہی ہر دور میں اپنا روپ بدلتی رہتی ہے۔ لفظ ظلمات کو پہلے اس لیے لایا گیا یہ کائنات پہلے دھواں کی شکل میں تھی جیسا کہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے۔ اور موجودہ سائنس بھی اس کی تائید کر رہی ہے۔ الانعام
2 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : جس میں توحید کے دلائل بیان کیے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ حدیث شریف کے حوالے سے پہلی آیت میں بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان میں سب سے پہلے مٹی کو پیدا فرمایا۔ اب ارشاد ہوا کہ اے انسان ہم نے اسی مٹی سے تمھیں پیدا کیا ہے۔ تخلیق انسانیت کے پہلے مرحلہ کا ذکر کرنے کے بعد اجل کا ذکر کیا ہے۔ اجل کا معنی وہ مدت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان اور ہر چیز کی مقرر کر رکھی ہے۔ جسے دو حصوں میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلی اجل سے مراد انسان اور ہر چیز کی ابتدا اور موت ہے دوسری اجل کا مفہوم قیامت لیا گیا ہے دونوں قسم کی اجل کا ایک وقت مقرر ہے جس میں ایک لمحہ کی تاخیر نہیں ہو سکتی اور دنیا کا کوئی سائنس دان اس اجل کی مدت کو نہیں پا سکتا۔ یہاں انسان کو اس کی تخلیق کے ساتھ اس کی اصلیت بتائی گئی ہے کہ اے انسان ! تو جو کچھ بھی ہوجائے تیری اصلیت مٹی ہے۔ اور بالآخر تجھے اسی میں جانا ہے دوسرے لفظوں میں انسان کی تخلیق سے لے کر اس کی موت اور پھر قیامت کے دن اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں پیش ہونے میں کوئی شک نہیں کیا جا سکتا لیکن صد حیف ہے ایسے انسان پر جو نہ صرف اپنی ابتدا اور انجام کو بھول چکا ہے بلکہ وہ خالق حقیقی کے بارے میں بھی شک کرتا ہے۔ (عَن أَبِیْ مُوسَی الْأَشْعَرِیِ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْہُمْ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ وَالسَّہْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ)[ رواہ ابو داود : کتاب السنہ، باب فی القد ر] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک مٹھی سے پیدا کیا۔ جو اس نے ساری زمین سے لی تھی تو آدم کی اولاد زمین کے مطابق ہوئی۔ ان میں سرخ، سفید، سیاہ اور ان کی درمیانی رنگت کے لوگ ہیں ان میں کچھ سخت اور کچھ نرم طبیعت کے لوگ ہیں اسی طرح کچھ نیک اور کچھ بد ہیں۔“ (عَن ابْنِ عُمَرَ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ () خَطَبَ النَّاسَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَقَال النَّاسُ بَنُو آدَمَ وَخَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ مِنْ تُرَابٍ) [ رواہ الترمذی : کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الحجرات] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم (ﷺ) نے فتح مکہ کے موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا فرمایا۔“ ﴿خَلَقَ الإِْنسَانَ مِن صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ﴾[ سورۃ الرحمن :14] ” اس نے انسان کو ٹھیکری کی طرح بجنے والی مٹی سے پیدا کیا“ ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِْنسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُوْنٍ﴾[ سورۃ الحجر :26] ” اور ہم نے انسان کو گلے سڑے گارے، کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا“ ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِْنسَانَ مِن سُلَالَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ﴾[ سورۃ المؤمنون :12] ” اور ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔“ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ (رض) قَالَ خَطَّ النَّبِیُّ () خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا فِی الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْہُ، وَخَطَّ خُطُطًا صِغَارًا إِلَی ہَذَا الَّذِی فِی الْوَسَطِ، مِنْ جَانِبِہِ الَّذِی فِی الْوَسَطِ وَقَالَ ہَذَا الإِنْسَانُ، وَہَذَا أَجَلُہُ مُحِیطٌ بِہِ أَوْ قَدْ أَحَاطَ بِہِ وَہَذَا الَّذِی ہُوَ خَارِجٌ أَمَلُہُ، وَہَذِہِ الْخُطُطُ الصِّغَارُ الأَعْرَاضُ، فَإِنْ أَخْطَأَہُ ہَذَا نَہَشَہُ ہَذَا، وَإِنْ أَخْطَأَہُ ہَذَا نَہَشَہُ ہَذَا )[ رواہ البخاری : باب فِی الأَمَلِ وَطُولِہِ ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی (ﷺ) نے چوکور خط کھینچا اور ایک خط اس کے درمیان میں سے کھینچا جو چوکور خط سے باہر نکل رہا تھا اور اس کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے اور خط کھینچے آپ نے فرمایا درمیان والا خط انسان ہے اور چاروں طرف سے اس کی اجل اسے گھیرے ہوئے ہے اور یہ جو خط باہر نکل رہا ہے یہ اس کی حرص ہے اور چھوٹے چھوٹے جو خطوط ہیں یہ اس کی خواہشات ہیں اگر ایک سے بچے تو دوسری خواہش دامن تھام لیتی ہے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مٹی سے پیدا کیا۔ 2۔ ہر نفس کی موت وحیات کا ایک وقت مقرر ہے۔ 3۔ قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ تفسیر بالقرآن : ہر چیز کا وقت مقرر ہے : 1۔ ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ (الاعراف :34) 2۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو وقت مقررہ تک ڈھیل دیتا ہے۔ (ھود :104) 3۔ سورج اور چاند اپنے مقررہ وقت کے پابند ہیں۔ (الرعد :2) 4۔ رات اور دن اپنے وقت کے پابند ہیں۔ (الزمر :5) 5۔ جب کسی کی اجل آجائے تو اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی۔ ( یونس :49) الانعام
3 فہم القرآن : (آیت 3 سے 4) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : توحید کے دلائل کا تذکرہ جاری ہے۔ اس سے پہلی آیت میں انسان کی تخلیق اس کی موت و حیات کا ذکر تھا۔ اب اللہ تعالیٰ یہ بتلانا چاہتا ہے کہ اے انسان تجھے ہوش کے ناخن لینے اور اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کو پیدا کرنے کے بعد الگ تھلگ ہو کر گوشہ نشین نہیں ہوا۔ بلکہ جس طرح وہ زمین و آسمان کے چپہ چپہ اور ذرہ ذرہ سے واقف اور ان کے نظام کو سنبھالے ہوئے ہے اسی طرح وہ انسان کی جلوت و خلوت اور ہر قسم کی نقل و حرکت سے واقف ہے۔ کسب کا لفظ استعمال فرما کر انسان کے کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اسے اپنے فکر و عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے کردار سے پوری طرح واقف ہے۔ تخلیق کائنات کا پہلے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اے انسان ! اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ذات کبریا ہے جو لامحدود و سعتوں کی حامل زمین جو تہ در تہ سات طبقات پر مشتمل ہے اور آسمان جو اپنی وسعت و کشادگی اور رفعت وبلندی کے اعتبار سے انسانی تخیلات سے ماوراء ہے جب ان کے ایک ایک ذرّے پر اللہ تعالیٰ کنٹرول کیے ہوئے ہے تو تجھے بھی غور کرنا چاہیے کہ تیری جلوت و خلوت، اچھی اور بری حرکت۔ اللہ تعالیٰ کے اختیار سے باہر نہیں ہو سکتی یہ تو اس کی حکمت بالغہ اور ابدی فیصلے کا نتیجہ ہے کہ اس نے انسان کو ایک مدت معینہ تک ڈھیل دے رکھی ہے لیکن انسان کی کوتاہ بینی کا عالم یہ ہے کہ وہ چار سو پھیلی ہوئی اس کی قدرت کی نشانیوں سے اعراض اور انحراف کرتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ جب بھی انسان کے سامنے انبیاء (علیہ السلام) نے حق پیش کیا تو انسانوں کی غالب اکثریت نے اس کی تکذیب کی۔ اس تکذیب کا نتیجہ عنقریب ان کے سامنے آجائے گا جو اللہ تعالیٰ کی پکڑ کی صورت میں ہوگا۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تجلی فرمائی اس وقت وہ اندھیری رات میں پتھر پر چلنے والی چیونٹی کو دیکھ رہا تھا دس فرسخ کے فاصلے سے۔“ [ (الشفا) بحوالہ ابن کثیر] الانعام
4 الانعام
5 فہم القرآن : (آیت 5 سے 6) ربط کلام : پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو توحید اور اس کے دلائل اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں سے اعراض، ان کی تکذیب کرنے اور ان کا مذاق اڑانے سے منع فرمایا تھا۔ اب افتراء اور استہزاء پر ان کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ کفار اور مکذّبین کو عذاب کی وعید سنانا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان سے پہلے عاد، ثمود، قوم فرعون اور قوم لوط کو ہلاک کردیا گیا۔ جنھوں نے اس گھمنڈ کے ساتھ تکذیب کی کہ ہم بہت طاقتور، اور مالدار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جرائم کی وجہ سے ان کی پکڑ کی اور ان کو ختم کرکے ان کی جگہ دوسری قوم کھڑی کردی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے جو قوم اپنے رسول کی تکذیب اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتی ہے۔ اللہ اسے ملیا میٹ کردیتا ہے۔ قرن : کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ مال اور طاقت ان کے کچھ کام نہ آئے، ایک نسل یا کسی قوم کا دور مدت سو سال بیان کی گئی ہے۔ (رازی) نبی (ﷺ) نے حضرت عبداللہ بن بسر (رض) سے فرمایا تھا تم ایک قرن زندہ رہو گے۔ تو وہ سو سال زندہ رہے۔ (الجامع لاحکام القرآن) (عن عِمْرَانَ بن حُصَیْنٍ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () خَیْرُکُمْ قَرْنِی ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ قَالَ عِمْرَانُ لَا أَدْرِی أَذَکَرَ النَّبِیُّ () بَعْدُ قَرْنَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً) [ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب لایشہد علی شہادۃ جور] ” حضرت عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا : تم میں سے بہترین زمانہ میرا ہے پھر ان کے بعد آنے والے لوگ پھر ان کے بعد آنے والے لوگ درجہ بدرجہ ہیں۔ عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں مجھے یہ بات یاد نہیں نبی اکرم (ﷺ) نے اپنے بعد دوزمانوں کا تذکرہ کیا یا تین کا۔“ مسائل : 1۔ کافر اللہ تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑانے والوں کو ضرور سزا دی جائے گی۔ 3۔ جو قوم بھی سرکشی کی راہ اختیار کرے گی اسے خوشحالی و مادی ترقی ہلاکت سے نہیں بچا سکتی۔ تفسیر بالقرآن : تباہ ہونے والی بڑی بڑی اقوام : 1۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام :6) 2۔ جب تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس :13) 3۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ:5) 4۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ:6) 5۔ فاسق ہلاک کردیے گئے۔ (الاحقاف :35) 6۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف :136) 7۔ قوم لوط کو زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب لے جاکر الٹا دیا گیا۔ (ھود :82) الانعام
6 الانعام
7 فہم القرآن : ربط کلام : قرآن مجید کے انتباہ اور پہلی اقوام کے انجام بیان کرنے کے باوجود کفار کے بے جا مطالبات اور ان کا جواب۔ اہل کفر انبیاء ( علیہ السلام) سے ایسے مطالبات کرتے تھے جن کا دعویٰ کسی نبی (ﷺ) نے نہیں کیا تھا اس کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہنے والے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ ہم اس وقت تک تیری تائید نہیں کرسکتے۔ جب تک تختیوں کی شکل میں ہمارے پاس تورات نہ لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تختیوں کی شکل میں آسمان سے تورات نازل فرمائی۔ مطالبہ پورا ہونے کے باوجود بنی اسرائیل کی اکثریت نے تورات پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ یہی حال اہل مکہ کا تھا۔ وہ آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم تب ایمان لائیں گے کہ جب ہم پر قرطاس یعنی اوراق کی شکل میں کتاب نازل کی جائے اور ہم اس کو اپنے ہاتھوں سے اچھی طرح ٹٹول کر یقین کرلیں۔ تب جا کر ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اہل کفر کا شروع سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب ان کا مطالبہ پورا ہوجاتا تو وہ اسے جادو قرار دیتے تھے۔ یہی اہل مکہ نے کردار پیش کیا َ۔ جب نبی محترم (ﷺ) سے چاند کو دو ٹکڑے کرنے کا مطالبہ کیا۔ آپ کے اشارہ کرنے پر اللہ کے حکم سے چاند دو ٹکڑے ہوا تو کہنے لگے یہ شخص تو بہت بڑا جادو گر ہے۔ ایسا ہی ان کا رد عمل آپ پر نازل کیے گئے دوسرے معجزات کے بارے میں سامنے آیا۔ اس کے بعد انھوں نے یہ مطالبہ کر ڈالا کہ اس نبی کے ساتھ ایک فرشتے کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی گئی جو جگہ جگہ اس کی تائید کرتا اور اس کا انکار کرنے والوں کو موقع پر سزا دیتا۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ اگر ہم فرشتے کو نازل کرتے تو پھر مہلت دیے بغیر موقع پر ہی مجرموں کو سزا دے دی جاتی۔ جس طرح کہ قوم لوط کے پاس فرشتے آئے اور انھوں نے لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو بستی سے نکل جانے کا موقع فراہم کرنے کے بعد منکروں کو تہس نہس کردیا۔ ﴿قَالُوْا یَا لُوْطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْٓا إِلَیْکَ فَأَسْرِ بِأَہْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّیْلِ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ أَحَدٌ إِلَّا امْرَأَتَکَ إِنَّہُ مُصِیبُہَا مَا أَصَابَہُمْ إِنَّ مَوْعِدَہُمُ الصُّبْحُ أَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیلٍ مَّنْضُوْدٍ مُسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ہِیَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ﴾ [ ہود : 81تا83] ” کہنے لگے : اے لوط ! ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں یہ لوگ تمہار اکچھ نہ بگاڑ سکیں گے تم رات کا کچھ حصہ باقی ہو تو اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے نکل جا ؤاور تم میں سے کوئی بھی مڑ کر نہ دیکھے البتہ تمہاری بیوی پر وہی کچھ گزرنا ہے جو ان پر گزرے گا۔ ان پر عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔ کیا اب صبح قریب ہی نہیں؟ پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اس بستی کا اوپر کا حصہ نچلا حصہ بنا دیا پھر ان پر کھنگر قسم کے تہ بہ تہ پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں سے نشان زدہ تھے اور یہ خطہ ان ظالموں سے کچھ دور بھی نہیں۔“ مسائل : 1۔ اہل کفر انبیاء کرام (علیہ السلام) سے نت نئے مطالبے کیا کرتے تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے احوال سے بخوبی واقف ہے۔ 3۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانا اہل کفر کا وطیرہ ہے۔ تفسیر بالقرآن : انبیاء (علیہ السلام) پرکفار کے جادو کا الزام : 1۔ آل فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گرکا الزام لگایا۔ (القصص :36) 2۔ کفار نے تمام انبیاء (علیہ السلام) کو جادوگر اور دیوانہ قرار دیا۔ (الذاریات :52) 3۔ کفار کے پاس حق بات آئی تو انھوں نے اسے جادو قرار دیا۔ (سباء :43) 4۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو انھوں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ ہم اسے نہیں مانتے۔ (الزخرف :30) 5۔ نبی اکرم (ﷺ) کو اہل مکہ نے جادوگر کہا۔ ( الصف :6) 6۔ نبی (ﷺ) کو جادو زدہ کہا گیا۔ (الفرقان : ٨۔ بنی اسرائیل :47) 7۔ کیا قرآن جادو ہے یا تم نہیں دیکھتے۔ (الطور :15) 8۔ حضرت صالح اور حضرت شعیب کو جادو زدہ کہا گیا۔ (الشعراء : 153۔185) الانعام
8 فہم القرآن : (آیت 8 سے 9) ربط کلام : کفار کا دوسرا مطالبہ : سورۂ یونس آیت 2میں بیان ہوا ہے کہ لوگوں نے ہمیشہ اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے انبیاء کو کیوں مبعوث کیا ہے؟ سورۃ الفرقان کی آیت 7 میں کفار کے اس تعجب کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ یہ کیسا رسول ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ایک فرشتہ نازل کرتا جو ہر مقام پر اس کی تائید کرتا۔ یہاں بھی کفار کے اسی مطالبہ کا اعادہ کیا گیا ہے۔ جس کے دو جواب دیے گئے ہیں کہ اگر ہم اپنے رسول کی تائید میں فرشتہ نازل کرتے اور اسکے مقابلہ میں لوگ انکار کرتے تو ان کو کبھی مہلت نہ دی جاتی۔ دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اگر فرشتہ کو رسول بنایا جاتا تو وہ بھی انسان کی شکل میں ہی رسول ہوتا اگر ہم ایسا کرتے تو یہ لوگ یہی یاوا گوئی کرتے کہ ہم انسان ہیں اور ہمارے لیے ہمارے جیسا انسان ہی رسول ہونا چاہیے تھا۔ انسانوں میں رسول بنانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ وہ انسانوں کی طرح اپنی حاجات کو پورا کرتے ہوئے لوگوں کے سامنے بہترین نمونہ ثابت ہوں، تاکہ لوگ یہ بہانہ نہ بنا سکیں کہ تم تو فرشتے ہو جبکہ ہم حاجات میں پھنسے ہوئے انسان ہیں لہٰذا ہم شریعت پر کس طرح عمل پیراہو سکتے ہیں؟ اس بہانے کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیاء ( علیہ السلام) مبعوث فرمائے وہ سارے بنی نوع انسان میں سے تھے تاکہ لوگوں کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہے۔ افسوس آج مسلمانوں میں کئی لوگ نبی (ﷺ) کو فرشتہ یعنی نوری مخلوق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو صریح طور پر قرآن مجید کی آیات کے الٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت سے نوازے۔ آمین ﴿أَکَان للنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَیْنَا إِلٰی رَجُلٍ مِّنْہُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِینَ اٰمَنُواْ أَنَّ لَہُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عندَ رَبِّہِمْ قَالَ الْکَافِرُونَ إِنَّ ہٰذَا لَسٰاحِرٌ مُّبِینٌ﴾[ یونس :2] ” کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ انہیں میں سے ایک آدمی پر ہم نے وحی کی کہ وہ لوگوں کو ڈرائے اور ایمان لانے والوں کو یہ خوشخبری دے کہ ان کے رب کے ہاں ان کی حقیقی عزت اور مرتبہ ہے تو کافروں نے کہہ دیا کہ یہ صاف جادو ہے۔“ ﴿وَقَالُوا مالِ ہٰذَا الرَّسُولِ یَأْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِی فِی الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُونَ مَعَہُ نَذِیرًا﴾ [ الفرقان :7] ” وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھر تا ہے اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور لوگوں کو ڈرایا کرتا ؟“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے ہی رسول منتخب فرماتا رہا ہے۔ 2۔ اللہ کی آیات آجانے کے بعد لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے۔ 3۔ کھلے معجزے کا انکار کرنا عذاب الٰہی کو دعوت دینا ہے۔ تفسیر با لقرآن : تمام انبیاء (علیہ السلام) بشر اور بندے تھے: 1۔ انبیاء ( علیہ السلام) کا اقرار کہ ہم بشر ہیں۔ (ابراہیم :11) 2۔ ہم نے آپ سے پہلے جتنے نبی بھیجے وہ بشر ہی تھے۔ (النحل :43) 3۔ نبی آخر الزماں (ﷺ) کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح کا بشر ہوں۔ (الکہف : 110، حٰم السجدۃ:6) 4۔ ہم نے آدمیوں کی طرف وحی کی۔ (یوسف :109) 5۔ کسی بشر کو ہمیشگی نہیں ہے۔ (الانبیاء :34) 6۔ کفار کو ان کے رسولوں نے کہا ہم تمہاری طرح بشر ہیں۔ (ابراہیم :11) 7۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ تو ہماری طرح بشر ہے اور ہم تجھے جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ (الشعراء :186) الانعام
9 الانعام
10 فہم القرآن : (آیت 10 سے 11) ربط کلام : کفار کا انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ مذاق اور اس کا انجام۔ اہل کفر انبیاء کرام (علیہ السلام) سے صرف اوٹ پٹانگ مطالبات ہی نہیں کیا کرتے تھے بلکہ انھیں ہر طرح زچ اور پریشان کرنے کے ہتھکنڈے بھی استعمال کرتے تھے۔ ان ہتھکنڈوں اور کٹ حجتوں میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کی شخصیات کو تضحیک کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی نبوت کو مذاق اور ان کے کام کو کھیل تماشا سمجھتے تھے۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ان سے کہنے لگی کہ کیا توہمارے پاس کوئی حق اور سچ کی بات لایا ہے یا کہ محض کھیل تماشا کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کے دلائل دیتے ہوئے فرمایا کہ تمھارے رب کی ہی بات کہہ رہا ہوں وہ رب جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اور میں تم پر شہادت قائم کر رہا ہوں۔ (الانبیاء : 55، 56) حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ساڑھے نو سو سال آپ کو ستایا چند لوگوں کے سوا باقی لوگ ان کی مخالفت اور کفر پر ڈٹے رہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں بد دعا کی اے میرے رب اب ایسا عذاب نازل فرما کہ کفار کا ایک فرد بھی نہ بچے۔ اس کے جواب میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم ہوا آپ ہماری نگرانی اور وحی کے مطابق ایک کشتی تیار کریں۔ جب نوح (علیہ السلام) کشتی تیار کر رہے تھے تو ان کی قوم کے بڑے لوگ دیکھ کر انھیں مذاق کرتے تھے۔ جس کے جواب میں جناب نوح (علیہ السلام) فرماتے کہ وقت آنے والا ہے۔ جس طرح ہمیں مذاق کرتے ہو ہم بھی تمھیں اسی طرح مذاق کریں گے۔ پہلی اقوام کی طرح کافر اور منافق بھی نبی (ﷺ) کو مذاق کرتے تھے۔ منافقوں کے بارے میں تو یہاں تک موجود ہے جب آپ پر کسی نئی سورت کا نزول ہوتا تو منافق آپ کو استہزاء کا نشانہ بناتے۔ جب آپ انھیں سمجھاتے تو وہ کہتے ہم تو محض شغل اور دل لگی کے لیے ایسی بات کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ کیا تم اللہ کی ذات اور اس کے ارشادات اور اس کے معزز رسول سے مذاق کرتے ہو؟ (التوبۃ: 64تا65) یہاں ایسے لوگوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اے رسول ! اپنا عزم اور حوصلہ بلند رکھیے آپ سے مذاق ہونا کوئی عجب کی بات نہیں آپ سے پہلے انبیاء کا تمسخر اڑایا جاتا رہا ہے جس طرح پہلے لوگوں کو ان کے کردار کی سزا ملی اسی طرح آپ کو مذاق کرنے والے بھی اپنے انجام سے دو چار ہوں گے۔ لہٰذا آپ فرما دیجیے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو۔ کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے اور انبیاء کو مذاق کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔ مسائل : 1۔ پہلی اقوام کے انجام سے عبرت و نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔ 2۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلانے والوں کو نشانۂ عبرت بنا دیا گیا۔ تفسیر بالقرآن : انبیاء اور ” اللہ“ کی آیات کو جھٹلانے والے لوگ : 1۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ سے پہلے بھی کئی رسول جھٹلائے گئے۔ (آل عمران :184) 2۔ آپ کو اگر انھوں نے جھٹلادیا ہے آپ فرما دیں میرے لیے میرے عمل اور تمھارے لیے تمھارا عمل ہے۔ (یونس :41) 3۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ فرما دیں تمھارا رب وسیع رحمت والا ہے۔ (الانعام :147) 4۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو جھٹلائے گئے ان سے پہلے حضرت نوح وغیرہ۔ (الحج :42) 5۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلایا ہے۔ تو ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ (الفاطر :25) 6۔ وہ لوگ جو ہماری آیات کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور ان کی تکذیب کرتے ہیں وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (البقرۃ:39) 7۔ انہوں نے کہا کیا بشر ہم کو ہدایت دے گا انہوں نے کفر کیا اور ایمان لانے سے اعراض کیا۔ (التغابن :6) 8۔ انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو انہیں ہلاک کردیا گیا۔ (العنکبوت :37) الانعام
11 الانعام
12 فہم القرآن : ربط کلام : انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ استہزاء کرنے والوں کو عبرت آموزی کے لیے زمین میں چل پھر کر نشانات عبرت دیکھنے کا حکم دینے کے بعد بتایا گیا ہے کہ جس زمین پر تم چلتے اور آسمان کے نیچے رہتے ہو۔ وہ اللہ کی ملک ہیں۔ لہٰذا کفار اور مشرکین سے چند سوال کیے جاتے ہیں۔ نبی اکرم (ﷺ) کو ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے اعراض کرنے اور آپ سے استہزاء کرنے والوں سے پوچھیے کہ یہ زمین و آسمان کس کی ملکیت اور کس کے کنٹرول میں ہیں ؟ کیونکہ اہل مکہ کا عقیدہ تھا کہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا اور ان پر کلی اختیار رکھنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہٰذا ان کے جواب کا انتظار کرنے کے بجائے آپ کو حکم ہوا کہ بےدھڑک فرما دیں کہ یہ اللہ کی ملک ہیں اور اسی کے اقتدار اور اختیار کے تابع ہیں۔ انبیاء ( علیہ السلام) کا مذاق اڑانے والے کھلے پھر رہے ہیں تو اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت سے باہر ہیں بلکہ یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اپنے آپ پر لازم کر رکھا ہے کہ وہ لوگوں کو ایک مدت تک مہلت دے گا۔ البتہ ایک دن ضرور آئے گا، جس میں سب لوگوں کو جمع کیا جائے گا۔ اس دن اللہ کے منکر ایسے خسارے میں ہوں گے جس کی تلافی نہیں کر پائیں گے۔ بعض لوگ اس آیت کریمہ کو سامنے رکھتے ہوئے اعتراض کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحمت غالب اور واجب کرلی ہے اور وہ ماں کی مامتا سے زیادہ مہر بان ہے تو پھر اس کا اپنے بندوں کو عذاب دینا چہ معنی دارد۔ مفسر قرآن امام رازی (رض) اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ماں اپنے بچے پر اس وقت تک ہی مہربان ہوتی ہے جب بچہ اپنی ماں کی مامتا کو تسلیم کرتا ہے اگر کوئی ماں کے ہونے کا کلیتاً انکار کرے اور کسی اور کو ماں کا درجہ دے دے تو کوئی غیور ماں ایسے بچے پر ترس کھانے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ مشرک اور کافر کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے۔ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَدِمَ عَلَی النَّبِیِّ () سَبْیٌ فَإِذَا امْرَأَۃٌ مِّنْ السَّبْیِ قَدْ تَحْلُبُ ثَدْیَہَا تَسْقِی إِذَا وَجَدَتْ صَبِیًّا فِی السَّبْیِ أَخَذَتْہُ فَأَلْصَقَتْہُ بِبَطْنِہَا وَأَرْضَعَتْہُ فَقَالَ لَنَا النَّبِیُّ () أَتُرَوْنَ ہٰذِہٖ طَارِحَۃً وَلَدَہَا فِی النَّارِ قُلْنَا لَا وَہِیَ تَقْدِرُ عَلٰی أَنْ لَا تَطْرَحَہُ فَقَال اللّٰہُ أَرْحَمُ بِعِبَادِہٖ مِنْ ہٰذِہٖ بِوَلَدِہَا) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ ومعانقتہ] ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (ﷺ) کے پاس کچھ قیدی لائے گئے۔ ان قیدیوں میں ایک عورت کی چھاتی سے دودھ بہہ رہا تھا۔ جونہی اس نے اپنے بچے کو پایا اس کو پکڑتے ہوئے اس نے اپنے سینے سے لگا کر اسے دودھ پلانا شروع کردیا۔ نبی اکرم (ﷺ) نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تمھارا کیا خیال ہے یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی ؟ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس عورت کی محبت سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے۔“ مسائل : 1۔ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں 2۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحمت کو واجب کرلیا ہے 3۔ تمام لوگوں کو قیامت کے دن اکٹھا کیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کی رحمت بے کنار ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔ (الاعراف :156) 2۔ قیامت کے منکر اللہ کی رحمت سے مایوس ہوں گے۔ (العنکبوت :23) 3۔ دن اور رات کو اللہ نے اپنی رحمت سے تمھارے لیے پر سکون بنایا ہے۔ (القصص :73) 4۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ مخصوص کرلیتا ہے۔ (البقرۃ:105) 5۔ ایماندار صالح اعمال کرنے والوں کو اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ (الجاثیۃ :30) الانعام
13 فہم القرآن : ربط کلام : صرف زمین و آسمان اللہ کی ملکیت نہیں بلکہ ان کی گردش کے نتیجہ میں رات اور دن کا وجود اور ظہور، تاریکیوں اور روشنیوں میں رہنے والی ہر چیز اس کی ملکیت اور اس کے اختیار میں ہے۔ مشرکین مکہ کے الزامات میں نبی (ﷺ) کی ذات پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ اور توحید کا پرچار اس لیے کیا ہے تاکہ آپ اس کے بدلے میں دنیا کا مال و متاع جمع کرسکیں۔ اس کے لیے ایک موقع پر انھوں نے آپ کو پرکشش مراعات پیش بھی کی تھیں۔ جن میں آپ کو حاکم تسلیم کرنا، نکاح کے لیے خوبصورت لڑکی پیش کرنے کے ساتھ انھوں نے آپ کے حسب منشاء دولت جمع کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ کچھ مفسرین کے خیال کے مطابق یہ اسی پیشکش کا جواب ہے کہ تم لوگ توحید باری تعالیٰ کے بدلے میں جو پیشکشیں کرتے ہو۔ ذرا سوچو تو سہی یہ زمین و آسمان، رات اور دن ان میں رہنے اور بسنے والی ہر چیز کس کی ملکیت ہے؟ اس میں نبی (ﷺ) کے لیے تسلی ہے کہ جس طرح رات کے بعد دن کا آنا یقینی ہے ایسے ہی مشکلات کے بعد آسانیوں اور کامیابیوں کا حاصل ہونا بھی یقینی ہے۔ جیسے رات کی تاریکی اور دن کی روشنی لازم و ملزوم ہیں ایسے ہی حق و باطل کی کشمکش بھی لازم و ملزوم ہے لہٰذا آپ حوصلہ پست کرنے کے بجائے اپنا کام جاری رکھیں۔ جس اللہ نے آپ کو اپنا پیغام رساں بنایا ہے۔ وہ اللہ آپ کے اخلاص اور آپ کی محنت شاقہ جاننے کے ساتھ آپ کے مخالفوں کی ہر بات کو سننے والا اور ہر حرکت کو جاننے والا ہے۔ مسائل : 1۔ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے کنٹرول میں ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کا ظاہر و باطن جانتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کا علم ساری کائنات پر حاوی ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ ہر بات جانتا اور سنتا ہے : 1۔ کیا تم اللہ کے سواان کی عبادت کرتے ہو ؟ جو تمھارے نفع و نقصان کا مالک نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (المائدۃ:76) 2۔ اللہ سے ڈر جاؤ اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (الحجرات :1) 3۔ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی چیز نہیں وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (الشوریٰ:11) الانعام
14 فہم القرآن : (آیت 14 سے 16) ربط کلام : مشرکین اور کفار سے دوسرا سوال اور اس کا جواب : جب زمین اور آسمانوں کی تخلیق اور ملکیت اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر کسی کو اس کے ماحول اور ضرورت کے مطابق روزی پہنچانے والا ہے اور سب کو کھلاتا پلاتا ہے۔ جبکہ وہ خود کھانے پینے کا محتاج نہیں تو ایسے خالق، مالک اور رازق کو چھوڑ کر اس کے سوا کسی دوسرے کو کس طرح اپنا خیر خواہ سمجھوں ؟ اگر وہ کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ نہ کرے تو باپ کی شفقت اور ماں کا رحم بھی آدمی کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ اس لیے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے تابع کروں اور مشرکوں کے ساتھ لاتعلقی کا اظہار کروں۔ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو زمین و آسمان کا خالق، مالک اور کسی دوسرے کو روزی رساں اور اس کے سوا مہربان تسلیم کرلوں تو میں اس نافرمانی کے بدلے عذاب عظیم میں مبتلا ہوں گا جس سے میں ڈرتا ہوں۔ یاد رکھیے کہ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے اس پر اس کا بڑا کرم ہوا۔ اور یہ ایمان دارکے لیے کھلی کامیابی ہے۔ (عن أبی ہُرَیْرَۃَ قَالَ (رض) سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ () یَقُولُ لَنْ یُدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ قَالُوا وَلَا أَنْتَ یَا رَسُول اللّٰہِ قَالَ لَا وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ یَتَغَمَّدَنِی اللّٰہُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَۃٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت] ” حضرت ابو ہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم (ﷺ) سے سنا آپ فرما رہے تھے جنت میں کسی کو بھی اس کے اعمال داخل نہیں کریں گے صحا بہ کرام (رض) نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی محترم (ﷺ) نے فرمایا ہاں مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانک لے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ ساری کائنات کو رزق دینے والا ہے۔ 2۔ اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہنا چاہیے۔ 3۔ جہنم کے عذاب سے بچنا اللہ کی رحمت کی نشانی ہے۔ 4۔ جس پر اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے وہ کامیاب ہوجاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ ہی انسان کو کھلاتا پلاتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ ہی رازق ہے۔ (الذاریات :58) 2۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (ا لسباء :39) 3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق طلب نہیں کرتا بلکہ وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ :132) 4۔ اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ (البقرۃ:212) 5۔ اللہ تعالیٰ مہاجروں کو ضرور اچھا رزق دے گا۔ (الحج :58) 6۔ اللہ تعالیٰ چوپاؤں اور تمام انسانوں کو رزق دیتا ہے۔ (العنکبوت :60) 7۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو کیونکہ اللہ تمھیں اور انھیں بھی رزق دینے والا ہے۔ (الانعام :151) الانعام
15 الانعام
16 الانعام
17 فہم القرآن : (آیت 17 سے 18) ربط کلام : اللہ تعالیٰ آخرت کے دن ہی جزا و سزا اور رحم و کرم کا مالک نہیں بلکہ دنیا میں بھی خیر و شر کا اختیار رکھنے والا ہے۔ خیر و شر کے اختیار کا ذکر کرتے ہوئے براہ راست نبی (ﷺ) کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو زمین و آسمان میں کوئی ہستی نہیں جو نقصان سے آپ کو بچا سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو بھلائی اور بہتری عطا کرنا چاہے تو زمین و آسمان میں کوئی طاقت نہیں جو اس میں رکاوٹ ڈال سکے آپ کو براہ راست مخاطب کرنے کا معنی یہ ہے کہ جب رسول معظم (ﷺ) اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں تو دنیا میں کون ہے جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا سکے۔ یہ ایسا عقیدہ ہے جو مسلمان کو اللہ تعالیٰ کے سوا ہر کسی سے بے نیاز کردیتا ہے اسی عقیدہ کی بنیاد پر مجاہد میدان کار زار میں اترتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ نے میری حفظ و امان کا ذمہ لیا ہوا ہے۔ اس وقت تک دشمن میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور یہی عقیدہ اخلاص کی دولت عطا کرتا ہے۔ جس کی بنیاد پر ہر مسلمان دوسرے مسلمان سے پر خلوص محبت کا ناتہ جوڑتا ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ خیر و شر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہی اللہ اپنے بندوں کو نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے فیصلے کے سامنے کسی جابر کا جبر اور کسی صالح کی صالحیت رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ وہ اپنے بندوں پر پوری طرح قادر ہے۔ وہ کسی کو خیر پہنچانے اور عذاب دینے کی حکمت سے خوب واقف ہے۔ (عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَی الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ کَتَبَ مُعَاوِیَۃُ (رض) إِلَی الْمُغِیرَۃِ اُکْتُبْ إِلَیَّ مَا سَمِعْتَ النَّبِیَّ () یَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاۃِ فَأَمْلٰی عَلَیَّ الْمُغِیرَۃُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ () یَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاۃِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللَّہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ) [ رواہ البخاری : کتاب القدر، باب لامانع لما اعطی اللہ] ” مغیرہ بن شعبہ کے غلام وراد کہتے ہیں معاویہ (رض) نے مغیرہ کی جانب لکھا کہ مجھے لکھ کر بھیجئے۔ جو آپ نبی اکرم (ﷺ) سے نماز کے بعد سنا کرتے تھے۔ حضرت مغیرہ (رض) نے مجھ سے لکھوایا کہ میں نے نبی اکرم (ﷺ) کو نماز کے بعد یہ الفاظ کہتے ہوئے سنا۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ ایک ہی ہے اس کا کوئی شریک نہیں اے اللہ جسے تو دینا چاہتا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی نہیں دینے والا۔ اور تیرے ہاں کسی بڑے کی بڑائی کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مکمل اختیار رکھنے والا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی مصیبت دور کرنے والا نہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بڑا صاحب حکمت ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے باخبر ہے۔ 5۔ اللہ کے علاوہ کوئی بھلائی عطا نہیں کرسکتا۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ ہی مشکل کشا، حاجت روا ہے : 1۔ اللہ ہی کو پکارو وہی تکلیف دور کرتا ہے۔ (الانعام :41) 2۔ اگر آپ کو کوئی تکلیف ہوجائے تو سوائے اللہ کے اسے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ (یونس :107) 3۔ اللہ کے سوا کوئی تکلیف دور کرنے والا نہیں۔ (الاسراء :56) 4۔ کون ہے جو اللہ کے سوا مجبور کی دعا سننے والا اور مصیبت دور کرنے والا ہے۔ (النمل :62) 5۔ کہہ دیجیے اگر اللہ تعالیٰ نقصان پہچانے پر آئے کیا کوئی نقصان دور کرسکتا ہے۔ (الفتح :11) 6۔ کیا تم ایسے لوگوں کو معبود مانتے ہو جو نفع ونقصان کے مالک نہیں۔ (الرعد :16) الانعام
18 الانعام
19 فہم القرآن : ربط کلام : سابقہ آیات میں نبی (ﷺ) کی نبوت پر کفار کے اعتراضات کا جواب، اس کے دلائل اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور قوت وسطوت ثابت کرنے کے آفاقی اور طبعی دلائل دیے ہیں۔ جو شہادت کا درجہ رکھتے ہیں یاد رہے اللہ تعالیٰ کی شہادت سے بڑھ کر کسی کی شہادت نہیں ہو سکتی۔ توحید کی گواہی سب سے پہلی اور سب سے بڑی گواہی ہے۔ اب ان دلائل پر شہادت قائم کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شہادت سے بڑھ کر کوئی شہادت نہیں ہو سکتی۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ وہی اس کی ابتدا اور انتہا کو جانتا ہے۔ وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور اس پر اقتدار اور اختیار رکھتا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ اس کی شہادت سے بڑھ کر کسی اور کی شہادت ٹھوس اور بڑی نہیں ہوسکتی۔ یاد رہے شہادت کی دو بڑی اقسام ہیں۔ عینی اور یقینی شہادت : عینی شہادت کا معنی ہے کہ واقعہ شہادت دینے والے کے سامنے پیش ہوا ہو اور یقینی شہادت کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے اتنے ٹھوس دلائل ہوں کہ کوئی اس کی تردید نہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ کی شہادت ان دونوں اصولوں کی بنیاد پر کامل اور اکمل حیثیت رکھتی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی شہادت کو شہادت اکبر کا درجہ حاصل ہے۔ لہٰذا نبی (ﷺ) کو حکم ہوا کہ آپ اپنے اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کو شاہد کے طور پر پیش فرمائیں کہ اسی نے آپ پر یہ قرآن وحی فرمایا تاکہ آپ ہر اس شخص کو اس کے برے اعمال کے انجام سے ڈرائیں جس تک قرآن کا پیغام پہنچجائے۔ پھر فرمایا کہ ان سے پوچھیے کیا تم ان دلائل کے باوجود شہادت دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی معبود ہوسکتا ہے ؟ اس سوال کے بعد آپ کو حکم ہوا کہ میں یہ کہنے اور شہادت دینے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی معبود ہوسکتا ہے۔ بلکہ آپ یہ اعلان فرمائیں کہ وہ ایک ہی الٰہ ہے اور میں تمھارے شرک سے برأت کا اعلان کرتا ہوں۔ اس آیت میں توحید کے اثبات کے ساتھ یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ امت مسلمہ کو اللہ تعالیٰ کا پیغام یعنی قرآن مجید لوگوں تک پہنچانے کی ہر ممکن کو شش کرنی چاہیے تاکہ غیر مسلموں پر توحید و رسالت کی شہادت قائم ہو سکے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی ہر گواہی سے بڑی ہے۔ 2۔ قرآن مجیدلوگوں پر اللہ تعالیٰ کی شہادت ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے مبرا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کی شہادت سب سے بڑی اور معتبر ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے۔ (النساء :33) 2۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے۔ (الفتح :28) 3۔ اللہ کی گواہی سے کسی کی گواہی بڑی نہیں ہے۔ (الانعام :19) 4۔ اللہ لوگوں پر گواہ ہے۔ (آل عمران :98) 5۔ نبی پر جو کچھ نازل ہو اللہ تعالیٰ اس پر گواہ ہے۔ (النساء :166) الانعام
20 فہم القرآن: ربط کلام : توحید و رسالت پر آفاقی دلائل دینے اور اللہ تعالیٰ کی شہادت کبریٰ کے بعد اہل کتاب کے زندہ ضمیر اور مصنف مزاج لوگوں کی شہادت کا تذکرہ۔ اہل کتاب کے اس اعتراف کے بارے میں مفسرین نے دو مفہوم لیے ہیں۔ امام رازی (رض) اور ان کے ہمنوا مفسرین کا خیال ہے کہ ” ہ“ کی ضمیر نبی (ﷺ) کی ذات وصفات اور آپ کی رسالت کے متعلق ہے۔ جیسا کہ سورۃ البقرۃ آیت ٤٦ میں رسالت کے بارے میں اہل کتاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ مولانا مودودی (رض) اور کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ یہاں ” ھو“ کی ضمیر توحید کے متعلق ہے کہ جس طرح اہل کتاب نبی (ﷺ) کی ذات اور رسالت کو اپنے بیٹوں سے بڑھ کر جانتے تھے۔ اسی طرح وہ اپنے ضمیر میں اللہ تعالیٰ اور اس کی توحید کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے۔ قرآن مجید کے سیاق و سباق سے دونوں مفاہیم کی تائید ہوتی ہے۔ لہٰذا جس نے توحید و رسالت میں سے کسی ایک کا اعتقاداً یا عملاً انکار کیا، وہ لوگ نقصان پائیں گے۔ حضرت صفیہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میرے والد حیی بن اخطب اور چچا ابو یاسر صبح کے وقت رسول محترم (ﷺ) کی خدمت میں پہنچ کر اسلام کے بارے میں مذاکرات کرتے ہیں۔ انہیں یقین ہوگیا کہ حقیقتاً آپ نبی آخر الزماں (ﷺ) ہیں۔ جب آپ سے گفتگو کے بعد مغرب کے وقت واپس آئے تو نہایت تھکے ماندے دکھائی دے رہے تھے۔ چچا ابو یاسر میرے والد سے پوچھتے ہیں :أَھُوَ ھُوَ ؟” کیا یہی وہ نبی ہے جس کا تذکرہ تورات وانجیل میں پایا جاتا ہے؟“ والد : کیوں نہیں یہ وہی رسول ہے۔ ابو یاسر :أَتَعْرِفُہٗ وَتُثَبِّتُہٗ ؟ ” کیا واقعی تو اسے پہچانتا ہے؟“ والد : ہاں میں اچھی طرح پہچانتاہوں۔ ابویاسر : فَمَافِیْ نَفْسِکَ مِنْہُ ؟ ” پھر آپ کا کیا ارادہ ہے؟“ والد : عَدَاوَۃٌ وَاللّٰہِ مَابَقِیْتُ ” کہ اللہ کی قسم! جب تک زندہ ہوں عداوت کا اظہار کرتا رہوں گا“۔ [ ابن ہشام : شہادۃ عن صفیۃ] امام رازی نے اس ضمن میں عجب واقعہ ذکر کیا ہے لکھتے ہیں کہ جنگ بدر کے موقع پر اخنس بن شریق نے ابو جہل کو لوگوں سے الگ کرکے پوچھا کہ اے ابو الحکم ! یہ بتائیں کہ محمد (ﷺ) اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے یا سچا ؟ ابو جہل نے کہا کہ ابن شریق تجھ پر نہایت ہی افسوس کہ اس میں کیا شک ہے کہ محمد (ﷺ) واقعی اللہ کا سچا رسول ہے۔ اس لیے کہ اس نے آج تک کسی فرد کے ساتھ جھوٹ نہیں بولا۔ لیکن ہماری مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ پہلے ہی بڑے بڑے مناصب اور اعزاز۔ ان کے خاندان کے پاس ہیں۔ جنگ کے موقع پر پرچم اٹھانا، کعبہ کی دربانی اور نگہبانی، لوگوں کوز م زم پلانا اور یہ سب اعزازات ان کے پاس ہیں۔ اگر ہم نے اس کی نبوت کو تسلیم کرلیا تو ہمارے پاس کیا رہ جائے گا۔ مسائل : 1۔ اہل کتاب نبی مکرم (ﷺ) کو پہچاننے کے باوجود ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ 2۔ توحید و رسالت کا انکار کرنا اپنے آپ کو نقصان میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ تفسیر بالقرآن : یہود و نصاریٰ رسول اللہ (ﷺ) کو پہچانتے ہیں : 1۔ اہل کتاب آپ کو پہچانتے تھے۔ (البقرۃ:146) 2۔ انھوں نے نبی کو پہچان لیا ہے۔ (المؤمنون :69) 3۔ اہل کتاب نبی آخر الزمان (ﷺ) کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں۔ (البقرۃ:146) 4۔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ آپ کو پہچانتے ہیں۔ (الانعام :20) الانعام
21 فہم القرآن : ربط کلام : منکرین حق کا نبی (ﷺ) کی نبوت کا انکار کرنا، اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور اپنے باطل نظریات کی تائید کے لیے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا ظلم ہے۔ شریعت کی نظر میں جھوٹ بولنا انتہائی قبیح گناہ ہے۔ اس جرم کی سنگینی میں اس وقت بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے جب کوئی شخص اپنے باطل نظریات کو اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگا کر اسے حق ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ ایسا شخص نہ صرف پرلے درجے کا کذّاب شمارہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین ظالم سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ ذات حق پر جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہی کا راستہ دکھانا انتہائی سنگین جرم ہے۔ ایسے ظالم آخرت میں ہر قسم کی مدد سے محروم ہوں گے اکثر اوقات دنیا میں بھی ناکامی کا منہ دیکھیں گے۔ منکرین حق اللہ تعالیٰ پر درج ذیل جھوٹ بولا کرتے ہیں۔ 1۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرنا اور ان پر جھوٹا ہونے کا الزام لگانا۔ 2۔ معبودان باطل کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی خدائی میں شریک کرنا۔ 3۔ زندہ اور فوت شدہ بزرگوں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا اور پھیلانا کہ ان کی بزرگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے اختیارات میں شریک بنا لیا ہے۔ 4۔ اپنے گناہوں کے بارے میں یہ کہنا کہ ایسا کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں اجازت دے رکھی ہے۔ (الاعراف :28) 5۔ یہودیوں کا یہ دعویٰ کرنا کہ ہمیں چند دنوں کے سوا جہنم میں نہیں رکھا جائے گا۔ (البقرۃ :80) 6۔ یہودیوں کا اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور محب قرار دینا۔ ( المائدۃ:18) 7۔ یہودیوں کا حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا گرداننا۔ (التوبۃ:30) 8۔ عیسائیوں کا حضرت مریم اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کو خدا کا جز قرار دینا۔ (المائدۃ: 17، 72) 9۔ نبی آخر الزمان (ﷺ) پر جھوٹ بولنا اور قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کا انکار کرنا۔ (البقرۃ:91) 10۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانا اس کے احکام کی صورت میں ہو یا اس کی قدرت کے نشانات کی شکل میں۔ (النساء :150) مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے بارے افترا پر دازی نہیں کرنی چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر جھوٹ بولنا بڑا ظلم ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانا بہت بڑا ظلم ہے۔ 4۔ ظالم لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن : بڑا ظالم کون ہے : 1۔ سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ پر جھوٹ بولتا ہے۔ (الکہف :15) 2۔ اللہ کی آیات کو سن کر اعراض کرنے والا بڑا ظالم ہے۔ (السجدۃ:22) 3۔ سچائی کو جھٹلانے والا اور اللہ پر جھوٹ باندھنے والا بڑا ظالم ہے۔ (الزمر :32) 4۔ اللہ کے گھر میں ذکر کرنے سے منع کرنے والا بڑا ظالم ہے۔ (البقرۃ:114) 5۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے اور لوگوں کو گمراہ کرنے والا بڑا ظالم ہے۔ (الانعام :144) 6۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے اور اس کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ (الانعام :21) 7۔ اللہ کی مساجد سے روکنے والے سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے ؟ (البقرۃ:114) 8۔ شہادۃ کو چھپانے والے سے بڑا ظالم کون ہے ؟ (البقرۃ:140) 9۔ اللہ کی آیات سے اعراض کرنے والے سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے ؟ (الکہف :57) 10۔ اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوسکتا ؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (ھود :18) الانعام
22 فہم القرآن : (آیت 22 سے 24) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، منکرین حق کا قیامت کے دن اپنا انجام دیکھ کر جھوٹی قسمیں اٹھانا۔ جو گواہی کی بد ترین قسم ہے۔ ” قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔“ (المعارج، آیت :4) اس میں مختلف مراحل ہوں گے اور ہر مرحلہ ہزاروں سال پر محیط ہوگا۔ ان مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ معبودان باطل اور ان کے عابدوں کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کیا جائے گا تاکہ دنیا میں ایک دوسرے سے امیدیں رکھنے والے لوگوں کے عقیدہ کی قلعی کھل جائے۔ البقرہ آیت 165تا 167میں بیان ہوا ہے کہ جب یہ لوگ جہنم کا عذاب دیکھیں گے تو انھیں یقین ہوجائے گا کہ ہر قسم کی قوت وسطوت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس یقین کے بعد طالب اپنے مطلوب، تابع اپنے متبوع، مقتدیٰ اپنے مقتدی اور پیر اپنے مریدوں سے بیزاری، کارکن اپنے لیڈروں سے نفرت کا اظہار کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت کرتے ہوئے مطالبہ کریں گے کہ اے خدا ہمارے پیروں اور سرداروں کو دوگنا عذاب دیجیے۔ (الاحزاب : 67۔68) جھوٹے رہنماؤں کے پیچھے لگنے والے اس خواہش کا بھی اظہار کریں گے کہ کاش ہمیں دنیا میں واپس جانے کی اجازت مل جائے تو ہم ان لوگوں سے اسی طرح بیزاری اور نفرت کا اظہار کریں جیسے آج یہ ہم سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ (البقرہ :167) جب ان کی یہ حسرت پوری نہیں ہو سکے گی تو پھر وہ اپنے گناہوں اور شرک کا انکار کرتے ہوئے قسمیں اٹھائیں گے۔ اے اللہ ! تیری ذات کی قسم ! ہم نے کبھی شرک نہیں کیا۔ ان کے انکار کی دو وجوہات ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ کی ہیبت وجلالت اور گرفت۔ دنیا میں جھوٹی قسمیں کھانے کی عادت کی وجہ سے وہ رب کی بارگاہ میں جھوٹی قسمیں اٹھائیں گے کہ شاید دنیا کی طرح آج بھی ہم بچ نکلنے میں کامیاب ہوجائیں۔ یہ ضرور جھوٹ بولیں گے اس لیے نبی (ﷺ) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ دیکھیے ! یہ ظالم کس طرح اللہ کے حضور جھوٹی قسمیں کھانے کے ساتھ اپنے آپ پر جھوٹ بولیں گے اور وہ سب کچھ بھول جائیں گے جو دنیا میں مکر و فریب اور افتراء پر دازی کیا کرتے تھے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ أمَّا قُوْلُہٗ﴿ وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِینَ﴾ فَإِنَّہُمْ رَأَوْا أَنْہٗ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا أَہْلُ الصَّلَاۃَ، فَقَالُوْا تَعَالُوْا فَلْنَجْحَدْ، فَیَجْحَدُوْنَ، فَیَخْتِمُ اللّٰہُ عَلٰی أَفْوَاہِہِمْ، وَتَشْہَدُ أَیْدَیَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ وَلَا یَکْتُمُوْنَ اللّٰہ حَدِیْثًا) [ ابن کثیر] ” مفسّرِقرآن حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اس کی یوں تفسیر کیا کرتے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ توحید والوں کے گناہ بخش دے گا اور اس کے لیے کسی کے گناہ معاف کرنا مشکل نہیں۔ مشرکین یہ صورت حال دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے شرک کے علاوہ باقی گناہ بخش رہا ہے آؤ ہم بھی یہ کہیں کہ ہم گناہ گار توہیں لیکن مشرک نہیں۔ جب اپنے شرک کو چھپائیں گے تو ان کے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ اس وقت مشرکین یہ جان لیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ بھی نہیں چھپا سکتے۔“ (ابن کثیر) اس کے بعد ان کی زبانوں پر مہریں لگا دی جائیں گی : ﴿اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی أَفْوَاہِہِمْ وَتُکَلِّمُنَا أَیْدِیْہِمْ وَتَشْہَدُ أَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُوْنَ﴾ [ یسٓ:65] ” آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔“ مسائل : 1۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں سے ان کے شرک کے بارے میں پوچھے گا۔ 2۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کو کوئی جواب نہیں دے پائیں گے۔ 3۔ مشرکین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ساتھ بنائے گئے شریکوں سے برأت کا اعلان کریں گے۔ 4۔ قیامت کے دن معبودان باطل کوئی فائدہ نہیں دے سکیں گے۔ تفسیر بالقرآن : مشرک اور ان کے معبودوں کا اکٹھا کیا جانا : 1۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کرے گا۔ (الفرقان :17) 2۔ قیامت کے دن اللہ سب کو اکٹھا کرے گا اور کہے گا یہ ہیں تمھارے معبود۔ (السباء :40) 3۔ اس دن اکٹھا کیا جائے گا ظالموں کو اور جن کی یہ عبادت کرتے تھے۔ (الصافات :22) 4۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اکٹھا کریں گے اور مشرکوں کو کہیں گے کہاں ہیں تمھارے معبود۔ (الانعام :22) 5۔ مشرک اپنے معبودوں کے دشمن بن جائیں گے۔ (الاحقاف :6) جھوٹوں کا انجام : 1۔ ان سے کہا جائے گا چکھو، آگ کا عذاب جس کو تم جھٹلاتے تھے۔ (السجدۃ:20) 2۔ یہ آگ ہے جس کو تم جھٹلا تے تھے۔ (الطور :14) 3۔ دوزخ کا عذاب ہے جھٹلانے والوں کے لیے ہے۔ (المطففین :11) 4۔ تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کیا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔ (آل عمران :137) 5۔ میری آیات کا انکار کرنے اور جھٹلانے والے دوزخی ہیں۔ (التغابن :10) 6۔ کافر اور اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے جہنمی ہیں۔ (الحدید :19) 7۔ جب ان کے پاس رسول آئے تو انھوں نے ان کو جھٹلایا عذاب نے ان کو پکڑ لیا۔ (النحل :113) 8۔ انھوں نے انبیاء (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور وہ ہلاک ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (المؤمنون :48) الانعام
23 الانعام
24 الانعام
25 فہم القرآن : (آیت 25 سے 26) ربط کلام : کفارکا شہادت حق سے انکار، مشرکوں کے شرک اور منافقوں کی منافقت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھنے اور ہدایت کے لیے سننے کے بجائے کہتے ہیں کہ یہ ہماری سماعت پر ایک بوجھ ہیں۔ اور ہم انہیں پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں سمجھتے ہیں۔ قرآن مجید نے ہدایت پانے اور اس کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے یہ اصول بیان کیا ہے کہ سننے والا پوری توجہ دل کی حاضری اور ہدایت پانے کے لیے بات سنے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے۔ ﴿إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیدٌ﴾[ قٓ :37] ” اس میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو دل رکھتا ہو اور حضور قلب کے ساتھ متوجہ ہو کر بات سنے۔“ لیکن منکرین حق کی شروع سے ہی یہ عادت خبیثہ ہے کہ وہ سچی بات قبول کرنا تو درکنار اس کا سننا ہی ان کے لیے گرانی کا باعث ہوا کرتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کفار نے یہاں تک معاندانہ رویہ اختیار کیا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) توحید کی دعوت دیتے توکفار اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال کر اپنے چہرے چھپاتے ہوئے ان سے دور بھاگ جاتے۔ کفار کے دلوں پر مہریں ثبت ہونا : ﴿صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لَا یَرْجِعُونَ [ البقرۃ :18] ” ایسے لوگ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں یہ لوٹنے والے نہیں۔“ ﴿قَالَ رَبِّ إِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّنَہَارًا۔ فَلَمْ یَزِدْہُمْ دُعَآئِ یْ إِلَّا فِرَارًا۔ وَإِنِّیْ کُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ لِتَغْفِرَ لَہُمْ جَعَلُوْا أَصَابِعَہُمْ فِیْٓ اٰذَانِہِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَہُمْ وَأَصَرُّوْا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا﴾ [ نوح : 5تا7] ” نوح نے عرض کیا اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کو دن رات دعوت دی۔ مگر میری دعوت سے ان کے فرار میں اضافہ ہوا۔ میں نے جب بھی انہیں بلایا تاکہ تو انہیں معاف کر دے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں۔ اور اپنے کپڑے اپنے منہ پر ڈال لیے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور تکبر کی انتہا کردی۔“ یہی رویہ منکرین حق نے نبی اکرم (ﷺ) کے ساتھ اختیار کیا جب انھیں غور کے ساتھ قرآن سننے کی طرف توجہ دلائی جاتی تو وہ بظاہر غور کے ساتھ سنتے لیکن حقیقت میں عدم توجہ اختیار کیے رکھتے اور آخر میں کہتے یہ باتیں ہمارے فہم و ادراک سے باہر اور ہماری قوت سماعت پر بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس طرح جو حکم بھی ان کے پاس آتا وہ اس کا مسلسل انکار کیے رکھتے۔ جس کی بنا پر نبی (ﷺ) کو بتلایا گیا کہ ان کے سامنے ایک سے ایک بڑھ کر نشانی پیش کی جائے یہ لوگ ایمان لانے کی بجائے آپ کے ساتھ بحث و تکرار میں آگے ہی بڑھتے جائیں گے کیونکہ یہ غور و فکر کرنے کے بجائے کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنھیں زیب داستاں کے لیے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف ہدایت سے دور ہیں بلکہ دوسروں کی ہدایت کے لیے بھی رکاوٹ بن چکے ہیں یہی ان کی ہلاکت کا پیش خیمہ ہے۔ حقیقتاً یہ ہدایت یافتہ لوگوں کو نقصان پہنچانے کے بجائے اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال رہے ہیں جس حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہ تیار نہیں ہیں۔ جہاں تک قرآن مجید پر قصہ، کہانیاں بیان کرنے کا الزام ہے اس میں ذرہ برابر بھی صداقت نہیں کیونکہ دو تین واقعات کو چھوڑ کر کوئی ایسا واقعہ نہیں جسے قرآن مجید نے ابتدا سے آخر تک ایک ہی موقعہ اور مقام پر ذکر کیا ہو۔ قرآن مجید کوئی تاریخ کی کتاب نہیں کہ جس میں رطب و یا بس اور داستان گوئی کا انداز اختیار کیا گیا ہو۔ اس میں سب سے زیادہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر پایا جاتا ہے۔ جسے ایک ہی جگہ بیان کرنے کے بجائے موقع اور اس کے محل کے مطابق مختلف مقامات اور الفاظ میں بیان کیا گیا ہے تاکہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا اسے قصہ کہانی سمجھنے کے بجائے نصیحت و عبرت کے طور پر پڑھے اور ہر قدم پر اس کی رہنمائی کا اہتمام ہو سکے۔ مسائل : 1۔ کافر لوگ قرآن مجید پر طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ 2۔ کافر نبی مکرم (ﷺ) سے جھگڑتے تھے۔ 3۔ کافر اپنے ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 4۔ دین اسلام کے بارے میں ہر زہ سرائی کرنے والے اپنے آپ کو ہی ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : کفار نے قرآن مجید کو پہلے لوگوں کے قصّے قرار دیا : 1۔ کفار قرآن کو پہلے لوگوں کی کہانیاں قرار دیتے ہیں۔ (الانعام :25) 2۔ جب ان پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ (المطففین :13) 3۔ جب کفار سے کہا جاتا ہے کہ تمھارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (النحل :24) 4۔ جب ان پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (القلم :15) 5۔ انہوں نے کہا یہ تو سراسر پہلے لوگوں کی قصے کہانیاں لکھی ہوئی ہیں۔ (الفرقان :5) الانعام
26 الانعام
27 فہم القرآن : (آیت 27 سے 29) ربط کلام : جو لوگ دنیا میں قرآن مجید کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ ہمارے کانوں کے لیے بوجھ ہے وہ جہنم کے کنارے کھڑے ہو کر آیات ربانی کی حقیقت کا اعتراف اور دنیا میں حق کی شہادت نہ دینے کے جرم کا اعتراف کریں گے۔“ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال پر محیط ہوگا اور اس میں مختلف مراحل ہوں گے۔ جو ہزاروں سال پر مشتمل ہوں گے۔ قیامت کا ہر مرحلہ مجرموں کے لیے سخت سے سخت تر ہوگا۔ پہلے مرحلہ پر مجرم شرک اور اپنے جرائم کا انکار کریں گے اس کے بعد ان کی زبانوں پر مہر ثبت کردی جائے گی تو ان کے اعضاء بول بول کر ان کے بارے میں گواہی دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی جہنم کو ستر ہزار فرشتے بھاری بھرکم زنجیروں کے ساتھ کھینچ کر لوگوں کے سامنے لائیں گے۔ ہر زنجیر کے ساتھ ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ جب مجرموں کو جہنم کے قریب کھڑا کیا جائے گا تو وہ آہ و بکا کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کریں گے کہ کاش ہمیں دنیا میں لوٹنے کا موقعہ نصیب ہوجائے اور ہم دنیا میں جاکر اپنے رب کے احکام کی تکذیب کرنے کے بجائے اس کے ایک ایک حکم پر ایمان لائیں گے۔ ان کا یہ اقرار حقیقت پر مبنی یا دائمی ہونے کے بجائے عارضی اور دفع الوقتی کے لیے ہوگا۔ کیونکہ بفرض محال انھیں واپس لوٹا بھی دیا جائے تو وہ پہلے کی طرح اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار کرتے ہوئے کفر و شرک میں ملوث ہوں گے۔ کیوں کہ وہ عادی مجرم تھے لہٰذا اب بھی کذب بیانی سے کام لیں گے۔ یہ اس لیے ہوگا کہ ان کا نظریہ تھا دنیا کی زندگی ہی مستقل زندگی ہے حالانکہ دنیا کی ہر چیز اپنی ناپائیداری کے بارے میں پکار پکار کر ثبوت دے رہی ہے کہ ہمیں قرار اور سکون نہیں ہے۔ انسان کے سایہ سے لے کر فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیاں اس بات پر گواہ ہیں کہ قرار اور دوام صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے۔ ان کا یہ بھی نظریہ تھا کہ مٹی میں دفن ہونے کے بعد ہمیں ہرگز نہیں اٹھایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ اگر انھیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تو وہ وہی کچھ کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا یہ اس لیے کہ انھوں نے دین پر دنیا کو مقدم سمجھا اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اگر انہیں دنیا میں لوٹا دیا جائے تب بھی وہ باز نہیں آئیں گے۔ مسائل : 1۔ کافر جہنم کو دیکھ کر حسرت کا اظہار کریں گے۔ 2۔ کافر خواہش کریں گے کہ ہمیں دنیا میں دوبارہ لوٹا دیا جائے۔ 3۔ مشرکین، مومنین کی رفاقت کی خواہش کریں گے۔ 4۔ کافر اسی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : جہنمیوں کا دنیا میں واپس لوٹنے کا مطالبہ : 1۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ:12) 2۔ جب بھی جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو دوبارہ لوٹائے جائیں گے۔ (السجدۃ:20) 3۔ جب بھی ارادہ کریں گے کہ ہم نکلیں جہنم سے تو اس میں واپس لوٹائے جائیں گے۔ (الحج :22) 4۔ جہنمی کی خواہش ہوگی کہ دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔ (الانعام : 27تا28) 5۔ اے رب ہمارے! ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر :37) 6۔ اے رب ہمارے! ہم کو یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المؤمنون :107) الانعام
28 الانعام
29 الانعام
30 فہم القرآن : (آیت 30 سے 31) ربط کلام : مجرموں کی اللہ کے حضور پیشی اور اس کی بارگاہ میں سوال وجواب۔ قرآن مجید بار بار انسان پر یہ حقیقت عیاں کرتا ہے کہ اسے مرنے کے بعد اپنے کیے کا جواب دینا ہے۔ جس کی ابتدا قبر کی کوٹھڑی سے ہوگی۔ جب میت کو دفنایا جاتا ہے ابھی اس کے اعزاء و اقرباء قبر پر مٹی ڈال کر رخصت ہی ہوتے ہیں کہ منکر نکیر مرنے والے سے تین سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ تو محمد (ﷺ) کے بارے میں کیا جانتا ہے ؟ اور تیرا دین کونسا ہے ؟ قبر سے اٹھنے کے بعد محشر کے میدان میں جب لوگ اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو ان سے سوال کیا جائے گا کہ کیا مرنے کے بعد اٹھ کر حشر کے میدان میں رب کی بارگاہ میں حاضر ہونا حق ہے یا نہیں ؟ تو انسان بے ساختہ پکار اٹھیں گے کیوں نہیں ہم نے قدم قدم پر اپنے رب کا وعدہ سچا پایا۔ جہاں تک مجرموں کا تعلق ہے وہ دہائی دیں گے اے ہمارے رب ! آج ہمیں یقین ہوگیا کہ آپ کا فرمان سچا اور آپ کی ملاقات برحق تھی لیکن ان کا اعتراف اور معذرت کسی کام نہیں آئے گی۔ حکم ہوگا کہ اب عذاب کی سختیاں اور جہنم کی اذیتیں چکھتے رہو کیونکہ بار بار سمجھانے کے باوجود تم کفر ہی کرتے رہے تھے۔ تم نے اپنے رب کی ملاقات کو جھٹلائے رکھا یہاں تک کہ قیامت برپا ہوگئی۔ کافر، منافق، مشرک اور عادی مجرم حسرت و یاس کا اظہار کرتے ہوئے گناہوں کا بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے۔ نہایت ہی بدترین بوجھ ہوگا جو انھیں اٹھانا پڑے گا۔ تیسرا موقع سوال و جواب کا اس وقت ہوگا جب مجرم اپنا اپنا بوجھ اٹھائے ذلت و رسوائی کی صورت میں جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے جب یہ لوگ جہنم کے کنارے پہنچیں گے تو ان کے لیے جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے داخلے کے وقت جہنم کے فرشتے ان سے سوال کریں گے کیا تم میں رسول مبعوث نہیں کیے گئے جو تمھارے سامنے تمھارے رب کے احکام پڑھتے اور تمھیں آج کے دن کی ہولناکیوں سے ڈراتے؟ جہنمی پکار پکار کرکہیں گے کیوں نہیں ! انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے احکام سے ہمیں آگاہ کیا اور اس دن سے ہمیں بار بار ڈرایا لیکن ہم نے کفر و استکبار کا رویہ اختیار کیا جس وجہ سے آج ہمیں یہ رسوائی کا دن دیکھنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب برحق ثابت ہوا یہ سنتے ہی ملائکہ ان پر لعنت کی بوچھاڑ کریں گے۔ (الزمر : 71تا72) مسائل : 1۔ مشرکین قیامت کے دن حق کا اعتراف کریں گے۔ 2۔ آخرت کا انکار کرنے والے نقصان اٹھائیں گے۔ 3۔ منکرین حق ہر مرحلہ پر حسرت کا اظہار کریں گے۔ 4۔ ہر انسان قیامت کے دن اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے گا۔ تفسیر بالقرآن : جہنمیوں کے اعترافات : 1۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جہنمیوں سے فرمائے گا کیا آج کا عذاب برحق نہیں وہ کہیں گے کیوں نہیں۔ (الاحقاف :34) 2۔ جہنمی کی خواہش ہوگی کہ دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔ (الانعام : 27تا28) 3۔ اے رب ہمارے! ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر :37) 4۔ اے رب ہمارے! ہم کو یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المؤمنون :107) الانعام
31 الانعام
32 فہم القرآن : ربط کلام : مجرم جس دنیا کو ہمیشہ کھیل تماشا تصور کرتے ہیں اس کی حقیقت۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو زمین پر نازل کرنے کے وقت یہ حقیقت آشکار کردی تھی کہ اے آدم! تم زمین پر اتر جاؤ لیکن یاد رکھنا زمین تیرے اور تیری اولاد کے لیے عارضی قیام گاہ ہے۔ وہاں تمھارا ایک مقررہ مدت تک ہی ٹھہرنا ہوگا۔ یہاں دنیا کی حقیقت بتلائی گئی ہے یہ دنیا کھیل تماشا کے سوا کچھ نہیں جس طرح کھیل اور تفریح زندگی کا مستقل حصہ نہیں کھیل مصروف کار رہنے کے بعد آدمی کے لیے دل بہلاوا اور عارضی راحت کا سبب ہوتا ہے۔ کافر کے لیے دنیا فقط اسی چیز کا نام ہے کہ وہ اس کے لہو و لعب میں مصروف ہو کر رہ جائے اس کے مقابلہ میں مومن دنیا کی نعمتوں سے مستفید ہوتے ہوئے کھلاڑی کے وقفۂ آرام کی طرح آخرت کی تیاری کے لیے تازہ دم ہوجاتا ہے کیونکہ اس کا ایمان ہے دنیا عارضی اور آخرت دائمی ہے یہاں کی ہر چیز فنا ہوجانے والی ہے، آخرت کی زندگی اور نعمتوں کو دوام حاصل ہے۔ اس سوچ کے پیش نظر وہ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر زندگی بسر کرتا ہے اور یہی انسان کے عقل مند ہونے کی دلیل ہے۔ سر ور دو عالم (ﷺ) نے اس حقیقت کو یوں بیان فرمایا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ اضْطَجَعَ النَّبِیُّ () عَلَی حَصِیرٍ فَأَثَّرَ فِی جِلْدِہِ فَقُلْتُ بِأَبِی وَأُمِّی یَا رَسُول اللّٰہِ لَوْ کُنْتَ اٰذَنْتَنَا فَفَرَشْنَا لَکَ عَلَیْہِ شَیْئًا یَقِیکَ مِنْہُ فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ () مَا أَنَا وَالدُّنْیَا إِنَّمَا أَنَا وَالدُّنْیَا کَرَاکِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَکَہَا) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزہد، باب مثل الدنیا] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی (ﷺ) چٹائی پر لیٹے۔ اس کے نشان آپ کے جسم اطہر پر پڑگئے میں نے آپ کو دیکھ کر عرض کی میرے ماں باپ آپ پر قربان ! آپ حکم دیتے تو ہم آپ کے لیے بستربچھا دیتے جس سے آپ کا جسم اطہر تکلیف سے بچ جاتا۔ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا میری اور دنیا کی مثال اس طرح ہے جیسے کوئی سوار سایہ دار شجر کے نیچے استراحت کے لیے رکے اور پھر اس کو چھوڑ دے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ أَخَذَ رَسُول اللَّہِ () بِمَنْکِبِی فَقَالَ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیلٍ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے میرے کندھے سے پکڑ تے ہوئے فرمایا دنیا میں اس طرح رہو جیسے اجنبی یا مسا فررہتے ہیں۔“ عقل مند کون؟ (عَنْ أَبِی یَعْلٰی شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () الْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہُ ہَوَاہَا ثُمَّ تَمَنَّی عَلَی اللّٰہِ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزہد، باب ذکر الموت والاستعداد لہ] ” حضرت ابو یعلی شداد بن اوس (رض) بیان کرتے ہیں رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا عقلمند وہ ہے جو اپنے آپ کو پہچانتا ہے اور مرنیکے بعد فائدہ دینے والے اعمال سر انجام دیتا ہے اور نادان وہ ہے جس نے اپنے آپ کو اپنے نفس کے پیچھے لگایا اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ سے تمنا کرے۔“ مسائل : 1۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا محض کھیل تماشا ہے۔ 2۔ متقین کے لیے آخرت میں جنت ہے۔ 3۔ آخرت کی تیاری کرنا انسان کے عقل مند ہونے کی دلیل ہے۔ تفسیر بالقرآن : دنیا کی حیثیت : 1۔ جو چیز تم دیے گئے ہو یہ تو دنیا کا سامان اور زینت ہے۔ (القصص :60) 2۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر کھیل تماشا۔ (العنکبوت :64) 3۔ دنیا آخرت کے مقابلہ میں بہت کمتر ہے۔ (التوبۃ:38) 4۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر دھوکے کا سامان۔ (آل عمران :185) 5۔ مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ (الکہف :46) 6۔ مال اور اولاد تمھارے لیے فتنہ ہے۔۔ (التغابن :15) 7۔ آپ فرما دیں کہ دنیا کا سامان تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے۔ (النساء :77) 8۔ وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے حالانکہ اس کی آخرت کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں۔ (الرعد :26) 9۔ آپ ان لوگوں کو چھوڑدیں جنہوں نے دین کو کھیل تماشہ بنالیا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں مبتلا کردیا۔ (الانعام :70) 10۔ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو جبکہ آخرت اس سے بہتر ہے۔ (الاعلیٰ:17) الانعام
33 فہم القرآن : (آیت 33 سے 34) ربط کلام : اے نبی (ﷺ) ! جب یہ دنیا عارضی اور اس کے مقابلے میں آخرت دائمی اور اس کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں یہاں متقین کو ان کی نیکیوں سے بڑھ کر اجر ملنے والا ہے لہٰذا آپ کو مکذّبین کی باتوں پر دل گرفتہ اور غمزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی معظم (ﷺ) کو بے حساب صبر و تحمل اور عظیم حوصلہ عطا فرمایا تھا اس کے باوجود کفار کے ظلم و ستم، یہود ونصاریٰ کی سازشیں اور منافقین کی چیرہ دستیوں کی وجہ سے کبھی کبھار آپ پر یشان ہوجایا کرتے تھے۔ پریشانی کا بنیادی سبب لوگوں کی ہدایت اور ان کی خیر خواہی کا جذبہ ہوا کرتا تھا۔ جس پر آپ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد ہوا کہ اے نبی! ہم آپ کی فکر مندی، لوگوں کی خیر خواہی اور شب و روز کی مشقت کو جانتے ہیں اور یہ حقیقت بھی اللہ علیم و خبیر کے علم میں ہے کہ لوگ آپ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی وجہ سے آپ کو جھٹلاتے ہیں کیونکہ نبوت عطا ہونے سے پہلے یہ لوگ آپ کو صادق و امین کے نام سے جانتے تھے۔ جونہی آپ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر قَوْلُوْالَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا آوازہ بلند کیا تو ایک لمحہ کی تاخیر کیے بغیر یہ لوگ آپ کے مخالف ہوگئے یہاں تک کہ آپ کے چچا ابو لہب نے بھرے مجمع میں آپ کو ان الفاظ سے مخاطب کیا : کہ کفار کے جھٹلانے کا معاملہ صرف آپ سے پیش نہیں آیا بلکہ آپ سے پہلے جتنے انبیاء آئے ان سب کی تکذیب کی جاتی رہی ہے لیکن وہ کفار کی ایذا رسانی اور تکذیب پر صبر و حوصلہ سے کام لیا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ کی نصرت و حمایت آن پہنچتی۔ نصرت و حمایت سے مراد انبیاء ( علیہ السلام) کی اخلاقی کامیابی اور ان کے مقابلے میں دشمن کی ذلت و رسوائی ہے۔ جس طرح کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء (علیہ السلام) کے مخالفین کو مختلف قسم کے عذاب اور ذلت ور سوائی سے دو چار ہونا پڑا۔ اے نبی ! آپ کو عزم و حوصلہ سے کام لینا چاہیے اور یاد رکھیے حالات کوئی بھی صورت اختیار کرلیں اللہ تعالیٰ کے احکام و ارشادات اپنی جگہ پر اٹل اور قائم رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے کلمات یعنی ارشادات تبدیل نہ ہونے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جس طرح پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) سے اللہ کا وعدہ پورا ہوا اسی طرح سے آپ (ﷺ) کے ساتھ نصرت و ہدایت کا وعدہ پورا ہوگا۔ جس کے نتیجے میں آپ کامیاب اور آپ کے دشمن ناکام اور نامراد ہوں گے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیقٍ (رض) قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَۃَ (رض) ہَلْ کَان النَّبِیُّ () یُصَلِّی وَہُوَ قَاعِدٌ قَالَتْ نَعَمْ بَعْدَ مَا حَطَمَہُ النّاسُ)[ رواہ مسلم : کتاب صلاۃ المسافر ین، باب جواز النافلۃ قائما وقاعدا] ” حضرت عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پو چھا کیا نبی محترم (ﷺ) بیٹھ کر بھی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ ام المومنین (رض) نے فرمایا ہاں لوگوں کے بوڑھا کردینے کے بعد۔“ مسائل : 1۔ داعی حق کو مخالفین سے دل آزردہ نہیں ہونا چاہیے۔ 2۔ کفار اللہ تعالیٰ کے پیغام کو جھٹلاتے ہیں۔ 3۔ تمام انبیاء و رسل کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 4۔ دین حق میں کوئی رد و بدل نہیں ہوسکتا۔ تفسیر بالقرآن: نبی کو جھٹلانے والے لوگ : 1۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ سے پہلے بھی کئی رسول جھٹلائے گئے۔ (آل عمران :184) 2۔ آپ کو اگر انھوں نے جھٹلادیا ہے آپ فرما دیں میرے لیے میرے عمل اور تمھارے لیے تمھارے عمل ہیں۔ (یونس :41) 3۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ فرما دیں تمھارا رب وسیع رحمت والا ہے۔ (الانعام :147) 4۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو جھٹلائے گئے ان سے پہلے حضرت نوح اور دوسرے انبیاء۔ (الحج :42) 5۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلایا ہے۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تھا۔ (الفاطر :25) الانعام
34 الانعام
35 فہم القرآن : ربط کلام : نبی اکرم (ﷺ) کو تسلی دینے کے ساتھ ایک حقیقت بتلائی گی ہے کہ تمام کے تمام انسان سچائی پر اکٹھے نہیں ہوا کرتے۔ لوگوں کی ہدایت کے بارے میں رسول محترم (ﷺ) کے جذبات کا جواب جس میں ایک طرح کی آپ کو تسلی دینے کے ساتھ تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ نبی اکرم (ﷺ) صبح وشام اس تڑپ اور کوشش میں تھے کہ کسی طرح یہ لوگ ہدایت سے ہم کنار ہوجائیں۔ اس کے لیے بحیثیت ایک انسان اور داعی کے یہ خیالات پیدا ہوتے تھے کہ کاش اللہ تعالیٰ کفار کے مطالبات کو من و عن پورا فرما دے تاکہ کوئی شخص بھی ہدایت سے محروم نہ رہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اہل مکہ نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ زمین میں سرنگ لگا کر ہمارے لیے اس کے مدفون خزانے لائیں جیسا کہ انھوں نے نہروں اور باغات کا مطالبہ بھی کیا تھا اور یہ بھی مطالبہ کیا کہ آپ ہمارے سامنے آسمان پر چڑھیں اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کوئی ایسا معجزہ لائیں جس کا انکار کرنا ہمارے لیے ناممکن ہو۔ اس ضمن میں وہ یہاں تک مطالبہ کرتے تھے کہ ایسی کتاب لائی جائے جسے ہم اپنے ہاتھوں کے ساتھ اچھی طرح ٹٹول کر یقین کرلیں کہ واقعی یہ آسمانوں سے لائی ہوئی کتاب ہے۔ ﴿وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتَابًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ بِأَیْدِیْہِمْ لَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوْٓ اْ إِنْ ہٰذَٓا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِیْنٌ﴾[ الأنعام :7] ” اور اگر ہم کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب آپ پر نازل کرتے، پھر یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھ بھی لیتے تو جن لوگوں نے کفر کیا ہے یہی کہتے کہ یہ صاف جادو ہے۔“ کفار کی ہٹ دھرمی بتلانے کے لیے آپ کو یوں خطاب فرمایا گیا ہے کہ اے رسول ! آپ پر ان لوگوں کا اعراض و انکار اس قدر گراں گزرتا ہے اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو آپ زمین میں اتر جائیں یا آسمان پر چڑھ جائیں اور ان کے سامنے ان کے حسب منشاء معجزات لے آئیں تو پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ اگر اس طرح لوگوں کو منوانا مقصود ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور سب کو ہدایت پر جمع کردیتا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے طریقہ کے خلاف ہے۔ لہٰذا سب کو ہدایت پر جمع کرنے کی خواہش رکھنا جاہلوں کا شیوہ ہے۔ جس کی آپ سے توقع نہیں ہو سکتی، لہٰذا آپ کی سوچ کا انداز ایسا نہیں ہونا چاہیے یہاں مضمر الفاظ میں آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا کام حق بات لوگوں تک پہنچانا ہے منوانا نہیں۔ آپ جس قدر بھی کوشش کرلیں یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ یہ سنتے ضرور ہیں لیکن ان کے دل مردہ ہونے کی وجہ سے مردوں جیسے ہوچکے ہیں۔ جس طرح مردے قیامت کو اٹھائے جائیں گے اس سے پہلے مردوں کا اٹھنا اور ان کا سننا مشکل ہے۔ اسی طرح کفار کا حق بات سننا اور اس کو قبول کرنا مشکل ہے۔ البتہ جو آدمی حق بات کو دل کے کانوں سے سنتا ہے وہ ضرور اس کو قبول کرتا ہے۔ مسائل : 1۔ منکرین حق کی باتوں سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ 2۔ صاحب بصیرت لوگ ہی دعوت حق قبول کرتے ہیں۔ 3۔ ہٹ دھرم لوگ بڑی سے بڑی نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو اٹھائے گا : 1۔ آپ فرما دیں کہ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (التغابن :7) 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اٹھائے گا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ صادر فرمائے۔ (الانعام :60) 3۔ تمام مردوں کو اللہ اٹھائے گا پھر اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (الانعام :36) 4۔ قیامت کے دن اللہ سب کو اٹھائے گا پھر ان کے اعمال کی انھیں خبر دے گا۔ (المجادلۃ: 6تا18) 5۔ موت کے بعد تمھیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (ھود :7) الانعام
36 الانعام
37 فہم القرآن : ربط کلام : حق کا انکار کرنے کے باوجود کفارکا بار بار نبی (ﷺ) سے معجزات کا مطالبہ کرنا۔ منکرین حق گاہے، گاہے رسول معظم (ﷺ) سے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے لیکن جونہی ان کے پاس کوئی معجزہ آتا تو نہ صرف اس کا انکار کرتے بلکہ الٹا آپ کو جادو گر ہونے کا الزام دیتے۔ قرآن مجید کا مطالعہ کیا جائے تو درجنوں ایسی آیات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کفار نے نہ صرف آپ (ﷺ) سے عجیب و غریب معجزات کا مطالبہ کیا بلکہ ایک موقع پر انھوں نے بیت اللہ کا غلاف پکڑ کر یہاں تک اپنے لیے مطالبہ کیا : ﴿وَإِذْ قَالُواْ اللّٰہُمَّ إِن کَانَ ہٰذَا ہُوَ الْحَقَّ مِنْ عندِکَ فَأَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَاء أَوِ اءْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِیمٍ﴾[ الأنفال :32] ” جب انھوں (کافروں) نے کہا : اے اللہ ! اگر یہ قرآن واقعی تیری طرف سے ہے اور یہ نبی سچا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا پھر ہمیں اذیت ناک عذاب میں مبتلا کر دے۔“ جس قوم کی ہٹ دھرمی اور گمراہی کا یہ عالم ہوا سے کیونکر ہدایت نصیب ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اس موقع پر فقط یہی جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے مطالبات سے بڑھ کر آیات و معجزات نازل کرنے پر قادر ہے لیکن اس کے باوجود تمھاری اکثریت اس حقیقت کو ماننے اور جاننے کو تیار نہیں ہے۔ مسائل : 1۔ گمراہی پر مصر قوم ہدایت نہیں پا سکتی۔ 2۔ معجزات اتمام حجت کے لیے ہوا کرتے ہیں۔ 3۔ اکثر لوگ حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ الانعام
38 فہم القرآن: ربط کلام : کفار نشانی کا مطالبہ کرتے تھے اس کے جواب میں ان کی توجہ پر ندوں کی طرف مبذول کی گئی ہے تاکہ وہ ان کی ساخت، پرورش اور پرواز کے نظام پر غور کریں۔ منکرین حق کا مطالبہ تھا کہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی مزید نشانیاں آنی چاہییں جس کے جواب میں یہ فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ مزید نشانیاں نازل کرنے پر قادر ہے۔ تاہم اگر انسان غور کرے تو اس کی چشم کشائی کے لیے اس کے گرد و پیش اتنے نشانات عبرت ہیں کہ جن کو دیکھ کریہ مالک حقیقی کو پہچان سکتا ہے۔ اس کے لیے انسان کو دور دراز سفر کرنے کی ضرورت نہیں اگر وہ اپنے سامنے زمین پر چلنے والے جانور اور فضا میں اڑنے والے پرندوں پر غور کرے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نظام قدرت کی حدود وقیود کے اس طرح پابند ہیں کہ کوئی اس سے سرمو انحراف نہیں کرسکتا۔ یہ درند اور پرند نہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں بلکہ اس کی حمدو ثنا کے گیت گاتے ہیں۔ سورۃ بنی اسرائیل آیت 44میں بیان کیا گیا ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے وہ تمام کے تمام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتے ہیں لیکن انسان ان کی تسبیحات کو نہیں سمجھ سکتے۔ سورۃ النحل آیت 79میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ دیکھو اور غور کرو کہ اللہ کے سوا کون ہے جو پرندوں کو فضا میں تھامے ہوئے ہے اس میں لا تعداد نشانیاں ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو تسلیم کرنے کی دولت سے بہرہ مند ہیں۔ اسی بات کو سورۃ الملک آیت 19میں یوں بیان کیا کہ کیا یہ لوگ پرندوں کی طرف غور نہیں کرتے کہ وہ ان کے سروں کے اوپر فضا میں پرواز کرتے ہوئے اپنے پروں کو کھولتے اور سمیٹ لیتے ہیں۔ رحیم و کریم رب کے سوا پرندوں کو کون سنبھالے ہوئے ہے۔ یہاں پرندوں کو آدمیوں کی مثل امت قرار دیتے ہوئے یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ سب کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے اور ہر کسی نے اپنے رب کی بارگاہ میں اکٹھا ہونا ہے۔ امام رازی (رض) اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : 1۔ حیوان اور پرندے کو بھی اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے اور وہ اس کی حمدو تسبیح میں مصروف رہتے ہیں۔ 2۔ جس طرح انسانوں میں تو لدوتناسل کا سلسلہ جاری ہے اسی طرح پرندے بھی آپس میں محبت اور مباشرت کا عمل اختیار کرتے ہیں۔ 3۔ جس طرح انسانوں کو ایک خاص مقصد اور تدبیر کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اسی طرح حیوانوں اور پرندوں کو بھی خاص مقصد اور تدبیر کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ 4۔ جس طرح اللہ تعالیٰ انسان کی حفاظت اور اس کے رزق کا ذمہ دار ہے یہی معاملہ پرندوں اور درندوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ 5۔ جس طرح قیامت کے دن انسانوں کو اکٹھا کرکے ان سے ایک دوسرے کا قصاص لیا جائے گا اسی طرح درندوں، پرندوں اور جانوروں کو جمع کرکے ان سے ایک دوسرے کا بدلہ چکا یا جائے گا۔ 6۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے موت و حیات اور دیگر معاملات مقرر فرمائے ہیں اسی طرح حیوانوں اور پرندوں کے لیے ضابطے مقرر کیے ہیں۔ 7۔ جس طرح انسان اپنی روزی کا محتاج ہے اور اس کے لیے تگ و دو کرتا ہے اسی طرح دیگر جاندار اپنی خوراک کے محتاج ہیں اور اس کے لیے محنت کرتے ہیں۔ 8۔ انسانوں، حیوانوں اور پرندوں کے درمیان عادات اور خصائل کے لحاظ سے بھی کچھ قدریں مشترک ہیں شیر کی طرح بہادر، مور کی طرح خوبصورت خنزیر کی طرح بے حمیت، کوے کی طرح حریص اور لومڑی کی طرح بعض انسان چالاک اور عیار ہوتے ہیں۔ مسائل : 1۔ ہر ذی روح چیز سے حساب و کتاب ہوگا۔ 2۔ تمام مخلوقات کو قیامت کے روز اکٹھا کیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن : قیامت کے دن لوگوں کا اللہ کے حضور اکٹھا ہونا یقینی ہے : 1۔ یقیناً قیامت کے دن اللہ تمھیں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ (الانعام :12) 2۔ آپ فرما دیں تمھارے پہلے اور آخر والے سب کو ضرور اکٹھا کیا جائے گا۔ (الواقعۃ: 47تا50) 3۔ پھر ہم تمھیں تمھاری موت کے بعد اٹھائیں گے۔ (البقرۃ:56) 4۔ جس دن تم سب کو جمع ہونے والے دن اللہ جمع کرے گا۔ (التغابن :9) 5۔ جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا۔ (المائدۃ:109) 6۔ یہ فیصلہ کا دن ہے ہم نے تمھیں بھی جمع کردیا ہے اور پہلوں کو بھی۔ (المرسلات :38) الانعام
39 فہم القرآن : ربط کلام : حقیقت کا بار بار انکار کرنے کی وجہ سے منکرین کی حالت کا بیان۔ قیامت کو جھٹلانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والے بہرے، گونگے ہونے، اور اندھیروں میں ٹامک ٹویاں مارنے کی وجہ سے درندوں اور پرندوں سے بھی کم تر ہیں۔ حقائق کا انکار اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تکذیب کرنے کی وجہ سے انسان بالآخر چلتی پھرتی لاش کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ جس طرح مردہ سن سکتا ہے اور نہ بول سکتا ہے اور نہ ہی اسے سردی گرمی، روشنی اور اندھیرے کا احساس ہوتا ہے بالکل یہی حالت ان لوگوں کی ہوجاتی ہے جو حق سننے اور سچ بیان کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ان لوگوں کی بری خصلت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان پر گمراہی مسلط کردیتا ہے۔ جس طرح صحت، تندرستی اور دیگر امور پر اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کا اختیار حاصل ہے اسی طرح ہی ہدایت کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہے صراط مستقیم پر گامزن کرتا ہے اور جسے چاہے اس کی بد اعمالیوں کی وجہ سے اسے گمراہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ فہم القرآن کی جلد اول، صفحہ۔ 70سورۃ البقرہ آیت۔ 26میں وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے کسی کو گمراہ نہیں کرتا جب تک کوئی شخص اپنے لیے گمراہی پسند نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے اسے عقل و شعور کی نعمت سے ہمکنار کرتے ہوئے آسمانی کتب کے ذریعے اس کی رہنمائی کا اہتمام کیا ہے لہٰذا انسان کی گمراہی کو اپنی طرف منسوب کرنے کا مفہوم فقط اتنا ہے کہ اللہ تعالیٰ جبراً کسی پر ہدایت مسلط نہیں کرتا جب تک انسان اس کی چاہت اور کوشش نہ کرے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ہر چیز اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے اس طرح ہدایت اور گمراہی بھی اس کے اختیار میں ہے۔ اس لیے انسان کو ہدایت کی دعا اور گمراہی سے بچنے کی توفیق مانگنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : صراط مستقیم : 1۔ صراط مستقیم کی بنیاد۔ (آل عمرآن :101) 2۔ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا صراط مستقیم ہے۔ (آل عمرآن :51) الانعام
40 فہم القرآن : (آیت 40 سے 41) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ : صحیح العقیدہ شخص عسر، یسر، بیماری، تندرستی، مشکل اور خوشحالی یعنی ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے مشکل کشائی کی تمنا اور آرزو کرتا ہے اس کے مقابلے میں باطل عقیدہ کا حامل انسان آسانی کے وقت اللہ کے سوا دوسروں سے رجوع کرتا ہے اور جب مسائل کے گرداب میں پھنس جائے تو ہر طرف سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ کو صدائیں دیتا ہے اس کی اسی عادت کے پیش نظر نبی اکرم (ﷺ) کو فرمایا گیا ہے کہ آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹے یا تم پر ناگہانی کوئی مصیبت اور قیامت آن پڑے اگر تم واقعی اپنے عقیدے میں سچے ہو تو کیا پھر بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟ ایسا کبھی نہیں ہوگا بلکہ صرف اور صرف تم اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہو اور پکارو گے وہی تمھاری مشکل دور اور تکلیف رفع کرتا ہے مشکل کے وقت جن کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہو تم یکسر انھیں بھول جاتے اور چھوڑ دیتے ہو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارنے والا اپنے عقیدہ میں سچا اور مخلص نہیں ہوتا کیونکہ توحید کے بغیر آدمی کو اخلاص اور کسی بات پر قرار نصیب نہیں ہوتا۔ مشرک کی عادت ہے اور تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی باطل عقیدہ لوگوں کو کوئی آفت آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کو ہی پکارا کرتے ہیں۔ کیونکہ مصیبت کے وقت انسان کے دل و دماغ سے جہالت اور غفلت کے پردے اٹھ جاتے ہیں اور اس کی سوئی ہوئی فطرت سلیم بیدار ہوجاتی ہے جس کی بنا پر وہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہی مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتا ہے۔ کیونکہ توحید فطرت کی آواز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کی جبلت میں سمو دیا ہے۔ علامہ ابن کثیرنے لکھا ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو ابو جہل کا بیٹا عکرمہ (رض) اپنی جان بچانے کی خاطر جدہ کی بندرگاہ پہنچا۔ جب بیڑے پر سوار ہوا تو سفر کے دوران بیڑہ سمندر کے بھنور میں جاپھنسا۔ طوفان اس قدر شدید تھا کہ بادبان نے بیڑے پر سوار لوگوں کو تلقین کی کہ ایسے حالات میں کسی اور کو پکارنے کی بجائے صرف ایک اللہ کو صدا دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا اس لیے ہم سب کو ایک اللہ ہی سے اس گرداب سے نجات کی دعا کرنی چاہیے۔ جناب عکرمہ (رض) کا فرمان ہے کہ میں نے اسی وقت اپنے دل میں فیصلہ کرلیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مصیبت سے نجات دی تو میں واپس جا کر محمد (ﷺ) کے ہاتھ پر بیعت کرلوں گا کیونکہ مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نجات دینے والا نہیں ہے۔ چناچہ اس واقعہ کے بعد حضرت عکرمہ بن ابو جہل (رض) مکہ واپس آکر حلقۂ اسلام میں داخل ہوئے اور آخر دم تک نبی محترم (ﷺ) کے جانثار رہے۔ مسائل : 1۔ مشرک مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں۔ 2۔ مشکل وقت میں مشرک معبودان باطل کو بھول جاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : اگر مدد کرسکتے ہیں تو اپنے معبودوں کو آواز دو : 1۔ بلاؤ اپنے معبودوں کو اگر تم سچے ہو۔ (البقرۃ:23) 2۔ ان کو ٹھہراؤ ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ تمھیں کیا ہوگیا اب ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔ (الصافات : 24تا25) 3۔ اللہ کے علاوہ جن معبودوں کا تمھیں زعم ہے انھیں بلاؤ وہ بھی مصیبت دور نہیں کرسکتے۔ (بنی اسرائیل :56) 4۔ بلاؤ تم ان کو وہ تمھیں جواب نہیں دیں گے۔ (الاعراف :194) 5۔ اس دن ان سے کہا جائے گا بلاؤ اپنے معبودان باطل کو، وہ بلائیں گے تو انھیں جواب نہیں ملے گا۔ (القصص :64) الانعام
41 الانعام
42 فہم القرآن : (آیت 42 سے 45) ربط کلام : حقیقت کا انکار کرنے والوں کا دنیا میں انجام جب ان پر ہلکا اور بھاری عذاب آیا تو ان کی قلبی کیفیت اور رد عمل جیسا کہ آیت ٣٧ میں کفار کے مطالبہ کا ذکر ہوا۔ جس میں انھوں نے نبی رحمت (ﷺ) سے کسی معجزہ یا نشانی کا مطالبہ کیا اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب یا جس قیامت کی آمد کا تم مطالبہ کرتے ہو وہ یکایک تم پر نازل ہوجائے تو کیا پھر بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے معبود ان باطل سے مدد طلب کرو گے ؟ ہرگز نہیں تمھاری حالت یہ ہوگی کہ تم سب کچھ بھول کر صرف ایک رب کو پکارو گے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی نشانی یا اس کے عذاب کا معاملہ ہے تو جان رکھو اس کے عذاب کی مختلف صورتیں ہوا کرتی ہیں۔ جن میں ابتدائی شکل یہ ہوتی ہے اللہ تعالیٰ غربت و افلاس، تنگی اور حالات کی ترشی کے ذریعے لوگوں کو جھنجھوڑتا ہے تاکہ لوگ اپنی روش پر نظر ثانی کریں۔ اس ہلکی پھلکی گرفت میں اس کی رحمت پنہاں ہوتی ہے کہ جو میرے بندے مجھ سے دور اور میری رحمت سے محروم ہوچکے ہیں انھیں معمولی جھٹکے کے ذریعے احساس دلایا جائے کہ تمھیں ادھر ادھر کے سہارے تلاش کرنے اور دوسروں کو خوش کرنے کی بجائے صرف اپنے رب کا سہارا اور اسی کو خوش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن مسلسل گناہوں کی وجہ سے جب لوگوں کے دل سخت ہوجائیں اور وہ ہلکے پھلکے عذاب سے سبق حاصل کرنے کی بجائے گناہوں اور جرائم کے اس قدر دلدادہ ہوجائیں کہ برائی اور بے حیائی ان کی زندگی کا معمول اور فیشن بن جائے تو ان کو شیطانی کام خوبصورت دکھائی دیتے ہیں گویا کہ شیطان پوری طرح ان پر حاوی اور غالب ہوچکا ہوتا ہے۔ جب یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ہدایات اور نصائح کو مسلسل نظر انداز کردینے کا وطیرہ اختیار کرتے ہیں تو پھر ان پر دنیا کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں تاکہ گناہ کرنے میں ان کی کوئی حسرت باقی نہ رہے۔ جب یہ اپنی طرز زندگی پر پوری طرح شاداں و فرحاں اور مطمئن ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک انھیں آلیتا ہے۔ پھر ایسی قوم کو صفحۂ ہستی سے ناپید کردیا جاتا ہے۔ جس سے نہ صرف ان کے نشانات اور اثرات ختم ہوجاتے ہیں بلکہ مدت دراز تک لوگ ان پر حسرت و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ مجرموں سے اللہ کی زمین پاک ہوئی، مظلوموں اور مجبوروں کو سکھ کا سانس لینا نصیب ہوا۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اکثر قومیں جن پر عذاب نازل ہوئے وہ غریب ہونے کے بجائے دولت مند اور ترقی یافتہ ہوا کرتی تھیں۔ ( عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ بْنِ رِبْعِیٍّ الْأَنْصَارِیِّ أَنَّہُ کَانَ یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ () مُرَّ عَلَیْہِ بِجِنَازَۃٍ فَقَالَ مُسْتَرِیحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْہُ قَالُوا یَا رَسُول اللّٰہِ مَا الْمُسْتَرِیحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْہُ قَالَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ یَسْتَرِیحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْیَا وَأَذَاہَا إِلَی رَحْمَۃِ اللّٰہِ وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ یَسْتَرِیحُ مِنْہُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ)[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب سکرات الموت] ” حضرت ابو قتادہ بن ربعی الانصاری (رض) بیان کیا کرتے تھے رسول معظم (ﷺ) کے پاس سے جنازہ گزرا نبی محترم (ﷺ) نے فرمایا یہ راحت پا گیا اور اس سے سکون پاگئے صحابہ کرام (رض) نے استفسار کیا اے اللہ کے رسول کون سکون پا گیا اور کس نے اس سے سکون پایا فرمایا؟ آپ نے فرمایا بندہ مومن جب فوت ہوتا ہے تو دنیا کے مصائب اور اذیتوں سے اللہ کی رحمت کی طرف راحت میں چلا جاتا ہے جبکہ ایک فاجر آدمی کی موت سے لوگ، علاقہ، درخت اور جانور سکون محسوس کرتے ہیں۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ تنگدستی و تکلیف کے ذریعے لوگوں کو احساس دلاتے ہیں 2۔ مصیبت میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعائیں کرنی چاہییں۔ 3۔ دلوں کے سخت ہونے سے پناہ مانگنی چاہیے۔ 4۔ دنیا کی خوشحالی حق وصداقت کا معیار نہیں ہے۔ 5۔ ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے دو چار ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : نافرمان لوگوں کے دل سخت ہوجاتے ہیں : 1۔ یہودیوں کے دل پتھروں کی طرح سخت ہوگئے۔ (البقرۃ:74) 2۔ ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال خوبصورت بنا دیے۔ (الانعام :43) 3۔ ان کے دل سخت اور عمر لمبی ہوگئی۔ (الحدید :16) 4۔ ان کے دلوں میں بیماری اور سختی ہے۔ (الحج :53) 5۔ سخت دل والوں کے لیے جہنم ہے۔ (الزمر :22) الانعام
43 الانعام
44 الانعام
45 الانعام
46 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے عذاب کی یہ بھی ایک شکل ہے کہ وہ سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں سلب کرلیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت اور عذاب کی مختلف شکلیں ہیں جلد یا بدیر دنیا میں کسی نہ کسی عذاب میں مجرم کو مبتلا کرتا ہے یا پھر اس کی سماعت یا بصیرت و بصارت اور تفہیم کی صلاحیتوں کو مسلوب کردیتا ہے جس سے مجرم کو یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر ناراض ہونے کے بجائے خوش ہے جس کی بنا پر مجھے دنیا کی فراوانی اور ہر قسم کی آزادی سے نواز رکھا ہے حالانکہ اس کا اصول یہ ہے کہ جسے جرائم میں مزید بڑھانا مقصود ہوتا ہے اس کی حیات مستعار کی رسی دراز کردیتا ہے تاکہ یہ گناہ اور جرائم کرتا رہے اور آخرت میں اسے ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے۔ یہاں اعضاء اور جوارح کے بارے میں یہ احساس دلایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمھاری صلاحیتیں سلب کرلے تو بتلاؤ کہ اس کے سوا کون ان کی قوت کار کو بحال کرسکتا ہے یاد رہے کہ جب اللہ تعالیٰ جسمانی اعضاء میں سے کسی ایک کو مکمل طور پر مفلوج کردیتا ہے تو دنیا کا کوئی ڈاکٹر اور سرجن اسے بحال نہیں کرسکتا۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کی انگلی کٹ جائے تو دوبارہ انگلی کا وجود میں آنا ناممکن ہے اسی طرح اگر آنکھ اور کان اپنے مکمل نظام کے ساتھ ناکارہ ہوجائیں تو انھیں دوبارہ کا رآمد بنانا کسی سرجن کے بس کا روگ نہیں۔ اس لیے لفظ ” اُنْظُرْ“ کہہ کر توجہ دلائی گئی ہے کہ دیکھو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ حقائق اور اپنی آیات کو کسی طرح مختلف زاویوں کے ساتھ بیان کرتا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ بات سمجھنے اور ہدایت پانے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہاں تیسری بار غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو وہ اللہ کے لیے مشکل نہیں۔ (اللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا وَفِی بَصَرِی نُورًا وَفِی سَمْعِی نُورًا وَعَنْ یَمِینِی نُورًا وَعَنْ یَسَارِی نُورًا وَفَوْقِی نُورًا وَتَحْتِی نُورًا وَأَمَامِی نُورًا وَخَلْفِی نُورًا وَاجْعَلْ لِیّ نُورًا) [ رواہ البخاری، کتاب الدعوات، باب الدعا اذا انتبدہ بالیل] ” اے اللہ میرے دل میں نور پیدا فرمادے میری نگاہ میں بھی نور، میرے کا نوں میں بھی نور، میرے دائیں بھی نور، میرے بائیں بھی نور، میرے اوپر بھی نور، میرے نیچے بھی نور، میرے آگے بھی نور، میرے پیچھے بھی نور، اور میرے لیے نور پیدا فرما۔“ (عَنْ عَائِشَۃَ (رض) قَالَتْ کَانَ رَسُول اللَّہِ () یَقُول اللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی جَسَدِی وَعَافِنِی فِی بَصَرِی وَاجْعَلْہُ الْوَارِثَ مِنِّی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ سُبْحَان اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات عن رسول اللہ، باب ماجاء فی جامع الدعوات عن النبی ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) فرمایا کرتے تھے اے اللہ ! میرے جسم کو عافیت دے اور میری بصارت کو بھی عافیت دے اور میری طرف سے اس کو وارث بنا دے۔ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں جو کہ بردبار اور عزت والا ہے، اللہ تعالیٰ پاک ہے اور بہت بڑے عرش کا رب ہے اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو کہ تمام جہانوں کا رب ہے۔“ مسائل : 1۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنی کسی نعمت سے محروم کردے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے واپس نہیں لا سکتی۔ 2۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو نواز نا چاہے تو کوئی اس کی نوازش کو روک نہیں سکتا۔ تفسیر بالقرآن : آنکھ، کان اور دل اللہ کے قبضہ میں ہیں : 1۔ اللہ نے تمھاری سماعت اور بصارت بنائی ہے۔ (المؤمنون : 78، الملک :23) 2۔ کیا اللہ کے سوا کان اور آنکھ کا کوئی اور مالک ہے ؟ (یونس :31) 3۔ اگر اللہ چاہے تو ان کے کان، آنکھیں چھین لے۔ (البقرۃ:20) 4۔ اللہ نے ان پر لعنت کردی اور بینائی سے محروم کردیا۔ (محمد :23) 5۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ (البقرۃ:7) الانعام
47 فہم القرآن : (آیت 47 سے 50) ربط کلام : سلب شدہ نعمتوں کو بحال کرنا عذاب کو ٹالنا اور کفار کے مطالبے کو پورا کرنا عام شخص تو درکنار کسی رسول کے بس میں بھی نہیں۔ قرآن مجید نے ہر نبی کے بارے میں یہ حقیقت منکشف فرمائی ہے کہ وہ فرشتہ اور کوئی دوسری جنس ہونے کے بجائے بنی نوع انسان میں سے ہی ہوا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود اہل کفر ان سے ایسے مطالبات کرتے جنھیں پورا کرنا یا ان چیزوں پر اختیار رکھنے کا دعویٰ کسی نبی نے نہیں کیا تھا۔ انبیائے عظام (علیہ السلام) تو صرف وہی بات کرتے تھے جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ انھیں حکم دیتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ انھیں پریشان اور لاجواب کرنے کے لیے ایسے مطالبات کرتے تھے جن کا پاکباز ہستیوں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا تھا۔ یہی وطیرہ رسول معظم (ﷺ) کے مخالفوں نے اختیار کر رکھا تھا چنانچہ وہ آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ اور آپ کے ساتھی غریب اور کنگال ہیں ہمارے لیے نہ سہی کم ازکم تمھیں اپنے لیے تو رزق کی فراوانی کا انتظام کرنا چاہیے۔ اس طرح کبھی وہ قدرت کے پوشیدہ امور یعنی غیب کی خبروں کے بارے میں آپ سے سوال کرتے اور کبھی یہ اعتراض اٹھاتے کہ یہ کیسا رسول ہے جو ہماری طرح انسانی حاجات کا اہتمام کرنے پر مجبور ہے۔ اسے تو ان حاجات اور ضروریات سے مبرا ہونا چاہیے تھا۔ ان مطالبات اور اعتراضات کے جواب میں آپ کو فقط یہی بات کہنے کا حکم دیا گیا کہ آپ فرمائیں کہ میں نے کبھی ان باتوں کا دعویٰ نہیں کیا میرا دعویٰ تو صرف اتنا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں مجھ پر میرے رب کے پیغامات نازل ہوتے ہیں۔ میں ان کی اتباع اور ابلاغ کرنے کا پابند ٹھہرایا گیا ہوں اس لیے میں ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بجائے صرف اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق بات کرتا ہوں اس کی پیروی وہ ہی شخص کرے گا جو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسا شخص ہی دانا اور بینا کہلانے کا حق دار ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر غور و فکر نہیں کرتا وہ حقیقتاً اندھا ہے۔ اندھا اور دیکھنے والا کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ بس تمھیں اس حقیقت پر غور و فکر کرنا چاہیے۔ مسائل : 1۔ اللہ کا عذاب ظالموں کے لیے خاص ہوتا ہے۔ 2۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اللہ کے عذاب سے ڈرانے والے اور جنت کی خوشخبری دینے والے تھے۔ 3۔ فاسقین کو دنیا و آخرت میں رسوا کن عذاب سے دو چار کیا جائے گا۔ 4۔ تمام رسول اللہ کی وحی کے پابند تھے۔ ٥۔ کافر و مومن کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ تفسیر بالقرآن : نبی غیب نہیں جانتے : 1۔ اللہ ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (الانعام :59) 2۔ آپ فرما دیں کہ غیب اللہ ہی کے لیے ہے۔ (یونس :20) 3۔ آپ فرما دیں کہ زمین اور آسمانوں کے غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (النمل :65) 4۔ نہ ہی میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ (ھود :31) الانعام
48 الانعام
49 الانعام
50 الانعام
51 فہم القرآن : (آیت 51 سے 52) ربط کلام : غور و فکر کی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کا تصور پیدا کرنا ضروری ہے جس کی یہاں تلقین کی گئی ہے۔ یہی عقیدہ اور تصور انسان کو صراط مستقیم کی طرف لاتا ہے۔ قرآن مجید انسان کو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کے گرد و پیش کے ماحول، یہاں تک کہ اپنی ساخت وپرداخت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ غور و فکر کرنا ایسی قوت ہے جس سے انسان کے بند دماغ کی گرہیں کھل جاتی ہیں اور اس کی آنکھوں پر پڑے ہوئے غفلت کے پردے ہٹ جاتے ہیں جو شخص ان صلاحیتوں سے عاری ہوجائے وہ اپنے سامنے کی بڑی سے بڑی حقیقت کو پہچاننے سے قاصر رہتا ہے۔ منکرین حق دنیاوی مسائل کی گرہیں کھولنے اور ترقی کرنے کے دعوے دار ہونے کے باوجود حقیقی اور دائمی حقائق سے غافل ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ مومن کی نسبت محشر کے میدان سے زیادہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں اس لیے نبی (ﷺ) کو حکم ہوا کہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جو اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے سے ڈرتے ہیں اور جن سہاروں پر یہ بھروسہ کیے ہوئے ہیں وہاں کوئی خیر خواہ ان کی خیر خواہی اور کوئی سفارشی ان کی سفارش نہیں کرسکے گا لہٰذا انھیں اپنے باطل عقیدہ کو چھوڑنا اور برے اعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مفسرین کے دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ اس آیت میں آپ (ﷺ) کو مخاطب کیا گیا ہے کہ آپ کفار کے مطالبات پر پریشان ہونے اور ان پر مزید صلاحیتیں صرف کرنے کے بجائے ان لوگوں کی تعلیم و تربیت فلاح اور اصلاح کے لیے کوشش کریں اور ڈرائیں جو اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں حاضری کے تصور سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو اپنے آپ سے ہرگز دور نہ کریں جو اپنے پروردگار کو صبح و شام پکارتے اور ہر وقت اس کے فضل و کرم کے طالب رہتے ہیں ان کے حساب کے بارے میں آپ مسؤل نہیں اور آپ کے حساب میں سے ان کے ذمہ نہیں ہوگا اگر آپ خدا ترس بندوں کو چھوڑ دیں تو آپ کا شمار زیادتی کرنے والوں میں ہوگا۔ تمام مفسرین نے اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اہل مکہ نے ایک دن آپ سے یہ مطالبہ کیا کہ ہم آپ کی محفل میں آنے اور آپ کی بات سمجھنے کے لیے تیار ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ بلال، خبیب (رض) اور اس قسم کے غریب لوگ ہماری آمد کے وقت آپ کی محفل میں نہیں ہونے چاہییں بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے کفار کی ہدایت کی طلب کے جذبے میں آکر ایسا کرنے کا عندیہ دیا تھا اور کچھ لوگوں کا یہ اعتراض بھی تھا کہ آپ کی محفل میں بیٹھنے والے بعض لوگ ایسے ہیں جو اسلام قبول کرنے سے پہلے بڑے بڑے جرائم میں ملوث تھے۔ آپ نے اپنی پاک فطرت کی بنا پر اس چیز کو محسوس کیا جس بنا پر یہ وضاحت نازل ہوئی کہ اے نبی! آپ نے اپنا حساب دینا ہے اور یہ اپنے حساب و کتاب کے بارے میں جواب دہ ہوں گے۔ ماضی کے حوالے سے ان لوگوں کو چھوڑنا ظالموں کا ساتھ دینے کے مترادف ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے پر خلوص ایمان کی وجہ سے ان کے گناہوں کو معاف کردیا ہے۔ (عن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رض) قَالَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ () فَقُلْتُ ابْسُطْ یَمِینَکَ فَلْ أُبَایِعْکَ فَبَسَطَ یَمِینَہٗ قَالَ فَقَبَضْتُ یَدِی قَالَ مَا لَکَ یَا عَمْرُو قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُّ أَنْ أَشْتَرِطَ قَالَ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا قُلْتُ أَنْ یُغْفَرَ لِی قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ وَأَنَّ الْہِجْرَۃَ تَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہَا وَأَنَّ الْحَجَّ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ وَمَا کَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ رَسُول اللّٰہِ () وَلَا أَجَلَّ فِی عَیْنِی مِنْہُ وَمَا کُنْتُ أُطِیقُ أَنْ أَمْلَأَ عَیْنَیَّ مِنْہُ إِجْلَالًا لَہُ وَلَوْ سُئِلْتُ أَنْ أَصِفَہُ مَا أَطَقْتُ لِأَنِّی لَمْ أَکُنْ أَمْلَأُ عَیْنَیَّ مِنْہُ وَلَوْ مُتُّ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ لَرَجَوْتُ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ثُمَّ وَلِینَا أَشْیَاءَ مَا أَدْرِی مَا حَالِی فیہَا فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِی نَائِحَۃٌ وَلَا نَارٌ)[ رواہ مسلم : کتاب التفسیر، باب قول اللہ تعالیٰ ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِين﴾] ” حضرت عمرو بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اللہ کے رسول (ﷺ) اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجئے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں جب آپ نے اپنا دایاں ہاتھ آگے فرمایا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا تب آپ پوچھتے ہیں اے عمرو! کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک شرط کے ساتھ بیعت کرتا ہوں ارشاد ہوا کہ وہ کونسی شرط ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرے گناہ معاف کردیے جائیں۔ فرمایا عمرو تو نہیں جانتا یقیناً اسلام پہلے گناہوں کو ختم کردیتا ہے؟ اسی طرح ہجرت کرنے سے ہجرت سے پہلے کے بھی گناہ ختم ہوجاتے ہیں اور یقیناً حج سے بھی سابقہ غلطیاں معاف ہوجاتی ہیں۔ رسول معظم (ﷺ) سے زیادہ مجھے کوئی محبوب نہ تھا۔ اور نہ ہی میری آنکھ میں آپ (ﷺ) سے زیادہ کسی کا جلال تھا۔ میں انہیں اس جلال کی وجہ سے آنکھ بھر کے نہیں دیکھ سکا۔ اگر مجھ سے کوئی سوال کرے کہ میں آپ (ﷺ) کا کوئی وصف بیان کروں تو اس کی مجھ میں طاقت نہیں ہے۔ کیونکہ میں نے آپ کو کبھی آنکھ بھر کے دیکھا ہی نہیں۔ اگر میں اس حال میں فوت ہوگیا تو میں امید کرتا ہوں کہ میں اہل جنت میں سے ہوں گا۔ پھر اللہ مجھے جنت میں ولی مقرر کر دے تو میں نہیں جانتا وہاں کس حال میں ہوں گا تو جب میں فوت ہوجاؤں تو میرے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی اور آگ نہ لے کے آنا۔“ حضرت عمر و بن عاص (رض) کے ذاتی احساسات : حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی آدمی فوت ہونے لگتا تو عمرو بن عاص (رض) فرمایا کرتے کہ نہ معلوم لوگ نزع کے وقت کیوں نہیں بتلاتے کہ موت کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔ جب عمر و بن عاص (رض) پر نزع کا عالم طاری ہوا تو میں نے ان کی بات یاد کرواتے ہوئے گذارش کی کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب مجھ پر یہ وقت آئے گا تو میں بتلاؤں گا کہ موت کس طرح آتی ہے۔ اس کے جواب میں عمرو بن عاص (رض) صرف اتنا بتلاسکے کہ بھتیجے بس میں اتنا ہی بیان کرسکتا ہوں کہ مجھے نزع کا عالم یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے کسی نے احد پہاڑ میرے سینے پر رکھ دیا ہو اور پھر زارو قطار رونے لگے۔ اسی موقعہ پر ہی انہوں نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ کو وصیت کی تھی کہ میری قبر پر منکر نکیر کے سوالات تک کھڑے رہنا۔ تاکہ میں تسکین پاؤں حالانکہ وہ جانتے تھے کہ مرنے والے کی کوئی مدد نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کا دنیا والوں کے ساتھ کوئی تعلق ہوتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو آزمانے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھار نے کے لیے بے شمار آزمائشیں بنائی ہیں۔ ان میں غربت اور امارت، شہرت اور گمنامی، حاکم اور محکوم ہونا بھی آزمائش کا ایک طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو دولت و ثروت، شہرت و ناموری اقتدار اور اختیار دے کر آزماتا ہے کہ یہ لوگ نعمتوں سے محروم انسانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اگر نعمتیں پانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے اور اس کی مخلوق کے ساتھ عاجزی اور خیر خواہی کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو انھیں مزید نعمتیں دیتے ہوئے آخرت میں اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ اگر صاحب حیثیت لوگ خدا کے نافرمان اور اس کی مخلوق کے لیے ظالم ثابت ہوتے ہیں تو انھیں اذیت ناک سزاؤں سے دو چار ہونا پڑے گا۔ اسی طرح ہی نعمتوں سے محروم لوگوں کو آزمایا جاتا ہے کہ وہ دنیاوی نعمتوں سے محروم ہو کر صبر و شکر کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو انھیں قیامت کے دن عظیم اجر و ثواب عطا ہوگا۔ اور اگر یہ لوگ سرکشی اور نافرمانی کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو انھیں اس کی سزا اور مزید محرومیوں سے واسطہ پڑے گا۔ اہل مکہ غریب صحابہ (رض) پر یہ طعن بھی کرتے تھے کیا یہ لوگ ہیں؟ جن پہ اللہ نے احسان کیا ہے کہ جن کو پیٹ پالنے کے لیے خوراک اور تن ڈھانپنے کے لیے پوشاک بھی میسر نہیں۔ یہاں ایک طرف کفار کو بین السطور سرزنش کی جارہی ہے کہ تم خدا کی نعمتیں پانے کے باوجود سرکش اور باغی ہو لہٰذا اپنا انجام سوچ لو۔ تمہارے مقابلے میں نعمتوں سے محروم لوگ اس کسمپرسی کے عالم میں بھی اپنے رب کے فرمانبردار یا تابع فرمان اور شکر گزار ہیں۔ اس طرح شکر گزار بندوں کو تسلی اور ان کی قدر افزائی کی گئی ہے۔ اگلی آیات میں غریب مومنین کو یہ کہہ کر اعزاز بخشا گیا ہے کہ اے نبی ! جب یہ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تو آپ ان کو سلام کرنے میں پہل کیا کریں۔ مسائل : 1۔ لوگوں کو اللہ کے حضور پیش ہونے کا خو ف دلاتے رہنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی مددگار نہیں ہے۔ 3۔ خوشحالی اور تنگدستی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔ 4۔ انسان کو ہر حال میں اپنے رب کا صابر و شاکر رہنا چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرمانبردار لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کا ہی شکر ادا کرنا چاہے : 1۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ (البقرۃ:172) 2۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والے لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔ (الاعراف :58) 3۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والے کو زیادہ عطا کرتا ہے۔ (ابراہیم :7) 4۔ اللہ کے تھوڑے بندے ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔ (سباء:13) 5۔ شکر کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔ (الزمر :7) 6۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو بہتر جزا دیتا ہے۔ (القمر :35) 7۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ (لقمان :12) الانعام
52 الانعام
53 فہم القرآن : (آیت 53 سے 55) ربط کلام : پہلی آیت میں نبی اکرم (ﷺ) کو ہدایت فرمائی گئی تھی کہ غریب صحابہ (رض) کو اپنے سے دور نہ کیجیے اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے غریب صحابہ (رض) کو قدر افزائی اور فضل و کرم کا پیغام سنایا گیا ہے۔ کفار کی طرف سے غریب صحابہ (رض) کی حوصلہ شکنی اور طعنہ زنی کے بدلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حوصلہ افزائی اور قدر دانی، فضل و کرم کا پیغام اور گناہوں کی بخشش کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ کفار نے غریب صحابہ (رض) کو حقیر سمجھ کر ان کی دنیاوی پسماندگی کا مذاق اڑایا تھا جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ پر چار کرم فرمائے۔ 1۔ صحابہ کے ایمان اور اخلاص کی قدر افزائی فرمائی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کا پیغام آیا۔ 3۔ رب رحیم کی رحمت کے حق دار ٹھہرائے گئے۔ 4۔ گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دی گئی۔ یہاں جہالت کو گناہ کا سبب قرار دیا ہے۔ جہالت کا مفہوم واضح کرتے ہوئے مفسرین نے لکھا ہے جہالت سے مراد یہ نہیں کہ آدمی کو گناہوں کے بارے میں علم نہ ہو بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ آدمی جب گناہ کرتا ہے تو اس وقت وہ عملاً جاہل ہوجا تا ہے۔ اس لیے ہر زبان میں یہ معروف ہے کہ جب کوئی پڑھا لکھا انسان غلطی کا ارتکاب کرے تو لوگ اسے جاہل قرار دیتے ہیں۔ گویا کہ گناہ کا دوسرا نام جہالت ہے۔ یہاں اس لیے بھی جہالت کا لفظ استعمال کیا ہے تاکہ کفارکو اس بات کا احساس ہو کہ دین سے بے بہرہ ہونا پرلے درجے کی جہالت ہے۔ بہر حال جہالت کی کسی شکل میں انسان سے غلطی ہوجائے پھر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو بہ کرے اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ کافر کی توبہ یہ ہے کہ وہ کفر سے تائب ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہوئے اصلاح کا رویہ اختیار کرے۔ یقیناً اس کے سابقہ گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے احکام کو اس لیے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے یہاں ہدایت کے بجائے مجرموں کا راستہ واضح کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس طرح گمراہی کے مقابلے میں ہدایت اور کفر و نفاق کے مقابلے میں دین کا راستہ خود بخود نمایاں ہوجاتا ہے۔ مجرموں کے راستے کو واضح کرنے کا یہ بھی مقصد ہے کہ جس طرز حیات پر وہ اتراتے ہیں انھیں احساس ہو کہ یہ اللہ کے فرماں بردار بندوں کا طریقہ اور راستہ نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی اشارہ کرنا مقصود ہے کہ مجرموں کا راستہ جہنم ہوگا جو نہایت ہی برا راستہ ہے۔ یہاں مومنوں کو اپنی رحمت کی خوشخبری سنانے کے بعد مجرموں پر واضح فرمایا کہ اگر تم بھی بغاوت اور تکبر کا راستہ ترک کرکے نیک بندوں کے ساتھ عاجزی اور اپنے رب کے حضور سرافندگی کا طریقہ اختیار کرلو۔ تو اس کی رحمت تمہیں بھی اپنے دامن میں پناہ دینے کے لیے تیار ہے۔ اگر تم نے اس کے نیک بندوں کے ساتھ تکبر اور اپنے رب کے ساتھ نافرمانی کا رویہ اپنائے رکھا تو یاد رکھو اس کا عذاب بڑا سخت ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ () لَمَّا قَضَی اللَّہُ الْخَلْقَ کَتَبَ فِی کِتَابِہٖ فَہُوَ عِنْدَہٗ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِی غَلَبَتْ غَضَبِی)[ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کائنات کی تخلیق سے فارغ ہوا تو اپنی کتاب میں جو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے عر ش کے اوپر لکھا میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ الانعام
54 الانعام
55 الانعام
56 فہم القرآن : (آیت 56 سے 58) ربط کلام : کفار اور مشرکین نہ صرف خودگمراہ ہوتے ہیں بلکہ وہ دوسروں سے بھی اپنا عقیدہ اپنانے کا مطالبہ کرتے ہیں ان کا کفر و شرک واضح کرنے کے بعد نبی اکرم (ﷺ) سے اعلان کرایا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ مشرکین اور منکرین کی ہمیشہ سے یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ وہ توحید پرستوں کو ان کے راستے سے ہٹا کر شرک اور نافرمانی کے راستہ پر لگائیں۔ جس کے لیے قرآن مجید نے متعدد بار نبی (ﷺ) کی زبان اطہر سے یہ اظہار اور اعلان کروایا ہے کہ آپ دو ٹوک انداز میں لوگوں کو بتلائیں کہ مجھے غیر اللہ کی عبادت اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرنے سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہے۔ اگر میں ہدایت کے خلاف لوگوں کی خواہش کی پیروی اور غیر اللہ کی عبادت کروں تو اللہ کا رسول ہونے کے باوجود میں بھی ہدایت سے تہی دامن اور گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ آپ کی زبان اطہر سے یہ اعلان سن کر کفار انتہائی مایوس ہو کر یہ مطالبہ کرتے کہ اگر آپ وا قعتا اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہیں تو پھر ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ۔ اس حماقت کا جواب دیتے ہوئے آپ سے یہ اعلان کروایا گیا ہے کہ بلاشبہ میں اپنے رب کی دلیل پر ہوں جس کو تم مسلسل جھٹلاتے ہو۔ جہاں تک تمھارے مطالبے کا تعلق ہے جس پر تم آپے سے باہر ہوئے جا رہے ہو یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کب اور کس طرح تم پر عذاب نازل کرے گا میں اس پر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ کیونکہ کسی کی ہدایت یا گرفت کا فیصلہ کرنا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہی حاکم مطلق ہے۔ میرے اور تمھارے درمیان حق اور سچ کے ساتھ فیصلہ کرنے والا وہی ہے۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ کے علاوہ کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں۔ 2۔ خود ساختہ خداؤں کی عبادت کرنے والے گمراہ ہیں۔ 3۔ جزاء و سزا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ 4۔ فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ 5۔ ظالموں کو دنیا و آخرت میں عذاب سے دو چار کیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن : حکم اللہ ہی کا چلتا ہے : 1۔ بے شک اللہ جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ (المائدۃ:1) 2۔ نہیں ہے حکم مگر اللہ کا۔ اس کا حکم ہے کہ نہ عبادت کرو مگر صرف اسی کی۔ (یوسف :40) 3۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور فیصلہ کرتا ہے ان کے درمیان اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (الممتحنۃ :10) 4۔ اللہ فیصلے کرے گا ان کے درمیان قیامت کے دن جس بات میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ (البقرۃ:113) 5۔ قیامت کے دن آپ کا رب ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ (النحل : 124، النساء :141) الانعام
57 الانعام
58 الانعام
59 فہم القرآن : (آیت 59 سے 60) ربط کلام : کفار نے نبی اکرم (ﷺ) سے عذاب لانے کا مطالبہ کیا جس کا جواب دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ کو بتلا دیا گیا ہے اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کس نے ہدایت قبول کرنا ہے اور کس نے گمراہی میں مرنا ہے۔ اسی سورۃ کی آیت نمبر 50میں کفار کے ایک مطالبہ کا یہ جواب دیا گیا تھا کہ اے نبی (ﷺ) آپ فرما دیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے خزانوں کا مالک، غیب جاننے اور فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ یہاں دوسرے زاویے سے جواب دیا گیا ہے کہ عذاب نازل کرنے یا اللہ کے خزانوں کی ملکیت کا معاملہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے سوا انھیں کوئی نہیں جانتا۔ غیب کے پردوں اور دروازوں کے پیچھے جو کچھ چھپا ہے اس کی چابیاں اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں۔ وہ زمین کے ذرّے ذرّے اور پانی کے ایک ایک قطرے سے واقف ہے وہ زمین پر پیدا ہونے والے اربوں درخت اور ان پر لگنے والے کھربوں پتوں کو جانتا ہے اور کروڑوں کی تعداد میں بیک وقت زمین پر گرنے والے پتوں کا اسے علم ہوتا ہے۔ اسی طرح زمین کی تہوں اور اندھیروں میں زندہ، مردہ خشک اور تر کروڑ ہا قسم کے بیجوں کو نہ صرف جانتا ہے بلکہ اس کے ہاں لوح محفوظ میں ہر چیز کا ریکارڈ ثبت ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو رات کے وقت فوت کرتا ہے اور وہ سوتے اور جاگتے ہوئے جو حرکات کرتے ہیں وہ ان سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اسی طرح جو دن کی روشنی میں لوگ اعمال کرتے ہیں وہ سب کے سب اس کے احاطہ علم میں ہوتے ہیں۔ وہی اللہ لوگوں کو نیند سے بیدار کرتا ہے۔ اسی طرح صبح و شام، رات اور دن، سونے اور جاگنے کے عمل سے ہر انسان کی زندگی کے دن پورے ہوتے ہیں۔ جس طرح سونے اور جاگنے کا معاملہ ہے ایسے ہی انسان موت کے بعد اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہر کسی کو اسی کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے پھر وہ ہر انسان کو اس کے اچھے برے اعمال اور اس کے انجام سے آگاہ فرمائے گا یہاں نیند کو موت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ جب انسان گہری نیند سو جاتا ہے تو اسے گرد و پیش میں ہونے والے واقعات کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ نیند اور موت کے درمیان یہ فرق ہے کہ نیند کی حالت میں آدمی زندہ ہونے کی وجہ سے تھوڑی بہت آواز سے جاگ اٹھتا ہے، موت دنیاوی زندگی کے خاتمے کا نام ہے۔ مرنے والے کو قیامت کا شدید ہنگامہ ہی بیدار کرسکے گا۔ جب انسان موت کے بعد اٹھائے جائیں گے تو پھر سب کو اللہ تعالیٰ کی عدالت عظمیٰ میں پیش ہونا ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہی ہر کسی کو اس کے اعمال اور انجام سے باخبر فرمائے گا۔ مسائل : 1۔ عالم الغیب صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ 2۔ بحر و بر میں ہونے والی تمام حرکات و سکنات اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی ہیں۔ تفسیر بالقرآن : ” اللہ“ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا : 1۔ اللہ ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ( الانعام :59) 2۔ آپ فرما دیں کہ غیب اللہ ہی کے لیے ہے۔ ( یونس :20) 3۔ نہ ہی میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ ( ھود :31) 4۔ آپ فرما دیں کہ زمین اور آسمانوں کے غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (النمل :65) الانعام
60 الانعام
61 فہم القرآن : (آیت 61 سے 62) ربط کلام : اللہ تعالیٰ جس طرح نیند اور بیداری پر اختیار رکھتا ہے۔ اسی طرح ہی انسان کی موت کے بعد اسے زندہ کرکے اپنی بارگاہ میں حاضر کرنے پر قوت و اختیار رکھتا ہے۔ وہ بندوں پر مکمل اختیار رکھنے کے با وجود ہدایت کے بارے میں جبر اختیار نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، قدرت، علم، حکمت اور ہر لحاظ سے اپنے بندوں پر قادر اور قاہر ہے۔ وہی ہر چیز کو عدم سے وجود میں لاتا ہے اور ایک مدت معینہ کے بعد اس کے وجود کو ناپید کردیتا ہے۔ پھر قیامت کے دن ہر چیز کو وجود میں لائے گا۔ وہ ظلمت پر روشنی کو اور روشنی پر ظلمت کو غالب کرتا ہے۔ وہی ہر نعمت دینے والا ہے۔ اور جب چاہتا ہے اسے واپس لے لیتا ہے۔ زمین و آسمان میں کوئی طاقت ایسی نہیں جو اس کے اقتدار اور اختیار، قدرت و سطوت کے سامنے دم مار سکے۔ وہ ہر وقت اور ہر لحاظ سے اپنے بندوں پر غالب اور قادر ہے۔ وہی بندوں کے اجسام اور اعمال کی حفاظت کرتا ہے۔ اس نے انسان کی جان اور اعمال محفوظ رکھنے کے لیے ملائکہ مقرر کر رکھے ہیں۔ جو آدمی کی آخروقت تک حفاظت کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ موت کا فرشتہ اپنے عملے کے ساتھ آدمی کی جان اچک لیتا ہے۔ پھر وہ اسے پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا تے ہیں۔ جو انسان کا حقیقی مالک ہے۔ یہاں ﴿مَوْلٰہُمُ الْحَقِّ﴾کا لفظ استعمال فرما کر یہ حقیقت باور کروائی ہے کہ دنیا میں کافر اور مشرک بے شمار جھوٹے مولیٰ بنائے پھرتے ہیں جو آدمی کی موت کے ساتھ ہی اس سے الگ ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا انسان کو یہ حقیقت جان لینی چاہیے حقیقی مولیٰ اور حاکم مطلق اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ اس لیے انسان کی انسانیت یہ ہے کہ وہ اللہ کو سچا مولیٰ اور حاکم مطلق تصور کرے جو بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ () قَالَ یَتَعَاقَبُون فیکُمْ مَلَائِکَۃٌ باللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃٌ بالنَّہَارِ وَیَجْتَمِعُونَ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ ثُمَّ یَعْرُجُ الَّذِینَ بَاتُوا فیکُمْ فَیَسْأَلُہُمْ وَہُوَ أَعْلَمُ بِہِمْ کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِی فَیَقُولُونَ تَرَکْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ وَأَتَیْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ) [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلاۃ، باب فضل صلاۃ العصر] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا رات اور دن کے فرشتے تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔ وہ فجر اور عصر کی نماز کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں پھر آسمان کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے کے باوجود ان سے پوچھتا ہے تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ کہتے ہیں جب ہم ان کے پاس سے آئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے ہاں گئے تو بھی وہ نماز ہی پڑھ رہے تھے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ ہر بندے پر حفظ وضبط کے لیے فرشتے مقرر فرمارکھے ہیں۔ 2۔ وقت مقررہ سے فرشتے ایک لمحہ بھی آگے پیچھے نہیں ہونے دیتے۔ 3۔ اللہ ہی مالک حقیقی ہے۔ 4۔ فیصلہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : موت کے وقت مہلت نہیں دی جاتی : 1۔ ہر امت کے لیے ایک اجل ہے جب آجائے تو ایک منٹ آگے پیچھے نہیں ہوتی۔ (یونس :49) 2۔ جب لوگوں کی اجل آجائے تو ایک منٹ بھی آگے پیچھے نہیں ہوتی۔ (النحل :61) 3۔ اللہ تعالیٰ ہرگز کسی جان کو مہلت نہیں دیتا جب اس کی اجل آجائے۔ (المنافقون : 10تا11) الانعام
62 الانعام
63 فہم القرآن : (آیت 63 سے 64) ربط کلام : اللہ صرف دنیا میں ہی نہیں بلکہ انسانوں کی موت و حیات پر قادر، حاکم مطلق اور مولیٰ حق ہے گو اس نے ہدایت کا جبری نظام نہیں بنایا لیکن تم اس کی قدرتیں دیکھو اور ان پر غور کرو۔ آسانی اور خوشحالی میں اسی کو پکارو جس کو تم مشکل اور اضطراری حالت میں پکارتے اور اس کے مشکل کشا ہونے کا اقرار کرتے ہو۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی گئی ہے کہ مشرک اور موحد میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مشرک اور کافر صرف مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں۔ جب مشکل ٹل جاتی ہے تو پھر اس کے ساتھ دوسروں کو پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ ان کے برعکس موحد کی یہ شان ہے کہ وہ عسر و یسر، آسانی اور پریشانی میں صرف اور صرف اپنے رب کو پکارتا ہے اور یہی فطرت سلیم کا تقاضا ہے، مشکل اور پریشانی کے وقت مشرک کے دل و دماغ پر غفلت کے پردے اٹھ جاتے ہیں۔ اس وقت اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مشکل کشا دکھائی اور سجھائی نہیں دیتا۔ مشرک انتہائی مشکل میں مبتلا ہوتے ہیں تو وہ بڑی آہ و زاری کے ساتھ دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کو صداؤں پر صدائیں دے رہے ہوتے ہیں اور اپنے دل ہی دل میں یہ عہد کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت سے نجات بخشی تو ہم اس کے شکر گزار بندے بنیں گے۔ لیکن جونہی وہ اس کرب ناک مصیبت سے نجات پاتے ہیں تو پھر اس مشکل کشائی میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں۔ یہاں شکر کرنے سے مراد توحید کا اقرار کرنا ہے اور بحر و بر کی ظلمات سے مراد بادل اور رات کے اندھیروں کے ساتھ صحراؤں کے گرد و غبار اور سمندر کی موجوں اور تہوں کے اندھیرے ہیں۔ ﴿فَإِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ فَلَمَّا نَجَّاہُمْ إِلَی الْبَرِّ إِذَا ہُمْ یُشْرِکُوْنَ﴾[ العنکبوت :65] ” پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کی حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے خالصتاً اسے ہی پکارتے ہیں۔ اور جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو اس کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی بحر و بر کی مشکلات سے نجات نہیں دے سکتا۔ 2۔ مصیبت سے نکلنے کے بعد خصوصاً اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ 3۔ عقیدہ توحید پر قائم رہنے کے ساتھ شرک سے نفرت کرنا بھی لازم ہے۔ تفسیر بالقرآن : خشکی اور تری میں اللہ ہی نجات دینے والا ہے : 1۔ جب تمھیں خشکی کی طرف نجات مل جاتی ہے تو اس سے اعراض کرتے ہو۔ (الاسراء :67) 2۔ جب ہم انھیں خشکی کی طرف نجات دیتے ہیں تو وہ شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ (العنکبوت :65) 3۔ وہ اللہ کو خالص پکارتے ہیں جب انھیں خشکی کی طرف نجات ملتی ہے۔ (لقمان :32) 4۔ ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے اور نافرمانی سے بچتے رہے۔ (حٰم السجدۃ:18) 5۔ جب ان پر سائبان جیسی کوئی موج چھا جاتی ہے تو اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے خالصاً اسے پکارتے ہیں پھر جب انھیں بچا کر خشکی تک لے آتا ہے تو پھر کچھ بد اعتدال ہوجاتے ہیں۔ (لقمان :32) مشرک نجات پانے کے بعد شرک کرتا ہے : 1۔ جب ہم انھیں نجات دیتے ہیں تو وہ بغیر حق کے زمین میں بغاوت کرتے ہیں۔ (یونس :23) 2۔ جب ہم انھیں نجات دیتے ہیں تو بعد میں وہ شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ ( العنکبوت :65) 3۔ آپ فرما دیں اللہ تمھیں اس سے اور ہر مصیبت سے نجات دیتا ہے اور تم شرک کرتے ہو۔ (الانعام :64) الانعام
64 الانعام
65 فہم القرآن : (آیت 65 سے 67) ربط کلام : سمندر کے طوفان اور صحرا کے گرداب اور بھنور میں ہی نہیں وہ اللہ جب چاہے انسان کو دیگر آزمائشوں اور عذابوں میں مبتلا کرسکتا ہے۔ اے لوگو تم ہر حال میں اپنے رب کے سامنے مجبور محض ہو۔ پہلی آیات میں برّی گرداب اور سمندری طوفانوں کا ذکر ہوا ہے۔ جن کے ساتھ عام طور پر مسافر کو واسطہ پڑتا ہے۔ یہاں اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو انتباہ کیا جا رہا ہے کہ لازم نہیں کہ صرف سفر میں ہی تمھیں مشکلات اور عذاب کے ساتھ واسطہ پڑے۔ وہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تمھیں تمھارے گھروں میں بیٹھے ہوئے آسمانی اور زمینی عذاب سے دو چار کردے، یہی نہیں بلکہ تمھیں تمھاری نافرمانی، بداخلاقی اور باہمی منافقت ور نجشوں کی بنا پر آپس میں اس طرح الجھا دے کہ تم ایک دوسرے کے لیے عذاب اور مصیبت بن جاؤ۔ آسمانی عذاب سے مراد بارشوں کا بے موقع اور غیر معمولی برسنا ہے۔ دیگر آفات کا لوگوں کے پاؤں تلے سے نمودار ہونا ہے۔ پاؤں تلے نمودار ہونے کی مثال قوم نوح کے عذاب کی طرح پانی کا آسمان سے اترنا اور زمین سے نکلنا اور اگلنا ہے۔ لوگوں کا زمین کے اندر دھنسائے جانا اور اس طرح کے دیگر عذاب ہیں اس مقام پر ایک دوسرے کے ساتھ الجھنے کو عذاب سے تشبیہ دی گئی ہے۔ باہمی جنگ و جدال کو اللہ تعالیٰ نے اپنا عذاب قرار دیا اور فرمایا کہ غور کرو کہ ہم اپنے احکام کو مختلف زاویوں کے ساتھ کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ سمجھ بوجھ سے کام لیں۔ انسانی اعضاء و جوارح اور وجود میں سمجھ بوجھ ہی وہ قوت ہے۔ جو انسان کو دینی اور دنیاوی نفع و نقصان سے باخبر رکھتی ہے اگر سوجھ بوجھ کی صلاحیت سلب ہوجائے تو آدمی کا صحیح راستے پر چلنا، نفع اور نقصان کو پہچاننا ناممکن ہوجاتا ہے۔ نبی معظم (ﷺ) کے بار بار سمجھانے کے باوجود کفار ہر بار حقائق کی تکذیب کرتے۔ جس پر رسول محترم (ﷺ) کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا کام لوگوں کو سمجھانا اور بتلانا ہے منوانا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں پر چوکیدار بنانے کے بجائے مبلغ بنایا ہے۔ جہاں تک عذاب یا قیامت لانے کا مطالبہ ہے انھیں خبر ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر بات اور کام کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اس کا حکم اور کام اپنے وقت پر ہی ظہور پذیر ہوا کرتا ہے۔ (عَنْ جَرِیرٍ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ () قَالَ لَہٗ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ اِسْتَنْصِتِ النَّاسَ فَقَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ) [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب الانصات للعلماء] ” حضرت جریر (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ نبی اکرم (ﷺ) نے اسے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا لوگوں کو خاموش کراؤ۔ اس کے بعد فرمایا میرے بعد کفر میں لوٹ نہ جاناکہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کا عذاب نازل کرسکتا ہے۔ 2۔ ہر نبی کا کام دعوت حق پہنچانا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ حق بات دلائل و شواہد سے واضح کرتا ہے تاکہ لوگ شرک و مصیبت سے باز آجائیں۔ 4۔ عذاب کا ایک وقت مقرر ہے۔ تفسیر بالقرآن : باہمی اختلاف اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے : 1۔ شیطان چاہتا ہے کہ تمھارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے۔ (المائدۃ: 91) 2۔ باہمی اختلاف انسان کو جہنم کے کنارے پر کھڑا کردیتا ہے۔ (آل عمران :103) 3۔ اختلاف سے ساکھ اکھڑ جاتی ہے۔ (الانفال :46) 4۔ اللہ تعالیٰ کے غضب کا نتیجہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان قیامت تک کے لیے باہم اختلافات رہیں گے۔ ( المائدۃ:64) 5۔ اللہ نے یہود و نصاریٰ کے درمیان بغض اور دشمنی قیامت تک کے لیے ڈال دی ہے۔ (المائدۃ:14) الانعام
66 الانعام
67 الانعام
68 فہم القرآن : ربط کلام : پیغمبر (علیہ السلام) کی تکذیب، آپ سے بار بار آیات کا مطالبہ کرنا اور حقائق کو ٹھکرانادرحقیقت اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ یہ منکرین کا شروع سے یہی وطیرہ رہا ہے۔ ایسے موقعہ پر مومنوں کو ہدایت۔ کفار بار بار پیغمبر (علیہ السلام) سے آیات و معجزات کا مطالبہ کرتے تھے جب ان کا مطالبہ پورا کردیا جاتا تو وہ ایک اور مطالبہ پیش کردیتے۔ اس طرح انھوں نے اللہ کے دین کو کھیل اور شغل بنا رکھا تھا۔ خوض کا معنی کسی حقیقت کو کھیل تماشا بنانا یا اسے مذاق سمجھنا ہے۔ کفار کھلم کھلا دین اور مسلمانوں کو مذاق کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم (ﷺ) کے بارے میں زبان درازی کرتے ہوئے کہتے کہ یہ کیسا نبی ہے۔ جسے سفر کے لیے سواری، رہنے کے لیے عمدہ مکان، کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی اور پہننے کے لیے اچھا لباس میسر نہیں۔ جہاں تک اس کے متبعین کا تعلق ہے ان کی اکثریت معاشرے کے کم تر لوگوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس استہزاء کے ساتھ جب صحابہ (رض) اور نبی محترم (ﷺ) نماز پڑھتے تو یہ لوگ سیٹیاں بجایا کرتے تھے۔ اسی طرح آپ کو عطا ہونے والے معجزات کا مذاق اڑاتے۔ چاند دو ٹکڑے ہوا تو انھوں نے آپ کو جادوگر کہا۔ آپ معراج پر پہنچے تو کفار نے اسے دیوانے کی بڑ قرار دیا۔ قرآن مجید نے اسلام اور مسلمانوں کے غلبے کی بات کی تو مخالفین نے اسے یوں استہزاء کا نشانہ بنایا کہ ہاں یہ کنگال اور بے خانماں لوگ ہی سلطنت روما کے وارث اور فارس کے فاتح قرار پائیں گے۔ ایسے ماحول اور مجالس کے بارے میں آپ اور آپ کے رفقاء کو حکم دیا گیا ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بنایا جا رہا ہو تو آپ لوگوں کو وہاں ہرگز نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اگر شیطان کے بہلاوے سے ایسی مجلس میں بیٹھ گئے ہوں تو یاد آنے کے بعد فوراً اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ جو شخص یاد آنے اور مسئلہ جاننے کے باوجود ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے گا وہ ظالموں میں شمار ہوگا۔ اللہ سے ڈرنے والوں پر ظالموں کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ آپ کا کام تو فقط اتنا ہے کہ ایسے لوگوں کو موقع بموقع سمجھاتے رہیں تاکہ ظالم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر گناہوں کی زندگی سے بچ جائیں۔ (عَنْ اَبِی بُرْدَۃَ بْنِ أَبِی مُوسٰی (رض) عَنْ أَبِیہٖ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () مَثَلُ الْجَلِیس الصَّالِحِ وَالْجَلِیس السَّوْءِ کَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْکِ وَکِیرِ الْحَدَّادِ لَا یَعْدَمُکَ مِنْ صَاحِبِ الْمِسْکِ إِمَّا تَشْتَرِیہِ أَوْ تَجِدُ ریحَہُ وَکِیرُ الْحَدَّادِ یُحْرِقُ بَدَنَکَ أَوْ ثَوْبَکَ أَوْ تَجِدُ مِنْہُ ریحًا خَبِیثَۃً)[ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب فی العطار] ” حضرت ابو بردہ بن ابو موسیٰ (رض) اپنے والد سے بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا نیک اور برے آدمی کی مثال خوشبو بیچنے والے اور بھٹی والے کی ہے۔ خوشبو والے سے تم خوشبو خریدو گے یا اچھی خوشبو محسوس کرو گے۔ جو بھٹی والا ہے اس کی چنگاری تمہارے بدن یا کپڑے کو جلادے گی یا تم اس سے دھواں کی بد بو محسوس کرو گے۔“ مسائل : 1۔ جہاں اللہ کی آیات کا مذاق اڑا یا جائے وہاں جانے سے احتراز کرنا چاہیے۔ 2۔ شیطان کے بہکاوے سے خبردار رہنا چاہیے۔ 3۔ دین کے ساتھ مذاق کرنے والے لوگوں سے کنارہ کشی بہتر ہے۔ تفسیر بالقرآن : ظالم کون : 1۔ اللہ کی مساجد کو ویران کرنے والا ظالم ہے۔ (البقرۃ:114) 2۔ اللہ کی گواہی کو چھپانے والا ظالم ہے۔ (البقرۃ:140) 3۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والا ظالم ہے۔ (الانعام :21) 4۔ نبوت کا جھوٹا دعو یٰ کرنے والا ظالم ہے۔ (الانعام :93) 5۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (الاعراف :37) 6۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والا بہت بڑا ظالم ہے۔ (لقمان :13) الانعام
69 فہم القرآن : (آیت 69 سے 70) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : مشرکین اور منکرین اللہ تعالیٰ کی سطوت وقدرت جاننے کے باوجود معبودان باطل پر امیدیں لگائے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں اور دین کو کھیل تماشا سمجھتے ہیں۔ ان سے اجتناب کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ان کا انجام بتلایا گیا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں ان لوگوں سے اجتناب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 1۔ جو دین کو کھیل اور تماشا سمجھتے ہیں۔ 2۔ جو دنیا کے اسباب و وسائل اور ترقی پر غرور کرتے ہیں۔ یہاں اجتناب سے مراد ان لوگوں کے ساتھ قلبی محبت اور ان کے لادینی اشغال میں حصہ دار بننا ہے۔ ایسے لوگوں سے ایک حد تک دور رہتے ہوئے نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔ قرآن مجید متعدد مقامات پر یہ حقیقت عیاں کرتا ہے کہ دنیا پرست لوگوں نے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے جس طرح تما شا دل بہلانے کے لیے اور کھیل جسمانی تقویت کے لیے ہوتا ہے یہی سوچ اور وطیرہ دنیا دار کا دین کے بارے میں ہوا کرتا ہے یہ دین کو دنیاوی مفاد، شہرت و منصب اور محض ذہنی سکون کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کے مشاغل سے دور رہتے ہوئے انھیں موقع بموقع نصیحت کرتے رہنا چاہیے اور ان کو یہ حقیقت باور کرانی چاہیے کہ جس دنیا کے جاہ و جلال اور اسباب و وسائل پر تم نازاں خود سپردگی کا انداز اختیار کیے ہوئے ہو۔ مرنے کے بعد یہ سب دھرے کا دھرا رہ جائے گا اور تمھیں ایسی عدالت میں پیش ہونا ہے جہاں کسی ولی کی ولایت، سفارشی کی سفارش اور فدیہ دینے والے کا فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح دنیا کے اسباب ہی نہیں بلکہ جن لوگوں اور معبودان باطل پر بھروسہ کیے ہوئے ہو وہ بھی تمھیں فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔ جو لوگ دنیا کے بندے اور برائی کے دھندے میں مبتلا ہو کر موت کی آغوش میں جائیں گے انھیں جہنم میں پینے کے لیے ابلتا ہوا پانی اور اذیّت ناک عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ دنیا کے بندے بن کر توحیدو رسالت کا انکار کرنے والے تھے۔ (عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنْ النَّبِیِّ () فِی قَوْلِہٖ﴿ وَیُسْقٰی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ یَتَجَرَّعُہُ﴾ قَالَ یُقَرَّبُ إِلَیْہِ فَیَتَکَرَّہُہُ فَإِذَا دَنَا مِنْہُ شُوِیَ وَجْہُہُ وَوَقَعَتْ فَرْوَۃُ رَأْسِہٖ وَإِذَا شَرِبَہُ قَطَّعَ أَمْعَاءَ ہُ حَتَّی خَرَجَ مِنْ دُبُرِہٖ)[ رواہ احمد ] ” حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (ﷺ) نے جہنمیوں کے بارے فرمایا کہ ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا وہ ان کو جلا دے گا۔ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا وہ ان کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس کو نا پسند کریں گے۔ جونہی وہ اس کے قریب ہوگا تو اس کا چہرہ جھلس جائے گا۔ اس کے سر کے بال بھی گر جائیں گے اور جب وہ پیے گا تو اس کی آنتیں کٹ جائیں گی یہاں تک کہ وہ اس کی پشت سے نکل جائے گا۔“ ﴿إِنَّ شَجَرَۃَ الزَّقُّوْمِ۔ طَعَامُ الْأَثِیْمِ کَالْمُہْلِ یَغْلِیْ فِی الْبُطُونِ کَغَلْیِ الْحَمِیْمِ۔ خُذُوْہُ فَاعْتِلُوْہُ إِلٰی سَوَآءِ الْجَحِیمِ۔ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِہٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِ۔ ذُقْ إِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْکَرِیْمُ۔ إِنَّ ہٰذَا مَا کُنْتُمْ بِہِ تَمْتَرُوْنَ﴾ [ الدخان : 43تا50] ” بلاشبہ زقوم کا درخت گنہگار کا کھانا ہوگا۔ جو پگھلے تانبے کی طرح پیٹ میں جوش مارے گا۔ جیسے کھولتا ہوا پانی جوش مارتا ہے۔ پھر حکم ہوگا کہ اسے پکڑ لو پھر اسے گھسیٹتے ہوئے جہنم کے درمیان تک لے جاؤ۔ پھر حکم ہوا کہ کھولتے پانی کا عذاب اس کے سر پر انڈیل دو۔ پھر اسے کہا جائے گا چکھ ! تو بڑا معزز اور شریف بنا پھرتا تھا۔ یہ ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے۔“ مسائل : 1۔ گمراہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔ 2۔ دین کو کھیل تماشا سمجھنے والوں کو نصیحت کرنی چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی کار ساز نہیں۔ 4۔ کافروں کے لیے کھولتے ہوئے پانی کا عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خیر خواہ نہیں ہوگا : 1۔ وہ اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی خیر خواہ اور نہ ہی کوئی مددگار پائیں گے۔ (الاحزاب :17) 2۔ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے، وہ خیر خواہ اور مددگار نہیں پائیں گے۔ (الاحزاب :65) 3۔ نہیں ہے کوئی ان کے لیے اللہ کے سوا خیر خواہ۔ (ھود :20) 4۔ نہیں ہے تمھارے لیے کوئی اللہ کے سوا خیر خواہ اور پھر تم نہیں مدد کیے جاؤ گے۔ (ھود :113) 5۔ نہیں ہے تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی خیر خواہ اور نہ مدد گار۔ ( العنکبوت :22) الانعام
70 الانعام
71 فہم القرآن : (آیت 71 سے 73) ربط کلام : جس طرح معبودان باطل آخرت میں کسی کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتے اسی طرح یہ حقیقت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر دنیا میں بھی یہ کسی کو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ مشرک کی عادات میں ایک عادت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اپنے معبودوں کے ساتھ محبت کرتا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کے بجائے اپنے باطل معبودوں کی طرف بلاتا اور کھینچتا ہے۔ حالانکہ معبودان باطل نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان۔ اسی بنا پر نبی مکرم (ﷺ) کو حکم ہوا کہ آپ مشرکوں کو سمجھائیں کہ کیا ہم ان کی طرف دعوت دیں اور ان کی عبادت کریں جو کسی کو ذرّہ برابر نفع اور رتی برابر نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ مشرکوں سے یہ بھی کہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نصیب ہونے کے باوجود ہم لوگوں کو شرک کی دعوت دیں۔ توحید کا عقیدہ اپنانے کے بعد شرک کی دعوت دینا الٹے پاؤں چلنے کے مترادف ہے۔ ظاہر بات ہے الٹے پاؤں چلنا عقل و فکر کے خلاف اور حقیقت سے منہ موڑنا ہے یہ تو اس شخص کا وطیرہ ہے جس کو شیطان نے کسی صحرا اور بیابان میں بہکا دیا ہو۔ وہ حیرانی اور پریشانی کے سوا کوئی راستہ نہیں پاتا۔ اور ادھر ادھر بہکا پھر رہا ہے۔ یہی مشرک کی مثال ہے کہ وہ عقیدہ و عمل کی دنیا میں صحیح فکر اختیار کرنے کے بجائے فکری اور عملی آوارگی کا شکار رہتا ہے۔ اسے توحید کی دعوت سمجھ نہیں آتی اور اس کی حالت صحرا میں بہکے ہوئے مسافر کی ہے۔ جسے صحیح راستے کی طرف بلایا جائے تو وہ اس قدر حواس باختہ ہوچکا ہوتا ہے اسے کوئی بات سنائی اور سمجھائی نہیں دیتی۔ ایسے شخص سے بحث مباحثہ کرنے کے بجائے اسے کہنا چاہیے کہ ہدایت تو اللہ کی طرف سے نصیب ہوا کرتی ہے اور ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم غیر اللہ کی پیروی کرنے کی بجائے صرف اور صرف رب العالمین کی غلامی اور اس کے حکم کی پیروی کریں۔ اس کا حکم اور اس کی اتباع یہ ہے کہ نماز قائم کی جائے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرا جائے کیونکہ اسی کی طرف سب نے لوٹ کر جانا ہے۔ اس نے حق کے ساتھ زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ جس دن وہ ” کُنْ“ فرمائے گا تو سب کچھ اس کے سامنے حاضر ہوجائے گا۔ اس کا حکم صادر ہونے اور ہر چیز کا اس کے حضور اکٹھا ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اسی کی زمین و آسمان پر بادشاہی ہے اسی کے حکم سے پہلا اور دوسرا صور پھونکا جائے گا وہ ہر قسم کے غائب اور ظاہر کو جانتا ہے۔ اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت ہے اور وہ ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رض) قَالَ جَاءَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ () قَالَ مَا الصُّورُ قَالَ قَرْنٌ یُنْفَخُ فیہِ) [ رواہ الترمذی : کتاب الصفۃ القیامہ، باب ماجاء فی شان الصور] ” حضرت عبداللہ بن عمر وبن عاص (رض) بیان کرتے ہیں ایک دیہاتی نے نبی اکرم (ﷺ) کی خدمت میں حاضرہو کر پوچھا کہ صور کیا ہے؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا وہ ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔“ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () کَیْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَاسْتَمَعَ الْإِذْنَ مَتٰی یُؤْمَرُ بالنَّفْخِ فَیَنْفُخُ فَکَأَنَّ ذَلِکَ ثَقُلَ عَلٰی أَصْحَاب النَّبِیِّ () فَقَالَ لَہُمْ قُولُوا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیا مۃ، باب ما جاء فی صفۃ الصور] ” حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا میں کیسے نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤں؟ جبکہ سینگ والے نے سینگ منہ میں ڈالا ہوا ہے اور اجازت کا منتظر ہے کب اس کو پھونکنے کا حکم ملے تو وہ پھونک مار دے۔ نبی محترم (ﷺ) کے صحابہ (رض) پر یہ بات گراں گزری نبی معظم (ﷺ) نے ان سے فرمایا تم کہو ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے اور ہم اپنے اللہ پر ہی توکل کرتے ہیں۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی نفع و نقصان نہیں دے سکتا۔ 2۔ گمراہی پر اصرار کرنا شیطان کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔ 3۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے حضور ہی سب کو اکٹھا کیا جائے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فرمان حق اور سچ ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ بہت حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ سے ہی ڈرنا چاہیے : 1۔ خاص مجھ ہی سے ڈر۔ (البقرۃ:41) 2۔ اللہ سے ڈر جاؤ اے عقل مندو۔ (الطلاق :10) 3۔ اللہ سے ڈر جاؤ اے عقل مند و تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدۃ:100) 4۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صاف گوئی اختیار کرو۔ ( الاحزاب :70) 5۔ اے لوگو ! اس اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا۔ ( النساء :1) 6۔ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ان میں صلح کروا دو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ( الحجرات :10) الانعام
72 الانعام
73 الانعام
74 فہم القرآن : (آیت 74 سے 80) ربط کلام : شرک کی بے ثباتی ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک مشاہدہ اور ایک عملی مثال کا بیان کی تاکہ دنیا بھر کے مذاہب سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اپنا رشتہ ناتہ جوڑتے ہیں انہیں معلوم ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ کیا تھا۔ مؤرخین اور تورات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ بتایا ہے اور قرآن مجید نے آزر لیا ہے۔ اس لیے مؤرخین کے خیالات میں فرق ختم کرنے کے لیے مختلف راہیں اختیار کی گئیں۔ ایک مفسر کا خیال ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آپ کی پیدائش کے بعد جلد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپ کی تربیت آپ کے چچا نے کی۔ چچا بمنزلہ باپ کے ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم نے آزر کو ابیہ کے نام سے پکارا ہے۔ دوسرے صاحب قلم کا عندیہ ہے کہ آپ کے والد کا اصلی نام تارخ تھا۔ لیکن وہ محب صنم ہونے کی وجہ سے آزر کہلایا۔ کیونکہ عربی میں محب صنم کو آزر کہا جاتا ہے۔ تیسرے مؤرخ نے تطبیق کا راستہ تلاش کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کے باپ کا اصلی نام تارخ اور وصفی (پیشہ وارانہ) نام آزر تھا۔ لیکن قرآن مجید ان تکلفات سے پاک ہے اور واضح طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام آزربتارہا ہے لہٰذا ہم ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کو آزر ہی کہیں گے۔ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد بت تراش کر بازار میں فروخت کیا کرتے تھے یہ بات غلط ہے کیونکہ جدید تحقیقات سے ثابت ہوچکا ہے کہ آپ کے والد مذہبی پیشوا اور اس زمانے کی حکومت میں مرکزی کابینہ کے رکن ہونے کی بنا پر حاکم وقت اور عوام الناس میں انتہائی احترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت باسعادت : تورات کے نسخہ سجینہ کا جو ترجمہ عبرانی سے یونانی میں تین سو سال قبل مسیح کیا گیا اور جس میں نامور دانشور یہودی شریک تحقیق ہوئے ان کے حوالے سے ماہر اثریات سر چارلس مارسٹن نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا سن ولادت 2160قبل مسیح تحریر کیا ہے۔ آپ کی عمر مبارک 175سال تھی چنانچہ مذکورہ تحقیق کے مطابق آپ کی وفات پر ملال 1985قبل مسیح قرار پائی۔ تاہم یہ تحقیق حتمی حیثیت نہیں رکھتی۔ جدیدتحقیق میں نہ صرف وہ شہر معلوم ہوگیا ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی بلکہ آپ کے دورکے حالات و واقعات قدرے تفصیل کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ آپ جنوبی عراق میں دریائے فرات کے کنارے واقع شہر ار میں پیدا ہوئے جس کو موجودہ جغرافیہ کی زبان میں تل ابیب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیدائشی شہر کی آبادی کا ڈھائی لاکھ سے لے کر پانچ لاکھ تک اندازہ کیا گیا ہے۔ آثار قدیمہ کے کھنڈرات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی زندگی کا مقصد دولت کمانا، سود خوری اور مقدمہ بازی مشغلہ تھا۔ گویا کہ اخلاقی اور اعتقادی اعتبار سے یہ قوم تباہی کے گڑھے پر کھڑی تھی۔ اس وقت کے مذہبی حالات کا آپ اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ کے شہر ار میں پانچ ہزار خداؤں کے نام دریافت کیے گئے ہیں۔ دوسرے شہروں اور قصبات کے الگ الگ خدا مقرر تھے۔ ہر شہر کا ایک خاص خدا ہوتا تھا، جس کو رب البلد یعنی خداۓ شہر کہتے تھے۔ ظاہر ہے لوگ اس کا احترام دوسرے خداؤں سے زیادہ کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیدائشی شہر ار کا بڑا خدا ننار تھا (چاند دیوتا) اسی وجہ سے بعض مؤرخین نے اس شہر کا نام قمرینہ بھی لکھا ہے۔ ننار کا بت شہر میں سب سے اونچی جگہ رکھا گیا تھا۔ جس کے ساتھ ہی اس کی بیوی (نن گل) کا معبد تھا۔ لوگ بتوں، مزاروں کے سامنے مراقبے کرتے، سجدہ ریز ہوتے اور طواف کرتے تھے۔ ننار کی شان شاہی محل سرا کی تھی۔ یہاں ہر وقت نئی عورتیں آکر ٹھہرتی۔ یہاں بہت سی عورتوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا۔ وہ عورت بڑی محترم سمجھی جاتی تھی جو اپنی چادر عفت کو یہاں قربان کردیتی۔ اس مزار کے نام بہت سے رقبے وقف تھے جن کی آمدنی مجاور ہی استعمال کرسکتے تھے۔ اس شرک و خرافات کی یلغار اور بھرمار میں رب کریم کا فضل و کرم جوش میں آیا۔ اس نے شرک ورسومات کے مرکز میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا۔ اس کی قدرت کا کرشمہ اور سنت قدیمہ ہے کہ جب بھی برائی حد سے بڑھنے لگتی ہے تو رب کبریا حق و باطل کا معرکہ برپا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا چہرۂ مبارک : واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے نبی مکرم (ﷺ) نے فرمایا کہ مجھے جبرائیل (علیہ السلام) ساتویں آسمان پر لے گئے۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ شخصیت بیت المعمور کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تشریف فرما ہے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے تعارف کرواتے ہوئے فرمایا۔ (ہٰذَا اَبُوْکَ اِبْرَاہِیْمُ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ)[ مشکوۃ: باب فی المعراج ] ” یہ آپ کے والد گرامی ابراہیم (علیہ السلام) ہیں آپ آگے بڑھ کر سلام عرض کریں چنانچہ میں نے سلام کیا۔“ جواباً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کہتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ (قَالَ مَرْحَبًا لاِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیّ الصَّالِح)ِ[ مشکوۃ: باب فی المعراج ] ” خوش آمدید (جی آیاں نوں) نیک بیٹا اور نبی صالح بھی۔“ نبی اکرم (ﷺ) نے صحابہ (رض) کا ذوق و شوق دیکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کے رخ زیبا کا اندازہ لگانا ہو وہ مجھے دیکھ لے۔ (قَالَ أَمَّا إِبْرَاہِیمُ فَانْظُرُوا إِلَی صَاحِبِکُمْ) [ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء] جیسا کہ ابھی ابھی ذکر کیا گیا ہے حضرت خلیل (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ صنم پرستی کے ساتھ ساتھ ستارہ پرستی کے بھی قائل تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے مناسب جانا کہ اب وقت آگیا ہے کہ معبود ان ارضی کے ساتھ معبودان فلکی (چاند سورج، ستاروں) کی پر زور تردید کی جائے۔ لیکن اسلوب بیان ایسا اختیار فرمایا۔ کہ شرک کا مریض، یکایک بدک نہ جائے، کیونکہ مریض شرک بہت جلد باز اور ہلکی طبیعت کا واقع ہوا ہے۔ جب بھی اس کو محسوس ہوجائے کہ نسخہ توحید کے ساتھ میرا علاج ہونے والا ہے تو پہلے ہی بھاگنا اور منہ بسورنا شروع کردیتا ہے۔ ﴿وإِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِا لْاٰ خِرَۃِ وَإِذَا ذُکِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ إِذَا ھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ﴾ [ الزمر :45] ” جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت کے منکروں کے دل کڑھنے لگتے ہیں۔ جب اس کے علاوہ دوسروں کا تذکرہ ہوتا ہے تو یکایک خوشی سے کھل جاتے ہیں۔“ حضرت خلیل (علیہ السلام) نے نہایت اچھے اور دلچسپ انداز میں توحید سمجھانے کی کوشش فرمائی۔ یہ انداز بیان ان کی زبردست معجزانہ فصاحت و بلاغت اور حکمت و دانائی کا مرقع ہے۔ جب شام ہوئی تو پردۂ ظلمت سے ستارے درخشاں ہوئے تو اپنی قوم کا عقیدہ نقل کرتے ہوئے فرمایا۔ یہ میرا رب ہے۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد چمکتا ہوا ستارہ ڈوب گیا۔ فرمایا ڈوبنے والا رب نہیں ہو سکتا۔ پھر چاند نمودار ہوا، فرمایا یہ ہے میرا رب، لیکن چاند بھی آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔ صبح ہوئی اور مہر جہاں روشن ہوا، فرمایا یہ میرا رب ہے یہ ان سب سے بڑا ہے، لیکن سورج کو دوام اور روشنی کو بھی قرار نہیں۔ پہلے بڑھ رہی تھی، دوپہر کے بعد ڈھلنے لگی شام کو سورج غروب ہوگیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پکارا ٹھے یہ سب محکوم و مجبور اور بے بس ہیں ان کو لانے اور لے جانے والا حقیقی مالک اللہ ہی عبادت کے لائق ہے۔ اب ان کا مکالمہ قرآن کے الفاظ میں سنیے! ” اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے زمین و آسمان کا نظام حکومت دکھایا تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں ہوجائے۔ چنانچہ جب رات چھاگئی، تو اس نے ایک تارا دیکھا کہا یہ میرا رب ہے۔ لیکن جب وہ تارا ڈوب گیا تو کہنے لگے میں ڈوبنے والے کو بالکل پسند نہیں کرتا۔ جب چمکتے ہوئے چاند کی طرف دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے۔ جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا۔ اگر میرا رب مجھے ہدایت سے نہ نوازتا تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہوتا۔ پھر سورج کو چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرا رب ہے۔ اور یہ ان سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو فرمایا اے برادران قوم میں بری ہوں، ان سے جن کو تم شریک بناتے ہو۔ میں نے تو اپنا چہرہ اس ہستی کی طرف کرلیا ہے، جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اور میں مشرکوں کا سا تھی نہیں ہوں۔ اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی۔ فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے بارے میں میرے ساتھ جھگڑتے ہو۔ حالانکہ اس نے مجھے صراط مستقیم دکھائی، میں تمھارے بنائے ہوئے معبودان باطل سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب میرا نقصان چاہے تو ضرور نقصان ہوجائے گا۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر محیط ہے کیا اب بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرو گے ؟ آخر تمھارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیوں ڈروں ؟ اللہ نے تم پر کوئی دلیل نہیں اتاری۔ ہم دونوں فریقوں میں کون امن و سلامتی کا حق دار ہے۔ بتاؤ اگر کچھ علم رکھتے ہو۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کا تدریجی عمل تھا، حالانکہ اس خطاب کے سیاق و سباق سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ نہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کا تدریجی عمل تھا اور نہ ہی ایک لمحہ کے لیے ان کو معبود تصور کرتے تھے۔ کیونکہ قرآن مجید واقعہ کے آخر میں واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہے۔ کہ ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے خلاف دلائل دیے۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کرتے ہیں یقیناً تیرا رب حکیم و علیم ہے۔ ﴿وَلَقَدْ اٰتَیْنَآ اِبْرَاھِیْمَ رُشْدَہٗ مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیْن﴾[ الانبیاء :51] ” ہم نے ابراہیم کو ابتداء ہی سے ہدایت سے نوازا تھا اور ہم اس کو خوب جاننے والے تھے۔“ ارشاد الٰہی سے یہ بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو ابتدا سے ہی رشد و ہدایت حاصل ہوچکی تھی، بقول بعض مفسرین، اگر پھر بھی وہ ستارے اور چاند سورج ہی کو معبود تصور کر رہے تھے تو وہ ہدایت کیا تھی جو پہلے سے اللہ تعالیٰ نے عطا فرما رکھی تھی۔ چاند، سورج کی حیثیت : ﴿وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ حَتَّی عَادَ کَالْعُرْجُونِ الْقَدِیمِ لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِی لَہَا أَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ وَکُلٌّ فِی فَلَکٍ یَسْبَحُونَ [ یٰس : 39۔40] ” سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے۔ جو زبردست علیم ہستی کا مقرر کیا ہوا ہے۔ اور چاند کے لیے بھی ہم نے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں، یہاں تک کہ ان منزلوں سے گزرتا ہوا بالآخر وہ کھجور کی سوکھی ہوئی ٹہنی کی مانند پتلا ہوجاتا ہے نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے ہر ایک اس فضا میں تیر رہا ہے۔ (یٰسین : 38تا40) ﴿قُلْ أَرَأَیْتُمْ إِن جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ اللَّیْلَ سَرْمَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَنْ إِلَہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَأْتِیْکُم بِضِیَآء أَفَلَا تَسْمَعُوْنَ قُلْ أَرَأَیْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّہُ عَلَیْکُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَنْ إِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَأْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فیہِ أَفَلَا تُبْصِرُوْنَ﴾[ القصص : 71، 72] ” آپ فرما دیں کیا تم نے غور نہیں کیا اگر اللہ تعالیٰ قیامت تک تم پر رات کو لمبا کر دے۔ کون ہے جو اللہ کے سوا رات کو بدل کر دن کی روشنی لے آئے ؟ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟ آپ اعلان کردیں ! غور کرو اگر اللہ تعالیٰ قیامت تک تم پر دن چڑھائے رکھے کون ہے جو اس کے بغیر دن کو رات میں بدل دے، جس میں تم آرام کرتے ہو ؟ کیا پھر بھی تم نہیں دیکھتے ؟“ ﴿وَمِنْ اٰیٰتِہٖ الَّیْلُ وَالنَّھَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ تَسْجُدُوْا للشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ إِنْ کُنْتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ﴾ (حٰمٓ السجدۃ:37) ” رات اور دن، سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں۔ سورج چاند کو سجدہ نہ کر وبلکہ اس ذات کبریاء کو سجدہ کرو جس نے ان کو پیدا کیا ہے اگر واقعتا تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود بنانا کھلی گمراہی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہت دکھائی۔ 3۔ شرک اور مشرکوں سے برأت کا اعلان کرنا سیرت ابراہیم (علیہ السلام) کا روشن باب ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہی سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ : 1۔ آپ ابراہیم کا قرآن سے تذکرہ فرمائیں وہ سچے نبی تھے۔ (مریم :41) 2۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا۔ (النساء :125) 3۔ تمھارے لیے ابراہیم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ (الممتحنۃ :4) 4۔ اے نبی ابراہیم کے دین کی پیروی کرو۔ (النساء :125) 5۔ ہم نے آپ کو وحی کی کہ ابراہیم کے دین کی پیروی کرو۔ (النحل :123) 6۔ آپ ابراہیم کے مہمانوں کے متعلق بتلائیں۔ (الحجر :51) 7۔ یقیناً ابراہیم (علیہ السلام) تحمل مزاج، آہ وزاریاں کرنے والے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ (ہود :75) 8۔ بے شک ابراہیم (علیہ السلام) آہ وزاریاں کرنے والے اور متحمل مزاج تھے۔ ( التوبۃ:114) الانعام
75 الانعام
76 الانعام
77 الانعام
78 الانعام
79 الانعام
80 الانعام
81 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : اور ابراہیم (علیہ السلام) کے خطاب کا رد عمل۔ چاہیے تو یہ تھا کہ واضح قرائن دیکھنے اور ٹھوس دلائل سننے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سر تسلیم خم کرتی لیکن انھوں نے اسی روش کو اختیار کیا جو ہمیشہ سے منکرین حق اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ قیل وقال اور حیلہ سازی سے بڑھ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ لڑائی، جھگڑے پر اتر آئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے جھگڑنے کے بجائے فقط اتنا فرمایا کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کی ذات یعنی اس کی توحید کے بارے میں مجھ سے جنگ و جدال کرتے ہو؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت سے سرفراز فرمایا ہے۔ ابتدا ہی سے مشرکوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ انبیاء ( علیہ السلام) اور موحدین کو نہ صرف اپنی مادی اور افرادی قوت سے ڈراتے ہیں بلکہ اپنے عقیدہ کو سچ ثابت کرنے اور موحدین کو خوفزدہ کرنے کے لیے یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ اگر تم نے اسی طرح ہمارے معبودوں کی مخالفت جاری رکھی تو وہ تمھیں تہس نہس کردیں گے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ موحد کو اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق کوئی تکلیف پہنچے تو مشرک طعنہ دیتے ہیں کہ یہ ہمارے معبودوں کی گستاخی کا نتیجہ ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی مشرکوں نے یہ کہہ کر ڈرایا کہ عنقریب ہمارے معبود تجھے خوفناک گرفت میں لینے والے ہیں۔ جس کے جواب میں جناب ابراہیم (علیہ السلام) نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ میں تمھارے معبودان باطل سے کس طرح خوف کھا سکتا ہوں۔ حالانکہ تمھاری حالت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے نہیں ڈرتے جبکہ تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کا کوئی جواز اور دلیل نہیں۔ عقیدۂ توحیداپنانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے سے انسان دنیا و مافیھا کے خوف سے بے خوف، اس کا دل مطمئن اور اپنے آپ میں امن و سکون محسوس کرتا ہے اس کے مقابلہ میں مشرک پتھر سے تراشے ہوئے بتوں اور اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے مزاروں یہاں تک کہ مزارات میں اگنے والے درختوں کے پتوں سے بھی کانپتا ہے۔ اسی بنا پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے سوال کیا کہ بتاؤ کون سے عقیدے کا حامل امن و سکون کا حق دار ہے اگر تم اس حقیقت کو جانتے ہو ؟ جہاں تک تمھاری بے بنیاد دھمکیوں کا تعلق ہے تو ان کی حقیقت میرا رب اچھی طرح جانتا ہے کیونکہ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور دنیا میں وہی کچھ رونما ہوتا ہے جو میرا رب چاہتا ہے کیا ان دلائل کے ہوتے ہوئے بھی تم توحیدکو ماننے اور نصیحت حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ (مزید مطالعہ کے لیے ہماری کتاب سیرت ابراہیم (علیہ السلام) ملاحظہ فرمائیں۔) مسائل : 1۔ عقیدۂ توحید راسخ ہو تو بندے کو کسی کا کوئی خوف نہیں رہتا۔ 2۔ مشرک بزدل ہوتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنا شریک نہیں ٹھہرایا۔ 4۔ شرک کرنے والوں کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہوتی۔ 5۔ عقیدۂ توحید ہی امن و سلامتی کا ضامن ہے۔ تفسیر بالقرآن: اللہ تعالیٰ کا علم پوری کائنات پر محیط ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ وسیع علم والا ہے۔ (البقرۃ:115) 2۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ (البقرۃ:29) 3۔ ہمارے رب نے ہر چیز کو اپنے علم کے ذریعہ گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ (الاعراف :89) 4۔ اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہر چیز ہے۔ (الطلاق :12) شرک کے لیے کوئی دلیل نہیں : 1۔ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی غیر کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ (المؤمنون :117) 2۔ انھوں نے اللہ کے علاوہ کئی معبود بنالیے ہیں آپ فرمائیں کوئی دلیل لاؤ۔ (الانبیاء :24) 3۔ اس کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے کوئی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔ (النمل :64) 4۔ اے لوگو! تمھارے پاس رب کی طرف سے دلیل آچکی ہے۔ (النساء :175) 5۔ وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی گئی۔ ( الحج :71) 6۔ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوئے نہیں ڈرتے جس کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ (الانعام :81) الانعام
82 فہم القرآن : (آیت 82 سے 83) ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی گفتگو میں توحید کو امن کا ضامن قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے عقیدۂ توحید کے تقاضے پورے کیے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ایمان کی ابتدا اور انتہا توحید پر ہے باقی دین کے ارکان توحید کا تقاضا ہیں۔ توحید یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کو شریک نہ سمجھے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کا کسی کو حصہ بنانا اس کی صفات میں کسی کو شریک سمجھنا پر لے درجے کا ظلم ہے۔ کیونکہ ظلم کا بنیادی معنی یہ ہے ” وَضْعُ الشَّی ءِ فِیْ غَیْرِ مَحَلِّہٖ“ ” کسی چیز کو اس کے اصلی مقام سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنا۔“ کسی ذات کو اللہ تعالیٰ کا حصہ یا جز قرار دینا جس طرح یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ صرف اللہ کا بیٹا کہا بلکہ مریم علیھا السلام، عیسیٰ (علیہ السلام) اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو ملا کر تثلیث کا عقیدہ پیش کیا۔ ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں میں بعض لوگ نبی (ﷺ) کو نور من نور اللہ کہتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ انبیاء کو شریک بنانا اور انھیں ان کے مقام سے بڑھا کر خدا بنانا ہے۔ ایسے ہی اللہ تعالیٰ کی صفات کو کسی زندہ یا مدفون بزرگ میں سمجھنے کا نام شرک ہے۔ جسے قرآن مجید پرلے درجے کا ظلم قرار دیتا ہے۔ یہاں ظلم سے مراد شرک اور ایمان سے مراد توحید ہے۔ جن لوگوں نے اپنے ایمان کو شرک کی ملاوٹ سے محفوظ رکھا۔ ہی ہدایت یافتہ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے غضب اور جہنم کی ہولناکیوں سے مامون ہوں گے۔ شرک ظلم ہے اور ظلم کے خلاف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل سجھائی تھی جس کی بنیاد پر انھوں نے ثابت کیا کہ چاند ستاروں اور سورج کو اپنی قسمت کا مالک سمجھنا اور انھیں خیر و شر میں دخیل جان کر ان کی عبادت کرنا ظلم ہے۔ جس کا ان کی قوم کوئی جواب نہ دے سکی اور وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے دلیل کے اعتبار سے سرنگوں ہوئے۔ اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) اپنی قوم پر سربلند ہوئے۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ (رض) قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ﴿الَّذِینَ اٰمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ﴾ قَالَ أَصْحَابُ رَسُول اللّٰہِ () أَیُّنَا لَمْ یَظْلِمْ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ﴿إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ﴾) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب ظلم دون ظلم] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی الَّذِینَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ رسول معظم (ﷺ) کے صحابہ (رض) نے پوچھا ہم میں سے کون ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی بلا شبہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔“ 1۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے سر بلند کرتا ہے کیونکہ اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت ہوتی ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقۂ تبلیغ اور دلیل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی دلیل قرار دیا ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے چاند، سورج اور ستاروں کو اپنا رب نہیں سمجھتے تھے۔ 2۔ یاد رہے کہ دنیا میں کوئی رسول اور نبی ایسا نہیں گزرا جو دلائل کے حوالے سے اپنی قوم کے سامنے لاجواب اور سرنگوں ہوا ہو۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو گفتگو کا یہ طریقہ سمجھانا اور انھیں ٹھوس دلائل عطا کرنے کی اور بھی حکمتیں ہیں۔ جنھیں اللہ علیم و حکیم خوب جانتا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو واضح دلائل عنایت فرمائے۔ 2۔ عقیدۂ توحید ہی امن و سکون کی ضمانت دیتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ جس کے چاہتے ہیں درجات بلند فرماتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا بخوبی علم رکھتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : شرک ظلم اور گناہ ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں میں اسی بات کا حکم دیا گیا ہوں نبی اکرم (ﷺ) کا اعلان۔ (الانعام :164) 2۔ جو اللہ کی ملاقات چاہتا ہے وہ اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ (الکہف :110) 3۔ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرے گا اس کے علاوہ جو چاہے گا معاف فرما دے گا۔ (النساء : 48تا116) 4۔ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ (النساء :36) 5۔ جو بھی اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔ (المائدۃ:72) 6۔ اے بیٹے شرک نہ کر شرک بہت بڑا ظلم ہے حضرت لقمان کی نصیحت۔ (لقمان :13) الانعام
83 الانعام
84 فہم القرآن : (آیت 84 سے 88) ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نہ صرف دلائل کے اعتبار سے برتری عنایت فرمائی تھی بلکہ رہتی دنیا تک امامت کے منصب سے سرفراز کرتے ہوئے انبیاء کی صورت میں نیک اولاد عنایت فرمائی جنھوں نے ان کے مشن کو جاری و ساری رکھا تاآنکہ نبی آخر الزمان (ﷺ) نے دین حنیف کا پھر یرا پوری دنیا میں سربلند فرمایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تن تنہا اپنے باپ، قوم اور حاکمِ و قت کے سامنے ڈٹے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف دلائل کے اعتبار سے انھیں اپنی قوم پر برتری عنایت فرمائی بلکہ ایک وقت وہ بھی آیا کہ پوری دنیا کی امامت سے سرفراز کیا گیا اور ان کی دعوت کو چار سو پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسی اولاد اور وارث نصیب فرمائے کہ جن میں اولوالعزم انبیاء عظیم الشان خلفاء پیدا ہوئے۔ ان میں ایسی شخصیات بھی تھیں جو بیک وقت منصب خلافت و نبوت پر فائز ہوئیں اور انھوں نے توحید کی دعوت کو دنیا میں عام کیا۔ یہاں ان انبیاء کا نام بنام ذکر کیا گیا ہے جو انفرادی اوصاف کے اعتبار سے باقی انبیاء سے برتر تھے۔ جس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے جو اوصاف ان شخصیات میں پائے جاتے تھے وہ سب کے سب نبی آخر الزمان (ﷺ) کی ذات میں ودیعت کردیے گئے ہیں۔ ان انبیاء (علیہ السلام) کو ایک دوسرے کے باپ، اولاد اور بھائی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ان کو اپنے کام کے لیے منتخب فرما کر صراط مستقیم کی ہدایت سے نوازا تھا۔ اس بات کی وضاحت بھی کردی گئی کہ ہدایت وہی ہوتی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے اور وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے ہدایت کی دولت سے مالا مال فرماتا ہے۔ یہاں ہدایت سے پہلی مراد اللہ کی توحید ہے کیونکہ اس عقیدے کے بغیر کوئی عبادت بھی قابل قبول نہیں ہوتی۔ عقیدۂ توحید کی ضد شرک ہے جو ہر برائی کا منبع، عظیم گناہ اور انتہا درجے کا ظلم ہے اس لیے یہاں اٹھارہ عظیم المرتبت ہستیوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر یہ ہستیاں بھی شرک کا ارتکاب کرتیں تو ان کی زندگی بھر کی عبادت وریاضت ضائع کردی جاتی۔ (عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ (رض) عَنْ أَبِیہٖ قَالَ قَال النَّبِیُّ () أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ ثَلَاثًا قَالُوا بَلٰی یَا رَسُول اللّٰہِ قَالَ اَلْإِشْرَاک باللَّہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَجَلَسَ وَکَانَ مُتَّکِئًا فَقَالَ أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ قَالَ فَمَا زَالَ یُکَرِّرُہَا حَتَّی قُلْنَا لَیْتَہُ سَکَت) [ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب ما قیل فی شہادات الزور] ” عبدالرحمن بن ابی بکرہ (رض) اپنے والد سے بیان کرتے ہیں نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا کیا میں تم کو بڑے گناہ کی خبر نہ دوں آپ نے ان الفاظ کو تین مرتبہ دہرایا صحابہ کرام (رض) نے عرض کی کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور پھر آپ ٹیک چھوڑ کر بیٹھ گئے۔ فرمایا اور جھوٹی بات کہنا۔ آپ (ﷺ) اس بات کو دہراتے رہے یہاں تک ہم نے سوچا کاش! آپ خاموش ہوجائیں۔“ (عن ابْن عَبَّاسٍ (رض) یَقُولُ لَمَّا بَعَثَ النَّبِیُّ () مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَی نَحْوِ أَہْلِ الْیَمَنِ قَالَ لَہُ إِنَّکَ تَقْدَمُ عَلَی قَوْمٍ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ فَلْیَکُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوہُمْ إِلَی أَنْ یُوَحِّدُوا اللّٰہَ تَعَالَی فَإِذَا عَرَفُوا ذَلِکَ فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی یَوْمِہِمْ وَلَیْلَتِہِمْ فَإِذَا صَلَّوْا فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ زَکَاۃً فِی أَمْوَالِہِمْ تُؤْخَذُ مِنْ غَنِیِّہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فَقِیرِہِمْ فَإِذَا أَقَرُّوا بِذٰلِکَ فَخُذْ مِنْہُمْ وَتَوَقَّ کَرَائِمَ أَمْوَال النَّاسِ)[ رواہ البخاری : کتاب التوحید،] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (ﷺ) نے معاذ بن جبل (رض) کو اہل یمن کی طرف بھیجا آپ (ﷺ) نے فرمایا تم اہل کتاب کی طرف جا رہے ہو سب سے پہلے تم جس بات کی انہیں دعوت دو وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک جانیں جب وہ اس کی توحید کے قائل ہوجائیں تو انہیں بتانا۔ اللہ نے ان پر پانچ نمازیں دن اور رات میں فرض کی ہیں۔ جب وہ نماز پڑھنے لگیں تو ان کو بتا نا اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں سے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے۔ جو ان کے مالدار لوگوں سے لے کر ان کے غرباکو دی جائے۔ جب وہ اس بات کا اقرار کرلیں تو ان سے زکوٰۃ وصول کرنا اور ان کے بہترین مال سے بچنا۔“ نواسے بھی آدمی کی اولاد ہوتے ہیں : (عَنْ یَعْلَی بْنِ مُرَّۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ () حُسَیْنٌ مِنِّی وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ أَحَبَّ اللَّہُ مَنْ أَحَبَّ حُسَیْنًا حُسَیْنٌ سِبْطٌ مِنْ الْأَسْبَاطِ)[ رواہ الترمذی : کتاب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین] ” یعلی بن مرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے گا جو حسین سے محبت کرے گا حسین میری اولاد سے ہے۔“ انبیاء ( علیہ السلام) ایک دوسرے کے بھائی ہوتے ہیں : (عن ابی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ () یَقُولُ أَنَا أَوْلَی النَّاس بابْنِ مَرْیَمَ وَالْأَنْبِیَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ لَیْسَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ نَبِیٌّ)[ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء،] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم (ﷺ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا لوگو! میں ابن مریم کے زیادہ قریب ہوں اور تمام انبیاء ( علیہ السلام) علاتی بھائی ہیں میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔“ مسائل : 1۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) ایک دوسرے کے بھائی یعنی ایک ہی خاندان نبوت سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو تمام انسانوں سے ممتاز فرمایا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو خصوصی ہدایت سے نوازا۔ 4۔ اگر انبیاء (علیہ السلام) میں سے کوئی بھی شرک کرتا تو اس کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔ الانعام
85 الانعام
86 الانعام
87 الانعام
88 الانعام
89 فہم القرآن : (آیت 89 سے 90) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، نبی اکرم (ﷺ) کو ابراہیم (علیہ السلام) اور انکے بعد آ نے والے انبیاء کی دعوت کو پھیلانے اور اس پر قائم رہنے کا حکم۔ عظیم الشان اٹھارہ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کی پاک باز اولاد کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ سب کے سب مواحد، ہدایت یافتہ اور شرک سے سخت اجتناب کرنے والے تھے اگر وہ شرک کا ارتکاب کرتے تو ان کے تمام اعمال ضائع کردیے جاتے۔ شرک سے بچنے کی ہمت اور توحید کی سمجھ انھیں اس لیے نصیب ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کتاب، حکمت اور نبوت سے سرفراز فرمایا تھا۔ جس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس قوم کو کتاب و حکمت اور نبوت کی تعلیم سے آگاہ کرے اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ شرک سے اجتناب کرے اور اللہ کی توحید کا پر چار کرنے والی ہو۔ الحکم سے مراد وہ قوت ہے جس کے ذریعے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ تکمیل پاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس قوم کو اپنی کتاب اور نبوت کی روشنی عطا فرمائے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ حکماً شرک کا قلع قمع اور توحید کا نفاذ کرے۔ یہاں نبی (ﷺ) کو تسلی دینے کے ساتھ خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ اگر آپ کے مخاطبین کفر و شرک کا رویہ اپنائے رکھیں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے آپ کے مقدر میں ایسے ساتھی رکھ دیے ہیں جو اللہ کی کتاب کا انکار نہیں کرتے۔ دین اور آپ کی ذات پر تن، من دھن قربان کرنے والے ہیں۔ لہٰذا آپ کو پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی اقتدا کرنی چاہیے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت یافتہ افراد تھے۔ اقتدا سے مراد انبیاء کا اسوۂ مبارکہ ہے جو وہ مخالفین کے مقابلہ میں اختیار کیا کرتے تھے۔ اقتدا میں دوسرا اشارہ یہ ہے تمام انبیا کی دعوت کے بنیادی اصول ایک ہی رہے ہیں۔ جس میں سرفہرست توحید کا اقرار، پرچار اور شرک سے نفرت کا اظہار ہے۔ جس طرح پہلے انبیاء دعوت کے بدلے کوئی اجرت نہیں لیتے تھے۔ آپ بھی ان کی اقتدا میں اعلان کرتے جائیں کہ اے لوگو! میں اس دعوت کے بدلے تم سے کسی مفاد اور اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا۔ میرا کام تو نصیحت کرنا ہے اور یہ قرآن مجید پورے عالم کے لیے ذکر اور نصیحت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () مَا مِنَ الْأَنْبِیَاءِ نَبِیٌّ إِلَّا أُعْطِیَ مَا مِثْلہُ آمَنَ عَلَیْہِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا کَانَ الَّذِی أُوتِیتُ وَحْیًا أَوْحَاہ اللَّہُ إِلَیَّ فَأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَکْثَرَہُمْ تَابِعًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ) [ رواہ البخاری : کتاب فضائل القران، باب کیف نزل الوحی] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا انبیاء کرام میں سے ہر نبی کو ایسی چیزیں دی گئی ہیں جس پر لوگ ایمان لے آئیں مجھے وحی عنایت کی گئی اس میں اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا میں امید کرتا ہوں قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے سب سے زیادہ ہوں گئے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہ السلام) کو خصوصی حکمت سے نوازا۔ 2۔ لوگوں کو نبی اکرم (ﷺ) کے طریقہ کی ہی پیروی کرنی چاہیے۔ 3۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) دعوت دین کے بدلے کسی سے معاوضہ طلب نہیں کرتے تھے۔ 4۔ قرآن مجید تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔ تفسیر بالقرآن : انبیاء (علیہ السلام) کسی سے اجرت نہیں لیتے تھے : 1۔ (حضرت نوح (علیہ السلام) نہیں میں سوال کرتا کسی سے اجر کا۔ میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (الشعراء :109) 2۔ (حضرت ھود علیہ السلام) نہیں میں سوال کرتا کسی سے اجر کا میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (الشعراء :127) 3۔ (حضرت صالح (علیہ السلام) نہیں میں سوال کرتا کسی سے اجر کا میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (الشعراء : 141تا145) 4۔ (حضرت لوط (علیہ السلام) نہیں میں سوال کرتا کسی سے اجر کا میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (الشعراء :164) 5۔ (حضرت شعیب (علیہ السلام) نہیں میں سوال کرتا کسی سے اجر کا میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (الشعراء :180) 6۔ نہیں ہے میرا اجر مگر اللہ پر اور وہی ہر چیز پر گواہ ہے۔ (السباء :47) 7۔ (حضرت ھود علیہ السلام) نہیں ہے میرا اجر مگر اللہ پر جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ (ھود :51) 8۔ (اے محمد (ﷺ) !) کہہ دیجیے میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتانہ ہی میں متکلف ہوں۔ (صٓ:86) الانعام
90 الانعام
91 فہم القرآن : ربط کلام : توحید سے انحراف، اور نبی (ﷺ) کی بشریت کا انکار کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی ناقدری کرنے کے مترادف ہے۔ انسان جب اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار یا اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک بناتا ہے تو پھر وہ بڑے بڑے حقائق ٹھکراتا چلا جاتا ہے۔ نزول قرآن کے وقت اور آج بھی کفار اور مشرکوں کی یہی حالت ہے کہ وہ نبی (ﷺ) کی رسالت کا یہ کہہ کر انکار کرتے ہیں کہ آپ بشر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر اپنی کتاب نازل نہیں کی۔ مکہ کے لوگ اکثر جاہل تھے وہ اپنی جہالت کی بنا پر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو بشر کے بجائے کسی فرشتہ کو نبی بنانا چاہیے تھا۔ ان کے مقابلہ میں یہودی عصبیت میں آکر یہ بات کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کسی شخص کو رسول منتخب نہیں کیا۔ بس موسیٰ (علیہ السلام) ہی آخری رسول اور نبی ہیں۔ اسی بنا پر انھوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کی اور اسی وجہ سے وہ نبی رحمت (ﷺ) کی نبوت کا انکار کرتے ہیں بشر پر نبوت نازل نہیں کی۔ یہ سوچنا اور کہنا اللہ تعالیٰ کی ناقدری کرنے کے مترادف ہے۔ اس ناقدری، عصبیت اور ہٹ دھرمی پر سوال کیا گیا ہے کہ وہ کونسی ہستی ہے جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کتاب نازل کی جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت کا سرچشمہ تھی۔ جسے تم نے مختلف اوراق میں تبدیل کردیا ہے کچھ حصہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہو جبکہ کثیر حصہ تم نے لوگوں سے چھپالیا ہے جسے بہت کم لوگوں کے سامنے ظاہر کرتے ہوحالانکہ اس کتاب میں تمھیں اس تعلیم سے آراستہ کیا گیا جس سے تم اور تمھارے آباو اجداد بے خبر تھے۔ اس سوال میں یہ استفسار بھی موجود ہے کہ بتاؤ موسیٰ بشر نہیں تھے۔ تورات کو مختلف اوراق میں تبدیل کرنے کا یہ بھی مفہوم ہے کہ انھوں نے ذاتی اور گروہی مفادات کے پیش نظر اس کے حصے، بخرے کردیئے تھے۔ جن کو موقع محل کے مطابق لوگوں کے سامنے پیش کرتے۔ اگر مجبوراً کہیں اصل مسئلہ بیان کرنا پڑتا تو اس کی ایسی تاویل کرتے کہ جس کا تورات کے ساتھ دور کا واسطہ نہیں ہوتا تھا۔ اس طرح جب چاہتے تورات کے احکام کی من مرضی تاویل کردیتے۔ اس صورت حال پر نبی (ﷺ) کو تلقین کی گئی ہے کہ ایسے ناعاقبت اندیش اور ناہنجار لوگوں پر اپنی صلاحیتیں صرف کرنے کے بجائے انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اس کتاب کا حق چھپانا : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ (رض) أَنَّ الْیَہُودَ جَاءُ وا إِلَی رَسُول اللّٰہِ () فَذَکَرُوا لَہُ أَنَّ رَجُلًا مِنْہُمْ وَامْرَأَۃً زَنَیَا فَقَالَ لَہُمْ رَسُول اللّٰہِ () مَا تَجِدُونَ فِی التَّوْرَاۃِ فِی شَأْنِ الرَّجْمِ فَقَالُوا نَفْضَحُہُمْ وَیُجْلَدُونَ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ (رض) کَذَبْتُمْ إِنَّ فیہَا الرَّجْمَ فَأَتَوْا بالتَّوْرَاۃِ فَنَشَرُوہَا فَوَضَعَ أَحَدُہُمْ یَدَہُ عَلٰی آیَۃِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَا قَبْلَہَا وَمَا بَعْدَہَا فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ (رض) ارْفَعْ یَدَکَ فَرَفَعَ یَدَہُ فَإِذَا فیہَا آیَۃُ الرَّجْمِ فَقَالُوا صَدَقَ یَا مُحَمَّدُ فیہَا آیَۃُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِہِمَا رَسُول اللّٰہِ () فَرُجِمَا قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ فَرَأَیْتُ الرَّجُلَ یَجْنَأُ عَلَی الْمَرْأَۃِ یَقِیہَا الْحِجَارَۃَ۔۔) [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب قول اللہ تعالیٰ ﴿ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُم﴾] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں یہود کے کچھ افراد رسول اللہ (ﷺ) کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا ایک مرد اور عورت نے زنا کیا ہے رسول محترم (ﷺ) نے فرمایا رجم کے بارے میں تم تورات میں کیا پاتے ہو ؟ انہوں نے کہا انہیں ذلیل ورسوا کرتے ہوئے پیٹا جائے گا۔ عبداللہ بن سلام (رض) نے کہا تم لوگ جھوٹ بولتے ہو اس میں تو رجم کا حکم ہے۔ وہ تورات لے کر آئے تو انہوں نے اسے کھولا تو ان میں سے ایک نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھا تو اس نے ان حروف سے پہلے اور بعد کی عبارت پڑھی۔ عبداللہ بن سلام (رض) نے کہا اس سے ہاتھ اٹھا ئیے۔ اس نے اپنا ہاتھاٹھا یا تو اس جگہ رجم کی آیت تھی تو انہوں نے کہا اے محمد (ﷺ) تو سچا ہے اس میں رجم کے متعلق آیت ہے رسول اللہ (ﷺ) نے ان دونوں کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ مرد عورت پر جھک کر اس کو پتھروں سے بچاتا تھا۔“ مسائل : 1۔ قرآن مجید کا انکار کرنے والے درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ناقدری کرتے ہیں۔ 2۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں کے ذریعے تعلیم دی۔ 3۔ تمام الہامی کتابوں کو نازل کرنے والا ایک اللہ ہی ہے۔ الانعام
92 فہم القرآن : ربط کلام : تورات اور انجیل کے بعد قرآن مجید مبارک کتاب ہے اور لوگوں کے لیے ہدایت کا آخری سرچشمہ ہے جو پہلی کتب آسمانی کی تصدیق کرتی ہے۔ یہودی عصبیت کی بنا پر نبی (ﷺ) کی رسالت اور قرآن مجید کے نزول کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن تورات سمیت آسمانی کتابوں کی تصدیق اور تائید کرتا ہے اور لوگوں کے لیے باعث برکت ہے۔ قرآن مجید کتب آسمانی کی تائید و تصدیق کرنے کے ساتھ نہایت ہی مبارک کتاب ہے۔ کائنات کے انسانوں کے لیے ہدایت کا منبع، روشنی کا سرچشمہ اور حکمت و دانش کا مہرتاباں ہے اگر یہود ہٹ دھرمی کی بنا پر مسلسل انکار کر رہے ہیں تو اے رسول ان پر صلاحیتیں صرف کرنے کے بجائے آپ اہل مکہ اور اس کے چاروں طرف بسنے والے لوگوں کو ڈرائیں اور سمجھائیں اور ان مسلمانوں کو جو آخرت کے حساب و کتاب پر یقین رکھتے اور پنجگانہ نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس آیت میں مکہ معظمہ کو ام القریٰ کا درجہ دیا گیا ہے ام القریٰ کا معنی ہے ” بستیوں کی ماں۔“ سورۃ آل عمران کی آیت 96سے اشارہ ملتا ہے کہ یہی مبارک بستی ہے جو سب سے پہلے دنیا میں معرض وجود میں آئی حدیث میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ زمین کے پیدا ہونے سے پہلے آسمان کے نیچے پانی ہی پانی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو صفحۂ ہستی پر آنے کا حکم دیا۔ سب سے پہلے زمین کا جو حصہ ظہور پذیر ہوا۔ وہ مکہ معظمہ کی سرزمین تھی اس اعتبار سے بھی مکہ ام القریٰ کا درجہ رکھتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں آخری نبی کی بعثت کی دعا کی تھی اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ تبلیغ کا نیٹ ورک ایسا ہونا چاہیے جس میں ایک مبلغ اپنے نفس کے بعد اپنے اعزاء و اقرباء، اڑوس پڑوس اور اپنے ہم وطنوں کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچائے۔ یہ حقوق انسانی اور فطری تقسیم کے عین مطابق ہے پھر تبلیغ کے سلسلہ میں ان لوگوں پر خاص توجہ دے جو مرنے کے بعد جی اٹھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو منوانا دوسروں کی نسبت آسان ہوتا ہے۔ آخرت پر یقین رکھنے والے ہی نماز کی حفاظت کا التزام کرتے تھے کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کے قرب کا مؤثر ذریعہ ہے اور نماز اس بات کا احساس دلاتی ہے جس طرح دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوتے ہیں۔ اسی طرح مرنے کے بعد اس کی بارگاہ میں عاجز اور سرافگندہ ہو کر کھڑے ہوں گے۔ قرآن مجید کے نفاذ کی برکات : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () حَدٌّ یُعْمَلُ بِہٖ فِی الْأَرْضِ خَیْرٌ لِأَہْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ یُمْطَرُوا أَرْبَعِینَ صَبَاحًا) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الحدود، باب اقامۃ الحد] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ حد کو زمین پر نافذ کرنا اہل زمین کے لیے چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔“ قرآن مجید کی تلاوت کا ثواب : (عن عَبْد اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ (رض) یَقُولُ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ کِتَاب اللّٰہِ فَلَہُ بِہٖ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا لَا أَقُول الم حَرْفٌ وَلَکِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِیمٌ حَرْفٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القران] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ایک حرف پڑھا اس کے لیے دس نیکیوں کے برابر ثواب ہے میں یہ نہیں کہتا الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے ل دوسرا حرف ہے اور میم تیسرا حرف ہے۔“ تبلیغ کی ترتیب : (عَنْ عَائِشَۃَ (رض) قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ﴿ وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ﴾قَامَ رَسُول اللّٰہِ () عَلَی الصَّفَا فَقَالَ یَا فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ یَا صَفِیَّۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللّٰہِ شَیْئًا سَلُونِی مِنْ مَالِی مَا شِئْتُمْ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب فی قولہ تعالیٰ ﴿ وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ﴾] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی ” اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ رسول معظم (ﷺ) نے صفا پر کھڑے ہو کر فرمایا اے فاطمہ میری بیٹی، اے صفیہ بنت عبدالمطلب، اے عبدالمطلب کے خاندان کے لوگو ! مجھ سے مانگ لو لیکن اللہ کے ہاں میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔“ نماز کی فرضیت اور فضیلت : (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () الصَّلَوٰتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ وَ رَمَضَانُ اِلٰی رَمْضَانَ مُکَفِّرَاتٌ لِّمَا بَیْنَہُنَّ اِذَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ)[ رواہ مسلم : کتاب الطہارۃ، باب الصلوات الخمس] ” ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول کریم (ﷺ) نے فرمایا پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ اور رمضان سے رمضان درمیانی مدّت کے گناہوں کا کفارہ ہیں۔ بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔“ مسائل: 1۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ 2۔ قرآن مجید بابرکت کتاب ہے۔ 3۔ قرآن مجید پہلے انبیاء و رسل کی تصدیق کرتا ہے۔ 4۔ مکہ مکرمہ دنیا کی تہذیبوں کا سنگم تھا۔ 5۔ قرآن مجید کے ماننے والے اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ الانعام
93 فہم القرآن : ربط کلام : قرآن مجید کی آیات کا انکار کرنا، یا یہ نبوت کا دعویٰ کرناکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا بھی وحی یا کتاب نازل کرسکتا ہے یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ رسول محترم (ﷺ) کے مخالف آپ پر صرف یہ الزام ہی نہیں لگاتے تھے کہ آپ پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ بلکہ ان میں ایسے بدبخت بھی تھے جو یہ دعویٰ کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے تھے کہ ہم پر بھی اللہ تعالیٰ وحی نازل کرتا ہے۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو یہ لاف زنی کرتے کہ عنقریب ہم بھی ایسی کتاب لانے والے ہیں اس ضمن میں مفسرین نے مسیلمہ کذّاب اور عبداللہ بن ابی سرحہ کا ذکر کیا ہے مسیلمہ کذّاب کو حضرت ابو بکر صدیق (رض) کی خلافت میں اس کے ساتھیوں سمیت قتل کردیا گیا اور عبداللہ بن ابی سرحہ نے یا وہ گوئی پر معذرت کی اور خالص توبہ کی اور فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ جہاں تک کسی شخص کا یہ دعویٰ کرنا کہ میں بھی قرآن مجید جیسی کتاب لاسکتا ہوں تو ایسے لوگوں کو قرآن مجید نے ایک دفعہ نہیں بلکہ تین مرتبہ یکے بعد دیگرے چیلنج دیا ہے اور یہ چیلنج کسی ایک فرد یا خاص قوم کے لیے نہیں بلکہ روئے زمین کے ہر زمانے کے لوگوں کے لیے ہے۔ کہ کوئی ایک سورۃ اس جیسی بنا کر پیش کرے۔ تفصیل کے لیے سورۃ البقرۃ آیت 33اور 24کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں وہاں قرآن مجید کے مقابلہ میں کوئی ایک سورۃ لانے کا چیلنج کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ تم سب مل کر بھی اس جیسی سورۃ نہیں لا سکتے۔ جب تم ایسا نہیں کرسکتے پھر تمھیں جہنم کی اس آگ سے بچنا اور ڈرنا چاہیے جس میں باغی انسان اور پتھرپھینکے جائیں گے۔ یہ سزا مرنے کے بعد ہوگی اور موت کے وقت ان کو یہ سزا دی جائے گی کہ ملائکہ ان کے چہروں پر تھپڑ اور ان کی کمروں پر ہتھوڑے مارتے ہوئے کہیں گے کہ اپنی جان نکال کر ہمارے حوالے کرو۔ بدن سے روح نکالنا اور داخل کرنا صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے جب اپنی روح نہیں نکال سکیں گے تو انھیں اذیت ناک تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا اور ملائکہ اذیت دیتے ہوئے کہیں گے کہ آج اس عذاب کا مزا چکھو۔ یہ سزا موت کے وقت ہوگی اور مرنے کے بعد یہ لوگ ہمیشہ کے لیے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ ملائکہ انھیں مزید ذلیل کرنے کے لیے کہیں گے کہ اب ذلّت ناک عذاب جھیلتے رہو کیونکہ تم تکبر کی و جہ سے اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار کرتے اور اس کی ذات کے بارے میں حقیقت کے خلاف باتیں کرتے تھے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ پر افترابازی کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔ 2۔ نبوت کا جھوٹادعویٰ کرنے والا بہت بڑا ظالم ہوتا ہے۔ 3۔ فاسق لوگوں کو موت کے وقت ہی سزا شروع ہوجاتی ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے ذمہ خود ساختہ باتیں لگانے والوں کو ذلت آمیز عذاب ہوگا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو کم تر سمجھنے والوں کو سخت ترین عذاب دیا جائے گا۔ الانعام
94 فہم القرآن : ربط کلام : دنیا میں کفار اپنی اجتماعی قوت اور مالی و سائل کی بنا پر قرآن مجید اور نبی (ﷺ) کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن موت کے بعد سب کو اکیلے، اکیلے رب کے حضور پیش ہونا ہوگا۔ جس کے لیے موت کے بعد اٹھنے اور محشر کے میدان میں حاضری کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام سے انحراف اور موت کے بعد اٹھنے کا جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کو خبردار کیا گیا ہے۔ کہ اس وقت کا تصور کرو۔ جب اللہ تعالیٰ ایک، ایک کو اپنی بارگاہ میں اس طرح کھڑا کریں گے جس طرح اس نے تمھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ جس دولت پر تم اتراتے ہو، جو اقتدار اور اختیار تمھارے تکبر کا باعث بنا ہے جن پیروں فقیروں اور باطل معبودوں پر بھروسہ کرتے ہوئے موت کا انکار اور ہماری آیات سے انحراف کیا وہ سب کا سب پیچھے رہ جائے گا۔ کوئی ایک شخص بھی تمھاری سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گا۔ اس وقت تمام وسائل ختم اور ہر قسم کے رشتے ناتے کٹ چکے ہوں گے اور وہ زعم بھی ختم ہوجائے گا جس کی بنا پر مشرک دنیا میں شرک کیا کرتے تھے۔ کہ فلاں، فلاں ہمیں اللہ سے چھڑوائے گا۔ ظالم کو اس کی کربناک موت کا احساس دلاتے ہوئے یہ بھی بتلایا جا رہا ہے کہ جس طرح موت و حیات کی کشمکش اور نزع کے عالم میں مرنے والے کی کوئی مدد نہیں کرسکتا اور موت کے فرشتے ظالم کو جھڑکیاں دیتے ہوئے اسے اپنی جان نکالنے کا حکم دیتے ہیں حالانکہ جان نکالنا یعنی روح قبض کرنا مرنے والے کے اختیار میں نہیں یہ اختیار صرف اور صرف روح قبض کرنے والے فرشتہ کو دیا گیا۔ اس کے سوا کوئی کسی کی روح نہیں نکال سکتا۔ بے شک کوئی آگ میں چھلانگ لگائے یاد ریا میں کود پڑے وہ وقت معین سے پہلے مر نہیں سکتا۔ جس طرح موت کی سختیاں اور نزع کی کربناکیاں انسان کو کسی کی مدد اور سہارے کے بغیر ہی برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ ایسے ہی ہر انسان تن تنہا رب کبریا کی عدالت میں پیش ہوگا۔ وہاں نہ سفارشی ہوگا اور نہ ہی کوئی مددگار اور غم خوار قریب آئے گا۔ اس تصور کو یہ کہہ کر مزید واضح کیا گیا ہے کہ تم ایسے ہی اکیلے اکیلے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے والے ہو۔ جس طرح پیدائش کے وقت انسان اکیلا پیدا ہوتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ تخلیق کے وقت انسان گناہوں سے پاک پیدا ہوتا ہے اور مرتے وقت انسان گناہوں کے انبار ساتھ لے کرجاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو باور کرایا گیا ہے کہ جن سہاروں پہ تم تکیہ اور جن امیدوں کو سہارا بنائے ہوئے ہو۔ وہ سب کی سب دم توڑ جائیں گی اور اس وقت تمھارے اس طرح اوسان خطا ہوں گے کہ کوئی دنیا کے سہاروں کا تصور بھی نہیں کرسکے گا۔ (عَنْ عَائِشَۃ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ﴿ وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ﴾ قَامَ رَسُول اللّٰہِ () عَلٰی الصَّفَا فَقَالَ یَا فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ یَا صَفِیَّۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللّٰہِ شَیْئًا سَلُونِی مِنْ مَالِی مَا شِئْتُمْ)[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب فی قولہ تعالیٰ ﴿ وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ﴾] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی ” اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ رسول معظم (ﷺ) نے صفا پر کھڑے ہو کر فرمایا اے فاطمہ میری بیٹی، اے صفیہ بنت عبدالمطلب، اے عبدالمطلب کے خاندان کے لوگو ! میرے مال میں سے جو چاہومانگ لو لیکن اللہ کے ہاں میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔“ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّکُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا ثُمَّ قَرَأَ کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیدُہُ وَعْدًا عَلَیْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِینَ وَأَوَّلُ مَنْ یُکْسٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِبْرَاہِیمُ وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِی یُؤْخَذُ بِہِمْ ذَات الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِی أَصْحَابِی فَیَقُولُ إِنَّہُمْ لَمْ یَزَالُوا مُرْتَدِّینَ عَلٰی أَعْقَابِہِمْ مُنْذُ فَارَقْتَہُمْ فَأَقُولُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ﴿وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیدًا مَا دُمْتُ فیہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی﴾ إِلٰی قَوْلِہٖ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ)[ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء، باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی ﴿وَاتَّخَذَ اللَّہُ إِبْرَاہِیمَ خَلِیلاً﴾ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا تم لوگوں کو ننگے پاؤ ں، ننگے بدن، بغیر ختنوں کے اکٹھا کیا جائے گا پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی ﴿کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ﴾ اور سب سے پہلے قیامت کے دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا میری امت کے بائیں جانب کچھ لوگوں کو علیحدہ کردیا جائے گا میں کہوں گا میری امت میرے اصحاب کدھر گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ لوگ تو آپ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد دین سے پھر گئے تھے پھر میں اللہ کے نیک بندے عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح کہوں گا میں تو اس حد تک گواہ ہوں جب تک میں ان میں موجود تھا۔ جب تو نے مجھے فوت کرلیا﴿ وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیدًا مَا دُمْتُ فیہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی﴾ إِلٰی قَوْلِہٖ الْعَزِیزُ الْحَکِیم (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَۃٌ مُسْتَجَابَۃٌ وَإِنِّی اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِی شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی وَہِیَ نَائِلَۃٌ إِنْ شَاء اللّٰہُ مَنْ مَاتَ مِنْہُمْ لَا یُشْرِکُ باللَّہِ شَیْئًا) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات عن رسول اللہ باب فضل لا حول ولا قوۃ الا باللہ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا ہر نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے اور میں نے وہ دعا اپنی امت کی سفارش کے لیے رکھی ہے۔ انشاء اللہ یہ ہر اس آدمی کو فائدہ دے گی جو شرک کی حالت میں فوت نہ ہوا ہوگا۔“ مسائل : 1۔ لوگ اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں فرداً فرداً بلائے جائیں گے۔ 2۔ لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے اکٹھا کیا جائے گا۔ 3۔ دنیا کا سازوسامان دنیا میں ہی رہ جائے گا۔ 4۔ دنیا کے تمام، رشتے اور تعلقات ختم ہوجائیں گے۔ تفسیر بالقرآن : قیامت کے دن کسی کی سفارش قبول نہیں ہوگی : 1۔ کون ہے جو اس کے حکم کے بغیر سفارش کرے۔ (البقرۃ:255) 2۔ کافر قیامت کے دن سفارشی تلاش کریں گے۔ (الاعراف :53) 3۔ قیامت کے دن سفارشی کسی کو فائدہ یا نقصان نہیں دیں گے۔ (یونس :18) 4۔ سفارش بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوگی۔ (الانبیاء :38) 5۔ اللہ تعالیٰ اپنی پسندکی بات ہی قبول فرمائیں گے۔ (طٰہٰ:109) 6۔ قیا مت کے دن کسی سفارشی کی سفارش کام نہیں آئے گی۔ (المدثر :38) 7۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہیں کرسکے گا۔ (یونس :3) الانعام
95 فہم القرآن : ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ زمین میں پڑے ہوئے دانے کو اگاتا اور نکالتا ہے۔ اسی طرح وہ مردہ انسان کو قبر سے زندہ کرکے نکالے گا۔ اب مسلسل آیات میں نباتات، آفاق اور دیگر حوالوں سے توحید باری تعالیٰ کے دلائل دیے جاتے ہیں۔ زندگی کی پیدائش اور حرکت ایک معجزہ ہے جسے پیدا کرنا ایک طرف، اس کے بھید کو بھی کوئی نہیں پا سکتا۔ زمین میں ہر لحظہ دانوں سے پھوٹ پھوٹ کر تنا ور اور پھلنے پھولنے والے درخت نکلتے ہیں۔ خاموش، ساکن، اور سوکھی گٹھلیوں سے بلند کھجوریں پھوٹتی ہیں۔ جو زندگی دانے اور گٹھلی میں پوشیدہ ہے وہ پودے اور کھجور میں آکرظاہر اور متحرک ہوجاتی ہے۔ اس کا بھید ایک سر بستہ راز ہے جسے صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ حیات کی حقیقت اور اس کا مصدر صرف خالق کو معلوم ہے۔ انسان آج بھی پہلے انسان کی مانند ظواہر و اشکال کے سامنے کھڑا ہو کر اس کے خصائص و اطوار کا مشاہدہ تو کرسکتا ہے مگر اس سے پہلے انسان کی طرح اس کے غیب سے پردہ نہیں اٹھا سکتا۔ حرکت و نشو و نما کو دیکھتا ہے مگر مصدر اور جو ہر سے ناواقف ہے۔ لیکن زندگی اپنی راہ پر رواں دواں ہے، اور معجزہ ہر لحظہ واقع ہو رہا ہے۔ زندہ کا مردہ سے نکلنا شروع سے چلا آیا ہے، یہ کائنات تھی، زمین تھی مگر اس میں حیات نہ تھی۔ پھر زندگی آئی جس کو موت میں سے نکالا گیا کیسے نکالا گیا ؟ ہم نہیں جانتے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، کہ زندگی موت سے اور زندہ مردہ سے نکل رہا ہے ! ہر لحظہ ذرات زندوں کے اجسام و اعضا کا حصہ بن رہے ہیں اور زندہ خلیوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ پھر اس کے برعکس ہر لحظہ زندہ خلیے مردہ ذروں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ حتی کہ ایک دن پورا زندہ جسم مردہ ہوجاتا ہے۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی قادر نہیں۔ ابتدا میں موت سے زندگی نکالنے والا وہی تھا، پھر مردہ ذرات کو انسانی اجسام کا حصہ بنا کر زندہ کرنے والا بھی وہی ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس کی ابتداء و انتہا اور اس کی کیفیت و نتائج کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ اس میں کسی کاذرہ بھر دخل نہیں ہے۔ سب کچھ اسی قادر و علیم کی قدرت و علم سے ہو رہا ہے۔ زندگی اللہ کی صفت خلق سے وجود میں آئی۔ اس کے سوا اس کی جو تعبیر بھی کی جائے وہ غلط اور باطل ہے۔ یورپ کے لوگ جب سے کلیسا سے بھاگے ہیں ’ ’ گویا کہ وہ گدھے ہیں جو شیر سے بھاگے ہوں“ اسی دن سے وہ کائنات کی موت و حیات کی پیدائش کا راز معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے اللہ کے وجود کا اعتراف کرنا چھوڑ دیا۔ جس کی وجہ سے ان کوششوں کا نتیجہ صفر ہے۔ حیات پر جدید تحقیق کے نتائج : ڈاکٹر فرینک ایلن جو کینیڈا کی ایک یونیورسٹی کا بیالوجی کا پروفیسر ہے کہتا ہے : (مقالہ): ” علم کی نشو ونما اتفاقاً ہوئی ہے یا قصداً ؟“ اس کا ترجمہ ڈاکٹر ترشاش عبدالمجید سرمانی ” اگر زندگی کسی حکمت سے اور کسی سابق منصوبے سے پیدا نہیں ہوئی تو، پھر یہ اتفاقاً پیدا ہوئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ اتفاق کونسا ہے ؟ تاکہ ہم اس پر غور کریں اور زندگی کی پیدائش کا پتہ چلائیں۔ اتفاق اور احتمال کے نظریات کی اب کچھ درست حسابی بنیادیں موجود ہیں۔ جو انھیں ان معاملات پر منطبق کرتی ہیں۔ جہاں مطلق صحیح حکم نہ لگایا جا سکے۔ یہ نظریات ہمیں ایسے فیصلے پر پہنچاتے ہیں جو درستی سے قریب تر ہو، ریاضی کے طریقے سے اتفاق اور احتمال کا نظریہ تحقیق کے لحاظ سے بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ حتی کہ ہم بعض ظواہر کی پیشگوئی پر قادر ہوچکے ہیں۔ جن کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ وہ اتفاق سے واقع ہوتے ہیں۔ بعض ایسی چیزیں جن کے وقوع کی ہم کوئی اور تفسیر نہیں کرسکتے۔ ان تحقیقات کی ترقی کے باعث ہم اس پر قادر ہیں کہ اتفاقاً واقع ہونے والی چیزوں میں اور ان میں جن کا اس طرح وقوع ناممکن ہے، تمیز کرسکیں۔ ہم زمانے کی ایک معین مدت میں اس وقوع کا احتمال ظاہر کرسکتے اب ہم اس چکر کو دیکھتے ہیں جو زندگی کی پیدائش میں اتفاقات کے کھیل سے ہوتا ہے۔ (معلوم رہے کہ یہ ڈاکٹر فرینکلن کا خیال ہے ورنہ اسلامی نقطۂ نظر سے کائنات میں کوئی چیز بھی اتفاقیہ طور پر نہیں ہوتی۔ ہر ایک ضابطہ، قانون وقوت، جگہ وغیرہ خدا کے ہاں مقرر ہے اور سب کچھ لگے بندھے قوانین کے مطابق ہو رہا ہے۔) تمام زندہ خلیوں میں پرو ٹین بنیادی مرکب ہے اور اس میں پانچ عناصر ہوتے ہیں : کاربن، ہائیڈروجن، نائٹروجن، آکسیجن اور سلفر اور ایک جزء میں ذرات کی تعداد 4لاکھ تک ہوتی ہے۔ چونکہ کیمیاوی عناصر کی تعداد 100سے زائد ہے، ہر ایک کو اندازے کی غیر مرتب تقسیم پر بانٹا گیا ہے۔ پس ان پانچ عناصر کا اجتماع تاکہ وہ پروٹین کے جزئیات میں سے ایک جزیہ بن جائے، اس مادے کی کمیت کو معلوم کرنے کے لیے اس کا حساب معلوم کیا جا سکتا ہے۔ جس کو ہمیشہ کے لیے باہم ملایا جائے تاکہ وہ جزئی حاصل ہو سکے، پھر زمانے کا فاصلہ بھی معلوم ہوسکتا ہے تاکہ اس جزئی کے درجات میں اجتماع ہو سکے۔ مشہور ریاضی دان عالم شارنر یوجین نے تمام عوامل کا حساب کیا ہے اور معلوم کیا ہے کہ اتفاقیہ طور پر ایک پروٹین جزئی کا بننا 1/10 کی نسبت سے ہوسکتا ہے۔ یعنی ایک کو دس تک ہر ہندسے میں فی نفسہ ضرب دینا 160بار اور یہ ایک ایسی رقم ہے جس کا بولنا یا کلمات میں اس کی تعبیر کرنا ناممکن ہے۔ مناسب ہے کہ اس تفاعل کے لیے جتنا مادہ ضروری ہے تاکہ ایک جزئی پیدا ہو سکے۔ یہ اس ساری کائنات سے لاکھوں کروڑوں مرتبہ زیادہ ہوگا اور زمین پر صرف ایک جزئی کو پیدا کرنے کے لیے۔۔ یعنی اتفاقیہ طور پر پیدا کرنے کے لیے۔۔ لا انتہا سالوں کی ضرورت ہوگی۔ جسے اس عالم ریاضی نے اندازًا یہ بتایا ہے کہ دس کو اس کے نفس میں 243بار ضرب دی جائے تو اتنے سال لگیں گے۔ پروٹین لمبے سلسلوں کے ساتھ اپنی کھٹائیوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ سو ان جزئیات کے ذریعے کس طرح تالیف پاتے ہیں ؟ جب وہ اس طریقے کے علاوہ مرکب ہوں جس سے وہ ہوتے ہیں تو زندگی کے قابل نہیں ہوتے بلکہ بعض دفعہ زہربن جاتے ہیں۔ جے بی سیتھر نے وہ طریقے شمار کیے ہیں جن سے کہ ذرات کا پروٹین کے ایک بسیط جزئی میں مرکب ہونا ممکن ہوتا ہے۔ اس نے کہا کہ دس کو اسی طرح فی نفسہ 18سے ضرب دیں تو اتنے ملین اس کی تعداد ہوگی۔ اس بنا پر یہ عقلاً محال ہے کہ یہ تمام اتفاقات ایک بھی پروٹین کو پیدا کرسکیں۔ لیکن پروٹین کیمیاوی مردہ مادہ ہے اور اس میں زندگی اس وقت رینگتی ہے جب وہ عجیب بھید اس میں داخل ہوتا ہے۔ جس کی حقیقت کو ہم نہیں جانتے۔ وہ ایک غیر محدود عقل ہے (اس سے اس کی مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور یہ ایک فلسفیانہ نام ہے) اور وہ اکیلا خدا ہے جو اپنی حکمت کے ساتھ یہ پا سکتا ہے کہ یہ پروٹینی جزئی زندگی کا مسکن بن سکتی ہے، سو اس نے اس کو بنایا، اس کی تصویر کھینچی، اور اس پر زندگی کا بھید انڈیل دیا۔ مشی گن یونیورسٹی کا علوم طبیعات کا پروفیسر ڈاکٹر ایرفنگ ولیم اپنے مقالے :” مادیت تنہا کافی نہیں“ (جو اسی نام کی کتاب میں وارد ہے !) میں لکھتا ہے : ” سائنس ہمیں یہ بتانے سے قاصر ہے کہ وہ نہایت چھوٹے چھوٹے غیر محدوددقائق کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ اور انھی سے تمام مادے بنتے ہیں۔ اسی طرح سائنس ہم پر یہ کھولنے سے بھی قاصر ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے ذرے کیونکر جمع ہوتے ہیں اور ان میں زندگی کیونکر آتی ہے۔ اس کا مدار محض اتفاقات پر ہے۔ بے شک یہ نظریہ جو دعویٰ کرتا ہے کہ ترقی یافتہ حیات کی تمام صورتیں موجودہ ترقی کی حالت تک محض اندھا دھند چھلانگوں اور اجتماعات کے باعث پہنچی ہیں بلاشبہ ایک نظریہ ہے مگر اسے قبول نہیں کیا جا سکتا، صرف فرض کیا جا سکتا ہے۔ پس یہ منطق اور دلیل کی بنیاد پر قائم نہیں ہے۔ ڈاکٹر مالکوم ونسٹر پروفیسر زوالوجی بائلر یونیورسٹی اپنے مقالے : ” سائنس میرے ایمان کو مضبوط کرتی ہے“ میں لکھتا ہے کہ : میں زوالوجی کے مطالعہ میں مشغول ہوا۔ جو ان وسیع علمی میدانوں میں سے ہے جو علم الحیاۃ سے بحث کرتے ہیں۔ اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اللہ کی ساری مخلوقات میں کائنات میں بسنے والی کوئی چیز زندوں سے زیادہ حیران کن نہیں ہے۔ تم کسی راستے کے کنارے پر اگی ہوئی کمزور سی برسیم کو دیکھو، کیا تمھیں انسان کی بنائی ہوئی تمام چیزوں اور آلات میں اتنی تابناک چیز نظر آتی ہے ؟ یہ ایک زندہ آلہ ہے جو دن رات ایک دائمی صورت میں کھڑا رہتا ہے۔ اس میں ہزار ہا کیمیاوی اور طبیعی عمل پائے جاتے ہیں۔ اور یہ سب پروٹو پلازم کی قوت کے تحت پورے ہوتے ہیں۔ یہ وہی مادہ ہے جو تمام زندہ کائنات کی ترکیب میں داخل ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ پیچ در پیچ زندہ آلہ کہاں سے آیا ہے ؟ اللہ نے اس کو یوں اکیلا نہیں بنایا۔ بلکہ اس نے حیات کو پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کی حفاظت پر اسے قادر بنایا ہے۔ یہ کہ وہ ایک نسل سے دوسری نسل تک برابر چلتا ہے اور ان تمام خاصیتوں اور امتیازات کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ جو ہمیں ایک نبات اور دوسری میں تمیز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ زندہ چیزوں میں کثرت کا مطالعہ کرنا نہایت عجیب اور چونکا دینے والا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی قدرت ظاہر ہوئی ہے۔ جدید نبات جس تناسلی خلیے سے بار آور ہوتی ہے وہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ طاقتور خورد بین کے بغیر نظر نہیں آسکتا۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ نباتات کی صفات میں سے ہر صفت، ہر رگ، و ریشہ، ہر شاخ، ہر بیج یا پتہ ان انجینئروں کے زیر نگرانی بنتا ہے جو نہایت چھوٹے ہیں۔ وہ اس خلیے کے اندر رہ سکتے ہیں جس سے نبات پیدا ہوتی ہے۔ انجینئروں کا یہ فرقہ کروموسوم کہلاتا ہے۔ (یعنی وراثت کو نقل کرنے والے) حیات اور حیاتیات پر اسی قدر بات چیت کے بعد اب ہم قرآنی آیات کی طرف لوٹتے ہیں۔ ﴿ذلکم اللّٰہ ربکم﴾[ الانعام :102] ” یہ ہے تمھارا اللہ تمھارا رب“ جو اس دائمی مسلسل و متواتر معجزے کا موجد ہے۔ وہی اس کا حق دار ہے کہ تم اس کے آگے جھکو۔ اس کی عبودیت، خضوع، خشوع اور اتباع کا اقرار و اعلان کرو۔ پھر فرمایا : ” پھر تم کہاں اور کیونکر پھرائے جاتے ہو ؟“ (ظلال القرآن) مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ ہی بے جان سے جاندار چیزوں کو پیدا کرتا ہے۔ 2۔ زندگی وموت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دیکھتے ہی اپنا ایمان پختہ کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : ” اللہ“ نباتات اگانے والا ہے : 1۔ اللہ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ ( النحل :11) 2۔ اللہ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (المومنوں :19) 3۔ اللہ نے زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ ( یٰسٓ:34) 4۔ اللہ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ ( الانعام :99) 5۔ اللہ نے باغات، کھجور کے درخت اور کھیتی پیدا کی جو ذائقہ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ ( الانعام :141) الانعام
96 فہم القرآن : (آیت 96 سے 97) ربط کلام : آفاق سے توحید کے دلائل۔ اللہ تعالیٰ جس طرح ﴿فَالِقُ الْحُبِّ وَالنُّوَیٰ﴾ ہے اسی طرح ﴿فَالِقُ الْاِصْبَاحِ﴾ بھی ہے۔ اسی نے رات کو سکون کے لیے بنایا اور شمس وقمر کو حساب کے لیے۔ ماہ وسال کا حساب انہی سے ہوتا ہے۔ البتہ کہیں سورج سے اور کہیں چاند سے، اسلام نے لوگوں کی آسانی کے لیے سورج کا پیچیدہ حساب چھوڑ کر چاند کا حساب اختیار کیا۔ چاند کے طلوع وغروب سے ماہ وسال کا حساب لگانا آسان تر ہے۔ حج، رمضان، عیدین وغیرہ کا حساب چاند پر مبنی ہے۔ صبح کی تاریکی سے روشنی پھوٹنے کو دانے اور گٹھلی کے پھوٹنے کی مانند ٹھہرایا گیا ہے۔ دونوں سے حیات پھوٹتی ہے۔ نور کا پھوٹنا نباتات اور پودے کے زمین سے پھوٹنے کی مانند ہوتا ہے۔ نور کا تاریکی سے پھوٹ کر نکلنا ایسی حرکت رکھتا ہے جو اپنی شکل میں دانے اور گٹھلی کے پھٹنے سے مشابہ ہوتا ہے۔ اس حرکت کے ساتھ نور کا نکلنا یوں ہے جیسے کہ انگوری مٹی کے پردے میں سے ظاہر ہوتی ہے۔ دونوں میں حرکت، زندگی رونق اور جمال کی صفات وعلامات مشترک ہیں۔ پھر دانے اور گٹھلی کے پھٹنے اور صبح کے پھٹنے میں اور رات کے سکون میں ایک تعلق یہ بھی ہے۔ کہ اس کائنات کے اندر صبح وشام کا آنا، حرکت وسکون کا پیدا ہونا، نباتات اور حیات کے ساتھ براہ راست متعلق ہوتا ہے۔ سورج کے سامنے زمین کا گھومنا، چاند کا اتنے بڑے حجم کے باوجود اور زمین کا اس قدر دوری کے با وجود، سورج کا اتنے بڑے حجم اور حرارت میں اتنا زیادہ گرم ہونے کے باوجود یہ سارے کام کو مل کر انجام دینا اور باشندگان کرۂ ارض کی خدمات ہر وقت اور ہر لمحہ انجام دینا۔ ایک صاحب غلبہ واقتدار اور علیم اللہ کاٹھہرایا ہوا اندازہ ہے۔ اگر یہ اندازہ اور خدائی حساب نہ ہوتا تو زمین پر یوں زندگی نمودار نہ ہوتی۔ نباتات واشجارنہ پھوٹتے، نور و ظلمت اور حیات وموت کا یوں ظہور نہ ہوتا۔ یہ ایک دقیق ٹھہرایا ہوا، مقرر کردہ حساب ہے۔ جس کے ساتھ یہ کائنات بندھی ہوئی ہے۔ یہ کوئی محض اتفاقی حادثہ نہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ زندگی کائنات کے اندرمحض ایک عبوری لمحہ ہے، خالق کائنات کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ ایسے اقوال کبھی فلسفہ اور علم کہلاتے تھے۔ مگر علم کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہبے دین حضرات کی اہواء وخرافات ہیں جو ان کے قلوب ونفوس میں رچی ہوئی ہیں۔ انسان جب ان کے فیصلوں کو پڑ ھے تو محسوس کرتا ہے کہ یہ لوگ اپنی مقرر کردہ علمی حدود کی تعریفات سے خود تجاوز اور فرار کر رہے ہیں۔ وہ اللہ سے بھاگنا چاہتے ہیں جس کے دلائل وجودتوحید وقدرت خود ان کے نفوس وقلوب کو گھیرے ہوئی ہیں۔ وہ بھاگ کر جہاں بھی چلے جائیں۔ اللہ کو آخر کار اپنے سامنے پائیں گے۔ پھر وہ گھبرا کر ایک اور راستہ اختیار کریں گے اور آخر کار اس کی انتہا پر بھی انہیں اللہ سامنے ملے گا ! یہ بیچارے مصیبت زدہ مسکین ہیں جو ایک زمانے میں کلیسا اور اس کے اللہ سے بھاگے تھے، مگر اللہ نے ان کی گردنیں پھر اپنے سامنے جھکا لیں۔ وہ اس صدی کے اوائل تک برابر بھاگتے رہے، مگر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا مگر اللہ تعالیٰ تو ان کے تعاقب میں تھا ! اگر وہ پیچھے دیکھیں تو شک کریں گے کہ کلیسا کی دوڑ ان کے پیچھے ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اور شاید ان کی طاقت ہی ختم ہوچکی ہے۔ ان بے چارے مساکین کے ” علمی نتائج“ آج خود ان کے مد مقابل بن کر سامنے کھڑے ہیں، بھاگ جانے کا کیا سوال ہے؟ فرینک ایلن جس کے کچھ اقتباسات ہم نے گزشتہ صفحات میں پیش کیے ہیں لکھتا ہے :” زمین کا زندگی کے لیے مناسب ہونا ایسی صورتیں اختیار کرتا ہے کہ ہم اسے محض اتفاق یا حادثہ کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ زمین ایک گول کرّہ ہے جو فضا میں لٹکا ہوا ہے اور اپنے گرد گردش کرتا رہتا ہے۔ اسی سے رات دن کا چکر چل رہا ہے۔ اور وہ سال بھر میں ایک دفعہ سورج کے گرد گھومتا ہے۔ جس سے موسم اور فصول پیدا ہوتے ہیں۔ یہ گھومنا ہمارے اس کرّے کی سطح کو زندگی کی پیدائش اور نشوونما کا مزید صالح جز مہیا کرتا ہے۔ زمین کے ٹھہراؤ کی صورت میں اس قدر مختلف انواع واقسام کی نباتات کا پیدا ہونا اور ان کی نشوونما ممکن نہ ہوتی۔ پھر زمین گیس کے ایک غلاف سے ڈھکی ہوئی ہے۔ جس میں بہت سی ایسی گیسیں موجود ہیں جو زندگی کے لیے لازم ہیں۔ یہ گیسیں بہت بلندی تک زمین کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ جو پانچ سو میل سے زائد فاصلہ ہے۔ پھر ان گیسوں کی موٹائی اس قدر ہے جو لاکھوں کروڑوں شہاب ثاقب کو ہم تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ ان تاروں کا ٹوٹنا تیس میل فی منٹ کی رفتار سے بھی تیز تر ہوتا ہے۔ اور یہ فضائی غلا ف جو زمین کو محیط ہے وہ زمین کے درجۂ حرارت کو زندگی کے لیے مناسب حدود کے اندر قائم رکھتا ہے۔ وہ سمندروں سے پانی کے بخارات کو اٹھا کر بر اعظموں کے اندر تک لے جاتا ہے۔ وہاں پر وہ گاڑھا ہو کر بادل بنتا ہے اور بر ستا ہے۔ جو زمین کی مردگی کو زندگی میں بدلتا رہتا ہے۔ بارش خالص پانی کا مصدر ہے اگر وہ نہ ہوتی تو زمین ایک لق ودق صحرا بن کررہ جاتی اور اس میں زندگی کی کوئی علامت باقی نہ رہ سکتی۔ یہاں سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ فضا اور سمندر جو زمین پر ہیں وہ اس کے توازن کو بر قرار رکھنے کی مشینیں ہیں۔“ ان لوگوں کے سامنے علمی دلائل بے شمار موجود ہیں۔ جو ان کے ” اتفاقات“ کے نظر یے کو رد کرتے ہیں اور زندگی کی نشوونما کے متعلق ان کے عجز کا اعلان کرتے ہیں۔ اس طبیعات کے عالم نے جن موافقات اور مناسبات کا ذکر کیا ہے۔ کائنات میں زندگی کے لیے صرف یہی نہیں اور بھی بے شمار اسباب وعلل موجود ہیں۔ اب نتیجہ اس کے سوا نہیں کہ کہا جائے ﴿ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ﴾ اسی ذات نے ہر چیز کو اس کی پیدائش اور رہنمائی بخشی اور ہر چیز کو پیدا فرماکر اس کے خاص اندازے مقرر کیے ہیں۔ ستاروں کی پیدائش اور ان کے مقا صد : ” اور وہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے ستارے بنائے تاکہ تم ان سے خشکی وتری کی تاریکیوں میں راستہ پاؤ۔ ہم نے جاننے والوں کے لیے آیات کو کھول دیا ہے۔“ جدید علمی ایجادات چاہے جتنی زیادہ ہوجائیں، لیکن انسان کا اجرام فلکی سے راہ پانا ایسی حقیقت ہے جس کا ظہور ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے، اب بھی ہے اور مستقبل میں بھی ہوگا۔ اسرار کائنات چاہے انسان پر کس قدر منکشف ہوجائیں مگر یہ حقیقت قاہرہ اپنا آپ منواتی رہے گی۔ جدید علوم نے ستا روں کے متعلق بے شمار نئے انکشافات بھی کیے ہیں جو بڑے حیرت انگیز ہیں۔ جس مقام پر تمام انسانی آلات ناکام ہوجائیں، وہاں ستاروں کو دیکھ کر سمتیں متعین کرتے، وقت کا پتہ چلاتے، موسموں کا حال معلوم کرتے، بارش اور آندھی وغیرہ کی پیش گوئی کرتے اور سنتے ہیں۔ ستاروں کا علم نہایت وسیع اور حیرت انگیز ہے۔ ذرا غور کرنے والا اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کارخانہء قدرت کے پیچھے ایک علیم و بصیرہستی کی مشیت وقدرت اور ارادہ کار فرما ہے۔ جو تمام کرّوں کی رفتار اور گردش کا انتظام کرتا ہے اور انھیں باہم تصادم سے بچاتا ہے۔ یہ سب کچھ محض اتفاق کا نتیجہ نہیں ہے، اس کے پیچھے قادر مطلق کی کار فرمائی کام کر رہی ہے۔ اسی لیے اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے کہ جاننے والوں کے لیے ہم نے آیات کی تفصیل بیان کردی ہے، ستاروں کی رفتار اور گردش کائنات تو حسی رہنمائی کے لیے ہے مگر تفصیل آیات سے عقل و فکر کو رہنمائی میسر آتی ہے۔ (ماخوذ از ظلال القرآن ) نظام فلکی اور علم نجوم کی حقیقت : قرآن و حدیث میں کافی تفصیل کے ساتھ زمین و آسمان کی ساخت‘ ہیئت اور ان کی وسعت وکشادگی کے بارے میں بتلایا گیا ہے۔ آسمان کی ساخت کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ستارے آسمان کی خوبصورتی اور سجاوٹ کے ساتھ مسافروں کی رہنمائی اور نظام فلکی کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں۔ انسان کی قسمت اور تقدیر کے ساتھ ان کا کوئی واسطہ نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایسا نظام ہے جس میں نہ کوئی مداخلت کرسکتا ہے اور نہ ہی ان کی گردش وتغیر کے بارے میں کوئی علم کامل رکھتا ہے۔ نبی محترم (ﷺ) کے زمانے میں رات کے وقت ایک دفعہ بارش ہوئی تو آپ نے صبح کی نماز کے بعد فرمایا کہ آج کچھ لوگ ابرباراں کی وجہ سے ہدایت یافتہ ٹھہرے کچھ لوگ اسی بارش کی وجہ سے گمراہی کے گھاٹ اتر گئے۔ صحابہ (رض) کے استفسار پر وضاحت فرمائی کہ جن لوگوں نے یہ عقیدہ ٹھہرایا کہ بارش ستاروں کی وجہ سے ہوئی ہے وہ گمراہ ہوگئے اور جنہوں نے بارش کو فضل ربی قرار دیا وہ ہدایت پر قائم رہے۔ علم نجوم کی مرکزیت اور دارومدار ستاروں کی گردش پر ہے۔ اس علم کی بنیادنجومیوں نے سورج کی منازل پر قائم کی ہے۔ جس کو قرآن مجید نے منازل اور بروج کا نام دیا ہے۔ بروج کی تفصیلات جاننے سے پہلے نظام فلکی کی ایک جھلک کا نظارہ فرمائیں۔ ﴿اَلَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقاً مَاتَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئاً وَّھُوَ حَسِیْرٌ وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِمَصَا بِیْحَ وَجَعَلْنٰھَا رُجُوْ ما لّلشَّیٰطِیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَاب السَّعِیْرِ﴾ [ الملک : 3تا5] ” اسی نے سات آسمان تہ بہ تہ پیدا کیے۔ تم رحمن کی پیدا کردہ چیزوں میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھ سکتے۔ ذرا دوبارہ آسمان کی طرف دیکھو، کیا تمھیں اس میں کوئی خلل نظر آتا ہے؟ پھر اسے بار بار دیکھو۔ تمہاری نگاہ تھک کر ناکام پلٹ آئے گی۔“ ﴿وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجاً وَّزَیَّنّٰھا للنّٰظِرِیْنَ وَحَفِظْنٰھَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَہٗ شِھَابٌ مُّبِیْنٌ﴾ [ الحجر : 16تا18] ” بلا شبہ ہم نے آسمان میں بروج بنائے اور دیکھنے والوں کی لیے انھیں خوبصورت بنایا اور ہر شیطان مردود سے محفوظ کردیا ہاں اگر شیطان چوری چھپے سننا چاہے توایک چمکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔“ ﴿فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا اِنَّ اِلٰھَکُمْ لَوَاحِدٌ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَابَیْنَھُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیاَ بِزِیْنَۃِ نِ الْکَوَاکِبِ وَحِفْظاً مِّنْ کُلِّ شَیْطَانٍ مَّارِدٍ لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَی الْمَلأَِ الْاَعْلٰی وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ دُحُوْرًا وَّلَھُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ﴾ [ الصافات 3تا9] ” پھر ان کی قسم جو کہ تلاوت کرنے والے ہیں۔ بلاشبہ تمہارا الٰہ ایک ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے۔ اور ان چیزوں کا بھی جو ان دونوں کے درمیان ہیں اور مشرقوں کا بھی پروردگار ہے۔ بلاشبہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنا دیا۔ وہ عالم بالا کی باتیں سن ہی نہیں سکتے۔ ہر طرف سے ان پر شہاب پھینکے جاتے ہیں تاکہ وہ بھاگ کھڑے ہوں۔ اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔“ جنات کا اعتراف : ﴿وَاَنَّھُمْ ظَنُّوْاکَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا وَاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْ نٰھَا مُلِئَتْ حَرَساً شَدِیْداً وَّشُھُبًا وَّاَنَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْھَا مَقَاعِدَ للسَّمْعِ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْلَہٗ شِھَابًارَّ صَدًا﴾ [ الجن 7تا9] ” اور یقیناً انسان بھی ایسا ہی خیال کرتے تھے جیسے تم کرتے ہو کہ اللہ کبھی کسی کو دوبارہ نہ اٹھائے گا اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہرے دار اور شہابوں سے بھرا ہوا پایا اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہم سننے کے لیے آسمان کے ٹھکانوں میں بیٹھا کرتے تھے مگر اب جو سننے کو کان لگائے تو وہ اپنے لیے ایک شہاب کو تاک لگائے ہوئے پاتا ہے۔“ تعلیم یافتہ حضرات کی فکری کمزوری : علم نجوم کے بارے میں صرف جاہل ہی نہیں بلکہ اچھے بھلے تعلیم یافتہ لوگ بھی تو ہم پرستی کا شکار ہیں۔ یہ لوگ اس قدر اس بیماری کا شکار ہیں کہ پامسٹوں اور علم نجوم جاننے والوں کے پاس جا کر انگوٹھی کا نگینہ‘ گاڑی کی نمبر پلیٹ‘ شادی یا کسی تقریب کا دن مقرر کرنے کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں‘ تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ کون سے دن اور کس چیز میں ان کیلئے برکت رکھی گئی ہے۔ حالانکہ رحمت اور زحمت‘ برکت اور نحوست صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی انکے نازل ہونے کے اوقات جانتا ہے۔ کوئی چیز اپنی ذات میں نہ منحوس ہو سکتی ہے اور نہ ہی برکت کا سرچشمہ۔ ان توہّمات سے بچنے کے لیے اسلام نے علم نجوم کو کفر کے مترادف قرار دیا ہے۔ جس سے بچنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ علم نجوم کے بارے میں ترقی یافتہ اقوام کے پراگندہ تصورات : ترقی یافتہ اقوام اپنے مقابلے میں دوسروں کو اجڈ‘ جاہل اور غیر مہذب تصور کرتی ہیں۔ بالخصوص مسلمانوں کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ مسلمان غیر مہذب‘ جاھل اور بنیاد پرست لوگ ہیں۔ حالانکہ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے ان فرسودہ خیالات اور تصورات کی نہ صرف حوصلہ شکنی بلکہ مکمل نفی کی ہے۔ ستاروں اور چاند کو مسخر کرنے کا دعوے کرنے والی اقوام ایسے جاہلانہ تصورات رکھتی ہیں کہ انہوں نے ہفتے کے ایام کو انہی بروج اور سیاروں کی طرف منسوب کر رکھا ہے۔ انہوں نے تو ایّام کے نام بھی ستاروں اور سیاروں پر رکھے ہوئے ہیں۔ مثلاً: 1۔ Sun-day (سورج کا دن) 2۔ Mon-day ( چاند کا دن) Moon کا مخفّف ہے۔ 3۔ Tues-day (مریخ کا دن)۔ یہ (Tues) فرانسیسی زبان کے لفظ (Mars) کاترجمہ ہے۔ 4۔ Wednes-day (عطارد کا دن) کیونکہ Wednes کا لفظ فرانسیسی لفظ Mercury کا ترجمہ ہے۔ اور فرانسیسی زبان میں Mercuary سیارہ عطارد کو کہا جاتا ہے۔ 5۔ Thurs-day ( مغربی لغت میں "Thurs" سیارہ مشتری کو کہتے ہیں۔ ترجمہ ہوا ” مشتری کا دن“ 6۔ Fri-day ( زہرہ کا دن) 7۔ Satur-day ( زحل کا دن) کیونکہ سیارہ زحل کو انگریزی زبان میں Saturn کہتے ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں ہماری کتاب جادو کی تباہ کاریاں اور ان کا شرعی علاج۔) مسائل : 1۔ دن اور رات کا نظام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ 2۔ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ہیں۔ 3۔ ستارے راستے ڈھونڈنے میں معاون ہیں۔ تفسیر بالقرآن: سورج، چاند، ستاروں کے فوائد : 1۔ وہ ذات جس نے ستاروں کو اندھیروں میں تمہاری رہنمائی کے لیے پیدا فرمایا۔ ( الانعام :97) 2۔ یہ لوگ ستاروں کی علامات سے راہ پاتے ہیں۔ (النحل :16) 3۔ چاند، سورج اور ستارے اس کے حکم کے پابند ہیں۔ ( الاعراف :54) 4۔ اللہ تعالیٰ نے سورج کو ضیاء اور چاند کو باعث روشنی بنایا۔ ( یونس :5) 5۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں چاند کو روشنی کا باعث اور سورج کو روشن چراغ بنایا۔ ( نوح :16) الانعام
97 الانعام
98 فہم القرآن : ربط کلام : تخلیق انسان سے توحید کی دلیل۔ ” اور وہی ہے جس نے تمھیں ایک نفس سے پیدا کیا، پھر اس کا ایک ٹھکانا ہے اور ایک سونپے جانے کی جگہ ہے۔ ہم نے گہری سوچ رکھنے والوں کے لیے آیات کو کھول کر بیان کیا ہے۔“ انسان ایک نطفہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جس کی بنیاد ایک خلیہ ہے جو انسان کی پیدائش کی اصل بنتا ہے مرد کی صلب کے اندر ایک ٹھکانے پر ہوتا ہے، پھر اس کا مستقر عورت کا رحم ہوتا ہے اس کے بعد زندگی نشو و نما اور پھیلاؤ حاصل کرتی ہے۔ جب تک اللہ کے حکم سے روئے زمین پر انسانی حیات موجود رہے گی یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ حیات کو سمجھنے کے لیے فقہ گہرائی پر اترنا، غور و فکر کرنا ضروری ہے۔ جتنی بات انسان کے سمجھنے کی ہے اور اس کے لیے ضروری یا مفید ہے وہ اللہ تعالیٰ نے کھول کر بیان فرما دی ہے۔ جہاں سے عالم غیب کی حدود شروع ہوتی ہیں وہاں انسان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ نفس واحدہ سے حیات کا نکلنا اور پھر ایک طویل سلسلہ قائم ہوجانا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور صفت تخلیق پر دلالت کرتا ہے۔ جسے سوچ کر انسان اللہ کی طرف گامزن ہوسکتا ہے۔ مذکر اور مؤنث کی ایک متناسب تعداد ہر وقت دنیا میں موجود رہتی ہے تاکہ توالدوتناسل کا سلسلہ قائم رہ سکے اور ایک مقرر وقت تک دنیا کا سلسلہ چل سکے۔ اس موضوع پر مفصل گفتگو کی گنجائش نہیں۔ صرف مذکر یا مؤنث کے نطفے کی پیدائش کی کیفیت اور اس کے متعلق بعض باتوں پر مختصراً کلام کرنا ضروری ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ ربانی تقسیم سے کس طرح یہ تذکیر و تانیث کا سلسلہ قائم رہتا ہے۔ جو حیات کے قیام و استمرار کا ذریعہ ہے۔ نر و مادہ کا تناسب و توازن : اللہ تعالیٰ علیم و قدیر کی تقدیر سے نر و مادہ کے کروموسوم باہم ملتے اور مذکر یا مؤنث بچے کی پیدائش کا سبب بنتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک غیبی تدبیر ہے۔ جس میں اللہ کے سوا کسی کا ہاتھ کار فرما نہیں۔ اللہ تعالیٰ کبھی مذکر اور کبھی مونث یا صرف مذکر یا صرف مؤنث پیدا فرماتا ہے۔ یہ اس توازن و تناسب کو برقرار رکھتا ہے جو زمین پر توالدوتناسل کے لیے ضروری ہے۔ اس سے انسانیت میں انتشار نہیں پڑتا۔ کوئی شخص یہ بھی سوچ سکتا تھا کہ صرف نسل کی بقاء و کثرت کے لیے تو چند نروں کا وجود کافی ہوسکتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ توازن و تناسب کیوں قائم فرمایا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حیوانات میں تو واقعی ایسا ممکن اور درست تھا مگر نسل انسانی میں صرف پیدائش کافی نہ تھی۔ بلکہ انسانی نشو و نما اور تربیت اولاد کے لیے ضروری تھا کہ بچے ایک خاندان میں والدین کے زیر سایہ پیدا ہوں اور نشو و نما پائیں۔ صرف اسی صورت میں زمین پر انسانیت برقرار رہ سکتی تھی۔ پس قضاء و قدر خداوندی کا یہ فیصلہ ہوا کہ نر و مادہ میں عدد کا تناسب بھی قائم رکھا جائے۔ حیوانات میں یہ ضروری نہ تھا لہٰذا وہاں پر اس تعداد اور توازن کا قائم رکھنا لازم نہ ہوا۔ اگر صرف اس توازن ہی کو لیا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ خالق کائنات کی حکمت و تدبیر اور رحمت و تقدیر پر دلالت کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس آیت کا اختتام جو اس جملے پر فرمایا گیا ہے کہ ﴿قَدْ فَصَّلْنَا الاْٰ یَاتِ لِقَوْمٍ یَفْقَھُوْنَ﴾ کی گہرائی یہی ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ ہی تمام انسانوں اور ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے ہی انسانی تخلیق کے مختلف مراحل مقرر فرمائے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے بعد اس کے رہنے سہنے کی منازل متعین فرمائی۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنی توحید کے دلائل اس لیے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ ہر اعتبار سے اسے لاشریک سمجھیں۔ تفسیر بالقرآن: انسانی تخلیق کے مختلف مراحل : 1۔ اللہ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔ ( النحل :4) 2۔ اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ ( آل عمران :59) 3۔ حوا کو آدم سے پیدا کیا۔ ( النساء :1) 4۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ ( المؤمنون :12) 5۔ ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ ( الدھر :2) 6۔ اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔ ( النساء :1) الانعام
99 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قرآن مجید میں انسانی زندگی، پھل، پھول، نباتات اور درخت وغیرہ کے اگانے کے سلسلے میں پانی کا ذکر کئی مرتبہ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سبب حیات قرار دیا ہے۔ زمین کی زینت، مردہ زمین کی زندگی، پودوں اور سبزی ترکاری کی شادابی، ان کی پیدائش اور قیام، پھر ان کا رنگ برنگے پھل پھول پیدا کرنا، غلے، میوے، چارہ، بے شمار نفع آور اشیاء کا پیدا ہونا، پکنا اور انسان کے کھانے کے قابل ہونا، ان کی خوبصورتی اور زینت ان تمام چیزوں کو وجود باری تعالیٰ پر دلیل توحید الوہیت اور ربوبیت قرار دیا گیا ہے۔ ” اور وہ وہی خدا ہے جس نے اوپر سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ ہر چیز کی انگوری نکالی۔“ ہر چیز کے اگانے میں پانی کا جو کام ہے وہ شہری و دیہاتی اور عالم و جاہل پر واضح ہے۔ مگر اس کا کام اس ظاہر سے بہت آگے، بہت گہرا اور بہت مؤثر ہے۔ سائنس کی جدید ترین تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین کی سطح شروع شروع میں بالکل گرم تھی۔ اور وہ نباتات کو اگانے کے قابل نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ نے اسے پانی اور کئی اور فضائی عوامل سے کاشت اور بیج اگانے کے قابل بنایا۔ بارش کے ساتھ ایک قدرتی کھاد بھی نائٹروجن گیس کے ساتھ زمین پر برستی ہے۔ جو زمین کو زرخیز اور سبزی ترکاری وغیرہ اگانے کے قابل بناتی ہے۔ انسان نے بھی اسی سے کھاد بنانے اور زمین کو زرخیز کرنے کا طریقہ سیکھا ہے، پھر سورج، چاند، ہوا وغیرہ بھی اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔ سطح زمین کے اوپر اور اس کے اندر بے شمار ایسے کیمیاوی اور غیر کیمیاوی مادے موجود ہیں جو اس سارے کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ نباتات کے مختلف ادوار و اطوار : ” پس نکالا ہم نے اس سے سبز انگوری کو جس سے ہم تہ در تہ دانے نکالتے ہیں اور کھجور کی کونپل سے لٹکے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون و انار باہم ملتے جلتے اور نہ ملتے جلتے۔“ ہر انگوری شروع میں سبز ہوتی ہے اور یہاں پر خضرا کا لفظ زیادہ مؤثر اور گہرا ہے بہ نسبت اخضر کے۔ اس سبز انگوری سے دانے پیدا ہوتے ہیں جو اوپر نیچے بالیوں میں سجے ہوتے ہیں۔ بعض غلے اور پھل شکل و صورت اور مزے میں باہم ملتے جلتے ہوتے ہیں اور بعض نہیں۔ ایک ہی پھل کسی زمین میں ترش اور تلخ ہوتا ہے۔ اور دوسری جگہ میٹھا۔ تاثیر میں بھی بعض ایک جیسے ہیں بعض مختلف، پھر فرمایا : ” جب وہ درخت پھل لائے تو اس کے پھل کو دیکھو، اور پھر اس کے پکنے کا مشاہدہ کرو۔“ ان پھلوں کو دیکھ کردل میں سرور اور آنکھوں میں نور پیدا ہوتا ہے۔ جب کچے ہوں تو رنگ و روپ اور رونق ہوتی ہے۔ پکنے پر آئیں تو آہستہ آہستہ بدلتے جاتے ہیں۔ اور پک کر تیار ہوں تو ہر دیکھنے والے کا جی للچا تا ہے۔ سبحان اللہ ! یہ صنعت، یہ مہارت، یہ کاری گری ایک ہی عزیز و علیم کی ہے۔ اس لیے فرمایا : ” بے شک اس میں بہت سے دلائل ہیں ان کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔“ انھیں کھا تو ہر ایک لیتا ہے لیکن نور بصیرت اور حس ایمان کے ساتھ وہی دیکھتا ہے جس میں ایمان ہو۔ پھلوں اور غلوں کے مختلف ادوار پر غور کریں گے تو ان میں ایمان باللہ، وحدانیت، قدرت، علم و صنعت ملیں گے۔ جو تمھیں زبان حال اور زبان قال سے احسن الخالقین کی حمد و ثنا پر آمادہ کریں گے۔ اتنی آیات قدرت کو دیکھ کرجو انسان کے ماحول میں اس کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے بکھری پڑی ہیں۔ جو لوگ توحید خداوندی کا اعتراف و اقرار نہ کریں، خود ساختہ معبودوں کو پکاریں، ان میں ایسی صفات اور طاقت مانیں جس کا ان میں کہیں نام و نشان نہیں۔ تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ مشرک اندھے، بہرے اور گونگے ہیں۔ بے عقل وبے شعور ہیں، ناشکرے ہیں، حیوانات سے بھی بدتر ہیں۔ اس لیے اگلی آیت میں شرک اور مشرکین اور ان کے بنائے ہوئے شرکاء کا رد کیا گیا ہے۔ زمین کے جن پودوں کے نام قرآن مجید میں آئے ہیں ان کی تعداد اور نام درج ذیل ہیں۔ 1۔ من 2۔ کھجور 3۔ زیتون 4۔ انگور 5۔ انار 6۔ انجیر 7۔ سدرہ یا بیری 8۔ جھاؤ 9۔ شجر مسواک 10۔ حنا یا کافور 11۔ ادرک 12۔ مسور 13۔ پیاز 14۔ لہسن 15۔ ککڑی 16۔ ببول عرب یا کیلا 17۔ لوکی 18۔ رائی 19۔ ریحان 20۔ زقوم 21۔ ضریع 22۔ طوبی 23۔ شجر 24۔ ثمر 25۔ برگ 26۔ اناج 27۔ زراعت 28۔ چارہ 29۔ ترکاری 30۔ افزائش نباتات کھجور : لیکن یہاں ہم صرف کھجور اور انگور کے بارے میں کچھ لکھیں گے۔ ان کو دیگر پودوں پر ایک امتیاز اور برتری حاصل ہے۔ یوں تو تمام نباتات اور پودے خالق ارض و سماء کے پیدا کیے ہوئے ہیں لیکن ان چند پودوں کا تذکرہ اس ذات الٰہی نے خود اپنے کلام میں کیا ہے، اس طرح ان پودوں کا نام ابد الآباد تک کلام الٰہی میں محفوظ ہوگیا اور کلام الٰہی میں ان کا ذکر آنے سے ان کی خصوصیتوں کا سمجھنا ایک علمی و دینی ضرورت بن گئی ہے۔ قرآنی نام : نَخْل، نَخِیل، نَخْلَۃ دیگر نام : Date (انگریزی )، Datte (فرانسیسی)، Tamar-Tamarim (عبرانی )، کھجور (اردو، پنجابی، ہندی)، خرما (فارسی )، کھرجور (سنسکرت) کرجور و (کشمیری)۔ نباتاتی نام : (Phoenix dactylifera Linn. (Family: Palmae/Aracaceae) قرآن مجید میں کھجور کا تذکرہ : 1۔ البقرہ، آیت : 266 2۔ الانعام، آیت : 100 3۔ الرعد، آیت : 4 4۔ الانعام، آیت : 142 5۔ النحل، آیت : 10، 11 6۔ النحل، آیت : 67 7۔ بنی اسرائیل، آیت : 90، 91 8۔ الکہف، آیت : 32 9۔ مریم، آیت : 23 10۔ مریم، آیت : 24، 25 11۔ طٰہٰ، آیت :71 12۔ المؤمنون :، آیت : 19 13۔ ق ٓ، آیت : 10 14۔ یٰس ٓ، آیت : 35، 36 15۔ الشعراء، آیت : 148 16۔ الرحمن، آیت : 28، 29 17۔ الرحمن، آیت : 10، 11 18۔ القمر، آیت : 18، 20 19۔ عبس، آیت : 24، 32 20۔ الحاقۃ، آیت : 6، 7 قرآنی ارشادات کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے متعدد بار ان احسانوں اور مہربانیوں کا ذکر کیا ہے جو اس نے پھلوں کی صورت میں انسان پر کیے ہیں۔ ان پھلوں میں یوں تو انگور، انجیر، انار اور زیتون کا تذکرہ کئی بار بار آیا ہے لیکن جس پھل اور درخت کا حوالہ سب سے زیادہ دیا گیا ہے وہ کھجورہے۔ اس کا بیان نخل۔ النخیل (جمع) اور نخلۃ (واحد) کے ناموں سے بیس مرتبہ قرآن کریم میں کیا گیا ہے۔ کھجور کی قسموں اور اس کی گٹھلیوں وغیرہ کا ذکر بھی قرآن پاک میں الگ الگ ناموں سے کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۃ الحشر آیت 5میں کھجور کی ایک نفیس قسم کو ” لینۃ“ کہا گیا ہے۔ اسی طرح سورۃ النساء کی دو آیات 53اور 124میں ” نقیرا“ کا لفظ تمثیل کے طور پر استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی یوں تو کھجور کی گٹھلی میں چھوٹی سی نالی کے ہیں لیکن تشبیہ دی گئی ہے ایسی چیز سے جو نہ ہونے کے برابر یعنی حقیر ترین ہو۔ ایسی ہی مثال سورۃ فاطر آیت 13میں لفظ ” قطمیر“ سے دی گئی ہے جس کے معنی اس باریک جھلی کے ہیں۔ جو کھجور کی گٹھلی کے اوپر ہوتی ہے۔ ” النوی“ کے معنی زیادہ تر مفسرین نے عام گٹھلی کے لیے ہیں۔ ” العرجون“ کھجور کے گچھے کی ٹہنی کو کہتے ہیں جو درخت پر خشک ہو کر ہنسلی کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ چنانچہ سورۃ یٰس ٓآیت 39میں اس کی مثال نئے چاند سے دی گئی ہے۔ ” حبل“ کے معنی یوں تو کسی بھی رسی کے ہو سکتے ہیں۔ لیکن پرانے زمانے میں عرب عام طور پر کھجور کی پتیوں سے بنی ہوئی رسی مراد لیتے تھے۔ اسی طرح سورۃ القمر کی آیت 13میں لفظ ” دسر“ کا استعمال ہوا ہے، اس کے معنی بھی Palm-Fibre کے لیے گئے ہیں۔ مختلف ناموں کے حوالے سے کھجور کا ذکر قرآن حکیم میں اٹھائیس بار ہوا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کھجور کی کاشت آٹھ ہزار سال قبل جنوبی عراق میں شروع ہوئی تھی۔ اس وقت دنیا میں کہیں بھی پھلدارپودوں کی کھیتی کا تصور تک نہ تھا۔ عربوں میں ایک پرانی کہاوت تھی کہ سال میں جتنے دن ہوتے ہیں اتنے ہی کھجور کے استعمال کے فوائد ہیں، اور حقیقت بھی کچھ ایسی ہی لگتی ہے۔ ایک طرف اس کی لکڑی عمارت اور فرنیچر بنانے کے کام آتی ہے تو دوسری جانب اس کی پتیوں سے جن کو شاخیں کہا جاتا ہے بے شمار مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ کھجور کی گٹھلیاں جانوروں کے لیے موزوں چارہ ہیں اور اس کے پھل انسان کے لیے بہترین غذا ہیں۔ اس کی غذائیت کا اندازہ اس کے کیمیاوی اجزاء سے کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں تقریباً ساٹھ فیصد Invert sugar اور Sucrose کے علاوہ اسٹارچ، پروٹین، Cellulose,Pectin,Tannin اور چربی مختلف مقدار میں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں وٹامن اے، وٹامن بی، وٹامن بی ٹو اور وٹامن سی بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کے معدنیاتی اجزاء بھی اہمیت کے حامل ہیں، یعنی سوڈیم، کیلشیم، سلفر، کلورین، فاسفورس اور آئرن، سے بھرپور ہے۔ کھجور میں نر اور مادہ درخت ہوتے ہیں۔ دونوں کے پھولوں کے ذریعہ (Cross Polination) ہوتا ہے۔ تب ہی مادہ پودوں میں پھل آتے ہیں۔ ایک نر درخت کے پھول ایک سو مادہ درختوں کے (Polination) کے لیے کافی سمجھے جاتے ہیں۔ اسلام سے قبل عرب قبائل کی آپس کی دشمنی اور رقابت میں ایک دوسرے کو نقصان اور ضرر پہنچانے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ دشمن کے کھجور کے باغات تہس نہس کردیے جائیں۔ نر پودوں کو خاص طور سے کاٹ دیا جاتا تھا۔ کھجور کے بے مثال طبی فوائد ہیں۔ بلغم اور سردی کے اثر سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں کھجور کھانا مفید ہے۔ یہ دماغ کا ضعف مٹاتی ہے اور یادداشت کی کمزوری کا بہترین علاج ہے۔ قلب کو تقویت دیتی ہے اور بدن میں خون کی کمی کو دور کرتی ہے، گردوں کو قوت دیتی ہے، سانس کی تکالیف میں بالعموم اور دمہ میں بالخصوص سود مند ہے۔ کھانسی، بخار اور پیچش میں اس کے استعمال سے افاقہ ہوتا ہے۔ یہ دافع قبض کے ساتھ پیشاب آور بھی ہے۔ قوت باہ کو بڑھانے میں مددگار ہے۔ غرضیکہ کھجور کا استعمال ایک مکمل غذا بھی ہے اور اچھی صحت کے لیے ایک لاجواب ٹانک بھی۔ طب نبوی میں کھجور کی بڑی افادیت بیان کی گئی ہے۔ کھجور کی عالمی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ پیداواری ملکوں میں مقامی کھپت کے ماسوا پانچ سے آٹھ لاکھ ٹن کھجور دنیا کے بازاروں میں بھیجی جاتی ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق 1982ء میں کھجور کی عالمی پیداوار چھبیس لاکھ ٹن تھی جس کا 56فیصد حصہ عراق، سعودی عرب، مصر اور ایران میں پیدا کیا گیا۔ عراق کا شہر بصرہ کھجور کی تجارت کے لیے زمانہ قدیم سے بہت مشہور رہا ہے۔ آج بھی سب سے زیادہ کھجوریں اسی بندرگاہ سے برآمد کی جاتی ہیں۔ عراق میں 445اقسام کی کھجوریں پائی جاتی ہیں کھجور کے اعتبار سے عراق پوری دنیا میں سرفہرست ہے۔ کھجور کی تاریخی اور سماجی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کی غذائی اور طبی خصوصیات کی روشنی میں اسے ” نباتاتی نعمت“ کہا جائے تو نہایت مناسب ہوگا۔ اسی نعمت کی بنا پر قرآن مجید میں اس کا کئی بار ذکر ہوا ہے ان لوگوں کے لیے جو عقل و فہم رکھتے ہیں۔ انگور : قرآنی نام : عنب، اعناب (جمع) دیگر نام : Grape (انگریزی)، فرشک، انگور (فارسی)، عنب (عربی )، انگور (اردو، فارسی) قرآن مجید میں انگور کا تذکرہ : 1۔ ۔ البقرہ، آیت : 262 2۔ الانعام، آیت :100 3۔ الرعد، آیت : 4 4۔ النحل، آیت :11 5۔ النحل، آیت : 67 6۔ بنی اسرائیل، آیت : 91 7۔ الکہف، آیت : 32 8۔ المؤمنون، آیت : 19 9۔ یٰس ٓ، آیت : 34 10۔ النباء، آیت : 31، 32 11۔ عبس، آیت : 27، 28 انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں کیا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم میں اس کا ذکر عنب اور اعناب (جمع) کے نام سے مندرجہ بالا گیارہ آیات میں کیا گیا ہے۔ انگور فارسی لفظ ہے جس کا نباتاتی نام Vitis Vinifera ہے۔ اس طرح کھجور کے بعد انگور کی تاریخ بھی پھلوں میں سب سے قدیم مانی جا سکتی ہے۔ انگور سے پیدا کی گئی قسموں (Varieties) کی تعداد آٹھ ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اس کی کاشت دنیا کے بہت سے ممالک میں عام ہے جن میں سرفہرست ہیں اٹلی، فرانس، روس، اسپین، ترکی، ایران، افغانستان، جاپان، شام، الجیریا، مراکش، فلسطین اور امریکہ۔ انگورکی کل عالمی پیداوار کا نصف یورپ کے ممالک پیدا کرتے ہیں۔ کیمیاوی طور سے انگور، گلوکوز اور فرکٹوزکا بہترین ذریعہ ہے جو اس میں پندرہ سے پچیس فیصد تک پائے جاتے ہیں اس کے سوا Tartaric acid اور Malic acid بھی خاصی مقدار میں ملتے ہیں۔ سوڈیم پوٹاشیم، کیلشیم اور آئرن کی قابل قدر مقدار اس میں موجود ہے جبکہ پروٹین اور چربی برائے نام ہے۔ اس میں ایک بہت اہم کمپاؤنڈ بھی دریافت ہوا ہے جس کو وٹامن ” پی“ (P) کہا گیا ہے۔ یہ کیمیاوی جز ذیابیطس سے پیدا شدہ خون کے بہنے کو روکتا ہے۔ جسم کے ورم اور نسوں کی سوجن کو کم کرتا ہے اور Atherosclerosis کا مؤثر علاج ہے۔ کیمیاوی اجزاء کی بنا پر انگور ایک ایسا لاجواب ثمر ہے جو نہایت ہاضم ہونے کے ساتھ انتہائی فرحت بخش اور Demulcent ہے۔ خون کو صاف کرتا ہے اور جسم میں خون کی مقدار بڑھاتا ہے اور عام جسمانی کمزوری کو دفع کرتا ہے۔ کچے انگور کا رس گلے کی خرابیوں میں مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس کی پتیاں اسہال کو روکتی ہیں۔ اس کی بیلوں سے حاصل کیا گیا رس (Sap) جلدکی بیماریوں میں کام میں لایا جا سکتا ہے۔ یورپ میں یہی رس Ophthalmia کا بہترین علاج مانا جاتا ہے۔ انگوری سرکہ معدہ کی خرابیوں، ہیضہ اور قولنج کی اچھی دوا ہے۔ الانعام
100 فہم القرآن : (آیت 100 سے 102) ربط کلام : توحید کے دلائل دیتے ہوئے مشرکوں کے عقیدہ کی بے ثباتی ثابت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو ہر اعتبار سے وحدہٗ لاشریک قرار دیا ہے۔ آیت 95تا 99میں نباتات، آفاق، انسان کی پیدائش اور اس کی عارضی اور مستقل قیام گاہ کا حوالہ دے کر۔ غور وفکر کی کی دعوت دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بلا شرکت غیرے ایمان لانے کی تلقین کی گئی ہے۔ لیکن شرک ایسا مہلک مرض ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ماؤف ہوجاتی ہیں جس کی بنا پر کسی شہادت اور دلیل کے بغیر لوگ جنات، ملائکہ، شمس وقمر، نباتات وجمادات یہاں تک کہ اپنے جیسے بلکہ اپنے سے بھی کم تر انسانوں، دیوانوں، مجذوبوں اور حو اس باختہ لوگوں کو کائنات کے نظام میں دخیل اور اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک سمجھ کر نہ صرف انھیں مشکل کشا اور حاجت روا خیال کرتے ہیں بلکہ ملائکہ، جنات کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں اور بعض شخصیات کو اللہ تعالیٰ کی اولاد تصور کرتے ہیں تاکہ خدا کی خدائی میں ان کی شراکت ثابت کی جاسکے۔ جیسا کہ یہودیوں نے جناب عزیر (علیہ السلام) اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور ان کی والدہ حضرت مریم علیھا السلام کو خدا کی بیوی قرار دیا ہے۔ اللہ کی ذات کسی کی شراکت سے مبرا اور اولاد کی حاجت سے بے نیاز ہے۔ کسی کو اللہ تعالیٰ کی اولاد یا شریک ٹھہرانا مشرکوں کی ذہنی پستی اور فکری دیوانگی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے باطل تصور ات اور ہر قسم کی یاوا گوئی سے پاک اور مبرّا ہے کائنات کی تخلیق کے لیے بدیع کا لفظ استعمال فرما کر واضح کیا کہ جس اللہ نے بغیر کسی پہلے سے موجود نقشے اور میٹریل کے اوپر نیچے سات آسماں اور تہ بہ تہ سات زمینیں پیدا کی ہیں۔ اسے اولاد کی کیا حاجت ہے ؟ اولاد انسان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور قلبی سکون کا باعث، اس کی زندگی کا سہارا، معاملات میں اس کی معاون اور اس کے سلسلۂ نسب قائم رہنے کا وسیلہ ہے۔ اولاد ہونے کا منطقی نتیجہ ہے کہ اس کی بیوی ہو کیونکہ بیوی کے بغیر اولاد کا تصور محال ہے جبکہ فرشتوں اور جنات کو خدا کی بیٹیاں، بعض انبیاء (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا قرار دینے سے اللہ تعالیٰ کی بیوی ثابت کرنا لازم ہوجاتا ہے۔ اولاد کسی نہ کسی طرح باپ کے مشابہ اور اس کی ہم جنس اور ہم نسل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان حاجات اور تمثیلات سے پاک ہے۔ مشرک بتائیں کہ زمین و آسمانوں میں کون سی چیز اللہ تعالیٰ کی مشابہ اور ہم جنس ہے؟ پھر کائنات کی ہر چیز کی ابتداء، انتہا اور اس کے لیے فنا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس وقت بھی تھی جب کچھ نہیں تھا اور وہ اس وقت بھی ہوگی جب ہر چیز فنا کے گھاٹ اتر جائے گی۔ کائنات کی ہر چیز پر حالات و واقعات کے منفی یا مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ ایک ہی حالت پر قائم ودائم ہے۔ وہ ضعف و کمزوری اور نقص و نقصان سے پاک ہے۔ نہ اس کی ذات سے کوئی چیز پیدا ہوئی اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے وہ ہر چیز کا خالق و مالک اور ذمہ دار ہے۔ وہ زمین کے ذرّے ذرّے اور آسمانوں کے چپہ چپہ کو جاننے اور ہر انسان کے خیالات سے واقف ہے اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ مشرک کس بنا پر شرک کرتے ہیں۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () قَال اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ یُؤْذِینِی ابْنُ آدَمَ یَسُبُّ الدَّہْرَ وَأَنَا الدَّہْرُ بِیَدِی الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ)[ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القران، باب ومایہلکنا الا الدہر] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے اس کا مجھے تکلیف دینا یہ ہے کہ وہ زمانے کو گا لیاں دیتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہوں۔ میرے ہاتھ میں ہی معاملات ہیں میں ہی رات دن کو پھیرتا ہوں۔“ (عن أَنَس بن مالِکٍ (رض) یَقُولُ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () لَنْ یَبْرَحَ النَّاسُ یَتَسَاءَ لُونَ حَتّٰی یَقُولُوا ہَذَا اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہَ )[ رواہ البخاری : کتاب الإعتصام بالکتاب والسنۃ ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا لوگ باہم ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے؟“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () لَا یَزَال النَّاسُ یَتَسَاءَ لُونَ حَتّٰی یُقَالَ ہٰذَا خَلَقَ اللّٰہُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہَ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فَلْیَقُلْ آمَنْتُ باللّٰہِ ورسلہ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب بیان الوسوسۃ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (ﷺ) کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ کہا جائے گا مخلوق اللہ نے پیدا کی ہے لیکن اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ جو شخص اس قسم کے خیالات پائے اسے یہ کہنا چاہیے میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔“ مسائل : 1۔ کسی کو اللہ کا بیٹا یا بیٹی قرار دینا بہت بڑا شرک ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے شرک سے پاک اور مبّرا ہے۔ 3۔ آسمانوں اور زمین کو بنانے والا صرف اللہ ہے۔ 4۔ ساری کائنات کو بنانے والا صرف اللہ ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا بخوبی علم ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ بہترین کار ساز ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے : 1۔ اللہ تمھارا رب ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہی ہر چیز کا خالق ہے۔ (الانعام :102) 2۔ آپ فرما دیں اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہی واحدا ور قہار ہے۔ (الرعد :16) 3۔ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے۔ (الزمر :62) 4۔ کیا اللہ کے علاوہ بھی کوئی خالق ہے جو تمھیں روزی دیتا ہے۔ (الفاطر :3) الانعام
101 الانعام
102 الانعام
103 فہم القرآن : (آیت 103 سے 104) ربط کلام : توحید کے بین اور ٹھوس دلائل دینے کے بعد وضاحت فرمائی گئی ہے کہ تم اپنے خالق کو بصیرت کی آنکھوں اور اس کی قدرت کے نشانات کے حوالے سے دیکھ سکتے ہو لیکن ظاہری آنکھ سے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت رکھنا مومن کے ایمان کی معراج ہے۔ جنت میں سب سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کی زیارت اور خوشنودی ہوگی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کوہ طور پر اللہ تعالیٰ سے حجاب میں ہم کلامی کرتے ہوئے فرط محبت میں آکر مطالبہ کیا تھا۔ اے رب کریم میرا دل تیری زیارت کے لیے تڑپ رہا ہے اس لیے میری درخواست ہے کہ مجھے اپنی زیارت کے شرف سے سرفراز فرمائیں۔ اس کے جواب میں ارشاد ہوا۔ اے موسیٰ تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا جب موسیٰ محبت الٰہی میں بے قرار ہو کر اصرار کرنے لگے تو حکم ہوا کوہ طور کے فلاں حصہ پر نگاہ اٹھاؤ۔ اگر وہ میرے جلال و جمال کی ایک کرن برداشت کرسکا تو تُو بھی میرے جلال اور جمال کی جھلک برداشت کرسکے گا۔ جو نہی اللہ تعالیٰ کے جمال کی ایک کرن کوہ طور پر پڑی تو طور کا وہ حصہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر پیٹھ کے بل نیچے گرپڑے۔ جب ہوش آیا تو اس مطالبہ پر اللہ سے معافی طلب کی۔ اس کی تفصیل سورۃ الاعراف آیت 143میں ملاحظہ فرمائیے۔ کفار محبت الٰہی کی بنا پر نہیں بلکہ انبیاء (علیہ السلام) پر بےیقینی اور ان کو لاجواب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مطالبہ کرتے تھے۔ ان میں یہودی سرفہرست رہے ہیں جنھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے بار ہا مطالبہ کیا کہ ہم تب ایمان لائیں گے جب ہم براہ راست اللہ تعالیٰ کو دیکھ لیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مجبور ہو کر ستر آدمیوں کو ساتھ لے کر کوہ طور پر پہنچے جب یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے اس کے دیدار کا مطالبہ کرنے لگے تو ایک کڑک نے انھیں آلیا۔ وہ سب کے سب ہلاک ہوئے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے انھیں دوبارہ زندگی عنایت فرمائی۔ (الاعراف :155) معراج کی رات نبی اکرم (ﷺ) کا اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا مؤقف ہے آپ نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کی براہ راست زیارت کی ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا اور نبی (ﷺ) نے معراج کی رات رؤیت کا شرف پایا۔ حضرت ابن عباس (رض) کی وجہ سے کچھ صحابہ اور بعض ائمہ کرام کا بھی یہی موقف ہے کہ نبی (ﷺ) نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کی زیارت کی ہے۔ اس کے لیے وہ دوآیات کا حوالہ دیتے ہیں۔ ﴿وَلَقَدْ رَاٰہُ بالْاُفُقُ الْمُبِیْنِ﴾[ التکویر :23] ” اور اس نے اس کو روشن افق پر دیکھا“ ﴿وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی﴾[ النجم :13] ” اور ایک مرتبہ اور بھی اس نے اس کو دیکھا“ لیکن صحابہ کرام (رض) کی غالب اکثریت ان آیات کو جبریل امین (علیہ السلام) کے ساتھ آپ کی ملاقات پر منطبق کرتی ہیں کیونکہ حضرت عائشہ (رض) فرمایا کرتی تھیں کہ مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ میں نے براہ راست اللہ کے رسول (ﷺ) سے پوچھا تھا کہ کیا آپ نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کا دیدار پایا ہے ؟ آپ نے اس کی نفی فرمائی۔ کیوں کہ قرآن مجید نے دو ٹوک انداز میں فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کو کوئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی جبکہ وہ ہر آنکھ کو دیکھنے والا ہے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ ہے یہ ہر اعتبار سے فضول اور ناقابل فہم ہے۔ انسان کی نگاہ سمندر، پہاڑ اور صحرا کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ انسانی آنکھ سورج کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی یہاں تک کہ انسان اپنے ہاتھوں سے بنائے کسی پاور فل بلب کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھ سکتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کس طرح دیدار کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی لطیف بین اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ یہاں توحید کے دلائل کو بصائر کہا گیا ہے جو بصیرت کی جمع ہے۔ واضح رہے کہ جسمانی آنکھ کے دیکھنے کو بصارت اور قلب و فکر کے ساتھ کسی چیز کا ادراک کرنے کو بصیرت کہا جاتا ہے۔ یہاں توحید کے دلائل اور ان کی فہم کو بصیرت قرار دیا گیا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی توحید کا ادراک رکھتے ہوئے اس کے تقاضے پورے کرتا ہے وہی عقل و دانش کا حامل انسان ہے۔ اس نور بصیرت کا اسے دنیا و آخرت میں فائدہ پہنچے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کیا وہ عقل و دانش کا اندھا ہے اور اس اندھے پن کا اسے دنیا و آخرت میں بے انتہا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ توحید کا فائدہ اور شرک کا نقصان بیان کرنے کے بعد رحمت دو عالم (ﷺ) کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کو لوگوں کی گمراہی پر آزر دہ ہونے اور انسانی حد سے بڑھ کر کوشش کرنے کے بجائے یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کے نفع و نقصان اور ہدایت و گمراہی کا ذمہ دار نہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ اپنے احکام، فرامین، اور دلائل کو مختلف انداز، الفاظ اور زاویوں سے اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ لوگ حقیقت کو جان جائیں۔ یہاں تک حقائق اور بصائر جو بصیرت کی جمع ہے جسکا معنی ہے ایسی حقیقت یا دلیل جس سے انسان کی آنکھیں کھل جائیں۔ تو نبی (ﷺ) پر ایسے معجزات نازل کیے گئے کہ جن کو مانے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ کفار بھی کھلے الفاظ میں اپنی مجالس میں ان کا اعتراف کرتے تھے لیکن خاندانی نخوت جھوٹے مذہب کی عصبیت اور نبی (ﷺ) کے ساتھ مخالفت کی وجہ سے سرعام اعتراف کرنے کی بجائے آئے دن آپ (ﷺ) سے نئے سے نئے معجزہ کا مطالبہ کرتے تاکہ کفر پر قائم رہنے کے لیے اپنے اور عوام کے لیے کوئی بہانہ تلاش کرسکیں۔ جن پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ جو جان بوجھ کر اندھا ہوجائے اس کے اندھے پن کا وبال اسی کے اوپر پڑے گا۔ جس کا نبی اکرم (ﷺ) کو مکلف نہیں بنایا گیا۔ نبی کا کام حق پہچانا ہے منوانا نہیں۔ قیامت کے دن دیدار ہوگا : (عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ () فَنَظَرَ إِلَی الْقَمَرِ لَیْلَۃً یَعْنِی الْبَدْرَ فَقَالَ إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ کَمَا تَرَوْنَ ہٰذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُّونَ فِی رُؤْیَتِہٖ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلوۃ، باب فضل صلاۃ العصر] ” حضرت جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی مکرم (ﷺ) کے ساتھ تھے آپ (ﷺ) نے چاند کی طرف دیکھا جو کہ چودھویں کا تھا آپ (ﷺ) نے فرمایا بلاشبہ تم عنقریب اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ تم اس کو دیکھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتے“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنا کسی آنکھ کے بس کی بات نہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ سکتا ہے۔ الانعام
104 الانعام
105 فہم القرآن : (آیت 105 سے 106) ربط کلام : پہلے خطاب کا تتمّہ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منکرین رسالت کا ایک بہانہ بیان کیا ہے اس کی تمہید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایک آیت کرکے قرآن نازل کرتا اور ایک مضمون کو مختلف اسالیب سے بیان فرماتا ہے تاکہ اہل علم پر اللہ تعالیٰ کی مراد منکشف ہوجائے اور ان کے ذہنوں میں صحیح مفہوم مستقر ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کا منشا ہے۔ لیکن کفار کو اس سے یہ شبہ ہوا کہ نبی اکرم (ﷺ) یہود و نصاریٰ کے علماء سے مذاکرہ اور مباحثہ کرتے ہیں۔ جو اس بحث و تمحیص سے حاصل ہوتا ہے۔ اسے مختلف فقروں اور جملوں میں ڈھال کر ہمارے سامنے پڑھتے ہوئے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ آپ پر وحی نازل ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ سب کچھ لوگوں سے پڑھا اور حاصل کیا ہوا ہوتا ہے ورنہ یہ اللہ کا نازل کیا ہوا کلام ہوتا تو اس کا ایک ہی انداز ہوتا اور یک بارگی پوری کتاب نازل ہوجاتی۔ ان کے اس شبہ کا قرآن مجید نے متعدد بار جواب دیا ہے کہ اگر تمھارے زعم میں یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہے کسی انسان کا بنایا اور سکھایا ہوا ہے۔ تو تم اس جیسی کوئی چھوٹی سورۃ بناکر لے آؤ۔ اس کے جواب میں وہ لوگ نہ ایسا کرسکے اور نہ قیامت تک کوئی شخص یا ادارہ کرسکتا ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی وحی کردہ کتاب ہے۔ یہ جواب دینے کے بعد رسول محترم (ﷺ) کو سمجھایا گیا ہے کہ آپ اپنے رب کی نازل کی ہوئی وحی کی پیروی کرتے رہیں تاکہ ان کی طعن آمیز باتوں سے آپ کی دعوت و تبلیغ متاثر نہ ہو۔ اس فرمان سے یہ بھی مقصود ہے کہ ان کے اس شک و شبہ اور طعن و تشنیع سے جو آپ کو حزن و ملال ہوتا ہے وہ زائل ہوجائے اور آپ کے دل کو ڈھارس حاصل ہو۔ پھر فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ اس فرمان میں اس پر متنبہ کیا گیا ہے کہ آپ صرف اپنے رب کی اطاعت کریں۔ اور جاہلوں کی جہالت کی وجہ سے اپنے مشن کو متاثر نہ ہونے دیں۔ مشرکین سے بے جا تکرار اور ایک حد سے زیادہ اصرار کرنے کے بجائے اعراض کیجیے۔ اس کا معنیٰ یہ نہیں ہے کہ ان کو تبلیغ نہ کریں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ دل آزار باتوں سے اعراض کریں اور ان پر غم اور افسوس نہ کریں تاکہ آپ کی دعوت و تبلیغ کے مشن کو نقصان نہ پہنچے۔ مسائل : 1۔ نبی کریم (ﷺ) وحی کے پابند تھے۔ 2۔ مشرکین سے اعراض کرنا چاہیے۔ 3۔ نبی اکرم (ﷺ) کسی پر نگران نہیں تھے۔ تفسیر بالقرآن : نبی اکرم (ﷺ) وحی کے پابند تھے : 1۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھیں ڈراؤں۔ (الانعام :19) 2۔ آپ مضبوطی سے پکڑ لیں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے یہی صراط مستقیم ہے۔ (الزخرف :43) 3۔ وحی الٰہی کے بغیر نبی اپنی مرضی سے کلام نہیں کرتا۔۔ (النجم :4) 4۔ اے نبی جو آپ پر وحی کی گئی ہے آپ اس کی پیروی کریں۔ (الاحزاب :2) 5۔ میں پیروی نہیں کرتا مگر اس کی جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ (الاحقاف :9) 6۔ آپ فرما دیں میں وحی کے ذریعہ تمھیں ڈرانے والا ہوں۔ (الانبیاء :45) الانعام
106 الانعام
107 فہم القرآن : ربط کلام : پچھلی آیات کے آخر میں مختلف الفاظ اور انداز میں نبی کریم (ﷺ) کو ڈھارس اور تسلی دی گئی ہے کہ آپ اپنا کام جاری رکھیں، توحید کے عقیدہ پر پکے رہ کر اللہ کی عبادت کرتے رہیں اور مخالفوں کو خاطر میں نہ لائیں۔ یہاں کھول کر بیان کردیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ لوگ اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا سکتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہے کہ یہ لوگ شرک کی ضلالت میں مبتلا رہیں۔ اس بات کی پہلے بھی دلائل کی روشنی میں صراحت کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی کو ہدایت پر گامزن نہ کرنے یا گمراہی میں مبتلا رکھنے کا یہ معنیٰ نہیں کہ رب ذوالجلال انھیں خود ہدایت سے محروم اور شرک میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے بلکہ لفظ ﴿یَشَآءُ﴾ کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو جبراً ہدایت کی طرف نہیں کھینچتا۔ کیونکہ اس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر عقل و خرد کی نعمت سے سرفراز کیا ہے۔ کتاب مبین کی صورت میں صراط مستقیم کی طرف جامع اور اکمل ہدایات دے کر اس کے راہی کو دنیا اور آخرت کی کامیابیوں کی ضمانت دی ہے۔ صراط مستقیم چھوڑنے والوں کو دنیا کے نقصان اور آخرت کے عذاب سے متنبہ کیا ہے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ ہدایت اور گمراہی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ کیونکہ جس طرح ظاہری نقصان کا مالک اللہ ہے اسی طرح وہ روحانی نفع و نقصان کا اختیار رکھنے والابھی وہی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو اس کی حدود کار کی نشاندہی کرتے ہوئے تسلی اور تسکین دیتا ہے کہ میرے نبی آپ لوگوں کے لیے داعی ہیں ان کے معاملات کے محافظ اور ذمہ دار نہیں بنائے گئے۔ بس آپ اپنا کام کرتے جائیں۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو واضح فرمادیا ہے۔ 2۔ نبی کریم (ﷺ) وحی کے پابند تھے۔ 3۔ سرور کائنات (ﷺ) پر مشرکوں کا کوئی ذمہ نہیں تھا۔ الانعام
108 فہم القرآن : ربط کلام : مشرکوں کے شرک اور مخالفوں کے رد عمل میں اخلاق کا دامن نہ چھوڑنے کی ہدایت۔ رسول معظم (ﷺ) کا عزم و حوصلہ فلک بوس پہاڑوں سے بلند و بالا، آپ کی برد باری اور درگزر سمندر کے پانی کی گہرائی اور پھیلاؤ سے زیادہ تھی۔ آپ مشکل سے مشکل حالات میں صبر کرنے اور حوصلہ رکھنے والے تھے۔ کسی کی سنگین سے سنگین تر گستاخی اور زیادتی کے مقابلہ میں کبھی مشتعل نہ ہوتے۔ مکہ والوں نے آپ کی ذات اقدس پر ہر قسم کے الزام لگائے۔ سجدہ کی حالت میں آپ پر گندگی سے بھری ہوئی اونٹ کی اوجڑی رکھ دی۔ آپ کی ننھی منھی بچی حضرت فاطمہ (رض) کے معصوم چہرہ پر ابو جہل نے طمانچہ مارا۔ طائف کے غنڈوں نے آپ پر پتھربرسائے اور بدکلامی کی انتہا کردی مدینہ میں منافقوں نے ہر قسم کی ہرزہ سرائی کی یہاں تک کہ آپ کی پاک دامن اور وفا شعار بیوی حضرت عائشہ (رض) پر تہمت لگائی حالانکہ اس وقت اقتدار اور اختیار کے لحاظ سے سر زمین حجاز میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ان مظالم اور زیادتیوں پر آپ کا مشتعل ہونا اور کسی سے بدلہ لینا تو درکنار پوری زندگی آپ کی زبان اطہر سے کسی نے کبھی سطحی لفظ نہیں سنا۔ پچھلی آیات میں آپ کو براہ راست مخاطب کیا گیا ہے۔ یہاں آپ کے بجائے مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے کیونکہ تبلیغ کے میدان میں کئی مراحل ایسے آتے ہیں کہ مبلغ کے لیے نازک صورت حال کو برداشت کرنا مشکل ہوجاتا ہے بالخصوص جب مشرکین سچے خالق اور رحیم و کریم رب کے مقابلہ میں اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے لکڑی اور پتھر کے بتوں کو پیش کرتے، ان کے مشکل کشا، حاجت روا ہونے کے گھٹیا دلائل دیتے ہیں تو موحّد کی غیرت ایمانی جوش میں آتی ہے جس کی بنا پر ایک مصلح اور مبلغ کی زبان پر سطحی لفظ کا آنا غیر فطری بات نہیں۔ لیکن تبلیغ کے میدان میں چھوٹی سی لغزش بھی مبلغ کے لیے عار اور اس کے مشن میں رکاوٹ بنتی ہے اس لیے اسے ضابطۂ اخلاق کا پابند بناتے ہوئے گالی سے روکا گیا ہے۔ (سورۃ حٰم السجدہ، آیت : ٣٤) میں یہ کہہ کر مبلغ کو اخلاق کا سبق دیا گیا کہ نیکی اور برائی برابر نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا کسی سے بحث و تکرار کے وقت بھی حسن اخلاق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ مشرک دلائل کے اعتبار سے نہایت ہی کمزور ہوتا ہے اس لیے وہ فطرتاً سفلہ مزاج اور کم ظرف واقع ہوا ہے جس بنا پر باطل معبودوں کی حمایت میں وہ سچے حقیقی معبود کی گستاخی کرنے میں بھی نہیں چونکتا اسے بے علم اور کم حوصلہ قرار دیتے ہوئے مواحد کو سمجھایا گیا ہے کہ ان کے باطل خداؤں کے بارے میں برے الفاظ مت کہو۔ کہیں وہ ذات کبریا کے بارے میں برے الفاظ نہ کہہ دیں۔ اس طرح تمھاری اخلاقی کمزوری کی وجہ سے وہ شرک میں آگے بڑھتے ہوئے تمھیں مشتعل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے جس سے فائدے کے بجائے تبلیغ کے مشن کو نقصان ہوگا۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ قرآن مجید باطل معبودوں کے لیے ﴿مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ﴾ کے الفاظ استعمال کرتا ہے جو عربی زبان میں زندہ اور ذوی العقول کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ لہٰذا جو لوگ ﴿مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ﴾ سے مراد بے جان چیزیں اور پتھر کے بت مراد لیتے ہیں انھیں اپنی غلط فہمی دور کرلینی چاہیے کیونکہ من دون اللہ کے دائرہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا ہر وہ چیز اور ذات آئے گی جسے کسی نہ کسی انداز میں خدا کی خدائی میں شریک کیا جاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر ہر مبلغ کو تسلی دی ہے کہ مشرکوں اور خدا کے نافرمانوں کی نافرمانیوں اور شرک کی وجہ سے ان کے اعمال ان کے لیے خوبصورت بنا دیے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ شرک اور توحید میں فرق نہیں سمجھتے، گناہ اور خدا کی نافرمانی کو اپنی زندگی کا معمول بنائے ہوئے ہیں۔ دنیا میں جتنا چاہیں دندناتے پھریں آخر وہ وقت آکر رہے گا جب انھیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے ان کی ایک ایک حرکت اور عمل کے بارے میں نہ صرف ان کو بتلایا جائے گا بلکہ انھیں اس کے انجام سے دو چار ہونا ہوگا۔ (عَنْ وَائِلٍ (رض) عَنْ الْمُرْجِئَۃِ فَقَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللّٰہِ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ () قَالَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُہُ کُفْرٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب خَوْفِ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَنْ یَحْبَطَ عَمَلُہُ وَہُوَ لاَ یَشْعُرُ ] ” حضرت وائل (رض) مرجۂ سے بیان کرتے ہیں مجھے عبداللہ (رض) نے بتایا بلاشبہ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔“ مسائل : 1۔ باطل عقائد کا حکمت و دانائی کے ساتھ رد کیا جانا چاہیے۔ 2۔ ہر گروہ کے لیے ان کے اعمال مزین کردیے گئے ہیں۔ 3۔ بتوں کو بھی گالی دینے کی اجازت نہیں ہے۔ 4۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب کے درمیان فیصلہ صادر فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن : برے اعمال کن لوگوں کے لیے خوبصورت ہوتے ہیں : 1۔ جن کے دل سخت ہوگئے اور ان کے اعمال کو شیطان نے مزین کردیا۔ (الانعام :43) 2۔ جن لوگوں کا آخرت پر ایمان نہیں شیطان ان کے اعمال مزین کردیتا ہے۔ (النمل :4) 3۔ کفار کے لیے دنیا کی زندگی مزین کردی گئی۔ (البقرۃ:212) 4۔ کفار کے لیے ان کے اعمال کو مزین کردیا گیا ہے۔ (الانعام :122) الانعام
109 فہم القرآن : (آیت 109 سے 110) ربط کلام : مشرکین اور منکرین کے باطل نظریات اور یا وہ گوئی کے مقابلے میں مسلمانوں کو اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرنے کے بعد کفار کے لایعنی مطالبہ کا جواب اور اس کی حقیقت منکشف کی گئی ہے۔ یہود و نصاریٰ نبی اکرم (ﷺ) کو لاجواب کرنے اور مسلمانوں کو ورغلانے کے لیے یہ ہتھکنڈا بھی استعمال کیا کرتے تھے کہ جب مسلمانوں کی مجالس میں بیٹھتے تو اپنا اعتماد اور اخلاق ظاہر کرنے کے لیے قسمیں اٹھایا کرتے تھے کہ اگر یہ نشانیاں اور معجزات ہمارے سامنے پیش کیے جائیں تو ہم حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں گے۔ ان کے ساتھ اہل مکہ کا یہ مطالبہ بھی تھا کہ صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دیا جائے تاکہ ہماری معاشی مشکلات حل ہو سکیں اور ہم کامل یکسوئی کے ساتھ اسلام کی خدمت کرسکیں۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی جس کے جواب میں جبرائیل امین (علیہ السلام) تشریف لائے اور آپ سے کہا کہ آپ کی دعا کے بدلے یہ پہاڑ سونے میں تبدیل ہوجائے گا اگر یہ لوگ پھر بھی ایمان نہ لائے تو انھیں فی الفور صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا اگر آپ چاہیں تو انھیں مزید مہلت دی جائے تاکہ ان میں سلیم الفطرت لوگ ایمان لے آئیں۔ آپ نے اسی بات کو پسند کرتے ہوئے ان لوگوں سے فرمایا کہ معجزہ ظاہر کرنا میرے بس کی بات نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کی عنایت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ وہ جب چاہتا ہے اپنے رسول کو عطا فرماتا ہے۔ اے رسول معجزات تو ان کے پاس پے درپے آچکے تھے لیکن جب کسی کی سوچ الٹی ہوجائے اور اس کی آنکھیں کسی چیز کو غلط زاویے سے دیکھنے لگیں تو اسے ہدایت کس طرح نصیب ہو سکتی ہے۔ اس وجہ سے ہم نے انھیں ان کی نافرمانیوں کے حوالے کردیا ہے جس میں وہ سرگرداں رہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے ﴿ونقلب افئد تھم وابصارھم﴾ کا مفہوم یہ لیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں جہنم کی طرف پھیر دے گا۔ نبی گرامی (ﷺ) کا ارشاد ہے کہ دل رحمن کے اختیار میں ہیں۔ (عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ () کَانَ یُکْثِرُ فِی دُعَائِہٖ أَنْ یَقُول اللّٰہُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دینِکَ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُول اللّٰہِ أَوَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ قَالَ نَعَمْ مَا مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ بَشَرٍ إِلَّا أَنَّ قَلْبَہُ بَیْنَ أَصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللّٰہِ فَإِنْ شَاء اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَقَامَہُ وَإِنْ شَاء اللّٰہُ أَزَاغَہُ۔۔)[ رواہ احمد] ” حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں بلاشبہ رسول اللہ (ﷺ) اکثر اپنی دعاؤں میں کہا کرتے تھے اے اللہ دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا۔ وہ بیان کرتی ہیں میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! آیا دل بھی پھیرے جاتے ہیں؟ رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا ہاں! بنی آدم کے ہر فرد کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دوانگلیوں کے درمیان ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو اس کو قائم رکھتا ہے۔ اور اگر اللہ چاہے تو اس کو پھیر دے۔۔“ ﴿رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ﴾ [ آل عمران :8] ” اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد پھیر نہ دینا۔ اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عنایت کر بلا شبہ تو ہی دینے والا ہے۔“ مسائل : 1۔ کفار بے جامعجزات کے مطالبے کیا کرتے تھے۔ 2۔ مشرکین کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پھیر دیے۔ 3۔ مشرکین اپنی ہی سرکشی میں الجھے پھرتے ہیں الانعام
110 الانعام
111 فہم القرآن : ربط کلام : منکرین حق کے لایعنی مطالبات کا دوسرا جواب اور ان کی حیثیت۔ جیسا کہ پہلی آیات کی تفسیر میں عرض کیا جا چکا ہے کہ منکرین حق رسول معظم (ﷺ) کو لاجواب اور مسلمانوں کو پھسلانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے اور مطالبات کرتے رہتے تھے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ دلائل اور معجزات تو بہت آچکے لیکن یہ لوگ اپنی باغیانہ فطرت کی وجہ سے انھیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اب اسی بات کو کھول کر یوں بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہم آسمان سے ملائکہ نازل کریں اور وہ آواز پر آواز دیں کہ لوگو یہ رسول سچاہے اور پھر مردوں کو قبروں سے اٹھا کر ان کے سامنے لا کھڑا کیا جائے اور وہ دہائی دیتے ہوئے کہیں کہ واقعی ہمارے مرنے کے بعد ہم سے اللہ، اس کے رسول اور ہمارے اعمال کے بارے میں سوال ہوا لیکن ہم ٹھیک ٹھیک جواب نہ دے سکے جس کی وجہ سے ہمیں اذیت ناک عذاب میں مبتلا رکھا گیا ہے جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اسی طرح ان کا ہر مطالبہ تسلیم کیا جائے تو پھر بھی یہ بدفطرت لوگ کبھی اللہ کی توحید کا اقرار اس کے رسول پر سچا اعتقاد اور آخرت کی جو ابد ہی پر ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ ان کی اکثریت جہلا پر مشتمل ہے سوائے ان لوگوں کے جن کا ایمان لانا اللہ کی مشیت میں لکھا ہوا ہے۔ یاد رہے منکرین حق کے ان مطالبات سے پہلے ایسے معجزات آچکے تھے جن کی حقیقت کو یہ اچھی طرح جان چکے تھے پھر نبی محترم (ﷺ) کا اپنی سچائی کی تائید کے لیے یہ کہہ کراپنے ماضی کا حوالہ پیش کرنا کہ میں نے تم میں چالیس سال کا طویل عرصہ گزارا ہے کیا تمھیں میری دیانت و امانت اور حق و صداقت پر کوئی شبہ ہے ؟ جس کے جواب میں منکرین حق نے بیک زبان اقرار کیا تھا۔ (مَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ إِلاَّ صِدْقًا) ” ہم نے آپ کو ہمیشہ سچا پایا ہے“ قرآن مجید کے بارے میں بار بار چیلنج دیا گیا کہ اگر تمھارے الزام میں کوئی حقیقت ہے کہ یہ نبی اپنی طرف سے قرآن بنا کر پیش کرتا ہے تو سب مل کر کوئی ایک سورۃ ہی بنا لاؤ۔ جس کا جواب کفار نہ دے سکے اور نہ قیام قیامت تک کوئی دے سکے گا۔ اس کے ساتھ ہی ان کے سامنے چاند دو ٹکڑے ہوا پتھروں نے رحمت دو عالم (ﷺ) کی رسالت کی شہادت دی اور آپ کی بیان کی ہوئی ایک ایک پیشگوئی سچ ثابت ہوئی۔ ان معجزات اور نشانیوں سے بڑھ کر کون سی نشانی اور معجزات ہو سکتے تھے جس کا وہ لوگ مطالبہ کرتے تھے۔ اس وجہ سے یہ جواب دیا گیا کہ ان کی ہر بات مان لی جائے پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ایسا اس لیے ہے کہ ان کی جہالت ان پر غالب آچکی ہے۔ یہاں جہالت سے مراد ان پڑھ نہیں بلکہ اکھڑ مزاجی اور ہٹ دھرمی ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے دلائل اور معجزات نازل کرنے پر قادر ہے۔ 2۔ کافر عناد اور قساوت قلبی کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے۔ 3۔ لوگوں کی اکثریت جاہل ہوتی ہے۔ 4۔ جہالت انسان کو کفر و شرک پر آمادہ رکھتی ہے۔ 5۔ جہالت سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : لوگوں کی اکثریت جاہل اور گمراہ ہوتی ہے : 1۔ اگر ہم منکرین کے سامنے ہر چیزکو اکٹھا کردیتے تب بھی وہ ایمان نہ لاتے کیونکہ اکثر ان میں جاہل ہیں۔ (الانعام :111) 2۔ کیا زمین و آسمان کی تخلیق مشکل ہے یا انسان کی پیدائش مگر اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (الفاطر :57) 3۔ یہ دین صاف اور سیدھا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف :40) 4۔ اللہ اپنے امر پر غالب ہے لیکن لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف :21) 5۔ اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (الروم :6) 6۔ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان کی اکثریت بے عقل ہے۔ (المائدۃ:103) 7۔ قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن لوگوں کی اکثریت بے علم ہے۔ (الاعراف :187) الانعام
112 فہم القرآن : (آیت 112 سے 113) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اے نبی (ﷺ) جن حالات سے آپ گزر رہے ہیں۔ ایسے اعتراضات اور حالات سے تمام انبیاء کو واسطہ پڑتا رہا ہے۔ کیونکہ جنوں اور انسانوں میں سے ہر نبی کا ایک دشمن ضرور ہوا کرتا تھا۔ ﴿کَذٰلِکَ﴾ کا لفظ اس بات کی ترجمانی کرر ہا ہے کہ نبی آخر الزماں (ﷺ) سے پہلے جتنے انبیاء کرام (علیہ السلام) دنیا میں تشریف لائے انھیں کئی قسم کے مظالم برداشت کرنے پڑے۔ ان پاکباز شخصیتوں پر الزامات لگائے گئے ان کی دعوت پر ہر قسم کی تنقید کی گئی لیکن وہ جو اں مرد پوری استقامت کے ساتھ اپنے مشن پر قائم رہے۔ یہاں اس بات کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے ہر نبی کے جنوں اور انسانوں میں سے دشمن بنائے تھے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کو عیاری، مکاری اور ملمع سازی کی باتیں سکھلایا کرتے تھے۔ یہاں شیاطین کے لیے وحی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ وحی کی اقسام میں ایک قسم یہ بھی ہے کہ جو بات پیغمبر کو بتلانی ہوتی ہے اسے اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ سورۃ النحل آیت 68میں شہد کی مکھی کے لیے بھی یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مکھی کو شہد بنانے کی وحی کرتا ہے۔ شیطان صفت انسان اور جنات غیر محسوس طریقے سے اپنے چیلوں کے ذریعے برائی اور بے حیائی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ لوگ برائی کی طرف مائل ہوجائیں۔ یہ باتیں شیطان ان کے ذہن میں ڈالتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مہلت دے رکھی ہے اور انسانوں کے لیے دنیا کی زندگی کو امتحان گاہ بنایا ہے جس بنا پر اللہ تعالیٰ کی منشاء ہے کہ انسان کو اچھائی اور برائی سے آگاہ کرنے کے بعد اختیار اور مہلت دی جائے کہ وہ ان میں سے کون سی چیز اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو ایسے لوگ اور شیطان اس کی دسترس سے باہر نہیں ہیں۔ اس لیے آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیجیے تاکہ جو لوگ آخرت کی جوابدہی پر یقین نہیں رکھتے ان کے دل اسی طرف مائل رہیں جو کچھ وہ اپنی من مرضی سے اپنے لیے پسند کرچکے ہیں۔ یہاں برائی کے تین مدارج بیان کیے گئے ہیں۔ 1۔ جب شیطان کسی شخص کو پھسلاتا ہے تو سب سے پہلے اس کے دل میں باطل خیالات پیدا کرتا ہے اگر انسان اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب نہ کرے تو بالآخر اس کا دل ان کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ 2۔ انسان کے دل میں جو نظریہ جگہ پکڑ جائے وہ اسی پر اپنے آپ کو راضی اور مطمئن سمجھتا ہے۔ 3۔ آدمی جب اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو چھوڑ کر کسی بات کی طرف مائل اور اس پر راضی ہوجائے تو وہ وہی کچھ کرتا ہے جو اس کا دل چاہتا ہے اکثر اوقات اس گمراہی پر لوگوں سے جھگڑتا ہے آپ (ﷺ) کا ارشاد ہے کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے اگر وہ صحیح رہے تو انسان صحیح رہتا ہے اگر وہ خراب ہوجائے تو تمام جسم خراب ہوجاتا ہے وہ انسان کا دل ہے۔ (رواہ البخاری : باب فضل من استبراء الدینہ) ﴿أَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَأَحْیَیْنَاہُ وَجَعَلْنَا لَہٗ نُورًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنْ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمَاتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْکَافِرِینَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ﴾ [ سورۃ الأنعام :122] ” بھلا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کو روشنی عطا کی جس کی مدد سے وہ لوگوں میں زندگی بسر کرتا ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہو اور اس کے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہو۔ کافروں کے لیے ان کے اعمال اسی طرح خوشنما بنا دیے گئے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُکِّلَ بِہٖ قَرِینُہُ مِنْ الْجِنِّ قَالُوا وَإِیَّاکَ یَا رَسُول اللّٰہِ قَالَ وَإِیَّایَ إِلَّا أَنَّ اللّٰہَ أَعَانَنِی عَلَیْہِ فَأَسْلَمَ فَلَا یَأْمُرُنِی إِلَّا بِخَیْرٍ) [ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب تحریش الشیطان وبعثہ سرایاہ لفتنۃ الناس] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک جن اور ایک فرشتہ مقرر کیا گیا ہے، صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (ﷺ) آپ کے ساتھ بھی ؟ فرمایا کیوں نہیں لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی جس سے وہ میرا تابع ہے اس لیے وہ نیکی کے سوا مجھے کوئی حکم نہیں دے سکتا۔“ (عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ (رض) قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ () فِی الْمَسْجِدِ جَالِسًا وَکَانُوا یَظُنُّونَ أَنَّہٗ یَنْزِلُ عَلَیْہِ فَأَقْصَرُوْا عَنْہُ حَتّٰی جَاءَ أَبُو ذَرٍّ فَاقْتَحَمَ فَأَتٰی فَجَلَسَ إِلَیْہِ فَأَقْبَلَ عَلَیْہِمْ النَّبِیُّ () فَقَالَ یَا أَبَا ذَرٍّ ہَلْ صَلَّیْتَ الْیَوْمَ قَالَ لَا قَالَ قُمْ فَصَلِّ فَلَمَّا صَلَّی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ الضُّحَی أَقْبَلَ عَلَیْہِ فَقَالَ یَا أَبَا ذَرٍّ تَعَوَّذْ مِنْ شَرِّ شَیَاطِیْنِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ قَالَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ وَہَلْ لَلْإِنْسِ شَیَاطِینٌ قَالَ نَعَمْ شَیَاطِینُ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ یُوحِیْ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا) [ مسند احمد :21257] ” حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (ﷺ) مسجد میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کا یہ گمان تھا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے اس لیے وہ آپ کے سامنے چپ چاپ بیٹھے تھے اتنے میں حضرت ابوذر (رض) آکر آپ کے پاس بیٹھ گئے آپ نے فرمایا اے ابوذر کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟ انھوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ جب انھوں نے چار رکعات چاشت کی نماز پڑھ لی تو آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا شیطان جنوں اور انسانوں سے پناہ طلب کیا کرو انھوں نے کہا اے اللہ کے نبی کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں آپ نے فرمایا ہاں ! جن اور انسان لوگوں کو دھوکے میں ڈالنے کے لیے ایک دوسرے کو خوش نما باتیں القا کرتے ہیں۔“ مسائل : 1۔ ہر نبی کے شیاطین اور انسانوں میں دشمن ہوا کرتے تھے۔ 2۔ جنوں اور انسانوں میں سے کچھ افراد شیطان ہوتے ہیں۔ 3۔ شیاطین لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے خوش نما باتیں لوگوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں۔ 4۔ آخرت کا انکار کرنے والے شیاطین کے ساتھی ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مہلت دے رکھی ہے۔ 6۔ آخرت کے منکروں کے دل برائی کی طرف مائل رہتے ہیں۔ الانعام
113 الانعام
114 فہم القرآن : (آیت 114 سے 115) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ انسان کا فرض ہے کہ وہ من ساختہ بات کے پیچھے چلنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرے جس کے لیے اس نے مفصل کتاب نازل فرمائی ہے۔ انسان پر شیطان کا تسلط قائم ہوجائے تو وہ اللہ کا بندہ بننے کے بجائے اپنے نفس اور شیطان کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں ایسا شخص اپنے نفس کا بندہ بن جاتا ہے اور وہ آخرت سے بے پروا ہو کر اپنے نظریات کو شریعت کا متبادل سمجھتے ہوئے اس کی پیروی کرتا ہے اس سوچ اور طرز عمل کی مذمت کرتے ہوئے رسول محترم (ﷺ) کی زبان سے کہلوایا گیا ہے کہ کیا میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا حاکم تصور کرلوں حالانکہ فیصلہ کرنے والا تو صرف وہی ہے اور اس نے انسانوں کو شیطان اور نفس کی پیروی سے منع کیا ہے اور لوگوں کی ہدایت کے لیے جامع اور مفصل کتاب نازل فرمائی ہے۔ ﴿اِلَیْکُمْ﴾ کا اشارہ اور ضمیر لا کر منکرین وحی کو فرمایا ہے کہ اگر تمھیں رسول کے برحق اور قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے پر شک ہے تو اہل علم سے اس کے بارے میں پوچھ لیجیے۔ اہل علم سے مراد خاص کروہ صحابہ ہیں جو عیسائی اور یہودی مذہب چھوڑ کر حلقۂ اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ہی یہود و نصاریٰ کے حق گو دانشور بھی شامل ہیں جو اپنے مذہب پر رہنے کے باوجود قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کی کھلی گواہی دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی صداقت و عظمت کے پیش نظر نبی محترم (ﷺ) کو فرمایا گیا ہے کہ آپ کو قرآن کے من جانب اللہ اور اس کی ہدایت پر کسی قسم کا اندیشہ اور شک نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے اور جاننے والا ہے۔ اس میں بظاہر آپ (ﷺ) کی ذات مخاطب ہے مگر حقیقتاً پوری بنی نوع انسان شامل ہے۔ ان دو آیات میں قرآن مجید کے سات اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1۔ قرآن مجید اللہ کا نازل کردہ ہے۔ 2۔ احکام و مسائل میں جامع اور مفصل کتاب ہے۔ 3۔ اس کی رہنمائی اور ہدایت میں کسی قسم کا نقصان اور شک کی گنجائش نہیں۔ 4۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔ 5۔ قرآن مجید کے احکام عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ 6۔ قرآن مجید کے ارشادات اور اس کی پیش گوئیاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے برحق ہیں۔ 7۔ قرآن مجید ہر اعتبار سے تغیر و تبدل سے پاک ہے اور قیامت تک اس کے محفوظ رہنے کی ضمانت دی گئی ہے۔ ﴿وَقَالُوْا یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ لذِّکْرُ اِنَّکَ لَمَجْنُوْنٌ﴾ [ الحجر :6] ” اللہ رب العزت فرماتے ہیں جسے قرآن پاک کی تلاوت اور میرے ذکر نے مجھ سے مانگنے سے مشغول رکھا میں اسے مانگنے والوں سے زیادہ عطاکروں گا۔“ قرآن مجید کی تلاوت کا ثواب : (یَقُوْلُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ مَنْ شَغَلَہُ الْقُرْآنُ وَذِکْرِیْ عَنْ مَسْأَلَتِیْ اَعْطَیْتُہٗ اَفْضَلَ مَآ اُعْطِیَ السَّآئِلِیْنَ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء کیف کانت قراء ۃ النبی] ” اللہ رب العزت فرماتے ہیں جسے قرآن پاک کی تلاوت اور میرے ذکر نے مجھ سے مانگنے سے مشغول رکھا میں اسے مانگنے والوں سے زیادہ عطا کروں گا۔“ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات بڑائی وکبریائی اور خیر و برکت کے لحاظ سے یکتا اور تنہا ہے یہی مقام ذکر واذکار میں تلاوت قرآن مجید کو حاصل ہے۔ قرآن مجید کو زندگی کا رہنما بنانے سے دنیا و آخرت کے مسائل ومصائب کا مداوا ہونے کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس کتاب مقدس سے انحراف اور بے اعتنائی کرناپریشانیوں اور ناکامیوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ (اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَّ یَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ) [ رواہ مسلم : کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا] ” یقیناً اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے قوموں کو بلند فرماتا ہے اور اسی کے سبب لوگوں کو ذلیل کرتا ہے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِّنْ کِتَاب اللّٰہِ فَلَہٗ بِہٖ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا لَا أَقُوْلُ الم حَرْفٌ وَلٰکِنْ أَلْفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِیْمٌ حَرْفٌ) [ ترمذی : کتاب فضائل القرآن] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے میں یہ نہیں کہتا کہ ” الم“ ایک حرف ہے بلکہ ” الف“ ایک حرف ہے اور ” لام“ ایک حرف ہے ” اور ” میم“ ایک حرف ہے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے چاہییں۔ 2۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے۔ 3۔ قرآن مجید میں کسی قسم کا رد و بدل نہیں کیا جا سکتا۔ 4۔ قرآن مجید قیامت تک محفوظ رہے گا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ کا کلام حق اور اس کے وعدے سچے ہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ سچ فرماتا ہے۔ (الاحزاب :4) 2۔ اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا۔ (الاحزاب :53) 3۔ جان لو اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق ہے۔ (القصص :13) 4۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق ہے تمھیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے۔ (لقمان :33) 5۔ اللہ تعالیٰ سے بات کرنے کے لحاظ سے کون زیادہ سچا ہے۔ (النساء :87) 6۔ اللہ کے قول سے بڑھ کر کس کا قول ہوسکتا ہے۔ (النساء :122) 7۔ کہہ دیجیے کیا تم نے اللہ سے عہد لیا ہے تو اللہ اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا۔ (البقرۃ:80) 8۔ وہ عذاب کی جلدی مچاتے ہیں اللہ اپنے وعدے کے ہرگز خلاف نہیں کرے گا۔ (الحج :47) 9۔ اے ہمارے پروردگارتو قیامت کے دن لوگوں کو جمع فرمائے گا اور تو اس کے خلاف نہیں کریگا۔ (آل عمران :9) الانعام
115 الانعام
116 فہم القرآن : (آیت 116 سے 117) ربط کلام : حق و انصاف، ہدایت اور رہنمائی کا فیصلہ لوگوں کی اکثریت پر نہیں ہوا کرتا۔ اکثریت کے پیچھے چلنے والا گمراہ ہی ہوا کرتا ہے۔ کیونکہ لوگوں کی اکثریت گمراہ ہوتی ہے۔ رسول محترم (ﷺ) کے زمانہ میں منکرین حق اپنی گمراہی کی تائید میں یہ دلیل بھی دیا کرتے تھے کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی پیروی کرنے والے تعداد کے لحاظ سے تھوڑے اور وسائل کے اعتبار سے کمزور کیوں ہیں ؟ اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ لوگوں کی اکثریت ہمیشہ گمراہی پر قائم رہی ہے لہٰذا حق و صداقت کا معیار ٹھوس دلائل ہیں لوگوں کی اکثریت نہیں۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کا پابند کیا گیا ہے نہ کہ جمہوریت کا؟ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ دنیا میں گمراہ لیڈر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے جمہوریت کا بہانہ بنائیں گے اس لیے اس نے جمہوریت کے بت کو پاش پاش کرنے کے لیے اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ بھی عدل و انصاف کے اصول اور قرآن مجید کی ہدایات کو چھوڑ کر محض اکثریت کی اتباع کریں گے تو یہ لوگ آپ کو صراط مستقیم سے ہٹا دیں گے۔ اکثریت تو خود ساختہ اصولوں اور اپنے تصورات کی اتباع کرنے کے سوا کسی حقیقت پر قائم نہیں ہوتی۔ قربان جائیں قرآن کے فرمان پر! دنیا میں جہاں، جہاں بھی جمہوریت کو حق وباطل کا معیار بنایا گیا ہے وہاں یہی اصول ہے کہ جمہوریت کا فیصلہ ہی حق کا معیار ہے اس لیے انتخاب جیتنے والا ہر لیڈر نعرہ لگاتا ہے کہ جمہوریت کا فیصلہ غلط نہیں ہوسکتا لیکن جب الیکشن ہار جاتا ہے تو کہتا ہے کہ میرا مد مقابل عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔ قرآن مجید جمہوریت کو حق و باطل کا معیار قرار دینے کے اصول اور نظریہ کی نفی کرتا ہے۔ لہٰذا نبی اکرم (ﷺ) کو حکم ہوا کہ آپ پورے اخلاص اور دلجمعی کے ساتھ اللہ کی نازل کردہ ہدایت کی طرف بلائیں اور اس پر جمے رہیں اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے گمراہ ہوا کون خوش نصیب ہدایت یافتہ ہے۔ اس فرمان میں ایک اعتبار سے نبی اکرم (ﷺ) کو تسلی دی گئی کہ آپ کا کام سمجھانا ہے منوانا نہیں۔ مسائل : ایمان اور حق کا معیار : 1۔ مسلمانوں کو صرف اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (ﷺ) کے احکام کی پیروی کرنی چاہیے۔ 2۔ ہدایت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ 3۔ اکثریت کی پیروی حق کا معیار نہیں ہوا کرتی۔ 4۔ لوگوں کی اکثریت محض وہم و گمان کی پیروی کرتی ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ اور گمراہ لوگوں کو خوب جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : لوگوں کی اکثریت حق کے بارے میں جاہل اور گمراہ ہوتی ہے : 1۔ اگر ہم منکرین کے سامنے ہر چیز کو اکٹھا کردیتے تب بھی وہ ایمان نہ لاتے کیونکہ اکثر ان میں جاہل ہیں۔ (الانعام :111) 2۔ کیا زمین و آسمان کی تخلیق مشکل ہے یا انسان کی پیدائش مگر اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (الفاطر :57) 3۔ یہ دین صاف اور سیدھا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف :40) 4۔ اللہ اپنے امر پر غالب ہے لیکن لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف :21) 5۔ اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (الروم :6) الانعام
117 الانعام
118 فہم القرآن : ربط کلام : جس طرح گمراہ اکثریت کی اتباع جائز نہیں اسی طرح اس جانور کو بھی کھاناجائز نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ بے شک حرام کھانے والوں کی اکثریت ہی کیوں نہ ہوں۔ سرزمین حجاز اور مکہ میں ایسے قبائل بھی تھے جو جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتے تھے جس طرح کہ سکھ مذہب کے لوگ جانور حلال کرتے ہوئے اس کا جھٹکا کرتے ہیں پھر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو مردہ جانور کھاتے تھے جب انھیں اس سے روکا جاتا تو وہ کہتے کہ مسلمانوں کی عجب حالت ہے کہ اللہ کے مارے ہوئے کو نہیں کھاتے لیکن اپنے ہاتھ سے مارے ہوئے کو کھا لیتے ہیں۔ اس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ مسلمانو! تمہارے ایمان کا تقاضا ہے کہ صرف وہی ذبیحہ کھاؤ جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، پھر ان لوگوں کو مخاطب کیا کہ تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کا حلال کردہ ذبیحہ نہیں کھاتے جس کو ذبح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا مبارک نام لیا گیا ہے۔ حرام کھانا تمھارے لیے اس وقت ہی جائز ہوگا جب تمھیں حلال چیز میسر نہ ہو اور تم اسے کھانے کے لیے بے حد اضطرار کی حالت میں ہو۔ اس حکم کی وضاحت کرتے ہوئے فقہاء نے لکھا ہے کہ حرام کھانا اس وقت جائز ہوگا جب آدمی کو یقین ہو کہ واقعی مجھے اس وقت حلال میسّر نہیں ہوسکتا۔ اگر میں کچھ نہ کھاؤں گا تو میری موت واقع ہوجائے گی ایسا شخص اپنے آپ کو مضطر تصور کرتے ہوئے اتنا ہی حرام کھا سکتا ہے جس سے اس کی زندگی بچ سکے۔ اس فرمان سے پہلے گمراہ قسم کی اکثریت کی اتباع سے روکا گیا ہے اب حرام خوری سے منع کرنے کے لیے پھر گمراہ اکثریت کی اتباع سے روکا گیا ہے کیونکہ لوگوں کی اکثریت کا عالم یہ ہے کہ وہ کسی علمی بنیاد کے بغیر محض اپنے تصورات کی بناء پر حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے حلال و حرام میں تجاوز کرنے والوں کو اللہ خوب جانتا ہے۔ (عن عُمَر بن أَبِی سَلَمَۃَ (رض) یَقُولُ کُنْتُ غُلَامًا فِی حَجْرِ رَسُول اللّٰہِ () وَکَانَتْ یَدِی تَطِیشُ فِی الصَّحْفَۃِ فَقَالَ لِی رَسُول اللّٰہِ () یَا غُلَامُ سَمِّ اللّٰہَ وَکُلْ بِیَمِینِکَ وَکُلْ مِمَّا یَلِیکَ فَمَا زَالَتْ تِلْکَ طِعْمَتِی بَعْدُ)[ رواہ البخاری : کتاب الأطعمۃ، باب التسمیۃ علی الأکل والأکل بالیمین] ” عمر بن ابی سلمہ (رض) فرماتے ہیں میں بچپن میں رسول مکرم (ﷺ) کے پاس تھا اور کھانا کھاتے وقت میرا ہاتھ پیالے میں اردگرد گھوم رہا تھا مجھے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اے بچے کھانا اللہ کے نام سے شروع کیا کرو دائیں ہاتھ اور اپنے آگے سے کھایا کرو۔ اس کے بعد ہمیشہ کے لیے میرا کھانے کا انداز یہی رہا۔“ (عَنْ جَابِرٍ (رض) عَنْ رَسُول اللّٰہِ () قَالَ لَا تَأْکُلُوا بالشِّمَالِ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یَأْکُلُ بالشِّمَالِ) [ رواہ مسلم : کتاب الأشربۃ باب اداب الطعام] ” حضرت جابر (رض) رسول معظم (ﷺ) کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) نے فرمایا تم بائیں ہاتھ سے نہ کھایا کرو بلاشبہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے۔“ مسائل: 1۔ اللہ کا نام لے کر کھانے کی ابتدا کرنی چاہیے۔ 2۔ جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کرنا چاہیے۔ 3۔ لوگوں کی اکثریت کے پاس شریعت کا علم نہیں ہوتا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام کو واضح فرما دیا ہے۔ 5۔ اپنی خواہشات کے بجائے شریعت پر عمل کرنا چاہیے۔ 6۔ لوگوں کی جمہوریت گمراہ ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن : کسی چیز پر غیر اللہ کا نام نہیں لینا چاہیے : 1۔ اللہ نے جو تمھیں رزق دیا ہے اس پر اللہ کا نام لو۔ (الحج :34) 2۔ کھانے پینے پر اللہ کا نام لینا چاہیے۔ (المائدۃ:4) 3۔ وہ چیز کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے۔ (انعام :118) 4۔ کسی شخص کو حرام وحلال فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں (النحل :116) الانعام
119 الانعام
120 فہم القرآن : (آیت 120 سے 121) ربط کلام : صرف حرام کھانا ہی نہیں چھوڑنا بلکہ خفیہ اور اعلانیہ گناہ بھی چھوڑ دینے چاہییں۔ اس سے پہلے حکم میں مجبور انسان کو حرام کھانے کی اجازت دی گئی تھی جس سے کوئی ناجائز فائدہ اٹھا سکتا تھا کیونکہ کسی دوسرے کو کیا معلوم کہ حرام کھانے والا کس حد تک مجبور ہے۔ یعنی حالت کا صرف متعلقہ آدمی کو ہی معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے واضح کردیا گیا کہ مومن وہ ہے جو پوشیدہ اور کھلے گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ لہٰذا انتباہ فرمایا کہ جو لوگ خفیہ یا اعلانیہ گناہ کریں گے بہت جلد سزا سے دو چار ہوں گے۔ جلد سے مراد دنیا میں اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی شکل میں گرفت ہو سکتی ہے پھر آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی نہایت مختصر ہے۔ اس لحاظ سے آخرت کی سزا بھی بہت جلد ملنے والی ہے اللہ سے ڈرنے والا شخص ہمیشہ آخرت کو قریب ہی سمجھا کرتا ہے۔ آپ (ﷺ) کا فرمان ہے کہ موت انسان کی جوتی کے تسمے سے بھی قریب ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () الْجَنَّۃُ أَقْرَبُ إِلٰی أَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ) [ رواہ البخاری : بابالْجَنَّۃُ أَقْرَبُ إِلٰی أَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی مکرم (ﷺ) نے فرمایا جنت اور دوزخ تم میں سے ہر کسی کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔“ ظاہری اور باطنی گناہ چھوڑ دینے کے حکم کے ساتھ ہی یہ حکم ہوا کہ یہ بھی گناہ ہے کہ تم وہ جانور کھاؤ جس کو ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ ایسے جانور کا گوشت کھانا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے نام لیے بغیر کسی جانور کو ذبح کرنے کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لینے کے بجائے کسی غیر کا نام لے کر یا بظاہر تو اللہ تعالیٰ کا نام لیا جا رہا ہو لیکن ذبح کسی مزار، بت یا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کے نام پر کیا گیا ہو۔ اس موقع پر بعض لوگ یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ کسی فوت شدہ کے لیے ایصال ثواب کی نیت سے ذبح کرنا بھی تو غیر اللہ ہی کے لیے ہوگا۔ یہی وہ مغالطے ہیں جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے والے ہمیشہ سے مسلمانوں کو دینے کی کوشش کرتے آرہے ہیں۔ اسی لیے غیر اللہ کے نام پر کوئی چیز دینے اور ذبح کرنے سے روکتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ شیطان اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے ذہن میں ایسی ایسی باتیں اور دلیلیں ڈالتا ہے جس سے وہ موحدوں کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں۔ لہٰذا موحدین کا فرض ہے کہ وہ ایسی چیزیں نہ کھائیں اور نہ استعمال کریں اور نہ ہی ایسے دلائل سے دھوکا کھائیں۔ اگر کوئی غیر اللہ کے نام پر دی ہوئی چیز کھائے یا استعمال کرے گا تو وہ مشرکوں کے زمرہ میں سمجھا جائے گا۔ اس مقام پر ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو روا داری میں ایسی چیزیں ہڑپ کر جاتے ہیں یا غیر اللہ کے نام دی ہوئی چیز وصول کرلیتے ہیں حالانکہ اس کا لینا بھی حرام ہے بے شک وہ چیز باہر پھینک دی جائے یا کسی جانور کو کھلا دی جائے اس کا وصول کرنا کسی نہ کسی درجے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوگی۔ مسائل : 1۔ کھلے اور پوشیدہ گناہوں سے بچنا چاہیے۔ 2۔ نیکی ہو اور برائی کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا۔ 3۔ غیر اللہ کے نام پردی ہوئی چیز کھانا حرام ہے۔ 4۔ شیاطین اپنے ساتھیوں کو مومنین کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ 5۔ اللہ کے طریقہ کو چھوڑ کر دوسرا طریقہ اختیار کرنا گمراہی ہے۔ تفسیر بالقرآن : ہر قسم کے گناہ چھوڑ دینے کا حکم : 1۔ آپ (ﷺ) فرما دیں کہ میرے رب نے ظاہر و باطن کی بے حیائی اور گناہ کے کاموں سے منع کردیا ہے۔ (الاعراف :33) 2۔ درویش اور علماء لوگوں کو گناہ کی باتوں سے منع کیوں نہیں کرتے۔ (المائدۃ:63) 3۔ اللہ کے بندے کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں۔ (الشوریٰ :37) 4۔ بے شک نیک لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں۔ (النجم :32) الانعام
121 الانعام
122 فہم القرآن : ربط کلام : مردار اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور کھانے، سے آدمی کا ضمیر اور ایمان مردہ ہوجاتا ہے۔ یہاں ان دونوں کا تقابل کیا گیا ہے۔ بنیادی طور پر انسان کی زندگی دو عناصر پر مشتمل ہے جسم کو قائم رکھنے کے لیے بہتر فضا اور اچھی غذا کی ضرورت ہے۔ روح کو بیدار اور صحت مند رکھنے کے لیے گناہوں سے اجتناب اور کفرو شرک سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ خوراک اور آب و ہوا مناسب نہ ہو تو جسمانی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔ روح کی خوراک، اچھے اعمال اور عقیدۂ توحید ہے۔ جس قدر آدمی کے اعمال اور اس کا عقیدہ کمزور ہوگا اتنی ہی اس کی روح کمزور ہوتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ زندہ ہونے کے باوجود انسان روحانی طور پر مردہ ہوجاتا ہے۔ یہاں مردار خوری اور غیر اللہ کے نام وقف کی ہوئی چیز سے بچنے کو زندگی قرار دیا گیا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ یہ طرز زندگی عطا فرمائے گو یا کہ وہ زندہ انسان ہے۔ وہ لوگوں میں تابناک، اور شاندار زندگی بسر کر رہا ہے۔ روشنی کا منبع اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب اور اس پر چلنے کی توفیق ہے۔ جسے سورۃ ابراہیم کی دوسری آیت میں یوں بیان فرمایا ہے اس کتاب کو ہم نے اپنے رسول پر نازل کیا تاکہ اللہ کے حکم کے مطابق لوگوں کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر واضح اور شاندار روشنی میں لاکھڑا کرے۔ ( البقرۃ، آیت :257) میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کا مربی اور دوست ہے وہ انھیں ہر قسم کی ظلمات سے نکال کر ایمان کی روشنی کی طرف لاتا ہے اور کفار کے دوست شیاطین ہیں جو انھیں ایمان اور توحید کی روشنی سے نکال کر شرک و بدعت اور گناہوں کی تاریکیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہاں اسی بات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اللہ کی عطا کردہ روشنی میں زندگی بسر کرنے والا ایسے شخص کی مانند نہیں ہوسکتا جو کفر و شرک کی تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہو۔ اسے اندھیروں سے کوئی نکالنے والا نہیں گویا کہ جو علماء لوگوں کو شرک اور غیر اللہ کے نام پر وقف کی ہوئی چیزیں کھانے کی دعوت دیتے ہیں وہ لوگوں کو ایمان کی روشنی سے نکال کر بدعت و شرک کے اندھیروں میں گھسیٹتے ہیں۔ گمراہ علماء کے پیروکار اس لیے اندھیروں سے نکل کر ایمان کی روشنی کی طرف نہیں آتے کیونکہ باطل عقیدہ اور برے اعمال ان کے لیے خوبصورت بنا دیے گئے ہیں۔ یہی و جہ ہے کہ ایسے لوگ توحید کے دلائل سننے اور ماننے میں گرانی محسوس کرتے ہیں اور شرک و بدعت کو اپنانے اور برے اعمال اختیار کرنے کو فیشن اور دین سمجھتے ہیں۔ مسائل : 1۔ قرآن مجید ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ 2۔ عقیدۂ توحید زندگی کی علامت ہے۔ 3۔ کافر اپنی بد اعمالیوں میں مگن رہتا ہے۔ 4۔ کافر دنیا کی خوش نما اور عارضی زندگی پر بھروسہ رکھتا ہے۔ 5۔ حرام کھانے سے انسان کا ضمیر مردہ ہوجاتا ہے۔ 6۔ ایمان روشنی ہے اور گمراہی اندھیرا ہے۔ 7۔ ایمان دار زندہ ہے اور گمراہ انسان مردہ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : نور اور اندھیرے : 1۔ ” اللہ“ ایمان والوں کا دوست ہے انہیں اندہیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ (البقرۃ:257) 2۔ اندھا اور بینااندہیرا اور روشنی برابر نہیں ہو سکتے۔ (فاطر :20) 3۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ لوگوں کو اندہیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ (الحدید :9) 4۔ جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا وہ اللہ کی طرف سے روشنی پر ہے۔ (الزمر :22) 5۔ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے روشنی اور اندہیروں کو پیدا کیا۔ (الانعام :1) الانعام
123 فہم القرآن : (آیت 123 سے 124) ربط کلام : جرائم پیشہ لوگ نور توحید کو مٹانے اور بجھانے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔ اس فرمان الٰہی میں نبی کریم (ﷺ) کو تسلی دینے کے ساتھ اطلاع دی گئی ہے کہ آپ کو گھبرانے اور ڈگمگانے کی ضرورت نہیں یہ تو ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے کہ معاشرے کے سماجی، سیاسی، معاشی اور نام نہاد مذہبی رہنما دعوت حق کی مخالفت اور انبیاء کی مخاصمت میں پیش پیش رہے ہیں۔ جو ملک و قوم کے مفاد کے نام پر مکر و فریب کے جال بنتے ہیں۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کے احکام کو ماننے اور اس کے ارشادات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لیے کہا جاتا تو تکبر، رعونت میں آکر کہتے ہیں کہ ہم اس وقت تک ہرگز نہیں مانیں گے جب تک ہمارے پاس براہ راست یہ احکام نہیں آجاتے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے ہم کلام ہوسکتا ہے تو ہمارے ساتھ کیوں کلام نہیں کرسکتا۔ بعض اس سے آگے بڑھ کر کہتے کہ اس شخص سے ہم نبوت کے زیادہ اہل اور حق دار ہیں۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے کردار کی نبی اکرم (ﷺ) کے کردار سے کوئی نسبت نہیں ہو سکتی۔ اس کے باوجود اپنے مکرو فریب سے لوگوں کو دھوکہ دیتے تھے۔ عنقریب مکار اور مجرموں کو رب ذوالجلال کی طرف سے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑئے گا اور یہ شدید ترین عذاب میں مبتلا ہونگے۔ مسائل : 1۔ نبوت، مال و دولت، جاہ و حشمت یاکسی بڑے پن کی وجہ سے نہیں ملتی۔ 2۔ نبوت سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا انتخاب ہوتا ہے اور جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ 3۔ نبوت کا انکار اور رسول کی مخالفت کرنے والے دنیا میں ذلیل اور آخرت میں شدید ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن : شدید عذاب کے مستحق مجرم : 1۔ اللہ تعالیٰ کفار کو شدید عذاب دے گا۔ (حم السجدۃ :27) 2۔ اللہ سے منہ موڑنے والوں کو شدید عذاب ہوگا۔ (المجادلۃ :15) 3۔ اے لوگو! اگر تم ناشکری کرو گے تو اللہ کا عذاب شدید ہے۔ (ابراہیم :7) 4۔ جان بوجھ کر بیوی کو نان و نفقہ نہ دینے والے کو شدید عذاب ہوگا۔ (الطلاق :10) 5۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے شدید عذاب سے دوچار ہونگے۔ (آل عمراٰن :11) 6۔ مجرم لوگ ذلت اور سخت عذاب میں مبتلا ہو نگے۔ (الانعام :124) 7۔ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے کے لیے شدید ترین عذاب ہے۔ (الانفال :13) 8۔ کفار کے لیے دنیا میں تھوڑا سا فائدہ ہے پھر انکا ہماری طرف لوٹنا ہوگا پھر ہم انہیں سخت عذاب میں مبتلا کریں گے۔ (یونس :70) 9۔ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے شدید عذاب ہے۔ (فاطر :7) 10۔ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکانے والوں کے لیے شدید عذاب ہے۔ (صٓ:26) 11۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں کو شدید عذاب میں مبتلا کیا جا ئیگا۔ (قٓ:26) 12۔ کفار کو دنیا اور آخرت میں سخت عذاب سے دوچار کیا جائیگا۔ (آل عمراٰن :56) الانعام
124 الانعام
125 فہم القرآن : ربط کلام : کفار کے کفر، مشرکوں کے شرک اور منافقوں کی منافقت کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ان کے سینے اسلام کے بارے میں بند ہوجاتے ہیں۔ قرآن مجید نے ہدایت پانے اور بات کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے یہ اصول بیان کیا ہے کہ سننے والا پوری توجہ، دل کی حاضری اور ہدایت پانے کے لیے بات سنے یقیناً اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے بہرہ مند کردیتا ہے۔ ( ق :37) لیکن منکرین حق کی شروع سے ہی یہ بری عادت ہے کہ وہ سچی بات قبول کرنا تو درکنار اس کی سماعت بھی ان کے لیے گرانی کا باعث ہوا کرتی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کفار نے یہاں تک معاندانہ رویہ اختیار کیا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) توحید کی دعوت دیتے تو کفاراپنے کانوں میں انگلیاں ڈال کر اپنے چہرے چھپاتے ہوئے ان سے دور بھاگ جاتے تھے۔ ﴿قَالَ رَبِّ إِنِّی دَعَوْتُ قَوْمِی لَیْلًا وَنَہَارًا۔ فَلَمْ یَزِدْہُمْ دُعَائِی إِلَّا فِرَارًا وَإِنِّی کُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ لِتَغْفِرَ لَہُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَہُمْ فِی آَذَانِہِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَہُم وَأَصَرُّوا واسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا﴾ [ نوح : 5تا7] ” نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی مگر میری دعوت سے ان کے فرار میں اضافہ ہوا اور میں نے جب بھی انہیں بلایا تاکہ تو انہیں معاف کر دے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے۔ اور اپنی روش پر اڑ گئے اور تکبر کی انتہاکر دی۔“ یہی رویہ منکرین حق نے نبی اکرم (ﷺ) کے ساتھ اختیار کیا۔ جب انھیں قرآن مجید غور کے ساتھ سننے کی طرف توجہ دلائی جاتی تو وہ بظاہر غور کے ساتھ سنتے لیکن حقیقت میں عدم توجہ اختیار کیے رکھتے اور آخر میں کہتے یہ باتیں ہمارے فہم و ادراک سے باہر اور قوت سماعت کے لیے بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں اس طرح جو حکم بھی ان کے پاس آتا وہ اس کا مسلسل انکار کردیتے اور اس پر پروپیگنڈے کے ذریعے غالب آنے کی کوشش کرتے جو شخص حق بات سننے سے احتراز کرے اسے کس طرح ہدایت نصیب ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ہدایت اسے نصیب ہوتی جو اسے پانے کی خواہش اور کوشش کرتا ہے۔ جب انسان خلوص نیت کے ساتھ چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا سینہ کھول دیتا ہے لیکن جو اس سے مسلسل اعراض کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا سینہ بند کردیتا ہے۔ اس کے لیے ہدایت پانا ایسے ہی مشکل ہوتا ہے جیسا کہ انسان کا آسمان پر چڑھنا ناممکنات میں سے ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ گمراہ انسان نے اپنے لیے خود گمراہی کو پسند کیا ہوا ہے۔ لہٰذا یہ کج فکری اس کے لیے گندے اعمال کا سبب ہوتی ہے اور یہ گندگی اس کے برے عقیدہ کی وجہ سے ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ گندگی اس پر ہمیشہ کے لیے مسلط کردی جاتی ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا اسلام کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ 2۔ کافر ایمان لانے میں تنگی محسوس کرتے ہیں۔ 3۔ کافروں کے ارادۂ کفر و شرارت کی وجہ سے انھیں راہ ہدایت کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ 4۔ کفر و شرک گندگی ہے جو کافر اور مشرک پر مسلط ہوجاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن : کن لوگوں پر گمراہی مسلط ہوتی ہے : 1۔ ایمان نہ لانے والوں پر گمراہی مسلط کردی جاتی ہے۔ (الانعام :125) 2۔ شیطان کی دوستی اختیار کرنے والوں گمراہی مسلط کردی جاتی ہے۔ (الاعراف :30) 3۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کو اللہ نے ہدایت عطا کی اور کچھ پر اللہ نے گمراہی مسلط کردی۔ (النحل :36) 4۔ جن لوگوں پر گمراہی مسلط کردی جاتی ہے وہ ایمان نہیں لاتے۔ (یونس :96) الانعام
126 فہم القرآن : (آیت 126 سے 127) ربط کلام : جس کا سینہ اسلام کے لیے کھل جائے اسے صراط مستقیم کی ہدایت ملتی ہے اور اسلام ہی صراط مستقیم اور دنیا وآخرت کی سلامتی کا ضامن ہے۔ پچھلی آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے یہاں ” ھٰذا“ اسم اشارہ لا کر اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے اسلام ہی صراط مستقیم ہے۔ آخری نبی اور ان پر نازل ہونے والا یہی ” الاسلام“ آخری دین قرار پایا ہے۔ سورۃ المائدۃ، آیت : 3میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ دین کامل اور مکمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے تمھارے لیے اسلام ہی کو دین کے طور پر پسند کیا ہے۔ سورۃ آل عمران، آیت : 85میں دو ٹوک انداز میں صراحت کی ہے کہ جو شخص دین اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین اختیار کرے گا اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا وہ شخص اور قوم آخرت میں نقصان پائے گی۔ اسی سورۃ کی آیت 84میں وضاحت کی گئی ہے کہ کیا تم اللہ کے اس دین کو چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کرو گے جبکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہے۔ یہاں اسلام کو اللہ تعالیٰ کی تابعداری کے مفہوم میں بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا دین اسلام ہی افراد اور اقوام کے لیے دنیا و آخرت کی سلامتی کی ضمانت دیتا ہے اس لیے جنت کو ” دارالسلام“ قرار دیتے ہوئے دین اسلام ماننے والوں کو اس کی خوشخبری دی کہ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں دارالسلام ہے۔ اللہ تعالیٰ اسلام پہ چلنے والوں کا والی اور دوست ہے۔ ولی کا لفظ استعمال فرما کر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اپنی قربت کا احساس دلاکر یہ وضاحت کی ہے کہ اگر تم میری قربت و محبت اور جنت کے طلب گار ہو تو تمھیں صراط مستقیم پر چلنا ہوگا جو اسلام کے بغیر کسی دوسرے دین میں نہیں مل سکتا۔ انفرادی زندگی میں اسلام پر عمل پیرا ہونے اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے سے دنیا میں بھی سلامتی نصیب ہوتی ہے اس طرح دنیادارالفساد بننے کے بجائے دارالسلام بن جاتی ہے۔ ” حضرت جا بر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم (ﷺ) کے پاس تھے آپ (ﷺ) نے ایک سیدھا خط کھینچا پھر اس کے دائیں اور بائیں مختلف خطوط کھینچے پھر آپ (ﷺ) نے اپنا دست مبارک درمیان والے سیدھے خط پر رکھتے ہوئے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے، پھر آپ (ﷺ) نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :” اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو اس کے سوا دوسری راہوں پر نہ چلو دوسری راہیں تمہیں صراط مستقیم سے جدا کردیں گی۔“ [ رواہ ابن ماجۃ: باب اتباع سنۃ رسول اللہ (ﷺ) ] مسائل : 1۔ اسلام ہی صراط مستقیم ہے۔ 2۔ اسلام دنیا میں سلامتی کا ضامن ہے اور آخرت میں جنت کے حصول کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ 3۔ نیک اعمال سے مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی قربت اور ولایت حاصل ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن : صراط مستقیم کے نشانات : 1۔ اللہ تعالیٰ ہی ایمان والوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (الحج :54) 2۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ:213) 3۔ اللہ تعالیٰ میرا اور تمھارا رب ہے۔ تم اسی کی عبادت کرو یہی صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : 51، مریم :36) 4۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی جماعت کو چن لیا اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔ (الانعام :87) 5۔ اللہ کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ (یسٰین :61) 6۔ صراط مستقیم کی ہی پیروی کرو۔ (الانعام :153) 7۔ اللہ ہی صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے۔ (الشوریٰ :52) 8۔ نبی اکرم (ﷺ) صراط مستقیم کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ (الشوریٰ :52) الانعام
127 الانعام
128 فہم القرآن : (آیت 128 سے 129) ربط کلام : اسلام کو چھوڑنے والے انسانوں اور جنوں کا انجام اور ان کا اقرار۔ جن لوگوں اور جنات نے اسلام کے بغیر کوئی اور دین اپنایا وہ صراط مستقیم سے گمراہ ہوئے جس کا نتیجہ ہے کہ وہ ” دارالسلام“ یعنی جنت سے محروم ہوگئے۔ انسان کی گمراہی شیطان کی وجہ سے ہوتی ہے اور شیاطین کی اکثریت کا تعلق جنات سے ہے اس لیے محشر کے دن اللہ تعالیٰ جنات کو خطاب کرتے ہوئے فرمائے گا۔ اے جنو! تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا جس کا اقرار شیاطین کے ساتھ انسان اس طرح کریں گے اے ہمارے رب تیرا فرمان سچا ہے اور واقعی ہم نے ایک دوسرے سے مفادات اور فائدے اٹھائے اور ہم نے بڑے بڑے جرائم کیے ہیں یہاں تک کہ ہماری اجل آن پہنچی جو آپ نے ہمارے لیے مقرر کر رکھی تھی یعنی ہمیں موت نے آلیا۔ آج تیری بارگاہ میں مجرم کی حیثیت سے اپنے جرائم کا اقرار کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں حکم ہوگا کہ اب آگ ہی تمھارا ٹھکانہ ہے جس میں تمہیں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ ما شاء اللہ کے الفاظ کے بارے میں مفسرین نے دو تفسیریں کی ہیں۔ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ ان الفاظ میں مجرموں کے لیے بالآخر نجات کی نشاندہی کی گئی ہے جب کہ اہل علم کی اکثریت کا نظریہ ہے کافر اور مشرکوں کا جہنم سے نجات پانے کا بھی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بار بار ان کے بارے میں ﴿خٰلِدِیْنَ فِیْھٰآ اَبَدًا﴾ کا اعلان کیا ہے۔ انھیں ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہنا ہوگا اور جنت ان پر حرام کردی گئی ہے۔ البتہ کلمہ گو گناہگار جنات اور انسانوں کو سزا کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ کچھ مفسرین نے الا ما شاء اللہ کے الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور اختیارات کا اشارہ دیا ہے کہ دنیا میں کئی لوگ جنات کو مشکل کشا سمجھتے تھے الا ما شاء اللہ میں ان کے باطل عقیدہ کی نفی کی گئی ہے کہ وہی کچھ دنیا میں ہوتا ہے اور آخرت میں ہوگا جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور چاہے گا۔ اگر دنیا میں تم شرک و کفر اور صراط مستقیم چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی سرکشی اور نافرمانی کاراستہ اختیار کیے ہوئے ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اللہ کے علم، طاقت اور دسترس سے باہر ہو بلکہ یہ مہلت اس کی حکمت کا نتیجہ ہے۔ اسی مہلت اور حکمت کے تحت اللہ تعالیٰ ظالموں کو ایک دوسرے کی مدد کا موقع دیتا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنوں اور انسانوں سے ان کے عقیدہ و عمل کے بارے میں سوال کرے گا۔ 2۔ قیامت کے دن مجرم ایک دوسرے کو گمراہ کرنے کا اعتراف کریں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں ظالموں کو اس لیے ڈھیل دیتا ہے کہ وہ زیادہ گناہ کرسکیں۔ 4۔ مشرک اور کافر ہمیشہ جہنم میں جلتے رہیں گے۔ 5۔ دنیا میں برے لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکیں گے۔ 6۔ مجرم آخرت میں اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے۔ 7۔ مجرموں کا اقرار قیامت کے دن انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ الانعام
129 الانعام
130 فہم القرآن : ربط کلام : جہنم میں جانے والے جنات اور انسانوں کو مشترکہ خطاب۔ اللہ تعالیٰ اظہارِ حق اور مجرموں کو ان کے جرائم کا احساس دلانے کے لیے جنوں اور انسانوں سے خطاب کرتے ہوئے پوچھیں گے کیا میں نے تمھارے پاس تم ہی سے رسول نہیں بھیجے تھے جو تمھیں میرے احکام پڑھ کر سناتے اور اس دن کے ہولناک انجام سے ڈراتے تھے۔ مجرم جواب دیں گے کیوں نہیں ہمارے رب آپ کے بھیجے ہوئے رسول تشریف لائے اور ہمیں سمجھاتے اور ڈراتے رہے لیکن ہمیں دنیا کی زندگی نے فریب میں ڈالے رکھا جس کی وجہ سے ہم تیرے حضور پیشی کو بھول گئے۔ اس طرح وہ اپنے بارے میں شہادت دیں گے کہ بلاشک ہم اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں۔ قیامت کے دن انسانوں کے ساتھ جنوں کو سوال کرنے کے بارے میں مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرمایا کرتے تھے جتنے رسول دنیا میں مبعوث کیے گئے وہ سب کے سب انسان ہی تھے مگر ان کا پیغام جنوں اور انسانوں کے لیے مشترکہ ہوا کرتا تھا اس لیے نبی آخر الزمان (ﷺ) نے طائف سے واپسی پر جنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھیں توحید و رسالت کی دعوت دی تھی۔ اس کی تفصیل جاننے کے لیے سورۃ الاحقاف اور سورۃ الجن کی تلاوت کرنی چاہیے۔ اسی بنیاد پر آپ (ﷺ) کا ارشاد ہے۔ (عَنْ أَبِی ذَرٍّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی بُعِثْتُ إِلَی الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِی وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ فَیُرْعَبُ الْعَدُوُّ وَہُوَ مِنِّی مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ وَقِیلَ لِیْ سَلْ تُعْطَہْ وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی فَہِیَ نَائِلَۃٌ مِنْکُمْ إِنْ شَاء اللّٰہُ تَعَالَی مَنْ لَّمْ یُشْرِکْ باللّٰہِ شَیْئًا قَالَ الْأَعْمَشُ فَکَانَ مُجَاہِدٌ یَرٰی أَنَّ الْأَحْمَرَ الْإِنْسُ وَالْأَسْوَدَ الْجِنُّ)[ مسند احمد] ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم (ﷺ) نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں عنایت کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں۔ 1۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ہر کالے اور گورے کے لیے رسول بنایا ہے۔ 2۔ میرے لیے ساری زمین پاک اور مسجد بنادی گئی ہے۔ 3۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی رسول کے لیے حلال نہیں تھا۔ 4۔ میری رعب سے مدد فرمائی گئی ہے کیونکہ ایک مہینہ کی مسافت پر ہونے کے باوجود دشمن مجھ سے لرزاں رہتا ہے۔ 5۔ مجھے ( قیامت کے دن) کہا جائے گا مانگ عطا کیا جائے گا اور تیری امت کے حق میں تیری شفاعت قبول کی جائے گی اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہوگا اس کو میری شفاعت پہنچے گی۔“ اعمش کہتے ہیں مجاہد کا خیال ہے کہ احمر سے مراد انسان اور اسود سے مراد جن ہیں جہاں تک قیامت کے دن مجرموں کا اپنے خلاف شہادت دینے کا تعلق ہے مجرم پہلے اپنے شرک و کفر اور برے اعمال سے انکار کریں گے۔ جب ان کے خلاف ان کے ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضاء گواہی دیں گے تو پھر مجبور ہو کر اس کا اعتراف کریں گے۔ اس اعتراف کا قرآن مجید نے کئی مقامات پر ذکر کیا ہے۔ مسائل : 1۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) کی نبوت جنوں اور انسانوں کے لیے تھی۔ 2۔ نبی آخر الزمان (ﷺ) جنوں اور انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ 3۔ قیامت کے دن مجرم اپنے گناہوں کا خود اعتراف کریں گے۔ تفسیر بالقرآن: جہنمیوں کے اعترافات : 1۔ جہنمیوں سے ملائکہ کا خطاب۔ (الزمر 71، 72) 2۔ جہنمیوں سے جنتیوں کے سوالات اور جہنمیوں کا اپنے گناہوں کا اقرار۔ (المدثر : 40تا48) 3۔ جہنمیوں کے ایک دوسرے سے سوالات۔ (حمٓ، السجدۃ، الاحزاب) 4۔ جہنمیوں سے اللہ تعالیٰ کا سوال۔ (الصٰفٰت) 5۔ جہنمیوں کی باہم گفتگو۔ (الصفت : 27تا33) الانعام
131 فہم القرآن : (آیت 131 سے 134) ربط کلام : اللہ تعالیٰ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو لوگوں کی طرف اس لیے بھیجتا رہا تاکہ لوگوں پر حجت تمام ہوجائے۔ اس سے پہلے فرمان میں ﴿رُسُلٌ مِنْکُمْ﴾ کے الفاظ استعمال فرمائے۔ ذٰلک کا اشارہ انھی الفاظ کی ترجمانی کر رہا ہے کہ لوگوں میں انہی سے رسول بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پڑھ کر سنائیں اور ان پر من و عن عمل کرکے دکھلائیں تاکہ کسی کے لیے یہ بہانہ نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی بتلانے اور سمجھانے والا نہیں آیا تھا۔ جس کی وجہ سے ہم غفلت میں پڑے رہے اور آج ہمیں بد ترین انجام سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ اس بات کے ازالہ کے لیے فرمایا اے پیغمبر! تیرے رب کا یہ وطیرہ نہیں کہ وہ کسی بستی اور اہل علاقہ کو ان کے اچھے برے انجام سے آگاہ کیے بغیر اسے فنا کے گھاٹ اتار دے بلکہ پہلے وہ رسول بھیج کر لوگوں کی اصلاح اور فلاح کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن لوگ انبیاء کی مخلصانہ اور بے مثال محنت کے باوجود غفلت اور مجرمانہ زندگی کو ترجیح دیتے رہے اور جرائم میں اتنے آگے بڑھے کہ اللہ کی مخلوق ان سے پناہ مانگنے لگی اور زمین کا نظام درہم برہم ہونے لگا تو اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو نیست و نابود کردیا۔ اس گرفت میں بھی انھیں اتنی ہی سزا دی گئی جتنے ان کے اعمال برے تھے۔ ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا گیا۔ جس طرح دنیا میں ان کے کردار کے مطابق گرفت کی گئی بالکل اسی طرح قیامت کے دن نیک لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا ملے گی اور برے لوگوں کو ان کے جرائم کے مطابق سزا ہوگی۔ لوگوں کے اعمال جاننے، پرکھنے اور ان کو جزا اور سزا دینے میں اللہ تعالیٰ کسی چیز سے غافل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو بار بار نصیحت اور انتباہ اس لیے نہیں کرتا ہے کہ لوگوں کے نیک اعمال سے اللہ تعالیٰ کو فائدہ اور برے کردار سے اسے نقصان پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی نیکی اور برائی کا کوئی فائدہ اور نقصان نہیں ہوتا۔ وہ ذات کبریا مفادات، خدشات اور نقصانات سے بے نیاز ہے۔ اس کی ذات بے نیاز ہونے کے باوجود سراپا رحمت ہے۔ وہ نیکوں کو ان کی نیکی سے بڑھ کر عنایات ورحمت سے نوازتا ہے۔ دنیا میں ظالموں کی گرفت میں اس کی یہ رحمت ہوتی ہے کہ اس کی مخلوق ان کے ظلم سے نجات پائے۔ اگر وہ چاہے تو ساری انسانیت کی صف لپیٹ کر ایک طرف رکھ دے اور ان کی جگہ اتنے ہی اور لوگوں کو لے آئے۔ جس طرح کہ پہلی اقوام میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ اس سچائی کو جاننے کے لیے دنیا کے ہر علاقے کی تاریخ اس حقیقت کی ترجمان ہے۔ عرب کی سرزمین کے بارے میں قرآن مجید تفصیل کے ساتھ ایک کے بعد دوسری قوم کے آنے کے واقعات بیان کرتا ہے۔ کبھی اس سرزمین پر قوم نوح کے کفر و شرک کا غلبہ تھا جنھیں اللہ تعالیٰ نے پانی کے سیلاب میں ڈبکیاں دے دے کر مارا۔ زمین کو شرک کی غلاظت سے پاک کردیا۔ ان کے بعد قوم عاد نے سرکشی اور تمرد کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے ان پر سات دن مسلسل زور دار آندھیاں چلیں جس سے ان کو زمین پر پٹخ پٹخ کر مارا اور صفحۂ ہستی سے ان کا وجود ختم کردیا۔ قوم ثمود کو زور دار آسمانی دھماکے نے آلیا۔ جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور اللہ کی مخلوق نے ان سے سکھ پایا۔ ان کے بعد قوم لوط نے بے حیائی کا وطیرہ اپنایا۔ جس کی پاداش میں انھیں زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب لے جا کر الٹ دیا اور ان پر پتھروں کی بارش برسائی پھر اس دھرتی پر کبھی ایرانی دندنائے اور کبھی رومیوں کا غلبہ ہوا۔ ان کے بعد یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتارتے رہے۔ عربوں کے بعد ترکوں کا دور آیا۔ ترکوں کے بعد تاتاری بادو باراں کی طرح زمین پر پھیل گئے گویا کہ ایک کے بعد دوسری قوم اور دوسری کے بعد تیسری قوم نے اس کی جگہ لی یہاں نہ داراو سکندر کا اقتدار باقی رہا ار نہ ہی نمرود، فرعون اور ہامان کا تسلط قائم رہ سکا۔ پھر خاندانی نظام کو دیکھیں کس طرح نسل درنسل سلسلہ چل رہا ہے۔ آج ہمیں اپنے ہی آباؤ اجداد کی تیسری نسل سے اوپر کا کچھ علم نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا نتیجہ تھا اور ہے جس کے بارے میں یہاں ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اور جسے چاہے لوگوں کو ایک دوسرے کی جگہ پر لاکھڑا کرے۔ اے اہل مکہ اور دنیا جہان کے انسانو ! اللہ تعالیٰ کی اس سنت اور قوت اختیار پر سوچو اور غور کرو کہ تم نے پہلوں کی طرح ہمیشہ نہیں بیٹھا رہنا۔ جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی نشانی ظاہر کرے گا تو تم اس کی قدرت و سطوت کے سامنے دم نہیں مار سکو گے۔ یاد رکھو قیامت ضرور برپا ہونے والی ہے اور تم اس کے برپا ہونے پر اللہ تعالیٰ کو بے بس اور عاجز نہیں کرسکتے۔ لہٰذا ہوش کے ناخن لو اور اپنے رب کے تابعدار بن جاؤ۔ (عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () أَوَّلُ زُمْرَۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی عَلٰی صُورَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ عَلٰی أَشَدِّ نَجْمٍ فِی السَّمَاءِ إِضَاءَ ۃً ثُمَّ ہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ مَنَازِلُ لَا یَتَغَوَّطُونَ وَلَا یَبُولُونَ وَلَا یَمْتَخِطُونَ وَلَا یَبْزُقُونَ أَمْشَاطُہُمُ الذَّہَبُ وَمَجَامِرُہُمُ الْأَلُوَّۃُ وَرَشْحُہُمُ الْمِسْکُ أَخْلَاقُہُمْ عَلٰی خُلُقِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ عَلٰی طُولِ أَبِیہِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا) [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ ونعیمہا، باب أَوَّلُ زُمْرَۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلَی صُورَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُہُمْ وَأَزْوَاجُہُمْ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا میری امت کا جنت میں داخل ہونے والا گروہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے چہروں کے ساتھ ہوگا پھر ان کے بعد آسمان پر روشن ستاروں کی طرح پھر درجہ بدرجہ ہوں گے جنتی نہ پیشاب کریں گے نہ قضائے حاجت کی ضرورت ہوگی وہ تھوکیں گے بھی نہیں ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کی انگیٹھیاں عود کی اور ان کے پسینے مشک عنبر کی طرح ہوں گے۔ ان سب کا ایک ہی طرح کا اخلاق ہوگا اور قدو قامت آدم (علیہ السلام) کے برابر یعنی ساٹھ ہاتھ ہوگی۔“ ( عَنْ قَتَادَۃَ (رض) حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ کَیْفَ یُحْشَرُ الْکَافِرُ عَلٰی وَجْہِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ أَلَیْسَ الَّذِی أَمْشَاہُ عَلٰی رِجْلَیْہِ فِی الدُّنْیَا قَادِرًا عَلٰی أَنْ یُمْشِیَہُ عَلٰی وَجْہِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ قَتَادَۃُ بَلَی وَعِزَّۃِ رَبِّنَا)[ رواہ مسلم، کتاب القیامۃ والجنۃ والنار، باب یحشر الکافر علی وجھہ] ” حضرت قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک (رض) نے بیان کیا ایک شخص نے استفسار کیا اے اللہ کے رسول! کافروں کو قیامت کے دن چہرے کے بل کس طرح اکٹھا کیا جائے گا۔ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا کیا وہ ذات جو سب کو دنیا میں پاؤں کے بل چلانے پر قادر ہے وہ قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ؟ حضرت قتادہ کہتے ہیں ہمیں اپنے رب کی عزت کی قسم کیوں نہیں“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () یُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَہْلِ الدُّنْیَا مِنْ أَہْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُصْبَغُ فِی النَّارِ صَبْغَۃً ثُمَّ یُقَالُ یَا ابْنَ آدَمَ ہَلْ رَأَیْتَ خَیْرًا قَطُّ ہَلْ مَرَّ بِکَ نَعِیمٌ قَطُّ فَیَقُولُ لَا وَاللّٰہِ یَا رَبِّ وَیُؤْتٰی بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِی الدُّنْیَا مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَیُصْبَغُ صَبْغَۃً فِی الْجَنَّۃِ فَیُقَالُ لَہٗ یَا ابْنَ آدَمَ ہَلْ رَأَیْتَ بُؤْسًا قَطُّ ہَلْ مَرَّ بِکَ شِدَّۃٌ قَطُّ فَیَقُولُ لَا وَاللّٰہِ یَا رَبِّ مَا مَرَّ بِی بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَیْتُ شِدَّۃً قَطُّ) [ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب الکافر الغداء لملء الأرض ذھبا] ” حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا قیامت کے دن دنیا میں سب سے زیادہ نعمتوں میں پلنے والے شخص کو لایا جائے گا تو اسے جہنم میں صرف ایک غوطہ دیا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا اے ابن آدم! تم نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی تو وہ کہے گا اللہ کی قسم ! کبھی نہیں، پھر دنیا میں مصائب میں زندگی گزارنے والے کو لایا جائے گا اسے جنت کا ایک جھونکا دیا جائے گا تو اس سے پوچھا جائے گا اے انسان کیا تم نے کبھی کوئی تنگدستی دیکھی؟ تو وہ کہے گا اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی مشکل نہیں دیکھی۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کسی بستی کو اپنا پیغام پہنچائے بغیر ہلاک نہیں کرتا۔ 2۔ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق ہی جزا، سزا ملے گی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کسی کے عمل سے غافل نہیں ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اچھے اور برے اعمال سے بے نیاز ہونے کے باوجود اس دنیا میں اپنی رحمت سے نوازنے والا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ایک قوم کو ختم کرکے دوسری قوم کو لانے پر قادر ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا : 1۔ تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں فرماتا۔ (الانفال :51) 2۔ جو شخص نیک اعمال کرے اس کا صلہ اسے ملے گا اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اس پر ہوگا تیر ارب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ (حٰم السجدۃ:46) 3۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان تبدیل نہ ہوگا اور اللہ کسی پر ظلم نہیں فرمائے گا۔ (قٓ :29) 4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں فرماتا لیکن لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ (یونس :44) الانعام
132 الانعام
133 الانعام
134 الانعام
135 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے سامنے انسان بے بس اور کمزور ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ انسان کو اپنے احکام جبراً نہیں منواتا۔ میرے پیارے رسول! کھلا اعلان کر دو کہ اے لوگو ! تم میری بات نہیں مانتے ہو تو تمھاری مرضی مجھ سے الجھنے اور میرا راستہ روکنے کے بجائے تم اپنے اپنے طریقہ پر عمل کرو۔ میں اپنے طریقہ پر عمل پیرا رہوں گا۔ عنقریب تم جان جاؤ گے کہ آخرت کا گھر کس کے لیے بہتر ہوگا۔ یقین رکھو کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔ وعظ و نصیحت کے میدان میں داعی کو ایسے افراد کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے کہ نہایت خلوص اور سوز مندی کے ساتھ سمجھانے کے باوجودلوگ آباؤ اجداد کی تقلید، زمانے کی رسومات اور بری عادات سے باز نہیں آتے۔ ایسے افراد نہ صرف حق قبول نہیں کرتے بلکہ وہ حق کا راستہ روکنے اور داعی کو پریشان کرنے کے لیے ہر قسم کی زیادتی اور شرارت کرتے ہیں۔ سرور دو عالم (ﷺ) کو بھی ایسے افراد اور حالات سے بار بار واسطہ پڑا جس کے رد عمل میں آپ پر یشان ہو کر سوچتے کہ یہ کیسے ناہنجار لوگ ہیں جو حق کو قبول کرنے کے بجائے اس کے مقابلے میں بحث و تکرار، جنگ و جدال کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس پر آپ کو حکم ہوا کہ آپ ایسے لوگوں کو سمجھائیں کہ اگر تم حق قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو میرے ساتھ مزید الجھنے کے بجائے تم اپنے طریقہ کے مطابق کام کرو اور میں اپنے طریقے پر گامزن رہوں گا لیکن یاد رکھو عنقریب تمھیں اپنے انجام کا علم ہوجائے گا۔ اس وقت تم کھلی آنکھوں کے ساتھ اپنے ٹھکانے اور ہمارے مقام کو دیکھو گے۔ یاد رہے کہ دنیا میں تو بعض دفعہ ظالم کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن آخرت کے بارے میں دو ٹوک انداز میں واضح کیا گیا ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوں گے۔ بلکہ انہیں ان کے گناہوں اور جرائم کی ٹھیک ٹھیک سزا ملے گی۔ قرآن مجید میں یہ اصول کئی بار بیان ہوا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ اٹھائے گا اور نہ کسی کے عمل کے بدلے پکڑا جائے گا۔ ہر کسی نے اپنے اعمال اور عقیدہ کے مطابق جزا یا سزا پائے گا۔ ﴿أَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی وَأَنْ لَیْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعٰی وَأَنَّ سَعْیَہٗ سَوْفَ یُرٰی ثُمَّ یُجْزَاہُ الْجَزَاءَ الْأَوْفٰی وَأَنَّ إِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَہَی﴾[ النجم : 38تا42] ” کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے کوشش کی۔ اور اس کی کوشش جلد دیکھی جائے گی۔ پھر اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور بے شک سب کو آپ کے رب کے پاس ہی پہنچنا ہے۔“ مسائل : 1۔ ظالم عنقریب اپنے انجام کو دیکھ لیں گے۔ 2۔ قیامت کے دن ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔ تفسیر بالقرآن : فلاح نہ پانے والے لوگ : 1۔ ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔ (الانعام :21) 2۔ مجرم فلاح نہیں پائیں گے۔ (یونس :17) 3۔ کافر فلاح نہیں پائیں گے۔ (المؤمنون :117) 4۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے فلاح نہیں پائیں گے۔ (یونس :69) 5۔ جادوگر فلاح نہیں پائیں گے۔ (یونس :77) 6۔ اے کافرو تمھارے لیے تمھارا دین، ہمارے لیے ہمارا دین۔ (الکافرون :1) 7۔ اے ایمان والو! اگر تم ہدایت پر رہو تو گمراہوں کی گمراہی تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ (المائدۃ:105) 8۔ پہلے لوگوں کے لیے ان کے عمل تمھارے لیے تمھارے عمل۔ (البقرۃ:141) الانعام
136 فہم القرآن : ربط کلام : دنیا میں سب سے بڑا ظلم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے شرک کے مرتکب جن اور انسان جس طرح قولی اور جسمانی عبادات میں گمراہ ہوتے ہیں اسی طرح مالی معاملات اور صدقہ کرنے میں شرک کرتے ہیں۔ اب مشرکوں کے مالی عبادات میں شرک کی نشاندہی اور اس کی مذمت کی جاتی ہے مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ذکر کرتے ہیں کہ مشرکین مکہ اپنی خود ساختہ تقسیم کے مطابق اپنے جانوروں میں سے ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کرتے تھے اور دوسرا حصہ معبودان باطل کے لیے۔ جن کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ یہ سب کچھ ان کی حرمت و طفیل اور صدقہ سے ملتا ہے۔ جو حصہ ان کے معبودوں کے نام کا ہوتا وہ پورے کا پورا ان کے نام پر بتوں کی آرائش و زیبائش کے لیے نذرانہ کیا جاتا، جسے بت خانہ کے متولی اپنی مرضی سے خرچ کرتے۔ جو حصہ اللہ تعالیٰ یعنی فی سبیل اللہ مقرر کرتے اسے غربا اور مساکین پر خرچ کرتے۔ معبودوں کے مقرر کیا ہوا حصہ میں اگر نقصان ہوجاتا تو یہ نقصان فی سبیل اللہ کے حصہ سے پورا کردیتے۔ اگر فی سبیل اللہ کے کھاتے میں کمی واقع ہوجاتی تو اس کو کم ہی رہنے دیتے کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ مستغنی، بے نیاز اور بڑے حوصلے والا ہے۔ اس کا حصہ کم بھی رہ جائے تو اسے کوئی پروا نہیں۔ لیکن ہمارے معبود حاجت مند ہیں اس لیے اگر ان کا حصہ پورا نہ کیا گیا تو وہ ناراض ہوجائیں گے جس کی وجہ سے ہمارا نقصان ہوسکتا ہے۔ تقسیم کا یہ اصول کسی شریعت سے ماخوذ نہیں تھا بلکہ انھوں نے من ساختہ بنایا ہوا تھا جس کی بنا پر فرمایا ہے کہ بدترین ہے فیصلہ اور ان کی تقسیم جو وہ کرتے ہیں۔ غور فرمائیں کہ چودہ سو تیس سال پہلے کی رسومات اور شرک قریب قریب اسی شکل میں اب بھی جاری ہے۔ آج بھی مزارات پر دیے جانے والے نذرانوں کے بارے میں لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر ہم نے پیر عبدالقادر جیلانی (رح) کے نام گیا رہویں پیش نہ کی، فلاں مزار پر اتنا حصہ نہ دیاتو بزرگ ناراض ہو کر ہمارا نقصان کردیں گے اور مال سے برکت اٹھ جائے گی۔ مکہ کے مشرکوں کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے بے نیاز ہے۔ لیکن ہمارے معبود حاجت مند ہیں۔ اس کے باوجود انھیں اپنی مشکلات کے حل کا ذریعہ اور مشکل کشا سمجھتے تھے۔ یہی عقیدہ آج بے شمار کلمہ گو حضرات کا ہے۔ مزارات میں مدفون بزرگوں کو مشکلات کے حل کے لیے اللہ کے حضور واسطہ اور ذریعہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید بار بار وضاحت کرتا ہے۔ یہ نہ سن سکتے ہیں اور نہ کسی کی مدد کرسکتے ہیں۔ انھیں تو یہ بھی خبر نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ (عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ قَالَ نَذَرَ رَجُلٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُول اللّٰہِ () أَنْ یَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَقَال النَّبِیُّ () ہَلْ کَان فیہَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاہِلِیَّۃِ یُعْبَدُ قَالُوْا لَا قَالَ ہَلْ کَان فیہَا عیدٌ مِنْ أَعْیَادِہِمْ قَالُوا لَا قَالَ رَسُول اللّٰہِ () أَوْفِ بِنَذْرِکَ فَإِنَّہُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا فیمَا لَا یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ) [ رواہ ابوداؤد : باب مایومر بہ من الوفاء بالنذر] ” حضرت ضحاک بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) کے زمانے میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ ’ بوانہ‘ مقام پر اونٹ ذبح کرے گا۔ سرور عالم (ﷺ) نے دریافت فرمایا کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی پوجا ہوتی تھی؟ اس نے نفی میں جواب دیا۔ سرورِکائنات نے استفسار فرمایا بھلا وہاں جاہلیت کے میلوں میں سے کوئی میلہ لگتا تھا؟ عرض کی کہ نہیں۔ حبیب کبریا (ﷺ) نے فرمایا پھر تجھے نذر پوری کرنا چاہیے۔ اس نذر کو پورا نہ کیا جائے جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اور نہ اسے جس کو انسان پورا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔“ مسائل : 1۔ غیر اللہ کے نام پر صدقہ یا نذرانہ کرنا شرک ہے۔ 2۔ اپنی مرضی سے حرام و حلال کا فیصلہ کرنا بدترین جرم ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیزوں کو غیر اللہ کے نام منسوب کرنا حرام ہے۔ 4۔ مالی اور دیگر عبادات میں کسی کو اللہ تعالیٰ کا ساجھی بنانا شرک ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے نام وقف کی ہوئی چیز کو غیر اللہ کے نام وقف کرنا بدترین گناہ ہے۔ الانعام
137 فہم القرآن : ربط کلام : مشرک جس طرح مال میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کو شریک بناتے ہیں اس طرح اولاد میں بھی غیر اللہ کو شریک ٹھہراتے ہیں اور ان کو غیر اللہ کے نام پر قربان کرتے تھے۔ مشرکوں کا شروع سے عقیدہ ہے کہ جب تک فلان بزرگ کی روح کو خوش نہیں کیا جائے گا اس وقت تک ہمارے مال اور اولاد میں برکت پیدا نہیں ہو سکتی اسی وجہ سے بے اولاد مشرک غیر اللہ کے نام پر چڑھاوے اور بزرگوں کے مزارات پر نذرانے پیش کرتے ہیں تاکہ ان کی گود ہری ہوجائے۔ اولاد کی خواہش میں اس قدر آگے بڑھ کر منتیں مانتے ہیں اگر بزرگوں نے اولاد عنایت کر وا دی تو ایک بچے کو فلاں بت پر قربان کریں گے۔ اسی عقیدہ کی بنا پراپنے بچوں کو بت خانوں پر ذبح کیا کرتے تھے۔ ہندوستان میں آج بھی بعض دیوتاؤں کے نام پر بچوں کو قربان کرنے کی خبریں اخبار میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ تہذیب و تمدن کے دور میں قبروں اور بتوں پر اس کثرت کے ساتھ بیٹوں کو ذبح کرنے کا رواج تو نہیں رہا لیکن یہ رواج تو مشرکوں میں عام ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بت خانوں اور مزارات کے لیے وقف کرتے ہیں جو آگے چل کر مجاور کا روپ دھار کر دولت اکٹھی کرنے کے ساتھ ساتھ بدکاری کو رواج دیتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے جہلا کو مزارات اور بت خانوں پر بیٹیاں وقف کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاید کوئی بت خانہ اور مزار ہو۔ جہاں دن رات عورتیں قیام نہ کرتی ہوں۔ اسی وجہ سے مزارات اور آستانوں کے آئے دن اخلاق باختہ واقعات سننے میں آتے ہیں۔ بچوں کو غیر اللہ کے نام پر ذبح یا وقف کرنا اس لیے ہے کہ عیسائیوں کے پادریوں، ہندوؤں کے پنڈتوں اور مسلمانوں کے غلط عقیدہ پیروں کی وجہ سے اصلی اور حقیقی دین کی جگہ من گھڑت دین کا غلبہ ہوگیا ہے جو عزت، مال اور اولاد کی بربادی کے ساتھ آخرت کی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ ایسے لوگوں کو جب شرک و رسومات سے منع کیا جائے تو وہ سمجھنے کے بجائے سمجھانے والوں کو بزرگوں کا گستاخ اور بےدین ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اس لیے فرمایا انھیں ان کے من گھڑت دین پر چھوڑ دیجیے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو انھیں شرک و خرافات سے بچا لیتا کیونکہ یہ ہدایت کی چاہت نہیں رکھتے اس لیے اللہ تعالیٰ بھی ان کی چاہت کے مطابق انھیں گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔ (عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () إِنِّی فَرَطُکُمْ عَلٰی الْحَوْضِ مَنْ مَرَّ عَلَیَّ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ یَظْمَأْ أَبَدًا لَیَرِدَنَّ عَلَیَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُہُمْ وَیَعْرِفُونِی ثُمَّ یُحَالُ بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَنِی النُّعْمَانُ بْنُ أَبِی عَیَّاشٍ فَقَالَ ہٰکَذَا سَمِعْتَ مِنْ سَہْلٍ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ أَشْہَدُ عَلٰی أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ (رض) لَسَمِعْتُہُ وَہُوَ یَزِید فیہَا فَأَقُولُ إِنَّہُمْ مِنِّی فَیُقَالُ إِنَّکَ لَا تَدْرِی مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَیِّرَ بَعْدِی) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق باب الحوض] ” حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا میں تمھارا حوض کوثر پر انتظار کروں گا جو بھی میرے پاس آئے گا وہ اس سے پیے گا اور جو شخص بھی اس سے ایک مرتبہ پیے گا وہ کبھی پیاس محسوس نہیں کرے گا۔ میرے پاس کچھ لوگ آئیں گے وہ مجھے پہچان لیں گے اور میں انھیں اپنے امتی کے طور پر سمجھوں گا پھر میرے اور ان کے درمیان پردہ حائل ہوجائے گا ابو حازم نے کہا نعمان بن ابی عیاش نے مجھ سے سنا اور کہا کیا تم نے اسی طرح سہل سے سنا ہے میں نے کہا ہاں، پس اس نے کہا میں ابو سعید خدری (رض) سے سنا وہ اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا یہ تو میرے امتی ہیں کہا جائے گا آپ نہیں جانتے آپ کے بعد انھوں نے کیا کیا بدعتیں شروع کیں میں ان سے کہوں گا دور ہوجاؤ دور ہوجاؤ جس نے میرے بعد دین کو بدل ڈالا۔“ مسائل : دنیا میں قتل اولاد کی ہر دور میں چار صورتیں رہی ہیں : 1۔ غیر اللہ کے نام پر بچوں کو قربان کرنا۔ 2۔ رزق کی تنگی کی وجہ سے سے اولاد کو قتل کرنا۔ 3۔ کسی کے داماد بننے کی عار سے بچیوں کو قتل کرنا۔ 4۔ جنگ و جدال میں بچیوں کی گرفتاری کے پیش نظر انھیں قتل کرنا۔ تفسیر بالقرآن : اولاد کا قتل کرنا جرم ہے : 1۔ مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ (الاسراء :31) 2۔ غربت کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ (الانعام :151) الانعام
138 فہم القرآن : (آیت 138 سے 140) ربط کلام : مشرکوں کے شرک و رسومات کی مزید تفصیلات زمانۂ جاہلیت میں کفار اور مشرکین نے اپنے مویشیوں اور کھیتیوں کو چار اقسام میں تقسیم کر رکھا تھا۔ 1۔ غیر اللہ کے نام پر مخصوص کیے ہوئے مویشی اور کھیت جنہیں مجاورین کی اجازت کے بغیر کوئی استعمال نہیں کرسکتا تھا۔ 2۔ جو جانور غیر اللہ اور آستانوں کے لیے وقف کیے جاتے ان پر سواری کرنا بھی ان کے ہاں جائز نہیں تھا۔ 3۔ غیر اللہ کے نام پر وقف کیے ہوئے جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ 4۔ وقف کی ہوئی اونٹنی، گائے، بکری کا دودھ پینامردوں کے لیے جائز اور عورتوں کے لیے حرام تھا اسی طرح ان جانوروں سے جو بچہ پیدا ہوتا اس کا کھانا مردوں کے لیے حلال تھا۔ اگر بچہ مردہ ہوتا تو اس کے کھانے میں مرد و زن شریک ہوجاتے تھے۔ مالی عبادات میں مشرکوں کے شرک و رسومات کی تفصیل کے ضمن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ شرک میں اس قدر آگے بڑھ چکے تھے کہ جو جانور غیر اللہ کے نام پر وقف کرتے انھیں ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا خود ساختہ شریعت کے خلاف سمجھتے تھے۔ اور غیر اللہ کے نام وقف کیے ہوئے جانور اور کھیتوں کو مجاورین کا اپنے نام مخصوص کرلینا، ایسے جانوروں پر سواری نہ کرنا، زندہ پیدا ہونے والے بچے پر مردوں کی ملکیت سمجھنا اگر مردہ پیدا ہو تو اس میں مرد و زن کی شرکت جائز قرار دینا، یہ ان کے من گھڑت دین کی نمایاں علامات تھیں۔ دراصل یہ دین کے نام پر مذہبی پیشواؤں کی مالی کرپشن تھی جس کے نام پر انھوں نے بڑی بڑی جائیدادیں بنائیں اور مذہب کے نام پر عوام کا استحاصل کیا۔ جس کی مثالیں مسلمانوں سمیت ہر مذہب کے نام نہاد دینی رہنماؤں میں پائی جاتی ہیں۔ اسی لیے پہلی آیت کے آخر میں انھیں وارننگ دی گئی کہ عنقریب انھیں اس مکر و فریب اور گھناؤنے دھندے کی سزا دی جائے گی، آیت : 138کے آخر میں فرمایا یہ لوگ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے لوگوں کے سامنے من گھڑت شریعت پیش کرتے ہیں انھیں اسی پر چھوڑ دیجیے۔ بہت جلد انھیں اس جرم کی سزا مل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کے عزائم اور کردار کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت کے تحت انھیں مہلت دے رکھی ہے۔ ان لوگوں کا بغیر کسی جواز کے محض حماقت کی بنا پر اپنی اولاد کو قتل کرنا اور اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو اللہ ہی کے ذمہ لگا کر حرام قرار دینا انتہا درجے کی گمراہی ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں وہ ہدایت نہیں پایا کرتے۔ (عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ سُئِلَ عَلِیٌّ (رض) أَخَصَّکُمْ رَسُول اللّٰہِ () بِشَیْءٍ فَقَالَ مَا خَصَّنَا رَسُول اللّٰہِ () بِشَیْءٍ لَمْ یَعُمَّ بِہِ النَّاسَ کَافَّۃً إِلَّا مَا کَانَ فِی قِرَابِ سَیْفِی ہٰذَا قَالَ فَأَخْرَجَ صَحِیفَۃً مَکْتُوبٌ فیہَا لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَہٗ وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ آوٰی مُحْدِثًا) [ رواہ مسلم : کتاب الأضاحی، باب تحریم الذبح لغیر اللہ] ” حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں حضرت علی (رض) سے پوچھا گیا کیا رسول معظم (ﷺ) نے آپ کو کسی بات کے ساتھ خاص کیا تھا حضرت علی (رض) نے فرمایا رسول معظم (ﷺ) نے مجھے عام لوگوں سے ہٹ کر کوئی خاص بات نہیں کہی مگر یہ میری تلوار کی میان میں جو ہے پھر انھوں نے میان میں سے کاغذ نکالا جس میں لکھا ہوا تھا اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر بھی لعنت کرے جو چوری کرتا ہے اور اللہ اس پر لعنت کرے جو اپنے والد کو لعن طعن کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس شخص پر بھی لعنت کرے جو کسی بدعتی کو پناہ دیتا ہے۔“ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ () إِذَا خَطَبَ۔۔ یقول أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَیْرَ الْحَدِیثِ کِتَاب اللّٰہِ وَخَیْرُ الْہُدَی ہُدَی مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٍ) [ رواہ مسلم : کتاب الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ] ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) جب بھی خطبہ ارشاد فرماتے تو کہا کرتے۔۔ اما بعد بلاشبہ سب سے بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے اور بہترین ہدایت کا راستہ محمد (ﷺ) کا ہے اور برے کاموں میں سے بدعات ایجاد کرنا ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“ مسائل : 1۔ مشرکین جانوروں کے بارے میں من گھڑت باتیں منسوب کیا کرتے تھے۔ 2۔ حلال وحرام کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ 3۔ اولاد کو قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ پر افترا باندھنے والے کبھی ہدایت نہیں پا سکتے۔ تفسیر بالقرآن : گمراہ لوگ : 1۔ نبی (ﷺ) کی بعثت سے پہلے لوگ کھلی گمراہی میں تھے۔ (آل عمران : 164، الجمعۃ :2) 2۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (الاحزاب :36) 3۔ بہت بڑا ظالم ہے وہ شخص جو اللہ پر جھوٹ باندھے بغیر علم کے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے۔ (الانعام :144) 4۔ کفار اللہ کے راستہ سے روکنے والے اور خوددور کی گمراہی میں ہیں۔ (النساء :167) 5۔ جس نے اللہ، رسول، ملائکہ، کتابوں اور آخرت کے دن کا انکار کیا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء :136) 6۔ اللہ کے سوا غیروں کو پکارنے والے گمراہ ہیں۔ (الاحقاف :5) الانعام
139 الانعام
140 الانعام
141 فہم القرآن : ربط کلام : جن کھیتوں میں مشرک غیر اللہ کا حصہ مقرر کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی پیدا کرنے، اگانے اور پکانے والا ہے۔ زیتون : Olive (انگریزی، فرانسیسی، جرمن ) Oliva (روسی، لاطینی ) زیتون ( عربی، فارسی، ہندی، اردو، پنجابی) zayit ,Zaith ( عبرانی) نباتاتی نام : Ole ae uropae a Linn. قرآنی آیات بسلسلہ زیتون : 1۔ سورۃ الانعام آیت : 100 ، 2۔ سورۃ الانعام آیت : 142 ، 3۔ سورۃ النحل آیت : 11 ، 4۔ سورۃ المومنون آیت : 20 ، 5۔ سورۃ التین آیت :2 زیتون کا ذکر قرآن پاک میں اس کے نام سے چھ بار آیا ہے اور ایک مرتبہ سورۃ المومنون، آیت : 20اس کی جانب یہ کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے طور سینا کے اطراف ایک ایسا درخت پیدا کیا ہے جس میں ایسا تیل ہوتا ہے جو سالن کے کام آتا ہے۔ زیتون کا نباتاتی نام (Oleaeuropaea) ہے۔ یہ ایک چھوٹا درخت ہے جس کی اونچائی اوسطاً 25فٹ ہوتی ہے۔ اس کی پیداوار قلم لگا کر ہوتی ہے کیونکہ بغیر قلم لگائے ہوئے پودے اچھے پھل نہیں دیتے ہیں۔ اس کے کچے پھل چٹنی اور اچار کے کام میں لائے جاتے ہیں، جبکہ پکے ہوئے پھل انتہائی شیریں اور لذیذ ہوتے ہیں۔ یہ بیضاوی شکل کے 2سے 3سنٹی میٹر لمبے ہوتے ہیں ان کے گودے میں پندرہ سے چالیس فیصد تک تیل ہوتا ہے جو اپنی خصوصیات اور صاف و شفاف ہونے میں بے مثال مانا جاتا ہے۔ دل کے امراض میں زیتون کا تیل سود مند ثابت ہوتا ہے۔ زیتون کا اصل وطن فلسطین اور شام کا وہ علاقہ ہے جو فینی شیا (Phoenicia) کہلاتا ہے۔ یہیں اس کی کاشت تقریباً دو ہزار سال قبل مسیح شروع کی گئی اور اسی خطہ سے یہ پودہ مغرب اور مشرق کے ممالک میں لے جایا گیا۔ زیتون کی وطنیت (Nativity) کا حوالہ قرآن کریم کی سورۃ النور کی آیت 35میں دیا گیا ہے جس میں ارشاد ہوا ہے ” ایک مفید درخت زیتون ہے جو نہ پورب کا ہے نہ پچھم کا۔“ زیتون کے باغات جنوبی یورپ، شمالی افریقہ اور عرب کے کئی ممالک میں ملتے ہیں، لیکن اسپین اور اٹلی زیتون کے پھل اور تیل پیدا کرنے میں سرفہرست ہیں۔ روغن زیتون کی عالمی پیداوار تین ملین میٹرک ٹن سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ روغن زیتون چراغ کی روشنی کے لیے زمانہ قدیم سے بڑا مشہور اور بڑا اہم رہا ہے۔ عمدہ قسم کا تیل نہایت شفاف ہوتا ہے۔ اسے اگر کسی صاف برتن یا گلاس یا گلاس کی قندیل میں رکھ دیا جائے تو ایسا محسوس ہوگا کہ کوئی شے ہے جو خود ہی روشن ہے اور اگر اس سے چراغ جلایا جائے تو ایسا لگے گا کہ گویا نور سے نور نکل رہا ہے۔ اسی حقیقت کی منظر کشی سورۃ النورآیت 35میں کی گئی ہے اور روغن زیتون سے روشن قندیل کی روشنی کو ” نور علی نور“ کہا گیا ہے۔ انار : قرآنی نام : رُمَّانٌ دیگر نام : Pomegranate (انگریزی) Granade (فرانسیسی) Granat ( روسی) Granatapfel ( جرمن) Punicum (لاطینی) Me lagrana ( اطالوی) Rimmon (عبرانی) Granada (ہسپانوی) Roa (یونانی) (سنسکرت) تیلگو داون (کشمیری) رمان (عربی) انار (فارسی، اردو، ہندی، پنجابی) نباتاتی نام : Punica granatum linn.(Family:punicaceae) قرآنی آیات بسلسلہ انار : (1) سورۃ الانعام آیت :100 (2) سورۃ الانعام آیت : 142 (3) سورۃ الرحمن آیت : 68,69 انار کا ذکر ’ رمان‘ کے نام سے قرآن حکیم میں تین بار آیا ہے اور تینوں بار انسان کو اہم نصیحتیں کی گئی ہیں۔ مثلاً سورۃ الانعام کی آیت :142 میں حکم ہوا کہ کھجور، زیتون اور انار وغیرہ کی جب فصلیں کاٹی جائیں تو فوراً اس میں سے ایک حصہ حقدار کو دے دیا جائے اس طرح اشارہ کیا گیا قدرت کی نعمتیں عام انسانوں کے لیے بھی ہیں جو لوگ باغ کے پھلوں کو اور کھیت کی پیداوار کو اپنے لیے مخصوص رکھنا چاہتے ہیں اور دوسروں کی حق تلفی کرتے ہیں وہ اللہ کی نظر میں ناپسند یدہ انسان ہیں۔ قرآن کا یہ ارشاد سماج میں اجارہ داری اور سرمایہ داری کو نامناسب قرار دیتا ہے۔ نباتاتی سائنس کی رو سے انار کا نام Pumigranatum ہے۔ انار کے دانوں کا رس ایک ہلکی اور فرحت انگیز غذا ہے جو دل کے امراض میں بہت سود مند ہے میٹھا انار قبض کشا ہوتا ہے جبکہ تھوڑی سی کھٹاس والے انار کے دانے معدہ کے ورم اور دل کے لیے لا جواب دوا اور ٹانک ہیں ان دانوں سے تیار کیا گیا شربت Dyspepsia جیسے معدہ کی روگوں کو فائدہ دیتا ہے۔ اسہال یا پیچش میں مبتلا مریضوں کے لیے پچاس گرام انار کا رس ایک بہترین علاج بھی ہے اور کمزوری رفع کرنے کا طریقہ بھی۔ قلت خون، یرقان، بلڈ پریشر، بواسیر اور ہڈیوں وجوڑوں کے درد میں انار کے طبی فوائد طب یونانی آیورویدک اور ایلو پیتھی میں بھی تسلیم کیے گئے ہیں۔ شہد کے ساتھ انار رس Biliousness میں کمی لاتا ہے۔ انار کا پھل دل ودماغ کو فرحت اور تازگی بخشتا ہے۔ انار کی جڑ کی چھال ایک ایسی بے مثال دوا ہے جسے پانی میں ابال کر مریض کو پلانے سے Tape worm سمیت پیٹ کے کیڑے ختم ہوجاتے ہیں۔ بعض تحقیقات سے معلوم ہوا ہے اس کا ابلا ہوا پانی ٹی بی اور پرانے بخار کو ختم کرنے میں موثر ثابت ہوا ہے۔ مزید براں ملیریا کے بعد کی کمزوری کو بھی دور کرتا ہے۔ بعض نسوانی امراض میں انار کی جڑ کی چھال کا استعمال ایک حتمی علاج سمجھا جاتا ہے۔ انار کے پھولوں سے ایک لال رنگ حاصل کیا جاتا ہے جو غذائی اشیاء میں استعمال ہو سکتا ہے انار کے پھول اسقاط حمل کو روکنے کی بھی دواہیں۔ انار کے پھل کا چھلکا بھی طبی اہمیت کا حامل ہے۔ دودھ میں چھلکا ابال کر پلانے سے پرانی پیچش کے مریض کو فوراً افاقہ ہوتا ہے۔ یہ چھلکا تجارتی طور پر بھی بڑے کام کی چیز ہے کیونکہ اس میں بیس فیصد سے زیادہ (رض) annin ہوتا ہے اس لیے کچے چمڑے کو پکانے کے لیے ان چھلکوں کا استعمال بڑے پیمانے پر افریقہ کے کچھ ملکوں میں کیا جاتا ہے۔ مراکش اور اسپین کا جو چمڑا کسی زمانے میں بہت مشہور تھا اس کی (رض) anning انار کے چھلکوں سے کی جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ نعمتوں میں انار بھی ایک بڑی نعمت ہے جس کی بابت خدائے برتر فرماتا ہے: ﴿فِیہِمَا فَاکِہَۃٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ فَبِأَیِّ آَلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ [ الرحمٰن :68] ” ان دونوں میں میوے ہوں گے اور کھجور اور انار۔ تم اپنے پرور دگا رکی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ ہی مختلف انواع و اقسام کے درخت اگاتا ہے۔ 2۔ پھلوں کے علیحدہ رنگ و مختلف ذائقے ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ 3۔ فصل کاٹتے وقت اس کا حق ادا کرنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ الانعام
142 فہم القرآن : (آیت 142 سے 144) ربط کلام : اہل مکہ جس طرح من ساختہ اصولوں کی بنیاد پر اپنی فصلوں میں اللہ کے سوا دو سروں کا حصہ مقرر کرتے تھے۔ اسی باطل اصول کی بنیاد پر انھوں نے جانوروں کے بارے میں بھی یہ اصول بنالیا تھا کہ فلاں مردوں کے لیے جائز ہے اور فلاں جانور صرف عورتوں کو کھانے کی اجازت ہوگی۔ شریعت نام ہے اللہ اور اس کے رسول کے فرمودات کا۔ رسول اکرم (ﷺ) بھی اسی چیز کو حلال اور حرام قرار دینے کے پابند ہیں۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام یا حلال کرنے کا حکم دیا ہو۔ بصورت دیگر کسی شخص کو یہ اختیار نہیں کہ وہ حلال و حرام کے ضابطے بنائے اور ان کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال قرار دے۔ سورۃ التحریم کی پہلی آیت میں نبی اکرم (ﷺ) کو مخاطب کرتے ہوئے اسی اصول کی وضاحت فرمائی کہ اے نبی (ﷺ) آپ کو کسی طرح بھی یہ اختیار نہیں کہ آپ اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام قرار دیں۔ یہاں ” حمولہ“ سے مراد وہ جانور ہیں جو سواری، باربرداری اور کاشتکاری کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً بیل، اونٹ، گھوڑے، گدھے اور خچر۔” الفرش“ کا لفظ استعمال فرما کر ان جانوروں کی نشاندہی کی گئی ہے جو کھیتی باڑی، سواری اور بار برداری کی بجائے انسان کی دوسری ضروریات پورا کرتے ہیں۔ بھیڑ، بکری اور مرغ وغیرہ جس میں گوشت، انڈے، زیبائش اور میڈیکل کی ضروریات یہاں تک کہ ان کی کھال اور ہڈیوں سے بے شمار چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ یہ تمھارے لیے اللہ تعالیٰ کا رزق ہے انھیں کھاؤ اور استعمال کرو لیکن شیطان کی پیروی کرنے سے بچو۔ کیونکہ شیطان تمھارا کھلم کھلا دشمن ہے۔ یہ شیطان کی کارستانی اور اس کی پیروی کا نتیجہ ہے کہ لوگ جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے ان پر غیر اللہ کا نام لیتے اور انھیں بتوں اور مزارات کی نذر کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی پرلے درجے کی ناشکری اور اس کی بغاوت کے مترادف ہے۔ اہل مکہ نے اپنے من ساختہ اصولوں کے مطابق کسی جانور کا مادہ اور کسی کا نر حرام ٹھہرا لیا تھا۔ جیسا کہ اسی سورۃ کی آیت ،139,138 میں ان کا عقیدہ بیان ہوا ہے کہ جس جانور یا کھیتی کو وہ اپنے بتوں کی نذر کرتے ان کے بارے میں یہ اصول کار فرما تھا کہ اس میں جو بچہ پیدا ہو وہ صرف ہمارے مردوں کے لیے حلال اور ہماری عورتوں کے لیے اس کا کھانا ہرگز جائز نہیں اگر اونٹنی اور گائے وغیرہ سے پیدا ہونے والا بچہ مردہ ہو تو اس کو مرد اور عورتیں کھا سکتی ہیں۔ یہاں بھیڑ، بکری کے چار جوڑوں کا ذکر کرنے کے بعد مشرکین سے استفسار فرمایا کہ اگر تمھارے بے ہودہ اصول اور باطل عقیدہ کی کوئی ٹھوس دلیل ہے تو اس کی علمی دلیل پیش کرو اگر تم اپنے من ساختہ حرام وحلال کے نظریہ میں سچے ہو۔ علم سے مراد وحی کا علم ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ تمھارے من گھڑت اصولوں کی کسی بھی شریعت سے تائید نہیں ہوتی گویا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی رسول پر یہ حکم نازل نہیں کیا کہ جس میں یہ ہو کہ فلاں جانور کا مادہ حلال ہے اور اس کا نرحرام! بھیڑ اور بکری کے جوڑوں کے بعد اونٹ اور گائے کے چار جوڑوں کا ذکر فرما کر سوال کیا ہے ان کے نر یعنی مذکر حرام ہیں یا ان کے مادے ؟ یا ان کے بچے جو ان کی مؤنث کے پیٹ میں ہوتے ہیں۔ اگر تم اپنے نقطہ نظر میں سچے ہو تو بتاؤ کہ کیا جب اللہ تعالیٰ نے ان کے جائز اور ناجائز کا حکم دیا تھا تو تم میں سے کوئی اس وقت موجود تھا۔ حرام و حلال کے یہ اصول دراصل اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان ہیں۔ یاد رکھو وہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے جو اپنے جھوٹ کو اللہ کی طرف منسوب کرتا ہے تاکہ اس جہالت کی بنیاد پر لوگوں کو گمراہ کرے اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دے انھیں کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ مسائل : 1۔ ہر طرح کے جانوروں کو پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا عنایت کیا پاکیزہ اور حلال رزق کھانا چاہیے۔ 3۔ شیطان تمام لوگوں کا واضح دشمن ہے، اس سے بچنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو حلال کو حرام اور حلال کو حرام کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹ لگا کر لوگ ایک دوسرے کو گمراہ کرتے ہیں۔ 6۔ اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ الانعام
143 الانعام
144 الانعام
145 فہم القرآن : (آیت 145 سے 147) ربط کلام : حرام و حلال کے عقلی، شرعی اور توحید کے دلائل دینے کے بعد نبی اکرم (ﷺ) کو وضاحت کے لیے مزید کہا جارہا ہے۔ اہل مکہ نے اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو ایک دوسرے کے لیے حرام قرار دے لیا تھا۔ جس کی سابقہ آیات میں نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق کو خود ساختہ شریعت کی وجہ سے اپنے آپ پر حرام کرلیا ہے وہ گمراہ ہوئے۔ پھر نباتات اور حیوانات کے حوالے سے توحید کے دلائل دیے جس میں یہ ثابت کیا گیا ان کے خالق کے علاوہ کسی کو حرام و حلال کے تعین کرنے کا حق نہیں۔ کفار نے من مرضی سے قانون بنا کر لوگوں کو یہ تاثر دیا تھا کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرام کردہ ہیں۔ اس کے ان کے پاس شرعی دلائل نہ تھے۔ کیونکہ کسی شریعت میں حرام و حلال کی یہ فہرست نازل نہیں ہوئی کہ جس میں یہ بتلایا گیا ہو کہ کھانے پینے کی فلاں چیز مرد کے لیے جائز اور عورت کے لیے حرام ہے اور فلاں چیز عورت کے لیے حلال ہے لیکن مرد کے لیے حرام ہے۔ یہ ایسی تقسیم ہے جس کے بارے میں خوامخواہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیا سبب ہے کہ فلاں کھانے کی چیز شرعی طور پر مرد کے لیے جائز ہے اور عورت کے لیے حرام۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لباس اور زیورات کے بارے میں مرد و زن میں شریعت نے فرق قائم کیا ہے لیکن خورد و نوش کے سلسلہ میں حرام و حلال کے اصول سب کے لیے برابر ہیں۔ اس لیے ان کے پاس اپنی بنائی ہوئی شریعت کا کوئی عقلی ثبوت نہیں تھا۔ اور نہ ہی اس تقسیم کا کوئی ثبوت پہلی شریعتوں میں پایا جاتا ہے کہ کھیتی کا اتنا حصہ غیر اللہ کے نام وقف کیا جائے اور اگر اس وقف میں کسی وجہ سے نقصان ہو تو وہ فی سبیل اللہ کے کھاتہ سے پورا کرلیا جائے۔ اس کے برعکس تمام شریعتوں میں یہ بات متفق علیہ ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی غیر اللہ کے نام دینا شرک ہے۔ چونکہ ان کے پاس عقلی و نقلی دلائل نہیں تھے اس لیے نبی اکرم (ﷺ) کو حکم ہوا کہ ان کو بتلائیں کہ وحی تمھارے پاس نہیں میرے پاس آتی ہے اور اس وحی میں کھانے والے پر کوئی چیز کھانا حرام نہیں سوائے مردار، بہنے والے خون، خنزیر کے گوشت کے کیونکہ وہ پلید اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ اسی طرح وہ چیز بھی حرام ہے جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کی گئی ہو۔ یہ چیزیں اس شخص کے لیے حلال ہوں گی جسے کھانے کے لیے کوئی چیز میسر نہ ہو اور اسے اپنی موت واقع ہونے کا خطرہ لاحق ہوجائے۔ اور یہ شخص عام حالات میں حرام و حلال کی تمیز کرنے والا ہو۔ ایسی صورت میں حرام کھانے والے کو اللہ تعالیٰ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ بعض لوگ اس آیت میں لفظ ﴿اِلاَّ﴾ سے غلط استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذکورہ بالا چیزوں کے سوا باقی تمام چیزیں حلال ہیں۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے لفظ ﴿اِلاَّ﴾ حصر کے لیے آتا ہے جس کا معنی ہے کہ صرف یہی چیزیں حرام ہیں جس بنا پر وہ غلط استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان چیزوں کے علاوہ کھانے پینے کی باقی چیزوں پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔ حالانکہ قرآن مجید میں شراب حرام کی گئی جو پینے کی چیز ہے کھانے کے سلسلہ میں مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کی ہوئی چیز کے ساتھ وہ جانور جو گلا گھٹ کر، چوٹ کھا کر بلندی سے گر کر یا سینگ کی ضرب سے مر گیا ہو وہ بھی حرام ہے۔ [ المائدۃ:3] ان کا استدلال اس لیے بھی غلط ہے کہ یہاں ان چار چیزوں کی حرمت کے فوراً بعد تورات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہودیوں پر ناخن والے جانور حرام کرنے کے ساتھ، بکری اور گائے کی چربی بھی حرام کی گئی تھی سوائے اس کے جو جانور کی ہڈیوں سے الگ نہیں ہو سکتی تھی یہ چربی اس لیے ان پر حرام کی گئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے تھے۔ آخر میں کفار کے بوسیدہ دلائل کا یہ کہہ کر جواب دیا گیا ہے کہ حلال و حرام کی جو فہرست اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتے ہیں اس میں وہ جھوٹ بولتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق جو فہرست مرحمت فرمائی ہے وہ سراسر سچ ہے۔ اگر ٹھوس دلائل کے باوجود یہ لوگ آپ (ﷺ) کی تکذیب کرتے ہیں اور ان کی گرفت نہیں ہو رہی تو انھیں فرمائیں چونکہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ ظرف اور اس کی رحمت بے کنار ہے اس لیے وہ تمھیں مہلت دیتا ہے۔ لیکن یاد رکھو جب اس کا عذاب نازل ہوگا تو اس سے مجرم کو کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ قارئین کی سہولت کے لیے ہم جلد اول کی پوری پوری عبارت درج کرتے ہیں۔ جوسورۃ البقرۃ 173میں ان چار چیزوں کے حرام ہونے کے بارے میں پیش کی گئی ہے۔ (1) مردار : ہرقسم کے مردار کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے دوچیزوں کے رسول کریم (ﷺ) کا ارشاد ہے : (اُحِلَّتْ لَنَا مَیْتَتَانِ اَلْحُوْتُ وَالْجَرَادُ) [ رواہ ابن ماجہ : کتاب الصید، باب صید الحیتان والجراد] ” ہمارے لیے دو مردار حلال کیے گئے ہیں۔ مچھلی اور ٹڈی۔“ (2) خون : نزول قرآن کے وقت وحشی قبائل نہ صرف مردار کھایا کرتے بلکہ وہ جانوروں کا خون بھی پی جایا کرتے تھے۔ جس طرح آج بھی افریقہ کے کئی وحشی قبائل جانوروں کا ہی نہیں بلکہ انسانوں کا بھی خون پینے سے گریز نہیں کرتے۔ جدید تحقیق کے مطابق خون میں کئی ایسے جراثیم ہوتے ہیں جن سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ نے مردہ یا زندہ جانور کا خون پینے سے منع فرما دیا ہے البتہ کسی کی زندگی بچانے کے لیے خون کا طبی استعمال جائز ہے۔ (3) خنزیر : خنزیر کا گوشت کھانا بھی حرام ہے۔ اس کے بارے میں جدید اور قدیم اطباء کا اتفاق ہے کہ اس کا گوشت کھانے سے انسان کے جسم میں نہ صرف مہلک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ آدمی میں بے حیائی اور بے شرمی کے جذبات ابھرتے ہیں۔ کیونکہ خنزیر جانوروں میں سب سے زیادہ بے غیرت جانور ہے۔ کوئی بھی جانور اپنی جنم دینے والی مادہ کے ساتھ اختلاط کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا سوائے خنزیرکے۔ اس کی طبیعت میں اس کام میں کوئی جھجک نہیں پائی جاتی۔ (4) غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ : غیر اللہ کے نام پر ذبح کی ہوئی یا پکائی ہوئی چیز اس لیے حرام کی گئی کہ اس سے روح، غیرت اور ایمان کی موت واقع ہوتی ہے۔ ایک غیرت مند ایمان دار سے یہ کس طرح توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ٹھہرائے گئے شریک کے نام پر چڑھائی گئی چیز کھانے یا استعمال کرنے پر آمادہ ہوجائے ؟ یہ نہ صرف غیرت ایمانی کے منافی ہے بلکہ فطرت بھی اس بات کو گوارا نہیں کرتی بشرطیکہ کسی کی فطرت ہی مسخ نہ ہوچکی ہو۔ فطرت سلیم کا ثبوت اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے مکہ میں پایا گیا ہے۔ (عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ () أَ نَّہٗ لَقِیَ زَیْدَ بْنَ عَمْرِ و بْنِ نُفَیْلٍ بِأَسْفَلَ بَلْدَحٍ وَذَاکَ قَبْلَ أَنْ یُّنْزَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ () الْوَحْیُ فَقُدِّمَتْ إِلَی النَّبِیِّ () سُفْرَۃٌ فَأَبٰی أَنْ یَّأْکُلَ مِنْھَا ثُمَّ قَالَ زَیْدٌ إِنِّیْ لَسْتُ آکُلُ مِمَّا تَذْبَحُوْنَ عَلٰی أَنْصَابِکُمْ وَلَا آکُلُ إِلَّا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الذبائح والصید، باب ماذبح علی النصب والأصنام] ” وحی نازل ہونے سے پہلے بلدح کے نشیبی علاقے میں رسول کریم (ﷺ) کی ملاقات زید بن عمر وبن نفیل سے ہوئی۔ رسول معظم (ﷺ) کے سامنے ایک دستر خوان لایا گیا جس پر غیر اللہ کے نام کی کوئی چیز تھی۔ آپ نے کھانے سے انکار کردیا۔ اسکے ساتھ ہی جناب زید نے کہا کہ میں بھی ان ذبیحوں کا گوشت نہیں کھاتا جو تم اپنے آستانوں پر ذبح کرتے ہو اور نہ ان جیسی کوئی اور چیز کھاتاہوں۔ سوائے اس چیز کے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔“ مزارات اور بت خانوں پر ذبح کرنا حرام ہے : (عَنْ ثَابِتِ ابْنِ الضَّحَاکِ (رض) قَالَ نذَرَ رَجُلٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ () أَنْ یَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَأَتَی النَّبِیَّ () فَقَالَ إِنِّیْ نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَقَال النَّبِیُّ () ھَلْ کَانَ فِیْھَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاھِلِیَّۃِ یُعْبَدُ قَالُوْا لَا قَالَ ھَلْ کَانَ فِیْھَا عِیْدٌ مِنْ أَعْیَادِھِمْ قَالُوْا لَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () أَوْفِ بِنَذْرِکَ فِإِنَّہٗ لَاوَفَاءَ لِنَذْرٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا فِیْمَا لَا یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ) [ رواہ أبوداؤد : کتاب الأیمان والنذور باب مایؤمربہ من وفاء النذر] ” ثابت بن ضحاک (رض) نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) کے دور میں ایک آدمی نے بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ اس نے رسول اللہ (ﷺ) کے پاس آکر عرض کی میں نے نذر مانی ہے کہ میں بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کروں گا تو آپ (ﷺ) نے فرمایا : کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے پھر پوچھا : کیا وہاں کوئی ان کا میلہ لگتا تھا؟ صحابہ نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ نذر پوری کرنالازم ہے جس کی انسان طاقت نہیں رکھتا۔“ اللہ تعالیٰ کا رحم وکرم تو دیکھیے کہ ان چار چیزوں سے سختی کے ساتھ منع کرنے کے باوجود ایسے شخص کے لیے ان کو کھانے کی اجازت دی جارہی ہے جسے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہو۔ لیکن اس کے ساتھ یہ شرط رکھی کہ نہ وہ پہلے سے ان چیزوں کے کھانے کا عادی ہو اور نہ ہی حرام خوری کی طرف اس کا دل مائل ہو۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس جانور پر ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام لیا جائے، صرف وہی حرام ہوتا ہے۔ یہ تصور بالکل غلط ہے، کیونکہ قرآن کے الفاظ میں نہ جانور کا ذکر ہے نہ ذبح کا بلکہ ” ما“ کا لفظ ہے جس میں عمومیت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اس کا معنی یہ ہوگا کہ جو چیز کسی فوت شدہ بزرگ‘ دیوی، دیوتا کا تقرب حاصل کرنے اور اس کے نام پر مشہور کردی جائے جیسے امام جعفر کے کو نڈے، بی بی پاک دامن کی صحنک، مزار کے لیے بکرا وغیرہ یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ اگر کوئی چیز جو فی نفسہٖ حلال ہو اور اس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام ہی کیوں نہ لیا جائے وہ حرام ہی رہے گی۔ کیونکہ غیر اللہ کے نام کی نیت رکھنے سے ہی وہ چیز حرام ہوجائے گی۔ اللہ کی عطا کردہ چیزوں کی قربانی یا نذر ونیاز صرف اللہ کے نام کی ہونا چاہیے اس میں کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ ہاں اگر کوئی شخص صدقہ وخیرات یا قربانی کرتا ہے اور اس سے اس کی نیت یہ ہو کہ اس کا ثواب میرے فوت شدہ والدین یا فلاں رشتہ دار یا فلاں بزرگ کو پہنچے تو اس میں کوئی حرج نہیں، یہ نیک عمل ہے اور سنت سے ثابت ہے۔ حرام جانور کی نشانی : (عَنْ أَبِی ثَعْلَبَۃَ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ () نَہٰی عَنْ أَکْلِ کُلِّ ذِی نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الذبائح والصید، باب أکل کل ذی ناب من السباع] ” حضرت ابو ثعلبہ (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم (ﷺ) نے ہر کچلی والے جانور کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔“ مسائل : 1۔ قرآن مجید میں مردار، خون، خنزیر کا گوشت، غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانور کے ساتھ اور چیزیں بھی حرام ہیں۔ 2۔ حرام چیزوں کا کھانا انتہائی مجبور شخص کے لیے جائز ہے۔ لیکن دوسرے کے لیے حرام ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ 4۔ یہودیوں کی بار بار نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر گائے اور بکری کی چربی بھی حرام کردی گئی۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فرمان سچا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی بے کنار ہے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ٹالنے والا کوئی نہیں۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں : 1۔ تم پر اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے مردار، خون اور خنزیر کا گوشت۔ (البقرۃ:173) 2۔ سودی کاروبار حرام اور لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھانا حرام ہے۔ (النساء : 160، البقرۃ:275) 3۔ اللہ تعالیٰ نے ظاہر اور پوشیدہ برائی حرام کردی ہے۔ (الاعراف :33) 4۔ کسی جان کا بغیر حق کے قتل کرنا حرام ہے۔ (الاسراء :33) 5۔ یہود پر جانوروں کی چربی حرام کردی گئی۔ (الانعام :146) رحمت خداوندی کی وسعتیں : 1۔ مصائب پر صبر کرنے والوں کے لیے اللہ کی رحمت و بخشش۔ (البقرۃ:156) 2۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ (ﷺ) لوگوں کے لیے نرم دل ہیں۔ (آل عمران :159) 3۔ آپ (ﷺ) کا رب غنی صاحب رحمت ہے۔ (الانعام :133) 4۔ قرآن مومنین کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ (الاسراء :82) 5۔ اللہ کی رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے۔ (الاعراف :156) 6۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے۔ (الدھر :31) 7۔ لوگوں کو اللہ کی رحمت اور فضل پر خوش ہونا چاہیے۔ (یونس :58) 8۔ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا ہے۔ (الانبیاء :86) الانعام
146 الانعام
147 الانعام
148 فہم القرآن : (آیت 148 سے 150) ربط کلام : مشرک اور اللہ کے نافرمان لوگوں کے خود ساختہ بہانے۔ مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ گناہ کو چھوڑنے کے بجائے اس کا جواز اور بہانہ تلاش کرتے ہیں۔ جس کے لیے یہ لوگ جھوٹے دلائل دینے کے ساتھ اپنے آباؤ اجداد کی رسومات کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ عادت ہر دور کے مشرک اور نافرمانوں کی رہی ہے۔ اسی بنا پر فرمایا گیا ہے کہ حرام و حلال کے متعلق عقلی اور نقلی دلائل نہ رکھنے والے لوگ عنقریب یہ دلیل دیں گے کہ اگر واقعی اللہ تعالیٰ شرک اور حرام خوری کو ناپسند کرتا تو پھر ہم اور ہمارے آباؤ اجداد شرک کرنے اور کسی چیز کو حرام قرار دینے کی کس طرح جرأت کرسکتے تھے؟ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا یہاں تک کہ انھیں اللہ کے عذاب نے آلیا۔ قرآن مجید میں یہ بات کئی مقامات پر سمجھائی گئی ہے کہ کسی کو جبراً ہدایت کے راستے پر چلانا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے منافی ہے۔ اس لیے یہاں ایسے لوگوں کو تفصیلی جواب دینے کے بجائے فقط اتنا ہی جواب دینا مناسب سمجھا گیا ہے کہ اسی طرح کے بہانے بنا کر تم سے پہلے لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا کرتے تھے، یہاں تک کہ انھیں اللہ کے عذاب نے آلیا۔ اگر تمھارے پاس علم کی بنیاد پر کوئی دلیل ہے تو اسے ہمارے سامنے پیش کرو۔ لیکن تمھاری حالت تو یہ ہے کہ تم محض اپنے خیالات کی پیروی کرتے ہوئے بے بنیاد باتیں بنا تے ہو۔ یہ کوئی ٹھوس دلیل پیش نہیں کرسکتے لہٰذا انھیں فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کی دلیل تمھیں پہنچ چکی ہے جو عقل و فکر اور ہر اعتبار سے کا مل اور اکمل ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ جبراً چاہتاتو سب لوگوں کو ہدایت پر اکٹھا کرسکتا تھا لیکن ہدایت واضح کرنے کے بعد اس نے انسان کو فیصلہ کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جبراً ہدایت قبول کرنے پر کسی کو مجبور نہیں کرتا۔ اب پھر اتمام حجت کے لیے انہی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر تمھارے پاس علم کی کوئی سند نہیں تو تم ایسے گواہ پیش کرو۔ جو علمی اور فکری دلائل سے ثابت کریں کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے تمھاری حرام کردہ چیزوں کو حرام کیا اور شرک کا کوئی جواز پیش کیا ہے۔ یہاں گواہوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو حق اور سچ کی گواہی دینے والے ہوں۔ ظاہر ہے جس طرح ان کے پاس شرک اور حرام خوری کے لیے علمی اور شرعی دلائل نہیں اسی طرح ایسے گواہوں کا ملنا مشکل ہے جو تورات اور انجیل سے ان کی حرام خوری اور شرک کا ثبوت پیش کرسکیں۔ اسی بنا پر فرمایا کہ اگر علم و عقل سے عاری لوگ شہادت دینے کے لیے کھڑے ہوجائیں تو آپ (ﷺ) کو ان کے ساتھ ہرگز گواہی نہیں دینا چاہیے۔ اور ایسے لوگوں کے جذبات و خیالات کا ہرگز خیال نہیں کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب، آخرت کا انکار اور اپنے خالق و مالک کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ شرک اور حرام خوری کا انجام : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () مَنْ مَّاتَ یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ النَّارَ وَقُلْتُ أَنَا مَنْ مَّاتَ لَا یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ماجاء فی الجنائز] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا جو کوئی اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ جہنم میں جائے گا اور میں بھی یہ کہتا ہوں جس شخص نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا اور وہ اسی حال میں فوت ہوا وہ جنت میں جائے گا۔“ مسائل : 1۔ مشرک اور حرام خور، شرک اور حرام خوری کے لیے بہانے بناتے ہیں۔ 2۔ آدمی کو قرآن و سنت کے علم کے مقابلہ میں اپنے خیالات کی پیروی نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کسی کو جبراً ہدایت پر گامزن نہیں کرتا۔ 4۔ جھوٹے گواہ کی تائید نہیں کرنی چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنا، آخرت کا انکار ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا پرلے درجے کے گناہ ہیں۔ تفسیر بالقرآن : گمراہ لوگوں کی پیروی سے اجتناب : 1۔ جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار اور مذاق اڑاتے ہیں تم ان کے ساتھ مت بیٹھو۔ (النساء :140) 2۔ یہودی مسلمانوں کو اپنی طرح کافر بنا دینا چاہتے ہیں ان کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ (النساء :89) 3۔ آپ (ﷺ) کفارکی خواہشات کے پیچھے مت چلیں۔ (البقرۃ:145) 4۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو کفار اور منافقین کی پیروی سے اجتناب کا حکم دیا ہے۔ (الاحزاب :1) الانعام
149 الانعام
150 الانعام
151 فہم القرآن : ربط کلام : مشرکین مکہ من گھڑت حلال و حرام کی فہرست کو اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتے تھے جس کی تردید کرنے کے بعد اب وہ فہرست پیش کی جارہی ہے جس کو حقیقتاً اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اس میں اعتقادی، اخلاقی، اور معاشی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ شرک کے پیشواؤں اور یہودیوں کے رہنماؤں نے اپنی طرف سے حلال و حرام کے قواعد بنا کر لوگوں کو یہ تاثر دیا ہوا تھا۔ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرام کی گئی ہیں۔ پہلی آیات میں ان کے جھوٹ کی قلعی کھول کر اس فہرست کو عقل و نقل کے خلاف ثابت کیا ہے پھر اس پر ان سے گواہی طلب کی گئی جب وہ ان چیزوں کی حرمت و حلت کے بارے میں گواہی دینے سے انکاری اور ان کے جواز کی دلیل دینے میں ناکام ہوئے تو آپ کو حکم ہوا کہ انھیں بلائیں اور ارشاد فرمائیں کہ وہ چیزیں حرام نہیں جنھیں تم حرام کہتے ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں میرے دین اور پہلی شریعتوں میں حرام قرار دی ہیں۔ 1۔ شرک : اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں غیروں کو شریک سمجھنا اور شرک کرنا ہے۔ شرک کے بارے میں قرآن مجید نے فرمایا ہے اس کی کوئی دلیل نہیں اتاری گئی۔ اس لیے اسے ظلم عظیم قرار دیا گیا جو شخص شرک کے حق میں دلیل دیتا ہے گویا کہ وہ خاکم بدہن، اللہ تعالیٰ کو جھوٹا قرار دے کر اس کی ذات اور صفات میں شریک ثابت کرنے کی گھٹیا ترین کوشش کرتا ہے۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) نے شرک کی تردید کے لیے اپنی زندگیاں صرف کردیں۔ لیکن اس کے باوجود مشرک اس کے جواز کی دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے شدید ترین الفاظ میں اسے ظلم اور ناجائز ثابت کر کے ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔ (عَنْ أَنَسٍ (رض) قَالَ سُئِلَ النَّبِیَّ () عَنِ الْکَبَائِرِ قَالَ الْإِشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَشَہَادَۃُ الزُّورِ) [ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب ماقیل فی شہادۃ الزور] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی مکرم (ﷺ) سے استفسار کیا گیا کہ گناہ کبیرہ کون سے ہیں۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، بے گناہ کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔“ 2۔ والدین کی نافرمانی : قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کا اثبات اور شرک کی نفی کرتے ہوئے والدین کے احترام و مقام اور ان کے ساتھ احسان کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے۔ ہر مرتبہ والدین کی اطاعت کا حکم دے کر لفظ احسان استعمال فرمایا ہے۔ حدیث میں احسان کا لفظ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بارے میں استعمال ہوا ہے کہ عبادت گزار کے ذہن میں یہ تصور پیدا ہو جیسا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو براہ راست دیکھ رہا ہے۔ اگر احسان کا یہ درجہ حاصل نہیں ہوتا تو کم ازکم یہ تو ضرور ہونا چاہیے کہ وہ یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ (مسلم : باب بیان الایمان والاسلام والاحسان) ” احسان“ کا دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ کوئی نیکی نہ بھی کرے پھر بھی اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تمام شریعتوں میں اخلاق کے اس درجہ کو احسان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں والدین کے بارے میں یہ لفظ 5 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ جس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ اولاد کو والدین کی کمزور یوں پر نظر رکھنے کے بجائے ان کے مرتبہ و مقام اور احسانات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقام و مرتبہ کے ساتھ والدین کے مقام کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ والدین کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بعد انسان کی تخلیق اور پرورش کا واحد ذریعہ قرار دیا ہے اور اسی تصور کو تازہ کرنے اور یاد رکھنے کے لیے یہ دعا کرنے کا حکم دیا۔ (عن عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ سَأَلْتُ النَّبِیَّ () أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ قَال الصَّلَاۃُ عَلٰی وَقْتِہَا قَالَ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ قَالَ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ الْجِہَادُ فِی سَبِیل اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنِی بِہِنَّ وَلَوْ اسْتَزَدْتُہُ لَزَادَنِی) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب قول اللہ تعالیٰ ووصینا الانسان بوالدین احسانا] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم (ﷺ) سے استفسار کیا کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے ؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے پوچھا پھر کون سا ہے؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے پوچھا پھر کون سا عمل ہے ؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں یہ باتیں نبی اکرم (ﷺ) نے بتائیں اگر میں مزید پوچھتا تو آپ مجھے اور بھی بتاتے۔“ قتل اولاد : سورۃ الانعام کی آیت 137کے تفسیر کرتے ہوئے عرض کیا گیا ہے کہ ہمیشہ سے دنیا میں قتل اولاد چار صورتوں میں سے کوئی ایک صورت رہی ہے۔ 1۔ رزق کی تنگی کی وجہ سے اولاد قتل کرنا۔ 2۔ غیر اللہ کے نام پر بچوں کو قتل کرنا۔ 3۔ رشتۂ داماد کی عار سے بچنے کے لیے بیٹیوں کو قتل کرنا۔ 4۔ جنگ و جدال میں بچیوں کی گرفتاری کے خوف سے قتل کرنا۔ قتل اولاد کے جرم کے بارے میں سورۃ الانعام آیت 137کی تشریح ملاحظہ فرمائیں۔ ” زمانۂ جاہلیت کا یہ فعل قبیح آج کل ضبط ولادت یا خاندانی منصوبہ بندی کے نام سے پوری دنیا میں زور و شور سے جاری ہے اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے۔“ کھلی اور پوشیدہ بے حیائی سے اجتناب کا حکم : دین اسلام اپنے ماننے والے کو صرف بے حیائی کرنے سے ہی نہیں روکتا بلکہ دین ایسے ذرائع اور مقامات کے قریب جانے سے بھی منع کرتا ہے جس سے اس کی آنکھوں میں بے حیائی، دماغ میں بری سوچ اور اس کا وجود برائی کی طرف مائل ہوجائے۔ اس کے لیے سورۃ بنی اسرائیل آیت 32میں فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔ یہ بے حیائی کے ساتھ بدترین راستہ ہے۔ سورۃ الانعام، آیت 120میں حکم دیا گیا کہ گناہ کھلا ہو یا پوشیدہ اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ سورۃ النحل، آیت : 90میں کھلی بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کیا گیا ہے۔ یہاں بھی یہی حکم ہوا کہ بے حیائی کھلی ہو یا پوشیدہ اس کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ کیونکہ جو شخص بے حیائی کی طرف توجہ کرتا ہے اس کے بارے میں خطرہ ہے کہ وہ کسی وقت بھی اس میں ملوث ہوجائے گا۔ اسی خطرے کے پیش نظررسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے : (عن أبی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلٰی ابْنِ آدَمَ حَظَّہٗ مِنَ الزِّنَا أَدْرَکَ ذٰلِکَ لَا مَحَالَۃَ فَزِنَا الْعَیْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنّٰی وَتَشْتَہِی وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذٰلِکَ کُلَّہٗ وَیُکَذِّبُہُ) [ رواہ البخاری : کتاب الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد پر اس کا حصہ زنا کا مقرر کردیا ہے وہ اس سے بچ نہیں سکتا وہ اس کو پالے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا فحش باتیں کرنا ہے۔ انسان کا نفس اس کی خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ کَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِیفَ رَسُول اللّٰہِ () فَجَاءَ تْہُ امْرَأَۃٌ مِّنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِیہٖ فَجَعَلَ الْفَضْلُ یَنْظُرُ إِلَیْہَا وَتَنْظُرُ إِلَیْہِ فَجَعَلَ رَسُول اللّٰہِ () یَصْرِفُ وَجْہَ الْفَضْلِ إِلَی الشِّقِّ الْآخَر) [ رواہ ابوداؤد : کتاب المناسک، باب الرجل یحج عن غیرہ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں فضل بن عباس (رض) نبی معظم (ﷺ) کے پیچھے سواری پر سوار تھے نبی اکرم (ﷺ) کے پاس ایک عورت خثعم قبیلہ کی آئی اور کوئی مسئلہ پوچھنے لگی۔ فضل بن عباس اس کی طرف دیکھنے لگے اور عورت اس کی طرف دیکھنے لگی رسول معظم (ﷺ) نے فضل بن عباس (رض) کا چہرہ دوسری جانب پھیر دیا۔“ قتل نفس : سورۃ المائدۃ، آیت 31اور 32میں دنیا میں انسانی قتل کے پہلے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اسی وقت سے بنی اسرائیل پر یہ بات لاگو کردی تھی کہ جس نے کسی شخص کو ناجائز قتل کیا یا زمین میں دنگا فساد اور تخریب کاری کی تو گویا اس نے سب انسانوں کو تہہ تیغ کردیا ہے اور جس نے ایک شخص کی جان بچالی اس نے پوری انسانیت کا تحفظ کیا اسلام میں کسی کو قتل کرنے کی بنیادی طور پر چار صورتیں ہیں۔ 1۔ جو شخص دین اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجائے اسے قتل کردیا جائے۔ 2۔ قتل کے بدلے قتل۔ 3۔ شادی شدہ زانی کو پتھر مار مار کر ختم کیا جائے۔ 4۔ خلیفہ، برحق کے ہوتے ہوئے جو شخص اس کی خلافت میں دوسری خلافت قائم کرے یا بغاوت کرے اسے قتل کردیا جائے۔ قیامت کے دن حقوق اللہ کے بارے میں پہلا فیصلہ نماز کے بارے میں اور حقوق العباد کے بارے میں پہلا مقدمہ انسانی قتل کے بارے ہوگا۔ (عَنْ جَرِیرٍ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ () قَالَ لَہٗ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ اسْتَنْصِتْ النَّاسَ فَقَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ)[ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب الانصات للعلماء ] ” حضرت جریر (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ نبی معظم (ﷺ) نے اسے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا لوگوں کو خاموش کراؤ پھر فرمایا اے لوگو! میرے بعد تم کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم باہم ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کردو۔“ اس آیت میں شرک سے منع کرنا، قتل اولاد سے روکنا، کھلی اور پوشیدہ برائی سے دور رہنا اور ناجائز قتل کرنے سے روکنے کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے شرک سے پوری طرح بچ کر اللہ تعالیٰ کی توحید کا عقیدہ اپنایا جائے اور اولاد کو رزق کی تنگی کی بنا پر قتل کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رزاقی پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کی پرورش اور تربیت کی جائے۔ ہر قسم کی بے حیائی کے قریب جانے کے بجائے عفت و عصمت کی حفاظت کی جائے اور دوسرے کو ناحق قتل کرنے کے بجائے اس کے مال وجان، عزت وآبرو کی حفاظت کی جائے اور والدین کی نافرمانی کی بجائے ان کے ساتھ حسن سلوک برتا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دانشمندوں کے لیے وصیت ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے والا درحقیقت حماقت کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ توحید کا عقیدہ انسان کو اس کے رب کے قریب کرنے، غیرت مند بنانے کے ساتھ اس کے شرف میں اضافہ کرتا ہے۔ 2۔ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں انسان کا اپنا فائدہ اور گھر میں محبت و الفت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ والدین کی دعائیں ملتی ہے۔ 3۔ انسان اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق سے فائدہ اٹھائے اور ازدواجی زندگی سے لطف اندوز ہو مگر اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی اولاد کو قتل کر دے عقلمندی کے بجائے پرلے درجے کی حماقت ہے۔ 4۔ کسی کو ناجائزقتل کرنا انسان دشمنی اور درندگی ہے جس کی عقلمند شخص سے توقع نہیں کی جا سکتی۔ الانعام
152 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ :۔ پہلی آیت میں ایک کام کو کرنے اور چار کاموں سے منع کیا گیا ہے۔ اب معاشرے کے نہایت ہی پسماندہ طبقے یتیموں کے مالی حقوق کے تحفظ کا حکم دیا ہے کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ سن بلوغت کو پہنچ جائے۔ شریعت کے مطابق یتیم وہ ہوتا ہے جس کا بلوغت سے پہلے باپ فوت ہوجائے۔ نابالغ بچے میں کاروبار کرنے اور مال کے تحفظ کے سلسلے میں وہ شعور اور پختگی نہیں ہوتی جو جوان اور بالغ بچے میں ہوتی ہے۔ اس لیے حکم دیا کہ یتیم کے مال کے قریب بھی نہیں جانا۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ یتیم کے مال کو ناجائز طریقے سے کھانا سخت منع ہے۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں یتیم کی پرورش اس کے مال کا تحفظ کرنا اس کے سرپرست کی ذمہ داری قرار پائی ہے۔ یہاں یتیم کے سرپرست کو دو ہدایات دی گئی ہیں اگر اس کا کوئی اور کاروبار نہ ہو تو وہ نہایت عدل و انصاف کے ساتھ یتیم کے مال سے اپنے مناسب اخراجات پورے کرسکتا ہے جب یتیم عمر اور شعور کے اعتبار سے اپنے معاملات چلانے کا اہل ہوجائے تو اس کا مال گواہوں کی موجودگی میں اس کے حوالے کردینا چاہیے۔ یتیم کے مال کا تحفظ کرنے کے ساتھ سب لوگوں کے مال کو تحفظ دیا گیا ہے کہ ماپ تول میں کمی بیشی کرنے سے بچنا چاہیے کوئی چیز دیتے ہوئے طے شدہ اصول اور پیمانے سے کم نہیں ہونی چاہیے اور جب کسی سے کوئی چیز لی جائے تو پھر بھی عدل و انصاف کے پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے طے شدہ اصول اور پیمانے سے زیادہ نہیں لینی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی یہ وضاحت فرمائی کہ کاروبار اور معاشرتی زندگی میں جو تمھیں اصول دیے جا رہے ہیں یہ کوئی ایسی پابندی اور بوجھ نہیں جس پر کوئی شخص عمل نہیں کرسکتا۔ شریعت کے تمام اصول اور قانون ایسے ہیں جو انسان کی طاقت و ہمت کے مطابق ہیں۔ آٹھویں نصیحت یہ کی جاتی ہے کہ جب بھی بات کرو تو وہ اخلاق کے مطابق اور منصفانہ ہونی چاہیے۔ بے شک حق گواہی کسی عزیز کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں تک فرمایا کہ اگرچہ یہ تمھارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو تمھیں ہر حال میں سچ اور حق کہنا چاہیے۔ عدالت میں گواہی کے ساتھ اس میں مبلغ کی حق گوئی، جج کا انصاف اور ہر قسم کی گفتگو شامل ہے۔ یہاں نویں اور آخری نصیحت یہ کی جارہی ہے کہ ہر حال میں اپنے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ سے عہد کرنے کی تین صورتیں مفسرین نے بیان کی ہیں۔ 1۔ عہد سے مراد وہ ازلی عہد ہے جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو اس کی پشت پر اپنا دست مبارک رکھتے ہوئے ” کن“ کا حکم صادر فرمایا جس کا معنی ہے کہ ہوجا۔ قیامت تک کے لیے جتنے انسان پیدا ہونے ہیں وہ سب کے سب آدم (علیہ السلام) کے سامنے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان سے یہ استفسار فرما کر عہد لیا کہ کیا میں تمھارا رب ہوں ؟ جس کا سب نے اقرار کیا تو ہی ہمارا رب ہے۔ اس کی تفصیل سورۃ آل عمران : 81میں ملاحظہ فرمائیں۔ 2۔ عہد سے مراد وہ عہد بھی ہے جو انسان کسی مشکل یا عام حالات میں اپنی زبان یا دل ہی دل میں اپنے رب کے ساتھ کرتا ہے وہ گناہوں سے توبہ کی شکل میں ہو یا اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت کے بدلہ میں اس کا شکریہ ادا کرنے کی صورت میں۔ اس عہد کی پاسداری بھی آدمی پر لازم قرار دی گئی ہے۔ 3۔ عہد کی تیسری شکل یہ ہے کہ جب فرد یا قوم کا ایک دوسرے سے عہد و پیماں ہو تو اس کی پاسداری کرنا فرض ہے۔ اس عہد کو پورا کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ لہٰذا یہ بھی بالواسطہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد کرنے کے مترادف ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وصیتیں کی گئی ہیں جس کا تمھیں ہر صورت خیال رکھنا ہوگا۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ () إِلَّا قَالَ لَا إِیمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ)[ رواہ احمد] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں نبی معظم (ﷺ) نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا فرمایا جو بندہ امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو شخص وعدہ پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔“ (عَن ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ () یَقُولُ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یُّنْصَبُ بِغَدْرَتِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ) [ رواہ البخاری : کتاب الجزیۃ، باب اثم الغادر للبر والفاجر] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی معظم (ﷺ) سے سنا آپ (ﷺ) نے فرمایا ہر بد عہد کے لیے ایک جھنڈا ہوگا جو اس کی بد عہدی کی وجہ سے قیامت کے دن نصب کیا جائے گا۔“ (عَنْ سَہْلٍ (رض) قَالَ رَسُول اللّٰہِ () أَنَا وَکَافِلُ الْیَتِیمِ فِی الْجَنَّۃِ ہَکَذَا وَأَشَار بالسَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی، وَفَرَّجَ بَیْنَہُمَا شَیْئًا )[ رواہ البخاری : باب فضل من یعول یتیما] ” حضرت سہل (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ آپ (ﷺ) نے سبابہ اور درمیانی انگلی سے اشارہ فرمایا اور ان کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا۔“ مسائل : 1۔ کسی کمزور کے ساتھ ظلم نہیں کرنا چاہے۔ 2۔ کاروبار انصاف سے کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کسی پر بھی اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ 4۔ عدل و انصاف کرنا چاہیے خواہ قرابت داری ہی کیوں نہ ہو۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے عہد کو وفا کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : یتیم کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے : 1۔ یتیم کے مال کے قریب نہ جائیں مگر احسن طریقہ کے ساتھ۔ (الانعام :152) 2۔ یتیم کا مال کھانے والا اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔ (النساء :10) 3۔ کسی یتیم پر ظلم زیادتی نہیں کرنی چاہیے۔ (الضحیٰ:6) 4۔ یتیموں کو انکے مال لوٹادو۔ (النساء :2) 5۔ والدین، یتیموں، اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔ (النساء :36) الانعام
153 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی وصیتوں کا خلاصہ اور نتیجہ صراط مستقیم ہے۔ اے لوگو! بس صراط مستقیم پر چلو۔ نو نصیحتیں کرنے کے بعد فرمایا یہی سیدھا راستہ ہے کیونکہ نصائح کے آغاز میں لفظ ” قل“ سے حکم دیا گیا تھا کہ اے نبی (ﷺ) آپ ان لوگوں کو یہ نصائح پڑھ کر سنائیں اب ان کے اختتام پر فرمایا ہے کہ آپ یہ اعلان فرمائیں کہ یہی میرا صراط مستقیم ہے لہٰذا تم سب کے سب اسی کی اتباع کرو دوسرے راستوں اور طریقوں کی پیروی نہ کرو۔ اگر تم اس راستہ کے سوا دوسرے راستوں پر چلو گے تو سیدھے راستے سے ہٹ جاؤ گے اس لیے تمھیں وصیت کی جاتی ہے کہ تم اسی راستہ پر چلنا تاکہ تم گناہ اور گمراہی کے راستوں سے بچ جاؤ۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ () فَخَطَّ خَطًّا وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّمِینِہٖ وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّسَارِہٖ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ فِی الْخَطِّ الْأَوْسَطِ فَقَالَ ہَذَا سَبِیل اللّٰہِ ثُمَّ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ ﴿وَأَنَّ ہٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ﴾) [ رواہ ابن ماجۃ: باب اتباع سنۃ رسول اللہ (ﷺ) ] ” حضرت جا بر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم (ﷺ) کے پاس تھے آپ (ﷺ) نے ایک سیدھا خط کھینچا پھر اس کے دائیں اور بائیں مختلف خطوط کھینچے پھر آپ (ﷺ) نے اپنا دست مبارک درمیان والے سیدھے خط پر رکھتے ہوئے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے، پھر آپ (ﷺ) نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :” اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو اس کے سوا دوسری راہوں پر نہ چلو دوسری راہیں تمہیں صراط مستقیم سے جدا کردیں گی۔“ الانعام
154 فہم القرآن : (آیت 154 سے 155) ربط کلام : صراط مستقیم کے نو سنگ میلوں کی نشاندہی کرنے کے بعد اشارہ دیا ہے کہ یہ نصیحتیں تورات میں بھی موجود ہیں۔ یہاں لفظ ﴿ثُمَّ﴾ لا کر یہ واضح کیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جس کتاب کی دعوت اور جس راستے کی طرف بلاتے تھے اس کے بنیادی اصول بھی یہی تھے تورات میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا احکام کی تفصیلات نازل فرمائی تھیں۔ تاکہ اس شخص کے لیے ہدایت اور رحمت کے دروازے کھل جائیں جو اپنے رب کی ملاقات پر ایمان رکھتا ہے۔ اور یہی صفات اس کتاب یعنی قرآن مجید میں ہیں جو ہدایت کا سرچشمہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پیش خیمہ ہے جس میں انسان کی ہدایت کے لیے مکمل اور جامع رہنمائی کی گئی ہے تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر یقین رکھتے ہوئے کتاب مبین کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارے جس کی سب کو دعوت دی جاتی ہے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچ کر اس کی شفقت و رحمت کے مستحق قرار پائیں۔ قرآن مجید سے ہدایت پانے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حق دار ہونے کے لیے قیامت کے دن حساب و کتاب کا خوف دلانے کی بجائے رب کی ملاقات کی یاد دلائی گئی ہے مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملاقات دنیا اور آخرت کی تمام نعمتوں سے اعلیٰ اور محبوب ترین نعمت ہے۔ (عَنْ جَرِیرٍ (رض) قَالَ کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِیِّ () إِذْ نَظَرَ إِلَی الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ قَالَ إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ کَمَا تَرَوْنَ ہَذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُونَ فِی رُؤْیَتِہٖ فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَّ تُغْلَبُوا عَلٰی صَلَاۃٍ قَبْلَ طُلُوع الشَّمْسِ وَصَلَاۃٍ قَبْلَ غُرُوب الشَّمْسِ فَافْعَلُوا) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ ﴿ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَة ﴾] ” حضرت جریر (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی معظم (ﷺ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک نبی اکرم (ﷺ) نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا عنقریب تم اپنے رب کو ایسے ہی دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو تمھیں چاند دیکھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آرہی ؟ اگر تم استطاعت رکھتے ہو کہ تمسست نہ ہوجاؤ فجر اور عصر کی نماز کا خیال رکھو۔“ مسائل : 1۔ تورات اپنے دور میں مکمل ہدایت تھی لیکن اب قرآن مجید ہدایت کا مل کا ذریعہ اور سرچشمہ ہے۔ 2۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی رحمت، برکت اور ہدایت کا سبب ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا عقیدہ انسان کو اپنے رب کی ہدایت پر گامزن رکھتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : قرآن مجید کے اوصاف کی ایک جھلک : 1۔ قرآن مجید لاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ:1) 2۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران :138) 3۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح کتاب ہے۔ (ھود :1) 4۔ قرآن مجید کے نزول کا مقصد لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانا ہے۔ (ابراہیم :1) 5۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ:185) 6۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء :174) الانعام
155 الانعام
156 فہم القرآن : (آیت 156 سے 157) ربط کلام : اہل کتاب کے بعد اہل مکہ کو خطاب۔ سابقہ آیات میں اہل کتاب سے خطاب تھا اور اب اہل مکہ کے حوالے سے پوری دنیا کو مخاطب کیا گیا ہے تاکہ اہل مکہ اور باقی لوگوں کے لیے یہ بہانہ نہ رہے کہ یہود و نصاریٰ کی ہدایت کے لیے تو کتاب نازل کی گئی تھی۔ ہمیں کتاب سے کیوں محروم رکھا گیا۔ یہاں ان دو گروہوں کے لیے تورات اور انجیل کا الگ الگ ذکر کرنے کے بجائے ” الکتاب“ فرما کر صرف ایک کتاب یعنی تورات کا ذکر کیا گیا ہے یہ اس لیے کہ انجیل تورات ہی کے احکام کا تتمہ اور تفصیل ہے۔ اس بنا پر عیسائیوں، یہودیوں کے لیے ” الکتاب“ لا یا گیا ہے۔ پھر اہل مکہ اور قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کو مخاطب کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید جیسی مفصل اور مبارک کتاب اس لیے نازل فرمائی ہے کہ تمھیں یہ بات کہنے کا جواز نہ مل سکے کہ ہمارے پاس براہ راست کوئی کتاب نہیں آئی۔ جس سے ہم ہدایت حاصل کرتے۔ قرآن مجید اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ تمھیں یہ کہنے کا موقع نہ مل پائے کہ اگر ہم پر اللہ کی کتاب نازل ہوتی تو ہم یہود و نصاریٰ کی طرح گمراہ ہونے کے بجائے ہدایت یافتہ ثابت ہوتے۔ اس بہانے کو رفع کرنے اور اتمام حجت کے لیے تمھارے پروردگار کی طرف سے واضح کتاب پہنچ چکی ہے۔ جو سراسر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کا سر چشمہ اور اس کی رحمت کا ذریعہ ہے جو شخص اس کتاب کی ہدایت، دلائل اور بینات کو جھٹلاتا اور ان سے منہ پھیرتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہو سکتا۔ ایسا شخص گمراہی میں پڑ کر اپنے آپ پرہی ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی نسل اور لوگوں کے لیے ہدایت کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلائیں، ان سے انحراف کریں اور ہدایت کے راستہ میں رکاوٹ بنیں ا نھیں بد ترین عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے سے مراد زبان سے ان کی تکذیب کرنا یا جان بوجھ کر ان سے اعراض کرنا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل کیا تاکہ لوگوں کو اپنی گمراہی کا بہانہ نہ رہے۔ 2۔ قرآن مجید مفصل، جامع اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت اور رحمت کا پیغام ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنا یا اس سے انحراف کرنے والا ظالم انسان ہے۔ تفسیر بالقرآن : ظالم لوگ : 1۔ اللہ پر جھوٹ بولنے والا بڑا ظالم ہے۔ (الانعام :144) 2۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا اور اس کی آیات کو جھٹلانے والا بڑا ظالم ہے۔ (الانعام :21) 3۔ جو اللہ کی آیات سن کر اعراض کرتا ہے وہ ظالم ہے۔ (الکہف :57) 4۔ اللہ پر جھوٹ بولنے والا اور سچائی کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (العنکبوت :68) 5۔ اسلام کی دعوت پہنچ جانے کے باوجودجو اللہ پر جھوٹ باندھے وہ ظالم ہے۔ (الصف :7) 6۔ گواہی کو چھپانے والا بڑا ظالم ہے۔ (البقرۃ:140) 7۔ مسجدوں سے روکنے والا بڑا ظالم ہے۔ (البقرۃ:114) الانعام
157 الانعام
158 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب یا ان سے انحراف کرتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے ملائکہ آئیں جو ان کو اپنے زور سے کتاب اللہ کو ماننے پر مجبور کریں یا پھر اللہ کی طرف سے ایسی نشانی یا عذاب نازل ہو کہ یہ مجبور ہو کر پکار اٹھیں کہ واقعی یہ رسول سچا اور اس پر نازل ہونے والی کتاب برحق ہے۔ یاد رہے اہل مکہ برملا یہ اظہار کیا کرتے تھے۔ اس نبی کی تائید کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے فرشتے نازل کیوں نہیں کرتا یا اب تک ایسا عذاب نازل کیوں نہیں ہوا کہ جس کو دیکھ کر ہم قرآن مجید کی تائید اور نبی کی تصدیق کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ اس صورتحال پر تبصرہ کیا جا رہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ یا کوئی فیصلہ کن نشانی آئے گی تو جو پہلے ایمان نہیں لایا۔ اس کے ایمان لانے کا اس وقت اسے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اور وہ شخص بھی نہیں بچ پائے گا جس نے ایمان لانے کے باوجود نیک کام نہیں کیے۔ اس کی مثالیں پہلی اقوام کے حوالے سے بے شمار ہیں کہ جب ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ کن عذاب آیا تو وہ چیخ چیخ کر اپنے ایمان کی دہائی دے رہے تھے لیکن ان کا ایمان ان کے لیے فائدہ مند ثابت نہ ہوا۔ لہٰذا اے نبی انھیں فرمائیں اگر تم اس گھڑی کے انتظار میں ہو تو مزید انتظار کرو میں بھی تمھارے انجام کا انتظار کرتا ہوں۔ ( عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ الْغِفَارِیِّ (رض) قَالَ کُنَّا قُعُودًا نَتَحَدَّثُ فِی ظِلِّ غُرْفَۃٍ لِرَسُول اللّٰہِ () فَذَکَرْنَا السَّاعَۃَ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ () لَنْ تَکُونَ أَوْ لَنْ تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی یَکُونَ قَبْلَہَا عَشْرُ آیَاتٍ طُلُوع الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَخُرُوج الدَّابَّۃِ وَخُرُوجُ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالدَّجَّالُ وَعِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَالدُّخَانُ وَثَلَاثَۃُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِجَزِیرَۃِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذٰلِکَ تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْیَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَسُوق النَّاسَ إِلَی الْمَحْشَرِ) [ رواہ ابوداؤد، کتاب الملاحم، باب أمارات الساعۃ] ” حضرت حذیفہ بن اسید غفاری (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی معظم (ﷺ) کے حجرہ مبارک کے سائے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے دوران گفتگو ہم نے قیامت کا ذکر کیا اس کے ساتھ ہی ہماری آوازیں بھی بلند ہوگئیں۔ رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں پوری نہ ہوجائیں۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دابہ جانور کا نکلنا، یاجوج و ماجوج کا ظاہر ہونا، دجال کا ظاہر ہونا، عیسیٰ ابن مریم ( علیہ السلام) کا نزول، دھواں کا ظاہرہونا اور زمین کا تین مرتبہ دھنسنا ایک مرتبہ مغرب میں، ایک مرتبہ مشرق میں اور ایک مرتبہ جزیرۃ العرب میں اور آخری آگ یمن کے علاقہ سے عدن کی طرف رونما ہوگی جو کہ لوگوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا کرے گی۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا تَاب اللّٰہُ عَلَیْہِ) [ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ، باب استحباب الاستغفار] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا جو بندہ بھی سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے قبل توبہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائیں گے۔“ (عَن ابْنِ عُمَرَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ)[ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی مکرم (ﷺ) نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس کی جان ہنسلی میں اٹکنے سے قبل تک قبول کرتا ہے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے شمار نشانیاں نازل ہوئی ہیں اور ہوتی رہتی ہیں مگر ظالم لوگ پھر بھی ان کے نزول کا مطالبہ کرتے ہیں۔ الانعام
159 فہم القرآن : ربط کلام : انسان کی گمراہی کے اسباب میں ایک کا سبب دین میں اختلاف کرنا ہے۔ باہمی اختلاف کی صورت میں لوگ ٹھوس دلائل کے باوجود انکار کی روش پر قائم رہتے ہیں۔ سورۃ آل عمران میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی دین حق ہے۔ جس کے بنیادی اصول ہمیشہ سے ایک رہے ہیں۔ وہ توحید و رسالت کے بارے میں ہوں یا حلال و حرام اور اخلاق و معاملات کے متعلق۔ لہٰذا جو دین کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں اور اس کو لوگوں کی نظروں میں مختلف فیہ بناتے ہیں۔ اے نبی (ﷺ) ! آپ کا ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی آپ کے ماننے والوں کا ایسے لوگوں کے ساتھ تعلق ہونا چاہیے۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے وہ ان کو بتائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ دین میں تفرقہ بازی کا ذکر کرتے ہوئے رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا کہ یہودی اپنے دین میں اختلاف کرنے کی وجہ سے اکہتر فرقے ہوئے، عیسائی اختلاف کی بنا پر بہتر گروہوں میں تقسیم ہوگئے اور میری امت ایک قدم آگے بڑھتی ہوئی تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ (رواہ الترمذی : باب ماجاء فی افتراق ہذہ الامۃ) اختلاف اخلاق و اعمال اور باہمی محبت کے لیے نہایت ہی نقصان دہ ہوتا ہے لیکن اگر یہ اختلاف نیکی اور دین کے نام پر ہو تو اس کے نتائج بڑے ہولناک اور گمراہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ دین انسانوں میں وحدت اور اکائی پیدا کرنے کے لیے آیا ہے اگر اسی کو ہی اختلاف کی بنیاد بنا لیا جائے تو قیامت تک لوگ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے نہ صرف یہود و نصاریٰ الگ الگ امت کی بنیاد پر آپس میں دست و گریباں رہتے ہیں بلکہ ان کے اپنے اپنے گروہ ایک دوسرے کو کافر گمراہ اور جہنمی قرار دیتے ہیں اس صورتحال سے بچنے کے لیے قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کو بلا شرکت غیرے الٰہ ماننے اور نبی آخر الزمان (ﷺ) کو بہترین اسوہ قرار دیتے ہوئے آپ کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ تاکہ توحید اور نبی کو ماننے والے متحد و متفق رہیں۔ یہودی تحقیق کے نام پر دین میں غلو کرکے گمراہ ہوئے اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کی عقیدت میں حد سے بڑھے اور صراط مستقیم سے ہٹ گئے۔ آپ (ﷺ) نے غلو سے بچنے کے لیے مسائل کی کھال اتارنے اور دین میں قیل و قال سے منع فرمایا اور عقیدت و محبت میں آکر کسی شخصیت کو اس کے مرتبہ و مقام سے بڑھانے سے روکا ہے۔ یہ وہ بنیادی اسباب ہیں جن کی وجہ سے دین دار لوگ گمراہ ہوا کرتے ہیں۔ (عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ (رض) قَالَ وَعَظَنَا رَسُول اللّٰہِ () یَوْمًا بَعْدَ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ مَوْعِظَۃً بَلِیغَۃً ذَرَفَتْ مِنْہَا الْعُیُونُ وَوَجِلَتْ مِنْہَا الْقُلُوبُ فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّ ہٰذِہٖ مَوْعِظَۃُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْہَدُ إِلَیْنَا یَا رَسُول اللّٰہِ قَالَ أُوصِیکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَإِنْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ فَإِنَّہُ مَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ یَرٰی اخْتِلَافًا کَثِیرًا وَإِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّہَا ضَلَالَۃٌ فَمَنْ أَدْرَکَ ذٰلِکَ مِنْکُمْ فَعَلَیْہِ بِسُنَّتِی وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاء الرَّاشِدِینَ الْمَہْدِیِّینَ عَضُّوا عَلَیْہَا بالنَّوَاجِذِ)[ رواہ الترمذی : کتاب العلم، باب ماجاء فی الأخذ بالسنۃ] ” حضرت عرباض بن ساریہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اکرم (ﷺ) نے ہمیں نماز فجر کے بعد بلیغ وعظ کیا۔ اس سے ہمارے دل کانپ اٹھے اور آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ ایک شخص نے عرض کی یہ تو الوداعی وعظ و نصیحت لگتی ہے اے اللہ کے رسول (ﷺ) ! آپ ہم سے کیا وعدہ لینا چاہیں گے؟ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا میں تمھیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ سمع اور اطاعت کی بھی۔ اگرچہ تم پر ایک حبشی غلام ہی ذمہ دار بنا دیا جائے۔ جو کوئی تم میں سے زندہ رہا میرے بعد وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا۔ تم دین میں نئے نئے کاموں سے بچو۔ بلاشبہ وہ گمراہی ہے جو کوئی تم میں سے ایسی صورت حال پائے تو وہ میرے اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کے طریقے کو لازم پکڑے اور اسے دانتوں سے مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھے۔“ (عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ آیَۃً وَسَمِعْتُ النَّبِیَّ () یَقْرَأُ خِلَافَہَا فَجِئْتُ بِہِ النَّبِیَّ () فَأَخْبَرْتُہٗ فَعَرَفْتُ فِی وَجْہِہِ الْکَرَاہِیَۃَ وَقَالَ کِلَاکُمَا مُحْسِنٌ وَّلَا تَخْتَلِفُوا فَإِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمُ اخْتَلَفُوا فَہَلَکُوا) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں میں نے ایک آدمی کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے سنا جب کہ میں نے نبی معظم (ﷺ) کو وہی آیت تلاوت کرتے سنا تھا۔ آپ اس سے مختلف انداز سے تلاوت کر رہے تھے۔ میں اس شخص کو لے کر نبی اکرم (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس کی تلاوت کے بارے میں بتلایا۔ میں نے آپ کے چہرے پر کراہت کے آثار دیکھے آپ نے فرمایا دونوں طریقے ٹھیک ہیں اور تم اس طرح اختلاف نہ کیا کرو بلاشبہ جو لوگ تم سے پہلے تھے انھوں نے اختلاف کیا اور وہ ہلاک ہوگئے۔“ ( عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ () لَیَأْتِیَنَّ عَلٰی أُمَّتِی مَا أَتَی عَلٰی بَنِی إِسْرَاءِیلَ حَذْوَ النَّعْلِ بالنَّعْلِ حَتّٰی إِنْ کَانَ مِنْہُمْ مَنْ أَتٰی أُمَّہُ عَلَانِیَۃً لَکَانَ فِی أُمَّتِی مَنْ یَصْنَعُ ذَلِکَ وَإِنَّ بَنِی إِسْرَاءِیلَ تَفَرَّقَتْ عَلَی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِینَ مِلَّۃً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِی عَلٰی ثَلَاثٍ وَسَبْعِینَ مِلَّۃً کُلُّہُمْ فِی النَّارِ إِلَّا مِلَّۃً وَاحِدَۃً قَالُوا وَمَنْ ہِیَ یَا رَسُول اللَّہِ قَالَ مَا أَنَا عَلَیْہِ وَأَصْحَابِی)[ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی افتراق ہذہ الامۃ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں رسول مکرم (ﷺ) نے فرمایا میری امت میں ایسا وقت ضرور آئے گا کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ بالکل اس طرح مل جائے گی جس طرح جو تا ایک دوسرے کے ساتھ ملتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے علانیہ زنا کیا ہوگا تو میری امت میں بھی ایسا ضرور ہوگا۔ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئی جبکہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ایک گروہ کے علاوہ سارے کے سارے جہنم میں جائیں گئے۔ صحابہ نے استفسار کیا اے رسول معظم (ﷺ) ! وہ کون سا گروہ ہے ؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ کرام (رض) کے طریقے پر عمل کرنے والا ہوگا۔ مسائل: 1۔ فرقہ واریت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔ 2۔ جو لوگ تفرقہ بازی کرتے ہیں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ 3۔ فرقہ واریت کو ہوا دینے والوں کو ضرور سزا دی جائے گی۔ تفسیر بالقرآن : دین میں تفریق کی ممانعت : 1۔ دین پر قائم رہو جدا جدا نہ ہوجاؤ۔ (الشوریٰ:13) 2۔ کئی راستوں کی اتباع نہ کرنا وہ تمھیں سیدھے راستہ سے گمراہ کردیں گے۔ (آل عمران :153) 3۔ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو جدا جدا ہوگئے اور انہوں نے باہم اختلاف کیا۔ (آل عمران :105) 4۔ اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ (آل عمران :103) 5۔ دین میں تفرقہ ڈالنے والوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ (الانعام :159) 6۔ مشرکین سے نہ ہوجاؤ جنھوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور کئی فرقے بن گئے۔ (الروم :32) الانعام
160 فہم القرآن : ربط کلام : اس سے پہلی آیت کے آخری الفاظ ﴿بما کانو یفعلون﴾ ہیں۔ یہاں اعمال کی تشریح اور ان کی حیثیت بیان فرمائی کہ اگر لوگ نیکی کریں گے تو اس کا کم ازکم دس گنا اجر پائیں گے اگر برائی کریں گے تو صرف اس کے برابر سزادی جائے گی۔ پارہ تیس کی سورۃ الزلزال میں فرمایا کہ انسان نے ذرہ بھر بھی نیکی کی تو قیامت کے دن اسے اپنی آنکھوں کے سامنے پائے گا۔ اگر اس نے ذرہ برابر برائی کی تو اسے بھی دیکھ لے گا۔ یہاں نیکی یا بدی کے اجر کے بارے میں وضاحت فرمائی کہ ہر حسنہ کا اجر اس کے دس گنا ہوگا۔ تاہم برائی کی سزا دوگنی یا دس گناہ نہیں بلکہ اسی کے برابر ہوگی۔ لیکن قرآن مجید کی دوسری آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو دوگنا عذاب ہوگا۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے ان کو دوگناعذاب ہوگا۔ کیونکہ ان کا گناہ ایک کا دوگنا ہوگا۔ لہٰذا ہر کسی کو اس کے گناہ کے بدلے سزا ہوگی۔ البتہ احادیث کی روشنی سے ثابت ہوتا ہے کہ اخلاص اور آدمی کے حالات کے مطابق کی گئی نیکی کے بدلے اللہ تعالیٰ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہی نہیں بلکہ سات سو گنا سے بھی زیادہ دیں گے جس کی مفسرین نے اس طرح تشریح فرمائی ہے کہ کروڑ پتی آدمی کسی کو کھانا کھلاتا ہے تو اس کے لیے یہ کوئی بھاری اور بڑا کام نہیں اور اگر فاقہ کش آدمی کسی بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے تو اس کی یہ نیکی بڑا مقام رکھتی ہے۔ کیونکہ خود بھوکا رہ کر دوسرے کا پیٹ بھرتا ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں دونوں کی نیکی کے اجر میں فرق ہوگا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ اسباب نہیں اخلاص کی بنا پر فرق ہوگا۔ جتنا نیکی کرنے والے میں اخلاص اور للٰھیت ہوگی۔ اتنا ہی اس کا اجر بڑھتا جائے گا اس کے مقابلہ میں برائی کی سزا برائی کے برابر ہوگی اور کسی پر ذرہ برابر زیادتی نہ ہوگی۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ وَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُہَا بِیَمِینِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیہَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّی أَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ حَتّٰی تَکُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا جو کوئی اپنی پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ صرف پاک کمائی ہی قبول کرتا ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتے ہوئے پھر اسے بڑھائے گا اپنے بندے کے لیے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے اللہ تعالیٰ نیکی کو پہاڑ کی مانند بنادے گا۔“ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () فِیمَا یَرْوِی عَنْ رَبِّہٖ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قَالَ إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ ثُمَّ بَیَّنَ ذٰلِکَ فَمَنْ ہَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہٗ عِنْدَہٗ حَسَنَۃً کَامِلَۃً فَإِنْ ہُوَ ہَمَّ بِہَا فَعَمِلَہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہٗ عِنْدَہٗ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَی سَبْعِ مائَۃِ ضِعْفٍ إِلَی أَضْعَافٍ کَثِیرَۃٍ وَّمَنْ ہَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہٗ عِنْدَہٗ حَسَنَۃً کَامِلَۃً فَإِنْ ہُوَ ہَمَّ بِہَا فَعَمِلَہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہٗ سَیِّئَۃً وَّاحِدَۃً) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب من ہم بحسنۃ اوسیئۃ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نبی اکرم (ﷺ) کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں پھر ان کو واضح کردیا ہے جو کوئی نیکی کرنے کا ارادہ کرے مگر عمل نہ کرسکے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں اس کی مکمل نیکی لکھ لیتا ہے اگر وہ ارادے کے ساتھ عمل بھی کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دس نیکیوں سے لے کر سات سو گنا سے بڑھا دیتا ہے۔ جو کوئی برائی کا ارادہ کرے مگر اس پر عمل نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے مکمل نیکی لکھ دیتے ہیں اور اگر وہ ارادے کے ساتھ عمل بھی کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک ہی برائی لکھتا ہے۔“ (عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ أَبِیہٖ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () التَّائِبُ مِنْ الذَّنْبِ کَمَنْ لاَّ ذَنْبَ لَہٗ) [ رواہ ابن ماجۃ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ] ” حضرت ابو عبیدہ بن عبداللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا گناہوں سے توبہ کرنے والا اسی طرح ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ () قَالَ یَقُول اللّٰہُ إِذَا أَرَادَ عَبْدِی أَنْ یَّعْمَلَ سَیِّئَۃً فَلَا تَکْتُبُوہَا عَلَیْہِ حَتّٰی یَعْمَلَہَا فَإِنْ عَمِلَہَا فَاکْتُبُوْہَا بِمِثْلِہَا وَإِنْ تَرَکَہَا مِنْ أَجْلِی فَاکْتُبُوہَا لَہٗ حَسَنَۃً وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَعْمَلَ حَسَنَۃً فَلَمْ یَعْمَلْہَا فَاکْتُبُوہَا لَہٗ حَسَنَۃً فَإِنْ عَمِلَہَا فَاکْتُبُوہَا لَہٗ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا إِلٰی سَبْعِ مائَۃِ ضِعْفٍ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ﴿ يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّه ﴾] ” حضرت ابوہریرہ (رض) رسول معظم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے جب میرا بندہ برائی کا ارادہ کرے۔ تم اس کو نہ لکھو یہاں تک کہ وہ اس پر عمل کرے اگر وہ عمل کرتا ہے تو اسے صرف اتنا ہی لکھو اور اگر اسے میری وجہ سے چھوڑتا ہے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو۔ اور جب وہ کسی نیکی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ بھی کرے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو۔ اگر اسے عملی جامہ پہنائے تو اسے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا دو۔“ ﴿فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہُ وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہُ [ الزلزال : 7۔8] جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔ مسائل : 1۔ ایک نیکی کا بدلہ کم ازکم دس گنا ہوگا۔ 2۔ برائی کی سزا صرف اس کے برابر ہوگی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ تفسیر بالقرآن : نیکی کی جزا، برائی کی سزا : 1۔ جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔ (الزلزال : 7تا8) 2۔ برائیوں میں مرنے والے کے لیے جہنم ہے۔ (البقرۃ:71) 3۔ جو ایک نیکی کرے گا اس کو دس نیکیوں کا بدلہ ملے گا جو برائی کرے گا اس کی سزا صرف اتنی ہی ہوگی۔ (الانعام :160) 4۔ برائی کا بدلہ اس کی مثل ہی ہوگا۔ (القصص :84) 5۔ جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اس کا بدلہ جہنم ہے۔ (النازعات :37) 6۔ صبر کرنے والوں کے لیے جنت کی جزا ہے۔ (الدھر :12) 7۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ (یوسف :88) 8۔ نافرمانوں کو ہمیشہ کے عذاب کی سزادی جائے گی۔ (یونس :52) 9۔ تکبر کرنے والوں کو ذلت آمیز سزا دی جائے گی۔ (احقاف :20) 10۔ شیطان اور اس کے پیروکاروں کو جہنم کی سزا دی جائے گی۔ (بنی اسرائیل :63) الانعام
161 فہم القرآن : (آیت 161 سے 163) ربط کلام : دین اسلام میں کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی یہ دین اس قسم کے اختلافات کو پسند کرتا ہے۔ لہٰذا پیغمبر آخر الزمان (ﷺ) کو حکم ہوا کہ آپ ملت ابراہیم کے متبع رہیں۔ سرور دو عالم (ﷺ) کا تفرقہ بازی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ آپ تو دین قیم اور سیدھی راہ کے راہی اور داعی تھے۔ لہٰذا آپ کی زبان اطہر سے اعلان کروایا گیا کہ اے محبوب برحق! آپ وضاحت فرمائیں کہ میرا ادھر ادھر کے راستوں اور متضاد نظریات رکھنے والوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں میں اپنے رب کی بتلائی ہوئی راہ پر اس کی توفیق سے گامزن ہوں۔ یہی دین ہمیشہ سے قائم دائم ہے۔ اور اسی پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مل یکسوئی کے ساتھ قائم رہے۔ ان کا مشرکین کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ وہ شرک سے بیزار اور توحید خالص کے پرستار تھے۔ وہ نماز قائم کرنے اور دین حق کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے والے تھے۔ ان کی موت و حیات کا مقصد ہی توحید کا پرچار اور اپنے رب کی فرمانبرداری تھا۔ یہی میرا نصب العین اور میری زندگی کا مشن ہے۔ اس لیے میری نماز، قربانی اور زندگی کا ہر لمحہ یہاں تک کہ میری موت بھی رب العالمین کے حکم پر ہوگی۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے یہی حکم ہے کہ میں عقیدۂ توحید پر قائم رہ کر اس کے دین کی دعوت دیتے ہوئے سب سے پہلے اپنے رب کی فرمانبرداری کا مظاہرہ کروں گویا کہ جس دعوت کا میں داعی ہوں اس پر سب سے پہلے میں ہی عمل کرنے والا ہوں، اسی بات کا نتیجہ ہے۔ میدان کار زار ہو یا صدقہ و قربانی آپ (ﷺ) اپنے صحابہ (رض) میں سب سے آگے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ مسجد نبوی کی تعمیر کا معاملہ پیش آیا تو اپنے جسم اطہر پر پتھراٹھائے ہوئے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو امت کے لیے اسوۂ حسنہ بنایا تھا اور آپ اول المسلمین ہیں۔ اور یہی دینی قیادت کا وطیرہ ہونا چاہیے کہ وہ عوام الناس کے لیے نمونہ ثابت ہوں۔ اس سے لوگوں کے دلوں میں اخلاص اور جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ ہی صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یکسو اور پکے مسلمان تھے۔ 3۔ انسان کی زندگی و موت کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہونی چاہیے۔ 4۔ نبی اکرم (ﷺ) اللہ کے حکم پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے اور امت کے لیے نمونہ تھے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں : 1۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے۔ (الاسراء :111) 2۔ اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے۔ (الفرقان :2) 3۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا دو الٰہ نہ بناؤ الٰہ ایک ہی ہے (النحل :51) 4۔ کیا اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے؟ اللہ تعالیٰ شراکت داری سے پاک ہے۔ (الطور :43) 5۔ کیا تم انہیں اللہ کے شریک قرار دیتے ہوجنہوں نے کچھ پیدا نہیں کیا اور وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (الاعراف :191) 6۔ کہہ دیجیے الٰہ ایک ہی ہے اور میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام :19) 7۔ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ (النساء :36) الانعام
162 الانعام
163 الانعام
164 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : کفار نبی معظم (ﷺ) کی جدوجہد سے تنگ آکر بالآخر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم بدل جاتے ہیں۔ اس کے لیے ان کی آخری تجویز یہ تھی کہ ہم آپ کے الٰہ کی عبادت آپ کے طریقہ کے مطابق کریں گے اور آپ ہمارے بتوں کی تعظیم بھی کریں۔ اس کے جواب میں آپ سے کہلوایا گیا ہے کہ آپ صاف صاف فرما دیں کیا میں ذات کبریا کو چھوڑ کر ایسا رب تلاش کروں جو تمھارے ہاتھوں کے تراشے ہوئے ہیں جبکہ جس رب کی میں عبادت کرتا، اور دعوت دیتا ہوں وہ ہر چیز کا سچا اور حقیقی رب ہے۔ جن باطل معبودوں پر تم بھروسہ کرتے ہو جن کو تم اپناداتاو دستگیر اور مشکل کشا سمجھتے ہو وہ نہ کسی کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ کسی کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ بلکہ کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کا بوجھ نہیں اٹھاۓ گا۔ ہر نفس اپنا بوجھ خود اٹھائے گا اور اسے اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا ہے اور سب نے مالک حقیقی کے حضور پیش ہونا ہے۔ وہی لوگوں کے اختلافات کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ نہ اس کے سامنے کوئی دم مار سکے گا اور نہ ہی اس کے فیصلہ سے انحراف کی کسی کو جرأت ہوگی۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو انسان کو اس کے اعمال کا ذمہ دار بناتا اور اس میں جوابدہی کا تصور پیدا کرتا ہے۔ (عن أَبَی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَامَ رَسُول اللّٰہِ () حِینَ أَنْزَلَ اللّٰہُ ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ﴾ قَالَ یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا اشْتَرُوا أَنْفُسَکُمْ لَا أُغْنِی عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ لَا أُغْنِی عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا یَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِی عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا وَیَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃَ رَسُول اللّٰہِ لَا أُغْنِی عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا وَیَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِینِی مَا شِئْتِ مِنْ مَّالِی لَا أُغْنِی عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ﴾] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) کھڑے ہوئے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی : ” اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ آپ (ﷺ) نے فرمایا اے قریش کے لوگو ! تم اپنی ذمہ داری خود اٹھاؤ میں اللہ کے ہاں تمھارے کچھ بھی کام نہیں آؤں گا۔ اے بنو عبد مناف میں اللہ کے ہاں تمھارے کچھ بھی کام نہیں آؤں گا۔ اور اے صفیہ رسول معظم (ﷺ) کی پھوپھی میں اللہ کے ہاں تمھارے کچھ بھی کام نہیں آؤں گا۔ اور اے فاطمہ بنت محمد میرے مال سے جو چاہتی ہے مجھ سے سوال کرلے میں اللہ کے ہاں تمھارے کچھ کام نہیں آسکوں گا۔“ (عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَسَیُکَلِّمُہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ بَیْنَ اللّٰہِ وَبَیْنَہٗ تُرْجُمَانٌ ثُمَّ یَنْظُرُ فَلَا یَرٰی شَیْئًا قُدَّامَہُ ثُمَّ یَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَتَسْتَقْبِلُہُ النَّارُ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یَتَّقِیَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍٍ۔۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم] ” حضرت عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں نبی معظم (ﷺ) نے فرمایا تم میں سے ہر کسی کے ساتھ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کلام کریں گے، اللہ اور اس شخص کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، پھر وہ دیکھے گا اس نے کیا عمل کیے ہیں، وہ آدمی دیکھے گا تو سامنے آگ ہوگی جو بھی تم میں سے استطاعت رکھتا ہے آگ سے بچنے کی کوشش کرے چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ۔۔ جو یہ بھی نہ پائے تو وہ اچھی بات کہے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے۔ 2۔ آخرت میں ہر بندہ صرف اپنا ہی بوجھ اٹھاۓ گا۔ 3۔ ہر کسی کو اللہ رب العالمین کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ الانعام
165 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام ایسے منضبط اور مربوط طریقہ سے بنایا ہے کہ اس میں کبھی خلل اور خلا پیدا نہیں ہوا۔ رات، دن ایک دوسرے کی جگہ لیتے ہیں روشنی اور اندھیرا ایک دوسرے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ ایک نسل دوسری نسل کی خلیفہ بنتی ہے۔ ایسے ہی انسانوں کی ایک کھیپ دوسری کھیپ کی جگہ سنبھالتی ہے۔ بیٹا باپ کی اور باپ اپنے باپ کی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے۔ آج کا بچہ کل کو باپ بنتا ہے پھر اس کے فوت ہونے کے بعد اس کی اولاد اس کی جائیداد اور معاملات کی وارث بن جاتی ہے۔ اسی طرح ملکوں کی حکمرانی کا معاملہ ہے۔ کل کا حکمران آج نہیں اور آج کے حکمران کی مسند پر ایک مدت کے بعد کوئی اور بیٹھ جائے گا۔ خلافت کے اس نظام میں ایک فرد سے لے کر کسی بڑے سے بڑے، جابرحکمران اور نیک کو مفر نہیں سب کے سب خلافت کی زنجیر میں بندھے ہوئے ایک دوسرے کے پیچھے آنے پر مجبور ہیں۔ کوئی نہیں جو وسائل اور لشکر و سپاہ کی مدد سے یا اپنی نیکی اور ولایت کے بل بوتے پر اپنی جگہ پر ہمیشہ قبضہ جمائے رکھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے مقبول ترین بندے انبیاء کرام (علیہ السلام) بھی اسی نظام کے تحت ایک دوسرے کے وارث بنے۔ اس نظام کو بنانے اور چلانے والا۔ اللہ اپنے بارے میں فرماتا ہے کہ وہی تو ہے جو تمھیں ایک دوسرے کے پیچھے لاتا یعنی خلیفہ بناتا ہے۔ ( سورۃ یونس : آیت۔14) میں فرمایا کہ تمھیں ایک دوسرے کا خلیفہ اس لیے بناتا ہے کہ تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر اپنی اپنی باری میں اپنے رب کی کتنی تابعداری اور کیا کردار ادا کرتے ہو۔ آپ (ﷺ) نے اس ذمہ داری کے بارے میں یوں فرمایا کرتے تھے۔ دین کے بارے میں پرکھنے، دنیا کا نظام چلانے اور ایک کو دوسرے کے ساتھ آزمانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مختلف صلاحیتیں اور وسائل دے کر درجہ بدرجہ مراتب پر فائز فرمایا ہے۔ داعی کو رعایا کے ساتھ، امیر کو غریب کے ساتھ باپ کو اولاد اور اولاد کو والدین کے حقوق کے بارے میں، آجر کو اجیر اور چھوٹے بڑے کو ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کے ساتھ آزمانے کا انتظام کر رکھا ہے۔ تاکہ دیکھے کہ کون کیا عمل کرتا ہے ؟ جو لوگ برے عمل کرتے ہیں۔ انھیں وارننگ دی کہ یاد رکھو دنیا کی مہلت نہایت مختصر ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت جلد تمھارا حساب لینے والا ہے۔ جو لوگ نیک اعمال کی کوشش کرتے رہے لیکن پھر بھی ان سے بتقاضائے بشریت غلطیاں ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں بیماری، تکلیف اور استغفارکے ذریعے گناہ معاف کرتا ہے بالآخر اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے اور نہایت ہی رحم فرمانے والا ہے۔ (عَن ابْنِ عُمَرَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَّعِیَّتِہٖ وَالْأَمِیرُ رَاعٍ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلٰی أَہْلِ بَیْتِہٖ وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ زَوْجِہَا وَوَلَدِہٖ فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ) [ رواہ البخاری : کتاب النکاح، باب المرأۃ راعیۃ فی بیت زوجہا] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نبی اکرم (ﷺ) کا فرمان نقل کرتے ہیں آپ (ﷺ) نے فرمایا تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر کسی کو اپنی ذمہ داری کے بارے میں جواب دینا ہے، امیر نگران ہے آدمی اپنے گھر کا نگران ہے اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی اور اپنے بچوں کی نگران ہے تو تم میں سے ہر کوئی ذمہ دار ہے اور ہر کسی سے اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا۔“ مسائل : 1۔ درجات میں تفاوت آزمائش کے لیے ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کسی کو نعمتیں دے کر اور کسی کو محروم رکھ کر آزماتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : آزمائش کی مختلف صورتیں : 1۔ اللہ نے موت وحیات کو انسان کی آزمائش کے لیے پیدا فرمایا۔ (الملک :2) 2۔ اللہ نے انسانوں کی آزمائش کے لیے بعض کو بعض پر فوقیت دی۔ ( الانعام :165) 3۔ مال واولاد انسان کے لیے آزمائش ہے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ (التغابن :15) 4۔ ہم تمہیں خوف، بھوک، مال واولاد اور پھلوں کی کمی میں مبتلا کر کے ضرور آزمائیں گے۔ (البقرۃ:155) الانعام
0 سورۃ الاعراف کا تعارف : سورۃ الاعراف 206آیات اور 24رکوع پر مشتمل ہے مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پانچ چھ آیات کو چھوڑ کر باقی تمام کی تمام آیات مکہ معظمہ میں نازل ہوئیں اس کے مضامین، اسلوب بیان سورۃ الانعام سے زیادہ مشابہت رکھتے ہے۔ ” سورۃ البقرۃ“ میں دیگرادیان کے حاملین کے ساتھ یہودیوں کو زیادہ مخاطب کیا گیا ہے اور ” آل عمران“ میں دوسروں کی نسبت عیسائیوں کو کثرت کے ساتھ خطاب کیا ہے ” سورۃ الانعام“ اور ” سورۃ الاعراف“ میں اہل مکہ اور باقی مشرکین کی طرف زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ اس سورۃ کے پہلے رکوع میں قرآن مجید کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی (ﷺ) ! قرآن کے بارے میں آپ کو اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ اس میں منکروں کے لیے انتباہ اور ماننے والوں کے لیے خیرخواہانہ نصیحت پائی جاتی ہے۔ اس لیے مومنوں کو صرف اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کی نازل کردہ ہدایت کی اتباع کریں۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو چھوڑ کر کسی بزرگ، ولی اور خیرخواہ کی بات کو اللہ تعالیٰ کے فرمان سے مقدم نہیں جاننا چاہیے لیکن کھلی اور واضح ہدایت کے باوجود تھوڑے لوگ ہیں جو قرآن کی اس نصیحت پر عمل کرتے ہیں۔ اس کے بعد نافرمان اقوام کا انجام بیان کرتے ہوئے وضاحت فرمائی ہے کہ قیامت کے روز ہر کسی کے اعمال کو عدل کے ترازو میں رکھ کر تولا جائے گا۔ جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوا وہ کامیاب ہوگا اور جس کی نیکیوں کے مقابلے میں گناہ بھاری رہے وہ ہمیشہ کے لیے ذلت ورسوائی سے دوچار ہوں گے، پھر واضح کردیا کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام (علیہ السلام) سے ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے سوال کریں گے اور ان کی دعوت کے مقابلہ میں جن لوگوں نے انکار اور انحراف کارویہ اختیار کیا ان کا پوری طرح احتساب کیا جائے گا۔ اس کے بعد انسان اور شیطان کی جبلت کا فرق بیان کرکے ان کی آپس میں ازلی اور ابدی کشمکش کا ذکر کیا ہے جس میں واضح اشارہ ہے کہ انسان وہ ہے جو اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کی اتباع میں غلطی کا اعتراف کرکے اپنے رب سے معذرت خواہ رہے اور شیطان وہ ہے جو غلطی کرنے کے بعد اس کا جواز پیش کرکے اس پر اڑ جائے بے شک وہ جنات میں سے ہو یا بنی نوع انسان سے۔ کچھ ضمنی مسائل بیان کرنے کے بعد آیت 40میں دو اور دو چار کی طرح واضح کیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے شیطان کی طرح تکبر کیا ان کا جنت میں داخل ہونا اس طرح ہی محال ہے جس طرح اونٹ کا سوئی کے سوراخ میں سے گزرنا محال ہے۔ اس کے ساتھ جنتیوں کے جنت میں جانے کے بعد اور جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد ان کی آپس میں ہونے والی گفتگو کا ذکر ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ نیکوں اور بروں میں کیا فرق ہوگا۔ جہنمیوں کا اقرار جرم انھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ جو انسان دنیا میں اپنے گناہوں کا اقرار کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور اپنے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح رب کی بارگاہ میں سرخرو ہوجائے۔ پھر توحید کے ٹھوس دلائل دے کر توحید کو ٹھکرانے والی قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، قوم مدین اور قوم فرعون کے کردار کا تفصیلی تذکرہ کرکے ان کا عبرت ناک انجام بیان کیا ہے تاکہ ان کے بعد آنے والے لوگ اس کردار اور انجام سے بچ جائیں۔ سورۃ کی 172آیت میں اس عہد کا ذکر کیا جو آدم اور اس کی اولاد سے روز آفرنیش لیا گیا تھا جس میں ذکر ہے کہ اچھی طرح غور کرلو کہ میں تمھارا رب ہوں یا نہیں ؟ تمام بنی نوع انسان نے ذات کبریا کی توحید کا اقرار کیا کہ کیوں نہیں تیرے سوا کون ہمارا رب ہوسکتا ہے۔ اس اقرار کے بعد فرمایا گیا۔ اب تمھارا یہ بہانہ نہیں چلے گا کہ ہمارے آباؤ اجداد شرک کرتے رہے جن کی وجہ سے ہم اس سنگین جرم کے مجرم بنے۔ سورۃ کا اختتام ان آیات پر ہوا کہ اگر شیطان تمھیں پھسلانے کی کوشش کرے تو اس سے اپنے رب کی پناہ طلب کرو اور جس طرح اللہ کا حکم سمجھ کر ملائکہ نے عاجزی اختیار کی اس طرح تم بھی اپنے رب کے حضور عاجزی اختیار کرتے ہوئے اسی کی ذات اور فرمان کے سامنے جھک کر زندگی گزارو یہی اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے۔ الاعراف
1 فہم القرآن : (آیت 1 سے 2) المص۔ حروف مقطعات ہیں ان کے بارے میں سورۃ البقرۃ کی ابتداء میں عرض کیا جاچکا ہے کہ ان حروف کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی ان کا شریعت کے مسائل کے ساتھ تعلق ہے۔ جس کی وجہ سے صحابہ (رض) نے ان کے معانی رسول اللہ (ﷺ) سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ تفصیل جاننے کے لیے سورۃ البقرۃ کے ابتدائی حروف الم کی تشریح ملاحظہ فرمائیں چنانچہ مقطعات کے بعد حکم ہوا۔ اے پیغمبر ! یہ کتاب مقدس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی ذات اطہر پر نازل کی گئی ہے تاکہ آپ لوگوں کو پڑھائیں اور سمجھائیں۔ اگر لوگ اسے ماننے سے انکار اور آپ سے تکرار کرتے ہیں تو آپ کو دل میں تنگی اور لوگوں کو سمجھانے میں اکتاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ یہ کتاب تو تنگ دلی کا علاج، الجھنوں کا حل، قلب ونظر کے لیے نور، دینی ودنیاوی مسائل کا مداوا ہے۔ اس میں اللہ کے منکروں، حق کا انکار کرنے والوں کے لیے بڑا انتباہ ہے اور ایمان وایقان والوں کے لیے خیر خواہی، رحمت اور موعظت کی بے مثال اور لازوال دولت ہے بشرطیکہ لوگ اس کی چاہت اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِّنْ کِتَاب اللّٰہِ فَلَہٗ بِہٖ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا لَآ أَقُوْلُ الم حَرْفٌ وَلٰکِنْ أَلْفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِیْمٌ حَرْفٌ ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فیمن قرأ حرفا من القرآن مالہ من الأجر] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے آپ (ﷺ) فرماتے ہیں کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ” الم“ ایک حرف ہے بلکہ ” الف“ ایک حرف ہے اور ” لام“ ایک حرف ہے ” اور ” میم“ ایک حرف ہے۔“ مسائل : 1۔ قرآن مجید نبی مکرم (ﷺ) پر نازل کیا گیا۔ 2۔ دعوت و تبلیغ میں مبلغ کو پر عزم اور بلند حوصلہ ہونا چاہیے۔ 3۔ وعظ و نصیحت سے مومن ہی صحیح فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : قرآن مجید کے اوصاف کی ایک جھلک : 1۔ قرآن مجید لاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ:2) 2۔ قرآن مجید رحمت اور ہدایت کی کتاب ہے۔ (لقمان :3) 3۔ قرآن مجیدلوگوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کی کتاب ہے۔ (البقرۃ:185) 4۔ قرآن مجید بابرکت اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ (الانعام :92) 5۔ قرآن مجید میں ہدایت واضح کردی گئی ہے۔ (النحل :89) 6۔ قرآن مجید روشن اور بین کتاب ہے۔ (المائدۃ:15) 7۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ (یوسف :3) 8۔ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ (الشعراء :192) قرآن و سنت کے علاوہ کسی کی بات کو شریعت کا درجہ حاصل نہیں : 1۔ جب ان سے کہا جاتا ہے پیروی کرو اللہ کی نازل کردہ کتاب کی تو جواب میں اپنے آباء واجداد کی پیروی کا حوالہ دیتے ہیں۔ (البقرۃ: 170، لقمان :21) 2۔ اس کی پیروی کرو جو تمھارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ (الزمر :55) 3۔ آپ (ﷺ) پیروی کریں جو آپ کے رب کی طرف سے وحی کی گئی ہے۔ (الاحزاب :2) 4۔ بے علم لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ (الجاثیۃ :18) 5۔ اسلام میں مکمل طور پر داخل ہوجاؤ شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔ (البقرۃ:208) 6۔ اس کتاب بابرکت کی پیروی کرو۔ (الانعام :155) 7۔ لوگوں کی اکثریت گمراہ ہوتی ہے لہٰذا ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ (المائدۃ:77) الاعراف
2 الاعراف
3 فہم القرآن : ربط کلام : ہدایت کے متلاشی لوگوں کے لیے نہایت ہی لازم بات ہے کہ وہ ادھر ادھر سے راہنمائی لینے کی بجائے صرف اور صرف قرآن مجیدکی اتباع کریں۔ قرآن مجید کے انتباہ سے ڈرنے اور اس کی نصیحت سے مستفید ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آدمی اس بات کی پیروی کرے جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل فرمائی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر انسان کا نہ کوئی خیر خواہ ہوسکتا ہے اور نہ اس کے کاموں کا والی اور ذمہ دار بن سکتا ہے۔ اولیاء ولی کی جمع ہے جس کا معنٰی ہے دوست اور خیر خواہ۔ یہ لفظ لاکر انسان کی اس فطری کمزوری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس بناء پر آدمی کسی سے دھوکا کھاتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) بھی اس فطری کمزوری کی بناء پر شیطان سے دھوکا کھاگئے۔ جب شیطان نے ان کے قریب آکر باربار قسمیں کھا کر کہا کہ جناب آدم ! میں خیرخواہی کے لیے آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ اس درخت کا پھل کھالیں تاکہ ہمیشہ جنت میں رہ سکیں۔ اللہ تعالیٰ کلی علم رکھنے والا ہے اس کو معلوم تھا اور ہے کہ شیطان ان لوگوں کو اولیاء کے نام پر گمراہ کرے گا لہٰذا حکم دیا کہ اولیاء کی پیروی نہ کرنا۔ بے شک اولیاء کا اللہ کے ہاں ایک مرتبہ اور مقام ہے ہمارے لیے ان کا احترام ومقام لازم ہے لیکن دین اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت محمد (ﷺ) پر نازل کیا ہے نہ کہ اولیاء پر۔ اس لیے اتباع صرف اور صرف نبی محترم (ﷺ) کی ہوگی کیونکہ آپ پر رب کا قرآن نازل ہوا۔ یہاں انسانوں کے رویے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت قلیل لوگ ہیں جو اس اصول کا خیال رکھتے ہوئے صرف وحی الٰہی کی پیروی کرتے ہیں۔ اس اصول کو چھوڑنے اور محبت میں غلو کا نتیجہ تھا اور ہے کہ امت پہلے آئمہ کرام کے نام پرچار فرقوں میں تقسیم ہوئی اور پھر ہر فرقے کے کئی کئی گروہ وجود میں آئے اور آتے جا رہے ہیں صرف ایک فرقہ کا حال دیکھیں پہلے امام ابوحنیفہ (رض) کی نسبت سے حنفی کہلائے اور اس کے بعد سہروردی، چشتی، قادری، نقشبندی، نظامی، گیلانی اور جیلانی۔ نہ معلوم یہ سلسلہ کہاں تک پہنچا اور پہنچ جائے گا۔ ایسے بھائیوں کو قرآن و حدیث کا حوالہ پیش کیا جائے تو فوراً کہتے ہیں کہ کیا امام صاحب کو یہ حدیث یاد نہ تھی۔ کیا تم بزرگوں سے زیادہ قرآن و حدیث سمجھنے والے ہو۔ کچھ لوگ اس سے آگے بڑھ کر بات کرتے ہیں کہ کیا پہلے بزرگ گمراہ تھے ؟ نعوذ باللہ من ذالک۔ حالانکہ یہ حضرات غور کریں تو ان کا رویہ خود آئمہ کرام کی توہین کے مترادف ہے۔ اگر واقعتا امام موصوف کو زیر بحث مسئلہ کا علم تھا تو، پھر انھوں نے اس پر عمل کیوں نہ کیا۔ کیا اس میں امام صاحب کی توہین ہے یا تکریم ؟ جہاں تک اولیاء اللہ کا مقام اور احترام ہے اس کا خیال رکھنا ہمارے لیے فرض ہے۔ لیکن دین اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کا نام ہے۔ مسلمان کو صرف قرآن و سنت کی پیروی کا حکم ہے۔ مسائل : 1۔ قرآن و سنت کی ہی پیروی کرنی چاہیے۔ 2۔ قرآن و حدیث کے علاوہ باقی تمام راستے گمراہی کے ہیں۔ 3۔ گمراہ لوگوں کی اکثریت سے متاثر نہیں ہونا چاہے۔ تفسیر بالقرآن: نبی اکرم (ﷺ) وحی کے پابند تھے : 1۔ آپ (ﷺ) اپنے رب کی وحی کی اتباع کریں۔ (الاحزاب :2) 2۔ میں اتباع کرتا ہوں اس کی جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔ (الاحقاف :9) 3۔ مجھے قرآن وحی کے ذریعہ دیا گیا ہے تاکہ میں تمھیں ڈراؤں۔ (الانعام :19) 4۔ نبی (ﷺ) اپنی مرضی سے بات نہیں کرتے مگر آپ کو جو وحی کی جاتی ہے۔ (النجم : 3تا4) 5۔ میں تو اسی بات کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی گئی ہے۔ (یونس : 15۔ الاعراف :203) 6۔ آپ (ﷺ) اپنے رب کی وحی کی اتباع کریں۔ (یونس :109) الاعراف
4 فہم القرآن : (آیت 4 سے 5) ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے فرمان نہ ماننے اور اس کی نصیحت قبول نہ کرنے والوں کا انجام۔ سورہ کے تعارف میں ہم نے عرض کیا ہے کہ سورۃ کے پہلے رکوع میں ساری سورۃ کے مضامین کا خلاصہ ذکرہوا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی اقوام اور امتوں کے پاس اپنے رسول بھیجے جو انکو اللہ تعالیٰ کے احکام بتلاتے اور باربار نصیحت کرتے تھے کہ اے لوگو! اپنے رب کی ہدایات پر عمل کرو۔ اس میں تمہارا بھلا ہے اور ہم تمہارے خیرخواہ ہیں لیکن لوگوں نے اپنے رب کی ہدایات ماننے اور انبیاء (علیہ السلام) کی پیروی کرنے کے بجائے اپنے آبا کے رسم ورواج، بزرگوں کے اقوال اور ذاتی خیالات کو مقدم جانا۔ اس فکروعمل پر انہیں باربارتنبیہ کی گئی کہ اگر تم نے اپنی طرزحیات کو نہ بدلا تو اللہ تعالیٰ کا عذاب تمھیں آلے گا لیکن وہ اپنے فکروعمل پر مصر اور انبیاء (علیہ السلام) کی توہین کرتے اور ان سے عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر حجت تمام ہوئی تو اس کے عذاب نے انہیں ایسے وقت میں آدبوچا جب وہ غفلت کی نیند سوئے ہوئے تھے۔ یعنی ایسی حالت میں عذاب آیا کہ وہ آہ وزاری بھی نہ کرسکے۔ بڑا ہی بدقسمت ہے وہ انسان اور قوم جسے اس کی بداعمالیوں کی وجہ سے آخر وقت میں توبہ نصیب نہ ہو۔ انہوں نے غفلت میں زندگی گزاری اور غفلت کی حالت میں پکڑے گئے اگر کسی کو ہوش آیا بھی تو وہ یہی کہہ رہا تھا کہ واقعی ہم ظالم ہونے کی وجہ سے اس عذاب میں مبتلا ہوئے ہیں۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ایک وقت مقرر ہے۔ 2۔ عذاب عموماً اس وقت آتا ہے جب لوگ غفلت و بے فکری میں پڑے ہوتے ہیں۔ 3۔ عذاب کے وقت سبھی اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہیں۔ الاعراف
5 الاعراف
6 فہم القرآن : (آیت 6 سے 7) ربط کلام : قوم کس قدر بھی اکھڑ مزاج ہو اور تباہی کے گڑھے پر کھڑی ہو اسے آخر وقت تک سمجھانا۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی سنت ہے کیونکہ ہر نبی سے اپنی امت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ جس طرح نبی سے اس کی امت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اسی طرح امت سے سوال ہوگا کہ اس نے اپنے نبی کی دعوت کا کیا جواب دیا۔ چنانچہ قیامت کے دن تمام انبیاء ( علیہ السلام) وقت مقررہ کے مطابق اپنی اپنی امت کو لے کر عدالت کبریا میں حاضر ہوں گے سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) رب کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر فرد کے سامنے اس کا اعمال نامہ پیش فرمائیں گے۔ جس میں ایک بات بھی حقیقت کے خلاف نہ ہوگی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر بات پر حاوی ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ ہر امت اور نبی سے سوال کرے گا : 1۔ اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کیا تمھارے پاس رسول نہ آئے جو میری آیات پڑھ کر سناتے تھے ؟ (الزمر :71) 2۔ اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا تمھارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے ؟ (الانعام :130) 3۔ اے بنی آدم کیا تمھارے پاس رسول نہ آئے ؟ (الاعراف :35) 4۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز رسولوں کی جماعت کو اکٹھا کرکے امتوں کے سلوک کے بارے میں سوال کرے گا۔ (المائدۃ:109) 5۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عیسیٰ بن مریم سے سوال کرے گا۔ (المائدۃ:116) الاعراف
7 الاعراف
8 فہم القرآن : (آیت 8 سے 9) ربط کلام : سابقہ آیات میں ارشاد ہے کہ ہم انبیاء اور ان کی امتوں سے پوچھیں گے۔ پھر انہیں ان کے اعمال کے بارے میں بتلائیں گے یہاں ارشاد ہے کہ اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ پھر وزن کی بنیاد پرجنت یا جہنم کا فیصلہ ہوگا۔ گو یا کہ یہ پوچھ نہیں بلکہ جزا سزا بھی ہوگی۔ منکرین قرآن اور آخرت کے عقیدہ کا انکار کرنے والے کہا کرتے تھے کہ اعمال کا وزن کس طرح ہوگا۔ یہ نبی جھوٹ بولتا ہے الفاظ ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں زنا کرتا ہے اس کا وزن کیسے ہوگا۔ کفر و شرک کا تعلق عقیدہ کے ساتھ ہے۔ عقیدہ فکر کا نام ہے۔ فکر کی پیمائش اور وزن ہو نہیں سکتا۔ لیکن سائنس نے کا فی حد تک ثابت کردیا ہے کہ ہوا کا وزن ہوسکتا ہے بخار کا ٹمریچر معلوم کرلیا جاتا ہے۔ آواز اور تصویر منتقل کی جاسکتی ہے علیٰ ہذا القیاس کیا جس رب نے انسان کو سب کچھ سکھایا ہے وہ اعمال کا وزن نہیں کرسکتا؟ یقیناً کرسکتا ہے اور کرے گا۔ اسی لیے فرمایا کہ وہ وقت آئے گا اور وزن ہوگا اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے سب کچھ ہو کر رہے گا۔ ہاں جس کا نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوا۔ وہ کامیاب ہوگا اور جس کا برائیوں کا پلڑا ہلکا ہوا وہ رسوا ہوجائے گا۔ مسائل : 1۔ قیامت کے دن اعمال کا وزن ہوگا۔ 2۔ جن کی نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوا وہ کامیاب ہوگا۔ 3۔ دنیا میں نیک اعمال نہ کرنے والے خائب وخاسر ہوں گے۔ الاعراف
9 الاعراف
10 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اس لیے بھیجا ہے کہ وہ نیک اعمال کرکے نیکیوں کے پلڑے کو بھاری بنائے لیکن اس نے برائی کے پلڑے کو بھاری بنایا اور جہنم کا ایندھن بنا۔ انسان کو زمین پر بھیجتے وقت ہدایت کی گئی تھی کہ اب تیرا رہنا، مرنا اور محشر کے دن اٹھنا زمین سے ہی ہوگا۔ لہٰذا زمین ہی تیرا ٹھکانہ اور اس میں تیرے لیے زینت کا سامان ہے۔ ہاں یا درکھنا میری طرف سے تیری رہنمائی کے لیے احکام نازل ہوتے رہیں گے۔ جس نے اس رہنمائی کے مطابق زندگی بسر کی۔ اسے دنیا اور آخرت میں خوف و خطر نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر بسنے کے لیے وسائل اور کچھ اختیارات دیے ہیں تاکہ اسے آزمائے کہ وسائل کس طرح بروئے کار لاتا اور اپنے اختیار ات کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ وسائل اور اختیارات کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق استعمال کرنا گویا کہ اس کا شکر ادا کرنا ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز اور اللہ کے دیے ہوئے وسائل کو غلط استعمال کرکے اس کے شکر گزار بندے بننے کے بجائے باغی اور نافرمان ثابت ہوتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا انسان کے لیے کھلا پیغام ہے کہ اپنے رب کا شکر ادا کرے گا تو وہ تجھے مزید عنایت فرمائے گا۔ شکر کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو اللہ کی تابع داری میں لگائے۔ اس کی دی ہوئی طاقت کو اس کے بندوں کی خدمت اور دین کی سربلندی پر صرف کرے اس کے دیے ہوئے مال کو غریبوں اور مسکینوں پر خرچ کرے۔ تفسیر بالقرآن : شکر گذار لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں : 1۔ شکر گذار بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ (السباء :13) 2۔ لوگوں کی اکثریت نا شکری ہوتی ہے۔ (البقرۃ:243) 3۔ آپ انکی اکثریت کو شکر کرنے والے نہیں پائیں گے۔ (الاعراف :17) الاعراف
11 فہم القرآن : ربط کلام : پہلی آیات میں قیامت کے دن اعمال کا وزن کرنے، انبیاء اور امتوں سے ان کے کردار کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کا ذکر کرنے کے ساتھ ہی فرمایا کہ ہم نے ہی تمہیں زمین میں ٹھہرایا اور تمہاری حیثیت کا انتظام کیا۔ اب فرمایا کہ اے انسان ہم نے تمہیں پیدا کیا اور بہترین شکل وصورت سےمزین کیا۔ پھر تمہارے باپ آدم کو مسجود ملائکہ کا اعزاز بخشا۔ اس آیت کے الفاظ اور انداز سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو بیک وقت پیدا فرما کر انہیں شکل وصورت سے نوازا بعد ازاں ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں جبکہ قرآن مجید میں ہی موجود ہے کہ سب سے پہلے صرف آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا پھر اس سے اس کی بیوی کو پیدا کیا اور ان سے بے شمار مرد وزن کی تخلیق کا سلسلہ شروع کیا۔[ النساء آیت :1] یہاں ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ﴾ کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا اور ہمیں نے تمہاری شکلیں بنائیں۔ یہاں مخاطب کی ضمیر (کُم) لائی گئی ہے جس کے اہل علم نے تین مفہوم لیے ہیں : 1 آدم (علیہ السلام) تمام انسانوں کے باپ اور نمائندہ ہیں ان کے لیے جمع کی ضمیر استعمال کی گئی ہے۔ 2 تمام ارواح آدم (علیہ السلام) کی پشت یعنی جبلت میں تھیں اور عالم ارواح میں ان کی شکلیں متعین کردی تھیں۔ جس بنا پر جمع مخاطب کی ضمیر لائی گئی ہے۔ سورۃ الاعراف آیت : 172میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) سے اس کی اولاد کو پیدا فرما کر استفسار کیا کہ میں تمہارا رب ہوں یا نہیں؟ تمام بنی آدم نے جواب دیا ﴿بلٰی﴾ کیوں نہیں تو ہی ہمارا رب ہے۔ 3 آیت کے الفاظ پر معمولی غور کیا جائے تو یہ حقیقت خود بخود واضح ہوتی ہے تخلیق اور شکلوں کے بارے میں جمع مخاطب کی ضمیر لائی گئی ہے لیکن سجدے کا ذکر کرتے ہوئے واضح الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ ہم نے ملائکہ کو حکم دیا کہ وہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں۔ گویا کہ ملائکہ نے آدم (علیہ السلام) کی پوری اولاد کو نہیں بلکہ صرف حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا تھا۔ (عَن أَبِیْ مُوسَی الْأَشْعَرِیِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْہُمْ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ وَالسَّہْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ) [ رواہ ابو داود : کتاب السنہ، باب فی القد ر] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا۔ جو ساری زمین سے لی گئی آدم کی اولاد زمین کے مطابق ہوئی۔ ان میں سرخ، سفید، سیاہ اور درمیانی رنگت کے لوگ ہیں ان میں سخت ہیں اور نرم طبیعت کے ہیں کچھ نیک اور بد ہیں۔“ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () خَیْرُ یَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ فِیْہِ خُلِقَ اٰدَمُ وَفیہِ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ وَفِیْہِِ اُخْرِجَ مِنْھَا وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّا فِیْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ ) [ رواہ مسلم : باب فَضْلِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ] ” حضرت ابوہریرۃ (رض) آپ (ﷺ) کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ ایام میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے اس دن آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا اسی دن ان کو جنت میں داخلہ ملا اور جمعہ کو ہی ان کا جنت سے اخراج ہوا۔ اور اسی دن ہی قیامت برپا ہوگی۔“ ( وَعَنْ اَنَسٍ (رض) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ () قَالَ لَمَّاصَوَّرَ اللّٰہُ اٰدَمَ فِیْ الْجَنَّۃِ تَرَکَہٗ مَا شَاء اللّٰہُ اَنْ یَتْرُکَہٗ فَجَعَلَ اِبْلِیْسُ یُطِیْفُ بِہٖ یَنْظُرُ مَا ھُوَفَلَمَّارَاٰہُ اَجْوَفَ عَرَفَ اَنَّہٗ خُلِقَ خَلْقًا لَایَتَمَالَکُ) [ رواہ مسلم] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا‘ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی جنت میں شکل و صورت بنائی اس پیکر کو جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا جنت میں اسی طرح رہنے دیا ابلیس اس کے گرد گھوما اور وہ غور کرتا رہا کہ یہ کیا ہے؟ جب اس نے مجسمہ کو دیکھا کہ یہ اندر سے کھوکھلا ہے‘ تو سمجھ گیا کہ یہ ایسی مخلوق تخلیق کی جارہی ہے‘ جو مستقل مزاج نہیں ہوگی۔“ تفسیر بالقرآن : حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے مختلف مراحل : 1۔ حضرت آدم کی تخلیق کا اعلان۔ (البقرۃ:30) 2۔ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ (نوح :17) 3۔ حضرت آدم بد بودار مٹی سے پیدا کیے گئے۔ (الحجر :26) 4۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جس مٹی سے پیدا کیے گئے وہ کھڑ کھڑاتی تھی۔ (الحجر :26) 5۔ انسان یعنی آدم (علیہ السلام) کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا۔ (الرحمن :14) 6۔ سب سے پہلے حضرت آدم پھر ان سے ان کی بیوی پھر دونوں سے تخلیق انسانی کا سلسلہ جاری فرمایا۔ (النساء :1) الاعراف
12 فہم القرآن : (آیت 12 سے18) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ سجدہ کا حکم ہوتے ہی تمام ملائکہ آدم (علیہ السلام) کے حضور سر بسجود ہوئے لیکن شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا احترام و مقام دیکھ کر حسد اور تکبر کی وجہ سے سجدہ ریز ہونے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ وہ جرم پر جرم اور گستاخی پر گستاخی کرتا چلا گیا۔ اس جگہ اجمال ہے جبکہ دوسرے مقامات پر شیطان کے انکار کی تفصیلات یوں بیان کی گئی ہیں۔ ﴿ وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلآئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ قَالَ ءَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا﴾[ الاسراء :61] ” اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا اور اس نے کہا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔“ ﴿اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ﴾ [ الاعراف :12] ” میں آدم سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔“ ﴿قَالَ اَرَءَ یْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیّ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہ‘ ٓ اِلَّا قَلِیْلاً﴾ [ الاسراء :62] ” شیطان نے کہا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی دی ہے لیکن اگر مجھے قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد پر غلبہ حاصل کرلوں گا تھوڑے لوگ ہی بچیں گے۔“ ﴿قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ﴾ [ ص :82] ” کہنے لگا تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بہکا دوں گا۔“ ﴿قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہ‘ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ﴾ [ الحجر :33] ” شیطان نے کہا میں ایسا نہیں کہ انسان کو سجدہ کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔“ حسد اور تکبر وہ بری چیز ہے کہ جس سے انسان کے تمام اعمال غارت اور بسا اوقات دنیا ہی میں ذلت و رسوائی سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ سرور دو عالم (ﷺ) نے تکبر کا مفہوم اور اس کے نقصانات یوں ذکر فرمائے ہیں : (اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ] ” تکبر حق بات کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ] ” حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (ﷺ) نے فرمایا : جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبرہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () یَقُوْلُ اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ الْکِبْرِیَاءُ رِدَائِیْ وَالْعَظْمَۃُ إِزَارِیْ مَنْ نَازَعَنِیْ وَاحِدًا مِّنْھُمَا أَلْقَیْتُہٗ فِیْ جَھَنَّمَ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزھد، باب البراء ۃ من الکبر والتواضع ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تکبر میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے جو ان میں سے کوئی ایک مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اس کو جہنم میں پھینک دوں گا۔“ غیر اللہ کو سجدہ کرنا جائز نہیں : (عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ (رض) قَالَ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَّھُمْ فَقُلْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ یُّسْجَدَ لَہٗ قَالَ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ () فَقُلْتُ إِنّیآ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَّھُمْ فَأَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ قَالَ أَرَأَیْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِیْ أَکُنْتَ تَسْجُدُ لَہٗ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا لَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَآءَ أَنْ یَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِھِنَّ لِمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَھُمْ عَلَیْھِنَّ مِنَ الْحَقِّ) [ رواہ أبوداؤد : کتاب النکاح، باب فی حق الزوج علی المرأۃ] ” حضرت قیس بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں حیرہ گیا تو میں نے وہاں کے لوگوں کو بادشاہ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول سجدے کے زیادہ لائق ہیں۔ میں نبی (ﷺ) کے پاس آیا تو میں نے عرض کی : میں نے حیرہ میں دیکھا کہ وہ اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول (ﷺ) ! آپ زیادہ حقدار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا : بتلاؤ! اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا اسے سجدہ کرو گے؟ میں نے کہا : نہیں۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا : ایسے نہ کرو اگر میں نے کسی کو کسی کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دینا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کا عورتوں پر جو حق رکھا اس وجہ سے عورتوں کو حکم دیتاکہ وہ اپنے خاوندوں کے سامنے سجدہ ریز ہوں۔“ مسائل : 1۔ سب سے پہلے ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ 2۔ تکبر کرنا ابلیس کا کام ہے۔ 3۔ تکبر اللہ تعالیٰ کو قطعاً پسند نہیں۔ 4۔ ابلیس کو قیامت تک کے لیے مہلت دی گئی ہے۔ الاعراف
13 الاعراف
14 الاعراف
15 الاعراف
16 الاعراف
17 الاعراف
18 الاعراف
19 فہم القرآن : ربط کلام : شیطان کو دھتکارنے اور راندۂ درگاہ کرنے کے بعد آدم (علیہ السلام) اور اس کی بیوی کو جنت میں قیام کرنے کا حکم ہوا۔ اے آدم! تو اور تیری بیوی جنت میں قیام کرو اور اس درخت کے سوا تم جو چاہو کھا پی سکتے ہو۔ ہاں اگر تم اس کے قریب چلے گئے تو ظالموں کی صف میں شامل ہوجاؤ گے۔ 1۔جنت میں رکھنے کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ جنت کی سہولتوں، بہاروں اور نعمتوں کو اچھی طرح دیکھ لیں اور ان سے لطف اندوز ہولیں۔ تاکہ دنیا کی عارضی نعمتوں کو جنت کے مقابلے میں خاطر میں نہ لائیں اور دوبارہ یہاں آنے کی کوشش کریں۔ 2 ۔شاید اس کی یہ بھی حکمت ہو کہ وہ آسمانی نظام کا براہ راست مشاہدہ کریں تاکہ بحیثیت خلیفہ زمین کے انتظامات کرنے میں انہیں سہولت رہے۔ 3۔ بطور آزمائش اس درخت سے اس لیے منع کیا گیا کہ وہ خدا کے منع کردہ امور سے بچنے کی تربیت پائیں اور غلطی ہونے کی صورت میں معذرت کا رویہ اختیار کریں۔ 4۔ اس میں یہ حکمت بھی ہو سکتی ہے کہ انہیں شیطان کے ساتھ عداوت اور دشمنی کا مزید مشاہدہ ہو۔ تاکہ دنیا میں جا کر شیطانی اثرات وحرکات سے بچنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہیں۔ آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ کو جنت میں ٹھہراتے ہوئے کھلی اجازت عنایت فرمائی گئی کہ جنت میں جہاں سے چاہو اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہو لیکن ایک بات یاد رکھوکہ اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم ظالموں میں شمار ہوگے۔ جنت میں وہ کون سادرخت تھا جس کے قریب نہ جانے سے منع کیا گیا اس کے بارے میں قرآن مجید اور حدیث مبارکہ میں کوئی وضاحت موجود نہیں بعض مفسرین نے جو کچھ لکھا ہے وہ محض اسرائیلی روایات اور اٹکل پچو ہیں۔ قرآن مجید میں کئی بار یہی الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ اس درخت کے قریب جاؤگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے یہاں اہل علم نے ظلم کے مختلف معانی بیان کیے ہیں لیکن جوہری اعتبار سے سب کا ایک ہی معنیٰ بنتا ہے کہ کسی چیز کو اس کی اصلیت سے آگے پیچھے کرنا۔ الاعراف
20 فہم القرآن : (آیت 20 سے22) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اسی سورۃ کی آیت 189میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حواکو آدم (علیہ السلام) سے ہی پیدا فرمایا۔ یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ آدم اور اس کی بیوی کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا۔ اور ساتھ یہ بات بتلادی گئی کہ صرف اس ایک درخت کے سوا باقی ہر چیز کھا سکتے ہو۔ اس کے قریب گئے تو ظالموں میں شمار کیے جاؤ گے۔ لیکن شیطان نے انتقام لینے اور ان کو برہنہ کرنے کے لیے ان کے دل میں وسوسہ پیدا کرکے انہیں باور کرایا کہ تمہیں اس درخت سے محض اس لیے روکا گیا ہے کہیں تم فرشتے بن کر ہمیشہ کے لیے جنت کے باسی نہ بن جاؤ۔ نامعلوم شیطان لعین ان کو پھسلانے کی کتنی مدت کوشش کرتا رہا جب اس نے دیکھا کہ یہ دونوں میرے جال میں نہیں پھنس رہے تو اس نے اللہ کی قسمیں اٹھائیں کہ میں تمھیں دشمنی کی بناء پر نہیں بلکہ خیر خواہی کے جذبہ سے مشورہ دے رہا ہوں کہ تمھیں اس درخت کا ذائقہ ضرور چکھنا چاہیے۔ چنانچہ آدم (علیہ السلام) اور ان کی رفیقۂ حیات نے شیطان کی قسموں پر اعتبار کرتے ہوئے اس درخت کا ذائقہ چکھ لیا۔ جونہی انہوں نے درخت کا ذائقہ چکھا تو ان کے لباس اتر گئے اور وہ شرم کے مارے جنت کے پتوں سے اپنی شرم گاہوں کو ڈھانپنے کی کوشش کر رہے تھے اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو آواز دی کیا میں نے تمہیں اس سے پہلے منع نہیں کیا تھا کہ تم دونوں اس درخت کے قریب نہ جانا اور میں نے یہ بھی تمہیں سمجھایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اس سے بچ کر رہنا لیکن تم نے وہ کیا جس سے تمہیں روکا گیا تھا۔ ” وسوسہ“ کا معنیٰ ہے کہ کسی کے دل میں برا خیال ڈالنا یا اس کے کان میں سرگوشی کے انداز میں بری بات کہنا بعض مفسر یہاں اس الجھن کا شکار ہوئے ہیں کہ شیطان کو جنت میں جانے کی اجازت نہ تھی تو پھر اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کے دل میں کس طرح وسوسہ ڈالا۔ اس الجھن سے نکلنے کے لیے اسرائیلی روایات کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ شیطان سانپ کی شکل میں جنت میں داخل ہوا۔ کچھ مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) جنت کے دروازے کے قریب آئے تو شیطان ان کو ورغلانے میں کامیاب ہوا یہ تفسیر لکھنے والے اگر حدیث رسول (ﷺ) کی طرف رجوع کرتے تو انہیں ان مضحکہ خیز تاویلات کی ضرورت پیش نہ آتی۔ شیطان کی قوت وحرکت کا تذکرہ کرتے ہوئے نبی معظم (ﷺ) نے فرمایا کہ شیطان دور کھڑا ہو کر بھی انسان پر اثرا نداز ہوتا ہے اور کبھی خون کی گردش کی طرح انسان کے جسم میں سرایت کرجاتا ہے۔ جہاں تک دور کھڑے ہو کر اثر انداز ہونے کا تعلق ہے ٹی وی کے فحش پروگرام اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بعض اہل علم نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) تو مسجود ملائکہ ہونے کی وجہ سے افضل المقام تھے پھر انہیں فرشتہ یا اس کا ہم پلہ ہونے کا کس طرح خیال آیا؟ اس کے ساتھ ہی وہ اس بات پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو جنت میں رہنے کا حکم دیا تھا تو پھر انہیں کس طرح خدشہ پیدا ہوا کہ وہ یہاں سے نکال دیے جائیں گے؟ مذکورہ بالا خیالات کی توجیہ کے لیے بھی کئی راستے نکالے گئے ہیں۔ شاید کچھ مفسرین نے قرآن کے الفاظ پر غور نہیں فرمایا ورنہ قرآن مجید نے اسی مقام پر لفظ ” غرور‘ استعمال کرکے اس الجھن کو دور کردیا ہے ” غرر“ کا معنیٰ ہے حقیقت کے خلاف کوئی چیز پیش کرنا یا حقیقت کے خلاف مغالطہ دینا۔ غرر کا مقصد ہی دوسرے کی عقل وفہم پر پردہ ڈالنا ہوتا ہے۔ اس لیے شیطان باربار اللہ تعالیٰ کی قسمیں اٹھانے کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوا کیونکہ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کے نام کی یہ پہلی قسم تھی جس کی وجہ سے وہ دھوکا کھا گئے آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ شیطان اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم بھی اٹھا سکتا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُہُمْ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ إِلَیْہِمْ وَلَا یُزَکِّیہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ رَجُلٌ عَلٰی فَضْلِ مَاءٍ بِطَرِیقٍ یَمْنَعُ مِنْہُ ابْنَ السَّبِیلِ وَرَجُلٌ بَایَعَ رَجُلًا لَا یُبَایِعُہٗ إِلَّا للدُّنْیَا فَإِنْ أَعْطَاہُ مَا یُرِیدُ وَفٰی لَہٗ وَإِلَّا لَمْ یَفِ لَہٗ وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا بِسِلْعَۃٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ باللّٰہِ لَقَدْ أَعْطٰی بِہَا کَذَا وَکَذَا فَأَخَذَہَا)[ رواہ البخاری : کتاب الأحکام، باب من بایع رجلا لا یبایعہ إلا للدنیا] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کریں گے نہ ان کو گناہوں سے پاک کریں گے ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔۔ ایسا آدمی جو دوسرے شخص کو سودا عصر کے بعد اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر فروخت کرے کہ وہ اسے فلاں قیمت پر ملا ہے تو لینے والا اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس سے لے لے حالانکہ بیچنے والے نے وہ چیز اس قیمت پر نہیں خریدی۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ رَفَعَہُ إِلَی حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () الْبَیِّعَان بالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا أَوْ قَالَ حَتَّی یَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَیَّنَا بُورِکَ لَہُمَا فِی بَیْعِہِمَا وَإِنْ کَتَمَا وَکَذَبَا مُحِقَتْ بَرَکَۃُ بَیْعِہِمَا) [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب إذا بین البیعان ولم یکتما] ” عبداللہ بن حارث حضرت حکیم بن حزام (رض) کے پاس گئے حضرت حکیم بن حزام (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا خرید و فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ علیحدہ نہ ہوجائیں یا فرمایا یہاں تک کہ وہ علیحدہ ہوجائیں تو اگر وہ دونوں سچے ہوں گے اور چیز کے نقص کی وضاحت کریں گے تو ان کے لیے اس سودے میں برکت ڈال دی جائے گی، اگر وہ چھپائیں اور جھوٹ بولیں گے تو ان کے سودے سے برکت ختم کردی جائے گی۔“ الاعراف
21 الاعراف
22 الاعراف
23 فہم القرآن : (آیت 23 سے 25) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کا آدم (علیہ السلام) کو ان کی غلطی پر توجہ دلانا اور آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوّا کا اللہ کے حضور معذرت کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے جونہی آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی سے فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت کے قریب نہ جانے اور شیطان کی دشمنی سے آگاہ نہیں کیا تھا ؟ یہ فرمان سنتے ہی دونوں نہایت عاجزی اور شرمساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور ان الفاظ میں معافی مانگنے لگے اے ہمارے رب ! اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا ہے۔ اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم نقصان پانے والوں میں ہوں گے۔ آخرت کا خسارہ واضح ہے دنیا کی زندگی میں نقصان یہ ہے کہ تو نے ہمیں عزت وعظمت سے نوازا لیکن ہم اپنی غلطی کی وجہ سے یہ مقام کھوچکے ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں ﴿ دَلَّ﴾ کا لفظ آیا ہے جس کا معنیٰ ہے اوپر سے نیچے آنا یہ گراوٹ روحانی بھی ہوسکتی ہے اور مکانی بھی۔ یہاں دونوں قسم کاتنزل پایا جاتا ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت 32تا 37کی تفسیر میں ہم نے عرض کیا ہے کہ اس مقام پر تینوں قسم کی مخلوق کی فطرت کافرق نمایاں ہوتا ہے۔ ملائکہ نے معمولی لغزش پر لفظ ” سبحان“ کے ساتھ معذرت کی انہیں اسی طرح ہی قربِ الٰہی حاصل رہا۔ شیطان اپنے گناہ پر مصر رہا تو ہمیشہ کے لیے راندۂ درگاہ اور لعنتی قرار پایا۔ آدم (علیہ السلام) اپنی خطا پر معذرت خواہ ہوئے تو ان کی معذرت قبول کرلی گئی تاہم یہ حکم ہوا تم سب کے سب زمین پر اترجاؤ کیونکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ زمین تمہارے لیے عارضی طور پر جائے قرار اور ایک معین مدت تک زیست کا سامان ہے ہاں یاد رکھوکہ اب تمہیں زمین میں جینا اور مرنا ہے اور اسی سے ہی محشر کے دن اٹھایا جانا ہے۔ آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارتے وقت کہا گیا تھا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو یہاں ایک دوسرے کا دشمن ہونے سے مراد پہلا دشمن شیطان ہے جو انسان کا ابدی اور ازلی دشمن ہے جس کی دشمنی میں کوئی شک نہیں۔ جس نے دشمن پر بھروسہ کیا وہ مارا گیا اور بسا اوقات میاں بیوی بھی آپس میں دشمن اور ایک دوسرے کے مخالف ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ اولاد بھی ماں باپ کی مخالف اور دشمن بن جایا کرتی ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی فطرت کا تذکرہ کرتے ہوئے نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا۔ (عَنْ أَنَسٍ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ () قَالَ کُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّاءِین التَّوَّابُونَ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ نبی (ﷺ) نے فرمایا ابن آدم خطا کرنے والا ہے اور خطا کاروں میں اچھے وہ ہوتے ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ () کَانَ یَقُولُ فِی سُجُودِہٖ اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی کُلَّہٗ دِقَّہٗ وَجِلَّہٗ وَأَوَّلَہٗ وَآخِرَہٗ وَعَلَانِیَتَہٗ وَسِرَّہٗ)[ رواہ مسلم : کتاب الصلاۃ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم (ﷺ) اپنے سجدوں میں پڑھا کرتے تھے اے اللہ میرے چھوٹے اور بڑے پہلے اور بعد والے، علانیہ اور پوشیدہ کیے تمام کے تمام گناہ معاف فرمادے۔“ تفسیر بالقرآن : اللہ رحم کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ غفور ہے۔ (الحجر :49) 2۔ اللہ تعالیٰ رحمن ہے۔ (الفاتحۃ:2) 3۔ اللہ ہی بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ (الشورٰی :25) 4۔ اللہ بخشنے اور رحمت کرنے والا ہے۔ (الکہف :58) 5۔ اللہ کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے۔ (الاعراف :156) 6۔ کشتیوں کا غرق ہونے سے بچنا اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ (یٰسٓ:43) 7۔ اللہ کی رحمت سے گمراہ ہی مایوس ہوتے ہیں۔ (الحجر :56) 8۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ (الزمر :53) 9۔ اللہ تعالیٰ کی مومنوں پر خاص رحمت ہوتی ہے۔ (الاحزاب :43) الاعراف
24 الاعراف
25 الاعراف
26 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ شجرِممنوعہ کو چکھنے کی وجہ سے آدم (علیہ السلام) اور ان کی رفیقہ حیات کا لباس اتر گیا جس کی وجہ سے شرم کے مارے جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانپ رہے تھے۔ اس لیے مناسب سمجھا کہ لباس کی افادیت کا بیان کردیا جائے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا علیہا السلام سے خطا سرزد ہونے کی وجہ سے ان کا لباس اتر گیا جس کی بناء پر اولاد آدم کو لباس پہننے اور گناہوں سے بچنے کا حکم دے کر فرمایا ہے کہ لباس پہننے اور گناہوں سے پرہیزگاری اختیار کرنے میں تمہاری خیر ہے یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس سے نصیحت حاصل کرو۔ خیر سے مراد ظاہری کثافت، یا موسم کی حدّت وبرودت سے بچاؤ اور بے حیائی سے بچنا ہے۔ لباس کی فرضیت کے لیے انزلنا اور اسے آیت اللہ قرار دیا ہے۔ جس لباس سے انسان کی حیا، عفّت اور عزت و وقار پامال ہو وہ نہیں پہننا چاہیے لباس کو ظاہری زینت اور شرافت نفس کا ضامن قرار دے کر اس کی اہمیت وفرضیت کو انزلنا کے ساتھ بیان فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے لباس اتارا۔ لفظ انزلنا میں لباس کی فرضیت کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی اون، روئی اور چمڑا پیدا کرنے کے ساتھ تمہیں لباس سینے اور پہننے کا سلیقہ سمجھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لباس کی ضرورت و اہمیت بیان کرتے ہوئے صرف مسلمان یا کسی خاص قبیلے اور قوم کو ہی مخاطب نہیں فرمایا بلکہ لباس کی مقصدیت اجاگر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ لباس آدمی کی زینت اور ستر پوشی کا مظہر ہے۔ ﴿یَا بَنِیْٓ آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِی سَوْءَ اتِکُمْ وَرِیشًا وَلِبَاس التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ﴾ [ الأعراف :26] ” اے آدم کی اولاد ! ہم نے تمھارے لیے لباس نازل کیا جو تمھارے جسموں کو ڈھانپنے کے ساتھ تمھارے وجود کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ ہے۔ بہترین لباس پرہیزگاری کا لباس ہے۔“ ریش : ریش پرندے کے پروں کو بھی کہا جاتا ہے جو اس کا لباس ہونے کے ساتھ ساتھ حسن و زیبائی کا باعث اور پھر اس کی اڑان اور پروان کا ذریعہ بھی ہیں۔ انسان کیونکہ پوری مخلوق میں ظاہری اور معنوی اعتبار سے خوبصورت ترین پیدا کیا گیا ہے۔“ ﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِی أَحْسَنِ تَقْوِیمٍ﴾ [ التین :4) ” بلاشبہ ہم نے انسان کو بہترین انداز میں تخلیق کیا ہے۔“ اس لیے ضروری ہے کہ وہ ایسا لباس زیب تن کرے جو وضع قطع اور رنگ و ڈیزائن کے اعتبار سے اس کی قدوقامت نکھارو سنوار میں اضافہ کرے۔ لباس کا دوسرا مقصد تقویٰ قرار پایا۔ یہاں تقویٰ کے دونوں معنی لینے چاہییں۔ ظاہری کثافت و نجاست اور موسموں کی حدت و برودت، ہوا اور فضا کے برے اثرات سے اپنے آپ کو بچانا اسی کے باعث آپ (ﷺ) ہمیشہ موسم کے مطابق لباس زیب تن فرماتے۔ دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ گرمیوں میں آپ کھلا کرتا پہنتے۔ آپ (ﷺ) دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تو بسا اوقات سامنے بیٹھا ہوا آدمی آپ (ﷺ) کی آستینوں سے بغلوں کے قریب بازوؤں کی سفیدی دیکھ لیتا تھا۔ (وَاِنَّہُ یَرفَعُ حَتّٰی یُریٰ بَیَاضُ اِبْطَیْہٖ) [ مشکوٰۃ : کتاب الاستسقاء] ” آپ (ﷺ) نے اس قدر ہاتھ بلند کیے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی۔“ اور اسی طرح آپ (ﷺ) سردیوں میں نسبتاً چست لباس استعمال فرماتے۔ آپ (ﷺ) ایک دفعہ وضو کرنے لگے تو کہنیوں کو دھونے کے لیے آستینیں چڑھانا چاہیں، جب اوپر نہ ہو پائیں تو آپ (ﷺ) کو اچکن اتارنا پڑی۔ (اَنَّ رَسُول اللّٰہِ () لَبِسَ جُبَّۃً رُومِیَۃً ضَیِّقَہَ الْکُمَّیْنِ)[ رواہ البخاری ومسلم : کتاب اللباس ] ” بلاشبہ رسول اللہ (ﷺ) نے ایک رومی جبہ پہنا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔“ لباس کا دوسرا مقصد شرم و حیا کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھنا ہے۔ قرآن کریم اس کو تقویٰ سے تعبیر کرتا ہے۔ اگر لباس موسم کے مطابق نہیں تو صحت کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے اور اگر شریعت کے تقاضے پورے نہیں کرتا تو حیا کے رخصت ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی بنا پر خاص کر عورت کو شرم و حیا کی تلقین فرماتے ہوئے پردے کا حکم دیا ہے۔ ” جناب عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا جب کوئی عورت بے پردہ باہر نکلتی ہے تو شیطان صفت لوگ اس کو اپنی نظروں کا نشانہ بناتے ہیں۔“ [ رواہ الترمذی :] اور یہ بھی فرمایا کہ عورتیں زیادہ باریک لباس نہ پہنیں۔ جس سے ان کا جسم نظر آئے۔ لباس پہننے کے باوجود برہنہ دکھائی دینے والی عورتوں پر پھٹکار کے الفاظ استعمال کیے۔ ” حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں (میری بہن) اسماء بنت ابی بکر (رض) رسول پاک (ﷺ) کے پاس آئیں اور وہ باریک کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔ آپ (ﷺ) نے اس کی طرف سے چہرہ پھیر لیا اور فرمایا کہ اے اسماء! جب عورت جوان ہوجائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اس کے ہاتھوں اور چہرے کے علاوہ جسم کا کوئی حصہ نظر آئے۔“ [ مشکوۃ، کتاب اللباس] دوسری روایات میں یہ وضاحت موجود ہے کہ چہرے کا ڈھانپنا نہایت ضروری ہے کیونکہ اگر چہرہ ننگا ہو تو پردے کا تقاضا پورا نہیں ہوتا۔ غرور اور تکبر سے بچیے : (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَااَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الْاِزَارِ فِیْ النَّارِ) [ مشکوۃ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا جو شخص ٹخنوں سے نیچے تہبند رکھے گا اس کے ٹخنوں کو آگ میں جلایا جائے گا۔“ آپ (ﷺ) کے ملبوسات کے رنگ وڈیزائن : (عَن سَمُرَۃَ (رض) اَنَّ النَّبِیَّ () قَالَ اِلْبَسُوا الثّیَابَ الْبِیْضَ فَاِنَّھَا اَطْہَرُ وَاَطْیبُ وَکَفِّنُوْا فِیْھَا مَوتَاکُمْ) ” حضرت سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ سفیدکپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ زیا دہ صا ف ستھرے اور نفیس ہوتے ہیں۔ اور اپنے فوت ہونے والوں کو سفید کپڑوں میں کفن دیا کرو۔“ [ مشکوٰۃ: کتاب اللباس] آپ (ﷺ) سفید لباس پسند کرنے کے باوجود رنگ دار لباس بھی زیب تن کرتے تھے۔ خصوصاً وفود سے ملاقات کرتے ہوئے گیرورنگ کالباس پہنتے۔ بالکل کالا، سبز اور سرخ رنگ کالباس کبھی بھی استعمال نہیں کیا۔ مخصوص لباس اور ہمیشہ ایک ہی رنگ اختیار کیے رکھنا نیکی کی نمائش اور جاہل صوفیا کا طریقہ ہے۔ احادیث کی مقدس دستاویز ات میں کالے یا سرخ رنگ کے لباس کے جو اشارات ملتے ہیں اس سے مراد سرخی یا سیاہی مائل کپڑے ہیں۔ حافظ ابن قیم (رض) نے لکھا ہے کہ بالکل سیاہ، سبز اور سرخ لباس آپ (ﷺ) نے نہیں پہنا۔ حدیث میں ایسے رنگوں سے مراد ان رنگوں کا غالب ہونا ہے۔ البتہ دستار مبارک اور سردیوں میں اوپر لینے والی چادر خالص کالے رنگ کی استعمال فرمائی۔ (عَنْ عَمْرِ وبْنِ حُرَیْثٍ (رض) قَالَ رَأَیْتُ النَّبِیَّ () عَلَی الْمِنْبَرِ وَعَلَیْہِ عَمَامَۃٌ سَوْدَآءَ) ” حضرت عمرو بن حریث (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی (ﷺ) کو منبر پر تشریف فرما دیکھا اور آپ (ﷺ) سیاہ پگڑی سجائے ہوئے تھے۔“ [ مشکوٰۃ: کتاب اللباس] وضع قطع کے اعتبار سے چند معمولی تبدیلیوں کے علاوہ آپ (ﷺ) نے وہی لباس استعمال فرمایا جو اس زمانے میں لوگ پہنا کرتے تھے۔ اس دور میں لوگ اکثر قمیص کے ساتھ تہبند اور سر پر دستار سجایا کرتے تھے۔ یہی بڑے اور معزز لوگوں کا لباس ہوا کرتا تھا۔ البتہ معاشرے میں پاجامہ اور شلوار بھی لوگوں کے زیراستعمال تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن قیم (رض) نے اس بات کی طرف اشارے دیے ہیں کہ نبی محترم (ﷺ) شلوار بھی پہنا کرتے تھے۔ جبکہ صحابہ کرام (رض) سے شلوار یا پاجامہ اور سروں پر ٹوپیاں پہننے کے تو کافی ثبوت موجود ہیں۔ (عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ () قَالَ مَنْ أَکَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَطْعَمَنِی ہٰذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِیہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِنِّی وَلَا قُوَّۃٍ غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ وَمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی کَسَانِی ہٰذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِیہٖ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِنِّی وَلَا قُوَّۃٍ غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَا تَأَخَّرَ)[ رواہ ابو داؤد : کتاب اللباس] ” حضرت سہل بن معاذ بن انس اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول مکرم (ﷺ) نے فرمایا جو شخص کھانا کھائے تو کہے تمام تعریفات اس اللہ کے لیے جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور مجھے بغیر مشقت کے عنایت فرمایا تو اس کے تمام اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ جو کوئی کپڑا پہنے تو کہے تمام تعریفات اس اللہ تعالیٰ کے لیے جس نے مجھے یہ کپڑا پہنا یا اور مجھے بغیر کسی مشقت کے عنایت فرمایا تو اس کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے لباس اس لیے نازل فرمایا تاکہ لوگ اس کے ساتھ جسم اور اپنی شرافت کی حفاظت کریں۔ 2۔ لباس پہننے میں ہی بہتری ہے بشرطیکہ انسان اس کی حقیقت سمجھ جائیں۔ 3۔ لباس پہننے کا مقصدزینت اور تقویٰ کا حصول ہے تفسیر بالقرآن : نصیحت حاصل کرو : 1۔ ہم نے قرآن مجید کو واضح کردیا تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (بنی اسرئیل :41) 2۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو مختلف عذابوں سے دو چار کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (الاعراف :130) 3۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نصیحت کے لیے نازل فرمایا۔ (صٓ :29) 4۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے جوڑے (نرومادہ) بنادیے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (الذاریات :49) 5۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (الزمر :27) 6۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (البقرۃ:221) 7۔ صاحب عقل ودانش ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (الزمر :9) الاعراف
27 فہم القرآن : (آیت 27 سے 28) ربط کلام : لباس کا حکم دینے کے بعد بنی آدم کو شیطان سے بچنے کا حکم تاکہ جسمانی حفاظت کے ساتھ اس کا کردار بھی سلامت رہے۔ بنی نوع انسان کو لباس پہننے کا حکم دے کر لباس کو پرہیزگاری اور ہر قسم کی خیر قرار دیا ہے۔ آدمی شریعت کے مطابق لباس کا اہتمام کرکے ظاہری وباطنی گناہوں سے تبھی بچ سکتا ہے جب شیطان کو اپنا دشمن جان کر اس کی شرارت، سازش اور فتنہ انگیز یوں سے بچنے کی کوشش کرے۔ اس احساس کو بیدار کرنے اور انسان کی غیرت کو ابھارنے کے لیے یہ کہہ کر غیرت دلائی گئی ہے کہ تمہیں شیطان سے بچنے کا اس لیے بھی حکم دیا جاتا ہے کہ یہ تمہارا ایسا دشمن ہے کہ جس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے برہنہ کرکے نکلوایا تھا یہ تمہارا ایسا دشمن ہے کہ وہ اور اس کے چیلے چانٹے تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ شیطان اور اس کی اولاد جناّت میں سے ہیں اور جناّت کو اللہ تعالیٰ نے ایسی آگ سے بنایا ہے جو ہمیں نظر نہیں آتی اور پھر شیطان کو یہ قوت بھی دی کہ وہ کئی روپ بدل کر انسان کو گمراہ کرتا ہے۔ اس لیے فرمایا وہ اور اس کی اولاد تمہیں دیکھتی ہے جبکہ تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ شیطان اور اس کی دشمنی انسان کے لیے انتہائی خطرناک ہے آدمی اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے ساتھ آمنے سامنے کچھ نہ کچھ مقابلہ کرسکتا ہے لیکن ایسا دشمن جو ان دیکھے وار کرے اس کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اس آیت میں صرف شیطان کو آدمی کا دشمن قرار نہیں دیا گیا بلکہ شیطان کا ایک ایک روحانی اور جسمانی فرزند آدمیت کا دشمن ہے۔ یاد رہے قرآن مجید کی آخری سورۃ الناس میں جنات کے ساتھ بعض انسانوں کو بھی شیطان قرار دیا ہے۔ شیطان توانسان کے دل میں صرف برائی کی طاقت اور خیال پیدا کرتا ہے جبکہ انسان کے روپ میں جو شیطان ہوتے ہیں وہ عورت کی شکل میں عورتوں کو اور مرد کی صورت میں مردوں کو الگ الگ اور مردوزن کے اختلاط سے بے حیائی اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی دعوت دیتے ہیں۔ جس کا مظاہرہ تفریح کے نام پر ٹی وی، کیبل ڈراموں، آرٹ کونسلوں اور مختلف قسم کی سماجی تقریبات میں سامنے آتا ہے۔ سب سے پہلے شیطان انسان کے اندر جسمانی اور اخلاقی بے حیائی پیدا کرتا ہے۔ جب کسی انسان اور معاشرہ میں بے حیائی پیدا ہوجائے تو اس سے ہر گناہ اور جرم کی توقع کی جاسکتی ہے ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے تو وہ اسے اپنے بڑوں کی روایت اور معاشرے کا کلچر قرار دیتے ہیں۔ جب انہیں مزید توجہ دلائی جائے تو وہ یہاں تک کہہ گزرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو یہ کام ناپسند ہوتا تو لوگ اس طرح اپنی خوشیوں کا اظہار نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کوئی پتہ حرکت نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس کی مرضی اور منشاء کے مطابق کرتے ہیں۔ اے رسول (ﷺ) ! انہیں بتلائیں اور سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ بے حیائی کو ہرگز پسند نہیں کرتا اور نہ بے حیائی کو اپنانے اور پھیلانے کا حکم دیتا ہے۔ شیطان کے دوستوں کا اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں ہوتا۔ جس کی بناء پر وہ ایسی باتیں کہتے اور حرکات کرتے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کو ہر قسم کی بے حیائی سے روکتا ہے اللہ تعالیٰ کے نام بے حیائی کی نسبت کرنا پرلے درجے کی جہالت ہے جو ایمان سے تہی دامن شخص ہی کرسکتا ہے بے حیا لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ بات کرتے ہیں جس کا علم ودانش اور شرم و حیا کے ساتھ دور کا واسطہ نہیں ہوتا۔ (عَنْ عُقْبَۃَ قَالَ قَال النَّبِیُّ () إِنَّ مِمَّا أَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَام النُّبُوَّۃِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ) [ رواہ البخاری : کتاب احادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار] ” حضرت عقبہ (رض) فرماتے ہیں نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا بلاشبہ لوگوں نے نبوت کے کلام سے جو چیز حاصل کی اس میں یہ ہے کہ جب تجھ میں شرم و حیاء نہ رہے تو پھر جو مرضی کرتا رہ۔“ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ کَانَتْ الْمَرْأَۃُ تَطُوف بالْبَیْتِ وَہِیَ عُرْیَانَۃٌ فَتَقُولُ مَنْ یُعِیرُنِی تِطْوَافًا تَجْعَلُہُ عَلٰی فَرْجِہَا وَتَقُولُ الْیَوْمَ یَبْدُو بَعْضُہُ أَوْ کُلُّہُ فَمَا بَدَا مِنْہُ فَلَا أُحِلُّہُ فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ ﴿خُذُوا زینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ )[ رواہ مسلم : کتاب التفسیر، باب قول اللہ تعالیٰ خُذُوا زینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں عورت برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتی اور کہتی کوئی ہے جو مجھے عاریتاً کپڑا دے اور میں اس سے شرم گاہ ڈھانپ لوں۔ پھر کہتی آج یا تو کچھ شرم گاہ کھلی رہے گی یا پوری کھلی رہے گی بہرحال جتنی بھی کھلی رہے گی اسے کسی پر حلال نہیں کروں گی۔ آیت ﴿خُذُوا زینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ﴾ اسی بارے میں نازل ہوئی“ مسائل : 1۔ انسان شیطان کو اس لیے بھی اپنادشمن سمجھے کیونکہ وہ ہمارے ماں باپ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا کے ساتھ دشمنی کی تھی۔ 2۔ شیطان اور اس کی اولاد ہم کو دیکھتے ہیں جبکہ ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ 3۔ شیطان کی کوشش ہے کہ لوگوں کو برہنہ کر دے۔ 4۔ ایمان سے تہی دامن لوگ شیطان کے دوست ہوتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے ذمہ برائی کی نسبت کرنا پرلے درجے کا گناہ اور گمراہی ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو ہر قسم کی بے حیائی سے منع کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : اولیاء الشیطان کی نشانیاں : 1۔ اولیاء الشیطان اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے۔ (الاعراف :28) 2۔ اولیاء الشیطان گمراہی وضلالت کو نہیں چھوڑتے۔ (البقرۃ:257) 3۔ اولیاء الشیطان اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور دکھلاوے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ (النساء :38) الاعراف
28 الاعراف
29 فہم القرآن : ربط کلام : بعض مشرکین بیت اللہ میں برہنہ طواف کرتے تھے انہیں اس حرکت سے روکا جاتا تو وہ کہتے اس طرح کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ یہ پرلے درجے کی بے انصافی کی بات ہے۔ اس کی نفی کرنے کے ساتھ یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ بے حیائی کا حکم دینے کی بجائے حیاداری کا حکم دیتا ہے۔ مشرکین نے برہنہ طواف کرنے کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رکھا تھا اس کے جواب میں انہیں یہ کہا گیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کا علم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ باطل مذاہب کی شروع سے یہ روش رہی ہے کہ وہ اپنے فرسودہ نظریات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے انہیں دین کا لبادہ پہناتے ہیں تاکہ عوام الناس ثواب سمجھ کر ان رسومات کی پیروی کریں۔ باطل مذہب کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ تضادات کا مجموعہ ہوتا ہے اس میں ہر قسم کی افراط وتفریط پائی جاتی ہے اس کے مقابلہ میں آسمانی دین اعتدال پر قائم ہوتا ہے جس میں کسی قسم کی افراط وتفریط نہیں ہوتی۔ اس لیے یہاں نبی اکرم (ﷺ) کو حکماً فرمایا جارہا ہے کہ آپ اعلان فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ” القسط“ پر قائم رہنے کا حکم دیا ہے۔ اہل لغت اور مفسرین نے قسط کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھا ہے اس سے مراد اللہ کی توحید پر پختگی اختیار کرنا اور ” فکروعمل میں اعتدال قائم کرنا ہے“ یاد رہے کہ سارے کا سارا دین القسط کے اصول پر قائم ہے۔ سورۃ الرحمان، آیت : 9میں ماپ تول میں قسط کا حکم دیا ہے اور سورۃ الحجرات، آیت : 9میں ہر معاملے میں قسط یعنی ہر قسم کی افراط و تفریط سے بچ کر عدل وانصاف پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں مسجد سے مراد مفسرین نے سجدہ لیا ہے کیونکہ مسجد عبادت کے لیے ہی بنائی جاتی ہے۔ سجدہ نماز میں انتہائی عاجزی اور انکساری کی علامت ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ پوری کی پوری نماز اور ہر قسم کی عبادت اللہ ہی کے لیے خاص ہونی چاہیے۔ اس بنا پر حقیقتاً مسجد وہی ہوگی جس کی بنیاد تقویٰ اور لِلّٰھیت پر رکھی گئی ہو۔ سورۃ الجن، آیت : 18میں یہی ارشاد ہوا ہے کہ مساجد اللہ ہی کے لیے ہونی چاہییں اور اس میں خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہیے اسی کی وضاحت کرتے ہوئے مسجد کے ذکر کے بعد حکم دیا ہے کہ اپنے آپ کو اللہ کے دین کے تابع کرتے ہوئے خالص اپنے رب کی عبادت کرو۔ کیونکہ اس نے ہی تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہیں اسی کی طرف لوٹایاجانا ہے۔ جس کی یہ بھی تفسیر کی گئی ہے کہ جس طرح انسان ماں کے پیٹ سے ننگا پیدا ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن لوگ برہنہ اٹھائے جائیں گے۔ (عَنْ عَائِشَۃَ (رض) قَالَتْ قَالَ رَسُول اللّٰہِ () تُحْشَرُونَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا قَالَتْ عَائِشَۃُ فَقُلْتُ یَا رَسُول اللّٰہِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ یَنْظُرُ بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ فَقَالَ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ یُہِمَّہُمْ ذَاکَ)[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب کیف الحشر] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا تم ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنے کے جمع کیے جاؤ گے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! کیا مرد اور عورتیں ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھیں گے ؟ نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا اس دن معاملہ اس قدر شدید ہوگا کہ انھیں اس کا خیال بھی نہیں آئے گا۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر معاملہ میں القسط یعنی عدل وانصاف پر قائم رہنے کا حکم دیا ہے۔ 2۔ مسلمان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے دین کے تابع ہونا چاہیے۔ 3۔ عبادت خالص اللہ کے لیے ہی ہونی چاہیے۔ 4۔ انسان ننگے بدن پیدا ہوتا ہے اور قیامت کے دن بھی لوگ ننگے اٹھائے جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن : دین میں اخلاص کی اہمیت : 1۔ نبی اکرم (ﷺ) کو اخلاص کا حکم۔ (الزمر : 2، 11) 2۔ پوری امت کو اخلاص کا حکم۔ (غافر :14) 3۔ پہلی امتوں کو بھی اخلاص کا حکم۔ (البینۃ:5) 4۔ مشرکین بھی مشکل کے وقت خالصتاً اللہ تعالیٰ کے پکارتے تھے۔ (یونس :22) 5۔ مخلص لوگ شیطان کی چالوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ (الحجر :40) 6۔ اللہ کے عذاب سے اخلاص والے بندے محفوظ رہتے ہیں۔ (الصٰفٰت :74) الاعراف
30 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو خالص اپنی عبادت کا حکم دیا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں جو سراسر گمراہی ہے۔ سورۃ البقرۃ آیت 256، 257 میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کو گمراہی سے الگ اور ممتاز کردیا ہے جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ تعالیٰ پرسچا ایمان لائے۔ درحقیقت اس نے ایسی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیا ہے جس کا ٹوٹنا ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان وایقان اور علم کی روشنی کی طرف لاتا ہے۔ کافر اپنے ساتھیوں کو ایمان کی روشنی سے نکال کر کفرو شرک کی تاریکیوں میں دھکیلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہدایت پر صاحب ایمان لوگ رہنمائی پاتے ہیں اور دوسروں پر گمراہی مسلط ہوجاتی ہے کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کے بجائے شیطان کو اپنا ساتھی اور خیر خواہ بنایا ہوتا ہے۔ جو انسان کا کھلم کھلا دشمن ہے۔ دشمن کو خیر خواہ سمجھنے والا کبھی خیر نہیں پاسکتا۔ ایسے لوگوں کی بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ وہ سراسر گمراہ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ہدایت یافتہ تصور کرتے ہیں۔ یہی کچھ شیطان نے کہا تھا کہ میرا مؤقف ٹھیک ہے کہ میں آدم سے بہتر ہوں۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ () یُکْثِرُ أَنْ یَّقُول اللّٰہُمَّ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دینِکَ) [ رواہ ابن ماجہ : کتاب الدعاء، باب دعاء رسول اللّٰہ (ﷺ) ] ” حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں رسول معظم (ﷺ) اکثر فرمایا کرتے تھے اے اللہ میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھنا۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان لانے والے ہرقدم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی پاتے ہیں۔ 2۔ شیطان کی سنگت اختیار کرنے والوں پر گمراہی مسلط ہوجاتی ہے۔ 3۔ شیطان کے ساتھی گمراہ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ہدایت یافتہ تصور کرتے ہیں۔ الاعراف
31 فہم القرآن : ربط کلام : مکہ کے مشرک بیت اللہ کا برہنہ طواف کرتے تھے اس سے منع کرتے ہوئے تمام انسانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ بیت اللہ اور مساجد میں ننگا آنے کی بجائے لباس پہنا کریں۔ مشرک اور بےدین لوگوں کی زمانہ قدیم سے عادت رہی ہے کہ وہ ننگے ہو کر عبادت کرنے کو ترک دنیا اور لِلّھیت تصور کرتے ہیں۔ ان میں کچھ لوگ تو سراپا برہنہ ہوتے اور کچھ صرف لنگوٹی کا ستعمال کرتے ہیں جس طرح کہ ہندوستان کے سب سے بڑے لیڈر مہاتماگاندھی اکثر لنگوٹی پہنا کرتے تھے اور آج بھی کئی پنڈت اور گوتم بدھ کے ماننے والے اپنی شرم گاہ کو ڈھانپنے کے سوا ننگا رہنا رہبانیت کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں میں صوفی لوگ برہنہ تو نہیں ہوتے تاہم ناقص اور گندا لباس پہننے کو نیکی تصور کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے مزارات پر نیم برہنہ لوگ سرعام پھرتے دکھائی دیتے ہیں اسلام نے نہ صرف تارک الدنیا ہونے کی مذمت کی ہے بلکہ دین اسلام نے بلاشرعی عذر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ نہ اٹھانے کو گناہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح وسائل ہونے کے باوجود جو شخص مناسب لباس نہیں پہنتا شریعت نے اسے بھی پسند نہیں کیا۔ کیونکہ جہالت کی بنیاد پر لوگ بیت اللہ اور عبادت گاہوں میں برہنہ آتے تھے اس لیے بالخصوص حکم دیا ہے کہ جب بھی مسجد میں آؤ تو پاک جسم اور اچھا لباس پہنا کرو اس سے پہلے ”القسط“ کا حکم دیا گیا تھا جس کا معنیٰ افراط وتفریط سے بچنا اور ہر معاملہ میں عدل وانصاف اور توازن قائم رکھنا ہے لہذا عبادات، ملبوسات، اور کھانے پینے میں بھی اعتدال اور توازن ہونا چاہیے اس لیے ہر قسم کے اسراف سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ صفت بھی بیان کی ہے وہ خرچ کرتے ہوئے نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ ہی بخل کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ وہ ہمیشہ اعتدال کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ (فرقان :67) (عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ () فِی ثَوْبٍ دُونٍ فَقَالَ لَہٗ النَّبِیُّ () أَلَکَ مَالٌ قَالَ نَعَمْ مِنْ کُلِّ الْمَالِ قَالَ مِنْ أَیِّ الْمَالِ قَالَ قَدْ آتَانِی اللّٰہُ مِنْ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْخَیْلِ وَالرَّقِیقِ قَالَ فَإِذَا آتَاک اللّٰہُ مَالًا فَلْیُرَ عَلَیْکَ أَثَرُ نِعْمَۃِ اللّٰہِ وَکَرَامَتِہٖ)[ رواہ النسائی : کتاب الزینۃ، باب الجلاجل ] ” حضرت ابو الاحوص اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ بلاشبہ وہ نبی اکرم (ﷺ) کے پاس بالکل معمولی کپڑوں میں آئے تو انھیں اللہ کے نبی (ﷺ) نے فرمایا کیا تمھارے پاس مال ہے انھوں نے کہا ہاں ہر طرح کا مال ہے نبی معظم (ﷺ) نے پوچھا کون کون سا ؟ میرے والد نے کہا اللہ نے اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام اور لونڈیاں بھی دی ہیں۔ نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے تمھیں مال دیا ہے تو تم پر اس کی نعمت اور فضل کے آثار بھی دیکھے جانے چاہییں۔“ (عَنْ عُمَرَ بْنَ أَبِی سَلَمَۃَ (رض) یَقُولُ کُنْتُ غُلَامًا فِی حَجْرِ رَسُول اللّٰہِ () وَکَانَتْ یَدِی تَطِیشُ فِی الصَّحْفَۃِ فَقَالَ لِی رَسُول اللّٰہِ () یَا غُلَامُ سَمِّ اللّٰہَ وَکُلْ بِیَمِینِکَ وَکُلْ مِمَّا یَلِیکَ فَمَا زَالَتْ تِلْکَ طِعْمَتِی بَعْدُ) [ رواہ البخاری، کتاب الأطعمۃ، باب التسمیۃ علی الطعام] ” حضرت عمر بن ابو سلمہ (رض) کہتے ہیں میں رسول معظم (ﷺ) کے ہاں گود میں بچہ تھا اور میرا ہاتھ کھانے کے دوران برتن میں گھوم رہا تھا مجھے رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا اے بچے کھانا اللہ کے نام سے شروع کرو۔ دائیں ہاتھ اور اپنے آگے سے کھاؤ اس کے بعد میں ہمیشہ کھانا اسی طرح کھاتا ہوں۔“ (عَنْ عَائِشَۃَ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ () قَالَ إِذَا أَکَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَذْکُرْ اسْمَ اللّٰہِ تَعَالٰی فَإِنْ نَسِیَ أَنْ یَذْکُرَ اسْمَ اللّٰہِ تَعَالٰی فِی أَوَّلِہٖ فَلْیَقُلْ بِسْمِ اللّٰہِ أَوَّلَہٗ وَآخِرَہٗ) [ رواہ ابوداؤد والترمذی : کتاب الأطعمۃ، باب التسمیۃ علی الطعام] ” حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھانا کھانے لگے تو بسم اللہ پڑھ لے اگر اللہ کا نام لینا بھول جائے تو اسے چاہیے کہ کہے اللہ کے نام سے ہی ابتدا اور انتہا کرتا ہوں۔“ (عَنْ مِقْدَامِ بْنِ مَعْدِی کَرِبَ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ () یَقُولُ مَا مَلَأَ آدَمِیٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُکُلَاتٌ یُقِمْنَ صُلْبَہُ فَإِنْ کَانَ لَا مَحَالَۃَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِہٖ وَثُلُثٌ لِشَرَابِہٖ وَثُلُثٌ لِنَفَسِہٖ) [ رواہ احمد والترمذی : کتاب الزھد، باب ماجاء فی کراھیۃ کثرۃ الأکل] ” حضرت مقدام بن معدیکرب (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم (ﷺ) سے سنا آپ نے فرمایا کسی بھی برتن کا بھرنا آدمی کے پیٹ سے بھرنے سے برا نہیں۔ ابن آدم کی کمر کو سیدھا رکھنے کے لیے چند لقمے کافی ہیں اگر اس طرح گزارہ نہ ہو تو ایک حصہ کھانے، ایک حصہ پینے اور ایک حصہ سانس لینے کے لیے ہونا چاہیے۔“ مسائل : 1۔ مساجد میں آتے ہوئے اچھا لباس پہننا چاہیے۔ 2۔ رہنے سہنے اور کھانے پینے میں اعتدال ہونا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اسراف کو ہرگز پسند نہیں کرتا ہے۔ الاعراف
32 فہم القرآن : ربط کلام : بنی نوع انسان کو لباس پہننے کا حکم دینے کے ساتھ فرمایا تھا کہ کھاؤ اور پیو مگر اعتدال کے ساتھ۔ اس حکم کے باوجود جو لوگ شریعت کی جائز کردہ زیب وزینت اور حلال چیزوں کو حرام کرتے ہیں انہیں انتباہ کے انداز میں ایک سوال کیا ہے۔ ذرا بتاؤ تو سہی کہ جن چیزوں کو تم مذہب کے نام پر حرام کہتے ہو وہ کس نے تمہارے لیے حرام کی ہیں؟ جبکہ حرام وحلال کا اختیار اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی نہیں دیا پھر کون ہے جو اللہ کی نعمتوں کو اسکے بندوں پر حرام کرے ؟ سورۃ التحریم کی پہلی آیت میں نبی کریم (ﷺ) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے نبی آپ کو حق نہیں ہے کہ آپ اپنی ازواج کو خوش کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو اپنے لیے حرام قرار دیں۔ اس فرمان سے یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے آخری نبی کو بھی کسی حلال کو حرام کرنے اور حرام کو حلال کرنے کا اختیار نہیں تو دوسرا کون ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی حلال قرار دی ہوئی چیزوں کو حرام کی فہرست میں شامل کرے۔ اس لیے بطور انتباہ ایسے لوگوں سے پوچھا جارہا ہے بتاؤ وہ کون سی ذات ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو تم پر حرام قرار دیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا فرماکر حلال قرار دیا۔ یہاں نعمتوں کے لیے زینت اور طیبات کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرمایا کرتے تھے کہ زینت سے مراد مردوزن کالباس ہے لہٰذا انسان کے لیے ہر چیز اور سب کے سب لباس جائز ہیں سوائے ان کے جن سے شریعت نے منع کیا ہے جہاں تک عمدہ اور قیمتی لباس کا تعلق ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے رسول اکرم (ﷺ) سے عرض کی۔ کیا عمدہ لباس پہننا تکبر میں شامل ہے؟ آپ نے فرمایا اچھا لباس پہننا تکبر میں شامل نہیں۔ اسی طرح خوردونوش کے بارے میں ہر وہ چیز مسلمان کو کھانے کی اجازت ہے جو پاک ہو اور شریعت نے اسے حلال قرار دیا ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے احکام اس لیے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ ان سے آگہی حاصل کریں۔ یہاں زینت اور طیبات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی میں صاحب ایمان لوگوں کے لیے ہیں جن سے کفار بھی فائدہ اٹھاتے ہیں البقرۃ کی آیت ١٢٦ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا ذکر ہے جب انہوں نے بیت اللہ تعمیر کرنے کے بعد اور دعاؤں کے ساتھ یہ بھی دعا کی کہ الٰہی حرم کے رہنے والوں میں ان لوگوں کو رزق عنایت فرما جو تیری ذات اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ جواباً ارشاد ہوا کہ میں ان کو بھی رزق دوں گا جو کفر کریں گے البتہ انہیں آخرت میں جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ یہاں اس بات کا کنایۃً ذکر ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زینت اور طیبات کے حقدار حقیقتاً اس کے تابع فرمان بندے ہیں۔ لیکن دنیا آزمائش گاہ بنائی گئی ہے اس سے کافر بھی فائدہ اٹھائیں گے۔ اس لیے عمومی طور پر یہی نظر آتا ہے کہ مومنوں کے بجائے دنیا کے اسباب ووسائل۔ اللہ کے باغیوں کے ہاں زیادہ پائے جاتے ہیں (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ (رض) عَنْ النَّبِیِّ () قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَکُونَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَنَعْلُہٗ حَسَنَۃً قَالَ إِنَّ اللّٰہَ جَمِیلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ)[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نبی اکرم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا بلاشبہ بندہ یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں، نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے جبکہ تکبر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کی جائز کردہ زینت اور اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کو کھانا اور استعمال کرنا چاہیے۔ 2۔ دنیا کی نعمتوں سے کافر بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ 3۔ آخرت کی نعمتیں کفار کے بجائے سب کی سب مومنوں کے لیے ہوں گی۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام اس لیے نازل فرمائے ہیں تاکہ لوگ ان کا علم حاصل کریں اور ان پر عمل بھی کریں۔ الاعراف
33 فہم القرآن: ربط کلام : پہلے منکرین حق سے سوال کیا تھا کہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے حلال قرار دیا ہے بتاؤ ان کو کس نے حرام کیا ہے؟ اب ایک خاص انداز میں جواب دیتے ہوئے یہ بتلایا گیا ہے کہ جو چیزیں تم نے از خود اپنے آپ حرام کی ہیں اللہ تعالیٰ نے وہ چیزیں حرام نہیں کیں بلکہ یہ چیزیں حرام قرار دی ہیں۔ 1۔ بے حیائی خفیہ ہو یا اعلانیہ۔ 2۔ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ 3۔ ہر قسم کی تعدّی اور سرکشی۔ 4۔ اللہ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کو شریک کرنا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے ذمے وہ بات لگانا جس کا قرآن وسنت میں ثبوت نہ ہو۔ فواحش، فاحشۃ کی جمع ہے جسے کلی طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حرام اور ناجائز قرار دیا ہے۔ بے حیائی سرعام کی جائے یا چھپ کر کی جائے وہ ہر صورت اور ہر حالت میں ناجائز اور حرام ہے۔ اکثر مفسرین نے فواحش سے مرادبے حیائی اثم سے مراد شراب خوری لی ہے کیونکہ سورۃ بنی اسرائیل آیت ٣٢ میں زنا کو بے حیائی قرار دیا ہے۔ اثم کا معنیٰ بعض مفسرین نے شراب لیا ہے اس لیے کہ سورۃ البقرۃ، آیت ٢١٩ میں شراب اور جوا کو اثم کہا ہے تاہم اس تفسیر کے باوجود فواحش سے مراد یہاں ہر قسم کی بدکاری اور بے حیائی ہے چاہے عملاً ہو یا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہو جس سے مسلمانوں کے اخلاق تباہ اور ان کی دینی اور ایمانی قدریں کمزور ہوتی ہوں اس قسم کی تمام حرکات بے حیائی تصور کی جائیں گی۔ اثم کی تشریح کرتے ہوئے سید ابوالاعلیٰ مودودی (رض) لکھتے ہیں کہ اثم اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جو تیز رفتار چل سکتی ہو مگر اس کے باوجود وہ جان بوجھ کر سست روی کا مظاہرہ کرے یعنی انسان نیکی کرنے کی استعداد اور طاقت رکھتا ہو مگر پھر بھی نیکی کرنے میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ کرے اس لحاظ سے اثم یعنی گناہ کا دائرہ بڑا وسیع ہوجاتا ہے شاید اسی بنیاد پر نبی اکرم (ﷺ) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا کیا کرتے تھے۔ (اَللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ) [ رواہ البخاری : باب التَّعَوُّذِ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ] ” الٰہی میں تجھ سے سستی اور غفلت سے پناہ مانگتاہوں۔“ البغی کا معنیٰ تعدی اور سرکشی اختیار کرنا جس سے مراد اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ اخلاقی اور ایمانی حدود سے تجاوز کرنا ہے اس لیے یہاں﴿ اَلْبَغْیُ بِغَیْرِ الْحَقِّ ﴾کے الفاظ فرمائے ہیں۔ جس کا مفہوم یہ نہیں کہ کسی شخص کو اللہ اور اس کے رسول کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنے کا حق ہے بلکہ ﴿بِغَیْرِ الْحَقِّ﴾ کے الفاظ سے یہ تاکید کی جا رہی ہے کہ کسی انسان کو بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور سرکشی کرے بعض اہل علم نے البغی سے مراد ایسا گناہ لیا ہے جس میں گناہ کرنے والا دوسرے پر زیادتی کا بھی ارتکاب کرے جیسے قتل، چوری، زنا بالجبر وغیرہ۔ شرک : سورۂ لقمان آیت 13میں شرک کو ظلم عظیم قرار دیا گیا ہے شرک اس لیے ظلم عظیم ہے کہ مشرک جن صفات کو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کے ساتھ منسوب کرتا اور سمجھتا ہے وہ صفات اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی شخص زندہ ہو یا فوت ہوچکا ہو۔ اس میں نہیں پائی جاتیں۔ اور نہ ہی شرک کی تائید میں کوئی معقول دلیل پیش کی جاسکتی ہے بشرطیکہ کسی کی عقل ماؤف نہ ہوچکی ہو۔ ہرزمانے کے مشرک شرک کی حمایت میں جودلیلیں دیتے ہیں وہ عقل اور علم کے معیار پر پوری نہیں اترتیں اس لیے حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ کیونکہ اس نے شرک کی تائید میں کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ اللہ اور اس کے رسول پر کذب بیانی کرنا : یعنی اپنے جی سے حلال و حرام ٹھہرانا، اپنی خواہشوں کی پیروی اور ثواب کی خاطر دین میں بدعتیں ایجاد کرنا، من مرضی سے شریعت تصنیف کرکے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرنا۔ اس اعتبار سے جو شخص رسول معظم (ﷺ) کی طرف جھوٹی اور من گھڑت حدیث منسوب کرتا ہے وہ بالواسطہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹ لگاتا ہے۔ (عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہٖ قَالَ قُلْتُ للزُّبَیْرِ (رض) إِنِّی لَا أَسْمَعُکَ تُحَدِّثُ عَنْ رَّسُول اللّٰہِ () کَمَا یُحَدِّثُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ قَالَ أَمَا إِنِّی لَمْ أُفَارِقْہُ وَلَکِنْ سَمِعْتُہٗ یَقُولُ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ) [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب اثم من کذب علی النبی (ﷺ) ] ” حضرت عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد زبیر (رض) سے کہا میں نے آپ کو نہیں سنا کہ آپ رسول معظم (ﷺ) سے حدیث بیان کریں جس طرح فلاں فلاں آدمی بیان کرتا ہے۔ حضرت زبیر (رض) نے کہا میں نے ہمیشہ آپ (ﷺ) سے یہ بات سنی کہ آپ نے فرمایا جو کوئی میری جانب جھوٹ کی نسبت کرے اسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکاناجہنم سمجھے۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ () یَتَعَوَّذُ یَقُولُ ” اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْہَرَمِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ“ ) [ رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب التعوذ من أرذل العمر] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہوئے یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ میں سستی، بزدلی، ناکارہ پن بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ مسائل : 1۔ چھوٹے بڑے، ظاہر اور باطن گناہوں کو چھوڑ دینا چاہیے۔ 2۔ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی وسرکشی کرے۔ 3۔ شرک کی تائید میں اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ 4۔ شرک کی کوئی دلیل نہیں اس لیے من گھڑت باتیں کرنے سے شرک ثابت نہیں ہوسکتا۔ 5۔ من گھڑت مسائل بیان کرنا اللہ تعالیٰ پرجھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ تفسیر بالقرآن : شرک کا عقیدہ بے بنیاد ہے : 1۔ اللہ کے سوا مشرک جس کی عبادت کرتے ہیں اس کی کوئی دلیل نہیں۔ (الحج :71) 2۔ مشرک اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہوئے نہیں ڈرتے حالانکہ اس کی کوئی دلیل نہیں۔ (الانعام :81) الاعراف
34 فہم القرآن : ربط کلام : بے حیائی کا ارتکاب، جان بوجھ کر گناہ کرنا، اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور شریعت کے نام پر اللہ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹ لگانے والوں کو انتباہ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر ذی روح اور چیز کی موت اور فنا کا وقت مقرر کر رکھا ہے جب وقت آئے گا تو اس میں لمحہ بھر تقدیم وتاخیر نہیں ہوگی۔ یہی اصول قوموں اور امتوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے جب کسی قوم کے زوال اور تباہی کا وقت آتا ہے تو پھر اس کے اڑوس پڑوس کی اقوام اور خیر خواہ اسے ہرگز نہیں بچا سکتے۔ افراد اور اقوام کی اجل یعنی موت میں فرق یہ ہے کہ افراد کی عمر اور مدت کے لیے سال، مہینے، ایام اور لمحے مقرر کیے گئے ہیں اور لوگ انھی کو شمار کرتے ہیں جب یہ مدت پوری ہوجائے تو انسان لقمۂ اجل بن جاتا ہے۔ عام طور پر قوموں اور امتوں کا معاملہ اس سے قدرے مختلف ہوتا ہے ان کی موت، ایمان، اخلاق اور کردار کے حوالے سے واقع ہوتی ہے۔ بدکردار اور بے عمل قوم کی جگہ دوسری قوم لے لیتی ہے۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ اپنے غضب سے پوری کی پوری قوم کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ جس طرح قوم نوح، عاد، ثمود اور قوم لوط کے واقعات اس کی دلیل ہیں۔ تاہم جب کوئی قوم یا علاقے کے افراد برائی کے اس درجے کو پہنچ جائیں جس سے اس خطے کا نظام بگڑنے کے قریب پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کی جگہ دوسری قوم کو مسلط کردیتا ہے۔ اس حقیقت کو سورۃ البقرۃ، آیت 251اور 252میں بیان کرتے ہوئے ظالم قوم کی تبدیلی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا ہے اور سورۃ محمد میں فرمایا اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام سے منہ پھیروگے تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا جو تم جیسے نہیں ہوں گے۔ یہاں قوموں کے زوال اور ان کی تباہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اجل اور ساعت کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اجل سے مراد موت کا فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں قوم کی موت یا زوال کی گھڑی متعین ہے۔ جب وہ گھڑی اپنے وقت کو پہنچ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہوجاتا ہے جس کے صدور میں لشکر وسپاہ، قوم کی شان وشکوہ، مادی اور عسکری وسائل رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ اسی حقیقت کو یہاں بیان کیا گیا ہے کہ جب کسی امت کی مقررہ گھڑی آجاتی ہے تو اس میں لمحہ بھر کے لیے آگاپیچھا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہی فرد کی موت کا معاملہ ہے جب موت کا وقت آن پہنچے تو ولی کی ولایت، صابر کا صبر موت کو ٹال نہیں سکتا۔ (یونس :49) موت کا نقشہ : (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ (رض) قَالَ خَطَّ النَّبِیُّ () خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا فِی الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْہُ، وَخَطَّ خُطُطًا صِغَارًا إِلَی ہَذَا الَّذِی فِی الْوَسَطِ، مِنْ جَانِبِہِ الَّذِی فِی الْوَسَطِ وَقَالَ ہَذَا الإِنْسَانُ، وَہَذَا أَجَلُہُ مُحِیطٌ بِہِ أَوْ قَدْ أَحَاطَ بِہِ وَہَذَا الَّذِی ہُوَ خَارِجٌ أَمَلُہُ، وَہَذِہِ الْخُطُطُ الصِّغَارُ الأَعْرَاضُ، فَإِنْ أَخْطَأَہُ ہَذَا نَہَشَہُ ہَذَا، وَإِنْ أَخْطَأَہُ ہَذَا نَہَشَہُ ہَذَا )[ رواہ البخاری : باب فِی الأَمَلِ وَطُولِہِ ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ﷺ) نے مربع کی صورت بنائی اور اس کے درمیان ایک خط کھینچا جو مربع سے باہر نکل رہا تھا اور کچھ چھوٹے چھوٹے خط اس کے دائیں بائیں کھینچے درمیان والی لکیر پر انگلی رکھ کر فرمایا یہ انسان ہے اور اس کو چاروں طرف سے اجل گھیرے ہوئے ہے۔ باہر نکلنے والا خط اس کی امید ہے اور چھوٹے چھوٹے خط اس کی خواہشات ہیں ایک خواہش ختم ہوتی ہے تو دوسری آ گھیرتی ہے۔“ مسائل : 1۔ امتوں کے عروج وزوال فنا اور بقا کا وقت مقرر ہے۔ 2۔ قوم اور کسی فردکی تقدیر کے فیصلے کا وقت آتا ہے تو اس میں لمحہ بھر کے لییتقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ تفسیر بالقرآن : ہر چیز کا وقت مقرر ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا وقت مقرر کیا ہے۔ (الاعراف :185) 2۔ تمام لوگوں کے لیے وقت مقرر ہے۔ (الانعام :2) 3۔ چاند اور سورج کا بھی وقت مقرر ہے۔ (الرعد :2) 4۔ گناہگاروں کو وقت مقررہ تک ڈھیل دی جاتی ہے۔ (النحل :61) 5۔ زمین و آسمان کے لیے بھی وقت مقرر ہے۔ (الروم :8) 6۔ وقت آنے پر اللہ تعالیٰ کسی کو لمحہ بھر بھی مہلت نہیں دے گا۔ (المنافقون :11) الاعراف
35 فہم القرآن : (آیت 35 سے 36) ربط کلام : قوم کی اجتماعی تباہی کا اشارہ دینے کے بعد بنی آدم کو اجتماعی خطاب اور نصیحت کرتے ہوئے نیک وبد کا انجام بیان کیا ہے یہی قرآن مجید کا اسلوب ہے کہ وہ انتباہ اور نصیحت کو برابر چلاتے ہوئے لوگوں کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرتا ہے تاکہ سننے والا ایک لمحہ میں فیصلہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ کو زمین پر اترنے کا حکم صادر فرمایا تو اس وقت نصیحت فرمائی کہ تم سب کے سب زمین پر اتر جاؤ۔ بس جب تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو اس کی پیروی کرو اور جو اس ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں کوئی خوف وخطر اور رنج وملال نہیں ہوگا۔ جنہوں نے انکار کیا اور جھٹلانے کا رویہ اختیار کیا انہیں آگ میں جھونکا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہاں قوموں کے زوال اور ان کے فنا کا ذکر ہوا ہے لہٰذا انہیں اجتماعی طور پر مخاطب کرتے ہوئے بنی آدم کے الفاظ استعمال کرکے وہ نصیحت یاد دلائی گئی ہے جو بنی نوع انسان کے جد اعلیٰ کو زمین پر اترنے کے وقت دی گئی تھی چنانچہ ارشاد ہوا کہ اے بنی آدم جب میرے رسول تمہارے سامنے میرے احکام بیان کریں تو میری نافرمانی سے بچ کر تمھیں اپنی اصلاح کرنا چاہیے۔ جس کا دوسرا مفہوم یہ ہے میں نے اول روز کے فرمان کو اس طرح پورا کردیا ہے کہ تمہارے پاس میرے رسول میرے احکام لے کر پہنچ چکے ہیں جن میں آخری رسول محمد (ﷺ) ہیں لہٰذا جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر نبی (ﷺ) کی پیروی کرکے اپنی اصلاح کریں گے انہیں کوئی خوف وغم نہیں ہوگا اور جنہوں نے میرے احکام کی تکذیب کی اور ان کے ساتھ تکبر کا رویہ اختیار کیا انہیں آگ میں جھونکا جائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ (رض) عَنْ النَّبِیِّ () قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَکُونَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَنَعْلُہٗ حَسَنَۃً قَالَ إِنَّ اللّٰہَ جَمِیلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب تحر یم الکبر] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نبی اکرم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا بلاشبہ بندہ یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں، نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے تکبر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام اس لیے نازل فرمائے ہیں کہ لوگ اس کی نافرمانی سے ڈرتے ہوئے اپنی اصلاح کریں۔ 2۔ اصلاح کرنے والوں کو قیامت کے دن کوئی خوف وخطر اور رنج وغم نہیں ہوگا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے اور ان کے ساتھ تکبر کرنے والے ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن : متکبرین : 1۔ سب سے پہلے شیطان نے تکبر کیا۔ (ص :74) 2۔ تکبر کرنا فرعون اور اللہ کے باغیوں کا طریقہ ہے۔ (القصص :39) 3۔ تکبر کرنے والے کے دل پر اللہ مہر لگا دیتا ہے۔ (المؤمن :35) 4۔ متکبر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (النحل :23) 5۔ تکبر کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ (المؤمن :76) الاعراف
36 الاعراف
37 فہم القرآن : ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے ساتھ ان لوگوں کا انجام بھی بیان کردیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ پر بالواسطہ یا بلاواسطہ جھوٹ باندھتے ہیں۔ گویا کہ یہ اللہ تعالیٰ کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ قرآن مجید میں ﴿اِفْتَرَیٰ عَلَی اللّٰہِ کے الفاظ مختلف موقعوں پر 9دفعہ استعمال ہوئے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنا۔ 3۔ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے دین کے حوالے سے جھوٹ بولنا۔ 4۔ اپنے آپ پر وحی نازل ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنا۔ 5۔ حق بات کو جھٹلانا۔ 6۔ نبی کی نبوت کا انکار کرنا۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے سے مراد یہاں اس کی ذات اور صفات میں شرک کرنا ہے۔ مشرک کا یہ عقیدہ ہوتا ہے یہ مورتیاں اللہ تعالیٰ کا اوتار ہیں اور مزارات میں دفن بزرگ اللہ کے مقرب بندے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر کچھ اختیار دے رکھے ہیں۔ یہ عقیدہ من گھڑت اور بلا دلیل ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پرجھوٹ بولنے کے مترادف ہے جس کی وجہ سے فرشتے ان کی موت کے وقت ان سے سوال کرکے سزا دیں گے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر افترأ بازی کرتے اور اس کی آیات کو جھٹلاتے ہیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں جو سزا بیان کی گئی ہے وہ ہر صورت دنیا اور آخرت میں ان کو مل کر رہے گی۔ بعض مفسرین نے کتاب میں حصہ ملنے سے مراد لوح محفوظ میں لکھی ہوئی تقدیر لی ہے جو اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ رکھی ہے۔ جس میں دوسری تفصیلات کے ساتھ یہ بھی درج ہے کہ انسان جوکرے گا وہی بھرے گا مجرموں کو عذاب صرف آخرت میں نہیں بلکہ موت کے لمحات سے شروع ہوجاتا ہے۔ روح نکالنے والے فرشتے ان سے سوال کرتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے کے ساتھ انہیں حاجت روا، مشکل کشا کیوں سمجھتے تھے دوسرے لفظوں میں ملائکہ ان سے کہیں گے کہ اگر وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں تو اپنے مشکل کشاؤں کو بلاؤ۔ جس کے جواب میں وہ موت کے وقت زبان حال اور قیامت کے دن بول، بول کرکہیں گے کہ آج تو ان میں سے ہماری مدد کرنے والا کوئی نہیں۔ اس طرح ظالم اپنی موت کے وقت اور قیامت کے دن اقرار کریں گے کہ واقعی ہم اللہ کی ذات کا انکار اور اس کی آیات کا کفر کرتے تھے لیکن یہ اقرار انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ ” حضرت برا بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی مکرم (ﷺ) کے ساتھ انصار کے کسی آدمی کے جنازہ کے لیے نکلے ہم قبرستان پہنچے تو ابھی قبر کھودی نہیں گئی تھی۔ رسول اکرم (ﷺ) بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، رسول اللہ (ﷺ) کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ اس کے ساتھ زمین کرید رہے تھے آپ نے سر اٹھاتے ہوئے دو یا تین مرتبہ فرمایا قبر کے عذاب سے پناہ مانگو پھر فرمایا۔۔ جب کافر دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں ان کے ہاتھ میں بدبودار بوری ہوتی ہے وہ حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں، پھر اس کے پاس ملک الموت آتا ہے یہاں تک کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو وہ کہتا ہے اے خبیث نفس! اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کی طرف چل۔ نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا وہ اس کی روح کو اس طرح نکالتے ہیں جس طرح گرم سلائی کو روئی سے نکالا جاتا ہے وہ اس کو نکال کر اس تھیلے میں ڈالتے ہیں اس سے اتنی بدبو نکلتی ہے جس طرح زمین سے لاش کی گندی بدبو نکلتی ہے وہ اس کو لے کر آسمانوں کی طرف بڑھتے ہیں وہ فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ خبیث روح کون سی ہے وہ کہتے ہیں یہ فلاں بن فلاں ہے۔ اس کے برے نام لے کر اس کو بلاتے ہیں یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں وہ اس کو کھلوانا چاہتے ہیں مگر اسے کھولا نہیں جاتا، پھر نبی معظم (ﷺ) نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی :” ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ سوئی کے سوراخ میں اونٹ داخل ہوجائے۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے سجین یعنی زمین کی تہہ میں ٹھکانا لکھو۔ پھر اس کی روح کو نیچے پھینک دیا جاتا ہے پھر نبی معظم (ﷺ) نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی ” جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا گویا کہ وہ آسمان سے گرا اور اسے پرندے اچک لیں یا اس کو ہوائیں کسی دور دراز مقام پر پھینک دیں“ پھر اس روح کو اس کے بدن میں لوٹا دیا جاتا ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اس کو بٹھاتے ہیں وہ اس سے کہتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، پھر فرشتے کہتے ہیں تیرا دین کیا ہے وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، پھر فرشتے کہتے ہیں یہ شخص کون ہے جو تم لوگوں میں نبی مبعوث کیا گیا ؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا۔ تو آسمانوں سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے اس کا بچھونا آگ کا بنا دو اور آگ کا دروازہ اس کی طرف کھول دو۔ اس کے پاس اس آگ کی گرمی اور بدبو آتی ہے اس پر اس کی قبر تنگ کردی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں اور اس کے پاس بدصورت گندے کپڑے اور بدبو دار جسم کے ساتھ آدمی آتا ہے تو وہ کہتا ہے آج خوش ہوجا تجھے حسب وعدہ رسوا کیا جائے وہ پوچھتا ہے تو کون ہے اس طرح کی شکل والا جو اتنی بری بات کے ساتھ آیا ہے وہ کہے گا میں تیرا برا عمل ہوں وہ کہے گا اے میرے رب کبھی قیامت نہ قائم کرنا۔“ [مسند احمد] مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے یا اس کی ذات کے بارے میں جھوٹ گھڑنے والا سب سے بڑا ظالم ہے۔ 2۔ ظالموں کو اللہ کی کتاب کے مطابق سزا دی جائے گی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے ذمے جھوٹی بات لگانے والا اپنی موت کے وقت اپنے ظلم اور کفر کا اقرار کرتا ہے۔ 4۔ مشرک اپنی موت کے وقت اقرار کرتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مشکل کشا نہیں۔ تفسیر بالقرآن : ظالم کون؟ 1۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (الانعام :21) 2۔ شرک کرنے والا ظالم ہے۔ (لقمان :13) 3۔ اللہ کی مسجدوں سے روکنے اور ان میں خرابی پیدا کرنے والا ظالم ہے۔ (البقرۃ:114) 4۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا ظالم ہے۔ (الزمر :32) 5۔ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ (آل عمران :57) الاعراف
38 فہم القرآن : (آیت 38 سے 39) ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جس میں مکذبین کی بری موت کے بعد ان کا برا انجام بتلایا گیا ہے۔ متکبرین اور مکذبین گروہ درگروہ جہنم میں پھینکے جائیں گے جہنم میں ڈالا جانے والا جنوں اور انسانوں کا ہر گروہ اپنے سے پہلے گروہ پر لعنت اور پھٹکار بھیجتے ہوئے کہے گا کہ ہم تمہاری وجہ سے اس انجام کو پہنچے ہیں اگر تم ہدایت کا راستہ اختیار کرتے تو ہم تمہارے بعد کبھی گمراہ نہ ہوتے۔ وہ جواب دیں گے کہ تم نے خود ہی ایمان کا راستہ اختیار نہیں کیا جبکہ ہم نے تم پر کوئی جبر نہیں کیا تھا۔ (الصافات 22 تا 31) سورۃ الاحزاب آیت 66تا 68میں بیان کیا گیا ہے کہ جب جہنمی جہنم کی آگ سے منہ باہر نکالیں گے تو اللہ تعالیٰ سے آہ وزاری کرتے ہوئے فریاد کریں گے اے ہمارے رب ! ہمیں ہمارے برے سادات اور بڑوں نے گمراہ کیا اس لیے انہیں دوگناعذاب دے اور ان پر بڑی سے بڑی پھٹکار ڈال۔ یہاں یہ بیان ہوا ہے کہ جب گروہ در گروہ جہنم میں جمع ہوں گے تو بعد میں آنے والے پہلوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے کہ انہیں آگ کا دوگنا عذاب دیجیے۔ حکم ہوگا ہر ایک دوگنے عذاب میں مبتلا ہے جس کا تمہیں علم نہیں۔ پیچھے آنے والوں کی بددعاؤں کے جواب میں پہلے والے کہیں گے کہ تمہیں ہم پر برتری حاصل نہیں لہذا تم بھی اپنے کیے کے بدلہ میں عذاب پاتے رہو یہاں جہنمیوں کے عذاب کے بارے میں ” ضعف“ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنیٰ دوگنا ہے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں ہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ برے کی سزا اس کی برائی کے برابر ہوگی۔ لیکن یہاں دوگنا عذاب بیان کیا جا رہا ہے اس کا مفہوم حدیث میں اس طرح بیان ہوا ہے جو گناہ پہلے لوگوں کی وجہ سے دوسری نسل میں منتقل ہوں گے اس میں گناہ ایجاد کرنے والوں کو ان کے بعد آنے والے لوگوں کے گناہوں کا حصہ بھی ملے گا اور اکثر یہی ہوتا آرہا ہے کہ نہ صرف ایک نسل کے گناہ کسی نہ کسی صورت میں دوسری نسل میں منتقل ہوتے رہتے ہیں بلکہ پہلے لوگوں کے گناہوں کے نتیجہ میں نئی نسل اپنے گناہوں میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ اس طرح ہر نسل اپنے بعد آنے والی نسل کے لیے پہلے سے زیادہ گناہ چھوڑتی ہے۔ نتیجتاً مجرموں کی غالب اکثریت اپنے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے گناہوں کے ذمہ دار بنتے ہیں۔ اسی بناء پر انہیں دوگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ ان کے گناہوں کی نوعیت بھی دوگنی ہوگی۔ جہنمیوں کا ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانا ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں ہوگا اس لیے جہنمیوں کے پیشوا اپنے سے پیچھے آنے والوں کو کہیں گے تمہارا ہم کو اپنے گناہوں کا ذمہ دار ٹھہرانا تمہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا اور تم سزا کے حوالے سے ہم پر کوئی امتیاز نہیں رکھتے لہٰذا اپنے کیے کی سزا بھگتتے رہو۔ اس طرح جہنمی عذاب میں مبتلا رہ کر ایک دوسرے پر پھٹکار بھیجتے رہیں گے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ () کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ أَوْ یُنَصِّرَانِہٖ أَوْ یُمَجِّسَانِہٖ کَمَثَلِ الْبَہِیمَۃِ تُنْتَجُ الْبَہِیمَۃَ ہَلْ تَرٰی فیہَا جَدْعَاءَ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ماقیل فی أولاد المشرکین] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا ہر نو مولود فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح جانور کسی کو جنم دیتا ہے تو کیا تم ان میں کسی کو مقطوع الاعضا پاتے ہو؟ مسائل : 1۔ جہنمی ایک دوسرے پر پھٹکار بھیجیں گے۔ 2۔ جہنم میں پہلے داخل ہونے والے بعد میں آنے والوں کو ملامت کریں گے۔ 3۔ جہنمی اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے کہ پہلے لوگوں کو دوگنا عذاب دیاجائے۔ الاعراف
39 الاعراف
40 فہم القرآن : (آیت 40 سے 41) ربط کلام : اب مسلسل (11) گیارہ آیات میں اللہ کے باغیوں اور اس کے تابعداروں کا یکے بعد دیگرے کردار اور انجام بیان کیا جاتا ہے۔ عربی زبان میں ” تکذیب“ کا معنی حقیقت کو جھٹلانا یا اس کا انکار کرنا ہے۔ تکبر کا مفہوم یہ ہے کہ حقیقت جاننے کے باوجود اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا جائے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ تکذیب اور تکبر کارویہ اختیار کریں گے ان کے بارے میں دوٹوک اور قطعی طور پر فرما دیا گیا ہے کہ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کو جنت میں داخلہ نصیب ہوگا۔ اس فرمان میں قطعیت اور مزید تاکید پیدا کرنے کے لیے فرمایا کہ ان کا جنت میں داخلہ اتنا ہی ناممکن ہے جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزرنا محال ہے۔ یہ اس لیے ہے تاکہ مجرم اپنے جرائم کی پوری طرح سزا پاتے رہیں مجرموں کے نیچے بھی جہنم کی دہکتی ہوئی آگ اور ان کے اوپر اور چاروں طرف بھی آگ ہی آگ ہوگی۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب اور ان کے ساتھ استکبار کا رویہ اختیار کرتے ہیں ایسے ظالموں کو ایسی ہی سزا دی جائے گی۔ ” حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی مکرم (ﷺ) کے ساتھ انصار کے کسی آدمی کے جنازہ کے لیے نکلے قبرستان پہنچے تو ابھی قبر کھودی نہیں گئی تھی۔ رسول اکرم (ﷺ) بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، رسول اللہ (ﷺ) کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ اس کے ساتھ زمین کو کرید رہے تھے آپ نے سر اٹھاتے ہوئے دو یا تین مرتبہ فرمایا قبر کے عذاب سے پناہ مانگو پھر فرمایا۔۔ جب کافر دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں ان کے ہاتھ میں بدبودار بوری ہوتی ہے وہ حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں، پھر اس کے پاس ملک الموت آتا ہے یہاں تک کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو وہ کہتا ہے اے خبیث نفس! اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کی طرف چل۔ نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا وہ اس کی روح کو اس طرح نکالتے ہیں جس طرح گرم سلائی کو روئی سے نکالا جاتا ہے وہ اس کو نکال کر تھیلے میں ڈالتے ہیں اس سے اتنی بدبو نکلتی ہے جس طرح زمین سے لاش کی گندی بدبو نکلتی ہے وہ اسے کو لے کر آسمانوں کی طرف بڑھتے ہیں ان کا گذر فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے ہوتا ہے وہ دریافت کرتے ہیں یہ خبیث روح کون سی ہے وہ کہتے ہیں یہ فلاں بن فلاں ہے۔ اس کے برے نام لے کر اس کو بلاتے ہیں یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں وہ اس کو کھلوانا چاہتے ہیں مگر اسے کھولا نہیں جاتا، پھر نبی معظم (ﷺ) نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی :” ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ سوئی کے سوراخ میں اونٹ داخل ہوجائے“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے سجین یعنی زمین کی تہہ میں ٹھکانا لکھو۔ پھر اس کی روح کو نیچے پھینک دیا جاتا ہے پھر نبی معظم (ﷺ) نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی ” جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا گویا کہ وہ آسمان سے گرا اور اسے پرندے اچک لیں یا اس کو ہوائیں کسی دور دراز مقام پر پھینک دیں“ [ رواہ أحمد] مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب اور ان کے ساتھ تکبر کرنے والا جہنم میں داخل ہوگا۔ 2۔ مکذبین اور متکبرین کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھلتے ہیں اور نہ ہی ان کو جنت میں داخلہ نصیب ہوگا۔ 3۔ مجرموں کے اوپر اور نیچے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی۔ تفسیر بالقرآن : ظلم کرنے والوں کا انجام : 1۔ ظالموں کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔ (الحشر :17) 2۔ ظالموں کے لیے صرف تباہی ہے۔ (نوح :28) 3۔ ظالم قوم کو سمندر میں غرق کردیا گیا ہے۔ (القصص :40) 4۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ (الشوریٰ:40) 5۔ ظلم کرنے والوں کی بستی کو الٹا کر پتھر مارے گئے۔ (العنکبوت :31) 6۔ ظالموں پر لعنت کی جائے گی۔ (غافر :52) الاعراف
41 الاعراف
42 فہم القرآن : (آیت 42 سے 43) ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلہ میں جنتیوں کا انعام و مقام۔ جنتیوں کا مرتبہ ومقام اور ان کا اجروثواب ذکر کرنے سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس میں ایک طرف جنتیوں کو سمجھایا گیا ہے کہ جنت کا حصول اور دین پر عمل کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ دوسری طرف جہنمیوں کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ اپنے جرائم کی وجہ سے جہنم میں ہمیشہ سزا پائیں گے۔ یہ ان کے تکبر کا نتیجہ ہوگا۔ اگر یہ لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو دل وجان سے تسلیم کرکے ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تو یہ ان کی ہمت سے باہر نہیں تھا لیکن انہوں نے اپنے نفس کی خواہشات کو اپنے رب کی رضا پر مقدم جانا اور اس کے ساتھ تکبر کا رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کا اوڑھنا بچھونا جہنم کی آگ کو بنادیا گیا۔ مفسر قرآن امام رازی (رح) لفظ ” وسع“ کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں وسع کا معنیٰ ہے ایسا کام جو آسانی اور معمولی کوشش سے کیا جا سکے۔ اس کے مقابلہ میں ” جہد“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے جو کسی مشکل کام کی نشاندہی کرتا ہے اس سے پہلے جہنمیوں کا ایک دوسرے کے لیے بددعا کرنا اور لعنت کرنا بیان ہوا ہے۔ اب مومنوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کی خوش خبری دے کر یہ وضاحت کردی ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے ان کی آپس میں غلط فہمیوں کی وجہ سے جو ناچاتیاں ہوئیں اور اس کے نتیجے میں ان کے دلوں میں جو رنجشیں پیدا ہوئیں۔ ان سے ان کے دلوں کو پاک اور صاف کردیا جائے گا۔ یہ آپس میں اس طرح شیروشکر اور الفت ومحبت سے رہیں گے جیسے دنیا میں ان کے درمیان کوئی رنجش پیدا ہی نہ ہوئی تھی۔ جنتی باہمی محبت اور جنت کے انعام وکرام پا کر اپنے رب کے ممنون اور شکر گزار ہوں گے اور کہیں گے کہ سب تعریفات اس ذات باری کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنی ہدایت سے سرشار اور سرفراز فرمایا۔ اگر ذات کبریا ہم کو ہدایت سے سرفراز نہ کرتی تو ہم کبھی ہدایت یافتہ نہ ہوتے۔ یقیناً یہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی جدوجہد کا صلہ ہے جو انہوں نے حق بتلانے اور سمجھانے کے لیے فرمائیں۔ جنتی ان خیالات کا اظہار کررہے ہوں گے تو انہیں ایک آواز سنائی دے گی جس میں خوشخبری ہوگی۔ کہ اب تمہیں کوئی فکر لاحق نہیں ہونی چاہیے کیونکہ تمہارے رب نے تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کا وارث بنا دیا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) اور ابوسعید خدری (رض) دونوں سے روایت ہے آپ (ﷺ) نے فرمایا ایک منادی کرنے والا ندا کرے گا اے اہل جنت ! تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے، زندہ رہو گے تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی، جوان رہو گے تم پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا، عیش میں زندگی گزاروگے تمہیں کبھی حزن وملال نہ ہوگا۔ یہی مطلب ہے اللہ کے اس فرمان کا۔ مسائل : 1۔ ایمان کے ساتھ صالح عمل کرنے والے ہی جنتی ہوں گے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ مومنین کے دلوں سے رنجشیں دور کردے گا۔ 3۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دیتا ہے۔ 4۔ اللہ نے تمام انبیاء (علیہ السلام) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرنے والے جنت کے وارث ہوں گے۔ الاعراف
43 الاعراف
44 فہم القرآن : (آیت 44 سے 45) ربط کلام : جنتی اور جہنمیوں کا اپنے اپنے مقام اور انجام کا اعتراف۔ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے توجہنمیوں کو ان کی ذلت کا احساس دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جہنمیوں کے ساتھ سوال وجواب کرنے کا موقع عنایت فرمائے گا۔ جنتی حضرات جہنمیوں سے جنت کی آسائش وزیبائش، انعام وکرام اور جنت کی بیش بہا نعمتوں کا تذکرہ کرکے کہیں گے کہ ہم نے رب کریم کی طرف سے وہ سب کچھ پالیا جس کا ہمارے رب نے ہمارے ساتھ دنیا میں وعدہ فرمایا تھا۔ اے مجرمو! تم بتاؤ کہ کیا تم نے وہ بلائیں اور سزائیں دیکھ لیں جن کو تم دنیا کی زندگی میں جھٹلایا کرتے تھے۔ جہنمی ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے اقرار کریں گے کہ ہاں ہم اپنے جرائم اور گناہوں کی سزا پا رہے ہیں۔ جب ذلت وخواری کی حالت میں اپنے کیے کی سزا کا اعتراف کر رہے ہوں گے تو ان کی ذلت و حسرت میں اضافہ کرنے کے لیے ان پر موسلادھار پھٹکار کاسلسلہ جاری ہوگا کہ ظالموں پر واقعتا اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار ہونی چاہیے۔ لعنت کرنے والے ملائکہ اور جنتی ہوں گے، یہاں ظالموں کے ظلم کی وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ یہ لوگ ہر برائی اور گمراہی کے طلبگار ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں رکاوٹ بنتے اور اپنے قول اور فعل کے ساتھ آخرت کا انکار کیا کرتے تھے۔ مسائل : 1۔ جنتی اپنے رب کی عطاؤں کا اقرار کرتے ہوئے اس کے شکرگزار ہوں گے۔ 2۔ جہنمیوں پر مسلسل لعنت اور پھٹکار پڑتی رہے گی۔ 3۔ اللہ کی راہ سے روکنے اور یوم آخرت کا انکار کرنے والے ظالم ہیں۔ تفسیر بالقرآن : لعنتی کون؟ 1۔ بے گناہ مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے پر لعنت اور اللہ کا عذاب ہوگا۔ (النساء :93) 2۔ کافروں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور جہنم کا عذاب۔ (الاحزاب :64) 3۔ اللہ اور رسول کو ایذا پہنچانے والوں پرلعنت برستی ہے۔ (الاحزاب :57) 4۔ ظالموں کے لیے جہنم کا عذاب اور لعنت ہے۔ (حٰم ٓ السجدۃ:52) 5۔ یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ (المائدۃ:64) 6۔ جہنمی ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔ (الاعراف :38) 7۔ منافقین پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور جہنم کا عذاب ہوگا۔ (الفتح :6) آخرت میں خسارہ پانے والے لوگ : 1۔ حقیقی خسارے پانے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن نقصان اٹھایا۔ (الشوری :45) 2۔ کفار کے لیے شدید عذاب ہے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ (النمل :5) 3۔ کیا ہم تمہیں اعمال کے لحاظ سے خسارہ پانے والے لوگوں کے متعلق نہ بتائیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیاوی کوشش رائیگاں گئی۔ (الکھف : 103۔104) 4۔ اللہ تعالیٰ پر افترابازی کرنے والے آ خرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ (ھود : 22۔23) الاعراف
45 الاعراف
46 فہم القرآن : (آیت 46 سے50) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اصحاب اعراف کا جنتیوں کو سلام اور جہنمیوں کو شرم دلانا۔ اعراف کا معنیٰ بلندی ہے جو جنت اور جہنم کے درمیان لامتنا ہی طول و عرض اور بلند و بالا قسم کی دیوار ہوگی اور اس میں ایک دروازہ بھی ہوگا جس کا قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر سورۃ الحدید آیت 13میں کیا گیا ہے اس پر تشریف فرما لوگوں کو اصحاب الاعراف کے نام سے پکارا جائے گا یہ کون حضرات ہوں گے ان کے بارے میں قرآن و حدیث میں دو اور دو چار کے الفاظ میں وضاحت نہیں ملتی۔ البتہ مفسرین نے متقدمین کے اقوال سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ان سے مراد وہ اصحاب ہوں گے جنھوں نے والدین کی اجازت کے بغیر قتال فی سبیل اللہ میں حصہ لیا ہوگا۔ یہ بالآخر جنت میں داخل ہوں گے۔ ایسے حضرات کو الاعراف پر براجمان کیا جائے گا تاکہ انھیں ان کی کمزوریوں کا کچھ نہ کچھ احساس دلایا جائے۔ یہ اہل جنت کو ان کے نام اور اعزازات سے پہچان کر ان کی خدمت میں سلام عرض کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کریں گے گو ہمیں اب تک تمھاری رفاقت کا اعزاز اور جنت میں داخلہ نصیب نہیں ہوا لیکن ہمیں اپنے رب کے فضل و کرم سے پوری امید ہے کہ وہ ہمیں اپنی جنت میں داخلہ عطا فرمائے گا اس گفتگو کے بعد ان کے چہروں کو جہنم کی طرف پھیر دیا جائے گا وہ جہنم کی بلاؤں اور سزاؤں اور ان میں مبتلا جہنمیوں کو دیکھ کر اپنے رب سے عاجزانہ درخواست کریں گے۔ بار الٰہ! ہمیں جہنم کی ہولناکیوں اور ظالموں کی معیت سے محفوظ فرما کر جنت میں داخلہ نصیب فرما۔ پھر وہ جہنمیوں کے نام اور ان کے چہروں سے پہچانتے ہوئے انھیں شرم دلائیں گے کہ افرادی قوت، اسباب و وسائل کی کثرت اور تمھارا انکار و استکبار تمھیں جہنم میں داخل ہونے سے نہ بچا سکے اور جن لوگوں کو تم دنیا میں حقیر سمجھ کر ان کے ایمان اور صالح کردار پر طعنہ زنی کرتے تھے کہ یہ لوگ کسی صورت میں ہم سے بہتر نہیں ہو سکتے۔ اگر یہ واقعی اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں تو انھیں ہمارے مقابلہ میں دنیا کی نعمتیں کیوں حاصل نہیں ہو سکیں۔ اے جہنم والو! یہ بھی دنیا میں کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ آخرت میں بھی اللہ کے فضل و کرم سے محروم رہیں گے۔ اب دیکھو کہ یہ خوش نصیب کس طرح اپنے رب کی نعمتوں سے سرفراز کیے جا رہے ہیں۔ اصحاب الاعراف کی جہنمیوں کے ساتھ اس گفتگو کے بعد انھیں جنت میں داخلہ کی اجازت دیتے ہوئے اطمینان دلایا جائے گا کہ اب تمھیں کوئی خوف اور غم نہیں ہوگا۔ کیونکہ وہ اعراف پر بیٹھے ہوئے جہنم کی ہولناکیوں کو دیکھتے ہوئے خوفزدہ تھے اس لیے جنت میں داخلہ عنایت کرکے انھیں حزن و ملال اور خوف و خطر سے مامون رہنے کی تسلی دی گئی ہے۔ کیونکہ جنت آسائش و آرام اور سکون و اطمینان کا گہوارا ہے۔ جب یہ لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے تو جہنمی آہ و زاریاں کرکے ان سے فریاد کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ماکولات اور مشروبات تمھیں عنایت کیے ہیں ان میں سے پانی اور کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ ہمیں بھی عنایت کیجیے۔ ان کے جواب میں جنتی فرمائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کا اکل و شرب کافروں پہ حرام کر رکھا ہے اس لیے ہم تم کو پانی کا ایک گھونٹ اور کھانے کے لیے ایک ذرّہ بھی نہیں دے سکتے۔ ﴿اَھؤُلآءِ کا اشارہ لایا گیا ہے جو قریب کے لیے استعمال ہوتا ہے ممکن ہے کہ جہنمیوں کی حسرتوں اور ذلتوں میں اضافہ کرنے کے لیے جنت اور دوزخ کے درمیان واقع اس دیوار کا دروازہ ایک دفعہ کھول دیا جائے جس سے یہ جنتیوں کو قریب سے دیکھ سکیں۔ 2۔ اصحاب الاعراف اونچی دیوار پر بیٹھے جنتیوں کو بھی دیکھ رہے ہوں گے شاید ان کے لیے قریب کا اشارہ کیا گیا ہے۔ 3۔ رجال سے مراد مفسرین نے جنت اور جہنم کے سردار لیے ہیں۔ مسائل : 1۔ اصحاب اعراف جنتی اور جہنمیوں کو ان کے نام سے آواز دیں گے۔ 2۔ اصحاب اعراف بالآخر جنت میں داخل کردیے جائیں گے۔ 3۔ جہنمیوں کو ان کا تکبر اور مال و اسباب کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ 4۔ جنت میں کسی قسم کا خوف و خطر اور حزن و ملال نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن : جنتی بے خوف ہوں گے : 1۔ تم جنت میں داخل ہو جاؤتمہارے اوپرکسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔ (الاعراف :49) 2۔ جس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع کرلیا اس پر کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔ (البقرۃ:112) 3۔ اے میرے بندو! تمہارے اوپر کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔ (الزخرف :68) الاعراف
47 الاعراف
48 الاعراف
49 الاعراف
50 الاعراف
51 فہم القرآن : (آیت 51 سے 52) ربط کلام : جہنمیوں کا جہنم میں جانا اور ان پر جنت کی نعمتوں کا حرام ہونا اس لیے ہوگا کہ یہ دین کو کھیل تماشا سمجھتے ہوئے دنیا کی عیش و عشرت میں غرق ہو کر آخرت کو بھول چکے تھے۔ کھیل تماشا وقتی طور پر دل بہلانے اور ایک حد تک صحت کے لیے مفید ہوتا ہے بشرطیکہ اس میں وقت اور دولت کا ضیاع اور بے حیائی کا عنصر شامل نہ ہو۔ اگر یہ چیزیں کسی کھیل اور گیم میں شامل ہوجائیں تو فائدہ کے بجائے صحت اور وقت کا نقصان ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ کھیل کود انسان پوری زندگی اختیار نہیں کرسکتا کیونکہ کھیلنے کودنے سے آدمی کا پیٹ نہیں بھرتا اور نہ ہی زندگی بھر کوئی شخص اسے اختیار کرسکتا ہے۔ یہاں کھیل تماشا کا ذکر کرکے یہ بتلانا مقصود ہے کہ سنجیدہ انسان کے سامنے ایسی چیزوں کی کوئی حیثیت اور حقیقت نہیں ہوتی۔ جہنم میں داخل ہونے والوں کا دین کے ساتھ یہی رویہ تھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کو وقت کا ضیاع سمجھا، دین کے احکام کو ناروا پابندی جانا، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو اپنے لیے غلامی تصور کرتے ہوئے اس سے روگردانی کی اور دنیا کی لذّات، جاہ و حشمت اور ترقی میں اس طرح غرق ہوئے کہ دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں دائمی تصور کرلیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب انھیں سمجھانے والا سمجھانے کی کوشش کرتا تو اس کے ساتھ استہزاء اور جھگڑا کیا کرتے تھے جس کے بدلہ میں آج جہنم میں ان کی آہ وزاریوں کو یکسر فراموش کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے بھولنے سے مراد کسی قسم کا نسیان نہیں بلکہ اس کے بھولنے سے مراد یکسر طور پر مسترد کردینا ہے۔ بظاہر ” ھم“ کا اشارہ اہل مکہ کی طرف ہے لیکن قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بنی نوع انسان کو رہتی دنیا تک مخاطب کیا گیا ہے کیونکہ انسان کی رہنمائی کے لیے یہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے اس لیے اس میں ہدایت کے متعلق تمام تفصیلات اور ہدایات بیان کردی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو اپنے قطعی اور جامع علم کے مطابق نازل فرمایا ہے یہی وجہ ہے اس کی ہدایت کے مقابلہ میں کوئی ہدایت اور رہنمائی نہیں ہو سکتی جو کچھ اس میں دنیا اور آخرت کے حوالے سے حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ وہ من و عن آج تک پورے ہوئے ہیں اور ہمیشہ عقل، علم اور سچائی کے اصولوں پر پورے اترتے رہیں گے۔ جو فرد اور قوم اس کی رہنمائی میں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارے گی۔ وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سزاوار ہوگی۔ ہر قسم کی کامیابی پاکر آخرت میں سرخرو ہوگی۔ لیکن رحمت اور ہدایت انھی لوگوں کو حاصل ہوگی جو قرآن مجید پر کامل ایمان لائیں گے۔ مسائل : 1۔ قرآن مجید تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ 2۔ دین کو کھیل اور تماشا سمجھنے والا آخرت میں نقصان اٹھائے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہدایت کے متعلق ہر بات کھول کر بیان کردی ہے۔ تفسیر بالقرآن : قرآن مجید کے اوصاف کی ایک جھلک : 1۔ قرآن مجید لاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ:1) 2۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء :174) 3۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران :138) 4۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح کتاب ہے۔ (ھود :1) 5۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ (البقرۃ:185) 6۔ قرآن مجید کے نزول کا مقصد لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانا ہے۔ (ابراہیم :1) الاعراف
52 الاعراف
53 فہم القرآن : ربط کلام : قرآن مجید کی ہدایت سے روگردانی کرنے اور آخرت کو بھول جانے کا انجام اور جہنمیوں کی حسرتوں کا بیان۔ قرآن مجید میں لفظ تاویل سترہ آیات میں آیا ہے ان مقامات کی تلاوت سے یہ حقیقت عیاں ہوئی ہے کہ یہ لفظ مختلف معانی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ سورۃ آل عمران آیت 7میں تفسیر اور تشریح کے لیے استعمال ہوا۔ سورۃ النساء، آیت : 59میں نتیجہ اور انجام مراد ہے۔ الاعراف، آیت : 53سورۃ یونس، آیت : 39میں ایسے واقعہ کا ظہور پذیر ہونا جس کی کسی رسول یا نبی نے خبر دی ہو۔ سورۃ یوسف میں تین دفعہ خواب کی تعبیر کے معنی میں آیا ہے، سورۃ الکہف، آیت : 78اور 83میں کسی کام کے محرک اور سبب کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مندرجہ بالا حوالہ جات میں اس آیت کا حوالہ بھی شامل ہے یہاں دو مرتبہ تا ویل کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو کچھ انبیاء (علیہ السلام) بیان کیا کرتے تھے۔ اس کا من و عن سچا ثابت ہونا۔ دنیا کے اسباب و وسائل اور ان کی ہوس میں مدہوش ہو کر آخرت کو بھول جانے والے قیامت کے دن جب کھلی آنکھوں سے اپنا انجام اور جہنم کی ہولناکیاں دیکھیں گے تو اس بات کا برملا اظہار کریں گے کہ واقعی ہمارے رب کے فرستادہ رسول قیامت کے بارے میں حق اور سچ فرماتے تھے۔ لیکن ہماری بدبختی کہ ہم نے انکار کردیا۔ اس اعتراف کے باوجود مجرموں کو اس کا کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا پھر وہ بڑی حسرت اور آہ و زاری کے ساتھ اس بات کا اظہار کریں گے کہ کاش آج کوئی سفارش کرنے والا ہماری سفارش کرے تاکہ ہم جہنم سے نجات پائیں یا ہمیں ایک دفعہ دنیا میں واپس لوٹایا جائے تاکہ ہم برے اعمال کے بجائے صالح اعمال کرسکیں۔ یہ فریاد بھی مسترد کردی جائے گی۔ سورۃ الانعام آیت 27، 28 میں بیان ہوا ہے کاش آپ دیکھیں جب یہ لوگ جہنم کی آگ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے تو وہ فریاد کریں گے۔ کاش ہمیں واپس لوٹایاجائے اور ہم اپنے رب کی آیات کی تکذیب ہرگز نہ کریں گے اگر انھیں دنیا میں ایک دفعہ لوٹا بھی دیا جائے تو یہ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ یہ بڑے جھوٹے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچانے والے ہیں اور دنیا میں جو دعوے کیا کرتے اور جن کو دستگیر اور مشکل کشا سمجھتے تھے سب کو بھول جائیں گے۔ مسائل : 1۔ مجرم اپنا انجام دیکھ کر قیامت کے دن اعترافِ حق کریں گے۔ 2۔ مجرم خواہش کے باوجود کسی کو اپنا سفارشی نہیں پائیں گے۔ 3۔ مجرم دنیا میں واپس آنے کی خواہش کریں گے جو کبھی قبول نہ ہوگی۔ 4۔ کافر اور مشرک ایک دوسرے سے کیے ہوئے وعدے بھول جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن : مجرموں کا افسوس کرنا : 1۔ عذاب کے وقت کفار کا حسرت و افسوس کرنا۔ (البقرۃ:167) 2۔ موت کے وقت آہ و زاریاں کرنا۔ (المومنون :99) 3۔ محشر کے میدان میں حسرت و افسوس کا اظہار کرنا۔ (النباء :40) 4۔ جہنم میں ان کا آہ و بکا کرنا۔ (فاطر :37) الاعراف
54 فہم القرآن : ربط کلام : مشرک جن کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارشی سمجھتے ہیں۔ ان کا کائنات کی تخلیق اور اس کے چلانے میں کوئی عمل دخل نہیں پھر وہ کس بنیاد پر سفارش کریں گے؟ قرآن کریم نے مادی کائنات کے آغاز و انجام کا ایک خاص تصور دیا ہے۔ یہ تصور ڈیڑھ سو برس پہلے تک انسان کے لیے بالکل نامعلوم تھا۔ یقیناً نزول قرآن کے زمانے میں تو اس کا شاید تصور بھی کسی انسان کے لیے محال تھا۔ مگر جدید کائنات کے علم نے حیرت انگیز (کسی مسلمان کے لیے تو یہ بالکل حیرت انگیز نہیں ہے۔ ہاں غیر مسلموں کے لیے ضرور ہوسکتا ہے) طور پر اس کی تصدیق کی ہے۔ قرآن کریم میں مظاہر فطرت، تخلیق اور دیگر اہم موضوعات کا تذکرہ ایک مسلسل اور مربوط انداز کی بجائے پورے قرآن میں پھیلا ہوا۔ جس کا مقصد موقعہ محل کے مطابق اس سے اللہ کی توحید کا استدلال کرنا ہے۔ چنانچہ متعدد سورتوں میں پھیلے ہوئے اجزا کو یکجا کرکے ہم تخلیق کائنات اور سماوات وارض کے مختلف ارتقائی مراحل کا قرآنی تصور حاصل کرکے جدید سائنسی تحقیقات سے ان کا موازنہ کرسکتے ہیں۔ ان آیات سے تخلیق کے چند نکات بالکل واضح ہیں۔ 1۔ عام تخلیق کے لیے چھ ادوار کا ہونا۔ (جن کا دورانیہ اربوں کھربوں سالوں پر محیط ہے، صحیح علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔) 2۔ آسمان اور زمین کے وجود کا آپس میں جڑا ہونا۔ 3۔ کائنات کی تخلیق ابتدائی نوعیت کے ایسے مادے سے جو ایک بڑے تودے کی شکل میں تھا اور بالآخر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ 4۔ آسمانوں اور زمینوں کے درمیان مخلوق کی تخلیق۔ 5۔ آسمانوں اور زمینوں کا مقررہ وقت پر طے شدہ وقت کے مطابق و خاتمہ۔ تشکیل کائنات سے متعلق چند جدید سائنسی معلومات : کائنات کی ابتداء : Big Bang Teory انیسویں صدی کے نصف اول میں چند علماء یورپ کا یہ خیال تھا کہ شاید کائنات ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ لیکن جدید سائنسی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہو سکتی بلکہ اس کی ایک ابتدا ہے اور اس کا ایک انجام بھی مقدر ہے۔ جدید طبیعات کا ایک قانون (Second law of the rmodynamics) ” احرکیات حرارت کا دوسرا قانون“ ہے۔ اس کا ایک ضمنی قانون جسے ” ضابطۂ ناکارگی“ (Law of enterophy) کہا جاتا ہے۔ ثابت کرتا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہو سکتی۔ یہ قانون بتاتا ہے کہ حرارت، مسلسل، باحرارت وجود سے بے حرارت وجود میں منتقل ہوتی رہتی ہے مگر اس چکر کو الٹا نہیں چلایا جا سکتا کہ خود بخود حرارت، کم حرارت والے جسم سے زیادہ حرارت والے جسم میں منتقل ہونے لگے۔ ناکارگی دستیاب توانائی (Available Energy) اور غیر دستیاب توانائی (Unavailable Energy) کے درمیان تناسب کا نام ہے اور اسی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ کائنات کی ناکارگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اور ایک وقت ایسا آنا مقدر ہے جب تمام موجودات کی حرارت یکساں ہوجائے گی اور کوئی کار آمد توانائی باقی نہیں رہے گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کیمیائی اور طبعی عمل کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اور زندگی بھی اس کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی۔ لیکن اس حقیقت کے پیش نظر کہ کیمیائی اور طبعی عمل جاری اور زندگی کے ہنگامے قائم ہیں یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ کائنات ازل سے موجود نہیں۔ وگرنہ اخراج حرارت کے لازمی قانون کی وجہ سے اس کی توانائی کبھی کی ختم ہوچکی ہوتی اور یہاں زندگی کی ہلکی سی رمق بھی موجود نہ ہوتی۔ اسی جدید تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے ایک امریکی عالم حیوانات ( Edward Futher Kesel) لکھتا ہے : ” اس طرح غیر ارادی طور پر سائنس کی تحقیقات نے ثابت کردیا ہے کہ کائنات اپنا ایک آغاز (Beginning) رکھتی ہے۔ اور ایسا کرتے ہوئے اس نے خدا کی صداقت کو ثابت کردیا ہے۔ کیونکہ جو چیز اپنا آغاز رکھتی ہو وہ اپنے آپ شروع نہیں ہو سکتی۔ یقیناً وہ ایک محرک اول، ایک خالق، ایک خدا کی محتاج ہے۔“ (The evidence of God ,p51) چنانچہ کائنات کے وجود میں آنے کا مسلمہ جدید ترین نظریہ یہ ہے کہ ابتداً مادہ مرکوز اور مجتمع (Concentrated and Condensed) حالت میں تھا۔ ﴿أَوَلَمْ یَرَ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ أَفَلَا یُؤْمِنُونَ﴾[ سورۃ الأنبیاء :30] ” کیا کافروں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ارض و سماوات آپس میں گڈ مڈ تھے پھر ہم نے انھیں الگ الگ کیا اور ہر جاندار چیز کو پانی سے زندگی بخشی کیا پھر بھی یہ لوگ (اللہ تعالیٰ کی خلاقی) پر ایمان نہیں لاتے ؟“ یہ مادہ بالکل توازن کی حالت میں تھا اس میں کسی قسم کی کوئی حرکت نہ تھی پھر اچانک یہ ایک عظیم دھماکہ (Big Bang) (یہ عظیم دھماکہ ایک اندازہ کے مطابق 15 کھرب سال پہلے ہوا) سے پھٹ پڑا اور اس نے ایک عظیم گیسی بادل یا قرآن کے لفظ میں دخان ﴿ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاءِ وَہِیَ دُخَانٌ﴾ کی صورت اختیار کرلی۔ سائنس کی یہ دریافت قرآنی بیان کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ یہ گیسی بادل بہت عظیم الجثہ تھا اور آہستہ آہستہ گردش کر رہا تھا۔ یہ عظیم سدیم (Primery nebula) انجام کار متعدد ٹکڑوں میں بٹ گیا جن کی لمبائی چوڑائی اور مقدار مادہ بہت ہی زیادہ تھا۔ نجمی طبیعات (Astrophysicist) کے ماہرین اس کی مقدار کا اندازہ سورج کے موجودہ مادہ کے ایک ارب سے لگا کر ایک کھرب گنا تک لگاتے ہیں۔ ان اعداد سے ابتدائی گیسی مقدار مادہ (Hydrogen and Helium) کے ان ٹکڑوں کے عظیم جثوں کا کچھ تصور ملتا ہے جن سے بعد میں عمل انجماد (Condensation) کے ذریعے کہکشائیں وجود میں آئیں۔ وسعت کائنات : یہ کائنات جس کا ابھی تک انسان احاطہ نہیں کرسکا ہے اتنی وسیع ہے کہ اس کو تصور میں لانا ہی مشکل ہے اگر ساری دنیا کے ریگستانوں اور سمندروں کے کنارے پائی جانے والی ریت اکٹھی کرلی جائے تو ریت کے اس عظیم ڈھیر میں جتنی حیثیت، ریت کے ایک ذرّے کی ساری ریت کے مقابلے میں بنتی ہے کائنات کے مقابلے میں ہماری زمین کی شاید اتنی حیثیت بھی نہیں بنتی۔ اگر ہم ایک خیالی جہاز تصور کریں جو روشنی کی ہیبت ناک رفتار یعنی ایک لاکھ چھیا سی ہزار میل فی سیکنڈ (1,86,000 Miles/Sec) کی رفتار سے سفر کرسکتا ہو کائنات کے گرد گھومے تو اس ہوائی جہاز کو پورا چکر لگانے میں ایک ارب سال لگیں گے۔ پھر بھی ہمارا یہ فرضی جہاز کبھی کائنات کا چکر مکمل نہ کرسکے گا کیونکہ اتنی وسعت کے باوجود یہ کائنات ٹھہری ہوئی نہیں بلکہ غبارے کی طرح پھیل رہی ہے اور اس کے پھیلنے کی رفتار اتنی ہے کہ ہر 130 کروڑسال بعد کائنات کے تمام فاصلے دگنے ہوجاتے ہیں۔ کائنات کا یہ پھیلاؤ جدید سائنس کی سب سے مرعوب کن دریافت اور اب یہ ایک نہایت مستحکم تصور ہے اور بحث صرف اس بات پر مرکوز ہے کہ یہ امر کس طرح انجام پا رہا ہے۔ جبکہ قرآن نے 14,00 سال پہلے اس کا انکشاف کردیا تھا۔ ﴿وَالسَّمَاء بَنَیْنَاہَا بِأَیْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ﴾[ سورۃ الذاریات :47] ” آسمان کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور ہم ہی اس میں توسیع کر رہے ہیں۔“ نزول قرآن کے وقت کسی بھی شخص کے لیے ناممکن تھا کہ وہ وسعت کائنات کا مطالعہ و مشاہدہ کرسکتا ہو۔ چنانچہ سائنس کی یہ دریافت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قرآن خالق کائنات یعنی اللہ کا کلام ہے۔ نظام شمسی اور کہکشائیں : نظام شمسی ایک ایسے نظام کو کہتے ہیں جس کے مرکز میں ایک سیارہ ہو اور اس کے گرد مختلف سیارے اپنے اپنے مداروں میں چکر لگا رہے ہوں۔ چنانچہ کائنات کے جس نظام شمسی میں ہم رہتے ہیں اس کے مرکز میں سورج ہے اور اس کے گرد بشمول ہماری زمین ٩ سیارے چکر لگا رہے ہیں۔ صرف اس نظام کی وسعت کا یہ حال ہے کہ سورج کی (یاد رہے کہ روشنی 1,86,000 میل فی سیکنڈ کی تیز ترین رفتار سے سفر کرتی ہے) روشنی کو اپنے بعید ترین سیارے یعنی پلوٹو (Pluto) جو کہ اعداد میں دیکھیں تو سورج سے تین ارب سر سٹھ کروڑ بیس لاکھ میل (3,66,2000000) دور ہے، کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں اور پلوٹو سورج کے گرد ساڑھے سات ارب میل کے دائرے میں چکر لگا رہا ہے۔ ہماری زمین جو سورج سے ساڑھے نو کروڑ میل دور ہے اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتی ہے۔ سورج کے گرد انیس کروڑ میل کا دائرہ ہے جو ایک سال میں پورا ہوتا ہے۔ یہ تمام سیارے اپنے سفر میں اس طرح مصروف ہیں کہ ان کے گرد اکتیس چاند بھی اپنے اپنے سیاروں کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ان کے علاوہ تیس ہزار چھوٹے سیاروں (Asteroids) کا ایک حلقہ، ہزاروں دمدار ستارے (Comets) اور لاکھوں شہاب ثاقب ہیں جو اسی طرح گردش میں مصروف ہیں۔ ان سب کے درمیان میں سورج ہے جس کا قطر (Diameter) آٹھ لاکھ پینسٹھ ہزار میل ہے اور وہ زمین سے بارہ لاکھ گنا بڑا ہے، پھر یہ سورج خود بھی رکا ہوا نہیں۔ سورج کس طرح سفر کر رہا ہے ؟ کیلیفورنیا کی ایک رصد گاہ کے ڈائریکٹر آرجی ایٹکن کا اندازہ ہے کہ سورج اپنے نظام شمسی سمیت اپنی کہکشاں کے ساتھ چوبیس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کسی نامعلوم منزل کی طرف جا رہا ہے۔ جو جدید انکشاف کے مطابق سورج مجمع النجوم شلیاق کے مرکز جس کو Solar Apex ہا گیا ہے کی طرف جا رہا ہے۔ یہ دریافت بھی قرآن کی صداقت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے جیسا کہ قرآن نے چودہ صدیاں قبل ہی یہ اعلان کردیا تھا۔ ﴿وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا ذٰلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیم﴾[ یس :38] ” اور سورج اپنی مقررہ گزر گاہ پر چل رہا ہے یہ زبردست علیم ہستی کا مقرر کردہ اندازہ ہے۔“ علمائے فلکیات کے ایک جدید اندازے کے مطابق ہر کہکشاں (Galaxy) میں دو کھرب ستارے ہیں اور اب تک معلوم کائنات میں تقریباً دو کھرب یہ کہکشائیں ہیں۔ جو کہکشاں ہم سے قریب ترین ہے وہاں سے روشنی کو ہم تک پہنچنے میں تقریباً نو لاکھ سال لگ جاتے ہیں۔ یہ کہکشاں مراۃ السلسلہ (Andromida) نامی مجمع النجوم میں واقع ہے۔ لہٰذا روشنی کو ان ستاروں سے جو معلوم سماوی جہاں کے اس سرے پر واقع ہیں ہم تک پہنچنے میں اربوں سال لگ جاتے ہیں۔ کائنات کی پہنائیاں اس قدر وسیع ہیں کہ ان کی پیمائش کے لیے خاص اکائیاں مثلاً نوری سال اور پارسک وغیرہ وضع کی گئیں ہیں۔ نوری سال یا سال نوای اس فاصلہ کو کہتے ہیں جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے اور یہ تقریباً 58 کھرب ستر ارب میل کے برابر ہوتا ہے اور پارسک 3.26 نوری سال یا ایک نیل 92 کھرب میل کے لگ بھگ ہے۔ ﴿فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ﴾ کائنات کی ان وسعتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس حدیث میں ذرا بھی مبالغہ نہیں جس میں بتایا گیا ہے وہ آخری آدمی جسے اللہ تعالیٰ دوزخ سے نکال کر جنت میں بھیجے گا اور اسے وہ وسیع و عریض باغ دکھا کرکہا جائے گا یہ سب تمھارا ہے تو وہ حیران ہو کر کہے گا۔ ” یا اللہ تو اللہ ہو کر مجھ سے مذاق کرتا ہے۔“ طرّہ پھر اس پہ یہ کہ یہ کہکشائیں بھی ٹھہری ہوئی نہیں ہیں بلکہ اپنے محور پر گردش کر رہی ہیں۔ چنانچہ وہ کہکشاں جس میں ہمارا نظام شمسی واقع ہے اس کا اپنے محور پر ایک دور 20 کروڑ سال میں پورا ہوتا ہے۔ یہ ساری حرکتیں اور گردشیں حیرت انگیز طور پر نہایت تنظیم اور باقاعدگی کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ نہ ان میں باہم کوئی ٹکراؤ ہوتا ہے اور نہ رفتار میں کوئی فرق پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق Big Bang کے وقت اگر مادے کے پھیلنے کی رفتار میں ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے کے لاکھویں حصے جتنا بھی فرق پڑجاتا تو ساری کائنات آپس میں ٹکرا کر درہم برہم ہوجاتی ! (سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَان اللّٰہِ الْعَظِیْمِ) یہ نظام اس حدتک مربوط اور مستند (Accurate) ہے کہ ایک کہکشانی نظام جو اربوں متحرک ستاروں پر مشتمل ہوتا ہے دوسرے کہکشانی نظام میں حرکت کرتا ہوا داخل ہوتا ہے اور پھر اس سے نکل جاتا ہے مگر باہم کسی قسم کا ٹکراؤ پیدا نہیں ہوتا! اس عظیم اور حیرت انگیز نظام کو دیکھ کر انسانی عقل بے اختیار اعتراف کرتی ہے کہ کوئی تو ہے، زبردست، غیر معمولی طاقت اور علم والا جس نے اس اتھاہ نظام کو قائم کر رکھا ہے۔ یہاں پر یہ واقعہ باعث بصیرت و تقویت ایمان ہوگا جس کا تعلق مشہور ماہر فلکیات سر جیمز جینز (Sir James Jeans) England (1877-1946) سے ہے۔ موصوف مشہور کتاب (The Mysterious Universe) کے مصنف ہیں۔ اس واقعہ کو علامہ عنایت اللہ مشرقی نے بیان کیا ہے انھی کے الفاظ میں سنیے۔ ” 1909 کا ذکر ہے، اتوار کا دن تھا اور زور کی بارش ہو رہی تھی۔ میں کسی کام سے نکلا تو جامعہ کیمبرج کے مشہور ماہر فلکیات سر جیمز جینز پر نظر پڑی جو بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جا رہے تھے۔ میں نے قریب ہو کر سلام کیا۔ انھوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ دوبارہ سلام کیا تو متوجہ ہوئے اور کہنے لگے تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا دو باتیں۔ اول یہ کہ زور سے بارش ہو رہی ہے اور آپ نے چھتری بغل میں دبا رکھی ہے۔ سر جیمز جینز اپنی بد حواسی پر مسکرائے اور چھاتہ تان لیا۔ دوم یہ کہ آپ جیسا شہرہ آفاق آدمی گرجا میں عبادت کے لیے جا رہا ہے۔ یہ کیا ؟ میرے اس سوال پر پروفیسر جیمز جینز لمحہ بھر کے لیے رک گئے اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ ” آج شام کی چائے میرے ساتھ پیو“ چنانچہ شام کو میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ ٹھیک 4 بجے لیڈی جیمز باہر آکر کہنے لگیں : ” سر جیمز تمھارے منتظر ہیں“ اندر گیا تو ایک چھوٹی میز پر چائے لگی ہوئی تھی۔ پروفیسر صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے۔ کہنے لگے : ” تمھاراسوال کیا تھا؟“ میرے بولنے کا انتظار کیے بغیر ہی اجرام فلکی کی تخلیق، ان کے حیرت انگیز نظام، بے انتہا پہنائیوں اور فاصلوں، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں نیز باہمی کشش اور طوفان ہائے نور پر وہ ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس داستان کبریا اور جبروت پر دہلنے لگا، اور ان کی اپنی کیفیت یہ تھی کہ سر کے بال سیدھے اٹھے ہوئے تھے۔ آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دو گونہ کیفیتیں عیاں تھیں، اللہ کی ہیبت اور دانش سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی۔ فرمانے لگے، عنایت اللہ خاں! جب میں خدا کے تخلیقی کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری ہستی اللہ کے جلال سے لرزنے لگتی ہے اور جب میں کلیسا میں خدا کے سامنے سرنگوں ہو کر کہتا ہوں ” تو بہت بڑا ہے“ تو میری ہستی کا ذرہ ذرہ میرا ہم نوا بن جاتا ہے۔ مجھے بے حد خوشی اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ مجھے دوسروں کی نسبت عبادت میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے کہو عنایت اللہ خاں! تمھاری سمجھ میں آیا کہ میں گرجے کیوں جاتا ہوں ؟“ علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمزکی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام مچا دیا۔ میں نے کہا :” جناب والا آپ کی روح افروز تفصیلات سے میں بے حد متاثر ہوا ہوں۔ اس سلسلے میں قرآن پاک کی ایک آیت یاد آئی ہے اگر اجازت ہو تو پیش کروں۔“ فرمایا ضرور چنانچہ میں نے یہ آیت پڑھی۔ ﴿وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہُ کَذَلِکَ إِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاء إِنَّ اللّٰہَ عَزِیزٌ غَفُورٌ﴾[ سورۃ فاطر :28] ” اور اسی طرح انسانوں، جانوروں اور مویشیوں کے لیے بھی رنگ مختلف ہیں بلاشبہ اللہ کے بندوں میں سے اس سے ڈرتے وہی ہیں جو علم رکھنے والے ہیں اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر غالب اور بخشنے والا ہے۔“ آیت سنتے ہی پروفیسر بولے ” کیا کہا! اللہ سے صرف اہل علم ڈرتے ہیں۔ حیرت انگیز، بہت عجیب، یہ بات جو مجھے ٥٠ برس کے مسلسل مطالعہ و مشاہدہ کے بعد معلوم ہوئی، محمد (ﷺ) کو کس نے بتائی۔ کیا قرآن میں واقعی ہی یہ آیت موجود ہے ؟ اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے۔ محمد (ﷺ) ان پڑھ تھے، انھیں یہ عظیم حقیقت خود بخود معلوم نہیں ہو سکتی۔ انھیں یقیناً اللہ نے بتائی تھی۔ بہت خوب بہت عجیب۔۔“ (بحوالہ : ” ماہنامہ نقوش“ ) مسائل : 1۔ جہانوں کا رب اللہ ہے جس نے چھ دن میں زمین و آسمانوں کو پیدا کیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق عرش کے اوپر متمکن ہے۔ 3۔ رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے۔ 4۔ سورج، چاند، ستارے اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔ 5۔ کائنات کو پیدا کرنے والا اللہ ہے۔ 6۔ کائنات پر صرف اللہ کا حکم چلتا ہے جو تمام کائنات کا رب ہے۔ الاعراف
55 فہم القرآن : ( آیت 55 سے 56) ربط کلام : جب زمین و آسمانوں کا خالق، رات اور دن، شمس و قمر اور ہر چیز کا مالک وہی ہے اور ہر چیز پر اسی کا حکم چلتا ہے۔ تو کسی دوسرے کے سامنے دست سوال دراز کرنے کا کیا معنٰی ؟ لہٰذا حقیقی خالق اور بااختیار مالک سے مانگا کیجیے اس سے نہ مانگنا اور غیروں سے مانگنا اللہ تعالیٰ کی بغاوت ہے جس سے ساری زمین کا نظام بگڑتا ہے۔ دعا کے آداب میں شکرو حمد، درود اور توبہ استغفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جلالت ومنزلت کا تقاضا اور فقیر کی شان یہ ہے کہ مانگتے وقت غایت درجے کی انکساری اور در ما ندگی کا اظہار کرتے ہوئے اسکے سامنے دست سوال دراز کرنا چاہیے۔ شاہ ولی اللہ (رض) نے لکھا ہے کہ دعا مانگنے والا اس بے بسی اور بے چارگی کا اظہار کرے جس طرح مردہ غساّل کے ہاتھ میں ہو۔ (رُوْحُ الدُّعَاءِ اَنْ یَّرَیٰ کُلَّ حَوْلٍ وَقُوَّۃٍ مِنَ اللّٰہِ وَیَصِیْرُ کَا لْمَیِّتِ فِیْ یَدِ الْغُسَّالِ) [ حجۃ اللّٰہ] ” دعا کی روح یہ ہے کہ دعا کرنے والا ہر قسم کی طاقت وقوت کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو تصور کرے اور اس کی قوت وعظمت کے سامنے اپنے آپ کو اس طرح بے بس سمجھے جس طرح نہلانے والے کے ہاتھوں میت ہوتی ہے۔“ اللہ تعالیٰ کو انکساری اس قدر پسند ہے کہ جب انسان پریشانیوں کے ہجوم، مسائل کے گرداب اور مصائب کے طوفانوں میں پھنس جاتا ہے۔ عزیز واقربا، دوست واحباب منہ پھیر چکے ہوتے ہیں، لوگوں کی بے وفائی کے جھٹکوں اور حالات و واردات کے تھپیڑوں نے اسے زمین کی پستیوں پر دے مارا ہوتا ہے تمام وابستگیاں ختم اور ہر قسم کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ اب نہ اٹھنے کی ہمت ہے اور نہ بیٹھنے کی سکت ہر دم بستر کے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔ جسمانی طور پر اس قدر کمزوری کا عالم! کہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے۔ ہاتھ اٹھانا چاہتا ہے مگر ہمت اور طاقت ختم ہوچکی ہے۔ کیونکہبیماری اور غم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ معذور یاں، مجبوریاں : ان مجبوریوں اور معذوریوں میں ایک آواز اس کے کانوں کو مس کرتی ہے۔ آواز میں یہ تحریک اور امید دلائی جارہی ہے کہ میرے کمزور، ناتواں اور گناہ گار بندے تجھے اپنی درماندگیوں، لاچاریوں اور کمزوریوں پر نگاہ رکھنے کی بجائے میری رحمت پر امید رکھنی چاہئے کیونکہ میرے بغیر کوئی چارہ گر اور تیرا پر سان حال اور تیری غلطیاں معاف کرنے والا نہیں۔ امید کی اس پکار نے اس کے کمزور جسم میں طاقت، ناتواں ہاتھوں میں سکت اور شکستہ دل میں ایک امیدپیدا کردی ہے۔ وہ کانپتے وجود، لرزتے ہاتھوں کو اس کی بارگاہ اقدس میں پھیلا دیتا ہے۔ اس کی زبان سے نہایت نحیف آواز نکلتی ہے کہ اے رحیم وکریم مالک میں ہر طرف سے ٹھکرایا ہوا اور ہر جانب سے بے آسرا ہو کر تیری بارگاہ پاک میں اپنادامن حاجت پھیلا رہا ہوں۔ تو میری فریاد قبول فرما۔ میں تیرے در کا محتاج اور تیری رحمت کا طلب گارہوں اس کے جواب میں آواز آتی ہے : (قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُالذُّنُوْبَ جَمِیْعًا إِنَّہُ ھُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ) [ الزمر :53] ”(اے نبی) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ۔ یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ وہ تو غفورالرحیم ہے۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کو عاجزی اور انکساری کے ساتھ پکارنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سے خوف اور امید کے ساتھ مانگنا چاہیے۔ 3۔ اللہ سے نہ مانگنے والے فسادی لوگ ہیں۔ 4۔ اللہ کی رحمت اس کے نیک بندوں کے قریب تر ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن : اللہ کی رحمت : 1۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اللہ گناہوں کو بخشنے والا ہے۔ (الزمر :53) 2۔ اللہ کی رحمت دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہے۔ (الزخرف :32) 3۔ اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے قریب ہوتی ہے۔ (الاعراف :56) 4۔ اللہ کی رحمت سے گمراہ لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔ (الحجر :56) الاعراف
56 الاعراف
57 فہم القرآن : رابط کلام : یہ اللہ کی رحمت کا کرشمہ ہے کہ وہ پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے تاکہ لوگوں کے دل بارش کے نزول سے پہلے ہی مسرور ہوجائیں اور اپنا سازو سامان سنبھال لیں۔ پھر وہ بارش سے مردہ زمین، مرجھائی فصلوں اور مضمل طبیعتوں کو شاداں اور فرحان کردیتا ہے۔ بارش کا ذکر فرما کر انسان کو سمجھایا گیا ہے کہ دعا کے بعد اللہ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے لہٰذا دعا توبہ اور عاجزی کے ساتھ مانگا کرو۔ جو شخص توحید کے منافی عقیدہ رکھتا اور اللہ کے سوا غیروں سے مانگتا ہے وہ زمین میں فساد کا موجب بنتا ہے اب پھر توحید کے آفاقی دلائل کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ صرف ایک ہی ذات کبریا ہے جو کائنات کا نظام سنبھالے ہوئے ہے اسی کے حکم سے ہواؤں اور فضاؤں میں تبدیلی آتی ہے یہ اسی کی رحمت کا کرشمہ ہے کہ پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے تاکہ لوگوں کے دل ٹھنڈی ہوا سے مسرور ہوجائیں اور بارش آنے سے قبل اپنا سازوسامان سنبھال لیں۔ گھٹا ٹوپ ہوائیں نہ معلوم بادلوں کو کہاں سے کہاں اٹھائے ہوئے ہزاروں میل دور لے جاتی ہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم صادر ہوتا ہے وہیں بارش کا نزول ہوتا ہے اس طرح اجڑی ہوئی بستیاں تروتازہ ویران کھیتیاں شاداب اور نہ صرف مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے بلکہ فضا مہلک جراثیم سے پاک اور درختوں کا پتہ پتہ گردوغبار سے صاف ہوجاتا ہے ہر سو سہانا موسم جس سے روحانی اور جسمانی طور پر تسکین پہنچتی ہے اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ میوہ جات سے اپنے بندوں کو لطف اندوز ہونے کا موقعہ فراہم کرتا ہے بارش کی مثال سے استدلال پیش کرتے ہوئے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا عقیدہ سمجھایا گیا ہے کہ لوگو! غور کرو کہ اگر مردہ زمین کو زندہ کیا جاسکتا ہے اور اس میں مدتوں پڑے ہوئے بیج باغ وبہار کا منظر پیش کرسکتے ہیں تو کیا انسان کو پیدا کرنا خالقِ کل کے لیے مشکل ہے؟ ہرگز نہیں اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ تمہیں پیدا فرمائے گا۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ اَرْبَعُوْنَ قَالُوْ یَا اَبَا ھُرَیْرۃَ اَرْبَعُوْنَ یَوْمًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ شَھْرًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ سَنَۃً قَالَ اَبَیْتُ ثُمَّ یُنْزِلُ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَیُنْبَتُوْ نَ کَمَآ یَنْبُتُ الْبَقْلُ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ)[ متفق علیہ] (وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمِ قَالَ کُلُّ اِبْنِ اٰدَمَ یَاکُلُہٗ التُّرَاب الاَّ عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْہُ خُلِقَ وَفِیْہِ یُرَکَّبُ )[ متفق علیہ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (ﷺ) نے فرمایا دو صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے ان کے شاگردوں نے کہا چالیس دن ؟ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ہیں؟ حضرت ابوہریرہ (رض) نے جواباً فرمایا میں یہ نہیں کہتا انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں؟ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے آپ (ﷺ) نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز بو سیدہ ہوجائے گی۔ روز قیامت اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا انسان کے تمام اعضاء کو مٹی کھا جائے گی۔ لیکن دمچی کو نہیں کھائے گی انسان اسی سے پیدا کیا جائے گا اور جوڑا جائے گا۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ بارش سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے۔ 2۔ ہوائیں بادلوں کو لاتی ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بارش سے انگوریاں پیدا فرماتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ فرمائے گا۔ 5۔ انسانوں کی نصیحت کے لیے اللہ تعالیٰ نے سب کچھ پیدا فرمایا ہے۔ الاعراف
58 فہم القرآن : ربط کلام : بارش کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے نباتات کا ظہور اور نمود ہوتا ہے بارش تو ہر کسی کے لیے یکساں ہوتی ہے مگر اس کے اثرات اور نتائج مختلف ہوتے ہیں زمین چٹیل اور بنجر ہوگی تو اس سے کسی چیز کا اخراج نہیں ہوگا۔ اگر زمین زرخیز اور ہموار ہوگی تو نہ صرف وہ زمین ٹھنڈی ہوگی بلکہ اس سے مختلف قسم کی فصلیں اور پودہ جات پیدا ہوں گے۔ زمین شوریلی ہوگی تو اس سے مزید کلر شور ابھر کر سامنے آئے گا۔ اس پر کھڑے ہوئے پانی میں تعفن کے سوا کچھ پیدا نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے ارشادات کو مختلف انداز میں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ شکر ادا کریں۔ بظاہر یہ بارش اور زمین کی مثال ہے لیکن حقیقت میں اس کا تعلق دین کے ساتھ ہے کیونکہ سورۃ البقرہ کی آیت 17اور 18میں دین اور بارش کو مترادف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ جس طرح بارش سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے اسی طرح عقیدہ توحید اپنانے اور دین اسلام کو اختیار کرنے سے مسلمان کی روحانی زندگی میں بہار ہوتی ہے۔ اس کے ذوق وشوق میں اضافہ اور نیکی کے عمل میں ترقی ہوتی ہے۔ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ (رض) عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ () إِذَا اسْتَسْقَی قَال اللَّہُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَہَائِمَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَأَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ) [ رواہ ابو داؤدد : باب رَفْعِ الْیَدَیْنِ فِی الاِسْتِسْقَاءِ] ” حضرت عمرو بن شعیب (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم (ﷺ) جب بارش کے لیے دعا کرتے تو فرماتے اللّٰہُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَہِیمَتَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَأَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ ” اے اللہ اپنے بندوں اور جانوروں کو بارش کے ذریعے پانی پلا اور اپنی رحمت کو پھیلاتے ہوئے مردہ زمین کو زندہ کردے“ الاعراف
59 فہم القرآن : (آیت 59 سے64) حضرت نوح (علیہ السلام) : آپ کا نسب نامہ اس طرح ہے نوح (علیہ السلام) بن لامک بن متوشلخ بن خنوخ ( ادریس علیہ السلام) بن یرد بن مھلا ییل بن قینن بن انوش بن شیث بن آدم (علیہ السلام)۔ حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول (ﷺ) سے عرض کی کہ کیا آدم (علیہ السلام) نبی تھے؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔ پھر اس نے یہ سوال کیا کہ آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان کتنی مدت ہے آپ نے فرمایا دس قرن (صحیح ابن حبان :6157) قرن سے مراد اہل علم نے ایک نسل یا ایک صدی لی ہے اگر ایک نسل مراد لی جائے تو آدم (علیہ السلام) کی وفات اور نوح (علیہ السلام) کی پیدائش کے درمیان ہزاروں سال کی مدت بنتی ہے۔ کیونکہ پہلے لوگوں کی عمر صدیوں پر محیط ہوا کرتی تھی جس بنا پر حضرت آدم اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان ہزاروں سال کا وقفہ ثابت ہوتا ہے، بہر حال اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس وقت نبوت سے سرفراز فرمایا جب ان کی قوم کے لوگ مجسموں کے پجاری بن چکے تھے جس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نیک لوگ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی اولاد کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ جہاں تمھارے بزرگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے تراش کر رکھ دیے جائیں تاکہ ان کا نام اور عقیدت باقی رہے۔ چنانچہ انھوں نے ایسا کیا جب یہ کام کرنے والے لوگ فوت ہوگئے تو ان کے بعد آنے والے لوگوں نے ان مجسموں کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا وسیلہ بناناشروع کردیا اور پھر ان کی بالواسطہ عبادت اور ان کے حضور نذرانے پیش کیے جانے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ سورۃ نوح میں ودّ، سواع، یغوث اور یعوق کے نام پر جن بتوں کا تذکرہ پایا جاتا ہے وہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے صالح لوگوں کے نام ہیں۔ (بخاری کتاب التفسیر 4920، طبری تفسیر سورۃ نوح، آیت : 23، 24) سورۃ العنکبوت آیت 14میں بیان کیا گیا ہے کہ جناب نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال قوم کی اصلاح کرنے میں صرف فرمائے۔ سورۃ نوح میں یہ وضاحت فرمائی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ فریاد کی کہ میرے رب میں نے اپنی قوم کو رات اور دن، انفرادی اور اجتماعی طور پر سمجھانے کی کوشش کی لیکن میری بھرپور کوشش کے باوجود یہ قوم شرک اور برائی میں بڑھتی ہی چلی گئی۔ قوم نہ صرف جرائم میں آگے برھتی گئی بلکہ الٹا انھوں نے نوح (علیہ السلام) کے خلاف گمراہ ہونے کا پراپیگنڈہ کرنے کے ساتھ ان سے بار بار مطالبہ کیا کہ اے نوح! اگر تو واقعی اللہ کا سچا نبی ہے تو ہمارے لیے عبرت ناک عذاب کی بددعا کیجیے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے نہایت ہی مجبور ہو کر ان کے لیے بد دعا کی ” اے میرے رب میں ان کے مقابلے میں بالکل بے بس اور مغلوب ہوچکا ہوں بس تو میری مدد فرما۔“ (القمر :10) حضرت نوح (علیہ السلام) نے بد دعا کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور یہ بھی درخواست کی کہ میرے رب اب زمین پر کافروں کا ایک شخص بھی نہیں بچنا چاہیے کیونکہ ان میں سے جو بھی پیدا ہوگا وہ برا اور کافر ہی پیدا ہوگا۔ ( نوح 25تا27) اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی بد دعا قبول کرتے ہوئے انھیں حکم دیا کہ آپ میرے سامنے ایک کشتی بنائیں جب نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے تھے تو ان کی قوم نے ان کو بار بار تمسخر کا نشانہ بنایا۔ جس کے جواب میں نوح (علیہ السلام) فقط انھیں یہی فرماتے آج تم مجھے استہزاء کانشانہ اور تماشا بنا رہے ہو لیکن کل تم ہمیشہ کے لیے مذاق اور عبرت کا نشان بن جاؤ گے۔ (ھود آیت 37تا39) قوم نوح پر اللہ تعالیٰ نے پانی کا ایسا عذاب نازل فرمایا کہ جس کے بارے میں سورۃ القمر آیت 11، 12 اور سورۃ المؤمنون، آیت 27میں بیان ہوا ہے کہ آسمان کے دروازے کھل گئے زمین سے چشمے پھوٹ نکلے یہاں تک کہ تنور پھٹ پڑا۔ اس طرح نوح (علیہ السلام) کے نافرمان بیٹے سمیت ان کی قوم کو پانی میں ڈبکیاں دے دے کر ختم کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا اس قوم پر اس قدر غضب ہوا کہ جب نوح (علیہ السلام) کا بیٹا پانی میں ڈبکیاں لے رہا تھا تو حضرت نوح (علیہ السلام) کو بحیثیت باپ ترس آیا انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا کرتے ہوئے کہا، میرے رب میرا بیٹا بھی ڈوب رہا ہے حالانکہ تیرا فرمان تھا کہ میں تیرے اہل کو بچا لوں گا۔ الٰہی تیرا وعدہ برحق ہے۔ جواب آیا اے نوح تیرا بیٹا صالح نہ ہونے کی وجہ سے تیرے اہل میں شمار نہیں۔ اب مجھ سے ایسا سوال نہ کرنا ورنہ تجھے جاہلوں میں شمار کروں گا۔ اس پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہوئے معافی طلب کی اور درخواست کی مجھ پر مہربانی کی جائے ورنہ میں بھی خسارہ پانے والوں میں ہوجاؤں گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والے سلامت اور محفوظ رہے اور باقی قوم کو غرقاب کردیا گیا۔ کیونکہ ان کی قوم کفر و شرک میں اندھی ہوچکی تھی۔ ( ھود : 45تا48) قوم کا جواب اور الزامات : اے نوح (علیہ السلام) تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ تیرے ماننے والے عام اور سطحی قسم کے لوگ ہیں۔ تمھیں ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں اور ہم تمھیں جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا خطاب اور قوم کا جواب : اے میری قوم مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے نوازا ہے اور میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں۔ تم ہدایت کو پسند نہیں کرتے تو میں تم پر ہدایت کس طرح مسلط کرسکتا ہوں۔ میں تم سے تبلیغ کا اجر نہیں مانگتا۔ نہ میں ایمان والوں کو اپنے سے دھتکارنے والا ہوں۔ ہوش کرو اگر میں انھیں دھتکاردوں تو اللہ کے ہاں میری کون مدد کرے گا ؟ میں غیب دان ہونے کا دعوی نہیں کرتا۔ نہ میں اپنے آپ کو فرشتہ کہتا ہوں نہ میں کہتا ہوں جنھیں تم حقیر سمجھتے ہو کہ اللہ انھیں بھلائی سے نہیں نوازے گا۔ اگر ایسی باتیں کہوں تو میں ظالموں میں شمار ہوں گا۔ (ھود :123) قوم : تم ہماری طرح کے انسان ہو کر ہم پر برتری چاہتے ہو۔ ہم نے باپ دادا سے یہ باتیں کبھی نہیں سنیں۔ نوح دیوانہ ہوگیا ہے۔ بس انتظار کرو ختم ہوجائے گا۔ (المؤمنون : 24، 25) ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ تجھے ماننے والے گھٹیا لوگ ہیں (الشعراء :112) ہم تجھے سنگسار کردیں گے۔ (الشعراء :116) قوم سے خطاب : اے میری قوم میں تمھیں کھلے الفاظ میں انتباہ کر رہا ہوں صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ شرک اور اللہ کی نافرمانی سے بچو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف فرما کر تمھیں مہلت دے گا۔ اللہ تعالیٰ کی اجل کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ کاش تم جان جاؤ۔ (نوح : 2تا4) قوم کا جواب : ہم اپنے معبودوں اور ود، سواع، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ( نوح، آیت :24) حضرت نوح (علیہ السلام) کی فریاد : میرے رب میں نے اپنی قوم کو دن اور رات خفیہ اور اعلانیہ، انفرادی اور اجتماعی طور پر سمجھایا میں نے جب بھی انھیں دعوت دی تو انھوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی۔ اپنے چہرے چھپا لیے اور تکبر کرنے کی انتہا کردی۔ میرے رب انھوں نے میری ہر بات کو ٹھکرایا اور نافرمانی کی۔ ان کی اولاد اور مال نے تیری نافرمانی میں انھیں بہت زیادہ بڑھایا دیا ہے انھوں نے زبردست قسم کی سازشیں اور شرارتیں کیں۔ (نوح : 5تا9) قوم کا عذاب الٰہی کو چیلنج کرنا : اے نوح تم نے ہم سے بہت زیادہ بحث و تکرار اور جھگڑا کرلیا اور اب اس کی انتہا ہوگئی ہے بس ہمارے پاس اللہ کا عذاب لے آ اگر واقعی تو سچے لوگوں میں ہے۔ ( ھود :32) حضرت نوح (علیہ السلام) کا جواب : اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو عذاب تم پر ضرور آئے گا اور تم اسے ہرگز نہیں ٹال سکو گے۔ (ھود :33) نوح (علیہ السلام) کی بد دعا : حضرت نوح نے اپنے رب سے فریاد کی اے باری تعالیٰ میں ان کے مقابلے میں انتہائی کمزور اور بے بس ہوچکا ہوں بس تو میری مدد فرما۔ (القمر :10) اے میرے رب اب زمین پر کفار کا ایک گھر بھی باقی نہیں رہنا چاہیے۔ اگر تو نے انھیں چھوڑ دیا وہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتے رہیں گے۔ اب ان میں سے جو بھی پیدا ہوگا وہ نافرمان اور ناشکرگزار ہوگا۔ (نوح : 25، 10، 24) اللہ تعالیٰ کا فرمان : اے نوح ظالموں کے بارے میں اب ہم سے فریاد نہ کرنا یقین رکھ کہ اب یہ غرق ہو کر رہیں گے۔ (ھود :3) عذاب الٰہی سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی بنانے کا حکم : اے نوح ! جو کچھ یہ کر رہے ہیں ان پر غم نہ کرو اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے سامنے بناؤ۔ اب ان کے بارے میں ہمارے ساتھ بات نہ کرنا کیونکہ یہ غرق ہونے والے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جب کشتی بنا رہے تھے۔ تو قوم ان سے مسلسل مذاق کرتی رہی جس کے جواب میں حضرت نوح (علیہ السلام) ان سے فرماتے کہ آج تم مجھے ہنسی مذاق کرتے ہو کل ہم تمھیں اس طرح ہی مذاق کریں گے عنقریب تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر ہمیشہ کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب نازل ہوتا ہے۔ (ھود : 37تا40) عذاب کی کیفیت : قوم نوح پر چالیس دن مسلسل دن رات بے انتہا بارش برستی رہی یہاں تک کہ جگہ جگہ زمین سے چشمے پھوٹ پڑے۔ حتی کہ تنور پھٹ پڑا اللہ تعالیٰ نے طوفان کے آغاز میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اللہ کا نام لے کر کشتی میں سوار ہوجائیں اور اپنے ساتھ ہر جاندار کا جوڑا جوڑا یعنی نر اور مادہ دو دو کشتی میں اپنے ساتھ سوار کرلیں۔ البتہ کسی کافر اور مشرک کو کشتی میں سوار نہ کیا جائے۔ (ہود : 40تا42) عذاب کی ہو لناکیاں : ہم نے موسلا دھار بار ش کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے۔ اور ہم نے زمین سے ابلتے چشمے جا ری کیے۔ (القمر : 11، 12) جب ہمارا حکم صادر ہوا تو تنور جوش مارنے لگا۔ (المؤمنون :27) جب پانی پوری طغیانی پر آیا۔ (احقاف :11) مفسرین نے لکھا ہے جس کی تائید موجودہ دور کے آثار قدیمہ کے ماہرین بھی کرتے ہیں کہ طوفان نوح نے فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں کو بھی ڈھانپ لیا تھا۔ بائبل میں لکھا ہے کہ سیلاب بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیوں سے 15فٹ اوپر بہہ رہا تھا۔ امام طبری سورۃ الحاقۃ آیت 11کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ سیلاب اس قدر بے انتہا تھا کہ مشرق سے مغرب تک کوئی جاندار چیز باقی نہ رہی۔ تفسیر بالقرآن : حضرت نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ : 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔ (المومنون :23) 2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے سلامتی نازل فرمائی۔ (الصٰفٰت :76) 3۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف اللہ تعالیٰ نے وحی کا نزول فرمایا۔ (النساء :163) 4۔ حضرت نوح (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام فرمایا۔ (مریم :58) 5۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا۔ (الانعام :84) 6۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں ستائیس بار تذکرہ ہوا ہے۔ الاعراف
60 الاعراف
61 الاعراف
62 الاعراف
63 الاعراف
64 الاعراف
65 فہم القرآن: (آیت 65 سے72) حضرت ھود (علیہ السلام) : حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندو بالا پہاڑ تھے۔ اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انھوں نے پہاڑ تراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے“ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ میں واقع تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی علاقہ میں حضرت ھود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو خوش اندام کڑیل جوان اور بہترین صورت و سیرت کے حامل تھے۔ قوم عاد کی خصوصیات اور جرائم : 1۔ اللہ تعالیٰ نے عاد کو قوم نوح کے بعد زمین پر اقتدار اور اختیار بخشا۔ (الاعراف :69) 2۔ قوم عاد اس قدر کڑیل اور قوی ہیکل جوان تھے کہ ان جیسا دنیا میں کوئی اور پیدا نہیں کیا گیا۔ (الفجر 6تا8) 3۔ انھیں افرادی قوت اور مویشیوں سے نوازا گیا۔ (الشعراء :133) 4۔ یہ قوم بڑے بڑے محلات میں رہتی تھی۔ کھیتی باڑی اور باغات میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ (الشعراء 129تا133) 5۔ انھوں نے خود ساختہ معبود بنا رکھے تھے ان کے سامنے اپنی حاجات و مشکلات پیش کرتے۔ (الاعراف :70) 6۔ یہ لوگ آخرت کو جھٹلانے والے اور دنیا پر اترانے والے تھے۔ (المؤمنون :33) 7۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس دنیا کے سوا اور کوئی جہاں برپا نہیں ہوگا۔ (المؤمنون :37) یہ اپنی قوت پر اترانے والے تھے۔ (حٰمٓ السجدۃ :15) حضرت ھود (علیہ السلام) کے خطبات کے اقتباسات : 1۔ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود اور مشکل کشا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے اور اس کی نافرمانیوں سے بچتے رہو۔ میں تمھارا خیر خواہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احکام پوری امانت داری سے پہنچارہا ہوں۔ سورۃ ھود میں ان کے خطاب کے اقتباسات یوں ذکر کیے گئے ہیں۔ 2۔ اے میری قوم اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے تمھیں اپنے رب کا پیغام پوری خیر خواہی اور دیانت داری کے ساتھ پہنچا دیا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو وہ تمھیں مزید طاقت ور اور مال دار بنائے گا۔ ہاں یاد رکھو تمھاری اصلاح اور فلاح پر میں تم سے کسی صلہ اور اجر کا خواہش مند نہیں ہوں۔ میرا اجر میرے رب کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے۔ (ھود 50تا52) قوم کا رد عمل اور حضرت ھود (علیہ السلام) پر الزامات : 1۔ قوم نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو بے وقوف قرار دیا۔ (الاعراف :66) 2۔ ھود (علیہ السلام) ہماری طرح ہی طرح کھانے، پینے والا انسان ہے۔ (المؤمنون :33) 3۔ انھوں نے کہا اے ھود تو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (المؤمنون :38) 4۔ تیرے کہنے پر ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ محض پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (الشعراء :137) 5۔ تم ہمیں سمجھاؤ یا نہ سمجھاؤ ہم نہیں مانیں گے۔ (شعراء :136) 6۔ ہمارے معبودوں کی تجھے بد دعا لگ گئی ہے۔ (ھود :54) 7۔ ہم پر کوئی عذاب آنے والا نہیں تو جھوٹ بولتا ہے۔ (الشعراء : 138تا139) 8۔ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر عذاب لے آ۔ (الاحقاف :22) حضرت ھود (علیہ السلام) کا قوم کو بار بار سمجھانا : 1۔ جھوٹے معبودوں اور خود ساختہ ناموں کے بارے میں مجھ سے کیوں جھگڑتے ہو۔ (الاعراف :71) 2۔ شرک کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ (الاعراف :71) 3۔ تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ تعالیٰ تمھاری جگہ کوئی اور قوم لے آئے گا۔ (ھود :57) 4۔ میرا اللہ پر بھروسہ ہے اس کے قبضہ میں ہر جاندارکی پیشانی ہے۔ (ھود :56) 5۔ گواہ رہو میں شرک سے بیزار ہوں تم سب مل کر بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (ھود : 54تا55) حضرت ھود (علیہ السلام) کی بددعا اور اللہ تعالیٰ کا عذاب : 1۔ میرے رب میری مدد فرما انھوں نے مجھے کلی طور پر جھٹلا دیا ہے۔ (المؤمنون :39) 2۔ سات راتیں اور آٹھ دن زبردست آندھی اور ہوا کے بگولے چلے۔ (الحاقۃ :7) (الشعراء :20) 3۔ گرج چمک اور بادو باراں کا طوفان آیا۔ (الاحقاف :24) 4۔ آندھیوں نے انھیں کھجور کے تنوں کی طرح پٹخ پٹخ کر دے مارا۔ (الحاقۃ:7) 5۔ انھیں ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ (الذاریات : 41،42) 6۔ دنیا اور آخرت میں ان پر پھٹکار برستی رہے گی۔ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ (السجدۃ : 16، ھود :59) 7۔ قوم ھود کو نیست و نابود کردیا گیا۔ (الاعراف :72) 8۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود اور ایمانداروں کو اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ (ھود :58) مسائل : 1۔ قوم نوح کے بعد قوم عاد دنیا میں آئی۔ 2۔ عاد کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث کیا گیا۔ 3۔ قوم عادنے اللہ کی توحید ماننے کی بجائے حضرت ہود علیہ السلام کو جھٹلایا۔ 4۔ حضرت ہود علیہ السلامنے انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔ 5۔ اتمام حجت کے بعد عذاب نہیں ٹلاکرتا۔ تفسیر بالقرآن : حضرت ھود (علیہ السلام) کا تذکرہ : 1۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کیطرف حضرت ھود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ (الاعراف :65) 2۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلایا۔ (ھود :53) 3۔ قوم نے حضرت ھود (علیہ السلام) کی تکذیب کی (ھود :60) 4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو عذاب سے محفوظ فرمایا۔ (ھود :58) حضرت ھود (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں 8بار تذکرہ ہوا ہے۔ الاعراف
66 الاعراف
67 الاعراف
68 الاعراف
69 الاعراف
70 الاعراف
71 الاعراف
72 الاعراف
73 فہم القرآن : (آیت 73 سے 79) حضرت صالح (علیہ السلام) کے خطبات کے اقتباسات: 1۔ اے میری قوم اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو۔ (الاعراف :73) 2۔ اے میری قوم تمھیں عاد کے بعد اس دنیا میں بھیجا گیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (الاعراف :73) 3۔ اے میری قوم اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر اس کا شکر ادا کرو۔ (الاعراف :74) قوم صالح کی خصوصیات و عادات : 1۔ قوم صالح اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھیں۔ (ھود : 61، 62) 2۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء :141) 3۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنایا کرتے تھے۔ (الاعراف :74) 4۔ وہ نرم زمین پر بھی بڑے بڑے محلات تعمیر کیا کرتے تھے۔ (الاعراف :74) 5۔ وہ لوگ بہت زیادہ اسراف، تکبر اور زمین میں فساد کرنے والے تھے۔ (الشعراء : 151، 152) 6۔ قوم ثمود ہدایت کے بجائے گمراہی کو پسند کرتی تھی۔ (حٰم السجدۃ:17) 7۔ انھوں نے اللہ کی نشانی کو جھٹلایا۔ (ھود :66) قوم کے جواب اور الزامات : 1۔ اے صالح ہم تو تجھے بہت اچھا سمجھتے تھے مگر تو ہمارے آباؤ اجداد کو گمراہ قرار دیتا ہے۔ (ھود :62) 2۔ کیا تو ہمیں ان کاموں سے روکتا ہے جو ہمارے بزرگ کرتے چلے آئے ہیں۔ (ھود :62) 3۔ ہم تمھیں اور تمھارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ (النمل :74) 4۔ کیا ہم اپنے بزرگوں، آباؤ اجداد کے مذہب کو چھوڑ کر صرف تمھاری پیروی کریں۔ (القمر :25) 5۔ صالح تو بہت بڑا جھوٹا اور بڑائی بکھیرنے والا ہے۔ (القمر :25) 6۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء :153) پیغمبر کا جواب اور قوم کو مزید سمجھانا : 1۔ اے میری قوم اللہ سے ڈر جاؤ اور میری باتوں پر غور کرو۔ (الشعراء :144) 2۔ میں اللہ کے احکام سنانے کے لیے تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعراء :145) 3۔ اے میری قوم میں واقعی اپنے رب کی طرف سے مبعوث ہوں۔ (ھود :63) 4۔ اے قوم یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے معجزہ ہے اس کے ساتھ زیادتی نہ کرنا۔ (ھود :64) 5۔ میں تمھیں وعظ و نصیحت کرتا ہوں جب کہ تم خیر خواہوں کو ناپسند کرتے ہو۔ (الاعراف :79) قوم کی ہٹ دھرمی اور عذاب کا مطالبہ : 1۔ انھوں نے قسمیں اٹھائیں کہ حضرت صالح کو اہل وعیال سمیت ختم کردیں گے۔ (النمل :49) 2۔ قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ (القمر :29) 3۔ اے صالح ! ہم تمھارے عقیدے کا انکار کرتے رہیں گے۔ (الاعراف :76) 4۔ اے صالح! تو جس چیز سے ہمیں ڈراتا ہے وہ لے آ۔ (الاعراف: 77) عذاب کا وقت اور اس کی تباہ کاری : 1۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ (الحجر 83، 84) 2۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود :45) 3۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر :31) حضرت صالح (علیہ السلام) کا اظہار افسوس : 1۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ناامید ہو کر فرمایا اے میری قوم میں نے تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہی کو پسند کرنے والے نہیں۔ (الاعراف :79) تفسیر بالقرآن: حضرت صالح (علیہ السلام) کابیان : 1۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بناکر بھیجا۔ ( ھود : ٦١) 2۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلایا۔ (الاعراف : ٧٣) 3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی کی صورت میں معجزہ عطا فرمایا۔ 4۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو کمزور جانا (ھود : ٦٢) حضرت صالح (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں 6بار تذکرہ ہوا ہے۔ الاعراف
74 الاعراف
75 الاعراف
76 الاعراف
77 الاعراف
78 الاعراف
79 الاعراف
80 فہم القرآن : (آیت 80 سے 84) حضرت لوط (علیہ السلام) : حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے فاسق و فاجر مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردار لوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بے حیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔ قوم لوط کا کردار : انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ کے مرتکب ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود باز آنے پر تیار نہ ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو رجم کردینے کی دھمکی دینے کے ساتھ عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا سمجھانا : قوم لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے ؟ میں تمھارے لیے امانت دار پیغمبر ہوں، سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس کا بدلہ نہیں مانگتا، میرا بدلہ رب العالمین کے ذمے ہے۔ کیا تم لڑکوں پر مائل ہوتے ہو اور تمھارے پروردگار نے تمھارے لیے جو بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔ (الشعراء : 160تا166) قوم کا جواب : کہنے لگے کہ اے لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیے جاؤ گے۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا میں تمھارے کام کا سخت مخالف ہوں۔ (الشعراء : 167تا168) حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس وقت اپنی قوم سے کہا تم یہ بے حیائی کیوں کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی۔ (الاعراف :80) ان کی قوم سے اس کے سوا کوئی جواب نہ بن پڑا کہ وہ کہنے لگے ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ بڑے پاک بنتے ہیں۔ (الاعراف : 80تا82) حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی، تم لڑکوں سے بدکاری کرتے ہو مسافروں پر ڈاکہ ڈالتے ہو۔ اور ہر قسم کی برائی میں ملوث ہو۔ (العنکبوت :29) قوم کا جواب : اے لوط اگر تم واقعی ہی سچے ہو تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آؤ۔ (العنکبوت :29) حضرت لوط (علیہ السلام) کی اللہ کے حضور فریاد : اے میرے رب اس مفسد قوم کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ (العنکبوت :30) قوم لوط پر عذاب کے فرشتوں کی آمد : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس فرشتوں کے حاضرہونے کا قرآن مجید تفصیل سے ذکر کرتا ہے کہ قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے فرشتے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے۔ انھوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دی۔ جس پر ان کی بیوی نے تعجب کا اظہار کیا۔ لیکن ملائکہ نے ان کو تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ رحمت فرما دی ہے اس لیے اس میں کسی قسم کا تعجب نہیں کرنا چاہیے۔ خوشخبری دینے کے بعد ملائکہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے عرض کی کہ ہم قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے اصرار کرنے لگے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نہایت ہی حوصلہ مند اور نرم خو تھے۔ ملائکہ نے انھیں عرض کی اس بات کو جانے دیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوچکا ہے لہٰذا اس عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ (ہود : 69تا76) عذاب لانے والے فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں : قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ جب یہ فرشتے لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں تشریف لائے تو بدمعاش قوم ان سے بے حیائی کرنے کی نیت سے ان کے ہاں دوڑتے ہوئے آئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ انھیں سمجھایا کہ اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمھارے لیے حلال ہیں۔ (یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو) اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مہمانوں کے بارے میں مجھے بے آبرو نہ کرو۔ جب وہ بھاگم بھاگ ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کیا تم میں کوئی بھی شریف آدمی نہیں ہے ؟ (ہود :78) بے حیا کہنے لگے کہ ہمیں تمھاری بیٹیوں سے کیا سروکار، تو جانتا ہے کہ ہم کس ارادہ سے آئے ہیں مشکل ترین حالات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کہنے لگے کہ آج کا دن میرے لیے بڑا بھاری دن ہے۔ کاش تمھارے مقابلے میں میرا کوئی حمایتی ہوتا یا کوئی پناہ گاہ جہاں میں تم سے بچ نکلتا۔ (ہود : 79، 80) ملائکہ اپنے آپ کو ظاہر کرکے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہیں : عذاب کے فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ اے اللہ کے نبی دل چھوٹا نہ کیجیے۔ یہ بے حیا تمھاراکچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ بس آپ اہل ایمان کو لے کر رات کے پچھلے پہر ہجرت کر جائیں۔ ہاں یاد رہے کہ آپ اپنی بیوی کو ساتھ نہیں لے جا سکیں گے کیونکہ اسے بھی وہی عذاب پہنچنے والا ہے۔ جس میں دوسرے لوگ مبتلا ہوں گے اور یہ عذاب ٹھیک صبح کے وقت نازل ہوگا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) گھبراہٹ کے عالم میں فرمانے لگے کہ صبح کب ہوگی ؟ ملائکہ نے مزید تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اے اللہ کے رسول صبح تو ہونے ہی والی ہے چنانچہ صبح کے وقت رب ذوالجلال کا حکم صادر ہوا تو اس دھرتی کو اٹھا کر نیچے پٹخ دیا گیا۔ پھر ان پر مسلسل نامزد پتھروں کی بارش کی گئی۔ (ھود : 69تا83) سورۃ القمر 37تا 38میں فرمایا کہ ظالموں نے لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں پر زیادتی کرنا چاہی تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مسخ دیا۔ سورۃ الصافات میں 137تا 138میں ارشاد ہوا یقیناً لوط (علیہ السلام) مرسلین میں سے تھے جب ہم نے انھیں اور اس کے اہل کو نجات دی۔ البتہ ایک بڑھیا کو پیچھے رہنے دیا پھر ہم نے باقی سب کو ہلاک کیا۔ اے اہل مکہ تم صبح شام ان بستیوں سے گزرتے ہو لیکن اس کے باوجود عقل نہیں کرتے۔ (الصافات : 135تا138) ﴿فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہَا حِجَارَۃً مِنْ سِجِّیلٍ مَنْضُود مُسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ہِیَ مِنَ الظَّالِمِینَ بِبَعِیدٍ [ ھود : 82، 83] ” پھر جب ہم نے حکم نافذ کیا تو ہم نے اس بستی کو اوپر نیچے (تہس نہس) کردیا اور تابڑ توڑ پکی مٹی کے پتھر برسائے۔ تیرے رب کی طرف سے ہر پتھر پر نشان (نام) لکھا ہوا تھا اور ظالموں سے یہ سزا دور نہیں ہے۔“ بحرمردار (میت): دنیا کے موجو دہ جغرافیے میں یہ بحر مردار اردن کی سر زمین میں واقع ہے۔ پچاس میل لمبا، گیارہ میل چوڑا ہے اسکی سطح کا کل رقبہ 351مربع میل ہے۔ اسکی زیادہ سے زیادہ گہرائی تیرہ سو فٹ پیمائش کی گئی ہے۔ یہ اسرائیل اور اردن کی سرحد پر واقع ہے۔ اور اس کا کسی بڑے سمندر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ گویا کہ یہ ایک بہت بڑی جھیل بن چکی ہے۔ اس کی نمکیات اور کیمیائی اجزاء عام سمندروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے قریب ترین سمندر بحر روم ہے۔ جدید محققین نے اسی جگہ پر لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کی نشاندہی کی ہے۔ جو کسی زمانے میں یہاں صدوم عمود کے نام سے بڑے شہر آباد تھے۔ مصرکے محقق عبدالوہاب البخار نے بھرپور دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ عذاب لوط (علیہ السلام) سے پہلے اس جگہ پر کوئی سمندر نہیں تھا۔ جب اللہ کے عذاب کی وجہ سے اس علاقے کو الٹ دیا گیا تو یہ ایک چھوٹے سے سمندر کی شکل اختیار کر گیا۔“ 1۔ اس کے پانی کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں نمکیات کا تناسب پچیس فیصد قرار دیا گیا ہے۔ جب کہ دنیا کے تمام سمندروں میں نمکیات کا تناسب چار سے چھ فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2۔ اسکے کنارے نہ کوئی درخت ہے اور نہ ہی اس میں کوئی جانور زندہ رہ سکتا ہے حتی کہ سیلاب کے موقع پر دریائے اردن سے آنیوالی مچھلیاں اس میں داخل ہوتے ہی تڑپ تڑپ کر مر جاتی ہیں۔ اہل عرب اسکو بحیرہ لوط بھی کہتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ : 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حضرت لوط (علیہ السلام) ایمان لائے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔ (العنکبوت :26) 2۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اللہ کے رسولوں میں سے تھے۔ (الصٰفٰت :133) 3۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل، یسع، یونس اور لوط کو جہاں والوں پر فضیلت دی۔ (الانعام :86) 4۔ اللہ تعالیٰ نے لوط کو دانائی اور علم عطا فرمایا۔ (الانبیاء :74) 5۔ لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فحاشی اور بے حیائی سے منع فرمایا۔ (النمل :54) حضرت لوط (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں 23بار تذکرہ ہوا ہے۔ الاعراف
81 الاعراف
82 الاعراف
83 الاعراف
84 الاعراف
85 فہم القرآن : (آیت 85 سے 87) حضرت شعیب (علیہ السلام) : حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خطیب الانبیاء کے نام سے یاد کیا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ” مدیان“ کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس کی بنا پر ان کو قوم مدین کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا سب سے بڑا شہر ان کے قومی نام مدین سے ہی معروف تھا۔ اس لیے قرآن مجید نے انھیں اہل مدین کے نام سے پکارا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ان کی قوم میں ہی رسول مبعوث کیا گیا تاکہ آپ اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کی جدوجہد فرمائیں۔ اہل مدین کو قرآن میں اصحاب الایکہ بھی کہا گیا ہے۔ (الشعراء :176) اہل مدین کا عقیدہ اور گھناؤنا کردار : 1۔ اہل مدین بھی اپنے پیش رو اقوام کی طرح شرک جیسے غلیظ اور بد ترین عقیدہ میں مبتلا تھی۔ شرک وہ بیماری ہے جسے امّ الامراض کہنا چاہیے۔ قوم مدین کے اندر وہ تمام اخلاقی اور اعتقادی بیمار یوں نے جنم لیا۔ جن میں قوم نوح سے لے کر قوم لوط کے لوگ ملوث چلے آرہے تھے۔ اس امّ الامراض کی جڑ کاٹنے کے لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی دعوت کا آغاز دعوت توحید سے کرتے ہیں۔ (الاعراف، آیت :85) 2۔ قوم مدین نہ صرف عقیدہ کی خیانت میں مرتکب ہوئی بلکہ گاہک سے پوری قیمت وصول کرنے کے باوجود ماپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے۔ ادائیگی کے وقت چیز مقررہ وزن اور پیمائش سے کم دیتے۔ دوسروں سے لیتے تو طے شدہ وزن سے زیادہ لینے کی مجرمانہ کوشش کرتے۔ (الاعراف، آیت :85) 3۔ یہ لوگ پیشہ ور ڈاکو تھے ان کے علاقے سے گزرنے والے مسافروں کی عزت و آبرو اور مال و جان محفوظ نہیں تھے۔ (الاعراف : 86، ھود :85) 4۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی زبردست مخالفت اور نافرمانی کرنے والے تھے۔ (ھود :89) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نصیحتیں : 1۔ اے میری قوم ایک اللہ کی عبادت کرو، ماپ تول میں کمی ڈاکہ زنی اور فساد فی الارض سے توبہ کرو۔ اگر میری بات مان جاؤ تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ہر لحاظ سے تھوڑے اور کم تر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں کثرت سے نوازا۔ (الاعراف، آیت : 85، 86) اے میری قوم اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور میری بات مانو میں نہایت ایمانداری کے ساتھ تمھیں اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں اور اس پر میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر میرے رب کے ذمہ ہے۔ (الشعراء، آیت : 176تا180) قوم کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جواب : اے شعیب کیا تیری نمازیں تجھے یہی کہتی ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقۂ عبادت کو چھوڑ دیں اور اپنے کاروبار کو اپنے طریقہ کے مطابق نہ کریں ؟ ھود، آیت : 87۔ تم پر اے شعیب ( علیہ السلام) کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء :185) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مزید نصیحت : اے میری قوم میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے وافر رزق عطا فرمایا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ میں وہی کچھ کروں جس سے تمھیں منع کرتا ہوں۔ میں اللہ کی توفیق سے صرف اصلاح کی غرض سے یہ بات کہتا ہوں۔ میرا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے اور میں ہر حال میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ (ھود :88) قوم کا جواب : اے شعیب! تیری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تمھیں اپنے آپ میں کمزور دیکھتے ہیں، اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم تجھے پتھر مار مار کر رجم کردیتے تو ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکتا۔ (ھود، آیت :91) حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ارشاد : میری قوم کیا تم اللہ تعالیٰ سے میری برادری کو بڑا سمجھتے ہو اور تم باز نہیں آتے۔ تم اپنا کام کرو اور مجھے اپنا کام کرنے دو اور عنقریب تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا کون ہے اور کس پر ذلیل کردینے والا عذاب نازل ہوگا۔ (ھود : 90تا95) قوم حضرت شعیب (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کرتی ہے : اے شعیب تو ہمارے جیسا انسان ہے اور ہم تجھے کذّاب سمجھتے ہیں بس تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے اگر تو سچا ہے۔ (الشعراء : 185تا187) قوم شعیب پر اللہ تعالیٰ کا عذاب : قوم نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو ان پر بلاشبہ عذاب عظیم نازل ہوا۔ ( الشعراء :189) ظالموں کو ایک کڑک نے آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے۔ ان کے گھر ایسے ویران ہوئے جیسے ان میں کوئی بسا ہی نہ ہو۔ یاد رکھو اہل مدین پر ایسی ہی پھٹکار ہوئی جس طرح قوم ثمود پھٹکاری گئی۔ مفسرین نے لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سات راتیں آٹھ دن گرمی اور حبس کا ایسا عذاب مسلط کیا کہ وہ نہ تہہ خانوں میں آرام کرسکتے تھے اور نہ ہی کسی درخت کے سائے تلے ٹھہر سکتے تھے۔ وہ انتہائی کرب کے عالم میں اپنے گھروں سے باہر نکلے تو ایک بادل ان کے اوپر سایہ فگن ہوا۔ جب سب کے سب بادل تلے جمع ہوگئے تو بادل سے آگ کے شعلے برسنے لگے۔ زمین زلزلہ سے لرزنے لگی اور پھر ایسی دھماکہ خیز چنگھاڑ گونجی کہ ان کے کلیجے پھٹ گئے اور اوندھے منہ تڑپ تڑپ کر ذلیل ہو کر مرے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا لاشوں کو خطاب : حضرت شعیب (علیہ السلام) ان سے مخاطب ہوتے ہیں۔ اے میری قوم میں نے نہایت خیر خواہی کے ساتھ اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ لہٰذا اللہ کے نافرمانوں پر مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔ (الاعراف :93) مسائل : 1۔ قوم شعیب ناپ تول کی کمی بیشی کیا کرتے تھے۔ 2۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کو پہلی قوموں کے انجام سے ڈراتے تھے۔ 3۔ حق وباطل میں اللہ تعالیٰ فیصلہ کردیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : ناپ تول میں کمی نہیں کرنی چاہیے : 1۔ ماپ تول کو پورا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دو۔ (الاعراف :85) 2۔ ماپ تول کو انصاف سے پورا کرو۔ (الانعام :52) 3۔ ماپ کو پورا کرو اور پورا پورا وزن کرو۔ (الاسراء :35) 4۔ ماپ تول میں کمی نہ کرو۔ (ھود :84) 5۔ ماپ کو پورا کرو اور کمی کرنے والے نہ بنو۔ (الشعراء :181) الاعراف
86 الاعراف
87 الاعراف
88 فہم القرآن : (آیت 88 سے 93) ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان کشمکش کا ذکر جاری ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی موت تک قوم کو سمجھاتے رہے لیکن قوم نے نہ صرف ان کی باتوں کی طرف توجہ نہ دی بلکہ انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور اور کہنے لگے اے شعیب اب تیرے اور تیرے ساتھیوں کے لیے ایک ہی راستہ ہے اگر تم اپنی بات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو اپنا کاروبار اور گھر بار ہمارے حوالے کرو اور یہاں سے نکل جاؤ۔ اگر تم اپنا کاروبار اور گھر بچانا چاہتے ہو تو پھر تمھیں ہر صورت ہمارے عقیدے کو ماننا پڑے گا۔ اس کے سوا ہمارا اور تمہارا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کیا ہم کفر و شرک اور بددیانتی سے نفرت کرتے ہیں تب بھی اسے قبول کرلیں؟ ان کے فرمان کا مطلب یہ تھا کہ ایک طرف ہم ان باتوں کے خلاف نفرت کرتے ہوئے مہم چلارہے ہیں اور دوسری طرف خوف یا لالچ کی بنا پر انہیں قبول کرلیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ دین چھوڑ کر دوبارہ کفر و شرک اختیار کرلیں۔ ایسا کرناہماری طرف سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہوگا۔ کیونکہ ہم کہتے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کفر و شرک، خیانت اور بدیانتی کرنے سے منع کیا اور ان کے خلاف جدوجہد کرنے کا حکم دیا۔ ہاں جو اللہ چاہے وہ ہوجاتا ہے مومنوں کے فرمان کے دو مقصد ہو سکتے ہیں۔ پہلا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ہرگز نہیں چاہتا کہ انسان کفر و شرک، خیانت اور بد دیانتی کا راستہ اختیار کرے اس کا حکم تو وہی ہے۔ جو حضرت شعیب (علیہ السلام) اور تمام انبیاء ( علیہ السلام) دیتے آ رہے ہیں لہٰذا ہمیں سب کچھ منظور ہے لیکن صراط مستقیم سے ہٹنا گوارا نہیں۔ دوسرا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ ایمان پر قائم رہنا اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں لہٰذا ہم اپنے رب سے استقامت کی توفیق مانگتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے عاجزی اختیار کرتے ہوئے اپنی قوم کی یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ایمان لانا اور اس پر استقامت اختیار کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ یہ ہمارے رب کی توفیق کا نتیجہ ہے جس پر ہم تا دم آخر قائم ہیں۔ گویا کہ انہوں نے ان شاء اللہ کے مفہوم میں یہ الفاظ ادا فرمائے تھے۔ اسی لیے انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ہمارے انجام کا ٹھیک ٹھیک علم تو ہمارے رب کے پاس ہے۔ ہمارا بھروسہ اسی پر ہے۔ ہم تو دعا ہی کرسکتے ہیں کہ اے ہمارے رب ظالموں کا ظلم حد سے بڑھ چکا ہے اس سے ہمارے اور ہمارے دشمنوں کے درمیان بہتر فیصلہ صادر فرما تو ہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ قوم شعیب اور کفارکا ابتدا ہی سے وطیرہ رہا ہے کہ ایک طرف ایمان والوں پر مظالم ڈھاتے ہیں اور دوسری طرف باقی لوگوں کے لیے ہدایت کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں تاکہ مزید لوگ حلقۂ دین میں داخل نہ ہوسکیں۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے بھی یہی گھناؤنا کردار اختیار کر رکھا تھا۔ وہ اپنی قوم کو کہتے کہ اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو یاد رکھو بھاری نقصان اٹھاؤ گے تمھارا برا حشر ہوگا۔ سرداروں کے پروپیگنڈے کا یہ معنٰی بھی تھا کہ اگر تم شعیب کا حکم مانو گے تو تم اپنی مرضی سے کاروبار نہیں کرسکو گے۔ جس سے تمھاری تجارت اور ترقی کو زبردست نقصان پہنچے گا۔ یاد رہے کہ دنیا دار لوگ شروع ہی سے ایسی باتوں سے عوام کو دین سے روکتے رہے ہیں۔ اور آج بھی نفاذ اسلام کی بات چلے تو ایسا ہی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ قوم شعیب کے کردار اور ان کے بار بار عذاب کے مطالبہ پر رات کے وقت ایسا زلزلہ آیا کہ وہ صبح اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے۔ وسیع ترین کاروبار، بڑے بڑے حفاظتی منصوبے اور ہر قسم کے مکرو فریب انھیں رب ذوالجلال کے عذاب سے نہ بچا سکے جو لیڈرز قوم کو یہ کہہ کر ڈراتے تھے کہ شعیب (علیہ السلام) کی پیروی کرنے میں نقصان ہوگا۔ وہی ملک و ملت کی تباہی کا باعث بنے۔ اس المناک صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم میں نے سمجھانے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی۔ جو عذاب لانے کا تم مجھ سے اصرار کرتے تھے اس نے تمھیں آلیا اب تم نے اپنے کیے کا پھل پا لیا ہے۔ لہٰذا میں تم پر کیونکر افسوس کرسکتا ہوں۔ الاعراف
89 الاعراف
90 الاعراف
91 الاعراف
92 الاعراف
93 الاعراف
94 فہم القرآن : (آیت 94 سے 95) ربط کلام : عرب اور اس کے گرد و نواح کی پانچ اقوام کے کردار اور انجام کا ذکر کرنے کے بعد دنیا میں جزاء و سزا اور آزمائش کا عمومی اصول بیان کیا گیا ہے۔ اہل علم نے ﴿ بِالْبَاسَاءِ﴾ کا معنی غربت، تنگدستی اور ﴿ ضَرَّاءِ﴾ کا مفہوم جسمانی بیماریاں لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک بنیادی اصول ذکر فرمایا ہے کہ ہم قوموں کو تباہ و برباد کرنے سے پہلے غربت و افلاس اور جسمانی امراض کے ذریعے جھنجوڑا کرتے ہیں تاکہ بڑا عذاب آنے سے پہلے اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔ گویا کہ اس معمولی اور عارضی گرفت کے پیچھے۔ اللہ تعالیٰ کی دائمی شفقت اور حکمت پنہاں ہوتی ہے کہ لوگوں کو احساس ہو کہ اگر ہم نے نافرمانی کی روش اختیار کیے رکھی تو کوئی ہولناک عذاب ہمیں اچک لے گا۔ لہٰذا ہمیں خدا کی نافرمانی کے بجائے اس کی اطاعت میں رہنا چاہیے اس میں ہمارے رب کی خوشنودی اور دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔ جب لوگ ان جھٹکوں سے سمجھنے اور سلجھنے کی کوشش نہیں کرتے تو پھر اللہ تعالیٰ دوسری آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ غربت و افلاس کی جگہ مال کی فراوانی اور کشادگی دیتا ہے۔ بیماری اور عوارض کی جگہ صحت اور فراغت آجاتی ہے یہ چیزیں اس قدر کھلے انداز میں دے دی جاتی ہیں کہ لوگ اپنے آباؤ اجداد پر آنے والے مصائب اور آلام کو یہ کہہ کر بھول جاتے ہیں کہ یہ تو حالات کے مدو جزر کا نتیجہ تھا، ایسا ہو ہی جایا کرتا ہے۔ بعض لوگ اسے منصوبہ بندی کا فقدان قرار دیتے ہیں اور اپنی کوششوں پر اتراتے ہوئے خود فریبی کا شکار ہو کر کہتے ہیں کہ اگر ہمارے بزرگ یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے تو فلاں فلاں آفت سے مامون رہ سکتے تھے۔ اسی لیے قوم ثمود نے پہاڑوں کو تراش تراش کر محفوظ محلات اور مضبوط قلعے بنائے اور قوم عاد نے دعویٰ کیا کہ ﴿مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً﴾ ” ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہوسکتا ہے ؟“ لیکن اللہ کے عذاب نے انھیں تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ دیکھنے والا سمجھتا تھا کہ یہاں کبھی کوئی بندہ، بشر رہا ہی نہیں۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اکثر اوقات اللہ تعالیٰ کا عذاب کنگال اور کمزور لوگوں کے بجائے معاشی لحاظ سے خوشحال اور سیاسی اعتبار سے صاحب اقبال لوگوں پر آتا ہے۔ یہ عذاب اس قدر اچانک آیا کرتا ہے کہ وہ اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ جب اللہ کا عذاب آجائے تو کسی قوم کی سیاسی برتری اور معاشی خوشحالی اسے ہرگز نہیں بچا سکتی۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ آزمائش کے ذریعے لوگوں کے گناہ معاف فرماتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ اچانک اور زبردست ہوا کرتی ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ خوشحالی کے ذریعے آزماتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ تکلیف اور تنگ دستی کے ذریعے بھی آزماتا ہے۔ 6۔ تباہ ہونے والی اکثر اقوام خوشحال ہوا کرتی تھیں۔ تفسیر بالقرآن : اللہ تعالیٰ کی پکڑ اچانک اور زبردست ہوا کرتی ہے : 1۔ جب وہ ہماری عطا کی ہوئی نعمتوں پر خوش ہوجاتے ہیں تو اچانک انکو عذاب کی لپیٹ میں لے لیتے ہیں (الانعام :44) 2۔ کیا وہ لوگ بے فکر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے؟ (النحل :45) 3۔ کیا وہ لوگ بے فکر ہوگئے ہیں کہ انہیں اللہ کا عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے یا اچانک قیامت آجائے۔ (یوسف :107) 4۔ کیا بستیوں والے بے فکر ہوگئے ہیں کہ اللہ کا عذاب رات کے وقت اپنی لپیٹ میں لے لے اور وہ نیند کی حالت میں ہوں۔ (الاعراف :95) 5۔ کیا وہ لوگ بے خوف ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں چلتے پھرتے اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔ (النحل :46) الاعراف
95 الاعراف
96 فہم القرآن : ربط کلام : سرکشی اور بےدینی کی بنیاد پر ملنے والی فراوانی اور دین کی بدولت عطا ہونے والی خوشحالی کا فرق۔ اللہ تعالیٰ نے فرقان مجید کی سورۃ نساء کی آیت 115میں ایک اصول بیان فرمایا ہے کہ ہدایت واضح ہونے کے باوجود جو شخص ہمارے رسول کی مخالفت کرے گا ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے جدھر وہ جانا چاہتا ہے۔ سورۃ الشوریٰ کی آیت 20میں فرمایا کہ جو دنیا چاہتے ہیں اسے اس کے نصیب کی دنیا دے دیتے ہیں۔ جو آخرت چاہتا ہے اسے آخرت عطا کردیتے ہیں۔ قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ اگر لوگ ایمان اور تقویٰ کا راستہ اختیار کریں گے تو ہم ان کے لیے زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیں گے۔ لیکن انسانوں کی اکثریت ہمیشہ اس طرح رہی ہے کہ وہ ایمان اور پرہیزگاری کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے من مانی اور خدا کی نافرمانی میں دنیا کی ترقی سمجھتے ہیں۔ جو اللہ کی ذات اور اس کی تعلیمات کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ جب لوگ نیکی کے بجائے برائی، حلال کی جگہ حرام، اور خدا کی اطاعت کے بجائے نافرمانی کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو پھر اکثر اوقات دنیا میں ہی انھیں اپنے کیے کی سزا مل جاتی ہے۔ یہاں اہل ایمان اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کو زمین و آسمان کی برکات کی خوشخبری دی گئی ہے۔ برکت کی جمع برکات ہے جب اللہ تعالیٰ کسی چیز میں برکت پیدا فرماتا ہے تو وہ چیز تعداد اور مقدار میں تھوڑی ہونے کے باوجود آدمی کو کفایت کر جاتی ہے۔ اور انسان اس پر مطمئن ہوتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کی عمر میں برکت ڈال دی جائے تو وہ تھوڑی مدت میں وہ کار ہائے نمایاں سر انجام دے پاتا ہے کہ لوگ اس سے مدت تک استفادہ کرتے ہیں۔ خورد و نوش میں برکت ڈال دی جائے تو آدمی کے لیے پانی کے چند گھونٹ اور خوراک کے چند لقمے ہی کافی ہوتے ہیں۔ لیکن جب برکت اٹھالی جائے تو پیٹ بھر کھانے کے باوجود طبیعت سیر نہیں ہوتی اور انواع و اقسام کے کھانے بھی اس کی قوت و توانائی میں اضافہ نہیں کرتے۔ جب برکت اٹھ جاتی ہے تو بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ گھر میں سب کچھ ہونے کے باوجود نہ ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اور ہر نعمت میسر ہونے کے باوجود انسان اس سے اس لیے استفادہ نہیں کرسکتا کہ وہ چیزیں استعمال کرنے سے اس کی صحت مزید بگڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے گویا کہ کسی چیز سے برکت اٹھالی جائے تو انسان اسے محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آج دنیا کی غالب اکثریت اسی حالت سے دو چار ہے۔ کھیت سرسبز و شاداب، فیکٹریاں دن رات ٹھک ٹھک چل رہی ہیں، ذرائع مواصلات پہلے سے کہیں زیادہ اور ہر چیز کی فراوانی ہے لیکن انسان روحانی اور جسمانی اعتبار سے اپنے ہی آپ میں کھویا ہوا، مضطرب اور پریشان دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے سرور دوعالم (ﷺ) کھانا کھانے کے بعد اور مختلف مواقعوں پر اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعا فرمایا کرتے تھے۔ ” مگر جو شخص ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کی راہ چھوڑ کر اور راہ اختیار کرے تو ہم اسے ادھر پھیر دیتے ہیں جدھر کا اس نے رخ کیا ہے، پھر ہم اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین ٹھکانا ہے۔ [ النساء :115] ” جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی بڑھا دیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔“ [ الشوری :20] ” حضرت عبداللہ بن بسر (رض) بیان کرتے ہیں رسول مکرم (ﷺ) میرے والد کے پاس آئے تو ہم نے آپ کو کھانا پیش کیا۔ آپ نے کھانا کھایا پھر آپ کو کھجوریں پیش کیں۔ آپ کھجوریں کھا کر گٹھلیاں اپنی دونوں انگلیوں کے درمیان رکھتے جاتے ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ اگر اللہ نے چاہا تو وہ بالکل درست ہے آپ (ﷺ) دونوں انگلیوں کے درمیان گٹھلیاں رکھ کر پھینکتے جاتے، پھر آپ کو پانی دیا گیا۔ تو آپ نے نوش فرمایا پھر برتن دائیں جانب بیٹھے شخص کے حوالے کیا میرے والد نے آپ کی سواری کی لگام پکڑی ہوئی تھی انہوں نے کہا ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے۔ نبی (ﷺ) نے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت فرما اے اللہ! ان کے گناہ معاف فرما اور ان پر رحم فرما۔“ (عَنْ أَنَسٍ (رض) قَالَ رَأَی النَّبِیُّ () عَلٰی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ (رض) أَثَرَ صُفْرَۃٍ فَقَالَ مَہْیَمْ أَوْ مَہْ قَالَ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً عَلٰی وَزْنِ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ فَقَالَ بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ) [ رواہ البخاری ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (ﷺ) نے عبدالرحمن بن عوف (رض) پر زرد رنگ کے کچھ اثرات دیکھے آپ نے استفسار فرمایا یہ کیا ہے؟ حضرت عبدالرحمن نے کہا میں نے سونے کی ایک ڈلی مہر کے عوض ایک عورت سے نکاح کیا ہے۔ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ تیرے لیے بابرکت بنائے ولیمہ کرو خواہ ایک ہی بکری سے کرو۔“ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَال قالَ رَسُول اللّٰہِ () إِذَا أَکَلَ أَحَدُکُمْ طَعَامًا فَلْیَقُلْ اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فیہِ وَأَطْعِمْنَا خَیْرًا مِّنْہُ وَإِذَا سُقِیَ لَبَنًا فَلْیَقُلْ اللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فیہِ وَزِدْنَا مِنْہُ) [ رواہ ابوداؤد : کتاب الأشربۃ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو کہے اے اللہ ہمارے لیے اس کھانے میں برکت ڈال دے اور ہمیں اس سے بہتر کھانا کھلا اور جب دودھ پیے تو کہے اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت ڈال دے اور ہمیں اس سے زیادہ عنایت فرما۔“ مسائل : 1۔ تقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ برکات کے دروازے کھول دیتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنا اس کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ الاعراف
97 فہم القرآن : (آیت 97 سے 99) ربط کلام : سابقہ آیات میں پانچ اقوام کی تباہی اور اس کے اسباب بیان کرتے ہوئے دنیا میں جزاء و سزا کا ایک عمومی اصول بیان فرمایا اور اس کے بعد ایمان اور تقویٰ کی ترغیب دیتے ہوئے زمین و آسمان کی برکات کی خوشخبری سنائی اب پھر مجرموں کو وارننگ دی جا رہی ہے۔ قرٰی کا واحد ” قَرْیَۃ“ ہے یہ لفظ شہر اور دیہات دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے اسے شہر اور بستیوں کے لیے استعمال فرمایا ہے سورۃ زخرف آیت : ٣١ میں ہے کہ لوگ شہروں کے رہنے والے ہوں یا دیہاتوں کے بسنے والے انھیں وارننگ اور انتباہ کیا جا رہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی بغاوت اور نافرمانیاں کرکے کس طرح پرسکون اور امن میں رہ سکتے ہو ؟ یہ تو اللہ کی حکمت اور اس کی طے شدہ پالیسی ہے کہ وہ باغی اور نافرمانوں کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے اگر وہ لوگوں کے جرائم اور گناہوں کی وجہ سے پکڑنے پر آجائے تو زمین پر چلنے والی کوئی چیز باقی نہ رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ لوگوں کو مدت معینہ تک مہلت دیتا ہے۔ جب مہلت ختم ہوجاتی ہے تو ایک لمحہ تقدیم یا تاخیر نہیں ہونے پاتی۔ (النحل، آیت :61) اس لیے لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا عذاب رات کی تاریکیوں میں ان کو نیند کی حالت میں اچک سکتا ہے اور اگر ہم چاہیں تودن دیہاڑے لوگوں کو فنا کی گھاٹ اتار سکتے ہیں۔ سورۃ القصص آیت 71تا 72میں فرمایا : (قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فِیْہِ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَآءٍ اَفَلا تَسْمَعُوْنَ) [ سورۃ القصص، آیت : 71، 72] ” اے نبی لوگوں سے فرما دیجیے اگر اللہ تعالیٰ تم پر رات کو قیامت تک طویل کر دے تو کون ہے صبح کی روشنی لانے والا اور اگر وہ دن کو قیامت تک لمبا کر دے تو کون ہے رات لانے والا جس میں تم سکون پاتے ہو ؟“ قوم لوط پر صبح کے وقت عذاب آیا جو قیامت تک رات کی تاریکی نہیں پا سکتے۔ قوم مدین پر رات کی تاریکیوں میں عذاب نازل ہوا جنھیں قیامت تک صبح دیکھنا نصیب نہیں ہوگی۔ ایسے ہی یہاں عذاب کا اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو دن اور رات میں کسی وقت بھی تمھیں پکڑ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بے خوف ہونے والے نقصان ہی پایا کرتے ہیں، یا درہے مکر کے لفظ کی نسبت لوگوں کی طرف ہو تو اس کا مطلب مکر وفریب ہوتا ہے جب اس لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی تدبیر ہوا کرتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اٹھا کے دیکھیے۔ 2005 ء میں رمضان المبارک کے دوسرے دن کشمیر میں صبح 9 بجے ایسا زلزلہ آیا کہ چالیس سیکنڈ کے اندر 70000 انسان موت کا لقمہ بنے اور لاکھوں مکان زمین بوس ہوگئے۔ 1948 ء میں رات کے وقت بلوچستان میں زلزلہ آیا تو بیس سیکنڈ میں کوئٹہ شہر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ مسائل : 1۔ پہلی قوموں پر عذاب اس وقت آیا جب وہ اللہ اور آخرت کو بھولے، غفلت اور بدامنی میں پڑے ہوئے تھے۔ 2۔ عذاب الٰہی سے بے خوف ہونا کفر ہے۔ تفسیر بالقرآن: اللہ کے عذاب سے بے خوف ہونے والے دنیا و آخرت میں نقصان اٹھائیں گے : 1۔ جو ایمان لانے کے بعد کفر کرے اس کے تمام عمل برباد اور وہ دنیاء و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں ہوگا۔ (المائدۃ:5) 2۔ اللہ کے عذاب سے بے خوف ہونے والے نقصان اٹھاتے ہیں۔ (الاعراف :99) 3۔ جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا وہی نقصان اٹھائیں گے۔ (الزمر :62) 4۔ کافروں کی پیروی کرنے والے نقصان اٹھائیں گے۔ (آل عمران :149) 5۔ اللہ کو چھوڑ کر شیطان سے دوستی کرنے والا نقصان اٹھائے گا۔ ( النساء :119) الاعراف
98 الاعراف
99 الاعراف
100 فہم القرآن : (آیت 100 سے 101) ربط کلام : دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھانے والے لوگوں کا رویہ اور ان کی عادات۔ ایک مرتبہ پھر غافل اور نافرمانوں کو انتباہ کیا جا رہا ہے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ آج جن بستیوں اور سر زمین کے یہ وارث بنے ہوئے ہیں ان سے پہلے ان لوگوں کا کیا حال ہوا۔ جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے بے خوف ہوئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں ملیا میٹ کردیا۔ ان کے بعد آنے والوں کی بصیرت تو یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے سے پہلے لوگوں کی غلطیوں سے بچیں اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ جن کے واقعات اللہ تعالیٰ نے اس لیے بار بار اور کھول کھول کر بیان کیے تاکہ نئی نسل اپنے سے پہلے لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کرے۔ لیکن ایسا کم ہوتا ہے کہ بعد کے لوگ اپنی اصلاح اور فلاح کی طرف توجہ کریں بلکہ یہ لوگ وہی کام کرتے ہیں جو پہلے لوگوں کی تباہی کا سبب ہوتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب ان کے پاس انبیاء کرام (علیہ السلام) دلائل کے ساتھ تشریف لائے اور انھوں نے ایمان باللہ اور اپنی اطاعت کا حکم دیا تو لوگوں نے انھیں جھٹلایا اور پھر اپنی ضد پر پکے ہوگئے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر ثبت کردی اور پھر وہ کفر کی حالت میں ہی ہلاک ہوئے۔ یہاں پہلے لوگوں کی ضد اور ان کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد توجہ دلائی ہے کہ ان کے وارث بننے والوں کو یہ راہ اختیار نہیں کرنی چاہیے اگر یہ بھی یہی راہ اختیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر بھی مہرثبت کر دے گا۔ پھر یہ ہوگا کہ یہ حق بات سننے اور نگاہ عبرت سے محروم ہوجائیں گے۔ یہ بات پہلے بھی بیان کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا گمراہی کو اپنی طرف منسوب کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ ہدایت کسی پر مسلط نہ کی جائے گی۔ مہر کس طرح لگتی ہے : (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنْ رَّسُوْلِ اللَّہِ () قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْٓئَۃً نُکِتَتْ فِیْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ہُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَاد زیدَ فِیْہَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَہُوَ الرَّانُ الَّذِیْ ذَکَرَ اللَّہُ ﴿کَلاَّ بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوبِہِمْ مَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ﴾)[ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن، باب وَمِنْ سُورَۃِ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ (حسن )] ” حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا بلاشبہ جب بندہ گناہ کرتا ہے اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے جب وہ اس گناہ کو چھوڑتا اور توبہ و استغفار کرتا ہے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرتا ہے تو اس سیاہ نکتے میں اضافہ کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی سیاہی دل پر غالب آجاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ نے کیا ہے ” کیوں نہیں ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ پڑچکا ہے۔“ مسائل : 1۔ پہلی اقوام سے نصیحت وعبرت پکڑنی چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو واضح دلائل کے ساتھ مبعوث فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : کن کے دلوں پر مہر ثبت ہوتی ہے : 1۔ کافروں کے دلوں پر مہر لگادی جاتی ہے۔ (البقرۃ:7) 2۔ مشرکوں کے دلوں پر مہرلگادی جاتی ہے۔ (الانعام :46) 3۔ اللہ کے علاوہ دوسرے کو معبود بنانے والوں کے دلوں پر مہر ثبت ہوتی ہے۔ (الجاثیۃ:23) 4۔ اللہ تعالیٰ پر افتراء بازی کرنے والوں کے دل پر مہر لگتی ہے۔ (الشوریٰ:24) 5۔ مرتد ہونے والے کے دل پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتا ہے۔ (المنافقون :3) 6۔ تکبر کرنے والے کے دل پر مہر لگائی جاتی ہے۔ (المومن :35) 7۔ جہاد سے پیچھے رہنے والوں کے دلوں پر مہر ثبت ہوتی ہے۔ (التوبۃ:93) الاعراف
101 الاعراف
102 فہم القرآن : ربط کلام : کفار کے دلوں پر مہر ثبت ہونے اور ان کی ہلاکت کا سبب، اللہ کے ساتھ ان کی عہد شکنی تھی۔ کفار کی ہلاکت اور ان کی گمراہی کا سبب بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہوا کہ ہم نے ان کی اکثریت کو نافرمان اور بد عہد پایا تھا۔ عہد سے مراد وہ ازلی عہد ہے جو روز آفرینش اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان سے لیا تھا کہ کیا میں تمھارا رب ہوں یا نہیں؟ جس کی تفسیر اسی سورۃ کی آیت 172میں بیان کی جائے گی ان شاء اللہ عہد سے مراد وہ اقرار اور عہد ہے جو آدمی ایمان لاتے ہوئے کلمۂ شہادت کے الفاظ میں اقرار کرتا ہے۔ جس کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ کلمہ پڑھنے والا اقرار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا میرا کوئی خالق، مالک اور معبود نہیں، محمد رسول اللہ (ﷺ) میرے رہنما اور مقتدا ہیں، میں انھی کی اتباع میں زندگی بسر کروں گا۔ اس عہد کے تحت وہ عہد و اقرار بھی شامل ہیں جو ہم ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں یہ تین قسم کے عہد و اقرار ہیں جن پر پورا اترنا انسان کی ذمہ داری ہے اگر کوئی جان بوجھ کر عہد شکنی کرے گا تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اسے باز پرس ہوگی۔ یہاں انسانوں کی اکثریت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو عہد شکن اور نافرمان ہی پایا ہے۔ جو لوگ جمہوریت کو حق و باطل، صحیح اور غلط کا معیار قرار دیتے ہیں۔ انھیں اس اصول پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ کیونکہ حق و باطل، غلط اور صحیح کا معیار لوگوں کی اکثریت نہیں بلکہ اس کا معیار مسلمہ اقدار اور قرآن و سنت کے اصول ہیں۔ لوگوں کی اکثریت تو لکیر کی فقیر ہوا کرتی ہے۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ () إِلَّا قَالَ لَا إِیمَانَ لِمَنْ لاَّ أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ)[ رواہ أحمد] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں نبی مکرم (ﷺ) اپنے ہر خطبے میں یہ فرماتے جو امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو عہد کی پاسداری نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔“ مسائل : 1۔ لوگوں کی اکثریت گمراہ اور فاسق ہوا کرتی ہے۔ 2۔ گمراہوں کا انجام آخرت میں بد ترین ہوگا۔ الاعراف
103 فہم القرآن : (آیت 103 سے 108) ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے والی اقوام میں آل فرعون سرفہرست تھے۔ جنھوں نے نہ صرف اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی بار بار وعدہ خلافی کی بلکہ قوم کے مزاج اور مشرکانہ عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرعون نے ﴿اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی﴾ کا دعویٰ کیا تھا۔ فرعون مصر کے حکمران کا اصلی نام نہیں بلکہ اس کا یہ سرکاری لقب تھا۔ قدیم تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کا حکمران تبع، حبشہ کا بادشاہ نجاشی، روم کا حکمران قیصر، ایران کا فرمانروا کسریٰ کہلواتا اور ہندوستان کے حکمران اپنے آپ کو راجا کہلوانا پسند کرتے تھے۔ جس طرح آج کل صدارتی نظام میں حکمران پریذیڈنٹ اور پارلیمانی نظام رکھنے والے ممالک میں وزیر اعظم اور جرمن کا حکمران چانسلر کہلواتا ہے اسی طرح ہی مصر کا بادشاہ سرکاری منصب کے حوالے سے فرعون کہلواتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا جس فرعون سے واسطہ پڑا اس کا نام قابوس یا رعمیس تھا۔ یہ فرعون اپنے آپ کو خدا کا اوتار سمجھتے ہوئے لوگوں کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوا۔ کہ اگر میں خدا کا اوتار نہ ہوتا تو دنیا کی سب سے بڑی مملکت کا فرمانروا نہیں ہوسکتا تھا۔ پھر اس نے لوگوں کے مزاج اور مشرکانہ عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو رب اعلیٰ قرار دیا۔ قوم اور موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے دعویٰ کیا کہ زمین و آسمان میں مجھ سے بڑھ کر کوئی رب نہیں ہے میں ہی سب دیوتاؤں سے بڑا دیوتا اور سب سے اعلیٰ اور اولیٰ کائنات کا رب ہوں۔ اس کی جھوٹی خدائی کے پرخچے اڑانے اور اس کی کذب بیانی کا پول کھولنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسی کے گھر میں پرورش پانے والے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول منتخب فرمایا۔ جن کی پیدائش کا تفصیلی تذکرہ سورۃ القصص کی ابتدائی 32آیات میں کیا گیا ہے جس کی ابتدا اللہ تعالیٰ نے یوں فرمائی۔ ” اے نبی یہ کتاب مبین کی آیات ہیں جن میں ہم آپ کے سامنے فرعون اور موسیٰ کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں فرعون زمین پر بڑا بن بیٹھا اور اس نے اپنی قوم کو طبقاتی کشمکش میں مبتلا کردیا تھا۔ ایک طبقہ کو مراعات یافتہ اور دوسرے کو غلامی اور پسپائی کی گھاٹیوں میں دھکیل رکھا تھا۔ ان حالات میں ہم نے فیصلہ کیا کہ کمزور لوگوں کو زمین میں فرمانروائی سے سرفراز کیا جائے تاکہ فرعون اور اس کے لشکروسپاہ کو وہ کچھ دکھایا جائے جس کے دیکھنے سے ڈرتے تھے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بنی اسرائیل کو اس لیے دبا رکھا تھا کہیں یہ لوگ قوت حاصل کرکے ہمارے خلاف برسر پیکار نہ ہوجائیں۔“ بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کی ابتدا۔ یوں ہوئی کہ فرعون کے درباریوں نے اسے یہ بتلایا کہ بنی اسرائیل کے ہاں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو تیری خدائی کو چیلنج کرے گا۔ فرعون نے اس بنا پر بنی اسرائیل کے نومولود بچوں کو قتل کروانا شروع کیا لیکن یہ سوچ کر اپنے قانون میں ترمیم کی۔ اس طرح تو ہماری خدمت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا لہٰذا ایک سال بچوں کو قتل کیا جائے اور دوسرے سال کے بچوں کو باقی رکھا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیے کہ اہل تاریخ نے لکھا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی والدہ ماجدہ کے ہاں اس سال جنم لیتے ہیں جس سال بچوں کو قتل کیا جا رہا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو ان کی والدہ انتہائی خوفزدہ ہوئیں کہ جونہی حکومت کے کار پر دازوں کو میرے ہاں پیدا ہونے والے بچے کا علم ہوگا تو وہ میرے لخت جگر کو قتل کردیں گے۔ سورۃ القصص کی آیت ٧ میں موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے اسے القا کیا کہ جب بیٹے کی جان کا خطرہ محسوس کرو تو اسے دریا کی لہروں کے سپرد کردینا لیکن ڈرنے کی ضرورت نہیں ہم نہ صرف اسے تیرے پاس لے آئیں گے بلکہ آپ کا بیٹا انبیاء (علیہ السلام) کی جماعت کا ایک فرد ہوگا۔“ چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے بیٹے کو دریا کے سپرد کیا جسے آل فرعون نے اٹھا لیا۔ جب فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے لگا تو اس کی بیوی نے اسے سمجھایا کہ اتنے پیارے بچے کو قتل نہ کرو ممکن ہے بڑا ہو تو ہم اسے اپنا بیٹا بنالیں۔ جب دودھ پلانے کا مرحلہ آیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے غیر عورتوں کا دودھ پینے سے انکار کردیا۔ جس کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ پر سب عورتوں کا دودھ حرام قرار دیا تھا۔ بالآخر مجبور ہو کر فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو ہی انجانے میں اس کی دایہ مقرر کردیا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) بھرپور جوان ہوئے تو ان کے ہاتھوں آل فرعون کا ایک فرد سہواً قتل ہوگیا۔ جس کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر سے ہجرت فرمائی اور وہ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ہاں آٹھ، دس سال داماد بن کر زیر تربیت رہے۔ پھر مصر واپس آتے ہوئے راستہ میں انھیں نبوت عطا ہوئی اور اس کے ساتھ ہی انھیں دو عظیم معجزے عطا کیے گئے۔ جس لاٹھی کے ساتھ وہ بکریاں ہانکا کرتے تھے۔ اس میں معجزانہ قدرت پیدا کی گئی کہ وہ حسب ضرورت بہت بڑا اژدہا بن جاتی اور دوسرا معجزہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ عطا کیا گیا کہ جب وہ اپنا دایاں ہاتھ بائیں بغل میں دبا کر باہر نکالتے تو اس کے سامنے چاند اور سورج کی روشنی بھی مدہم دکھائی دیتی تھی۔ یہاں انھی دو معجزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ القصص، آیت : ٣٤ میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنا معاون بنانے کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بھائی اور معجزات کے ساتھ فرعون کے دربار میں پہنچے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پہلا خطاب : آل فرعون انتہائی ظالم لوگ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا مجھے رب العالمین کی طرف سے رسول بنایا گیا ہے اور میں وہی بات کہوں گا جس کے کہنے کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے میں تمھارے پاس اپنے رب کی ربوبیت اور وحدت کے ٹھوس اور واضح دلائل لایا ہوں۔ اس لیے تمھیں اپنی خدائی چھوڑ کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا رب ماننا چاہیے اس کے ساتھ میرا یہ مطالبہ ہے کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردیا جائے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا جواب دیتے ہوئے کہا اگر تو واقعی اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فی الفور اپنا عصا زمین پر پھینکا جو بہت بڑا اژدہا بن کر لہرانے لگا۔ جس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ اتنا بڑا اژدہا بن کر سامنے آیا کہ یوں لگتا تھا جیسے وہ اپنے جبڑوں میں سب کو نگل لے گا۔ یہ دیکھتے ہی فرعون اور اس کے درباری اپنی جان بچانے کے لیے دوڑتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) سے فریادیں کرنے لگے کہ ہمیں اس سے بچائیں۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لیا جو پہلے کی طرح عصا بن گیا۔ اپنی بغل میں ہاتھ دبا کر باہر نکالا تو اس کے سامنے تمام روشنائیاں ماند پڑگئیں۔ ہاتھ دیکھنے والے حیران اور ششد ررہ گئے کہ یہ تو سورج اور چاند سے زیادہ روشن ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) فرمایا کرتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ کے سامنے سورج کی روشنی ماند پڑتی دکھائی دیتی تھی۔ (روح المعانی و جامع البیان) مسائل : 1۔ فرعون اور اس کے ساتھی بدترین قسم کے ظالم تھے۔ 2۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کی پالیسی اور ان کے کردار سے ملک میں فساد پھیل چکا تھا۔ 3۔ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے۔ 4۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اللہ کی توحید کے دلائل دیے اور اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ 5۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے لاٹھی اور ید بیضاء کے دو عظیم معجزے عطا فرمائے۔ تفسیر بالقرآن : نافرمان اور فساد کرنے والوں کا انجام : 1۔ دیکھیں فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔ (الاعراف :103) 2۔ دیکھیں ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔ (یونس :39) 3۔ دیکھیں نافرمانوں کا انجام کیسا ہوا۔ (الاعراف :84) 4۔ زمین میں چل کر دیکھیں مجرموں کا انجام کیسے ہوا۔ (النمل :69) 5۔ آپ (ﷺ) دیکھیں جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ (الزخرف :25) الاعراف
104 الاعراف
105 الاعراف
106 الاعراف
107 الاعراف
108 الاعراف
109 فہم القرآن : (آیت 109 سے 122) ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معجزہ کا مطالبہ، معجزہ سامنے آنے پر فرعون کے ساتھیوں کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام اور ان کا چیلنج۔ سورۃ الشعراء کی آیت 16تا 33میں بیان ہوا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اپنی نبوت کا ثبوت دیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اخلاقی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ ہم نے تیری پرورش کی اور تو عرصہ درازتک ہمارے ہاں ٹھہرا اور پھر تو نے ایک ایسا کام کیا جو تجھے اچھی طرح یاد ہے یعنی تو نے ہمارے ایک شخص کو قتل کیا۔ کیا ہمارے احسانات کا تو انکار کرتا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت بردباری اور بہترین انداز میں جواب دیتے ہوئے فرمایا ہاں! نادانستہ طور پر مجھ سے آدمی مر گیا تھا۔ جس کی وجہ سے میں تمھارے خوف سے بھاگ نکلا۔ اب اللہ نے مجھے تمھارے پاس رسول بناکر بھیجا ہے۔ جہاں تک آپ کے مجھ پر احسان کا تعلق ہے کیا اس کا بدلہ یہ ہے کہ آپ میری پوری قوم کو غلام بنا رکھیں ؟ موسیٰ (علیہ السلام) سے فرعون نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے دلائل طلب کیے جس کا جواب دیتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس رب کی بات کر رہا ہوں جو زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اس کو پیدا کرنے والا اور ہر جاندار کو اس کی روزی مہیا کرنے والا ہے وہ تمھارا اور تم سے پہلے لوگوں کا رب ہے بشرطیکہ تم توحید کو سمجھنے کے لیے اپنی عقل استعمال کرو۔ اس پر فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کا استہزاء اڑاتے ہوئے اپنے درباریوں کو کہا کہ جو تمھارے پاس رسول بنا کر بھیجا گیا ہے وہ تو پاگل ہے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو الٰہ مانا تو میں تجھے جیل خانہ میں ڈال دوں گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا واضح دلائل کے باوجود تم ایسا کرو گے تو اس نے مجبور ہو کر کہا اچھا پھر اپنی صداقت کی دلیل پیش کرو۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی صداقت کی تائید میں عصا اور یدبیضاء کے معجزے پیش فرمائے۔ جس پر فرعون اور اس کے درباریوں نے کہا کہ تم تو بہت بڑے جادو گر ہو اور جادو کے ذریعے تم ہمیں اقتدار اور ہمارے ملک سے بےدخل کرنا چاہتے ہو۔ ہم تمھارے مقابلہ میں اپنے جادوگر لائیں گے۔ سورۃ طٰہٰ، آیت : 58تا 60میں بیان ہوا ہے کہ مقابلہ کے لیے انھوں نے قومی تہوار کا دن اور صبح کا وقت مقرر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اس عہد کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ سورۃ الشعراء، آیت : 36تا 44میں تفصیل یہ ہے کہ پھر انھوں نے ملک کے تمام شہروں سے ماہر جادوگروں کو اکٹھا کیا۔ جب جادوگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں اکٹھے ہوئے تو انھوں نے فرعون کے حق میں پرزور نعرے بازی کی کہ ” فرعون کی جے“ (فرعون زندہ باد) اور اس کے ساتھ ہی جادوگروں نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ ہم موسیٰ پر غالب آگئے تو ہمیں کیا انعام ملے گا۔ فرعون نے انھیں یقین دہانی کروائی کہ انعام پانے کے ساتھ میرے مقرب ہوجاؤ گے۔ (الاعراف :114)۔ یعنی اجر تو معمولی بات ہے۔ تم ہمیشہ کے لیے میرے اقتدار میں شریک ہوگے۔ یہی دین اور دنیا دار کی سوچ میں فرق ہے جس کا جادوگروں نے مظاہرہ کیا کہ ہمیں دنیا میں کیا ملے گا؟ پھر اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ ہم اپنے علم و ہنر کا مظاہرہ کریں یا آپ کرتے ہیں ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ پہلے تم کرو جو کچھ کرنا چاہتے ہو۔ انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں جو ایک سے ایک بڑھ کر سانپ اور اژدہا بن کر دوڑ نے لگیں۔ جس سے لوگ زبردست خوف زدہ ہوئے۔ کیونکہ قرآن بیان کر رہا ہے کہ انھوں نے سحر عظیم کا مظاہرہ کیا جس سے لوگوں کی آنکھیں حیرت زدہ ہوگئیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جوابی حملہ اور جادوگروں کا ایمان لانا : سورۃ طٰہٰ، آیت : 67تا 69میں بیان ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خوف زدہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ ڈرنے کی ضرورت نہیں اپنا عصا زمین پر پھینک یہ سب کو کھا جائے گا اور جادو گرجہاں بھی ہوں کامیاب نہیں ہوں گے۔ یہاں بیان فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ آپ اپنا عصا زمین پر پھینکیں جو نہی عصا زمین پر پھینکا گیا تو اس نے ان کے کیے دھرے کو نگل لیا۔ اس طرح حق ثابت اور بلند و بالا ہوا اور باطل ناکام اور نامراد ہو کر ذلیل ہوگیا۔ جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) کی حق و صداقت دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوئے کیونکہ ملک بھر کے نامی گرامی جادوگروں کو شکست دینا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہ تھی۔ جادوگر یہ حقیقت پوری طرح سمجھ گئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جس رب کے فرستادہ ہیں وہی خالقِ کل اور مالک حقیقی ہے۔ اسی کے سامنے آدمی کو سجدہ ریز ہونا چاہیے۔ لہٰذا انھوں نے اسی بات کا اقرار اور اظہار کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لائے مزید وضاحت بھی کردی کہ فرعون پر نہیں جو رب ہونے کا جھوٹا دعوے دار بلکہ موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لائے جو پوری کائنات کا رب ہے۔ تاکہ ان کے ایمان پر کسی کو ہرگز شبہ نہ رہے۔ مسائل : 1۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف ملک بھر کے جادوگر اکٹھے کیے۔ 2۔ جادو گروں کے سامنے دین کا مشن نہیں تھا اس لیے انھوں نے دنیا کے اجر کا مطالبہ کیا۔ 3۔ جادو سب سے پہلے انسان کی نظر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ 4۔ حق ہمیشہ دلائل کی بنیاد پر بلند و بالا رہتا ہے۔ 5۔ آدمی کو حقیقت سمجھ آجائے تو اسے کھلم کھلا اس کا اعتراف اور اظہار کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : انبیاء (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام : 1۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کھلے دلائل لے کر آئے تو قوم نے ان پر جادو گر ہونے کا الزام لگایا۔ (القصص :36) 2۔ کفار کے سامنے جب حق آیا تو انھوں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ (سباء :43) 3۔ فرعون کے سرداروں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ (الاعراف :109) 4۔ جب کفار کے پاس حق بات آئی تو انھوں نے رسول اکرم (ﷺ) پر جادو گر ہونے کا الزام لگایا۔ (یونس :76) 5۔ کفار نے کہا یہ نبی نہیں جادو گر ہے۔ (یونس :2) 6۔ کفار نے کہا یہ نبی جھوٹا اور جادوگر ہے۔ (ص :4) 7۔ ظالموں نے کہا کیا ہم جادوگر کی اتباع کریں ؟ (الفرقان :8) 8۔ آپ سے پہلے جو بھی نبی آیا اسے جادوگر کہا گیا۔ (الذاریات :52) 9۔ مشرکین قرآن مجید کو جادو قرار دیتے تھے۔ (الاحقاف :7) الاعراف
110 الاعراف
111 الاعراف
112 الاعراف
113 الاعراف
114 الاعراف
115 الاعراف
116 الاعراف
117 الاعراف
118 الاعراف
119 الاعراف
120 الاعراف
121 الاعراف
122 الاعراف
123 فہم القرآن : (آیت 123 سے 126) ربط کلام : جادو گروں کے ایمان لانے پر فرعون کا ان پر سازش کرنے کا الزام اور ان کو مار ڈالنے کی دھمکیاں۔ اس پر جادوگروں کا رد عمل اور عزم و استقلال کا مظاہرہ۔ حق و باطل کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت بالکل عیاں دکھائی دیتی ہے کہ حق ہمیشہ دلائل کی بنیاد پر باطل پر غالب رہا ہے اور غالب رہے گا۔ یہی بات قرآن مجید نے دو ٹوک الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ ” کافر اور مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو ہر جانب پھیلا کر رہے گا۔ اس نے اپنے رسول کو دین حق اور ہدایت کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے تاکہ اس کا دین تمام باطل ادیان پر غالب آجائے خواہ یہ بات کفار کے لیے کتنی ہی ناگوار ہو۔“ (سورۃ الصف : 8، 9) سورۃ المجادلۃ کی آیت 21میں یہ فرمایا کہ ” اللہ نے یہ بات لکھ چھوڑی ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آکر رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ قوت رکھنے والا غالب ہے۔“ یہی بات جادوگروں کے مقابلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے کہی گئی تھی۔ اے موسیٰ خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ یقین جانیے کہ آپ ہی غالب رہیں گے۔ جادوگر جہاں سے بھی حملہ آور ہو کامیاب نہیں ہوتا۔“ (طٰہٰ 68تا69) اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا اور جو جادوگر تھوڑی دیر پہلے فرعون زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے جونہی ان کے سامنے حقیقت منکشف ہوئی تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت پر ایمان لانے کا دو ٹوک الفاظ میں نہ صرف اعلان کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوئے تاکہ دیکھنے والے یہ جان جائیں کہ جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں شکست کھاچکے ہیں۔ فرعون یہ ہزیمت کس طرح برداشت کرسکتا تھا اس لیے اس نے اپنی ذلت چھپانے اور لوگوں پر تسلط قائم رکھنے کے لیے ایمان لانے والوں پر سازش کا الزام لگایا کہ تم نے میری اجازت کے بغیر ایمان لانے کا اعلان کیا یہ تم جادوگروں کی ہمارے خلاف بہت بڑی سازش ہے تاکہ تم ہمیں اقتدار سے محروم کرکے ملک سے نکال دو۔ لیکن یاد رکھو کہ عنقریب تمھاراانجام تمھارے سامنے ہوگا۔ سورۃ طٰہٰ آیت 71تا 73میں یہ بیان ہوا ہے کہ فرعون نے یہ بھی الزام لگایا کہ درحقیقت یہ تمھارا استاد جادوگر ہے جس کے ساتھ مل کر تم نے یہ کام کیا ہے لہٰذا میں تمھارے مخالف سمت میں ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا اور کھجوروں کے بلند تنوں پر تمھیں پھانسی دی جائے گی اور تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم سزا دینے میں کتنے سخت لوگ ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ایمانداروں نے کہا کہ ہمارے پاس سچ اور حق کے دلائل آچکے ہیں جن پر ہم تمھیں اور تمھارے مفادات کو ہرگز تر جیح نہیں دے سکتے۔ لہٰذا جو کچھ تو کرنا چاہتا ہے کر گزر تیری سزا تو اس دنیا کی حد تک محدود ہے بلاشبہ ہم اپنے رب پر ایمان لے آئے ہیں تاکہ وہ ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے اور جو ہم نے جادو کا مظاہرہ کیا ہے اسے معاف کر دے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ یہ بیان ہوا ہے کہ جب فرعون نے ان کے مخالف سمت میں ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی چڑھانے کی دھمکی دی تو صاحب ایمان لوگوں نے پر اعتماد انداز میں جواب دیا کہ یقیناً ہم اپنے رب کی طرف ہی لوٹنے والے ہیں۔ ہمارا صرف اتنا قصور ہے کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لے آئے ہیں جو ہم تک پہنچ چکی ہیں۔ ہم اپنے رب کے حضور یہ فریاد کرتے ہیں کہ اے ہمارے پالنہار ہمیں فرعون کی اذیتوں پر صبر و استقامت عنایت فرما اور ہماری موت تیرے تابعدار بندوں جیسی ہو۔ فرعون نے صاحب عزیمت لوگوں کو مار ڈالنے کی دھمکی دی تھی اس لیے انھوں نے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے اسے جواب دیا کہ دنیا میں کسی نے بھی ہمیشہ نہیں رہنا لہٰذا ہمیں موت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ موت تو اپنے رب تک پہنچنے کا ایک وسیلہ ہے اس لیے ہم مر کر اپنے رب کی طرف ہی پلٹنے والے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انھوں نے اپنے رب کے ہاں بہتر انجام کی دعا کی تھی مومن کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی کہ وہ صبر و استقامت کے ساتھ اللہ کے راستے میں جان قربان کر دے۔ سچے ایمان کی یہ نشانی ہے کہ وہ انسان کو ایک لمحہ میں صبر و استقامت اور ایمان و ایقان کی ایسی بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے جس کا دنیا دار شخص تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہی وہ جذبہ اور ایمان کا درجہ ہے جس کا اظہار حضرت خبیب (رض) نے تختۂ دار پر چڑھتے ہوئے اہل مکہ کے سامنے کیا تھا۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے دس آدمیوں کو کفار کی جاسوسی کے لیے روانہ کیا اور ان کا ذمہ دار عاصم بن ثابت انصاری کو بنایا جو کہ عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا تھے یہ لوگ جب ہداۃ مقام پر پہنچے جو کہ عسفان اور مکہ کے درمیان ہے تو کسی نے بنی لحیان کے لوگوں کو بتایا جو ہذیل قبیلے کی شاخ ہے انھوں نے دو سو تیرا نداز ان کے تعاقب میں بھیجے یہ لوگ ان کے نشان ڈھونڈتے چل پڑے۔ رسول معظم (ﷺ) کے صحابہ (رض) نے ایک جگہ کھجوریں کھائیں تھیں جو مدینہ سے ساتھ لی تھیں۔ بنولحیان کے لوگوں نے وہاں کھجوریں دیکھیں تو پہچان لیں کہ یہ یثرب کی کھجوریں ہیں عاصم اور ان کے ساتھیوں کے تعاقب میں چل پڑے۔ جب عاصم نے ان کو دیکھا تو ایک ٹیکری پر پناہ لی کافروں نے ان کو گھیر لیا اور کہنے لگے تم ٹیکری سے اتر آؤ اور اپنے آپ کو ہمارے سپرد کر دو۔ اور ہم تم سے پکاوعدہ کرتے ہیں کہ تم کو نہیں ماریں گے یہ سن کر عاصم بن ثابت جو کہ ان کے سردار تھے نے کہا اللہ کی قسم! میں اپنے آپ کو کافروں کے سپرد نہیں کروں گا۔ اے اللہ! ہمارے نبی (ﷺ) کو ہماری خبر دے دے۔ اس پر کافروں نے تیروں کی بارش شروع کردی اور عاصم سمیت سات کو شہید کردیا۔ باقی جو تین بچ گئے وہ کافروں کے اقرار پر بھروسہ کرکے اتر آئے انھی میں خبیب، زید بن دثنہ اور ایک اور شخص تھے جب کافروں کے قابو میں آگئے تو انھوں نے دھوکہ دیا اور اپنی کمانوں کی رسی کھول کر ان کے ہاتھ باندھ دیے۔ تیسرا شخص کہنے لگا یہ پہلا دھوکہ ہے میں تمھارے ساتھ نہیں جانے والا۔ میں تو اپنے شہید ساتھیوں کی پیروی چاہوں گا۔ کافروں نے ان کو زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانے۔ آخر کار انھوں نے اسے شہید کر ڈالا۔ اور خبیب اور زید بن دثنہ کو پکڑ کرلے گئے۔ ان دونوں کو غلام بنا کر مکہ میں مشرکین کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ خبیب کو حارث بن عامر کے بیٹوں نے خریدا۔ بدر کے دن خبیب نے ان کے باپ حارث کو قتل کیا تھا۔ خبیب چند دنوں تک ان کے پاس قید رہے۔ ابن شہاب کہتے ہیں مجھ سے عبید اللہ بن عیاض نے بیان کیا ان سے حارث کی بیٹی بیان کرتی تھی جب حارث کے گھر کے افراد متفق ہوگئے کہ انھیں قتل کردیا جائے تو انھی دنوں خبیب نے زینب سے ایک استرا مانگا تو زینب نے ان کو دے دیا۔ اس وقت اتفاق سے میرا ایک بیٹا انجانے میں خبیب کے پاس آگیا۔ میں نے دیکھا تو کم سن ان کے ران پر بیٹھا ہوا ہے اور استرا ان کے ہاتھ میں ہے یہ منظر دیکھ کر میں گھبرا گئی۔ خبیب نے میرا چہرہ دیکھ کر پہچان لیا میں گھبرا رہی ہوں اور پوچھا کیا تو یہ سمجھتی ہے میں اس بچے کو مار ڈالوں گا یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔ زینب کہتی ہیں میں نے خبیب کی مانند کوئی نیک آدمی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم ! میں نے ایک دن دیکھا کہ وہ لوہے کی زنجیر میں جکڑے ہوئے انگور کا گچھا ان کے ہاتھ میں تھا کھا رہے تھے۔ ان دنوں مکہ میں پھل بالکل نہیں ملتا تھا۔ زینب کہتی تھیں یہ اللہ تعالیٰ کا رزق ہے جو خبیب کو اس نے عنایت فرمایا۔ جب خبیب کو قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر لے گئے تو انھوں نے درخواست کی مجھے دورکعت پڑھنے دو۔ انھوں نے اجازت دے دی۔ خبیب نے دو رکعت ادا کیں، پھر وہ کہنے لگے اگر تم یہ خیال نہ کرتے کہ میں مارے جانے سے ڈرتا ہوں تو میں اپنی رکعات لمبی ادا کرتا۔ یا اللہ ان کافروں کو ایک ایک کرکے ہلاک کر دے۔ پھر حارث کے بیٹے نے انھیں شہید کردیا۔ حضرت خبیب (رض) نے اس چیز کی ابتدا کی جو بھی مسلمان اسیر ہو کر مارا جائے تو وہ دو رکعت نماز ادا کرلے۔ جس دن حضرت عاصم (رض) شہید ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمالی۔ نبی مکرم (ﷺ) نے اسی دن اپنے صحابہ (رض) کو خبر دی اور ان کی مصیبت بیان کی۔ ان کے شہید ہونے کے بعد قریش کے کافروں نے کسی کو عاصم کی لاش پر بھیجا کہ ان کے بدن کا کوئی ٹکڑا کاٹ کر لائے جس کو وہ کاٹ نہ سکے۔ حضرت عاصم (رض) نے بدر کے دن قریش کے سردار کو قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے عاصم کی لاش پر بھڑوں کا چھتہ بھیج دیا۔ انھوں نے قریش کے آدمیوں سے عاصم کو بچا لیا وہ ان کے بدن کا کوئی ٹکڑا نہ کاٹ سکے۔“ (رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر، باب یستأسر الرجل) مسائل : 1۔ سچا ایمان نصیب ہوجائے تو آدمی دنیا کی تکالیف کی پروا نہیں کرتا۔ 2۔ مشکل اور مصیبت کے وقت انسان کو اللہ تعالیٰ سے صبر اور استقامت مانگنا چاہیے۔ 3۔ ہر انسان نے بالآخر اللہ تعالیٰ کی طرف ہی پلٹ کرجانا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سے ایمان کی سلامتی اور اس پر استقامت طلب کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن: مواحد لوگوں پر مشرکین کے مظالم : 1۔ فرعون قوم موسیٰ (علیہ السلام) کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ (البقرۃ:49) 2۔ فرعون مومنوں کو کئی طرح کے عذابوں میں مبتلا کرتا تھا۔ (الاعراف :141) 3۔ فرعون نے موحد ین کو ٹانگ اور بازو کاٹنے کی دھمکی دی۔ (الاعراف :124) 4۔ فرعون نے اللہ پر ایمان لانے والوں کو ہاتھ پاؤں کاٹنے اور کھجور کے تنوں پر پھانسی دینے کی دھمکی دی۔ (طہٰ:71) 5۔ فرعون نے اپنی موحدہ بیوی کو دین سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کی تکالیف دیں۔ (التحریم :11) الاعراف
124 الاعراف
125 الاعراف
126 الاعراف
127 فہم القرآن : (آیت 127 سے 129) ربط کلام : اہل ایمان کو دھمکیاں دینے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو قتل کرنے کی دھمکی۔ فرعون نے اہل ایمان کو اذیتیں دینے اور تختۂ دار پر لٹکانے کی دھمکی دی تھی اس کے ہم زبان ہو کر فرعون کے وزیروں، مشیروں، درباریوں اور سرکاری اہلکاروں نے اسے مزید اشتعال دلاتے ہوئے مطالبہ کیا، کیا موسیٰ اور اس کی قوم کو ملک میں بد امنی پھیلانے اور اپنی خدائی کا انکار اور بغاوت کرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے گا ؟ اس پر اس نے پورے جاہ و جلال سے اعلان کیا کہ ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے بلکہ عنقریب ہم ان کے جوانوں کو تہہ تیغ کرتے ہوئے ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنائیں گے کیونکہ ہم ہر اعتبار سے ان پر جاہ و جلال اور اقتدار و اختیار رکھنے والے ہیں۔ ان کے خلاف پوری قوت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ سورۃ المومن (26) میں فرعون کی اس دھمکی کا ذکر بھی موجود ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے کہا کہ میرے راستے سے ہٹ جاؤ کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردینا چاہتا ہوں اور میرے مقابلہ میں یہ اپنے رب کو بلا لائے۔ اگر میں نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو قتل نہ کیا تو میں خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ یہ تمھارے دین کو بدلنے کے ساتھ ملک اجاڑ دے گا۔ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فقط اتنا فرمایا کہ میں متکبر اور قیامت کے حساب و کتاب کو جھٹلانے والے ہر شخص کے شر سے، اس رب کی پناہ مانگتا ہوں جو میرا اور تمھارا حقیقی رب ہے۔ ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ فرعون کے جبر و استبداد کے مقابلہ میں پورے صبر و استقامت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ زمین کا وارث اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے بنایا کرتا ہے حقیقی اور بہتر انجام مومنوں کے لیے ہی ہوا کرتا ہے۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم افسوس کرنے لگی کہ ہمیں آپ کی تشریف آوری سے پہلے اور آپ کے آنے کے بعد بھی تکلیفیں ہی اٹھانا پڑی ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں مزید تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہوسکتا ہے کہ عنقریب ہی تمھارا رب تمھارے دشمن کو تباہ و برباد کردے اور پھر تمھیں ملک میں خلافت عنایت کرے اور دیکھے تمھارا کردار کیا ہے۔ سورۃ یونس آیت 84تا 85میں تفصیل بیان کی گئی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ بھی فرمایا اگر تم صحیح معنوں میں مسلمان ہوئے ہو تو پھر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ جس کے جواب میں ایماندار لوگوں نے کہا کہ ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ظالموں کے ظلم سے نجات دے۔ قرآن مجید کے انداز بیان سے واضح ہو رہا ہے کہ فرعون نے جادو سے توبہ کرنے والے ایمانداروں پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے بنی اسرائیل ہی کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ جادوگر پورے ملک سے لائے گئے تھے اور ان کا اپنے اپنے مقام پر لوگوں میں گہرا اثر و رسوخ تھا۔ اس کے پیش نظر فرعون اور اس کے درباریوں نے ان پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے مناسب سمجھا کہ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کو تہس نہس کیا جائے تاکہ بنیادی مسئلہ حل ہوجائے۔ چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم یعنی بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کا یہ دوسرا دور شروع ہوا۔ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے قبل بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے کی کئی سال تک مہم جاری رہی تھی۔ جسے اب دوبارہ پوری قوت کے ساتھ شروع کیا گیا۔ جس کا اندازہ قرآن کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے کہ جبر و استبداد کی یہ مہم اتنی سخت تھی کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ﴿وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰی وَاَخِیْہِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِکُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّاجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قِبْلَۃً وَّاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ (سورۂ یونس، آیت :87) ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو وحی کی کہ اپنی قوم کو حکم دو کہ اپنے گھروں کو قبلہ رخ بناتے ہوئے نماز قائم کریں اور عنقریب مومنوں کے لیے خوشخبری ہوگی۔“ مسائل : 1۔ متکبر اور بےدین حکمران ہمیشہ سے انبیاء ( علیہ السلام) اور مصلحین کو فسادی قرار دیتے آئے ہیں۔ 2۔ ظالم حکمران اور متکبر لوگ حق کا مقابلہ طاقت سے کیا کرتے ہیں۔ 3۔ مشکل اور مصیبت کے وقت صبر و استقامت کے ساتھ اللہ سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ 4۔ صبر و استقامت اختیار کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : توحید باری تعالیٰ پر ایمان لانے والوں کا صبر و حوصلہ : 1۔ سخت آزمائش کے وقت رسولوں اور ایماندار لوگوں نے گھبرا کر کہا کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ (البقرۃ:214) 2۔ مومن پر اللہ کی طرف سے خوف، بھوک، مال و جان کے نقصان میں آزمائش ضرور آتی ہے۔ مومن صابر کے لیے خوشخبری ہے۔ (البقرۃ:155) 3۔ پہلے لوگوں کو بڑی بڑی آزمائشوں سے دو چار کیا گیا تاکہ پتہ چل جائے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔ (العنکبوت :3) اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کا جانشین بناتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے ان سے پہلے لوگوں کو بنایا۔ (النور :55) 2۔ اللہ چاہے تو تمھیں اٹھا لے اور تمھارے بعد جس کو چاہے خلیفہ بنائے۔ (الانعام :133) 3۔ تمھارا رب جلد ہی تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور ان کے بعد تم کو خلیفہ بنائے گا۔ (الاعراف :129) الاعراف
128 الاعراف
129 الاعراف
130 فہم القرآن : (آیت 130 سے 132) ربط کلام : آل فرعون پر برے حالات اور مومنوں کے صبر و استقامت کا صلہ۔ فرعون اور آل فرعون کے بے پناہ مظالم کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دی تھی کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے دشمن کو تباہ و برباد کرے گا بشرطیکہ تم صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور نماز ادا کرتے رہو۔ فرعون نے جب اپنی دھمکی پر عمل کر دکھایا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے مظالم سے نجات پانے کے لیے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی۔ الٰہی تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کے اسباب و وسائل عنایت فرمائے۔ لیکن انھوں نے تیرا شکریہ ادا کرنے کے بجائے تیرے بندوں کو تیرے راستے سے گمراہ کرنے پر صرف کردیے ہیں۔ اے ہمارے رب ان کے مال و اسباب تباہ و برباد فرما۔ اور ان کے دلوں کو اس قدر سخت کردے کہ تیرا عذاب دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دی گئی کہ تمہاری دعا قبول کی جاتی ہے۔ اب تم اور ہارون اس بات پر قائم رہنا اور گمراہوں کے بارے میں جلد بازی نہ کرنا۔ (سورۂ یونس : 88تا89)۔ ﴿وَلَنُذِیقَنَّہُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنٰی دُونَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ﴾[ سورۃ السجدۃ:21) ” ہم انھیں (قیامت کے) برے عذاب سے پہلے ہلکے عذاب کا ذائقہ بھی ضرور چکھاتے ہیں شاید وہ باز آجائیں۔“ ہم مجرموں کو پہلے چھوٹے چھوٹے عذاب میں مبتلا کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ جب یہ لوگ سمجھنے کی طرف توجہ نہ کریں تو ان کو بڑا عذاب آلیتا ہے۔ یہی صورت آل فرعون کو پیش آئی۔ یہ ہدایت پانے کے بجائے گمراہی اور عہد شکنی میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ چنانچہ آل فرعون کو کئی سال تک قحط سالی کے عذاب میں مبتلا کیا گیا تاکہ ان کے دماغ سے دولت کا نشہ اتر جائے اور یہ چھوٹے جھٹکوں کے بعد ہدایت کے راستے پر آجائیں۔ لیکن جونہی انھیں کچھ مہلت اور نعمت میسر ہوتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو کہتے یہ تو ہماری بہتر منصوبہ بندی اور حسن تدبیر کا نتیجہ ہے اور جب انھیں نقصان کے ذریعے جھٹکا دیا جاتا تو نصیحت حاصل کرنے کے بجائے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو الزام دیتے کہ یہ نحوست تمھاری وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ جس کا یہ جواب دیا گیا کہ نحوست مومنوں کی وجہ سے نہیں بلکہ تمھاری بد اعمالیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس بات کو جاننے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ قدیم زمانے سے جہلا کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنی ضعیف الاعتقادی کی وجہ سے مختلف چیزوں سے بدشگونی لیا کرتے ہیں جن چیزوں سے بدشگونی لی جاتی ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مخصوص اوقات میں اگر کوئی پرندہ ان کے مکان کی چھت پر آبیٹھے اگر وہ دائیں جانب اڑے تو ضعیف الاعتقاد لوگ سمجھتے ہیں کہ آج کا دن بہتر گزرے گا یا ہمارا فلاں کام ہوجائے گا اگر یہی پرندہ بائیں طرف اڑ جائے تو سمجھتے ہیں کہ آج کا دن منحوس ہوگا یا فلاں کام الٹ جائے گا۔ ایسے ہی بعض دوسری چیزوں اور آدمیوں کے بارے میں بدشگونی لی جاتی ہے۔ آل فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو برا سمجھتے ہوئے نحوست ان کے ذمہ لگایا کرتے تھے۔ اس طرح نہ صرف خود گمراہی میں مبتلا رہتے بلکہ دوسرے لوگوں کو اس بہانے سے مزید گمراہ کرنے کے درپے ہوتے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے سامنے معجزہ پیش کرتے تو یہ لوگ انھیں جادو گر قرار دیتے ہوئے چیلنج دیتے کہ اے موسیٰ ! تم جس قدر چاہو کرشمہ سازیاں کرو ہم تمھاری اس جادوگری کی وجہ سے کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ اَلْحَسَنَۃُ“ اس چیز کو کہا جاتا ہے جو انتہائی خوبصورت ہو اور اس کی طرف انسان کا دل مائل ہو۔ یہ دنیا کی کوئی بھی نعمت ہو سکتی ہے اور یہ لفظ نیکی اور خیر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے کیونکہ نیکی سے بڑھ کر نیک آدمی کو کوئی چیز مرغوب نہیں ہوتی۔ اس کے مقابلہ میں’’ السیئۃ ‘‘ کا لفظ آتا ہے اس سے مراد دنیا کا ہر قسم کا نقصان ہے خواہ وہ بیماری کی شکل میں ہویا مالی خسارے کی صورت میں اس کے لیے’’ السیئۃ ‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ چھوٹے بڑے گناہ کو بھی’’ سیئۃ ‘‘کہا جاتا ہے۔ بعض مفسرین نے’’ الحسنۃ ‘‘سے مراد یہاں آل فرعون کی خوشحالی اور’’ سیئۃ ‘‘سے مراد ان کی بدحالی لی ہے۔ آل فرعون کے نحوست کے الزام کے مقابلے میں کہا گیا کہ یاد رکھو جو نحوست تم پر آئی ہے یہ کسی انسان کی طرف سے نہیں بلکہ تمھارے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ بڑے عذاب سے پہلے مجرم قوم پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجتا ہے تاکہ یہ نصیحت حاصل کریں۔ 2۔ مجرم لوگ نیک لوگوں کو ہمیشہ سے منحوس قرار دیتے آئے ہیں۔ 3۔ نحوست کی بذات خود کوئی حیثیت نہیں کیونکہ خیر اور شر کا مالک اللہ ہے۔ 4۔ آل فرعون نے بار بار اللہ تعالیٰ کے عذاب کا تمسخر اڑایا۔ تفسیر بالقرآن : آل فرعون پر مختلف قسم کے عذاب : 1۔ اللہ نے قوم فرعون پر طرح طرح کے عذاب بھیجے : طوفان، مکڑی، جوئیں، مینڈک، خون وغیرہ۔ (الاعراف :133) 2۔ قحط سالی۔ پھلوں میں نقصان۔ (الاعراف :130) 3۔ آل فرعون پر صبح وشام آگ پیش کی جاتی ہے اور قیامت کے دن انہیں سخت ترین عذاب سے دوچار کیا جائیگا۔ (المومن :46) 4۔ ہم نے آل فرعون سے انتقام لیا اور انہیں دریا میں غرق کردیا۔ (الاعراف :136) 5۔ ہم نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔ (بنی اسرائیل :103) 6۔ ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الانفال :54) 7۔ ہم نے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور دوسروں کو ہم نے غرق کردیا۔ (الشعراء : 66۔67) 8۔ ہم نے تمہیں نجات دی اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (البقرۃ:50) الاعراف
131 الاعراف
132 الاعراف
133 فہم القرآن : (آیت 133 سے 135) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ آل فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے باربار عہد شکنی کرنے کے ساتھ عذاب کا مطالبہ کرنا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور قوم فرعون کو کئی مرتبہ عظیم الشان معجزات دکھائے بار بار اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت دی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں ملک بھر کے نامی گرامی جادو گر نہ صرف شکست فاش کھاچکے بلکہ انھوں نے سرِمیدان پوری قوم کے سامنے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لانے کا اقرار اور اظہار کیا۔ فرعون نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انھیں بد ترین سزاؤں اور الٹا لٹکا دینے کی دھمکیاں دیں، صاحب ایمان لوگوں نے پوری جو ان مردی کے ساتھ آل فرعون کے مظالم کا مقابلہ کیا۔ لیکن فرعون اور اس کی قوم سمجھنیکے بجائے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے اولوالعزم ساتھیوں کو منحوس قرار دیتے ہوئے جناب موسیٰ (علیہ السلام) سے بار بار عذاب کا مطالبہ کرتے رہے۔ جس پر انھیں ہلکے عذابوں کے بعد پانچ سخت اور ذلیل کردینے والے عذابوں میں مبتلا کیا گیا۔ سیلاب : 1۔ بارش انسانی صحت اور ہر چیز کی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر زمین مردہ اور ہر چیز مرجھائی نظر آتی ہے۔ بشرطیکہ یہ بر وقت اور مناسب مقدار میں ہو۔ اگر یہی بارش بے وقت اور غیر معمولی ہو تو اس سے ہر چیز تباہ ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون پر بے موسم اور غیر معمولی بارشیں نازل کیں۔ جس سے ان کی فصلیں تباہ، جانور بدحال اور مکانات گر گئے۔ باد وباراں کے طوفان اس لیے نازل کیے گئے تاکہ یہ لوگ توبہ و استغفار کریں۔ لیکن یہ توبہ کرنے کے بجائے تکبرّاور نافرمانی میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ اس کے بعد ٹڈیوں کا عذاب نازل ہوا۔ ٹڈیوں کے جھنڈ : 2۔ ٹڈیوں کے دل کے دل امڈ آئے اور انھوں نے نہ صرف باقی ماندہ کھیتوں اور فصلوں کو تباہ کیا بلکہ درختوں کی ٹہنیاں تک کھاڈالیں سرسبز و شاداب ملک و یرانی اور تباہی کا منظر پیش کرنے لگا۔ جوؤں کی بہتات : 3۔ ان کے لباس اور جسم کی رگ رگ میں اس قدر کثرت کے ساتھ جوئیں پیدا ہوئیں کہ ان کا رات کا سونا اور دن کا سکون غارت ہوگیا۔ ان لوگوں نے خارش کر کر کے اپنے جسم زخمی کرلیے۔ مگر ایمان نہ لائے۔ مینڈکوں کی بہتات : 4۔ جوؤں کے بعد مینڈکوں کا اتنا شدید سیلاب آیا کہ مینڈکوں کے ڈَل کے ڈَل ان کے کھیتوں، کھلیانوں اور گھروں میں اس طرح گھس آئے کہ ان کے لیے چار پائی کے اوپر بستروں میں سونا بھی حرام ہوگیا۔ خوفناک شکل اور بھاری بھرکم مینڈک ملک میں اس طرح پھیل گئے کہ ہر شخص خوف کے مارے چھپتا پھرتا تھا۔ لیکن جائیں تو کہاں جائیں۔ خون ہی خون : 5۔ ہر کھانے پینے والی چیز میں خون ہی خون پیدا ہوا، یہاں تک کہ ماؤں کی چھاتیوں میں دودھ کی بجائے خون اتر آیا حتیٰ کہ آل فرعون میں سے کوئی اگر کسی اسرائیلی سے پانی طلب کرتا تو وہ جونہی اس پانی کو پینے لگتا تو وہ بھی گندے خون میں تبدیل ہوجاتا۔ بعض مفسرین نے یہاں تک لکھا ہے کہ آل فرعون کی ایک عورت نے انتہائی قلق کی حالت میں اپنی پڑوسن اسرائیلی عورت کو کہا کہ پانی کی ایک کلی میرے منہ میں ڈال دے تاکہ مجھے سکون حاصل ہو۔ جب اس کی پڑوسن نے ایسا کیا تو پانی کی کلی آل فرعون کی عورت کے منہ میں جا کر خون میں تبدیل ہوگئی۔ نہ معلوم فرعون نے پہلے پہل ان عذابوں کے بارے میں عوام میں کیا تاثر دیا ہوگا اور ان کے مقابلہ میں سرکاری سطح پر کیا کیا جتن کیے ہوں گے لیکن جب اس کی تمام کوششیں نامراد ہوئیں تو وہ ہر عذاب کے بعد مجبور ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہو کر انتہائی آہ و زاری اور عاجزی کے ساتھ پختہ وعدہ کرتے ہوئے کہتا کہ اے موسیٰ ! اپنے رب کے حضور دعا کیجیے کہ یہ عذاب ہم سے ٹل جائے ہمیں اس عذاب سے نجات ملے گی تو ہم آپ پر ایمان لاکر بنی اسرائیل کو آزاد کردیں گے۔ لیکن جونہی موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے عذاب ٹلتا تو وہ عہد شکنی کرتے ہوئے پہلے سے زیادہ شرک و کفر اور بنی اسرائیل کو اذیتیں دیا کرتے تھے۔ قرآن و حدیث میں ان عذابوں کے دورانیہ کی وضاحت نہیں ملتی تاہم تفسیر روح المعانی اور قرطبی کے مؤلفین نے بنی اسرائیل کی روایات کو بنیاد بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ہر عذاب کا دورانیہ ایک ہفتہ پر محیط ہوتا تھا۔ اور اس کے بعد ایک مہینہ کی مہلت دی جاتی تھی جونہی وہ لوگ آسودہ حال ہوتے تو پہلے سے زیادہ کفر و شرک اور مظالم کا ارتکاب کرتے تھے۔ ایک موقعہ پر فرعون نے یہاں تک ہرزہ سرائی کرتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : ﴿وَقَالُوْا یٰاَیُّہَالسّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ اِنَّنَا لَمُہْتَدُوْنَ۔ فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ اِذَا ہُمْ یَنْکُثُوْنَ۔ وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَ ہٰذِہِ الْاَنْہٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ ہٰذَ الَّذِیْ ہُوَ مَہِیْنٌ وَّلَا یَکَادُ یُبِیْنُ۔ فَلَوْلَآ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ مِّنْ ذَہَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَہُ الْمَلائِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ۔ [ الزخرف، آیت : 49تا53] ” اے جادوگر اپنے رب سے عذاب ٹلنے کی دعا کیجیے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ضرور ہدایت پائیں گے۔ لیکن جب عذاب ٹل گیا تو اپنی قوم سے مخاطب ہو کر کہنے لگا اے میری قوم کیا تم نہیں دیکھتے کہ مصر کا اقتدار میرے ہاتھ میں ہے اور نہریں میرے محلات کے نیچے چلتی ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں اس شخص سے کہیں بہتر ہوں جو میرے مقابلہ میں ذلیل ہے اور اپنی بات واضح نہیں کرسکتا۔ اگر یہ واقعی سچا ہے تو اس کے لیے سونے کے کنگن اور اس کی اردل میں فرشتے اترنے چاہییں تھے۔“ مسائل : 1۔ فرعون اور اس کی قوم بدترین مجرم اور متکبر لوگ تھے۔ 2۔ فرعون اور اس کی قوم بار بار موسیٰ (علیہ السلام) سے بد عہدی کرتے رہے۔ 3۔ آل فرعون پر یکے بعد دیگرے کئی عذاب آئے لیکن وہ سمجھنے کے بجائے کفر و شرک میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ الاعراف
134 الاعراف
135 الاعراف
136 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ فرعون اور اس کی قوم جب تمام اخلاقی حدود پامال کرچکی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے جب کوئی قوم کفر و شرک تکبر اور تمرد میں آگے ہی بڑھتی جائے تو اس کا وجود انسانی معاشرے میں کینسر کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ جس سے اس علاقے کے رہنے والے ہی نہیں بلکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اس پر لعنت بھیجتی ہے اس صورتحال میں اللہ تعالیٰ دنیا کے نظام کو چلانے اور قائم رکھنے کے لیے مجرم قوم کا صفایا کردیتا ہے۔ اسی اصول کے تحت اب وقت آن پہنچا تھا کہ فرعون اور آل فرعون کو ہمیشہ کے لیے نیست و نابود کردیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس قوم کو دریا میں ڈبکیاں اور غوطے دے دے کر ختم کردیا گیا۔ کیونکہ یہ بار بار اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرتے اور دنیا کی لذات میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کلیتاً غافل اور بے پرواہو چکے تھے۔ جس کے نتیجہ میں انھیں غرقاب کیا گیا۔ جس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی اے میرے رب یہ قوم پر لے درجے کی مجرم ہوچکی ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ بس میرے بندوں کو رات کے وقت لے کر یہاں سے نکل جاؤ لیکن یاد رکھنا مجرم قوم تمھارا تعاقب ضرور کرے گی۔ (الدُّخان، آیت : 22تا23) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب رات کی تاریکیوں میں اپنی قوم کو لے کر دریا عبور کرنے کے لیے نکلے تو فرعون نے تمام شہروں میں ہر کارے بھیجے کہ اکٹھے ہوجاؤ۔ ایک چھوٹی سی جماعت نے ہمیں غضب ناک کردیا ہے۔ اس طرح انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا تعاقب کیا جب بنی اسرائیل نے انھیں اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے اے موسیٰ ! ہم تو گھیرے جا چکے ہیں۔ سامنے بحر قلزم ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور پیچھے سے دشمن آپہنچا ہے۔ ہم جائیں تو کدھر جائیں ؟ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ انھیں تسلی دیجیے کہ میرا رب دریا کو عبور کرنے کے لیے کوئی راستہ بنائے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق دریا میں اپنا عصا مارا جس سے بحر قلزم پھٹ گیا اور اس کی لہریں پہاڑوں کی طرح بلند ہو کر اپنی جگہ جم گئیں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر بحیرۂ قلزم میں اترے تو فرعون بھی اپنے لشکر و سپاہ لے کر ان کے تعاقب میں بحیرۂ قلزم میں اتر ا۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” (اور کہلا بھیجا کہ) یہ مٹھی بھر لوگ ہیں جو ہمیں غصہ چڑھا رہے ہیں۔ اور ہم یقیناً ایک مسلح جماعت ہیں۔ ہم فرعونیوں کو نکال لائے ان کے باغات اور چشموں سے اور خزانوں اور بہترین قیام گاہوں سے اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو زمین کا وارث بنا دیا۔ چنانچہ ایک دن صبح کے وقت فرعونی ان کے تعاقب میں چل پڑے، جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو اصحاب موسیٰ چیخے ہم پکڑے گئے۔ موسیٰ نے کہا : ہرگز نہیں میرا رب میرے ساتھ ہے وہ جلد رہنمائی کرے گا۔ چنانچہ ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ چنانچہ سمندر پھٹ گیا اور ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہوا۔ ہم دوسروں کو قریب لے آئے۔ اس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا اور دوسروں کو غرق کردیا۔ اس میں لوگوں کے لیے عبرت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بہت سے نشان ہیں۔ اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لاتی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور نہایت مہربان ہے۔“ (الشعراء، آیت : 54تا68) قرآن مجید کے دوسرے مقام پر اس واقعہ کو یوں بیان کیا گیا ہے : ” ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر عبور کر وایا اس کے پیچھے فرعون اور اس کا لشکر زیادتی اور ظلم کے ارادے سے چلا یہاں تک کہ وہ ڈوبنے لگا تو اس نے کہا کہ میں اس اللہ پر ایمان لایا جو بنی اسرائیل کا رب ہے۔ اور میں اپنے ایمان کا اعلان کرتا ہوں۔ لیکن اس کے جواب میں فرمایا گیا کیا اب تو ایمان لاتا ہے؟ جب کہ اس سے پہلے بغاوت اور فساد کرنے والا تھا۔ ہم تیری لاش کو باقی رکھیں گے تاکہ تیرے بعد آنے والے عبرت حاصل کریں۔ اگرچہ اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت ہی برتتے ہیں۔“ (یونس آیت 90تا92) مفسرین نے تاریخ کی بنیاد پر لکھا ہے کہ فرعون کے لشکر میں ایک لاکھ گھوڑ سوار اور پندرہ لاکھ پیادے تھے بنی اسرائیل کی تعداد چھوٹے بچوں کے علاوہ چھ لاکھ افراد پر مشتمل تھی اور یہ واقعہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے مصر پہنچنے کے 426شمسی سال بعد پیش آیا بظاہر اتنی بڑی تعداد پر یقین نہیں تاہم واللہ اعلم۔ (حوالہ قصص الانبیاء امام ابن کثیر ) مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون سے بنی اسرائیل پر مظالم کرنے کا انتقام لیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی آیت کو جھٹلانے والوں کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوتا ہے۔ الاعراف
137 فہم القرآن : ربط کلام : آل فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور بنی اسرائیل کا کردار۔ بنی اسرائیل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں مصر میں برسراقتدار آئے۔ اور مدت دراز تک انھیں اقتدار اور اختیار حاصل رہا لیکن اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے نہ صرف اقتدار سے محروم ہوئے بلکہ مصر میں انھیں تیسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا۔ وہ مدت تک فرعون کے مظالم سہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جناب موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی بے مثال جدوجہد سے بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے میں کامیابی نصیب ہوئی اور ان کے لیے شام اور فلسطین کی فتح کا دروازہ کھول دیا گیا۔ جس سر زمین کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اس کے مشرق سے لے کر مغرب تک اللہ تعالیٰ نے برکات و ثمرات کے خزانے رکھے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو پورا فرمایا کہ انھیں آزادی جیسی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ فرعون اور اس کی قوم جو کچھ کرتی تھی اسے تباہ کردیا گیا۔ ﴿یَعْرِشُوْنَ﴾ کا معنی کرتے ہوئے اہل علم نے لکھا ہے کہ اس سے مراد بڑے بڑے محلات اور انگوروں کے باغات ہیں جن کی بیلیں ٹہنیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔ دشمن کا خاتمہ اور آزادی کی نعمت بنی اسرائیل کو اس لیے حاصل ہوئی کہ انھوں نے طویل عرصہ تک صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ * صبر بے بسی اور بے کسی کا نام نہیں۔ صبر قوت برداشت، قوت مدافعت کو بحال رکھنے اور طبیعت کو شریعت کا پابند بنانے کا نام ہے۔ دشمن کے مقابلے میں جرأت، بہادری اور مستقل مزاجی کے ساتھ مسائل و مصائب کا سامنا کرنے سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ آخرت میں بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخلہ نصیب ہوگا۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رفاقت و دستگیری حاصل ہوگی مشکلات زندگی کا حصہ ہیں ان سے نکلنے کے لیے روحانی اور الہامی طریقے اختیار کرنے کے ساتھ مادی وسائل اپنانے کا حکم ہے مگر جب تک پوری دلجمعی اور صبر و استقلال کے ساتھ اسباب کو استعمال اور ان کے اثرات و نتائج کا انتظار نہ کیا جائے اس وقت تک مشکلات سے نکلنا ناممکن ہے۔ شریعت نے صبر و استقامت کو مشکلات سے نجات پانے کا اولین درجہ قرار دیا ہے۔ کیونکہ جب تک آدمی مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لیے اسباب کو مستقل مزاجی اور حوصلے کے ساتھ اختیار نہیں کرے گا تو نہ صرف اس کی جسمانی اور روحانی تکلیف میں اضافہ ہوگا بلکہ وہ اپنی جذباتیت اور عجلت پسندی کی وجہ سے دنیا و آخرت میں بہتر نتائج سے محروم رہے گا جو صبر و استقامت کے سبب اس کو حاصل ہونے والے تھے۔ (عَنْ أَبِی مَالِکٍ الْأَشْعَرِیِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ()۔۔ وَالصَّبْرُ ضِیَاءٌ ) [ رواہ مسلم : کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضوء ] ” حضرت ابومالک اشعری (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا۔۔ صبر روشنی ہے۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) عَنْ النَّبِیِّ () قَالَ قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ أَذْہَبْتُ کَرِیمَتَیْہِ ثُمَّ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ کَانَ ثَوَابُہُ الْجَنَّۃَ )[ رواہ احمد] ” حضرت انس بن مالک (رض) نبی معظم (ﷺ) کا فرمان نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ اعلان کرتا ہے کہ جس کی دو محبوب چیزیں (دو آنکھیں) میں لے لوں تو پھر وہ صبر کرے اور مغفرت کی امید رکھے تو اس کا بدلہ جنت ہوگا۔“ مسائل : 1۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے صبر و استقامت کے ساتھ جدوجہد کرنی چاہیے۔ 2۔ صبر و استقامت کے مقابلہ میں ظالم کا ظلم بالآخر ناکام ہوجاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن : صبر کی فضیلت : 1۔ اللہ کی رفاقت اور دستگیری صبر کرنے والوں کے لیے ہے۔ (البقرۃ:152) 2۔ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد طلب کرو۔ (البقرۃ:152) 3۔ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔ (الزمر :10) 4۔ بے شک جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر ایمان کا اظہار کرتے ہوئے صبر و استقامت کا ثبوت دیا انھیں کوئی خوف اور حز ن وملال نہیں۔ (الاحقاف :13) الاعراف
138 فہم القرآن : (آیت 138 سے 141) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ا ٓزادی حاصل کرنے کے بعد بنی اسرائیل کا پہلا جرم۔ بنی اسرائیل بحر قلزم کو عبور کرکے ایسے علاقے میں پہنچے جہاں کے لوگ بت اور قبر پرست تھے۔ انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کر ڈالا کہ اسے موسیٰ ہمارے لیے بھی ایسا ہی معبود مقرر کیا جائے جس طرح ان لوگوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم انتہائی جاہل قوم ہو۔ یہ لوگ جو کچھ کررہے ہیں اور جو کچھ انھوں نے بنا رکھا ہے وہ باطل اور جھوٹ ہے اور یہ سب کا سب تباہ ہوجائے گا۔ کیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو تمھارا معبود ٹھہراؤں حالانکہ اس نے پوری دنیا پر تمھیں فضیلت وعظمت عطا کی ہے اور ابھی تو چند دنوں کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں آل فرعون کے مظالم سے نجات دی جو تمھارے بیٹوں کو تہہ تیغ کرتے تھے اور تمھاری بچیوں اور بیویوں کو اپنے لیے رہنے دیتے تھے یہ تم پر بڑی کربناک آزمائش تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے اور اس کی توحید پر جمے رہتے لیکن اس کے برعکس تم بت پرستی کا مطالبہ کر رہے ہو۔ بنی اسرائیل نسل در نسل غلام رہنے اور مشرکانہ ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے اس قدر ضعیف الاعتقاد اور متلون مزاج ہوچکے تھے کہ جونہی انھوں نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ پتھروں سے بنائی ہوئی مورتیوں کی پوجا کر رہی ہے تو انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کر ڈالا کہ ہمارے لیے بھی ایسے بت بنا دیں۔ ناہنجار قوم سب کچھ بھول گئی۔ کہ ہماری بے بسی اور کمزوریوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمیں ظالموں سے نہ صرف نجات عطا فرمائی بلکہ ہمارے سامنے ہمارا دشمن ڈبکیاں لے لے کر دہائی دیتے ہوئے ذلیل ہو کر مار دیا گیا۔ اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا میں ہماری فضیلت و عظمت اور بزرگی کی دھاک بٹھا دی ہے۔ یاد رہے شرک بذات خود ہر قسم کی جہالت اور برائی کا سرچشمہ اور منبع ہے لیکن اس قوم کی جہالت کی کوئی حد نہیں ہوتی جو اپنے نبی سے شرک کرنے کی نہ صرف اجازت طلب کرتی ہو بلکہ اس سے مطالبہ کرے کہ ہمارے لیے ایسا ہی بت خانہ بنایا جائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں جاہل قرار دیتے ہوئے متنبہ فرمایا کہ شرک پر لے درجے کی جہالت ہے۔ مشرک جو کچھ کرتے اور بناتے ہیں اس کی کوئی حیثیت نہیں یہ سب کا سب باطل ہے اور باطل قائم رہنے کے بجائے بہت جلد تباہی کے گھاٹ اترجاتا ہے۔ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ لَعَنَ رَسُول اللّٰہِ () زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِیْنَ عَلَیْہَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ) [ رواہ النسائی : کتاب الجنائز، باب التغلیظ فی اتخاذ السرج علی القبور] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں رسول مکرم (ﷺ) نے قبروں پر جانے والی خواتین اور ان پر مساجد بنانے والوں اور ان پر چراغ روشن کرنے والوں پر لعنت کی ہے“ (عَنْ عَائِشَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ فِیْ مَرَضِہِ الَّذِیْ مَاتَ فِیْہِ لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسْجِدًا)[ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ماجاء فی قبرالنبی] ” حضرت عائشہ (رض) نبی اکرم (ﷺ) کا فرمان نقل کرتی ہیں آپ (ﷺ) نے اپنی اس مرض میں فرمایا جس میں آپ فوت ہوئے اللہ تعالیٰ یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت فرمائے انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“ (عَنْ اَبِی مَرْثَدَِ الْغَنَوِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () لَا تَجْلِسُوْا عَلٰی الْقُبُورِ وَلاَ تُصَلُّوا اِلَیْہَا) [ مسلم] ” حضرت ابو مرثد غنوی (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ نہ قبروں پر بیٹھا کرو اور نہ ان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو۔“ مسائل : 1۔ بتوں اور مزارات کے سامنے چلہ کشی کرنا شرک ہے۔ 2۔ شرک پرلے درجے کی جہالت ہے۔ 3۔ شرک کی دین میں کوئی حقیقت نہیں۔ تفسیر بالقرآن : الٰہ صرف ایک ہی ہے : 1۔ الٰہ ایک ہی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ (البقرۃ:163) 2۔ ا لٰہ ٰ تمھارا ایک ہی ہے لیکن آخرت کے منکر نہیں مانتے۔ (النحل :22) 3۔ آپ (ﷺ) فرما دیں میں تمھاری طرح بشر ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمھارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے۔ (الکہف :110) 4۔ الٰہ تمھارا ایک اللہ ہی ہے۔ (طہ :98) 5۔ آپ (ﷺ) فرمادیں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ (الانبیاء :108) 6۔ تمھارا صرف ایک ہی الٰہ ہے اسی کے تابع ہوجاؤ۔ (الحج :23) 7۔ ہمارا الٰہ اور تمھارا الٰہ صرف ایک ہی ہے۔ ہم اسی کے لیے فرمانبردار ہیں۔ (العنکبوت :46) 8۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے جو میں تلاش کروں۔ (الاعراف :140) الاعراف
139 الاعراف
140 الاعراف
141 الاعراف
142 فہم القرآن : ربط کلام : بنی اسرائیل کے آزاد ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی شکل میں مفصل ہدایات دیں تاکہ وہ اپنی قوم کی تربیت کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آزادی عنایت فرمانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر طلب فرمایا کہ انھیں مفصل کتاب دی جائے۔ تاکہ بنی اسرائیل کو شام و فلسطین کا اقتدار ملنے سے پہلے ان کی تربیت کرسکیں۔ جن پر عمل پیرا ہو کر یہ لوگ اپنے آپ کو قیادت کے اہل ثابت کریں۔ چنانچہ حکم ہوا کہ اے موسیٰ ! آپ تیس دن تک کوہ طور پر اعتکاف کریں۔ جس کو بعد میں چالیس دن کردیا گیا۔ یہ اعتکاف آزادی کا شکریہ بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی اور کتاب کی دستیابی کے لیے روحانی بلندی کا ارتقا بھی تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) میں روحانی صلاحیت پیدا ہو سکے جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور وحی الٰہی کا بار اٹھانے کے لیے ضروری تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر جاتے ہوئے اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) جو عمر میں تین سال بڑے تھے مگر ان کے نائب نبی تھے کو یہ ہدایات دے کر رخصت ہوتے ہیں کہ میری غیر حاضری میں میرا قائم مقام ہوتے ہوئے قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہیں۔ اور اگر قوم برائی کاراستہ اختیار کرے تو ان کی اتباع ہرگز نہ کریں۔ اس سے ثابت ہوا کہ قوم کا حقیقی مصلح وہ ہوتا ہے جو قومی رسم و رواج کے پیچھے لگنے کے بجائے قوم کی اصلاح کرکے انھیں سیدھے راستے پر چلائے۔ ایسے مصلح کا اجر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے نیک کاموں کے ساتھ اس کی تحریک پر نیکی کرنے والوں کے اجر کا بدلہ بھی اسے دیا جائے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کی مدت پوری کرتے ہیں۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ نے انھیں تورات عنایت فرمائی اور اپنی ہم کلامی کا شرف بخشا۔ ( عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِیِّ (رض) قَالَ جَآءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ () فَقَالَ إِنِّی أُبْدِعَ بِیْ فَاحْمِلْنِی فَقَالَ مَا عِنْدِیْ فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُول اللّٰہِ أَنَا أَدُلُّہُ عَلٰی مَنْ یَحْمِلُہُ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ () مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَہٗ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِہٖ) [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب فضل اعانۃ الغازی] ” حضرت ابو مسعود (رض) فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم (ﷺ) کے پاس آیا اور کہا میرے پاس سواری نہیں ہے مجھے سواری عنایت کیجیے۔ نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا میرے پاس بھی نہیں ہے۔ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول! میں اس کو اس شخص کی طرف رہنمائی کرتا ہوں جواسے سواری دے سکے۔ رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا جس نے کسی کی بھلائی کی طرف رہنمائی کی تو اسے بھی وہ نیکی کرنے والے کی طرح ہی اجر دیا جائے گا۔“ مسائل : 1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کوہ طور پر چالیس دن اعتکاف فرمایا۔ 2۔ حضرت ہارون جناب موسیٰ (علیہ السلام) کے خلیفہ، نبی اور ان کے بھائی تھے۔ 3۔ آدمی کو مفسدین کا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : مفسد اور گمراہ لوگوں کے طریقہ سے اجتناب کا حکم : 1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا کہ فساد کرنے والوں کی راہ سے اجتناب کرنا۔ (الاعراف :142) 2۔ اگر تم پھر جاؤ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ (آل عمران :63) 3۔ لوگ زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (المائدۃ:64) 4۔ اللہ فساد کرنے والوں کے کام نہیں سنوارتا۔ (یونس :81) 5۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا زمین میں فساد کا باعث نہ بنو۔ (الاعراف :85) 6۔ زمین کی اصلاح کے بعد اس کے بگاڑ کا سبب نہ بنو اور اللہ تعالیٰ کو خوف طمع سے پکارو۔ (الاعراف :86) الاعراف
143 فہم القرآن : (آیت 143 سے 144) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی اور ذات اقدس کے دیدار کا مطالبہ۔ حسب وعدہ موسیٰ (علیہ السلام) چالیس راتوں کے لیے کوہ طور پر تشریف فرما ہوئے۔ چالیس راتوں سے مراد تمام مفسرین نے دن اور راتیں مراد لی ہیں کیونکہ شریعت میں قمری مہینوں کا حساب لگایا جاتا ہے۔ جس کی ابتداء چاند کے نمودار ہونے سے ہوتی ہے اس لیے شریعت کی تمام عبادات کا حساب طلوع چاند سے لگایا جاتا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) حسب وعدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی غرض سے کوہ طور پر پہنچے اور انھوں نے چالیس راتیں مکمل کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی ہم کلامی کا اعزازبخشا جس کی نوعیت اور کیفیت کے بارے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کا رب ہی جانتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کا کیا انداز اور کونسا طریقہ اختیار فرمایا تھا تاہم قرآن مجید صرف یہ وضاحت کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرط محبت میں آکر اپنے رب سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میرے رب میں تیری زیارت کا طلب گار ہوں کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے شب و روز کا ایک ایک لمحہ اسی تڑپ اور طلب میں گزر رہا تھا کہ کب اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ہم کلامی کا شرف عنایت فرماتا ہے جوں ہی ان لمحات کا آغاز ہوا جس سے کوہ طور اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات سے بقعہ نور بنا۔ رب کریم کے کلام کی مٹھاس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بے خود ہوگئے۔ اور اسی بے خودی کے عالم میں انھوں نے اپنے رب کے حضور اس خواہش کا اظہار کیا کہ میرے رب میں تجھے دیکھے بغیر نہیں رہسکتا۔ مجھے اپنے دیدار سے مشرف فرما۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے فقط اتنا فرمایا کہ اے موسیٰ تو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ اس پہاڑ کی طرف دیکھ اگر یہ پہاڑ میرے جمال و جلال کو برداشت کرسکا تو تو بھی میرا دیدار کرسکے گا۔ جوں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کا پر تو پہاڑ پر ڈالا تو ٹنوں وزنی پہاڑ کا یہ حصہ ایک لمحہ میں ریت کے ذرّات میں تبدیل ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) بے ہوش ہو کر نیچے گر پڑے۔ جب انھیں ہوش آیا تو فوراً پکار اٹھے میرے رب تیری ذات کبریا لامحدود اور اتنی پر جلال اور صاحب جمال ہے کہ کسی آنکھ کے احاطۂ نظر میں نہیں آسکتی۔ اس لیے میں اس مطالبہ پر تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب لوگوں سے پہلے اس پر ایمان لاتاہوں کہ تیرا فرمان سچا ہے۔ واقعی کوئی آنکھ تیرے دیدار کی سکت نہیں رکھتی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے حکم پر کوہ طور پر گئے اور رب کبریا کی زیارت نہ کرسکے تو دوسرا کون ہوتا ہے کہ جو دعویٰ کرے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی زیارت کی ہے۔ اور نہ ہی ایسا اعتقاد رکھنا چاہیے کہ فلاں بزرگ نے حالت بیداری یا خواب میں اللہ تعالیٰ کی زیارت کی ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کسی کو خواب میں اپنے جمال کی کسی جھلک سے سرفراز فرما دے تو یہ ممکن ہے۔ لیکن اسے اشتہار اور مشہوری کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اظہار اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کرنا مشکلات سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے۔ * مزید ملنے کی گارنٹی اور زوال نعمت سے مامون رہنے کی ضمانت ہے۔ رب کی بارگاہ میں نہایت پسندیدہ عمل ہے۔ * اس کے مقابلہ میں ناشکری کفر کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی عبادت اور دین کے کسی عمل کے بارے میں بیک وقت یہ نہیں فرمایا کہ اس کے کرنے سے تم عذاب سے محفوظ رہو گے اور مزید عطاؤں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس دوہرے انعام کی وجہ سے شیطان نے سرکشی اور بغاوت کی حدود پھلانگتے ہوئے کہا تھا۔ ﴿وَلاَ تَجِدُاَکْثَرَھُمْ شٰکِرِیْنَ﴾ [ الاعراف : 17] ” اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔“ اکثر انسان خوف اور طمع کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کرتے ہیں ؟ رب کریم نے انسان کی حاجات و ضروریات اور اس کی کمزوری کی وجہ سے اس انداز کو بھی نہ صرف عبادت میں شمار فرمایا بلکہ اس طرح مانگنے کا حکم دیا ہے ایسے لوگوں کو محسنین قرار دے کر اپنی رحمت و دستگیری کا یقین دلایا ہے۔ مگر جو لطف اور لذت اظہار تشکر کے جذبات میں پائی جاتی ہے وہ خوف اور طمع کی عبادت میں نہیں ہوتی۔ اسی طرح غم اور خوف کے آنسو اپنی جگہ سمندروں اور دریاؤں کے پانی سے زیادہ وزنی ہیں۔ کیونکہ سرور دو عالم (ﷺ) نے فرمایا ہے کہ اللہ کے خوف سے گرنے والا آنسو کا ایک قطرہ زندگی بھر کے انسان کے غلیظ ترین دامن کو دھونے کے لیے کافی ہے۔ ابھی وہ قطرہ انسان کی پلکوں سے ڈھلک کر اس کے رخسار پہ نہیں گرتا کہ غفور و رحیم مالک اس کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے لیکن شکر کے آنسو بندۂ مومن میں عجب جذبۂ اطاعت و عبادت پیدا کرتا ہے۔ یہی تصور اور کیفیت رسول اللہ (ﷺ) کے اس فرمان میں پائی جاتی ہے کہ جب تہجد کی نماز میں سسکیاں لیتے ہوئے آپ طویل قیام کرتے، آپ کے مبارک قدموں پر ورم پڑجاتے تو مسلمانوں کی والدہ ماجدہ، آپ کی زوجہ سیدہ عائشہ (رض) از راہ ہمدردی عرض کرتیں کہ میرے آقا ! آپ اس قدر کیوں روتے اور مشقت اٹھاتے ہیں ؟ جبکہ بارگاہ ایزدی سے آپ کی سب کمزوریوں کو معاف کردیا گیا ہے آپ نے شکر سے لبریز کلمات کا اس طرح اظہار فرمایا : (أَفَلاَ أَکُوْنُ عَبْدًا شُکُوْرًا۔) [ مشکوٰۃ، باب التحریض علی قیام الیل] ” کیا میں اس کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم کلامی کا شرف بخشا۔ 2۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے جلوہ کی تاب نہ لا کر بے ہوش ہو کر گر پڑے 3۔ انسان کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن : شکر کی فضیلت : 1۔ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے شکر گزار بندوں میں شامل ہوجائیے۔ (الزمر :66) 2۔ میرا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتے رہیے بالآخر تم نے میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔ (سورۂ لقمان :14) 3۔ اگر تم شکر کا رویہ اپناؤ گے تو ہر صورت مزید عنایات پاؤ گے۔ (ابراہیم :7) 4۔ اللہ کو تمھیں سزا دینے سے کیا فائدہ، اگر تم شکر اور تسلیمات کا انداز اختیار کرو۔ وہ اللہ تو نہایت ہی قدر افزائی کرنے والاہے۔ (النساء :147) 5۔ بندوں میں بہت کم شکر ادا کرنے والے ہیں۔ (سبا :13) الاعراف
144 الاعراف
145 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسالت کے منصب پر تو پہلے ہی فائز کردیا تھا اپنی ہم کلامی کا شرف بخشتے ہوئے تختیوں کی شکل میں تورات عطا فرمائی جس میں بنی اسرائیل کے لیے نصیحت اور دین کی متعلقہ تفصیلات درج تھیں۔ قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تحریر کی شکل میں تورات عطا کی تھی شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ بنی اسرائیل اہم اور حساس معاملات میں بھی ظاہر پرست واقع ہوئے تھے۔ جس کی بنا پر انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھنا چاہتے ہیں۔ پھر اس پر اتنا اصرار کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے مجبور ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے اپنی قوم کے ستر نمائندے ساتھ لے گئے جنھیں اللہ تعالیٰ نے فوت کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا پر دوبارہ زندہ کیا۔ تفصیل کے لیے اسی سورۃ کی آیت 155کی تلاوت کریں۔ پھر یہ بھی ان کی ظاہر پرستی کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی صرف چالیس دن کی غیر حاضری پر بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ ممکن ہے کہ اسی ظاہر پرستی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تحریری طور پر تورات نازل فرمائی تاکہ تورات کی لکھی ہوئی تختیاں دیکھ کر یہ ایمان لے آئیں۔ جس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ ہم نے ان تختیوں میں ان کی رہنمائی کے لیے ہرمسئلہ لکھ دیا تھا۔ ظاہر ہے تورات کی تحریر کوئی عام تحریر اور اس کی تختیاں کسی انسان کی بنائی ہوئی نہ تھیں نہ معلوم ان تختیوں کے اندر کتنی جاذبیت، کشش اور نورانیت ہوگی۔ اس کی تحریر کتنی خوش نما اور خوبصورت اور دیکھنے والے کو اس تحریر اور تختیوں سے کتناسکون ملتا ہوگا۔ پھر اس میں دین کے متعلق تمام مسائل کا اتنے مؤثر انداز سے احاطہ کیا گیا تھا جس کی نظیر اس سے پہلے دنیا میں نہیں پائی جاتی تھی۔” موعظۃ“ ایسی بات اور انداز کو کہتے ہیں جو انسان کے دل پر براہ راست دستک دے۔ اتنے اوصاف حمیدہ کی حامل کتاب کے بارے میں حکم ہوا کہ اے موسیٰ ! اسے مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ بھی اخلاص کے ساتھ نہایت اچھے طریقے سے اس کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تھام رکھیں یعنی پوری طرح اس پر عمل کرتے رہیں۔ یہی کتاب الٰہی کا سب سے بڑا ادب اور اس کا تقاضا ہے۔ جس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمھیں اس سر زمین کا وارث بنائے گا جس پر فاسق وفاجر لوگ قابض ہوچکے ہیں۔ اس سے مراد اکثر مفسرین نے شام اور فلسطین کی سرزمین لی ہے جو اس وقت ایک ہی ملک شمار ہوتا تھا لیکن کچھ مفسرین نے شام اور فلسطین کے ساتھ مصر کا علاقہ بھی شامل کیا ہے فرعون اور ان کے بڑے بڑے لوگ غرق ہوجانے کے باوجود مصر کے لوگ اس زمانے میں سب سے زیادہ عیاش اور فسق و فجور میں مبتلا تھے۔﴿دَارُ الْفٰسِقِیْنَ﴾ سے مراد جہنم کا گھر بھی ہوسکتا ہے۔ جس میں فاسقین کا جانا یقینی ہے۔ اور مومنوں کو جہنم میں جہنمیوں کا انجام بھی دکھلایا جائے گا۔ تفصیل کے لیے سورۃ المدثر کی 40تا 47آیات تلاوت کریں۔ (عن عمر (رض) قال قال رسول اللّٰہ () إِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِہٰذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِینَ ) [ رواہ مسلم : کتاب صلاۃ المسافرین، باب فضل من یقوم بالقران ] ” حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ساتھ اقوام کو بلند کرے گا اور دوسروں کو پست کردے گا۔“ (أَنَّ رَسُول اللّٰہِ () قَالَ تَرَکْتُ فیکُمْ أَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِہِمَا کِتَاب اللّٰہِ وَسُنَّۃَ نَبِیِّہٖ) [ موطا امام مالک : کتاب الجامع، باب النھی عن القول بالقدر ] ” بلاشبہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑچلا ہوں جب تک تم ان کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے کبھی گمراہ نہ ہوسکو گے ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اس کے نبی کی سنت۔“ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے تورات تختیوں پر تحریر کی صورت میں نازل فرمائی۔ 2۔ تورات میں ہر چیز کی وضاحت موجود تھی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل نہ کرنے والے فاسق ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : کتاب اللہ سے تمسک کا حکم : 1۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور فرقوں میں نہ بٹو۔ (آل عمران :103) 2۔ آپ اسے مضبوطی سے تھام لیں جو آپ کو وحی کی گئی ہے۔ (الزخرف :43) 3۔ وہ لوگ جو کتاب کو مضبو طی سے تھامتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ایسے نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کیا جاتا۔ (الاعراف :170) الاعراف
146 فہم القرآن : (آیت 146 سے 147) ربط کلام : بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ تورات کو اچھی طرح پکڑے رکھیں مگر انھوں نے اس حکم کی پرواہ نہ کی جس کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں انسان کی دنیا وآخرت کی بہتری کے لیے بڑے ہی مؤثر اور دل نشین انداز میں ہدایات فرمائی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جو شخص یا قوم اللہ تعالیٰ کی نصیحت اور اس کی خیر خواہانہ رہنمائی کو اپنی رعونت اور تکبر سے ٹھکرا دیتا ہے۔ اس کی دنیا میں یہ سزا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ہدایت کو دور کردیتا ہے ایسے شخص یا قوم کے پاس کوئی بھی نشانی اور معجزہ آئے تو وہ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اگر انھیں ہدایت کے راستہ کی طرف بلایا جائے تو وہ اس پر چلنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے۔ ان کا مزاج اس قدر بگڑ جاتا ہے کہ وہ ہر برائی اور گمراہی کے راستہ پر چلنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اپنی رعونت اور تکبر کے سبب اللہ تعالیٰ کے احکام کو جھٹلاتے ہوئے تغافل کرتے ہیں۔ جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے احکام جھٹلائیں اور آخرت کی جواب دہی کا انکار کریں ان کے سب کے سب اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو جھٹلاتے اور آخرت کی جواب دہی کے منکر تھے۔ یہاں متکبرین کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ ہم انھیں اپنی آیات سے پھیر دیتے ہیں یہ مضمون مختلف الفاظ میں پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ اللہ ہی ہدایت دینے والا اور گمراہ کرنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی پر ہدایت مسلط نہیں کرتا جب مجرم ہدایت کو اپنی رعونت کی وجہ سے قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی ہدایت کیوں مسلط کرے گا۔ یہاں آیات سے پھیر دینے کا یہی مطلب لینا چاہیے۔ جہاں تک آخرت میں متکبرین اور مکذبین کو دنیا کی کسی نیکی کے صلہ سے محروم رکھنے کا تعلق ہے وہ اس لیے ہے کہ ایسا شخص اگر کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو محض اپنی طبیعت کے سکون اور دنیا کی ناموری اور فائدے کے لیے کرتا ہے۔ اسے اچھی شہرت اور کسی نہ کسی شکل میں دنیا میں اس کا صلہ مل جاتا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا اس لیے اس کی نیکی کا آخرت میں بدلہ نہیں دیا جائے گا۔ (عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُول اللّٰہِ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِینَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہٗ قَالَ لَا یَنْفَعُہٗ إِنَّہُ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِی خَطِیئَتِی یَوْمَ الدِّینِ)[ رواہ مسلم : کتاب الایمان] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں میں نے رسول مکرم (ﷺ) سے استفسار کیا اے اللہ کے رسول ابن جدعان جاہلیت کے زمانے میں صلہ رحمی اور مساکین کو کھانا کھلایا کرتا۔ تو کیا قیامت کے دن اسے یہ چیز فائدہ دے گی نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا نہیں کیونکہ اس نے کبھی یہ بات نہیں کہی تھی اے میرے رب! قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف فرمانا۔“ یعنی وہ قیامت کے دن پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ مسائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب متکبر لوگ کرتے ہیں۔ 2۔ کافر ہدایت کی بجائے گمراہی کے راستے پر چلتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن : کن لوگوں کے اعمال ضائع ہونگے : 1۔ آخرت کا انکار کرنے والوں کے اعمال ضائع ہوجا تے ہیں۔ (الاعراف :147) 2۔ مشرکین کے اعمال ضائع کردئیے جائیں گے۔ (التوبۃ:17) 3۔ ایمان کے ساتھ کفر اختیار کرنے والوں کے اعمال ضائع کر دئیے جاتے ہیں۔ (المائدۃ:5) 4۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ کرنے والوں کے اعمال برباد کردئیے جاتے ہیں۔ (محمد :33) 5۔ وہ لوگ جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ان کے اعمال غارت کر دئیے جائیں گے۔ (آل عمران : 21۔22) الاعراف
147 الاعراف
148 فہم القرآن : (آیت 148 سے 149) ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے کے بعد بنی اسرائیل کا مشرکانہ کردار۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا خلیفہ بنا کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے چالیس دنوں کے لیے کوہ طور پر معتکف ہوئے ان کی غیر حاضری میں بنی اسرائیل میں سے ایک شخص جس کا نام سامری تھا۔ اس نے بنی اسرائیل سے سونے کے زیورات اکٹھے کیے اور ان کو ڈھال کر ایک بچھڑا بنایا۔ پھر اس میں مٹی ڈالی جس مٹی کے بارے میں سورۃ طٰہٰ آیت 96میں بیان ہوا ہے کہ یہ مٹی اس نے اس وقت اٹھائی تھی جب بحر قلزم میں فرعون نے ڈبکیاں لیتے ہوئے کہا کہ میں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتا ہوں۔ تو جبرائیل (علیہ السلام) نے مٹی اٹھا کر اس کے منہ پر ماری تھی۔ سامری نے دیکھا کہ جس گھوڑے پر جبریل امین (علیہ السلام) انسانی شکل میں سوار ہیں اس کے سم جہاں پڑتے ہیں۔ گھاس ہری ہوجاتی ہے۔ اس نے اس مٹی کو اٹھا لیا۔ کچھ حضرات نے لکھا ہے کہ اثر رسول سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ قرآن مجید نے سامری کی اس بات کی تردید یا تائید نہیں کی جو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہی میں نے یہ مٹی فلاں موقع پر اٹھائی تھی۔ اس نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اس مٹی کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ قرار دیا تاکہ وہ سزا سے بچ جائے۔ بہر کیف الرسول سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا جبرائیل امین (علیہ السلام) سامری نے شیطانی تکنیک سے ایک ایسا بچھڑا بنایا کہ جس کے منہ سے مختلف قسم کی آوازیں نکلتی تھیں۔ بچھڑے کو سمجھنے کے لیے آج کے دور کے کھلونے اور ربوٹ دیکھنے چاہییں کہ جو ایسی حرکات کرتے ہیں کہ ان کے ذی روح ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل کی ظاہر پرستی اور مشرکانہ جبلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سامری انھیں یہ باور کرانے میں کامیاب ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جس رب کے حکم سے کوہ طور پر گئے ہیں وہ ہمارے پاس خود آن پہنچا ہے۔ بنی اسرائیل میں سے بہت سے لوگوں نے بچھڑے کو معبود سمجھ کر اس کی تکریم اور عبادت شروع کردی جس طرح کہ مشرک لوگ بتوں اور قبروں کی عبادت کرتے ہیں۔ ایک احترام کے طور پر اس کے سامنے کھڑا ہے اور دوسرا اس بچھڑے کے سامنے رکوع کر رہا ہے۔ کوئی اس کے سامنے ہاتھ جوڑے ہوئے اپنی حاجات پیش کرتا اور کوئی اس کے حضور سجدہ اور نیاز پیش کر رہا ہے انھوں نے یہ دیکھنے اور سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی کہ یہ تو ہمارے ہی زیورات سے بنایا ہوا ایک مجسمہ ہے جو نہ خودبات کرسکتا ہے اور نہ ہی ہماری فریاد کا جواب دیتا ہے۔ اسے اپنے قدموں پہ چلنے کی طاقت نہیں اور نہ ہی اسے شعور اور اس کے وجود میں کوئی حرکت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ مشکل کشا حاجت روا کس طرح ہوسکتا ہے اور ہماری رہنمائی کیونکر کرسکتا ہے مشرکانہ عقیدہ کا یہی اندھاپن ہے کہ لوگ اس عقیدہ کو سوچے سمجھے بغیر محض بھیڑ چال کے طور پر قبول کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے مشرکانہ عقیدہ اور کردار ایسا ظلم ہے جس کے مقابلے میں تاریخ انسانی میں کوئی مثال نہیں پائی جاتی۔ ظلم نام ہے کسی چیز کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنے کا یہی کچھ مشرک کرتا اور سوچتا ہے کہ جو تکریم اور عبادت کے آداب صرف اور صرف ایک اللہ کے لیے ہونے چاہییں مشرک قبروں، بتوں اور دیگر چیزوں میں تصور کرتا ہے۔ یہاں الوہیت کی صرف دو صفات کا اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو یہ فرما کر گئے تھے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کرنے اور مستقبل کے لیے ہدایات لینے کے لیے جا رہا ہوں۔ اس لیے اس قوم کو اچھی طرح معلوم تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے ہم کلام ہونے کے ساتھ ہمارے لیے مزید ہدایات لائیں گے۔ جس بچھڑے کو انھوں نے اپنا معبود بنا لیا تھا۔ اس میں باقی صفات تو چھوڑ یے یہ دو بھی نہیں پائی جاتی تھیں۔ پھر اس کو معبود بنانے کا ان کے پاس کیا جواز تھا۔ (قَالَ فَاذْہَبْ فَإِنَّ لَکَ فِی الْحَیَاۃِ أَنْ تَقُولَ لَا مِسَاسَ وَإِنَّ لَکَ مَوْعِدًا لَنْ تُخْلَفَہٗ وَانْظُرْ إِلٰی إِلٰہِکَ الَّذِی ظَلْتَ عَلَیْہِ عَاکِفًا لَنُحَرِّقَنَّہٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّہٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا۔إِنَّمَآ إِلٰہُکُمُ اللّٰہُ الَّذِی لَآ إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ وَسِعَ کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا کَذٰلِکَ نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ أَ نْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَقَدْ آَتَیْنَاکَ مِنْ لَّدُنَّا ذِکْرًا)[ طٰہٰ: 97تا99] ” موسیٰ نے کہا : جاؤ تمھارے لیے زندگی بھر یہ (سزا) ہے کہ (دوسروں سے) کہتے رہو کہ مجھے نہ چھونا اور تیرے لیے عذاب کا ایک وقت ہے جو تجھ سے کبھی نہیں ٹل سکتا اور اپنے الٰہ کی طرف دیکھ، جس کے آگے تو معتکف رہتا تھا کہ ہم کیسے اسے جلا ڈالتے ہیں پھر اس کی راکھ کو کیسے دریا میں بکھیر دیتے ہیں۔ تمھارا الٰہ تو صرف وہی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ اے نبی ! اسی طرح ہم گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں تجھ سے بیان کرتے ہیں نیز ہم نے اپنے ہاں سے تجھے قرآن عطا کیا ہے۔“ قرآن مجید کے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنی ضعیف الاعتقادی کی وجہ سے بچھڑے پر ٹوٹ پڑے تھے انھیں موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے سے پہلے احساس ہوگیا کہ ہم سے گناہ ہوا ہے۔ لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے۔ لیکن قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ انھیں دنیا میں ذلیل کردینے والی سزا دی گئی۔ جو یہ تھی کہ تم اپنے ہاتھوں ایک دوسرے کو قتل کرو۔” اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم ! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے آپ پر ظلم کیا ہے لہٰذا اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو۔ تمھارے رب کے ہاں یہی بات تمھارے حق میں بہتر ہے۔ پھر اللہ نے تمھاری توبہ قبول کرلی وہ توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ (البقرۃ:54) مسائل : 1۔ مشرک جن کی عبادت کرتے ہیں وہ نہ ان سے کلام کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ 2۔ شرک کرنا اپنے آپ پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ 3۔ کفر و شرک کی حالت میں مرنے والا شخص قیامت کے دن بڑا نقصان پائے گا۔ تفسیر بالقرآن : خسارہ پانے والے لوگ : 1۔ ( حضرت آدم اور حضرت حوانے کہا) اے اللہ اگر تو نے معاف نہ کیا اور رحم نہ کیا تو ہم خسارہ پانے والے ہوں گے۔ (الاعراف :23) 2۔ دنیا اور آخرت کا خسارہ بہت بڑا خسارہ ہے۔ (الحج :11) 3۔ جس کا نیکی والا پلڑا ہلکا ہوا خسارہ پائے گا۔ (الاعراف :9) 4۔ جنھوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا وہ خسارہ پائیں گے۔ (الزمر :63) 5۔ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم خسارہ پانے والے ہوجا تے۔ (البقرۃ:64) 6۔ جن کے اعمال برباد ہوگئے وہ خسارہ پائیں گے۔ (المائدۃ:5) 7۔ ارکان اسلام کو چھوڑنے والے آخرت میں خسارہ پائیں گے۔ (النمل :5) 8۔ اسلام سے رو گردانی کرنے والے دنیاء و آخرت میں خسارہ پائیں گے۔ (آل عمران :85) الاعراف
149 الاعراف
150 فہم القرآن : (آیت 150 سے 151) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر مطلع فرمایا کہ تیری قوم نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی ہے۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) واپس تشریف لائے۔ ادھر موسیٰ (علیہ السلام) کی مدت اعتکاف پوری ہوئی اور انھیں تورات عنایت فرما دی گئی۔ اُدھر ان کی قوم نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی۔ جس کی موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں اطلاع دی کہ ” اے موسیٰ ٰتمہارے یہاں آنے کے بعد ہم نے تمہاری قوم کی آزمائش کی اور انھیں سامری نے گمراہ کردیا ہے۔“ (طٰہٰ، آیت :84) اب موسیٰ (علیہ السلام) غم و غصہ کی حالت میں قوم کی طرف واپس پلٹے اور اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو فرمایا کہ تم نے میری جانشینی کا حق ادا نہیں کیا تم برے جانشین ثابت ہوئے ہو۔ پھر بنی اسرائیل سے مخاطب ہو کر فرمایا اے لوگو! تم نے اپنے رب کا حکم آنے سے پہلے جلد بازی کا مظاہرہ کیا پھر تورات کی تختیاں ایک طرف پھینک دیں غم و غصہ کی حالت میں اپنے بھائی کے سر کے بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے جس کے جواب میں حضرت ہارون (علیہ السلام) نے نہایت عاجزانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے مادر زاد بھائی میری قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ وہ مجھے جان سے مار دیتی آپ ترس کھائیں اور مجھ پر دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع نہ دیں اور نہ ہی مجھے ظالموں کا ساتھی سمجھیں۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) کے جذبات ٹھنڈے ہوئے اور انھوں نے اس حرکت پر نہ صرف اپنے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کی بلکہ اپنے بھائی کے لیے بھی مغفرت کی دعا کی کہ اے میرے رب ہمیں معاف فرما کر اپنی رحمت کے دامن میں لے لیجیے۔ تو سب سے بڑا مہربان ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے غیرت توحید میں آکر حضرت ہارون (علیہ السلام) پر ہاتھ اٹھایا جس پر انھوں نے اپنے رب کے حضور معافی مانگی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں مظلوم تھے پھر ان کے لیے جناب موسیٰ نے کیوں ان کے لیے بخشش کی دعا مانگی۔ اس کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا خلیفہ بنا کر گئے تھے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) قوم کے مقابلے میں کمزور واقع ہوئے اور قوم ان کے سامنے شرک میں مبتلا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی خطا پر معافی مانگنے کے ساتھ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اس کمزوری پر بھی اللہ سے معافی طلب کی کیونکہ انسان سے گناہ دانستہ طور پر سرزد ہو یا غیر دانستہ طور پر اسے بہرحال اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہونا چاہیے۔ یہی قرآن مجید اور سنت سے ثابت ہے کہ انسان کو بھول چوک اور دانستہ کیے ہوئے گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہنا چاہیے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کے لیے معافی مانگنے کی وجہ ان کی دل جوئی بھی ہو سکتی ہے تاکہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو یقین ہوجائے کہ بھائی مجھ پر دلی طور پر راضی ہوچکے ہیں۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مرتبہ کے لحاظ سے بڑے تھے۔ بزرگ دعا مانگتے ہیں اور چھوٹے آمین کہتے ہیں۔ تختیوں کے بارے میں بعض مفسرین نے بنی اسرائیل کی من گھڑت روایات کی بنیاد پر یہاں تک لکھ دیا ہے کہ سات میں سے چھ ٹوٹ گئیں جن میں دین کے متعلق مکمل تفصیلات تھیں انھیں آسمان پر اٹھا لیا گیا اور باقی جو بچی تھیں اس میں صرف عبادات کے مسائل تھے۔ اللہ تعالیٰ سے بھول چوک کی بھی معافی مانگنا چاہیے : ﴿ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِینَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ﴾ [ البقرۃ:286] ” اے ہمارے رب اگر ہم سے بھول چوک ہوجائے تو اس پر گرفت نہ کرنا اے ہمارے رب ہم پر اتنا بھاری بوجھ نہ ڈال جتنا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب جس بوجھ کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے وہ ہم پر نہ ڈال ہم سے در گزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مولا ہے لہٰذا کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔“ (عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِیِّ (رض) قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَۃَ (رض) عَمَّا کَانَ رَسُول اللّٰہِ () یَدْعُو بِہِ اللّٰہَ قَالَتْ کَانَ یَقُول اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ) [ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء ] ” حضرت فروہ بن نوفل اشجعی (رض) فرماتے ہیں میں نے ام المومنین حضرت عائشہ (رض) سے رسول معظم (ﷺ) کی دعائیں جو وہ اللہ تعالیٰ سے مانگا کرتے تھے ان کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے فرمایا نبی اکرم (ﷺ) فرمایا کرتے تھے اے اللہ میں نے جو عمل کیا اور جو نہیں کیا اس سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ مسائل : 1۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم گمراہ ہونے پر اللہ تعالیٰ نے مطلع فرمایا۔ 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے غیرت توحید میں آکر اپنے بھائی کے سرکے بال کھینچے۔ 3۔ اپنے اور مسلمان بھائیوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا مانگنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : ظالموں کا ساتھی نہیں بننا چاہیے : 1۔ اے رب ہمارے ہمیں ظالم قوم سے بچا ئیو۔ (الاعراف :47) 2۔ اے میرے رب مجھے ظالم قوم سے بچائیو۔ (المومنون :94) 3۔ اے اللہ ہمیں ظالم قوم سے بچائیو۔ (یونس :85) 4۔ اے میرے رب مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔ (تحریم :11) الاعراف
151 الاعراف
152 فہم القرآن : (آیت 152 سے 153) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش کی ان کی سزا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب استغفار سے فارغ ہوئے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مشرکین کی سزا کا یہ فیصلہ کیا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش کی ہے ان کی سزا یہ ہے کہ ان کے قریبی عزیز ان کی گردنیں اڑا دیں۔ اس کی تفصیل ” سورۃ البقرہ“ کی آیت ٥٤ میں بیان ہوچکی ہے۔ ان پردنیا میں اللہ کا یہ غضب ہواکہ اپنے ہی اعزاء و اقرباء کے ہاتھوں مارے گئے۔ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں انھیں ایسی ہی سزا ہوتی ہے کیونکہ انھوں نے دین اور ثواب کا جھانسہ دے کر ایک دوسرے کو گمراہ کیا تھا۔ اس مقام پر امام رازی (رض) نے امام مالک بن انس (رح) کا قول نقل کیا ہے کہ جو شخص اپنی طرف سے کوئی مسئلہ گھڑتا ہے یا شریعت سازی کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھتا ہے۔ یہاں اس سزا کے مستحق جو لوگ بیان کیے گئے ہیں دو قسم کے ہیں۔ 1۔ جو موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی سے پہلے فوت ہوگئے انھیں قیامت کو سزا ملے گی۔ 2۔ جو زندہ تھے انھیں دنیا میں ہی موحّدین کے ہاتھوں سزا دلوا کر معاف کردیا گیا۔ مشرکین کی سزا بیان کرنے کے بعد توبہ کے لیے عام اصول بیان کیا جا رہا ہے کہ بے شک شرک جیسا عظیم گناہ ہی کیوں نہ ہو۔ جو سچے دل کے ساتھ توبہ کریں اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کرلیں ان کے گناہ معاف کردیے جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ (عَنْ اَنَسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () اَللّٰہُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ حِیْنَ یَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنْ اَحَدِکُمْ کَانَتْ رَاحِلَتُہُ بِاَرْضِ فُلَاۃٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْہُ وَعَلَیْھَا طَعَامُہُ وَشَرَابُہُ فَاَیِسَ مِنْھَا فَاَتٰی شَجَرَۃً فَاضْطَجَعَ فِیْ ظِلِّھَا قَدْ اَیسَ مِنْ رَّاحِلَتِہٖ فَبَیْنَمَا ھُوَ کَذَالِکَ اِذْ ہُوَ بِھَا قَآئِمَۃٌ عِنْدَہُ فَاَخَذَ بِخِطَامِھَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ اللّٰھُمَّ اَنْتَ عَبْدِیْ وَاَنَا رَبُّکَ اَخْطَاَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ)[ مسلم] ” حضرت انس (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم (ﷺ) نے فرمایا کوئی اللہ کا بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کرنے سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری اس کے کھانے پینے کے سامان کے ساتھ کسی بے آب وگیاہ میدان میں گم ہوگئی ہو۔ وہ اس کی تلاش سے مایوس ہو کر ایک درخت کے سائے تلے لیٹ جائے۔ مایوسی کے بعد اچانک اس سواری کو اپنے سامنے کھڑا پائے۔ اس کی لگام تھامتے ہوئے اور انتہائی خوشی سے پکار اٹھے۔ اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا پروردگار ہوں۔ اس بے پناہ خوشی کی وجہ سے بے ساختہ اتنی بری بات کہہ دیتا ہے۔“ مسائل : 1۔ مشرک پر اللہ کا غضب ہوتا ہے اور وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوتا ہے۔ 2۔ مشرک اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ 3۔ توبہ کرنے والے کے اللہ تعالیٰ گناہ معاف کردیتا ہے کیونکہ اللہ بڑا مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن : مفتری اور اس کی سزا : 1۔ وہ بہت بڑا ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیات کو جھٹلایا۔ (الانعام :21) 2۔ جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا وہ ناکام ہوا۔ (طٰہٰ:61) 3۔ وہ بڑا ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا تاکہ بغیر علم کے لوگوں کو گمراہ کرے۔ (الانعام :145) 4۔ وہ بڑا ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا نبوت کا دعویٰ کیا۔ (الانعام :93) 5۔ وہ بہت بڑا ظالم ہے کہ جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ (الکہف :15) 6۔ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ (ھود :18) 7۔ اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ (التوبۃ:109) 8۔ اللہ ضرور ظالموں کو ہلاک کرے گا۔ (ابراہیم :13) الاعراف
153 الاعراف
154 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا تو انھوں نے تورات کی تختیوں کو سنبھالا جو ہدایت کا منبع اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سرچشمہ تھیں۔ ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے جلوت اور خلوت میں ڈرنے والے ہیں۔ یہاں تورات کے دو اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے جو ہر آسمانی کتاب کا وصف رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو کتاب بھی انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے نازل فرمائی وہ اپنے دور میں لوگوں کی ہدایت کے لیے کافی تھی۔ آسمانی کتاب کا نزول اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہوتا ہے۔ جس میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعے لوگوں کی ہدایت کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارے گا اس پر دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمت برسے گی۔ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب اس لیے بھی مجسمۂ رحمت ہوتی ہے کیونکہ اس کی تلاوت سے اجرو ثواب اور قلبی سکون رکھا ہے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے آدمی کو مشکلات سے نجات اور آخرت میں عظیم الشان اجر و ثواب سے نوازا جائے گا۔ قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ میں بھی یہ اوصاف کا مل اور اکمل انداز میں پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ قرآن مجید لوگوں کی ہدایت کے لیے آخری کتاب ہے اس لیے جو شخص مشکلات سے نجات، آخرت کا اجر و ثواب اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حق دار بننا چاہتا ہے۔ اسے قرآن مجید کی تلاوت اور اس پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر قدم اور ہر لمحہ اس کی رہنمائی کرتے ہوئے اس پر اپنے فضل و کرم کا نزول فرمائے گا۔ بشرطیکہ اس کا دل اللہ تعالیٰ سے لرزاں و ترساں ہو۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ()۔۔ وَمَا قَعَدَ قَوْمٌ فِی مَسْجِدٍ یَتْلُونَ کِتَاب اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُونَہُ بَیْنَہُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَیْہِمُ السَّکِینَۃُ وَغَشِیَتْہُمُ الرَّحْمَۃُ۔۔)[ رواہ الترمذی : کتاب القرأت عن رسول اللہ ()، باب ماجاء أن القران انزل علی سبعۃ احرف] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) نے فرمایا۔۔ جو لوگ مسجد میں بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کریں اور با ہم درس وتدریس کریں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور رحمت انہیں لپیٹ لیتی ہے۔۔“ مسائل : 1۔ تورات اپنے دور میں لوگوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کا مرقع تھی۔ 2۔ قرآن مجید آخری آسمانی کتاب ہے۔ جو شخص اس پر عمل کرے گا وہ اللہ کی ہدایت اور اس کی رحمت سے سرفراز ہوگا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ہدایت کے حق دار بننے کے لیے جلوت اور خلوت میں اس سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن: اللہ سے ڈرتے ہیں : 1۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو بے شک اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ:194) 2۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (البقرۃ:196) 3۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو تم اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔ (البقرۃ:203) 4۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو کہ تم اس سے ملنے والے ہو۔ (البقرۃ:223) 5۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو کہ اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔ (البقرۃ:231) 6۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو کہ اللہ تمھارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ (البقرۃ:233) 7۔ اللہ سے ڈر جاؤ جس پر تمھارا ایمان ہے۔ (المائدۃ:88) 8۔ اللہ سے ڈر جاؤ اے عقلمندو ! تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدۃ:100) 9۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈر جاؤ جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ (آل عمران :102) 10۔ اللہ سے ڈر جاؤ کیونکہ وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ (المائدۃ:7) 11۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈر جاؤ اور سچی بات کہو۔ (الاحزاب :70) الاعراف
155 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کی مبارک اور بابرکت تختیاں قوم کے سامنے پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے ہماری ہدایت کے لیے نازل فرمائی ہیں۔ لہٰذا ان پر خلوص دل اور پوری ہمت کے ساتھ عمل کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمھیں دنیا میں عزت و عظمت اور ہر قسم کی نعمتیں عطا کرنے کے ساتھ آخرت کے انعام و اکرام سے مالا مال فرمائے گا۔ لیکن قوم نے اپنی عادت کے مطابق یہ کہہ کر تورات کو ماننے سے انکار کردیا کہ ہم کس طرح یقین کریں کہ واقعی یہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے نازل کردہ ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور فریاد کی کہ بارِ الٰہا ! ان کی یقین دہانی کے لیے کوئی سبب پیدا فرما۔ چنانچہ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اپنی قوم کے ٧٠ سربر آوردہ اشخاص لے کر کوہ طور پر حاضر ہوجاؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے ستر نمائندوں کو ساتھ لے کر اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے کوہ طور کے دامن پہنچے تو ان پر گہرا بادل سایہ فگن ہوا۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا لیکن ان کی قوم کہنے لگی : ﴿وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسیٰ لَنْ نُّؤْ مِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہْرَۃً فَاَخَذَتْکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ﴾ (سورۃ البقرۃ، آیت :55) ” اور اے موسیٰ ! ہم اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک بالکل اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے نہ دیکھ لیں۔“ تب ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا۔ اوپر سے زور دار بجلی کا کڑکا ہوا۔” اور ہماری طے شدہ میعاد کے لیے موسیٰ نے اپنی قوم سے ستر آدمی چن لیے، پھر جب انھیں زلزلے نے آلیا تو موسیٰ نے عرض کی : اے رب اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے انھیں اور مجھے بھی ہلاک کرسکتا تھا کیا تو ہم سب کو اس وجہ سے ہلاک کرتا ہے جو ہم میں سے کچھ احمقوں نے کیا؟ یہ تیری آزمائش تھی جس سے تو جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے تو ہمارا سرپرست ہے۔ لہٰذا ہمیں معاف فرما اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین معاف کرنے والا ہے۔“ (الاعراف :155) یہ صورت حال پہلے سے بھی نازک تھی نہ معلوم موسیٰ (علیہ السلام) کے دل و دماغ میں کیا کیا خدشات اور خیالات پیدا ہوئے ہوں گے کہ ان حالات میں قوم میرے ساتھ کیا سلوک کرے گی پھر وہ اپنے رب کے حضور عرض کرنے لگے کہ اے اللہ! یہ تیری طرف سے بہت بڑی آزمائش ہے تو جسے چاہے اپنی آزمائش کے ساتھ گمراہ کر دے اور جسے چاہے اسی آزمائش کے ساتھ ہدایت سے سرفراز کر دے تو ہی ہمارا ولی اور آقا ہے۔ بس ہمیں معاف کر اور ہم پر رحم فرما۔ تجھ سے بہتر کوئی معاف کرنے والا نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آہ و زاریاں قبول ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے مرنے والوں کو دوبارہ زندگی عنایت فرمائی۔ اس طرح ایک طرف ستر آدمیوں پر احسان فرمایا اور دوسری طرف قوم کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔ اس پرستر آدمیوں کی شخصی شہادت قائم فرمائی۔ قوم کو یہ بھی باور ہوگیا کہ جس طرح ہمارے نمائندوں پر اچانک گرفت ہوئی ہے اسی طرح ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کسی وقت پکڑ سکتا ہے۔ مسائل : 1۔ آزمائش اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے گمراہ کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ الاعراف
156 فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی زندہ ہوگئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اطمینان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف فرمادیا ہے تو انھوں نے اس کرم نوازی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے رب کے حضور یہ بھی دعا کی اے اللہ! ہمارے لیے اس دنیا کی ” حَسَنَۃً“ لکھ دیجیے اور آخرت کو بھی بہتر فرما دیجیے۔ یقیناً ہم تیری طرف رجوع کرنے والے ہیں۔ ﴿ حَسَنَۃً﴾ سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جس کے ملنے سے آدمی کے دل کو سکون اور ایمان میں اضافہ ہو۔ پھر اس کا آخرت میں بھی پورا پورا اجر مل جائے۔ اس لیے مومنوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ جب بھی وہ اپنے رب سے کوئی چیز طلب کریں انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی طلب کرنی چاہیے۔ (البقرۃ: 201) موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا عذاب مجرم کو ضرور پہنچے گا جسے میں چاہوں گا لیکن یاد رکھو کہ میری رحمت میرے عذاب اور ہر چیز سے وسیع تر ہے۔ جو ہر اس شخص کے نصیب میں آئے گی جس میں یہ خوبیاں پائی جائیں گی۔ 1۔ تقویٰ اختیار کرنے والا۔ 2۔ زکوٰۃ ادا کرنے والا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے احکام پر مکمل ایمان لانے والا۔ 4۔ نبی آخر الزمان (ﷺ)