Maktaba Wahhabi

آیت نمبرترجمہسورہ نام
1 بسم اللہ الرحمن الرحیم (1) سورت کی اہمیت اور خصوصیات یہ قرآن کی سب سے پہلی سورت ہے۔ اس لیے فاتحۃ الکتاب کے نام سے پکاری جاتی ہے۔ جو بات زیادہ اہم ہوتی ہے، قدرتی طور پر پہلی اور نمایاں جگہ پاتی ہے۔ یہ سورت قرآن کی تمام سورتوں میں خاص اہمیت رکھتی تھی، اس لیے قدرتی طور پر اس کی موزوں جگہ قرآن کے پہلے صفحے ہی میں قرار پائی۔ چنانچہ خود قرآن نے اس کا ذکر ایسے ہی لفظوں میں کیا ہے جس سے اس کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم (1) سورت کی اہمیت اور خصوصیات یہ قرآن کی سب سے پہلی سورت ہے۔ اس لیے فاتحۃ الکتاب کے نام سے پکاری جاتی ہے۔ جو بات زیادہ اہم ہوتی ہے، قدرتی طور پر پہلی اور نمایاں جگہ پاتی ہے۔ یہ سورت قرآن کی تمام سورتوں میں خاص اہمیت رکھتی تھی، اس لیے قدرتی طور پر اس کی موزوں جگہ قرآن کے پہلے صفحے ہی میں قرار پائی۔ چنانچہ خود قرآن نے اس کا ذکر ایسے ہی لفظوں میں کیا ہے جس سے اس کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ وَلَقَدْ آتَیْنَاکَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِی وَالْقُرْآنَ الْعَظِیمَ (87:15) اے پیغمبر ! یہ واقعہ ہے کہ ہم نے تمہیں سات دہرائی جانے والی چیزیں عطا فرمائی اور قرآن عظیم۔ احادیث و آثار سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اس آیت میں ” سات دہرائی جانے والی چیزوں“ سے مقصود یہی سورت ہے کیونکہ یہ سات آیتوں کا مجموعہ ہے اور ہمیشہ نماز میں دہرائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت کو سبع المثانی بھی کہتے ہیں۔ امام بخاری اور اصحاب سنن نے ابو سعید بن المعلی سے روایت کیا ہے کہ الحمد للہ رب العلمین، ھی السبع المثانی والقرآن العظیم الذی اوتیتہ۔ اور امام مالک، ترمذی اور حاکم نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابی بن کعب کو سورۃ فاتحہ کی تلقین کی اور یہی الفاظ ارشاد فرمائے۔ اسی طرح طربی نے حضرت عمر حضرت علی، حضرت ابن عباس اور ابن مسعود (رضی اللہ عنہم) وغیرہم سے روایت کی ہے کہ السبع المثانی فاتحۃ الکتاب، اگرچہ ابن مسعود کی اسناد منقطع ہے لیکن ابن عباس کی حسن ہے۔ ابو العالیہ سے بھی ایسا ہی مروی ہے اس کے علاوہ ائمہ تابعین کی ایک بڑی جماعت اسی طرف گئی ہے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں تمام روایات جمع کردی ہیں (شرح کتاب التفسیر جلد 8۔ صفحہ 120۔ طبع اول)۔ احادیث و آثار میں اس سورت کے دوسرے نام بھی آئے ہیں جن سے اس کی خصوصیات کا پتہ چلتا ہے۔ مثلاً ام القرآن، الکافیہ، الکنز، اساس القرآن۔ (صحیح بخاری، موطا امام مالک، ابوداود، ابن ماجہ اور مسند احمد میں بہ اختلاف الفاظ اس مضمون کی روایات موجود ہیں۔ ) عربی میں ” ام“ کا اطلاق تمام ایسی چیزوں پر ہوتا ہے جو ایک طرح کی جامعیت رکھتی ہوں یا بہت سی چیزوں میں مقدم اور نمایاں ہوں یا پھر کوئی ایسی اوپر کی چیز ہو جس کے نیچے اس کے بہت سے توابع ہوں۔ چنانچہ سر کے درمیانی حصے کو ام الراس کہتے ہیں کیونکہ وہ دماغ کا مرکز ہے۔ فوج کے جھنڈے کو ام کہتے ہیں کیونکہ تمام فوج اسی کے نیچے جمع ہوتی ہے۔ مکہ کو ام القری کہتے تھے کیونکہ خانہ کعبہ اور حج کی وجہ سے عرب کی تمام آبادیوں کے جمع ہونے کی جگہ تھی۔ پس اس سورت کو ام القرآن کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایک ایسی سورت ہے جس میں مطالب قرآنی کی جامعیت اور مرکزیت ہے یا جو قرآن کی تمام سورتوں میں اپنی نمایاں اور مقدم جگہ رکھتی ہے۔ اساس القرآن کے معنی ہیں قرآن کی بنیاد۔ الکافیہ کے معنی ہیں ایسی چیز جو کفایت کرنے والی ہو، الکنز خزانہ کو کہتے ہیں۔ علاوہ بریں ایک سے زیادہ حدیثیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کے یہ اوصاف عہد نبوت میں عام طور پر مشہور تھے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابی بن کعب (رض) کو اس سورت کی تلقین کی اور فرمایا ” اس کے مثل کوئی سورت نہیں“۔ (ابو سعید بن معلی کی روایت میں جس کی تخریج پچھلے حاشیہ میں گزر چکی ہے، اسے اعظم سورۃ فی القرآن فرمایا ہے، اور مسند کی روایت ابن جابر میں ” اخیر“ کا لفظ ہے) سورۃ ٔ فاتحہ میں دین حق کے تمام مقاصد کا خلاصہ موجود ہے :۔ چنانچہ اس سورت کے مطالب پر نظر ڈالتے ہی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس میں اور قرآن کے بقیہ حصے میں اجمال اور تفصیل کا سا تعلق پیدا ہوگیا ہے۔ یعنی قرآن کی تمام سورتوں میں دین حق کے جو مقاصد بہ تفصیل بیان کیے گئے ہیں سورۃ فاتحہ میں انہی کا بہ شکل اجمال بیان موجود ہے۔ اگر ایک شخص قرآن میں سے اور کچھ نہ پڑھ سکے صرف اس سورت کے مطالب ذہن نشین کرلے جب بھی وہ دین حق اور خدا پرستی کے بنیادی مقاصد معلوم کرلے گا اور یہی قرآن کی تمام تفصیلات کا ماحصل ہے۔ علاوہ ازیں جب اس پہلو پر غور کیا جائے کہ سورت کا پیریہ دعائیہ ہے اور اسے روزانہ عبادت کا ایک لازمی جزوہ قرار دیا گیا ہے تو اس کی یہ خصوصیت اور زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے اور واضح ہوجاتا ہے کہ اس اجمال و تفصیل میں بہت بڑی مصلحت پوشیدہ تھی۔ مقصود یہ تھا کہ قرآن کے مفصل بیانات کا ایک مختصر اور سیدھا سادھھا خلاصہ بھی ہو جسے ہر انسان بآسانی ذہن نشین کرلے اور پھر ہمیشہ اپنی دعاؤں اور عبادتوں میں دہراتا رہے۔ یہ اس کی دینی زندگی کا دستور العمل، خدا پرستی کے عقائد کا خلاصہ اور روحانی تصورات کا نصب العین ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس سورت کا ذکر کرتے ہوئے سبعاً من المثانی کہہ کر اس کی خصوصیت کی طرف اشارہ کردیا۔ یعنی ہمیشہ دہرائے جانے اور ورد رکھنے ہی میں اس کے نزول کی حکمت پوشیدہ ہے۔ کوئی شخص کتنا ہی نادان اور ان پڑھ ہو لیکن ان چار سطروں کا یاد کرلینا اور ان کا سیدھا سادھا مطلب سمجھ لینا اس کے لیے کچھ دشوار نہیں ہوسکتا۔ اگر ایک انسان اس سے زیادہ قرآن میں سے کچھ نہ پڑھ سکا، جب بھی اس نے دین حق کا بنیادی سبق حاصل کرلیا یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان کے لیے اس سورت کا سیکھنا اور پڑھنا ناگزیر ہوا اور نماز کی دعا اس کے سوا کوئی نہ ہوسکی کہ ( لاصلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب) (صحیحین) اور اسی لیے صحابہ کرام (رض) اسے سورۃ الصلوۃ کے نام سے پکارتے تھے۔ یعنی وہ سورت جس کے بغیر نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔ ایک انسان اس سے زیادہ قرآن میں سے جس قدر پڑھے اور سیکھے مزید معرفت و بصیرت کا ذریعہ ہوگا لیکن اس سے کم کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ دین حق کا ماحصل :۔ دین حق کا تمام تر ماحصل کیا ہے؟ جس قدر غور کیا جائے گا ان چار باتوں سے باہر کوئی بات دکھائی نہ دے گی۔ (1) خدا کی صفات کا ٹھیک ٹھیک تصور، اس لیے کہ انسان کو خدا پرستی کی راہ میں جس قدر ٹھوکریں لگی ہیں صفات ہی کے تصور میں لگی ہیں۔ (2) قانون مجازات کا اعتقاد۔ یعنی جس طرح دنیا میں ہر چیز کا ایک خاصہ اور قدرتی تاثیر ہے اسی طرح انسانی اعمال کے بھی معنوی خواص اور نتائج ہیں۔ نیک عمل کا نتیجہ اچھائی ہے اور برے کا برائی۔ (3) معاد کا یقین۔ یعنی انسان کی زندگی اسی دنیا میں ختم نہیں ہوجاتی۔ اس کے بعد بھی زندگی ہے اور جزا کا معاملہ پیش آنے والا ہے (4) فلاح و سعادت کی راہ اور اس کی پہچان۔ سورۂ فاتحۃ کا اسلوب :۔ اب غور کرو کہ ان باتوں کا خلاصہ اس سورت میں کس خوبی کے ساتھ جمع کردیا گیا ہے ! ایک طرف زیادہ سے زیادہ مختصر حتی کہ گنے ہوئے الفاظ ہیں، دوسری طرف ایسے جچے تلے الفاظ کہ ان کے معانی سے پوری وضاحت اور دل نشینی پیدا ہوگئی ہے۔ ساتھ ہی نہایت سیدھا سادھا بیان ہے۔ کسی طرح کا پیچ و خم نہیں۔ کسی طرح کا الجھاؤ نہیں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا میں جو چیز جتنی زیادہ حقیقت سے قریب ہوتی ہے۔ اتنی ہی زیادہ سہل اور دلنشین بھی ہوتی ہے اور خود فطرت کا یہ حال ہے کہ کسی گوشے میں بھی الجھی ہوئی نہیں ہے۔ الجھاؤ جس قدر بھی پیدا ہوتا ہے بناوٹ اور تکلف سے پیدا ہوتا ہے۔ پس جو بات سچی اور حقیقی ہوگی ضروری ہے کہ سیدھی سادھی اور دلنشین بھی ہو۔ دل نشینی کی انتہا یہ ہے کہ جب کبھی کوئی ایسی بات تمہارے سامنے آجائے تو ذہن کو کسی طرح کی اجنبیت محسوس نہ ہو۔ وہ اس طرح قبول کرلے گویا پیشتر سے سمجھی بوجھی ہوئی بات تھی۔ اردو کے ایک شاعر نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے اب غور کرو کہ جہاں تک انسان کی خدا پرستی اور خدا پرستی کے تصورات کا تعلق ہے اس سے زیادہ سیدھی سادھی باتیں اور کیا ہوسکتی ہیں جو اس سورت میں بیان کیا ہوسکتا ہے؟ سات چھوٹے چھوٹے بول ہیں۔ ہر بول چار پانچ لفظوں سے زیادہ کا نہیں اور ہر لفظ صاف اور دل نشین معانی کا نگینہ ہے جو اس انگوٹھی میں جڑ دیا گیا ہے۔ اللہ کو مخاطب کر کے ان صفتوں سے پکارا گیا ہے جن کا جلوہ شب و روز انسان کے مشاہدے میں آتا رہتا ہے اگرچہ وہ اپنی جہالت و غفلت سے ان میں غور و تفکر نہیں کرتا۔ پھر اس کی بندگی کا اقرار، اس کی مددگاریوں کا اعتراف ہے اور زندگی کی لغزشوں سے بچ کر سیدھی راہ لگ کر چلنے کی طلبگاری ہے۔ کوئی مشکل خیال نہیں، کوئی انوکھی بات نہیں، کوئی عجیب و غریب راز نہیں۔ اب کہ ہم بار بار یہ سورت پڑھتے رہتے ہیں اور صدیوں سے اس کے مطالب نوع انسانی کے سامنے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ہمارے دینی تصورات کی ایک بہت ہی معمولی سی بات ہے لیکن یہی معمولی بات جس وقت تک دنیا کے سامنے نہیں آئی تھی اس سے زیادہ کوئی غیر معلوم اور ناقابل حل بات بھی نہ تھی۔ دنیا میں حقیقت اور سچائی کی ہر بات کا یہی حال ہے۔ جب تک سامنے نہیں آتی، معلوم ہوتا ہے اس سے زیادہ مشکل بات کوئی نہیں۔ جب سامنے آجاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے اس سے زیادہ صاف اور سہل بات اور کیا ہوسکتی ہے؟ عرفی نے یہی حقیقت ایک دوسرے پیرایے میں بیان کی ہے۔ ہر کس نشناسندۂ راز ست، وگرنہ ::: اینہا ہمہ راز ست کہ معلوم عوام ست ! دنیا میں جب کبھی وحیٔ الٰہی کی ہدایت نمودار ہوئی تو اس نے یہ نہیں کیا ہے کہ انسان کو نئی نئی باتیں سکھا دی ہوں کیونکہ خدا پرستی کے بارے میں کوئی انوکھی بات سکھائی ہی نہیں جاسکتی۔ اس کا کام صرف یہ رہا ہے کہ انسان کے وجدانی عقائد کو علم و اعتراف کی ٹھیک ٹھیک تعبیر بتا دے اور یہی سورۃ فاتحہ کی خصوصیت ہے۔ اس سورت نے نوع انسانی کے وجدانی تصورات ایک ایسی تعبیر سے سنوار دیے کہ ہر عقیدہ، ہر فکر، ہر جذبہ، اپنی حقیقی شکل و نوعیت میں نمودار ہوگیا اور چونکہ یہ تعبیر حقیقت حال کی سچی تعبیر ہے اس لیے جب کبھی ایک انسان راست بازی کے ساتھ اس پر غور کرے گا بے اختیار پکار اٹھے گا کہ اس کا ہر بول اور ہر لفظ اس کے دل و دماغ کی قدرتی آواز ہے ! دین حق کی مہمات :۔ پھر دیکھو اگرچہ اپنی نوعیت میں وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ ایک خدا پرست انسان کی سیدھی سادھی دعا ہے لیکن کس طرح اس کے ہر لفظ اور ہر اسلوب سے دین حق کا کوئی نہ کوئی اہم مقصد واضح ہوگیا ہے اور کس طرح اس کے الفاظ نہایت اہم معانی و دقائق کی نگرانی کر رہے ہیں ! (1) خدا کے تصور کے بارے میں انسان کی ایک بڑی غلط فہمی یہ رہی ہے کہ اس تصور کو محبت کی جگہ خوف و دہشت کی چیز بنا لیتا تھا۔ سورۂ فاتحہ کے سب سے پہلے لفظ نے اس گمراہی کا ازالہ کردیا۔ (الحمد للہ رب العالمین) اس کی ابتدا حمد کے اعتراف سے ہوتی ہے حمد ثنائے جمیل کو کہتے ہیں یعنی اچھی صفتوں کی تعریف کرنے کو، ثنائے جمیل اسی کی کی جاسکتی ہے جس میں خوبی و جمال ہو۔ پس حمد کے ساتھ خوف و دہشت کا تصور جمع نہیں ہوسکتا۔ جو ذات محمود ہوگی وہ خوفناک نہیں ہو سکتی۔ پھر حمد کے بعد خدا کی عالمگیر ربوبیت، رحمت اور عدالت کا ذکر کیا ہے اور اس طرح صفات الٰہی کی ایک ایسی مکمل شبیہ کھینچ دی ہے جو انسان کو وہ سب کچھ دے دیتی ہے جس کی انسانیت کے نشو و ارتقا کے لیے ضرورت ہے اور ان تمام گمراہیوں سے محفوظ کردیتی ہے جو اس راہ میں اسے پیش آسکتی ہیں۔ (2) ” رب العالمین“ میں خدا کی عالمگیر ربوبیت کا اعتراف ہے جو ہر فرد، ہر جماعت، ہر قوم، ہر ملک اور ہر گوشہ وجود کے لیے ہے۔ اس لیے یہ اعتراف ان تمام تنگ نظریوں کا خاتمہ کردیتا ہے جو دنیا کی مختلف قوموں اور نسلوں میں پیدا ہوگئی تھیں۔ اور ہر قوم اپنی جگہ سمجھنے لگی تھی کہ خدا کی برکتیں اور سعادتیں صرف اسی کے لیے ہے کسی دوسری قوم کا ان میں حصہ نہیں۔ (3) ” ملک یوم الدین“ میں ” الدین“ کا لفظ جزا کے قانون کا اعتراف ہے اور جزا کو ” دین“ کے لفظ سے تعبیر کر کے یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ جزا انسانی اعمال کے قدرتی نتائج و خواص ہیں۔ یہ بات نہیں ہے کہ خدا کا غضب و انتقام بندوں کو عذاب دینا چاہتا ہو۔ کیونکہ ” الدین“ کے معنی بدلہ اور مکافات کے ہیں۔ (4) ربوبیت اور رحمت کے بعد ” ملک یوم الدین“ کے وصف نے یہ حقیقت بھی آشکارا کردی کہ اگر کائنات میں صفاتِ رحمت و جمال کے ساتھ قہر وجلال بھی اپنی نمود رکھتی ہیں تو یہ اس لیے نہیں کہ پروردگار عالم میں غضب و انتقام ہے بلکہ اس لیے ہے کہ وہ عاد ہے اور اسکی حکمت نے ہر چیز کے لیے اس کا ایک خاصہ اور نتیجہ مقرر کردیا ہے۔ عدل منافی رحمت نہیں ہے بلکہ عین رحمت ہے۔ (5) عبادت کے لیے یہ نہیں کہا کہ نعبدک، بلکہ کہا ” ایاک نعبد“ یعنی یہ نہیں کہا کہ ” تیری عبادت کرتے ہیں“۔ بلکہ حصر کے ساتھ کہا ” صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں“۔ اور پھر اس کے ساتھ ” ایاک نستعین“ کہہ کر استعانت کا بھی اسی حصر کے ساتھ ذکر کردیا۔ اس اسلوب بیان نے توحید کے تمام مقاصد پورے کردیے اور شرک کی ساری راہیں بند ہوگئیں ! (6) سعادت و فلاح کی راہ کو ” صراط المستقیم“ یعنی سیدھی راہ سے تعبیر کیا جس کی اس سے زیادہ بہتر اور قدرتی تعبیر نہیں ہوسکتی کیونکہ کوئی نہیں جو سیدھی راہ اور ٹیڑھی راہ میں امتیاز نہ رکھتا ہو اور پہلی راہ کا خواہشمند نہ ہو۔ (7) پھر اس کے لیے ایک سیدھی سادھی اور جانی بوجھی ہوئی شناخت بتا دی جس کا اذعان قدرتی طور پر ہر انسان کے اندر موجود ہے اور جو محض ایک ذہنی تعریف ہونے کی جگہ ایک موجود و مشہود حقیقت نمایاں کردیتی ہے۔ یعنی وہ راہ جوانعام یافتہ انسانوں کی راہ ہے۔ کوئی ملک، کوئی قو، کوئی زمانہ کوئی فرد ہو، لیکن انسان ہمیشہ دیکھتا ہے کہ زندگی کی دو راہیں یہاں صاف موجود ہیں۔ ایک راہ کامیاب انسانوں کی راہ ہے، ایک ناکام انسانوں کی۔ پس ایک واضح اور آشکارا بات کے لیے سب سے بہتر علامت یہی ہوسکتی تھی کہ اس کی طرف انگلی اٹھا دی جائے۔ اس سے زیادہ کچھ کہنا ایک معلوم بات کو مجہول بنا دینا تھا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس سورت کے لیے دعا کا پیرایہ اختیار کیا گیا ہے کیونکہ اگر تعلیم و امر کا پیرایہ اختیار کیا جاتا تو اس کی نوعیت کی ساری تاثیر جاتی رہتی۔ دعائیہ اسلوب ہمیں بتاتا ہے کہ ہر راست باز انسان کی جو خدا پرستی کی راہ میں قدم اٹھاتا ہے صدائے حال کیا ہوتی ہے اور کیا ہونی چاہئے؟ یہ گویا خدا پرستی کے فکر و وجدان کا سرجوش ہے جو ایک طالب صادق کی زبان پر بے اختیار ابل پڑتا ہے۔ الفاتحة
2 (2) اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْد :۔ عربی میں حمد کے معنی ثنائے جمیل کے ہیں، یعنی اچھی صفتیں بیان کرنے کے۔ اگر کسی کی بری صفتیں بیان کی جائیں تو یہ حمد نہ ہوگی، حمد پر الف لام ہے یہ استغراق کے لیے بھی ہوسکتا ہے، جنس کے لیے بھی۔ پس ” الحمد للہ“ کے معنی یہ ہوئے کہ حمد و ثنا میں سے جو کچھ اور جیسا کچھ بھی کہا جاسکتا ہے وہ سب اللہ کے لیے ہے کیونکہ خوبیوں اور کمالوں میں سے جو کچھ بھی ہے سب اسی سے ہے اور اسی میں ہے۔ اور اگر حسن موجود ہے تو نگاہ عشق کیوں نہ ہو اور اگر محمودیت جلوہ افروز ہے تو زبان حمد و ستائش کیوں خاموش رہے؟ آئینہ ما روائے ترا عکس پذیر است ::: گر تو نہ نمائی گنہ از جانب ما نیست حَمْد سے سورت کی ابتدا کیوں کی گئی؟ اسلیے کہ معرفت الٰہی کی راہ میں انسان کا پہلا تاثر یہی ہے۔ یعنی جب کبھی ایک صادق انسان اس راہ میں قدم اٹھائے گا تو سب سے پہلی حالت جو اس کے فکر و وجدان پر طاری ہوگی وہ قدرتی طور پر وہی ہوگی جسے یہاں تحمید و ستائش سے تعبیر کیا گیا ہے۔ انسان کے لیے معرفت حق کی راہ کیا ہے؟ قرآن کہتا ہے صرف ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ ہے کہ کائنات خلقت میں تفکر و تدبر کرے۔ مصنوعات کا مطالعہ اسے صانع تک پہنچا دے گا۔ الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (188:3) اب فرض کرو، ایک طالب صادق اس راہ میں قدم اٹھاتا ہے اور کائنات خلقت کے مظاہر و آثار کا مطالعہ کرتا ہے تو سب سے پہلا اثر جو اس کے دل و دماغ پر طاری ہوگا وہ کیا ہوگا؟ وہ دیکھے گا کہ خود اس کا وجود اور اس کے وجود سے باہر کی ہر چیز ایک صانع حکیم اور مدبر قدیر کی کار فرمائیوں کی جلوہ گاہ ہے اور اس کی ربوبیت اور رحمت کا ہاتھ ایک ایک ذرہ خلقت میں صاف نظر آرہا ہے۔ پس قدرتی طور پر اس کی روح جوش ستائش اور محویت جمال سے معمور ہوجائے گی۔ وہ بے اختیار پکار اٹھے گا کہ ” الحمد للہ رب العالمین“ ساری حمد و ستائش اسی کے لیے ہے جو اپنی کار فرمائی کے ہر گوشے میں سرچشمہ رحمت و فیضان اور معنی حسن و کمال ہے ! اس راہ میں فکر انسانی کی سب سے بڑی گمراہی یہ رہی ہے کہ اس کی نظریں مصنوعات کے جلووں میں محو ہو کر رہ جاتیں اور آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرتیں۔ وہ پردوں کے نقش و نگار دیکھ کر بے خود ہوجاتا مگر اس کی جستجو نہ کرتا جس نے اپنے جمال صنعت پر یہ دل آویز پردے ڈال رکھے ہیں، دنیا میں مظاہر فطرت کی پرستش کی بنیاد اسی کوتاہ نظری سے پڑی۔ پس ” الحمد للہ“ کا اعتراف اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ کائنات ہستی کا تمام فیضان و جمال خواہ کسی گوشے اور کسی شکل میں صرف ایک صانع حقیقی کی صفتوں ہی کا ظہور ہے۔ اس لیے حسن و جمال کے لیے جتنی بھی شیفتگی ہوگی، خوبی و کمال کے لیے جتنی بھی مدحت طرازی ہوگی اور بخشش و فیضان کا جتنا بھی اعتراف ہوگا، وہ مصنوع و مخلوق کے لیے نہیں ہوگا۔ صانع و خالق ہی کے لیے ہوگا۔ عباراتنا شتی و حسنک واحد ::: وکل الی ذاک الجمال یشیر اللہ :۔ نزول قرآن سے پہلے عربی میں اللہ کا لفظ خدا کے لیے بطور اسم ذات کے مستعمل تھا جیسا کہ شعرائے جاہلیت کے کلام سے ظاہر ہے۔ یعنی خدا کی تمام صفتیں اس کی طرف منسوب کی جاتی تھیں۔ یہ کسی خاص صفت کے لیے نہیں بولا جاتا تھا۔ قرآن نے بھی یہی لفظ بطور اسم ذات کے اختیار کیا اور تمام صفتوں کو اس کی طرف نسبت دی۔ ” وللہ الاسماء الحسنی فادعوہ بہا“ (179:7) ” اور اللہ کے لیے حسن و خوبی کے نام ہیں (یعنی صفتیں ہیں) پس چاہیے کہ اسے ان صفتوں کے ساتھ پکارو ! قرآن نے یہ لفظ محض اس لیے اختیار کیا کہ لغت کی مطابقت کا مقتضا یہی تھا یا اس سے بھی زیادہ کوئی معنوی موزونیت اس میں پوشیدہ ہے؟ جب ہم اس لفظ کی معنوی دلالت پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے اس غرض کے لیے سب سے زیادہ موزوں لفظ یہی تھا۔ نوع انسانی کے دینی تصورات کا ایک قدیم عہد جو تاریخ کی روشنی میں آیا ہے۔ مظاہر فطرت کی پرستش کا عہد ہے۔ اسی پرستش نے بتدریج اصنام پرستی کی صورت اختیار کی اصنام پرستی کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ مختلف زبانوں میں بہت سے الفاظ دیوتاؤں کے لیے پیدا ہوگئے اور جوں جوں پرستش کی نوعیت میں وسعت ہوتی گئی الفاظ کا تنوع بھی بڑھتا گیا لیکن چونکہ یہ بات انسان کی فطرت کے خلاف تھی کہ ایسی ایسی ہستی کے تصور سے خالی الذہن رہے جو سے اعلی اور سب کی پیدا کرنے والی ہستی ہے اس لیے دیوتاؤں کی پرستش کے ساتھ ایک سب سے بڑی اور سب پر حکمراں ہستی کا تصور بھی کم و بیش ہمیشہ موجود رہا اور اس لیے جہاں بے شمار الفاظ دیوتاؤں اور ان کی معبودانہ صفتوں کے لیے پیدا ہوگئے وہاں کوئی نہ کوئی لفظ ایسا بھی ضرور مستعمل رہا جس کے ذریعہ اس ان دیکھی اور اعلی تریں ہستی کی طرف اشارہ کیا جاتا تھا۔ چنانچہ سامی زبانوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حروف و اصوات کی ایک خاص ترکیب ہے جو معبودیت کے معنی میں مستعمل رہی ہے۔ عبرانی، سریانی، آرامی کلدانی، حمیری، عربی و غیرہ تمام زبانوں میں اس کا یہ لغوی خاصہ پایا جاتا ہے۔ یہ الف، لام اور ہ کا مادہ ہے اور مختلف شکلوں میں مشتق ہوا ہے۔ کلدانی و سریانی کا ” الاہیا“ عبرانی کا ” الوہ“ اور عربی کا ” الہ“ اسی سے ہے اور بلاشبہ یہی ” الہ“ ہے جو حروف تعریف کے اضافہ کے بعد اللہ ہوگیا ہے اور تعریف نے اسے صرف خالق کائنات کے لیے مخصوص کردیا ہے۔ لیکن اگر اللہ ” الہ“ سے ہے تو ” الہ“ کے معنی کیا ہیں؟ علمائے لغت و اشتقاق کے مختلف اقوال ہیں مگر سب سے زیادہ قوی قول یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اصل ” الہ“ ہے اور ” الہ“ کے معنی تحیر اور درماندگی کے ہیں، بعضوں نے اسے ” ولہ“ سے ماخوذ بتایا ہے اور اس کے معنی بھی یہی ہیں پس خالق کائنات کے لیے یہ لفظ اس لیے اہم قرار پایا کہ اس بارے میں انسان جو کچھ جانتا اور جان سکتا ہے وہ عقل کے تحیر اور ادراک کی درماندگی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ وہ جس قدر بھی اس ذات مطلق کی ہستی میں غور و خوض کرے گا اس کی عقل کی حیرانی اور درماندگی بڑھتی ہی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ معلوم کرلے گا کہ اس راہ کی ابتدا بھی عجز و حیرات سے ہوتی ہے اور نتہا بھی عجز و حیرت ہی ہے ! اے بروں از وہم و قال و قیل من :: خاک بر فرق من و تمثیل من اب غور کرو خدا کی ذات کے لیے انسان کی زبان سے نکلے ہوئے لفظوں میں اس سے زیادہ موزوں لفظ اور کون سا ہوسکتا ہے؟ اگر خدا کو اس کی صفتوں سے پکارنا ہے تو بلاشبہ اس کی صفتیں بے شمار ہیں لیکن اگر صفات سے الگ ہو کر اس کی ذات کی طرف اشارہ کرنا ہے تو وہ اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ ایک متحیر کردینے والی ذات ہے اور جو کچھ اس کی نسبت کہا جاسکتا ہے وہ عجز درماندگی کے اعتراف کے سوا کچھ نہیں ہے؟ فرض کرو نوع انسانی نے اس وقت تک خدا کی ہستی یا تخلیق کائنات کی اصلیت کے بارے میں جو کچھ سوچا اور سمجھا ہے وہ سب کچھ سامنے رکھ کر ہم ایک موزوں سے موزوں لفظ تجویز کرنا چاہیں تو وہ کیا ہوگا؟ اس سے موزوں اور اس سے بہتر کوئی لفظ تجویز کیا جاسکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی اس راہ میں عرفان و بصیرت کی کوئی بڑی سے بڑی بات کہی گئی وہ یہی تھی کہ زیادہ سے زیادہ خود رفتگیوں کا اعتراف کیا گیا اور ادراک کا منتہی مرتبہ ہمیشہ یہی قرار پایا کہ ادراک کی نارسائی کا ادراک حاصل ہوجائے۔ عرفاء کے دل و زبان کی صدا ہمیشہ یہی رہی کہ ” رب زدنی فیک تحیرا“ یعنی خدا یا ایسا کر کہ تیری ہستی میں ہمارا تحیر بڑھتا رہے“ کیونکہ تحیر جہالت کا نہیں بلکہ معرفت کا ہے۔ اور حکما کی حکمت و دانش کا فیصلہ بھی ہمیشہ یہی ہوا کہ ” معلومم شد کہ ہیچ معلوم نہ شد“۔ چونکہ یہ اسم خدا کے لیے بطور اسم ذات کے استعمال میں آیا اس لیے قدرتی طور پر ان تمام صفتوں پر حاوی ہوگیا جن کا خدا کی ذات کے لیے تصور کیا جاسکتا ہے۔ اگر ہم خدا کا تصور اس کی کسی صفت کے ساتھ کریں مثلا الرب یا الرحیم کہیں تو یہ تصور صرف ایک خاص صفت ہی میں محدود ہوگا۔ یعنی ہمارے ذہن میں ایک ایسی ہستی کا تصور پیدا ہوجائے گا جس میں ربوبیت یا رحمت ہے، لیکن جب ہم اللہ کا لفظ بولتے ہیں تو فوراً ہمارا ذہن ایک ایسی ہستی کی طرف منتقل ہوجاتا ہے جو ان تمام صفات حسن و کمال سے متصف ہے جو اس کی نسبت بیان کیے گئے ہیں اور جو اس میں ہونے چاہئیں۔ (3) رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ربوبیت حمد کے بعد بالترتیب چار صفتیں بیان کی گئی ہیں (رب العالمین، الرحمن، الرحیم، مالک یوم الدین) چونکہ الرحمن اور الرحیم کا تعلق ایک ہی صفت کے دو مختلف پہلوؤں سے ہے اس لیے دوسرے لفظوں میں انہیں یوں تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ ربوبیت، رحمت، عدات، تین صفتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ الہ کی طرح ” رب“ بھی سامی زبانوں کا ایک کثیر الاستعمال مادہ ہے۔ عبرانی سریانی اور عربی تینوں زبانوں میں اس کے معنی پالنے کے ہیں اور چونکہ پرورش کی ضرورت کا احساس انسانی زندگی کے بنیادی احساسات میں سے ہے اس لیے اسے بھی قدیم ترین سامی تعبیرات میں سے سمجھنا چاہیے۔ پھر چونکہ معلم، استاد اور آقا کسی نہ کسی اعتبار سے پرورش کرنے والے ہی ہوتے ہیں اس لیے اس کا اطلاق ان معنوں میں بھی ہونے لگا۔ چنانچہ عبرانی اور آرامی کا ” ربی“ اور ” رباہ“ پرورش کنندہ، معلم اور آقا تینوں معنی رکھتا تھا اور قدیم مصری اور خالدی زبان کا ایک لفظ ” رابو“ بھی انہی معنوں میں مستعمل ہوا ہے اور ان ملکوں کی قدیم ترین سامی وحدت کی خبر دیتا ہے۔ بہرحال عربی میں ” ربوبیت“ کے معنی پالنے کے لیے ہیں لیکن پالنے کو اس کے وسیع اور کامل معنوں میں لینا چاہیے۔ اسی لیے بعض ائمہ لغت نے اس کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے۔ ” ھو انشاء الشیء حالا فحالا الی حد التمام“ (مفردات راغب اصفہانی)۔ کعنی کسی چیز کو یکے بعد دیگرے اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے مطابق اس طرح نشو ونما دیتے رہنا حتی کہ اپنی حد کمال تک پہنچ جائے۔ اگر ایک شخص بھوکے کو کھانا کھلا دے یا محتاج کو روپیہ دیدے تو یہ اس کا کرم ہوگا، جود ہوگا، احسان ہوگا لیکن وہ بات نہ ہوگی جسے ربوبیت کہتے ہیں ربوبیت کے لیے ضروری ہے کہ پرورش اور نگہداشت کا ایک جاری اور مسلسل اہتمام ہو اور ایک وجود کو اس کی تکمیل وبلوغ کے لیے وقتاً فوقتا جیسی کچھ ضرورتیں پیش آتی رہیں ان سب کا سروسامان ہوتا رہے۔ نیز ضروری ہے کہ یہ سب کچھ محبت و شفقت کے ساتھ ہو کیونکہ جو عمل محبت و شفقت کے عافطہ سے خالی ہوگا ربوبیت نہیں ہوسکتا۔ ربوبیت کا ایک ناقص نمونہ ہم اس پرورش میں دیکھ سکتے ہیں جس کا جوش ماں کی فطرت میں ودیعت کردیا گیا ہے۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو محض گوشت پوست کا ایک متحرک لوتھڑا ہوتا ہے اور زندگی اور نمو کی جتنی قوتیں بھی رکھتا ہے سب کی سب پرورش و تربیت کی محتاج ہوتی ہیں۔ یہ پرورش محبت و شفقت، حفاظ و نگہداشت اور بخشش و اعانت کا ایک طول طویل سلسلہ ہے اور اسے اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک بچہ اپنے جسم و صہن کے حد بلوغ تک نہ پہنچ جاے۔ پھر پرورش کی ضرورتیں ایک دو نہیں بے شمار ہیں۔ ان کی نوعیت ہمیشہ بدلتی رہتی ہے اور ضروری ہے کہ ہر عمر اور ہر حالت کے مطابق محبت کا جوش، نگرانی کی نگاہ اور زندگی کا سروامان ملتا ہے۔ حکمت الٰہی نے ماں کی محبت میں ربوبیت کے یہ تمام خدو خال پیدا کردیے ہیں۔ یہ ماں کی ربوبیت ہے جو پیدائش کے دن سے لے کر بلوغ تک، بچے کو پالتی، بچاتی، سنبھالتی، اور ہر حالت کے مطابق اس کی ضروریات پرورش کا سروسامان مہیا کرتی رہتی ہے۔ جب بچے کا معدہ دودھ کے سوا کسی غذا کا متحمل نہ تھا تو اسے دودھ ہی پلایا جاتا تھا۔ جب دودھ سے زیادہ قوی غذا کی ضرورت ہوئی تو ویسی ہی غذا دی جانے لگی۔ جب اس کے پاؤں میں کھڑے ہونے کی سکت نہ تھی تو ماں اسے گود میں اٹھائے پھرتی تھی۔ جب کھڑے ہونے کے قابل ہوا تو انگلی پکڑی اور ایک ایک قدم چلانے لگی۔ پس یہ بات کہ ہر حالت اور ہر ضرورت کے مطابق ضروریات مہیا ہوتی رہیں اور نگرانی و حفاظت کا ایک مسلسل اہتمام جاری رہا۔ یہ وہ صورت حال ہے جس سے ربوبیت کے مفہوم کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ مجازی ربوبیت کی یہ ناقص اور محدود مثال سامنے لاؤ اور ربوبیت الٰہی کی غیر محدود حقیقت کا تصور کرو۔ اس کے رب العالمین ہونے کے معنی یہ ہوئے کہ جس طرح اس کی خالقیت نے کائنات ہستی اور اس کی ہر چیز پیدا کی ہے اسی طرح اس کی ربوبیت نے ہر مخلوق کی پرورش کا سروسامان بھی کردیا ہے اور یہ پرورش کا سروسامان ایک ایسے عجیب و غریب نظام کے ساتھ ہے کہ ہر وجود کو زندگی اور بقا کے لیے جو کچھ مطلوب تھا وہ سب کچھ مل رہا ہے اور اس طرح مل رہا ہے کہ ہر حالت کی رعایت ہے، ہر ضرورت کا لحاظ ہے، ہر تبدیلی کی نگرانی ہے اور ہر کمی بیشی ضبط میں آچکی ہے۔ چیونٹی اپنے بل میں رینگ رہی ہے، کیڑے مکوڑے کوڑے کرکٹ میں ملے ہوئے ہیں َ مچھلیاں دریا میں تیر رہی ہیں، پرندے ہوا میں اڑ رہے ہیں، پھول باغ میں کھل رہے ہیں، ہاتھی جنگل میں دوڑ رہا ہے اور ستارے فضا میں گردش کر رہے ہیں۔ لیکن فطرت کے پاس سب کے لیے یکساں طور پر پرورش کو گود اور نگرانی کی آنکھ ہے اور کوئی نہیں جو فیضان ربوبیت سے محروم ہو۔ اگر مثالوں کی جستجو میں تھوڑی سی کاوش جائز رکھی جائے تو مخلوقات کی بے شمار قسمیں ایسی ملیں گی جو اتنی حقیر اور بے مقدار ہیں کہ غیر مسلح آنکھ سے ہم انہیں دیکھ بھی نہیں سکتے۔ (Naked Eye) غیر مسلح آنکھ جو اپنی قدرتی نگاہ سے دیکھ رہی ہو، زیادہ قوت کے ساتھ دیکھنے کا کوئی آلہ مثلاً خوردین اس کے ساتھ نہ ہو)۔ تاہم ربوبیت الٰہی نے جس طرح اور جس نظام کے ساتھ ہاتھی جیسی جسیم اور انسان جیسی عقیل مخلوق کے لیے سامان پرورش مہیا کردیا ہے، ٹھیک ٹھیک اسی طرح اور ویسے ہی نظام کے ساتھ ان کے لیے بھی زنگی اور بقا کی ہر چیز مہیا کی ہے۔ اور پھر یہ جو کچھ بھی ہے انسان کے وجود سے باہر ہے اگر انسان اپنے وجود کو دیکھے تو خود اس کی زندگی اور زندگی کا ہر لمحہ ربوبیت الٰہی کی کرشمہ سازیوں کی ایک پوری کائنات ہے ! وفی الارض ایت للموقنین وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (21-20:51) ” ان لوگوں کے لیے جو (سچائی پر) یقین رکھنے والے ہیں زمین میں (خدا کی کارفرمائیوں کی) کتنی ہی نشانیاں ہیں اور خود تمہارے وجود میں بھی، پھر کیا تم دیکھتے نہیں !“ نظام ربوبیت لیکن سامان زندگی کی بخشائش میں اور ربوبیت کے عمل میں جو فرق ہے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر دنیا میں ایسے عناصر، عناصر کی ایسی ترکیب اور اشیا کی ایسی بناوٹ موجود ہے جو زندگی اور نشو ونما کے لیے سود مند ہے تو محض اس کی موجودگی ربوبیت سے تعبیر نہیں کی جاسکتی۔ ایسا ہونا قدرت الٰہی کی رحمت ہے، بخشش ہے، احسان ہے مگر وہ بات نہیں ہے جسے ربوبیت کہتے ہیں۔ ربوبیت یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں دنیا میں سود مند اشیا کی موجودگی کے ساتھ ان کی بخشش و تقسیم کا بھی ایک نظام موجود ہے اور فطرت صرف بخشتی ہی نہیں بلکہ جو کچھ بخشتی ہے ایک مقررہ انتظام اور ایک منضبط ترتیب و مناسبت کے ساتھ بخشتی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں ہر وجود کو زندگی اور بقا کے لیے جس جس چیز کی ضرورت ھی اور جس جس وقت اور جیسی جیسی مقدار میں ضرورت تھی ٹھیک ٹھیک اسی طرح، انہی وقتوں میں اور اسی مقدار میں اسے مل رہی ہے اور اس نظم و انضباط سے تمام کارخانہ حیات چل رہا ہے۔ پانی کی بخشش و تقسیم کا نظام : زندگی کے لیے پانی اور رطوبت کی ضرورت ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پانی کے وافر ذخیر ہر طرف موجود ہیں۔ لیکن اگر صرف اتنا ہی ہوتا، تو یہ زندگی کے لیے کافی نہ تھا۔ کیونکہ زندگی کے لیے صرف یہی ضروری نہیں ہے کہ پانی موجود ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ایک خاص انتظام، ایک خاص ترتیب، اور ایک خاص مقررہ مقدار کے اتھ موجود ہو۔ پس یہ جو دنیا میں پانی کے بننے اور تقسیم ہونے کا ایک خاص انتظام پایا جاتا ہے اور فطرت صرف پانی بناتی ہی نہیں بلکہ ایک خاص ترتیب و مناسبت کے ساتھ بناتی اور ایک خاص اندازہ کے ساتھ بانٹتی رہتی ہے تو یہی ربوبیت ہے اور اسی سے ربوبیت کے تمام اعمال کا تصور کرنا چاہیے۔ قرآن کہتا ہے یہ اللہ کی رحمت ہے جس نے پانی جیسا جوہر حیات پیدا کردیا لیکن یہ اس کی ربوبیت ہے جو پانی کو ایک ایک بوند کر کے ٹپکاتی، زمین کے ایک ایک گوشے تک پہنچاتی، ایک خاص مقدار اور حالت میں تقسیم کرتی، ایک خاص موسم اور محل میں برساتی، اور پھر زمین کے ایک ایک تشنہ ذرے کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر سیراب کردیتی ہے ! وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْکَنّٰہُ فِی الْاَرْضِ ڰ وَاِنَّا عَلٰی ذَہَابٍۢ بِہٖ لَقٰدِرُوْنَ فَاَنْشَاْنَا لَکُمْ بِہٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ ۘلَکُمْ فِیْہَا فَوَاکِہُ کَثِیْرَۃٌ وَّمِنْہَا تَاْکُلُوْنَ (19-18:23) ” اور (دیکھو) ہم نے آسمان سے ایک خاص اندازے کے ساتھ پانی برسایا، پھر اسے زمین میں ٹھہرائے رکھا، اور ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ (جس طرح برسایا تھا اسی طرح) اسے واپس لے جائیں، پھر (دیکھو) اسی پانی سے ہم نے کھجوروں انگوروں کے باغ پیدا کردیے جن میں بے شمار پھل لگتے ہیں اور انہی سے تم اپنی غذا بھی حاصل کرتے ہو“ تقدیر اشیا : یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جابجا اشیا کی قدر اور مقدار کا ذکر کیا ہے۔ یعنی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ فطرت کائنات جو کچھ بخشتی ہے ایک خاص اندازے کے ساتھ بخشتی ہے اور یہ اندازہ ایک خاص قانون کے ما تحت ٹھہرایا ہوا ہے۔ وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَاۗیِٕنُہٗ ۡ وَمَا نُنَزِّلُہٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (21:15) ” اور کوئی شے نہیں جس کے ہمارے پاس ذخیرے موجود نہ ہوں لیکن ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ جو کچھ نازل کرتے ہیں ایک مقررہ مقدار میں نازل کرتے ہیں“ وکل شیء عندہ بمقدار (8:13) ” اور اللہ کے نزدیک ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر ہے“ انا کل شیء خلقنہ بقدر (49:54) ” ہم نے جتنی چیزیں بھی پیدا کی ہیں ایک اندازے کے ساتھ پیدا کی ہیں“ یہ کیا بات ہے کہ دنیا میں صرف یہی نہیں ہے کہ پانی موجود ہے بلکہ ایک خاص نظم و ترتیب کے ساتھ موجود ہے؟ یہ کیوں ہے کہ پہلے سورج کی شعاعوں نے سمندر سے ڈول بھر بھر کر فضا میں پانی کی چادریں بچھا دیں پھر ہواؤں کے جھونکے انہیں حرکت میں لائیں اور اپنی کی بوندیں بنا کر ایک خاص وقت اور خاص محل میں برسا دیں؟ پھر یہ کیوں ہے کہ جب کبھی پانی برسے تو ایک خاص ترتیب اور مقدار ہی سے برسے اور اس طرح برسے کہ زمین کی بالائی سطح پر اس کی خاص مقدار بہنے لگے اور اندرونی حصوں تک ایک خاص مقدار میں نمی پہنچے؟ کیوں ایسا ہو کہ پہلے پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف کے تودے جمتے ہیں پھر موسم کی تبدیلی سے پگھلنے لگتے ہیں پھر ان کے پگھلنے سے پانی کے سرچشمنے ابلنے لگتے ہیں پھر چشموں سے دریا کی جدولیں بہنے لگتی ہیں پھر یہ جدولیں پیچ و خم کھاتی ہوئی دور دور تک دوڑ جاتی ہیں اور سیکڑوں ہزاروں میلوں تک اپنی وادیاں شاداب کرد یتی ہیں؟ کیوں یہ سب کچھ ایسا ہی ہوا؟ کیوں کر ایسا نہ ہوا کہ پانی موجود ہوتا مگر اس انتظام اور ترتیب کے ساتھ نہ ہوتا؟ قرآن کہتا ہے : اس لیے کہ کائنات ہستی میں ربوبیت الٰہی کار فرما ہے اور ربوبیت کا مقتضا یہی تھا کہ پانی اسی ترتیب سے بنے اور اسی ترتیب و مقدار سے تقسیم ہو، یہ رحمت و حکمت تھی جس نے پانی پیدا کیا مگر یہ ربوبیت ہے جو اسے اس طرح کام میں لائی کہ پرورش اور رکھوالی کی تمام ضرورتیں پوری ہوگئیں۔ اَللّٰہُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُہٗ فِی السَّمَاۗءِ کَیْفَ یَشَاۗءُ وَیَجْعَلُہٗ کِسَفًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہٖ ۚ فَاِذَآ اَصَابَ بِہٖ مَنْ یَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖٓ اِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ (48:30) ” یہ اللہ ہی کی کار فرمائی ہے کہ پہلے ہوائیں چلتی ہیں پھر ہوائیں بادلوں کو چھیڑ کر حرکت میں لاتی ہیں پھر وہ جس طرح چاہتا ہے انہیں فضا میں پھیلا دیتا ہے اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ بادلوں میں سے مینہ نکل رہا ہے۔ پھر جن لوگوں کو بارش کی یہ برکت ملنی تھی مل چکتی ہے تو وہ اچانک خوش وقت ہوجاتے ہیں“ عناصر حیات : پھر اس حقیقت پر بھی غور کرو کہ زندگی کے لیے جن چیزوں کی سب سے زیادہ ضرورت تھی انہی کی بخشائش سب سے زیادہ اور عام ہے اور جن کی ضرورت خاص خاص حالتوں اور گوشوں کے لیے تھی انہی میں اختصاص اور مقامیت پائی جاتی ہے۔ ہوا سب سے زیادہ ضروری تھی کیونکہ پانی اور غذا کے بغیر کچھ عرصہ تک زندگی ممکن ہے مگر ہوا کے بغیر ممکن نہیں۔ پس اس کا سامان اتنا وافر اور عام ہے کہ کوئی جگہ کوئی گوشہ اور کوئی وقت نہیں جو اس سے خالی ہو۔ فضا میں ہوا کا بے حد و کنار سمندر پھیلا ہوا ہے۔ جب کبھی اور جہاں کہیں سانس لو زندگی کا یہ سب سے زیادہ ضروری جوہر تمہارے لیے خود بخود مہیا ہوجائے گا۔ ہوا کے بعد دوسرے درجے پر پانی ہے، وجعلنا من الماء کل شیء حی، اس لیے اس کی بخشائش کی فراوانی و عمومیت ہوا سے کم مگر ہر چیز سے زیادہ ہے۔ زمین کے نیچے آب شیریں کی سوتیں بہہ رہی ہیں۔ زمین کے اوپر بھی ہر طرف دریا رواں دواں ہیں پھر ان دونوں ذخیروں کے علاوہ فضائے آسمانی کا بھی کارخانہ ہے جو شب و روز سرگرم کار رہتا ہے۔ وہ سمندر کا شورابہ کھینچتا رہتا ہے اور اسے صاف و شریں بنا کر جمع کرتا رہتا ہے پھر حسب ضرورت زمین کے حوالے کردیتا ہے ! پانی کے بعد غذا کی ضرورت تھی لہذا ہوا اور اپنی سے کم مگر اور تمام چیزوں سے زیادہ اس کا دسترخوان کرم بھی خشکی و تری میں بچھا ہوا ہے، اور کوئ مخلوق نہیں جس کے گرد و پیش اس کی غذا کا ذخیرہ نہ ہو۔ نظام پرورش : پھر سامان پروش کے اس عالمگیر نظام پر غور کرو جو اپنے ہر گوشہ عمل میں پروردگی کی گود اور بخشش حیات کا سرچشمہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا یہ تمام کارخانہ صرف اسی لیے بنا ہے کہ زندگی بخشنے اور زندگی کی ہر استعداد کی رکھوالی کرے۔ روشن سورج اس لیے ہے کہ روشنی کے لیے چراغ کا اور گرمی کے لیے تنور کا کام دے اور اپنی کرنوں کے ڈول بھر بھر کر سمندر سے پانی کھینچتا رہے۔ ہوائیں اس لیے ہیں کہ اپنی سردی اور گرمی سے مطلوبہ اثرات پیدا کرتی رہیں۔ اور کبھی پانی ذرات جما کر ابر کی چادریں بنا دیں۔ کبھی ابر کو پانی بنا کر بارش برسا دیں۔ زمین اس لیے کہ نشوونما کے خزانوں سے ہمیشہ معمور رہے اور ہر دانے کے لیے اپنی گد میں زندگی اور ہر پودے کے لیے اپنے سینہ میں پروردگری رکھے۔ مختصر یہ کہ کارخانہ ہستی کا ہر گوشہ صرف اسی کام میں لگا ہوا ہے۔ ہر قوت استعداد ڈھونڈ رہی اور ہر تاثیر اثر پذیری کے انتظار میں ہے۔ جونہی کسی وجود میں بڑھنے اور نشوونما پانے کی استعداد پیدا ہوتی ہے معاً تمام کارخانہ ہستی اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ سورج کی تمام کار فرمائیاں، فضا کے تمام تغیرات، زمین کی تمام قوتیں، عناصر کی تمام سرگرمیاں صرف اس اتنظار میں رہتی ہیں کہ کب چیونٹی کے انڈے سے ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور کب دہقان کی جھولی سے زمین پر ایک دانہ گرتا ہے۔ وَسَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ ۭ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (13:45) ” اور آسمان و زمین میں جو کچھ بھی ہے سب کو اللہ نے تمہارے لیے مسخر کردیا ہے۔ بلاشبہ ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں اس بات میں (معرفت حقیقت کی) بڑی ہی نشانیاں ہیں“ نظام ربوبیت کی وحدت : سب سے زیادہ عجیب مگر سب سے زیادہ نمایاں حقیقت نظام ربوبیت کی یکسانیت اور ہم آہنگی ہے۔ یعنی ہر وجود کی پرورش کا سروسامان جس طرح اور جس اسلوب پر کیا گیا ہے وہ ہر گرشے میں ایک ہی ہے اور ایک ہی اصل و قاعدہ رکھتا ہے۔ پتھر کا ایک ٹکڑا تمہیں گلاب کے شاداب اور عطر بیز پھول سے کتنا ہی مختلف دکھائی دے لیکن دونوں کی پرورش کے اصول و احوال پر نظر ڈالو گے تو صاف نظر آجائے گا کہ دونوں کو ایک ہی طریقے سے سامان پرورش ملا ہے اور دونوں ایک ہی طرح پالے پوسے جا رہے ہیں۔ انسان کا بچہ اور درخت کا پودا تمہاری نظروں میں کتنی بے جوڑ چیزیں ہیں؟ لیکن اگر ان کی نشوونما کے طریقوں کا کھوج لگاؤگے تو دیکھ لو گے کہ قانون پروش کی یکسانیت نے دونوں کو ایک ہی رشتے میں منسلک کردیا ہے۔ پتھر کی چٹان ہو یا پھول کی کلی، انسان کا بچہ ہو یا چیونٹی کا انڈا، سب کے لیے پیدائش ہے اور قبل اس کے کہ پیدائش ظہور میں آئے سامان پرورش مہیا ہوجاتا ہے۔ پھر طفولیت کا دور ہے اور اس دور کی ضروریات ہیں۔ انسان کا بچہ بھی اپنی طفولیت رکھتا ہے درخت کے مولود نباتی کے لیے بھی طفولیت ہے اور تمہاری چشم ظاہر بین کے لیے کتنا ہی عجیب کیوں نہ ہو لیکن پتھر کی چٹان اور مٹی کا تودہ بھی اپنی اپنی طفولیت رکھتا ہے۔ پھر طفولیت رشد و بلوغ کی طرف بڑھتی ہے اور جوں جوں بڑھتی جاتی ہے اس کی روز افزوں حالت کے مطابق یکے بعد دیگرے سامان پرورش میں بھی تبدیلیاں ہوتی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ ہر وجود اپنے سن کمال تک پہنچ جاتا ہے اور جب سن کمال تک پہنچ گیا تو از سر نو ضعف و انحطاط کا دور شروع ہوجاتا ہے پھر اس ضعف و انحطاط کا خاتمہ بھی سب کے لیے ایک ہی طرح ہے۔ کسی دائرے میں اسے مرجانا کہتے ہیں کسی میں مرجھا جانا اور کسی میں پامال ہوجانا۔ الفاظ متعدد ہوگئے مگر حقیقت میں تعدد نہیں ہوا۔ اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّۃٍ ﮨـعْفًا وَّشَیْبَۃً ۭ یَخْلُقُ مَا یَشَاۗءُ ۚ وَہُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ (54:30) ” یہ اللہ ہی کی کار فرمائی ہے کہ اس نے تمہیں اس طرح پیدا کیا کہ پہلے ناتوانی کی حالت ہوتی ہے پھر ناتوانی کے بعد قوت آتی ہے پھر قوت کے بعد دوبارہ ناتوانی اور بڑھاپا ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ وہ علم اور قدرت رکھنے والا ہے“ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَلَکَہٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُہٗ ثُمَّ یَہِیْجُ فَتَرٰیہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُہٗ حُطَامًا ۭ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ (21:39) ” کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پھر زمین میں اس کے چشمے رواں ہوگئے پھر اسی پانی سے رنگ برنگ کی کھیتیاں لہلہا اٹھیں پھر ان کی نشوونما میں ترقی ہوئی اور پوری طرح پک کر تیار ہوگئیں پھر (ترقی کے بعد زوال طاری ہوا اور) تم دیکھتے ہوں کہ ان پر زردی چھا گئی پھر بالآخر خشک ہو کر چورا چورا ہوگئی۔ بلاشبہ دانشمندوں کے لیے اس صورت حال میں بڑی ہی عبرت ہے“ جہاں تک غذا کا تعلق ہے حیوانات میں ایک قسم ان جانوروں کی ہے جن کے بچے دودھ سے پرورش پاتے ہیں اور ایک ان کی ہے جو عام غذاؤں سے پرورش پاتے ہیں۔ غور کرو نظام ربوبیت نے دونوں کی پرورش کے لیے کیسا عجیب سروسامان مہیا کردیا ہے؟ دودھ سے پرورش پانے والے حیوانات میں انسان بھی داخل ہے۔ سب سے پہلے انسان اپنی ہی ہستی کا مطالعہ کرے۔ جونہی وہ پیدا ہوتا ہے اس کی غذا اپنی ساری خاصیتوں، مناسبتوں، اور شرطوں کے ساتھ خود بخود مہیا ہوجاتی ہے اور ایسی جگہ مہیا ہوتی ہے جو حالت طفولیت میں اس کے لیے سب سے قریب تر اور سب سے موزوں جگہ ہے۔ ماں بچے کو جوش محبت میں سینے سے لگا لیتی ہے اور وہیں اس کی غذا کا سرچشمہ بھی موجود ہوتا ہے ! پھر دیکھو اس غذا کی نوعیت اور مزاج میں اس کی حالت کا درجہ بدرجہ کس قدر لحاظ رکھا گیا ہے اور کس طرح یکے بعد دیگرے اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے؟ ابتدا میں بچے کا معدہ اتنا کمزور ہوتا ہے کہ اسے بہت ہی ہلکے قوام کا دودھ ملنا چاہیے۔ چنانچہ نہ صرف انسان میں بلکہ تمام حیوانات میں ماں کا دودھ بہت ہی پتلے قوام کا ہوتا ہے لیکن جوں جوں بچے کی عمر بڑھتی جاتی ہے اور معدہ قوی ہوتا جاتا ہے دودھ کا قوام میں بھی بدلتا جاتا ہے اور مائعیت کے مقابلہ میں دہنیت بڑھتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ بچے کا عہد رضاعت پورا ہوجاتا ہے اور اس کا معدہ عام غذاؤں کے ہضم کرنے کی استعداد پیدا کرلیتا ہے۔ جونہی اس کا وقت آتا ہے ماں کا دودھ خشک ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ گویا ربوبیت الٰہی کا اشارہ ہوتا ہے کہ اب اس کے لیے دودھ کی ضرورت نہیں رہی ہر طرح کی غذائیں استعمال کرسکتا ہے وحملہ و فصالہ ثلثوان شھرا (15:64) ” اور حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت (کم از کم) تیس مہینوں کی“ پھر ربوبیت الٰہی کی اس کارسازی پر غور کرو کہ کس طرح ماں کی فطرت میں بچے کی محبت ودیعت کردی گئی ہے اور کس طرح اس جذبے کو طبیعت بشری کے تمام جذبات میں سب سے زیادہ پر جوش اور سب سے زیادہ ناقابل تسخیر بنا دیا گیا ہے؟ دنیا کی کون سی قوت ہے جو اس جو چھ کا مقابلہ کرسکتی ہے جس کو ماں کی مامتا کہتے ہیں؟ جس بچے کی پیدائش اس کے لیے زندگی کی سب سے بڑی مصیبت تھی : حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا (15:46) ” اس کی ماں نے اسے تکلیف کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور تکلیف کے ساتھ جنا“ اسی کی محبت اس کے اندر زندگی کا سب سے بڑا جذبہ مشتعل کردیتی ہے۔ جب تک بچہ سن بلوغ تک نہیں پہنچ جاتا وہ اپنے لیے نہیں بلکہ بچے کے لیے زندہ رہنا چاہتی ہے۔ زندگی کی کوئی خود فراموشی نہیں جو اس پر طاری نہ ہوتی ہو اور راحت و آسائش کی کوئی قربانی نہیں جس سے اسے گریز ہو۔ حب ذات جو فطرت انسانی کا سب سے زیادہ طاقتور جذبہ ہے اور جس کے انفعالات کے بغیر کوئی مخلوق زندہ نہیں رہ سکتی وہ بھی اس جذبہ خود فراموشی کے مقابلہ میں مضمحل ہو کر رہا جاتا ہے۔ یہ بات کہ ایک ماں نے بچے کے مجنونانہ عشق میں اپنی زندگی قربان کردی فطرت مادری کا اسا معمولی واقعہ ہے جو ہمیشہ پیش آتا رہتا ہے اور ہم اس میں کسی طرح کی غرابت محسوس نہیں کرتے۔ لیکن پھر دیکھو کارساز فطرت کی یہ کیسی کرشمہ سازی ہے کہ جوں جوں بچے کی عمر بڑھتی جاتی ہے محبت مادری کا یہ شعلہ خود بخود دھیما پڑتا جاتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے جب حیوانات میں تو بالکل ہی بجھ جاتا ہے اور انسان میں بھی اس کی گرم جوشیاں باقی نہیں رہتیں۔ یہ انقلاب کیوں ہوتا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ بچے کے پیدا ہوتے ہیں محبت کا ایک عظیم ترین جذبہ جنبش میں آجائے اور پھر ایک خاص وقت تک قائم رہ کر خود بخود غائب ہوجائے؟ اس لیے کہ یہ نظام ربوبیت کی کار فرمائی ہے۔ اور اس کا مقتضا یہی تھا۔ ربوبیت چاہتی ہے کہ بچے کی پرورش ہو۔ اس نے پرورش کا ذریعہ ماں کے جذبہ محبت میں رکھ دیا تھا۔ جب بچے کی عمر اس حد تک پہنچ گئی کہ ماں کی پرورش کی احتیاج باقی نہ رہی تو اس ذریعے کی بھی ضرورت باقی نہ رہی اب اس کا باقی رہنا ماں کے لیے بوجھ اور بچے کے لیے رکاوٹ ہوتا۔ بچے کی احتیاج کا سب سے نازک وقت اس کی نئی نئی طفولیت تھی اس لیے ماں کی محبت میں بھی سب سے زیادہ جوش اسی وقت تھا پھر جوں جوں بچہ بڑھتا گیا احتیاج کم ہوتی گئی۔ اسلیے محبت کی گرم جوشیاں بھی گھٹتی گئیں۔ فطرت نے محبت مادری کا دامن بچے کی احتیاج پرورش سے باندھ دیا تھا۔ جب احتیاج زیادہ تھی تو محبت کی سرگرمی بھی زیادہ تھی۔ جب احتیاج کم ہوگئی تو محبت بھی تغافل کرنے لگی۔ (انسان میں ماں کی محبت بلوغ کے بعد بھی بدستور باقی رہتی ہے اور بعض حالتوں میں اس کے انفعالات اتنے شدید ہوتے ہیں کہ عہد طفولیت کی محبت میں اور بعد کی محبت میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا، لیکن یہ صورت حال غالباً انسان کی مدنی و عقلی زندگی کے نشوونما کا نتیجہ ہے نہ کہ فطرت حیوانی کا۔ ابتدائی انسان میں بھی یہ علاقہ فطرۃً اسی حد تک ہوگا کہ بچہ سن تمیز تک پہنچ جائے۔ لیکن بعد کونسل و خاندان کی تشکیل اور اجتماعی احساسات کی ترقی سے مادری رشتہ میں ایک دائمی رشتہ بن گیا) جن حیوانات کے بچے انڈوں سے پیدا ہوتے ہیں ان کی جسمانی ساخت اور طبیعت دودھ والے حیوانات سے مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اول دن ہی سے معمولی غذائیں کھا سکتے ہیں بشرطیکہ کھلانے کے لیے کوئی شفیق نگرانی موجود ہو۔ چنانچہ تم دیکھتے ہو کہ بچہ انڈے سے نکلتے ہی غذا ڈھونڈنے لگتا ہے اور ماں چن چن کر اس کے سامنے ڈالتی اور منہ میں لے لے کر کھانے کی تلقین کرتی ہے یا ایسا کرتی ہے کہ خود کھا لیتی ہے مگر ہضم نہیں کرتی اپنے اندر نرم اور ہلکا بنا کر محفوظ رکھتی ہے اور جب بچہ غذا کے لیے منہ کھولتا ہے تو اس کے اندر اتار دیتی ہے۔ ربوبیت معنوی پھر اس سے بھی عجیب تر نظام ربوبیت کا معنوی پہلو ہے۔ خارج میں زندگی اور پرورش کا کتنا ہی سر و سامان کیا جاتا لیکن وہ کچھ مفید نہیں ہوسکتا تھا اگر ہر وجود کے اندر اس سے کام لینے کی ٹھیک ٹھیک استعداد نہ ہوتی اور اس کے ظاہری و باطنی قوی اس کا ساتھ نہ دیتے۔ پس یہ ربوبیت ہی کا فیضان ہے کہ ہم دیکھتے ہیں ہر مخلوق کی ظاہری و باطنی بناوٹ اس طرح کی واقع ہوئی ہے کہ اس کی ہر قوت، اس کے سامان پرورش کی نوعیت کے مطابق ہوتی ہے، اور اس کی ہر چیز نے اسے زندہ رہنے اور نشوونما پانے میں مدد دیتی ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی مخلوق اپنے جسم و قوی کی ایسی نوعیت رکھتی ہو جو اس کے حالات پرورش کے مقتضیات کے خلاف ہو۔ اس سلسلے میں جو حقائق مشاہدہ و تفکر سے نمایاں ہوتے ہیں ان میں دو باتیں سب سے زیادہ نمایاں ہیں اس لیے جابجا قرآن حکیم نے ان پر توجہ دلائی ہے۔ ایک کو وہ تقدیر سے تعبیر کرتا ہے دوسری کو ہدایت سے۔ تقدیر : تقدیر کے معنی اندازہ کردینے کے ہیں۔ یعنی کسی چیز کے لیے ایک خاص طرح کی حالت ٹھہرا دینے کے۔ خواہ یہ ٹھہراؤ کمیت میں ہو یا کیفیت میں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ فطرت نے ہر وجود کی جسمانی ساخت اور معنوی قوی کے لیے ایک خاص طرح کا اندازہ ٹھہرا دیا ہے جس سے وہ باہر نہیں جاسکتا اور یہ اندازہ ایسا ہے جو اس کی زندگی اور نشوونما کے تمام احوال ظروف سے ٹھیک ٹھیک مناسبت رکھتا ہے : وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا (2:25) ” اور اس نے تمام چیزیں پیدا کیں، پھر ہر چیز کے لیے (اس کی حالت اور ضرورت کے مطابق) ایک خاص اندازہ ٹھہرا دیا“۔ یہ کیا چیز ہے کہ ہر گرد و پیش میں اور اس کی پیداوار میں ہمیشہ مطابقت پائی جاتی ہے اور یہ ایک ایسا قانون خلقت ہے جو کبھی متغیر نہیں ہوسکتا؟ یہ کیوں ہے کہ ہر مخلوق اپنی ظاہری و باطنی بناوٹ میں ویسی ہی ہوتی ہے جیسا اس کا گرد و پیش ہے اور ہر گرد و پیش ویسا ہی ہوتا ہے جیسی اس کی مخلوق ہوتی ہے؟ یہ اس حکیم وقدیر کی ٹھہرائی ہوئی تقدیر ہے اور اس نے ہر چیز کی خلقت و زندگی کے لیے ایسا ہی اندازہ مقرر کردیا ہے۔ اس کا یہ قانون تقدیر صرف حیوانات و نباتا ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ کائنات ہستی کی ہر چیز کے لیے ہے۔ ستاروں کا یہ پورا نظام گردش بھی اسی تقدیر کی حد بندوں پر قائم ہے۔ (والشمس تجری لمستقر لھا ذلک تقدیر العزیز العلیم) (38:36) ” اور (دیکھو) سورج کے لیے جو قرار گاہ ٹھہرا دی گئی ہے وہ اسی پر چلتا ہے۔ اور یہ عزیز و علیم خدا کی اس کے لیے تقدیر ہے“ مخلوقات اور اس کے گرد و پیش کی مطابقت کا یہی قانون ہے جس نے دونوں میں باہم دگر مناسبت پیدا کردی ہے اور ہر مخلوق اپنے چاروں طرف وہی پاتی ہے جس میں اس کے لیے پرورش اور نشوونما کا سامان ہوتا ہے پرند کا جسم اڑنے والا ہے، مچھلی کا تیرنے والا، چارپایوں کا چلنے والا اور حشرات کا رینگنے والا، اس لیے کہ ان میں سے ہر نوع کا گرد و پیش ویسے ہی جسم کے لیے موزوں ہے جیسا اسے ملا ہے اور اس لیے کہ ان میں سے ہر نوع کی جسمانی ساخت ویسا ہی گرد و پیش چاہتی ہے جیسا گرد و پیش اسے حاصل ہے۔ دریا میں پرند پیدا نہیں ہوتا اس لیے کہ وہ گرد و پیش اس کے لیے مفید پرورش نہیں۔ خشکی میں مچھلیاں پیدا نہیں ہوسکتیں کیونکہ خشکی ان کے لیے موزوں نہیں۔ اگر فطرت کی اس تقدیر کے خلاف ایک خاص گرد و پیش کی مخلوق دوسرے قسم کے گرد و پیش میں چلی جاتی ہے تو یا تو وہاں زندہ نہیں رہتی یا رہتی ہے تو پھر بتدریج اس کی جسمانی ساخت اور طبعیت بھی ویسی ہی ہوجاتی ہے، جیسی اس گرد و پیش میں ہونی چاہئے۔ پھر ان میں سے ہر نوع کے لیے مقامی مؤثرات کے مختلف گرد و پیش کا یہی حال ہے۔ سرد آب و ہوا کی پیداوار سرد آب و ہوا ہی کے لیے ہے۔ گرم کی گرم کے لیے۔ قطب شمالی کے قرب و جوار کا ریچھ خط استوا کے قرب میں نظر نہیں آسکتا اور منطقہ حارہ کے جانور منطقہ باردہ میں معدوم ہیں۔ ہدایت : ہدایت کے معنی راہ دکھانے، راہ پر لگادینے اور رہنمائی کرنے کے ہیں اور اس کے مختلف مراتب اور اقسام ہیں۔ تفصیل آگے آئے گی۔ یہاں صرف اس مرتبہ ہدایت کا ذکر کرنا ہے جو تمام مخلوقات پر ان کی پرورش کی راہیں کھولتا، انہیں زندگی کی راہ پر لگاتا اور ضروریات زندگی کی طلب و حصول میں رہنمائی کرتا ہے۔ فطرت کی یہ ہدایت ربوبیت کی ہدایت ہے اور اگر ہدایت ربوبیت کی دستگیری نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ کوئی مخلوق بھی دنیا کے سامان حیات و پرورش سے فائدہ اٹھا سکتی اور زندگی کی سرگرمیاں ظہور میں آسکتیں۔ لیکن ربوبیت الٰہی کی یہ ہدایت کیا ہے؟ قرآن کہتا ہے یہ وجدان کا فطری الہام اور حواس و ادراک کی قدرتی استعداد ہے۔ وہ کہتا ہے یہ فطرت کی وہ رہنمائی ہے جو ہر مخلوق کے اندر پہلے وجدان کا الہام بن کر نمودار ہوتی ہے پھر حواس و ادراک کا چراغ روشن کردیتی ہے۔ یہ ہدایت کے مختلف مراتب میں سے وجدان اور ادراک کی ہدایت کے مراتب ہیں۔ ہدایت و وجدان : وجدان کی ہدایت یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں ہر مخلوق کی طبیعت میں کوئی ایسا اندرونی الہام موجود ہے جو اسے زندگی اور پرورش کی راہوں پر خود بخود لگا دیتا ہے اور وہ باہر کی رہنمائی و تعلیم کی محتاج نہیں ہوتی۔ انسان کا بچہ ہو یا حیوان کا، جونہی شکم مادر سے باہر آتا ہے خود بخود معلوم کرلیتا ہے کہ اس کی غذا ماں کے سینے میں ہے اور جب پستان منہ میں لیتا ہے تو جانتا ہے کہ اسے زور زور سے چوسنا چاہیے۔ بلی کے بچوں کو ہم ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ ابھی ابھی پیدا ہوئے ہیں، ان کی آنکھیں بھی نہیں کھلی ہیں، لیکن ماں جوش محبت میں انہیں چاٹ رہی ہے، وہ اس کے سینے پر منہ مار رہے ہیں۔ یہ بچہ جس نے عالم ہستی میں ابھی ابھی قدم رکھا ہے جسے خارج کے موثرات نے چھوا تک نہیں کس طرح معلوم کرلیتا ہے کہ اسے پستان منہ میں لے لینا چاہیے اور اس کی غذا کا سرچشمہ یہیں ہے؟ وہ کون سا فرشتہ ہے جو اس وقت اس کے کان میں پھونک دیتا ہے کہ اسطرح اپنی غذا حاصل کرلے؟ یقیناً وہ وجدانی ہدایت کا فرشتہ ہے اور یہی وجدانی ہدایت ہے جو قبل اس کے کہ حواس و ادراک کی روشنی نمودار ہو ہر مخلوق کو اس کی پرورش و زندگی کی راہوں پر لگا دیتی ہے۔ تمہارے گھر میں پلی ہوئی بلی ضرور ہوگی۔ تم نے دیکھا ہوگا کہ بلی اپنی عمر میں پہلی مرتبہ حاملہ ہوئی ہے اس حالت کا اسے کوئی پچھلا تجربہ حاصل نہیں۔ تاہم اس کے اندر کوئی چیز ہے جو اسے بتا دیتی ہے کہ تیاری و حفاظت کی سرگرمیاں شروع کردینی چاہییں۔ جونہی وضع حمل کا وقت قریب آتا ہے، خود بخود اس کی توجہ ہر چیز کی طرف سے ہٹ جاتی ہے اور کسی محفوظ گوشے کی جستجو شروع کردیتی ہے۔ تم نے دیکھا ہوگا کہ مضطرب الحال بلی مکان کا ایک ایک کونا دیکھتی پھرتی ہے۔ پھر وہ خود بخود ایک سب سے محفوظ اور علیحدہ گوشہ چھانٹ لیتی ہے اور وہاں بچہ دیتی ہے۔ پھر یکایک اس کے اندر بچے کی حفاظت کی طرف سے ایک مجہول خطرہ پیدا ہوجاتا ہے اور وہ یکے بعد دیگرے اپنی جگہ کی اسے ضرورت ہوگی؟ یہ کون سا الہام ہے جو اسے خبردار کردیتا ہے کہ بلا بچوں کا دشمن اور ان کی بو سونگھتا پھرتا ہے اس لیے جگہ بدلتے رہنا چاہیئے؟ بلاشبہ یہ ربوبیت الٰہی کی وجدانی ہدایت ہے۔ جس کا الہام ہر مخلوق کے اندر اپنی نمود رکھتا ہے اور جو ان پر زندگی اور پرورش کی تمام راہیں کھول دیتا ہے۔ ہدایت حواس : ہدایت کا دوسرا مرتبہ حواس اور مدرکات ذہنی کی ہدایت ہے اور وہ اس درجہ واضح و معلوم ہے کہ تشریح کی ضرورت نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اگرچہ حیوانات اس جوہر دماغ سے محروم ہیں جسے فکر و عقل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تاہم فطرت نے انہیں احساس و ادراک کی وہ تمام قوتیں دے دی ہیں جن کی زندگی و معیشت کے لیے ضرورت تھی اور ان کی مدد سے وہ اپنے رہنے سہنے، کھانے پینے، توالد و تناسل اور حفاظت و نگرانی کے تمام وظائف حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیتے رہتے ہیں۔ پھر حواس و ادراک کی یہ ہدایت ہر حیوان کے لیے ایک ہی طرح کی نہیں ہے بلکہ ہر وجود کو اتنی ہی اور ویسی ہی استعداد دی گئی ہے جتنی اور جیسی استعداد اس کے احوال و ظروف کے لیے ضروری تھی۔ چیونٹی کی قوت شامہ نہایت دور رس ہوتی ہے اس لیے کہ اسی قوت کے ذریعے وہ اپنی غذا حاصل کرسکتی ہے۔ چیل اور عقاب کی نگاہ تیز ہوتی ہے کیونکہ اگر ان کی نگاہ تیز نہ ہو تو بلند میں اڑتے ہوئے اپنا شکار دیکھ نہ سکیں۔ یہ سوال بالکل غیر ضروری ہے کہ حیوانات کے حواس و ادراک کی یہ حالت اول دن سے تھی یا احوال و ظروف کی ضروریات اور قانون مطابقت کے مؤثرات سے بتدریج ظہور میں آئی۔ اس لیے کہ خواہ کوئی صورت ہو بہرحال فطرت کی بخشی ہوئی استعداد ہے اور نشو وارتقا کا قانون بھی فطرت ہی کا ٹھہرایا ہوا قانون ہے۔ چنانچہ یہی مرتبہ ہدایت ہے جس کو قرآن نے ربوبیت الٰہی کی وحی سے تعبیر کیا ہے۔ عربی میں وحی کے معنی مخفی ایما اور اشارے کے ہیں۔ یہ گویا فطرت کی وہ اندرونی سرگوشی ہے جو مخلوق پر اس کی راہ عمل کھول دیتی ہے۔ (واوحی ربک الی النحل ان اتخذی من الجبال بیوتا ومن الشجر ومما یعرشون) (68:16) ” اور (دیکھو) تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ان ٹٹیوں میں جو اس غرض سے بلند کی جاتی ہیں اپنے لیے چھتے بنائے“ اور یہی وہ ربوبیت الٰہی کی ہدایت ہے جس کی طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی اشارہ کیا گیا ہے۔ فرعون نے جب پوچھا (من ربکما یموسی) تمہارا پروردگار کون ہے؟ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی) (50:20) ” ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی بناوٹ دی، پھر اس پر (زندگی و معیشت کی) راہ کھول دی“۔ اور پھر یہی وہ ہدایت ہے جسے دوسری جگہ ” راہ عمل آسان کردینے“ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ (من ای شیء خلقہ، من نطفۃ، خلقہ فقدرہ، ثم السبیل یسرہ) (20-18:80) ” اس نے انسان کو کس چیز سے پیدا کیا؟ نطفہ سے پیدا کیا۔ پھر اس (کی تمام ظاہری وباطنی قوتوں) کے لیے ایک اندازہ ٹھہرا دیا، پھر اس پر (زندگی و عمل کی) راہ آسان کردی۔ یہی (ثم السبیل یسرہ) یعنی راہ عمل آسان کردینا، وجدان و ادراک کی ہدایت ہے جو تقدیر کے بعد ہے۔ کیونکہ اگر فطرت کی رہنمائی نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ ہم اپنی ضروریات زندگی حاصل کرسکتے۔ آگے چل کر تمہیں معلوم ہوگا کہ قرآن نے تکوین وجود کے جو چار مرتبے بیان کیے ہیں ان میں سے تیسرا اور چوتھا مرتبہ یہی تقدیر اور ہدایت کا مرتبہ ہے۔ یعنی تخلیق، تسویہ، تقدیر، ہدایت۔ (الذی خلق فسوی، والذی قدر فہدی) (3-2:87) ” وہ پروردگار عالم جس نے پیدا کیا پھر اسے ٹھیک ٹھیک درست کردیا اور جس نے ہر وجود کے لیے ایک اندازہ ٹھہرا دیا پھر اس پر راہ (عمل) کھول دی“ براہین قرآنیہ کا مبدء استدلال چنانچہ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے خدا کی ہستی اور اس کی توحید و صفات پر جا بجا نظام ربوبیت سے استدلال کیا ہے اور یہ استدلال اس کے مہمات دلائل میں سے ہے۔ لیکن قبل اس کے کہ اس کی تشریح کی جائے مناسب ہوگا کہ قرآن کے طریق استدلال کی بعض مبادیات واضح کردی جائیں۔ کیونکہ مختلف اسباب سے جن کی تشریح کا یہ موقع نہیں مطالب قرآنی کا یہ گوشہ سب سے زیادہ مہجور ہوگیا ہے اور ضرورت ہے کہ از سر نو حقیقت گم گشتہ کا سراغ لگایا جائے۔ دعوت تعقل : قرآن کے طریق استدلال کا اولین مبدء تعقل و تفکر کی دعوت ہے۔ یعنی وہ جابجا اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کے لیے حقیقت شناسی کی راہ یہی ہے کہ خدا کی دی ہوئی عقل و بصیرت سے کام لے اور اپنے وجود کے اندر اور اپنے وجود کے باہر جو کچھ بھی محسوس کرسکتا ہے اس میں تدبر و تفکر کرے۔ چنانچہ قرآن کی کوئی سورت اور سورت کا کوئی حصہ نہیں جو تفکر و تعقل کی دعوت سے خالی ہو۔ وفی الارض آیات للموقنین، وفی انفسکم افلا تبصرون (51: 20-21) ” اور یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں (معرفت حق کی) نشانیاں ہیں اور خود تمہارے وجود میں بھی پھر کیا تم دیکھتے نہیں؟ وہ کہتا ہے انسان کو عقل و بصیرت دی گئی ہے اس لیے وہ اس قوت کے ٹھیک ٹھیک استعمال کرنے نہ کرنے کے لیے جواب دہ ہے۔ ’ ان السمع والبصر و الفؤاس کل اولئک کان عنہ مسئولا : یقیناً (انسان کا) سننا، دیکھنا، سوچنا، سب اپنی اپنی جگہ جواب دہی رکھتے ہیں“ (17:36) وہ کہتا ہے زمین کی ہر چیز میں، آسمان کے ہر منظر میں اور زندگی کے ہر تغیر میں فکر انسانی کے لیے معرفت حقیقت کی نشانیاں ہیں بشرطیکہ وہ غفلت و اعراض میں مبتلا نہ ہوجائے ” وکاین من ایۃ فی السموات والارض یمرون علیہا وھم عنہا معرضون : اور آسمان و زمین میں (معرفت حق کی) کتنی ہی نشانیاں ہیں لیکن (افسوس انسان کی غفلت پر !) لوگ ان پر سے گزر جاتے ہیں اور نظر اٹھا کر دیکھتے تک نہیں“ (105:12) تخلیق بالحق : اچھا ! اگر انسان عقل و بصیرت سے کام لے اور کائنات خلقت میں تفکر کرے تو اس پر حقیقت شناسی کا کون سا دروزہ کھلے گا؟ وہ کہتا ہے، سب سے پہلی حقیقت جو اس کے سامنے نمودار ہوگی وہ تخلیق بالحق کا عالمگیر اور بنیادی قانون ہے۔ یعنی وہ دیکھے گا کہ کائنات خلقت اور اس کی ہر چیز کی بناوٹ کچھ اس طرح کی واقع ہوئی ہے کہ ہر چیز ضبط وترتیب کے ساتھ ایک خاص نظام و قانون میں منسلک ہے اور کوئی شے نہیں جو حکمت و مصلحت سے خالی ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سب کچھ تخلیق بالباطل ہو۔ یعنی بغیر کسی معین اور ٹھہرائے ہوئے مقصد و نظم کے وجود میں آگیا ہو۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ اس نظم، اس یکسانیت، اس وقت کے ساتھ اس کی ہر بات کسی نہ کسی حکمت ومصلحت کے ساتھ بندھی ہوئی ہوتی ” خلق اللہ السموات والارض بالحق ان فی ذلک لایۃ للمومنین : اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو حکمت اور مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور بلاشبہ اس بات میں ارباب ایمان کے لیے (معرفت حق کی) ایک بڑی ہی نشانی ہے“ (44:29) آل عمران کی مشہور آیت میں ان ارباب دانش کی جو آسمان و زمین کی خلقت میں تفکر کرتے ہیں صدائے حال یہ بتائی ہے ” ربنا ماخلقت ھذا باطلا : اے ہمارے پروردگار ! یہ سب کچھ تو نے اس لیے نہیں پیدا کیا ہے کہ محض ایک بیکار و عبث سا کام ہو“ (191:3) دوسری جگہ ” تخلیق بالباطل“ کو تلعب سے تعبیر کیا ہے۔ ” تلعب“ یعنی کوئی کام کھیل کود کی طرح بغیر کسی معقول غرض و مدعا کے کرنا۔ ” وما خلقنا السموات والارض وما بینھما لعبین۔ ماخلقناھما الا بالحق ولکن اکثرہم لا یعلمون : اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے محض کھیل اور تماشہ کرتے ہوئے نہیں پیدا کیا ہے۔ ہم نے انہیں نہیں پیدا کیا مگر حکمت و مصلحت کے ساتھ۔ مگر اکثر انسان ایسے ہیں جو حقیقت کا علم نہیں رکھتے“ (44: 38-39) پھرجا بجا اس ” تخلیق بالحق“ کی تشریح کی ہے۔ مثلا ایک مقام پر ” تخلیق بالحق“ کے اس پہلو پر توجہ دلائی ہے کہ کائنات کی ہر چیز افادہ فیضان کے لیے ہے اور فطرت چاہتی ہے کہ جو کچھ بنائے اس طرح بنائے کہ اس میں وجود اور زندگی کے لیے نفع اور راحت ہو ” خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَـقِّ ۚ یُکَوِّرُ الَّیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ۭ اَلَا ہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ : اس نے آسمانوں اور زمین کو حکمت و مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے اس نے رات اور دن کے اختلاف اور ظہور کا ایسا انتظام کردیا کہ رات دن پر لپٹی جاتی ہے اور دن رات پر لپٹا آتا ہے۔ اور سورج اور چاند دونوں کو اس کی قدرت نے مسخر کررکھا ہے۔ سب (اپنی اپنی جگہ) اپنے مقررہ وقت تک کے لیے گردش کر رہے ہیں“ (5:39) ایک دوسرے موقع پر خصوصیت کے ساتھ اجرام سماویہ کے افادہ و فیضان پر توجہ دلائی ہے اور اسے ” تخلیق بالحق“ سے تعبیر کیا ہے ” ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِیْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالْحَقِّ ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ : وہ (کار فرمائے قدرت) جس نے سورج کر درخشندہ اور چاند کو روشن بنایا اور پھر چاند کی گردش کے لیے منزلیں ٹھہرا دیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور اوقات کا حساب معلوم کرلو۔ بلاشبہ اللہ نے یہ سب کچھ پیدا نہیں کیا ہے مگر حکمت و مصلحت کے ساتھ۔ وہ ان لوگوں کے لیے جو جاننے والے ہیں (علم و معرفت کی) نشانیاں الگ الگ کر کے واضح کردیتا ہے“ (5:10) ایک اور موقع پر فطرت کے جمال وزیبائی کی طرف اشارہ کیا ہے اور اسے ” تخلیق بالحق“ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی فطرت کائنات میں تحسین و آرائش کا قانون کام کر رہا ہے جو چاہتا ہے، جو کچھ بنے، ایسا بنے کہ اس میں حسن و جمال اور خوبی و کمال ہو ” خلق السموت والارض بالحق وصورکم فاحسن صورکم : اس نے آسمانوں کو اور زمین کو حکمت و مصلحت کے ساتھ پیدا کیا اور تمہاری صورتیں بنائی تو نہایت حسن و خوبی کے ساتھ بنائیں“ (3:64) اسی طرح وہ قانون مجازات پر (یعنی جزا و سزا کے قانون پر) بھی اسی ” تخلیق بالحق“ سے استشہاد کرتا ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ دنیا میں ہر چیز کوئی نہ کوئی خاصہ اور نتیجہ رکھتی ہے اور یہ تمام خواص اور نتائج لازمی اور اٹل ہیں۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ انسان کے اعمال میں بھی اچھے اور برے خواص اور نتائج نہ ہوں اور وہ قطعی اور اٹل نہ ہوں؟ جو قانون فطرت دنیا کی ہر چیز میں اچھے برے کا امتیاز رکھتا ہے کیا انسان کے اعمال میں اس امتیاز سے غافل ہوجائے گا؟ ” اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَہُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَاۗءً مَّحْیَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْ ۭ سَاۗءَ مَا یَحْکُمُوْنَ وَخَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ : جو لوگ برائیاں کرتے ہیں، کیا وہ سمجھتے ہیں ہم انہیں ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور جن کے اعمال اچھے ہیں؟ یعنی دونوں برابر ہوجائیں، زندگی میں بھی اور موت میں بھی؟ (اگر ان لوگوں کے فہم و دانش کا فیصلہ یہی ہے تو) کیا ہی برا ان کا فیصلہ ہے ! اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو حکمت و مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس لیے پیدا کیا ہے کہ ہر جان اپنی کمائی کے مطابق بدلہ پا لے اور ایسا نہیں ہوگا کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہو“ معاد یعنی مرنے کے بعد کی زندگی پر بھی اس سے جا بجا استشہاد کیا ہے۔ کائنات میں ہر چیز کوئی نہ کوئی مقصد اور منتہی رکھتی ہے۔ پس ضروری ہے کہ انسانی وجود کے لیے بھی کوئی نہ کوئی مقصد اور منتہی ہو۔ یہی منتہیٰ آخرت کی زندگی ہے۔ کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ کائنات ارضی کی یہ بہترین مخلوق صرف اسی لیے پیدا کی گئی ہو کہ پیدا ہو اور چند دن جی کر فنا ہوجائے ” اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ ۣ مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ۭ وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاۗیِٔ رَبِّہِمْ لَکٰفِرُوْنَ : کیا ان لوگوں نے کبھی اپنے دل میں اس بات پر غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے محض بیکار و عبث نہیں بنایا ہے۔ ضروری ہے کہ حکمت و مصلحت کے ساتھ بنایا ہو۔ اور اس کے لیے ایک مقررہ و وقت ٹھہرا دیا ہو۔ اصل یہ ہے کہ انسانوں میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے پروردگار کی ملاقات سے یک قلم منکر ہیں“ (8:30) مبدء استدلال : غرض کہ قرآن کا مبدء استدلال یہ ہے کہ : (١) اس کے نزول کے وقت دین داری اور خدا پرستی کے جس قدر عام تصورات موجود تھے وہ نہ صرف عقل کی آمیزش سے خالی تھے بلکہ ان کی تمام تر بنیاد غیر عقلی عقائد پر آ کر ٹھہر گئی تھی۔ لیکن اس نے خدا پرستی کے لیے عقلی تصور پیدا کیا۔ (٢) اس کی دعوت کی تمام تر بنیاد تعقل و تفکر پر ہے، اور وہ خصوصیت کے ساتھ کائنات و خلقت کے مطالعہ و تفکر کی دعوت دیتا ہے۔ (٣) وہ کہتا ہے کہ کائنات خلقت کے مطالعہ و تفکر سے انسان پر ” تخلیق بالح“ کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ یعنی وہ دیکھتا ہے کہ اس کارخانہ ہستی کی کوئی چیز نہیں جو کسی ٹھہرائے ہوئے مقصد اور مصلحت سے خالی ہو اور کسی بالا تر قانون خلقت کے ماتحت ظہور میں نہ آئی ہو۔ یہاں جو چیز بھی اپنا وجود رکھتی ہے ایک خاص نظم و ترتیب کے ساتھ حکمتوں اور مصلحتوں کے عالمگیر سلسلہ میں بندھی ہوئی ہے (٤) وہ کہتا ہے کہ جب انسان مقاصد و مصالح پر غور کرے گا تو عرفان حقیقت کی راہ خود بخود اس پر کھل جائے گی اور جہل و کوری کی گمراہیوں سے نجات پا جائے گا۔ برہان ربوبیت چنانچہ اس سلسلے میں اس نے مظاہر کائنات کے جن مقاصد و مصالح سے استدلال کیا ہے ان میں سب سے زیادہ عام استدلال ربوبیت کا استدلال ہے اور اسی لیے ہم اسے برہان ربوبیت سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کائنات کے تمام اعمال و مظاہر کا اس طرح واقع ہونا کہ ہر چیز پرورش کرنے والی اور ہر تاثیر زندگی بخشنے والی ہے اور پھر ایک ایسے نظام ربوبیت کا موجود ہونا جو ہر حالت کی رعایت کرتا اور ہر طرح کی مناسبت ملحوظ رکھتا ہے۔ ہر انسان کو وجدانی طور پر یقین دلا دیتا ہے کہ ایک پروردگار عالم ہستی موجود ہے اور وہ ان تمام صفتوں سے متصف ہے جن کے بغیر نظام ربوبیت کا یہ کامل اور بے عیب کارخانہ وجود میں نہیں آسکتا تھا۔ وہ کہتا ہے : کیا انسان کا وجدان یہ باور کرسکتا ہے کہ نظام ربوبیت کا یہ پورا کارخانہ خود بخود وجود میں آجائے اور کوئی زندگی، کوئی ارادہ کوئی حکمت اس کے اندر کار فرما نہ ہو؟ کیا یہ ممکن ہے کہ اس کارخانہ ہستی کی ہر چیز میں ایک بولتی ہوئی پروردگاری اور ایک ابھری ہوئی کارسازی موجود ہو مگر کوئی پروردگار، کوئی کارساز موجود نہ ہو؟ پھر کیا یہ محض ایک اندھی بہری فطرت، بے جان مادہ، اور بے حس الیکٹرون (Electrons) کے خواص ہیں جن سے پروردگار و کارسازی کا یہ پورا کارخانہ ظہور میں آگیا ہے؟ اور عقل اور ارادہ رکھنے والی کوئی ہستی موجود نہیں؟ پروردگاری موجود ہے، مگر کوئی پروردگار موجود نہیں ! کارسازی موجود ہے، مگر کوئی کارساز موجود نہیں ! رحمت موجود ہے، مگر کوئی رحیم موجود نہیں ! حکمت موجود ہے مگر کوئی حکیم موجود نہیں ! سب کچھ موجود ہے، مگر کوئی موجود نہیں ! عمل بغیر کسی عامل کے، نظم بغیر کسی ناظم کے، قیام بغیر کسی قیوم کے، عمارت بغیر کسی معمار کے، نقش بغیر کسی نقاش کے، سب کچھ بغیر کسی موجود کے۔ نہیں، انسان کی فطرت کبھی یہ باور نہیں کرسکتی۔ اس کا وجدان پکارتا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں اس کی فطرت اپنی بناوٹ میں ایک ایسا سانچا لے کر آئی ہے جس میں یقین و ایمان ہی ڈھل سکتا ہے۔ شک اور انکار کی اس میں سمائی نہیں ! قرآن کہتا ہے، یہ بات انسان کے وجدانی اذعان کے خلاف ہے کہ وہ نظام ربوبیت کا مطالعہ کرے اور ایک ” رب العالمین“ ہستی کا یقین اس کے اندر جاگ نہ اٹھے۔ وہ کہتا ہے : ایک انسان غفلت کی سرشاری اور سرکشی کے ہیجان میں ہر چیز سے انکار کرسکتا ہے لیکن اپنی فطرت سے انکار نہیں کرسکتا۔ وہ ہر چیز کے خلاف جنگ کرسکتا ہے لیکن اپنی فطرت کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھا سکتا۔ وہ جب اپنے چاروں طرف زندگی اور پروردگاری کا ایک عالمگیر کارخانہ پھیلا ہوا دیکھتا ہے تو اس کی فطرت کی صدا کیا ہوتی ہے؟ اس کے دل کے ایک ایک ریشے میں کون سا اعتقاد سمایا ہوتا ہے؟ کیا یہی نہیں ہوتا کہ ایک پروردگار ہستی موجود ہے اور یہ سب کچھ اسی کی کرشمہ سازیاں ہیں؟ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کا اسلوب بیان یہ نہیں ہے کہ نظری مقدمات اور ذہنی مسلمات کی شکلیں ترتیب دے اور پھر اس پر بحث و تقریر کر کے مخاطب کو رد و تسلیم پر مجبور کرے اس کا تمام تر خطاب انسان کے فطری وجدان و ذوق سے ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے : خدا پرستی کا جذبہ انسانی فطرت کا خمیر ہے۔ اگر ایک انسان اس سے انکار کرنے لگتا ہے تو یہ اس کی غفلت ہے اور ضروری ہے کہ اسے غفلت سے چونکا دینے کے لیے دلیلیں پیش کی جائیں۔ لیکن یہ دلیل ایسی نہیں ہونی چاہیے جو محض ذہن و دماغ میں کاوش پیدا کردے بلکہ ایسی ہونی چاہیے جو اس کے نہاں خانہ دل پر دستک دے اور اس کا فطری وجدان بیدار کردے۔ اگر اس کا وجدان بیدار ہوگیا تو پھر اثبات مدعا کے لیے بحث و تقریر کی ضرورت نہ ہوگی۔ خود اس کا وجدان ہی اسے مدعا تک پہنچا دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن خود انسان کی فطرت ہی سے انسان پر حجت لاتا ہے ” بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ ولو القی معاذیرہ : بلکہ انسان کا وجود خود اس کے خلاف (یعنی اس کی کج اندیشیوں کے خلاف) حجت ہے اگرچہ وہ (اپنے وجدان کے خلاف) کتنے ہی عذر بہانے تراش لیا کرے“ (75 : 10-14) اور اسی لیے وہ جابجا فطرت انسانی کو مخاطب کرتا اور اس کی گہرائیوں سے جواب طلب کرتا ہے ” قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ یُّخْرِجُ الْـحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَمَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰہُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۔ فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ ۚ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ښ فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ : وہ کون ہے جو آسمان (میں پھیلے ہوئے کارخانہ حیات) سے اور زمین (کی وسعت میں پیدا ہونے والے سامان رزق) سے تمہیں روزی بخش رہا ہے؟ وہ کون ہے جس کے قبضہ میں تمہارا سننا اور دیکھنا ہے؟ وہ کون ہے جو بے جان سے جاندار کو اور جاندار سے بے جان کو نکالتا ہے؟ اور پھر وہ کونسی ہستی ہے جو یہ تمام کارخانہ خلقت اس نظم و نگرانی کے ساتھ چلا رہی ہے؟ (اے پیغمبر ! یقینا وہ (بے اختیار) بول اٹھیں گے اللہ ہے (اس کے سوا کون ہوسکتا ہے) اچھا تم ان سے کہو جب تمہیں اس بات سے انکار نہیں تو پھر یہ کیوں ہے کہ غفلت و سرکشی سے نہیں بچتے ! ہاں بیشک یہ اللہ ہی ہے جو تمہارا پروردگار برحق ہے اور جب یہ حق ہے تو حق کے ظہور کے بعد اسے نہ ماننا گمراہی نہیں تو اور کیا ہے؟ (افسوس تمہاری سمجھ پر) تم (حقیقت سے منہ پھیر کر) کہاں جا رہے ہو؟“ (یونس :31-32) ایک دوسرے موقع پر فرمایا : ” السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ وَأَنْزَلَ لَکُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِہِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَہْجَۃٍ مَا کَانَ لَکُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَہَا أَإِلَہٌ مَعَ اللَّہِ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ یَعْدِلُونَ (٦٠)أَمَّنْ جَعَلَ الأرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلالَہَا أَنْہَارًا وَجَعَلَ لَہَا رَوَاسِیَ وَجَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا أَإِلَہٌ مَعَ اللَّہِ بَلْ أَکْثَرُہُمْ لا یَعْلَمُونَ (٦١)أَمَّنْ یُجِیبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوءَ وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَاءَ الأرْضِ أَإِلَہٌ مَعَ اللَّہِ قَلِیلا مَا تَذَکَّرُونَ (٦٢)أَمَّنْ یَہْدِیکُمْ فِی ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ یُرْسِلُ الرِّیَاحَ بُشْرًا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہِ أَإِلَہٌ مَعَ اللَّہِ تَعَالَی اللَّہُ عَمَّا یُشْرِکُونَ (٦٣)أَمَّنْ یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُہُ وَمَنْ یَرْزُقُکُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالأرْضِ أَإِلَہٌ مَعَ اللَّہِ قُلْ ہَاتُوا بُرْہَانَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ (٦٤): وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور جس نے آسمان سے تمہارے لیے پانی برسایا پھر اس آب پاشی سے خوشنما باغ اگا دیے حالانکہ تمہارے بس کی یہ بات نہ تھی کہ ان باغوں کے درخت اگاتے؟ کیا (ان کاموں کا کرنے والا) اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی ہے؟ (افسوس ان لوگوں کی سمجھ پر ! حقیقت حال کتنی ہی ظاہر ہو) مگر یہ وہ لوگ ہیں جن کا شیوہ ہی کج روی ہے ! اچھا ! بتلاؤ وہ کون ہے جس نے زمین کو (زندگی و معیشت کا) ٹھکانا بنا دیا، اس کے درمیان نہریں جاری کردیں، اس (کی درستگی) کے لیے پہاڑ بلند کردیے، دو دریاؤں میں (یعنی دریا اور سمندر میں ایسی) دیوار حائل کردی (کہ دونوں اپنی اپنی جگہ محدود رہتے ہیں) کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا بھی ہے؟ (افسوس ! کتنی واضح بات ہے) مگر ان لوگوں میں اکثر ایسے ہیں جو نہیں جانتے ! اچھا بتلاؤ: وہ کون ہے جو بے قرار دلوں کی پکار سنتا ہے جب وہ (ہر طرف سے مایوس ہو کر) اسے پکارنے لگتے ہیں اور ان کا درد دکھ ٹال دیتا ہے؟ اور وہ کہ اس نے تمہیں زمین کا جانشین بنایا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا بھی ہے؟ (افسوس تمہاری غفلت پر !) بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ تم نصیحت پذیر ہو ! اچھا ! بتلاؤ: وہ کون ہے جو صحراؤں اور سمندروں کی تاریکیوں میں تمہاری رہنمائی کرتا ہے؟ وہ کون ہے جو بارانِ رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلا دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا بھی معبود ہے؟ ( ہرگز نہیں !) اللہ کی ذات اس ساجھے سے پاک و منزہ ہے جو یہ لوگ اس کی معبودیت میں ٹھہرا رہے ہیں ! اچھا بتلاؤ وہ کون ہے جو مخلوقات کی پیدائش شروع کرتا ہے اور پھر اسے دہراتا ہے، اور وہ کون ہے جو آسمان و زمین کے کارخانہ ہائے رزق سے تمہیں روزی دے رہا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی ہے؟ (اے پیغمبر !) ان سے کہو اگر تم (اپنے رویہ میں) سچے ہو (اور انسانی عقل و بصیرت کی اس عالمگیر شہادت کے خلاف تمہارے پاس کوئی دلیل ہے) تو اپنی دلیل پیش کرو !“ (نمل : 60-64) ان سوالات میں سے ہر سوال اپنی جگہ ایک مستقل دلیل ہے کیونکہ ان میں سے ہر سوال کا صرف ایک ہی جواب ہوسکتا ہے اور وہ فطرت انسانی کا عالمگیر اور مسلمہ اذعان ہے۔ ہمارے متکلموں کی نظر اس پہلو پر نہ تھی اس لیے قرآن کا اسلوب استدلال ان پر واضح نہ ہوسکا اور دور دراز گوشوں میں بھٹک گئے۔ بہرحال قرآن کے وہ بے شمار مقامات جن میں کائنات ہستی کے سروسامان پرورش اور نظام ربوبیت کی کارسازیوں کا ذکر کیا گیا ہے دراصل اسی استدلال پر مبنی ہیں : ” فَلْیَنْظُرِ الإنْسَانُ إِلَی طَعَامِہِ (٢٤)أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا (٢٥) ثُمَّ شَقَقْنَا الأرْضَ شَقًّا (٢٦) فَأَنْبَتْنَا فِیہَا حَبًّا (٢٧) وَعِنَبًا وَقَضْبًا (٢٨) وَزَیْتُونًا وَنَخْلا (٢٩) وَحَدَائِقَ غُلْبًا (٣٠) وَفَاکِہَۃً وَأَبًّا (٣١) مَتَاعًا لَکُمْ وَلأنْعَامِکُمْ (٣٢): انسان اپنی غذا پر نظر ڈالے (جو شب و روز اس کے استعمال میں آتی رہتی ہے) ہم پہلے زمین پر پانی برساتے ہیں، پھر اس کی سطح شق کردیتے ہیں، پھر اس کی روئیدگی سے طرح طرح کی چیزیں پیدا کردیتے ہیں۔ اناج کے دانے، انگور کی بیلیں، کھجور کے خوشے، سبزی، ترکاری، زیتون کا تیل، درختوں کے جھنڈ، قسم قسم کے میوے، طرح طرح کا چارہ (اور یہ سب کچھ کس کے لیے) تمہارے فائدے کے لیے اور تمہارے جانوروں کے لیے“ (عبس :24-32) ان آیات میں فَلْیَنْظُرِ الإنْسَانُ کے زور پر غور کرو۔ انسان کتنا ہی غافل ہوجائے اور کتنا ہی اعراض کرے لیکن دلائل حقیقت کی وسعت اور ہمہ گیری کا یہ حال ہے کہ کسی حال میں بھی اس سے اوجھل نہیں ہوسکتیں۔ ایک انسان تمام دنیا کی طرف سے آنکھیں بند کرلے لیکن بہرحال اپنی شب و روز کی غذا کی طرف سے تو آنکھیں بند نہیں کرسکتا جو غذا اس کے سامنے دھری ہے اسی پر نظر ڈالے۔ یہ کیا ہے؟ گیہوں کا دانہ ہے۔ اچھا ! گیہوں کا ایک دانہ اپنی ہتھیلی پر رکھ لو اور اس کی پیدائش سے لے کر اس کی پختگی و تکمیل تک کے تمام احوال ظروف پر غور کرو۔ کیا یہ حقیر سا ایک دانہ بھی وجود میں آسکتا تھا اگر تمام کارخانہ ہستی ایک خاص نظم و ترتیب کے ساتھ اس کی بناوٹ میں سرگرم نہ رہتا؟ اور اگر دنیا میں ایک ایسا نظام ربوبیت موجود ہے تو کیا یہ ہوسکتا ہے کیہ ربوبیت رکھنے والی ہستی موجود نہ ہو؟ سورۃ نحل میں یہی استدلال ایک دوسرے پیرایہ میں نمودار ہوا ہے : ” وَإِنَّ لَکُمْ فِی الأنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُسْقِیکُمْ مِمَّا فِی بُطُونِہِ مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِینَ (٦٦) وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِیلِ وَالأعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْہُ سَکَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَۃً لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ (٦٧) وَأَوْحَی رَبُّکَ إِلَی النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِی مِنَ الْجِبَالِ بُیُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعْرِشُونَ (٦٨) ثُمَّ کُلِی مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُکِی سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلا یَخْرُجُ مِنْ بُطُونِہَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہُ فِیہِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَۃً لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ (٦٩): اور (دیکھو یہ) چارپائے (جنہیں تم پالتے ہو) ان میں تمہارے لیے غور کرنے اور نتیجہ نکالنے کی کتنی بڑی عبرت ہے؟ ان کے جسم سے ہم خون و کثافت کے درمیان دودھ پیدا کردیتے ہیں جو پینے والوں کے لیے بے غل و غش مشروب ہوتا ہے (اسی طرح) کھجور اور انگور کے پھل ہیں جن سے نشہ کا عرق اور اچھی غذا دونوں طرح کی چیزیں حاصل کرتے ہو۔ بلاشبہ اس بات میں ارباب عقل کے لیے (ربوبیت الٰہی کی) بڑی ہی نشانی ہے !۔ اور پھر (دیکھو) تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کی طبیعت میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ان ٹٹیوں میں جو اس غرض سے بلند کردی جاتی ہیں، اپنے لیے گھر بنائے، پھر ہر طرح کے پھولوں سے رس چوسے، پھر اپنے پروردگار کے ٹھہرائے ہوئے طریقوں پر کامل فرمانبرداری کے ساتھ گامزن ہو (چنانچہ تم دیکھتے ہو کہ) اس کے شکم سے مختلف رنگتوں کا رس نکلتا ہے، جس میں انسان کے لیے شفا ہے۔ بلاشبہ اس بات میں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں (ربوبیت الٰہی کی عجائب آفرینیوں کی) بڑی ہی نشانی ہے !“ (النحل :66-69) جس طرح اس نے جابجا خلقت سے استدلال کیا ہے۔ یعنی دنیا میں ہچیز مخلوق ہے، اس لیے ضروری ہے کہ خالق بھی ہو۔ اسی طرح وہ ربوبیت سے بھی استدلال کرتا ہے۔ یعنی دنیا میں ہر چیز مربوب ہے اس لیے ضروری ہے کہ کوئی رب بھی ہو۔ اور دنیا میں ربوبیت کامل اور بے داگ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہ رب کام اور بے عیب ہو۔ زیادہ واضح لفظوں میں اسے یوں ادا کیا جاسکتا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں، دنیا میں ہر چیز ایسی ہے کہ اسے پرورش کی احتیاج ہے، اور اسے پرورش مل رہی ہے۔ پس ضروری ہے کہ کوئی پرورش کرنے والا بھی موجود ہو، یہ پرورش کرنے والا کون ہے؟ یقیناً وہ نہیں ہوسکتا جو خود پروردہ اور محتاج پروردگارہو۔ قرآن میں جہاں کہیں اس طرح کے مخاطبات ہیں جیسا کہ سورۃ واقعہ کی مندرجہ ذیل آیات میں ہے، وہ اسی استدلال پر مبنی ہیں : ”أَفَرَأَیْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ (٦٣)أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَہُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ (٦٤) لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاہُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَکَّہُونَ (٦٥)إِنَّا لَمُغْرَمُونَ (٦٦) بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ (٦٧)أَفَرَأَیْتُمُ الْمَاءَ الَّذِی تَشْرَبُونَ (٦٨)أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوہُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ (٦٩) لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاہُ أُجَاجًا فَلَوْلا تَشْکُرُونَ (٧٠)أَفَرَأَیْتُمُ النَّارَ الَّتِی تُورُونَ (٧١)أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَہَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ (٧٢) نَحْنُ جَعَلْنَاہَا تَذْکِرَۃً وَمَتَاعًا لِلْمُقْوِینَ (٧٣): اچھا ! تم نے اس بات پر غور کیا کہ جو کچھ تم کاشت کاری کرتے ہو اسے تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں اور تم صرف یہ کہنے کے لیے رہ جاؤ کہ افسوس، ہمیں تو اس نقصان کا تاوان ہی دینا پڑے گا بلکہ ہم تو اپنے محنت کے سارے فائدوں ہی سے محروم ہوگئے۔ اچھا تم نے یہ بات بھی دیکھی کہ یہ پانی جو تمہارے پینے میں آتا ہے اسے کون برساتا ہے؟ تم برساتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے (سمندر کے پانی کی طرح) کڑوا کردیں۔ پھر کیا اس نعمت کے لیے ضروری نہیں کہ تم شکر گزار ہو؟ اچھا ! تم نے یہ بات بھی دیکھی کہ یہ آگ جو تم سلگاتے ہو تو اس کے لیے لکڑی تم نے پیدا کی ہے یا ہم پیدا کر رہے ہیں؟ ہم نے اس کو یاد دہانی کا ذریہ اور حاجت مندوں کے لیے سامان زیست بنایا ہے“ (واقعہ :63-73) نظام ربوبیت سے توحید پر استدلال : اسی طرح وہ نظام ربوبیت سے توحید الٰہی پر استدلال کرتا ہے۔ جو رب العالمین تمام کائنات کی پرورش کر رہا ہے اور جس کی ربوبیت کا اعتراف تمہارے دل کے ایک ایک ریشے میں موجود ہے اس کے کون اس کا مستحق ہوسکتا ہے کہ بندگی و نیاز کا سر اس کے آگے جھکایا جائے؟ ”یَا أَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ (٢١) الَّذِی جَعَلَ لَکُمُ الأرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِہِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّہِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (٢٢): اے افراد نسل انسانی ! اپنے پروردگار کی عبادت کرو، اس پروردگار کی جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان سب کو بھی پیدا کیا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور اس لیے پیدا کیا تاکہ تم برائیوں سے بچو۔ وہ پروردگار عالم جس نے تمہارے لیے زمین فرش کی طرح بچھا دی اور آسمان چھت کی طرح بنا دیا اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے طرح طرح کے پھل پیدا کردیے تاکہ تمہارے لیے رزق کا سامان ہو۔ پس (جب خالقیت اسی کی خالقیت ہے اور ربوبیت اسی کی ربوبیت، تو) ایسا نہ کرو کہ کسی دوسری ذات کو اس کا ہم پلہ ٹھہراؤ اور تم اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہو !“ (البقرہ :21-22) یا مثلاً سورۃ فاطر میں ہے : ”یَا أَیُّہَا النَّاسُ اذْکُرُوا نِعْمَۃَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ ہَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللَّہِ یَرْزُقُکُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالأرْضِ لا إِلَہَ إِلا ہُوَ فَأَنَّی تُؤْفَکُونَ : اے افراد نسل انسانی ! اللہ نے اپنی جن نعمتوں سے تمہیں فیض یاب کیا ہے ان پر غور کرو، کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا بھی خالق ہے جو تمہیں زمین اور آسمان کی بخشایشوں سے رزق دے رہا ہے؟ نہیں کوئی معبود نہیں ہے مگر اسی کی ایک ذات !“ نظام ربوبیت سے وحی ور سالت کی ضرورت پر استدلال : اسی طرح وہ نظام ربوبیت کے اعمال سے انسانی سعادت و شقاوت کے معنوی قوانین اور وحی و رسالت کی ضرورت پر بھی استدلال کرتا ہے۔ جس رب العالمین نے تمہاری پرورش کے لیے ربوبیت کا ایسا نظام قائم کر رکھا ہے کیا ممکن ہے کہ اس نے تمہاری روحانی فلاح و سعادت کے لیے کوئی قانون، کوئی نظام اور کوئی قاعدہ مقرر نہ کیا ہو؟ جس طرح تمہارے جسم کی ضرورتیں ہیں اسی طرح تمہاری روح کی بھی ضرورتیں ہیں۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ جسم کی نشوونما کے لیے تو اس کے پاس سب کچھ ہو لیکن روح کی نشوونما کے لیے اس کے پاس کوئی پروردگار نہ ہو؟ اگر وہ رب العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کے فیضان کا یہ حال ہے کہ ہر ذرہ کے لیے سیرابی اور ہر چیونٹی کے لیے کارسازی رکھتی ہے تو کیونکر باور کیا جاسکتا ہے کہ انسان کی روحانی سعادت کے لیے اس کے پاس کوئی سرچشمگی نہ ہو؟ اس کی پروردگار اجسام کی پرورش کے لیے آسمان سے پانی برسائے لیکن ارواح کی پرورش کے لیے ایک قطرۂ فیض بھی نہ رکھے؟ تم دیکھتے ہو کہ جب زمین شادابی سے محروم ہو کر مردہ ہوجاتی ہے تو یہ اس کا قانون ہے کہ باران رحمت نمودار ہوتی اور زندگی کی برکتوں سے زمین کے ایک ایک ذرے کو مالا مال کردیتی ہے۔ پھر کیا یہ ضروری نہیں کہ جب عالم انسانیت ہدایت و سعادت کی شادابیوں سے محروم ہوجائے تو اس کی باران رحمت نمودار ہو کر ایک ایک روح کو پیام زندگی پہنچا دے؟ روحانی سعادت کی یہ بارش کیا ہے؟ وہ کہتا ہے وحی الٰہی ہے۔ تم اس منظر پر کبھی متعجب نہیں ہوتے کہ پانی برسا اور مردہ زمین زندہ ہوگئی۔ پھر اس بات پر کیوں چونک اٹھو کہ وحی الٰہی ظاہر ہوئی اور مردہ روحوں میں زندگی کی جنبش پیدا ہوگئی ” حم (١) تَنْزِیلُ الْکِتَابِ مِنَ اللَّہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ (٢)إِنَّ فِی السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ لآیَاتٍ لِلْمُؤْمِنِینَ (٣) وَفِی خَلْقِکُمْ وَمَا یَبُثُّ مِنْ دَابَّۃٍ آیَاتٌ لِقَوْمٍ یُوقِنُونَ (٤) وَاخْتِلافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَمَا أَنْزَلَ اللَّہُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ رِزْقٍ فَأَحْیَا بِہِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَتَصْرِیفِ الرِّیَاحِ آیَاتٌ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ (٥) تِلْکَ آیَاتُ اللَّہِ نَتْلُوہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ فَبِأَیِّ حَدِیثٍ بَعْدَ اللَّہِ وَآیَاتِہِ یُؤْمِنُونَ (٦): یہ اللہ کی طرف سے کتاب (ہدایت) نازل کی جاتی ہے جو عزیز اور حکیم ہے۔ بلاشبہ ایمانر کھنے والون کے لیے آسمانوں اور زمین میں (معرفت حق کی) بے شمار نشانیاں ہیں۔ نیز تمہاری پیدائش میں اور ان چارپایوں میں جنہیں اس نے زمین میں پھیلا رکھا ہے ارباب یقین کے لیے بڑی ہی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آتے رہنے میں، اور اس سرمایہ رزق میں جسے وہ آسمان سے برساتا ہے اور زمین مرنے کے بعد پھر جی اٹھتی ہے، اور ہواؤں کے رد و بدل میں ارباب دانش کے لیے بڑی ہی نشانیاں ہیں۔ (اے پیغمبر !) یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو فی الحقیقت ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ پھر اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کون سی بات رہ گئی ہے جسے سن کر یہ لوگ ایمان لائیں گے؟“ سورۃ انعام میں ان لوگوں کا جو وحی الٰہی کے نزول پر متعجب ہوتے ہیں، ان لفظوں میں ذکر کیا ہے : ” وما قدروا الہ حق قدرہ اذقالو ما انزل اللہ علی بشر من شیء : اور اللہ کے کاموں کی انہیں جو قدر شناسی کرنی تھی یقینا انہوں نہیں کی جب انہوں نے یہ بات کہی کہ اللہ نے اپنے کسی بندے پر کوئی چیز نازل نہیں کی“ (الانعام :91) تو پھر تورات اور قرآن کے نزول کے ذکر کے بعد حسب ذیل بیان شروع ہوجاتا ہے : ”إِنَّ اللَّہَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَی یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ ذَلِکُمُ اللَّہُ فَأَنَّی تُؤْفَکُونَ (٩٥) فَالِقُ الإصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّیْلَ سَکَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ (٩٦) وَہُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمُ النُّجُومَ لِتَہْتَدُوا بِہَا فِی ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ قَدْ فَصَّلْنَا الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (٩٧): یقینا یہ اللہ ہی کی کار فرمائی ہے کہ وہ دانے اور گٹھلی کو شق کرتا ہے (اور اس سے ہر چیز کا درخت پیدا کردیتا ہے) وہ زندہ کو مردہ چیز سے نکالتا اور مردہ کو زندہ اشیا سے نکالنے والا ہے۔ ہاں ! وہی تمہارا خدا ہے۔ پھر تم اس سے روگردانی کر کے کدھر کو بہکے چلے جا رہے ہو؟ ہاں ! وہی (پردۂ شب چاک) کر کے صبح کی روشنی نمودار کرنے والا ہے، وہی ہے جس نے رات کو راحت و سکون کا ذریعہ بنا دیا، اور وہی ہے کہ سورج اور چاند کی گردش اس درستگی کے ساتھ قائم کردی کہ حساب کا معیار بن گئی۔ یہ اس عزیز و علیم کا ٹھہرایا ہوا اندازہ ہے۔ اور (پھر دیکھو !) وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستارے پیدا کردیے تاکہ خشکی وتری کی تاریکیوں میں ان سے رہنمائی پاؤ۔ بلاشبہ ان لوگوں کے لیے جو جاننے والے ہیں ہم نے دلیلیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں“۔ یعنی جس پروردگار عالم کی ربوبیت و رحمت کا یہ تمام فیضان شب و روز دیکھ رہے ہو کیا ممکن ہے کہ وہ تمہاری جسمانی پرورش و ہدایت کے لیے تو یہ سب کچھ کرے لیکن تمہاری روحانی پرورش و ہدایت کے لیے اس کے پاس کوئی سروسامان نہ ہو؟ وہ زمین کی موت کو زندگی سے بدل دیتا ہے۔ پھر کیا تمہاری روح کی موت کو زندگی سے نہیں بدل دے گا؟ وہ ستاروں کی روشن علامتوں سے خشکی و تری کی ظلمتوں میں رہنمائی کرتا ہے۔ کیونکر ممکن ہے کہ تمہاری روحانی زندگی کی تاریکیوں میں رہنمائی کی کوئی روشنی نہ ہو؟ تم جو کبھی اس پر متعجب نہیں ہوتے کہ زمین پر کھت لہلہا رہے ہیں اور آسمان میں تارے چمک رہے ہیں کیوں اس بات پر متعجب ہوتے ہو کہ خدا کی وحی نوع انسانی کی ہدایت کے لیے نازل ہو رہی ہے؟ اگر تمہیں تعجب ہوتا ہے تو یہ اس بات کا نتیجہ ہے کہ تم نے خدا کو اس کی صفتوں میں اس طرح نہیں دیکھا ہے جس طرح دیکھنا چاہیے۔ تمہاری سمجھ میں یہ بات تو آجاتی ہے کہ وہ ایک چیونٹی کی پروش کے لیے یہ پورا کارخانہ حیات سرگرم رکھے مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ نوع انسانی کی ہدایت کے لیے سلسلہ وحی و تنزیل قائم ہو ! نظام ربوبیت سے وجود معاد پر استدلال : اسی طرح وہ اعمال ربوبیت سے معاد اور آخرت پر بھی استدلال کرتا ہے۔ جو چیز جتنی زیادہ نگرانی اور اہتمام سے بنائی جاتی ہے اتنی ہی زیادہ قیمتی استعمال اور اہم مقصد بھی رکھتی ہے، اور بہتر صناع وہی ہے جو اپنی صنعت گری کا بہتر استعمال اور مقصد رکھتا ہو۔ پس انسان جو کرہ ارضی کی بہترین مخلوق اور اس کے تمام سلسلہ خلقت کا خلاصہ ہے، اور جس کی جسمانی و معنوی نشوونما کے لیے فطرت کائنات نے اس قدر اہتمام کیا ہے، کیونکر ممکن ہے کہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کے لیے ہی بنایا گیا ہو اور کوئی بہتر استعمال اور بلند تر مقصد نہ رکھتا ہو؟ اور پھر اگر خالق کائنات رب ہے اور کامل درجے کی ربوبیت رکھتا ہے تو کیونکر باور کیا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنے ایک بہترین مربوب یعنی پروردہ ہستی کو محض اس لیے بنایا ہو کہ مہمل اور بے نتیجہ چھوڑ دے؟ ” افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون۔ فتعالی اللہ الملک الحق لا الہ الاھو رب العرش الکریم : کیا تم نے ایسا سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بغیر کسی مقصد و نتیجہ کے پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹنے والے نہیں؟ اللہ جو اس کائنات ہستی کا حقیقی حکمران ہے اس سے بہت بلند ہے کہ ایک بیکار و عبث فعل کرے۔ کوئی معبود نہیں ہے مگر وہ جو (جہانداری کے) عرش بزرگ کا پروردگار ہے“ (المومنون : 115۔116)۔ ہم نے یہ مطلب اسی سادہ طریقہ پر بیان کردیا جو قرٓن کے بیان و خطاب کا طریقہ ہے۔ لیکن یہ مطلب علمی بحث و تقریر کے پیرایہ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ وجود انسانی کرہ ارضی کے سلسلہ خلقت کی آخری اور اعلی ترین کڑی ہے اور اگر پیدائش حیات سے لے کر انسانی وجود کی تکمیل تک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ ایک ناقابل شمار مدت کے مسلسل نشو وارتقا کی تاریخ ہوگی۔ گویا فطرت نے لکھوں کروڑوں برس کی کارفرمائی و صناعی سے کرہ ارضی پر جو اعلی ترین وجود تیار کیا ہے وہ انسان ہے ! (بقیہ حصہ اگلی آیت کی تفسیر میں ملاحظہ ہو) الفاتحة
3 (سابقہ آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ) ہم نے یہ مطلب اسی سادہ طریقہ پر بیان کردیا جو قرٓن کے بیان و خطاب کا طریقہ ہے۔ لیکن یہ مطلب علمی بحث و تقریر کے پیرایہ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ وجود انسانی کرہ ارضی کے سلسلہ خلقت کی آخری اور اعلی ترین کڑی ہے اور اگر پیدائش حیات سے لے کر انسانی وجود کی تکمیل تک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ ایک ناقابل شمار مدت کے مسلسل نشو وارتقا کی تاریخ ہوگی۔ گویا فطرت نے لکھوں کروڑوں برس کی کارفرمائی و صناعی سے کرہ ارضی پر جو اعلی ترین وجود تیار کیا ہے وہ انسان ہے ! ماضی کے ایک نقطہ بعید کا تصور کرو۔ جب ہمارا یہ کرہ سورج کے منتہب کرے سے الگ ہوا تھا۔ نہیں معلوم کتنی مدت اس کے ٹھنڈے اور معتدل ہونے میں گزر گئی اور یہ اس قابل ہوا کہ زندگی کے عناصر اس میں نشوونما پا سکیں۔ اس کے بعد وہ وقت آیا جب اس کی سطح پر نشوونما کی سب سے پہلی داغ بیل پڑی اور پھر نہیں معلوم کتنی مدت کے بعد زندگی کا وہ اولین بیج وجود میں آسکا جسے پروٹو پلازم کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پھر حیات عضوی کے نشوونما کا دور شروع ہوا اور نہیں معلوم کتنی مدت اسی پر گزر گئی کہ اس دور نے بسیط سے مرکب تک اور ادنی سے اعلی درجے تک ترقی کی منزلیں طے کیں۔ یہاں تک کہ حیوانات کی ابتدائی کڑیاں ظہور میں آئیں اور پھر لاکھوں برس اس پر نکل گئے کہ یہ سلسلہ ارتقا وجود انسانی تک مرتفع ہو۔ پھر انسان کے جسمانی ظہور کے بعد اس کے ذہنی ارتقا کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک طول طویل مدت اس پر گزر گئی۔ بالآخر ہزاروں برس کے اجتماعی اور ذہنی ارتقا کے بعد وہ انسان ظہور پذیر ہوسکا جو کرہ ارضی کے تاریخی عہد کا متمدن اور عقیل انسان ہے۔ گویا زمین کی پیدائش سے لے کر تریق یافتہ انسان کی تکمیل تک، جو کچھ گزر چکا ہے اور جو کچھ بنتا سنورتا رہا ہے وہ تمام تر انسان کی پیدائش و تکمیل ہی کی سرگزشت ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس وجود کی پیدائش کے لیے فطرت نے اس درجہ اہتمام کیا ہے کیا یہ سب کچھ صرف اس لیے تھا کہ وہ پیدا ہو، جھائے پیے اور مر کر فنا ہوجائے؟ فتعالی اللہ الملک الحق لا الہ الا ھو رب العرش الکریم۔ قدرتی طور پر یہاں ایک دوسرا سوال بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ اگر وجود حیوانی اپنے ماضی میں ہمیشہ یکے بعد دیگرے متغیر ہوتا اور ترقی کرتا رہا ہے تو مستقبل میں بھی یہ تغیر و ارتقا کیوں جاری نہ رہے؟ اگر اس بات پر ہمیں بالکل تعجب نہیں ہوتا کہ ماضی میں بیشمار صورتیں مٹیں اور نئی زندگیاں ظہور میں آئیں تو اس بات پر کیوں تعجب ہو کہ موجودہ زندگی کا مٹنا بھی بالکل مٹ جانا نہیں ہے اس کے بعد بھی ایک اعلی تر صورت اور زندگی ہے؟ ”أَیَحْسَبُ الإنْسَانُ أَنْ یُتْرَکَ سُدًی (٣٦)أَلَمْ یَکُ نُطْفَۃً مِنْ مَنِیٍّ یُمْنَی (٣٧) ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً فَخَلَقَ فَسَوَّی (٣٨): کیا انسان خیال کرتا ہے کہ وہ مہمل چھوڑ دیا جائے گا (اور اس زندگی کے بعد دوسری زندگی نہ ہوگی؟) کیا اس پر یہ حالت نہیں گزر چکی ہے کہ پیدائش سے پہلے نطفہ تھا پھر نفہ سے علقہ ہوا (یعنی جونک کی سی شکل ہوگئی) پھر عقلہ سے (اس کا ڈیل ڈول) پیدا کیا گیا، پھر ( اس ڈیل ڈول کو) ٹھیک ٹھیک درست کیا گیا“ (القیمہ)۔ سورۃ ذاریات میں تمام تر دین یعنی جزا کا بیان ہے ” انما توعدون لصادق و ان الدین لواقع“ اور پھر اس پر اعمال ربوبیت سے یعنی ہواؤں کے چلنے اور پانی برسنے کے مؤثرات سے استشہاد کیا گیا ہے۔ ” والذاریات ذروا فالحاملات وقرا فالجاریات یسرا فا لمقسمات امرا“ پھر آسمان اور زمین کی بخشایشوں پر اور خود وجود انسانی کی اندرونی شہادتوں پر توجہ دلائی ہے۔ ” وفی الارض ایات للموقنین وفی انفسکم افلا تبصرون وفی السماء رزقکم وما توعدون۔ اس کے بعد فرمایا۔ ” فورب السماء والارض انہ لحق مثل ما انکم تنطقون : آسمان و زمین کے رب کی قسم ! (یعنی آسمان و زمین کے پروردگار کی پروردگار شہادت دے رہی ہے) کہ بلاشبہ وہ معاملہ (یعنی جزا وسزا کا معاملہ) حق ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح یہ بات کہ تم گویائی رکھتے ہو“۔ اس آیت میں اثبات جزا کے لیے خدا نے خود اپنے وجود کی قسم کھائی ہے لیکن رب کے لفظ اسے اپنے آپ کو تعبیر کیا ہے۔ عربی میں قسم کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی بات پر کسی بات سے شہادت لائی جائے۔ پس مطلب یہ ہوا کہ پروردگار عالم کی پروردگار شہادت دے رہی ہے کہ یہ بات حق ہے۔ یہ شہادت کیا ہے؟ وہی ربوبیت کی شہادت ہے۔ اگر دنیا میں پرورش موجود ہے، پروردہ موجود ہے اور اس لیے پروردگار بھی موجود ہے تو ممکن نہیں کہ جزا کا معاملہ بھی موجود نہ ہو۔ اور وہ بغیر کسی نتیجہ کے انسان کو چھوڑ دے۔ چونکہ لوگوں کی نظر اس حقیقت پر نہ تھی۔ اس لیے اس آیت میں قسم مقسم بہ کا ربط صحیح طور پر متعین نہ کرسکے۔ قرآن حکیم کے دلائل و براہین پر غور کرتے ہوئے یہ اصل ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اس کے استدلال کا طریقہ منطقی بحث و تقریر کا طریقہ نہیں ہے جس کے لیے چند در چند مقدمات کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر اثبات مدعا کی شکلیں ترتیب دینی پڑتی ہیں بلکہ وہ ہمیشہ براہ راست تلقین کا قدری اور سیدھا سادھا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ عموماً اس کے دلائل اس کے اسلوب بیان و خطاب میں مضمر ہوتے ہیں۔ وہ یا تو کسی مطلب کے لیے اسلوب خطاب ایسا اختیار کرتا ہے کہ اسی سے استدلال کی روشنی نمودار ہوجاتی ہے۔ یا پھر کسی مطلب پر زور دیتے ہوئے کوئی ایک لفظ ایسا بول جاتا ہے کہ اس کی تعبیر ہی میں اس کی دلیل بھی موجود ہوتی ہے اور خود بخود مخاطب کا ذہن دلیل کی طرف پھر جاتا ہے۔ چنانچہ اس کی ایک واضح مثال یہی صفت ربوبیت کا جابجا استعمال ہے۔ جب وہ خدا کی ہستی کا ذکر کرتا ہوا اسے رب کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے تو یہ بات کہ وہ رب ہے جس طرح اس کی ایک صفت ظاہر کرتی ہے اسی طرح اس کی دلیل بھی واضح کردیتی ہے۔ وہ رب ہے اور یہ واقعہ ہے کہ اس کی ربوبیت تمہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے اور خود تمہارے دل کے اندر گھر بنائے ہوئے ہے۔ پھر کیونکر تم جرات کرسکتے ہو کہ اس کی ہستی سے انکار کرو؟ وہ رب ہے اور رب کے سوا کون ہوسکتا ہے جو تمہاری بندگی ونیاز کا مستحق ہو؟ چنانچہ قرآن کے وہ تمام مقامات جہاں اس طرح کے مخاطبات ہیں کہ ” یا ایہا الناس اعبدوا ربکم۔ اعبدوا اللہ ربی ربی و ربکم۔ ان اللہ ربی و ربکم فاعبدوہ۔ ذلکم اللہ ربکم فاعبدوہ۔ ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فادبودن۔ قل اتحاجوننا فی اللہ؟ وھو ربنا وربکم“ وغیرہ تو انہیں مجرد امر و خطاب ہی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ وہ خطاب و دلیل دونوں ہیں کیونک ہرب کے لفظ نے برہان ربوبیت کی طرف خود بخود رہنمائی کردی ہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے مفسروں کی نظر اس حقیقت پر نہ تھی کیونکہ منطقی استدلال کے استغراق نے انہیں قرآن کے طریق استدلال سے بے پروا کردیا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان مقامات کے ترجمہ وتفسیر میں قرآن کے اسلوب بیان کی حقیق روح واضح نہ ہوسکی اور استدلال کا پہلو طرح طرح طرح کی توجیہات میں گم ہوگیا۔ (آیت 1 الحمد للہ رب العالمین کی تفسیر ختم ہوئی) الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ الرحمن اور الرحیم دونوں رحم سے ہیں۔ عربی میں رحمت عواطف کی ایسی رقت و نرمی کو کہتے ہیں جس سے کسی دوسری ہستی کے لیے احسان و شفقت کا ارادہ جوش میں آجائے۔ پس رحمت میں محبت، شفقت، فضل اور احسان سب کا مفہوم داخل ہے اور مجرد محبت، لطف اور فضل سے زیادہ سیع اور حاوی ہے۔ اگرچہ یہ دونوں اسم رحمت سے ہیں لیکن رحمت کے دو مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں َ عربی میں فعلان کا باب عموماً ایسے صفات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو محض صفات عارضہ ہوتے ہیں۔ جیسے پیاسے کے لیے عطشان۔ غضبناک کے لیے غضبان۔ سراسیمہ کے لیے حیران، مست کے لیے سکران۔ لیکن فعیل کے وزن میں صفات قائمہ کا خاصہ ہے۔ یعنی عموماً ایسے صفات کے لیے بولا جاتا ہے جو جذبا و عواض ہونے کی جگہ صفات قائمہ ہوتے ہیں مثلا کریم کریم کرنے والا۔ عظیم بڑائی رکھنے والا اور علیم علم رکھنے والا، حکیم حکمت رکھنے والا۔ پس الرحمن کے معنی یہ ہوئے کہ وہ ذات جس میں رحمت ہے اور الرحیم کے معنی یہ ہوئے کہ وہ ذات جس میں نہ صرف رحمت ہے بلکہ جس سے ہمیشہ رحمت کا ظہور ہوتا ہے رہتا ہے اور ہرآن و ہر لمحہ تمام کائنات خلقت اس سے فیض یاب ہو رہی ہے۔ رحمت کو دو الگ الگ اسموں سے کیوں تعبیر کیا گیا؟ اس لیے کہ قرآن مجید خدا کے تصور کا جو نقشہ ذہن نشین کرانا چاہتا ہے اس میں سب سے زیادہ نمایاں اور چھائی ہوئی صفت رحمت ہی کی صفت ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ تمام تر رحمت ہی ہے : ” ارحمتی وسعت کل شیء : اور میری رحمت دنیا کی ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے“ (الاعراف :156)۔ پس ضروری تھا کہ خصوصیت کے ساتھ اس کی صفتی اور فعلی دونوں حیثیتیں واضح کردی جائیں یعنی اس میں رحمت ہے کیونکہ وہ الرحمن ہے اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ہمیشہ اس سے رحمت کا ظہور بھی ہو رہا ہے کیونکہ الرحمن کے ساتھ وہ الرحیم بھی ہے۔ رحمت : لیکن اللہ کی رحمت کیا ہے؟ قرآن کہتا ہے : کائنات ہستی میں جو کچھ بھی خوبی و کمال ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ رحمت الٰہی کا ظہور ہے ! جب ہم کائنات ہستی کے اعمال و مظاہر پر غور کرتے ہیں تو سب سے پہلی حقیقت جو ہمارے سامنے نمایاں ہوتی ہے وہ اس کا نظام ربوبیت ہے۔ کیونکہ فطرت سے ہماری پہلی شناسائی ربوبیت کے ذریعہ ہوتی ہے لیکن جب علم و ادراک کی راہ میں چند قدم آگے بڑھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ربوبیت سے بھی ایک زیادہ وسیع اور عام حقیقت یہاں کار فرما ہے اور خود ربوبیت بھی اسی کے فیضان کا ایک گوشہ ہے۔ ربوبیت اور اس کا نظام کیا ہے؟ کائنات ہستی کی پرورش ہے لیکن کائنات ہستی میں صرف پرورش ہی نہیں ہے۔ پرورش سے بھی ایک زیادہ بنانے سنوارنے اور فائدہ پہنچانے کی حقیقت کام کر رہی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی فطرت میں بناؤ اس کے بناؤ میں خوبی ہے، اس کے مزاج میں اعتدال ہے، اس کے افعال میں خواص ہیں، اس کی صورت میں حسن ہے، اس کی صداؤں میں نغمہ ہے، اس کی بو میں عطر بیزی ہے اور اس کی کوئی بات نہیں جو اس کارخانہ کی تعمیر و درستگی کے لیے مفید نہ ہو۔ پس یہ حقیقت جو اپنے بناؤ اور فیضان میں ربوبیت سے بھی زیادہ وسیع اور عام ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ رحمت ہے اور خالق کائنات کی رحمانیت اور رحیمیت کا ظہور ہے۔ تعمیر و تحسینِ کائنات رحمت الٰہی کا نتیجہ ہے : زندگی اور حرکت کا یہ عالمگیر کارخانہ وجود ہی میں نہ آتا اگر اپنے ہر فعل میں بننے بنانے، سنورنے سنوارنے اور ہر طرح بہتر و اصلح ہونے کا خاصہ نہ رکھتا۔ فطرت کائنات میں یہ خاصہ کیوں ہے؟ اس لیے کہ بناؤ ہو بگاڑ نہ ہو۔ درستگی ہو برہمی نہ ہو لیکن کیوں ایسا ہو کہ فطرت بنائے اور سنوارے، بگاڑے اور الجھائے نہیں؟ یہ کیا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے درست اور بہتر ہی ہوتا ہے۔ خراب اور بدتر نہیں ہوتا؟ انسان کے علم و دانش کی کاوشیں آج تک یہ عقدہ حل نہ کرسکیں۔ فلسفہ نظر کا قدم جب کبھی اس حد تک پہنچا دم بخود ہو کر رہ گیا لیکن قرآن کہتا ہے یہ اس لیے ہے کہ فطرت کائنات میں رحمت ہے اور رحمت کا مقتضا یہی ہے کہ خوبی اور درستگی ہو بگاڑ اور خرابی نہ ہو۔ انسان کے علم و دانش کی کاوشیں بتلاتی ہیں کہ کائنات ہستی کا یہ بنتاؤ اور سنوار عناصر اولیہ کی ترکیب اور ترکیب کے اعتدال و تسویہ کا نتیجہ ہے۔ مادہ عالم کی کمیت میں بھی اعتدال ہے، کیفیت میں بھی اعتدال ہے۔ یہی اعتدال ہے جس سے سب کچھ بنتا ہے اور جو کچھ بنتا ہے خوبی اور کمال کے ساتھ بنتا ہے۔ یہی اعتدال و تناسب دنیا کے تمام تعمیری اور ایجابی حقائق کی اصل ہے۔ وجود، زندگی، تندرستی، حسن، خوشبو، نغمہ، بناؤ اور خوبی کے بہت سے نام ہیں مگر حقیقت ایک ہی ہے اور وہ اعتدال ہے۔ لیکن فطرت کائنات میں یہ اعتدال و تناسب کیوں ہے؟ کیوں ایسا ہوا کہ عناصر کے دقائق جب ملیں تو اعتدال و تناسب کے ساتھ ملیں اور مادہ کا خاصہ یہی ٹھہرا کہ اعتدال و تناسب ہو، انحراف اور تجاوز نہ ہو؟ انسان کا علم دم بخود اور متحیر ہے لیکن قرآن کہتا ہے یہ اس لیے ہوا کہ خالق کائنات میں رحمت ہے اور اس لیے کہ اس کی رحمت اپنا ظہور بھی رکھتی ہے اور جس میں رحمت ہو اور اس کی رحمت ظہور بھی رکھتی ہو تو جو کچھ اس سے صادر ہوگا اس میں خوبی و بہتری ہی ہوگی، حسن و جمال ہی ہوگا، اعتدال و تناسب ہی ہوگا اور اس کے خلاف کچھ نہیں ہوسکتا ! فلسفہ ہمیں بتلاتا ہے کہ تعمیر اور تحسین فطرت کائنات کا خاصہ ہے۔ خاصہ تعمیر چاہتا ہے کہ بناؤ ہو، خاصہ تحسین چاہتا ہے کہ جو کچھ بنے خوبی وکمال کے ساتھ بنے اور یہ دونوں خاصے قانون ضرورت کا نتیجہ ہیں۔ کائنات ہستی کے ظہور و تکمیل کے لیے ضرورت تھی کہ تعمیر ہو، اور ضرورت تھی کہ جو کچھ تعمیر ہو حسن و خوبی کے ساتھ تعمیر ہو۔ یہی ضرور بجائے خود ایک علت ہوگئی اور اس لیے فطرت سے جو کچھ بھی ظہور میں آتا ہے ویسا ہی ہوتا ہے جیسا ہونا ضروری تھا۔ لیکن اس تعلیل سے بھی تو یہ عقدہ حل نہیں ہوا؟ سوال جس منزل میں تھا اس سے صرف ایک منزل اور آگے بڑھ گیا۔ تم کہتے ہو یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس لیے ہے کہ ضرورت کا قانون موجود ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ضرورت کا قانون کیوں موجود ہے؟ کیوں یہ ضروری ہوا کہ جو کچھ ظہور میں آئے ضرورت کے مطابق ہو اور ضرورت اسی بات کی مقتضی ہوئی کہ خوبی اور درستگی ہو بگاڑ اور برہمی نہ ہو؟ انسانی علم کی کاوشیں اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔ ایک مشہور فلسفی کے لفظوں میں ” جس جگہ سے یہ کیوں شروع ہوجائے سمجھ جاؤ کہ فلسفہ کے غور و خوض کی سرحد ختم ہوگئی“۔ لیکن قرآن اسی سوال کا جواب دیتا ہے وہ کہتا ہے یہ ” ضرورت“ رحمت اور فضل کی ” ضرورت“ ہے۔ رحمت چاہتی ہے جو کچھ ظہور میں آئے بہتر ہو اور نافع ہو اور اس لیے جو کچھ ظہور میں آتا ہے بہتر ہوتا ہے اور نافع ہوتا ہے ! پھر یہ حقیقت بھی واضح رہے کہ دنیا میں زندگی اور بقا کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے جمال و زیبائی ان سے ایک زائد تر فیضان ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ جمال و زیبائش بھی یہاں موجود ہے۔ پس یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب کچھ قانون ضرورت ہی کا نتیجہ ہے۔ ضرورت زندگی اور بقا کا سر و سامان چاہتی ہے لیکن زندہ اور باقی رہنے کے لیے جمال و زیبائش کی کیا ضرورت ہے؟ اگر جمال وزیبائش بھی یہاں موجود ہے تو یقینا یہ فطرت کا ایک مزید لطف و احسان ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت صرف زندگی ہی نہیں بخشتی بلکہ زندگی کو حسین و لطیف بھی بنانا چاہتی ہے۔ پس یہ محض زندگی کی ضرورت کا قانون نہیں ہوسکتا۔ یہ اس ضرورت سے بھی کوئی بالا تر ضرورت ہے جو چاہتی ہے کہ مرحمت اور فیضان ہو۔ قرآن کہتا ہے یہ رحمت کی ” ضرورت“ ہے اور رحمت کا مقتضا یہی ہے کہ وہ سب کچھ ظہور میں آئے جو رحمت سے ظہور میں آنا چاہیے : ” قل لمن ما فی السموات والارض قل للہ کتب علی نفسہ الرحمۃ: آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کے لیے ہے؟ (اے پیغمبر) کہہ دے اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے لیے ضروری ٹھہرا لیا ہے کہ رحمت ہو“ (الانعام : 12)۔ ” ورحمتی وسعت کل شیء : اور میری رحمت دنیا کی ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے“ افادہ فیضانِ فطرت : اس سلسلہ کی سب سے پہلی حقیقت جو ہمارے سامنے نمایاں ہوتی ہے وہ کائنات ہستی اور اس کی تمام اشیا کا افادہ و فیضان ہے۔ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ فطرت کے تمام کاموں میں کامل نظم ویکسانیت کے ساتھ مفید اور کار آمد ہونے کی خاصیت پائی جاتی ہے اور اگر بہ حیثیت مجموعی دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا یہ تمام کارگاہ عالم صرف اسی لیے بنا ہے کہ ہمیں فائدہ پہنچائے اور ہماری حاجت روائیوں کا ذریعہ ہو : ” وسخر لکم ما فی السموات والارض جمیعا منہ۔ ان فی ذلک لایات لقوم یتفکرون : اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ نے تمہارے لیے مسخر کردیا ہے (یعنی ان کی قوتیں اور تاثیریں اس طرح تمہارے تصرف میں دیدی گئی ہیں کہ جس طرح چاہو کام لے سکتے ہو) بلاشبہ ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں اس بات میں (معرفت حق کی) بڑی ہی نشانیاں ہیں“ (45 :، 13) اس آیت میں اور اس کی تمام ہم معنی آیات میں ” سخر“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی تمام چیزیں تمہارے لیے مسخر کردی گئی ہیں۔ عربی میں تسخیر ٹھیک ٹھیک اسی معنی میں بولا جاتا ہے جس معنی میں ہم اردو میں بولا کرتے ہیں۔ یعنی کسی چیز کا قہراً و حکماً اس طرح مطیع ہوجانا کہ جس طرح چاہیں اس سے کام لیں۔ غور کرو انسانی قوی کی عظمت و سروری کے اظہار کے لیے اس سے زیادہ موزوں تعبیر اور کیا ہوسکتی تھی؟ قرآن کے نزول سے پہلے اقوام عالم کی دینی ذہنیت انسان کی عقلی امنگوں کے قطعاً خلاف تھی۔ لیکن قرآن نے صرف یہی نہیں کہ اس کی عقلی امنگوں کی جرات افزائی کردی بلکہ اس کی ہمت عقل اور اولو العزمی حلم کے لیے ایک ایسی بلند نظری کا نقشہ کھینچ دیا جس سے بہتر نقشہ آج بھی نہیں کھینچا جاسکتا۔ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس لیے ہے کہ انسان کے آگے مسخر ہو کر رہے اور انسان ان میں تصرف کرے۔ انسانی عقل و فر کے لیے اس سے زیادہ بلند نصب العین اور کیا ہوسکتا ہے؟ پھر غور کرو ” تسخیر“ کا لفظ انسانی عقل کی حکمرانیوں کے لیے کس درجہ موزوں لفظ ہے؟ اس تسخیر کا قدیم منظر یہ تھا کہ انسان کا چھوٹا سا بچہ لکڑی کے دو گز تختے جوڑ کر سمندر کے سینے پر سوار ہوجاتا تھا اور نیا منظر یہ ہے کہ آگ، پانی، ہوا اور بجلی تمام عناصر پر حکمرانی کر رہا ہے ! البتہ یہ بات یاد رہے کہ قرآن نے جہاں کہیں اس تسخیر کا ذکر کیا ہے اس کا تعلق صرف کرہ ارضی کی کائنات سے ہے یا آسمان کے ان مؤثرات سے ہے جنہیں ہم یہاں محسوس کر رہے ہیں یہ نہیں کہا ہے کہ تمام موجودات ہستی اس کے لیے مسخر کردی گئی ہیں۔ یا تمام موجودات ہستی میں وہ اشرف و اعلی مخلوق ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ ہماری دنیا کائنات ہستی کے بے کنار سمندر میں ایک قطرہ سے زیادہ نہیں۔ وما یعلم جنود ربک الا ہو۔ اور انسان کو جو کچھ بھی برتری حاصل ہے وہ صرف اسی دنیا کی مخلوقات میں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات ہستی میں جو کچھ بھی موجود ہے، اور جو کچھ بھی ظہور میں آتا ہے اس میں سے ہر چیز کوئی نہ کوئی خاصہ رکھتی ہے اور ہر حادثہ کی کوئی نہ کوئی تاثیر ہے اور پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ تمام خواص و مؤثرات کچھ اس طرح واقع ہوئے ہیں کہ ہر خاصہ ہماری کوئی نہ کوئی ضرورت پوری کرتا اور ہر تاثیر ہمارے لیے کوئی نہ کوئی فیضان رکھتی ہے۔ سورج، چاند، ستارے، ہوا، بارش، دریا، سمندر اور پہاڑ سب کے خواص و فوائد ہیں، اور سب ہمارے لیے طرح طرح کی راحتوں اور آسائشوں کا سامان بہم پہنچا رہے ہیں : ” اللَّہُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِہِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ وَسَخَّرَ لَکُمُ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِأَمْرِہِ وَسَخَّرَ لَکُمُ الأنْہَارَ (٣٢) وَسَخَّرَ لَکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَیْنِ وَسَخَّرَ لَکُمُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ (٣٣) وَآتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَأَلْتُمُوہُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَۃَ اللَّہِ لا تُحْصُوہَا إِنَّ الإنْسَانَ لَظَلُومٌ کَفَّارٌ (٣٤): یہ اللہ ہی کی کار فرمائی ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس کی تاثیر سے طرح طرح کے پھل تمہاری غذا کے لیے پیدا کردیے۔ اسی طرح اس نے یہ بات بھی ٹھہرا دی کہ سمندر میں جہاز تمہارے زیر فرمان رہتے، اور حکم الٰہی سے چلتے رہتے ہیں، اور اسی طرح دریا بھی تمہاری کار برآریوں کے لیے مسخر کردیے گئے اور (پھر اتنا ہی نہیں بلکہ غور کرو تو) سورج اور چاند بھی تمہارے لیے مسخر کردیے گئے ہیں کہ ایک خاص ڈھنگ پر گردش میں ہیں اور رات اور دن کا اختلاف بھی (تمہارے فائدہ ہی کے لیے) مسخر ہے۔ غرض کہ جو کچھ تمہیں مطلوب تھا وہ سب کچھ اس نے عطا کردیا۔ اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنی چاہو تو وہ اتنی ہیں کہ ہرگز شمار نہ کرسکو گے۔ بلاشبہ انسان بڑا ہی نا انصاف بڑا ہی نا شکرا ہے“ (ابراہیم : 32-34) زمین کو دیکھو، اس کی سطح پھلوں اور پھولوں سے لدی ہوئی ہے تہہ میں آب شیریں کی سوتیں بہہ رہی ہیں گہرائی سے چاندی سونا نکل رہا ہے وہ اپنی جسامت میں اگرچہ مدور ہے لیکن اس کا ہر حصہ اس طرح واقع ہوا ہے کہ معلوم ہوتا ہے ایک مسطح فرش بچھا دیا گیا ہے۔ ” الذی جعل لکم الارض مہدا وجعل لکم فیھا سبلا لعلکم تھتدون : وہ پروردگار جس نے تمہارے لیے زمین اس طرح بنا دی کہ فرش کی طرح بچھی ہوئی ہے اور اس میں قطع مسافت کی (ہموار) راہیں پیدا کردیں“ (43:، 10) ” وَہُوَ الَّذِی مَدَّ الأرْضَ وَجَعَلَ فِیہَا رَوَاسِیَ وَأَنْہَارًا وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِیہَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی اللَّیْلَ النَّہَارَ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ (٣) وَفِی الأرْضِ قِطَعٌ مُتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِیلٌ صِنْوَانٌ وَغَیْرُ صِنْوَانٍ یُسْقَی بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَہَا عَلَی بَعْضٍ فِی الأکُلِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ (٤): اور یہ اسی پروردگار کی پروردگاری ہے کہ اس نے زمین (تمہاری سکونت کے لیے) پھیلا دی اور اس میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے اور نہریں بہا دیں، نیز ہر طرح کے پھلوں کی دو دو قسمیں پیدا کردیں، اور پھر یہ اسی کی کار فرمائی ہے کہ ( رات اور دن یکے بعد دیگرے آتے رہتے ہیں اور) رات کی تاریکی دن کی روشنی ڈھانپ لیتی ہے۔ بلاشبہ ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں اس میں ( معرفت حقیقت کی) بڑی ہی نشانیاں ہیں۔ اور (پھر دیکھو) زمین کی سطح اس طرح بنائی گئی ہے کہ اس میں ایک دوسرے سے قریب (آبادی کے) قطعات بن گئے اور انگوروں کے باغ، غلہ کی کھیتیاں اور کھجوروں کے جھنڈ پیدا ہوگئے، ان درختوں میں بعض درخت زیادہ ٹہنیوں والے ہیں۔ بعض اکہرے، اور اگرچہ سب کو ایک ہی طرح کے پانی سے سینچا جاتا ہے لیکن پھل ایک طرح کے نہیں۔ ہم نے بعض درختوں کو بعض درختوں پر پھلوں کے مزہ میں برتری دے دی۔ بلا شبہ ارباب دانش کے لیے اس میں (معرفت حقیقت کی) بڑی ہی نشانیاں ہیں“ (الرعد :3-4) ” القد مکناکم فی الارض و جعلنا لکم فیہا معایش قلیلا ما تشکرون : اور (دیکھو) ہم نے زمین میں تمہیں طاقت و تصرف کے ساتھ جگہ دی، اور زندگی کے تمام سامان پیدا کردیے (مگر افسوس) بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ تم نعمت الٰہی کے شکر گزار ہو“ (الاعراف : 10) ” وَہُوَ الَّذِی سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْکُلُوا مِنْہُ لَحْمًا طَرِیًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْہُ حِلْیَۃً تَلْبَسُونَہَا وَتَرَی الْفُلْکَ مَوَاخِرَ فِیہِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِہِ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ : اور (دیکھو) یہ اسی کی کارفرمائی ہے کہ اس نے سمندر تمہارے لیے مسخر کردیا تاکہ اپنی غذا کے لیے تر و تازہ گوشت حاصل کرو اور زیور کی چیزیں نکالو جنہیں (خوشنمائی کے لیے) پہنتے ہو۔ نیز تم دیکھتے ہو کہ جہاز سمندر میں موجیں چیرتے ہوئے جا رہے ہیں۔ اور سیر و سیاحت کے ذریعہ اللہ کا فضل تلاش کرو تاکہ اس کی کی نعمت کے شکر گزار رہو“ (النحل :14) حیوانات کو دیکھو، زمین کے چار پائے، فضا کے پرند اور پانی کی مچھلیاں سب اسی لیے ہیں کہ اپنے اپنے وجود سے ہمیں فائدہ پہنچائیں۔ غذا کے لیے ان کا دودھ اور گوشت، سواری کے لیے ان کی پیٹھ، حفاظت کے لیے ان کی پاسبانی، پہننے کے لیے ان کی کھال اور اون اور برتنے کے لیے ان کے جسم کی ہڈیاں تک مفید ہیں ! : ” وَالأنْعَامَ خَلَقَہَا لَکُمْ فِیہَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْہَا تَأْکُلُونَ (٥) وَلَکُمْ فِیہَا جَمَالٌ حِینَ تُرِیحُونَ وَحِینَ تَسْرَحُونَ (٦) وَتَحْمِلُ أَثْقَالَکُمْ إِلَی بَلَدٍ لَمْ تَکُونُوا بَالِغِیہِ إِلا بِشِقِّ الأنْفُسِ إِنَّ رَبَّکُمْ لَرَءُوفٌ رَحِیمٌ (٧) وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیرَ لِتَرْکَبُوہَا وَزِینَۃً وَیَخْلُقُ مَا لا تَعْلَمُونَ (٨): اور چارپائے پیدا کردیے جن میں تمہارے لیے جاڑے کا سامان اور طرح طرح کے منافع ہیں اور ان سے تم اپنی غذا بھی حاصل کرتے ہو۔ جب ان کے غول شام کو چر کر واپس آتے ہیں اور جب چراگاہوں کے لیے نکلتے ہیں تو (دیکھو) ان کے منظر میں تمہارے لیے خوشنمائی رکھ دی ہے۔ اور انہی میں وہ جانور بھی ہیں جو تمہارا بوجھ اٹھا کر ان (دور دراز) شہروں تک پہنچا دیتے ہیں جہاں تک تم بغیر سخت مشقت کے نہیں پہنچا سکتے تھے۔ بلا شبہ تمہارا پروردگار بڑا ہی شفقت رکھنے والا اور صاحب رحمت ہے۔ اور (دیکھو) گھوڑے، خچر، گدھے پیدا کیے گئے تاکہ تم ان سے سواری کا کام لو اور خوشنمائی کا بھی موجب ہوں۔ وہ اسی طرح (طرح طرح کی چیزیں) پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں“ (النحل : 8-8) ” وَإِنَّ لَکُمْ فِی الأنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُسْقِیکُمْ مِمَّا فِی بُطُونِہِ مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِینَ (٦٦): اور چارپایوں کے وجود میں تمہارے لیے (فہم و بصیرت کی) بڑی ہی عبرت ہے۔ انہی جانوروں کے جسم سے ہم خون اور کثافتوں کے درمیان پاک و صاف دودھ پیدا کردیتے ہیں جو پینے والوں کے لیے بے غل و غش مشروب ہوتا ہے“ (النحل : 66) ” وَاللَّہُ جَعَلَ لَکُمْ مِنْ بُیُوتِکُمْ سَکَنًا وَجَعَلَ لَکُمْ مِنْ جُلُودِ الأنْعَامِ بُیُوتًا تَسْتَخِفُّونَہَا یَوْمَ ظَعْنِکُمْ وَیَوْمَ إِقَامَتِکُمْ وَمِنْ أَصْوَافِہَا وَأَوْبَارِہَا وَأَشْعَارِہَا أَثَاثًا وَمَتَاعًا إِلَی حِینٍ : اور (دیکھو) اللہ نے تمہارے گھروں کو تمہارے لیے سکونت کی جگہ بنایا اور ( جو لوگ شہروں میں نہیں بستے ان کے لیے ایسا سامان کردیا کہ) چارپایوں کی کھال کے خیمے بنا دیے۔ سفر اور اقامت دونوں حالتوں میں انہیں ہلکا پاتے ہو۔ اسی طرح جانوروں کی اون، رووں، اور بالوں سے طرح طرح کی چیزیں پیدا کردیں جن سے ایک خاص وقت تک تمہیں فائدہ پہنچتا ہے“ (النحل : 80) ایک انسان کتنی ہی محدود اور غیر متمدن زندگی رکھتا ہو لیکن اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہوسکتا کہ اس کا گرد و پیش اسے فائدہ پہنچا رہا ہے۔ ایک لکڑ ہارا بھی اپنے جھونپڑے میں بیٹھا ہوا نظر آتھاتا ہے تو گویا اپنے احساس کے لیے بہتر تعبیر نہ پائے لیکن یہ حقیقت ضرور محسوس کرلیتا ہے۔ وہ جب بیمار ہوتا ہے تو جنگل کی جڑی بوٹیاں کھا لیتا ہے۔ دھوپ تیز ہوتی ہے تو درختوں کے سائے میں بیٹھ جاتا ہے بیکار ہوتا ہے تو پتوں کی سرسبزی اور پھولوں کی خوشنمائی سے آنکھیں سینکنے لگتا ہے۔ پھر یہی درخت ہیں جو اپنی شادابی میں اسے پھل بخشتے ہیں پختگی میں لکڑی کے تختے بن جاتے ہیں کہنگی میں آگ کے شعلے بھڑکا دیتے ہیں۔ ایک ہی مخلوق بنائی ہے جو اپنے منظر سے نزہت و سرور بخشتی ہے، اپنی بو سے ہوا کو معطر کرتی ہے، اپنے پھل میں طرح طرح کی غذائیں رکھتی ہے، اپنی لکڑی سے سامان تعمیر مہیا کرتی ہے، اور پھر خشک ہوجاتی ہے تو اس کے جلانے سے آگ بھڑکتی، چولھے گرم کرتی، موسم کو معتدل بناتی، اور اپنی حرارت سے بے شمار اشیا کے پکنے، پگھلنے اور تپنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ ” الذی جعل لکم من الشجر الاخضر نارا فاذا انتم منہ توقدون : (اور دیکھو) وہ کارفرمائے قدرت جس نے سرسبز درخت سے تمہارے لیے آگ پیدا کردی۔ اب تم اسی سے (اپنے چولھوں کی) آگ سلگا لیتے ہو“ (36:، 80) اور پھر یہ وہ فوائد ہیں جو تمہیں اپنی جگہ محسوس ہو رہے ہیں لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ فطرت نے یہ تمام چیزیں کن کن کاموں اور کن کن مصلحتوں کے لیے پیدا کی ہیں اور کار فرمائے عالم کارگاہ ہستی کے بنانے اور سنوارنے کے لیے ان سے کیا کام نہیں لے رہا ہے؟ : ” وما یعلم جنود ربک الا ھو : اور تمہارا پروردگار ( اس کار زار ہستی کی کارفرمائیوں کے لیے) جو فوجیں رکھتا ہے ان کا حال اس کے سوا کون جانتا ہے؟“ پھر یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ فطرت نے کائنات ہستی کے افادہ و فیضان کا نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ وہ بیک وقت ہر مخلوق کو یکساں طور پر نفع پہنچا تاکہ اور ہر مخلوق کی یکساں طور پر رعایت ملحوظ رکھتا ہے۔ اگر ایک انسان اپنے عالی شان محل میں بیٹھ کر محسوس کرتا ہے کہ تمام کارخانہ ہستی صرف اسی کی کار براریوں کے لیے تو ٹھیک اسی طرح ایک چیونٹی بھی اپنے بل میں کہہ سکتی ہے کہ فطرت کی ساری کارفرمائیاں صرف اسی کی کاربراریوں کے لیے ہیں اور کون ہے جو اسے جھٹلانے کی جرات کرسکتا ہے؟ کیا فی الحقیقت سورج اس لیے نہیں ہے کہ اس کے لیے حرارت بہم پہنچائے؟ کیا بارش اس لیے نہیں ہے کہ اس کے لیے رطوبت مہیا کرے؟ کیا ہوا اس لیے نہیں ہے کہ اس کی ناک تک شکر کی بو پہنچا دے؟ کیا زمین اس لیے نہیں ہے کہ ہر موسم اور ہر حالت کے مطابق اس کے لیے مقام و منزل بنے؟ در اصل فطرت کی بخشایشوں کا قانون کچھ ایسا عام اور ہمہ گیر واقع ہوا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں ایک ہی طریقہ سے، ایک ہی نظام کے ماتحت، ہر مخلوق کی نگہداشت کرتا اور ہر مخلوق کو یکساں طور پر فائدہ اٹھانے کا موقع دیتا ہے۔ حتی کہ ہر وجود اپنی جگہ محسوس کرسکتا ہے کہ یہ پورا کارخانہ عالم صرف اسی کی کام جوئیوں اور آسائشوں کے لیے سرگرم کار ہے۔ ” ومامن دابۃ فی الارض ولا طائر یطیر بجناحیہ الا امم امثالکم : اور زمین کے تمام جانور ( اور پردار) بازوؤں سے اڑنے والے تمام پرند در اصل تمہاری ہی طرح امتیں ہیں“۔ کائنت کی تخریب بھی تعمیر کے لیے ہے : البتہ یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دنیا عالم کون و فساد ہے۔ یہاں ہر بنے کے ساتھ بگڑنا ہے اور ہر سمٹنے کے ساتھ بکھرنا۔ لیکن جس طرح سنگ تراش کا توڑنا پھوڑنا بھی اس لیے ہوتا ہے کہ خوبی و دل آویزی کا ایک پیکر تیار کردے اسی طرح کائنات عالم کا تمام بگاڑ بھی اس لیے ہے کہ بناؤ اور خوبی کا فیضان ظہور میں آئے۔ تم ایک عمارت بناتے ہو لیکن اس ” بنانے“ کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ کیا یہی نہیں ہوتا کہ بہت سے بنی ہوئی چیزیں بگڑ گئیں؟ چٹانیں اگر نہ کاٹی جاتیں، بھٹے اگر سلگائے جاتے، درختوں پر آرہ اگر نہ چلتا تو ظاہر ہے عمارت کا بناؤ بھی ظہور میں نہ آتا۔ پھر یہ راحت و سکون جو تمہیں ایک عمارت کی سکونت سے حاصل ہوتا ہے کس صورت حال کا نتیجہ ہے؟ یقینا اسی شور و شر اور ہنگامہ تخریب کا جو سروسامان تعمیر کی جدو جہد نے عرصہ تک جاری رکھا تھا۔ اگر تخریبھ کا یہ شور و شر نہ ہوتا تو عمارت کا عیش و سکون بھی وجود میں نہ آتا۔ پس یہی حال فطرت کی تعمیری سرگرمیوں کا بھی سمجھو۔ وہ عمارت ہستی کا ایک ایک گوشہ تعمیر کرتی رہتی ہے، وہ اس کارخانہ کا ایک ایک کیل پرزہ ڈھالتی رہتی ہے، وہ اس کی درستگی و خوبی کی حفاظت کے لیے ہر نقصان کا دفعیہ اور ہر فساد کا ازالہ چاہتی ہے۔ تعیر و درستگی کی یہی سرگرمیاں ہیں جو تمہیں بعض اوقات تخریب و نقصان کی ہولناکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ حالانکہ یہاں تخریب کب ہے؟ جو کچھ ہے تعمیر ہی تعمیر ہے۔ سمندر میں تلاطم، دریا میں طغیانی، پہاڑوں میں آتش فشانی، جاڑوں میں برف باری، گرمیوں میں سموم، اور بارش میں ہنگامہ ابر و باد، تمہارے لیے خوش آئند مناظر نہیں ہوتے لیکن تم نہیں جانتے کہ ان میں سے ہر حادثہ کائنات ہستی کی تعمیر و درستگی کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جس قدر دنیا کی کوئی مفید سے مفید چیز تمہاری نگاہ میں ہوسکتی ہے۔ اگر سمندر میں طوفان نہ اٹھتے تو میدانوں کی زندگی و شادابی کے لیے ایک قطرہ بارش میسر نہ آتا۔ اگر بادل کی گرج اور بجلی کی کڑک نہ ہوتی تو باران رحمت کا فیضان بھی نہ ہوتا۔ اگر آتش فشاں پہاڑوں کی چوٹیاں نہ پھٹتیں تو زمین کے اندر کا کھولتا ہوا مادہ اس کرہ کی تمام سطح پارہ پارہ کردیتا۔ تم بول اٹھو گے، یہ مادہ پیدا ہی کیوں کیا گیا؟ لیکن تمہیں جاننا چاہیے کہ اگر یہ مادہ نہ ہوتا تو زمین کی قوت نشوونما کا ایک ضروری عنصر مفقود ہوجاتا۔ یہی حقیقت ہے جس کی طرف قرآن نے جابجا اشارات کیے ہیں۔ مثلا سورۃ روم میں ہے : ” وَمِنْ آیَاتِہِ یُرِیکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَیُحْیِی بِہِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ : اور (دیکھو) اس کی (قدرت و حکمت کی) نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ بجلی کی چمک اور کڑک نمودار کرتا ہے اور اس سے تم پر خوف اور امید دونوں حالتیں طاری ہوجاتی ہیں اور آسمان سے پانی برساتا ہے اور پانی کی تاثیر سے زمین مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھتی ہے۔ بلاشبہ اس صورت حال میں ان لوگوں کے لیے جو عقل و بینش رکھتے ہیں (حکمت الٰہی کی) بڑی ہی نشانیاں ہیں ! جمال فطرت : لیکن فطرت کے افادہ فیضان کی سب سے بڑی بخشایش اس کا عالمگیر حسن و جمال ہے۔ فطرت صرف بناتی اور سنوارتی ہی نہیں بلکہ اس طرح بناتی سنوارتی ہے کہ اس کے ہر بناؤ میں حسن و زیبائی کا جلوہ اور اس کے ہر ظہور میں نظر افروزی کی نمود پیدا ہوگئی ہے۔ کائنات ہستی کو اس کی مجموعی حیثیت میں دیکھو یا اس کے ایک ایک گوشہ خلقت پر نظر ڈالو اس کا کوئی رخ نہیں جس پر حسن و رعنائی نے ایک نقاب زیبائش نہ ڈال دی ہو۔ ستاروں کا نظام اور ان کی سیر و گردش، سورج کی روشنی اور اس کی بوقلمونی، چاند کی گردش اور اس کا اتار چڑھاؤ، فضائے آسمانی کی وسعت اور اس کی نیرنگیاں، بارش کا سماں اور اس کے تغیرات، سمندر کا منظر اور دریاؤں کی روانی، پہاڑوں کی بلندیاں اور وادیوں کا نشیب، حیوانات کے اجسام اور ان کا تنوع، نباتات کی صورت آرائیاں اور باغ و چمن کی رعنائیاں، پھولوں کی عطر بیزی اور پرندوں کی نغمہ سنجی، صبح کا چہرہ خنداں اور شام کا جلوہ محجوب، غرض کہ تمام تماشا گاہ ہستی حسن کی نمائش اور نظر افروزی کی جلوہ گاہ ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اس پردہ ہستی کے پیچھے حسن افروزی و جلوہ آرائی کی کوئی قوت کام کر رہی ہے جو چاہتی ہے کہ جو کچھ بھی ظہور میں آئے حسن و زبیائش کے ساتھ ظہور میں آئے اور کارخانہ ہستی کا ہر گوشہ نگاہ کے لیے نشاط، سامعہ کے لیے سرور، اور روح کے لیے بہشت راحت و سکون بن جائے ! دراصل کائنات ہستی کا مایہ خمیر ہی حسن و زیبائی ہے۔ فطرت نے جس طرح اس کے بناؤ کے لیے مادی عناصر پیدا کیے، اسی طرح اس کی خبروئی و رعنائی کے لیے معنوی عناصر کا بھی رنگ و روغن آراستہ کردیا۔ روشنی، رنگ، خوشبو، اور نغمہ حسن و رعنائی کے وہ اجزا ہیں جن سے مشاطہ فطرت چہرہ وجود کی آرائش کر رہی ہے : مشاطہ را بگو کہ بر اسباب حسن یار۔ چیزے فزوں کند کہ تماشا بما رسد !۔ ” صنع اللہ الذی اتقن کل شیء : یہ اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز خوبی اور درستگی کے ساتھ بنائی“۔ ” ذلک عالم الغیب والشہادۃ العزیز الرحیم۔ الذی احسن کل شیء خلقہ۔ : یہ اللہ ہے محسوسات اور غیر محسوسات کا جاننے والا، طاقت والا، رحمت والا جس نے جو چیز بنائی حسن و خوبی کے ساتھ بنائی“۔ بلبل کی نغمہ سنجی اور زاغ و زغن کا شور و غوغا : بلاشبہ کاروبار فطرت کے بعض مظاہر ایسے بھی ہیں جن میں تمہیں حسن و خوبی کی کوئی گیرائی محسوس نہیں ہوتی۔ تم کہتے ہو قمری و بلبل کی نغمہ سنجیوں کے ساتھ زاغ و زغن کا شور و غوغا کیوں کیوں ہے؟ لیکن تم بھول جاتے ہو کہ ارغنون ہستی کا نغمہ کسی ایک آہنگ ہی سے نہیں بنا ہے اور نہ بننا چاہیے تھا۔ جس طرح تمہارے آلات موسیقی کے پردوں میں زیر و بم کے تمام آہنگ موجود ہیں۔ اس میں ہلکے سے ہلکے سر بھی ہیں جن سے باریک اور سریلی صدائیں نکلتی ہیں موٹے سے موٹ سر بھی ہیں جو بلند سے بلند اور بھاری سے بھاری صدائی پیدا کرتے ہیں۔ ان تمام سروں کے ملنے سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے وہی موسیقی کی حلاوت ہے۔ کیونکہ دنیا کی تمام چیزوں کی طرح موسیقی کی حقیقت بھی مختلف اجزا کے امتزاج و تالیف سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی ایک ہی سر سے نغمے کی حلاوت پیدا ہوجائے۔ اگر تم بین یا ستار اٹھا کر صرف اس کے چڑھاؤ کا کوئی ایک پردہ چھیڑ دو گے یا پیانو کی بھاری کنجیوں میں سے کوئی ایک کنجی ہی بجانے لگو گے تو یہ نغمہ نہ ہوگا بھاں بھاں کی ایک کرخت آواز ہوگی۔ یہاں حال موسیقی فطرت کے زیر وبم کا ہے۔ تمہیں کوے کی کائیں کائیں اور چیک کی چیخ میں کوئی دلکشی محسوس نہیں ہوتی لیکن موسیقی فطرت کی تالیف کے لیے جس طرح قمری و بلبل کا ہلکا سر ضروری تھا اسی طرح زاغ و زغن کا بھاری اور کرخت سر بھی ناگزیر تھا، بلبل و قمری کو اس سرگم کا اتار سمجھو اور زاغ و زغن کو چڑھاؤ۔ بر اہل ذوق در فیض در نمی بندد۔ نوائے بلبل اگر نیست صوت زاغ شنو۔ ” تُسَبِّحُ لَہُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالأرْضُ وَمَنْ فِیہِنَّ وَإِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہِ وَلَکِنْ لا تَفْقَہُونَ تَسْبِیحَہُمْ إِنَّہُ کَانَ حَلِیمًا غَفُورًا : ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی بھی ان میں ہے سب (اپنی بناوٹ کی خوبی اور صنعت کے کمال میں) اللہ کی بڑائی اور پاکی کا (زبان حال سے) اعتراف کر رہے ہیں اور ( اتنا ہی نہیں بلکہ کائنات خلقت میں) کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو ( زبان حال سے) اس کی تسبیح و تحمید نہ کر رہی ہو مگر ( افسوس کہ) تم ( اپنے جہل و غفلت سے) اس ترانہ تسبیح کو سمجھتے نہیں۔ فطرت کی حسن افروزیاں اور رحمت الٰہی کی بخشش !: آؤ چند لمحوں کے لیے پھر ان سوالات پر غور کرلیں جو پہلے گزر چکے ہیں۔ فطرت کائنات کی یہ تمام حسن افروزیاں اور جلوہ آرائیاں کیوں ہیں؟ یہ کیوں ہے کہ فطرت حسین ہے اور جو کچھ اس سے ظہور میں آتا ہے وہ حسن و جمال ہی ہوتا ہے؟ کیا یہ ممکن نہ تھا کہ کارخانہ ہستی ہوتا لیکن رنگ کی نظر افروزیاں، بو کی عطر بیزیاں اور نغمہ کی جاں نوازیاں نہ ہوتیں؟ کیا ایسا نہیں ہوسکتا تھا کہ سب کچھ ہوتا لیکن سبزہ و گل کی رعنائیاں اور قمری و بلبل کی نغمہ سنجیاں نہ ہوتیں؟ یقینا دنیا اپنے بننے کے لیے اس کی محتاج نہ تھی کہ تتلی کے پروں میں عجیب و غریب نقش و نگا رہوں اور رنگ برنگ کے دلفریب پرند درختوں کی شاخوں پر چہچہا رہے ہوں؟ ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ درخت ہوتے مگر قامت کی بلندی، پھیلاؤ کی موزونیت، شاخوں کی ترتیب، پتوں کی سبزی اور پھولوں کی رنگا رنگی نہ ہوتی۔ پھر یہ کیوں ہے کہ تمام حیوانات اپنی اپنی حالت اور گردو پیش کے مطابق ڈیل ڈول کی موزونیت اور اعضا کا تناسب ضرور ہی رکھیں۔ اور کوئی وجود نہ ہو جو اپنی شکل و منظر میں ایک خاص طرح کا معتدل پیمانہ نہ رکھتا ہو؟ انسانی علم و نظر کی کاوشیں آج تک یہ عقدہ حل نہ کرسکیں کہ یہاں تعمیر کے ساتھ تحسین کیوں ہے؟ مگر قرآن کہتا ہے یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ خالق کائنات الرحمن اور الرحیم ہے۔ یعنی اس میں رحمت ہے اور اس کی رحمت اپنا ظہور و فعل بھی رکھتی ہے۔ رحمت کا مقتضا یہی تھا کہ بخشش ہو، فیضان ہو، جود و احسان ہو، پس اس نے ایک طرف تو ہمیں زندگی اور زندگی کے تمام احساس و عواطف دبخش دیے جو خوشنمائی اور بدنمائی میں امتیاز کرتے اور خوبی و جمال سے کیف و سرور حاصل کرتے ہیں دوسری طرف کارگاہ ہستی کو اپنی حسن آرائیوں اور جاں فزائیوں سے اس طرح آراستہ کردیا کہ اس کا ہر گشہ نگاہ کے لیے جنت، سامعہ کے لیے حلاوت اور روح کے لیے سرمایہ کیف و سرور بن گیا۔ ” فتبارک اللہ احسن الخالقین : پس کیا ہی بابرکت ذات ہے اللہ کی بنانے والوں میں سب سے زیادہ حسن و خوبی کے ساتھ بنانے والا“ (المومنون : 14) قدرت کا خود رو سامانِ راحت و سرور اور انسان کی ناشکری : ہم زندگی کی بناوٹی اور خود ساختہ آسائشوں میں اس درجہ منہمک ہوگئے ہیں کہ ہمیں قدرتی راحتوں پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور بسا اوقات تو ہم ان کی قدر و قیمت کے اعتراف سے بھی انکار کردیتے ہیں۔ لیکن اگر چند لمحوں کے لیے اپنے آپ کو اس غفلت سے بیدار کرلیں تو معلوم ہوجائے کہ کائنات ہستی کا حسن و جمال فطرت کی ایک عظیم اور بے پایاں بخشش ہے اور اگر یہ نہ ہوتی یا ہمیں اس کا احساس نہ ہوتا تو زندگی، زندگی نہ ہوتی، نہیں معلوم کیا چیز ہوجاتی۔ ممکن ہے موت کی بدحالیوں کا ایک تسلسل ہوتا ! ایک لمحہ کے لیے تصور کرو کہ دنیا موجود ہے مگر حسن و زیبائی کے تمام جلووں اور احساسات سے خالی ہے۔ آسمان ہے مگر فضا کی یہ نگاہ پرور نیلگونی نہیں ہے، ستارے ہیں مگر ان کی درخشندگی و جہاں تابی کی یہ جلوہ آرائی نہیں ہے، درخت ہیں مگر بغیر سبزی کے، پھول ہیں مگر بغیر رنگ و بو کے، اشیا کا اعتدال، اجسام کا تناسب، صداؤں کا ترنم، روشنی و رنگت کی بو قلمونی ان میں سے کوئی چیز بھی وجود نہیں رکھتی یا یوں کہا جائے کہ ہم میں ان کا احساس نہیں ہے۔ غور کرو ایک ایسی دنیا کے ساتھ زندگی کا تصور کیا بھیانک اور ہولناک منظر پیش کرتا ہے؟ ایسی زندگی جس میں ہن تو حسن کا احساس ہو نہ حسن کی جلوہ آرائی، نہ نگاہ کے لیے سرور ہو نہ سامعہ کے لیے حلاوت، نہ جذبات کی رقت ہو نہ محسوسات کی لطافت، یقینا عذاب و جانکاہی کی ایک ایسی حالت ہوتی جس کا تصور بھی ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے۔ لیکن جس قدرت نے ہمیں زندگی دی اس نے یہ بھی ضروری سمجھا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمت یعنی حسن و زیابی کی بخشش سے بھی مالا مال کردے۔ اس نے ایک ہاتھ سے ہمیں حسن کا احساس دیا۔ دوسرے ہاتھ سے تمام دنیا کو جلوہ حسن بنا دیا۔ یہی حقیقت ہے جو ہمیں رحمت کی موجودگی کا یقین دلاتی ہے۔ اگر پردہ ہستی کے پیچھے صرف خالقیت ہی ہوتی، رحمت نہ ہوتی، یعنی پیدا کرنے یا پیدا ہوجانے کی قوت ہوتی مگر افادہ فیضان کا ارادہ نہ ہوتا، تو یقینا کائنات ہستی میں فطرت کے فض (رح) و احسان کا یہ عالمگیر مظاہرہ بھی نہ ہوتا ! ”أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّہَ سَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الأرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہُ ظَاہِرَۃً وَبَاطِنَۃً وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُجَادِلُ فِی اللَّہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَلا ہُدًی وَلا کِتَابٍ مُنِیرٍ : کیا تم نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب تمہارے لیے خدا نے مسخر کردیا ہے اور اپنی تمام نعمتیں ظاہری طور پر بھی اور باطنی طور پر بھی پوری کردی ہیں؟ انسانوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی علم ہو، یا ہدایت ہو، یا کوئی کتاب روشن“ (لقمان :20) انسانی طبیعت کی یہ عالمگیر کمزوری ہے کہ جب تک وہ ایک نعمت سے محروم نہیں ہوجاتا اس کی قدر وقیمت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں کرسکتا۔ تم گنگا کے کنارے بستے ہو اس لیے تمہارے نزدیک زندگی کی سب سے زیادہ بے قدر چیز پانی ہے لیکن اگر یہی پانی چوبیس گھنٹے تک میسر نہ آئے تو تمہیں معلوم ہوجائے اس کی قدر و قیمت کا کیا حال ہے؟ یہی حال فطرت کے فیضان جمال کا بھی ہے۔ اس کے عام اور بے پردہ جلوے شب و روز تمہاری نگاہوں کے سامنے سے گزرتے رہتے ہیں اس لیے تمہیں ان کی قدر و قیمت محسوس نہیں ہوتی۔ صبح اپنی ساری جلو آرائیوں کے ساتھ روز آتی ہے اس لیے تم بستر سے سر اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ چاندنی اپنی ساری حسن افروزیوں کے ساتھ ہمیشہ نکھرتی رہتی ہے اس لیے تم کھڑکیاں بن کر کے سو جاتے ہو۔ لیکن جب یہ شب و روز کے جلوہ ہائے فطرت تمہاری نظروں سے روپوش ہوجاتے ہیں یا تم میں ان کے نظارہ و سماع کی استعداد باقی نہیں رہتی تو غور کرو اس وقت تمہارے احساسات کا کیا حال ہوتا ہے؟ کیا تم محسوس نہیں کرتے کہ ان میں سے ہر چیز زندگی کی ایک بے بہا برکت اور معیشت کی ایک عظیم الشان نعمت تھی؟ سرد ملکوں کے باشندوں سے پوچھو جہاں سال کا بڑا حصہ ابر آلود گزرتا ہے کیا سورج کی کرنوں سے بڑھ کر بھی زندگی کی کوئی مسرت ہوسکتی ہے؟ ایک بیمارے سے پوچھو جو نقل و حرکت سے محرم بستر مرض پر پڑا ہے۔ وہ بتائے گا کہ آسمان کی صاف اور نیلگوں فضا کا ایک نظارہ راحت و سکون کی کتنی بڑی دولت ہے؟ ایک اندھا جو پیدائشی اندھا نہ تھا تمہیں بتا سکتا ہے کہ سورج کی روشنی اور باغ و چمن کی بہار دیکھے بغیر زندگی بسر کرنا کیسی ناقابل برداشت مصیبت ہے؟ تم بسا اوقات زندگی کی مصنوعی آسائوشوں کے لیے ترستے ہو اور خیال کرتے ہو کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمت چاندی سونے کا ڈھیر اور جاہ و حشم کی نمائش ہے لیکن تم بھول جاتے ہو کہ زندگی کی حقیقی مسرتوں کا جو خود رو سامان فطرت نے ہر مخلوق کے لیے پیدا کر رکھا ہے اس سے بڑھ کر دنیا کی دولت و حشمت کونسا سامان نشاط مہیا کرسکتی ہے اور اگر ایک انسان کو وہ سب کچھ میسر ہو تو پھر اس کے بعد کیا باقی رہا جاتا ہے؟ جس دنیا میں سورج ہر روز چمکتا ہو، جس دنیا میں صبح ہر روز مشکراتی اور شام ہر روز پردہ شب میں چھپ جاتی ہو، جس کی راتیں آسمان کی قندیلوں سے مزین اور جس کی چاندنی حسن افروزیوں سے جہاں تاب رہتی ہو، جس کی بہار سبزہ و گل سے لدی ہوئی اور جس کی فصلیں لہلہاتے ہوئے کھیتوں سے گرانبار ہوں، جس دنیا میں روشنی اپنی چمک، رنگ اپنی بوقلمونی، خوشبو اپنی عطر بیزی، اور موسیقی اپنا نغمہ و آہنگ رکھتی ہو، کیا اس دنیا کا کوئی باشندہ آسایش حیات سے محروم اور نعمت معیشت سے مفلس ہوسکتا ہے؟ کیا کسی آنکھ کے لیے جو دیکھ سکتی ہو اور کسی دماغ کے لیے جو محسوس کرسکتا ہو ایک ایسی دنیا میں نامرادی و بدبختی کا گلہ جائز ہے؟ قرآن نے جا بجا انسان کو اس کے اسی کفران نعمت پر توجہ دلائی ہے : ” وَآتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَأَلْتُمُوہُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَۃَ اللَّہِ لا تُحْصُوہَا إِنَّ الإنْسَانَ لَظَلُومٌ کَفَّارٌ : اور اس نے تمہیں وہ تمام چیزیں دے دیں جو تمہیں مطلوب تھیں اور اگر اللہ کی نعمتیں شمار کرنی چاہو تو وہ اتنی ہیں کہ کبھی شمار نہیں کرسکو گے۔ بلاشبہ انسان بڑا ہی نا انصاف بڑا ہی نا شکرا ہے“ (ابراہیم :34) جمال معنوی : پھر فطرت کی بخشایش جمال کے اس گوشہ پر بھی نظر ڈالو کہ اس نے جس طرح جسم و صورت کو حسن و زیبائی بخشی اسی طرح اس کی معنویت کو بھی جمال معنوی سے آراستہ کردیا۔ جسم و صورت کا جمال یہ ہے کہ ہر وجود کے ڈیل ڈول اور اعضاء و جوارح میں تناسب ہے۔ معنویت کا جمال یہ ہے کہ ہر چیز کی کیفیت اور باطنی قوی میں اعتدال ہے۔ اسی کیفیت کے اعتدال سے خواص اور فوائد پیدا ہوئے ہیں اور یہی اعتدال ہے جس نے حیوانات میں اداراک وھواس کی قوتیں بیدار کردیں اور پھر انسان کے درجہ میں پہنچ کر جوہر عقل و فکر کا چراغ روشن کردیا۔ ” وَاللَّہُ أَخْرَجَکُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّہَاتِکُمْ لا تَعْلَمُونَ شَیْئًا وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالأبْصَارَ وَالأفْئِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ : اور (دیکھو) یہ اللہ کی کارفرمائی ہے کہ تم اپنی ماؤں کے شکم سے پیدا ہوتے ہو اور کسی طرح کی سمجھ بوجھ تم میں نہیں ہوتی لیکن اس نے تمہارے لیے دیکھنے سننے کے حواس بنا دیے اور سوچنے سمجھنے کے لیے عقل دے دی تاکہ اس کی نعمت کے شکر گزار ہو۔ کائنات ہستی کے اسرار و غوامض بے شمار ہیں لیکن روح حیوانی کا جوہر ادراک زندگی کا سب سے زیادہ لاینحل عقدہ ہے۔ حیوانات میں کیڑے مکوڑے تک ہر طرح کا احساس و ادراک رکھتے ہیں اور انسانی دماغ کے نہاں خانہ میں عقل و تفکر کا ایک چراغ روشن ہے۔ یہ قوت احساس، یہ قوت ادراک اور یہ قوت عقل کیونکر پیدا ہوئی؟ مادی عناصر کی ترکیب و امتزاج سے ایک ماورائے مادہ جوہر کس طرح ظہور میں آگیا؟ چیونٹی کو دیکھو اس کے دماغ کا حج سوئی کی نوک سے شاید ہی کچھ زیادہ ہوگا۔ لیکن مادہ کے اس حقیر ترین عصبی ذرہ میں بھی احساس و ادراک، محنت و استقلال، ترتیب و تناسب، نظم و ضبط، اور صنعت و اختراع کی ساری قوتیں مخفی ہوتی ہیں اور وہ اپنے اعمال حیات کی کرشمہ سازیوں سے ہم پر رعب اور حیرت کا عالم طاری کردیتی ہے۔ شہد کی مکھی کی کار فرمائیاں ہر روز تمہاری نظروں سے گزرتی رہتی ہیں۔ یہ کون ہے جس نے ایک چھوٹی سی مکھی میں تعمیر و تحسین کی ایسی منتظم قوت پیدا کردی ہے؟ قرآن کہتا ہے یہ اس لیے کہ رحمت کا مقتضا جمال تھا اور ضروری تھا کہ جس طرح اس نے جمال صوری سے دنیا آراستہ کردی ہے اسی طرح جمال معنوی کی بخشایشوں سے بھی اسے مالا مال کردیتی۔ ” ذَلِکَ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ (٦) الَّذِی أَحْسَنَ کُلَّ شَیْءٍ خَلَقَہُ وَبَدَأَ خَلْقَ الإنْسَانِ مِنْ طِینٍ (٧) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہُ مِنْ سُلالَۃٍ مِنْ مَاءٍ مَہِینٍ (٨) ثُمَّ سَوَّاہُ وَنَفَخَ فِیہِ مِنْ رُوحِہِ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالأبْصَارَ وَالأفْئِدَۃَ قَلِیلا مَا تَشْکُرُونَ : یہ محسوسات اور غیر محسوسات کا جاننے والا عزیز و رحیم ہے جس نے جو چیز بھی بنائی حسن و خوبی کے ساتھ بنائی۔ چنانچہ یہ اسی کی قدرت و حکمت ہے کہ انسان کی پیدائش مٹی سے شروع کی پھر اس کے توالد و تناسل کا سلسلہ (خون کے) خلاصہ سے جو پانی کا ایک حقیر سا قطرہ ہوتا ہے قائم کردیا۔ پھر اس کی تمام قوتوں کی درستگی کی اور اپنی روح (میں سے ایک قوت) پھوک دی اور (اس طرح) اس کے لیے سننے، دیکھنے اور فکر کرنے کی قوتیں پیدا کردیں۔ (لیکن افسوس انسان کی غفلت پر !) بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ (اللہ کی رحمت کا) شکر گزار ہو۔ بقائے انفع : لیکن کائنات ہستیکا یہ بناؤ، یہ حسن، یہ ارتقا قائم نہیں رہ سکتا تھا اگر اس میں خوبی کے بقا اور خرابی کے ازالے کے لیے ایک اٹل قوت سرگرم کار نہ رہتی۔ یہ قوت کیا ہے؟ فطرت کا انتخاب ہے۔ فطرت ہمیشہ چھانٹتی رہتی ہے۔ وہ ہر گوشہ میں صرف خوبی اور بہتری ہی باقی رکھتی ہے۔ فساد اور نقص محو کردیتی ہے۔ ہم فطرت کے اس انتخاب سے بے خبر نہیں ہیں۔ ہم اسے ” بقائے اصلح“ کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ” اصلح“ یعنی Fittest، لیکن قرآن بقائے اصلح کی جگہ بقائے انفع کا ذکر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے اس کارگاہ فیضان و جمال میں صرف وہی چیز باقی رکھی جاتی ہے جس میں نفع ہو۔ کیونکہ یہاں رحمت کارفرما ہے اور رحمت چاہتی ہے کہ افادہ فیضان ہو۔ وہ نقصان و برہمی گوارا نہیں کرسکتی۔ تم سونا کٹھالی میں ڈال کر آگ پر رکھتے ہو۔ کھوٹ جل جاتا ہے۔ خالص سونا باقی رہ جاتا ہے۔ یہی مثال فطرت کے انتخاب کی ہے۔ کھوٹ میں نفع نہ تھا نابود کردیا گیا، سونے میں نفع تھا باقی رہ گیا۔ ”أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِیَۃٌ بِقَدَرِہَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَابِیًا وَمِمَّا یُوقِدُونَ عَلَیْہِ فِی النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْیَۃٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُہُ کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللَّہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْہَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الأرْضِ کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللَّہُ الأمْثَالَ : خدا نے آسمان سے پانی برسایا تو ندی نالوں میں جس قدر سمائی تھی اس کے مطابق بہہ نکلے اور جس قدر کوڑا کرکٹ جھاگ بن کر اوپر آگیا تھا اسے سیلاب اٹھا کر بہا لے گیا۔ اسی طرح جب زیور یا اور کسی طرح کا سامان بنانے کے لیے (مختلف قسم کی دھاتیں) آگ میں تپاتے ہیں تو اس میں بھی جھاگ اٹھتا ہے اور میل کچیل کٹ کر نکل جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کردیتا ہے۔ جھاگ رائیگاں جائے گا (کیونکہ اس میں نفع نہ تھا) جس چیز میں انسان کے لیے نفع ہوگا، وہ زمین میں باقی رہ جائے گی۔ تدریج وامہال : پھر اگر دقت نظر سے کام لو تو افادہ فیضان فطرت کی حقیقت کچھ انہی مظاہر پر موقوف نہیں ہے بلکہ کارخانہ ہستی کے تمام اعمال وقوانین کا یہی سوال ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ فطرت کے تمام قوانین اپنی نوعیت میں کچھ اس طرح واقع ہوئے ہیں کہ اگر لفظوں میں اسے تعبیر کرنا چاہو تو صرف فطرت کے فضل و رحمت ہی سے تعبیر کرسکتے ہو۔ تمہیں اور کوئی تعبیر نہیں ملے گی۔ مثلاً اس کے قوانین کا عمل کبھی فوری اور اچانک نہیں ہوتا۔ وہ جو کچھ کرتی ہے آہستہ آہستہ بتدریج کرتی ہے اور اس تدریجی طرز عمل نے دنیا کے لیے مہلت اور ڈھیل کا فائدہ پیدا کردیا ہے۔ یعنی اس کا ہر قانون فرصتوں پر فرصتیں دیتا ہے اور اس کا ہر فعل عفو و درگزر کا دروازہ آخر تک کھلا رکھتا ہے۔ بلاشبہ اس کے قوانین اپنے نفاذ میں اٹل ہیں۔ ان میں رد و بدل کا امکان نہیں۔ ” مایبدل القول لدی : ہماری یہاں جو بات ایک مرتبہ ٹھہرا دی گئی اس میں کبھی تدبیلی نہیں ہوتی“ (ق :28)۔ اور اس لیے تم خیال کرنے لگتے ہو کہ ان کی قطعیت بے رحمی سے خالی نہیں لیکن تم نہیں سوچتے کہ جو قوانین اپنے نفاذ میں اس درجہ قطعی اور بے پروا ہیں وہی اپنی نوعیت میں کس درجہ عفو و درگزر اور مہلت بخشی و اصلاح کوشی کی روح بھی رکھتے ہیں؟ اسی لیے آیت مندرجہ صدر میں مایبد القول کے بعد ہی فرمایا ” وما انا بظلام للعبید : لیکن یہ بھی نہیں ہے کہ ہم بندوں کے لیے زیادتی کرنے والے ہوں“ (ق :28)۔ فطرت اگر چاہتی تو ہر حالت بیک دفعہ ظہور میں آجاتی۔ یعنی اس کے قوانین کا نفاذ فوری اور ناگہانی ہوتا لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ ایسا نہیں ہوتا۔ ہر حالت، ہر تاثیر، ہر انفعال کے ظہور و بلوغ کے لیے ایک خاص مدت مقرر کردی گئی ہے۔ اور ضروری ہے کہ بتدریج مختلف منزلیں پیش آئیں۔ پھر ہر منزل اپنے آثار و انداز رکھتی ہے اور آنے والے نتائج سے خبردار کرتی رہتی ہے۔ زندگی اور موت کے قوانین پر غور کرو۔ کسی طرح زندگی بتدریج نشوونما پاتی اور کس طرح درجہ بدرجہ مختلف منزلوں سے گزرتی ہے۔ اور پھر کس طرح موت کمزوری وفساد کا ایک طول طویل سلسلہ ہے جو اپنے ابتدائی نقطوں سے شروع ہوتا اور یکے بعد دیگرے مختلف منزلیں طرے کرتا ہوا آخری نقطہ بلوغ تک پہنچا دیا کرتا ہے؟ تم بد پرہیزی کرتے ہو تو یہ نہیں ہوتا کہ فوراً ہی ہلاک ہوجاؤ بلکہ بتدریج موت کی طرف بڑھنے لگتے ہو اور بالآخر ایک خاص مدت کے اندر جوہر صورت حال کے لیے یکساں نہیں ہوتی درجہ بدرجہ اترتے ہوئے موت کی آغوش میں جا گرتے ہو۔ نباتات کو دیکھو۔ درخت اگر آبیاری سے محروم ہوجاتے ہیں یا نقصان و سفاد کا کوئی دوسرا سبب عارض ہوجاتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ ایک ہی دفعہ مرجھا کر رہ جائیں یا کھڑے کھڑے اچانک گر جائیں۔ بلکہ بتدریج شاقدابی کی جگہ پژمردگی کی حالت طاری ہونا شروع ہوجاتی ہے اور پھر ایک خاص مدت کے اندر جو مقرر کردی گئی ہے یا تو بالک مرجھا کر رہ جاتے ہیں یا جڑ کھوکھلی ہو کر گرپڑتے ہیں۔ اصطلاح قرآنی میں ” اجل“: یہی حال کائنات کے تمام تغیرات و انفعالات کا ہے۔ کوئی تغیر ایسا نہیں جو اپنا تدریجی دور نہ رکھتا ہو۔ ہر چیز بتدریج بنتی ہے اور اسی طرح بتدریج بگڑتی ہے۔ بناؤ ہو یا بگاڑ، ممکن نہیں کہ ایک خاص مدت گزرے بغیر کوئی حالت بھی اپنی کامل صورت میں ظاہر ہوسکے۔ یہ مدت جو ہر حالت کے ظہور کے لیے اس کی ” اجل“ یعنی مقررہ وقت ہے مختلف گوشوں اور مختلف حالتوں میں مختلف مقدار رکھتی ہے اور بعض حالتوں میں اس کی مقدار اتنی طویل ہوتی ہے کہ ہم اپنے نظام اوقات سے اس کا حساب بھی نہیں لگا سکتے۔ قرآن نے اسے یوں تعبیر کیا ہے کہ جس مدت کو تم اپنے حساب میں ایک دن سمجھتے ہو اگر اسے ایک ہزار برس یا پچاس ہزار برس تصور کرلو تو ایسے دنوں سے جو مہینے اور برس بنیں گے ان کی مقدار کتنی ہوگی؟ ” وان یوم عند ربک کالف سنۃ مما تعدون : اور بلاشبہ تمہارے پروردگار کے حساب میں ایک دن یسا ہے جیسے تمہارے حساب میں ایک ہزار برس“ (22:، 47) ” تکویر“ : فطرت کا یہی تدریجی طرز عمل ہے جسے قرآن نے ” تکویر“ سے بھی تعبیر کیا ہے۔ یعنی لپٹنے سے۔ وہ کہتا ہے : بجائے اس کے کہ اچانک دن کی روشنی نگل آتی اور ناگہاں رات کی اندھیری ابل پڑتی فطرت نے رات اور دن کے ظہور کو اس طرح تدریجی بنا دیا ہے کہ معلوم ہوتا ہے رات آہستہ آہستہ دن پر لپٹتی جاتی ہے اور دن درجہ بدرجہ رات پر لٹتا آتا ہے : ” خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ بِالْحَقِّ یُکَوِّرُ اللَّیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی اللَّیْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ یَجْرِی لأجَلٍ مُسَمًّی: اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت ومصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اس نے رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آتے رہنے کا ایسا انتظام کردیا کہ رات دن پر لپٹتی جاتی ہے اور دن رات پر لپٹتا آتا ہے۔ اور سورج اور چاند دونوں کو اس کی قدرت نے (ایک خاص انتظام کے ماتحت) مسخر کر رکھا ہے۔ سب (اپنی اپنی جگہ) اپنے مقررہ و وقت تک کے لیے حرکت میں ہیں“۔ (الزمر :5) قرآن اسی تدریجی رفتار عمل کو فائدہ اٹھانے کا موقع دینے، ڈھیل دینے، عفو و درگزر کرنے، اور ایک خاص مدت کی فرصت حیات بخشنے سے تعبیر کرتا ہے اور کہتا ہے : یہ اس لیے ہے کہ کائنات ہستی میں فضل و رحمت کی مشیت کام کر رہی ہے ور وہ چاہتے ہے ہر غلطی کو درستگی کے لیے، ہر نقصان کو تلافی کے لیے ہر لغزش کو سنبھل جانے کے لیے، زیادہ سے زیادہ مہلت اصلاح ملتی رہے اور اس کا دروازہ کسی پر بند نہ ہو۔ تاخیر اجل : وہ کہتا ہے : اگر تدریج و امہال کی یہ فرصتیں اور بخششیں نہ ہوتیں تو دنیا میں ایک وجود بھی فرصت حیات سے فائدہ نہ اٹھا سکتا۔ ہر غلطی، ہر کمزوری، ہر نقصان ہر فساد، اچانک بیک دفعہ بربادی وہلاکت کا باعث ہوجاتا۔ ” وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللَّہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوا مَا تَرَکَ عَلَی ظَہْرِہَا مِنْ دَابَّۃٍ وَلَکِنْ یُؤَخِّرُہُمْ إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی فَإِذَا جَاءَ أَجَلُہُمْ فَإِنَّ اللَّہَ کَانَ بِعِبَادِہِ بَصِیرًا : اور انسان جو کچھ اپنے اعمال سے کمائی کرتا ہے اگر اللہ اس پر (فورا) مواخذہ کرتا تو یقین کرو زمین کی سطرح پر ایک جاندار بھی باقی نہ رہتا لیکن ( یہ اس کی رحمت ہے کہ) اس نے ایک مقررہ وقت تک فرصت حیات دے رکھی ہے۔ البتہ جب وہ مقررہ وقت آجائے گا تو پھر (یاد رہے کہ) اللہ اپنے بندوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔ اس کی آنکھیں ہر وقت اور ہر حال میں سب کچھ دیکھ رہی ہیں“۔ (فاطر :45) تدریج و امہال اچھائی اور برائی دونوں کے لیے ہے : قدرتی طور پر یہ ڈھیل اچھائی اور برائی دونوں کے لیے ہے۔ اچھائی کے لیے اس لیے تاکہ زیادہ نشوونما پائے۔ بڑائی کے لیے اس لیے تاکہ متنبہ اور خبردار ہو کر اصلاح و تلافی کا سامان کرلے : ” کلا نمد ھؤلاء وھؤلاء من عطاء ربک و ما کان عطاء ربک محظورا : ان لوگوں کو بھی اور ان لوگوں کو بھی ( یعنی اچھوں کو بھی اور بروں کو بھی) سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش میں سے حصہ مل رہا ہے اور تمہارے پروردگار کی بخشش کسی پر بند نہیں“ (17:، 20)۔ اگر قوانین فطرت کی ان مہلت بخشیوں سے فائدہ اٹھا کر نقصان و فساد کی اصلاح کرلی جائے۔ مثلاً تم نے بد پرہیزی کی تھی۔ اسے ترک کردو تو پھر اسی فطرت کا یہ بھی قانون ہے کہ اصلاح و تلافی کی ہر کوشش قبول کرلیتی ہے اور نقصان و فساد کے جو نتائج نشوونما پانے لگے تھے ان کا مزید نشوونما فوراً رک جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اگر اصلاح بروقت اور ٹھیک ٹھیک کی گئی ہے تو پچھلے مضر اثرات بھی محو ہوجائیں گے اور اس طرح محو ہوجائیں گے گویا کوئی خرابی پیش ہی نہیں آئی تھی۔ لیکن اگر فطرت کی تمام مہلت بخشیاں رائگاں گئیں۔ اس کا بار بار اور درجہ بدرجہ انذار بھی کوئی نتیجہ پیدا نہ کرسکا تو پھر بلاشبہ وہ آخری حد نمودار ہوجاتی ہے جہاں پہنچ کر فطرت کا آخری فیصلہ صادر ہوجاتا ہے۔ اور پھر جب اس کا فیصلہ صادر ہوجائے تو نہ تو اس میں چشم زدن کی تاخیر ہوسکتی ہے نہ کسی حال میں بھی تزلزل اور تبدیلی۔ ” فاذا جاء اجلہم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون : پھر جب ان کا مقررہ و قت آگیا تو اس سے نہ تو ایک گھڑی پیچھے رہ سکتے ہیں، اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں“۔ یعنی نہ تو اس کے نفاذ میں تاخیر ہوسکتی ہے نہ تقدیم۔ ٹھیک ٹھیک اپنے وقت میں اسے ہوجانا ہے۔ تسکین حیات : زندگی کی محنتیں اور کاوشیں : ہم دیکھتے ہیں انسان کی معیشت قیام و بقا کی جدو جہد اور کشاکش کا نام ہے۔ اس لیے قدرتی طور پر اس کا ہر گوشہ طرح طرح کی محنتوں اور کاوشوں سے گھرا ہوا ہے اور بہ حیثیت مجموعی زندگی اضطراری ذمہ داریوں کا بوجھ اور مسلسل مشقتوں کی آزمائش ہے۔ ” لقد خلقنا الانسان فی کبد : بلاشبہ ہم نے انسان کو اس طرح بنایا ہے کہ اس کی زندگی مشقتوں سے گھری ہوئی ہے“ (البلد : 4) مشغولیت اور انہماک : لیکن بایں ہمہ فطرت نے کارخانہ معیشت کا ڈھنگ کچھ اس طرح کا بنا دیا ہے اور طبیعتوں میں کچھ اس طرح کی خواہشیں، ولولے، اور انفعالات ودیعت کردیے ہیں کہ زندگی کے ہر گوشے میں ایک عجیب طرح کی دل بستگی، مشغولیت، ہماہمی اور سرگرمی پیدا ہوگئی ہے اور یہی زندگی کا انہماک ہے جس کی وجہ سے ہر ذی حیات نہ صرف زندگی کی مشقتیں برداشت کر رہا ہے بلکہ انہی مشقتوں میں زندگی کی بڑی سے بڑی لذت و راحت محسوس کرتا ہے۔ یہ مشقتیں جس قدر زیادہ ہوتی ہیں اتنی ہی زیادہ زندگی کی دلچسپی اور محبوبیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر ایک انسان کی زندگی ان مشقتوں سے خالی ہوجائے تو وہ محسوس کرے گا کہ زندگی کی ساری لذتوں سے محروم ہوگیا اور اب زندہ رہنا اس کے لیے ناقابل برداشت بوجھ ہے ! حالات متفاوت ہیں، لیکن زندگی کی دل بستگی اور سرگرمی سب کے لیے ہے : پھر دیکھو ! کارساز فطرت کی یہ کیسی کرشمہ سازی ہے کہ حالات متفاوت ہیں، طبائع متنوع ہیں، اشغال مختلف ہیں، اغراض متضاد ہیں، لیکن معیشت کی دل بستگی اور سرگرمی سب کے لیے یکساں ہے اور سب ایک ہی طرح اس کی مشغولیتوں کے لیے جوش و طلب رکھتے ہیں۔ مرد و عورت، طفل و جوان، امیر و فقیر، عالم وجاہل، قوی و ضعیف، تندرست و بیمار، مجرد و متاہل، حاملہ و مرضعہ، سب اپنی اپنی حالتوں میں منہمک ہیں اور کوئی نہیں جس کے لیے زندگی کی کاوشوں میں محویت نہ ہو۔ امیر اپنے محل کے عیش و نشاط میں اور فقیر اپنی بے سرو سامانیوں کی فاقہ مستی میں زندگی بسر کرتا ہے لیکن دونوں کے لیے زندگی کی مشغولیتوں میں دل بستگی ہوتی ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کون زیادہ مشغول ہے۔ ایک تاجر جس انہماک کے ساتھ اپنی لاکھوں روپیہ کی آمدنی کا حساب کرتا ہے اسی طرح ایک مزدور بھی دن بھر کی محنت کے چند پیسے گن لیا کرتا ہے اور دونوں کے لیے یکساں طور پر زندگی محبوب ہوتی ہے۔ ایک حکیم کو دیکھو جو اپنے علم و دانش کی کاوشوں میں غرق ہے اور ایک دہقان کو دیکھو جو دوپہر کی دھوپ میں برہنہ سر ہل جوت رہا ہے اور پھر بتلاؤ کس کے لیے زندگی کی مشغولیتوں میں زیادہ دل بستگی ہے؟ پھر دیکھو ! بچے کی پیدائش ماں کے لیے کسی جانکاہی و مصیبت ہوتی ہے؟ اس کی پرورش و نگرانی کس طرح خود فروشانہ مشقتوں کا طول طویل سلسلہ ہے؟ تاہم یہ سارا معاملہ کچھ ایسی خواہشوں اور جذبوں کے ساتھ وابستہ کردیا گیا ہے کہ ہر عورت میں ماں بننے کی قدرتی طلب ہے اور ہر ماں پرور اولاد کے لیے مجنونانہ خود فراموشی رکھتی ہے۔ وہ زندگی کا سب سے بڑا دکھ سہے گی اور پھر اسی دکھ میں زندگی کی سب سے بڑی مسرت محسوس کرے گی ! وہ جب اپنی معیشت کی ساری راحتیں قربان کردیتی ہے اور اپنی رگوں کے خون کا ایک ایک قطرہ دودھ بنا کر پلا دیتی ہے تو اس کے دل کا ایک ایک ریشہ زندگی کے سب سے بڑے احساس مسرت سے معمور ہوجاتا ہے۔ پھر کاروبار فطرت کے یہ تصرفات دیکھو کہ کس طرح نوع انسانی کے منتشر افراد اجتماعی زندگی کے بندھنوں سے باہم دگر مربوط کردیے گئے ہیں؟ اور کس طرح صلہ رحمی کے رشتہ نے ہر فرد کو سینکڑوں ہزاروں افراد کے ساتھ جوڑ رکھا ہے؟ فرض کرو زندگی و معیشت ان تمام مؤثرات سے خالی ہوتی۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ خالی نہیں ہوسکتی تھی اس لیے کہ فطرت کائنات میں رحمت کار فرما ہے اور رحمت کا مقتضا یہی تھا کہ معیشت کی مشقتوں کو خوشگوار بنا دے اور زندگی کے لیے تسکین و راحت کا سامان پیدا کردے۔ یہ رحمت کی کرشمہ سازیاں ہیں جنہوں نے رنج میں راحت، الم میں لذت، اور سختیوں میں دل پذیری کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ اشیاء و مناظر کا اختلاف و تنوع اور تسکین حیات : چنانچہ قرآن نے تسکین حیات کے مختلف پہلووں پر جا بجا توجہ دلائی ہے۔ ازاں جملہ کائنات خلقت کے مناظر و اشیا کا اختلاف و تنوع ہے۔ انسانی طبیعت کا خاصہ ہے کہ یکسانی سے اکتاتی ہے اور تبدیلی و تنوع میں خوشگواری و کیفیت محسوس کرتی ہے۔ پس اگر کائنات ہستی میں محض یکسانی و یک رنگی ہی ہوتی تو یہ دلچسپی اور خوشگواری پیدا نہ ہوسکتی جو اس کے ہر گوشہ میں ہمیں نظر آرہی ہے۔ اوقات کا اختلاف، موسموں کا اختلاف، خشکی و تری کا اختلاف، مناظر طبیعت اور اشیائے خلقت کا اختلاف جہاں بے شمار مصلحتیں اور فوائد رکھتا ہے وہاں ایک بڑی مصلحت دنیا کی زیب و زینت اور معیشت کی تسکین و راحت بھی ہے : گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینت چمن اے ذوق اس جہاں میں ہے زیب اختلاف سے اختلاف لیل ونہار : چنانچہ اسی سلسلہ میں وہ رات اور دن کے اختلاف کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے اگر غور کرو تو اس اختلاف میں حکمت الٰہی کی کتنی ہی نشانیاں پوشیدہ ہیں۔ یہ بات کہ شب و روز کی آمد و شد کی دو مختلف حالتیں ٹھہرا دی گئی ہیں اور وقت کی نوعیت ہر معین مقدار کے بعد بدلتی رہتی ہے، زندگی کے لیے بڑی ہی تسکین و دل بستگی کا ذریعہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا اور وقت ہمیشہ ایک ہی حالت پر برقرار رہتا تو دنیا میں زندہ رہنا دشوار ہواجتا۔ اگر تم قطبین کے اطراف میں جاؤ جہاں روز و شب کا اختلاف اپنی نمود نہیں رکھتا تو تمہیں معلوم ہوجائے کہ یہ اختلاف گزران حیات کے لیے کیسی عظیم الشان نعمت ہے : ” ان فی خلق السموات والارض واختلاف اللیل والنہار لایات لاولی الباب : بلا شبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے ایک کے بعد ایک آتے رہنے میں ارباب دانش کے لیے (حکمت الٰہی) کی بڑی ہی نشانیاں ہیں“ (آل عمران :190)۔ رات اور دن کے اختلاف نے معیشت کو دو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ دن کی روشنی جدو جہد کی سرگرمی پیدا کرتی ہے۔ رات کی تاریکی راحت و سکون کا بستر بچھا دیتی ہے۔ ہر دن کی محنت کے بعد رات کا سکون ہوتا ہے اور ہر رات کے سکون کے بعد نئے دن کی سرگرمی۔ ” ومن رحمتہ جعل لکم الیل والنہار لتسکنوا فیہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون : اور (دیکھو) یہ اس کی رحإت کی کارسازی ہے کہ تمہارے لیے رات اور دن (الگ الگ) ٹھہرا دیے گئے تاکہ رات کے وقت راحت پاؤ اور دن میں اس کا فضل تلاش کرو ( یعنی کاروبار معیشت میں سرگرم رہو) “ (28:، 73)۔ دن کی مختلف حالتیں اور رات کی مختلف منزلیں : پھر رات اور دن کا اختلاف صرف رات اور دن ہی کا اختلاف نہیں ہے بلکہ ہر دن مختلف حالتوں سے گذرتا اور ہر رات مختلف منزلیں طے کرتی ہے۔ ہر حالت ایک خاص طرح کی تاثیر رکھتی ہے اور ہر منزل کے لیے ایک خاص طرح کا منظر ہوتا ہے۔ اوقات کا یہ روزانہ اختلاف ہمارے احساسات کا ذائقہ بدلتا رہتا ہے، اور یکسانیت کی افسردگی کی جگہ تدبل و تجدد کی لذت اور سرگرمی پیدا ہوتی رہتی ہے۔ ” فسبحان اللہ حین تمسون و حین تصبحون۔ ولہ الحمد فی السموات والارض و عشیا و حین تظہرون : پس پاکی ہے اللہ کے لیے اور آسمانوں اور زمین میں اس کے لیے ستائش ہے جبکہ تم پر شام آتی ہے جب تم پر صبح ہوتی ہے جب دن کا آخری وقت ہوتا ہے اور جب تم پر دوپہر آتی ہے“ (روم : 16) حیوانات کا اختلاف : اسی طرح انسان خود اپنے وجود کو دیکھے اور تمام حیوانات کو دیکھے۔ فطرت نے کس طرح، طرح طرح کے اختلافات سے اس میں تنوع اور دل پذیری پیدا کردی ہے؟ ” ومن الناس والدواب والانعام مختلف الوانہ : اور انسان، جانور، چارپائے طرح طرح کی رنگتوں کے“ نباتات : عالم نباتات کو دیکھو۔ درختوں کے مختلف ڈیل ڈول ہیں، مختلف رنگتیں ہیں، مختلف خوشبوئیں ہیں، مختلف خواص ہیں، اور پھر دانہ اور پھل کھاؤ تو مختلف قسم کے ذائقے ہیں۔ ” اولم یروا الی الارض کم انبتنا فیہا من کل زوج کریم : کیا ان لوگوں نے کبھی زمین پر نظر نہیں ڈالی اور غور نہیں کیا کہ ہم نے نباتات کی ہر دو دو بہتر قسموں میں سے کتنے (بے شمار) درخت پیدا کردیے ہیں“ (26:، 7)۔ ” وما ذرا لکم فی الارض مختلفا الوانہ ان فی ذلک لایات لقوم یذکرون : اور (دیکھو) اللہ نے جو پیداوار مختلف رنگتوں کی تمہارے لیے زمین میں پھیلا دی ہے سو اس میں بھی عبرت پذیر طبیعتوں کے لیے (حکمت الٰہی کی) بڑی ہی نشانی ہے“ (16:13)۔ ” وھو الذی انشا جنات معروشات و غیر معروشت والنخل والزرع مختلفا اکلہ : اور وہ (حکیم و قدیر) جس نے (طرح طرح کے) باغ پیدا کردیے۔ ٹٹیوں پر چڑھائے ہوئے اور بغیر چڑھائے ہوئے اور کھجور کے درخت اور (طرح طرح کی) کھیتیاں جن کے دانے اور پھل کھانے میں مختلف ذائقہ رکھتے ہیں“۔ جمادات : حیوانات اور نباتات ہی پر موقوف نہیں جمادات میں بھی یہی قانون فطرت کام کر رہا ہے : ” ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانہا وغرابیب سود : اور پہاڑوں کو دیکھو۔ گوناگوں رنگتوں کے ہیں۔ کچھ سفید، کچھ سرخ کچھ کالے کلوٹے“۔ ہر چیز کے دو دو ہونے کا قانون : اسی قانون اختلاف کا ایک گوشہ وہ بھی ہے جسے قرآن نے ” تزویج“ سے تعبیر کیا ہے اور ہم اسے قانون تثنیہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی ہر چیز کے دو دو ہونے یا متقابل و متماثل ہونے کا قانون۔ کائنات خلقت کا کوئی گوشہ بھی دیکھو تمہیں کوئی چیز یہاں اکہری اور طاق نظر نہیں آئے گی۔ ہر چیز میں جفت اور دو دو ہونے کی حقیقت کام کر رہی ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ ہر چیز اپنا کوئی نہ کوئی مثنی بھی ضرور رکھتی ہے۔ رات کے لیے دن ہے، صبح کے لیے شام ہے، نر کے لیے مادہ ہے، مرد کے لیے عورت ہے، زندگی کے لیے موت ہے۔ قرآن حکیم نے آخرت کے وجود کا جن جن دلائل سے اذعان پیدا کیا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔ وہ کہتا ہے : دنیا میں ہر چیز اپنا کوئی نہ کوئی متقابل وجود یا مثنی ضرور رکھتی ہے۔ پس ضروری ہے کہ دنیوی زندگی کے لیے بھی کوئی متقابل اور مثنی زندگی ہو۔ دنیوی زندگی کی متقابل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ چنانچہ بعض سورتوں میں انہی متقابل مظاہرات سے استشہاد کیا ہے۔ مثلا سورۃ والشمس میں فرمایا : وَالشَّمْسِ وَضُحَاہَا (١) وَالْقَمَرِ إِذَا تَلاہَا (٢) وَالنَّہَارِ إِذَا جَلاہَا (٣) وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَاہَا (٤) وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاہَا (٥) وَالأرْضِ وَمَا طَحَاہَا (٦)۔ ” ومن کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذکرون : اور ہر چیز میں ہم نے جوڑے پیدا کردیے (یعنی دو دو اور متقابل اشیا پیدا کیں“۔ ” سبحان الذی خلق الازواج کلہا مما تنبت الارض و من انفسہم ومما لا یعلمون : پاکی اور بزرگی ہے اس ذات کے لیے جس نے زمین کی پیداوار میں اور انسان میں اور ان تمام مخلوقات میں جن کا انسان کو علم نہیں دو دو اور متقابل چیزیں پیدا کیں۔ مرد اور عورت : یہی قانون فطرت ہے جس نے انسان کو دو مختلف جنسوں یعنی مرد اور عورت میں تقسیم کردیا اور پھر ان میں فعل و انفعال اور جذب وا نجذاب کے کچھ ایسے وجدانی احساسات ودیعت کردیے کہ ہر جنس دوسری سے ملنے کی قدرتی طلب رکھتی ہے اور دونوں کے ملنے سے ازدواجی زندگی کی ایک کامل معیشت پیدا ہوجاتی ہے۔ ” فاطر السموات والارض جعل لکم من انفسکم ازواجا و من الانعام ازواجا : وہ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا۔ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس میں سے جوڑے بنا دیے (یعنی مرد کے لیے عورت اور عورت کے لیے مرد) اسی طرح چارپایوں میں بھی جوڑے پیدا کردیے“ (الشوری :11) قرآن کہتا ہے : یہ اس لیے ہے تاکہ محبت اور کون ہو اور دو ہستیوں کی باہمی رفاقت اور اشتراک سے زندگی کی محنتیں اور مشقتیں سہل اور گوارا ہوجائیں۔ ” وَمِنْ آیَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْکُنُوا إِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّۃً وَرَحْمَۃً إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ : اور (دیکھو) اس کی (رحمت کی) نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کردیے (یعنی مرد کے لیے عورت اور عورت کے لیے مرد) تاکہ اس کی وجہ سے تمہیں سکون حاصل ہو اور ( پھر اس کی یہ کارفرمائی دیکھو کہ) تمہارے درمیان (یعنی مرد اور عورت کے درمیان) محبت اور رحمت کا جذبہ پیدا کردیا۔ بلاشبہ ان لوگوں کے لیے جو غو و فکر کرنے والے ہیں اس میں (حکمت الٰہی کی) بڑی ہی نشانیاں ہیں۔ نسب اور صہر : پھر اسی ازدواجی زندگی سے توالد و تناسل کا ایک ایسا سلسلہ قائم ہوگیا ہے کہ ہر وجود پیا ہوتا ہے اور ہر وجود پیدا کرتا ہے۔ ایک طرف وہ نسب کا رشتہ رکھتا ہے جو اسے پچھلوں سے جوڑتا ہے۔ دوسری طرف صہر یعنی دامادی کا رشتہ رکھتا ہے جو اسے آگے آنے والوں سے مربوط کردیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر وجود کی فردیت ایک وسیع دائرہ کی کثرت میں پھیل گئی ہے اور رشتوں، قرابتوں کا ایسا وسیع حلقہ پیدا ہوگیا ہے جس کی ہر کڑی دوسری کڑی کے ساتھ مربوط ہے۔ ” وھو الذی خلق من الماء بشرا فجعلہ نسبا وصہرا : اور وہی (حکیم و قدیر) ہے جس نے پانی سے (یعنی نطفہ سے) انسان کو پیدا کیا پھر ( اسی رشتہ پیدائس کے ذریعہ) اسے نسب اور صہر کا رشتہ رکھنے والا بنا دیا۔ صلہ رحمی اور خاندانی حلقہ کی تشکیل : اور پھر دیکھو اس نسب اور صہر کے رشتے سے کس طرح خاندان اور قبیلہ کا نظام قائم ہوگیا ہے اور کس عجیب و غریب طریقہ سے صلہ رحمی یعنی قراب داری کی گیرائیاں ایک وجود کو دوسرے وجود سے جوڑتیں اور معاشرتی زندگی کی باہمی الفتوں اور معاونتوں کے لیے محرک ہوتی ہیں؟ در اصل انسان کی اجتماعی زندگی کا سارا کارخانہ اسی صلہ رحمی کے سر رشتہ نے قائم کر رکھا ہے ”یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالا کَثِیرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّہَ الَّذِی تَسَاءَلُونَ بِہِ وَالأرْحَامَ إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیبًا : اے افراد نسل انسانی ! اپنے پروردگار کی نافرمانی سے بچو ( اور اس کے ٹھہرائے ہوئے رشتوں سے بے پروا نہ ہوجاؤ) وہ پروردگار جس نے تمہیں ایک فرد واحد سے پیدا کیا ( یعبی باپ سے پیدا کیا) اور اسی سے اس کا جوڑا بھی پیدا کردیا (یعنی جس طرح ہر مرد کی نسل سے لڑکا پیدا ہوا لڑکی بھی پیدا ہوئی) پھر ان کی نسل سے ایک بڑی تعداد مرد اور عورت کی پیدا ہو کر پھیل گئی ( اس طرح فرد واحد کے رشتہ نے ایک بڑے خاندان اور قبیلہ کی صورت پیدا کرلی) پس اللہ کی نافرمانی سے بچو جس کے نام پر باہم دگر (مہر و شفقت کا) سوال کرتے ہو اور صلہ رحمی کے توڑنے سے بھی بچو (جس کے نام پر باہم دگر ایک دوسرے سے چشم داشت اعانت رکھتے ہو) بلاشبہ اللہ تمہارا نگران حال ہے۔ ” اللہ جعل لکم من انفسکم ازواجا وجعل لکم من ازواجکم بنین و حفدۃ: اور (دیکھو) یہ اللہ ہے جس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑا بنا دیا (یعنی مرد کے لیے عورت اور عورت کے لیے مرد) پھر تمہارے باہمی ازدواج سے بیٹوں اور پوتوں کا سلسلہ قائم کردیا“ (النحل : 27) ایام حیات کا تغیر و تنوع : اسی طرح ایام حیات کے تغیر و تنوع میں بھی تسکین حیات کی ایک بہت بڑی مصلحت پوشیدہ ہے۔ ہر زندگی طفولیت، شباب، جوانی، کہولت، اور بڑھاپے کی مختلف منزلوں سے گزرتی ہے اور ہر منزل اپنے نئے نئے احساسات اور نئی نئی مشغولیتیں اور نئی نئی کاوشیں رکھتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری زندگی عالم ہستی کی ایک دلچسپ مسافرت بن گئی۔ ایک منزل کی کیفیتوں سے ابھی جی سیر نہیں ہو چکتا کہ دوسری منزل نمودار ہوجاتی ہے اور اس طرح عرصہ حیات کی طوالت محسوس ہی نہیں ہوتی۔ ”ہُوَ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّکُمْ ثُمَّ لِتَکُونُوا شُیُوخًا وَمِنْکُمْ مَنْ یُتَوَفَّی مِنْ قَبْلُ وَلِتَبْلُغُوا أَجَلا مُسَمًّی وَلَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ : وہ (پروردگار) جس نے تمہارا وجود مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر علقہ سے (یعنی جونک کی شکل کی ایک چیز سے) پھر ایسا ہوتا ہے کہ تم طفولیت کی حالت میں ماں کے شکم سے نکلتے ہو پھر بڑے ہوتے ہو اور سن تمیز تک پہنچتے ہو۔ اس کے بعد تمہارا جینا اس لیے ہوتا ہے تاکہ بڑھاپے کی منزل تک پہنچو پھر تم میں سے کوئی تو ان منزلوں سے پہلے ہی مر جاتا ہے کوئی چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ اپنے مقررہ وقت تک زندگی بسر کرلے۔ زینت و تفاخر، مال و متاع، آل و اولاد : اسی طرح، طرح طرح کی خواہشیں اور جذبے، زینت و تفاخر کے ولولے، مال و متاع کی محبت، آل و اولاد کی دلبستگیاں زندگی کی دلچسپی اور انہماک کے لیے پیدا کردی گئی ہیں۔ ” زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِینَ وَالْقَنَاطِیرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالأنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِکَ مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَاللَّہُ عِنْدَہُ حُسْنُ الْمَآبِ : انسان کے لیے مرد و عورت کے تعلق میں، اولاد میں، چاندی سونے کے اندوختوں میں، چنے ہوئے گھوڑوں میں، مویشیوں میں، اور کھتی باڑی میں دل بستگی پیدا کردی گئی ہے اور یہ جو کچھ بھی ہے دنیوی زندگی کی پونجی ہے۔ بہتر ٹھکانا تو اللہ ہی کے پاس ہے“ (آل عمران :14) اختلاف معیشت اور تزاحم حیات : اسی طرح معیشت کا اختلاف اور اس کی وجہ سے مختلف درجوں اور حالتوں کا پیدا ہوجانا بھی انہماک حیات کا ایک بہت بڑا محرک ہے کیونکہ اس کی وجہ سے زندگی میں مزاحمت اور مسابقت کی حالت پیدا ہوگئی ہے اور اس میں لگے رہنے سے زندگی کی مشقتوں کا جھیلنا آسان ہوگیا ہے۔ بلکہ یہی مشقتیں سرتا سر راحت و سرور کا سامان بن گئی ہیں۔ ” وَہُوَ الَّذِی جَعَلَکُمْ خَلائِفَ الأرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَبْلُوَکُمْ فِی مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَحِیمٌ : اور یہ اسی (حکیم و قدیر) کی کارفرمائی ہے کہ اس نے تمہیں زمین میں (پچھلوں کا) جانشین بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر، درجوں میں فوقیت دے دی تاکہ جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے اس میں تمہارے عمل کی آزمائش کرے۔ بلاشبہ تمہارا پروردگار (پاداش عمل کی) سزا دینے میں تیز ہے۔ (یعنی اس کا قانون مکافات نتائج عمل میں سست رفتار نہیں) لیکن ساتھ ہی بخش دینے والا، رحمت رکھنے والا بھی ہے“ (الانعام :165) برہان فضل و رحمت : چنانچہ یہی وجہ کہ جس طرح قرآن نے ربوبیت کے اعمال و مظاہر سے استدلال کیا ہے اسی طرح وہ رحمت کے آثار و حقائق سے بھی جا بجا استدلال کرتا ہے اور برہان ربوبیت کی طرح برہان فضل و رحمت بھی اس کی دعوت و ارشاد کا ایک عام اسلوب خطاب ہے۔ وہ کہتا ہے : کائنات کی ہر شے میں ایک مقررہ نظام کے ساتھ رحمت و فضل کے مظاہر کا موجود ہونا قدرتی طور پر انسان کو یقین دلا دیتا ہے کہ ایک رحمت رکھنے والی ہستی کی کارفرمائیاں یہاں کام کر رہی ہیں۔ کیونکہ ممکن نہیں فضل و رحمت کی یہ پوری کائنات موجود ہو اور فضل و رحمت کا کوئی زندہ ارادہ موجود نہ ہو۔ چنانچہ وہ تمام مقامات جن میں کائناتِ خلقت کے افادہ و فیضان، زینت وجمال، موزونیت و اعتدلال، تسویہ و قوام، اور تکمیل و اتقان کا ذکر کیا گیا ہے، در اصل اسی استدلال پر مبنی ہیں : (اس آیت کی بقیہ تفسیر کے لیے ملاحظہ اگلی آیت ) الفاتحة
4 (آیت 2 کی تفسیر کا بقیہ حصہ): ”إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِی تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّہُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْیَا بِہِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیہَا مِنْ کُلِّ دَابَّۃٍ وَتَصْرِیفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالأرْضِ لآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ : اور (دیکھو) تمہارا معبود وہی ایک معبود ہے۔ کوئی معبود نہیں مگر اسی کی ایک ذات، رحمت والی اور اپنی رحمت کی بخشایشوں سے ہمیشہ فیض یاب کرنے والی ! بلاشبہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات دن کے ایک کے بعد ایک آتے رہنے میں، اور کشتی میں جو انسان کی کاربراریوں کے لیے سمندر میں چلتی ہے اور اور بارش میں جسے اللہ آسمان سے برساتا ہے اور اس کی (آبپاشی) سے زمین مرنے کے بعد پھر جی اٹھتی ہے اور اس بات میں کہ ہر قسم کے جانور زمین میں پھیلا دیے ہیں نیز ہواؤں کے (مختلف جانب) پھیرنے اور اس بات میں کہ ہر قسم کے جانور زمین میں پھیلا دیے ہیں نیز ہواؤں کے (مختلف جانب) پھیرنے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان (اپنی مقررہ جگہ کے اندر) بندھے رکھے ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے (اللہ کی ہستی اور اس کے قوانین فضل و رحمت کی) بڑی ہی نشانیاں ہیں“ (البقرہ : 163۔164) اسی طرح ان مقامات کا مطالعہ کرو جہاں خصوصیت کے ساتھ جمال فطرت سے استدلال کیا ہے : ”أَفَلَمْ یَنْظُرُوا إِلَی السَّمَاءِ فَوْقَہُمْ کَیْفَ بَنَیْنَاہَا وَزَیَّنَّاہَا وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوجٍ (٦) وَالأرْضَ مَدَدْنَاہَا وَأَلْقَیْنَا فِیہَا رَوَاسِیَ وَأَنْبَتْنَا فِیہَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَہِیجٍ (٧) تَبْصِرَۃً وَذِکْرَی لِکُلِّ عَبْدٍ مُنِیبٍ : کیا کبھی ان لوگوں نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا نہیں کہ کس طرح ہم نے اسے بنایا ہے اور کس طرح اس کے منظر میں خوشنمائی پیدا کردی ہے اور پھر یہ کہ کہیں بھی اس میں شگاف نہیں؟ اور اسی اور اسی طرح زمین کو دیکھو کس طرح ہم نے اسے فرش کی طرح پھیلا دیا، اور پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے اور پھر کس طرح قسم قسم کی خوبصورت نباتات اگا دیں؟ ہر اس بندے کے لیے جو حق کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔ اس میں غور کرنے کی بات اور نصیحت کی روشنی ہے“ (ق :6۔8) ” ولقد جعلنا فی السماء بروجا وزیناھا للنظرین : اور (دیکھو) ہم نے آسمان میں (ستاروں کی گردش کے لیے) برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے ان میں خوشنمائی پیدا کردی“ (15:، 16)۔ ” ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح : اور (دیکھو) ہم نے دنیا کے آسمان (یعنی کرہ ارضی کی فضا) کو ستاروں کی قندیلوں سے خوش منظر بنا دیا“ ” ولکم فیہا جمال حین تریحون و حین تسرحون : اور (دیکھو) تمہارے لیے چارپایوں کے منظر میں جب شام کے وقت چراگاہ سے واپس لاتے ہو اور جب صبح لے جاتے ہو ایک طرح کا حسن اور نظر افروزی ہے“۔ موزونیت و تناسب : جس چیز کو ہم ” جمال“ کہتے ہیں اس کی حقیقت کیا ہے؟ موزونیت اور تناسب۔ یہی موزونیت اور تناسب ہے جو بناؤ اور خوبی کے تمام مظاہر کی اصل ہے۔ ” وانبتنا فیہا من کل شیء موزون : اور (دیکھو) ہم نے زمین میں ہر ایک چیز موزونیت اور تناسب رکھنے والی اگائی ہے“ تسویہ : اسی معنی میں قرآن ” تسویہ“ کا لفظ بھی استعمال کرتا ہے۔ ” تسویہ“ کے معنی یہ ہیں کہ کسی چیز کو اس طرح ٹھیک ٹھیک، درست کردینا کہ اس کی ہر بات خوبی و مناسبت کے ساتھ ہو۔ ” الذی خلق فسوی۔ والذی قدر فھدی : وہ پروردگار جس نے ہر چیز پیدا کی پھر ٹھیک ٹھیک خوبی و مناسبت کے ساتھ درست کردی۔ اور وہ جس نے ہر وجود کے لیے ایک اندازہ ٹھہرا دیا پھر اس پر (زندگی و معیشت) کی راہ کھول دی“ (الاعلی : 2) ” الذی خلقک فسوک فعدلک۔ فی ای صورۃ ما شاء رکبک : وہ پروردگار جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھیک درست کردیا پھر (تمہارے ظاہری و باطنی قوی میں) اعتدال و تناسب ملحوظ رکھا پھر جیسی صورت بنانی چاہی اسی کے مطابق ترکیب دے دی“۔ اتقان : یہی حقیقت ہے جسے قرآن نے اتقان سے بھی تعبیر کیا ہے۔ یعنی کائنات ہستی کی ہر چیز کا درستگی و استواری کے ساتھ ہونا کہ کہیں بھی اس میں خلل، نقصان، بے ڈھنگا پن، اونچ نیچ اور ناہمواری نظر نہیں آسکتی : ” صنع اللہ الذی اتقن کل شیء : یہ اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز درستگی و استواری کے ساتھ بنائی“ (القصص :88) ” ماتری فی خلق الرحمن من تفاوت فارجع البصر ھل تری من فطور۔ ثم ارجع البصر کرتین ینقلب الیک البصر خاسئا وھو حسیر : تم الرحمن کی بناوٹ میں (رحمن کی بناوٹ میں کیونکہ یہ اس کی رحمت ہی کا ظہور ہے) کبھی کوئی اونچ نیچ نہیں پاؤ گے (اچھا نظر اٹھاؤ اور اس نماش گاہ صنعت کا مطالعہ کرو) ایک بار نہیں بار بار دیکھو۔ کیا تمہیں کہیں کوئی دراڑ دکھائی دیتی ہے؟ تم اسی طرح یکے بعد دیگرے دیکھتے رہو تمہاری نگاہ اٹھے گی اور عاجز و درماندہ ہو کر واپس آجائے گی لیکن کوئی نقص نہ نکال سکے گی“ (ملک : 3) ” فی خلق الرحمن“ فرمایا۔ یعنی یہ خوبی و اتقان اس لیے ہے کہ رحمت رکھنے والے کی کاریگری ہے اور رحمت کا مقتضا یہی تھا کہ حسن و خوبی ہو، اتقان و کمال ہو، نقص اور ناہمواری نہ ہو ! رحمت سے معاد پر استدلال : خدا کی ہستی اور اس کی توحید و صفات کی طرح آخرت کی زندگی پر بھی وہ رحمت سے استدلال کرتا ہے۔ اگر رحمت کا مقتضا یہ ہوا کہ دنیا میں اس خوبی و کمال کے ساتھ زندگی کا ظہور ہو تو کیونکر یہ بات باور کی جاسکتی ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی کے بعد اس کا فیضان ختم ہوجائے اور خزانہ رحمت میں انسان کی زندگی اور بناؤ کے لیے کچھ باقی نہ رہے؟ ”أَوَلَمْ یَرَوْا أَنَّ اللَّہَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ قَادِرٌ عَلَی أَنْ یَخْلُقَ مِثْلَہُمْ وَجَعَلَ لَہُمْ أَجَلا لا رَیْبَ فِیہِ فَأَبَی الظَّالِمُونَ إِلا کُفُورًا : کیا ان لوگوں نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ اللہ جس نے آسمان و زمین پیدا کیے ہیں یقینا اس بات سے عاجز نہیں ہوسکتا کہ ان جیسے (آدمی دوبارہ) پیدا کردے اور یہ کہ ان کے لیے اس نے ایک مقررہ وقت ٹھہرا دیا ہے جس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں؟ ( افسوس ان کی شقاوت پر !) اس پر بھی ان ظالموں نے اپنے لیے کوئی راہ پسند نہ کی مگر حقیقت سے انکار کرنے کی ! (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضہ میں ہوتے تو اس حالت میں یقنا تم خرچ ہوجانے کے ڈر سے ہاتھ روکے رکھتے (لیکن یہ اللہ ہے جس کے خزائن رحمت نہ تو کبھی ختم ہوسکتے ہیں نہ اس کی بخشایش رحمت کی کوئی انتہا ہے)۔ رحمت سے وحی و تنزیل کی ضرورت پر استدلال : اس طرح وہ رحمت سے وحی و تنزیل کی ضرورت پر بھی استدلال کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے جو رحمت کارخانہ ہستی کے ہر گوشہ میں افادۂ فیضان کا سرچمہ ہے کیونکر ممکن تھا کہ انسان کی معنوی ہدایت کے لیے اس کے پاس کوئی فیضان نہ ہوتا اور وہ انسان کو نقصان و ہلاکت کے لیے چھوڑ دیتی؟ اگر تم دس گوشوں میں فیضان رحمت محسوس کر رہے ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ گیارہویں گوشے میں اس سے انکار کردو۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جابجا نزول وحی، ترسیل کتب، اور بعثت انبیا کو رحمت سے تعبیر کیا ہے : ” وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِی أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ ثُمَّ لا تَجِدُ لَکَ بِہِ عَلَیْنَا وَکِیلا (٨٦)إِلا رَحْمَۃً مِنْ رَبِّکَ إِنَّ فَضْلَہُ کَانَ عَلَیْکَ کَبِیرًا : اور (اے پیغمبر ! اگر ہم چاہیں تو جو کچھ تم پر وحی کے ذریعہ بھیجا گیا ہے اسے اٹھا لے جائیں (یعنی سلسلہ تنزیل و وحی باقی نہ رہے) اور پھر تمہیں کوئی بھی ایسا کارساز نہ ملے جو ہم پر زور ڈال سکے۔ لیکن یہ جو سلسلہ وحی جاری ہے تو یہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ تمہارے پروردگار کی رحمت ہے اور یقین کرو تم پر اس کا بڑا ہی فضل ہے“ (اسراء :86۔87) ” تنزیل العزیز الرحیم۔ لتنذر قوما ما انذر آباءھم فھم غافلون : (یہ قرآن) عزیز و رحیم کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تاکہ ان لوگوں کو جن کے آباء و اجداد (کسی پیغمبر کی زبانی) متنبہ نہیں کیے گئے ہیں اور اس لیے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں تم متنبہ کرو“ (یس :5۔6) تورات و انجیل اور قرآن کی نسبت جابجا تصریح کی کہ ان کا نزول رحمت ہے۔ ” ومن قبلہ کتاب موسیٰ اماما ورحمۃ: اور اس سے پہلے (یعنی قرآن سے پہلے) موسیٰ کی کتاب ( امت کے لیے) پیشوا اور رحمت“ ” یایہا الناس قد جاءتکم موعظۃ من ربکم و شفاء لما فی الصدور و ھدی ورحمۃ للمومنین۔ قل بفضل اللہ و برحمتہ فبذلک فلیفرحوا ھو خیر مما یجمعون : اے افراد نسل انسانی ! یقینا یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے موعظت ہے جو تمہارے لیے آگئی ہے اور ان تمام بیماریوں کے لیے جو انسان کے دل کی بیماریاں ہیں نسخہ شفا ہے اور رہنمائی اور رحمت ہے ایمان رکھنے والوں کے لیے (اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دو کہ یہ جو کچھ ہے اللہ کے فض (رح) اور رحإت سے ہے۔ پس چاہیے کہ (اپجنی فیضیابی) پر خوش ہو۔ یہ (اپنی برکتوں میں) ان تمام چیزوں سے بہتر جنہیں تم (زندگی کی کامرانیوں کے لیے) فراہم کرتے ہو : ” ھذا بصائر للناس وھدی ورحمۃ لقوم یوقنون : یہ (قراان) لوگوں کے لیے واضح دلیلوں کی روشنی ہے، اور ہدایت و رحمت ہے، یقین رکھنے والوں کے لیے“ (45:، 20) ”أَوَلَمْ یَکْفِہِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ یُتْلَی عَلَیْہِمْ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَرَحْمَۃً وَذِکْرَی لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ : کیا ان لوگوں کے لیے یہ نشانی کافی نہیں کہ ہم نے پر کتاب نازل کی ہے جو انہیں (برابر) سنائی جا رہی ہے؟ جو لوگ یقین رکھنے والے ہیں، بلاشبہ ان کے لیے اس (نشانی) میں سر تا سر رحمت اور فہم و بصیرت ہے“ (29:، 51) چنانچہ اسی بنا پر اس نے داعی اسلام کے ظہور کو بھی فیضان رحمت سے تعبیر کیا ہے ” وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین : (اے پیغمبر !) پم نے تمہیں نہیں نہیں بھیجا ہے مگر اس لیے کہ تمام جہانوں کے لیے ہماری رحمت کا ظہور ہے“ (21:، 107) انسانی اعمال کے معنوی قوانین پر ” رحمت“ سے استدلال اور ” بقائے انفع“: اسی طرح وہ ” رحمت“ کے مادی مظاہر سے انسانی اعمال کے معنوی قوانین پر بھی استدلال کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے جس ” رحمت“ کا مقتضا یہ ہوا کہ دنیا میں ” بقائے انفع“ : اسی طرح وہ ” رحمت“ کے مادی مظاہر سے انسانی اعمال کے معنوی قوانین پر بھی استدلال کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے جس ” رحمت“ کا مقتضا یہ ہوا کہ دنیا میں ” بقائے انفع“ کا قانون نافذ ہے یعنی وہی چیز باقی رہتی ہے جو نافع ہوتی ہے کیونکر ممکن تھا کہ وہ انسانی اعمال کی طرف سے غافل ہوجاتی اور نافع اور غیر نافع اعمال میں امتیاز نہ کرتی؟ پس مادیات کی طرح معنویات میں بھی یہ قانون نفاذ ہے اور ٹھیک ٹھیک اسی طرح اپنے احکام و نتائج رکھتا ہے جس طرح مادیات میں تم دیکھ رہے ہو۔ حق اور باطل : اس سلسلہ میں وہ دو لفظ استعمال کرتا ہے ” حق“ اور ” باطل“۔ سورۃ رعد میں جہاں قانون ” بقائے انفع“ کا ذکر کیا ہے وہاں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اس بیان سے مقصود ” حق“ اور ” باطل“ کی حقیقت واضح کرنی ہے۔ ” کذلک یضرب اللہ الحق والباطل : اس طرح اللہ ” حق“ اور ” باطل“ کی ایک مثال بیان کرتا ہے“۔ ساتھ ہی مزید تصریح کردی : ” لِلَّذِینَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّہِمُ الْحُسْنَی وَالَّذِینَ لَمْ یَسْتَجِیبُوا لَہُ لَوْ أَنَّ لَہُمْ مَا فِی الأرْضِ جَمِیعًا وَمِثْلَہُ مَعَہُ لافْتَدَوْا بِہِ أُولَئِکَ لَہُمْ سُوءُ الْحِسَابِ : پس (دیکھو) میل کچیل سے جو جھاگ اٹھتا ہے وہ رائگاں جاتا ہے کیونکہ اس میں انسان کے لیے نفع نہ تھا لیکن جس چیز میں انسان کے لیے نفع ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ (اپنے قوانین عمل کی) مثالیں دیتا ہے۔ (سو) جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا حکم قبول کیا ان کے لیے خوبی و بہتری ہے اور جن لوگوں نے قبول نہ کیا ان کے لیے (اپنے اعمال بد کا) سختی کے ساتھ حساب دینا ہے اور اگر ان لوگوں کے قبضے میں وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنا ہی اس پر اور بڑھا دیں اور بدلہ میں دے کر (نتائج عمل سے) بچنا چاہیں جب بھی نہ بچ سکیں گے“۔ عربی میں ” حق“ کا خاصہ ثبوت اور قیام ہے۔ یعنی جو بات ثابت ہو، اٹل ہو، امٹ ہو، اسے حق کہیں گے۔ ” باطل“ ٹھیک ٹھیک اس کا نقیض ہے۔ ایسی چیز جس میں ثبات و قیام نہ ہو۔ ٹل جانے والی، مٹ جانے والی، باقی نہ رہنے والی۔ چنانچہ خود قرآن میں جابجا ہے۔ ” لیحق الحق ویبطل الباطل“ قانون ” قضا بالحق“: وہ کہتا ہے جس طرح تم مادیات میں دیکھتے ہو کہ فطرت چھانٹتی رہتی ہے۔ جو چیز نافع ہوتی ہے باقی رکھتی ہے جو نافع نہیں ہوتی اسے محو کردیتی ہے۔ ٹھیک ٹھیک ایسا ہی عمل معنویات میں بھی جا ری ہے۔ جو عمل حق ہوگا قائم اور ثابت رہے گا جو باطل ہوگا مٹ جائے اور جب کبھی حق اور باطل متقابل ہوں گے تو بقا حق کے لیے ہوگی نہ کہ باطل کے لیے۔ وہ اسے ” قضا بالحق“ سے تعبیر کرتا ہے۔ یعنی فطرت کا فیصلہ حق جو باطل کے لیے نہیں ہو سکتا“ (فاذا جاء امر اللہ قضی بالحق وحسر ھنالک المبطلون : پھر جو وہ وقت آگیا کہ حکم الٰہی صادر ہو تو (خدا کا) فیصلہ حق نافذ ہوگیا اور اس وقت ان لوگوں کے لیے جو برسر باطل تھے، تباہی ہوئی“۔ اس نے اس حقیقت کی تعبیر کے لیے ” حق“ اور ” باطل“ کا لفظ اختیار کر کے مجر تعبیر ہی سے حقیقت کی نوعیت واضح کردی۔ کیونکہ حق اسی چیز کو کہتے ہیں جو ثابت و قائم ہو اور باطل کے معنی ہی یہ ہیں کہ مٹ جانا، قائم و باقی نہ رہنا۔ پس جب وہ کسی بات کے لیے کہتا ہے کہ یہ ” حق“ ہے تو یہ صرف دعوی ہی نہیں ہوتا بلکہ دعوے کے ساتھ اس کے جانچنے کا ایک معیار بھی پیش کردیتا ہے۔ یہ بات حق ہے۔ یعنی نہ ٹلنے والی نہ مٹنے والی بات ہے۔ یہ بات باطل ہے۔ یعنی نہ ٹک سکنے والی، مٹ جانے والی بات ہے۔ پس جو بات اٹل ہوگی اس کا اٹل ہونا کسی نگاہ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ جو بات مٹ جانے والی ہے اس کا مٹنا ہر آنکھ دیکھ لے گی۔ اللہ کی صفت بھی ” الحق“ ہے : چنانچہ وہ اللہ کی نسبت بھی ” الحق“ کی صفت استعمال کرتا ہے۔ کیونکہ اس کی ہستی سے بڑھ کر اور کون سی حقیقت ہے جو ثابت اور اٹل ہوسکتی ہے؟ ” فذلکم اللہ ربکم الحق : پس یہ ہے تمہارا پروردگار، الحق“۔ ” فتعالی اللہ الملک الحق : پس کیا ہی بلند درجہ ہے اللہ کا، الملک (یعنی فرمنروا) الحق (یعنی ثابت) “۔ وحی و تنزیل بھی ” الحق“ ہے : وحی و تنزیل کو بھی وہ ” الحق“ کہتا ہے کیونکہ وہ دنیا کی ایک قائم و ثابت حقیقت ہے۔ جن قوتوں نے اسے مٹانا چاہا تھا، وہ خود مٹ گئیں حتی کہ آج ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں لیکن وحی و تنزیل کی حقیقت ہمیشہ قائم رہی اور آج تک قائم ہے ” قل یا ایہا الناس قد جاءکم الحق من ربکم فمن اھتدی فانما یھتدی لنفسہ ومن ضل فانما یضل علیہا و ما انا علیکم بوکیل، واتبع ما یوحی الیک واصبر حتی یحکم اللہ و ھو خیر الحاکمین : (اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ اے افراد نسل انسانی ! بلاشبہ تمہارے پروردگار کی طرف سے وہ چیز تمہارے لیے آگئی جو ” حق“ ہے۔ پس اب جس کسی نے سیدھی راہ اختیار کی تو یہ راست روی اسی کی بھلائی کے لیے ہے اور جس نے گمراہی اختیار کی تو اس کی گمراہی کا نقصان بھی اسی کے لیے ہے اور میرا کام تو صرف راہ حق دکھلا دینا ہے) میں تم پر نگہبان مقرر نہیں کیا گیا ہوں (کہ تم کو پکڑ کے زبردستی راہ پر لگا دوں)۔ اور (اے پیغمبر !) جو کچھ تم پر وحی کی گئی ہے اس کے مطابق چلو اور صبر کرو۔ یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے اور وہ فیصلہ کرنے والوں میں بہتر فیصلہ کرنے والا ہے“۔ ً” وبالحق انزلناہ وبالحق نزل“ اور (اے پیغمبر ! ہماری طرف سے اس کا (یعنی قرآن کا) نازل ہونا حق ہے اور وہ حق ہی کے ساتھ نازل بھی ہوا ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں ” الحق“: اسی طرح جب وہ علامت تعریف کے ساتھ کسی بات کا ” الح“ کہتا ہے تو اس سے بھی مقصود یہی حقیقت ہوتی ہے اور اسی لیے وہ اکثر حالتوں میں صرف ” الحق“: اسی طرح جب وہ علامت تعریف کے ساتھ کسی بات کو ” الحق“ کہتا ہے تو اس سے بھی مقصود یہی حقیقت ہوتی ہے اور اسی لیے وہ اکثر حالتوں میں صرف ” الحق“ کہہ کر خاموش ہوجاتا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ کہنا ضروری نہیں سمجھتا۔ کیونکہ اگرچہ فطرت کائنات کا یہ قانون ہے کہ وہ حق و باطل کے نزاع میں ” حق“ ہی کو باقی رکھتی ہے تو کسی بات کے امر حق ہونے کے لیے صرف اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ وہ ” حق“ ہے۔ یعنی باقی و قائم رہنے والی حقیقت ہے۔ اس کا بقا و قیامت خود اپنی حقیقت کا اعلان کردے گا۔ نزاع حق و باطل : یہ جو قرآن جا بجا حق اور باطل کی نزاع کا ذکر کرتا ہے اور پھر بطور اصل اور قاعدہ کے اس پر زور دیتا ہے کہ کامیابی حق کے لیے ہے اور ہزیمت و خسران باطل کے لیے تو یہ تمام مقامات بھی اسی قانون ” قضاء بالحق“ کی تصریحات ہیں اور اسی حقیقت کی روشنی میں ان کا مطالعہ کرنا چاہیے : ” بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذا ھو زاھق : اور ہمارا قانون یہ ہے کہ حق باطل سے ٹکراتا ہے اور اسے پاش پاش کردیتا ہے اور اچانک ایسا ہوتا ہے کہ وہ نابود ہوگیا“۔ ” وقل جاء الحق وزھق الباط ان الباطل کان زھوقا“ اور کہہ دو حق نمودار ہوگیا اور باطل نابود وہا اور یقینا باطل نابود ہی ہونے والا تھا۔ اللہ کی شہادت : اور پھر حق صداقت کے لیے یہی اللہ کی وہ شہادت ہے جو اپنے مقررہ وقت پر ظاہر ہوتی ہے اور بتا دتی ہے کہ حق کس کے ساتھ تھا۔ اور باطل کا کون پرستار تھا۔ یعنی قضاء بالحق کا قانون حق کو ثابت و قائم رکھ کر اور اس کے حریف کو محو و متلاشی کر کے حقیقت حال کا اعلان کردیتا ہے۔ ” قل کفی باللہ بینی و بینکم شہیدا یعلم ما فی السموات والارض والذین امنوا بالباطل وکفروا باللہ اولئک ہم الخاسرون : ان لوگوں سے کہہ دو، اب کسی اور رد و کد کی ضرورت نہیں۔ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی بس کرتی ہے۔ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اس کے علم میں ہے۔ پس جو لوگ حق کی جگہ باطل پر ایمان لائے ہیں اور اللہ کی صداقت کے منکر ہیں تو یقینا وہی ہیں جو تباہ ہونے والے ہیں“۔ ایک دوسرے موقع پر فیصلہ امر کے لیے اسے سب سے بڑی شہادت قرار دیا ہے۔ ” قل ای شیء اکبر شہادۃ قل اللہ شہیدا بینی و بینکم : کون سی بات سب سے بڑی گواہی ہے؟ (اے پیغمبر !) کہہ دو اللہ کی گواہی۔ وہی میرے اور تمہارے درمیان (فیصلہ امر کے لیے) گواہی دینے والا ہے۔ قضاء بالحق مادیات اور معنویات کا عالمگیر قانون ہے : وہ کہتا ہے اس قانون سے تم کیونکر انکار کرسکتے ہو جبکہ زمین و آسمان کا تمام کارخانہ اسی کی کارفرمائیوں پر قائم ہے؟ اگر فطرت کائنات نقصان اور برائی چھانٹی نہ رہتی اور بقاء و قیام صرف اچھی اور خوبی ہی کے لیے نہ ہوتا تو ظاہر ہے تمام کارخانہ ہستی درہم برہم ہوجاتا۔ جب تم جسمانیات میں اس قانون فطرت کا مشاہدہ کر رہے ہو تو معنویات میں تمہیں کیوں انکار ہو؟ ” ولو اتبع الحق اھواءھم لفسدت السموات والارض ومن فیہن : اور اگر حق ان کی خواہشوں کی پیروی کرے تو یقین کرو یہ آسمان و زمین اور جو کوئی اس میں ہے سب درہم برہم ہو کر رہ جائے“۔ انتظار اور تربص : قرآن میں جہاں کہیں انتظار اور تربص پر زور دیا ہے اور کہا ہے جلدی نہ کرو انتظار کرو عنقریب حق و باطل کا فیصلہ جائے گا۔ مثلا ” قل فانتظروا انی معکم من المنتظرین“ تو اس سے بھی مقصود یہی حقیقت ہے۔ ” قضاء بالحق“ اور تدریج و امہال : لیکن کیا ” قضاء بالحق“ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر باطل عمل فوراً نابود ہوجائے اور ہر عمل حق فوراً فتح مند ہوجائے؟ قرآن کہتا ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ اور رحمت کا مقتضا یہی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ جس رحمت کا مقتضا یہ ہوا کہ مادیاں میں تدریج و امہال کا قانون نافذ ہے اسی رحمت کا مقتضا یہ ہوا کہ معنویات میں بھی تدریج و امہال کا قانون کام کر رہا ہے اور عالم مادیات ہو یا معنویات، کائنات ہستی کے ہر گوشہ میں قانون فطرت ایک ہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ دنیا میں کوئی انسانی جماعت اپنی بدعملیوں کے ساتھ مہلت حیات پا سکتی۔ ” ولو یعجل اللہ للناس الشر استعجالہم بالخیر لقضی الیہم اجلہم : اور جس طرح انسان فائدے کے لیے جلد باز ہوتا ہے اگر اسی طرح اللہ انسان کو سزا دینے میں جلد باز ہوتا تو (انسان کی لغزشوں خطاؤں کا یہ حال ہے کہ) کبھی کا فیصلہ ہوچکتا اور ان کا مقررہ وقت فوراً نمودار ہوجاتا“۔ ” تاجیل“۔ وہ کہتا ہے، جس طرح مادیات میں ہر حالت بتدریج نشوونما پاتی ہے اور ہر نتیجہ کے ظہور کے لیے ایک خاص مقدار ایک خاص مدت اور ایک خاص وقت مقرر کردیا گیا ہے ٹھیک اسی طرح اعمال کے نتائج کے لیے بھی مقدار و اوقات کے احکام مقرر ہیں۔ اور ضروری ہے کہ ہر نتیجہ ایک خاص مدت کے بعد اور ایک خاص مقدار کی نشوونما کے بعد ظہور میں آئے۔ مثلاً فطرت کا یہ قانون ہے کہ اگر پانی آگ پر رکھا جائے گا تو وہ گرم ہو کر کھولنے لگے گا لیکن پانی کے گرم ہونے اور بالآخر کھولنے کے لیے حرارت کی ایک خاص مقدار ضروری ہے اور اس کے ظہور و تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ایک مقررہ وقت تک انتظام کیا جائے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم پانی چولھے پر رکھو اور فوراً کھولنے لگے۔ وہ یقینا کھولنے لگے گا لیکن اس وقت جب حرارت کی مقررہ مقدار بتدریج تکمیل تک پہنچ جائے گی۔ ٹھیک اسی طرح یہاں انسانی اعمال کے نتائج بھی اپنے مقررہ اوقات ہی میں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور ضروری ہے کہ جب تک اعمال کے اثرات ایک خاص مقررہ مقدار تک نہ پہنچ جائیں نتائج کے ظہور کا انتظار کیا جائے۔ اس صورت حال سے تدریج و امہال کی حالت پیدا ہوگئی اور عمل حق اور عمل باطل دونوں کے نتائج کے ظہور کے لیے تاجیل یعنی ایک معین وقت کا ٹھہراؤ ضروری ہوگیا۔ دونوں کے نتائج فوراً ظاہر نہیں ہوجائیں گے۔ اپنی مقررہ اجل یعنی مقررہ وقت ہی پر ظاہر ہوں گے۔ البتہ حق کے لیے تاجیل اس لیے ہوتی ہے تاکہ اس کی فتح مند قوت نشوونما پائے اور باطل کے لیے اس لیے ہوتی ہے تاکہ اس کی فنا پذیر کمزور تکمیل تک پہنچ جائیے۔ اس تاجیل کے لیے کوئی ایک ہی مقررہ مدت نہیں ہے۔ ہر حالت کا ایک خاصہ ہے اور ہر گردوپیش اپنا ایک خاص مقتضا رکھتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک خاص حالت کے لیے مقررہ مدت کی مقدار بہت تھوڑی ہو اور ہوسکتا ہے کہ بہت زیادہ ہو۔ ” فان تولوا فقل اذنتکم علی سواء وان ادری اقریب ام بعید ما توعدون۔ انہ یعلم الجہر من القول ویعلم ما تکتمون۔ وان ادری لعلہ فتنۃ لکم ومتاع الی حین : پھر اگر یہ لوگ روگردانی کریں تو تو ان سے کہہ دو، میں تم سب کو یکساں طور پر (حقیقت حال کی) خبر دے دی اور میں نہیں جانتا اعمال بد کے جس نتیجہ کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اس کا وقت قریب ہے ایا بھی دیر ہے۔ جو کچھ علانیہ زبان سے کہا جاتا ہے اور جو کچھ تم پوشیدہ رکھتے ہو خدا کو سب کچھ معلوم ہے۔ اور مجھے معلوم، ہوسکتا ہے یہ تاخیر اس لیے ہوتا کہ تمہاری آزمائش کی جائے یا اس لیے کہ ایک خاص وقت تک تمہیں فائدہ اٹھانے کا (مزید) موقع دیا جائے“ قوانین فطرت کا معیار اوقات : قرآن کہتا ہے، تم اپنی اوقات شماری کے پیمانے سے قوانین فطرت کی رفتار عمل کا اندازہ نہ لگاؤ۔ فطرت کا دائرہ عمل تو اتنا وسیع ہے کہ تمہارے معیار حساب کی بڑی سے بڑی مدت اس کے لیے ایک دن کی مدت سے زیادہ نہیں : ” ویستعجلونک بالعذاب ولن یخلف اللہ وعدہ و ان یوم عند ربک کالف سنۃ مما تعدون۔ وکاین من قریۃ املیت لہا وھی ظالمۃ ثم اخذتہا والی المصیر : اور وہ لوگ عذاب کے لیے جلد بازی کر رہے ہیں (یعنی انکار و شرارت کی راہ سے کہتے ہیں اگر سچ مچ کو عذاب آنے والا ہے تو وہ کہاں ہے؟) سو یقین کرو خدا اپنے وعدہ میں کبھی خلاف کرنے والا نہیں لیکن بات یہ ہے کہ تمہارے پروردگار کا ایک دن ایسا ہوتا ہے جیسا تمہارے حساب کا ہزار برس۔ چنانچہ کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں (عرصہ دراز تک) ڈھیل دی گئی حالانکہ وہ ظاہم تھیں پھر ( جب ظہور نتائج کا وقت آگیا تو) ہمارا مواخذہ نمودار ہوگیا۔ اور (ظاہر ہے کہ) لوٹ کر ہماری طرف آنا ہے“۔ استعجال بالعذاب : ان آیات میں فکر انسانی کی جس گمراہی کو ” استعجال بالعذاب“ سے تعبیر کیا گیا ہے وہ صرف انہی منکریں حق کی گمراہی نہ تھی جو ظہور اسلام کے وقت اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے تھے بلکہ ہر زمانہ میں انسان کی ایک عالمگیر کج اندیشی رہی ہے۔ وہ بسا اوقات فطرت کی اس مہلت بخشی سے فائدہ اٹھانے کی جگہ شر و فساد میں اور زیادہ نڈر اور جری ہوجاتا ہے اور کہتا ہے اگر فی الحقیقت حق و باطل کے لیے ان کے نتائج و عواقب ہیں، تو وہ نتائج کہاں ہیں؟ اور کیوں فوراً ظاہر نہیں ہوجاتے؟ قرآن جابجا منکرین حق کا یہ خیال نقل کرتا ہے اور کہتا ہے۔ اگر کائنات ہستی میں اس حقیقت اعلیٰ کا ظہور نہ ہوتا جسے ” رحمت“ کہتے ہیں تو یقینا یہ نتائج یکایک اور بیک دفعہ ظاہر ہوجاتے اور انسان اپنی بدعملیوں کے ساتھ کبھی زندگی کا سانس نہ لے سکتا لیکن یہ سارے قانونوں اور حکموں سے بھی بالاتر ” رحمت“ کا قانون ہے اور اس کا مقتضا یہی ہے کہ حق کی طرح باطل کو بھی زندگی و معیشت کی مہلتیں دے، اور توبہ و رجوع اور عفو ودرگزر کا دروازہ ہر حال میں باز رکھے۔ فطرت کائنات میں اگر یہ ” رحمت“ نہ ہوتی تو یقینا وہ جزائے عمل میں جلد باز ہوتی لیکن اس میں رحمت ہے اس لیے نہ تو اس کی مہلت بخشیوں کی کوئی حد ہے نہ اس کے عفو ودرگزر کے لیے کوئی کنارہ۔ ” ویقولون متی ھذا الوعدہ ان کنتم صدقین قل عسی ان یکون ردف لکم بعض الذی تستعجلون۔ وان ربک لذوفضل علی الناس ولکن اکثرہم لا یشکرون : اور (اے پیغمبر) یہ (حقیقت فراموش کہتے ہیں) اگر تم (نتائج ظلم و طغیان سے ڈرانے میں) سچے ہو تو وہ بات کب ہونے والی ہے؟ (اور کیوں نہیں ہوچکتی؟) ان سے کہہ دو (گھبراؤ نہیں) جس بات کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو عجب نہیں اس کا ایک حصہ بالکل قریب آگیا ہو۔ اور (اے پیغمبر !) تمہارا پروردگار انسان کے لیے بڑا ہی فضل رکھنے والا ہے (کہ ہر حال میں اصلاح و تلافی کی مہلت دیتا ہے) لیکن (افسوس انسان کی غفلت پر بیشتر ایسے ہیں کہ اس کے فضل و رحمت سے فائدہ اٹھانے کی جگہ اس کی ناشکری کرتے ہیں“ ” ویستعجلونک بالعذاب ولولا اجل مسمی لجاءھم العذاب ولیاتینہم بغتۃ وھم لا یشعرون : اور یہ لوگ عذاب کے لیے جلدی کرتے ہیں (یعنی انکار و شرارت کی راہ سے کہتے ہیں اگر واقعی عذاب آنے والا ہے تو کیوں نہیں آچکتا؟) اور واقعہ یہ ہے کہ اگر ایک خاص وقت نہ ٹھہرا دیا گیا ہوتا تو کب کا عذاب آچکا ہوتا اور (یقین رکھو جب وہ آئے گا تو اس طرح آئے گا کہ) یکایک ان پر آ گرے گا اور انہیں اس کا وہم و گمان بھی نہ ہوگا !“۔ ” وما نؤخرہ الا لاجل معدود : اور (یاد رکھو) اگر ہم اس معاملہ میں تاخیر کرتے ہیں تو صرف اس لیے کہ ایک حساب کی ہوئی مدت کے لیے اسے تاخیر میں ڈال دیں“۔ العاقبۃ للمتقین : وہ کہتا ہے : یہاں زندگی و عمل کی مہلتیں سب کے لیے ہیں کیونکہ ” رحمت“ کا مقتضا یہی تھا۔ پس اس بات سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے اور یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ نتائج اعمال کے قوانین موجود نہیں۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ نتیجہ کی کامیابی کس کے حصے میں آتی ہے اور آخر کار کون آبرومند ہوتا ہے۔ ” قل یقوم اعملوا علی مکانتکم انی عامل فسوف تعلمون من تکون لہ عاقبۃ الدار انہ لا یفلح الظالمون : (اے پیغمبر ! تم ان لوگوں سے) کہہ دو کہ دیکھو (اب میرے اور تمہارے معاملہ کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے) تم جو کچھ کر رہے ہو اپنی جگہ کیے جاؤ اور میں بھی اپنی جگہ کام میں لگا ہوں۔ عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ کن ہے جس کے لیے آخر کار (کامیاب) ٹھکانا ہے۔ بلاشبہ (یہ اس کا قانون ہے کہ) ظلم کرنے والے کبھی فلاح نہیں پا سکتے“ قرآن کی وہ تمام آیات جن میں ظلم و کفر کے لیے فلاح و کامیابی کی نفی کی گئی ہے : اس موقع پر یہ قاعدہ بھی معلوم کرلینا چاہیے کہ قرآن نے جہاں کہیں ظلم و فساد اور فسق و کفر وغیرہ اعمال بد کے لیے کامیابی و فلاح کی نفی کی ہے اور نیک عملی کے لیے فتح مندی و کامرانی کا اثبات کیا ہے ان تمام مقامات میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مثلاً 1۔ انہ لا یفلح الظالمون (6:، 21)۔ ” تحقیق وہ ظالموں کو فلاح نہیں دیتا“ 2۔ انہ لایفلح المجرمون (10:، 17) ” بے شک وہ مجرموں کو کامیابی نہ دے گا“ 3۔ انہ لا یفلح الکافرون (23:، 117) ” حقیقتا وہ کافروں کو کامیاب نہیں کرتا“ 4۔ لایصلح عمل المفسدین (10:، 81) ” ہاں وہ فسادیوں کی اصلاح نہیں فرماتا“ 5۔ ان اللہ لا یہدی القوم الکافرین (9: 37) ” تحقیق اللہ منکر قوم کو ہدایت نہیں دیتا“ 6۔ واللہ لا یہدی القوم الظالمین (3:، 37) ” اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دکھلاتا“۔ وغیرہا من الآیات۔ اللہ ظلم کرنے والوں کو فلاح نہیں دیتا۔ یعنی اس کا قانون ہے کہ ظلم کے لیے کامیابی و فلاح نہیں ہوتی۔ اللہ ظلم کرنے والوں کو فلاح نہیں دیتا۔ یعنی اس کا قانون یہی ہے کہ ظلم کرنے والوں پر کامیابی و سعادت کی راہ نہیں کھلتی۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ ارشاد و ہدایت کا دروازہ ان پر بند کردیتا ہے۔ اور وہ گمراہی و کوری کی زنگی پر مجبور کردیے جاتے ہیں۔ افسوس ہے کہ قرآن کے مفسروں نے ان مقامات کا ترجمہ غور وفکر کے ساتھ نہیں کیا اس لیے مطالب اپنی اصلی شکل میں واضح نہ ہوسکے۔ تمتع : اور پھر اصطلاح قرآنی میں یہی وہ تمتع ہے۔ یعنی زندگی سے فائدہ اٹھانے کی مہلت جس کا وہ بار بار ذکر کرتا ہے اور جو یکساں طور پر سب کو دی گئی ہے : ” بل متعنا ھؤلاء واباءھم حتی طال علیہم العمر : بلکہ بات یہ ہے کہ ہم نے ان لوگوں کو اور ان کے آباء واجداد کو مہلت حیات سے بہرہ مند ہونے کے مواقع دیے یہاں تک کہ (خوشحالی کی) ان پر بڑی بڑی عمریں گزر گئیں“ اسی طرح وہ جابجا ” متعناہم الی حین (10:، 98)، ’ متاع الی حین“ (36:، 44)، ” فتمتعوا فسوف تعلمون“ (16:، 55) وغیر تعبیرات سے بھی اسی حقیقت پر زور دیتا ہے۔ قضاء بالحق اور اقوام و جماعات : اسی طرح وہ قانون قضاء بالحق کو جماعتوں اور قوموں کے عروج و زوال پر بھی منطبق کرتا ہے اور کہتا ہے : جس طرح فطرت کا قانون انتخاب، افراد و اجسام میں جاری ہے اسی طرح اقوام و جماعات میں بھی جاری ہے۔ جس طرح فطرت نافع اشیاء کو باقی رکھتی ہے غیر نافع کو چھانٹ دیتی ہے ٹھیک اسی طرح جماعتوں میں بھی صرف اسی جماعت کے لیے بقا ہوتی ہے جس میں دنیا کے لیے نفع ہو۔ جو جماعت غیر نافع ہوجاتی ہے وہ چھانٹ دی جاتی ہے۔ وہ کہتا ہے یہ اس کی ” رحمت“ ہے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں انسانی ظلم وطغیان کے لیے کوئی روک تھام نظر نہ آتی۔ ” ولولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لفسدت الارض ولکن اللہ ذو فضل علی العالمین : اور (دیکھو) اگر اللہ (نے جماعتوں اور قوموں میں باہم دگر تزاحم پیدا نہ کردیا ہوتا اور وہ) بعض آدمیوں کے ذریعے بعض آدمیوں کو راہ سے ہٹاتا نہ رہتا تو یقینا زمین میں خرابی پھیل جاتی لیکن اللہ کائنات کے لیے فضل و رحمت رکھنے والا ہے۔ ایک دوسرے موقع پر یہی حقیقت ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے : ” الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ إِلا أَنْ یَقُولُوا رَبُّنَا اللَّہُ وَلَوْلا دَفْعُ اللَّہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیہَا اسْمُ اللَّہِ کَثِیرًا وَلَیَنْصُرَنَّ اللَّہُ مَنْ یَنْصُرُہُ إِنَّ اللَّہَ لَقَوِیٌّ عَزِیزٌ : اور اگر ایسا نہ ہوتا کہ اللہ بعض جماعتوں کے ذریعے بعض جماعتوں کو ہٹاتا رہتا تو (یقین کرو دنیا میں انسان کے ظلم و فساد کے لیے کوئی روک باقی نہ رہتی اور) یہ تمام خانقاہیں، گرجے، عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اس کثرت سے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے منہدم ہو کر رہ جاتیں“۔ قضاء بالحق کے اجتماع نفاذ میں تدریج وامہال اور تاجیل ہے : لیکن وہ کہتا ہے جس طرح فطرت کائنات کے تمام کاموں میں تدریج و امال کا قانون کام کر رہا ہے اسی طرح قوموں اور جماعتوں کے معاملہ میں بھی وہ جو کچھ کرتی ہے بتدریج کرتی ہے اور اصلاح حال اور رجوع وانابت کا دروازہ آخر وقت تک کھلا رکھتی ہے۔ کیونکہ رحمت کا مقتضا یہی ہے۔ ” وَقَطَّعْنَاہُمْ فِی الأرْضِ أُمَمًا مِنْہُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنْہُمْ دُونَ ذَلِکَ وَبَلَوْنَاہُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ : اور ہم نے ایسا کیا کہ ان کے لیے الگ الگ گروہ زمین میں پھیل گئے۔ ان میں سے بعض تو نیک عمل تھے بعض دوسری طرح کے۔ پھر ہم نے انہیں اچھائیوں اور برائیوں دونوں طرح کی حالتوں سے آزمایا تاکہ نافرمانی سے باز آجائیں“۔ جس طرح اجسام کے ہر تغیر کے لیے فطرت نے اسباب و علل کی ایک خاص مقدار اور مدت مقرر کردی ہے اسی طرح اقوام کے زوال و ہلاکت کے لیے بھی موجبات ہلاکت کی ایک خاص مقدار اور مدت مقرر ہے اور یہ ان کی ” اجل“ ہے۔ جب تک یہ اجل نہیں آچکتی قانون الٰہی یکے بعد دیگرے تنبہ واعتبار کی مہلتیں دیتا رہتا ہے۔” اولایرون انہم یفتنون فی کل عام مرۃ او مرتین ثم لا یتوبون ولا ھم یذکرون : کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ان پر کوئی برس ایسا نہیں گزرتا کہ ہم انہیں ایک دو مرتبہ یا دو مرتبہ آزمائشوں میں نہ ڈالتے ہو (یعنی ان کے اعمال بد کے نتائج پیش نہ آتے ہوں) پھر بھی نہ تو توبہ کرتے ہیں نہ حالات سے نصیحت پکڑتے ہیں !“ لیکن اگر تنبہ و اعتبار کی یہ تمام مہلتیں رائگاں گئیں اور ان سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو پھر فیصلہ امر کا آخری وقت نمودار ہوجاتا ہے اور جب وہ وقت آجائے تو پھر یہ فطرت کا آخری، اٹل اور بے پناہ فیصلہ ہے۔ نہ تو اس میں ایک لمحہ کے لیے تاخیر ہو سکتی ہے نہ یہ اپنے مقررہ وقت سے ایک لمحہ پہلے آسکتا ہے۔ ” ولکل امۃ اجل فاذا جاء اجلہم لا یستاخرون ساعۃ ولایستقدمون : اور (دیکھو) ہر امت کے لیے ایک مقررہ وقت ہے۔ سو جب ان کا مقررہ وقت آچکتا ہے تو اس سے نہ تو ایک گھڑی پیچھے رہ سکتے ہیں نہ ایک گھڑی آگے بڑھ سکتے ہیں“ ” وما اھلکنا من قریۃ الا ولھا کتب معلوم۔ ما تسبق من امۃ اجلہا و ما یستاخرون : اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے قانون کے مطابق ایک مقررہ میعاد اس کے لیے موجود تھی۔ کوئی امت نہ تو اپنے مقررہ وقت سے آگے بڑھ سکتی ہے، نہ پیچھے رہ سکتی ہے“۔ اسی طرح بقائے انفع اور قضاء بالحق کا قانون پچھلی قوم کو چھانٹ دیتا ہے اور اس کی جگہ ایک دوسری قوم لا کھڑی کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے کہ ” رحمت“ کا مقتضا یہی ہے۔ ” ذَلِکَ أَنْ لَمْ یَکُنْ رَبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرَی بِظُلْمٍ وَأَہْلُہَا غَافِلُونَ (١٣١) وَلِکُلٍّ دَرَجَاتٌ مِمَّا عَمِلُوا وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ (١٣٢) وَرَبُّکَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَۃِ إِنْ یَشَأْ یُذْہِبْکُمْ وَیَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِکُمْ مَا یَشَاءُ کَمَا أَنْشَأَکُمْ مِنْ ذُرِّیَّۃِ قَوْمٍ آخَرِینَ (١٣٣): یہ (تبلیغ و ہدایت کا تمام سلسلہ) اس لیے ہے کہ تمہارے پروردگار کا یہ شیوہ نہیں کہ بستیوں کو ظلم و ستم سے ہلاک کر ڈالے اور ان کے بسنے والے حقیقت حال سے بے خبر ہوں (اس کا قانون تو یہ ہے کہ) جیسا کچھ جس کا عمل ہے اسی کے مطابق اس کا ایک درجہ ہے (اور اسی درجہ کے مطابق اچھے برے نتائج ظاہر ہوتے ہیں) اور یاد رکھو جیسے کچھ لوگوں کے اعمال ہیں تمہارا پروردگار ان سے بے خبر نہیں ہے ! تمہارا پروردگار رحمت ولاا اور بے نیاز ہے۔ اگر وہ چاہے تو تمہیں راہ سے ہٹٓ دے اور تمہارے بعد جسے چاہے تمہارا جانشین بنا دے۔ اسی طرح جس طرح ایک دوسری قوم کی نسل سے تمہیں اوروں کا جانشین بنا دیا ہے“ انفرادی زندگی اور مجازات دنیوی : اسی طرح وہ کہتا ہے : یہ بات کہ انفرادی زندگی کے اعمال کی جزا دنیوی زندگی سے تعلق نہیں رکھتی۔ آخرت پر اٹھا رکھی گئی ہے اور دنیا میں نیک و بد سب کے لیے یکساں طور پر مہلت حیان اور فیضان معیشت ہے۔ اسی حقیقت کا نتیجہ ہے کہ یہاں ” رحمت“ کی کارفرمائی ہے۔ ” رحمت“ کا مقتضا یہی تھا کہ اس کے فیضان و بخشش میں کسی طرح کا امتیاز نہ ہو اور مہلت حیات سب کو پوری طرح ملے اس نے انسان کی انفرادی زندگی کے دو حصے کردیے۔ ایک حصہ دنیوی زندگی کا ہے، اور سرتا سر مہلت ہے۔ دوسرا حصہ مرنے کے بعد کا ہے اور جزا کا معاملہ اسی سے تعلق رکھتا ہے۔ ” وربک الغفور ذو الرحمۃ لو یواخذہم بما کسبو لعجل لہم العذاب بل لہم موعد لن یجدو من دونہ موئلا : اور (اے پیغمبر ! یقین کرو) تمہارا پروردگار بڑا بخشنے والا صاحب رحمت ہے۔ اگر وہ ان لوگوں سے ان کے اعمال کے مطابق مواخذہ کرتا تو فوراً عذاب نازل ہوجاتا۔ لیکن ان کے لیے ایک میعاد مقرر کردی گئی ہے اور جب وہ نمودار ہوگی تو اس سے بچنے کے لیے کوئی پناہ کی جگہ انہیں نہیں ملے گی“۔ ” ھو الذی خلقکم من طین ثم قضی اجلا واجل مسمی عندہ : وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تمہاری زندگی کے لیے ایک وقت غھہرا دیا اور اسی طرح اس کے پاس ایک اور بھی ٹھہرائی ہوئی میعاد ہے ! (یعنی قیامت کا دن) “۔ معنوی قوانین کی مہلت بخشی اور توبہ و انابت : وہ کہتا ہے : جس طرح عالم اجسام میں تم دیکھتے ہو کہ فطرت نے ہر کمزوری و فساد کے لیے ایک لازمی نتیجہ ٹھہرا دیا ہے لیکن پھر بھی اصلاح حال کا دروازہ بند نہیں کرتی اور مہلتوں پر مہلتیں دیتی رہتی ہے۔ نیز اگر بروقت اصلاح ظہور میں آجائے، تو اسے قبول کرلیتی ہے۔ ٹھیک ٹھیک اسی طرح یہاں بھی توبہ و انابت کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ کوئی بد عملی، کوئی گناہ، کوئی جرم، کوئی فساد ہو اور نوعیت میں کتنا ہی سخت اور مقدار میں کتنا ہی عظیم ہو لیکن جونہی توبہ و انابت کا احساس انسان کے اندر جنبش میں آتا ہے تو رحمت الٰہی قبولیت کا دروازہ معاً کھول دیتی ہے اور اشک ندامت کا ایک قطرہ بد عملیوں اور گناہوں کے بے شمار داغ دھبے اس طرح دھو دیتا ہے گویا اس کے دامن عمل پر کوئی دھبہ لگا ہی نہ تھا۔ التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ۔ ”إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صَالِحًا فَأُولَئِکَ یُبَدِّلُ اللَّہُ سَیِّئَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَکَانَ اللَّہُ غَفُورًا رَحِیمًا : ہاں مگر جس کسی نے توبہ کی، ایمان لایا اور آئندہ کے لیے نیک عملی اختیار کی تو یہ لوگ ہیں جن کی برائیوں کو اللہ اچھائیوں سے بدل دیتا ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے ! “ رحمت الٰہی اور مغفرت وبخشش کی وسعت و فراوانی ! اس بارے میں قرآن نے رحمت الٰہی کی وسعت اور اس کی مغفرت و بخشش کی فراوانی کا جو نقشہ کھینا ہے اس کی کوئی حد و انتہا نہیں ہے۔ کتنے ہی گناہ ہوں، کتنے ہی سخت گناہ ہوں، کتنی ہی مدت کے گناہ ہوں لیکن ہر اس انسان کے لیے جو اس کے دروازہ رحمت پر دستک دے رحمت و قبولیت کے سوا کوئی صدا نہیں ہوسکتی ! ” قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِہِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَۃِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ (٥٣): اے میرے بندو ! جنہوں نے (بدعملیاں کرکے) اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے (تمہاری بدعملیاں کتنی ہی سخت اور کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو مگر) اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقینا اللہ تمہارے تمام گناہ بخش دے گا۔ یقینا وہ بڑا بخشنے والا بڑی ہی رحمت رکھنے والا ہے ! اسلامی عقائد کا دینی تصور اور ” رحمت“: اور پھر یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں قرآن نے انسان کے لیے دینی عقائد و اعمال کا جو تصور قائم کیا ہے اس کی بنیاد بھی تمام تر رحمت و محبت ہی پر رکھی ہے کیونکہ وہ انسان کی روحانی زندگی کو کائنات فطرت کے عالمگیر کارخانہ سے کوئی الگ اور غیر متعلق چیز قرار نہیں دیتا۔ بلکہ اسی کا ایک مربوط گوشہ قرار دیتا ہے۔ اور اس لیے کہتا ہے : جس کارساز فطرت نے تمام کارخانہ ہستی کی بنیاد ” رحمت“ پر رکھی ہے ضروری تھا کہ اس گوشہ میں بھی اس کے تمام احکام سر تا سر رحمت کی تصویر ہوں۔ خدا اور اس کے بندوں کا رشتہ محبت کا رشتہ ہے : چنانچہ قرآن نے جابجا یہ حقیقت واضح کی ہے کہ خدا اور اس کے بندوں کا رشتہ محبت کا رشتہ ہے اور سچی عبودیت اسی کی عبودیت ہے جس کے لیے معبود صرف معبود ہی نہ ہوبلکہ محبوب بھی ہو : ” ومن الناس من یتخذ من دون اللہ اندادا یحبونہم کحب اللہ والذین امنوا اشد حبا للہ : اور (دیکھو) انسانوں میں سے کچھ انسان ایسے ہیں جو دوسری ہستیوں کو اللہ کا ہم پلہ بنا لیتے ہیں۔ وہ انہیں اس طرح چاہتے لگتے ہیں جس طرح اللہ کو چاہنا ہوتا ہے حالانکہ جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں۔ ان کی زیادہ سے زیادہ محبت صرف اللہ ہی کے لیے ہوتی ہے“ ” قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّہَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمُ اللَّہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ (٣١): (اے پیغمبر ! ان لوگوں سے) کہہ دو اگر واقعی تم اللہ سے محبت رکھنے والے ہو تو چاہیے کہ میری پیروی کرو (میں تمہیں محبت الٰہی کی حقیقی راہ دکھا رہا ہوں، اگر تم نے ایسا کیا تو صرف یہی نہیں ہوگا کہ تم اللہ سے محبت کرنے والے ہوجاؤ گے بلکہ خود) اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اللہ بخشنے والا رحمت والا ہے۔ وہ جابجا اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ ایمان باللہ کا نتیجہ اللہ کی محبت اور محبوبیت ہے : ”یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِینِہِ فَسَوْفَ یَأْتِی اللَّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ : اے پیروان دعوت ایمانی ! اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے دین کی راہ سے پھرجائے گا تو (وہ یہ نہ سمجھے کہ دعوت حق کو اس سے کچھ نقصان پہنچے گا) عنقریب اللہ ایک گروہ ایسے لوگوں کا پیدا کردے گا جنہیں اللہ کی محبت حاصل ہوگی اور وہ اللہ کو محبوب رکھنے والے ہوں گے“۔ جو خدا سے محبت کرنا چاہے اسے چاہیے اس کے بندوں سے محبت کرے : لیکن بندے کے لیے خدا کی محبت کی عملی راہ کیا ہے؟ وہ کہتا ہے : خدا کی محبت کی راہ اس کے بندوں کی محبت میں سے ہو کر گزری ہے۔ جو انسان چاہتا ہے خدا سے محبت کرے اسے چاہیے کہ خدا کے بندوں سے محبت کرنا سیکھے : ” واتی المال علی حبہ : اور جو اپنا مال اللہ کی محبت میں نکلاتے اور خرچ کرتے ہیں“ ” وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِینًا وَیَتِیمًا وَأَسِیرًا (٨)إِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللَّہِ لا نُرِیدُ مِنْکُمْ جَزَاءً وَلا شُکُورًا (٩): اور اللہ کی محبت میں وہ مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھالتے ہیں (اور کہتے ہیں) ہمارا یہ کھلانا اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ محض اللہ کے لیے ہے ہم تم سے نہ تو کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ کسی طرح کی شکر گزاری“ ایک حدیث قدسی میں یہی حقیقت نہایت مؤثر پیرائے میں واضح کی گئی ہے : ” یابان ادم مرضت فلم تعدنی قال کیف اعودک وانت رب العالمین۔ قال اما علمت ان عبدی فلانا مرض فلم تعدہ؟ اما علمت انک لوعدتہ لوجدتنی عندہ؟ یا ابن ادم ان ستطعمتک فلم تطعمنی قال یا رب کیف اطعمک وانت رب العالمین؟ قال امت انہ استطعمک عبدی فلان فلم تطعمہ ام اعلمت انک لو اطعمتہ لوجدت ذلک عندی؟ یا ابن ادم استسقیتک فلم تسقنی قال کیف اسقتیتک وانت رب العالمین، قال استسقاک عبدی فلان فلم تسقہ اما انک لوسقیتہ لوجت ذلک عندی ؟“ (رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ) ” قیامت کے دن ایسا ہوگا کہ خدا ایک انسان سے کہے گا۔ اے ابن آدم ! میں بیمار ہوگیا تھا مگر تو نے میری بیماری پرسی نہ کی۔ بندہ متعجب ہو کر کہے گا بھلا ایسا کیونکر ہوسکتا ہے اور تو تو رب العالمین ہے۔ خدا فرمائے گا کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ تیرے قریب بیمار ہوگیا تھا اور تو نے اس کی خبر نہیں لی تھی۔ اگر تو اس کی بیمار پرسی کے لیے جاتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ اسی طرح خدا فرمائے گا اے ابن آدم میں تجھ سے کھانا مانگا تھا مگر تو نے نہیں کھلایا۔ بندہ عرض کرے گا بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ تجھے کسی بات کی احتیاج ہو؟ خدا فرمائے گا کیا تجھے یاد نہیں کہ میرے فلاں بھوکے بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا اور تو نے انکار کردیا تھا۔ اگر تو اسے کھلاتا تو تو اسے میرے پاس پاتا ایسے ہی خدا فرمائے گا اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے پانی مانگا مگر تو نے مجھے پانی نہ پلایا۔ بندہ عرض کرے گا بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ تجھے پیاس لگے تو تو خود پروردگار ہے؟ خدا فرمائے گا میرے فلاں پیاسے بندے نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے اسے پانی نہ پلایا۔ اگر تو اسے پانی پلا دیتا تو اسے میرے پاس پاتا۔ اعمال و عبادات اور اخلاق و خصائل : اسی طرح قرآن نے اعمال و عبادات کی جو شکل و نوعیت قرار دی ہے، اخلاق و خصائل میں سے جن جن باتوں پر زور دیا ہے اور اوامر و نواہی میں جو اصول و مبادی ملحوظ رکھے ہیں ان سب میں بھی یہی حقیقت کام کر رہی ہے۔ اور یہ چیز اس درجہ واضح و معلوم ہے کہ بحث و بیان کی ضرورت نہیں۔ قرآن سر تا سر رحمت الٰہی کا پیام ہے : اور پھر یہی وجہ ہے کہ قرآن نے خدا کی کسی صفت کو بھی اس کثرت کے ساتھ نہیں دہرایا ہے اور نہ کوئی مطلب اس درجہ اس کے صفحات میں نمایاں ہے جس قدر رحمت ہے۔ اگر قرآن کے وہ تمام مقامات جمع کیے جائیں جہاں ” رحمت“ کا ذکر کیا گیا ہے تو تین سو سے زیادہ مقامات ہوں گے اور اگر وہ تمام مقامات بھی شامل کرلیے جائیں۔ جہاں اگرچہ لفظ رحمت استعمال نہیں ہوا ہے۔ لیکن ان کا تعلق رحمت ہی سے ہے۔ مثلاً ربوبیت، مغفرت، رافت کرم، حلم، عفو و غیرہا تو پھر یہ تعداد اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ کہا جاسکتا ہے قرآن اول سے لے کر آخر تک اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ رحمت الٰہی کا پیام ہے ! بعض احادیث : ہم اس موقع پر وہ تمام تصریحات قصداً چھور رہے ہیں جن کا ذخیرہ احادیث میں موجود ہے کیونکہ یہ مقام زیادہ تفصیل و بحث کا متحمل نہیں۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے قول و عمل سے اسلام کی جو حقیقت ہمیں بتلائی ہے وہ تمام تر یہی ہے کہ خدا کی موحدانہ پرستش اور اس کے بندوں پر شفقت و رحمت۔ ایک مشہور حدیث جو ہر مسلمان واعظ کی زبان پر ہے ہمیں بتلاتی ہے کہ انما یرحم اللہ من عبادہ الرحمانء ” خدا کی رحمت انہی دبندوں کے لیے ہے جو ان کے بندوں کے لیے رحمت رکھتے ہیں۔ (طبرانی و ابن جریر بسند صحیح) حضرت مسیح (علیہ السلام) کا مشہور کلمہ وعظ ” زمین والوں پر رحم کرو تاکہ وہ جو آسمان پر ہے تم پر رحم کرے“ بجنسہ پیغمبر اسلام ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان پر بھی طاری ہوا ہے) (الرحمن تبارک وتعالی۔ ارحموا من فی الارض یرحمکمم من فی السماء) (امام احمد نے مسند میں، ترمذی، اور ابوداود نے صحیح میں اور حاکم نے مستدرک میں ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے۔ وروینا سلسلا من طریق الشیخ محمود شکری الالوسی العراقی وایضا عن والدی المرحوم عن الشیخ صدر الدین الدھئولی من طریق الشیخ احمد ولی اللہ رحمہم اللہ)۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اسلام نے انسانی رحمت و شفقت کی جو ذہنیت پیدا کرنی چاہی ہے وہ اس قدر وسیع ہے کہ بے زبان جانور بھی اس سے باہر نہیں ہیں۔ ایک سے زیادہ حدیثیں اس مضمون کی موجود ہیں کہ اللہ کی رحمت رحم کرنے والوں کے لیے ہے اگر یہ رحم ایک چڑیا ہی کے لیے کیوں نہ ہو ” من رحم ولو ذبیحۃ عصفور رحمہ اللہ یوم القیامۃ(رواہ البخاری فی الادب المفرد والطبرانی عن ابی امامۃ وصححہ السیوطی فی الجامع الصغیر) مقام انسانی اور صفات الٰہی سے تخلق و تشبہ : اصل یہ ہے کہ قرآن نے خدا پرستی کی بنیاد ہی اس جذبہ پر رکھی ہے کہ انسان خدا کی صفتوں کا پرتو اپنے اندر پیدا کرے۔ وہ انسان کے وجود کو ایک ایسی سرحد قرار دیتا ہے جہاں حیوانیت کا درجہ ختم ہوتا اور ایک مافوق حیوانیت درجہ شروع ہوجاتا ہے۔ وہ کہتا ہے : انسان کا جوہر انسانیت جو اسے حیوانات کی سطح سے بلند و ممتاز کرتا ہے اس کے سوا کچھ نہیں کہ صفات الٰہی کا پرتو ہے اور اس لیے انسانیت کی تکمیل یہ ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ صفات الٰہی سے تخلق و تشبہ پیدا ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جہاں کہیں بھی انسان کی خاص صفات کا ذکر کیا ہے انہیں براہ راست خدا کی طرف نسبت دی ہے۔ حتی کہ جوہر انسانیت کو خدا کی روح پھونک دینے سے تعبیر کیا ” ثم سواہ ونفخ فیہ من روحہ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ“ (32:، 8) یعنی خدا نے آدم میں اپنی روح میں سے کچھ پھونک دیا اور اسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے اندر عقل و حواس کا چراغ روشن ہوگیا۔ در ازل پرتو حسنت زتجلی دم زد : عشق پیدا شد و آتش بہ ہمہ عالم زد بس اگر وہ خدا کی رحمت کا تصور ہم میں پیدا کرنا چاہتا ہے تو یہ اس لیے کہ وہ چاہتا ہے ہم بھی سرتاپا رحمت و محبت ہوجائیں۔ اگر وہ اس کی ربوبیت کا مرقع بار بار ہماری نگاہوں کے سامنے لاتا ہے تو یہ اس لیے کہ وہ چاہتا ہے ہم بھی اپنے چہرہ اخلاق میں ربوبیت کے سارے خال و خط پیدا کرلیں۔ اگر وہ اس کی رافت و شفقت کا ذکر کرتا ہے، اس کے لطف و کرم کا جلودہ دکھاتا ہے، اس کے جود و احسان کا نقشہ کھینچتا ہے تو اسی لیے کہ وہ چاہتا ہے ہم میں بھی ان الٰہی صفتوں کا جلوہ نمودار ہوجائے۔ وہ بار بار ہمیں سناتا ہے کہ خدا کی بخشش و درگزر کی کوئی انتہا نہیں اور اس طرح ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم میں بھی اس کے بندوں لیے بخشش و درگزر کا غیر محدود جوش پیدا ہوجانا چاہیے۔ اگر ہم اس کے بندوں کی خطائیں بخش نہیں سکتے تو ہمیں کیا حق ہے اپنی خطاؤں کے لیے اس کی بخشائشوں کا انتظار کریں؟ احکام و شرائع : جہاں تک احکام و شرائع کا تعلق ہے بلاشبہ اس نے یہ نہیں کہا دشمنوں کو پیار کرو کیونکہ ایسا کہنا حقیقت نہ ہوتی، مجاز ہوتا۔ لیکن اس نے کہا کہ دشمنوں کو بھی بخش دو اور جو دشمن کو بخش دینا سیکھ لے گا اس کا دل خود بخود انسانی بغض و نفرت کی آلودگیوں سے پاک ہوجائے گا۔ الکاظمین الغیظ والعافین عن الناس واللہ یحب المحسنین : غصہ ضبط کرنے والے، اور انسانوں کے قصور بخش دینے والے اور اللہ کی محبت انہی کے لیے ہے جو احسان کرنے والے ہیں۔ وَالَّذِینَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْہِ رَبِّہِمْ وَأَقَامُوا الصَّلاۃَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ سِرًّا وَعَلانِیَۃً وَیَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ أُولَئِکَ لَہُمْ عُقْبَی الدَّارِ (٢٢): اور جن لوگوں نے اللہ کی محبت میں (سختی و ناگواری) برداشت کرلی، نماز قائم کی، خدا کی دی ہوئی روزی پوشیدہ و علانیہ (اس کے بندوں کے لیے) کرچ کی اور برائی کا جواب برائی سے نہیں نیکی سے دیا تو (یقین کرو) یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت کا بہتر ٹھکانا ہے۔ ’ ولمن صبر و غفر ان ذلک لمن عزم الامور : اور (دیکھو) جو کوئی برائی پر صبر کرے اور بخش دے تو یقینا یہ بڑی ہی اولوالعزمی کی بات ہے۔ ” ولا تستوی الحسنۃ ولا السیئۃ ادفع بالتی ھی احسن فاذ الذی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم۔ وما یلقاھا الا الذن صبروا وما یلقاہا الا ذو حظ عظیم : اور (دیکھو) نیکی اور بدی برابر نہیں ہوسکتی (اگر کوئی برائی کرے تو) برائی کا جواب ایسے طریقے سے دو جو اچھا طریقہ ہو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم دیکھو گے کہ جس شخص سے تمہاری عداوت تھی یکایک تمہارا دلی دوست ہوگیا ہے البتہ یہ ایسا مقام ہے جو اسی کو مل سکتا ہے جو (بدسلوکی سہہ لینے کی) برداشت رکھتا ہو اور جسے (نیکی وسعادت کا) حصہ وافر ملا ہو“۔ بلاشبہ اس نے بدلہ لینے سے بالکل روک نہیں دیا اور وہ کیونکر روک سکتا تھا جب کہ طبیعت حیوانی کا یہ فطری خاصہ ہے اور حفاظت نفس اس پر موقوف ہے لیکن جہاں کہیں بھی اس نے اس کی اجازت دی ہے ساتھ ہی عفو و بخشش اور بدمی کے بدلے نیکی کرنے کی موثر ترغیب بھی دے دی ہے اور ایسی موثر ترغیب دی ہے کہ ممکن نہیں ایک خدا پرست انسان اس سے متاثر نہ ہو : ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ ولئن صبرتم لہو خیر للصابرین : اور (دیکھو) اگر تم بدلہ لو، تو چاہیے جتنی اور جیسی کچھ برائی تمہارے ساتھ کی گئی ہے اسی کے مطابق ٹھیک ٹھیک بدلہ بھی لیا جائے (یہ نہ ہو کہ زیادتی کر بیٹھو) لیکن اگر تم برداشت کرجاؤ اور بدلہ نہ لو تو (یاد رکھو) برداشت کرنے والوں کے لیے برداشت کرجانے ہی میں بہتری ہے۔ ” وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ : اور برائی کے لیے ویسا ہی اور اتنا ہی بدلہ ہے جیسی اور جتنی برائی کی گئی ہے۔ لیکن جس کسی نے درگزر کیا اور معاملہ بگاڑنے کی جگہ سنوار لیا تو اس کا اجر اللہ پر ہے“۔ انجیل اور قرآن : ہم نے قرآن کی آیات عفو وبخشش نقل کرتے ہوئے ابھی کہا ہے کہ اس نے یہ نہیں کہا کہ دشمنوں کو پیا کرو کیونکہ ایسا کہنا حقیقت نہ ہوتی، مجاز ہوتا۔ ضروری ہے کہ اس کی مختصر تشریح کردی جائے : حضرت مسیح (علیہ السلام) نے یہودیوں کی ظاہر پرستیوں اور اخلاقی محرومیوں کی جگہ رحم و محبت اور عفو و بخشش کی اخلاقی قربانیوں پر زور دیا تھا اور ان کی دعوت کی اصلی روح یہی ہے۔ چنانچہ ہم انجیل کے مواعظ میں جا بجا اس طرح کے خطابات پاتے ہیں ” تم نے سنا ہوگا کہ اگلوں سے کہا گیا دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ لیکن میں کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا“ یا ” اپنے ہمسایوں ہی کو نہیں بلکہ دشمنوں کو بھی پیار کرو“ یا مثلا ” اگر کوئی تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے تو چاہیے دوسرا گال بھی آگے کردو“ دعوت مسیح اور دنیا کی حقیقت فراموشی : افسوس ہے کہ انجیل کے معتقدوں اور نکتہ چینوں دونوں نے یہاں ٹھوکر کھائی۔ دونوں اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ یہ تشریع تھی اور اس لیے دونوں کو تسلیم کرلینا پڑا کہ یہ ناقابل عمل احکام ہیں۔ معتقدوں نے خیال کیا کہ اگرچہ ان احکام پر عمل نہیں کیا جاسکتا تاہم مسیحیت کے احکام یہی ہیں اور عملی نقطہ خیال سے اس قدر کافی ہے کہ اوائل عہد میں چند ولیوں اور شہیدوں نے ان پر عمل کرلیا تھا۔ نکتہ چینوں نے کہا کہ یہ سر تا سر ایک نظری اور ناقابل عمل تعلیم ہے اور کہنے میں کتنی ہی خوشنما ہو لیکن عملی نقطہ خیال سے اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ یہ فطرت انسانی کے صریح خلاف ہے۔ فی الحقیقت نوع انسانی کی یہ بڑی ہی درد انگیز نا انصافی ہے جو تاریخ انسانیت کے اس عظیم الشان معلم کے ساتھ جائز رکھی گئی۔ جس طرح بے درد نکتہ چینوں نے اسے سمجھنے کی کوشش نہ کی اسی طرح نادان معتقدوں نے بھی فہم و بصیرت سے انکار کردیا۔ حضرت مسیح کی تعلیم کو فطرت انسانی کے خلاف سمجھنا تفریق بین الرسل ہے : لیکن کیا کوئی انسان جو قرآن کی سچائی کا معترف ہو۔ ایسا خیال کرسکتا ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تعلیم فطرت انسانی کے خلاف تھی اور اس لیے ناقابل عمل تھی حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی تصدیق کے ساتھ ایسا منکرانہ خیال جمع نہیں ہوسکتا۔ گر ہم ایک لمحہ کے لیے بھی اسے تسلیم کرلیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تعلیم کی سچائی سے انکار کردیں۔ کیونکہ جو تعلیم فطرت انسانی کے خلاف ہے وہ کبھی انسان کے لیے سچی تعلیم نہیں ہوسکتی۔ لیکن ایسا اعتقاد نہ صرف قرآن کی تعلیم کے خلاف ہوگا بلکہ اس کی دعوت کی اصلی بنیاد ہی متزلزل ہوجائے گی۔ اس کی دعوت کی بنیادی اصل یہ ہے کہ وہ دنیا کے تمام رہنماؤں کی یکساں طور پر تصدیق کرتا اور سب کو خدا کی ایک ہی سچائی کا پیامبر قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے : پیروان مذہب کی سب سے بڑی گمراہی تفریق بین الرسل ہے۔ یعنی ایمان و تصدیق کے لحاظ سے خدا کے رسولوں میں تفریق کرنا، کسی ایک کو ماننا دوسروں کو جھٹلانا یا سب کو ماننا کسی ایک کا انکار کردینا۔ اسی لیے اس نے جابجا اسلام کی راہ یہ بتلائی ہے : ” لا نفرق بین احد منہم ونحن لہ مسلمون : ہم خدا کے رسولوں میں سے کسی کو بھی دوسروں سے سے جدا نہیں کرتے (کہ کسی کو مانیں کسی کو نہ مانیں) ہم تو خدا کے آگے جھکے ہوئے (س کی سچائی کہیں بھی آئی ہو اور کسی کی زبانی آئی ہو، ہمارا اس پر ایمان ہے“ (آل عمران : 84) علاوہ بریں خود قرآن نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی دعوت کا یہی پہلو جابجا نمایاں کیا ہے کہ وہ رحمت و محبت کے پیامبر تھے اور یہودیوں کی اخلاقی خشونت و قساوت کے مقابلہ میں مسیحی اخلاق کی رقت و رافت کی بار بار مدح کی ہے : ” ولنجعلہ ایۃ للناس و رحمۃ منا وکان امر امقضیا : اور تاکہ ہم اس کو (یعنی مسیح (علیہ السلام) کے ظہور کو) لوگوں کے لیے ایک الٰہی نشانی اور اپنی رحمت کا فیضان بنائیں اور یہ بات (مشیت الٰہی میں) طے شدہ تھی“ (مریم :21)۔ ” وجعلنا فی قلوب الذین اتبعوہ رافۃ ورحمۃ: اور ان لوگوں کے دلوں میں جنہوں نے (مسیح کی) پیروی کی، ہم نے شفقت اور رحمت ڈال دی“ (57:، 27) اس موقع پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن نے جس قدر اوصاف خود اپنی نسبت بیان کیے ہیں پوری فراخ دلی کے ساتھ وہی اوصاف تورات و انجیل کے لیے بھی بیان کیے ہیں۔ مثلاً وہ جس طرح اپنے آپ کو ہدایت کرنے والا، روشنی سے متصف قرار دیتا ہے۔ چنانچہ انجیل کی نسبت ہم جا بجا پڑھتے ہیں ” واتینہ الانجیل فیہ ھدی ونور و مصدقا لما بین یدیہ من التوراۃ وھدی و موعظۃ للمتقین“ (5:، 46)۔ یہ ظاہر ہے کہ جو تعلیم فطرت بشری کے خلاف اور ناقابل عمل ہو، وہ کبھی نور و ہدایت اور موعظۃ للمقتین نہیں ہوسکتی۔ دعوت مسیحی کی حقیقت : اصل یہ ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ان تمام تعلیمان کی وہ نوعیت ہی نہ تھی جو غلطی سے سمجھ لی گئی اور دنیا میں ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی گمراہی اس کے انکار سے نہیں بلکہ کج اندیشانہ اعتراف ہی سے پیدا ہوئی ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ظہور ایک ایسے عہد میں ہوا تھا جب کہ یہودیوں کا اخلاقی تنزل انتہائی حد تک پہنچ چکا تھا اور دل کی نیکی اور اخلاق کی پاکیزگی کی جگہ محض ظاہر احکام و رسوم کی پرستش دینداری و خدا پرستی سمجھی جاتی تھی۔ یہودیوں کے علاوہ جس قدر متمدن قومیں قرب و جوار میں موجود تھیں۔ مثلا رومی، مصری، آشوری وہ بھی انسانی رحم و محبت کی روح سے یکسسرنا آشنا تیں۔ لوگوں نے یہ ابت تو معلوم کرلی تھی کہ مجرموں کو سزائیں دینی چاہیں لیکن اس حقیقت سے بے بہرہ تھے کہ رحم و محبت اور عفو و بخشش کی چارہ سازیوں سے جرموں اور گناہوں کی پیدائش روک دینی چاہیے۔ انسانی قتل وہ لاکت کا تماشا دیکھنا، طرح طرح کے ہولناک طریقوں سے مجرموں کو ہلاک کرنا، زندہ انسانوں کو درندوں کے سامنے ڈال دینا، آباد شہروں کو بلا وجہ جلا کر خاکستر کردینا، اپنی قوم کے علاہ تمام انسانوں کو غلام سمجھنا اور غلام بنا کر رکھنا، رحم و محبت اور حلم و شفقت کی جگہ قلبی قساوت و بے رحمی پر فخر کرنا، رومی تمدن کا اخلاق اور مصری اور آشوری دیوتاؤں کا پسیدہ طریقہ تھا۔ ضرورت تھی کہ نوع انسانی ہدایت کے لیے ایک ایسی ہستی مبعوث ہو جو سر تا سر رحمت و محبت کا پیام ہو، جو انسانی زندگی کے تمام گوشوں سے قطع نظر کر کے صرف اس کی قلبی و معنوی حالت کی اصلاح و تزکیہ پر اپنی تمام پیغمبرانہ ہمت مبذول کردے۔ چنانچہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی شخصیت میں وہ ہستی نمودار ہوگئی۔ اس نے جسم کی جگہ روح پر، زبان کی جگہ دل پر، اور ظاہر کی جگہ باطن پر نوع انسانی کی توجہ دلائی اور انسانیت اعلیٰ کا فراموش شدہ سبق تازہ کردیا۔ مواعظ مسیح کے مجازات کو تشریح و حقیقت سمجھ لینا سخت غلطی ہے۔ معمولی سے معمولی کلام بھی بشرطیکہ بلیغ ہو اپنی بلاغت کے مجازات رکھتا ہے۔ قدرتی طور پر اس الہامی بلاغت کے بھی مجازات تھے جو اس کی تاثیر کا زیور اور اس کی دل نشینی کی خوبروئی ہیں لیکن افسوس کہ وہ دنیا جو اقانیم ثلاثہ اور کفارہ جیسے دورازکار عقائد پیدا کرلینے والی تھی ان کے مواعظ کا مقصد و محل نہ سمجھ سکی اور مجازات کو حقیقت سمجھ کر غلط فہمیوں کا شکار ہوگئی۔ انہوں نے جہاں کہیں یہ کہا ہے کہ ’[ دشمنوں کو پیار کرو“ تو یقیناً اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ ہر انسان کو چاہیے کہ اپنے دشمنوں کا عاشق زار ہوجائے بلکہ سیدھا سادھا مطلب یہ تھا کہ تم میں غیظ و غضب اور نفرت و انتقام کی جگہ رحم و محبت کا پرجوش جذبہ ہونا چاہیے اور ایسا ہونا چاہیے کہ دوست تو دوست، دشمن تک کے ساتھ عفو و درگزر سے پیش آؤ۔ اس مطلب کے لیے کہ رحم کرو، بخش دو، انتقام کے پیچھے نہ پڑو، یہ ایک نہایت ہی بلیغ اور موثر پیرایہ بیان ہے کہ ” دشمنوں تک کو پیار کرو“ ایک ایسے گرد و پیش میں جہاں اپنوں اور عزیزوں کے ساتھ بھی رحم و محبت کا برتاؤ نہ کیا جاتا ہو یہ کہنا کہ اپنے دشمنوں سے بھی نفرت نہ کرو رحم و محبت کی ضرورت کا ایک اعلی اور کامل ترین تخیل پیدا کردینا تھا۔ شنیدم کہ مردان راہ خدا۔ دل دشمنان ہم نہ کردند تنگ ترا کے میسر شود ایں مقام۔ کہ بادوستانت خلاف ست و جنگ یا مثلا اگر انہوں نے کہا ” اگر کوئی تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسرا گال بھی آگے کردو“ تو یقینا اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ سچ مچ کو تم اپنا گال آگے کردیا کرو بلکہ صریح مطلب یہ تھا کہ انتقام کی جگہ عفو و درگزر کی راہ اختیار کرو۔ بلاغت کلام کے یہ وہ مجازات ہیں جو ہر زبان میں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں اور یہ ہمیشہ بڑی ہی جہالت کی بات سمجھی جاتی ہے کہ ان کے مقصود و مفہوم کی جگہ ان کے منطوق پر زور دیا جائے۔ اگر ہم اس طرح کے مجازات کو ان کو ظواہر پر محمول کرنے لگیں گے تو نہ صرف تمام الہامی تعلیمات ہی درہم برہم ہوجائیں گی۔ بلکہ انسان کا وہ تمام کلام جو ادب و بلاغت کے ساتھ دنیا کی تمام زبانوں میں کہا گیا ہے یک قلم مختلف ہوجائے گا۔ اعمال انسانی میں اصل رحم و محبت ہے نہ کہ تعزیر و انتقام : باقی رہی یہ بات کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے سزا کی جگہ محض رحم و درگزر ہی پر زور دیا تو ان کے مواعظ کی اصلی نوعیت سمجھ لینے کے بعد یہ بات بھی بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ بلاشبہ شرائع نے تعزیر و عقوبت کا حکم دیا تھا لیکن اس لیے نہیں کہ تعزیر وعقوبت فی نفسہ کوئی مستحسن عمل ہے بلکہ اس لیے کہ معیشت انسانی کی بعض ناگریز حالتوں کے لیے یہ ایک ناگزیر علاج ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا کہ ایک کم درجہ کی برائی تھی جو اس لیے گوارا کرلی گئی کہ بڑے درجے کی برائیاں روکی جاسکیں۔ لیکن دنیا نے اسے علاج کی جگہ ایک دل پسند مشغلہ بنا لیا اور رفتہ رفتہ انسان کی تعذیب و ہلاکت کا ایک خوفناک آلہ بن گئی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی قتل و غارت گری کی کوئی ہولناکی ایسی نہیں ہے جو شریعت اور قانون کے نام سے نہ کی گئی ہو اور جو فی الحقیقت اسی بدلہ لینے اور سزا دینے کے حکم کا ظالمانہ استعمال نہ ہو۔ اگر تاریخ سے پوچھا جائے کہ انسانی ہلاکت کی سب سے بڑی قوتیں میدانہائے جنگ سے باہر کون کون سی رہیں ہیں؟ تو یقینا اس کی انگلیاں ان عدالت گاہوں کی طرف اٹھ جائیں گی جو مذہب اور قانون کے ناموں سے قائم کی گئیں اور جنہوں نے ہمیشہ اپنے ہم جنسوں کی تعذیب و ہلاکت کا عمل اس کی ساری وحشت انگیزیوں اور ہولناکیوں کے ساتھ جاری رکھا۔ پس اگر حضرت مسیح (علیہ السلام) نے تعزیر و عقوبت کی جگہ سر تا سر رحم و درگزر پر زور دیا تو یہ اس لیے نہیں تھا کہ وہ نفس تعزیر و سزا کے خلاف کوئی نئی تشریع کرنی چاہتے تھے بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اس ہولناک غلطی سے انسان کو نجات دلائیں جس میں تعزیر و عقوبت کے غلو نے مبتلا کر رکھا ہے۔ وہ دنیا کو بتلانا چاہتے تھے کہ اعمال انسانی میں اصل رحمت و محبت ہے، تعزیر و انتقام نہیں ہے۔ اور اگر تعزیر و سیاست جائز رکھی گئی ہے تو صرف اس لیے کہ بطور ایک ناگزیر علاج کے عمل میں لائی جائے۔ اس لیے نہیں کہ تمہارے دل رحم و محبت کی جگہ سر تاسر نفرت و انتقام کا آشیانہ بن جائیں ! (شاید انسانی گمراہی کی بوالعجبیوں کی اس سے بہتر مثال نہیں مل سکتی۔ جس انجیل کی تعلیم کا یہ مطلب سمجھ لیا گیا تھا کہ وہ کسی حال میں بدلہ لینے اور سزا دینے کی اجازت نہیں اسی انجیل کے پیرووں نے نوع انسانی کی تعذیب و ہلاکت کا عمل ایسی وحشت و بے رحمی کے ساتھ صدیوں تک جاری رکھا کہ آج ہم اس کا تصور بھی بغیر وحشت و ہراس کے نہیں کرسکتے۔ اور پھر یہ جو کچھ کیا گیا انجیل اور اس کے مقدس معلم کے نام پر کیا گیا !) شریعت موسوی کے پیرووں نے شریعت کو صرف سزا دینے کا آلہ بنا لیا تھا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے بتلایا کہ شریعت سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ نجات کی راہ دکھانے آتی ہے اور نجات کی راہ سر تا سر رحمت و محبت کی راہ ہے ! ’ عمل“ اور ” عامل“ میں امتیاز : در اصل اس بارے میں انسان کی بنیادی غلطی یہ رہی ہے کہ عمل میں اور عامل میں امتیاز قائم نہیں رکھتا۔ حالانکہ جہاں تک مذہب کی تعلیم کا تعلق ہے اس بات میں کہ ایک عمل کیسا ہے اور اس بات میں کہ کرنے والا کیسا ہے بہت بڑٓ فرق ہے اور دونوں کا حکم ایک نہیں۔ بلاشبہ تمام مذاہب کا یہ عالمگیر مقصد رہا ہے کہ بد عملی اور گناہ کی طرف سے انسان کے دل میں نفرت پیدا کردیں لیکن یہ انہوں نے کبھی گوارا نہیں کیا کہ خود انسان کی طرف سے انسان کے اندر نفرت پیدا ہوجائے۔ یقینا انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ گناہ سے نفرت کرو لیکن یہ کبھی نہیں کہا ہے کہ گنہگار سے نفرت کرو۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طبیب ہمیشہ لوگوں کو بیماریوں سے ڈراتا رہتا ہے اور بسا اوقات ان کے مہلک نتائج کا ایسا ہولناک نقشہ کھینچ دیتا ہے کہ دیکھنے والے سہم کر رہ جاتے ہیں لیکن یہ تو وہ کبھی نہیں کرتا کہ جو لوگ بیماری ہوجائیں ان سے ڈرنے اور نفرت کرنے لگے یا لوگوں سے کہے ڈرو اور نفرت کرو؟ اتنا ہی نہیں بلکہ اس کی تو ساری توجہ اور شفقت کا مرکز بیمار ہی کا وجود ہوتا ہے۔ جو انسان جتنا زیادہ بیمار ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کی توجہ اور شفقت کا مستحق ہوجائے گا۔ مرض اور مریض : پس جس طرح جسم کا طبیب بیماریوں کے لیے نفرت لیکن بیماری کے لیے شفقت و ہمدردی کی تلقین کرتا ہے ٹھیک اسی طرح روح و دل کے طبیب بھی گناہوں کے لیے نفرت لیکن گنہگاروں کے لیے سرتاپا رحمت و شفقت کا پیام ہوتے ہیں َ یقینا وہ چاہتے ہیں کہ گناہوں سے (جو روح و دل کی بیماریاں ہیں) ہم میں دہشت و نفرت پیدا کردیں لیکن گنہگار انسانوں سے نہیں، اور یہی وہ نازک مقام ہے جہاں ہمیشہ پیروان مذاہب نے ٹھوکر کھائی ہے۔ مذاہب نے چاہا تھا انہیں برائی سے نفرت کرنا سکھلائیں۔ لیکن برائی سے نفرت کرنے کی جگہ انہوں نے ان انسانوں سے نفرت کرنا سیکھ لیا جنہیں وہ اپنے خیال میں برائی کا مجرم تصور کرتے ہیں ! گناہوں سے نفرت کرو مگر گناہگاروں پر رحم کرو : حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تعلیم سر تا سر اسی حقیقت کی دعوت تھی۔ گناہوں سے نفرت کرو مگر ان انسانوں سے نفرت نہ کرو جو گناہوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اگر ایک انسان گنہگار ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی روح و دل کی تندرستی باقی نہ رہی۔ لیکن اگر اس نے بدبختانہ اپنی تندرستی ضائع کردی ہے تو تم اس سے نفرت کیوں کرو؟ وہ تو اپنی تندرستی کو کھو کر اور زیادہ تمہارے رحم و شفقت کا مستحق ہوگیا ہے۔ تم اپنے بیماری بھائی کی تمیار داری کرو گے یا اسے جلاد کے تازیانے کے حوالے کردوگے؟ وہ موقع یاد کرو جس کی تفصیل ہمیں سینٹ لوقا کی زبانی معلوم ہوئی ہے۔ جب ایک گناہگار عورت حضرت مسیح (علیہ السلام) کی خدمت میں آئی اور اس نے اپنے بالوں کی لٹوں سے ان کے پاؤں پونچھے تو اس پر ریاکار فریسیوں کو ( اور اب فریسیت کے معنی ہی ریاکاری کے ہوگئے ہیں (Pharisaism) سخت تعجب ہوا لیکن انہوں نے کہا طبیب بیماروں کے لیے ہوتا ہے نہ کہ تندرستوں کے لیے۔ پھر خدا اور اس کے گناہگار بندوں کا رشتہ رحمت واضح کرنے کرنے کے لیے ایک نہایت ہی مؤثر اور دلنشین مثال بیان کی۔ فرض کرو، ایک ساہوکار کے دو قرضدار تھے، ایک پچاس روپیہ کا، ایک ہزار روپیہ کا۔ ساہو کار نے دونوں کا قرض معاف کردیا۔ بتلاؤ کس قرضدار پر اس کا احسان زیادہ ہوا، اور کون اس سے زیادہ محبت کرے گا؟ وہ جسے پچاس معاف کردیے، یا وہ جسے ہزار؟ نصیب ماست بہشت اے خدا شناس برو۔ کہ مستحق کرامت گناہگار انند یہی حقیقت ہے جس کی طرف بعض ائمہ تابعین نے اشارہ کیا ہے (انکسار العاصیین احب الی اللہ من صولۃ المطیعین)۔ خدا کو فرمانبردار بندوں کی تمکنت سے کہیں زیادہ گناہگار بندوں کا عجز و انکسار محبوب ہے۔ گدایاں را ازیں معنی خبر نیست۔ کہ سلطان جہاں باماست امروز قرآن اور گناہگار بندوں کے لیے صدائے تشریف وحمت : اور پھر یہی حقیقت ہے کہ ہم قرآن میں دیکھتے ہیں جہاں کہیں خدا نے گناہگار انسانوں کو مخاطب کیا ہے یا ان کا ذکر کیا ہے تو عموماً یائے نسبت کے ساتھ کیا ہے جو تشریف و محبت پر دلالت کرتی ہے۔ ” قل یاعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم“ (39:53)۔ ” ءانتم اضللتم عبادی“ (25:17) اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک جیسے ایک باپ جوش محبت میں اپنے بیٹے کو پکارتا ہے تو خصوصیت کے ساتھ اپنے رشتہ پدری پر زور دیتا ہے ” اے میرے بیٹے“ ” اے میرے فرزند“۔ حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے سورۃ زمر کی آیہ رحمت کی تفسیر کرتے ہوئے کیا خوب فرمایا ہے۔ جب ہم اپنی اولاد کو اپنی طرف نسبت دے کر مخاطب کرتے ہیں تو وہ بے خوف و خطر ہماری طرف دوڑنے لگتے ہیں کیونکہ سمجھ جاتے ہیں ہم ان پر غضبناک نہیں۔ قرآن میں خدا نے بیس سے زیادہ موقعوں پر ہمیں عبادی کہہ کر اپنی طرف نسبت دی ہے اور سخت سے سخت گناہگار انسانوں کو بھی یاعبادی کہہ کر پکارا ہے۔ کیا اس سے بھی بڑے کر اس کی رحمت و آمرزش کا کوئی پیام ہوسکتا ہے؟ صحیح مسلم کی مشہور حدیث کا مطلب کس طرح واضح ہوجاتا ہے۔ جب ہم اس روشنی میں اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ” والذی نفسی بیدہ لم لم تذنبوا لذھب اللہ بکم ولجاء بقوم یذنبون فیستغفرون“ (رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ (رض) و ایضا عن انس قال قال صلی اللہ علیہ والذی نفسی بیدہ، لو اخطاتم حتی تملاء خطایاکم مابین السماء والارض، ثم استغفرتم اللہ یغفر لکم۔ والذی نفسی بیدہ لو لم تخطئون لجاء اللہ بقوم یخطئون ثم یستغفرون فیغفر لہم۔ اخرجہ واحمد و ابویعلی باسناد رجالہ ثقات۔ وعن ابن عمر مرفوعا لو لم تذبنوا۔ لخلق اللہ خلقا یذنبون ثم یغفرلہم۔ اخرجہ احمد والبزار و رجالہم ثقات۔ واخرج البزار من حدیث ابی سعید نحو حدیث ابی ھریرۃ فی الصحیح و فی اسنادی یحیی بن بکیر وھو ضعیف)۔ ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم ایسے ہوجاؤ کہ گناہ تم سے سرزد ہی نہ ہو تو خدا تمہیں زمین سے ہٹا دے اور تمہاری جگہ ایک دوسرا گروہ پیدا کردے جس کا شیوہ یہ ہو کہ گناہوں میں مبتلا ہو اور پھر خدا سے بخشش و مغفرت کی طلبگاری کرے۔ فدائے شیوہ رحمت کہ درلباس بہار۔ بعد از خواہی رندان باد نوش آمد اصلاً انجیل اور قرآن کی تعلیم میں کوئی اختلاف نہیں : پس فی الحقیقت حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تعلیم میں اور قرآن کی تعلیم میں اصلا کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کا معیار احکام ایک ہی ہے۔ فرق صرف محل بیان اور پیرایہ بیان کا ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے صرف اخلاق اور تزکیہ قلب پر زور دیا کیونکہ شریعت موسوی موجود تھی اور وہ اس کا ایک نقطہ بھی بدلنا نہیں چاہتے تھے۔ لیکن قرآن کو اخلاق اور قانون، دونوں کے احکام بیک وقت بیان کرنے گھے اس لیے قدرتی طور پر اس نے پیرایہ بیان ایسا اختیار کیا جو مجازات و متشابہات کی جگہ احکام بیک وقت بیان کرے تھے اس لیے قدرتی طور پر اس نے پیرایہ بیان ایسا اختیار کیا جو مجازات و متشابہات کی جگہ احکام و قوانین کا صاف صاف جچا تلا پیرایہ بیان تھا۔ اس نے سب سے پہلے عفو و درگزر پر زور دیا اور اسے نیکی وفضیلت کی اصل قرار دیا۔ ساتھ ہی بدلہ لینے اور سزا دینے کا دروازہ بھی کھلا رکھا کہ ناگزیر حالتوں میں اس کے بغیر چارہ نہیں۔ لیکن نہایت قطعی اور واضح لفظوں میں بار بار کہہ دیا کہ بدلے اور سزا میں کسی طرح کی نا انصافی اور زیادتی نہیں ہونی چاہے۔ یقینا دنیا کے تمام نبیوں اور شریعتوں کے احکام کا ماحصل یہی تین اصول رہے ہیں۔ ” وَجَزَاءُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِثْلُہَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُہُ عَلَی اللَّہِ إِنَّہُ لا یُحِبُّ الظَّالِمِینَ (٤٠) وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہِ فَأُولَئِکَ مَا عَلَیْہِمْ مِنْ سَبِیلٍ (٤١)إِنَّمَا السَّبِیلُ عَلَی الَّذِینَ یَظْلِمُونَ النَّاسَ وَیَبْغُونَ فِی الأرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ أُولَئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ (٤٢) وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الأمُورِ (٤٣): اور (دیکھو) برائی کے بدلے ویسی ہی اور اتنی ہی برائی ہے۔ لیکن جو کوئی بخش دے اور بگاڑنے کی جگہ سنوار لے تو (یقین کرو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے)۔ اللہ ان لوگوں کو دوست نہیں رکھتا جو زیادتی کرنے والے ہیں۔ اور جس کسی پر ظلم کیا گیا ہو اور وہ ظلم کے بعد اس کا بدلہ لے تو اس پر کوئی الزام نہیں۔ الزام ان لوگوں پر ہے جو انسانوں پر ظلم کرتے ہیں اور ناحق ملک میں فساد کا باعث ہوتے ہیں۔ سو یہی لوگ ہیں جن کے لیے عذاب الیم ہے اور جو ظلم کرتے ہیں اور ناحق ملک میں فساد کا باعث ہوتے ہیں۔ سو یہی لوگ ہیں جن کے لیے عذاب الیم ہے ! اور جو کوئی بدلہ لینے کی جگہ برائی برداشت کرجائے اور بخش دے تو یقینا یہ بڑی ہی اولوالعزمی کی بات ہے“۔ اسلوب بیان پر غور کرو اگرچہ ابتدا میں صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ” فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ“ اور بظاہر عفو و درگزر کے لیے اتنا کہہ دینا کافی تھا لیکن آخر میں پھر دوبارہ اس پر زور دیا۔ ” ولمن صبر و غفر ان ذلک لمن عزم الامور“ یہ تکرار اس لیے ہے کہ عفو و درگزر کی اہمیت واضح ہوجائے۔ یعنی یہ حقیقت اچھی طرح آشکارا ہوجائے کہ اگرچہ بدلہ اور سزا کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے لیکن نیکی و فضیلت کی راہ عفو و درگزر ہی کی راہ ہے ! پھر اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ قرآن نے اس سزا کو جو برائی کے بدلے میں دی جائے، برائی ہی کے لفظ سے تعبیر کیا۔ جزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا۔ یعنی سیئۃ کے بدلے میں جو کچھ کیا جائے گا وہ بھی سیئۃ ہی ہوگا۔ عمل حسن نہیں ہوگا۔ لیکن اس کا دروازہ اس لیے باز رکھا گیا کہ اگر باز نہ رکھا جائے تو اس سے بھی زیادہ برائیاں ظہور میں آنے لگیں گی۔ پھر اس آدمی کی نسبت جو معاف کردے ” اصلح“ کا لفظ کہا یعنی سنوارنے والا، اس سے معلوم ہوا کہ یہاں بگاڑ کے اصلی سنوارنے والے وہی ہوئے جو بدلے کی جگہ عفو و درگزر کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ قرآن کے زواجر و قوارع : ممکن ہے بعض طبیعتیں یہاں ایک خدشہ محسوس کریں۔ اگر فی القیقت قرآن کی تمام تعلیم کا اصل اصول رحمت ہی ہے، تو پھر اس نے اپنے مخالفوں کی نسبت زجر و توبیخ کا سخت پیرایہ کیوں اختیار کیا؟ اس کا مفصل جواب تو اپنے محل میں آئے گا لیکن تکمیل بحث کے لیے ضروری ہے کہ یہاں مختصراً اشارہ کردیا جائے۔ بلاشبہ قرآن میں ایسے مقامات موجود ہیں جہاں اس نے مخالفوں کے لیے شدت و غلظت کا اظہار کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کن مخالفوں کے لیے؟ ان کے لیے جن کی مخالفت محض اختلاف فکر و اعتقاد کی مخالفت تھی؟ یعنی ایسی مخالفت جو معاندانہ اور جارحانہ نوعیت نہیں رکھتی تھی؟ ہمیں اس سے قطعاً انکار ہے۔ ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ تمام قرآن میں شدت و غلظت کا ایک لفظ بھی نہیں مل سکتا جو اس کے طرح کے مخالفوں کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔ اس نے جہاں کہیں بھی مخالفوں کا ذکر کرتے ہوئے سختی کا اظہار کیا ہے اس کا تمام تر تعلق ان مخالفوں سے ہے جن کی مخالفت بغض و عناد اور ظلم و شرارت کی جارحانہ معاندت تھی اور ظاہر ہے کہ اصلاح و ہدایت کی کوئی تعلیم بھی اس صورت حال سے گریز نہیں کرسکتی۔ اگر ایسے مخالفوں کے ساتھ بھی نرمی و شفقت کا ملحوظ رکھی جائے تو بلاشبہ یہ رحمت کا سلوک تو ہوگا مگر انسانیت کے لیے نہیں ہوگا۔ ظلم و شرارت کے لیے ہوگا اور یقیناً سچی رحمت کا معیار یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ظلم و فساد کی پرورش کرے۔ ابھی چند صفحوں کے بعد تمہیں معلوم ہوگا کہ قرآن نے صفات الٰہی میں رحمت کے ساتھ عدالت کو بھی اس کی جگہ دی ہے اور سورۃ فاتحہ میں ربوبیت اور رحمت کے بعد عدالت ہی کی صفت جلوہ گر ہوئی ہے۔ یہ اسی لیے ہے کہ وہ رحمت سے عدالت کو الگ نہیں کرتا بلکہ اسے عین رحمت کا مقتضا قرار دیتا ہے۔ وہ کتہا ہے۔ تم انسانیت کے ساتھ رحم و محبت کا برتاؤ کر ہی نہیں سکتے اگر ظلم و شرارت کے لیے تم میں سختی نہیں ہے۔ انجیل میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) بھی اپنے زمانے کے مفسدوں کو سانپ کے بچے اور ڈاکوؤں کا مجمع کہنے پر مجبور ہوئے۔ کفر محض اور کفر جارحانہ : قرآن نے ” کفر“ کا لفظ انکار کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ انکار دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ انکار محض ہو، ایک یہ کہ جارحانہ ہو۔ انکار محض سے مقصود یہ ہے کہ ایک شخص تمہاری تعلیم قبول نہیں کرتا۔ اس لیے کہ اس کی سمجھ میں نہیں آتی یا اس لیے کہ اس میں طلب صادق نہیں ہے یا اسلیے کہ جو راہ چل رہا ہے اسی پر قانع ہے۔ بہرحال کوئی وجہ ہو لیکن وہ تم سے متفق نہیں ہے۔ جارحانہ انکار سے مقصود وہ حالت ہے جو صرف اتنے ہی پر قناعت نہیں کرتی بلکہ اس میں تمہارے خلاف ایک طرح کی کد اور ضد پیدا ہوجاتی ہے اور پھر یہ ضد بڑھتے بڑھتے بغض و عناد اور ظلم و شرارت کی سخت سے سخت صورتیں اختیار کرلیتی ہے۔ اس طرح کا مخالف صرف یہی نہیں کرتا کہ تم سے اختلاف رکھتا ہے بلکہ اس کے اندر تمہارے خلاف بغض و عناد کا ایک غیر محدود جوش پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ اپنی زندگی اور زندگی کی ساری قوتوں کے ساتھ تمہاری بربادی و ہلاکت کے درپے ہوجائے گا۔ تم کتنی ہی اچھی بات کہو وہ تمہیں جھٹلائے گا۔ تم کتنا ہی اچھا سلوک کرو وہ تمہیں اذیت پہنچائے گا۔ تم کہو روشنی تاریکی سے بہتر ہے تو وہ کہے تاریکی سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ تم کہو کڑواہٹ سے مٹھاس اچھی ہے تو وہ کہے نہیں کڑواہٹ ہی میں دنیا کی سب سے بڑی لذت ہے۔ یہی حالت ہے جسے قرآن نے انسانی فکر و بصیرت کے تعطل سے تعبیر کرتا ہے اور اسی نوعیت کے مخالف ہیں جن کے لیے اس کے تمام زواجر و قوارع ظہور میں آئے ہیں : ” لہم قلوب لا یفقہون بہا ولہم اعین لا یبصرون بہا ولہم اذان لا یسمعون بہا اولئک کالانعام بل ھم اضل اولئک ھم الغفلون : ان کے پاس دل ہیں مگر سوچتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر سنتے نہیں۔ وہ ایسے ہوگئے ہیں جیسے چارپائے۔ نہیں بلکہ چارپایوں سے بھی زیادہ کھوئے ہوئے۔ بلاشبہ یہی لوگ ہیں جو غفلت میں ڈوب گئے“ ہمارے مفسر اسی دوسری حالت کو کفر وجحود سے تعبیر کرتے ہیں۔ (آیت 2، الرحمن الرحیم کی تفسیر کا بقیہ حصہ ملاحظہ ہو اگلی آیت کی تفسیر میں) الفاتحة
5 (آیت 2 الرحمن الرحیم کی تفسیر کا بقیہ حصہ): دنیا میں جب کبھی سچائی کی کوئی دعت ظاہر ہوئی ہے، تو کچھ لوگوں نے اسے قبول کرلیا ہے کچھ نے انکار کیا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے اس کے خلاف طغیان و جحود اور ظلم و شرارت کی جتھا بندی کرلی ہے۔ قرآن کا جب ظہور ہوا تو اس نے بھی یہ تینوں جماعتیں اپنے سامنے پائیں۔ اس نے پہلی جماعت کو اپنی آغوش تربیت میں لے لیا دوسری کو دعوت و تذکیر کا مخاطب بنایا مگر تیسری کے ظلم و طغیان پر حسب حالت و ضرورت پر زجر و توبیخ کی۔ اگر ایسے گروہ کے لیے بھی اس کے لب و لہجہ کی سختی رحمت کے خلاف ہے تو بلاشبہ اس معنی میں قرآن رحمت کا معترف نہیں اور یقیناً اس ترازو سے اس کی سے اس کی رحمت نہیں تولی جاسکتی۔ تم بار بار سن چکے ہو کہ وہ دین حق کے معنوی قوانین کو کائنات فطرت کے عام قوانین سے الگ نہیں قرار دیتا بلکہ انہی کا ایک گوشہ قرار دیتا ہے۔ فطرت کائنات کا اپنے فعل و ظہور کے ہر گوشے میں کیا حال ہے؟ یہ حال ہے کہ وہ اگرچہ سر تا سر رحمت ہے لیکن رحمت کے ساتھ عدالت اور بخشش کے ساتھ جزا کا قانون بھی رکھتی ہے۔ پس قرآن کہتا ہے، میں فطرت سے زیادہ کچھ نہیں دے سکتا۔ تمہاری جس مزعومہ رحمت سے فطرت کا خزانہ خالی ہے یقینا میرے آستین و دامن میں نہیں مل سکتی : ” فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا لا تبدیل لخلق اللہ ذلک الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون : اللہ کی فطرت جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بناوٹ میں کبھی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ یہی (اللہ کی ٹھہرائی ہوئی فطرت) سچا اور ٹھیک ٹھیک دین ہے لیکن اکثر انسان ایسے ہیں جو اس حقیقت سے بے خبر ہیں“۔ قرآن کے ان تمام مقامات پر نظر ڈالو جہاں اس نے سختی کے ساتھ منکروں کا ذکر کیا ہے یہ حقیقت بیک نظر واضح ہوجائے گی۔ (آیت 2، الرحمن الرحیم، کی تفسیرختم ہوئی) ۔۔۔۔۔ تفسیر آیت 3 اور 4: مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔ ربوبیت اور رحمت کے بعد جس صفت کا ذکر کیا گیا ہے، وہ عدالت ہے، اور اس کے لیے ” مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ“ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ الدین : سامی زبانوں کا ایک قدیم مادہ ” دان“ اور ” دین“ ہے جو بدلہ اور مکافات کے معنوں میں بولا جاتا تھا اور پھر آئین و قانون کے معنوں میں بھی بولا جانے لگا۔ چنانچہ عبرانی اور آرامی میں اس کے متعدد و مشتقات ملتے ہیں۔ آرامی زبان ہی سے غالبا یہ لفظ قدیم ایران میں بھی پہنچا اور پہلو میں ” دینیہ“ نے شریعت وہ قانون کا مفہوم پیدا کرلیا۔ خورد اوستا میں ایک سے زیادہ موقع پر یہ لفظ مستعمل ہوا ہے اور زردشتیوں کی قدیم ادبیات میں انشاء و کتابت کے آئین و قواعد کو بھی ” دین دبیرہ“ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ علاوہ بریں زردشتیوں کی ایک مذہبی کتاب کا نام ” دین کارت“ ہے جو غالباً نویں صدی مسیحی میں عراق کے ایک موجد نے مرتب کی تھی۔ بہرحال عربی میں ” الدین“ کے معنی بدلہ اور مکافات کے ہیں۔ خواہ اچھائی کا ہو خواہ برائی کا : ستعلم لیلی ای دین تداینت۔ وای غریم فی التقاضی غریمہا پس مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کے معنی ہوئے وہ جو جزا کے دن کا حکمراں ہے یعنی روز قیامت کا۔ اس سلسلے میں کئی باتیں قابل غور ہیں : ” دین“ کے لفظ نے جزا کی حقیقت واضح کردی : اولاً قرآن نے نہ صرف اس موقع پر بلکہ عام طور پر جزا کے لیے ” الدین“ کا لفظ اختیار کیا اور اسی لیے وہ قیامت کو بھی عموماً یوم الدین سے تعبیر کرتا ہے۔ یہ تعبیر اس لیے اختیار کی گئی کہ جزا کے بارے میں جو اعتقاد پیدا کرنا چاہتا تھا اس کے لیے یہی تعبیر سب سے زیادہ موزوں اور واقعی تعبیر تھی وہ جزا کو اعمال کا قدرتی نتیجہ اور مکافات قرار دیتا ہے۔ نزول قرآن کے وقت پیروان مذاہب کا عالمگیر اعتقاد یہ تھا کہ جزا محض خدا کی خوشنودی اور اس کے قہر و غضب کا نتیجہ ہے۔ اعمال کے نتائج کو اس میں داخل نہیں۔ الوہیت اور شاہیت کا تشابہ تمام مذہبی تصورات کی طرح اس معاملے میں بھی گمراہی فکر کا موجب ہوا تھا۔ لوگ دیکھتے تھے کہ ایک مطلق العنان بادشاہ کبھی خوش ہو کر انعام و اکرام دینے لگتا ہے، کبھی بگر کر سزائیں دینے لگتا ہے اس لیے خیال کرتے تھے کہ خدا بھی ایسا ہی حال ہے وہ کبھی ہم سے خوش ہوجاتا ہے کبھی غیظ و غضب میں آجاتا ہے۔ طرح طرح کی قربانیوں اور چڑھاووں کی رسم اسی اعتقاد سے پڑی تھی۔ لوگ دیوتاؤں کا جوش غضب ٹھنڈا کرنے کے لیے قربانیاں کرتے اور ان کی نظر التفات حاصل کرنے کے لیے نذریں چڑھاتے۔ یہودیوں اور عیسائیوں کا عام تصور دیوبانی تصورات سے بلند ہوگیا تھا لیکن جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے ان کے تصور نے بھی کوئی وقیع ترقی نہیں کی تھی۔ یہودی بہت سے دیوتاؤں کی جگہ خاندان اسرائیل کا ایک خدا مانتے تھے لیکن پرانے دیوتاؤں کی طرح یہ خدا بھی شاہی اور مطلق العنانی کا خدا تھا۔ وہ کبھی خوش ہو کر انہیں اپنی چہتی قوم بنا لیتا۔ کبھی جوش انتقام میں آ کر بربادی وہ ہلاکت کے حوالے کردیتا۔ عیسائیوں کا اعتقاد تھا کہ آدم کے گناہ کی وجہ سے اس کی پوری نسل مغضوب ہوگئی اور جب تک خدا نے اپنی صفت ابنیت کو بشکل مسیح (علیہ السلام) قربان نہیں کردیا اس کے نسلی گناہ اور مغضوبیت کا کفارہ نہ ہوسکا۔ مجازات عمل کا معاملہ بھی دنیا کے عالمگیر قانون فطرت کا ایک گوشہ ہے : لیکن قرآن نے جزا و سزا کا اعتقاد ایک دوسری ہی شکل و نوعیت کا پیش کیا ہے۔ وہ اسے خدا کا کوئی ایسا فعل نہیں قرار دیتا جو کائنات ہستی کے عام قوانین و نظام سے الگ ہو بلکہ اسی کا ایک قدرتی گوشہ قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے، کائنات ہستی کا عالمگیر قانون یہ ہے کہ ہر حالت کوئی نہ کوئی اثر رکھتی ہے اور ہر چیز کا کوئی نہ کوئی خاصہ ہے۔ ممکن نہیں یہاں کوئی شئے اپنا وجود رکھتی ہو اور اثرات و تنائج کے سلسلہ سے باہر ہو۔ پس جس طرح خدا نے اجسام و مواد میں خواص و نتائج رکھتے ہیں اسی طرح اعمال میں بھی خواص و نتائج ہیں اور جس طرح جسم انسانی کے قدرتی انفعالات ہیں اسی طرح روح انسانی کے لیے بھی قدرتی انفعالات ہیں۔ جسمانی موثرات جسم پر مرتب ہوتے ہیں۔ معنوی موثرات سے روح متاثر ہوتی ہے۔ اعمال کے یہی قدرت خواص و نتائج ہیں جنہیں جزا وسزا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اچھے عمل کا نتیجہ اچھائی ہے اور یہ ثواب ہے۔ برے عمل کا نتیجہ برائی ہے۔ اور یہ عذاب ہے۔ ثواب اور عذاب کے ان اثرات کی نوعیت کیا ہوگی؟ وحی الٰہی نے ہماری فہم و استعداد کے مطابق اس کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس نقشہ میں ایک مرقع بہشت کا ہے ایک دوزخ کا۔ بہشت کے نعائم ان کے لیے ہیں جن کے اعمال بہشتی ہوں گے۔ دوزخ کی عقوبتیں ان کے لیے ہیں جن کے اعمال دوزخی ہوں گے۔ ” لایستوی اصحاب النار واصحاب الجنۃ ہم الفائزون : اصحاب جنت اور اصحاب دوزخ (اپنے اعمال و نتائج میں) یکساں نہیں ہوسکتے۔ کامیاب انسان وہی ہیں جو اصحاب جنت ہیں“ جس طرح مادیات میں خواص و نتائج ہیں، اسی طرح معنویات میں بھی ہیں : وہ کہتا ہے تم دیکھتے ہو کہ فطرت ہر گوشہ وجود میں اپنا قانون مکافات رکھتی ہے۔ ممکن نہیں کہ اس میں تغیر یا تساہل ہو۔ فطرت نے آگ میں یہ خاصہ رکھا ہے کہ جلائے۔ اب سوزش و تپش فطرت کی وہ مکافات ہوگئی جو ہر اس انسان کے لیے ہے جو آگ کے شعلوں میں ہاتھ ڈال دے۔ ممکن نہیں کہ تم آگ میں کودو اور اس فعل کے مکافات سے بچ جاؤ۔ پانی کا خاصہ ٹھنڈک اور رطوبت ہے۔ ٹھنڈک اور رطوبت وہ مکافات ہے جو فطرت نے پانی میں ودیعت کردی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ تم دریا میں اترو اور اس مکافات سے بچ جاؤ۔ پھر جو فطرت کائنات ہستی کی ہر چیز اور ہر حالت میں مکافات رکھتی ہے کیونکر ممکن ہے کہ انسان کے اعمال کے لیے مکافات نہ رکھے؟ یہی مکافات جزا و سزا ہے۔ آگ جلاتی ہے پانی یا ٹھنڈک پیدا کرتا ہے، سنکھیا کھانے سے موت، دودھ سے طاقت آتی ہے۔ کونین سے بخار رک جاتا ہے۔ جب اشیا کی ان تمام مکافات پر تمہیں تعجب نہیں ہوتا کیونکہ یہ تمہاری زندگی کی یقینیات ہیں تو پھر اعمال کے مکافات پر کیوں تعجب ہوتا ہے؟ افسوس تم پر، تم اپنے فیصلوں میں کتنے نا ہموار ہو ! تم گیہوں بوتے ہو اور تمہارے دل میں کبھی یہ خدشہ نہیں گزرتا کہ گیہوں پیدا نہیں ہوگا۔ اگر کوئی تم سے کہے کہ ممکن ہے گیہوں کی جگہ جوار پیدا ہوجائے، تو تم اسے پاگل سمجھو گے۔ کیوں؟ اس لیے کہ فطرت کے قانون مکافات کا یقین تمہاری طبیعت میں راسخ ہوگیا ہے۔ تمہارے وہم و گمان میں بھی یہ خطرہ نہیں گزر سکتا کہ فطرت گیہوں لے کر اس کے بدلے میں جوار دے دے گی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تم یہ بھی نہیں مان سکتے کہ اچھے قسم کا گیہوں لے کر برے قسم کا گیہوں دے گی تم جانتے ہو کہ وہ بدلہ دینے میں قطعی اور شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ پھر بتلاؤ کہ جو فطرت گیہوں کے بدلے گیہوں اور جوار کے بدلے جوار دے رہی کیونکر ممکن ہے کہ اچھے عمل کے بدلے اچھا اور برے عمل کے بدلے برا نتیجہ نہ رکھتی ہو؟ (مسنگ صفحہ 157 تا 163) تفسیر آیت 3 اور 4۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ربوبیت اور رحمت کے بعد جس صفت کا ذکر کیا گیا ہے، وہ عدالت ہے، اور اس کے لیے ” مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ“ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ الدین : سامی زبانوں کا ایک قدیم مادہ ” دان“ اور ” دین“ ہے جو بدلہ اور مکافات کے معنوں میں بولا جاتا تھا اور پھر آئین و قانون کے معنوں میں بھی بولا جانے لگا۔ چنانچہ عبرانی اور آرامی میں اس کے متعدد و مشتقات ملتے ہیں۔ آرامی زبان ہی سے غالبا یہ لفظ قدیم ایران میں بھی پہنچا اور پہلو میں ” دینیہ“ نے شریعت وہ قانون کا مفہوم پیدا کرلیا۔ خورد اوستا میں ایک سے زیادہ موقع پر یہ لفظ مستعمل ہوا ہے اور زردشتیوں کی قدیم ادبیات میں انشاء و کتابت کے آئین و قواعد کو بھی ” دین دبیرہ“ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ علاوہ بریں زردشتیوں کی ایک مذہبی کتاب کا نام ” دین کارت“ ہے جو غالباً نویں صدی مسیحی میں عراق کے ایک موجد نے مرتب کی تھی۔ بہرحال عربی میں ” الدین“ کے معنی بدلہ اور مکافات کے ہیں۔ خواہ اچھائی کا ہو خواہ برائی کا : ستعلم لیلی ای دین تداینت۔ وای غریم فی التقاضی غریمہا پس مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کے معنی ہوئے وہ جو جزا کے دن کا حکمراں ہے یعنی روز قیامت کا۔ اس سلسلے میں کئی باتیں قابل غور ہیں : ” دین“ کے لفظ نے جزا کی حقیقت واضح کردی : اولاً قرآن نے نہ صرف اس موقع پر بلکہ عام طور پر جزا کے لیے ” الدین“ کا لفظ اختیار کیا اور اسی لیے وہ قیامت کو بھی عموماً یوم الدین سے تعبیر کرتا ہے۔ یہ تعبیر اس لیے اختیار کی گئی کہ جزا کے بارے میں جو اعتقاد پیدا کرنا چاہتا تھا اس کے لیے یہی تعبیر سب سے زیادہ موزوں اور واقعی تعبیر تھی وہ جزا کو اعمال کا قدرتی نتیجہ اور مکافات قرار دیتا ہے۔ نزول قرآن کے وقت پیروان مذاہب کا عالمگیر اعتقاد یہ تھا کہ جزا محض خدا کی خوشنودی اور اس کے قہر و غضب کا نتیجہ ہے۔ اعمال کے نتائج کو اس میں داخل نہیں۔ الوہیت اور شاہیت کا تشابہ تمام مذہبی تصورات کی طرح اس معاملے میں بھی گمراہی فکر کا موجب ہوا تھا۔ لوگ دیکھتے تھے کہ ایک مطلق العنان بادشاہ کبھی خوش ہو کر انعام و اکرام دینے لگتا ہے، کبھی بگر کر سزائیں دینے لگتا ہے اس لیے خیال کرتے تھے کہ خدا بھی ایسا ہی حال ہے وہ کبھی ہم سے خوش ہوجاتا ہے کبھی غیظ و غضب میں آجاتا ہے۔ طرح طرح کی قربانیوں اور چڑھاووں کی رسم اسی اعتقاد سے پڑی تھی۔ لوگ دیوتاؤں کا جوش غضب ٹھنڈا کرنے کے لیے قربانیاں کرتے اور ان کی نظر التفات حاصل کرنے کے لیے نذریں چڑھاتے۔ یہودیوں اور عیسائیوں کا عام تصور دیوبانی تصورات سے بلند ہوگیا تھا لیکن جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے ان کے تصور نے بھی کوئی وقیع ترقی نہیں کی تھی۔ یہودی بہت سے دیوتاؤں کی جگہ خاندان اسرائیل کا ایک خدا مانتے تھے لیکن پرانے دیوتاؤں کی طرح یہ خدا بھی شاہی اور مطلق العنانی کا خدا تھا۔ وہ کبھی خوش ہو کر انہیں اپنی چہتی قوم بنا لیتا۔ کبھی جوش انتقام میں آ کر بربادی وہ ہلاکت کے حوالے کردیتا۔ عیسائیوں کا اعتقاد تھا کہ آدم کے گناہ کی وجہ سے اس کی پوری نسل مغضوب ہوگئی اور جب تک خدا نے اپنی صفت ابنیت کو بشکل مسیح علہی السلام قربان نہیں کردیا اس کے نسلی گناہ اور مغضوبیت کا کفارہ نہ ہوسکا۔ مجازات عمل کا معاملہ بھی دنیا کے عالمگیر قانون فطرت کا ایک گوشہ ہے : لیکن قرآن نے جزا و سزا کا اعتقاد ایک دوسری ہی شکل و نوعیت کا پیش کیا ہے۔ وہ اسے خدا کا کوئی ایسا فعل نہیں قرار دیتا جو کائنات ہستی کے عام قوانین و نظام سے الگ ہو بلکہ اسی کا ایک قدرتی گوشہ قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے، کائنات ہستی کا عالمگیر قانون یہ ہے کہ ہر حالت کوئی نہ کوئی اثر رکھتی ہے اور ہر چیز کا کوئی نہ کوئی خاصہ ہے۔ ممکن نہیں یہاں کوئی شئے اپنا وجود رکھتی ہو اور اثرات و تنائج کے سلسلہ سے باہر ہو۔ پس جس طرح خدا نے اجسام و مواد میں خواص و نتائج رکھتے ہیں اسی طرح اعمال میں بھی خواص و نتائج ہیں اور جس طرح جسم انسانی کے قدرتی انفعالات ہیں اسی طرح روح انسانی کے لیے بھی قدرتی انفعالات ہیں۔ جسمانی موثرات جسم پر مرتب ہوتے ہیں۔ معنوی موثرات سے روح متاثر ہوتی ہے۔ اعمال کے یہی قدرت خواص و نتائج ہیں جنہیں جزا وسزا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اچھے عمل کا نتیجہ اچھائی ہے اور یہ ثواب ہے۔ برے عمل کا نتیجہ برائی ہے۔ اور یہ عذاب ہے۔ ثواب اور عذاب کے ان اثرات کی نوعیت کیا ہوگی؟ وحی الٰہی نے ہماری فہم و استعداد کے مطابق اس کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس نقشہ میں ایک مرقع بہشت کا ہے ایک دوزخ کا۔ بہشت کے نعائم ان کے لیے ہیں جن کے اعمال بہشتی ہوں گے۔ دوزخ کی عقوبتیں ان کے لیے ہیں جن کے اعمال دوزخی ہوں گے۔ ” لایستوی اصحاب النار واصحاب الجنۃ ہم الفائزون : اصحاب جنت اور اصحاب دوزخ (اپنے اعمال و نتائج میں) یکساں نہیں ہوسکتے۔ کامیاب انسان وہی ہیں جو اصحاب جنت ہیں“ جس طرح مادیات میں خواص و نتائج ہیں، اسی طرح معنویات میں بھی ہیں : وہ کہتا ہے تم دیکھتے ہو کہ فطرت ہر گوشہ وجود میں اپنا قانون مکافات رکھتی ہے۔ ممکن نہیں کہ اس میں تغیر یا تساہل ہو۔ فطرت نے آگ میں یہ خاصہ رکھا ہے کہ جلائے۔ اب سوزش و تپش فطرت کی وہ مکافات ہوگئی جو ہر اس انسان کے لیے ہے جو آگ کے شعلوں میں ہاتھ ڈال دے۔ ممکن نہیں کہ تم آگ میں کودو اور اس فعل کے مکافات سے بچ جاؤ۔ پانی کا خاصہ ٹھنڈک اور رطوبت ہے۔ ٹھنڈک اور رطوبت وہ مکافات ہے جو فطرت نے پانی میں ودیعت کردی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ تم دریا میں اترو اور اس مکافات سے بچ جاؤ۔ پھر جو فطرت کائنات ہستی کی ہر چیز اور ہر حالت میں مکافات رکھتی ہے کیونکر ممکن ہے کہ انسان کے اعمال کے لیے مکافات نہ رکھے؟ یہی مکافات جزا و سزا ہے۔ آگ جلاتی ہے پانی یا ٹھنڈک پیدا کرتا ہے، سنکھیا کھانے سے موت، دودھ سے طاقت آتی ہے۔ کونین سے بخار رک جاتا ہے۔ جب اشیا کی ان تمام مکافات پر تمہیں تعجب نہیں ہوتا کیونکہ یہ تمہاری زندگی کی یقینیات ہیں تو پھر اعمال کے مکافات پر کیوں تعجب ہوتا ہے؟ افسوس تم پر، تم اپنے فیصلوں میں کتنے نا ہموار ہو ! تم گیہوں بوتے ہو اور تمہارے دل میں کبھی یہ خدشہ نہیں گزرتا کہ گیہوں پیدا نہیں ہوگا۔ اگر کوئی تم سے کہے کہ ممکن ہے گیہوں کی جگہ جوار پیدا ہوجائے، تو تم اسے پاگل سمجھو گے۔ کیوں؟ اس لیے کہ فطرت کے قانون مکافات کا یقین تمہاری طبیعت میں راسخ ہوگیا ہے۔ تمہارے وہم و گمان میں بھی یہ خطرہ نہیں گزر سکتا کہ فطرت گیہوں لے کر اس کے بدلے میں جوار دے دے گی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تم یہ بھی نہیں مان سکتے کہ اچھے قسم کا گیہوں لے کر برے قسم کا گیہوں دے گی تم جانتے ہو کہ وہ بدلہ دینے میں قطعی اور شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ پھر بتلاؤ کہ جو فطرت گیہوں کے بدلے گیہوں اور جوار کے بدلے جوار دے رہی کیونکر ممکن ہے کہ اچھے عمل کے بدلے اچھا اور برے عمل کے بدلے برا نتیجہ نہ رکھتی ہو؟ (مسنگ صفحہ 157 تا 163) قرآن اور صفات الٰہی کا تصور : قرآن نے خدا کی صفات کا جو تصور قائم کیا ہے سورۃ فاتحہ اس کی سب سے پہلی رونمائی ہے۔ ہم اس مرقع میں وہ شبیہ دیکھ سکتے ہیں جو قرآن نے نوع انسانی کے سامنے پیش کی ہے۔ یہ ربوبیت، رحمت اور عدالت کی شبیہ ہے۔ انہی تین صفتوں کے تفکر سے ہم اس کے تصور الٰہی کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں۔ خدا کا تصور ہمیشہ انسان کی روحانی و اخلاقی زندگی کا محور رہا ہے۔ یہ بات کہ ایک مذہب کا معنوی اور نفسایتی مزاج کیسا ہے اور وہ اپنے پیرووں کے لیے کس طرح کے اثرات رکھتا ہے، صرف یہ بات دیکھ کر معلوم کرلی جاسکتی ہے کہ اس کے تصور الٰہی کی نوعیت کیا ہے؟ انسان کا ابتدائی تصور : جب انسان کے تصورات الوہیت کا ان کے مختلف عہدوں میں مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں ان کے تغیرات کی رفتار کچھ عجیب طرح کی دکھائی دیت ہے اور تعلیل وتوجیہ کے عام اصول کام نہیں دیتے۔ موجودات خلقت کے ہر گوشہ میں تدریجی ارتقا Evolution کا قانون کام کرتا ہے اور انسان کا جسم بتدریج ترقی کرتا ہوا نچلی کڑیوں سے اونچی کڑیوں تک پہنچا۔ اسی طرح اس کے دماغی تصورات بھی نچلے درجوں سے بلند ہوتے ہوئے بتدریج اونچے درجوں تک ہنچے لیکن جہاں تک خدا کی ہستی کے تصورات کا تعلق ہے معلوم ہوتا ہے کہ صورت حال اس سے بالکل برعکس رہی اور ارتقا کی جگہ ایک طرح کے تنزل یا ارتجاع کا قانون یہاں کام کرتا رہا۔ ہم جب ابتدائی عہد کے انسانوں کا سراغ لگاتے ہیں تو ہمیں ان کے قدم آگے بڑھنے کی جگہ پیچھے ہٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ انسانی دماغ کا کا سب سے زیادہ پرانا تصور جو قدامت کی تاریکی میں چکتا ہے وہ توحید کا تصور ہے۔ یعنی صرف ایک ان دیکھی اور اعلی ہستی کا تصور جس نے انسان کو اور ان تمام چیزوں کو جنہیں وہ اپنے چاروں طرف دیکھ رہا تھا پیدا کیا۔ لیکن پھر اس کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اس جگہ سے ان کے قدم بتدریج پیچھے ہٹنے لگے اور توحید کی جگہ آہستہ آہستہ اشراک اور تعدد الٰہ کا تصور پیدا ہونے لگا۔ یعنی اب اس ایک ہستی کے ساتھ جو سب سے بالاتر ہے دوسری قوتیں بھی شریک ہونے لگیں اور ایک معبود کی جگہ بہت سے معبودوں کی چوکھٹوں پر انسان کا سر جھک گیا۔ اگر خدا کے تصور میں وحدت کا تصور انسانی دماغ کا بلند تر تصور ہے اور اشراک اور تعدد کے تصورات نچلے درجے کے تصورات ہیں تو ہمیں اس نتیجہ تک پہنچنا پڑتا ہے کہ یہاں ابتدائی کڑی جو نمایاں ہوئی وہ نچلے درجہ کی نہ تھی۔ اونچے درجے کی تھی اور اس کے بعد جو کڑیاں ابھریں انہوں نے بلندی کی جگہ پستی کی طرف رخ کیا۔ گویا ارتقا کا عام قانون یہاں بے اثر ہوگیا۔ ترقی کی جگہ رجعت کی اصل کام کرنے لگی۔ انیسویں صدی کے نظریے اور ارتقائی مذہب : انیسویں صدی کے علمائے اجتماعیات کا عام نقطہ خیال یہ تھا کہ انسان کے دینی عقائد کی ابتدا ان اوہامی تصورات سے ہوئی جو اس کی ابتدائی معیشت کے طبعی تقاضوں اور احوال و ظروف کے قدرتی اثرات سے نشوونما پانے لگے تھے۔ یہ تصورات قانون ارتقا کے ماتحت درجہ بدرجہ مختلف کڑیوں سے گزرتے رہے اور بالآخر انہوں نے اپنی ترقی یافتہ صورت میں ایک اعلی ہستی اور خلاق کل خدا کے عقیدے کی نوعیت پیدا کرلی۔ گویا اس سلسلہ ارتقا کی ابتدائی کڑی اوہامی تصورات تھے جن سے طرح طرح کی الٰہی قوتوں کا تصور پیدا ہوا اور پھر اسی تصور نے ترقی کرتے ہوئے خدا کے ایک توحیدی اعقاد کی شکل اختیار کرلی۔ بے جا نہ ہوگا اگر اختصار کے ساتھ یہاں ان تمام نظریوں پر ایک اجمالی نظر دال لی جائے جو اس سلسلے میں یکے بعد دیگرے نمایاں ہوئے اور وقت کے علمی حلقوں کو متاثر کیا۔ دینی عقائد اور تصورات کی تاریخ بہ حیثیت ایک مستقل شاخ علم کے انیسویں صدی کی پیداوار ہے۔ اٹھارویں صدی کے اواخر میں جب انڈوجرمن قبائل (یعنی وسط ایشیا کے آریائی قبائل) اور ان کی زبانوں کی تاریخ روشنی میں آئی تو ان کے دینی تصورات بھی نمایاں ہوئے اور اس طرح بحث و تنقید کا ایک نیا میدان پیدا ہوگیا۔ یہی میدان تھا جس کے مباحث نے انیسوی صدی کے اوائل میں بحث و نظر کی ایک مستقل شاخ پیدا کردی۔ یدنی دینی عقائد کی پیدائش اور ان کے نشوونما کی تاریخ کا علم مدون ہونے لگا۔ اسی دور میں عام خیال یہ تھا کہ خدا پرستی کی ابتدا نیچر متھس (Nature-myths) کے تصورات سے ہوئی۔ یعنی ان خرافاتی اساطیر سے ہوئی جو مظاہر فطرت کے متعلق بننا شروع ہوگئے تھے۔ مثلاً روشنی کی ایک مستقل ہستی کا تصور پیدا ہوگیا۔ بارش کی قوت نے ایک دیوتا کی شکل اختیار کرلی۔ قدیم آریائی تصورات سے جو مظاہر فطرت کی پرستش پر مبنی تھے اس خیال کا مواد فراہم ہوا تھا۔ لیکن انیسویں صدی کے نصف ابتدائی دور میں جب افریقہ اور امریکہ کے وحشی قبائل کے حالات روشنی میں آئے تو ان کے دینی تصورات کی تحقیقات نے ایک نئے نظریے کا سامان فراہم کردیا۔ 1760 ء میں دہ بروسے (De Brosses) نے انہی وحشی قبائل کے تصورات سے فیتش ورشپ (Fetish Worship) کا استنباط کیا تھا۔ یعنی ایسی اشیاء کی پرستش کا جن سے کسی جنی روح کی وابستگی یقین کی جاتی تھی۔ اب پھر 1851 ء میں اے۔ کامٹ (Comete) نے اسی پرستش سے خدا پرستی کی پیدائش کا نظریہ اختیار کیا اور سر جان لبک نے (جو آگے چل کر لارڈ اویبری کے لقب سے مشہور ہوا) اسے مزید بحث و نظر کا جامہ پہنایا۔ اس نظریے کا اس عہد میں عام طور پر استقبال کیا گیا تھا اور وقت کے علمی حلقوں کی قبولیت اس نے حاصل کرلی تھی۔ تقریباً اسی عہد میں میں ازم (Manism) یعنی اجداد پرستی کے نظریے نے سر اٹھایا۔ اس نظریے کی بنیاد اس قیاس پر رکھی گئی تھی کہ انسان کو آباء وا جداد کی محبت و عظمت نے پہلے ان کی پرستش کی راہ دکھائی۔ پھر اسی پرستش نے قانون ارتقا کے ماتحت ترقی کر کے خدا پرستی کی نوعیت پیدا کرلی۔ صحرا نشین اور چراگاہوں کی جستجو کرنے والے قبیلوں کے ابتدائی تصورات میں اجداد پرستی کا ذہنہ مواد موجود تھا۔ چین کی قدیم تاریخ میں بھی اس پرستش کا سراغ بہت دور تک ملنے لگا تھا۔ اس لیے اس نئے نظریے کے لیے ضروری مواد فراہم ہوگیا اور 1870 ء میں جب ہر برٹ اسپنسر اپنے آسیبی نظریے (Ghost theory) کی بنیاد اسی تخیل پر استوار کی تو وقت کے فلسفیوں اور اجتماعیات کے عالموں کے حلقے میں اس نے فوراٍ مقبولیت پیدا کرلی۔ اسی عہد میں ایک دوسرا نظریہ بھی بروئے کار آیا اور اس نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کرلی۔ یہ ای بی ٹیلراینی مزم (Animism) کا نظریہ تھا۔ 1872 ء میں اس نے اپنی مشہور کتاب پری مے ٹیوکلچر شائع کی اور اس میں دینی عقائد کی کم از کم تعریف اینی مزم کے ذریعہ کی۔ اینی مزم سے مقصود یہ ہے کہ انسان کے تصورات میں اس کی جسمانی زندگی کے علاوہ ایک مستقل روحانی زندگی کا تصور بھی پیدا ہوجائے۔ اس ” مستقل روحانی زندگی“ کا تصور ٹیلر کے نزدیک خدا پرستی اور دینی عقائد کا بنیادی مادہ تھا۔ اسی مادہ نے نشوونما پا کر خدا کی ہستی کے عقیدے کی نوعیت پیدا کرلی۔ غالبا دینی عقائد کی پیدائش کے تمام نظریوں میں یہ پہلا نظریہ ہے جو علمی طریقہ پر پوری طرح مرتب کیا گیا اور بحث و نظر کے تمام اطراف و جوانب منظم اور آراستہ کیے گئے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وقت کے تمام علمی حلقوں پر اس نظریے نے ایک خاص اثر ڈالا تھا اور عام طور پر اسے ایک مقررہ اور طے شدہ اصل کی شکل میں پیش کیا جانے لگا تھا۔ انیسویں صدی کے اختتام تک اس نظیے کا یہ اقتدار بلا استثنا قائم رہا۔ اسی اثنا میں مصر، بابل، اور اشوریا کے قدیم آثار و کتبات کے حل سے تاریخ قدیم کا ایک بالکل نیا میدان روشنی میں آنے لگا تھا اور ان آثار کے مباحث نے مستقل علوم کی حیثیت پیدا کرلی تھی۔ اس نئے مواد نے مظاہر فطرت کی پرستش کی اصل کو از سر نو اہمیت دے کر ابھار دیا کیونکہ وادی نیل اور وادی دجلہ وفرات کے یہ دونوں قدیم تمدن دینی عقائد کے یہی تصورات نمایاں کرتے تھے۔ چنانچہ اب پھر ایک نیا مذہب (اسکول) پیدا ہوگیا جو خدا پرستی کے پیدائش کی ابتدائی بنیاد مظاہر فطرت کے تاثرات کو قرار دیتا تھا۔ اور خصوصیات کے ساتھ اجرام سماوی کے تاثرات پر زور دیتا تھا۔ اس نظریے کے حامیوں نے اینی مزم کی مخالفت کی اور ایسٹرل اینڈ نیچر میتھالوجسٹ (Astral and Nature Mythologists) کے نام سے مشہور ہوئے۔ لیکن انیسویں صدی کے نصف آخری حصے میں جبکہ یہ تمام نظریے سر اٹھا رہے تھے دوسری طرف ایک خاص علمی حلقہ ایک دوسرے نظریے کی بنیادیں بھی چن رہا تھا۔ اس نظریے کا مواد قدیم ترین تمدنی عہد کے شکار پیشہ قبائل کے تصورات نے بہم پہنچایا تھا جن کے حالات اب تاریخ کی دسترس سے باہر نہیں رہے تھے۔ یہ نظریہ ٹو ٹمزم (Totemism) کے نام سے مشہور ہوا اور بہت جلد اس نے وقت کے علمی حلقوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ ٹوٹمزم سے مقصود مختلف اشیاء اور جانوروں کے وہ انتسابات ہیں جو جمعیت بشری کی ابتدائی قبائلی زندگی میں پیدا ہوگئے تھے اور پھر کچھ عرصے کے بعد ان اشیاء اور جانوروں کا غیر معمولی احترام کیا جانے لگا تھا۔ اس نظریے کی رو سے خیال کیا گیا کہ ہندوستان کی گائے، مصر کا مگرمچھ اور وہیل، شمالی خطوں کا ریچھ، اور صحرا نشین قبائل کا سفید بچھڑا اور دراصل ٹوٹمزم ہی کے بقایا ہیں۔ سب سے پہلے 1885 ء میں رابرٹسن سمتھ نے اس نظریے کا اعلان کیا تھا۔ پھر وقت کے دوسرے نظار نے بھی اسی رخ پر قدم اٹھایا۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس نظریے کی مقبولیت مجروح ہونا شروع ہوگئی۔ پروفیسر جے۔ جی۔ فریزار کا جمع کیا ہوا مواد جب منظر عام پر آیا تو معلوم ہوا کہ ٹوٹمزم کے تصورات نجہ تو دینی تصورات کی نوعیت رکھتے تھے نہ دینی تصورات کا مبدء بننے کی ان میں صلاحیت تھی۔ ان کی اصلی نوعیت زیادہ سے زیادہ ایک اجتماعی نظام کی تھی جس کے ساتھ طرح طرح کے تصورات کا ایک سلسلہ وابستہ ہوگیا تھا۔ اس سے زیادہ انہیں اس سلسلہ میں اہمیت نہیں دی جاسکتی۔ مگر اس سلسلہ میں معاملہ کا ایک اور گوشہ بھی نمایاں ہوا تھا۔ فریزر نے ٹوٹمزم کے تصورات میں ایک خاص قسم ایسی بھی پائی تھی جس میں دینی عقائد کا ابتدائی مواد بننے کی زیادہ صلاحیت دکھائی دیتی تھی۔ یعنی وہ قسم جو جادو کے اعتقاد سے تعلق رکھتی ہے۔ بحث و نظر کے اس گوشے نے مفکروں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرلیا اور جادو کا نظریہ علمی حلقوں میں روشناس ہوگیا۔ 1892 ء میں ایک امریکی عالم جے۔ ایچ کنیگ اس پہلو پر توجہ دلا چکا تھا۔ اب بیسوی صدی کے اابتدائی برسوں بیک وقت جرمنی، انگلینڈ، فرانس اور امریکہ علمی حلقوں سے اس کی باز گشت شروع ہوگئی اور اینمزم کے خلاف رد فعل کام کرنے لگا۔ اب یہ خیال عام طور پر پھیل گیا کہ اینمزم کے تصورات سے پیشتر بھی انسانی تصورات کا ایک دور رہ چکا ہے اور یہ ماقبل اینمزم (Preanimism) دور، جادو کے تصورات کا دور تھا۔ اسی جادو کے اعمال کے عقیدے نے آگے چل کر روحانی عقائد کی شکل اختیار کرلی اور خدا پرستی اور دینی عقائد کے مبادیات پیدا ہوگئے۔ اب جادو کا نظریہ ایک عام مقبول نظریہ بن گیا اور پچھلے نظریے اپنی جگہ کھونے لگے 1895 ء میں آر، آر، میرٹ نے، 1902 میں ہیوٹ نے، 1904 میں کے۔ پریبو نے، 1907 میں اے وائر کنڈٹ نے، اور 1908 میں ای۔ ایس۔ ہارٹ لینڈ نے اسی نظریے پر اپنے بحث و فکر کی تمام دیواریں اٹھائیں اور اسے دور تک پھیلاتے چلے گئے۔ سب سے زیادہ حصہ اس میں فرانس کے علمائے اجتماعیات کے اس طبقہ نے لیا جو دور کیم (Durkheim) کے مسلک نظر سے تعلق رکھتا تھا۔ اس طقبہ کا زعیم پہلے ایچ۔ ہیوبرٹ اور ام۔ ماس تھا۔ پھر 1912 ء میں خود دورکیم آگے بڑھا اور اس نظریے کا سب سے بڑا علم بردار بن گیا۔ اس گروہ کی رائے میں ٹوٹمزم اور جادو کے تصورات کا مرتکب مجموعہ جیسا کہ وسط آسٹریلیا کے قبائل کے اوہام میں پایا جاتا ہے جمعیت بشری کے دینی تصورات کا اصلی مبدء تھا۔ قانون ارتقا کے ماتحت انہی تصورات نے خدا پرستی کے عقائد کی ترقی یافتہ شکل پیدا کرلی۔ اس زمانہ کے چند سال بعد بعض پروٹسنٹ علما نے جو دینی عقائد کے نفسیاتی مطالعہ میں مشغول تھے۔ مسئلے پر نفسیاتی نقطہ نگاہ سے نظر ڈالی اور اس نظریے کی حمایت شروع کردی۔ وہ اس طرف گئے کہ خدا پرستی کے عقیدے کا مبدء ہمیں مذہب اور سحر کاری، دونوں کے مرکب تصورات میں ڈھونڈھنا چاہیے۔ اس جماعت کا پیشرو آرچ بشپ سوڈر بلوم (Soderblom) تھا جس کے مباحث 1916 ء میں شائع ہوئے۔ اس کے بعد کا زمانہ پہلی عالمگیر جنگ کا زمانہ تھا جو بیسویں صدی کا ایک دور ختم کر کے دوسرے دور کا دروازہ کھول رہی تھی۔ اس نئے دور نے جہاں علم و نظر کے بہت سے گوشوں کو انقلابی تغیرات سے آشنا کیا وہاں علم کی اس شاخ میں میں بھی ایک نیا انقلابی دور شروع ہوگیا۔ یہ تمام پچھلے نظریے مادی مذہب ارتقا (Materialisttics Evolutionism) کی اصل پر مبنی تھے۔ ان سب کے اندر یہ بنیادی اصل کام کر رہی تھی کہ اجسام و مواد کی طرح انسان کی دینی عقیدہ بھی بتدریج نچلی کڑیوں سے ترقی کرتا ہوا اعلی کڑیوں تک پہنچا ہے اور خدا پرستی کے عقیدہ میں توحید (Monotheism) کا تصور ایک طول طویل سلسلہ ارتقا کا نتیجہ ہے۔ انیسویں صدی کا نصف آخر ڈارونزم کے شیوع و احاطہ کا زمانہ تھا اور بختر، ویلز، اسپنسر نے اسے اپنے فلسفیانہ مباحث سے انسانی فکر و عمل کے تمام دائروں میں پھیلا دیا تھا۔ قدرتی طور پر خدا کے اعتقاد کی پیدائش کا مسئلہ بھی اس سے متاثر ہوا اور نظر و بحث کے جتنے قدم اٹھے وہ اسی راہ پر گامزن ہونے۔ مذہب ارتقا کا خاتمہ اور زمانہ حال کی تحقیات : لیکن ابھی بیسویں صدی اپنے انقلاب انگیز انکشافوں میں بہت آگے نہیں بڑھی تھی کہ ان تمام نظریوں کی عمارتیں متزلزل ہونا شروع ہوگئیں اور پہلی عالمگیر جنگ کے بعد کے عہد نے تو انہیں یک قلم منہدم کردیا۔ اب تمام اہل نظر بالاتفاق دیکھنے لگے کہ اس راہ میں جتنے قدم اٹھائے گئے تھے دوسرے سے اپنی بنیاد ہی میں غلط تھے۔ کیونکہ ان سب کی بنیاد قانون اور ارتقا کی اصل پر رکھی گئی تھی اور ارتقائی اصل کی رہنمائی یہاں سود مند ہونے کی جگہ گمراہ کن ثابت ہوئی ہے۔ اب انہیں ٹھوس اور ناقابل انکار تاریخی شواہد کی روشنی میں صاف صاف نظر آگیا کہ انسان کے دینی عقائد کی جس نوعیت کو انہوں نے اعلی اور ترقی یافتہ قرار دیا تھا وہ بعد کے زمانوں کی پیداوار نہیں ہے بلکہ جمعیت بشری کی سب سے زیادہ پرانی متاع ہے۔ مظاہر فطرت کی پرستش، حیوانی انتسابات کے تصورات، اجداد پرستی کی رسوم، اور جادو کے توہمات کی اشاعت سے بھی بہت پہلے جو تصور انسانی دل و دماغ کے افق پر طلوع ہوا تھا وہ ایک اعلی ترین ہستی کی موجودگی کا بے لگاگ تصور تھا۔ یعنی خدا کی ہستی کا توحید کی اعتقاد تھا ! چنانچہ اب بحث و نظر کے اس گوشہ میں ارتقائی مذہب کا یک قلم خاتمہ ہوچکا ہے۔ ڈبلیو شمٹ (Schmidt) پروفیسر وائنا یونیورسٹی جنہوں نے اس موضوع پر زمانہ حال کی سب سے بہتر کتاب لکھی ہے لکھتے ہیں : ” علم شعوب و قبائل انسانی کے پورے میدان میں اب پرانا ارتقائی مذہب یکسر دیوالیہ ثابت ہوچکا ہے۔ نشوونما کی مرتب کڑیوں کا وہ خوشنما سلسلہ جو اس مذہب نے پوری آمادگی کے ساتھ تیار کردیا تھا اب ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور نئے تاریخی رجحانوں نے اسے اٹھا کر پھینک دیا ہے“۔ (دی اریجین اینڈ گروتھ آف ریلیجن۔ صفحہ 8)۔ "اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ انسان کے ابتدائی عمران و تمدن کے تصور کی "اعلی ترین ہستی" فی الحقیقت توحیدی اعتقاد کا خدائے واحد تھا اور انسان کا دینی عقیدہ جو اس سے ظہور پذیر ہوا وہ پوری طرح ایک توحیدی دین تھا۔ یہ حقیقت اب اس درجہ نمایاں ہوچکی ہے کہ ایک سرسری نظر تحقیق بھی اس کے لیے کفایت کرے گی۔ نسل انسانی کے قدیم پستہ قد قبائل میں سے اکثروں کی نسبت یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے۔ اسی طرح ابتدائی عہد کے جنگلی قبیلوں کے جو حالات روشنی میں آئے ہیں اور کرنائی، کلین، اور جنوب مشرقی، آسٹریلیا کے پائن قبیلوں کی نسبت جس قدر تاریخی مواد مہیا ہوا ہے ان سب کی تحقیقات ہمیں اس نتیجہ تک پہنچاتی ہے۔ ارکٹیک تہذیب کے قبیلوں کے روایتی آثار اور شمالی امریکہ کے قبائل کے دینی تصورات کی چھان بین نے بھی بالآخر اسی نتیجہ کو نمایاں کیا" (دی اور یجین اینڈ گروتھ آف ریلیجین صفحہ 262) زمانہ حال کے نظارے نے اب اس مسئلہ کا موسوعاتی (Pantologic) طریق نظر سے مطالعہ کیا ہے اور قدیم معلومات و مباحبث کی تمام شاخیں جمع کر کے مجموعی نتائج نکالے ہیں۔ ضروری ہے کہ اس سلسلہ کی بعض جدید تحقیقات پر ایک سرسری نظر ڈال لی جائے کیونکہ ابھی وہ اس درجہ شائع نہیں ہوئی ہیں کہ عام طور پر نظر و مطالعہ میں آچکی ہوں۔ آسٹریلیا اور جزائر کے وحشی قبائل اور مصر کے قدیم ترین آثار کی جدید تحقیقات : آسٹریلیا اور جزائر بحر محیط کے وحشی قبائل ایک غیر معین قدامت سے اپنی ابتدائی ذہنی طفولیت کی زندگی بسرت کرتے رہے۔ زندگی وہ معیشت کی وہ تمام ترقی یافتہ کڑیاں جو عام طور پر انسانی جماعتوں کے ذہنی ارتقا کا سلسلہ مربوط کرتی ہیں یہاں یکسر مفود رہیں۔ ابتدائی عہد کی بشری جمعیت کے تمام جسمانی اور دماغی خصائص ان کی قبائلی زندگی میں دیکھے جاسکتے تھے۔ ان کے تصور اس درجہ محدود تھے کہ اوہاد و خرافات میں کسی طرح کا ارتقائی نظم نہیں پایا جاتا۔ تاہم ان کا ایک اعتقادی تصور بالکل واضح تھا۔ ایک بالا تر ہستی ہے جس نے ان کی زمین اور ان کا آسمان پیدا کیا اور ان کا مرنا اور جینا اسی کے قبضہۂتصرف میں ہے۔ مصر کے قدیم باشندوں کی صدائیں آٹھ ہزار برس پیشتر تک کی ہمارے کانوں سے ٹکرا چکی ہیں۔ قدیم مصر تصورات کا پورا سلسلہ اپنی عہد بعہد کی تبدیلیوں کے ساتھ ہمارے سامنے ابھر آیا ہے۔ ہمیں صاف نظر آرہا ہے کہ ایک خدا کی پرستش کا تصور اس سلسلہ میں بعد کو نہیں ابھرا بلکہ سلسلہ کی سب سے زیادہ پرانی کڑی ہے۔ مصر کے وہ تمام معبود جن کے مرقعوں سے اس کے مشہور عالم ہیکلوں اور مناروں کی دیورایں منقش کی گئی ہیں اس قدیم ترین عہد میں اپنی کوئی نمود نہیں رکھتے تھے۔ جب صرف ایک "اوسیریز" کی ان دیکھی ہستی کا اعتقاد دریائے نیل کی تمام آباد وادیوں پر چھایا ہوا تھا۔ (مردہ کی کتاب قدیم مصری تصورات کا سب سے زیادہ مرتب اور منضبط نوشتہ ہے۔ مصریات کے مشہور محقق ڈاکٹر بج (Budge) کی رائے میں یہ سب سے زیادہ قدیم فکر مواد ہے جو مصری آثار نے ہمارے حوالہ کیا ہے۔ یہ خود اتنی ہی پرانی ہے جتنا پرانا مصری تمدن ہے،۔ لیکن جو تصورات اس میں جمع کیے گئے ہیں۔ وہ مصری تمدن سے بھی زیادہ قدیم ہیں۔ وہ اتنے قدیم ہیں کہ ہم ان کی قدامت کی کوئی تاریخ معین نہیں کرسکتے۔ اس نوشتہ میں "اوسیریز" کے یہ صفات ہمیں ملتے ہیں : معبود اعطم۔ الخیر۔ ازلی پادشاہ۔ آخرت کا مالک) دجلہ وفرات کی وادیوں کی قدیم آبادیوں اور خدا کی ہستی کا توحیدی تصور : پہلی عالمگیر جنگ کے بعد عراق کے مختلف حصوں میں کھدائی کی جو نئی مہمیں شروع کی گئی تھیں۔ اور جو مودہ جنگ کی وجہ سے ناتمام رہ گئیں ان کے انکشافات نے اس مسئلہ کے لیے نئی روشنیاں بہم پہنچائی ہیں۔ اب اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کیا جاتا کہ دریائے نیل کی طرح دجلہ ور فرات کی وادیوں میں بھی جب انسان پہلے پہل اپنے خدا کو پکارا و وہ بہت سی ہستیوں میں بٹا ہوا نہیں تھا بلکہ ایک ہی ان دیکھی ہستی کی صورت میں نمایاں ہوا تھا۔ کالڈیا کے سومیری اور اکادی قبائل جن انسانی نسلوں کے وارث ہوئے تھے وہ شمس یعنی سورج اور نانعار یعنی چاند کی پرستش نہیں کرتے تھے بلکہ اس ایک ہی لازوال ہستی کی"جس نے سورج اور چاند اور تمام چمکدار ستاروں کو بنایا ہے"۔ مہنجودارو کا خدائے وحدا "اون" ہندوستان میں "مہنجودارو" کے آثار ہمیں آریاؤں کے عہد ورود سے بھی آگے لے جاتے ہیں۔ ان کے مطالعہ و تحقیق کا کام ابھی پورا نہیں ہوا ہے۔ تاہم ایک حقیقت بالکل واضح ہوگئی ہے۔ اس قدیم ترین انسانی بستی کے باشندوں کا بنیادی تصور توحید الٰہی کا تصور تھا۔ اصنام پرستانہ تصور نہ تھا۔ وہ اپنے یگانہ خدا کو "اون" کے نام سے پکارتے تھے۔ جس کی مشابہت ہمیں سنسکرت کے لفظ "اندوان" میں میں مل جاتی ہے۔ اس یگانہ ہستی کی حکومت سب پر چھائی ہوئی ہے۔ طاقت کی تمام ہستیاں اسی کے ٹھہرائے ہوئے قانون کے ماتحت کام کر رہی ہیں اس کی صفت "ویدوکن" ہے۔ یعنی ایسی ہستی جس کی آنکھیں کبھی غافل نہیں ہوسکتیں "لاتاخذہ سنۃ ولا نوم"۔ اللہ کی یگانہ اور ان دیکھی ہستی کا قدیم سامی تصور : سامی قبائل کا اصلی چشمہ صحرائے عرب کے بعض شاداب علاقے تھے۔، جب اس چشمہ میں نسل انسانی کا پانی بہت بڑھ جاتا تو اطراف میں پھیلنے لگتا۔ یعنی قبائل کے جتھے عرب سے نکل کر اطراف و جوانب کے ملکوں میں منتشر ہونے لگتے اور پھر چند صدیوں کے بعد نیا رنگ روپ اور نئے نام اختیار کرلیتے۔ شاید انسانی قبائل کا انشعاب کرہ ارضی کے دو مختلف حصوں میں بیک وقت جاری رہا اور زمانہ مابعد کی مختلف قوموں اور تمدنوں کا بنیادی مبدء بنا۔ صحرائے گوبی کے سرچشمے سے وہ قبائل نکلے جو ہندی۔ یورپی (اندویورپین) آریاؤں کے نام سے پکارے گئے۔ صحرائے عرب سے وہ قبائل نکلے جن کا پہلا نام سامی پڑا اور پھر یہ نام بے شمار ناموں کے ہجوم میں گم ہوگیا۔ تاریخ کی موجودہ معلوام اس حد تک پہنچ کر رک گئی ہیں اور آگے کی خبر نہیں رکھتیں۔ عرب قبائل کا یہ انشعاب بتدریج مغربی ایشیا اور قریبی افریقہ کے تمام دور دراز حصوں تک پھیل گیا تھا۔ فلسطین (شام) مصر، نوبیا، عراق، اور سواحل خلیج فارس سب ان کے دائرہ انشعاب میں آگئے تھے۔ عاد، ثمود، عمالقہ، ہکسوس، موابی، آشوری، آکادی، سومیری، عیلامی، آرامی، اور عبرانی وغیرہم مختلف مقاموں اور مختلف عہدوں کی قوموں کے نام ہیں مگر دراصل سب ایک ہی قبائلی سرچشمہ سے نکلے ہوئے ہیں یعنی عرب سے۔ اب جدید سامی اثریات کے مطالعہ سے جو ان تمام قوموں سے تعلق رکھتی ہیں ایک حقیقت بالکل واضح ہوگئی ہے۔ یعنی ان تمام قوموں میں ایک ان دیکھے خدا کی ہستی کا اعتقاد موجود تھا۔ اور وہ "ال۔ الاہ" یا "اللہ " کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ یہی "الاہ" ہے جس نے کہیں "ایل" کی صورت اختیار کی، کہیں "الوہ" کی اور کہیں "الاہیا" کی۔ سرحد حجاز کی وادی عقبہ اور شمالی شام کے راس شمر کے جو آثار گزشتہ جنگ کے بعد منکشف ہوئے ان سے یہ حقیقت اور زیادہ آشکارا ہوگئی ہے مگر یہ موقع تفصیل کا نہیں۔ انسان کی پہلی راہ ہدا یت کی گھی، گمراہی بعد کوئی آئی : بہرحال بیسویں صدی کی علمی جستجو اب ہمیں جس کی طرف لے جا رہی ہے وہ انسان کا قدیم ترین توحیدی اور غیر اصنامی اعتقاد ہے۔ اس سے زیادہ اس کے تصورات کی کوئی بات پرانی نہیں۔ اس نے اپنے عہد طفولیت میں ہوش و خرد کی آنکھیں جونہی کھولی تھیں ایک یگانہ ہستی کا اعتقاد اپنے اندر موجود پایا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے قدم بھٹکنے لگے اور بیرونی اثرات کی جولانیاں اسے نئی نئی صورتوں اور نئے نئے ڈھنگوں سے آشنا کرنے لگیں۔ اب ایک سے زیادہ مافوق الفطرت طاقتوں کا تصور نشوونما پانے لگا اور مظاہر فطرت کے بے شمار جلوے اسے اپنی طرف کھینچنے لگے۔ یہاں تک کہ پرستش کی ایسی چوکھٹیں بننا شروع ہوگئیں جنہیں اس کی جبین نیاز چھو سکتی تھی اور تصورات کی ایسی صورتیں ابھرنے لگیں جو اس کے دیدہ صورت پرست کے سامنے نمایاں ہوسکتی تھیں۔ یہیں اسے ٹھوکر لگی لیکن راہ ایسی تھی کہ ٹھوکر سے بچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کمند کو تہ و بازوئے سست و بام بلند بمن حوالہ و نومیدیم گنہ گیرند پس معلوم ہوا کہ اس راہ میں ٹھوکر بعد کو لگی۔ پہلی حالت ٹھوکر کی نہ تھی۔ راہ راست پر گام فرسائیوں کی تھی : من ملک بودم و فردوس بریں جائم بود آدم آورد دریں خانہ خراب آبادم اگر اس صورت حال کو گمراہی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے تو ماننا پڑے گا کہ پہلی حالت جو انسان کو پیش آئی تھی وہ گمراہی کی نہ تھی، ہدایت کی تھی۔ اس نے آنکھیں روشنی میں کھولی تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ تاریکی پھیلنے لگی ! دینی نوشتوں کی شہادت اور قرآن کا اعلان : زمانہ حال کی علمی تحقیقات کا یہ نتیجہ ادیان عالم کے مقدس نوشتوں کی تصریحات کے عین مطابق ہے۔ مصر، یونان، کالڈیا، ہندوستان، چین، ایران، سب کی مذہبی روایتیں ایک ایسے ابتدائی عہد کی خبر دیتی ہیں جب نوع انسانی گمراہی اور غمناکی سے آشنا نہیں ہوئی تھی اور فطری ہدایت کی زندگی بسر کرتی تھی۔ افلاطون نے کریطیاس (Critias) میں آبادی عالم کی جو حکایت درج کی ہے اس میں اس اعتقاد کی پوری جھلک موجود ہے اور طیماوس (Timaeus) کی حکایت جو ایک مصری پجاری کی زبانی ہے مصری روایت کی خبر دیتی ہے۔ تورات کی کتاب پیدائش نے آدم کا قصہ بیان کیا ہے۔ اس قصہ میں آدم کی پہلی زندگی ہدایت کی بہشتی زندگی تھی پھر لغزش ہوئی اور بہشتی زندگی مفقود ہوگئی اس قصہ میں بھی یہ اصل کام کررہی ہے کہ یہاں پہلا دور فطری ہدایت کا تھا۔ انحراف و گمراہی کی راہیں بعد کو کھلیں۔ قرآن نے تو صاف صاف اعلان کردیا ہے : "ومان کان الناس الا امۃ واحدۃ فاخلتفوا : ابتدا میں تمام انسان ایک ہی گروہ تھے (یعنی الگ الگ راہوں میں بھٹکے ہوئے نہ تھے) پھر اختلاف میں پڑگئے " (10:، 19) دوسری جگہ مزید تشریح کی : "کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللہ النبیین مبشرین و منذرین وانزل معہم الکتاب بالحق لیحکم بین الناس فیما اختلفوا فیہ : ابتدا میں تمام انسانوں کا ایک ہی گروہ تھا (یعنی فطری ہدایت کی ایک ہی راہ پر تھے۔ پھر اس کے بعد اختلاف پیدا ہوگئے) پس اللہ نے ایک کے بعد ایک نبی مبعوث کیے۔ وہ نیک عملی کے نتیجوں کی خوشخبری دیتے تھے۔ بد عملی کے نتیجوں سے متنبہ کرتے تھے۔ نیز ان کے ساتھ نوشتے نازل کیے۔ تاکہ جن باتوں میں لوگ اختلاف کرنے لگے ہیں ان کا فیصلہ کردیں"۔ (2:، 213) ارتقائی نظریہ خدا کی ہستی کے اعتقاد میں نہیں، مگر اس کی صفات کے تصورات کے مطالعہ میں مدد دیتا ہے : پس خدا کی ہستی کے عقیدے کے بارے میں انیسویں صدی کا ارتقائی نظریہ اب اپنی علمی اہمیت کھو چکا ہے اور بحث و نظر میں بہت کم مدد دے سکتا ہے۔ البتہ جہاں تک انسان کے ان تصوروں کا تعلق ہے جو خدا کی صفات کی نقش آرائیاں کرتے رہے ہمیں ارتقائی نقطہ خیال سے ضرور مددملتی ہے۔ کیونکہ بلاشبہ یہاں تصورات کے نشو وارتقا کا ایک ایسا سلسلہ موجود ہے جس کی ارتقائی کڑیاں ایک دوسرے سے الگ کی جاسکتی ہیں اور نچلے درجوں سے اونچے درجہ کی طرف ہم بڑھ سکتے ہیں۔ خدا کی ہستی کا اعتقاد انسان کے ذہن کی پیداوار نہ تھا کہ ذہنی تبدیلیوں کے ساتھ وہ بھی بدلتا رہتا۔ وہ اس کی فطرت کا ایک وجدانی احساس تھا اور وجدانی احساسات میں نہ تو ذہن و فکر کے مؤثرات مداخلت کرسکتے ہیں نہ باہر کے اثرات سے ان میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔ لیکن انسان کی عقل، ذات مطلق کے تصور سے عاجز ہے۔ وہ جب کسی چیز کا تصور کرنا چاہتی ہے تو گو تصور ذات کا کرنا چاہے لیکن تصور میں صفات و عوارض ہی آتے ہیں اور صفات ہی کے جمع و تفرقہ سے وہ ہر چیز کا تصور آراستہ کرتی ہے۔ پس جب فطرت کے اندرونی جذبہ نے ایک بالا تر ہستی کے اعتراف کا ولولہ پیدا کیا تو ذہن نے چاہا، اس کا تصور آراستہ کرے۔ لیکن جب تصور کیا تو یہ اس کی ذات کا تصور نہ تھا یہیں سے خدا پرستی کے فطری جذبہ میں ذہن و کفر کی مداخلت شروع ہوگئی۔ عقل انسانی کی درماندگی اور صفات الٰہی کی صورت آرائی : عقل انسانی کا ادراک محسوسات کے دائرے میں محدود ہے۔ اس لیے اس کا تصور اس دائرے سے باہر قدم نہیں نکال سکتا۔ وہ جب کسی ان دیکھی اور غیر محسوس چیز کا تصور کرے گی تو ناگریز ہے کیہ تصور میں وہی صفات آئیں جنہیں وہ دیکھتی اور سنتی ہے اور جو اس کے حاسہ ذوق و لمس کی دسترس سے باہر نہیں ہیں۔ پھر اس کے ذہن و تفکر کی جتنی بھی رسائی ہے بیک دفعہ ظہور میں نہیں آئی ہے بلکہ ایک طول طویل عرصہ کے نشو وارتقا کا نتیجہ ہے۔ ابتدا میں اس کا ذہن عہد طفولیت میں تھا۔ اس لیے اس کے تصورات بھی اسی نوعیت کے ہوتے تھے۔ پھر جوں جوں اس میں اور اس کے ماحول میں ترقی ہوتی گئی اس کا ذہن بھی ترقی کرتا گیا اور ذہن کی ترقی و تزکیہ کے ساتھ اس کے تصورات میں بھی شائستگی اور بلندی آتی گئی۔ اس صورت حلا کا نتیجہ یہ تھا کہ جب کبھی ذہن انسانی نے خدا کی صورت بنانی چاہی تو ہمیشہ ویسی ہی بنائی جیسی صورت خود اس نے اور اس کے احوال و ظروف نے پیدا کرلی تھی۔ جوں جوں اس کا معیار فکر بدلتا گیا وہ اپنے معبود کی شکل و شباہت بھی بدلتا گیا۔ اسے اپنے آئینہ تفکر میں ایک صورت نظر آتی تھی۔ وہ سمجھتا تھا یہ اس کے معبود کی صورت ہے۔ حالانکہ وہ اس کے معبود کی صورت نہ تھی خود اسی کے ذہن و صفات کا عکس تھا۔ فکر انسانی کی سب سے پہلی درماندگی یہی ہے جو اس راہ میں پیش آئی ! حرم جویاں درے رامی پرستند فقیہاں دفترے را می پرستند برافگن پردہ تا معلوم گردد کہ یاراں دیگرے را می پرستند یہی درمانگی ہے جس سے نجات دلانے کے لیے وحی الٰہی کی ہدایت ہمیشہ نمودار ہوتی رہی۔ انبیائے کرام (علیم السلام) کی دعتو کی ایک بنیادی اصل یہ رہی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ خدا پرستی کی تعلیم ویسی ہی شکل و اسلوب میں دی جیسی شکل و اسلوب کے فہم و تحمل کی استعداد مخاطبوں میں پیدا ہوگئی تھی۔ وہ مجمع انسانی کے معلوم ومربی تھے اور معلم کا فرض ہے کہ متعلموں میں جس درجہ کی استعداد پائی جائے اسی درجہ کا سبق بھی دے۔ پس انبیائے کرام نے بھی وقتا فوقتا خدا کی صفات کے لیے جو پیرایہ تعلیم اختیار کیا وہ اس سلسلہ ارتقا سے باہر نہ تھا۔ بلکہ اسی کی مختلف کڑیاں مہیا کرتا ہے۔ ارتقائے تصور کے نقاط ثلاثہ : اس سلسلہ کی تمام کڑیوں پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں اور ان کے فکری عناصر کی تحلیل کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ ان کی بے شمار نوعیتیں قرار دی جاسکتی ہیں لیکن ارتقائی نقطے ہمیشہ تین ہی رہے اور انہی سے اس سلسلہ کی ہدایت و نہایت معلوم کی جاسکتی ہے : (1)۔ تجسم سے تنزیہہ کی طرف : (تجسم سے مقصود یہ ہے کہ خدا کی نسبت ایس تصور قائ8 م کرنا کہ وہ مخلوق کی طرح جسم و صورت رکھتا ہے۔ تشبہ سے مقصود یہ ہے کہ ایسی صفات تجویز کرلیں جو مخلوقات کی صفات سے مشابہ ہوں۔ تنزیہہ سے مقصود یہ ہے کہ ان تمام باتوں سے جو اسے مخلوقات سے مشابہ کرتی ہوں اسے مبرا یقین کرنا۔ انگریزی میں تجسم کے لیے ان تھروپو مارفزم (Anthroporphism) اور تشبہ کے لیے ان تھراپوافیوازم (Anthropophuism) کی مصطلحات استعمال کرتے ہیں) (2)۔ تعدد و اشراک (Polytheism) سے توحید (Monotheism) کی طرف۔ (3) صفات قہر و جلال سے صفات رحمت و جمال کی طرف۔ یعنی تجسم اور صفات قہریہ کا تصور اس کا ابتدائی درجہ ہے اور تنزہ اور صفات رحمت و جمال سے اتصاف اعلی و کامل درجہ۔ جو تصور جس قدر ابتدائی اور ادنی درجہ کا ہے، اتنا ہی تجسم اور صفات قہریہ کا عنصر اس میں زیادہ ہے۔ جو تصور جس قدر زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ اتنا ہی زیادہ منزہ اور صفات رحمت و جلال سے متصف ہے۔ انسان کا تصور صفات قہریہ کے تاثر سے کیوں شروع ہوا؟ انسان کا تصور صفات قہریہ کے تخیل سے کیوں شروع ہوا؟ اس کی علت واضح ہے۔ فطرت کائنات کی عمیر، تخریب کے نقاب میں پوشیدہ ہے۔ انسانی فکر کی طفولیت تعمیر کا حسن نہ دیکھ سکی۔ تخریب کی ہوناکیوں سے ہم گئی۔ تعمیر کا حسن و جمال دیکھنے کے لیے فہم و بصیرت کی دور رس نگاہ مطلوب تھی اور وہ ابھی اس کی آنکھوں نے پیدا نہیں کی تھی۔ دنیا میں ہر چیز کی طرح ہر فعل کی نوعیت بھی اپنا مزاج رکھتی ہے۔ بناؤ ایک ایسی حالت ہے جس کا مزاج سر تا سر سکون اور خاموشی ہے اور بگاڑ ایک ایسی حالت ہے کہ اس کا مزاج سرتاسر شورش اور ہولناکی ہے۔ بناؤ ایجاب ہے، نظم ہے، جمع و ترتیب ہے اور بگاڑ سلب ہے، برہمی ہے، تفرقہ و اختلال ہے۔ جمع و نظم کی حالت ہی سکون کی حالت ہوتی ہے اور تفرقہ و برہمی کی حالت ہی شورش و انفجار کی حالت ہے۔ دیوار جب بنتی ہے تو تمہیں کوئی شورش محسوس نہیں ہوتی لیکن جب گرتی ہے تو دھماکا ہوتا ہے اور تم بے اختیار چونک اٹھتے ہو۔ اس صورت حال کا قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ حیوانی طبیعت سلبی افعال سے فوراً متاثر ہوجاتی ہے کیونکہ ان کی نمود میں شورش اور ہولناکی ہے لیکن ایجابی افعال سے متاثر ہونے میں دیر لگاتی ہے کیونکہ ان کا حسن و جمال یکایک مشاہدہ میں نہیں آجاتا اور ان کا مزاج شورش کی جگہ خاموشی اور سکون ہے۔ فطرت کے سلبی مظاہر کی قہرمانی اور ایجابی مظاہر کا حسن و جمال : اسی بنا پر عقل انسانی نے جب صفات الٰہی کی صورت آرائی کرنی چاہی تو فطرت کائنات کے سلبی مظاہر کی دہشت سے فوراً متاثر ہوگئی کیونکہ زیادہ نمایاں اور پرشور تھے اور ایجابی و تعمیری حقیقت سے متاثر ہونے میں بہت دیر لگ گئی کیونکہ ان میں شورش اور ہنگامہ نہ تھا۔ بادلوں کی گرج، بجلی کی کڑک، آتش فشاں پہاڑوں کا انفجار، زمین کا زلزلہ، آسمان کی ژالہ بار، دریا کا سیلاب، سمندر کا تلاطم، ان تمام سلبی مظاہر میں اس کے لیے رعب و ہیبت تھی اور اسی ہیبت کے اندر وہ ایک غضبناک خدا کی ڈراؤنی صورت دیکھنے لگا تھا۔ اسے بجلی کی کڑک میں کوئی حسن محسوس نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ بادلوں کی گرج میں کوئی شان محبوبیت نہیں پاسکتا تھا۔ وہ آتش فشاں پہاڑوں کی سنگ باری سے پیار نہیں کرسکتا تھا اور اس کی عقل ابھی خدا کے انہی کاموں سے آشنا ہوئی تھی۔ انسان پر شیفتگی سے پہلی دشہت طاری ہوئی : خود اس کی ابتدائی معیشت کی نوعیت بھی ایسی ہی تھی کہ انس و محبت کی جگہ خوف و وحشت کے جذبات برانگیختہ ہوتے۔ وہ کمزور اور نہتا تھا اور دنیا کی ہر چیز اسے دشمنی اور ہلاکت پر تلی نظر آتی تھی۔ دلدل کے مچھروں کے جھنڈ چاروں طرف منڈلا رہے تھے۔ زہریلے جانور ہر طرف رینگ رہے تھے اور درندوں کے حملوں سے ہر وقت مقابل رہنا پڑتا تھا۔ سر پر سورج کی تپش بے پناہ تھی اور چاروں طرف موسم کے اثرات ہولناک تھے۔ غرض کہ اس کی زندگی سر تا سر جنگ اور محنت تھی اور اس ماحول کا قدرتی نتیجہ تھا کہ اس کا ذہن خدا کا تصور کرتے ہوئے خدا کی ہلاکت آفرینیوں کی طرف جاتا رحمت و فیضان کا ادراک نہ کرسکتا۔ بالآخر صفات رحمت و جمال کا اشتمال : لیکن جوں جوں اس میں اور اس کے ماحول میں تبدیلی ہوتی گئی اس کے تصور میں بھی یاس و دہشت کی جگہ امید و رحمت کا عنصر شامل ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ معبودیت کے تصور میں صفات و رحمت و جمال نے بھی ویسی ہی جگہ پالی جیسی صفات قہر وجلال کے لیے تھی۔ چنانچہ اگر قدیم اقوام کے اصنام پرستانہ تصورات کا مطالعہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ان کی ابتدا ہر جگہ صفات قہر و غضب کے تصور ہی سے ہوئی ہے اور پھر آہست آہستہ رحمت و جمال کی طرف قدم اٹھا ہے۔ آخری کڑیاں وہ نظر آئیں گی جن میں قہر و غضب کے ساتھ رحمت و جمال کا تصور بھی مساویانہ حیثیت سے قائم ہوگیا ہے۔ مثلاً قہر وہلاکت کے دیوتاؤں اور قوتوں کے ساتھ زندگی، رزق، دولت اور حسن و علم کے دیوتاؤں کی بھی پرستش شروع ہوگئی ہے۔ یونان کا علم الاصنام اپنے لطافت تخیل کے لحاظ سے تمام اصنامی تخیلات میں اپنی خاص جگہ رکھتا ہے لیکن اس کی پرستش کے بھی قدیم معبود وہی تھے جو قہر و غضب کی خوفناک قوتیں سمجھی جاتی تھیں۔ ہندوستان میں اس وقت تک زندگی اور بخشش کے دیوتاؤں سے کہیں زیادہ ہلاکت کے دیوتاؤں کی پرستش ہوتی ہے۔ ظہور قرآن کے وقت دنیا کے عام تصورا : بہرحال ہمیں غور کرنا چاہیے کہ قرآن کے ظہور کے وقت صفات الٰہی کے عام تصورات کی نوعیت کیا تھی اور قرآن نے جو تصور پیش کیا اس کی حیثیت کیا ہے؟ ظہور قرآن کے وقت پانچ دینی تصور فکر انسانی پرچھائے ہوئے تھے : چینی، ہندوستانی، مجوسی، یہودی اور مسیحی۔ (1)۔ چینی تصور : دنیا کی تمام قدیم قوموں میں چینیوں کی یہ خصوصیت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ ان کے تصور الوہیت نے ابتدا میں جو ایک سادہ اور مبہم نوعیت اختیار کرلی تھی وہ بہت حد تک برابر قائم رہی اور زمانہ مابعد کی ذہنی وسعت پذیریاں اس میں زیادہ مداخلت نہ کرسکیں۔ تاہم تصور کا کوئی مرقع بغیر رنگ و روغن کے بن نہیں سکتا۔ اس لیے آہستہ آہستہ اس سادہ خاکے میں بھی مختلف رنگیں نمایاں ہونے لگیں اور بالآخر ایک رنگین تصویر متشکل ہوگئی۔ چین میں قدیم زمانے میں سے مقامی خداؤں کے ساتھ ایک "آسمانی" ہستی کا اعتقاد بھی موجود تھا۔ ایک ایسی بلند اور عظیم ہستی جس کی علویت کے تصور کے لیے ہم آسمان کے سوا اور کسی طرف نظر نہیں اٹھا سکتے۔ آسمان حسن و بخشائش کا بھی مظہر ہے۔ قہر و غضب کی بھی ہولناکی ہے۔ اس کا سورج روشنی اور حرارت بخشتا ہے، اس کے ستارے اندھیری راتوں میں قدنیلیں روشن کردیتے ہیں، اس کی بارش زمین کو طرح طرح کی روئیدگیوں سے معمور کردیتی ہے، لیکن اس کی بجلیاں ہلاکت کا بھی پیام ہیں اور اس کی گرج دلوں کو دہلا بھی دیتی ہے۔ اس لیے آسمانی خدا کے تصور میں بھی دونوں صفتیں نمودار ہوئیں۔ ایک طرف اس کی جود و بخشائش ہے، دوسری طرف اس کا قہر و غضب ہے۔ چینی چاعری کی قدیم کتاب میں ہم قدیم ترین چینی تصورات کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ ان میں جابجا ہمیں ایسے مخاطبات ملتے ہیں جن میں آسمانی اعمال کی، ان متضاد نمودوں پر حیرانی و سرگشتگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ کیا بات ہے کہ تیرے کاموں میں یکسانی اور ہم آہنگی نہیں؟ تو زندگی بھی بخشتا ہے اور تیرے پاس ہلاکت کی بجلیاں بھی ہیں۔ یہ "آسمان" چینی تصور کا ایک ایسا بنیادی عنصڑ بن گیا کہ چینی جمعیت آسمانی جمعیت اور چینی مملکت آسمانی مملکت کے نام سے پکاری جانے لگی۔ رومی جب پہلے پہل چین سے آشنا ہوئے تو انہیں ایک "آسمانی مملکت" ہی کی خبر ملی تھی۔ اس وقت سے (Coelum) کے مشتقات کا چین کے لیے استعمال ہونے لگا۔ یعنی آسمان والے اور "آسمانی" اب بھی انگریزی میں چین کے باشندوں کے لیے مجازا سلسٹیل (Celestial) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی آسمانی ملک کے باشندے۔ اس آسمانی ہستی کے علاوہ گزرے ہوئے انسانوں کی روحیں بھی تھیں۔ جنہیں دوسرے عالم میں پہنچ کر تدبیر و تصرف کی طاقتیں حاصل ہوگئی تھیں اور اس لیے پرستش کی مستحق سمجھی گئی تھیں۔ ہر خاندان اپنی معبود روحیں رکھتا تھا اور ہر علاقہ اپنا مقامی خدا۔ لاؤتزو اور کنگ فوزی کی تعلیم : سنہ مسیحی سے پانچ سو برس پہلے لاؤ۔ تزو (Lao-Tzu) اور کنگ فوزی (King-fu-Tse) کا ظہور ہوا۔ کنگ فوزی نے ملک کو عملی زندگی کی سعادتوں کی راہ دکھائی اور معاشرتی حقوق و فرائض کی ادائیگی کا ایک قانون مہیا کردیا لیکن جہاں تک خدا کی ہستی کا تعلق ہے۔ "آسمان" کا قدیمی تصور بدستور قائم رہا اور اجداد پرستی کے عقائد نے اس کے ساتھ مل کر ایک ایسی نوعیت پیدا کرلی گویا آسمانی خدا تک پہنچنے کا ذریعہ گزری ہوئی روحوں کا وسیلہ اور تشفع ہے۔ روحانی تصورات میں وسیلہ کا اعتقاد ہمیشہ عابدانہ پرستش کی نوعیت پیدا کرلیتا ہے چنانچہ یہ توسل بھی عملاً تعبد تھا اور ہر طرح کے دینی اعمال و رسوم کا مرکزی نقطہ بن گیا تھا۔ ("کنگ فوزی" فارسی تلفظ ہے۔ صحیح چینی لفظ "کونگ۔ فو۔ تسی" ہے۔ ایرانیوں نے اسے زیادہ صحت کے ساتھ نقل کیا۔ یعنی صرف اتنی تبدیلی کی کہ "فوتسی" کو "فوزی" کردیا۔ لیکن یورپ کی زبانوں نے اسے یک قلم مسخ کر کے "کنفیوشیس" (Confuocius) بندا دیا اور اس کی آواز اصل آواز سے اس درجہ مختلف ہوگئی کہ ایک چینی سن کر حیران رہ جاتا ہے کہ یہ کس چیز کا نام ہے اور کس ملک کی بولی ہیں؟) ہندوستان اور یونان میں دیوتاؤں کے تصور نے نشوونما پائی تھی جو خدائی کی ایک بالاتر ہستی کے ساتھ کارخانہ عالم کے تصرفات میں شرکت رکھتے تھے۔ چینی تصور میں یہ خانہ بزرگوں کی روحوں نے بھرا اور اس طرح اشراک اور تعدد کے تصور کی پوری نقش آرائی ہوگئی۔ کنگ فوزی کے ظہور سے پہلے قربانیوں کی رسم عام طور پر رائج تھی۔ کنگ فوزی نے اگرچہ ان پر زور نہیں دیا لیکن ان سے تعرض بھی نہیں کیا۔ چنانچہ وہ چینی مندروں کا تقاضا برابر پورا کرتی رہیں۔ قربانیوں کے عمل کے پیچھے طلب بخشش اور جلب تحفظ دونوں کے تصور کام کرتے تھے۔ قربانیوں کے ذریعہ ہم اپنے مقاصد بھی حاصل کرسکتے ہیں اور خدا کے قہر و غضب سے محفوظ بھی ہوجا سکتے ہیں۔ پہلی غرض کے لیے وہ نذر ہیں۔ دوسری غرض کے لیے فدیہ ! لاؤ۔ تزو نے "تاؤ" یعنی طریقت کے مسلک کی بنیاد ڈالی۔ اسے چین کا تصور اور ویدانت سمجھنا چاہیے۔ تاؤ نے چینی زندگی کو روحانی استغراق اور داخلی مراقبہ کی راہوں سے آشنا کیا اور مذہبی اور اخلاقی تصورات میں ایک طرف گہرائی اور وقت آفرینی پیدا ہوئی دوسری طرف لطافت فکر اور رقت خیال کے نئے نئے دروازے کھلے۔ لیکن تصوف ملک کا عام دینی تصور نہیں بن سکتا تھا۔ اس کی محدود جگہ چین میں بھی وہی رہی جو ویدانت کی ہندوؤں میں اور تصوف کی مسلمانوں میں رہی ہے۔ چین کا ثمنی تصور : اس کے بعد وہ زمانہ آیا جب ہندوستان کے شمنی مذہب یعنی بدھ مذہب کی چین میں اشاعت ہوئی۔ یہ مہایاما بدھ مذہب تھا جو مذہب کے اصلی مبادیات سے بہت دور جا چکا تھا اور جس نے تبدل پذیری کی ایسی بے روک لچک پیدا کرلی تھی کہ جس شکل و قطع کا خانہ ملتا تھا ویسا ہی جسم بنا کر اس میں سما جاتا تھا۔ یہ جب چین، کوریا اور جاپان میں پہنچا تو اسے ہندوستان اور سیلون سے مختلف قسم کی فضا ملی اور اس نے فوراً مقامی وضع و قطع اختیار کرلی۔ بدھ مذہب کی نسبت یقین کیا جاتا ہے کہ خدا کی ہستی کے تصور سے خالی ہے۔ لیکن پیروان بدھ نے خود بدھ کو خدا کی جگہ دے دی اور اس کی پرستش کا ایک ایسا عالمگیر نظام قائم کردیا جس کی کوئی دوسری نظیر اصنامی مذاہب کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ چنانچہ چین، کوریا، اور جاپان کی عبادت گاہیں بھی اب اس نئے معبود کے بتوں سے معمور ہوگئیں۔ (سنسکرت میں "شمن" زاہد اور تارک الدنیا کو کہتے ہیں۔ بدھ مذہب کے تارک الدنیا بھکشو اس لقب سے پکارے جاتے تھے۔ رفتہ رفتہ تمام پیروان بدھ کو "شمنی" کہنے لگے۔ اسی شمنی کو عربوں نے "سمنی " بنا لیا اور وسط ایشیا کے باشندوں "شامانی"۔ چنانچہ زکریا رازی، البیرونی، اور ابن الندیم وغیرہم نے بدھ مذہب کا ذکرسمنیہ ہی کے نام سے کیا ہے۔ البیرونی بدھ مذہب کی عالمگیر اشاعت کی تاریخ کی بھی خبر رکھتا تھا۔ چنانچہ کتاب الہند کی پہلی فصل میں اس طرف اشارات کیے ہیں۔ چنگیز خاں کی نسبت یہ تصریح ملتی ہے کہ وہ شامانی مذہب کا پیرو تھا۔ یعنی بدھ مذہب کا۔ چونکہ شامانی اور بدھ مذہب کا ترادف واضح نہیں ہوا تھا اس لیے انیسویں صدی کے بعض یورپی مؤرخوں کو طرح طرح کی غلط فہمیاں ہوئیں اور وہ اس کا صحیح مفہوم متعین نہ کرسکے۔ یہ غلط فہمی یورپ کے عام اہل قلم میں آج بھی موجود ہے۔ شمالی سائبیریا اور چینی ترکستان کے ہم سایہ علاوں کے تورانی قبائل اپنے مذہبی پیشواؤں کو (جو تبت کے لاماؤں کی طرح ملکی پیشوائی بھی رکھتے ہیں) شامان کہتے ہیں۔ سوویت روس کی حکومت آج کل ان کی تعلیم وتربیت کا سروسامان کر رہی ہے۔ یہ لوگ بھی بلاشبہ بدھ مذہب کے پیرو ہیں لیکن ان کا بدھ مذہب منگولیوں کے محرف مذہب کی بھی ایک مسخ شدہ صورت ہے اس لیے اصلیت کی بہت کم جھلک باقی رہ گئی ہے اور اسی لیے ان کی مذہبی اصلیت کے بارے میں آج کل کے مصنف حیرانی ظاہر کر رہے ہیں۔ انگریزی میں انہی تورانی قبائل کے مذہب کی نستب شے منزم (Shamanism) کی ترکیب رائج ہوگئی ہے اور جادگری کے اعمال و اثرات کو (Shamanic) اور (Shamanislic) وغیرہ سے تعبیر کرنے لگے ہیں۔ یہ "شمین" بھی وہی "شامانی" ہی کی ایک محرف صورت ہے چونکہ ان قبائل میں جادوگری کا اعتقاد عام ہے اور وہ اپنے شامانوں سے بیماریوں میں جادو کے ٹوٹکے کراتے ہیں اس لیے جادوگری کے لیے یہ لفظ مستعمل ہوگیا ہے۔ ) (اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ ملاحظہ ہو اگلی آیت میں) الفاتحة
6 (تفسیر آیت 3 اور 4: مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔ کا بقیہ حصہ): (2)۔ ہندوستانی تصور : ہندوستان کے تصور الوہیت کی تاریخ متضاد تصوروں کا ایک حیرت انگیز منظر ہے۔ ایک طرف اس کا توحیدی فلسفہ ہے، دوسری طرف اس کا عملی مذہب ہے۔ توحیدی فلسفہ نے استغراق فکر و عمل کے نہایت گہرے اور دقیق مرحلے طے کیے اور معاملہ کو فکری بلندیوں کی ایک ایسی اونچی سطح تک پہنچا دیا جس کی کوئی دوسری مثال ہمیں قدیم قوموں کے مذہبی تصورات میں نہیں ملتی۔ عملی مذہب نے اشراک اور تعدد الہ کی بے روک راہ اختیار کی اور اصنامی تصوروں کو اتنی دور تک پھیلنے دیا کہ ہر پتھر معبود ہوگیا، ہر درخت خدائی کرنے لگا، اور ہر چوکھٹ سجدہ گاہ بن گئی۔ وہ بیک وقت زیادہ سے زیادہ بلندی کی طرف بھی ڑا اور زیادہ سے زیادہ پستی میں بھی گرا۔ اس کے خواص نے اپنے لیے توحید کی جگہ پسند کی اور عوام کے لیے اشراک اور اصنام پرستی کی راہ مناسب سمجھی۔ اوپانی شد کا توحیدی اور وحدۃ الوجودی تصور : رگ وید کے زمزموں میں ہمیں ایک طرف مظاہر قدرت کی پرستش کا ابتدائی تصور بتدریج پھیلتا اور متجسم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف ایک بالاتر اور خالق کل ہستی کا توحیدی تصور بھی آہستہ آہستہ ابھرتا نظر آتا ہے۔ خصوصا دسویں حصے کے زمزموں میں تو اس کی نمود صاف صاف دکھائی دینے لگتی ہے۔ یہ توحیدی تصور کسی بہت پرانے گذشتہ عہد کے بنیادی تصور کا بقیہ تھا یا مظاہر قدرت کی کثرت آرائیوں کا تصور اب خود بکثرت سے وحدت کی طرف ارتقائی قدم اٹھانے لگا تھا؟ اس کا فیصلہ مشکل ہے لیکن بہرحال ایک ایسے قدیم عہد میں بھی جبکہ رگ وید کے تصوروں نے نظم و سخن کا جامہ پہننا شروع کیا تھا توحیدی تصور کی جھلک صاف صاف دیکھی جاسکتی ہے۔ خداؤں کا وہ ہجوم جس کی تعداد تین سو تینتیس یا اسی طرح کی ثلاثی کثرت تک پہنچ گئی تھی بالآخر تین دائروں میں سمٹنے لگا یعنی زمین، فضا، اور آسمان میں (رگ وید حصہ سوم 9۔9) اور پھر اس نے ایک رب الاربابی تصور (Henotheism) کی نوعیت پیدا کرلی (رب الاربابی تصور سے مقصود تصور کی وہ نوعیت ہے جب خیال کیا جاتا ہے کہ بہت سے خداؤں میں ایک خدا سب سے بڑا ہے اور چھوٹے خداؤں کو اس کے ماتحت رہنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ یونانیوں اور رومیوں کا عقیدہ مشتری کی نسبت تھا)۔ پھر یہ رب الاربابی تصور اور زیادہ سمٹنے لگتا ہے اور ایک سب سے بڑی اور سب پر چھائی ہوئی ہستی نمایاں ہونے لگتی ہے۔ یہ ہستی کبھی "درون" میں نظر آتی ہے، کبھی "اندر" میں اور کبھی "اگنی" میں لیکن بالآخر ایک خالق کل ہستی کا تصور پیدا ہوجاتا ہے جو "پرجایتی" (پروردگار عالم) اور "وشواکرمن" (خالق کل) کے نام سے پکاری جانے لگتی ہے اور جو تمام کائنات کی اصل و حقیقت ہے۔ "وہ ایک ہے مگر علم والے اسے مختلف ناموں سے پکارتے ہیں : اگنی، یم، ماتری شوان" (164۔46)۔ "وہ ایک نہ تو آسمان ہے نہ زمین ہے۔ نہ سورج کی روشنی ہے نہ ہوا کا طوفان ہے۔ وہ کائنات کی روح ہے۔ تمام قوتوں کا سرچشمہ۔ ہمیشگی۔ لازوالی۔ وہ کیا ہے؟ وہ شاید رٹ ہے جوہر کے روپ میں۔ ادیتی ہے روحانیت کے بھیس میں۔ وہ بغیر سانس کے سانس لینے والی ہستی" (حصہ دہم۔121۔2)۔ " ہم اسے دیکھ نہیں سکتے۔ ہم اسے پوری طرح بتلا نہیں سکتے" (ایضاً۔121)۔ "وہ ایکم ست" ہے۔ یعنی حقیقت یگانہ۔ الحق۔ یہی وحدت ہے جو کائنات کی تمام کثرت کے اندر دیکھی جاسکتی ہے۔ (رگ وید اور اوپانی شد کے مطالب کے لیے ہم نے حسب ذیل مصادر سے مدد لی ہے دی ویدک ہیمز : (Maxmuller)۔ دی ریلیجن آف دی وید : (Bloomfield)۔ دی رگ وید : (Kaeigi)۔ لیکچرز آن دی رگ وید : (Ghate)۔ دی فلاسفی آف اوپانی شد : (Deussen)۔ دی تھرٹین پرنسپل اوپانی شد : (Hume) یہی مبادیات ہیں جنہوں نے اوپانی شدوں میں توحید وجودی (Pantheism) کے تصور کی نوعیت پیدا کرلی اور پھر ویدانت کے مابعد الطبیعات (Metaphysics) نے انہی بنیادوں پر استغراق فکر و نظر کی بڑی عمارتیں تیار کردیں۔ وحدۃ الوجودی اعتقاد ذات مطلق کے کشفی مشاہدات پر مبنی تھا۔ نظری عقائد کو اس میں دخل نہ تھا۔ اس لیے اصلاً یہاں صفات آرائیوں کی گنجائش ہی نہ تھی اور اگر تھی بھی تو صرف سلبی صفات (Negative Attributes) ہی ابھر سکتی تھیں۔ ایجابی (Positive) صفات کی صورت آرائی نہیں کی جاسکتی تھی۔ یعنی یہ تو کہا جاسکتا تھا کہ وہ ایسا نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ وہ ایسا ہے اور ایسا ہے۔ کیونکہ ایجابی صفات کا جو نقشہ بھی بنایا جائے گا وہ ہمارے ذہن و فکر ہی کا بنایا ہوا نقشہ ہوگا اور ہمارا ذہن و فکر امکان و اضافت کی چار دیواری میں اس طرح مقید ہے کہ مطلق اور غیر محدود حقیقت کا تصور کر ہی نہیں سکتا۔ وہ جب تصور کرے گا تو ناگزیر ہے کہ مطلق کو مشخص بنا کر سامنے لائے، اور جب تشخص آیا تو طلاق باقی نہیں رہا۔ بابا افغانی نے دو مصرعوں کے اندر معاملہ کی پوری تصویر کھینچ دی تھی : مشکل حکایتیست کہ ہر ذرہ عین اوست۔ اما نمی تواں کہ اشارت بہ او کنند۔ یہی وجہ ہے کہ اوپانی شد نے پہلے ذات مطلق (برہمان) کو ذات مشخص (ایشور) کے مرتبہ میں اتارا اور جب اطلاق نے تشخص کا نقاب چہرہ پر ڈال لیا تو پھر اس نقاب چہرہ کی صفتوں کی نقش آرائیاں کی گئیں اور اس طرح وحدۃ الوجودی عقیدہ نے ذات مشخص و متصف (ساگون) کے تصور کا مقام بھی مہیا کردیا۔ (ہمارے صوفیائے کرام نے اسی صورت حال کو یوں تعبیر کیا ہے۔ کہ "احدیت" نے مرتبہ "واحدیت" کی تجلی میں نزول کیا۔ "احدیت" یعنی یگانہ ہونا۔ "واحدیت" یعنی اول ہونا۔ یگانہ ہستی کو ہم اول نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ اول جبھی ہوگا جب دوسرا، تیسرا اور چوتھا بھی ہو اور یگانگی بخت کے مرتبہ میں دوسرے اور تیسرے کی گنجائش ہی نہیں۔ لیکن جب "احدیت" نے "واحدیت" کے مرتبہ میں نزول کیا تو اب "اب ھوالاول" کا مرتبہ ظہور میں آگیا۔ اور جب اول ہوا تو دوسرے، تیسرے اور چوتھے کے تعینات بھی ظہور میں آنے لگے۔ وما املح قوال الشاعر العارف : دریائے کہن چو برزند موجہ نو : مش خوانند وفی الحقیقت دریاست) جب ان صفات کا ہم مطالعہ کرتے ہیں تو بلاشبہ ایک نہایت بلند تصور سامنے آجاتا ہے جس میں سلبی اور ایجابی دونوں طرح کی صفتیں اپنی پوری نموداریاں رکھتی ہیں۔ اس کی ذات یگانہ ہے۔ اس ایک کے لیے دوسرا نہیں۔ وہ بے ہمتا ہے۔ بے مثال ہے۔ ظرف و زمان اور مکان کے قیود سے بالاتر۔ ازلی وابدی۔ ناممکن الادراک۔ واجب الوجود۔ وہی پیدا کرنے والا ہے، وہی حفاظت کرنے والا، اور وہی فنا کردینے والا۔ وہ علۃ العلل اور علت مطلقہ ("اپادنا" اور "نیمتتا کارنا") ہے۔ تمام موجودات اسی سے بنیں، اسی سے قائم رہتی ہیں اور پھر اسی کی طرف لوٹنے والی ہیں۔ وہ نور ہے۔ کمال ہے حسن ہے۔ سر تا سر پاکی ہے۔ سب سے زیادہ طاقتور، سب سے زیادہ رحم و محبت والا، ساری عبادتوں اور عاشقیوں کا مقصود حقیقی ! لیکن ساتھ ہی دوسری طرف یہ حققیت بھی ہمیں صاف صاف دکھائی دیتی ہے کہ توحیدی تصور کی یہ بلندی بھی اشراک اور تعدد کی آمیزش سے خالی نہیں رہی، اور توحید فی الذات کے ساتھ توحید فی الصفات کا بے میل عقیدہ جلوہ گر نہ ہوسکا۔ زمانہ حال کے ایک قابل ہندو مصنف کے لفظوں میں دراصل اشراکی اور تعددی تصور (Polytheistic) ہندوستانی دل و دماغ میں اس درجہ جڑ پکڑ چکا تھا کہ اب اسے یک قلم اکھاڑ کے پھینک دینا آسان نہ تھا۔ اس لیے ایک یگانہ ہستی کی گلوہ طرازی کے بعد بھی دوسرے خدا نابود نہیں ہوگئے۔ البتہ اس یگانہ ہستی کا قبضہ اقتدار ان سب پر چھا گیا اور سب اس کی ماتحتی میں آگئے۔ (پروفیسراس۔ رادھا کرشناں : انڈین فلاسفی جلد اول صفحہ 144۔ طبع ثانی) اب اس طرح کی تصریحات بھی ہمیں ملنے لگتی ہیں کہ بغیر اس بالا تر ہستی (برہماں) کے "اگنی" دیبی کچھ نہیں کرسکتی " یہ اسی (برہماں) کا خوف ہے جو تمام دیوتاؤں سے ان کے فرائض منصبی انجام دلاتا ہے" (یتترا اوپانی شد) راجہ اشواپتی نے جب پانچ گھر والوں سے پوچھا۔ " تم اپنے دھیان میں کسی کی پرستش کرتے ہو؟ تو ان میں سے ہر ایک نے ایک ایک دیوتا کا نام لیا۔ اس پر اشوایتی نے کہا تم میں سے ہر نے حقیقت کے صرف ایک ہی حصہ کی پرستش کی حالانکہ وہ سب کے ملنے سے شکل پذیر ہوتی ہے۔ "اندر" اس کا سر ہے۔ "سوریہ" (سورج) اس کی آنکھیں ہیں۔ "وایو" سانس ہے۔ "آکاش" (ایتھر) جسم ہے۔ "دھرتی" (زمین) اس کا پاؤں ہے" (ایضاً) (اگر اوپانی شد کی اشراکی لچک کے دوسرے صریح شواہد موجود نہ ہوتے تو اس طرح کی تصریحات بآسانی مجازات پر محمول کی جاسکتی تھیں۔ یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اوپانی شد ایک سو آٹھ ہیں اور مختلف عہدوں میں مرتب ہوئے ہیں۔ ہر اوپانی شد اپنے عہد کے تدریجی تصورات و مباحث کے اثرات پیش کرتا ہے اور یہاں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ان نتائج پر مبنی ہے جو مجموعی حیثیت سے نکالے گئے ہیں) لیکن پھر ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ جب حقیقت کی قیومیت اور احاطہ پر زور دیا جاتا ہے تو تمام موجودات کے ساتھ دیوتاؤں کی ہستی بھی غائب ہوجاتی ہے کیونکہ تمام موجودات اسی پر موقوف ہیں۔ وہ کسی پر موقوف نہیں۔ ج"جس طرح رگھ کے پہیے کی تمام شاخیں ایک دائرہ کے اندر اپنا وجود رکھتی ہیں اسی طرح تمام چیزیں، تمام دیوتا، تمام دنیائیں اور تمام آلات اسی ایک وجود کے اندر ہیں" (برہادریناک اوپانی شد باب 2۔5)۔ یہاں وہ درخت موجود ہے جس کی جڑ اوپر کی طرف چلی گئی ہے اور شاخین نیچے کی طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ برہماں ہے لافانی۔ تمام کائنات اس میں ہے۔ کوئی اس سے باہر نہیں " (تیتترا۔1۔10) یہاں ہم مصنف موصوف کے الفاظ پھر مستعار لیتے ہیں " یہ در اصل ایک سمجھوتا تھا جو چند خاص دماغوں کے فلسفیانہ تصور نے انسانی بھیڑ کے وہم پرستانہ ولولوں کے ساتھ کرلیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خواص اور عوام کی فکر موافقت کی ایک آب و ہوا پیدا ہوگئی اور وہ برابر قائم رہی"۔ (ویدانت پاری جات سورابھ جلد سوم صفحہ 25۔ اس کا انگریزی ترجمہ مترجمہ ڈاکٹر رومابوس، رائل ایشیاٹک سوسائٹی بنگال نے حال میں شائع کیا ہے) آگے چل کر ویدانت کے فلسفہ نے بڑی وسعتیں اور گہرائیاں پیدا کیں لیکن خواص کے توحیدی تصور میں عوام کے اشراکی تصور سے مفاہمت کا جو میلان پیدا ہوگیا تھا وہ متزلزل نہ ہوسکا۔ بلکہ اور زیادہ مضبوط اور وسیع ہوتا گیا۔ یہ بات عام طور پر تسلیم کرلی گئی کہ سالک جب عرفان حقیقت کی منزلیں طے کرلیتا ہے تو پھر ماسوی کی تمام ہستیاں معدوم ہوجاتی ہیں اور ماسوی میں دیوتاؤں کی ہستیاں بھی داخل ہیں۔ گویا دیوتاؤں کی ہستیاں مظاہرہ وجود کی ابتدائی تعینات ہوئیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بنیاد بھی برابر قائم رکھی گئی کہ جب تک اس آخری مقام عرفان تک رسائی حاصل نہ ہوجائے دیوتاؤں کی پرستش کے بغیر چارہ نہیں اور ان کی پرستش کا جو نظام قائم ہوگیا ہے اسے چھیڑنا نہیں چاہیے۔ اس طرح گویا ایک طرح کے توحیدی، اشراکی تصور (Monotheistic-Polytheism) کا مخلوط مزاج پیدا ہوگیا جو بیک وقت فکر و نظر کا توحیدی تقاضا بھی پورا کرنا چاہتا تھا اور ساتھ ہی اصنامی عقائد کا نظام عمل بھی سنبھالے رکھنا چاہتا تھا۔ ویدانت کے بعض مذہبوں میں تو یہ مخلوط نوعیت بنیادی تصوروں تک سرایت کرگئی۔ مثلاً نیمبارک اور اس کا شاگرد سری نواس برہم سوتر کی شرح کرتے ہوئے ہمیں بتلاتے ہیں کہ "اگرچہ برہام یا کرشن کی طرح کوئی نہیں مگر اس سے ظہور میں آئی ہوئی دوسری قوتیں بھی ہیں جو اس کے ساتھ اپنی نمود رکھتی ہیں اسی طرح کی کارفرمائی میں شریک ہیں۔ چنانچہ کرشن کے بائیں طرف رادھا ہے۔ یہ بخشش و نوال کی ہستی ہے۔ تمام نتائج و ثمرات بخشنے والی۔ ہمیں چہایے کہ برہما کے ساتھ رادھا کی بھی پرستش کریں۔ اس موقع پر یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ فطرت کائنات کے جن قوائے مدبرہ کو سامی تصور نے "ملاک : اور "ملائکہ" سے تعبیر کیا تھا، اسی کو آریائی تصور نے "ویو" اور "یزتا" سے تعبیر کیا۔ یونانیوں کا ج"تھیوس" رومیوں کا ڈے یوس (Deus) پارسیوں کا "یزتا" (یزداں) سب کے اندر وہی ایک بنیادی مادہ اور وہی ایک بنیادی تصور کرم کرتا رہا۔ سنسکرت میں "ویو" ایک لچکدار لفظ ہے جو متعدد معنوں میں مستعمل ہوا ہے لیکن جب مافوق الفطرت ہستیوں کے لیے بولا جاتا ہے تو اس کے معنی ایک ایسی غیر مادی اور روحانی ہستی کے ہوجاتے ہیں جو اپنے وجود میں روشن اور درخشاں ہو۔ سامی ادیان نے ان روحانی ہستیوں کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں دیکھی کہ وہ خدا کی پیدا کی ہوئی کارکن ہستیاں ہیں َ لیکن آریائی تصور نے ان میں تدبیر و تصرف کی بالاستقلال طاقتیں دیکھیں اور جب توحیدی تصوری کے قیام سے وہ استقلال باقی نہیں رہا تو توسل اور تزلف کا درمیانی مقام انہوں نے پیدا کرلیا۔ یعنی اگرچہ وہ خود خدا نہیں ہیں لیکن خدا تک پہنچنے کے لیے ان کی پرستش ضروری ہوئی۔ ایک پرستار کی پرستش اگرچہ ہوگی معبود حقیقی کے لیے مگر ہوگی انہی کے آستانوں پر۔ ہم براہ راست خدا کے آستانے تک پہنچ نہیں سکتے ہمیں پہلے دیوتاؤں کے آستانوں کا وسیلہ پکڑنا چاہیے۔ در اصل یہی توسل و تزلف کا عقیدہ جس نے ہر جگہ توحیدی اعتقاد و عمل کی تکمیل میں خلل ڈالا۔ ورنہ ایک خدا کی یگانگی اور بالاتری سے تو کسی کو بھی انکار نہ تھا۔ عرب جاہلیت کے بت پرستوں کا بھی یہی عقیدہ قرآن نے نقل کیا ہے کہ (ما نعبدھم الا لقربونا الی اللہ زلفی) (39۔3) بہرحال شرک فی الصفات اور شرک فی العبادت کا یہی وہ عنصری مادہ تھا جس نے ہندوستان کے عملی مذہب کو سرتاسر اشراک اور اصنام پرستی کے عقائد سے معمور کردیا اور بالآخر یہ صورت حال اس درجہ گہری اور عام ہوگئی کہ جب تک ایک سراغ رساں جستجو اور تفحص کی دور دراز مسافتیں طے نہ کرلے ہندو عقیدہ کے توحیدی تصور کا کوئی نشان نہیں پاسکتا۔ توحیدی تصور نے یہاں ایک ایسے رازز کی نوعیت پیدا کرلی جس تک صرف خاص خاص عارفوں ہی کی رسائی ہوسکتی ہے۔ ہم اس کا سراغ پہاڑوں کے غاروں میں پا سکتے ہیں لیکن کوچہ و بازار میں نہیں پاسکتے۔ گیارھویں صدی مسیحی میں جب ابوریحان البیرونی ہندوستان کے علوم و عقائد کے سراغ میں نکلا تھا تو یہ متضاد صورت حال دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ سولہویں صدی میں ویسی ہی حیرانی ابوالفضل کو پیش آئی، اور پھر اٹھارہویں صدی میں سر ولیم جونس کو۔ بہترین معذرت جو اس صورت حال کی کی جاسکتی ہے وہ وہی ہے جس کا اشارہ گیتا کے شہرۂ آفاق ترانوں میں ہمیں ملتا ہے اور جس نے البیرونی کے فلسفیانہ دماغ کو بھی اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا۔ یعنی یہاں پہلے دن سے عقائد و عمل کی مختلف راہیں مصلحتاً کھلی رکھی گئیں تاکہ خواص اور عوام دونوں کی فہم و استعداد کی رعایت ملحوظ رہے۔ توحیدی تصور خواص کے لیے تھا کیونکہ وہی اس بلند مقام کے متحمل ہوسکتے تھے۔ اصنامی تصور عوام کے لیے تھا کیونکہ ان کی طفلانہ عقول کے لیے یہی راہ موزوں تھی۔ اور پھر چونکہ خواص بھی جمعیت و معاشرت کے عام ضبط و نظم سے باہر نہیں رہ سکتے، اس لیے عملی زندگی میں انہیں بھی اصنام پرستی کے تقاضے پورے کرنے ہی پڑتے تھے۔ اور اس طرح ہندو زندگی کی بیرونی وضع و قطع بلا استثنا اشراک اور اصنام پرستی ہی کی رہتی آئی۔ البیرونی نے حکمائے یونان کے اقوال نقل کر کے دکھایا ہے کہ اس بارے میں ہندوستان اور یونان دونوں کا حال ایک ہی طرح کا رہا۔ پھر گیتا کا یہ قول نقل کیا ہے کہ "بہت سے لوگ مجھ تک (یعنی خدا تک) اس طرح پہنچنا چاہتے ہیں کہ میرے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں لیکن میں ان کی مرادیں بھی پوری کردیتا ہوں۔ کیونکہ میں ان سے اور ان کی عبادت سے بے نیاز ہوں" (البیرونی نے کتاب الہند ص 59 میں بعض سنسکرت کتابوں سے بتوں کے بنانے کے احکام و قواعد نقل کیے ہیں َ اس کے بعد لکھتا ہے وکان الفرض فی حکایۃ ھذا الھذیان ان تعرف الصورۃ من صنمہا اذا شوھد، ولیتحقق ما قلنا من ان ھذہ الصنام للعوام الذین سفلت مراتبہم وقصرت معارفہم، فما عمل صنم قط باسلم من علا المادۃ فضلا عن اللہ تعالیٰ ولیعرف کیف بعید السف بالتمویھات، وکذلک قیل فی کتاب گیتا ان کثیرا من الناس یتقربون می مباغیہم الی بغیری، یتوسلون بالصدقات والتسیح والصلوۃ لسوای فاقویہم علیہا، واوفقہم لہا، واوصلہم الی ارادتہم لا استغنائی عنہم۔ آج کل کے تمام ہندو اہل نظر جو ہندو عقائد و تصورات کی فلسفیانہ تعبیر کرنی چاہتے ہیں عموما یہی توجیہ پیش کرتے ہیں جو الیبرونی نے پیش کی تھی۔ ابوالفضل اور دارا شکوہ نے بھی یہی خیال ظاہر کیا ہے)۔ بے محل نہ ہوگا اگر اس موقع پر زمانہ حال کے ایک ہندو مصنف کی رائے پر بھی نظر ڈال لی جائے۔ گوتم بدھ کے ظہور سے پہلے ہندو مذہب کے تصور الوہیت نے جو عام و شکل و صورت پیدا کرلی تھی اس پر بحث کرتے ہوئے یہ قابل مصنف لکھتا ہے : "گوتم بدھ کے عہد میں جو مذہب ملک پر چھایا ہوا تھا اس کے نمایاں خط و خال یہ تھے کہ لین دین کا ایک سودا تھا جو خدا اور انسانوں کے درمیان ٹھہر گیا تھا۔ جب کہ ایک طرف اوپانی شد کا برہماں تھا جو ذات الوہیت کا ایک اعلی اور شائستہ تصور پیش کرتا تھا تو دوسری طرف ان گنت خداؤں کا ہجوم تھا جن کے لیے کوئی حد بندی نہیں ٹھہرائی جاسکتی تھی۔ آسمان کے سیارے، مادہ کے عناصر، زمین کے درخت، جنگل کے حیوان، پہاڑوں کی چٹانیں، دریاؤں کی جدولیں، غرض کہ موجودات خلقت کی کوئی قسم ایسی نہ تھی جو خدائی حکومت میں شریک نہ کرلی گئی ہو۔ گویا ایک بے لگام اور خود رو تخیل کو پروانہ مل گیا تھا کہ دنیا کی جتنی چیزوں خدائی مسند پر بٹھا سکتا ہے بے روک ٹوک بٹھاتا رہے۔ پھر جیسے خداؤں کی یہ بے شمار بھیڑیں بھی اس کے ذوق خدا سازیکے لیے کافی نہ ہوئی ہوں۔ طرح طرح کے عفریتوں اور عجیب الخلقت جسموں کی متخیلہ صورتوں کا بھی ان پر اضافہ ہوتا رہا۔ اس میں شبہ نہیں کہ اوپانی شدوں نے فکر و نظر کی دنیا میں ان متخیلہ صورتوں کا بھی ان پر اضافہ ہوتا رہا۔ اس میں شبہ نہیں کہ اوپانی شدوں نے فکر و نظر کی دنیا میں ان خداؤں کی سلطانی برہم کردی تھی۔ لیکن عمل کی زندگی میں انہیں نہیں چھیڑا گیا۔ وہ بدستور اپنی خدائی مسندوں پر جمے رہے" (پروفیسراس۔ رادھا کرشناں۔ انڈین فلاسفی جلد اول صفحہ 453۔ طبع ثانی) شمنی مذہب اور اس کے تصورات : قدیم برہمنی مذہب کے بعدشمنی مذہب (یعنی بدھ مذہب) کا ظہور ہوا۔ اسلام کے ظہور سے پہلے ہندوستان کا عام مذہب یہی تھا۔ شمنی مذہب کی اعتقادی مبادیات کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ انیسویں صدی کے مستشرقوں کے ایک گروہ نے اسے اوپانی شدوں کی تعلیم ہی کا ایک عملی استغراق قرار دیا تھا اور خیال کیا تھا کہ "نروان" میں جذب و انفصال کی روحانی اصل پوشیدہ ہے۔ یعنی جس سرچشمہ سے انسانی ہستی نکلی ہے۔ پھر اسی میں واصل ہوجانا "نروان" یعنی نجات کامل ہے۔ لیکن اب عام طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے کہ شمنی مذہب خدا اور روح کی ہستی کا کوئی تصور نہیں رکھتا۔ اس کا دائرہ اعتقاد و عمل صرف زندگی کی سعادت اور نجات کے مسئلہ میں محدود ہے۔ وہ صرف پر کرتی یعنی مادہ ازلی کا حوالہ دیتا ہے جسے کائناتی طبیعت حرکت میں لاتی ہے۔ "نرون" سے مقصود یہ ہے کہ ہستی کی انانیت فنا ہوجائے اور زندگی کے چکر سے نجات مل جائے۔ اس میں شک نہیں کہ جہاں تک مابعد زمانے کے شمنی مکروں کی تصریحات کا تعلق ہے یہی تفسیر صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اگر ان کا ایک گروہ لا ادریت (Agnosticism) تک پہنچ کر رک گیا ہے تو دوسرا گروہ اس سے بھی آگے نکل گیا ہے اور مدعیانہ انکار کی راہ اختیار کی ہے۔ موکشا آکر گپتا نے "ترک بھاشا" میں ان تمام دلائل کا رد کیا۔ (یہ قدیم کتاب جس کا صرف تبتی نسخہ دنیا کے علم میں آیا تھا اب اصل سنسکرت میں نکل آئی ہے اور گائیکواڑ اور ینٹیل سیریز کے ادارے نے حال میں شائع کردی ہے۔ میسور کا مشرقی کتب خانہ بھی اس کا ایک دوسرا نسخہ اشاعت کے لیے مرتب کررہا ہے۔) جونیائے اور ویشییسک طریق نظر کے نظار خدا کی ہستی کے اثبات میں پیش کرتے تھے ("نیائے" یعنی منطق "ویشیسک" طریق نظر سے مقصود منطقی نقد و تحلیل کا ایک خاص مسلک ہے، گوتم بدھ کی تعلیم میں "اشٹانگ مارگ" یعنی آٹھ باتوں کا طریقہ ایک بنیادی اصل ہے۔ آٹھ باتوں سے مقصود علم و عمل کا تزکیہ و طہارت ہے۔ علم حق، رحم و شفقت، قربابنی، ہوا و ہوس سے آزادی خودی کو مٹانا وغیرہ)۔ تاہم یہ بات بھی قطعی طور پر نہیں کہی جاسکتی کہ خود گوتم بدھ کا سکوت و توقف بھی انکار ہی پر مبنی تھا۔ اس کے سکوتی تحفظات متعدد مسئلوں میں ثابت ہیں اور اس کے متعدد محمل قرار دیے جاسکتے ہیں۔ اگر ان تمام اقوال پر جو براہ راست اس کی طرف منسوب ہیں غور کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا مسلک نفی ذات کا نہ تھا۔ نفی صفات کا تھا۔ اور نفی صفات کا مقام ایسا ہے کہ انسانی فکر و زبان کی تمام تعبیرات معطل ہوجاتی ہیں اور سکوت کے سوا چارہ کار باقی نہیں رہتا۔ علاوہ بریں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس کے ظہور کے وقت اصنامی خدا پرستی کے مفاسد بہت گہرے ہوچکے تھے اور اصنامی خدا پرستی بجائے خود راہ حقیقت کی سب سے بڑی روک بن گئی تھی۔ اس نے اس روک سے راستہ صاف کردینا چاہا اور تمام توجہ زندگی کی عملی سعادت کے مسئلہ پر مرکوز کردی۔ اس صورت حال کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ برہمنی خدا پرستی کے عقائد سے انکار کیا جائے اور اس پر زور دیا جائے کہ نجات کی راہ ان معبودوں کی پرستش میں نہیں ہے بلکہ علم حق اور عمل حق میں ہے۔ یعنی "اشٹانگ مارگ" میں ہے۔ آگے چل کر اس اصنافی انکار نے مطلق انکار کی شکل پیدا کرلی اور پھر برہمنی مذہب کی مخالفت کے غلو نے معاملہ کو دور تک پہنچا دیا۔ (میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرا ذاتی استنباط ہے اور مجھے حق نہیں کہ اپنی رائے کو وثوق کے ساتھ ان محققوں کے مقابلہ میں پیش کروں جنہوں نے اس موضوع کے مطالعہ میں زندگیاں بسر کردی ہیں۔ تاہم میں مجبور ہوں کہ اپنی محدود و معلومات کی روشنی میں جن نتائج تک پہنچا ہوں ان سے دست بردار نہ ہوں۔ یورپ کے محققوں نے بدھ مذہب کے مصادر کی جستجو و فراہمی میں بڑی کدوکاوش کی ہے اور پالی زبان کے تمام اہم مصادر فرنچ یا انگریزی میں منتقل کرلیے ہیں۔ میں نے حتی الامکان اس تمام مواد کے مطالعہ کی کوشش کی اور بالآخر اسی نتیجہ تک پہنچا) بہرحال خود گوتم بدھ اور اس کی تعلیم کے شارحوں کی تصریحات اس بارے میں کچھ ہی رہی ہوں مگر یہ واقعہ ہے کہ اس کے پیرووں نے خدا کے تصور کی خالی مسند بہت جلد بھر دی۔ انہوں نے اس مسند کو خالی دیکھا تو خود گوتم بدھ کو وہاں لا کر بٹھا دیا اور پھر اس نئے معبود کی پرستش اس جوش و خروش کے ساتھ شروع کردی کہ آدھی سے زیادہ دنیا اس کے بتوں سے معمور ہوگئی ! آوارہ غربت نہ تواں دید صنم را۔ وقتست کہ دگر بتکدہ سازند حرم را ! گوتم بدھ کی وفات پر ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا تھا کہ پیروان بدھ کی اکثریت نے اس کی شخصیت کو عام انسانی سطح سے بالاتر دیکھنا شروع کردیا تھا اور اس کے آثار و تبرکات کی پرستش کا میلان بڑھنے لگا تھا۔ اس کی وفات کے کچھ عرصہ بعد جب مذہب کی پہلی مجلس اعظم راج گیری میں منعقد ہوئی اور اس کے شاگرد خاص آنند نے اس کی آخری وصایا بیان کیں تو بیان کیا جاتا ہے کہ لوگ اس کی روایت پر مطمئن نہ ہوئے اور اس کے مخالف ہوگئے کیونکہ اس کی روایتوں میں انہیں وہ ماورائے انسانیت عظمت نظر نہیں آئی جسے اب ان کی طبیعت ڈھونڈنے لگی تھی۔ تقریباً سو برس بعد جب دوسری مجلس ویسالی (مظفر پورحالی) میں منعقد ہوئی تو اب مذہب کی بنیادی سادگی اپنی جگہ کھوچکی تھی اور اس کی جگہ نئے نئے تصوروں اور مخلوط عقیدوں نے لے لی تھی۔ اب مسیحی مذہب کے اقانیم ثلاثہ کی طرح جو پانچ سو برس بعد ظہور میں آنے والا تھا ایک شمنی اقانیم کا عقیدہ بدھ کی شخصیت کے گرد ہالے کی طرح چمکنے لگا اور عام انسانی سطح سے وہ ماورا تسلیم کرلی گئی۔ یعنی بدھ کی ایک شخصیت کے اندر تین وجودوں کی نمود ہوگئی۔ اس کی تلعیم کی شخصیت، اس کے دنیاوی وجود کی شخصیت اور اس کے حقیقی وجود کی شخصیت۔ یہ آخری شخصیت لوگ (بہشت) میں رہتی ہے۔ دنیا میں جب کبھی بدھ کا ظہور ہوتا ہے تو یہ اس حقیقی وجود کا ایک پرتو ہوتا ہے۔ نجات پانے کے معنی یہ ہوئے کہ آدمی حقیقی بدھ کے اسی ماورائے عالم مسکن میں پہنچ جائے۔ پہلی صدی مسیحی میں بعہد کوشان جب چوتھی مجلس برشاور (پشاور حالی) میں منعقد ہوئی تو اب بنیادی مذہب کی جگہ ایک طرح کا کلیسائی مذہب قائم ہوچکا تھا اور بدھ کے اشٹانگ مارگ (طریق ثمانیہ) کی عملی روح طرح طرح کی رسوم پرستیوں اور قواعد آرائیوں میں معدوم ہوچکی تھی۔ بالآخر پیروان بدھ دو بڑے فرقوں میں بٹ گئے۔ "ہینیان" اور "مہایان" پہلا فرقہ بدھ کی شخصیت میں ایک رہنما اور معلم کی انسانی شخصیت دیکھنا چاہتا تاھ لیکن دوسرے نے اسے پوری طرح ماورائے انسانیت کی ربانی سطح پر متمکن کردیا تھا اور پیروان بدھ کی عام راہ وہی ہوگئی تھی۔ افغانستان، بامیان، وسط ایشیا، چین، کوریا، جاپان اور تبت سب میں مہایان مذہب ہی کی تبلیغ و اشاعت ہوئی۔ چینی سیاح فاہین جب چوتھی صدی مسیح میں ہندوستان آیا تھا تو اس نے پورب کے ہینیان شمنیوں سے مباحثہ کیا تھا اور مہایان طریقہ کی صداقت کے دلائل پیش کیے تھے۔ موجودہ زمانے میں سیلون کے سوا جہاں ہینیان طریقے کا ایک محرف بقیہ "تھیراواد" کے نام سے پایا جاتا ہے تمام پیروان بدھ کا مذہب مہایان ہے۔ موجودہ زمانے کے بعض محققین شمنیہ کا خیال ہے کہ اشوک کے زمانہ تک بدھ مذہب میں بت پرستی کا عام رواج نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ اس عہد تک کے جو بدھ آثار ملتے ہیں ان میں بدھ کی شخصیت کسی بت کے ذریعہ نہیں بلکہ صرف ایک کنول کے پھول یا ایک خالی کرسی کی شکل میں دکھائی گئی ہے۔ پھر کنول اور خالی کرسی کی جگہ دو قدم نمودار ہونے لگے اور پھر بتدریج قدموں کی جگہ خود بدھ کا پورا مجسمہ نمودار ہوگیا۔ اگر یہ استنباط صحیح تسلیم کرلیا جائے جب بھی ماننا پڑے گا کہ اشوک کے زمانے کے بعد سے بدھ کے بتوں کی عام پرستش جاری ہوگئی تھی۔ اشوک کا عہد 250 قبل از مسیح تھا۔ (3)۔ ایرانی مجوسی تصور : زردشت کے ظہور سے پہلے مادا (میڈیا) اور پارس میں ایک قدیم ایریانی طریق پرستش رائج تھا۔ ("ایرایان" وہی لفظ ہے جو ہندوستان میں "آریا" ہوگیا۔ اوستا میں چوبیس ملکوں کی پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے جس میں سب سے پہلا اور سب سے بہتر "ایریاناویچ" ہے اور غالباً اس سے شمارلی ایران مقصود ہے (ویندیداد۔ فرگرداول۔ فقرہ 2) ہر مزدیشت کے فقرہ 21 میں "ایریاناویچ" کا ذکر کیا ہے اور اس پر درود بھیجا ہے۔ "ویچ" جرمن مستشرق اسپیگل کی قراءت ہے۔ آنک تیل نے اسے "ویگو" پڑھا تھا۔ "ویچ" یا "ویگو" کے معنی پہلو میں مبارک کے ہیں۔ یعنی مبارک ایریانی کی سرزمین)۔ ہندوستان کے ویدوں میں دیوتاؤں کی پرستش اور قربانیوں کے اعمال و رسوم جس طرح کے پائے جاتے ہیں قریب قریب ویسے ہی عقائد و رسوم پارس اور ماد میں بھی پھیلے ہوئے تھے۔ دیوتائی طاقتوں کو ان کے دو بڑے مظہروں میں تقسیم کردیا تھا۔ ایک طاقت روشن ہستیوں کی تھی جو انسان کو زندگی کی تمام خوشیاں بخشتی تھی۔ دوسری برائی کے تاریک عفریتوں کی تھی جو ہر طرح کی مصیبتوں اور ہلاکتوں کا سرچشمہ تھی۔ آگ کی پرستش کے لیے قربان گاہیں بنائی جاتی تھیں اور ان کے پجاریوں کو "موگوش" کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اوستا کے گاتھا میں انہٰں "کارپان" اور "کاوی" کے نام سے بھی پکارا گیا ہے۔ آگے چل کر اسی "موگوش" نے آتش پرستی کا مفہوم پیدا کرلیا اور غیرقو میں ایرانیوں کو "مگ" اور "مگوش" کے نام سے پکارنے لگیں۔ عربوں نے اسی "موگوش" کا 'مجوس" کردیا۔ مزدیسنا : زردشت کا جب ظہور ہوا تو اس نے ایرانیوں کو ان قدیم عقائد سے نجات دلائی اور "مزدیسنا" کی تعلیم دی۔ یعنی دیوتاؤں کی جگہ ایک خدائے واحد "اہورا مزد" کی پرستش کی۔ یہ اہورا مزدیگانہ ہے، بے ہمتا ہے، بے مثال ہے، نور ہے، پاکی ہے، سرتاسر حکمت اور خیر ہے، اور تمام کائنات کا خالق ہے۔ اس نے انسان کے لیے دو عالم بنائے ایک عالم دنیوی زندگی کا ہے دوسرا مرنے کے بعد کی زندگی کا۔ مرنے کے بعد جسم فنا ہوجاتا ہے مگر روح باقی رہتی ہے اور اپنے اعمال کے مطابق جزا پاتی ہے۔ دیوتاؤں کی جگہ اس نے "امش سپدن" اور "یزتا" کا تصور پیدا کیا۔ یعنی فرشتوں کا، یہ فرشتے اہورا مزد کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ برائی اور تاریکی کی طاقتوں کی جگہ" انگرا مے نیوش" کی ہستی کی خبر دی۔ یعنی شیطان کی۔ یہی "انگرامے نیوش" پازند کی زبان میں "اہرمن" ہوگیا۔ زردشت کی تعلیم میں ہندوستانی آریاؤں کے ویدی عقائد کا رد صاف صاف نمایاں ہے۔ ایک ہی نام ایران اور ہندوستان دونوں جگہ ابھرتا ہے اور متضاد معنی پیدا کرلیتا ہے۔ اوِستا کا "اہورا" سام اور یجروید میں "اسورا" ہے اور اگرچہ رگ وید میں اس کا اطلاق اچھے معنوں پر ہوا تھا مگر اب وہ برائی کی شیطانی روح بن گیا ہے۔ ویدوں کا "اندرا" اوستا کا "انگرا" ہوگیا۔ ویدوں میں وہ آسمان کا خدا تھا۔ اوستا میں زمین کا شیطان ہے۔ ہندوستان اور یورپ میں "دیو" اور "ڈے یوس" اور "تھیوس" خدا کے لیے بولا گیا ہے لیکن ایران میں "دیو" کے معنی عفریتوں کے ہوگئے۔ گویا دونوں عقیدے ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔ ایک کا خدا دوسرے کا شیطان ہوجاتا تھا اور دوسرے کا شیطان پہلے کے لیے خدا کا کام دیتا تھا۔ اسی طرح ہندوستان میں "یم" موت کی طاقت ہے۔ اوستا کی روایتوں میں "یم" زندگی اور انسانیت کی سب سے بڑی نمود ہوئی اور پھر یہی "جم" "جم" ہو کر جمشید ہوگیا۔ فسانہا کہ ببازیچہ روزگار سرود کنوں بہ مسند جمشید و تاج کے بستند لیکن معلوم ہوتا ہے کہ چند صدیوں کے بعد ایران کے قدیم تصورات اور بیرونی اثرات پھر غالب آگئے اور ساسانی عہد میں جب "مزدیسنا" کی تعلیم کی ازسر نو تدوین ہوئی تو یہ قدیم مجوسی، یونانی اور زردشتی عقائد کا ایک مخلوط مرکب تھا اور اس کا بیرونی رنگ و روغن تو تمام تر مجوسی تصور ہی نے فراہم کیا تھا اسلام کا جب ظہور ہوا تو یہی مخلوط تصور ایران کا قومی مذہبی تصور تھا۔ مغربی ہند کے پارسی مہاجر یہی تصور اپنے ساتھ ہندوستان لائے اور پھر یہاں کے مقامی اثرات کی ایک تہہ اس پر اور چڑھ گئی۔ مجوسی تصور کی بنیاد ثنویت (Dualism) کے عقیدہ پر تھی۔ یعنی خیر اور شر کی دو الگ الگ قوتیں ہیں۔ اہورا مزد جو کچھ کرتا ہے خیر اور روشنی ہے۔ انگرامے نیوش یعنی اہرمن جو کچھ کرتا ہے شر اور تاریکی ہے۔ عبادت کی بنیاد سورج اور آگ کی پرستش پر رکھی گئی کہ روشنی یزدانی صفات کی سب سے بڑی مظہر ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ مجوسی تصور نے خیر اور شر کی گتھی یوں سلجھانی چاہی کہ کارخانہ ہستی کی سربراہی دو متقابل اور متعارض قوتوں میں تقسیم کردی۔ (4)۔ یہودی تصور : یہودی تصور ابتدا میں ایک محدود نسلی تصور تھا۔ یعنی کتاب پیدائش کا یہودا خاندان اسرائیل کے نسلی خدا کی حیثیت سے نمایاں ہوا تھا۔ لیکن پھر یہ تصور بتدریج وسیع ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ یشعیا دوم کے صحیفہ میں تمام قوموں کا خدا اور تمام قوموں کا ہیکل نمایاں ہوگیا۔ تاہم اسرائیلی خدا کا نسلی اختصاص کسی نہ کسی شکل میں برابر کام کرتا ہی رہا اور ظہور اسلام کے وقت اس کے نمایاں خال و خط نسل اور جغرافیہ ہی کے خال و خط تھے۔ (عہد عتیق میں یشعیا نبی کی طرف جو کتاب منسوب ہے اس کی زبان اور مطالب کا آیت 51 تک ایک خاص انداز ہے اور پھر اس کے بعد بالکل دوسرا ہوجاتا ہے۔ ابتدائی حصہ ایک ایسے شخص کا کلام معلوم ہوتا ہے جو قید بابل سے پہلے تھا۔ لیکن بعد کے قصہ میں قید بابل کے زمانے کے اثرات صاف صاف نمایاں ہیں۔ اس لیے انیسویں صدی کے نقادوں نے اسے دو شخصوں کے کلام میں تقسیم کردیا۔ ایک کو یشعیا اول اور دوسرے کو دوم سے تعبیر کرتے ہیں) تجسم اور تنزیہہ کے اعتبار سے وہ ایک درمیانی درجہ رکھتا تھا اور اس میں غالب عنصر قہر و غضب اور انتقام و تعذیب کا تھا۔ خدا کا بار بار متشکل ہو کر نمودار ہونا، مخاطبات کا تمام تر انسانی اوصاف و جذبات سے آلودہ ہونا، قہر و انتقام کی شدت اور ابتدائی درجہ کا تمثیلی اسلوب، تورات کے صحیفوں کا عام تصور ہے۔ خدا کا انسان سے رشتہ اس نوعیت کا رشتہ ہوا جیسے ایک شوہر کا اپنی بیوی سے ہوتا ہے۔ شوہر نہایت غیور ہوتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کی ساری خطائیں معاف کردے گا لیکن یہ جرم معاف نہیں کرے گا کہ اس کی محبت میں کسی دوسرے مرد کو بھی شریک کرے۔ اسی طرح خاندان اسرائیل کا خدا بھی بہت غیور ہے اس نے اسرائیل کے گھرانے کو اپنی چہیتی بیوی بنایا اور چونکہ چہیتی بیوی بنایا اس لیے خاندان اسرائیل کی بے وفائی اور غیر قوموں سے آشنائی اس پر بہت ہی شاق گزرتی ہے۔ اور ضروری ہے کہ وہ اس جرم کے بدلے سخت سزائیں دے۔ چنانچہ احکام عشرہ (Ten Commandments) میں ایک حکم یہ بھی تھا "تو کسی چیز کی صورت نہ بنائیو اور نہ اس کے آگے جھکیو۔ کیونکہ میں خداوند تیرا خدا رشک کرنے والا ایک بہت ہی غیور خدا ہوں" (خروج۔ 21) شوہر کے رشتہ کی یہ تمثیل جو مصر سے خروج کے بعد متشکل ہونا شروع ہوگئی تھی آخر عہد تک کم و بیش قائم رہی۔ یہودیوں کی ہر گمراہی پر خدا کے غضب کا اظہار ایک غضبناک شوہر کا پرجوش اظہار ہوتا ہے جو اپنی چہیتی بیوی کو اس کی ایک ایک بے وفائی یاد دلا رہا ہو۔ یہ اسلوب تمثیل بظاہر کتنا ہی مؤثر اور شاعرانہ دکھائی دیتا ہو لیکن اس میں شک نہیں کہ خدا کے تصور کے لیے ایک ابتدائی درجہ کا غیر ترقی یافتہ تصور تھا۔ (5)۔ مسیحی تصور : لیکن یشعیا دوم کے زمانے سے اس صورت حال میں تبدیلی شروع ہوئی اور یہودی تصور میں بیک وقت وسعت اور لطافت دونوں طرح کے عناصر نمایاں ہونے لگے۔ گویا اب ایک نئی تصوری فضا کے لیے زمانے کا مزاج تیار ہونے لگا تھا۔ چنانچہ مسیحیت آئی تو رحم و محبت اور عفو و بخشش کا ایک نیا تصور لے کر آئی۔ اب خدا کا تصور نہ تو جابر بادشاہ کی طرح قہر آلود تھا۔ نہ رشک و غیرت میں ڈوبے ہوئے شوہر کی طرح سخت گیر تھا بلکہ باپ کی محبت و شفقت کی مثال نمایاں کرتا تھا اور اس میں شک نہیں کہ یہودی تصور کی شدت و غلظت کے مقابلے میں رحم و محبت کی رقت کا یہ ایک انقلابی تصور تھا۔ انسانی زندگی کے سارے رشتوں میں ماں اور باپ کا رشتہ سب سے بلند تر رشتہ ہے اس میں شوہر کے رشتہ کی طرح جذبوں اور خواہشوں کی غرضوں کو دخل نہیں ہوتا۔ یہ سرتا سر رحم و شفقت اور پرورش و چارہ سازی ہوتی ہے۔ اولاد بار بار قصور کرے گی لیکن ماں کی محبت پھر بھی گردن نہیں موڑے گی اور باپ کی شفقت پھر بھی معافی سے انکار نہیں کرے گی۔ پس اگر خدا کے تصور کے لیے انسانی رشتوں کی مشابہتوں سے کام لیے بغیر چارہ نہ ہو تو بلاشبہ شوہر کی تمثیل کے مقابلہ میں باپ کی تمثیل کہیں زیادہ شائستہ اور ترقی یافتہ تمثیل ہے۔ (اسی لیے ہندو تصور نے ماں کی تشبیہ سے کام لیا کیونکہ ماں کی تشبیہ میں اگرچہ نسائیت آجاتی ہے لیکن تشبیہ باپ سے بھی زیادہ پر اثر ہوجاتی ہے۔ باپ کی شفقت کبھی کبھی جواب دے دے گی لیکن ماں کی محبت کی گہرائیوں کے لیے کوئی اتھاہ نہیں) تجسم اور تنزہ کے لحاظ سے مسیحی تصور کی سطح اصلاً وہی تھی جہاں تک یہودی تصور پہنچ چکا تھا مگر جب مسیحی عقائد کا ردی اصنام پرستی کے تصوروں سے امتزاج ہو تو اقانیم ثلاثہ، کفارہ اور مسیح پرستی کے تصورات چھا گئے اور اسکندریہ کے فلسفہ آمیز اصنامی تصور سراپیز (Serapis) نے مسیحی اصنامی تصور کی شکل اختیار کرلی۔ اب مسیحت کو بت پرستوں کی بت پرستی سے تو انکار تھا لیکن خود اپنی بت پرستی پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ میڈونا کے قدیم بت کی جگہ اب ایک نئی مسیحی میڈونا کا بت تیار ہوگیا۔ یہ خدا کے فرزند کو گود میں لیے ہوئے تھی اور ہر راسخ الاعتقاد مسیحی کی جبین نیاز کا سجدہ طلب کرتی تھی ! غرض کہ قرآن کا جب نزول ہوا تو مسیحی تصور رحم و محبت کی پدری تمثیل کے ساتھ اقانیم ثلاثہ، کفارہ، اور تجسم کا ایک مخلوط اشراکی۔ توحیدی تصور تھا۔ (6)۔ فلاسفہ یونان واسکندریہ کا تصور : ان تصوروں کے علاوہ ایک تصور فلاسفہ یونان کا بھی ہے جو اگرچہ مذاہب کے تصوروں کی طرح اقوام عالم کا تصور نہ ہوسکا تاہم انسان کی فکری نشوونما کی تاریخ میں اس نے بہت بڑا حصہ لیا اور اس لیے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تقریباً پانچ سو برس قبل از مسیح یونان میں توحید کا تصور نشوونما پانے لگا تھا۔ اس کی سب سے بڑی معلم شخصیت سقراط (Socrates) کی حکمت میں نمایاں ہوئی جسے افلاطون (Plato) نے تدوین و انضباط کے جامے سے آراستہ کیا۔ جس طرح ہندوستان میں رگ وید کے دیوبانی تصورات نے بالآخر ایک رب الاربابی تصور کی نوعیت پیدا کرلی تھی اور پھر اسی ربا الاربابی تصور نے بتدریج توحیدی تصور کی طرف قدم بڑھایا تھا ٹھیک اسی طرح یونان میں بھی المپس کے دیوتاؤں کو بالآخر ایک رب الارباب ہستی کے آگے جھکنا پڑا اور پھر یہ رب الاربابی تصور بتدریج کثرت سے وحد کی طرف قدم بڑھانے لگا۔ یونان کے قدیم ترین تصوروں کے معلوم کرنے کا تنہا ذریعہ اس کی پرانی شاعری ہے۔ جب ہم اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو دو عقیدے برابر پس پردہ کام کرتے دکھائی دیتے ہیں : مرنے کے بعد کی زندگی اور ایک سب سے بڑی اور سب پرچھائی ہوئی الوہیت۔ آئیونی (Ionie) فلسفہ نے جو یونانی مذاہب فلسفہ میں سب سے زیادہ پرانا ہے اجرام سماوی کی ان دیکھی روحوں کا اعتراف کیا تھا اور پھر ان روحوں کے اوپر کسی ایسی روح کا سراغ لگانا چاہتا تھا جسے اصل کائنات قرار دیا جاسکے۔ پانچویں صدی قبل از مسیح میں فیثا غورس (Pythagoras) کا ظہور ہوا اور اس نے نئے نئے فکری عنصروں سے فلسفہ کو آشنا کیا۔ فیثا غورث کے سفر ہند کی روایت صحیح ہو یا نہ ہو لیکن اس میں شک نہیں کہ اس کے فلسفیانہ تصوروں میں ہندوستانی طریق فکر کی مشابہتیں پوری طرح نمایاں ہیں۔ تناسخ کا غیر مشتبہ عقیدہ، پانچویں آسمانی عنصر (Quintaessesntia) کا اعتراف، نفس انسانی کی انفرادیت کا تصور، مکاشفاتی طریق ادراک کی جھلک اور سب سے زیادہ یہ کہ ایک "طریق زندگی" کے ضابطہ کا اہتمام، ایسے مبادیات ہیں جو ہمیں اوپانی شد کے دائرہ فکر و نظر سے سے بہت قریب کردیتے ہیں۔ فیثا غورس کے بعد انکسا غورس (Anaxagoras) نے ان مبادیات کو کلیاتی (Abstracts) تصورات کی نوعیت کا جامہ پہنایا اور اس طرح یونانی فلسفے کی وہ بنیاد استوار ہوگئی جس پر آگے چل کر سقراط اور افلاطون اپنی کلیاتی تصورتی کی عمارتیں کھڑی کرنے والے تھے۔ سقراط کی شخصیت میں یونان کے توحیدی اور تنزیہی اعتقاد کی سب سے بڑی نمود ہوئی۔ سقراط سے پہلے جو فلسفی گزرے تھے انہوں نے قومی پرستش گاہوں کے دیوتاؤں سے کوئی تعرض نہیں کیا تھا۔ کیونکہ خود ان کے دل و دماغ بھی ان کے اثرات سے خالی نہیں ہوئے تھے۔ نفوس فلکی کے تصورات کی اگر اصل حقیقت معلوم کی جائے تو اس سے زیادہ نہیں نکلے گی کہ یونان کے کواکبی دیوتاؤں نے علم و نظر کے حلقوں سے روشناس ہونے کے لیے ایک نیا فلسفیانہ نقاب اپنے چہروں پر ڈال لیا تھا اور اب ان کی ہستی صرف عوم کو ہی نہیں بلکہ فلسفیوں کو بھی تسکین دینے کے قابل بناد گئی تھی۔ یہ تقریباً ویسی ہی صورت حال تھی جو ابھی تھوڑی دیر ہوئی ہم ہندوستان کی قدیم تاریخ کے صفحوں پر دیکھ رہے تھے۔ یعنی فکری غور و خوض کے نتائج ایک ایسی لچکدار صورت میں ابھرنے لگے کہ ایک طرف فلسفیانیہ دماغوں کے تقاضوں کا بھی جواب دیا جا سکے، دوسری طرف عوام کے قومی عقائد سے بھی تصادم نہ ہو۔ ہندوستان کی طرح یونان میں بھی خواص اور عوام کے فکر و عمل نے باہم دگر سمجھوتا کرلیا تھا۔ یعنی توحید اور اصنامی عقیدے ساتھ ساتھ چلنے لگے تھے۔ لیکن سقراط کا معنوی علو فکر اس عام سطح سے بہت بلند جا چکا تھا۔ وہ وقت کے اصنامی عقائد سے کوئی سمجھوتا نہیں کرسکا۔ اس کا توحیدی تصور تجسم اور تشبہ کی تمام آلودگیوں سے پاک ہو کر ابھرا۔ اس کی بے لوث خدا پرستی کا تصور اس درجہ بلند تھا کہ وقت کے عام مذہبہ تصورات اسے سر اونچا کر کے بھی دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اس کی حقیقت شناس نگاہ میں یونان کی اصنامی خدا پرستی اس سے زیادہ کوئی اخلاقی بنیاد نہیں رکھتی تھی کہ ایک طرح کا دکاندارانہ لین دین تھا جو اپنے خود ساختہ معبودوں کے ساتھ چکایا جاتا تھا۔ افلاطون یوثی فرا (Euthyphro) کے مکالمہ میں ہمیں صاف صاف بتلاتا ہے کہ یونان کے دینی تصورات و اعمال کی نسبت سقراط کے بے لاگ فیصلے کیا تھے؟ سقراط پر مذہبی بے احترامی کا الزام لگایا گیا تھا۔ وہ پوچھتا ہے کہ "مذہبی احترام" کی حقیقت کیا ہے؟ پھر جو جواب ملتا ہے وہ اسے اس نتیجہ پر پہنچاتا ہے کہ "مذہبی احترام گویا مانگنے اور دینے کا ایک فن ہوا۔ دیوتاؤں سے وہ چیز مانگنی جس کی ہمیں خواہش ہے، اور انہیں وہ چیز دے دینی جس کی انہیں احتیاج ہے۔ مختصراً یہ کہ تجارتی کاروبار کا ایک خاص ڈھنگ"۔ ایسی بے پردہ تعلیم، وقت کے داروگیر سے بچ نہیں سکتی تھی اور نہ بچی لیکن سقراط کی اولوالعزم روح وقت کی کوتاہ اندیشیوں سے مغلوب نہیں ہوسکتی تھی۔ اس نے ایک ایسے صبر و استقامت حق کے ساتھ جو صرف نبیوں اور شہیدوں ہی کے اندر گھر بنا سکتا ہے زہر کا جام اٹھایا اور بغیر کسی تلخ کامی کے پی لیا۔ تمنت سلیمی ان نموت بحبہا۔ واھون شیء عندنا ماتمنت اس نے مرنے سے پہلے آخری بات جو کہی تھی وہ یہ تھی : "وہ ایک کمزور دنیا سے ایک بہتر دنیا کی طرف جا رہا ہے"۔ افلاطون نے سقراط کے باحثانہ (Dialectic) افکار کو جو ایک معلم کے درس و املا کی نوعیت رکھتے تھے ایک مکمل ضابطہ کی شکل دے دی اور منطقی تحلیل کے ذریعہ انہیں و جوامع کی صورت میں مرتب کیا۔ اس نے اپنے فلسفیانہ بحث و نظر کی بنیاد کلیات (Abstracts) پر رکھی اور حکومت سے لے کر خدا کی ہستی تک سب کو تصوریت (Idea) کا جامہ پہنا دیا۔ اگر تصوریت محسوسات سے الگ ہستی رکھتی ہے تو ناؤس (Nause) یعنی نفس ناطقہ بھی مادہ سے الگ اپنی ہستی رکھتا ہے اور اگر نفس مادہ سے الگ ہستی رکھتا ہے تو خدا کی ہستی بھی مادیات سے الگ اپنی نمود رکھتی ہے۔ اس نے انکسا غورس کے مسلک کے خلاف دو نفسوں میں امتیاز کیا۔ ایک کو فانی قرار دیا۔ دوسرے کو لافانی۔ فانی نفس خواہشیں رکھتا ہے۔ اور وہی مجسم ایجو (Ego) ہے۔ لیکن لافانی نفس کائنات کی اصل عاقلہ ہے اور جسمانی زندگی کی تمام آلائشوں سے یک قلم منزہ یہی نفس کلی کی وہ الٰہی چنگاری ہے جس نے انسان کے اندر قوت مدرکہ کی روشنی کا چراغ روشن کردیا ہے یہاں پہنچ کر نفس کلی کا تصور بھی ایک طرح سے وحدۃ الوجودی تصور کی نوعیت پیدا کرلیتا ہے۔ در اصل ہندو فلسفے کا "آتما" اور یونانی فلسفے کا "نفس" ایک ہی مسمی کے دو نام ہیں۔ یہاں "آتما" کے بعد "پرم آتما" نمودار ہوا تھا۔ وہاں نفس کے بعد نفس کلی نمودار ہو۔ ("ناؤس" جس کا تلف "ناؤز" کیا جاتا ہے عربی کے "نفس" سے اس درجہ صوتی مشابہت رکھتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے "ناؤز" تعریب کا جامہ پہن کر "نفس" ہوگیا۔ اسی طرح "نوئٹک" (Noetic) اور "ناطق" اس درجہ قریب ہیں کہ دوسرے کو پہلے کی تعریب سمجھا جاسکتا ہے۔ چنانچہ رینان اور دوزی نے نفس ناطقہ کو "نوئٹک ناؤز" کا معرب قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ "ناط" نطق سے نہیں ہے بلکہ "نوئٹک" کی تعریب ہے جس کے معنی ادراک کے ہیں۔ بعض عربی مصادر سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ اصل یونانی الفاظ پیش نظر کھے گئے تھے۔ "نفس" عربی لغت میں ذات اور خود کے معنی میں بولا جاتا تھا اور ارسطو نے عاقلانہ نطق کو انسان کی فصل قرار دیا تھا۔ اس لیے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عرب مترجموں نے یونانی تعبیر سامنے رکھ کر نفس ناطقہ کی ترکیب اختیار کرلی اور یہ تعریب خود عربی الفاظ کے مدلول سے بھی ملتی جلتی ہوئی بن گئی) سقراط نے خدا کی ہستی کے لیے "اگاتھوس" یعنی "الخیر" کا تصور قائم کیا تھا۔ وہ سر تا سر اچھائی اور حسن ہے۔ افلاطون و جود کی دنیاؤں سے بھی اوپر اڑا اور اس نے خیر بحث کا سراغ لگانا چاہا لیکن سقراط کے صفاتی تصور پر کوئی اضافہ نہ کرسکا۔ ارسطو (Aristotle) جس نے فلسفے کو روحانی تصوروں سے خالص کر کے صرف مشاہدۂ و احساسات کے دائرہ میں دیکھنا چاہا تھا اس سقراطی تصور کا ساتھ نہیں دے سکتا تھا۔ اس نے عقل اول اور عقل فعال کا تصور قائم کیا جو ایک ابدی، غیر متجزی، اور بسیط بحث ہستی ہے۔ پس گویا سقراط اور افلاطون نے جس ذات کی صفت "الخیر" میں دیکھی تھی ارسطو نے اسے "العقل" میں دیکھا اور اس منزل پر پہنچ کر رک گیا۔ اس سے زیادہ جو کچھ مشائی فلسفے (Peripatetic) میں ہمیں ملتا ہے وہ خود ارسطو کی تصریحات نہیں ہیں۔ اس کے یونانی اور عرب شارحوں کے اضافے ہیں۔ اس تمام تفصیل سے معلوم ہوا کہ "الخیر" اور "العقل" یونانی فلسفے کے تصور الوہیت کا ماحصل ہے۔ سقراط کے صفاتی تصور کو وضاحت کے ساتھ سمجھنے کے لیے ضروری کہ افلاطون کی جمہور (Republic) کا حسب ذیل مکالمہ پیش نظر رکھا جائے۔ اس مکالمہ میں اس نے تعلیم کے مسئلہ پر بحث کی ہے اور واضح کیا ہے کہ اس کے بنیادی اصول کیا ہونے چاہییں۔ "اڈمنٹس نے سوال کیا کہ شاعروں کو خدا کا ذکر کرتے ہوئے کیا پیرایہ بیان اختیار کرنا چاہیے"۔ سقراط : ہر حال میں خدا کی توصیف ایسی کرنی چاہیے جیسا کہ وہ اپنی ذات میں ہے۔ خواہ رزمی (Epic) شعر ہو خواہ غنائی (Lyric)۔ علاوہ بریں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا کی ذات صالح ہے۔ پس ضروری ہے کہ اس کی صفات بھی صلاح پر مبنی ہوں۔ اڈمنٹس : درست ہے۔ سقراط : اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جو وجود صالح ہوگا اس سے کوئی بات مضر صادر نہیں ہوسکتی اور جو ہستی غیر مضر ہوگی وہ کبھی شر کی صانع نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح یہ بات بھی ظاہر ہے کہ جو ذات صالح ہوگی ضروری ہے کہ نافع بھی ہو۔ پس معلوم ہوا کہ خدا صرف خیر کی علت ہے۔ شر کی علت نہیں ہوسکتا۔ اڈمنٹس : درست ہے۔ سقراط : اور یہیں سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ خدا کا تمام حوادث کی علت ہونا ممکن نہیں جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے۔ بلکہ وہ انسانی حالات کے بہت ہی تھوڑے حصے کی علت ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں ہماری برائیاں بھلائیوں سے کہیں زیادہ ہیں اور برائیوں کی علت خدا کی صالح اور نافع ذات نہیں ہوسکتی۔ پس چاہیے کہ صرف اچھائی ہی کو اس کی طرف نسبت دیں اور برائی کی علت کسی دوسری جگہ ڈھونڈھیں۔ اڈمنٹس : میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ بات بالکل واضح ہے۔ سقراط : تو اب ضروری ہو کہ ہم شاعروں کے ایسے خیالات سے متفق نہ ہوں جیسے ہومر کے حسب ذیل شعروں میں ظاہر کیے گئے ہیں "مشتری کی ڈیوڑھی میں دو دو پیالے رکھے ہیں۔ ایک خیر کا ہے۔ ایک شر کا۔ اور ہی انسان کی بھلائی اور برائی کی تمام تر علت ہیں۔ جس انسان کے حصے میں خیر کے پیالے کی شراب آگئی اس کے لیے تمام تر خیر ہے۔ جس کے حصے میں شر کی آئی۔ اس کے لیے تمام تر شر ہے۔ اور پھر جس کسی کو دونوں پیالوں کا ملا جلا گھونٹ مل گیا اس کے حصے میں اچھائی بھی آگئی اور برائی بھی" پھر اس کے بعد تجسم کے عقیدہ پر بحث کی ہے اور اس سے انکار کیا ہے کہ "خدا ایک بازیگر اور بہروپیے کی طرح کبھی ایک بھیج میں نمودار ہوتا ہے کبھی دوسرے بھیس میں" (دی پبلک ترجمہ ٹیلر۔ باب 2) (جمہوریت کے اشخاص مکالمہ میں "اڈمنٹس" اور "گلوکن" افلاطون کے بھائی ہیں۔ چنانچہ افلاطون نے خود ایک جگہ اس کی تصریح کی ہے۔ افلاطون کی دوسری مصنفات کے ساتھ جمہوریت کا ترجمہ بھی عربی میں ہوگیا تھا۔ چنانچہ چھٹی صدی ہجری میں ابن رشد نے اس کی شرح لکھی شرح کے دیباچہ میں لکھتا ہے کہ میں نے ارسطو کی کتاب السیاسہ کی شرح لکھنی چاہی تھی مگر اندلس میں اس کا کوئی نسخہ نہیں ملا۔ مجبوراً افلاطون کی کتاب اختیار کرنی پڑی۔ ابن رشد کی شرح کے عبرانی اور لاطینی تراجم یورپ میں موجود ہیں مگر اصل عربی ناپید ہے۔ یورپ کے موجود تراجم براہ راست یونانی سے ہوئے ہیں۔ ہمارے پیش نظر اے۔ ای۔ ٹیلر اور بی جو ویٹ (Jowet) کے انگریزی تراجم ہیں مشتری یعنی "زیوس" (Zeus) یونان کے اصنامی عقائد میں رب الارباب یعنی دیوتاؤں میں سب سے بڑا اور حکمراں دیوتا تھا۔ ہومر نے ایلیڈ میں دیوتاؤں کی جو مجلس آراستہ کی ہے۔ اس میں تخت نشین ہستی مشتری ہی کی ہے۔ یہ اشعار ایلیڈ کے ہیں۔ سلیمان بستانی نے اپنے بے نظیر ترجمہ عربی میں ان کا ترجمہ حسب ذیل شعروں میں کیا ہے : فباعتا رف قارورتان : ذی لخیر و ذی لشرالھوان فیہما کل قسمۃ الانسان فالذی منہما مزیجا انالا زفس یلقی خیرا ویلقی وبالا والذی لاینال الا من الشر فتنتابہ الخطوب انتیابا بطواہ یطوی البلاد کلیلا تائھا فی عرض الفلاۃ ذلیلا من بنی الخلد والوری مخذولا (الیاذہ۔ نشید 24۔ صفحہ 1131) ان اشعار میں "زفس" یونانی "زیوس" کی تعریب ہے۔) اسکندریہ کا مذہب افلاطون جدید : تیسری صدی مسیحی میں اسکندریہ کے فلسفہ تصوف نے "مذہب افلاطون جدید" (Neo-Platonic) کے نام سے ظہور کیا جس کا بانی اموینس سکاس (Ammonius Saccas)۔ اموینس کا جانشین فلاطینس (Platinus) ہوا فلاطینس کا شاگرد فور فوریوس (Porphyry) تھا جو اسکندرا فردوسی کے بعد ارسطو کا سب سے بڑا شار تسلیم کیا گیا ہے اور جس نے افلاطونیۂ جدیدہ کی مبادیات مشائی فلسفے میں مخلوط کردیں۔ فلاطینس اور فورفوریوس کی تعلیم سرتاسر اسی اصل پر مبنی تھی جو ہندوستان میں اوپانی شد کے مذہب نے اختیار کی ہے۔ یعنی عام حق کا اصلی ذریعہ کشف ہے۔ نہ کہ استدلال، اور معرفت کا کمال مرتبہ یہ ہے کہ جذب و فنا کا مقام حاصل ہوجائے۔ خدا کی ہستی کے بارے میں فلاطینس بھی اس نتیجہ پر پہنچا جس پر اوپانی شد کے مصنف اس سے بہت پہلے پہنچ چکے تھے۔ یعنی نفی صفات کا مسلک اس نے بھی اختیار کیا۔ ذات مطلق ہمارے تصور ادراک کی تمام تعبیرات سے ماورا ہے۔ اس لیے ہم اس بارے میں کوئی حکم نہیں لگا سکتے۔ ذات مطلق ان چیزوں میں سے کوئی چیز بھی نہیں جو اس سے ظہور میں آئیں۔ ہم اس کی نسبت کوئی حکم نہیں لگا سکتے۔ ہم نہ تو اسے موجودیت سے تعبیر کرسکتے ہیں نہ جوہر سے۔ نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ زندگی ہے۔ حقیقت ان تمام تعبیروں سے وراء الوراء ہے" (E.T.Mekenna جلد 2۔ صفحہ 134) سقراط اور افلاطون نے حقیقت کو "الخیر" سے تعبیر کیا تھا۔ اس لیے فلاطینس وہاں تک بڑھنے سے انکار نہ کرسکا لیکن اس سے آگے کی تمام راہیں بندی کردیں۔ جب تم نے کہا الخیر، تو بس یہ کہہ کر رک جاؤ اور اس پر اور کچھ نہ بڑھاؤ۔ اگر تم کسی دوسرے خیال کا اضافہ کرو گے تو ہر اضافہ کے ساتھ ایک نئے نقص کی اس سے تقریب کرتے جاؤگے۔ ارسطو نے حقیقت کا سراغ عقول مجردہ کی راہ سے لگایا تھا اور علۃ العلل کو عقل اول سے تعبیر کیا تھا مگر فلاطینس کا مطلق اس تعبیر کی گرانی بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ "یہ بھی مت کہو کہ وہ عقل ہے۔ تم اس طرح اسے منقسم کرنے لگو گے"۔ لیکن اگر ہم "عقل" کا اطلاق اس پر نہیں کرسکتے تو پھر "الوجود" اور "الخیر" کیونکر کہہ سکتے ہیں؟ اگر ہم اپنی متصورہ صفتوں میں سے کوئی صفت بھی اس کے لیے نہیں بول سکتے تو پھر وجودیت اور خیریت کی صفات بھی کیوں ممنوع نہ ہوں؟ اس اعتراض کا وہ خود جواب دیتا ہے۔ ہم نے اگر اسے "الخیر" کہا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم کوئی باقاعدہ تصدیق کسی خاص وصف کی کرنی چاہتے ہیں کہ وہ ایک مقصد اور منتہی ہے جس پر تمام سلسلے جا کر ختم ہوجاتے ہیں۔ یہ گویا ایک اصطلاح ہوئی جو ایک خاص غرض کے لیے کام میں لائی گئی ہے۔ اسی طرح اگر ہم اس کی نسبت وجود کا حکم لگاتے ہیں تو صرف اس لیے کہ عدم کے ائرہ سے اسے باہر رکھیں۔ وہ تو ہر چیز سے ماورا ہے۔ حتی کہ وجود کے اوصاف و خواص سے بھی"۔ اسکندریہ کے کلیمنٹ (Clement) نے اس مسلک کا خلاصہ چند لٖفظوں میں کہہ دیا۔ " اس کی شناخت اس سے نہیں کی جاسکتی کہ وہ کیا ہے؟ صرف اس سے کی جاسکتی ہے کہ وہ کیا کچھ نہیں ہے" یعنی یہاں صف سلب و نفی کی راہ ملتی ہے۔ ایجاب و اثبات کی راہیں بند ہیں۔ سر لسان النطق عنہ اخرس باب صفات میں یہ وہی بات ہوئی جو اوپانی شد کی "نیتی نیت" میں ہم سن چکے ہیں اور جس پر شنکر نے اپنے مذہب کی مبادیات کی تمام عمارتیں استوار کی ہیں۔ ازمنہ وسطیٰ کے یہودی فلاسفہ نے بھی یہی مسلک اختیار کیا تھا۔ موسیٰ بن میمون (المتوفی 605 ھ) خدا کو "الموجود" کہنے سے بھی بھی انکار کرتا ہے اور کہتا ہے ہم جونہی "موجود" کا وصف بولتے ہیں ہمارے تصور پر مخلوق کے اوصاف وخواص کی پرچھائیں پڑنے لگتی ہے اور خدا ان اوصاف سے منزہ ہے۔ اس نے اس سے بھی انکار کیا کہ خدا کو وحدہ لاشریک کہا جائے۔ کیونہ اور اور عدم شرکت کے تصورات بھی اضافی نسبتوں سے خالی نہیں۔ ابن میمون کا یہ مسلک در اصل فلسفہ اسکندریہ ہی کی بازگشت تھی۔ (E.T.Mekenna جلد اول صفحہ 118۔ مذہب افلاطون جدید افللاطون کی طرف اس لیے منسوب ہوا کہ اس کی بنیاد بعض افلاطونی مبادیات پر رکھی گئی تھی۔ مگر پھر اپنی بحث و نظر میں اس نے جو راہ اختیار کی اور جن نتائج تک پہنچا انہیں افلاطون سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن عرب فلاسفہ کا ایک بڑا طبقہ اس غلط فہمی میں پڑگیا کہ فی الحقیقت یہ افلاطون ہی کا مذہب ہے۔ اس مذہب کے بعض فلسفیوں مثلافورفوریوس نے ارسطو کی شرح کرتے ہوئے اس کے مذہب میں جو اضافے کیے تھے اسے بھی عرب حکما اصل سے ممتاز نہ کرسکے۔ چنانچہ ابو نصر فارابی نے الجمع بین الرائین میں ارسطو کا جو مذہب ظاہر کیا ہے اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ ابن رشد پہلا عرب فلسفی ہے جس نے یہ غلط فہمی محسوس کی اور ارسطو کے مذہب کو شارحوں کے اضافے سے خالص کر کے دیکھنا چاہا۔ 529 ء میں جب شہنشاہ جسٹینین کے حکم سے اسکندریہ کے فلاسفہ جلا وطن کیے گئے تو ان میں سے بعض نے ایران میں پناہ لی۔ چنانچہ سیمیٹس اور ڈیماسیس خسرو کے دربار میں معزز جگہ رکھتے تھے۔ ان فلاسفہ کی وجہ سے پہلوی زبان بھی مذہب افلاطون جدید سے آشنا ہوگئی اور ایرانی حکما نے اسے قومی رنگ دینے کے لیے زردشت اور جاماسپ کی طرف منسوب کردیا۔ عربی میں جب پہلوی ادبیات منتقل ہوئیں تو یہ فلسفیانہ مقالات بھی ترجمہ ہوئے اور عام طور پر یہ خیال پیدا ہوگیا کہ یہ زردشت اور جاماسپ کا ایک پراسرار فلسفہ ہے۔ چنانچہ شیخ شہاب الدین نے حکمۃ الاشراق میں اور شیرازی نے اس کی شرح میں دونوں غلطیاں جمع کردی ہیں۔ وہ مذہب افلاطون جدید کو افلاطون کا مذہب سمجھتے ہیں اور زردشت اور جاماسپ کا بھی حوالہ دیتے ہیں !) قرآنی تصور : بہرحال چھٹی صدی مسیحی میں دنیا کی خدا پرستانہ زندگی کے تصورات اس حد تک پہنچ تھے کہ قرآن کا نزول ہوا۔ اب غور کرو کہ قرآن کے تصور الٰہی کا کیا حال ہے؟ جب ہم ان تمام تصورات کے مطالعہ کے بعد قرآن کے تصور پر نظر ڈالتے ہیں تو صاف نظر آجاتا ہے کہ تصور الٰہی کی تمام تصویروں میں اس کی تصویر جامع اور بلند تر ہے۔ اس سلسلہ میں حسب ذیل امور قابل غور ہیں : (1)۔ تزیہہ کی تکمیل : اولا : تجسم اور تنزیہہ کے لحاظ سے قرآن کا تصور تزنیہہ کی ایسی تکمیل ہے جس کی کوئی نمود اس وقت دنیا میں موجود نہیں تھی۔ قرآن سے پہلے تنزیہہ کا بڑے سے بڑا مرتبہ جس کا ذہن انسانی متحمل ہوسکا تھا یہ تھا کہ اصنام پرستی کی جگہ ایک ان دیکھے خدا کی پرستش کی جائے۔ لیکن جہاں تک صفات الٰہی کا تعلق ہے انسانی اوصاف و جذبات کی مشابہت اور جسم و ہیئت کے تمثل سے کوئی تصور بھی خالی نہ تھا۔ ہندوستان اور یونان کا حال ہم دیکھ چکے ہیں۔ یہودی تصور جس نے اصنام پرستی کی کوئی شکل بھی جائز نہیں رکھی تھی وہ بھی اس طرح کے تشبہ و تمثل سے یکسر آلودہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خدا کو ممرے کے بلوطوں میں دیکھنا، خدا کا حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے کشتی لڑنا، کوہ طور پر شعلوں کے اندر نمودار ہونا، حضرت موسیٰ کا خدا کو پیچھے سے دیکھنا، خدا کا جوش غضب میں آ کر کوئی کام کر بیٹھنا اور پھر پچھتانا، بنی اسرائیل کو اپنی چہیتی بیوی بنا لینا اور پھر اس کی بدچلنی پر ماتم کرنا، ہیکل کی تباہی پر اس کا نوحہ، اس کی انتڑیوں میں درد کا اٹھنا اور کلیجے میں سوراخ پڑجانا، تورات کا عام اسلوب بیان ہے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن سے پہلے فکر انسانی اس درجہ بلند نہیں ہوا تھا کہ تمثیل کا پردہ ہٹا کر صفات الٰہی کا جلوہ دیکھ لیتا۔ اس لیے ہر تصور کی بنیاد تمام تر تمثیل و تشبیہ ہی پر رکھنی پڑی۔ مثلاً تورات میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف زبور کے ترانوں اور یشعیا کی کتاب میں خدا کے لیے شائستہ صفات کا تخیل موجود ہے لیکن دوسری طرف خدا کا کوئی مخاطبہ ایسا نہیں جو سرتار سر انسانی اوصاف و جذبات کی تشبیہ سے مملو نہ ہو۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے جب چاہا کہ رحمت الٰہی کا عالمگیر تصور پیدا کریں تو وہ بھی مجبور ہوئے کہ خدا کے لیے باپ کی تشبیہ سے کام لیں۔ اسی تشبیہ سے ظاہر پرستوں نے ٹھوکر کھائی اور ابنیت مسیح (علیہ السلام) کا عقیدہ پیدا کرلیا۔ لیکن ان تمام تصورات کے بعد جب ہم قرآن کی طرف رخ کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اچانک فکر و تصور کی ایک بالکل نئی دنیا سامنے آگئی۔ یہاں تمثیل و تشبیہ کے تمام پردے بیک دفعہ اتھ جاتے ہیں، انسانی اوصاف و جذبات کی مشابہت مفقود ہوجاتی ہے، ہر گوشہ میں مجاز کی جگہ حقیقت کا جلوہ نمایاں ہوتا ہے اور تجسم کا شائبہ تک باقی نہیں رہتا۔ تنزیہہ اس مرتبہ کمال تک پہنچ جاتی ہے کہ : "لیس کمثلہ شیء : اس کے مثل کوئی شے نہیں کسی چیز سے بھی تم اسے مشابہ نہیں ٹھہرا سکتے" (42۔11) " لا تُدْرِکُہُ الأبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الأبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ: انسان کی نگاہیں اسے نہیں پا سکتیں لیکن وہ انسان کی نگاہوں کو دیکھ رہا ہے" (6۔103) "قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ (١) اللَّہُ الصَّمَدُ (٢) لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ (٣) وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ (٤): اللہ کی ذات یگانہ ہے، بے نیاز ہے اسے کسی کی احتیاج نہیں۔ نہ تو اس سے کوئی پیدا ہوا، نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، اور نہ کوئی ہستی اس کے درجے اور برابری کی ہوئی" (112) تورات اور قرآن کے جو مقامات مشترک ہیں دقت نظر کے ساتھ ان کا مطالعہ کرو۔ تورات میں جہاں کہیں خدا کی براہ راست نمود کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن وہاں خدا کی تجلی کا ذکر کرتا ہے۔ تورات میں جہاں یہ پاؤگے کہ خدا متشکل ہو کر اترا قرآن اس موقع کی یوں تعبیر کرے گا کہ خدا کا فرشتہ متشکل ہو کر نمودار ہوا۔ بطور مثال کے صرف ایک مقام پر نظر ڈال لی جائے۔ تورات میں ہے : "خداوند نے کہا اے موسیٰ دیکھ، یہ جگہ میرے پاس ہے، تو اس چٹان پر کھڑا رہ، اور یوں ہوگا کہ جب میرے جلال کا گزر ہوگا تو میں تجھے اس چٹان کی دراڑ میں رکھوں گا، اور جب تک نہ گزر لوں گا تجھے اپنی ہتھیلی سے ڈھانپے رہوں گا۔ پھر ایسا ہوگا کہ میں ہتھیلی اٹھالوں گا اور تو میرا پیچھا دیکھ لے گا۔ لیکن تو میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتا" (خروج 33۔20) "تب خداوند بدلی کے ستون میں ہو کر اترا اور خیمہ کے دروازے پر کھڑا رہا۔ اس نے کہا کہ میرا بندہ موسیٰ اپنے خداوند کی شبیہ دیکھے گا" (گنتی 12:5) اسی معاملہ کی تعبیر قرآن نے یوں کی ہے : "قال رب ارنی انظر الیک قال لن ترانی ولکن انظر الی الجبل : موسیٰ نے کہا اے پروردگار ! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیری طرف نگاہ کرسکوں فرمایا نہیں۔ تو کبھی مجھے نہیں دیکھے گا لیکن ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ" (7۔143) تنزیہہ اور تعطیل کا فرق البتہ یاد رہے کہ تنزیہہ اور تعطیل میں فرق ہے۔ تنزیہہ سے مقصود یہ ہے کہ جہاں تک عقل بشری کی پہنچ ہے صفات الٰہی کو مخلوقات کی مشابہت سے پاک اور بلند رکھا جائے۔ تعطیل کے معنی یہ ہیں تنزیہہ کے منع و نفی کو اس حد تک پہنچا دیا جائے کہ فکر انسانی کے تصور کے لیے کوئی بات باقی ہی نہ رہے۔ قرآن کا تصور تنزیہہ کی تکمیل ہے۔ تعطیل کی ابتدا نہیں ہے۔ بلاشبہ اوپانی شد تنزیہہ کی "نیتی نیتی" 1؎ کو بہت دور تک لے گئے لیکن عملاً نتیجہ کیا نکلا؟ یہی نا کہ ذات مطلق (برہماں) کو ذات مشخص (ایشور) میں اتارے بغیر کام نہ چل سکا : بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر۔ 1 (؎۔ "نیتی" یعنی کلمۂ نفی۔ وہ ایسا بھی نہیں ہے۔ ایسا بھی نہیں۔ برہدریناک اوپانی شد میں یہ نفی دور تک چلی گئی ہے۔ وہ کثیف ہے؟ نہیں۔ وہ لطیف ہے؟ نہیں۔ وہ کوتاہ ہے ؟ نہیں۔ وہ دراز ہے؟ نہیں۔ غرض کی ہر مشابہت کے جواب میں "نہیں" دہرایا جاتا ہے۔ نہ وہ ایسا ہے۔ نہ ویسا ہے۔ نہ یہ ہے۔ نہ وہ ہے۔ اے بروں از وہم و قال و قیل من خاک برفرق من و تمثیل من !) جس طرح اثبات صفات میں غلو تشبہ کی طرف لے جاتا ہے اسی طرح نفی صفات میں غلو تعطیل تک پہنچا دیتا ہے اور دنوں میں تصور انسانی کے لیے ٹھوکر ہوئی اگر تشبہ اسے حقیقت سے نا آشنا کردیتا ہے تو تعطل اسے عقیدہ کی روح سے محروم کردیتا ہے۔ پس یہاں ضروری ہوا کہ افراط اور تفریط دونوں سے قدم روکے جائیں اور تشبہ اور تعطیل دونوں کے درمیان راہ نکالی جائے۔ چنانچہ قرآن نے جو راہ اختیار کی ہے وہ دونوں راہوں کے درمیان جاتی ہے اور دونوں انتہائی سمتوں کے میلان سے بچتی ہوئی نکل گئی ہے۔ اگر خدا کے تصور کے لیے صفات و افعال کی کوئی صورت ایسی باقی نہ رہے جو فکر انسانی کی پکڑ میں آسکتی ہے تو کیا نتیجہ نکلے گا؟ یہی نکلے گا کہ تنزیہہ کے معنی نفی وجود کے ہوجائیں گے۔ یعنی اگر کہا جائے، ہم خدا کے لیے کوئی ایجابی صفت قرار نہیں دے سکتے۔ کیونکہ جو صفت بھی قرار دینگے اس میں مخلوق کے اوصاف سے مشابہت کی جھلک آجائے گی، تو ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں فکر انسانی کے لیے کوئی سر رشتہ تصور باقی نہیں رہے گا اور وہ کسی ایسی ذات کا تصور ہی نہیں کرسکے گا، اور جب تصور نہیں کرسکے گا تو ایسا عقیدہ اس کے اندر کوئی پکڑ اور لگاؤ بھی پیدا نہیں کرسکے گا۔ ایسا تصور اگرچہ اثبات وجود کی کوشش کرے لیکن فی الحقیقت وہ نفی وجود کا تصور ہوگا۔ کیونکہ صرف سلبی تصور کے ذریعہ ہم ہستی کو نیستی سے جدا نہیں کرسکتے۔ خدا کی ہستی کا اعتقاد انسانی فطرت کے اندرونی تقاضوں کا جواب ہے۔ اسے حیوانی سطح سے بلند ہونے اور انسانیت اعلی کے درجہ تک پہنچنے کے لیے بلندی کے ایک نصب العین کی ضرورت ہے اور اس نصب العین کی طلب بغیر کسی ایسے تصور کے پوری نہیں ہوسکتی جو کسی نہ کسی شکل میں اس کے سامنے آئے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ مطلق کا تصور سامنے آنہیں سکتا۔ وہ جبھی آئے گا کہ ایجابی صفتوں کے تشخص کا کوئی نہ کوئی نقاب چہرے پر ڈال لے۔ چنانچہ ہمیشہ اس نقاب ہی کے ذریعہ جمال حقیقت کو دیکھنا پڑا۔ یہ کبھی بھاری ہوا کبھی ہلکا۔ کبھی پر خوف رہا کبھی دلآویز، مگر اترا کبھی نہیں : آہ ازاں حوصلہ تنگ و ازاں حسن بلند کہ دلم را گلہ از حسرت دیدار تو نیست ! جمال حقیقت بے نقاب ہے مگر ہماری نگاہوں میں یا رائے دید نہیں۔ ہم اپنی نگاہوں پر نقاب ڈال کر اسے دیکھنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے چہرے پر نقاب پڑگیا : ہرچہ ہست از قامت ناساز و بے اندام ست ورنہ تشریف تو بربالائے کس دشوار نیست ! غیر صفاتی تصور کو انسان پکڑ نہیں سکتا اور طلب اسے ایسے مطلوب کی ہوئی جو اس کی پکڑ میں آسکے۔ وہ ایک ایسا جلوہ محبوبی چاہتا ہے جس کے عشق میں اس کا دل اٹک سکے، جس کے حسن گریزاں کے پیچھے وہ والہانہ دوڑ سکے، جس کا دامن کبریائی پکڑنے کے لیے ہمیشہ اپنا دست عجز و نیاز بڑھاتا رہے۔ جو اگرچہ زیادہ سے زیادہ بلندی پر ہو لیکن پھر بھی اسے ہر دم جھانکلگائے تاک رہا ہو کہ "ان ربک لبالمرصاد : یقینا تمہارا پروردگار تمہیں گھات لگائے تاک رہا ہے" اور واذا سالک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان : اور جب میرا بندہ تجھ سے میری نسبت سوال کرتا ہے تو اس سے کہہ دے کہ میں اس سے دور کب ہوں؟ میں تو بالکل اس کے پاس ہوں" (2۔186)۔ درپردہ و برہمہ کس پردہ می دری باہر کسی وبا تو کسے را وصال نیست غیر صفاتی تصور محض نفی و سلب ہوتا ہے اور اس سے انسانی طلب کی پیاس نہیں بجھ سکتی۔ ایسا تصور ایک فلسفیانہ تخیل ضرور پیدا کردے گا لیکن دلوں کا زندہ اور سرگرم عقیدہ نہیں بن سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جو راہ اختیار کی وہ ایک طرف تو تنزیہہ کو اس کے کمال درجہ پر پہنچا دیتی ہے۔ دوسری طرف تعطیل سے بھی تصور کو بچا لے جاتی ہے۔ وہ فرداً فرداً تمام صفات و افعال کا اثبات کرتا ہے مگر ساتھ ہی مشابہت کی قطعی نفی بھی کرتا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے : خدا حسن و خوبی کی ان تمام صفتوں سے جو انسانی فکر میں آسکتی ہیں متصف ہے۔ وہ زندہ ہے قدرت والا ہے، پالنے والا ہے، رحمت والا ہے، دیکھنے والا، سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ اور پھر اتنا ہی نہیں بلکہ انسان کی بول چال میں قدرت و اخیتار اور ارادہ و فعل کی جتنی شائستہ تعبیرات ہیں انہیں بھی بلا تامل استعمال کرتا ہے۔ مثلاً خدا کے ہاتھ تنگ نہیں "بل یداہ مبسوطتان"(5۔46)۔ اس کے تخت خکومت و کبریائی کے احاطہ سے کوئی گوشہ باہر نہیں : "وسع کرسیہ السموات والارض" (2۔255)۔ لیکن یہ بھی صاف صاف اور بے لچک لفظوں میں کہہ دیتا ہے کہ اس سے مشابہ کوئی چیز نہیں جو تمہارے تصور میں آسکتی۔ وہ عدیم المثال ہے "لیس کمثلہ شیء" (42۔11)۔ تمہاری نگاہ اسے پا ہی نہیں سکتی : "لا تدرکہ الابصار" (6۔103)۔ تم اس کے لیے اپنے تخیل سے مثالیں نہ گھڑو : "فلا تضربوا للہ الامثال" (16۔7)۔ پس ظاہر ہے کہ اس کا زندہ ہونا ہمارے زندہ ہونے کی طرح نہیں ہوسکتا۔ اس کی پروردگاری ہماری پروردگاری کی طرح نہیں ہوسکتی۔ اس کا دیکھنا، سننا، جاننا ویسا نہیں ہوسکتا جس طرح کے دیکھنے، سننے اور جاننے کا ہم تصور کرسکتے ہیں۔ اس کی قدرت و بخشش کا ہاتھ اور جلال و احاطہ کا عرش ضرور ہے لیکن یقینا اس کا مطلب وہ نہیں ہوسکتا جو ان الفاظ کے مدلولات سے ہمارے ذہن میں متشکل ہونے لگتا ہے۔ قرآن کے تصور الٰہی کا یہ پہلو فی الحقیقت اس راہ کی تمام درماندگیوں کا ایک ہی حل اور ساری عمر کی سرگردانیوں کے بعد بالاآخر اسی منزل پر پہنچ کر دم لینا پڑتا ہے۔ انسانی فکر جتنی بھی کاوشیں کرے اس کے سوا اور کوئی حل پیدا نہیں کرسکے گا۔ یہاں ایک طرف بام حقیقت کی بلندی اور فکر کوتاہ کی نارسائیاں ہوئیں۔ دوسری طرف ہماری فطرت کا اضطراب طلب اور ہمارے دل کا تقاضائے دید ہوا۔ بام اتنا بلند کہ نگاہ تصور تھک تھک کے رہ جاتی ہے۔ تقاضاے دید اتنا سخت کہ بغیر کسی کا جلوہ سامنے لائے چین نہیں پا سکتا : نہ بہ اندازہ بازوست کمندم ہیہات ورنہ باگوشہ بامیم سروکارے ہست ! ایک طرف راہ کی اتنی دشواریاں دوسری طرف طلب کی اتنی سہل اندیشیاں ! ولنعم ماقیل : ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہے دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں اگر تنزیہہ کی طرف زیادہ جھکتے ہیں تو تعطیل میں جا گرتے ہیں۔ اگر اثبات صفات کی صورت آرائیوں میں دور نکل جاتے ہیں تو تشبہ اور تجسم میں کھوئے جاتے ہیں۔ پس نجات کی راہ صرف یہی ہوئی کہ دونوں کے درمیان قدم سنبھالے رکھیں۔ اثبات کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوٹے، تنزیہہ کی باگ بھی ڈھیلی نہ پڑنے پائے۔ اثبات اس کی دلآویز صفتوں کا مرقع کھینچے گا۔ تنزیہہ تشبہ کی پرچھائیں سے بچاتی رہے گی۔ ایک کا ہاتھ حسن مطلق کو صورت صفات میں جلوہ آرا کردے گا۔ دوسرے کا ہاتھ اسے اتنی بلندی پر تھامے رہے گا کہ تشبہ کا گردوغبار اسے چھونے کی جرات نہیں کرسکے گا۔ بر چہرۂ حقیقت اگر ماند پردۂ جرم نگاہ دیدۂ صورت پرست ماست ! اوپانی شد کے مصنفوں کا نفی صفات میں غلو تو معلوم ہے لیکن مسلمانوں میں جب علم کلام کے مختلف مذاہب و آرا پیدا ہوئے تو ان کی نظری کاوشیں اس میدان میں ان سے بھی آگے نکل گئیں اور صفات باری کا مسئلہ بحث و نظر کا ایک معرکۃ الآرا مسئلہ بن گیا۔ جہمیہ اور باطنیہ قطعی انکار کی طرف گئے۔ معتزلہ نے انکار نہیں لیکن ان کا رخ رہا اسی طرح امام ابوالحسن اشعری نے گو خود معتدل راہ اختیار کی تھی (جیسا کہ کتاب الابانہ سے ظاہر ہے) لیکن ان کے پیرووں کی کاوشیں تاویل صفات میں دور تک چلی گئیں اور بحث و نزاع سے غلو کا رنگ پیدا ہوگیا۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی معاملہ کی گتھی نہ سلجھا سکا۔ اگر گتھی سلجھی تو اسی طریقہ سلجھی جو قرآن نے اختیار کیا ہے۔ امام جوینی یہ اقرار کرتے ہوئے دنیا سے گئے کہ "وھا انا ذا اموت علی عقیدۃ امی : میری ماں نے جو عقیدہ سکھلایا تھا اس پر دنیا سے جا رہا ہوں"۔ اشاعرہ میں امام فخر الدین رازی سب سے زیادہ ان کاوشوں میں سرگرم رہے ہیں لیکن بالآخر اپنی زندگی کی آخری تصنیف میں انہیں بھی اقرار کرنا پڑا تھا کہ "لقد تاملت الطرق الکلامیۃ والمناھج الفلسفیۃ، فما رایتھا تشفی علیلا ولا تروی غلیلا ورایت اقرب الطرق طریق القران اقرا فی الاثبات "الرحمن علی العرش استوی" وفی النفی "لیس کمثلہ شیء" ومن جرب مثل تجربتی عرف مثل معرفتی" (نقلہ ملا علی القاری فی شرح الفقہ الاکبر) "میں نے علم کلام اور فلسفہ کے تمام طریقوں کو خوب دیکھا بھالا لیکن بالآخر معلوم ہوا کہ نہ تو ان میں کسی بیماری دل کے لیے شفا ہے نہ کسی پیاسے کے لیے سیرابی۔ سب سے بہتر اور حقیقت سے نزدیک تر راہ وہی ہے جو قرآن کی راہ ہے۔ اثبات صفات میں پڑھو "الرحمن علی العرش استوی" اور نفی تشبہ میں پڑھو " لیس کمثلہ شیء" یعنی اثبات اور نفی دونوں کا دامن تھامے رہو۔ اور جس کسی کو میری طرح اس معاملہ کے تجربے کا موقع ملا ہوگا اسے میری طرح یہ حقیقت معلوم ہوگئی ہوگی" یہی وجہ ہے کہ اصحاب حدیث اور سلفیہ نے اس باب میں تفویض کا مسلک اختیار کیا تھا اور تاویل صفات میں کاوشیں کرنا پسند نہیں کرتے تھے اور اسی بنا پر انہوں نے جہمیہ کے انکار صفات کو تعطیل سے تعبیر کیا اور معتزلہ و اشاعرہ کی تاویلوں میں بھی تعطل کی بو سونگھنے لگے۔ متکلمین نے ان پر تجسم اور تشبہ کا الزام لگایا لیکن وہ کہتے تھے کہ تمہارے سلب و نفی کی کاوشوں کے بعد تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ متاخرین اصحاب حدیث میں امام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد امام ابن قیم نے اس مسئلہ کی گہرائیوں کو خوب سمجھا اور اسی لیے سلف کے مسلک سے ادھر ادھر ہونا گوارا نہیں کیا۔ آریائی اور سامی نقطۂ خیال کا اختلاف : آریائی اور سامی تعلیموں کے نقطہ خیال کا اختلاف ہم اس معاملہ میں پوری طرح دیکھ سکتے ہیں۔ آریائی حکمت نے فطرت انسانی کی جس صورت پرستی کے تقاضے کا جواب مورتی پوجا کا دروازہ کھول کردیا قرآن نے اسے صرف صفات کی صورت آرائی سے پورا کردیا اور پھر اس سے نیچے اترنے کی تمام راہیں بند کردیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان تمام مفاسد کے کھلنے کے دروازے بند ہوگئے جو بت پرستی کی غیر عقلی زندگی سے پیدا ہوسکتے تھے اور ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ محکمات اور متشابہات : قرآن نے اپنے مطالب کی دوبنیادی قسمیں قرار دی ہیں۔ ایک کو "محکمات" سے تعبیر کیا ہے دوسرسی کو " متشابہات" سے۔ "محکمات" سے وہ باتیں مقصود ہیں جو صاف صاف انسان کی سمجھ میں آجاتی ہیں اور اس کی عملی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں اور اس لیے ایک سے زیادہ معانی کا ان میں احتمال نہیں۔ "متشابہات " وہ ہیں جن کی حقیقت وہ پا نہیں سکتا اور اس کے سوا چارہ نہیں کہ ایک خاص حد تک جا کر رک جائے اور بے نتیجہ باریک بینیاں نہ کرے : " ہُوَ الَّذِی أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ فَأَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِیلِہِ وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلا اللَّہُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ یَقُولُونَ آمَنَّا بِہِ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا یَذَّکَّرُ إِلا أُولُو الألْبَابِ (٧)" (بقرہ)۔ صفات الٰہی کی حقیقت متشابہات میں داخل ہے۔ اس لیے قرآن کہتا ہے کہ اس باب میں فکری کاوشیں کچھ سود مند نہیں ہوسکتیں۔ بلکہ طرح طرح کی کج اندیشیوں کا دروازہ کھول دیتی ہیں۔ یہاں بجز تفویض 1؎ کے چارہ کار نہیں پس وہ تمام فلسفیانہ کاوشیں جو ہمارے متکلموں نے کی ہیں فی الحقیقت قرآن کے معیار تعلیم کا ساتھ نہیں دے سکتیں۔ 1؎۔ تفویض کے مسلک سے مقصود یہ ہے کہ جو حقائق ہمارے دائرہ علم و ادراک سے باہر ہیں ان میں رد و کد اور باریک بینی نہ کرنا اور اپنے عجز و نارسائی کا اعتراف کرلینا تفویض کہلاتا ہے۔ اپانی شد کا مرتبہ اطلاق اور مرتبہ تشخص : اس موقعے پر یہ بات بھی صاف ہوجانی چاہیے کہ ویدانت سوتر اور اس کے سب سے بڑے شارح شنکر اچاریا نے نفی صفات پر جتنا زور یا ہے وہ حقیقت کے اس مرتبہ اطلاق سے تعلق رکھتا ہے جسے وہ "برہماں" سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی ذات مطلق سے۔ لیکن سے انہیں بھی انکار نہیں کہ مرتبہ اطلاق کے نیچے ایک اور مرتبہ بھی ہے جہاں تمام صفات ایجابی کی نقش آرائی ظہور میں آجاتی ہے اور انسان کے تمام عابدانہ تصورات کا معبود وہی ذات متصف ہوتی ہے۔ اوپانی شد کے نزدیک ذات مطلق " نیرو پادھیک ست" اور "نرگن" ہے۔ یعنی تمام مظاہرات سے منزہ اور عدیم التوصیف ہے۔ اگر کوئی ایجابی صفت اس کی نسبت سے کہی بھی جاسکتی ہے تو وہ اسی سلب کا ایجاب ہے۔ یعنی وہ "نرگنوگنی" ہے۔ عدیم الوصفی صفت سے متصف۔ ہم اس کی نسبت کچھ نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ ہم جو کچھ کہیں گے اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ لامحدود کو محدود بنا دیں گے۔ اگر محدود لا محدود کا تصور کرسکتا ہے تو پھر یا تو محدود کو لامحدود ماننا پڑے گا۔ یا لا محدود کو محدود بن جانا پڑے گا" (شنکر ابھاشیا برہم سوتر۔ باب 3)۔ "ہم کسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو الفاظ بولتے ہیں وہ یا تو اس چیز کا تعلق کسی خاص نوع سے ظاہر کرتے ہیں یا اس کے فعلی خواص بتلاتے ہیں یا اس کی قسم کی خبر دیتے ہیں یا کسی اور اضافی نوعیت کی وضاحت کرتے ہیں۔ لیکن برہمن کے لیے کوئی نوع نہیں ٹھہرائی جاسکتی۔ اس کی کوئی قسم نہیں۔ اس کے فعلی خواص بتلائے نہیں جاسکتے۔ اس کے لیے کوئی اضافت نہیں۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ ایسا ہے۔ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس طرح کا نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے لیے کوئی مشابہت نہیں اور چونکہ مشابہت نہیں اس لیے اس کی عدم مشابہت اور غیریت بھی انسانی تصور میں نہیں لائی جاسکتی۔ مشابہت کی طرح ہماری نفی مشابہت بھی اضافی رشتے رکھتی ہے" (ایضاً باب اول و ثانی) غرض کہ حقیقت اپنے مرتبہ اطلاق میں ناممکن التعریف ہے اور منطقی ماورائیت سے بھی ماورا ہے۔ اسی لیے ویدانت سوتر نے بنیادی طور پر ہستی کے دو دائرے ٹھہرا دیے۔ ایک کو ممکن التصور کہا ہے، دوسرے کو ناممکن التصور، ممکن التصور دائرہ پر کرتی، عناصر، ذہن، تعقل اور خودی کا ہے۔ ناممکن التصور دائرہ برہمن (ذات مطلق) کا۔ یہی مذہب اسکندریہ کے افلاطونیہ جدیدہ کا بھی تھا اور حکما اسلام اور صوفیہ نے بھی یہی مسلک اختیار کیا۔ صوفیہ مرتبہ اطلاق کو مرتبہ "احدیت" سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں "احدیت" ناممکن التصور، ناممکن التعبیر اور تمام منطقی ماورائیوں سے بھی وراء الورا ہے : بنام آں کہ آں نامے نہ دارد بہ ہر نامے کہ خوانی سر بر آرد ! لیکن پھر مرتبہ اطلاق ایک ایسے مرتبہ میں نزول کرتا ہے جس میں تمام ایجابی صفات کی صورت آرائی کا تشخص نمودار ہوجاتا ہے۔ اوپانی شد نے اسے "ایشور" سے اور صوفیہ نے "واحدیت" سے تعبیر کیا ہے۔ ویدانت سوتر کے شارحوں میں شنکر نے سب سے زیادہ اوپانی شد کے نفی صفات کے مسلک کو قائم رکھنا چاہا ہے۔ اور اس باب میں بڑی کاوش کی۔ تاہم اسے بھی "سگن برہمن" یعنی ذات مشخص و متصف کے مرتبہ کا اعتراف کرنا پڑا اور گو اس مرتبہ کے عرفان کو وہ "اپرم" یعنی فروتر مرتبہ کا عرفان قرار دیتا ہے مگر ساتھ ہی تسلیم کرتا ہے کہ ایک معبود ہستی کا تصوربغیر اس کے ممکن نہیں۔ اور انسانی ذہن و ادراک کے لیے زیادہ سے زیادہ بلند پروزی جو یہاں ہوسکتی ہے، وہ یہی ہے۔ (شنکر بھاشیا۔1۔2۔ اور شند دگیا اوپانی شد قسم 8) (بقیہ تفسیر ملاحظہ ہو اگلی آیت میں) الفاتحة
7 (تفسیر آیت 3 اور 4: مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔ کا بقیہ حصہ): (2)۔ صفات رحمت و جمال : ثانیاً تنزیہہ کی طرح صفات رحمت و جمال کے لحاظ سے بھی قرآن کے تصور پر نظر ڈالی جائے تو اس کی شان تکمیل نمایاں ہے۔ نزول قرآن کے وقت یہودی تصور میں قہر و غضب کا عنصر غالب تھا۔ مجوسی تصور نے نور و ظلمت کی دو مساویانہ قوتیں الگ الگ بنا لی تھیں۔ مسیحی تصور نے رحم و محبت پر زور دیا تھا۔ لیکن جزا کی حقیقت مستور ہوگئی تھی۔ اسی طرح پیروان بدھ نے بھی صرف رحم و محبت محبت پر زور دیا۔ عدالت نمایاں نہیں ہوئی۔ گویا جہاں تک رحمت و جمال کا تعلق ہے یا تو قہر و غضب کا عنصر غالب تھا یا مساوی تھا یا پھر رحمت و محبت آئی تھی تو اس طرح آئی تھی کہ عدالت کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی تھی۔ لیکن قرآن نے ایک طرف تو رحمت و جمال کا ایسا کامل تصور پیدا کردیا کہ قہر و غضب کے لیے کوئی جگہ ہی نہ رہی دوسری طرف جزائے عمل کا سر رشتہ بھی ہاتھ سے نہیں دیا کیونکہ جزا کا اعتقاد قہر و غضب کی بنا پر نہیں بلکہ عدالت کی بنا پر قائم کردیا۔ چنانچہ صفات الٰہی کے بارے میں اس کا عام اعلان یہ ہے : "قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن ایاما تدعوا فلہ الاسماء الحسنی : اے پیغمبر، ان سے کہہ دو، تم خدا کو اللہ کے نام سے پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو جس صفت سے بھی پکارو اس کی ساری صفتیں حسن و خوبی کی صفتیں ہیں" یعنی وہ خدا کی تمام صفتوں کو "اسمائے حسنی" قرار دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی کوئی صفت نہیں جو حسن و خوبی کی صفت نہ ہو۔ یہ صفتیں کیا کیا ہیں؟ قرآن نے پوری وسعت کے ساتھ انہیں جابجا بیان کیا ہے۔ ان میں ایسی صفتیں بھی ہیں جو بظاہر قہر و جلال کی صفتیں ہیں۔ مثلاً جبار، قہار، لیکن قرآن کہتا ہے، وہ بھی "اسمائے حسنی" ہیں۔ کیونکہ ان میں قدرت و عدالت کا ظہور ہوا ہے اور قدرت و عدالت حسن و خوبی ہے۔ خونخواری و خوفناکی نہیں ہے۔ چنانچہ سورۃ حشر میں صفات رحمت و جمال کے ساتھ قہر و جلال کا بھی ذکر کیا ہے اور پھر متصلاً ان سب کو "اسمائے حسنی" قرار دیا ہے۔ " ہُوَ اللَّہُ الَّذِی لا إِلَہَ إِلا ہُوَ الْمَلِکُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّہِ عَمَّا یُشْرِکُونَ (٢٣) ہُوَ اللَّہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَہُ الأسْمَاءُ الْحُسْنَی یُسَبِّحُ لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَہُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ (٢٤): وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ و الملک ہے۔ القدوس ہے۔ السلام ہے۔ المومن ہے۔ المہیمن ہے۔ العزیز ہے۔ الجبار ہے۔ المتکبر ہے۔ اور اس ساجھے سے پاک ہے جو لوگوں نے اس کی معبودیت میں بنا رکھے ہیں، وہ الخالق ہے۔ الباری ہے۔ المصور ہے (غرض کہ) اس کے لیے حسن و خوبی کی صفتیں ہیں۔ آسمان و زمین میں جتنی بھی مخلوقات ہیں سب اس کی پاکی اور عظمت کی شہادت دے رہی ہیں اور بلاشبہ وہی ہے جو حکمت کے ساتھ غلبہ و توانائی بھی رکھنے والا ہے" اسی طرح سورۃ اعراف میں ہے : "وللہ الاسماء الحسنی فادعوہ بہا وذروا الذین یلحدون فی اسمائہ : اور اللہ کے لیے حسن و خوبی کی صفتیں ہیں۔ سو چاہیے کہ ان صفتوں سے اسے پکارو۔ اور جن لوگوں کا شیوہ یہ ہے کہ اس کی صفتوں میں کج اندیشیاں کرتے ہیں، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو" 1؎ چنانچہ اسی لیے سورۃ فاتحہ میں صرف تین صفتیں نمایاں ہوئیں : ربوبیت، رحمت اور عدالت۔ اور قہر و غضب کی کسی صفت کو یہاں جگہ نہ دی گئی۔ 1؎۔ اس آیت میں "الحاد فی الاسماء " سے مقصد کیا ہے؟ "الحاد" لحد سے ہے۔ "لحد" کے معنی میلان عن الوسط کے ہیں۔ یعنی درمیان سے کسی ایک طرف کو ہٹا ہوا ہونا۔ اسی لیے ایسی قبر کو جس میں نعش کی جگہ ایک طرف کو ہٹی ہوئی ہوتی ہے۔ لحد کہتے ہیں۔ جب یہ لفظ انسانی افعال کے لیے بولا جاتا ہے تو اس کے معنی راہ حق سے ہٹ جانے کے ہوتے ہیں۔ کیونکہ وسط حق ہے اور جو اس سے منحرف ہو باطل ہے۔ الحد فلان۔ ای مال عن الحق۔ پس یہاں الحاد فی الاسماء کا مطلب یہ ہوا کہ خدا کی صفات کے بارے میں جو راہ حق ہے اس سے منحرف ہوجانا۔ امام راغب اصفہانی نے اس کی تشریح حسب ذیل لفظوں میں کی ہے " ان یوصف بما لا یصح وصفہ بہ او ان یتاول اوصافہ علی مالا یلیق بہ (مفردات 464)۔ یعنی خدا کے لیے کوئی ایسا وصف قرار دینا جو اس کا وصف نہیں ہونا چا ہے یا اس کی صفتوں کا ایسا مطلب ٹھہرانا جو اس کی شان کے لائق نہیں۔ 12۔ (3)۔ اشراکی تصورات کا کلی انسداد : ثالثاً : جہاں تک توحید و اشراک کا تعلق ہے قرآن کا تصور اس درجہ کامل اور بے لچک ہے کہ اس کی کوئی نظیر پچھلے تصورات میں نہیں مل سکتی۔ اگر خدا اپنی ذات میں یگانہ ہے تو ضروری ہے کہ وہ اپنی صفات میں بھی یگانہ ہو۔ کیونکہ اس کی یگانگت کی عظمت قائم نہیں رہ سکتی اگر کوئی دوسری ہستی اس کی صفات میں شریک و سہیم مان لی جائے۔ قرآن سے پہلے توحید کے ایجابی پہلو پر تو تمام مذاہب نے زور دیا تھا لیکن سلبی پہلو نمایاں نہیں ہوسکا تھا۔ ایجابی پہلو یہ ہے کہ خدا ایک ہے۔ سلبی یہ ہے کہ اس کی طرح کوئی نہیں۔ اور جب اس کی طرح کوئی نہیں تو ضروری ہے کہ جو صفتیں اس کے لیے ٹھہرا دی گئی ہیں ان میں کوئی دوسری ہستی شریک نہ ہو۔ پہلی بات توحید فی الذات سے اور دوسری توحید فی الصفات سے تعبیر کی گئی ہے۔ قرآن سے پہلے اقوام عالم کی استعداد اس درجہ بلند نہیں ہوئی تھی کہ توحید فی الصفات کی نزاکتوں اور بندشوں کی متحمل ہوسکتی اس لیے مذاہب نے تمام تر زور توحید فی الذات ہی پر دیا۔ توحید فی الصفات اپنی ابتدائی اور سادہ حالت میں چھوڑ دی گئی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں باوجودیکہ تمام مذاہب قبل از قرآن میں عقیدہ توحید کی تعلیم موجود تھی لیکن کسی نہ کسی صورت میں شخصیت پرستی، عظمت پرستی، اور اصنام پرستی نمودار ہوتی رہی اور رہنمایان مذاہب اس کا دروازہ بند نہ کرسکے۔ ہندوستان میں تو غالباً اول روز ہی سے یہ بات تسلیم کرلی گئی تھی کہ عوام کی تشفی کے لیے دیوتاؤں اور انسانی عظمتوں کی پرستاری ناگریز ہے اور اس لیے توحید کا مقام صرف خواص کے لیے مخصوص ہونا چاہیے۔ فلاسفہ یونان کا بھی یہی خیال تھا۔ یقیناً وہ اس بات سے بے خبر نہ تھے کہ کوہ الیمپس کے دیوتاؤں کی کوئی اصلیت نہیں، تاہم سقراط کے علاوہ کسی نے بھی اس کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ عوام کے اصنامی عقائد میں خلل انداز ہو۔ وہ کہتے تھے اگر دیوتاؤں کی پرستش کا نظام قائم نہ رہا تو عوام کی مذہبی زندگی درہم برہم ہوجائے گی۔ فیثا غورس کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ جب اس نے اپنا مشہور حسابی قاعدہ معلوم کیا تھا تو اس کے شکرانے میں سو بچھڑوں کی قربانی دیوتاؤں کے نذر کی تھی۔ اس بارے میں سب سے زیادہ نازک معاملہ معلم و رہنما کی شخصیت کا تھا۔ یہ ظاہر ہے کہ کوئی تعلیم عظمت و رفعت حاصل نہیں کرسکتی جب تک معلم کی شخصیت میں بھی عظمت کی شان پیدا نہ ہوجائے۔ لیکن شخصیت کی عظمت کے حدود کیا ہیں؟ یہیں آ کر سب کے قدموں نے ٹھوکر کھائی۔ وہ اس کی ٹھیک حد بندی نہ کرسکے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کبھی شخصیت کو خدا کا اوتار بنا دیا، کبھی ابن اللہ سمجھ لیا، کبھی شریک و سہیم ٹھہرا دیا اور اگر یہ نہیں کیا تو کم از کم اس کی تعظیم میں بندگی و نیاز کی سی شان پیدا کردی۔ یہودیوں اپنے ابتدائی عہد کی گمراہیوں کے بعد کبھی ایسا نہیں کیا کہ پتھر کے بت تراش کر ان کی پوجا کی ہو۔ لیکن اس بات سے وہ بھی نہ بچ سکے کہ اپنے نبیوں کی قبروں پر ہیکل تعمیر کر کے انہیں عبادت گاہوں کی سی شان و تقدیس دے دیتے تھے۔ گوتم بدھ کی نسبت معلوم ہے کہ اس کی تعلیم میں اصنام پرستی کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ اس کی آخری وصیت جو ہم تک پہنچی ہے یہ ہے "ایسا نہ کرنا کہ میری نعش کی راکھ کی پوجا شروع کردو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو یقین کرو نجات کی راہ تم پر بند ہوجائے گی" (آرلی بودھ ازم 12)۔ لیکن اس وصیت پر جیسا کچھ عمل کیا گیا، وہ دنیا کے سامنے ہے۔ نہ صرف بدھ کی خاک اور یادگاروں پر معبد تعمیر کیے گئے۔ بلکہ مذہب کی اشاعت کا ذریعہ ہی یہ سمجھا گیا کہ اس کے مجسموں سے زمین کا کوئی گوشہ خالی نہ رہے۔ ویہ واقعہ ہے کہ دنیا میں معبود کے بھی اتنے مجسمے نہیں بنائے گئے جتنے گوتم بدھ کے بنائے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمیں معلوم ہے کہ مسیحیت کی حقیقی تعلیم سرتاسر توحید کی تعلیم تھی لیکن ابھی اس کے ظہور پر پورے سو برس بھی نہیں گزرے تھے کہ الوہیت مسیح کا عقیدہ نشوونما پا چکا تھا۔ توحید فی الصفات : لیکن قرآن نے توحید فی الصفات کا ایسا کامل نقشہ کھینچ دیا کہ اس طرح کی لغزشوں کے تمام دروازے بند ہوگئے۔ اس نے صرف توحید ہی پر زور نہیں دیا بلکہ شرکی کی بھی راہیں بند کردیں اور یہی اس باب میں اس کی خصوصیت ہے۔ وہ کہتا ہے ہر طرح کی عبادت اور نیاز کی مستحق صرف خدا ہی کی ذات ہے۔ پس اگر تم نے عابدانہ عجز و نیاز کے ساتھ کسی دوسری ہستی کے سامنے سر جھکایا تو توحید الٰہی کا اعتقاد باقی نہ رہا۔ وہ کہتا ہے یہ اسی کی ذات ہے جو انسانی کی پکار سنتی اور ان کی دعائیں قبول کرتی ہے۔ پس اگر تم نے اپنی دعاؤں اور طلبگاریوں میں کسی دوسری ہستی کو بھی شریک کرلیا تو گویا تم نے اسے خدا کی خدائی میں شریک کرلیا۔ وہ کہتا ہے کہ دعا، استعانت، رکوع و سجود، عجز و نیاز، اعتماد و توکل اور اس طرح کے تمام عبادت گزارانہ اور نیاز مندانہ اعمال وہ اعمال ہیں جو خدا اور اس کے بندوں کا باہمی رشتہ قائم کرتے ہیں۔ پس اگر ان اعمال میں تم نے کسی دوسری ہستی کو بھی شریک کرلیا تو خدا کے رشتہ معبودیت کی یگانگی باقی نہ رہی۔ اسی طرح عظمتوں، کبریائیوں، کارسازیوں اور بے نیازیوں کا جو اعتقاد تمہارے اندر خدا کی ہستی کا تصور پیدا کرتا ہے وہ صرف خدا ہی کے لیے مخصوص ہونا چاہیے۔ اگر تم نے ویسا ہی اعتقاد کسی دوسری ہستی کے لیے بھی پیدا کرلیا تو تم نے اسے خدا کا نِد یعنی شریک ٹھہرا لیا اور توحید کا اعتقاد درہم برہم ہوگیا !۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں ایاک نعبد وایاک نستعین کی تلقین کی گئی۔ اس میں اول تو عبادت کے ساتھ استعانت کا بھی ذکر کیا گیا پھر دونوں جگہ مفعول کو مقدم کیا جو مفید حصر ہے۔ یعنی "صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھی سے مدد طلب کرتے ہیں" اس کے علاوہ تمام قرآن میں اس کثرت کے ساتھ توحید فی الصفات اور رد اشراک پر زور دیا گیا ہے کہ شاید ہی کوئی سورت بلکہ کوئی صفحہ اس سے خالی ہو۔ مقام نبوت کی حد بندی : سب سے زیاہ اہم مسئلہ مقام نبوت کی حد بندی کا تھا۔ یعنی معلم کی شخصیت کو اس کی اصلی جگہ میں محدود کردینا تاکہ شخصیت پرستی کا ہمیشہ کے لیے سد باب ہوجائے۔ اس بارے میں قرآن نے جس طرح صاف اور قطعی لفظوں میں جا بجا پیغمبر اسلام کی بشریت اور بندگی پر زور دیا ہے محتاج بیان نہیں۔ ہم یہاں صرف ایک بات کی طرف توجہ دلائیں گے۔ اسلام نے اپنی تعلیم کا بنیادی کلمہ جو قرار دیا ہے وہ سب کو معلوم ہے "اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد عبدہ ورسولہ" یعنی میں اقرار کرتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اقرار کرتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہے" اس اقرار میں جس طرح خدا کی توحید کا اعتراف کیا گیا ہے ٹھیک اسی طرح پیغمبر اسلام کی بندگی اور درجہ رسالت کا اعتقاد اسلام کی اصل و اساس بن جائے اور اس کا کوئی موقع ہی باقی نہ رہے کہ عبدیت کی جگہ معبودیت کا اور رسالت کی جگہ اوتار کا تخیل پیدا ہو۔ ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ اس معاملہ کا تحفظ کیا جاسکتا تھا؟ کوئی شخص دائرہ اسلام میں داخل ہی نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ خدا کی توحید کی طرح پیغمبر اسلام کی بندگی کا بھی اقرار نہ کرلے ! یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں، پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد مسلمانوں میں بہت سے اختلافات پیدا ہوئے لیکن ان کی شخصیت کے بارے میں کبھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوا۔ ابھی ان کی وفات پر چند گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے برسر منبر اعلان کردیا تھا : "من کان منکم یعبد محمدا فان محمدا قد مات و من کان منکم یعبد اللہ فان اللہ حی لا یموت : جو کوئی تم میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پرستش کرتا تھا۔ سو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد نے وفات پائی۔ اور جو کوئی تم میں سے اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کی ذات ہمیشہ زندہ ہے اس لیے موت نہیں" (بخاری شریف) (4)۔ عوام اور خواص دونوں کے لیے ایک تصور : رابعاً قرآن سے پہلے علوم وفنون کی طرح مذہبی عقائد میں بھی خاص و عام کا امتیاز ملحوظ رکھا جاتا تھا اور خیال کیا جاتا تھا کہ خدا کا ایک تصور تو حقیقی ہے اور خواص کے لیے ہے۔ ایک تصور مجازی ہے اور عوام کے لیے ہے۔ چنانچہ ہندوستان میں خدا شناسی کے تین درجے قرار دیے گئے : عوم کے لیے دیوتاؤں کی پرستش، خواص کے لیے براہ راست خدا کی پرستش اور اخص الخواص کے لیے وحدۃ الوجود کا مشاہدہ۔ یہی حال فلاسفہ یونان کا تھا۔ وہ خیال کرتے تھے کہ ایک غیر مرئی اور غیر مجسم خدا کا تصور صرف اہل علم و حکمت ہی کرسکتے ہیں۔ عوام کے لیے اسی میں امن ہے کہ دیوتاؤں کی پرستاری میں مشغول رہیں۔ لیکن قرآن نے حقیقت و مجاز یا خاص و عام کا کوئی امتیاز باقی نہ رکھا۔ اس نے سب کو خدا پرستی کی ایک ہی راہ دکھائی اور سب کے لیے صفات الٰہی کا ایک ہی تصور پیش کردیا۔ وہ حکما و عرفا سے لے کر جہاد و عوام تک سب کو حقیقت کا ایک ہی جلوہ دکھاتا ہے اور سب پر اعتقاد و ایمان کا ایک ہی دروازہ کھولتا ہے۔ اس کا تصور جس طرح ایک حکیم وعارف کے لیے سرمایہ تفسکر ہے اسی طرح ایک چرواہے اور دہقان کے لیے سرمایہ تسکین ! اس سلسلہ میں معاملہ کا ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ ہندوستان میں خواص اور عوام کے خدا پرستانہ تصوروں میں جو فرق مراتب ملحوظ رکھا گیا وہ معاملہ کو اس رنگ میں بھی نمایاں کرتا ہے کہ یہاں کا مذہبی نقطہ خیال ابتدا سے فکر و عمل کی رواداری پر مبنی رہا ہے۔ یعنی کسی دائرہ فکر کو بھی اتنا تنگ اور بے لچک نہیں رکھا گیا کہ کسی دوسرے دائرہ کی اس میں گنجائش ہی نہ نکل سکے۔ یہاں خواص توحید کی راہ پر گامزن ہوئے لیکن عوام کے لیے دیوتاؤں کی پرستش اور مورتیوں کی معبودیت کی راہیں بھی کھلی چھوڑ دی گئیں۔ گویا ہر عقیدہ کو جگہ دی گئی۔، ہر عمل کے لیے گنجائش نکالی گئی اور ہر طور طریقہ کو آزادانہ نشوونما کا موقع مل گیا۔ مذہبی اختلاف جو دوسری قوموں میں باہمی جنگ و جدال کا ذریعہ رہا ہے یہاں آپس کے سمجھوتوں کا ذریعہ بنا اور ہمیشہ متعارض اصول باہم دگر ٹکرانے کی گجہ ایک دوسرے کے لیے جگہیں نکالتے رہے۔ تخالف کی حالت میں تفاہم اور تعارض کی حالت میں تطابق گویا یہاں کے ذہنی مزاج کی عام خصوصیت تھی۔ ایک ویدانتی جانتا ہے کہ اصل حقیقت اشراک اور بت پرستی کے عقائد سے بالا تر ہے تاہم یہ جاننے پر بھی وہ بت پرستی کا منکر و مخالف نہیں ہوجاتا۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ پس ماندگان راہ کے لیے یہ بھی ایک ابتدائی منزل ہوئی اور راہرو کوئی راہ اختیار کرے مگر مقصود اصلی ہر حال میں سب کا ایک ہی ہے : خواہ از طریق میکدہ خواہ از رہ حرم از ہر جہت کہ شاد شوی فتح باب گیر ! چنانچہ چند سال ہوئے پروفیسر سی۔ ای۔ ام جوڈ (Joad) ہندوستان کے تاریخی خصائص پر نظر ڈالتے ہوئے اس خصوصیت کو سب سے زیادہ نمایاں جگہ دی تے ھی اور اس سے پہلے دوسرے اہل قلم بھی اس پہلو پر زور دے چکے ہیں۔ ہمیں چاہیے معاملے کے اس پہلو پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ بلاشبہ فکر و عمل کی اس روادارانہ سوچ کا جو ہندوستان کی تاریخ میں برابر ابھرتی رہی ہے ہمیں اعتراف کرنا چاہیے لیکن معاملہ صرف اتنے ہی پر ختم نہیں ہوجاتا۔ زندگی کے حقائق کے تقاضوں کا یہاں کچھ عجیب حال ہے۔ یہاں ہم کسی ایک گوشے ہی کے ہو کر نہیں رہ جاسکتے۔ دوسرے گوشوں کی بھی خبر رکھنی پڑتی ہے۔ اور فکر و عمل کی ہر راہ اتنی دور تک چلی گئی ہے کہ کہیں کہیں جا کر حد بندی کی لکیریں کھینچنی پڑتی ہیں۔ اگر ایسا نہ کریں تو علم و اخلاق کے تمام احکام متزلزل ہوجائیں اور اخلاق اقدار کی کوئی مستقل حیثیت باقی نہ رہے۔ رواداری یقیناً ایک خوبی کی بات ہے لیکن ساتھ ہی عقیدہ کی مضبوطی، رائے کی پختگی اور فکر کی استقامت کی خوبیوں سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ پس یہاں کوئی نہ کوئی حد بندی کا خط ضرور ہونا چاہیے جو ان تمام خوبیوں کو اپنی اپنی جگہ قائم رکھے۔ اخلاق کے تمام احکام انہی حد بندیوں کے خطوط سے بنتے اور ابھرتے ہیں۔ جونہی یہ ہلنے لگتے ہیں اخلاق کی پوری دیوار ہل جاتی ہے۔ عفو و درگزر بڑی ہی حسن و خوبی کی بات ہے لیکن یہ عفو و درگزر جب اپنی حد بندی کے خط سے آگے بڑھ جاتا ہے تو عفو و درگزر نہیں رہتا اسے بزدلی اور بے ہمتی کے نام سے پکارنے لگتے ہیں۔ شجاعت انسانی سیرت کا سب سے بڑا وصف ہے۔ لیکن یہ وصفت جب اپنی حد سے گزر جائے گا تو نہ صرف اس کا حکم ہی بدل جائے گا بلکہ صورت بھی بدل جائے گی۔ اب اسے دیکھیے تو وہ شجاعت نہیں ہے قہر و غضب اور ظلم وتشدد ہوگیا۔ دو حالتیں ہیں اور دونوں کا حکم ایک نہیں ہوسکتا۔ ایک حالت یہ ہے کہ کسی خاص اعتقاد اور عمل کی روشنی ہمارے سامنے آگئی ہے اور ہم ایک خاص نتیجہ تک پہنچ گئے ہیں َ اب اس کی نسبت ہمار اطرز عمل کیا ہونا چاہیے؟ ہم اس پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہیں یا متزلزل رہیں ؟ دوسرے حالت یہ ہے کہ جس طرح ہم کسی خاص نتیجے تک پہنچے ہیں اسی طرح ایک دوسری شخص بھی ایک دوسرے نتیجے تک پہنچ گیا ہے اور یہاں فکر و عمل کی ایک ہی راہ سب کے آگے نہیں کھلتی۔ اب ہمارا طرز عمل اس شخص کی نسبت کیا ہونا چاہیے؟ ہماری طرح اسے بھی اپنی راہ چلنے کا حق ہے یا نہیں؟ رواداری کا صحیح محل دوسری حالت ہے۔ پہلی نہیں ہے۔ اگر پہلی حالت میں وہ آئے گی تو یہ رواداری نہ ہوگی۔ اعتقاد کی کمزوری اور یقین کا فقدان ہوگا۔ رواداری یہ ہے کہ اپنے حق اعتقاد و عمل کے ساتھ دوسرے حق اعتقاد و عمل کا بھی اعتراف کیجیے۔ اور اگر دوسرے کی راہ آپ کی صریح غلط دکھائی دے رہی ہے جب بھی اس کے اس کے حق سے انکار نہ کیجیے کہ وہ اپنی غلط راہ پر بھی چل سکتا ہے۔ لیکن اگر رواداری کے حدود یہاں تک بڑھا دیے گئے کہ وہ آپ عقیدوں میں بھی مداخلت کرسکتی ہے اور آپ کے فیصلوں کو بھی نرم کرسکتی ہے پھر یہ رواداری نہ ہوئی استقامت فکر کی نفی ہوگئی۔ مفاہمت زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے اور ہماری زندگی ہی سرتاسر مفاہمت ہے۔ لیکن ہر راہ کی طرح یہاں بھی حد بندی کی کوئی لکیر کھینچنی پڑے گی اور جس حد پر بھی جا کر لکیر کھینچی گئی معاً عقیدہپیدا ہوگیا۔ اب جب تک عقیدہ کی تبدیلی کی کوئی روشنی سامنے نہیں آتی آپ مجبور ہیں کہ اس پر جمے رہیں اور اس میں کاٹ چھانٹ نہ کریں۔ آپ دوسروں کے عقائد کا احترام ضرور کریں گے لیکن اپنے عقیدہ کو بھی کمزوری کے حوالہ نہیں ہونے دیں گے۔ کتنی ہی مصیبتیں ہیں جو اعتقاد اور عمل کے تمام گوشوں میں اسی دروازہ سے آئیں کہ ان دو مختلف حالتوں کا امتیازی خط اپنی جگہ سے ہل گیا۔ اگر اعتقاد کی مضبوطی آئی تو اتنی دور تک چلی گئی کہ رواداری کے تمام تقاضے بھلا دیے گئے اور دوسروں کے اعتقاد و عمل میں جبراً مداخلت کی جانے لگی۔ اگر رواداری آئی تو اس بے اعتدالی کے ساتھ آئی کہ استقامت فکر و رائے کے لیے کوئی جگہ نہ رہی، ہر عقیدہ لچک گیا ہر یقین ہلنے لگا۔ پہلی بے اعتدالی کی مثالیں ہمیں ان مذہبی تنگ نظریوں اور سخت گیریوں میں ملتی ہیں جن کی خونچکاں داستانوں سے تاریخ کے اوراق رنگین ہوچکے ہیں۔ دوسری بے اعتدالی کے نتائج کی مثال ہمیں ہندوستان کی تاریخ مہیا کردیتی ہے۔ یہہاں فکر و عقیدہ کی کوئی بلندی بھی وہم و جہالت کی گراوٹ سے اپنے آپ کو محفوظ نہ رکھ سکی اور علم و عقل اور وہم و جہل میں ہمیشہ سمجھوتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان سمجھوتوں نے ہندوستانی دماغ کی شکل و صورت بگاڑ دی۔ اس کی فکری ترقیوں کا تمام حسن اصنامی عقیدوں اور وہم پرستیوں کے گرد و غبار میں چھپ گیا۔ زمانہ حال کے مورخوں نے اس صورت حال کا اعتراف کیا ہے۔ ہمارے زمانے کا ایک قابل ہندو مصنف اس عہد کی فکری حالت پر نظر ڈالتے ہوئے جب آریائی تصورات ہندوستان کے مقامی مذاہب سے مخلوط ہونے لگے تھے تسلیم کرتا ہے کہ "ہندو مذہب کی مخلوط نوعیت کی توضیح ہمیں اس صورت حال میں مل جاتی ہے۔ صحرا نورد قبائل کے وحشیانہ توہمات سے لے کر اونچے سے اونچے درجہ کے تہ رس غور وخوض تک ہر درجہ اور ہر دائرہ فکر کے خیالات یہاں باہم دگر ملتے اور مخلوط ہوتے رہے۔ آریائی مذہب اول روز سے کشادہ دل، خود رو اور روادار تھا۔ وہ جب کبھی کسی نئے موثر سے دوچار ہوا تو خود سمٹتا گیا اور جگہیں نکالتا رہا۔ اس کی اس مزاجی حالت میں ہم ایک سچے انکسار طبع اور ہمدردانہ مفاہمت کا شائستہ رجحان محسوس کرتے ہیں۔ ہندو دماغ اس کے لیے تیار نہیں ہوا کہ نچلے درجہ کے مذہبوں کو نظر انداز کردے یا لڑا کر ان کی ہستی مٹا دے۔ اس کے اندر ایک مذہبی مجنون کا غرور نہیں تھا کہ صرف اسی کا مذہب سچا مذہب ہے۔ اگر انسانوں کے ایک گروہ کو کسی ایک معبود کی پرستش اس کے طور طریقے پر تسکین قلب مہیا کردیتی ہے تو تسلیم کرلینا چاہیے کہ یہ بھی سچائی کی ایک راہ ہے۔ مکمل سچائی پر کوئی بیک دفعہ قابض نہیں ہوسکتا۔ وہ صرف بتدریج اور بہ تفریق ہی حاصل کی جاسکتی ہے اور یہاں ابتدائی اور عارضی درجوں کو بھی ان کی ایک جگہ دینی پڑتی ہے۔ ہندو دماغ نے رواداری اور باہمی مفاہمتوں کی یہ راہ اختیار کرلی لیکن وہ یہ بات بھول گیا کہ بعض حالات ایسے بھی ہوتے ہیں جب رواداری کی جگہ نارواداری ایک فضیلت کا حکم پیدا کرلیتی ہے اور مذہبی معاملات میں بھی گریشم کے قانون کی طرح کا ایک قانون کام کرتا رہتا ہے (گریشم کے قانون سے مقصود اقتصادیات کی یہ اصل ہے کہ اگر کھرے سکوں کے ساتھ کھوٹے سکے ملا دیے جائیں گے تو کھرے سکوں کی قیمت باقی نہیں رہے گی)۔ جب آریائی اور غیر آریائی مذاہب باہم دگر ملے۔ ایک شائستہ، دوسرا ناشائستہ، ایک اچھی قسم کا، دوسرا نکما۔ تو غیر شائستہ اور نکمے اجزا میں قدرتی طور پر یہ میلان پیدا ہوگیا کہ شائستہ اور اچھے اجزا کو دبا کر معطل کردے۔" (پروفیسر اس رادھا کرشناں۔ انڈین فلاسفی۔ جلد اول صفحہ 119۔ طبع ثانی)۔ بہرحال قرآن کے تصور الٰہی کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے کسی طرح کی اعتقادی مفاہمت اس بارے میں جائز نہیں رکھی۔ وہ اپنے توحید اور تنزیہی تصور میں سرتاسر بے میل اور بے لچک رہا۔ اس کی یہ مضبوط جگہ کسی طرح بھی ہمیں روادرانہ طرز عمل سے روکنا نہیں چاہتی۔ البتہ اعتقادی مفاہمتوں کے تمام دروازے بند کردیتی ہے۔ خامساً: قرآن نے تصور الٰہی کی بنیاد انسان کے عالمگیر وجدانی احساس پر رکھی ہے۔ یہ نہیں کیا ہے کہ اسے نظر و کفر کی کاوشوں کا ایک ایسا معمہ بنا دیا ہو جسے کسی خاص طبقہ کا ذہن ہی حل کرسکے۔ انسان کا عالمگیر وجدانی احساس کیا ہے؟ یہ ہے کہ کائنات ہستی خود بخود پیدا نہیں ہوگئی ہے اور اس لیے ضروری ہے کہ ایک صانع ہستی موجود ہو۔ پس قرآن بھی اس بارے میں عام طور پر جو کچھ تلاتا ہے وہ اتنا ہی ہے اس سے زیادہ جو کچھ ہے وہ مذہبی عقیدہ کا معاملہ نہیں ہے۔ انفرادی اور ذاتی تجربہ و احوال کا معاملہ ہے۔ اس لیے وہ اس کا بوجھ جماعت کے افکار پر نہیں ڈالتا۔ اسے اصحاب جہد و طلب کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ "والذین جاھدوا فینا لنہدینہم سبلنا وان اللہ لمع المحسنین : اور جو لوگ ہم تک پہنچنے کے لیے کوشش کریں گے تو ہم بھی ضرور ان پر راہ کھول دیں گے اور اللہ نیک کرداروں سے الگ کب ہے؟ وہ تو ان کے ساتھ ہے !" "وفی الارض ایات للموقنین۔ وفی انفسکم افلا تبصرون : اور ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں زمین میں کتنی ہی حقیقت کی نشانیاں ہیں اور خود تمہارے اندر بھی، پھر کیا تم دیکھتے نہیں؟" سادساً: اسی مقام سے وہ فرق مراتب بھی نمایاں ہوجاتا ہے جو اسلام نے بالکل ایک دوسری شکل و نوعیت میں عوام و خواص کا ملحوظ رکھا ہے۔ ہندو مفکروں نے عوام اور خواص میں الگ الگ تصور اور عقیدے تقسیم کیے۔ اسلام نے تصور اور عقیدے کے اعتبار سے کوئی امتیاز جائز نہیں رکھا۔ وہ حقیقت کا ایک ہی عقیدہ ہر انسانی دل و دماغ کے آگے پیش کرتا ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ طلب و جہد کے لحاظ سے سب کے مراتب یکساں نہیں ہوسکتے۔ اور یہاں ایک ہی درجہ کی پیاس لے کر ہر طالب حقیقت نہیں آتا۔ عامۃ الناس بحیثیت جماعت کے اپنا ایک خاص مزاج اور اپنی خاص احتیاج رکھتے ہیں۔ خاص افراد بحیثیت فرد کے اپنی طلب و اسستعداد کا الگ الگ درجہ و مقام رکھتے ہیں۔ پس اس نے جس امتیاز سے پہلی صورت میں انکار کردیا تھا اس سے دوسری صورت میں انکار نہیں کیا اور مختلف مدارج طلب کے لیے عرفان و یقین کی مختلف راہیں کھلی چھوڑ دیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایک متفق علیہ روایت میں جو حدیث جبریل کے نام سے مشہور ہے، نہایت جامع و مانع لفظوں میں یہ فرق مراتب واضح کردیا گیا ہے۔ یہ حدیث تین مرتبوں کا ذکر کرتی ہے۔ اسلام، ایمان اور احسان۔ اسلام یہ ہے کہ اسلامی عقیدے کا اقرار کرنا اور عمل کے چاروں رکن یعنی نماز روزہ، حج اور زکوۃ انجام دینا۔ ایمان یہ ہے کہ اقرار کے مرتبہ سے آگے بڑھنا اور اسلام کے بنیادی عقائد کے حق الیقین کا مرتبہ حاص کرنا۔ احسان یہ ہے کہ : "ان تعبداللہ کانک تراہ وان لم تکن تراہ فانہ یراک : تو اللہ کی اس طرح عبادت کرے گویا اسے اپنے سامنے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہیں دیکھ ررہا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے" (صحیحین) پس گویا عرفان حقیقت کے لحاظ سے یہاں تین مرتبے ہوئے۔ پہلا مرتبہ اسلامی دائرہ کے عام اعتقاد و عمل کا ہے۔ یہ اسلام ہے۔ یعنی جس نے اسلامی عقیدہ کا اقرار کرلیا اور اس کے اعمال کی زندگی اختیار کرلی وہ اس دائرہ میں آگیا۔ لیکن دائرہ میں داخل ہوجانے سے یہ لازم نہیں آجاتا کہ علم و یقین کے جو مقامات ہیں وہ بھی ہر ورد و داخل کو حاصل ہوگئے۔ پس اب دوسرا مرتبہ نمایاں ہوا جسے ایمان سے تعبیر کیا ہے۔ اسلام ظاہر کا اقرار و عمل تھا۔ ایمان دل و دماغ کا یقین و اذعان ہے۔ یہ مرتبہ جس نے حاسل کرلیا وہ عوام سے نکل کر خواص کے زمرہ میں داخل ہوگیا۔ لیکن معاملہ اتنے ہی پر ختم نہیں ہوجاتا۔ عرفان حقیقت اور عین الیقین ایقان کا ایک اور مرتبہ ابھی باقی رہ جاتا ہے۔ اسے احسان سے تعبیر کیا گیا۔ لیکن یہ مقام محض اعتقاد اور یقین پیدا کرلینے کا نہیں ہے جو ایک گروہ کو بحیثیت گروہ کے حاصل ہوسکتا ہے۔ یہ ذاتی تجربہ کا مقام ہے۔ جو یہاں تک پہنچتا ہے وہ اپنے ذات تجربہ و کشف سے یہ درجہ حاصل کرلیتا ہے۔ تعلیمی اور احکامی عقائد کو اس میں دخل نہیں۔ بحث و نظر کی اس میں گنجائش نہیں۔ یہ خود کرنے اور پانے کا معاملہ ہے۔ بتلانے اور سمجھانے کا معاملہ نہیں۔ جو یہاں تک پہنچ گیا وہ اگر کچھ بتلائے گا بھی تو یہی بتلائے گا کہ، میری طرح بن جاؤ۔ پھر جو کچھ دکھائی دیتا ہے دیکھ لو : پرسید یکے کہ عاشقی چیست؟ گفتم کہ چومن شوی بدانی اسلام نے اس طرح طلب و جہد کی پیاس کے لیے درجہ بدرجہ سیرابی کا سامان کردیا۔ عوام کے لیے پہلا مرتبہ کافی ہے۔ خواص کے یے دوسرا مرتبہ ضروری ہے اور اخص الخواص کی پیاس بغیر تیسرے جام کے تسکین پانے والی نہیں۔ اس کے تصور الٰہی اور عقیدہ کا میخانہ ایک ہے لیکن جام الگ الگ ہوئے۔ ہر طا الب کے حصے میں اس کے ظرف کے مطابق ایک جام آجاتا ہے اور اس کی سرشاری کی کیفیتیں مہیا کردیتا ہے۔ وللہ در ما قال : ساقی بہ ہمہ بادہ ز یک خم دہد، اما در مجلس او مستی ہر کس زشرابے ست ! یہاں یہ امر بھی واضح کردینا بے محل نہ ہوگا کہ قرآن کی متعدد تصریحات ہیں جنہیں اگر وحدۃ الوجودہ تصور کی طرف لے جایا جائے تو بلا تکلف دور تک جاسکتی ہیں۔ مثلا ھو الاول والآخر والظاھر والباطن۔ اور اینما تولوا فثم وجہ اللہ اور ونحن اقرب الیہ من حبل الورید۔ اور کل یوم ھو فی شان۔ یا تمام اس طرح کی تصریحات جن میں تمام موجودات کا بالآخر اللہ کی طرف لوٹنا بیان کیا گیا ہے۔ توحید وجودی کے قائل ان تمام آیات سے مسئلہ وحدۃ الوجود پر استدلال کرتے ہیں اور شاہ ولی اللہ نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اگر " میں مسئلہ وحدۃ الوجود کو ثابت کرنا چاہوں تو قرآن و حدیث کے تمام نصوص و ظواہر سے اس کا اثبات کرسکتا ہوں" لیکن صاف بات جو اس بارے میں معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ ان تمام تصریحات کو ان کے قریبی محامل سے دور نہیں لے جانا چاہیے اور ان معانی سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے جو صدر اول کے مخاطبوں نے سمجھے تھے۔ باقی رہا حقیقت کے کشف و عرفان کا وہ مقام جو عرفائے طریق کو پیش آتا ہے۔ تو وہ کسی طرح بھی قرآن کے تصور الٰہی کے عقیدے کے خلاف نہیں۔ اس کا تصور ایک جامع تصور ہے اور ہر توحیدی تسور کی اس میں گنجائش موجود ہے۔ جو افرادِ خاصہ مقام احسان تک رسائی حاصل کرتے ہیں وہ حقیقت کو اس کی سپ پردہ جلوہ طرازیوں میں دیکھ لیتے ہیں اور عرفان کا وہ منتہی مرتبہ جو فکر انسانی کی دسترس میں ہے انہیں حاصل ہوجاتا ہے۔ ومن لم یذق، لم یدر : تو نظر باز نہ ورنہ تغافل نگہ ست تو زبان فہم نہ ورنہ خموشی سخن ست ! سابعاً: جس ترتیب کے ساتھ سورۃ فاتحہ میں یہ تینوں صٖتیں بیان کی گئی ہیں دراصل فکر انسانی کی طلب و معرفت کی قدرتی منزلیں ہیں اور اگر غور کیا جائے تو اسی ترتیب سے پیش آتی ہیں۔ سب سے پہلے ربوبیت کا ذکر کیا گیا۔ کیونکہ کائنات ہستی میں سب سے زیاہ ظاہر نمود اسی صفت کی ہے اور ہر وجود کو سب سے زیادہ اسی کی احتیاج ہے۔ ربوبیت کے بعد رحمت کا ذکر کیا کیونکہ اس کی حقیقت بمقابلہ ربوبیت کے مطالعہ و تفکر کی محتاج تھی اور ربوبیت کے مشاہدات سے جب نظر آگے بڑھتی ہے تب رحمت کا جلوہ نمودار ہوتا ہے۔ پھر رحمت کے بعد عدالت کی صفت جلوہ افروز ہوئی کیونکہ یہ سفر کی آخری منزل ہے۔ رحمت کے مشاہدات کی منزل سے جب قدم آگے بڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے یہاں عدالت کی نمود بھی ہر جگہ موجود ہے اور اس لیے موجود ہے کہ ربوبیت اور رحمت کا مقتضا یہی ہے۔ (آیت 3 اور 4: مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کی تفسیر ختم ہوئی۔ ۔۔۔۔ الفاتحة
0 البقرة
1 البقرة
2 یہ کتاب متقی انسانوں پر فلاح و سعادت کی راہ کھولنے والی ہے۔ متقین، قبولیت حق کے لحاظ سے انسانوں کی پہلی قسم البقرة
3 البقرة
4 البقرة
5 البقرة
6 دوسری قسم منکرین حق کی جو قبولیت کی استعداد کے لحاظ سے پہلی قسم کی ضد ہیں البقرة
7 البقرة
8 تیسری قسم ان لوگوں کی جو اگرچہ خدا پرستی کا دعوی کرتے ہیں مگر فی الحقیقت اس سے محروم ہیں البقرة
9 البقرة
10 البقرة
11 البقرة
12 وہ مفسد ہیں مگر اپنے آپ کو مصلح سمجھتے ہیں البقرة
13 وہ راست بازی کو بے وقوفی اور اور نفاق کو دانشمندی سمجھتے ہیں البقرة
14 راست بازوں کی تحقیر اور ایمان والوں کا تمسخر ان لوگوں کا شیوہ ہے البقرة
15 البقرة
16 البقرة
17 تیسری قسم کے لوگوں کی محرومی ایک مثال البقرة
18 البقرة
19 حق کے ظہور اور محروموں کی محرومی کی دوسری مثال۔ کائنات خلقت کی ہولناکیاں بھی خیر و برکت کے لیے ہیں، لیکن محروموں کے حصے میں خوف و سراسیمگی کے سوا کچھ نہیں آتا۔ البقرة
20 البقرة
21 توحید الٰہی کی تلقین اور خالقیت اور ربوبیت سے استدلال جس کا یقین انسان کی فطرت میں ہے البقرة
22 البقرة
23 رسالت اور وحی البقرة
24 البقرة
25 البقرة
26 سنت الٰہی یہ ہے کہ وحی کا کلام انسانی بول چال کے مطابق ہوتا ہے اور بیان حقائق کے لیے مثالیں ضروری ہیں البقرة
27 البقرة
28 آخرت کی زندگی، اور پہلی پیدائش سے دوسری پیدائش پر استدلال البقرة
29 زمین کی مخلوقات میں نوع انسانی برتری اور مخلوقات ارضی کا اس لیے ہونا تاکہ انسان انہیں اپنے کام میں لائے البقرة
30 انسان کا زمین میں خدا کا خلیفہ ہونا، نوع انسانی کی معنوی تکمیل، آدم (علیہ السلام) کا ظہور اور قوموں کی ہدایت و ضلالت کی ابتدا البقرة
31 البقرة
32 البقرة
33 البقرة
34 فرشتوں کا آدم کے سامنے سربسجود ہوجانا مگر ابلیس کا انکار کرنا البقرة
35 آدم (علیہ السلام) کی بہشنی زندگی اور شجر ممنوع البقرة
36 آدم (علیہ السلام) کی لغزش اور اعتراف قصور۔ قبولیت توبہ اور ایک نئی زندگی کا آغاز البقرة
37 البقرة
38 وحی الٰہی کی ہدایت اور انسان کی سعادت و شقاوت کا قانون البقرة
39 البقرة
40 وحی الٰہی کی ہدایت کا جاری ہونا اور اس سلسلہ میں بنی اسرائیل سے خطاب کہ کتاب اللہ کے سب سے بڑے حامل وحی سمجھے جاتے تھے البقرة
41 البقرة
42 البقرة
43 البقرة
44 البقرة
45 صبر اور نماز دو بڑی روحانی قوتیں ہیں جن سے اصلاح نفس اور انقلاب حال میں مدد لی جاسکتی ہے البقرة
46 البقرة
47 بنی اسرائیل کے ایام و وقائع کا تذکرہ اور قوموں کی ہدایت و ضلالت کے حقائق البقرة
48 البقرة
49 مصر کے فرعونوں کی غلامی سے نجات اور کتاب و فرقان کا عطیہ لیکن بنی اسرائیل کا مصری بت پرستی کی طرف مائل ہوجانا اور گوسالہ پرستی شروع کردینی۔ البقرة
50 البقرة
51 البقرة
52 البقرة
53 البقرة
54 البقرة
55 بنی اسرائیل کی یہ گمراہی کہ ان کے دلوں میں وحی الٰی پر کامل یقین نہ تھا البقرة
56 البقرة
57 صحرائے سینا کی بے آب وگیاہ سرزمین میں زندگی کی تمام ضروریات کا مہیا ہوجانا لیکن بنی اسرائیل کا کفران نعمت کرنا۔ "من" درخت کا شیرہ ہے جو گوند کی طرح جم جاتا ہے اور خوش ذائقہ و مقوی ہوتا ہے۔ "سلوی" ایک پرند ہے۔ یہ دونوں چیزوں کوہ طور کے اطراف و جوانب میں بکثررت ہوتی ہیں۔ "من" کا حلوہ میں خود کھایا ہے جو فلسطین کے یہودی بنایا کرتے ہیں۔ البقرة
58 بنی اسرائیل کی یہ گمراہی کہ جب انہیں فتح و کامرانی عطا کی گئی تو عبودیت و نیاز کی جگہ غفلت و غرور میں مبتلا ہوگئے البقرة
59 البقرة
60 صحرائے سینا میں پانی کے چشموں کا نمایاں ہوجانا لیکن بنی اسرائیل کا پانی کے لیے آپس میں جھگڑا اور فتنہ و فساد پھیلانا البقرة
61 محکومی و غلامی سے قوم کا اخلاق پست ہوجاتا ہے اور بلندمقاصد کے لیے جوش و عزم باقی نہیں رہتا۔ بنی اسرائیل فراعنہ مصر کی غلامی سے آزاد ہوگئے تھے۔ اور قومی عظمت کا مستقبل ان کے سامنے تھا، لیکن وہ ان حقیر راحتوں کے لیے ترستے تھے جو مصر کی غلامانہ زندگی میں میسر تھیں، اور وہ چھوٹی چھوٹی تکلیفیں شاق گذرتی تھیں جو آزادی و عظمت کی راہ میں پیش آتی تھیں۔ البقرة
62 اس اصل عظیم کا اعلان کہ سعادت و نجات ایمان و عمل سے وابستہ ہے۔ نسل و خاندان یا مذہبی گروہ بندی کو اس میں کوئی دخل نہیں۔ یہودی جب ایمان و وعمل سے محروم ہوگئے تو نہ تو ان کی نسل ان کے کام آئی نہ یہودیت کی گروہ بندی سود مند ہوسکی۔ خدا کے قانون نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ کون ہیں اور کس گروہ بندی سے تعلق رکھتے ہیں؟ بلکہ صرف یہ دیکھا کہ عمل کا کیا حال ہے؟ اور پھر جب آزمائش عمل میں پورے نہ اترے تو مغضوب ونامراد ہوگئے۔ البقرة
63 بنی اسرائیل کی یہ گمراہی کہ شریعت کے احکام پر سچائی کے ساتھ عمل نہیں کرتے تھے اور ان سے بچنے کے لیے طرح طرح کے شروعی حیلے گھڑ لیے تھے یعنی محض نمائشی طور پر تو ان کی تعمیل کرلیتے لیکن جو کچھ حقیقی مقصد تھا وہ پورا نہ کرتے۔ البقرة
64 البقرة
65 البقرة
66 البقرة
67 کثرت سوال اور تعمق فی الدین کی گمراہی۔ یعنی احکام حق کی سیدھی سادھی اطاعت کرنے کی جگہ ردوکد کرنا۔ طرح طرح کے سوالات گھڑنا، بلا ضرورت باریک بینیاں اور دقیقہ سنجیاں کرنی اور شریعت کی سادگی اور آسانی کو سختی اور پیچیدگی سے بدل دینا۔ حکم ذبح کے لیے گنتی باب 19۔20، استثنا 21۔2 دیکھو۔ البقرة
68 البقرة
69 البقرة
70 البقرة
71 بنی اسرائیل کا قتل نفس میں بے باک ہوجانا جو شریعت الٰہی کے رو سے انسان کا بڑے سے بڑا جرم ہے البقرة
72 البقرة
73 البقرة
74 بنی اسرائیل کی قلبی و اخلاقی حالت کا انتہائی تنزل حتی کہ اس حالت کا پیدا ہوجانا جب عبرت پذیر اور تنبہ کی استعداد یک قلم معدوم ہوجاتی ہے اور فکر انسان اپنی تباہ شدہ حالت پر قانع و مطمئن ہوجاتا ہے البقرة
75 بنی اسرائیل کے گذشتہ ایام و وقائع کے ذکر کے بعد ان کو موجود اعمال واقوال پر تبصرہ، ان کی اعتقادی اور عملی گمراہیوں کی تشریح اور دین الٰہی کے حجج و رباہین۔ سب سے پہلی اور بنیادی گمراہی یہ ہے کہ نہ تو کتاب اللہ کا سچا علم باقی رہا ہے نہ سچا عمل ! البقرة
76 البقرة
77 البقرة
78 ان کے علما حق فروش ہیں، اور عوام کا سرمایہ دین خوش اعتقادی کی آرزوؤں اور جہالت کے ولولوں کے سوا کچھ نہیں ہے ! یہودیوں کے علما کی یہ گمراہی کہ کتاب اللہ کے احکام پر اپنی رایوں اور خواہشوں کو ترجیح دیتے اور پھر اپنے گھڑے ہوئے حکموں اور مسئلوں کو کتاب اللہ کی طرح واجب العمل بتلاتے البقرة
79 البقرة
80 یہودیوں کی یہ گمراہی کہ سمجھتے تھے، ان کی امت نجات یافتہ امت ہے۔ اس لیے ممکن نہیں کہ کوئی یہودی ہمیشہ دوزخ میں نہیں ڈالا جائے۔ قرآن ان کے اس زعم باطل کا رد کرتا ہے اور کہتا ہے جنت و دوزخ کی تقسیم قوموں کی تقسیم کی بنا پر نہیں ہے کہ کسی خاص قوم کے لیے جنت ہو، اور باقی کے لیے دوزخ، بلکہ اس کا تمام تر دارو مدار ایمان و عمل پر ہے۔ جس انسان نے بھی اپنے اعمال کے ذریعہ برائی کمائی، اس کے لیے برائی یعنی عذاب ہے اور جس کسی نے بھی اپنے اعمال کے ذریعہ اچھائی کمائی اس کے لیے اچھائی یعنی نجات ہے۔ خواہ وہ کوئی ہو، اور کسی گروہ بندی کا ہو ! البقرة
81 البقرة
82 البقرة
83 البقرة
84 پیروان مذاہب کی گمراہی کی وہ حالت، جبکہ اتباع دین کی روح یک قلم مفقود ہوجاتی ہے، اور دینداری کی نمائش صرف اس لیے کی جاتی ہے تاکہ نفسانی خواہشوں اور کام جوئیوں کے لیے اسے آلہ کار بنایا جائے۔ اس صورت حال کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شریعت کے بنیادی اور اصولی احکام پر تو کوئی توجہ نہیں کرتا۔ لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں پر جو نمائش اور ریاکاری کا ذریعہ ہوسکتی ہیں اور جن کے کرنے میں کچھ چھوڑنا اور کھونا نہیں پڑتا، بہت زور دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اگر ان اصولی باتوں پر ٹھیک ٹھیک عمل کیا جاتا تو یہ فروعی خلاف ورزیاں ظہور ہی میں نہ آتیں۔ علمائے یہود اسی گمراہی میں مبتلا تھے البقرة
85 یہ حالت اس بات کا نتیجہ ہے کہ راست بازی اور حق پرستی کی جگہ نفسانی خواہشوں کی پرستش کی جاتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ غرض پرستوں نے ہمیشہ داعیان حق و اصلاح کی مخالفت کی ہے۔ بنی اسرائیل کے تکذیب رسل اور قتل انبیا سے استشہاد، کہ جس طرح ہمیشہ سچائی کے منکر و معاند رہے، اسی طرح اب بھی انکار و عناد میں سرگرم ہیں۔ البقرة
86 البقرة
87 البقرة
88 حق کے اثبات اور تقلید کے جمود میں فرق ہے۔ خیالات کی ایسی پختگی میں کوئی خوبی نہیں کہ ہم دوسروں کی بات سننے ہی سے انکار کردیں۔ علمائے یہود ایسے ہی جمود میں مبتلا تھے اور اسے اعتقاد کی پختگی سمجھ کر فخر کرتے تھے۔ البقرة
89 البقرة
90 قبول حق کی راہ میں جو موانع پیش آتے ہیں، ان میں سب سے بڑا مانع نسلی، جماعتی، یا شخصی حسد ہے۔ البقرة
91 اہل کتاب کی عالمگیر گمراہی یہ ہے کہ جب انہیں اتباع حق کی دعوت دی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہمارے پاس ہمارا دین موجود ہے۔ ہمیں کسی نئی تعلیم کی ضرورت نہیں۔ حالانکہ وہ بھول جاتے ہیں کہ جس دین کو اپنا دین کہتے ہیں اس پر ان کا عمل کب ہے؟ قرآن کہتا ہے دین سب کے لیے اور سب کا ایک ہی ہے، اور میں اس لیے نہیں آیا کہ پچھلی سچائیوں کی جگہ کوئی نیا دین پیش کروں بلکہ اس لیے آیا ہوں کہ ان کا سچا اعتقاد اور عمل پیدا کردوں۔ البقرة
92 البقرة
93 البقرة
94 جن کے دل میں نجات اخروی کا سچا یقین ہے وہ موت سے خائف اور حیات دنیوی کے پجاری نہیں ہوسکتے۔ بنی اسرائیل کی دنیا پرستی اور حیات دنیوی کی حرص سے ان کے ایمان و یقین سے محرومی پر استشہاد البقرة
95 البقرة
96 البقرة
97 جو کوئی سلسلہ وحی کا مخالف ہے۔ تو وہ اللہ اور اس کے قوانین ہدایت کا مخالف ہے البقرة
98 البقرة
99 پیغمبر اسلام سے خطاب کہ دعوت حق کا ظہور سچائی کی روشن دلیلوں کے ساتھ ہوا ہے، جن سے کوئی راست باز انسان انکار نہیں کرسکتا اور اگر علمائے یہود باوجود کتاب اللہ کے حال ہونے کے انکار کررہے ہیں، تو یہ کفر و جحود کا کوئی نیا مظاہرہ نہیں ہے جس پر تعجب ہو اس سے پہلے بھی ان کی روش ایسی ہی رہ چکی ہے۔ البقرة
100 البقرة
101 البقرة
102 بنی اسرائیل کے ضعف عقل و ایمان پر اس واقعہ سے استشہاد کہ جادوگروں کے شعبدوں پر جھک پڑے تھے اور کتاب الٰہی کی تعلیم پس پشت ڈال دی تھی۔ ضمناً اس حقیقت کا اعلان کہ اس بارے میں جو خرافات مشہور ہیں، ان کی کوئی اصلیت نہیں۔ البقرة
103 البقرة
104 دعوت قرآنی کے پیروؤں سے خطاب کہ بنی اسرائیل کے ایام و قائع سے عبرت پکڑیں، اور ان ٹھوکروں سے بچیں جو انہیں اس راہ میں لگ چکی ہیں۔ نیز ان شکوک اور اعتراضات کا جواب جو منکرین حق مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔ البقرة
105 البقرة
106 ایک شریعت کے بعد دوسری شریعت کا ظہور اس لیے ہوا کہ یا تو "نسخ" کی حالت طاری ہوئی۔ یا "نسیان" کی۔ "نسخ" یہ ہے کہ ایک بات پہلے سے موجود تھی لیکن موقوف ہوگئی، اور اس کی جگہ دوسری بات آگئی "نسیان" کے معنی بھول جانے کے ہیں۔ بعض حالتوں میں ایسا ہوا کہ پھچلی شریعت کسی نہ کسی شکل میں موجود تھی، لیکن احوال و ظروف بدل گئے تھے، یا اس کے پیرووں کی عملی روح معدوم ہوگئی تھی۔ اس لیے ضروری ہوا کہ نئی شریعت ظہور میں آئے۔ بعض حالتوں میں ایسا ہوا کہ امتداد وقت سے پچھلی تعلیم بالکل فراموش ہوگئی، اور اصلیت میں سے کچھ باقی نہ رہا، پس لامحالہ تجدید ہدایت ناگزیر ہوئی۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ یہ نسخ شرائع ہو یا نسیان شرائع، لیکن ہر نئی تعلیم پچھلی تعلیم سے بہتر ہوگی یا اس کے مانند ہوگی۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کمتر ہو۔ کیونکہ اصل تکمیل و ارتقاء ہے، نہ کہ تنزل و تسفل۔ کثرت سوال اور تعمق فی الدین کی ممانعت۔ "تعمق" یعنی ضرورت سے زیادہ باریکیاں نکالنی اور کاوشیں کرنی اور ایک سیدھے سادھے عماملہ کو پیچیدہ بنا دینا۔ البقرة
107 البقرة
108 البقرة
109 البقرة
110 نماز اور زکوۃ یعنی قلبی اور مالی عبادت کی سرگرمی ایک ایسی حالت ہے جس سے جماعت کی معنوی استعداد نشوونما پاتی ہے اور قوی ہوتی ہے جس جماعت میں سرگرمی موجود ہو وہ نہ تو دین سے برگشتہ ہوسکتی ہے نہ اس کی اجتماعی قوت میں کمزوری آسکتی ہے۔ البقرة
111 اہل مذاہب کی عالمگیر گمراہی یہ ہے کہ انہوں نے دین کی سچائی جو ایک ہی تھی اور یکساں طور پر سب کو دی گئی تھی مذہبی گروہ بندیوں کے الگ الگ حلقے بنا کر ضائع کردی۔ اب ہر گروہ دوسرے گروہ کو جھٹلاتا ہے اور صرف اپنے ہی کو سچائی کا وارث سمجھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس نزاع کا فیصلہ کیونکر ہو؟ اگر کوئی ایک گروہ ہی سچا ہے تو کیوں وہی سچا ہو دوسرے سچے نہ ہوں؟ اگر سب سچے ہیں تو پھر کوئی بھی سچا نہیں کیونکہ ہر گروہ دوسرے کو جھٹلا رہا ہے۔ اگر سب جھوتے ہیں تو پھر خدا کی سچائی گئی کہاں؟ قرآن کہتا ہے خدا کی سچائی سب کے لیے ہے اور سب کو ملی تھی لیکن سب نے سچائی سے انحراف کیا۔ سب اصل کے اعتبار سے سچے اور سب عمل کے اعتبار سے جھوٹے ہیں۔ میں چاہتا ہوں اسی مشترک اور عالمگیر سچائی پر سب کو جمع کردوں اور مذہبی نزاع کا خاتمہ ہوجائے۔ یہ مشترک اور عالمگیر سچائی کیا ہے؟ خدا پرستی اور نیک عملی کا قانون ہے۔ یہی قانون خدا کا ٹھہرایا ہوا دین ہے اور اسی کو میں "الاسلام" کے نام سے پکارتا ہوں۔ یہودی کہتے تھے، جب تک ایک انسان یہودی گروہ بندی میں داخل نہ ہو نجات نہیں پاسکتا۔ عیسائی کہتے تھے، جب تک عیسائی گروہ بندی میں داخل نہ ہو نجات نہیں مل سکتی۔ قرآن کہتا ہے نجات کا دارومدار خدا پرستی اور نیک عملی پر ہے، نہ کسی خاص گروہ بندی پر۔ جو انسان بھی خدا پرست اور نیک عمل ہوگا نجات پائے گا۔ خواہ تمہاری گھڑی ہوئی گروہ بندیوں میں داخل ہو یا نہ ہو۔ البقرة
112 البقرة
113 البقرة
114 مذہبی گروہ بندی کا تعصب یہاں تک بڑھ گیا ہے کہ ہر گروہ کے لیے اس کی مخصوص عبادت گاہیں ہیں۔ اگر دوسرے گروہ کا کوئی آدمی ان میں خدا کی عبادت کرنی چاہے تو اسے روک دیا جاتا ہے اور ہر گروہ چاہتا ہے دوسرے گروہ کی عبادت گاہیں ڈھا دے اور ویران کردے حالانکہ سب خدا پرستی کے مدعی ہیں، اور سب کا خدا ایک ہی خدا ہے۔ البقرة
115 خدا کسی خاص عبادت گاہ کی چار دیواری کے اندر محدود نہیں ہے کہ صرف وہیں اس کی عبادت کی جا سکے۔ جہاں کہیں بھی اسے اخلاص کے ساتھ یاد کیا جائے وہ قبول کرے گا۔ البقرة
116 عیسائیوں کی یہ گمراہی کہ کتاب الٰہی کی تعلیم سے منحرف ہوگئے۔ اور ابنیت مسیح کے اعتقاد باطل پر اپنی کلیسائی گروہ بندی قائم کرلی۔ البقرة
117 البقرة
118 مشرکین عرب اور ان کے جاہلانہ و معاندانہ اعتراضات البقرة
119 جس طرح انسانی سچائی کا مزاج ہمیشہ ایک ہی طرح کا رہا ہے اسی طرح انسانی گمراہی کا مزاج بھی ایک ہی طرح کا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہر زمانہ میں منکرین حق نے ایک ہی طریقہ پر سچائی کو جھٹلایا ہے۔ اور ایک ہی طرح کی صدائیں بلند کی ہیں سچائی کی پہچان رکھنے والوں کے لیے سب سے بڑی نشانی پیغمبر کی تعلیم اور اس کی زندگی ہے اور یہ بات سنت الٰہی کے خلاف ہے کہ لوگوں کے جاہلانہ خیالات کے مطابق فرمائشی معجزے دکھلائے جائیں۔ البقرة
120 یہ جتنی ملتیں الگ الگ بنا لی گئی ہیں یعنی الگ الگ گروہ بندیاں کرلی گئی ہیں مثلاً یہودیت اور مسیحیت تو یہ سب انسانی گمراہی کی بناوٹیں ہیں ہدایت کی راہ تو بس ہدایت کی راہ ہے۔ جو کوئی اس پر چلے گا، ہدایت یافتہ ہوگا۔ خواہ ان کی بنائی ہوئی ملتوں میں داخل ہو یا نہ ہو مذہبی گروہ بندی کا نتیجہ یہ ہے کہ حق پسندی اور حقیقت بینی کی جگہ محض گروہ پرستی کی روح کام کر رہی ہے۔ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ ایک انسان کا اعتقاد اور عمل کیسا ہے؟ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری گروہ بندی میں داخل ہے یا نہیں؟ جب لوگوں کی ذہنیت ایس ہوجائے تو ظاہر ہے کہ دلائل و حقائق کچھ کام نہیں دے سکتے۔ کتنی ہی سچی اور معقول بات کیوں نہ کی جائے۔ ان لوگوں کے لیے بیکار ہوگی۔ جب تک تم یہودیت اور نصرانیت کی گروہ بندی میں داخل نہ ہوجاؤ یہودی اور عیسائی تم سے خوش ہونے والے نہیں اگرچہ تمہارا اعتقاد اور عمل کتنا ہی اچھا اور معقول ہو اور خود ان کی مسلمہ تعلیمات کے ٹھیک ٹھیک مطابق ہی کیوں نہ ہو۔ البقرة
121 البقرة
122 البقرة
123 البقرة
124 یہود نصای اور مشرکین عرب تینوں گروہوں کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت ایک مسلمہ شخصیت تھی۔ اس ؛ ہئ ام لہ دعوت سے استشہاد تینوں کے لیے ناقابل انکار استشہاد تھا مذہبی گروہ بندی کے خلاف، تینوں گروہوں کے ایک حجت قاطع ہے یہ ظاہر کہ تینوں گروہ بندیاں اور ان کے عقائد و رسوم حضرت ابراہیم کے بہت بعد پیدا ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ کیا تھا؟ یقینا وہ ان گروہ بندیوں کا طریقہ نہ تھا۔ پس جو طریقہ ان کا تھا اسی کی دعوت قرآن دیتا ہے۔ یہودیوں کی جماعتی سرگرانی زیادہ تر نسلی غرو کا نتیجہ تھی۔ وہ کہتے تھے ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ اور تورات میں ہے کہ خدا نے اس کی نسل کو برکت دی۔ اس بیان نے واضح کردیا کہ اول تو نسل کے شرف میں بنی اسحاق کی طرف بنی اسماعیل بھی شریک ہیں پھر وہ جو کچھ بھی ہو خدا کا عہد برکت نیک کرداروں کے لیے تھا نہ کہ بدکرداروں کے لیے۔ جن لوگوں نے ایمان و عمل کی سعادت کھو دی ان کے لیے نسل کا امتیاز کچھ سود مند نہیں ہوسکتا تھا ! پچھلی امتوں کی محرومیوں کے ذکر کے بعد یہ حقیقت واضح کرنی تھی کہ اب توفیق الٰہی نے پیروان دعوت قرآن کو خدمت حق کے لیے چن لیا ہے اور اقوان عالم کی ہدایت کا سر رشتہ ان کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ پہلے دعوت قرآن کے ظہور کی معنوی تاریخ بیان کردی جائے۔ چنانچہ معبود کعبہ کی تعمیر اور حضرت ابراہیم کی دعا کا ذکر اسی غرض سے کیا گیا ہے کہ آنے والے بیان کے لیے ایک قدرتی تمہید کا کام دے۔ البقرة
125 البقرة
126 البقرة
127 البقرة
128 البقرة
129 البقرة
130 دین کی جو راہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اختیار کی تھی وہ کیا تھی؟ ان کے بعد ان کی اولاد جس طریقہ پر چلتی رہی وہ کونسا طریقہ تھا؟ خود "اسرائیل" یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بستر مرگ پر جس دین کی وصیت کی تھی وہ کون سا دین تھا؟ یقینا وہ یہودیت اور مسیحتی کی گروہ بندی نہ تھی۔ وہ صرف خدا پر ایمان لانے اور اس کے قانون سعادت کی فرمانبرداری کرنے کی فطری اور عالمگیر سچائی تھی اور اسی کی دعوت قرآن دیتا ہے۔ دین الٰہی کو اسی لیے "الاسلام" کے نام سے تعبیر کیا گیا جس کے معنی اطاعت کرنے کے ہیں یعنی ہر طرح کی نسبتوں اور گروہ بندیوں سے الگ ہوکر، صرف اطاعت حق کی طرف انسان کو دعوت دی جائے۔ البقرة
131 البقرة
132 البقرة
133 البقرة
134 قانون الٰہی یہ ہے کہ ہر فرد اور جماعت کو وہی پیش آتا ہے جو اس نے اپنے عمل سے کمایا ہے۔ نہ تو ایک کی نیکی دوسرے کو بچا سکتی ہے۔ نہ ایک کی بدعملی کے لیے دوسرا جواب دہ ہوسکتا ہے۔ انسان کے لیے قدامت پرستی کا پھندا بڑا ہی سخت پھندا ہے اس کے بیچ سے وہ نکل نہیں سکتا۔ وہ ہمیشہ ماضی کے افسانوں میں گم رہے گا اور ہر پرانے طور طریقے کو تقدیس کی نظر سے دیکھے گا۔ ہندو ہزاروں برس سے مہا بھارت اور پرانوں کے افسانوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے دو فرقے آج تک اس نزاع سے فارغ نہیں ہوئے کہ تیرہ سو برس پہلے سقیفہ میں خلافت کا جو انتخاب ہوا تھا، وہ صحیح تھا یا غلط؟ لیکن قران کہتا ہے تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ، یہ ایک گروہ تھا جو گزر چکا۔ اب اس کے پیچھے پڑے رہنے سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ تم اپنی خبر لو۔ ان کے اعمال ان کے لیے تھے۔ تمہارے تمہارے لیے ہیں۔ البقرة
135 بہرحال ہدایت کی راہ ان گروہ بندیوں کی راہ نہیں ہوسکتی اور نہ وہ کسی ایک قوم اور گروہ ہی کے حصے میں آئی ہے۔ ہدایت کی راہ تو وہی ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی راہ تھی اور وہ خدا کا عالمگیر قانون نجات ہے۔ پس سچائی کی راہ یہ ہوئی کہ دوسرے کو جھٹلانے کی جگہ سب کی تصدیق کرو۔ دنیا میں جس قدر بھی رہنمایان مذاہب آئے ہیں خواہ وہ کسی عہد اور کسی ملک و قوم سے تعلق رکھتے ہوں سب ایک ہی سچائی کے پیغامبر تھے، اور اس لیے سب کی یکساں طور پر تصدیق کرنی چاہیے۔ داعیان مذاہب میں سے کسی ایک کا انکار بھی سب کا انکار ہے۔ جو کوئی تفریق بین الرسل کرتا ہے یعنی کسی کو مانتا ہے۔، کسی کو نہیں مانتا۔ وہ فی الحقیقت خدا کے پورے سلسلہ ہدایت کا منکر ہے۔ قرآن کہتا ہے میری راہ عالمگیر تصدیق کی راہ ہے۔ اگر تم یہودی ہو اور تورات پر ایمان رکھتے ہو تو میں اس کا مصدق ہوں اور اسی لیے آیا ہوں تاکہ دین حقیقی تازہ کروں۔ اگر تم مسیحی ہو تو میں انجیل کا منکر کب ہوں؟ میں تو اسی لیے آیا ہوں کہ تم انجیل کے سچے عامل بن جاؤ۔ اگر تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نام لیوا ہو، تو میر دعوت سرتاسر ملت ابراہیمی ہی کی دعوت ہے۔ اگر تم کسی دوسرے رسول یا نئے مذہب کے پیرو ہو تو میں تمہیں اس کا منکر بنانا نہیں چاہتا۔ اس کی تصدیق میں اور زیادہ پختہ کردینا چاہتا ہوں۔ البقرة
136 البقرة
137 البقرة
138 البقرة
139 جب سب کا پروردگار ایک ہے اور ہر انسان کے لیے اس کا عمل ہے تو پھر خدا اور دین کے نام پر یہ تمام جھگڑے کیوں ہیں؟ کیوں ایک مذہب کا پیرو دوسرے مذہب کے پیروؤں کا دشمن ہو؟ کیوں ایک انسان دوسرے انسان سے نفرت کرے؟ البقرة
140 کتمان حق یعنی سچائی کو دیدہ و دانستہ ظاہر نہ کرنا اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ ہے البقرة
141 البقرة
142 دعوت ابراہیمی سے وحدت دین کے استشہاد کا بیان ختم ہوگیا۔ اب یہاں سے اس کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے جو پچھلے بیان کا قدرتی نتیجہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ اللام کو اقوام عالم کی امامت ملی تھی۔ انہوں نے مکہ میں عبادت گاہ کعبہ تعمیر کی اور امت مسلمہ کے ظہور کی الہامی دعا مانگی۔ مشیت الٰہی میں اس ظہور کے لیے ایک خاص وقت مقرر تھا۔ جب وہ وقت آگیا تو پیغمبر اسلام کا ظہور ہوا اور ان کی تعلیم و تزکیہ سے موعودہ امت پیدا ہوگئی۔ اس امت کو نیک ترین امت ہونے کا نصب العین عطا کیا گیا اور اقوام عالم کی تعلیم اس کے سپرد کی گئی۔ ضروری تھا کہ اس کی روحانی ہدایت کا ایک مرکز بھی ہوتا۔ یہ مرکز قدرتی طور پر عبادت گاہ کعبہ ہوسکتا تھا چنانچہ تحویل قبلہ نے اس کی مرکزیت کا اعلان کردیا۔ یہی حقیقت قلبہ کے تقرر میں پوشیدہ تھی۔ چنانچہ سیقول السفہاء سے یہی بیان شروع ہوتا ہے۔ پیرون دعوت قرآنی مخاطب ہیں اور انہیں بتلایا جا رہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عمل حق نے جو بیج بویا تھا وہ بار آور ہوگیا ہے اور نیک ترین امت تم ہو۔ البقرة
143 البقرة
144 البقرة
145 یہود اور نصاری کا تحویل قبلہ پر اعتراض کرنا محض گروہ پرستی کے تعصب کا نتیجہ ہے۔ اگر ان میں حق پرستی ہوتی تو وہ آپس میں کیوں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے اور کیوں ایسا ہوتا کہ یہودی عیسائیوں کا قبلہ نہیں مانتے اور عیسائیوں کو یہودیوں کے قبلہ سے انکار ہوتا؟ پس جب صورت حال ایسی ہے تو متبع حق کو چاہیے ایسے لوگوں کے اتفاق و یک جہتی سے قطع نظر کرلے۔ کیونکہ جن لوگوں نے اتباع حق سے یک قلم کنارہ کشی کرلی ہے ان کے ساتھ متبع حق کا کبھی اتفاق نہیں ہوسکتا البقرة
146 البقرة
147 کسی بات کا حق ہونا ہی اس کی حقانیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ کیونکہ حق کے معنی ہی قائم و ثابت رہنے کے ہیں اور جو بات قائم و ثابت رہنے والی ہے اس کے لیے اس کے قیام و ثبات سے بڑھ کر اور کونسی دلیل ہوسکتی ہے؟ البقرة
148 اور پھر جو کچھ بھی ہو تقرر قبلہ کا معاملہ کوئی ایس بات نہیں ہے جو دین کے اصول و مہمات میں سے ہو، اور اسے حق و باطل کا معیار سمجھ لیا جائے۔ ہر گروہ کے لیے کوئی نہ کوئی جہت ہے اور وہ اسی کی طرف رخ کرکے عبادت کرتا ہے۔ عبادت جس طرف بھی منہ کرکے کی جائے خدا کی عبادت ہے۔ وہ کسی ایک جہت ہی میں محدود نہیں۔ اصلی چیز جو سمجھنے اور کرنے کی ہے وہ خیرات ہے۔ یعنی نیک عملی۔ پس چاہیے کہ اس میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرو۔ اور اسی کو دینداری و خدا پرستی کا اصلی کام سمجھو۔ البقرة
149 تقرر قبلہ کا حکم عام اور اس کے مصالح و حکم البقرة
150 البقرة
151 البقرة
152 کتاب و حکمت کی تعلیم، شخص نبوت کی پیغمبرانہ تربیت، مرکز ہدایت کا قیام اور نیک ترین امت ہونے کا نصب العین، ییہ وہ بنیادی عناصر تھے جن کی موعودہ امت کی نشوونما کے لیے ضرورت تھی۔ جب یہ تمام مراتبط ظہور میں آگئے تو اب ضوری ہوا کہ پیروان دعوت قرآنی کو مخاطب کیا جائے اور سرگرم عمل ہوجانے کی دعوت دی جائے۔ چنانچہ فاذکرونی اذکرکم سے یہی مخاطبہ شروع ہوتا ہے۔ اور پھر چونکہ سرگرم عمل ہونے کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ راہ عمل کی مشکلیں اور آزمائش پیش آتیں، اس لیے دعوت عمل کے اتھ ہی صبر و استقامت اور جاں فروشی و قربانی کی بھی دعوت دے دی گئی، اور واضح کردیا گیا کہ اس راہ میں آزمایشوں سے گرزنا ناگزیر ہے۔ ساتھ ہی ان اصول و مہمات کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا جن میں ثابت قدم ہونے کے بعد گمراہی و ناکامی سے قدم محفوظ ہوجا سکتے ہیں۔ صبر اور نماز کی قوتوں سے مدد لو۔ صبر کی حقیقت یہ ہے کہ مشکلات و مصائب کے جھیلنے اور نفسانی خواہشوں سے مغلوب نہ ہونے کی قوت پیدا ہوجائے۔ نماز کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے ذکروفکر سے روح کو تقویت ملتی رہے۔ جس جماعت میں یہ دو قوتیں پیدا ہوجائیں گی، وہ کبھی ناکام نہیں ہوسکتی ! راہ حق میں موت، موت نہیں ہے۔ سرتاسر زندگی وہدایت ہے۔ پس موت کے خوف سے اپنے دلوں کو پاک کرلو۔ البقرة
153 البقرة
154 البقرة
155 البقرة
156 البقرة
157 البقرة
158 مرکز قبلہ سے وابستگی اور حج کا قیام البقرة
159 کتاب اللہ کی تعلیم وتذکیر ایک مقدس جماعتی فرض ہے۔ جو لود دنیا کے خوف یا طمع سے احکام حق چھپاتے ہیں وہ اللہ کی لعنت کے سزاوار ہوتے ہیں البقرة
160 البقرة
161 البقرة
162 البقرة
163 خدا پرستی میں ثابت قدم رہنے، عقل و بصیرت سے کام لینے، کائنات خلقت میں تدبر و تفکر کرنے اور حقائق ہستی کی معرفت حاصل کرنے کا حکم اور برہان فضل و رحمت سے استدلال البقرة
164 البقرة
165 اللہ پر ایمان اور اللہ کی محبت دونوں لاز و ملزوم ہیں۔ پس اگر اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کو بھی ویسی ہی چاہت سے ماننے لگے جیسی چاہت سے ماننا صرف اللہ ہی کے لیے ہے تو پھر یہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو ہم پلہ بنا دینا ہوا، اور توحید الٰہی کا اعتقاد درہم برہم ہوگیا۔ مومن وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ کی محبت رکھنے والا ہو البقرة
166 پیروان باطل کی پیروی کرنے کا حسرت انگیز نتیجہ جو ان کے بدقسمت پیروؤں کے حصے میں آئے گا۔ پچھلی امتوں کی تباہی کا ایک بنیادی سبب پیشوایان باطل کا اتباع ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کہ تم بھی اس میں مبتلا ہوجاؤ۔ البقرة
167 البقرة
168 ان اصولی مہمات کی تلقین کے بعد اب یہاں سے ان فروعی احکام کا بیان شروع ہوتا ہے جن کے متعلق طرح طرح کی گمراہیاں لوگوں میں پھیلی ہوئی تھیں اور دین حق کی بنیادی صداقتوں پر ان کا اثر پڑتا تھا۔ یہ بیان اگرچہ فروعی احکام کا بیان ہے لیکن اپنی تشریحات و موعظت میں سرتاسر اصولی معارف ہیں۔ من جملہ عالم گیر گمراہیوں کے ایک بنیادی گمراہی یہ تھی کہ کھانے پینے کے بارے میں طرھ طرح کی بے اصل پابندیاں لگالی گئی تھیں اور دینداری کی سب سے بڑی بات یہ سمجھی جاتی تھی کہ انسان کھانے پینے میں سب سے زیادہ توہم پرست ہو۔ ظاہر ہے کہ جس جماعت کی ذہنیت ایسی توہم پرستانہ پابندیوں میں جکڑی ہوئی وہ کبھی آزادی کے ساتھ ترقی و وسعت کا قدم نہیں اٹھا سکتی۔ پس سب سے پہلے اس معاملہ کی حقیقت واضح کی گئی اور ان تمام غلطیوں کا ازالہ کردیا گیا جو اس بارے میں پھیلی ہوئی تھیں خدا نے انسان کی غذا کے لیے جس قدر اچھی چیزیں زمین مہیا کردی ہیں شوق سے کھانی چاہیں۔ بے اصل روک ٹوک اور منگھڑت پابندیاں شیطانی وسوسے ہیں ضمناً اس حقیقت کی طرف اشارہ کہ ایمان کی راہ عقل و بصیرت کی راہ ہے اور کفر کا خاصہ کورانہ تقلید اور بے بصیرتی ہے۔ اندھی تقلید کرنا، جو کچھ دیکھتے اور سنتے آئے ہیں بے سمجھے بوجھے اسی پر جمے رہنا اور دلیل و برہان کی جگہ اپنے بزرگوں اور پیشیواؤں کا قول و عمل حجت سمجھنا ہدایت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اندھی تقلید کرنے والوں کے سامنے، علم، بصیرت کی بات پیش کرنا ایسا ہے جیسے چارپایوں کو مخاطب کرنا۔ البقرة
169 البقرة
170 البقرة
171 البقرة
172 البقرة
173 جن چار پایوں کا گوشت عام طور پر کھایا جاتا ہے، وہ سب حلال ہیں مگر چار چیریں البقرة
174 اور یہ جو اہل کتاب نے حلال و حرام کے بارے میں طرح طرح کی پابندیاں اپنے پیچھے لگا لی ہیں تو یہ اس لیے ہے کہ کتاب اللہ کا علم و عمل متروک ہوگیا ہے۔ ان کے علماء حق فروش ہیں کہ دنیا کی طمع سے احکام الٰہی میں تحریف کرتے ہیں۔ یا نہیں ظاہر نہیں کرتے۔ اور عوام اپنے مذہبی پیشواؤں کی اندھی تقلید میں مبتلا ہیں کتاب اللہ علم و حقیقت ہے اور اختلاف جہل و ظن سے پیدا ہوتا ہے۔ پس جب علم حقیقت پر آجائے تو اختلاف باقی نہیں رہنا چاہیے۔ پھر جو لوگ کتاب اللہ کے نزول کے بعد بھی اختلافات میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور الگ الگ مذہبی فرقہ بنا کر دین کی وحدت کھو دیتے ہیں تو وہ شقاق بعید میں پڑجاتے ہیں یعنی ایسے گہرے اور دور دراز تفرقوں میں جن سے کبھی نہیں نکل سکتے اور جس قدر ہاتھ پاؤں ماتے رہیں اور زیادہ حقیقت سے دور ہوتے جاتے ہیں البقرة
175 البقرة
176 البقرة
177 دین حق کی اس اصل عطیم کا اعلان کہ سعادت و نجات کی راہ یہ نہیں ہے کہ عبادت کی کوئی خاص شکل یا کھانے پینے کی کوئی خاص پابندی یا اسی طرح کی کوئی دوسری بات اختیار کرلی جائے۔ بلکہ وہ سچی خدا پرستی اور نیک عملی کی زندگی سے حاصل ہوتی ہے اور اصلی شے دل کی پاکی اور عمل کی نیکی ہے۔ شریعت کے ظاہری احکام و رسوم بھی اسی لیے ہیں تاکہ یہ مقصود حاصل ہو۔ نزول قرآن کے وقت دنیا کی عالمگیر مذہبی گمراہی یہ تھی کہ لوگ سمجھتے تھے دین سے مقصود محض شریعت کے ظواہر و رسوم ہیں۔ اور انہی کے کرنے نہ کرنے پر انسان کی نجات و سعادت موقوف ہے۔ لیکن قرآن کہتا ہے اصل دین خدا پرستی اور نیک عملی ہے اور شریعت کے ظاہر رسوم و اعمال بھی اسی لیے ہیں کہ یہ مقصود حاصل ہو۔ پس جہاں تک دین کا تعلق ہے ساری طلب مقاصد کی وہنی چاہیے نہ کہ وسائل کی۔ البقرة
178 قاص کا حکم اور اس سلسلہ میں ان مفاسد کا ازالہ جو اس بارے میں پھیلے ہوئے تھے۔ انسانی مساوات کا اعلان اور نسل و شرف کے تمام امتیازات سے انکار جو لوگوں نے بنا رکھے ہیں اور جن کی وجہ سے انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، بڑا ہو یا چھوٹا، وضیع ہو یا شریف۔ انسان ہونے کے لحاظ سے سب برابر ہیں۔ اس لیے قصاص میں کوئی امتیاز تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر مقتول کے ورثا خوں بہا لینے پر راضی ہوجائیں تو قاتل کی جان بخشی ہوسکتی ہے قصاص میں اگرچہ جان کی ہلاکت ہے مگر اس لیے ہے تاکہ زندگی کی حفاظت کی جائے۔ پس جب مقصود اصلی حفظ نفس ہوا، نہ کہ قتل نفس تو ظاہر ہے کہ اسے قتل نفس کا ذریعہ بنانا کیونکر جائز ہوسکتا ہے۔ البقرة
179 مرنے سے پہلے پس ماندوں کے لیے اچھی وصیت کرنے کا حکم، اور اس اصولی حقیقت کی تلقین کہ : انسان موت کے بعد جو کچھ چھوڑ جاتا ہے وہ اگرچہ دوسروں کے قبضہ میں جاتا ہے لیکن مرنے سے پہلے اس کے ٹھیک ٹھیک خرچ ہونے اور عزیزوں قریبوں کو فائدہ پہنچانے کی فکر مرنے والے کی زندگی کے فرائض میں سے ہے اور اس ذمہ داری سے وہ بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ مرنے والے کی وصیت ایک مقدس امانت ہے۔ جو لوگ اس کے امین ہوں ان کا فرض ہے کہ بے کم و کاست اس کی تعیل کریں۔ اگر وہ لوگ جن پر وصیت کی تعمیل چھوڑ دی گئی ہے خیانت کریں تو اس کے لیے وہ خود جواب دہ ہوں گے۔ وصیت کرنے والا اور وصیت سے فائدہ اٹھانے والے جواب دہ نہیں ہوسکتے۔ البقرة
180 البقرة
181 البقرة
182 البقرة
183 رمضان میں روزہ رکھنے کا حکم اور اس سلسلہ میں دین حق کے بعض اصولی حقائق کی تعلیم۔ نیز ان غلطیوں کا ازالہ جو اس بارے میں عام طور پر پھیلی ہوئی تھیں۔ روزہ کے حکم سے یہ مقصود نہیں ہے کہ انسان کا فاقہ کرنا اور اپنے جسم کو تکلیف و مشقت میں ڈالنا کوئی ایسی بات ہے جس میں پاکی و نیکی ہے۔ بلکہ تمام تر مقصود نفس انسانی کی اصلاح و تہذیب ہے۔ روزہ رکھنے سے تم میں پرہیز گاری کی قوت پیدا ہوگی اور نفسانی خواہشوں کو قابو میں رکھنے کا سبق سیکھ لو گے البقرة
184 البقرة
185 روزہ کے لیے رمضان کا مہینہ اس لیے قرار پایا کہ اسی مہینے میں قرآن کا نزول شروع ہوا ہے اور اس کا روزے کے لیے مخصوص ہوجانا نزول قرآن کی یاد آوری و تذکیر ہے دین حق میں اصل آسانی ہے نہ کہ سختی۔ پس یہ سمجھنا کہ اس طرح کی عبادتوں میں سختی و تنگی اختیار کرنا خدا کی خوشنودی کا موجب ہوگا صحیح نہیں ہوسکتا۔ البقرة
186 اس طرح کی عبادتوں سے مقصود خود تمہارے نفس کی اصلاح و تربیت ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ جب تک فاقہ کشی کے چلے نہ کھینچے جائیں خدا کو پکارا نہیں جاسکتا (جیسا کہ اہل مذاہب کا خیال تھا) خدا تو ہر حال میں انسان کی پکار سننے والا اور اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس سے قریب ہے ایمان و اخلاص کے ساتھ جب کبھی اسے پکاروگے اس کا دروازہ رحمت تم پر کھل جائے گا البقرة
187 یہودیوں کے یہاں روزہ کی شرطیں نہایت سخت تھیں۔ ازاں جملہ یہ کہ اگر شام کو روزہ کھول کر سوجائیں، تو پھر بیچ میں اٹھ کر کچھ کھا پی نہیں سکتے تھے۔ اسی طرح روزے کے مہینے میں زنا شوئی کا علاقہ بھی مطلقاً ممنوع تھا۔ مسلمانوں کو جب روزے کا حکم ہوا تو انہوں نے خیال کیا ان کے لیے بھی یہ پابندیاں ضورری ہوں گی۔ اور چونکہ پابندیاں سخت تھیں اس لیے بعض لوگ نبھا نہ سکے اور اپنے فعل کو کمزوری سمجھ کر چھپانے لگے علم اللہ انکم کنتم تختانون انفسکم میں اسی معاملہ کی طرف اشارہ ہے۔ روزے سے مقصود یہ نہیں ہے کہ جسمانی خواہشیں بالکل ترک کردی جائیں بلکہ مقصود ضبط و اعتدال ہے۔ پس کھانے پینے اور زنا شوئی کے معاملہ کی جو کچھ ممانعت ہے صرف دن کے وقت ہے۔ رات کے وقت کوئی روک نہیں۔ زناشوئی کا تعلق کوئی برائی اور ناپاکی کی بات نہیں ہے جس کا عبادت کے مہینے میں کرنا جائز نہ ہو۔ وہ مرد اور عورت کا ایک فطری تعلق ہے اور دونوں ایک دوسرے سے اپنے حوائج میں وابستہ ہیں۔ پس ایک فطری علاقہ عبادت الٰہی کے منافی کیوں ہو؟ مومن وہ ہے جس کے عمل میں کوئی کھوٹ اور راز نہ ہو۔ اگر ایک بات بری نہیں ہے مگر تم نے اسے برا سمجھ لیا ہے اور اس لیے چوری چھپے کرنے لگے ہو تو گو تم نے اصلاً برائی نہیں کی مگر تمہارے ضمیر کے لیے برائی ہوگئی ہے اور تمہارے دل کی پاکی پر دھبہ لگ گیا۔ البقرة
188 اس حقیقت کی طرف اشارہ کہ مشقت نفس کی عبادتیں کچھ سود مند نہیں ہوستیں اگر ایک شخص بندوں کے حقوق سے بے پروا ہے اور مال حرام سے اپنے آپ کو نہیں روک سکتا۔ نیکی صرف اسی میں نہیں ہے کہ چند دنوں کے لیے تم نے جائز غذا ترک کردی۔ نیکی راہ یہ ہے کہ ہمیشہ کے لیے ناجائز غذا ترک کردو۔ البقرة
189 حج کے احکام کے اور اس سلسلہ میں دین حق کی بعض اصولی ہدایتیں اور اہل عرب اور دیگر اقوام کی گمراہیوں کا ازالہ : چاند کے طلوع و غروب سے مہینوں کا حساب لگا لیا جاتا ہے اور حج کے موسم کا تعین اسی حساب سے کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جو وہم پرستانہ خیالات لوگوں میں پھیلے ہوئے ہیں خواہ ان کا تعلق کو کب پرستی سے ہو یا نجوم کے عقائد سے، ان کی کوئی اصلیت نہیں۔ مقدس زیادرت گاہوں اور تیرتھوں پر جانے کے لیے لوگوں نے طرح طرح کی پابندیاں لگا لی ہیں اور اجر و ثواب کے لیے اپنے آپ کو تکلیفوں مشقتوں میں ڈالتے ہیں، لیکن یہ سب گمراہی کی باتیں ہیں۔ نیکی کی اصلی راہ یہ ہے کہ اپنے اندر تقوی پیدا کرو۔ البقرة
190 اہل مکہ کے ظلم و تعدی سے حج کا دروازہ مسلمانوں پر بند ہوگیا تھا پس حکم دیا گیا کہ جنگ کے بغیر چارہ نہیں۔ ضروری ہے کہ اس مقام کو ظالموں کے قبضہ و تصرف سے نجات دلائی جائے اس بارے میں اصل یہ ہے کہ امن کی حالت ہو یا جنگ کی لیکن مسلمانوں کے کسی کام میں بھی عدل و راستی کے خلاف کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔ البقرة
191 البقرة
192 البقرة
193 جنگ کی اجازت اس لیے دی گئی ہے کہ دین و اعتقاد کی آزادی حاصل ہوجائے۔ یعنی دین کے معاملہ میں جس کا تعلق صرف اللہ سے ہے انسان کے ظلم و تشدد کی مداخلت باقی نہ رہے البقرة
194 البقرة
195 جو لوگ جہاد کی راہ میں مال خرچ نہیں کرتے وہ اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں۔ کیونکہ جہاد سے اعراض کا نتیجہ قومی زندگی کی ہلاکت ہے۔ البقرة
196 اگر لڑائی کی وجہ سے یا کسی دوسری وجہ سے راہ میں رک جانا پڑے تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ نیز حج اور عمرہ کے تمتع کی صورت (یعنی دونوں کو ملا کر کرنے کی صورت) البقرة
197 حج کے دنوں میں (اور وہ اس وقت سے شروع ہوجاتے ہیں جب تم نے احرام باندھ لیا) نہ تو عورت کے ساتھ خلوق کرنی چاہیے، نہ گناہ کی کوئی بات اور نہ کسی طرح کا لڑائی جھگڑا۔ اعمال حق کے لیے سب سے بڑی تیاری یہ ہے کہ تم میں تقوی پیدا ہو۔ البقرة
198 دین حق کی اس اصل عظیم کا اعلان کہ خدا پرستی اور دین داری کی راہ دنیوی معیشت اور دنیوی فلاح و ترقی کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسی کامل زندگی پیدا کرنی چاہتا ہے جس میں دنیا اور آخرت دونوں کی سعادتیں موجود ہوں۔ حج ایک عبادت ہے۔ لیکن اس کا عبادت ہونا اس سے مانع نہیں کہ کاروبار دنیوی کا بھی فائدہ اٹھاؤ۔ مال و دولت الللہ کا فضل ہے۔ پس چاہیے کہ اللہ کے فضل کی تلاش میں رہو۔ دین اور دنیا کے معاملہ میں دنیا کی عالمگیر گمراہی یہ ہے کہ یا تو افراط میں پڑگئے ہیں، یا تفریط میں، اور راہ اعتدال گم ہوگئی ہے۔ یعنی یا تو دنیا کا انہماک اس درجہ بڑھ جاتا ہے کہ آخرت سے یک قلم بے پرواہ ہوجاتے ہیں یا آخرت کے استغراق میں اتنے دور نکل جاتے ہیں کہ ترک دنیا اور رہبانیت کا دم بھرنے لگتے ہیں۔ لیکن دین حق کی راہ ہر گوشہ عمل کی طرح یہاں بھی اعتدال کی راہ ہے اور صحیح زندگی اس کی زندگی ہے جو کہتا ہے "خدایا میں دنیا اور آخرت دونوں کو سعادتیں چاہتا ہوں" البقرة
199 حج کے اعمال میں سے ایک عمل عرفات جا کر ٹھہرنا اور وہاں سے لوٹنا ہے لیکن باشندگان مکہ نے یہ طریقہ اختیار کرلیا تھا کہ حدود حرم تک جا کر لوٹ آتے اور کہتے ہم تو اسی مقام کے باشندے ہیں۔ ہمارے لیے حدود حرم سے باہر جانا ضروری نہیں۔ یہ کچھ تو اس لیے تھا کہ باشندہ مکہ ہونے کا غرور باطل تھا۔ اور زیادہ تر اس لیے کہ دنیوی کاروبار کے انہماک سے اعمال حج کی مشغولیت ان پر شاق گزرتی تھی۔ چاہتے تھے کہ باہر کے حاجی حج میں مشول رہیں۔ ہم موسم سے تجارت کا فائدہ اٹھائیں۔ البقرة
200 البقرة
201 البقرة
202 البقرة
203 البقرة
204 دین حق دنیا کا نہیں لیکن دنیا پرستی کے غرور و سرشاری کا مخالف ہے۔ یہی دنیا پرستی کا غرور ہے جو انسان کو خدا پرستی اور راست بازی سے بے پروا کردیتا ہے اور جب اسے طاقت اور حکومت مل جاتی ہے تو غرض و نفس کی پرستش میں وہ سب کچھ کر گزرتا ہے جو دنیا میں انسان کا ظلم وفساد کرسکتا ہے۔ لیکن جو لوگ سچے خدا پرست ہیں وہ دنیا میں کتنے ہی مشغول ہوں مگر ان کے پیش نظر نفس پرستی نہیں ہوتی بلکہ رضائے الٰہی کا حصول ہوتا ہے۔ ایک دنیا پرست اپنے نفس کے لیے دوسروں کو قربان کردے گا لیکن یہ لوگ رضائے الٰہی کی راہ میں خود اپنے نفس کو قربان کردیں گے۔ ایک شخص کی دنیوی زندگی بظاہر کتنی ہی خوش نما ہو اور وہ اپنی نیک دلی کا کتنا ہی دعوی کرے لیکن ان باتوں سے کچھ نہیں بنتا۔ اصلی کسوٹی یہ ہے کہ دیکھا جائے طاقت و اختیار پا کر اپنے ابنائے جنس کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے؟ حرث و نسل کی تباہی انسانی غرور و طاقت کا بہت بڑا فساد ہے۔ دنیوی طاقت کے متوالوں سے جب کہا جاتا ہے اللہ سے ڈرو تو ان کا گھمنڈ انہیں اور زیادہ ظلم و معصیت پر آمادہ کردیتا ہے البقرة
205 البقرة
206 البقرة
207 البقرة
208 دنیا پرستی کی یہ سرشاری قوموں کی گمراہی کا بہت بڑا سبب رہی ہے۔ خصوصاً فتح و اقبال کے حصول کے بعد۔ اس لیے پیروان دعوت حق کو خصوصیت کے ساتھ متنبہ کیا جاتا ہے کہ اس صورت حال سے اپنی حفاظت کریں۔ اللہ کی ہدایت ظاہر ہوچکی ہے اور وہ سب کچھ تمہیں بتلایا جا چکا ہے جس کی استقامت حق کے لیے ضرورت ھی۔ اس پر بھی اگر تم نے ٹھوکر کھائی اور راہ ہدایت پر قائم نہ رہے تو یہ نعمت الٰہی کو محرومی سے بدل دینا ہوگا۔ اگر ایک گروہ کے ایمان و یقین کے لیے کلام الٰہی کی ہدایت کافی نہیں تو پھر اس کے بعد یہی رہ گیا ہے کہ خدا اس کے سامنے آخر اپنی زبان سے کہہ دے کہ میں تمہارا خدا ہوں۔ مجھ پر ایمان لاؤ۔ لیکن نہ ایسا ہوا ہے اور نہ ہوسکتا ہے ایمان کی برکتیں اور سعادتیں حاصل کرنے کے لیے صرف یہی کافی نہیں کہ اسلام کے دائرہ میں آجاؤ بلکہ چاہیے کہ پوری طرف آجاؤ یعنی اعتقاد و عمل کے ہر گوشہ میں ایمان کی روح تمہارے اندر پیدا ہوجائے اور از سر تاپا پیکر ایمان ہوجاؤ۔ البقرة
209 البقرة
210 البقرة
211 بنی اسرائیل کی سرگزشت سے عبرت پکڑو۔ اللہ نے انہیں ہدایت و سعادت کی راہ دکھلائی لیکن انہوں نے محرومی و شقاوت کی راہ اختیار کی۔ البقرة
212 البقرة
213 دین حق کی اس اصل عظیم کا اعلان کہ ابتدا میں تمام انسان ایک ہی قوم و جماعت تھے اور فطری زندگی کی سادی پر قانع تھے۔ پھر ایسا ہوا کہ نسل انسانی کی کثرت و وسعت سے طرح طرح کے تفرقے پیدا ہوگئے اور تفرقے کا نتیجہ ظلم و فساد کی صورت میں ظاہر ہوا۔ تب وحی الٰہی نمودار ہوئی اور یکے بعد دیگرے خدا کے رسول مبعوث ہوتے رہے۔ ہر رسول کی دعوت کا مقصد ایک ہی تھا۔ یعنی خدا پرستی و نیک عملی کی تلقین اور تفرقہ و اختلاف کی جگہ وحدت و اجتماع کا قیام۔ کتاب اللہ ہمیشہ اس لیے نازل ہوئی۔ تاکہ دین کے تفرقہ و اختلاف میں فیصلہ کرنے والی ہو، اور لوگوں کو وحد دین کی اصل پر متحد کردے۔ تفرقہ و اختلاف کی علت باہمی "یعنی عصیان" ہے۔ یعنی آپس کی ضد اور اتباع حق کی جگہ خود پرستی اور سرکشی۔ اس محل میں اس ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ پیروان اسلام کو دعوت استقامت دیتے ہوئے پہلے بنی اسرائیل کے حالت سے استشہاد کیا تھا۔ اب واضح کیا جاتا ہے کہ صرف بنی اسرائیل ہی پر موقوف نہیں۔ تمام پچھلی جماعتوں کا یہی حال رہا ہے پس قیام حق کے تعلیم حق کی نہیں (کیونکہ وہ تو اول روز سے ایک ہی رہی ہے، اور ہمیشہ موجود رہی ہے) بلکہ حق پر ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔ البقرة
214 مومن ہونے کے لیے صرف یہی کافی نہیں کہ تم نے ایمان کا اقرار کرلیا اور جنتی ہوگئے بلکہ ضروری ہے کہ ان تمام آزمائشوں میں ثابت قدم رہو جو تم سے پہلے حق پرستوں کو پیش آچکی ہیں اور تمہیں بھی پیش آئیں گی۔ البقرة
215 خیرات کرنے کا حکم، اور اس غلطی کا ازالہ کہ لوگ سمجھتے تھے خیرات صرف غیروں ہی کو دی جاسکتی ہے۔ اپنوں اور عزیزوں کی مدد کرنا خیرات نہیں ہے۔ خیرات کے مصارف بتلاتے ہوئے واضح کردیا گیا کہ ان کا اولین مصرف تمہارے عزیز و اقربا ہیں۔ اگر وہ محتاج ہوں البقرة
216 دفاع کا حکم یعنی دین کے اعتقاد و عمل کی آزادی کے لیے لڑنے کا حکم : جنگ کی حالت کوئی ایسی حالت نہیں ہے جو تمہارے لیے خوشگوار ہو۔ لیکن اس دنیا میں کتنی ہی خوشگواریاں ہیں جو ناگواریوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ اور کتنی ہی خوشگوار باتیں ہیں جن کا نتیجہ ناگوار ہوتا ہے۔ جنگ برائی ہے لیکن انسانی طاقت کا ظلم و فساد اس سے بھی بڑھ کر برائی ہے۔ پس جب ایسی حالت پیش آجائے کہ ظلم کا ازالہ اور کسی طرح ممکن نہ ہو تو جنگ کے سوا چارہ نہیں دشمنوں کی مخالفت کسی خاص فرد یا جماعت سے نہ تھی بلکہ اس بنا پر تھی کہ لوگ اپنے پچھلے عقائد چھوڑ کر کیوں ایک نیا اعتقاد اختیار کر رہے ہیں؟ یعنی محض اختلاف عقائد کی بنا پر وہ ایک جماعت کو نیست و نابود کردینا چاہتے تھے۔ پس جب تک مسلمان اپنے اعتقاد سے دست بردار نہ ہوجاتے، دشمنوں کی طرف سے قتل و غارت گری کا سلسلہ برابر جاری رہتا اور جب مسلمان اس کے لیے تیار نہ تھے تو پھر اس کے سوا کیا چارہ کار تھا کہ مردانہ وار لڑیں اور حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے؟ قرآن نے جنگ کا قدم نہیں اٹھایا اور نہ وہ داعی امن ہو کر اٹھا سکتا تھا، لیکن اس کے خلاف اٹھایا گیا اور اس نے پیٹھ نہیں دکھلائی۔ البقرة
217 البقرة
218 البقرة
219 جنگ کے سلسلہ میں تین سوالات پیدا ہوگئے تھے۔ ان کے جوابات دیے گئے : عام طور پر سمجھا جاتا تھا (اور اب تک سمجھا جاتا ہے) کہ شراب سے لڑائی لڑنے میں مدد ملتی ہے اور جوا حصول مال کا ذریعہ ہے۔ اس غلطی کا ازالہ کردیا گیا اور یہ اصولی حقیقت بتلا دی گئی کہ صرف اشیا کا نفع ہی نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ اضافی نفع سے تو کوئی چیز بھی خالی نہیں۔ بلکہ نفع اور نقصان دونوں کو تولنا چاہیے۔ جس چیز میں نقصان زیادہ ہو اسے ترک کردینا چاہیے۔ اگرچہ تھوڑا بہت نفع بھی ہو۔ اور جس چیز میں نفع زیادہ ہو اسے اختیار کرنا چاہیے اگرچہ نقصان کا بھی احتمال ہو۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ مصارف جنگ کے لیے اور اسی طرح کی دوسری قومی ضرورتوں کے لیے کس قدر انفاق کیا جائے؟ فرمایا، کوئی خاص قید، نہیں ضروریات معیشت سے جو کچھ فاضل ہو کر بچ رہے اسے راہ مقصد میں لگا دو۔ تیسرا سوال یتیم بچوں کی نسبت تھا۔ حکم دیا گیا کہ جس طریقے میں ان کے لیے اصلاح و درستگی ہو وہی بہتر ہے اور وہی اختیار کرنا چاہیے۔ اور اگر تم انہیں اپنے گھرانے میں شامل کرلو تو وہ تمہارے بھائی ہیں کچھ غیر نہیں۔ البقرة
220 البقرة
221 دشمنان اسلام سے جنگ کے سلسلہ میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ان سے مناکحت جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا کہ مشرک مرد اور عورت سے مومن مرد اور عورت کا نکاح جائز نہیں، علت بھی واضح کردی کہ جو لوگ تمہارے دین کی وجہ سے تمہارے دشمن ہوگئے ہیں اور تمہیں راہ حق سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ تمہارا ازدواجی رشتہ کبھی فلاح و سعادت کا موجب نہیں ہوسکتا۔ البقرة
222 مشرکین سے مناکحت کے بیان نے نکاح و طلاق اور ازدواجی زندگی کی مہمات کی طرف سلسلہ بیان پھیر دیا ہے۔ عورتوں سے ان کے مہینے کے خاص ایام میں علیحدگی کا حکم اور اس حقیقت کا اعلان کہ علیحدگی کا سبب یہ نہیں ہے کہ عورتیں ناپاک ہوجاتی ہیں اور ملنے جلنے اور چھونے کے قابل نہیں رہتیں، جیسا کہ یہودیوں کا خیال تھا۔ بلکہ صرف یہ بات ہے کہ ان ایام میں زنا شوئی کا تعلق مضر ہے، اور صفائی اور طہارت کے خلاف ہے۔ فطرت نے مرد اور عورت کے باہم ملنے اور وظیفہ زوجیت ادا کرنے کے لیے جو بات جس طرح ٹھہرا دیہے، اسی طرح ہونی چاہیے۔ اس کے سوا اور کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ کی پسندیدگی ان کے لیے جو ناپاکی کی تمام باتوں سے اپنی نگہداشت کرتے ہیں۔ اس معاملہ کی نسبت جو وہم پرستیاں لوگوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور طرح طرح کی قیدیں اپنے پیچھے لگا رکھی ہیں۔ مثلاً کسی خاص طریقے کو جائز سمجھتے ہیں کسی کو ناجائز کسی خاص طریقے میں برکت سمجھتے ہیں، کسی میں نحوست تو ان کی کوئی اصلیت نہیں۔ جس طرح بھی چاہو فطری طریقے سے یہ معاملہ کرسکتے ہو۔ البقرة
223 البقرة
224 اس گمراہی کا ازالہ کہ ازدواجی زندگی کی اہمیت سے لوگ بے پروا تھے، اور زبانیں چھوٹ ہوگئی تھیں۔ طرح طرح کی بے معنی قسمیں کھا لیتے اور پھر سمجھتے کہ رشتہ نکاح ٹوٹ گیا۔ کسی جائز اور نیکی کی بات کے خلاف قسم کھا لینی اور خدا کے نام کو ان کے نہ کرنے کے لیے حیلہ بنانا، خدا پرستی کے خلاف ہے۔ لغو اور بے معنی قسم کا کوئی اعتبار نہیں۔ اصل اس بارے میں یہ ہے کہ جو بات انسان سمجھ کر اور دل کے قصد کے ساتھ کی ہو اسی کے لیے وہ جواب دہ ہوگا۔ اگر بیوی سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھالی جائے جو عرب میں ایلا کے نام سے مشہور تھی تو کیا کرنا چاہیے۔ البقرة
225 البقرة
226 البقرة
227 البقرة
228 طلاق کے احکام اور اس میں ازدواجی زندگی کے لیے جن مضرتوں کا اندیشہ تھا یا عورتوں کی حق تلفی ہوسکتی تھی، اس کا انسداد : طلاق کی عدت کا ایک مناسب زمانہ مقرر کرکے، نکاح کی اہمیت، نسب کے تحفظ اور عورت کے نکاح ثانی کی سہولتوں کا انتظام کردیا گیا۔ یہ اصل واضح کردی گئی کہ اگر طلاق کے بعد شوہر رجوع کرنا چاہے تو وہی زیادہ حق دار ہے۔ کیونکہ شرعا مطلوب ملاپ ہے نہ کہ تفرقہ۔ جہاں تک عورتوں کے حقوق کا تعلق ہے دین حق کی اس اصل عظیم کا اعلان کہ جیسے حقوق مردوں کے عورتوں پر ہیں ویسے حقوق عورتوں کے بھی مردوں پر ہیں البقرة
229 طلاق دینے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ تین مرتبہ، تین مجلسوں میں، تین مہینوں میں، اور ایک کے بعد ایک واقع ہوتی ہے۔ اور وہ حالت جو قطعی طور پر رشتہ نکاح قطع کردیتی ہے، تیسری مجلس، تیسرے مہینے اور تیسری طلاق کے بعد وجود میں ٓتی ہے۔ اس وقت تک جدائی کے ارادے سے باز ٓجانے اور ملاپ کرلینے کا موقع باقی رہتا ہے۔ پس نکاح کا رشتہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس گھڑی چاہا، بات کی بات میں توڑ کر رکھ دیا۔ اس کے تورنے کے لیے مختلف منزلوں سے گزرنے، اچھی طرح سوچنے سمجھنے، یکے بعد دیگرے اصلاح کی مہلت پانے، اور پھر اصلاح حال سے بالکل مایوس ہو کر آخری فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ شوہر کے لیے جائز نہیں کہ جو کچھ بیوی کو دے چکا ہے یا دینا کیا ہے طلاق دیتے ہوئے واپس لے لے۔ (جیسا کہ عرب میں جاہلت میں لوگ کیا کرتے تھے) ہاں اگر ایسی صورت پیش آجائے کہ شوہر طلاق دینا نہ چاہتا ہو نہ اس کی طرف سے کوئی تصور ہو۔ لیکن کسی وجہ سے آپس میں بنتی نہ ہو اور اندیشہ پیدا ہوگیا کہ ازدواجی زندگی کے فرائض ادا نہ ہوسکیں گے، تو اس صورت میں اگر عورت کہے، میں اپنا مہریاں اس کا کوئی حصہ چھوڑ دیتی ہوں، اور شوہر اس کے بدلے میں طلاق دے دے تو ایسی معاملت ہوسکتی ہے۔ اسی کو "خلع" کہتے ہیں۔ نکاح کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے کے گلے پڑجائیں، اور نہ یہ ہے کہ عورت کو مرد کی خود غرضانہ کام جوئیوں کا آلہ بنا دیا جائے۔ بلکہ مقصود حقیقی یہ ہے کہ دونوں کے ملاپ سے ایک کامل اور خوش حال ازدواجی زندگی پیا ہوجائے۔ ایسی زندگی جب ہی پیدا ہوسکتی ہے۔ کہ آپس میں محبت و سازگاری ہو، اور حدود اللہ یعنی خدا کے ٹھہرائے واجبات و حقوق ادا کیے جائیں اگر کسی وجہ سے ایسا نہیں ہے تو نکاح کا مقصود حقیقی فوت ہوگیا اور ضروری ہوگیا کہ دونون فریقوں کے لیے تبدیلی کا دروازہ کھول دیا جائے۔ اگر مقصود نکاح کے فوت ہوجانے پر بھی علیحدگی کا دروازہ نہ کھولا جاتا۔ تو یہ انسان کے آزادانہ حق انتخاب کے خلاف ایک ظالمانہ رکاوٹ ہوتی اور ازدواجی زندگی کی سعادت سے سوسائٹی کو محروم کردینا ہوتا۔ یا تو عورت کو بیوی کی طرح رکھنا چاہیے اور اس کے حقوق ادا کرنے چاہیں یا طلاق دے کر اس کی راہ کھول دینی چاہیے۔ یہ نہیں کرنا چاہیے کہ نہ تو بیویوں کی طرح رکھو، نہ طلاق دے کر اس کی راہ کھولو۔ بیچ میں لٹکائے رکھو (جیسا کہ عرب جاہلیت میں لوگ کیا کرتے تھے)۔ ازدواجی زندگی کا معاملہ نہایت اہم اور نازک ہے۔ اور مرد کی خود غرضیوں اور نفس پرستیوں سے ہمیشہ عورتوں کی حق تلفی ہوئی ہے۔ اس لیے خصوصیت کے ساتھ یہاں مسلمانوں کو نصیحت کی گئی کہ اللہ نے انہیں "نیک ترین" امت ہونے کا مرتبہ عطا فرمایا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم نے ہدایت و موعظت کے تمام پہلو واضح کردیے ہیں پس اپنے جماعت شرف و مقام کی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہوں اور زدواجی زندگی میں اخلاق و پرہیز گاری کا بہترین نمونہ بنیں۔ ضمناً اس حقیقت کی طرف اشارہ کہ جس جماعت کے افراد کی ازدواجی زندگی درست نہیں ہے وہ کبھی ایک فلاح یافتہ جماعت نہیں ہوسکتی۔ البقرة
230 البقرة
231 البقرة
232 البقرة
233 جب عورت کو طلاق دے دی گئی اور اس نے عدت کا زمانہ پورا کرلیا تو پھر اسے اختیار ہے جس جس سے چاہے ٹھیک طریقے پر نکاح کرے۔ نہ تو اسے دوسرے نکاح سے روکنا چاہیے، نہ اس کی پسند کے خلاف اس پر زور ڈالنا چاہیے، نہ اس بات پر ناراض ہونا چاہیے۔ چونکہ اس بارے میں مردوں کی طرف سے زیادتی کا اندیشہ تھا اس لیے خصوصیت کے ساتھ اس پر زور دیا گیا اور فرمایا، اگر تم اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس حکم کی نافرمانی سے بچو۔ طلاق کی صورت میں ایک نہایت اہم سوال چھوٹے بچوں کی پرورش کا تھا۔ ماں باپ کی علیحدگی کے بعد دودھ پیتے بچوں کی پرورش کا تھا۔ ماں باپ کی علیحدگی کے بعد دودھ پیتے بچوں کی پرورش کا انتظام کیا ہو؟ اس بارے میں طرح طرح کی خرابیوں کا اندیشہ تھا۔ پس ان کا سدباب کردیا گیا۔ بڑا محل نقصان پہنچنے کا ماں تھی کہ طلاق کی وجہ سے جدا ہوگئی تھی، اور محبت مادری کی وجہ سے مجبور تھی، کہ بچے کو دودھ پلائے۔ پس حکم دیا گیا کہ دودھ پلانے تک اس کا خرچ باپ کے ذمے ہے اور دودھ پلانے کی مدت دو برس ہے۔ ساتھ ہی اس بارے میں دو بنیادی قاعدے بھی واضح کردیے "نہ تو ماں کو اس کو بچے کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو" اور "کسی پر اس کی وسعت سے زیادہ خرچ کا بار نہیں"۔ البقرة
234 جو عورتیں بیوہ ہوجائیں، ان کی نسبت احکام، اور ان مفاسد کا انسداد جو اس بارے میں پھیلے ہوئے تھے : 1۔ وفات کی عدت چار مہینے دس دن مقرر کرکے ان مفاسد کی اصلاح کردی جو اس بارے میں افراط و تفریط کا موجب تھے۔ نہ تو عورت فوراً ہی دوسرا نکاح کرسکتی ہے کہ اس میں معاملہ نکاح کی بے وقعتی اور مرحوم شوہر کے تذکار و محبت سے تغافل ہے۔ نیز نسب بھی مشتبہ ہوسکتا ہے۔ اور نہ یہ ہونا چاہیے کہ زیادہ مدت تک عورت کو شوہر کا سوگ منانے کے لیے مجبور کیا جائے۔ 2۔ اگر عورت عدت کے بعد دوسرا نکاح کرنا چہے تو اسے نہیں روکنا چاہیے، اور نہ اس بات کا خواہشمند ہونا چاہیے کہ عدت کی مقررہ مدت سے زیادہ شوہر کا سوگ کرے (جیسا کہ عرب جاہلیت میں لوگ کیا کرتے تھے)۔ البقرة
235 3۔ نکاح کے بارے میں عورت سے جو کچھ بھی نامہ و پیام کیا جائے اعلانیہ اور دستور کے مطابق ہونا چاہیے۔ چوری چھپے نہیں ہونا چاہیے کہ اس میں طرح طرح کے مفاسد ہوسکتے ہیں۔ 4۔ جب تک عدت کی مدت پوری نہ ہوجائے، نکاح کا قول و قرار نہیں کرنا چاہیے۔ البقرة
236 اگر نکاح کے بعد شورہ اور بیوی میں کوئی تعلق نہ ہوا ہو، اور شوہر طلاق دے دے تو اس صورت میں مہر کے احکام اور عورتوں کی حق تلفی کی امکانی صورتوں کا تدارک : 1۔ اگر مہر کی رقم متعین نہ ہوئی ہو، تو اس صورت میں چاہیے مرد اپنے مقدور کے مطابق جس قدر دے سکتا ہے، دے دے۔ 2۔ اگر معین ہو، تو اس صورت میں آدھا مہر عورت کا حق ہوگا، اگر مرد اس سے زیادہ بھلائی کرسکے تو یہ تقوے اور فضیلت کی بات ہوگی۔ 3۔ اس اصولی حقیقت کی تلقین کہ نکاح کے معاملہ میں مرد کا ہاتھ عورت سے زیادہ قوی ہے۔ اس لیے چاہیے کہ ہر معاملہ میں عفو و بخشش بھی اس کی طرف سے زیادہ ہو نہ کہ عورت کی طرف سے۔ البقرة
237 البقرة
238 لیکن انسان جو خواہشوں کا بندہ اور عرض پرستیوں کی مخلوق ہے، کیونکر ایسی اخلاقی طاقت پیا کرسکتا ہے کہ ازدواجی زندگی کی اخلاقی آزمائشوں میں پورا اترے؟ اس کی راہ میں صرف یہ ہے کہ خدا پرستی کی سچی روح پیدا کرے اور خدا پرستی کی سچی روح پیدا کرنے کا ذریعہ خدا کی عبادت ہے پس چاہیے کہ نماز کی محافظت کرو اور نماز میں کھڑے ہو کہ خشوع و خضوع میں ڈوبے ہوئے ہو ! خوف و جنگ کی حالت میں بھی نماز سے غفلت جائز نہیں جس طرح بھی بن پڑے نماز بروقت ادا کرلینی چاہیے صلوۃ وسطی کی ایک تفسیر تو یہ ہے جو ہم نے اختیار کی ہے دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہاں "وسطی " سے مقصود درمیانی چیز ہے اور اس لیے پانچ وقت کی نمازوں میں سے کسی خاص درمیانی نماز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جن مفسروں نے یہ تفسیر اختیار کی ہے وہ بخاری و مسلم کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ جب جنگ احزاب میں عصر کا وقت نکل گیا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ شغلونا عن الصلوۃ الوسطی حتی غابت الشمس۔ دشمنوں نے ہمیں صلوۃ وسطی سے باز رکھا یہاں تک سورج ڈوب گیا۔ پس صلوۃ وسطی سے مقصود عصر کی نماز ہے البقرة
239 البقرة
240 اگر شوہر نے وصیت کردی ہو کہ ایک برس تک عورت اس کے گھر میں رہے اور نان و نفقہ پائے (یعی ایک سال تک سوگ منائے اور گھر سے نہ نکلے جیسا کہ عرب جاہلیت میں میں دستور تھا) تو ایسی وصیت اب واجب التعمیل نہیں۔ کیونکہ وفات کی عدت چار ماہ دس دن مقرر کردی گئی ہے۔ البقرة
241 نکاح و طلاق کے احکام کا بیان ختم کرتے ہوئے، مطلقہ عورتوں کے لیے احسان و سلوک کا مکرر حکم کیونکہ اس معاملہ میں رشتہ کار مردوں کے ہاتھ میں تھا اور عورتوں کا پہلو کمزور تھا اس لیے ضروری تھا کہ بار بار حسن سلوک اور عفو و درگزر پر زور دیا جائے البقرة
242 البقرة
243 اب یہاں سے سلسلہ بیان پھر اسی طرف پھرتا ہے جہاں سے نکاح و طلاق کا بیان شروع ہوا تھا یعنی جہاد کے احکام و مصالح کی طرف، جو جماعت موت سے ڈرتی ہے، وہ کبھی زندگی کی کامرانیاں حاصل نہیں کرسکتی۔ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کی عبرت انگیز سرگزشت جس نے باوجود کثرت تعداد کے جہاد سے اعراض کیا تھا۔ البقرة
244 البقرة
245 راہ جہاد میں مال خرچ کرنا اللہ کو قرض دینا ہے البقرة
246 طالوت (ساؤں) کی قیادت و فرمانروائی اور بنی اسرائیل فلسطینیوں کے مقابلہ کی سرگزشت اور قوموں کے ضعف و قوت اور فتح وہ ہزیمت کے بعض اہم حقائق : 1۔ جس گروہ میں صبر و استقامت کی سچی ورح نہیں ہوتی، اس میں بسا اوقات سعی و عمل کے ولولے پیدا ہوجاتے ہیں، لیکن جب آزمائش کا وقت آتا ہے، تو بہت کم نکلتے ہیں جو راہ عمل میں ثابت قدم رہنے والے ہوں۔ 2۔ حکومت و قیادت کی جس میں قدرتی صلاحیت ہوتی ہے، وہی اس کا اہل ہوتا ہے۔ اگرچہ مال و دولت اور دنیوی عزت و جاہ سے خالی ہو۔ 3۔ صلاحیت کے لیے اصلی چیز علم و جسم کی قوت ہے۔ یعنی دماغی اور جسمانی قابلیت نہ کہ مال و دولت اور نسل و خاندان کا شرف۔ 4۔ جو شخص بھی سردار مقرر ہوجائے، جماعت کے افراد کا فرض ہے کہ سچے دل سے اس کی اطاعت کریں۔ اگر ایک جماعت میں اطاعت نہیں ہے، تو وہ کبھی جماعتی زندگی کی کشاکش میں کامیاب نہیں ہوسکتی ! البقرة
247 البقرة
248 البقرة
249 طالوت کا پانی پینے سے روک کر لوگوں کے صبر و ثبات اور طاعت و انقیاد کا امتحان لینا اور ایک قلیل تعداد کے سوا سب کا نااہل ثابت ہونا۔ اس راہ میں اصلی چیز صبر اور اطاعت ہے جو لوگ ایک گھڑی کی پیاس ضبط نہیں کرسکتے، وہ میدان جنگ کی محنتیں کیونکر برداشت کریں گے کتنی ہی چھوٹی جماعتیں ہیں جو بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں اور کتنی ہی بڑی جماعتیں ہیں جو چھوٹی جماعتوں سے شکست کھاجاتی ہیں۔ فتح و شکست کا دارو مدار افراد کی کثرت و قلت پر نہیں بلکہ دلوں کی قوت پر ہے اور اللہ کی مدد انہی لوگوں کا ساتھ دیتی ہے جو صابر اور ثابت قدم ہوتے ہیں البقرة
250 سچی دعا وہ ہے جو سچی استعداد عمل کے ساتھ ہو۔ طالوت کے ساتھیوں نے اپنی دعا میں صرف یہی نہیں کہا کہ "ہمیں فتح مند کر" بلکہ فتح مندی کی طلب سے پہلے صبر و ثبات کی طلب گاری کی اور کہا "ہمیں صبر دے اور ہمارے قدم جما دے" کیونکہ خدا کی نصرت انہی کے حصے میں آتی ہے جن میں صبر و ثبات کی روح پیدا ہوجاتی ہے البقرة
251 اگر قوموں اور جماعتوں کی باہمی کش مکش اور مدافعت نہ ہوتی اور ہر جماعت اپنی اپنی حالت میں بغیر منازعت کے چھوڑ دی جاتی تو نتیجہ یہ نکلتا کہ دنیا ظلم و فساد سے بھر جاتی اور حق و عدالت کا نام و نشان باقی نہ رہتا۔ پس یہ اللہ کا بڑا ہی فضل ہے کہ جب کبھی ایک گروہ ظلم و فساد میں چھوٹ ہوجاتا ہے تو مزاحمت کے محرکات دوسرے گروہ کو مدافعت کے لیے کھڑا کردیتے ہیں، اور ایک قوم کا ظلم دوسری قوم کی مقاومت سے دفع ہوتا ہے رہتا ہے پس دفع مظالم کے لیے جنگ ناگزیر ہوئی، خدا نے مختلف عہدوں میں یکے بعد دیگرے اپنے پیغمبر مبعوث کیے اور انہوں نے لوگوں کو تفرقہ و فساد کی جگہ حق پرستی و یگانگت کی تعلیم دی۔ اگر لوگ اس تعلیم پر قائم رہتے اور گروہ بندیاں کرکے الگ الگ نہ ہوجاتے، تو آپس میں جنگ و نزاع نہ کرتے، لیکن انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف جتھا بندی کرلی، اور باہمی جنگ و خونریزی کا ایسا بیج بو دیا جو اب ہمیشہ پھل لاتا رہتا ہے اگر خدا چاہتا تو طبیعت بشری ایسی بناتا کہ اس میں خلاف و نزاع کا مادہ ہی نہ ہوتا اور کسی ایک حالت معیشت پر مجبور کردیا جاتا۔ لیکن اس کی حکمت کا فیصلہ یہی ہوا کہ انسان کو مجبور و مضطر نہ بنائے اور ہر راہ میں چلنے کی قدرت دے دے۔ پس کتنے ہی ہیں جو ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہیں، کتنے ہی ہیں جو گمراہی کو ترجیح دیتے ہیں البقرة
252 پیغمبر اسلام سے خطاب کہ جنگ کی جو منزل تمہیں پیش آگئی ہے سنت الٰہی کا مقتضا یہی تھا کہ پیش آئے۔ ظلم و فساد کی مدافعت کے لیے اس منزل سے گزرنا ناگزیر ہے البقرة
253 البقرة
254 جب جنگ ناگزیر ہے تو اس سے غفلت نہ کرو اور بڑی تیاری یہ ہے کہ اپنا مال اس راہ میں خرچ کرو۔ آخرت کی نجات کا تمام تر دار و مدار ایمان و عمل پر ہے۔ وہاں نہ تو نجات کی خرید و فروخت ہوسکتی ہے، نہ کسی کی دوستی آشنائی کام دے سکتی ہے، نہ کسی کی سفارش سے کام نکالا جاسکتا ہے۔ البقرة
255 خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ و مالک الملک ہے۔ حی و قیوم ہے اس کی حکومت سے کوئی گوشہ باہر نہیں۔ اسکے علم کے لیے کوئی شے مخفی اور اوجھل نہیں۔ وہ غفلت سے منزہ ہے اور نسیان سے پاک ہے جس ہستی کی صفتیں ایسی ہوں اس کے سامنے کسی کی سعی و سفارش کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے، اور اس کے احکام و قوانین کے نفاذ میں کون ہے جو دخل دینے کی جرات کرسکتا ہے؟ البقرة
256 اس اصل عظیم کا اعلان کہ دین و اعتقاد کے معاملہ میں کسی طرح کا جبر و استکراہ جائز نہیں :۔ دین کی راہ دل کے اعتقاد و یقین کی راہ ہے اور اعتقاد، دعوت و موعظت سے پیدا ہوسکتا ہے نہ کہ جبر و استکراہ سے : 1۔ احکام جہاد کے بعد ہی یہ ذکر اس لیے کیا گیا تاکہ واضح ہوجائے کہ جنگ کی اجازت ظلم و تشدد کے انسداد کے لیے دی گئی ہے۔ نہ کہ دین کی اشاعت کے لیے۔ دین کی اشاعت کے لیے۔ دین کی اشاعت کا ذریعہ ایک ہی ہے اور وہ دعوت ہے۔ قریش مکہ کا فتنہ کیا تھا؟ یہ تھا کہ ظلم و تشدد کے ذریعہ دین و اعتقاد کا فیصلہ کرنا چاہتے تھے۔ قرآن نے اس کے خلاف جنگ کا حکم دیا پس جس بات کے خلاف اس نے جنگ کا حکم دیا ہے خود اسی بات کا مرتکب کیونکر ہوسکتا ہے؟ البقرة
257 2۔ سچائی روشنی ہے اگر تاریکی چھائی ہوئی ہے تو صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ روشنی موجود ہوجائے۔ اگر روشنی نمایاں ہوگئی تو پھر روشنی کو روشن دکھلانے کے لیے اور کسی بات کی ضرورت نہیں، روشنی جس طرف بھی رخ کرے گی تاریکی خود بخود دور ہوجائے گی۔ البقرة
258 3۔ دعوت کی تاثیر و فتح مندی کی وضاحت کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام البقرة
259 175: آیت نمبر : ٢٥٩ اور ٢٦٠ میں اللہ تعالیٰ نے دو ایسے واقعے ذکر فرمائے ہیں جن میں اس نے اپنے دو خاص بندوں کو اس دنیا ہی میں مردوں کو زندہ کرنے کا مشاہدہ کرایا، پہلے واقعے میں ایک ایسی بستی کا ذکر ہے جو مکمل طور پر تباہ ہوچکی تھی اس کے تمام باشندے مرکھپ چکے تھے اور مکانات چھتوں سمیت گر کر مٹی میں مل گئے تھے ایک صاحب کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے دل میں سوچا کہ اللہ تعالیٰ اس ساری بستی کو کس طرح زندہ کرے گا، بظاہر اس سوچ کا منشاء خدانخواستہ کوئی شک کرنا نہیں تھا بلکہ حیرت کا اظہار تھا، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کا مشاہدہ اس طرح کرایا جس کا اس آیت میں ذکر ہے، یہ صاحب کون تھے اور یہ بستی کونسی تھی یہ بات قرآن کریم نے نہیں بتائی، اور کوئی مستند روایت بھی ایسی نہیں ہے جس کے ذریعے یقینی طور پر ان باتوں کا تعین کیا جاسکے۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ بستی بیت المقدس تھی۔ اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب بخت نصر نے اس پر حملہ کر کے اسے تباہ کر ڈالا تھا، اور یہ صاحب حضرت عزیر یا حضرت ارمیا علیہم السلام تھے۔ لیکن نہ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے، نہ اس کھوج میں پڑنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم کا مقصد اس کے بغیر بھی واضح ہے۔ البتہ یہ بات تقریباً یقینی معلوم ہوتی ہے کہ یہ صاحب کوئی نبی تھے، کیونکہ اول تو اس آیت میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے ہم کلام ہوئے، نیز اس طرح کے واقعات انبیائے کرام ہی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ دیکھئے نیچے حاشیہ 177 البقرة
260 176: اس سوال وجواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ بات صاف کردی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ فرمائش خدانخواستہ کسی شک کی وجہ سے نہیں تھی، انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر پورا یقین تھا ؛ لیکن آنکھوں سے دیکھنے کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے، اس سے نہ صرف مزید اطمینان حاصل ہوتا ہے، بلکہ اس کے بعد انسان دوسروں سے یہ کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں دلائل سے اس کا علم حاصل کرنے کے علاوہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ 177: یعنی اگرچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہر وقت مردے کو زندہ کرنے کا مشاہدہ کراسکتی ہے، مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر ایک کو یہ مشاہدہ نہ کرایا جائے۔ اور بات دراصل یہ ہے کہ یہ دنیا چونکہ امتحان کی جگہ ہے، اس لیے یہاں اصل قیمت ایمان بالغیب کی ہے، اور انسان سے مطلوب یہ ہے کہ وہ ان حقائق پر آنکھوں سے دیکھے بغیر دلائل کی بنیاد پر ایمان لائے۔ البتہ انبیائے کرام کا معاملہ عام لوگوں سے مختلف ہے۔ وہ جب غیب کے حقائق پر غیر متزلزل ایمان لا کر یہ ثابت کرچکے ہوتے ہیں کہ ان کا ایمان نہ کسی شک کی گنجائش رکھتا ہے اور نہ وہ آنکھ کے کسی مشاہدے پر موقوف ہے تو ان کے ایمان بالغیب کا امتحان اسی دنیا میں پورا ہوجاتا ہے۔ پھر انہیں حکمت خداوندی کے تحت بعض غیبی حقائق آنکھوں سے بھی دکھا دئیے جاتے ہیں، تاکہ ان کے علم واطمینان کا معیار عام لوگوں سے زیادہ ہو، اور وہ ڈنکے کی چوٹ یہ کہہ سکیں کہ وہ جس بات کی دعوت دے رہے ہیں اس کی حقانیت انہوں نے آنکھوں سے بھی دیکھ رکھی ہے۔ بعض وہ لوگ جو خلاف عادت باتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں، انہوں نے اس آیت میں بھی ایسی کھینچ تان کی ہے جس سے یہ نہ ماننا پڑے کہ وہ پرندے واقعۃً مر کر زندہ ہوگئے تھے۔ لیکن قرآن کریم کا پورا سیاق اور جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ان کا اسلوب ایسی تاویلات کی تردید کرتا ہے۔ جو شخص عربی زبان کے محاورات اور اسالیب سے واقف ہو وہ ان آیات کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں نکالے گا جو ترجمے میں بیان کیا گیا ہے۔ البقرة
261 178: اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے سات سوگنا ثواب ملتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس کا ثواب چاہیں اور بڑھا سکتے ہیں، واضح رہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کا قرآن کریم نے بار بار ذکر کیا ہے اور اس سے مراد ہر وہ خرچ ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا جائے اس میں زکوۃ صدقات اور خیرات سب داخل ہیں۔ البقرة
262 البقرة
263 179: مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی سائل کسی سے مانگے اور کسی وجہ سے دے نہ سکتا ہو تو اس سے نرم الفاظ میں معذرت کرلینا اور اگر وہ مانگنے پر ناروا اصرار کرے تو اس کی غلطی سے درگزر کرنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان دے تو دے مگر بعد میں احسان جتلائے یا اسے ذلیل کرکے تکلیف پہنچائے البقرة
264 180: چٹان پر اگر مٹی جمی ہو تو یہ امید ہوسکتی ہے کہ اس پر کوئی چیز کاشت کرلی جائے ؛ لیکن اگر بارش مٹی کو بہالے جائے تو چٹان کے چکنے پتھر کاشت کے قابل نہیں رہتے، اسی طرح صدقہ خیرات سے آخرت کے ثواب کی امید ہوتی ہے ؛ لیکن اگر اس کے ساتھ ریا کاری یا احسان جتانے کی خرابی لگ جائے تو وہ صدقے کو بہالے جاتی ہے اور ثواب کی کوئی امید نہیں رہتی۔ البقرة
265 البقرة
266 181: صدقات کو برباد کرنے کی یہ دوسری مثال ہے۔ جس طرح ایک آگ سے بھرا بگولا ہرے بھرے باغ کو یکایک تباہ کر ڈالتا ہے، اسی طرح ریاکاری یا صدقہ دے کر احسان جتلانا یا کسی اور طرح غریب آدمی کو ستانا صدقے کے عظیم ثواب کو برباد کرڈالتا ہے۔ البقرة
267 البقرة
268 البقرة
269 البقرة
270 البقرة
271 البقرة
272 182: بعض انصاری صحابہ کے کچھ غریب رشتہ دار تھے مگر چونکہ وہ کافر تھے اس لئے وہ ان کی امداد نہیں کرتے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ وہ اسلام لے آئیں تو ان کی امداد کریں، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنحضرتﷺ نے بھی یہی ہدایت فرمائی تھی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (روح المعانی) اس طرح مسلمانوں کو بتایا گیا کہ آپ پر ان کے اسلام لانے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور اگر آپ ان غریب کافروں پر بھی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے کچھ خرچ کریں گے تو اس کا بھی پورا پورا ثواب ملے گا۔ البقرة
273 183: حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ یہ آیت اصحاب صفہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ وہ صحابہ تھے جنہوں نے اپنی زندگی علم دین حاصل کرنے کے لئے وقف کردی تھی اور آنحضرتﷺ کے پاس مسجد نبوی سے متصل ایک چبوترے پر آپڑے تھے، طلب علم کی وجہ سے وہ کوئی معاشی مشغلہ اختیار نہیں کرسکتے تھے مگر مفلسی کی سختیاں ہنسی خوشی برداشت کرتے تھے کسی سے مانگنے کا سوال نہیں تھا، اس آیت نے بتایا کہ ایسے لوگ امداد کے زیادہ مستحق ہیں جو ایک نیک مقصد سے پوری امت کے فائدے کے لئے مقید ہو کر رہ گئے ہیں اور سختیاں جھیلنے کے باوجود اپنی ضرورت کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔ آیت نمبر 261 سے 274 تک صدقات کی فضیلت اور اس کے احکام بیان ہوئے تھے۔ آگے آیت نمبر 280 تک اس کی ضد یعنی سود کا بیان ہے۔ صدقات انسان کے جذبہ سخاوت کی نشانی ہیں، اور سود بخل اور مال کی محبت کی علامت ہے۔ البقرة
274 البقرة
275 184:"سود"یا "ربا" ہر اس زیادہ رقم کو کہا جاتا ہے جو کسی قرض پر طے کرکے وصول کی جائے، مشرکین کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کوئی سامان فروخت کرکے نفع کماتے ہیں اور اس کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے، اسی طرح اگر قرض دے کر کوئی نفع کمائیں تو کیا حرج ہے؟ ان کے اس اعتراض کا جواب تو یہ تھا کہ سامانِ تجارت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ اسے بیچ کر نفع کمایا جائے، لیکن نقدی اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی کہ اسے سامان ِ تجارت بناکر اس سے نفع کمایا جائے، وہ تو ایک تبادلے کا ذریعہ ہے ؛ تاکہ اس کے ذریعہ اشیائے ضرورت خریدی اور بیچی جاسکیں، نقدی کا نقدی سے تبادلہ کرکے اسے بذات خود نفع کمانے کا ذریعہ بنالیا جائے تو اس سے بے شمار مفاسد پیدا ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں بیع اور سود کے درمیان فرق کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے ایک حاکمانہ جواب دیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دے دیا ہے تو ایک بندے کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حکم کی حکمت اور اس کا فلسفہ پوچھتا پھرے اور گویا عملاً یہ کہے کہ جب تک مجھے اس کا فلسفہ سمجھ میں نہیں آجائے گا میں اس حکم پر عمل نہیں کروں گا، واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں یقیناً کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے ؛ لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہر شخص کی سمجھ میں بھی آجائے، لہذا اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے تو پہلے اس کے ہر حکم پر سرتسلیم خم کرنا چاہئے، اس کے بعد اگر کوئی شخص اپنے مزید اطینان کے لئے حکمت اور فلسفہ سمجھنے کی کوشش کرے تو کوئی حرج نہیں ؛ لیکن اس پر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کو موقوف رکھنا ایک مومن کا طرز عمل نہیں۔ 185: مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے سود کی حرمت نازل ہونے سے پہلے لوگوں سے سود وصول کیا ہے، چونکہ اس وقت تک سود کے حرام ہونے کا اعلان نہیں ہوا تھا اس لئے وہ پچھلے معاملات معاف ہیں، اور ان کے ذریعے جو رقمیں وصول کی گئی ہیں وہ واپس کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ حرمت کے اعلان کے وقت جو سود کسی پر واجب الادا ہو وہ لینا جائز نہیں ہوگا ؛ بلکہ اسے چھوڑنا ہوگا جیسا کہ آیت نمبر ٢٧٨ میں حکم دیا گیا ہے۔ 186: یعنی جن لوگوں نے حرمت سودی کو تسلیم نہ کیا اور وہی اعتراض کرتے رہے کہ بیع اور سود میں کوئی فرق نہیں، وہ کافر ہونے کی وجہ سے ابدی عذاب کے مستحق ہوں گے۔ سود کے موضوع پر مزید تفصیل کے لیے دیکھئے ان آیات کے تحت معارف القرآن اور مسئلہ سود از حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (رح) اور میرا مذکورہ بالا فیصلہ۔ البقرة
276 البقرة
277 البقرة
278 البقرة
279 البقرة
280 البقرة
281 البقرة
282 187: یہ قرآن کریم کی سب سے طویل آیت ہے اور اس میں سود کی حرمت بیان کرنے کے بعد ادھار خرید وفروخت کے سلسلے میں اہم ہدایات دی گئی ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ معاملات صفائی کے ساتھ ہوں، اگر کوئی ادھار کسی کے ذمے واجب ہورہا ہو تو اسے ایسی تحریر لکھنی یا لکھوانی چاہئے جو معاملے کی نوعیت کو واضح کردے، اس تحریر میں پوری بات لاگ لپیٹ کے بغیر لکھنی چاہئے اور کسی کا حق مارنے کے لئے تحریر میں کتر بیونت سے پرہیز کرنا چاہئے۔ البقرة
283 البقرة
284 188: آگے آیت نمبر 286 کے پہلے جملے نے واضح کردیا کہ انسان کے اختیار کے بغیر جو خیالات اس کے دل میں آجاتے ہیں، ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ لہذا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان جان بوجھ کر جو غلط عقیدے دل میں رکھے، یا کسی گناہ کا سوچ سمجھ کر بالکل پکا ارادہ کرلے تو اس کا حساب ہوگا۔ البقرة
285 البقرة
286 البقرة
0 سورۃ آل عمران تعارف عمران حضرت مریم علیہا السلام کے والد کا نام ہے اور“ آل عمران ” کا مطلب ہے“ عمران کا خاندان ” اس سورت کی آیات ٣٣ تا ٣٧ میں اس خاندان کا ذکر اایا ہے، اس لیے اس سورت کا نام“ سورۃ آل عمران ” ہے۔ اس سورت کے بیشتر حصے اس دور میں نازل ہوئے ہیں جب مسلمان مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے تھے، مگر یہاں بھی کفار کے ہاتھوں انہیں بہت سی مشکلات درپیش تھیں۔ سب سے پہلے غزوہ بدر پیش آیا جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غیر معمولی فتح عطا فرمائی، اور کفار قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ اس شکست کا بدلہ لینے کے لیے اگلے سال انہوں نے مدینہ منورہ پر حملہ کیا، اور غزوہ احد پیش آیا، جس میں مسلمانوں کو عارضی پسپائی بھی اختیار کرنی پڑی۔ ان دونوں غزوات کا ذکر اس سورت میں آیا ہے، اور ان سے متعلق مسائل پر قیمتی ہدایات عطا فرمائی گئی ہیں۔ مدینہ منورہ اور اس کے اطراف میں یہودی بڑی تعداد میں آباد تھے، سورۃ بقرہ میں ان کے عقائد و اعمال کا بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر ہوچکا ہے، اور ضمنا عیسائیوں کا بھی تذکرہ آیا تھا۔ سورۃ آل عمران میں اصل روئے سخن عیسائیوں کی طرف ہے، اور ضمنا یہودیوں کا بھی تذکرہ آیا ہے۔ عرب کے علاقے نجران میں عیسائی بڑی تعداد میں آباد تھے، ان کا ایک وفد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تھا۔ سورۃ آل عمران کا ابتدائی تقریبا آدھا حصہ انہی کے دلائل کے جواب اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کی صحیح حیثیت بتانے میں صرف ہوا ہے۔ نیز اس سورت میں زکوۃ سود اور جہاد سے متعلق احکام بھی عطا فرمائے گئے ہیں، اور سورت کے آخرت میں دعوت دی گئی ہے کہ اس کائنات میں پھیلی ہوئی قدرت خداوندی کی نشانیوں پر انسان کو غور کر کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانا چاہیے، اور ہر حاجت کے لیے اسی کو پکارنا چاہئے۔ سورۃ آل عمران مدنی ہے اور اس میں ٢٠٠ آیتیں اور ٢٠ رکوع ہیں۔ آل عمران
1 آل عمران
2 آل عمران
3 آل عمران
4 1: یہاں قرآن کریم نے لفظ فرقان استعمال کیا ہے جس کے معنی ہیں وہ چیز جو صحیح اور غلط کے درمیان فرق واضح کرنے والی ہو، قرآن کریم کا ایک نام فرقان بھی ہے، اس لئے کہ وہ حق وباطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کتاب ہے ؛ چنانچہ بعض مفسرین نہ یہاں فرقان سے قرآن ہی مراد لیا ہے، دوسرے مفسرین کا کہنا ہے کہ اس سے مراد معجزات ہیں جو انبیاء کرام ( علیہ السلام) کے ہاتھ پر ظاہر کئے گئے اور جنہوں نے ان کی نبوت کا ثبوت فراہم کیا، نیز اس لفظ سے وہ تمام دلائل بھی مراد ہوسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں۔ آل عمران
5 آل عمران
6 2: اگر انسان اپنی پیدائش کے مختلف مراحل پر غور کرے کہ وہ ماں کے پیٹ میں کس طرح پرورش پاتا ہے اور کس طرح اس کی صورت دوسرے اربوں انسانوں سے بالکل الگ بنتی ہے کہ کبھی دو آدمی سوفیصد ایک جیسے نہیں ہوتے تو اسے یہ تسلیم کرنے میں دیر نہ لگے کہ یہ سب کچھ خدائے واحد کی قدرت اور حکمت کے تحت ہورہا ہے، اس آیت میں اس حقیقت کو بیان کرکے اللہ تعالیٰ کے وجود اس کی وحدانیت اور حکمت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، اس کے ساتھ اس سے ایک اور پہلو کی وضاحت بھی کی گئی ہے، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرتﷺ کے پاس آیا تھا اور اس نے اپنے عقائد کے بارے میں آپ سے گفتگو کی تھی، سورۃ آل عران کی کئی آیات اسی پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، اس وفد نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کا بیٹا ہونے پر یہ دلیل بھی دی تھی کہ وہ بغیر باپ کہ پیدا ہوئے تھے، یہ آیت اس دلیل کی تردید بھی کررہی ہے، اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ ہر شخص کی تخلیق اور صورت گری اللہ تعالیٰ ہی فرماتا ہے، اگرچہ اس نے معمول کا طریقہ یہ بنایا ہے کہ ہر بچہ کسی باپ کے ذریعے پیدا ہوتا ہے ؛ لیکن وہ اس طریقے کانہ پابند ہے نہ محتاج، لہذا وہ جب چاہے جس کو چاہے بغیر باپ کے پیدا کرسکتا ہے اور اس سے کسی کا خدا یا خدا کا بیٹا ہونا لازم نہیں آتا۔ آل عمران
7 3: اس آیت کو سمجھنے کے لئے پہلے اس حقیقت کا احساس ضروری ہے کہ اس کائنات کی بے شمار چیزیں ایسی ہیں جو انسان کی سمجھ سے بالاتر ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا وجود اور اس کی وحدانیت توایک ایسی حقیقت ہے جو ہر انسان اپنی عقل سے معلوم کرسکتا ہے، لیکن اس کی ذات اور صفات کی تفصیلات انسان کی محدود عقل سے ماورا ہیں، قرآن کریم نے جہاں اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر فرمایا ہے ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ ظاہر کی گئی ہے، لیکن کوئی شخص ان صفات کی حقیقت اور کنہ کی فلسفیانہ کھوج میں پڑجائے توحیرانی یا گمراہی کے سوا اسے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، کیونکہ وہ اپنی محدود عقل سے اللہ تعالیٰ کی ان لامحدود صفات کا احاطہ کرنے کی کوشش کررہا ہے جو اس کے ادراک سے باہر ہیں، مثلاً قرآن کریم نے کئی مقامات پر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک عرش ہے اور یہ کہ وہ اس عرش پر مستوی ہوا، اب یہ بات کہ وہ عرش کیسا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کہ مستوی ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب انسان کی عقل اور سمجھ سے بالاتر ہے اور انسان کی زندگی کا کوئی عملی مسئلہ اس پر موقوف بھی نہیں، ایسی آیات جن میں اس قسم کے حقائق بیان کئے گئے ہیں متشابہات کہلاتی ہیں، اسی طرح مختلف سورتوں کے شروع میں جو حروف الگ الگ نازل کئے گئے ہیں (مثلاً اسی صورت کے شروع میں الف لام میم) اور جنہیں حروف مقطعات کہا جاتا ہے وہ بھی متشابہات میں داخل ہیں، ان کے بارے میں قرآن کریم نے اس آیت میں یہ ہدایت دی ہے کہ ان کی کھو دکرید میں پڑنے کے بجائے ان پر اجمالی طور سے ایمان رکھ کر ان کا صحیح مطلب اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنا چاہئے اس کے برعکس قرآن کریم کی دوسری آیتیں ایسی ہیں جن کا مطلب واضح ہے اور درحقیقت وہی آیات ہیں جو انسان کے لئے عملی ہدایات فراہم کرتی ہیں انہی آیات کو محکم آیتیں کہا گیا ہے، ایک مومن کو انہی پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ متشابہات کے بارے میں صحیح طرز عمل بتلانا یوں بھی ضروری تھا، لیکن اس سورت میں اس وضاحت کی خاص وجہ یہ بھی تھی کہ نجران کے عیسائیوں کا جو وفد آنحضرتﷺ کی خدمت میں آیا تھا اور جس کا ذکر اوپر کے حاشیہ میں گزرا ہے، اس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خدا یا خدا کا بیٹا ہونے پر ایک دلیل یہ بھی پیش کی تھی کہ خود قرآن نے انہیں کلمۃ اللہ (اللہ کا کلمہ) اور روح من اللہ فرمایا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی صفت کلام اور اللہ کی روح تھے اس آیت نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ قرآن کریم ہی نے جگہ جگہ صاف لفظوں میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں ہوسکتی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا یا خدا قراردینا شرک اور کفر ہے، ان واضح آیتوں کو چھوڑکر کلمۃ اللہ کے لفظ کو پکڑ بیٹھنا اور اس کی بنیاد پر ایسی تاویلیں کرنا جو قرآن کریم کی محکم آیات کے بالکل برخلاف ہیں، دل کے ٹیڑھ کی علامت ہے، حقیقت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کلمۃ اللہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ باپ کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن سے پیدا ہوئے تھے، جیسا کہ قرآن کریم نے اسی سورت کی آیت : ٥٩ میں بیان فرمایا ہے، اور انہیں روح من اللہ اس لئے کہا گیا ہے کہ ان کی روح براہ راست اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی تھی، اب یہ بات انسان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ کن سے پیدا کرنے کی کیفیت کیا تھی اور براہ راست ان کی روح کس طرح پیدا کی گئی ؟ یہ امور متشابہات میں سے ہیں، اس لئے ان کی کھود کرید بھی منع ہے (کیونکہ یہ باتیں انسان کی سمجھ میں آہی نہیں سکتیں) اور ان کی من مانی تاویل کرکے ان سے خدا کے بیٹے کا تصور برآمد کرنا بھی کج فہمی ہے۔ آل عمران
8 آل عمران
9 آل عمران
10 آل عمران
11 آل عمران
12 4: اس سے دنیا میں کافروں کے مغلوب ہونے کی پیش گوئی بھی مراد ہوسکتی ہے، اور آخرت میں مغلوب ہونے کی بھی۔ آل عمران
13 5: پیچھے یہ پیشینگوئی کی گئی تھی کہ کفار مسلمانوں سے مغلوب ہوں گے، اب اس کی ایک مثال دینے کی غرض سے جنگ بدر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں کافروں کا لشکر ایک ہزار مسلح لوگوں پر مشتمل تھا اور مسلمانوں کی تعداد کل تین سو تیرہ تھی، کافر کھلی آنکھوں دیکھ رہے تھے کہ ان کی تعداد کہیں زیادہ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور کافروں کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ آل عمران
14 آل عمران
15 آل عمران
16 آل عمران
17 آل عمران
18 آل عمران
19 آل عمران
20 آل عمران
21 آل عمران
22 آل عمران
23 آل عمران
24 آل عمران
25 آل عمران
26 6: جب غزوۂ احزاب کے موقع پر آنحضرتﷺ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی تو کفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑرہی ہے اور ان پر فاقے گزررہے ہیں مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کرلیں گے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرماکر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔ آل عمران
27 7: سردیوں میں دن چھوٹا ہوتا ہے تو گرمیوں کے دن کا کچھ حصہ رات بن جاتا ہے، اور گرمیوں میں دن بڑا ہوتا ہے تو سردیوں کی رات کا کچھ حصہ دن میں داخل ہوجاتا ہے۔ 8: مثلاً بے جان انڈے سے جاندار چوزہ نکل آتا ہے اور جاندار پرندے سے بے جان انڈا۔ آل عمران
28 9:” یار و مددگارـ“ عربی لفظ ” ولی“ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ ” ولی“ بنانے کو ” موالات“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایسی دوستی اور قلبی محبت کا تعلق ہے جس کے نتیجے میں دو آدمیوں کا مقصد زندگی اور ان کا نفع ونقصان ایک ہوجائے۔ اس قسم کا تعلق مسلمان کا صرف مسلمان ہی سے ہوسکتا ہے اور کسی غیر مسلم سے ایسا تعلق رکھنا سخت گناہ ہے اور اس آیت میں اسے سختی سے منع کیا گیا ہے، یہی حکم سورۂ نساء (٤: ١٣٩) سورۂ مائدہ (٥: ٥١) سورۂ توبہ (٩: ٢٣) سورۂ مجادلہ (٢٨: ٢٢) اور سورۂ ممتحنہ (٢٨: ١) میں بھی دیا گیا ہے، البتہ جوغیر مسلم جنگ کی حالت میں نہ ہوں ان کے ساتھ حسن سلوک، رواداری اور خیر خواہی کا معاملہ نہ صرف جائز بلکہ مطلوب ہے، جیسا کے خود قرآن کریم نے سورۂ ممتحنہ (٢٨: ٨) میں واضح فرمادیا ہے اور آنحضرتﷺ کی سنت پوری حیات طیبہ میں یہ رہی ہے کہ آپ نے ہمیشہ ایسے لوگوں کے ساتھ احسان کا معاملہ فرمایا، اسی طرح ان کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعاون کے وہ معاہدہ اور تجارتی معاملات بھی کئے جاسکتے ہیں جن کو آج کل کی سیاسی اصطلاح میں دوستی کے معاہدے کہا جاتا ہے، بشرطیکہ یہ معاہدے یا معاملات اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کے خلاف نہ ہوں اور ان میں کسی خلاف شرع عمل کا ارتکاب لازم نہ آئے، چنانچہ خود آنحضرتﷺ نے اور آپ کے بعد صحابہ کرام نے ایسے معاہدات اور معاملات کیے ہیں، غیر مسلموں کے ساتھ موالات کی ممانعت کرنے کے بعد قرآن کریم نے جو فرمایا ہے کہ : الا یہ کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لئے بچاؤ کا کوئی طریقہ احتیار کرو، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کفار کے ظلم وتشدد سے بچاؤ کے لئے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا پڑے جس سے بظاہر موالات معلوم ہوتی ہو تو اس کی گنجائش ہے۔ آل عمران
29 آل عمران
30 آل عمران
31 آل عمران
32 آل عمران
33 آل عمران
34 10: آیت کا یہ ترجمہ حضرت قتادہ کی تفسیر پر مبنی ہے (دیکھئے روح المعانی 176:3) واضح رہے کہ عمران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد کا بھی نام ہے، اور حضرت مریم علیہا السلام کے والد کا بھی، یہاں دونوں مراد ہوسکتے ہیں، لیکن چونکہ آگے حضرت مریم علیہا السلام کی واقعہ آرہا ہے۔ اس لیے ظاہر یہ ہے کہ یہاں حضرت مریم علیہا السلام ہی کے والد مراد ہیں۔ آل عمران
35 آل عمران
36 آل عمران
37 11:: حضرت عمران بیت المقدس کے امام تھے ان کی اہلیہ کا نام ''حنہ بنت فاقوذا''تھا، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی، اس لئے انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر ان کی کوئی اولاد ہوگی تو وہ اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کردیں گی۔ جب حضرت مریم کے خالو ہوئے۔ حضرت مریم کی سرپرستی کا مسئلہ پیدا ہوا تو قرعہ اندازی کے ذریعے اس کا فیصلہ کیا گیا اور قرعہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے نام نکلا جس کا ذکر آگے اسی سورت کی آیت نمبر 44 میں آرہا ہے۔ آل عمران
38 12: حضرت مریم کے پاس بے موسم کے پھل آیا کرتے تھے، حضرت زکریا (علیہ السلام) نے یہ دیکھا تو انہیں توجہ ہوئی کہ خدا ان کو بے موسم پھل دیتا ہے وہ مجھے اس بڑھاپے میں اولاد بھی دے سکتا ہے چنانچہ انہوں نے یہ دعا مانگی۔ آل عمران
39 13: اللہ کے کلمے سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں جیسا کہ اس سورت کے شروع میں اوپر واضح کیا گیا ہے انہیں کلمۃ اللہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ باپ کے بغیر اللہ کے کلمہ کن سے پیدا ہوئے تھے، حضرت یحیی (علیہ السلام) ان سے پہلے پیدا ہوئے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد کی تصدیق فرمائی۔ 14: یہاں حضرت یحیی (علیہ السلام) کی ایک خاص صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشات پر قابو رکھنے والے ہوں گے، یہ صفت اگرچہ تمام انبیاء علیہم السلام میں پائی جاتی ہے ؛ لیکن ان کا خاص طور سے اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس درجہ مشغول رہتے تھے کہ ان کو نکاح کرنے کی طرف رغبت نہیں ہوئی، اگرچہ عام حالات میں نکاح سنت ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے ؛ لیکن اگر کوئی شخص اپنے نفس پر اتنا قابو یافتہ ہوجیسے حضرت یحیی (علیہ السلام) تھے تو اس کے لئے کنوارا رہنا بلا کراہت جائز ہے۔ آل عمران
40 15: دعا حضرت زکریا (علیہ السلام) نے خود مانگی تھی، اس لئے یہ سوال خدانخواستہ کسی بے یقینی کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ ایک غیر معمولی نعمت کی خبر سن کر تعجب کا اظہار تھا جودرحقیقت شکر کا ایک انداز ہے، نیز سوال کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیا بچہ اسی بڑھاپے کی حالت میں پیدا ہوجائے گا یا ہماری جوانی لوٹادی جائے گی، اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا"اسی طرح" یعنی لڑکا اسی بڑھاپے کی حالت میں پیدا ہوگا۔ آل عمران
41 16: حضرت زکریا (علیہ السلام) کا مقصد یہ تھا کہ کوئی نشانی معلوم ہوجائے جس سے یہ پتہ چل جائے کہ اب حمل قرار پا گیا ہے تاکہ وہ اسی وقت سے شکر ادا کرنے میں لگ جائیں اللہ تعالیٰ نے یہ نشانی بتلائی کہ جب حمل قرار پائے گا تو تم پر ایسی حالت طاری ہوجائے گی کہ تم اللہ کے ذکر اور تسبیح کے سوا کسی کسے کوئی بات نہیں کرسکوگے اور بات کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اشاروں سے کرنی ہوگی۔ آل عمران
42 آل عمران
43 آل عمران
44 17: جیسا کے اوپر آیت نمبر : ٣٤ میں ذکر کیا گیا، حضرت مریم (رض) کے والد کی وفات کے بعد ان کی کفالت کے بارے میں اختلاف رائے پیدا ہوا تو اس کا فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا، اس زمانے میں قرعہ قلموں کے ذریعے ڈالا جاتا تھا اس لئے یہاں قلم ڈالنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ آل عمران
45 18: حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کلمۃ اللہ کہنے کی وجہ اوپر حاشیہ نمبر 13 میں گذر چکی ہے۔ آل عمران
46 19: اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (رض) کی پاک دامنی واضح کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو معجزے کے طور پر اس وقت بات کرنے کی قدرت عطا فرمائی تھی جب دودھ پیتے بچے تھے اس کا ذکر سورۂ مریم (٢٩ تا ٣٣) میں آیا ہے۔ آل عمران
47 آل عمران
48 آل عمران
49 20: یہ سب معجزے تھے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی نبوت کے ثبوت کے طور پر عطا فرمائے تھے اور آپ نے ان کا عملی مظاہرہ فرمایا۔ آل عمران
50 21: بنی اسرائیل کے لئے موسوی شریعت میں بعض چیزیں حرام کی گئی تھیں، مثلاً اونٹ کا گوشت اور چربی، بعض پرندے اور مچھلیوں کی بعض اقسام، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں انہیں جائز قراردیاگیا۔ آل عمران
51 آل عمران
52 22: حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے صحابہ کو حواری کہا جاتا ہے۔ آل عمران
53 آل عمران
54 آل عمران
55 23: حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین نے انہیں سولی پر چڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا اور جو لوگ آپ کو گرفتار کرنے واائے تھے ان میں سے ایک شخص کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ہم شکل بنا دیا، اور مخالفین نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دھوکے میں اسے سولی پر چڑھا دیا آیت کا جو ترجمہ یہاں کیا گیا ہے وہ عربی لفظ ” توفی“ کے لغوی معنی پر مبنی ہے، اور مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے یہاں یہی معنی مراد لیے ہیں۔ اس لفظ کی ایک اور تشریح بھی ممکن ہے جو حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی مروی ہے۔ اس کے لیے ملاحظہ ہو معارف القرآن ص :74 ج :2۔ 24: یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ماننے والے (خواہ انہیں صحیح طور پر مانتے ہوں جیسے مسلمان، یا غلو کے ساتھ مانتے ہوں، جیسے عیسائی ان کے مخالفین پر ہمیشہ غالب رہیں گے۔ چنانچہ تاریخ میں یسا ہی ہوتا رہا ہے، البتہ صدیوں کی تاریخ میں اگر کچھ مختصر عرصے کے لیے جزوی طور پر کہیں ان کے مخالفین کا غلبہ ہوگیا ہو تو وہ اس کے منافی نہیں ہے۔ آل عمران
56 آل عمران
57 آل عمران
58 آل عمران
59 آل عمران
60 آل عمران
61 25: اس عمل کو مباہلہ کہا جاتا ہے، جب بحث کا کوئی فریق دلائل کو تسلیم کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی پر تل جائے تو آخری راستہ یہ ہے کہ اسے مباہلہ کی دعوت دی جائے جس میں دونوں فریق اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ ہم میں سے جھوٹا یا باطل پر ہو وہ ہلاک ہوجائے، جیسا کہ اس سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے، شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرتﷺ کی خدمت میں آیا تھا اس نے آپ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خدائی پر بحث کی، جس کا اطمینان بخش جواب قرآن کریم کی طرف سے پچھلی آیتوں میں دے دیاگیا، جب وہ کھلے دلائل کے باوجود اپنی گمراہی پر اصرار کرتے رہے تو اس آیت نے آنحضرتﷺ کو حکم دیا کہ وہ انہیں مباہلے کی دعوت دیں ؛ چنانچہ آپﷺ نے ان کو یہ دعوت دی اور خود اس کے لئے تیار ہو کر اپنے اہل بیت کو بھی جمع فرمالیا لیکن عیسائیوں کا وفد مباہلے سے فرار اختیار کرگیا۔ آل عمران
62 آل عمران
63 آل عمران
64 آل عمران
65 آل عمران
66 26: یہودی کہا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے اور عیسائی کہتے تھے کہ وہ عیسائی تھے، اول تو قرآن کریم نے فرمایا کہ یہ دونوں مذہب تورات اور انجیل کے نزول کے بعد وجود میں آئے، جبکہ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) بہت پہلے گزر چکے تھے، لہذا یہ انتہائی احمقانہ بات ہے کہ انہیں یہودی یا عیسائی کہا جائے، اس کے بعد قرآن کریم نے فرمایا کہ جب تمہارے وہ دلائل جو کسی نہ کسی صحیح حقیقت پر مبنی تھے، تمہارے دعوؤں کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں، توحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں یہ بے بنیاد اور جاہلانہ بات کیسے تمہارے دعوے کو ثابت کرسکتی ہے، مثلاً تمہیں یہ معلوم تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور اس کی بنیاد پر تم نے ان کی خدائی کی دلیل پیش کرکے بحث کی مگر کامیاب نہ ہوسکے ؛ کیونکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا کسی کی خدائی کی دلیل نہیں ہوسکتا، حضرت آدم (علیہ السلام) تو ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے مگر انکو تم بھی خدا یا خدا کا بیٹا نہیں مانتے، جب تمہاری وہ دلیلیں بھی کام نہ آسکیں جو اس صحیح واقعے پر مبنی تھیں تو سراسر جاہلانہ بات کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نصرانی یا یہودی تھے کیسے تمہارے لئے کارآمد ہوسکتی ہے؟ آل عمران
67 آل عمران
68 آل عمران
69 آل عمران
70 27: یہاں آیتوں سے مراد تورات اور انجیل کی وہ آیتیں ہیں جن میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کی خبر دی گئی تھی، اور مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تم تورات اور انجیل کے من جانب اللہ ہونے کی گواہی دیتے ہو، اور دوسری طرف ان پیشینگوئیوں کے مصداق یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا انکار کرتے ہو جو بالواسطہ ان آیتوں کا انکار ہے۔ آل عمران
71 آل عمران
72 28: بعض یہودیوں نے مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لئے یہ اسکیم بنائی تھی کہ ان میں سے کچھ لوگ صبح کے وقت اسلام لانے کا اعلان کردیں اور پھر شام کو یہ کہہ کر اسلام سے پھرجائیں کہ ہم نے آنحضرتﷺ کو قریب سے جاکر دیکھ لیا، آپ وہ پیغمبر نہیں ہیں جن کی خبر تورات میں دی گئی تھی، ان کا خیال تھا کہ اس طرح کچھ مسلمان یہ سوچ کر اسلام سے برگشتہ ہوسکتے ہیں کہ یہ لوگ جوتورات کے عالم ہیں جب اسلام میں داخل ہونے کے بعد بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں تو ان کی بات میں ضرور وزن ہوگا۔ آل عمران
73 آل عمران
74 آل عمران
75 آل عمران
76 آل عمران
77 آل عمران
78 آل عمران
79 29: یہ عیسائیوں کی تردید ہورہی ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا یا خدا کا بیٹا مان کر گویا یہ دعویٰ کرتے تھے کہ خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہی ان کو اپنی عبادت کا حکم دی اہے۔ یہی حال ان بعض یہودی فرقوں کا تھا جو حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا مانتے تھے۔ آل عمران
80 آل عمران
81 آل عمران
82 آل عمران
83 30: مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات میں حکم اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے اہل ایمان اللہ کے ہر حکم کو دل وجان سے بخوشی قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کو مانتے بھی نہ ہوں ان کو بھی چار وناچار اللہ کے ان فیصلوں کے آگے سرجھکانا پڑتا ہے جو وہ اس کائنات کے انتظام کے لئے کرتا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ اگر کسی کو بیمار کرنے کا فیصلہ فرمالے تو کوئی اسے پسند کرے یا ناپسند ہر حال میں وہ فیصلہ نافذ ہو کر رہتا ہے اور کوئی مومن ہو یا کافر اسے فیصلے کے آگے سرجھکائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ آل عمران
84 آل عمران
85 آل عمران
86 آل عمران
87 آل عمران
88 آل عمران
89 آل عمران
90 31: یعنی جب تک وہ کفر سے توبہ کر کے ایمان نہیں لائیں گے، دوسرے گناہوں سے ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ آل عمران
91 آل عمران
92 32: پیچھے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 267 میں یہ حکم گذرا ہے کہ صرف خراب اور ردی قسم کی چیزیں صدقے میں نہ دیا کرو، بلکہ اچھی چیزوں میں اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرول۔ اب اس آیت میں مزید آگے بڑھ کر یہ کہا جارہا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ اچھی چیزیں اللہ کی خوشنودی کے لیے دو، بلکہ جن چیزوں سے تمہیں زیادہ محبت ہے، ان کو اس راہ میں نکالو تاکہ صحیح معنی میں اللہ کے لیے قربانی کا مظاہرہ ہو سکے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں صدقہ کرنی شروع کردیں جس کے بہت سے واقعات حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ ملاحظہ معارف القرآن جلد دوم ص :107 و 108، آل عمران
93 تشریح : بعض یہودیوں نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا تھا کہ آپ یہ دعوی کرتے ہیں کہ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیروکار ہیں حالانکہ آپ اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں جوتورات کی رو سے حرام ہے، ان آیات میں اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اونٹ کا گوشت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین میں حرام نہیں تھا ؛ بلکہ تورات نازل ہونے سے پہلے بنی اسرائیل کے لئے بھی وہ سب چیزیں حلال تھیں جو آج مسلمانوں کے لئے حلال ہیں ؛ البتہ ہوا یہ تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اونٹ کا گوشت اپنے اوپر حرام کرلیا تھا جس کی وجہ حضرت ابن عباس (رض) نے یہ بتائی ہے کہ ان کو عرق النساء کی بیماری تھی اور انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر مجھے اس بیماری سے شفا ہوگئی تو میں اپنے کھانے کی سب سے پسندیدہ چیز چھوڑدوں گا، انہیں اونٹ کا گوشت سب سے زیادہ پسند تھا، اس لئے شفا حاصل ہونے پر انہوں نے اسے چھوڑدیا (روح المعانی بحوالہ مستدرک حاکم صحیح) اب قرآن کریم نے یہاں صریح الفاظ میں یہ بات نہیں بتائی کہ آیا اس کے بعد یہ گوشت بنی اسرائیل پر بھی حرام کردیا گیا تھا یا نہیں لیکن سورۂ نساء (٤: ١٦٠) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر بہت سی اچھی چیزیں بھی حرام کردی گئی تھیں اور اسی سورت کی ٥٠ میں گزرچکا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ اور جو کتاب مجھ سے پہلے آچکی ہے یعنی تورات میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور (اس لئے بھیجا گیا ہوں) تاکہ کچھ چیزیں جو تم پر حرام کی گئی تھیں اب تمہارے لئے حلال کردوں، نیز یہاں تورات نازل ہونے سے پہلے کے الفاظ بھی یہ بتارہے ہیں کہ اونٹ کا گوشت شاید تورات نازل ہونے کے بعد ان پر حرام کردیا گیا تھا، اب جو چیلنج ان کو دیا گیا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو تورات لے کر آؤ اور اس کی تلاوت کرو، اس کا مطلب یہ ہے کہ تورات میں یہ کہیں مذکور نہیں ہے کہ اونٹ کا گوشت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے حرام چلا آتا ہے، اس کے برعکس یہ حکم صرف بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا ؛ چنانچہ اب بھی بائبل کی کتاب احبار میں جو یہودیوں اور عیسائیوں کی نظر میں تورات کا ایک حصہ ہے اونٹ کی حرمت بنی اسرائیل ہی کے لئے بیان ہوئی ہے : تم بنی اسرائیل سے کہو کہ تم ان جانوروں کا گوشت نہ کھانا یعنی اونٹ کو سو وہ تمہارے لئے ناپاک ہے (احبار ١١: ١۔ ٤) خلاصہ یہ کہ اونٹ کا گوشت اصلاً حلال ہے مگر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے لئے نذر کی وجہ سے اور بنی اسرائیل کے لئے ان کی نافرمانیوں کی بنا پر حرام کیا گیا تھا، اب امت محمدیہ (علی صاحبہا السلام) میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے کا اصل حکم لوٹ آیا ہے۔ آل عمران
94 آل عمران
95 آل عمران
96 34: یہ یہودیوں کے ایک اور اعتراض کا جواب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنی اسرائیل کے تمام انبیائے کرام بیت المقدس کو اپنا قبلہ قرار دیتے آئے ہیں، مسلمانوں نے اسے چھوڑ کر مکہ کے کعبہ کو کیوں قبلہ بنا لیا۔ آیت نے جواب یہ دیا ہے کہ کعبہ تو بیت المقدس کی تعمیر سے بہت پہلے وجود میں آچکا تھا، اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نشانی ہے۔ لہذا اسے پھر سے قبلہ اور مقدس عبادت گاہ بنانا ہرگز قابل اعتراض نہیں۔ آل عمران
97 آل عمران
98 آل عمران
99 تشریح : یہاں سے ١٠٨ تک کی آیات ایک خاص واقعے کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، مدینہ منورہ میں دو قبیلے اوس وخزرج کے نام سے آباد تھے، اسلام سے پہلے ان کے درمیان سخت دشمنی تھی اور دونوں میں وقتاً فوقتاً جنگیں ہوتی رہتی تھیں جو بعض اوقات سالہا سال جاری رہتی تھیں، جب ان قبیلوں کے لوگ مسلمان ہوگئے تو اسلام کی برکت سے ان کی یہ دشمنی ختم ہوگئی اور اسلام کے دامن میں آکر وہ شیر وشکر ہو کر رہنے لگے، بعض یہودیوں کو ان کا یہ اتحاد ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا، ایک مرتبہ دونوں قبیلوں کے لوگ ایک مجلس میں جمع تھے، ایک یہودی شماس بن قیس نے ان کے پیار محبت کا یہ منظر دیکھا تو اس سے نہ رہا گیا اور اس نے ان کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لئے یہ ترکیب کی کہ ایک شخص سے کہا کہ اس مجلس میں وہ اشعار سنادو جو زمانۂ جاہلیت میں اوس اور خزرج کے شاعروں نے ایک لمبی جنگ کے دوران ایک دوسرے کے خلاف کہے تھے، اس شخص نے وہ اشعار سنانے شروع کردئے، نتیجہ یہ ہوا کہ ان اشعار سے پرانی باتیں تازہ ہوگئیں، شروع میں دونوں قبیلوں کے لوگوں میں زبانی تکرار ہوئی پھر بات بڑھ گئی اور آپس میں نئے سرے سے جنگ کی تاریخ اور وقت مقرر ہونے لگا، آنحضرتﷺ کو علم ہوا تو آپ کو سخت صدمہ ہوا آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں تنبیہ فرمائی کہ یہ سب شیطانی حرکت تھی، بالآخر آپ کے سمجھانے سے یہ فتنہ ختم ہوا، ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پہلے تویہودیوں سے خطاب کرکے فرمایا ہے کہ اول تو تم کو خود ایمان لانا چاہئے اور اگر خود اس سعادت سے محروم ہو تو کم از کم ان لوگوں کے راستے میں رکاوٹ نہ ڈالو جو ایمان لاچکے ہیں، اس کے بعد بڑے مؤثر انداز میں مسلمانوں کو نصیحت فرمائی ہے اور آخر میں باہمی جھگڑوں سے بچنے کا علاج یہ بتایا ہے کہ اپنے آپ کو دین کی تبلیغ ودعوت میں مصروف کرلو تو اس سے اشاعت اسلام کے علاوہ یکجہتی بھی پیدا ہوگی۔ آل عمران
100 آل عمران
101 آل عمران
102 آل عمران
103 آل عمران
104 آل عمران
105 آل عمران
106 36: اگر یہ یہودیوں کا ذکر ہے تو ایمان سے مراد ان کا تورات پر ایمان لانا ہے اور اگر منافقین مراد ہیں تو ایمان کا مقصد ان کا زبانی اعلان ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ تیسرا احتمال یہ بھی ہے کہ خبر دار اسلام کو چھوڑ نہ بیٹھنا، اس لیے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ واقعۃ مرتد ہوجائیں گے، ان کا آخرت میں کیا حال ہوگا آل عمران
107 آل عمران
108 آل عمران
109 آل عمران
110 آل عمران
111 آل عمران
112 آل عمران
113 37: اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ آل عمران
114 آل عمران
115 آل عمران
116 آل عمران
117 تشریح : کافر لوگ جو کچھ خیرات کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کا صلہ انہیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں ان کے کفر کی وجہ سے، اس کا ثواب آخرت میں نہیں ملتا، لہذا ان کے خیراتی اعمال کی مثال ایک کھیتی سی ہے اور ان کے کفر کی مثال اس تیز آندھی کی ہے جس میں پالا بھی ہو اور وہ اچھی خاصی کھیتی کو برباد کرڈالے۔ آل عمران
118 39: مدینہ منورہ میں اوس و خزرج کے جو قبیلے آباد تھے، زمانہ دراز سے یہودیوں کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات چلے آتے تھے۔ جب اوس اور خزرج کے لوگ مسلمان ہوگئے تو وہ ان یہودیوں کے ساتھ اپنی دوستی نبھاتے رہے، مگر یہودیوں کا حال یہ تھا کہ ظاہر میں تو وہ بھی دوستانہ انداز میں ملتے تھے اور ان میں سے کچھ لوگ یہ بھی ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مسلمان ہوگئے ہیں، لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کے خلاف بغض بھرا ہوا تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ مسلمان ان کی دوستی پر بھروسہ کرتے ہوئے سادہ لوحی میں انہیں مسلمانوں کی کوئی راز کی بات بھی بتا دیتے تھے۔ اس آیت کریمہ نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان پر بھروسہ نہ کریں اور انہیں راز دار بنانے سے مکمل پرہیز کریں۔ آل عمران
119 آل عمران
120 آل عمران
121 40: جنگ احد میں تین ہزار کفار کا ایک لشکر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوا تھا آنحضرتﷺ ان کے مقابلے کے لئے احد پہاڑ کے دامن میں تشریف لے گئے تھے جہاں یہ جنگ لڑی گئی، آنے والی آیات میں اس کے متعدد واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ آل عمران
122 41: جب آنحضرتﷺ مقابلے کے لئے مدینہ منورہ سے نکلے تو آپ کے ساتھ ایک ہزار آدمی تھے ؛ لیکن منافقین کا سردار عبداللہ بن ابی راستے میں یہ کہہ کر اپنے تین سو آدمیوں سمیت واپس چلا گیا کہ ہماری رائے یہ تھی کہ دشمن کا مقابلہ شہر کے اندر رہ کر کیا جائے، ہماری رائے کے خلاف آپ باہر نکل آئے ہیں اس لئے ہم جنگ میں شریک نہیں ہوں گے، اس موقع پر سچے مسلمانوں کے دو قبیلے بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے دل بھی ڈگمگاگئے اور ان کے دل میں بھی خیال آیا کہ تین ہزار کے مقابلے میں صرف سات سوافراد بہت تھوڑے ہیں اور ایسے میں جنگ لڑنے کے بجائے الگ ہوجانا چاہئے ؛ لیکن پھر اللہ نے مدد فرمائی اور وہ جنگ میں شامل ہوئے اس آیت میں انہی کی طرف اشارہ ہے۔ آل عمران
123 42: جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کل تین سو تیرہ تھی اور ان کے پاس ستر اونٹ دوگھوڑے اور صرف آٹھ تلواریں تھیں۔ آل عمران
124 آل عمران
125 43: یہ سارا حوالہ جنگ بدر کا ہے اس جنگ میں شروع میں تین ہزار فرشتوں کی بشارت دی گئی تھی لیکن بعد میں صحابۂ کرام کو یہ اطلاع ملی کہ کرز بن جابر اپنا لشکر لے کر کفار مکہ کے ساتھ شامل ہونے کے لئے آرہا ہے، کفار کی تعداد پہلے ہی مسلمانوں سے تین گنا زیادہ تھی اب اس لشکر کے آنے کی اطلاع ملی تو مسلمانوں کو تشویش ہوئی اس موقع پر یہ وعدہ کیا گیا کہ اگر کرز کا لشکر اچانک آگیا توتین ہزار کے بجائے پانچ ہزار فرشتے بھیجے جائیں گے ؛ لیکن پھر کرز کا لشکر نہیں آیا اس لئے پانچ ہزار بھیجنے کی نوبت نہیں آئی۔ آل عمران
126 آل عمران
127 آل عمران
128 آل عمران
129 آل عمران
130 44: امام رازی نے تفسیر کبیر میں فرمایا ہے کہ جنگ احد کے موقع پر مکہ کے مشرکین نے سود پر قرض لے کر جنگ کی تیاری کی تھی، اس لئے کسی مسلمان کے دل میں بھی خیال ہوسکتا تھا کہ مسلمان بھی جنگ کی تیاری میں یہی طریقہ اختیار کریں، اس آیت نے انہیں خبر دار کردیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے، یہاں سود کو کئی گنا بڑھاکر کھانے کا جوذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے ؛ بلکہ اس وقت چونکہ سودی قرضوں میں بکثرت یہی ہوتا تھا کہ سود اصل سے کئی گنا بڑھ جاتا تھا اس لئے ایک واقعے کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے ورنہ سورۂ بقرہ (آیت ٢٧٧ اور ٢٧٨) میں صاف واضح کردیا گیا ہے کہ اصل قرض پر جتنی بھی زیادتی ہو وہ سود میں داخل اور حرام ہے۔ آل عمران
131 آل عمران
132 آل عمران
133 آل عمران
134 آل عمران
135 آل عمران
136 آل عمران
137 آل عمران
138 آل عمران
139 45: جنگ احد کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ شروع میں مسلمان کافر حملہ آوروں پر غالب آگئے اور کفار کا لشکر پسپا ہونے پر مجبور ہوگیا، آنحضرتﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے پچاس تیر انداز صحابہ کا ایک دستہ میدان جنگ کے ایک عقبی ٹیلے پر متعین فرمایا تھا، تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کرسکے، جب دشمن پسپا ہوا اور میدان جنگ خالی ہوگیا تو صحابہ نے اس کا چھوڑا ہوا ساز وسامان مال غنیمت کے طور پر اکھٹا کرنا شروع کردیا، تیر اندازوں کے اس دستے نے جب یہ دیکھا کہ دشمن بھاگ چکا ہے تو انہوں نے سمجھا کہ اب ہماری ذمہ داری پوری ہوچکی ہے اور ہمیں مال غنیمت جمع کرنے میں حصہ لینا چاہئے، ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر (رض) اور ان کے چند ساتھیوں نے ٹیلہ چھوڑنے کی مخالفت کی، مگر ان میں سے اکثر نے وہاں ٹھہرنے کو بے مقصد سمجھ کر ٹیلہ چھوڑدیا، دشمن نے جب دور سے دیکھا کہ ٹیلہ خالی ہوگیا ہے اور مسلمان مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہوگئے ہیں تو انہوں نے موقع پاکر ٹیلے پر حملہ کردیا، حضرت عبداللہ بن جبیر (رض) اور ان کے چند ساتھیوں نے اپنی بساط کے مطابق ڈٹ کر مقابلہ کیا، مگر سب شہید ہوگئے اور دشمن اس ٹیلے سے اتر کر ان بے خبر مسلمانوں پر حملہ آور ہوگیا جو مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف تھے، یہ حملہ اس قدر غیر متوقع اور ناگہانی تھا کہ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑنے لگے، اسی دوران کسی نے یہ افواہ اڑادی کہ آنحضرتﷺ شہید ہوگئے ہیں، اس افواہ سے بہت سے مسلمانوں کے حوصلے جواب دے گئے، ان میں سے بعض میدان چھوڑ گئے، بعض جنگ سے کنارہ کش ہو کر ایک طرف کھڑے رہ گئے، البتہ آنحضرتﷺ کے جاں نثار صحابہ کی ایک جماعت آپ کے ارد گرد مقابلہ کرتی رہی، کفار کا نرغہ اتنا سخت تھا کہ اس کشمکش میں آنحضرتﷺ کا مبارک دانت شہید ہوگیا اور چہرۂ مبارک لہو لہان ہوگیا، بعد میں جب صحابہ کو پتہ چلا کہ آپ کی شہادت کی خبر غلط تھی اور ان کے حواس بجا ہوئے تو ان میں سے بیشتر میدان میں لوٹ آئے، اور پھر کفار کو بھاگنا پڑا ؛ لیکن اس درمیانی عرصے میں ستر صحابہ کرام (رض) شہید ہوچکے تھے، ظاہر ہے کہ اس واقعے سے تمام مسلمانوں کو شدید صدمہ ہوا، قرآن کریم ان آیتوں میں انہیں تسلی بھی دے رہا ہے کہ یہ زمانے کے نشیب وفراز ہیں جن سے مایوں اور دل شکستہ نہ ہونا چاہئے، اور اس طرف بھی متوجہ کررہا ہے کہ یہ شکست کچھ غلطیوں کا نتیجہ تھی جس سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ آل عمران
140 46: جنگ بدر کی طرف اشارہ ہے جس میں کفار مکہ کے سترسردار مارے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے۔ آل عمران
141 آل عمران
142 آل عمران
143 47: جو لوگ جنگ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے وہ شہدائے بدر کی فضیلت سن کر تمنا کیا کرتے تھے کہ کاش ہمیں بھی شہادت کا رتبہ نصیب ہو۔ آل عمران
144 آل عمران
145 48: اس سے اشارہ مال غنیمت کی طرف ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صرف مال غنیمت حاصل کرنے کی نیت سے جہاد میں شریک ہوگا، اسے مال غنیمت میں سے حصہ تو مل جائے گا، لیکن آخرت کا ثواب حاصل نہیں ہوگا، اس کے برعکس اگر اصل نیت اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کی ہوگی تو آخرت کا ثواب حاصل ہوگا، اور مال غنیمت بھی ایک اضافی فائدے کے طور پر ملے گا (روح المعانی) آل عمران
146 آل عمران
147 آل عمران
148 آل عمران
149 آل عمران
150 آل عمران
151 آل عمران
152 49: ” پسندیدہ چیز“ سے یہاں مراد مال غنیمت ہے جسے دیکھ کر عقبی ٹیلے کے اکثر حضرات اپنے امیر کے حکم کے خلاف ٹیلہ چھوڑ گئے تھے۔ آل عمران
153 50: یعنی اس قسم کے واقعات سے تمہارے اندر پختگی آئے گی، اور آئندہ جب کوئی تکلیف پیش آئے گی اس پر زیادہ پریشان اور مغموم رہنے کے بجائے تم صبر اور استقامت سے کام لو گے آل عمران
154 51: جنگ احد میں جو غیر متوقع شکست ہوئی، اس پر صحابہ صدمے سے مغلوب ہو رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دشمن کے جانے کے بعد بہت سے صحابہ پر اونگھ مسلط فرما دی جس سے غم غلط ہوگیا۔ 52: یہ منافقین کا ذکر ہے وہ جو کہہ رہے تھے کہ : کیا ہمیں بھی کوئی اختیار حاصل ہے؟ اس کا ظاہری مطلب تو یہ تھا کہ اللہ کی تقدیر کے آگے کسی کا اختیار نہیں چلتا اور یہ بات صحیح تھی ؛ لیکن ان کا اصل مقصد وہ تھا جو آگے قرآن کریم نے دہرایا ہے یعنی یہ کہ اگر ہماری بات مانی جاتی اور باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے بجائے شہر میں رہ کر دفاع کیا جاتا تواتنے سارے آدمیوں کے قتل کی نوبت نہ آتی. 53: اشارہ اس طرف ہے کہ اس طرح کے مصائب سے ایمان میں پختگی آتی ہے اور باطنی بیماریاں دور ہوتی ہیں. آل عمران
155 54: یعنی جنگ سے پہلے ان سے کچھ ایسے قصور ہوئے تھے جنہیں دیکھ کر شیطان کو حوصلہ ہوا اور اس نے انہیں بہکا کر مزید غلطی میں مبتلا کردیا۔ آل عمران
156 آل عمران
157 آل عمران
158 آل عمران
159 آل عمران
160 آل عمران
161 55: شاید اس بات کو یہاں ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مال غنیمت اکھٹا کرنے کے لئے اتنی جلدی کی ضرورت نہیں تھی ؛ کیونکہ جو مال بھی حاصل ہوتا خواہ وہ کسی نے جمع کیا ہو بالآخر آنحضرتﷺ ہی اسے شرعی قاعدے سے انصاف کے ساتھ تقسیم فرماتے اور ہر شخص کو اس کا حصہ مل جاتا ؛ کیونکہ کوئی نبی مال غنیمت میں خیانت نہیں کرسکتا۔ آل عمران
162 آل عمران
163 آل عمران
164 آل عمران
165 56: اشارہ جنگ بدر کی طرف ہے جس میں کفار قریش کے ستر آدمی مارے گئے تھے اور ستر گرفتار ہوئے تھے، جبکہ جنگ احد میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی تعداد ستر ضرور تھی مگر کوئی مسلمان گرفتار نہیں ہوا تھا۔ اس لحاظ سے بدر میں مسلمانوں نے کفار کو جو نقصان پہنچایا تھا وہ اس نقصان سے دگنا تھا جو کافروں نے احد میں مسلمانوں کو پہنچایا۔ آل عمران
166 آل عمران
167 57: ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر کوئی برابر کی جنگ ہوتی تو ہم ضرور اس میں شریک ہوتے، لیکن یہاں تو مسلمانوں کا دشمن سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ دشمن کی تعداد تین گنے سے بھی زیادہ ہے، لہذا یہ جنگ نہیں، خود کشی ہے، اس میں ہم شامل نہیں ہوسکتے۔ 58: یعنی زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ اگر برابر کی جنگ ہوتی تو ہم ضرور شامل ہوتے، لیکن یہ صرف ایک بہانہ ہے، درحقیقت ان کے دل میں یہ ہے کہ برابر کی جنگ میں بھی مسلمانوں کا ساتھ نہیں دینا۔ آل عمران
168 آل عمران
169 آل عمران
170 آل عمران
171 آل عمران
172 آل عمران
173 59: جب کفار مکہ احد کی جنگ سے واپس چلے گئے تو راستے میں انہیں پچھتاوا ہوا کہ ہم جنگ میں غالب آجانے کے باوجود خواہ مخواہ واپس آگئے، اگر ہم کچھ اور زور لگاتے تو تمام مسلمانوں کا خاتمہ ہوسکتا تھا۔ اس خیال کی وجہ سے انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا۔ دوسری طرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شاید ان کے ارادے سے باخبر ہو کر یا احد کے نقصان کی تلافی کے لیے جنگ احد کے اگلے دن سویرے صحابہ میں یہ اعلان فرمایا کہ ہم دشمن کے تعاقب میں جائیں گے، اور جو لوگ جنگ احد میں شریک تھے صرف وہ ہمارے ساتھ چلیں۔ صحابہ کرام اگرچہ احد کے واقعات سے زخم خوردہ تھے، اور تھکے ہوئے بھی تھے، مگر انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس دعوت پر لبیک کہا جس کی تعریف اس آیت میں کی گئی ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکل کر حمراء الاسد کے مقام پر پہنچے تو وہاں قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص معبد آپ سے ملا جو کافر ہونے کے باوجود آپ سے ہمدردی رکھتا تھا، اس نے مسلمانوں نے کے حوصلے کا خود مشاہدہ کیا اور جب وہاں سے نکلا تو اس کی ملاقات کفار مکہ کے سردار ابو سفیان سے ہوگئی، اس نے ابو سفیان کو مسلمانوں کے لشکر اور اس کے حوصلوں کے بارے میں بتایا اور مشورہ دیا کہ وہ لوٹ کر حملہ کرنے کا ارادہ ترک کر کے واپس چلا جائے۔ اس سے کفار پر رعب طاری ہوا اور وہ واپس تو چلے گئے لیکن عبدالقیس کے ایک قافلے سے جو مدینہ منورہ جا رہا تھا یہ کہہ گئے کہ جب راستے میں ان کی ملاقات آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہو تو ان سے یہ کہیں کہ ابو سفیان بہت بڑا لشکر جمع کرچکا ہے اور مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ان پر حملہ آور ہونے والا ہے مقصد یہ تھا کہ اس خبر سے مسلمانوں پر رعب پڑے۔ چنانچہ یہ لوگ جب حمراء الاسد پہنچ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے تو یہی بات کہی، لیکن صحابہ کرام نے اس سے مرعوب ہونے کے بجائے وہ جملہ کہا جو اس آیت میں تعریف کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔ آل عمران
174 آل عمران
175 آل عمران
176 آل عمران
177 آل عمران
178 آل عمران
179 60: آیت 176 سے 178 تک اس شب ہے کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر کافر لوگ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں تو انہیں دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی کیوں حاصل ہے؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو آخرت میں تو کوئی حصہ ملنا نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں ڈھیل دئیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے یہ مزید گناہوں میں ملوث ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وقت آنا ہے جب یہ اکٹھے عذاب میں دھر لیے جائیں گے۔ آیت 179 میں اس کے مقابل اس شب ہے کا جواب ہے کہ مسلمان کو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں، اس کے باوجود ان پر مصیبتیں کیوں آرہی ہیں؟ اس کا ایک جواب اس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ یہ آزمائشیں مسلمانوں پر اس لیے آرہی ہیں تاکہ مسلمانوں پر واضح ہوجائے کہ ایمان کے دعوے میں کون کھرا ہے اور کون کھوٹا؟ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس وضاحت کے بغیر نہیں چھوڑ سکتا، اور مشکلات ہی کے وقت یہ پتہ چلتا ہے کہ کون ثابت قدم رہتا ہے اور کون پھسل جاتا ہے؟ اس پر یہ سوال ہوسکتا تھا کہ یہ بات اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مشکل میں ڈالے بغیر کیوں نہیں بتا دیتا؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب کی باتیں ہر ایک شخص کو نہیں بتاتا، بلکہ جتنی باتیں چاہتا ہے اپنے پیغمبر کو بتا دیتا ہے۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان منافقین کی بد عملی آنکھوں سے دیکھ کر ان کے بارے میں رائے قائم کریں، اس لیے یہ آزمائشیں پیش آرہی ہیں۔ آزمائشوں کی مزید حکمت آگے آیات 185 اور 186 میں بھی بیان فرمائی گئی ہے۔ آل عمران
180 61: وہ بخل جسے حرام قرار دیا گیا ہے یہ ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ خرچ کرنے کا حکم دیں، انسان وہاں خرچ نہ کرے، مثلاً زکوۃ نہ دے، ایسی صورت میں جو مال انسان بچا کر رکھے گا، قیامت کے دن وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ حدیث میں اس کی تشریح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمائی ہے کہ ایسا مال ایک زہریلے سانپ کی شکل میں منتقل کر کے اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جو اس کی باچھیں پکڑ کر کہے گا کہ : ” میں ہوں تیرا مال ! میں ہوں تیرا جمع کیا ہوا خزانہ !“۔ آل عمران
181 62: جب زکوۃ وغیرہ کے احکام آئے تو بعض یہودیوں نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے اس قسم کے گستاخانہ جملے کہے تھے۔ ظاہر ہے کہ عقیدہ تو ان کا بھی یہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ معاذ اللہ فقیر ہے، لیکن انہوں نے زکوۃ کے حکم کا مذاق اس طرح اڑایا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس بیہودہ جملے کا کوئی جواب دیا، بلکہ اس پر عذاب کی وعید سنائی۔ آل عمران
182 آل عمران
183 63: پچھلے انبیائے کرام کے زمانے میں طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کوئی جانور قربان کرتا تو اس کو کھانا حلال نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ جانور ذبح کر کے کسی میدان میں یا ٹیلے پر رکھ دیتا تھا۔ اگر اللہ تعالیٰ قربانی قبول فرماتے تو آسمان سے ایک آگ آکر اس کو قربانی کو کھا لیتی تھی۔ اس کو سوختنی قربانی کہا جاتا تھا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں یہ طریقہ ختم کردیا گیا اور قربانی کا گوشت انسانوں کے لیے حلال کردیا گیا۔ یہودیوں نے کہا تھا کہ چونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسی قربانی لے کر نہیں آئے اس لیے ہم ان پر ایمان نہیں لاتے۔ چونکہ یہ محض وقت گذاری کا ایک بہانہ تھا اور حقیقت میں ایمان لانا پیش نظر نہیں تھا۔ اس لیے انہیں یاد دلایا گیا کہ ماضی میں ایسے نشانات تمہارے سامنے آئے تب بھی تم ایمان لانے کے بجائے انبیاء کرام کو قتل کرتے رہے ہو۔ آل عمران
184 آل عمران
185 آل عمران
186 آل عمران
187 آل عمران
188 آل عمران
189 آل عمران
190 آل عمران
191 آل عمران
192 آل عمران
193 آل عمران
194 آل عمران
195 آل عمران
196 آل عمران
197 آل عمران
198 آل عمران
199 آل عمران
200 تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین آل عمران
0 سورۃ النساء تعارف یہ سورت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ منورہ ہجرت فرمانے کے بعد ابتدائی سالوں میں نازل ہوئی، اور اس کا اکثر حصہ جنگ بدر کے بعد نازل ہوا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب مدینہ منورہ کی نوازائیدہ مسلمان ریاست مختلف مسائل سے دو چار تھی۔ زندگی کا ایک نیا ڈھانچہ ابھر رہا تھا جس کے لیے مسلمانوں کو اپنی عبادت کے طریقوں اور اخلاق و معاشرت سے متعلق تفصیلی ہدایات کی ضرورت تھی، دشمن طاقتیں اسلام کی پیش قدمی کا راستہ روکنے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہی تھیں، اور مسلمانوں کو اپنی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے نت نئے مسائل کا سامنا تھا۔ سورۃ نساء نے ان تمام معاملات میں تفصیلی ہدایات فراہم کی ہیں۔ چونکہ ایک مستحکم خاندانی ڈھانچہ کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اس لیے یہ سورت خاندانی معاملات کے بارے میں مفصل احکام سے شروع ہوئی ہے۔ چونکہ خاندانی نظام میں عورتوں کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے، اس لیے عورتوں کے بارے میں اس سورت نے تفصیلی احکام عطا فرمائے ہیں، اور اسی لیے اس کا نام سورۃ نساء ہے۔ جنگ احد کے بعد بہت سی خواتین بیوہ اور بہت سے بچے یتیم ہوگئے تھے، اس لیے سورت نے شروع ہی میں یتیموں کے حقوق کے تحفظ کا انتظام فرمایا ہے، اور آیت نمبر ١٤ تک میراث کے احکام تفصیل سے بیان فرمائے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں عورتوں کے ساتھ طرح طرح کے طلم ہوتے تھے، ان مظالم کی ایک ایک کر کے نشاندہی کی گئی ہے، اور معاشرے سے ان کا خاتمہ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ نکاح و طلاق کے مفصل احکام بیان کیے گئے ہیں، اور میاں بیوی کے حقوق متعین فرمائے گئے ہیں۔ یہ مضمون آیت نمبر ٣٥ تک چلا ہے جس کے بعد انسان کی باطنی اور معاشرتی اصلاح کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ مسلمانوں کو عرب کے صحراؤں میں سفر کے دوران پانی کی قلت پیش آتی تھی، لہذا آیت ٤٣ میں تیمم کا طریقہ اور آیت ١٠١ میں سفر میں نماز قصر کرنے کی سہولت عطا فرمائی گئی ہے۔ نیز جہاد کے دوران نماز خوف کا طریقہ آیت ١٠٢ اور ١٠٣ میں بتایا گیا ہے۔ مدینہ منورہ میں بسنے والے یہودیوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معاہدہ کرنے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر رکھا تھا، آیات ٤٤ تا ٥٧ اور ١٥٣ تا ١٧٥ میں ان کے ساتھ عیسائیوں کو بھی خطاب میں شامل کرلیا گیا ہے، اور انہیں تثلیث کے عقیدے کے بجائے خالص توحید اختیار کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آیات ٥٨، ٥٩ میں سیاست اور حکمرانی سے متعلق ہدایات آئی ہیں۔ منافقین کی بد اعمالیاں آیات ٦٠ تا ٧٠ اور پھر آیات ١٣٧ تا ١٥٢ میں واضح کی گئی ہیں۔ آیات ٧١ تا ٩٢ نے جہاد کے احکان بیان کر کے منافقین کی ریشہ دوانیوں کا پردہ چاک کیا ہے۔ اسی سیاق میں آیات ٩٢، ٩٣ میں قتل کی سزائیں مقرر فرمائی گئی ہیں۔ جو مسلمان مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے اور کفار کے ہاتھوں مظالم جھیل رہے تھے، ان کی ہجرت کے مسائل آیات ٩٧ تا ١٠٠ میں زیر بحث آئے ہیں، اسی دوران بہت سے تنازعات آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے فیصلے کے لیے لائے گئے۔ آیات ١٠٥ تا ١١٥ میں ان کے فیصلے کا طریقہ آپ کو بتایا گیا ہے، اور مسلمانوں کو آپ کا فیصلہ دل و جان سے قبول کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ آیات ١١٦ تا ١٢٦ میں توحید کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ خاندانی نظام اور میراث کے بارے میں صحابہ کرام نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعدد سوالات پوچھے تھے، آیات ١٢٧ تا ١٢٩ اور پھر ١٧٦ میں ان سوالات کا جواب دیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ پوری سورت احکام اور تعلیمات سے بھری ہوئی ہے، اور شروع میں تقوی کا جو حکم دیا گیا تھا، کہا جاکستا ہے کہ پوری سورت اس کی تفصیلات بیان کرتی ہے۔ النسآء
1 1: جب دنیا میں لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو بکثرت یہ کہتے ہیں کہ خدا کے واسطے مجھے میرا حق دے دو، آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنے حقوق کے لئے اللہ کا واسطہ دیتے ہو تو دوسروں کا حق ادا کرنے میں بھی اللہ سے ڈرو اور لوگوں کے حقوق پورے پورے ادا کرو۔ النسآء
2 2: کسی مرنے والے کے بچے جب یتیم ہوجاتے ہیں تو ان کے باپ کی میراث میں ان کا بھی حصہ ہوتا ہے، مگر ان کی کم عمری کی وجہ سے وہ مال ان کے سپرد نہیں کیا جاتا، بلکہ ان کے سرپرست، مثلاً، چچا، بھائی وغیرہ اسے بچوں کے بالغ ہونے تک اپنے پاس امانت کے طور پر رکھتے ہیں۔ اس آیت میں ایسے سرپرستوں کو تین ہدایتیں دی گئی ہیں : ایک یہ کہ جب بچے بالغ اور سمجھ دار ہوجائیں تو ان کی امانت دیانت داری سے ان کے حوالے کردو۔ دوسرے یہ کہ بد دیانتی نہ کرو کہ ان کو ان کے باپ کی طرف سے تو میراث میں اچھی قسم کا مال ملا تھا، مگر تم وہ مال خود رکھ کر گھٹیا قسم کی چیز اس کے بدلے میں دے دو،۔ اور تیسرے ایسا نہ کرو کہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ گڈ مڈ کر کے اس کا کچھ حصہ جان بوجھ کر یا بے پروائی سے خود استعمال کر بیٹھو۔ النسآء
3 3: صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ (رض) نے اس ہدایت کا پس منظر یہ بتایا ہے کہ بعض اوقات ایک یتیم لڑکی اپنے چچا کے بیٹے کی سرپرستی میں ہوتی تھی وہ خوبصورت بھی ہوتی اور اس کے باپ کا چھوڑا ہوا مال بھی اچھا خاصا ہوتا تھا اس صورت میں اس کا چچا زاد یہ چاہتا تھا کہ اس کے بالغ ہونے پر وہ خود اس سے نکاح کرلے تاکہ اس کا مال اسی کے تصرف میں رہے لیکن نکاح میں وہ اس کو اتنا مہر نہیں دیتا تھا جتنا اسی جیسی لڑکی کو دینا چاہئے دوسری طرف اگر لڑکی زیادہ خوبصورت نہ ہوتی تو اس کے مال کی لالچ میں اس سے نکاح کرلیتا تھا ؛ لیکن نہ صرف یہ کہ اس کا مہر کم رکھتا تھا ؛ بلکہ اس کے ساتھ ایک محبوب بیوی جیسا سلوک بھی نہیں کرتا تھا، اس آیت نے ایسے لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ اگر تمہیں یتیم لڑکیوں کے ساتھ اس قسم کی بے انصافی کا اندیشہ ہو تو ان سے نکاح مت کرو ؛ بلکہ عورتوں سے نکاح کرو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں۔ 4: مَثْنَیٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ: جاہلیت کے زمانے میں بیویوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں تھی ایک شخص بیک وقت دس دس بیس بیس عورتوں کو نکاح میں رکھ لیتا تھا اس آیت نے اس کی زیادہ سے زیادہ حد چار تک مقرر فرمادی اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ انسان تمام بیویوں کے درمیان برابری کا سلوک کرے اور اگر بے انصافی کا اندیشہ ہو تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ایسی شورت میں ایک سے زیادہ نکاح کرنے کو منع فرمادیا گیا ہے۔ النسآء
4 النسآء
5 5: یتیموں کے سرپرستوں کی ذمہ داریاں بیان کی جارہی ہیں کہ ایک طرف تو انہیں یتیموں کے مال کو امانت سمجھ کر انتہائی احتیاط سے کام لینا ہے، دوسری طرف یہ بھی خیال رکھنا ہے کہ یتیموں کا پیسہ ایسے وقت ان کے حوالے کیا جائے جب ان میں روپے پیسے کی ٹھیک ٹھیک دیکھ بھال کی سمجھ اور اسے صحیح مصرف پر خرچ کرنے کا سلیقہ آچکا ہو۔ جب تک وہ نا سمجھ ہیں، ان کا مال ان کی تحویل میں نہیں دینا چاہیے اور اگر وہ خود مطالبہ کریں کہ ان کا مال ان کے حوالے کردیا جائے تو انہیں مناسب انداز میں سمجھا دینا چاہئے۔ اگلی آیت میں اسی اصول کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وقتاً فوقتاً ان یتیم بچوں کو آزماتے رہنا چاہئے کہ آیا وہ اتنے سمجھ دار ہوگئے ہیں کہ انہیں اپنے مال کے صحیح استعمال کا سلیقہ آگیا ہے۔ یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ صرف بالغ ہوجانا بھی کافی نہیں، بلوغ کے بعد بھی اگر وہ سمجھ دار نہ ہو پائے ہوں تو مال ان کے حوالے نہ کیا جائے۔ بلکہ جب یہ محسوس ہوجائے کہ ان میں سمجھ آگئی ہے تب مال ان کے حوالے کیا جائے۔ النسآء
6 6: یتیموں کے سرپرست کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے بہت سی خدمات انجام دینی پڑتی ہیں، عام حالات میں جب سرپرست خود کھاتا پیتا شخص ہو اس کے لئے ان خدمات کا کوئی معاوضہ لینا درست نہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک باپ اپنی اولاد کی دیکھ بھال کرتا ہے ؛ لیکن اگر وہ خود تنگدست ہے اور یتیم کی ملکیت میں اچھا خاصا مال ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنا ضروری خرچ بھی یتیم کے مال سے لے لے، مگر پوری احتیاط سے اتنا ہی لے جتنا عرف اور رواج کے مطابق ضروری ہے اس سے زیادہ لینا جائز نہیں ہے۔ النسآء
7 7: جاہلیت کے زمانے میں عورتوں کو میراث میں کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا، آنحضرتﷺ کے سامنے ایسے واقعات پیش آئے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا اور وہ بیوی اور نابالغ بچے چھوڑ کرگیا اور اس کے سارے ترکے پر اس کے بھائیوں نے قبضہ کرلیا، بیوی کو تو عورت ہونے کی وجہ سے میراث سے محروم رکھا گیا اور بچوں کو نابالغ ہونے کی وجہ سے کچھ نہ دیاگیا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں واضح کردیا گیا کہ عورتوں کو میراث سے محروم نہیں رکھا جاسکتا، اللہ تعالیٰ نے آگے ١١ سے شروع ہونے والے رکوع میں تمام رشتہ دار مردوں اور عورتوں کے حصے مقرر فرمادئے ہیں۔ النسآء
8 8: جب میراث تقسیم ہورہی ہو تو بعض ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو شرعی اعتبار سے وارث نہیں ہیں قرآن کریم نے یہ ہدایت دی ہے کہ ان کو بھی کچھ دے دینا بہتر ہے، مگر ایک تو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس ہدایت پر عمل کرنا مستحب ہے، یعنی پسندیدہ ہے واجب نہیں ہے، دوسرے اس پر عمل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بالغ ورثاء ایسے لوگوں کو اپنے حصہ میں سے دیں، نابالغ ورثاء کے حصے میں سے کسی اور کو دینا جائز نہیں ہے۔ النسآء
9 9: یعنی جس طرح تمہیں اپنے بچوں کی فکر ہوتی ہے کہ ہمارے مرنے کے بعد ان کا کیا ہوگا اسی طرح دوسروں کے بچوں کی بھی فکر کرو اور یتیموں کے مال میں خرد برد کرنے سے ڈرو۔ النسآء
10 النسآء
11 10: آیات 11، 12 میں مختلف رشتہ داروں کے لیے میراث کے حصے بیان فرمائے گئے ہیں۔ جن رشتہ داروں کے حصے ان آیات میں مقرر فرما دئیے گئے ہیں ان کو ” ذوی الفروض“ کہا جاتا ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضاحت فرمائی ہے کہ ان حصوں کی تقسیم کے بعد جو مال بچ جائے، وہ مرنے والے کے ان قریب ترین مذکر افراد میں تقسیم ہوگا جن کے حصے ان آیتوں میں متعین نہیں کیے گئے، جن کو ” عصبات“ کہا جاتا ہے۔ مثلا بیٹے اور اگرچہ بیٹیاں براہ راستہ عصبات میں شامل نہیں ہیں، لیکن بیٹوں کے ساتھ مل کر بیٹیاں بھی عصبات میں شامل ہوجاتی ہیں۔ اس صورت میں یہ قاعدہ اس آیت نے مقرر فرمایا ہے کہ ایک بیٹے کو دو بیٹیوں کے برابر حصہ ملے گا۔ یہی حکم اس صورت میں بھی ہے جب مرنے والے کی اولاد نہ ہو اور بہن بھائی ہوں تو بھائی کو بہن سے دگنا حصہ دیا جائے گا۔ 11: یہ قاعدہ ان آیات میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ میراث کی تقسیم ہمیشہ میت کے قرضوں کی ادائیگی اور اس کی وصیت پر عمل کرنے کے بعد ہوگی، یعنی اگر مرنے والے کے ذمے کچھ قرض ہو تو اس کے ترکے سے سب سے پہلے اس کے قرضے ادا کیے جائیں گے۔ اس کے بعد اگر اس نے کوئی وصیت کی ہو کہ فلاں شخص کو جو وارث نہیں ہے، میرے ترکے سے اتنا دیا جائے تو ایک تہائی ترکے کی حد تک اس پر عمل کیا جائے گا اس کے بعد میراث وارثوں میں تقسیم ہوگی۔ 12: یہ تنبیہ اس بنا پر فرمائی گئی ہے کہ کوئی شخص یہ سوچ سکتا تھا کہ فلاں وارث کو زیادہ حصہ ملتا تو اچھا ہوتا، یا فلاں کو کم ملنا مناسب تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا کہ تمہیں مصلحت کا ٹھیک ٹھیک علم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کا جو حصہ مقرر فرما دیا ہے، وہی مناسب ہے۔ النسآء
12 13: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ قرض کی ادائیگی اور وصیت پر عمل کرنا میراث کی تقسیم پر مقدم ہے، لیکن مرنے والے کو کوئی ایسا کام نہ کرنا چاہیے جس کا مقصد اپنے جائز ورثاء کو نقصان پہنچانا ہو، مثلاً کوئی شخص اپنے وارثوں کو محروم کرنے یا ان کا حصہ کم کرنے کی خاطر اپنے کسی دوست کے لیے وصیت کردے، یا اس کے حق میں قرضے کا جھوٹ اقرار کرلے، اور مقصد یہ ہو کہ اس کا پورا ترکہ یا اس کا کافی حصہ اس کے پاس چلا جائے اور ورثاء کو نہ ملے یا بہت کم ملے تو ایسا کرنا بالکل ناجازئ ہے، اور اسی لیے شریعت نے یہ قاعدہ مقرر فرما دیا ہے کہ کسی وارث کے حق میں کوئی وصیت نہیں ہوسکتی، نیز غیر وارث کے حق میں بھی ایک تہائی سے زیادہ وصیت نہیں کی جاسکتی۔ النسآء
13 النسآء
14 النسآء
15 14:: عورت بدکاری کا ارتکاب کرے تو شروع میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ اسے عمر بھر گھر میں مقید رکھا جائے ؛ لیکن ساتھ ہی یہ اشارہ دے دیا گیا تھا کہ بعد میں ان کے لئے کوئی سزا مقرر کی جائے گی، یا اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ پیدا کردے، کا یہی مطلب ہے۔ چنانچہ سورۂ نور میں مرد اور عورت دونوں کے لئے زنا کی سزا سوکوڑے مقرر کردی گئی اور آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اب اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے راستہ پیدا کردیا ہے اور وہ یہ کہ غیر شادی شدہ مرد یا عورت کو سوکوڑے لگائے جائیں گے اور شادی شدہ کو سنگسار کیا جائے گا۔ النسآء
16 15: یہ مردوں کے خلاف فطرت ہم جنسی کے عمل کی طرف اشارہ ہے اس کی کوئی متعین سزا مقرر کرنے کے بجائے صرف یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے مردوں کو اذیت دی جائے جس کے مختلف طریقے فقہائے کرام نے تجویز کئے ہیں مگر ان میں سے کوئی لازمی نہیں، صحیح یہ ہے کہ اس کو حاکم کی صوابدید پر چھوڑدیا گیا ہے۔ النسآء
17 النسآء
18 النسآء
19 16: زمانہ جاہلیت میں یہ ظالمانہ رسم چلی آتی تھی کہ جب کسی عورت کے شوہر کا انتقال ہوجاتا تو اس کے ورثاء اس عورت کو بھی میراث کا حصہ سمجھ کر اس کے اس معنی میں مالک بن بیٹھتے تھے کہ وہ ان کی اجازت کے بغیر نہ دوسری شادی کرسکتی تھی اور نہ زندگی کے دوسرے اہم فیصلے کرنے کا حق رکھتی تھی اس آیت نے اس ظالمناہ رسم کو ختم فرمایا ہے۔ اسی طرح ایک ظالمانہ رواج یہ تھا کہ جب کوئی شوہر اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی چاہتا کہ جو مہر ان کو دے چکا ہے وہ اسے واپس مل جائے تو وہ اپنی بیوی کو طرح طرح سے تنگ کرنا شروع کردیتا تھا، مثلاً وہ اس کو گھر میں اس طرح مقید رکھتا تھا کہ وہ بیچاری مجبور ہو کر شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کے لیے اسے خود یہ پیشکش کرے کہ تم اپنا مہر واپس لے لو، اور مجھے طلاق دے کر میری جان چھوڑ دو۔ آیت کے دوسرے حصے میں اس رواج کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ النسآء
20 17: اوپر یہ بتایا جاچکا ہے کہ عورتوں کو گلوخلاصی کے لئے مہر واپس کرنے پر مجبور کرنا صرف اس صورت میں جائز ہے جب انہوں نے کھلی بے حیائی کا ارتکاب کیا ہو، اب یہ فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم ان سے مہر واپس کرنے کا مطالبہ کروگے تو یہ تمہاری طرف سے ان پر بہتان باندھنے کے مرادف ہوگا کہ انہوں نے کھلی بے حیائی کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ ان کو مہر کی واپسی پر مجبور کرنا اس صورت کے سوا کسی حالت میں جائز نہیں ہے۔ النسآء
21 النسآء
22 18: جاہلیت میں لوگ اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرنے کو کوئی عیب نہیں سمجھتے تھے، اس آیت نے اس بے شرمی کو ممنوع قراردیا، البتہ جن لوگوں نے اسلام سے پہلے ایسا نکاح کیا تھا ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ پچھلا گناہ معاف ہے ؛ کیونکہ اسلام لانے سے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، بشرطیکہ اس آیت کے نزول کے بعد نکاح کا یہ تعلق ختم کرلیا جائے۔ النسآء
23 19: سوتیلی ماں کی حرمت بیان فرما کر اب جن عورتوں سے نکاح جائز نہیں ان سب کو بیان فرماتے ہیں، وہ عورتیں چند قسم ہیں، اوّل ان کو بیان کیا جاتا ہے جو علاقہ نسب کی وجہ سے حرام ہیں اور وہ سات ہیں ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی ان میں سے کسی کے ساتھ کسی کو نکاح کرنا جائز نہیں۔ النسآء
24 20: جوکنیزیں جہاد کے دوران گرفتار کرکے لائی جاتی تھیں اور ان کے شوہر دارالحرب میں رہ جاتے تھے ان کا نکاح ان شوہروں سے ختم ہوجاتا تھا، لہذا جب وہ دارالاسلام میں آنے کے بعد ایک حیض کی مدت پوری کرلیتیں اور ان کو پچھلے شوہر سے حمل نہ ہوتا تو ان کا نکاح دارالاسلام کے کسی مسلمان سے جائز تھا، مگر یہ حکم انہی باندیوں کا ہے جو شرعی طور پر باندی بنائی گئی ہوں، آجکل ایسی کنیزوں یا باندیوں کا کہیں وجود نہیں ہے۔ 21: مقصد یہ ہے کہ نکاح ایک دیرپا تعلق کا نام ہے جس کا مقصد صرف جنسی خواہش پوری کرنا نہیں ہے بلکہ ایک مضبوط خاندانی نظام کا قیام ہے جس میں مرد اور عورت ایک دوسرے کے حقوق اور ذمہ داریوں کے پابند ہوتے ہیں اور اس رشتے کو عفت وعصمت کے تحفظ اور بقائے نسل انسانی کا ذریعہ بناتے ہیں، صرف شہوت نکالنے کے لئے ایک عارضی تعلق پیدا کرلینا خواہ وہ پیسے خرچ کرکے ہی کیوں نہ ہو ہرگز جائز نہیں ہے۔ النسآء
25 22: چونکہ آزاد عورتوں کا مہر عام طور پر زیادہ ہوتا تھا اور باندیوں کا مہر کم، اس لئے ایک طرف تو حکمیہ دیا گیا ہے کہ باندیوں سے نکاح اسی وقت کیا جائے جب آزاد عورتوں سے نکاح کی استطاعت نہ ہو، دوسری طرف یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب کسی باندی سے نکاح کی نوبت آجائے تو پھر محض اس کے باندی ہونے کی وجہ سے اس کو حقیر سمجھنا درست نہیں، کیونکہ فضیلت کا اصل دارومدار تقوی پر ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ کس کی ایمانی حالت زیادہ مضبوط ہے ورنہ اولاد آدم ہونے کے لحاظ سے سب ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ 23: آزاد عورتیں اگر غیر شادی شدہ ہوں تو ان کے لیے زنا کی سزا سو کوڑے ہیں، جس کا ذکر سورۃ نور کی دوسری آیت میں آیا ہے۔ زیر نظر آیت میں باندیوں کے لیے اس کی آدھی سزا یعنی پچاس کوڑے مقرر فرمائی گئی ہے۔ النسآء
26 النسآء
27 النسآء
28 24: انسان فطری طور پر جنسی خواہش کا مقابلہ کرنے میں کمزور واقع ہوا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ خواہش جائز طریقے سے پورا کرنے سے نہیں روکا ؛ بلکہ نکاح کو اس کے لئے آسان بنادیا ہے۔ النسآء
29 25: اس کا سادہ مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح دوسرے کا مال ناحق طریقے سے کھانا حرام ہے کسی کی جان لینا اس سے زیادہ حرام ہے، دوسرے کی جان لینے کو اپنے آپ کو قتل کرنے سے تعبیر کرکے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ دوسرے کو قتل کرنا بالآخر اپنے آپ ہی کو قتل کرنا ہے ؛ کیونکہ اس کے بدلے میں خود قاتل قتل ہوسکتا ہے، اور اگر یہاں قتل نہ بھی ہو تو آخرت میں اس کی جو سزا ملنی ہے وہ موت سے بھی بدتر ہوگی، اس طرح اس تعبیر سے خود کشی کی ممانعت بھی واضح ہوگئی، دوسرے کسی کا مال ناحق کھانے کے ساتھ یہ جملہ لانے سے اس طرف بھی اشارہ ممکن ہے کہ جب ناحق مال کھانے کا رواج معاشرے میں عام ہوجائے تو اس کا نتیجہ اجتماعی خود کشی کی صورت میں نکلتا ہے۔ النسآء
30 النسآء
31 26: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان گناہ کبیرہ سے پرہیز رکھے تو اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو اللہ تعالیٰ خود ہی معاف فرماتے رہتے ہیں، قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نیک عمل مثلاً وضو نماز صدقات وغیرہ سے گناہ صغیرہ معاف ہوتے رہتے ہیں۔ النسآء
32 27: بعض خواتین نے اس تمنا کا اظہار کیا تھا کہ اگر وہ مرد ہوتیں تو وہ بھی جہاد وغیرہ میں حصہ لے کر مزید ثواب حاصل کرتیں، اس آیت کریمہ نے یہ اصول واضح فرمادیا کہ جو باتیں انسان کے اختیار سے باہر ہیں ان میں اللہ نے کسی شخص کو کسی اعتبار سے فوقیت دے رکھی ہے اور کسی کو کسی اور حیثیت سے، مثلاً کوئی مرد ہے کوئی عورت، کوئی زیادہ طاقت ور ہے کوئی کم، کسی کا حسن دوسرے کے مقابلے میں زیادہ ہے یہ چیزیں چونکہ ان کے اختیار میں نہیں ہیں اس لئے ان کی تمنا کرنے سے فضول حسرت ہونے کے سوا کوئی فائدہ نہیں ہے، لہذا ان چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہنا چاہئے، البتہ جو اچھائیاں انسان کے اختیار میں ہیں انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے اور ان چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جو شخص جیسا عمل کرتا ہے ویسا ہی نتیجہ ظاہر ہوتا ہے، اس میں مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ النسآء
33 28: جب کوئی شخص اسلام لائے اور مسلمانوں میں اس کا کوئی رشتہ دار نہ ہو تو وہ جس شخص کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہے، بعض اوقات اس کے ساتھ یہ عہد کرلیتا تھا کہ وہ دونوں آپس میں بھائی بن گئے ہیں، لہذا وہ ایک دوسرے کے وارث بھی ہوں گے، اور اگر ان میں سے کسی پر کوئی تاوان آپڑا تو دوسرا اس کی ادائیگی میں اس کی مدد کرے گا، اس رشتے کو"موالاۃ" کہا جاتا تھا، یہاں اسی معاہدہ کا ذکر ہے، اور امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک اس آیت کی بنا پر یہی ہے کہ یہ رشتہ اب بھی کسی نومسلم سے قائم ہوسکتا ہے اور اگر دوسرے مسلمان رشتہ دار موجود نہ ہوں تو میراث میں بھی ان کا حصہ ہوگا۔ النسآء
34 النسآء
35 النسآء
36 29: قرآن و سنت نے پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید فرمائی ہے پھر پڑوسیوں کے تین درجے اس آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں۔ پہلے درجے کو ” جار ذی القربی“ (قریب والا پڑوسی) اور دوسرے کو ” الجار الجنب“ کہا گیا ہے جس کا ترجمہ اوپر دور والے پڑوسی سے کیا گیا ہے۔ پہلے سے مراد وہ پڑوسی ہے جس کا گھر اپنے گھر سے بالکل ملا ہوا ہو، اور دوسرے سے مراد وہ پڑوسی ہے جس کا گھر اتنا ملا ہوا نہ ہو۔ بعض حضرات نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ پہلے سے مراد وہ پڑوسی ہے جو رشتہ دار بھی ہو، اور دوسرے مراد وہ جو صرف پڑوسی ہو۔ نیز بعض مفسرین نے پہلے کا مطلب مسلمان پڑوسی اور دوسرے کا مطلب غیر مسلم پڑوسی بتایا ہے قرآن کریم کے الفاظ میں ان سب معانی کی گنجائش ہے۔ خلاصہ یہ کہ پڑوسی چاہے رشتہ دار ہویا اجنبی، مسلمان ہو یا غیرمسلم، اس کا گھر بالکل ملا ہوا ہو یا ایک دو گھر چھوڑکر ہو، ان سب کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ 30: یہ پڑوسی کی تیسری قسم ہے جس کو قرآن کریم نے صاحب بالجنب سے تعبیر فرمایا ہے۔ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ: اس سے مراد وہ شخص ہے جو عارضی طور پر تھوڑی دیر کے لئے ساتھی بن گیا ہو، مثلاً سفر کے دوران ساتھ بیٹھا یا کھڑا ہو، یا کسی مجلس یا کسی لائن میں لگے ہوئے اپنے پاس ہو، وہ بھی ایک طرح کا پڑوسی ہے اور اس کے ساتھ بھی اچھے برتاؤ کی تاکید فرمائی گئی ہے، بلکہ اس سے بھی آگے ہر راہ گیر اور مسافر کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے چاہے وہ اپنا ساتھی یا پڑوسی نہ ہو۔ النسآء
37 النسآء
38 النسآء
39 النسآء
40 النسآء
41 31: تمام انبیاء کرام قیامت کے روز اپنی اپنی امتوں کے اچھے برے اعمال پر گواہی دیں گے اور آنحضرتﷺ کو اپنی امت کے لوگوں پر گواہ بناکر پیش کیا جائے گا۔ النسآء
42 النسآء
43 32: یہ اس وقت کی بات ہے جب شراب کی حرمت کا حکم نہیں آیا تھا ؛ لیکن اسی آیت کے ذریعے یہ اشارہ دے دیا گیا کہ وہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے ؛ کیونکہ اس کو پینے کی حالت میں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے، لہذا کسی وقت اس کو بالکل حرام بھی کیا جاسکتا ہے۔ النسآء
44 النسآء
45 النسآء
46 33: اس آیت میں بعض یہودیوں کی دو شرارتوں کا ذکر کیا گیا ہے ایک شرارت یہ ہے کہ وہ تورات کے الفاظ کو اپنے موقع محل سے ہٹاکر اس میں لفظی یا معنوی تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں، یعنی بعض اوقات اس کے الفاظ ہی کو کسی اور لفظ سے بدل دیتے ہیں اور بعض اوقات اس لفظ کو غلط معنی پہنا کر اس کی من مانی تفسیر کرتے ہیں اور دوسری شرارت یہ ہے کہ جب وہ آنحضرتﷺ کے پاس آتے ہیں تو ایسے مبہم اور منافقانہ الفاظ استعمال کرتے ہیں جن کا ظاہری مفہوم برا نہیں ہوتا ؛ لیکن وہ اندرونی طور پر ان الفاظ سے وہ دوسرے معنی مراد لیتے ہیں جو ان الفاظ میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں، قرآن کریم نے اس کی تین مثالیں اس آیت میں ذکر کی ہیں، ایک یہ کہ وہ کہتے ہیں سمعنا وعصینا جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کی بات سن لی اور نافرمانی کی، وہ ان الفاظ کا مطلب یہ ظاہر کرتے تھے کہ ہم نے آپ کی بات سن لی ہے اور آپ کے مخالفین کی نافرمانی کی ؛ لیکن اندر سے ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ہم نے آپ کی بات سن لی اور اسی بات کی نافرمانی کی ہے، دوسرے وہ کہتے تھے اسمع غیر مسمع اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ آپ ہماری بات سنیں خدا کرے آپ کو کوئی بات سنائی نہ جائے ظاہری طور پر وہ یہ دعا دیتے تھے کہ آپ کو کوئی ایسی بات نہ سنائی جائے جو آپ کی طبیعت کی خلاف ہو، لیکن اندر سے ان کا مطلب ہوتا تھا کہ خدا کرے آپ کو ایسی بات نہ سنائی جائے جو آپ کو خوش کرے، تیسرے وہ ایک لفظ راعنا استعمال کرتے تھے جس کے معنی عربی زبان میں تو یہ ہیں کہ ہمارا خیال رکھئے لیکن عبرانی زبان میں یہ ایک گالی کا لفظ تھا جو وہ اندرونی طور پر مراد لیتے تھے۔ النسآء
47 34: سبت سنیچر کے دن کو کہتے ہیں تورات میں بنی اسرائیل کو اس دن روزگار کا کام کرنے سے منع کیا گیا تھا ؛ لیکن ایک بستی کے لوگوں نے اس حکم کی نافرمانی کی جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا اور ان کو مسخ کردیا گیا اس واقعے کی تفصیل کے لئے دیکھئے سورۂ اعراف (٧: ١٦٣) النسآء
48 35: یعنی شرک سے کم کسی گناہ کو اللہ تعالیٰ جب چاہے توبہ کے بغیر بھی محض اپنے فضل سے معاف کرسکتا ہے ؛ لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کرکے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کرکے توحید پر ایمان لے آئے النسآء
49 36: یعنی پاکیزگی اور تقدس اللہ تعالیٰ انہی کو عطا فرماتا ہے جو اپنے اختیاری عمل سے ایسا چاہتے ہیں، جن کو پاکیزگی اور تقدس نہیں ملتا وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اختیاری اعمال کے ذریعے خود نااہل بن جاتے ہیں، لہذا اگر اللہ انہیں تقدس عطا نہیں فرماتا تو اس میں ان پر کوئی ظلم نہیں ہے ؛ کیونکہ انہوں نے خود اپنے اختیار سے اپنے آپ کو نااہل بنادیا ہے۔ النسآء
50 النسآء
51 37: یہ مدینہ منورہ میں آباد بعض یہودیوں کا تذکرہ ہے، آنحضرتﷺ نے ان سب کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہوا تھا کہ وہ اور مسلمان آپس میں امن کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے خلاف کسی بیرونی دشمن کی مدد بھی نہیں کریں گے ؛ لیکن انہوں نے اس معاہدہ کی بار بار خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کے دشمن کفار مکہ کی حمایت اور درپردہ مدد کا سلسلہ جاری رکھا، ان کا ایک بڑا سردار کعب بن اشرف تھا، جنگ احد کے بعد وہ ایک اور یہودی سردار حیی بن اخطب کے ساتھ مکہ مکرمہ کے کافروں کے پاس گیا اور انہیں مسلمانوں کے خلاف تعاون کی پیشکش کی، کفار مکہ کے سردار ابو سفیان نے کہا کہ اگر واقعی اپنی پیشکش میں سچے ہو تو ہمارے دو بتوں کے سامنے سجدہ کرو ؛ چنانچہ کعب بن اشرف نے ابوسفیان کا یہ مطالبہ بھی مان لیا، پھر ابوسفیان نے کعب سے پوچھا کہ ہمارا مذہب اچھا ہے یا مسلمانوں کا، تو اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ تمہارا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے زیادہ بہتر ہے، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ مکہ کے یہ لوگ بت پرست ہیں اور کسی آسمانی کتاب پر ایمان نہیں رکھتے، لہذا ان کے مذہب کو بہتر قرار دینے کا مطلب بت پرستی کی تصدیق کرنا تھا، اس آیت میں اس واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ النسآء
52 النسآء
53 38: یہودیوں کی مسلمانوں سے دشمنی اور عناد کا سبب قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ انہیں یہ توقع تھی کہ جس طرح پچھلے بہت سے انبیائے کرام ( علیہ السلام) بنی اسرائیل سے آئے ہیں، نبی آخرالزماںﷺ بھی انہی کے خاندان سے ہوں گے، لیکن جب آنحضرتﷺ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں مبعوث فرمائے گئے تو یہ لوگ حسد میں مبتلا ہوگئے، حالانکہ نبوت وخلافت وحکومت تو اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے وہ جب جس کو مناسب سمجھتا ہے اپنے اس فضل سے سرفراز فرماتا ہے، اگر کوئی شخص اس پر اعتراض کرے تو گویا وہ یہ دعوی کررہا ہے کہ کائنات کی بادشاہی اس کے پاس ہے اور اسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند سے انبیاء ( علیہ السلام) کو منتخب کرے، اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتے ہیں کہ اگر کہیں بادشاہی واقعی ان کو مل گئی ہوتی تو یہ اتنے بخیل ہیں کہ کسی کو ذرہ برابر بھی کچھ نہ دیتے۔ النسآء
54 39: یعنی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت جس کو مناسب سمجھتا ہے نبوت اور خلافت وحکومت کے اعزاز سے سرفراز فرماتا ہے ؛ چنانچہ اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت وحکمت عطا فرمائی اور ان کی اولاد میں یہ سلسلہ جاری رکھا ؛ چنانچہ ان میں بعض (مثلاً حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام) نبی ہونے کے ساتھ حکمران بھی بنے، اب تک ان کے ایک صاحبزادے (حضرت یعقوب علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت جاری رہی ہے، اب اگر ان کے دوسرے صاحب زادے (حضرت اسماعیل علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اعزاز بخش دیا گیا ہے تو اس میں اعتراض یا حسد کی کیا بات ہے؟ النسآء
55 النسآء
56 النسآء
57 40: اشارہ اس طرف ہے کہ جنت میں روشنی ہوگی مگر دھوپ کی تپش نہیں ہوگی۔ النسآء
58 النسآء
59 41:أُولِی الْأَمْرِ: سے مراد اکثر مفسرین کے مطابق مسلمان حکمران ہیں، جائز امور میں ان کے احکام کی اطاعت بھی مسلمانوں کا فرض ہے، البتہ یہ اطاعت اس شرط کے ساتھ ہے کہ وہ کسی ایسی بات کا حکم نہ دیں جو شرعاً جائز ہو، اس بات کو قرآن کریم نے دو طرح واضح فرمایا ہے، ایک تو اس طرح کے اصحاب اختیار کی اطاعت کا ذکر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد فرمایا ہے، جس میں یہ اشارہ ہوگیا کہ حکمرانوں کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تابع ہے، دوسرے اگلے جملے میں مزید صراحت کے ساتھ بتادیا کہ اگر کسی معاملہ میں یہ اختلاف پیدا ہوجائے کہ آیا حکمرانوں کا دیا ہوا حکم صحیح اور قابل طاعت ہے یا نہیں، تو اسے اللہ اور اس کے رسول کے حوالے کردو، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم کو قرآن اور سنت کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھو، اگر وہ قرآن وسنت کے خلاف ہو تو اس کی اطاعت واجب نہیں ہے اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ ایسا حکم واپس لیں اور اگر وہ حکم قرآن وسنت کے کسی صریح یا اجماعی طور پر مسلم حکم کے خلاف نہیں ہے تو عام مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس پر عمل کریں۔ النسآء
60 42: یہاں سے ان منافقوں کا ذکر ہورہا ہے جو اصل دل سے تو یہودی تھے مگر مسلمانوں کو دکھانے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے، ان کا حال یہ تھا کہ جس معاملے میں ان کی توقع ہوتی کہ آنحضرتﷺ ان کے فائدے کا فیصلہ کریں گے ان کا مقدمہ تو آپ کے پاس لے جاتے ؛ لیکن جس مسئلے میں ان کو خیال ہوتا کہ آنحضرتﷺ کا فیصلہ ان کے خلاف ہوگا وہ مقدمہ آپ کے بجائے کسی یہودی سردار کے پاس لے جاتے، جسے اس آیت میں طاغوت کہا گیا ہے، منافقین کی طرف سے ایسے کئی واقعات پیش آئے تھے جو متعدد روایات میں منقول ہیں، طاغوت کے لفظی معنی ہیں نہایت سرکش ؛ لیکن یہ لفظ شیطان کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور ہر باطل کے لئے بھی، یہاں اس سے مراد وہ حاکم ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے بے نیاز ہو کر یا ان کے خلاف فیصلہ کرے، آیت نے واضح کردیا کہ اگر کوئی شخص زبان سے مسلمان ہونے کا دعوی کرے ؛ لیکن اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر کسی اور قانون کو ترجیح دے تو وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔ النسآء
61 النسآء
62 43: یعنی جب ان کا یہ معاملہ تمام لوگوں پر کھل جاتا ہے کہ یہ آنحضرتﷺ کے فیصلے کے بجائے یا اس کے خلاف کسی اور کو اپنا فیصل بنارہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انہیں ملامت یا کسی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ جھوٹی تاویل کرتے ہیں کہ ہم اس شخص کے پاس عدالتی فیصلہ کرانے نہیں گئے تھے ؛ بلکہ مصالحت کا کوئی راستہ نکالنا چاہتے تھے جس سے جھگڑے کے بجائے میل ملاپ کی کوئی صورت پیدا ہوجائے۔ النسآء
63 النسآء
64 النسآء
65 النسآء
66 44: مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو تو بڑے سخت قسم کے احکام دئے گئے تھے جن میں توبہ کے طور پر ایک دوسرے کو قتل کرنا بھی شامل تھا، جس کا ذکرسورۂ بقرہ (٥٤) میں آیا ہے، اب اگر کوئی ایسا سخت حکم دیا جاتا تو ان میں سے کوئی بھی عمل نہ کرتا، اب اس سے بہت آسان حکم یہ دیا جارہا ہے کہ آنحضرتﷺ کے احکام کو دل وجان سے تسلیم کرلو، لہذا عافیت کا راستہ یہی ہے کہ وہ آپﷺ کے صحیح معنی میں فرماں برادار بن جائیں۔ بعض روایات میں ہے کہ کچھ یہودیوں نے شیخی بھی بگھاری تھی کہ ہم توایسی فرماں برادار قوم ہیں کہ جب ہمارے اٰبا واجداد کو یہ حکم ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں تو انہوں نے اس جیسے سخت حکم پر عمل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا، : ٦٦ ان کی اس بات کی طرف بھی اشارہ کررہی ہے۔ النسآء
67 النسآء
68 النسآء
69 النسآء
70 45: یعنی وہ کسی کو یہ فضیلت معاذ اللہ بے خبری کے ساتھ نہیں دیتا بلکہ ہر شخص کے عملی حالات سے باخبر ہو کر دیتاہے النسآء
71 النسآء
72 النسآء
73 46: مطلب یہ ہے کہ یوں تو وہ زبان سے مسلمانوں سے دوستی کا دم بھرتے ہیں لیکن جنگ میں شرکت سے متعلق ان کے خیالات تمام تر خود غرضی پر مبنی ہوتے ہیں، خود توجنگ میں شریک ہوتے نہیں اور جب مسلمانوں کو جنگ میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ان کو افسوس نہیں ہوتا بلکہ وہ خوش ہوتے ہیں کہ ہم اس تکلیف سے بچ گئے اور اگر مسلمانوں کو فتح ہوتی ہے اور مال غنیمت حاصل ہوتا ہے تو یہ خوش ہونے کے بجائے حسرت کرتے ہیں کہ ہم اس مال غنیمت سے محروم رہ گئے۔ النسآء
74 النسآء
75 النسآء
76 النسآء
77 47: مکہ مکرمہ میں جب مسلمان کفار کے سخت ظلم وستم کا سامنا کررہے تھے اس وقت بہت سے حضرات کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوتا تھا کہ وہ ان کافروں سے انتقام لینے کے لئے جنگ کریں، لیکن اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاد کا حکم نہیں آیا تھا، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کی مصلحت اس میں تھی کہ وہ صبر وضبط کی بھٹی سے گزر کر اعلی اخلاق سے آراستہ ہوں اور پھر جہاد کریں تو وہ محض ذاتی انتقام کے جذبے سے نہ ہو بلکہ اللہ کی رضا کی خاطر ہو لہذا اس وقت جب کچھ مسلمان جہاد کی تمنا کرتے ان سے یہی کہا جا ات تھا کہ ابھی اپنے ہاتھ روک کر رکھو اور جہاد کے بجائے نماز اور زکوۃ وغیرہ کے احکام پر عمل کرتے رہو، بعد میں جب یہ حضرات ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے توجہاد فرض ہوا، اس وقت چونکہ ان کی پرانی تمنا پوری ہوگئی تھی، اس لئے انہیں خوش ہونا چاہئے تھا، لیکن ان میں سے بعض حضرات کے دل میں یہ خیال آیا کہ تقریباً تیرہ سال کی صبر آزما تکلیفوں کے بعد اب ذرا سکون اور عافیت کی زندگی میسر آئی ہے اس لئے جہاد کا حکم کچھ مزید مؤخر ہوجاتا تو اچھا تھا، ان کی یہ خواہش اللہ تعالیٰ کے حکم پر کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ بشریت کا ایک تقاضا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس پر تنبیہ فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ کے برگزیدہ صحابہ کا مقام اس بات سے بلند ہونا چاہئے کہ وہ کسی وقت دنیاوی راحت وآرام کو اتنی اہمیت دیں کہ اس کے خاطر آخرت کے فوائد کو کچھ عرصے کے لئے ہی سہی مؤخر کرنے کی آرزو کرنے لگیں۔ النسآء
78 النسآء
79 48: ان آیتوں میں دو حقیقتیں بیان فرمائی گئی ہیں، ایک یہ کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے، کسی کو کوئی فائدہ پہنچے تو وہ بھی اللہ کے حکم سے پہنچتا ہے، اور نقصان پہنچے تو وہ بھی اسی کے حکم سے ہوتا ہے، دوسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کا حکم اللہ تعالیٰ کب اور کس بنا پر دیتے ہیں، اس کے بارے میں آیت : ٧٩ نے یہ بتایا ہے کہ جہاں تک کسی کو فائدہ پہنچنے کا تعلق ہے اس کا حقیقی سبب صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے، کیونکہ کسی بھی مخلوق کا اللہ تعالیٰ پر کوئی اجارہ نہیں آتا کہ وہ اسے ضرور فائدہ پہنچائے، اور اگر اس فائدہ کا کوئی ظاہری سبب اس شخص کا کوئی عمل نظر آتا بھی ہو تو اس عمل کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی فضل ہے، اور اس شخص کا کوئی ذاتی استحقاق نہیں ہے، دوسری طرف اگر انسان کو کوئی نقصان پہنچے تو اگرچہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ یہ حکم اسی وقت فرماتے ہیں جب اس شخص نے اپنے اختیاری عمل سے کوئی غلطی کی ہو، اب منافقین کا معاملہ یہ تھا کہ جب انہیں کوئی فائدہ پہنچتا تو اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ؛ لیکن کوئی نقصان ہوجاتا تو اسے آنحضرتﷺ کے ذمے لگادیتے تھے، اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جو نقصان کی ذمہ داری آنحضرتﷺ پر عائد کررہے ہیں اگر اس سے مراد یہ ہے کہ یہ نقصان آنحضرت کے حکم سے ہوا ہے، تو یہ بات بالکل غلط ہے ؛ کیونکہ اس کائنات میں تمام کام اللہ ہی کے حکم سے ہوتے ہیں کسی اور حکم سے نہیں اور اگر ان کا مطلب یہ ہے کہ (معاذاللہ) آنحضرتﷺ کی کوئی غلطی اس کا سبب بنی ہے تو یہ بات بھی غلط ہے، ہر انسان کو خود اس کے اپنے کسی عمل کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے، آنحضرتﷺ کو تو رسول بناکر بھیجا گیا ہے لہذا نہ تو کائنات میں واقع ہونے والے کسی تکوینی واقعے کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے اور نہ آپ فرائض رسالت میں کسی کوتاہی کی مرتکب ہوسکتے ہیں، جس کا خمیازہ آپ کی امت کو بھگتنا پڑے۔ النسآء
80 النسآء
81 النسآء
82 النسآء
83 النسآء
84 النسآء
85 النسآء
86 النسآء
87 النسآء
88 النسآء
89 النسآء
90 النسآء
91 النسآء
92 النسآء
93 النسآء
94 النسآء
95 النسآء
96 النسآء
97 النسآء
98 النسآء
99 النسآء
100 النسآء
101 النسآء
102 النسآء
103 النسآء
104 النسآء
105 النسآء
106 النسآء
107 النسآء
108 النسآء
109 النسآء
110 النسآء
111 النسآء
112 النسآء
113 النسآء
114 النسآء
115 النسآء
116 النسآء
117 النسآء
118 النسآء
119 النسآء
120 النسآء
121 النسآء
122 النسآء
123 النسآء
124 النسآء
125 النسآء
126 النسآء
127 النسآء
128 النسآء
129 النسآء
130 النسآء
131 النسآء
132 النسآء
133 النسآء
134 النسآء
135 النسآء
136 النسآء
137 النسآء
138 النسآء
139 النسآء
140 النسآء
141 النسآء
142 النسآء
143 النسآء
144 النسآء
145 النسآء
146 النسآء
147 النسآء
148 النسآء
149 النسآء
150 النسآء
151 النسآء
152 النسآء
153 النسآء
154 النسآء
155 النسآء
156 النسآء
157 النسآء
158 النسآء
159 النسآء
160 النسآء
161 النسآء
162 النسآء
163 النسآء
164 النسآء
165 النسآء
166 النسآء
167 النسآء
168 النسآء
169 النسآء
170 النسآء
171 النسآء
172 النسآء
173 النسآء
174 النسآء
175 النسآء
176 النسآء
0 المآئدہ
1 1: چوپایہ توہر اس جانور کو کہتے ہیں جو چار ہاتھ پاؤں پر چلتا ہے، لیکن ان میں سے صرف وہ جانور حلال ہیں جو مویشیوں میں شمار ہوتے ہیں، یعنی گائے اونٹ، اور بھیڑ بکری یا پھر ان مویشیوں کے مشابہ ہوں جیسے ہرن نیل گائے وغیرہ۔ 2: ان حرام چیزوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر آگے آیت نمبر 3 میں آرہا ہے 3: مویشیوں کے مشابہ جانور مثلاً ہرن وغیرہ اگرچہ حلال ہیں اور ان کا شکار بھی حلال ہے لیکن جب حج یا عمرے کے لئے کسی نے احرام باندھ لیا ہو تو ان جانوروں کا شکار حرام ہوجاتا ہے۔ 4: اس جملے نے ان تمام سوالات اور اعتراضات کی جڑ کاٹ دی ہے جو لوگ محض اپنی محدود عقل کے سہارے شرعی احکام پر عائد کرتے ہیں، مثلاً یہ سوال کہ جانور بھی تو آخر جان رکھتے ہیں، ان کو ذبح کرکے کھانا کیوں جائز کیا گیا جبکہ یہ ایک جاندار کو تکلیف پہنچانا ہے یا مثلاً یہ سوال کہ فلاں جانور کو کیوں حلال کیا گیا اور فلاں جانور کو کیوں حرام قرار دیا گیا ہے؟ آیت کے اس حصے نے اس کا مختصر اور جامع جواب یہ دے دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا خالق ہے وہی اپنی حکمت سے جس بات کا ارادہ فرماتا ہے اس کا حکم دے دیتا ہے، اس کا ہر حکم یقیناً حکمت پر مبنی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کے ہر حکم کی حکمت بندوں کو سمجھ میں بھی آئے، لہذا بندوں کا کام یہ ہے کہ اس کے ہر حکم کو چون وچرا کے بغیر تسلیم کرکے اس پر عمل کریں۔ المآئدہ
2 5: صلح حدیبیہ کے واقعے میں مکہ مکرمہ کے کافروں نے آنحضرتﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو حرم میں داخل ہونے اور عمرہ کرنے سے روکا تھا، مسلمانوں کو طبعی طور پر اس واقعے پر سخت غم وغصہ تھا اور یہ احتمال تھا کہ اس غم وغصہ کی وجہ سے کوئی مسلمان اپنے دشمن سے کوئی ایسی زیادتی کر بیٹھے جو شریعت کے خلاف ہو، اس آیت نے متنبہ کردیا کہ اسلام میں ہر چیز کی حدود مقرر ہیں اور دشمن کے ساتھ بھی کوئی زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔ المآئدہ
3 6: جاہلیت کے زمانے میں ایک طریقہ یہ تھا کہ ایک مشترک اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کرتے تھے اور قرعہ اندازی کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ مختلف تیروں پر حصوں کے نام لکھ کر ایک تھیلے میں ڈال دیتے تھے، پھر جس شخص کے نام جو حصہ نکل آیا، اسے گوشت میں سے اتنا حصہ دے دیا جاتا تھا، اور کسی کے نام پر کوئی ایسا تیر نکل آیا جس پر کوئی حصہ مقرر نہیں ہے تو اس کو کچھ بھی نہیں ملتا تھا۔ اسی طرح ایک اور طریقہ یہ تھا کہ جب کسی اہم معاملے کا فیصلہ کرنا ہوتا تو تیروں کے ذریعے فال نکالتے تھے۔ اور اس فال میں جو بات نکل آئے اس کی پیروی لازم سمجھتے تھے۔ ان تمام طریقوں کو آیت کریمہ نے ناجائز قرار دیا ہے، کیونکہ پہلی صورت میں یہ جوا ہے، اور دوسری صورت میں یا علم غیب کا دعویٰ ہے، یا کسی معقول وجہ کے بغیر کسی بات کو لازم سمجھنے کی خرابی ہے۔ بعض حضرات نے آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ : اور یہ بات بھی (تمہارے لیے حرام ہے) کہ تم تیروں سے قسمت کا حال معلوم کرو۔ یہ دوسرے طریقے کی طرف اشارہ ہے اور آیت کے الفاظ میں اس ترجمے کی بھی گنجائش ہے۔ 7: صحیح احادیث میں آیا ہے کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔ المآئدہ
4 8: شکاری جانوروں مثلاً شکاری کتوں اور باز وغیرہ کے ذریعے حلال جانوروں کا شکار کرکے انہیں کھانا جن شرائط کے ساتھ جائز ہے ان کا بیان ہورہا ہے، پہلی شرط یہ ہے کہ شکاری جانور کو سدھالیا گیا ہو جس کی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ جس جانور کا شکار کرے خود نہ کھائے بلکہ اپنے مالک کے لئے روک رکھے، دوسری شرط یہ ہے کہ شکار کرنے والا شکاری کتے کو کسی جانور پر چھوڑتے وقت اللہ کا نام لے یعنی بسم اللہ پڑھے۔ المآئدہ
5 9: کھانے سے یہاں مراد ذبیحہ ہے، اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی چونکہ جانور کے ذبح میں انہی شرائط کی رعایت رکھتے تھے جو اسلامی شریعت میں مقرر ہیں اور وہ دوسرے غیر مسلموں سے اس معاملے میں ممتاز تھے کہ فی الجملہ آسمانی کتابوں کو مانتے تھے، اس لئے ان کے ذبح کئے ہوئے جانور مسلمانوں کے لئے جائز قرار دئے گئے تھے، بشرطیکہ وہ جانور صحیح شرعی طریقے سے ذبح کریں، اور اس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام نہ لیں، آج کل کے یہودیوں اور عیسائیوں میں ایک بڑی تعداد تو ان لوگوں کی ہے جو درحقیقت دہریے ہیں، خدا ہی کے قائل نہیں ہیں، ایسے لوگوں کا ذبیحہ بالکل جائز نہیں ہے اور ان میں سے بعض اگرچہ عیسائی یا یہودی ہیں مگر اپنے مذہب کے احکام چھوڑے ہوئے ہیں اور ذبح کرنے میں شرعی شرائط کا لحاظ نہیں کرتے، اس لئے ان کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہے۔ اس مسئلے کی پوری تحقیق میرے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (رح) کی تفسیر معارف القراان اور جواہر الفقہ میں موجود ہے۔ نیز میرا بھی عربی رسالہ احکام الذبائح اسی موضوع پر ہے۔ اس کا انگریزی میں ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے۔ 10: اہل کتاب کی دوسری خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کی عورتوں سے نکاح بھی حلال ہے ؛ لیکن یہاں بھی دو اہم نکتے یاد رکھنے ضروری ہیں، ایک یہ کہ یہ حکم ان یہودی یا عیسائی خواتین کا ہے جو واقعی یہودی یا عیسائی ہوں، جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا مغربی ممالک میں بہت سے لوگ ایسے ہیں مردم شماری کے حساب سے تو انہیں عیسائی یا یہودی گنا گیا ہے ؛ لیکن نہ وہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں نہ کسی پیغمبر یا کسی آسمانی کتاب پر، ایسے لوگ اہل کتاب میں شامل نہیں ہیں، نہ انکا ذبیحہ حلال ہے، اور نہ ایسی عورتوں سے نکاح حلال ہے، دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی عورت واقعی یہودی یا عیسائی ہو ؛ لیکن اس بات کا قوی خطرہ ہو کہ وہ اپنے شوہر یا بچوں پر اثر ڈال کر انہیں اسلام سے دور کردے گی توایسی عورت سے نکاح کرنا گناہ ہوگا، یہ اور بات ہے کہ اگر کسی نے نکاح کرلیا تو نکاح منعقد ہوجائے گا اور اولاد حرام نہیں کہا جائے گا، آج کل چونکہ مسلمان عوام میں اپنے دین کی ضروری معلومات اور ان پر عمل کی بڑی کمی ہے اس لئے اس معاملہ میں بہت احتیاط لازم ہے۔ المآئدہ
6 11: ” قضائے حاجت کی جگہ سے آنا“ در حقیقت اس چھوٹی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس میں انسان پر نماز وغیرہ پڑھنے کے لیے صرف وضو واجب ہوتا ہے اور عورتوں سے ملاپ، اس بڑی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس کو جنابت کہتا ہے اور جس میں غسل واجب ہوتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جب پانی میسر نہ ہو یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے اس کا استعمال ممکن نہ ہو تو ناپاکی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی دونوں صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے اور دونوں صورتوں میں اسکا طریقہ ایک ہی ہے۔ المآئدہ
7 المآئدہ
8 المآئدہ
9 المآئدہ
10 المآئدہ
11 12: یہ ان مختلف واقعات کی طرف اشارہ ہے جن میں کفار نے مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے منصوبے بنائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سب کو خاک میں ملادیا، ایسے واقعات بہت سے ہیں، ان میں سے کچھ واقعات مفسرین نے اس آیت کے تحت بھی ذکر کئے ہیں، مثلاً صحیح مسلم میں روایت ہے کہ مشرکین سے ایک جنگ کے دوران عسفان کے مقام پر آنحصرتﷺ نے ظہر کی نماز تمام صحابہ کو جماعت سے پڑھائی، مشرکین کو پتہ چلا تو ان کو حسرت ہوئی کہ جماعت کے دوران مسلمانوں پر حملہ کرکے انہیں ختم کردینے کا یہ بہترین موقع تھا، پھر انہوں نے منصوبہ بنایا کہ جب یہ حضرات عصر کی نماز پڑھیں گے تو ان پر ایک دم حملہ کردیں گے ؛ لیکن عصر کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے صلاۃ الخوف پڑھی جس میں مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہو کر نماز پڑھتے ہیں اور ایک حصہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہتا ہے (اس نماز کا طریقہ پیچھے سورۃ نساء : ١٠٢ میں گزرچکا ہے) چنانچہ مشرکین کا منصوبہ دھرا رہ گیا (روح المعانی) مزیدواقعات کے لئے دیکھئے معارف القرآن۔ المآئدہ
12 13: بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ چنانچہ جب ان سے یہ عہد لیا گیا تو ہر قبیلے کے سردار کو اپنے قبیلے کا نگراں بنایا گیا تاکہ وہ عہد کی پابندی کی نگرانی کریں۔ 14: اچھے قرض یا قرض حسن کا مطلب تو وہ قرض ہے جو کوئی شخص کسی کو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے دے، لیکن اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دینے کا مطلب یہ ہے کہ کسی غریب کی مدد کی جائے یا کسی اور نیک کام میں پیسے خرچ کئے جائیں۔ المآئدہ
13 15: یعنی اس قسم کی شرارتیں تو ان کی پرانی عادت ہے ؛ لیکن آپ کو فی الحال سارے بنی اسرائیل کو کوئی اجتماعی سزا دینے کا حکم نہیں ہے جب وقت آئے گا اللہ تعالیٰ خود سزا دے گا۔ المآئدہ
14 16: عیسائی مذہب کے ماننے والے مختلف فرقوں میں بٹ گئے تھے اور ان کے مذہبی اختلافات نے دشمنی اور خانہ جنگی کی شکل اختیار کرلی تھی یہ اس خانہ جنگی کی طرف اشارہ ہے۔ المآئدہ
15 17: مطلب یہ ہے کہ یہود ونصاری نے یوں تو اپنی آسمانی کتابوں کی بہت سی باتوں کو چھپا رکھا تھا ؛ لیکن آنحضرتﷺ نے صرف ان باتوں کو ظاہر فرمایا جن کی وضاحت دینی اعتبار سے ضروری تھی، بہت سی باتیں ایسی بھی تھیں جو انہوں نے چھپائی ہوئی تھیں مگر ان کے پوشیدہ رہنے سے کوئی عملی یا اعتقادی نقصان نہیں تھا اور اگر ان کو ظاہر کیا جاتا تو یہود ونصاری کی رسوائی کے سوا کوئی خاص فائدہ نہیں تھا، آنحضرتﷺ نے ایسی باتوں سے درگزر فرمایا ہے اور ان کی حقیقت واضح کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ المآئدہ
16 المآئدہ
17 المآئدہ
18 18: یہ بات یہود ونصاری بھی مانتے تھے کہ وہ محتلف مواقع پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ اس بات کے بھی قائل تھے کہ آخرت میں بھی کچھ عرصے کے لئے وہ دوزخ میں جائیں گے، لہذا بتانا یہ منظور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسان ایک جیسے پیدا فرمائے ہیں، ان میں کسی خاص نسل کے بارے میں یہ دعوی کرنا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی لاڈلی قوم ہے اور اس کے قوانین سے لازمی طور پر مستثنی ہے بالکل غلط دعوی ہے، اللہ تعالیٰ کے قوانین سب کے لئے برابر ہیں، اس نے کوئی خاص نسل اپنی رحمت کے لئے مخصوص نہیں کی ہے، البتہ وہ اپنی حکمت کے تحت جس کو چاہتا ہے بخش بھی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنے قانون عدل کے تحت سزا بھی دیتا ہے۔ المآئدہ
19 المآئدہ
20 المآئدہ
21 19: مقدس سرزمین سے مراد شام اور فلسطین کا علاقہ ہے ؛ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس علاقے کو انبیاء کرام مبعوث کرنے کے لئے منتخب فرمایا تھا، اس لئے اس کو مقدس فرمایا گیا ہے، جس واقعے کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے وہ مختصراً یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصل وطن شام اور بالخصوص فلسطین کا علاقہ تھا، فرعون نے مصر میں ان کو غلام بنارکھا تھا، جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرعون اور اس کا لشکر غرق ہوگیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ اب وہ فلسطین میں جاکر آباد ہوں، اس وقت فلسطین پر ایک کافر قوم کا قبضہ تھا جو عمالقہ کہلاتے تھے، لہذا اس حکم کا لازمی تقاضہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل فلسطین جاکر عمالقہ سے جہاد کریں مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ بھی کرلیا گیا تھا کہ جہاد کے نتیجے میں تمہیں فتح ہوگی، کیونکہ سرزمین تمہارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس حکم کی تعمیل میں فلسطین کی طرف روانہ ہوئے، جب فلسطین کے قریب پہنچے توبنی اسرائیل کو پتہ چلا کہ عمالقہ تو بڑے طاقتور لوگ ہیں، دراصل یہ لوگ قوم عاد کی نسل سے تھے اور بڑے زبردست ڈیل ڈول کے مالک تھے، بنی اسرائیل ان کی ڈیل ڈول سے ڈر گئے اور یہ نہ سوچا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت بڑی ہے اور اس نے فتح کا وعدہ کررکھا ہے۔ المآئدہ
22 المآئدہ
23 20: یہ دو صاحبان حضرت یوشع اور حضرت کالب علیہما السلام تھے جو ہر مرحلے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے وفادار رہے تھے اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا، انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ پر بھروسہ کرکے آگے بڑھو تو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق تم ہی غالب رہوگے۔ المآئدہ
24 المآئدہ
25 المآئدہ
26 21: بنی اسرائیل کی اس نافرمانی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ چالیس سال تک فلسطین میں ان کا داخلہ بند کردیا گیا، یہ لوگ صحرائے سینا کے ایک مختصر علاقے میں بھٹکتے رہے، نہ آگے بڑھنے کا راستہ ملتا تھا نہ پیچھے مصر واپس جانے کا، حضرت موسی، حضرت ہارون، حضرت یوشع اور حضرت کالب علیہم السلام بھی ان لوگوں کے ساتھ تھے اور انہی کی برکت اور دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتیں ان پر نازل ہوئیں، جن کا ذکر پیچھے سورۂ بقرہ (آیات ٥٧ تا ٦٠) میں گزرچکا ہے، بادل کے سائے نے انہیں دھوپ سے بچایا، کھانے کے لئے من وسلوی نازل ہوا، پینے کے لئے پتھر سے بارہ چشمے پھوٹے، بنی اسرائیل کے لئے خانہ بدوشی کی یہ زندگی ایک سزا تھی ؛ لیکن ان بزرگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو قلبی راحت کا سامان بنادیا، حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کی یکے بعد دیگرے اسی صحرا میں وفات ہوئی، بعد میں حضرت یوشع (علیہ السلام) پیغمبر بنے اور شام کا کچھ علاقہ ان کی سر کردگی میں اور کچھ حضرت سموئیل (علیہ السلام) کے زمانے میں طالوت کی سر کردگی میں فتح ہوا جس کا واقعہ سورۃ بقرہ (آیات ١٤٢ تا ١٥٢) میں گزرچکا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ سرزمین بنی اسرائیل کے حق میں لکھنے کا جو وعدہ فرمایا تھا وہ پورا ہوا۔ المآئدہ
27 22: پیچھے بنی اسرائیل کی اس نافرمانی کا ذکر تھا کہ جہاد کا حکم آجانے کے باوجود اس سے جان چراتے رہے، اب بتانا یہ مقصود ہے کہ ایک بامقصد جہاد میں کسی کی جان لینا تو نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے ؛ لیکن ناحق کسی کو قتل کرنا بڑا زبردست گناہ ہے، بنی اسرائیل نے جہاد سے تو جان چرائی ؛ لیکن بہت سے بے گنا ہوں کو قتل کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کیا، اس سلسلے میں وہ واقعہ بیان کیا جارہا ہے جو اس دنیا میں سب سے پہلے قتل کی واردات پر مشتمل ہے، اس واقعے میں قرآن کریم نے تو صرف اتنا بتایا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دوبیٹوں نے کچھ قربانی پیش کی تھی ایک کی قربانی قبول ہوئی دوسرے کی نہ ہوئی اس پر دوسرے کو غصہ آگیا اور اس نے اپنے بھائی کو قتل کرڈالا ؛ لیکن اس قربانی کا کیا پس منظر تھا قرآن کریم نے اس کی تفصیل نہیں بتائی، البتہ مفسرین نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور کچھ دوسرے صحابہ کرام کے حوالے سے ایک واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹے تھے جن میں سے ایک کا نام قابیل تھا اور ایک کا ہابیل، اس وقت چونکہ دنیا کی آبادی صرف حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد پر مشتمل تھی اس لئے ان کی اہلیہ کے ہر حمل میں دو جڑواں بچے پیدا ہوتے تھے ایک لڑکا اور ایک لڑکی، ان دونوں کے درمیان تو نکاح حرام تھا ؛ لیکن ایک حمل میں پیدا ہونے والے لڑکے کا نکاح دوسرے حمل سے پیدا ہونے والی لڑکی سے ہوسکتا تھا، قابیل کے ساتھ جو لڑکی پیدا ہوئی وہ بڑی خوبصورت تھی ؛ لیکن جڑواں بہن ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ قابیل کا نکاح جائز نہ تھا، اس کے باوجود اس کا اصرار تھا کہ اسی سے نکاح کرے، ہابیل کے لئے وہ لڑکی حرام نہ تھی اس لئے وہ اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا تھا، جب دنوں کا یہ اختلاف بڑھا تو فیصلہ اس طرح قرار پایا کہ دونوں کچھ قربانی اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کریں جس کی قربانی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی اس کا دعوی برحق سمجھاجائے گا ؛ چنانچہ دونوں نے قربانی پیش کی، روایات میں ہے کہ ہابیل نے ایک دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار پیش کی، اس وقت قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے ایک آگ آکر قربانی کو کھاجاتی تھی، ہابیل کی قربانی کو آگ نے کھالیا اور اس طرح اس کی قربانی واضح طور پر قبول ہوگئی اور قابیل کی قربانی وہیں پڑی رہے گئی، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ قبول نہیں ہوئی، اس پر بجائے اس کے کہ قابیل حق کو قبول کرلیتا حسد میں مبتلا ہو کر اپنے بھائی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہوگیا۔ المآئدہ
28 المآئدہ
29 23: اگرچہ اپنے دفاع کا اگر کوئی اور راستہ نہ ہو تو حملہ آور کو قتل کرنا جائز ہے، لیکن ہابیل نے احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اپنا یہ حق استعمال کرنے سے گریز کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے بچاؤ کا اور ہر طریقہ اختیار کروں گا، مگر تمہیں قتل کرنے کا اقدام نہیں کروں گا، ساتھ ہی اسے یہ جتلادیا کہ اگر تم نے قتل کا ارتکاب کیا تو مظلوم ہونے کی بنا پر میرے گناہوں کی تو معافی کی امید ہے مگر تم پر نہ صرف اپنے گناہوں کا بوجھ ہوگا بلکہ میرے قتل کرنے کی وجہ سے کچھ میرے گناہ بھی تم پر لد جائیں تو بعید نہیں کیونکہ آخرت میں مظلوم کا حق ظالم سے دلوانے کا ایک طریقہ احادیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دے دی جائیں اور نیکیاں کافی نہ ہوں تو مظلوم کے گناہ ظالم ڈال دئے جائیں۔ المآئدہ
30 المآئدہ
31 24: یہ چونکہ کسی کے مرنے کا پہلا واقعہ تھا جو قابیل نے دیکھا اس لئے اسے مردوں کو دفن کرنے کا طریقہ معلوم نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھود کر کسی مردہ کو دفن کررہا تھا، اسے دیکھ کر قابیل کو نہ صرف دفن کرنے کا طریقہ معلوم ہوا ؛ بلکہ پشیمانی بھی ہوئی۔ المآئدہ
32 25: مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کے خلاف قتل کا یہ جرم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے کیونکہ کوئی شخص قتل ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا حساس مٹ جائے، ایسی صورت میں اگر اس کے مفاد یا سرشت کا تقاضا ہوگا تو وہ کسی اور کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرے گا، اور اس طرح پوری انسانیت اس کی مجرمانہ ذہنیت کی زد میں رہے گی، نیز جب اس ذہنیت کا چلن عام ہوجائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہوجاتے ہیں ؛ لہذا قتل ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے المآئدہ
33 26: پیچھے جہاں انسانی جان کی حرمت کا ذکر تھا وہاں یہ اشارہ بھی کردیا گیا تھا کہ جو لوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں ان کی جان کو یہ حرمت حاصل نہیں ہے، اب ان کی مفصل سزا بیان کی جارہی ہے، مفسرین اور فقہاء کا اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ اس آیت میں ان لوگوں سے مراد وہ ڈاکو ہیں جو اسلحے کے زور پر لوگوں کو لوٹتے ہیں، ان کے بارے میں یہ جو کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان قوانین کی بے حرمتی کرتے ہیں اور ان کالوگوں سے لڑنا گویا اللہ اور اس کے رسول سے لڑنا ہے، ان لوگوں کے لئے اس آیت میں چار سزائیں بیان کی گئی ہیں، ان سزاؤں کی تشریح امام ابوحنیفہ (رح) نے یہ فرمائی ہے کہ اگر ان لوگوں نے کسی کو قتل کیا ہو مگر مال لوٹنے کی نوبت نہ آئی ہو تو انہیں قتل کیا جائے گا، مگر یہ قتل کرنا حد شرعی کے طور پر ہوگا قصاص کے طور پر نہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر مقتول کو وارث معاف بھی کرنا چاہیں تو ان کی معافی نہیں ہوگی، اور اگر ڈاکوؤں نے کسی کو قتل بھی کیا ہو اور مال بھی لوٹا ہو تو انہیں سولی پر لٹکا کر ہلاک کیا جائے گا، اور اگر مال لوٹا ہو اور کسی کو قتل نہ کیا ہو تو ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹا جائے گا، اور اگر انہوں نے لوگوں کو صرف ڈرایا دھمکایا ہو، نہ مال لوٹنے کی نوبت آئی ہو، نہ کسی کو قتل کرنے کی، تو امام ابوحنیفہ (رح) نے أَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ، کی تشریح یہ کی ہے کہ انہیں قید خانے میں بند کردیا جائے گا، یہ تشریح : حضرت عمر (رض) کی طرف بھی منسوب ہے، دوسرے فقہاء نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ انہیں جلا وطن کردیا جائے گا۔ یہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم نے ان جرائم کی سزائیں اصولی طور پر بیان فرمائی ہیں نبی کریمﷺ نے احادیث میں تفصیل بیان فرمائی ہے کہ ان سخت سزاؤں پر عمل درآمد کے لئے کیا شرائط ہیں، فقہ کی کتابوں میں یہ ساری تفصیل آئی ہے، یہ شرائط اتنی کڑی ہیں کہ کسی مقدمے میں ان کا پورا ہونا آسان نہیں ؛ کیونکہ مقصد ہی یہ ہے کہ یہ سزائیں کم سے کم جاری ہوں، مگر جب جاری ہوں تو دوسرے مجرموں کے لئے سامان عبرت بن جائیں۔ 27: یہ قرآنی الفاظ کا لفظی ترجمہ ہے۔ امام ابو حنیفہ (رح) نے ” زمین سے دور کرنے“ کی تشریح یہ کی ہے کہ انہیں قید خانے میں بند کردیا جائے گا۔ یہ تشریح حضرت عمر (رض) کی طرف بھی منسوب ہے۔ دوسرے فقہاء نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ انہیں جلا وطن کردیا جائے گا۔ المآئدہ
34 28: مطلب یہ ہے کہ اگر وہ گرفتار ہونے سے پہلے ہی توبہ کرلیں اور اپنے آپ کو حکام کے حوالے کردیں تو ان کی مذکورہ سزائیں معاف ہوجائیں گی، البتہ چونکہ بندوں کے حقوق صرف توبہ سے معاف نہیں ہوتے اس لئے اگر انہوں نے مال لوٹا ہے تو وہ مالک کو لوٹانا ہوگا، اور اگر کسی کو قتل کیا ہے تو اس کے وارثوں کو حق ملے گا کہ وہ ان کو قصاص کے طور پر قتل کرنے کا مطالبہ کریں، ہاں اگر وہ بھی معاف کردیں یا قصاص کے بدلے خون بہا لینے پر راضی ہوجائیں تو ان کی جان بخشی ہوسکتی ہے۔ المآئدہ
35 29: وسیلہ سے یہاں مراد ہر وہ نیک عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا ذریعہ بن سکے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے نیک اعمال کو وسیلہ بناؤ۔ 30: جہاد کے لفظی معنی کوشش اور محنت کرنے کے ہیں، قرآنی اصطلاح میں اس کے معنی عام طور سے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے دشمنوں سے لڑنے کے آتے ہیں ؛ لیکن بعض مرتبہ دین پر عمل کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش کو بھی جہاد کہا جاتا ہے، یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔ المآئدہ
36 المآئدہ
37 المآئدہ
38 المآئدہ
39 31: ڈاکے کی سزا میں بھی اوپر توبہ کا ذکر آیا تھا، مگر وہاں توبہ کا اثر یہ تھا کہ گرفتاری سے پہلے توبہ کرلینے سے حد کی سزا معاف ہوجاتی تھی، یہاں اس قسم کے الفاظ نہیں ہیں، لہذا امام ابوحنیفہ (رح) کی تشریح کے مطابق چور کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی، چاہے وہ گرفتاری سے پہلے توبہ کرلے، یہاں صرف یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اس توبہ کا اثر آخرت میں جاری ہوگا کہ اس کا گناہ معاف کردیا جائے گا، اس کے لئے بھی آیت میں دو شرطیں بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ وہ دل سے شرمندہ ہو کر توبہ کرے اور دوسرے یہ کہ اپنے معاملات درست کرلے، اس میں یہ بات بھی داخل ہے کہ جن جن کا سامان چرایا تھا ان کو وہ سامان واپس کرے الا یہ کہ وہ معاف کردیں۔ المآئدہ
40 المآئدہ
41 32: یہاں سے آیت نمبر : ٥٠ تک کی آیتیں کچھ خاص واقعات کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، جن میں کچھ یہودیوں نے اپنے کچھ جھگڑے اس امید پر آنحضرتﷺ کے پاس لانے کا ارادہ کیا تھا کہ آپ ان کا فیصلہ ان کی خواہش کے مطابق کریں گے، ان میں سے ایک واقعہ تو یہ تھا کہ خیبر کے دو شادی شدہ یہودی مرد و عورت نے زنا کرلیا تھا، جس کی سزا خود تورات میں یہ مقرر تھی کہ ایسے مرد و عورت کو سنگسار کرکے ہلاک کیا جائے، یہ سزا موجودہ تورات میں بھی موجود ہے (دیکھئے استثناء : ٢٢، ٢٣، ٢٤) لیکن یہودیوں نے اس کو چھوڑکر کوڑوں اور منہ کالا کرنے کی سزا مقرر کررکھی تھی، شاید وہ یہ چاہتے تھے کہ اس سزا میں بھی کمی ہوجائے اس لئے انہوں نہ یہ سوچا کہ آنحضرتﷺ کی شریعت میں بہت سے احکام تورات کے احکام کے مقابلے میں نرم ہیں، اس لئے اگر آپ سے فیصلہ کرایاجائے تو شاید آپ کوئی نرم فیصلہ کریں اور یہ مرد و عورت سنگساری کی سزا سے بچ جائیں، اس غرض کے لئے خیبر کے یہودیوں نے مدینہ منورہ میں رہنے والے کچھ یہودیوں کو جن میں سے کچھ منافق بھی تھے، ان مجرموں کے ساتھ آنحضرتﷺ کی خدمت میں بھیجا، مگر ساتھ ہی انہیں یہ تاکید کی کہ اگر آپ سنگساری کے سوا کوئی اور فیصلہ کریں تو اسے قبول کرلینا اور اگر سنگساری کا فیصلہ کریں تو قبول مت کرنا، چنانچہ یہ لوگ آپ کے پاس آئے، آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتادیا گیا تھا کہ اس کی سزا سنگساری ہے، جسے سن کر وہ بوکھلاگئے، آپ نے انہی سے پوچھا کہ تورات میں اس کی سزا کیا ہے، شروع میں انہوں نے چھپانے کی کوشش کی مگر آخر میں جب آپ نے ان کے ایک بڑے عالم ابن صوریا کو قسم دی اور حضرت عبداللہ بن سلام (رض) جو پہلے خود یہودی عالم تھے ان کا پول کھول دیا تو وہ مجبور ہوگیا اور اس نے تورات کی وہ آیت پڑھ دی جس میں زنا کی سزا سنگساری بیان کی گئی تھی، اور یہ بھی بتایا کہ تورات کا حکم تو یہی تھا مگر ہم میں سے غریب لوگ یہ جرم کرتے تو یہ سزا ان پر جاری کی جاتی تھی اور کوئی مال دار یا باعزت گھرانے کا آدمی یہ جرم کرتا تو اسے کوڑوں وغیرہ کی سزا دے دیا کرتے تھے، پھر رفتہ رفتہ سبھی کے لئے سنگساری کی سزا کو چھوڑدیا گیا، اس قسم کا ایک دوسرا واقعہ بھی پیش آیا تھا جس کی تفصیل نیچے آیت نمبر ٤٥ کی تشریح : میں آرہی ہے۔ 33: یعنی یہودیوں کے پیشوا جو جھوٹی بات تورات کی طرف منسوب کر کے بیان کردیتے ہیں، اور وہ ان کی خواہشات کے مطابق ہوتی ہے تو یہ اسے بڑے شوق سے سنتے اور اس پر یقین کرلیتے ہیں، چاہے وہ تورات کے صاف اور صریح احکام کے خلاف ہو اور یہ لوگ جانتے ہوں کہ ان کے پیشواؤں ن نے رشوت لے کر یہ بات بیان کی ہے۔ 34: اس سے ان یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو خود تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہیں آئے، لیکن ان یہودیوں اور منافقوں کو آپ کے اس بھیج دیا۔ جو لوگ آئے تھے وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات اس لیے سننے آئے تھے کہ آپ کا موقف سننے کے بعد ان لوگوں کو مطلع کریں جنہوں نے ان کو بھیجا تھا۔ 35: چونکہ یہ دنیا آزمائش ہی کے لئے بنائی گئی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو زبردستی راہ راست پر لاکر اس کے دل کو پاک نہیں کرتا جو ضد پر اڑ ہوا ہو، یہ پاکیزگی انہی کو عطا ہوتی ہے جو حق کی طلب رکھتے ہوں اور خلوص کے ساتھ اسے قبول کریں۔ المآئدہ
42 36: یہاں حرام سے مراد وہ رشوت ہے جس کی خاطر یہودی پیشوا تورات کے احکام میں تبدیلیاں کردیتے تھے۔ 37: جو یہودی فیصلہ کرانے آئے تھے ان سے جنگ بندی کا معاہدہ تو تھا مگر وہ باقاعدہ اسلامی حکومت کے شہری نہیں تھے، اس لئے آپ کو یہ اختیار دیا گیا کہ چاہیں تو ان کا فیصلہ کردیں اور چاہیں توانکار فرمادیں، ورنہ جو غیر مسلم اسلامی حکومت کے باقاعدہ شہری بن جائیں ملک کے عام قوانین میں ان کا فیصلہ بھی اسلامی شریعت کے مطابق ہی کرنا ضرری ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے البتہ ان کے خاص مذہبی قوانین جو نکاح طلاق اور وراثت وغیرہ سے متعلق ہیں ان میں انہی کے مذہب کے مطابق فیصلہ انہی کے ججوں کے ذریعے کروایا جاتا ہے۔ المآئدہ
43 38: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تورات کے احکام سے منہ موڑلیتے ہیں اور یہ بھی کہ حضور اقدسﷺ سے فیصلے کی درخواست کرنے کے باجود جب آپ فیصلہ سناتے ہیں تو اس سے منہ موڑلیتے ہیں۔ المآئدہ
44 المآئدہ
45 39: دوسرا واقعہ ان آیات کے پس منظر میں یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، ایک بنو قریظہ اور دوسرے بنو نضیر، بنو نضیرکے لوگ مال دار تھے، اور بنو قریظہ کے لوگ مالی اعتبار سے ان کے مقابلے میں کمزور تھے، اگرچہ دونوں یہودی تھے مگر بنو نضیر نے ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھاکر ان سے یہ ظالمانہ اصول طے کرالیا تھا کہ اگر بنو نضیر کا کوئی آدمی بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کرے گا توقاتل سے جان کے بدلے جان کے اصول پر قصاص نہیں لیا جائے گا بلکہ وہ خوں بہا کے طور پر ستر وسق کھجوریں دے گا (وسق ایک پیمانہ تھا جو تقریباً پانچ من سیر کا ہوتا تھا) اور اگر بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کرے گا تونہ صرف یہ کہ قاتل قصاص میں قتل کیا جائے گا بلکہ خوں بہا بھی لیا جائے گا اور وہ بھی دگنا، جب آنحضرتﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے توایک واقعہ ایسا پیش آیا کہ قریظہ کے کسی شخص نے بنو نضیر کے ایک آدمی کو قتل کردیا، بنو نضیر نے جب اپنی سابق قرارداد کے مطابق قصاص اور خوں بہا دونوں کا مطالبہ کیا توقریظہ کے لوگوں نے اسے انصاف کے خلاف قرار دیا اور تجویز پیش کی کہ فیصلہ آنحضرتﷺ سے کرایا جائے ؛ کیونکہ اتنا وہ بھی جانتے تھے کہ آپ کا دین انصاف کا دین ہے، جب قریظہ کے لوگوں نے زیادہ اصرار کیا توبنو نضیر نے کچھ منافقین کو مقرر کیا کہ وہ آنحضرتﷺ سے غیر رسمی طور پر آپ کا عندیہ معلوم کریں اور اگر آپ کا عندیہ بنو نضیر کے حق میں ہو تو فیصلہ ان سے کرائیں ورنہ ان سے فیصلہ نہ لیں، اس پس منظر میں یہ آیت بتارہی ہے کہ تورات نے تو واضح طور پر فیصلہ دیا ہوا ہے کہ جان کے بدلے جان لینی ہے اور اس لحاظ سے بنو نضیر کا مطالبہ سراسر ظالمانہ اور تورات کے خلاف ہے۔ المآئدہ
46 المآئدہ
47 المآئدہ
48 40: یہودی اور عیسائی آنحضرتﷺ کی دعوت قبول کرنے سے جو انکار کرتے تھے اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اسلام میں عبادت کے طریقے اور بعض دوسرے احکام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی شریعت سے مختلف تھے اور ان لوگوں کو ان نئے احکام پر عمل کرنا بھاری معلوم ہوتا تھا، اس آیت نے واضح فرمایا کے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت مختلف پیغمبروں کو الگ الگ شریعتیں عطا فرمائی ہیں، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عبادت کا کوئی ایک طریقہ یا کوئی ایک قانون اپنی ذات میں کوئی تقدس نہیں رکھتا، اس میں جو کچھ تقدس پیدا ہوتا ہے وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوتا ہے، لہذا جس زمانے میں اللہ تعالیٰ جو حکم دے دیں وہی اس زمانے میں تقدس کا حامل ہے، اب ہوتا یہ ہے کہ جو لوگ ایک طریقے کے عادی ہوجاتے ہیں وہ اسی کو ذاتی طور پر مقدس سمجھ بیٹھتے ہیں، اور جب کوئی نیا پیغمبر نئی شریعت لے کر آتا ہے تو ان کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ پرانے طریقے کو ذاتی طور پر مقدس سمجھ کر نئے طریقے کا انکار کر بیٹھتے ہیں یا اللہ کے حکم کو اصل تقدس کا حامل سمجھ کر نئے حکم کو دل وجان سے تسلیم کرتے ہیں، آگے جو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ لیکن (تمہیں الگ شریعتیں اس لئے دیں) تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے اس کا یہی مطلب ہے۔ المآئدہ
49 41: یہ حکم اس صورت میں ہے جب غیر مسلم لوگ اسلامی حکومت کے باقاعدہ شہری بن جائیں جن کو فقہی اصطلاح میں ذمی کہا جاتا ہے یا اس صورت میں جب وہ اپنی رضامندی سے اپنا فیصلہ مسلمان قاضی سے کروانا چاہیں، ایسی صورت میں مسلمان قاضی عام ملکی قوانین میں فیصلہ اسلامی شریعت کے مطابق کرے گا، البتہ ان کے خالص مذہبی معاملات عبادات، نکاح، طلاق اور وراثت میں انہیں اپنے مذہب کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہوگا مگر یہ فیصلہ انہی کے افراد کریں گے۔ 42: بعض گناہ اس لیے فرمایا کہ تمام گناہوں کی سزا تو آخرت میں ملنی ہے۔ البتہ اللہ اور رسول کے فیصلے سے منہ موڑنے کی سزا ان کو دنیا میں بھی ملنے والی ہے۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد ان کی عہد شکنی اور سازوں کے نتیجے میں ان کو جلا وطنی اور قتل کی سزائیں دنیا ہی میں مل گئیں۔ المآئدہ
50 المآئدہ
51 43: اس آیت کی تشریح اور غیر مسلموں سے تعلقات کی حدود کی تفصیل دیکھئے سورۃ آل عمران (28:3) کا حاشیہ۔ المآئدہ
52 44: یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہو سکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔45: ” کوئی اور بات ظاہر کرنے“ سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دئیے جائیں ان کی رسوائی ہو۔ المآئدہ
53 المآئدہ
54 المآئدہ
55 المآئدہ
56 المآئدہ
57 المآئدہ
58 المآئدہ
59 المآئدہ
60 المآئدہ
61 المآئدہ
62 المآئدہ
63 المآئدہ
64 46: جب مدینہ منورہ کے یہودیوں نے آنحضرتﷺ کی دعوت کو قبول نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ کے طور پر کچھ عرصے کے لئے معاشی تنگی میں مبتلا کردیا، اس موقع پر بجائے اس کے کہ وہ ہوش میں آتے ان کے بعض سرداروں نے یہ گستاخانہ جملہ کہا، ہاتھ کا بندھا ہونا عربی میں بخل اور کنجوسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لہذا ان کا مطلب یہ تھا کہ معاذاللہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بخل کا معاملہ کیا ہے، حالانکہ بخل کی صفت تو خود ان کی مشہور ومعروف تھی اس لئے فرمایا گیا کہ ہاتھ تو خود ان کے بندھے ہوئے ہیں۔ 47: یہ یہودیوں کی ان سازشوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ مل کر کرتے رہتے تھے، اگرچہ انہوں نے آنحضرتﷺ سے جنگ بندی کا معاہدہ کررکھا تھا ؛ لیکن درپردہ اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ مسلمانوں پر کوئی حملہ ہو اور وہ اس میں شکست کھائیں، مگر اللہ تعالیٰ ہر موقع پر ان کی سازش کو ناکام بنادیتے تھے۔ المآئدہ
65 المآئدہ
66 المآئدہ
67 المآئدہ
68 المآئدہ
69 48: یہی مضمون سورۃ بقرہ کی آیت 62 (62:2) میں گذرا ہے۔ اس کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔ المآئدہ
70 المآئدہ
71 المآئدہ
72 المآئدہ
73 49: یہ عیسائیوں کے عقیدۂ تثلیث کی طرف اشارہ ہے، اس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ خدا تین اقانیم (presons) کا مجموعہ ہے، ایک باپ (یعنی اللہ) ایک بیٹا (یعنی حضرت مسیح علیہ السلام) اور ایک روح القدس اور بعض فرقے اس بات کے بھائی قائل تھے کہ تیسری حضرت مریم (رض) ہیں وہ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تینوں مل کر ایک ہیں، یہ تینوں مل کر ایک کس طرح ہیں، اس معمے کا کوئی معقول جواب کسی کے پاس نہیں ہے، اس لئے ان کے متکلمین (theologians) نے اس عقیدے کی مختلف تعبیریں اختیار کی ہیں۔ بعض نے تو یہ کہا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) صرف خدا تھے انسان نہیں تھے، آیت نمبر ٧٢ میں ان کے عقیدے کو کفر قرار دیا گیا ہے، اور بعض لوگ یہ کہتے تھے کہ خدا تین اقانیم کا مجموعہ ہے، ان میں سے ایک باپ یعنی اللہ ہے دوسرا بیٹا ہے جو اللہ کی ایک صفت ہے جو انسانی وجود میں حلول کرکے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل میں آگئی تھی، لہذا وہ انسان بھی تھے اور اپنی اصل کے اعتبار سے خدا بھی تھے، آیت نمبر ٧٣ میں اس عقیدے کی تردید کی گئی ہے، عیسائیوں کے ان عقائد کی تفصیل اور ان کی تردید کے لئے دیکھئے راقم الحروف کی کتاب عیسائیت کیا ہے۔ المآئدہ
74 المآئدہ
75 50: صدیقہ صدیق کا مونث کا صیغہ ہے، اس کے لفظی معنی ہیں بہت سچا، یا راست باز، اصطلاح میں صدیق عام طور سے ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی پیغمبر کا افضل ترین متبع ہوتا ہے اور نبوت کے بعد یہ سب سے اونچا مرتبہ ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہا السلام دونوں کے بارے میں یہاں قرآن کریم نے یہ حقیقت جتلائی ہے کہ وہ کھانا کھاتے تھے۔ کیونکہ تنہا یہ حقیقت اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ وہ خدا نہیں تھے۔ ایک معمولی سمجھ کا شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ خدا تو وہی ذات ہو سکتی ہے جو ہر قسم کی بشری حاجتوں سے بے نیاز ہو۔ اگر خدا بھی کھانا کھانے کا محتاج ہو تو وہ خدا کیا ہوا۔ 51: قرآن کریم نے یہاں مجہول کا صیغہ استعمال کیا ہے، اس لیے ترجمہ یہ نہیں کیا کہ ” وہ اوندھے منہ کہاں جا رہے ہیں“۔ بلکہ ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ ” انہیں اوندھے منہ کہاں لیجایا جا رہا ہے“ اور بظاہر مجہول کا یہ صیغہ استعمال کرنے سے اشارہ اس طرف مقصود ہے کہ ان کی نفسانی خواہشات اور ذاتی مفادات ہیں جو انہیں الٹا لے جا رہے ہیں۔ واللہ سبحانہ اعلم۔ المآئدہ
76 52: حضرت مسیح (علیہ السلام) اگرچہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے، لیکن کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کی ذاتی صلاحیت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے۔ اگر وہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں تو صرف اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت سے پہنچا سکتے ہیں۔ المآئدہ
77 53: ” غلو“ کا مطلب ہے کسی کام میں اس کی معقول حدود سے آگے بڑھ جانا۔ عیسائیوں کا غلو یہ تھا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعظیم میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ انہیں خدا قرار دے دیا، اور یہودیوں کا غلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے محبت کا جو اظہار کیا تھا اس کی بنا پر یہ سمجھ بیٹھے کہ دنیا کے دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر بس وہی اللہ کے چہیتے ہیں اور اس وجہ سے وہ جو چاہیں کریں، اللہ تعالیٰ ان سے ناراض نہیں ہوگا، نیز ان میں سے بعض نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا قرار دے لیا تھا۔ المآئدہ
78 54: یعنی اس لعنت کا ذکر زبور میں بھی تھا جو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی اور انجیل میں بھی تھا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اتری تھی۔ المآئدہ
79 المآئدہ
80 55: یہ ان یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو مدینہ منورہ میں آباد تھے اور انہوں نے حضور نبی کریمﷺسے معاہدہ بھی کیا ہوا تھا، اس کے باوجود انہوں نے درپردہ مشرکین مکہ سے دوستیاں گانٹھی ہوئی تھیں، اور ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے، بلکہ ان کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ان سے یہ تک کہہ دیتے تھے کہ ان کا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے اچھا ہے۔ المآئدہ
81 المآئدہ
82 56:: مطلب یہ ہے کہ عیسائیوں میں چونکہ بہت سے لوگ دنیا کی محبت سے خالی ہیں، اس لئے ان میں قبول حق کا مادہ زیادہ ہے اور کم از کم انہیں مسلمانوں سے اتنی سخت دشمنی نہیں ہے، کیونکہ دنیا کی محبت وہ چیز ہے جو انسان کو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے، اس کے برعکس یہودیوں اور مشرکین مکہ پر دنیا پرستی غالب ہے، اس لئے وہ سچے طالب حق کا طرز عمل اختیار نہیں کرپاتے، عیسائیوں کے نسبۃً نرم دل ہونے کی دوسری وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے ؛ کیونکہ انسان کی انا بھی اکثر حق قبول کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے، عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے محبت میں قریب تر فرمایا گیا ہے اسی کا اثر یہ تھا کہ جب مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر ظلم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو بہت سے مسلمانوں نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس پناہ لی، اور نہ صرف نجاشی بلکہ اس کی رعایا نے بھی ان کے ساتھ بڑے اعزاز واکرام کا معاملہ کیا ؛ بلکہ جب مشرکین مکہ نے اپنا ایک وفد نجاشی کے پاس بھیجا اور اس سے درخواست کی کہ جن مسلمانوں نے اس کے ملک میں پناہ لی ہے انہیں اپنے ملک سے نکال کرواپس مکہ مکرمہ بھیج دے تاکہ مشرکین ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بناسکیں، تو نجاشی نے مسلمانوں کو بلا کر ان سے ان کا موقف سنا اور مشرکین مکہ کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا اور جو تحفے انہوں نے بھیجے تھے وہ واپس کردئے ؛ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے قریب تر کہا گیا ہے یہ ان عیسائیوں کی اکثریت کے اعتبار سے کہا گیا ہے جو اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے دنیا کی محبت سے دور ہوں اور ان میں تکبر نہ پایا جاتا ہو ؛ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر زمانے کے عیسائیوں کا یہی حال ہے ؛ چنانچہ تاریخ میں ایسی بہت مثالیں ہیں جن میں عیسائیوں نے مسلمانوں کے ساتھ بدترین معاملہ کیا۔ المآئدہ
83 57: جب مسلمانوں کو حبشہ سے نکالنے کا مطالبہ لے کر مشرکین مکہ کا وفد نجاشی کے پاس آیا تھا تو اس نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلاکر ان کا موقف سنا تھا، اس موقع پر آنحضرتﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر ابن ابی طالب نے اس کے دربار میں بڑی مؤثر تقریر کی تھی جس سے نجاشی کے دل میں مسلمانوں کی عظمت اور محبت بڑھ گئی اور اسے اندازہ ہوگیا کہ آنحضرتﷺ وہی آخری نبی ہیں جن کی پیشینگوئی تورات اور انجیل میں کی گئی تھی، چنانچہ جب آنحضرتﷺ مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو نجاشی نے اپنے علماء اور راہبوں کا ایک وفد آپ کی خدمت میں بھیجا، آنحضرتﷺ نے ان کے سامنے سورۂ یسین کی تلاوت فرمائی جسے سن کر ان لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے کہا کہ یہ کلام اس کلام کے بہت مشابہ ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا، چنانچہ سب لوگ مسلمان ہوگئے اور جب یہ واپس حبشہ گئے تو نجاشی نے بھی اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا، ان آیات میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ المآئدہ
84 المآئدہ
85 المآئدہ
86 المآئدہ
87 58: جس طرح حرام چیزوں کو حلال سمجھنا گناہ ہے، اسی طرح جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام سمجھنا بھی بڑا گناہ ہے، مشرکین مکہ اور یہودیوں نے ایسی بہت سی چیزوں کو اپنے اوپر حرام کررکھا تھا جس کی تفصیل انشاء اللہ سورۂ انعام میں آئے گی۔ المآئدہ
88 المآئدہ
89 59: لغو قسموں سے مراد ایک تو وہ قسمیں ہیں جو قسم کھانے کے ارادے کے بغیر محض محاورے اور تکیۂ کلام کے طور پر کھالی جاتی ہیں، اور دوسرے وہ قسمیں بھی لغو کی تعریف میں داخل ہیں جو ماضی کے کسی واقعے پر سچ سمجھ کر کھالی گئی ہوں، مگر بعد میں معلوم ہو کہ جس بات کو سچ سمجھا تھا وہ سچ نہیں تھی، اس قسم کی قسموں پر نہ کوئی گناہ ہوتا ہے اور نہ کوئی کفارہ واجب ہوتا ہے البتہ بلا ضرورت قسم کھانا کوئی اچھی بات نہیں ہے، اس لئے ایک مسلمان کو اس سے احتیاط کرنی چاہئے۔ 60: اس سے مراد وہ قسم ہے جس میں آئندہ زمانے میں کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کا عہد کیا گیا ہو، ایسی قسم کو توڑنا عام حالات میں بڑا گناہ ہے، اور اگر کوئی شخص ایسی قسم توڑدے تو اس کا کفارہ بھی واجب ہے جس کی تفصیل آیت میں بیان فرمائی گئی ہے۔ ایک تیسری قسم کی قسم وہ ہے جس میں ماضی کے کسی واعے پر جان بوجھ کو جھوٹ بولا گیا ہو، اور مخاطب کو یقین دلانے کے لیے قسم کھالی گئی ہو۔ ایسی قسم سخت گناہ ہے، مگر دنیا میں اس کا کوئی کفار سوائے توبہ اور استغفار کے کچھ نہیں ہوتا۔ 61: مطلب یہ ہے کہ قسم کھا لینا کوئی مذاق نہیں ہے اس لیے اول تو قسمیں کم سے کم کھانی چاہئیں، اور اگر کوئی قسم کھالی ہو تو حتی الامکان اسے پورا کرنا ضروری ہے۔ البتہ اگر کسی شخص نے کوئی ناجائز کام کرنے کی قسم کھالی ہو تو اس پر واجب ہے کہ قسم کو توڑے اور کفارہ ادا کرے۔ اسی طرح اگر کسی جائز کام کی قسم کھائی، مگر بعد میں اندازہ ہوا کہ وہ کام مصلحت کے خلاف ہے، تب بھی ایک حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دہدایت فرمائی ہے کہ ایسی قسم کو توڑ دینا چاہئے۔ اور کفارہ ادا کرنا چاہئے۔ المآئدہ
90 62: بتوں کے تھان سے مراد وہ قربان گاہ ہے جو بتوں کے سامنے بنا دی جاتی تھی اور لوگ بتوں کے نام پر وہاں جانور وغیرہ قربان کیا کرتے تھے۔ اور جوے کے تیروں کی تشریح اسی سورت کے شروع میں آیت نمبر 3 کے تحت حاشیہ نمبر 6 میں گذر چکی ہے۔ المآئدہ
91 المآئدہ
92 المآئدہ
93 63: جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو بعض صحابہ کرام کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جو شراب حرمت کا حکم آنے سے پہلے پی گئی ہے کہیں وہ ہمارے لئے گناہ کا سبب نہ بنے، اس آیت نے یہ غلط فہمی دور کردی اور یہ بتادیا کہ چونکہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے شراب پینے سے صاف الفاظ میں منع نہیں کیا تھا، اس لئے اس وقت جنہوں نے شراب پی تھی اس پر ان کی کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔ 64: احسان کے لغوی معنی ہیں اچھائی کرنا۔ اس طرح یہ لفظ ہر نیکی کو شامل ہے، لیکن ایک صحیح حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی یہ تشریح فرمائی ہے کہ انسان اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے وہ اس کو دیکھ رہا ہے، یا کم از کم اس تصور کے ساتھ کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ہونے کا دھیان رکھے۔ المآئدہ
94 65: جیسا کے اگلی آیت میں آرہا ہے جب کوئی شخص حج یا عمرے کا احرام باندھ لے تو اس کے لئے خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا حرام ہوجاتا ہے، عرب کے صحراؤں میں شکار کا مل جانا مسافروں کے لئے ایک نعمت تھی، اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ احرام باندھنے والوں کی آزمائش کے لئے اللہ تعالیٰ کچھ جانوروں کو ان کے اتنا قریب بھیج دے گا کہ وہ ان کے نیزوں کی زد میں ہوں گے، اس طرح ان کا امتحان لیاجائے گا کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اس نعمت سے پرہیز کرتے ہیں ؟ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے ایمان کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب اس کا دل کسی ناجائز کام کے لئے مچل رہا ہو، اور وہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس ناجائز کام سے باز آجائے۔ المآئدہ
95 66: اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں شکار کرنے کا گناہ کرلے تو اس کا کفارہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس جانور کا شکار کیا ہے اگر وہ جانور حلال ہو تو اسی علاقے کے دو تجربے کار دین دار آدمیوں سے اس جانور کی قیمت لگائی جائے، پھر چوپایوں یعنی گائے بیل بکری وغیرہ میں سے اس قیمت کے کسی جانور کی قربانی حرم میں کردی جائے یا اس کی قیمت فقراء میں تقسم کردی جائے، اور اگر کسی ایسے جانور کا شکار کیا تھا جو حلال نہیں ہے مثلاً بھیڑیا تو اس کی قیمت ایک بکری سے زیادہ نہیں سمجھی جائے گی، اور اگر کسی شخص کو مالی اعتبار سے قربانی دینے یا قیمت فقراء میں تقسیم کرنے کی گنجائش نہ ہو تو وہ روزے رکھے روزوں کا حساب اس طرح ہوگا کہ اس جانور کی جو قیمت بنی تھی اس میں سے پونے دو سیر گندم کی قیمت کے برابر ایک روزہ سمجھا جائے گا، آیت کی یہ تشریح : امام ابوحنیفہ (رح) کے مذہب کے مطابق ہے، ان کے نزدیک اس جانور کے برابر چوپایوں میں سے کسی جانور کا مطلب یہ ہے کہ پہلے شکار کئے ہوئے جانور کی قیمت لگائی جائے، پھر اس قیمت کا کوئی چوپایہ حرم میں ذبح کیا جائے، تفصیل فقہ کی کتابوں میں درج ہے۔ المآئدہ
96 المآئدہ
97 67: کعبے شریف اور حرمت والے مہینے کا باعث امن ہونا تو ظاہر ہے کہ اس میں جنگ کرنا حرام ہے، اس کے علاوہ جو جانور نذرانے کے طور پر حرم لے جائے جاتے تھے ان کے گلے میں پٹے ڈال دئے جاتے تھے تاکہ ہر دیکھنے والے کو پتہ چل جائے کہ یہ جانور حرم جارہے ہیں ؛ چنانچہ کافر، مشرک، ڈاکو بھی ان کو چھیڑتے نہیں تھے، کعبے کے قیام امن کا باعث ہونے کے ایک معنی کچھ مفسرین نے یہ بھی بیان فرمائے ہیں کہ جب تک کعبہ شریف قائم رہے گا قیامت نہیں آئے گی، قیامت اس وقت آئے گی جب اسے اٹھالیا جائے گا۔ المآئدہ
98 المآئدہ
99 المآئدہ
100 68: اس آیت نے بتادیا ہے کہ دنیا میں بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی ناپاک یا حرام چیز کا رواج اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ وقت کا فیشن قرار پا جاتا ہے، اور فیشن پرست لوگ اسے اچھا سمجھنے لگتے ہیں، مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ صرف کسی چیز کے عام رواج کی وجہ سے اسے اختیار نہ کریں ؛ بلکہ یہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ہدایات کی روشنی میں وہ جائز یا پاک ہے یا نہیں۔ المآئدہ
101 69: مطلب یہ ہے کہ اول تو جن باتوں کی کوئی خاص ضرورت نہ ہو ان کی کھوج میں پڑنا فضول ہے، دوسرے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض اوقات کوئی حکم مجمل طریقے سے آتا ہے اگر اس حکم پر اسی اجمال کے ساتھ عمل کرلیا جائے تو کافی ہے، اگر اللہ تعالیٰ کو اس میں مزید تفصیل کرنی ہوتی تو وہ خود قرآن کریم یا نبی کریمﷺ کی سنت کے ذریعے کردیتا، اب اس میں بال کی کھال نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اگر نزول قرآن کے زمانے میں اس کا کوئی سخت جواب آجائے تو خود تمہارے لئے مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں، چنانچہ اس آیت کے شان نزول میں ایک واقعہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حج کا حکم آیا اور آنحضرتﷺ نے لوگوں کو بتایا تو ایک صحابی نے آپ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا حج عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے یا ہر سال کرنا فرض ہے؟ آنحضرتﷺ نے اس سوال پر ناگواری کا اظہار فرمایا، وجہ یہ تھی کہ حکم کے بارے میں اصل یہی ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود یہ صراحت نہ کی جائے کہ اس پر با ربار عمل کرنا ہوگا (جیسے نماز روزے اور زکوۃ میں یہ صراحت موجود ہے) اس وقت تک اس پر صرف ایک بار عمل کرنے سے حکم کی تعمیل ہوجاتی ہے اس لئے اس سوال کی کوئی ضرورت نہیں تھی، آپﷺ نے صحابی سے فرمایا کہ اگر میں تمہارے جواب میں یہ کہہ دیتا کہ ہاں ہر سال فرض ہے تو واقعی پوری امت پر وہ ہر سال فرض ہوجاتا۔ المآئدہ
102 70: اس سے غالباً یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو شریعت کے احکام میں اسی قسم کی بال کی کھال نکالتے تھے، اور جب ان کے اس عمل کے نتیجے میں ان پر پابندیاں بڑھتی تھیں تو انہیں پورا کرنے سے عاجز ہوجاتے، اور بعض اوقات ان کی تعمیل سے صاف انکار بھی کر بیٹھتے تھے۔ المآئدہ
103 71: یہ مختلف قسم کے نام ہیں جو زمانہ جاہلیت کے مشرکین نے رکھے ہوئے تھے۔ بحیرہ اس جانور کو کہتے تھے جس کے کان چیر کر اس کا دودھ بتوں کے نام پر وقف کردیا جاتا تھا۔ سائبہ وہ جانور تھا جو بتوں کے نام کر کے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا، اس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا حرام سمجھا جاتا تھا۔ وصیلہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جو لگاتار مادہ بچے جنے، بیچ میں کوئی نر نہ ہو۔ ایسی اونٹنی کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔ اور حامی وہ نر اونٹ ہوتا تھا جو ایک خاص تعداد میں جفتی کرچکا ہو۔ اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ المآئدہ
104 المآئدہ
105 72: کفار کی جوگمراہیاں پیچھے بیان ہوئی ہیں ان کی وجہ سے مسلمانوں کو صدمہ ہوتا تھا کہ اپنی ان گمراہیوں کے خلاف واضح دلائل آجانے کے بعد اور آنحضرتﷺ کی طرف سے بار بار سمجھانے کے باوجود یہ لوگ اپنی گمراہیوں پر جمے ہوئے ہیں، اس آیت نے ان حضرات کو تسلی دی ہے کہ تبلیغ کا حق ادا کرنے کے بعد تمہیں ان کی گمراہیوں پر زیادہ صدمہ کرنے کی ضرورت نہیں، اور اب زیادہ فکر خود اپنی اصلاح کی کرنی چاہئے، لیکن جس بلیغ انداز میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے اس میں ایک تو ان لوگوں کے لئے ہدایت کا سامان ہے جو ہر وقت دوسروں پر تنقید کرنے اور ان کے عیب تلاش کرنے میں تو بڑے شوق سے مشغول رہتے ہیں، مگر خود اپنے گریبان میں منہ ڈالنے کی زحمت نہیں اٹھاتے، ان کو دوسروں کا تو چھوٹے سے چھوٹا عیب آسانی سے نظر آجاتا ہے مگر خود اپنی بڑی سے بڑی برائی کا احساس نہیں ہوتا، ہدایت یہ دی گئی ہے کہ اگر بالفرض تمہاری تنقید صحیح بھی ہو اور دوسرے لوگ گمراہ بھی ہوں تب بھی تمہیں تو اپنے اعمال کا جواب دینا ہے، اس لئے اپنی فکر کرو اور دوسروں پر تنقید کی فکر میں نہ پڑو، اس کے علاوہ جب معاشرے میں بد عملی کا چلن عام ہوجائے تو اس وقت اصلاح کی طرف لوٹنے کا بھی بہترین نسخہ یہی ہے کہ ہر شخص دوسروں کے طرز عمل کو دیکھنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر میں لگ جائے، جب افراد میں اپنی اصلاح کی فکر پیدا ہوگی تو چراغ سے چراغ جلے گا اور رفتہ رفتہ معاشرہ بھی اصلاح کی طرف لوٹے گا۔ المآئدہ
106 73: یہ آیات ایک خاص واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، واقعہ یہ ہے کہ ایک مسلمان جس کا نام بدیل تھا، تجارت کی غرض سے اپنے دو عیسائی ساتھیوں تمیم اور عدی کے ساتھ شام گیا، وہاں پہنچ کر وہ بیمار ہوگیا اور اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ بچ نہیں سکے گا ؛ چنانچہ اس نے اپنے دوساتھیوں کو وصیت کی کہ میرا سارا سامان میرے وارثوں کو پہنچادینا، ساتھ ہی اس نے یہ ہوشیاری کی کہ سارے سامان کی ایک فہرست بناکر خفیہ طور سے اسی سامان کے اندر چھپادی، عیسائی ساتھیوں کو فہرست کا پتہ نہ چل سکا، انہوں نے سامان وارثوں کو پہنچایا، مگر اس میں ایک چاندی کا پیالہ تھا جس پر سونے کا ملمع چڑھا ہوا تھا اور جس کی قیمت ایک ہزار درہم بتائی گئی ہے وہ نکال کر اپنے پاس رکھ لیا، جب وارثوں کو بدیل کی بنائی ہوئی فہرست سامان میں ہاتھ لگی تو ان کو اس پیالہ کا پتہ چلا اور انہوں نے تمیم اور عدی سے مطالبہ کیا، انہوں نے صاف قسم کھالی کہ ہم نے سامان میں سے کوئی چیز نہ لی نہ چھپائی ہے ؛ لیکن کچھ عرصے کے بعد بدیل کے وارثوں کو پتہ چلا کہ وہ پیالہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں ایک سنار کو فروخت کیا ہے، اس پر تمیم اور عدی نے اپنا موقف بدلا اور کہا کہ دراصل یہ پیالہ ہم نے بدیل سے خرید لیا اور چونکہ خریداری کا کوئی گواہ ہمارے پاس نہیں تھا اس لئے ہم نے پہلے اس بات کا ذکر نہیں کیا تھا اب چونکہ وہ خریداری کے مدعی تھے اور مدعی پر لازم ہوتا ہے کہ وہ گواہ پیش کرے اور یہ پیش نہ کرسکے توقاعدے کے مطابق وارثوں میں سے بدیل کے قریب ترین دو عزیزوں نے قسم کھالی کہ پیالہ بدیل کی ملکیت تھا اور عیسائی جھوٹ بول رہا ہے اس پر آنحضرتﷺ نے ان کے حق میں فیصلہ کردیا اور عیسائیوں کو پیالے کی قیمت دینی پڑی، یہ فیصلہ اسی آیت کریمہ کی روشنی میں ہوا جس میں اس قسم کی صورت حال کے لئے ایک عام حکم بتادیاگیا۔ المآئدہ
107 74: یہ ترجمہ امام رازی (رح) کی اختیار کردہ تفسیر پر مبنی ہے جس کی رو سے ” الاولیان“ سے مراد پہلے دو گواہ ہیں۔ جنہوں نے خیانت کی تھی۔ وھذا التفسیر اولیٰ حسب قراءۃ ” استحق“ علی البناء للفاعل کما ھو قراءۃ حفص، بالنظر الی اعراب الایۃ اما التفسیر الذی جعل ” االاولیا“ صفۃ للورثۃ، فوجھہ فی الاعراب خفی جدا، لانہ لا یظھر فیھا فاعل ” استحق“ الا بتکلف، و راجع روح المعانی و البحر المحیط و التفسیر الکبیر، نعم یظھر ذلک التفسیر فی قراءۃ ” استحق“ علی البناء و للمفعول۔ المآئدہ
108 المآئدہ
109 75: قرآن کریم کا یہ خاص طریقہ ہے کہ جب وہ اپنے احکام بیان فرماتا ہے تو اس کے ساتھ آخرت کا کوئی ذکر یا پچھلی امتوں کی فرماں برداری یا نافرمانی کا بھی ذکر فرماتا ہے، تاکہ ان احکام پر عمل کرنے کے لیے آخرت کی فکر پیدا ہو، چنانچہ وصیت کے مذکورہ بالا احکام کے بعد اب آخرت کے کچھ مناظر بیان فرمائے گئے ہیں، اور چونکہ کچھ پہلے عیسائیوں کے غلط عقائد کا تذکرہ تھا، اس لیے خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے آخرت میں جو مکالمہ ہوگا اس کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور شروع کی اس آیت میں تمام پیغمبروں سے اس سوال کا ذکر ہے کہ ان کی امتوں نے ان کی دعوت کا کیا جواب دیا تھا؟ اس کے جواب میں انہوں نے اپنی لا علمی کا اظہار کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دیا میں تو لوگوں کے ظاہری بیانات پر ہی فیصلہ کرنے کے مجاز تھے، لہذا جس کسی نے ایمان کا دعویٰ کیا ہم نے اسے معتبر سمجھ لیا، لیکن یہ معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا کہ اس کے دل میں کیا ہے؟ آج جبکہ فیصلہ دلوں کے حال کے مطابق ہونے والا ہے، ہم یقین کے ساتھ کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ دلوں کا پوشیدہ حال تو صرف آپ ہی جانتے ہیں۔ البتہ جب لوگوں کے ظاہری رد عمل ہی کے بارے میں انبیاء کرام سے گواہی لی جائے گی تو وہ ان کے ظاہری اعمال کی گواہی دیں گے، جس کا ذکر سورۃ نساء (41:4) اور سورۃ نحل (89:16) وغیرہ میں آیا ہے۔ المآئدہ
110 76: تشریح کے لیے دیکھئے سورۃ بقرہ (87:2) المآئدہ
111 المآئدہ
112 77: یعنی ایک مومن کیلئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے معجزات کی فرمائش کرے، کیونکہ ایسی فرمائشیں تو عام طور پر کافر لوگ کرتے رہے ہیں۔ البتہ جب انہوں نے یہ وضاحت کی کہ خدا نخواستہ اس فرمائش کا منشا ایمان کا فقدان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر مکمل اطمینان کا حصول اور ادائے شکر ہے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعا فرما دی۔ المآئدہ
113 المآئدہ
114 المآئدہ
115 78: قرآن کریم نے یہ بیان نہیں فرمایا کہ پھر وہ خوان آسمان سے اترا یا نہیں۔ جامع ترمذی کی ایک روایت میں حضرت عمار بن یاسر کا یہ قول مروی ہے کہ خوان اترا تھا، پھر جن لوگوں نے نافرمانی کی وہ دنیا ہی میں عذاب کے شکار ہوئے۔ (جامع ترمذی، کتاب التفسیر حدیث نمبر 3-61) واللہ اعلم۔ المآئدہ
116 79: عیسائیوں کے بعض فرقے توحضرت مریم (رض) کو تثلیث کا ایک حصہ قرار دے کرانہیں معبود مانتے تھے اور دوسرے بعض فرقے اگرچہ انہیں تثلیث کا حصہ قرار نہیں دیتے تھے لیکن جس طرح ان کی تصویر کلیساؤں میں آویزاں کرکے اس کی پرستش کی جاتی تھی وہ بھی ایک طرح سے ان کو خدائی میں شریک قرار دینے کے مرادف تھی اس لئے یہ سوال کیا گیا ہے۔ المآئدہ
117 المآئدہ
118 المآئدہ
119 المآئدہ
120 المآئدہ
0 سورۃ الانعام تعارف یہ سورت چونکہ مکہ مکرمہ کے اس دور میں نازل ہوئی تھی جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت اسلام اپنے ابتدائی دور میں تھی، اس لیے اس میں اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید، رسالت اور آخرت کو مختلف دلائل کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے اور ان عقائد پر جو اعتراضات کفار کی طرف سے اٹھائے جاتے تھے، ان کا جواب دیا گیا ہے۔ اس دور میں مسلمانوں پر کفار مکہ کی طرف سے طرح طرح کے ظلم توڑے جارہے تھے، اس لیے ان کو تسلی بھی دی گئی ہے۔ کفار مکہ اپنے مشرکانہ عقائد کے نتیجے میں جن بے ہود رسموں اور بے بنیاد خیالات میں مبتلا تھے، ان کی تردید فرمائی گئی ہے۔ عربی زبان میں انعام چوپایوں کو کہتے ہیں۔ عرب کے مشرکین مویشیوں کے بارے میں بہت سے غلط عقیدے رکھتے تھے، مثلا ان کو بتوں کے نام پر وقف کر کے ان کا کھانا حرام سمجھتے تھے۔ چونکہ اس سورت میں ان بے بنیادی عقائد کی تردید کی گئی ہے۔ (دیکھیے آیات ١٣٦ تا ١٤٦) اس لیے اس کا نام سورۃ الانعام رکھا گیا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ چند آیتوں کو چھوڑ کر یہ پوری سورت ایک ہی مرتبہ نازل ہوئی تھی، لیکن علامہ آلوسہ (رح) نے اپنی تفسیر روح المعانی میں ان روایتوں پر تنقید کی ہے۔ واللہ سبحانہ اعلم یہ سورت مکی ہے، اور اس میں ایک سو پینسٹھ آیتیں اور بیس رکوع ہیں الانعام
1 الانعام
2 1: یعنی ایک میعاد تو ہر انسان کی انفرادی زندگی کی ہے کہ وہ کب تک جئے گا، شروع میں تو اس کا علم کسی کو نہیں ہوتا، مگر جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو ہر ایک کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کی عمر کتنی تھی۔ لیکن مرنے کے بعد جو دوسری زندگی آنے والی ہے وہ کب آئے گی، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ الانعام
3 الانعام
4 الانعام
5 2: کفار سے کہا گیا تھا کہ اگر انہوں نے ہٹ دھرمی کا رویہ جاری رکھا تو دنیا میں بھی ان کا انجام برا ہوگا، اور آخرت میں بھی ان کو عذاب کا سامنا کرنا کفار ان باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ آیت ان کو متنبہ کر رہی ہے کہ جس بات کو وہ مذاق اڑا رہے ہیں، عنقریب وہ ایک حقیقت بن کر ان کے سامنے آجائے گی۔ الانعام
6 الانعام
7 الانعام
8 3: یہ دنیا چونکہ انسان کے امتحان کے لیے بنائی گئی ہے، اس لیے انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر اللہ تعالیٰ پر اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں پر ایمان لائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی غیبی حقیقت آنکھوں سے دکھا دی جاتی ہے تو اس کے بعد ایمان لانا معتبر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص موت کے فرشتوں کو دیکھ کر ایمان لائے تو اس کا ایمان قابل قبول نہیں۔ کفار کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر کوئی فرشتہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی لے کر آتا ہے تو وہ اس طرح آئے کہ ہم اسے دیکھ سکیں۔ قرآن کریم نے اس کا پہلا جواب تو یہ دیا ہے کہ اگر فرشتے کو انہوں نے آنکھ سے دیکھ لیا تو پھر مذکورہ بالا اصول کے مطابق ان کا ایمان معتبر نہیں ہوگا اور پھر انہیں اتنی مہلت نہیں ملے گی کہ یہ ایمان لا سکیں دوسرا جواب اگلے جملے میں ہے۔ الانعام
9 4: یعنی اگر کسی فرشتے ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجتے، یا پیغمبر کی تصدیق کے لیے لوگوں کے سامنے بھیجتے تب بھی اس کو انسانی شکل ہی میں بھیجنا پڑتا، کیونکہ کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ کسی فرشت