Maktaba Wahhabi

آیت نمبرترجمہسورہ نام
1 [١] تلاوت سے پہلے تعوذ کا حکم :۔ قرآن کریم کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے ﴿اَعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرّجیم﴾ ضرور پڑھ لینا چاہیے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے آیت ﴿فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ﴾ (16 : 98) ’’جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کیجئے‘‘ اور یہ تو ظاہر ہے کہ پناہ کسی نقصان پہنچانے والی چیز یا دشمن سے درکار ہوتی ہے اور ایسی ہستی سے پناہ طلب کی جاتی ہے جو اس نقصان پہنچانے والے دشمن سے زیادہ طاقتور ہو۔ شیطان چونکہ غیر محسوس طور پر انسان کی فکر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ دعا دراصل قرآن کی تلاوت کے دوران کج فکری سے بچنے اور قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کی دعا ہے۔ نیز یہ وہ دعا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بندوں کو سکھائی اور اسے پڑھنے کا حکم دیا۔ (1) فضائل سورۃ فاتحہ :۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دن جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے اپنے اوپر ایک زور دار آواز سنی انہوں نے اپنا سر اٹھایا۔ پھر فرمایا : ’’یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں کھلا‘‘ پھر فرمایا :’’ یہ ایک فرشتہ ہے جو آج سے پہلے زمین پر کبھی نازل نہیں ہوا۔ پھر اس فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور دو نوروں کی خوشخبری دی اور کہا :’’ یہ دو نور آپ ہی کو دئیے جا رہے ہیں۔ آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے۔ ایک سورۃ فاتحہ اور دوسرا سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات۔ آپ جب کبھی ان دونوں میں سے کوئی کلمہ تلاوت کریں گے تو آپ کو طلب کردہ چیز ضرور عطا کی جائے گی۔‘‘ (صحیح مسلم۔ کتاب فضائل القرآن۔ باب فضل الفاتحہ) (2) سورۃ فاتحہ کے مختلف نام :۔ سیدنا ابو سعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے مجھے فرمایا : ’’میں تجھے قرآن کی ایک ایسی سورت بتاؤں گا جو قرآن کی سب سورتوں سے بڑھ کر ہے اور وہ ہے ﴿ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ﴾ وہی ﴿سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ﴾ اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا۔‘‘ (بخاری : کتاب التفسیر، سورۃ انفال: 24 ﴿يٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا نیز تفسیر سورۃ فاتحہ) (3) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سورۃ الحمد ہی ام القرآن، ام الکتاب اور دہرائی ہوئی سات آیتیں ہیں۔ (ترمذی : ابواب التفسیر، تفسیر سورۃ محمد) اس سورۃ کا سب سے زیادہ مشہور نام الفاتحة ہے جس کے معنی ہیں کھولنے والی یعنی دیباچہ، مقدمہ یا پیش لفظ۔ اس کے متعلق علماء کی دو آرا ہیں : ایک یہ کہ یہ سورۃ ایک دعا ہے جو بندوں کو سکھائی گئی ہے کہ وہ اس انداز سے اللہ سے ہدایت طلب کیا کریں اور باقی سارا قرآن اس دعا کا جواب ہے۔ ان حضرات کی توجیہ یہ ہے کہ اس سورۃ کا ایک نام سورۃ الدعاء بھی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ سورۃ سارے مضامین قرآن کا اجمالی خلاصہ ہے۔ پھر اس سورۃ کا خلاصہ ﴿ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ﴾ ہے۔ ہمارے نزدیک دوسری رائے ہی راجح ہے اور اس کی مندرجہ ذیل دو وجوہ ہیں : 1۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورۃ کو قرآن عظیم، ام الکتاب اور ام القرآن فرمایا ہے جس کا مفہوم یہی ہے کہ یہ سورۃ سارے قرآن کا خلاصہ ہے۔ 2۔ اس سورۃ کی آیات پر سرسری نظر ڈالنے سے ہی از خود یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس میں پورے قرآن کا خلاصہ یا اجمالی ذکر کیا گیا ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ علمائے تفسیر نے قرآن کے مضامین کو پانچ اقسام میں تقسیم کیا ہے جو یہ ہیں : (1) تذکیر بالآء اللہ : یعنی اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا بیان جو انسانی زندگی اور اس کی بقا کے لیے ضروری تھیں اور اس میں زمین، آسمان، چاند، سورج اور ہواؤں اور بادلوں وغیرہ کا ذکر سب کچھ آ جاتا ہے۔ (2) تذکیر بایام اللہ : یعنی مخلوق کے ساتھ واقعات اور حوادث کا بیان اس میں قصص الانبیاء اور نافرمانی کی بنا پر ہلاک شدہ قوموں کا ذکر شامل ہے۔ (3) تذکیر بالموت و مابعدہ : یعنی موت کے بعد آخرت کے احوال۔ اس میں اللہ کے ہاں باز پرس اور جنت و دوزخ کے سب احوال شامل ہیں۔ (4) علم الاحکام یعنی احکام شریعت : تذکیر بالآء اللہ، تذکیر بایام اللہ اور تذکیر بالموت، سب کا مقصد حقیقی یہی ہے کہ ان کے ذکر سے انسان کو برضاء و رغبت احکام شریعت کی بجا آوری پر آمادہ کیا جائے۔ (5) علم المخاصمہ : یعنی گمراہ فرقوں کے عقائد باطلہ کا رد۔ اب دیکھئے اس سورۃ کی پہلی تین آیات میں یعنی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے لے کر دوسری بار الرحمٰن الرحیم تک اللہ تعالیٰ کی ربوبیت عامہ اور رحمت کی وسعت کا ذکر ہے اور یہ تذکیر بالآء اللہ کے ذیل میں آتی ہیں اور چوتھی آیت ﴿ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ﴾ تذکیر بالموت کے ذیل میں۔ پانچویں آیت ﴿ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ﴾ علم الاحکام کا نچوڑ ہے۔ اور چھٹی آیت اللہ سے دعا اور تعلق باللہ پر مشتمل ہے اور یہ علم الاحکام ہی کے ذیل میں آتی ہے۔ اور ساتویں آیت میں تذکیر بایام اللہ بھی ہے اور علم المخاصمہ بھی۔ اس لحاظ سے یہ سورۃ فی الواقع قرآن کی اجمالی فہرست ہے اور اس ساری سورۃ کا خلاصہ آیت ﴿ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ﴾ہے۔ یعنی انسان صرف ایک اللہ کی عبادت کرے جس میں کسی قسم کے شرک کا شائبہ تک نہ ہو۔ اس سورۃ کا نام الشفاء اور الرقیہ بھی ہے اور ان ناموں کی وجہ تسمیہ درج ذیل حدیث ہے : سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی اصحاب عرب کے ایک قبیلہ پر پہنچے۔ جنہوں نے ان کی ضیافت نہ کی۔ اتفاق سے ان کے سردار کو بچھونے کاٹ لیا۔ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور کہنے لگے : ’’تم میں سے کسی کے پاس بچھو کے کاٹے کی کوئی دوا یا منتر ہے؟‘‘ انہوں نے کہا : ’’ہاں ہے۔ مگر چونکہ تم نے ہماری ضیافت نہیں کی اس لیے ہم اس کا معاوضہ لیں گے‘‘ انہوں نے چند بکریاں (ایک دوسری روایت کے مطابق ٣٠ بکریاں) دینا قبول کیں۔ ایک صحابی (خود ابو سعید رضی اللہ عنہ) نے سورۃ فاتحہ پڑھنا شروع کی۔ وہ سورۃ فاتحہ پڑھ کر پھونک مار دیا کرتے۔ چند دنوں میں وہ سردار اچھا ہوگیا۔ (حسب وعدہ) قبیلہ کے لوگ بکریاں لے آئے تو صحابہ رضی اللہ عنہم کو تردد ہوا (کہ آیا یہ معاوضہ لینا بھی چاہئے یا نہیں) اور کہنے لگے کہ جب تک ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لیں یہ بکریاں نہ لینا چاہئیں۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ منتر بھی ہے؟ وہ بکریاں لے لو اور (ان میں سے) میرا حصہ بھی نکالو‘‘ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ جب صحابہ رضی اللہ عنہم مدینہ پہنچے تو کسی نے کہا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ) نے کتاب اللہ پر اجرت لی ہے‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ “(تمہارے اجرت لینے کی سب سے زیادہ مستحق تو کتاب اللہ ہی ہے) (بخاری۔ کتاب الطب والرقي۔ باب الرقی بفاتحۃ الکتاب) اس حدیث سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوئیں : 1۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اجرت کا مطالبہ صرف اس لیے کیا تھا کہ ان بستی والوں نے ان کی مہمانی سے انکار کردیا تھا۔ بالخصوص ان دنوں میں جبکہ وسائل سفر محدود، سست رفتار اور ہوٹل وغیرہ بھی نہیں ہوتے تھے اور ملکی دستور یہ تھا کہ مہمانی سے انکار کو قتل کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ 2۔ اگر دم جھاڑ کی ضرورت پیش آئے تو صرف کتاب اللہ سے ہی کرنا چاہئے یا کم از کم دم جھاڑ کرنے والا شرکیہ یا مہمل الفاظ نہ پڑھے۔ 3۔ ضرورت مند لوگ دم جھاڑ کی اجرت بھی لے سکتے ہیں۔ رہا علی الاطلاق دم جھاڑ کو ایک مستقل پیشہ بنا لینا یا خانے بنا کر یا مہمل الفاظ سے تعویذ لکھنا۔ انہیں پانی میں گھول کر پلانا۔ گلے میں لٹکانا یا کسی دوسری جگہ باندھنا، ایسے سب کام شرعاً ناجائز ہیں اور اس کی تفصیل سورۃ القیامۃ میں آئے گی۔ نیز اس سورۃ کا نام سورۃ الصلوٰۃ اور سورۃ الدعا اور تعلیم المسئلہ (مانگنے کے آداب) بھی ہے۔ قراۃ فاتحہ خلف الامام :۔ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جس نے نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی اس کی نماز ناقص، ناقص، ناقص اور ناتمام ہے‘‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : ’’ابوہریرہ ! کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں؟‘‘ وہ کہنے لگے : ’’'فارسی کے بیٹے دل میں (چپکے چپکے) پڑھ لو۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے نماز (سورہ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کردیا ہے۔ آدھی میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے جو کچھ وہ سوال کرے۔ میرا بندہ (نماز میں) کھڑا ہوتا اور کہتا ہے ﴿ اَلْحَمْدُ ﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ﴾ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری تعریف کی۔ پھر وہ کہتا ہے ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ﴾ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری ثناء بیان کی۔ پھر وہ کہتا ہے﴿ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ﴾ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور ﴿ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ﴾ میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے اور سورت کا باقی حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کو وہ کچھ ملے گا جو اس نے مانگا۔ (مسلم۔ کتاب الصلوۃ۔ باب وجوب قراءۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ۔ ترمذی۔ ابواب التفسیر۔ سورۃ الفاتحۃ) سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لاَ صَلٰوۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ" (بخاری کتاب الاذان) اور امام بخاری نے تو باب کا نام ہی ان الفاظ سے قائم کیا ہے۔ ( وجوب القرأۃ للامام والمأموم فی الصلوۃ کلھا فی الحضر والسفر وما یجھر فیھا وما یخافت) اس باب کے الفاظ کے عموم سے ہی یہ بات واضح ہے کہ خواہ کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو یا مقتدی ہو یا امام ہو، نماز خواہ سری ہو یا جہری ہو ہر صورت میں اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھنا واجب ہے۔ ترمذی، ابوداؤد، احمد اور ابن حبان کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ہم سے پوچھا : ’’تم لوگ اپنے امام کے پیچھے کچھ پڑھتے رہتے ہو؟‘‘ ہم نے کہا : ’’ہاں‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فاتحہ الکتاب کے سوا اور کچھ نہ پڑھا کرو۔ کیونکہ جو شخص فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ (سبل السلام۔ کتاب الصلوۃ۔ باب صفۃ الصلٰوۃ حدیث نمبر 13) گویا سورۃ فاتحہ کے کل دس نام معلوم ہوئے۔ سورۃ الفاتحۃ، الحمد، سبعا من المثانی، أم القرآن، أم الکتاب، الشفاء، الرقیۃ، الدعاء، تعلیم المسئلۃ اور الصلوۃ اور بعض نے اس سے بھی زیادہ لکھے ہیں۔ زمانہ نزول: اس سورۃ کا ترتیب نزول کے لحاظ سے پانچواں نمبر ہے۔ گویا یہ اسلام کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی اور یہی پہلی سورت ہے جو پوری کی پوری یکبارگی نازل ہوئی۔ [٢] کیا بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورۃ فاتحہ کا جز ہے؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے زمانہ نزول میں بتایا جاچکا ہے کہ اس میں اقرا یا ابدا محذوف ہے۔ اسی لیے ہم نے ترجمہ میں (شروع) کا لفظ بڑھایا ہے۔ اب یہ بحث باقی رہ جاتی ہے کہ آیا یہ آیت سورۃ فاتحہ کا جز ہے یا نہیں۔ اور اس کی اہمیت یہ ہے کہ آیا جہری نمازوں میں امام کو اس کی قراءت بلند آواز سے کرنی چاہئے یا خفی آواز سے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورت کے ختم ہونے کو نہیں پہچانتے تھے جب تک بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نازل نہ ہوتی (ابوداؤد۔ کتاب الصلوۃ۔ باب ماجاء من جھر بھا) جس کا مطلب یہ ہوا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورتوں کی تعداد کے برابر (ماسوائے سورۃ التوبہ) یعنی ١١٣ بار نازل ہوئی۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ آپ پر ایک غنودگی سی طاری ہوئی۔ پھر آپ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا۔ ہم نے پوچھا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں؟ فرمایا : مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ چنانچہ آپ نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھ کر ﴿ اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ ﴾ پوری سورت پڑھی۔ (مسلم : کتاب الصلوۃ، باب حجۃ من قال البسملۃ آیۃ من اول کل سورۃ سواء براء ۃ) امام مسلم اس حدیث کو جس باب کے تحت لائے ہیں اس کے عنوان کا ترجمہ یہ ہے ’’سورۃ توبہ کے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کو ہر سورت کا جز کہنے والوں کی دلیل‘‘ اس دلیل کی رو سے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم صرف سورۃ فاتحہ کا ہی جز نہیں بلکہ ہر سورت کا جز قرار پاتی ہے۔ نیز یہ آیت سورۃ نمل کی ایک مستقل آیت بھی ہے۔ (٢٧: ٣٠) علاوہ ازیں قرآن کی تصریح کے مطابق سورۃ فاتحہ کی سات آیات ہیں۔ اور یہ سات آیات تب ہی بنتی ہیں جب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کو سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت شمار کیا جائے۔ یہ سب وجوہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس آیت کی قراءت جہری ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں متضاد روایات ملتی ہیں سب سے زیادہ مشہور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث ہے جسے بخاری، مسلم اور نسائی وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ﴿اَلْحَمْدُ اللہ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ﴾ سے نماز شروع کیا کرتے تھے اور مسلم میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ : ﴿ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم﴾ نہ قراءت کی ابتدا میں پڑھتے تھے اور نہ آخر میں‘‘ اب یہ تو واضح ہے کہ مسلم میں مروی جملہ میں فی نفسہ مبالغہ میں زیادتی ہے ورنہ سورۃ فاتحہ کے آخر میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ہے کب؟ اور جو لوگ بسم اللہ بالجہر پڑھنے کے قائل ہیں وہ اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ آپ سورۃ فاتحہ کے بعد جو سورۃ پڑھتے تھے اس کی ابتدا میں بھی بسم اللہ بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے۔ اب اس کے برعکس نسائی کی درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : نعیم مجمر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھی۔ پھر ام القرآن پڑھی تاآنکہ وہ ﴿وَلاَالضَّالِیْنَ﴾ تک پہنچے تو آمین کہا۔ پھر جب بھی سجدہ کرتے یا بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب سلام پھیرتے تو کہتے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تم سب سے زیادہ میری نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہے' (نسائی۔ کتاب الصلوۃ۔ باب قراءۃ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) صاحب سبل السلام کہتے ہیں کہ یہ سب سے زیادہ صحیح حدیث ہے اور یہ اصل کی تائید کرتی ہے جو یہ ہے کہ قراءت میں جو حکم فاتحہ کا ہے وہی بسملہ کا ہے۔ خواہ یہ جہراً ہو یا سراً ہو۔ کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کہ ’’میری نماز تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہے‘‘ سے واضح ہے کہ آپ بسملہ کی قراءت فرماتے تھے۔ اگرچہ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے اکثر افعال و اقوال سے ہو مگر یہ ظاہر کے خلاف ہے اور کسی صحابی سے یہ بعید ہے کہ اس نے اپنی نماز میں کوئی ایسا نیا کام کیا ہو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کیا ہو۔ (سبل السلام مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ۔ شیش محل روڈ لاہور۔ الجزء الاول ص ١٧٣) نیز صاحب سبل السلام کہتے ہیں کہ : ’’اس مسئلہ میں علماء نے لمبی چوڑی بحث کی ہے اور بعض نامور شخصیات نے کتابیں بھی تالیف کی ہیں۔ اور یہ وضاحت کی ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی مندرجہ بالا حدیث مضطرب ہے۔ ابن عبدالبر "الاستذکار" میں کہتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی تمام روایات کی تحقیق کا ماحصل یہ ہے کہ اس اضطراب کی وجہ سے کسی بھی فقیہ کے لیے اس سے حجت قائم نہیں ہوتی، نہ اس کے لیے جو بسملہ کی قراءت کرتے ہیں اور نہ ان کے لیے جو نہیں کرتے۔ اس کے متعلق سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ ’’میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور بھول جاتا ہوں، لہٰذا اس میں کوئی حجت نہیں‘‘ (ایضاً، ص ١٧٢) بعض علماء نہ اس آیت کی جہری قراءت کے قائل ہیں اور نہ ہی اس آیت کو سورۃ فاتحہ کا جز قرار دیتے ہیں اور سات آیات کی تعداد پورا کرنے کے لیے ﴿ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِم﴾ کے آگے ٥ کا ہندسہ لکھ دیتے ہیں۔ جو کو فیوں کے نزدیک آیت کی علامت ہے لیکن یہ متفق علیہ آیت نہیں ہوتی۔ پھر لطف یہ کہ اس ٥ پر لا بھی لکھ دیا گیا ہے۔ یعنی یہاں وقف ممنوع ہے اور یہ تکلف صرف اس لیے کیا گیا کہ بسم اللہ کو نہ فاتحہ کا جزء سمجھا جائے اور نہ اسے جہری نمازوں میں بلند آواز سے پڑھا جائے۔ مجمع ملک فہد نے عرب ممالک کے لیے جو قرآن طبع کیا ہے ہمارے خیال میں اس میں معتدل رویہ اختیار کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں تو اس آیت کو سورۃ کا جزء قرار دیا گیا ہے اور اس پر ایک کا نمبر لکھا گیا ہے۔ ﴿اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ ﴾ کے آگے کچھ نہیں لکھا۔ البتہ باقی سورتوں میں اس آیت کو سورۃ کا جز قرار نہیں دیا گیا جس سے از خود یہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے کہ سورۃ فاتحہ سے پہلے یہ آیت جہری نمازوں میں جہر سے پڑھنا بہتر ہے اور دوسری سورتوں میں سر سے۔ [٣] رحمٰن اور رحیم دونوں مبالغہ کے صیغے اور اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام اور ر ح م سے مشتق ہیں۔ لیکن لفظ رحمان میں رحیم کی نسبت اتنا زیادہ مبالغہ ہے کہ رحمٰن کا لفظ دوسرے نمبر پر اللہ کے ذاتی نام کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کی صراحت قرآن کی بے شمار آیات میں مذکور ہے۔ مثلاً ﴿الرَّحْمَـٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآن﴾)  55۔1) ﴿ اَلرحمٰن عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی ﴾(5:20) ﴿ قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی وَلَا تَجْـہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا﴾(17 : 110)اس لحاظ سے اللہ کی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی سب صفات پائی جاسکتی ہیں سوائے رحمٰن کے۔ ایک انسان رحیم، رؤف، کریم وغیرہ سب کچھ ہوسکتا ہے مگر رحمٰن اللہ کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث صحیح میں مذکور ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ دو نام پسند ہیں ایک عبداللہ، دوسرا عبدالرحمٰن۔ (ترمذی : ابواب الادب، باب ماجاء ما یستحب من الاسماء) اکثر علماء نے رحمٰن اور رحیم کے فرق کو رحمت کی کیفیت اور کمیت کی کمی بیشی کی مختلف صورتوں سے واضح کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ اور ایک عام قول یہ ہے "رحمٰن فی الدنیا رحیم فی الاخرۃ "یعنی اللہ تعالیٰ دنیا میں رحمان ہے جو مسلمان، کافر، مشرک سب پر ایک جیسی رحمتیں نازل فرماتا ہے اور رحیم آخرت میں ہے۔ جو صرف ایمانداروں پر رحمتیں نازل فرمائے گا۔ اس کی ایک توجیہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ صفت رحمانیت کا تقاضا ایسی نعمتیں اور رحمتیں ہیں جو حیات کے وجود اور بقا کے لیے ضروری ہیں۔ اور اس میں صرف انسان ہی نہیں جملہ جاندار مخلوقات شامل ہیں۔ جیسے سورج، چاند، نور و ظلمت، ہوا، پانی اور زمین کی تخلیق جو زندگی کی جملہ ضروریات کی کفیل ہے نیز ماں کی مامتا اور فطری محبت کے تقاضے بھی اس میں شامل ہیں اور رحیم سے مراد وہ رحمت ہے کہ کسی مصیبت یا ضرورت کے وقت پہنچ کر سہارا دیتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب الفاتحة
2 [4] حمد اور شکر میں لغوی فرق :۔ حمد کا معنی تعریف بھی ہوسکتا ہے اور شکر بھی۔ تعریف (حمد) عام ہے اور شکر خاص۔ حمد کا تعلق قابل تعریف کارناموں سے ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان، شمس و قمر اور ستاروں کی حرکت غرض تمام کائنات کا اس قدر مربوط اور منظم نظام بنا دیا ہے جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس پر اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اور شکر کا تعلق ان خاص انعامات سے ہوتا ہے جو کسی خاص ذات سے متعلق ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا انسان کو احسن تقویم پر پیدا کرنا۔ کسی کو صحت اور رزق کی فراوانیوں سے مالا مال کرنا۔ ایسی نعمتوں کے اعتراف کو شکر کہا جاتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ہی ہر طرح کی حمد اور شکر کا مستحق ہوا۔ علاوہ ازیں اگر مخلوق میں سے کوئی شخص کوئی قابل تعریف کارنامہ سر انجام دے اور اس پر اس کی تعریف کی جائے تو وہ بھی حقیقتاً اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہوگی۔ کیونکہ قابل تعریف کام کرنے کی صلاحیت اور توفیق بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ گویا ہر طرح کی تعریف کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی قرار پاتا ہے۔ [٥] اللہ دراصل الا لٰہ ہے، معبود حقیقی۔ الٰہ کا ہمزہ حذف کر کے اس پر تعریف کا الف لام داخل کر کے اللہ کا لفظ بنا ہے اور یہی توجیہ سب سے بہتر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت میں ہر طرح کے نفع و نقصان کا مالک صرف اور صرف اللہ ہے اور کائنات کا خالق، پروردگار اور لا محدود اقتدار و اختیار ہونے کی وجہ سے صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ یعنی وہ تمام صفات جو الٰہ کے مفہوم میں پائی جانی چاہئیں وہ صرف اللہ میں ہی پائی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا دوسرے سب الٰہ باطل اور ناقابل اعتبار ہیں اور اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ رب کا لفظ تین معنوں میں آتا ہے : (1) کسی چیز کی درجہ بدرجہ تربیت اور خبرگیری رکھتے ہوئے اسے حد کمال تک پہنچانے والا یعنی پروردگار حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ (2) کبھی یہ لفظ صرف تربیت (پرورش) کرنے والے مالک کے معنوں میں آتا ہے۔ جیسے سورۃ یوسف میں آتا ہے ﴿أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا ﴾(١٢: ٤١) (3) اور کبھی صرف مالک کے معنوں میں جیسے حدیث میں ہے کہ کسی صحابی نے اپنی شہادت کے وقت فرمایا :” فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَةِ“ (کعبہ کے مالک کی قسم! میں کامیاب ہوگیا) [٦] عالمین سے مراد اور اللہ کی تعریف کی وجہ :۔ العالمین : لغوی لحاظ سے عالم ہر وہ چیز ہے جس کا علم حواس خمسہ سے ہوسکتا ہو۔ اس لحاظ سے تمام مخلوقات ایک عالم ہے مگر اس آیت میں عالم سے مراد جنس ہے (عالم غیب، عالم شہادۃ، عالم انس، عالم جن، عالم ملائکہ وغیرہ وغیرہ) بے شمار عالم ہیں۔ پھر زمانہ کے لحاظ سے ہر دور کے لوگ ایک عالم ہیں۔ دور بدلنے پر عالم بھی بدل جاتا ہے۔ اس طرح عالم کی سینکڑوں اور ہزاروں اقسام بن جاتی ہیں اور ان تمام عالموں کی تربیت اور پرورش کرنے والی صرف اللہ ہی کی بلند و برتر ذات ہے۔ اس آیت کے پہلے حصہ میں یہ مذکور ہوا کہ ہر طرح کی تعریف صرف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے اور اس حصہ میں اسکی وجہ بتائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی تعریف کا اس لیے مستحق ہے کہ وہ تمام جہانوں کا تربیت کرنے والا ہے۔ نیز یہ آیت اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کے آداب میں سے پہلا ادب ہے۔ حسن طلب کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ جب کسی سے کچھ مانگنا ہو تو اس کی ابتدا اس کے محاسن کے تذکرہ سے کی جاتی ہے۔ الفاتحة
3 [٧] رحمٰن اور رحیم کا فرق پہلی آیت بسم اللہ الرحمٰن الرحیم میں بتایا جاچکا ہے۔ ان الفاظ کو یہاں دوبارہ لانے کا مقصد صرف اس بات کا اظہار ہے کہ تمام جہانوں کی ربوبیت عامہ کے تقاضے صرف اسی صورت میں پورے ہوسکتے ہیں جب ان عالمین کا پروردگار رحمٰن بھی ہو اور رحیم بھی ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ رحمٰن اور رحیم نہ ہوتا تو یہ دنیا کبھی آباد نہ رہ سکتی بلکہ کب کی فنا ہوچکی ہوتی۔ الفاتحة
4 [٨] دین کے مختلف معانی :۔ دین کا لفظ قرآن میں مندرجہ ذیل چار معنوں میں استعمال ہوا ہے : (1) اللہ تعالیٰ کی مکمل حاکمیت اور اسی کا دوسرا پہلو یا لازمی نتیجہ ہے۔ (2) انسان کی مکمل عبودیت جیسے ارشاد باری ہے : ﴿فَاعْبُدِ اللَّـهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ ﴾(۳۹: ۲۔۳) ’’لہٰذا خالصتاً اسی کی عبادت کرو۔ سن لو مکمل حاکمیت خالصتاً اللہ ہی کے لئے ہے‘‘ ان دونوں آیات میں دین کا لفظ مذکورہ بالا دونوں معنی دے رہا ہے۔ (3) قانون سزا و جزاء یا تعزیرات جیسے ارشاد باری ہے : ﴿مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ ﴾(۷۶:۱۲)”اس (سیدنا یوسف علیہ السلام) کی شان کے لائق نہ تھا۔ ممکن نہ تھا کہ وہ بادشاہ کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو رکھ سکتا“ (4) قانون سزا و جزاء کو نافذ کرنے کی قوت، جیسے ارشاد باری ہے : ﴿ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴾ (56: 86۔87)”پھر اگر تم سچے ہو اور قانون کی گرفت سے آزاد ہو تو (جب جان لبوں پر آجاتی ہے) اسے لوٹا کیوں نہیں لیتے؟“ اور اس آیت میں دین کا لفظ مندرجہ بالا چاروں معنی دے رہا ہے۔ [٩] پہلی آیات میں اللہ کی معرفت کا ذکر تھا۔ اس ...... آیت میں روز آخرت پر ایمان اور روز آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عملی اقتدار و اختیار کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس کے اچھے اعمال کا اچھا اور برے اعمال کا برا بدلہ دے گا۔ وہ ایسا بدلہ دینے کی اور اپنے اس فیصلہ کو نافذ کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ اعمال کے بدلہ کے سلسلہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے بہت سے ضابطے اور قوانین ہیں۔ جن کا ذکر قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر مذکور ہے۔ مثلاً یہ کہ نیکیوں کا بدلہ اللہ جسے چاہے گا بہت زیادہ بھی دے سکتا ہے۔ مگر برائی کا بدلہ اتنا ہی دے گا جتنی اس نے برائی کی ہوگی۔ یا یہ کہ ایک کے جرم کی سزا دوسرے کو نہیں دی جائے گی۔ یا یہ کہ کوئی مجرم کسی صورت میں سزا سے بچ نہیں سکے گا۔ وغیرہ وغیرہ اور ان سب چیزوں کا ذکر قرآن میں بہت سے مقامات پر آیا ہے۔ الفاتحة
5 [١٠] عبادت : یہ لفظ تین معنوں میں آتا ہے۔ (1) پرستش (2) اطاعت و فرمانبرداری (3) ہمہ وقت کی بندگی اور غلامی۔ یہاں یہ لفظ اپنے تینوں معنوں میں مستعمل ہے۔ عبادت کا مفہوم :۔ عبادت تین قسم کی ہے جیسے ہم تشہد میں اس کا اقرار کرتے ہیں۔ (التحیات للہ والصلوات والطیبات) ”یعنی ہماری تمام قلبی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں“قلبی عبادات میں توکل، خوف و رجاء، محبت، تذلل اور خشوع و خضوع شامل ہیں۔ یعنی صرف اللہ پر بھروسہ کیا جائے، اسی سے امید وابستہ کی جائے۔ اسی سے ڈرا جائے اس سے محبت باقی سب چیزوں سے بڑھ کر ہو اور اس کے سامنے انتہائی عاجزی اور خشوع و خضوع کا اظہار کیا جائے۔ بدنی عبادات سے مراد فرض نماز اور نوافل نمازیں، روزہ اور حج اور دوسرے احکام الٰہی کی عملاً پیروی کرنا ہے اور مالی عبادات سے مراد زکوٰۃ، صدقات و خیرات، قربانی اور نذر و نیاز وغیرہ ہیں۔ اگر اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ان کاموں میں سے کوئی بھی کام بجا لایا جائے۔ یا اللہ کے سوا کسی اور کو بھی اس میں شریک کیا جائے تو یہ عبادت کی نفی اور اللہ کے ساتھ شرک کرنا ٹھہرے گا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ شرک کا گناہ کبھی معاف نہیں کرے گا۔ [١١] استعانت کا مفہوم :۔ استعانت : (مدد چاہنا) انسان دنیا میں جو کام بھی کرتا ہے وہ یا تو کسی فائدہ کے حصول کے لئے ہوتا ہے یا کسی تکلیف یا نقصان کو دور کرنے کی خاطر۔ ان کاموں کو عربی زبان میں جلب منفعت اور دفع مضرت کہتے ہیں۔ اب انہی کاموں میں سے کسی کے لئے اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کو یا اللہ کے سوا کسی بھی دوسری ہستی کو پکارے یا اس سے مدد طلب کرے جو اس کے پاس موجود نہ ہو (یعنی ظاہری اسباب مفقود ہوں) تو یہ صریح شرک ہے اس کی مثال درج ذیل شعر میں ملاحظہ فرمائیے : امداد کن امداد کن، از بند غم آزاد کن دردین و دنیا شاد کن یا شیخ عبدالقادرا !! اب اگر کوئی شخص یہ شعر یا وظیفہ اپنی جگہ پر پڑھے یا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی قبر پر جاکر پڑھے تو یہ شرک ہوگا۔ کیونکہ اس میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ یہ فوت شدہ بزرگ میری پکار کو سن بھی رہے ہیں پھر میری مشکل کشائی اور حاجت براری کا اختیار یا تصرف بھی رکھتے ہیں۔ دعا یا پکار کو اللہ تعالیٰ نے عبادت ہی قرار دیا ہے (دیکھئے (٤٠: ٦٠) اور احادیث صحیحہ میں سے ایک کے الفاظ یہ ہیں۔” الدُّعَاءُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ “(دعا ہی اصل عبادت ہے) اور دوسری یہ کہ” الدُّعَاءُ مُخُّ العِبَادَۃِ “(دعا ہی عبادت کا مغز ہے) ہاں اگر کسی حاضر شخص سے ایسے کام میں مدد چاہی جائے جو اس کے اختیار میں ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ بلکہ ایسی امداد و تعاون کے بغیر تو دنیا میں کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا۔ اور جو کام اللہ کے سوا کسی دوسرے کے بس میں نہیں۔ مثلاً اولاد عطا کرنا، رزق میں کمی بیشی کرنا، گناہ بخشنا، عذاب سے نجات دینا وغیرہ وغیرہ ایسے کاموں کے لئے کسی زندہ موجود شخص سے بھی مدد چاہنا شرک ہوگا۔ مگر کسی خطرہ مثلاً سانپ یا دشمن سے بچنے کے لئے مدد حاصل کرنا اور تعاون چاہنا درست ہوگا۔ اس آیت میں ﴿نَعْبُدُ﴾ اور ﴿نَسْتَعِیْنُ﴾ سے پہلے ﴿اِیَّاکَ﴾کا لفظ لایا گیا ہے جو حصر کا بھی فائدہ دے رہا ہے اور تاکید کا بھی اور اس کا معنی یوں بنتا ہے کہ ہم صرف اور صرف تیری ہی عبادت کرتے اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ تیرے سوا نہ کسی کی عبادت کرتے ہیں یا کریں گے اور نہ ہی کسی سے مدد مانگتے ہیں اور نہ مانگیں گے۔ گویا شرک کی جملہ اقسام کے استیصال کے لیے یہ اکیلی آیت ہی کافی ہے۔ نیز اس آیت میں جمع متکلم کے صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ واحد متکلم کے نہیں ہوئے۔ کیونکہ اسلام نماز باجماعت کی بھی تاکید کرتا ہے اور معاشرتی اجتماعی زندگی اور نظم و ضبط کی بھی۔ علاوہ ازیں﴿نَعْبُدُ﴾کے فوراً بعد ﴿نَسْتَعِیْنُ﴾کا لفظ لایا گیا تاکہ انسان کو اپنی عبادت پر غرور نہ پیدا ہوجائے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ اسے عبادت کی توفیق بھی اللہ ہی کی مدد کی بنا پر میسر آئی ہے۔ جبریہ اور قدریہ دونوں فرقوں کا ردّ:۔ دنیا میں عموماً تین قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو اپنے آپ کو تقدیر کے ہاتھوں میں محض ایک کھلونا سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگ جبریہ کہلاتے ہیں دوسرے وہ جو اپنے آپ کو مختار مطلق سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انسان جو کچھ چاہے کرسکتا ہے ایسے لوگ قدریہ کہلاتے ہیں۔ معتزلین بھی اسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تیسرے وہ جو نہ اپنے آپ کو مختار مطلق سمجھتے ہیں اور نہ مجبور محض اور یہی لوگ دراصل حق پر ہیں۔ اس چھوٹی سی چار الفاظ کی آیت میں جبریہ اور قدریہ دونوں کا رد موجود ہے۔ وہ یوں کہ جب ہم نَعْبُدُ کہتے ہیں یعنی ہم عبادت کرتے ہیں تو اختیار ثابت ہوگیا اور اس میں جبریہ کا رد ہے۔ اور جب ہم مدد چاہتے ہیں تو اس سے بندہ کا محتاج ہونا ثابت ہوا یعنی وہ مختار مطلق نہیں اور اس میں قدریہ کا رد موجود ہے۔ [١٢] علاوہ ازیں چھٹی آیت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ سوال کرنے یا دعا مانگنے یا مدد چاہنے سے پہلے وسیلہ ضروری ہے اور اس آیت میں وہ وسیلہ عبادت ہے۔ جس کا ذکر پہلے آگیا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث اس مضمون میں پوری وضاحت کر رہی ہے: فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز میں دعا کرتے سنا، جس نے نہ تو اللہ کی حمد بیان کی تھی اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے جلدی کی۔ پھر اسے بلایا اور فرمایا : تم میں سے کوئی شخص بھی جب دعا کرے تو اپنے پروردگار کی تعریف اور ثنا سے شروع کرے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے۔ پھر اس کے بعد جو چاہے دعا کرے۔ (احمد۔ ترمذی۔ نسائی۔ ابو داؤد۔ بحوالہ سبل السلام ج ١ ص ١٩٢ باب صفۃ الصلٰوۃ حدیث نمبر ٤٨) الفاتحة
6 [١٣] سیدھی راہ کون سی ہے؟:۔ صراط مستقیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ وہ سیدھی راہ ہے جو بندے کو اللہ تک پہنچانے والی ہے۔ اور اس میں کوئی پیچ و خم یا افراط و تفریط نہیں اور یہ ایک ہی ہوسکتی ہے جبکہ باطل راہیں لاتعداد ہوتی ہیں۔ اسی راہ کو اللہ تعالیٰ نے حبل اللہ بھی فرمایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے” مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ “سے تعبیر فرمایا ہے اور صراط مستقیم کی دوسری تعبیر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حق کا وہ راستہ جو سیدنا آدم سے لے کر تاقیامت ایک ہی رہا اور رہے گا اور وہی راستہ توحید ہر نبی کو وحی کیا گیا ہے۔ قرآن کریم ایسی آیات سے بھرا پڑا ہے جن میں لوگوں کو اللہ سے دعا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اور پہلی دعا ﴿ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَ﴾سورۃ فاتحہ میں ہی آگئی ہے پھر بعض آیات میں دعا کے قبول ہونے کا ذکر بھی موجود ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں کا ہی ایک طبقہ، جس پر عقل پرستی اور اعتزال کا رنگ غالب ہے اور ہر معجزہ یا خرق عادت بات کی تاویل کرنے کا عادی ہے۔۔ دعا کی قبولیت کا منکر ہے کیونکہ دعا کی قبولیت کا تعلق بھی غیر مرئی اسباب سے ہے۔ لہٰذا یہ حضرات اس قسم کی آیات میں عجیب و غریب قسم کی تاویلات کا سہارا لیتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں اس طبقہ کے سرخیل سرسید احمد خان (١٨١٧ء تا ١٨٩٨ ء) تھے۔ آپ نے مغرب میں ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور مغربی افکار و نظریات سے شدید متاثر تھے اور مغرب صرف اس بات کو ماننے پر آمادہ ہوسکتا تھا جو عقل و تجربہ کی کسوٹی پر پرکھی جاسکتی ہو۔ آپ نے مسلمانوں میں مغربی افکار اور عقل پرستی کو رائج اور راسخ کرنے کے لیے کئی قسم کے اقدامات فرمائے جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ نے تفسیر القرآن لکھ ڈالی۔ اس تفسیر میں آپ دعا کے متعلق لکھتے ہیں کہ : دعا کے متعلق سرسید احمد خان کا نظریہ :۔”دعا جب دل سے کی جاتی ہے بیشتر مستجاب ہوتی ہے مگر لوگ دعا کے مقصد اور استجابت کا مطلب سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس مقصد کے لئے ہم دعا کرتے ہیں وہ مطلب حاصل ہوجائے گا اور استجابت کے معنی اس مطلب کا حاصل ہوجانا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ غلطی ہے حصول مطلب کے جو اسباب اللہ نے مقرر کئے ہیں وہ مطلب تو انہی اسباب کے جمع ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔ مگر دعا نہ تو اس مطلب کے اسباب میں سے ہے اور نہ اس مطلب کے اسباب کو جمع کرنے والی ہے۔ بلکہ وہ اس قوت کو تحریک کرنے والی ہے جس سے اس رنج و مصیبت اور اضطراب کو جو مطلب حاصل نہ ہونے سے ہوتا ہے تسکین دینے والی ہے“(تفسیر القرآن، ج ١ ص ١٨) خان صاحب کے مندرجہ بالا اقتباس سے دو سوال ذہن میں ابھرتے ہیں : (1) اگر ظاہر میں کوئی سبب نظر نہ آرہا ہو تو آیا اللہ تعالیٰ کوئی سبب پیدا کرنے پر قادر ہے یا نہیں۔ بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے یا نہیں؟ (2) کیا ظاہری اسباب کے علاوہ کچھ باطنی اور غیر مرئی اسباب بھی ممکن ہیں اور دعا کی بنا پر اللہ تعالیٰ بندہ کے حصول مطلب کے لئے کوئی ظاہری یا باطنی سبب بناسکتا ہے یا نہیں؟ اگر تو ان سوالات کا جواب نفی میں ہو تو فی الواقع سرسید صاحب کے نظریات کے مطابق دعا کا کچھ اثر نہیں ہوتا اور نہ ہی ہونا چاہئے۔ اس صورت میں دعا کی استجابت کا مطلب صرف وہی رہ جاتا ہے۔ جو سرسید صاحب فرما رہے ہیں کہ دعا صرف قلبی واردات اور سکون سے تعلق رکھتی ہے۔ ظاہر میں ہوتا ہواتا کچھ بھی نہیں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن سرسید صاحب کے اس نظریہ کی پرزور تردید کرتا ہے۔ مثلاً درج ذیل آیات ملاحظہ فرمائیے : ﴿  فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ﴾ (54: 10۔12) ”تو نوح علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں کمزور ہوں۔ اب تو ان سے بدلہ لے۔ پس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دہانے کھول دیئے اور زمین سے چشمے جاری کردیئے۔ تو پانی اس کام کے لئے جو مقدر ہوچکا تھا جمع ہوگیا“ اب دیکھئے کہ کیا دعا کے بعد آسمان سے بے تحاشا پانی برسنا اور زمین کے چشمے مل کر طوفان کی شکل بننا اور کشتی میں نوح کو سوار کرکے کرب عظیم سے بچا لینا، کیا یہ سب قلبی واردات ہیں یا یہ کام فی الواقع ظہور پذیر ہوئے تھے؟ پھر ایک مقام پر خان صاحب فرماتے ہیں کہ ’’بسا اوقات دعا کی جاتی ہے مگر حاجت براری نہیں ہوتی پس معلوم ہوا کہ دعا موجب حصول مقصد نہیں ہے ورنہ ایسا نہ ہوتا“ (تہذیب الاخلاق، ماہ ربیع الاول، ١٣١٣ ھ) اس اقتباس میں لفظ ”بسا اوقات“ سے ظاہر ہے کہ دعا کبھی کبھار حصول مقصد کا سبب بن جاتی ہے۔ بس یہی ہمارا مقصد ہے، رہا یہ معاملہ کہ بسا اوقات قبول نہیں ہوتی تو دعا کی قبولیت کے کئی موانع ہیں جن کی تفصیل یہاں خارج از بحث ہے۔ نیز ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ دعا کی طرح دوا بھی بسا اوقات مرض کا علاج نہیں بن سکتی۔ حالانکہ وہ ایک ظاہری سبب ہے تاہم کبھی کبھار حصول مقصد کا سبب بن بھی جاتی ہے۔ دوا کا استعمال جسمانی تکلیف کو رفع کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور جب تک تکلیف رفع نہ ہو مریض کو کبھی تسکین نہیں ہوسکتی اور دعا کا دائرہ اثر دوا سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ دعا دفع مضرت اور جلب منفعت دونوں کے لیے کی جاتی ہے۔ نیز اس کا استعمال مادی اور روحانی یا ذہنی دونوں طرح کے عوارضات کے لیے ہوتا ہے پھر جب تک دعا کے اثر سے ایسے عوارضات دور نہ ہوں یا نئے اسباب مہیا نہ ہوں دل کو تسکین کیسے سکتی ہے؟ الفاتحة
7 [١٤] انعام والے اور گمراہ لوگ کون ہیں؟:۔ قرآن کی تصریح کے مطابق ان سے مراد انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں۔ (٤: ٦٩) وہ لوگ نہیں جنہیں مال و دولت یا حشمت و جاہ کی فراوانیاں حاصل ہیں۔ اور آپ کے ارشاد کے مطابق ﴿ مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ﴾ سے مراد تو یہود ہیں جو گناہ کے کاموں پر دلیر ہوگئے تھے اور ان پر اللہ کا عذاب اور پھٹکار نازل ہوئی اور ضالِّیْن سے مراد عیسائی حضرات ہیں جو فلسفیانہ موشگافیوں میں پھنس کر تثلیث اور گمراہی کا شکار ہوئے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (مدینہ) آیا۔ وہ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ کہنے لگے کہ یہ عدی بن حاتم ہے جو بغیر کسی کی امان یا تحریر کے آیا ہے۔ چنانچہ مجھے پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور اس سے پہلے آپ صحابہ رضی اللہ عنہم کو خبر دے چکے تھے کہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عدی کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دے گا۔ پھر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور میں آپ کے ساتھ تھا (راہ میں) ایک عورت اور اس کا بچہ ملے۔ وہ آپ سے کہنے لگے : ’’ہمیں آپ سے کچھ کام ہے‘‘ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور ان کا کام پورا کردیا۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر تشریف لائے۔ ایک لڑکی نے آپ کے لئے بچھونا بچھایا۔ آپ اس پر بیٹھ گئے اور میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر مجھے کہا : ’’وہ کون سی بات ہے جو تمہیں لا الٰہ الا اللہ کہنے سے باز رکھتی ہے، کیا تم اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ جانتے ہو؟“میں نے کہا ”نہیں“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر باتیں کیں پھر پوچھا : ”تمہیں اللہ اکبر کہنے سے کون سی چیز دور رکھتی ہے۔ کیا اللہ سے کسی بڑی چیز کو تم جانتے ہو؟‘‘ میں نے کہا ’’نہیں‘‘ پھر آپ نے فرمایا : ’’یہود پر تو اللہ تعالیٰ کا غصہ ہے اور نصاریٰ گمراہ ہیں‘‘ میں نے کہا کہ میں تو یکطرفہ مسلمان ہوتا ہوں۔ پھر میں نے آپ کے چہرہ پر فرحت و انبساط دیکھی۔ پھر آپ نے میرے بارے میں حکم دیا اور میں ایک انصاری کے ہاں مقیم ہوا۔ اب میں روزانہ صبح و شام آپ کے پاس حاضر ہوا کرتا۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر۔ سورۃ فاتحہ) دور نبوی میں تو واقعی یہی فرقے مغضوب علیھم اور ضالّین تھے۔ مگر آج مسلمانوں کے اکثر فرقے ان میں شامل ہوچکے ہیں اور صراط مستقیم پر تو مسلمانوں کا صرف وہی فرقہ ہے جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا ”مَا اَنَاعَلَیْہِ وَ اَصْحَابِیْ“ (ترمذی، کتاب الایمان۔ باب افتراق ھذہ الامۃ) [١٥] آمین بالجہر کا ثبوت :۔ (1) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جب امام وَلاَالضَّالِیْنَ کہے تو تم آمین کہو۔ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوگیا۔ اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘(بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ فاتحہ) نیز کتاب الاذان والجماعۃ۔ باب فضل التامین) (2) نیز عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ آمین دعا ہے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اور ان کے پیچھے مقتدیوں نے اس زور سے آمین کہی کہ مسجد گونج اٹھی۔ (بخاری۔ کتاب الاذان والجماعہ۔ باب جھر الامام بالتامین) (3) وائل بن حجر رضی اللہ عنہ جو عام الوفود یعنی ١٠ھ میں مدینہ تشریف لائے، فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جب آپ نے نماز میں ﴿غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ ﴾ کہا تو اپنی آواز کو خوب لمبا کرکے آمین کہی۔ (ترمذی۔ ابو اب الصلٰوۃ۔ باب ماجاء فی التامین) الفاتحة
0 [١] فضائل سورۃ البقرۃ :۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس گھر میں سورۃ البقرہ پڑھی جائے، شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین و قصرھا، باب استحباب الصلوۃ النافلۃ فی بیتہ۔۔ الخ) نیز آپ نے فرمایا : ’’الزھراوین (دو جگمگانے والی سورتیں یعنی البقرہ اور آل عمران) پڑھا کرو۔ قیامت کے دن وہ اس حال میں آئیں گی جیسے وہ دو بادل یا دو سائبان یا پرندوں کے دو جھنڈ ہیں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے (مغفرت کے لیے) جھگڑا کریں گی (لہٰذا) سورۃ البقرہ پڑھا کرو۔ اسے حاصل کرنا برکت اور چھوڑ دینا حسرت ہے اور باطل قوتیں (جادو وغیرہ) اس کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔“(مسلم، کتاب فضائل القرآن و مایتعلق بہ باب فضل قراءۃ القرآن و سورۃ البقرۃ) زمانہ نزول اور شان نزول :۔ مدنی سورتوں میں سب سے پہلی سورت ہے۔ مکہ میں چھیاسی (٨٦) سورتیں نازل ہوئیں اور نزولی ترتیب کے لحاظ سے اس کا نمبر ٨٧ ہے، اگرچہ اس سورۃ کا بیشتر حصہ ابتدائی مدنی دور میں نازل ہوا تاہم اس کی کچھ آیات بہت مابعد کے دور میں نازل ہوئیں مثلاً حرمت سود کی آیات جو ١٠ھ کے اواخر میں نازل ہوئیں۔ سورۃ بقرہ کے نزول کا پس منظر :۔ مدینہ پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا کام جو کیا وہ مسجد نبوی کی تعمیر تھی تاکہ تمام مسلمان دن میں پانچ دفعہ اکٹھے ہو کر نماز ادا کریں اور اپنے مسائل پر غور کرسکیں۔ دوسرا اہم مسئلہ مہاجرین کی آباد کاری اور ان کے معاش کا تھا جس کے لیے آپ نے مہاجرین و انصار میں سلسلہ مواخات قائم فرمایا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ تیسرا اہم مسئلہ مدینہ کی ایک چھوٹی سی نوخیز اسلامی ریاست کے دفاع کا تھا۔ کیونکہ اب مشرکین مکہ کے علاوہ دوسرے مشرک قبائل بھی مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلے ہوئے تھے۔ خود مدینہ میں یہود مسلمانوں کے اس لیے دشمن بن گئے تھے کہ آنے والا نبی سیدنا اسحق علیہ السلام کی اولاد کے بجائے سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد سے کیوں مبعوث ہوا ہے۔ یہود کے تین قبائل بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ مدینہ میں آباد تھے جو آپس میں پھٹے ہوئے تھے اور مدینہ کے مشرکوں کے دو مشہور قبائل اوس اور خزرج کے حلیف بن کر انہیں لڑاتے رہتے تھے۔ آپ نے سب سے پہلے یہودیوں کو ہی ایک مشترکہ مفاد کی طرف دعوت دی اور وہ مفاد تھا مدینہ کا دفاع۔ جس کی اہم دفعات یہ تھیں : (1) اگر مدینہ پر باہر سے حملہ ہوا تو مسلمان اور یہود مل کر دفاع کریں گے۔ (2) مسلمان اور یہود دونوں حصہ رسدی اخراجات برداشت کریں گے۔ (3) مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان کسی طرح کے بھی جھگڑے کی صورت میں حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہوگی۔ یہود کے لیے بظاہر ایسی شرائط کو تسلیم کرلینا ناممکن نظر آ رہا تھا۔ کیونکہ وہ مدینہ کی معیشت اور سیاست پر پوری طرح چھائے ہوئے تھے، مگر یہ اللہ کی خاص مہربانی اور ان کی باہمی نااتفاقی کا نتیجہ تھا کہ یہودی قبائل باری باری اور مختلف اوقات میں اس معاہدہ کو تسلیم کرتے چلے گئے۔ اس طرح جب یہ ریاست اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئی تو مسلمانوں اور کافروں کے علاوہ ایک تیسرا مفاد پرستوں کا طبقہ بھی معرض وجود میں آ گیا۔ جنہیں منافقین کا نام دیا گیا۔ اس سورۃ کی ابتدا میں انہیں تین گروہوں (مسلمان، کافر اور منافقین) کا ذکر ہوا ہے اور یہی اس کا زمانہ نزول ہے۔ حروف مقطعات کی بحث :۔ قرآن کی ٢٩ سورتوں کی ابتدا میں ایسے حروف استعمال ہوئے ہیں، ان میں سے مندرجہ ذیل تین یک حرفی ہیں : (١) سورۃ ص والقرآن ٣٨ (٢) سورۃ ق والقرآن ٥٠ (٣) سورۃ ن والقلم ٦٨ اور ٩ دو حرفی ہیں جن میں سے (٤) المومن ٤٠، حٰم تنزیل الکتاب (٥،) سورۃ حم السجدۃ ٤١ حٰم تنزیل من (٦) الزخرف ٤٣ حٰم والکتاب المبین (٧) الدخان ٤٤ حٰم والکتاب المبین (٨) الجاثیہ ٤٥ حٰم تنزیل الکتاب (٩) الاحقاف ٤٦ حٰم تنزیل الکتاب (١٠) طہ ٢٠ طہ ما انزلنا (١١) النمل ٢٧ طٰس تلک آیت (١٢) یٰس ٢٦ یٰس والقرآن اور ١٣ سہ حرفی ہیں جو یہ ہیں : (١٣) یونس ١٠ الٰرٰ تلک آیات (١٤) ھود ١١ الرٰ کتاب احکمت (١٥) یوسف ١٢ الرٰ تلک آیات ١٠١، ابراہیم ١٤، الرٰ کتاب انزلنا ١٧، حجر ١٥، الم تلک آیات (١٨) البقرۃ ٢ الم ذلک الکتاب (١٩) آل عمران ٣ الم اللہ لا الہ (٢٠) عنکبوت ٢٩ الم احسب الناس (٢١) الروم ٣٠ الم غلبت الروم (٢٢) لقمان ٣١ الم تلک آیات (٢٣) السجدہ ٣٢ الم تنزیل الکتاب (٢٤) شعراء ٢٦ طٰسم تلک آیات (٢٥) القصص ٢٨ طٰسم تلک آیات اور مندرجہ ذیل ٢ چار حرفی ہیں : (٢٦) الاعراف ٧ المص کتاب انزلنہ (٢٧) الرعد ١٣ المٰر تلک آیات اور مندرجہ ذیل ٢ پانچ حرفی ہیں : (٢٨) مریم ١٩ کھٰیٰعص ذکر رحمۃ (٢٩) الشوریٰ ٤٢ حٰم عسق کذلک یوحی الیک۔ مجموعہ احادیث میں سے کوئی بھی ایسی متصل اور صحیح حدیث مذکور نہیں جو ان حروف کے معانی و مفہوم پر روشنی ڈالتی ہو۔ لہٰذا انہیں ﴿وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلَّا اللّٰہُ ﴾ کے زمرہ میں شامل کرنا ہی سب سے انسب ہے۔ ان کے متعلق جو اقوال ملتے ہیں وہ درج ذیل ہیں : 1۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ حروف اللہ تعالیٰ کے نام ہیں۔ مگر احادیث صحیحہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں اور جو نام ان میں مذکور ہیں ان میں ان حروف کا ذکر نہیں۔ 2۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کے ابتدائی حصے ہیں جن کو ملانے سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نہ کوئی نام بن جاتا ہے۔ جیسے الر اور حم اور ن کو ملانے سے الرحمٰن بن جاتا ہے۔ یہ توجیہ بھی کچھ درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ الرحمٰن میں بھی م اور ن کے درمیان ایک الف ہے جس کو لکھتے وقت تو کھڑی زبر سے کام چلا کر حذف کیا جا سکتا ہے مگر تلفظ میں تو حذف نہیں ہو سکتا۔ علاوہ ازیں یہ ایک لفظ تو بن گیا اب اگر مزید کوشش کی جائے تو شاید ایک آدھ لفظ اور بن جائے، سارے حروف کو اس انداز سے ترکیب دینا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے نام بن جائیں ناممکن سی بات معلوم ہوتی ہے۔ 3۔ ایک قول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ہیں، اور اس سلسلہ میں بالخصوص طٰہٰ اور یٰس کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ توجیہ اس لحاظ سے درست نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جو اپنے نام بتائے ہیں وہ یہ ہیں۔ محمد، احمد، ماحی (کفر کو مٹانے والا) حاشر اور عاقب۔ (بخاری، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ صف) نیز بخاری میں مذکور ہے کہ حبشی زبان میں طہ کے معنی ’’اے مرد!‘‘ہیں یا ایسا آدمی جس کی زبان سے کوئی حرف نہ نکل سکے، وہ رک رک کر یا اٹک اٹک کر بات کرے اور یہ بات اس کی زبان میں گرہ کی وجہ سے ہو اور یہ تو واضح ہے کہ رسول نعوذ باللہ ایسے نہیں تھے۔ 4۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ حروف قرآن کے نام ہیں، جبکہ قرآن نے اپنے نام خود ہی بتا دیئے ہیں جو یہ ہیں۔ الکتاب، کتاب مبین، قرآن، قرآن مجید، قرآن کریم، قرآن عظیم، فرقان، ذکر، تذکرہ، حدیث اور احسن الحدیث ان ناموں کی موجودگی میں ایسے ناموں کی ضرورت ہی کب رہ جاتی ہے، جن کی سمجھ ہی نہ آتی ہو۔ 5۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ حروف سورتوں کے نام ہیں۔ یہ قول کسی حد تک درست ہے۔ مثلاً : ص، ق، طہ، یس سورتوں کے نام بھی ہیں۔ سورۃ القلم کو 'ن' بھی کہا گیا ہے۔ حوامیم (جمع حم) کا ذکر بھی احادیث میں ملتا ہے۔ تاہم ان میں سے بھی بیشتر سورتیں دوسرے ناموں سے ہی مشہور ہوئیں۔ جن کا ان سورتوں میں امتیازاً ذکر آیا ہے۔ پھر یہ بھی ملحوظ رہے کہ کئی سورتوں کے دو دو نام بھی مشہور ہیں۔ 6۔ ایک قول یہ ہے کہ الفاظ میں پورے نظام رسالت کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ مثلاً الم میں الف سے مراد اللہ، ل سے مراد جبریل اور م سے مراد محمد ہیں۔ یہ بھی ایسی توجیہ ہے جسے تمام حروف مقطعات پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ 7۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ حروف کفار کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں کہ دیکھ لو کہ انہی مفرد حروف سے تم اپنے کلام کو ترکیب دیتے ہو، پھر تمہارے اور اللہ تعالیٰ کے کلام میں اتنا فرق ہے کہ تم سب مل کر بھی قرآن کے مقابلہ میں ایک سورت بھی اس جیسی پیش نہیں کرسکتے۔ یہ توجیہ اس لحاظ سے درست نہیں کہ جب ان الفاظ کا ٹھیک مفہوم متعین ہی نہیں تو پھر چیلنج کیسا ؟ 8۔ ایک قول یہ ہے کہ بحساب جمل ان حروف کے عدد نکال کر جمع کرنے سے اس امت کی عمر یا قیامت کی آمد کی مدت کا اشارہ پایا جاتا ہے۔ یہ توجیہ انتہائی غیر معقول ہے۔ ایک تو جمل کے حساب کی شرعاً کچھ حیثیت نہیں۔ دوسرا انسان کے پاس کوئی ایسا علم یا ایسا ذریعہ موجود ہونا ناممکنات سے ہے۔ جس سے قیامت کی آمد کے مخصوص وقت کا حساب لگایا جا سکے۔ 9۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ حروف طویل جملوں یا ناموں کے ابتدائی حروف یا مخففات ہیں اور ان کا مفہوم صرف رسول ہی جانتے تھے اور کوئی نہیں جان سکتا۔ گویا یہ عبد اور معبود کے درمیان راز و نیاز کی باتیں ہیں۔ یہ ایسی توجیہ ہے جس کے متعلق ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ واللہ اعلم بالصواب۔ 10۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ حروف اللہ تعالیٰ کے سر بستہ راز ہیں جو اگرچہ ٹھوس حقائق پر مبنی ہیں تاہم ان پر مطلع ہونا انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہی وہ توجیہ ہے جس کی طرف ہم نے ابتدا میں اشارہ کردیا ہے اور یہی توجیہ سب سے انسب معلوم ہوتی ہے۔ ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی بعض ایسی صفات مذکور ہیں جن کا سمجھنا انسانی عقل کی بساط سے باہر ہے اور ان پر کسی عمل کی بنیاد بھی نہیں اٹھتی۔ رہی یہ بات کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو جس بات کی سمجھ نہیں آتی تھی تو فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیا کرتے تھے اور چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان حروف کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی استفسار نہیں کیا لہٰذا معلوم ہوا کہ عربی زبان میں حروف مقطعات کا رواج عام تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ان کے معانی بھی خوب جانتے تھے۔ پھر عربی ادب سے کچھ شاذ قسم کی مثالیں بھی پیش کی جاتی ہیں تو یہ خیال درست نہیں جب قرآنی آیات کی پوری تشریحات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذریعہ ہم تک پوری صحت کے ساتھ پہنچ چکی ہیں تو پھر آخر ان حروف کی تشریح و تفسیر ہی ہم تک کیوں نہیں پہنچی۔ بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خوب سمجھتے تھے کہ یہ حروف اللہ تعالیٰ کے ایسے راز یا صفات ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی جان نہیں سکتا۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کسی صحابی نے آپ سے یہ پوچھا ہو کہ اللہ تعالیٰ جب ہم میں سے ہر ایک کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے تو پھر وہ عرش پر کیسے متمکن ہے؟ یا جب وہ بوقت سحر آسمان سے دنیا پر نزول فرماتا ہے تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب کے کیا معنی؟ ہرگز نہیں۔ بالکل یہی صورت ان حروف مقطعات کی بھی ہے۔ لہٰذا ان کے معانی و مفہوم نہ جاننے کے باوجود انہوں نے کبھی ان کے متعلق استفسار نہیں کیا تھا، کیونکہ یہ حروف متشابہات سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے لیے یہ بات ہی کافی ہے کہ اس بات پر ایمان لائیں کہ یہ بھی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں، نہ یہ مہمل ہیں، نہ زائد ہیں۔ بلکہ ٹھوس حقائق پر مبنی ہیں۔ البتہ ان کے معانی و مفہوم جاننے کے نہ ہم مکلف ہیں اور نہ ہی ان پر کسی شرعی مسئلے کا دار و مدار ہے۔ البقرة
1 البقرة
2 [٢] یعنی اس کتاب قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے، اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر اترنے اور نبی کے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا دینے میں کسی مقام پر شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ یہ سب امور اللہ تعالیٰ کی براہ راست نگرانی میں طے پا رہے ہیں۔ ریب کا لغوی مفہوم :۔ ریب دراصل ایسے شک کو کہتے ہیں جس میں اضطراب اور خلجان کا عنصر بھی شامل ہو۔ کفار مکہ کے قرآن کے نزول پر دو طرح کے اعتراض تھے۔ ایک یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی اس کو تصنیف کر کے ہمیں یہ کہہ دیتا ہے کہ یہ کلام منزل من اللہ ہے اور دوسرا اعتراض یہ تھا کہ یہ قرآن دوسرے عالموں سے سیکھ کر ہمیں سنا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ منزل من اللہ ہے۔ اگر بات اتنی ہی ہوتی تو خلجان اور اضطراب کا کوئی عنصر اس میں شامل نہیں ہوتا تھا۔ مگر مشکل یہ تھی کہ قرآن جو دعوت پیش کر رہا تھا اس میں سب سے زیادہ زور ہی عقیدہ آخرت اور اخروی باز پرس پر دیا جا رہا تھا جب کہ کفار مکہ بعث بعد الموت کے کلی طور پر منکر تھے اور انہیں اضطراب اور بے چینی اس بات پر تھی کہ اگر بالفرض قرآن کی دعوت سچی ہے تو پھر ان کی خیر نہیں۔ ان کے اسی اضطراب اور خلجان کو دور کرنے کے لیے اس سورۃ کے تمہیدی الفاظ میں ہی یہ واضح کردیا گیا کہ اس کتاب کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نزول اور اس کے مضامین سب کچھ قطعی اور یقینی ہیں اور اس پر ایمان لانے والوں کو کسی قسم کا شک اضطراب اور خلجان باقی نہیں رہتا۔ لہٰذا تمہارے اضطراب اور خلجان کا بھی یہی علاج ہے۔ کہ تم اسے تسلیم کر کے اس پر ایمان لے آؤ۔ کیاقرآن صرف متقین کےلیےہدایت ہے یاسب کےلیے :۔ اس مقام پرفرمایا کہ یہ کتاب ڈرنے والوں یامتقین کےلیے ہدایت ہےاور ایک دوسرے مقام پرا سی قرآن کریم کو ھدیٰ للناس (تمام لوگوں کے لیے ہدایت) (۱۸۵:۲) فرمایا۔ اس کی مثال یوں سمجھیے ، جیسے ایک مقررکسی جلسہ میں سب حاضرین کومخاطب کرکے نہایت قیمتی معلومات بتاتااور انہیں ہدایات دیتاہے لیکن ان سےتمام حاضرین یکساں مستفیض نہیں ہوتے بلکہ ہرشخص اپنی بساط کےمطابق ان سے استفادہ کرتااوران پرعمل پیراہوتاہے اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں ۔جومطلقاً کوئی اثر قبول نہیں کرتے۔یہی صورت قرآنی ہدایات کی بھی ہے ۔ان سے صرف ڈرنے والے یا متقین ہی ہدایت حاصل کرتےہیں۔اگلی تین آیات میں وہ اوصاف یاشرائط بیان کی گئی ہیں جومتقین کےلیے ضروری ہیں۔ البقرة
3 [٤] متقین کے اوصاف :۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ بن دیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ چھ چیزیں ہیں جن پر بن دیکھے ایمان لانا ضروری ہے : اللہ پر، اللہ کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، اخروی زندگی پر اور اس بات پر کہ ہر طرح کی بھلائی اور برائی اللہ ہی کی طرف سے مقدر ہوتی ہے۔ ان میں سے کسی چیز پر بھی ایمان نہ ہونے سے انسان کافر ہوجاتا ہے۔ [٥] اس کی کم از کم حد دن بھر میں پانچ فرض نمازوں کی بروقت اور باجماعت ادائیگی ہے۔ اِلا یہ کہ جماعت میں شامل نہ ہونے کے لیے کوئی شرعی عذر موجود ہو۔ یہ دوسری شرط ہوئی۔ [٦] رزق سے مراد صرف مال و دولت ہی نہیں بلکہ ہر وہ نعمت ہے جو جسم یا روح کی پرورش میں مددگار ثابت ہو۔ اگر اللہ نے کسی کو علم و ہنر دیا ہے تو وہ دوسروں کو بھی سکھائے۔ جوانی اور صحت دی تو اسے جہاد میں یا ضعیفوں کی مدد کرنے میں خرچ کرے اور مال و دولت ہے تو اسے فقراء، یتیموں مسکینوں وغیرہ پر خرچ کرے اور اس خرچ کی کم از کم حد فرضی صدقہ یعنی زکوٰۃ ادا کرنا ہے اور بلند تر درجہ یہ ہے کہ جو کچھ ضرورت سے زائد ہو وہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دے (٢: ٢١٩) یہ تیسری شرط ہے۔ البقرة
4 [٧] نازل شدہ سے مراد صرف قرآن ہی نہیں بلکہ قرآن کا بیان (توضیح و تشریح) بھی ہے جو قرآن میں موجود نہیں مثلاً نماز ادا کرنے کی ترکیب، محل زکوٰۃ اشیاء، نصاب زکوٰۃ اور شرح زکوٰۃ کی تعیین وغیرہ لاتعداد ایسے احکام و ہدایات جو قرآنی احکام پر عمل پیرا ہونے کے لیے ضروری تھے۔ نیز وہ سابقہ انبیاء پر نازل شدہ وحی پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ ان دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ آپ پر نازل شدہ وحی پر بالتفصیل ایمان لانا ضروری ہے اور سابقہ انبیاء کی وحی پر اجمالاً کیونکہ قرآنی تصریحات کی رو سے ان کی کتابوں میں تحریف و تبدل ہوچکا ہے۔ یہ چوتھی شرط ہے۔ [٨] آخرت کا مفہوم اور عقیدہ آخرت کی اہمیت :۔ آخرت کا لفظ ایک جامع اصطلاح ہے جس میں کئی طرح کے عقائد شامل ہیں مثلاً (١) مرنے پر انسان کی زندگی کا کلیتاً خاتمہ نہیں ہوجاتا۔ بلکہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ پھر اس سے اس کے اعمال کا محاسبہ کیا جائے گا، لہٰذا وہ اس دنیا میں ایک غیر ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ وہ اپنے تمام اعمال کے لیے اللہ کے ہاں جواب دہ ہے (٢) موجودہ نظام کائنات ابدی نہیں بلکہ ایک وقت آنے والا ہے جب یہ سب کچھ فنا ہوجائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک دوسرا عالم پیدا فرمائے گا جس میں تمام فوت شدہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کر کے اکٹھا کر دے گا اور فرداً فرداً ہر ایک سے اس کے اعمال کا محاسبہ کیا جائے گا۔ (٣) اس فیصلہ کے مطابق جو لوگ کامیاب قرار دیئے جائیں گے وہ جنت میں داخل ہوں گے اور نافرمان، کافر، مشرک وغیرہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ یوم آخرت کی تفصیلات بے شمار ہیں۔ جنہیں یہاں درج کرنا ممکن نہیں۔ مختصراً یہ کہ ایمان بالآخرۃ، ایمان بالغیب کا اتنا اہم جزو ہے جو انسان کو زندگی کا دھارا بدلنے اور صراط مستقیم کی طرف آنے اور تقویٰ اختیار کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اسی لیے اس کا ایمان بالغیب کے بعد علیحدہ طور پر بھی ذکر کردیا گیا۔ یہ ’’ایمان با لآخرت‘‘ ہدایت قبول کرنے کے لیے پانچویں شرط ہوئی۔ البقرة
5 [٩] دیکھئے یہاں اسلام کے تین اہم بنیادی ارکان کا اجمالاً ذکر کردیا گیا ہے اور اجمال ہی کی وجہ سے روزہ اور حج کا ذکر نہیں کیا گیا۔ کیونکہ جن لوگوں میں مندرجہ بالا پانچ صفات پیدا ہوجائیں گی، وہ صرف روزہ اور حج ہی نہیں دوسرے تمام شرعی اوامر و نواہی پر عمل کرنے کے لیے از خود مستعد ہوجائیں گے اور درج ذیل حدیث میں نماز روزہ اور زکوٰۃ کا ذکر آیا ہے۔ حج چونکہ زندگی میں صرف ایک بار اور وہ بھی صاحب استطاعت پر فرض ہے لہٰذا اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ارکان اسلام کی اہمیت اور ترتیب :۔ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی بات سمجھ میں نہ آتی تھی اور ہم بھن بھن کی طرح اس کی آواز سنتے رہے، وہ نزدیک آیا تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کی بابت پوچھ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ’’اسلام، دن رات میں پانچ نمازیں ادا کرنا۔‘‘ اس نے کہا : اس کے علاوہ تو میرے ذمے کچھ نہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں ’’الا یہ کہ تو نفل (یا کوئی نفلی نماز) پڑھے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘ اس نے پوچھا : اس کے علاوہ اور تو کوئی روزہ میرے ذمے نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں الا یہ کہ تو کوئی نفلی روزہ رکھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زکوٰۃ کے متعلق بتایا تو کہنے لگا :’’بس۔ اور تو کوئی صدقہ میرے ذمہ نہیں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’نہیں۔ الا یہ کہ تو نفلی صدقہ کرے۔“ پھر وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو یہ کہتا جاتا تھا : اللہ کی قسم! میں نہ اس سے بڑھاؤں گا نہ گھٹاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اگر یہ سچا ہے تو اپنی مراد کو پہنچ گیا (کامیاب ہوگیا)‘‘ (بخاری، کتاب الایمان، باب الزکوٰۃ من الاسلام) [١٠] فلاح سے مراد عذاب دوزخ سے نجات اور جنت میں داخلہ ہے۔ جیسا کہ سورۃ آل عمران کی آیت ١٨٥ میں یہ صراحت موجود ہے۔ البقرة
6 البقرة
7 [١١] مہر کیسے کافروں کو لگتی ہے؟ اللہ تعالیٰ مہر صرف ان کافروں کے دلوں پر لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادات کو خوب سمجھ لینے کے بعد محض اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے ٹھکرا دیتے ہیں۔ جیسے ایک دوسرے مقام پر فرمایا : ﴿ وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ﴾(۱۴:۲۷) اور ان لوگوں نے ہٹ دھرمی اور تکبر کی بنا پر (ان حقائق کا) انکار کردیا جن پر ان کے دل یقین کرچکے تھے اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا : ﴿فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِن قَبْلُ  كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ﴾(۱۰۱:۷)  ’’جس بات کو پہلے ایک دفعہ جھٹلا چکے تھے اس پر ایمان لانے کے لیے آمادہ نہ ہوئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔‘‘ رہے عام کافر تو ان میں سے کثیر تعداد مسلمان ہوتی ہی رہی ہے۔ [١٢] دل کا کام بات کو سمجھنا اور کان کا کام سننا ہے اور یہ دونوں اعضاء کسی مخصوص جانب کے پابند نہیں۔ لیکن آنکھ صرف سامنے سے ہی دیکھ سکتی ہے۔ لہٰذا دلوں اور کانوں پر تو مہر کا ذکر کیا گیا اور آنکھ پر صرف پردے کا۔ ایسے لوگ حقائق کو سمجھنے کے لیے کیا تیار ہوں گے جنہیں ان کا سننا اور دیکھنا بھی گوارا نہ ہو۔ کیونکہ کان اور آنکھ ہی تو دل کے دو بڑے دروازے ہیں جن سے دل کو ہر طرح کی معلومات فراہم ہوتی ہیں۔ مہرکیوں اور کب لگتی ہے؟ انسان کو اللہ تعالیٰ نے آنکھیں، کان اور دل اس لیے نہیں دیئے تھے کہ وہ ان اعضاء سے صرف اتنا ہی کام لے جتنا دوسرے حیوان لیتے ہیں اور جانوروں کی طرح صرف اپنے کھانے پینے اور دنیاوی مفادات پر ہی نظر رکھے۔ کیونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے فہم و دانش کی دوسرے جانوروں سے بہت زیادہ قوتیں عطا فرمائی ہیں۔ انسان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں نازل فرمائیں جو انسان کی توجہ کو کائنات میں ہر سو اللہ تعالیٰ کی بکھری ہوئی نشانیوں کی طرف مبذول کرتی ہیں۔ تاکہ انسان ان سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرے۔ پھر اگر انسان کانوں سے قرآن کی آیات کو سننا تک گوارا نہ کرے اور کائنات میں بکھری ہوئی آیات کو آنکھوں سے دیکھنے کی بھی زحمت گوارا نہ کرے تو اس کی ہدایت کی کوئی صورت باقی رہ جاتی ہے؟ اور اس سے بھی بدتر صورت حال ان لوگوں کی ہے جو اللہ کی آیات سن بھی لیتے ہیں اور ان کے دل انہیں سمجھ بھی لیتے ہیں، لیکن وہ اپنی چودھراہٹوں یا بعض دوسرے دنیوی مفادات کی خاطر حق کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے، بلکہ الٹا مخالفت اور تعصب پر اتر آتے ہیں تو ایسے لوگوں کی آئندہ ہدایت پانے کی بھی کوئی صورت باقی نہیں رہ جاتی اور اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے دلوں اور کانوں پر مہر لگانے اور آنکھوں پر پردہ ڈالنے سے تعبیر فرمایا ہے اور اسی بات کی تائید درج ذیل مرفوع حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے۔ پھر اگر وہ گناہ چھوڑ دے اور استغفار کرے اور توبہ کرے تو اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے اور اگر دوبارہ کرے تو نقطہ بڑھ جاتا ہے حتیٰ کہ دل پر چھا جاتا ہے اور یہی وہ زنگ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ﴾ (ترمذی، ابواب التفسیر) مہر لگانے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں؟ رہی یہ بات کہ اگر کافروں کے دلوں اور کانوں پر مہر ان کی اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے لگتی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو اپنی طرف منسوب کیوں کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ ہی کا قانون ہے کہ جن اعضاء یا جن قویٰ سے انسان کام لینا چھوڑ دیتا ہے یا ان کی فراہم کردہ معلومات کو پس پشت ڈال دیتا ہے تو ان اعضاء اور قویٰ کی استعداد از خود زوال پذیر ہو کر ختم ہوجاتی ہے۔ مثلاً انسان اگر اپنے بازو سے کچھ مدت کوئی کام نہ لے اور اسے حرکت تک نہ دے تو وہ از خود شل ہوجائے گا، اس میں حرکت کرنے کی استعداد باقی ہی نہیں رہے گی اور یہ قانون بھی چونکہ اللہ تعالیٰ ہی کا بنایا ہوا ہے۔ لہٰذا اس فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف درست ہوئی۔ اگرچہ یہ انسان کے اپنے ہی شامت اعمال کے نتیجہ میں واقع ہوتی ہے۔ البقرة
8 البقرة
9 [١٣] وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اگر وہ اللہ اور مومنوں سے دغا بازی کرنا چاہیں بھی تو ایسا کر نہیں سکتے۔ کیونکہ اللہ تو دلوں کے راز تک جانتا ہے اور ان ارادوں اور حرکات سے مسلمانوں کو اپنے رسول کے ذریعے مطلع کردیتا ہے۔ اس طرح ان کی دغا بازی کا وبال انہیں پر پڑے گا اور وہی ذلیل و رسوا ہوں گے۔ البقرة
10 [١٤] مرض سے مراد نفاق، دین اسلام سے نفرت اور مسلمانوں سے حسد اور عناد ہے۔ پھر جوں جوں اسلام اور اہل اسلام کی شوکت بڑھتی گئی، ان کی بیماری میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ [١٥] یہ جھوٹ ان کا وہی دعویٰ تھا جو وہ کہتے تھے کہ ﴿اٰمَنَّا باللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾ جب کہ ان کے اعمال اور ان کی حرکات و سکنات اس دعویٰ کی مخالف سمت میں تھیں۔ اسی لیے انہیں دردناک عذاب ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا : ﴿ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ﴾ (۱۴۵:۴)بلاشبہ منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔ البقرة
11 [١٦] ان کا فساد یہ تھا کہ ان کی دلی ہمدردیاں تو کافروں سے تھیں اور مسلمانوں میں شامل رہ کر ان کے حالات سے انہیں باخبر رکھتے اور ان کے لیے جاسوسی کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ نئے اور ضعیف الاعتقاد مسلمانوں کو حیلوں بہانوں سے برگشتہ کرتے تھے اور جنگ کی صورت میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے تھے۔ [١٧] یعنی ہم ہر ایک سے صلح رکھنا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ پہلے کی طرح سب شیر و شکر ہو کر رہیں اور نئے دین (اسلام) کی وجہ سے جو مخالفت بڑھ رہی ہے وہ ختم ہوجائے۔ البقرة
12 [١٨] یعنی اس لگائی بجھائی اور ان کی حرکات و سکنات سے کافروں کا بھی ان سے اعتماد اٹھ جائے گا اور ان کی حیثیت ”دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا“ کے مصداق ہوجائے گی تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ ان کے اعمال سراسر فتنہ و فساد پر مشتمل تھے۔ البقرة
13 [١٩] اس آیت میں الناس سے مراد سچے مومن ہیں، یعنی مہاجرین و انصار وغیرہ اور منافق انہیں احمق اس لیے کہتے تھے کہ یہ سچے مومن تھے۔ منافقوں کی طرح مفاد پرست نہیں تھے بلکہ دین کی خاطر کٹھن سے کٹھن حالات کا مقابلہ کرنے حتیٰ کہ جان تک دینے کو بھی تیار رہتے تھے۔ [٢٠] یعنی وہ یہ نہیں جانتے کہ دین و ایمان اور اصولوں پر وقتی اور دنیوی مفادات کو ترجیح دینا ہی سب سے بڑی حماقت ہے اور یہ وقتی مفادات کیا تھے؟ وہ مسلمانوں کی طرف سے ان کے جان و مال کی حفاظت، مسلمانوں سے رشتے ناطے کرنا اور اگر جنگ میں شامل ہوں۔ خواہ ان کے دلی ارادے کیسے ہی ناپاک ہوں۔ فتح کی صورت میں انہیں اموال غنیمت سے حصہ مل جاتا تھا۔ البقرة
14 البقرة
15 [٢١] اوصاف کا سدہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں؟ قرآن کی بعض آیات میں بعض اوصاف ذمیمہ مثلاً استہزاء مکر اور خدع کی اللہ تعالیٰ کی طرف جو نسبت کی گئی ہے، یہ محض اہل عرب کے محاورہ کی وجہ سے ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ قرآن اہل عرب اور بالخصوص قریش کے محاورہ کے مطابق نازل ہوا ہے۔ ایسے افعال اللہ تعالیٰ کی طرف کبھی اکیلے منسوب نہیں ہوتے بلکہ کافروں کے افعال کے جواب کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ عرف عام میں ایسی صورت کو ’’مشاکلہ‘‘ کہتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسے اوصاف سے پاک ہے۔ ایسے عرب محاوروں کی ایک مثال درج ذیل آیت میں بھی موجود ہے۔ ﴿وَجَزَاءُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِثْلُھَا﴾ (٤٢: ٤٠) برائی کا بدلہ اس کے مثل (یا اتنی ہی) برائی ہے۔ حالانکہ جو برائی کا بدلہ لے اسے برائی نہیں بلکہ انصاف کہنا زیادہ مناسب ہے۔ لیکن محاوروں میں برائی کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے جواباً مذاق اڑانے سے مراد منافقوں کو ان کے استہزاء کا پورا پورا بدلہ دینا ہے، نہ کہ ان کی طرح کا مذاق اڑانا۔ مگر محاورہ میں استہزاء کا لفظ ہی جواب کے طور پر استعمال ہوگا اور اللہ تعالیٰ ان کے استہزاء کا جواب اس صورت میں دے گا کہ عنقریب ان کے سارے پول کھول دے گا۔ جس سے یہ لوگ دنیا میں ذلیل و رسوا ہوں گے اور آخرت میں عذاب الیم سے دو چار ہوں گے۔ [٢٢] عَمِہَ بمعنی دل کا اندھا یا نور بصیرت سے خالی ہونا ہے، جبکہ آنکھ کے اندھے کے لیے عمی کا لفظ آتا ہے۔ گویا منافقوں کو حق بات سوجھتی ہی نہیں۔ البقرة
16 البقرة
17 [٢٣] منافقوں کی مثال (١) :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی صورت حال بیان فرمائی ہے۔ یہ آگ جلانے والا شخص خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے کفر و ضلالت کی تاریکیوں میں اسلام کی شمع روشن اور حق کو باطل سے، صحیح کو غلط سے اور راہ راست کو گمراہیوں سے چھانٹ کر بالکل نمایاں کردیا۔ اب جو لوگ (سچے مومن) دیدہ بینا رکھتے تھے۔ انہیں سب کچھ واضح طور پر نظر آنے لگا۔ مگر یہ منافقین جو اپنی مفاد پرستی کی وجہ سے اندھے ہو رہے تھے۔ انہیں اس روشنی میں بھی کچھ نظر نہ آیا۔ ان کے اس طرح اندھے بنے رہنے کو ہی اللہ تعالیٰ نے آیت ﴿ذَھَبَ اللّٰہُ بِنُوْرِہِمْ﴾ سے تعبیر کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت ویسی ہی ہے جیسے آیت ﴿خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْ﴾ میں ہے جس کی وضاحت ہم نے کردی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ منافقوں کو خود نور صداقت دیکھنا گوارا نہیں تو اللہ نے بھی انہیں تاریکیوں میں بھٹکتا چھوڑ دیا۔ اللہ کا قانون ہرگز یہ نہیں کہ کسی کو زبردستی ہدایت دے بلکہ اس کا قانون یہ ہے کہ جدھر کوئی چلتا ہے اللہ تعالیٰ ادھر ہی اسے چلنے میں مدد کیے جاتا ہے۔ (١٧: ٢٠) البقرة
18 [٢٤] آخر ان منافقوں کی حالت یہ ہوگئی کہ یہ حق بات سننے کے لیے بہرے، حق کہنے کے لحاظ سے گونگے ہیں اور حق سامنے موجود ہو تب بھی انہیں نظر نہیں آتا۔ البقرة
19 البقرة
20 [٢٥] منافقوں کی مثال (٢) :۔ یہ ایک دوسری قسم کے منافقوں کی مثال بیان کی گئی ہے۔ پہلی قسم کے منافق تو وہ تھے جن کے دل میں کفر ہی کفر تھا۔ مگر مفاد پرستی کی خاطر مسلمانوں کے سامنے اسلام کا دعویٰ کرتے تھے، اور یہ دوسری قسم ان منافقوں کی ہے جو شک اور تذبذب کا شکار ہیں۔ اس مثال میں زوردار مینہ سے مراد اسلامی احکامات کا نزول ہے جو پے در پے ہو رہے تھے اور جو جملہ انسانیت کے لیے رحمت ہی رحمت تھے اور اس میں تاریکیوں اور کڑک سے مراد وہ مصائب و مشکلات ہیں جو مسلمانوں کو اقامت دین کے سلسلہ میں پیش آ رہی تھیں اور چمک سے مراد وہ کامیابیاں اور کامرانیاں ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہو رہی تھیں۔ اب جب کوئی کڑک کی آواز یا مصیبت مسلمانوں کو درپیش ہوئی تو یہ منافق اپنی جان بچانے کی خاطر مسلمانوں سے الگ ہو کر حفاظتی اقدامات کرنا شروع کردیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اس صورت میں بھی ان کو ہلاک کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے اور مسلمانوں کی کامیابی اور ان کی مسلمانوں سے علیحدگی ہی ان کی موت کا باعث بن سکتی تھی۔ پھر جب معاملہ ذرا سہل ہوجاتا ہے اور مصائب چھٹ جاتے ہیں تو یہ لوگ اسلام کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں اور جب کوئی سخت احکام نازل ہوتے ہیں تو وہیں ٹھٹک کر کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو پہلی قسم کے منافقوں کی طرح ان کی بصارت اور سماعت کو بھی سلب کرسکتا تھا۔ مگر اللہ کا قانون ہی یہ ہے کہ جو شخص جس حد تک دیکھنا اور سننا چاہتا ہے۔ اسے اس حد تک سننے اور دیکھنے دیا جائے، اگرچہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ البقرة
21 [٢٦] دلائل توحید :۔ مدینہ میں موجود تین طرح کے لوگوں کا ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں سے مشترکہ خطاب فرما کر انہیں اسلام کی بنیادی دعوت کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا کہ تم لوگ یہ خوب جانتے ہو کہ اللہ ہی نے تمہیں بھی اور تم سے پہلے لوگوں کو بھی پیدا کیا۔ پھر تمہارے لیے زمین کو مستقر اور آسمان کو محفوظ چھت بنا دیا کہ کوئی سیارہ اوپر سے گر کر زمین کو تہس نہس نہیں کردیتا۔ پھر تمہاری تمام ضروریات زندگی اسی زمین سے وابستہ کردیں اور گاہے گاہے آسمان سے بارش برسا کر تمہارے کھانے پینے کی چیزیں اور پھل وغیرہ بھی وہی تمہیں مہیا کرتا ہے، تو پھر تمہیں عبادت بھی صرف اسی کی کرنی چاہیے اور کسی دوسرے کو اس کے اقتدار و تصرف میں شریک سمجھ کر اس کی عبادت نہ کرنی چاہیے۔ اسی صورت میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ تم عذاب اخروی سے بچ سکو۔ البقرة
22 البقرة
23 [٢٧] قرآن کا چیلنج اور اس کی معجزانہ حیثیت :۔ اس آیت میں خالصتاً کافروں کو خطاب کیا جا رہا ہے کہ اگر تمہیں اس کلام (قرآن) کے اللہ کا کلام ہونے میں شک ہے تو پھر تم سب مل کر اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر دکھاؤ۔ حقیقت حال از خود تم پر واضح ہوجائے گی۔ کافروں کو اس قسم کا چیلنج قرآن کریم میں چار اور مقامات پر بھی کیا گیا ہے یعنی سورۃ یونس کی آیت نمبر ١٤، سورۃ ہود آیت نمبر ١٣، سورۃ بنی اسرائیل آیت ٨٨ اور سورۃ طور کی آیت نمبر ٣٤ میں اور یہ ایسا چیلنج ہے۔ جس کا جواب کفار سے نہ اس دور میں میسر آسکا نہ آج تک میسر آیا ہے اور نہ ہی آئندہ تا قیامت میسر آسکے گا اور قرآن کریم کی یہ اعجازی حیثیت آج تک بدستور مسلم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ انبیاء کو ایسی چیز بطور معجزہ دی جاتی ہے۔ جس کی اس زمانہ میں دھوم مچی ہوئی ہو۔ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ساحری اپنی انتہائی بلندی پر پہنچی ہوئی تھی تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو ایسے معجزات عطا کئے جن کے آگے فرعون کے بڑے بڑے جادوگروں کو سربسجود ہونے کے سوا کوئی چارہ کار نظر نہ آیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں طب اپنی انتہائی بلندیوں کو پہنچی ہوئی تھی۔ بقراط، ارسطالیس، لقمان اور جالینوس جیسے حکماء کا ڈنکا بجتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو ایسے معجزات عطا کئے جو ان حکماء کی دسترس سے ماورا تھے۔ بھلا کون سا حکیم مردوں کو زندہ کرسکتا تھا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عربی زبان کی فصاحت و بلاغت انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے شعراء میں باہمی مقابلے ہوتے تھے اور مقابلہ میں بہترین قرار دیئے جانے والے شعراء کا کلام کعبہ کے دروازہ پر لٹکا دیا جاتا تھا۔ سبع معلقات اسی دور کی یادگار ہے۔ جو آج بھی متداول ہے۔ ایسے ہی شعراء ادباء اور خطباء کو اللہ تعالیٰ نے چیلنج کیا اور فرمایا کہ اپنے سب مدد گاروں، جنوں یا انسانوں اور اپنے دیوتاؤں اور معبودوں سب کی مدد لے کر اس قرآن جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ لیکن یہ سب لوگ ایسا کلام پیش کرنے میں عاجز ثابت ہوئے۔ پھر قرآن کا اعجاز صرف فصاحت و بلاغت تک ہی محدود نہ تھا اس کے مضامین کی ندرت اور حقائق سے نقاب کشائی اور غیب کی اطلاعات ایسے اوصاف تھے جو انسان کی بساط سے باہر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر دلیل :۔ اب دوسری طرف یہ صورت حال تھی کہ اس قرآن کو پیش کرنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود امی تھے، لکھنا پڑھنا تک نہیں جانتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی استاد بھی نہ تھا۔ ان کی طرف سے اس طرح کا کلام پیش کیا جانا مزید باعث حیرت و استعجاب تھا۔ لہٰذا قرآن کی اس اعجازی حیثیت سے تین باتوں کا از خود ثبوت مہیا ہوجاتا ہے۔ (١) اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت (٢) قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے کا ثبوت (٣) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول برحق ہونے کا ثبوت۔ اب ہم قرآن کے چند امتیازی پہلوؤں کی وضاحت پیش کریں گے۔ قرآن کے امتیازی پہلو :۔ ١۔ پہلے انبیاء کو جتنے معجزات عطا کئے گئے وہ سب وقتی اور عارضی تھے، کسی نے دیکھے اور کسی نے صرف سنے تھے۔ مگر قرآن کو سب دیکھ سکتے ہیں اور اس وقت سے لے کرتا قیامت دیکھ سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ ایک زندہ جاوید، دائمی اور لازوال معجزہ ہے۔ ٢۔ اس کی اعجازی حیثیت صرف یہی نہیں کہ اس دور کے فصحاء اور بلغاء اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر رہ گئے تھے۔ بلکہ آج تک اس کی زبان ادب کی زبان تسلیم کی جاتی ہے۔ جو درجہ یہاں ہندوستان میں اردوئے معلیٰ کو حاصل ہے۔ وہی درجہ قرآن کو عام لوگوں کی ادبی زبان پر حاصل ہے اور اس کی عربی زبان پر اتنی گہری چھاپ ہے کہ عربی زبان تغیرات زمانہ کی دستبرد سے آج تک بہت حد تک محفوظ ہے۔ اگر بالفرض محال قرآن کی زبان نہ محفوظ رہتی تو اس کے مقابلہ میں غالباً آج کی عربی زبان پہچانی بھی نہ جا سکتی۔ ٣۔ قرآن کی اعجازی حیثیت کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ یہ اس ہستی کی زبان سے ادا ہوئی جو فصاحت و بلاغت سے سابقہ شناسائی تو درکنار، لکھنا پڑھنا تک نہ جانتے تھے۔ آپ کی نبوت سے پہلے کی زبان عام امی لوگوں جیسی ہی تھی۔ آپ کو نبوت سے پہلے عبادت گزاری سے تو دلچسپی ضرور تھی۔ مگر عربی ادب سے قطعاً ناآشنا تھے۔ ٤۔ قرآن کی حکمت نظری یہ ہے کہ اس کے دلائل نہایت سادہ اور عام فہم ہیں۔ خواہ یہ دلائل توحید پر ہوں یا آخرت کے قیام اور دوبارہ زندگی پر، اور ایسی اشیاء سے پیش کیے گئے ہیں جو ہر انسان کے مشاہدہ اور تجربہ میں آتی رہتی ہیں۔ یہاں نہ تثلیث کا گورکھ دھندا ہے، نہ نیکی اور بدی کے الگ الگ خداؤں کا اور نہ لاتعداد خداؤں کی کارسازی کا۔ لہٰذا اس کو سمجھنے میں کسی کو کوئی ابہام یا دشواری پیش نہیں آتی۔ پھر چونکہ دلائل فصیح زبان میں پیش کئے گئے ہیں۔ لہٰذا اس سے اونٹوں کو چرانے والے اعرابی بھی اسی طرح لطف اندوز ہوتے تھے جس طرح فصحاء اور بلغاء لطف اندوز ہوتے تھے، جب آیت (فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ ﴾کے الفاظ نازل ہوئے تو ایک اعرابی سجدہ میں گر پڑا اور کہنے لگا میں اس کی فصاحت کو سجدہ کرتا ہوں۔ جب سورۃ کوثر کی تین مختصر سی آیات نازل ہوئیں تو اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ میں جا لٹکایا جہاں معروف عرب شعراء لٹکایا کرتے تھے، تو اس کے نیچے کسی نے لکھ دیا کہ ﴿ما ہٰذَآ قَوْلُ الْبَشَرِ﴾غرض ایسے واقعات بے شمار ہیں اور غالباً اسی وجہ سے کفار قرآن کو سحر بلکہ سحر مبین کہا کرتے تھے۔ اشتراکیت کی ناکامی کی وجہ :۔ ٥۔ قرآن کی حکمت عملی یہ ہے کہ اس کے تمام تر احکام اس کے پیش کردہ نظریہ کے مطابق ہیں اور قابل عمل بھی، خواہ وہ انفرادی حیثیت رکھتے ہوں یا اجتماعی معاملات سے متعلق ہوں یا عبادات سے، معاشرتی احکام ہوں یا معاشی، ملکی خارجہ پالیسی سے متعلق ہوں یا اندرونی پالیسی سے سب کے سب قابل عمل ہیں اور عمل میں لائے جا چکے ہیں۔ اپریل ١٩١٧ء میں روس میں اشتراکی حکومت قائم ہوئی اور پون صدی بھی گزرنے نہ پائی تھی کہ دم توڑ گئی۔ اس ٧٥ سال کے عرصہ میں ایک دن بھی ایسا نہیں آیا جب اشتراکیت کے مرکز روس میں بھی اشتراکی نظریہ کے مطابق حکومت کی جا سکی ہو اور اس ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ اشتراکی نظریات انسانی فطرت کے خلاف تھے اور ان میں انفرادی مفادات کو اجتماعی مفادات کی خاطر کچل دیا گیا تھا۔ مگر اسلام کی تعلیم اور اس کے احکام انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ نہ ہی اس کی حکمت نظری اور حکمت عملی میں کوئی تضاد یا تصادم ہے۔ اگر مسلمان صحیح طور پر اسلامی احکام پر کاربند ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ انہیں دنیا میں سر بلندی اور سرخروئی حاصل نہ ہو۔ گویا قرآن کی تعلیم صرف یہی نہیں کہ وہ قابل عمل ہے۔ بلکہ اپنے پیرو کاروں کو بلند مقام پر فائز کرنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے۔ ٦۔ قرآن عظیم کا چھٹا امتیاز اس کی جامعیت اور ہمہ گیری ہے جو انسانی زندگی کے جملہ پہلوؤں کو محیط ہے اور یہ ایسی خصوصیت ہے جو نہ کسی دوسری الہامی کتاب میں پائی جاتی ہے۔ نہ کسی دوسرے مذہب میں۔ پھر یہ صرف دنیا کی زندگی کے لیے ہدایت نہیں دیتی بلکہ ما بعد الطبیعیات پر پوری روشنی ڈالتی ہے۔ ٧۔ قرآن کا ساتواں امتیاز یہ ہے کہ اس کے احکام عام حالات میں ایک اوسط درجہ کی طاقت کے انسان کی استعداد کا لحاظ رکھ کر کیے گئے ہیں۔ پھر معاشرہ کے معذور لوگوں اور بدلتے ہوئے حالات کا لحاظ رکھ کر ان احکام میں رخصت یا رعایت رکھی گئی ہے۔ تاکہ کسی موقعہ پر بھی لوگوں کو اس کے احکام پر عمل پیرا ہونے میں دشواری پیش نہ آئے۔ بالفاظ دیگر قرآن کریم کا کوئی حکم ایسا نہیں جو تکلیف مالایطاق کے ضمن میں آتا ہو۔ قرآن کا اصل موضوع :۔ ٨۔ قرآن پاک کا آٹھواں اور نہایت اہم امتیاز یہ ہے کہ یہ اپنے موضوع سے ادھر ادھر بالکل نہیں ہٹتا۔ اس کا اصل موضوع انسان کی ہدایت ہے یعنی وہ راستہ جس پر چلنے سے انسان کی دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔ قرآن عظیم کا کوئی صفحہ، کوئی سورت، کوئی آیت کوئی سطر نکال کے دیکھ لیجئے، خواہ یہ احکام سے متعلق ہو یا دلائل سے یا سابقہ اقوام کی سرگزشت اور ان کے انجام سے، ہر ہر مقام پر آپ کی ہدایت کے لیے کوئی نہ کوئی سبق موجود ہوگا۔ قرآن میں بے کار بحثوں سے اجتناب :۔ ٩۔ قرآن کا نواں امتیاز ایجاز ہے یعنی ایسی تفصیل میں وہ ہرگز نہیں جاتا جس کا ہدایت سے کچھ تعلق نہ ہو۔ مثلاً قرآن نے ام موسیٰ کی طرف وحی کا تو ذکر کیا مگر اس کا نام نہیں لیا۔ سیدنا آدم علیہ السلام کو جنت میں ایک درخت کے نزدیک نہ جانے کے حکم کا ذکر کیا مگر درخت کا نام نہ لیا۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اَھِلَّہ، یعنی نئے چاندوں یا اشکال قمر کے متعلق سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے اشکال قمر کی وجہ بتانے کے بجائے جواب کا رخ اس طرف موڑ دیا جو انسان کی ہدایت سے تعلق رکھتی تھی کیونکہ اشکال قمر کی وجہ جاننے میں انسان کی ہدایت کا کوئی پہلو نہ تھا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اصحاب کہف کی تعداد سے متعلق بحث و کرید کرنے سے منع فرمایا۔ کیونکہ ایسی بے کار بحثوں کا ہدایت سے کچھ تعلق نہیں ہوتا اور ایسی بحثیں صرف وقت کے ضیاع اور بے عملی کا باعث ہی نہیں بنتیں بلکہ بسا اوقات تفرقہ بازی کی بنیاد بھی بن جاتی ہیں۔ ١٠۔ اور قرآن پاک کا دسواں اور اہم امتیاز یہ ہے کہ اس نے کبھی کسی نبی اور رسول کی سیرت و کردار کو داغدار نہیں کیا۔ بائیبل میں بعض انبیاء کی سیرت و کردار پر جس طرح سوقیانہ حملے کیے گئے ہیں۔ اس کا ذکر ہم کسی دوسرے مقام میں کر رہے ہیں۔ ١١۔ اور گیا رہواں امتیاز اس کی شائستہ اور مہذبانہ زبان ہے۔ گالی گلوچ یا فحش الفاظ سے کلیتاً اجتناب کیا گیا ہے۔ زلیخا کو سیدنا یوسف علیہ السلام سے فی الواقع انہی معنوں میں عشق تھا جو مشہور و معروف ہیں لیکن وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کو استعمال نہیں فرمایا کیونکہ یہ لفظ سوقیانہ اور بازاری قسم کا ہے جس سے فحاشی کی بو آتی ہے۔ اسی طرح اسلام کے بدترین دشمنوں کا بھی نام نہیں لیا۔ بلکہ ان میں سے بعض کے اوصاف ایسے بیان کردیئے ہیں جس سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ ان آیات کا روئے سخن فلاں شخص کی طرف ہے۔ اس کلیہ سے استثناء صرف ابو لہب کے لیے ہے۔ جس کی چند در چند وجوہ ہیں جن کا ذکر مناسب مقام پر سورۃ لہب میں کردیا گیا ہے۔ الغرض قرآن کے امتیازات و عجائب اس قدر ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا انسان کی بساط سے باہر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جس قدر غور و فکر اور گہرائی کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا جائے، نئے سے نئے پہلو سامنے آنے لگتے ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قرآن ایسی کتاب ہے جس کے عجائب ختم ہونے میں نہیں آ سکتے۔ البقرة
24 [٢٨] جہنم کا ایندھن کون سی اشیاء ہوں گی؟ اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی علم تھا کہ ایسا کلام پیش کرنا انسان کے بس سے باہر ہے اور یہ جو پانچ مرتبہ قرآن میں کفار کو چیلنج کیا گیا ہے تو یہ ان پر اتمام حجت کے لیے ہے کہ اگر ان واضح دلائل کے بعد کوئی کفر پر اڑا رہتا ہے تو اسے اس دوزخ کے عذاب سے ڈر جانا چاہیے۔ جس کا ایندھن انسان ہی نہیں معدنی پتھر (جیسے پتھری کوئلہ، گندھک) وغیرہ بھی ہوں گے جو آگ کی حدت کو بیسیوں گنا تیز کردیتے ہیں۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ اس آیت میں حجارۃ سے مراد پتھر کے وہ بت ہیں جن کی پوجا کی جاتی رہی اور اس قول کی تائید اس آیت سے بھی ہوجاتی ہے۔ ﴿ اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ ﴾( ۹۸:۲۱)”تم بھی اور اللہ کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو سب دوزخ کا ایندھن بنو گے۔“ تاکہ کافروں کو اپنے معبودوں کی خدائی کی حقیقت معلوم ہو سکے اور ان کی حسرت میں مزید اضافہ ہو۔ [٢٨۔ الف] تقوی کا لغوی مفہوم :۔ اتقاء یا تقویٰ کا معنی اپنے اعمال کے انجام سے ڈر جانا ہے۔ اور اس کے مادہ وَ قَ یَ میں تین باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں : (١) ڈرنا۔ (٢) بچنا۔ (٣) پرہیز کرنا۔ گویا تقویٰ کے معنی اپنے نفس کو ہر اس چیز سے بچانا ہے جس سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اور شرعی اصطلاح میں اپنے آپ کو ہر اس چیز سے بچانے کا نام تقویٰ ہے جو گناہ کا موجب ہو۔ اور جن امور سے شریعت نے منع کیا ہے انہیں چھوڑنے سے یہ بات حاصل ہوجاتی ہے۔ پھر تقویٰ کا مفہوم محض نواہی کو چھوڑنے تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ اوامر کی بجاآوری کو بھی اپنے اندر شامل کرلیتا ہے۔ کیونکہ جیسے بے حیائی کے کام کرنا گناہ ہے ویسے ہی نماز یا روزہ وغیرہ ادا نہ کرنا بھی گناہ ہے۔ اور تمام تر عبادات کا بنیادی مقصد انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرنا ہے یعنی وہ ہر کام کے کرنے سے پہلے اس کا انجام سوچتا ہے اور اس انجام کو ملحوظ رکھ کر اسے اختیار کرتا یا چھوڑتا ہے۔ اور چونکہ انجام سے دو چار کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے لہٰذا تقویٰ کے مفہوم میں گناہوں کے انجام سے ڈرنے اور بچنے کے ساتھ ساتھ اللہ سے ڈرنا اور ہر وقت اس بات کا خیال رکھنا از خود شامل ہوجاتا ہے۔ [٢٩] اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ وجود میں لائی جا چکی ہے (اور اسی طرح جنت بھی) اور یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے۔ جبکہ بعض لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ جنت اور دوزخ عالم آخرت میں جزا و سزائے اعمال کے وقت تیار کئے جائیں گے۔ البقرة
25 [٣٠] قرآن کریم میں آپ اکثر یہ بات ملاحظہ کریں گے کہ جہاں کہیں کفار اور ان کی وعید کا ذکر آتا ہے وہاں ساتھ ہی مومنوں اور ان کی جزا کا ذکر بھی ساتھ ہی کردیا جاتا ہے اور اس کے برعکس بھی یہی صورت ہوتی ہے، کیونکہ انسان کی ہدایت کے لیے ترغیب اور ترہیب دونوں باتیں ضروری ہیں۔ [٣١] یعنی شکل و صورت دیکھ کر وہ یہ تو کہہ دیں گے کہ یہ آم ہے یا انگور یا انار ہے مگر ان کا ذائقہ بالکل الگ اور اعلیٰ درجہ کا ہوگا اور ان کا سائز بھی دنیا کے پھلوں کی نسبت بہت بڑا ہوگا۔ [٣٢] جنتی لوگ سب کے سب خواہ مرد ہوں یا عورتیں، بول و براز اور رینٹ وغیرہ نیز اخلاق رذیلہ سے پاک صاف ہوں گے اور ان کی بیویاں حیض و نفاس کی نجاستوں سے بھی پاک و صاف ہوں گی۔ البقرة
26 [٣٣] مثال کے درست ہونے کی شرط :۔ کفار سے جب چیلنج کا کوئی جواب بن نہ پڑا تو انہوں نے کلام اللہ پر یہ اعتراض جڑ دیا کہ اللہ کو جو مالک الملک اور سب سے بڑا ہے، کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ اپنے کلام میں مکھی اور مکڑی جیسی حقیر چیزوں کی مثالیں بیان کرے اور (واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکھی کی مثال (٢٢؍٧٣) اور مکڑی کی مثال (٢٩: ٤١) کافروں کے معبودان باطل کی کمزوری کو واضح کرنے کے لیے دی تھی۔ اس آیت میں اسی اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات میں کوئی باک نہیں کہ وہ مکھی اور مکڑی تو درکنار، مچھر یا اس سے بھی کسی حقیر تر چیز کی مثال بیان کرے۔ کیونکہ اس کی مخلوق ہونے کے لحاظ سے سب برابر ہیں۔ دیکھنا تو یہ چاہیے کہ آیا مثال اور مُمَثّل لہ، میں مطابقت پائی جاتی ہے؟ اگر مطابقت پائی جائے تو یہ مثال بالکل درست ہوگی۔ کفار کے معبود بھی تو حقیر چیزیں ہیں اور مکھی اور مکڑی بھی لہٰذا تمثیل درست ہوئی۔ مثال دینے والا خواہ بڑا یا چھوٹا اس سے کوئی بحث نہیں کی جاتی، اور کفار نے جو اعتراض کیا تھا۔ وہ بالکل خلاف عقل تھا جو حماقت اور عناد پر مبنی تھا۔ [٣٤] گمراہی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے؟ یعنی ایک ہی بات سے ہدایت پانے والوں کی تو ہدایت میں اضافہ ہوا اور ہٹ دھرموں اور فاسقوں کی گمراہی میں، اور گمراہی کی بات صرف بدکردار لوگوں کو ہی سوجھتی ہے۔ پھر اللہ بھی انہیں اسی طرف چلا دیتا ہے۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے فاسقوں کی گمراہی کی نسبت اپنی طرف کیوں کی؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان صرف سبب اختیار کرنے کا مکلف ہے اور جیسا وہ سبب اختیار کرے گا ویسی ہی اسے جزا یا سزا بھی ملے گی، رہے سبب کے مُسَبِّبَاتٌ یا نتائج تو وہ انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہوتے ہیں جو اکثر دفعہ حسب توقع ہی نکلتے ہیں اور کبھی توقع کے خلاف بھی ہو سکتے ہیں لہٰذا ان مُسَببَات کی نسبت فاعل کی طرف بھی ہو سکتی ہے۔ البقرة
27 [٣٥] صلہ رحمی کی تاکید اور اقرباء سے حسن سلوک :۔اس آیت میں فاسقوں کی پوری تعریف بیان فرما دی۔ یعنی ایک تو اللہ سے کیے ہوئے عہد (عہد الست بربکم) (١٧٢: ٧) کو توڑ دیتے ہیں جو یہ تھا کہ ہم صرف اللہ ہی کی بندگی کریں گے اور دوسرے جن جن چیزوں، بالخصوص رشتوں ناطوں کو ملائے رکھنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا تھا وہ توڑ ڈالتے ہیں۔ پہلی قسم میں بندے اور اللہ کے درمیان تعلق کا ذکر ہے اور دوسری قسم میں بندے اور بندے کے درمیان تعلق کا۔ اگر ان دونوں قسم کے تعلقات کا لحاظ نہ رکھا جائے تو یہیں سے فساد کی جملہ اقسام پیدا ہوجاتی ہیں۔ قرابت داری توڑنا کتنا بڑا گناہ ہے۔ یہ درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ ساری مخلوق پیدا کرچکا تو رحم (مجسم بن کر) کھڑا ہوگیا اور پروردگار رحمٰن کی کمر تھام لی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا : ’’کہو کیا بات ہے؟‘‘ کہنے لگا : ’’میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے کاٹ دیں گے (قرابت کا خیال نہ رکھیں گے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے گا میں بھی اسے جوڑوں گا اور جو تجھے قطع کرے گا تو میں بھی اسے قطع کروں گا۔‘‘ رحم کہنے لگا : پروردگار میں اس پر راضی ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا،’’ ایسا ہی ہوگا۔‘‘ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ اگر تم چاہو تو اس حدیث کی تائید میں سورۃ محمد کی یہ آیت پڑھ لو۔ ﴿ فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْ ﴾(۲۲:۴۷) یعنی تم سے تو یہ امید ہے کہ اگر تمہیں حکومت مل جائے تو ملک میں فساد برپا کر دو اور ناطے کاٹ ڈالو۔ (بخاری، کتاب التفسیر : تفسیر۔ سورۃ محمد) البقرة
28 [٣٦] زندگی اور موت کے چار مراحل :۔ اس آیت میں انسان پر وارد ہونے والی چار کیفیات کا ذکر ہے۔ پہلے موت، پھر زندگی، پھر موت، پھر زندگی۔ روح اور جسم کے اتصال کا نام زندگی اور ان کے انفصال کا نام موت ہے۔ پہلی حالت موت ہے یعنی جملہ انسانوں کی ارواح تو پیدا ہوچکی تھیں۔ لیکن جسم اپنے اپنے وقت پر عطا ہوئے، اسی عرصہ میں عہد الست لیا گیا تھا۔ دوسری حالت انسان کی پیدائش سے لے کر اس کے مرنے تک ہے، جس میں وہ اچھے یا برے اعمال کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ تیسری حالت موت سے لے کر حشر تک اور چوتھی اور آخری حالت دوبارہ جی اٹھنے (حشر) کے بعد لامتناہی زندگی ہے۔ یاد رہے کہ جن حالتوں کو موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان میں بھی زندگی کی کچھ نہ کچھ رمق موجود ہوتی ہے۔ مگر چونکہ غالب اثرات موت کے ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہیں موت سے تعبیر کیا گیا۔ کیونکہ پہلی موت کے درمیان ہی عہد الست لیا گیا تھا اور دوسری موت میں ہی انسان کو قبر کا عذاب ہوتا ہے اور دنیا میں بھی یہ حالت خواب سے سمجھا دی گئی ہے۔ کیونکہ خواب کی حالت میں انسان پر بیشتر اثرات موت کے غالب ہوتے ہیں۔ تاہم وہ عالم خواب میں چلتا پھرتا، کھاتا پیتا اور کئی طرح کے کام کرتا ہے اور خواب یا نیند کو حدیث میں موت کی بہن قرار دیا گیا ہے، زندگی کی نہیں، نیز سونے کے وقت یہ دعا سکھائی گئی ہے۔ اللھم باسمک أموت وأحییٰ نیز قرآنی تصریحات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ موت سلبی چیز نہیں بلکہ ایجابی ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے موت کو پہلے پیدا کیا تھا اور زندگی کو بعد میں جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً﴾(۲:۶۷) ”اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اعمال کے اعتبار سے اچھا ہے“اور زیر مطالعہ آیت میں انسان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی گئی ہے کہ جو ہستی تمہاری ذات پر اتنے وسیع تصرفات کی قدرت رکھتی ہے تم اس کا انکار کیسے کرسکتے ہو؟ البقرة
29 [٣٧] اس آیت سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوئی ہیں : ہر چیز کی اصل اباحت ہے : ١۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی سب اشیاء انسان کی خاطر پیدا کی ہیں۔ لہٰذا انسان تمام مخلوقات سے اشرف (اشرف المخلوقات) ہوا۔ ٢۔ اور اسی فقرہ یا حصہ آیت سے یہ بھی نتیجہ نکلا کہ چونکہ انسان زمین کی ہر چیز سے استفادہ کا حق رکھتا ہے۔ لہٰذا ہر چیز کی اصل اباحت ہے اور حرام وہ چیز ہوگی جس کی شریعت نے وضاحت کردی ہو۔ ٣۔ زمین کی پیدائش سات آسمانوں کی پیدائش سے پہلے ہوچکی تھی۔ ٤۔ آسمان کوئی تصوراتی چیز نہیں۔ جیسا کہ آج کل ماہرین ہئیت کا خیال ہے۔ بلکہ ٹھوس حقیقت ہے اور ان کی تعداد سات ہے۔ البقرة
30 [٣٨] فرشتوں کی مستقل حیثیت : آج کل بعض ملحدین کی طرف سے یہ شبہ وارد کیا گیا ہے کہ فرشتوں سے مراد وہ مجرد قوتیں ہیں جو اس کارگاہ کائنات میں کارفرما ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ فرشتے ایسی ہستیاں ہیں جو مستقل شخصیت رکھتی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان مکالمہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں بعض ہستیوں کے قرآن میں نام بھی مذکور ہیں۔ [٣٩] آدم خلیفہ کس کا ؟ یہاں علی الاطلاق خلیفہ (نائب، قائمقام) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ صراحتاً یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے یا کسی دوسری مخلوق کا۔ بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ خلیفہ چونکہ وہ شخص ہوتا ہے جو کسی کے مرنے یا عدم موجودگی کی صورت میں اس کے اختیارات سنبھالتا ہے اور اللہ تو حی لایموت اور ہمہ وقت حاضر ہے۔ لہٰذا آدم اللہ کے خلیفہ نہیں تھے، بلکہ جنوں کے خلیفہ تھے پھر ایک ایسی روایت بھی ملتی ہے کہ انسان کی پیدائش سے پیشتر اس زمین پر جن آباد تھے جو فتنہ فساد اور قتل و غارت کرتے رہتے تھے، تو اللہ نے فرشتوں کا لشکر بھیج کر ان جنوں کو سمندروں کی طرف دھکیل دیا اور آدم علیہ السلام ان کے خلیفہ ہوئے اور بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ خلافت یا نیابت کے لیے موت یا عدم موجودگی ضروری نہیں، بلکہ کوئی بااختیار ہستی اپنی موجودگی میں بھی کسی کو کچھ اختیارات تفویض کر کے اسے اپنا خلیفہ یا نائب بنا سکتی ہے کہ وہ اس کی منشا کے مطابق ان اختیارات کو استعمال کرے۔ ہمارے خیال میں دوسری رائے راجح ہے، کیونکہ اس کی تائید ایک آیت ٣٣: ٧٢ سے بھی ہوجاتی ہے، اور دنیا میں موجود سفارتی نظام سے بھی، محولہ آیت کا ترجمہ یوں ہے : ہم نے امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی اور انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا۔ اور اس بار عظیم کے اٹھانے سے ڈر گئے۔ مگر انسان نے اسے اٹھا لیا۔ کیونکہ انسان تو انتہائی ظالم اور نادان واقع ہوا ہے (٣٣: ٧٢) اور تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہاں امانت سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے فرائض و احکام کی تعمیل اور ان کے نفاذ کا بار ہے اور اسی کا دوسرا نام نظام خلافت ہے۔ [٤٠] فرشتوں کا یہ قیاس کہ ’’بنی آدم دنیا میں فتنہ فساد اور قتل و غارت ہی کریں گے۔‘‘ یا تو اس لحاظ سے تھا کہ جن بھی زمین میں پہلے یہی کچھ کرچکے تھے اور یا اس لحاظ سے کہ جس ہستی کو اختیارات تفویض کر کے اسے اپنے اختیار و ارادہ کی قوت بھی دی جا رہی ہے وہ افراط و تفریط سے بچ نہ سکے گا اور اس طرح فتنہ و فساد رونما ہوگا۔ [٤١] تخلیق آدم پر فرشتوں کا اعتراض کیا تھا ؟ فرشتوں کا یہ جواب تخلیق آدم پر اعتراض نہ تھا بلکہ اس سے تخلیق آدم کی عدم ضرورت کا اظہار مقصود تھا۔ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ جب ہم مدبرات امر ہونے کی حیثیت سے کارگاہِ کائنات کو پوری سرگرمی اور خوبی سے چلا رہے ہیں۔ ہم تیرے حکم کی نافرمانی بھی نہیں کرتے تیری تسبیح تقدیس بھی کرتے رہتے ہیں، اور اس کائنات کو پاک و صاف بھی رکھتے ہیں اور جب یہ سب کام بخیر و خوبی سر انجام پا رہے ہیں تو پھر آدم علیہ السلام کو بطور خلیفہ پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے بالخصوص ایسی صورت میں کہ اس خلیفہ سے فتنہ و فساد بھی متوقع ہے۔ ان کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ہم چونکہ تیری تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا خلافت کے اصل حقدار تو ہم تھے۔ نہ کہ آدم جو ایسے اور ایسے کام کرے گا۔ تسبیح و تقدیس کا فرق :۔ اس آیت میں جو تسبیح و تقدیس کے الفاظ آئے ہیں۔ تسبیح کے معنی سبحان اللہ کہنا یا سبحان اللہ کا ذکر کرنا یا اس ذات کی زبان قال یا زبان حال سے صفت بیان کرنا ہے جو ہر قسم کے عیب، نقص اور کمزوریوں سے پاک ہے۔ گویا یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی خوبیوں کو مثبت انداز میں بیان کرنے اور اس کی حمد یا تعریف بیان کرنے کے لیے آتا ہے اور تقدیس کے معنی ایسی باتوں کی نفی کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ کے شایان شان نہیں۔ اور قدوس معنی وہ ذات ہے جو دوسروں کی شرکت کی احتیاج اور شرک جیسی دوسری نجاستوں سے پاک ہو یعنی اضداد اور انداد دونوں سے پاک ہو (مقاییس اللغۃ) تسبیح سے حمد بیان کرنا مقصود ہوتا ہے اور تقدیس سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ بیان کرنا۔ [٤٢] یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کو اجمالی جواب ہے۔ تفصیلی جواب آگے آ رہا ہے۔ البتہ ضمناً اس آیت سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ علم غیب فرشتوں کو بھی حاصل نہیں۔ البقرة
31 [٤٣] خلافت کے لئے ضروری شرط :۔ انسان کو فرشتوں سے جو زائد چیز ودیعت کی گئی تھی۔ وہ تھی زمین کی اشیاء کے نام، ان کے خواص، ان خواص کا علم ہونے سے آگے نامعلوم باتوں تک پہنچنے (تحقیق یا استنباط) کی قوت و استعداد، زمین میں نظام خلافت کے قیام کے لیے یہ قوت انتہائی ضروری تھی جو فرشتوں میں نہیں تھی۔ البقرة
32 [٤٤] اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کو صرف انہی امور کا علم دیا گیا ہے جن پر وہ مدبرات امر کی حیثیت سے مامور ہیں۔ مثلاً بادلوں اور پانی کا فرشتہ، پانی کے متعلق تو جملہ معلومات رکھتا ہے مگر دوسری تمام اشیاء کے افعال و خواص سے بالکل بے خبر ہے۔ یہی حال دوسرے فرشتوں کا ہے۔ جبکہ انسان کو تمام اشیاء کا سرسری علم دیا گیا تھا۔ پھر وہ تحقیق اور جستجو کے ذریعہ اس میں ازخود اضافہ کرسکتا ہے۔ البقرة
33 [٤٥] جب فرشتوں کو آدم کے ہمہ علمی احاطہ کا علم ہوگیا اور انہوں نے اپنے عجز علمی کا اعتراف کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو وہ بات بتا دی جو وہ نہیں جانتے تھے اور وہ یہ تھی کہ انسان میں اگر فتنہ و شر کا پہلو ہے تو صلاح و خیر کا پہلو بھی موجود ہے اور صلاح و خیر کا پہلو غالب ہے۔ اسی لیے اسے خلیفہ بنایا جا رہا ہے اور وہ اپنے علمی کمال کی وجہ سے اس کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔ اس قصہ سے ضمناً یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ علم عبادت سے افضل ہے۔ عبادت کا تعلق صرف مخلوق سے ہے۔ جب کہ علم کا تعلق خالق و مخلوق دونوں سے اور سب سے بڑا عالم اور علیم تو خود اللہ تعالیٰ ہے۔ بلاشبہ انسان فرشتوں جیسی اور جتنی عبادت نہیں کرسکتا۔ تاہم علم کی بنا پر فرشتوں سے افضل اور مستحق خلافت قرار پایا۔ البقرة
34 [٤٦] سجدہ تعظیمی :۔ جب فرشتوں نے آدم علیہ السلام کی فضیلت کو تسلیم کرلیا تو انہیں آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس سجدہ کے متعلق علماء کے دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سجدہ چونکہ اللہ کے حکم سے تھا لہٰذا یہ سجدہ آدم علیہ السلام کو نہیں بلکہ اللہ ہی کو سجدہ کرنے کے مترادف تھا اور اللہ ہی کے حکم کی تعمیل تھی۔ دوسرا یہ کہ یہ سجدہ تعظیمی تھا جو ہماری شریعت سے پہلے جائز تھا۔ جیسا کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے بھی سیدنا یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا تھا۔ یہ دونوں توجیہات درست ہیں۔ تاہم شریعت محمدی میں سجدہ تعظیمی کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ [٤٧] ابلیس کی رقابت کی وجہ :۔ ابلیس دراصل جنوں کی جنس سے تھا (١٨ : ٥٠) اور اپنی عبادت گزاری کی کثرت کی بنا پر فرشتوں میں گھلا ملا رہتا تھا۔ جب فتنہ و فساد کی بنا پر فرشتوں نے جنوں کو سمندروں کی طرف مار بھگایا تو اس وقت بھی یہ فرشتوں میں ہی شامل تھا، اور جن بھی چونکہ مکلف مخلوق ہیں اور قوت اختیار و ارادہ رکھتے ہیں۔ لہٰذا جنوں کے بعد ابلیس خود خلافت ارضی کی آس لگائے بیٹھا تھا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنا دیا تو یہ اندر ہی اندر جلتا بھنتا رہا اور جب فرشتوں کو حکم سجدہ ہوا تو اس کے اندرونی حسد و کینہ نے جوش مارا اور سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور اکڑ گیا اور آدم پر اپنی فضیلت کا برملا اظہار شروع کردیا (٧ : ١٢) اس وجہ سے راندہ درگاہ الٰہی اور کافر قرار پایا۔ گویا اس کا جرم صرف یہی نہ تھا کہ اس نے سجدہ نہیں کیا بلکہ اس سے زیادہ جرم یہ تھا کہ تکبر کی بنا پر حکم الٰہی کے مقابلہ میں اپنی برتری بیان کرنا شروع کردی۔ البقرة
35 [٤٨] آدم علیہ السلام اور نظریہ ارتقاء :۔ واضح رہے کہ آدم علیہ السلام سلسلہ ارتقاء کی کڑی نہیں جیسا کہ آج کل ڈارون کا نظریہ ارتقاء کالجوں وغیرہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ انسان بندر کی اولاد یا اس کا چچیرا بھائی ہے۔ جب کہ آدم علیہ السلام کا پتلا اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا (٣٨ : ٧٥) پھر اس میں اپنی روح میں سے پھونکا (١٥ : ١٩، ٣٨ : ٧٢) اسی نفخ روح سے انسان میں فہم، قوت ارادہ و اختیار و تمیز و استنباط پیدا ہوئی، جو دوسری کسی مخلوق میں نہیں پائی جاتی۔ [٤٩] حوا کی پیدائش پر ایک اعتراض اور اس کا جواب :۔ سیدہ حوا جنہیں سیدنا آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ بعض’’مساوات مرد و زن‘‘ کو شریعت سے ثابت کر دکھانے والے حضرات یہ کہتے ہیں کہ سیدہ حوا کو بھی اسی مٹی یا مادہ سے پیدا کیا گیا جس سے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ ﴿خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا﴾میں ھَا کی ضمیر مؤنث ہے۔ اگر حوا آدم علیہ السلام سے پیدا ہوتی تو ضمیر مذکر ہونی چاہئے تھی۔ یہ دلیل دو لحاظ سے غلط ہے۔ ایک اس لیے ''ھا'' کی ضمیر (نَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ) کی طرف ہے جو مونث ہے اور دوسرے اس لحاظ سے کہ احادیث صریحہ میں موجود ہے کہ سیدہ حوا کو پسلی سے پیدا کیا گیا۔ لہٰذا اسے سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو ورنہ توڑ دو گے۔ پس اس سے حسن سلوک سے پیش آؤ۔ (بخاری۔ کتاب الانبیاء باب خلق آدم و ذریتہ و قول اللّٰہ تعالیٰوَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰیِٕکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ) [٥٠] جنت ارضی یا سماوی ؟ یہ بحث بھی جاری ہے کہ یہ جنت ارضی تھی یا سماوی، بعض لوگ اسے ارضی سمجھتے اور اس کا مقام عدن یا فلسطین قرار دیتے ہیں۔ مگر ہمارے خیال میں یہ الجنہ وہی ہے جو مسلمانوں میں معروف ہے اور وہ اہل سنت کے عقیدہ کے مطابق پیدا کی جا چکی ہے۔ اس جنت میں آدم علیہ السلام و حوا کو آباد ہونے کا حکم دیا گیا تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کا اصل ٹھکانہ یہی ہے۔ تاہم یہاں آباد کرنے سے اس بات کا امتحان بھی مقصود تھا کہ آدم علیہ السلام (اور اسی طرح اس کی اولاد) شیطانی ترغیبات کے مقابلہ میں اللہ کی کس قدر اطاعت کرتے ہیں؟ [٥١] اس آزمائش کے لیے جنت سے ایک درخت کا انتخاب کیا گیا کہ اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا۔ اس کے علاوہ تم جنت کے تمام درختوں کے پھل کھا سکتے ہو۔ یہ شجرہ ممنوعہ گندم کا تھا، یا انگور کا یا کسی اور چیز کا ؟ یہ بحث لاحاصل ہے اور پیش نظر مقصد کے لحاظ سے یہ بتانے کی ضرورت بھی نہ تھی۔ [٥٢] ظلم کا لغوی مفہوم :۔ ظلم کا لغوی معنیٰ کسی چیز کو ناجائز طریقہ سے اس کے اصل مقام سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنا ہے اور یہ لفظ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی ہر ناانصافی کی بات خواہ وہ حقوق اللہ سے تعلق رکھتی ہو یا حقوق العباد سے، ظلم ہے، بالفاظ دیگر ہر گناہ پر ظلم کے لفظ کا اور گنہگار پر ظالم کے لفظ کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ اس آیت میں ظلم سے مراد اللہ رب العزت کی نافرمانی بھی ہے اور اپنے نفس پر زیادتی بھی جس کی وجہ سے جنت سے نکلنا پڑا۔ البقرة
36 [٥٣] شیطان کی حقیقت :۔ یہ شیطان دراصل ابلیس ہی تھا جو جنوں کی جنس سے تھا اور آگ سے پیدا ہوا تھا۔ شیطان کی حقیقت یوں سمجھئے کہ فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں اور جن آگ سے یا نار سے۔ اور نور اور نار دونوں کا مادہ ایک ہی ہے، یعنی نور اور روشنی نور میں بھی ہوتی ہے اور نار میں بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ اگر حدت اور تمازت (گرمی کی شدت) کم ہو یا ندارد ہو اور روشنی کا عنصر ہی غالب ہو تو یہ نور ہے اور روشنی کا عنصر کم اور حدت و تمازت کا عنصر غالب ہو تو یہ نار ہے۔ اب جنوں کی ایک قدر مشترک تو فرشتوں سے ملتی ہے یعنی وہ اپنی شکلیں بدل سکتے ہیں اور اسی بنا پر ابلیس فرشتوں میں شامل ہوجاتا تھا، اور ایک قدر مشترک انسانوں سے ملتی ہے یعنی جن اور انسان دونوں مکلف مخلوق ہیں (٥١: ٥٦) اور صاحب اختیار و ارادہ ہیں۔ اسی بنا پر ابلیس نے تو سجدہ سے انکار کردیا تھا۔ لیکن فرشتوں میں سے کوئی ایسا کر ہی نہیں سکتا تھا۔ اب جنوں یا انسانوں میں سے جو کوئی اس قوت اختیار و ارادہ کا غلط استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سرکشی پر اتر آئے وہ شیطان ہے۔ گویا شیطان جن بھی ہوتے ہیں اور انسان بھی۔ پھر شیطان کا لفظ ہر بد روح، خبیث اور موذی چیز پر بھی استعمال ہونے لگا۔ سانپ کو اسی وجہ سے جان (١٠: ٢٧) بھی کہا جاتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جو شیطان جنوں سے ہوگا۔ وہ دوسروں کو بدراہ اور گمراہ کرنے کے لحاظ سے انسانی شیطان سے زیادہ وسائل رکھتا ہے۔ جن شیطان اپنی شکلیں بدل کر اندر داخل ہو کر اور وسوسہ ڈال کر بھی دوسروں کو گمراہ کرسکتا ہے۔ جب کہ انسانی شیطان ان باتوں پر قادر نہیں ہوتا۔ فرشتوں کی مختلف اقسام اور ان کی ذمہ داریاں :۔ فرشتوں اور جنوں کی بہت سی اقسام اور صفات قرآن اور احادیث صحیحہ میں مذکور ہیں۔ فرشتوں کی پہلی قسم مقربین فرشتے ہیں۔ جن میں سے کچھ فرشتے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ چار ہیں۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ لوگوں کا حساب لینے کے لیے نزول اجلال فرمائیں گے تو اس وقت وہ فرشتے آٹھ ہوں گے۔ پھر کچھ فرشتے ایسے ہیں جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے عرش کے گرد گھیرا ڈالے رہتے ہیں۔ انہیں مقربین میں سے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو بہت سے فرشتوں کے سردار ہیں۔ مثلاً فرشتوں کی ایک قسم رسولوں یا پیغامبروں کی ہے۔ ان کے سردار جبریل ہیں۔ جن کی بہت سی صفات قرآن میں مذکور ہیں۔ وہ بڑے زور آور اور امین ہیں۔ ان کا نام روح، روح الامین اور روح القدس بھی ہے انبیاء علیہم السلام کے دلوں پر یہی جبریل اللہ کا کلام لے کر نازل ہوتے رہے ہیں۔ دوسرے سردار میکائیل یا میکال ہیں جو بادلوں، بارشوں اور برق ورعد وغیرہ پر مامور ہیں۔ تیسرے سردار عزرائیل ہیں جن کا دوسرا نام عزازیل بھی ہے، اور قرآن میں انہیں ملک الموت بھی کہا گیا ہے۔ یہ بھی جان نکالنے والے فرشتوں کی پوری جمعیت کے سردار ہیں کیونکہ کسی شخص کی جان نکالنے کے لیے ایک نہیں بلکہ کئی فرشتے آتے ہیں۔ ان میں ایک سردار اسرافیل ہیں جو قیامت کو ہونے والے واقعات اور نفخہ صور اول اور نفخہ صور ثانی اور بعض کے نزدیک نفخہ صور ثالث پر مامور ہیں۔ ان سب فرشتوں کو ملاء اعلیٰ بھی کہتے ہیں۔ پھر ان کے بعد سات آسمانوں کے اندر لاتعداد فرشتوں کی جمعیت موجود ہے جو آسمانوں یا کائنات یا اجرام فلکی کے انتظام و انصرام پر مامور ہیں۔ جب اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل ہوتا ہے تو ان میں ایک کھلبلی سی مچ جاتی ہے اور گھبراہٹ اور ہیبت طاری ہوجاتی ہے اور وہ گھبراہٹ اس وقت دور ہوتی ہے۔ جب اللہ کا حکم متعلقہ آسمان تک پہنچ جاتا ہے اور نیچے والے فرشتے اوپر والوں سے پوچھتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے کون سا حکم نازل ہوا تھا ؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ حکم جو بھی ہے ٹھوس حقائق پر مبنی ہے اور پھر وہ اس کی بجا آوری پر مستعد ہوجاتے ہیں۔ پھر کچھ ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل اور تقدیس میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کے بعد وہ فرشتے ہیں جو آسمان دنیا کے نیچے اور ہماری زمین کے قریب رہتے ہیں۔ ان میں وہ فرشتے بھی شامل ہیں جو ہر انسان کی حفاظت کے لیے اللہ نے مامور کئے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو انسانوں کے اعمال نامے لکھنے والے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو اللہ کے بندوں کی بروقت مدد کو پہنچتے ہیں، وہ بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں چلنے والوں مثلاً جہاد یا طلب علم کی خاطر سفر کرنے کے راستہ میں اپنے پر بچھاتے ہیں۔ ایسے فرشتوں کو ملائک ارضیہ بھی کہا جاتا ہے پھر کچھ فرشتے جنت کو سجانے اور اس کے انتظام و انصرام میں مصروف ہیں اور کچھ جہنم پر مامور ہیں۔ ان کی تعداد انیس ہے یعنی جہنم میں انیس قسم کے عذاب ہوں گے۔ جن کا انتظام ایک ایک فرشتہ کے سپرد ہے۔ ان انیس فرشتوں کے سردار کا نام مالک ہے اور اس جہنم کے عذاب پر پورے عملے یا محکمے کا نام زبانیہ ہے۔ صفات کے لحاظ سے فرشتوں کی اقسام :۔ صفات کے لحاظ سے بھی فرشتوں کی کئی اقسام ہیں۔ کچھ فرشتے دو پروں والے ہیں کچھ تین والے، کچھ چار والے۔ حتیٰ کہ جبریل امین کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی شکل میں دیکھا تو ان کے چھ سو پر تھے، اور یہ تو ہم بتا چکے ہیں کہ فرشتوں کی پیدائش نور سے ہوئی ہے جو نہایت لطیف چیز ہے۔ سب سے لطیف تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ پھر حاملین عرش اور گھیرا ڈالنے والے اور مقربین فرشتے ہیں۔ پھر ان کے بعد آسمانوں کے فرشتے، پھر ان کے بعد ملکوت ارضیہ کی باری آتی ہے۔ گویا نور اور اس کی لطافت کے بھی کئی درجے ہیں۔ ملکوت ارضیہ نسبتاً کم لطیف ہوتے ہیں۔ تاہم ان سب فرشتوں میں چند صفات مشترک پائی جاتی ہیں۔ مثلاً سب فرشتوں کی تخلیق نور سے ہوئی ہے۔ سب فرشتے اللہ کے فرمانبردار اور عبادت گزار ہیں اور ان کی یہ عبادت اضطراری ہے اختیاری نہیں۔ یعنی وہ اللہ کی نافرمانی کر ہی نہیں سکتے کیونکہ ان میں شر کا مادہ موجود ہی نہیں ہے۔ نیز یہ سب فرشتے غیر مرئی ہیں انسانوں کو نظر نہیں آ سکتے اور یہ سب فرشتے اپنی شکلیں بدل سکتے اور ہر مقام پر پہنچ سکتے ہیں۔ جنوں کی اقسام اور صفات :۔ جنوں کا قصہ یہ ہے کہ ان کی پیدائش نور کے بجائے ناریا آگ سے ہوئی ہے۔ جو نور سے بہرحال کم تر لطیف چیز ہے۔ پھر لطافت اور صفات کے لحاظ سے ان کی بھی کئی اقسام ہیں۔ کچھ ایسے جن ہیں جو آدمیوں کی بستیوں میں رہتے ہیں۔ انہیں عامر کہتے ہیں۔ انہیں میں سے ایک قسم ہے جو ہر انسان کے ساتھ لگی رہتی اور اسے برے کاموں پر اکساتی اور وسوسے ڈالتی رہتی ہے۔ اسے ہماری زبان میں ہمزاد کہتے ہیں۔ اس قسم کو شیطان کہتے ہیں۔ جس کے متعلق نبی نے فرمایا ہے کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ پھر کچھ ایسے جن ہیں جو لڑکوں بالوں کو ستاتے ہیں۔ ان کو اہل عرب ارواح کہتے ہیں اور ہم بھوت پریت یا آسیب کہتے ہیں اور جو جنگل میں آواز دیتے اور چیختے چلاتے ہیں ان کو ہاتف کہتے ہیں اور جو مسافروں کو بھولی ہوئی راہ بتا دیتے ہیں ان کو رجال الغیب کہتے ہیں اور کبھی جنگل میں مشعل سی دکھائی دیتی ہے ان کو شہابہ کہتے ہیں۔ جن بھی انسان کی طرح مکلف مخلوق ہے یعنی ان کی فطرت میں خیر و شر دونوں چیزیں موجود ہیں۔ ان میں کچھ جن صالح اور ایماندار ہیں اور اکثر شریر اور بدکردار ہیں۔ ان کو شیطان کہتے ہیں اور جو بہت زیادہ سرکش ہوں ان کو مارد کہتے ہیں اور جسامت کے لحاظ سے جو بہت عظیم الجثہ اور طاقتور ہوں انہیں عفریت کہتے ہیں۔ جنوں میں لطیف تر وہ جن ہیں جن کی رسائی آسمانی دنیا تک بھی ہو سکتی ہے اور کثیف وہ ہیں جو زمین پر ہی رہتے ہیں۔ بعض لوگوں کے خیال کے مطابق ابلیس ایک صالح اور عبادت گزار جن تھا جو ملائکہ ارضیہ کے ساتھ گھلا ملا رہتا تھا۔ جب فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا گیا تو آدم علیہ السلام سے رقابت کی بنا پر اس کے شر کی رگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس کی انا نے گوارا نہ کیا۔ کہ ایک ارضی مخلوق کی برتری تسلیم کرے، اور یہی انا اور تکبر اسے لے ڈوبا، اور چونکہ جنوں میں بھی توالدو تناسل کا سلسلہ جاری ہے۔ لہٰذا ابلیس کی اور پھر اس کی اولاد کی پہلے دن سے آدم علیہ السلام اور اس کی اولاد سے ٹھن گئی، اور چونکہ اس سجدہ آدم کے مقابلہ میں ابلیس نے ایک صالح جن کا کردار ادا نہیں کیا تھا بلکہ شیطان جن کا کیا تھا۔ لہٰذا قرآن میں ابلیس کو ہی کئی مقامات پر شیطان کہا گیا ہے۔ فرشتوں کے وجود کے منکرین اور ان کی تاویلات :۔ فرشتوں اور ابلیس کے متعلق ہمیں یہ لمبی چوڑی تفصیل اس لیے دینا پڑی کہ یہ قصہ آدم و ابلیس کے اہم کردار ہیں۔ نیز اس لیے بھی فرشتوں کے وجود پر ایمان لانا ازروئے قرآن نہایت ضروری اور ایمان بالغیب کا ایک حصہ ہے۔ لیکن ان تمام تر قرآنی تصریحات کے علی الرغم مسلمانوں میں سے ہی کچھ لوگ فرشتوں کے خارجی وجود اور ذاتی تشخص کے قائل نہیں۔ ہمارے ملک میں اس طبقہ کے سرخیل سر سید احمد خان ہیں۔ جن کا کچھ ذکر سورۃ فاتحہ کے آخر حاشیہ میں گزر چکا ہے۔ سرسید کی مغربی افکار سے مرعوبیت :۔ وہ مغربی افکار و نظریات سے سخت مرعوب تھے۔ انہوں نے معجزات اور خرق عادت امور کا ہی انکار نہیں کیا بلکہ فرشتوں اور جنوں کے بارے میں بھی کئی قسم کی تاویلات کر کے ان کا انکار کردیا اور جب علماء کی طرف سے شدید گرفت ہوئی تو اپنی ایک تقریر میں فرمایا کہ ’’صاحبو! میرا عقیدہ بھی وہی ہے جو سلف کا ہے۔ مگر اس وقت اسلام پر علوم جدیدہ سے وہ مصیبت برپا ہے جو بنی عباس کے دور میں یونانی فلسفہ سے برپا تھی۔ جس طرح اس وقت کے علماء نے ان کے جواب دینے کے لیے علم کلام بنایا۔ میں نے ان اعتراضات کے رفع کرنے کے لیے کلام جدید کی بنیاد ڈالی اور موجودہ دور کی مصیبت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ کیونکہ پہلے تو علماء حجروں میں بیٹھ کر خیالی دلائل بنا کر ہی رفع کردیتے تھے اور اب تو مخالفین دور بینوں وغیرہ آلات کے ذریعہ سے مشاہدہ کرا دیتے ہیں۔'' آپ کے اس اقتباس سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ آپ مغربی افکار سے کس قدر مرعوب تھے نیز یہ کہ آپ نے اسلام کا حلیہ بگاڑنے کی جو ٹھان رکھی تھی اس کے اصل محرکات کیا تھے؟ پھر آپ کی دلیل پر بھی غور فرمائیے دوربینوں سے صرف محسوسات اور مادی اشیاء کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جبکہ فرشتے اور جن دونوں محسوسات کے دائرہ سے خارج ہیں۔ بلکہ بلا خوف و تردید ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام نے کوئی بھی ایسا نظریہ پیش نہیں کیا جس کا سائنسی آلات یا علوم جدیدہ سے ابطال کیا جا سکے۔‘‘ بہرحال آپ نے فرشتوں اور جنوں سے متعلق جو انہونی تاویلات پیش فرمائیں ان کی تفصیل کا یہ موقعہ نہیں اور میں یہ تاویلات تفصیل کے ساتھ اپنی تصنیف آئینہ پرویزیت میں پیش کرچکا ہوں۔ البتہ فرشتوں سے متعلق ان تاویلات کا جائزہ لینا چاہتا ہوں جو ان کے ہونہار جانشین پرویز صاحب نے اپنی تصنیف قصہ آدم و ابلیس میں پیش کی ہیں پرویز صاحب مختلف مقامات پر فرشتوں سے مختلف تاویلات یا مرادیں پیش فرما دیتے ہیں جو کچھ اس طرح ہیں : ملائکہ سے مرادخارجی قوائے فطرت : ١۔ ملائکہ سے مراد و مفہوم وہ قوتیں ہیں جو کائنات کی عظیم القدر مشینری کو چلانے کے لیے مامور ہیں یعنی قوائے فطرت اس لیے قانون خداوندی کی زنجیر کے ساتھ جکڑی ہوئی ہیں کہ ان سے انسان کام لے سکے۔ اسی لیے قصہ آدم میں کہا گیا ہے کہ ملائکہ نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کردیا۔ مطلب یہ کہ فطرت کی قوتیں انسان کے تابع فرمان بنا دی گئی ہیں۔ (ابلیس و آدم ١٤٤) اب سوال یہ ہے کہ اگر ملائکہ سے مراد فطرت کی قوتیں لیا جائے تو یہ فطرت کی قوتیں ہرگز انسان کے تابع فرمان نہیں ہیں۔ طوفان بادو باراں سے سینکڑوں انسان مر جاتے ہیں۔ مکانات منہدم ہوجاتے ہیں۔ چھتیں اڑ جاتی ہیں۔ آفات ارضی و سماوی سے تیار شدہ فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ کیا انسان کا ان فطرت کی قوتوں پر اس وقت کوئی بس چلتا ہے؟ پھر انسان ایسے ''ملائکہ'' کا مسجود کیسے ہوا ؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ ان کائنات کی قوتوں کا تو کوئی دہریہ بھی منکر نہیں ہوتا۔ پھر ایسے ''ملائکہ'' پر ایمان بالغیب لانے کا کیا مطلب ہوا ؟ قرآن پاک میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے (٦٩: ١٧) اب اس کی تشریح پرویز صاحب کی زبان سے سنئے : ٢۔ حاملین عرش ملائکۃ کی وضاحت :۔ ”عرش وہ مرکز حکومت خداوندی ہے۔ جہاں کائنات کی تدبیر امور ہوتی ہے اور چونکہ یہ تدبیر امور ملائکہ کی وساطت سے سر انجام پاتی ہے۔ اس لیے ملائکہ، عرش الٰہی کے اٹھانے والے اور کمر بستہ اس کے گرد گھومنے والے ہیں۔'' (ایضاً ص ١٤٧) اب دیکھئے اس تشریح میں پرویز صاحب نے قرآن کریم کے دو مختلف مقامات کی آیات کو گڈ مڈ کر کے پیش کردیا ہے۔ آٹھ فرشتوں کے عرش الٰہی کو اٹھانے کا ذکر سورۃ الحاقہ (٦٩) کی ساتویں آیت میں ہے اور گھومنے والے فرشتوں کا ذکر سورۃ زمر (٣٩) کی آخری آیت نمبر ٧٥ میں ہے اور یہ گھومنے والے حافین کا ترجمہ کیا گیا ہے، جو ویسے بھی غلط ہے اس کا صحیح ترجمہ گھیرا ڈالے ہوئے ہے نہ کہ گھومنے والے۔ علاوہ ازیں گھیرا ڈالنا یا گھومنا الگ عمل ہے اور عرش کو اٹھانا الگ عمل ہے، جو عرش کو اٹھائے ہوں وہ گھوم نہیں سکتے اور جو گھوم رہے ہوں گے وہ اٹھانے والے نہیں ہوں گے، جو کچھ بھی ہو ان دونوں آیات سے فرشتوں کا خارجی وجود اور ذاتی تشخص دونوں باتیں ثابت ہو رہی ہیں جو آپ کے پہلے نظریہ ”قوائے فطرت “ کے برعکس ہیں۔ ٣۔ ”لہٰذا یہ ملائکہ ہماری اپنی داخلی قوتیں ہیں۔ یعنی ہمارے اعمال کے اثرات جو ہماری ذات پر مرتب ہوتے رہتے ہیں اور جب انسانی اعمال کے نتائج محسوس شکل میں سامنے آتے ہیں قرآن اسے قیامت سے تعبیر کرتا ہے۔ (ایضا ص ١٦٢) ملائکہ سے مراد داخلی قوتیں :۔ اب دیکھئے اس مختصر سے اقتباس میں پرویز صاحب نے بہت سے پیچیدہ مسائل کو حل فرما دیا۔ مثلاً : ١۔ ہماری داخلی قوتیں، قوت باصرہ، لامسہ، ذائقہ، سامعہ، دافعہ، حافظہ وغیرہ یا کچھ بھی ہیں۔ اگر یہی قوتیں ملائکہ ہیں تو پھر ان پر ایمان بالغیب لانے کا قرآنی مطالبہ ہی غلط قرار پاتا ہے۔ اس لئے کہ ان داخلی قوتوں کو تو کافر اور دہریئے بھی تسلیم کرتے ہیں۔ ٢۔ آپ کی پہلی تعریف کے مطابق ملائکہ سے مراد خارجی قوتیں تھا۔ اب اس تعریف کے لحاظ سے ملائکہ سے مراد انسان کی داخلی قوتیں بن گیا۔ ٣۔ اب ان داخلی قوتوں سے بھی مراد یہ ہے کہ ’’ہمارے اعمال کے اثرات جو ہماری ذات پر مرتب ہوتے رہتے ہیں۔ گویا ملائکہ کی تیسری تعریف ‘‘ہماری ذات پر مرتب ہونے والے اثرات ہیں۔ ٤۔ قیامت کا مفہوم آپ نے یہ بتایا کہ جب انسانی اعمال کے نتائج محسوس شکل میں سامنے آ جائیں تو قرآن اسے قیامت سے تعبیر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک کسان اگر بیج بوتا ہے تو جب اس سے کونپل نکل آئے یا زیادہ سے زیادہ فصل پک کر تیار ہوجائے اور اس کے عمل کا نتیجہ محسوس شکل میں سامنے آ گیا تو گویا قرآن کی رو سے اس کی قیامت آ گئی۔ اس تصریح سے آپ کے قیامت پر ایمان لانے کے تصور پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ ’’ان مقامات سے ظاہر ہے کہ جو طبعی تغیرات انسان کے جسم میں رونما ہوتے ہیں اور جن کا آخری نتیجہ انسان کی طبعی موت ہوتی ہے۔ انہیں بھی ملائکہ کی قوتوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔‘‘ (ایضاً ص ١٥٩) ملائکہ سے مراد طبعی تغیرات :۔ اب دیکھئے یہ طبعی تغیرات دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو کسی عمل کے نتیجہ کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ مثلاً پانی پینے سے پیاس بجھ جاتی ہے۔ کھانا کھانے سے بھوک مٹ جاتی ہے۔ سیر اور ورزش سے جسم مضبوط اور صحت بحال رہتی ہے۔ دوسرے طبعی تغیرات وہ جن میں انسان کے عمل کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔ جیسے اس کا بچہ سے جوان ہونا، پھر بوڑھا ہونا، پھر مر جانا۔ یہ سب امور ایسے ہیں جن کا ایمان بالغیب سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ طبعی ہیں، اور واقع ہو کر رہیں گے پھر ان طبعی تغیرات کو ملائکہ سے تعبیر کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے۔ ان طبعی تغیرات کو تو دہریے بھی تسلیم کرتے ہیں۔ پھر ایسے ملائکہ پر ایمان بالغیب لانے کا کیا مطلب؟ ٤۔ ان مقامات (یعنی بدر کے موقعہ پر تین ہزار ملائکہ کا نزول یا ایسی ہی دوسری آیات) پر غور کیجئے۔'' ملائکہ کی مدد'' کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس سے جماعت مومنین کے دلوں کو تسکین ملی تھی اور ان کے عزائم پختہ ہوگئے تھے۔ دوسری طرف دشمنوں کے دل خوف زدہ ہوگئے تھے اور ان کے حوصلے چھوٹ گئے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ان مقامات میں ملائکہ سے مراد وہ نفسیاتی محرکات ہیں جو انسانی قلوب میں اثرات مرتب کرتے ہیں۔ (ایضاً ص ١٥٥) ملائکہ سے مراد نفسیاتی محرکات :۔ اب دیکھئے اس اقتباس میں بھی پرویز صاحب نفسیاتی محرکات کو داخلی قسم کی کوئی شے قرار دے کر فریب دینے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ جب معاملہ داخلی قسم کا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے اسی انداز میں پیش فرماتے ہیں۔ جیسے مومنوں کے لیے فرمایا آیت ﴿فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہُ عَلَیْہِ﴾(۴۰:۹) اور کافروں کے لیے فرمایا: ﴿وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ﴾(۲:۵۹) لیکن یہ میدان بدر کا معاملہ داخلی قسم کا نہیں ہے۔ بلکہ یہ خارجی امداد یا محرکات تھے۔ جیسے اگر ایک انسان دوسرے کو گالی دے تو وہ سیخ پا ہوجاتا ہے یا کوئی دوسرے کا خوف رفع کر دے تو وہ مطمئن بھی ہوجاتا ہے اور اس مصیبت کو رفع کرنے کا مشکور بھی ہوتا ہے۔ یہی صورت حال بدر میں پیش آئی تھی۔ اب اگر اس سے وہی مطلب لیا جائے جو پرویز صاحب فرما رہے ہیں۔ تو تین سو تیرہ مجاہدین کے لیے پانچ ہزار ملائکہ کی مدد کی کیا صورت بن سکتی ہے؟ ”اگر ایک طرف ملائکہ ایمان و استقامت کی بنا پر اللہ کی رحمتوں کی نور افشانی کرتے ہیں تو دوسری طرف کفر و سرکشی کے لیے عذاب خداوندی کے حامل بھی ہوتے ہیں ”عذاب خداوندی“سے مفہوم یہ ہے۔ غلط قوموں کی پرورش کے تباہ کن نتائج۔ لہٰذا اس باب میں ملائکہ سے مراد وہ قوتیں ہیں جو قانون خداوندی کے مطابق انسانی اعمال کے نتائج مرتب کرنے کے لیے سرگرم عمل رہتی ہیں۔‘‘ (ایضاً ١٥٨) رحمت اور عذاب کے فرشتے : اب دیکھئے لوط علیہ السلام کے پاس فرشتے آئے اور لوط علیہ السلام کو بستی سے نکل جانے کو کہا۔ جب وہ نکل گئے تو ان فرشتوں نے قوم لوط کی بستی کو لواطت کے جرم میں الٹ مارا۔ اب اگر محض قوانین خداوندی اور علت و معلول کا سہارا لیا جائے تو ہر لوطی قوم کا یہی انجام ہونا ضروری ہے کیونکہ قوانین خداوندی میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انگلستان میں یہی عمل قوم لوط موجود ہے اور اسے قانونی جواز کی سند بھی حاصل ہے۔ اب قوانین خداوندی کے مطابق ان قوتوں (ملائکہ) کو یقینا ًان کے اعمال کا نتیجہ وہی مرتب کرنا چاہیے تھا جیسا کہ قوم لوط کے اعمال کا مرتب ہوا۔ مگر ایسا نہیں ہو رہا۔ جس کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ اعمال کو مرتب کرنے والی ہستی کوئی باشعور ہستی ہے جو اپنی مشیئت کے مطابق ہی نتائج مرتب کرتی ہے جو اپنے ہی بنائے قوانین کی پابند نہیں ہے اور نہ ہی ملائکہ بے جان و بے شعور قوتیں ہیں جو لگے بندھے نتائج مرتب کریں۔ وہ فرشتے جاندار اور باشعور ہستیاں ہیں اور قانون خداوندی کی نہیں بلکہ خداوند کے حکم کی اطاعت کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہی فرشتے جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا لوط علیہ السلام کے پاس آتے ہیں تو رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں اور وہی فرشتے قوم لوط کے لیے عذاب کے فرشتے بن جاتے ہیں۔ ’’دو، تین چار پروں سے اپنی قوت کے اعتبار سے ملائکہ کے مختلف مدارج و طبقات کا ذکر مقصود ہے۔‘‘ (ایضاً ١٦٧) دو دو، تین تین،چار چار پروں والے فرشتے اور ان کی قوت اور مدارج :۔ گویا پرویز صاحب کے نزدیک جیسے کوئی بجلی کی موٹر ٢ ہارس پاور کی ہوتی ہے۔ کوئی تین ہارس پاور کی اور کوئی چار کی۔ یہی صورت حال فرشتوں کی بھی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ قوت اور مدارج یہ دونوں عربی زبان کے لفظ ہیں اور قرآن میں انہی معروف معانی میں استعمال بھی ہوتے ہیں۔ پھر آخر فرشتوں کے لیے قوت اور درجہ کی بجائے اجنحہ (بازو، پر) کے لفظ استعمال کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ علاوہ ازیں چڑیا کے بھی دو پر ہوتے ہیں اور چیل کے بھی۔ لیکن ان دونوں کے دو دو پر ہونے کے باوجود قوت میں بڑا فرق ہے۔ اور مختلف مدارج کا معاملہ تو پرویز صاحب ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں کہ ہر انسان کے دو دو ہی بازو ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں سے ہر ایک کی قوت میں فرق ہوتا ہے اور مدارج میں بھی۔ مدارج کا انحصار بازوؤں پر نہیں بلکہ تقویٰ پر ہوتا ہے۔ سو یہ ہے فرشتوں پر ایمان بالغیب، اصل مسئلہ یہ تھا کہ آیا فرشتے کوئی الگ مخلوق ہیں یا نہیں اور ان کا کوئی خارجی تشخص ہے یا نہیں؟ چونکہ یہ مسئلہ مافوق العادت (Super Natural) ہے اس لیے آپ کو ہر مقام پر تاویلات کرنا پڑیں، پرویز نے جتنی بھی ملائکہ کی تعبیریں پیش کی ہیں۔ یہ سب انسانوں حتیٰ کہ کافروں اور دہریوں میں بھی مسلم ہیں۔ لہٰذا ان کا نہ ایمان بالغیب سے کوئی تعلق ہے اور نہ قرآن کے واضح ارشادات ہیں۔ [٥٤] شیطان کی آدم کو فریب دہی :۔ مندرجہ بیان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شیطان (ابلیس) نے جو آدم علیہ السلام کا پہلے دن سے ہی رقیب اور دشمن بن گیا تھا۔ آدم کو گمراہ کرنے اور اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کرنے کے لیے کیا کچھ نہ کیا ہوگا شیطان وسوسے ڈالتا رہا اور سیدنا آدم علیہ السلام بچتے ہی رہے۔ آخر ایک مدت گزرنے کے بعد شیطان نے آدم علیہ السلام کو کئی طرح کے سبز باغ دکھا کر اسے اپنے دامن تزویر میں پھانس ہی لیا۔ اس لیے آدم علیہ السلام سے کہا : ’’اللہ کی قسم! میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور جس درخت سے تم بچ رہے ہو اسے کھاؤ گے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں رہو گے اور اللہ کے مقرب بن جاؤ گے۔‘‘ سیدنا آدم علیہ السلام اس کے فریب میں آ گئے، درخت کے پھل کو کھایا تو فوراً جنتی لباس چھن گیا اور جنت کے پتوں سے اپنے بدن کو ڈھانپنے لگے اور فوراً انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ ضمناً یہ بحث بھی نکلی کہ انبیاء سے خطا سرزد ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ : ﴿فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا ﴾(۱۱۵:۲۰)آدم علیہ السلام (مدت مدید گزرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عہد کو) بھول گئے تھے اور ہم نے اس میں (نافرمانی کا) ارادہ نہیں پایا۔ گویا معلوم ہوا کہ انبیاء سے بھول چوک لغزش یا نافرمانی ہو سکتی ہے۔ عمداً نہیں اور عصمت انبیاء کا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر انبیاء سے کوئی غلطی یا خطا سرزد ہو تو وہ معاف کردی جاتی ہے اور اگر کوئی قابل تلافی معاملہ ہو تو بذریعہ وحی اس کی تلافی بھی کردی جاتی ہے۔ [٥٥] یعنی شیطان کے روز اول سے انسان کا دشمن ہونے کی وجہ تو واضح طور پر بیان ہوچکی ہے لہٰذا انسان اگر شیطان کو فی الواقع دشمن سمجھے گا تو تب ہی اس کی نجات کی توقع ہو سکتی ہے اور بغض و عداوت کا مقام دنیا تو ہوسکتا ہے۔ جنت نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا سب کو جنت سے نکالا اور دنیا میں چلے جانے کا حکم دے دیا گیا۔ البقرة
37 [٥٦] وہ کلمات یہ تھے آیت ﴿ قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرحمٰنا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴾(۲۳:۷)آدم و حوا دونوں کہنے لگے : ’’اے ہمارے پروردگار! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے ہیں اور اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں فرمائے گا تو ہم تو خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔‘‘ ان کلمات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے خود ہی سورۃ اعراف کی آیت نمبر ٢٣ میں کردیا ہے۔ اس کے باوجود بعض واعظ حضرات اس آیت کی تشریح میں ایک موضوع حدیث بیان کیا کرتے ہیں یہ حدیث مرفوع بنا کر پیش کی جاتی ہے۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : جب سیدنا آدم علیہ السلام جنت سے نکال کر دنیا میں بھیجے گئے تو ہر وقت روتے اور استغفار کرتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ آسمان کی طرف دیکھا اور عرض کی : ’’اے باری تعالیٰ ! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے مغفرت چاہتا ہوں۔ وحی نازل ہوئی کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کیسے جانتے ہو؟ عرض کیا۔ جب آپ نے مجھے پیدا کیا تھا تو میں نے عرش پر لکھا ہوا دیکھا تھا لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ تو میں سمجھ گیا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اونچی کوئی ہستی نہیں ہے۔ جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ لکھ رکھا ہے۔‘‘ وحی نازل ہوئی کہ وہ خاتم النبیین ہیں۔ تمہاری اولاد میں سے ہیں۔ وہ نہ ہوتے تو تم بھی پیدا نہ کیے جاتے۔ (ریاض السالکین ٣٠٢) اب دیکھئے اس میں مندرجہ بالا باتیں قابل غور ہیں : سیدنا آدم علیہ السلام کا وسیلہ پکڑنا :۔ ١۔ اس حدیث میں یہ ذکر کہیں نہیں آیا کہ پھر سیدنا آدم علیہ السلام کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے توبہ قبول ہوئی بھی یا نہیں؟ الٹا اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر سیدنا آدم علیہ السلام کو اور بھی مایوس کردیا کہ اگر وہ نہ ہوتے تو تم بھی نہ ہوتے، کسی سائل کو اگر ایسا جواب دیا جائے تو بتائیے اس کے دل پر کیا بیتتی ہے؟ موضوع حدیث کی عجمی ترکیب :۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے اس جواب کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کے نام پر ایک موضوع حدیث گھڑی گئی یعنی یہ حدیث قدسی ہے اور اس کا متن یوں ہے : عن ابن عباس یقول اللّٰہ وبعزتی و جلالی لو لاک ماخلقت الدنیا ترجمہ :”ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم نہ ہوتے تو میں اس دنیا کو پیدا ہی نہ کرتا“ (ریاض السالکین ص ٢٤٤) اس قدسی موضوع حدیث کا مفہوم ایک دوسری روایت میں ان الفاظ میں ہے۔ لَولاَکَ لَمَا خَلَقْتُ الاَفْلاَ کَ ترجمہ : ”اگر تم نہ ہوتے تو میں کائنات کی کوئی بھی چیز پیدا نہ کرتا۔“(ریاض السالکین ص ١٠١) ان حدیثوں کو ابن الجوزی نے موضوع قرار دیا ہے۔ دیکھئے موضوعات ابن الجوزی جلد ١ ص ٢٨٩ نیز ان احادیث کے موضوع ہونے پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ لولاک کی ترکیب عربی نہیں بلکہ عجمی ہے۔ عربی قواعد کے مطابق لو لا انت آنا چاہئے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین غزوہ خندق کے دوران خندق کی مٹی ڈھوتے وقت یہ شعر گنگنا رہے تھے : اللھُمَّ لَوْ لاَ اَنْتَ مَا اھْتَدَیْتَنَا (بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ خندق) گویا لولاک کی ترکیب ہی غلط ہے، جو اس کے موضوع ہونے پر دلیل ہے۔ ان موضوعات کا مقصد صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کی عظمت یا قدامت بیان کرنا نہیں بلکہ کچھ اور بھی مقاصد ہیں جو ان حضرات کے نزدیک بہت اہم ہیں مثلاً : ١۔ اللہ سے خواہ کتنے ہی برس رو رو کر مغفرت طلب کی جائے وہ اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کسی کا وسیلہ نہ پکڑا جائے اور (٢) یہ وسیلہ اپنے نیک اعمال کا نہیں کسی بزرگ ہستی کا ہی ہوسکتا ہے۔ خواہ وہ ابھی تک وجود میں نہ آئی ہو یا خواہ اس دنیا میں موجود ہو یا اس دنیا سے رخصت ہوچکی ہو۔ کاش سیدنا آدم علیہ السلام کو اتنی مدت رونے سے پہلے ہی یہ باتیں معلوم ہوجاتیں۔ شیعہ حضرات نے جب موضوعات کا وسیع میدان دیکھا تو وہ ان حضرات سے بھی چار ہاتھ آگے نکل گئے۔ ان کی قدسی حدیث کا متن یوں ہے لو لاعلی ماخلقتک یعنی اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا : اگر علی نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔“ البقرة
38 [٥٧] کیا نیکی اور بدی کے نتائج لازمی ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ گناہ معاف کردیا۔ مگر جنت سے اخراج کا حکم بحال رہنے دیا، بلکہ اسے مکرر بیان فرمایا کیونکہ آدم علیہ السلام کو جنت میں رہنے کے لیے نہیں بلکہ زمین میں خلافت کے لیے پیدا کیا گیا تھا اور یہی کچھ اقتضائے مشیت الٰہی تھا۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نیکی اور بدی کے نتائج لازمی نہیں جو بہرحال انسان کو بھگتنا پڑیں یہ ایک گمراہ کن نظریہ ہے۔ نیکی کی جزا اور بدی کی سزا دینا کلیتاً اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، بھلائی پر انعام بھلائی کا طبیعی نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کا فضل ہے۔ وہ چاہے تو دے چاہے تو نہ دے اور چاہے تو کئی گنا زیادہ دے دے۔ اسی طرح وہ چاہے تو کسی کا گناہ معاف کر دے، اور چاہے تو سزا دے دے۔ وہ حکیم بھی ہے اور عادل بھی۔ لہٰذا ان صفات کے مطابق وہ سب کچھ کرنے کا پورا اختیار رکھتا ہے۔ کفارہ مسیح کا عقیدہ :۔ اللہ تعالیٰ کا سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کرنے سے نصاریٰ کے اس غلط عقیدہ کی بھی تردید ہوجاتی ہے کہ آدم علیہ السلام کے اس گناہ کے داغ کو بنی نوع انسان کے دامن سے دور کرنے کے لیے خدا کو اپنا اکلوتا بیٹا بھیج کر کفارہ ادا کرنے کے لیے سولی پر چڑھانا پڑا۔ البقرة
39 [٥٨] جنت میں دوبارہ داخلہ : ساتھ ہی یہ بھی وضاحت فرمائی کہ بنی نوع انسان کے لئے میری طرف سے ہدایت (وحی) آتی رہے گی اور جو لوگ اس کے مطابق عمل کریں گے۔ انہیں کچھ غم و اندوہ نہ ہوگا اور وہ اس جنت کے وارث ہوں گے، جہاں سے آدم و غیرہم کو نکالا گیا تھا۔ البتہ جو لوگ ہماری وحی کا انکار کریں گے اور شیطان سے دوستی رکھیں گے تو وہ دائمی طور پر دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ البقرة
40 [٥٩] بنی اسرائیل سے خطاب کا آغاز :۔ یہاں سے خطاب کا رخ عوام الناس کے بجائے بنی اسرائیل کی طرف ہوگیا ہے جو چودھویں رکوع تک چلتا ہے۔ یہود مدینہ میں بکثرت آباد تھے۔ چونکہ سیدنا اسحاق علیہ السلام سے لے کر ان میں تقریباً چار ہزار نبی آچکے تھے۔ اس لیے تمام عرب پر ان کے علم و فضل کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ ان پر اللہ تعالیٰ نے بے شمار انعامات کئے تھے۔ مگر کچھ مدت گزرنے پر ان میں بہت سے عیوب پیدا ہوگئے تھے اپنے اس علمی تفوق کی بنا پر اور اس حسد کی بنا پر کہ آنے والا نبی اسحاق علیہ السلام کی اولاد سے نہیں، انہوں نے دعوت اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔ چنانچہ اگلی آیات میں ان کا مفصل ذکر آ رہا ہے۔ اسرائیل کا معنی عبداللہ ہے اور یہ یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا اور بنو اسرائیل سے مراد ان کی اولاد یا یہودی قوم ہے۔ جن کے لیے تورات نازل ہوئی۔ [٦٠] بنی اسرائیل کا کتاب اللہ سے سلوک وہ عہد یہ تھا کہ تم تورات کے احکام کے پابند رہو گے اور میں جو پیغمبر بھیجوں اس پر ایمان لا کر اس کا ساتھ دو گے اور اللہ کا عہد یہ تھا کہ ملک شام تمہارے قبضہ میں رہے گا۔ بنی اسرائیل نے اس اقرار کو قبول تو کرلیا مگر بعد میں اس پر قائم نہ رہے، بدنیتی کی، رشوت لے کر غلط مسئلے بتائے، حق کو چھپایا۔ آنے والے نبیوں کی اطاعت کے بجائے ان میں سے بعض کو قتل ہی کر ڈالا اور اپنی ریاست جمائی اور تورات میں جہاں کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توصیف تھی اسے بھی بدل ڈالا۔ البقرة
41 [٦١] عقائد، اخبار انبیاء اور احوال آخرت تمام الہامی کتابوں میں تقریباً ایک ہی جیسے ہیں۔ فرق ہوتا ہے تو صرف بعض احکام میں جو احوال و ظروف کے تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے۔ لہٰذا قرآن جب تورات کی تصدیق کر رہا ہے تو اس کے پہلے منکر تم ہی نہ بن جاؤ۔ امی اہل عرب اور تمہاری اولاد تو تمہاری ہی روش پر چلیں گے۔ اس طرح سب کے گناہ کا حصہ تم پر بھی ہوگا۔ اور حدیث میں ہے کہ : اہل کتاب کے ایمان لانے پر دوہرا اجر :۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تین آدمیوں کے لیے دوہرا ثواب ہے ایک تو وہ اہل کتاب جو اپنے پیغمبر پر ایمان لایا، پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا۔ دوسرے وہ غلام جو اللہ کا بھی حق ادا کرے اور اپنے مالکوں کا بھی، تیسرے وہ شخص جس کے پاس ایک لونڈی ہو جس سے وہ محبت کرتا ہو اسے اچھی طرح ادب سکھائے پھر آزاد کر کے اس سے نکاح کرلے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔‘‘ عامر شعبی نے صالح سے کہا ہم نے یہ حدیث تمہیں مفت بتا دی جبکہ لوگ اس سے کم درجہ کی حدیث کے لیے مدینہ جایا کرتے تھے۔ (بخاری، کتاب العلم، باب تعلیم الرجل امتہ واھلہ) البقرة
42 البقرة
43 [٦٢] نماز اور زکوٰۃ، ہر زمانہ میں دین اسلام کے اہم ارکان رہے ہیں۔ لیکن یہود میں نماز باجماعت کا اہتمام نہیں تھا اور ان کی نماز میں رکوع بھی نہیں تھا۔ یہود نے نماز ادا کرنا بالکل چھوڑ ہی دیا تھا اور زکوٰۃ ادا کرنے کے بجائے سود کھانا شروع کردیا تھا۔ اس آیت میں انہیں تنبیہ کی جا رہی ہے۔ کہ اب تمام امور میں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔ اس آیت اور اس سے اگلی تین آیات میں خطاب یہود اور مسلمانوں میں مشترک ہے۔ ہماری شریعت میں بھی نماز باجماعت ادا کرنا بہت فضیلت رکھتا ہے اور بلا عذر ترک جماعت کبیرہ گناہ ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ نماز باجماعت کی فضیلت اور فوائد :۔ ١۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جماعت کی نماز اکیلے شخص کی نماز سے ستائیس گنا زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الاذان، باب فضل صلٰوۃ الجماعۃ) ٢۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کا حکم دوں، اس کے لیے اذان کہی جائے پھر کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو امامت کرائے پھر میں (جماعت سے) پیچھے رہنے والوں کے ہاں جا کر ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر ان لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ انہیں (جماعت میں شامل ہونے پر) ایک موٹی ہڈی یا دو اچھے کھر ملیں گے تو عشاء کی نماز میں ضرور آتے۔ (بخاری، کتاب الاذان، باب وجوب صلٰوۃ الجماعۃ) نماز کے فضائل اور اہمیت :۔ ٣۔ سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا دیکھو اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر بہتی ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ نہائے تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل کچیل رہ جائے گا ؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا نہیں کچھ میل کچیل باقی نہیں رہے گا۔ آپ نے فرمایا : بس یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ ان نمازوں کی وجہ سے گناہ معاف کردیتا ہے۔ (متفق علیہ) ٤۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ہر نماز اپنے سے پہلی نماز تک کے، جمعہ اپنے سے پہلے جمعہ تک کے اور رمضان اپنے سے پہلے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ ہیں۔ بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے۔ (مسلم، کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضوء والصلٰوۃ عقبہ) ٥۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ''جس نے نماز کی حفاظت کی اس کے لیے نماز قیامت کے دن نور، برہان اور نجات کا باعث ہوگی اور جس نے نماز کی حفاظت نہ کی اس کے لیے اس دن نہ نور ہوگا، نہ برہان اور نہ نجات اور قیامت کے دن وہ قارون، فرعون، ہامان، اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ (احمد، دارمی، بیہقی، بحوالہ مشکوٰۃ مطبوعہ نور محمد ص ٥٨) ٦۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے حد کا ایک گناہ کیا ہے۔ مجھے حد لگائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں پوچھا۔ اتنے میں نماز کا وقت آ گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ وہ شخص پھر کھڑا ہو کر کہنے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک حدی گناہ کیا ہے۔ آپ کتاب اللہ کے مطابق مجھے سزا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ وہ کہنے لگا : ہاں پڑھی ہے۔ آپ نے فرمایا : ’’تو بس اللہ نے تیرا گناہ اور تیری سزا کو معاف کردیا۔‘‘ (بخاری، کتاب المحاربین باب إذا أقربالحد) البقرة
44 [٦٣] بعض یہودی علماء اپنے عزیزوں کو جو مسلمان ہوگئے تھے۔ کہتے تھے کہ اسی دین (اسلام) پر قائم رہو کیونکہ یہ دین برحق ہے۔ مگر بعض دنیوی مفادات کی بنا پر خود مسلمان نہیں ہوتے تھے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی اور یہ حکم سب کے لیے عام ہے۔ البقرة
45 [٦٤] پریشانیوں اور مصائب کا علاج :۔ مصیبت اور پریشانی کی حالت میں صبر اور نماز کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی یاد میں جس قدر طبیعت مصروف ہو اسی قدر دوسری پریشانیاں خود بخود کم ہوجاتی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہاں صبر سے روزہ بھی مراد لیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو خود بھی نماز میں مشغول ہوتے اور اپنے اہل بیت کو بھی اس کی دعوت دیتے تھے۔ اور صبر کسے کہتے ہیں یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنیے۔ صبر کی تعریف :۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عورت پر گزر ہوا جو ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ’’اللہ سے ڈرو اور صبر کرو۔‘‘ وہ کہنے لگی۔ ’’جاؤ اپنا کام کرو تمہیں مجھ جیسی مصیبت تو پیش نہیں آئی۔‘‘ وہ عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتی نہ تھی۔ اسے لوگوں نے بتایا کہ وہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ چنانچہ وہ آپ کے دروازے پر حاضر ہوئی۔ وہاں کوئی دربان موجود نہ تھا۔ وہ اندر جا کر کہنے لگی۔ ’’میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا (میں صبر کرتی ہوں)‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’صبر تو اس وقت کرنا چاہیے جب صدمہ شروع ہو۔‘‘ (بخاری کتاب الجنائز باب زیارۃ القبور) البقرة
46 [٦٥] یعنی جو لوگ مرنے کے بعد اپنے پروردگار سے ملنے اور اس کے حضور جواب دہی کا یقین رکھتے ہیں۔ ان کے لیے نماز کی ادائیگی کبھی مشکل نہیں ہوا کرتی بلکہ اگر کوئی نماز چھوٹ جائے یا نماز میں تاخیر ہوجائے تو ان کی طبیعت گراں بار ہوجاتی ہے اور جب تک وہ نماز ادا نہ کرلیں انہیں چین نہیں آتا اور جو لوگ روز آخرت پر پورا یقین نہیں رکھتے، ان کے لیے نماز ایک مصیبت اور مفت کی بیگار ہوتی ہے۔ البقرة
47 [٦٦] یعنی ایک وہ وقت تھا جب تمام اقوام پر بنی اسرائیل کے علم و فضیلت کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ لیکن اللہ کی اس نعمت کا ان پر الٹا اثر ہوا، بجائے اس کے کہ وہ شکر ادا کرتے اور اس کے حضور سرنگوں ہوتے اور تقویٰ اختیار کرتے وہ ازراہ تکبر یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں۔ لہٰذا اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں عذاب نہیں ہوگا اور یہ بات ان کے عقیدہ میں راسخ ہوگئی تھی۔ البقرة
48 [٦٧] سفارش پر تکیہ کرنا نری بے وقوفی ہے :۔ ان کے اسی غلط عقیدہ کا اس آیت میں جواب دیا گیا ہے، کہ عذاب سے نجات کی جو چار صورتیں ممکن ہیں ان میں سے کوئی بھی تمہارے کام نہ آسکے گی۔ یعنی کوئی شخص دوسرے کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہ ہوگا، نہ کسی کی سفارش کام آئے گی، نہ وہ فدیہ دے کر چھوٹ سکے گا اور نہ ہی اللہ کے مقابلہ میں وہاں اس کا کوئی حامی و مددگار ہوگا۔ لہٰذا خوب سمجھ لو کہ محض انبیاء کی اولاد ہونے کی بنا پر تم کبھی اپنی کرتوتوں کی سزا سے بچ نہ سکو گے۔ یہ درست ہے کہ قیامت کے دن انبیاء اور صلحاء گنہگاروں کے لیے سفارش کریں گے لیکن اس سفارش کی شرائط ایسی ہیں کہ سفارش پر تکیہ کرنا مشکل ہے مثلاً یہ کہ سفارش وہی کرے گا جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا، اور اتنی ہی کرسکے گا جتنی اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوگی، یا صرف اسی گناہ کے لیے سفارش کرسکے گا۔ جس کا اللہ کی طرف سے اذن ہوگا، اور صرف اسی شخص کے حق میں کرسکے گا جس کے حق میں سفارش کرنا منظور ہوگا۔ البقرة
49 [٦٨] فرعون کی بنی اسرائیل کو تعذیب کی وجہ :۔ فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر اس کے نجومیوں نے یہ دی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہوگا جو تمہیں اور تمہاری سلطنت کو غارت کر دے گا۔ فرعون نے اس کا حل یہ سوچا کہ اپنی مملکت میں حکم دے دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بچہ پیدا ہو اسے مار ڈالا جائے اور جو لڑکیاں پیدا ہوں انہیں اپنی لونڈیاں بنا لیا جائے۔ اپنی حکومت کو بچانے کے لیے اس کی یہ تدبیر انتہائی ظالمانہ تھی۔ مگر جو کام اللہ کو منظور تھا وہ ہو کے رہا اور فرعون کے سر پر چڑھ کر ہوا۔ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرعون کے منہ پر جوت مارا کہ موسیٰ علیہ السلام کی پرورش بھی اس کے گھر میں ہوئی۔ آیت ﴿وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴾(۲۱:۱۲) البقرة
50 [٦٩] بنی اسرائیل پر بیتنے والے تاریخی واقعات چونکہ بہت مشہور اور زبان زد خاص و عام تھے۔ لہٰذا یہاں ان کا اجمالی ذکر ہی آیا ہے۔ البتہ بعض دوسرے مقامات پر ان کی تفصیل بھی بیان کردی گئی ہے۔ انہیں میں سے ایک واقعہ بنی اسرائیل کی نجات اور فرعون کی غرقابی کا بھی ہے۔ البقرة
51 بنی اسرائیل کی گؤ سالہ پرستی :۔ فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل جب جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو چالیس راتوں کے لیے کوہ طور پر طلب فرمایا تاکہ اس نئی آزاد شدہ قوم (بنی اسرائیل) کو عملی ہدایات و احکام عطا کئے جائیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے جانے کے بعد اس قوم نے گؤ سالہ پرستی شروع کردی۔ مصر میں گؤ سالہ پرستی کا عام رواج تھا۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل انحطاط کا شکار ہوگئے اور رفتہ رفتہ قبطیوں (فرعونیوں) کے غلام بن گئے۔ انہیں کی بود و باش اپنانے میں عافیت سمجھی اور منجملہ دوسری رذیلہ امراض کے گؤ سالہ پرستی کو بھی اپنا لیا۔ فرعون سے نجات پا جانے کے بعد تاحال گؤ سالہ پرستی کے جراثیم ان سے ختم نہیں ہوئے تھے۔ البقرة
52 البقرة
53 البقرة
54 [٧٠] گؤسالہ پرستوں کا قتل عام :۔ موسیٰ علیہ السلام جب کوہ طور سے تورات لے کر واپس لوٹے تو انہیں بنی اسرائیل کی اس گؤ سالہ پرستی کا علم ہوا اور اس بات سے سخت دکھ ہوا۔ قوم سے کہا کہ اب اس ظلم کی سزا یہ ہے کہ جن جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی انہیں چن چن کے مار ڈالو۔ اس وقت بنی اسرائیل کے تین گروہ بن گئے تھے۔ ایک وہ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔ دوسرے وہ جو انہیں گؤسالہ پرستی سے منع کرتے تھے۔ تیسرے وہ جو غیر جانبدار رہے۔ نہ خود گؤسالہ پرستی کی اور نہ ہی کرنے والوں کو منع کیا۔ انہیں حکم یہ دیا گیا کہ منع کرنے والے بچھڑا پوجنے والوں کو قتل کریں اور جو غیر جانبدار رہے انہیں معاف کردیا گیا۔ البقرة
55 [٧١] یہ بنی اسرائیل کے لوگ کچھ ایسے بدنہاد واقع ہوئے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام کی زبان پر بھی اعتبار نہیں کرتے تھے۔ جب موسیٰ علیہ السلام تورات لے کر کوہ طور سے واپس لوٹے اور قوم کے سامنے کتاب پیش کی تو کہنے لگے۔ ہمیں یہ کیسے معلوم ہو کہ یہ کتاب واقعی منزل من اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ فی الواقع آپ سے ہم کلام ہوا تھا۔ اس صورت حال سے موسیٰ علیہ السلام سخت پریشان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا کہ ستر آدمیوں کو بھی اپنے ساتھ طور پہاڑ پر لے آؤ۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے ستر آدمی منتخب کئے اور انہیں اپنے ہمراہ طور پر لے گئے کہ وہ خود بقائمی ہوش و حواس کلام الٰہی کو سن لیں۔ پھر جب انہوں نے کلام الٰہی سن لیا تو کہنے لگے : ’’موسیٰ پردے میں سننے کا ہمیں کچھ اعتبار نہیں اور ہم تو جب تک اللہ کو صاف صاف دیکھ نہ لیں، تمہاری بات پر اعتبار نہیں کریں گے۔‘‘ منتخب ستر آدمیوں کی موت اور دوبارہ زندگی :۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ ان کا یہ مطالبہ ناقابل عمل اور انتہائی جہالت پر مبنی تھا۔ موسیٰ علیہ السلام جب خود بھی اللہ کی تجلی کی تاب نہ لا سکے اور بے ہوش ہو کر گر گئے تھے، اور پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوگیا تھا۔ تو بھلا یہ کس کھیت کی مولی تھے۔ ان کے اس مطالبہ پر ان پر بجلی گری شاید یہ بھی اللہ کی تجلی ہی کی کوئی صورت ہو، اور آن کی آن میں انہیں بھسم کر ڈالا۔ البقرة
56 [٧٢] اب موسیٰ علیہ السلام کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ اکیلے واپس جا کر قوم کو کیا کہیں گے۔ چنانچہ پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور فرمایا : ’’اے اللہ! اگر تیری یہ مشیت تھی تو آج سے پہلے انہیں اور مجھے بھی ہلاک کردیا ہوتا، کیا آج تو ان نادان لوگوں کی بات پر ہمیں ہلاک کرتا ہے؟‘‘(٧ : ١٥٥) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی دعا قبول فرما کر انہیں ازسر نو زندہ کردیا۔ البقرة
57 [٧٣] بنی اسرائیل کا جہاد سے انکار :۔ یہ واقعہ تفصیل سے سورۃ مائدہ میں آئے گا۔ مختصر یہ کہ موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو لے کر وادی سینا میں پہنچے تو اس وقت یہ قوم لاکھوں کی تعداد میں تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے ملک شام پر حملہ کرنے کے لیے کہا ( یہی وہ ملک تھا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا) تو کہنے لگے’’ موسیٰ! وہاں تو جابر قسم کے لوگ رہتے ہیں۔ لہٰذا ہم ان کے مقابلہ کی سکت نہیں رکھتے، اور اگر یہ حملہ ایسا ہی ضروری ہے تو تم اور تمہارا پروردگار دونوں جا کر ان سے جنگ کرو ہم تو یہاں ہی بیٹھتے ہیں۔‘‘ ان کا یہ جواب دراصل اس بزدلی کی وجہ سے تھا جو مدتوں فرعون کی غلامی میں رہنے کی وجہ سے ان میں پیدا ہوچکی تھی۔ جہاد سے انکار کی سزا :۔ اس جواب پر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ملک شام کی فتح چالیس سال تک کے لئے موخر کردی۔ تاکہ اس عرصہ میں یہ بزدل نسل مر کھپ جائے اور آئندہ جو نسل اس بیابان اور آزادانہ فضا میں پیدا ہو۔ اس میں کچھ ہمت اور جرأت پیدا ہو اور جہاد کے قابل بن جائیں۔ اب سوال یہ تھا کہ اس بیابان میں نہ کوئی مکان تھے اور نہ سامان خورد و نوش اور لوگ لاکھوں کی تعداد میں تھے۔ ابر ، من و سلویٰ اور بارہ چشمے :۔ اندریں صورت اللہ تعالیٰ نے اس طویل مدت کے لیے آسمان کو ابر آلود رکھا، ورنہ یہ سارے لوگ دھوپ کی شدت سے تباہ و برباد ہوجاتے اور خوراک کا یہ انتظام فرمایا کہ کثیر تعداد میں من و سلویٰ نازل فرمایا۔ من ایک میٹھی چیز تھی جو دھنیے کے بیج جیسی تھی اور رات کو اوس کی شکل میں نازل ہوتی تھی اور سلویٰ بٹیر کی قسم کے پرندے تھے جنہیں یہ لوگ بھون کر اور کباب بنا کر کھاتے تھے اور یہ غذائیں بلامشقت انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کثیر مقدار میں اس طویل عرصہ میں ملتی رہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قوم پر خاص انعامات تھے۔ ورنہ جو مایوس کن جواب انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیا تھا۔ اگر اللہ چاہتا تو اس کی پاداش میں انہیں ہلاک کردیتا اور پھر اس جزیرہ میں اس طرح زندگی بسر کرنا بھی ان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا تھا۔ اسی جنگل میں سیدنا ہارون علیہ السلام کی وفات ہوئی۔ پھر ایک سال بعد سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بھی وفات ہوئی تھی۔ البقرة
58 [٧٤] پھر جب یہ تربیت کا عرصہ گزر گیا اور انہوں نے ایک بستی کو فتح کرلیا تو ہم نے انہیں ہدایت کی کہ اس شہر میں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر اور منکسرانہ انداز سے داخل ہونا اور اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کرنا (یعنی بدنی اور قولی دونوں طرح کی عبادت کرنا اور (حِطَّۃٌ) کا ایک یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں پر تم فتح پاؤ، ان میں قتل و غارت نہ شروع کرنا بلکہ انہیں معاف کردینا (جیساکہ فتح مکہ کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کچھ کیا تھا) تاکہ ہم تمہاری خطائیں معاف کر کے تمہیں انعامات سے نوازیں۔ البقرة
59 [٧٥] بنی اسرائیل کا فتح کے وقت تکبر :۔ مگر ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو پس پشت ڈال کر اس کے بالکل الٹ کام کیے۔ بستی میں داخل ہوتے وقت سجدہ ریز ہونے کے بجائے اکڑتے ہوئے اور سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے، اور توبہ و استغفار کرنے کے بجائے دنیوی مال و دولت کے پیچھے پڑگئے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ’’بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا کہ شہر کے دروازے میں جھک کر داخل ہونا اور زبان سے (حطۃ) (یعنی گناہوں کی بخشش مانگنا) لیکن وہ اپنی سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور (حِطَّۃٌ) کے بجائے حَبَّۃٌ فی شعرۃ (دانہ بالی کے اندر) کہنے لگے۔ (بخاری، کتاب التفسیر) اور مسلم میں حبۃ فی شعرۃ کے بجائے حنطۃ فی شعرۃ (گندم اپنی بالی کے اندر) کے الفاظ ہیں۔ (مسلم، کتاب التفسیر) طاعون کا عذاب :۔ بنی اسرائیل جب شہر پر قابض ہوئے وہاں بدکاریاں شروع کردیں جس کی سزا اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ دی کہ آسمان سے عذاب (طاعون کی وبا کی صورت میں) نازل فرمایا جس کے نتیجہ میں ایک روایت کے مطابق ستر ہزار یہود مر گئے۔ البقرة
60 [٧٦] بارہ چشموں کا پھوٹنا :۔ یہ واقعہ بھی اسی وادی سینا میں پیش آیا۔ سایہ اور غذا کے علاوہ انہیں پانی کی بھی شدید ضرورت تھی اور وہاں دور تک کہیں پانی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ لوگوں نے موسیٰ علیہ السلام سے پانی کی شکایت کی تو موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پانی کے لیے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک چٹان سے اتنی کثیر اور وافر مقدار میں پانی نکالا جو اس لاکھوں کے لشکر کی روزانہ ضروریات کے لیے کافی ہوتا تھا۔ یہ قوم بارہ قبیلوں میں منقسم تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس چٹان میں ١٢ ہی چشمے رواں کردیے۔ کوئی شگاف بڑا تھا، کوئی چھوٹا اور یہی صورت ان بارہ قبیلوں کے افراد کی تعداد کی تھی۔ پانی کی اس طرح تقسیم سے ان میں پانی پر باہمی جھگڑے کے امکانات ختم ہوگئے۔ یہ چٹان اب بھی جزیرہ نمائے سینا میں موجود ہے۔ جسے سیاح جا کر دیکھتے ہیں اور چشموں کے شگافوں کے نشان اب بھی اس میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ [٧٧] یعنی یہ خداداد مفت کی نعمتیں جو تمہیں مہیا ہیں۔ ایک دوسرے سے چھین کر یا چرا کر خواہ مخواہ فتنہ اور جھگڑے کے مواقع پیدا نہ کرتے رہنا۔ فساد فی الارض کیا ہے؟ فساد فی الارض کی مذمت تو سبھی کرتے ہیں، مگر فساد فی الارض ہے کیا چیز؟ اس بات کی تعیین میں ہر شخص کے نقطہ نظر کے مطابق اختلاف واقع ہوجاتا ہے۔ عموماً فساد فی الارض کا مطلب چوری، ڈاکہ، لوٹ مار، قتل و غارت اور ایک دوسرے کے حقوق کو غصب کرنا ہی سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ فساد فی الارض کا صرف ایک پہلو ہے۔ مدینہ کے مسلمانوں نے منافقوں سے کہا کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو وہ کہنے لگے کہ ہم مفسد کب ہیں؟ بلکہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ (٢ : ١١) موسیٰ علیہ السلام فرعون، قارون اور ہامان کو مفسد قرار دیتے تھے تو فرعون اور اس کے درباری سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور آپ کے پیروکاروں کو فسادی قرار دیتے تھے۔ فرعون کے درباریوں نے فرعون سے کہا کہ کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ وہ زمین میں فساد مچاتے پھریں اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں؟تو اس فرعون نے اس قسم کے فساد فی الارض کی اصلاح کا طریقہ سوچ کر کہا کہ ’’ہم لوگ ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھیں گے اور ہم ان لوگوں پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔‘‘ (٧ : ١٢٧) ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کے نقطہ نظر کے مطابق فساد فی الارض اور اصلاح دونوں کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ فساد فی الارض حقیقتاً ہے کیا چیز؟ اس سوال کا جواب بالکل آسان ہے اور وہ یہ ہے کہ حکومت اور اس کے نظام امن میں خلل ڈالنے والا مفسد یا فسادی ہوتا ہے۔ فرعون کو چونکہ موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی قوم سے بغاوت کا خطرہ تھا۔ لہٰذا اس نے انہیں مفسد قرار دے دیا اور شرعی نقطہ نظر سے حاکم مطلق اور مقتدر اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لحاظ سے جو شخص بھی اللہ کے اور بندوں کے آپس میں باہمی حقوق پر ڈاکہ ڈالے گا۔ وہ فساد فی الارض کا مجرم ہوگا اور اسی لحاظ سے اللہ کے ساتھ شرک کرنا فساد فی الارض کی سب سے بڑی قسم قرار پاتا ہے اور اللہ کے دین کے خلاف معاندانہ سرگرمیاں یا خفیہ مشورے کرنا یا بغاوت کرنا بھی اتنا ہی شدید جرم ہے جتنا ڈاکہ ڈالنا یا چوری و زنا کرنا۔ اس فرق کو ہم یوں بھی واضح کرسکتے ہیں کہ شرک اور زنا بالرضا ایک دنیا دار معاشرہ میں جرم نہیں سمجھا جاتا۔ جب کہ شرعی نقطہ نظر سے یہی باتیں فساد فی الارض میں سرفہرست شمار ہوتی ہیں۔ نیز ایک دین بیزار حکومت کے خلاف جہاد کرنا اس حکومت کے نظریہ کے مطابق بغاوت اور بہت بڑا جرم ہے۔ جبکہ شرعی نقطہ نظر سے یہ فساد فی الارض کے خاتمہ کا آغاز ہوتا ہے۔ اس وضاحت سے آپ قرآن میں مختلف مقامات پر مذکور فساد فی الارض کا مفہوم آسانی سے سمجھ سکیں گے۔ البقرة
61 [٧٨] بنی اسرائیل کا من وسلویٰ پر قناعت نہ کرنا :۔ یہ بھی اسی جنگل کا واقعہ ہے جہاں ایک طویل مدت کے لئے بنی اسرائیل کو محصور کیا گیا تھا۔ انہیں من و سلویٰ جیسی نعمتیں بلا مشقت مل رہی تھیں۔ مگر وہ ان چیزوں کو کھاتے کھاتے اکتا گئے تھے تو زمینی پیداوار کا مطالبہ کردیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سمجھایا کہ ’’جو چیز تمہیں یہاں سے بلامشقت مل رہی ہے وہ اس سے بدرجہا بہتر ہے جو تم مانگ رہے ہو اور وہ مشقت کے بعد ہی تمہیں حاصل ہوگی۔‘‘ لیکن جب ان لوگوں نے اپنے مطالبہ پر اصرار کیا تو موسیٰ علیہ السلام نے بالآخر ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر یہی چاہتے ہو تو فلاں شہر میں چلے جاؤ، وہاں تمہیں یہ چیزیں میسر آ جائیں گی۔‘‘ موسیٰ علیہ السلام کا صرف یہی مطلب نہ تھا کہ من و سلویٰ جو تمہیں بلا مشقت مل رہا ہے وہ بامشقت گندم اور ساگ وغیرہ سے بہتر ہے، بلکہ یہ بھی تھا کہ جنگل کی آزادانہ فضا تم سے بزدلی دور کرنے، شجاعت پیدا کرنے اور جہاد کے لیے مستعد ہونے اور فارغ رہ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے لحاظ سے شہر کی مصروف اور آرام پرستانہ زندگی سے بہرحال بہتر ہے اور تم اپنے لیے ایک بہتر چیز کے بجائے ایک گھٹیا بات کا مطالبہ کر رہے ہو۔ [٧٩] ذلت اور مسکنت کا مفہوم :۔ ذلت اور بدحالی کے علاوہ اللہ کا غضب یہ ہوا کہ ان کی ٹریننگ اور تربیت کی مدت کو پھیلا کر چالیس سال تک بڑھا دیا گیا۔ ورنہ اگر اللہ اور اس کے پیغمبر موسیٰ علیہ السلام کی مرضی پر چلتے تو ممکن تھا کہ چالیس سال گزرنے سے پہلے ہی شام کا ملک فتح کرنے کے قابل ہوجاتے۔ مگر ان لوگوں کی عادت ہی یہ بن گئی تھی کہ جو بات اپنی مرضی کے خلاف دیکھتے تو فوراً نافرمانیوں پر اتر آتے تھے حتیٰ کہ بعض انبیاء تک کو قتل کرتے رہے اور اللہ کے غضب، ذلت اور مسکنت کی دوسری صورت یہ ہے کہ یہودی قوم کئی بار دوسری قوموں سے پٹ چکی ہے۔ مالدار ہونے کے باوجود آج بھی سخت افرادی قلت سے دو چار ہے اور ایک چھوٹے سے خطہ میں ان کی حکومت قائم ہوئی بھی ہے تو وہ دوسری قوموں کے سہارے پر اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اخلاقی انحطاط اس قدر ہے کہ آج بھی بے حیائی، فحاشی، سودخوری اور حرام خوری اس قوم کا طرہ امتیاز ہے۔ البقرة
62 [٨٠] اہل کتاب کے مزعومہ عقائد :۔ یہود و نصاریٰ دونوں کہا کرتے تھے کہ آیت ﴿نَحْنُ اَبْنٰؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّاؤُہٗ ﴾(۱۸:۵) ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور چہیتے ہیں۔ یہود یہ بات اس لیے کہتے تھے کہ وہ پیغمبروں کی اولاد ہیں اور نصاریٰ اس لیے کہ وہ اللہ کے بیٹے (مسیح ابن مریم) کی امت ہیں جو ان کے عقیدہ کے مطابق امت کے گناہوں کے کفارہ میں سولی پر چڑھ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے اس مزعومہ عقیدہ پر کاری ضرب لگاتے ہوئے فرمایا کہ: کوئی شخص خواہ یہودی ہو یا عیسائی ہو یا صابی (اپنا دین بدلنے والا ہو) جو بھی اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے گا اور جواب دہی کے ڈر سے صالح عمل کرے گا۔ نجات صرف اسی کی ہوگی۔ نسبی رشتے اور تعلقات اس دن کسی کام نہ آ سکیں گے۔ البقرة
63 [٨١] میثاق بنی اسرائیل کی کیفیت :۔ یہ واقعہ بھی بنی اسرائیل کے اس دور سے تعلق رکھتا ہے۔ جب ان کے ستر منتخب افراد پر بجلی گرا کر انہیں ہلاک کیا گیا اور پھر دوبارہ زندہ کیا گیا تھا۔ ان کو بھی اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کے دوسرے لوگوں کو بھی طور کے دامن میں کھڑا کیا گیا اور طور پہاڑ کو ان پر اس طرح جھکا دیا گیا جیسے وہ ان کے اوپر ایک سائبان ہے۔ اب پیچھے سمندر تھا اور آگے سروں کے اوپر سائبان کی طرح طور پہاڑ، اس وقت ان سے پوچھا گیا بتاؤ تورات پر عمل کرتے ہو یا نہیں؟ اور اقرار کرتے ہو تو پھر پوری مضبوطی سے عہد و پیمان کرو، ورنہ ابھی اس پہاڑ کو تمہارے اوپر گرا کر تمہیں کچل دیا جائے گا۔ اس وقت بنی اسرائیل کو اپنی نافرمانیوں اور غلطیوں اور عہد شکنیوں کا احساس ہوا اپنے گناہوں سے توبہ کی اور تورات پر عمل پیرا ہونے کا پختہ اقرار کیا۔ اور یہ اس لیے کیا گیا تھا تاکہ تم لوگوں میں کچھ پرہیزگاری کی صفت پیدا ہو۔ البقرة
64 [٨٢] اتنے پختہ اقرار کرنے کے باوجود اے یہود! تم نے پھر عہد شکنی کی۔ اس کے باوجود اللہ نے تم پر رحم کیا جو تمہیں زندہ رہنے دیا، ورنہ تمہارے جرائم کی فہرست اتنی طویل ہے جو تمہاری تباہی کی مقتضی تھی۔ البقرة
65 [٨١] اصحاب سبت کا انجام :۔ بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ہفتہ کے دن کاروبار نہیں کریں گے بلکہ چھٹی کریں گے اور اس دن آرام اور اللہ کی عبادت کیا کریں گے اور تورات میں یہ بھی وضاحت ہے کہ جو شخص اس مقدس دن کی حرمت کو توڑے گا، وہ واجب القتل ہے۔ لیکن یہود پر اخلاقی انحطاط کا دور آیا تو یہود اس دن کھلے بندوں اپنا کاروبار جاری رکھتے اور تجارت وغیرہ کیا کرتے۔ اس سلسلہ میں سورۃ اعراف میں ایک مخصوص بستی کا ذکر بھی آیا ہے جو سمندر کے کنارے آباد تھی اور ان لوگوں کا پیشہ ماہی گیری تھا۔ لیکن اتفاق کی بات کہ چھ دن تو مچھلیاں پانی میں چھپی رہتیں اور ہفتہ کے دن پانی کی سطح پر سینہ تان کر تیرتی پھرتیں۔ اب ان ماہی گیروں نے یہ حیلہ سازی کی کہ ساحل کے ساتھ کھائیاں کھود لیں۔ اس میں پانی آتا تو ساتھ مچھلیاں بھی آ جاتیں اور دوسرے دن یہ لوگ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے، ان بستی والوں کے تین گروہ بن گئے۔ ایک تو مجرم گروہ تھا جو اس حیلہ سے مچھلیاں پکڑتا تھا۔ دوسرا گروہ وہ تھا جو انہیں اس حیلہ سازی سے منع کرتا تھا اور تیسرا گروہ وہ تھا جو خود مچھلیاں پکڑتا تو نہیں تھا لیکن پکڑنے والوں کو منع بھی نہیں کرتا تھا اور منع کرنے والوں سے کہتا تھا کہ تم ان لوگوں کو کیوں منع کرتے ہو جو باز آنے والے نہیں اور ان پر عذاب نازل ہونے والا ہے اور منع کرنے والے یہ جواب دیتے کہ ’’ہم اس لیے منع کرتے ہیں کہ ہم اپنے رب کے حضور معذرت پیش کرسکیں اور دوسرے یہ کہ شاید یہ لوگ باز ہی آ جائیں۔‘‘ (٧ : ١٦٤) بندر بننے کی تاویل کرنے والے :۔ پھر جب اس قوم پر عذاب نازل ہوا تو اس عذاب سے صرف منع کرنے والا گروہ بچا لیا گیا۔ خاموش رہنے والے اور مجرم دونوں گروہوں پر عذاب نازل ہوا اور وہ عذاب یہ تھا کہ ’’تم ذلیل و خوار بندر بن جاؤ۔‘‘ اب معجزات کے منکر اور نیچری حضرات یہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی عادات و خصائل تو بندروں جیسے ہوگئے تھے۔ لیکن ان کی صورتیں مسخ نہیں ہوئی تھیں (یعنی وہ فی الواقع بندر نہیں بنے تھے) یہ توجیہ اس لحاظ سے غلط ہے کہ ایک تو قرآن کے ظاہری الفاظ سے یہ گنجائش نہیں نکلتی۔ دوسرے مابعد کی آیت اس توجیہ کی توثیق کے بجائے تردید کر رہی ہے۔ کیونکہ اگر ان کی شکلیں بدستور انسانوں کی ہی رہیں، تو وہ اس وقت کے موجود لوگوں اور پچھلوں کے لیے سامان عبرت کیسے بن سکتے تھے اور پرہیزگار ان سے کیا سبق لے سکتے تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ فی الواقع بندر بن گئے تھے تاہم ان کے دماغ وہی رہے۔ ان میں فہم و شعور انسانی موجود تھا۔ وہ ایک دوسرے کو پہچانتے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر روتے تھے مگر کلام نہیں کرسکتے تھے۔ پھر تین دن کے بعد سب مر گئے اور یہ واقعہ سیدنا داؤد علیہ السلام کے دور میں پیش آیا تھا۔ (نیز دیکھئے سورۃ اعراف آیت نمبر ١٦٤) البقرة
66 البقرة
67 [٨٤] گائے کو ذبح کرنے کے حکم پر بنی اسرائیل کی کٹ حجتیاں :۔ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص مارا گیا جسے اس کے بھتیجوں نے جنگل میں موقعہ پا کر قتل کیا اور رات کے اندھیرے میں کسی دوسرے شخص کے مکان کے سامنے پھینک دیا۔ اس کے قاتل کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی کہ اس قوم کو حکم دو کہ وہ ایک گائے ذبح کریں۔ پھر اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کی لاش پر ماریں تو مقتول خود بول کر اپنے قاتل کا نام اور پتہ بتا دے گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو اللہ کا حکم سنایا تو وہ کہنے لگے ’’کیا ہم سے دل لگی کرتا ہے؟“ گائے کو ذبح کرنے کا حکم دراصل بنی اسرائیل کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کے مترادف تھا۔ گؤ سالہ پرستی کے جراثیم اور گائے بیل سے محبت اور اسے دیوتا سمجھنے کا عقیدہ تاہنوز ان میں موجود تھا۔ لہٰذا ایک تکلیف تو انہیں یہ ہوئی کہ جس چیز کو قابل پرستش سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی چیز کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ دوسرے انہیں یہ یقین نہیں تھا کہ اس طرح گائے کے گوشت کا ٹکڑا مارنے سے مردہ لاش جی اٹھے گی اور بول کر قاتل کا پتہ بتا دے گی۔ لہٰذا موسیٰ علیہ السلام سے یوں کہہ دیا کہ ہم سے دل لگی کرتا ہے۔’’موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں تو تمہیں اللہ کا حکم بتا رہا ہوں، دل لگی نہیں کر رہا۔ کیونکہ ایسی دل لگی کرنا جاہلوں کا کام ہے۔‘‘ اگر بنی اسرائیل ایک فرمانبردار قوم ہوتے اور کوئی سی گائے بھی ذبح کردیتے تو حکم کی تعمیل ہوجاتی، مگر کٹ حجتی اور ٹال مٹول، حتیٰ کہ نافرمانی ان کی رگ رگ میں بھری ہوئی تھی۔ کہنے لگے اچھا ہمیں اپنے پروردگار سے پوچھ کر بتاؤ وہ گائے کیسی ہونی چاہی’’ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا۔‘‘وہ گائے جوان ہونی چاہیے، بوڑھی یا کم عمر نہ ہو۔ پھر دوسری مرتبہ یہ سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ سے پوچھ کر ہمیں بتاؤ کہ اس کا رنگ کیسا ہونا چاہیے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ ’’وہ گہرے زرد رنگ کی ہونی چاہیے، جو دیکھنے والے کے دل کو خوش کر دے۔‘‘ اب بھی حکم بجا لانے پر طبیعت آمادہ نہ ہوئی تو تیسری مرتبہ یہ سوال کردیا کہ ایسی صفات کی گائیں تو ہمارے ہاں بہت سی ہیں ہمیں پوچھ کر بتایا جائے کہ ’’اس کی مزید صفات کیا ہوں؟‘‘ تاکہ ہمیں کسی متعین گائے کا علم ہوجائے جس کی قربانی اللہ تعالیٰ کو منظور ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا کہ ’’وہ گائے ایسی ہونی چاہیے جس سے ابھی تک کھیتی باڑی کا کام لینا شروع ہی نہ کیا گیا ہو یعنی نہ وہ ہل کے آگے جوتی گئی ہو اور نہ کنویں کے آگے۔ تندرست ہو اور صحیح و سالم ہو۔ یہ نہ ہو کہ کسی بیماری یا کمزوری کی وجہ سے کام نہ لیا جا رہا ہو اور اس میں کوئی داغ بھی نہ ہو۔ “ البقرة
68 البقرة
69 البقرة
70 البقرة
71 گائے ذبح کرنے میں کٹ حجتیوں کی سزا :۔ غرض یہ کہ یہ قوم جتنے سوال کرتی گئی، پابندیاں بڑھتی ہی گئیں۔ ان ساری پابندیوں کے بعد بس اب ان کے ہاں صرف ایک ہی گائے رہ گئی جو تقریباً سنہری رنگ کی بےداغ اور جواں تھی اور ایسی ہی گائے ہوتی تھی جسے پوجا پاٹ کے لیے انتخاب کیا جاتا تھا۔ اب ایک تو انہیں اپنے معبود کشی کی ذہنی کوفت تھی۔ دوسرے یہ کہ جس شخص کی یہ گائے تھی وہ ایک نیک بخت آدمی تھا جو اپنی ماں کی بہت خدمت کرتا تھا۔ جب اسے اس کی اہمیت معلوم ہوئی تو اس نے منہ بھر کر اس گائے کے دام مانگے، اس کی قیمت یہ ٹھہری کہ گائے کو ذبح کرنے کے بعد اس کی کھال میں جتنا سونا آئے وہ اس کی قیمت ہوگی۔ چنانچہ ان لوگوں کو وہ قیمت ادا کرنا پڑی۔ اتنے سوال و جواب کے بعد انکار یا مزید کٹ حجتی کرنا بھی محال تھا اور اس کے بعد بالآخر انہیں اس گائے کو ذبح کرنا ہی پڑا۔ حالانکہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے پہلے حکم پر ہی گائے ذبح کرنے کو آمادہ ہوجاتے تو وہ کوئی بھی گائے ذبح کرسکتے تھے۔ البقرة
72 البقرة
73 [٨٦] لاش کا زندہ ہو کر قاتل کا پتہ بتانا :۔ قاتلوں کا جرم صرف یہی نہیں تھا کہ انہوں نے مال و دولت کے لالچ میں آ کر اپنے چچا کو قتل کر ڈالا تھا۔ بلکہ ان کا دوسرا جرم یہ تھا کہ لاش کو کسی دوسرے شخص کے دروازے پر پھینک دیا تھا تاکہ ان پر شبہ نہ ہو سکے اور تیسرے یہ کہ خود شبہ سے بچنے کی خاطر اس قتل کا الزام دوسروں پر تھوپ رہے تھے۔ گائے ذبح ہونے کے بعد اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا لے کر اس مقتول کی میت پر مارا گیا تو اس کے زخم سے خون بہنے لگا۔ جسم میں زندگی کے آثار پیدا ہوگئے اور اس لاش نے بول کر قاتل یا قاتلوں کا نام اور پتا بتا دیا۔ اس کے بعد پھر سے اس پر موت طاری ہوگئی۔ اس طرح جن جرائم کو یہ قوم چھپائے رکھنا چاہتی تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں ظاہر کردیا۔ چنانچہ قصاص میں یہ دونوں بھتیجے مارے گئے اور انہیں اپنے چچا کے ورثہ میں سے بھی کچھ نہ ملا۔ [٨٧] اس واقعہ سے کئی امور کا انکشاف ہوگیا مثلاً : ١۔ یہ گائے بالکل اسی قسم کی تھی جسے معبود سمجھ کر اس کی پوجا کی جاتی تھی یہ گائے ذبح ہوتے وقت اپنے آپ کو بھی نہ بچا سکی تو دوسروں کا کیا بگاڑ یا سنوار سکتی تھی۔ پھر ذبح کرنے والوں کو نہ ذبح سے پہلے کچھ نقصان پہنچا اور نہ ذبح کے بعد۔ ٢۔ جس بات کو یہ لوگ چھپائے رکھنا چاہتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس طریقہ سے اسے ظاہر کردیا۔ ٣۔ انہیں یہ یقین ہوگیا کہ اگر اللہ تعالیٰ اتنے دنوں کے بعد اس لاش کو زندہ کرسکتا ہے تو ہمیں بھی دوبارہ زندہ کر کے ہمارا محاسبہ کرسکتا ہے۔ البقرة
74 [٨٨] یعنی یہ معجزہ اور کئی سابقہ معجزات دیکھنے کے بعد تمہارے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہ ہوا۔ بلکہ تمہارے دل سخت سے سخت تر ہوتے چلے گئے بلکہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت۔ کیونکہ کچھ پتھر (پہاڑ) ایسے ہیں جن سے نہریں پھوٹتی ہیں اور وہ عام لوگوں کے لیے نفع کا سبب بنتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن سے کوئی چشمہ ہی جاری ہوجاتا ہے یہ پہلے کی نسبت گو کم نفع بخش ہیں تاہم نفع بخش ضرور ہیں، اور گرنے والے پتھروں میں اللہ کا خوف اور تاثر موجود ہوتا ہے مگر تم جیسے نافرمان لوگوں سے دوسروں کو کچھ فائدہ پہنچنے کی کیا توقع ہو سکتی ہے۔ جن کے دلوں میں اللہ کا ڈر قطعاً مفقود ہے۔ البقرة
75 [٨٩] نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلقہ آیات کو چھپانا اور ان میں تحریف :۔ یہ خطاب دراصل مدینہ کے سادہ دل نو مسلموں سے ہے جو یہود سے کئی بار یہ سن چکے تھے کہ ایک نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم آنے والا ہے اور جو لوگ ان کا ساتھ دیں گے وہ ساری دنیا پر چھا جائیں گے۔اب یہ لوگ تو ایمان لے آئے مگر یہود نے یہ کام کیا کہ تورات میں جو حلیہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکور تھا۔ اس میں تحریف کر ڈالی اور ایمان نہ لانے کی وجہ یہ بتائی کہ اس کا حلیہ تورات میں مذکور حلیہ سے مختلف ہے۔ البقرة
76 [٩٠] اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننے کے لیے تورات وغیرہ میں خاصا مواد موجود تھا۔ جسے یہ لوگ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے سے پہلے لوگوں میں مشہور کرچکے تھے اور ان میں کچھ لوگ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کے بعد بھی بیان کردیتے تھے اور ان سے کہہ دیتے کہ ہم بھی اس پیغمبر پر ایمان لاتے ہیں۔ مگر وہ جب اپنے گرو گھنٹالوں کے ہاں جاتے تو وہ انہیں یہ کہتے کہ تم مسلمانوں کو تورات کی ایسی باتیں کیوں بتاتے ہو جو تمہارے اپنے خلاف جاتی ہیں۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ کے حضور مسلمان تم پر حجت قائم کردیں کہ یہ لوگ پورا علم ہونے کے باوجود بھی ایمان نہ لائے تھے۔ مسلمانوں سے بات کرنے سے پہلے کچھ سوچ تو لیا کرو۔ البقرة
77 [٩١] بالفاظ دیگر ان یہود علماء کا یہ خیال تھا کہ بس مسلمانوں کے بتانے سے ہی اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن اس حقیقت کا پتہ چلے گا ورنہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق ان کی معرفت اتنی کمزور ہے کہ انہیں یہ بھی یقین نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کھلی اور چھپی سب باتوں کو خوب جاننے والا ہے اور ان باتوں کو بھی جو یہ اب اپنے ساتھی یہودیوں سے کر رہے ہیں۔ البقرة
78 [٩٢] ان پڑھ یہود کے مذموم عقائد :۔ یہ ان کے عوام کا حال تھا جو تورات کو پڑھ بھی نہیں سکتے تھے۔ نہ انہیں یہ معلوم تھا کہ وہ کون سے اصول و احکام ہیں جن پر نجات اخروی کا مدارہے وہ بس اپنی جھوٹی توقعات میں مگن ہیں جو یہ تھیں کہ ہم لوگ چونکہ انبیاء کی اولاد اور اللہ کے چہیتے ہیں۔ لہٰذا ہم دوزخ میں نہیں جائیں گے دوزخ میں جانے کے لیے دوسری مخلوق تھوڑی ہے؟ ہمیں اگر عذاب ہوا بھی تو بس چند دن کے لیے جتنے دن بچھڑے کی پوجا کی گئی تھی۔ البقرة
79 [٩٣] غلط فتووں کی کمائی :۔ علماء یہود کا یہ حال تھا کہ انہوں نے تورات کی شروح اور علماء کے فتاویٰ کو بھی تورات میں ہی خلط ملط کر ڈالا تھا۔ پھر عام لوگوں سے اسے یوں بیان کرتے تھے گویا یہ سب کچھ ہی منزل من اللہ ہے۔ اور اس سے غرض محض دنیوی مال و دولت کا حصول ہوتا تھا اور ان کے مفسروں کی تاویلات، مفکروں کے فلسفیانہ خیالات اور فقہاء کے قانونی اجتہادات اور اپنے قومی تاریخی واقعات، یہ سب چیزیں بائیبل میں شامل کردی تھیں اور اس سب کچھ پر ایمان لانا فرض قرار دیا گیا تھا۔ ایسے مجموعہ میں سے انہیں کسی بھی قسم کا فتویٰ دینے یا لکھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی تھی اور جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے اپنے فتووں کے منہ مانگے دام وصول کرتے تھے۔ البقرة
80 [٩٤] یہود کی عذاب اخروی کے متعلق غلط فہمی اور اس کا جواب :۔ یہودیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد اور اللہ کے محبوب ہیں لہٰذا ماسوائے چند دن کے انہیں دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی۔ ان کے اس باطل عقیدہ کا جواب اللہ تعالیٰ نے کئی طرح سے دیا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ اس عقیدہ کی اصل کیا ہے؟ کیا اللہ نے تم سے کوئی ایسا وعدہ لے رکھا ہے۔ اگر ایسی بات ہے تو دکھاؤ تو سہی۔ یا بس تم اللہ پر ایسی ہی جھوٹی باتیں جڑ دیتے ہو؟ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اے یہود! اگر تم فی الواقع اس دعوے میں سچے ہو کہ تم اللہ کے چہیتے ہو اور ماسوائے چند دن کے تمہیں دوزخ کی آگ چھو بھی نہیں سکے گی تو پھر تم مرنے کی آرزو کیوں نہیں کرتے یا بالفاظ دیگر ان دنیا کے جھنجٹوں سے نکل کر جنت میں جانے کی آرزو کیوں نہیں کرتے؟ اور چونکہ یہود مرنے کے لیے مطلقاً آمادہ نہیں بلکہ طویل مدت تک دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ یہود اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں اور تیسرا جواب انہیں یہ دیا گیا کہ اللہ کا قانون جزاء و سزا سب کے لیے یکساں ہے۔ یہاں نسبی رشتے کچھ کام نہیں آئیں گے جس شخص کو اس کی بداعمالیوں نے گھیر لیا وہ یقیناً دوزخ میں ہی جائے گا۔ پھر ہمیشہ اس میں رہے گا اور اس قانون میں اے یہود! تمہارے لیے کوئی تخصیص نہیں۔ البقرة
81 البقرة
82 [٩٥] یہاں اہل ایمان کا اور جنت کا ذکر محض اس لیے کیا گیا ہے کہ قرآن کا انداز ہی یہ ہے کہ دوزخ کے ساتھ جنت کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ اس کے بعد پھر بنی اسرائیل کا ذکر شروع ہو رہا ہے۔ البقرة
83 [٩٦] گو بظاہر یہ خطاب یہود مدینہ سے ہے۔ تاہم یہ ایسے احکام ہیں جو ہر شریعت میں غیر متبدل رہے ہیں اور ہماری شریعت میں بھی بعینہ موجود ہیں۔ رہا عہد کرنے کے بعد بنی اسرائیل کی عہد شکنی کا قصہ تو یہ ان کی عادت ثانیہ بن چکی تھی اور ان کی تاریخ ایسی عہد شکنیوں سے بھری پڑی ہے۔ البقرة
84 البقرة
85 [٩٧] مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے بیشتر مشرکین مدینہ کے دو مشہور قبائل اوس اور خزرج مدینہ میں آباد تھے اور یہ آپس میں ہمیشہ لڑتے رہتے تھے اور یہود مدینہ کے دو قبائل بنو قریظہ اور بنو نضیر ان عرب قبائل کے حلیف بن کر ان کو باہم لڑاتے رہنے کا کردار ادا کیا کرتے تھے۔ بنو قریظہ تو قبیلہ اوس کے حلیف تھے اور بنو نضیر قبیلہ خزرج کے۔ یہود گو تعداد میں کم تھے مگر یہ مالدار قوم تھی اور اوس و خزرج کو لڑا کر اپنا سیاسی تفوق بھی برقرار رکھتے تھے اور اسلحہ بھی بیچتے تھے۔ جس کے یہ تاجر تھے۔ ان یہود کی بالکل وہی مثال سمجھئے جو آج سے کچھ مدت پیشتر روس اور امریکہ کی تھی۔ یہ دونوں طاقتیں اسلام کی دشمن تھیں اور آپس میں بھی ان میں اختلاف تھا لیکن اسلام دشمنی میں دونوں متحد ہو کر مسلمان ممالک کو آپس میں لڑاتی رہتی تھیں۔ ان میں سے کوئی ایک، ایک مسلمان ملک کا حلیف بن جاتا اور دوسرا دوسرے کا۔ اس طرح یہود کئی طرح کے فوائد اٹھاتے تھے۔ ان کا اسلحہ بھی فروخت ہوتا تھا اور سیاسی تفوق بھی برقرار رہتا تھا۔ یہود کا اپنے قبیلہ کے قیدیوں کو فدیہ دے کر چھڑانا :۔ اللہ تعالیٰ نے یہود سے چار عہد لیے تھے (١) وہ ایک دوسرے کا خون نہ کریں گے (٢) ایک دوسرے کو جلاوطن نہ کریں گے (٣) ظلم اور زیادتی پر مدد نہ کریں گے (٤) اور فدیہ دے کر قیدیوں کو چھڑایا کریں گے۔ اب قبیلہ اوس و خزرج کی جنگ میں بنو قریظہ اور بنو نضیر بھی آپس میں حلیف ہونے کی حیثیت سے لڑتے اور ایک دوسرے کے گلے کاٹتے تھے۔ اب ایک جنگ میں مثلاً اوس اور بنو قریظہ کو فتح ہوئی تو لازماً بنو نضیر کے قیدی بھی ان کے ہاتھ آتے تھے اور بنو نضیر ان کا فدیہ ادا کر کے انہیں چھڑا لیتے تھے۔ جب ان سے اس کی وجہ پو چھی جاتی تو کہتے کہ قیدیوں کو فدیہ دے کر چھڑانا اللہ کا حکم ہے اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ ان سے جو جنگ کرتے ہو تو وہ اللہ کے کس حکم کے تحت کرتے ہو؟ تو کہتے کیا کریں اپنے دوستوں (حلیفوں) کو ذلیل نہیں کرسکتے۔ گویا تین کام تو اللہ کے حکم کے خلاف کرتے تھے اور ایک کام اللہ کے حکم کے مطابق جس کا سبب بھی وہ خود ہی بنتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انکی ایسی حرکات پر گرفت کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’کیا تم اللہ کی کتاب کے کچھ حصے پر ایمان لاتے ہو اور کچھ حصے کا انکار کردیتے ہو؟‘‘ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص بعض احکام شرعیہ کی تعمیل کرے اور جو حکم اس کی طبیعت یا عادت یا مرضی کے خلاف ہو اس کو چھوڑ دے تو بعض احکام کی تعمیل اسے کچھ فائدہ نہیں دے سکتی اور ایسا انکار دراصل پوری کتاب اللہ کا انکار ہوتا ہے۔ ایسے لوگ حقیقتاً اپنے نفس کے پیرو کار ہوتے ہیں۔ کتاب اللہ کے نہیں ہوتے۔ [٩٨] دور نبوی میں یہود کا انجام :۔ دنیا میں یہ یہود عبرتناک انجام سے دو چار ہوئے۔ بنو نضیر تو ٤ھ میں اس ذلت سے دو چار ہوئے جس کا تفصیلی ذکر سورۃ حشر میں کیا گیا ہے۔ مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کرلیا اور ان کے بعض باغات کو نذر آتش کردیا۔ اور وہ قلعہ بند ہو کر اپنے گھروں کو خود بھی برباد اور توڑ پھوڑ رہے تھے۔ کیونکہ انہیں اس بات کا یقین ہوچکا تھا کہ اب جلاوطنی ان کا مقدر بن چکی ہے اور وہ یہ گوارا نہیں کرسکتے تھے کہ مسلمان ان کے تعمیر شدہ مکانات سے فائدہ اٹھائیں۔ اس طرح لڑائی کے بغیر ہی انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ انہیں فوری جلاوطنی کا حکم دیا گیا تو انہوں نے شام کا رخ کیا اور جزیہ کا حکم نازل ہونے کے بعد ان سے جزیہ وصول کیا جاتا رہا اور بنو قریظہ پر جنگ خندق (احزاب ٥ ھ) کے فوراً بعد چڑھائی کی گئی اور ان کے مردوں کو تہ تیغ کردیا گیا اور عورتوں اور بچوں کو لونڈی غلام بنا لیا گیا، اور آخرت کو جو عذاب انہیں ہوگا وہ تو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ البقرة
86 [٩٩] یعنی یہود مسلمانوں سے جو کچھ بھی بد عہدیاں کرتے رہے، سب چند روزہ دنیوی مفادات کی خاطر کرتے رہے اور آخرت کے عذاب کا کچھ خیال نہ کیا۔ نیز اس آیت سے ان لوگوں کا یہ مذہب غلط ثابت ہوتا ہے کہ آخرت میں جہنم کا عذاب اس قدر ہلکا ہوجائے گا کہ دوزخیوں کو کچھ تکلیف نہ رہے گی۔ کیونکہ وہ اس کے عادی بن جائیں گے۔ البقرة
87 [١٠٠] بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہونے والے انبیاء :۔ ان میں سے جن انبیاء و رسل کا نام قرآن میں آیا ہے وہ یہ ہیں۔ (بہ ترتیب زمانی) ہارون، ذی الکفل، الیاس الیسع، داؤد، سلیمان، لقمان، (اختلافی) عزیر، یونس، زکریا۔ یحییٰ اور عیسیٰ علیہم السلام جنہیں سریانی زبان میں یسوع کہتے ہیں۔ [١٠١] معجزات سیدنا عیسیٰ:۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ کوڑھی اور اندھے کو فقط ہاتھ لگا کر تندرست کردیتے تھے۔ مٹی کا پرندہ بنا کر اس میں پھونک مارتے تو وہ اڑنے لگتا تھا اور آپ لوگوں کو یہ بھی بتا دیتے تھے کہ وہ کیا کچھ کھا کر آئے ہیں اور کیا کچھ گھر میں چھوڑ کر آئے ہیں اور ان تمام کاموں میں روح القدس یعنی جبریل علیہ السلام کی تائید آپ کے شامل حال رہتی تھی۔ [١٠٢] یہود اور انبیاء کا قتل :۔ جیسے ان لوگوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بھی جھٹلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اور سیدنا زکریا اور سیدنا یحییٰ علیہما السلام کو قتل کردیا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو مروا ڈالنے کے درپے ہوچکے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مہربانی سے انہیں اوپر اپنے ہاں اٹھا لیا۔ البقرة
88 [١٠٣] یہود کا قول کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں :۔ انسان کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنی بری صفات کو بھی خوبصورت بنا کر دکھانے کی کوشش کرتا ہے اور حقیقت کا اعتراف کرلینا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ الا ماشاء اللہ یہی حالت یہودیوں کی تھی۔ وہ دین اسلام کو برحق سمجھ لینے کے باوجود اسے قبول تو اس لیے نہیں کرتے تھے کہ اس طرح ان کا مذہبی تفوق و اقتدار خطرہ میں پڑجاتا تھا بلکہ چھن جاتا تھا مگر بظاہر اسے یوں پیش کرتے تھے کہ ہمارے عقائد اتنے مضبوط ہیں کہ وہ کوئی نیا عقیدہ قبول نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دجل و فریب کی قلعی کھولتے ہوئے فرمایا : بات یوں نہیں بلکہ یہ اپنے کفر اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ملعون بن چکے ہیں اور یہ اس لعنت کا اثر ہے کہ ان کے دل حق بات کو قبول نہیں کرتے۔ [١٠٤] جیسے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے عقیدت مندوں کی جماعت اور بعض علماء ﴿فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ ﴾ کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی کتاب تورات میں سے بھی بہت تھوڑی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور اکثر احکام کا انکار کردیتے ہیں۔ البقرة
89 [١٠٥] آنے والے نبی کے واسطہ سے یہود کا نصرت طلب کرنا :۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل یہی یہود جب عرب قبائل سے، جنہیں یہ لوگ ازراہ حقارت امی اور اجڈ سمجھتے تھے، پٹتے تو اکثر اللہ تعالیٰ سے یوں دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ ! اپنے موعود نبی آخر الزمان کو مبعوث فرما کہ ہم اس کے ساتھ مل کر ان کافروں پر فتح حاصل کریں۔ پھر جب وہ نبی موعود آ گیا اور انہوں نے اسے کتاب اللہ (تورات) میں مذکور نشانیوں کے مطابق پوری طرح پہچان بھی لیا تو اس کا انکار کردیا۔ اور حقیقتاً کافر تو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور جن لوگوں کو یہ ان پڑھ اور اجڈ کہا کرتے تھے انہوں نے یہود ہی سے سنی ہوئی باتوں کے مطابق نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے میں سبقت کی تھی۔ البقرة
90 [١٠٦] ان یہود کے بغض و عناد کی اصل وجہ یہ تھی کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قوم سے کیوں نہیں آیا۔ اور اس قوم میں کیوں پیدا ہوا ہے؟ جسے یہ ان پڑھ، اجڈ اور اپنے سے حقیر تر سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کاموں کی حکمتیں خود بہتر سمجھتا ہے اور اپنے بندوں میں سے جسے مناسب سمجھتا ہے رسالت سے نوازتا ہے۔ تم اس کے فضل کے ٹھیکیدار تو نہیں کہ تم سے اللہ پوچھ کر اور جسے تم چاہو اسے رسالت عطا فرمائے۔ [١٠٧] یہود کے جرائم کی فہرست تو بہت طویل ہے جن میں سرفہرست ایک نبی کی موجودگی میں بچھڑے کی پرستش، انبیاء کا قتل اور دیدہ دانستہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار ہے اور ایسے جرائم کی سزا تو جتنی بھی ہو وہ کم ہے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہر عذاب ذلت کے لیے نہیں ہوتا بلکہ گنہگار مسلمانوں کو جو عذاب ہوگا وہ انہیں گناہوں سے پاک کرنے کے لیے ہوگا۔ ذلیل و رسوا کرنے کے لیے نہ ہوگا۔ البتہ کافروں کو جو عذاب دیا جائے گا وہ بغرض تذلیل ہوگا۔ البقرة
91 [١٠٨] یہود اپنے قول کے مطابق انجیل اور قرآن پر تو اس لیے ایمان نہیں لاتے تھے کہ یہ کتابیں ان کی طرف نازل نہیں ہوئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر تم تورات پر ایمان لاتے ہو تو تورات میں کہیں یہ لکھا ہوا ہے کہ اگر کوئی ایسا نبی آئے جو تورات کی تصدیق کرتا ہو اور تورات ہی کے مطابق تمہاری رہنمائی کرتا ہو تو تم اسے قتل کرسکتے ہو؟ اگر یہ بات نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمہارا تورات پر بھی ایمان نہیں۔ لہٰذا ہر لحاظ سے تم بے ایمان اور کافر ہو۔ البقرة
92 [١٠٩] یہ واضح معجزات صرف عصائے موسیٰ اور یدبیضا ہی نہ تھے۔ بلکہ بے شمار دوسرے معجزات بھی تھے جیسے سمندر کا پھٹ جانا، اور فرعون کی غرقابی۔ چٹان سے بارہ چشموں کا پھوٹ نکلنا، جنگل میں من و سلویٰ کا نزول وغیرہ وغیرہ۔ اتنے واضح معجزات دیکھنے کے بعد بھی تم اللہ کی الوہیت پر ایمان نہ لائے اور موسیٰ کی غیر حاضری میں تمہیں تھوڑا سا موقع ملا تو فوراً پھر سے بچھڑے کی پرستش شروع کردی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوسکتا ہے؟ البقرة
93 [١١٠] میثاق کے وقت بھی تمہارے دل میں چور تھا :۔ یعنی جب تم سے تمہارے سروں پر طور پہاڑ کو جھکا کر تورات کے احکام پر عمل پیرا ہونے کا عہد لیا جا رہا تھا۔ جس کا پہلا اور بنیادی حکم یہی تھا کہ تم اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کرو گے اور نہ کسی کو اللہ کا شریک بناؤ گے تو تمہارے اسلاف نے کہا تھا کہ ہم نے یہ احکام سن لیے ہیں، اس وقت بھی تمہارے دل میں چور موجود تھا۔ کیونکہ گؤ سالہ پرستی کے جراثیم تمہارے دلوں میں موجود تھے۔ اور تم نے تورات کے احکام کو دل سے قطعاً تسلیم نہیں کیا تھا۔ [١١١] یعنی ایمان کا تقاضا تو یہ ہوتا ہے کہ انسان مشرکانہ اعمال و عقائد کو یکسر چھوڑ کر نیکی اور بھلائی کے کاموں کی طرف سبقت کرے۔ مگر تمہارا یہ ایمان کس قسم کا ایمان ہے جو مشرکانہ افعال، بدعہدیوں اور نافرمانیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ تمہارے اسلاف بھی یہی کچھ کرتے رہے اور تم بھی انہی کی ڈگر پر چل رہے ہو۔ البقرة
94 [١١٢] آخرت سے متعلق یہود کی تمنا :۔ یہ یہود کی دنیا سے محبت پر ایک نہایت عمدہ پیرایہ میں تعریض ہے۔ کیونکہ جن لوگوں کو آخرت سے لگاؤ ہوتا ہے وہ دنیا پر اس قدر ریجھے ہوئے نہیں ہوتے اور نہ ہی موت سے ڈرتے ہیں۔ مگر یہودیوں کا حال اس کے بالکل برعکس تھا اور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دلیل سے یہود کے اس غلط دعویٰ کارد فرمایا جو وہ کہتے تھے کہ آخرت کا گھر ہمارے ہی لیے مخصوص ہے۔ البقرة
95 البقرة
96 [١١٣] یہود کی جینے کی ہوس :۔ مشرکین نہ آخرت کے قائل تھے نہ عذاب و ثواب کے اور نہ جنت و دوزخ کے لہٰذا ان کو مرنے کے بعد کوئی خطرہ نظر نہیں آتا تھا۔ جب کہ یہود روز جزا کے قائل تھے، اور اپنی بدکرداریوں کا حال بھی انہیں خوب معلوم تھا۔ لہٰذا وہ تادیر دنیا میں زندہ رہنے کے لیے مشرکوں کی نسبت بہت زیادہ حریص تھے اور آیت علیٰ حیوۃ کے لفظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہود کو بس دنیا کی زندگی کی ہوس ہے۔ وہ زندگی خواہ عزت کی ہو یا ذلت کی۔ اس سے انہیں کچھ غرض نہیں۔ حالانکہ یہی لمبی زندگی آخرت میں انہیں بچانا تو درکنار ان کے لیے اور زیادہ عذاب کا سبب بن جائے گی۔ البقرة
97 [١١٤] یہود کی جبریل دشمنی کی وجہ :۔ یہود یہ سمجھتے تھے کہ جبرئیل ہمارا دشمن ہے۔ وہ کہتے تھے کہ یہی وہ فرشتہ ہے جو کئی بار ہم پر عذاب اور ہمارے دشمنوں کو ہم پر غالب کرتا رہا ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے جب مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کی خبر سنی تو اس وقت وہ باغ میں میوہ چن رہے تھے۔ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا’’میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں جنہیں پیغمبر کے سوا کوئی نہیں بتا سکتا آپ بتائیے کہ : قیامت کی پہلی نشانی کیا ہے؟ اور بہشتی لوگ بہشت میں جا کر سب سے پہلے کیا کھائیں گے؟ اور بچہ اپنے ماں باپ سے صورت میں کیوں ملتا جلتا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ابھی ابھی جبریل نے مجھے یہ باتیں بتائی ہیں‘‘ عبداللہ بن سلام نے کہا : ’’جبرائیل نے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں، ابن سلام نے کہا : سارے فرشتوں میں سے وہی تو یہودیوں کا دشمن ہے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی : ﴿مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ ﴾(بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ البقرۃ) [١١٥] یعنی جب جبریل ہی نے یہ قرآن اتارا ہے جو تمہاری کتاب تورات کی تصدیق کرتا ہے تو پھر جبریل سے دشمنی رکھنے کے کیا معنی؟ البقرة
98 [١١٦] جبریل دشمنی کا جواب :۔ وجہ یہ ہے کہ فرشتے تو اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کام کر ہی نہیں سکتے اور جو فرشتوں کا دشمن ہے وہ دراصل اللہ کا دشمن اور کافر ہے، اور اللہ خود فرشتوں سے دشمنی رکھنے والے کافروں کا دشمن ہے۔ البقرة
99 البقرة
100 البقرة
101 [١١٧] یہود کا آیات کو پس پشت ڈال دینا :۔ یہاں دوبارہ یہود کے اس کردار پر گرفت کی گئی ہے کہ تورات میں مذکور نشانیوں کے مطابق یہود نے نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری طرح پہچان تو لیا۔ مگر ایمان لانے سے انکار کرنے کے بعد انہوں نے اس کتاب کے ان حصوں کو یوں فراموش کردیا جیسے وہ انہیں کبھی جانتے ہی نہ تھے۔ البقرة
102 [١١٨] اس آیت میں یہود کے ایک اور مکروہ کردار کو واضح کیا گیا ہے۔ یہود پر جب اخلاقی اور مادی انحطاط کا دور آیا تو انہوں نے تورات اور اس کے احکام کو پس پشت ڈال دیا اور جادو ٹونے، طلسمات، عملیات اور تعویذ گنڈوں کے پیچھے پڑگئے اور ایسی تدبیریں ڈھونڈھنے لگے جن سے مشقت اور جدوجہد کے بغیر محض پھونکوں اور منتروں سے سارے کام بن جایا کریں۔ چنانچہ وہ جادو وغیرہ سیکھنے سکھانے میں مشغول ہوگئے۔ یہ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے عہد حکومت کی بات ہے۔ انہیں جب یہود کے اس رجحان کا علم ہوا تو انہوں نے ایسے ساحروں سے ان کی سب کتابیں چھین کر داخل دفتر کردیں۔ یہود کا سیدنا سلیمان علیہ السلام پر جادو کا الزام :۔ اب سلیمان علیہ السلام کو جو معجزات عطا ہوئے تھے وہ حکمت الٰہی کے مطابق ایسے عطا ہوئے جو جادو اور جادوگروں کی دسترس سے باہر تھے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے تمام سرکش جنوں کو آپ کے لیے مسخر کردیا تھا اور سلیمان علیہ السلام ان جنوں سے سخت مشقت کا کام لیتے تھے۔ ہوائیں آپ کے لیے مسخر تھیں جو آن کی آن میں آپ کا تخت مہینوں کی مسافت پر پہنچا دیتی تھیں۔ پرندے بھی آپ کے مسخر تھے اور آپ ان سے بھی کام لیتے تھے۔ آپ پرندوں کی بولی سمجھتے تھے اور پرندے بھی آپ کی بات سمجھ جاتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ جب سلیمان علیہ السلام فوت ہوئے تو ان شیطان یہودیوں نے کہا کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام تو یہ سب کچھ جادو کے زور پر کرتے تھے اور اس کی دلیل یہ پیش کی کہ سلیمان علیہ السلام کے دفتر میں جادو کی بے شمار کتابیں موجود ہیں۔ جادو سیکھنا سکھانا کفر ہے :۔ گویا جو کام سلیمان علیہ السلام نے اس فتنہ کے سدباب کے لئے کیا تھا۔ ان یہودیوں نے اسی فتنہ کو ان کی سلطنت کی بنیاد قرار دے کر ان پر ایک مکروہ الزام عائد کردیا اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسی الزام کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کفر کا کام سلیمان نے نہیں کیا تھا بلکہ ان شیطان لوگوں نے کیا تھا جو جادو سیکھتے سکھاتے تھے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جادو سیکھنا اور سکھانا کفر ہے۔ [١١٩] ہاروت اور ماروت کا قصہ اور جادو سیکھنے والوں کا ہجوم :۔ سلیمان علیہ السلام کے جادو کو روکنے کے لیے اس اقدام کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہود کی ایک دوسرے طریقہ سے آزمائش فرمائی اور وہ یہ تھی کہ بابل شہر میں (جہاں آج کل کوفہ ہے) دو فرشتوں ہاروت اور ماروت کو پیروں، فقیروں کے بھیس میں نازل فرمایا اور اس آزمائش سے مقصد یہ تھا کہ آیا ابھی تک یہود کے اذہان سے جادو اور ٹونے ٹوٹکے کی عقیدت اور محبت زائل ہوئی ہے یا نہیں۔ جب یہودیوں کو ان پیروں اور فقیروں کی بابل میں آمد کا علم ہوا تو فوراً ان کی طرف رجوع کرنے لگے۔ ان فرشتوں کو یہ حکم دیا گیا کہ اگر تمہارے پاس کوئی شخص یہ ٹونے ٹوٹکے سیکھنے آئے تو پہلے اس کو اچھی طرح خبردار کردینا کہ یہ ایک کفر کا کام ہے اور ہم محض تمہارے امتحان کے لیے آئے ہیں۔ لہٰذا تم کفر کا ارتکاب مت کرو۔ پھر بھی اگر کوئی سیکھنے پر اصرار کرے تو اسے سکھادینا۔ چنانچہ جو لوگ بھی ان کے پاس جادو سیکھنے آتے، فرشتے اسے پوری طرح متنبہ کردیتے، لیکن وہ اس کفر کے کام سے باز نہ آتے اور سیکھنے پر اصرار کرتے اور ایسے ٹونے ٹوٹکے سیکھنے والوں کے ان فرشتوں کے ہاں ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے رہتے تھے۔ [١٢٠] جادو کے ذریعہ میاں بیوی میں جدائی ڈالنا : طرفہ تماشہ یہ کہ ان سیکھنے والوں میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو ایسا عمل سیکھنا چاہتے تھے۔ جس سے میاں بیوی کے درمیان جدائی ہوجائے اور پھر وہ بیوی اس سیکھنے والے پر عاشق ہوجائے اور میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دینا ہی سوسائٹی کا سب سے بڑا مفسدہ ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ ابلیس سمندر میں اپنے تخت پر بیٹھا رہتا ہے اور اپنے چیلوں اور چانٹوں کو ملک میں فساد پیدا کرنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے روزانہ بھیجتا رہتا ہے۔ شام کو یہ سب اکٹھے ہو کر ابلیس کے حضور اپنے اپنے کارنامے بیان کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ میں نے فلاں فتنہ کھڑا کیا اور کوئی کہتا ہے کہ میں نے فلاں شر بپا کیا مگر ابلیس انہیں کچھ اہمیت نہیں دیتا اور کہتا ہے کہ تو نے کچھ نہیں کیا، پھر ایک اور چیلا آ کر کہتا ہے کہ میں فلاں میاں بیوی میں جدائی ڈال کے آیا ہوں تو ابلیس خوش ہو کر اسے شاباش دیتا اور گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تھا کرنے کا کام جو اس نے سر انجام دیا ہے۔ (مسلم، کتاب صفۃ المنافقین، باب تحریش الشیطان و بعثۃ سرایاہ لفتنۃ الناس۔۔ الخ) اس حدیث کے مضمون پر غور کرنے سے یہ بات خوب سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اس دور میں یہود میں اخلاقی انحطاط کس نچلے درجہ تک پہنچ چکا تھا کہ وہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنے کا عمل ہی نہیں سیکھتے تھے۔ ( جس سے ان کی ذات کو کچھ فائدہ نہ تھا) بلکہ اس کے آگے ایسا عمل اور جنتر منتر بھی سیکھتے تھے۔ جس سے وہ جدا شدہ بیوی اس منتر کروانے والے پر عاشق ہوجائے۔ [١٢١] اس آیت سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ١۔ جادو کیوں کفر ہے؟ جادو سے عموماً لوگوں کو نقصان پہنچانا ہی مقصود ہوتا ہے۔ کسی کے بھلے کے لیے کبھی کوئی جادو نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی کرواتا ہے۔ اس سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو نقصان پہنچتا ہے وہ جادو کرنے والے اور کروانے والے دونوں کے دشمن بن جاتے ہیں اور بہت سے لوگ اسی وجہ سے جادوگروں کے دشمن ہوتے ہیں اور جادوگر خود بھی ہمیشہ نامراد رہتا ہے۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ﴿وَلَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰی ﴾ (۶۹:۲۰) ٢۔ یہ ضروری نہیں کہ جادو وغیرہ کا اثر ضرور ہو۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ہو تو اثر ہوگا ورنہ نہیں ہوتا۔ ٣۔ یہود کو پوری طرح علم تھا کہ یہ کفر کا کام ہے اور آخرت میں انہیں اس کی سزا مل کر رہے گی۔ البقرة
103 [١٢٢] عالم بے عمل جاہل ہے :۔ پہلی آیت میں فرمایا کہ ’’یہود کو اس بات کا علم تھا‘‘ اور اس آیت میں فرمای’’ کاش وہ جانتے ہوتے۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی عالم اپنے علم کے خلاف گناہ کا کام کرتا ہے تو وہ درحقیقت عالم نہیں بلکہ جاہل ہے۔ لہٰذا وہ عالم کہلانے کا مستحق نہیں۔ البقرة
104 [١٢٣] یہود کی شرارتیں راعِیْنَا کہنا :۔ یہود جب کبھی آپ کی مجلس میں بیٹھتے اور آپ کے ارشادات سنتے اور کسی بات کو دوبارہ سننے یا سمجھنے کی ضرورت پیش آتی تو ازراہ عناد (رَاعِنَا) کہنے کی بجائے زبان کو مروڑ دے کر راعِیْنَا کہا کرتے۔ (رَاعِنَا) کا مطلب ہے ہماری طرف توجہ کیجئے۔ یعنی بات ذرا دہرا دیجئے اور راعِیْنَا کا معنی ہے ’’ہمارے چرواہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہود کی شرارت پر مطلع کرتے ہوئے فرمایا کہ تم (رَاعِنَا) کہنا چھوڑ دو بلکہ اس کے بجائے اُنْظُرْنَا کہہ لیا کرو (اس کا معنی بھی وہی ہے جو راعنا کا ہے) اگر بات کو پہلے ہی توجہ سے سن لیا کرو کہ انظرنا بھی کہنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے تو یہ زیادہ مناسب ہے اور یہ شرارتی یہود تو ہیں ہی کافر۔ جو یقیناً دردناک عذاب کے مستحق ہیں۔ البقرة
105 [١٢٤] یہود اور مشرکوں کا مسلمانوں کے مقابلہ میں گٹھ جوڑ :۔ یہودیوں کو اصل تکلیف تو یہ تھی کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم ان میں کیوں مبعوث نہیں ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اولاد اسماعیل سے اور ایسی قوم میں پیدا ہوئے جنہیں یہود اپنے سے بہت کمتر اور حقیر سمجھتے تھے اور مشرکوں کو یہ تکلیف تھی کہ آپ خالصتاً ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے۔ جس کی زد ان پر، ان کے معبودوں پر، ان کے آباؤ اجداد پر اور ان کی چودھراہٹ پر پڑتی تھی۔ لہٰذا یہود اور مشرکین دونوں ہی پیغمبر اسلام، اسلام اور مسلمانوں کے شدید دشمن تھے۔ وہ مسلمانوں کے لیے کوئی بھلائی کی بات کیسے گوارا کرسکتے تھے، اور یہاں بھلائی اور رحمت سے مراد بالخصوص وہ احکام الہٰی ہیں جو مسلمانوں کی طرف نازل کئے جا رہے تھے۔ لہٰذا یہ دونوں فریق مسلمانوں کے خلاف متحد ہوجاتے تھے۔ البقرة
106 [١٢٥] نسخ کی بحث :۔یہود جن جن طریقوں سے لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنے کا کردار ادا کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ قرآن کو مشکوک قرار دیا جائے۔ وہ لوگوں سے کہتے کہ اگر قرآن بھی منزل من اللہ ہے اور تورات تو منزل من اللہ ہے ہی۔ پھر قرآن اور تورات کے احکام میں اختلاف کیوں ہے؟ اس اعتراض کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ قرآن میں ایک حکم نازل ہوتا ہے پھر اس کی جگہ کوئی اور حکم آ جاتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کو یہ علم نہیں کہ میں پہلے کیا حکم دے چکا ہوں اور اب کیا دے رہا ہوں؟ یہود کے ایسے ہی اعتراضات کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے اور فرمایا کہ عیب نہ پہلے حکم میں تھا اور نہ دوسرے حکم میں ہے۔ حالات اور موقع کی مناسبت سے جس طرح کے احکام کی ضرورت ہوتی ہے، ویسے ہی دیئے جاتے ہیں اور تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ اللہ مالک الملک ہے وہ جیسے چاہے حکم دے سکتا ہے۔ پہلے کے احکام منسوخ بھی کرسکتا ہے اور نئے دے بھی سکتا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کی آیات میں تبدیلی دو طرح سے قرآن میں واقع ہوئی ہے۔ ایک نسخ سے دوسرے بھلا دینے سے۔ یہاں ہم ان دونوں قسموں کی تفصیل بیان کریں گے : متقدمین نے نسخ کا مفہوم بہت وسیع معنوں میں لیا۔ وہ احکام میں تدریج کو بھی نسخ کے معنوں میں لیتے تھے اور اس طرح انہوں نے آیات منسوخہ کی تعداد پانچ سو تک شمار کردی جب کہ احکام میں تدریج پر نسخ کا اطلاق درست نہیں۔ نسخ سے مراد کسی حکم کا اٹھ جانا ہے اس لحاظ سے شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے آیات منسوخہ صرف پانچ شمار کی ہیں۔ جن کی مثالیں درج ذیل ہیں۔ قرآن سے نسخ کی مثالیں :۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ١٨١ میں فرمایا کہ آیت ﴿ کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَا حَضَرَ ۔۔۔۔۔۔ بالْمَعْرُوْفِ﴾ اس آیت کی رو سے میت پر والدین اور اپنے قریبی رشتہ داروں کے حق میں مرنے سے پہلے وصیت کرنا فرض تھا۔ پھر جب سورۃ نساء کی آیت نمبر ١١ اور ١٢ میں اللہ تعالیٰ نے میراث کے حصے خود ہی والدین اور اقربین کے حق میں مقرر فرما دیئے تو اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا اور میت پر وصیت کرنا فرض نہ رہا۔ بلکہ اب وہ صرف غیر ذوی الفروض کے حق میں ہی وصیت کرسکتا ہے اور وہ بھی زیادہ سے زیادہ تہائی مال تک، نیز یہ وصیت فرض نہیں بلکہ اختیاری ہے اور مستحب ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء کی آیت نمبر ١٥ میں زانیہ عورت کی یہ سزا مقرر فرمائی کہ بقیہ عمر اسے گھر میں مقید رکھا جائے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی ذکر فرمایا کہ شاید اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی نئی سزا مقرر فرما دے۔ پھر جب سورۃ نور نازل ہوئی جس میں زانی مرد کو اور زانی عورت کو سو سو کوڑے مارنے کا ذکر ہے تو اس حکم سے پہلی سزا کا حکم اٹھ گیا۔ یعنی وہ منسوخ ہوگئی۔ ٣۔ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢٤٠ کی رو سے میت کے وارثوں پر فرض تھا کہ وہ اس کی بیوہ کو ایک سال گھر سے نہ نکالیں اور اس کا خرچ برداشت کریں۔ بعد میں جب بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن مقرر ہوگئی۔ نیز آیت میراث کی رو سے خاوند کے ترکہ میں بیوی کا حصہ بھی مقرر ہوگیا تو اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا۔ اب بیوہ کے حق میں تو یہ حکم ہوا کہ وہ بس عدت کے ایام اپنے مرنے والے شوہر کے ہاں گزارے۔ بعد میں وہ آزاد ہے اور اس دوران نان و نفقہ بھی وارثوں کے ذمہ اور ترکہ سے ہی ہوگا اور سال بھر کے خرچہ کا مسئلہ میراث میں حصہ ملنے سے حل ہوگیا۔ مندرجہ مثالیں ایسی ہیں جن میں سابقہ آیت کا حکم قطعاً منسوخ ہے۔ اب ہم کچھ ایسی مثالیں بیان کرتے ہیں۔ جن میں دونوں قسم کے حکم حالات کے تقاضوں کے تحت ساتھ ساتھ چلتے ہیں مثلاً: ١۔ سورۃ انفال (جو جنگ بدر کے فوراً بعد نازل ہوئی تھی) کی آیت نمبر ٦٥ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جرأت ایمانی کا معیار مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک مسلمان کو دس کافروں پر غالب آنا چاہیے۔ یہ حکم ان مسلمانوں کے لیے تھا جو علم و عمل میں پختہ اور ہر طرح کی سختیاں برداشت کرچکے تھے اور ان کا اللہ تعالیٰ پر توکل کامل تھا۔ بعد میں اسلام لانے والے مسلمان جن کی تربیت بھی پوری طرح نہ ہوسکی تھی۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے معیار میں کافی تخفیف کرتے ہوئے اگلی آیت میں فرمایا کہ ان میں سے بھی ایک مسلمان کو کم از کم دو کافروں پر ضرور غالب آنا چاہیے۔ اب اس بعد والے حکم سے پہلا حکم منسوخ نہیں ہوا۔ بلکہ جب بھی کسی خطہ میں تحریک جہاد شروع ہوگی تو حالات کے مطابق دونوں قسم کے احکام لاگو ہوں گے۔ ٢۔ سورۃ محمد کی آیت نمبر ٤ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنگ کے بعد جنگی قیدیوں کو خواہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا احسان رکھ کر۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنگی قیدیوں کو لونڈی غلام بنانے سے منع فرما دیا ہے۔ دوسری طرف سورۃ احزاب کی آیت نمبر ٥٠ کی رو سے عام مسلمان تو درکنار خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگی قیدیوں کو لونڈی غلام بنانے بلکہ لونڈیوں سے تمتع کی بھی اجازت فرما رہے ہیں اور ان دونوں طرح سے احکام میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کا ناسخ نہیں ہے۔ بلکہ حالات کے تقاضوں کے مطابق دونوں میں سے کسی نہ کسی پر عمل درآمد ہوگا اور ایسی مثالیں قرآن میں اور بھی بہت ہیں۔ آیات میں تبدیلی کی دوسری صورت اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی کہ ہم اس آیت یا اس جملہ کو بھلا ہی دیتے ہیں۔ جیسا کہ سورۃ اعلیٰ میں فرمایا : ﴿ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰ إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ  ﴾(۸۷: ۶ ،۷) یعنی ہم تمہیں پڑھائیں گے جسے تم بھولو گے نہیں مگر جو اللہ چاہے۔ اور اس بھلانے کی صورت یہ ہوتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان میں حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ نازل شدہ قرآن کریم کا دور کیا کرتے، اس دوران جن الفاظ یا جس جملہ کو منسوخ کرنا اللہ کو منظور ہوتا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول جاتے تھے اور جبریل علیہ السلام بھی اس کا تکرار نہیں کرتے تھے۔ ایسے نسخ کی بھی چند مثالیں درج ذیل ہیں۔ ١۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢٦ میں فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ مچھر یا اس سے بھی کسی حقیر مخلوق کی مثال بیان کرے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی آیت بھی نازل کی تھی جس میں مچھر کی مثال بیان کی گئی تھی۔ جسے کافروں نے اضحوکہ بنایا تھا اور چونکہ وہ مچھر کی مثال والی آیت قرآن میں موجود نہیں۔ لہٰذا اس کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ بھلا دی گئی تھی۔ ٢۔ سورۃ نساء کی آیت نمبر ٢٤ میں آیت (فَـمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْھُنَّ ﴾ کے بعد ﴿اِلیٰ اَجَلٍٍ مُسَمًّی﴾ کے الفاظ بھی نازل ہوئے تھے جس کی رو سے مجاہدین کے لیے محاذ جنگ کے دوران متعہ حلال ہوتا رہا۔ لیکن بالآخر اس کی ابدی حرمت ہوگئی تو یہ آخری الفاظ بھی اللہ تعالیٰ نے بھلا دیئے اور شامل قرآن نہ ہو سکے۔ ٣۔ آیت رجم بھی اس قبیل سے ہے جس کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی آخری زندگی کے ایک خطبہ میں برسر منبر فرمایا تھا۔ ’’اس کتاب اللہ میں رجم کے حکم کی بھی آیت تھی۔ جسے ہم نے پڑھا، یاد کیا۔ اور اس پر عمل بھی کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی رجم ہوا اور ہم نے بھی رجم کیا۔ مجھے ڈر ہے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ ہم رجم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اس فریضہ کو جسے اللہ نے اپنی کتاب میں اتارا چھوڑ کر مر جائیں۔ کتاب اللہ میں رجم کا حکم مطلق حق ہے اس پر جو زنا کرے اور شادی شدہ ہو۔ خواہ مرد ہو یا عورت، جبکہ اس کے زنا پر کوئی شرعی ثبوت یا حمل موجود ہو۔‘‘ (بخاری، کتاب المحاربین۔ باب رجم الحبلیٰ) معتزلہ کا نسخ سے انکار۔۔رہی یہ بات کہ اگر یہ آیت منسوخ ہوگئی یا بھلا دی گئی تو اس کا حکم کیسے باقی رہ گیا۔ یہ تفصیل سورۃ نور کی آیت نمبر ٢ کے تحت ملاحظہ فرمائی جائے۔ یہاں صرف یہ بات چل رہی ہے کہ منزل من اللہ وحی میں سے اللہ کی حکمت کے تحت کچھ آیات یا جملے یا الفاظ بھلا بھی دیئے گئے اور کچھ احکام منسوخ بھی ہوئے ہیں۔ چونکہ مسلمانوں میں بھی ایک فرقہ قرآن میں کسی طرح کے نسخ کا قائل نہیں لہٰذا یہ مثالیں پیش کرنا ضروری سمجھا گیا، اور ان پر اکتفا کیا گیا۔ حالانکہ قرآن میں ایسی اور بھی مثالیں موجود ہیں۔ یہود کے لوگوں کواسلام سے متنفر کرنےکےطریقے:۔بعض روایات میں آیا ہے بعض صحابہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ ہم فلاں آیت پڑھا کرتے تھے جو بعد میں منسوخ ہوگئی۔ ان روایات کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ بعض دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی آیت کی تشریح میں کوئی جملہ فرما دیا لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے آیت کا حصہ ہی سمجھ لیا، پھر جب ایسے جملوں کا قرآن کے ان اجزاء سے مقابلہ کیا گیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائے تھے۔ تب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معلوم ہوا کہ وہ جملے قرآن کی آیت کا حصہ نہیں تھے اور اس کی بھی کئی مثالیں احادیث میں موجود ہیں۔ البقرة
107 البقرة
108 [١٢٦] اسلام سے متنفر کرنے کا دوسرا طریقہ جو یہود نے اختیار کیا وہ یہ تھا کہ موشگافیاں کر کے طرح طرح کے سوالات مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے اور انہیں کہتے کہ اپنے نبی سے یہ بات بھی پوچھ کر بتاؤ اور وہ بھی اور یہ بھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے متنبہ کیا کہ یہود کی تو عادت ہی یہ رہی ہے انہوں نے تو موسیٰ علیہ السلام کو مسلسل سوالات اور مطالبے کر کر کے تنگ کردیا تھا۔ اس طرح کی موشگافیاں کافرانہ روش ہے اور یہ کام ایسے لوگ کرتے ہیں جو اطاعت و فرمانبرداری پر آمادہ نہیں ہوتے۔ لہٰذا تم ایسے لایعنی اور بے مقصد سوالات کرنے سے پرہیز کرو۔ یہود کا سوالات کرکرکے تنگ کرنا:۔ اور سورۃ مائدہ میں فرمایا۔ ’’مسلمانو! اپنے رسول سے ایسے سوالات مت پوچھا کرو کہ اگر ان کا جواب دیا جائے تو تمہیں برا لگے۔‘‘ (٥ : ١٠١) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بارہا متنبہ فرمایا کہ قیل و قال اور بال کی کھال اتارنے کی وجہ سے پچھلی امتیں تباہ ہوئیں۔ لہٰذا تم ایسی باتوں سے پرہیز کرو اور جن باتوں کو اللہ اور اس کے رسول نے نہیں چھیڑا ان میں خواہ مخواہ کرید نہ کرو۔ البقرة
109 [١٢٧] یہود کے حسد اور عناد کی وجہ تو اوپر مذکور ہوچکی۔ اس لیے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو مختلف طریقوں اور حیلوں بہانوں سے اسلام سے برگشتہ کر کے مسلمانوں کی قوت کو کمزور تر کردیں۔ لہٰذا اے مسلمانو! تم ان کے اندرونی عناد اور بغض کی حقیقت کو خوب سمجھ لو اور ان کا ردعمل دیکھ کر مشتعل نہ ہوجاؤ، نہ ان سے بحث و مناظرہ میں الجھو اور نہ اپنا وقت ضائع کرو بلکہ انہیں درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے ان کے حال پر چھوڑ دو، اور صبر کے ساتھ دیکھتے رہو کہ اللہ ان کے حق میں کیا فیصلہ فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو پوری سزا دے کے رہے گا۔ کیونکہ وہ ہر بات اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ [ ١٢٨] یہود کی شرارتوں کی سزا: اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہوا کہ ان کے ساتھ جہاد کیا جائے۔ پھر ان میں سے کچھ (بنو نضیر) تو نہایت ذلت کے ساتھ جلاوطن کئے گئے اور بعد میں جزیہ دینے پر مجبور ہوئے اور بعض دوسرے (بنو قریظہ) قید ہوئے اور پھر قتل کردیئے گئے اور ان کی عورتیں اور بچے لونڈی و غلام بنا لیے گئے۔ البقرة
110 [١٢٩] (فَاعْفُوْا) سے لے کر مسلسل مسلمانوں سے خطاب ہے۔ یعنی یہود کی شرارتوں کی طرف توجہ دینے کے بجائے اللہ کی عبادت میں مشغول رہا کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو، ایسے تمام کاموں کا تمہیں یقینا آخرت میں بدلہ مل جائے گا۔ البقرة
111 البقرة
112 [١٣٠] یہاں سابق مضمون کو ہی دہرایا جا رہا ہے۔ یعنی زبانی دعوے اور جھوٹی آرزوئیں بیکار چیزیں ہیں یہ خواہ یہود کی ہوں یا نصاریٰ کی یا مسلمانوں کی یا کسی اور کی۔ اخروی نجات کے لیے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس ایمان کے تقاضوں کے مطابق صالح اعمال بجا لانا ضروری ہے اسلام لانے کافائدہ سابقہ گناہ معاف : ١۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’جب کوئی شخص اسلام لائے اور ٹھیک طور پر لائے تو اس کی سابقہ تمام برائیاں دور کردی جاتی ہیں اور اس کے بعد جو حساب شروع ہوگا وہ یوں ہوگا ہر نیکی کے عوض دس سے لے کر سات سو تک نیکیاں (لکھی جائیں گی) اور برائی کے عوض ویسی ہی ایک برائی لکھی جائے گی۔ الا یہ کہ اللہ وہ بھی معاف کر دے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الایمان، باب حسن اسلام المرء) ٢۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بھلا دیکھیے جو کام میں نے جاہلیت کے زمانہ میں کئے تھے۔ جیسے صدق یا غلام آزاد کرنا یا صلہ رحمی وغیرہ ان کا مجھے ثواب ملے گا ؟ آپ نے فرمایا تو اسلام لایا ہی اس شرط پر ہے کہ تیری سابق نیکیاں بحال رہیں۔ میں نے کہا ''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! میں نے جتنے کام جاہلیت میں کئے ہیں۔ ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑوں گا۔ اتنے ہی سب کام اسلام کی حالت میں بھی کرتا رہوں گا۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب بیان حکم عمل الکافر إذا أسلم بعدہ) ٣۔ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے جاہلیت کے زمانے میں سو غلام آزاد کئے تھے اور سو اونٹ سواری کے لیے اللہ کی راہ میں دیئے تھے۔ پھر انہوں نے اسلام کی حالت میں بھی سو غلام آزاد کئے اور سو اونٹ اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیئے۔ (مسلم : حوالہ ایضاً) البقرة
113 [١٣١] یہود، نصاریٰ ، مشرکین سب کو اپنے دین پر فخر :۔یہود تورات بھی پڑھتے ہیں اور انجیل بھی، اسی طرح نصاریٰ بھی یہ دونوں کتابیں پڑھتے ہیں۔ تاہم یہودی عیسائیوں کو اس لیے کافر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایک کے بجائے تین خدا بنا رکھے ہیں اور نصاریٰ یہود کو اس لیے کافر سمجھتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لائے۔ حالانکہ تورات میں ان کی بشارت موجود ہے۔ [١٣٢] ان سے مراد مشرکین عرب ہیں جنہیں امی کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ اگرچہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ تاہم اپنے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پیروکار سمجھتے تھے، نماز، روزہ، اپنے دستور کے مطابق بجا لاتے تھے صدقات و خیرات کرتے تھے، حج کرتے تھے، حاجیوں کی خدمت کرتے اور ان کے لیے پانی کا بندوبست کرتے تھے۔ یہ لوگ اپنے علاوہ دوسروں کو گمراہ اور بےدین سمجھتے تھے۔ [١٣٣] یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب کو بتلا دے گا کہ دین میں گمراہی کے کون کون سے امور تم نے شامل کر رکھے تھے۔ گو آج بحث اور مناظروں سے کوئی فرقہ بھی اپنی گمراہی تسلیم کرنے کو آمادہ نہیں ہے۔ البقرة
114 [١٣٤] جب نصاریٰ یہود پر غالب ہوئے تو انہوں نے یہود کو بیت المقدس میں داخل ہونے اور عبادت کرنے سے روک دیا تھا اور دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو کعبہ میں نماز ادا کرنے سے روکتے رہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر عمرہ سے روک دیا۔ اس طرح یہ لوگ اللہ کی مساجد کی رونق اور آبادی کے بجائے ان کی بربادی کے درپے ہوئے اور یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کو قطعاً گوارا نہیں۔ چنانچہ فتح مکہ کے بعد مشرکین مکہ کی یہ پابندی ختم ہوئی اور بیت المقدس کو عہد فاروقی رضی اللہ عنہ میں مسلمانوں نے عیسائیوں سے آزاد کرا لیا۔ مساجد کے متولیوں کےاوصاف :۔ اللہ تعالیٰ کا اس حکم سے منشا یہ ہے کہ عبادت گاہوں کے متولی خالصتاً اللہ تعالیٰ کی پرستش کرنے والے اور اسی سے ڈرنے والے ہونے چاہئیں تاکہ شریر لوگ اگر وہاں جائیں تو انہیں خوف ہو کہ اگر شرارت کریں گے تو سزا پائیں گے۔ لیکن جو لوگ خلوص نیت سے عبادت کے لیے مساجد میں داخل ہوں۔ انہیں کسی وقت بھی مساجد میں داخل ہونے سے روکنا نہیں چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی عبادت سے روکنا بہت بڑا گناہ ہے۔ البقرة
115 [١٣٥]نماز میں قبلہ رخ ہونا:۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نفل ادا کر رہے تھے اور سواری کسی بھی سمت کو رخ کرلیتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مکہ سے مدینہ آ رہے تھے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی اور فرمایا کہ یہ آیت اسی باب میں ہے (ترمذی ابو اب التفسیر زیر آیت بالا) ایک روایت میں یہ ہے کہ ایک سفر میں صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ رات اندھیری تھی ہر ایک کو قبلہ جدھر معلوم ہوا نماز ادا کرلی اور نشان کے طور پر پتھر رکھ لیے صبح کو معلوم ہوا وہ بعض لوگوں نے غلط سمت میں نماز ادا کی ہے۔ ان کو تردد ہوا تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس کی ناسخ ﴿فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ﴾ہے۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر زیر آیت بالا) واضح رہے کہ وحدت الوجود کے قائل صوفی حضرات اس آیت کو وحدت الوجود کی صحت پر دلیل کے طور پر پیش فرمایا کرتے ہیں۔ چنانچہ خواجہ حسن سنجری فرماتے ہیں کہ کافراں سجدہ کہ بروئے بتاں مے کردند ہمہ اوسوئے تو بود و ہمہ سو روئے تو بود یعنی کافر جو بتوں کو سجدہ کرتے ہیں تو ان کا منہ دراصل تیری ہی طرف ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر طرف تیرا ہی چہرہ ہوتا ہے۔ اس آیت کے نزول کا سبب اور اس کے منسوخ ہونے کے متعلق ہم اوپر لکھ چکے ہیں۔ اس کے باوجود اگر ان حضرات کے اس نظریہ کو درست سمجھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر تحویل قبلہ کی آخر کیا ضرورت اور اہمیت تھی جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسی سورۃ بقرہ میں ٩ آیات نازل فرمائیں؟ سنجری صاحب کے اس شعر سے یہ ضرور معلوم ہوجاتا ہے کہ جب انسان پہلے سے ذہن میں ایک نظریہ قائم کر کے پھر سے قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کس حد تک کج فکری سے کام لے سکتا ہے۔ چنانچہ سنجری صاحب نے بت پرستوں کو بت پرستی کے فعل کی بھی تحسین فرما کر اسے درست قرار دے دیا۔ [ ١٣٦] یعنی اللہ تعالیٰ تنگ نظر اور تنگ دل نہیں، بلکہ اس کی خدائی بھی وسیع، زاویہ نظر بھی وسیع اور دائرہ فیض بھی وسیع ہے۔ لہٰذا اگر قبلہ کی تلاش میں خطا ہو بھی جائے تو وہ قابل گرفت نہیں وہ خوب جانتا ہے کہ اس کا فلاں بندہ کہاں، کس وقت اور کس نیت سے یاد کر رہا ہے۔ البقرة
116 [١٣٧] اللہ تعالیٰ کی اولادقراردینے والے:۔ یہود کہتے ہیں کہ عزیر علیہ السلام اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اللہ کا بیٹا ہے۔ اور مشرکین کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اس کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آسمانوں، اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملک اور وہ ان کا مالک ہے۔ لہٰذا تمام اشیاء مملوک ہوئیں اور بیٹا شریک ہوتا ہے مملوک نہیں ہوتا۔ لہٰذا اللہ کی اولاد ہونا ناممکن ٹھہرا، اور ایک حدیث صحیح قدسی میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بنو آدم نے مجھے جھٹلایا اور گالی دی۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ میں اسے دوبارہ پیدا نہ کرسکوں گا اور اس کا گالی دینا یہ ہے جو اس نے میرے لیے بیوی اور بیٹا تجویز کیا۔ (بخاری، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ اخلاص) البقرة
117 [١٣٨] بدیع کے معنی ہیں ایسی چیز کو وجود میں لانے والا جس کی پہلے کوئی نظیر موجود نہ ہو، نہ اس کا وجود موجود ہو اور نہ کوئی نمونہ اور یہ صفت صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ہو سکتی ہے۔ البقرة
118 [١٣٩] یعنی اس قسم کے مطالبات جاہل لوگ کیا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود ہمارے پاس آ کر بتائے کہ یہ واقعی میرا رسول ہے یا کوئی ایسی واضح علامت یا معجزہ ہمیں دکھلائے جس سے ہمیں یقین آ جائے۔ اسی صورت میں ہم ایمان لا سکتے ہیں۔ یہ سب جہالت کی باتیں ان میں سے اکثر ناممکن العمل ہیں۔ پہلے لوگ بھی ایسے مطالبے کرتے رہے اور آج بھی جاہل لوگ اسی طرح کے مطالبے کر رہے ہیں۔ [ ١٤٠] یعنی مزاج کے لحاظ سے پہلے زمانہ کے گمراہوں اور ان گمراہوں میں کچھ فرق نہیں۔ ایسے جاہل لوگ ایک ہی قسم کے اعتراضات اور مطالبات پیش کرتے رہتے ہیں۔ [١٤١] اور جن لوگوں نے ایمان لانا ہو ان کے لیے تو ہماری نشانیوں کی کوئی کمی نہیں۔ ایک ایک آیت پر ان کا ایمان پختہ سے پختہ تر ہوتا جاتا ہے اور جو لوگ کفر پر اڑے رہنا چاہتے ہیں انہیں البتہ کوئی نشانی نظر نہیں آتی۔ البقرة
119 [١٤٢] مثلاً تمہارے پاس جو رسول آیا ہے۔ تم خود جانتے ہو اس نے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا تو کیا جو شخص کسی انسان سے جھوٹ نہیں بولتا۔ وہ اللہ پر جھوٹ تراش سکتا ہے؟ نیز تم یہ جانتے ہو کہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہی نہیں۔ اس کا کوئی استاد بھی نہیں پھر وہ ایسا کلام پیش کرتا ہے جس کے مقابلہ میں کلام لانے سے تم سب کے سب عاجز ہو تو کیا صرف یہی بات اللہ کے وجود، نبی کی نبوت اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا واضح ثبوت نہیں؟ مگر جو شخص ماننے کا ارادہ ہی نہ رکھتا ہو کوئی بھی نشانی اسے ایمان لانے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ [ ١٤٣] یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام صرف اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دینا ہے۔ اب اگر لوگ ایمان نہیں لاتے اور دوزخ کے مستحق ٹھہرتے ہیں تو اس سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ الزام نہیں۔ البقرة
120 [١٤٤] یہاں ملت سے مراد وہ دین نہیں جو تورات میں یا انجیل میں مذکور ہے بلکہ وہ دین ہے جس میں وہ سب خرافات بھی شامل ہیں جنہیں ان لوگوں نے دین سمجھ رکھا ہے اور وہ رنگ ڈھنگ بھی جو یہ لوگ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ لہٰذا انہیں خوش رکھنے کی فکر چھوڑ دیجئے کیونکہ جب تک آپ عقائد و اعمال کی انہیں گمراہیوں میں مبتلا نہ ہوجائیں جن میں یہ پڑے ہوئے ہیں اس وقت تک ان کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے راضی ہونا محال ہے۔ [ ١٤٥] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کےبعد تمام لوگوں کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاناواجب ہے: اللہ کی طرف سے ہدایت ہر زمانہ میں اس زمانہ کے تقاضوں کے مطابق ہی آتی ہے اور وہی ہدایت معتبر ہوتی ہے جو اس زمانہ کا نبی لائے۔ سو اس دور میں اللہ کی ہدایت قرآن میں ہے اور اسی پر سب کو ایمان لانا ضروری ہے۔ چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تورات کا ایک نسخہ لے کر آئے اور کہنے لگے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تورات کا نسخہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پڑھنا شروع کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوتا چلا جا رہا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تجھے گم کرنے والیاں گم کریں کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں دیکھتے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ میں غصہ کے آثار دیکھے تو کہنے لگے کہ ’’میں اللہ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب سے پناہ مانگتا ہوں۔ ہم اللہ کے پروردگار ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوئے۔‘‘ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔ اگر موسیٰ آج موجود ہوں اور تم مجھ کو چھوڑ کر اس کی پیروی کرو تو گمراہ ہوجاؤ گے، اور اگر موسیٰ علیہ السلام خود زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو ضرور میری پیروی کرتے۔‘‘ (دارمی، بحوالہ مشکوٰۃ شریف، کتاب الایمان باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ فصل ثالث) اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہی کی دوسری روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ ’’اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔‘‘(احمد بیہقی فی شعب الایمان، بحوالہ مشکوٰۃ باب ایضاً فصل ثانی) [ ١٤٦] یہ تنبیہ بطریق فرض ہے۔ یعنی بالفرض آپ بھی ایسا کریں تو آپ کو اللہ سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ گویا امت کو انتہائی تاکید سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام لانے کے بعد پھر سے یہودی یا عیسائی بن جائے تو اسکو اللہ کے عذاب سے کوئی نہ بچا سکے گا۔ البقرة
121 [١٤٧]اہل کتاب میں منصف :۔ یہودیوں میں کچھ تھوڑے سے لوگ انصاف پسند بھی تھے جو اپنی کتاب کو نیک نیتی سے پڑھتے اور سمجھتے تھے۔ ایسے ہی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر ایمان لائے جیسے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی۔ اور ان کے ایمان لانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ تورات کو غور سے اور سمجھ کر نیک نیتی سے پڑھتے تھے، اور جو لوگ تورات سے ہدایت حاصل کرنے کے بجائے اس کی تحریف و تاویل کے درپے ہوئے وہ خائب و خاسر ہوئے۔ البقرة
122 [١٤٨]یہود کے تفصیلی ذکرکےبعد آخرمیں پھر تنبیہ :۔ بنی اسرائیل کا ذکر پانچویں رکوع سے شروع ہو کر چودھویں رکوع تک پورے دس رکوعات میں پوری تفصیل سے کیا گیا اور بتلایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو تمام اقوام عالم پر فضیلت دے کر تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کا فریضہ انہیں سونپا تھا۔ مگر ان میں بے شمار ایسی اخلاقی بیماریاں پیدا ہوچکی تھیں۔ جن کی وجہ سے یہ امامت کے قابل ہی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی تمام اخلاقی بیماریوں کا ذکر تفصیل سے بیان کردیا ہے اور آخر میں انہیں وہی ہدایت کی جا رہی ہے جو ابتداء میں بھی کی گئی تھی کہ اس دن سے ڈر کر اب بھی اپنی خباثتوں سے باز آ جاؤ۔ جس دن کوئی شخص دوسرے کے کام نہ آسکے گا، نہ بدلہ قبول کیا جائے گا نہ کسی کی سفارش فائدہ دے سکے گی اور نہ ہی مدد کا کوئی اور ذریعہ کام آسکے گا۔ البقرة
123 البقرة
124 [١٤٩]سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا امتحان کن کن باتوں میں ہوا:۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تمام دنیا کی امامت ایسے ہی نہیں مل گئی تھی بلکہ آپ کی سن شعور سے لے کر مرنے تک پوری زندگی قربانی ہی قربانی تھی۔ دنیا میں انسان جن چیزوں سے محبت کرتا ہے ان میں کوئی چیز بھی ایسی نہ تھی جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حق کی خاطر قربان نہ کیا ہو اور ان کی خاطر مصائب نہ جھیلے ہوں جن میں سے چند ایک یہ ہیں : ١۔ آپ ایک بت گر اور بت فروش کے گھر پیدا ہوئے۔ باپ چاہتا تھا کہ بیٹا اس کام میں ان کا ہاتھ بٹائے۔ لیکن آپ علیہ السلام نے الٹا احسن انداز میں سمجھانا شروع کردیا۔ جب باپ آپ علیہ السلام کی طرف سے مایوس ہوگیا تو گھر سے نکال دینے کی دھمکی دے دی۔ آپ علیہ السلام نے حق کی خاطر جلاوطنی کی صعوبتیں قبول کیں۔ ٢۔ قومی میلہ کے موقع پر بتوں کو پاش پاش کیا جس کے نتیجہ میں آپ علیہ السلام کو آگ میں جلا دینے کا فیصلہ ہوا۔ آپ علیہ السلام نے بخوشی اس میں کودنا منظور کیا۔ ٣۔ آپ علیہ السلام نے اپنی بیوی ہاجرہ علیہا السلام اور دودھ پیتے بچے کو اللہ کے حکم کے مطابق ایک بے آب و گیاہ میدان میں جا چھوڑا۔ جہاں کھانے پینے کا کوئی بندوبست نہ تھا اور نہ ہی دور دور تک کسی آبادی کے آثار نظر آتے تھے۔ ٤۔ بوڑھی عمر میں ملے ہوئے بچے اسماعیل علیہ السلام جب ذرا جوان ہوئے تو ان کو قربان کردینے کا حکم ہوا تو آپ بےدریغ اور بلاتامل اس پر آمادہ ہوگئے۔ غرض آپ کی قربانیوں اور آزمائشوں کی فہرست خاصی طویل ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے خود یہ سرٹیفکیٹ عطا کردیا کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کی کئی باتوں سے آزمائش کی تو وہ ہر امتحان میں پورے اترے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان امتحانوں کے نتیجہ میں آپ کو دنیا جہان کا امام بنا دیا، اور آئندہ قیامت تک کے لیے سلسلہ نبوت کو آپ علیہ السلام ہی کی اولاد سے منسلک کردیا اور دنیا کے اکثر و بیشتر مذاہب اپنے مذہب کی آپ علیہ السلام کی طرف نسبت کرنا باعث عزت و افتخار سمجھتے ہیں۔ [ ١٥٠]تمام لوگوں کے امام :۔ یعنی امامت کا وعدہ صرف تمہاری اس اولاد سے تعلق رکھتا ہے جو صالح ہوگی۔ ظالموں اور گنہگاروں کے لیے ایسا کوئی وعدہ نہیں۔ یہیں سے یہود کے اس غلط عقیدہ کی تردید ہوگئی جو وہ سمجھتے تھے کہ ہم چونکہ پیغمبروں کی اولاد ہیں اس لیے ہمیں عذاب اخروی نہ ہوگا۔ البقرة
125 [١٥١]مقام ابراہیم کی فضیلت :۔ مثابۃ بمعنی لوگوں کے بار بار آتے اور جاتے رہنے کی جگہ (بغرض حج، عمرہ، طواف، اور عبادت نماز وغیرہ) [ ١٥٢] وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے رہے۔ اسی پر کھڑے ہو کر آپ نے لوگوں کو حج کے لیے پکارا۔ یہ پتھر خانہ کعبہ کے صحن میں ہے اور آج کل اسے ایک چھوٹی سی شیشہ کی گنبد نما عمارت میں محفوظ کردیا گیا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے تین باتوں میں میری رائے اللہ کے علم کے موافق ہوگئی۔ (جن میں ایک یہ تھی) میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اچھا ہو اگر آپ مقام ابراہیم علیہ السلام کو نماز کی جگہ قرار دے دیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی۔ ﴿وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّی ﴾ چنانچہ طواف کرنے والے اسی مقام کے پاس دوگانہ نماز نفل ادا کرتے ہیں۔ [ ١٥٣] مساجدمیں صفائی کی فضیلت :معلوم ہوا مسجدوں کو صاف ستھرا رکھنا اور روشنی کا انتظام نہایت فضیلت والا کام ہے۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے دو اولوا العزم رسولوں کو بطور خاص حکم دیا۔ یہاں صفائی سے مراد صرف ظاہری صفائی نہیں، بلکہ باطنی صفائی بھی ہے کہ اس گھر میں مشرک لوگ نہ آنے پائیں۔ جو اللہ کے علاوہ دوسروں کو بھی پکارنا شروع کردیں اور اسے گندا کردیں۔ اور مساجد کی صفائی اور آداب کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا (یا صاف کردینا) ہے (بخاری، کتاب الصلوٰۃ باب کفارۃ البزاق فی المسجد) ٢۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ وہ مر گئی۔ آپ نے جب اسے نہ دیکھا تو لوگوں سے اس کا حال پوچھا۔ انہوں نے کہا : وہ مر گئی۔’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے کیوں نہ خبر کی۔ چلو اب اس کی قبر بتلاؤ‘‘ پھر آپ اس کی قبر پر گئے اور نماز پڑھی۔ (بخاری، کتاب الصلٰوۃ، باب کنس المسجد) ٣۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک گنوار آیا اور مسجد نبوی کے ایک کونے میں پیشاب کرنے لگا۔ لوگوں نے اسے جھڑکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جھڑکنے سے منع فرمایا۔ جب وہ پیشاب کرچکا تو آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ اس جگہ پانی کا ایک ڈول بہا دیا جائے۔ (بخاری، کتاب الوضوء، باب ترک النبی والناس الاعرابی حتی فرغ من بولہ فی المسجد) اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب اعرابی پیشاب سے فارغ ہوچکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سمجھایا کہ یہ مسجدیں اللہ کے ذکر کے مقامات ہیں، بول و براز کے لئے نہیں لہٰذا انہیں صاف ستھرا رکھنا چاہیے۔ ٤۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی اس درخت یعنی لہسن کو کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ آئے۔ عطا کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کچی لہسن مراد ہے یا پکی ہوئی؟ انہوں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ اس سے کچی لہسن اور اس کی بدبو مراد ہے۔ (بخاری۔ کتاب الاذان، باب، ماجاء فی الثوم النی والبصل والکراث) ٥۔ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کھڑا تھا۔ کسی نے مجھ پر پتھر پھینکا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ انہوں نے مجھے کہا : جاؤ فلاں دو آدمیوں کو میرے پاس بلا لاؤ۔ میں انہیں بلا لایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا : تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہنے لگے ہم طائف سے آئے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اگر تم اس شہر (مدینہ) کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں ضرور سزا دیتا۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کرتے (شور مچاتے) ہو۔ (بخاری، کتاب الصلٰوۃ، باب رفع الصوت فی المسجد) البقرة
126 [١٥٤] یعنی اس بے آب و گیاہ اور ویران سے مقام کو ایک پرامن شہر بنا دے اور جو لوگ یہاں آباد ہوں انہیں پھلوں کا رزق مہیا فرما۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا قبول ہوئی اور یہ مقام آج تک پرامن اور قابل احترام ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرمت کی از سر نو توثیق کردی جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : ابو شریح نے عمر و بن سعید کو (جو یزید کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن خطبہ ارشاد فرمایا۔ پہلے حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا : اللہ نے مکہ کو حرام کیا ہے۔ لوگوں نے نہیں کیا، تو جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے نہ وہاں خون بہانا درست ہے اور نہ کوئی درخت کاٹنا۔ (بخاری، کتاب العلم، باب لیبلغ العلم الشاھد الغائب۔۔ الخ [ ١٥٥] حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب امامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے پوچھا تو جواب ملا کہ وہ صرف صالح لوگوں کو ملے گی ظالموں کو نہیں ملے گی۔ تو اب ابراہیم علیہ السلام نے پھلوں کا رزق عطا کرنے کی دعا میں ایمانداری کی شرط از خود بڑھا دی۔ تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ رزق کے معاملہ میں ایمانداری کوئی شرط نہیں وہ تو میں نیک اور بد سب کو دوں گا۔ وہ محبت اور ایمانداری کی شرط صرف امامت کے لیے ہے رزق کے لیے نہیں۔ البقرة
127 [١٥٦]مختلف ادوار میں کعبہ کی تعمیر :۔ قسطلانی رحمہ اللہ نے کہا کہ کعبہ دس بار تعمیر ہوا۔ سب سے پہلے اسے فرشتوں نے بنایا۔ دوسری بار آدم علیہ السلام نے (آپ علیہ السلام کی عمر ہزار سال تھی) تیسری بار شیث علیہ السلام (آدم کے بیٹے) نے اور یہ تعمیر طوفان نوح علیہ السلام میں گر گئی۔ چوتھی بار حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پانچویں بار قوم عمالقہ نے، چھٹی بار قبیلہ جرہم نے، ساتویں بار قصی بن کلاب نے (جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں) آٹھویں بار قریش نے (آپ کی بعثت سے پہلے جب کہ حطیم کی جگہ چھوڑ دی تھی) نویں بار حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے (اپنے دور خلافت میں) دسویں بار حجاج بن یوسف نے۔ اور اس کے بعد آج تک اس علاقہ پر مسلمانوں کا ہی قبضہ چلا آ رہا ہے اور بہت سے بادشاہوں نے اس کی تعمیر، مرمت اور توسیع میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔ اس سلسلہ میں آل سعود کی خدمات گرانقدر ہیں اور لائق تحسین ہیں۔ البقرة
128 [١٥٧] یہ دونوں پیغمبر جب خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے تو ساتھ ساتھ دعا بھی کر رہے تھے کہ الٰہی : ہماری یہ خدمت قبول فرما اور اپنا مسلم (مطیع فرماں) بنا، اور ہماری اولاد میں سے ایک مسلم قوم پیدا کر، اور مسلم وہ ہوتا ہے جو اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور اپنے آپ کو کلیتاً اللہ کے سپرد کر دے اور اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کرے۔ اس عقیدے اور طرز عمل کا نام اسلام ہے اور یہی تمام انبیاء کا دین رہا ہے۔ [ ١٥٨] مناسک کا لفظ عموماً حج کے آداب و ارکان اور قربانی کے احکام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کے وسیع مفہوم میں عبادت کے سب طریقے شامل ہیں۔ [ ١٥٩]انبیاء اورا ستغفار :۔ انبیاء سے عمداً کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا، رہی خطا تو بھول چوک امت سے تو معاف ہے۔ مگر انبیاء کی شان اتنی بڑی ہے کہ ذرا سی غفلت ان کے حق میں گناہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی لیے انبیاء علیہم السلام معصوم ہونے کے باوجود عوام الناس کی نسبت بہت زیادہ توبہ و استغفار کرتے رہتے ہیں۔ البقرة
129 [١٦٠]میں ابراہیم علیہ السلام کی دعاہوں:۔ یعنی اہلیان شہر مکہ میں سے رسول مبعوث فرما۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا بھی قبول فرمائی اور اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے نبی عربی پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں۔‘‘ (احمد، بحوالہ مشکوٰۃ، باب فضائل سید المرسلین صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ الفصل الثانی) [ ١٦١] حکمت کیاہے؟اوروحی مخفی :۔حکمت کے لفظی معنی سمجھ اور دانائی ہے۔ پھر اس میں وہ سب طور طریقے بھی شامل ہوجاتے ہیں جو کسی کام کو عملی طور پر سر انجام دینے کے لیے ضروری ہوں۔ پہلی قسم کو حکمت علمی اور دوسری قسم کو حکمت عملی کہتے ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی تصنیف ''الرسالہ'' میں بے شمار دلائل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ قرآن میں جہاں بھی کتاب کے ساتھ حکمت کا لفظ آیا ہے تو اس سے مراد سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’میرے بعد کوئی شخص غرور سے ایسا نہ کہے کہ میں اللہ کی کتاب میں یہ حکم نہیں پاتا۔ خوب سن لو! مجھے یہ کتاب (قرآن) بھی دیا گیا ہے اور اس کی مثل اتنا کچھ اور بھی۔‘‘ (ترمذی) ابو داؤد وغیرہما) نیز قرآن کریم کی یہ آیت ﴿وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ ۤ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا﴾(۷:۵۹)سنت رسول کی اتباع کو واجب قرار دیتی ہے۔ جس کا واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو شخص سنت رسول کا منکر ہے وہ حقیقتاً قرآن کا بھی منکر ہے۔ [ ١٦٢]تزکیہ نفس کا مفہوم :۔ تزکیہ نفس مشہور لفظ ہے یعنی انہیں پاکیزہ بنائے اور سنوارے اور سنوارنے میں، اخلاق، عادات، معاشرت، تمدن، سیاست غرض ہر چیز کو سنوارنا شامل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عملی طور پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی تربیت کرنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی۔ اس کی ایک معمولی سی مثال ملاحظہ فرمائیے۔ ایک دفعہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ (جو سابقین و اولین میں سے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے پیار بھی بہت تھا) نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو صرف یہ کہا تھا ’’اے کالی ماں کے بیٹے۔‘‘ تو اتنی سی بات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ پر شدید گرفت کرتے ہوئے فرمایا : إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ (بخاری کتاب الایمان باب المعاصی من امر الجاھلیۃ) یعنی تو ایسا شخص ہے جس میں ابھی تک جاہلیت کا اثر موجود ہے) یہ تھا آپ کا انداز تربیت اور یہی (یزکیھم) کا مفہوم ہے۔ (تشریح کے لیے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ١٦٠ تا ١٦٤ ملاحظہ فرمائیے۔) البقرة
130 [١٦٣] دین ابراہیم کی صفات :۔دین کا معنی اللہ تعالیٰ کی مکمل حاکمیت اور اپنی مکمل عبودیت کو تسلیم کرلینا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے طرز فکر اور طرز عمل کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع بنا لیا تھا اور طرز فکر و عمل کی تبلیغ و اشاعت میں اپنی پوری زندگی صرف کی اور اس راہ میں جو بڑی مشکلات پیش آئیں انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور یہ طرز زندگی اللہ کو اتنا محبوب تھا کہ اس نے آپ کو پوری دنیا کا امام بنا دیا۔ اب کوئی بے وقوف ہی ایسی پسندیدہ روش سے اعراض کرسکتا ہے، یا ایسا شخص جو تجاہل عارفانہ سے کام لے رہا ہو۔ البقرة
131 البقرة
132 [١٦٤] یہاں اللہ رب العزت نے بطور خاص حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے یعقوب علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔ اس لیے کہ ماسوائے نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی سب انبیاء انہی کی اولاد سے تھے اور بنی اسرائیل بھی انہی کی اولاد تھے۔ انہیں وصیت تو اللہ کا فرمانبرداربن کر رہنے کی گئی تھی۔ مگر بعد میں بنی اسرائیل نے جو گل کھلائے ان کا تفصیلی ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ البقرة
133 [١٦٥]یہود کا یعقوب علیہ السلام پرالزام :۔ ایک دفعہ یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ یعقوب علیہ السلام نے ہمیں یہودی رہنے کی وصیت کی تھی۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے یہود مدینہ سے پوچھا : جب یعقوب علیہ السلام مرنے کے قریب تھے تو کیا تم اس وقت موجود تھے جو اس وثوق سے کہتے ہو کہ یعقوب علیہ السلام نے یہودیت کی وصیت کی تھی؟ پھر جو کچھ یعقوب علیہ السلام نے بوقت مرگ اپنے بیٹوں سے پوچھا اور جو بیٹوں نے جواب دیا اس کو اللہ تعالیٰ نے خود بیان کر کے یہود کے اس قول کی تردید فرما دی۔ البقرة
134 [١٦٦] یعنی انبیاء کی اور ان کے متبعین کی جماعت۔ اگرچہ اے یہود! تم ان کی اولاد ہو مگر ان کے اعمال تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتے۔ تمہارے لیے تو وہی کچھ ہوگا جو تم خود کر رہے ہو۔ تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تمہارے آباؤ اجداد کیا کرتے تھے بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ تم خود کیا کرتے رہے؟ البقرة
135 [١٦٧]ملت کا مفہوم اور ملت ابراہیم علیہ السلام :۔ ملت اس نظام زندگی کا نام ہے جس کی بنیاد چند مخصوص عقائد پر ہو اور ملت ابراہیم علیہ السلام کے عقائد میں سے سب سے اہم عقیدہ جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا وہ یہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام موحد تھے۔ شرک نہیں کرتے تھے۔ یہود مسلمانوں سے کہتے ہیں یہودی بنو گے تو نجات پا جاؤ گے۔ حالانکہ وہ خود مشرک تھے اور حضرت عزیر علیہ السلام کو ابن اللہ کہتے تھے۔ اسی طرح عیسائی بھی مسلمانوں سے یہی بات کہتے تھے حالانکہ وہ بھی تین خدا مانتے تھے اور مشرک تھے اور کفار مکہ وغیرہ کے مشرک ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ حالانکہ وہ بھی ملت ابراہیمی کی اتباع کا دعویٰ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی بھی نہ ہدایت پر ہے اور نہ ملت ابراہیم سے تعلق رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ سب مشرک ہیں۔ ملت ابراہیم پر صرف وہ ہوسکتا ہے جو مشرک نہ ہو اور وہی ہدایت یافتہ ہوگا۔ البقرة
136 [١٦٨]انبیاء میں تفریق کرنے کا مطلب :۔ فرق اس لحاظ سے کہ فلاں نبی حق پر تھا اور فلاں حق پر نہ تھا یا ہم فلاں کو مانتے ہیں یا فلاں کو نہیں مانتے۔ کیونکہ سب انبیاء علیہم السلام ایک ہی صداقت اور ایک ہی راہ راست کی طرف بلاتے رہے ہیں۔ اور سب انبیاء کرام اپنے سے پہلوں کی تصدیق اور بعد میں آنے والوں کی بشارت دیتے اور ان پر ایمان لانے کی تاکید کرتے رہے ہیں۔ اب اگر مثال کے طور پر یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اپنی کتاب تورات پر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ وہ محض باپ دادا کی تقلید میں ایک پیغمبر کو مان رہے ہیں۔ ان کا اصل دین نسل پرستی یا اپنے آباء کی تقلید ہے۔ اپنے پیغمبر کی پیروی نہیں۔ ورنہ اس کی سب باتیں مانتے۔ انبیاء کے درمیان فرق نہ کرنے کا مطلب :۔ تمام انبیاء کرام اپنے اپنے وقتوں میں واجب الاتباع ہوتے ہیں اور ایک نئے نبی کی بعثت کی ضرورت ہمیشہ اس وقت پیش آتی ہے جب سابق نبی کی امت میں شرک و جہالت اور فساد فی الارض عام ہوجائے اور وہ خود کئی گروہوں میں بٹ جائے۔ دین یعنی عقائد و کلیات تو ہر نبی کے دور میں یکساں ہی رہے ہیں۔ البتہ اس دور کے تقاضوں کے مطابق کچھ سابقہ احکام منسوخ اور کچھ نئے احکام اس نئے نبی کو دیئے جاتے ہیں۔ لہٰذا اب اتباع تو صرف اس نئے نبی کی واجب ہوتی ہے اور ایمان لانا سب پر واجب ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ سب انبیاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث اور حق و صداقت لے کر آئے تھے۔ اس لحاظ سے ان میں کچھ فرق نہیں ہوتا۔ رہا انبیاء میں درجات کے لحاظ سے فرق اور ایک دوسرے پر تفصیلات تو وہ قرآن کریم سے ثابت ہے۔ جیسے ارشاد باری ہے۔ ﴿ تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ﴾(۲۵۳:۲) البقرة
137 [١٦٩] یعنی ان اہل کتاب کا حق سے اعراض اور ہٹ دھرمی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور اللہ انہیں سزا دینے کو کافی ہے۔ یعنی یہود بنو نضیر جلاوطن ہوئے اور جزیہ دینا قبول کیا اور بنو قریظہ قیدی اور قتل ہوئے اور نجران کے عیسائیوں نے بھی جزیہ دینا قبول کیا۔ البقرة
138 [١٧٠] بپتسمہ اور اللہ کا رنگ :۔جب کوئی شخص یہودی مذہب میں داخل ہوتا تو وہ اسے غسل دیتے اور کہتے کہ اس کے سب سابقہ گناہ دھل گئے اور عیسائی اس غسل کے پانی میں زرد رنگ بھی ملا لیا کرتے۔ اور یہ غسل صرف مذہب میں نئے داخل ہونے والوں کو ہی نہیں بلکہ نومولود بچوں کو بھی دیا جاتا اور اس رسم کو وہ اصطباغ یا بپتسمہ کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان رسمی رنگوں میں کیا رکھا ہے۔ رنگ تو صرف اللہ کا ہے جو اس کی بندگی سے چڑھتا ہے اور ان اہل کتاب سے کہہ دو کہ ہم اس کی بندگی کرتے اور اسی کا رنگ اختیار کرتے ہیں۔ البقرة
139 [١٧١] اللہ کے لطف وکرم کی بنیاد:۔ یہود و نصاریٰ یہ سمجھتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ لہٰذا اس کی جملہ نوازشات اور الطاف و اکرام کے مستحق صرف ہم ہی ہیں۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اللہ جیسا تمہارا پروردگار ہے ویسا ہی ہمارا بھی ہے۔ وہ تو جس طرح کے کوئی شخص عمل کرے گا اسی کے مطابق اس پر نوازشات کرے گا۔ اور اس لحاظ سے ہم تم سے بہتر بھی ہیں کہ ہم فقط اسی کی بندگی کرتے ہیں اور تم شرک بھی کئے جاتے ہو اور یہ اندازہ اب تم خود لگا سکتے ہو کہ آئندہ اس کی نوازشات اور الطاف و اکرام کس پر ہونا چاہئیں۔ البقرة
140 [١٧٢] یہود ونصاریٰ کااپنے انبیاء پر یہودی یاعیسائی ہونے کا الزام :۔اس آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ یہودیت اپنے موجودہ نظریات و عقائد کے مطابق تیسری اور چوتھی صدی قبل مسیح میں معرض وجود میں آئی تھی۔ اور عیسائیت اپنے مخصوص نظریات و عقائد کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے مابعد کی پیداوار ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں کے عالم لوگ اس بات کو خوب جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اسماعیل علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام، یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد یعنی حضرت یوسف علیہ السلام وغیرہم۔ اس قسم کی یہودیت اور عیسائیت کی پیدائش سے بہت پہلے وفات پا چکے تھے، مگر ان علمائے یہود و نصاریٰ نے عوام کے ذہن میں یہ بات پختہ کردی تھی کہ یہ مندرجہ بالا انبیائے کرام یہود کے قول کے مطابق یہودی تھے اور نصاریٰ کے قول کے مطابق عیسائی تھے۔ اس پس منظر میں اب اس آیت کو ملاحظہ فرمائیے جس میں اللہ تعالیٰ نے علمائے یہود و نصاریٰ کی اس بددیانتی کو آشکار کیا ہے اور انہیں کتمان شہادت کے مجرم قرار دے کر سب سے بڑے ظالم ٹھہرایا ہے۔ البقرة
141 [١٧٣] یہ آیت انہی الفاظ سے پہلے بھی گزر چکی ہے (آیت نمبر ١٣٤) وہاں اس آیت کے مخاطب یہود تھے اور یہاں یہودی، عیسائی اور مسلمان سبھی مخاطب ہیں اور اسے دوبارہ لانے سے غرض صرف مزید تنبیہ و تاکید ہے کہ نجات اخروی کے لیے اپنے انبیاء و صالحین پر بھروسہ کرنا بالکل عبث بات ہے۔ تم اپنے اعمال کے لیے خود جواب دہ ہوگے اور خود ہی ان کی سزا بھگتو گے۔ البقرة
142 [١٧٤]قبلہ اول خانہ کعبہ ہی تھا:۔ تحویل قبلہ کے ضمن میں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تمام امت مسلمہ کے لیے قبلہ اول خانہ کعبہ ہی تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اسے تعمیر کیا تو بھی یہی قبلہ تھا اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے تعمیر کیا تو اس وقت بھی یہی قبلہ تھا۔ مگر جب سلیمان علیہ السلام نے ہیکل سلیمانی تعمیر کیا۔ تو اس وقت تابوت سکینہ صخرہ پر پڑا رہتا تھا اور بنی اسرائیل اس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ انہوں نے مستقل طور پر اسے ہی اپنا قبلہ بنا لیا اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر کوئی گرفت نہ ہوئی تھی۔ لہٰذا یہ قبلہ شرعاً بھی درست سمجھا گیا۔ مگر یہ صرف بنی اسرائیل ہی کا قبلہ تھا۔ مکہ کے مشرکین کا نہ تھا۔ وہ کعبہ کی ہی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداءً بیت المقدس کوقبلہ کیوں بنایاتھا؟ چونکہ مشرکین مکہ کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کو بہتر سمجھتے تھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے بجائے بیت المقدس کی طرف رخ کرنا مناسب سمجھا تاکہ مشرکین مکہ کے قبلہ سے امتیاز ہو سکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی ہی طرف منسوب کیا :۔ جیسا کہ آیت ﴿وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْہَآ﴾ (۱۴۳:۲)سے واضح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف رخ کرنے یا قبلہ بنانے کا حکم قرآن یا حدیث میں صراحتاً کہیں مذکور نہیں۔ ممکن ہے کہ وحی خفی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا حکم دیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بصیرت سے ہی بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا طرز عمل اختیار کیا ہو وہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اقرار (سکوت) ہو تو بھی وحی تقریری کا حکم رکھتا ہے۔ بہرحال بیت المقدس کی طرف مسلمانوں کے رخ کر کے نماز ادا کرنے کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا ہی حکم قرار دیا ہے۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ کسی قوم کے قبلہ کو تسلیم کرلینا فی الحقیقت اس قوم کی قیادت و امامت کو تسلیم کرلینے کے مترادف ہوتا ہے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ابتدائی دور میں بیت المقدس کو قبلہ بنایا تو اس کی ایک وجہ تو بوجہ شرک مشرکین مکہ کی مخالفت تھی، دوسرے اس میں مسلمانوں کا امتحان بھی مقصود تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت ﴿لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ﴾ اور وہ امتحان اس طرح تھا کہ ہر قوم کو اپنے شعائر سے انتہائی عقیدت ہوتی ہے اور مکہ میں اسلام لانے والے چونکہ مشرکین مکہ میں سے ہی ہوتے تھے۔ اس لیے فی الواقعہ ان کا اس بات میں بھی امتحان تھا کہ وہ اسلام لانے کے بعد کتنی فراخدلی سے اپنے آبائی قبلہ (کعبہ) کو چھوڑ کر بیت المقدس کو اپنا قبلہ بناتے ہیں۔ مدینہ میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوکعبہ کو قبلہ بنانے کی آرزو کیوں پیدا ہوئی ؟ ہجرت کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو اب صورت حال بالکل مختلف تھی۔ مسلمانوں کی ایک آزاد چھوٹی سی ریاست وجود میں آ چکی تھی اور اب بیت المقدس کو قبلہ بنائے رکھنا ذہنی طور پر یہود کی امامت کو تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔ لہٰذا اب آپ یہ چاہتے تھے کہ حقیقی قبلہ اول یعنی خانہ کعبہ ہی مستقل طور پر مسلمانوں کا قبلہ قرار پائے اور اس توقع میں کئی بار آسمان کی طرف رخ پھیرتے کہ شائد کسی وقت جبرئیل ایسا حکم لے کر نازل ہو۔ چنانچہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے یہ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ کعبہ کی طرف ہو۔ چنانچہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کعبہ کی طرف رخ کرکے پڑھی اور لوگوں نے بھی پڑھی۔ پھر ان میں سے ایک شخص جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا۔ دوسری مسجد والوں پر گزرا جبکہ وہ نماز ادا کر رہے تھے۔ اس نے کہا اللہ گواہ ہے میں نے ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ (کعبہ) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے’’ تو اسی حالت میں کعبہ کی طرف گھوم گئے (بخاری، کتاب التفسیر زیر آیت مذکورہ) یہی مسجد بعد میں مسجد قبلتین کے نام سے مشہور ہوئی۔ تحویل قبلہ کے لوگوں پرا ثرات اور اعتراض :۔تحویل قبلہ کا دراصل مطلب یہ تھا کہ اب بیت المقدس کی مرکزیت ختم ہوچکی اور آئندہ ہمیشہ کے لیے خانہ کعبہ کو امت مسلمہ کا مرکز قرار دے دیا گیا۔ اب اس تحویل قبلہ کا یہود پر منفی اثر ہونا ایک لازمی امر تھا۔ چنانچہ یہی براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جن نادانوں (تنگ نظر لوگوں) نے یہ اعتراض کیا تھا کہ مسلمانوں کو ان کے پہلے قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا ہے۔ یہ یہودی لوگ تھے۔ (بخاری، کتاب الصلٰوۃ، باب التوجہ نحوالقبلۃ) چنانچہ یہود نے اس واقعہ کو بھی ایک بنیاد بنا کر ضعیف الاعتقاد اور کم فہم مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا شروع کردیئے۔ [ ١٧٥] یہود کے اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے نہایت خوبصورت انداز میں پیش کردیا۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہیے کہ مشرق بھی اللہ کے لیے ہے اور مغرب بھی۔ اس نے بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا حکم دیا تو ہم نے اس کو تسلیم کرلیا اور اب کعبہ کو قبلہ بنایا تو بھی ہم نے تسلیم کرلیا اور اللہ کا حکم تسلیم کرلینا ہی سیدھی راہ ہے اور یہ راہ وہ جسے چاہے دکھا دے۔ البقرة
143 [١٧٦] امت وسط کا مفہوم اور مثالیں :۔ یعنی جس طرح ہم نے قبلہ اول کو تمہارے لیے مستقل قبلہ بنا دیا ہے۔ اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بھی بنا دیا ہے۔ امت وسط سے مراد ایسا اشرف اور اعلیٰ گروہ ہے جو عدل و انصاف کی روش پر قائم ہو اور افراط و تفریط، غلو اور تخفیف سے پاک ہو اور دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ نصاریٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اتنا بڑھایا کہ انہیں خدا ہی بنا دیا اور یہود نے اتنا گھٹایا کہ ان کی پیغمبری سے انکار بھی کیا اور ان کی جان کے بھی لاگو ہوگئے اور اس امت وسط کی روش یا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے پیارے پیغمبر اور روح اللہ تھے۔ بے شمار عقائد و احکام میں آپ کو امت وسط کا یہی طریقہ نظر آئے گا۔ مثلاً یہود کے لیے قتل کے بدلے قتل یعنی قصاص ہی فرض کیا گیا تھا۔ جب کہ نصاریٰ کو عفو و درگزر سے کام لینے کا حکم دیا گیا اور امت مسلمہ کے لیے قصاص کو جواز کی حد تک رکھا گیا اور قصاص کے بجائے دیت کو پسند کیا گیا اور عفو و درگزر کی ترغیب دی گئی اور اسے ایک مستحسن عمل قرار دیا گیا۔ یا مثلاً یہود میں اگر عورت حائضہ ہوجاتی تو نہ اس کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا کھاتے، نہ اس کے ساتھ کھاتے، بلکہ اسے اپنے گھر میں بھی نہ رہنے دیتے تھے اور ایسی عورتوں کا کسی الگ مقام پر رہائش کا بندوبست کیا کرتے تھے (مسلم، کتاب الحیض، باب جواز غسل الحائض راس زدجہا) نصاریٰ ایسی عورتوں سے کسی طرح کا بھی پرہیز نہیں کرتے تھے۔ جبکہ مسلمانوں کو دوران حیض صرف جماع سے اجتناب کا حکم دیا گیا۔ باقی کاموں میں کوئی پابندی نہیں رکھی گئی۔ اس کے ہاتھوں کا پکایا ہوا کھانا جائز اس کے ساتھ رہنا حتیٰ کہ اسکا بوسہ لینا اور اسے گلے لگانا بلکہ اسکے ساتھ لیٹ جانے تک کو جائز قرار دیا گیا اور صرف مجامعت پر پابندی لگائی گئی۔ [ ١٧٧]امت مسلمہ کی دوسری امتوں پر شہادت :۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا وہ کہیں گے لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھیں گے، کیا تم نے میرا پیغام پہنچا دیا تھا ؟وہ کہیں گے ’’جی ہاں‘‘! پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا۔ ’’کیا نوح علیہ السلام نے تمہیں میرا پیغام پہنچا دیا ؟“ وہ کہیں گے کہ ’’ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا آیا ہی نہ تھا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام سے کہیں گے :”تمہارا کوئی گواہ ہے؟‘‘ وہ کہیں گے!’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت۔‘‘ پھر اس امت کے لوگ گواہی دیں گے کہ ’’یقیناً نوح علیہ السلام نے پیغام پہنچا دیا تھا اور پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہ بنیں گے۔‘‘ (بخاری، کتاب التفسیر۔ زیر آیت مذکور) اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس وقت نوح علیہ السلام کی امت کہے گی تمہاری گواہی کیسے مقبول ہو سکتی ہے۔ جب کہ تم نے نہ ہمارا زمانہ پایا اور نہ ہمیں دیکھا۔ اس وقت امت وسط یہ جواب دے گی کہ ہم کو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کے بتلانے سے یہ یقینی علم حاصل ہوا۔ اسی لیے ہم یہ گواہی دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کےخلاف شہادت جنہوں نے قرآن سے ناانصافیاں کیں:۔ یہ تو تھی امت مسلمہ کی دوسری امتوں پر گواہی کی کیفیت۔ اس کے بعد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے ان لوگوں کے خلاف گواہی دیں گے جنہوں نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا تھا اور کہتے تھے کہ قرآن بے شک اس زمانہ میں تو ایک کارآمد کتاب تھی مگر آج زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے۔ لہٰذا اس کی تعلیمات فرسودہ ہوچکی ہیں۔ یا ان لوگوں کے خلاف جو اپنے جلسے جلوسوں کا افتتاح تو تلاوت قرآن سے کرتے ہیں۔ پھر اس کے بعد انہیں قرآن سے کچھ غرض نہیں ہوتی یا ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے قرآن کو محض عملیات کی ایک کتاب قرار دے رکھا ہے اور اس سے اپنی صرف دنیوی اغراض کے لیے اس کی آیات سے تعویذ وغیرہ تیار کرتے اور تجربے کرتے رہتے ہیں۔ یا ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے قرآن کو ایک مشکل ترین کتاب سمجھ کر اس کو عقیدتاً ریشمی غلافوں میں لپیٹ کر کسی اونچے طاقچے میں تبرکاً رکھ دیا ہوتا ہے۔ یا ان لوگوں کے خلاف جو قرآنی آیات و احکام کو سمجھنے کے بعد محض دنیوی اغراض یا فرقہ وارانہ تعصب کے طور پر ان کی غلط تاویل کرتے ہیں یا ان کے خلاف جو دیدہ ودانستہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ ان سب لوگوں کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حضور یہ گواہی دیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن کو چھوڑ رکھا تھا جیسا کہ سورۃ فرقان کی آیت نمبر ٣٠ سے صاف واضح ہے۔ [ ـــ ١٧٧۔ ١] تحویل قبلہ پریہود اور منافقین کا شوروغوغا:۔جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو منافقوں اور یہودیوں دونوں نے مسلمانوں کے خلاف انتہائی زہریلا پروپیگنڈا شروع کردیا اور اس قدر پروپیگنڈا کیا کہ آسمان سر پر اٹھا لیا، اور وہ پروپیگنڈا یہ تھا کہ مسلمان کبھی کسی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ کبھی کسی طرف، ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔ ان لوگوں کے پروپیگنڈا سے کچھ کمزور ایمان والے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے البتہ جو اپنے ایمان میں راسخ اور مضبوط تھے۔ انہوں نے اس پروپیگنڈا کی مطلقاً پروا نہ کی اور یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ اپنے احکام کی حکمت خود ہی بہتر جانتا ہے، فوراً سر تسلیم خم کردیا۔ چنانچہ انہیں دیکھ کر متاثر ہونے والے مسلمان بھی اپنے پاؤں پر پوری طرح جم گئے، اور حقیقتاً ایسا پروپیگنڈا مسلمانوں کے لیے ایک آزمائش بن گیا تھا اور اللہ کی مہربانی سے مسلمان اس میں ثابت قدم نکلے۔ [ ١٧٨] براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بہت سے مسلمان تحویل قبلہ سے پہلے شہید ہوچکے تھے، ہمیں ان کے متعلق شبہ ہوا کہ ان کی ادا کردہ نمازوں کا کیا بنے گا، تب یہ آیت نازل ہوئی ﴿وَمَا کَان اللّٰہُ لِـیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ ﴾ (بخاری، کتاب التفسیر، ترمذی، ابو اب التفسیر) البقرة
144 [١٧٩] کیونکہ ان کی کتابوں میں مذکور ہے کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم عرب میں پیدا ہوں گے۔ ابراہیم علیہ السلام کے طریق پر ہوں گے اور کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں گے۔ البقرة
145 [١٨٠] اس لیے کہ ان کا یہ جھگڑا کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض حسد و عناد کی بنا پر ہے۔ یعنی اگر آپ یہ بات انہیں ان کی کتابوں سے دکھلا بھی دیں۔ تب بھی یہ ماننے والے نہیں۔ [ ١٨١]اہل کتاب کا قبلہ میں اختلاف :۔ یعنی اہل کتاب کے قبلے بھی مختلف ہیں۔ یہود کا قبلہ تو صخرہ بیت المقدس ہے۔ (بیت المقدس کو حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے تیرہ سو سال بعد تعمیر کیا تھا) اور نصاریٰ کا قبلہ بیت المقدس کی شرقی جانب ہے۔ جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نفخ روح ہوا تھا تو جب یہ لوگ آپس میں بھی کسی ایک قبلہ پر متفق نہیں تو آپ کے ساتھ کیسے اتفاق کرسکتے ہیں یا آپ ان میں سے کس کے قبلہ کی پیروی کریں گے۔ [ ١٨٢] رسول ہونے کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کام نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو راضی کرتے پھریں اور کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر سمجھوتہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام یہ ہے کہ جو علم ہم نے آپ کو دیا ہے اس پر سختی سے کاربند رہیں اور ظالم ہونے کا خطاب دراصل امت کو ہے۔ رسول بھلا وحی الٰہی کو کیسے نظر انداز کرسکتا ہے۔ امت کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ رسول کے ذریعہ اللہ کا حکم جو تمہیں مل رہا ہے۔ اس پر پورا پورا یقین رکھو، اور اس کے مطابق عمل کرو، اور اگر تم نے یہود کو خوش کرنے کی کوشش کی تو تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔ البقرة
146 [١٨٣]یہودکوقبلہ اول کاپوراعلم تھا:۔ عربوں میں یہ محاورہ ہے کہ جس چیز کے متعلق انہیں کسی طرح کا شک و شبہ نہ ہو تو سمجھتے ہیں کہ وہ اس بات کو یوں پہچانتا ہے جیسے اپنے بیٹے کو علمائے یہود و نصاریٰ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم جن کی امت اور ملت ہونے کا یہ دم بھرتے ہیں، نے خانہ کعبہ تعمیر کیا اور اسے ہی قبلہ مقرر کیا تھا اور بیت المقدس تو تیرہ سو سال بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ پھر بیت المقدس کو قبلہ قرار دینے کا ذکر نہ کہیں تورات میں موجود ہے اور نہ انجیل میں۔ اس تاریخی واقعہ میں ان کے لیے کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی اور وہ یہ بات بھی خوب جانتے ہیں کہ قبلہ اول اور حقیقی قبلہ کعبہ ہی ہے۔ لیکن وہ یہ بات عوام کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔ البقرة
147 [١٨٤] یعنی مسلمان جس ملک میں ہوں گے وہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کریں گے۔ اس طرح کعبہ کی سمتیں الگ الگ بھی ہو سکتی ہیں کسی ملک سے کعبہ مغرب کی جانب ہوگا کسی سے مشرق کی طرف اور کسی سے شمال یا جنوب کی طرف، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا اور نہ اس بات میں شک کی ضرورت ہے کیونکہ تمہارا یہ قبلہ ہمیشہ کے لیے ہے جس میں آئندہ کبھی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ البقرة
148 [١٨٥] یعنی اصل چیز رخ کرنا نہیں بلکہ وہ بھلائیاں ہیں جن کے لیے تم نماز پڑھتے ہو۔ لہٰذا سمت اور مقام کے جھگڑوں میں پڑنے کے بجائے تمہیں اصل مقصد یعنی نیکیوں کے حصول کی فکر کرنا چاہیے۔ اور اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کوشش کرنا چاہیے۔ کیونکہ قیامت کے دن یہی نیکیاں تمہارے کام آئیں گی۔ البقرة
149 البقرة
150 [١٨٦]تحویل قبلہ کےحکم کوتین بار کیوں دہرایاگیا؟ اس آیت کو مکرر اور سہ کرر لایا گیا ہے۔ کیونکہ اس کی وجوہ الگ الگ ہیں۔ مثلاً ﴿قَدْ نَرَیٰ تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِیْ السَّمَاء﴾سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا اور اظہار کی تکریم کی خاطر تحویل قبلہ کا حکم دیا، اور ﴿وَلِکُلٍّ وِّجْہَۃٌ ھُوَ مُوَلِّیْہَا ﴾ میں یہ ارشاد فرمایا، تحویل قبلہ کے مسئلہ پر جھگڑے کھڑے کرنا درست نہیں۔ اصل کام تو نیک کاموں کی طرف پیش قدمی ہے اور آیت ﴿لِئَلَّا یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّــۃٌ ﴾ میں یہ واضح فرمایا کہ لوگوں کو تم مسلمانوں سے جھگڑنے کا موقع باقی نہ رہے، وہ یوں کہ تحویل قبلہ سے بیشتر یہودی مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ ہمارا دین تو نہیں مانتے لیکن نماز ہمارے ہی قبلہ کی طرف پڑھتے ہیں اور مشرکین مکہ یہ اعتراض کرتے کہ دعویٰ تو ابراہیم علیہ السلام کے طریق پر چلنے کا کرتے ہیں مگر ان کا قبلہ چھوڑ دیا ہے۔ [ ١٨٧] بے انصاف یا ہٹ دھرم لوگ تحویل قبلہ کے بعد بھی اعتراض چھوڑیں گے نہیں۔ مثلاً یہود نے یہ اعتراض کردیا کہ ہمارے قبلہ کی حقانیت ظاہر ہونے اور اسے تسلیم کرلینے کے بعد اب محض ضد اور حسد کی بنا پر اسے چھوڑ دیا اور مشرک یہ کہنے لگے کہ ہمارے قبلہ کا حق ہونا انہیں اب معلوم ہوا تو اسے اختیار کرلیا۔ اسی طرح ہماری اور بھی کئی باتیں منظور کرلیں گے۔ لہٰذا اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تم ان لوگوں کی باتوں کی طرف توجہ نہ دو نہ ان سے ڈرنے کی ضرورت ہے، بلکہ صرف مجھ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔ [ ١٨٨] تحویل قبلہ ایک نعمت تھی :۔نعمت سے مراد وہی امامت اور پیشوائی کی نعمت ہے جو بنی اسرائیل سے سلب کر کے اس امت کو دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ تحویل قبلہ کا یہ حکم دراصل اس منصب پر تمہاری سرفرازی کی علامت ہے۔ جب تک میری اطاعت کرتے رہو گے، یہ منصب تمہارے پاس رہے گا۔ اور نافرمانی کی صورت میں یہ چھن بھی سکتا ہے۔ البقرة
151 [١٨٩]رسول کی بعثت بھی ایک بہت بڑا انعام ہے:۔ جیسا کہ اس سے پہلے میں تم پر یہ انعام کرچکا ہوں کہ تمہیں میں سے ایک ایسا رسول بھیجا ہے جو تمہیں اللہ کی آیات سناتا، تمہیں پاکیزہ بناتا اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اس نعمت نے تمہاری کایا پلٹ دی۔ تم جاہل تھے اللہ نے تمہیں علم سے نوازا، تم ذلیل تھے۔ اللہ نے تمہیں سر بلند کیا۔ تم ہر وقت لڑتے مرتے اور بدامنی کا شکار تھے۔ اللہ نے تمہارے دل ملا دیئے اور آپس میں محبت ڈال دی، اور یہ سب کچھ اسی تعلیم کا نتیجہ تھا۔ پھر جس طرح تم میں رسول بھیجنا ایک بہت بڑا انعام تھا۔ اسی طرح کا دوسرا انعام تحویل قبلہ ہے۔ جس کے ذریعہ تمہیں دنیا کی امامت سونپی جا رہی ہے (تشریح کے لیے دیکھیے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ١٦٤ پر حاشیہ نمبر ١٦٠) البقرة
152 [١٩٠] لہٰذا تمہیں لازم ہے کہ ہر دم مجھے یاد کرتے رہو، اور اگر تم مجھے یاد کرو گے تو میں تمہیں یاد کروں گا چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہوں اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ مجھے دل میں یاد کرے تو میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ کسی مجمع میں مجھے یاد کرے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے نزدیک ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے نزدیک ہو تو میں ایک کلاوہ (دونوں بازو پھیلائے) اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ چلتا ہوا میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف جاتا ہوں۔‘‘ (بخاری، کتاب التوحید، باب قول اللّٰہ وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ۔۔۔الخ) [ ١٩١] شکرکی فضیلت :۔اللہ کا شکر ادا کرنے سے اللہ تعالیٰ وہ نعمت بحال ہی نہیں رکھتے بلکہ مزید بھی عطا فرماتے ہیں اور ناشکری کی صورت میں وہ نعمت ہی نہیں چھنتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا بھی ملتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿لَیِٕنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَیِٕنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ ﴾ (۷:۱۴) ’’اگر تم شکر کرو گے تو میں اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو (سمجھ لو) کہ میرا عذاب سخت ہے۔‘‘ البقرة
153 [١٩٢] مشکل اوقات میں صبر اور نماز سے مدد:۔ مشکل اور آڑے وقت میں صبر اور نماز سے مدد لینے کا حکم پہلے اسی سورۃ کی آیت نمبر ٤٥ میں بھی گزر چکا ہے۔ اس مقام پر اس کی مناسبت یہ ہے۔ تحویل قبلہ کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو جس امامت کے لیے تیار کرنا مقصود ہے تو اس کی راہ میں بے شمار مشکلات اور مصائب پیش آنے والے ہیں۔ لہٰذا اے مسلمانو! ایسے اوقات میں صبر اور نماز سے کام لو۔ صبر سے انسان بہت سی مشکلات پر قابو پا لیتا ہے اور نماز ان حالات میں نفس انسانی کو اطمینان بخشتی ہے۔ بندہ کا اللہ پر توکل بڑھتا ہے اور یہی توکل مشکلات میں ثابت قدم رہنے کے لیے ایک بہت بڑا سہارا ثابت ہوتا ہے۔ [ ١٩٣] صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی معیت کا معنیٰ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعانت اور توفیق نصیب ہوتی رہتی ہے۔ جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور یہ بات ہر انسان کو اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر بھی معلوم ہو سکتی اور ہوتی رہتی ہے۔ البقرة
154 [١٩٤] کیونکہ موت کا لفظ اور اس کا تصور انسان کے ذہن پر ایک ہمت شکن اثر ڈالتا ہے اور لوگوں میں جذبہ جہاد فی سبیل اللہ کے سرد پڑجانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ لہٰذا شہداء کو مردہ کہنے سے روک دیا گیا۔ علاوہ ازیں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ شہید کی موت قوم کی حیات کا سبب بنتی ہے اور شہید دراصل حیات جاوداں پا لیتا ہے اور اس سے روح شجاعت بھی تازہ رہتی ہے۔ [۱۹۴۔۱] شہداء کی زندگی :۔صحیح احادیث میں وارد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے جسم میں ہوتی ہیں اور ان کے لیے عرش کے ساتھ کچھ قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں۔ یہ روحیں جنت میں جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی پھرتی ہیں۔ پھر ان قندیلوں میں واپس آ جاتی ہیں۔‘‘ (مسلم، کتاب الامارۃ باب فی بیان ان ارواح الشھداء فی الجنۃ وانھم احیاء عند ربھم یرزقون) نیز دیکھئے : ٣ : ١٢٩) البقرة
155 [١٩٥]مسلمانوں پرخوف اور تنگدستی : یہ خطاب مسلمانوں سے ہے۔ خوف سے مراد وہ ہنگامی صورت حال ہے جو جنگ احزاب سے پہلے ہر وقت مدینہ کی آزاد چھوٹی سی ریاست کے گرد منڈلاتی رہتی تھی۔ ایک دفعہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کاش آج رات کوئی میرا پہرہ دے تاکہ میں سو سکوں۔ یہ سن کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مسلح ہو کر آ گئے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں پہرہ دیتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو جائیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح آرام فرمایا۔ (بخاری، کتاب الجہاد، باب الحراسة فی الغزو فی سبیل اللّٰہ عزوجل، بخاری کتاب التمنی باب قولہ النبی لیت کذا وکذا) اور ایک رات اہل مدینہ ایک خوفناک آواز سن کر گھبرا گئے، پھر وہ اس آواز کی طرف روانہ ہوئے تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے واپس آ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پہلے ہی اس آواز کی جانب روانہ ہوگئے تھے اور خبر معلوم کر کے آ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا ڈرو نہیں، ڈرو نہیں۔ (بخاری، کتاب الجہاد، باب الحمائل و تعلیق السیف بالعنق اور مبادرۃ الامام عند الفزع اور مسلم کتاب الفضائل باب شجاعۃ النبی) اور اس دور میں مسلمانوں کی معاشی تنگ دستی کا حال درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ١۔صحابہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیشت:۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے صفہ والوں میں ستر آدمی ایسے دیکھے جن کے پاس چادر تک نہ تھی یا تو فقط تہبند تھا یا فقط کمبل۔ جسے انہوں نے گردن سے باندھ رکھا تھا۔ جو کسی کی آدھی پنڈلیوں تک پہنچتا اور کسی کے ٹخنوں تک، جسے وہ اپنے ہاتھ سے سمیٹتے رہتے۔ اس ڈر سے کہ کہیں ان کا ستر نہ کھل جائے۔ (بخاری، کتاب الصلٰوۃ، باب نوم الرجال فی المسجد) ٢۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ : میرے بھانجے ہم پر ایسا وقت گزر چکا ہے کہ ہم ایک چاند دیکھتے، پھر دوسرا چاند، پھر تیسرا چاند یعنی دو دو مہینے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی۔ عروہ رضی اللہ عنہ نے کہا : خالہ! پھر تمہاری گزر کس چیز پر ہوتی تھی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : انہی دو کالی چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔ اتنا ضرور تھا کہ چند انصاری لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسائے تھے جن کے پاس بکریاں تھیں۔ وہ آپ کے لیے بکریوں کا دودھ تحفہ کے طور پر بھیجا کرتے جس سے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پلاتے۔ (بخاری۔ کتاب الھبۃ و فضلھا و التحریض علیھا) ٣۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر آپ کی وفات تک ایسا زمانہ نہیں گزرا کہ انہوں نے مسلسل تین دن پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہو۔ (بخاری، کتاب الاطعمہ باب قول اللہ تعالیٰ کلوا من طیبات مارزقنکم وکلوا من طیبات ما کسبتم) ٤۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بھوک لگی ہوئی تھی۔ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ملے تو ان سے کہا کہ قرآن پاک کی فلاں آیت : ﴿ وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَـتِـیْمًا وَّاَسِیْرًا ﴾ مجھے پڑھ کر سناؤ، وہ اپنے گھر میں گئے اور یہ آیت مجھے پڑھ کر سنائی اور سمجھائی۔ آخر میں وہاں سے چلا۔ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ بھوک سے بے حال ہو کر اوندھے منہ گر پڑا۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سرہانے کھڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اٹھایا اور پہچان گئے کہ بھوک کے مارے میرا یہ حال ہے۔ آپ مجھے گھر لے گئے اور میرے لیے دودھ کا پیالہ لانے کا حکم دیا۔ میں نے دودھ پیا، پھر فرمایا ابوہریرہ ! اور پی، میں نے اور پیا۔ پھر فرمایا : اور پی۔ میں نے اور پیا حتیٰ کہ میرا پیٹ تن کر سیدھا ہوگیا۔ پھر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور اپنا حال بیان کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے میری بھوک دور کرنے کے لیے ایسے شخص کو بھیج دیا جو آپ سے اس بات کے زیادہ لائق تھے اللہ کی قسم! میں نے آپ سے جونسی آیت پڑھ کر سنانے کو کہا تھا۔ وہ مجھے آپ سے زیادہ یاد تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ کی قسم! اگر میں اس وقت تمہیں گھر لے جا کر کھانا کھلاتا تو سرخ اونٹوں کے ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔ (بخاری، کتاب قول اللّٰہ تعالیٰ کلوا من طیبات ما رزقناکم) ٥۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں پہلا عرب ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا اور ہم نے اپنے تئیں اس وقت جہاد کرتے پایا جب ہم کو حبلہ اور سمر (کانٹے دار درخت) کے پتوں کے سوا اور خوراک نہ ملتی۔ ہم لوگوں کو اس وقت بکری کی طرح سوکھی مینگنیاں آیا کرتیں جن میں تری نام کی کوئی چیز نہ ہوتی۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش النبی صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ۔۔) ٦۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم چھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لڑائی کو نکلے۔ سواری کے لیے ہم سب کے پاس ایک ہی اونٹ تھا اور باری باری اس پر سوار ہوتے اور چلتے چلتے ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے تو پاؤں پھٹ کر ناخن بھی گر پڑے۔ اس حال میں ہم پاؤں پر چیتھڑے لپیٹ لیتے۔ اسی لیے اس لڑائی کا نام غزوہ ذات الرقاع (چیتھڑوں والی لڑائی پڑگیا (بخاری، کتاب المغازی باب غزوۃ ذات الرقاع) ٧۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ نے ایک لشکر سمندر کے کنارے بھیجا جس میں تین سو آدمی اور سردار ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ تھے۔ ہمارا راشن ختم ہوگیا تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ سب لوگ اپنا اپنا بچا ہوا راشن ایک جگہ جمع کریں۔ یہ سارا راشن کھجور کے دو تھیلے تھے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اس سے تھوڑا تھوڑا کھانے کو دیتے رہے۔ جب وہ بھی ختم ہوگیا تو ہمیں روزانہ صرف ایک کھجور کھانے کو ملا کرتی۔ وہب نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا! بھلا ایک کھجور سے کیا بنتا ہوگا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وہ ایک کھجور بھی غنیمت تھی، جب وہ بھی نہ رہی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی۔ پھر ہم سمندر پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بہت بڑی مچھلی ٹیلے کی طرح پڑی ہے۔ سارا لشکر اٹھارہ دن اس کا گوشت کھاتا رہا، جب ہم چلنے لگے تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی جائیں وہ اتنی اونچی تھیں کہ اونٹ پر کجاوہ کسا گیا تو وہ ان کے نیچے سے نکل گیا۔ (بخاری۔ کتاب المغازی باب غزوۃ سیف البحر) خوف کے علاوہ فاقہ، جان و مال اور پھلوں میں خسارہ یہ سب ایسی صورتیں ہیں جو اسلام کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پیش آتی رہیں۔ اسی لیے انہیں صبر اور نماز سے مدد لینے کی ہدایت کی گئی۔ البقرة
156 [١٩٦]مصیبت کے وقت اناللہ واناالیہ رجعون کہنا:۔ جو یہ کلمات صرف زبان سے ہی ادا نہیں کرتے بلکہ دل سے بھی اس بات کے قائل ہوتے ہیں کہ چونکہ ہم اللہ ہی کی ملک ہیں۔ لہٰذا ہماری جو چیز بھی اللہ کی راہ میں قربان ہوئی وہ اپنے ٹھیک ٹھکانے پر پہنچ گئی اور وہ کسی قسم کی بے قراری یا اضطراب کا اظہار نہیں کرتے نہ ہی زبان سے کوئی ناشکری کا کلمہ نکالتے ہیں۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ( زینب رضی اللہ عنہ کا بیٹا) فوت ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی سے فرمایا : یوں کہو : أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ (جو اس نے لے لیا وہ اللہ ہی کا تھا اور جو دے رکھا ہے وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔ اس کے ہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔ لہٰذا تمہیں چاہیے کہ صبر کرو اور اس سے ثواب کی امید رکھو) (بخاری، کتاب المرضیٰ۔ باب عیادۃ الصبیان و کتاب الجنائز (مسلم کتاب الجنائز، باب البکاء علی المیت) البقرة
157 البقرة
158 [ ١٩٧] صفا اور مروہ خانہ کعبہ کے نزدیک دو پہاڑیاں ہیں۔ جن کے درمیان سات بار دوڑنا مناسک حج میں شامل تھا۔ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سکھلائے تھے۔ زمانہ مابعد میں جب مشرکانہ جاہلیت پھیل گئی تو مشرکوں نے صفا پر اساف اور مروہ پر نائلہ کے بت رکھ دیئے تھے اور ان کے گرد طواف ہونے لگا۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کے دلوں میں یہ سوال کھٹکنے لگا کہ آیا صفا اور مروہ کے درمیان سعی حج کے اصلی مناسک میں سے ہے یا یہ محض مشرکانہ دور کی ایجاد ہے؟ چنانچہ اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اس غلط فہمی کو دور کر کے صحیح بات کی طرف رہنمائی فرما دی جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ صفا اور مروہ کےطواف میں کیاقباحت سمجھی جاتی تھی؟عاصم بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ابتدائے اسلام میں ہم اسے جاہلیت کی رسم سمجھتے تھے۔ لہٰذا اسے چھوڑ دیا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ تعالیٰ ان الصفا والمروۃ) نیز اہل مدینہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو اس لیے برا سمجھتے تھے کہ وہ منات کے معتقد تھے اور اساف اور نائلہ کو نہیں مانتے تھے۔ چنانچہ ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا جبکہ میں ابھی کمسن تھا کہ اللہ تعالیٰ کے قول آیت ان الصفا والمروۃ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص صفا اور مروہ کا طواف نہ کرے تب بھی کوئی قباحت نہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں۔ اگر یہ مطلب ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتے۔ ’’اگر ان کا طواف نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں۔‘‘ یہ آیت انصار کے حق میں اتری ہے۔ وہ حالت احرام میں منات کا نام پکارتے تھے اور یہ بت قدید کے مقام پر نصب تھا۔ انصار (اسی وجہ سے) صفاء مروہ کا طواف برا سمجھتے تھے۔ جب وہ اسلام لے آئے تو اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری، کتاب التفسیر زیر آیت مذکور) البقرة
159 [ ١٩٨] کتمان حق کبیرہ گناہ ہے:۔ اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جن کا دینی لحاظ سے معاشرہ میں کچھ مقام ہوتا ہے اور ان کی اتباع کی جاتی ہے۔ مثلاً علماء، پیرو مشائخ، واعظ اور مصنفین وغیرہ ایسے حضرات اگر اللہ تعالیٰ کے واضح احکام اور ہدایات کو چھپائیں تو اس کا نتیجہ چونکہ عام گمراہی اور فساد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے لہٰذا یہ لوگ بدترین قسم کے مجرم ہوتے ہیں جو اپنے گناہ کے بار کے علاوہ اپنے بے شمار متبعین کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے سر پر اٹھاتے ہیں۔ لہٰذا ان پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے۔ فرشتے بھی، انسان بھی اور بری اور بحری مخلوق بھی۔ حتیٰ کہ پانی کی مچھلیاں بھی۔ اس لیے کہ فساد فی الارض یا عذاب الٰہی کی صورت میں انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوق بھی متاثر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر علمائے یہود جنہوں نے تورات کے علم کو بس اپنے ہی حلقہ میں محدود کر رکھا تھا اور مثلاً رجم کی آیت کو چھپاتے تھے اور عوام میں زنا کی سزا ہی دوسری تجویز کرلی تھی۔ یا دیدہ دانستہ عوام میں مشہور کردیا تھا کہ ابراہیم علیہ السلام یا اسحاق علیہ السلام وغیرہ یہودی تھے یا قبلہ کے متعلق صحیح معلومات عوام سے چھپا رکھی تھیں وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت حدیثیں بیان کرتا ہے (حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ اگر کتاب اللہ میں یہ دو آیتیں نہ ہوتیں (یہی آیت نمبر ١٥٩۔ ١٦٠) تو میں کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔ (بخاری، کتاب العلم، باب حفظ العلم) اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو تین بار پکارا، پھر فرمایا : معاذ! جو شخص سچے دل سے یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ اسے آگ پر حرام کر دے گا۔ معاذ رضی اللہ عنہ کہنے لگے! میں لوگوں کو یہ بات بتلا دوں کہ وہ خوش ہوجائیں؟ فرمایا ’’پھر وہ توکل کر بیٹھیں گے (لہٰذا ایسی بشارت نہ دو)‘‘ پھر معاذ رضی اللہ عنہ نے موت کے وقت گنہگار ہونے کے ڈر سے لوگوں سے یہ بیان کردی۔ (بخاری، کتاب العلم، باب من خص بالعلم قومادون قوم) البقرة
160 [١٩٩]توبہ کی شرائط :۔ صرف توبہ کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ ان کے اس کتمان حق سے جو بگاڑ پیدا ہوا تھا۔ اس کی انہیں اصلاح بھی کرنا ہوگی۔ پھر اپنی غلطی کا لوگوں کے سامنے برملا اعتراف بھی کریں تو صرف ایسے لوگوں کی اللہ توبہ قبول کرے گا ورنہ نہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک مصنف احکام الٰہی کی غلط تاویل کر کے اپنے ملحدانہ خیالات پر مشتمل ایک کتاب شائع کردیتا ہے، بعد میں توبہ کرلیتا ہے۔ لیکن اس کے جو ملحدانہ خیالات عوام میں پھیل چکے۔ جب تک وہ ان کی تردید میں اپنی دوسری کتاب لکھ کر اس پیدا شدہ بگاڑ کی اصلاح نہ کرے گا۔ اس کی توبہ قبول ہونے کی توقع نہ ہوگی اور یہی بینوا کا مفہوم ہے۔ البقرة
161 [٢٠٠] کفر کے معنی انکار کردینا (ایمان نہ لانا) بھی ہے۔ چھپانا بھی اور ناشکری کرنا بھی۔ یہاں موقع کے لحاظ سے یہ سب معنوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ البقرة
162 البقرة
163 [٢٠١] کئی خدا سمجھنے کی وجہ، صرف ایک اللہ کی عبادت کیوں ؟یہ خطاب دراصل مشرکین مکہ سے ہے۔ جنہوں نے کئی الٰہ بنا رکھے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ اتنے بڑے کارگاہ کائنات کا سارے کا سارا انتظام ایک اکیلا اللہ کیسے سنبھال سکتا ہے؟ ان کی عقل میں یہ بات آ ہی نہیں سکتی تھی۔ لہٰذا انہوں نے مختلف امور کے لیے مختلف الٰہ تجویز کر رکھے تھے اور جتنی پرانی تھذیبیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ہندی، رومی، مصری، یونانی تھذیبیں، ان سب لوگوں نے دیوی دیوتاؤں کا ایسا ہی نظام تجویز کر رکھا تھا اور مسلمانوں میں بھی اکثر لوگوں میں گو زبانی نہیں مگر عملاً ایسے ہی اعتقادات و افعال رائج ہوچکے ہیں۔ یہ سب لوگ ہی اس آیت کے مخاطب ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی معرفت نصیب نہیں ہوتی اور قرآن میں یہ مضمون لاتعداد مقامات پر آیا ہے۔ کہیں اجمالاً کہیں تفصیل سے اور دلائل کے ساتھ۔ لہٰذا اس مضمون کی تفصیل کسی دوسرے مقام پر آ جائے گی۔ البقرة
164 [٢٠٢] توحید باری پرآٹھ دلائل :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے غور و فکر کرنے والوں کے لیے آٹھ ایسے امور کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ کے وجود پر اور اس کی لامحدود قدرت و تصرف پر واضح دلائل ہیں۔ مثلاً اتنے عظیم الشان آسمان کو بغیر ستونوں کے پیدا کرنا اور زمین کو اس طرح بنانا کہ اس پر بسنے والی تمام مخلوق کی ضروریات کی کفیل ہے۔ دن رات کا یکے بعد دیگرے آنا جانا اور ان کے اوقات کا گھٹنا بڑھنا، جہازوں کا بڑے بڑے مہیب اور متلاطم سمندروں میں رواں ہونا آسمان سے بارش برسانا جس سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔ ہر جاندار میں توالدو تناسل کا سلسلہ قائم کرنا انہیں تمام روئے زمین پر پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ میں تبدیلی پیدا کرنا اور بلندیوں پر بادلوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا۔ یہ سب کام ایسے ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی بھی ہستی سرانجام نہیں دے سکتی۔ پھر اور کون سے کام ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کو دوسرے دیوی دیوتاؤں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے؟ پھر مندرجہ بالا امور بیان کرنے کے بعد ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس کائنات میں ان کے علاوہ اور بھی ایسی بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ البقرة
165 [٢٠٣]شرکیہ افعال اور شرک کی مذمت :۔ یعنی اللہ کی مخصوص صفات میں اپنے معبودوں کو اللہ کا مد مقابل ٹھہراتے ہیں اور خالق، مالک اور رازق ہونے کی حیثیت سے اللہ کے جو حقوق بندوں پر عائد ہونا چاہئیں۔ ان حقوق میں وہ دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں۔ مثلاً سلسلہ اسباب پر حکمرانی، حاجت روائی، مشکل کشائی، فریاد رسی، عبادت دعائیں سننا اولاد عطا کرنا، غیب و شہادت کی ہر چیز سے واقف ہونا، کسی دوسرے کو منبع قانون سمجھنا اور حرام و حلال کی حدود مقرر کرنا۔ ان سب باتوں میں کئی دوسرے پیغمبروں، بزرگوں، فرشتوں جنوں اور دیوی، دیوتاؤں کو اللہ کا مدمقابل اور شریک ٹھہرا لیتے ہیں۔ محبت کا تعلق قلبی اعمال سے ہے اور یہی بات تمام افعال و اعمال کا سرچشمہ ہے اس میں بھی وہ اپنے خود ساختہ معبودوں کو ہی فوقیت دیتے ہیں۔ [ ٢٠٤] کیونکہ اللہ سے ان کی محبت مستقل اور پائیدار ہوتی ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ ہی پر بھروسہ اور اعتماد رکھتے ہیں۔ جب کہ مصائب و آلام کے وقت بسا اوقات مشرکوں کی اپنے معبودوں سے محبت زائل بھی ہوجاتی ہے۔ البقرة
166 [٢٠٥] اس دنیا میں تو عالم اسباب کی بہت سی باتیں انسان کی آنکھوں سے مخفی ہیں۔ مگر قیامت کو جب یہ سب اسباب واضح طور پر دیکھ لیں گے تب انہیں معلوم ہوگا کہ تصرف و اقتدار کے جملہ اختیارات تو صرف اللہ ہی کو حاصل تھے اور حاصل ہیں۔ اور ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ مگر اس وقت ان کی یہ ندامت کسی کام نہ آئے گی اور سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ البقرة
167 [٢٠٦]پیروں کی اپنے مریدوں سے بیزاری اور اس کےبرعکس:۔ ان دو آیات میں میدان محشر کا ایک منظر پیش کیا گیا ہے اور مشرکوں اور ان کے معبودوں یعنی مرشدوں اور (مریدوں) پیروکاروں کے درمیان مکالمہ بیان کیا گیا ہے۔ جو یہاں دنیا میں اپنے مریدوں کے مشکل کشا، حاجت روا اور شفاعت کے ٹھیکیدار بنے ہوئے تھے۔ قیامت کے دن چونکہ اللہ کے حضور جواب دہی کی دہشت اور خوف اس قدر زیادہ ہوگا کہ ہر ایک کو اپنی ہی جان کی پڑی ہوگی۔ لہٰذا یہ پیشوا حضرات ان مریدوں کی اعانت و امداد یا سفارش سے نہ صرف انکار کریں گے، بلکہ دنیا میں ان کو اپنا مرید ہونے سے ہی انکار کردیں گے اور کہہ دیں گے کہ ہمارا ان سے کوئی تعلق ہے نہ ہم انہیں پہچانتے ہیں۔ بلکہ ان سے بے زاری اور نفرت کا اظہار کریں گے۔ یہ صورت حال دیکھ کر مرید حضرات سخت مایوس ہوجائیں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش ہمیں دنیا میں جانے کا ایک اور موقع مل سکے تو ہم بھی ان سے یہی سلوک کریں جو آج یہ ہم سے کر رہے ہیں اور ہم بھی ان پیروں سے ایسے بے تعلق اور بیزار ہوجائیں۔ جیسے یہ آج ہم سے بے تعلق اور بے زار بن گئے ہیں۔ [ ٢٠٧] مشرکوں کے اعمال حسرت کا سبب کیوں ؟ایک حسرت تو یہ ہوگی کہ مرشدوں نے اپنے وعدوں کے خلاف بے زاری کا اظہار کردیا، اور دوسری یہ کہ جو اچھے اعمال مثلاً صدقہ و خیرات اور نذر و نیاز وغیرہ کرتے رہے وہ تو ان کے شرک کی وجہ سے ضائع ہوجائیں گے اور برے اعمال برقرار رہیں گے۔ اس طرح وہ کئی قسم کی حسرتوں کا مجموعہ بن جائیں گے۔ ان کے مرشد بھی باعث حسرت اور ان کے اعمال بھی باعث حسرت لیکن ان حسرتوں کا نتیجہ کچھ بھی نہ نکلے گا اور دوزخ کے عذاب سے نجات کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ البقرة
168 [٢٠٨] حلال سے مراد ایک تو وہ سب چیزیں ہیں جنہیں شریعت نے حرام قرار نہیں دیا۔ دوسرے وہ جنہیں انسان اپنے عمل سے حرام نہ بنا لے۔ جیسے چوری کی مرغی یا سود اور ناجائز طریقوں سے کمایا ہوا مال اور پاکیزہ سے مراد وہ صاف ستھری چیزیں ہیں جو گندی سٹری، باسی اور متعفن نہ ہوگئی ہوں۔ حرام چیزوں سے بچنے کی احادیث میں بہت تاکید آئی ہے۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ ١۔کسب حلال اور اس کی اہمیت :۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو! اللہ پاک ہے اور وہ صرف پاک مال قبول کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا اس نے رسولوں کو حکم دیا : چنانچہ فرمایا یٰایُّھَا الرُّسُلُ۔۔ (اے پیغمبرو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو اور فرمایا اے ایمان والو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمہیں دی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کر کے آیا ہو، اس کے بال پریشان اور خاک آلود ہوں وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاتا ہے اور کہتا ہے اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار! جبکہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور جس غذا سے اس کا جسم بنا ہے وہ بھی حرام ہے تو پھر اس کی دعا کیسے قبول ہوگی؟ (ترمذی، ابو اب التفسیر) (مسلم، کتاب الزکوٰۃ باب قبول الصدقۃ من کسب الطیب) ٢۔ حرام خور کی دعاقبول نہیں ہوتی:۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’وہ گوشت جو مال حرام سے پروان چڑھا ہے وہ جنت میں داخل نہ ہوگا اور جو بھی گوشت حرام سے پروان چڑھا اس کے لیے جہنم ہی لائق تر ہے۔‘‘ (احمد، دارمی، بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب البیوع باب الکسب و طلب الحلال فصل ثانی) ٣۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص حرام مال کمائے اور پھر اس سے صدقہ کرے تو وہ صدقہ قبول نہیں ہوتا اور اگر اس سے خرچ کرے تو اس میں برکت نہیں ہوتی۔ (احمد، بحوالہ مشکوٰاۃ، کتاب البیوع باب الکسب و طلب الحلال، فصل ثانی) ٤۔ حرام مال سے صدقہ قبول نہیں ہوتا:۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ کمائی سے ہی صدقہ قبول کرتا ہے۔ (مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب بیان ان اسم الصدقہ یقع علی کل نوع من المعروف) ٥۔حرام اور مشکوک چیزیں چھوڑنے کاحکم :۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں کہتے سنا ہے کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اب جو شخص ان مشتبہ چیزوں سے بچا رہا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو مشتبہ چیزوں میں پڑگیا اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو کسی کی رکھ کے گرد اپنے جانوروں کو چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ رکھ میں جا گھسیں۔ سن لو ہر بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے۔ سن لو! اللہ کی رکھ اس کی زمین میں حرام کردہ چیزیں ہیں۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب فضل من استبراء لدینہ مسلم، کتاب المساقاۃ باب اخذ الحلال و ترک الشبہات) ٦۔ عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ کوئی بندہ اس وقت تک متقی نہیں بن سکتا جب تک اندیشہ والی چیزوں سے بچنے کی خاطر ان چیزوں کو نہ چھوڑ دے جن میں کوئی اندیشہ نہیں۔‘‘ (ترمذی، ابن ماجہ، بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب البیوع، باب الکسب و طلب الحلال) ٧۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات یاد رکھی ہے کہ’’جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ اور وہ اختیار کر جو شک میں نہیں ڈالتی۔‘‘ (احمد بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب البیوع، باب الکسب و طلب الحلال) ٨۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلال ہے یا حرام۔‘‘ (بخاری، کتاب البیوع، باب مالم یبال من حیث کسب المال) [ ٢٠٩] حرام مال کوحلال اورحلال کوحرام قراردینا اور شیطان کی پیروی ہے: یہاں شیطان کے پیچھے چلنے سے مراد یہ ہے جو چیزیں اللہ نے حرام نہیں کیں انہیں حرام نہ سمجھ لو، جیسے مشرکین عرب بتوں کے نام سانڈ چھوڑ دیتے تھے۔ پھر ان جانوروں کا گوشت کھانا یا ان سے کسی طرح کا بھی نفع اٹھانا حرام سمجھتے تھے یا کسی مخصوص کھانے پر اپنی طرف سے پابندیاں عائد کر کے اسے حرام قرار دے لیتے تھے۔ یہی صورت کسی حرام چیز کو حلال قرار دینے کی ہے۔ جیسے یہود نے سود کو حلال قرار دے لیا تھا۔ امیوں کا مال کھانا جائز سمجھتے تھے اور یہ شرک ہے۔ کیونکہ حلال و حرام قرار دینے کے جملہ اختیارات اللہ کو ہیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے قریب میری امت میں سے کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو شراب کا کوئی دوسرا نام رکھ کر اس کو حلال بنا لیں گے۔ (بخاری، کتاب الاشربہ، باب فیمن یستحل الخمر ویسمیہ بغیراسمہ) اور ابو مالک کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میری امت میں سے کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور باجے گاجے وغیرہ کے دوسرے نام رکھ کر انہیں حلال بنا لیں گے۔ (حوالہ ایضاً) اور ایسی سب باتیں اللہ کی صفات میں شرک کے مترادف ہیں۔ کیونکہ حلت و حرمت کے جملہ اختیارات اللہ ہی کو ہیں۔ البقرة
169 [٢١٠] چونکہ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے۔ لہٰذا وہ ہمیشہ تمہیں کوئی بری بات یا بے شرمی یا بے حیائی کی بات ہی سمجھائے گا۔ وہ بھی اس طرح کہ تمہاری نظروں میں وہ بھلی معلوم ہو۔ [ ٢١١] یعنی خود ساختہ رسموں اور پابندیوں کے متعلق یہ سمجھنا یا تاثر دینا کہ یہ اللہ کے احکام ہیں جبکہ ان کے من جانب اللہ ہونے کی کوئی دلیل موجود نہ ہو، اللہ کے ذمہ جھوٹ لگانے کے مترادف ہے جو بہت بڑا گناہ ہے۔ البقرة
170 [ ٢١٢]تقلید آباء کی مذمت: ۔ تقلید آباء گمراہی کا بہت بڑا سبب ہے۔ انسان اپنے آباء اور بزرگوں سے عقیدت کی وجہ سے یہ سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کرتا کہ ان سے بھی کوئی غلطی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بے شمار مقامات پر تقلید آباء کی مذمت فرمائی ہے اور اسے شرک قرار دیا ہے۔ کیونکہ آباء کا عمل کوئی شرعی دلیل نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر کام کے متعلق یہ تحقیق ضروری ہوتی ہے کہ آیا وہ شرعاً جائز ہے یا نہیں۔ خواہ اس کی زد اپنے آپ پر یا اپنے آباء پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ ایسا نہ ہونا چاہیے کہ اگر کسی کے باپ دادا سے کوئی غلط کام ہوگیا ہو تو وہ غلطی پشت در پشت اس کی نسلوں میں منتقل ہوتی چلی جائے۔ حتیٰ کہ اسے عین دین کا کام سمجھا جانے لگے۔ البقرة
171 [ ٢١٣] یعنی کافروں کی مثال ان بے عقل جانوروں کی سی ہے۔ جنہیں چرواہا جب پکارتا ہے تو وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ وہ کہہ کیا رہا ہے۔ بلکہ محض آواز سن کر ادھر ادھر ہوجاتے ہیں۔ جانوروں کی طرح یہ کافر بھی حق بات سن کر نہ اسے سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی حق بات کہہ سکتے ہیں اور حق بینی کے معاملہ میں اندھے ہیں۔ پھر انہیں ہدایت نصیب ہو تو کیسے ہو۔ جب کہ ہدایت پانے کے سارے راستے انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر بند کر رکھے ہیں۔ البقرة
172 [ ٢١٤] آیت نمبر ١٦٩ میں خطاب عوام الناس سے تھا۔ اس آیت میں مومنوں سے ہے۔ اسی لیے انہیں تاکید کی جا رہی ہے کہ کھانے کے بعد اللہ کا شکر بھی ادا کیا کرو۔ البقرة
173 [ ٢١٥]اللہ کی حرام کردہ چیزیں :۔ اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے : ١۔ مردار خواہ وہ کسی طریقہ سے مرا ہو۔ طبعی موت سے یا کہیں گر کر یا لاٹھی لگنے سے یا سینگ کی ضرب سے یا کسی درندے نے مار ڈالا ہو۔ سب صورتوں میں حرام ہے۔ ٢۔ وہ خون جو ذبح کرتے وقت رگوں سے باہر نکل جاتا ہے اور جو گوشت کے ساتھ لگا رہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ نیز حدیث میں آیا ہے کہ دو مردار حلال ہیں یعنی مچھلی اور ٹڈی اور دو خون حلال ہیں۔ کلیجی اور تلی جو منجمد خون ہی ہوتا ہے۔ (احمد، بحوالہ مشکوٰۃ کتاب الصید والذبائح باب مایحل اکلہ ما یحرم فصل ثانی) ٣۔ خنزیر یا سور جو نجس عین ہے۔ اس کا صرف گوشت کھانا ہی حرام نہیں بلکہ یہ زندہ یا مردہ اس کی کسی بھی چیز سے استفادہ جائز نہیں۔ ٤۔ ہر وہ چیز جو اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے نام پر مشہور کردی جائے۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس جانور پر ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام لیا جائے، صرف وہی حرام ہوتا ہے۔ یہ تصور بالکل غلط ہے، کیونکہ قرآن کے الفاظ میں نہ جانور کا ذکر ہے۔ نہ ذبح کا بلکہ ما کے لفظ میں عمومیت ہے۔ لہٰذا اس کا معنی یہ ہوگا کہ جو چیز کسی بزرگ یا دیوی دیوتا کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اس کے نام پر مشہور کردی جائے جیسے امام جعفر کے کو نڈے، بی بی کی صحنک، مرشد کا بکرا وغیرہ یہ سب چیزیں حرام ہیں اور اگر وہ ذبح کرنے کا جانور ہے تو خواہ اس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام ہی کیوں نہ لیا جائے وہ حرام ہی رہے گا۔ بلکہ کسی دوسرے کی نیت رکھنے سے بھی وہ حرام ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ کی عطا کردہ چیزوں کی قربانی یا نذر و نیاز صرف اسی کے نام کی ہونی چاہیے۔ اس میں کسی دوسرے کو شریک نہ بنایا جائے۔ ہاں اگر کوئی شخص کچھ صدقہ و خیرات کرتا ہے یا قربانی کرتا ہے اور اس سے اس کی نیت یہ ہو کہ اس کا ثواب میرے فوت شدہ والدین یا فلاں رشتہ دار یا مرشد کو پہنچے تو اس میں کوئی حرج نہیں، یہ ایک نیک عمل ہے۔ جو سنت سے ثابت ہے۔ [ ٢١٦]لاچاری میں حرام اشیاء کےجواز کی شرائط:۔ اس آیت میں حرام چیزوں کو استعمال کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تین شرائط بیان فرمائیں : ١۔ اسے بھوک یا بیماری کی وجہ سے جان جانے کا خطرہ لاحق ہو اور اس حرام چیز کا کوئی بدل موجود نہ ہو۔ ٢۔ وہ اللہ کا باغی یا قانون شکن نہ ہو۔ یعنی جو چیز کھا رہا ہے۔ اسے حرام ہی سمجھ کر کھائے، حلال نہ سمجھے۔ ٣۔ اتنا ہی کھائے جس سے اس کی جان بچ سکے اور اس کے بعد اس کا بدل میسر آ سکے۔ پھر اگر وہ غلط اندازے سے کچھ زیادہ بھی کھا لے گا تو اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا۔ اور یہ غلطی جان کے تلف ہونے سے متعلق بھی ہو سکتی ہے اور خوراک کی مقدار کے متعلق بھی۔ البقرة
174 [٢١٧]کتمان حق اور غلط فتوے سےحرام خوری:۔ آیت نمبر ١٥٩ کے مضمون کو دہرایا گیا ہے اور بتلایا گیا ہے کہ کتمان حق کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ پیشوا قسم کے لوگ اس کے عوض کچھ نہ کچھ دنیوی مفاد اور مال و دولت حاصل کرلیتے ہیں آیات کی تاویل یا فقہاء کے مختلف اقوال کو بنیاد بنا کر غلط فتویٰ دیتے ہیں۔ اسی طرح ایک طرف تو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ دوسرے ان سے پیسے وصول کرتے ہیں اور لطف کی بات یہ کہ فتویٰ جتنا زیادہ غلط قسم کا ہو اتنے ہی ان کے دام زیادہ وصول کئے جاتے ہیں، یہ مال بلاشبہ حرام ہے جو دوزخ کی ظاہری آگ کے علاوہ ان کے اندر بھی آگ لگا دے گا۔ [ ٢١٨] اللہ تعالیٰ کا کلام نہ کرنا گناہ کبیرہ کے ارتکاب کی دلیل ہے:۔ یہاں کلام نہ کرنے سے مراد اللہ تعالیٰ کی انتہائی خفگی اور ناراضگی ہے۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جن کاموں سے متعلق یہ مذکور ہو کہ اللہ ان سے کلام نہ کرے گا یا ان کی طرف دیکھے گا بھی نہیں یا انہیں پاک نہیں کرے گا۔ تو ایسے سب کام کبیرہ گناہ ہوتے ہیں اور مسلمانوں کی تو ایک کثیر تعداد ایسی ہوگی جنہیں اللہ دوزخ میں داخل کرے گا تاآنکہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہوجائیں۔ لیکن کچھ گناہ ایسے بھی ہیں کہ دوزخ کی آگ سے پاک و صاف نہ ہوں گے۔ جیسے شرک یا جن کے متعلق خلود فی النار کے الفاظ آئے ہیں۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک سے حساب کتاب لیتے وقت تو کلام کرے گا ہی تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ کا حساب لینا بھی بصورت تہدید اور سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ ہوگا یا فرشتوں کے ذریعہ ان سے حساب لیا جائے گا۔ واللہ اعلم بالصواب البقرة
175 [٢١٩] یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھپا کر لوگوں کو گمراہ کرنے والے اور غلط تاویلات کے ذریعے لوگوں سے نذرانے وصول کرنے والے علماء اور پیشوا حضرات جنہیں خوب معلوم ہے کہ ان کی ان کرتوتوں کی سزا کس قدر سخت ہے۔ اس کے باوجود وہ ان حرکتوں سے باز نہیں آتے، ان کی یہ جسارت بڑی حیران کن ہے۔ البقرة
176 [٢٢٠]اختلاف امت اور فرقہ پرستی کے اسباب :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑی حقیقت سے مطلع فرمایا ہے جو یہ ہے کہ جو لوگ اختلاف کرتے ہیں اور مختلف فرقوں میں بٹ جاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ حق ان پر مشتبہ ہوجاتا ہے بلکہ اس کی اصل وجہ ان کی باہمی ضد ہوتی ہے جس میں وہ دور تک چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ آپ خود ملاحظہ فرما لیجئے کہ اسلام میں جتنے فرقے پیدا ہوئے ہیں۔ سب اپنے حق میں کتاب و سنت سے ہی استدلال کرتے ہیں۔ یہ استدلال عموماً غلط ہوتا ہے اور کبھی صحیح بھی ہوتا ہے مگر استدلال کے اختلاف میں رواداری کے بجائے جب ضد پیدا ہوجائے اور استدلال کرنے والا اپنی بات پر اڑ جائے تو یہیں سے نئے فرقہ کی ابتدا شروع ہوجاتی ہے۔ جس کے لیے قرآن کریم میں بے شمار مقامات پر سخت وعید آئی ہے۔ واضح رہے کہ ہر گمراہ فرقے کی بنیاد یا تو کسی شرکیہ عقیدہ اور عمل پر استوار ہوتی ہے اور یا کسی بدعی عقیدہ و عمل پر۔ پھر اپنے اس بدعی عقیدہ کو کھینچ تان کر کتاب و سنت سے درست یا جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص بدعی عقیدہ یا عمل رائج کرنا چاہتا ہے۔ اسے کوئی نہ کوئی روکنے اور ٹوکنے والا بھی ہوتا ہے۔ لیکن بدعی عقیدہ کا موجد اور اس کے متبعین کے لیے حق کو ماننے کے بجائے انا اور ضد کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس طرح ایک نیا فرقہ وجود میں آ جاتا ہے اور اس حقیقت کو قرآن مجید نے چار مختلف مقامات پر ذکر کیا ہے۔ اور اس کی وجہ یہی ﴿بَغْیًا بَیْنَھُمْ ﴾ ہی بتلائی ہے۔ یعنی اس کی وجہ یہ ہرگز نہیں ہوتی کہ کتاب و سنت میں اس کا واضح حل موجود نہیں ہوتا۔ (نیز دیکھئے اسی سورۃ کا حاشیہ نمبر ٢٨٢) البقرة
177 [٢٢١]تحویل قبلہ پر جھگڑا کرنے کےبجائے نیکی کےاصل کام :۔ جب یہود مدینہ نے تحویل قبلہ کے مسئلہ کو مسلمانوں کے ساتھ جھگڑے کا ایک مستقل موضوع بنا لیا تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرمائی کہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرنا کوئی ایسی نیکی نہیں ہے جس پر نجات اخروی کا مدار ہو بلکہ نیکی کے اصل اور بڑے بڑے کام تو اور ہیں اور وہ کام ایسے تھے جن میں سے اکثر کی ادائیگی میں یہود قاصر تھے یا کوتاہی کر جاتے تھے پہلے تو اللہ تعالیٰ نے ایمان بالغیب کی انواع بیان فرمائیں۔ یہود جبریل کو اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ حالانکہ اسی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام نازل فرماتا رہا۔ پھر وہ انجیل اور قرآن پر ایمان نہیں رکھتے تھے، بلکہ اپنی کتاب پر بھی ٹھیک طرح سے ایمان نہیں لاتے تھے اور بے شمار غلط عقائد آخرت کے بارے میں اپنے معتقدات میں شامل کرلیے تھے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے صدقات و خیرات اور اس کے مستحقین کا ذکر فرمایا۔ اس سلسلے میں وہ قاصر یوں تھے کہ وہ سود خور تھے اور سود خور کی فطرت میں بخل اور شقاوت پیدا ہونا لازمی امر ہے۔ پھر اللہ نے وعدہ پورا کرنے کا ذکر فرمایا۔ جبکہ یہود کی تاریخ عہد شکنیوں سے بھری پڑی ہے اور بزدل ایسے کہ ان کا کوئی قبیلہ بھی مسلمانوں کے ساتھ کھلے میدان میں لڑنے کی جرات نہ کرسکا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے راست باز اور متقی لوگوں کی جو جو صفات بیان فرمائی ہیں یہودیوں کی اکثریت ان سے عاری تھی۔ صرف ایفائے عہد اورصبر کاذکرکیوں ہوا؟اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے سیرت و کردار سے متعلق صرف دو باتوں کا ذکر فرمایا۔ ایک ایفائے عہد کا اور دوسرے صبر کا۔ عہد خواہ ایک شخص کا دوسرے شخص سے ہو یا قوم سے ہو یا ایک قوم کا دوسری قوم سے ہو یا کسی کا اللہ تعالیٰ سے ہو۔ نیز خواہ یہ عبادات سے تعلق رکھتا ہو یا معاملات سے یا مناکحات سے، اس عہد کا پورا کرنا ہر حال میں لازم ہے اور ظاہر ہے کہ یہ عہد دراصل ایفائے حقوق کا عہد ہوتا ہے جو انسان کی ساری زندگی ہی اپنے احاطہ میں لے لیتا ہے، اور ایفائے عہد کے سلسلہ میں کئی قسم کی مشکلات بھی پیش آ سکتی ہیں۔ لہٰذا ساتھ ہی صبر و ثبات کا حکم فرما دیا اور صبر کے تین مواقع کا بالخصوص ذکر فرمایا۔ ایک باسَاء جس کے معنی تنگی ترشی اور فقر و فاقہ کا دور ہے۔ دوسرے ضراء جس کے معنی جسمانی تکالیف اور بیماری کا دور ہے اور تیسرے حین الباس یعنی جنگ کے دوران بھی اور اس وقت بھی جب جنگ کے حالات پیدا ہوچکے ہوں اور اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہی وہ مقامات ہیں جہاں بسا اوقات انسان کے پائے ثبات میں لغزش آ جاتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے بالخصوص ان مواقع کا ذکر فرما دیا۔ پھر جو لوگ ایفائے عہد یا بالفاظ دیگر ایفائے حقوق میں پورے اترتے ہیں اور کسی بھی مشکل سے مشکل وقت میں ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آتی تو ایسے ہی لوگ دراصل راست باز اور متقی کہلائے جانے کے مستحق ہوتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت نازک حالات میں عہد کو پورا کر کے تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں ثبت کردی ہیں۔ ہم یہاں یہ تفصیل بیان نہیں کرسکتے صرف چند واقعات کی طرف اشارہ کافی ہوگا۔ دورنبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایفائے عہد کی مثالیں:۔ ۱۔حضرت حذیفہ بن یمان اور ابو حسیل رضی اللہ عنہ (یہ حضرت یمان کی کنیت ہے) دونوں جنگ بدر میں شمولیت کے لیے جا رہے تھے کہ راستہ میں قریش مکہ کے ہتھے چڑھ گئے اور انہوں نے ان سے عہد لے کر چھوڑا کہ وہ غزوہ بدر میں حصہ نہیں لیں گے۔ چنانچہ یہ دونوں صحابی قریش سے چھٹکارا حاصل کر کے میدان بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور سارا ماجرا بیان کیا۔ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایک آدمی کی شدید ضرورت تھی۔ لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو واپس چلے جانے کا حکم دیا اور فرمایا تم اپنا عہد پورا کرو، اللہ ہماری مدد کرے گا۔ (مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب الوفا بالعہد) ٢۔ صلح حدیبیہ کے دوران ابو جندل پابہ زنجیر قریش مکہ کی قید سے فرار ہو کر مسلمانوں کے پاس پہنچ گئے ابو جندل نے اپنے زخم دکھلا دکھلا کر اور اپنا دکھڑا سنا کر التجا کی کہ اب اسے کافروں کے حوالہ نہ کیا جائے۔ اس وقت تمام مسلمانوں کے جذبات یہ تھے کہ خواہ کچھ بھی ہو ابو جندل کو اب کافروں کے حوالہ نہ کیا جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض ایفائے عہد کی خاطر ابو جندل کو کافروں کے سفیر سہیل بن عمرو (جو ابو جندل کا باپ تھا) کے حوالہ کیا۔ ابو جندل کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کوئی اور راہ نکال دے گا۔ (بخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد والمصالحہ مع اھل الحرب) ٣۔ عمرہ قضاء کے دوران قریش مکہ نے یہ گوارا نہ کیا کہ مسلمان ان کی آنکھوں کے سامنے آزادی سے عمرہ کے مناسک ادا کریں۔ چنانچہ تین دن کے لیے شہر کو خالی کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے اگر کوئی دنیا دار جرنیل ہوتا تو بڑی آسانی سے مکہ پر قبضہ کرسکتا تھا۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ خیال تک نہ آیا کہ اس سنہری موقع سے یہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد کو پورا کیا اور تین دن کے بعد مکہ سے واپسی کا سفر اختیار کرلیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں نے جس طرح اس قسم کے عہد کو نبھایا وہ واقعات بھی بہت ہیں اور کتب تاریخ و سیر کی آج بھی زینت بنے ہوئے ہیں۔ [ ٢٢١] (علیٰ حبہ) میں ''ہ'' کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہو تو اس کا وہی مفہوم ہے جو ترجمہ سے واضح ہے اور اس ضمیر کا مرجع مال قرار دیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ اگر مال کی محبت کے باوجود اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ کسی پسندیدہ چیز کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، یا اپنی احتیاج کو روک کر خرچ کرنا، یا قحط اور گرانی کے ایام میں خرچ کرنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ اس کا محرک قوی جذبہ ہو اور یہ جذبہ اللہ کی محبت اور اس کی فرمانبرداری کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا بالفعل (علیٰ حبہ) میں بیک وقت دونوں مفہوم شامل ہوجاتے ہیں۔ البقرة
178 [ ٢٢٢] قصاس کےاحکام :۔قصاص کا مطلب ہے جان کے بدلے جان لینا۔ پھر دور نبوی کی سوسائٹی کی اصناف کے مطابق حکم دیا گیا۔ آزاد کے بدلے قاتل قوم کا کوئی آزاد مرد ہی قتل ہوگا۔ عورت یا غلام قتل نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح غلام کے بدلے آزاد مرد یا عورت قتل نہیں ہوں گے۔ یہ تفصیل اللہ تعالیٰ نے اس لیے بیان فرمائی کہ اس دور کا دستور یہ تھا کہ اگر کسی قبیلہ کا کوئی معزز آدمی دوسرے قبیلے کے کسی عام آدمی کے ہاتھوں مارا جاتا تو وہ اصلی قاتل کے قتل کو کافی نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ ان کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ یا تو قاتل قبیلے کا ویسا ہی کوئی معزز آدمی قتل کیا جائے یا اس قبیلہ کے کئی آدمی اس کے عوض قتل کئے جائیں۔ اس کے برعکس مقتول اگر کوئی ادنیٰ آدمی اور قاتل معزز آدمی ہوتا تو وہ اس بات کو گوارا نہ کرتے تھے کہ مقتول کے بدلے قاتل کی جان لی جائے اور یہ بات صرف اس زمانے سے مختص نہیں بلکہ آج کی مہذب حاکم اقوام بھی یہی کچھ کرتی ہیں۔ قاتل اگر حاکم قوم سے تعلق رکھتا ہو تو عدالت کو اختیار نہیں کہ اس کے خلاف قصاص کا فیصلہ صادر کرسکے اور اگر بدقسمتی سے حاکم قوم کا کوئی شخص محکوم کے ہاتھوں قتل ہوجائے تو سمجھ لو کہ اس پوری قوم کی خیر نہیں اور اس پر طرح طرح کی مصیبتیں کھڑی کی جاتی ہیں انہی خرابیوں کے سدباب کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مقتول کے بدلے قاتل اور صرف قاتل ہی کی جان لی جائے گی یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ قاتل کون ہے اور مقتول کون؟ [٢٢٣] قتل قابل راضی نامہ جرم ہے:۔ مقتول کے وارث کو قاتل کا بھائی کہہ کر نہایت لطیف طریقے سے اس سے نرمی اختیار کرنے کی سفارش بھی کردی گئی ہے۔ یعنی وہ قصاص معاف کر دے اور دیت لے لے، اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اسلام میں قتل تک کا مقدمہ بھی قابل راضی نامہ ہے۔ جبکہ انگریزی قانون کے مطابق یہ جرم قابل راضی نامہ نہیں۔ اگلی امتوں میں سے یہود پر اللہ تعالیٰ نے قصاص فرض کیا تھا، ان میں عفو کا قانون نہیں تھا اور نصاریٰ میں صرف عفو کا حکم تھا قصاص کا نہیں تھا۔ اس امت پر اللہ تعالیٰ نے آسانی اور مہربانی فرمائی اور دونوں باتوں کی اجازت دی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مقتول کے وارثوں کو دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے خوا وہ فدیہ لے لیں یا قصاص۔ (بخاری کتاب في اللقطة باب کیف تعرف اھل مکۃ اھل مکہ نیز مسلم، کتاب الحج، باب تحریم مکة) قصاص اور دیت :تاہم آپ قصاص کے بجائے عفو کو زیادہ پسند فرماتے تھے، آپ خود بھی معاف کرتے اور دیت لے لینے کی سفارش کرتے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اسی بات کی تلقین فرماتے تھے۔ ایک دفعہ ایک آدمی قتل ہوگیا۔ آپ نے قاتل کو مقتول کے حوالہ کردیا۔ قاتل کہنے لگا’’یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم میرا قتل کرنے کا ارادہ نہ تھا۔‘‘ آپ نے مقتول کے ولی سے کہا۔’’ اگر یہ سچا ہوا اور تم نے اسے قتل کردیا تو تم دوزخ جاؤ گے۔‘‘ یہ سن کر مقتول کے ولی نے قاتل کو چھوڑ دیا۔ (ترمذی۔ ابو اب الدیات باب ماجاء فی حکم ولی القتیل) یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کی ابتدا میں (کتب علیٰ) کے الفاظ قصاص کی فرضیت اور وجوب کا تقاضا کرتے ہیں۔ پھر بھی دیت کی رعایت یا رخصت بھی بیان فرما دی۔ بلکہ اگر مقتول کے وارث معاف ہی کردیں تو اسے بہت بہتر عمل قرار دیا گیا تو پھر قصاص کی فرضیت یا وجوب کیا رہ گیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا روئے سخن اسلامی معاشرہ یا اسلامی حکومت کی طرف ہے کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خون ناحق کا ضرور قصاص لے۔ خواہ مقتول کا کوئی وارث موجود ہو یا نہ ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ مقتول کے وارث تو ہوں مگر انہیں قصاص لینے میں کوئی دلچسپی نہ ہو بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض دنیوی مفادات کی خاطر یہ قتل ہی ورثا کے ایماء سے ہوا ہو۔ جو بھی صورت ہو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مجرم کو گرفتار کر کے اسے کیفر کردار تک پہنچائے۔ دیت کی حکمت :۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو دیت کی رعایت بیان فرمائی تو یہ اختیار صرف مقتول کے ورثا کو ہے اور اس میں کئی حکمتیں اور لوگوں کی مصلحتیں ہیں۔ جب مقتول کے ورثاء کو حکومت کی طرف سے قصاص یا دیت کا اختیار مل جائے تو اپنے قاتل کے خلاف ان کے منتقمانہ جذبات سرد پڑجاتے ہیں اور بہت بڑے زخم کے اندمال کی ایک شکل پیدا ہوجاتی ہے۔ اور اگر وہ جان کا قصاص لینے کے بجائے نرم رویہ اختیار کریں تو اس سے ایک تو قاتل کی جان بخشی اور قاتل اور اس کے خاندان پر احسان ہوتا ہے۔ جس سے آئندہ کے لیے نہایت مفید نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے دوسرے اس صورت میں مقتول کے ورثاء کی مالی امداد بھی ہوجاتی ہے۔ اور اگر وہ غریب ہوں تو انہیں بڑا سہارا مل سکتا ہے اور یہ سب معاملات حکومت کی وساطت سے ہی طے ہوں گے مگر مقتول کے ورثاء کی مرضی کے مطابق کئے جائیں گے اور اگر یہ سارا اختیار حکومت کو ہی سونپ دیا جائے تو مقتول کے ورثاء ان تمام فوائد سے یکسر محروم رہ جاتے ہیں۔ [ ٢٢٤] اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں قصاص تھا دیت کا دستور نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر قصاص فرض کرنے کے بعد فرمایا ﴿فَاتِّـبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ ﴾ جس سے مراد دیت کا مطالبہ ہے اور ﴿وَاَدَاءٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ قاتل کو بلاچون و چرا ادائیگی کردینا چاہیے۔ یہ اگلے لوگوں کے مقابلہ میں تخفیف ہے۔ ﴿فَمَنِ اعْتَدَیٰ بَعْدَ ذٰلِکَ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ دیت قبول کرنے کے بعد بھی اسے قتل کر دے (بخاری، کتاب التفسیر، زیر آیت مذکورہ) اگر انسان کی نیت میں بگاڑ ہو تو زیادتی کی کئی شکلیں بن سکتی ہیں۔ ایک شکل تو وہی ہے جس کا مندرجہ بالا آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ مقتول کا وارث وقتی طور پر دیت لے کر مالی فوائد حاصل کرلے۔ پھر جب کبھی موقع ملے تو قاتل کو مار بھی ڈالے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ قاتل اور اس کے ورثاء حکومت کے دباؤ کے تحت دیت ادا کردیں۔ مگر بعد میں ان پر کسی نئے ظلم چوری یا ڈاکہ وغیرہ کی سکیم تیار کرنا شروع کردیں۔ ایسی تمام صورتوں میں وہ اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہریں گے۔ البقرة
179 [٢٢٥] قصاص میں زندگی کیسے ہے؟ یہ نہایت فصیح و بلیغ جملہ ہے۔ جس پر عرب کے فصحاء عش عش کر اٹھے۔ کیونکہ اس مختصر سے جملہ میں دریا کو کوزہ میں بند کردیا گیا ہے۔ یعنی قصاص بظاہر تو موت ہے۔ مگر حقیقت میں پوری زندگی کا راز اسی میں ہے۔ عرب میں جو فصیح محاورہ استعمال ہوتا تھا القتل انفی القتل یعنی قتل قتل ہی سے مٹتا ہے۔ مگر فی القصاص حیاۃ میں بدرجہا زیادہ لطافت، فصاحت، بلاغت ہے اور مضمون بھی بہت زیادہ سما گیا ہے۔ دور جاہلیت میں اگر کوئی شخص مارا جاتا تو اس کے قصاص کا کوئی قاعدہ نہ تھا۔ لہٰذا اس کے بدلے دونوں طرف سے ہزاروں خون ہوتے مگر پھر بھی فساد کی جڑ ختم نہ ہوتی تھی۔ عرب کی تمام خانہ جنگیاں جو برسہا برس تک جاری رہتی تھیں اور عرب بھر کا امن و سکون تباہ ہوچکا تھا۔ اس کی صرف یہی وجہ تھی۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے قصاص کا عادلانہ قانون دے کر دنیا بھر کے لوگوں کو جینے کا حق عطا فرما دیا۔ قصاص اور دیت کے چند ضروری مسائل :۔ ١۔ قاتل کے لیے تین صورتیں ہیں (i) مقتول کے وارث قصاص پر ہی مصر ہوں (ii) قصاص تو معاف کردیں مگر دیت لینا چاہیں (iii) سب کچھ معاف کردیں۔ مقتول کے وارثوں کو ان سب باتوں کا اختیار ہے۔ ٢۔ مقتول کے وارثوں میں سے اگر کوئی ایک بھی قصاص معاف کر دے تو قصاص کا معاملہ ختم اور پھر باقی صورتوں میں ممکن صورت پر عمل ہوگا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کو قصاص لینے کے بجائے معاف کردینا یا دیت لے لینا زیادہ پسند ہے۔ ٣۔ کافر کے بدلے مسلم کو قتل نہ کیا جائے (بخاری، کتاب الدیات، (باب لا یقتل المسلم بالکافر) یہ اس صورت میں ہے جبکہ کافر حربی ہو اور اگر ذمی ہو تو اس کا قصاص یا دیت یا عفو ضروری ہے۔ ٤۔ اگر باپ بیٹے کو قتل کر دے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (احمد بیہقی بسند صحیح، بلوغ الامانی جلد ١٦ ص ٣٢٠) ٥۔ آج کل جاہلی دستور نہیں رہا۔ غلامی کا دور بھی ختم ہوگیا۔ اب یہ صورت باقی ہے کہ اگر عورت مرد کو یا مرد عورت کو قتل کر دے تو پھر کیا ہونا چاہیے۔ شریعت اس بارے میں خاموش ہے اور یہ قاضی کی صوابدید پر ہوگا۔ ٦۔ جان کی دیت سو اونٹ ہے (نسائی، کتاب العقود والدیات، عن عمرو بن جزم) یا ان کی قیمت کے برابر، یا جو کچھ اس وقت کی حکومت اس کے لگ بھگ مقرر کر دے۔ ٧۔ دیت عصبات (ددھیال) کے ذمہ ہے (بخاری، کتاب الدیات باب جنین المراۃ، نیز مسلم، کتاب القسامۃ باب دیت الجنین) تفصیلی مسائل کے لیے کتب احادیث کی طرف رجوع کیا جائے۔ البقرة
180 [ ٢٢٦]میت کووصیت کاحکم اور مسائل :۔ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ ترکہ کے وارث صرف بیوی اور اولاد اور بالخصوص اولاد نرینہ ہوا کرتی تھی (جیساکہ آج کل مسلمانوں میں بھی عمومی رواج یہی چل نکلا ہے) ماں باپ اور سب اقارب محروم رہتے ہیں۔ اس آیت کی رو سے مرنے والے پر انصاف کے ساتھ والدین اور اقارب کے لیے وصیت کرنا فرض قرار دیا گیا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے آیت میراث میں والدین اور اقارب کے حصے خود ہی مقرر فرما دیئے تو یہ آیت منسوخ ہوگئی اور وصیت صرف ایک تہائی ترکہ یا اس سے بھی کم حصہ کے لیے رہ گئی۔ جو یا تو ان وارثوں کے حق میں کی جا سکتی ہے جن کا حصہ اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں کیا یا پھر دوسرے رفاہ عامہ کے کاموں کے لیے ایک تہائی مال تک وصیت کرنا ایک حق تھا جو مرنے والے کو دیا گیا تھا۔ مگر آج مسلمان اس سے بھی غافل ہیں۔ حالانکہ اگر وہ اس حق کو استعمال کریں تو کئی معاشرتی مسائل از خود حل ہوجاتے ہیں۔ مثلاً ایسے پوتے پوتیاں یا دوہتے دوہتیوں کی تربیت کا مسئلہ جن کے والدین فوت ہوچکے ہوں یا ایسے محتاج (ذوی الارحام کا جو نہ ذوی الفروض سے ہوں اور نہ عصبات سے) البقرة
181 [ ٢٢٧] یعنی مرنے والے نے تو وصیت انصاف کے ساتھ کی ہو۔ مگر کوئی بااختیار وارث اس میں ترمیم و تنسیخ کر دے یا چند وارث ملکر تبدیلی کردیں تو وہ سب گنہگار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ایسے خودغرض لوگوں کی باتوں کو سننے والا اور ان کے ارادوں تک کو جاننے والا ہے۔ البقرة
182 [ ٢٢٨] ہاں اگر معلوم ہوجائے کہ مرنے والے نے وصیت کرنے میں غلطی کی، خواہ وہ دیدہ دانستہ تھی۔ یا نادانستہ یا کسی کی طرفداری کر گیا تو اس میں وارثوں کے صلاح مشورہ سے تبدیلی کی جا سکتی ہے بلکہ ولی یا بااختیار وارث کو ایسی ترمیم ضرور کردینا چاہیے۔ اس طرح ممکن ہے کہ وصیت کرنے والے کا گناہ بھی اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔ البقرة
183 [ ٢٢٩] روزہ کی فرضیت اورحکمت :۔ روزہ کا حکم حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر تمام انبیاء کی شریعت میں جاری رہا ہے۔ صرف تعیین ایام میں اختلاف رہا ہے اور یہ دین اسلام کا ایک اہم رکن ہے اور اہم رکن ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے نفس سرکش کی اصلاح ہو اور شریعت کے جو احکام بھاری معلوم ہوتے ہیں ان کی ادائیگی سہل ہوجائے۔ روزہ میں صرف کھانے پینے کی اشیاء کو ترک کرنے کی مشق نہیں کرائی گئی بلکہ لڑائی جھگڑے اور بری باتوں سے بچنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : روزہ (برائی کے لیے) ڈھال ہے۔ لہٰذا جس کا روزہ ہو وہ نہ بے حیائی کی بات کرے اور نہ شور شرابا کرے اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ جہالت کی کوئی بات نہ کرے اور اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔ (بخاری، کتاب الصوم، باب فضل الصوم) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس شخص نے روزہ میں غلط گوئی یا غلط کاری نہ چھوڑی تو اللہ تعالیٰ کو اس کا کھانا پینا چھڑانے کی کوئی ضرورت نہیں (بخاری، کتاب الصوم باب من لم یدع قول الزور والعمل بہ فی الصوم) اور یہی باتیں انسان میں تقویٰ پیدا کرتی ہیں۔ البقرة
184 [ ٢٣٠] ایام رمضان کی کمی بیشی:۔یعنی انتیس یا تیس دن جو کہ قمری مہینہ کی کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ مدت ہے۔ شریعت نے قمری مہینہ کی تعیین کو ستاروں کے علم یا آلات روئیت کے حساب سے معلق نہیں کیا بلکہ اس کی بنیاد رؤیت ہلال پر رکھی ہے یعنی چاند کو دیکھ کر ہی روزے رکھنا شروع کرو اور چاند (شوال کا) دیکھ کر ہی روزے رکھنا ختم کرو۔ اب رؤیت ہلال مختلف ممالک میں مختلف اوقات اور مختلف تاریخوں پر ہونا عین ممکن ہے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ ماہ رمضان کے دوران مختلف، ممالک کا سفر کرنے والوں میں سے کسی کے روزوں کی تعداد ٢٨ رہ جائے اور کسی کے ٣١ ہوجائے۔ ایسی صورت میں جس شخص کے روزے ٢٨ بن رہے ہوں وہ بعد میں ایک روزہ کی قضا دے گا اور جس کے ٣١ بن رہے ہوں وہ ایک روزہ چھوڑ دے گا۔ یا اسے نفلی تصور کر کے روزہ رکھ سکتا ہے۔ [٢٣١]بیمار کاروزہ اوردین میں آسانی کا مطلب:۔ بیمار کے علاوہ یہی رعایت حیض یا نفاس والی عورت کے لیے بھی ہے اور دودھ پلانے والی عورت بھی اس رخصت سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسی بیماری لاحق ہو جو مزمن قسم کی ہو اور اس سے افاقہ کی امید کم ہو تو ایسی صورت میں کفارہ دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص بوڑھا ضعیف ہوچکا ہے۔ جس میں روزہ رکھنے کی سکت ہی نہ رہ گئی ہو تو وہ بھی کفارہ دے سکتا ہے اور یہ کفارہ ایک مسکین کا دو وقت کا کھانا ہے۔ خواہ کسی کو روزہ ہی رکھوا دیا کرے اور افطار کرائے یا اس کے برابر نقد قیمت ادا کر دے اور نقد کی تشخیص اسی معیار کے مطابق ہوگی جیسا وہ خود کھاتا ہے۔ اسی طرح ضعیف آدمی پورے مہینے کا اکٹھا کفارہ بھی ادا کرسکتا ہے۔ اسی طرح کسی بوڑھے کا اپنے متعلق یہ اندازہ لگانا کہ اب وہ روزہ رکھنے کے قابل نہیں، بھی اس کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے اور اس سلسلہ میں جو کام بھی کیا جائے وہ اللہ سے ڈر کر کرنا چاہیے۔ دین میں سختی کی ممانعت:۔ جس طرح سفر میں تکلیف بڑھ جانے سے روزہ کھول دینا ہی سنت ہے۔ اسی طرح اگر کسی بیمار نے اپنے متعلق یہ اندازہ لگایا کہ وہ روزہ نبھا سکے گا۔ مگر تکلیف بڑھ گئی تو اسے فوراً روزہ کھول دینا چاہیے۔ بعد میں اس کی قضا دے لے بلکہ بعض فقہاء یہ کہتے ہیں کہ اگر مریض مرض کی شدت پر بھی روزہ افطار نہ کرے اور مر جائے تو وہ خودکشی کی موت مرے گا اور روزہ کا ثواب حاصل کرنے کی بجائے الٹا اپنی جان ضائع کرنے کا مجرم بن جائے گا اور اس پر دلیل درج ذیل حدیث ہے جو ابو داؤد میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ سفرمیں یابیماری میں روزہ سےتکلیف ہوتوروزہ کھولنے کاحکم :۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر پر نکلے۔ ہم میں سے کسی کے سر پر ایک پتھر لگا۔ جس نے سر کو بری طرح زخمی کردیا۔ اتفاق سے اس شخص کو احتلام ہوگیا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ آپ لوگ میرے لیے تیمم کی رخصت کو درست سمجھتے ہیں؟ وہ کہنے لگے نہیں، اس لیے کہ پانی موجود ہے۔ چنانچہ اس آدمی نے غسل کیا تو اس کی موت واقع ہوگئی۔ پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا :’’اللہ ان لوگوں کو ہلاک کرے انہوں نے اپنی ساتھی کو مار ڈالا۔ جب وہ یہ مسئلہ نہیں جانتے تھے تو انہوں نے کیوں نہ کسی عالم سے پوچھ لیا ؟ جہالت کی درماندگی کا علاج تو پوچھ لینا ہی ہے۔ اسے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا اور اس پر تیمم کرلیتا اور باقی جسم کو دھو لیتا۔‘‘ [ ٢٣٢] سفر کی حالت میں روزہ رکھ لینا بھی جائز ہے اور چھوڑنا بھی، اور وہ اس بات کا اندازہ روزہ دار کی جسمانی قوت اور سفر کی مشقت کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔ تاہم اگر سفر میں روزہ چھوڑنا ہی بہتر ہے۔ بلکہ اگر روزہ رکھ لیا ہو اور پھر تکلیف کی شدت محسوس ہو تو روزہ کھول دینا چاہیے اور بعد میں اس کی قضا دے دینا چاہیے۔ چنانچہ غزوہ مکہ میں جو ماہ رمضان میں درپیش تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے روزہ رکھا ہوا تھا اور نڈھال سے ہو رہے تھے۔ مگر روزہ چھوڑنے پر آمادہ نہ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے وقت سب لوگوں کو دکھا کر پانی کا پیالہ پیا اور روزہ کھول دیا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی روزہ کھول دیں۔ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی روزہ کھول دیا۔ (بخاری، کتاب الصوم باب الصوم فی السفر والافطار) نیز جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر (غزوہ فتح مکہ) میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ ہجوم دیکھا اور معلوم ہوا کہ ایک شخص (قیس عامری) پر لوگ سایہ کئے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا قصہ ہے؟ لوگوں نے کہا یہ روزہ دار ہے۔ آپ نے فرمایا ’’سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں۔‘‘ (بخاری : کتاب الصوم، باب قول النبی لمن ظلل علیہ واشتد الحر۔۔) [ ٢٣٣] اس آیت کی تفسیر میں دو مختلف اقوال ہیں۔ پہلا یہ کہ یُطِیْقُوْنَہُ کا معنی ہی یہ ہے کہ ’’جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔‘‘ (لغت ذوی الاضداد) تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ جو لوگ لاعلاج مرض میں مبتلا ہوں یا مرض سے شفا کا امکان نظر نہ آ رہا ہو یا اتنے بوڑھے ہوچکے ہوں کہ بعد میں قوت بحال ہونے کا امکان نہ ہو تو ایسے لوگ روزہ رکھنے کی بجائے فدیہ دے سکتے ہیں اور یہ صورت اب بھی بحال ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ ابتداء میں مسلمانوں کو یہ رعایت دی گئی تھی کہ چاہیں تو روزہ رکھ لیں اور چاہیں تو فدیہ دے دیں۔ جبکہ بعض لوگ اس طرح کے ضبط نفس پر آمادہ نہیں ہو رہے تھے، لیکن بعد میں یہ رعایت ﴿فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہ﴾سے ختم کردی گئی اور حدیث سے اسی دوسرے قول کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت سلمہ بن اکوع بیان فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو جس کا جی چاہتا روزہ نہ رکھتا، اور فدیہ دے دیتا، تاآنکہ اس کے بعد ﴿فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ ﴾ نازل ہوئی اور اس نے اسے منسوخ کردیا۔ (بخاری، کتاب التفسیر زیر آیت مذکورہ) [٢٣٤] اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ صدقہ کی معین مقدار سے صدقہ زیادہ دے دے، دوسرا یہ کہ روزہ بھی رکھے اور فدیہ بھی دے دے۔ [٢٣٥] یعنی اگر تمہیں روزہ کے ثواب کا علم ہو تو روزہ رکھنا ہی بہتر سمجھو گے اور روزہ کے ثواب کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ دار میری خاطر اپنا کھانا پینا اور شہوت رانی چھوڑتا ہے۔‘‘ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ روزہ (گناہوں سے بچنے کے لئے) ڈھال ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں۔ ایک روزہ کھولتے وقت اور دوسری جب وہ اپنے پروردگار سے ملے گا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ (عمدہ) ہے۔ (بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ یریدون ان یبدلوا کلام اللہ ) البقرة
185 [٢٣٦]رمضان اور قرآن:۔ تمام کتب سماوی اور اسی طرح قرآن کریم رمضان ہی میں نازل ہوئیں اور قرآن لیلۃ القدر کو سارے کا سارا آسمان دنیا پر نازل کردیا گیا۔ پھر تھوڑا تھوڑا کر کے حالات کے مطابق آپ پر نازل ہوتا رہا جو سراپا ہدایت اور حق و باطل میں تمیز کرنے والی کتاب ہے۔ اس آیت سے قرآن اور رمضان کا خصوصی تعلق معلوم ہوا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں جبریل علیہ السلام سے قرآن کا دور فرمایا کرتے اور زندگی کے آخری رمضان میں دو بار دور فرمایا۔ مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ رمضان میں بطور خاص قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کریں۔ اسی لیے رمضان میں قیام اللیل کی خصوصی تاکید کی گئی۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو شخص رمضان کی راتوں میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کرے، اس کے پہلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب تطوع قیام رمضان من الایمان) [٢٣٧] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ کا قاعدہ تھا کہ جب آپ کو دو باتوں کا اختیار دیا جاتا تو آپ وہ بات اختیار کرتے جو آسان ہوتی۔ بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہو۔ (بخاری کتاب المناقب باب صفة النبی صلي الله عليه وسلم) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (لوگوں پر) آسانی کرو، سختی نہ کرو اور خوشی کی بات سناؤ، نفرت نہ دلاؤ۔ (بخاری، کتاب العلم، باب کان النبی یتخولھم بالموعظة والعلم) [٢٣٨] ان رخصتوں اور اللہ کی مہربانیوں کی وجہ سے تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ جس نے ہر قسم کے لوگوں کا لحاظ رکھ کر ایسے احکام فرمائے ہیں۔ البقرة
186 [٢٣٨۔ ١] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض لوگوں نے پوچھا تھا کہ ہمارا پروردگار اگر دور ہے تو ہم اسے بلند آواز سے پکارا کریں اور اگر قریب ہے تو آہستہ آواز سے پکارا کریں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بتلا دیا کہ میں تمہارے بالکل قریب ہوں۔ حتیٰ کہ تمہاری رگ جان سے بھی قریب ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے صرف ان کے سوال کے جواب پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اور بھی کئی باتیں ارشاد فرما دیں جو انسانی ہدایت کے لیے ضروری تھیں اور جن سے شرکیہ عقائد کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ جب کوئی شخص مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار یا دعا کو صرف سنتا ہی نہیں بلکہ شرف قبولیت بھی بخشتا ہوں اس سے ان لوگوں کے باطل خیال کارد ہوگیا جو کہتے ہیں کہ اللہ ہم گنہگاروں کی دعا کب سنتا اور قبول کرتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم کسی بزرگ اور اللہ کے پیارے کی معرفت اللہ سے اپنی حاجات طلب کریں۔ اس جواب میں عمومیت سے یہ وضاحت ہوگئی کہ جیسے اللہ اپنے پیاروں کی سنتا ہے ویسے ہی اپنے گنہگاروں کی بھی سنتا اور اسے شرف قبولیت بخشتا ہے۔ دوسری وضاحت یہ فرمائی کہ بندے میرا حکم بجا لائیں۔ مجھی سے مانگیں، دوسروں سے نہ مانگیں۔ کیونکہ پکار یا دعا بھی اصل عبادت ہے اور تیسری یہ کہ میرے متعلق اس بات کا یقین بھی رکھیں کہ میں ان کی دعا ضرور قبول کروں گا اور یہی ہوشمندی، سمجھداری اور ان کے فائدے کی بات ہے۔ دعاکی قبولیت کی شرائط وآداب:۔ واضح رہے کہ دعا کی قبولیت کے کچھ آداب ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حرام خور کی دعا قبول نہیں ہوتی اور اس بات کی صراحت احادیث صحیحہ میں موجود ہے۔ دوسری یہ کہ وہ دعا ممکنات سے ہو۔ مثلاً اگر ایک غریب آدمی جسے امور سیاست کی خبر تک نہ ہو یہ دعا کرنے لگے کہ یا اللہ مجھے اس ملک کا بادشاہ بنا دے تو ظاہر ہے کہ ایسی دعا قبول نہ ہوگی۔ نہ ہی کوئی ایسی دعا کرنی چاہیے جس کا تعلق قطع رحم یا کسی گناہ کے کام سے ہو۔ تیسری یہ دعا کی قبولیت کا بھی اللہ کے ہاں ایک مقرر وقت ہوتا ہے۔ لہٰذا اس سلسلہ میں انسان کو نہ جلد بازی کرنی چاہیے اور نہ مایوس ہونا چاہیے کیونکہ بعض دفعہ دعا کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس سے کوئی نازل ہونے والی مصیبت دور کردی جاتی ہے اور چوتھی یہ کہ جو دعا کی جائے پورے خلوص نیت سے اور تہ دل سے کی جائے۔ بے توجہی سے اور عادتاً دعا کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اور پانچویں یہ کہ دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے بعد اپنی حاجت کے لیے دعا کی جائے اور چھٹے یہ کہ اگر اسے اپنی دعا قبول ہوتی نظر نہ آ رہی ہو تو بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ صرف اللہ سے دعا کرنے اور کرتے رہنے کا حکم ہے۔ اس کی قبولیت بسا اوقات اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمتوں کے تابع ہوتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کی دعا کی قبولیت سے کسی دوسرے شخص یا زیادہ لوگوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو اللہ کی حکمت کا تقاضا یہی ہوگا کہ اسے قبول نہ کرے تاہم ایسی دعا کا یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ اس کے نامہ اعمال میں دعا مانگنے کی نیکی لکھی جائے گی اور اس کا اجر اسے آخرت میں مل جائے گا یا اس پر آنے والی کوئی بیماری یا مصیبت اٹھا لی جاتی ہے۔ پھر بعض اوقات ایسے ہوتے ہیں جن میں دعا جلد قبول ہوتی ہے۔ مثلاً لیلۃ القدر میں یا سجدہ کے وقت یا جمعہ کے دن اور ان کی تفصیل کتب احادیث میں موجود ہے۔ پھر کچھ حالات بھی ایسے ہوتے ہیں جن میں دعا فوراً قبول ہوتی ہے۔ مثلاً مضطر اور مصیبت کے مارے کی دعا، یا مظلوم کی ظالم کے حق میں بددعا یا والدین کی اپنی اولاد کے حق میں بددعا۔ اس لیے کہ عادتاً والدین اپنی اولاد کے ہمیشہ خیر خواہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنی اولاد کے حق میں بددعا اسی وقت کرسکتے ہیں جبکہ اولاد کی طرف سے انہیں کوئی انتہائی دکھ پہنچا ہو۔ رہی اللہ کو بلند آواز یا آہستہ آواز سے پکارنے کی بات تو اس آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اللہ قریب ہے۔ لہٰذا اسے آہستہ آواز سے پکارنا چاہیے۔ تاہم اس میں بھی انسان کی نیت ارادہ کا بہت دخل ہے اور حسن نیت سے ہی عمل میں خوبی پیدا ہوتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ مکی دور میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نکلے تو دیکھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آہستہ اور پرسوز آواز سے نماز میں قرآن پاک پڑھ رہے ہیں۔ آپ آگے گئے تو دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بلند اور گرجدار آواز سے پڑھ رہے ہیں۔ صبح آپ نے پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ تم اتنی آہستہ آواز سے قرآن پاک کیوں پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس لیے کہ میرا رب میرے نزدیک ہے۔ پھر آپ نے عمر رضی اللہ عنہ سے بلند آواز سے قرآن پڑھنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ میں سونے والوں کو جگاتا ہوں اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ آپ نے دونوں کے جواب سن کر دونوں کی ہی تحسین فرمائی۔ اور بعض دفعہ حالات کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ اللہ کا نام بلند آواز سے پکارا جائے جیسے حج و عمرہ کے درمیان تلبیہ پکارنا یا تکبیرات عیدین یا جہاد کے سفر میں اللہ اکبر کہنا یا دوران جنگ یا کفار کے مقابلہ اور ان کا جی جلانے کے لیے بلند آواز سے نعرہ لگانا ایسے تمام مواقع پر اللہ کو بلند آواز سے ہی پکارنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ البقرة
187 [٢٣٩]میاں بیوی ایک دوسرے کالباس ہونے کامفہوم:میاں بیوی کے تعلقات کے لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف استعارہ فرمایا۔ جس کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جس طرح لباس اور جسم کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہیں ہوتی اسی طرح میاں بیوی کا تعلق ایک دوسرے کے ساتھ ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ تم دونوں ایک دوسرے کے راز دار اور رازدان ہو۔ تیسرے یہ کہ تم دونوں ایک دوسرے کی عزت کے شریک ہو اور چوتھے یہ کہ تم دونوں ایک دوسرے کے پردہ پوش ہو وغیرہ وغیرہ۔ [٢٤٠] رمضان میں رات کومباشرت کی اجازت:۔ ابتدائے اسلام میں رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں سے مباشرت کرنے کے متعلق کوئی واضح حکم موجود نہ تھا۔ تاہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اپنی جگہ اسے ناجائز سمجھتے تھے۔ پھر بعض صحابہ رضی اللہ عنہ مکروہ سمجھتے ہوئے بھی اس کام سے باز نہ رہ سکے۔ چنانچہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب روزے فرض ہوئے تو لوگ سارا مہینہ عورتوں کے پاس نہ جاتے۔ پھر بعض لوگوں نے چوری چوری یہ کام کرلیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (بخاری، کتاب التفسیر، زیر آیت مذکورہ) [٢٤١] یعنی مباشرت اس لیے کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اولاد مقدر فرمائی ہے وہ عطا فرما دے گویا اس آیت سے عزل اور لواطت اور دبر میں جماع کرنے وغیرہ سب باتوں کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔ اور اگر کوئی شخص رمضان میں دن کو روزہ کی حالت میں مباشرت کرے تو اسے اس کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : روزہ توڑنے کا کفارہ:۔ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص (سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں تباہ ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیوں کیا بات ہوئی؟ کہنے لگا! میں رمضان میں اپنی عورت پر جا پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تو ایک غلام آزاد کرسکتا ہے؟ کہنے لگا، مجھ میں یہ قدرت نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا دو مہینے کے پے در پے روزے رکھ سکتا ہے؟ کہنے لگا۔ نہیں (اتنا مقدور ہوتا تو یہ روزہ ہی کیوں توڑتا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اچھا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ کہنے لگا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا کہ اچھا بیٹھ جاؤ۔ اتنے میں آپ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا آ گیا جس میں پندرہ صاع کھجور آ سکتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا۔ لے ٹوکرا لے جا اور اسے محتاجوں میں تقسیم کر دے۔ وہ کہنے لگا کہ میں اسے ان لوگوں میں تقسیم کروں جو ہم سے بڑھ کر محتاج ہوں۔ قسم اس پروردگار کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ مدینہ کے دونوں کناروں میں اس سرے سے اس سرے تک کوئی گھر والے ہم سے زیادہ محتاج نہیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کی کچلیاں نظر آنے لگیں اور فرمایا جا اپنے بیوی بچوں کو ہی کھلا دے۔ (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب من اعان المعسر فی الکفارۃ) اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ فرضی روزہ توڑنے کا کفارہ بعینہ وہی ہے جو سورۃ مجادلہ کی آیت نمبر ٣ اور ٤ میں مذکور ہے۔ اور دوسری یہ کہ کفارہ دینے والا اگر محتاج اور تنگ دست ہو تو اس کی صدقہ و خیرات سے مدد کی جا سکتی ہے جیسا کہ عنوان باب سے معلوم ہوتا ہے۔ [٢٤٢] یعنی رات کی تاریکی سے سپیدہ فجر نمایاں ہوجائے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ بعض صحابہ کاقرآن فہمی میں غلطی کھانا:۔عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں نے رات کو ایک سفید ڈوری اور ایک کالی ڈوری (اپنے تکیے کے نیچے) رکھ لیں۔ انہیں دیکھتا رہا مگر تمیز نہ ہوئی (کھاتے پیتے رہے) جب صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنے تکیے تلے دو ڈوریاں رکھ لی تھیں۔‘‘ آپ نے (مزاحاً) فرمایا : ’’ تمہارا تکیہ تو بہت بڑا ہے جس کے نیچے (صبح کی) سفید ڈوری اور (رات کی) کالی ڈوری آ گئی۔‘‘ (بخاری، کتاب التفسیر، باب آیت مذکور) [٢٤٣] براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب کوئی روزہ رکھتا اور افطار کرنے سے پہلے سو جاتا تو پھر اگلی شام تک کچھ نہ کھا سکتا تھا۔ قیس بن صرمہ نے روزہ رکھا جب افطار کا وقت آیا تو بیوی سے پوچھا :’’ کیا کھانے کو کوئی چیز ہے؟‘‘ وہ بولیں۔ نہیں، لیکن میں ابھی جاتی ہوں تو تمہارے کھانے کو کچھ لے آتی ہوں۔ بیوی چلی گئی، قیس دن بھر کے تھکے ماندے تھے۔ نیند نے غلبہ کیا اور وہ سو گئے۔ بیوی نے واپس آ کر دیکھا تو بہت دکھ ہوا۔ الغرض انہوں نے کچھ کھائے پئے بغیر پھر روزہ رکھ لیا۔ لیکن ابھی آدھا دن ہی گزرا تھا کہ بے ہوش ہوگئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا گیا تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب الصوم، باب قول اللہ آیت احل لکم لیلۃ الصیام الرفث۔۔ الخ، اور ترمذی، ابو اب التفسیر، باب آیت مذکور) [٢٤٤]روزہ کھولنے میں جلدی اور سحری دیر سے کھانا:۔ یعنی آغاز سحر سے لے کر آغاز رات یعنی غروب آفتاب تک روزہ کا وقت ہے۔ غروب آفتاب کے فوراً بعد روزہ افطار کرلینا چاہیے۔ یہود غروب آفتاب کے بعد احتیاطاً اندھیرا چھا جانے تک روزہ نہیں کھولتے تھے۔ اس لیے آپ نے فرمایا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک روزہ جلد افطار کرے گی۔ (روزہ کھولنے میں جلدی اور سحری دیر سے کھانا چاہیے۔) (بخاری، کتاب الصوم۔ باب تعجیل الافطار) ١۔ نیز عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر (غزوہ فتح مکہ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ آپ نے ایک آدمی (بلال رضی اللہ عنہ سے) فرمایا کہ اتر اور میرے لیے ستو گھول۔ وہ کہنے لگا! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو سورج کی روشنی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اتر اور میرے لیے ستو گھول۔ بلال رضی اللہ عنہ پھر کہنے لگے! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو سورج کی روشنی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسری بار فرمایا : اتر اور میرے لیے ستو گھول۔ آخر وہ اترے اور ستو گھولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ جب ادھر سے رات کا اندھیرا شروع ہو تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہوگیا۔ (بخاری : کتاب الصوم، باب الصوم فی السفر والافطار ) ٢۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دیکھو! تم بلال (رضی اللہ عنہ) کی اذان کہنے سے سحری کھانے سے رک نہ جانا۔ بلال (رضی اللہ عنہ) تو اس لیے اذان دیتا ہے کہ جو شخص (تہجد کی نماز میں) کھڑا ہو وہ لوٹ جائے۔ اور صبح یا فجر کی روشنی وہ نہیں ہے جو اس طرح لمبی ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر بتلایا کہ یہ صبح کاذب ہے۔ پھر ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے جدا کر کے دائیں بائیں کھینچا (یہ صبح صادق ہے) بخاری۔ کتاب الطلاق۔ باب الاشارۃ فی الطلاق والامور) اسی طرح روزہ رکھتے وقت آخری وقت کھانا پینا افضل ہے۔ (بخاری، کتاب الصوم باب تاخیر السحور) قطبین پرنماز اور روزے:۔ بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ قطبین کے قریب جہاں رات اور دن کئی کئی مہینوں کے ہوتے ہیں، وہاں نماز اور روزہ کے لیے اوقات کی تعیین کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ سوال بس برائے سوال ہی ہے کیونکہ قطبین پر اتنی شدید سردی ہوتی ہے کہ وہاں انسانوں کا زندہ رہنا ہی ناممکن ہے اور جہاں سے انسانی آبادی شروع ہوتی ہے۔ وہاں کے دن رات خط استوا کی طرح واضح نہ سہی اتنے واضح ضرور ہوتے ہیں کہ صبح و شام کے آثار وہاں پوری باقاعدگی سے افق پر نمایاں ہوتے ہیں اور انہی کا لحاظ رکھ کر وہاں کے باشندے اپنے سونے جاگنے، کام کرنے اور تفریح کے اوقات مقرر کرتے ہیں۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ یہ آثار نماز اور سحر و افطار کے معاملہ میں وقت کی تعیین کا کام نہ دے سکیں اور جہاں کئی کئی مہینے رات اور دن ہوتے ہیں۔ وہاں صرف روزہ کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ زندگی کے دوسرے مسائل بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً وہ لوگ کتنے گھنٹے سوتے ہیں۔ کمائی اور کاروبار کب اور کیسے کرتے ہیں اور کتنے گھنٹے کرتے ہیں۔ ان سب باتوں کا جواب یہی ہے کہ ایسے مقامات پر انسان سردی کی وجہ سے زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔ [٢٤٥]اعتکاف کےاحکام اورمسائل:۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اعتکاف ہر مسجد میں ہوسکتا ہے اور صرف مسجد میں ہی ہوسکتا ہے۔ رمضان میں بھی ہوسکتا ہے اور غیر رمضان میں بھی، مگر چونکہ رمضان میں دوسرے مہینوں کی نسبت بہت زیادہ ثواب ملتا ہے اور رمضان میں اعتکاف فرض کفایہ کی حیثیت رکھتا ہے لہٰذا اسی کی زیادہ اہمیت ہے۔ بہتر تو یہی ہے کہ آخری عشرہ رمضان اعتکاف میں گزارا جائے۔ تاہم یہ کم وقت حتیٰ کہ ایک دن کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔ اعتکاف کی حالت میں شرعی عذر کے بغیر باہر نہ جانا چاہئے۔ نہ زیادہ دنیوی باتوں میں مشغول ہونا چاہئے اور اعتکاف کی حالت میں اپنی بیویوں سے صحبت بھی منع ہے۔ فقہاء نے اعتکاف کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک مسنون جو سنت نبوی سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کی عام مدت دس دن ہے اور رمضان کے آخری عشرہ کی صورت میں ٩ یا دس دن بشرط رؤیت ہلال عید۔ ایک دفعہ آپ جب اعتکاف کے لیے اپنے خیمہ کی طرف گئے تو دیکھا کہ آپ کی کئی بیویوں نے بھی مسجد نبوی میں اعتکاف کے لیے خیمے لگا رکھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ ان بیویوں نے یہ حسن نیت کی بنا پر نہیں بلکہ جذبہ رقابت سے کیا ہے۔ لہٰذا ان کے سب خیمے اٹھا دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خیمہ بھی اٹھوا دیا اور یہ رمضان کا آخری عشرہ تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سال رمضان میں اعتکاف نہیں کیا بلکہ عید کے بعد شوال میں کرلیا۔ اور ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا۔ پھر جبریل علیہ السلام نے آپ کو بتلایا کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ میں ہوگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرہ بھی اعتکاف میں گزارا۔ اسی طرح اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتکاف بیس دن کا ہوگیا۔ ان سب احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسنون اعتکاف ایک عشرہ سے کم نہیں ہوتا اور افضل اعتکاف رمضان کا آخری عشرہ ہے اور اس بات میں اعتکاف کرنے والے کو اختیار ہے کہ وہ چاہے تو اکیسویں رات نماز عشاء اور قیام اللیل کے بعد اعتکاف میں بیٹھ جائے یا مغرب کے بعد ہی بیٹھ جائے یا صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد بیٹھ جائے۔ اور اعتکاف کی دوسری قسم اعتکاف واجب ہے۔ یعنی وہ اعتکاف جو اعتکاف کرنے والا اللہ سے عہد کر کے اپنے اوپر واجب قرار دے لیتا ہے اس کی کوئی مدت متعین نہیں۔ یہ سات دن کا بھی ہوسکتا ہے، تین دن کا بھی، ایک دن کا بھی۔ حتیٰ کہ صرف ایک رات کا بھی اور اس کا کوئی وقت بھی متعین نہیں خواہ رمضان میں ہو یا کسی دوسرے مہینہ میں اور اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے جاہلیت کے زمانہ میں یہ منت مانی تھی کہ ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا۔’’تو آپ نے فرمایا کہ اپنی منت پوری کرو۔ ‘‘ (بخاری، کتاب الصوم۔ باب الاعتکاف لیلا) واضح رہے کہ منت صرف وہی پوری کرنی چاہیے جس میں اللہ کی معصیت نہ ہوتی ہو اور اگر کسی خلاف شرع کام پر منت مانی ہو تو اسے ہرگز پورا نہ کرنا چاہیے۔ [٢٤٦] اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ان حدوں سے تجاوز نہ کرنا بلکہ یوں فرمایا کہ ان حدوں کے قریب بھی نہ پھٹکنا اور ان دونوں قسم کے فقروں میں جو فرق ہے وہ سب سمجھ سکتے ہیں۔ البقرة
188 [٢٤٧]باطل طریقوں سے مال کھانے کی صورتیں :۔ باطل طریقوں سے دوسروں کا مال ہضم کرنے کی کئی صورتیں ہیں مثلاً چوری، خیانت، دغابازی، ڈاکہ، جوا، سود اور تمام ناجائز قسم کی تجارتیں اور سودے بازیاں ہیں اور اس آیت میں بالخصوص اس ناجائز طریقہ کا ذکر ہے جو حکام کی وساطت سے حاصل ہو۔ اس کی ایک عام صورت تو رشوت ہے کہ حاکم کو رشوت دے کر مقدمہ اپنے حق میں کرا لے اور اس طرح دوسرے کا مال ہضم کر جائے اور دوسری یہ کہ مثلاً تمہیں معلوم ہے کہ فلاں جائیداد یا فلاں چیز زید کی ہے۔ لیکن اس کی ملکیت کا کوئی ثبوت اس کے پاس موجود نہیں ہے اور تم مقدمہ کی صورت میں ایچ پیچ کے ذریعہ وہ چیز زید سے ہتھیا سکتے ہو تو اس طرح عدالت کے ذریعہ تم اس چیز کے مالک بن سکتے ہو۔ اس طرح بھی دوسرے کا مال ہضم کرنا حرام ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ’’میں ایک انسان ہی ہوں۔ تم میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو۔ ہوسکتا ہے کہ تم میں سے ایک دوسرے کی نسبت اپنی دلیل اچھی طرح پیش کرتا ہو اور میں جو کچھ سنوں اسی کے مطابق فیصلہ کر دوں اور اگر میں کسی کو اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ دینے کا فیصلہ کر دوں تو اسے چاہیے کہ نہ لے۔ کیونکہ میں اسے آگ کا ٹکڑا دے رہا ہوں۔‘‘ (بخاری، کتاب الاحکام، باب موعظۃ الامام للخصوم) البقرة
189 [٢٤٨] قمری تقویم ہی قدرتی تقویم ہے:۔ سائل کا اصل سوال یہ تھا کہ چاند کیسے گھٹتا بڑھتا ہے اور اس کی شکلیں کیوں کر بدلتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ سوال چونکہ علم ہئیت کا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے کہ عام آدمی کی ذہنی سطح سے بلند ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کا انسان کی عملی زندگی اور ہدایت سے کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس سوال کے جواب کا رخ اس طرف موڑ دیا۔ جس کا تعلق انسان کی ہدایت اور عملی زندگی سے تھا اور فرمایا کہ یہ تمہارے لیے قدرتی جنتری ہے۔ نیز تم ان اشکال قمر سے حج کے اوقات بھی معلوم کرسکتے ہو۔ یہاں یہ بات ملحوظ رکھنا چاہیے کہ جن شرعی احکام کا تعلق دن کے اوقات سے ہو ان کا تعلق سورج سے ہوگا۔ جیسے نمازوں کے اوقات اور روزہ کے لیے سحری و افطاری کے اوقات۔ اسی طرح دنوں کا شمار سورج سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر جب یہ مدت ایک ماہ یا ایک ماہ سے زائد ہوگی تو مدت کا شمار چاند کے حساب سے ہوگا۔ مثلاً رمضان کے ایام (انتیس ہیں یا تیس) بیوہ یا مطلقہ کی عدت، مدت حمل، رضاعت وغیرہ اور زکوٰۃ کا حساب بھی قمری سال کے مطابق ہوگا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حقیقی اور قدرتی تقویم قمری ہی ہے اور یہی مواقیت للناس کا مطلب ہے۔ رہے حج کے اوقات تو وہ ماہ شوال، ذیقعد اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔ [٢٤٩]جاہلیت میں مزعومہ نیکی کے کام:۔ جاہلیت کا ایک دستور یہ بھی تھا کہ حج کا احرام باندھنے کے بعد اگر کسی کو گھر آنے کی ضرورت پیش آ جاتی اور اسی طرح حج سے واپسی کے بعد تو یہ لوگ واپس گھر کے دروازہ کے بجائے گھر کے پچھواڑے سے یا پچھلی دیوار میں کسی کھڑی سے گھر میں داخل ہوتے اور اسے نیکی کا کام سمجھتے تھے چنانچہ حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہم انصاری لوگوں کے حق میں نازل ہوئی وہ جب حج کر کے واپس آتے تو دروازوں سے نہ آتے بلکہ پچھواڑے سے آتے۔ ایک دفعہ ایک انصاری دروازے سے اندر آیا تو سب اسے لعنت ملامت کرنے لگے۔ تب یہ آیت اتری۔ (بخاری، کتاب المناسک، باب قولہ تعالیٰ واٰتوا البیوت من ابو ابھا) اس سے ضمناً یہ معلوم ہوگیا کہ کسی بات کو نیکی سمجھ کر دین میں داخل کردینا مذموم اور ممنوع ہے اور بدعات بھی اسی ذیل میں آتی ہیں۔ البقرة
190 [٢٥٠] مدافعانہ جنگ کی اجازت:مکہ میں مسلمانوں کو مخالفین کے ظلم و ستم پر صبر کرنے کی ہی ہدایت کی جاتی رہی۔ مدینہ آ کر جب مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی ریاست قائم ہوگئی تو مسلمانوں کو لڑائی کی اجازت مل گئی اور اس سلسلہ میں پہلی آیت جو نازل ہوئی وہ سورۃ حج کی یہ آیت تھی۔ ﴿ اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرُ﴾ (۳۹:۲۲) ’’جن لوگوں سے لڑائی کی جاتی رہی اب انہیں (بھی لڑنے کی) اجازت دی جاتی ہے۔ کیونکہ ان پر ظلم ہوتا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘ مگر ساتھ ہی یہ تاکید کی گئی کہ صرف انہیں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کریں۔ کیونکہ جنگ سے تمہاری کوئی مادی غرض وابستہ نہیں اور اس آیت سے مدافعانہ جنگ کی اجازت ملی۔ [٢٥١] جنگ کےآداب :۔ یعنی نہ تو ان لوگوں سے جنگ کرو جو دین حق کی راہ میں مزاحم نہیں ہوتے اور نہ لڑائی میں جاہلی طریقے استعمال کرو، یعنی عورتوں، بوڑھوں، بچوں اور زخمیوں پر دست درازی نہ کرو۔ دشمن کی لاشوں کا مثلہ نہ کرو اور خواہ مخواہ کھیتوں اور مویشیوں کو برباد نہ کرو وغیرہ وغیرہ جن کی احادیث میں ممانعت آئی ہے۔ یعنی قوت وہاں استعمال کرو جہاں ضرورت ہو اور اتنی ہی کرو جتنی ضرورت ہو۔ البقرة
191 [٢٥٢] فتنہ کاسدباب اورجہاد:۔ اب جہاں بھی موقع پیش آئے تم ان سے لڑائی کرو اور تمہارا مطمح نظر یہ ہونا چاہیے کہ جیسے انہوں نے اسلام لانے کی وجہ سے تمہیں مکہ سے نکالا تھا۔ تم بھی ان کو ان کے مشرک ہونے اور مشرک رہنے کی وجہ سے مکہ سے نکال کے دم لو، اور یہ ادلے کا بدلہ ہے۔ [٢٥٣] فتنہ کا لفظ عربی زبان میں بڑے وسیع مفہوم اور کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً مشرکین مکہ کا بیت اللہ کا متولی ہونا اور بیت اللہ میں بت رکھنا، مسلمانوں کو بیت اللہ میں نماز ادا کرنے، حتیٰ کہ داخل ہونے سے روکنا یہ سب فتنہ کے کام ہیں گویا یہاں فتنہ سے مراد مشرکین مکہ کی ہر وہ حرکت ہے جو انہوں نے دین اسلام کو روکنے کی خاطر کی تھی۔ مثلاً مسلمانوں پر ظلم و ستم اور جبر و استبداد، انہیں دوبارہ کفر پر مجبور کرنا، اگر وہ ہجرت کر جائیں تو ان کا پیچھا نہ چھوڑنا اور بعد میں ان کے اموال و جائیداد کو غصب کرلینا وغیرہ وغیرہ یہی سب باتیں فتنہ میں شامل ہیں۔ ایسی تمام باتوں کے سدباب کے لیے جہاد کرنا ضروری قرار دیا گیا۔ [٢٥٤] یعنی مکہ جائے امن ضرور ہے لیکن اگر وہ یہاں تم سے لڑائی کریں تو جوابی کارروائی کے طور پر تم بھی کرسکتے ہو۔ ازخود لڑائی کی ابتداء مکہ میں تمہاری طرف سے نہ ہونا چاہیے۔ البقرة
192 البقرة
193 [٢٥٥] فتنہ سے مراد ہر وہ مزاحمت اور قوت ہے جو تبلیغ و اشاعت اسلام کی راہ میں آڑے آئے جس سے اللہ کے دین کے مطابق زندگی بسر کرنا ممکن نہ رہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام صرف مدافعانہ جنگ کا قائل نہیں۔ بلکہ اسلام کی اشاعت میں جو قوت رکاوٹ بنے اس سے جارحانہ جنگ کرنا ضروری ہے۔ تاآنکہ ایسی رکاوٹیں ختم ہوجائیں اور اللہ کا دین غالب ہو۔ البتہ جو لوگ اپنی شرارتوں سے باز آ جائیں اور جزیہ دینا قبول کرلیں۔ ان پر تمہیں ہاتھ نہ اٹھانا چاہیے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اپنے عقائد یا دین یا مذہب سے مجبور ہو کر اسلام قبول کرلیں کیونکہ اسلام قبول کرنے کے لیے کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ کیااسلام ایک جنگجودین ہے یاامن پسند؟ اس آیت اور اس سے پہلی آیت کی بنا پر مخالفین اسلام کی طرف سے اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس نے جہاد کو فرض قرار دے کر ایک مستقل جنگ کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ لہٰذا اسے ایک امن پسند مذہب نہیں کہا جا سکتا۔ عرب قبائل ہمیشہ آپس میں برسرپیکار رہتے تھے۔ اسلام نے آ کر صرف یہ تبدیلی پیدا کی کہ ان کا رخ باہمی خانہ جنگیوں سے ہٹا کر بیرونی دنیا کی طرف موڑ دیا۔ لیکن ان کی جنگ جوئی میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوئی۔ اسلام نے یہ کیا کہ پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ ایک دارالاسلام جہاں اسلامی حکومت قائم ہو اور دوسرا دارالحرب جہاں غیر مسلم حکومت ہو۔ بالفاظ دیگر ایک حصہ عالم اسلام ہے اور دوسرا عالم جنگ۔ دارالاسلام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دارالحرب یا غیر مسلموں سے برسرپیکار رہ کر انہیں دارالاسلام میں شامل کرتا چلا جائے۔ تاآنکہ وہ ساری دنیا کو اپنے دائرہ اقتدار میں لے لے۔ یہ ہے ان عقلی و نقلی دلائل کا خلاصہ جن سے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اسلام کوئی امن پسند یا صلح جو مذہب نہیں۔ بلکہ اپنے مزاج کے لحاظ سے ہر وقت برسرپیکار رہنا چاہتا ہے۔ مشرکین اور اہل کتاب میں اسلام نے فرق کیاہے:۔ پیشتر اس کے کہ اس اعتراض کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے۔ دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ اسلام سب غیر مسلموں سے ایک جیسا سلوک روا نہیں رکھتا بلکہ اس نے مشرکین اور اہل کتاب میں فرق کیا ہے۔ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال، ان کا کھانا جائز اور کتابیہ عورت سے نکاح جائز ہے۔ جبکہ مشرکوں کی کوئی چیز جائز نہیں۔ اہل کتاب پر جنگ سے بیشتر تین شرائط پیش کی جاتی ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ اسلام قبول کرلیں اور اگر یہ منظور نہ ہو تو پھر دارالاسلام میں اطاعت گزار بن کر رہیں انہیں مذہبی آزادی حاصل ہوگی اور دفاعی اخراجات کے طور پر جزیہ دینا یا اس کی متبادل صورت اختیار کرنا ہوگی اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو پھر تیسری شرط یہ ہے کہ جنگ کے لیے تیار ہوجائیں۔ لیکن مشرکین کے لیے اطاعت گزار بن کر رہنے کی کم از کم حجاز میں گنجائش نہیں۔ ان پر بھی تین شرائط پیش کی جاتی ہیں۔ جیسا کہ سورۃ توبہ کے آغاز میں مذکور ہے یعنی (١) اسلام قبول کرلیں، اگر یہ منظور نہ ہو تو (٢) دارالاسلام کو چھوڑ کر چلے جائیں اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو پھر (٣) جنگ کے لیے تیار ہوجائیں۔ گویا ان کے لیے شرط نمبر ٢ اطاعت گزار بن کر رہنے کی بجائے حجاز کو چھوڑ کر چلے جانے کی ہے۔ مشرکوں پہ سختی کیوں ؟ مشرک کی عام تعریف یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ کسی کتاب کا قائل نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے متعلق کوئی واضح عقیدہ نہ رکھتا ہو اور اس کی صفات میں دوسری چیزوں کو بھی شریک بناتا ہو مندرجہ بالا شرائط سے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام کی نظر میں سب غیر مسلم یکساں نہیں۔ وہ اہل کتاب سے نسبتاً نرم رویہ اختیار کرتا ہے اور مشرکین کے معاملہ میں سخت ہے اور مندرجہ بالا دونوں آیات جن سے یہ اعتراض اخذ کیا گیا ہے۔ مشرکین کے معاملہ میں مشرکین سے تعلق رکھتی ہیں نہ کہ اہل کتاب سے اور مشرکین پر سختی کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک تحریک ہے جو فتنہ کو ختم کرنا چاہتا ہے اور اس کی نگاہوں میں چونکہ سب سے بڑا فتنہ شرک ہے۔ لہٰذا شرک کو ختم کرنا اس کا اولین مقصد ہے۔ دوسری قابل وضاحت بات یہ ہے کہ بلحاظ اقامت پذیری دارالاسلام کی تین اقسام ہیں۔ ١۔ حرمین یعنی حرم مکہ اور مدینہ ان مقامات میں صرف مسلمان ہی رہ سکتے ہیں، مشرک ہوں یا اہل کتاب یہاں اقامت اختیار نہیں کرسکتے۔ ٢۔ جزیرہ العرب یا حجاز، اس میں اہل کتاب معاہد کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں۔ جب تک کہ وہ اپنے عہد پر قائم رہیں۔ اور اگر بغاوت وغیرہ کریں تو انہیں دارالاسلام کے کسی دوسرے علاقہ میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مشرکین کو اس خطہ میں برداشت نہیں کیا گیا۔ ٣۔ باقی دارالاسلام میں اہل کتاب تو اطاعت گزار بن کر پوری آزادی سے رہ سکتے ہیں۔ لیکن مشرکین کو گوارا ہونے کی حد تک برداشت کیا گیا ہے۔ (اسلام کے قانون جنگ و صلح ص ١٤٨) اعتراض کاپہلا جواب مسلمان فطرتاً صلح جواورامن پسندہیں:۔ ان تصریحات کے بعد اب ہم اصل اعتراض کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ یہ اعتراض دو وجوہ سے غلط ہے :۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ بلاشبہ عرب کے اکثر قبائل جنگ جو واقع ہوئے تھے۔ لیکن ان کے سب افراد جنگ جو نہیں تھے۔ بلکہ ان میں کثیر طبقہ ایسا بھی تھا جو اس قتل و غارت کا ہدف بنے ہوئے تھے۔ وہ کمزور تھے، مظلوم تھے۔ نہتے تھے اور فطرتاً بھی قتل و غارت اور ظلم و فساد سے نفرت کرتے تھے۔ پھر اشراف میں بھی ایک ایسا طبقہ موجود تھا جو صلح پسند اور امن پسند تھا اور قتل و غارت اور ظلم و جور سے نفرت کرتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے حلف الفضول کا واقعہ اس بات کی تاریخی شہادت موجود ہے۔ ایسے ہی لوگ ابتداًء اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ جس کی شہادت درج ذیل آیات ہیں۔ ١۔ ﴿ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ ﴾(۲۱۶:۲)تم پر جنگ فرض کی گئی ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔ ٢۔ ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَا قِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ ﴾(۳۸:۹) اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں (جہاد کے لئے) نکلو تو تم زمین سے چمٹے جاتے ہو۔ دور نبوی کی سب سے پہلی جنگ بدر میں مسلمانوں کی ’’ جنگ جوئی‘‘ کی کیفیت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔ ٣۔ ﴿ كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِن بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ﴾ (۶،۵:۸) ’’جیسا کہ آپ کے پروردگار نے آپ کو آپ کے گھر سے نکالا اور بلاشبہ مومنوں کا ایک گروہ اس (جنگ) کو ناپسند کر رہا تھا۔ وہ لوگ حق بات ظاہر ہوجانے کے بعد آپ سے جھگڑنے لگے۔ گویا وہ موت کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں اور وہ موت کو سامنے دیکھ رہے ہیں۔‘‘ ٤۔ اسی بنا پر آپ کو حکم ہوتا ہے کہ : ﴿ یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ ﴾(۶۵:۸) ’’اے نبی! مومنوں کو جنگ کرنے کے لیے رغبت دلاؤ۔‘‘ غور فرمائیے کہ اگر مسلمان پہلے ہی جنگ جو تھے تو ان آیات اور احکامات کی کیا ضرورت تھی؟ اور یہی لوگ اسلام کا ابتدائی اور قیمتی سرمایہ تھے۔ اصل بات یہی تھی کہ اسلام کے یہ ابتدائی جانثار صلح جو اور امن پسند تھے۔ پھر جب ظلم و فساد کے خاتمہ کے لیے ان پر جنگ فرض کی گئی تو انہوں نے اسے ناگوار سمجھنے کے باوجود اللہ کا حکم سمجھ کر سر انجام دیا۔ البتہ نوجوان اور جرات مند طبقہ مکی دور میں بھی لڑائی کی اجازت مانگتا رہا مگر انہیں صبر ہی کی تلقین کی جاتی رہی۔ اعتراض کادوسراجواب:اس اعتراض کے غلط ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جنگ جو وہی لوگ کہلائے جا سکتے ہیں جو جارحانہ اقدامات کریں۔ اس معیار پر غور کرنے کے لیے دور نبوی کی جنگوں کے اسباب پر سرسری نظر ڈالنا ہوگی۔ ١۔ غزوہ بدر، احد اور خندق خالصتاً مدافعانہ جنگیں تھیں جو طوعاً و کرہاً مسلمانوں کو لڑنا پڑیں۔ ٢۔ غزوہ بنو قینقاع، بنو نضیر، بنو قریظہ اور خیبر سب یہودیوں کی بد عہدیوں اور فتنہ انگیزیوں کی بنا پر لڑی گئیں۔ اگر یہ لوگ اپنے عہد پر قائم رہتے تو کبھی بپا نہ ہوتیں۔ ٣۔ غزوہ مکہ کا سبب قریش کی طرف سے معاہدہ حدیبیہ کی عہد شکنی تھی۔ ٤۔ سریہ مؤتہ اور غزوہ تبوک، سفیر کے قتل اور سرحد کی حفاظت کے لیے پیش آئیں اور وہ کون سی حکومت ہے جو اپنے سفیر کے قتل پر خاموش رہ سکتی ہے۔ یا اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے لشکر روانہ نہیں کرتی۔ ٥۔ غزوہ حنین، اوطاس اور طائف میں دشمن نے خود مسلمانوں کو جنگ کے لیے للکارا تھا اور آپ نے پردیس میں کافروں سے نقد رقم اور اسلحہ بطور ادھار اور عاریتاً لے کر ان جنگوں کو نبھایا تھا۔ (موطا، ابو داؤد، باب الضمانہ) غور فرما لیجئے کہ ان میں کونسی جنگ کو جارحانہ یا ظالمانہ جنگ کا نام دیا جا سکتا ہے؟ اب رہا دارالاسلام اور دارالحرب کا مسئلہ، بلاشبہ یہ اصطلاحیں فقہائے اسلام نے وضع کی ہیں لیکن انہیں عام اسلام اور عام جنگ کے معنوں میں پیش کرنے میں کئی ایک مغالطے ہیں جو درج ذیل ہیں۔ ١۔ جو غیر مسلم حکومتیں غیر جانبدر رہنا چاہیں اور مسلمانوں کو نہ خود چھیڑیں اور نہ مسلمانوں کے خلاف حمایت کریں۔ خواہ وہ حکومت اہل کتاب کی ہو یا مشرکین کی اسلام ان سے لڑنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ اس کے برعکس اس سے بہتر سلوک کی تائید کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے : ﴿ لَا یَنْہٰیکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْہِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ﴾(۸:۶۰) '' اللہ تمہیں ان لوگوں سے بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے منع نہیں کرتا جو دین کے سلسلہ میں تم سے نہیں لڑتے اور نہ ہی انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔'' دارالحرب کے سلسلے میں مغالطے:۔ گویا دارالحرب بھی دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ ایک غیر جانبدار علاقہ جو فی الحقیقت دارالحرب نہیں ہے اور امن پسند ممالک عموماً غیر جانبدار ہی رہتے ہیں۔ لہٰذا دارالحرب آدھے سے بھی کم رہ گیا۔ ٢۔ باقی حربی علاقہ میں ایسے ممالک بھی ہو سکتے ہیں جن سے صلح کے معاملات طے پائے ہوں اور ان کی مدت صلح عموماً دس سال ہوتی ہے۔ جب تک ایسے ممالک بدعہدی نہ کریں۔ ان سے جنگ کی قطعاً اجازت نہیں۔ ٣۔خطرہ جنگ اور حالات کافرق: اس کے بعد جو ممالک بچ جائیں وہ فی الواقعہ ’’ دارالحرب‘‘ ہیں اور وہ وہی ممالک ہو سکتے ہیں جو مسلمانوں کے مخالف ہوں یا مخالفوں کا ساتھ دیتے ہوں، اور وہ صلح پر بھی آمادہ نہ ہوں اور ظاہر ہے کہ ایسے ممالک تھوڑے ہی رہ جاتے ہیں۔ لیکن ایسے ممالک پر بھی ’’ حالات جنگ‘‘ کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ حالات جنگ اور چیز ہے اور خطرہ جنگ اور چیز۔ اس کی قریب ترین مثال پاکستان اور بھارت کی ہے۔ پاکستان دو قومی نظریہ کا علمبردار ہے اور بھارت ایک قومی نظریہ کا حامی ہے۔ نظریہ کے اس تضاد نے ہر وقت جنگ کا خطرہ تو پیدا کردیا ہے۔ لیکن حالات جنگ مدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں اور یہ اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کوئی ملک اپنے حقوق سے تجاوز کرجاتا ہے۔ آج کی مہذب اقوام کے نزدیک طاقت کے ذریعہ اپنے مفادات کی حفاظت ہی سب سے بڑا حق ہے۔ مثلاً پچھلے دنوں روس نے یہ سمجھا کہ گرم پانی کی بندرگاہ تک پہنچنا اس کا حق ہے۔ لہٰذا افغانستان، ایران اور پاکستان پر اس کا تسلط ہونا چاہیے۔ مگر متعلقہ ممالک یا حریف ممالک نے اس کے اس حق کو ناجائز سمجھا اور تسلیم نہ کیا۔ افغانستان میں جنگ چھڑ گئی اور پاکستان اور ایران کے لیے حالات جنگ پیدا ہوگئے۔ اسلام میں کن صورتوں میں حالات جنگ پیداہوتےہیں:۔ لیکن اسلام ایسے دنیوی اور ذاتی مفادات کے لیے بھی جنگ کرنے کا قطعاً روادار نہیں، اس کے نزدیک جنگ درج ذیل وجوہ کی بنا پر لڑی جا سکتی ہے : (١) اپنے جان و مال کی حفاظت کے لیے مدافعانہ جنگ جس میں سرحدوں کی حفاظت بھی شامل ہے۔ (٢) کسی علاقہ کے مظلوم مسلمان جب امداد کے لیے پکاریں اور انہیں احکام شرعیہ کی تعمیل میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہوں۔ (٣) معاہدہ کی خلاف ورزی، عہد شکنی یا سفیر کے قتل کی بنا پر اور یہ سب باتیں دراصل جنگ کا الٹی میٹم ہوتی ہیں۔ انہی مقاصد کے لیے دور نبوی میں جنگیں لڑی گئی تھیں اور یہ سب ’’فتنہ‘‘ ہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ ان میں سے ایک بھی شق ایسی نہیں جسے ہم کسی دنیوی مفاد کی جنگ کہہ سکیں۔ گویا اسلام میں لڑائی کے جواز کا عام قانون ظلم اور فتنہ کا استیصال ہے۔ اسلام نے جنگ کرنے کے بھی اصول بتلا دیئے ہیں اور جنگ سے رک جانے یا عدم جواز کے بھی اور مسلمانوں کو بہرحال ان پر ہی کاربند رہنا لازم ہے۔ پھر جن صورتوں میں اسلام نے جنگ کرنے کی اجازت یا حکم دیا ہے وہاں بھی یہ حکم نہیں دیا کہ جاتے ہی جنگ شروع کر دو۔ بلکہ حکم یہ ہے کہ دشمن پر تین شرطیں پیش کرو۔ پہلی شرط یہ ہے کہ تم مسلمان بن جاؤ اور ہمارے بھائی بند بن کر اپنا علاقہ اور اپنی حکومت اپنے پاس رکھو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اسلام دشمنی چھوڑ دو اور اپنی مذہبی آزادی بحال رکھو اور اطاعت گزاری کی علامت اور دفاعی اخراجات کے طور پر جزیہ ادا کرو اور اگر یہ بھی منظور نہیں تو پھر تیسری اور آخری صورت جنگ ہے۔ ان حدود و قیود کے بعد بھی کیا یہ شبہ باقی رہ جاتا ہے کہ اسلام ایک جنگ جو مذہب ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی پے در پے عہد شکنیوں کی بنا پر خیبر پر چڑھائی کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دے کر فرمایا کہ ’’ اگر تمہاری تبلیغ سے ایک آدمی بھی اسلام لے آئے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد۔ باب الدعاء للمشرکین بالھدی لیتا لفھم) جنگ کی وجوہات:۔اس حدیث سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں۔ ١۔ یہ جنگ ناگزیر حالات میں کی گئی۔ جن کی بنیاد یہود کی پے در پے عہد شکنیاں تھیں۔ ٢۔ مسلمانوں کا جنگ سے مقصد نہ کشور کشائی ہے اور نہ لوٹ مار۔ ٣۔ مسلمانوں کے ہاں محبوب ترین مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنی رضا و رغبت سے اسلام لے آئیں۔ اور اگر یہ نہیں کرسکتے تو پھر کم از کم اسلام دشمنی چھوڑ دیں۔ اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو آخری چارہ کار کے طور پر جنگ کی اجازت دی گئی ہے اور ایسے بدعہد اور ہٹ دھرم قسم کے لوگوں سے جنگ کرنا لازم ہوجاتا ہے۔ [٢٥٦] جنگی قیدیوں سے سلوک:۔ ایسی رکاوٹیں ختم ہونے یا ان پر غلبہ پانے کے بعد بھی صرف ایسے آدمیوں کو سزا دینے کی اجازت ہے جو مسلمانوں پر جبر و تشدد کرنے اور انہیں ختم کردینے میں حد درجہ آگے بڑھے ہوئے یا سازشیں کرتے رہے تھے۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے قیدیوں میں سے عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث کو قتل کروا دیا اور باقی قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جیسے فتح مکہ کے موقع پر عفو عام کے باوجود آپ نے چار آدمیوں کو قتل کردینے کا حکم دیا تھا، یہ چاروں اشتہاری مجرم تھے۔ ان میں سے ایک عبداللہ بن خطل تھا جو تین ایسے جرائم میں ملوث تھا جن کی سزا اسلام میں قتل ہے اور وہ تین جرائم یہ تھے (١) وہ اسلام سے پھر گیا تھا (٢) اس نے خون ناحق کیا تھا اور (٣) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا۔ یعنی توہین رسالت کا مجرم تھا۔ چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر پر خود پہنے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے۔ جب آپ نے خود اتارا تو ایک شخص کہنے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عبداللہ بن خطل کعبہ کا پردہ پکڑے ہوئے لٹک رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ اسے قتل کر دو۔‘‘ (بخاری، کتاب المغازی، باب این رکز النبی الرایہ یوم الفتح) ایسے اشتہاری مجرموں کی مکہ بلکہ کعبہ میں قتل کی دو ہی وجوہ ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ شاید یہ وہی ساعت ہو جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ مکہ میرے لیے حلال کیا گیا ہے وہ بھی صرف چند ساعت کے لیے، وہ پہلے بھی ارض حرم تھا اور بعد میں تاقیامت ارض حرم ہی رہے گا اور دوسری یہ کہ ایسے اشتہاری مجرم کو کعبہ کی حرمت بھی پناہ نہیں دے سکتی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ البقرة
194 [٢٥٧]حرمت والے مہینوں میں جنگ:۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے لے کر عرب میں یہ دستور چلا آیا تھا کہ ذی قعد ذی الحجہ اور محرم کے مہینے حج کرنے والوں کی وجہ سے قابل احترام قرار دیئے گئے تھے اور ان کے درمیان رجب کا مہینہ عمرہ کرنے والوں کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ تاکہ حج اور عمرہ کرنے والے امن و امان سے سفر کرسکیں۔ ان مہینوں میں جدال و قتال بھی ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ چونکہ یہ ایک اچھا دستور تھا۔ لہٰذا اسلام نے اسے بحال رکھا۔ اس آیت کا منشا یہ ہے کہ اگر ان مہینوں میں کافر تم سے جنگ کرتے ہیں تو پھر تمہیں بھی ان سے جنگ کی اجازت ہے، ورنہ نہیں۔ مگر یہ خیال رہے کہ جتنی زیادتی تم پر ہوئی اتنی ہی تم کرسکتے ہو۔ اس سے زیادہ نہیں اور اس معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ البقرة
195 [٢٥٨] جہادمیں اموال خرچ کرنا:۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب اللہ نے اسلام کو عزت دی اور اس کے مددگار بہت ہوگئے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علیحدگی میں ایک دوسرے سے کہا کہ بلاشبہ ہمارے مال خرچ ہوگئے۔ اب اللہ نے اسلام کو عزت دی ہے اور اس کے مددگاروں کو زیادہ کردیا ہے۔ تو اب اگر ہم اپنے اموال سنبھال رکھیں اور جو کچھ خرچ ہوچکا اس کی تلافی شروع کردیں (تو کوئی بات نہیں) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جو کچھ ہم نے آپس میں کہا تھا اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ ہلاکت سے مراد اموال کی نگرانی، ان کی اصلاح اور جہاد کو چھوڑ دینا ہے۔'' (بخاری، کتاب التفسیر، ترمذی ابو اب التفسیر۔ زیر آیت مذکورہ) گویا اموال کو جہاد میں خرچ نہ کرنے کو اس قوم کی ہلاکت قرار دیا گیا ہے۔ [٢٥٩] احسان کیاہے؟ اور حدیث جبریل:۔ کسی حکم کو بجا لانے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ بس اس کی تعمیل کردی جائے اور دوسری یہ کہ اسے دل کی رغبت، محبت اور نہایت احسن طریقے سے بجا لایا جائے۔ پہلی صورت اطاعت ہے اور دوسری احسان۔ احسان اطاعت کا بلند تر درجہ ہے اور عدل کا بھی۔ حدیث میں ہے کہ جبریل جب تمام صحابہ کے سامنے اجنبی صورت میں آپ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ احسان کیا ہے۔ تو آپ نے یہ جواب دیا کہ احسان یہ ہے کہ تو ’’اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تجھ سے یہ نہ ہو سکے تو کم از کم یہ سمجھے کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے‘‘ اور یہ تو ظاہر ہے کہ عبادت صرف نماز فرض یا نوافل کا ہی نام نہیں بلکہ جو کام بھی اللہ کے احکام کی بجاآوری کے لیے اس کا حکم سمجھ کر کیا جائے وہ اس کی عبادت ہی کی ضمن میں آتا ہے۔ خواہ اس کا تعلق حقوق العباد سے ہو یا حقوق اللہ سے، معاملات سے ہو یا مناکحات سے ان میں سے ہر ایک کام کو بنا سنوار کر اور شرعی احکام کی پابندی کے ساتھ نیز دل کی رغبت اور محبت سے بجا لانے کا نام احسان ہے۔ البقرة
196 [٢٦٠] مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ کے زمانے میں نکلے۔ بدیل بن ورقاء الخزاعی آیا اور کہنے لگا : وہ (قریش) آپ سے لڑیں گے اور آپ کو بیت اللہ جانے سے روکیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہم لڑنے نہیں آئے، ہم تو عمرہ کرنے آئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ’’اٹھو، قربانی کرو اور اپنے سر منڈوا دو۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قربانی ذبح کی۔ پھر حجام کو بلایا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مونڈا۔ (بخاری۔ کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد والمصالحة مع اھل الحرب) ٢۔ ضباعہ کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا : ’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرا حج کرنے کا ارادہ ہے، لیکن میں بیمار ہوں، ایسی صورت میں میں کیا کروں؟‘‘ آپ نے جواب دیا حج کرو اور (اللہ سے) شرط کرلو :’’ اے اللہ میں اسی جگہ احرام کھول دوں گی، جہاں تو مجھے روک دے گا۔‘‘(مسلم۔ کتاب الحج، باب جواز اشتراط المحرم التحلل بعذر المرض و نحوہ) [٢٦١] احصار کی صورتیں اور فدیہ احصار:۔مثلاً ایک شخص نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا تو اب اسے پورا کرنا لازم ہے اور کسی مجبوری سے وہ حج نہیں کرسکا، تو بھی اس کو قربانی دینا ہوگی۔ وہ کسی دوسرے کے ہاتھ قربانی بھیج دے یا اسے تاکید کر دے کہ وہ مناسب وقت پر اس کی طرف سے قربانی کر دے اور جس وقت تک اسے یہ یقین نہ ہوجائے کہ اس وقت تک اس کی قربانی ہوچکی ہوگی۔ اس وقت تک سر نہ منڈائے۔ ایسی قربانی کو دم احصار کہتے ہیں جو حج و عمرہ سے رکنے کی وجہ سے لازم ہوتا ہے۔ [٢٦٢] کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے۔ لیکن مشرکین نے ہمیں عمرہ سے روک دیا، میرے لمبے بال تھے اور جوئیں میرے منہ پر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا ’’کیا سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’ جی ہاں‘‘ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ ﴿فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ﴾ پھر مجھے فرمایا : ’’سر منڈاؤ، تین روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا قربانی کرو۔‘‘ (بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ حدیبیہ لقولہ تعالیٰ لقد رضی اللہ..... الآية، مسلم۔ کتاب الحج۔ باب جواز حلق الراس للمحرم اذا کان بہ اذی .....الخ) ٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جس کو قربانی نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات اپنے گھر پہنچ کر۔‘‘ (مسلم، کتاب الحج، باب وجوب الدم علی المتمتّع) ٣۔مناسک حج میں تقدیم وتاخیر:۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع میں منیٰ میں ٹھہرے کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (مسائل حج) پوچھیں۔ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : مجھے خیال نہ رہا میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اب قربانی کرلو کچھ حرج نہیں۔ پھر ایک اور شخص آیا اور کہنے لگا : مجھے خیال نہ رہا : میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی۔ فرمایا : اب کنکریاں مار لو۔ کوئی حرج نہیں۔ غرض یہ کہ جو کام بھی کسی نے آگے پیچھے کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اب کرلو، کوئی حرج نہیں۔‘‘ (بخاری، کتاب العلم، باب الفتیا و ھو واقف علی ظھر الدابۃ و غیرھا) نیز کتاب المناسک باب الفتیا علی الدابة عند الجمرۃ مسلم، کتاب الحج، باب جواز تقدیم الذبح علی الرمی والحلق علی الذبح و علی الرمی۔۔ الخ) [٢٦٣] حج تمتع کےاحکام:۔دور جاہلیت میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ عمرہ کے لیے الگ اور حج کے لیے الگ سفر کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قید ختم کردی اور باہر سے آنے والوں کے لیے یہ رعایت فرمائی کہ وہ ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں کو جمع کرلیں، البتہ جو لوگ مکہ میں یا اس کے آس پاس میقاتوں کی حدود کے اندر رہتے ہوں۔ انہیں اس رعایت سے مستثنیٰ کردیا۔ کیونکہ ان کے لیے عمرہ اور حج کے لیے الگ الگ سفر کرنا کچھ مشکل نہیں۔ اس آیت سے درج ذیل مسائل معلوم ہوتے ہیں: حج کی اقسام اورمسائل:۔میقاتوں کے باہر سے آنے والے لوگ ایک ہی سفر میں عمرہ اور حج دونوں کرسکتے ہیں اس کی پھر دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ احرام باندھ کر عمرہ کرے، پھر احرام نہ کھولے (نہ سر منڈائے) تاآنکہ حج کے بھی ارکان پورے کرلے۔ ایسے حج کو قران کہتے ہیں اور اگر عمرہ کر کے سر منڈا لے اور احرام کھول دے پھر حج کے لیے نیا احرام باندھے تو اسے حج تمتع کہتے ہیں اور اسی حج کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پسند فرمایا : قران اور تمتع کرنے والے پر قربانی لازم ہے۔ یعنی ایک بکری یا گائے اور اونٹ جس میں سات آدمی شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی کو قربانی میسر نہیں آسکی تو وہ دس روزے رکھ لے، تین روزے تو نویں ذی الحجہ یعنی عرفہ تک اور باقی سات روزے حج سے فراغت کے بعد رکھے، گھر واپس آ کر رکھ لے۔ جو لوگ میقاتوں کی حدود کے اندر رہتے ہیں صرف حج کا احرام باندھ کر حج کریں گے جسے حج افراد کہتے ہیں اور ان پر قربانی واجب نہیں۔ البقرة
197 [٢٦٤] یعنی یکم شوال سے دس ذی الحجہ تک کی مدت کا نام اشہر حج ہے۔ حج کا احرام اسی مدت کے اندر اندر باندھا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی اس سے پہلے باندھے تو وہ ناجائز یا مکروہ ہوگا البتہ عمرہ کا احرام باندھا جا سکتا ہے۔ احرام باندھنے کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ ١۔احرام باندھنےکےمسائل:۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں کھڑا ہو کر پوچھنے لگا ’’یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم احرام کہاں سے باندھیں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’مدینہ والے ذوالحلیفہ سے باندھیں، شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن (منازل) سے اور یمن والے یلملم سے۔‘‘ (بخاری، کتاب العلم، باب ذکر العلم و الفتیا فی المسجد) ٢۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا :’’ محرم کیا پہنے؟ فرمایا : وہ نہ قمیض پہنے نہ عمامہ، نہ ٹوپی اور نہ وہ کپڑا جس میں ورس یا زعفران لگا ہو اور اگر چپل نہ ملے تو موزے ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر پہن لے۔ (بخاری۔ کتاب العلم۔ من اجاب السائل باکثر مما سألہ) [٢٦٥]حج مبرورکی فضیلت:۔ ہر وہ حرکت یا کلام جو شہوت کو اکساتا ہو رفث کہلاتا ہے اور اس میں جماع بھی شامل ہے، فسوق اور جدال اور ایسے ہی دوسرے معصیت کے کام اگرچہ بجائے خود ناجائز ہیں تاہم احرام کی حالت میں ان کا گناہ اور بھی سخت ہوجاتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جس نے اللہ کے لیے حج کیا پھر اس دوران نہ بے حیائی کی کوئی بات کی اور نہ گناہ کا کوئی کام کیا۔ وہ ایسے واپس ہوتا ہے جیسے اس دن تھا جب وہ پیدا ہوا۔‘‘ (بخاری، کتاب المناسک، باب فضل الحج المبرور) [٢٦٦] مانگنےکی قباحت:۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ’’یمن کے لوگ حج کے لیے آتے لیکن زاد راہ ساتھ نہ لاتے اور کہتے کہ ہم اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ پھر مکہ پہنچ کر لوگوں سے مانگنا شروع کردیتے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری، کتاب المناسک، باب قول اللہ تعالیٰ آیت و تزودوا فان خیر الزاد التقوی) نیز ضرورت کے وقت مانگنا اگرچہ ناجائز نہیں، مگر اسلام نے سوال کرنے کو اچھا نہیں سمجھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔ ’’دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الزکوٰۃ باب لا صدقہ الا عن ظہر غنی) اور بلا ضرورت مانگنا اور پیشہ کے طور پر مانگنا تو بدترین جرم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مانگنے کو عادت بنا لے گا وہ قیامت کو اس حال میں اٹھے گا کہ اس کے چہرہ پر گوشت کا ٹکڑا تک نہ رہے گا۔ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب من سال الناس تکثرا) سوال سے اجتناب کے لیے دیکھیے اسی سورۃ کی آیت ٢٧٣ اور سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ١٠١ کے حواشی) البقرة
198 [٢٦٧] حج اورتجارت:۔جاہلیت کے غلط اعتقادات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ حج کے دوران تجارت کرنا مکروہ خیال کرتے تھے اور اسے خلوص عمل کے خلاف سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت فرما دی جبکہ اصل مقصود حج ہی ہو اور تجارت سے حج کے ارکان وغیرہ میں کچھ خلل واقع نہ ہوتا ہو۔ چنانچہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں (منیٰ) میں عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز بازار لگا کرتے تھے (صحابہ نے) حج کے دنوں میں تجارت کو گناہ خیال کیا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر، زیر آیت مذکورہ) [٢٦٨]عرفات کی حاضری حج کا رکن اعظم ہے: اس آیت سے معلوم ہوا کہ ارکان حج میں سے عرفات میں وقوف بہت ضروری بلکہ رکن اعظم ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا : حج عرفات کی حاضری ہے، حج عرفات کی حاضری ہے۔ حج عرفات کی حاضری ہے۔ منیٰ کے تین دن ہیں، پھر جو شخص جلدی کر کے دو دن میں ہی چلا گیا، اس پر بھی کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرا دن ٹھہرا رہا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں اور جس نے طلوع فجر سے پہلے پہلے عرفات کا وقوف پا لیا۔ اس نے حج پا لیا۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر، زیر آیت مذکورہ) [٢٦٩] مشعر الحرام مزدلفہ کی ایک پہاڑی کا نام ہے جس پر امام وقوف کرتا ہے۔ اس پہاڑی پر وقوف کرنا افضل ہے۔ یہ نہ ہو سکے تو پھر جہاں بھی قیام کرلے جائز ہے، سوائے وادی محسر کے۔ [٢٧٠]مشرکوں کا تلبیہ :۔ مشرکین بھی اللہ کا ذکر تو کرتے تھے۔ مگر اس میں شرکیہ کلمات کی آمیزش ہوتی تھی۔ اسی ضلالت سے بچنے کی اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی اور وہ شرکیہ کلمات یہ تھے : ''الا شریکا ھولک تملک وماملک'' مگر تیرا وہ شریک جس کا تو مالک ہے وہ تیرا مالک نہیں۔ (مسلم، کتاب الحج، باب التلبیۃ) البقرة
199 [٢٧١] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ : قریش اور ان کے طریقہ پر چلنے والے لوگ (عرفات کے بجائے) مزدلفہ میں وقوف کیا کرتے تھے، ان لوگوں کو حمس کہتے تھے۔ جب کہ باقی عرب عرفات کا وقوف کرتے۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو یہ حکم دیا کہ عرفات میں جائیں وہاں ٹھہریں اور وہیں سے لوٹ کر (مزدلفہ) آئیں۔ ﴿ ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاض النَّاسُ ﴾ سے یہی مراد ہے۔ (بخاری، کتاب التفسیر۔ باب ثم افیضوا۔۔) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (جو تمتع کی نیت سے عمرہ کے بعد احرام کھول دے) جب تک حج کا احرام نہ باندھے بیت اللہ کا نفل طواف کرتا رہے۔ پھر جب حج کا احرام باندھے اور عرفات جانے کو سوار ہو تو (حج کے بعد) جو قربانی ہو وہ کرے خواہ اونٹ ہو یا گائے یا بکری ہو، اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو حج کے دنوں میں عرفہ کے دن سے پہلے تین روزے رکھے اور اگر تیسرا روزہ عرفہ کے دن آ جائے تب بھی کوئی حرج نہیں۔ مکہ سے عرفات جائے، وہاں سے عصر کی نماز سے رات کی تاریکی ہونے تک ٹھہرے۔ پھر عرفات سے اس وقت لوٹے جب دوسرے لوگ لوٹیں اور سب لوگوں کے ساتھ رات مزدلفہ میں گزارے اللہ کا ذکر، تکبیر اور تہلیل صبح ہونے تک بہت کرتا رہے، پھر صبح کو لوگوں کے ساتھ مزدلفہ سے منیٰ لوٹے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاض النَّاسُ﴾....... اور کنکریاں مارتے وقت اسی طرح ذکر، تکبیر اور تہلیل کرتا رہے۔ (بخاری۔ حوالہ ایضاً) البقرة
200 البقرة
201 [٢٧٢] جامع دعا:۔چونکہ دنیا پہلے ہے اور آخرت بعد میں۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے دنیا کا پہلے ذکر فرمایا۔ گویا مومن کو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ سے بھلائی مطلوب ہوتی ہے اور آخرت میں بھی۔ پھر بھلائی کے لفظ میں جو وسعت ہے وہ آپ جانتے ہی ہیں یہ دعا بہت جامع قسم کی دعا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے دوران طواف کرتے وقت اور دوسرے اکثر اوقات میں بھی یہی دعا فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری، کتاب التفسیر، زیر آیت مذکورہ) ایک دنیادار اور مومن کےمقاصد زندگی کاتقابل:۔ان دو آیات میں ایک دنیا دار اور ایک مومن کے مقاصد زندگی کا تقابل پیش کیا گیا ہے جو شخص آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتا۔ اس کی زندگی کا تمام تر مقصد مفادات دنیا کا حصول ہوتا ہے۔ اس کی تمام کوششیں اسی مقصد میں صرف ہوجاتی ہیں لیکن اسے ملتا اتنا ہی ہے جتنا اللہ نے اس کے مقدر کر رکھا ہے اور یہی کچھ اس کا حصہ ہے۔ آخرت میں اگر اس کے کچھ نیک اعمال تھے بھی۔ تو اس کا اسے کچھ اجر و ثواب نہیں ملے گا۔ اس کے مقابلہ میں مومن کا مقصد اگرچہ مفادات اخروی کا حصول ہوتا ہے اور وہ اسے مل بھی جائے گی۔ لیکن دنیا کی زندگی کے مفادات بھی اس کے لیے ممنوع نہیں، بلکہ اس میں سے بھی اتنا حصہ اسے ضرور ملے گا جتنا اللہ تعالیٰ نے اس کے مقدر میں کر رکھا ہے۔ لہذا اس کی دعا کا انداز ہی یہ ہوتا ہے کہ اپنے پروردگار سے دنیا بھی طلب کرتا ہے اور آخرت کے مفادات بھی۔ لہذا ایسے ہی لوگ بہرحال فائدہ میں رہتے ہیں۔ البقرة
202 البقرة
203 [٢٧٢۔ ا] ایام معدودات سے مراد ماہ ذی الحجہ کی گیا رہ، بارہ اور تیرہ تاریخ ہے۔ ان دنوں میں بکثرت اللہ کو یاد کرتے رہنا چاہیے۔ رمی جمار کے وقت بھی بآواز بلند تکبیر کہی جائے اور تمام حالات میں بھی بازاروں میں چلتے پھرتے وقت بھی اور ہر نماز کے بعد بھی اور تکبیر کے الفاظ یہ ہیں۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر (تین مرتبہ) (لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد) ایام تشریق اور تکبیریں:۔ عیدین کی تکبیریں بھی یہی ہیں اور ایام تشریق میں بھی یہی بآواز بلند کہتے رہنا چاہیے۔ ایام تشریق کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ یہ کھانے پینے اور ذکر الٰہی کے دن ہیں۔ تکبیرات کے شروع اور ختم کرنے میں اگرچہ اختلاف ہے۔ تاہم صحیح اور راجح یہی بات ہے کہ ذی الحجہ کی ٩ تاریخ ( عرفہ یا حج کے دن) کی صبح شروع کر کے تیرہ تاریخ کی عصر کو ختم کی جائیں۔ اس طرح یہ کل تئیس نمازیں بنتی ہیں۔ ہر نماز کے بعد کم از کم تین بار اور زیادہ سے زیادہ جتنی اللہ توفیق دے۔ بآواز بلند تکبیرات کہنا چاہئیں۔ رمی جمار کا عمل تین دن یعنی ذی الحجہ کی ١٠، ١١، ١٢ کو ہوتا ہے۔ دس ذی الحجہ کا دن تو حجاج کے لیے بہت مصروفیت کا دن ہوتا ہے۔ اس کے بعد تین دن منیٰ میں ٹھہرنا مسنون ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص اس سے پہلے جانا چاہے تو وہ دوسرے دن بھی جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس کے دل میں تقویٰ ہو اور حج کے تمام مناسک ٹھیک طور پر بجا لانے کا ارادہ رکھتا ہو۔ البقرة
204 البقرة
205 [٢٧٣] اخنس بن شریق ایک منافق تھا جو فصیح و بلیغ اور شیریں کلام تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی چکنی چپڑی باتیں بھلی معلوم ہوتیں۔ وہ بات بات پر اللہ کی قسم کھاتا اور بار بار اللہ کو گواہ بنا کر کہتا کہ وہ سچا مسلمان ہے اور مسلمانوں کا دلی دوست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صحیح صورت حال سے مطلع کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی باتوں پر فریفتہ مت ہونا، کیونکہ یہ سخت جھگڑا لو قسم کا انسان ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، وہ اسلام سے پھر کر مکہ واپس چلا گیا۔ راستہ میں مسلمانوں کے جو کھیت دیکھے انہیں جلا دیا اور جو جانور نظر آئے انہیں مار ڈالا۔ البقرة
206 [٢٧٤] یعنی اسکا پندار نفس یا انا اسے غرور و تکبر ہی کی راہ دکھلاتا ہے اور متکبرین کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جیسا درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔ تکبر کرنےوالےکاحشر:۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پروردگار کے سامنے جنت اور دوزخ میں جھگڑا ہوا۔ جنت کہنے لگی، پروردگار! میرا تو یہ حال ہے کہ مجھ میں تو وہی لوگ آ رہے ہیں جو دنیا میں ناتواں اور حقیر تھے اور دوزخ کہنے لگی کہ مجھ میں وہ لوگ آ رہے ہیں جو دنیا میں متکبر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے اور دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے۔ (بخاری، کتاب التوحید، باب ماجاء فی قول اللہ ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین) اور ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کہ میں تمہیں بتلاؤں کہ بہشتی کون ہیں اور دوزخی کون؟ جنتی ہر وہ کمزور اور منکسر المزاج ہے کہ اگر وہ اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اسے سچا کر دے اور دوزخی ہر موٹا، بدمزاج اور متکبر آدمی ہوتا ہے۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب قول اللہ تعالیٰ آیت اقسموا باللہ جھد ایمانہم) البقرة
207 [٢٧٥]صہیب رومی کی فضیلت:۔ یعنی انسانوں میں کچھ اس قسم کے لوگ بھی موجود ہیں جو اللہ کی راہ میں اپنا جان و مال سب کچھ قربان کردیتے ہیں۔ چنانچہ صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ اپنا وطن ترک کر کے ہجرت کی غرض سے مدینہ آ رہے تھے کہ راستہ میں مشرکوں نے پکڑ لیا اور انہیں اسلام سے برگشتہ ہونے پر مجبور کیا۔ صہیب رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں اپنا گھر اور اپنا سارا مال تمہیں اس شرط پر دینے کو تیار ہوں کہ تم میری راہ نہ روکو اور مجھے مدینہ جانے دو۔ انہوں نے اس شرط پر آپ کو چھوڑ دیا اور صہیب رومی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ ایسے ہی مخلص مومنوں کی تعریف میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ( الرحیق المختوم ٢٤٦) ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور سلمان رضی اللہ عنہ کے متعلق حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا۔ ’’ اگر تم نے ان کو ناراض کردیا تو اپنے رب کو ناراض کردیا۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فضائل سلمان ) البقرة
208 [٢٧٦]اسلام میں پوراپوراداخل ہونےکامطلب:۔ یعنی تمہارے عقائد، تمہارے خیالات، تمہارے نظریات، تمہارے علوم، تمہارے طور طریقے تمہارے رسم و رواج اور تمہاری کاروباری زندگی سب کچھ ہی اسلام کے تابع ہونا چاہیے۔ یہ نہ ہونا چاہیے کہ دعویٰ تو اسلام کا کرو اور اپنا معاشی نظام روس سے مستعار لے لو اور سیاسی نظام انگریز سے۔ یا مسجد میں تو تم اللہ کو یاد کرو اور کاروبار کرتے وقت اللہ یاد ہی نہ رہے۔ اور ناجائز طریقوں سے کمائی کرنا شروع کردو یا ڈھنڈورا تو اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیٹتے جاؤ اور سب بدعات میں حصے دار بنتے رہو۔ یا لا الہ الا اللہ کا ورد بھی کرتے رہو اور پیروں اور بزرگوں سے استمداد بھی طلب کرتے رہو۔ غرض یہ ہے کہ تمہاری زندگی کا ہر ہر پہلو اسلام کے تابع اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت میں گزرنا چاہیے اور اگر اپنے آپ کو پورے کا پورا اسلام کے تابع نہیں بناؤ گے تو اسی کا نام شیطان کے قدموں کی پیروی ہے جو ہر وقت تمہارے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے، تمہیں غلط اور گمراہ کن عقائد میں مبتلا اور برے کاموں کو خوشنما بنا کر ان پر آمادہ کرنے کے لیے مستعد رہتا ہے۔ البقرة
209 [٢٧٧]قطعی نشانی دیکھنے پرایمان لانا بےسودہے:۔ یعنی اسلام کے انسانی زندگی کے ہر پہلو میں واضح احکام آ جانے کے بعد تم اسلام میں پوری طرح داخل نہ ہوئے اور دوغلی پالیسی اختیار کی اور جن احکام پر چاہا عمل کرلیا اور جہاں کوئی بات طبیعت کو ناگوار محسوس ہوئی یا کسی نقصان کا خطرہ محسوس ہوا وہاں اپنی مرضی کرلی اور اسلام کے احکام کو پس پشت ڈال دیا تو خوب سمجھ لو کہ اللہ بڑا زبردست ہے حکمت والاہے، وہ تمہیں سزا بھی دے سکتا ہے، ذلیل و خوار بھی کرسکتا ہے اور دنیا کی حکمرانی تمہارے سوا کسی دوسرے کو بھی دے سکتا ہے۔ البقرة
210 [٢٧٨] یعنی ایسی نشانی کے انتظار میں جس سے انہیں قطعی اور حتمی طور پر ہر بات کا یقین آ جائے۔ ایسا یقین جیسے ہر انسان کو یہ یقین ہے کہ اسے موت آ کے رہے گی تو اسے خوب سمجھ لینا چاہیے کہ جب ایسی نشانی آ جائے گی تو پھر ایمان لانے کی کچھ قدر و قیمت نہ ہوگی۔ ایمان لانے کی قدر و قیمت تو صرف اس وقت تک ہے جب تک کہ امور غیب حواس ظاہری سے پوشیدہ ہیں۔ اگرچہ ان کے لیے بے شمار دلائل موجود ہیں اور اسی بات میں انسان کی آزمائش کی جا رہی ہے، اور یہ دنیا آزمائش گاہ بنی ہوئی ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے اور جب کوئی حتمی علامت جیسے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا یا وقت موت یا قیامت آ گئی تو پھر یہ معاملہ ہی ختم ہوجائے گا۔ علاوہ ازیں اللہ کی آمد تو درکنار اس کا دیدار تو حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے اوالوالعزم پیغمبر بھی نہ سہار سکے تھے۔ پھر یہ بے چارے کس کھیت کی مولی ہیں اور فرشتے انسانوں کے پاس آتے تو ہیں مگر وہ یا عذاب الٰہی لے کر آتے ہیں یا پھر موت کا پیغام لے کر، تو پھر ان باتوں کا انہیں کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔ البقرة
211 [٢٧٩] کفران نعمت کی سزا:۔اور اگر واضح دلائل اور نشانیوں ہی کی بات ہے تو بنی اسرائیل سے پوچھ لیجئے کیا ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو تھوڑے معجزات عطا کئے تھے؟ تو پھر کیا یہ سب کے سب لوگ ایمان لے آئے تھے؟ اور اگر لائے بھی تو کیا پورا ایمان لائے؟ اور کب تک اس پر قائم رہے؟ پھر جب ان لوگوں نے اللہ کے انعامات کی قدر نہ کی تو اللہ نے انہیں بری طرح سزا دی۔ بنی اسرائیل سے پوچھنے کو اس لیے کہا کہ یہ امت مسلمانوں کے قریب زمانہ میں موجود تھی اور اب بھی موجود ہے اگر اے مسلمانو! تم نے بھی اللہ کے انعامات کی قدر نہ کی تو تمہارا بھی حشر یہی ہوسکتا ہے۔ البقرة
212 [٢٨٠]دنیاکارزق کامیابی کامعیار نہیں:۔ یعنی وہ دنیوی مال و دولت میں مگن رہ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ ، عمار رضی اللہ عنہ ، صہیب رضی اللہ عنہ اور دوسرے فقرائے مہاجرین کا تمسخر اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس قسم کے لوگوں کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ ملا کر عرب کے سرداروں پر غالب آنے کے خواب دیکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ دنیا کا رزق کامیابی اور اخروی نجات کا کوئی معیار نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ دنیا میں یہ رزق کافروں کو چاہے تو زیادہ بھی دے دیتا ہے۔ رہی کامیابی کی بات تو یہی ناتواں اور پرہیزگار لوگ قیامت کے دن جنت میں بلند تر مقامات پر ہوں گے اور یہ دنیا پر فریفتہ کافران سے بہت نیچے جہنم میں ہوں گے۔ البقرة
213 [٢٨١]انسانی زندگی کاآغاز توحید سےہوایاشرک سے:۔ اس امت واحدہ کا طریق اور دین کیا تھا ؟ وہ تھا توحید خالص اور صرف اللہ اکیلے کی اطاعت اور بندگی۔ یہی چیز انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں سب سے پہلے انسان ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام خود نبی تھے۔ لہذا آپ علیہ السلام کی ساری اولاد اور آپ علیہ السلام کی امت اسی دین پر قائم تھی۔ مگر موجودہ دور کے مغربی علماء (جنہیں ہم مسلمانوں نے آج کل ہر شعبہ علم میں انہیں اپنا استاد تسلیم کرلیا ہے) جب مذہب کی تاریخ لکھنے بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انسان نے اپنی زندگی کا آغاز شرک کی تاریکیوں سے کیا، پھر اس پر کئی ادوار آئے اور بالآ خر انسان توحید کے مقام پر پہنچا ہے اور یہی نظریہ ہمارے ہاں کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے اور یہ اسلام کے پیش کردہ نظریہ کے مطابق بالکل غلط ہے اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ انسان کے اندر سب سے قدیم اور ابتدائی جذبہ خوف کا جذبہ ہے۔ یہ جذبہ ان ہولناک حوادثات کے مشاہدہ سے پیدا ہوا جو اس دنیا میں طوفانوں، زلزلوں اور وباؤں کی صورت میں آئے دن پیش آتے رہتے تھے۔ اس خوف کے جذبہ نے انسان کو ان ان دیکھی طاقتوں کی پرستش پر مجبور کیا۔ جن کو انسان نے ان حوادث کا پیدا کرنے والا خیال کیا۔ اس طرح انسان نے شرک سے دین کا آغاز کیا۔ یہ نظریہ اس لحاظ سے غلط ہے کہ دنیا میں زلزلے طوفان، سیلاب اور وبائیں کبھی کبھار آتی ہیں۔ جبکہ دنیا کی بہاریں انسان کی پیدائش سے پہلے ہی موجود بھی تھیں اور بکثرت بھی تھیں۔ درختوں کو پھل لگتے تھے، فصلیں اگتی تھیں، بارشیں ہوتی تھیں۔ چاندنی پھیلتی تھی، تارے چمکتے، پھول کھلتے تھے۔ گویا انسان کے رزق اور رزق کے علاوہ اس کے جمال اور خوش ذوقی کے سامان پہلے سے ہی بکثرت موجود تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ انسان نے اپنی زندگی کا آغاز کیا تو ربوبیت کی یہ برکتیں اور رحمت کی شانیں پہلے تھیں یا اتفاقی حوادث؟ یا یہ برکتیں تعداد میں زیادہ تھیں۔ یا ان کے مقابلہ میں اتفاقی حوادث؟ اور کیا ابتداًء انسان کو ایک رحمن ورحیم اور رزاق ہستی کے ان بے شمار انعامات کا معترف ہو کر جذبہ شکر سے اس کا دل معمور ہونا چاہیے تھا یا ابتداًء ہی اس پر حوادث کا خوف طاری ہونے لگا تھا ؟ جو شخص بھی ان باتوں پر ضد اور ہٹ دھرمی سے ہٹ کر غور کرے گا۔ وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ فطرت انسانی کا اصلی رخ وہی ہے۔ جس کا پتہ قرآن کریم دے رہا ہے۔ نہ وہ جس کی طرف یہ مغربی علماء نشاندہی کرتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ خوف کا لفظ ہی پہلے سے کسی نعمت کی موجودگی پر دلالت کرتا ہے۔ خوف دراصل کسی ایسی نعمت کے چھن جانے کا نام ہے جو انسان کو عزیز بھی ہو اور پہلے سے مہیا بھی ہو۔ زلزلوں کا خطرہ ہو یا سیلابوں کا خوف ہو یا وباؤں کا ان سب میں کسی نہ کسی عزیز تر نعمت کے چھن جانے کا مفہوم پایا جاتا ہے، خواہ یہ نعمت انسان کی صحت ہو، یا رزق ہو۔ گویا ہر خوف سے پہلے کسی نعمت کا شعور لازمی چیز ہے اور جب نعمت کا شعور پایا گیا تو ایک منعم حقیقی کا شعور بھی لازمی ہوا اور پھر اس کی شکر گزاری کا جذبہ پیدا ہونا بھی ناگزیر ہوا۔ انسان کے مشاہدہ کائنات کی فطری راہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ انسان میں نعمتوں اور رحمتوں کی فراوانی اور اس کے مشاہدہ سے اس پر ایک منعم حقیقی کی شکرگزاری کا جذبہ اور احساس طاری ہوا پھر وہ اسی جذبہ کے تحت اس کی بندگی کی طرف مائل ہوا۔ رہا یہ سوال کہ جب ایک دفعہ انسان توحید کی شاہراہ پر گامزن ہوگیا تو پھر شرک کی راہوں پر کیسے جا پڑا تو اس کا سبب یہ ہرگز نہیں کہ اس کی فطرت میں کوئی خرابی موجود تھی بلکہ اس کی اصل وجہ انسان کی قوت ارادہ و اختیار کا غلط استعمال ہے کہ ان میں سے عیار لوگوں نے اپنے دنیوی مفادات کی خاطر کچھ غلط سلط عقائد گھڑ کر عوام الناس کو غلط راہوں پر ڈال دیا ہے۔ جب لوگوں میں اس قسم کا بگاڑ پیدا ہوگیا اور شرک نے کئی دوسری اخلاقی قدروں کو بھی بگاڑنا شروع کردیا تو اللہ نے پھر سے انبیاء کو مبعوث فرمانا شروع کردیا۔ ان سب انبیاء کی تعلیم ایک ہی تھی یعنی کائنات کی ہر ایک چیز کا اور انسانوں کا خالق، مالک اور رازق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہٰذا وہی اکیلا پرستش اور بندگی کے لائق ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اسی کی بندگی کرے اور اسی کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ پھر جو لوگ اللہ کے احکام کو مان کر اس کی تعمیل کریں گے انہیں اچھا بدلہ ملے گا اور جو نافرمان اور مشرک ہوں گے انہیں سزا بھی ملے گی۔ اس جزا و سزا کے لیے اخروی زندگی اور اس پر ایمان لانا ناگزیر ہے اور یہ دنیا محض دارالامتحان ہے۔ دارالجزاء نہیں اور یہی کلیات دین ہر نبی پر نازل کئے جاتے رہے جو عقل سلیم کے عین مطابق ہے۔ [٢٨٢]اختلاف امت اور فرقہ پرستی :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حقیقت میں ہر نبی کی امت کی پوری داستان عروج و زوال بیان فرما دی ہے۔ عروج کا دور اس وقت ہوتا ہے جب تک یہ امت مجموعی طور پر متحد اور متفق رہے اور جب اس میں ایسے اختلاف پیدا ہوجائیں جو فرقہ بندی کی بنیاد بن جائیں تو بس سمجھئے کہ اس کے زوال کا آغاز ہوگیا اور یہ اختلاف اس وجہ سے نہیں ہوتے کہ کتاب اللہ میں حق بات کی پوری وضاحت نہیں ہوتی اور حق ان پر مشتبہ ہوجاتا ہے۔ بلکہ اس اختلاف اور فرقہ بندی کے اصل محرکات کچھ اور ہوتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد بار ایک جامع لفظ ﴿بَغْیًا بَیْنَھُمْ﴾ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی بعض لوگ حق کو جاننے کے باوجود اپنے جائز حق سے بڑھ کر امتیازات، فوائد اور منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر ظلم، سرکشی اور زیادتی کرنے سے دریغ نہیں کرتے تاکہ ان کا اپنا جھنڈا بلند ہو۔ بعض لوگ اپنے آباء کے دین کو اصل دین قرار دے لیتے اور اس پر مصر ہوجاتے ہیں یا کسی امام کے متبع امام کے قول کو حکم الٰہی پر ترجیح دینے پر اصرار کرتے ہیں تو اس طرح نئے نئے فرقے وجود میں آتے رہتے ہیں اور وحدت ملت پارہ پارہ ہوجاتی ہے اور یہی فرقے اس کے زوال کا سبب بن جاتے ہیں۔ فرقہ پرستی کاعلاج:۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ ایک نیا نبی مبعوث فرماتے رہے جو لوگوں کو اختلافی امور میں حق کا راستہ دکھلا کر انہی میں سے ایک نئی امت تشکیل کرتا اور لوگوں کو پھر سے ایک امت کی صورت میں متحد کردیتا۔ مگر امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ کیونکہ آپ نے یہ بشارت دے دی ہے کہ ’’میری امت میں سے ایک فرقہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ تاآنکہ قیامت آ جائے‘‘ (بخاری، کتاب الاعتصام، باب قول النبی لا تزال طائفہ من امتی۔۔) صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ’’وہ کونسا فرقہ ہوگا ؟ فرمایا جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔‘‘ (ترمذی، کتاب الایمان، باب افتراق ھذہ الامۃ) (نیز دیکھئے اسی سورۃ کا حاشیہ نمبر ٢٢٠) لہٰذا آج بھی فرقہ پرستی کا صرف یہی علاج ہے کہ ہر قسم کے تعصبات کو چھوڑ کر کتاب و سنت کی طرف رجوع کیا جائے۔ البقرة
214 [٢٨٣] مکی دور میں حکومت اور امن کی بشارت :۔ پھر جب کوئی نیا نبی مبعوث ہوتا ہے تو اسے کئی فرقوں میں بٹی ہوئی امت کو پھر سے ایک طریقہ پر لانے اور ایک امت بنانے پر بہت محنت صرف کرنا پڑتی ہے اور بہت سے مصائب اور دشواریاں پیش آتی ہیں۔ انبیاء کو بھی اور ان لوگوں کو بھی جو ابتدءً انبیاء کا ساتھ دیتے ہیں۔ کیونکہ باطل قوتیں جو مالی اور افرادی قوت کے لحاظ سے اس نئے نبی اور اس کے چند پیروؤں سے بہت زیادہ طاقتور ہوتی ہیں ان کے مقابلہ پر اتر آتی ہیں اور کچل دینے سے بھی دریغ نہیں کرتیں اور یہ مصائب اتنے شدید ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ انبیاء اور ان کے متبعین بہ تقاضائے بشریت پکار اٹھتے ہیں کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کا شکوہ : چنانچہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کی دیوار کے سایہ میں اپنی چادر کو تکیہ بنا کر بیٹھے تھے تو سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ’’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہیں کرتے؟‘‘ یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکیہ چھوڑ کر سیدھے بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں۔ جن کے گوشت اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تھیں مگر وہ اپنے سچے دین سے نہیں پھرتے تھے اور آرا ان کے سر کے درمیان رکھ کر چلایا جاتا اور دو ٹکڑے کردیے جاتے مگر وہ اپنے سچے دین سے نہیں پھرتے تھے اور اللہ اپنے اس کام کو ضرور پورا کر کے رہے گا۔ یہاں تک کہ ایک شخص صنعا سے سوار ہو کر حضرموت تک چلا جائے گا، اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا ڈر نہ ہوگا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب المناقب باب مالقی النبی واصحابہ من المشرکین بمکۃ) اور بخاری ہی کی ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں ” مگر تم لوگ تو جلدی مچاتے ہو۔“ پرامن زندگی کی بشارت :۔ اس حدیث میں مسلمانوں کے لیے کئی بشارتیں ہیں۔ مثلاً یہ کہ کافروں کی ضرر رسانی اور ایذا دہی کا دور عنقریب ختم ہونے والا ہے۔ پھر تمہاری اپنی حکومت قائم ہوگی جس میں ہر ایک کو پرامن زندگی بسر کرنا میسر آئے گی۔ کسی چور، ڈاکو، لٹیرے کو یہ جرأت نہ ہوگی کہ وہ دوسرے کے مال کی طرف نظر بھر کر دیکھ بھی سکے۔ البقرة
215 [٢٨٤] انفاق سبیل اللہ میں ترتیب: بعض مالدار صحابہ (مثلاً عمرو بن الجموح وغیرہ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا جس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور یہ تو ظاہر ہے کہ یہ سوال نفلی صدقات کے متعلق ہی ہو سکتا ہے انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں تین سوالات ہی ہو سکتے ہیں (1) کتنا خرچ کیا جائے؟ (2) کس کس پر خرچ کیا جائے؟ اور (3) کن اشیاء میں سے خرچ کیا جائے؟ فرضی صدقہ (یعنی زکوٰۃ) کے بارے میں ان تینوں سوالوں میں سے دوسرے سوال کا جواب جو سب سے اہم تھا جو قرآن کریم نے خود بالتفصیل دے دیا ہے (9: 60) باقی دو سوالوں کا جواب سنت میں بالتفصیل مذکور ہے یہاں نفلی صدقہ میں بھی سب سے پہلے اسی دوسرے اہم سوال کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ کہ کن کن کو دیا جائے۔ نفلی صدقات اور فرضی صدقات کے مصارف میں فرق ہے۔ کیونکہ نفلی صدقات کا تعلق انفرادی معاملات سے ہے اور زکوٰۃ کے مصارف کا تعلق اجتماعی معاملات سے بہرحال انفرادی اور نفلی صدقہ کے خرچ کے بارے میں بتایا گیا کہ سب سے پہلے حقدار والدین ہوتے ہیں۔ اس کے بعد درجہ بدرجہ اقارب، یتیم، فقراء اور مسافر وغیرہ۔ نیز فرمایا کہ جو کچھ بھی تم خرچ کرو، خواہ زیادہ ہو یا کم، معاشرہ ے ان افراد کو تمہیں ملحوظ رکھنا چاہیے اور اسی ترتیب سے ملحوظ رکھنا چاہیے جو یہاں بیان کی جا رہی ہیں۔ البقرة
216 [٢٨٥]جہاد کےفوائداوراہمیت : مکی دور میں بعض جوشیلے مسلمان جہاد کی اجازت مانگتے رہے مگر انہیں جہاد کی بجائے صبر کی تلقین کی جاتی رہی اور یہاں مدینہ میں آ کر جب اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی اور جہاد فرض کیا گیا تو بعض مسلمانوں نے اسے دشوار سمجھا۔ کیونکہ ہر معاشرہ میں تمام آدمی ایک ہی جیسے نہیں ہوتے، بعض جوشیلے، دلیر اور جوان بہت ہوتے ہیں تو بعض بوڑھے کمزور اور کم ہمت بھی ہوتے ہیں۔ یہ خطاب اسی دوسری قسم کے لوگوں سے ہے اور انہیں سمجھایا جا رہا ہے کہ جو چیز تمہیں بری معلوم ہوتی ہے، ہوسکتا ہے وہ فی الحقیقت بری نہ ہو، بلکہ تمہارے حق میں بہت مفید ہو اور اس کے برعکس بھی معاملہ ہوسکتا ہے اور بالخصوص یہ بات جہاد کے سلسلہ میں اس لیے کہی گئی کہ قتال سے ہر انسان کی طبیعت طبعاً نفرت کرتی ہے کیونکہ زندگی سے پیار ہر جاندار کی فطرت میں طبعاً داخل ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جہاد میں جان و مال کا نقصان ہوگا۔ حالانکہ یہی جہاد کسی قوم کی روح رواں ہوتی ہے۔ شہید کی موت قوم کی حیات ہے۔ اسی لیے کتاب و سنت میں جہاد کو بہت افضل عمل قرار دیا گیا ہے اور بعض لوگ تو اسے اس قدر اہمیت دیتے ہیں کہ جہاد کو فرض کفایہ کی بجائے فرض عین سمجھنے لگے ہیں اور اسے اسلام کا چھٹا رکن سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کا انداز فکر درست نہیں۔ جہاد افضل الاعمال ہونے کے باوجود نہ فرض عین ہے اور نہ اسلام کا چھٹا رکن (تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ نساء کی آیت نمبر ٩٦ اور سورۃ توبہ کی آیت نمبر ٩٢ کے حواشی) البقرة
217 [٢٨٦]حرام مہینوں میں لڑائی :۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ آدمیوں پر مشتمل ایک دستہ جمادی الثانی ٢ ھ کے آخر میں نخلہ کی طرف بھیجا (جو مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام ہے) تاکہ کفار مکہ کی نقل و حرکت کے متعلق معلومات حاصل کرے۔ کیونکہ ان کی طرف سے مدینہ پر چڑھائی کا ہر آن خطرہ موجود تھا اس دستہ کو کفار کا ایک تجارتی قافلہ ملا۔ جس پر انہوں نے حملہ کردیا اور ایک آدمی کو قتل کردیا اور باقی لوگوں کو گرفتار کر کے مال سمیت مدینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے جس کا آپ کو افسوس ہوا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ لڑنے کے لیے نہیں بھیجا تھا اور جس دن یہ لڑائی کا واقعہ ہوا اس دن مسلمانوں کے خیال کے مطابق تو ٣٠ جمادی الثانی تھا مگر حقیقتاً وہ دن یکم رجب ٢ ھ تھا۔ اب کفار مکہ اور یہود اور دوسرے اسلام دشمن لوگوں نے ایک طوفان کھڑا کردیا کہ دیکھو کہ یہ لوگ جو بڑے اللہ والے بنتے ہیں۔ ماہ حرام میں بھی خونریزی سے نہیں چوکتے۔ اسی پروپیگنڈہ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ماہ حرام میں لڑنا فی الواقع بڑا گناہ ہے، مگر جو کام تم کر رہے ہو اور کرتے رہے ہو وہ تو اس گناہ سے بھی شدید جرائم ہیں۔ تم اسلام کی راہ میں روڑے اٹکاتے اور مسلمانوں کو ایذائیں دیتے ہو۔ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو۔ مسلمانوں کے مسجد میں داخلہ پر پابندیاں لگا رکھی ہیں اور تم نے مسلمانوں پر عرصہ حیات اس قدر تنگ کردیا کہ وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں سے نکل جانے پر مجبور ہوگئے۔ یہ سب جرائم ماہ حرام میں لڑائی کرنے سے بڑے جرائم ہیں۔ علاوہ ازیں جو فتنہ انگیزی کی مہم تم نے چلا رکھی ہے وہ تو قتل سے کئی گنا بڑا جرم ہے (یاد رہے کہ فتنہ سے یہاں مراد ایسی ہر قسم کی مزاحمت ہے جو ان لوگوں نے اسلام کی راہ روکنے کے لیے اختیار کر رکھی تھی) تمہیں اپنی آنکھ کا تو شہتیر بھی نظر نہیں آتا، اور مسلمانوں سے اگر غلط فہمی کی بنا پر یہ لڑائی ہوگئی تو تم نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ [٢٨٧] یعنی ان معاندین اسلام کے نزدیک تمہارا اصل جرم یہ نہیں کہ تم نے ماہ حرام میں لڑائی کی ہے بلکہ یہ ہے کہ تم مسلمان کیوں ہوئے اور اب تک کیوں اس پر قائم ہو اور اس وقت تک مجرم ہی رہو گے جب تک یہ دین چھوڑ نہ دو اور حقیقتاً وہ یہی کچھ چاہتے ہیں، یہ تمہارے بدترین دشمن ہیں۔ لہذا ان سے ہشیار رہو۔ [٢٨٨] یعنی جس طرح اسلام لانے سے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اسلام سے پھر جانے سے پہلے سے کی ہوئی تمام نیکیاں بھی برباد ہوجاتی ہیں۔ الا یہ کہ پھر توبہ کر کے مسلمان ہوجائے اور جب نیکیاں برباد ہوگئیں تو باقی صرف گناہ ہی گناہ ہوں گے، جس کا خمیازہ انہیں دائمی عذاب جہنم کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ البقرة
218 [٢٨٩] یہ آیت دراصل مجاہدین کے اسی دستہ کے متعلق ہے جنہیں نخلہ کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ان مجاہدین کو یہ تردد تھا کہ آیا اس جہاد کا ثواب بھی ملتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس میں دو غلطیاں ہوگئیں تھیں ایک یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت کے بغیر جہاد کیا تھا دوسری غلطی یہ کہ یکم رجب کو لڑائی کی جس کا انہیں علم نہ ہوسکا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہیں اللہ کی رحمت کا امیدوار ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ غلطیوں کو معاف کردینے والا ہے۔ مہربان ہے۔ جہاد کی تعریف اور غرض وغایت:۔جہاد دراصل ہر اس کوشش کا نام ہے جو اسلام کی راہ میں مزاحم ہونے والی رکاوٹوں کو دور کردے۔ اگر کوئی شخص ذہن سے اس قسم کی تدابیر سوچتا ہے یا کافروں کی تدابیر کا توڑ سوچتا ہے تو یہ بھی جہاد ہے اور اگر شخص زبان یا قلم سے اس مقصد پر دوسروں کو آمادہ کرتا ہے یا معاندین اسلام کے اعتراضات کی تردید کرتا ہے اور انہیں جواب دیتا ہے تو یہ بھی جہاد ہے یعنی ہر امکانی کوشش کو اس مقصد میں صرف کردینے کا نام جہاد ہے اور اس کی آخری حد یہ ہے کہ اگر جان کی بازی لگانے کی ضرورت پیش آئے تو اس سے بھی دریغ نہ کرے اور جہاد کی غرض و غایت یہ ہے کہ دوسرے تمام ادیان کے مقابلہ میں اللہ کا کلمہ بلند ہو اور اسی کا بول بالا ہو۔ اس غرض کے علاوہ اور کسی بھی مقصد کے لیے جنگ کی جائے تو اسے جنگ یا قتال تو کہہ سکتے ہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ نہیں کہہ سکتے۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک گنوار (لاحق بن ضمیرہ باہلی) آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کوئی شخص لوٹ حاصل کرنے کے لیے لڑتا ہے، کوئی ناموری کے لیے، کوئی اپنی بہادری جتانے کے لیے اور کوئی حمیت (قومی یا قبائلی) کے لیے لڑتا ہے تو ان میں سے اللہ کی راہ میں کون لڑتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے تھے وہ کھڑے کھڑے سوال کر رہا تھا) اور فرمایا : جو کوئی اس نیت سے لڑے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو، اللہ کی راہ میں وہی لڑتا ہے۔ (بخاری کتاب الجہاد، باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ھی العلیا) اس مضمون کی اور بھی احادیث بخاری اور مسلم میں مذکور ہیں۔ جن کے استقصاء سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں شرکت کے لیے عوام الناس میں مندرجہ ذیل پانچ قسم کے محرکات ہی پائے جا سکتے ہیں۔ ١۔ بعض لوگ اس لیے لڑتے ہیں کہ لوٹ مار سے مال ہاتھ آئے گا یا اموال غنیمت کے علاوہ دوسرے دنیوی مفادات حاصل ہوں گے۔ ٢۔ کچھ اس وجہ سے لڑتے ہیں کہ ان کا نام تاریخ میں ثبت ہوگا۔ ٣۔ کچھ اس لیے لڑتے ہیں کہ لوگ ان کے بہادری کے کارنامے فخریہ طور پر بیان کریں گے۔ ٤۔ کچھ اپنے کسی خون یا پہلی شکست کا بدلہ لینے کے لیے انتقام کے طور پر لڑتے ہیں۔ ٥۔ اور کچھ لوگ اپنے وطن، قوم اور قبیلہ کی حمایت میں لڑتے ہیں۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کی متمدن دنیا میں بھی انسان کی ذہنی سطح اس مقام سے ذرہ بھر بھی بلند نہیں ہوسکی۔ صرف انداز و اطوار ہی بدلے ہیں مقاصد کے لحاظ سے انہی مندرجہ بالا وجوہ میں سے کوئی نہ کوئی بات نظر آئے گی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب مقاصد کے علاوہ ایک بلند تر مقصد کا پتہ دیا کہ جہاد فی سبیل اللہ صرف وہ کہلا سکتا ہے، جو اعلائے کلمۃ اللہ یعنی اللہ کا بول بالا کرنے کے لیے لڑا جائے، بالفاظ دیگر دنیا سے فتنہ و فساد ختم کر کے اسے احکام و فرامین الٰہی کے سامنے سر جھکا دینے کا نام جہاد فی سبیل اللہ ہے جس میں انسان کی اپنی کسی ذاتی خواہش کو ذرہ بھر بھی دخل نہ ہونا چاہیے۔ جنگ کے متعلق یہ تصور دنیا بھر کے لیے ایک انوکھا تصور تھا۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی ابتداء میں اس تصور جہاد پر بہت متعجب ہوئے۔ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جو شخص مالی فائدے یا ناموری کے لیے جنگ کرتا ہے اسے کیا ملے گا ؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اسے کچھ نہیں ملے گا۔‘‘ سائل اس سوال پر بہت متعجب ہوا اور آ کر دوبارہ یہی سوال کیا، آپ نے دوبارہ وہی جواب دیا۔ اس کا اطمینان اب بھی نہ ہوا، سہ بارہ اور چوتھی بار پلٹ کر آیا اور یہی سوال کرتا رہا : آپ نے اس کے تعجب کی وجہ بھانپ کر فرمایا ’’اللہ کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ خاص اس کی خوشنودی اور رضا کے لیے نہ کیا جائے۔‘‘ (نسائی۔ کتاب الجہاد، باب من غزایلتمس الاجر) البقرة
219 [٢٩٠] یہ شراب کے متعلق ابتدائی حکم ہے۔ جس میں صرف شراب سے نفرت دلانا مقصود تھا اس کے بعد دوسرے حکم میں یہ بتلایا گیا کہ نشہ کی حالت میں نماز ادا کرنا منع ہے۔ پھر تیسری بار آخری حکم سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ٩٠ میں ہے۔ جس میں شراب، جوا اور اس قبیل کی دوسری چیزوں کو قطعی طور پر حرام کیا گیا ہے کہ اگرچہ شراب کے پینے سے وقتی طور پر کچھ سرور حاصل ہوجاتا ہے۔ تاہم اس کے اور جوا کے نقصانات اس کے فائدہ سے بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً شراب پینے سے انسان کی عقل مخمور ہوجاتی ہے اور یہی خرابی کئی طرح کے فتنہ و فساد کا سبب بن جاتی ہے۔ اسی طرح جوئے میں مفت مال ملنے سے خوشی حاصل ہوتی ہے مگر یہی چیزیں بعد میں کئی مفاسد، جھگڑوں اور دشمنیوں کا سبب بن جاتی ہے، لہذا ان سے بچنا ہی بہتر ہے۔ [٢٩١] یعنی ضرورت سے زائد سارا مال خرچ کردینا نفلی صدقات کی آخری حد ہے۔ ایسا نہ ہونا چاہیے کہ انسان سارے کا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دے اور بعد میں خود محتاج ہوجائے چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی محتاج نہ ہوجائے اور ابتدا ان لوگوں سے کرو جو تمہارے زیر کفالت ہیں۔ (بخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب لا صدقہ الا عن ظھر غنی) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سفر کے دوران فرمایا۔ جس کے پاس زائد سواری ہو وہ اسے دے دے، جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد زاد راہ ہے وہ اسے دے دے جس کے پاس زاد راہ نہیں ہے۔ غرض یہ کہ آپ نے مال کی ایک ایک قسم کا ایسے ہی جدا جدا ذکر کیا۔ حتیٰ کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ اپنے زائد مال میں ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔ (مسلم، کتاب اللقطۃ، باب الضیافة ونحوھا نیز باب استحباب المواسات بفضول المال) صدقہ کی آخری حد:۔اور صدقہ کی کم ازکم حد فرضی صدقہ یعنی زکوٰۃ ہے۔ جو کفر اور اسلام کی سرحد پر واقع ہے بالفاظ دیگر زکوٰۃ ادا نہ کرنے والا کافر ہے مسلمان نہیں جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں سے جہاد کیا تھا اور ان دونوں حدوں کے درمیان وسیع میدان ہے اور اہل خیر جتنی چاہیں نیکیاں کما سکتے ہیں۔ انفرادی حق ملکیت اور اشتراکی نظریہ کی تردید:۔اشتراکی ذہن رکھنے والے حضرات نے ''العفو'' کے مفہوم کو سخت غلط معنی پہنائے ہیں۔ حالانکہ آیت سے صاف واضح ہے کہ سوال کرنے والے خود اپنے اموال کے مالک تھے اور اپنی مرضی سے ہی ان اموال میں تصرف کی قدرت رکھتے تھے۔ لہٰذا جو نظریہ اس آیت سے کشید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ آیت اس کی قطعاً متحمل نہیں۔ اشتراکی نظریہ کے مطابق ہر چیز کی مالک حکومت ہوتی ہے اور اشتراکی حکومت میں انفرادی ملکیت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کسی کی ذاتی ملکیت ہی نہ ہو تو وہ پس انداز کیا کرے گا اور خرچ کیا کرے گا اور انفاق کے متعلق سوال کیا پوچھے گا ؟ گویا جس آیت سے اشتراکی نظریہ کشید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وہی آیت اس نظریہ کی تردید پر بڑی واضح دلیل ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کے متعلق سائلین نے سوال اس وقت کیا تھا۔ جب جہاد کے لیے مصارف کی شدید ضرورت تھی، جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے حکومت کو یہ اختیار نہیں دیا کہ لوگوں سے ان کے سب زائد اموال چھین لیے جائیں بلکہ مسلمانوں کی تربیت ہی اس انداز سے کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ اگر سارے کا سارا زائد مال دے دیں تو یہ سب سے بہتر اور مسلمانوں کے اللہ پر توکل کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ لیکن جو مسلمان اپنا سارا زائد مال نہیں دے سکتے یا نہیں دینا چاہتے ان پر بھی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی اور اشتراکی نظریہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ جو حالات جنگ تو درکنار عام حالات میں بھی لوگوں کو حق ملکیت سے محروم کردیتا ہے۔ ایسے انفاق فی سبیل اللہ کی واضح مثال جنگ تبوک کے موقعہ پر سامنے آتی ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے زیادہ سے زیادہ مال دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ عمر رضی اللہ عنہ اس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نسبت مالدار تھے۔ دل میں خیال آیا کہ آج اپنے تمام تر اثاثہ کا نصف حصہ خرچ کر کے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سبقت لے جائیں گے۔ چنانچہ جب اپنا مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا عمر! کیا کچھ لائے؟ عرض کیا کہ اپنے تمام اموال کا نصف حصہ بانٹ کرلے آیا ہوں۔ پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھوڑا سا مال لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے بھی وہی سوال کیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ! کیا کچھ لائے؟ عرض کیا سب کچھ ہی لے آیا ہوں۔ گھر میں بس اللہ اور اس کے رسول کا نام ہی باقی ہے۔ یہ جواب سن کر عمر رضی اللہ عنہ کو یقین ہوگیا کہ کثرت مال کے باوجود حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سبقت نہیں لے جا سکتے۔ (ابو داؤد، کتاب الزکوٰۃ۔ باب الرجل یخرج من مالہ) یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ آپ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سارے کا سارا مال قبول فرما لیا۔ حالانکہ آپ کا ارشاد ہے کہ’’صدقہ وہ بہتر ہے جس کے بعد آدمی خود محتاج نہ بن جائے۔‘‘(بخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب لاَصَدَقَۃَ الاَّ عَنْ ظَھْرِ غِنًی) تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اللہ پر توکل بے مثال تھا جسے آپ پوری طرح سمجھتے تھے۔ اب اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔ اسی موقع پر ایک شخص ایک انڈا بھر سونا لایا اور کہنے لگا، مجھے یہ کان سے ملا ہے اور یہ صدقہ ہے اور اس کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں، آپ نے اس سے اعراض کیا تو اس شخص نے دائیں ہو کر یہی بات دہرائی تو بھی آپ نے اعراض کیا، پھر بائیں طرف، پھر پیچھے ہو کر یہی بات دہراتا رہا۔ آخر آپ نے وہ سونا پکڑا پھر اسے ہی دے دیا اور فرمایا۔ ’’یہ تمہارے لیے ہے ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔‘‘ جب وہ چلا گیا تو آپ نے فرمایا : تم میں سے ایک شخض آ کر کہتا ہے کہ یہ صدقہ ہے پھر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے لگتا ہے اس موقعہ پر بھی آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ ’’بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی محتاج نہ ہوجائے۔‘‘ (ابو داؤد، کتاب الزکوٰۃ، باب الرجل یخرج من مالہ) اس شخص کا صدقہ قبول نہ کرنے کی وجہ بھی اس حدیث میں مذکور ہے۔ یہ سب واقعات سامنے رکھ کر بتلایئے کہ کیا قل العفو سے اشتراکی نظریہ کشید کرنے کی گنجائش نظر آتی ہے؟ [٢٩٢] یعنی تمہاری دنیوی ضروریات حقیقتاً کیا ہیں؟ اور آخرت میں صدقہ کا جو اجر عظیم تمہیں ملے گا۔ ان دونوں باتوں کا لحاظ رکھ کر تمہیں سوچنا چاہیے۔ البقرة
220 [٢٩٣]یتیموں کی تربیت اورخیرخواہی :۔ اس سے پیشتر یتیموں کے بارے میں دو حکم نازل ہوچکے تھے۔ ایک یہ کہ ’’یتیموں کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ۔‘‘ (٦: ١٥٢) اور دوسرا یہ کہ ’’جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔‘‘ (٤ : ١٠) لہٰذا مسلمان یتیموں کے بارے میں سخت محتاط ہوگئے اور ان کے مال اپنے مال سے بالکل الگ کردیئے کہ اسی سے ان کا کھانا پینا اور دوسری ضروریات پوری کی جائیں۔ مگر اس طرح بھی یتیموں کا بعض صورتوں میں نقصان ہوجاتا تھا۔ مثلاً ان کے لیے کھانا پکایا، جو کھانا بچ جاتا وہ ضائع ہوجاتا، ایسی ہی صورت حال سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا۔ جس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ اصل میں تو یتیموں کی اصلاح اور بھلائی مقصود ہے جس صورت میں وہ میسر آئے وہ تم اختیار کرسکتے ہو۔ اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملانا مناسب سمجھتے ہو تو بھی کوئی حرج نہیں، آخر وہ تمہارے ہی بھائی ہیں۔ یعنی تم ان کا مال ملا بھی سکتے ہو، الگ بھی کرسکتے ہو، کچھ مال ملا لو یا بعض حالتوں میں ان کا مال الگ کر دو، ہر صورت درست ہے۔ بشرطیکہ تمہاری اپنی نیت بخیر ہو اور اصل مقصود یتیم کی بھلائی ہو اور اللہ اسے خوب جانتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو کئی طرح کی پابندیاں عائد کر کے تم پر سختی کرسکتا تھا۔ یہ اس کی حکمت اور رحمت ہے کہ اس نے تمہیں ہر طرح کی صورت حال کی اجازت دے دی ہے۔ البقرة
221 [٢٩٤] مشرکہ سےنکاح کیوں ممنوع ہے؟کیونکہ مرد اور عورت کے درمیان نکاح کا تعلق محض شہوانی تعلق ہی نہیں جیسا کہ بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے بلکہ اس تعلق کے اثرات بڑے دور رس ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے دماغ اخلاق اور تمدن پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ مثلاً ایک مومن ایک مشرکہ سے نکاح کرتا ہے تو اگر وہ مومن اپنے ایمان میں پختہ، علم میں بیوی سے فائق تر اور عزم کا پکا ہوگا تو اس صورت میں وہ اپنی بیوی کی اور کسی حد تک اپنے سسرال والوں کی اصلاح کرسکتا ہے۔ ورنہ عموماً یوں ہوتا ہے کہ مرد مغلوب اور عورت اس کے افکار پر غالب آ جاتی ہے اور اگر دونوں اپنی اپنی جگہ پکے ہوں تو ان میں ہر وقت معرکہ آرائی ہوتی رہے گی اور اگر دونوں ڈھیلے ہوں تو وہ دونوں شرک اور توحید کے درمیان سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوں گے اور یہ صورت اسلامی نقطہ نظر سے قطعاً گوارا نہیں اور ایسی صورت کو بھی شرک ہی قرار دیا گیا ہے اور اگر مرد مشرک اور بیوی موحد ہو تو شرک کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ لہذا نقصان کے احتمالات زیادہ ہونے کی بنا پر ایسے نکاح کو ناجائز قرار دیا گیا اور فرمایا کہ ظاہری کمال و محاسن دیکھنے کی بجائے صرف ایمان ہی کو شرط نکاح قرار دیا جائے ضمناً اس سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ نکاح کے بعد کوئی ایک فریق مشرک ہوجائے تو سابقہ نکاح از خود ٹوٹ جائے گا۔ البقرة
222 [٢٩٥] اذی کا معنی تکلیف، بیماری اور گندگی بھی ہے۔ چنانچہ طبی حیثیت سے حیض کے دوران عورت کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ صحت کی نسبت بیماری سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ حیض کی مدت ہر عورت کے جسم اور اس کے مزاج کے لحاظ سے کم و بیش ہوتی ہے جو عموماً کم ازکم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن تک ہو سکتی ہے اور اپنی اپنی عادت (مدت حیض) کا ہر عورت کو علم ہوتا ہے۔ [٢٩٦] ''الگ رہو'' اور '' قریب نہ جاؤ۔'' ان دونوں سے مراد مجامعت کی ممانعت ہے۔ یہود و نصاریٰ دونوں اس معاملہ میں افراط و تفریط کا شکار تھے۔ یہود تو دوران حیض ایسی عورتوں کو الگ مکان میں رکھتے اور ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا بھی نہ کھاتے تھے اور نصاریٰ دوران حیض مجامعت سے بھی پرہیز نہ کرتے تھے۔ چنانچہ مسلمانوں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس آیت کی رو سے خاوند اور بیوی دونوں اکٹھے مل کر رہ سکتے ہیں اکٹھا کھانا کھا سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ میاں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے، اس کے گلے لگ سکتا ہے اور اس سے چمٹ بھی سکتا ہے (اور یہی مباشرت کا لغوی معنی ہے) اور قرآن میں جو کسی دوسرے مقام پر (باشروھن) مجامعت کے معنوں میں آیا ہے تو وہ کنائی معنی ہے لغوی نہیں بس صرف مجامعت نہیں کرسکتا۔ حیض کے دوران عورت جو کام نہیں کرسکتی، وہ درج ذیل ہیں۔ ١۔حیض میں پابندیاں :۔ وہ نماز نہیں پڑھ سکتی اور حیض کے دوران اسے نماز معاف ہے، ان کی قضا اس پر واجب نہیں۔ ٢۔ وہ روزے بھی نہیں رکھ سکتی۔ لیکن روزے اسے معاف نہیں بلکہ بعد میں ان کی قضا دینا واجب ہے۔ ٣۔ وہ ماسوائے طواف کعبہ کے حج کے باقی سب ارکان بجا لا سکتی ہے اور واجب طواف کعبہ کے لیے اسے اس وقت تک رکنا پڑے گا جب تک پاک نہ ہو لے۔ ٤۔ وہ کعبہ میں یا کسی بھی مسجد میں داخل نہیں ہو سکتی۔ ٥۔ وہ قرآن کو چھو نہیں سکتی۔ البتہ زبانی قرآن کریم کی تلاوت کی اسے اکثر علماء کے نزدیک اجازت ہے۔ ٦۔ استحاضہ حیض سے بالکل الگ چیز ہے۔ استحاضہ بیماری ہے جبکہ حیض بیماری نہیں بلکہ عورت کی عادت میں شامل ہے۔ لہذا استحاضہ میں وہ تمام پابندیاں اٹھ جاتی ہیں۔ جو حیض کی صورت میں تھیں، حتیٰ کہ اس سے صحبت بھی کی جا سکتی ہے۔ [٢٩٧] یہاں حکم سے مراد کوئی ایسا شرعی حکم نہیں جس کا بجا لانا ضروری ہو، بلکہ وہ طبعی حکم مراد ہے جو ہر جاندار کی فطرت میں ودیعت کردیا گیا ہے اور جس سے ہر متنفس بالطبع واقف ہوتا ہے۔ اس کے خلاف کرے یعنی دبر میں جماع کرے تو وہ مجرم ہوگا۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے۔ ﴿ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَاۗءَ ذٰلِکَ فَاُولٰۗیِٕکَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ﴾ ( المؤمنون :7) البقرة
223 [٢٩٨] اس آیت کے شان نزول میں دو طرح کی احادیث آئی ہیں۔ ایک یہ کہ یہودی کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس اس کے پیچھے سے آئے تو بچہ بھینگا ہوتا ہے (ان کے اس خیال کی تردید میں) یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری، کتاب التفسیر زیر آیت مذکورہ- مسلم، کتاب النکاح، باب جواز جماعہ امراتہ فی قبلھا من قدامھا و من ورائھا من غیر تعرض للدبر) دوسری یہ کہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگے کہ : ’’میں ہلاک ہو گیا‘‘ آپ نے پوچھا : ’’تجھے کس چیز نے ہلاک کیا ؟‘‘ کہنے لگے: میں نے آج اپنی سواری پھیر لی۔ آپ نے کچھ جواب نہ دیا تاآنکہ آپ پر یہ آیت نازل ہوئی (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) ’’ آگے سے صحبت کرو یا پیچھے سے مگر دبر میں یا حیض کی حالت میں مجامعت نہ کرو۔‘‘ (ترمذی، ابو اب التفسیر، زیر آیت مذکورہ) گویا اس آیت میں بیوی کو کھیتی سے تشبیہ دے کر یہ واضح کردیا کہ نطفہ جو بیج کی طرح ہے صرف سامنے (فرج) ہی میں ڈالا جائے۔ خواہ کسی بھی صورت میں ڈالا جائے، لیٹ کر، بیٹھ کر، پیچھے سے بہرحال فرج ہی میں ڈالا جائے اور پیداوار یعنی اولاد حاصل کرنے کی غرض سے ڈالا جائے۔ [٢٩٩]مجامعت کامقصد:۔ یعنی اولاد کی خاطر اور اپنی نسل برقرار رکھنے کے لیے یہ کام کرو۔ تاکہ تمہارے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد تمہاری جگہ پر دین کا کام کرنے والے موجود ہوں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اپنی اولاد کی صحیح طور پر تربیت کرو انہیں علم سکھلاؤ اور دیندار بناؤ ان کے اخلاق سنوارو اور اس کے عوض آخرت میں اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھو۔ البقرة
224 [٣٠٠]غلط کام کی قسم توڑنا اورا س کاکفارہ:۔ یعنی کوئی اچھا کام نہ کرنے پر اللہ کی قسم کھا کر اللہ کے نام کو بدنام نہ کرو جیسے یہ قسم کہ میں اپنے ماں باپ سے نہ بولوں گا یا بیوی سے اچھا سلوک نہ کروں گا یا فلاں کو صدقہ نہ دوں گا یا یہ کہ اب میں کسی کے درمیان مصالحت نہ کراؤں گا۔ یعنی برائی کے کاموں میں اللہ کے نام کا استعمال مت کرو اور اگر کسی نے یہ کام کیا ہو تو اسے چاہیے کہ قسم توڑ ڈالے اور اس کا کفارہ ادا کرے۔ چنانچہ آپ نے حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اگر تو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھے تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور جس کام کو بہتر سمجھے وہی کر۔ (بخاری، کتاب الایمان والنذور) البقرة
225 [٣٠١] اور اگر کفارہ ادا کر دے تو اس صورت میں بھی اللہ بخشنے والا ہے اور بلا ارادہ قسمیں کھانے پر مواخذہ کرنے پر بھی، قسم کا کفارہ ایک دوسرے مقام پر مذکور ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلائے یا انہیں پوشاک مہیا کرے یا غلام آزاد کرے یا تین دن کے روزے رکھے۔ (٨٩؍٥) البقرة
226 [٣٠٢] مطلقہ کی مدت:۔ایلاء (اپنی بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھانا) کی مدت چار ماہ ہے۔ مثلاً اگر کسی نے تین ماہ تعلق نہ رکھنے کی قسم کھائی تو یہ شرعاً ایلاء نہ ہوگا۔ اب آگے اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ تین ماہ کے اندر صحبت کرلی، تو اب اس پر قسم کا کفارہ دینا ہوگا اور اگر تین ماہ کے بعد کی تو نہ کفارہ ہے نہ طلاق اور چار ماہ گزر جائیں اور مرد رجوع نہ کرے تو طلاق واقع ہوجائے گی، اور بعض فقہاء کے نزدیک یہ معاملہ عدالت میں جائے گا اور طلاق عدالت کے ذریعہ ہوگی۔ (مزید تفصیل سورۃ مجادلہ میں دیکھئے) البقرة
227 البقرة
228 [٣٠٣] یہ حکم ان عورتوں کے لیے ہے جو حاملہ نہ ہوں کیونکہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے اور جس عورت سے اس کے خاوند نے ابھی تک صحبت ہی نہ کی، اس پر کوئی عدت نہیں۔ عدت کے دوران نان و نفقہ اور رہائش خاوند کے ذمہ ہوتا ہے اور اسے اپنے خاوند کے ہاں ہی عدت گزارنا چاہیے۔ کیونکہ اس دوران خاوند اس سے رجوع کا حق رکھتا ہے اور قانوناً وہ اس کی بیوی ہی ہوتی ہے۔ قروء، قرء کی جمع ہے اور قرء کا معنی لغوی لحاظ سے حیض بھی ہے اور طہر بھی۔ یعنی یہ لفظ لغت ذوی الاضداد سے ہے۔ احناف اس سے تین حیض مراد لیتے ہیں۔ جبکہ شوافع اور مالکیہ طہر مراد لیتے ہیں۔ اس فرق کو درج ذیل مثال سے سمجھئے۔ طلاق دینے کا صحیح اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ عورت جب حیض سے فارغ ہو تو اسے طہر کے شروع میں ہی بغیر مقاربت کئے طلاق دے دی جائے اور پوری مدت گزر جانے دی جائے۔ عدت کے بعد عورت بائن ہوجائے گی۔ اب فرض کیجئے کہ کسی عورت ہندہ نامی کی عادت یہ ہے کہ اسے ہر قمری مہینہ کے ابتدائی تین دن ماہواری آتی ہے۔ اس کے خاوند نے اسے حیض سے فراغت کے بعد ٤ محرم کو طلاق دے دی۔ اب احناف کے نزدیک اس کی عدت تین حیض ہے یعنی ٣ ربیع الثانی کی شام کو جب وہ حیض سے فارغ ہوگی، تب اس کی عدت ختم ہوگی۔ جبکہ شوافع اور مالکیہ کے نزدیک تیسرا حیض شروع ہونے تک اس کے تین طہر پورے ہوچکے ہوں گے۔ یعنی یکم ربیع الثانی کی صبح کو حیض شروع ہونے پر اس کی عدت ختم ہوچکی ہوگی۔ اس طرح قروء کی مختلف تعبیروں سے تین دن کا فرق پڑگیا۔ اور ہم نے جو قروء کا ترجمہ حیض کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے فاطمہ بنت حبیش سے فرمایا کہ دعی الصلوۃ ایام اقرائک یعنی ایام حیض میں نماز چھوڑ دو۔ علاوہ ازیں خلفائے اربعہ، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم کبار اور تابعین اس بات کے قائل ہیں کہ قروء کا معنی حیض ہے۔ [٣٠٤]حمل میں غلط بیانی :۔ یعنی انہیں چاہیے کہ وہ صاف صاف بتلا دیں کہ انہیں حیض آتا ہے یا وہ حاملہ ہیں جیسی بھی صورت ہو، مثلاً عورت حاملہ تھی مگر اس نے خاوند کو نہ بتلایا، اگر بتلا دیتی تو شاید خاوند طلاق نہ دیتا، یا عورت کو تیسرا حیض آ چکا مگر اس نے خاوند کو نہ بتلایا تاکہ اس سے نان نفقہ وصول کرتی رہے۔ غرضیکہ جھوٹ سے کئی صورتیں پیش آ سکتی ہیں۔ لہذا انہیں چاہیے کہ اللہ سے ڈر کر صحیح صحیح بات بتلا دیا کریں۔ [٣٠٥]مردکوعورت پر فوقیت:۔ یعنی عدت کے اندر تو خاوند کو رجوع کا حق حاصل ہے لیکن عدت گزر جانے کے بعد بھی (اگر ایک یا دوسری طلاق دے دی ہو تیسری نہ دی ہو) تو اگر میاں بیوی آپس میں مل بیٹھنے پر راضی ہوں تو وہی زیادہ حقدار ہیں کہ از سر نو نکاح کرا لیں۔ جیسا اس سورۃ کی آیت نمبر ٢٣٢ سے واضح ہے۔ [٣٠٦] مردوں اور عورتوں کے حقوق کی تفصیل طویل ہے۔ البتہ مرد کو عورت پر فضیلت کا جو درجہ حاصل ہے وہ یہ ہے کہ چونکہ مرد ہی عورتوں کے معاملات کے ذمہ دار اور پورے گھر کے منتظم ہوتے ہیں اور خرچ و اخراجات بھی وہی برداشت کرتے ہیں۔ لہذا طلاق اور رجوع کا حق صرف مرد کو دیا گیا ہے۔ البقرة
229 [٣٠٧] لاتعدادطلاقوں کاسدباب:۔دور جاہلیت میں عرب میں ایک دستور یہ بھی تھا کہ مرد کو اپنی بیوی کو لاتعداد طلاقیں دینے کا حق حاصل تھا۔ ایک دفعہ اگر مرد بگڑ بیٹھتا، اور اپنی بیوی کو تنگ اور پریشان کرنے پر تل جاتا تو اس کی صورت یہ تھی کہ طلاق دی اور عدت کے اندر رجوع کرلیا پھر طلاق دی پھر رجوع کرلیا اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہتا، نہ وہ عورت کو اچھی طرح اپنے پاس رکھتا اور نہ ہی اسے آزاد کرتا کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرسکے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرد اپنی عورت کو جتنی بھی طلاقیں دینا چاہتا، دیئے جاتا اور عدت کے اندر رجوع کرلیتا۔ اگرچہ وہ مرد سو بار یا اس سے زیادہ طلاقیں دیتا جائے۔ یہاں تک کہ ایک (انصاریٰ) مرد نے اپنی بیوی سے کہا : اللہ کی قسم! میں نہ تجھ کو طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہو سکے اور نہ ہی تجھے بساؤں گا۔ اس عورت نے پوچھا : وہ کیسے؟ وہ کہنے لگا، میں تجھے طلاق دوں گا اور جب تیری عدت گزرنے کے قریب ہوگی تو رجوع کرلوں گا۔ یہ جواب سن کر وہ عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور اپنا یہ دکھڑا سنایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ خاموش رہیں تاآنکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو یہ ماجرا سنایا تو آپ بھی خاموش رہے۔ حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ ﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ﴾..... (ترمذی۔ ابو اب الطلاق، اللعان) طلاق کا سنت طریقہ :۔ اس آیت سے اسی معاشرتی برائی کا سدباب کیا گیا اور مرد کے لیے صرف دو بار طلاق دینے اور اس کے رجوع کرنے کا حق رہنے دیا گیا۔ طلاق دینے کا مسنون اور سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ مرد حالت طہر میں عورت کو ایک طلاق دے اور پوری عدت گزر جانے دے۔ اس صورت کو فقہی اصطلاح میں طلاق احسن کہتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک طہر میں ایک طلاق دے اور دوسرے میں دوسری اور تیسرے میں تیسری دے دے اس صورت کو حسن کہتے ہیں۔ پہلی صورت کا فائدہ یہ ہے کہ اگر عدت گزر جانے کے بعد بھی میاں بیوی آپس میں مل بیٹھنے پر رضامند ہوں تو تجدید نکاح سے یہ صورت ممکن ہے ایک مجلس میں تین طلاقیں:۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ یکبارگی تینوں طلاقیں دے دے۔ یہ صورت طلاق بدعی کہلاتی ہے اور ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ (ہدایہ، کتاب الطلاق) اگرچہ بعض ائمہ فقہاء کے مطابق اس صورت میں بھی تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ مگر سنت کی رو سے یہ ایک ہی طلاق واقع ہوگی جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔ (١) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک یک بارگی تین طلاق کو ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا تھا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : لوگوں نے ایک ایسے کام میں جلدی کرنا شروع کردی جس میں ان کے لیے مہلت اور نرمی تھی تو اب ہم کیوں نہ ان پر تین طلاقیں ہی نافذ کردیں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا قانون نافذ کردیا۔ (مسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث) (٢) ابو الصہباء نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بھی تین سال تک تین طلاقوں کو ایک بنا دیا جاتا تھا ؟ تو حضرت عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا۔ ’’ہاں۔‘‘ (بحوالہ، ایضاً) (٣) ابو الصہباء نے حضرت عباس سے کہا : ایک مسئلہ تو بتلائیے کہ رسول اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تین طلاقیں ایک ہی شمار نہ ہوتی تھیں؟ حضرت ابن عباس نے جواب دیا، ہاں ایسا ہی تھا۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو اکٹھی تین طلاق دینے کا رواج عام ہوگیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر تین ہی نافذ کردیں۔ (حوالہ ایضاً) مندرجہ بالا تین احادیث اگرچہ الگ الگ ہیں۔ مگر مضمون تقریباً ایک ہی جیسا ہے اور ان احادیث سے درج ذیل امور کا پتہ چلتا ہے۔ ١۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، دور صدیقی رضی اللہ عنہ اور دور فاروقی رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دو تین سالوں تک لوگ یکبارگی تین طلاق دینے کی بدعات میں مبتلا تھے اور یہی عادت دور جاہلیت سے متواتر چلی آ رہی تھی جو دور نبوی میں بھی کلیتاً ختم نہ ہوئی تھی۔ چنانچہ دور نبوی میں ایک شخص نے یکبارگی تین طلاقیں دیں تو آپ غصہ سے کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ : میری زندگی میں ہی کتاب اللہ سے یوں کھیلا جا رہا ہے؟ آپ کی یہ کیفیت دیکھ کر ایک شخص نے اجازت چاہی کہ : میں اس مجرم کو قتل نہ کر دوں؟ تو آپ نے ازراہ شفقت اس مجرم کو قتل کرنے کی اجازت نہ دی، (نسائی، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث المتفرقہ- ابو داؤد، کتاب الطلاق باب نسخ المراجعہ بعد التطلیقات الثلاث) اس واقعہ سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینا شرعی نقطہ نگاہ سے کتنا بڑا گناہ اور مکروہ فعل ہے۔ ٢۔ لوگوں کی اس بدعادت پر انہیں زجر و توبیخ کی جاتی تھی۔ کیونکہ یہ طریقہ کتاب و سنت کے خلاف تھا تاہم ١٥ ھ تک عملاً یکبارگی تین طلاق کو ایک ہی قرار دیا جاتا رہا۔ اور لوگوں کی معصیت اور حماقت کے باوجود ان سے حق رجوع کو سلب نہیں کیا جاتا تھا۔ ٣۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے الفاظ فَلَوْاَمْضَیْنَاہُ عَلَیْھِمْ اس بات پر واضح دلیل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ تعزیر و تادیب کے لیے تھا تاکہ لوگ اس بدعادت سے باز آ جائیں۔ یہ فیصلہ آپ نے سرکاری اعلان کے ذریعہ نافذ کیا۔ گویا یہ ایک وقتی اور عارضی قسم کا آرڈیننس تھا۔ کتاب و سنت کی طرح اس کی حیثیت دائمی نہ تھی۔ ٤۔ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے کوئی شرعی بنیاد موجود ہوتی تو آپ یقیناً استنباط کر کے لوگوں کو مطلع فرماتے، جیسا کہ عراق کی زمینوں کو قومی تحویل میں لیتے وقت کیا تھا اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ کے استنباط کو درست تسلیم کر کے آپ سے پورا پورا اتفاق کرلیا تھا، اگر آپ کسی آیت یا حدیث سے استنباط کر کے اور لوگوں کو اس سے مطلع کر کے یہ فیصلہ نافذ کرتے تو پھر واقعی اس فیصلہ کی حیثیت شرعی اور دائمی بن سکتی تھی۔ کیا ایک مجلس میں تین طلاق کا مسئلہ اجماعی ہے؟یہی وہ وجوہ ہیں جن کی بنا پر آج تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلہ پر امت کا اجماع نہ ہوسکا اور جو لوگ اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں ان کا دعویٰ باطل ہے۔ کیونکہ تطلیق ثلاثہ کے بارے میں مندرجہ ذیل چار قسم کے گروہ پائے جاتے ہیں۔ ١۔ پہلا گروہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلہ کو وقتی اور تعزیری سمجھتا ہے اور سنت نبوی کو ہی ہر زمانہ کے لیے معمول جانتا ہے۔ ان کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی شمار ہوتی ہے اس گروہ میں ظاہری، اہل حدیث اور شیعہ شامل ہیں (نیز قادیانی جنہیں غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے وہ بھی ایک ہی طلاق کے قائل ہیں) علاوہ ازیں ائمہ اربعہ کے مقلدین میں سے بعض وسیع الظرف علماء بھی شامل ہیں اور بعض اشد ضرورت کے تحت اس کے قائل ہیں۔ ٢۔ دوسرا گروہ مقلد حضرات کا ہے جن کی اکثریت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلہ کو مشروع اور دائمی سمجھتی ہے۔ البتہ اس کام کو گناہ کبیرہ سمجھتی ہے۔ ٣۔ تیسرا گروہ دوسری انتہا کو چلا گیا ہے۔ ان کے نزدیک ایک مجلس میں ایک طلاق واقع ہونا تو جائز ہے۔ لیکن اگر دو یا تین یا زیادہ طلاقیں دی جائیں تو ایک بھی واقع نہیں ہوتی وہ کہتے ہیں کہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ طلاق دینا کار معصیت اور خلاف سنت یعنی بدعت ہے۔ جس کے متعلق ارشاد نبوی ہے مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھَذٰا مَالَیْسَ مِنْہُ فَھُوْرَدٌ (متفق علیہ) جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کی جو اس میں نہ تھی تو وہ بات مردود ہے۔ لہذا ایسی بدعی طلاقیں سب مردود ہیں، لغو ہیں، باطل ہیں۔ لہٰذا ایک طلاق بھی واقع نہ ہوگی۔ اس گروہ میں شیعہ حضرات میں سے کچھ لوگ شامل ہیں۔ نیز محمد بن ارطاۃ اور محمد بن مقاتل (حنفی) بھی اس کے قائل ہیں (شرح مسلم للنووی، ج ١۔ ص ٤٧٠) ٤۔ اور ایک قلیل تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو ایک مجلس کی تین طلاق کو غیر مدخولہ کے لیے ایک ہی شمار کرتے ہیں اور مدخولہ کے لیے تین۔ (زادالمعادج ٤ ص ٦٧) غور فرمائیے کہ جس مسئلہ میں اتنا اختلاف ہو کہ اس میں چار گروہ پائے جاتے ہوں اسے ’’اجماعی‘‘ کہا جا سکتا ہے؟ ایک مجلس میں ایک سے زیادہ طلاقیں دینے کی بدعادت دور جاہلیہ کی یادگار ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد پھر عود کر آئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عادت کو چھڑانے کے لیے تین طرح کے اقدامات کئے تھے۔ ١۔ وہ ایک مجلس میں تین طلاق دینے والوں کو بدنی سزا بھی دیتے تھے۔ ٢۔ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین شمار کرنا بھی حقیقتاً ایک سزا تھی۔ جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نافذ کردیا۔ ٣۔ اور جب لوگوں نے اپنی عادت پر کنٹرول کرنے کی بجائے حلالہ کی باتیں شروع کردیں تو آپ نے حلالہ نکالنے اور نکلوانے والے دونوں کے لیے رجم کی سزا مقرر کردی۔ اس طرح یہ فتنہ کچھ مدت کے لیے دب گیا۔ گویا دور فاروقی میں اس معصیت کی اصلاح اس صورت میں ہوئی کہ حلالہ کا دروازہ سختی سے بند کردیا گیا تھا۔ مگر آج المیہ یہ ہے کہ مقلد حضرات ہوں یا غیر مقلد کوئی بھی اکٹھی تین طلاق دینے کو جرم سمجھتا ہی نہیں۔ جہالت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ عوام تو درکنار، خواص بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جدائی کے لیے تین طلاق دینا ضروری ہیں۔ حالانکہ طلاق کی بہترین اور مسنون صورت یہی ہے کہ صرف ایک ہی طلاق دے کر عدت گزر جانے دی جائے۔ تاکہ عدت گزر جانے کے بعد بھی اگر زوجین مل بیٹھنا چاہیں تو تجدید نکاح سے مسئلہ حل ہوجائے۔ تاہم اگر آپس میں نفرت اور بگاڑ اتنا شدید پیدا ہوچکا ہو کہ مرد تازیست اپنی بیوی کو رشتہ زوجیت میں نہ رکھنے کا فیصلہ کرچکا ہو اور اپنی حسرت اور غصہ مٹانے کے لیے تین کا عدد پورا کر کے طلاق مغلظہ ہی دینا چاہتا ہو تو پھر اسے یوں کرنا چاہیے کہ ہر طہر میں ایک ایک طلاق دیتا جائے، تیسری طلاق کے بعد ان کے آئندہ ملاپ کی ﴿حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ ﴾کے علاوہ کوئی صورت باقی نہ رہے گی۔ آج کے دور میں ایک مجلس کی تین طلاق کو کار معصیت یا گناہ کبیرہ نہ سمجھنے کے لحاظ سے مقلد اور غیر مقلد دونوں حضرات ایک جیسے ہیں۔ کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ ایسے مجرم کو کیا سزا دی جانی چاہیے۔ تاکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ سنت بھی زندہ ہو۔ البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ اس جرم کے بعد اہل حدیث تو ایسے مجرم کو سنت نبوی کی راہ دکھلاتے ہیں۔ جبکہ بعض حنفی حضرات حلالہ جیسے کار حرام کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ بذریعہ ڈاک بیوی کو تین طلاقیں لکھ بھیجنا:۔ آج کل جو یہ دستور چل نکلا ہے کہ پہلے بیوی کو میکے بھیج دیتے ہیں بعد میں کسی وقت بذریعہ چٹھی تین طلاق تحریری لکھ کر ڈاک میں بھیج دیتے ہیں یہ نہایت ہی غلط طریقہ ہے اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں: ١۔ ایک وقت کی تین طلاق کار معصیت گناہ کبیرہ ہے۔ بدعت ہے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا تصریحات سے واضح ہے۔ ٢۔ دوران عدت مطلقہ کا نان نفقہ اور رہائش خاوند کے ذمہ ہوتی ہے اور مطلقہ اس کی بیوی ہی ہوتی ہے جس سے وہ رجوع کا حق رکھتا ہے جسے وہ ضائع کردیتا ہے۔ اس دوران وہ نان نفقہ کے اس بار سے بھی سبکدوش رہنا چاہتا ہے جو شرعاً اس پر لازم ہے۔ ٣۔ عدت کے دوران عورت کو اپنے پاس رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ شاید حالات میں ساز گاری پیدا ہوجائے۔ منشائے الٰہی یہ ہے کہ رشتہ ازدواج میں پائیداری بدستور قائم رہے۔ اگرچہ ناگزیر حالات میں طلاق کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :'' اَبْغَضُ الْحَلاَلِ اِلَی اللّٰہِ الطَّلاَقُ'' (ابو داؤد، کتاب الطلاق) یعنی تمام حلال اور جائز چیزوں میں سے اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔ لہٰذا اللہ کی خوشنودی اسی بات میں ہے کہ طلاق دینے کے بعد عدت کے دوران مرد رجوع کرلے، اور وہ زبردستی بھی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یعنی اگر عورت رضامند نہ ہو تو بھی وہ ایسا کرنے کا حق رکھتا ہے جس سے علیحدگی کی راہ بند ہو اور مصالحت کی راہ کھل جائے۔ ٤۔ عدت گزر جانے کے بعد عورت کی رخصتی کے وقت دو عادل گواہوں کی موجودگی بھی ضروری ہے (٦٥؍٢) اور بذریعہ خط طلاقیں بھیج دینے سے اس حکم پر بھی عمل نہیں ہو سکتا۔ گواہوں کی اہمیت مصلحت کے لیے دیکھئے سورۃ طلاق کے حواشی۔ اب یہ سوال ہے کہ آج کے دور میں بیک وقت تین طلاق دینے والے مجرم کی سزا کیا ہونی چاہیے، اگرچہ یہ مسئلہ علمائے کرام اور مفتیان عظام کی توجہ کا مستحق ہے۔ تاہم میرے خیال میں اس کی سزا ظہار کا کفارہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ دونوں کام ﴿مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا ﴾ (ناپسندیدہ اور انہونی بات) کے ضمن میں آتے ہیں اور کئی وجوہ سے ان میں مماثلت ہے۔ ظہار کا کفارہ ایک غلام کو آزاد کرنا یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ آج غلامی کا دور تو ختم ہوچکا۔ البتہ باقی دو سزاؤں میں سے کوئی ایک مفتی حضرات ایسے مجرموں کے لیے تجویز کرسکتے ہیں جب تک ان کے لیے کوئی سزا تجویز نہ کی جائے ان کو اپنے جرم کا کبھی احساس تک نہ ہو سکے گا۔ اس طرح ہی اس رسم بد اور بدعت کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے اور علمائے کرام کو ایسی سزا تجویز کرنا اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ خاموشی اور بے حسی کے ذریعہ کسی معصیت کے کام کو قائم رکھنا یا رہنے دینا بھی کار معصیت ہے۔ لہٰذا ایسے مجرم کو سزا بھی دینا چاہیے اور طلاق بھی ایک ہی شمار کرنا چاہیے، تاکہ سنت نبوی پر بھی عمل ہوجائے اور سنت فاروقی پر بھی۔ [٣٠٨] یعنی اسے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ دے دلا کر رخصت کیا جائے، خالی ہاتھ یا دھکے دے کر گھر سے ہرگز نہ نکالا جائے۔ [٣٠٩]مطلقہ سے دی ہوئی چیز واپس لیناگناہ ہے:۔ یعنی حق مہر بھی اور اس کے علاوہ دوسری اشیاء (مثلاً زیور کپڑے وغیرہ) جو خاوند اپنی بیوی کو بطور ہدیہ دے چکا ہو۔ کسی کو ہدیہ دے کر واپس لینا عام حالات میں بھی جائز نہیں اور ایسے ہدیہ واپس لینے والے کے اس فعل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کتے سے تشبیہ دی ہے جو قے کر کے پھر اسے چاٹ لے۔ (بخاری، کتاب الھبۃ، باب ھبة الرجل لامراتہ) طلاق دینے والے شوہر کے لیے یہ اور بھی شرمناک بات ہے کہ کسی زمانہ میں اس نے جو اپنی بیوی کو ہدیہ دیا تھا۔ رخصت کرتے وقت بجائے مزید کچھ دینے کے اس سے پہلے تحائف کی بھی واپسی کا مطالبہ کرے۔ [٣١٠] زوجین کا باہمی سمجھوتہ :۔اگر میاں بیوی میں ناچاقی کی صورت پیدا ہوجائے یا ہونے کا خدشہ ہو اور وہ سمجھیں کہ شاید حسن معاشرت کے متعلق ہم اللہ کے احکام بجا نہ لا سکیں گے اور مرد کی طرف سے ادائے حقوق زوجہ میں قصور بھی نہ ہو۔ تو عورت اپنے کسی حق سے دستبردار ہو کر یا اپنی طرف سے کچھ مال دے کر خواہ وہ خاوند ہی کا دیا ہو۔ اسے طلاق نہ دینے پر رضامند کرلے تو یہ صورت بھی جائز ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ رضی اللہ عنھا بنت زمعہ جب بوڑھی ہوگئیں تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نیز اس خیال سے بھی کہ کہیں آپ انہیں طلاق نہ دے دیں۔ اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کردی تھی (بخاری کتاب الہبۃ باب ہبۃ المراۃ لغیر زوجھا الخ) [٣١١]خلع کے احکام :۔ اگر حالات زیادہ کشیدہ ہوں اور عورت بہرحال اپنے خاوند سے اپنا آپ چھڑانا چاہتی ہو تو جو زر فدیہ وہ آپس میں طے کرلیں وہی درست ہوگا اور وہ رقم لینے کے بعد مرد اسے طلاق دے گا۔ عورت پر طلاق بائنہ واقع ہوجائے گی اسے شرعی اصطلاح میں خلع کہتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ثابت بن قیس (بن شماس انصاری) کی بیوی (جمیلہ) جو عبداللہ بن ابی منافق کی بہن تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ میں ثابت بن قیس پر دینداری اور اخلاق میں کوئی عیب نہیں لگاتی، مگر میں یہ نہیں چاہتی کہ مسلمان ہو کر خاوند کی ناشکری کے گناہ میں مبتلا ہوں۔ آپ نے فرمایا۔ ’’اچھا جو باغ ثابت نے تمہیں (حق مہر میں) دیا تھا وہ واپس کرتی ہو؟‘‘ وہ کہنے لگی جی ہاں! کرتی ہوں۔ آپ نے ثابت بن قیس سے فرمایا : اپنا باغ واپس لے لو اور اسے طلاق دے دو‘‘ (بخاری، کتاب الطلاق، باب الخلع و کیف الطلاق فیہ) یہ ضروری نہیں کہ زر فدیہ اتنا ہی ہو جتنا حق مہر تھا۔ اس سے کم بھی ہوسکتا ہے اور زیادہ بھی۔ مگر زیادہ لینے کو فقہا نے مکروہ سمجھا ہے اور اگر معاملہ آپس میں طے نہ ہو سکے تو عورت عدالت کی طرف رجوع کرسکتی ہے۔ اس صورت میں تمام حالات کا جائزہ لے کر عدالت جو فدیہ طے کرے گی وہی نافذ العمل ہوگا اور عورت اس وقت تک اس مرد سے آزاد نہ ہوگی جب تک وہ زر فدیہ ادا نہ کر دے اور وہ مرد یا اس کی جگہ عدالت اسے طلاق نہ دے دے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جمیلہ بنت ابی نے خلع کے لیے کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی۔ ثابت بن قیس پوری طرح اس کے حقوق بھی پورے کر رہے تھے اور ان کے اخلاق بھی قابل اعتراض نہیں تھے۔ جمیلہ بنت ابی کو طبعی نفرت صرف اس وجہ سے تھی کہ ثابت بن قیس رنگ کے کالے تھے اور وہ خود عبداللہ بن ابی (رئیس المنافقین) کی بہن ہونے کی بنا پر چودھریوں کا سا ذہن رکھتی تھی۔ تاہم سچی مومنہ تھی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اس طبعی نفرت کو ہی معقول وجہ قرار دے کر خلع کا حکم دے دیا۔ البقرة
230 [٣١٢] خاوند نے جب تیسری بار طلاق دے دی۔ تو اب وہ اس کے لیے حرام ہوگئی۔ عورت پر عدت تو ہوگی، مگر مرد اس عدت میں رجوع نہیں کرسکتا۔ اب ان دونوں کے ملاپ کی صرف یہ صورت ہے کہ عدت گزرنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے پھر کسی وقت وہ مرد از خود اس عورت کو طلاق دے دے یا وہ مرد فوت ہوجائے تو پھر عدت گزرنے کے بعد یہ عورت اپنے پہلے خاوند سے نکاح کرسکتی ہے۔ نکاح حلالہ کی حرمت اور اس کا افسوسناک پہلو:۔ احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص محض اپنی مطلقہ بیوی کو حلال کرنے کی خاطر کسی سے اس کا اس شرط پر نکاح کرائے کہ وہ نکاح کے بعد دوسرے یا تیسرے دن اسے طلاق دے دے گا۔ تاکہ یہ عورت پھر اپنے پہلے خاوند کے لیے حلال ہو سکے (جسے شرعی اصطلاح میں حلالہ کہتے ہیں) تو یہ نکاح درست نہیں بلکہ یہ بدکاری ہوگی۔ اس طرح کے سازشی نکاح و طلاق سے وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے ہرگز حلال نہ ہوگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح حلالہ نکالنے والے اور نکلوانے والے پر لعنت فرمائی ہے اور حلالہ نکالنے والے کو تیس مستعار (کرایہ کا سانڈ) کہا ہے (ابو داؤد، کتاب النکاح باب فی التحلیل) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا کہ ایسے حلالہ نکالنے والے اور نکلوانے والے دونوں کو زنا کی سزا دی جائے۔ (بیہقی ج ٧ ص ٣٣٧) اس مسئلہ کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بیک وقت تین طلاق دینے کا جرم تو مرد کرتا ہے لیکن اس کے جرم کی سزا نکاح حلالہ کی صورت میں عورت کو دی جاتی ہے۔ مرد کو تو اہل علم و فتویٰ سرزنش تک کرنے کے روادار نہیں ہوتے۔ مگر بیوی کو کسی کرایہ کے سانڈ کے ہاں شب بسری کی راہ دکھلائی جاتی ہے۔ کرے کوئی اور بھرے کوئی اس سے زیادہ واضح اور کوئی مثال ہو سکتی ہے؟ بیک وقت تین طلاق کی قباحت:۔ اس بے بس اور غیرت مند عورت نے اس ظلم و زیادتی کا اپنے طلاق دینے والے خاوند سے اور اپنے رشتہ داروں سے یوں انتقام لیا کہ رات ہی رات میں وہ حلالہ نکالنے والے مرد سے سیٹ ہوگئی اور اس نئے جوڑے نے عہد و پیمان کے ذریعہ رات کی رات کے نکاح کو پائیدار بنا لیا اور حلالہ نکلوانے والوں کی سب امیدیں خاک میں ملا دیں اور ایسے واقعات آئے دن اخبارات و رسائل میں چھپتے رہتے ہیں۔ البقرة
231 [٣١٣] یہاں اس معاشرتی برائی کا بیان ہے۔ جس کا ذکر پہلے آیت نمبر ٢٢٩ کے حاشیہ نمبر ١ میں کردیا گیا ہے۔ یعنی جب تم ایک یا دو طلاقیں دے چکو پھر ان کی عدت پوری ہونے کو آئے تو اس وقت تمہارے لیے دو ہی راستے ہیں۔ ایک یہ کہ خلوص نیت سے ان سے رجوع کرو اس ارادہ سے کہ آئندہ اسے درست طور پر بسانا ہے یا پھر انہیں کچھ دے دلا کر شریفانہ طور پر رخصت کرو۔ اور اگر تم نے رجوع کر کے انہیں تنگ کرنے، ستانے اور ان پر زیادتی کرنے کی روش اختیار کی تو یاد رکھو اس ظلم و زیادتی کا وبال تمہیں اللہ کے ہاں بھگتنا پڑے گا۔ [٣١٤] اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے کی صورتیں :۔ مذاق اڑانے کا مطلب یہ ہے کہ طرح طرح کی حیلہ سازیوں سے اللہ تعالیٰ کی آیات اور احکام کا ایسا مطلب نکالا جائے جو اس کے واضح مفہوم اور اس کی روح کے منافی ہو اور ایسا مذاق اڑانے کی واضح مثال نکاح حلالہ ہے اور اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایک شخص نے اپنی عورت کو بیک وقت تین طلاقیں دے دیں۔ آپ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو غصہ کی وجہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میری زندگی میں اللہ کے احکام سے یوں کھیلا جانے لگا ہے۔ جب کہ ابھی میں تم میں موجود ہوں۔ (نسائی، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث المتفرقة) اس طرح تو اپنی اغراض کی خاطر اللہ تعالیٰ کے ہر حکم سے اس کی اصل روح کو فنا کر کے اسے الفاظ کی قید میں مقید کر کے اور فقہی موشگافیاں پیدا کر کے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے اور اسی بات پر اللہ تعالیٰ نے تنبیہہ فرمائی ہے کہ اللہ نے ان احکام میں جو حکمتیں اور مصلحتیں رکھی ہیں۔ ان احکام کا مذاق اڑا کر ان کا ستیاناس ہی نہ کردینا اور اس سلسلہ میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ البقرة
232 [٣١٥] حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری بہن (جمیلہ) کو اس کے خاوند (عاصم بن عدی) نے طلاق (رجعی) دی مگر رجوع نہ کیا تاآنکہ پوری عدت گزر گئی۔ پھر عدت گزر جانے کے بعد دوبارہ نکاح کے لیے مجھے پیغام بھیجا (جب کہ مجھے اور بھی پیغام آ چکے تھے) میں نے غیرت اور غصہ کی وجہ سے اسے برا بھلا کہا اور انکار کردیا اور قسم کھالی کہ اب اس سے نکاح نہ ہونے دوں گا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور میں نے اس حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیا اور قسم کا کفارہ ادا کردیا۔ (بخاری، کتاب التفسیر، زیر آیت مذکورہ) ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ عورت کی رضامقدم ہے:َ اس حدیث سے ضمناً یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگرچہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، جیسا کہ کئی احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے عورت کی رضا کو ولی کی رضا پر مقدم رکھا ہے۔ یہاں صورت حال یہ تھی کہ جمیلہ کو نکاح کے کئی پیغام آئے اور اس کے سابق خاوند عاصم بن عدی کا پیغام بھی آیا۔ اب معقل وقتی غصہ اور غیرت کی بنا پر عاصم سے نکاح نہیں چاہتا تھا جبکہ جمیلہ عاصم ہی سے نکاح کرنے پر رضامند تھی جیسا کہ آیت کے الفاظ سے واضح ہے تو اللہ تعالیٰ نے معقل کے بجائے جمیلہ کی رضا کو مقدم رکھ کر اس کے مطابق حکم نازل فرمایا۔ نکاح کے سلسلہ میں اسلام نے عورت کی رضا کو ہی مقدم رکھا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔ ١۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیوہ یا مطلقہ عورت کا اس وقت تک نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے صاف صاف زبان سے اجازت نہ لی جائے، اسی طرح کنواری کا بھی نکاح نہ کیا جائے جب تک وہ اذن نہ دے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کنواری اذن کیونکر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کا چپ رہنا ہی اس کا اذن ہے۔ (بخاری، کتاب النکاح۔ باب لاینکح الاب وغیرہ۔ البکروالثیب الا برضاھا) ٢۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ’’ کنواری لڑکی تو شرم کرتی ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اس کی رضامندی یہی ہے کہ وہ خاموش ہوجائے۔'' (حوالہ ایضاً) ٣۔ خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ میرے باپ نے (اپنی مرضی سے) میرا نکاح کردیا جبکہ میں ثیبہ (شوہر دیدہ) تھی اور اس نکاح کو پسند نہیں کرتی تھی۔ آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی تو آپ نے میرے باپ کے کئے ہوئے نکاح کو فسخ کر ڈالا۔ (حوالہ ایضاً) ٤۔ قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ جعفر بن ابی طالب کے خاندان کی ایک عورت کو یہ خطرہ پیدا ہوا کہ اس کا ولی کہیں جبراً اس کا نکاح نہ پڑھا دے اور وہ اس نکاح سے ناخوش تھی۔ آخر اس نے کسی شخص کو دو بوڑھے انصاریوں عبدالرحمن بن جاریہ اور مجمع بن جاریہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے کہلا بھیجا کہ تو کا ہے کو ڈرتی ہے۔ خنساء بنت خذام کا نکاح اس کے باپ نے جبراً کردیا تھا اور وہ اس نکاح کو پسند نہیں کرتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نکاح فسخ کردیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب الحیل۔ باب فی النکاح) ٥۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا۔ (ترمذی، ابو اب النکاح، باب ماجاء إلانکاح الا بولی) ترمذی کے علاوہ اسے ابو داؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے بھی روایت کیا ہے۔ ٦۔ حضرت عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے۔ پھر اگر خاوند نے اس سے صحبت کرلی تو اس کے عوض اسے پورا حق مہر ادا کرنا ہوگا۔ پھر اگر ان میں جھگڑا پیدا ہوجائے تو جس عورت کا کوئی ولی نہ ہو، بادشاہ اس کا ولی ہے۔ (ترمذی حوالہ ایضاً) اس حدیث کو ترمذی کے علاوہ احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ منکرین جواز کےدلائل کاجواب:۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک کنواری لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے باپ نے میرا نکاح جبراً کردیا ہے۔ میں راضی نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اختیار دے دیا۔ (ابو داؤد بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب النکاح۔ باب الولی فی النکاح و استیذان المرأۃ تیسری فصل) ٨۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت کسی عورت کا نکاح نہ کرے۔ اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے اور جو عورت اپنا نکاح خود کرتی ہے وہ زانیہ ہے۔ (ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰۃ حوالہ ایضاً) ٩۔ ابو سعید اور ابن عباس رضی اللہ عنہم دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ہاں بچہ پیدا ہو وہ اس کا اچھا سا نام رکھے اور اچھا ادب سکھائے۔ پھر جب بالغ ہو تو اس کا نکاح کر دے۔ اگر اس کا نکاح بلوغت کے وقت نہ کیا اور وہ کسی گناہ کا مرتکب ہوا تو اس کا گناہ اس کے باپ پر ہوگا۔ (بیہقی شعب الایمان بحوالہ مشکوٰۃ۔ حوالہ ایضاً) واضح رہے کہ مندرجہ بالا سب احادیث سے یہ بات واضح ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ البتہ ولی کی رضا پر عورت کی رضامقدم ہے۔ رشتہ میں لات مارنا:۔ اور اس آیت کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو شخص اپنی عورت کو طلاق دے چکا ہو اور وہ مطلقہ عورت عدت گزار کر کسی دوسرے آدمی سے نکاح کرنا چاہتی ہو تو سابقہ شوہر کو کوئی ایسی کمینہ حرکت نہ کرنی چاہیے جو اس کے ہونے والے نکاح میں رکاوٹ پیدا کر دے جس سے عورت پر تنگی پیدا کرنا مقصود ہو۔ بلوغت سے پہلےنکاح پرحکومت کی پابندی:۔ یہاں ایک اور مسئلہ پیدا ہوتا ہے جو موجودہ دور میں خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اور وہ یہ ہے آیا ولی اپنے لڑکے یا لڑکی یا کسی دوسرے قریبی رشتہ دار کا بچپن میں نکاح کرنے کا مجاز ہے یا نہیں؟ اور اسی مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آیا بلوغت سے پہلے یا بچپن کا نکاح درست ہے یا باطل؟ اور یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر امت مسلمہ کے تمام فرقوں کا اتفاق ہے کہ بچپن کا نکاح درست ہوتا ہے اور ولی ایسا نکاح کرنے کا مجاز ہے۔ لیکن دور حاضر کے کچھ مجددین نے ایسے نکاح کو غلط اور باطل قرار دیا اور اسی طبقہ سے متاثر ہو کر حکومت پاکستان نے عائلی قوانین آرڈی نینس ١٩٦١ میں اس متن کا اندراج کیا کہ نکاح کے وقت لڑکے کی عمر کم از کم اٹھارہ سال اور لڑکی کی عمر کم از کم سولہ سال ہونی چاہیے۔ یہ شق چونکہ امت مسلمہ کے ایک متفق علیہ مسئلہ کے خلاف ہے لہذا ہم اس پر ذرا تفصیل سے گفتگو کریں گے۔ پہلے ہم اس متفق علیہ مسئلہ کے جواز پر دلائل پیش کرتے ہیں۔ بچپن کی شادی کے جواز پر دلائل ١۔ قرآن میں مختلف قسم کی عورتوں کی عدت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ وَاڿ یَیِٕسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَاۗیِٕکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍ ۙ وَّاڿ لَمْ یَحِضْنَ ۭ وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ ۭ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا﴾ (65: 4) ’’اور تمہاری مطلقہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہوں، اگر تمہیں ان کی عدت کے بارے میں شک ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنہیں ابھی حیض شروع ہی نہیں ہوا اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل تک ہے۔‘‘ اس آیت میں بوڑھی، جوان اور بچی سب طرح کی عورتوں کا ذکر ہے۔ بوڑھی اور بچی جنہیں حیض نہیں آتا ان کی عدت تین ماہ ہے اور جوان عورت کی عدت اگر اسے حمل ہے تو وضع حمل تک ہے (اور اگر حمل نہ ہو تو چار ماہ دس دن ہے جیسا کہ سورۃ بقرہ میں گزر چکا ہے) اور تو ظاہر ہے کہ عدت کا سوال یا تو خاوند کے طلاق دینے کے یا مر جانے کے بعد ہی پیدا ہوسکتا ہے۔ تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بلوغت سے پہلے بھی لڑکی کا نکاح جائز ہے اور اس کا ولی اس بات کا مجاز ہے۔ ٢۔ ارشاد باری ہے : آیت ﴿ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ ﴾(2: 237) اور اگر تم اپنی ایسی بیوی کو طلاق دے دو جن سے تم نے صحبت نہ کی ہو اور حق مہر مقرر رقم کا نصف دینا ہوگا۔ ذرا سوچیئے نوجوان جوڑے کی شادی ہو۔ رخصتی بھی ساتھ ہی ہوچکی ہو تو کیا ایسی صورت ممکن ہے کہ شب زفاف میں صحبت نہ کریں؟ اور صحبت سے پہلے ہی میاں صاحب اپنی بیگم کو طلاق دے دیں؟ ہمارے خیال میں اس کی یہی صورت ممکن ہے جس کا عرب میں عام رواج تھا کہ بچپن میں نکاح ہوجاتا تھا۔ اور رخصتی کو بلوغت تک موخر کردیا جاتا تھا۔ دریں اثناء بعض خاندانی رقابتوں کی بنا پر یا مرد کی اپنی ناپسندیدگی کی وجہ سے ایسی صورت پیش آ جاتی تھی۔ تو اس کا اللہ تعالیٰ نے حل بتلا دیا کہ ایسی صورت میں مقررہ رقم کا نصف ادا کر دو۔ یہ نہیں فرمایا کہ بچپن میں نکاح کیا ہی نہ کرو۔ حالانکہ دور نبوی میں بچپن میں نکاح کا رواج عام تھا۔ ٣۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح اس وقت کیا جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی عمر صرف ٧ سال تھی۔ جیسا کہ مسلم کی درج ذیل حدیث سے واضح ہے: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح اس وقت کیا جبکہ وہ سات سال کی تھیں اور جب حضرت کے گھر رخصتی ہوئی اس وقت نو برس کی تھیں اور ان کے کھیلنے کے کھلونے ان کے ساتھ تھے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے اس وقت ان کی عمر اٹھارہ برس کی تھی۔ ٤۔ چوتھی دلیل اس پر تعامل امت اور امت مسلمہ کے تمام مذاہب کا اس مسئلہ کے جواز پر اتفاق ہے۔ اور اس میں اختلاف نہ ہونا بھی اس کے جواز پر ایک قوی دلیل ہے۔ اور جن حضرات نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے ان کے دلائل یہ ہیں :۔ منکرین جواز کےدلائل:۔ نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک عہد وفاداری ہوتا ہے جسے قرآن نے ﴿مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا ﴾ کہا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ عہد اسی صورت میں نبھایا جا سکتا ہے جب کہ مرد اور عورت دونوں اس عہد کو سمجھتے ہوں۔ لہٰذا ان دونوں کا عاقل اور بالغ ہونا ضروری ہے۔ ٢۔ قرآن نے یتیموں کے اموال کی حفاظت کے بارے میں فرمایا کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کے اموال ان کو واپس کر دو۔ اس سے معلوم ہوا کہ نکاح کی عمر اس وقت ہوتی ہے جب بچہ سمجھدار ہوجائے اور اپنے مال کی حفاظت کرسکے۔ ٣۔ قرآن میں ہے آیت ﴿ نِسَاۗؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ ﴾ یعنی عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ اور عورت کھیتی تو اس وقت ہی ہو سکتی ہے جب وہ اولاد پیدا کرنے کے قابل ہوجائے۔ اسی طرح جب تک لڑکا بھی اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ ہو اس کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ یہ ہیں وہ دلائل جو نکاح نابالغان کے منکرین کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔ اور ہم اس بات کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ اگر نکاح کا مقصد صرف جنسی خواہشات کی تکمیل اور حصول اولاد ہو تو نکاح کے لیے بلوغت کی عمر ہی درست ہے۔ اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا نکاح کا صرف یہی ایک مقصد ہے یا کچھ اور بھی ہو سکتے ہیں۔ ہمارے خیال میں نکاح کا ارفع و اعلیٰ مقصد جس کے لیے اسلام نے نکاح کا حکم دیا ہے وہ فحاشی، بے حیائی اور زنا سے اجتناب، مرد و عورت دونوں کی عفیف اور پاکیزہ زندگی اور اس طرح ایک پاک صاف اور ستھرے معاشرہ کا قیام ہے اور اس کی دلیل درج ذیل آیت ہے : ﴿ وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَاۗیِٕکُمْ ﴾ (24: 32) ’’اور اپنی قوم کی بیواؤں کے نکاح کردیا کرو۔ اور اپنے غلاموں اور کنیزوں کے بھی جو نکاح کے قابل ہوں۔‘‘ اس آیت میں (ایامیٰ) کا لفظ غور طلب ہے۔ ایامی ایم کی جمع ہے۔ بمعنی رنڈوا مرد بھی اور رنڈی (بیوہ) عورت بھی۔ دونوں کے لیے یہ یکساں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی بے شوہر عورت یا بے زن مرد اور اٰم یئیم أیما ًکے معنی مرد کا رنڈوا یا عورت کا رانڈ (بیوہ) ہوجانا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ رنڈا خواہ مرد ہو یا بیوہ عورت ہو عمومی صورت یہی ہوتی ہے کہ ان کے ہاں اولاد ہوتی ہے۔ پھر جب ان کے پاس اولاد پہلے ہی موجود ہو، جوانی سے ڈھل چکے ہوں۔ مزید اولاد کی خواہش بھی نہ ہو تو پھر ایسے مجرد قسم کی عورتوں یا مردوں کو نکاح کرنے کا حکم کیوں دیا جا رہا ہے؟ کیا اس کا یہی مقصد باقی نہیں رہ جاتا کہ معاشرہ سے فحاشی کا کلی طور پر استحاصل ہوجائے؟ نکاح کا ایک اور اہم مقصد رشتہ اخوت و مؤدت کو مزید پائیدار اور مستحکم بنانا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ٥١ سال کی عمر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو اس کا مقصد محض حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رشتہ مودت کو مزید مستحکم بنانا تھا۔ اس وقت آپ صاحب اولاد تھے اگرچہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا فوت ہوچکی تھیں تاہم ان کی جگہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں۔ جنسی خواہشات بھی اتنی عمر میں ماند پڑجاتی ہیں۔ پھر تین سال نکاح کے بعد رخصتی نہیں ہوئی۔ تو کیا اس نکاح کا مقصد صرف وہی کچھ تھا جو یہ حضرات سمجھتے ہیں؟ اور بعض دفعہ نکاح کے ذریعہ کئی قسم کے دینی و سیاسی معاشی اور معاشرتی فوائد حاصل ہوتے ہیں جو حصول اولاد سے بھی زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ آپ ذرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی پر نظر ڈالیے کہ آپ نے کتنے نکاح کیے؟ کس عمر میں کئے؟ کس عمر کی عورتوں سے کئے اور کون کون سے مقاصد کے تحت کئے تھے؟ اور ان سب نکاحوں سے کتنی اولاد ہوئی؟ تو یہ حقیقت از خود منکشف ہوجائے گی کہ نکاح کا مقصد محض جنسی خواہشات کی تکمیل یا حصول اولاد ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے بلند تر مقاصد بھی ہو سکتے ہیں۔ رہی حصول اولاد کی بات تو یہ اصل مقصد نہیں بلکہ ایک اہم مقصد کا ثمرہ ہے جو کبھی حاصل ہوجاتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ انسان کے اپنے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک بالغ جوڑے کی شادی کردی جائے اور تازیست ان کے ہاں اولاد نہ ہو۔ ایسی صورت میں بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ نکاح بے مقصد رہا۔ اگرچہ ایسے واقعات کی تعداد ٥ فیصد سے زیادہ نہیں تاہم ان سے انکار بھی ممکن نہیں۔ پھر جب نکاح کے مقاصد میں ہی تنوع پیدا ہوگیا تو ضروری ہے کہ نکاح کی عمر، بلوغت میں بھی استثناء موجود ہو۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اگرچہ نکاح کی عمر بلوغت ہے تاہم یہ ہر عمر میں جائز ہے۔ اس لحاظ سے اگر ایک طرف نابالغ بچی کا نکاح نابالغ لڑکے، جوان اور بوڑھے سے جائز ہوسکتا ہے تو دوسری طرف ایک لڑکے کا یا نوجوان کا اپنے سے بہت بڑی عمر کی عورت، مطلقہ بلکہ دو تین بار کی مطلقہ سے بھی جائز ہے۔ اب رہا عقد کا معاملہ جس کے لیے فریقین کا عاقل بالغ ہونا ضروری ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا عقد صرف نکاح کا ہی نہیں ہوتا بلکہ کئی قسم کے باہمی لین دین میں بھی ہوتا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی فریق عاقل یا بالغ نہ ہو تو اس کے سب معاملات ٹھپ ہوجائیں گے؟ یا اللہ تعالیٰ نے اس کا کوئی حل بتلایا ہے؟ چنانچہ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢٨٢ میں جہاں لین دین کے معاہدات کی تحریر کا حکم دیا گیا وہاں ایسی صورت حال کا حل بھی بتلا دیا جو یہ ہے کہ : معاہدات میں نادان کےحقوق کی حفاظت بذریعہ ولی:۔ ﴿فَاِنْ کَانَ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ سَفِیْہًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ ھُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّہٗ بالْعَدْلِ ﴾ (2: 282) ’’پھر اگر قرض لینے والا بے عقل ہو یا کمزور ہو یا مضمون دستاویز لکھوانے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ املا کروا دے۔‘‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین صورتوں میں ولی کو معاہدہ کے فریق کا مختار بنا دیا ہے (١) نادان ہو (٢) کمزور ہو اور (٣) املا کروانے کی اہلیت نہ رکھتا ہو اور یہ تینوں باتیں نابالغ میں پائی جاتی ہیں۔ چہ جائیکہ صرف ایک بات پر بھی ولی کو حق اختیار مل جاتا ہے اب اگر لین دین کے معاہدہ میں نادان یا نابالغ کا ولی مختار بن سکتا ہے تو نکاح کے معاہدہ میں کیوں نہیں بن سکتا ؟ واضح رہے کہ ولی کو یہ حق اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ ایسے معاہدات کی تکمیل میں ذمہ دارانہ حیثیت رکھتا ہے۔ بچپن کی شادی کی مخالفت کی اصل وجہ :۔ ہمارے جو دوست نکاح کی عمر بلوغت پر زور دیتے اور اس سے پہلے کم سنی کے نکاح کو ناجائز قرار دیتے ہیں ان کا مقصد معاشرہ کی فحاشی سے پاکیزگی نہیں ہے بلکہ وہ دراصل تہذیب مغرب سے متاثر ہو کر ایسا پرچار کرتے ہیں۔ انگلستان کے مشہور معیشت دان ’’ ہتھس‘‘ نے ملک کی خوشحالی کے لیے آبادی کی روک تھام کو لازمی قرار دیا تھا۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی یہ بھی تھی کہ مردوں اور عورتوں کی شادیاں دیر سے کی جائیں تاکہ بچے کم پیدا ہوں۔ اسی نظریہ سے متاثر ہو کر ہمارے پڑھے لکھے گھرانوں میں پچیس پچیس تیس تیس سال تک شادی نہیں ہوتی۔ حالانکہ اس سے معاشرہ میں کافی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ لوگ بلوغت کی عمر کے بعد بھی دس بارہ سال شادی نہ ہونے پر اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ یہ تاخیر ان کے نظریہ ’’چھوٹا کنبہ خوشحال گھرانہ‘‘ کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے اور اسی لیے یہ بچپن کی شادی کی مخالفت بھی کرتے ہیں اور سہارا بھی قرآن کا لیتے ہیں۔ ورنہ اگر یہ لوگ قرآن مجید سے مخلص ہوتے تو جو لوگ بلوغت کے بعد بھی تادیر شادی نہیں کرتے ان کے خلاف بھی آواز اٹھاتے کیونکہ قرآن ایک صاف ستھرے معاشرے کے قیام کا حکم دیتا ہے ’’ چھوٹا کنبہ خوشحال گھرانہ‘‘ کا پرچار نہیں کرتا۔ (مزید تفصیل کے لیے میری تصنیف ملاحظہ کیجئے، آئینہ پرویزیت حصہ سوم) [٣١٦] یعنی عورت کے نکاح ہوجانے میں جو معاشرتی پاکیزگی ہے۔ نکاح نہ ہونے میں نہیں اور جو معاشرتی پاکیزگی عورت کا نکاح اپنے سابقہ خاوند سے ہوجانے میں ہے وہ کسی دوسرے سے نکاح ہونے میں نہیں اور یہ ایسے امور ہیں جنہیں اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ تم نہیں جانتے۔ البقرة
233 [٣١٧] والدات کے حکم میں وہ مائیں بھی داخل ہیں جن کو طلاق ہوچکی ہو خواہ وہ عدت میں ہوں یا عدت بھی گزر چکی ہو، اور وہ بھی جو بدستور بچہ کے باپ کے نکاح میں ہوں۔ [٣١٨] اس سے معلوم ہوا کہ رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ تاہم اس سے حسب ضرورت کم ہو سکتی ہے (جیسا کہ آگے اس کا ذکر آ رہا ہے) اور یہ مدت قمری تقویم کے حساب سے شمار ہوگی (مزید تفصیل سورۃ لقمان کی آیت نمبر ١٤ پر حاشیہ ١٨ میں دیکھئے) [٣١٩] یعنی منکوحہ عورت اور مطلقہ عورت جو عدت میں ہو اس کے کھانے اور کپڑے کی ذمہ داری تو پہلے ہی بچہ کے باپ پر ہوتی ہے اور اگر عدت گزر چکی ہے تو اس آیت کی رو سے باپ ہی اس مطلقہ عورت کے اخراجات کا ذمہ دار ہوگا کیونکہ وہ اس کے بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ [٣٢٠] یعنی والد سے اس کی حیثیت سے زیادہ کھانے اور کپڑے کے اخراجات کا مطالبہ نہ کیا جائے یہ مطالبہ خواہ عورت خود کرے یا اس کے ورثاء کریں۔ [٣٢١] یعنی ماں بلاوجہ دودھ پلانے سے انکار کر دے اور باپ کو پریشان کرے۔ اسی طرح باپ بچہ کو ماں سے جدا کر کے کسی اور سے دودھ پلوائے اور اس طرح ماں کو پریشان کرے یا اس کے کھانے اور کپڑے کے اخراجات میں کنجوسی کا مظاہرہ کرے۔ یا ماں پر دودھ پلانے کے لیے جبر کیا جائے جبکہ وہ اس بات پر آمادہ نہ ہو۔ [٣٢٢] یہ بچہ جو دودھ پی رہا ہے۔ خود بھی اپنے باپ کا وارث ہے اور اس کے علاوہ بھی وارث ہوں گے۔ بہرحال یہ خرچہ مشترکہ طور پر میت کے ترکہ سے ادا کیا جائے گا اور یہ وہ ادا کریں گے جو عصبہ (میت کے قریبی وارث مرد) ہیں۔ [٣٢٣]رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت :َ یعنی اگر ماں باپ دونوں باہمی مشورہ سے دو سال سے پہلے ہی دودھ چھڑانا چاہیں مثلاً یہ کہ ماں کا دودھ اچھا نہ ہو اور بچے کی صحت خراب رہتی ہو یا اگر ماں باپ کے نکاح میں ہے تو اس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ ماں کو اس دوران حمل ٹھہر جائے اور بچہ کو دودھ چھڑانے کی ضرورت پیش آئے تو ایسی صورتوں میں ان دونوں پر کچھ گناہ نہ ہوگا اور یہ ضروری نہ رہے گا کہ بچہ کو ضرور دو سال دودھ پلایا جائے۔ [٣٢٤] اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جو ترجمہ میں لکھا گیا ہے اور دوسرا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر تم دایہ سے دودھ پلوانا چاہو تو اس کا معاوضہ تو دینا ہی ہے۔ مگر اس وجہ سے ماں کو جو کچھ طے شدہ خرچہ مل رہا تھا وہ اسے ادا کردینا چاہیئے، اس میں کمی نہ کرنی چاہیے۔ [٣٢٥]حسن معاشرت میں بے اعتدالیاں:۔ ایسے بے شمار احکام ہیں جنہیں بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ’’اللہ سے ڈرتے رہنے‘‘ کی تاکید فرمائی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ معاملات کی دنیا میں، ایک ہی معاملہ کی بے شمار ایسی شکلیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ جن کے مطابق انسان اللہ کے کسی حکم کے ظاہری الفاظ کا پابند رہ کر بھی اپنا ایسا فائدہ سوچ لیتا ہے جو منشائے الٰہی کے خلاف ہوتا ہے۔ مگر اس سے دوسرے کا نقصان ہوجاتا یا اسے تکلیف پہنچ جاتی ہے اور ایسے پیدا ہونے والے تمام حالات کے مطابق الگ الگ حکم بیان کرنا مشکل بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف بھی۔ لہٰذا انسان کو اللہ سے ڈرتے رہنے کی تاکید اس لیے کی جاتی ہے۔ انسان اپنی نیت درست رکھے اور آخرت میں اللہ کے حضور جواب دہی کا تصور رکھتے ہوئے ان احکام کو بعینہ اسی طرح بجا لائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی منشا ہو۔ البقرة
234 [٣٢٦]سوگ منانے کی مدت اور حکمت:۔ عام حالت میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ لیکن اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل تک ہے (٤: ٦٥) اور یہی مدت بیوہ کے سوگ منانے کی مدت ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ’’ کسی عورت کو، جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے بجز اپنے شوہر کے جس پر اسے چار ماہ دس دن تک سوگ منانا لازم ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الجنائز، باب إحداد المرأۃ علی غیر زوجھا) اور حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ’’ہمیں کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے سے منع کردیا گیا۔ بجز خاوند کے جس پر چار ماہ دس دن سوگ منانے کا حکم تھا اور حکم یہ تھا کہ ان دنوں میں نہ ہم سرمہ لگائیں اور نہ خوشبو، نہ ہی رنگے ہوئے کپڑے پہنیں، الا یہ کہ ان کی بناوٹ ہی رنگین دھاگے کی ہو۔ البتہ یہ اجازت تھی کہ ہم میں سے کوئی جب حیض سے پاک ہو اور غسل کرے تو کست الاظفار (ایک قسم کی خوشبو) لگائے۔ نیز ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے بھی منع کردیا گیا تھا۔‘‘ (بخاری، کتاب الحیض، باب الطیب للمرأۃ عند غسلھا من المحیض) اور حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے سنا ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کا خاوند مر گیا ہے اور اب اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ کیا ہم اسے سرمہ لگا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ''نہیں''، پھر اس عورت نے دوسری بار یہی سوال کیا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں، پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نفی میں ہی جواب دیا۔ پھر فرمایا کہ ’’اسلام میں تو عدت اور سوگ کا زمانہ صرف چار ماہ دس دن ہے جبکہ جاہلیت میں تو یہ عدت پورا ایک سال تھی، اور سال گزرنے کے بعد عورت اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی۔‘‘ حمید (راوی) نے زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ یہ ’’اونٹ کی مینگنی پھینکنے کا کیا قصہ ہے؟‘‘ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا، جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جس عورت کا خاوند مر جاتا تو وہ ایک تنگ و تاریک جھونپڑے میں جا بیٹھتی۔ برے سے برا لباس پہنتی، نہ خوشبو لگاتی اور نہ کوئی دوسری آرائش و زیبائش کرتی۔ حتیٰ کہ پورا سال اسی طرح گزار دیتی۔ سال گزرنے پر اس کے پاس کوئی جانور مثلاً گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ لاتے جس سے وہ اپنی شرمگاہ رگڑتی تھی اور کبھی وہ جانور مر بھی جاتا۔ اس کے بعد اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی، جسے وہ اپنے سامنے پھینک دیتی (یہ گویا اس کی عدت پوری ہونے کی علامت ہوتی تھی) اس کے بعد ہی وہ خوشبو وغیرہ لگا سکتی تھی۔ (بخاری، کتاب الطلاق باب تحد المتوفی عنھا زوجھا اربعہ أشھر و عشرا) رہی یہ بات کہ عورت یہ عدت یا سوگ کا عرصہ کہاں گزارے تو اس سلسلہ میں راجح قول یہی ہے کہ وہ اپنے خاوند کے مکان میں ہی گزارے اور اسے اتنے سفر کی اجازت ہے کہ رات کو اپنے مقام پر واپس آ جائے اور کچھ علماء کا یہ قول بھی ہے کہ بیوہ عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے اور اس پر سفر کی بھی پابندی نہیں۔ عدت کی مصلحت:۔ یہ عدت اللہ تعالیٰ نے اس لیے مقرر فرمائی کہ معلوم ہو سکے کہ عورت کو اپنے مرنے والے خاوند سے حمل تو نہیں۔ اگر حمل ہو تو عدت وضع حمل تک ہوگی تاکہ نسب میں اختلاط واقع نہ ہو۔ چار ماہ دس دن گزرنے کے بعد وہ اپنے نکاح کے معاملہ میں مختار ہے اور اس مدت میں یقینی طور پر معلوم ہوسکتا ہے کہ اسے متوفی خاوند سے حمل ہے یا نہیں۔ [٣٢٧] یعنی ان کا نکاح کی بات چیت کرنا، زینت و آرائش کرنا، خوشبو لگانا، مقام عدت سے کسی اور جگہ چلے جانا، نکاح کرلینا، جو کچھ وہ اپنے حق میں بہتر اور مناسب سمجھیں سب کچھ جائز ہے اور اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں۔ البقرة
235 [٣٢٨] یعنی ایسی عدت والی بیواؤں کو تم اشارتاً تو پیغام نکاح دے سکتے ہو مگر واضح الفاظ میں پیغام دینا ناجائز ہے۔ مثلاً اسے یوں کہہ سکتے ہو کہ میرا بھی کہیں نکاح کرنے کا ارادہ ہے یا اسے یوں کہہ دے کہ ابھی تم ماشاء اللہ جوان ہو۔ اور اس طرح اشارتاً پیغام سنا دینے میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ کوئی دوسرا اس سے پہلے پیغام نہ دے دے، البتہ جو عورت طلاق رجعی کی عدت میں ہو اسے اشارتاً بھی کوئی ایسی بات کہنا حرام ہے۔ [٣٢٩] یہ تو یقینی بات ہے کہ اگر تمہارا اس سے نکاح کا ارادہ ہے تو تم یقیناً اسے دل میں یاد رکھتے ہو گے۔ لیکن اس خیال سے مغلوب ہو کر نہ تو دوران عدت اس سے کوئی وعدہ کرنا یا وعدہ لینا اور نہ ہی نکاح کا ارادہ کرنا۔ البتہ اگر تمہارے دلوں میں جو ایسے خیالات آتے ہیں۔ ان پر تم سے کچھ مواخذہ نہیں۔ کیونکہ اللہ بخش دینے والا اور بردبار ہے۔ البقرة
236 [٣٣٠] یعنی نکاح کے وقت نہ تو حق مہر مقرر ہوا اور نہ ہی صحبت کی نوبت آئی تو ایسی صورت میں حق مہر تو ہے ہی نہیں البتہ کچھ نہ کچھ دینے کی تاکید اس لیے فرمائی کہ رشتہ جوڑنے کے بعد صحبت سے پہلے ہی طلاق دینے سے عورت کو جو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کی کسی حد تک تلافی ہو سکے۔ اس لیے تمام نیک لوگوں کو اس کی تاکید کی گئی اور اس سلسلہ میں جہاں تک ممکن ہو فراخدلی سے کام لینا چاہیے۔ البقرة
237 [٣٣١]آپس میں قیاضی اورایثار کرنے کاسبق:۔ عورت یا اس کے ولی کی طرف سے یہی فیاضی کافی ہے کہ وہ خاوند کو وہ آدھا حق مہر بھی معاف کردیں جو اسے ادا کرنا بروئے حکم الٰہی لازم تھا اور خاوند کی طرف سے فیاضی یہ ہے کہ آدھے کی بجائے پورا ہی حق مہر ادا کر دے یا اگر ادا کرچکا ہے تو اس سے کچھ واپس نہ لے اور یہ تاکید اس لیے کی کہ اجتماعی زندگی میں خوشگواری پیدا کرنے کے لیے ایسا فیاضانہ برتاؤ ضروری ہے اگر ہر شخص اپنے قانونی حق پر ہی اڑا رہے تو اجتماعی زندگی کبھی خوشگوار نہیں ہو سکتی۔ حق مہر کی مختلف صورتیں اورمہر مثل:۔اب دیکھئے مطلقہ عورت کے حق مہر کی ادائیگی کے سلسلہ میں شرعی احکام کی رو سے ممکنہ صورتیں چار ہیں : (١) نہ مہر مقرر ہو اور نہ صحبت ہوئی ہو (٢) مہر مقرر ہوچکا ہو مگر صحبت نہ ہوئی ہو۔ ان دونوں صورتوں کا حکم ان دو آیات میں مذکور ہوچکا ہے (٣) مہر بھی مقرر ہو اور صحبت بھی ہوچکی ہو اور یہ سب سے عام صورت ہے۔ اس صورت میں مہر پورا دینا ہوگا۔ (٤) مہر مقرر نہ ہوا تھا مگر صحبت ہوچکی۔ اس صورت میں مہر مثل ادا کرنا ہوگا۔ یعنی اتنا مہر جو اس عورت کے قبیلہ میں عام رواج ہے۔ اور بیوہ کے لیے بھی یہی چاروں صورتیں ممکن ہیں مگر اس کے احکام میں اختلاف ہے، جو یہ ہے کہ مہر مقرر ہوا ہو یا نہ ہوا ہو اور مرنے والے خاوند نے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو، عورت کو بہرحال پورا مہر ملے گا۔ اگر مہر مقرر تھا تو اتنا ملے گا اور اگر مقرر نہیں ہوا تھا تو مہر مثل ملے گا، اور اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا۔ جس نے کسی عورت سے نکاح کیا نہ حق مہر مقرر ہوا اور نہ ہی صحبت کرسکا کہ اس کی وفات ہوگئی۔ ابن مسعود نے اسے جواب دیا کہ اسے اس کے خاندان کی عورتوں کے مثل مہر دیا جائے، نہ کم نہ زیادہ، اور اس پر عدت بھی ہے اور میراث سے اسے حصہ بھی ملے گا۔ (یہ سن کر) معقل بن سنان اشجعی نے کہا کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ہمارے خاندان کی ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں ایسا ہی فیصلہ کیا تھا‘‘ یہ سن کر ابن مسعود رضی اللہ عنہ خوش ہوگئے۔ (ترمذی، ابو اب النکاح باب فی الرجل یتزوج المرأۃ فیموت عنھا قبلأن یفرض لھا) نیز ابو داؤد، کتاب النکاح، باب فیمن تزوج ولم یسم صداقا حتی مات) البقرة
238 [٣٣٢] عائلی مسائل کے درمیان نماز کی تاکید سے متعلق جو دو آیات آ گئی ہیں تو ان کی غالباً حکمت یہ ہے کہ ایسے معاشرتی مسائل کو بحسن و خوبی سر انجام دینے کے لیے جس تقویٰ کی ضرورت ہوتی ہے نماز اس سلسلہ میں موثر کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے نمازوں کی محافظت کی تاکید کی جا رہی ہے یعنی ہر نماز کو اس کے وقت پر اور پوری شرائط و آداب کے ساتھ ادا کیا جائے۔ [٣٣٣]نمازوسطیٰ سےمراد نماز عصر ہےا ور اس کی تاکید مزید:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق کے دن فرمایا۔ ان کافروں نے مجھے درمیانی نماز نہ پڑھنے دی حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا۔ اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔ (بخاری، کتاب التفسیر) نیز حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صلوٰۃ وسطیٰ نماز عصر ہے۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جس کی عصر کی نماز قضا ہوگئی اس کا گھر بار، مال و اسباب سب لٹ گیا۔‘‘ (بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ، باب إثم من فاتتہ العصر) اور بالخصوص اس نماز کی تاکید اس لیے فرمائی کہ دنیوی مشاغل کے لحاظ سے یہ وقت بہت اہم ہوتا ہے۔ [٣٣٤] نمازمیں بادب کھڑاہونےکاحکم :۔ یعنی اللہ کے حضور عاجزی اور ادب کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ نیز ایسی کوئی فضول حرکت نہ کی جائے جو ادب کے خلاف ہو یا نماز کو توڑ ڈالنے والی ہو جیسے خواہ مخواہ یا عادتاً ہاتھوں کو حرکت دینا، ہلاتے رہنا یا ہنسنا یا بات چیت کرلینا وغیرہ۔ چنانچہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نماز میں باتیں کرلیا کرتے تھے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری، کتاب التفسیر۔ زیر آیت مذکورہ) مسلم کی روایت میں اضافہ ہے کہ یہ آیت نازل ہونے کے بعد ہمیں حکم دیا گیا کہ چپ چاپ سکون سے کھڑے ہوں اور باتیں کرنے سے بھی منع کردیا گیا (مسلم، کتاب المساجد۔ باب تحریم الکلام فی الصلوۃ) ٢۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھتے تو نماز کے آخر میں دائیں بائیں السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارے کرتے ہو۔ جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہلتی ہیں۔ تمہیں اتنا ہی کافی ہے کہ تم قعدہ میں اپنی رانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دائیں اور بائیں منہ موڑ کر السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہہ لیا کرو۔ (مسلم: کتاب الصلٰوۃ، باب الأمر بالسکون فی الصلوۃ والنھی عن الاشارۃ بالید.....) صف درست کرنے اور مل کر کھڑا ہونے کاحکم:۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں تم کو اس طرح ہاتھ اٹھاتے دیکھ رہا ہوں جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہلتی ہیں۔ تم لوگ نماز میں کوئی حرکت نہ کیا کرو۔ پھر آپ نے ایک دفعہ حلقہ باندھے دیکھ کر فرمایا تم لوگ الگ کیوں ہو؟ پھر ایک مرتبہ آپ نے فرمایا صفیں اس طرح باندھا کرو۔ جیسے فرشتے بارگاہ الٰہی میں صف بستہ رہتے ہیں۔ سب سے پہلے اگلی صف پوری کیا کرو۔ اور صف میں خوب مل کر کھڑے ہوا کرو۔ (مسلم حوالہ ایضاً) البتہ کچھ کام ایسے ہیں جو حالت نماز میں بھی سر انجام دیئے جا سکتے ہیں۔ مثلاً : ١۔ اگر امام بھول جائے تو مقتدی سبحان اللہ کہہ سکتے ہیں اور اگر مقتدی عورت ہو تو وہ تالی بجا سکتی ہے۔ (بخاری۔ تصفیق النسائ) ٢۔ اگر قراءت کرتے ہوئے امام بھول جائے تو مقتدی بتلا سکتا یعنی لقمہ دے سکتا ہے۔ نمازکے دوران کون کون سے کام کرناجائز یاضروری ہیں:۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی عمرو بن عوف کے لوگوں میں صلح کرانے گئے۔ ظہر کا وقت ہوگیا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھانا شروع کردی۔ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پہنچ گئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے پہلی صف میں آ کھڑے ہوئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے تالی بجائی جس سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے اور پیچھے کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی صف میں کھڑے تھے۔ آپ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھاتے رہنے کا اشارہ کیا۔ لیکن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ پھر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ پھر نماز کے بعد فرمایا کہ تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے، مرد سبحان اللہ کہا کریں۔ (بخاری) ٤۔ اگر گرمی کی وجہ سے زمین تپ رہی ہو تو نمازی اپنے سجدہ کی جگہ پر کپڑا بچھا سکتا ہے۔ (بخاری حوالہ ایضاً) ٥۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کے وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے اور میں اپنے پاؤں لمبے کئے ہوتی تو سجدہ کے وقت آپ مجھے ہاتھ لگاتے تو میں پاؤں سمیٹ لیتی۔ پھر جب آپ کھڑے ہوجاتے تو میں پاؤں لمبے کرلیتی۔ (بخاری۔ حوالہ ایضاً) ٦۔ ایک دفعہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی خالہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات رہے۔ انہی کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باری تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آدھی رات کو اٹھے، وضو کیا اور نماز میں کھڑے ہوگئے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جا کر بائیں طرف کھڑے ہو کر نماز میں شامل ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سر پر ہاتھ رکھا، پھر دائیں کان کو مروڑا۔ پھر انہیں پکڑ کر پیچھے کی طرف سے اپنے دائیں جانب کھڑا کرلیا۔ (بخاری، کتاب الاذان، باب اذا قام الرجل عن یسار الامام۔۔۔۔ الخ) ٧۔ اگر نفلی نماز کے دوران والدہ یا والد پکارے تو نماز توڑ کر بھی ان کی بات سننا چاہیے (تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ انفال کی آیت نمبر ٢٤ کا حاشیہ) ٨۔ ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ ہم اہواز میں خارجیوں سے جنگ میں مصروف تھے کہ ایک صحابی ابو برزہ اسلمی اپنی گھوڑے کی لگام اپنے ہاتھ میں سنبھالے نماز پڑھنے لگے۔ گھوڑا لگام کھینچنے لگا اور ابو برزہ بھی ساتھ ساتھ پیچھے چلتے گئے۔ یہ دیکھ کر ایک خارجی کہنے لگا۔ یا اللہ بوڑھے کا ستیا ناس کر۔ جب ابو برزہ نماز سے فارغ ہوئے تو اس خارجی سے کہا کہ میں نے تمہاری بات سن لی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سات آٹھ جہاد کئے ہیں اور میں نے دیکھا کہ آپ لوگوں پر آسانی کیا کرتے تھے اور مجھے یہ اچھا معلوم ہوا کہ اپنا گھوڑا ساتھ لے کر لوٹوں، نہ کہ اس کو چھوڑ دوں کہ وہ جہاں چلا جائے اور میں مصیبت میں پڑجاؤں۔ (بخاری، حوالہ ایضاً) ٩۔دین میں آسانی کی ایک مثال:۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’میں نماز شروع کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اسے لمبا کروں، پھر میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز کو مختصر کردیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ بچے کے رونے سے ماں کے دل پر کیسی چوٹ پڑتی ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الاذان۔ باب من اخف الصلوۃ عند بکاء الصبی) ١٠۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس اس حال میں آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص (حضرت زینب کی بیٹی) کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھنا شروع کی جب رکوع کرتے تو امامہ کو زمین پر بٹھلا دیتے اور جب سجدہ سے فارغ ہو کر کھڑے ہوتے تو اسے اپنے کندھے پر بٹھا لیتے۔ (بخاری : کتاب الادب، باب رحمہ الولد و تقبیلہ ومعانقتہ) اور ایک دوسری روایت میں رکوع کے علاوہ سجدہ کا لفظ آیا ہے (بخاری : کتاب الصلوة، باب حمل جاریۃ صغیرۃ علی عنقہ فی الصلوۃ) البقرة
239 [٣٣٥] نمازخوف کے پڑھنےکاطریقہ :۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب کوئی پوچھتا کہ ہم نماز خوف کیسے پڑھیں؟ تو وہ کہتے کہ امام آگے بڑھے، کچھ لوگ اس کے ساتھ نماز ادا کریں، امام انہیں ایک رکعت پڑھائے، باقی لوگ ان کے اور دشمنوں کے درمیان کھڑے رہیں۔ نماز نہ پڑھیں۔ جب یہ لوگ امام کے ساتھ ایک رکعت نماز پڑھ چکیں تو سرک کر پیچھے چلے جائیں اور جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اب وہ لوگ آ جائیں اور امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں۔ امام تو اپنی نماز (دو رکعت) سے فارغ ہوگیا۔ اب یہ دونوں گروہ باری باری باقی ایک ایک رکعت پوری کرلیں تو ان کی بھی دو رکعت ہوگئیں، اور اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو پاؤں پر کھڑے پیدل یا سواری پر رہ کر نماز ادا کرلیں۔ منہ قبلہ رخ ہو یا کسی اور طرف۔ امام مالک کہتے ہیں کہ نافع نے کہا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ (بخاری، کتاب التفسیر) [٣٣٦] یعنی جب خوف کی حالت ختم ہوجائے تو نماز پوری اور باجماعت ادا کرو، جیسا کہ عام حالات میں پڑھا کرتے ہو۔ (سفر اور خوف کی نمازوں کی تفصیل کے لیے سورۃ نساء کی آیت نمبر ١٠١ اور ١٠٢ کے حواشی نمبر ١٣٨ اور ١٣٩ ملاحظہ فرمائیے۔) البقرة
240 [٣٣٧]بیوہ کے نان ونفقہ سےمتعلق احکام منسوخہ:۔ یہ حکم ابتدائے اسلام میں نازل ہوا تھا کہ مرتے وقت مرد اپنی بیویوں کے متعلق ورثاء کو ایسی وصیت کر جائیں۔ بعد میں جب بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن مقرر ہوگئی نیز آیت میراث کی رو سے خاوند کے ترکہ میں بیوہ کا حصہ مقرر ہوگیا تو اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا۔ اب بیوہ کے لیے تو یہ حکم ہوا کہ وہ بس عدت کے ایام اپنے مرنے والے شوہر کے ہاں گزارے۔ بعد میں وہ آزاد ہے اور اس دوران نان و نفقہ بھی وارثوں کے ذمہ اور ترکہ ہی سے ہوگا، اور سال بھر کے خرچہ کا مسئلہ میراث میں حصہ ملنے سے حل ہوگیا۔ البقرة
241 [٣٣٨] مطلقہ عورتوں کو دے دلاکر رخصت کرنےکاحکم:۔ آیت نمبر ٢٣٦ میں طلاق کے وقت کچھ دے دلا کر رخصت کرنے کا حکم صرف ایسی مطلقہ کے لیے ہے جس کا نہ تو حق مہر مقرر ہوا ہو۔ نہ ہی اس کے خاوند نے صحبت کی ہو اور وہ صحبت سے پیشتر ہی فوت ہوجائے۔ اب یہاں ایسا حکم ہر قسم کی مطلقہ کے لیے دیا جا رہا ہے اور اس کی تاکید بھی کردی گئی کہ پرہیزگاروں کا یہ شیوہ نہیں ہوتا کہ وہ طلاق دے کر مطلقہ کو خالی ہاتھ گھر سے نکال باہر کریں۔ البقرة
242 [٣٣٩] یہاں نکاح، طلاق، عدت رضاعت وغیرہ عائلی زندگی سے متعلق احکام دینے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ احکام وضاحت سے بیان کردیئے گئے ہیں۔ لہٰذا انہیں اچھی طرح سمجھ کر ان پر عمل کیا کرو اور ان سے جو کچھ اللہ تعالیٰ کی منشا معلوم ہوتی ہے۔ اسی کے مطابق عمل کرو۔ اپنے لیے گنجائشیں نکالنے کی کوشش نہ کرو۔ البقرة
243 [٣٤٠]طاعون کےخوف سے بھاگنے والے بنی اسرائیل کی موت اور دوبارہ زندگی :۔ اس آیت سے آگے جہاد کا مضمون شروع ہو رہا ہے اور بطور تمہید اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ واقعہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ کسی شہر میں رہتے تھے۔ وہاں طاعون کی وبا پھیل گئی تو یہ طاعون کی وبا کا شکار ہو کر مر جانے کے خطرہ کی بنا پر اپنا بوریا بستر لپیٹ کر ہزاروں کی تعداد میں شہر سے نکل کھڑے ہوئے اور سمجھے کہ اس طرح موت سے بچ جائیں گے، ابھی کسی منزل پر بھی نہ پہنچنے پائے تھے کہ راہ میں انہیں موت نے آ لیا اور سب کے سب مر گئے۔ ممکن ہے وہ طاعون کے جراثیموں سے ہی مرے ہوں۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ نہ کیا اور بزدلی دکھائی، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان سب کو ہی موت کی نیند سلا دیا اور اگر وہ اللہ کی تقدیر پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے شہر میں مقیم رہتے تو ممکن ہے ان میں سے اکثر بچ جاتے۔ پھر کچھ مدت بعد حزقیل پیغمبر جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تیسرے خلیفہ تھے، ادھر سے گزرے اور یہ صورت حال دیکھ کر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے انہیں دوبارہ زندگی عطاء کی اور ہر شخص ﴿سُبْحَانَکَ لاَ اِلٰہَ الاَّ أنْتَ﴾ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ البقرة
244 [٣٤١]جہاد کاخیال تک نہ آنا نفاق کی علامت ہے: اس آیت میں موت سے نہ ڈرنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اس سے پہلی آیت کا مفہوم یہ تھا کہ زندگی اور موت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے تو جہاد میں جانے والے کو بھی موت کے منہ سے بچا لے اور چاہے تو کسی کو گھر بیٹھے بیٹھے ہی موت دے دے یا جو موت سے بھاگ کر نکل کھڑا ہو اسے راہ میں ہی موت کی نیند سلا دے اور چاہے تو مردہ کو ازسر نو زندہ کر دے، موت اور زندگی صرف اسی کے اختیار میں ہے۔ لہذا تمہیں اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جہاد کرنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے زندگی بھر جہاد نہ کیا ہو اور نہ ہی اس کے دل میں جہاد کرنے کا خیال پیدا ہوا وہ منافق کی موت مرا۔ (مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب ذم من مات ولم یغز ولم یحدث نفسہ بالغزو ) البقرة
245 [٣٤٢] قرض حسنہ کےا جر میں اضافہ کی شرائط :۔قرض حسنہ سے مراد ایسا قرضہ ہے جو محض اللہ کی رضا کے لیے فقراء اور اقربا و مساکین کو دیا جائے اور ادائیگی کے لیے انہیں تنگ نہ کیا جائے، نہ ہی قرضہ دینے کے بعد انہیں جتلایا جائے اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی بیگار لی جائے اور اگر مقروض فی الواقعہ تنگ دست اور ادائیگی سے معذور ہو تو اسے معاف ہی کردیا جائے اور اللہ کو قرض حسنہ دینے کا مفہوم اس سے وسیع ہے۔ جس میں انفاق فی سبیل اللہ کی تمام صورتیں آ جاتی ہیں اور اس میں جہاد کی تیاری پر خرچ کرنا اور مجاہدین کی مالی امداد بھی شامل ہے اور مضمون کی مناسبت سے یہاں یہی صورت درست معلوم ہوتی ہے۔ ایسے قرضہ کو اللہ تعالیٰ سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک بڑھا دیتے ہیں اور اس بڑھوتی کا انحصار دو باتوں پر ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے خرچ کیا جائے اور دوسرے یہ کہ دل کی پوری خوشی کے ساتھ دیا جائے۔ نیز ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلا دیا کہ خرچ کرنے سے تمہیں مال میں کمی آ جانے سے نہ ڈرنا چاہیے۔ کیونکہ مال میں کمی بیشی ہونا تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور قرآن میں ہی ایک دوسرے مقام پر (٣٤ : ٣٩) فرمایا کہ جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ تمہیں اس کا نعم البدل عطا کر دے گا۔ البقرة
246 [٣٤٣]بنی اسرائیل میں سیادت انبیاء یعنی نظام خلافت :۔ بنی اسرائیل میں یہ دستور رہا ہے کہ ان کے حکمران بھی انبیاء ہی ہوا کرتے تھے۔ انہیں کے پاس مقدمات کے فیصلے ہوتے اور انہیں کی سر کردگی میں جہاد کیا جاتا تھا۔ گویا ان لوگوں میں صحیح نظام خلافت رائج تھا اور یہی وہ سیاسی نظام ہے جو اسلام کا جزولاینفک ہے۔ مگر ان لوگوں نے دوسرے ممالک کی دیکھا دیکھی جن میں نظام ملوکیت رائج تھا۔ اپنے بوڑھے نبی سموئیل علیہ السلام سے مطالبہ کردیا کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دو تاکہ ہم اس کی قیادت میں جہاد کریں اور حقیقتاً ان کا یہ مطالبہ محض جہاد سے راہ فرار کی ایک صورت تھی جو ان کی بزدلی پر دلالت کرتی تھی۔ جسے انہوں نے اس رنگ میں پیش کیا کہ تم تو بوڑھے ہوگئے اور ہمیں ایک نوجوان قائد درکار ہے اور قائدان کی مادہ پرست نظروں میں وہی ہوسکتا تھا جو بادشاہوں کی طرح کا ٹھاٹھ باٹھ رکھتا ہو۔ [٣٤٤] ان کے نبی سموئیل کو چونکہ اصل مرض کا علم تھا۔ لہٰذا اس نے ان سے پختہ عہد لیا کہ اگر بادشاہ مقرر کردیا جائے تو پھر تو جہاد سے راہ فرار اختیار نہ کرو گے؟ جس کے جواب میں انہوں نے یقین دلایا کہ ہم ہرگز ایسا نہیں کریں گے اور کر بھی کیسے سکتے ہیں جبکہ ہم پہلے ہی بے گھر ہوچکے ہیں۔ دشمنوں نے ہمارے ملک چھین لیے، ہمارے بیوی بچوں کو لونڈی غلام بنا رکھا ہے۔ لہٰذا ہم کیوں نہ ان سے لڑیں گے۔ لیکن اس کے باوجود جب ان پر جہاد فرض ہوا تو مختلف حیلوں بہانوں اور کٹ حجتیوں سے اپنے کئے ہوئے عہد سے پھرنے لگے۔ البقرة
247 [٣٤٥]حکمران کی لازمی صفات:۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے مطالبہ پر اللہ تعالیٰ نے طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کیا جو ایک تیس سالہ جوان، خوبصورت اور قد آور شخص تھا۔ اس پر کئی لوگوں نے یہ اعتراض جڑ دیا کہ ’’طالوت کے پاس نہ مال و دولت ہے اور نہ شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ، بھلا یہ ہمارا بادشاہ کیسے بن سکتا ہے؟ اس سے تو ہم ہی اچھے اور بادشاہت کے زیادہ حقدار ہیں۔‘‘ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ قیادت کے لیے مال و دولت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ طالوت میں موجود ہیں اور تم سے بہت زیادہ ہیں۔ لہٰذا تمہیں فضول قسم کی کٹ حجتیوں سے باز آنا چاہیے۔ البقرة
248 [٣٤٦]تابوت سکینہ کیاتھا؟ اس صندوق کو بنی اسرائیل ’’عہد کا صندوق‘‘ کہتے تھے جس میں آل موسیٰ و ہارون کے تبرکات رکھے ہوئے تھے۔ مثلاً پتھر کی وہ تختیاں جو کوہ طور پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا کی تھیں اور تورات کا وہ اصل نسخہ جسے موسیٰ علیہ السلام نے خود لکھوایا تھا اور ایک بوتل میں من تھا جو بنی اسرائیل پر نازل ہوتا رہا۔ نیز اس میں وہ عصائے موسیٰ بھی تھا جو سانپ بن جاتا تھا۔ یہ کچھ تھا بنی اسرائیل کے سکون قلب کا سامان جو اس صندوق میں محفوظ تھا اور یہ ہر وقت ان کے پاس رہتا تھا اور جب دشمن سے جنگ ہوتی تو اس صندوق کو آگے رکھتے اور اس کی وساطت سے فتح و نصرت کی دعا کرتے۔ ایک لڑائی کے موقعہ پر مشرک بادشاہ جالوت نے ان پر غالب آ کر ان سے وہ صندوق چھین لیا اور وہ لوگ اسے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اس صندوق کے چھن جانے کو بنی اسرائیل اپنی نحوست و ادبار کی علامت تصور کرتے تھے اور اس کی موجودگی کو فتح و نصرت کا نشان سمجھتے تھے۔ [٣٤٧]تابوت سکینہ کا طالوت تک پہنچنا:۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ بتلایا کہ اگر طالوت کے دور حکومت میں وہ چھنا ہوا صندوق تمہیں واپس مل جائے تو سمجھ لینا کہ طالوت کو فی الواقع اللہ تعالیٰ ہی نے بادشاہ مقرر کیا ہے۔ چنانچہ ہوا یہ کہ ان چھیننے والے مشرکوں کے شہر میں وبائیں پھوٹ پڑیں۔ انہوں نے اسی صندوق کو غالباً اپنی نحوست کی علامت سمجھا اور ایک بیل گاڑی پر اس صندوق کو رکھ کر اسے ہانک دیا۔ چنانچہ فرشتے اس بیل گاڑی کو ہانک کر بنی اسرائیل تک لے آئے اور اسے طالوت کے گھر کے سامنے چھوڑ گئے۔ اس طرح ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل پر اتمام حجت ہوگئی اور دوسری طرف بنی اسرائیل کے حوصلے بڑھ گئے اور انہوں نے طالوت کو اپنا بادشاہ تسلیم کرلیا۔ البقرة
249 [٣٤٨] طالوت کی سرکردگی میں جہاد:۔ چنانچہ بادشاہ طالوت کی قیادت میں بنی اسرائیل کا ایک لشکر جرار جالوت کے مقابلہ میں نکل کھڑا ہوا۔ طالوت نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جس نے بزدلی دکھانا ہو وہ ہمارے ساتھ نہ نکلے۔ بنی اسرائیل زبانی باتوں میں بڑے دلیر تھے۔ چنانچہ ان کی تعداد ستر ہزار ہوگئی راستہ میں ایک منزل پر پانی نہ ملا تو طالوت سے شکایت کی۔ طالوت نے کہا آگے ایک نہر آتو رہی ہے مگر تم لوگ اس میں سے سیر ہو کر پانی نہ پینا، صرف ایک آدھ گھونٹ پی لینا اور یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے آزمائش ہے۔ کہ اگر تم اپنی پیاس بھی برداشت نہ کرسکے تو لڑائی میں کیا کارنامے سر انجام دو گے؟ لہٰذا میں تو صرف اس آدمی کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا جو اپنی پیاس کو برداشت کرے گا۔ چنانچہ جب وہ نہر آئی تو سب نے سیر ہو کر پانی پی لیا اور بعضوں نے تو منہ ہی نہر میں ڈال دیا اور مویشیوں کی طرح پینے لگے۔ اس طرح یکدم کثیر مقدار میں پانی پینے سے ان کے بدن ٹوٹنے لگے اور تھوڑا سا فاصلہ چل کر گر پڑے اور کہنے لگے کہ اب ہمیں جالوت اور اس کے لشکر سے لڑنے کی تاب نہیں رہی۔ [٣٤٩]طالوت کے لشکر کی تعداد:۔ اور جن لوگوں نے اپنی پیاس برداشت کی تھی ان کی تعداد صرف تین سو تیرہ یا اس کے لگ بھگ تھی۔ انہیں صبر کرنے والوں میں بوڑھے نبی سموئیل، حضرت داؤد، ان کے باپ اور ان کے چھ بھائی شامل تھے اور بروایت براء بن عازب یہ وہی تعداد باقی رہ گئی تھی جتنی اصحاب بدر کی تھی (بخاری، کتاب المغازی، باب عدۃ اصحاب بدر) کجا ان زبانی شیخی بگھارنے والوں کی تعداد ستر ہزار تھی اور کجا ان میں سے خالص تین سو تیرہ رہ گئے، یعنی ہر دو ہزار میں سے صرف نو آدمی سچے مجاہد ثابت ہوئے۔ ان لوگوں کے حوصلے بلند تھے۔ صبر کرنے والے اور توکل کرنے والے تھے۔ وہ آپس میں کہنے لگے کہ اگر ہم تھوڑے سے باقی رہ گئے ہیں تو کوئی بات نہیں فتح و شکست اور زندگی اور موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تھوڑی سی صبر کرنے والی جماعت کو بہت بڑے لشکر کے مقابلہ میں فتح عطا کردیتا ہے کیونکہ اللہ کی مدد ان کے شامل حال ہوتی ہے۔ البقرة
250 [٣٥٠]کامیابی کےلیے مادی وسائل کے ساتھ دعا بھی لازمی ہے:۔ یہی اللہ کے نیک بندوں کی علامت ہے کہ وہ اپنی ہمت اور سامان جنگ پر ہی بھروسہ نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عاجزی سے اللہ کو یاد کرتے اس سے صبر اور ثابت قدمی کی توفیق طلب کرتے اور اپنی فتح کے لیے دعائیں بھی کرتے ہیں اور جالوت کے اس مختصر سے لشکر نے بھی اللہ سے گڑگڑا کر ایسی دعائیں کیں جیسی جنگ بدر کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی تھیں۔ البقرة
251 [٣٥١]سیدناداؤدعلیہ السلام اور جالوت کومارڈالنا:۔ حضرت داؤد علیہ السلام اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے بکریاں چرایا کرتے تھے، پھرتیلا، مضبوط اور چست بدن تھا۔ بہت اچھے نشانہ باز تھے اور جو وحشی جانور بکریوں کے ریوڑ پر حملہ آور ہوتے۔ پتھروں کے ذریعہ ہی انہیں مار ڈالتے یا مار بھگاتے تھے۔ وہ اتنے جرات مند اور طاقتور تھے کہ اگر کوئی درندہ ان کے ہتھے چڑھ جاتا تو اس کے نچلے جبڑے پر پاؤں رکھ کر اوپر کے جبڑے کو اس زور سے کھینچتے تھے کہ اسے چیر کے رکھ دیتے تھے۔ [٣٥٢] جب مقابلہ شروع ہوا تو جالوت خود سامنے آیا، اور آ کر دعوت مبارزت دینے لگا وہ سارے کا سارا لوہے میں ڈوبا ہوا تھا، صرف چہرہ اور آنکھیں ننگی تھیں۔ داؤد علیہ السلام نے راہ میں سے دو تین پتھر اس غرض سے اٹھا لیے تھے۔ آپ نے یکے بعد دیگرے یہ تینوں پتھر فلاخن میں رکھ کر ان سے جالوت پر حملہ کیا جو اس کی پیشانی پر لگے اور اس کے سر کو چیرتے ہوئے پیچھے گدی تک نکل گئے، جس سے جالوت مر کر گر پڑا۔ اس واقعہ سے جالوت کے لشکر کے حوصلے پست ہوگئے اور طالوت کے اس مختصر لشکر کو اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی۔ بعد میں وہ بنی اسرائیل کا متفق علیہ اور بلا شرکت غیرے بادشاہ بن گئے۔ [٣٥٣] اس واقعہ کے بعد طالوت نے اپنی بیٹی کا داؤد علیہ السلام سے نکاح کردیا اور طالوت کے بعد داؤد علیہ السلام ہی اس کے جانشین ہوئے پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبوت سے بھی سرفراز فرمایا۔ [٣٥٤] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زمین کا انتظام برقرار رکھنے کے لیے اپنا ضابطہ بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ کسی قوم کو ایک خاص حد تک زمین میں غلبہ و طاقت حاصل کرنے کی قوت و توفیق عطا فرماتا ہے۔ پھر جب وہ قوم فساد فی الارض میں مبتلا ہو کر اس حد خاص سے آگے بڑھنے لگتی ہے تو کسی دوسری قوم کے ذریعہ اس کا زور توڑ دیتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرتا اور ایک ہی قوم یا پارٹی کا اقتدار زمین میں ہمیشہ قائم رکھا جاتا تو اس کا ظلم و تشدد انتہا کو پہنچ جاتا اور اللہ تعالیٰ کے ملک میں فساد عظیم بپا ہوجاتا۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ کا یہ ضابطہ تمام اقوام پر اس کی بہت مہربانی ہے۔ البقرة
252 [٣٥٥]ماضی کےحالات پرمطلع ہوناآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے: یہاں آیات اللہ سے مراد وہ معجزہ نما واقعات ہیں جو بنی اسرائیل کو پیش آئے تھے۔ جیسے وبا سے ڈر کر گھر بار چھوڑنے والے ہزاروں لوگ جنہیں اللہ نے موت کے بعد زندہ کردیا یا جیسے داؤد کا اکیلے جالوت جیسے جابر بادشاہ کو مار ڈالنا اور اللہ تعالیٰ کی ایک مختصر سی جماعت کو غلبہ عطا فرمانا اور داؤد جیسے ایک گمنام چرواہے کو بادشاہی اور نبوت سے سرفراز فرمانا وغیرہ یہ واقعات ٹھیک ٹھیک ہم نے بذریعہ وحی آپ سے بیان کردیئے ہیں اور آپ کا قرون ماضیہ کے ٹھیک ٹھیک حالات لوگوں کو بتلانا یقیناً آپ کی رسالت پر ایک بڑی دلیل ہے۔ کیونکہ وحی الٰہی کے علاوہ آپ کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس کی بنا پر آپ ایسے گزشتہ صحیح صحیح حالات جان سکیں اور دوسروں کو بتلا سکیں۔ البقرة
253 [٣٥٦]انبیاء کی ایک دوسرے پرفضیلت:۔ انبیاء و رسل کی سب سے بڑی فضیلت تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت و رسالت عطا فرمائی۔ اس لحاظ سے ان میں کوئی فرق نہیں اور یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کسی پیغمبر پر فضیلت نہ دو۔ نیز فرمایا کہ کسی پیغمبر کو کسی دوسرے پر فضیلت نہ دو۔ حتیٰ کہ یونس بن متی پر بھی (بخاری، کتاب التفسیر) رہی جزوی فضیلتیں تو اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کو کسی ایک فضیلت سے نوازا اور دوسرے کو کسی دوسری فضیلت سے جیسا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کے فضائل خود ہی ذکر فرما دیئے اور یہاں فضائل سے مراد دراصل خصائص یا مخصوص معجزات ہیں جو دوسروں کو عطا نہیں ہوئے۔ مثلاً موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اور اس زمین پر براہ راست کلام کیا جو اور کسی نبی سے نہیں کیا۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے اور مٹی کے پرندے بناکر ان میں روح پھونک کر اڑا دیتے تھے۔ [٣٥٧] اختلاف اور باہمی لڑائی جھگڑے کی اصل بنیاد انسان میں قوت ارادہ و اختیار ہے۔ اگر انسان اس قوت و اختیار کو اللہ کی مرضی کے تابع بنا دے تو یہ ایمان ہے اور یہی اسلام ہے اور اگر اس کا آزادانہ استعمال کرنا شروع کر دے اور اللہ کے احکام کی پروا نہ کرے تو یہی کفر ہے۔ [٣٥٨] مشیت الٰہی اور لوگوں کے لڑائی جھگڑے :۔ یعنی اللہ کی مشیت یہ ہے کہ انسان کو قوت ارادہ دی جائے، پھر دیکھا جائے کہ کون اس کو درست استعمال کرتا ہے اور کون غلط؟ اور جو لوگ اس کا غلط استعمال کرتے ہیں وہی آپس میں اختلاف کرتے اور لڑائی جھگڑے کرتے رہتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو انسان کو یہ قوت ہی نہ دیتا، پھر نہ کوئی اختلاف ہوتا اور نہ لڑائی جھگڑا۔ بس سب کے سب مومن ہوتے۔ لیکن ایسا ایمان اضطراری ہوتا اختیاری نہ رہتا۔ جب کہ مشیت الٰہی یہ ہے کہ لوگ اپنے اختیار سے ایمان لائیں یا کفر کریں۔ البقرة
254 [٢٥٩] یہاں انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ مال سے محبت انسان کی فطرت میں داخل ہے اور اگر اس میں سے خرچ نہ کیا جائے تو یہ بات انسان کے لیے فتنہ اور اس کی ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے۔ علاوہ ازیں اے مسلمانو! جس دین پر تم ایمان لائے ہو اس کی راہیں ہموار کرنے اور اس کے قیام کے لیے مال کی ضرورت ہوتی ہے اور معاشرہ میں ناتواں اور محتاج افراد کی مدد کرنے کے لیے بھی اور ایسے ہی صدقات آخرت میں انسان کی نجات کا سبب بنیں گے لہٰذا اس طرف خصوصی توجہ دلائی گئی۔ ایک دفعہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کونسا صدقہ اجر کے لحاظ سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا : ’’جو تندرستی کی حالت میں کرے، حرص رکھتا ہو، فقر سے ڈرتا ہو اور دولت کی امید رکھتا ہو، لہٰذا صدقہ کرنے میں جلدی کرو ایسا نہ ہو کہ جاں لبوں پہ آ جائے تو کہنے لگے کہ اتنا فلاں کو دے دو اور اتنا فلاں کو۔ حالانکہ اس وقت یہ مال اس کا نہیں اس کے وارثوں کا ہوتا ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب ان افضل الصدقہ صدقہ الصحیح الشحیح) یعنی قیامت کے دن تمہارے یہی صدقات ہی کام آئیں گے۔ تمہاری یہ سوداگریاں اور دوستیاں کام نہیں آئیں گی۔ نہ ہی وہاں کسی کی سفارش کام دے گی۔ [٣٦٠] اس جملہ کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صدقات (بالخصوص زکوٰۃ) نہ دینے والے کافر ہیں اور وہی ظالم ہیں جو اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے بھی اللہ کی راہ میں نہیں دیتے اور ایک وہ جو ترجمہ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی جو لوگ قیامت کے دن اللہ کے قانون جزا و سزا اور اس کے ضابطہ پر ایمان نہیں رکھتے وہ کافر بھی ہیں اور ظالم بھی۔ البقرة
255 [٣٦١] یہ آیت آیۃ الکرسی کے نام سے مشہور ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی ایسی مکمل معرفت بیان کی گئی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اسی لیے اس آیت کو قرآن کی سب سے افضل آیت قرار دیا گیا ہے۔ جیسا درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔ فضائل آیۃ الکرسی :۔۱۔ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے مجھ سے پوچھا ’’ابو منذر! جانتے ہو، تمہارے پاس کتاب اللہ کی سب سے عظمت والی آیت کونسی ہے؟‘‘ میں نے کہا : اللہ و رسولہ، اعلم۔ آپ نے پھر پوچھا : ابو منذر! جانتے ہو تمہارے پاس کتاب اللہ کی کونسی آیت سب سے عظیم ہے : میں نے کہا : ﴿لاَ اِلٰہَ الاَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ﴾ آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : ’’ابو منذر! تمہیں علم مبارک ہو۔‘‘ (مسلم، کتاب فضائل القرآن وما یتعلق بہ۔ باب فضل سورۃ کہف و آیۃ الکرسی) ٢۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے صدقہ فطر کی حفاظت پر مقرر کیا۔ کوئی شخص آیا اور غلہ چوری کرنے لگا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا : میں تجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤں گا ؟ وہ کہنے لگا، میں محتاج ہوں، عیالدار اور سخت تکلیف میں ہوں۔ چنانچہ میں نے اسے چھوڑ دیا، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : ابوہریرہ ! آج رات تمہارے قیدی نے کیا کہا تھا ؟ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نے محتاجی اور عیالداری کا شکوہ کیا تھا۔ مجھے رحم آیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا : دھیان رکھنا وہ جھوٹا ہے وہ پھر تمہارے پاس آئے گا۔ چنانچہ اگلی رات وہ پھر آیا اور غلہ اٹھانے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا آج تو ضرور میں تمہیں آپ کے پاس لے جاؤں گا۔ وہ کہنے لگا مجھے چھوڑ دو میں محتاج ہوں اور عیالدار ہوں، آئندہ نہیں آؤں گا مجھے پھر رحم آ گیا اور اسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ سلم نے مجھ سے پوچھا : ’’ابوہریرہ ! تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟‘‘ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس نے سخت محتاجی اور عیالداری کا شکوہ کیا تھا، مجھے رحم آ گیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا : دھیان رکھنا وہ جھوٹا ہے اور وہ پھر آئے گا۔چنانچہ تیسری بار میں تاک میں رہا۔ وہ آیا اور غلہ سمیٹنے لگا : میں نے کہا : اب تو میں تمہیں ضرور آپ کے پاس لے جاؤں گا۔ اب یہ تیسری بار ہے تو ہر بار یہی کہتا رہا کہ پھر نہ آؤں گا مگر پھر آتا رہا۔ جھوٹابھی کبھی سچی بات کہہ دیتاہے:۔ اس نے کہا مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں چند کلمے سکھاتا ہوں جو تمہیں فائدہ دیں گے۔میں نے کہا : وہ کیا ہیں؟ کہنے لگا : جب تو سونے لگے تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کر۔ اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ تیرا نگہبان ہوگا۔ اور صبح تک شیطان تیرے پاس نہیں آئے گا۔ چنانچہ میں نے اسے پھر چھوڑ دیا، صبح ہوئی تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تیرے قیدی نے آج رات کیا کیا ؟ میں نے آپ کو ساری بات بتلا دی، تو آپ نے فرمایا! اس نے یہ بات سچی کہی حالانکہ وہ کذاب ہے۔ پھر آپ نے مجھ سے کہا : ابوہریرہ ! جانتے ہو، تین راتوں سے کون تمہارے پاس آتا رہا ہے؟میں نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا وہ شیطان تھا۔ (بخاری۔ کتاب الوکالة باب اذا و کل رجلا فترک الوکیل شیأ..... الخ) ٣۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چیز کی ایک کوہان ہوتی ہے اور قرآن کی کوہان سورۃ بقرہ ہے اور اس میں ایک آیت جو قرآن کی سب آیتوں کی سردار ہے اور وہ آیت الکرسی ہے۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر۔ باب ماجاء فی سورۃ البقرة و آیۃ الکرسی) الوہیت کی لازمی صفات اور سب معبودان باطل کابطلان :۔ اس آیت کی عظمت یہ ہے کہ یہ آیت جہاں اللہ تعالیٰ کی تحمید و تقدیس بیان کرتی ہے وہاں شرک کی سب اقسام کی جڑ کاٹ کے رکھ دیتی ہے۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اس کی دلیل میں دو باتیں یا دو صفات ارشاد فرمائیں، ایک یہ کہ وہ حَیٌّ ہے، ازل سے زندہ ہے اور ابد تک رہے گا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ جو ہستی حی نہیں وہ الٰہ نہیں ہو سکتی، اس معیار پر پرکھا جائے تو دوسرے تمام الاہوں کی الوہیت باطل قرار پاتی ہے۔ اس لیے کہ وہ حادث ہیں اور جو چیز حادث ہے اسے فنا یا موت لازمی ہے۔ خواہ یہ معبود جمادات سے تعلق رکھتے ہوں یا نباتات سے یا حیوانات سے یا انسانوں یا فرشتوں اور جنوں سے یا اجرام سماوی سے یہ سب چیزیں حادث ہیں اور کوئی چیز بھی حَیٌّ ہونے کی صفت پر پوری نہیں اترتی، دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ قائم بالذات ہے اور دوسری تمام اشیاء کو قائم رکھنے والی ہے۔ یہ صفت بھی اللہ کے سوا دوسرے کسی معبود میں نہیں پائی جاتی۔ اجرام سماوی خود جکڑے بندے قانون کے تحت محو گردش ہیں۔ پتھروں کے معبود اپنے پجاریوں کے محتاج ہیں کہ وہ انہیں دھو دھا کر صاف کرتے رہیں۔ پھر جب چاہیں ان میں ادل بدل بھی کرلیں اور ان کی الوہیت ان مجاوروں اور مریدوں کے سہارے قائم ہے جو لوگوں سے نذرانے وصول کرتے ہیں اور ان اولیاء اللہ کے متعلق جھوٹے افسانے اور قصے کہانیاں ان کی طرف منسوب کر کے لوگوں کو ان سے ڈراتے دھمکاتے اور لوگوں کو نذرانے پیش کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ یہ لوگ اگر اپنی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیں تو ان کی خدائی ایک دن بھی نہیں چل سکتی۔ آگے فرمایا کہ اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عیوب سے تقدیس ہے اونگھ نیند کا ابتدائی درجہ ہے اور نیند ایک اضطراری کیفیت ہے جو ہر جاندار کو اس وقت لاحق ہوتی ہے جب وہ کام کرتے کرتے تھک جاتا ہے۔ ایسی حالت میں نیند اس پر غالب آ کر اسے بے ہوش بنا دیتی ہے اور اس میں موت کے کچھ آثار بھی پائے جاتے ہیں۔ اسی لیے احادیث میں نیند کو موت کی بہن قرار دیا گیا ہے اور بعض احادیث میں اسے موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اگر اونگھ یا نیند آ جائے تو اس کائنات کا سارے کا سارا نظام آن کی آن میں درہم برہم ہوجائے اور اللہ کے سوا جتنے معبود ہیں وہ سب یا تو پہلے ہی مردہ ہیں یا پھر وہ اونگھ، نیند اور موت کا شکار ہونے والے ہیں، لہٰذا وہ الٰہ نہیں ہو سکتے۔ سفارش کی کڑی شرط:۔ آگے فرمایا کہ زمین اور آسمان کی جملہ اشیاء اس کی مملوک ہیں اور وہ ان کا مالک ہے اور یہ تو ظاہر ہے جو چیز خود کسی دوسرے کی مملوک ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتی۔ پھر فرمایا کہ اس کے پاس کسی کو اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرنے کی قطعاً اجازت نہ ہوگی۔ عرب لوگ بھی کسی نہ کسی رنگ میں اللہ کے ہاں سفارش کے قائل تھے اور یہ سفارش دنیوی معاملات کے لیے بھی ہو سکتی ہے اور اخروی نجات کے لیے بھی۔ مشرکین کا سفارش کے متعلق یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ ان کے دیوتا یا فرشتے یا اولیاء چونکہ خود اللہ کی طرف سے تفویض کردہ اختیارات کے مالک ہیں۔ لہٰذا وہ ہمیں ہر طرح سے فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیارے ہیں۔ اس لیے صرف اللہ کے ہاں سفارش ہی نہیں بلکہ اس پر دباؤ ڈال کر اپنے ماننے والوں کو اللہ کی گرفت سے بچا سکتے اور ان کی بگڑی بنا سکتے ہیں۔ یہ عقیدہ چونکہ اللہ کے بجائے دوسروں پر توکل اور اعتماد کی راہ دکھلاتا ہے۔ لہٰذا اس عقیدہ کی پرزور الفاظ میں تردید فرما کر شرک کا یہ دروازہ بھی بند کردیا۔ ساتھ ہی (الا باذنہ) فرما کر سفارش کی کلیۃ نفی نہیں کی۔ بلکہ چند در چند شرائط عائد کر کے سفارش پر اعتماد کے عقیدہ کو یکسر ختم کردیا اور وہ شرائط یہ ہیں کہ اللہ جسے خود چاہے گا اسے ہی سفارش کی اجازت دے گا اور جس شخص کے حق میں چاہے گا اسی کے لیے اجازت دے گا اور جس کام کی معافی کے لیے سفارش کی اجازت دے گا۔ سفارش کرنے والا صرف اسی بات کے متعلق سفارش کرسکے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تو سب لوگوں کے اگلے اور پچھلے، ماضی اور مستقبل کے سب حالات سے پوری طرح واقف ہے۔ جبکہ دوسرے اللہ کی وسعت علم کی گرد کو بھی نہیں پا سکے۔ سفارش تو یہ ہوتی ہے کہ فلاں شخص سے فلاں کام غلطی سے یا دانستہ سرزد ہوگیا ہے۔ اس کی زندگی کا سابقہ ریکارڈ بالکل ٹھیک ہے لہٰذا اس کا یہ گناہ معاف کردیا جائے۔ لیکن اللہ کے مقابلہ میں ان مشرکوں کے مزعومہ سفارشی اللہ کے علم میں کیا اضافہ کرسکتے ہیں ان کو تو اتنا ہی علم دیا گیا ہے جتنا کہ اللہ کو منظور تھا اور جو اپنی ذات کا بھی پورا علم نہیں رکھتا وہ دوسروں کے متعلق کیسے رکھتا ہے۔ آیۃ الکرسی معرفت الٰہی کاگنجینہ :۔ آگے فرمایا کہ اس کی کرسی تمام کائنات کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ یہاں بعض لوگوں نے کرسی کا معنی اقتدار کیا ہے، لیکن ہم ان لوگوں کے نظریہ کے قائل نہیں بلکہ ہمارے خیال میں کرسی کے لفظ کے معانی میں جو جامعیت ہے وہ اقتدار میں نہیں ہے۔ پھر کوئی اللہ کی گرفت سے بچ کر کہاں جا سکتا ہے۔ آگے فرمایا کہ کائنات کے انتظام و انصرام اور اس کی حفاظت اللہ تعالیٰ کو نہ تھکاتی ہے اور نہ گرانبار بناتی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کو انسان اور انسانی کمزوریوں پر محمول نہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات تو ہر قسم کی تشبیہات سے ماورا بھی ہے اور عظمت والی بھی ہے۔ گویا ان آخری جملوں میں پھر اللہ تعالیٰ کی تقدیس بیان کی گئی ہے۔ گویا تحمید، تسبیح اور تقدیس سب پہلوؤں سے یہ آیت ایک جامع آیت ہے۔ [٣٦٢] یہاں ہم تین احادیث صحیحہ درج کرتے ہیں جس سے شفاعت کے کئی پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً یہ کہ قیامت کا دن اس قدر ہولناک ہوگا کہ بڑے بڑے انبیاء بھی اللہ کے حضور سفارش کرنے کی جرات نہ کرسکیں گے اور بالآخر قرعہ فال نبی آخر الزمان پر پڑے گا، نیز یہ کہ سفارش کیسے لوگوں کے حق میں ہوگی، نیز یہ کہ ہمارے ہاں جو پیر و فقیر اپنے مریدوں سے بےدھڑک شفاعت کرنے کے وعدے کرتے ہیں یا جن لوگوں نے اپنی اخروی نجات کا انحصار ہی اپنے پیروں اور مشائخ کی شفاعت سمجھا ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے وغیرہ وغیرہ۔ ١۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن ایماندار لوگ جمع ہو کر کہیں گے بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے پروردگار کے حضور کسی کی سفارش پہنچائیں۔ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آ کر کہیں گے۔آپ سب لوگوں کے باپ ہیں۔ آپ کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا، فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو تمام اشیاء کے نام سکھلائے۔ لہٰذا اپنے پروردگار کے ہاں ہماری سفارش کریں کہ وہ اس مصیبت کی جگہ سے نکال کر آرام دے۔ وہ کہیں گے : میں اس لائق نہیں اور وہ اپنا قصور یاد کر کے (اللہ کے حضور جانے سے) شرمائیں گے اور کہیں گے: تم نوح کے پاس جاؤ۔ وہ پہلے رسول ہیں۔ جنہیں اللہ نے زمین والوں کی طرف بھیجا، لوگ نوح کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں۔ وہ اپنا سوال یاد کر کے شرمائیں گے جو انہوں نے بغیر علم کے اپنے پروردگار سے کیا تھا۔ پھر کہیں گے تم اللہ کے خلیل (حضرت ابراہیم علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے۔ وہ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں۔ تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ ایسے بندے ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا اور انہیں تورات دی۔چنانچہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں۔ وہ اپنے خون ناحق کو یاد کر کے اپنے پروردگار کے ہاں جانے سے شرمائیں گے اور کہیں گے : تم عیسیٰ کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول، اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں۔ اب لوگ ان کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے : میں اس کا اہل نہیں۔ تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے (مقرب) بندے ہیں جن کے اللہ تعالیٰ نے سب اگلے پچھلے قصور معاف کردیئے ہیں۔۔ شفاعت کبریٰ :۔ پھر لوگ میرے پاس آئیں گے تو میں وہاں سے چل کر اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہونے کی اجازت طلب کروں گا، مجھے اجازت مل جائے گی۔ پھر جب میں اپنے پروردگار کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گر جاؤں گا پھر جب تک پروردگار چاہے گا، مجھے سجدہ میں پڑا رہنے دے گا، پھر ارشاد ہوگا، اپنا سر اٹھاؤ اور سوال کرو وہ تمہیں دیا جائے گا اور بات کرو تو سنی جائے گی اور سفارش کرو تو قبول کی جائے گی۔ چنانچہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اس کی ایسی تعریف کروں گا جو اللہ تعالیٰ مجھے اس وقت سکھلائے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا جس کے لیے ایک حد مقرر کی جائے گی۔ میں ان لوگوں کو بہشت میں پہنچا دوں گا۔ پھر اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آؤں گا اور جب اپنے پروردگار کو دیکھوں گا تو پہلے کی طرح سجدہ میں گر جاؤں گا۔ پھر میں سفارش کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کردی جائے گی، میں انہیں جنت میں داخل کروں گا۔ پھر تیسری بار اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آؤں گا، پھر چوتھی بار آؤں گا۔ اور عرض کروں گا : پروردگار! اب تو دوزخ میں (جانے والے) وہی لوگ باقی رہ گئے ہیں جو قرآن کی رو سے دوزخ میں جانے کے لائق ہیں اور انہیں ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے۔ (بخاری، کتاب التفسیر) زیر آیت ﴿عَلَّمَ اٰدَمَ الأَسْمَاءَ﴾ ٢۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور اس میں کوئی فخر نہیں اور حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا اور اس میں کوئی فخر نہیں اور آدم اور باقی سب انبیاء میرے جھنڈے تلے ہوں گے اور سب سے پہلے زمین میرے ہی لیے (بعث کے لیے) شق ہوگی اور اس میں کوئی فخر نہیں۔ پھر آپ نے تین بار فرمایا کہ لوگ اس دن بہت گھبرائے ہوئے ہوں گے۔ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آ کر کہیں گے : ’’آپ ہمارے باپ ہیں لہٰذا ہمارے رب کے ہاں ہماری سفارش کیجئے‘‘وہ کہیں گے : ’’مجھ سے ایسا گناہ سرزد ہوا جس کی وجہ سے زمین پر اتارا گیا۔ البتہ تم لوگ نوح کے پاس جاؤ‘‘ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے : میں نے ساری زمین والوں کے لیے بددعا کی اور وہ ہلاک ہوگئے، البتہ تم ابراہیم کے پاس جاؤ۔ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے : میں نے تین جھوٹ بولے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا : کہ آپ نے کوئی جھوٹ نہیں بولا مگر اس سے دین کی تائید مقصود تھی۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کہیں گے کہ تم موسیٰ کے پاس جاؤ، لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے : میں نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا۔ اب تم عیسیٰ کے پاس جاؤ۔ وہ کہیں گے۔ ' مجھے لوگوں نے اللہ کے علاوہ معبود بنا ڈالا تھا۔ تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ۔ پھر سب لوگ میرے پاس آئیں گے۔ سو میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور جا کر جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔ اندر سے کوئی پوچھے گا : ’’یہ کون ہے؟‘‘ کہا جائے گا: ’’ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں‘‘ تو وہ میرے لیے دروازہ کھول دیں گے اور مجھے خوش آمدید کہیں گے اور تواضع کریں گے، میں سجدہ میں گر جاؤں گا۔ اس وقت اللہ مجھے اپنی حمد و ثنا الہام کرے گا۔ پھر مجھے کہا جائے گا اپنا سر اٹھاؤ اور مانگو تمہیں دیا جائے گا اور سفارش کرو تو قبول کی جائے گی اور تمہاری بات سنی جائے گی اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا اللہ نے اس آیت میں ذکر فرمایا ہے: ﴿وَمِنَ الَّیْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ڰ عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا ﴾ (ترمذی، ابو اب التفسیر، سورۃ بنی اسرائیل) ٣۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے پوچھا! ’’یا رسول اللہ ! قیامت کے دن آپ کی شفاعت کا سب سے زیادہ مستحق کون ہوگا ؟‘‘ آپ نے فرمایا! ’’ابوہریرہ ! مجھے معلوم تھا کہ تجھ سے پہلے مجھ سے کوئی یہ بات نہ پوچھے گا کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں حدیث سننے کی کتنی حرص ہے تو سنو : میری شفاعت سب سے زیادہ اس شخص کے نصیب میں ہوگی جس نے سچے دل سے لا الہ الا اللہ کہا ہو۔ (بخاری، کتاب العلم۔ باب الحرص علی الحدیث) [٣٦٣] اللہ کےعلم کی وسعت :۔ کیونکہ یہ کائنات اور اس کی وسعت لامحدود ہے اور اس کا احاطہ انسان کی بساط سے باہر ہے۔ انسان جتنی طاقتور سے طاقتور دوربینیں ایجاد کرتا ہے، کائنات کی وسعت دیکھ کر اس کی حیرانگی میں مزید اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ پھر بھلا وہ اس کے علم کا کیا احاطہ کرسکے گا۔ انسان کا علم تو بس اتنا ہی ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ انبیاء کو عطا کیا یا پھر انسان نے خود بعض اشیاء پر تجربے کر کے حاصل کرلیا ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے سمندر کے مقابلہ میں پانی کی ایک بوند۔ البقرة
256 [٣٦٤]اسلام لانے میں جبرنہیں:۔ انسان کو جو قوت ارادہ دی گئی ہے کہ وہ چاہے تو اپنے آپ کو اللہ کی مرضی کے تابع بنا دے۔ ایسی ہی اطاعت کا نام دین ہے اور یہی ہدایت ہے اور دین کے عقائد اس آیۃ الکرسی میں وضاحت سے بیان ہوگئے ہیں اور چاہے تو اپنی اس قوت ارادہ کا آزادانہ استعمال کرے اور اسی کا نام کفر بھی ہے اور گمراہی بھی اور ان دونوں باتوں کی پوری وضاحت کردی گئی ہے۔ اب ہر انسان دین اسلام کو اختیار کرنے کی حد تک تو آزاد ہے چاہے تو قبول کرے چاہے تو رد کر دے۔ مگر اسلام کو قبول کرلینے کے بعد اسے اختیار نہیں رہتا کہ وہ دین کے احکام و ہدایات کو اپنی عقل کی کسوٹی پر پرکھنا شروع کر دے اور جو اسے معقول نظر آئے اسے تسلیم کرلے اور باقی کا انکار کر دے یا احکام میں سے کچھ پر عمل کرے اور جو اس کی طبیعت پر گراں گزریں یا ناپسند ہوں انہیں چھوڑ دے۔ یہ بھی گمراہی ہے اور نہ ہی اسے دین اسلام کو چھوڑنے کا اختیار باقی رہتا ہے۔ کیونکہ اسلام ایک تحریک ہے روایتی قسم کا مذہب نہیں۔ لہٰذا دین سے ارتداد پوری امت سے بغاوت کے مترادف ہے۔ (تفصیل کے لیے سورۃ توبہ کا حاشیہ نمبر ٣٨ دیکھئے) [٣٦٥]طاغوت کامفہوم:۔ طاغوت ہر وہ باطل قوت ہے جو اللہ کے مقابلہ میں اپنا حکم دوسرے سے منوائے یا لوگ اللہ کے مقابلہ میں اس کے احکام تسلیم کرنے لگیں خواہ وہ کوئی مخصوص شخص ہو یا ادارہ ہو اور ظاہر ہے یہ مقتدر قسم کے لوگ ہی ہو سکتے ہیں۔ خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیاسی ہوں۔ مثال کے طور پر آج کل جتنی قومی، لسانی یا علاقائی تحریکیں چل رہی ہیں۔ یہ سب اسلام کی رو سے ناجائز ہیں اب جو شخص یا ادارہ ایسی تحریکوں کو چلائے گا وہ طاغوت ہے۔ اسی طرح شیطان بھی طاغوت ہے اور ایسے پیر فقیر بھی جو خود بھی معصیت کے مرتکب ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایسی ہی تلقین کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر انسان کا اپنا نفس بھی طاغوت ہوسکتا ہے۔ جبکہ وہ اللہ کی فرمانبرداری سے انحراف کر رہا ہو۔ [٣٦٦] مضبوط حلقہ سے مراد پوری شریعت اور اس کا نظام ہے اور یہی حلقہ ہے جو انسان کو ہر طرح کی گمراہی سے بچا سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس سے چمٹا رہے اور ادھر ادھر جانے والی پگڈنڈیوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔ ایسا شخص یقینا کامیاب ہوگا۔ البقرة
257 [٣٦٧] دو مقاموں کے درمیان سیدھا راستہ صرف ایک ہی ہوتا ہے۔ جبکہ ٹیڑھی راہیں بے شمار ہوتی ہیں۔ بالفاظ دیگر کفر و ضلالت کے اندھیرے کئی طرح کے اور بے شمار ہیں جبکہ اسلام کا نور ایک ہی ہے اور ایک ہی طرح کا ہے۔ اسی طرح طاغوت بے شمار ہو سکتے ہیں جبکہ معبود حقیقی صرف ایک اللہ ہے۔ اسی لحاظ سے اس آیت میں اسلام کی سیدھی راہ یا روشنی کے لیے واحد اور کفر کی تاریکیوں کے لیے جمع کی ضمیریں استعمال ہوئی ہیں، مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے اس مضبوط حلقہ کو تھامے رکھتا ہے۔ اللہ اس کا سرپرست بن جاتا ہے اور اسے کفر و ضلالت کی گمراہیوں سے نکال کر اسلام کی روشنی کی طرف لے آتا ہے اور جو لوگ اس مضبوط حلقہ یا شریعت سے اعراض و انکار کرتے ہیں تو ہر طرح کے طاغوت اس کے سرپرست بن جاتے ہیں جو اس کو ہدایت کی راہ سے منحرف کر کے کفر و ضلالت کی گمراہیوں اور تاریکیوں میں جا دھکیلتے ہیں۔ پھر اسے اسلام کی روشنی نظر آ ہی نہیں سکتی۔ البقرة
258 [٣٦٨]نمرود کی خدائی کس قسم کی تھی ؟ یہ شخص نمرود بادشاہ عراق تھا اور اس کا دارالخلافہ بابل تھا جہاں آج کل کوفہ آباد ہے خدائی کا دعویدار تھا یہ خود اور اس کی رعایا سب مشرک تھے۔ نمرود کی خدائی کس قسم کی تھی؟ یہ جاننے کے لیے تھوڑی سی تفصیل ضروری معلوم ہوتی ہے۔ شرک کی تین اقسام ہیں:۔ شرک کی قسمیں :شرک فی الربوبیت :۔ ایسا شرک عموماً کوئی بھی نہیں کرتا۔ مشرکین مکہ ہوں یا نمرود ہو یا فرعون ہو کسی سے بھی پوچھا جائے کہ یہ آسمان و زمین کس نے بنائے۔ زمین سے پیداوار کون اگاتا ہے۔ کائنات کو کس نے پیدا کیا اور شمس و قمر کا نظام چلانے والا کون ہے تو سب یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہے۔ البتہ ربوبیت کے منکر ضرور موجود رہے ہیں یعنی دہریہ قسم کے لوگ یا فلکیات کے ماہرین جو ساری کائنات کو مادہ کی بدلی ہوئی شکلیں اور ارتقائی پیداوار کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ دوسری قسم شرک فی الصفات ہے۔ آگے اس کی پھر دو قسمیں ہیں، ایک وہ جس کا تعلق مافوق الفطری اسباب سے ہوتا ہے۔ مثلاً دعائیں سننا اور انہیں قبول کرنا، حاجت روائی اور مشکل کشائی کسی کے رزق میں تنگی اور فراخی پیدا کرنا، بارش برسانا، کسی کو اولاد دینا وغیرہ وغیرہ، ایسا شرک عام پایا جاتا ہے۔ مشرکین مکہ کے ہوں یا عراق کے ہوں، مصر کے ہوں یا ہندوستان کے، انہوں نے ایسے کاموں کے لیے لاتعداد دیوی یا دیوتا بنا رکھے تھے اور مندرجہ بالا کام انہیں کے سپرد تھے اور ان کے بتوں اور مجسموں کی پوجا کی جاتی تھی۔ اس قسم کا شرک ہم مسلمانوں میں بھی عام پایا جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے ہم نے امور اپنے پیروں فقیروں اور بزعم خود اولیاء اللہ کے سپرد کر رکھے ہیں خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ ہوچکے ہوں۔ جمہوریت میں شرک کی کون سی قسم پائی جاتی ہے؟ شرک کی تیسری قسم وہ ہے جس کا تعلق شرک فی الصفات کی دوسری قسم سے ہے اور وہ فطری اسباب سے ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر طاغوت یا طواغیت سے ہوتا ہے جس کا ذکر پچھلی آیت میں آیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اپنی حکمرانی تسلیم کرواتے ہیں۔ آج کی زبان میں اسے اقتدار اعلیٰ کہتے ہیں۔ نمرود بھی اس قسم کا خدا تھا اور فرعون بھی اور ان جیسے اور بھی کئی خدائی کے وعدے کرچکے اور کر رہے ہیں۔ پھر اقتدار اعلیٰ کی بھی دو قسمیں ہیں، قانونی اقتدار اعلیٰ اور سیاسی اقتدار اعلیٰ دونوں قسم کا یہ اقتدار اعلیٰ ایسے حکمرانوں کے پاس ہی ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا ہر لفظ قانون ہوتا ہے اور ان کے حکم کے آگے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ہوتی اور ایسے ممالک جہاں آج کل جمہوریت رائج ہے وہاں بھی اکثر شرک کی یہ قسم پائی جاتی ہے۔ کیونکہ ان ملکوں میں سیاسی اقتدار اعلیٰ تو عوام کے پاس ہوتا ہے یعنی طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔ وہی جسے چاہیں اپنی رائے سے نمائندہ یا حکمران بنا دیں اور قانونی اقتدار اعلیٰ اسمبلی یا پارلیمنٹ کے پاس ہوتا ہے (یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ جمہوریت میں اقتدار اعلیٰ اسمبلی یا پارلیمنٹ کے پاس ہوتا ہے.......(جمہوریت میں اقتدار اعلیٰ کوئی انسان یا کوئی ادارہ ہی ہو سکتاہے) جبکہ اسلامی نقطہ نظر سے قانونی اور سیاسی مقتدر اعلیٰ کوئی فرد یا ادارہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ایسا مقتدر اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ جمہوری ممالک میں کوئی بڑی سے بڑی عدالت بھی پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کے سامنے دم نہیں مار سکتی۔ اس لحاظ سے نمرود کی خدائی اور جمہوریت کی خدائی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آزر کا تعارف:۔ نمرود ہی کے دربار میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا باپ شاہی مہنت تھا جو بت گر بھی تھا اور بت فروش بھی اور نمرود کے مقربین میں سے تھا۔ اسی بنا پر باپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو گھر سے نکالا تھا اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان لوگوں کے بت توڑے تھے تو اسی باپ نے اپنے بیٹے کا مقدمہ نمرود کے دربار میں پیش کیا تھا۔ [٣٦٩]سیدنا ابراہیم اورنمرود کامکالمہ :۔ دربار میں پیشی ہوئی تو زیر بحث مسئلہ '' خدائی'' ہی کا تھا۔ دوران بحث حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے تو نمرود کہنے لگا کہ یہ دونوں کام تو میں بھی کرسکتا ہوں۔ چنانچہ اس نے ایک بے قصور آدمی کو بلاوجہ قتل کروا دیا اور ایک ایسے قیدی کو جسے سزائے موت ہوچکی تھی آزاد کردیا۔ [٣٧٠] حضرت ابراہیم علیہ السلام نمردو کے اس کام کا یہ جواب دے سکتے تھے کہ جس شخص کو تو نے مروا ڈالا ہے اسے زندہ کر کے دکھا تو جانیں۔ مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس میدان کو چھوڑ دیا اور ربوبیت کے میدان میں آ گئے اور کہا کہ میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال کے دکھا۔ اب چونکہ نمرود یہ سمجھتا تھا کہ کائنات کے نظام میں میرا کوئی دخل اور اختیار نہیں۔ لہٰذا وہ فوراً لاجواب ہوگیا۔ حالانکہ اگر وہ سوچتا تو کہہ سکتا تھا کہ اگر میں سورج کو مغرب سے نہیں نکال سکتا تو تم اپنے رب سے کہو کہ مغرب سے نکال کے دکھائے، اور اس صورت میں عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ دکھلا بھی دیتے۔ مگر چونکہ نمرود کا پختہ عقیدہ تھا کہ کائنات کا نظام اللہ ہی چلاتا ہے اور وہ چاہے تو ایسا بھی کرسکتا ہے۔ لہٰذا سوائے خاموشی اور حیرانگی کے اس سے کچھ بھی بن نہ پڑا اس طرح ابراہیم علیہ السلام نے بھرے دربار میں نمرود پر یہ بات واضح کردی کہ میرا خدا یا معبود تو نہیں، بلکہ وہ معبود حقیقی ہے جس کا پوری کائنات میں تصرف و اختیار چلتا ہے اس مباحثہ میں لاجواب ہونے کے باوجود نمرود کو کسی قیمت پر بھی اپنے خدائی کے دعوے سے دستبردار ہونا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہدایت پر توجہ کرنا گوارا نہ ہوا اور جو لوگ گمراہی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہوں انہیں ہدایت کی راہ نصیب بھی نہیں ہوتی۔ البقرة
259 [٣٧١]بخت نصر بابلی کابیت المقدس پرحملہ: اشیائے کائنات میں اللہ تعالیٰ کس کس طرح کے محیر العقول تصرف کرسکتا ہے؟ یہ بتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرا واقعہ بیان فرمایا۔ یہ واقعہ حضرت عزیر علیہ السلام سے تعلق رکھتا ہے جن کے متعلق مشہور ہے کہ انہیں ساری تورات زبانی یاد تھی۔ بخت نصر نے شام پر حملہ کر کے بیت المقدس کو ویران کیا اور بہت سے اسرائیلیوں کو قید کر کے اپنے ہاں بابل لے گیا تو ان میں حضرت عزیر علیہ السلام بھی تھے۔ کچھ مدت بعد رہائی ہوئی اور واپس اپنے وطن آ رہے تھے کہ راہ میں ایک اجڑا ہوا شہر دیکھا جو بخت نصر کے حملہ کے نتیجہ میں ہی ویران ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر دل ہی میں یہ خیال آیا کہ اللہ اب اس بستی کو کب اور کیسے آباد کرے گا ؟ اس وقت آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور خورد و نوش کا سامان ساتھ تھا۔ اس خیال کے آتے ہی اللہ نے آپ کی روح قبض کرلی۔ [٣٧٢] اور پورے سو سال موت کی نیند سلا کر پھر انہیں زندہ کر کے پوچھا : ’’بتلاؤ کتنی مدت اس حال میں پڑے رہے؟‘‘ اب عزیر علیہ السلام کے پاس ماسوائے سورج کے، وقت معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا جب جا رہے تھے تو پہلا پہر تھا اور اب دوسرا پہر کہنے لگے ’’ یہی بس دن کا کچھ حصہ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دوسرا دن ہو‘‘کیونکہ اس سے زیادہ انسان کبھی نہیں سوتا۔ [٣٧٣]سیدنا عزیر اور اجڑی بستی :۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : دیکھو تم سو سال یہاں پڑے رہے ہو جب عزیر علیہ السلام نے اپنے بدن اور جسمانی حالت کی طرف اور اپنے سامان خورد و نوش کی طرف دیکھا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ وہی دن ہے جب ان پر نیند طاری ہوئی تھی۔ پھر جب اپنے گدھے کی طرف دیکھا کہ اس کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہوگئی ہیں تو سمجھے کہ واقعی سو سال گزر چکے ہوں گے۔ ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ہڈیوں میں حرکت پیدا ہوئی، پھر وہ جڑنے لگیں۔ پھر ہڈیوں کے اس پنجر پر گوشت پوست چڑھا اور ان کے دیکھتے ہی دیکھتے گدھا زندہ ہو کر کھڑا ہوگیا۔ پھر اس بستی کی طرف نظر دوڑائی جسے دیکھ کر ایسا خیال آیا تھا تو وہ بھی آباد ہوچکی تھی۔ اب دیکھئے اس واقعہ میں درج ذیل معجزات وقوع پذیر ہوئے۔ سیدناعزیرکی ذات خود ایک معجزہ تھی:۔ حضرت عزیر علیہ السلام خود بھی، ان کا گدھا بھی اور وہ بستی بھی مرنے کے بعد زندہ ہوئے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر علیہ السلام کے خیال کا تین طریقوں سے جواب دیا۔ جس سے آپ کو عین الیقین حاصل ہوگیا۔ ٢۔ اس سو سال کی مدت کا نہ آپ کی ذات پر کچھ اثر ہوا، نہ آپ کے سامان خورد و نوش پر۔ چنانچہ جب آپ واپس اپنے گھر پہنچے تو آپ کے بیٹے اور پوتے تو بوڑھے ہوچکے تھے اور آپ خود ان کی نسبت جوان تھے۔ اس طرح آپ کی ذات بھی تمام لوگوں کے لیے ایک معجزہ بن گئی۔ غالباً اسی وجہ سے یہودیوں کا ایک فرقہ انہیں ابن اللہ کہنے لگا تھا۔ ٣۔ لیکن گدھے پر سو سال کا عرصہ گزرنے کے جملہ اثرات موجود تھے۔ یہ تضاد زمانی بھی ایک بہت بڑا حیران کن معاملہ اور معجزہ تھا۔ ٤۔ آپ کی آنکھوں کے سامنے گدھے کی ہڈیوں کا جڑنا، اس کا پنجر مکمل ہونا، اس پر گوشت پوست چڑھنا پھر اس کا زندہ ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر بہت بڑی دلیل ہے۔ البقرة
260 [٣٧٤] غیب پر انبیاء کا ایمان جس قدر پختہ ہوتا ہے دوسروں کا نہیں ہوسکتا مگر جس مشن کے لیے انہیں کھڑا کیا جاتا ہے۔ اس کا ایک تقاضا یہ بھی ہوتا ہے کہ انہیں عین الیقین حاصل ہو، تاکہ وہ دوسرے لوگوں کو آنکھوں دیکھی حقیقت کی بنیاد پر ایمان بالغیب کی پرزور دعوت دے سکیں اسی لیے اکثر انبیاء کو ملکوت السموت والارض کی سیر بھی کرا دی جاتی ہے اور کسی حد تک مافوق الفطری اسباب پر مطلع بھی کردیا جاتا ہے اور پچھلے واقعہ میں حضرت عزیر علیہ السلام کو ایسے اسباب دکھلائے گئے۔ اب یہاں اسی نوعیت کا سوال حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے پروردگار کے حضور پیش فرما رہے ہیں۔ اور اپنا دلی اطمینان چاہتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج کے دوران ملکوت السموات والارض کی سیر کرائی گئی تھی۔ نیز ایک دفعہ خواب میں اور ایک دفعہ نماز کسوف پڑھاتے وقت آپ کو جنت اور دوزخ دکھلائے گئے تھے۔ [٣٧٥] چارمردہ پرندوں کی دوبارہ زندگی :۔ اس آیت کی جزئیات میں مفسرین نے بہت اختلاف کیا ہے۔ مثلاً یہ کہ چاروں پرندے ایک ہی جنس کے تھے۔ یا الگ الگ جنسوں کے، جزء اً سے مراد ان کو ذبح کر کے اور قیمہ بنا کر چاروں پرندوں کے گوشت کو ملا دینا ہے یا فقط ٹکڑے کردینا ہی کافی ہے یا ملا دینا بھی ضروری ہے۔ یہ پہاڑ بھی آیا چار ہی تھے جن پر ایک ایک حصہ رکھا گیا یا کم و بیش تھے جن پر بانٹ کر ہر حصہ رکھا گیا۔ کیا ان پرندوں کے سر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان حصوں میں ہی ملا دیئے تھے یا اپنے ہی پاس رکھے تھے۔ یہ سب تفصیلات مقصد کے لحاظ سے بے معنی ہیں۔ مقصد تو صرف یہ تھا کہ موت کے بعد مردہ جسم کی کوئی بھی پیچیدہ سے پیچیدہ صورت بن جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ ہر طرح کے مردہ کو زندہ کر کے دکھلا دے۔ یہ واقعہ بھی چونکہ خرق عادات اور معجزہ ہے۔ لہٰذا عقل پرستوں اور منکرین معجزات کو اس کی بھی مضحکہ خیز قسم کی تاویل کرنا پڑی۔ چنانچہ پرویز صاحب اس آیت کا ترجمہ یا مفہوم یوں بیان فرماتے ہیں :۔ اللہ کامردوں کوزندہ کرنے کی لاجواب پرویزی تاویل:۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے کہا کیا یہ ممکن ہے کہ اس قسم کی مردہ قوم بھی از سر نو زندہ ہوجائے اور اگر یہ ممکن ہے تو مجھے یہ بتلا دیجئے کہ اس کے لیے کیا طریق کار اختیار کیا جائے، یہ سب کچھ ﴿کَیْفَ تُحْیِی الْمَوْتیٰ﴾ کا ترجمہ یا مفہوم ہے آپ نے موتٰی کا ترجمہ مردہ قوم ارنی کا ترجمہ مجھے بتلاؤ اور کیف تحی کا ترجمہ مردہ قوم کے از سر نو زندہ ہونے کا طریق کار کیا ہے؟ اللہ نے فرمایا پہلے یہ تو بتلاؤ کہ تمہارا اس پر ایمان ہے کہ مردہ قوم کو حیات نو مل سکتی ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے کہا : اس پر تو میرا ایمان ہے لیکن میں اس کا اطمینان چاہتا ہوں۔ اللہ نے کہا تم چار پرندے لو۔ شروع میں وہ تم سے دور بھاگیں گے۔ انہیں اس طرح آہستہ آہستہ سدھاؤ کہ وہ تم سے مانوس ہوجائیں۔ آخرالامر ان کی یہ حالت ہوجائے گی کہ اگر تم انہیں الگ الگ مختلف پہاڑیوں پر چھوڑ دو اور انہیں آواز دو تو وہ اڑتے ہوئے تمہاری طرف آ جائیں گے۔ بس یہی طریقہ ہے حق سے نامانوس لوگوں میں زندگی پیدا کرنے کا۔ تم انہیں اپنے قریب لاؤ اور نظام خداوندی سے روشناس کراؤ (یہ (واعلم) کا ترجمہ ہے) یہ نظام اپنے اندر اتنی قوت اور حکمت رکھتا ہے کہ اسے چھوڑ کر یہ کہیں نہ جا سکیں گے۔ یہ ﴿اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ﴾ کا ترجمہ ہے۔ (مفہوم القرآن ص ١٠٣) اب دیکھئے کہ :۔ ١۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام تو اللہ سے مردوں کو زندہ کرنے کی بات پوچھ رہے ہیں۔ لیکن پرویز صاحب نے ’مردہ قوموں‘ کی دوبارہ زندگی کے اسرار ورموز بیان کرنا شروع کردیئے ہیں۔ ٢۔ مردہ قوموں کی دوبارہ زندگی کے لیے آپ نے جو ہدایات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب فرمائی ہیں ان کی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کوئی تخصیص نہیں۔ یہ تو تبلیغ کا عام طریقہ ہے جسے تمام انبیاء اپناتے رہے ہیں۔ مردوں کو زندہ کرنے اور بالخصوص حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دلی اطمینان کی اس میں کیا بات ہے؟ ٣۔ حق سے مانوس شدہ لوگوں کو ٹیسٹ کرنے کا یہ طریقہ بھی کیسا شاندار ہے کہ پہلے نبی ایسے لوگوں کو الگ الگ پہاڑیوں پر چھوڑ آیا کریں۔ پھر انہیں بلائیں، اس سے پہلے نہ بلائیں بہرحال وہ نبی کی آواز سن کر دوڑتے ہوئے ان کے پاس پہنچ جائیں گے۔ کیا مردہ قوموں کی دوبارہ زندگی کا یہی طریقہ ہے؟ ٤۔ اِعْلَمْ کا ترجمہ یا مفہوم تم انہیں نظام خداوندی سے روشناس کراؤ۔ پرویز صاحب جیسے مفسر قرآن کا ہی حصہ ہوسکتا ہے۔ ٥۔ اس آیت میں لفظ جزء اً کا معنی حصہ یا ٹکڑا ہے اور پرندوں کا حصہ یا ٹکڑا اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ انہیں ذبح کردیا جائے یا کاٹ دیا جائے جس سے ان کی زندگی ختم ہوجائے اور یہی مَوْتٰی کا مفہوم ہے۔ لیکن پرویز صاحب نے اس کا مفہوم مردہ قوموں کو مانوس کرنا پھر انہیں الگ الگ کردینا بتلایا۔ اور اللہ کے عزیز حکیم ہونے کو نظام خداوندی کے قوت اور حکمت والا ہونے سے تعبیر کر کے اس واقعہ کے معجزہ ہونے سے بہرحال گلوخلاصی کرا ہی لی۔ اور یہ ثابت کردیا اللہ مردوں کو زندہ نہیں کیا کرتا ہے بلکہ مردہ قوموں کو زندہ کرتا ہے۔ وہ اپنے پیغمبروں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ پہلے لوگوں کو مانوس کریں۔ پھر پہاڑوں پر چھوڑ آیا کریں۔ پھر انہیں بلائیں ورنہ یہ مردہ قومیں کبھی زندہ نہ ہو سکیں گی۔ البقرة
261 [٣٧٦]صدقہ کا اجر کیسے گھٹتا بڑھتاہے؟ اسی سورۃ کی آیت نمبر ٢٥٤ میں اہل ایمان کو انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی گئی تھی کہ قیامت کے دن یہی چیز کام آنے والی ہے۔ درمیان میں اللہ کی معرفت اور تصرف فی الامور کے چند واقعات کا ذکر کرنے کے بعد اب اسی مضمون کی طرف رجوع کیا جا رہا ہے اور بتلایا جا رہا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کس طرح ان صدقات کو سینکڑوں گنا بڑھا کر اس کا اجر عطا فرمائے گا اسی اضافے کو اللہ تعالیٰ یہاں ایک ایسی مثال سے واضح فرما رہے ہیں جسے سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں یعنی اگر اللہ چاہے تو سات سے زیادہ بالیاں بھی اگ سکتی ہیں اور ایک بالی میں سو سے زیادہ دانے بھی ہو سکتے ہیں۔ اس طرح صدقہ کا اجر و ثواب سات سو گنا سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایسے اجر کے حصول کے لیے چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ مثلاً :۔ حرام مال سےصدقہ قبول نہیں ہوتا:۔ ۱۔ بیج یا دانہ جس قدر تندرست اور قوی ہوگا اتنی ہی فصل اچھی ہوگی۔ انفاق فی سبیل اللہ میں بیج یا دانہ انسان کی نیت ہے وہ جس قدر خالص اللہ کی رضا کے لیے ہوگی۔ اسی قدر آپ کا صدقہ زیادہ پھل لائے گا۔ نیز یہ صدقہ حلال مال سے ہونا چاہیے۔ کیونکہ حرام مال کا صدقہ قبول ہی نہیں ہوتا۔ ٢۔ بیج کی کاشت کے بعد پیداوار حاصل کرنے کے لیے اس کی آبیاری اور کیڑوں مکوڑوں سے حفاظت بھی ضروری ہے۔ ورنہ فصل یا تو برباد ہوجائے گی یا بہت کم فصل پیدا ہوگی۔ اسی طرح صدقہ کے بعد اس کی حفاظت بھی کی جانی چاہیے اور اسے احسان جتلا کر یا بے گار لے کر ضائع نہ کردینا چاہیے جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ ٣۔ بعض دفعہ فصل تیار ہوجاتی ہے تو اس پر کوئی ایسی ارضی و سماوی آفت آ پڑتی ہے جو فصل کو بالکل تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ انسان کے اعمال میں یہ آفات شرک کی مختلف اقسام ہیں۔ اگر آپ نے بالکل درست نیت سے صدقہ کیا۔ پھر آبیاری اور حفاظت بھی کرتے رہے۔ لیکن کسی وقت کوئی شرک کا کام کرلیا تو آپ کے اعمال برباد ہوجائیں گے۔ اسی طرح اگر وہ کام سنت کے خلاف (یعنی بدعت) ہوگا تو بھی وہ اجر کے بجائے عذاب کا مستحق ہوگا۔ صدقہ کا اجر :۔ ہاں جو شخص ان امور کا خیال رکھے تو اسے فی الواقعہ اتنا ہی اجر ملے گا جو اس آیت میں مذکور ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صرف پاک مال قبول کرتا ہے تو جس نے اپنے پاک مال میں سے ایک کھجور برابر صدقہ کیا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اس کی یوں نشوونما کرتا ہے جیسے تم اپنے بچھڑے کی نشوونما کرتے ہو حتیٰ کہ وہ کھجور پہاڑ کے برابر ہوجاتی ہے۔ (بخاری، کتاب الزکاۃ، باب لا یقبل اللّٰہ صدقة من غلول۔ اور باب الصدقة من کسب طیب لقولہ تعالیٰ یمحق اللہ الربٰو اور یر بی الصدقات ....الایة- مسلم، کتاب الزکوۃ، باب الحث علی الصدقة ولو بشق تمرۃ او کلمة طیبة۔۔ الخ) [٣٧٧] یعنی جتنا زیادہ اجر و ثواب دینا چاہے دے سکتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کتنے خلوص نیت سے تم نے یہ کام کیا تھا۔ البقرة
262 [٣٧٨] احسان جتلانا کبیرہ گناہے :۔ آپ نے فرمایا : تین آدمی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ کلام کرے گا نہ ان کی طرف نظر رحمت کرے گا اور نہ ہی ان کو پاک کرے گا۔ ایک منان (احسان جتلانے والا) دوسرا تہبند نیچے لٹکانے والا اور تیسرا جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال فروخت کرنے والا۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم اسبال الازار والمن بالعطیة، تنقیق السلعہ بالحلف... الخ) اور فقہاء نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ جن افعال و اعمال کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے کلام نہیں کرے گا یا نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا، یا پاک نہیں کرے گا۔ تو ایسے افعال کبیرہ گناہ ہوتے ہیں۔ گویا صدقہ کرنے کے بعد احسان جتلانے والے کا صرف صدقہ ہی ضائع نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک کبیرہ گناہ کا بوجھ بھی اپنے سر پر لاد لیتا ہے۔ البقرة
263 [٣٧٩]صدقہ ہرشخص کےلیےضروری ہے :۔ آپ نے فرمایا : ہر مسلمان کو صدقہ دینا ضروری ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کے پاس مال نہ ہو؟‘‘ آپ نے فرمایا : ’’وہ ہاتھ سے محنت کرے خود بھی فائدہ اٹھائے اور خیرات بھی کرے۔‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اگر یہ بھی نہ ہو سکے؟ فرمایا : ’’اچھی بات پر عمل کرے اور بری سے پرہیز کرے۔ اس کے لیے یہ بھی صدقہ ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ، باب علی کل مسلم صدقہ۔۔ الخ) صدقہ سےمتعلق احادیث :۔ ۲۔ نیز آپ نے فرمایا : آگ سے بچو، خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرنے سے ہی ہو۔ (بخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب اتقوا النار ولو بشق تمرۃ۔۔ الخ) ٣۔ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کونسا صدقہ اجر کے لحاظ سے بڑا ہے؟ فرمایا : جو رمضان میں دیا جائے۔ (ترمذی، ابو اب الزکوٰۃ، باب ماجاء فی فضل الصدقة) ٤۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ ’’ کونسا صدقہ افضل ہے؟‘‘ فرمایا : ’’تنگ دست جو اپنی محنت میں سے صدقہ کرے اور ان سے ابتدا کر جو تیرے زیر کفالت ہیں۔‘‘ (ابو داؤد، کتاب الزکوٰۃ، باب الرجل یخرج من مالہ۔۔) افضل صدقہ ۵۔ ایک دفعہ ایک اور آدمی نے آپ سے یہی سوال کیا کہ کونسا صدقہ افضل ہے؟' آپ نے جواب دیا : ’’جو صدقہ تو تندرستی کی حالت میں کرے۔ جبکہ تو حرص رکھتا ہو اور فقر سے ڈرتا ہو، اور دولت کی طمع رکھتا ہو۔ لہٰذا صدقہ کرنے میں جلدی کرو۔ ایسا نہ ہو کہ جان لبوں پر آ جائے تو کہنے لگے کہ اتنا فلاں کو دے دو، اتنا فلاں کو دے دو، حالانکہ اس وقت مال اس کا نہیں بلکہ اس کے وارثوں کا ہوتا ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب ان افضل الصدقة صدقة الصحیح الشحیح ) البقرة
264 [٣٨٠] یاکارکاانجام :۔ ریا کار کی چونکہ نیت ہی درست نہیں ہوتی اور نیت ہی اصل بیج ہے۔ لہٰذا ایسا بیج بار آور نہیں ہو سکتا۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی۔ جیسے ایک صاف چکنا سا پتھر ہو جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو، اس میں وہ اپنا بیج ڈالتا ہے اور جب بارش ہوتی ہے تو پانی مٹی کو بھی بہا لے جاتا ہے اور بیج بھی اس مٹی کے ساتھ بہہ جاتا ہے۔ لہٰذا اب پیداوار کیا ہو سکتی ہے؟ ریاکار کا دراصل اللہ پر اور روز آخرت پر پوری طرح ایمان ہی نہیں ہوتا وہ تو لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ہی عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب پانے کی اس کی نیت ہی نہیں ہوتی۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن پہلا آدمی جس کا فیصلہ کیا جائے گا وہ ایک شہید ہوگا۔ اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنی نعمتیں جتلائے گا جن کا وہ اعتراف کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ’’تو پھر تم نے کیا عمل کیا ؟‘‘ وہ کہے گا : میں تیری راہ میں لڑتا رہا حتیٰ کہ شہید ہوگیا۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جھوٹ کہتے ہو۔ تم تو اس لیے لڑتے رہے کہ لوگ تجھے بہادر کہیں اور وہ دنیا میں کہلوا چکے۔ پھر اللہ فرشتوں کو حکم دے گا جو اسے گھسیٹتے ہوئے جہنم میں جا پھینکیں گے۔ پھر ایک اور شخص کو لایا جائے گا جس نے دین کا علم سیکھا اور لوگوں کو سکھلایا اور قرآن پڑھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمتیں جتلائے گا جن کا وہ اعتراف کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے پوچھے گا : پھر تو نے کیا عمل کیا ؟ وہ کہے گا۔ میں نے خود علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور قرآن پڑھتا پڑھاتا رہا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جھوٹ کہتے ہو۔ تم نے تو علم اس لیے سیکھا تھا کہ لوگ تجھے عالم کہیں اور قرآن اس لیے پڑھتا تھا کہ لوگ تجھے قاری کہیں اور تجھے دنیا میں عالم اور قاری کہا جا چکا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا جو اسے گھسیٹتے ہوئے دوزخ میں جا پھینکیں گے۔ پھر ایک اور شخص کو لایا جائے گا جسے اللہ نے ہر قسم کے اموال سے نوازا تھا۔ اللہ اسے اپنی نعمتیں جتلائے گا جن کا وہ اعتراف کرے گا۔ پھر اللہ اس سے پوچھے گا : پھر تو نے کیا عمل کیا ؟ وہ کہے گا۔ میں نے ہر اس راہ میں مال خرچ کیا جس میں تو پسند کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جھوٹ کہتے ہو تم تو اس لیے خرچ کرتے تھے کہ لوگ تمہیں سخی کہیں اور وہ تم کو دنیا میں کہا جا چکا پھر فرشتوں کو حکم ہوگا جو اسے گھسیٹتے ہوئے جہنم میں جا پھینکیں گے۔ (مسلم، کتاب الامارۃ باب من قاتل للریاء والسمعة استحق النار) البقرة
265 [٣٨١]ربوہ کالغوی مفہوم:۔ ربوۃ ربو سے مشتق ہے جس کا معنی بڑھنا اور پھلنا پھولنا ہے اور ربوۃ سے مراد ایسی زمین ہے جس کی سطح عام زمین سے قدرے بلند ہو اور قدرے نرم ہو۔ ایسی زمین عموماً سرسبز اور شاداب ہوتی ہے۔ پنجابی زبان میں اسے میرا زمین کہتے ہیں اور وابل یا زور دار بارش سے مراد انتہائی خلوص نیت سے اللہ کی رضا کے لیے اور اپنے دل کی پوری پوری خوشی سے مال خرچ کرنا ہے اور پھوار سے مراد ایسی خیرات ہے جس میں یہ دونوں باتیں موجود تو ہوں، مگر اتنے اعلیٰ درجہ کی نہ ہوں۔ دونوں صورتوں میں اجر و ثواب تو ضرور ملے گا۔ مگر پہلی صورت میں جو اجر و ثواب ملے گا وہ پچھلی صورت سے بہرحال کئی گنا زیادہ ہوگا۔ البقرة
266 [٣٨٢]نیک اعمال کوبرباد کرلینے والے کی مثال:۔ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا : صحابہ رضی اللہ عنہ نے کہا '' واللہ اعلم'' حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غصہ سے کہا (یہ کیا بات ہوئی) صاف کہو کہ ہمیں معلوم ہے یا نہیں معلوم۔ اس وقت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے : امیر المومنین! میرے دل میں ایک بات آئی ہے۔ آپ نے کہا : بھتیجے بیان کرو اور اپنے آپ کو چھوٹا نہ سمجھو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے : ’’اللہ نے یہ عمل کی مثال بیان کی ہے۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : ’’ کون سے عمل کی؟‘‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کا کچھ جواب نہ دے سکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ ایک مال دار شخص کی مثال ہے جو اللہ کی اطاعت میں عمل کرتا رہتا ہے۔ پھر اللہ شیطان کو اس پر غالب کردیتا ہے وہ گناہوں میں مصروف ہوجاتا ہے اور اس کے نیک اعمال سب کے سب فنا ہوجاتے ہیں۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) یعنی ایسے شخص کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اسے بڑھاپے میں باغ کی پیداوار کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے اور از سر نو باغ لگانے کا موقع بھی نہیں ہوتا اور اس کے بچے اس کی مدد بھی نہیں کرسکتے وہ تو خود اس سے بھی زیادہ محتاج ہوتے ہیں۔ لہٰذا کوئی نیک عمل مثلاً خیرات کرنے کے بعد اس کی پوری پوری محافظت کرنا بھی ضروری ہے۔ یعنی احسان جتانے، بیگار لینے یا شرک کر بیٹھنے سے اپنے باغ کو جلا نہ ڈالے کہ آخرت میں اسے اپنے اعمال میں سے کوئی چیز بھی ہاتھ نہ آئے جبکہ اس کو اعمال کی شدید ضرورت ہوگی اور اس حدیث میں شیطان کے غالب کرنے سے مراد یہ ہے کہ انسان حصول مال میں اس قدر مگن ہوجاتا ہے کہ اللہ کی اطاعت سے لاپروا ہوجاتا ہے۔ یا ایسی نافرمانیاں اور کفر و شرک کے کام کرتا ہے جس سے اس کے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ البقرة
267 [٣٨٣]ناقص مال کاصدقہ: براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ آیت ہم گروہ انصار کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ ہم کھجوروں والے تھے۔ ہم میں سے ہر کوئی اپنی قلت و کثرت کے موافق کھجوریں لے کر آتا، کوئی ایک خوشہ، کوئی دو خوشے اور انہیں مسجد میں لٹکا دیتا۔ اہل صفہ کا یہ حال تھا کہ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہوتا تھا۔ ان میں سے جب کوئی آتا تو عصا سے خوشہ کو ضرب لگاتا تو اس سے تر اور خشک کھجوریں گر پڑتیں جنہیں وہ کھا لیتا اور جنہیں نیکی کی رغبت نہ ہوتی تھی وہ ایسے خوشے لاتے جن میں ناقص اور ردی کھجوریں ہوتیں اور ٹوٹے پھوٹے خوشے لے کر آتے تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہر شخص اچھی کھجوریں لاتا۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جیسے زمین کی پیداوار میں زکوٰۃ فرض ہے ویسے ہی اموال صنعت و تجارت میں بھی فرض ہے۔ نیز یہ بھی کہ خرچ اچھا اور ستھرا مال ہی کرنا چاہیے۔ ناقص اور ردی مال صدقہ نہیں کرنا چاہیے۔ اموال تجارت و صنعت کی زکوٰۃ کے سلسلہ میں درج ذیل احادیث و احکام ملاحظہ فرمائیے۔ تجارتی اور صنعتی پیداوار پرز کوٰۃ کاوجوب:۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں گو تجارت ہی قریش مکہ کا شغل تھا لیکن ان کا انداز بالکل الگ تھا۔ سال بھر میں دو دفعہ تجارتی قافلے سامان لے کر شام کی طرف نکل جاتے، پھر ادھر سے سامان لا کر مکہ میں فروخت کرتے، پھر دوسرے سفر کی تیاری شروع کردیتے۔ لہٰذا مستقل دکانوں کا وجود کم ہی نظر آتا تھا۔ اسی طرح صنعت کا کام بھی نہایت محدود طور پر اور انفرادی سطح پر ہوا کرتا تھا۔ لہٰذا اموال تجارت و صنعت کے احکام اس طرح تفصیل سے احادیث میں مذکور نہیں جس طرح دوسری محل زکوٰۃ اشیاء کی تفصیل مذکور ہے اور غالباً یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ اموال تجارت و صنعت کی زکوٰۃ ادا کرنے سے قاصر ہی رہتے ہیں اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ لوگ اس قسم کی زکوٰۃ کے وجوب کو جانتے ہی نہ ہوں یا اس کے قائل ہی نہ ہو۔ لہٰذا اس موضوع پر تفصیلی کلام کی ضرورت ہے۔ اموال و صنعت و تجارت پر سب سے بڑی دلیل یہی آیت ہے۔ کیونکہ تجارت اور صنعت بھی انسان کا کسب ہے اور اس کی تائید درج ذیل احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ ١۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔ لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جس کے پاس مال نہ ہو (وہ کیا کرے؟) آپ نے فرمایا : وہ اپنے ہاتھ سے محنت کرے، خود بھی فائدہ اٹھائے اور صدقہ بھی کرے۔ لوگوں نے کہا : اگر یہ بھی نہ ہو سکے آپ نے کہا : تو پھر اچھی بات پر عمل کرے اور بری بات سے پرہیز کرے، یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔ (بخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب علی کل مسلم صدقة) ٢۔ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں ان تمام اشیاء سے زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیتے تھے جنہیں ہم خرید و فروخت کے لیے تیار کرتے تھے۔ (ابو داؤد، دار قطنی، بحوالہ منذری فی مختصر سنن ج ٢ ص ١١٥) اس حدیث سے ایک تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہر فروختنی چیز پرزکوٰۃ ہے خواہ اس کا ذریعہ حصول تجارت ہو یا صنعت ہو اور دوسرے یہ کہ جو چیز فروختنی نہ ہو اس پرزکوٰۃ نہیں، مثلاً دکان کا فرنیچر اور باردانہ یا فیکٹری کی مشینری یا آلات کشا ورزی اور ہل چلانے والے بیل وغیرہ۔ یعنی ہر وہ چیز جو پیداوار کا ذریعہ بن رہی ہو اس پرزکوٰۃ نہیں اور اس اصل کی تائید ایک دوسری حدیث سے بھی ہوجاتی ہے جو یہ ہے : لیس فی العوامل صدقہ وفی الإبل، ابو داؤد، کتاب الزکوٰۃ، باب فی زکوٰۃ السائمة- صنعتی اور تجارتی اموال پرزکوٰۃ کاوجوب:۔ ۳۔ حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اونٹوں میں زکوٰۃ ہے۔ بکریوں میں زکوٰۃ ہے، گائے میں زکوٰۃ ہے اور تجارتی کپڑے میں زکوٰۃ ہے۔ (دار قطنی، کتاب الزکوٰۃ، باب لیس فی الخضروات صدقة) اس حدیث میں تجارتی کپڑے کے لیے بز کا لفظ استعمال ہوا ہے اور بزاز کپڑا فروش کو کہتے ہیں۔ اس حدیث سے باقی تجارتی اموال پر بھی زکوٰۃ کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔ ٤۔ حضرت عمرو بن حماس چمڑے کے ترکش اور تیر بنایا کرتے تھے۔ یعنی یہ ان کا پیشہ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا ’’ان کی زکوٰۃ ادا کرو۔‘‘ ابو عمرو کہنے لگے۔ میرے پاس ان تیروں اور چمڑے کے ترکشوں کے سوا ہے کیا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا انہی کا حساب لگاؤ اور ان کی زکوٰۃ ادا کرو۔ (احمد، ابن ابی شیبہ عبدالرزاق، دار قطنی بحوالہ الام للشافعی ج ٢ ص ٣٨ مطبعہ المنیریہ قاہرہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس حکم سے بھی صنعتی پیداوار پرزکوٰۃ کا واجب ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔ ٥۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل یہ تھا کہ وہ اپنے دور خلافت میں تاجروں کا مال اکٹھا کرتے۔ پھر ان اموال موجود اور غیر موجود سب کا حساب لگاتے پھر اس تمام مال پرزکوٰۃ وصول کیا کرتے تھے۔ (المحلیٰ ج ٦ ص ٣٤ مطبعہ المنیریہ قاہرہ) اب مفسرین کی طرف آئیے وہ ﴿اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ﴾کا مطلب یوں بیان کرتے ہیں۔ زکوامن طیبات ماکسبتم بتصرفکم اما التجارۃ و اما الصناعة ( یعنی جو کچھ تم نے اپنے تصرف یا محنت سے کمایا ہو اس سے زکوٰۃ ادا کرو۔ خواہ یہ تجارت کے ذریعہ کمایا ہو یا صنعت کے ذریعہ سے (تفسیر طبری ج ٢ ص ٨٠ طبع ١٣٧٢ ھ؍١٩٥٤ ء تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٤٠ تفسیر قرطبی ج ٢ ص ٣٢٠، طبع ١٩٣٦ ء، تفسیر قاسمی (ج ٢ ص ٦٨٣ طبع ١٣٧٦ ھ؍ ١٩٥٧ء) علاوہ ازیں عقلی طور پر بھی یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایک غریب کسان تو اپنی پیداوار کا دسواں یا بیسواں حصہ زکوٰۃ ادا کرے اور وہ سیٹھ جو کسان سے بہت کم محنت کر کے کروڑوں روپے کما رہا ہے اس پرزکوٰۃ عائد ہی نہ ہو، یہ حد درجہ کی ناانصافی ہے۔ تجارتی اموال پرزکوٰۃ کی تشخیص کے اصول ١۔ اموال زکوٰۃ کی تشخیص موقع پر ہوگی یعنی اسی جگہ جہاں یہ مال موجود ہو۔ (ابو داؤد، کتاب الزکوٰۃ باب این تصدق الاموال) ٢۔ زکوٰۃ اسی مال سے لینا بہتر ہے جس کی زکوٰۃ ادا کرنا مقصود ہو۔ مثلاً کپڑے کی دکان ہے تو کپڑا ہی زکوٰۃ میں عامل کو لینا چاہیے یا اگر زکوٰۃ دینے والا چاہے تو کپڑے کی زکوٰۃ کپڑے سے ہی دے سکتا ہے۔ اسی طرح کتابوں کی زکوٰۃ کتابوں سے، بکریوں کی بکریوں سے اور یہ زکوٰۃ کا عام اصول ہے جس میں زکوٰۃ دہندہ کی سہولت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ہاں اگر زکوٰۃ دینے والا خود ہی نقدی کی صورت میں ادا کرنا چاہے تو ایسا کرسکتا ہے اور اس میں بھی زکوٰۃ دینے والے کی سہولت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ مثلاً یہ ضروری نہیں کہ سونے یا چاندی کے زیور کی زکوٰۃ سونے، چاندی کی شکل میں ہی دی جائے۔ بلکہ اس کی موجودہ قیمت لگا کر چالیسواں حصہ زکوٰۃ ادا کی جا سکتی ہے۔ ٣۔ زکوٰۃ میں نہ عمدہ عمدہ مال لیا جائے اور نہ ناقص۔ بلکہ اوسط درجہ کا حساب رکھا جائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو زکوٰۃ کی وصولی کے متعلق جو ہدایات دیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ایاک وکرائم اموال الناس (بخاری، کتاب الزکوٰۃ باب اخذ الصدقة من الاغنیاء و ترد فی الفقراء حیث کانوا) یعنی لوگوں کے عمدہ عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا۔ مثلاً اگر کتابوں کی دکان سے زکوٰۃ وصول کرنا ہو تو یہ نہ کیا جائے کہ کسی بہترین مصنف کی کتب منتخب کرلی جائیں جن کی مارکیٹ میں مانگ زیادہ ہو، بلکہ زکوٰۃ میں ملا جلا یا درمیانی قسم کا مال لینا چاہیے۔ اسی طرح اگر زکوٰۃ ادا کرنے والا خودزکوٰۃ نکالنا چاہے تو یہ نہ کرے کہ جو مال فروخت نہ ہو رہا ہو اسے زکوٰۃ میں دے دے، بلکہ یا تو ہر طرح کا مال دے یا پھر صرف درمیانہ درجہ کا۔ ٤۔ مال کی تشخیص بحساب لاگت ہوگی، یعنی چیز کی قیمت خرید بمعہ خرچہ نقل و حمل وغیرہ قیمت فروخت پر نہ ہوگی۔ ٥۔ فرنیچر اور باردانہ وغیرہ زکوٰۃ کے مال میں محسوب نہ ہوں گے، جیسا کہ اوپر تفصیل گزر چکی ہے۔ ٦۔ زکوٰۃ سال بھر کا عرصہ گزرنے کے بعد نکالی جائے گی اور یہ سال قمری سال شمار کرنا ہوگا، شمسی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ رجب میں عاملین کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا کرتے تھے، مگر یہ ضروری نہیں۔ آج کل لوگ اکثر رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ یہ اس لحاظ سے بہتر بھی ہے کہ رمضان میں ثواب زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم زکوٰۃ پوری یا اس کا کچھ حصہ سال پورا ہونے سے پہلے بھی دی جا سکتی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا تو آپ نے اس کی اجازت دے دی (ترمذی، ابو اب الزکوٰۃ، باب فی تعجیل الزکوٰۃ) ٧۔ تجارتی اموال پر شرح زکوٰۃ بچت کی زکوٰۃ والی شرح ہی ہے یعنی چالیسواں حصہ۔ کیونکہ تجارت میں لگایا ہوا سرمایہ سب بچت ہی ہوتا ہے۔ ٨۔ زکوٰۃ موجودہ مال پر عائد ہوگی۔ مثلاً زید نے دس ہزار سے کام شروع کیا۔ جو سال بعد بارہ ہزار کی مالیت کا ہوگیا تو زکوٰۃ دس ہزار پر نہیں بلکہ بارہ ہزار پر شمار ہوگی۔ اسی طرح اگر اسے نقصان ہوگیا یا گھر کے اخراجات زیادہ تھے، جو نفع سے پورے نہ ہو سکے اور مالیت صرف آٹھ ہزار رہ گئی تو زکوٰۃ آٹھ ہزار پر محسوب ہوگی۔ ٩۔ جو مال ادھار پر فروخت ہوا ہے تو وہ ادھار رقم بھی سرمایہ میں شمار ہوگی۔ الا یہ کہ وہ ایسا ادھار ہو جس کے ملنے کی توقع ہی نہ ہو۔ ایسا ادھار محسوب نہ ہوگا۔ ایسے ادھار کے متعلق حکم یہ ہے کہ جب بھی ایسا ادھار وصول ہوجائے تو اس کی صرف ایک بارزکوٰۃ ادا کر دے۔ تجارتی قرضوں کے علاوہ عام قرضوں کی بھی یہی صورت ہے۔ ١٠۔ اگر دکاندار نے کسی سے رقم ادھار لے کر اپنے سرمایہ میں لگا رکھی ہے تو یا تو وہ زکوٰۃ ادا کرنے سے پہلے وہ ادھار واپس کر دے ورنہ وہ اس کے سرمایہ میں محسوب ہوگا۔ ١١۔ مال مستفاد کی آمیزش۔ مثلاً زید نے کاروبار دس ہزار سے شروع کیا۔ چند ماہ بعد اسے پانچ ہزار کی رقم کسی سے مل گئی اور وہ بھی اس نے کاروبار میں شامل کردی۔ اب اگر وہ چاہے تو سال بعد اس بعدوالی رقم کا حساب الگ رکھ سکتا ہے۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ ساتھ ہی ساتھ اس مال کی بھی زکوٰۃ نکال دی جائے، تاکہ آئندہ حساب کتاب کی پیچیدگیوں سے نجات حاصل ہوجائے۔ پھر اگر مال زکوٰۃ کچھ زیادہ بھی نکل گیا تو اللہ اس کا بہت بہتر اجر دینے والا ہے۔ ١٢۔ بعض دکانیں ایسی ہوتی ہیں جن کا اچھا خاصا کاروبار ہوتا ہے۔ مگر دکان میں مال یا تو برائے نام ہوتا ہے یا ہوتا ہی نہیں۔ مثلاً سبزی فروش، پھل فروش، شیر فروش، قصاب، ہوٹل، اخباروں کے دفاتر یا پراپرٹی ڈیلروں کے دفاتر وغیرہ، ایسی دکانوں یا کاروباری اداروں میں موجود مال کے حد نصاب کو پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کے سالانہ منافع جات پر تجارتی زکوٰۃ عائد ہوگی اڑھائی فیصد کی شرح سے یا چالیسواں حصہ۔ ١٣۔ گوالے یا گوجر حضرات کی دکان سرے سے ہوتی نہیں، بس ایک لکڑی کا تختہ یا تخت ہی ان کی دکان ہوتی ہے۔ یہ لوگ کافی تعداد میں گائے بھینسیں رکھتے ہیں۔ ان پر مویشی کی زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی کیونکہ وہ عامل پیداوار ہے۔ ان کے سالانہ منافع جات پر تجارتی زکوٰۃ عائد ہوگی یہی صورت ڈیری فارم، پولٹری اور مچھلی فارم وغیرہ کی بھی ہے۔ ١٤۔ گائے بھینسیں اگر افزائش نسل کی خاطر رکھی جائیں تو ان پر گائے کی زکوٰۃ کی صورت میں زکوٰۃ لگے لگی، اور کوئی صاحب مویشیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہوں تو سالانہ منافع پر تجارتی زکوٰۃ ہوگی اور ڈیری فارم یا گوالوں کے پاس ہو تو یہ عامل پیداوار ہیں۔ ان کی زکوٰۃ بھی سالانہ منافع پر ہوگی۔ ١٥۔ دکانوں اور مکانوں کے کرایہ یا کرایہ پر دی ہوئی ٹیکسیاں اور گاڑیاں وغیرہ ایسی چیزوں یعنی دکانوں، مکانوں یا ٹیکسیوں کی مالیت پرزکوٰۃ نہیں ہوتی بلکہ وصول شدہ کرائے کی کل رقم پر ہوگی اور سال بعد یہ حساب ہوگا۔ مثلاً ایک دکان کا کرایہ دو ہزار ہے تو سال بعد ٢٤ ہزار پرزکوٰۃ ادا کرنا ہوگی۔ خواہ یہ رقم ساتھ ساتھ خرچ ہوجائے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اپنی کرایہ کی دکانوں کی زکوٰۃ ایسے ہی ادا کیا کرتے تھے۔ البتہ اس رقم سے پراپرٹی ٹیکس یا دوسرے سرکاری واجبات کی رقم مستثنی کی جا سکتی ہے۔ ١٦۔ جائیداد کی خرید و فروخت کا کاروبار : جو لوگ اپنے زائد سرمایہ سے زمینوں کے پلاٹ اور مکان وغیرہ کی تجارتی نظریہ سے خرید و فروخت کرتے رہتے ہیں۔ ان کی فروخت کے متعلق کچھ علم نہیں ہوتا۔ خواہ تین ماہ بعد بک جائیں، خواہ دو سال تک بھی نہ بکیں۔ ایسی جائیداد جب بھی بک جائے اس وقت ہی اس کی زکوٰۃ نکال دینا چاہیے اور یہ زکوٰۃ قیمت فروخت پر ہوگی اور تجارتی زکوٰۃ ہوگی۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت کے لیے کوئی دکان، مکان، پلاٹ یا گاڑی وغیرہ خریدتا ہے تو اس پرزکوٰۃ نہیں۔ ١٧۔ مشترکہ کاروبار یا سرمائے کی کمپنیوں میں لگے ہوئے سرمایہ کے متعلق یہ تسلی کر لینی چاہیے کہ آیا کمپنی اس مجموعی سرمایہ کی زکوٰۃ ادا کرتی ہے یا نہیں۔ اگر کمپنی نے زکوٰۃ ادا نہ کی ہو تو ہر حصہ دار کو اپنے اپنے حصہ کی زکوٰۃ خود ادا کردینا چاہیے۔ صنعتی پیداوار کی زکوٰۃ: صنعتی پیداوار کی دو باتوں میں زرعی پیداوار سے مماثلت پائی جاتی ہے۔ مثلاً :۔ ١۔ زمین کی اپنی قیمت اس کی پیداوار کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے اور زکوٰۃ پیداوار پر لگتی ہے زمین کی قیمت پر نہیں۔ اسی طرح فیکٹریوں اور ملوں کی قیمت اس پیداوار کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے جو وہ پیدا کرتی ہیں۔ لہٰذازکوٰۃ پیداوار پر ہونی چاہیے۔ ٢۔ جس طرح بعض زمینیں سال میں ایک فصل دیتی ہیں۔ بعض دو اور بعض اس سے زیادہ اسی طرح بعض کارخانے سال میں ایک دفعہ پیداوار دیتے ہیں۔ مثلاً برف اور برقی پنکھوں کے کارخانے وغیرہ بعض دو دفعہ جیسے اینٹوں کے بھٹے اور بعض سال بھر چلتے رہتے ہیں۔ اور ایک بات میں صنعتی پیداوار کی مماثلت تجارتی اموال سے ہے جس طرح تجارتی اموال پر لاگت کے مقابلہ میں منافع کم ہوتا ہے اسی طرح صنعتی اموال کا بھی حال ہے۔ جبکہ زرعی پیدوار میں لاگت کم اور پیداوار کی قیمت اس کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ان سب باتوں کو ملحوظ رکھ کر دیانتداری کے ساتھ جو اصل مستنبط ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ صنعتی پیداوار پرزکوٰۃ پیداوار کے منافع پر ہونی چاہیے اور یہ پانچ فیصد یعنی نصف عشر ہونا چاہیے۔ خواہ یہ پیداوار سال میں ایک دفعہ ہو یا دو دفعہ کارخانے سارا سال کام کرتے ہیں ان پرزکوٰۃ تو سال بعد ہوگی مگر اس کی صورت وہی ہوگی یعنی زکوٰۃ پیداوار پر نہیں بلکہ منافع پر ہوگی اور یہ پانچ فیصد ہوگی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ البقرة
268 [٣٨٤] صدقہ کے وقت ضرورتوں کاخیال شیطانی وسوسہ ہے:۔ معلوم ہوا کہ اگر صدقہ کرتے وقت کسی کے دل میں احتیاج، دوسری ضرورتوں اور مفلسی یا کسی بری بات کا خیال آئے تو یہ شیطانی وسوسہ ہوتا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ شیطان کی تو ہم نے کبھی صورت تک نہیں دیکھی۔ اس کا حکم قبول کرنا دور کی بات ہے اور اگر کسی کو ایسا خیال آئے کہ اس سے گناہ معاف ہوں گے اور مال میں بھی ترقی اور برکت ہوگی تو سمجھ لے کہ یہ بات اللہ کی طرف سے القاء ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَہُوَ یُخْلِفُہٗ ۚ وَہُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ﴾ (34: 39)یعنی تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ تمہیں اس کا نعم البدل عطا فرما دے گا۔ کیونکہ اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : ہر روز صبح کے وقت دو فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک اس طرح دعا کرتا ہے : اے اللہ خرچ کرنے والے کو اور زیادہ عطا کر اور دوسرا اس طرح بددعا کرتا ہے : اے اللہ ! ہاتھ روکنے والے کو تلف کر دے۔ (بخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب قول اللّٰہ عزوجل فأما من اعطی واتقی و صدق بالحسنیٰ۔۔ الخ ) البقرة
269 [٣٨٥] حکمت کیاچیزہے؟حکمت کی کئی تعریفیں کی جا سکتی ہیں اور وہ اپنے اپنے مقام پر سب ہی درست ہیں۔ مثلاً ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ''رَاسُ الْحِکْمَۃ مَخَافَۃُ اللّٰہِ " یعنی سب سے بڑی حکمت تو اللہ کا خوف (تقویٰ) ہے کیونکہ تقویٰ ہی وہ چیز ہے جو انسان کو بچتے بچاتے سیدھی راہ پر گامزن رکھنے والی ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی تصنیف الرسالہ میں بے شمار دلائل سے ثابت کیا ہے کہ جہاں بھی قرآن کریم میں کتاب و حکمت کے الفاظ اکٹھے آئے ہیں تو وہاں حکمت سے مراد سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور حکمت کا لغوی مفہوم کسی کام کو ٹھیک طور پر سر انجام دینے کا طریق کار ہے۔ یعنی کسی حکم کی تعمیل میں صحیح بصیرت اور درست قوت فیصلہ ہے۔ اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جس کے پاس حکمت کی دولت ہوگی وہ کبھی شیطانی راہ اختیار نہیں کرے گا اور شیطانی راہ یہ ہے کہ انسان اپنی دولت سنبھال سنبھال کر رکھے۔ اس میں سے کچھ خرچ نہ کرے بلکہ مزید دولت بڑھانے کی فکر میں لگا رہے۔ اس طرح شاید وہ دنیا میں تو خوشحال رہ سکے مگر آخرت بالکل برباد ہوگی۔ لہٰذا اصل دانشمندی یہ ہے کہ انسان جہاں تک ممکن ہو خرچ کرے۔ اس دنیا میں اللہ اسے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا اور آخرت میں بھی بہت بڑا اجر و ثواب عطا فرمائے گا اور یہی سب سے بڑی دولت اور حکمت ہے۔ ایک دن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ کے دوران فرمایا کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطا کردیتے ہیں۔ (بخاری، کتاب العلم، باب مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًا یُفَقِّھْہُ فِیْ الدِّیْنِ) ’’اور میں بانٹنے والا ہوں اور دینے والا اللہ ہے اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی مخالف اسے نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ تاآنکہ اللہ کا حکم (قیامت) آئے۔‘‘ (مسلم، کتاب الامارہ، باب قولہ صلي الله عليه وسلم لایزال طائفة من أمتی ظاھرین علی الحق لایضرھم من خالفھم) اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دین کی سمجھ آ جانا ہی حکمت اور سب سے بڑی دولت ہے۔ البقرة
270 [٣٨٦] درست نذر کوپورا کرنا ضروری ہے:۔ نذر یہ ہے کہ ’’ آدمی اپنی کسی مراد کے بر آنے پر کوئی ایسا نیک کام یا صدقہ کرنے کا اللہ سے عہد کرے جو اس کے ذمے فرض نہ ہو‘‘۔اگر یہ مراد کسی حلال اور جائز کام کے لیے ہو اور اللہ سے ہی مانگی گئی ہو اور اس کے بر آنے پر جو عمل کرنے کا عہد آدمی نے کیا ہے وہ اللہ ہی کے لیے ہو تو ایسی نذر کا پورا کرنا درست اور باعث اجر و ثواب ہے اگر یہ نذر کسی ناجائز کام یا غیر اللہ کے لیے ہو تو ایسی نذر کا ماننا بھی کار معصیت اور اس کا پورا کرنا بھی موجب عذاب ہے۔ ایسی نذر اگر کوئی مان چکا ہو تو اس کے عوض استغفار کرنا چاہیے اور وہ کام نہ کرنا چاہیے، علاوہ ازیں نذر ماننا شرعی نکتہ نگاہ سے کوئی اچھا کام نہیں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا کہ نذر اللہ کی تقدیر کو کچھ بدل نہیں سکتی۔ البتہ اس طرح بخیل سے کچھ مال نکال لیا جاتا ہے۔ (بخاری، کتاب الایمان و النذور۔ باب الوفاء بالنذر و قولہ یوفون بالنذر) البقرة
271 [٣٨٧] اس آیت سے خفیہ صدقہ کی زیادہ فضیلت ثابت ہوئی، جیسا کہ درج ذیل احادیث سے بھی واضح ہوتا ہے۔ خفیہ صدقہ کی فضیلت:۔۱۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب اللہ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہچکولے کھاتی تھی۔ پھر اللہ نے پہاڑ پیدا کئے اور کہا کہ اسے (زمین کو) تھامے رہو۔ چنانچہ وہ ٹھہر گئی۔ تب فرشتوں کو پہاڑوں کی مضبوطی پر تعجب ہوا اور کہنے لگے : پروردگار! تیری مخلوق میں سے کوئی چیز پہاڑوں سے بھی سخت ہے؟ فرمایا ہاں، لوہا ہے۔ فرشتے کہنے لگے، پروردگار کوئی چیز لوہے سے بھی سخت ہے؟ فرمایا: ’’ہاں آگ ہے۔‘‘ پھر وہ کہنے لگے : کوئی چیز آگ سے بھی سخت ہے؟فرمایا : ہاں پانی ہے۔ وہ کہنے لگے : ’’ کوئی چیز پانی سے بھی سخت ہے؟‘‘ فرمایا: ہاں ہوا ہے۔ پھر وہ کہنے لگے : کوئی چیز ہوا سے بھی سخت ہے؟ فرمایا : ہاں وہ آدمی جو اس طرح صدقہ دے کہ دائیں ہاتھ سے دے تو بائیں کو خبر تک نہ ہو۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر، سورۃ الناس) سات آدمی جنہیں قیامت کے دن سایہ نصیب ہوگا:۲۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) سات قسم کے آدمیوں کو اپنے عرش کے سایہ تلے جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے علاوہ اور کہیں سایہ نہ ہوگا۔ ایک انصاف کرنے والا حاکم۔ دوسرا وہ نوجوان جس نے اپنی جوانی عبادت میں گزاری، تیسرا وہ شخص جس کا دل مسجد سے لگا رہے۔ چوتھے وہ دو شخص جنہوں نے اللہ کی خاطر محبت کی۔ اللہ کی خاطر ہی مل بیٹھے اور اللہ کی خاطر ہی جدا ہوئے۔ پانچویں وہ مرد جسے کسی مرتبہ والی حسین و جمیل عورت نے (بدکاری کے لیے) بلایا اور اس نے کہا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ چھٹے وہ شخص جس نے اللہ کی راہ میں یوں چھپا کر صدقہ دیا کہ داہنے ہاتھ نے جو صدقہ دیا بائیں ہاتھ کو اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ ساتویں وہ شخص جس نے خلوت میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ (بخاری، کتاب الاذان باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلوۃ) تاہم بعض علماء کہتے ہیں کہ فرضی صدقہ یعنی زکوٰۃ وغیرہ تو اعلانیہ دینا چاہیے تاکہ دوسروں کو بھی ترغیب ہو اور نفلی صدقہ بہرحال خفیہ دینا ہی بہتر ہے اور یہ تو واضح بات ہے کہ چھپا کر نیکی کرنے سے انسان کی اپنی اصلاح نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ البقرة
272 [٣٨٨] صدقہ غیرمسلموں کودینادرست ہے:۔ ابتدا مسلمان اپنے غیر مسلم رشتہ داروں اور دوسرے غیر مسلم محتاجوں کی مدد کرنے میں تامل کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ صرف مسلمان محتاجوں کی مدد کرنا ہی انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کے دلوں میں ہدایت اتار دینے کی ذمہ داری آپ پر نہیں۔ آپ نے حق بات پہنچا دی، آگے ان کو راہ راست سمجھا دینا اللہ کا کام ہے۔ رہا دنیوی مال و متاع سے ان کی حاجات پوری کرنا تو اللہ کی رضا کے لیے تم جس حاجت مند کی بھی مدد کرو گے اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔ البقرة
273 [٣٨٩] یعنی جن لوگوں نے اپنے آپ کو دین کے علم کے لیے خواہ وہ سیکھ رہے ہوں یا سکھلا رہے ہوں یا دوسرے امور کے لیے وقف کر رکھا ہے اور وہ محتاج ہیں، جیسے دور نبوی میں اصحاب صفہ تھے یا وہ لوگ جو جہاد میں مصروف ہیں یا ان کے بال بچوں کی نگہداشت پر اور ایسے ہی دوسرے لوگوں پر صدقات خرچ کئے جائیں۔ [٣٩٠] ضمناً اس آیت سے سوال نہ کرنے کی فضیلت معلوم ہوئی۔ اس سلسلہ میں چند احادیث نبوی ملاحظہ ہوں :۔ سوال کرنےسےپرہیز:۔۱۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص سوال سے بچے اللہ بھی اسے بچائے گا اور جو کوئی (دنیا سے) بے پروائی کرے گا۔ اللہ اسے بے پروا کر دے گا اور جو کوئی کوشش سے صبر کرے گا اللہ اسے صبر دے گا اور صبر سے بہتر اور کشادہ تر کسی کو کوئی نعمت نہیں ملی۔‘‘ (بخاری کتاب الزکوٰۃ، باب الاستعفاف عن المسئلة) ٢۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی رسی اٹھائے اور لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ جا کر کسی سے سوال کرے اور وہ اسے دے یا نہ دے۔‘‘ (بخاری۔ حوالہ ایضاً) ٣۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سوالی جو ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہ ہوگی۔ (بخاری، کتاب الزکوٰۃ باب من سأل الناس تکثرا) محنت کی عظمت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کااندازتربیت :۔۴۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو منبر پر صدقہ اور سوال سے بچنے کے لیے خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر والے ہاتھ سے مراد خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے۔‘‘ (ابو داؤد، کتاب الزکوٰۃ، باب ما تجوز فیہ المسئلة) ٥۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جو شخص اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگ رہا ہے۔ اب چاہے تو وہ کم کرے یا زیادہ اکٹھے کرلے۔‘‘ (مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب النھی عن المسئلة) نیلامی کی مشروعیت :۔۶۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے آپ کے پاس آ کر سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پوچھا ’’تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے؟‘‘ وہ کہنے لگا:ہاں ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ۔‘‘ وہ لے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہاتھ میں لے کر فرمایا : کون ان دونوں چیزوں کو خریدتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا : ’’میں ایک درہم میں لیتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے؟‘‘ اور آپ نے یہ بات دو تین بار دہرائی تو ایک آدمی کہنے لگا : ’’میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو درہم لے کر وہ چیزیں اس آدمی کو دے دیں۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری کو ایک درہم دے کر فرمایا : ’’اس کا گھر والوں کے لیے کھانا خرید اور دوسرے درہم سے کلہاڑی خرید کر میرے پاس لاؤ۔‘‘ جب وہ کلہاڑی لے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس میں لکڑی کا دستہ ٹھونکا پھر اسے فرمایا : ’’جاؤ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر یہاں لا کر بیچا کرو اور پندرہ دن کے بعد میرے پاس آنا۔‘‘ پندرہ دن میں اس شخص نے دس درہم کمائے۔ چند درہموں کا کپڑا خریدا اور چند کا کھانا اور آسودہ حال ہوگیا پندرہ دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’یہ تیرے لیے اس چیز سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن سوال کرنے کی وجہ سے تیرے چہرے پر برا نشان ہو‘‘(نسائی، کتاب الزکوٰۃ، باب فضل من لایسئل الناس شیأ) محنت کی عظمت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کااندازتزکیہ نفس:۔ اب دیکھئے کہ جس شخص کے گھر کا اثاثہ ایک ٹاٹ اور پیالہ ہو کیا اس کے محتاج ہونے میں کچھ شک رہ جاتا ہے؟ لیکن چونکہ وہ معذور نہیں بلکہ قوی اور کمانے کے قابل تھا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ دینے کے بجائے دوسری راہ تجویز فرمائی، پھر اسے عزت نفس کا سبق دے کر کسب حلال اور محنت کی عظمت و اہمیت بتلائی۔ جس سے وہ چند دنوں میں آسودہ حال ہوگیا، یہ تھا آپ کا انداز تربیت و تزکیہ نفس۔ ٧۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کون ہے جو مجھے یہ ضمانت دے کہ کبھی کسی سے سوال نہ کرے گا تو میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔’’ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے کبھی کسی سے سوال نہ کیا۔ (نسائی، کتاب الزکوٰۃ، باب فضل من لا یسئل الناس شیأ) ٨۔ عرفہ کے دن ایک شخص لوگوں سے مانگ رہا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سنا تو اسے کہنے لگے: ’’آج کے دن اور اس جگہ تو اللہ کے سوا دوسروں سے مانگتا ہے؟‘‘ پھر اسے درے سے پیٹا۔ (احمد بحوالہ مشکوٰۃ باب من لایحل لہ المسئلہ فصل ثالث) ٩۔ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں صدقہ کا مال تقسیم فرما رہے تھے دو آدمی آپ کے پاس آئے اور آپ سے صدقہ کا سوال کیا۔ وہ خود کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا، پھر نگاہ نیچی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قوی اور طاقتور دیکھ کر فرمایا : ’’اگر تم چاہو تو تمہیں دے دیتا ہوں لیکن صدقہ کے مال میں مالدار اور قوی کا کوئی حصہ نہیں جو کما سکتا ہو۔‘‘ (ابو داؤد، نسائی، کتاب الزکوٰۃ، باب مسئلة القوی المکتسب) ١٠۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ایک شخص نے آپ کے پاس آ کر صدقہ کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا : ’’صدقات کی تقسیم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نبی یا کسی دوسرے کے حکم پر راضی نہیں ہوا بلکہ خود ہی اس کو آٹھ مدات پر تقسیم کردیا ہے۔ اب اگر تو بھی ان میں شمار ہوتا ہے تو میں تمہیں دے دیتا ہوں۔‘‘ (حوالہ ایضاً) سوال کرنا کیسےلوگوں کےلیےجائز ہے:۱۱۔ حضرت قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک شخص کا ضامن ہوا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’یہاں ٹھہرو تاآنکہ ہمارے پاس صدقہ آئے۔ پھر ہم تیرے لیے کچھ کریں گے۔ پھر مجھے مخاطب کر کے فرمایا: قبیصہ! تین شخصوں کے علاوہ کسی کو سوال کرنا جائز نہیں۔ ایک وہ جو ضامن ہو اور ضمانت اس پر پڑجائے جس کا وہ اہل نہ ہو۔ وہ اپنی ضمانت کی حد تک مانگ سکتا ہے۔ پھر رک جائے۔ دوسرے وہ جسے ایسی آفت پہنچے کہ اس کا سارا مال تباہ کردے وہ اس حد تک مانگ سکتا ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے اور تیسرے وہ شخص جس کو فاقہ کی نوبت آ گئی ہو۔ یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین معتبر شخص اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں کو فاقہ پہنچا ہے اسے سوال کرنا جائز ہے تاآنکہ اس کی محتاجی دور ہوجائے۔ پھر فرمایا : اے قبیصہ ان تین قسم کے آدمیوں کے سوا کسی اور کو سوال کرنا حرام ہے اور ان کے سوا جو شخص سوال کر کے کھاتا ہے وہ حرام کھا رہا ہے۔ (مسلم، کتاب الزکوٰۃ باب من لایحل لہ المسئلہ) ١٢۔ عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سات آٹھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ پانچ نمازیں ادا کرو اور اللہ کی فرمانبرداری کرو‘‘ اور ایک بات چپکے سے کہی کہ ’’ لوگوں سے کچھ نہ مانگنا۔‘‘ پھر میں نے ان میں بعض افراد کو دیکھا کہ اگر اونٹ سے ان کا کوڑا گر پڑتا تو کسی سے سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں پکڑا دے۔ (کتاب الزکوٰۃ باب النہی عن المسئلة) حکیم بن حزام کاسرکاری وظیفہ بھی قبول نہ کرنا:۔۱۳۔ حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ مانگا تو آپ نے مجھے دے دیا۔ پھر ایک دفعہ مانگا تو آپ نے دیا۔ پھر فرمایا : '' اے حکیم! یہ دنیا کا مال دیکھنے میں خوشنما اور مزے میں میٹھا ہے لیکن جو اسے سیر چشمی سے لے اس کو تو برکت ہوگی اور جو جان لڑا کر حرص کے ساتھ لے اس میں برکت نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسی ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا (دینے والا) ہاتھ نچلے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہوتا ہے۔'' حکیم کہنے لگے : '' یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ میں آج کے بعد مرتے دم تک کسی سے کچھ نہ مانگوں گا۔'' (پھر آپ کا یہ حال رہا کہ) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کو سالانہ وظیفہ دینے کے لیے بلاتے تو وہ لینے سے انکار کردیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دور خلافت میں انہیں وظیفہ دینے کے لیے بلایا تو انہوں نے انکار کردیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حاضرین سے کہنے لگے : ’’لوگو! تم گواہ رہنا میں حکیم کو اس کا حق جو غنائم کے مال میں اللہ نے رکھا ہے دیتا ہوں اور وہ نہیں لیتا۔‘‘ غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئے ہوئے عہد کا اتنا پاس تھا کہ انہوں نے تاحین حیات سوال تو درکنار کسی سے کوئی بھی چیز قبول نہیں کی۔ (بخاری، کتاب الوصایا، باب تاویل قول اللّٰہ تعالیٰ من بعد وصیہ توصون بھا اودین) البقرة
274 [٣٩١] یہ آیت دراصل صدقات و خیرات کے احکام کا تتمہ ہے۔ یعنی آخر میں ایک دفعہ پھر صدقہ کی ترغیب دی جارہی ہے۔ اب اس کی عین ضد سود کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ صدقات و خیرات سے جہاں آپس میں ہمدردی، مروت، اخوت، فیاضی پیدا ہوتی ہے وہاں طبقاتی تقسیم بھی کم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس سود سے شقاوت قلبی، خود غرضی، منافرت، بے مروتی اور بخل جیسے اخلاق رذیلہ پرورش پاتے ہیں اور طبقاتی تقسیم بڑھتی چلی جاتی ہے جو بالآخر کسی نہ کسی عظیم فتنہ کا باعث بن جاتی ہے۔ اشتراکیت دراصل ایسے ہی فتنہ کی پیداوار ہے۔ البقرة
275 [٣٩٢]تجارتی سود بھی حرام ہے:۔ یہ دراصل سود خور یہودیوں کا قول ہے اور آج کل بہت سے مسلمان بھی اسی نظریہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ سودی قرضے دراصل دو طرح کے ہوتے ہیں: (١) ذاتی قرضے یا مہاجنی قرضے یعنی وہ قرضے جو کوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت کے لئے کسی مہاجن یا بنک سے لیتا ہے اور دوسرے تجارتی قرضے جو تاجر یا صنعت کار اپنی کاروباری اغراض کے لئے بنکوں سے سود پر لیتے ہیں۔ اب جو مسلمان سود کے جواز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ جس سود کو قرآن نے حرام کیا ہے وہ ذاتی یا مہاجنی قرضے ہیں جن کی شرح سود بڑی ظالمانہ ہوتی ہے اور جو تجارتی سود ہے وہ حرام نہیں۔ کیونکہ اس دور میں ایسے تجارتی سودی قرضوں کا رواج ہی نہ تھا۔ نیز ایسے قرضے چونکہ رضا مندی سے لئے دیئے جاتے ہیں اور ان کی شرح سود بھی گوارا اور مناسب ہوتی ہے اور فریقین میں سے کسی پر ظلم بھی نہیں ہوتا، لہٰذا یہ تجارتی سود اس سود سے مستثنیٰ ہے جنہیں قرآن نے حرام قرار دیا ہے۔ یہاں ہم مجوزین تجارتی سود کے تمام دلائل بیان کرنے اور ان کے جوابات دینے سے قاصر ہیں۔ (جس کو تفصیلات درکار ہوں وہ میری تصنیف: ’’تجارت اور لین دین کے مسائل و احکام‘‘ میں سود سے متعلق دو ابو اب ملاحظہ کرسکتا ہے) لہٰذا چند مختصر دلائل پر ہی اکتفا کریں گے : ١۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تجارتی سود موجود تھے اور سود کی حرمت سے پیشتر صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے حضرت عباس اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما ایسے ہی تجارتی سود کا کاروبار کرتے تھے۔ اس دور میں عرب اور بالخصوص مکہ اور مدینہ میں لاکھوں کی تجارت ہوا کرتی تھی۔ علاوہ ازیں ہمسایہ ممالک میں تجارتی سود کا رواج عام تھا۔ ٢۔ قرآن میں ربٰو کا لفظ علی الاطلاق استعمال ہوا ہے جو ذاتی اور تجارتی دونوں قسم کے قرضوں کو حاوی ہے۔ لہٰذا تجارتی سود کو اس علی الاطلاق حرمت سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ ٣۔ قرآن نے تجارتی قرضوں کے مقابل یہ آیت پیش کی ہے: ﴿وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ (2: 275)اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام جبکہ ذاتی قرضوں کے مقابل یوں فرمایا: ﴿ یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ ﴾(2: 276) اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے سود کے خاتمہ کے لئے ذاتی قرضوں کا حل ’صدقات‘تجویز فرمایا ہے اور تجارتی قرضوں کے لئے شراکت اور مضاربت کی راہ دکھلائی ہے جو حلال اور جائز ہے۔ ٤۔ جہاں تک کم یا مناسب شرح سود کا تعلق ہے تو یہ بات آج تک طے نہیں ہوسکی کہ مناسب شرح سود کیا ہے؟ کبھی تو ٢ فیصد بھی نامناسب شرح سمجھی جاتی ہے۔ جیسا کہ دوسری جنگ عظیم کے لگ بھگ زمانے میں ریزوبنک آف انڈیا ڈسکاؤنٹ ریٹ مقرر ہوا اور کبھی ٢٩ فیصد شرح سود بھی مناسب اور معقول سمجھی جاتی ہے (دیکھئے : اشتہار انوسٹمنٹ بنک مشتہرہ نوائے وقت مورخہ ١٩٧٧ء-٨-١١) شرح سود کی مناسب تعیین نہ ہوسکنے کی غالباً وجہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد ہی متزلزل اور کمزور ہے۔ مناسب اور معقول شرح سود کی تعیین تو صرف اس صورت میں ہوسکتی ہے جب یہ معلوم ہوسکے کہ قرض لینے والا اس سے کتنا یقینی فائدہ حاصل کرے گا اور اس میں سے قرض دینے والے کا معقول حصہ کتنا ہونا چاہئے۔ مگر ہمارے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ قرض لینے والے کو اس مقرر مدت میں کتنا فائدہ ہوگا، یا کچھ فائدہ ہوگا بھی یا نہیں۔ بلکہ الٹا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ ثانیاً ایک ہی ملک اور ایک ہی وقت میں مختلف بنکوں کی شرح سود میں انتہائی تفاوت پایا جاتا ہے اور اگر سب کچھ مناسب ہے تو پھر نامناسب کیا بات ہے؟ ثالثاً اگر شرح سود انتہائی کم بھی ہو تو بھی یہ سود کو حلال نہیں بنا سکتی۔ کیونکہ شریعت کا یہ اصول ہے کہ حرام چیز کی قلیل مقدار بھی حرام ہی ہوتی ہے۔ شراب تھوڑی بھی ایسے ہی حرام ہے جیسے زیادہ مقدار میں (ترمذی، ابو اب الأشربة، باب ما سکر کثیرۃ فقلیلہ حرام) ٥۔ باہمی رضامندی کی شرط صرف جائز معاملات میں ہے:۔ جہاں تک باہمی رضا مندی کا تعلق ہے تو یہ شرط صرف حلال معاملات میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حلال اور جائز معاملات میں بھی اگر فریقین میں سے کوئی ایک راضی نہ ہو تو وہ معاملہ حرام اور ناجائز ہوگا۔ جیسے تجارت میں مال بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کی رضا مندی ضروری ہے ورنہ بیع فاسد اور ناجائز ہوگی۔ اسی طرح نکاح میں بھی فریقین کی رضا مندی ضروری ہے۔ لیکن یہ رضا مندی حرام کاموں کو حلال نہیں بناسکتی۔ اگر ایک مرد اور ایک عورت باہمی رضا مندی سے زنا کریں تو وہ جائز نہیں ہوسکتا اور نہ ہی باہمی رضا مندی سے جوا جائز ہوسکتا ہے۔ اسی طرح سود بھی باہمی رضا مندی سے حلال اور جائز نہیں بن سکتا۔ علاوہ ازیں سود لینے والا کبھی سود دینے پر رضا مند نہیں ہوتا۔ خواہ شرح سود کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔ بلکہ یہ اس کی مجبوری ہوتی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اسے کہیں سے قرض حسنہ مل جائے تو وہ کبھی سود پر رقم لینے کو تیار نہ تھا۔ ٦۔ رہی یہ بات کہ تجارتی سود میں کسی فریق پر ظلم نہیں ہوتا۔ گویا یہ حضرات سود کی حرمت کی علت یا بنیادی سبب ظلم قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ تصور ہی غلط ہے۔ آیت کے سیاق و سباق سے واضح ہے کہ یہ الفاظ سودی معاملات اور معاہدات کو ختم کرنے کی ایک احسن صورت پیش کرتے ہیں یعنی نہ تو مقروض قرض خواہ کی اصل رقم بھی دبا کر اس پر ظلم کرے اور نہ قرض خواہ مقروض پر اصل کے علاوہ سود کا بوجھ بھی لاد دے۔ ان الفاظ کا اطلاق ہمارے ہاں اس وقت ہوگا جب ہم اپنے معاشرہ کو سود سے کلیتاً پاک کرنا چاہیں گے، یا نجی طور پر قرضہ کے فریقین سود کی لعنت سے اپنے آپ کو بچانے پر آمادہ ہوں گے۔ سود کی حرمت کا بنیادی سبب ظلم نہیں بلکہ بیٹھے بٹھائے اپنے مال میں اضافہ کی وہ ہوس ہے جس سے ایک سرمایہ دار اپنی فاضل دولت میں طے شدہ منافع کی ضمانت سے یقینی اضافہ چاہتا ہے اور جس سے زر پرستی، سنگ دلی اور بخل جیسے اخلاق رذیلہ جنم لیتے ہیں۔ [٣٩٣] اب ایک مسلمان کا کام تو یہی ہونا چاہئے کہ جب اللہ نے سود کو حرام کردیا تو اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ خواہ اسے سود اور تجارت کا فرق اور ان کی حکمت سمجھ آئے یا نہ آئے تاہم جو لوگ یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے۔ اللہ نے انہیں انتہائی بدھو اور مخبوط الحواس قرار دیا ہے۔ جنہیں کسی جن نے آسیب زدہ بنا دیا ہو اور وہ اپنی خود غرضی اور زر پرستی کی ہوس میں خبطی ہوگئے ہوں کہ انہیں تجارت اور سود کا فرق نظر ہی نہیں آرہا، چونکہ وہ اس زندگی میں باؤلے ہو رہے ہیں۔ لہٰذا وہ قیامت کے دن بھی اسی حالت میں اپنی قبروں سے اٹھیں گے۔ اب ہم ایسے لوگوں کو سمجھانے کے لئے سود اور تجارت کا فرق بتلاتے ہیں : ١۔ سود اور تجارت کافرق:۔ سود ایک طے شدہ شرح کے مطابق یقینی منافع ہوتا ہے۔ جبکہ تجارت میں منافع کے ساتھ نقصان کا احتمال بھی موجود ہوتا ہے۔ خواہ کوئی شخص اپنے ذاتی سرمایہ سے تجارت کرے یا یہ مضاربت یا شراکت کی شکل ہو۔ ٢۔سود سے قومی معیشت کی تباہی :۔ مضاربت کی شکل میں فریقین کو ایک دوسرے سے ہمدردی، مروت اور مل جل کر کاروبار چلانے کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کا مفاد مشترک ہوتا ہے اور اس کا قومی پیداوار پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ جبکہ تجارتی سود کی صورت میں سود خوار کو محض اپنے مفاد سے غرض ہوتی ہے۔ بعض دفعہ وہ ایسے نازک وقت میں سرمایہ کی واپسی کا تقاضا کرتا اور مزید فراہمی سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے جبکہ کاروبار کو سرمایہ کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح سود خوار تو اپنا سرمایہ بمعہ سود نکال دیتا ہے مگر مقروض کو سخت نقصان پہنچتا ہے اور قومی معیشت بھی سخت متاثر ہوتی ہے۔ ٣۔ مضاربت اور سود میں تیسرا فرق یہ ہے کہ مضاربت سے اخلاق حسنہ پرورش پاتے ہیں۔ جس سے معاشرہ میں اخوت اور خیر و برکت پیدا ہوتی ہے اور طبقاتی تقسیم مٹتی ہے۔ جبکہ سود سے اخلاق رذیلہ مثلاً خود غرضی، مفاد پرستی، بخل اور سنگدلی پیدا ہوتے ہیں۔ سود کی حرمت کی علت یہی اخلاق رذیلہ اور ہوس زر پرستی ہے۔ سودی نظام معیشت نے صرف ایک ہی شائی لاک (ایک سنگ دل یہودی کا مثالی کردار جس نے بروقت ادائیگی نہ ہونے کی بنا پر اپنے مقروض کی ران سے بےدریغ گوشت کا ٹکڑا کاٹ لیا تھا) پیدا نہیں کیا بلکہ ہر دور میں ہزاروں شائی لاک پیدا ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ [٣٩٤] اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو سود کھاچکا وہ معاف ہے بلکہ یوں فرمایا کہ اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے تو بخش دے، چاہے تو سزا دے۔ لہٰذا محتاط صورت یہی ہے کہ وہ سود کی حرام کمائی خود استعمال نہ کرے بلکہ جس سے سود لیا تھا اسے ہی واپس کردے تو یہ سب سے بہتر بات ہے ورنہ محتاجوں کو دے دے یا رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ کر دے۔ اس طرح وہ سود کے گناہ سے تو شاید بچ جائے مگر ثواب نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ حرام مال کا صدقہ قبول نہیں کرتا۔ البقرة
276 [٣٩٥] اگرچہ بنظر ظاہر سود لینے سے مال بڑھتا اور صدقہ دینے سے گھٹتا نظر آتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ سود کے مال میں برکت نہیں ہوتی اور مال حرام بود بجائے حرام رفت، والی بات بن جاتی ہے اور صدقات دینے سے اللہ تعالیٰ ایسی جگہ سے اس کا نعم البدل عطا فرماتا ہے جس کا اسے خود بھی وہم و گمان نہیں ہوتا اور یہ ایسی حقیقت ہے جو بارہا کئی لوگوں کے تجربہ میں آچکی ہے تاہم اسے عقلی دلائل سے ثابت کیا جاسکتا ہے اور دوسری صورت کو علم معیشت کی رو سے ثابت بھی کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے جس معاشرہ میں صدقات کا نظام رائج ہوتا ہے۔ اس میں غریب طبقہ (جو عموماً ہر معاشرہ میں زیادہ ہوتا ہے) کی قوت خرید بڑھتی ہے اور دولت کی گردش کی رفتار بہت تیز ہوجاتی ہے جس سے خوشحالی پیدا ہوتی ہے اور قومی معیشت ترقی کرتی ہے اور جس معاشرہ میں سود رائج ہوتا ہے وہاں غریب طبقہ کی قوت خرید کم ہوتی ہے اور جس امیر طبقہ کی طرف دولت کو سود کھینچ کھینچ کرلے جارہا ہوتا ہے۔ اس کی تعداد قلیل ہونے کی وجہ سے دولت کی گردش کی رفتار نہایت سست ہوجاتی ہے جس سے معاشی بحران پیدا ہوتے رہتے ہیں، امیر اور غریب میں طبقاتی تقسیم بڑھ جاتی ہے اور بعض دفعہ غریب طبقہ تنگ آکر امیروں کو لوٹنا اور مارنا شروع کردیتا ہے آقا و مزدور میں، امیر اور غریب میں ہر وقت کشیدگی کی فضا قائم رہتی ہے جس سے کئی قسم کے مہلک نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔ [٣٩٦] یہاں ناشکرے سے مراد وہ سود خور ہے جس کی پاس اپنی ضروریات سے زائد رقم موجود ہے۔ جیسے وہ اپنے کسی محتاج بھائی کی مدد کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا، نہ اسے صدقہ دینا چاہتا ہے نہ قرض حسنہ دیتا ہے بلکہ الٹا اس سے اس کے گاڑھے پسینے کی کمائی سود کے ذریعہ کھینچنا چاہتا ہے۔ حالانکہ یہ زائد روپیہ اس پر محض اللہ کا فضل تھا اور صدقہ یا قرض دے کر اسے اللہ کے اس فضل کا شکر ادا کرنا چاہئے تھا۔ مگر اس نے زائد رقم کو سود پر چڑھا کر اللہ کے فضل کی انتہائی ناشکری کی۔ لہٰذا اس سے بڑھ کر بدعملی اور گناہ کی بات اور کیا ہوگی۔ البقرة
277 [٣٩٧] یہ آیت درمیان میں اس لئے آئی ہے کہ سود خور کے مقابلہ میں متقی لوگوں کا حال بیان کردیا جائے جیسا کہ قرآن کریم میں جابجا یہی دستور آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ جہاں اہل دوزخ کا ذکر آیا تو ساتھ اہل جنت کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔ اس کے بعد سود کے مضمون کا تسلسل جاری رکھا گیا ہے۔ اس مقام پر بھی مومنوں کی دو انتہائی اہم صفات کا ذکر فرمایا۔ ایک اقامت صلٰوۃ کا جو بدنی عبادات میں سے سب سے اہم ہے۔ دوسرے ایتائے زکوٰۃ کا جو مالی عبادات میں سے سب سے اہم بھی ہے اور سود کی عین ضد بھی۔ اسلام کے معاشی نظام کو اگر انتہائی مختصر الفاظ میں بیان کیا جائے تو اس کے دو ہی اجزاء ہیں۔ ایک سلبی دوسرا ایجابی۔ سلبی پہلو نظام سود کا استیصال ہے اور ایجابی پہلو نظام زکوٰۃ کی ترویج۔ البقرة
278 البقرة
279 [٣٩٨] یہاں ہم سود سے متعلق چند احادیث بیان کرتے ہیں : (١) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود لینے والے، دینے والے، تحریر لکھنے والے اور گواہوں، سب پر لعنت کی اور فرمایا وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں (مسلم، کتاب البیوع۔ باب لعن آکل الربو أو موکلہ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سود لینے اور دینے والوں کے علاوہ بنکوں کا عملہ بھی اس گناہ میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔ (٢) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سود کے گناہ کے) اگر ستر حصے کئے جائیں تو اس کا کمزور حصہ بھی اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے۔ (ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب البیوع۔ باب الربا۔ فصل ثالث) (٣) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’سود کا ایک درہم جو آدمی کھاتا ہے اور وہ اس کے سودی ہونے کو جانتا ہے تو وہ گناہ میں چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے۔‘‘ (مسند احمد۔ دارمی، بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب البیوع۔ باب الربا فصل ثالث) سودکےمتعلق ایسی سخت وعیدکیوں ہے؟یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے کئی گناہ ایسے ہیں جو سود سے بھی بہت بڑے ہیں۔ مثلاً شرک، قتل ناحق اور زنا وغیرہ۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی وعید اللہ تعالیٰ نے صرف سود کے متعلق سنائی ہے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایسے سخت الفاظ استعمال فرمائے ہیں جو کسی اور گناہ کے متعلق استعمال نہیں فرمائے تو آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ سود اسلامی تعلیمات کا نقیض اور اس سے براہ راست متصادم ہے اور اس کا حملہ بالخصوص اسلام کے معاشرتی اور معاشی نظام پر ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں ایک دوسرے کا بھائی بن کر رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ وہ آپس میں مروت، ہمدردی، ایک دوسرے پر رحم اور ایثار کا سبق سکھلاتا ہے۔ آپ نے ساری زندگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو اخوت و ہمدردی کا سبق دیا اور ایک دوسرے کے جانی دشمن معاشرے کی، وحی الٰہی کے تحت اس طرح تربیت فرمائی کہ وہ فی الواقع ایک دوسرے کے بھائی بھائی اور مونس و غمخوار بن گئے۔ اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے ایک احسان عظیم شمار کرتے ہوئے قرآن میں دو مقامات پر اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔ (سورہ آل عمران کی آیت ١٠٣ میں اور سورۃ انفال کی آیت ٦٣ میں) اور یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا ماحصل تھا۔ جبکہ سود انسان میں ان سے بالکل متضاد رذیلہ صفات مثلاً بخل، حرص، زرپرستی اور شقاوت پیدا کرتا ہے۔ اور بھائی بھائی میں منافرت پیدا کرتا ہے جو اسلامی تعلیم کی عین ضد ہے۔ دوسرے یہ کہ اسلام کے معاشی نظام کا تمام تر ماحصل یہ ہے کہ دولت گردش میں رہے اور اس گردش کا بہاؤ امیر سے غریب کی طرف ہو۔ اسلام کے نظام زکوٰۃ و صدقات کو اسی لئے فرض کیا گیا ہے اور قانون میراث اور حقوق باہمی بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں۔ جبکہ سودی معاشرہ میں دولت کا بہاؤ ہمیشہ غریب سے امیر کی طرف ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی سود اسلام کے پورے معاشی نظام کی عین ضد ہے۔ (٤) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا جب ہر کوئی سود کھانے والا ہوگا اگر سود نہ کھائے تو بھی اس کا بخار (اور ایک دوسری روایت کے مطابق) اس کا غبار اسے ضرور پہنچ کے رہے گا۔‘‘ (نسائی۔ کتاب البیوع۔ باب اجتناب الشبہات فی الکسب) اور آج کا دور بالکل ایسا ہی دور ہے۔ پوری دنیا کے لوگوں اور اسی طرح مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں بھی سود کچھ اس طرح سرایت کر گیا ہے، جس سے ہر شخص شعوری یا غیر شعوری طور پر متاثر ہو رہا ہے، آج اگر ایک مسلمان پوری نیک نیتی سے سود سے کلیتاً بچنا چاہے بھی تو اسے کئی مقامات پر الجھنیں پیش آتی ہیں۔ مثلاً آج کل اگر کوئی شخص گاڑی، سکوٹر، کار، ویگن، بس یا ٹرک خریدے گا تو اسے لازماً اس کا بیمہ کرانا پڑے گا۔ اگرچہ اس قسم کے بیمہ کی رقم قلیل ہوتی ہے اور یہ وہ بیمہ نہیں ہوتا جس میں حادثات کی شکل میں بیمہ کمپنی نقصان ادا کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ تاہم ہمارے ہاں قانون یہ ہے کہ جب تک نئی گاڑی کا بیمہ نہ کرایا جائے وہ استعمال میں نہیں لائی جاسکتی اور اس قلیل رقم کی قسم کا بیمہ ہر سال کرانا پڑتا ہے۔ اور بیمہ کا کاروبار شرعاً کئی پہلوؤں سے ناجائز ہے جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ موجودہ دور میں سود کی مختلف شکلیں:۔ اسی طرح تاجر پیشہ حضرات بنک سے تعلق رکھے بغیر نہ مال برآمد کرسکتے ہیں اور نہ درآمد۔ ان کے لئے آسان راہ یہی ہوتی ہے کہ وہ بنک سے ایل سی (Letter of Credit) یا اعتماد نامہ حاصل کریں۔ اس طرح تمام درآمد اور برآمد کردہ مال سودی کاروبار سے متاثر ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ تجارتی سود یا کمرشل انٹرسٹ (commercial Intrest)کو جائز سمجھنے والے اور حمایت کرنے والے حضرات یہ حجت بھی پیش کیا کرتے ہیں کہ جب تمہارے گھر کی بیشتر اشیاء سودی کاروبار کے راستہ سے ہو کر تم تک پہنچی ہیں تو تم ان سے بچ کیسے سکتے ہو؟ تو اس قسم کے اعتراضات کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کے سود کو ختم کرنا یا اس کی متبادل راہ تلاش کرنا حکومت کا کام ہے اور اگر حکومت یہ کام نہیں کرتی تو ہر مسلمان انفرادی طور پر جہاں تک سود سے بچ سکتا ہے بچے اور جہاں وہ مجبور ہے وہاں اس سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا کیونکہ شریعت کا اصول ہے کہ مواخذہ اس حد تک ہے جہاں تک انسان کا اختیار ہے اور جہاں اضطرار ہے وہاں مواخذہ نہیں۔ بنکوں کےمختلف قسم کے کھاتے:۔اسی طرح آج کے دور میں ایک اہم مسئلہ اپنی بچت یا زائد رقم کو کہیں محفوظ رکھنے کا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ اس غرض کے لئے گھروں سے بنک محفوظ تر جگہ ہے۔ اور بنکوں میں تین طرح کے کھاتے چلتے ہیں (i) چالو کھاتےCurrent Account جن میں بنک لوگوں کی رقوم جمع کرتے ہیں، لیکن جمع کرنے والوں کو سود نہیں دیتے، (ii) بچت کھاتے Saving Account جن پر بنک سود دیتا ہے لیکن تھوڑی شرح سے، (iii) میعادی کھاتے Fixed Diposit Account یعنی ایسی رقوم کے کھاتے جو طویل اور مقررہ مدت کے لئے جمع کرائی جاتی ہیں۔ ان پر بنک سود دیتا ہے۔ اب ایک سود سے پرہیز کرنے والا شخص زیادہ سے زیادہ یہی کرسکتا ہے کہ وہ اپنی رقوم چالو کھاتہ میں جمع کرائے اور سود نہ لے۔ لیکن اس میں ایک اور الجھن پیش آتی ہے کہ بنک اس چالو کھاتہ کی رقوم کو بھی سود پر دیتا ہے اور سودی کاروبار کرتا ہے۔ لہٰذا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بنک کے پاس سود کی رقم کیوں چھوڑی جائے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ﴿وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ﴾یعنی گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کیا کرو۔ لہٰذا بنک سے یہ رقم ضرور وصول کر لینی چاہئے مگر اسے اپنے استعمال میں نہ لایا جائے۔ بلکہ اسے محتاجوں اور غریبوں کو دے دیا جائے یا رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ کردیا جائے۔ اور اس سے ثواب کی نیت بھی نہ رکھی جائے۔ کیونکہ حرام مال کا صدقہ قابل قبول ہی نہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ تبدیل ید سے احکام شریعت بدل جاتے ہیں۔ مثلاً زید کے پاس جو سود کی رقم ہے وہ اگر بکرکو صدقہ کر دے یا ویسے بلانیت ثواب دے تو وہ اس کے لئے حرام مال نہیں ہوگا۔ لہٰذا روپیہ چالو کھاتے کے بجائے سودی کھاتے میں رکھنا چاہئے اور بنک سے سود بھی ضرور وصول کرنا چاہئے جو محتاجوں یا رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ کردینا چاہئے یا (ii) کبھی بنک سے قرضہ لینے کی ضرورت پڑے تو اس سود کی جگہ یہ رقم ادا کردی جائے یا (iii) گورنمنٹ جو ناجائز ٹیکس عائد کرتی ہے ایسی مدات میں یہ سود کی رقم صرف کردی جائے۔ مگر جب ہم اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ ساری مصلحتیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ لہٰذا اس گندگی سے ہر صورت پرہیز لازمی ہے اور ایسے نظریہ کی تہ میں یہی بات نظر آتی ہے کہ انسان چونکہ فطرتاً حریص واقع ہوا ہے لہٰذا مال کسی راہ سے بھی آتا نظر آئے اسے چھوڑنے کو اس کا جی نہیں چاہتا۔ مندرجہ بالا تین صورتوں میں سے پہلی صورت بظاہر مستحسن نظر آتی ہے مگر ہم ایسی مصلحت کے قائل نہیں جس کی دو وجوہ ہیں۔ پہلی یہ کہ جو شخص سود لینا شروع کر دے گا اس گندگی سے کلیتہ کبھی پاک صاف نہ رہ سکے گا۔ بلکہ کچھ وقت گزرنے پر اس کے نظریہ میں لچک آنا شروع ہوجائے گی اور وہ خود ومن وقع فی الشبہات فقد وقع فی الحرام بن جائے گا۔ پس اس کا یہی رویہ اس کی اولاد میں منتقل ہوگا اور دوسری یہ کہ ہم اپنی ذات کی حد تک سود سے بچنے کی فکر کریں تو بھی بڑی بات ہے۔ ہمارا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ ہم بنک میں رقم اس لئے جمع کرائیں کہ بنک اس سے سود کمائے بلکہ ہمارا مقصد صرف رقم کی حفاظت ہے اور وہ پورا ہوجاتا ہے۔ پراویڈنٹ فنڈ کا مسئلہ:۔ ایک اور اہم مسئلہ سرکاری، نیم سرکاری اور بعض تجارتی اداروں کے ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ کا ہے، اس فنڈ میں کچھ رقم تو ملازموں کی اپنی تنخواہ سے ماہوار وضع ہوتی اور جمع ہوتی رہتی ہے، ساتھ ہی سود در سود کے حساب سے جمع ہوتا رہتا ہے اور ملازمت سے سبکدوشی کے وقت اسے یہ ساری رقم یکمشت مل جاتی ہے اس مسئلہ کو عموماً اضطراری سمجھا جاتا اور کہا جاتا ہے کہ یہ حکومت یا اداروں کا یکطرفہ فیصلہ ہوتا ہے اور اسی بنا پر بعض علماء نے اسے ملازمت کی شرط اور اسے ملازم کے حق المحنت میں شامل کرکے اس کے جواز کا فتویٰ بھی دیا ہے۔ حالانکہ یہ بات محض لاعلمی کی بنا پر کہی جاتی ہے اگر کوئی سود نہ لینا چاہے تو اسے کوئی مجبور نہیں کرتا۔ پراویڈنٹ فنڈ کے معاہدہ فارم کی پشت پر جو شرائط لکھی ہوتی ہیں ان میں سے شق نمبر ١٦ میں یہ بات وضاحت سے درج ہے کہ جو شخص سود نہ لینا چاہے اسے کوئی مجبوری نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ضیاء الحق مرحوم نے اس کے متبادل حل کو قانونی شکل دے دی ہے۔ جو یہ ہے کہ جو شخص سود نہ لینا چاہے نہ لے اور اس کے عوض اسے کسی وقت بھی اپنی جمع شدہ رقم کا ٨٠ فیصد بطور قرض حسنہ مل سکتا ہے۔ جسے وہ بعد میں بالاقساط اپنی تنخواہ سے کٹوا دیا کرے گا۔ بینک کے شراکتی کھاتے:۔تیسرا اہم مسئلہ بنک کے شراکتی کھاتوں کا ہے جو صدر ضیاء الحق کی سود کو ختم کرنے کی کوشش کے نتیجہ میں معرض وجود میں آیا۔ بنک کی اصطلاحی زبان میں انہیں پی۔ ایل۔ ایس S۔L۔P یعنی (Prophet and Loss Shares) کہتے ہیں۔ جس سے دیندار طبقہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ایسے لوگوں نے پی۔ ایل۔ ایس کھاتوں میں حساب منتقل کروالیا۔ مگر تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ بھی بیع عینہ ہی کی ذرا وسیع پیمانے پر صورت اختیار کی گئی ہے۔ بیع عینہ کیاہے؟ بیع عینہ میں حیلہ سازی کے ذریعہ سود کو بیع کی شکل دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مثلاً اگر کسی کو نقد رقم کی ضرورت ہے اور وہ سود میں بھی ملوث نہیں ہونا چاہتا تو وہ 'ب' سے کوئی چیز مثلاً گھوڑا پانچ ہزار روپے میں ایک سال کے وعدہ پر خریدتا ہے پھر ایک دو دن بعد 'الف' وہی گھوڑا 'ب' کے پاس ساڑھے چار ہزار روپے نقد میں فروخت کردیتا ہے اور سال بعد 'الف' کو پانچ ہزار روپے ادا کردیتا ہے۔ اس طرح 'الف' کو فوراً ساڑھے چار ہزار روپے میسر آگئے اور 'ب' کو ایک سال بعد ساڑھے چار ہزار روپے پر پانچ سو منافع مل گیا۔ جو دراصل اس رقم کا ایک سال کا سود ہے اور گھوڑے کی بیع کو درمیان میں لاکر اس سود کو حلال بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ بیع عینہ کہلاتی ہے۔ (موطا امام مالک۔ کتاب البیوع، باب العینہ) یہ خالص سود ہے اور 'الف' اور 'ب' دونوں گنہگار ہیں۔ شراکتی کھاتوں میں بھی ایسی ہی کاروائی کی جاتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ شراکتی کھاتوں میں سود اور ڈسکاؤنٹ (Discount) کے بجائے مارک اپ اور مارک ڈاؤن کی اصطلاحیں رائج کی گئی ہیں۔ شرح سود تو فیصد سالانہ ہوتی ہے جبکہ مارک اپ فی ہزار فی یومیہ ہوتی ہے۔ جو مضارب اور بنک کے درمیان سمجھوتے سے طے پاتے ہے اور یہ شرح تقریباً وہی بن جاتی ہے جو بنکوں میں فیصد سالانہ رائج ہوتی ہے مثلاً زید مشینری کی خرید کے لئے بنک سے پچاس ہزار روپے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اب بنک یہ کرے گا کہ اس رقم کے عوض کاغذوں میں مشینری خود زید سے خرید لے گا اور اس پر متوقع منافع کا اندازہ کرکے 'مارک اپ' لگا کر زید سے یہ مارک اپ بطور کرایہ اور ماہوار قسط ہر ماہ وصول کرتا رہے گا اور اگر زید مقررہ مدت کے اندر اصل زر بمعہ مارک اپ بالاقساط ادا نہیں کرسکتا تو بنک کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ مشینری کو فروخت کرکے اپنا سب کچھ کھرا کرلے۔ باقی جو بچے گا وہ زید کا ہوگا۔ بنک کو مشینری کے حصول، اخراجات حصول، حصول کے دوران تلفی کا خطرہ، اس کی نگہداشت، اور وقت سے پہلے ناکارہ ہونے کی چنداں فکر نہیں ہوتی اور وہ ایسے تمام خطرات کی ذمہ داری زید پر ڈال دیتا ہے۔ اب آپ خود دیکھ لیجئے کہ مضاربت کی اس شکل کو اسلامی نظریہ بیع سے کس قدر تعلق ہے؟ معاملہ دراصل یہ ہے کہ ہمارے بنک اپنے بنیادی ڈھانچہ کے لحاظ سے مالیاتی توسط کے ادارے ہیں۔ تجارتی ادارے نہیں ہیں۔ وہ اپنا حق المحنت سود یا یقینی منافع کی شکل میں وصول کرتے ہیں لیکن کاروباری خطرات کی ذمہ داری کسی قیمت پر لینا گوارا نہیں کرتے اور یہی بات سود اور تجارت کا بنیادی فرق ہے۔ لہٰذا جب تک ذہنی طور پر اس بنیادی ڈھانچہ میں تبدیلی گوارا نہیں کریں گے سود اپنی نئی نئی شکلوں میں جلوہ گری کرتا رہے گا۔ بیمہ کاکاروبار:۔ چوتھا اہم مسئلہ بیمہ کا ہے، سود کی طرح بیمہ نے بھی ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ پاکستان میں ١٩٧٣ ء سے پہلے بیمہ کا کاروبار پرائیوٹ کمپنیاں کرتی تھیں تاہم انہیں حکومت کی سرپرستی حاصل تھی۔ ١٩٧٣ ء میں حکومت نے ان کو اپنی تحویل میں لے لیا اور سب کمپنیوں کو مدغم کرکے سٹیٹ لائف انشورنس کے نام سے اس کاروبار کو مزید فروغ بخشا۔ آج ہر سرکاری و نیم سرکاری ملازم نیز ہر صنعتی اور تجارتی ادارے کے ملازم کا بیمہ زندگی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کی موت یا حادثے کی صورت میں مقررہ رقم اس کے ان ورثاء کو ملتی ہے جو وہ خود تجویز کرتا ہے اور وہ رقم حکومت یا متعلقہ ادارہ ادا کرتا ہے۔ بیمہ پہلے تو صرف جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کا ہوتا تھا۔ پھر زندگی کا بیمہ ہونے لگا۔ پھر انسان کے ایک ایک عضو کا الگ الگ بیمہ ہونے لگا اور آج کل تو بعض ذمہ داریوں مثلاً بچوں کی تعلیم اور شادی وغیرہ کا بھی بیمہ کیا جاتا ہے۔ بیمہ پالیسی کی وضاحت کا یہ موقع نہیں۔ مختصراً یہ بتلا دینا ضروری ہے کہ اس میں سود کا عنصر بھی پایا جاتا ہے، جوئے کا بھی اور بیع غرر کا بھی کیونکہ بیمہ کی شرائط طے کرتے وقت نہ بیمہ دار کو یہ پتا ہوتا ہے کہ وہ کیا کچھ ادا کرسکے گا اور نہ بیمہ کمپنی کو یہ پتا ہوتا ہے کہ اسے کیا کچھ لینا پڑے گا۔ گویا عوضین میں سے کسی ایک عوض کی بھی تعین نہیں ہوسکتی اور ایسی بیع ناجائز ہے۔ علاوہ ازیں یہ اسلام کے قانون میراث میں گڑبڑ پیدا کردیتی ہے۔ بیمہ کمپنیوں کی طرف سے اکثر باہمی ہمدردی اور تکافل، تعاون کا خوبصورت اور بھرپور پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ ایک خالص کاروباری ادارہ ہے جو سودی کاروبار سے بھی کئی گنا زیادہ منافع بخش ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ ١٩٧٨ ء میں امریکہ کی بیمہ کمپنیوں کو اپنے بیمہ داروں سے ٩٨ ارب ڈالر کی رقم وصول ہوئی اور اس رقم میں سے صرف ٤ ارب ڈالر اپنے بیمہ داروں کو ادا کئے۔ اس طرح ایک سال کے اندر ٩٤ ارب ڈالر کی رقم اپنے پاس جمع کرلی۔ (روزنامہ ’جنگ‘ مورخہ ١٠ مئی ١٩٧٩ء) اس کا حل یہی ہے کہ ہر شخص کو ہر طرح کے بیمہ سے بچنا لازم ہے، اور جہاں انسان مجبور ہو، وہاں ممکن ہے اللہ اسے معاف فرما دے۔ انعامی بانڈرز:۔پانچواں اہم مسئلہ انعامی بانڈز (Prize Bonds) کا ہے۔ اس کاروبار کا بھی اور اس میں ملنے والے انعامات کا بھی آج کل عوام میں خوب چرچا ہے۔ یہ دراصل سود اور قمار کی مرکب شکل ہے اور یہ کاروبار حکومتی سطح پر کیا جاتا ہے۔ حکومت کو جب سرمایہ کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ اس ذریعہ سے سود کا نام لئے بغیر عوام سے روپیہ حاصل کرتی ہے۔ طریقہ کار یہ ہے کہ مثلاً آج کل حکومت اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ٥٠ روپے، ١٠٠ روپے، ٥٠٠ روپے اور ١٠٠٠ روپے کے بانڈ (سرکاری تمسکات) چھاپ رکھے ہیں جو کسی وقت بھی کسی بھی بنک سے کیش کرائے جاسکتے ہیں۔ اور عوام میں بھی ان کا لین دین ایسے ہی چلتا ہے جیسے کرنسی نوٹوں کا۔ ان پر نمبر بھی کرنسی نوٹوں کی طرح ہی طبع کئے جاتے ہیں۔ اب مثلاً جنوری ١٩٩٥ ء میں ٥٠ روپے والے بانڈ فروخت ہوتے رہتے ہیں تو فروری میں ١٠٠ روپے والے فروخت ہوں گے، علی ہذا القیاس پھر ہر دو ماہ بعد ان کی قرعہ اندازی ہوتی ہے۔ ٥٠ روپے والوں کی مارچ میں اور ١٠٠ روپے والوں کی اپریل میں ہوگی۔ اب جو نمبر قرعہ اندازی میں آئیں گے وہ جس شخص کے پاس ہونگے وہ دکھا کر سٹیٹ بنک آف پاکستان یا قومی بچت کے کسی مرکز سے اعلان شدہ انعام حاصل کرے گا۔ یہ کاروبار چونکہ حکومت خود چلا رہی ہے۔ لہٰذا اسے خاصا فروغ حاصل ہوا ہے اور جن لوگوں کو حرام حلال کی کچھ تمیز نہیں وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ہر دو ماہ بعد جو انعامات تقسیم ہوتے ہیں وہ دراصل اس جمع شدہ رقم کا دو ماہ کا سود ہوتا ہے۔ جو سب حقداروں میں تقسیم کرنے کے بجائے بذریعہ قرعہ اندازی چند افراد کو دے دیا جاتا ہے اور عوام کو دھوکا دینے کی خاطر اس کاروبار میں سود کا نام انعام رکھ دیا گیا ہے اور بذریعہ قرعہ اندازی یہ انعام کسی کو عطا کرنا ہی میسر (جوا یا قمار) ہے۔ اور یہی کچھ لاٹری میں ہوتا ہے۔ یہ سودی کاروبار انہیں مشاغل میں منحصر نہیں۔ اگر بنک سودی کاروبار کرتے ہیں تو ڈاک خانہ والے بھی کرتے ہیں اور قومی بچت کے مراکز بھی پھر اور بھی بہت سے سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ادارے ہیں جو سود پر رقم لے کر اپنا کاروبار چلاتے ہیں۔ اور لوگوں سے مختلف شکلوں میں سود وصول کرتے ہیں۔ آج کل اقساط پر اشیاء کی فروخت کا کاروبار بھی بہت رواج پا چکا ہے۔ اور یہ بات مال بیچنے والا اور لینے والا سب جانتے ہیں کہ ان اقساط میں سود کی رقم شامل ہوتی ہے اور اگر سرکاری واجبات یا بلوں کی ادائیگی میں تاخیر ہوجائے تو سرکاری اور نیم سرکاری ادارے جبراً اس پر سود وصول کرتے ہیں الغرض ہر طرف ہی فضا سود کے اثرات سے مسموم ہوچکی ہے۔ بایں ہمہ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر آج بھی کوئی شخص سود سے بچنے کا پختہ عزم کرلے تو وہ سود سے بچ سکتا ہے۔ البتہ اگر کوئی ناقابل علاج چیز ہے تو وہ انسان کی ہوس ہے۔ اگر ایک تاجر دوسروں کی دیکھا دیکھی ایک لاکھ کے سرمایہ سے بنک کی ملی بھگت سے چار لاکھ کا کاروبار کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے اضطرار کا نام کیوں دیتا ہے۔ اور اگر کوئی چیز درآمد کرتا ہے تو وہ پوری رقم پیشگی جمع کرا کر سود کے دھندے سے بچ بھی سکتا ہے۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ اضطرار کہیں بھی نہیں ہوتا بلکہ بات صرف اتنی ہے کہ حلال طریقے سے کمائی کم ہوتی ہے۔ صرف زیادہ کمائی کی خاطر سود میں ملوث ہونا، پھر اسے اضطرار کا نام دینا ڈھٹائی نہیں تو اور کیا ہے اور ایسے حیلوں بہانوں سے کمائی ہوئی ساری کی ساری دولت حرام ہوجاتی ہے۔ اور اگر حقیقتاً انسان کسی وقت مجبور ہوجائے تو وہ گناہ نہیں اور اللہ تعالیٰ وہ معاف فرمادے گا اور ایسا اضطرار صرف سود دینے میں ہی ہوسکتا ہے۔ لینے میں کبھی نہیں ہوسکتا۔ پھر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر سودی دھندا کرنے والے ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں تو بعض ادارے ایسے بھی موجود ہیں جو مضاربت اور شراکت کی بنیادوں پر لوگوں سے سرمایہ اکٹھا کرتے ہیں۔ مثلاً جائنٹ سٹاک کمپنیاں اور کو آپریٹو سوسائٹیاں خالص تجارتی بنیادوں پر کاروبار کرتی ہیں۔ ان کے حصص کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ اور کھلے بازار یہ حصص فروخت ہوتے رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں آج بھی کئی ایسے دیانت دار اور دیندار تاجر موجود ہیں جو مضاربت کی شرائط پر رقم قبول کرتے ہیں اور وقت مقررہ پر طے شدہ شرائط کے مطابق منافع بھی ادا کرتے ہیں اور بوقت ضرورت اصل رقم بھی واپس کردیتے ہیں۔ البتہ ایسے لوگوں کو تلاش ضرور کرنا پڑتا ہے۔ مگر ناپید نہیں ہیں۔ لہٰذا ہر شخص کو لازم ہے کہ وہ بہرصورت اس جرم عظیم سے اجتناب کرے۔ [٣٩٩] اللہ تعالیٰ نے معاشرہ کو سودی نظام سے نجات حاصل کرنے کی بہترین ترکیب خود ہی بتا دی جو یہ تھی کہ اس حکم کے نزول کے بعد کوئی سود پر قرض دینے والا صرف اپنا اصل زر ہی وصول کرنے کا حقدار ہوگا اور سود کا مطالبہ کرکے مقروض پر ظلم نہیں کرے گا۔ اسی طرح مقروض کو اصل زر ضرور قرض خواہ کو ادا کرنا ہوگا۔ وہ اصل زر بھی یا اس کا کچھ حصہ دبا کر قرض خواہ پر ظلم نہیں کرے گا۔ یہ ہیں وہ آیات جنہیں آیات ربا کہا جاتا جن کے مطابق سود کو کلیتہ حرام قرار دیا گیا اور یہ سورۃ بقرہ میں سب سے آخر میں بلکہ آپ کی وفات سے صرف چار ماہ پیشتر نازل ہوئی تھیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’جب سورۃ بقرہ کی سب سے بعد نازل ہونے والی آیات سود کے بارے میں نازل ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں جاکر ان آیتوں کو سنایا۔ پھر شراب کی سوداگری بھی حرام کردی۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر زیر آیات مذکورہ) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’آیات ربا قرآن کی ان آیات سے ہیں، جو آخر زمانہ میں نازل ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوگئی۔ پیشتر اس کے کہ تمام احکام ہم پر واضح فرماتے۔ لہٰذا تم سود کو بھی چھوڑ دو اور ہر اس چیز کو بھی جس میں سود کا شائبہ ہو۔‘‘ (ابن ماجہ، دارمی، بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب البیوع، باب الربا۔ فصل ثالث) ان آیات کے نزول کے چند ہی دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع ادا کیا اور اس حکم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں یوں اعلان فرمایا کہ: ’’جاہلیت کے تمام سود باطل قرار دیئے جاتے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنے خاندان کا سود یعنی عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الحج۔ باب حجۃ النبی) شراب کی طرح سود بھی دراصل عرب معاشرہ کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا اور اس کا استیصال بھی بتدریج ہوا۔ سود کی مذمت میں سب سے پہلی نازل ہونے والی آیت سورۃ روم کی آیت نمبر ٣٩ ہے جس میں یہ بتلایا گیا کہ ’جو رقم تم سود پر دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال بڑھ جائیں تو ایسا مال، اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا۔‘ دوسری آیت سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ١٣٠ ہے جس میں کہا گیا کہ : اے ایمان والو! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ۔ (یعنی سود مرکب) پھر اس کے بعد سورۃ بقرہ کی مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں۔ جن کے بعد سود ایک فوجداری جرم بن گیا اور عرب کے سود خور قبیلوں کو آپ نے عمال کے ذریعے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ سودی لین دین سے باز نہ آئے تو ان کے خلاف جنگ کی جائے گی۔ البقرة
280 [٤٠٠] مقروض کو مہلت دینے یا اسے معاف کردینے میں جو بہتری ہے وہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتی ہے: (١) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ’’ جس شخص کو یہ بات محبوب ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی سختیوں سے نجات دے اسے چاہئے کہ تنگدست کو مہلت دے یا پھر اسے معاف کردے۔‘‘ (مسلم : کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر) (٢)قرضہ میں مہلت کی فضیلت :۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ’’جس شخص کے ذمہ کسی کا قرضہ ہوا اور مقروض ادائیگی میں تاخیر کرے تو قرض خواہ کے لئے ہر دن کے عوض صدقہ ہے۔‘‘ (احمد بحوالہ، مشکوٰۃ۔ کتاب البیوع۔ باب الافلاس والا نظار، فصل ثالث) (٣) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا معاف کردے، قیامت کے دن اللہ اسے اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔‘‘ (طویل حدیث سے اقتباس) (مسلم۔ کتاب الزھد۔ باب حدیث جابر و قصۃ ابی بسیر) اور اگر مقروض تنگدست ہو اور قرض خواہ زیادہ ہوں تو اسلامی عدالت قرض خواہ یا قرض خواہوں سے مہلت دلوانے یا قرض کا کچھ حصہ معاف کرانے کی مجاز ہوتی ہے۔ (اس صورت حال کو ہمارے ہاں دیوالیہ کہتے ہیں اور عربی میں افلاس اور تفلیس) چنانچہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک شخص کو پھل کی خرید وفروخت میں نقصان ہوا اور اس کا قرضہ بہت بڑھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا : ’’اس پر صدقہ کرو‘‘ لوگوں نے صدقہ کیا، پھر بھی اتنی رقم نہ ہوسکی جو قرضے پورے کرسکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض خواہوں سے فرمایا : ’’جو کچھ (قرضہ کی نسبت سے) تمہیں ملتا ہے لے لو اور تمہارے لئے یہی کچھ ہے۔‘‘(مسلم۔ کتاب المساقاۃ والمزارعۃ۔ باب وضع الجوائع) عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (میرے باپ) کعب بن مالک نے عبداللہ بن ابی حدرد سے مسجد نبوی میں اپنے قرض کا تقاضا کیا۔ دونوں چلانے لگے۔ آپ اپنے حجرہ میں تھے۔ ان دونوں کی آوازیں سنیں تو آپ حجرے کا پردہ اٹھا کر برآمد ہوئے اور کعب رضی اللہ عنہ کو پکارا۔ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا : حاضر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے فرمایا: ’’آدھا قرض چھوڑ دو۔‘‘ کعب رضی اللہ عنہ کہنے لگے : یارسول اللہ! میں نے چھوڑ دیا۔ پھر آپ نے ابو حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’اٹھ اور اس کا قرض ادا کر۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الحضومات۔ باب کلام الحضوم بعضہم فی بعض۔ نیز کتاب الصلٰوۃ، باب التقاضی والملازمۃ فی المسجد) ہاں اگر کوئی قرض خواہ مقروض کے ہاں اپنی چیز (جس کی مقروض نے قیمت ابھی ادا نہ کی تھی) بجنسہ پالے تو وہ اس کی ہوگی۔ (بخاری۔ کتاب فی الاستقراض۔ باب من وجد مالہ عند مفلس نیز مسلم۔ کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب من ادرک مالہ۔۔) دیوالیہ کی صورت میں اسلامی عدالت مقروض کی جائیداد کی قرقی کرسکتی ہے۔ چنانچہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو اپنے مال میں تصرف کرنے سے روک دیا تھا اور وہ مال ان کے قرض کی ادائیگی کے لئے فروخت کیا گیا۔ (رواہ دارقطنی و صححہ الحاکم و اخرجہ، ابو داؤد مرسلاً) البتہ درج ذیل اشیاء قرقی سے مستثنیٰ کی جائیں گی (١) مفلس کے رہنے کا مکان، (٢) اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پہننے والے کپڑے، (٣) اگر تاجر ہے تو بار دانہ اور محنت کش ہے تو اس کے کام کرنے کے اوزار، (٤) اس کے اور اس کے اہل خانہ کے کھانے پینے کا سامان اور گھر کے برتن وغیرہ۔ (فقہ السنۃ، ج ٣ ص ٤٠٨) البقرة
281 البقرة
282 [٤٠١]معاہدات کی تحریر مستحب ہے واجب نہیں :۔ یہ قرآن کی سب سے لمبی آیت ہے جس میں ادھار سے تعلق رکھنے والے معاملات کو ضبط تحریر میں لانے کی ہدایات دی جارہی ہے۔ مثلاً جائیدادوں کے بیع نامے، بیع سلم کی تحریر یا ایسے تجارتی لین دین کی تحریر جس میں پوری رقم یا اس کا کچھ حصہ ابھی قابل ادائیگی ہو۔ تاکہ بعد میں اگر کوئی نزاع پیدا ہو تو یہ تحریر شہادت کا کام دے سکے اور یہ حکم استحباباً ہے واجب نہیں۔ چنانچہ اگر فریقین میں باہمی اعتماد اتناد زیادہ ہو کہ باہمی نزاع کی صورت کا امکان ہی نہ ہو یا محض قرض کا معاملہ ہو اور اس طرح موثق تحریر سے کسی فریق کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہو تو محض یادداشت کے لئے کوئی فریق اپنے پاس ہی لکھ لے تو یہ بھی کافی ہوسکتا ہے۔ [٤٠٢] ہمارے ہاں آج کل ایسی تحریروں کے سند یافتہ ماہرین موجود ہیں جنہیں وثیقہ نویس کہا جاتا ہے۔ وثیقہ نویس تقریباً انہی اصولوں کے تحت سرکاری کاغذات پر ایسے معاہدات لکھ دیتے ہیں اور چونکہ یہ ایک مستقل فن اور پیشہ بن چکا ہے۔ لہٰذا ان کے انکار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ الا یہ کہ معاملہ میں کوئی قانونی سقم ہو۔ [٤٠٣] نادان اور بے سمجھ کےحقوق کی حفاظت :۔ یعنی معاہدہ کی املا اس شخص کو کروانی چاہئے جو مقروض ہو کیونکہ ادائیگی کا بار اس کے سر پر ہے۔ ہاں اگر وہ لکھوانے کی پوری سمجھ نہیں رکھتا تو اس کا ولی (سرپرست) اس کے وکیل کی حیثیت سے اس کی طرف سے لکھوا سکتا ہے۔ یہ ولی اس کا کوئی رشتہ دار بھی ہوسکتا ہے اور غیر رشتہ دار بھی۔ جو سمجھدار ہو اور مقروض کا خیر خواہ ہو یا معروف معنوں میں وکیل بھی ولی کی حیثیت سے املا کروا سکتا ہے۔ [٤٠٤]شہادت کانصاب :۔ تحریر کے بعد اس تحریر پر دو ایسے مسلمان مردوں کی گواہی ہونا چاہئے جو معاشرہ میں قابل اعتماد سمجھے جاتے ہوں۔ اور اگر معاملہ ذمیوں کے درمیان ہو تو گواہ ذمی بھی ہوسکتے ہیں۔ اور اگر بوقت تحریر دو مسلمان قابل اعتماد گواہ میسر نہ آئیں تو ایک مرد اور دو عورتیں بھی گواہ بن سکتی ہیں۔ اور اگر ایک بھی مرد میسر نہ آئے تو چار عورتیں گواہ نہیں بن سکتیں۔ اور گواہی کا یہ نصاب صرف مالی معاملات کے لئے ہے۔۔ مثلاً زنا اور قذف کے لئے چار مردوں ہی کی گواہی ضروری ہے۔ چوری اور نکاح و طلاق کے لئے دو مردوں ہی کی گواہی ہوگی۔ افلاس (دیوالیہ) کے لئے اس قبیلے کے تین مردوں کی، رؤیت ہلال کے لئے صرف ایک مسلمان کی اور رضاعت کے ثبوت کے لئے صرف ایک متعلقہ عورت (دایہ) ہی گواہی کے لئے کافی ہوتی ہے۔ [٤٠٥] اس سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر رکھی گئی ہے اور حدیث کی رو سے یہ عورتوں کے نقصان عقل کی بنا پر ہے۔ اور دوسرے یہ کہ زبانی گواہی کی ضرورت اس وقت پیش آئے گی جب اس معاملہ کی ایسی جزئیات میں نزاع پیدا ہوجائے جنہیں تحریر میں نہ لایا جاسکا ہو اور معاملہ عدالت میں چلا جائے۔ ورنہ تحریر تو کی ہی اس لئے جاتی ہے کہ بعد میں نزاع پیدا نہ ہو۔ اور شہادتیں پہلے سے ہی اس تحریر پر ثبت کی جاتی ہے۔ جب سے اہل مغرب نے مساوات مرد و زن کا نعرہ لگایا ہے اور جمہوری نظام نے عورت کو ہر معاملہ میں مرد کے برابر حقوق عطا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت سے اس آیت کے اس جملہ کو بھی مسلمانوں ہی کی طرف سے تاویل و تضحیک کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ دو عورتوں کی شہادت کو ایک مرد کے برابر کرکے اسلام نے عورتوں کے حقوق کی حق تلفی کی ہے۔ پاکستان میں اپوا کی مغرب زدہ مہذب خواتین نے بڑی دریدہ دہنی سے کام لیا اور اس کے خلاف ان عورتوں نے جلوس نکالے اور بینر لکھوائے گئے کہ اگر عورت کا حق مرد سے نصف ہے تو فرائض بھی نصف ہونے چاہئیں عورتوں پر اڑھائی نمازیں، پندرہ روزے اور نصف حج فرض ہونا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ طبقہ اڑھائی نمازیں تو درکنار ایک نماز بھی پڑھنے کا روادار نہیں۔ وہ خود اسلام سے بیزار ہیں ہی، ایسے پراپیگنڈے سے ایک تو وہ حکومت کو مرعوب کرنا چاہتی ہیں کہ وہ ایسا کوئی قانون نہ بنائے جس سے عورت کی حق تلفی ہوتی ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ دوسری سادہ لوح مسلمان عورتوں کو اسلام سے برگشتہ کرسکیں۔ عورت کی گواہی اور مساوات مردوزن :۔ حالانکہ یہاں حقوق و فرائض کی بحث ہے ہی نہیں۔ آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری عورت اسے یاد دلا دے۔ اس میں نہ عورت کے کسی حق کی حق تلفی ہوتی ہے اور نہ اس کی تحقیر ہوتی ہے۔ بات صرف نسیان کی ہے اور وہ بھی اس جزئیات میں جو تحریر میں آنے سے رہ گئی ہوں۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عورت بھول سکتی ہے تو کیا مرد نہیں بھول سکتا۔ تو اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ اسلامی قانون عام حالات کے مطابق وضع کئے گئے ہیں اور ان کا واضع خود اللہ تعالیٰ ہے۔ جو اپنی مخلوق کی خامیوں اور خوبیوں سے پوری طرح واقف ہے۔ عورت پر حیض، نفاس اور حمل اور وضع حمل کے دوران کچھ ایسے اوقات آتے ہیں جب اس کا دماغی توازن برقرار نہیں رہ سکتا۔ اور حکمائے قدیم و جدید سب عورت کی ایسی حالت کی تائید و توثیق کرتے ہیں۔ ان مغرب زدہ خواتین کا یہ اعتراض بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہ کہہ دے کہ مرد اپنی جسمانی ساخت اور قوت کے لحاظ سے عورت سے مضبوط ہوتا ہے۔ لہٰذا حمل اور وضع حمل کی ذمہ داریاں مرد پر ڈالنا چاہئے تھیں نہ کہ عورت پر جو پہلے ہی مرد سے کمزور ہے۔ اور اس مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ عورت اپنی اصل کے لحاظ سے ایسی عدالتی کاروائیوں سے سبکدوش قرار دی گئی ہے۔ اب یہ اسلام کا اپنا مزاج ہے کہ وہ عورت کو گھر سے باہر کھینچ لانے کو پسند نہیں کرتا۔ جبکہ موجودہ مغربی تہذیب اور نظام جمہوریت اسلام کے اس کلیہ کی عین ضد ہے۔ عورت کی گواہی کو صرف اس صورت میں قبول کیا گیا ہے جب کوئی دوسرا گواہ میسر نہ آسکے اور اگر دوسرا گواہ میسر آجائے تو اسلام عورت کو شہادت کی ہرگز زحمت نہیں دیتا۔ مختلف مواقع پر عورت کی گواہی مختلف قدروقیمت:۔ عورت کے اسی نسیان کی بنا پر فوجداری مقدمات میں اس کی شہادت قابل قبول نہیں کیونکہ ایسے مقدمات میں معاملہ کی نوعیت سنگین ہوتی ہے۔ مالی معاملات میں عورت کی گواہی قبول تو ہے لیکن دو عورتوں کو ایک مرد کے برابر رکھا گیا ہے۔ اور عائلی مقدمات میں چونکہ زوجین ملوث ہوتے ہیں اور وہ ان کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ جہاں نسیان کا امکان بہت ہی کم ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسے مقدمات میں میاں بیوی دونوں کی گواہی برابر نوعیت کی ہوگی اور وہ معاملات جو بالخصوص عورتوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ وہاں عورت کی گواہی کو مرد کے برابر ہی نہیں بلکہ معتبر قرار دیا گیا ہے مثلاً مرضعہ اگر رضاعت کے متعلق گواہی دے تو وہ دوسروں سے معتبر سمجھی جائے گی۔ خواہ یہ دوسرے کوئی عورت ہو یا مرد ہو۔ ان تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں نہ عورت کی تحقیر بیان ہوئی ہے اور نہ کسی حق کی حق تلفی کی گئی ہے بلکہ رزاق عالم نے جو بھی قانون عطا فرمایا ہے وہ کسی خاص مصلحت اور اپنی حکمت کاملہ سے ہی عطا فرمایا ہے اور جو مسلمان اللہ کی کسی آیت کی تضحیک کرتا یا مذاق اڑاتا ہے اسے اپنے ایمان کی خیر منانا چاہئے۔ اور ایسے لوگوں کو اسلام سے منسلک رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ دل سے تو وہ پہلے ہی اللہ کے باغی بن چکے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو اسلام کو کافروں سے بھی زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ [٤٠٦] یعنی جب نزاع کی صورت پیدا ہو کر معاملہ عدالت میں چلا جائے اور انہیں زبانی گواہی دینے کے لئے بلایا جائے تو انہیں انکار نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ یہ بات کتمان شہادت کے ذیل میں آتی ہے جو گناہ کبیرہ ہے۔ [٤٠٧] اس جملہ میں انسان کی ایک فطری کمزوری کو واضح کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ فریقین خواہ کس قدر قابل اعتماد ہوں اور ان میں نزاع کی توقع بھی نہ ہو اور معاملہ بھی خواہ کوئی چھوٹا سا ہو تاہم بھول چوک اور نسیان کی بنا پر فریقین میں نزاع یا بدظنی پیدا ہوسکتی ہے۔ لہٰذا باقاعدہ دستاویز نہ سہی فریقین کو یا فریقین میں سے کسی اذیک کو یادداشت کے طور پر ضرور لکھ لینا چاہئے۔ [٤٠٨] یہ حکم صرف اس صورت میں ہے جبکہ لین دین کا کوئی اہم معاملہ ہو اور لین دین کرنے کے بعد بھی اس میں نزاع کا احتمال موجود ہو۔ [٤٠٩]گواہوں پرسختی کی صورتیں :۔ اس کی کئی صورتیں ممکن ہیں مثلاً ایک یہ کہ کسی شخص کو کاتب بننے یا گواہ بننے پر مجبور نہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ کاتب یا گواہ کی گواہی اگر کسی فریق کے خلاف جاتی ہے تو انہیں تکلیف نہ پہنچائے جیسا کہ آج کل مقدمات میں اکثر ایسا ہوتا ہے اور فریق مخالف گواہوں کو یا وثیقہ نویس کو اس قدر دھمکیاں اور تکلیفیں دینا شروع کردیتا ہے کہ وہ گواہی نہ دینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں یا پھر غلط گواہی دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اور تیسری صورت انہیں نقصان پہنچانے کی یہ ہے کہ انہیں عدالت میں بلایا تو جائے لیکن انہیں آمدورفت اور کھانے پینے کا خرچہ تک نہ دیا جائے۔ البقرة
283 [٤١٠]رہن کی چار صورتیں:۔ رہن کے مطالبہ کی چار ممکنہ صورتیں ہیں مثلاً سفر ہو یا حضر ہو اور کاتب نہ مل رہا ہو، دو تو یہ ہوئیں اور دو یہ ہیں کہ سفر یا حضر دونوں جگہ کاتب مل سکتا ہے مگر قرض دینے والا محض تحریر پر اعتماد نہیں کرتا اور اپنے قرضہ کی واپسی کی ضمانت کے طور پر رہن کا بھی مطالبہ کرتا ہے اور یہ کہ رہن خواہ تحریر کے ساتھ ہو یا تحریر کے بغیر صرف رہن ہو۔ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک یہودی (ابوشحم) سے ادھار اناج خریدا (تیس صاع جو، اپنی خانگی ضرورت کے لئے) اور آپ نے اپنی زرہ بطور رہن اس کے پاس رکھی تھی (بخاری۔ کتاب الرہن، باب فی الرہن فی الحضر) اور یہ رہن حضر میں تھا اور بلا تحریر تھا۔ چنانچہ ان چاروں صورتوں میں رہن جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو ان میں سے صرف ایک صورت کا ذکر فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام اپنے پیروؤں کو فیاضی کی تعلیم دینا چاہتا ہے اور یہ بات بلند اخلاق سے فروتر ہے کہ ایک آدمی مال رکھتا ہو اور وہ دوسرے ضرورت مند کی کوئی چیز رہن رکھے بغیر اسے قرض نہ دے۔ رہن کے احکام: ١۔ مرہونہ چیز کے نفع و نقصان کا ذمہ دار راہن (اصل مالک) ہی ہوتا ہے اور مرتہن (جس کے پاس رہن رکھی گئی ہو) کے پاس وہ چیز بطور امانت ہوتی ہے مثلاً زید نے بکر کے پاس گائے رہن رکھی تھی۔ وہ گائے مر گئی یا چوری ہوگئی تو یہ نقصان زید کا ہوگا بکر کا نہیں۔ اسی طرح اگر گائے نے بچہ جنا تو گائے اور بچہ دونوں زید کے ہوں گے بکر کے نہ ہوں گے۔ چنانچہ سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : ’’گروی رکھنا کسی مرہونہ چیز کو اس کے اصل مالک سے نہیں روک سکتا۔ اس کا فائدہ بھی اسی کے لئے ہے اور اس کا نقصان بھی اسی پر ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ۔ کتاب البیوع۔ باب المسلم والرہن۔ فصل ثانی) ٢۔ چونکہ مرہونہ چیز مرتہن کے پاس بطور امانت ہوتی ہے۔ اس لئے وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ مثلاً مکان ہے تو اس میں رہ نہیں سکتا نہ کرایہ پر دے سکتا ہے، زمین ہے تو اس میں کاشت نہیں کرسکتا وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ یہ سود ہوگا۔ الا یہ کہ وہ ایسا فائدہ راہن کے حوالہ کردے یا اصل قرضہ کی رقم سے وضع کرتا جائے۔ ٣۔ مگر جن چیزوں پر مرتہن کو کچھ خرچ بھی کرنا پڑے تو ان سے فائدہ اٹھانے کا بھی حقدار ہوگا۔ مثلاً مرہونہ چیز گائے ہے تو اسے چارہ وغیرہ ڈالنے کے عوض اس کا دودھ بھی استعمال کرسکتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ مرہونہ جانور کی پیٹھ سواری کے لئے شیردار مرہونہ جانور کا دودھ پینے کے لئے اس کے اخراجات کے عوض جائز ہے۔ اور جو شخص سواری کرتا یا دودھ پیتا ہے تو اسی کے ذمہ اس کا خرچہ ہے۔‘‘ (بخاری : کتاب الرہن۔ باب الرہن مرکوب و محلوب) [٤١١] یعنی قرض خواہ کا قرضہ یا جو چیز اس نے لی ہو۔ [٤١٢]دل ہی خیر وشرکامنبع ہے:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا : سن لو! بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ایسا ہے کہ جب وہ درست ہو تو سارا جسم ہی درست ہوتا ہے اور وہ بگڑ جائے تو سارا جسم ہی بگڑ جاتا ہے۔ یاد رکھو! وہ ٹکڑا (انسان کا) دل ہے۔ (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب فضل من استبرء لدینہ) اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب انسان کوئی گناہ کا کام کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے پھر اگر انسان توبہ کرلے تو وہ نقطہ دھل جاتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے بلکہ مزید گناہ کئے جائے تو وہ نقطہ بڑھتا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کے سارے دل کو گھیر لیتا ہے اور اسے سیاہ کردیتا ہے۔ (مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب رفع الامانۃ والایمان من بعض الذنوب۔۔) گویا پہلے گناہ دل پر اثر انداز ہوتے ہیں اور نیت میں فتور آتا ہے پھر وہ گناہ کا کام صادر ہوتا ہے۔ پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب انسان کا دل پوری طرح سیاہ ہوجاتا ہے اس وقت انسان کا دل اس کی سوچ اور فکر پر اثرانداز ہوتا ہے پھر وہ جو بات بھی سوچے گا غلط اور معصیت کی بات ہی سوچے گا۔ دل کی ایسی حالت کو اللہ تعالیٰ نے آثم قلبہ سے تعبیر کیا ہے اور شہادت کو چھپانے والے ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں۔ البقرة
284 [٤١٣]دل کےخیالات پر گرفت نہیں:۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر ہوا ہے۔ (i) مِلک، یعنی وہ ہر چیز کا مالک ہے، (ii) علم، یعنی اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ دلوں کے راز تک جانتا ہے، (iii) قدرت، یعنی اسے سزا دینے اور معاف کردینے کے کلی اختیارات حاصل ہیں اور یہی تین صفات ذرا تفصیل کے ساتھ آیت الکرسی میں بیان کی گئی ہیں جس سے مقصود یہ ہے کہ عبادات اور معاملات سے متعلق جو بے شمار احکام دیئے گئے ہیں۔ مسلمان کو اس کی تعمیل میں نہ حیلوں بہانوں سے کام لینا چاہئے اور نہ سینہ زوری اور ظلم و زیادتی سے۔ بلکہ اللہ سے ڈر کر اس کی مرضی کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔ کیونکہ کسی بھی ظاہری یا پوشیدہ امر میں انسان اس کی نافرمانی کرکے نجات نہیں پاسکتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے ہمیں غمزدہ بنا دیا ہم نے خیال کیا کہ اگر کسی کے دل میں گناہ کا خیال بھی آئے تو اس کا بھی حساب ہوگا کہ پھر معلوم نہیں کہ اس کی معافی ہو یا نہ ہو، اور یہ بات انسان کے اختیار سے باہر ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے شکایت کی تو آپ نے فرمایا : کہو! ہم نے (اللہ کا ارشاد) سنا اور ہم اطاعت کرتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسا ہی کہا تو پھر ﴿ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ﴾ سے لے کر اگلی دو آیات نازل ہوئیں اور ﴿لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا﴾ نے اس آیت نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔ (ترمذی۔ کتاب التفسیر۔۔) یعنی دل میں پیدا ہونے والے خیالات پر گرفت معاف کردی گئی۔ البقرة
285 [٤١٤] ایمان بالغیب کے چھ اجزاء:۔ یہ سب ایمان بالغیب کے اجزاء ہیں۔ جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس سورۃ کی ابتداء میں اجمالاً بیان ہوئے تھے یہاں قدرے تفصیل ہے۔ ایمان بالغیب کے کل چھ اجزاء ہیں۔ جن میں چار یہاں مذکور ہیں۔ یعنی اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور جو یہاں مذکور نہیں ہوئے بلکہ دوسرے مقامات پر مذکور ہیں وہ ہیں روز آخرت پر ایمان اور اس بات پر ایمان کہ ہر طرح کی بھلائی اور برائی اللہ ہی طرف سے ہوتی ہے۔ اور یہ سب اشیاء ایسی ہیں جن کا ادراک حواس خمسہ سے ناممکن ہے اور وہ انسان کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ ان میں سے کتابیں اور رسول انسانوں کو نظر تو آتے ہیں۔ لیکن اس یقین کا انسان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ فلاں کتاب فی الواقعہ اللہ کی طرف نازل شدہ ہے اور فلاں رسول واقعی اللہ کا رسول ہے۔ یہ یقین اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب پہلے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر ایمان لایا جائے۔ اللہ کی طرف سے جب فرشتہ اللہ کا پیغام لے کر رسول پر نازل ہوتا ہے۔ تو سب سے پہلے رسول اپنی رسالت پر اور اللہ کی طرف سے ملے ہوئے احکام پر ایمان لاتا اور ان احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے اور عمل پیرا ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کو دوسرے مقامات پر ﴿وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ﴾ اور ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے پھر اس کے بعد رسول دوسرے لوگوں کو اپنی رسالت پر ایمان لانے اور منزل من اللہ احکام کو بجا لانے کی دعوت دیتا ہے۔ پھر جو لوگ بھی رسول پر ایمان لاتے ہیں۔ ان کے لئے اپنے سے پہلے کے رسولوں اور پہلی نازل شدہ کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ ایمان اجمالی ہوتا ہے تفصیلی نہیں ہوتا۔ کیونکہ نیا رسول آتا ہی اس وقت ہے جب سابقہ رسول کی کتاب میں تحریف و تاویل کرکے اس کا حلیہ بگاڑ دیا جاتا ہے اور اس کی تعلیم کو مسخ کردیا جاتا یا کچھ کا کچھ بنا دیا جاتا ہے۔ گویا اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تفصیلی ایمان لانا ضروری ہے۔ اور آپ پر تفصیلی ایمان کا مطلب آپ پر منزل من اللہ شریعت کے ایک ایک جزء کو واجب الاتباع سمجھنا اور اس کے مطابق عمل پیرا ہونا اور اپنی زندگی کو اس سانچہ میں ڈھالنا ہے اور سابقہ کتابوں پر اجمالی ایمان کا مطلب ہے کہ ان کتابوں میں جو باتیں شریعت اسلامیہ کے مطابق ہیں انہیں منزل من اللہ سمجھا جائے۔ اور جو مخالف ہیں انہیں لوگوں کا اضافہ یا تحریف سمجھا جائے اور جو باتیں نہ مطابق ہوں اور نہ مخالف، ان کی نہ تصدیق کی جائے اور نہ تکذیب۔ [٤١٥]رسولوں میں تفریق کا مطلب :۔ رسولوں میں فرق کرنے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ کسی کو تو اللہ کا رسول مانا جائے اور کسی کو نہ مانا جائے۔ جیسے یہود نہ عیسیٰ علیہ السلام کو رسول مانتے تھے اور نہ نبی اکرم کو اور عیسائی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کا نبی نہیں سمجھتے تھے۔ جبکہ مسلمان ان سب کو اللہ کے نبی اور رسول مانتے ہیں۔ ان کے نبی یا رسول ہونے میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ بلحاظ نبوت سب انبیاء کا درجہ برابر اور وہ سب ایک سطح پر ہوتے ہیں اور باقی تمام مخلوقات سے افضل ہوتے ہیں۔ ایسی ہی صورت کو ختم کرنے کے لئے آپ نے فرمایا کہ کسی کو ایسا کہنا درست نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ : ’’جو شخص یوں کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اس نے جھوٹ بولا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر، تفسیر آیت ﴿اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ کَمَآ ..... ﴾ انبیاء کی ایک دوسرے پر فضیلت کس لحاظ سے ؟ پھر جس طرح تمام انسان، انسان ہونے کے لحاظ سے ایک سطح پر ہوتے ہیں لیکن ان میں کچھ اچھے اور کچھ برے، کوئی عادل، کوئی ظالم، کوئی مشرک، کوئی موحد غرضیکہ ان کی بے شمار اقسام بن جاتی ہیں۔ اسی طرح تمام مسلمان، مسلمان ہونے کے لحاظ سے یا بالفاظ دیگر قانونی لحاظ سے تو ایک سطح پر ہوتے ہیں لیکن ان کے اعمال صالحہ اور غیر صالحہ کی بنا پر ان کی کئی اقسام بن جاتی ہیں، بعینہ اسی طرح تمام انبیاء اگرچہ نبوت کے لحاظ سے ایک سطح پر ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔ مگر فضائل کے لحاظ سے ان میں بھی فرق ہوتا ہے اور یہ فرق قرآن کریم کی اس آیت ﴿ تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ﴾سے ثابت ہے، اور بے شمار احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب انبیاء سے افضل ہیں۔ البقرة
286 [٤١٦]جزااورسزاکاکلیہ :۔ اس جملہ میں اللہ تعالیٰ اپنے قانون سزا و جزا کا کلیہ بیان فرما دیا۔ یعنی جو کام کسی انسان سے استطاعت سے بڑھ کر ہیں ان پر انسان سے باز پرس نہیں ہوگی، باز پرس تو صرف اسی بات پر ہوگی جو انسان کے اختیار اور استطاعت میں ہو اور جہاں انسان مجبور ہوجائے وہاں گرفت نہ ہوگی۔ مگر اس اختیار، استطاعت اور مقدرت کا فیصلہ انسان کو نہایت نیک نیتی سے کرنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو دلوں کے راز تک جانتا ہے۔ [٤١٧] اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون جزا و سزا کا دوسرا کلیہ بیان فرمایا جو یہ ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے خود کمایا ہو اور وہ ضرور اسے ملے گا اور جو کوئی برا کام کیا ہو تو اس کی سزا بھی اسے ہی ملے گی اور ضرور ملے گی نہ یہاں آباؤ اجداد کی نیکی کام آسکتی ہے اور نہ اس کا نسب، یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ کسی شخص نے کسی نیک کام کی بنیاد رکھ دی ہو جس کے اثرات اس کی موت کے بعد بھی جاری رہیں۔ تو اس میں نیکی کے کام میں اس کو بھی برابر کا حصہ ملتا رہے گا۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی برے کام کی بنیاد رکھی ہو۔ اور اس کی موت کے بعد بھی اس کے اثرات جاری رہیں تو وہ اس برائی کے گناہ میں بھی برابر کا حصہ دار ہوگا اور یہ اصول قرآن کریم اور بہت سے احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ بہرحال یہ ممکن نہیں کہ جس بھلائی یا برائی میں انسان کی نیت اور سعی و عمل کو کچھ دخل نہ ہو، اس کی جزا و سزا یا اس میں سے کچھ حصہ اسے مل سکے۔ [٤١٨] خطا ونسیان کی معافی کا اعلان :۔ اللہ تعالیٰ نے دعا کا یہ جملہ خود ہی مسلمانوں کو سکھلا کر نہ صرف ان کے سابقہ خلجان کو ختم کردیا بلکہ مزید تسلی و تشفی کا سامان بھی مہیا فرما دیا۔ ان کا خلجان یہ تھا کہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات جو ہمارے اپنے اختیار میں نہیں ہوتے ان پر مواخذہ نہ ہو اور اس آیت کی رو سے ظاہری اعمال جو بھول چوک سے صادر ہوں ان سے بھی معافی کی درخواست سکھلائی گئی اور جب دعا قبول کرنے والا ہی یہ دعا سکھلا رہا ہو تو اس کی قبولیت میں کیا شک ہوسکتا ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ میری امت سے خطاو نسیان کو معاف کردیا گیا ہے۔ [٤١٩] سابقہ شریعتوں کے احکام:۔ یہاں بوجھ سے مراد سخت قسم کے شرعی احکام ہیں۔ جیسے بچھڑے کی پرستش کرنے والوں کی توبہ صرف قتل سے قابل قبول ہونا، یہود میں صرف قصاص تھا، دیت یا معافی کی صورت نہ تھی۔ ان پر زکوٰۃ چوتھا حصہ تھی اور کپڑے پر اگر پیشاب لگ جاتا تو اسے کاٹ دینا پڑتا تھا، نیز غنیمت کے اموال ان پر حرام تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے سخت احکام میں تخفیف فرما دی۔ [٤٢٠] یہ آیات اس دور میں نازل ہوئیں جب کافروں سے شدید محاذ آرائی تھی اور بہت سے نازک موقعوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی دعائیں مانگی ہیں۔ بالخصوص غزوہ بدر اور غزوہ خندق کے موقعہ پر آپ نے جو دعائیں فرمائیں ان کا ذکر کثرت سے صحیحہ احادیث میں مذکور ہے۔ [٤٢١]اس سورہ کی آخری دوآیات کی فضیلت :۔ اس دعا کے اختتام پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے آمین کہنا ثابت ہے اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان آیتوں کے بعد آمین کہنے کی ترغیب دی۔ (ابن کثیر) نیز آپ نے فرمایا: کہ جو شخص رات کو (سوتے وقت) سورۃ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے تو وہ اس کو کفایت کرتی ہیں۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب شہود الملائکۃ بدرا) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت و استعانت اس کے شامل حال رہتی ہے۔ البقرة
0 [١]فضیلت آل عمران:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ بقرہ اور سورۃ آل عمران کو الزَّھْرَاوَیْنَ یعنی دو جگمگانے والی سورتیں، فرمایا اور امت کو ان کے پڑھتے رہنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ انہیں پڑھا کرو۔ قیامت کے دن وہ اس حال میں آئیں گی جیسے دو بادل یا دو سائبان یا پرندوں کے دو جھنڈ ہیں، اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے (اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت کے لیے جھگڑا کریں گی۔ (مسلم، کتاب الصلٰوۃ، باب فضل، قراءۃ القرآن و سورۃ البقرۃ) قرآن کریم کے علوم میں سے ایک علم مخاصمہ ہے۔ یعنی وہ علم جس کے ذریعہ باطل فرقوں کے عقائد و نظریات کی تردید کی گئی ہے۔ نزول قرآن کے وقت اکثر تین فرقے قرآن پاک کے مخاطب رہے جو مسلمانوں کے حریف تھے : مشرکین، یہود اور نصاریٰ، سورۃ بقرہ میں مشرکین کے علاوہ یہود پر اللہ کے انعامات، ان کی عہد شکنیوں اور ان کے عقائد باطلہ کا تفصیلی طور پر ذکر ہوا تھا جب کہ اس سورۃ آل عمران میں مشرکوں کے علاوہ نصاریٰ کے عقائد باطلہ کا تفصیلی طور پر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آل عمران
1 الف، لام، میم آل عمران
2 [٢]الٰہ کی لازمی صفات :۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ حقیقی الٰہ وہی ہوسکتا ہے جو ہمیشہ سے زندہ و قائم ودائم ہو اور پوری کائنات کے انتظام کو سنبھالنے والا اور اس نظام میں قدرت و تصرف کے پورے اختیار رکھتا ہو۔ جس الٰہ میں یہ صفات نہ پائی جائیں وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔ اس معیار کے مطابق تمام معبودان باطل خواہ وہ جاندار ہوں، موجود ہوں یا فوت ہوگئے ہوں اور خواہ بے جان ہوں سب کی نفی ہوگئی۔ آل عمران
3 آل عمران
4 [٣] قرآن فرقان کیسے ہے؟پہلی کتابوں میں تورات، زبور، انجیل، صحف آدم، صحف ابراہیم اور صحف موسیٰ سب شامل ہیں اور یہ کتاب (قرآن کریم) اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ کتب مذکورہ فی الواقعہ منزل من اللہ ہیں۔ تصدیق سے مراد یہ ہرگز نہیں کہ آج کل کی بائبل میں جو مواد پایا جاتا ہے۔ وہ سب منزل من اللہ ہے۔ کیونکہ قرآن کریم ہی سے ثابت ہے کہ اہل کتاب نے، خواہ وہ یہود ہوں یا نصاریٰ اپنی کتابوں میں تحریف کر ڈالی ہے۔ تورات سے مراد یا تو وہ احکام عشرہ ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تختیوں کی صورت میں عطا ہوئے تھے یا وہ وحی منزل من اللہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ لیکن موجودہ بائیبل کے عہد نامہ قدیم میں جسے تورات کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سا مواد شامل کردیا گیا ہے اور انجیل دراصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خطابات اور مواعظ کے مجموعہ کا نام ہے جو آپ منزل من اللہ وحی کی روشنی میں لوگوں کو بتلاتے رہے۔ انجیل چونکہ آپ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے مدتوں بعد آپ کے کئی حواریوں نے اپنے طور پر مرتب کی۔ اس لیے اس میں شدید اختلافات بھی ہیں اور اس کے مواد میں مزید بہت سے اضافہ کردیے گئے ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان باتوں کے متعلق جن کے متعلق قرآن کریم خاموش ہے۔ مسلمانوں کو یہ ہدایت فرما دی کہ تم اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب۔ (بخاری، کتاب التفسیر، باب ﴿قُوْلُوْا آمَنَّا باللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْنَا﴾ رہی وہ باتیں جو قرآن کے خلاف ہیں تو ان کے غلط ہونے میں کوئی شک ہی نہیں۔ کیونکہ وحی الٰہی کی اصولی باتوں میں اختلاف ممکن نہیں اور یہی کچھ قرآن کریم کے حق و باطل میں فرق کرنے کا مطلب ہے اور آج ہم بائیبل کے صرف اس حصہ کو یقینی طور پر منزل من اللہ کہہ سکتے ہیں۔ جو قرآن کے مطابق ہو اور سابقہ الہامی کتابوں پر ایمان لانے کا یہی مطلب ہے۔ [٤] یہ سزا دنیا میں بھی مل چکی اور آخرت میں بھی ملے گی۔ دنیا میں اس طرح کہ آپ کی زندگی میں ہی اللہ تعالیٰ نے اسلام کو سربلند فرمایا اور اسلام کے مخالفین سب کے سب خواہ وہ مشرکین تھے یا منافقین، یہودی تھے یا نصاریٰ ذلیل و رسوا ہوئے، قتل ہوئے، قیدی بنے، جلاوطن ہوئے یا جزیہ ادا کیا۔ رہا عذاب آخرت تو اس بارے میں وضاحت فرما دی کہ اللہ تعالیٰ زور آور ہے، بدلہ لینے والا ہے، یعنی وہ بدلہ لینے کی پوری طاقت رکھتا ہے اور یقینا ان سے بدلہ لے گا۔ آل عمران
5 آل عمران
6 [٥] تخلیق انسان میں اللہ کی قدرت کاملہ:۔ یعنی نطفہ کو کئی مراحل سے گزار کر اسے انسان کی شکل میں پیدا کرتا ہے اور اس کی قدرت کاملہ کا یہ حال ہے دنیا میں کروڑوں، اربوں، انسان پیدا ہوچکے ہیں لیکن کسی کی شکل و صورت دوسرے سے کلی طور پر نہیں ملتی۔ بنیادی اختلاف تو صرف تین قسم کے ہوتے ہیں۔ رنگ کا اختلاف قدو قامت کا اختلاف اور نقوش کا اختلاف لیکن محض ان تین قسم کے اختلاف سے اربوں انسانوں میں سے ہر ایک کو مابہ الامتیاز شکل و صورت عطا فرمانا اسی وحدہ لاشریک کی قدرت کاملہ کا کارنامہ ہے اور اس کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہے کہ اس نے استقرار حمل سے لے کر بعد کے تمام مراحل میں جنین کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت تک کو بھی پورا کرنے کا اہتمام فرمایا اور پیدا ہونے کے بعد اس کے جسم اور روح کی تربیت کے لیے جن جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ اس کے لیے مہیا فرما دیں۔ اس سے پہلی آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ یہ گویا ایک دعویٰ تھا جس کا ثبوت اس آیت میں دیا گیا کہ جو ہستی رحم کی تاریکیوں میں جنین کی پرورش کرنے پر قادر ہے۔ اس سے کوئی چیز بھلا پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ اس آیت میں تو مصالح جسمانیہ کا ذکر تھا اور اگلی آیت میں انسان کے مصالح روحانیہ کا ذکر ہے۔ آل عمران
7 [٦] محکمات کیاہیں اور متشابہات کیا؟ محکم آیات وہ ہیں جن کا مطلب واضح ہو، ان میں کسی قسم کا اشتباہ نہ ہو اور نہ ہی کوئی دوسرا مطلب لیا جاسکتا ہو اور ان سے مراد حلال و حرام سے متعلق احکام اور اوامر و نواہی ہیں، اور یہی چیزیں انسان کی ہدایت کے لیے کافی ہیں۔ چونکہ قرآن کا اصل موضوع انسان کی ہدایت ہے اور محکمات سے انسان کو پوری رہنمائی مل جاتی ہے۔ لہٰذا محکمات کو ہی ام الکتاب کا نام دیا گیا اور یہی وہ آیات ہیں جن کے متعلق قرآن کا دعویٰ ہے کہ ہم نے قرآن کو آسان بنا دیا ہے۔ [٧] متشابہات ایسی آیات ہیں جن کا مفہوم ذہن انسانی کی دسترس سے بالا ہوتا ہے۔ انسان کی عقل چونکہ محدود ہے اور کائنات اور اس کے حقائق لامحدود ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ جب ایسے حقائق کو بیان فرماتے ہیں تو ایسے الفاظ استعمال فرماتے ہیں جو حقیقت سے قریب تر ہوں اور انسانی فہم سے بھی۔ ان آیات کا ٹھیک ٹھیک مفہوم چونکہ انسانی ذہن میں نہیں آسکتا اس لیے ان میں اشتباہ کی گنجائش ہوتی ہے اور ہر شخص اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اس کی تاویل کرنے لگتا ہے۔ یہ واضح رہے کہ ایسی آیات عموماً ذات و صفات الٰہی سے متعلق ہی ہوتی ہیں جیسے ﴿ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ﴾اور ﴿ اَلرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی﴾ اب اس بات کے پیچھے پڑنا کہ اللہ کا عرش کیسا ہے، وہ خود کیسا ہے اور کس طرح عرش پر بیٹھا ہے۔ اس قسم کی سوچ سراسر گمراہی ہے۔ کیونکہ اللہ نے خود ہی فرما دیا ہے کہ ﴿لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ﴾ [٨]متشابہات کےپیچھے پڑنےوالے :۔ واضح رہے کہ گمراہ فرقوں کی اکثریت کا ہدف یا محل استدلال ایسی ہی متشابہ آیات ہوا کرتی ہیں مثلاً مذکورہ بالا آیات کی جب جہمیہ اور معتزلہ کو سمجھ نہ آئی اور ازروئے عقل انہوں نے اس کی تاویل کی تو استویٰ کے معنی ہی بدل کر استولیٰ (غالب آنا) کرلیے۔ ان کا نظریہ ہے کہ چونکہ اللہ ہر جگہ موجود ہے لہٰذا ایسی آیات کی تاویل لازم ہے۔ اس آیت میں وہ لوگ عرش (اور ایسے ہی بعض مقامات پر کرسی) کا معنی اقتدار اور استویٰ کے معنی استولیٰ (غالب آنا) کرکے ان آیات کو اپنے عقیدہ کے موافق بنا لیتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بتلا دیا کہ ایسی آیات کی تاویل کا صحیح مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے (قرآن کریم میں) انہی لوگوں کا ذکر کیا ہے، لہٰذا ان سے بچو۔‘‘ (بخاری، کتاب التفسیر، تفسیر آیت مذکور) متشابہات کی دوسری قسم ذومعنی الفاظ ہیں۔ جیسے عربی زبان اور اسی طرح کئی دوسری زبانوں میں بھی، ابن یا بیٹا صرف اپنے حقیقی بیٹے کو ہی نہیں کہتے بلکہ اپنے چھوٹے بھائی، غلام اور نوکر کو بھی از راہ شفقت و پیار بیٹا کہہ دیتے ہیں۔ اسی لفظ سے یہود کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ وہ واقعی اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں اور نصاریٰ کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ عیسیٰ علیہ السلام واقعی اللہ کے بیٹے تھے ان لوگوں کے اس باطل خیال کی قرآن کریم میں کئی مقامات پر تردید کی گئی ہے۔ اسی طرح آغاز کائنات اور زمین و آسمان کی تخلیق کے متعلق سوال کرنے والوں کا جواب دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورۃ حم السجدہ کی آیت نمبر ١٠ میں فرمایا ﴿سَوَاۗءً لِّلسَّاۗیِٕلِیْنَ﴾ (یعنی سوال کرنے والوں کا جواب پورا ہوا) اب چونکہ سواء اور سائل دونوں الفاظ ذومعنی ہیں لہٰذا اشتراکی ذہن رکھنے والوں نے ان الفاظ سے اپنا نظریہ کشید کرتے ہوئے کہا کہ یہ زمین سب رزق مانگنے والوں کے لیے یکساں ہے۔ لہٰذا یہ انفرادی ملکیت میں رہنے کی بجائے حکومت کی تحویل میں ہونی چاہیئے۔ اب یہ تو واضح ہے کہ اس آیت کا سیاق و سباق قطعاً ایسے نظریہ کی حمایت نہیں کرتا جس کی بنیاد ہی اللہ تعالیٰ کی ہستی کے انکار پر اٹھتی ہے۔ تاہم ایسے کج ذہن لوگوں نے مسلمانوں کو اشتراکیت کی طرف مائل کرنے کے لیے ان الفاظ سے اپنے نظریہ کی تائید کی ہے یہ بحث ذرا تفصیل سے اپنے مقام پر ملے گی۔ [٩] متشابہات کا تعلق چونکہ ایسے حقائق سے ہوتا ہے جو انسانی عقل کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں اور انسان کی ہدایت سے بھی ان کا تعلق نہیں ہوتا۔ لہٰذا عقل صحیح اور قلب سلیم رکھنے والے لوگ ان کے درپے نہیں ہوا کرتے۔ ان کا انداز فکر یہ ہوتا ہے کہ چونکہ دونوں قسم کی آیات کا منبع ایک ہی ہے اس لیے دونوں منزل من اللہ، درست اور صحیح ہیں۔ وہ متشابہات پر ایمان اس لحاظ سے رکھتے ہیں کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے ارشادات ہیں اور اس کی کنہ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ جس کی وجوہ دو ہیں۔ ایک تو ایسی آیات کا انسانی ہدایت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ دوسرے اس کی کنہ کے پیچھے پڑنے میں گمراہی کا احتمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا تفسیر ان لوگوں کے مطابق ہے جو الا اللہ پر وقف کو لازم قرار دیتے ہیں اور یہی تفسیر راجح اور انسب ہے۔ کہ علامت وقف سے بھی ظاہر ہے۔ تاہم بعض حضرات یہاں وقف کو ضروری نہیں سمجھتے اور اس کے بعد کی واو کو عاطفہ قرار دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے معنی یوں بنتا ہے کہ متشابہات کی حقیقت کو اللہ ہی جانتا ہے۔ نیز علم میں رسوخ رکھنے والے لوگ بھی جانتے ہیں لیکن یہ تفسیر اس لحاظ سے درست معلوم نہیں ہوتی کہ بے شمار متشابہات ایسے ہیں جن کی حقیقت اللہ کے علاوہ کسی راسخ فی العلم کو بھی معلوم نہیں ہوسکتی۔ جن میں سرفہرست تو حروف مقطعات ہیں۔ علاوہ ازیں اور بھی مثالیں اوپر گزر چکی ہیں جو بالخصوص اللہ کی ذات و صفات سے تعلق رکھتی ہیں۔ البتہ ذومعنی الفاظ والی آیات کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ ﴿رَاسِخُوْنَ فِیْ الْعِلْمِ﴾ اس کی حقیقت کو پاسکیں۔ آل عمران
8 [١٠] علم میں پختہ کار لوگوں کا شیوہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ وہ متشابہات کی تاویل کے پیچھے نہیں پڑتے۔ بلکہ اللہ سے یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ جو فتنہ انگیز لوگ متشابہات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ان کی فکر ہمارے فکر پر کہیں اثر انداز نہ ہوجائے اور اپنی رحمت خاص سے ہمیں ایسے فتنہ پرور لوگوں کے افکار و عقائد سے بچائے رکھ اور صحیح عقل و فکر عطا فرما۔ آل عمران
9 [١١] یعنی عقل صحیح رکھنے والے بھی اور ٹیڑھی سوچ رکھنے والے، متشابہات کے پیچھے پڑنے والے، خود گمراہ ہونے والے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے مومن و مشرک سب کو اکٹھا کرکے اور ان پر حجت قائم کرکے ان کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کرے گا۔ ایمان بالآخرت، ایمان بالغیب کا ایسا اہم جزو ہے جو انسان کی زندگی کا رخ بدلنے میں موثر کردار ادا کرتا ہے۔ لہٰذا یاددہانی کے طور پر اس نظریہ آخرت کو ﴿رَاسِخُوْنَ فِیْ الْعِلْمِ﴾ اور مومنوں کی دعا کا حصہ بنا دیا گیا۔ آل عمران
10 آل عمران
11 [١٢]کافروں کےحق میں پیش گوئی :۔ ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب کافروں کو خواہ وہ مشرکین تھے یا یہود مدینہ یا منافقین اور مشرکین مدینہ یا نصاریٰ جو اسلام کے خلاف محاذ آرائی پر اتر آئے تھے۔ متنبہ فرمایا کہ اسلام دشمنی سے باز آجاؤ ورنہ جس طرح آل فرعون اور قوم عاد، ثمود وغیرہ تباہ و برباد کئے جاچکے ہیں۔ تمہارا بھی وہی حشر ہونے والا ہے۔ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر اور گناہوں کی پاداش میں دھر لیا تھا اور تمہیں بھی دھرے گا کیونکہ اللہ اپنے مسلمان بندوں سے دشمنی رکھنے والوں کو سزا دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا۔ آل عمران
12 [١٣]یہودکاانجام :۔ اس آیت میں اگرچہ روئے خطاب سب قسم کے کافروں سے ہے تاہم یہود مدینہ بالخصوص اس آیت کے مخاطب ہیں۔ ہوا یہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر میں مسلمانوں کو فتح عظیم عطا فرمائی اور اس سے متاثر ہو کر عبداللہ بن ابی (رئیس منافقین) نے اپنے ساتھیوں سمیت اسلام قبول کرلیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے درمیان بسنے والے یہود بنو قینقاع کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ’’اے یہود! اسلام قبول کرلو تو عافیت میں رہو گے ورنہ تمہارا بھی وہی حشر ہوگا جو مشرکین مکہ کا ہوا ہے لیکن وہ بجائے نصیحت قبول کرنے کے شیخی میں آگئے کہنے لگے کہ مکہ کے کافر تو جاہل اور فنون جنگ سے ناآشنا تھے جو پٹ گئے، ہم سے سابقہ پڑا تو سمجھ آجائے گی۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ پھر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پیشین گوئی جس طرح حرف بہ حرف پورا ہوا اس پر تاریخ شاہد ہے کہ سب سے پہلے یہی یہود بنو قینقاع جلا وطن کئے گئے۔ تو انہوں نے خیبر جاکر دم لیا۔ پھر یہود بنونضیر جلاوطن ہوئے تو انہوں نے بھی خیبر کی راہ لی، پھر بنوقریظہ کی باری آئی تو قتل کئے گئے اور لونڈی و غلام بنا لیے گئے۔ پھر خیبر میں یہود کی پٹائی ہوئی تو بحیثیت مزارعہ وہاں آباد رہنے کی درخواست کی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منظور فرما لیا۔ تاہم یہود چونکہ ایک فتنہ انگیز قوم ہے ان کی شرارتوں کی بنا پر بالآخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہاں سے بھی نکال باہر کیا۔ یاد رہے کہ کافروں کے حق میں یہ پیشین گوئی اس وقت کی گئی جب مسلمانوں پر ہر وقت خوف و ہراس کی فضا طاری رہتی تھی، اگرچہ اس وقت مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی نوزائیدہ ریاست کی بنیاد پڑچکی تھی۔ لیکن وہ ہر لحاظ سے کمزور اور اقلیت میں تھے اور عرب بھر کے مشرکین، یہود اور نصاریٰ اور منافقین اس ریاست کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے پر تلے ہوئے تھے اور ان سب گروہوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی کامیابی کے آثار دور تک نظر نہیں آتے تھے۔ لیکن اللہ کی مدد مسلمانوں کے یوں شامل حال ہوئی اور حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ یہ سب فرقے باری باری مات کھاتے گئے اور چند ہی سال بعد عرب بھر میں اسلام کا بول بالا ہوگیا۔ آل عمران
13 [١٤]کافروں کومسلمانوں کی تعداد دوگنا نظرآنا:۔ اس آیت میں روئے سخن سب قسم کے کافروں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان جنگ کا نقشہ پیش فرمایا ہے۔ مسلمان تعداد میں تہائی سے بھی کم تھے۔ تین سو تیرہ اور یہ بعینہ وہی تعداد تھی جو طالوت کے لشکر کی تھی۔ جبکہ مشرکین مکہ کی تعداد ایک ہزار تھی۔ میدان جنگ میں اللہ تعالیٰ نے قلیل ہونے کے باوجود اپنے تابعداروں کو ہی فتح و نصرت عطا فرمائی۔ میدان بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو کچھ اس انداز سے کھڑا کیا تھا کہ وہ کافروں کو اپنی اصل تعداد سے دوگنے نظر آتے تھے اور یہ آپ کی ایک جنگی تدبیر تھی۔ اگرچہ مسلمان تعداد، اسلحہ، جنگ اور سامان خوراک ہر لحاظ سے کافروں کے مقابلہ میں کمزور تھے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید سے مسلمانوں کی مدد کرکے شاندار فتح عطا فرمائی اور مسلمانوں کو سب کفار کے مقابل ایک جیتی جاگتی قوت بنا دیا۔ جنگ بدر کا ابتدائی منظر اور عریش:۔ غزوہ بدر دراصل کفر اور اسلام کا ابتدائی معرکہ تھا۔ جہاں ایک طرف کفار کو اپنی کثرت تعداد، اسلحہ جنگ کی فراوانی اور اپنی جنگی مہارت پر ناز تھا تو دوسری طرف مسلمان صرف اللہ کی ذات پر تکیہ کیے ہوئے تھے۔ ایک طرف شراب و کباب کا دور چل رہا تھا اور رقص و سرور کی محفلیں برپا تھیں تو دوسری طرف مسلمان اللہ کے حضور دعاؤں اور نمازوں میں مصروف تھے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک الگ خیمہ لگایا ہوا تھا۔ جس میں رات بھر آپ گریہ و زاری کے ساتھ دعاؤں میں مصروف رہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خیمہ میں تشریف لائے اور آپ کی حالت دیکھ کر کہا : اب بس کیجئے آپ نے دعا مانگنے میں انتہا کردی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے بعد یہ فرمایا۔ ’’اے اللہ ! اگر تو نے اس مٹھی بھر جماعت کو آج ختم کردیا تو قیامت تک تیرا کوئی پرستار باقی نہ رہے گا۔‘‘ یہ دعائیں مانگ کو جب آپ خیمہ سے باہر نکلے تو آپ کے چہرے پر اطمینان کے آثار نمایاں تھے اور اللہ کی طرف سے آپ کو فتح کی بشارت مل چکی تھی۔ (بخاری، کتاب التفسیر، زیر آیت ﴿ سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ﴾) میدان بدرمیں تائید الٰہی کی صورتیں:۔ میدان بدر ایک ریگ زار میدان تھا۔ مگر کافروں نے پہلے پہنچ کر ایک پکی زمین پر قبضہ جما لیا تھا اور مسلمانوں کے پڑاؤ کے لیے سوائے ریتلے میدان کے کچھ نہ تھا۔ اب اللہ کی تائید مسلمانوں کے یوں شامل حال ہوئی کہ ہوا چل پڑی۔ جس کا رخ کفار کے لشکر کی طرف تھا۔ ریت اڑ اڑ کر ان کی زبوں حالی کا باعث بن گئی۔ پھر اس کے بعد بارش ہوگئی، تو کفار کے پڑاؤ میں پھسلن بن گئی اور مسلمانوں کے پاؤں پھسلنے کے بجائے جمنے لگے۔ تیسری تائید الٰہی یہ تھی کہ اللہ نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون و اطمینان نازل فرمایا اور پورے صبرو ثبات کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں جم گئے اور چوتھی تائید یہ تھی کہ اللہ نے فرشتے بھیج کر مسلمانوں کو سہارا دیا۔ اس پے در پے تائید الٰہی کی وجہ سے مسلمانوں کو فتح عظیم حاصل ہوئی اور کفر کی کمر ٹوٹ گئی۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ کی تائید صرف اصحاب بدر کے لیے مخصوص نہ تھی۔ اس سے پہلے بھی اللہ نے اپنے بندوں کی ایسی ہی تائید فرمائی اور بعد میں بھی کی اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ شرط صرف یہ ہے کہ مسلمان خالصتاً اللہ کے عبادت گزار اور صرف اسی پر بھروسہ رکھنے والے ہوں۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے۔ فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی آل عمران
14 [١٥] دنیا کےحصول میں بھی فکر آخرت ہی اصل کامیابی ہے:۔ اس آیت میں جن جن اشیاء کا نام لیا گیا ہے۔ ان کی محبت انسان کے دل میں فطری طور پر جاگزیں ہے اور انہی چیزوں سے انسان کی اس دنیا میں آزمائش ہوتی ہے اور انسانوں کی اکثریت اس امتحان میں فیل ہی ہوتی رہی ہے۔ ان چیزوں میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو بذات خود بری ہو۔ اور ان سے محبت کرنا بھی ایک فطری امر ہے اور فطری امر بھی بذات خود برا نہیں ہوتا۔ اگر ان چیزوں کی محبت انسان کے دل میں نہ ڈالی جاتی تو اس دنیا کی رنگینیاں، یہ لہلہاتے کھیت اور باغات اور تہذیب و تمدن کے نظارے کچھ بھی نظر نہ آتا۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نہ تو یہ چیزیں بذات خود بری ہیں اور نہ ہی ان سے محبت اور ان کا حصول بری چیز ہے۔ بری چیز یہ ہے کہ انسان ان چیزوں کی محبت اور حصول میں اس قدر غرق ہوجائے کہ اسے آخرت یاد ہی نہ رہے۔ البتہ جن لوگوں کے دلوں میں اللہ کا خوف اور فکر آخرت موجود ہوتی ہے۔ وہ انہیں چیزوں کو اسی طرح حاصل کرتے اور انہیں استعمال کرتے ہیں کہ انہیں انہی چیزوں سے دنیا کی راحت و سکون بھی نصیب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی یہی چیزوں اس کی نجات کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور اس طرح ہی انسان کو بہتر ٹھکانا میسر آسکتا ہے جو اللہ کے پاس ہے۔ آل عمران
15 [١٦] یعنی وہ لوگ جو مندرجہ بالا اشیاء کے حصول میں شریعت کی حدود و قیود اور حلال و حرام کی تمیز رکھیں ان کے حصول میں اس قدر مستغرق نہ ہوجائیں کہ اللہ کی یاد اور فکر آخرت کو بھول ہی جائیں اور جب ان چیزوں میں سے کوئی چیز یا سب چیزیں انہیں حاصل ہوجائیں تو ان میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کریں اور انہیں اسی طرح خرچ کریں جس طرح اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے۔ [١٧]جنت میں پاکباز بیویوں کی زوجیت:۔ ازواج زوج کی جمع ہے اور زوج ذومعنی لفظ ہے۔ خاوند کے لیے اس کی بیوی اس کا زوج ہے اور بیوی کے لیے اس کا خاوند اس کا زوج ہے۔ یعنی اگر دنیا میں کسی نیک آدمی کی بیوی نہیں تھی تو اسے کوئی نیک بیوی ہی ملے گی اور بدسرشت بیوی جہنم میں ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی نیک بیوی کا خاوند بدسرشت تھا تو اسے جنت میں نیک شوہر نصیب ہوگا، اور بدکار شوہر جہنم میں ہوگا اور اگر دونوں نیک بخت اور نیکو کار تھے تو انہیں جنت میں بھی رفاقت نصیب ہوگی۔ اس سلسلہ کے علاوہ بھی نیک لوگوں کو پاک بازبیویاں نصیب ہوں گی جیسا کہ قرآن اور حدیث کے بے شمار ارشادات سے یہ بات ثابت ہے۔ [١٨]اللہ کی دائمی رضامندی :۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جنتی لوگوں سے پوچھے گا۔ ’’کیا تم اب خوش ہو؟‘‘ وہ کہیں گے : پروردگار! بھلا اب بھی ہم خوش نہ ہوں گے جبکہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرما دیا جو اور کسی مخلوق کو نہیں دیا؟ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : ’’اب میں تمہیں وہ نعمت دیتا ہوں جو ان سب نعمتوں سے افضل ہے۔‘‘ وہ پوچھیں گے۔ ’’بھلا ان نعمتوں سے افضل اور کون سی نعمت ہوسکتی ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ’’وہ نعمت میری رضا مندی ہے۔ اب میں اپنی رضا مندی تمہارے نصیب کرتا ہوں۔ اس کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔‘‘ (بخاری، کتاب التوحید، باب کلام الرب مع اہل الجنۃ) [١٩] یعنی وہ بندے جو عذاب دوزخ سے نجات کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکام پابندی کے ساتھ بجا لاتے ہیں، زندگی کے ہر لمحہ حلال و حرام کی تمیز رکھتے ہیں اور پھر ساتھ ہی ساتھ اللہ سے دعا بھی کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے گناہ معاف فرما دے اور دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ آل عمران
16 آل عمران
17 [٢٠] پرہیزگاروں کی صفات :۔ اس آیت میں ایسے متقی لوگوں کی پانچ صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلی صفت صبر ہے۔ صبر ایک جامع اصطلاح ہے جس کا اطلاق عموماً دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ کسی مصیبت کے پیش آنے پر جزع و فزع سے پرہیز کیا جائے اور اسے اللہ کی رضا کی خاطر خوشدلی سے برداشت کیا جائے اور کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالی جائے یا ایسی حرکت نہ کی جائے جو اللہ کی رضا کے خلاف ہو۔ اور دوسرے یہ کہ دین کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات و مصائب کو خوشدلی سے برداشت کرتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے جسے دوسرے لفظوں میں استقامت بھی کہتے ہیں اور یہ بھی صبر ہی کی قسم ہے۔ دوسری صفت صادق ہونا ہے۔ صادق کے لفظ کا اطلاق صرف اس شخص پر ہی نہیں ہوتا جو سچ بولنے کا عادی ہو بلکہ اس پر بھی ہوتا ہے جو اپنے تمام معاملات میں راست باز ہو۔ بدعہدیوں اور فریب کاریوں سے بچنے والا ہو۔ تیسری صفت شریعت کے اوامر و نواہی کے آگے سر تسلیم خم کرنا۔ چوتھی صفت اللہ کے عطا کردہ مال و دولت میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور پانچویں صفت مذکورہ اعمال کو بجا لانے پر پھول جانے کی بجائے اللہ سے استغفار کرنا ہے جس کا بہترین وقت رات کا آخری حصہ ہوتا ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کے آخری حصہ میں آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور فرماتا ہے :’’ کون مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے عطا کروں؟ کون مجھ سے گناہوں کی معافی چاہتا ہے کہ میں اس کے گناہ بخش دوں؟‘‘ (بخاری، کتاب الدعوات، باب الدعاء نصف اللیل) آل عمران
18 [٢١] اللہ تعالیٰ کی گواہی تو اس لحاظ سے سب سے زیادہ معتبر ہے کہ وہ خود خالق کائنات ہے اور اسے ٹھیک ٹھیک علم ہے کہ اس کائنات کی تخلیق و تدبیر میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ دوسرے نمبر پر فرشتوں کی گواہی اس لحاظ سے معتبر ہے کہ وہ مدبرات امر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق کائنات کی تدبیر و انتظام و انصرام انہیں کے سپرد ہے، اگر کائنات میں دوسرا الٰہ بھی ہوتا تو انہیں یقینا اس کا علم ہونا چاہئے تھا۔ تیسرے نمبر پر ان لوگوں کی گواہی معتبر ہے جو اہل علم ہوں۔ کائنات میں غور و فکر کرنے والے ہوں اور ایسے تمام لوگوں کی گواہی بھی یہی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا الٰہ یا اس کا شریک نہیں ہے اور اگر ایسا ہوتا تو کائنات کا نظام مدتوں پیشتر تباہ و برباد ہوچکا ہوتا یا سرے سے ایسا منظم و مربوط نظام وجود میں ہی نہ آسکتا، اور جو کچھ وہ کر رہا ہے عین عدل و انصاف کے مطابق کر رہا ہے۔ آل عمران
19 [٢٢] دین کیاہے؟دین سے مراد ایسا نظام زندگی یا ضابطہ حیات ہے جسے انسان اس دنیا کے لیے یا دنیا و آخرت دونوں کے لیے بہتر سمجھ کر اختیار کرتا ہے۔ اس لحاظ سے یہودیت، نصرانیت، دہریت، بدھ مت، سکھ، اسلام، کمیونزم، سوشلزم، جمہوریت وغیرہ سب کے سب دین ہیں۔ لیکن اللہ کے ہاں ان میں سے قابل قبول دین صرف اور صرف اسلام ہے۔ اسلام کا معنی ہے اللہ کے احکام و ارشادات کے سامنے سرتسلیم خم کردینا اور برضا و رغبت اللہ کا مطیع و منقاد بن جانا ہے اور صرف اسلام ہی ایسا دین ہے جو دنیوی فلاح اور اخروی نجات کا ضامن ہے۔ دنیا میں جتنے بھی انبیاء و رسل مبعوث ہوئے وہ سب دین اسلام ہی کی دعوت دیتے رہے وہ یہی کہتے رہے کہ اللہ کے مطیع و فرمانبردار بندے بن جاؤ۔ اس لحاظ سے ان تمام انبیاء کے پیرو کار مسلم یا مسلمان ہی تھے۔ جنہوں نے بعد میں اپنے لیے الگ الگ نام تجویز کئے، جیسا کہ آج کل مسلمانوں کے بہت سے فرقوں نے بھی اپنے لیے الگ الگ نام تجویز کرلیے ہیں یا بعض مخصوص عقائد و نظریات کی بنا پر دوسروں نے ان کے نام رکھ دیئے ہیں۔ [٢٣] اختلاف سے مراد اہل کتاب کا باہمی اختلاف بھی ہوسکتا ہے اور دوسروں سے بھی۔ مثلاً یہود کے فرقوں کا باہمی اختلاف، عیسائیوں کے فرقوں کا باہمی اختلاف اور مسلمانوں کے فرقوں کا باہمی اختلاف اور دوسرے یہ کہ یہود کا عیسائیوں اور مسلمانوں سے، عیسائیوں کا یہود اور مسلمانوں سے اختلاف۔ [٢٤]فرقہ پرستی کی وجوہ :۔ اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے اختلاف کی اصل وجہ بیان فرما دی اور یہی وجہ قرآن کریم میں اور بھی تین مقامات پر بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اختلاف کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ حق انہیں نظر نہیں آتا بلکہ اس کی اصل وجہ اپنی اپنی سرداریاں اور چودھراہٹیں قائم کرنا اور اپنا جھنڈا سربلند رکھنے کی فکر، اسباب مال و جاہ کا حصول ہوتا ہے اور اس معاملہ میں آپ جتنا بھی غور کریں گے فرقہ بندیوں کی بنیاد میں آپ کو ذاتی اغراض و مفادات ہی نظر آئیں گے۔ حب جاہ ومال اورذاتی مفادات :۔مثلاً تورات اور انجیل دونوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبعوث ہونے کا ذکر موجود ہے اور ان کی نشانیاں بھی بیان کردی گئی ہیں اور اہل کتاب کو یہ بھی پوری طرح یقین ہوچکا ہے کہ کتاب میں مذکورہ نشانیوں کے مطابق وہی نبی آخرالزمان اور نبی برحق ہے۔ اب اس نبی کے انکار کی وجہ محض ان کی اپنی سرداریاں ختم ہونا یا بعض دوسرے دنیوی مفادات کا ضائع ہونا تھا۔ ان باتوں کے علاوہ انکار کی کوئی دوسری وجہ نہ تھی۔ لہٰذا اللہ ایسے لوگوں کا جلد ہی حساب چکا دیتا ہے اور اس آیت کا اطلاق مسلمانوں پر بھی بالکل اسی طرح ہوتا ہے جیسے اہل کتاب پر ہوا ہے۔ آل عمران
20 آل عمران
21 [٢٥] یہود اورقتل انبیاء :۔ انبیاء اور صالحین کے قتل ناحق کا کام دور نبوی کے یہود نے نہیں کیا تھا بلکہ ان کے اسلاف نے کیا تھا اور یہ واقعات اتنے مشہور و معروف تھے کہ کسی کو مجال انکار نہ تھی۔ پھر چونکہ دور نبوی کے یہودی اپنے اسلاف کے ایسے کارناموں پر راضی اور خوش تھے۔ لہٰذا قرآن نے بجا طور پر انہیں مخاطب کیا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے تینتالیس (٤٣) پیغمبروں کو ایک ہی دن صبح کے وقت قتل کیا یہ کام بنی اسرائیل کے علماء اپنی حکومت کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعہ سرانجام دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکومت کے ذریعہ سولی پر چڑھانے کی مذموم کوشش کی تھی۔ جب یہ لوگ اتنے انبیاء کو قتل کرچکے تو ان کے متبعین اور اللہ سے ڈرنے والوں نے ان کے ایسے مذموم کارنامہ پر زبردست احتجاج کیا تو انہوں نے ان صالحین میں سے ایک سو ستر سر کردہ آدمیوں کو اسی شام قتل کردیا، اور یہ وہ لوگ تھے جو ان کو ایسی بری حرکتوں سے روکتے اور انصاف کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور ان انبیاء کے قتل کرنے کا اصل سبب وہی تھا جو قرآن نے واضح الفاظ میں بتلا دیا ہے کہ انبیاء کی اطاعت کرنے سے ان کا اپنا جاہ و اقتدار خطرہ میں پڑجاتا تھا۔ لہٰذا انہوں نے اپنی سرداریاں اور چودھراہٹیں بحال رکھنے کی خاطر انبیاء اور صالحین کو قتل کردینے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ انبیاء کا قتل بہت بڑے کبیرہ گناہوں سے ہے۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب کس کو ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے کسی پیغمبر کو قتل کیا یا اچھی بات کہنے والے اور بری بات سے منع کرنے والے کو۔‘‘ نیز حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ نے ہمیں بہت سی احادیث سنائیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس قوم پر اللہ کا غضب بھڑک اٹھتا ہے جو اللہ کے رسول کو قتل کریں۔ (مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب اشتداد غضب اللہ من قتلہ رسول اللہ) [٢٦] یہود کے لیے خوشخبری کے لفظ کا استعمال تو بطور طنز ہے اور جو دردناک عذاب انہیں اس دنیا میں ملا اس کا اجمالاً ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں۔ یہی قوم مغضوب علیہم قرار دی گئی اور ذلت و مسکنت ان کے مقدر کردی گئی۔ الا یہ کہ وہ دوسرے لوگوں کی پناہ میں آجائیں۔ رہا عذاب اخروی تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بتلادیا کہ ایسے ہی لوگ سب سے زیادہ سخت عذاب کے مستحق ہوں گے۔ آل عمران
22 آل عمران
23 [٢٧]علماء یہود کاکتاب اللہ کےمطابق فیصلہ کرنے سے گریز کرنا:۔ اس آیت میں ﴿ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ﴾ سے مراد یہود کے وہ علماء ہیں جو تورات کا کچھ نہ کچھ علم رکھتے تھے۔ لیکن علم کے باوجود کتاب اللہ کے احکام میں تحریف ان کی عادت ثانیہ بن چکی تھی۔ تورات میں شادی شدہ زانی مرد اور عورت کے لیے واضح طور پر رجم کا حکم موجود تھا۔ پہلے تو ان علماء نے یہ کام کیا کہ جب کوئی شریف اور مالدار یا معزز آدمی زنا کا مرتکب ہوتا تو مختلف شرعی حیلوں سے اس کی سزا کو ساقط کردیتے اور کمزور آدمیوں پر حد جاری کرتے۔ بعد میں انہوں نے سب طرح کے لوگوں کے لیے ایک درمیانی راہ نکالی اور طے یہ کیا کہ زانی کی سزا ہی ایسی ہی مقرر کی جائے جو سب کے لیے یکساں ہو اور وہ سزا یہ تھی کہ زانی مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، اس کا منہ کالا کرکے گدھے پر سوار کرکے اسے بستی کے گرد پھرایا جائے۔ ایک دفعہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ واقعہ ہوا کہ ایک مالدار یہودی نے ایک یہودن سے زنا کیا۔ یہ دونوں شادی شدہ تھے۔ ان کا مقدمہ عدالت نبوی میں پیش ہوا۔ ان کی غرض یہ تھی کہ شاید اس طرح یہ زانی رجم سے بچ جائیں گے۔ آپ نے یہود کے علماء سے پوچھا : تم اللہ کی کتاب میں ایسے لوگوں کے لیے کیا سزا پاتے ہو؟ وہ فوراً کہنے لگے کہ ہم تو ان کا منہ کالا کرکے انہیں گدھے پر سوار کرکے پھراتے ہیں۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے (جو یہود کے علماء میں سے تھے اور اسلام لاچکے تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا یہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔ انہیں کہئے کہ اللہ کی کتاب لاؤ۔ چنانچہ تورات لائی گئی۔ پڑھنے والے نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ کر اسے چھپا دیا اور آگے پیچھے سے پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے کہنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ہاتھ اٹھانے کو کہا تو نیچے رجم کی آیت تھی۔ اس طرح جب ان علماء کی چوری پکڑی گئی تو از راہ ندامت وہاں سے اٹھ کر چلتے بنے۔ اس آیت میں ایسے ہی یہودی علماء کا کردار بیان ہوا ہے۔ اب مقدمہ کا فیصلہ ابھی باقی تھا۔ چنانچہ آپ نے اس یہودی اور یہودن کو سنگسار کروا دیا۔ یہ واقعہ متعدد صحیح احادیث میں مذکور ہے۔ آل عمران
24 [٢٨] یہود کانجات اخروی کےلیےصرف خواہشات پر انحصار اور سستی جنات کےعقیدے :۔اس آیت میں یہود کے کتاب اللہ میں تحریف اور دوسرے بہت سے کبیرہ گناہوں پر دلیر ہونے کی وجہ بیان کی گئی ہے ان کے اسلاف نے اپنی طرف سے ایک عقیدہ گھڑا اور اسے اپنی ساری قوم میں پھیلا دیا۔ وہ عقیدہ یہ تھا کہ یہود جہنم میں نہیں جائیں گے۔ دوزخ کی آگ ان پر حرام کردی گئی ہے وہ اگر دوزخ میں گئے بھی تو صرف اتنے ہی دن دوزخ میں رہیں گے جتنے دن انہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔ دوسری بات جو ان میں بطور عقیدہ رواج پا گئی تھی وہ یہ تھی کہ وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہیں کیونکہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ یعقوب علیہ السلام سے وعدہ کرچکا ہے کہ ان کی اولاد کو سزا نہ دے گا مگر یونہی برائے نام قسم کھانے کو، اسی طرح نصاریٰ نے کفارہ مسیح کا مسئلہ وضع کر رکھا ہے۔ جس کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی امت کے گناہوں کے کفارہ کے طور پر سولی پر چڑھے اور اپنی امت کے گناہوں اور معصیت کا سارا حساب بیباق کردیا۔ پھر مسلمان بھی اس سلسلہ میں پیچھے نہیں رہے ان میں کچھ سید ہیں یا سید بنے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے متعلق یہ مشہور کر رکھا ہے کہ ان کی پشت پاک ہے۔ لہٰذا انہیں آگ کا عذاب نہ ہوگا۔ کچھ لوگوں نے دنیا میں ہی بہشتی دروازے بنا رکھے ہیں کہ جو کوئی ان کے نیچے سے گزر گیا وہ ضرور بہشت میں جائے گا اور کچھ لوگ اپنے مشائخ اور پیروں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہیں خواہ وہ زندہ ہوں یا فوت ہوچکے ہوں، وہ ان کی شفاعت کرکے انہیں اللہ کی گرفت سے بچا لیں گے وغیرہ وغیرہ ( اللھم انا نعوذ بک من شرور انفسنا) آل عمران
25 [٢٩]قانون جزاوسزا:۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بہت سے مقامات پر اپنے قانون جزاء و سزا کی وضاحت فرما دی ہے۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر انسان کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے خود کمایا ہو، آباؤ اجداد کی نیکی یا بندگی کسی کے کچھ بھی کام نہ آسکے گی۔ نیز اتنا ہی ملے گا جتنا اس نے عمل کیا ہے، نہ کم نہ زیادہ، کمی تو کسی صورت نہ ہوگی اور اللہ اگر چاہے تو عمل کا زیادہ بدلہ بھی دے سکتا ہے۔ نیز اللہ کے حضور کرے کوئی اور بھرے کوئی والا سلسلہ بھی نہیں چل سکتا۔ کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہوں کا بار اٹھانے کو تیار نہ ہوگا خواہ وہ اس کا کتنا ہی قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہو۔ البتہ جو شخص کوئی ایسا نیکی کا کام جاری کر جائے جو اس کی موت کے بعد جاری رہے تو اس کا ثواب اس کی موت کے بعد بھی بطور حصہ رسدی اسے ملتا رہے گا۔ اسی طرح اگر کسی نے کوئی برائی کا کام جاری کیا تو بطور حصہ رسدی اس کا گناہ بھی اس کے کھاتہ میں جمع ہوتا رہے گا۔ (مسلم، کتاب العلم باب من سن سنہ حسنة أو سیئة .....الخ) آل عمران
26 [٣٠] یہود کی مسلمانوں پر ایک طنز کاجواب:۔ اس آیت میں اگرچہ خطاب عام ہے، جس میں اہل کتاب، مشرکین عرب اور مسلمان سب شامل ہیں۔ تاہم ربط موضوع کے لحاظ سے بالخصوص یہ خطاب یہود اور کفار سے ہے جو جنگ خندق کے موقعہ پر یوں کہہ رہے تھے کہ ان مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ اپنے بچاؤ کی خاطر خندق کھود رہے ہیں، نہ کچھ کھانے کو پاس موجود ہے اور نہ ہی کوئی اسلحہ جنگ ہے لیکن قیصر و کسریٰ کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں، یہ دیوانگی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہود اور کفار کی اسی پھبتی کا جواب اس جامع قسم کی دعا میں دیا گیا ہے کہ عزت و ذلت اور اقتدار وغیرہ سب کچھ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ آج جو حاکم ہیں کل محکوم بن جائیں اور جو شہنشاہ ہیں وہ گدا بن جائیں جو کمزور ہیں وہ طاقتور بن جائیں۔ بھلا جو ہستی مردہ کو زندہ سے اور زندہ کو مردہ سے نکال سکتی ہے وہ مقتدر سے محتاج اور محتاج سے مقتدر کیوں نہیں بنا سکتی؟ آل عمران
27 آل عمران
28 [٣١] کافروں سے دوستی میں استثناء کی صورتیں :۔ اس آیت میں مومنوں کو انفرادی اور اجتماعی دونوں لحاظ سے خطاب ہے۔ یعنی کوئی مومن کسی کافر کو دوست نہ بنائے۔ مومنوں کی جماعت کافروں کی جماعت کو دوست نہ بنائے اور نہ ہی مومنوں کی حکومت کافروں کی حکومت کو اپنا دوست بنائے۔ وجہ یہ ہے کہ کافر کبھی مومن کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا۔ جب بھی اسے موقع ملے گا وہ نقصان ہی پہنچائے گا۔ اس سے خیر کی توقع نہیں اور اس میں استثناء یہ ہے کہ اگر تمہیں محض بے تعلق رہنے کی وجہ سے کسی کافر سے کچھ خطرہ ہو تو ظاہرداری اور مدارات کے طور پر اس سے دوستی رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب اس میں بے شمار باتیں ایسی آجاتی ہیں جو محض مومن کی صوابدید پر چھوڑ دی گئی ہیں۔ مثلاً یہ خطرہ جان، مال اور آبرو کے ضائع ہونے کا ہے یا کسی اور بات کا ؟ اور آیا یہ خطرہ فی الواقع موجود ہے یا موہوم ہے؟ نیز یہ کہ اس خطرہ کا اثر محض اس کی ذات تک محدود ہے یا یہ بات دوسرے مسلمانوں کے لیے بھی فتنہ کا سبب بن سکتی ہے؟ یا اگر وہ کافروں سے دوستی رکھ کر اپنے آپ کو محفوظ کرلیتا ہے تو اس کا نقصان دوسرے مسلمانوں کو تو نہ پہنچے گا ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اب دیکھئے کہ ان تمام سوالوں کے جوابات مختلف ہیں۔ مثلاً پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر فی الواقعہ جان، مال اور آبرو خطرہ میں ہے تو اس اجازت سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ موہوم خطرات کا اعتبار نہیں کرنا چاہئے اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر کافر سے ظاہرداری اور بچاؤ کی تدبیر نہ کی جائے اور اس کا نقصان مسلمانوں کو پہنچتا ہو تو ضرور بچاؤ اور تحفظ کی راہ نکالی جائے اور چوتھے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر اس کی دوستی سے وہ خود تو محفوظ ہو، مگر دوسرے مسلمانوں کو نقصان پہنچ رہا ہو تو ہرگز ایسا نہ کرنا چاہئے۔ ایسے موقعوں پر ان سوالوں کے علاوہ اور بھی کئی طرح کے سوال پیدا ہوسکتے ہیں۔ مثلاً جس خطرہ کو وہ حقیقی سمجھ رہا ہے وہ محض ایک فریب ہو۔ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب نہایت ایمانداری اور دینداری سے دل میں سوچ لینا چاہئے پھر اس کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس اجازت کے بعد فرما دیا ﴿وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ﴾ گویا ایسی باتوں کا جواب اس اللہ سے ڈر کر تمہیں سوچنا چاہئے جس کے ہاں تمہیں لوٹ کر جانا ہے اور وہ تمہارے دلوں کے حالات اور خیالات تک کو بھی خوب جانتا ہے اور اس بات پر بھی قادر ہے کہ اگر تم کافر سے ڈرو نہیں بلکہ اللہ کے ہی ڈر کو مقدم رکھو تو تمہیں انکے فتنہ و شر سے بچانے کی پوری قدرت رکھتا ہے اور کئی دوسری راہیں بھی پیدا کرسکتا ہے۔ آل عمران
29 [٣١۔ ١] یہ آیت دراصل پچھلی آیت ہی کی تفسیر ہے۔ یعنی اے مسلمانو! اگر تم کفر کی محبت کو دل میں جگہ دو گے یا کافروں سے محبت کا برتاؤ رکھو گے تو تمہارے یہ باطنی اور ظاہری اعمال اللہ کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکتے۔ لہٰذا تم اللہ کی دی ہوئی رعایت سے اسی قدر فائدہ اٹھاؤ جس کے بغیر کوئی چارہ کار نظر نہ آرہا ہو۔ ورنہ یاد رکھو کہ اللہ بڑی قدرت والا ہے۔ وہ تمہیں دنیا میں بھی سزا دے سکتا ہے اور ذلیل و رسوا کرسکتا ہے اور آخرت کے عذاب سے بھی بچ نہ سکو گے۔ آل عمران
30 [٣٢] نیکی کرنے کی نسبت برے کاموں سے بچنا زیادہ ضروری ہے:۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ابتداء ایک نیکو کار اور ایک بدکردار کا ذکر فرمایا۔ بعد میں صرف بدکردار کی تمنا کا ذکر کیا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن کی سختیوں اور دوزخ کے عذاب سے بچ جانا ہی اصل کامیابی ہے اور جنت میں داخلہ تو اللہ کا فضل اور انعام ہے جتنا وہ چاہے کسی پر کردے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’میں جس کام سے تمہیں روکوں اس سے رک جاؤ اور جس بات کا حکم دوں اس کو اپنی حسب استطاعت بجا لاؤ‘‘ (تفسیر آیت : فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ) یعنی جب آپ نے برے کام کا ذکر کیا تو یہ نہیں فرمایا کہ جہاں تک ہوسکے برے کاموں سے بچو بلکہ فرمایا ان سے پوری طرح رک جاؤ اور جب نیک کام کا ذکر کیا تو فرمایا جہاں تک تم سے ہوسکے بجا لاؤ۔ اب ایک دوسرے پہلو سے غور فرمائیے جو یہ ہے کہ نیک اعمال بجا لانے کی نسبت برے کاموں کو چھوڑ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے کتاب و سنت میں نیک اعمال بجا لانے کی نسبت برے کاموں کو چھوڑنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ بعد میں دوبارہ فرمایا : ﴿ وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ﴾ پھر بعد میں فرمایا ﴿وَاللّٰہُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ ﴾ گویا اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو برے انجام سے آگاہ کردینا ہی اس کے بندوں پر ترس کھانے کی بہت بڑی دلیل ہے۔ آل عمران
31 [٣٣]اتباع سنت کی اہمیت اور بدعت کارد:۔ اس آیت کے مخاطب صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ اہل کتاب، کفار و مشرکین اور عامۃ الناس ہیں کیونکہ تقریباً سب کے سب اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتے اور اس کا دم بھرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی کہ اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو پھر اس کی صورت صرف یہی ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرنے لگ جاؤ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ چہ جائیکہ تم اللہ سے محبت رکھو۔ اللہ تعالیٰ خود تم سے محبت کرنے لگے گا۔ نیز اس آیت میں مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ جس خوبصورت انداز سے اس آیت میں اتباع سنت پر زور دیا گیا ہے۔ شاید اس سے زیادہ ممکن بھی نہ تھا۔ اتباع کے مفہوم میں اطاعت کی نسبت بہت زیادہ وسعت ہے۔ اطاعت صرف اوامر و نواہی میں ہوتی ہے۔ جبکہ اتباع یہ ہے کہ جیسے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کرتے دیکھو ویسے ہی تم بھی کرنے لگ جاؤ جس بات کو وہ پسند کریں اسے تم بھی پسند کرو اور جس بات سے نفرت کریں اس سے تم بھی نفرت کرو۔ کیونکہ وہ تمہارے لیے اسوہ حسنہ ہیں اور تیسرا سبق اس آیت سے یہ ملتا ہے کہ مسلمانوں کو بدعات سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہئے، کیونکہ بدعت سنت کی عین ضد ہے اور بدعت کی عام فہم تعریف یہ ہے کہ وہ ایسا نیا کام دین میں شامل کرنا جس کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو نیز وہ کام آپ کے بعد دین کا حصہ اور ثواب سمجھ کر بجا لایا جائے وہ مردود ہے اور بدعات کو رواج دینے والا شخص تو شدید مجرم ہے کیونکہ اس کی موت کے بعد بھی اس بدعت پر عمل کرنے والے لوگوں کے گناہ کا حصہ رسدی اس کے نامہ اعمال میں جمع ہوتا رہتا ہے اور وہ شدید مجرم اس لحاظ سے بھی ہے کہ وہ اپنے آپ کو شارع کے مقام پر سمجھتا ہے اور اپنے وضع کردہ نئے کام کو دین کا حصہ بنا کر دین کو مکمل کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ دین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ہی مکمل ہوچکا تھا۔ آل عمران
32 [٣٤] سنت کےمنکر کافرہیں:۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اللہ کی محبت کا دم بھرتے ہیں مگر اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتے وہ سب کافر ہیں۔ اس آیت کے مخاطب اہل کتاب اور کفار و مشرکین ہی نہیں بلکہ مسلمان بھی ہیں کیونکہ مسلمانوں میں بھی ایک فرقہ ایسا پیدا ہوچکا ہے جو صرف قرآن ہی کو ہدایت کے لیے کافی سمجھتا ہے۔ رہا قرآن پر عمل کرکے دکھانے کا وہ طریقہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو دکھلایا تھا۔ یہ لوگ اس سے مستغنی ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن پر ہر دور کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جانا چاہئے اور کیا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ بھی اس آیت کی رو سے کافر ہیں۔ خواہ وہ خود کو مسلمان کہلوانے پر کتنے ہی مصر ہوں۔ اسی طرح جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے ساتھ کسی نئے نبی کی اطاعت بھی ضروری سمجھتے ہیں وہ بھی کافر ہیں خواہ وہ خود کو مسلمان کہلوانے پر کتنے ہی مصر ہوں، کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ آل عمران
33 [٣٥] ضابطہ نبوت:۔ اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت نصاریٰ کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس آیت میں یہ بتلایا جارہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انسان ہی تھے اور آدم ہی کی اولاد سے تھے۔ کوئی مافوق البشر ہستی نہیں تھے۔ پھر بعد میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ان کی پیدائش کن حالات میں ہوئی اور کیسے ہوئی۔ بعدہ ان کی زندگی کے مختصر سے حالات اور پھر عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا اپنے ہاں اٹھا لینے کا ذکر ہے اور ساتھ ہی عیسائیوں کے عقائد باطلہ کی تردید بھی پیش کی جارہی ہے، جس وقت اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا تو اس وقت کی موجودہ کائنات (آسمان و زمین، شمس و قمر، ستارے، جن اور فرشتے وغیرہ) میں فرشتے ہی تمام مخلوق سے افضل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کروایا اور حضرت آدم علیہ السلام کو تمام جہان والوں پر فضیلت بخشی، پھر انہیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔ پھر ان ہی کی اولاد میں نبی پیدا ہوتے رہے۔ پھر حضرت نوح علیہ السلام کے بعد سلسلہ نبوت حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد سے مختص ہوگیا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام تک چلتا رہا۔ پھر یہ سلسلہ نبوت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے مختص ہوگیا۔ حتیٰ کہ نبی آخرالزمان بھی انہی کی اولاد سے تھے اور آل عمران کا ذکر بالخصوص اس لیے کیا کہ نسب تو مرد کی طرف سے چلتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن باپ پیدا ہوئے تھے۔ البتہ ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام عمران ہی کے خاندان سے تھیں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو منسوب بھی ان کی والدہ مریم ہی کی طرف کیا ہے۔ یہ عمران حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے والد کا نام ہے۔ انہی کی اولاد سے حضرت مریم علیہا السلام تھیں اور اس سورت کا نام آل عمران بھی اسی نسبت سے ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کے والد کا نام بھی عمران ہو، جیسا کہ آیت کے الفاظ ﴿قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ ﴾ سے ہوتا ہے۔ آل عمران
34 [٣٦]عقیدہ الوہیت مسیح کا رد:۔ گویا سب انبیاء آدم، پھر نوح، پھر ابراہیم علیہم السلام کی اولاد میں تھے اور چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور پھر آل عمران سے تھے۔ لہٰذا وہ بھی انسان تھے۔ اللہ یا اللہ کے بیٹے نہیں تھے۔ اور سب انبیاء کو مذکورہ بالا تین انبیا کی اولاد سے مبعوث فرمانا ہی اللہ کی حکمت کا مقتضیٰ تھا اس کے باوجود جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ یا اس کا بیٹا قرار دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو خوب سن رہا ہے۔ ان دو آیات میں مسیحی عقائد کے رد کی تمہید بیان ہوئی ہے آگے تفصیلی ذکر آرہا ہے۔ آل عمران
35 آل عمران
36 [٣٧]سیدہ مریم نے کیانذرمانی تھی؟ حضرت مریم کی والدہ نے جو منت مانی تھی وہ اس توقع سے مانی تھی کہ ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔ کیونکہ اس عہد میں لڑکے تو اللہ کی عبادت کے لیے وقف کئے جاتے تھے۔ مگر لڑکیوں کو وقف کرنے کا رواج نہ تھا۔ مگر ہوا یہ کہ لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہوئی تو انہیں اس بات پر افسوس ہونا ایک فطری امر تھا۔ اس آیت میں محرر کا لفظ آیا ہے۔ جس کا لغوی معنی ’آزاد کردہ‘ ہے یعنی ایسا بچہ جسے والدین نے تمام ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا ہو تاکہ وہ یکسو ہو کر اللہ کی عبادت کرسکے۔ یہود میں دستور تھا کہ وہ اس طرح کے منت مانے ہوئے وقف شدہ بچوں کو بیت المقدس یا ہیکل سلیمانی میں چھوڑ جاتے اور انہیں ہیکل سلیمانی یا عبادت خانہ کے منتظمین جنہیں وہ اپنی زبان میں کاہن کہتے تھے، کے سپرد کر آتے تھے۔ [٣٨] یہ بطور جملہ معترضہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو یہ کہہ کر تسلی دی ہے کہ یہ لڑکی لڑکے سے بدرجہا افضل ہے۔ حتیٰ کہ کوئی بھی لڑکا اس لڑکی کے جوڑ کا نہیں۔ لہٰذا افسوس کرنے کی کوئی بات نہیں۔ [٣٩] حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے تو وہ چلا کر رونے لگتا ہے۔ صرف مریم اور اس کے بیٹے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو شیطان نے نہیں چھوا۔‘‘ (بخاری، کتاب التفسیر، زیر آیت مذکورہ) اس حدیث سے حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں کی فضیلت ثابت ہوئی۔ نیز یہ کہ حضرت مریم علیہا السلام کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا۔ آل عمران
37 [٤٠] حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ کی منت کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا اور حضرت مریم کی جسمانی اور روحانی تربیت خوب اچھی طرح فرمائی۔ جب وہ سن شعور کو پہنچ گئیں اور مسجد (عبادت خانہ) میں جانے کے قابل ہوگئیں تو سوال یہ پیدا ہوا کہ ان کا کفیل اور نگران کون ہو؟ کیونکہ ہیکل سلیمانی میں بہت سے کاہن تھے جن میں ایک حضرت زکریا علیہ السلام بھی تھے۔ بالآخر یہ سعادت حضرت زکریا علیہ السلام کے حصہ میں آئی۔ کیونکہ ان کی بیوی حضرت مریم علیہا السلام کی حقیقی خالہ تھیں اور یہ قصہ تفصیل سے آگے بیان ہو رہا ہے۔ [٤١]سیدہ مریم اور اللہ کا رزق:۔ محراب سے مراد وہ جگہ نہیں جو مساجد میں امام کے کھڑے ہونے کے لیے بنائی جاتی ہے، بلکہ محراب ان بالا خانوں کو کہا جاتا تھا جو مسجد کے خادم، مجاورین اور ایسے ہی اللہ کی عبادت کے لیے وقف شدہ لوگوں کے لیے مسجد کے متصل بنائے جاتے تھے۔ انہیں کمروں میں ایک کمرہ حضرت مریم علیہا السلام کو دیا گیا تھا۔ جس میں وہ مصروف عبادت رہا کرتیں۔ اس کمرہ میں حضرت زکریا علیہ السلام کے علاوہ سب کا داخلہ ممنوع تھا۔ حضرت مریم علیہا السلام کے لیے سامان خورد و نوش بھی حضرت زکریا علیہ السلام ہی وہاں پہنچایا کرتے تھے۔ پھر بارہا ایسا بھی ہوا کہ حضرت زکریا علیہ السلام خوراک دینے کے لیے اس کمرہ میں داخل ہوئے تو حضرت مریم علیہا السلام کے پاس پہلے ہی سے سامان خورد و نوش پڑا دیکھا۔ وہ اس بات پر حیران تھے کہ جب میرے بغیر یہاں کوئی داخل نہیں ہوسکتا تو یہ کھانا اسے کون دے جاتا ہے؟ حضرت مریم علیہا السلام سے پوچھا تو انہوں نے بلاتکلف کہہ دیا۔ اللہ کے ہاں سے ہی مجھے یہ رزق مل جاتا ہے۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتی۔ واضح رہے کہ یہ آیت خرق عادت امور پر واضح دلیل ہے۔ انبیاء کے ہاں معجزات اور اولیاء اللہ کے ہاں کرامات کا صدور ہوتا ہی رہتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ ہی کی مشیت و قدرت سے ہوتا ہے۔ اور حضرت زکریا علیہ السلام کے لیے حیرت و استعجاب کی باتیں دو تھیں۔ ایک یہ کہ آپ جو سامان خورد و نوش حضرت مریم علیہا السلام کے پاس پڑا دیکھتے وہ عموماً بے موسم پھلوں پر مشتمل ہوتا تھا اور دوسرے یہ کہ جب میرے سوا اس کمرہ میں کوئی داخل ہو ہی نہیں سکتا تو یہ پھل اور دوسرا سامان خورد و نوش حضرت مریم علیہا السلام کو دے کون جاتا ہے؟ سرسیداحمدخاں کا نظریہ معجزات:۔ اب جو لوگ خرق عادت امور یا معجزات کے منکر ہیں، انہیں یہاں بھی مشکل پیش آگئی اور ہمارے زمانے کے ایک مفسر قرآن سرسید تو بڑی آسانی سے ایسی مشکل سے چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں اور اس طرح کے واقعات کو بلا تکلف خواب کا واقعہ کہہ دیتے ہیں۔ حضرت عزیر علیہ السلام کے واقعہ میں بھی انہوں نے یہی کچھ کیا تھا اور یہاں بھی یہی کچھ کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ خواب ہی واقعہ تھا تو حضرت زکریا علیہ السلام کو حیرانی کس بات پر ہوئی تھی جو اس سوال کا موجب بنی کہ ﴿یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ھٰذَا﴾ مریم! یہ تجھے کہاں سے یا کیسے مل گیا ؟ اور یہ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ ایسے مفسر، مفسر قرآن ہوتے ہیں یا محرف قرآن؟ آل عمران
38 [٤٢] حضرت زکریا علیہ السلام بے اولاد تھے، خود بوڑھے ضعیف اور بیوی بانجھ تھی۔ اولاد کی کوئی توقع نہ تھی۔ کیونکہ ظاہری اسباب منقطع تھے۔ مگر اولاد کی خواہش ضرور تھی۔ حضرت مریم علیہا السلام کا یہ جواب سن کر فوراً خیال آیا کہ اللہ تو خرق عادت امور پر بھی قادر ہے کیوں نہ اپنے لیے دعا کر دیکھوں۔ ممکن ہے شرف قبولیت حاصل ہوجائے۔ چنانچہ اس خیال کے آتے ہی اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے نیک سیرت اولاد کی دعا فرمائی۔ آل عمران
39 آل عمران
40 آل عمران
41 [٤٣]فرشتوں کی سیدنا زکریا سے ہمکلامی اور بیٹے کی بشارت:۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے زکریا علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ ایک دفعہ جب محراب میں کھڑے نماز ادا کر رہے تھے تو فرشتوں نے آپ کو بیٹے کی خوشخبری دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بیٹے کا نام یحییٰ بھی خود تجویز فرما دیا اور اس کی صفات بھی بیان فرما دیں جو یہ تھیں : (١) اس کا نام اللہ تعالیٰ نے خود یحییٰ رکھا اور بتلایا کہ پہلے آج تک کسی انسان کا یہ نام نہیں رکھا، (٢) کلمۃ اللہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کرے گا، (٣) وہ بنی اسرائیل کا سردار ہوگا اور اس قوم کی خراب حالت کی اصلاح کرے گا (، ٤) وہ حصور ہوگا، یعنی اس کی نہ تو عورتوں کی طرف کچھ رغبت ہوگی اور نہ گناہ کے کاموں کی طرف۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ (٥) وہ نبی ہوگا اور پاک بازلوگوں میں سے ہوگا۔ چنانچہ جب حضرت زکریا علیہ السلام نے فرشتوں کی زبانی ایسے شان والے فرزند ارجمند کی بشارت سنی تو مسرت و استعجاب کے ملے جلے جذبات سے اللہ کے حضور وہی مانع حمل اسباب بتلا دیئے جن کی وجہ سے آپ اب اولاد سے مایوس ہوچکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے سوال کے جواب میں یہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے مانع حمل اسباب کے باوجود اس کی قدرت رکھتا ہے اور وہ جیسے چاہے کرسکتا ہے۔ اب زکریا علیہ السلام کا اگلا سوال یہ تھا کہ اس استقرار حمل کی کوئی علامت بتلا دی جائے، جب یہ عجیب غیر معمولی واقعہ پیش آنے والا ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا علامت یہ ہے کہ آپ لوگوں سے مسلسل تین دن تک بات چیت نہ کرسکیں گے، پس ہاتھ، آنکھ اور ابرو کے اشارہ سے کلام چلائیں گے ان دنوں تمہاری زبان صرف اللہ کے ذکر پر چل سکے گی۔ لہٰذا ان دنوں میں صبح و شام زیادہ سے زیادہ اللہ کی تسبیح اور ذکر اذکار کرتے رہنا۔ واضح رہے کہ وحی الٰہی کی سب سے معروف صورت تو یہ ہے کہ جبریل امین نبی کے دل پر نازل ہو کر وحی کا القاء کرتا ہے۔ یا بعض اوقات کبھی انسان کی صورت میں آکر نبی سے بات چیت کرتا ہے اور یہ ایسی وحی ہوتی ہے جس کا تعلق صرف نبی سے نہیں امت سے بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں ایک فرشتہ کی بجائے الملائکة (فرشتے) کا لفظ استعمال ہوا ہے اور یہ وحی کی ایک خاص قسم ہے اور اس کا تعلق صرف مخاطب سے ہوتا ہے۔ یعنی فرشتوں کا مخاطب سے مکالمہ ہوتا ہے ایسے مخاطب کا نبی ہونا بھی ضروری نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسی وحی کو دوسروں تک پہنچانا ضروری ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی مکالمہ فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام سے بھی کیا۔ حالانکہ وہ نبی نہیں تھیں۔ ایسی وحی کی کیا کیفیت ہے؟ اس قسم کے متعلق کتاب و سنت میں کوئی تصریح نہیں۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ انسان کی عقل اسے سمجھنے سے اور زبان اسے بیان کرنے سے قاصر ہے تو بالکل درست ہوگا۔ آل عمران
42 آل عمران
43 [٤٤]فرشتوں کی سیدہ مریم سے ہم کلامی :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جن ایام میں حضرت مریم علیہا السلام ہیکل کے حجرہ میں مقیم رہ کر اللہ کی عبادت میں مصروف رہا کرتی تھیں ان دنوں فرشتے ان سے ہمکلام ہوا کرتے تھے۔ فرشتوں ہی نے حضرت مریم علیہا السلام کو اطلاع دی کہ اس کا پروردگار اس پر کس قدر مہربان ہے اور اس نے حضرت مریم علیہا السلام کو سارے جہان کی عورتوں پر فضیلت اور ترجیح دی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : ’’مردوں میں تو بہت سے باکمال لوگ ہو گزرے ہیں مگر عورتوں میں کوئی کامل نہیں ہوا۔ بجز مریم علیہا السلام بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کے۔‘‘ (بخاری، کتاب الانبیاء باب قولہ تعالیٰ (وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰۗیِٕکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰیکِ ) ساتھ ہی ساتھ فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو یہ ہدایت بھی کی وہ بطور شکریہ اللہ تعالیٰ کی مزید فرمانبردار بن کر رہے اور اس مسجد میں جو جماعت ہوا کرتی تھی، وہ بھی اس میں شامل ہو کر نماز باجماعت کا اہتمام کرے۔ آل عمران
44 [٤٤۔ ا] گزشتہ حالات بتانے سےآپ کی نبوت کی دلیل :۔یعنی ایسے واقعات صدیوں پہلے گزر چکے ہیں۔ انہیں بالکل ٹھیک طور پر اپنے مخالفوں کو بتلا دینا آپ کا معجزہ اور آپ کی نبوت پر واضح دلیل ہے۔ کیونکہ آپ نے نہ تو تورات پڑھی تھی نہ انجیل اور نہ ہی کوئی تاریخی کتاب۔ عمر کا اکثر حصہ مکہ مکرمہ میں گزرا جہاں کوئی ذی علم تھا ہی نہیں کہ آپ اس سے سن کر دوسروں کو بتلاسکتے، نہ آپ کا کوئی استاد تھا، نہ کسی کے سامنے آپ نے زانوئے تلمذ تہ کئے تھے۔ پھر ایسے واقعات کو علمائے اہل کتاب کے سامنے صحیح صحیح بیان کردینا آپ کے منجانب اللہ سچا رسول ہونے پر بڑی قوی دلیل ہے۔ پھر بھی جو لوگ آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں تو اس کی وجہ محض بغض و عناد اور دوسرے مفادات ہیں اور کچھ نہیں۔ [٤٥] سیدنا زکریا کیسے کفیل مریم بنے؟ حضرت مریم علیہا السلام پر اللہ تعالیٰ کی جو عنایات ہو رہی تھیں ان سے ہیکل کے تمام خادم واقف تھے اور ان میں ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ حضرت مریم علیہا السلام کی سرپرستی کا اعزاز اسے حاصل ہو اور اس سلسلہ میں ایک دوسرے سے جھگڑتے اور اپنے استحقاق کے دلائل بھی دیتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں حضرت زکریا علیہ السلام نے دوسروں کو اپنا یہ استحقاق بتلایا کہ چونکہ وہ حضرت مریم علیہا السلام کے حقیقی خالو بھی ہیں لہٰذا وہی حضرت مریم علیہا السلام کے کفیل بننے کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ لیکن دوسروں نے حضرت زکریا علیہ السلام کے اس استحقاق کو چنداں اہمیت نہ دی، اور بالآخر طے یہ ہوا کہ ایسے سب حضرات اپنی اپنی قلمیں جن سے وہ تورات لکھا کرتے تھے کسی بہتی ندی میں پھینک دیں۔ اگر کسی شخص کا قلم ندی کے بہاؤ کی طرف بہنے سے رک جائے اور اپنی جگہ پر قائم رہے تو وہی شخص مریم علیہا السلام کی سرپرستی کا حقدار ہوگا۔ اب ظاہر ہے یہ امتحان بھی ایک خرق عادت امر سے تھے اور کسی خرق عادت امر سے ہی اس قضیہ کا فیصلہ ہوسکتا تھا۔ چنانچہ قلمیں پھینکی گئیں تو ماسوائے حضرت زکریا علیہ السلام کے قلم کے، باقی سب قلمیں پانی کے بہاؤ کے رخ بہہ نکلیں لیکن حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم اپنی جگہ پر قائم رہا۔ ایک تو وہ پہلے ہی حضرت مریم علیہا السلام کے حقیقی خالو ہوتے تھے۔ اس امتحان میں بھی قرعہ فال انہی کے نام نکلا تو اب اس میں کسی کو اختلاف اور جھگڑے کی گنجائش نہ رہی۔ آل عمران
45 [٤٦] فرشتوں کا سیدہ مریم سے دوسرامکالمہ یہ فرشتوں کا حضرت مریم علیہا السلام سے دوسرا مکالمہ ہے اور یہیں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ پیدا ہونے کے بیان کا آغاز ہوتا ہے۔ اس سے پیشتر جو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی خرق عادت پیدائش کا ذکر ہوا تو وہ بطور تمہید تھا۔ اس واقعہ میں اسباب موجود تھے اور وہ واقعہ خرق عادت صرف اس لحاظ سے تھا کہ ان اسباب کی قوت کار مفقود ہوچکی تھی اور اللہ تعالیٰ نے از سر نو قوت کار پیدا کردی۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اس سے بڑھ کر خرق عادت امر ہے۔ کیونکہ یہاں باپ کا وجود ہی نہیں۔ اس مکالمہ میں جب فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو ان کے بیٹے مسیح عیسیٰ ابن مریم کی پیدائش کی خوشخبری دی اور اس کے اوصاف بتلائے تو وہ یکدم چونک اٹھیں کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ جب کہ کسی مرد نے مجھے چھوا تک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ چاہے اور جیسے چاہے پیدا کرسکتا ہے۔ اسے سبب کے بغیر بھی کوئی چیز پیدا کرنے پر پوری پوری قدرت حاصل ہے اور فرشتوں نے جو اوصاف حضرت مریم علیہا السلام کو بتلائے وہ یہ تھے۔ (١)سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کےاوصاف وخصائل :۔ وہ لڑکا اللہ تعالیٰ کے کلمہ ’کن‘ سے بن باپ پیدا ہوگا (٢) اس کا پورا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ مسیح آپ کا لقب ہے اور اس کی دو توجیہات بیان کی گئیں۔ ایک یہ کہ ہیکل سلیمان میں یہ دستور تھا کہ جس شخص کو وہ بزرگ اور پاکباز سمجھتے تھے تو اسے کاہن زیتون کے تیل سے مسح کردیتے اور اس کے جسم پر مل دیتے تھے۔ اس لحاظ سے بھی آپ مسیح مشہور ہوئے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ آپ نے عمر بھر سفر و سیاحت میں گزار کر رسالت کا فریضہ سرانجام دیا۔ اس لحاظ سے بھی آپ مسیح کہلائے اور عیسیٰ آپ کا اصل نام ہے اور ابن مریم آپ کی کنیت ہی نہیں بلکہ آپ کا یہی نسب ہے۔ چونکہ آپ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ لہٰذا آپ کو ماں کی طرف منسوب کیا گیا اور یہ آپ کے بن باپ پیدا ہونے پر سب سے بڑی دلیل ہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس انداز سے کسی مرد یا عورت کا نسب بیان نہیں فرمایا جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بیسیوں مقامات پر ابن مریم کا بھی ذکر آیا ہے، (٣) تیسری صفت یہ ہے کہ وہ دنیا و آخرت دونوں جگہ ( وجیہ) یا بارعب شخصیت ہوگی۔ وجیہ وہ شخص ہوتا ہے جس کے رعب اور وقار کی وجہ سے کوئی شخص رو در رو اسے کوئی طعنہ نہ دے سکے۔ چنانچہ یہود آپ کو آگے پیچھے معاذ اللہ ولدالحرام کہتے تھے۔ مگر منہ پر ایسا کہنے کی ہرگز جراءت یا جسارت نہیں کرتے تھے۔ (٤) چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ دنیا میں بھی اللہ کے مقرب بندوں سے ہوگا اور آخرت میں بھی۔ اور پانچویں صفت شیر خوارگی کے ایام میں پختہ کلام کرنا اور چھٹی صفت اس کا صالح ہونا ہے جس کا ذکر اگلی آیت میں مذکور ہے۔ یہ تھیں وہ صفات جن کا ذکر حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے پیشتر ہی فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام سے کردیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ﴿کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفْعَلُ مَا یَشَاۗءُ ﴾ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد ﴿کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَا یَشَاۗءُ﴾ جو اس بات پر واضح دلیل ہے کہ عیسیٰ علیہ اسلام کی پیدائش بن باپ ہوئی تھی اور یہ معجزہ حضرت یحییٰ کی پیدائش کے معجزہ سے بہت بڑا تھا اور اس کا تفصیلی ذکر آگے سورۃ مریم میں آرہا ہے۔ آل عمران
46 [٤٧] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گہوارہ میں تین بچوں کے سوا کسی بچہ نے بات نہیں کی۔ ان میں سے ایک عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں۔ دوسرے بنی اسرائیل سے جریج راہب جس پر حرامی بچہ کی نسبت تہمت لگائی تھی: اس نے بول کر اپنے اصلی باپ کا نام بتلا دیا۔ تیسرے وہ بچہ جس نے ماں کی چھاتی چھوڑ کر کہا تھا یا اللہ ! مجھے اس ظالم سوار کی طرح نہ کرنا۔ (بخاری، کتاب الأنبیاء، باب قول اللہ واذکر فی الکتاب مریم اذا نتبذت من أھلھا) اور مہد (گود) میں کلام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ ابھی گود میں ہو، شیر خوار ہو اور وہ کلام کرنے کی عمر کو نہ پہنچا ہو، نہ ہی ابھی اس نے کلام کرنا سیکھا ہو اور ’کھلا‘ کا مطلب پختہ عمر ہے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مہد میں بھی ایسے ہی کلام کیا۔ جیسے پختہ عمر میں کیا یا دوسرے لوگ پختہ عمر میں کیا کرتے ہیں اور اس عمر میں ان کا کلام ایسا پر مغز اور معقول تھا جیسا کہ عام لوگ پختہ عمر میں کیا کرتے ہیں۔ اس وقت آپ نے کیا باتیں کیں۔ اس کی تفصیل سورۃ مریم میں آئے گی، سردست یہ بتلانا مقصود ہے کہ اس عمر میں آپ کے ایسے کلام سے لوگوں کو متنبہ کرنا مقصود تھا۔ وہ اللہ کی قدرت کاملہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں اور جو لوگ ان کی والدہ ماجدہ کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں وہ غلط کار ہیں۔ ان کی والدہ پاک دامن، صدیقہ اور راست باز ہیں۔ جو کچھ وہ کہتی ہیں وہ بالکل سچ اور حقیقت پر مبنی ہے۔ سیدناعیسیٰ کی پیدائش کےمتعلق نظریات:۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس خرق عادت پیدائش کے بارے میں تین مختلف الرائے گروہ پائے جاتے ہیں۔ پہلا فریق تو یہود ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایسی واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود انہیں معاذ اللہ ولدالحرام کہتے ہیں۔ حضرت مریم علیہا السلام پر زنا کی تہمت لگائی اور ان کے ساتھ حضرت زکریا علیہ السلام کو ملوث کیا۔ پھر آخر اپنی اسی بدظنی کی بنا پر انہیں قتل بھی کردیا۔ دوسرا گروہ نصاریٰ کا ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت مریم علیہا السلام کی منگنی ان کے چچا زاد بھائی یوسف نجار سے ہوئی تھی۔ مگر ابھی نکاح نہیں ہوا تھا کہ انہیں اللہ کی قدرت سے حضرت عیسیٰ کا حمل ٹھہر گیا جب یوسف کو اس صورت حال کا علم ہوا تو اس نے یہ منگنی توڑ دینا چاہی، مگر خواب میں اسے ایک فرشتہ ملا جس نے بتلایا کہ مریم پاک باز عورت اور ہر طرح کے الزامات سے بری ہے۔ اسے حمل اللہ کی قدرت سے ہوا ہے۔ لہٰذا تم ایسی پاک باز اور پاکیزہ سیرت عورت کو ہرگز نہ چھوڑنا چنانچہ یوسف نے اپنی رائے بدل دی۔ پھر اس کے بعد اس نے یوسف سے شادی کی۔ اور اولاد بھی ہوئی۔ یہ فریق اپنے بیان کے مطابق مختلف اناجیل سے حوالے بھی پیش کرتا ہے۔ تیسرا گروہ منکرین معجزات کا ہے جو حضرت عیسیٰ کی بن باپ پیدائش کے قائل نہیں لیکن وہ تاویل ایسی پیش کرتے ہیں جس کا ثبوت نہ کتاب و سنت سے مل سکتا ہے نہ اناجیل سے اور نہ کسی دوسری کتاب سے، اور وہ تاویل یہ ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کی یوسف نجار سے منگنی نہیں بلکہ نکاح ہوچکا تھا۔ مگر ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ یوسف مریم کے پاس یا مریم یوسف کے پاس گئی۔ اور ان کے باہمی ملاپ سے حمل ٹھہرا اور یہ ایسا بیان ہے جو حضرت مریم علیہا السلام کی اس قرآنی صراحت ﴿ وَلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَر﴾ کے صریحاً خلاف ہے۔ رہی یہ بات کہ اگر معاملہ یہی تھا تو یہود نے حضرت مریم علیہا السلام کو لعن طعن کس بات پر کی تھی؟ تو اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ یہود میں رخصتی سے پہلے میاں بیوی کی مباشرت شدید جرم سمجھا جاتا تھا، خواہ نکاح ہوچکا ہو، اور اسی جرم کی بنا پر یہود نے لعن طعن کی تھی۔ حالانکہ یہ بات بھی قرآنی تصریحات کے بالکل برعکس ہے۔ نیز ان کے نظریہ کو بھی کسی کتاب کے حوالہ سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے قرآن میں اپنے نظریات کو بہ تکلف داخل کرنا چاہتے ہیں خواہ اس سے قرآن کی کتنی ہی آیات کا انکار لازم آتا ہو۔ آل عمران
47 آل عمران
48 [٤٨] سیدنا عیسیٰ کاحافظہ اور تفقہ:۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بلا کا حافظہ عطا فرمایا تھا۔ علاوہ ازیں وہ خوشنویس بھی تھے اور تورات ہاتھ سے لکھا کرتے تھے۔ تورات پر انہیں اتنا عبور تھا کہ جب یہودی علماء (فقیہ اور فریسی) ان سے کسی بات پر الجھتے تو آپ تورات کے زبانی حوالے دے کر انہیں قائل کرتے اور چپ کرا دیتے تھے اور فقیہ اور فریسی ان کے کمال درجہ کے حافظہ پر حیران و ششدر رہ جاتے تھے۔ یہود کا سیدہ مریم اور زکریا پر الزام:۔ آپ کو تیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی تھی۔ اس کے بعد تین سال مسلسل سیاحت کرتے رہے اور دین کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف رہے اور غالباً اسی وجہ سے آپ کو مسیح کہا جانے لگا تھا آپ نے یہود کی بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کی ان تھک کوشش کی۔ انہیں تورات کے احکام یاد دلائے اور ان کی از سر نو تعلیم دی۔ ان کی غلطیوں اور غلط فہمیوں کی نشاندہی کی۔ انجیل کے احکام سنائے اور سکھلائے۔ مگر اس بگڑی قوم کی حالت سدھر نہ سکی۔ وہ الٹا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن بن گئے، اور حضرت زکریا علیہ السلام پر حضرت مریم علیہا السلام سے زنا کا الزام لگا دیا اور بالآخر حضرت زکریا علیہ السلام کو اسی وجہ سے قتل کردیا۔ حضرت زکریا علیہ السلام کے بعد حضرت یحییٰ علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کی تو انہیں بھی حکومت کی وساطت سے مروا ڈالا۔ ان دونوں انبیاء کے قتل کے بعد یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درپے آزار ہوئے اور ان کے دشمن بن گئے۔ بالآخر تینتیس سال کی عمر میں علمائے یہود نے ان پر مقدمہ چلایا اور حکومت کی وساطت سے انہیں سولی پر لٹکانے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ جسد مع روح آسمان پر اٹھا لیا۔ آل عمران
49 [٤٩] حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں طب کا فن اپنے عروج پر پہنچا ہوا تھا۔ بڑے بڑے حکمائے یونان بقراط و سقراط اور ارسطاطالیس وغیرہ نے اسی دور میں شہرت پائی تھی۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کو معجزات بھی ایسے عطا کئے گئے جو اطباء کی دسترس سے باہر تھے۔ مثلاً آپ مٹی سے ایک پرندہ کی شکل بناتے پھر اس میں پھونک مارتے تو وہ زندہ ہو کر اڑنے لگ جاتا۔ مردوں کو کہتے کہ اللہ کے حکم سے اٹھ کر کھڑے ہوجاؤ، تو وہ اٹھ کھڑے ہوتے اور باتیں کرنے لگتے۔ مادر زاد اندھوں کی آنکھوں پر اور کوڑھی کے جسم پر ہاتھ پھیرتے تو وہ بالکل تندرست ہوجاتے اور بھلے چنگے ہوجاتے اور اندھوں کی بینائی لوٹ آتی اور کوڑھیوں کے جسم ٹھیک ہوجاتے۔ علاوہ ازیں وہ لوگوں کو یہ بھی بتلا دیتے تھے کہ وہ کیا کچھ کھا کر آئے ہیں اور باقی گھر میں کیا چھوڑ آئے ہیں اور یہ سب باتیں آپ کے منجانب اللہ رسول ہونے اور آپ کے پاک باز ہونے پر واضح دلائل تھے۔ معجزات عیسیٰ علیہ السلام :۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پوری زندگی ہی معجزات سے معمور بھرپور تھی۔ آپ کی پیدائش بھی معجزانہ طور پر ہوئی۔ مہد میں کلام کیا، آپ مردہ کو زندہ کرتے تھے اور مٹی کے بنائے ہوئے پرندوں میں پھونک مار کر انہیں جیتا جاگتا پرندہ بنا دیتے تھے۔ پھر معجزانہ طور پر انہیں دشمنوں کی دسترس سے بچا کر آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ پھر قیامت کے قریب ان کا اس دنیا میں نزول بھی ہوگا، اور یہ ایسے معجزات ہیں جن میں عیسیٰ علیہ السلام منفرد ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ آپ کی پیدائش والد کے نطفہ کے بجائے نفخہ جبریل سے ہوئی تھی۔ اور آپ میں کچھ ملکوتی صفات بھی آگئی ہوں۔ واللہ اعلم بالصواب رہی یہ بات کہ منکرین معجزات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان چند معجزات کی کیا تاویلات بیان فرماتے ہیں تو گذارش ہے کہ اس سلسلہ میں تین حضرات نے اپنی عقل و خرد سے گھوڑے دوڑائے ہیں۔ پہلے تو آنرایبل سرسید احمد خان صاحب ہیں۔ دوسرے حافظ عنایت اللہ صاحب اثری ہیں جو تاویلات کے میدان میں سب سے سبقت لے گئے ہیں اور ان کی تاویلات دلچسپ اور مضحکہ خیز بھی زیادہ ہیں اور تیسرے نمبر پر جناب غلام احمد پرویز صاحب ہیں۔ ان سب کی تاویلات کو یہاں پیش کرنا پھر ان پر تبصرہ کرنا یہاں ممکن نہیں۔ البتہ ان کی تفصیل میں نے اپنی دو کتابوں ’عقل پرستی اور انکار معجزات‘ اور ’آئینہ پرویزیت‘ میں پیش کردی ہے۔ آل عمران
50 آل عمران
51 [٥٠] ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت بھی بعینہ وہی کچھ تھی جو دوسرے تمام انبیاء کی رہی ہے۔ مثلاً: ١۔ پروردگار یعنی مقتدر اعلیٰ صرف اللہ کی ذات ہے۔ لہٰذا وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے۔ اس لحاظ سے عیسائیوں کا عقیدہ الوہیت مسیح غلط قرار پاتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے نمائندہ کی حیثیت سے نبی کی اطاعت کی جائے اور ہر نبی کی دعوت یہی رہی ہے۔ ٣۔ حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز کے اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہٰذا جو باتیں تم نے خود اپنے اوپر حرام قرار دے رکھی ہیں۔ میں اللہ کے حکم سے انہیں حلال قرار دے کر تمہیں ایسی ناجائز پابندیوں سے آزاد کرتا ہوں۔ نیز آپ نے اللہ کے حکم سے یہود پر ہفتہ کے دن کی پابندیوں میں بہت حد تک تخفیف کردی۔ مگر یہود کی اصلاح نہ ہوسکی اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دشمنی میں آگے بڑھتے ہی چلے گئے۔ آل عمران
52 [٥١]سیدنا یحیٰ کا قتل اور عیسیٰ کاارادہ قتل:۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پوری طرح معلوم ہوچکا تھا کہ یہود اور ان کے علماء دلائل کے میدان میں مات کھا کر اب ان کی زندگی کے درپے ہوچکے ہیں اور اس کام کے لیے سازشیں تیار کر رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ انبیاء کو ناحق قتل کرنا یہود کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے۔ یہود کے ایک رئیس نے ایک رقاصہ کی فرمائش پر حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسے برگزیدہ پیغمبر کا سر قلم کر ڈالا ہے تو انہیں اپنی موت کے آنے میں کچھ شبہ نہ رہا۔ اب انہیں فکر تھی تو یہ تھی کہ دین کی اشاعت و تبلیغ کا کام نہ رکنا چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے چند پیرو کاروں کو مخاطب کرکے پوچھا کہ کون ہے جو اس سلسلہ میں میری مدد کرے۔ تاکہ اللہ کے دین کو فروغ حاصل ہو۔ [٥٢] حواری کون تھے؟ اس بات میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ تاہم اس بات پر اتفاق ہے کہ حواری کا مفہوم وہی کچھ ہے جو لفظ انصار کا ہے۔ یعنی اللہ کے نبی اور دین کے مددگار۔ حواری کا مفہوم اس واقعہ سے بھی سمجھ میں آسکتا ہے کہ غزوہ خندق کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یوں بھی مدد فرمائی کہ نہایت ٹھنڈی اور تیز ہوا بصورت سخت آندھی چلا دی۔ جس نے کفار کے لشکر کے خیمے تک اکھاڑ پھینکے۔ ان کی ہانڈیاں الٹ گئیں اور وہ بددل ہو کر ناکام واپس چلے جانے کی باتیں سوچنے لگے تو اس صورت حال کی صحیح رپورٹ لینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ کون ہے جو کفار کے لشکر کی خبر لاتا ہے؟ اس کڑاکے کی سردی میں اور آندھی میں نکل کھڑے ہونے کی کسی کو جرات نہ ہوئی۔ صرف حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ تھے، جنہوں نے کہا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں جاتا ہوں‘‘ آپ نے پھر دوسری بار وہی سوال دہرایا تو پھر زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہی بولے کہ ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جاتا ہوں‘‘ تیسری بار آپ نے پھر سوال دہرایا تو تیسری بار بھی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہی جانے پر آمادہ ہوئے۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ ہر پیغمبر کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر رضی اللہ عنہ ہے۔ (بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب الزبیر بن العوام) چنانچہ کچھ حواریوں نے ببانگ دہل اعلان کیا کہ ہم اللہ کے دین کی خدمت کریں گے اور از سر نو عہد و پیمان کیا اور عیسیٰ سے کہا کہ آپ گواہ رہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے اور اس کے فرمانبردار بنتے ہیں : بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حواری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صدق دل سے مرید اور خاص شاگرد تعداد میں بارہ تھے اور ان کے نام یہ ہیں : (١) شمعون، جسے پطرس بھی کہتے ہیں، (٢) شمعون یا پطرس کا بھائی اندریاس، (٣) یعقوب بن زیدی (، ٤) یوحنا، (٥) یوحنا کا بھائی فلیپوس، (٦) برتھولما، (٧) تھوما، (٨) متی، (٩) یعقوب بن حلفائی، (١٠) تہدی، (١١) شمعون کنعانی اور (١٢) یہودا اسکریوتی۔ یہ وہ بارہ حواری یا انصار تھے۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت ہر قیمت پر آگے بڑھانے کا حضرت عیسیٰ سے عہد کیا تھا۔ آل عمران
53 آل عمران
54 [٥٣] یہود اور ان کے علماء و فقہاء سب کے سب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن بن گئے تھے مگر آپ کے دلائل کے سامنے انہیں مجبوراً خاموش ہونا پڑتا تھا۔ پھر جب آپ نے سبت کے احکام میں تخفیف کا اعلان کیا تو یہود کو پروپیگنڈا کے لیے ایک نیا میدان ہاتھ آگیا کہ یہ شخص ملحد ہے اور تورات میں تبدیلی کرنا چاہتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ملک شام کو اپنی دعوت کا مرکز بنایا ہوا تھا اور یہاں یہود کی حکومت نہ تھی بلکہ رومیوں کی حکومت تھی۔ آپ اپنے حواریوں کو ساتھ لے کر شام کے مختلف شہروں میں تبلیغ فرماتے اور معجزہ دکھلاتے جس سے لا تعداد شفایاب بھی ہوجاتے تھے اور آپ پر ایمان بھی لے آتے تھے۔ ہر شہر میں سینکڑوں مرد اور عورتیں آپ پر ایمان لے آئے تو یہودیوں کے بغض اور حسد میں اور بھی اضافہ ہوگیا اور وہ آپ کی جان لینے کے درپے ہوگئے۔ سیدناعیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری:۔ آپ کے حواریوں میں سے ہی ایک شخص نے یہود سے بہت سی رقم بطور رشوت وصول کرکے یہ مخبری کردی کہ اس وقت عیسیٰ علیہ السلام فلاں پہاڑی پر مقیم ہیں۔ چنانچہ یہود کی ایک مسلح جماعت اس پہاڑی پر پہنچ گئی اور آپ کو گرفتار کرلیا۔ یہ صورت حال دیکھ کر آپ کے حواری سب تتر بتر ہوگئے۔ ان کے پاس صرف دو تلواریں تھیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ حواری ایک مسلح جماعت کا مقابلہ نہ کرسکیں گے۔ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ تمہارا بال بھی بیکا نہ کرسکیں گے اور میں تمہیں اپنی طرف زندہ اٹھا لوں گا۔ سیدنا عیسیٰ کوسولی کی سزا دلوانے میں یہودی علماء کا کردار:۔ قیصر روم کی طرف سے جو حاکم شام پر مقرر تھا۔ اس کا نام ہیروڈیس تھا۔ یہودیوں نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کرلیا تو آپ کے منہ پر طمانچے مارے اور مذاق اڑاتے ہوئے شہر میں لے گئے۔ پھر آپ کو ہیرو ڈیس کے نائب حاکم پلاطوس کے پاس لے گئے اور آپ پر دو الزام لگا کر پلاطوس سے آپ کے قتل کا مطالبہ کیا۔ ایک الزام یہ تھا کہ یہ شخص قیصر روم کو محصول دینے سے منع کرتا ہے اور دوسرا یہ کہ یہ خود اپنے آپ کو مسیح بادشاہ کہتا ہے لیکن آپ نے ان دو الزاموں سے انکار کردیا تو پلاطوس کہنے لگا کہ میرے نزدیک اس کا کوئی ایسا جرم نہیں جو مستوجب قتل ہو۔ مگر جب اس نے یہودیوں کا اپنے مطالبہ پر اصرار دیکھا تو اس نے یہ مقدمہ ہیروڈویس کے پاس بھیج دیا۔ لیکن اسے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی ایسا جرم نظر نہ آیا جو مستوجب قتل ہو۔ لہٰذا اس نے یہ مقدمہ واپس پلاطوس کے پاس بھیج دیا۔ لیکن یہود کے علماء و فقہاء سب اسی بات پر بضد تھے کہ اس شخص کو ملحد ہونے اور دوسروں کو ملحد بنانے کی بنا پر قتل کرنا ضروری ہے۔ پلاطوس نے ان لوگوں کی ہٹ دھرمی اور ضد سے مجبور ہو کر کہا کہ میں تمہارے کہنے پر اسے سولی تو دے دیتا ہوں مگر اس کا گناہ تم پر اور تمہاری اولاد پر ہوگا۔ یہود نے ضد میں آکر اس بات کو بھی تسلیم کرلیا۔ مصلوب کون تھا؟ پھر جب آپ کو سولی پر چڑھانے کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ حرکت میں آئی۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں کی طرف اٹھا لے گئے اور کسی دوسرے شخص کی شکل و صورت اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام سے ملتی جلتی بنا دی اور سب کو یہی معلوم ہونے لگا کہ یہی شخص عیسیٰ ہے۔ قرآن کریم نے اس مقام پر ﴿وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ﴾کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ رہی یہ بات کہ یہ دوسرا شخص کون تھا ؟ تو اس کے متعلق ایک قول تو یہ ہے کہ یہ وہی شخص تھا جو آپ کو سولی کی سزا دلوانے میں سب سے پیش پیش تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے بڑے دشمن کو اس کی کرتوت کی سزا سولی کی شکل میں دے دی۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ شخص وہی حواری تھا جس نے بھاری رشوت لے کر آپ کی مخبری کرکے آپ کو گرفتار کروایا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بعض لوگوں نے اس شبہ کی اور بھی کچھ صورتیں ذکر کی ہیں۔ تاہم ان سب کا ماحصل یہی ہے کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھالیا اور آپ کی جگہ مصلوب کوئی دوسرا مشتبہ شخص ہوا تھا۔ سیدناعیسیٰ کے مصلوب ہونےسے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ:۔ یہ تو تھی قرآن کی وضاحت لیکن اناجیل کا بیان اس سے مختلف ہے۔ عیسائی یہ کہتے ہیں کہ سولی آپ ہی کو دی گئی تھی اور آپ نے چیخ چیخ کر جان دی۔ پھر یوسف نامی ایک شخص نے پلاطوس سے درخواست کی کہ لاش اس کے حوالے کردی جائے۔ چنانچہ اس نے آپ کو قبر میں دفنا دیا اور اوپر چٹان دھر دی، یہ جمعہ کی شام کا واقعہ تھا۔ پھر تین دن بعد اتوار کو حضرت عیسیٰ زندہ ہو کر لوگوں کو دکھائی دیئے۔ پھر آسمان پر چڑھ گئے اور دوبارہ آنے کا وعدہ کر گئے۔ اس وقت آپ کی عمر ٣٣ سال کی تھی۔ اناجیل کے اسی بیان پر عیسائیوں کے مشہور و معروف عقیدہ کفارہ مسیح کی عمارت کھڑی کی گئی۔ انجیل برنباس کا تعارف:۔ اناجیل کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے سے متعلق بیان کئی لحاظ سے محل نظر ہے۔ مثلاً ( : ١) اناجیل اربعہ کے مؤلفین میں سے کوئی بھی موقعہ کا عینی شاہد نہیں۔ حتیٰ کہ یہ اناجیل دوسری صدی عیسوی میں مرتب ہوئیں۔ یہ مؤلفین حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے شاگرد در شاگرد ہیں اور صلیب کے موقعہ پر ایک بھی حواری موجود نہ تھا۔ سب تتر بتر ہوگئے تھے۔ (٢) انجیل برنباس کا مؤلف برنباس حواری ہے اور یہ انجیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ سے صدہاسال پیشتر عیسائیوں میں مشہور و معروف تھی۔ اس میں یہ عبارت موجود ہے ’’تب فرشتوں نے باکرہ سے کہا کیونکہ یہودا عیسیٰ کی شکل میں مبدل ہوگیا‘‘ اور یہ یہودا وہی حواری ہے۔ جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخبری کی تھی۔ یہ انجیل برنباس چونکہ عیسائیوں کے تمام مشہور و معروف عقاید یعنی الوہیت مسیح، عقیدہ تثلیث اور کفارہ مسیح کی تردید کرتی ہے۔ لہٰذا اہل کلیسا نے اس انجیل کو الہامی کتابوں کے زمرہ سے خارج کردیا ہے اور اسے ضبط کرلیا گیا۔ تاہم یہ کتاب آج بھی دنیا سے ناپید نہیں ہوئی۔ (٣) اسلام سے پیشتر عیسائیوں کے کئی فرقے ایسے موجود تھے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے کے منکر تھے۔ مثلاً فرقہ باسلیدی، سربنتی، کاریو کراتی، ناصری، پوئی وغیرہ۔ لہٰذا عیسائیوں کا یہ دعویٰ کہ حضرت مسیح کے مصلوب ہونے کا عقیدہ متفق علیہ ہے۔ غلط ثابت ہوتا ہے۔ نزول مسیح :۔ بہت سی صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب دمشق کی مسجد کے سفید منارہ پر نزول فرمائیں گے۔ ان کے ایک طرف جبرائیل ہوں گے اور دوسری طرف میکائیل، اس وقت مسلمان کئی طرح کے فتنوں میں مبتلا ہوں گے جن میں سب سے بڑا فتنہ دجال کا ہوگا۔ آپ دجال کو قتل کریں گے اور مسلمانوں کی امداد فرمائیں گے۔ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائیں گے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی بن کے رہیں گے اسی زمانہ میں آپ شادی کریں گے اولاد ہوگی آپ کے دور میں اسلام کا بول بالا ہوگا، اور بعدہ آپ اپنی طبعی موت مریں گے۔ اس دوران آپ یہود کو چن چن کر ماریں گے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر کے پیچھے چھپا ہوگا تو وہ پتھر بھی بول اٹھے گا کہ یہاں ایک یہودی موجود ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کا مابعد والی آیت میں ذکر ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نزول عیسیٰ کے متعلق حدیث بیان کرنے کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم چاہو تو (دلیل کے طور پر) یہ آیت پڑھ لو﴿ وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ﴾ اہل کتاب میں سے کوئی نہ رہے گا مگر عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ضرور ایمان لائے گا۔ آل عمران
55 [٥٣۔ ا]یہود ونصاری دونوں کے سیدنا عیسیٰ پر الزام :۔ اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دو باتوں کا وعدہ فرمایا اور انہیں یقین دلایا۔ پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو ان کافروں کے الزامات سے پاک کرے گا اور کافروں سے مراد اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ دونوں ہیں۔ یہود کا الزام یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ معاذ اللہ ولدالحرام ہیں، اور عیسائیوں کا الزام یہ تھا کہ آپ فی الواقعہ مصلوب ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر ان دونوں الزاموں کی مدلل اور بھرپور تردید فرما کر عیسیٰ علیہ السلام کو ان الزامات سے پاک و بری قرار دیا۔ اور دوسرا وعدہ یہ تھا کہ میں (اے عیسیٰ) تیرے تابعداروں کو تجھے نہ ماننے والے یعنی یہودیوں پر غالب رکھوں گا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ماننے والوں میں مسلمان بھی شامل ہوجاتے ہیں اور یہ پیشین گوئی یوں پوری ہوئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قریباً چالیس سال بعد رومی قیصر طیطوس یہودیوں پر حملہ آور ہوا اور شہر یروشلم کو ڈھا کر تباہ کردیا۔ حتیٰ کہ بیت المقدس کو بھی مسمار کردیا۔ لاکھوں یہودیوں کو قتل کیا اور بہت سے پکڑ کر ساتھ لے گیا اور انہیں غلام بنایا۔ اس دن سے یہود کی رہی سہی عزت و شوکت بھی خاک میں مل گئی جو بعد کے ادوار میں بھی بحال نہ ہوسکی۔ [٥٤] یہ اختلاف صرف یہود اور نصاریٰ میں ہی نہیں مسلمانوں میں بھی ہے۔ قرآن و حدیث کے ان واضح ارشادات کے باوجود مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ معجزات کا منکر ہے۔ یہ لوگ احادیث کو درخور اعتنا سمجھتے ہی نہیں اور قرآنی آیات کی ایسی دورازکار تاویلیں کرنے لگتے ہیں کہ ان سے عقل شرمانے لگتی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور وفات کو بھی ان لوگوں نے تختہ مشق بنایا ہے ان حواشی میں تمام معجزات پر بحث ناممکن ہے۔ البتہ جو حضرات یہ تفصیلات دیکھنا چاہیں وہ میری تصانیف ’عقل پرستی اور انکار معجزات‘ اور ’آئینہ پرویزیت‘ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ موقعہ کی مناسبت سے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور وفات کے متعلق کچھ عرض کروں گا۔ پیدائش کے متعلق قرآن پاک میں دو مقامات پر سورۃ آل عمران اور سورۃ مریم علیہا السلام میں تفصیلی ذکر موجود ہے۔ جن سے صاف طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بن باپ معجزانہ طور پر ہوئی تھی۔ اب اگر بفرض محال منکرین معجزات کی بات تسلیم کرلیں اور سمجھیں کہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش بھی اللہ کے عام قانون کے مطابق ہوئی اور حضرت مریم علیہا السلام کا (نعوذ باللہ) کوئی شوہر بھی تھا تو اس پر درج ذیل اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ مسیح کی پیدائش فطری سمجھنے والوں سے چند سوالات:۔۱۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں بھی کسی پیغمبر یا کسی دوسرے شخص کا ذکر کیا ہے تو اس کی ابنیت کا کبھی ذکر نہیں کیا۔ آخر عیسیٰ علیہ السلام میں کیا اختصاص ہے کہ جہاں بھی ان کا نام آیا توابنیت کا ذکر یعنی ابن مریم علیہا السلام کا لاحقہ ضروری سمجھا گیا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نسب کے بارے میں فرماتے ہیں ﴿ اُدْعُوْہُمْ لِاٰبَاۗیِٕہِمْ﴾یعنی ہر شخص کو اس کے باپ کے نام سے منسوب کیا کرو۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا واقعی کوئی باپ تھا تو اللہ تعالیٰ کو اپنے مقرر کردہ ضابطہ کے مطابق اس کا نام لینا چاہئے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ہر مقام پر عیسیٰ علیہ السلام کی ماں ہی کا کیوں نام لے کر انہیں ماں سے منسوب کیا ہے۔؟ ٣۔ اس دور کے یہود نے حضرت مریم علیہا السلام پر زنا کی تہمت لگائی۔ اگر انہیں حضرت مریم علیہا السلام کا کوئی شوہر معلوم تھا تو تہمت لگانے کی کیا تک تھی۔ پھر اگر انہیں شوہر کا علم نہ ہوسکا تو آج کل کے لوگوں کو کیسے علم ہوگیا ؟ ٤۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی عام لوگوں کی طرح فطری طور پر ہوئی تھی تو اللہ تعالیٰ کو متعدد مقامات پر آپ کی پیدائش کے متعلق تفصیلات دینے کی کیا ضرورت تھی؟ اللہ تعالیٰ یہود کو یہ جواب نہ دے سکتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تو فلاں ہے۔ پھر تم کیسے تہمت لگا رہے ہو اور یہ مضمون صرف ایک جملہ یا آیت میں ادا ہوسکتا تھا۔ ٥۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے متعلق سورۃ مریم کی آیت ٢١ میں ﴿اٰیَۃً لِّلنَّاسِ﴾فرمایا اور سورۃ مومنون کی آیت نمبر ٥٠ میں حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ دونوں کو ﴿اٰیَۃً لِّلنَّاسِ﴾فرمایا۔ اگر حضرت عیسیٰ عام دستور کے مطابق ہی پیدا ہوئے تھے تو وہ خود اور ان کی ماں لوگوں کے لیے نشانی کیسے بن گئے؟۔ ٦۔ اگر حضرت عیسیٰ کی پیدائش عام دستور کے مطابق ہوئی تھی تو حضرت مریم علیہا السلام اکیلی دور دراز مقام میں کیوں چلی گئی تھیں اور بچہ کی پیدائش کے وقت اپنے مرنے کی آرزو کیوں کی تھی؟ رفع عیسیٰ علیہ السلام پر دلائل:۔ اب آپ رفع عیسیٰ کے متعلق غور فرمائیے۔ منکرین کا سارا زور لفظ ﴿توفی﴾ پر ہوتا ہے جس کے لغوی معنی پورے کا پورا وصول کرلینا۔ اس لفظ کو قرآن ہی نے نیند اور موت کے موقع پر قبض روح کے لیے استعمال کیا۔ حالانکہ نیند کی حالت میں پوری روح قبض نہیں ہوتی بلکہ جسم میں بھی ہوتی ہے۔ پھر اگر اس لفظ کو روح اور بدن دونوں کو وصول کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو لغوی لحاظ سے یہ معنی اور بھی زیادہ درست ہے ﴿ رَافِعُکَ اِلَیَّ﴾ کے الفاظ اس معنی کی تائید مزید کرتے ہیں اور دوسرے مقام پر تو اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں فرمایا ﴿وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ﴾ (٤: ١٥٧) اس آیت میں آپ کی زندگی اور رفع پر تین دلائل دیئے گئے ہیں۔ ١۔ یہ یقینی بات ہے کہ یہود عیسیٰ علیہ السلام کو مار نہ سکے۔ ٢۔ پھر مزید صراحت یہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔ ٣۔ بعد میں ﴿وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِـیْمًا ﴾ کہہ کر یہ وضاحت فرما دی کہ یہ رفع روح مع الجسد تھا ورنہ یہاں لفظ ﴿عَزِیْزا﴾ لانے کی کوئی تک نہیں کیونکہ رفع روح تو ہر نیک و بد کا ہوتا ہے اور رفع درجات ہر صالح آدمی کا۔ لہٰذا لازماً روح مع الجسد کا رفع ہی ہوسکتا ہے۔ معجزات سے انکار کی وجہ: ۔واضح رہے کہ شریعت کے مسلمہ امور کو تسلیم کرنے میں دو چیزیں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں۔ (١) فلسفیانہ یا سائنٹیفک نظریات سے مرعوبیت اور (٢) اتباع ہوائے نفس۔ منکرین معجزات خارق عادت امور کا انکار اور پھر ان کی تاویل اس لیے کرتے ہیں کہ یہ موجودہ زمانہ کے مادی معیاروں پر پوری نہیں اترتیں۔ لہٰذا سب عقل پرستوں نے حضرت عیسیٰ کے بن باپ پیدائش۔ ان کے دیگر سب معجزات اور آسمانوں پر اٹھائے جانے کی تاویل کر ڈالی۔ البتہ ان میں مرزا غلام احمد قادیانی متنبی منفرد ہیں جو باقی سب معجزات کے تو قائل ہیں۔ البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں پر اٹھائے جانے اور پھر قیامت سے پہلے اس دنیا میں آنے کے منکر ہیں وہ اس لیے کہ اس نے خود مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا، اور اگر یہ رفع عیسیٰ کو تسلیم کرلیتے تو ان کی اپنی بات نہیں بنتی تھی۔ گویا یہ کام اس نے دوسری وجہ یعنی اتباع ہوائے نفس کے تحت سرانجام دیا ہے۔ آل عمران
56 آل عمران
57 آل عمران
58 آل عمران
59 [٥٥]وفد نجران اور الوہیت عیسیٰ :۔ اس آیت سے عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کی تردید کا آغاز ہو رہا ہے۔ ٨ ھ کے آواخر میں مکہ فتح ہوگیا تو ٩ ھ میں وفود عرب کی مدینہ میں آمد شروع ہوگئی۔ ان میں کچھ لوگ تو اسلام قبول کرنے آتے تھے اور کچھ اسلام کی باتیں سیکھنے کے لیے۔ چنانچہ اسی زمانہ میں نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد بھی مدینہ میں آیا۔ نجران حجاز اور یمن کے درمیان ایک علاقہ ہے۔ جہاں عیسائیوں کی جمہوری حکومت تھی۔ اس وقت اس علاقہ میں ٧٣ بستیاں شامل تھیں اور ایک لاکھ سے زائد جنگی مرد یہاں موجود تھے۔ یہ حکومت تین سرداروں کے زیر حکم تھی۔ ایک عاقب کہلاتا تھا۔ جس کی حیثیت امیر قوم کی تھی۔ دوسرا سید کہلاتا تھا جو ان کے سیاسی اور تمدنی امور کی نگرانی کرتا تھا اور تیسرا سقف (بشپ یا لاٹ پادری) کہلاتا تھا جو ان کا مذہبی پیشوا ہوتا تھا۔ اس وفد میں یہ تینوں سردار شامل تھے۔ اس وقت کے عاقب کا نام عبدالمسیح، سید کا نام ایہم اور لاٹ پادری ابو الحارث بن علقمہ تھا۔ تینوں سردار ساٹھ آدمی اپنے ہمراہ لے کر مدینہ پہنچے۔ یہ لوگ جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ کیونکہ اب مسلمانوں کی ایک مضبوط حکومت قائم ہوچکی تھی۔ تاہم وہ اسلام بھی قبول کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ ان کا مذہبی پیشوا ابو الحارث بن علقمہ ایک عربی النسل آدمی تھا۔ حقیقت کو سمجھتا بھی تھا۔ مگر محض دنیوی مفادات کی خاطر وہ لاٹ پادری بن گیا تھا۔ آدمی ذہین اور معاملہ فہم تھا۔ لہٰذا عیسائیوں نے اس کی خاطرخواہ آؤ بھگت کی اور مال و جاہ سے نوازا تھا۔ ان کی آمد کا مقصد صرف یہ تھا کہ بحث و مناظرہ میں مسلمانوں کو لاجواب کیا جائے۔ چنانچہ آتے ہی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے الوہیت مسیح کے موضوع پر بحث شروع کردی۔ ان کا طرز استدلال یہ تھا کہ تم لوگ جب یہ تسلیم کرتے ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام معجزانہ طور پر بن باپ پیدا ہوئے تھے۔ پھر تم یہ بھی تسلیم کرتے ہو کہ یہودی انہیں مارنے پر قادر نہ ہوسکے اور انہیں آسمانوں پر اٹھا لیا گیا تھا تو یہ صفات کسی بندے کی نہیں ہوسکتیں۔ نیز تم انہیں کلمۃ اللہ اور روح اللہ بھی تسلیم کرتے ہو تو پھر اس سے بڑھ کر ان کی الوہیت کی کیا دلیل ہوسکتی ہے؟۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کوئی ایسی صورت حال پیش آتی تو فوراً جواب دینے کی بجائے وحی کا انتظار فرماتے چنانچہ آپ نے انہیں صاف کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آنے پر تمہیں ان باتوں کا جواب دوں گا۔ اسی موقعہ پر اس سورۃ کی تقریباً تیس آیات نازل ہوئیں جن میں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی پیدائش کا تفصیلی ذکر ہے، اور ان میں عقیدہ الوہیت مسیح کا پورا پورا رد موجود ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش معجزانہ طور پر ہوئی تو اسے اللہ کی قدرت کا کرشمہ تو کہا جاسکتا ہے۔ ان میں ان کا اپنا کیا کمال ہے کہ انہیں الٰہ تسلیم کیا جائے اور اگر حضرت عیسیٰ مردوں کو زندہ کرتے تھے تو وہ صاف کہہ دیتے تھے کہ میں یہ اللہ کے اذن سے سر انجام دے رہا ہوں یہی صورت حال ان کے رفع کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے انہیں یہود سے بچایا اور اپنی طرف اٹھا لیا۔ عیسیٰ علیہ السلام تو اپنی مدد کے بھی محتاج تھے وہ الٰہ کیسے بن گئے؟ عیسیٰ اور آدم کی مثلیت:َ۔دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ آیات سنائیں تو انہوں نے ابنیت مسیح کے متعلق ایک دوسرا سوال کردیا اور کہا کہ بتلاؤ کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام ابن اللہ نہیں تو ان کا باپ کون تھا ؟ مذکورہ آیت ان کے اسی سوال کے جواب میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر باپ کا نہ ہونا اللہ کی ابنیت یا الوہیت کی دلیل بن سکتا ہے تو پھر حضرت آدم علیہ السلام اس الوہیت کے عیسیٰ علیہ السلام سے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ ان کا باپ کے علاوہ ماں بھی نہ تھی۔ لیکن تم انہیں تو الٰہ نہیں مانتے پھر عیسیٰ کو کیوں مانتے ہو؟ لیکن یہ لوگ چونکہ ہدایت حاصل کرنے یا اسلام لانے کے لیے آئے ہی نہ تھے اور محض کج بحثی اور بحث و مناظرہ سے اپنے مذہب کی حقانیت ثابت کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان سے متعلق دو ٹوک فیصلہ سنادیا کہ اگر یہ لوگ کج بحثی ترک نہیں کرتے اور انہیں اپنے مذہب کی حقانیت پر اتنا ہی وثوق ہے تو پھر مباہلہ کرلیں تاکہ یہ تنازعہ ختم ہوجائے۔ علامہ عنایت اللہ صاحب اثری جو سرسید سے سخت متاثر ہیں اس لئے معجزات کے بھی منکر ہیں۔ اپنی تصنیف عیون زمزم پر بڑی طویل بحث کے بعد فرماتے ہیں کہ ’’آدم اور عیسیٰ میں وجہ مثلیت خاکی ہونے میں تھی کہ کوئی خاکی الٰہ نہیں ہوسکتا‘ کوئی پوچھے کہ اگر وجہ مثلیت یہی ہے، تو خاکی ہونے میں تو آدم کی سب اولاد برابر ہے۔ پھر آدم علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کی کیا تخصیص رہی۔‘‘ نیز کیا اللہ تعالیٰ کا نجران کے عیسائیوں کو یہی وجہ مثلیت بتلانا مقصود تھا۔ جن کا دعویٰ ہی یہ تھا کہ عیسیٰ بشر نہیں تھے۔ بلکہ الٰہ تھے۔؟ آل عمران
60 آل عمران
61 [٥٦]اہل نجران کا جزیہ قبول کرنا اورمباہلہ سےفرار:َ اس آیت میں مباہلہ کا طریق کار بیان کیا گیا ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے انہیں سنائی تو وہ کہنے لگے کہ ہمیں کچھ سوچنے اور مشورہ کرنے کی مہلت دی جائے۔ پھر جب ان کی مجلس مشاورت قائم ہوئی تو ایک ہوشمند بوڑھے نے کہا : اے گروہ نصاریٰ ! تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں سے ایک نبی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ ممکن ہے یہ وہی نبی ہو۔ جو باتیں اس نے کہی ہیں وہ صاف اور فیصلہ کن ہیں۔ اگر یہ فی الواقع وہ نبی ہوا اور تم لوگوں نے مباہلہ کیا تو تمہاری کیا تمہاری نسلوں کی بھی خیر نہ ہوگی۔ بہتر یہی کہ ہم ان سے صلح کرلیں۔ اپنے وطن کو لوٹ جائیں۔ چنانچہ دوسرے دن جاکر انہوں نے آپ کو اپنے فیصلہ سے مطلع کردیا اور صلح کی درخواست کی اور جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا۔ اس واقعہ کو امام بخاری نے مختصراً ان الفاظ میں روایت کیا ہے۔ عبیدہ بن الجراح امین الامت:۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجران سے عاقب اور سید آپ کے پاس آئے۔ یہ لوگ آپ سے مباہلہ کرنا چاہتے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا۔ ’’اگر یہ نبی ہوا اور ہم نے مباہلہ کیا تو پھر نہ ہماری خیر ہوگی نہ ہماری اولاد کی‘‘ پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : ’’جو جزیہ آپ مانگتے ہیں۔ وہ ہم دے دیں گے۔ آپ ایک امین آدمی ہمارے ہمراہ کردیجئے جو فی الواقع امین ہو۔‘‘ یہ سن کر آپ کے صحابہ انتظار کرنے لگے (کہ آپ کس کا نام لیتے ہیں) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’عبیدہ بن جراح! اٹھو!‘‘ جب وہ کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اس امت کا امین یہ شخص ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب المغازی، باب قصہ اہل نجران) آل عمران
62 آل عمران
63 [٥٦۔ ١] اہل نجران نے حق بات کو قبول نہ کیا اور مباہلہ کے بجائے صلح اور جزیہ کو یعنی اہل الذمہ بن کر رہنے کی ترجیح دی۔ تو ان کی حکومت انہی کے پاس رہی۔ اگر وہ مباہلہ کو قبول بھی کرتے اور اپنے اہل و عیال لے کر واپس نہ آتے یا صلح کی پیش کش کے بغیر واپس چلے آتے تو ان کا شمار مفسدوں میں ہوتا اور ان کا بھی وہی حشر ہوتا جو یہودیوں کا ہوا۔ آل عمران
64 [٥٧] صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف شاہان عجم کی طرف اسلامی دعوت کے خطوط بھیجے۔ جو خط ہرقل شاہ روم کو بھیجا گیا۔ اس میں اسلام کی طرف دعوت کے بعد یہی آیت درج تھی۔ ان دنوں ابو سفیان اپنے چند ساتھیوں سمیت شام گیا ہوا تھا۔ اسے اور اس کے ساتھیوں کو ہرقل نے دربار میں بلا کر پیغمبر اسلام کے متعلق بہت سے سوال و جواب کئے۔ تاآنکہ اسے پیغمبر اسلام کی حقانیت کا یقین ہوگیا۔ پھر اس نے روسائے مملکت کو ایک بند کمرے میں بلا کر کہا کہ اگر مسلمان ہوجاؤ تو ہدایت پاجاؤ گے اور تمہارا ملک بھی تمہارے ہی پاس رہے گا مگر وہ لوگ اس دعوت پر تلملا اٹھے اور باہر بھاگنا چاہا۔ ہرقل نے انہیں دوبارہ بلا کرکہا میں صرف تمہاری آزمائش کر رہا تھا کہ تم اپنے دین میں کتنے پختہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے ہرقل کو سجدہ کیا اور اس سے خوش ہوگئے۔ (طویل حدیث کا خلاصہ) (بخاری، کتاب التفسیر، زیر آیت ( یاھل الکتاب تعالوا) ہرقل اورابوسفیان کامکالمہ :۔ مندرجہ بالا حدیث میں جن سوالات کا ذکر ہے۔ ان میں سے ایک سوال ہرقل نے یہ بھی کیا تھا کہ آیا ’’تمہارے اور اس نبی کے درمیان کبھی جنگ بھی ہوئی؟‘‘ تو اس کا جواب ابو سفیان نے یہ دیا کہ ہاں ہوئی۔ پھر ہرقل نے پوچھا، اس جنگ کا نتیجہ کیا رہا ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ : الحرب سجال یعنی لڑائی تو ڈولوں کی طرح ہے کبھی ایک فریق کی فتح کبھی دوسرے کی اور یہی وہ جملہ ہے جو ابو سفیان نے جنگ احد کے اختتام پر کہا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھیں۔ نیز اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ہرقل بالکل صحیح نتیجہ پر پہنچ گیا تھا۔ مگر اس کے درباریوں کے سامنے اس کی کوئی پیش نہ گئی اور اتنی جرات ایمانی اس میں نہ تھی کہ وہ سلطنت کو چھوڑ کر مسلمان ہوجاتا، اور یہی نتیجہ جس پر ہرقل پہنچا تھا۔ کلمۃ سواء ہے جس کا اللہ نے یہاں ذکر فرمایا ہے اور یہ ہر الہامی کتاب میں پایا جاتا ہے۔ بعد میں لوگ اس کلمۃ سواء یا کلمہ توحید میں کئی طرح کی آمیزش کرلیتے ہیں۔ جیسا کہ عیسائیوں نے بعد میں الوہیت مسیح اور عقیدہ تثلیث وغیرہ ایجاد کرلیے تھے۔ آل عمران
65 [٥٨]سیدنا ابراہیم علیہ السلام کایہودی اورعیسائی ہونا:۔ یہود و نصاریٰ دونوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا پیشوا تسلیم کرتے تھے۔ اس کے باوجود ان میں شدید قسم کے اختلاف تھے۔ مزید یہ کہ یہودیوں کا دعویٰ یہ تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہمارے مذہب پر تھے یعنی یہودی تھے اور نصاریٰ کا یہ دعویٰ تھا کہ ہمارے مذہب پر تھے یعنی نصاریٰ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا۔ عقل کے اندھو! یہودی وہ ہیں جو تورات کے متبع ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور نصاریٰ وہ ہیں جو انجیل کے متبع ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور یہ دونوں کتابیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وفات کے مدتوں بعد نازل ہوئیں تو پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام یہودی یا نصرانی کیسے ہوسکتے ہیں؟ آل عمران
66 [٥٩] یعنی ایسی باتوں میں تو تمہیں جھگڑا کرنے کا کسی حد تک حق پہنچتا ہے۔ جن کے متعلق تمہیں کچھ علم ہے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے واقعات یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق جو تورات اور انجیل میں بشارات دی گئی ہیں۔ مگر جن باتوں کا تمہیں علم ہی نہیں ان میں تمہیں جھگڑا کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے؟ تم دونوں فرقوں میں سے کسی نے بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا نہ ان کا زمانہ پایا نہ ان کے حالات زندگی اور ان کی تعلیمات سے آگاہ ہوئے پھر تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ وہ یہودی تھے؟ یا نصرانی تھے؟ آل عمران
67 [٦٠] یاد رکھو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خالصتاً ایک اللہ کا حکم ماننے والے تھے۔ کسی دوسری طاغوتی طاقت کے آگے جھکنے والے نہیں تھے۔ وہ خالصتاً موحد تھے مشرک نہیں تھے جبکہ تم دونوں مشرک ہو۔ یہود عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا اور نصاریٰ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا، الٰہ اور تین خداؤں میں تیسرا سب کچھ کہہ دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں تم اللہ کے بھی سب احکام بجا نہیں لاتے۔ کتاب اللہ کو تم نے پس پشت ڈال رکھا ہے۔ پھر تم حضرت ابراہیم کے متبع کیسے بن سکتے ہو۔ ؟ اور وہ تمہارے دین پر کیسے ہوسکتے ہیں؟ آل عمران
68 [٦١] عقائد و اعمال کے لحاظ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے قریب تر وہ لوگ تھے جو ان کے پیرو کار تھے یا پھر یہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے پیرو کار ہیں۔ گویا ایسے لوگوں میں دو صفات ہوتی ہیں ایک تو وہ مشرک نہیں ہوتے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کے سب کے سب احکام بجا لاتے ہیں اور مکمل طور پر اللہ کے فرمانبردار ہوتے ہیں۔ غالباً اسی نسبت سے جو درود امت محمدیہ کو نماز میں پڑھنے کے لیے سکھلایا گیا ہے۔ اس میں ایسے ہی الفاظ وارد ہیں اور وہ اسی آیت کی تفسیر ہیں۔ ''اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید۔ اللھم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید'' آل عمران
69 [٦٢]یہود کی معاندانہ سرگرمیاں :۔ ان آیات میں یہود کے مسلمانوں سے حسد و عناد اور اسی سلسلہ میں ان کے چند کرتوتوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔ پہلی کوشش ان کی یہ تھی کہ جیسے بھی ممکن ہو اگر کچھ مسلمانوں کو یہودی بنا لیا جائے تو وہ اپنے مقصد میں بہت حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے چند مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش بھی کی۔ مگر الٹا بدنام ہوئے اور رسوائی بھی ہوئی۔ بھلا آپ کے پیروکار اور جانثاران یہودیوں کے دام میں کیسے پھنس سکتے تھے۔؟ دوسری کوشش ان کی یہ تھی کہ تورات کی جن آیات میں نبی آخرالزماں کی بشارت دی گئی ہیں۔ انہیں عوام میں شائع و ذائع ہونے سے روکا جائے اور اس سلسلہ میں مکروفریب اور کتمان حق کسی بات سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔ ان کوششوں سے وہ کامیاب نہ ہوئے بلکہ الٹا ان جرائم سے اپنے آپ کو مزید گمراہی میں مبتلا کرلیا۔ آل عمران
70 آل عمران
71 آل عمران
72 [٦٣]یہود کی تیسری چال‘ایمان لاکر مرتد ہوجانا:۔ اسی سلسلہ میں ایک سازش یہ تیار کی گئی کہ یہود کے چند افراد اعلانیہ طور پر مسلمان ہوجائیں۔ پھر چند دنوں بعد یا اسی دن اسلام سے مرتد ہوجائیں۔ اس سازش کا پس منظر یہ تھا کہ یہود عرب بھر میں علوم شرعیہ کے عالم مشہور تھے، حتیٰ کہ یہود اپنے سوا دوسرے سب لوگوں کو امی (ناخواندہ لوگ) کہہ کر پکارتے تھے۔ یہودیوں کے مسلمان ہونے کے بعد پھر سے مرتد ہونے سے عام لوگوں میں خود بخود تاثر پیدا ہوجائے گا کہ اہل علم نے جب اس دین اسلام کا قریب ہو کر مطالعہ کیا تو انہیں ضرور دال میں کچھ کالا نظر آیا ہے۔ ورنہ ایک عالم آدمی کیسے گمراہی کو ترجیح دے سکتا ہے۔ یہ سازش ابھی پک ہی رہی تھی کہ اللہ نے اپنے نبی کے ذریعہ مسلمانوں کو اس سے متنبہ کردیا اور ان کی یہ باطنی خباثت وہیں ختم ہو کر رہ گئی۔ آل عمران
73 [٦٤] اسلام کی راہ میں روکنے کےلیےیہود کی چالیں:۔ چوتھی کوشش ان کی یہ تھی کہ وہ ایک دوسرے کو اس بات کی تاکید کرتے تھے کہ خبردار اپنے دین پر پکے رہنا، دوسرے کسی مذہب والے کی پیروی نہ کرنا، تم مسلمانوں کی باتیں سنو مگر قبول وہی کرو جو تمہارے اپنے مذہب کے مطابق ہوں۔ اور خبردار! انہیں تورات کی کوئی ایسی بات بھی نہ بتلانا جو تمہارے اپنے خلاف جاتی ہو۔ ورنہ وہ قیامت کو اللہ کے حضور یہ کہہ دیں گے کہ ان باتوں کا تو یہ یہود خود بھی اقرار کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں اپنے پیارے پیغمبر سے فرمایا کہ ان سے کہہ دیجئے کہ تم جو ہدایت کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہو تو یہ تو بتلاؤ کہ یہ ہدایت تمہیں ملی کہاں سے ہے؟ اور اگر اللہ ہی کی طرف سے ملی ہے تو کیا دوسروں کو ایسی ہی ہدایت کے احکام نہیں بتلاسکتا۔ بالخصوص اس صورت میں کہ تم اللہ کے احکام کے علی الرغم ہر قسم کی بددیانتی پر اتر آئے ہو؟ آل عمران
74 [٦٥] ان کی ان سب کوششوں اور شرارتوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا۔ بے شک ایک وقت تھا جب اللہ نے تمہیں تمام جہان والوں پر عزو شرف بخشا تھا۔ لیکن اب تم مسلسل فتنہ انگیزیوں اور بدعہدیوں کی وجہ سے اس قابل نہیں رہے۔ فضل و شرف کا مالک اللہ ہے اور اب جسے اس نے مناسب اور مستحق سمجھا اسے اس نے دے دیا۔ فضل و شرف کے ٹھیکیدار تم نہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ تم جیسا تنگ نظر نہیں ہے کہ فضل و شرف کے اہل لوگوں کو فضل و شرف عطا نہ فرمائے، بلکہ وہ بڑا وسیع النظر ہے۔ سب کچھ جاننے والا اور وہی فضل و شرف عطا کرنے والا ہے اور وہ یہ بھی خوب جانتا ہے کہ تم اب اس عزوشرف کے اہل نہیں رہے۔ آل عمران
75 [٦٦] سود یہودیوں پر بھی حرام کیا گیا تھا۔ لیکن ان کے فقہاء نے کچھ اس طرح موشگافیاں اور نکتہ آفرینیاں کیں جن کی رو سے انہوں نے غیر یہود سے سود وصول کرنا جائز قرار دے لیا تھا ( جیسا کہ آج کل مسلمانوں میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو فقہی موشگافیاں پیدا کرکے حربی کافروں سے سود لینا جائز سمجھتا ہے) پھر ان کی یہ سود خوری کی عادت فقط سود تک محدود نہ رہی بلکہ وہ کہتے تھے غیر یہودی کا مال جس طریقے سے ہڑپ کیا جاسکے، جائز ہے۔ یہود کی اس طرح کی حرام خواری کا ذکر اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر فرمایا ہے۔ گویا اس طرح وہ دہرا جرم کرتے تھے۔ ایک حرام خواری دوسرے اسے شریعت سے مستنبط مسئلہ قرار دے کر اسے جائز سمجھنا۔ گویا وہ اپنی اختراع کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے تھے۔ سود خوری سے انسان کی طبیعت پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ ہیں خود غرضی، سنگ دلی، بخل اور مال سے غیر معمولی محبت اور اس کے بعد حرام طریقوں سے مال جمع کرنے کی فکر، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو ایسے شخص کی مثال دی ہے کہ اگر اسے ایک دینار بھی دے بیٹھیں تو اس سے واپس لینا مشکل ہوجاتا ہے تو وہ اسی قسم کے مال کی محبت میں گرفتار آدمی کی مثال ہے۔ رہی دیانتدار آدمی کی مثال تو وہ ہر قوم اور ہر امت میں کچھ اچھے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ اگرچہ وہ کم ہی ہوتے ہیں۔ یہودیوں میں ایسے لوگ وہ تھے جو سود خوری اور دوسرے ناجائز طریقوں کو فی الواقعہ حرام سمجھتے تھے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ایسے ہی شخص تھے۔ کسی نے ان کے پاس بارہ اوقیہ سونا بطور امانت رکھا تھا اور جب مالک نے اپنی امانت طلب کی تو فوراً ادا کردی۔ اب ان کے مقابلہ میں ایک یہودی فحاص نامی تھا۔ کسی نے ایک اشرفی اس کے پاس امانت رکھی ہوئی تھی۔ جب اس نے اس سے امانت طلب کی تو وہ مکر ہی گیا۔ یہودیوں کاغیراسرائیلیوں کےمال کوجائزسمجھنا:۔ یہود کا غیر اسرائیلیوں کے مال کو ہر جائز و ناجائز ذریعہ سے ہڑپ کر جانے کا جواز ان کی اپنی کتابوں سے ثابت ہے۔ تلمود میں کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیلی کا بیل کسی غیر اسرائیلی کے بیل کو زخمی کر دے تو اس پر کوئی تاوان نہیں۔ مگر غیر اسرائیلی کا بیل اگر اسرائیلی کے بیل کو زخمی کردے تو اس پر تاوان ہے۔ نیز اگر کسی کو کوئی گری پڑی چیز ملے تو اسے دیکھنا چاہئے کہ گردوپیش آبادی کن لوگوں کی ہے۔ اگر اسرائیلیوں کی ہو تو اسے اعلان کرنا چاہئے۔ اور اگر غیر اسرائیلیوں کی ہو تو اسے بلا اعلان وہ چیز رکھ لینی چاہیئے۔ ربی شموایل کہتا ہے کہ اگر امی اور اسرائیلی کا مقدمہ قاضی کے پاس آئے تو اگر قاضی اسرائیلی قانون کے مطابق اپنے مذہبی بھائی کو جتوا سکتا ہو تو اس کے تحت جتوائے اور کہے کہ یہ ہمارا قانون ہے اور اگر امیوں کے قانون کے مطابق جتوا سکتا ہو تو اس کے تحت جتائے اور کہے کہ یہ تمہارا قانون ہے۔ اور اگر دونوں قانون ساتھ نہ دیتے ہوں تو پھر جس حیلے سے بھی وہ اسرائیلی کو کامیاب کرسکتا ہو کرے۔ ربی شموایل کہتا ہے کہ غیر اسرائیل کی ہر غلطی سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ (تفہیم القرآن، ج ١ ص ٢٦٦، حاشیہ نمبر ٦٤) آل عمران
76 [٦٦۔ ا] یہود کی باطنی خباثتوں کے ذکر کے درمیان ان کی بددیانتی کا ذکر اس نسبت سے آیا ہے کہ ان دونوں کا منبع ایک ہے اور وہ ہے تقویٰ کا فقدان۔ یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ایسے بے باک اور نڈر ہوگئے تھے کہ نہ وہ اللہ کے احکام بیان کرنے میں دیانت سے کام لیتے ہیں اور نہ ہی دوسرے لوگوں سے معاملات میں وہ دیانت کو ملحوظ رکھتے تھے۔ ان کے ذہن میں بس ایک ہی سودا سمایا ہوا تھا کہ وہ چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہٰذا جو کچھ بھی وہ کرلیں۔ دوزخ کی آگ ان پر حرام کردی گئی ہے۔ اسی زعم باطل کی بنا پر وہ غیر اسرائیلیوں کے اموال کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے ہڑپ کر جانے کو کچھ جرم نہیں سمجھتے تھے۔ یہود میں اہل تقویٰ لوگ:۔ ان میں چند ایک جو فی الواقع اللہ سے ڈرنے والے تھے۔ وہ نہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی قسم کی بددیانتی اور خیانت کے روادار تھے اور نہ لوگوں کے معاملہ میں۔ ایسے ہی متقی لوگوں میں سے ایک عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے حلقہ اثر کے لوگ تھے۔ جو لوگوں سے بھی کسی طرح کی بددیانتی یا ہیرا پھیری نہیں کرتے تھے۔ اور نہ ہی وعدہ خلافی کرتے تھے اور جب انہیں یہ تسلی ہوگئی کہ یہ نبی واقعی وہی نبی ہیں جن کی تورات میں بشارت دی گئی ہے ہے تو وہ بلاخوف لومۃ لائم فوراً اسلام لے آئے تھے۔ آل عمران
77 [٦٧] اللہ کے عہد اور قسموں کے بدلے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لینے کی بہت سی صورتیں ممکن ہیں ان میں دو صورتوں کا ذکر تو بخاری میں آیا ہے۔ یہ دونوں صورتیں بعینہ ہم احادیث کے الفاظ میں درج کرتے ہیں۔ جھوٹی قسم سے مال بٹورنا:۔۱ ۔ اشعث بن قیس کہتے ہیں کہ یہ آیت میرے حق میں اتری۔ میرے چچا زاد بھائی کی زمین میں میرا کنواں تھا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ ’گواہ لاؤ‘ ورنہ اس سے قسم لے لو۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! وہ تو قسم کھا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جو شخص کسی مسلمان کا مال مار لینے کی نیت سے خواہ مخواہ جھوٹی قسم کھائے تو جب وہ اللہ سے ملے گا تو اس وقت اللہ اس پر غضب ناک ہوگا۔‘‘ (بخاری، کتاب التفسیر) ٢۔ عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بازار میں اپنا مال رکھا اور ایک مسلمان کو پھانسنے کے لیے جھوٹی قسم کھا کر کہنے لگا کہ مجھے اس مال کی اتنی قیمت ملتی تھی۔ (حالانکہ یہ بات غلط تھی) تب اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ (بخاری، کتاب التفسیر) باقی صورتیں مثلاً فقہی موشگافیاں یا کتاب اللہ میں تحریف یا غلط تاویل کرکے غلط فتویٰ دینا اور ان کے عوض مال وصول کرنا، کسی سے کوئی چیز عاریتاً لے کر مکر جانا اور قسم اٹھا لینا، غرض کہ بددیانتی کی جتنی بھی اقسام ہوسکتی ہیں ان سب پر اس آیت کا اطلاق ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ جب قرآن کریم یا احادیث میں کسی جرم کے متعلق ایسے الفاظ استعمال ہوں کہ قیامت کے دن اللہ اس سے کلام نہیں کرے گا یا دیکھے گا بھی نہیں یا اس پر اللہ کا غضب ہوگا یا انہیں پاک نہیں کرے گا، تو ایسے گناہ یقیناً کبیرہ گناہ ہوا کرتے ہیں۔ مگر ایسے جرائم کرنے کے باوجود یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ قیامت کے دن یہی اللہ کے مقرب بندے ہوں گے۔ انہی کی طرف نظر عنایت ہوگی اور جو تھوڑا بہت گناہوں کا میل انہیں لگ گیا ہے وہ بھی ان کے بزرگوں کے صدقے ان پر سے دھو ڈالا جائے گا۔ حالانکہ ان کے ساتھ معاملہ بالکل اس کے برعکس ہوگا۔ آل عمران
78 [٦٨]علماء کا لب ولہجہ سے عوام کوفریب دینا اورخطبیوں کی چالبازیاں:۔ اس آیت میں یہود کی ایک اور چالبازی مذکور ہے۔ خطیبوں اور واعظوں کی عموماً یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ کتاب اللہ کی آیات کو تو خوش آوازی اور لے کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس کے معانی اور تشریح عام گفتگو کے لہجہ میں کرتے ہیں۔ اب اگر وہ معانی اور تشریح کے الفاظ کی ادائیگی بھی اسی لب و لہجہ میں کریں جس میں وہ کتاب اللہ کی کرتے ہیں تو سننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ ان لفظوں کے معانی بھی کتاب اللہ ہی کا حصہ ہیں۔ لوگوں کو فریب دینے اور اپنے خیالات کو اللہ کی طرف منسوب کردینے کی یہ ایک بدترین صورت ہے اور اس طرح وہ ہر جھوٹی سچی بات اللہ کے ذمہ لگا کر اس سے مختلف قسم کے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ یہود کی جس عادت بد کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے۔ دوسرے اہل کتاب حتیٰ کہ مسلمان بھی اس سے محفوظ نہیں۔ مسلمانوں میں بھی ایک فرقہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشریت کا منکر ہے وہ جب یہ آیت ﴿قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ﴾پڑھتے ہیں تو ﴿ انما﴾ کے لفظ میں معمولی سی تحریف کرکے اس ایک لفظ کے دو الفاظ بنا کر ( ان ما) پڑھتے ہیں۔ پھر اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔ ’’اے نبی! کہہ دو کہ تحقیق نہیں ہوں میں بشر تم جیسا‘‘ اس طرح جو آیت ان کے عقیدہ کو باطل قرار دیتی تھی۔ اسے اپنے عقیدہ کے مطابق بنا لیتے ہیں۔ اس طرح وہ صرف تحریف لفظی کے ہی مرتکب نہیں ہوتے بلکہ اپنے پیروکاروں کو اس مزعومہ عقیدہ پر مضبوط رکھنے اور باہمی تفرقہ بازی کی خلیج کو مزید وسیع کرنے کا سبب بنتے ہیں اور یہ سب کچھ زبان کی لے اور لہجہ میں موڑ توڑ کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔ آل عمران
79 [٦٩]کسی مخلوق کوخدائی کےمقام تک لےجانے والاکام کبھی پیغمبر کانہیں ہوسکتا:۔ اس آیت کی شان نزول کے بارے میں کئی اقوال ہیں اور وہ سب ہی درست معلوم ہوتے ہیں مثلاً ان میں سے ایک یہ ہے، جب نجران کے عیسائی آپ سے بحث و مناظرہ کرنے آئے تو یہود ان کے ساتھ مل گئے اور طنزاً آپ سے کہنے لگے کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی پرستش کیا کریں۔ تب یہ آیت نازل ہوئی اور تیسرا یہ قول ہے کہ کسی صحابی نے آپ سے عرض کیا کہ رومی اور ایرانی اپنے اپنے بادشاہوں کو سجدہ کیا کرتے ہیں کیا ہم بھی آپ کو سلام کے بجائے سجدہ نہ کریں؟ تو آپ نے اس بات سے سختی سے منع کیا اور فرمایا کہ اللہ کے سوا اگر کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ شوہر کا بیوی پر بہت حق ہے۔ (ترمذی، ابو اب الرضاع والطلاق، باب ماجاء فی حق الزوج علی المراۃ) تب یہ آیت نازل ہوئی۔ جو کچھ بھی ہو اس آیت میں ایسی تمام باتوں کی جامع تردید ہے جو مختلف قوموں نے پیغمبروں کی طرف منسوب کرکے اپنی مذہبی کتابوں میں شامل کردی ہیں۔ جن کی رو سے کوئی پیغمبر یا فرشتہ معبود قرار پاتا ہے۔ ان آیات میں ایک قاعدہ کلیہ بیان کردیا گیا ہے کہ کوئی ایسی تعلیم جو اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی سکھاتی اور بندے کو خدا کے مقام تک لے جاتی ہو، وہ ہرگز کسی پیغمبر کی تعلیم نہیں ہوسکتی اور جہاں کسی مذہبی کتاب میں کوئی ایسی بات پائی جائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ گمراہ کن عقیدہ لوگوں کی تحریفات کا نتیجہ ہے۔ [٧٠]نبی کااپنی پرستش کےلیے کہناناممکن ہے:۔ یہودیوں کے وہ علماء جو مذہبی عہدہ دار ہوتے تھے۔ ربانی کہلاتے تھے۔ ان کا کام مذہبی امور میں لوگوں کی رہنمائی کرنا اور عبادات کا قیام اور احکام دین کا اجرا کرنا ہوتا تھا۔ اس آیت میں بتلایا جارہا ہے کہ نبی کا کام یہ نہیں ہوتا کہ پہلے لوگوں کو اللہ کی بندگی کی طرف دعوت دے۔ پھر جب وہ اس کی اطاعت کرنے لگیں تو ان سے اپنی پرستش کرانا شروع کر دے بلکہ اس کا کام ربانی قسم کے لوگ تیار کرنا ہوتا ہے اور جو کتاب اسے دی جاتی ہے اور جسے تم لوگ پڑھتے پڑھاتے ہو اس کا بھی یہی تقاضا ہوتا ہے۔ کیونکہ انبیاء کا کام کفر و شرک کو مٹانا ہوتا ہے۔ پھیلانا نہیں ہوتا اور انبیاء یا کسی دوسرے کو رب بنا لینے سے بڑھ کر کفر و شرک کی اور کیا بات ہوسکتی ہے؟ علماء کورب بنانے کا مطلب :۔ واضح رہے کہ اپنے علماء و مشائخ کی باتوں کے سامنے بلاتحقیق سر تسلیم کردینا بھی انہیں اپنا رب قرار دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ جب یہ آیت ﴿ اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ﴾ نازل ہوئی تو حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ (جو پہلے عیسائی تھے) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم نے اپنے علماء و مشائخ کو رب تو نہیں بنا رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا : کیا یہ بات نہ تھی کہ جس چیز کو وہ حلال کہتے تم اسے حلال اور جسے وہ حرام کہتے تم اسے حرام تسلیم کرتے تھے؟ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہنے لگے ہاں یہ بات تو تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’یہی رب بنانا ہوتا ہے۔‘‘ (ترمذی ابو اب التفسیر، زیر تفسیر آیت مذکورہ) آل عمران
80 آل عمران
81 [٧١]انبیاء سے لیاہواعہدان کی امت پر لاگو ہوتاہے :۔ اللہ تعالیٰ نے ایک عہد تو تمام بنی آدم سے عالم ارواح میں لیا تھا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے جس کا ذکر سورۃ اعراف کی آیت نمبر ١٧٧ میں آتا ہے اور دوسرا عہد انبیاء سے لیا گیا تھا۔ جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور مفسرین کی رائے کے مطابق یہ عہد بھی عالم ارواح میں ہی لیا گیا تھا اور وہ عہد یہ تھا کہ اگر تمہاری زندگی میں کوئی ایسا نبی آئے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود کتاب کی تصدیق کرتا ہو تو تمہیں اس پر ایمان بھی لانا ہوگا اور اس کی مدد بھی کرنا ہوگی۔ یہ حکم دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے اس حکم کی بجا آوری کی توثیق بھی کرائی۔ بے شمار انبیاء تو ایسے ہیں جو ہم عصر تھے۔ جسے حضرت ابراہیم اور لوط، حضرت موسیٰ اور ہارون، حضرت عیسیٰ اور یحییٰ علیہم السلام وغیرہ وغیرہ اور یہ سب دعوت الی اللہ کے کام میں ایک دوسرے کے معاون اور مددگار تھے۔ پھر جو عہد انبیاء سے لیا گیا تھا اس کو پورا کرنے کی ذمہ داری ہر نبی کی امت پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہود پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاء پر ایمان لاتے اور ان کے کام میں مددگار ثابت ہوتے۔ اسی طرح یہود، نصاریٰ اور مشرکین مکہ (جو اپنے آپ کو دین ابراہیم کا پیرو کار سمجھتے تھے) سب پر یہی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاتے اور ان کے معاون و مددگار ثابت ہوتے۔ پھر یہ بات صرف اس عہد تک ہی محدود نہ تھی بلکہ ہر نبی کی کتاب میں بعد میں آنے والے نبی کی بشارت بھی دی جاتی رہی اور اس نبی اور اس کی امت سے اسی قسم کا عہد لیا جاتا رہا۔ آپ کےخاتم النبیین ہونے کی دلیل :۔ واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کے انبیاء سے یہ عہد لیا گیا تھا اور ان کی کتابوں میں آنے والے نبی کی بشارت بھی دی گئی تھی۔ لیکن آپ سے اس قسم کا عہد نہیں لیا گیا کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ نہ ہی قرآن و حدیث میں کسی آنے والے نبی کی بشارت دی گئی ہے۔ اس کے برعکس قرآن میں آپ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے اور بے شمار احادیث صحیحہ سے یہ بات واضح ہے کہ آپ کے بعد تاقیامت کوئی نبی نہیں آئے گا۔ البتہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور نازل ہوں گے۔ مگر اس وقت ان کی حیثیت آپ کے متبع کی ہوگی یعنی وہ شریعت محمدیہ کی ہی اتباع کریں گے۔ آل عمران
82 [٧٢]بائبل کیوں ناقابل اعتبار ہے:۔ اس پختہ عہد اور بشارتوں کے بعد بھی جو شخص تعصب کی راہ اختیار کرے اور اپنے آپ کو دین کا اجارہ دار سمجھے اور مخالفت پر کمر بستہ ہوجائے تو اس سے زیادہ نافرمانی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے؟ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ جب عیسائیوں سے کہا جاتا ہے کہ تمہیں قرآن پر ایمان لانا چاہئے کیونکہ یہ تمہاری کتاب انجیل کی تصدیق کرتا ہے؟ تو وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ قرآن نہ تو عقیدہ الوہیت مسیح کی تصدیق کرتا ہے نہ مسیح کی ابنیت کو تسلیم کرتا ہے، نہ عقیدہ تثلیث کو اور نہ کفارہ مسیح کو تسلیم کرتا ہے۔ حالانکہ ہماری اناجیل سے یہ سب کچھ ثابت ہے۔ پھر ہم آپ کے قرآن پر کیسے ایمان لائیں اور کیوں کر اسے الہامی کتاب سمجھ سکتے ہیں؟ گویا جن غلط اور گمراہ کن عقائد کی اصلاح اور صحیح عقیدہ توحید کو پیش کرنے کے لیے قرآن نازل ہوا تھا اور حق و باطل کو نکھار کر ان کے اختلافات کا فیصلہ کرنے آیا تھا۔ یہ لوگ ان غلط عقائد سے کچھ اس طرح چمٹے ہوئے ہیں اور مذہبی تعصب کی پٹی ان کی آنکھوں پر کچھ اس طرح بندھی ہوئی ہے کہ وہ انہیں غلط عقائد کو اصل بنیاد قرار دے کر قرآن کی ہی تکذیب شروع کردیتے ہیں۔ حالانکہ ایسے غلط عقائد صدیوں بعد ان کے علماء کی طرف سے اناجیل میں شامل کردیئے گئے، اور یہ مجموعہ کچھ اس طرح الہامی مضامین اور الحاقی مضامین میں گڈمڈ ہوگیا کہ بعد میں آنے والے علماء کے لیے یہ معاملہ مشتبہ ہوگیا اور ان میں سے اصل الہامی مضامین کو الگ کرنا مشکل ہوگیا۔ یہی حال تورات کا بھی ہوا۔ بائیبل میں کئی ایسی داخلی شہادتیں آج بھی موجود ہیں جن سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ عبارت الہامی نہیں ہوسکتی۔ بلکہ لوگوں کی طرف سے شامل کی گئی ہے اور ایسی شہادتوں کا ہم نے کسی دوسرے مقام پر ذکر بھی کردیا ہے۔ ان کے مقابلہ میں قرآن کی سالمیت غیر مذاہب میں بھی مسلم ہے۔ پھر یہ کس قدر اندھیر کی بات ہے کہ ایسی تحریف شدہ کتابوں کو اصلی معیار قرار دے کر قرآن کریم کی تکذیب کی جائے۔ آل عمران
83 [٧٣] اللہ کادین کیاہے؟ اللہ کا دین کیا ہے؟ اللہ کا دین صرف اس کے آگے سر تسلیم خم کردینے کا نام ہے۔ کائنات کی ہر چیز زمین و آسمان، شمس و قمر، ستارے اور سیارے، فرشتے اور ہوائیں غرض جو چیز بھی موجود ہے خواہ یہ اطاعت اضطراری ہو یا اختیاری، بہرحال وہ اللہ کی مطیع فرماں ہے اور اس کے حکم سے سرمو تجاوز نہیں کرسکتی۔ انسانوں اور جنوں کو کسی حد تک فرمانبرداری اور نافرمانی کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ان سے مطالبہ صرف یہ ہے کہ جن کاموں میں انہیں تھوڑا بہت اختیار دیا گیا ہے ان میں بھی وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے کائنات کی تمام اشیاء کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائیں۔ یہی وہ دین ہے جو تمام انبیاء پر نازل ہوا اور اسی کی وہ تبلیغ و اشاعت کرتے رہے ہیں۔ آل عمران
84 [٧٤] یعنی ہمارا یہ طریقہ نہیں کہ ہم کسی نبی پر ایمان لائیں اور کسی پر نہ لائیں، کسی کو جھوٹا کہیں اور کسی کو سچا اور چونکہ سب بلحاظ درجہ نبوت برابر ہیں۔ لہٰذا ہم ان کے درمیان کچھ فرق نہیں کرتے۔ حمیت جاہلیہ سے کام لینا ہمارا شیوہ نہیں۔ بلکہ اللہ کا جو بندہ بھی اللہ کی طرف سے حق لے کر آیا ہے ہم اس کے برحق ہونے پر شہادت دیتے ہیں۔ (انبیاء کے درمیان تفریق کی مزید وضاحت کے لیے سورۃ بقرہ کی آیت ٢٨٥ کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔ آل عمران
85 [٧٥] اس آیت میں پہلی بات کو ہی دوسرے الفاظ میں دہرایا گیا ہے۔ یعنی دور نبوی کے یہود و نصاریٰ کی زبانوں سے اس امر کی شہادت ادا ہوچکی تھی کہ آپ جو تعلیم لائے ہیں وہ وہی ہے جو سابقہ انبیاء کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے جو مخالفت کی تو اس کی وجہ محض تعصب اور مفاد پرستی تھی۔ لہٰذا ایسے لوگوں کا کوئی عمل بھی قابل قبول نہ ہوگا اور آخرت میں ان کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے جس کے بدلے انہیں دردناک عذاب برداشت کرنا پڑے گا۔ آل عمران
86 [ ٧٥۔ ١] اہل کتاب کا اندھاتعصب : اس آیت کے مخاطب ہٹ دھرم اور متعصب قسم کے اہل کتاب ہیں۔ خواہ وہ یہودی ہوں یا نصاریٰ، یہ دونوں فریق آنے والے نبی کے منتظر تھے۔ کیونکہ نبی آخرالزمان کی بشارت تورات میں بھی موجود تھی اور انجیل میں بھی۔ لیکن جب وہ رسول مبعوث ہوگیا تو ان لوگوں نے اس پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ وجہ یہ تھی کہ یہود یہ سمجھتے تھے کہ وہ ہمارے مذہب کی تائید کرے گا۔ اور عیسائی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ وہ یہود کے مقابلہ میں ان کا ساتھ دے گا۔ لیکن جب ان کی یہ تمنا بر نہ آئی تو انہوں نے انکار کردیا۔ پھر انہی یہود و نصاریٰ میں کچھ ایسے لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوئے جنہوں نے برملا شہادت دی کہ یہ وہی رسول ہے جس کی شہادت ہماری کتابوں میں موجود ہے اور وہ ایمان بھی لے آئے۔ متعصب لوگوں پر اس کا بھی کچھ اثر نہ ہوا۔ پھر نبی آخر الزمان میں انہوں نے کئی ایسی نشانیاں بھی دیکھیں جو ان کی تسلی کے لیے بہت کافی تھیں۔ ان نشانیوں میں کچھ تو وہ تاریخی قسم کے سوالات تھے جو علمائے اہل کتاب یہ سمجھتے تھے کہ ان کے جوابات ان کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر جب انہوں نے امتحان کے طور پر آپ سے وہ سوالات پوچھے تو آپ نے ان کے کافی و شافی جواب دے دیئے اور یہ بات وحی الٰہی کے علاوہ ممکن نہ تھی۔ علاوہ ازیں قرآن نے کچھ پیشین گوئیاں کی تھیں جو ان کی آنکھوں کے سامنے یا خود ان پر پوری ہو رہی تھیں۔ پھر بھی یہ لوگ اپنے تعصب کی بنا پر ایمان لانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ وضاحت فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے ہٹ دھرم لوگوں کو زبردستی کبھی ہدایت نہیں دیا کرتا۔ اس طرح کی زبردستی اس کے دستور کے خلاف ہے۔ آل عمران
87 [٧٦] یہاں سب لوگوں سے مراد مسلمان ہیں اور اس لحاظ سے سب لوگ بھی ہوسکتے ہیں کہ اجمالاً ہر شخص جھوٹے بدعہد اور دغا باز پر لعنت بھیجتا ہے اور آخرت میں تو کافر خود بھی ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور اپنے قصور کا الزام دوسرے کے سر تھوپیں گے۔ آل عمران
88 [٧٧] یعنی عذاب جہنم اپنی حدت و شدت کے لحاظ سے ایسا مسلسل اور متواتر ہوگا کہ نہ تو اس کی حدت و شدت میں کبھی کمی واقع ہوگی اور نہ ہی عذاب کے درمیان کبھی کوئی وقفہ دیا جائے گا۔ آل عمران
89 [٧٨] ہاں وہ لوگ ایسے عذاب سے بچ سکتے ہیں جنہوں نے سچے دل سے توبہ کرلی۔ ایمان لے آئے اور مخالفت سے رک گئے۔ اپنے اعمال و افعال کی اصلاح کرلی اور اسلام اور مسلمانوں کے خیر خواہ بن کر ان کی معاونت کرنے لگے تو ایسے لوگوں کے سابقہ گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ آل عمران
90 [٧٩]توبہ قبول ہونے کی شرائط :۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مثلاً یہود حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے تھے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کرکے کفر کا رویہ اختیار کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی انکار کردیا جو ان کے کفر میں مزید اضافہ کا سبب بن گیا۔ ایسے معاندین کے حق میں توبہ کبھی قبول نہ ہوگی۔ دوسری صورت یہ کہ ایک شخص ایمان لایا۔ پھر اس کے بعد مرتد ہوگیا۔ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسلام دشمنی میں اپنی سرگرمیاں تیز تر کردیں، تو ایسے شخص کی بھی توبہ قبول نہ ہوگی۔ تیسری صورت یہ ہے کہ مرتد ہوجانے کے بعد کفر پر ڈٹا رہا اور جب موت کا وقت آپہنچا تو توبہ کی سوجھی۔ اس وقت بھی توبہ قبول نہ ہوگی۔ البتہ جو لوگ اپنی زندگی میں اسلام دشمنی میں سرگرم اور تقریر و تحریر کے ذریعہ لوگوں میں الحاد اور باطل عقائد پھیلانے میں سرگرم رہے ہوں ان کی توبہ قبول ہونے کی صورت اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ١٦٠ بایں الفاظ بیان فرمائی۔ ﴿اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَیَّنُوْا﴾ یعنی ان کی توبہ کی قبولیت کے لیے تین شرطیں لازم ہیں۔ (١) سچی توبہ کریں (٢) اپنے اعمال و افعال درست کرکے اپنی اصلاح کرلیں اور جو کچھ الحاد یا باطل عقائد وہ لوگوں میں پھیلا چکے ہیں۔ برملا اس کی تردید بھی کریں۔ اگر تقریر کے ذریعہ گمراہی پھیلائی ہے تو اسی طرح بھری محفل میں ایسے عقائد سے بیزاری کا اظہار اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں اور اگر تحریری صورت میں گمراہی پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہیں تو تحریری صورت میں اس کی تلافی اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں تو ایسے لوگوں کی بھی توبہ قبول ہوسکتی ہے۔ آل عمران
91 [٨٠] آخرت میں زر فدیہ :۔آخرت میں تو صرف وہ اعمال کام آئیں گے جو کسی نے اپنے لیے آگے بھیجے ہوں گے۔ اعمال کے سوا وہاں نہ مال و دولت کام آئے گا۔ نہ قرابتداری اور نہ سفارش۔ آیت مذکورہ میں جو صورت پیش کی گئی ہے۔ وہ بفرض تسلیم ہے۔ یعنی اگر کسی کافر کے پاس سونے کے ڈھیروں کے ڈھیر حتیٰ کہ زمین بھر سونا ہو تو اس کی آرزو یہی ہوگی کہ سب کچھ دے کر عذاب جہنم سے اپنی جان چھڑا لے۔ مگر وہاں یہ بات ناممکن ہوگی۔ چنانچہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ : آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب سے کم عذاب والے دوزخی سے فرمائیں گے اگر تیرے پاس دنیا و مافیہا ہو تو کیا تو اسے اپنے فدیہ میں دے دے گا ؟ وہ کہے گا ''ہاں'' اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ ’’جب تو انسانی شکل میں تھا تو میں نے تجھ سے اس سے آسان تر بات طلب کی تھی۔ (کہ توحید پر قائم رہنا) اور کہا تھا کہ پھر میں تجھے جہنم میں داخل نہ کروں گا، مگر تو شرک پر اڑا رہا۔‘‘ (مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ باب طلب الکافر الفداء مل الارض ذھبا) آل عمران
92 [٨١]پسندیدہ مال خرچ کرنے کی فضیلت:۔ اگرچہ سابقہ مضمون یہود سے سے متعلق چل رہا ہے۔ تاہم اس آیت کا خطاب یہود، نصاریٰ، مسلمانوں اور سب بنی نوع انسان سے ہے اور مال سے محبت انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اس کے دل میں گھٹن سی پیدا ہونے لگتی ہے اور اگر کسی کے کہنے کہلانے پر مال خرچ کرنا ہی پڑے تو اس کا جی یہ چاہتا ہے کہ تھوڑا سا مال یا کوئی حقیر قسم کا مال دے کر چھوٹ جائے، جب کہ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ جب تم اللہ کی راہ میں ایسا مال خرچ نہ کرو گے جو تمہیں محبوب اور پسندیدہ ہے۔ اس وقت تک تم نیکی کی وسعتوں کو پا نہیں سکتے۔ اس آیت کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بہت اچھا اثر قبول کیا۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : انصار میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے سب سے زیادہ باغ تھے۔ ان میں سے بیرحاء کا باغ آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھا۔ یہ مسجد نبوی کے سامنے تھا۔ آپ اس باغ میں جایا کرتے تھے اور وہاں عمدہ اور شیریں پانی پیتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : ’’میری کل جائیداد سے بیرحاء کا باغ مجھے بہت پیارا ہے۔ میں اس باغ کو اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور اس سے ثواب اور اللہ کے ہاں ذخیرہ کی امید رکھتا ہوں، آپ جہاں مناسب سمجھیں اسے استعمال کریں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’بہت خوب! یہ مال تو بالآخر فنا ہونے والا ہے۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے کہ مال تو بہت نفع دینے والا ہے۔ اب تم ایسا کرو کہ اپنے غریب رشتہ داروں میں بانٹ دو۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے! بہت خوب! یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایسے ہی کرتا ہوں۔ چنانچہ یہ باغ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اقارب اور چچا زاد بھائیوں میں بانٹ دیا۔ (بخاری، کتاب التفسیر نیز کتاب الزکوٰۃ، باب الزکوٰۃ علی الاقارب) اور بالخصوص اس آیت کے مخاطب یہود ہیں۔ کیونکہ اس آیت سے پہلے اور بعد والی آیات میں انہیں سے خطاب کیا جارہا ہے۔ سود خوری اور حرام خوری کی وجہ سے بخل ان کی طبیعتوں میں رچ بس گیا تھا۔ مذہبی تقدس اور پہچان کے لیے انہوں نے چند ظاہری علامات کو ہی معیار بنا رکھا تھا اسی تقدس کے پردہ میں ان کی تمام تر قباحتیں چھپ جاتی تھیں۔ جن میں سے ایک قباحت بخل اور مال سے شدید محبت تھی۔ آل عمران
93 [٨٢] یہود پرحرام شدہ اشیاء :۔ یہ دراصل یہود کے مسلمانوں پر ایک اعتراض کا جواب ہے۔ وہ مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ تم نے تو شریعت کی حرام کردہ چیزوں کو حلال بنا رکھا ہے۔ تم لوگ اونٹ کا گوشت شوق سے کھاتے ہو اور اس کا دودھ بھی پیتے ہو؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہ چیزیں میں نے حرام نہیں کی تھیں بلکہ تورات کے نازل ہونے سے مدتوں پہلے یعقوب نے خود اپنے آپ پر حرام قرار دے لی تھیں۔ یعقوب نے ان چیزوں کو کیوں حرام قرار دے لیا تھا ؟ اس بارے میں کئی روایات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ انہیں ان چیزوں سے طبعاً کراہت تھی اور دوسری یہ کہ آپ کو عرق النساء کی بیماری تھی اور پرہیز کے طور پر آپ نے ایسا کیا تھا۔ پھر ان کی اتباع میں آپ کے پیروکاروں نے بھی ان چیزوں کو چھوڑ دیا اور فی الواقع انہیں حرام سمجھ لیا تھا۔ ان حرام کردہ چیزوں میں، بکری، گائے اور اونٹ کی چربی بھی شامل تھی۔ بائیبل کے جو نسخے آج کل متداول ہیں ان میں اونٹ، خرگوش اور سافان کی حرمت کا ذکر موجود ہے۔ (احبار ١١، ٤٠-٤١ استثناء ١٤: ٧) حالانکہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں قرآن نے بطور چیلنج یہ بات کہی تھی کہ اگر تورات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر یہ چیزیں حرام کی گئی ہیں تو لاکر دکھاؤ اور یہود اس بات سے عاجز رہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے اضافے کئے گئے ہیں کیونکہ اگر تورات میں اس وقت ایسے احکام موجود ہوتے تو یہود فوراً لاکر پیش کردیتے۔ آل عمران
94 آل عمران
95 [٨٣]ملت اور شریعت :۔ ملت ابراہیم سے مراد دین کی اصولی باتیں ہیں جو ہر نبی پر نازل کی جاتی رہیں۔ مثلاً صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا، اسے وحدہ لاشریک سمجھنا اور اس کے سوا کسی دوسری قوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنا۔ اللہ کو ہی حرام و حلال قرار دینے کا مختار سمجھنا، اخروی سزاوجزا کے قانون پر ایسے ہی اعتقاد رکھنا، جیسے کتاب اللہ میں اس کی وضاحت ہے وغیرہ۔ رہے شرعی مسائل یا شریعت تو وہ ہر دور کے تقاضوں کے مطابق مختلف رہے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں کی حلت و حرمت بھی ایسے ہی مسائل سے ہے اور ان میں تبدیلی ہوتی رہی ہے۔ آل عمران
96 [٨٤]قبلہ اول کعبہ ہی ہے:۔ یہ یہود کے ایک دوسرے اعتراض کا جواب ہے۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ تمام انبیاء کا قبلہ بیت المقدس ہی رہا ہے اور تمام انبیاء نے وہاں ہجرت کی۔ لہٰذا یہ مقام کعبہ سے افضل ہے اب مسلمانوں نے بیت المقدس کے بجائے کعبہ کو اپنا قبلہ بنایا ہے تو یہ ملت ابراہیمی سے روگردانی کی ہے۔ اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ لوگوں کی عبادت کے لیے سب سے پہلے جو گھر تعمیر ہوا۔ وہ بیت اللہ تھا۔ بیت المقدس نہیں تھا۔ کیونکہ بیت اللہ ہی وہ گھر ہے جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ ہی کی عبادت کے لیے لوگوں کے مرجع کی حیثیت سے تعمیر کیا تھا اور بیت المقدس کو تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے چار سو سال بعد تعمیر کیا تھا اور حضرت سلیمان علیہ السلام ہی کے عہد میں یہ قبلہ اہل توحید کے لیے بنایا گیا تھا۔ لہٰذا قبلہ اول تو دراصل کعبہ ہی ہے۔ تحویل قبلہ پر یہود کے اعتراض کا جواب سورۃ بقرہ (آیت ١٤٢ تا ١٥٠) میں پہلے بھی گزر چکا ہے۔ مگر یہود چونکہ اپنے اس اعتراض کو اس کے بعد بھی بار بار دہراتے رہے۔ لہٰذا پھر سے ان کے اعتراض کا تاریخی پہلو سے بھی جواب دیا گیا ہے۔ آل عمران
97 [٨٥] آب زمزم اور چاہ زمزم کی صفات:۔ آیات بینات سے مراد ایسی واضح نشانیاں جنہیں سب لوگ دیکھتے یا دیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہ گھر ایک لق و دق میدان میں تعمیر کیا گیا۔ اسی جگہ اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر زمزم کا چشمہ پیدا فرمایا اور اس سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان وہاں جا کر یہ پانی استعمال کرتے اور اپنے گھروں میں لاتے ہیں، مگر اس چشمہ کا پانی ختم ہونے میں نہیں آتا۔ نیز یہ پانی بھوک اور پیاس دونوں کو دور کرتا اور کئی بیماریوں کے لیے شفا ہے پھر اس گھر کو اللہ نے ایسا مامون بنا دیا کہ اگر کسی کا جانی دشمن بھی کعبہ میں داخل ہوجائے تو وہ اسے ایذا پہنچانے کی جرات نہیں کرسکتا۔ نیز اللہ نے کعبہ کے علاوہ اس پورے علاقہ کو پر امن حرم بنا دیا۔ بیت اللہ کی برکات ”معجزات اور حرم کی صفات :۔ ڈھائی ہزار برس سے سارا ملک عرب جاہلیت کی وجہ سے انتہائی بدامنی، لوٹ مار، قتل و غارت میں مبتلا رہا، مگر ملک بھر میں کعبہ ہی ایک ایسا خطہ تھا، جہاں امن قائم رہا۔ یہ کعبہ ہی کی برکت تھی کہ سال بھر میں چار مہینہ کے لیے پورے ملک کو اس کی بدولت امن میسر آجاتا تھا۔ سارے ملک میں لوٹ مار کا بازار گرم رہا۔ مگر قریش کے قافلے محض کعبہ کے متولی ہونے کی بنا پر بلاخطر سفر کرتے تھے۔ حتیٰ کہ جو تجارتی قافلے قریش کی امان میں آجاتے۔ ان سے بھی کسی کو تعرض کرنے کی جراءت نہ ہوتی تھی۔ نیز نصف صدی پیشتر بھی جب ابرہہ نے کعبہ کی تخریب کے لیے مکہ پر جو حملہ کیا تھا تو ابابیلوں (چھوٹے چھوٹے پرندوں) کے لشکر نے ان ہاتھیوں والی فوج کا جس طرح ستیاناس کردیا تھا، اسے بھی سب لوگ دیکھ چکے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ لق و دق اور پتھریلے میدان کے بسنے والوں کے لیے اللہ نے رزق رسانی کا ایسا بہترین انتظام کردیا کہ اطراف و جوانب سے ہر قسم کے پھل اور غلے معجزانہ طور پر کھنچے چلے آتے ہیں اور مکہ کو ایک مرکزی تجارتی منڈی کی حیثیت حاصل ہے اور یہ ایسی باتیں ہیں جنہیں سب لوگ بچشم خود ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں کعبہ کے پاس مقام ابراہیم وہ پتھر بھی بدستور موجود ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کو تعمیر کیا تھا اور صفا و مروہ کی پہاڑیاں بھی جن کے درمیان حضرت ہاجرہ دوڑی تھیں۔ اور یہ مقامات شعائر اللہ میں شمار ہوتے ہیں۔ مناسک حج ادا کرنے کے لیے دنیا بھر کے لوگوں کو اسی مقام کی طرف دعوت دی گئی۔ انبیاء سابقین بھی حج کی ادائیگی کے لیے یہیں تشریف لاتے اور ان شعائر کی غیر معمولی تعظیم اور احترام کرتے رہے۔ مکہ کے (حرماً آمناً) ہونے کی تفسیر درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے۔ فتح مکہ کےبعد ہجرت کی فرضیت کاخاتمہ :۔۱۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس دن مکہ فتح ہوا، اس سے دوسرے دن آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا : آج کے بعد ہجرت (فرض) نہیں رہی۔ البتہ جہاد اور اس کی نیت بدستور باقی ہے اور جب تم سے جہاد کے لیے کہا جائے تو نکل کھڑے ہو۔ یہ وہ شہر ہے کہ جس دن سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ اسی دن سے اس کو حرمت دی اور اللہ کی یہ حرمت قیامت تک قائم رہے گی، اور وہاں مجھ سے پہلے کسی کو لڑنا درست نہیں ہوا اور مجھے بھی ایک گھڑی کے لیے درست ہوا۔ پھر اس کی حرمت قیامت تک کے لیے قائم ہوگئی۔ نہ وہاں سے کانٹے کاٹے جائیں، نہ شکار کو ہانکا جائے، نہ گری پڑی چیز کو اٹھایا جائے۔ الا یہ کہ اٹھانے والا مالک کو پہچانتا ہو اور وہ اسے پہنچا دے اور نہ وہاں سے سبزہ کاٹا جائے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اذخر گھاس کاٹنے کی اجازت دیجئے کہ وہ لوہاروں کے لیے اور گھروں میں کام آنے کی چیز ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اچھا اذخر کی اجازت ہے۔‘‘ (بخاری ابو اب العمرة، باب لایحل القتال بمکۃ) اس حدیث سے مکہ کی حرمت اور تعظیم سے متعلق درج ذیل امور کا پتہ چلتا ہے۔ ١۔ حرم مکہ میں فوج کشی اور جدال و قتال ممنوع ہے اور مکہ کی یہ حرمت تاقیامت بحال رہے گی۔ اسی طرح آپس میں جدال وقتال بھی ممنوع ہے۔ ٢۔ حرم مکہ کے شکاری جانور بھی محفوظ و مامون ہیں۔ ان کو نہ شکار کیا جاسکتا ہے نہ شکار کے لیے انہیں ہانکا جاسکتا ہے۔ ٣۔ حرم مکہ کے درخت اور پودے بھی محفوظ و مامون ہیں۔ انہیں بھی کاٹنا ممنوع ہے۔ البتہ بعض اقتصادی ضرورتوں کے پیش نظر اذخر گھاس کاٹنے کی اجازت ہے۔ ٤۔ حرم مکہ میں گری پڑی چیز اٹھانا ممنوع ہے۔ الا یہ کہ اٹھانے والا چیز کے مالک کو جانتا ہو۔ اور وہ چیز مالک کو پہنچانے کا ذمہ دار بنتا ہو وہ اٹھا سکتا ہے۔ ٢۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ : تم سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ مکہ میں ہتھیار لگائے ہوئے پھرے۔ (مسلم، کتاب الحج، باب النھی عن حمل السلاح بمکۃ من غیر حاجۃ) ٣۔ البتہ موذی جانوروں کو حرم مکہ میں مار ڈالنے کی اجازت ہے۔ چنانچہ ہم منا میں مقیم تھے کہ ایک سانپ ہم پر کو دا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اسے مار ڈالو۔‘‘ (بخاری، ابو اب العمرة، باب ما یقتل المحرم من الدواب) نیز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پانچ جانور بدذات ہیں۔ انہیں حرم میں بھی مار ڈالنا چاہئے۔ کوا (چتکبرا)، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔ (بخاری۔ باب ایضاً) اور دور صحابہ میں یہ تعامل رہا ہے کہ اگر کوئی مجرم بیت اللہ میں پناہ لے لیتا تو جب تک وہ حرم میں رہتا اس سے تعرض نہیں کیا جاتا تھا۔ خواہ وہ کسی حد والے گناہ کا مجرم ہو۔ یزید نے جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی بیعت کے لیے مجبور کیا تو آپ نے حرم مکہ میں آکر ہی پناہ لی تھی۔ [٨٦]حج کی فرضیت اور شرائط :۔ حج اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر حق اور ارکان اسلام سے پانچواں رکن ہے اور یہ صرف اس شخص پر زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ استطاعت سے مراد یہ ہے کہ بیت اللہ شریف جانے اور واپس آنے کا خرچ اس کے پاس موجود ہو۔ اس سفر حج میں اپنی گھر سے غیر موجودگی کے دوران اہل خانہ کو معمول کے مطابق خرچ دے کر جائے۔ نیز راستہ پر خطر نہ ہو یعنی اسے اپنی جان و مال کا خطرہ نہ ہو اور اس کی جسمانی صحت اس قابل ہو کہ حج اور سفر حج کی صعوبتوں کو برداشت کرسکتا ہو۔ اگر کسی کے پاس حج کا اور اہل خانہ کا خرچ موجود ہو اور راستہ بھی پرامن ہو مگر جسمانی صحت ساتھ نہ دے سکتی ہو تو کسی تندرست شخص سے اپنی طرف سے حج کروا سکتا ہے جو پہلے خود اپنا فریضہ حج ادا کرچکا ہو اور اسے حج بدل کہتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی نے حج کی نذر مانی ہو اور نذر پوری کرنے سے پیشتر مرجائے تو اس کے پس ماندگان پر اس نذر کو پورا کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ خود اس پر فرض ہوچکا تھا۔ خواہ یہ نفلی حج ہو۔ اگر راستہ پرخطر ہے تو جب تک خطرہ دور نہ ہو حج ساقط ہوجاتا ہے۔ قرضہ اٹھا کر یا مانگ کر یا سواری مہیا ہونے کے باوجود پیدل سفر حج کرنا کوئی نیکی کا کام نہیں اور اگر کسی نے ایسی غلط قسم کی نذر مانی ہو تو اسے ایسی نذر توڑ کر درست کام کرنا چاہئے۔ [٨٧] یعنی جو شخص استطاعت رکھتا ہو پھر جان بوجھ کر حج کا ارادہ نہ کرے اور اس سے غافل رہے تو ایسے شخص کے لیے حدیث شریف میں بڑے سخت الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ یعنی یہ کہ ’’اللہ کو کچھ پروا نہیں کہ ایسا شخص یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔‘‘ (ترمذی، ابو اب الحج، باب فی التغلیظ فی ترک الحج) یعنی وہ بہر طور مسلمان نہیں اور اس کا مسلمان ہونے کا دعویٰ غلط ہے۔ آل عمران
98 آل عمران
99 [٨٨] یہود کی اسلام دشمنی کا ایک طریقہ یہ تھا کہ جو شخص مسلمان ہونے لگتا اسے طرح طرح کے شکوک و شبہات میں مبتلا کردیتے تھے۔ پہلی بات جو اسے ذہن نشین کرائی جاتی وہ یہ تھی کہ جس نبی آخر الزمان کی بشارت ہماری کتابوں میں دی گئی ہے وہ یہ نبی نہیں۔ اگر یہ وہی نبی ہوتا تو قبلہ کو کیوں تبدیل کرتا۔ جو سب انبیاء کا قبلہ رہا ہے یا جو چیزیں حرام ہیں انہیں حلال کیوں بنا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے غلط قسم کے مسائل کو اصل بنیاد قرار دے کر مسلمان ہونے والوں کو برگشتہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی ہی حرکات پر گرفت فرمائی ہے۔ آل عمران
100 [٨٩] یہودکامسلمانوں کوآپس میں لڑانے کی کوشش کرنا:۔ اس آیت میں ایک گروہ سے مراد یہود مدینہ ہیں۔ جنہیں مدینہ کے انصار (قبیلہ اوس خزرج) کا آپس میں بھائیوں کی طرح مل بیٹھنا اور شیروشکر ہوجانا ایک آنکھ نہ بھاتا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ ان کو پھر آپس میں لڑا بھڑا کر ان میں عداوت ڈال دیں۔ جنگ بدر میں جب اللہ نے مسلمانوں کو عظیم فتح عطا فرمائی تو یہود کے عناد میں مزید اضافہ ہوگیا، ایک بڈھے یہودی شماس بن قیس کو بہت صدمہ پہنچا اس نے ایک نوجوان یہودی کو حکم دیا کہ وہ انصار کی مجالس میں جاکر جنگ بعاث کا ذکر چھیڑ دے اور اس سلسلہ میں دونوں جانب سے جو اشعار کہے گئے تھے وہ پڑھ پڑھ کر سنائے، نوجوان نے جاکر یہی کارنامہ سرانجام دیا۔ بس پھر کیا تھا ؟ تو تو میں میں سے کام شروع ہوا اور نوبت بایں جارسید کہ ایک فریق دوسرے سے کہنے لگا کہ ’’اگر تم چاہو تو ہم اس جنگ کو پھر جوان کرکے پلٹا دیں‘‘ ہتھیار ہتھیار کی آوازیں آنے لگیں اور مقابلہ کے لیے حرہ کا میدان بھی طے پا گیا اور لوگ اس طرح نکل کھڑے ہوئے۔ قریب تھا کہ ایک خوفناک جنگ چھڑ جاتی۔ اتنے میں کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر دی۔ آپ چند مہاجرین کو ساتھ لے کر فوراً موقع پر پہنچ گئے اور جاتے ہی فرمایا: مسلمانو میری موجودگی میں یہ جاہلیت کی پکار! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی طرف ہدایت دی اور تمہارے دلوں کو جوڑ دیا۔ پھر اب یہ کیا ماجرا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ پکار سن کر انصار کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ سمجھ گئے کہ وہ کس طرح شیطانی جال میں پھنس چکے تھے اور اس جال میں پھنسانے والے یہی ستم گر یہود تھے۔ پھر اوس و خزرج کے لوگ آپس میں گلے ملنے اور رونے لگے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی اس سازش کو ناکام بنا کر مسلمانوں کو تباہی سے بچا لیا۔ (ابن ہشام، ٥٥٥-٥٥٦) [٩٠] اس آیت کے دو مطلب ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ اگر تم یہودیوں کی بات ماننے لگو گے تو یہ تمہیں اسلام سے مرتد کرکے ہی دم لیں گے اور دوسرے یہ کہ تمہیں آپس میں لڑا بھڑا کر کافر بنا دیں گے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مسلمانوں کا آپس میں لڑنا کفر ہے اور خطبہ حجۃ الوداع کے دوران آپ نے مسلمانوں کے عظیم اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : سن لو! تمہاری جانیں، تمہارے اموال اور تمہاری آبروئیں ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں۔ جیسے تمہارے اس دن کی، اس مہینہ میں اور اس شہر میں حرمت ہے۔ سن لو! میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ بن جانا۔ (بخاری، کتاب الفتن، باب قول النبی لاترجعوا بعدی کفارا۔۔ الخ) آل عمران
101 [٩١] گویا یہود کے گمراہ کن پروپیگنڈے سے بچنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کی سازشوں سے بروقت متنبہ کردیتا ہے اور دوسرے یہ کہ ایسی صورت حال میں مسلمانوں کو چاہئے کہ فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رجوع کریں جو خود بھی مسلمانوں کے احوال پر گہری اور مشفقانہ نظر رکھتے ہیں۔ لہٰذا جو شخص یہود کی شرارتوں سے بچنے اور راہ مستقیم پر ثابت قدم رہنے کی کوشش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ یقیناً اسے ایسی فتنہ انگیزیوں سے بچا لے گا۔ آل عمران
102 [٩٢] اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان پر کسی وقت بھی کوئی ایسا لمحہ نہ آنا چاہئے جب کہ وہ اللہ کے خوف سے غافل ہو کیونکہ موت کے وقت کا کسی کو علم نہیں اور اللہ سے ڈرنے کا ایسا ہی حق ہونا چاہئے کہ جن جن اوامر کا اس نے حکم دیا ہے اور جن نواہی سے روکا ہے۔ انہیں ٹھیک ٹھیک اور بروقت بجا لانا چاہئے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ دنیوی دھندوں میں مشغول رہ کر اتنی احتیاط ملحوظ رکھنا بسا اوقات مشکل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہ بہت گھبرائے اور عرض کیا کہ اس قدر احتیاط کس سے ممکن ہے۔ اس وقت سورۃ تغابن کی یہ آیت نازل ہوئی ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ﴾ یعنی ممکنہ حد تک اللہ سے ڈرتے رہو۔ آل عمران
103 [٩٣]فرقہ بازی کی ممانعت :۔ اللہ کی رسی سے مراد اللہ کا دین یا کتاب و سنت کے احکام ہیں اور اللہ کی رسی اس لیے کہا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو تمام اہل ایمان کا اللہ سے تعلق قائم رکھتا ہے اور دوسری طرف اہل ایمان کو ایک دوسرے سے مربوط بناتا ہے اور کتاب و سنت کے احکام پر سختی سے عمل پیرا ہونے سے اس بات کا امکان ہی نہیں رہتا کہ مسلمانوں میں اختلاف، انتشار یا عداوت پیدا ہو۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی تمام تر توجہ دینی تعلیمات پر مرکوز رکھیں اور فروعی مسائل میں الجھ کر امت مسلمہ میں انتشار پیدا کرکے فرقہ بندیوں سے پرہیز کریں۔ [٩٤] صحابہ کی باہمی الفت ومحبت اور اتفاق کی برکت :۔ یعنی جس وقت پورے عرب میں قبائلی نظام رائج تھا اور لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ کوئی حکومت یا عدالت سرے سے موجود ہی نہ تھی جس کی طرف رجوع کیا جاسکتا۔ اگر کسی قبیلہ کا کوئی آدمی قتل ہوجاتا تو مقتول کا قبیلہ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھتا تھا جب تک اس کا انتقام نہ لے لیتا، قبائلی حمیت، جسے قرآن نے حمیۃ جاہلیہ کا نام دیا ہے۔ اس انتہا کو پہنچی ہوئی تھی کہ کوئی فریق یہ سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہ کرتا تھا کہ قصور کس کا ہے؟ صرف یہ دیکھا جاتا تھا کہ چونکہ ہمارے قبیلہ کے آدمی کو فلاں قبیلہ کے آدمی نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس لیے اس سے انتقام لینا ضروری ہے۔ پھر اس انتقام میں انصاف کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا تھا۔ ان باتوں کا نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ جہاں کہیں کوئی جنگ چھڑی تو پھر وہ ختم ہونے میں نہ آتی تھی۔ مکہ میں بنی بکر اور بنی تغلب کی لڑائی شروع ہوئی جس میں نصف صدی لگ گئی۔ خاندان کے خاندان تباہ ہوگئے، کشتوں کے پشتے لگ گئے مگر لڑائی ختم ہونے میں نہ آئی تھی۔ تقریباً ایسی ہی صورت حال مدینہ میں اوس و خزرج کے درمیان جنگ بعاث کی تھی۔ عرب بھر کا ہوشمند طبقہ اس صورت حال سے سخت پریشان تھا۔ مگر اس صورت حال سے نجات کی انہیں کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ پھر یہ صورت حال مکہ اور مدینہ تک ہی محدود نہ تھی بلکہ پورے عرب میں ایک جیسی آگ لگی ہوئی تھی اور قریب تھا کہ پوری عرب قوم نیست و نابود ہوجائے کہ اس حال میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو دولت اسلام سے سرفراز فرمایا۔ جس سے پرانی رنجشیں اور کدورتیں دور ہوگئیں۔ عداوت کے بجائے مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے سے محبت و الفت پیدا ہوگئی اور وہ بالکل بھائیوں کی طرح بن گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو لڑائی کی آگ کے گڑھے میں گرنے سے اور مرنے کے بعد جہنم کی آگ کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیا۔ اسی نعمت الفت و محبت کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ انفال میں فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ : اگر آپ دنیا بھر کی دولت خرچ کرکے ان میں ایسی محبت و الفت پیدا کرنا چاہتے تو نہ کرسکتے تھے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی (٨: ٦٣) اور یہ ایک نعمت غیر مترقبہ تھی جو صرف اسلام اور اللہ کی مہربانی سے انہیں نصیب ہوئی اور جسے ہر شخص بچشم خود دیکھ رہا تھا۔ آل عمران
104 [٩٥]امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ :۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ امت مسلمہ کی اجتماعی زندگی کا ایک نہایت اہم ستون ہے اسی لیے کتاب و سنت میں بہت سے مقامات پر اس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر خلافت کے مستحقین کا ذکر فرمایا تو ان کی صفات میں اقامت صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ کے بعد تیسرے نمبر پر اسی صفت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر فرمایا (٢٢ : ٤١) اس لیے بعض علماء نے اس فریضہ کو فرض عین قرار دیا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنی اپنی علمی سطح اور صلاحیت کے مطابق یہ فریضہ بجا لاسکتا ہے اور یہ بات بھی بالکل درست اور بہت سی احادیث صحیحہ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ تاہم اس آیت میں جس فرقہ کا ذکر کیا جارہا ہے۔ اس سے مراد ایسے لوگ ہیں۔ جو علوم شریعت کے ماہر اور دعوت کے آداب سے واقف ہوں اور ان کی زندگی کا وظیفہ ہی یہ ہونا چاہئے کہ وہ لوگوں کو اچھے کاموں کا حکم دیا کریں اور برے کاموں سے روکتے رہیں۔ نیز ﴿ وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ ﴾ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر خواہ کتنا ہی اہم فریضہ ہے تاہم فرض عین نہیں ہے۔ آل عمران
105 [٩٦]ہر گمراہ فرقہ کی بنیاد کوئی بدعی عقیدہ ہوتاہے اور ناجی فرقہ :۔ اس آیت میں ’’ان لوگوں‘‘ سے مراد اہل کتاب ہیں یعنی یہود و نصاریٰ بے شمار فرقوں میں بٹ گئے۔ اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ یہود اکہتر (٧١) فرقوں میں بٹ گئے اور نصاریٰ بہتر (٧٢) فرقوں میں اور میری امت تہتر (٧٣) فرقوں میں بٹ جائے گی۔ جن میں سے ایک فرقہ کے سوا سب دوزخی ہوں گے۔ صحابہ رضوان اللہ اجمعین نے عرض کیا : وہ نجات پانے والا فرقہ کون سا ہوگا تو آپ نے فرمایا : ''ما انا علیہ واصحابی'' یعنی وہ فرقہ اسی راہ پر چلے گا۔ جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔ (ترمذی۔ کتاب الإیمان۔ باب افتراق ھذہ الامۃ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر گمراہ فرقہ کی بنیاد کوئی بدعی عقیدہ یا عمل ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر فرقہ کے مسلمانوں کو اس بات کی ضرور تحقیق کرلینا چاہئے کہ اس کا کوئی عقیدہ یا عمل ایسا تو نہیں جس کا وجود دور نبوی یا دور صحابہ میں ملتا ہی نہ ہو؟ اور اگر فی الواقعہ نہ ملتا ہو تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ گمراہی میں مبتلا ہے۔ یہاں یہ بات ملحوظ رکھنا چاہئے کہ گمراہ فرقوں کے قائدین یا موجد عموماً عالم دین اور ذہین و فطین قسم کے لوگ ہی ہوا کرتے ہیں جو استنباط و تاویل پر دسترس رکھتے ہیں۔ یہ لوگ عموماً متشابہات سے استنباط کرکے اور محکمات کی غلط تاویل کے ذریعہ اپنے بدعی عقیدہ کو کتاب و سنت سے ہی مستنبط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد فقط ایک فرقہ کی قیادت اور بعض دوسرے مالی مفادات کا حصول ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اسی بات پر ہی اکتفا نہ کرے کہ اس کے فرقہ کا قائد ایک بہت بڑا عالم ہے۔ وہ بھلا کیسے غلط ہوسکتا ہے یا دوسروں کو غلط راہ پر ڈال سکتا ہے بلکہ ہر شخص کو اپنے طور پر تحقیق کرنا ضروری ہے۔ آل عمران
106 [٩٧] فرقہ بازی کفر ہے:۔ پچھلی آیت میں فرقہ حقہ، اور گمراہ فرقوں کا ذکر چل رہا تھا۔ اس آیت میں ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یہودی یا عیسائی یا ہندو یا سکھ وغیرہ ہوگئے تھے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے دین میں بہت سی بے اصل اور باطل باتیں شامل کرکے یا بعض ضروریات دین کا انکار کرکے یا ملحدانہ عقائد اختیار کرکے اصل دین سے نکل گئے تھے، اور یہ کفر دون کفر ہے اور ان سب باتوں پر کفر کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ گویا قیامت کے دن روشن چہرے تو صرف ان لوگوں کے ہوں گے جو دین حقہ پر قائم و ثابت قدم رہے۔ اور یہی لوگ اللہ کے سایہ رحمت میں ہوں گے اور جن لوگوں نے گمراہ فرقوں میں شامل ہو کر کفر کی روش اختیار کی۔ انہیں کے چہرے سیاہ ہوں گے اور انہیں ہی دردناک عذاب ہوگا۔ آل عمران
107 آل عمران
108 [٩٨] اسی لیے تو اس نے اپنے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کرکے لوگوں کو سیدھا راستہ بتلا دیا ہے اور اس بات سے آگاہ کردیا ہے کہ آخرت میں وہ کن امور کی باز پرس کرنے والا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار نہ کریں یا اپنے غلط طرز عمل یا معاندانہ روش سے بازنہ آئیں تو وہ اپنے آپ پر خود ظلم کرنے والے ہیں۔ ظلم کامفہوم:۔ لفظ ظلم بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے اور اس کی ضد عدل ہے اور اللہ تعالیٰ عادل ہے۔ ظالم نہیں۔ اس لئے اس سے ایسے افعال کا صدور ممکن ہی نہیں جس میں ظلم کا شائبہ تک پایا جاتا ہو۔ مثلاً وہ کسی مستحق رحمت کو سزا دے دے، یا زیادہ اجر کے مستحق کو تھوڑا اجر دے یا کم سزا کے مستحق کو زیادہ سزا دے دے وغیرہ وغیرہ، ایسی سب باتیں اس کی صفت عدل کے منافی ہیں۔ آل عمران
109 آل عمران
110 [٩٩] امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت:۔ غور فرمائیے اللہ پر ایمان لانا سب باقی اعمال و افعال سے مقدم ہے۔ لیکن امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر محض اس لیے پہلے کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت کو واضح کرنا مقصود تھا۔ ساتھ ہی یہ وضاحت بھی فرما دی کہ اے مسلمانو! تم بہترین امت صرف اس لیے ہو کہ تم برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اچھے کاموں کا حکم دیتے ہو۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تک مسلمان اچھے کاموں کا حکم دیتے اور برے کاموں سے روکتے رہیں گے وہ بہترین امت رہیں گے اور جب انہوں نے اس فریضہ سے کوتاہی کی تو پھر بہترین امت نہیں رہیں گے۔ برے کاموں سے مراد کفر، شرک، بدعات، رسوم قبیحہ، فسق و فجور ہر قسم کی بداخلاقی اور بے حیائی اور نامعقول باتیں شامل ہیں اور ان سے روکنے کا فریضہ فرداً فرداً بھی ہر مسلمان پر عائد ہوتا ہے۔ اور اجتماعاً امت مسلمہ پر بھی۔ ہر ایک کو اپنی اپنی حیثیت اور قوت کے مطابق اس فریضہ سے عہدہ برآ ہونا لازم ہے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جب کوئی برائی دیکھے تو اسے بزور بازو ختم کردے اور اگر ایسا نہیں کرسکتا تو زبان سے ہی روکے اور اگر اتنا بھی نہیں کرسکتا تو کم از کم دل میں ہی اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور تر درجہ ہے۔ (مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب کون النہی عن المنکر من الایمان) اور نیک کاموں سے مراد توحید خالص اور ارکان اسلام کی بجا آوری جہاد میں دامے درمے شمولیت، بدعات سے اجتناب، قرابتداروں کے حقوق کی ادائیگی اور تمام مسلمانوں سے مروت، اخوت و ہمدردی اور خیر خواہی وغیرہ ہیں۔ [١٠٠]امت مسلمہ کی فضیلت :۔ ایک وقت تھا جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تمام جہاں والوں پر فضیلت بخشی تھی۔ مگر ان لوگوں نے نہ صرف یہ کہ فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کردیا بلکہ خود بھی بے شمار بڑے بڑے جرائم میں مبتلا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کی امامت و قیادت کی ذمہ داری ان سے چھین کر امت مسلمہ کے حوالے کردی۔ اب جو فضیلت انہیں حاصل تھی وہ امت مسلمہ کو حاصل ہوگئی اور قیادت کی اس تبدیلی کی واضح علامت چونکہ تحویل قبلہ تھی۔ لہٰذا یہود جتنے تحویل قبلہ پر چیں بہ جبیں ہوئے اتنے کسی بات پر نہ ہوئے تھے۔ اور یہ فضیلت اللہ کی دین ہے جس کو مناسب سمجھتا ہے اسے دیتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گزشتہ لوگوں (یہود و نصاریٰ) کے مقابلہ میں تمہارا رہنا ایسا ہے جیسے عصر سے سورج غروب ہونے تک کا وقت۔ اہل تورات کو تورات دی گئی۔ انہوں نے (صبح سے) دوپہر تک مزدوری کی، پھر تھک گئے تو انہیں ایک ایک قیراط ملا۔ اہل انجیل کو انجیل دی گئی، انہوں نے عصر کی نماز تک مزدوری کی پھر تھک گئے۔ انہیں بھی ایک ایک قیراط ملا۔ پھر ہم مسلمانوں کو قرآن دیا گیا۔ ہم نے عصر سے سورج غروب ہونے تک مزدوری کی (اور کام پورا کردیا) تو ہمیں دو دو قیراط دیئے گئے۔ اب اہل کتاب کہنے لگے : ’’پروردگار! تو نے انہیں تو دو دو قیراط دیئے اور ہمیں ایک ایک حالانکہ ہم نے ان سے زیادہ کام کیا ہے۔‘‘ اللہ عزوجل نے انہیں جواب دیا : ’’میں نے تمہاری مزدوری (جو تم سے طے کی تھی) کچھ کم تو نہیں کی؟‘‘ انہوں نے کہا : ''نہیں'' اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’تو پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے جو کچھ چاہوں دے دوں۔‘‘ (بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ باب من ادرک رکعۃ من العصر قبل المغرب ) اس آیت میں اہل کتاب کو یہ بتلایا جارہا ہے کہ اگر وہ ایمان لے آتے تو اس ذلت و خواری سے بچ سکتے تھے جو ان کے مقدر ہوچکی ہے، اگر وہ خیر الامم میں شامل ہوجاتے ہیں تو دنیا میں ان کی عزت بڑھتی اور آخرت میں دوہرا اجر ملتا۔ مگر حق کے واضح ہونے کے بعد ان کی اکثریت نافرمانی پر ہی اڑی رہی اور اپنا ہی نقصان کیا۔ آل عمران
111 [١٠١] یعنی گالی دینا، برا بھلا کہنا، تمہارے خلاف سازشیں اور غلط پراپیگنڈا اور ستانے کے دوسرے کام ہی کرسکتے ہیں، اور ایسے کام عموماً ذہنی طور پر ہزیمت خوردہ فریق ہی کرتا ہے۔ رہا جوان مردوں کی طرح مقابلے میں آنا تو اس بات کی ان میں سکت ہی نہیں اور اگر کریں گے تو بری طرح پٹ کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اور اس وقت منافق بھی ان کی کچھ مدد نہ کرسکیں گے، جو ان سے ساز باز کرتے اور مدد کو پہنچنے کے وعدے کرتے رہتے ہیں۔ اہل کتاب کے حق میں یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ یہود کا انجام:۔ سب سے پہلے یہود کے قبیلہ بنو قینقاع کو جلاوطن کیا گیا۔ پھر بنو نضیر کو، پھر بنو قریظہ کی باری آئی تو وہ قتل کیے گئے اور لونڈی غلام بنائے گئے، پھر خیبر میں زک اٹھائی تو مزارعہ کی حیثیت سے رہے اور بالآخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں وہاں سے نکال دیا اور نجران کے عیسائیوں نے جزیہ دینا قبول کیا اور اہل ذمہ کی حیثیت سے رہنے لگے۔ غرض ہر میدان میں ان لوگوں نے زک اٹھائی اور ذلیل و خوار ہوئے۔ پھر کیا ان کے حق میں یہ بات بہتر نہ تھی کہ اسلام قبول کرکے باعزت زندگی گزارتے اور مسلمانوں کے جملہ حقوق میں برابر کے حصہ دار بن جاتے۔ آل عمران
112 [١٠٢] موجودہ اسرائیلی حکومت کی بنیاد:۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی ذلت و رسوائی کے اسباب بیان فرمائے ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی راہ اختیار کی اور حدود اللہ سے تجاوز کرنے لگے، ان گناہوں نے ان کی طبائع پر یہ اثر کیا کہ بڑے بڑے جرائم پر دلیر ہوگئے، جیسے اللہ کی آیات ہی سے انکار کردینا انہیں چھپا جانا ان میں تحریف کرلینا حتیٰ کہ وہ انبیاء کے قتل کے بھی مرتکب ہوئے۔ پھر جب بدبختی کی اس انتہا کو پہنچ گئے تو ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا جس کے نتیجہ میں ذلت و رسوائی اور محتاجی ہمیشہ کے لیے ان کے مقدر کردی گئی اور اس سے بچاؤ کی دو صورتیں بتلائی گئی ایک یہ کہ اللہ کی ذمہ داری کی پناہ میں آجائیں۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ مسلمان ہوجائیں اور دوسرا یہ کہ کسی مسلمان حکومت کی پناہ میں رہیں اور دوسری یہ کہ غیر مسلم حکومتوں کے سایہ تلے رہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ١٩٤٧ ء تک باوجود اس کے کہ وہ دنیا کی مالدار ترین قوم تھے۔ دنیا میں دربدر پھرتے ہی رہے۔ ١٩٤٧ ء میں تین عیسائی حکومتوں، برطانیہ، فرانس اور امریکہ کی مدد سے انہوں نے مختصر سے خطہ پر اپنی ایک الگ حکومت قائم کرلی ہے جسے کئی ممالک نے تاحال تسلیم ہی نہیں کیا اور عیسائی حکومتوں نے مسلمانوں سے انتقام کے طور پر مسلمان ممالک کے درمیان یہ حکومت قائم کرکے مسلمانوں کے جگر میں خنجر گھونپا ہے۔ آج بھی اسرائیل کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے اور اسی کے دم قدم سے یہ اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے۔ اگر امریکہ کا سایہ اس کے سر سے اٹھ جائے، تو فوراً اس کا وجود ہی ختم ہوجائے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جس طرح یہود مغضوب علیہ قوم ہے اسی طرح آج کا مسلمان بھی اللہ کی نافرمانیوں کی بنا پر مغضوب علیہ قوم بن چکا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں پر اللہ کی طرف سے اسرائیل کی صورت میں عذاب نازل ہوا اور جب تک مسلمان باہمی اتفاق و اتحاد کا ثبوت نہ دیں گے اور آپس میں الجھتے اور لڑتے مرتے رہیں گے ان پر یہ عذاب مسلط ہی رہے گا۔ آل عمران
113 آل عمران
114 [١٠٣]اہل کتاب میں منصف مزاج آدمی:۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا تھا کہ اہل کتاب کی اکثریت فسق و فجور پر ہی مصر رہی۔ اس آیت میں یہ بتلایا جارہا ہے کہ وہ سب کے سب ہی برے نہیں۔ ان میں بھی کچھ اچھے لوگ موجود ہیں جو ایمان لے آئے ہیں۔ مثلاً عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی یا نجاشی شاہ حبشہ وغیرہ اور ان میں وہ سب خوبیاں موجود ہیں جو نیکو کار مسلمانوں میں ہوتی ہیں۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ یہود کے ممتاز علماء میں سے تھے۔ لیکن مفاد پرست اور جاہ طلب ہونے کی بجائے حق پرست تھے۔ عبداللہ بن سلام کا تعارف اور اسلام لانا:۔ جب آپ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں وہ نشانیاں دیکھیں جو تورات میں نبی آخرالزمان کی بتلائی گئی تھیں تو آپ فوراً خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور چند سوالات پوچھنے کے بعد اسلام لے آئے۔ پھر آپ ہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہود کی سرشت سے آگاہ کیا۔ چنانچہ یہود ان کے دشمن بن گئے۔ پھر جب ایک زنا کے مقدمہ میں یہود نے تورات سے رجم کی آیت کو چھپانا چاہا تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ہی اس آیت کی نشاندہی کرکے یہود کو نادم اور رسوا کیا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو ایک خواب آیا تھا جس کی تعبیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بتلائی کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ آخری دم تک اسلام پر ثابت قدم رہیں گے۔ چنانچہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم انہیں جنتی کہا کرتے تھے ۔ نجاشی شاہ حبشہ کا کردار اور اس کا اسلام لانا:۔ نجاشی شاہ حبشہ جس کا نام اصحمہ تھا، نے مسلمانوں کی اس وقت بھرپور حمایت کی جب مسلمان ہجرت کرکے حبشہ پہنچے اور قریش مکہ کا ایک وفد انہیں واپس لانے کے لیے شاہ حبشہ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ شاہ حبشہ نے نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کو واپس نہیں کیا اور انہیں پناہ دی بلکہ برملا اعتراف کیا کہ حضرت عیسیٰ اور مریم کے معاملہ میں مسلمانوں کے عقائد بالکل درست اور عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کے عین مطابق ہیں پھر مسلمانوں سے بہتر سے بہتر سلوک کیا۔ اس کے باقاعدہ اسلام لانے کی تفصیل تو نہیں ملتی تاہم جب وہ فوت ہوا تو آپ نے مسلمانوں کو اس کی وفات پر مطلع کرکے فرمایا کہ اپنے مسلمان بھائی کی نماز جنازہ پڑھو۔ چنانچہ اس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ (بخاری۔ کتاب الجنائز، باب الصفوف علی الجنازۃ۔۔) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ فی الحقیقت اسلام لاچکا تھا۔ آل عمران
115 [١٠٤]اسلام لانے سے سابقہ گناہ معاف مگر نیک کاموں کا اجر ملے گا:۔ یعنی اہل کتاب کے منصف مزاج لوگ جو اسلام لے آئے ہیں۔ ان کے اسلام لانے سے پہلے کے اچھے کاموں کا انہیں بدلہ دیا جائے گا۔ کیونکہ اسلام لانے کے دو فائدے ہیں اور وہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام لانے سے پہلے کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اسلام لانے سے پہلے نیک اعمال برقرار رکھے جاتے ہیں، یعنی دور کفر کے اچھے کاموں کا بھی انہیں ثواب عطا کیا جائے گا۔ اور کافروں کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ یعنی ان کی نیکیاں برباد اور گناہ لازم ہوتے ہیں۔ آل عمران
116 آل عمران
117 [١٠٥] یہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزا ہے۔ اس دنیا میں انسان جو کچھ بوئے گا وہ عالم آخرت میں کاٹے گا۔ مگر دنیا میں بوئی ہوئی کھیتی کی بار آوری کے لیے چند شرائط ہیں۔ ان شرائط کو اگر ملحوظ نہ رکھا جائے تو کھیتی کبھی بار آور نہ ہوگی اور وہ شرائط ہیں۔ اللہ اور روز آخرت پر ایمان، خلوص نیت یعنی اس میں ریا کا شائبہ تک نہ ہو اور جو کام کیا جائے خالص اللہ کی رضا مندی کے لیے کیا جائے اور تیسرے اتباع کتاب و سنت یعنی وہ کام یا صدقہ و خیرات جو شریعت کی بتلائی ہوئی ہدایت کے مطابق کیا جائے۔ ان میں سے اگر کوئی چیز بھی مفقود ہوگی تو آخرت میں کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ کافروں کے نیک اعمال بھی برباد کیوں ہوتےہیں؟ اس آیت میں جن کافروں کے متعلق کہا گیا ہے کہ انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ ان میں یہ تینوں شرائط ہیے مفقود ہوتی ہیں۔ کافر تو وہ کہلاتے ہی اس لیے ہیں کہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور یہی اپنے آپ پر سب سے بڑا ظلم ہوتا ہے یا اگر اپنے خیال کے مطابق ایمان رکھتے بھی ہیں تو وہ اللہ کے ہاں مقبول نہیں اور چونکہ ان کا روز آخرت پر ایمان نہیں ہوتا۔ لہذا وہ جو بھی خرچ کریں گے وہ محض نمائش اور اپنی واہ واہ کے لیے کریں گے اور شریعت محمدیہ کی ہدایات کی اتباع کا یہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تو پھر آخرت میں بھلا انہیں ایسے اعمال کا کیا بدلہ مل سکتا ہے۔ ان کے نیک اعمال کی کھیتی کو ان کے کفر کی کہر نے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا تو اب آخرت میں انہیں کیا بدلہ ملے گا ؟ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢٦٣ میں لوگوں کے دکھلاوے کی خاطر خرچ کرنے والے کی یہ مثال بیان کی گئی کہ جیسے ایک صاف چکنے پتھر پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس مٹی میں کوئی شخص بیج بو دے، پھر زور کی بارش آئے تو دانہ اور مٹی ہر چیز کو بہا کرلے جائے اور پتھر چکنے کا چکنا باقی رہ جائے اور یہاں یہ مثال بیان کی گئی ہے کہ کھیتی تو اگ آئی مگر اس پر ایسی شدید ٹھنڈی ہوا چلی جس نے اس کھیتی کو بھسم کرکے رکھ دیا۔ ماحصل دونوں مثالوں کا ایک ہی ہے کہ ایسے کافروں اور ریا کاروں کو آخرت میں ان کے صدقہ و خیرات کا کچھ بھی اجر نہیں ملے گا۔ کیونکہ ان کی کھیتی تو دنیا میں ہی تباہ و برباد ہوچکی اور جو کام انہوں نے آخرت کے لیے کیا ہی نہ تھا اس کی انہیں جزا کیسے مل سکتی ہے؟ آل عمران
118 [١٠٦]یہود مدینہ سے دوستی کی ممانعت:۔ یہ خطاب دراصل انہیں انصار مدینہ سے ہے۔ ان کے دو بڑے قبیلے اوس و خزرج مدینہ میں آباد تھے۔ اسلام سے پہلے ان قبائل کی آپس میں ٹھنی رہتی تھی اور مدینہ کے یہودی بھی تین قبائل میں منقسم تھے۔ یہودیوں کا کام یہ تھا کہ ان کا ایک قبیلہ اوس کا حلیف بن جاتا اور دوسرا خزرج کا اور اس طرح اوس و خزرج کو آپس میں لڑاتے رہتے تھے اور اس طرح کئی طرح کے مفادات حاصل کرتے تھے۔ مثلاً ایک یہ کہ ان کے ہتھیار فروخت ہوجاتے تھے۔ دوسرے یہ کہ اپنی قلت تعداد کے باوجود انصار مدینہ پر اپنی بالا دستی قائم رکھتے اور ان کی معیشت و سیاست پر چھائے ہوئے تھے۔ جب اوس و خزرج کے قبیلے مسلمان ہوگئے تو اس کے بعد بھی وہ یہودیوں کے ساتھ وہی پرانے تعلقات نباہتے رہے اور اپنے سابق یہودی دوستوں سے اسی سابقہ محبت و خلوص سے ملتے رہے۔ لیکن یہودیوں کو آپ اور آپ کے مشن سے جو بغض و عناد تھا اس کی بنا پر وہ کسی مسلمان سے مخلصانہ محبت رکھنے کو تیار نہ تھے۔ انہوں نے منافقانہ روش اختیار کر رکھی تھی۔ ظاہر میں تو وہ انصار سے دوستی کا دم بھرتے تھے۔ مگر دل میں ان کے سخت دشمن بن چکے تھے۔ اس ظاہری دوستی سے وہ دو قسم کے فوائد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ایک یہ کہ کسی طرح مسلمانوں میں فتنہ و فساد پیدا کردیں جیسا کہ شماس بن قیس یہودی نے کیا بھی تھا اور دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے جماعتی راز ان کے دشمنوں تک پہنچائیں۔ انہی وجوہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کسی بھی غیر مسلم سے دوستی گانٹھنے اور اسے اپنا راز دار بنانے سے روک دیا اور یہود کے بغض و عناد کا تو یہ حال تھا کہ بسا اوقات ان کی زبان سے کوئی ایسی بات نکل جاتی تھی جو ان کی مسلمانوں سے گہری دشمنی کا پتا دے جاتی تھی اور حسد اور دشمنی کے بارے میں ان کی زبان قابو میں نہیں رہتی تھی۔ اور جو ان کے دلوں میں کدورت بھری ہوئی تھی وہ تو اس سے بہت بڑھ کر تھی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم سوچو تو ان کی دوستی میں تمہیں سراسر نقصان ہی نقصان ہے۔ لہٰذا کافروں سے دوستی رکھنے سے بہرحال تمہیں اجتناب کرنا چاہئے۔ آل عمران
119 [١٠٧]کفار سے دوستی کی ممانعت :۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ تم تو تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہو جن میں تورات بھی شامل ہے۔ لیکن اہل کتاب تمہارے قرآن پر ایمان نہیں رکھتے، اس بات کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ تم سے محبت رکھتے اور تم ان سے دشمنی رکھتے، مگر یہاں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ تم یہ کیسی الٹی گنگا بہا رہے ہو؟ [١٠٨] یہاں آمنا سے مراد یا تو یہود کا تورات پر ایمان لانا ہے یا مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے منافقانہ طور پر یہ کہہ دینا کہ ہم بھی قرآن پر ایمان لاتے ہیں۔ حالانکہ جب وہ تمہارا اتحاد و اتفاق اور آپس میں پیار و محبت یا پے در پے کامیابیاں اور کامرانیاں دیکھتے ہیں تو غصہ کے مارے اپنی انگلیاں دانتوں میں چبانے لگتے ہیں۔ کیونکہ ان کو روکنے میں ان کا کچھ بس نہیں چلتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطاب کرکے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم خواہ غصہ سے جل بھن جاؤ، اللہ تعالیٰ اپنے مشن کو کامیاب کرکے رہے گا اور دین اسلام ایک غالب دین کی حیثیت سے بلند ہو کے رہے گا اور تمہارے دلوں میں بغض و عناد کی جو لہریں اٹھتی ہیں۔ اللہ ان سے بھی پوری طرح واقف ہے۔ آل عمران
120 [١٠٩] اگر تمہیں کوئی خوشی کا موقعہ میسر آئے تو یہ جل بھن جاتے ہیں اور کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ تو کیا پھر ایسے لوگوں کی دوستی سے پرہیز ہی بہتر نہیں؟ بس تم صبر سے کام لو۔ ان کی سازشیں اور پراپیگنڈے تمہارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ آیت نمبر ١١٨ سے لے کر ١٢٠ تک ٣ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے دوستی گانٹھنے کی ممانعت کے لیے جو وجوہات بیان فرمائی ہیں وہ مختصراً درج ذیل ہیں۔ ١۔ وہ تمہارے درمیان، خرابی، بگاڑ اور فساد پیدا کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے اور ان کی ہر ممکن کوشش یہ ہوتی ہے کہ تم میں تفرقہ و انتشار اور بغض و عداوت پیدا ہوجائے۔ ٢۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی ارضی و سماوی آفت اور مصیبت میں پھنس جاؤ۔ ٣۔ ان کے منہ سے کچھ بے اختیار ایسی باتیں نکل جاتی ہیں جو ان کے دلوں میں پکنے والے مواد کا پتہ دے جاتی ہیں۔ ٤۔ تم ان سے محبت رکھتے ہو جبکہ وہ تم سے دشمنی رکھتے ہیں، حالانکہ تم ان کی کتاب تورات پر ایمان لاتے ہو اور وہ تمہاری کتاب قرآن سے منکر ہیں اور اس کا منطقی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ تم سے دشمنی رکھتے اور تم ان سے دوستی رکھتے، لیکن یہاں الٹی گنگا بہائی جارہی ہے۔ ٥۔ اگر تمہیں کوئی بھلائی حاصل ہو تو اس سے وہ جل بھن جاتے ہیں اور اگر تمہیں تکلیف پہنچے تو اندر ہی اندر پھولے نہیں سماتے۔ ٦۔ اگر وہ تم سے کوئی خیر خواہی کی بات بھی کریں تو وہ منافقت پر مبنی ہوتی ہے۔ لہٰذا ان وجوہات کی بنا پر تمہیں ان سے دوستی نہ رکھنا چاہیئے اور راز بتانا تو بڑی دور کی بات ہے۔ آل عمران
121 [١١٠]غزوہ احد کا پس منظر اورا سباب:۔ یہاں سے ایک نیا مضمون شروع ہو رہا ہے جو جنگ احد سے متعلق ہے۔ رمضان ٢ ھ میں غزوہ بدر میں قریش مکہ کو عبرت ناک شکست ہوئی تھی۔ ابو جہل کی موت کے بعد ابو سفیان نے قریش کی قیادت سنبھالی۔ اس نے جنگ بدر کا بدلہ لینے اور مسلمانوں کا قلع قمع کرنے کے لیے حسب ذیل اقدامات کئے : ١۔ طے ہوا کہ اس تجارتی قافلہ کا سارا منافع جنگ کے اخراجات کے لیے دے دیا جائے جو جنگ بدر سے چند یوم پہلے بچ بچا کر نکل آیا تھا۔ اس سے ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار دینار کی خطیر رقم جنگی اخراجات کے لیے جمع ہوگئی۔ ٢۔ رضا کارانہ خدمت کا دروازہ کھول دیا گیا اور تمام اسلام دشمن قبائل کو اس جنگ میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ اس طرح قریش کے حلیف قبیلے بھی اور مسلمانوں کے مخالف قبیلے بھی اس قریشی جھنڈے تلے جمع ہوگئے۔ ٣۔ دو شعلہ بیان شعراء کی خدمات حاصل کی گئیں، جو بدوی قبائل کو مسلمانوں کے خلاف انتقام پر بھڑکاتے تھے۔ ان ایام میں جنگی پروپیگنڈہ کا سب سے موثر ذریعہ یہی تھا۔ چنانچہ شوال ٣ ھ میں قریش کا یہ تین ہزار مسلح افراد کا لشکر جرار ابو سفیان کی سر کردگی میں احد کے میدان میں پہنچ گیا۔ اس موقع پر ابو سفیان نے ایک خطرناک جنگی چال چلی، وہ انصار سے مخاطب ہو کر کہنے لگا : آپ لوگوں سے ہماری کوئی لڑائی نہیں، آپ درمیان سے نکل جائیں تو بہتر ہے، ہم بھی آپ سے کوئی تعرض نہ کریں گے۔ لیکن انصار ابو سفیان کی اس چال کو سمجھ گئے اور اسے کھری کھری سنادیں۔ غزوہ احد سے متعلق مشورہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کہ یہ جنگ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے یا باہر نکل کر کھلے میدان میں لڑی جائے۔ آپ کی ذاتی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے اور یہ پہلا موقع تھا کہ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین سے بھی رائے لی گئی جو حضور کی رائے سے موافق تھی۔ مگر پرجوش اور جوان مسلمان جنہیں بدر کی شرکت نصیب نہ ہوئی تھی اور شوق شہادت بے چین کر رہا تھا اس بات پر مصر ہوئے کہ باہر نکل کر کھلے میدان میں مقابلہ کیا جائے۔ تاکہ دشمن ہماری نسبت بزدلی اور کمزوری کا گمان نہ کرے۔ چنانچہ آپ گھر میں تشریف لے گئے اور زرہ پہن کر نکلے۔ بعض لوگوں کو خیال آیا کہ ہم نے آپ کو آپ کی مرضی کے خلاف باہر نکلنے پر مجبور کردیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اگر آپ کا منشا نہ ہو تو یہیں تشریف رکھئے۔ آپ نے فرمایا : ایک پیغمبر کو یہ مناسب نہیں کہ وہ ہتھیار لگائے اور جنگ کئے بغیر اتار دے۔ عبداللہ بن ابی کا کردار :۔ جب آپ مدینہ سے باہر نکلے تو تقریباً ایک ہزار آدمی آپ کے ساتھ تھے مگر عبداللہ بن ابی تقریباً تین سو آدمیوں کو (جن میں بعض مسلمان بھی تھے) ساتھ لے کر راستہ سے یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ جب میرا مشورہ نہیں مانا گیا تو ہم کیوں لڑیں اور خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالیں۔ آخر آپ سات سو مجاہدین کا لشکر لے کر میدان جنگ میں پہنچ گئے۔ فوجی قاعدہ کے مطابق صفیں ترتیب دیں۔ ہر ایک دستہ کو اس کے مناسب ٹھکانے پر بٹھایا اور فرمایا جب تک میں نہ کہوں جنگ نہ شروع کی جائے۔ آل عمران
122 [١١١] جب عبداللہ بن ابی تین سو ساتھیوں سمیت واپس چلا گیا تو انصار کے دو قبیلوں بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے دلوں میں کمزوری واقع ہوئی اور کفار کے مقابلہ میں مسلمانوں کی قلیل تعداد دیکھ کر دل چھوڑنے لگے مگر چونکہ سچے مسلمان تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ہم انصار کے حق میں اتری۔ اگرچہ اس میں ہمارا عیب بیان کیا گیا ہے۔ تاہم ہمیں یہ پسند نہیں کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی۔ کیونکہ اس میں ﴿اللّٰہ ولیھما﴾ (اور اللہ دونوں فرقوں کا مددگار تھا) کے الفاظ بھی مذکور ہیں۔ (بخاری، کتاب التفسیر) آل عمران
123 [١١٢] قلت تعداد کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بدر کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ بدر کے میدان میں تم ہر لحاظ سے کمزور تھے۔ تعداد بھی کم تھی۔ اسلحہ جنگ اور رسد بھی بہت کم تھی تو ان حالات میں جب اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرچکا ہے تو اے کمزوری دکھانے والے اور دل چھوڑنے والے مسلمانو! اب وہ تمہاری مدد کیوں نہ کرے گا ؟ پس تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اس بات پر اللہ کا شکر ادا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہر آڑے وقت میں مسلمانوں کی نصرت کے لیے غیب سے سامان مہیا کردیتا ہے۔ آل عمران
124 [١١٣] کیاغزوہ احد میں فرشتے نازل ہوئےتھے؟جب مذکورہ بالا دو قبیلوں نے کمزوری دکھائی تو اس وقت آپ نے ان کی اور دوسرے مسلمانوں کی ڈھارس بندھاتے ہوئے فرمایا : کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتے بھیج کر تمہاری مدد فرما دے۔ جیسا کہ میدان بدر میں تمہاری مدد فرمائی تھی۔ آل عمران
125 [١١٤] ابھی لڑائی شروع بھی نہ ہوئی تھی کہ یہ افواہ پھیل گئی کہ کرزبن جابر بہت بڑی کمک لے کر مشرکین کی مدد کے لیے آرہا ہے۔ اس افواہ سے مسلمانوں میں مزید اضطراب پھیل گیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا اگر کفار کو ہنگامی طور پر کمک مل جانے سے ڈرتے ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے فرشتوں کی کمک میں اضافہ کر دے گا۔ لہذا صبر و استقامت سے کام لو اور کافروں سے نہیں بلکہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ بعض مفسرین نے تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتوں سے مدد کے وعدہ کو جنگ بدر سے متعلق کیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ بیان آیت نمبر ١٢٣ کے بیان کے ساتھ مسلسل ہے۔ ہوا یہ تھا۔ جنگ بدر میں قلیل تعداد اور کمزور اور نہتے مسلمانوں کو ڈھارس بندھانے کی خاطر اللہ نے ایک ہزار فرشتے میدان بدر میں بھیج دیے۔ جیسا کہ سورۃ انفال کی آیت ﴿فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗیِٕکَۃِ مُرْدِفِیْنَ ﴾ سے معلوم ہوتا ہے۔ پھر جب جنگ بدر میں ہی یہ مشہور ہوا کہ مکہ سے مزید کمک پہنچ رہی ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسی صورت میں ہم تین ہزار یا پانچ ہزار فرشتے بھیج دیں گے۔ پھر چونکہ کافروں کے لیے مکہ سے کوئی مزید کمک نہ پہنچی تو اور فرشتے بھی نہ آئے۔ البتہ ایک ہزار فرشتوں کی میدان بدر میں شرکت قرآن پاک سے ثابت ہے۔ نیز اس کی صحیحین اور دوسری کتب احادیث میں اس قدر روایات مذکور ہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔ لیکن جنگ احد میں فرشتوں کی کمک صحیح روایات سے ثابت نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہی توجیہ زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔ معتزلہ کامیدان بدرمیں بھی نزول ملائکہ سےانکار اور ان کی تاویلات :۔اس سب باتوں کے علی الرغم معتزلہ اور ان کے جانشینوں نے بدر میں فرشتوں کی آمد سے انکار کیا ہے۔ یہ لوگ احادیث کو درخور اعتناء سمجھتے ہی نہیں اور قرآن کی آیات کی یہ تاویل کرلیتے ہیں کہ قرآن میں تو کہیں نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فی الواقعہ فرشتے بھیجے تھے بلکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کیا ہے کہ جنگ کے وقت رسول نے مسلمانوں سے اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کی خاطر یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسا بھی کرسکتا ہے۔ پھر اس کے بعد جو عقلی دلائل دیتے ہیں وہ اس قسم کے ہیں کہ کسی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے تو ایک فرشتہ بھی کافی ہے پھر ہزاروں کی کیا ضرورت تھی؟ یا یہ کہ اگر فرشتوں سے ہی کام لینا تھا تو صرف ملک الموت ہی کافی تھا، جو سب کی روحیں قبض کرلیتا بلکہ اگر ایسا ہی معاملہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے کافر پیدا ہی کیوں کئے؟ یا یہ کہ فرشتے اگر اجسام کثیفہ تھے تو ضرور سب کو نظر آتے، حالانکہ ایسا نہیں ہوا اور اگر اجسام لطیفہ تھے تو ان میں طاقت ہی کیا تھا جو کسی کو قتل کرتے، وغیر ذالک من الخرافات ان دلائل میں جتنا وزن ہے وہ آپ بھی دیکھ رہے ہیں۔ لہذا ہمیں ان کے جواب میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے، جو اللہ کی حکمت بالغہ کے منافی ہیں اور ایسے اعتراضات تو شریعت کی ایک ایک بات پر کئے جاسکتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ ان لوگوں کا اللہ اور اللہ کے کلام پر ایمان کس قسم کا ہے؟ آل عمران
126 [١١٥] غزوہ بدر میں مسلمانوں کی چار طرح سے مددالٰہی :۔ میدان بدر میں اللہ نے جو نزول ملائکہ کی تمہیں خوشخبری دی تھی وہ تو محض اس لیے تھی کہ تمہارے دل مضبوط ہوجائیں اور تم پورے وثوق کے ساتھ جم کر لڑائی کے میدان میں اترو اور فرشتوں پر ہی کیا منحصر ہے مدد کی جو بھی صورت ہو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ چنانچہ بدر کے میدان میں اللہ نے چار طرح سے مسلمانوں کی مدد فرمائی تھی۔ مثلاً (١) اللہ نے ہوا کا رخ کفار کے لشکر کی طرف موڑ دیا اور ریت نے اڑ اڑ کر ان کے لشکر کو بدحال بنا دیا۔ (٢) بارش کا نزول جس سے کفار کے پڑاؤ میں تو پھسلن اور دلدل مچ گئی۔ جبکہ مسلمانوں کے پڑاؤ میں ریت جم کر بیٹھ گئی۔ نیز انہیں استعمال کے لیے وافر پانی میسر آگیا۔ (٣) فرشتوں کا نزول۔ چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ نے بدر کے دن فرمایا : ’’یہ جبریل آن پہنچے اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوئے، لڑائی کے ہتھیار لگائے ہوئے۔‘‘ (بخاری، کتاب المغازی، باب شہود الملائکة بدرا) نیز حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ جبریل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے : ’’آپ اہل بدر کو کیسا سمجھتے ہیں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا :’’ سب مسلمانوں سے افضل‘‘ یا کوئی ایسا ہی کلمہ کہا : جبریل علیہ السلام کہنے لگے : ’’اسی طرح وہ فرشتے جو غزوہ بدر میں حاضر ہوئے تھے دوسرے فرشتوں سے افضل ہیں۔‘‘ (بخاری۔ حوالہ ایضاً) اور (٤) مسلمانوں کی مدد کا چوتھا طریقہ یہ تھا کہ کفار کو مسلمان مجاہدین کی تعداد اصل تعداد سے دوگنی نظر آنے لگی تھی۔ آل عمران
127 [١١٦] اللہ کی مدد کا مقصد یہ تھا کہ کفر کا زور ٹوٹ جائے اور یہ مقصد مکمل طور پر حاصل ہوگیا۔ کافروں کے ستر سردار بمعہ ابو جہل سالار لشکر اس جنگ میں مارے گئے، اتنے ہی قید ہوگئے اور باقی لشکر ذلیل و خوار ہو کر بھاگ کھڑا ہوا جس کے سوا ان کے لیے کوئی چارہ کار ہی نہ رہ گیا تھا۔ کیااحد میں فرشتوں کا نزول ہواتھا؟یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا فرشتوں کا نزول بدر اور احد دونوں میدانوں میں ہوا تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بدر میں فرشتوں کا نزول یقیناً ہوا تھا اور وہ کتاب و سنت سے ثابت شدہ ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ میدان احد میں بھی نزول ہوا تھا جیسا کہ مذکورہ آیات سے اشارہ ملتا ہے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس میدان میں مسلمانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی بنا پر ایک شدید جنگی غلطی ہوگئی تھی جس نے ایک بار مسلمانوں کو شکست سے بھی دو چار کردیا تھا اور چونکہ اس غلطی کی وجہ محض حرص و طمع تھی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس غلطی پر عتاب بھی فرمایا۔ تاہم ان کی یہ غلطی اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دی تھی۔ اس بے صبری کی وجہ سے میدان احد میں فرشتوں کا نزول نہیں ہوا۔ اگر مسلمان ایسا بے صبری کا مظاہرہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ یہاں بھی فرشتے بھیج دیتے۔ واللہ اعلم بالصواب اور اس پر بحث پہلے (حاشیہ نمبر ١١٤) کے تحت بھی گزر چکی ہے۔ آل عمران
128 [١١٧]آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زخمی کرنے والوں کےلیے بددعا:۔ میدان احد کے مزید حالات تو آگے چل کر مذکور ہوں گے۔ یہاں صرف ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس آیت کے نزول کا سبب بنا۔ وہ واقعہ یہ تھا کہ جنگ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اگلا دانت ٹوٹ گیا اور سر زخمی ہوگیا۔ آپ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے اور فرماتے، وہ قوم کیسے فلاح پائے گی۔ جس نے اپنے نبی کا سر زخمی کردیا اور دانت توڑ دیا۔ حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا'' تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (مسلم۔ کتاب الجہاد، باب غزوہ احد) چنانچہ اس موقع پر چند نامور مشرکین کا نام لے لے کر انہیں بددعا دی۔ مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چند ہی روز گزرے تھے کہ جن مشرکوں کے حق میں آپ نے یہ بددعاکی تھی، انہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے قدموں پر لا ڈالا اور اسلام کے جانباز سپاہی بنادیا۔ آل عمران
129 آل عمران
130 [١١٨]سود کی حرمت میں تدریج:۔سود کی حرمت کاذکر سورہ بقر ہ کی آیات ۲۷۸۔۲۷۹ میں گزرچکاہے ۔ یہ آیت اس سے پہلے کی نازل شدہ ہے ۔ جبکہ مسلمانوں کوسود کی قباحتوں سے متعارف کرانا اس سے نفرت دلانااورا س کو یکسر چھوڑدینے کےلیے ذہنوں کوہموار کرنامقصود تھا۔ اس مقام پر سود کےذکر کی وجہ سےمناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جنگ احد میں ابتداءً مسلمان جو شکست پر مامور تھا،اس نے جب فتح کےآثار دیکھے تومال کے طمع سےمغلوب ہوگئےا و ر اپنے کام کوتکمیل تک پہنچانے کےبجائے غنیمت لوٹنے لگ گئے اللہ تعالیٰ نےاس صورت حال کی اصلاح کےلیے زرپرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا کیونکہ سود کاخاصہ یہ ہے کہ وہ سودخوار میں حرص وطمع وبزدلی،خود غرضی اور زرپرستی جیسی رذیل صفات پیدا کردیتاہے اور سوداداکرنے والوں میں نفرت غصہ، بغض وحسد جیسی صفات رذیل صفات پیدا کردیتاہے اور سود اداکرنے والوں میں نفرت ، غصہ ، بغض وحسد جیسی صفات پیدا ہوجاتی ہیں ،ا ورا یسی صفات ایک اسلامی معاشرہ کےلیے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں اور جہاد کی روح کےمنافی ہیں اور آخرت میں اخروی عذاب کا سبب بنتی ہیں ۔ا نہیں وجوہ کی بناپر سود کوبالآخر مکمل طور پر حرام قرار دیاگیاہے ۔ (۱۱۸ الف) سیدالاستغفار:۔ اللہ کی مغفرت کی طرف دوڑ کر جانے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے کام بلا تاخیر کئے جائیں، جو اللہ کی مغفرت کا سبب بن سکتے ہیں اور وہ تمام اعمال صالحہ ہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا بذات خود اللہ کی بخشش کا بہت بڑا سبب ہے۔ استغفار کے لیے کتاب و سنت میں بہت سی دعائیں منقول ہیں اور ایک دعائے استغفار کو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سید الاستغفار فرمایا : آپ نے یہ استغفار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھلایا اور صبح و شام نمازوں کے بعد یہ استغفار پڑھا کرتے تھے۔ اس استغفار کے الفاظ یہ ہیں: (اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لاَاِلَہَ الاَّاَنْتَ خَلَقْتَنِی وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَااسْتَطَعْتُ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّمَا صَنَعتُ اَبُوْء لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَاَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْ لیْ فِاِنَّہُ لاَیَغْفِرُ الذُّنُوْبَ الاَّ اَنْتَ) ترجمہ : ’’اے اللہ تو ہی میرا پروردگار ہے۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ اور غلام ہوں اور جہاں تک مجھ سے ہوسکتا ہے۔ میں تیرے عہد اور تیرے وعدے پر قائم ہوں اور جو کچھ میں کرتا ہوں اس کے برے پہلو سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ میں اپنے آپ پر تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں۔ لہٰذا تو مجھے معاف فرما دے کیونکہ تیرے بغیر کوئی بھی گناہ معاف نہیں کرسکتا۔‘‘ اور جنت کی طرف دوڑ کر آنے کا بھی یہی مقصد ہے کہ ایسے کام کئے جائیں جن سے جنت کا حصول ممکن ہوجائے اور جنت کی صفت یہ بیان فرمائی کہ اس کا عرض آسمانوں اور زمین جیسا ہے اور عرض کا ایک معنی تو چوڑائی ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جب آسمانوں اور زمین کی وسعت کا اندازہ کرنا انسان کی بساط سے باہر ہے تو پھر وہ جنت کی وسعت کا کیا اندازہ کرسکے گا۔ جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے گویا اس سے مقصود جنت کی ایسی لامحدود وسعت کا اظہار ہے جو انسان کے سان و گمان میں بھی نہیں آسکتی۔ جنت کی قدروقیمت:۔ عرض کا دوسرا معنی قدر و قیمت ہے۔ کہتے ہیں اشتریت المتاع بعرض اور ان معنوں میں یہ لفظ قرآن میں بھی مستعمل ہے۔ جب دنیا کی بے ثباتی کا اظہار مقصود ہو تو دنیوی سازو سامان کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا معنی یہ ہوگا کہ اس جنت کی طرف دوڑ کر آؤ جس کے مقابلہ میں یہ سارے آسمان اور زمین ہیچ ہیں اور جنت کی قدر و قیمت ان سب سے بڑھ کر ہے۔ ضمناً ایسی آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنت اور دوزخ تیار کی جاچکی ہے اور اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو اس بات کے قائل نہیں۔ آل عمران
131 آل عمران
132 آل عمران
133 [١١٨۔ ١] سود کی حرمت کا ذکر سورۃ بقرہ کی آیات ٢٧٨۔ ٢٧٩ میں گزر چکا ہے۔ یہ آیت اس سے پہلے کی نازل شدہ ہے۔ جبکہ مسلمانوں کو سود کی قباحتوں سے متعارف کرانا، اس سے نفرت دلانا اور اس کو یکسر چھوڑ دینے کے لیے ذہنوں کو ہموار کرنا مقصود تھا۔ اس مقام پر سود کے ذکر کی وجہ مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جنگ احد میں ابتداً مسلمان جو شکست سے دوچار ہوئے تو اس کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمانوں کا وہ دستہ جو حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کی سر کردگی میں درہ کی حفاظت پر مامور تھا، اس نے جب فتح کے آثار دیکھے تو مال کے طمع سے مغلوب ہوگئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے میں لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس صورت حال کی اصلاح کے لیے زرپرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا کیونکہ سود کا خاصہ یہ ہے کہ وہ سود خوار میں حرص و طمع، بخل و بزدلی، خود غرضی اور زر پرستی جیسی رذیل صفات پیدا کردیتا ہے اور سود ادا کرنے والوں میں نفرت، غصہ، بغض و حسد جیسی صفات پیدا ہوجاتی ہیں، اور ایسی صفات ایک اسلامی معاشرہ کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں اور جہاد کی روح کے منافی ہیں اور آخرت میں اخروی عذاب کا سبب بنتی ہیں۔ انہیں وجوہ کی بنا پر سود کو بالآخرمکمل طور پر حرام قرار دیا گیا۔ آل عمران
134 [١١٩] اگر قرآنی آیات کی ترتیب پر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اگر کہیں دوزخ کا ذکر فرمایا تو اس کے ساتھ ہی جنت کا ذکر فرمایا اور اس کے برعکس بھی اسی طرح اگر کہیں اسباب دخول دوزخ کا ذکر فرمایا تو اسی مناسبت سے اسباب دخول جنت کا ذکر فرما دیا اور اس کے برعکس بھی۔ یہاں بھی یہی صورت حال ہے۔ سود خواری، جو دوزخ میں دخول کا سبب ہے، کے بعد جنت اور اس میں داخل ہونے والے پرہیزگاروں کی چند صفات کا ذکر فرمایا۔ ان میں سب سے پہلی صفت انفاق فی سبیل اللہ ہے جو سود خوری کی عین ضد اور معاشرہ پر اس کے اثرات سود کے اثرات کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ مثلاً سود خوری سے سود خوار میں حرص و طمع، بخل اور زر پرستی جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں اور سود دینے والے میں سود خور کے خلاف نفرت بغض اور حسد پیدا ہوتا ہے اور یہ صورت حال معاشرہ میں طبقاتی تقسیم پیدا کرکے کسی بڑے فتنہ کا پیش خیمہ بن جاتی ہے جبکہ صدقہ و خیرات دینے سے دینے والے کے دل میں بخل کے بجائے سماحت اور خوشی پیدا ہوتی ہے تو لینے والے کے دل میں احسان مندی اور شکرگزاری کے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ جس سے پورے معاشرے میں ایک دوسرے سے ہمدردی، مروت اور اخوت، اتفاق اتحاد اور محبت جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں اور یہی چیز ایک اسلامی معاشرہ کی روح رواں ہے اور اسی لیے کتاب و سنت میں انفاق فی سبیل اللہ پر بہت زور دیا گیا ہے اور زکوٰۃ فرض کی گئی ہے۔ اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ متقین کی پہلی صفت یہ ہے کہ خواہ خوشحالی کا دور ہو یا تنگدستی کا وہ ہر حال میں اپنی حیثیت اور وقت کے تقاضا کے مطابق اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے کئی مواقع پر غریب مسلمانوں کو صدقہ کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ (اتقوا النار ولو بشق تمرۃ) (بخاری، کتاب الأدب، باب طیب الکلام۔۔) یعنی دوزخ کی آگ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ دے کر بچو اور اس ترغیب سے مقصود بخل اور حرص جیسی مہلک بیماریوں کا علاج ہے۔ [١٢٠] غصہ پی جانااورمعاف کرنا الگ الگ صفات ہیں :۔ متقین کی دوسری صفت یہاں یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ غصہ کو پی جاتے اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں، غصہ ہمیشہ ایسے شخص پر آتا ہے جو اپنے سے کمزور ہو اور انسان اس سے انتقام لینے کی قدرت رکھتا ہو۔ ایسے وقت میں غصہ کو برداشت کر جانا فی الواقعہ بڑے حوصلہ کا کام ہے۔ اسی لیے آپ نے فرمایا کہ بہادر وہ نہیں جو کسی دوسرے کو لڑائی سے پچھاڑ دے بلکہ بہادر وہ ہے جو غصہ کو برداشت کر جائے۔ نیز ایک دفعہ ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ’’مجھے کچھ وصیت فرمائیے‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’غصہ نہ کیا کرو۔‘‘ اس نے بار بار وصیت کی درخواست کی اور آپ ہر بار یہی جواب دیتے رہے کہ غصہ نہ کیا کرو۔ (بخاری۔ کتاب الادب، باب الحذر من الغضب) غصہ پی جانا اور معاف کردینا دو الگ الگ کام ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص وقتی طور پر غصہ پی جائے اور بات دل میں رکھے اور پھر کسی وقت اس سے انتقام لے لے۔ گویا غصہ پی جانے کے بعد قصور وار کو معاف کردینا ایک الگ اعلیٰ صفت ہے اور اللہ ایسے ہی نیکو کار لوگوں سے محبت رکھتا ہے جس میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہوں۔ آل عمران
135 [١٢١] توبہ کی اہم شرائط :۔ آیت کے الفاظ سے صاف واضح ہے کہ پرہیزگار لوگ دیدہ دانستہ نہ کوئی برا کام کرتے ہیں اور نہ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں بلکہ سہواً بہ تقاضائے بشریت ان سے ایسے کام سرزد ہوجاتے ہیں اور جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور معافی مانگنے لگتے ہیں اور ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ یقیناً معاف بھی کردیتا ہے۔ یہاں یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ اگر اس برے کام یا غلطی کا اثر صرف اپنی ذات تک محدود ہو تو پھر اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ وہ یقیناً معاف فرما دے گا۔ لیکن اگر اس کا اثر دوسروں کے حقوق پر پڑتا ہو تو اس کی تلافی کرنا یا اس شخص سے قصور معاف کروانا ضروری ہے اور یہ استغفار کی ایک اہم شرط ہے۔ [١٢٢]توبہ کی فضیلت:۔ گناہ پر اصرار کرنا یا استغفار کرنے کے بعد وہی گناہ پھر کرتے جانا اصل گناہ سے بڑا گناہ ہے اور جو لوگ یہ کام کریں وہ یقیناً متقی نہیں ہوتے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ایک گناہ سرزد ہوگیا تو اس کی معافی مانگ لی، پھر دوسرا ہوگیا۔ اس کی بھی اللہ سے معافی مانگ لی، پھر کوئی اور ہوگیا اس کی بھی معافی مانگ لی۔ اس طرح اگر دن میں ستر بار بھی اللہ سے معافی مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے کیونکہ انسان خطا کا پتلا ہے اور اللہ تعالیٰ خطا کار کے معافی مانگنے پر صرف اسے معاف ہی نہیں فرماتا بلکہ اس سے خوش بھی ہوتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ گناہ کے بعد اس کی معافی نہ مانگنا بھی اس پر اصرار کے مترادف ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جس شخص نے اپنے گناہ کی معافی مانگ لی۔ اس نے ضد نہیں کی اور دوسری حدیث میں ہے۔ جس نے توبہ کی گویا اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا۔ (ابن ماجہ، ابو اب الزہد، ذکر التوبة) آل عمران
136 آل عمران
137 [١٢٣] تذکیر بایام اللہ :َ یہ مضمون قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر آیا ہے اور ایسی آیات میں لوگوں کو عام دعوت دی گئی ہے کہ ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جن لوگوں نے انبیاء کو اور اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا تھا۔ ان کا کیا انجام ہوا تھا اور اس انجام کی تفصیل بھی قرآن میں متعدد مقامات پر دی گئی ہے۔ مثلاً قوم عاد کا کیا حشر ہوا۔ قوم ثمود کا کیا، اور قوم نوح، اصحاب مدین، اصحاب الحجر، قوم سبا وغیرہ وغیرہ کا کیا حشر ہوا۔ اسی طرح بعض اشخاص کا بھی ذکر آتا ہے۔ مثلاً فرعون اور آل فرعون، کا کیا حشر ہوا۔ اس مضمون کو شرعی اصطلاح میں ''تذکیر بایام اللہ '' کہتے ہیں۔ یعنی ’’جن لوگوں یا قوموں پر انبیاء اور آیات الٰہی کو جھٹلانے کی وجہ سے عذاب آیا تھا۔ اس سے عبرت حاصل کرنا۔‘‘ ایسے سب واقعات سے اللہ تعالیٰ کی جو عادت جاریہ معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جب کوئی قوم اللہ کی نافرمانی میں انتہاء کو پہنچ جاتی ہے اور گناہوں میں ڈوب جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایسا عذاب نازل کرتا ہے جو اسے تباہ و برباد کردیتا ہے اور اس کا نام صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے اور یہ اللہ کی ایسی سنت ہے جو پوری ہوکے رہتی ہے۔ یقین نہ آئے تو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو۔ لہٰذا تمہیں بھی اس معاملہ میں محتاط رہنا چاہئے۔ آل عمران
138 [١٢٤] مختلف تہذیبوں اور قوموں کا عروج زوال کیسے ہوتاہے ؟ یعنی ایسے واقعات عام لوگوں کے لیے محض ایک تاریخی بیان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جن لوگوں کے دلوں میں اللہ کا ڈر نہیں ہوتا وہ یہی کہنے پر اکتفا کرلیتے ہیں کہ مختلف تہذیبیں بنتی اور مٹتی آئی ہیں۔ ایک یونانی تہذیب تھی، ایک رومی تہذیب تھی، ایک ہندی تہذیب تھی، ایک مصری تہذیب تھی، ایک بابلی تھی اور ہر تہذیب کی عمر طبعی تقریباً ایک ہزار سال ہوتی ہے۔ جب عمر پوری ہوجاتی ہے تو وہ تہذیب مٹ جاتی ہے تو اس کی جگہ کوئی نئی تہذیب لے لیتی ہے جس کا دنیا بھر میں بول بالا ہوجاتا ہے۔ اس تاریخی بیان میں ایک بڑا مغالطہ یہ ہے کہ ہر تہذیب کی عمر ہزار سال یا تقریباً ہزار سال نہیں ہوتی۔ بلکہ اس سے بہت کم بھی ہوسکتی ہے اور اس سے بہت زیادہ بھی۔ پھر وہ یہ سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کرتے کہ یہ تہذیبیں بن کیسے جاتی ہیں اور بگڑتی کیونکر ہیں؟ قرآن نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ کوئی قوم اس دنیا میں ایسی نہیں جہاں اللہ کا پیغمبر مبعوث نہ ہوا ہو۔ (٣٥: ٢٤) پھر جب تک کوئی قوم اپنے پیغمبر کی تعلیمات پر عمل پیرا رہتی ہے تو یہ اس کے عروج کا زمانہ ہوتا ہے اور جب یہی قوم عیش و عشرت اور فحاشی و بے حیائی اور معصیت کے کاموں میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ جس کا نام ان کی زبان میں تہذیب ہوتا ہے تو اس پر بتدریج زوال آنا شروع ہوجاتا ہے یا وہ گناہوں میں بہت زیادہ ڈوب جائے تو ناگہانی قسم کا عذاب انہیں تباہ و برباد کردیتا ہے اور اللہ سے ڈرنے والے لوگ جب بھی کسی قوم کے عروج و زوال پر نظر ڈالتے ہیں تو اسی نظریہ کے مطابق ڈالتے ہیں اور ایسے واقعات سے عبرت بھی حاصل کرتے ہیں اور ہدایت بھی۔ اس مقام پر یہ مضمون اس مناسبت سے آیا ہے کہ جو مشرکین مکہ اور یہود اور ان کے حلیف اور منافقین جو بھی اللہ کی آیات کو جھٹلا رہے ہیں اور مسلمانوں سے محاذ آرائی کر رکھی ہے ان سب کا یہی انجام ہونے والا ہے۔ آل عمران
139 [١٢٥] ان ہدایات و ارشادات کے بعد اب پھر غزوہ احد کا بیان ہو رہا ہے اور یہ آیت غالباً اس وقت نازل ہوئی جب غزوہ احد میں مسلمان ایک دفعہ شکست کھا کر مایوسی و بد دلی کا شکار ہو رہے تھے۔ اگرچہ اس کا روئے سخن بظاہر مجاہدین احد کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے ایک کلیہ بیان فرما دیا کہ اگر تم فی الواقعہ مومن ہو اور سست اور غمزدہ ہونے کے بجائے اللہ پر توکل اور صبر کرو گے تو اللہ تعالیٰ یقیناً تمہیں غلبہ عطا کرے گا اور اگر تم مغلوب و مقہور ہو تو وہ وجوہ تلاش کرو جن کی وجہ سے یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ آل عمران
140 [١٢٦] جنگ بدر میں کافروں کو اس سے زیادہ صدمہ پہنچا تھا۔ اس وقت کافروں کے ستر سردار قتل ہوئے تو ستر گرفتار بھی ہوئے۔ جب کہ غزوہ احد میں ستر مسلمان شہید ہوگئے اور اللہ کے فضل و کرم سے مسلمانوں کا ایک آدمی بھی گرفتار نہ ہوا۔ کیونکہ با لآخر میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا اور قریش مکہ کو پسپا ہونا پڑا تھا۔ غزوہ احد میں وقتی شکست کی حکمتیں :۔ اس آیت میں شکستہ دل مسلمانوں کو ڈھارس بندھائی جارہی ہے۔ پھر اس شکست کی بعض حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ خوشی اور غمی، فتح و شکست، کامرانی و ناکامی، خوشحالی و تنگدستی ایسی چیزیں ہیں جو لوگوں میں ہر کسی کو پیش آتی رہتی ہیں۔ اس لیے اگر مسلمانوں کو وقتی طور پر شکست ہو بھی گئی تو غمزدہ اور بددل ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ انہیں کافروں کی طرف دیکھنا چاہئے جو میدان بدر میں بری طرح مار کھانے کے باوجود پھر سے نئے عزم کے ساتھ باطل کی حمایت میں لڑنے آگئے ہیں۔ دوسری حکمت اس غزوہ میں یہ ہے کہ سچے مومنوں اور منافقوں میں امتیاز ہوجائے، جسے تم لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔ ﴿وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَا﴾ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا درجہ نصیب ہو۔ [١٢٧] ظالم لوگوں سے مراد وہی منافقوں کی جماعت ہے جو عبداللہ بن ابی کے ساتھ واپس چلی گئی تھی اور جس موقعہ پر مسلمانوں کو شکست ہوئی تو یہ لوگ مسلمانوں میں بددلی پھیلانے میں پیش پیش تھے۔ آل عمران
141 [١٢٨] تیسری حکمت یہ ہے کہ حقیقی مسلمان ممتاز ہو کر سب کے سامنے آجائیں اور کافر اس عارضی فتح سے دلیر ہو کر پھر سے مسلمانوں پر حملہ کرنے آجائیں تو ان کے ان کرتوتوں کا انہیں بدلہ مل سکے۔ چنانچہ بعد میں غزوہ خندق میں کفار شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس کے بعد ان میں یہ سکت ہی نہ رہی کہ جارحانہ طور پر مسلمانوں پر حملہ آور ہوسکیں۔ آل عمران
142 [١٢٩] جہاد کے ذریعے امتحان :۔ یعنی جنت کے جن اعلیٰ درجات اور مقامات پر اللہ تعالیٰ تمہیں پہنچانا چاہتا ہے کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے آرام سے وہاں جاپہنچو گے اور اللہ تمہارا امتحان لے کر یہ نہ دیکھے گا کہ جہاد میں حصہ لینے والے اور اس میں ثابت قدم رہنے والے کون کون ہیں۔ جنت کے بلند درجات پر تو وہی لوگ فائز ہوں گے جو اللہ کی راہ میں ہر طرح کی سختیاں جھیلنے اور قربانیاں پیش کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہاں بھی اللہ کے دیکھنے یا جاننے سے وہی مراد ہے جو سابقہ آیت میں مذکور ہوئی یعنی ﴿وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَاۗءَ﴾ کہ مسلمانوں کی پوری جماعت یہ صورت حال بچشم خود ملاحظہ کرے۔ خباب بن ارت اور مشرکین مکہ کی سزائیں:۔ مکی دور میں مسلمانوں پر قریش مکہ کی طرف سے بے پناہ مظالم اور مصائب ڈھائے جارہے تھے۔ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ ان مصائب سے کچھ گھبرا سے گئے اور چاہا کہ جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت فرمائیں کہ جس وقت کی آپ بشارت سناتے ہیں وہ کب آئے گا ؟ چنانچہ وہ خود راوی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ کعبہ کے سایہ میں ایک چادر پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ اس زمانہ میں ہم مشرک لوگوں سے سخت تکلیفیں اٹھا رہے تھے۔ میں نے آپ سے عرض کیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ان مشرکوں کے لیے بددعا کیوں نہیں کرتے؟ یہ سنتے ہی آپ (تکیہ چھوڑ کر) سیدھے بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ (غصے سے) سرخ ہوگیا اور فرمایا : ’’تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن کے گوشت اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تھیں۔ مگر وہ اپنے سچے دین سے پھرتے نہیں تھے اور آرا ان کے سر کے درمیان رکھ کر چلا دیا جاتا اور ان کے دو ٹکڑے کردیے جاتے مگر وہ سچے دین سے نہیں پھرتے تھے اور اللہ ایک دن اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔‘‘ (بخاری، باب بنیان الکعبة باب مالقی النبی و أصحابہ من المشرکین بمکۃ) اور ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ ’’مگر تم لوگ تو جلدی مچاتے ہو۔‘‘ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کو صبر و استقلال اور ثابت قدمی کا وہی سبق سکھلایا جو اس آیت میں مسلمانوں کو سکھلایا جارہا ہے۔ آل عمران
143 [١٣٠] موت اور دشمن سے مڈبھیڑ کی آرزو نہ کرو:۔ اس آیت میں غزوہ احد کا ایک دوسرا منظر پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ مسلمان ابتداًء شکست سے دوچار ہوئے تھے جو صحابہ رضی اللہ عنہم غزوہ بدر میں شرکت سے محروم رہ گئے تھے وہ شہدائے بدر کے فضائل سن سن کر تمنا کیا کرتے تھے کہ اگر پھر اللہ نے ایسا موقع فراہم کیا تو ہم اللہ کی راہ میں جان دے کر شہادت کے مراتب حاصل کریں گے۔ مشورہ کے وقت ایسے ہی صحابہ رضی اللہ عنہم نے زور دیا تھا کہ جنگ مدینہ سے باہر کھلے میدان میں لڑنا چاہئے، لیکن جب شکست ہوئی تو ایسے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے بھی کچھ لوگ بھاگ نکلے۔ اس آیت میں انہیں لوگوں سے خطاب ہے کہ جو چیز تم چاہتے تھے وہی تمہیں پیش آئی ہے۔ اب پیچھے ہٹنے کا کیا مطلب ہے؟ اسی سلسلہ میں ایک حدیث ہے کہ آپ نے فرمایا دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا مت کرو۔ اور جب ایسا موقع آجائے تو پھر ثابت قدمی دکھاؤ۔ (بخاری، کتاب التمنی، باب کراھیہ تمنی لقاء العدو نیز کتاب الجہاد، باب لاتمنوا لقاء العدو) آل عمران
144 [١٣١]میدان احد کےمعرکہ کےحالات:۔ جب حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھی درہ چھوڑ کر لوٹ مار میں لگ گئے تو خالد بن ولید (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار کے ایک دستہ کی کمان کر رہے تھے) پہاڑی کا چکر کاٹ کر اسی درہ سے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ سو سوار ان کے ہمراہ تھے۔ ادھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف بارہ آدمی رہ گئے تھے۔ دس بارہ تیر انداز بھلا سو سواروں کی یلغار کو کیسے روک سکتے تھے۔ انہوں نے مقابلہ تو بڑی بے جگری سے کیا مگر سب شہید ہوگئے۔ مسلمان مجاہدین اپنے عقب یعنی درہ کی طرف سے مطمئن تھے کہ اچانک مشرکین کا یہ رسالہ ان کے سروں پر جا پہنچا اور سامنے سے مشرکوں کی جو فوج بھاگ کھڑی ہوئی تھی وہ بھی پیچھے پلٹ آئی اور مسلمان دونوں طرف سے گھر گئے۔ بہت زور کا رن پڑا اور بہت سے مسلمان شہید اور زخمی ہوئے۔ عارضی شکست کا سبب اور رسول اللہ کی وفات کی افواہ پر مسلمانوں کی بے قراری:۔ اسی دوران ابن قیہ نے ایک بھاری پتھر آپ پر پھینکا جس سے آپ کا سامنے کا دانت بھی ٹوٹ گیا اور چہرہ مبارک بھی زخمی ہوا۔ اس ضرب کی شدت سے آپ بے ہوش ہو کر گر پڑے اور ابن قمیئہ یا کسی اور نے دور سے پکارا ’ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قتل کردیئے گئے‘ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے اوسان خطا ہوگئے اور پاؤں اکھڑ گئے بعض مسلمان جنگ چھوڑ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے۔ اب لڑنے کا کیا فائدہ ہے اور بعض کمزور دل مسلمانوں کو یہ خیال آیا کہ جاکر مشرکوں کے سردار ابو سفیان سے امان حاصل کرلیں اور اس بدحواسی کے عالم میں بعض یہ بھی سوچنے لگے کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قتل ہوگئے تو ہمیں اپنے پہلے دین میں واپس چلے جانا چاہئے۔ یہی وہ وقت تھا جب منافقوں نے یوں زبان درازی شروع کردی کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر اللہ کے رسول ہوتے تو مارے نہ جاتے۔ اس وقت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قتل ہوگئے تو رب محمد قتل نہیں ہوئے۔ آپ کے بعد تمہارا زندہ رہنا کس کام کا ؟ جس بات پر آپ نے جان دی ہے اسی پر تم بھی اپنی جان دے دو اور کٹ مرو۔ یہ کہہ کر آپ کافروں میں گھس گئے اور بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے آخر شہید ہوگئے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہوش آگیا تو آپ نے آواز دی 'الی عباد اللہ انا رسول اللہ ' (اللہ کے بندو! ادھر آؤ میں اللہ کا رسول ہوں) اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ آپ کو پہچان کر چلائے۔ مسلمانو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہاں موجود ہیں۔ چنانچہ مسلمان آپ کے گرد جمع ہونا شروع ہوگئے۔ تیس کے قریب صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ کے قریب ہو کر دفاع کیا اور مشرکوں کی فوج کو منتشر کردیا۔ اس موقع پر سعد بن ابی وقاص اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہما نے نہایت جانبازی اور جانثاری کا نمونہ پیش کیا۔ اس موقع سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخر اللہ تو نہیں جو حی و قیوم ہوں، ایک رسول ہی ہیں۔ ان سے پہلے سب رسول دنیا سے رخصت ہوچکے پھر آگر آپ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اسلام چھوڑ دو گے؟۔ دین کی حفاظت اور جہاد فی سبیل اللہ ترک کردو گے؟ تمہیں ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہئے اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اللہ کاتو کچھ بھی بگاڑ نہیں سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر سیدنا ابوبکر کاخطبہ :َ واضح رہے کہ اس آیت کے نزول کے ساڑھے سات سال بعد جب فی الواقعہ آپ کی وفات ہوگئی تو اس وقت مسلمانوں کو اتنا صدمہ ہوا کہ ان کے اوسان خطا ہوگئے۔ دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کا کیا ذکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے فقیہ اور مدبر صحابی کھڑے ہو کر تقریر کر رہے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوگئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بیٹھ جانے کو کہا۔ لیکن جوش خطابت میں انہوں نے اس بات پر کان ہی نہ دھرا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ الگ کھڑے ہو کر تقریر کرنے لگے تو لوگ ادھر متوجہ ہوگئے۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا : تم میں سے جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پوجتا تھا تو وہ سمجھ لے کہ بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے اور جو شخص اللہ کو پوجتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ .....الشّٰکِرِیْنَ﴾ تک۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا گویا لوگوں کو پتا نہیں تھا کہ اللہ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی ہے۔ جب تک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ آیت نہ پڑھی پھر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے یہ آیت سیکھی۔ پھر جسے دیکھو وہ یہی آیت پڑھ رہا تھا اور خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ اللہ کی قسم! مجھے یوں معلوم ہوا کہ میں نے یہ آیت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تلاوت کرنے سے پہلے سنی ہی نہ تھی اور جب سنی تو سہم گیا۔ دہشت کے مارے میرے پاؤں نہیں اٹھ رہے تھے میں زمین پر گرگیا اور جب میں نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ آیت پڑھتے سنا تب معلوم ہوا کہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوگئی۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی) پھر اس بات پر بھی غور فرمائیے کہ یہ آیت غزوہ احد کے موقعہ پر نازل ہوئی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اور اسی طرح دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے سینکڑوں بار پڑھا بھی ہوگا۔ لیکن اس آیت کی صحیح سمجھ انہیں اس وقت آئی جب فی الواقع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوگئی۔ اس سے پہلے نہیں آئی اور یہی مفہوم ہے اللہ تعالیٰ کے قول ﴿وَلَمَّا یَاْتِہِمْ تَاْوِیْلُہٗ﴾ کا۔ نیز اس سے لفظ تاویل کا صحیح مفہوم بھی سمجھا سکتا ہے۔ سیدنا ابوبکر کا مرتدین سے جہاد:۔ پھر جس وقت میدان احد میں بعض کمزور ایمان والوں نے سوچا کہ اسلام کو چھوڑ کر پہلے دین میں چلے جائیں، اسی طرح آپ کی وفات پر واقعی کئی عرب قبائل مرتد ہوگئے وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ دین اسلام کی ساری سربلندیاں آپ کی ذات سے وابستہ ہیں۔ پھر جب آپ نہ رہے تو اسلام از خود مٹ جائے گا۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایسے مرتدین سے جہاد کیا اور انہیں شکست فاش دی۔ ان میں سے کچھ مارے گئے اور باقی پھر سے دین اسلام پر قائم ہوگئے۔ گویا ان لوگوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔ اسلام اللہ کے فضل سے سربلند رہا۔ آل عمران
145 [١٣٢]موت کا میدان جنگ سے تعلق حتمی نہیں اور یہی مومن کی دلیری کی وجہ سے ہے:۔ اس آیت میں مسلمانوں کو ایک نہایت جرات مندانہ سبق سکھلایا گیا ہے۔ جس سے میدان جنگ میں بہادری اور شجاعت کے جوہر دکھانے میں کئی گناہ اضافہ ہوجاتا ہے جو یہ ہے کہ موت کا تعلق میدان جنگ سے قطعاً نہیں بلکہ وہ گھر پر بھی آسکتی ہے۔ اس کا تو ایک وقت مقرر ہے اب دیکھئے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین نے بے شمار غزوات میں شرکت فرمائی لیکن چونکہ ابھی موت کا وقت نہیں آیا تھا۔ اس لیے صحیح سلامت واپس آتے رہے اور جب موت کا وقت آجاتا ہے تو گھر پر بھی انسان اس سے بچ نہیں سکتا۔ اسی طرح سپہ سالار ہونے کی حیثیت سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا جو مقام ہے اسے سب جانتے ہیں۔ آپ کی ساری زندگی جنگوں میں گزری۔ جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جہاں تلوار یا نیزہ کا نشان موجود نہ ہو۔ لیکن موت میدان جنگ میں نہیں بلکہ گھر پر بستر مرگ پر ہی آئی۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ موت کا جنگ اور میدان جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا اپنا ایک مقررہ وقت ہے اور جب وہ آجاتا ہے تو کوئی انسانی تدبیر مرنے والے کو موت کے منہ سے بچا نہیں سکتی۔ [١٣٣] ایک متواتر حدیث ہے۔ (اِنَّمَا الاَعْمَال بالنِّیَاتِ) یعنی کوئی عمل کرتے وقت انسان کی جیسی نیت ہوگی ویسا ہی اسے بدلہ ملے گا۔ ایک ہی کام ہوتا ہے جو نیت کی تبدیلی سے کچھ کا کچھ بن جاتا ہے۔ مثلاً دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک صحابی نے مسجد نبوی کی طرف اپنے مکان کی کھڑکی رکھی۔ آپ نے پوچھا : یہ کھڑکی کیوں رکھی ہے؟ اس نے جواب دیا۔ ’’اس لیے کہ ہوا آتی جاتی رہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اگر تم یہ نیت رکھتے کہ ادھر سے آذان کی آواز آئے گی تو تمہیں ثواب بھی ملتا رہتا اور ہوا تو بہرحال آنا ہی تھی۔‘‘ اگر غور کیا جائے تو انسان کے بہت کاموں کا یہی حال ہے۔ مثال کے طور پر ہر انسان خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم اپنے بال بچوں کی پرورش اور ان پر خرچ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ اب اگر یہی کام ایک مسلمان اللہ کا حکم سمجھ کر کرے تو اسے اخروی زندگی میں صدقہ کا ثواب بھی مل جائے گا۔ یعنی جو لوگ صرف دنیوی مفاد چاہتے ہیں اللہ انہیں وہی دیتا ہے اور جو اخروی مفاد چاہتے ہیں اللہ انہیں اخروی تو ضرور دیتا ہے۔ علاوہ ازیں دنیاوی مفاد بھی جتنا اس کے مقدر ہے اسے عطا کرتا ہے۔ آل عمران
146 [١٣٤] اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے سابقہ انبیاء اور مجاہدین کی مثال دے کر اہل احد کو ہدایت فرمائی ہے کہ اگر تمہیں وقتی طور پر شکست کا حادثہ پیش آبھی گیا تھا تو اس وقت بے صبری یا بےدلی کا مظاہرہ کرنا ایمان والوں کا شیوہ نہیں۔ تم سے پہلے لوگوں پر اس سے زیادہ سختیاں آئیں۔ لیکن انہوں نے بے صبری اور بےدلی کا قطعاً مظاہرہ نہیں کیا نہ ہی باطل کے آگے سرنگوں ہوئے۔ یہ خطاب دراصل کمزور ایمان والوں سے ہے جن میں کچھ تو ابو سفیان کی پناہ میں آنے کی بات سوچ رہے تھے اور کچھ ارتداد کی۔ آل عمران
147 [١٣٥] یعنی اہل ایمان کا بھروسہ محض سامان جنگ اور قوت کار یا اپنی کارکردگی پر ہی نہیں ہوتا بلکہ ساتھ ساتھ وہ میدان جنگ میں بھی اللہ کو یاد رکھتے، اس سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگتے اور اپنی ثابت قدمی اور دشمن پر غالب آنے کی دعا بھی مانگتے ہیں۔ میدان بدر میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساری رات اللہ کے حضور دشمن پر فتح و نصرت کی دعا میں گزاری تھی۔ ایسی ہی دعا طالوت کے لشکر نے بھی کی تھی جس کا ذکر سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢٥٠ میں آیا ہے۔ آل عمران
148 آل عمران
149 [١٣٦] غزوہ احد میں چونکہ مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ہوگیا اور بہت سے صحابہ زخمی بھی ہوگئے تھے تو مسلمانوں کے اس نقصان سے مشرکین یہود اور منافق سب بہت خوش تھے اور مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے تھے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سچے نبی ہوتے تو مسلمانوں کو کبھی شکست نہ ہوتی اور نہ ہی وہ خود زخمی ہوتے۔ نیز آئندہ بھی اگر جنگ ہوئی تو تمہارا یہی حشر ہوا تو اس سے یہ بہتر نہیں کہ اب بھی اپنا نفع و نقصان سوچ لو۔ کچھ مسلمانوں کو طعنے بھی دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ اگر تم ان کی باتوں میں آگئے تو پھر یہ لوگ تمہیں اسی جاہلی دور کی طرف لوٹا دیں گے جس سے اللہ نے اپنے فضل سے تمہیں اسلام کے ذریعہ نکالا ہے۔ نیز یہ کہ یہ لوگ کسی حال میں بھی تمہاری مدد نہیں کریں گے۔ اللہ پر بھروسہ رکھو اور ثابت قدم رہو وہی تمہارا سب سے اچھا مددگار ہے۔ آل عمران
150 آل عمران
151 [١٣٧] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے بعد جب مشرکین نے گھیرا ڈالا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نہایت جانبازی سے مشرکین کو منتشر کردیا تو آپ نے ہمت کرکے نہایت دانشمندی اور حربی مہارت سے نقشہ جنگ میں تبدیلی کی اور ثابت قدمی کے ساتھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے۔ آپ کے اس اقدام سے فوراً جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ ابو سفیان نے آپ کو دیکھا تو فوج لے کر پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کی۔ اوپر سے صحابہ نے پتھر برسائے، لہٰذا وہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اس طرح شکست خوردہ مسلمان پھر سے برابری کی سطح پر آگئے اور ابو سفیان کو ناکام واپس جانا پڑا۔ معہد خزاعی کا کردار:۔ چونکہ یہ جنگ فیصلہ کن نہ تھی اور اسی حال میں ابو سفیان واپس چلا گیا۔ لہٰذا آپ کو خیال آیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ابو سفیان واپس مڑ کر مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کردے۔ لہٰذا آپ نے صحابہ کو تعاقب کا حکم دیا۔ چنانچہ زخم خوردہ اور غمزدہ مسلمانوں میں سے ستر آدمیوں کی ایک جماعت تعاقب کے لیے تیار ہوگئی اور وہ مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور مدینہ سے آٹھ میل دور حمراء الاسد تک پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گمان بالکل درست نکلا۔ ابو سفیان جب مقام روحاء پر پہنچا تو اسے خیال آیا کہ کام تو ناتمام ہی رہ گیا۔ لہٰذا واپس مدینہ چل کر دوبارہ حملہ کرنا چاہئے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے شامل حال ہوئی۔ قبیلہ خزاعہ کا رئیس معبد (یہ قبیلہ ابھی تک مسلمان نہیں ہوا تھا۔ تاہم وہ مسلمانوں کا حلیف اور خیر خواہ ضرور تھا) مسلمانوں کی شکست کی خبر سن کر دلجوئی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جب اسے صورت حال معلوم ہوئی تو آپ سے مشورہ کے بعد وہ ابو سفیان کے پاس گیا۔ ابو سفیان نے اسے اپنا خیر خواہ سمجھ کر جب اپنا واپس جاکر حملہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو معبد کہنے لگا میں ادھر سے ہی آرہا ہوں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک لشکر جرار لے کر آپ لوگوں کے تعاقب میں آرہے ہیں اور اس لشکر میں وہ نوجوان بھی شامل ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے اس معرکہ میں شریک نہ ہوسکے تھے۔ ابو سفیان نے جب یہ قصہ سنا تو اس پر ایسا رعب طاری ہوا کہ اپنا ارادہ بدل دیا اور مکہ کی راہ لی۔ [١٣٨]مومن دلیر کیوں ہوتاہے؟ مشرکوں کے مرعوب ہوجانے کی وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتلائی ہے کہ وہ ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو مخلوق ہیں اور اپنے بھی نفع و نقصان پر قادر نہیں تو دوسروں کی کیا مدد کرسکتے ہیں ﴿ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ﴾ والا معاملہ ہوتا ہے۔ جبکہ مومن صرف ایک اللہ کا پرستار ہوتا ہے جو مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے اور اپنے بندوں کی ضرور مدد فرماتا ہے۔ بشرطیکہ مومن اس کی اطاعت کریں اور اسی پر توکل کریں۔ اللہ پر توکل اور تقدیر الٰہی کا عقیدہ اسے اللہ کے علاوہ باقی سب چیزوں سے بے خوف اور نڈر بنا دیتا ہے۔ آل عمران
152 [١٣٩] شکست کی وجہ :۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن آپ نے پچاس پیدل آدمیوں کا افسر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور تاکید کی کہ تم اپنی جگہ سے نہ سرکنا۔ خواہ تم یہ دیکھو کہ پرندے ہم کو اچک لے جائیں جب تک میں تمہیں کہلا نہ بھیجوں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے دشمن کو شکست دی ہے اور اسے کچل ڈالا ہے تب بھی تم یہاں سے نہ ہلنا جب تک میں کہلا نہ بھیجوں۔ ابتداء میں مسلمانوں نے کافروں کو مار بھگایا۔ میں نے خود مشرک عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے کپڑے اٹھائے اور پنڈلیاں کھولے بھاگی جارہی تھیں۔ یہ صورت حال دیکھ کر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے کہا: ’’اب غنیمت کا مال اڑاؤ، تمہارے ساتھی تو غالب آچکے۔ اب کیا دیکھ رہے ہو۔‘‘ عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ’’کیا تم وہ بات بھول گئے جو تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہی تھی؟‘‘ وہ کہنے لگے واللہ ! ہم تو لوگوں کے پاس جاکر غنیمت کا مال اڑائیں گے، جب وہ (درہ چھوڑ کر) لوگوں کے پاس آگئے تو (پیچھے سے خالد بن ولید نے حملہ کردیا) اور کافروں نے مسلمانوں کے منہ پھیر دیئے اور شکست کھا کر بھاگنے لگے اور اللہ کا رسول انہیں پیچھے سے بلا رہا تھا۔ اس وقت آپ کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ رہا تھا اور کافروں نے ہمارے ستر آدمی شہید کئے جبکہ بدر کے دن مسلمانوں نے ایک سو چالیس کافروں کا نقصان کیا تھا۔ ستر کو قید کیا تھا اور ستر کو قتل کیا تھا۔ خاتمہ جنگ کےبعد ابوسفیان کا نعرہ اور سوال وجواب:۔ اس وقت ابو سفیان نے تین بار یہ آواز دی کیا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں میں (زندہ) موجود ہیں؟ مگر آپ نے صحابہ کو جواب دینے سے منع کردیا۔ پھر اس نے تین بار آواز دی:کہا ابو قحافہ کے بیٹے موجود ہیں؟ پھر تین بار پکارا: کیا خطاب کے بیٹے موجود ہیں؟ پھر اپنے ساتھیوں سے متوجہ ہو کر کہنے لگا : یہ تو سب قتل ہوچکے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر رہ نہ سکے اور اسے کہا : اللہ کے دشمن! جھوٹ کہتے ہو۔ جن کے تم نے نام لیے ہیں سب کے سب زندہ ہیں اور ابھی تیرا برا دن آنے والا ہے۔ اس وقت ابو سفیان کہنے لگا : اچھا آج بدر کے دن کا بدلہ ہوگیا اور لڑائی تو ڈولوں کی طرح ہوتی ہے (کبھی ادھر کبھی ادھر) تم اپنے مقتولین میں مثلہ کیا ہوا دیکھو گے جس کا میں نے حکم نہیں دیا تھا۔ تاہم اسے برا بھی نہیں سمجھتا۔ پھر اس نے دو مرتبہ ’ہبل کی جے‘ کا نعرہ لگایا تو آپ نے صحابہ سے کہا اسے جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ نے پوچھا ’یارسول اللہ! کیا جواب دیں؟‘ فرمایا : کہو ’’اللہ ہی سب سے برتر اور بزرگ ہے۔‘‘ پھر ابوسفیان نے پکارا : ہمارا تو عزیٰ بھی ہے جو تمہارا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ’’اسے جواب کیوں نہیں دیتے۔‘‘ صحابہ نے پوچھا کیا جواب دیں؟ آپ نے فرمایا : یوں کہو : ’’ہمارا تو کارساز اللہ ہے۔ لیکن تمہارا کوئی کارساز نہیں۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد، باب دواء الجرح باحراق الحصیر و غسل المراۃ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کا علاج ۲ ۔ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ کو غزوہ احد میں جو زخم لگا اس کا یہ علاج کیا گیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لارہے تھے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے منہ سے خون دھو رہی تھیں اور ایک چٹائی جلا کر اس کی راکھ آپ کے زخم میں بھر دی گئی۔ (بخاری، کتاب الجہاد، باب ایضاً) [١٤٠]بلآخر میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا:۔ اس جنگ میں ابتداًء مسلمانوں کو کامل فتح نصیب ہوئی اور اللہ نے اپنا وعدہ نصرت پورا فرمایا۔ پھر عبداللہ بن جبیررضی اللہ عنہ کے ہمراہیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صریح نافرمانی کی۔ جس کی پاداش میں مسلمانوں کو شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا یہ قصور معاف کردیا جس کے نتیجہ میں یہ جنگ برابری کی سطح پر منتج ہوئی۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار کے تعاقب میں جو دستہ بھیجا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بالآخر میدان مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا اور یہ صرف اس وجہ سے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کی نافرمانی کے جرم کو معاف کردیا تھا اور اگر قصور معاف نہ کیا جاتا تو عین ممکن تھا کہ مشرکین مکہ میدان احد کو سر کرنے کے بعد مدینہ کا رخ کرتے اور مسلمانوں کے بیوی بچوں کو قتل کردیتے یا قید کرلیتے یا لونڈی غلام بنالیتے۔ یہ اللہ کا فضل اور اس کی معافی ہی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسی ذلت سے بچا لیا ورنہ جو ذلت میدان بدر میں مشرکین مکہ کی ہوئی تھی یہ ذلت اس سے کہیں بڑھ کر ہوتی۔ آل عمران
153 [١٤١]احد کے دن مسلمانوں کوکیاکیاغم پہنچے؟ غما بغم کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا معنی رنج کے بدلے رنج کیا جائے یعنی مسلمانوں نے رسول کی نافرمانی کرکے اسے رنج پہنچایا تو اس کے بدلے اللہ نے مسلمانوں کو شکست دے کر انہیں رنج پہنچایا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں کئی قسم کے رنج پہنچائے۔ ایک منافقوں کے واپس لوٹ جانے کا، دوسرا شکست کا، تیسرا اپنے شہیدوں کا، چوتھا اپنے مجروحین کا، پانچواں رسول کی شہادت کی خبر کا اور چھٹا اس جنگ کے انجام کا، اور تیسرا معنی یہ کہ اللہ نے جو تمہیں رسول کی شہادت کی افواہ کا غم پہنچایا وہ پہلے تمام قسم کے غموں سے بھاری تھا۔ [١٤٢] خوشی وغمی میں اعتدال کی روش:۔ اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنی ذات پر بھروسہ کرنے کا ایسا ضابطہ بتلایا ہے جو ایک مسلمان کو کسی بھی مشکل کے وقت کم ہمت بننے سے بچاتا ہے۔ جو یہ ہے کہ جو بھی تکلیف یا مصیبت تمہیں پہنچتی ہے وہ پہلے ہی اللہ کے علم میں ہوتی ہے اور صرف وہی تکلیف اور رنج تمہیں پہنچ سکتا ہے جو پہلے سے تمہارے مقدر ہوچکا ہے۔ لہٰذا اس پر افسوس کرنے کے بجائے اللہ پر بھروسہ رکھو اور اسی کی طرف لو لگاؤ وہی تمہاری مشکلات کو حل کرے گا۔ اسی مضمون کو ذرا تفصیل سے سورۃ حدید کی آیت نمبر ٢٣ میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’تاکہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اس پر افسوس نہ کرو اور جب اللہ تمہیں کوئی بھلائی عطا کرے تو اس پر پھولے نہ سمایا کرو۔‘‘ (٥٧: ٢٣) یعنی ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ نہ تو مصیبت کے وقت ڈگمگاتا اور آس توڑ بیٹھتا ہے اور نہ خوشی کے وقت بھی وہ حد سے زیادہ خوش ہو کر اترانے لگتا ہے بلکہ وہ ہر حال میں اللہ کا شکر کرنے والا اور معتدل مزاج رکھنے والا ہوتا ہے۔ آل عمران
154 [١٤٣] اتنے شدید قسم کے غموں کے بعد اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر اونگھ طاری کرنا ایک نعمت غیر مترقبہ اور غیر معمولی امداد تھی۔ اونگھ سے جسمانی اور روحانی دونوں طرح کا سکون حاصل ہوجاتا ہے۔ بدن کی تھکاوٹ دور ہوتی ہے اور غم یکدم بھول جاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن عین جنگ کے دوران مجھے اونگھ نے آدبایا، تلوار میرے ہاتھ سے گرنے کو ہوتی، میں اسے تھام لیتا، پھر گرنے کو ہوتی، پھر تھام لیتا۔ (بخاری کتاب التفسیر) [١٤٤]کمزور ایمان والو اورمنافقوں کاحال:۔ جو مسلمان غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے۔ سب ایک جیسے پختہ ایمان والے اولوالعزم اور بہادر نہ تھے بلکہ کچھ کمزور دل بھی تھے اور انصار میں سے کچھ منافقین بھی تھے۔ جو انصار کے رشتہ دار ہونے کی وجہ سے جنگ میں شریک تھے۔ اور یہ عبداللہ بن ابی کے ساتھیوں کے علاوہ تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہیں نہ اسلام کی فکر تھی نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی، انہیں بس اپنی ہی جانوں کی فکر تھی، وہ یہ سوچ رہے تھے کہ اگر ابو سفیان نے دوبارہ حملہ کردیا تو پھر ہمارا کیا حشر ہوگا۔ کبھی وہ یہ سوچتے تھے اللہ اور اس کے رسول نے فتح و نصرت کے جو دعوے کئے تھے وہ کہاں گئے؟ ان لوگوں کے متعلق ترمذی میں جو روایت آئی ہے وہ یوں ہے : ’’یہ دوسرا گروہ منافقین کا تھا، جنہیں اپنی باتوں کے علاوہ اور کسی بات کی فکر نہ تھی وہ قوم میں سب سے زیادہ بزدل سب سے زیادہ مرعوب اور سب سے زیادہ حق کی حمایت سے گریز کرنے والے تھے۔‘‘ (ترمذی، ابو اب التفسیر) [١٤٥] یعنی جنگی تدابیر اور ان کے متعلق مشورہ میں ہماری بات کو بھی درخور اعتنا سمجھا جاسکتا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ اس گروہ کے لوگوں کا بھی یہی خیال اور رائے تھی کہ جنگ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے اور ان کی یہ رائے کسی صوابدید پر نہیں بلکہ محض بزدلی کی بنا پر تھی۔ اب شکست کے بعد انہیں یہ کہنے کا موقع میسر آگیا کہ اگر ہماری رائے پر عمل کیا جاتا تو یہ برا دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ نہ ہی ہمارے بھائی بند یہاں مارے جاتے۔ [١٤٦] کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر یہ ہے کہ جس مقام پر کسی کی موت واقع ہونا مقدر ہوتی ہے۔ وہ کسی نہ کسی بہانے اپنے مقررہ وقت پروہاں پہنچ کے رہتا ہے، وہ مقام کون سا ہوگا ؟ یہ ایسی بات ہے جس کا اللہ کے سوا کسی کو بھی علم نہیں جیسا کہ ارشاد باری ہے﴿وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ﴾(٣١: ٣٤) (کسی کو بھی اس بات کا علم نہیں کہ وہ کس جگہ مرے گا) یعنی اگر جنگ برپا نہ بھی ہوتی تو جن جن لوگوں کا یہاں مرنا مقدر ہوچکا تھا وہ کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچ کے رہتے اور اگر میدان جنگ میں ان کا مرنا مقدر ہوتا اور میدان جنگ میں نہ آنے کے ہزاروں جتن کرتے، وہ کسی نہ کسی حیلے بہانے یہاں پہنچ کے رہتے۔ کیونکہ اللہ کی تقدیر باقی سب باتوں پر غالب ہے۔ [١٤٧] اس جنگ اور پھر اس میں شکست کے واقعہ سے ایک فائدہ یہ بھی حاصل ہوا کہ ہر مسلمان کے متعلق سب کو پتہ چل گیا کہ وہ اپنے ایمان میں کس قدر مضبوط ہے۔ بہادر ہے اور عزم کا پکا ہے اور اسی طرح کمزور ایمان والوں، بزدلوں اور منافقوں کا بھی سب کو پتہ چل گیا۔ گویا یہ جنگ ایک امتحان گاہ تھی جس نے واضح کردیا کہ ہر ایک کے دل میں کیا کچھ ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ مخلص مسلمان اپنی کمزوریوں کو دور کرسکیں اور ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ آئندہ کے لیے وساوس اور کمزوریوں سے پاک و صاف بنا دے، اور منافقین کا نفاق کھل کر سامنے آجائے اور لوگ ان کے خبث باطن سے بچ سکیں۔ آل عمران
155 [١٤٨]احد میں آپ کے گرد جمع ہونے والےصحابہ :۔ یعنی غزوہ احد جو مسلمانوں اور کفار مکہ کے درمیان بپا ہوئی۔ اس شکست کے بعد بعض مخلص مسلمانوں نے بھی فرار کی راہ اختیار کرلی تھی۔ بالخصوص اس وقت جب آپ کی وفات کی افواہ پھیلی تھی اور مسلمانوں کے اوسان خطا ہوگئے تھے۔ اس آیت میں ﴿بِبَعْضِ مَا کَسَبُوْا ﴾ سے مراد بھی وہی درہ کو چھوڑنے اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کرنے کی غلطی تھی جو مسلمانوں سے سرزد ہوگئی تھی اور یہ راہ فرار اختیار کرنا ان مومنوں کے اپنے عزم سے نہ تھا بلکہ یہ ایک شیطانی اغوا تھا ورنہ ان کے دل ایمان پر قائم تھے اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صرف تیرہ یا چودہ مسلمان رہ گئے تھے جن میں سات مہاجرین تھے اور سات انصار۔ مہاجرین میں سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے۔ جنہوں نے راہ فرار اختیار کی تھی۔ چنانچہ شیعہ حضرات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ایک یہ طعن بھی کرتے ہیں۔ حالانکہ خود اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ فرار محض شیطانی اغوا تھا۔ ایمان کی کمزوری کی بنا پر نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا قصور معاف فرما دیا ہے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اور طلحہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت:۔ جب آپ زخمی ہوئے اور کفار نے آپ کے گرد گھیرا ڈال لیا تو اس دوران دو صحابہ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہما نے آپ کی جان کی حفاظت کے لیے جانثاری کے بے مثال نمونے پیش کئے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص کے بعد پھر کسی کے لیے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر اپنے آپ کو یا اپنے ماں باپ کو فدا کیا ہو۔ غزوہ احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے یوں فرماتے تھے۔ ’’تیر مارو، میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد باب المجن ومن يتترس بترس صاحبہ) حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ آپ بھی ماہر تیر انداز تھے جو کوئی پاس سے گزرتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے اپنے تیر طلحہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کردو۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ کافروں کے تیر روکنے کے لیے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس کوئی چیز نہ تھی تو اپنا بازو آگے کردیا اور سب تیر اسی پر برداشت کرتے رہے۔ حتیٰ کہ ایک بازو شل ہوگیا تو دوسرا آگے کردیا۔ چنانچہ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جس سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بچایا تھا، وہ بالکل شل ہوگیا تھا۔ (بخاری، کتاب المناقب، باب ذکر طلحة بن عبیداللہ ) آل عمران
156 [١٤٩] یہاں کافروں سے مراد وہ منافق ہیں جو مسلمانوں میں ملے جلے رہتے تھے۔ بظاہر ایمان لانے والے اور دلوں میں کفر چھپائے ہوئے تھے۔ [١٥٠]موت کے وقت خالد بن ولید کےحسرت بھرے کلمات:۔ ایسا عقیدہ رکھنا یا ایسی بات زبان سے نکالنا عقیدہ تقدیر کے خلاف ہے جو ایمان بالغیب کا چھٹا جزو ہے۔ اس لحاظ سے بھی یہ لوگ کافر ہوئے۔ کیونکہ موت کا وقت بھی معین ہے اور جگہ بھی۔ کچھ بھی ہو موت اپنے وقت پر آئے گی اور آ کے رہے گی۔ اس کے وقت میں تقدیم و تاخیر ناممکن ہے اسی طرح جہاں مرنا مقدر ہے وہاں خود ہی انسان کسی حیلے بہانے جاپہنچتا ہے اور جب موت کا وقت نہ آیا ہو، تو انسان خواہ غزوات میں پوری زندگی گزار دے۔ اسے موت نہیں آتی۔ چنانچہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جنہوں نے زندگی بھر جنگیں لڑیں اور جن کے جسم کا کوئی حصہ بھی تلوار یا تیر کے نشان سے بچا ہوا نہ تھا۔ انہیں موت آئی تو گھر پر آئی۔ چنانچہ انہوں نے خود اپنی وفات کے وقت یہ الفاظ کہے تھے کہ میرے بدن پر ایک بالشت بھی ایسی جگہ نہیں جو تلوار یا نیزہ کے زخم سے خالی ہو مگر میں آج اونٹ کی طرح (گھر پر) مر رہا ہوں۔ [١٥١] ایسے خیالات کہ اگر وہ فلاں سفر یا جہاد پر نہ جاتا تو شاید بچ رہتا۔ محض حسرت ہی حسرت ہے۔ ورنہ جو اللہ گھر میں زندہ رکھتا ہے جہاد میں بھی رکھ سکتا ہے اور جو جہاد میں مار سکتا ہے وہ گھر میں بھی مار سکتا ہے۔ زندہ رکھنا اور مارنا سب اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس کے علم میں ہے۔ آل عمران
157 [١٥٢] اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے یا خود مر جائے یعنی اسے گھر پر طبعی موت آئے دونوں صورتوں میں اللہ کے حضور ہی پیش ہونا ہے۔ اب منافق یا کافر کی زندگی یا تادیر زندہ رہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دنیوی مفادات اور مال و دولت جمع کرسکے۔ اس کے برعکس مومن کو دونوں صورتوں میں جو اللہ کی مغفرت اور رحمت میسر ہوگی وہ اس مال و دولت سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ جسے یہ لوگ دن رات جمع کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور اپنی آخرت کی فکر سے یکسر غافل ہیں۔ آل عمران
158 آل عمران
159 [١٥٣] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلطی کرنے والوں کومعاف کرنے کی تلقین کرنا:۔ مسلمانوں کو یہ ہدایات دینے کے بعد پھر سے غزوہ احد کے حالات اور نتائج کا ذکر شروع ہوا ہے۔ اللہ کے رسول کی نافرمانی کے نتیجہ میں مسلمانوں کو جو سزا ملی وہ عبرت ناک تھی اور اس واقعہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نافرمانی کرنے والوں پر شدید گرفت فرماتے یا کم از کم ان سے خفا ہی ہوجاتے۔ لیکن یہ بھی اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ آپ مومنوں کے حق میں بہت نرم دل تھے۔ ورنہ اگر آپ سخت دل ہوتے یا کم از کم اسی نافرمانی پر شدید گرفت فرماتے تو پھر مسلمان آپ کے قریب آنے سے ہی گریز کرنے لگتے۔ اللہ تعالیٰ نے خود ان نافرمانی کرنے والوں کو اور راہ فرار اختیار کرنے والوں کو معاف کر ہی دیا تھا۔ اب اپنے پیغمبر کو ہدایت فرما دی کہ آپ بھی ان سے درگزر کیجئے اور نہ صرف درگزر فرمائیے بلکہ ان کے لیے مجھ سے بخشش بھی طلب کیجئے اور جیسے غزوہ احد سے پیشتر ان سے مشورہ کرتے اور مجلس مشاورت میں شریک کیا کرتے تھے۔ اسی طرح آئندہ بھی کیا کیجئے۔ یعنی اپنے دل میں ان کے لیے کسی قسم کا رنج نہ رہنے دیجئے۔ [١٥٤] مشورہ کا مقصد:۔ مشورہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاملہ کے سارے پہلو کھل کر سامنے آجائیں اور ہر شریک مشورہ شخص کو کھل کر اپنی رائے دینے کا موقع مل سکے۔ مشورہ صرف ان امور میں کیا جاسکتا ہے جن میں کتاب و سنت میں صریح حکم موجود نہ ہو اور جہاں صریح حکم موجود ہو وہاں مشورہ کی ضرورت نہیں رہتی اور یہ عموماً تدبیری امور میں کیا جاتا ہے۔ جیسے مثلاً جنگ کہاں لڑی جائے؟۔ اس کا طریقہ کار کیا ہو؟۔ قیدیوں سے کیا سلوک کیا جائے؟ لوگوں کی معاشی اور اخلاقی بہبود کے لیے کیا طریقے استعمال کئے جائیں وغیرہ وغیرہ۔ مشورہ میں صرف یہ دیکھا جائے کہ کون سی رائے اقرب الی الحق ہے۔ یعنی کتاب و سنت کی منشا کے مطابق ہو۔ یہ رائے خواہ تھوڑے آدمیوں کی ہو یا زیادہ آدمیوں کی۔ گویا مشورہ کا اصل مقصد دلیل کی تلاش ہے۔ رائے دینے والوں کی کثرت یا قلت تعداد اس پر اثر انداز نہیں ہوتی اور کسی رائے کو اقرب الی الحق قرار دینے کا اختیار میر مجلس مشاورت کو ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر آخری فیصلہ کا اختیار میر مجلس کو ہوتا ہے اور اسی فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے کے ارادہ کا نام عزم ہے یعنی عزم کے بعد اللہ کا نام لے کر اور اس پر بھروسہ کرکے وہ کام شروع کردینا چاہئے۔ آل عمران
160 [١٥٥] جیسا کہ میدان بدر میں اللہ نے مسلمانوں کی کئی طرح سے مدد فرمائی تھی۔ اسی طرح آج احد میں بھی تمہاری مدد کرکے تمہیں غالب کرسکتا ہے۔ بشرطیکہ تم اللہ کے فرمانبردار بن کر رہو اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے دل و جان سے کوشش کرو۔ [١٥٦] جیسا کہ غزوہ احد میں کچھ وقت کے لیے ہوا، اور جس کی وجہ اللہ کے رسول کی نافرمانی تھی۔ اس آیت میں بتلایا یہ جارہا ہے کہ بھروسہ تو صرف اس پر کیا جاسکتا ہے جو سب سے زیادہ طاقتور اور سب اسباب پر غالب اور حاکم ہو اور ایسی ذات چونکہ صرف ایک اللہ ہی کی ہے، لہٰذا وہی بھروسہ کے قابل ہے۔ آل عمران
161 [١٥٧] حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت ایک سرخ رنگ کی روئی دار چادر کے بارے میں نازل ہوئی جو بدر کے دن اموال غنیمت میں سے گم ہوگئی تھی۔ بعض لوگوں نے کہا، شاید چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے لیے رکھ لی ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر) اور بعض روایات میں یہ ہے کہ یہ آیت بھی غزوہ احد ہی سے متعلق ہے۔ جب ابتداً ء اس غزوہ میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور وہ غنیمت کا مال اکٹھا کرنے لگے تو حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ہمیں بھی اب درہ چھوڑ کر لوٹ مار حاصل کرنے میں شامل ہوجانا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اموال غنیمت میں ہمارا حصہ ہی نہ لگائیں۔ تو اس شبہ کو دور کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی سے ایسی ناانصافی یا خیانت ممکن ہی نہیں۔ وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امین ہوتا ہے۔ بدظنی سےا جتناب نہایت ضروری ہے :۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے ایک رنگے ہوئے چمڑے میں کچھ سونا بھیجا۔ جس سے ابھی مٹی بھی علیحدہ نہیں کی گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سونے کو چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید الخیل اور علقمہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کردیا۔ آپ کے اصحاب میں سے کسی نے کہا : اس مال کے تو ہم ان لوگوں سے زیادہ حقدار تھے۔ آپ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا : کیا تم لوگوں کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اطمینان نہیں۔ حالانکہ میں آسمان والے (اللہ تعالیٰ) کا امین ہوں۔ اور میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔ ایک آدمی جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی، پیشانی باہر نکلی ہوئی، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا، اپنا تہبند اپنی پنڈلیوں سے اٹھاتے ہوئے کھڑا ہو کر کہنے لگا:’’اے اللہ کے رسول! اللہ سے ڈرئیے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تیری بربادی ہو، کیا میں روئے زمین پر اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے کا مستحق نہیں ہوں؟‘‘ ( اور مسلم ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس نے کہا : اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! عدل کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تیری بربادی ہو اگر میں نے ہی عدل نہ کیا تو اور کون کرے گا ؟) وہ آدمی چلا گیا تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟‘‘ مگر آپ نے اسے قتل کرنے کی اجازت نہ دی۔ خارجہوں کی علامات:، ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ پیٹھ موڑے جارہا تھا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا : اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کو مزے لے لے کر پڑھیں گے۔ مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں اس قوم کے زمانہ میں موجود رہا تو قوم ثمود کی طرح انہیں قتل کردوں گا۔ (مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب اعطاء المؤلفۃ القلوب و بیان الخوارج، بخاری، کتاب المغازی، باب بعث علی ابن ابی طالب خالد بن ولید) نیز (کتاب استتابة المعاندین والمرتدین۔۔ الخ) گویا اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غنائم اور صدقات کو تقسیم کرنے کی کوئی مصلحت ملحوظ رکھیں یا قوم یا رفاہ عامہ کے لیے کچھ حصہ بیت المال میں جمع کریں یا کسی وجہ سے تقسیم غنائم میں دیر ہو تو نبی کے متعلق انہیں ہرگز کسی قسم کی بدگمانی نہ ہونا چاہئے۔ نبی سے متعلق ایسی بدگمانی کرنا نفاق کی علامت ہے۔ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ایسے ہی مواقع پر مسلمانوں کے دلوں میں بدگمانی ڈالا کرتے تھے، ایسی بدگمانیوں سے قوم میں پھوٹ پڑجاتی ہے۔ ملت کا شیرازہ بکھرتا ہے اور اس کا انجام بغاوت ہوتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اس معاملہ میں بالخصوص اور عام حالات میں بھی بدظنی سے اجتناب کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے۔ غل کےمختلف معنیٰ :۔ غل کا معنی دراصل ایسے خزانہ سے چوری کرنا ہے جو سب کی مشترکہ ملکیت ہو۔ لہٰذا اس کا معنی چوری بھی ہوسکتا ہے اور خیانت بھی۔ پھر غل کا لفظ دل میں کدورت، بغض و عناد کو چھپائے رکھنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ چنانچہ اسی مناسبت سے بعض علماء نے یہ معنی بھی کیا ہے کہ نبی کی یہ شان نہیں کہ اپنی نافرمانی کرنے والوں کو معاف کردینے کے بعد اس کے دل میں کچھ کدورت باقی رہ جائے۔ [١٥٧۔ ١] مشترکہ مال سے خیانت چوری اور مدعم ۔۔خادم رسول کا قصہ:۔ مسلمانوں کے مشترکہ اموال سے کوئی چیز چرانا یا اس میں خیانت کرنا (جو کہ غل کا لغوی مفہوم ہے) کتنا بڑا گناہ ہے۔ اس کا اندازہ اس حدیث سے لگائیے : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں جنگ خیبر کی غنیمت میں سونا چاندی تو ملا نہیں بس اونٹ بکریاں اور کپڑے وغیرہ ہی تھے۔ ایک شخص رفاعہ بن زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک غلام تحفۃً دیا تھا جس کا نام مدعم تھا۔ اس کے بعد آپ وادی القریٰ کی طرف بڑھے۔ وہاں پہنچنے پر مدعم آپ کو سواری سے اتار رہا تھا کہ اسے ایک تیر آلگا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ لوگوں نے کہا اسے جنت مبارک ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہرگز نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ اس نے خیبر کے دن اموال غنیمت کی تقسیم سے پیشتر ایک کملی چرائی تھی جو آگ کے شعلے بن کر اس کے گرد لپٹ رہی ہے۔ جب لوگوں نے آپ کا یہ ارشاد سنا تو ایک شخص ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر حاضر ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا : کہ اگر تم انہیں داخل نہ کراتے تو قیامت کو یہ تسمے آگ بن کر تمہیں جلاتے۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ خیبر، نیز کتاب الإیمان والنذور، باب ھل یدخل فی الإیمان والنذور الأرض والغنم) آل عمران
162 [١٥٨] وحی کی ضرورت اور من کا لغوی معنیٰ :۔ یہاں پھر انہیں دو گروہوں کا تقابل پیش کیا جارہا ہے۔ جو غزوہ بدر یا احد میں نبرد آزما تھے۔ ان میں سے ایک گروہ اللہ کی رضا اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے لڑ رہا تھا اور دوسرا اللہ کے دین کو کچلنے اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے کے لئے لڑ رہا تھا اور یہی دوسرا گروہ ہی اللہ کے غضب میں گرفتار ہوا اور بالآخر اپنا وجود ہی کھو بیٹھا اور اخروی زندگی میں جہنم اس کے مقدر ہوچکی ہے۔ لڑائی کے اعتبار سے دونوں کی سرگرمیاں ایک جیسی تھیں۔ مگر ان دونوں کے انجام ایک دوسرے کی عین ضد ہیں۔ آل عمران
163 آل عمران
164 [١٥٨۔ ا] منّ کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے (١) احسان کرنا، (٢) احسان جتلانا، (٣) کاٹنا اور کٹنا اور جب یہ لفظ احسان کرنے کے معنی میں آئے تو اس سے مراد کوئی بہت بڑا احسان ہوتا ہے۔ اور وہ بہت بڑا احسان وحی الٰہی اور اس کی روشنی ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے اللہ تعالیٰ نے انسان کو آنکھیں اور بصارت عطا فرمائی ہے۔ لیکن جب تک کوئی خارجی روشنی نہ ہو۔ مثلاً سورج، چاند، ستاروں یا چراغ اور قمقموں کی روشنی نہ ہو، آنکھ کی بصارت کام نہیں دیتی۔ وہ اندھیرے میں بھی کام تو کرتی ہے مگر بہت کم اور انسان بھٹکتا اور ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ بعینہ اللہ تعالیٰ نے سمجھنے سوچنے کے لیے انسان کو عقل عطا فرمائی ہے۔ لیکن کائنات اور انسان کی طبعی زندگی اور ما بعد الطبیعات کے بہت سے مسائل ایسے ہیں جہاں اکیلی عقل کام نہیں کرسکتی جب تک اسے کوئی خارجی روشنی نہ ملے۔ اگر اس خارجی روشنی کے بغیر عقل کچھ کام کرے گی بھی تو بھٹکتی اور ٹھوکریں کھاتی پھرے گی اور فلاسفر قسم کے لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے اور عقل کے لیے خارجی روشنی وحی الٰہی ہے۔ وحی الٰہی کی روشنی میں عقل جو کام کرے گی وہ درست اور قابل اعتماد ہوسکتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کا لوگوں کو انبیاء اور وحی کے ذریعہ ہر چیز کی حقیقت اور ماہیت سے خبردار کردینا لوگوں پر بہت بڑا احسان ہے ورنہ محض عقل کے بل بوتے پر صراط مستقیم کو تلاش کرلینا عقل محدود کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ اور بعض مفسرین نے اس آیت کو سابقہ آیت سے متعلق کرکے ﴿اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَان اللّٰہِ ﴾سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات لی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے تابع ہوتا ہے۔ جب کہ خیانت کرنے والا اللہ کی ناراضگی حاصل کرکے جہنم میں اپنا ٹھکانا بناتا ہے اور یہ دونوں کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے نقیض ہیں۔ [١٥٩]رسول بشر کیوں ہوتاہے؟ یعنی وہ رسول بنی نوع انسان سے ہے۔ عربی ہے اور قریشی ہے۔ قریش کے لہجہ میں عربی بولتا ہے۔ تاکہ عرب لوگ اس کی بات کو سمجھ سکیں۔ وہ نہ فرشتوں کی نوع سے ہے نہ جنوں کی نوع سے تاکہ کوئی شخص اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے سے بچنے کی خاطر یہ نہ کہہ سکے کہ آپ تو مافوق البشر تھے۔ ہم انسان بھلا ان کی اتباع کیسے کرسکتے ہیں۔ [١٦٠] انبیاء کی بعثت کےمقاصد :۔ یہ آیت قرآن میں الفاظ کی تقدیم و تاخیر کے ساتھ متعدد مقامات پر آئی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی اور اسی طرح دوسرے انبیاء کی بعثت کے مندرجہ ذیل چار مقاصد ہیں۔ ١۔ اللہ کی کتاب جوں جوں نازل ہو وہ لوگوں کو پڑھ کر سنائے۔ تاکہ وہ بھی ان آیات کو سینوں میں اور مصاحف میں محفوظ کرسکیں۔ ٢۔ اپنے پیروکاروں کا تزکیۂ نفس کرے۔ ان کے اعمال و افعال پر نظر رکھے۔ اور جہاں کہیں کوئی کمی، کو تاہی، یا غلطی نظر آئے، انہیں متنبہ کرے اور ان کی اصلاح کرتے ہوئے ان کی تربیت کرے۔ ٣۔ کتاب اللہ کی تعلیم دے یا سکھلائے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کتاب اللہ کو پڑھ کر سنا دینا اور بات ہے اور اس کی تعلیم دینا اور بات ہے۔ تعلیم دینے سے مراد یہ ہے کہ اس کے معانی کی تشریح و تفسیر بھی بتلائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زبان اگرچہ عربی ہی تھی۔ مگر بارہا ایسا ہوا کہ انہیں مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی تو آپ نے انہیں صحیح مفہوم سے آگاہ کیا اور بعض دفعہ خود بھی پوچھ لیا کرتے تھے۔ ٤۔ کتاب کے ساتھ انہیں حکمت بھی سکھلائے، حکمت بھی دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک نظری دوسرے عملی، یعنی انہیں آیات اللہ کے اسرار و رموز سے بھی آگاہ کرے اور احکام الٰہی کو عمل میں لانے کا طریقہ یا طریقے بھی بتلائے اور خود کرکے دکھلائے۔ بالفاظ دیگر حکمت سے سنت بھی مراد لی جاسکتی ہے۔ اہل قرآن اور منکرین حدیث کا رد:۔ گویا اس آیت میں اس فرقہ کا پورا پورا رد ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیثیت (معاذ اللہ) محض ایک چٹھی رساں کی تھی۔ جن پر کتاب نازل ہوئی۔ انہوں نے وہ کتاب امت تک پہنچا دی اور ان کا کام ختم ہوا۔ رہا اس کتاب پر عمل پیرا ہونا تو یہ کام ہر دور میں اس دور کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ سنت یا حدیث کی حیثیت محض اس دور کی تاریخ کی ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اپنے دور میں قرآنی احکام پر کیسے عمل کیا تھا۔ گویا ان کے نزدیک نہ حدیث حجت شرعیہ ہے اور نہ ہی اتباع یا اطاعت رسول دین کا لازمی حصہ ہے۔ ان کے خیال میں اطاعت رسول کا فریضہ صرف آپ کی زندگی تک ہی تھا۔ جبکہ اس آیت کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ محض رسول ہی نہیں بلکہ معلم، مفسر، مزکی اور کتاب اللہ کے ہر حکم کا طریق کار بتلانے والے بھی ہیں اور چونکہ آپ مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ اور خاتم النبیین بھی ہیں۔ لہٰذا آپ کا ایک ایک قول اور فعل قیامت تک مسلمانوں کے لیے واجب الاتباع ہے۔ رہے زمانہ کے تقاضے تو دراصل یہی عقل کا میدان ہے کہ انسان کتاب و سنت کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کا حل اس انداز سے تلاش کرے اور ایسی تدابیر اختیار کرے جس سے کتاب وسنت کی نص یا اصل پر زد نہ پڑتی ہو اور عقل کی اسی کاوش کا نام قیاس اور اجتہاد ہے۔ جس کا دروازہ تاقیام قیامت کھلا ہوا ہے۔ دور حاضر کے تقاضوں کے بہانے یا جدید نظریات سے مرعوب ہو کر سنت سے یا قرآن کی دور از کار تاویلات کسی مسلمان کا کام نہیں ہوسکتا۔ آل عمران
165 [١٦١] منافقین کی تو بات ہی الگ ہے۔ اکابر صحابہ کو چھوڑ کر مسلمان بھی یہ سمجھ رہے تھے کہ جب ہم حق کی خاطر لڑ رہے ہیں بلکہ اپنا دفاع کر رہے ہیں اور اللہ کا رسول بہ نفس نفیس ہم میں موجود ہے تو کافر ہم پر فتح پا ہی نہیں سکتے۔ پھر جب شکست سے دو چار ہونا پڑا تو انہیں سخت صدمہ بھی ہوا اور حیرانی بھی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں تمہیں فتح عظیم عطا فرمائی تھی۔ تم نے اپنے اس موجودہ نقصان سے کافروں کا دگنا نقصان کیا تھا اور اس وقت تم کمزور بھی تھے تو اللہ اگر اس حال میں تمہیں فتح عطا فرماسکتا ہے تو وہ تمہیں شکست بھی دلوا سکتا ہے۔ کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ [١٦٢]احد میں شکست کےا سباب:۔ رہی یہ بات کہ تمہیں شکست سے کیوں دوچار ہونا پڑا ؟ تو اس کے اسباب بھی تمہارے اپنے ہی پیدا کردہ ہیں۔ تم نے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا، بعض کام تقویٰ کے خلاف کئے۔ اللہ کے رسول کے حکم کی نافرمانی کی، مال کی طمع میں مبتلا ہوئے، آپس میں نزاع و اختلاف کیا، پھر اب یہ کیوں پوچھتے ہو کہ یہ مصیبت کہاں سے آگئی؟ آل عمران
166 آل عمران
167 [١٦٣] اللہ کو تو مومنوں اور منافقوں کی صورتحال کا پہلے ہی علم تھا۔ اس قسم کی آیات کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی صورت حال پیدا کردے جس سے دوسروں کو ان باتوں کا علم ہوجائے۔ چنانچہ اس شکست میں بہت سے لوگوں کے پول کھل گئے اور جو شخص ایمان کے جس درجہ پر تھا نتھر کر سب کے سامنے آگیا۔ [١٦٤] منافقوں کا عذرلنگ :۔ جب عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت واپس جانے لگا تو اسے مسلمانوں نے سمجھایا کہ آج مشکل پڑنے پر چھوڑ کر جارہے ہو۔ اگر تم لڑنا نہیں چاہتے تو کم از کم دفاع ہی کرو۔ دفاع کے یہاں دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کے لشکر میں شامل رہو۔ واپس نہ جاؤ۔ تاکہ مجموعی تعداد سے دشمن کسی حد تک مرعوب رہے اور دوسرے یہ کہ جاکر شہر مدینہ کا دفاع کرو اور مسلمانوں کے گھروں کی حفاظت کرو۔ [١٦٥] عبداللہ بن ابی نے مسلمانوں کو جو جواب دیا۔ اس کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لڑائی ہوگی ہی نہیں۔ پھر تمہارے ساتھ رہنے کا کیا فائدہ۔ ہمیں واپس ہی جانا چاہئے۔ یہ جواب تو اس لیے غلط تھا کہ بھلا جو کافر اتنی دور دراز کی مسافت سے لڑنے آئے تھے اور ان کے دلوں میں بدر کے انتقام کی آگ بھی سلگ رہی تھی، وہ بھلا لڑے بغیر واپس جاسکتے تھے وہ تو آئے ہی اس نیت سے تھے کہ مسلمانوں کا کچومر نکال کے رکھ دیں پھر وہ کیوں نہ لڑتے؟ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم تو فنون جنگ سے واقف ہی نہیں، پھر تمہارا ساتھ کیسے دے سکتے ہیں؟ یہ دراصل طنزیہ جواب تھا کہ جب ہمارے مشورہ کو درخوراعتناء سمجھا ہی نہیں گیا اور اس کے بجائے چند پرجوش نوجوانوں کے مشورہ کو ترجیح دی گئی ہے کہ باہر کھلے میدان میں لڑنا چاہئے تو پھر وہی لوگ تم لوگوں کا ساتھ دیں گے ہم کیسے دے سکتے ہیں۔ فنون جنگ کو جاننے والے وہ لوگ ہوئے ہم تو نہ ہوئے۔ [١٦٦] یعنی ان منافقوں کے دل میں یہ بات تھی کہ مسلمانوں کی اس تھوڑی سی بے سروسامان جماعت کی شکست یقینی ہے۔ پھر ہم کیوں ان کے ساتھ ذلیل ہوں اور مارے جائیں بلکہ ان کی اصل خوشی ہی اس بات میں تھی کہ مسلمان تباہ و برباد ہوجائیں اور ہمیں بغلیں بجانے کا موقع ملے اور اور عبداللہ بن ابی کی کھوئی ہوئی ریاست پھر اسے مل جائے۔ [١٦٧] یعنی ان کے دلوں میں تو اس طرح کی باتیں تھیں اور بظاہر انہوں نے یہ جواب دے دیا۔ کہ ہم لڑائی جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے۔ حالانکہ اللہ کو تو سب کچھ معلوم ہے جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھا ہے۔ آل عمران
168 [١٦٨] یعنی ایک تو خود جہاد میں حصہ نہ لیا۔ دوسرے ان کے جو بھائی جہاد میں حصہ لے رہے تھے انہیں ملامت شروع کردی کہ تم ہماری بات مان لیتے تو آج ہمارے بھائی بند مارے نہ جاتے۔ آپ ان سے کہئے کہ اگر تمہیں موت سے بچنے اور بچانے کا طریقہ آتا ہے اور اس پر اتنا یقین ہے تو خود تمہیں موت آئے گی اس وقت ایسا کوئی طریقہ استعمال کرکے دیکھ لینا۔ ایسی باتیں دراصل اللہ کی تقدیر پر اعتراض کے ضمن میں آتی ہیں۔ لیکن منافقوں میں ایمان تھا کہاں کہ ان کی ایسی باتوں پر تعجب کیا جائے۔ آل عمران
169 [١٦٩] روح اور جسم کے اتصال کا نام زندگی اور انفصال کا نام موت ہے۔ قرآن میں دو بار کی زندگی اور دو بار کی موت کا ذکر آیا ہے اور ان کی ترتیب یہ ہے (١) موت یعنی انسان کی پیدائش سے پہلے کا وقت جسے عالم ارواح کہتے ہیں۔ (٢) زندگی یعنی پیدائش سے موت تک کا وقت (٣) موت یعنی موت سے قیامت (حشر) تک کا وقت اور (٤) زندگی یعنی حشر سے لے کرتا ابد لامتناہی مدت کے لیے، (جنت میں یا جہنم میں) دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ موت کے عرصہ میں بھی کلی موت واقع نہیں ہوتی بلکہ زندگی کے کچھ نہ کچھ اثرات اس میں موجود ہوتے ہیں جیسے عالم ارواح میں تمام پیدا ہونے والے انسانوں سے الست بربکم کا وعدہ لیا گیا تھا اور جیسے عالم برزخ میں بھی مردہ کو عذاب و ثواب ہوتا ہے اور ان ادوار کو موت کا دور اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان میں زندگی کے اثرات خفیف اور موت کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔ شہداء کی زندگی اور موت کےمراحل:۔ تیسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان مراحل میں شارٹ کٹ تو ہوسکتا ہے۔ مگر ترتیب میں فرق نہیں آسکتا۔ جیسے ایک بچہ پیدا ہوتے ہی مر جائے تو فوراً زندگی کے دور سے عالم برزخ (موت کے دور) میں داخل ہوجاتا ہے یا جیسے شہید مرتے ہی عالم برزخ کو پھلانگ کر فوراً جنت میں (عالم عقبیٰ) میں داخل ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا تین آیات میں مذکور ہے۔ اور چوتھی قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان مراحل میں رجعت ناممکن ہے۔ مثلاً کوئی شخص پیدا ہو کر واپس عالم ارواح میں نہیں جاسکتا۔ اسی طرح عالم برزخ میں پہنچ چکا ہے وہ دنیا میں نہیں آسکتا۔ شہید چونکہ فوراً عالم عقبیٰ (جنت میں) پہنچ جاتا ہے۔ لہٰذا اس کا واپس عالم برزخ یا عالم دنیا میں آنا ناممکن ہے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل دو احادیث سے یہ پورا مضمون واضح ہوجاتا ہے۔ ١۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملے اور پوچھا! کیا بات ہے جابر’’میں تمہیں شکستہ خاطر دیکھ رہا ہوں؟‘‘ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ! میرے والد (جنگ احد میں) شہید ہوگئے اور قرض اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’کیا میں تمہیں یہ بشارت نہ دوں کہ اس کی اللہ سے کیسے ملاقات ہوئی‘‘میں نے عرض کیا، ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور بتلائیے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ کسی سے کلام نہیں کرتا، مگر پردے کے پیچھے سے اللہ نے تمہارے باپ کو زندہ کیا پھر اس سے رو در رو بات کی اور پوچھا : کچھ آرزو کرو جو میں تمہیں عطا کروں‘‘تیرے باپ نے کہا : اے میرے پروردگار! مجھے دوبارہ زندگی دے تاکہ میں دوسری مرتبہ تیری راہ میں شہید ہوجاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ یہ بات پہلے سے طے ہوچکی ہے کہ لوگ دوبارہ دنیا کی طرف نہ لوٹیں گے۔‘‘ راوی کہتا ہے۔ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر) ٢۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے اس آیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں ہوں گی۔ ان کے لیے عرش الٰہی میں کچھ قندیلیں لٹکی ہیں۔ یہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں سیر کرتی پھرتی ہیں۔ پھر، ان قندیلیوں میں واپس آجاتی ہیں۔ ان کے پروردگار نے ان کی طرف دیکھا اور پوچھا : کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے؟ تو انہوں نے کہا : ہم کس چیز کی خواہش کریں۔ ہم جہاں چاہیں سیر کرتی پھرتی ہیں۔ پروردگار نے ان سے تین بار یہی سوال کیا : جب انہوں نے دیکھا کہ اب جواب دیئے بغیر چارہ نہیں تو کہا : اے ہمارے پروردگار! ہم یہ چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحیں واپس (دنیا میں) لوٹا دے تاکہ ہم تیری راہ میں پھر جہاد کریں اور پھر شہید ہوں۔ (مسلم، کتاب الأمارۃ، باب فی بیان ان ارواح الشھداء فی الجنة وانھم احیاء عندربھم یرزقون) سورہ بقرہ کی آیت نمبر ١٥٤ میں فرمایا گیا کہ شہداء کو مردہ نہ سمجھو۔ قرآن کے شہداء کے متعلق یہ ارشادات محض اعزازی نہیں۔ بلکہ شہداء کی فضیلت ہی یہ ہے کہ وہ عالم دنیا سے رخصت ہوتے ہی فوراً جنت میں پہنچ جاتے ہیں۔ عالم برزخ یعنی موت والا تیسرادوران پر نہیں آتا۔ آل عمران
170 آل عمران
171 آل عمران
172 [١٧٠] حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : (اے میرے بھانجے تیرے والد اور تمہارے نانا) ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھے، جب احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو صدمہ پہنچنا تھا، پہنچ چکا اور مشرکین (مکہ کو) لوٹ گئے تو آپ کو خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں واپس آکر پھر نہ حملہ آور ہوں۔ لہٰذا آپ نے فرمایا کہ کون ان کافروں کا تعاقب کرتا ہے۔ آپ کا یہ ارشاد سن کر ستر آدمی تعاقب کے لیے تیار ہوگئے جن میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور زبیر بھی تھے۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب ( اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ ) اس آیت کی تشریح کے لیے اسی سورۃ کا حاشیہ نمبر ١٣٧ ملاحظہ فرمائیے۔) آل عمران
173 [١٧١] ابوسفیان کا اپنے چیلنج سے فرار:۔ غزوہ احد سے واپسی کے وقت ابو سفیان نے مسلمانوں سے جو خطاب کیا تھا۔ (٣: ١٥٢) اس میں اس نے مسلمانوں کو چیلنج کیا تھا کہ ایک سال بعد پھر میدان بدر میں مقابلہ ہوگا اور اس چیلنج کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبول فرما لیا۔ لیکن جب وعدہ کا وقت قریب آیا تو ابو سفیان خود ہی ہمت ہار بیٹھا۔ کیونکہ اس سال مکہ میں قحط پڑا ہوا تھا۔ اس نے اپنی اس خفت و ندامت کو چھپانے اور الزام دوسرے کے سر تھوپنے کے لیے یہ تدبیر سوچی کہ خفیہ طور پر ایک شخص نعیم بن مسعود کو مدینہ بھیجا اور کچھ دے دلا کر اس کی ڈیوٹی یہ لگائی کہ وہاں جاکر یہ خبر مشہور کردے کہ اس دفعہ قریش نے اتنی زبردست تیاری کی ہے اور اتنا لشکر جرار جمع کر رہے ہیں کہ پورا عرب بھی اس کا مقابلہ نہ کرسکے گا۔ اور اس کا مقصد صرف مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنا تھا تاکہ مقابلہ کرنے کی انہیں ہمت ہی نہ رہے۔ چنانچہ اس نے مدینہ جاکر یہ افواہ خوب پھیلائی۔ لیکن اس پروپیگنڈا کا اثر ابو سفیان کی توقع کے برعکس نکلا۔ اس خبر سے مسلمانوں کا ایمانی جوش اور بھی بڑھ گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پندرہ سو صحابہ کو ساتھ لے کر میدان بدر کی طرف روانہ ہوگئے۔ اسی ضمن میں بخاری کی درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے ﴿وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ ﴾کہا تھا اور جب لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ قریش کے کافروں نے آپ کے مقابلے کے لیے بڑا لشکر جمع کرلیا ہے تو آپ نے بھی یہی کلمہ کہا اور یہ خبر سن کر صحابہ کا ایمان بڑھ گیا اور انہوں نے بھی یہی کلمہ کہا۔ (بخاری، کتاب التفسیر) جب ابو سفیان کو یہ صورت حال معلوم ہوئی تو چار و ناچار نکلنا ہی پڑا۔ چنانچہ وہ دو ہزار کی جمعیت لے کر مکہ سے روانہ ہوا۔ مگر دو دن کی مسافت طے کرنے کے بعد وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا۔ اس سال لڑنا مناسب معلوم نہیں ہوتا آئندہ سال آئیں گے۔ اس کے ساتھی پہلے ہی یہی کچھ چاہتے تھے۔ چنانچہ وہ وہیں سے واپس مکہ چلے گئے اور اس کی وجوہ کئی تھیں۔ مثلاً اس دفعہ اس کی فوج غزوہ احد کے مقابلہ میں صرف دو تہائی تھی۔ جبکہ مسلمانوں کی فوج دوگنا سے بھی زیادہ تھی۔ دوسرے وہ مسلمانوں کی جرات ایمان کو خوب ملاحظہ کرچکا تھا۔ تیسرے جو پروپیگنڈہ وہ پہلے کرچکا تھا اس مناسبت سے اس کے پاس لشکر نہایت قلیل تھا۔ چنانچہ اس پر کچھ ایسا رعب طاری ہوا کہ اس نے واپس مڑ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ اس غزوہ کو غزوہ سویق بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ ابو سفیان رسد کے طور پر ستو ہی ساتھ لایا تھا جو راستے میں گرتے بھی رہے اور واپسی پر اس رسد کو یہیں چھوڑ گئے۔ غزوہ سویق کے نتائج:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو سفیان کے انتظار میں آٹھ روز تک بدر کے مقام پر ٹھہرے رہے۔ اس دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک تجارتی قافلہ سے کاروبار کرکے خوب فائدہ اٹھایا۔ پھر جب یہ پتہ چلا کہ ابو سفیان واپس چلا گیا ہے تو آپ بھی مدینہ واپس تشریف لے آئے۔ آل عمران
174 [١٧٢] یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر لحاظ سے فائدہ میں رہے۔ اللہ کی رضا بھی حاصل ہوگئی۔ جنگ کی سختی سے بھی بچ رہے۔ دشمن بھی مرعوب ہو کر واپس چلا گیا اور مالی فائدہ بھی حاصل ہوگیا اور ہر طرح سے کامیاب کامران واپس لوٹے۔ آل عمران
175 [١٧٣] پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ ابو سفیان نے خود ہی غزوہ احد سے اگلے سال بدر کے میدان میں مقابلہ کے لیے چیلنج کیا۔ مگر بعد میں خود ہی ہمت ہار بیٹھا اور الزام مسلمانوں کے سر تھوپنے اور انہیں ڈرانے اور دہشت زدہ کرنے کے لیے ایک شخص نعیم بن مسعود کو کچھ دے دلا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ مدینہ جاکر مسلمانوں کو بتلائے کہ ابو سفیان نے اتنا لشکر جرار تیار کرنے کی ٹھانی ہے جو عرب بھر کے مقابلہ کو کافی ہوگا۔ اس طرح مسلمان خود خوف زدہ ہو کر بدر میں مقابلہ پر آنے کا ارادہ ترک کردیں گے۔ اس سارے ڈرامہ کو اللہ تعالیٰ نے شیطانی کھیل سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہاں شیطان سے مراد ابو سفیان بھی ہوسکتا ہے اور نعیم بن مسعود بھی، اور مسلمانوں کو تاکید کی جارہی ہے کہ میرے سوا کسی طاغوتی طاقت سے مت ڈریں۔ آل عمران
176 [١٧٤] اس دور میں مسلمانوں کے علاوہ جتنی بھی اقوام تھیں۔ سب ہی اسلام دشمن اور اسے مٹانے کے درپے تھیں خواہ وہ مشرکین مکہ ہوں یا یہود مدینہ، منافقین ہوں یا دیگر قبائل عرب اور یہ سب لوگ اسلام کو کچلنے کے لیے حتیٰ المقدور کوششیں بھی کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ تمہارا یا اسلام کا کچھ بھی بگاڑنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ بس اپنی ہی عاقبت خراب کر رہے ہیں۔ ان کے بارے میں آپ کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ دوسری بات جو آپ کو فی الواقعہ غمزدہ بنا رہی تھی وہ یہ تھی کہ آپ کی انتہائی کوششوں کے باوجود یہ لوگ اسلام کو سمجھنے اور اس کے قریب آنے یا اسے قبول کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے تھے اور اس بات سے آپ سخت پریشان ہوجاتے تھے اور اس بات کا قرآن میں متعدد مقامات پر ذکر آیا ہے۔ جس کے جواب میں اللہ نے اپنے پیارے نبی کو یہی کہہ کر تسلی دی کہ تمہارا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچانا اور لوگوں کو ڈرانا ہے۔ اب اگر یہ لوگ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تو اس کا وبال انہیں پر ہوگا اور نہ ہی میرا پیغام پہنچا دینے سے آگے آپ کی کوئی ذمہ داری ہے۔ آل عمران
177 آل عمران
178 [١٧٥] معاندین اسلام بالخصوص مشرکین مکہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر تم فی الواقعہ سچے نبی ہو تو جو سلوک ہم تم سے کر رہے ہیں۔ اس بنا پر تو اب تک ہم پر کوئی عذاب آجانا چاہئے تھا۔ اس کے برعکس نہ صرف یہ کہ ہم پر کوئی عذاب نہیں آیا۔ بلکہ اللہ ہمیں اپنی نعمتوں سے نواز بھی رہا ہے۔ اسی بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں دیا ہے کہ ہم انہیں اس لیے مہلت دیئے جارہے ہیں کہ جتنے یہ زیادہ سے زیادہ گناہ اور سرکشی کے کام کرسکتے ہیں، کرلیں۔ تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ رسوائی اور ذلت والے عذاب سے دوچار ہوں۔ آل عمران
179 [١٧٦] یعنی اس حال میں پختہ ایمان والے مومن، کمزور ایمان والے اور منافقین سب ایک ہی اسلامی معاشرہ میں مل کر رہتے ہیں اور ایک ہی سطح کے سب مسلمان ہی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے درجات ایمان میں امتیاز صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ اللہ ان سب کو کسی ابتلاء میں ڈال دے اور اس طرح اچھے اور برے میں از خود امتیاز ہوجائے جیسا کہ غزوہ احد کے دوران مسلمان جب شکست سے دوچار ہوئے، تو ہر ایک کے ایمان کی پختگی، کمزوری اور منافقت کا ہر ایک کو پتہ چل گیا۔ [١٧٧]انبیاء کوغیب کا علم اتناہی ہوتاہے جتنا اللہ عطا کرتاہے :۔ ابتلاء کے علاوہ مسلمانوں کے ایمان کے مختلف درجات معلوم ہونے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ اپنے نبی کو ان کے احوال پر مطلع کردے۔ مگر یہ بات اللہ کے دستور کے خلاف ہے۔ کیونکہ ایمان تو ہوتا ہی بالغیب ہے۔ اگر غیب نہ رہا تو پھر ایمان کیسا ؟ جس قدر غیب پر اطلاع کی انسان کو ضرورت تھی وہ تو اللہ نے پہلے انبیاء کے ذریعہ سب انسانوں کو مطلع کردیا ہے۔ مثلاً یہ کہ قیامت ضرور آنے والی ہے۔ اس دن ہر ایک کو اس کے اعمال کا اچھا یا برا بدلہ مل کے رہے گا۔ نیک لوگ جنت میں اور بدکردار دوزخ میں جائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے منافقین کی علامات تو بتلا دی ہیں۔ لیکن کسی کا نام لے کر نہیں بتلایا کہ فلاں فلاں شخص منافق ہے۔ دور نبوی میں صرف ایک ایسا واقعہ ملتا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو شدید ضرورت کے تحت چند منافقین کے نام بھی بتلادیئے تھے۔ غزوہ تبوک سے واپسی سفر کے دوران چودہ یا پندرہ منافقوں نے ایک سازش تیار کی تھی کہ رات کو سفر کے دوران گھاٹی پر سے گزرتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کو سواری سے گرا کر گھاٹی میں پھینک کر ہلاک کردیا جائے۔ اس وقت حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آپ کی سواری کو پیچھے سے چلا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ کو منافقوں کی سازش سے مطلع کردیا اور ان منافقوں اور ان کے باپوں کے نام بھی بتلا دیئے، جو آپ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بھی بتلا دیئے اور ساتھ ہی تاکید کردی کہ ان کے نام وغیرہ کسی کو نہ بتلانا۔ اسی لیے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو راز دان رسول کہا جاتا ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے مسلم کتاب صفات المنافقین) اللہ تعالیٰ پیغمبر کو غیب پر جب چاہے مطلع کرتا ہے، اور جتنا چاہے اتنی ہی بات سے مطلع کرتا ہے۔ اور اگر چاہے تو نہیں بھی کرتا۔ مثلاً حضرت یعقوب علیہ السلام کو مصر سے قمیص لانے والے کی تو فوراً بذریعہ وحی خوشخبری دے دی۔ مگر جب یوسف کنعان ہی کے ایک کنوئیں میں ان کے پاس پڑے رہے اور یعقوب ان کے غم میں بیمار بھی رہے تو اس وقت اطلاع نہ دی۔ اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے لیے آپ کی خدمت میں جارہے تھے تو آپ کو بذریعہ وحی اطلاع کردی گئی مگر جب آپ واقعہ افک کے بارے میں مہینہ بھر سخت بے چین اور پریشان رہے تو اس وقت پورے ایک ماہ بعد وحی کی۔ آل عمران
180 [١٧٨]زکوۃ نہ دینے کی گناہ کی وعید:۔ آیت نمبر ١٧٧ میں یہ بیان ہوا تھا کہ دنیا میں نعمتوں کی فراوانی اس بات کی دلیل نہیں ہوتی کہ اللہ ان پر خوش ہے۔ مال و دولت اسی صورت میں اللہ کی نعمت کہلا سکتا ہے جب کہ اس سے مال کے حقوق ادا کردیئے جائیں اور اگر بخل سے کام لیا جائے تو یہی مال و دولت عذاب کا باعث بن جاتا ہے چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال عطا فرمائے، پھر وہ اس سے زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا مال ایک گنجے سانپ کی شکل میں ہوگا جس کی آنکھوں پر دو کالے نقطے ہوں گے وہ سانپ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا، میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ (بخاری، کتاب التفسیر، نیز کتاب الزکوٰۃ، باب اثم مانع الزکوٰۃ وقول اللہ ﴿وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ ....﴾) [١٧٩] ہرچیز اللہ کی میراث ہے :۔ یعنی جو مال تم چھوڑ کر مر جاؤ گے وہ تمہارے وارثوں کا ہوگا اور بالآخر اللہ کی ہی میراث میں چلا جائے گا چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’انسان کہتا رہتا ہے کہ یہ میرا مال ہے۔ یہ میرا مال ہے۔ حالانکہ اس کا مال وہی ہے۔ جو اس نے کھالیا یا پہن لیا یا اللہ کی راہ میں دے دیا۔ باقی مال تو اس کے وارثوں کا ہوگا۔‘‘ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال کیا کہ ’’افضل صدقہ کون سا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو تو تندرستی کی حالت میں مال کی خواہش مالدار ہونے کی امید اور محتاجی کا ڈر رکھتے ہوئے کرے اور اتنی دیر مت لگا کہ حلق میں دم آجائے تو اس وقت یوں کہنے لگے کہ اتنا مال فلاں کو دے دینا اور اتنا فلاں کو۔ حالانکہ اب وہ تو فلاں کا ہو ہی چکا۔‘‘ (بخاری، کتاب الوصایا، باب الصدقہ عندالموت) آل عمران
181 [١٨٠] اللہ کو بخیل ہونے کا طعنہ دینا اوریہودکی اللہ سے بدتمیزی :۔ یہ قول یہود کا ہے۔ پہلے (٣: ٧٥) میں بیان ہوچکا ہے کہ یہود میں سود خوری اور حرام خوری کی وجہ سے مال و دولت کی ہوس، زرپرستی اور بخل کا مرض پیدا ہوگیا تھا چنانچہ جب یہ آیت نازل ہوئی ﴿مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا ﴾ تو یہود اپنے جذبہ بخل سے مغلوب ہو کر کہنے لگے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں۔ اسی لیے تو وہ ہم سے قرضہ مانگتا ہے‘‘ ان کے اسی جواب کو اللہ تعالیٰ نے یہاں حکایتاً نقل فرمایا ہے۔ یہود کا یہ جواب ان کے بخل کا ہی نہیں ان کے خبث باطن کا پورا پورا پتہ دے رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مال تو سب اللہ ہی کا ہے۔ اسی نے تمہیں عطا کیا ہے اور جو قرض مانگتا ہے وہ بھی تمہارے ہی بھائی بندوں پر خرچ ہوگا۔ کیونکہ اللہ تو بے نیاز ہے۔ پھر اس قرض کو اپنی طرف منسوب کرنا اور پھر اس پر بڑا اجر عطا فرمانا اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت اور اس کا فضل ہے پھر اس جملہ میں جس انداز سے صدقہ کی ترغیب دی گئی ہے وہ نہایت لطیف پیرایہ ہے اور جتنا یہ پیرایہ لطیف ہے۔ اتنا ہی بھونڈے انداز سے یہود نے اس کا جواب دیا۔ چنانچہ ان کی یہ بدکلامی بھی ان کے نامہ اعمال میں لکھ دی گئی ہے، اسی نامہ اعمال میں جہاں جہاں ان کی انتہائی بدکرداری یعنی انبیاء کا قتل لکھا گیا ہے۔ قیامت کے دن یہ سب کچھ ان کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ پھر ان کے کیے کی پوری پوری سزا بھی انہیں جلا دینے والے عذاب کی صورت میں دی جائے گی۔ آل عمران
182 آل عمران
183 [١٨١] یہود کا آئشیں قربانی والاعذر:۔ یہودیوں کا یہ قول صریح جھوٹ اور اللہ پر بہتان ہے۔ تورات میں یا موجودہ بائیبل میں کہیں بھی مذکور نہیں کہ جو نبی آتشیں قربانی کا معجزہ پیش نہ کرسکے وہ نبی نہ ہوگا البتہ اس حد تک یہ بات درست ہے کہ بعض انبیاء کو یہ معجزہ دیا گیا تھا۔ سب سے پہلے تو قابیل اور ہابیل کی قربانی کے قبول ہونے کا ہی یہ معیار مقرر ہوا تھا۔ پھر بعد میں حضرت الیاس، حضرت سلیمان اور حضرت یحییٰ علیہم السلام کو یہ معجزہ عطا ہوا تھا اور بیشتر انبیاء ایسے تھے جنہیں یہ معجزہ نہیں دیا گیا تھا۔ اب یہود سے سوال یہ کیا جارہا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک کسی نبی کے برحق ہونے کا یہی معیار ہے تو پھر جن انبیاء کو یہ معجزہ دیا گیا تھا۔ انہیں تم نے کیوں قتل کیا تھا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو ان یہود نے قتل کردیا اور اسرائیل کے بادشاہ کی بعل پرست ملکہ حضرت الیاس کی دشمن ہوگئی اور زن پرست بادشاہ اپنی ملکہ کو خوش کرنے کے لیے ان کے قتل کے درپے ہوا۔ آخر انہیں وہاں سے نکل کر جزیرہ نمائے سینا میں پناہ لینا پڑی (سلاطین باب ١٨: ١٩) لیکن اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مذکورہ انبیاء کے علاوہ اور بھی کئی نبی تھے جنہیں یہ معجزہ عطا ہوا تھا اور یہود نے انہیں قتل کیا تھا اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے یہ صریح بہتان اس لیے گھڑا تھا کہ نبی آخر الزمان پر ایمان نہ لانے کے لیے ایک عذر کا کام دے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یہود اپنے اللہ سے کئے ہوئے عہد کے کس حد تک پابند ہیں۔ آل عمران
184 [١٨٢] اس آیت میں (بینات) سے مراد معجزات۔ زبر سے چھوٹی چھوٹی کتابیں اور نصیحت نامے اور کتاب منیر سے مراد ایسی جامع کتاب ہے جس میں اوامر و نواہی، اخلاقیات، قصص اور مواعظ سب کچھ موجود ہو۔ جیسے تورات اور قرآن کریم ہیں۔ یعنی یہود نے آتشیں قربانی پیش کرنے والے انبیاء کو قتل کیا اور بہت سے رسول جو معجزات، نصیحت نامے اور جامع کتابیں لے کر آئے تھے انہیں بھی جھٹلاتے رہے ہیں۔ پھر اگر آپ کو بھی جھٹلا رہے ہیں تو تعجب نہ ہونا چاہئے بلکہ آپ صبر سے کام لیجئے۔ آل عمران
185 [١٨٣] اخروی کامیابی کا معیار:۔ یعنی موت تو ہر ایک کو آ کے رہے گی اور قیامت کے دن ان یہود کو ان کے اعمال کا بدلہ مل کے رہے گا اور ایک حدیث ہے 'مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قَیَامَتُہُ' یعنی جو مرگیا اس کی قیامت قائم ہوگئی۔ اس لحاظ سے عذاب و ثواب مرنے کے ساتھ ہی عالم برزخ میں شروع ہوجاتا ہے اور کامیابی کا معیار یہ ہے کہ انسان دوزخ کے عذاب سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہوجائے۔ اس آیت میں ان متصوفین کا رد موجود ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں نہ دوزخ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے اور نہ جنت کی طلب رکھنی چاہئے۔ بلکہ محض اللہ کی رضا کو ملحوظ رکھ کر اس کی عبادت کرنا چاہئے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اپنے لیے قبر کے عذاب اور دوزخ کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے اور جنت کے لیے دعا فرماتے رہے۔ [١٨٤] دنیا کس لحاظ سے دھوکے کا سامان ہے؟ یعنی دنیا میں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ وہ حق پر ہے اور اللہ کے ہاں مقبول بندہ ہے۔ اسی طرح کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا بھی اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ اللہ اس سے ناراض ہے یا وہ باطل پر ہے۔ بلکہ بسا اوقات اخری نتائج ان کے برعکس ہوتے ہیں۔ لہٰذا کسی کو اس دھوکہ میں نہ رہنا چاہئے اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی عارضی بہار اور ظاہری زیب و زینت میں اتنی کشش ہے اور اتنی پرفریب ہے جس میں مگن ہو کر انسان بسا اوقات آخرت سے غافل ہوجاتا ہے اور غافل رہتا ہے۔ تاآنکہ جب موت آجاتی ہے تب اس کی آنکھیں کھلتی ہیں کہ مجھے دنیا میں رہ کر کرنا کیا چاہئے تھے اور میں کرتا کیا رہا۔ چنانچہ اسی مضمون کی ایک حدیث ہے کہ 'الناس نیام اذا ماتوا انتبھوا' (یعنی لوگ سوئے پڑے ہیں جب مریں گے تب ہوشیار ہوں گے) دنیا دارالامتحان ہے اور ا س کا ایک ایک لمحی قیمتی ہے:۔ یہ تو دنیا کے دھوکے کا پہلو ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ دنیا ہر شخص کے لئے دارالامتحان ہے۔ اس کی زندگی عیش و عشرت میں گزر رہی ہو یا تنگی ترشی میں، وہ خود صحت مند ہو یا بیمار ہو، عالم ہو یا نادان۔ غرضیکہ انسان کی کوئی بھی حالت ہو وہ امتحانی دور سے گزر رہا ہے۔ اس امتحانی دور یا امتحانی پرچے کا آخری وقت اس کی موت ہے۔ موت کے ساتھ ہی اسے یہ از خود معلوم ہوجائے گا کہ وہ اس امتحان میں کامیاب رہا ہے یا ناکام؟ ساتھ ہی اس کی کامیابی اور ناکامی کے اس پر اثرات مرتب ہونا شروع ہوجائیں گے۔ اور آخرت میں اسے اس کے اعمال کے مطابق اچھا یا برا بدلہ مل کے رہے گا۔ اس لحاظ سے دنیا اور اس کی زندگی بلکہ اس کا ایک ایک لمحہ نہایت قیمتی ہے۔ اور ہر شخص کو اپنی زندگی کے لمحات سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ آل عمران
186 [١٨٥] ابتلا کے فوائد:۔ یہ انتباہ کرکے مسلمانوں کو اسلام کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کے لیے آمادہ کیا جارہا ہے اور آزمائش کے فوائد پہلے بتلائے جاچکے ہیں۔ مختصراً یہ کہ ابتلاء سے صبر و استقامت کی عادت پیدا ہوتی ہے۔ اخلاقی کمزوریوں کا علاج ہوتا ہے۔ درجات بلند ہوتے ہیں اور مومنوں اور منافقوں میں امتیاز ہوجاتا ہے۔ [١٨٦] یہود اور مشرکین کے ہاتھوں مسلمانوں کو جو تکالیف پہنچیں ان کی فہرست بڑی طویل ہے، اور کتاب و سنت میں جا بجا مذکور ہیں۔ ان کا حصران حواشی میں ممکن نہیں، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ دور نبوی میں ہجرت نبوی سے پہلے بھی اور بعد میں بھی آپ کی زندگی انہیں لوگوں سے دکھ اٹھاتے گزری تو بے جا نہ ہوگا، اور مسلمانوں کو یہ خبر اس لیے دی جارہی ہے کہ ذہنی طور پر مسلمان ان تکلیفوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار رہیں۔ آل عمران
187 [١٨٧]یہود کی حرام خوری اور عہد شکنی :۔ یہود سے ہرگز یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ صرف اسی نبی کو سچا سمجھیں اور اس پر ایمان لائیں جس کو آتشیں قربانی کا معجزہ دیا گیا ہو۔ لیکن انہوں نے اپنی طرف سے اللہ پر یہ بہتان لگا دیا تھا، تاکہ رسول اللہ پر ایمان نہ لانے کا معقول بہانہ ہاتھ آجائے اور جو عہد ان سے فی الواقعہ لیا گیا تھا اس کی ایک ایک شق میں انہوں نے اس عہد کو توڑ ڈالا اور جی بھر کے عہد شکنی کی۔ ان سے عہد یہ لیا گیا تھا کہ وہ تورات پر سختی سے عمل کریں گے۔ اس کی خوب اشاعت کریں گے۔ اس میں سے کچھ بھی چھپائیں گے نہیں۔ لیکن یہود نے یہ کیا کہ اس کے بے شمار احکام کی خلاف ورزی کی جن کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس کی بہت سی آیات کو چھپاتے رہے۔ مثلاً ایسی آیات جن میں آپ کی بشارت دی گئی تھی یا رجم سے متعلقہ آیات کو، پھر انہوں نے تحریف لفظی بھی کی اور معنوی بھی، جیسے دوسروں کا مال بٹورنے کی خاطر لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ کا مسئلہ گھڑ لیا تھا اور غیر یہود سے سود بھی وصول کرلیتے اور کسی بھی ناجائز طریقہ سے ان کا مال ہڑپ کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے۔ یا غلط فتوے دے کر پیسے بٹورتے تھے۔ آل عمران
188 [١٨٨]یہود کا ناکردہ کاموں میں اپنی تعریف چاہنا:۔ اس آیت کے شان نزول کے سلسلے میں مندرجہ ذیل تین احادیث ملاحظہ فرمائیے یہ تینوں حدیثیں بخاری شریف میں مذکور ہیں۔ ١۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ نے یہود کو بلا بھیجا اور ان سے دین کی کوئی بات پوچھی۔ انہوں نے حق چھپایا اور غلط بات بتلادی۔ پھر سمجھے کہ ہم (نے کمال کیا) آپ کے نزدیک قابل تعریف ٹھہرے یعنی آپ کو بتلایا بھی اور حق بات چھپا بھی لی۔ پھر یہی آیت پڑھی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ٢۔ مروان نے اپنے دربان رافع کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا کہ اس آیت کا مطلب پوچھ کے آؤ، کیونکہ اس آیت کی رو سے ہر شخص عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص کو جو نعمت ملی، یا وہ جو کرتا ہے۔ اس پر خوش ہوتا ہے اور وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے ناکردہ کام پر اس کی تعریف کی جائے۔ چنانچہ رافع ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم مسلمانوں کا اس سے کیا تعلق؟ پھر انہوں نے اس سے پہلی آیت ساتھ ملا کر پڑھی اور کہا کہ یہ ان یہودیوں کے حق میں ہے۔ جنہیں آپ نے بلا کر ان سے کوئی بات پوچھی تو انہوں نے حق بات تو چھپا دی اور کوئی غلط بات بتلا دی پھر یہ سمجھے کہ وہ ان کے نزدیک قابل تعریف ٹھہرے (یعنی آپ کو بتلا بھی دیا اور حق بھی چھپا لیا) پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ٣۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ کے زمانہ میں چند ایسے منافق تھے کہ جب آپ جہاد پر جاتے تو وہ پیچھے رہ جاتے اور خوش ہوتے۔ پھر جب آپ واپس آتے تو قسمیں کھا کر طرح طرح کے بہانے بناتے اور یہ بات انہیں اچھی لگتی تھی کہ ان کے ناکردہ کاموں پر ان کی تعریف ہو۔ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ان میں سے حدیث نمبر ١ اور ٢ کے راوی ابن عباس رضی اللہ عنہما ہیں اور اس آیت کو یہود سے متعلق بتلاتے ہیں اور حدیث ٣ کے راوی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں اور وہ اس آیت کو منافقین سے متعلق بتلاتے ہیں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے پہلی دو احادیث راجح معلوم ہوتی ہیں۔ کیونکہ پیچھے یہود کی کرتوتوں کا ذکر چل رہا ہے۔ تاہم اس مضمون میں منافقین تو کیا خود مسلمانوں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ یعنی جو شخص بھی ایسی شہرت پسند کرتا ہو کہ فلاں آدمی بڑا مخلص، دیانتدار، ایثار پیشہ خادم خلق اور عالم دین ہے یا ان میں سے کسی بھی صفت کی شہرت چاہتا ہو جبکہ حقیقت میں معاملہ ایسا نہ ہو یا کسی نے اچھے کام میں محنت تو تھوڑی ہی کی مگر شہرت اور ناموری اس سے بہت زیادہ چاہتا تو اس کا وہی حشر ہوگا جو اس آیت میں مذکور ہے۔ آل عمران
189 آل عمران
190 [١٨٩] یعنی عقلمند انسان جب زمین و آسمان کی پیدائش، سورج اور چاند کی گردش اور سیاروں کے احوال، دن رات کی آمدورفت کے مضبوط اور مربوط نظام میں غور کرتا ہے کہ کس طرح سب سیارے ایک معین رفتار اور معین قانون کے تحت فضاؤں میں گردش کر رہے ہیں اور ان کے اس انضباط میں کبھی لمحہ بھر کا بھی فرق نہیں پڑتا تو اسے یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ تمام تر کارخانہ کائنات ایک ہی قادر مطلق اور مختار کل فرمانروا کے ہاتھ میں ہوسکتا ہے۔ جس نے اپنی عظیم قدرت و اختیار سے کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز کو اپنی اپنی حدود میں جکڑ رکھا ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ حدود سے تجاوز کرسکے۔ اگر اس عظیم الشان کارگاہ کا ایک پرزہ یا کوئی کارندہ اس مالک الملک کی قدرت و تصرف سے باہر ہوتا تو کارخانہ عالم کا یہ مربوط اور مستحکم نظام ہرگز قائم نہ رہ سکتا۔ آل عمران
191 [١٩٠] اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عقلمند صرف وہ لوگ ہیں جو اس کارخانہ قدرت میں غور کرنے کے بعد اللہ کی بے پناہ قدرت و تصرف کی حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر اس اعتراف حقیقت کے نتیجہ میں ان کے بدن کارواں رواں محبت الٰہی میں سرشار ہو کر اس کی حمد و ثناء کرنے لگتا ہے اور ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے اور اس کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اس کارخانہ قدرت میں غورو فکر کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچیں کہ یہ عالم مادہ سے بنا ہے۔ پھر اتفاق سے یوں ہوگیا، پھر اتفاق سے یوں ہوگیا اور اس مضبوط و مربوط نظام کائنات کو محض اتفاقات کا نتیجہ کا قرار دیتے ہیں، وہ ہرگز اہل عقل نہیں ہیں۔ کیونکہ اتفاق سے کبھی کبھار تو خیر پیدا ہوسکتی ہے لیکن مسلسل خیر کبھی پیدا نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ اس کائنات کی ہر ایک چیز نہایت خوبی کے ساتھ اپنے اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ گویا اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات میں دہریت اور نیچریت کا رد موجود ہے۔ [١٩١]آخرت اللہ کے عدل کاتقاضا ہے:۔ اس کائنات کے نظام میں غور و فکر کرنے سے اہل عقل پر یہ حقیقت بھی منکشف ہوجاتی ہے کہ اس کائنات میں ایک انسان ہی ایسی مخلوق ہے جسے عقل اور تمیز عطا کی گئی ہے۔ اسے اللہ نے تصرف کے کچھ اختیارات بھی دیئے ہیں اور اخلاقی حس بھی پیدا کی ہے۔ لہٰذا یہ بات سراسر عقل اور حکمت کے خلاف ہے کہ اس سے اس کی دنیا کی زندگی کے بارے میں باز پرس نہ ہو اور اسے نیکی پر جزا اور بدی پر سزا نہ دی جائے، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک انسان عمر بھر ظلم و ستم کئے جاتا ہے۔ لوگوں کو پریشان بھی کرتا ہے۔ ان کے حقوق بھی غصب کرتا ہے۔ لیکن اسے اس دنیا میں کوئی سزا نہیں ملتی۔ اسی طرح بعض دفعہ ایک نیک طبع اور دیندار انسان کی ساری عمر سختیاں اور مصائب برداشت کرتے اور تنگی و تنگ دستی کے عالم میں گزر جاتی ہے اور اسے کبھی راحت میسر نہیں آتی اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے عدل کے خلاف ہے۔ اس سے ایک عقلمند انسان لازماً یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے گا کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہونی چاہئے۔ جس میں ہر ایک کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جاسکے۔ اس طرح انہیں اخروی زندگی کا یقین حاصل ہوجاتا ہے اور وہ اللہ کی گرفت سے پناہ مانگنے لگتے ہیں۔ [١٩٢] کائنات اور دہریت :۔ باطل کی ضد حق ہے اور جس طرح حق کا لفظ وسیع المعنی ہے۔ اسی طرح باطل کے بھی بہت سے معنی ہیں۔ مثلاً باطل بمعنی جھوٹ، جھوٹی بات، بہتان، عبث، بے کار، بے مقصد ہے۔ اس آیت میں بتلایا جارہا ہے کہ یہ کائنات بے مقصد پیدا نہیں کی گئی۔ جیسا کہ مادہ پرستوں، دہریوں اور نیچریوں کا خیال ہے کہ مادہ کے اجزا باہم ملتے گئے اور کائنات کی ایک ایک چیز وجود میں آتی گئی۔ ہائیڈروجن کے ذرات ملے تو سورج پیدا ہوگیا اور وہ خود بھی گھومنے لگا۔ پھر اس سے ایک حصہ کٹ کر علیحدہ ہوا تو وہ زمین بن گئی۔ زمین نے جب گھومنا شروع کیا تو اس کا ایک حصہ کٹ کر علیحدہ ہوا تو وہ چاند بن گیا اور اسی طرح دوسرے سیارے وجود میں آتے گئے اور انہی اتفاقات سے کائنات سے ایک ایک چیز بن گئی۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ جس طرح کائنات کی ہر چیز جیسے اتفاق سے بنتی گئی۔ اسی طرح تباہ ہوجائے گی اور تباہی کے بعد پھر اجزا ملنے شروع ہوجائیں گے اور یہ سلسلہ یوں ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلتا رہے گا۔ (وقس علیٰ ھٰذا من الخرافات) گویا ان کے خیال میں یہ کائنات محض ایک تماشا گاہ اس کی مختلف صورتوں اور اتفاقات کا کھیل ہے۔ کائنات کی ہر چیز انسان کی خادم ہے:۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ پوری کائنات تو درکنار، کائنات کی کوئی چیز بھی بے کار پیدا نہیں کی گئی۔ بلکہ با مقصد طور پر پیدا کی گئی ہے۔ قرآن کی تصریحات کے مطابق زمین اور اس کی جملہ اشیاء شمس و قمر اور ستارے سب انسان کی خدمت کے لیے بنائے گئے ہیں اور اس کی خدمت پر مامور ہیں۔ زمین سے انسان کی ہر طرح کی جسمانی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ سورج اور اس کی گردش سے رات دن پیدا ہوتے، موسم بنتے اور فصلیں پکتی ہیں۔ چاند سے رات کو روشنی اور ٹھنڈک ملتی ہے اور پھلوں میں رس پیدا ہوتا ہے۔ ستاروں سے ہم رات کے اوقات کی تعیین کرتے، روشنی حاصل کرتے اور رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور پھر یہ آسمان کی زینت بھی ہیں۔ یہی صورت ہواؤں اور بادلوں کی ہے۔ اب دیکھئے ان میں سے کوئی چیز بھی نہ ہو تو انسان کا جینا محال ہوجاتا ہے لیکن اگر کائنات میں انسان نہ ہو تو ان چیزوں کے استقلال میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اس بات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کا مقصد انسان کی خدمت ہے اور غالباً یہی وہ باشعور و باختیار مخلوق ہے۔ جسے سب چیزوں کے بعد پیدا کیا ہے۔ لہٰذا یہ کائنات یونہی بے مقصد نہیں بلکہ ایک نہایت اہم مقصد کے ساتھ وجود میں لائی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کبھی کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں فرماتا، اس کی ذات اس سے پاک ہے۔ انسان کی تخلیق کامقصد:۔ اب اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ تو انسان کے لیے ہے تو پھر انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ تو اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا۔ ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ﴾یعنی میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ اور عبادت کا مفہوم اس قدروسیع اور جامع ہے کہ اس میں ہر طرح کے شرک کا رد، توحید کی اہمیت، قانون جزا و سزا، جنت و دوزخ بلکہ پوری کی پوری شریعت اس میں آجاتی ہے۔ کائنات، کائنات کا خالق اور اس کائنات میں انسان کا مقام، یہ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی حقیقت معلوم کرنے اور ان کا صحیح تعین کرنے پر اہل عقل و خرد ابتدائے آدم سے لے کر غور و فکر کرتے رہے ہیں۔ پھر جس کسی سائنسدان یا فلاسفر نے بھی وحی الٰہی سے بے نیاز ہو کر سوچنا شروع کیا تو اکثر اس کی عقل نے ٹھوکر ہی کھائی ہے۔ آل عمران
192 آل عمران
193 [١٩٣]کائنات کےمعمہ کا حل‘اور اس میں انسان کا مقام :۔ پکارنے والے سے مراد اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ہے۔ جو وحی الٰہی کی روشنی میں انسانوں کی رہنمائی کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہے کہ اس نے اس معمہ کو محض انسانی عقل کے حوالے نہیں کیا بلکہ اپنے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کرکے اس معمہ کا حل خود ہی بتلا دیا ہے۔ اس کو بتلایا یہ گیا ہے کہ کائنات میں اس کا صحیح مقام یہ ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے۔ کائنات کی کوئی بھی چیز نہ اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے اور نہ سنوار سکتی ہے۔ اس کا تمام تر نفع و نقصان اس خالق و مالک کے ہاتھ میں ہے جو اس پوری کائنات کا خالق ہے۔ پھر رسولوں اور کتابوں ہی کے ذریعہ انسان کو اس کی زندگی کا مقصد یہ بتلایا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرے اور دنیا میں اس طرح زندگی گزارے جس سے اسے اخروی نجات حاصل ہوجائے۔ ساتھ ہی ساتھ اسے یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ وہ محض اپنے نیک اعمال پر تکیہ نہ کرے بلکہ اپنے اللہ سے گناہوں کی بخشش بھی طلب کرتا رہے اور بھلائی کے لیے دعائیں بھی مانگتا رہے۔ آل عمران
194 [١٩٤] یعنی وہ اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ ہمیں اپنے ان وعدوں کا مصداق بنا دے جو تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ ہم سے کئے ہیں اور ہم سے وہ وعدے پورے کر دے، کہیں ایسا نہ ہو دنیا میں تو ہم پیغمبروں پر ایمان لاکر کافروں کی تضحیک اور طعن و ملامت کا نشان بنے ہی ہوئے ہیں۔ آخرت میں بھی ان کے سامنے ہماری رسوائی ہو اور وہ ہم پر یہ پھبتی کسیں کہ ایمان لاکر بھی تمہیں کیا حاصل ہوا ؟ اور دوسرا معنی اس کا یہ بھی ہے کہ تو نے ہم سے جو اس دنیا میں کفار پر فتح و نصرت عطا کرنے کا وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما، اور کافروں اور منافقوں کی تضحیک اور لعن طعن سے ہمیں بچا لے۔ آل عمران
195 [١٩٥] یعنی مرد اور عورت چونکہ دونوں ایک ہی نوع سے ہیں۔ لہٰذا نیک اعمال کا جس قدر بدلہ مردوں کو ملے گا۔ اتنا ہی عورتوں کو ملے گا۔ جزائے اعمال کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں اور اس دنیا میں جو مرد کو بیوی پر تفوق حاصل ہے۔ اس کی وجوہ دو ہیں۔ ایک عائلی نظام کا استقلال ہے جو ایک ہی سربراہ کی صورت میں برقرار رہ سکتا ہے اور مرد چونکہ قویٰ کے لحاظ سے عورت سے مضبوط ہے۔ لہٰذا گھر کا سربراہ وہی ہونا چاہئے، اور دوسرے یہ کہ مرد چونکہ بیوی کے نان و نفقہ اور اولاد کی تربیت اور جملہ اخراجات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لہٰذا عقلی طور پر بھی جس کا خرچ ہو رہا ہو اسی کی رائے کو فوقیت دی جانی چاہئے اور یہ معاملہ صرف گھریلو نظام تک محدود ہے۔ رہی جزائے اعمال کی بات تو اس کا انحصار نوع پر نہیں بلکہ ہر عمل کرنے والے کی نیت پر ہے۔ جس قدر نیت پاکیزہ ہوگی اتنا ہی بہتر اجر ملے گا۔ [١٩٦] یعنی جن لوگوں نے میری راہ میں اور اسلام کو سربلند کرنے اور رکھنے کی خاطر جان و مال اور وطن کی قربانیاں دی ہیں اور طرح طرح کے دکھ اٹھائے ہیں، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں ہوں اللہ سب سے یکساں سلوک کرتے ہوئے ان کی لغزشیں معاف فرما دے گا اور ان قربانیوں کا بہترین صلہ عطا فرماتے ہوئے انہیں پربہار باغات میں داخل کرے گا۔ روایات میں آیا ہے کہ ایک دفعہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! قرآن میں جہاں کہیں ہجرت یا اعمال حسنہ کا ذکر آتا ہے تو مردوں کا ہی آتا ہے عورتوں کا کیوں نہیں آتا ؟ تو اس بات کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔ آل عمران
196 [١٩٧] یعنی اللہ کے دین کی مخالفت کے باوجود کفار کے تجارتی قافلے یمن سے شام تک جاتے اور معقول منافع کماتے اور پھر عیش و عشرت سے اپنی زندگی بسر کرتے ہیں تو اس چند روزہ عیش و آرام سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ ان پر مہربان ہے۔ کیونکہ آخرت میں ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔ لہٰذا کسی کو اس فریب میں نہ پڑنا چاہئے۔ آل عمران
197 اس آیت کی تفسیر اگلی آیت کے ساتھ آ رہی ہے۔ آل عمران
198 [١٩٨] ان دو آیات میں ایک مسلمان اور ایک کافر کی دنیوی اور آخروی زندگیوں کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ فرض کیجئے کہ ایک کافر کی دنیا کی یہ چند روزہ زندگی عیش و آرام سے گزرتی ہے۔ (حالانکہ عملاً ایسا نہیں ہوتا اسے بھی دنیا میں کئی طرح کے غم اور تکلیفیں برداشت کرنا پڑتی ہیں) لیکن آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ وہ عذاب میں مبتلا رہتا ہے، اور مسلمان کی یہ چند روزہ زندگی، دکھ، مصائب، پریشانی اور تنگدستی میں گزرتی ہے۔ (حالانکہ عملاً ایسا نہیں ہوتا، اسے بھی اس دنیا میں خوشی اور خوشحالی کے لمحات میسر آتے ہی رہتے ہیں) لیکن آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے لیے ہر طرح کی نعمتیں ہی نعمتیں اور عیش و عشرت کی زندگی ہو تو بتلائیے کہ ان دونوں میں سے کون فائدہ میں رہا ؟ لہٰذا محض دنیوی زندگی کا ہی تقابل کرکے دھوکہ میں نہ آنا چاہئے۔ [١٩٩] مہمانی کا لفظ اس لیے فرمایا کہ اہل جنت کو اپنے کھانے پینے کے لیے خود کچھ بھی مشقت یا تردد نہ کرنا پڑے گا۔ بلکہ عزت و آرام سے بیٹھے بٹھائے ہر چیز تیار مل جایا کرے گی جیسا کہ کسی مہمان کو ملتی ہے۔ دنیا میں ان لوگوں نے جس قدر زیادہ دکھ اور اسلام کی راہ میں مصائب برداشت کئے ہوں گے، اتنا ہی انہیں بہتر سے بہتر انعامات سے نوازا جائے گا۔ آل عمران
199 [٢٠٠] یہود میں کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو اللہ سے ڈرنے والے، حرام خوری سے بچنے والے دیانتدار اور نیک سرشت تھے۔ اگرچہ ایسے لوگ بہت کم تھے، تاہم تھے اور ان کا ذکر پہلے سورۃ آل عمران کی آیت ١١٣ تا ١١٥ میں گزر چکا ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے اور ایسے لوگ دوہرے ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ ایک اپنے نبی اور کتاب پر ایمان لانے کا دوسرے نبی آخرالزمان اور قرآن پر ایمان لانے کا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ہے کہ تین آدمیوں کو دہرا اجر ملے گا، ایک تو اس کو جس کی کوئی لونڈی ہو اور وہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرے، ادب سکھلائے پھر اس سے نکاح کرلے دوسرے اس یہودی یا عیسائی کو جو اپنے پیغمبر پر ایمان لایا، پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی ایمان لایا۔ تیسرے اس غلام کو جو اللہ اور اپنے آقا دونوں کا حق ادا کرے۔ (بخاری، کتاب الجہاد، باب فضل من اسلم من اھل الکتاب) آل عمران
200 [٢٠١] (صَابِرُوْا) کے دو معنیٰ ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر صبر کرو اور دوسرے یہ کہ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے رہو۔ یعنی جو اسلام کی راہ میں مشکلات آنے پر خود بھی ثابت قدم رہیں اور دوسروں کو بھی ایسی ہی تلقین کرتے اور ان کی ڈھارس بندھاتے رہیں۔ [٢٠٢] چوکی پہرہ کی فضیلت اور فوجی چھاؤنیاں:۔ اسی طرح (رَابِطُوْا) میں جہاد کے لیے تیار رہنا، کسی چوکی پر پہرہ دینا، مورچے پر رہنا اور اپنی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت کرنا سب کچھ شامل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’اللہ کی راہ میں ایک دن مورچے پر رہنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور تم میں کسی کو ایک کوڑا رکھنے کے برابر جنت میں جگہ مل جائے تو وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور شام کو جو آدمی اللہ کی راہ (جہاد) میں چلے یا صبح کو تو وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ ) نیز آپ نے فرمایا : ’’ایک دن رات پہرہ دینا، ایک ماہ کے روزے اور قیام سے بہتر ہے۔ اگر وہ پہرہ دیتے ہوئے شہید ہوگیا تو اس کا یہ عمل برابر جاری رہے گا اور اس کو اس پر اجر دیا جائے گا اور وہ فتنوں سے امن میں رہے گا۔‘‘ (مسلم، کتاب الأمارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عزوجل) بعض فقہاء رباط کو جہاد فی سبیل اللہ سے بھی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جہاد غیر مسلموں سے کیا جاتا ہے اور رباط خود مسلمانوں کی حفاظت کے لیے ہوتا ہے۔ مدنی دور کے ابتدائی سالوں میں مدینہ کے ارد گرد بسنے والے مشرک قبائل آپس میں گٹھ جوڑ کرکے مدینہ پر حملہ کی سازشیں کرتے رہتے تھے۔ آپ ان کے حالات سے ہر لحظہ باخبر رہتے اور جب محسوس کرتے کہ مدینہ کی طرف کوئی بری نظروں سے دیکھ رہا ہے تو فوراً خود وہاں پہنچ جاتے، یا سریہ بھیج دیتے تھے۔ صلح حدیبیہ سے پہلے اکثر ایسے واقعات پیش آتے رہے اور بسا اوقات یوں ہوا کہ دشمن اسلامی دستوں کی آمد کی خبر پاکر تتر بتر ہوجاتا تھا۔ ٩ ھ میں عرب کا بیشتر علاقہ اسلام کے زیر نگین آگیا تو شام کی سرحد پر عرب عیسائیوں نے جو قیصر روم کے زیراثر تھے۔ مسلمانوں کی سرحد پر اپنی افواج کو اکٹھا کرنا شروع کردیا۔ افواہ یہ گرم تھی کہ دو لاکھ عیسائی اس سرحد پر جمع ہورہے ہیں۔ غزوہ تبوک اسی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اسلامی لشکر کے پہنچنے سے پہلے ہی دشمن کا لشکر منتشر ہوگیا اور جنگ کی نوبت ہی نہ آئی۔ دور فاروقی میں جب اسلامی سلطنت کی سرحدیں بہت وسیع ہوگئیں تو سرحدوں پر فوجی چھاؤنیاں قائم کردی گئیں۔ جہاں ہر وقت فوج موجود رہتی تھی تاکہ دشمن کی نقل و حرکت کی بروقت سرکوبی کی جاسکے۔ اور بعض لوگوں نے رابِطُوْا سے باہمی روابط اور معاشرتی آداب کو ملحوظ رکھنا مراد لیا ہے۔ یعنی صلہ رحمی، رشتوں ناطوں کا پورا پورا لحاظ رکھو اور ہر شخص دوسرے کے حقوق و آداب کو ملحوظ رکھ کر معاشرہ میں ہمدردی، مروت اور اخوت کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ دوسروں سے احسان اور بہتر سلوک کرنا وغیرہ سب باتیں اس میں شامل ہیں۔ سورۃ آل عمران میں چونکہ غزوہ احد کا تفصیلی بیان آیا ہے اور اس کا بہت سا حصہ اسی غزوہ کے حالات پر مشتمل ہے اور یہ آخری آیت گویا اس سورۃ کا تتمہ اور لب لباب ہے جس میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں ہر وقت تیار رہنے کے ضمن میں جامع ہدایات دی گئی ہیں۔ آل عمران
0 سورة نساء النسآء
1 [١] ایک جان سے مراد ابو البشر آدم ہیں۔ انہی سے آپ کی بیوی سیدہ حوا علیہا السلام کو پیدا کیا گیا۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’میری وصیت مانو اور عورتوں سے بھلائی کرتے رہنا۔ کیونکہ عورت کی خلقت پسلی سے ہوئی ہے اور پسلی کے اوپر کا حصہ ٹیڑھا ہوتا ہے۔ اگر اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو ٹوٹ جائے گی اور اگر یوں ہی چھوڑ دو۔ تو ٹیڑھی ہی رہے گی۔ لہٰذا میری وصیت مانو اور ان سے اچھا سلوک کرو۔‘‘ (بخاری : کتاب بدء الخلق، باب وإذ قال ربک للملائکۃ) [٢] اس سورۃ کا آغاز اس آیت سے غالباً اس لئے کیا جارہا ہے کہ اس سورۃ کا بیشتر حصہ عائلی اور معاشرتی قوانین پر مشتمل ہے۔ نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سطح پر سب انسان ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ لہٰذا ہر ایک سے حسن سلوک سے پیش آنا ضروری ہے۔ [٣] صلہ رحمی کی تاکید اور فضیلت :۔ قریبی رشتہ داروں سے بہترین سلوک کرنا بہت بڑا نیکی کا کام ہے اور ان تعلقات کو بگاڑنا، خراب کرنا یا توڑنا گناہ کبیرہ ہے۔ اس سلسلہ میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ رحم، رحمٰن سے نکلا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رحم سے کہا ’’جو تجھے ملائے گا میں اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرے گا میں اسے قطع کروں گا۔‘‘ (بخاری، کتاب الادب، باب من وصل وصلہ اللہ ) ٢۔ فراخی رزق کا نسخہ :۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جو شخص چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کی عمر لمبی ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہئے۔‘‘ (بخاری، کتاب الادب۔ باب من بسط لہ فی الرزق/مسلم کتاب البر والصلۃ۔ باب صلۃ الرحم) ٣۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘ (بخاری، کتاب الادب۔ باب إثم القاطع مسلم کتاب البر والصلہ۔ باب صلۃ الرحم و تحریم قطیعتھا) ٤۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ مخلوق کی تخلیق سے فارغ ہوا تو رحم نے کہا (اے اللہ) قطع رحمی سے تیری پناہ طلب کرنے کا یہی موقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہاں! کیا تو اس بات سے راضی نہیں کہ میں اسے ہی ملاؤں جو تجھے ملائے اور اسے توڑوں جو تجھے توڑے؟ رحم نے کہا : ہاں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’تیری یہ بات منظور ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاہو تو (دلیل کے طور پر) یہ آیت پڑھ لو ﴿ فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْ ﴾ (سورہ محمد، آیت : ٢٢) (بخاری و مسلم۔ حوالہ ایضاً) ٥۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بدلہ کے طور پر رشتہ ملانے والا، رشتہ ملانے والا نہیں بلکہ رشتہ ملانے والا تو وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے ملائے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب لیس الواصل بالمکافیئ) ٦۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا ’’میرے کچھ قریبی ہیں۔ میں ان سے رشتہ ملاتا ہوں اور وہ مجھ سے رشتہ توڑتے ہیں۔ میں ان سے اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں۔ میں ان سے حوصلہ سے پیش آتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جاہلوں کا سا برتاؤ کرتے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اگر ایسی بات ہی ہے جو تم کہہ رہے ہو تو گویا تم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو۔ اور جب تک تم اس حال پر قائم رہو گے ان کے مقابلہ میں اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ ہمیشہ ایک مددگار رہے گا۔‘‘ (مسلم، کتاب البرو الصلہ۔ باب صلۃ الرحم وتحریم قطیعتھا) ٧۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جس زمانہ میں آپ کی (قریش سے) صلح تھی۔ اس دوران میری ماں (میرے پاس) آئی اور وہ اسلام سے بے رغبت تھی۔ میں نے آپ سے پوچھا کیا میں اس سے صلہ رحمی کرسکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ہاں‘‘ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب صلۃ المراۃ أمھا ولھا زوج) ٨۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے ایسا عمل بتلائیے۔ جو مجھے جنت میں لے جائے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اللہ کی عبادت کرو اور اس میں ذرا بھی شرک نہ کرنا، نماز قائم کرو زکوٰۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب فضل صلۃ الرحم) ٩۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’کوئی گناہ بغاوت اور قطع رحمی سے زیادہ اس بات کا اہل نہیں کہ اللہ اسے دنیا میں بھی فوراً سزا دے اور ساتھ ہی ساتھ آخرت میں بھی اس کے لیے عذاب بطور ذخیرہ رکھے۔‘‘ (ترمذی۔ ابو اب صفۃ القیامۃ) النسآء
2 [٤] یتیم کی سرپرستی اور خیرخواہی :۔ معاشرتی قباحتوں میں سے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے حقوق کی طرف توجہ دلائی۔ یتیم کی پرورش کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور یتیم کا سرپرست جنت میں اس طرح ہوں گے۔ پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیانی انگلی ذرا کھول کر اشارہ کیا۔ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب فضل من یعول یتیما) لیکن عرب میں یتیموں کے حقوق کئی طرح سے پامال ہو رہے تھے۔ انہی حقوق کی پامالی کا بالترتیب یہاں ذکر ہو رہا ہے۔ مثلاً جو چیزیں بطور امانت سرپرست کے پاس ہوتیں انہیں واپس کرتے وقت وہ یہ کوشش کرتا کہ اچھی چیز کے بدلے کوئی پرانی اور گھٹیا چیز دے کر خانہ پری کر دے۔ دوسری صورت یہ تھی کہ کھانے پینے کی اشیاء کو ملا جلا لیا جس میں یتیم کو کسر لگانے اور اپنا فائدہ ملحوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ ان دونوں باتوں سے منع کرتے ہوئے ایک اصولی بات بتلا دی کہ جس طریقے سے بھی تم یتیم کا مال کھاؤ۔ بہرحال یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ واضح رہے کہ پہلے یہ حکم دیا گیا تھا کہ یتیم کے کھانے پینے کی اشیاء اپنی اشیاء میں نہ ملاؤ۔ اس طرح بھی یتیم کو بعض دفعہ نقصان پہنچ جاتا تھا۔ مثلاً کھانا زیادہ پک گیا یا جتنا پکا تھا اتنا وہ کھا نہ سکا۔ اس لیے ایسی اشیائے خورد و نوش کو ملانے کی اجازت تو دے دی گئی مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ یتیم کو کسی طرح بھی نقصان نہ پہنچے۔ النسآء
3 [٥] یتیم لڑکیوں سے ناانصافی :۔ اور زیادہ حق تلفی یتیم لڑکیوں کی ہوتی تھی۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ یتیم لڑکی کا ولی کوئی قریبی رشتہ دار ہی ہوسکتا ہے اور وراثت میں بھی ولی اور یتیم لڑکی کا اشتراک ممکن ہے۔ اب لڑکی کے جوان ہونے پر تین صورتیں پیش آ سکتی تھیں : ایک یہ کہ لڑکی خوبصورت نہ ہو اور ولی کے دل میں اس کی الفت بھی نہ ہو اور وہ محض اس طمع سے اس سے نکاح کرلے کہ اس کا ورثہ کا مال ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اس طرح کا نکاح کرنا بھی اس لڑکی پر ظلم ہے۔ دوسرے یہ کہ لڑکی خوبصورت بھی ہو اور صاحب جائیداد بھی ہو، اس صورت میں ولی اس سے نکاح کرلیتا مگر جتنا حق مہر اسے دوسروں سے مل سکتا تھا اسے اس سے بہت کم دیتا اور دوسرا کوئی شخص ولی کی موجودگی میں اس سے نکاح کر بھی نہیں سکتا تھا۔ جبکہ ولی خود اس کا خواہش مند ہو۔ یہ بھی یتیم لڑکیوں کے حقوق پر ڈاکہ کی ایک صورت تھی۔ یہی ناانصافیاں تھیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا ہے۔ اس آیت کے شان نزول کے بارے میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص ایک یتیم لڑکی کی پرورش کرتا تھا اس نے صرف اس غرض سے اس کے ساتھ نکاح کرلیا کہ وہ ایک کھجور کے درخت کی مالکہ تھی ورنہ اس کے دل میں اس لڑکی کی کوئی الفت نہ تھی۔ اس کے حق میں یہ آیت اتری۔ اس حدیث کے ایک راوی ابن جریج کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ لڑکی اس درخت اور دوسرے مال اسباب میں اس مرد کی حصہ دار تھی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ٢۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا :بھانجے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک یتیم لڑکی اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور ترکہ کی رو سے اس کی جائیداد میں حصہ دار ہو اور ولی کو اس کا مال اور جمال تو پسند آئے مگر وہ اسے اتنا مہر دینے پر آمادہ نہ ہو جتنا اسے دوسرے لوگ دیتے ہیں تو وہ اس سے نکاح نہ کرے۔ ہاں اگر اتنا ہی دے دے تو پھر نکاح کرسکتا ہے۔ ورنہ وہ ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے جو انہیں پسند ہو نکاح کرلے۔ اور چار تک ایسی بیویوں کی اجازت دی گئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) اور تیسری صورت یہ کہ لڑکی نہ خوبصورت ہو اور نہ صاحب مال ہو اس صورت میں ولی کو اس سے نکاح کرنے میں کوئی دلچسپی نہ ہوتی تھی۔ [٦] چار تک بیویوں سے نکاح کی اجازت :۔ یتیم لڑکیوں کے سرپرستوں کو ان دونوں ناانصافیوں سے روکا گیا اور فرمایا کہ اگر تم صاحب جمال لڑکی کا اتنا مہر ادا کرسکو جتنا باہر سے مل سکتا ہے تو تم اس سے نکاح کرسکتے ہو ورنہ اور تھوڑی عورتیں ہیں ان میں سے اپنی حسب پسند چار تک بیویاں کرسکتے ہو۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ ان میں مساوات کا لحاظ رکھو اور اگر یہ کام نہ کرسکو تو پھر ایک بیوی پر اکتفا کرو۔ یا پھر ان کنیزوں پر جو تمہارے ملک میں ہوں۔ مندرجہ ذیل دو احادیث بھی ان احکام پر روشنی ڈالتی ہیں۔ ١۔ چار سے زیادہ بیویاں :۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ان میں سے کوئی سی چار پسند کرلو (باقی چھوڑ دو۔)‘‘ (ابن ماجہ۔ کتاب النکاح۔ باب الرجل یسلم و عندہ أکثر من أربع نسوۃ) ٢۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے۔ جس کے نام قرعہ نکلتا اسے اپنے ہمراہ لے جاتے اور آپ ہر بیوی کی باری ایک دن اور ایک رات مقرر کرتے تھے۔ (بخاری۔ کتاب الہبہ۔ باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا) البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معاملہ بالکل الگ ہے کیونکہ آپ کی ازواج مطہرات امت کی مائیں ہیں جو کسی دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی تھیں۔ لہٰذا جتنے نکاح آپ کرچکے تھے وہ سب آپ کے لیے حلال اور جائز قرار دیئے گئے۔ اس آیت سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ اسلام میں تعدد ازواج کی کوئی حد نہیں اور قرآن میں جو دو دو تین تین، چار چار کے الفاظ آئے ہیں یہ بطور محاورہ زبان ہیں یعنی دو دو کی بھی اجازت ہے، تین تین کی بھی اور چار چار کی بھی، اور اسی طرح پانچ پانچ اور چھ چھ کی بھی فصاعداً۔ یہ استدلال دو وجہ سے غلط ہے : ایک یہ کہ اگر اجازت عام ہی مقصود ہوتی تو صرف ﴿مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ ﴾کہہ دینا ہی کافی تھا۔ چار تک تعین کرنے کی قطعاً ضرورت نہ تھی اور دوسرے یہ کہ سنت نے چار تک حد کی تعیین کردی تو پھر اس کے بعد کسی مسلمان کا شیوہ نہیں ہوسکتا کہ وہ کوئی دوسری بات کرے۔ جیسے کہ اوپر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ لوگ تو وہ تھے جو افراط کی طرف گئے اور کچھ لوگ تفریط کی طرف چلے گئے کہ عام اصول یہی ہے کہ صرف ایک عورت سے شادی کی جائے، ان کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تمہیں خدشہ ہو کہ ان میں انصاف نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے۔ پھر اسی سورۃ کی آیت نمبر ١٢٩ میں فرمایا کہ ’’اگر تم چاہو بھی کہ اپنی بیویوں کے درمیان انصاف کرو تو تم ایسا نہ کرسکو گے۔‘‘ گویا آیت نمبر ٣ میں تعدد ازواج کی جو مشروط اجازت دی گئی تھی وہ اس آیت کی رو سے یکسر ختم کردی گئی۔ لہٰذا اصل یہی ہے کہ بیوی ایک ہی ہونی چاہیے۔ نظریہ یک زوجگی کی دلیل اور اس کا رد :۔ یہ استدلال اس لحاظ سے غلط ہے کہ اسی سورت کی آیت ١٢٩ میں آگے یوں مذکور ہے ’’لہٰذا اتنا تو کرو کہ بالکل ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ اور دوسری کو لٹکتا چھوڑ دو۔‘‘ اور جن باتوں کی طرف عدم انصاف کا اشارہ ہے وہ یہ ہیں کہ مثلاً ایک بیوی جوان ہے دوسری بوڑھی ہے۔ یا ایک خوبصورت ہے اور دوسری بدصورت یا قبول صورت ہے۔ یا ایک کنواری ہے دوسری ثیب (شوہر دیدہ) ہے۔ یا ایک خوش مزاج ہے اور دوسری تلخ مزاج یا بدمزاج ہے۔ یا ایک ذہین و فطین ہے اور دوسری بالکل جاہل اور کند ذہن ہے۔ اب یہ تو واضح بات ہے کہ اگرچہ ان صفات میں بیوی کا اپنا عمل دخل کچھ نہیں ہوتا، تاہم یہ باتیں خاوند کے لیے میلان یا عدم میلان کا سبب ضرور بن جاتی ہیں۔ اور یہ فطری امر ہے اسی قسم کی ناانصافی کا یہاں ذکر ہے۔ اور چونکہ اس قسم کے میلان یا عدم میلان میں انسان کا اپنا کچھ اختیار نہیں ہوتا لہٰذا ایسے امور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی گرفت اور مواخذہ نہیں۔ خاوند سے انصاف کا مطالبہ صرف ان باتوں میں ہے جو اس کے اختیار میں ہیں۔ جیسے نان و نفقہ، اس کی ضروریات کا خیال رکھنا اور شب بسری کے سلسلہ میں باری مقرر کرنا وغیرہ۔ کون نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بیویوں میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ محبت تھی اور اس کی وجوہ یہ تھیں کہ آپ کنواری تھیں، نو عمر تھیں، ذہین و فطین تھیں اور خوش شکل تھیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا بھی فرمایا کرتے تھے کہ ’’یا اللہ ! جن باتوں میں مجھے اختیار ہے ان میں سب بیویوں سے میں یکساں سلوک کرتا ہوں اور جو باتیں میرے اختیار میں نہیں تو وہ مجھے معاف فرما دے۔‘‘ تفریط کی طرف جانے والے لوگ دراصل تہذیب مغرب سے سخت مرعوب ہیں جن کے ہاں صرف ایک ہی بیوی کی اجازت ہے آج کل اس طبقہ کی نمائندگی غلام احمد پرویز صاحب فرما رہے ہیں۔ انہوں نے اس آیت میں یتامی کا لفظ دیکھ کر تعدد ازواج کی اجازت کو ہنگامی حالات اور جنگ سے متعلق کردیا چنانچہ 'طاہرہ کے نام خطوط' کے صفحہ ٣١٥ پر فرماتے ہیں :’’مطلب صاف ہے کہ اگر کسی ہنگامی حالت مثلاً جنگ کے بعد جب جوان مرد بڑی تعداد میں ضائع ہوچکے ہوں اور ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ معاشرہ میں یتیم بچے اور لاوارث جوان عورتیں شوہر کے بغیر رہ جائیں تو اس کا کیا علاج کیا جائے۔ اس ہنگامی صورت سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اس کی اجازت دی جاتی ہے کہ ایک بیوی کے قانون میں عارضی طور پر لچک پیدا کرلی جائے۔‘‘ پھر آگے چل کر ﴿فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ﴾کے معنی بیان فرماتے ہیں کہ ان میں سے ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں نکاح کرلو۔ اس طرح انہیں (اور بیواؤں کی صورت میں ان کے ساتھ ان کے بچوں کو بھی) خاندان کے اندر جذب کرلو۔ یہی ان سے منصفانہ سلوک ہے۔ یہ مسئلہ اگر دو دو بیویاں کرنے سے حل ہوجائے تو دو دو کرلو اور اگر تین تین سے ہو تو تین تین اور چار چار سے ہو تو چار چار۔۔ یہ تو رہا اجتماعی فیصلہ۔ (طاہرہ کے نام خطوط : ص ٣١٦) اب یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہنگامی حالات اور جنگ کی قید آ کہاں سے گئی؟ کیا ہنگامی حالات یا جنگ کے بغیر کسی معاشرہ میں یتیموں کا وجود ناممکن ہے؟ یا قرآن کے کسی لفظ سے ہنگامی حالات یا جنگ کا اشارہ تک بھی ملتا ہے؟ خیر اس بات کو بھی جانے دیجئے، ہم یہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ پرویز صاحب بجا فرما رہے ہیں تو اس کے مطابق صرف جنگ احد ہی ایسی جنگ قرار دی جا سکتی ہے جو پرویز صاحب کے نظریہ کا مصداق بن سکے۔ کیونکہ اس میں ستر مسلمان شہید ہوگئے تھے۔ دوسری کسی بھی جنگ میں مسلمانوں کا اتنا زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس جنگ میں شریک ہونے والے مسلمانوں کی تعداد سات سو تھی اور منافقین کو بھی مسلمانوں میں شامل سمجھا جائے تو ایک ہزار تھی۔ اور یہ وہ تعداد تھی جو میدان جنگ کے لیے نکل کھڑے ہوئے تھے ورنہ سب مسلمانوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ اور ان میں سے ستر مسلمانوں کے شہید ہونے سے ستر عورتیں بیوہ ہوگئیں (کیونکہ پرویز صاحب کے نظریہ کے مطابق اصل صرف یک زوجگی ہے) اب ان میں ان کی یتیم اولاد یعنی جوان لڑکیاں۔۔ اس تعداد کو چار گنا کر دیجئے۔۔ یعنی تقریباً ٣٠٠ عورتوں کی شادی کا مسئلہ تھا اور بقول پرویز صاحب چونکہ یہ اجتماعی مسئلہ تھا لہٰذا ڈیڑھ ہزار مسلمانوں میں سے صرف تین سو مسلمانوں کے مزید ایک بیوی کرلینے سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا تھا اور یہ کام ہو بھی حکومتی سطح پر رہا تھا۔ پھر جب سارے مسلمانوں کو دو دو بھی حصہ میں نہ آ سکیں تو تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کے کیا معنی؟ اور یہ اجتماعی فیصلہ والی بات بھی عجیب قسم کی دھاندلی ہے۔ قرآن کہہ رہا ہے ﴿فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ ﴾یعنی مسلمان انفرادی طور پر جس جس عورت کو پسند کریں اس سے نکاح کرلیں اور آپ اسے اجتماعی فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ سو یہ ہے پرویز صاحب کی قرآنی بصیرت، جو دراصل اس مغربی تخیل کی پیداوار ہے جس میں ایک سے زائد بیویوں سے نکاح کو مذموم فعل سمجھا جاتا ہے۔ بات بالکل صاف تھی کہ اسلام نے حکم تو ایک بیوی سے نکاح کرلینے کا دیا ہے۔ البتہ اجازت چار بیویوں تک ہے۔ تعدد ازواج اجازت ہے حکم نہیں۔ اور اس اجازت کی وجہ یہ ہے کہ قرآن ہر ایک کے لیے اور ہر دور کے لیے تاقیامت دستور حیات ہے۔ لہٰذا کسی بھی ملک اور کسی بھی دور کے لوگ اپنے اپنے رسم و رواج یا ضروریات کے مطابق اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مثلاً ہمارے ملک پاکستان میں عورت کی علیحدہ ملکیت کا تصور نہیں۔ مرد اگر گھر والا ہے تو عورت گھر والی ہے لہٰذا یہاں اگر کوئی دو بیویاں کرلے تو بے شمار پریشان کن مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہاں اگر کوئی دوسری یا تیسری بیوی کرتا ہے تو یقینا کسی خاص ضرورت کے تحت کرتا ہے اور ملک کی ٩٥ فیصد آبادی اس اجازت سے فائدہ نہیں اٹھاتی اور ایک ہی بیوی کو درست سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس عرب میں آج بھی بیوی کی الگ ملکیت کا تصور موجود ہے۔ لہٰذا وہاں چار تک بیویاں کرنے پر بھی بیویوں کی باہمی رقابت اور خاوند کو پریشان کرنے والے مسائل بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ پھر وہاں طلاق کو بھی کوئی ایسا جرم نہیں سمجھا جاتا جس سے دو خاندانوں میں ایسی عداوت ٹھن جائے جیسی پاکستان میں ٹھن جاتی ہے۔ لہٰذا وہاں نصف سے زیادہ آبادی قرآن کی اس اجازت سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ لہٰذا شرعی لحاظ سے نہ پاکستان کے رواج کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے اور نہ عرب کے رواج کو۔ ایک سے زیادہ بیویوں کو مذموم فعل سمجھنے کے اس مغربی تخیل کی بنیادیں دو ہیں : پہلی بنیاد فحاشی، بدکاری، داشتائیں رکھنے کی عام اجازت اور جنسی آوارگی ہے جسے مغرب میں مذموم فعل کی بجائے عین جائز بلکہ مستحسن فعل سمجھا جاتا ہے۔ اور دوسری بنیاد مادیت پرستی ہے۔ جس میں ہر شخص یہ تو چاہتا ہے کہ اس کا معیار زندگی بلند ہو اور اولاد کو اعلیٰ تعلیم دلائے مگر ان باتوں پر چونکہ بے پناہ اخراجات اٹھتے ہیں جو ہر انسان پورے نہیں کرسکتا، لہٰذا وہ اس بات کو ترجیح دیتا ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہی نہ ہو یا کم سے کم ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا معاشرہ تو ایک بیوی بھی بمشکل برداشت کرتا ہے اور وہ بہتر یہی سمجھتا ہے کہ بیوی ایک بھی نہ ہو اور سفاح یا بدکاری سے ہی کام چلتا رہے۔ لیکن اسلام سب سے زیادہ زور ہی مرد اور عورت کی عفت پر دیتا ہے اور ہر طرح کی فحاشی کو مذموم فعل قرار دیتا ہے اور معیار زندگی کو بلند کرنے کی بجائے سادہ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے اسی لیے اس نے اقتضاء ات اور حالات کے مطابق چار بیویوں تک کی اجازت دی ہے۔ اب بتائیے کہ اس مغربی تخیل اور اسلامی تخیل میں مطابقت کی کوئی صورت پیدا کی جا سکتی ہے؟۔ نکاح ثانی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت لینے کا قانون :۔ اسی مغربی تخیل سے اور بعض 'مہذب خواتین' کے مطالبہ سے متاثر ہو کر صدر ایوب کے دور میں پاکستان میں مسلم عائلی قوانین کا آرڈیننس ١٩٦١ ء پاس ہوا۔ جس میں ایک شق یہ بھی تھی کہ اگر مرد شادی شدہ ہو اور دوسری شادی کرنا چاہتا ہو تو وہ سب سے پہلے اپنی پہلی بیوی سے اس دوسری شادی کی رضامندی اور اجازت تحریراً حاصل کرے، پھر ثالثی کونسل سے اجازت نامہ حاصل کرے اور اگر ثالثی کونسل بھی اجازت دے تو تب ہی وہ دوسری شادی کرسکتا ہے۔ جیسا کہ اس آرڈیننس کی شق نمبر ٢١ اور ٢٢ سے واضح ہوتا ہے۔ گویا حکومت نے نکاح ثانی پر ایسی پابندیاں لگا دیں کہ کوئی شخص کسی انتہائی مجبوری کے بغیر دوسرے نکاح کی بات سوچ بھی نہ سکے اور عملاً اس اجازت کو ختم کردیا جو اللہ تعالیٰ نے مرد کو دی تھی۔ کیونکہ کوئی عورت یہ گوارا نہیں کرسکتی کہ اس کے گھر میں اس کی سوکن آ جائے۔ اب جو لوگ دوسری شادی کرنا چاہتے تھے اور پہلی بیوی کے رویہ سے نالاں تھے یا کسی اور مقصد کے لیے دوسری شادی ضروری سمجھتے تھے انہوں نے اس غیر فطری پابندی کا آسان حل یہ سوچا کہ پہلی بیوی کو طلاق دے کر رخصت کردیا جائے اور بعد میں آزادی سے دوسری شادی کرلی جائے۔ اس طرح جو قانون عورتوں کے حقوق کی محافظت کے لیے بنایا گیا تھا وہ خود انہی کی پریشانی کا موجب بن گیا۔ کیونکہ اللہ کے احکام کی ایسی غیر فطری تاویل اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اور ایسے معاشرہ کو اس کی سزا مل کے رہتی ہے۔ ایک عورت چار اور چار شوہر :۔ پھر کچھ دریدہ دہن مغرب زدہ آزاد خیال عورتوں نے یہ اعتراض بھی جڑ دیا کہ یہ بھلا کہاں کا انصاف ہے کہ مرد تو چار چار عورتوں سے شادی کرلے اور عورت صرف ایک ہی مرد پر اکتفا کرے؟ اور یہ تو ظاہر ہے کہ ایسا اعتراض کوئی ایسی حیا باختہ عورت ہی کرسکتی ہے جو یہ چاہتی ہے کہ اسے بھی بیک وقت کم از کم چار مردوں تک سے نکاح کی اجازت ہونی چاہیے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جنسی خواہش جیسے انسانوں میں ہوتی ہے ویسے ہی حیوانوں میں بھی ہوتی ہے۔ اور مرد کو تو چار بیویوں کی اجازت ہے جبکہ ہم گوالوں کے ہاں دیکھتے ہیں کہ اگر ایک گوالے نے بیس بھینسیں رکھی ہوئی ہیں تو بھینسا صرف ایک ہی ہوتا ہے۔ کیا کبھی ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی گوالے نے بھینسے تو بیس رکھے ہوں اور بھینس صرف ایک ہی ہو خود ہی غور فرما لیجئے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور ایسا کیوں نہیں ہوتا ؟ بات دراصل یہ ہے کہ مرد تو اپنی جوانی کے ایام میں اپنی جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ہر وقت مستعد ہوتا ہے مگر عورت کی ہرگز یہ کیفیت نہیں ہوتی۔ ہر ماہ حیض کے ایام میں اسے اس فعل سے طبعاً نفرت ہوتی ہے۔ پھر مرد تو صحبت کے کام سے دو تین منٹ میں فارغ ہوجاتا ہے اور اس سے آگے اولاد کی پیدائش میں کچھ حصہ نہیں ہوتا۔ جبکہ عورت کو حمل قرار پا جائے تو پورے ایام حمل میں، پھر اس کے بعد رضاعت کے ایام میں بھی وہ طبعاً اس فعل کی طرف راغب نہیں ہوتی۔ البتہ اپنے خاوند کی محبت اور اصرار کی وجہ سے اس کام پر آمادہ ہوجائے تو اور بات ہے اور بسا اوقات عورت انکار بھی کردیتی ہے۔ لیکن مرد اتنی مدت صبر نہیں کرسکتا۔ اب اس کے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں۔ یا تو اور نکاح کرے یا پھر فحاشی کی طرف مائل ہو۔ اور اسلام نے پہلی صورت کو ہی اختیار کیا ہے۔ پھر مرد اگر چار بیویاں بھی رکھ لے تو اس سے نہ نسب میں اختلاط پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی میراث کے مسائل میں کوئی الجھن پیش آتی ہے۔ جبکہ عورت اگر دو مردوں سے بھی اختلاط رکھے تو اس سے نسب بھی مشکوک ہوجاتا ہے۔ کیونکہ نسب کا تعلق مرد سے ہے، عورت سے نہیں۔ اور میراث کے مسائل میں بھی پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اب ان باتوں کو درخور اعتناء نہ سمجھئے اور صرف اس بات پر غور فرمائیے کہ اگر عورت کو چار شوہروں کی اجازت دی جائے تو وہ رہے گی کس کے گھر میں؟ اور کون اس کے نان و نفقہ اور اس کی اولاد کے اخراجات کا ذمہ دار بنے گا ؟ پھر کیا ایک شوہر یہ برداشت کرلے گا کہ اس کی بیوی علیٰ الاعلان دوسروں کے پاس بھی جاتی رہے۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ آپ شریعت کو بالائے طاق رکھئے اور چار شوہروں والی بات کا تجربہ کر کے دیکھئے کہ اس سے کس طرح ایک معاشرہ چند ہی سالوں میں تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔ کوئی اسلام سے انکار کرتا ہے تو کرے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ شرعی احکام انسانی مصالح پر ہی مبنی ہوتے ہیں۔ اب اس مسئلہ پر ایک اور پہلو سے غور فرمائیے۔ اس حقیقت سے تو سب لوگ آشنا ہیں کہ جوانی کے ایام میں ہر شخص میں شہوانی جذبات اپنی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر نوجوان اور تندرست مرد اس قابل ہوتا ہے کہ کم از کم ایک دن میں ایک بار جماع کرے تب بھی اس کی صحت خراب نہ ہو۔ اور اگر اس جذبہ شہوانی کو طویل مدت تک دبائے رکھا جائے تو اس سے انسان کے بیمار پڑجانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ان حالات میں انسان کے سامنے تین ہی راستے ہوتے ہیں : رہبانیت کے نتائج :۔ پہلا یہ کہ اس جذبہ کو مختلف تدبیروں سے دبا دیا جائے۔ خواہ یہ خصی ہونے سے ہو یا انتہائی قلیل خوری سے۔ جیسا کہ جوگی، سادھو یا رہبان قسم کے لوگ کرتے ہیں۔ اس طریق کے غیر فطری ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور اس کا سب سے بڑا نقصان نسل انسانی کا انقطاع ہے اور اس کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ فحاشی چور دروازے تلاش کرنے لگتی ہے۔ اس قسم کے لوگ تقدس کے پردوں میں زنا کاری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ عیسائی مذہب میں اس کا رواج عام تھا۔ ایسے درویش قسم کے مرد اور عورتیں جو ساری عمر جنسی جھمیلوں سے آزاد رہ کر کلیسا کی خدمت کے لیے مامور ہوتے تھے ان میں خفیہ طور پر حرام کاری کا وسیع سلسلہ پایا جاتا تھا اور حرامی بچوں کو مختلف طریقوں سے ٹھکانے لگا دیا جاتا تھا اور ایسے بے شمار واقعات تاریخ کے صفحات پر آج بھی ثبت ہیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ شہوانی خواہشات کو بلاجھجک کھلے بندوں پورا کیا جائے۔ اہل مغرب کے ادیب قسم کے لوگوں نے نکاح کی پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک صدی سے زیادہ عرصہ اس مہم پر صرف کیا اور بالآخر وہ ایسی فحاشی کو عام کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان لوگوں کا طرز استدلال یہ تھا کہ انسان کی تین ضرورتیں لابدی ہیں : بھوک، نیند اور جنسی ملاپ۔ ان کو اگر پورا نہ کیا جائے تو انسان کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ نیند تو بہرحال اپنا حق وصول کر ہی لیتی ہے۔ بھوک کا معاملہ یہ ہے کہ اگر وہ بھوک کے وقت گھر پر نہیں تو بازار سے، ہوٹل سے، عزیز و اقارب سے، جہاں بھی وہ ہو اپنی یہ ضرورت پوری کر ہی لیتا ہے اور اس کے لیے وہ محض اپنے گھر کا محتاج نہیں ہوتا۔ تو جیسی ضرورت غذائی بھوک کی ہے ویسی ہی جنسی بھوک کی بھی ہے لہٰذا صرف اپنی بیوی سے ہی ملاپ کا تصور غیر فطری ہے۔ نیز اگر کسی کو بیوی بھی میسر نہ آسکے تو وہ کیا کرے؟ کیا جنسی آوارگی ایک لابدی ضرورت ہے :۔ اس استدلال میں غذائی بھوک اور جنسی بھوک کو ایک ہی سطح پر رکھ کر پیش کیا گیا ہے حالانکہ یہ بات اصولی طور پر غلط ہے اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں : ١۔ غذائی بھوک کا اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ پیٹ کا تنور غذا سے پر کیا جائے لیکن جنسی بھوک کا علاج فطرت نے از خود کردیا ہے۔ جب انسان میں مادہ منویہ زیادہ ہوجائے تو بذریعہ احتلام یہ مادہ خارج ہوجاتا ہے اور یہ جنسی بھوک از خود کم ہوتی رہتی ہے۔ ٢۔ جنسی بھوک کو کم خوری اور روزہ رکھنے سے بھی کم کیا جا سکتا ہے لیکن غذائی بھوک کا شکم پروری کے سوا کوئی علاج نہیں ہوتا۔ ٣۔ غذائی بھوک از خود پیدا ہوتی ہے جبکہ جنسی بھوک کو بہت حد تک خود پیدا کیا جاتا ہے۔ آپ خود کو شہوانی خیالات اور ماحول سے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور اگر آپ شہوانی جذبات کے ماحول میں مستغرق رہنے کے بجائے دوسرے مفید کاموں میں اپنے آپ کو مصروف رکھیں گے تو یہ جنسی بھوک بیدار ہی نہ ہوگی۔ اور اگر شہوانی خیالات اور ماحول میں مستغرق رہیں گے، فحش قسم کا لٹریچر اور ناول پڑھیں گے، سنیما اور ٹیلی ویژن پر رقص و سرود کے پروگرام دیکھیں گے، زہد شکن قسم کے گانے سنیں گے اور جنسی جذبات کو ہیجان میں رکھنے والے ماحول میں رہیں گے تو یہ جنسی بھوک اپنے عروج پر پہنچ جائے گی۔ گویا اس جنسی بھوک کو پیدا کرنا نہ کرنا، اعتدال پر رکھنا اور پروان چڑھانا بہت حد تک انسان کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے جبکہ غذائی بھوک پر کنٹرول انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔ ہمارے اس دعویٰ کی تصدیق کے لیے کیا یہ بات کافی نہیں کہ آج کے معاشرہ میں بھی آپ کو ایسے تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان اور عفیف بچے کافی تعداد میں مل سکتے ہیں جن کی بیس پچیس برس کی عمر تک شادی نہیں ہوتی اور ان کی زندگی بےداغ ہوتی ہے۔ حالانکہ جنسی جذبات دس گیارہ سال کی عمر کے بعد بیدار ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اعتدال کا راستہ :۔ اور تیسرا راستہ دونوں کے درمیان اعتدال کا ہے جو اسلام نے اختیار کیا ہے کہ شہوانی جذبہ چونکہ فطری جذبہ ہے لہٰذا اسے روکنا غیر فطری بات ہے۔ تاہم اسے ایسا بے لگام بھی نہیں چھوڑا گیا جس سے معاشرتی بنیادوں کے انجر پنجر ہی ہل جائیں بلکہ اسے نکاح کی شرائط سے پابند بنا دیا گیا ہے۔ اور یہ بات تو ہم پہلے واضح کرچکے ہیں کہ شہوانی ہیجان مرد میں اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ بسا اوقات ایک بیوی اس کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ لہٰذا فحاشی اور بے حیائی سے اجتناب کے لیے تعدد ازواج ضروری تھا اور یہی راستہ فطری اور اسلامی ہے اور اسی راستہ کو اکثر انبیائے کرام نے اختیار کیا ہے جو مختلف ادوار میں انسانی معاشرہ کی اصلاح کے لیے مبعوث ہوتے رہے ہیں۔ اور اس سے ان لوگوں کے نظریہ کی تردید بھی ہوجاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں اصل حکم صرف ایک عورت سے نکاح کا ہے۔ حالانکہ یہ مسئلہ معاشرہ کا ایک نہایت اہم اور بنیادی مسئلہ ہے لہٰذا اگر اسلام یک زوجگی کا قائل ہوتا تو اس کے متعلق نہایت واضح اور صریح حکم کا آنا لابدی تھا اس لیے کہ عرب میں تعدد ازواج کا رواج اس قدر زیادہ تھا کہ اسلام کو اس میں تحدید کرنا پڑی۔ [٦۔ ١] کنیزوں سے تمتع کی شرائط کے لیے اسی سورۃ کا حاشیہ نمبر ٤٠ ملاحظہ فرمائیے۔ النسآء
4 [٧] یتیم لڑکیوں اور ان کے حق مہر کا بیان شروع ہوا تو عام عورتوں کے حق مہر کے متعلق بھی تاکید فرما دی کہ ان کے حق مہر انہیں برضا و رغبت پورے کے پورے ادا کردیئے جائیں۔ ہاں اگر وہ از خود بلاجبر و اکراہ اپنی خوشی سے یہ حق مہر یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیں تو وہ تمہارے لیے حلال اور طیب رزق ہے لیکن ان کا حق مہر یا اس کا کچھ حصہ معاف کرانے میں ہیرا پھیری سے ہرگز کام نہ لیا جائے۔ حق مہر کا تعین :۔ یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حق مہر کتنا ہونا چاہیے؟ اس سلسلہ میں سب سے پہلے ہمیں سنت نبوی کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ چنانچہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا مہر کتنا تھا ؟ تو انہوں نے کہا کہ ’بارہ اوقیہ چاندی اور نش‘ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے پوچھا، جانتے ہو نش کیا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ تو کہنے لگیں : نش سے مراد نصف ہے اور یہ کل ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی یا پانچ سو درہم ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی بیویوں کے لیے یہی حق مہر تھا۔ (مسلم : کتاب النکاح، باب الصداق) اسی سلسلہ میں دوسری روایت اس طرح ہے کہ ابو العجفاء کہتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ کے دوران لوگوں سے فرمایا کہ ’’دیکھو! عورتوں کے حق مہر بڑھ چڑھ کر نہ باندھا کرو، کیونکہ اگر مہر بڑھانا دنیا میں کوئی عزت کی بات ہوتی یا اللہ کے ہاں تقویٰ کی بات ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سب سے زیادہ حقدار تھے۔ اور میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کا یا اپنی کسی بیٹی کا حق مہر بارہ اوقیہ چاندی سے زیادہ باندھا ہو۔‘‘ (ترمذی : ابو اب النکاح : باب ماجاء فی مھور النسائ) ہم ان دونوں روایات میں سے مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث کے مطابق ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی (ایک اوقیہ = ٤٠ درہم) یا ٥٠٠ درہم والی روایت کو ترجیح دیتے ہیں۔ درہم چاندی کا ایک سکہ تھا۔ جس کا وزن ٢؍١۔ ٤ ماشہ چاندی تھا۔ اس حساب سے یہ ٥٠٠ x ٢/٩ x ١٢/١ = ٢/٣٧٥=٢/١۔ ١٨٧ تولے چاندی ہوئی اور اگر موجودہ حساب سے ١٥٠ روپیہ فی تولہ فرض کیا جائے تو یہ آج کل =/٢٨١٢٥ روپے پاکستانی بنتے ہیں۔ اور اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ ٢٠ درہم=ایک دینار۔ اور دینار ٢/١۔ ٣ ماشہ سونے کا سکہ تھا۔ اس لحاظ سے یہ ٢٠/٥٠٠= ٢٥ دینار ہوئے۔ جن کا وزن ٢٥ x ٢٤/٧ تولے بنتا ہے اور اگر ایک تولہ سونا کا نرخ ٤٥٠٠ روپے فی تولہ لگایا جاے تو یہ =/٣٢٨١٢ روپے پاکستانی بنتے ہیں اور اگر ان دونوں رقموں کا اوسط نکالا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں کا پاکستان کی موجودہ کرنسی کے حساب سے تیس ہزار روپے حق مہر مقرر کیا تھا اور یہ وہ رقم ہے جس کے متعلق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ لوگو! اس سے زیادہ حق مہر نہ باندھا کرو۔ اب اسی سے متعلق ایک تیسری روایت بھی ملاحظہ فرمائیے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے یہ خطاب فرما رہے تھے تو ایک عورت پکار اٹھی (کیونکہ یہ بات عورتوں کے حقوق سے تعلق رکھتی تھی) کہ ’’تم یہ کیسے پابندی لگا سکتے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: ﴿وَّاٰتَیْتُمْ اِحْدٰیھُنَّ قِنْطَارًا﴾ (4: 2)یعنی اگرچہ تم اپنی کسی بیوی کو خزانہ بھر بھی بطور حق مہر دے چکے ہو۔ عورت کی یہ بات سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بے ساختہ پکار اٹھے۔ ’’پروردگار! مجھے معاف فرما، یہاں تو ہر شخص عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ فقیہ ہے۔‘‘ پھر منبر پر چڑھے اور کہا ’’لوگو! میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ حق مہر باندھنے سے روکا تھا۔ میں اپنی رائے واپس لیتا ہوں۔ تم میں سے جو جتنا چاہے، مہر میں دے۔‘‘ ان احادیث کے علاوہ ایک اور متفق علیہ حدیث ہمیں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے متعلق ملتی ہے کہ انہوں نے ایک کھجور کی گٹھلی بھر سونا حق مہر کے عوض ایک انصاری عورت سے نکاح کیا تھا لیکن یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ وہ گٹھلی کتنی بڑی یا چھوٹی تھی اور اس کا وزن کتنا تھا۔ سونا چونکہ سب سے وزنی دھات ہے اس لیے گمان یہی ہے کہ وہ بھی چھ سات تولے سونے کے لگ بھگ ہوگی۔ کم سے کم حق مہر کے متعلق بھی ایک حدیث تقریباً سب کتب حدیث میں موجود ہے کہ ’’ایک عورت نے اپنا نفس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہبہ کیا مگر آپ خاموش رہے۔ اتنے میں ایک شخص بول اٹھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اگر آپ نہیں چاہتے تو اس عورت کا مجھ سے نکاح کر دیجئے! آپ نے اس سے پوچھا تمہارے پاس حق مہر دینے کے لیے کوئی چیز ہے؟ وہ کہنے لگا کچھ نہیں ماسوائے اس چادر کے جو میں نے لپیٹ رکھی ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ چادر تم رکھو گے یا اسے دو گے۔ جاؤ کوئی لوہے کی انگوٹھی ہی ڈھونڈ لاؤ۔ وہ گیا لیکن اسے وہ بھی نہ ملی اور واپس آ گیا تو آپ نے اس سے پوچھا کہ کچھ قرآن یاد ہے؟ کہنے لگا ہاں! فلاں فلاں سورت یاد ہے۔ آپ نے فرمایا، اچھا وہی سورتیں اس کو (بطورِ حق مہر) زبانی یاد کرا دینا۔‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک لوہے کی انگوٹھی بھی حق مہر ہو سکتی ہے۔ اس حدیث سے بعض فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ حق مہر کی کم از کم حد ربع دینار یا پانچ درہم ہے اور بعض یہ حد نصف دینار یا دس درہم قرار دیتے ہیں۔ ان تمام احادیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حق مہر خاوند کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے اور ایسا ہونا چاہیے جس پر فریقین راضی اور مطمئن ہوں اور آج کل پاکستانی کرنسی کے حساب سے اس کا درمیانی سا معیار تیس ہزار روپے ہے۔ حق مہر کے بارے میں افراط وتفریط :۔ اس تحقیق کے بعد اب اپنے ہاں کے رواج کی طرف آئیے کہ اس معاملہ میں بھی لوگ کس طرح افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ ایک قسم تو ان لوگوں کی ہے جو شادی پر تو لاکھوں کے حساب سے خرچ کردیتے ہیں مگر جب حق مہر کی باری آتی ہے تو کہتے ہیں کہ حق مہر شرعی باندھ دیجئے اور شرعی حق مہر سے ان کی مراد ٣٢ روپے ہوتی ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ حساب کسی عالم نے اس دور میں لگایا ہوگا جب متحدہ ہندوستان میں ایک روپے کا چار سیر دیسی گھی مل جاتا تھا۔ ملازمین کی تنخواہ ٢ روپے ماہوار سے لے کر ٤ روپے تک ہوتی تھی اور سونے کا بھاؤ تقریباً پانچ روپے تولہ ہوتا تھا یعنی اس وقت بھی ٣٢ روپے کا چھ سات تولے سونا آ جاتا تھا۔ اب صورت حال یہ ہوئی کہ روپے کی قیمت تو ہزار گنا گر چکی ہے مگر ٣٢ روپے لوگوں کو اسی زمانہ کے یاد ہیں۔ یہ لوگ تو تفریط کی طرف چلے گئے۔ دوسرا گروہ ایسا ہے کہ جو شوہر کی حیثیت سے بہت زیادہ حق مہر کا مطالبہ کردیتے ہیں۔ مثلاً شوہر کی حیثیت دس پندرہ ہزار سے زیادہ نہیں لیکن وہ مطالبہ ایک لاکھ کا کردیتے ہیں اور زبانی یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ رقم لینی دینی کس نے ہے۔ ہماری غرض تو صرف یہ ہے کہ نکاح نامہ میں اندراج ہوجائے اور اس بھری مجلس میں ذرا ہماری شان بن جائے۔ باقی نکاح کے بعد میاں بیوی اکٹھے ہوں گے تو ہماری لڑکی یہ رقم بخش دے گی۔ یہ لوگ افراط کی طرف جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ شریعت میں ایسی حیلہ سازیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ حق مہر لڑکی کی طرف سے معاف کروانا غلط اور گناہ کی بات ہے۔ ہاں اگر وہ کسی کے دباؤ کے بغیر اپنی رضا و رغبت سے حق مہر سارا یا اس کا کچھ حصہ معاف کر دے تو یہ اور بات ہے۔ پھر کچھ لوگ ایسے ہیں جو حق مہر کے نام پر اپنی لڑکیوں کو حقیقتاً فروخت کرتے ہیں۔ وہ حق مہر کی کثیر رقم کا مطالبہ کرتے ہیں اور وصول کر کے یہ رقم لڑکی کو نہیں دیتے بلکہ خود کھاتے ہیں اور جب تک انہیں اپنی حسب پسند رقم نہ ملے وہ لڑکیوں کا نکاح ہی نہیں کرتے خواہ وہ بوڑھی ہونے لگیں۔ ایسے لوگ چند در چند کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ حق مہر کی رقم لڑکی کا حق ہوتا ہے اس کے والدین کا نہیں اور اس پر دلیل نکاح شغار کی ممانعت ہے۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے اور نکاح شغار یہ تھا کہ ایک شخص اپنی بیٹی کو اس شرط پر دوسرے شخص سے بیاہ دیتا تھا کہ وہ دوسرا اسے اپنی بیٹی بیاہ دے اور حق مہر کسی کو بھی نہ دینا پڑے۔ (مسلم۔ کتاب النکاح باب تحریم نکاح الشغار و بطلانہ) یعنی ہر لڑکی کا ولی یا باپ حق مہر کا ذکر تک اس لیے نہ کرتا تھا کہ وہ اسے ادا کرنا پڑتا تھا اس طرح وہ حق مہر سے لڑکیوں کو محروم کر کے یہ رقم خود ہضم کر جاتے تھے۔ پھر کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اگر عورت حق مہر کی رقم معاف نہ کرے تو اسے طرح طرح سے دکھ پہنچانا شروع کردیتے ہیں اور اس دکھ پہنچانے کی بھی بہت سی صورتیں ہیں۔ ایسی سب باتیں حرام اور گناہ ہیں راہ صواب یہی ہے کہ جو حق مہر طے ہوا ہو وہ بیویوں کو بخوشی ادا کردیا جائے۔ النسآء
5 [٨] نادان کے حقوق کی ملکیت کی حد :۔ اس آیت میں نادان سے مراد صرف نادان یتیم ہی نہیں بلکہ کوئی بھی فرد ہوسکتا ہے مثلاً چھوٹا بھائی نادان ہے تو بڑا بھائی اسے اس کا مال نہ دے اور چھوٹا عقلمند اور بڑا نادان ہے تو چھوٹا بھائی اس کا مال اس کے تصرف میں نہ رکھے۔ وجہ یہ ہے کہ مال تو ذریعہ قیام زندگی ہے اگر کسی نادان کے ہتھے چڑھ جائے گا تو وہ فضول، ناجائز یا گناہ کے کاموں میں اجاڑ دے گا اور اس کے برے اثرات تمام معاشرہ پر پڑیں گے۔ حقوق ملکیت جو کسی شخص کو اپنی املاک پر ہوتے ہیں اتنے غیر محدود نہیں کہ اگر وہ اس چیز کو صحیح طور پر استعمال کرنے کا اہل نہ ہو تب بھی اس کے حقوق سلب نہ کیے جا سکیں۔ ایسی صورتوں میں اس نادان کا کوئی قریبی رشتہ دار یا حکومت اس کے مال پر تصرف رکھے گی۔ اس کی خوراک اور پوشاک اسے اس کے مال سے مہیا کی جائے اور جو بات اس سے کہی جائے اس کی بھلائی کو ملحوظ رکھ کر کہی جائے۔ اور اگر یتیم کا مال تجارت یا مضاربت پر لگایا جا سکتا ہو تو اسے تجارت پر لگایا جائے اور منافع سے اس کی خوراک اور پوشاک کے اخراجات پورے کیے جائیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’یتیموں کا مال تجارت پر لگایا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ زکوٰۃ ہی ان کے مال کو کھا جائے۔‘‘ اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ یتیموں کے مال بھی اگر حد نصاب کو پہنچ جائیں تو ان پر بھی زکوٰۃ لاگو ہوگی اور دوسری یہ کہ جہاں تک ممکن ہو یتیموں سے اور ان کے اموال سے خیر خواہی ضروری ہے۔ النسآء
6 [٩] نادان کو مال کی واپسی کی شرائط :۔ گویا یتیموں کو ان کا مال واپس کرنے کے لیے دو شرطیں ہیں۔ ایک بلوغت دوسرے رشد۔ یعنی مال کے صحیح طور پر استعمال کرنے کی اہلیت۔ یہ اہلیت معلوم کرنے کے لیے تمہیں ان کا تجربہ کرتے رہنا چاہیے اور یہ چیزیں معمولی معمولی باتوں سے بھی معلوم ہوجاتی ہے کہ آیا وہ کفایت شعار ہے یا اجاڑنے والا ہے۔ خرید و فروخت کیسے کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور جب تک یہ دونوں شرطیں نہ پائی جائیں اس کا مال اس کے حوالہ نہ کرنا چاہیے اور اس صورت میں اس کا حکم وہی ہوگا جو مذکورہ بالا آیت میں نادانوں کے سلسلہ میں ذکر ہوا ہے۔ بلوغت کے لیے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں۔ گرم ممالک میں لڑکے لڑکیاں جلد بالغ ہوجاتے ہیں۔ جبکہ سرد ممالک میں دیر سے ہوتے ہیں۔ البتہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے کچھ ایسی علامات ضرور ہیں جو ان کے بالغ ہونے کا پتہ دیتی ہیں مثلاً لڑکوں کو احتلام ہونا اور عورتوں کو حیض آنا۔ اور چھاتیوں کا ابھر آنا خاص علامات ہیں۔ پھر کچھ علامات ایسی بھی ہیں جو ان دونوں نوعوں میں یکساں پائی جاتی ہیں۔ جیسے عقل داڑھ کا اگنا۔ آواز کا نسبتاً بھاری ہونا جسے گھنڈی پھوٹنا بھی کہتے ہیں اور بغلوں کے نیچے اور زیر ناف بال اگنا اور صرف مردوں کے لیے داڑھی اور مونچھ کے بال اگنا ہے اور ان سب میں سے پکی علامتیں وہی ہیں جو پہلے مذکور ہوئیں یعنی لڑکوں کو احتلام اور عورتوں کو حیض آنا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں نکاح نامہ پر بلوغت کی جو عمر درج ہے کہ لڑکی ١٦ سال سے اور لڑکا ١٨ سال سے کم نہ ہو یہ حد بندی غیر شرعی ہے۔ اور بالغ ہونے کے بعد ہی نکاح کی قید لگانا بھی غیر شرعی ہے۔ نیز اس میں نکاح ثانی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت حاصل کرنے کی شرط بھی غیر شرعی ہے۔ اسی طرح عورت کے حق طلاق کی شق بھی غیر شرعی ہے۔ [١٠] یہاں پھر دو ایسی باتوں کا ذکر ہوا ہے جن سے یتیم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایک یہ کہ ضرورت سے زیادہ مال خرچ کیا جائے اور دوسرے یہ کہ بلا ضرورت یا ضرورت پیش آنے سے پہلے ہی خرچ کیا جائے تاکہ وہ بڑے ہو کر اس کا مطالبہ نہ کرنے لگیں۔ اور یہ سب بددیانتی کی راہیں ہیں جن سے یتیم کا نقصان ہوجاتا ہے لہٰذا ہر ایسی صورت سے منع کیا جا رہا ہے۔ [١١] یتیم کے ولی کا حق الخدمت :۔ یتیم کا متولی اگر کوئی کھاتا پیتا شخص ہے تو اسے یتیم کے مال میں سے حق الخدمت کے طور پر کچھ لینا قطعاً ناجائز ہے۔ ہاں اگر متولی تنگدست ہے تو مال کے تجارت پر لگانے اور حق المحنت کے طور پر ایسا واجبی سا خرچہ لے سکتا ہے جسے کوئی غیر جانبدار آدمی بھی واجبی قرار دے۔ نیز جو کچھ وہ حق الخدمت لے چوری چھپے نہ لے۔ بلکہ اعلانیہ متعین کر کے لے اور اس کا حساب رکھے۔ [١٢] جب یتیم میں مندرجہ بالا دونوں شرطیں پائی جائیں تو اس کا مال اسے واپس کردیا جائے اور اس پر دو گواہ بھی بنا لیے جائیں تاکہ بعد میں اگر کوئی جھگڑا ہو یا کوئی چیز بعد میں یاد آئے تو اس کا تصفیہ کرنے میں آسانی رہے اور اگر یہ تحریری صورت میں ہو تو اور بھی بہتر ہے۔ اور پوری دیانتداری سے یہ فریضہ سرانجام دو۔ کیونکہ سب سے بڑا گواہ تو اللہ تعالیٰ ہے۔ اور بددیانتی کی صورت میں پورا پورا حساب لینے پر قادر بھی ہے۔ النسآء
7 [١٣] عورتوں اور بچوں کا میراث میں حصہ :۔ عرب میں عورتوں کو میراث میں شامل کرنے کا دستور نہ تھا بلکہ عورت خود ورثہ شمار ہوتی تھی۔ اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے عورت کو اس ذلت کے مقام سے نکال کر وراثت میں حصہ دار بنا دیا۔ نیز اس آیت سے مندرجہ ذیل احکام مستنبط ہوتے ہیں ( : ١) میراث میں عورتوں کا حصہ (٢) ورثہ خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ جائیداد خواہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ بہرحال وہ تقسیم ہوگا۔ (٣) قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں دور کے رشتہ دار محروم ہوں گے (٤) ان قریبی رشتہ داروں کا حصہ بھی مقرر ہے جس کی تفصیل اسی سورۃ کی آیت نمبر ١١ اور نمبر ١٢ میں آ رہی ہے (٥) عورتوں کے علاوہ چھوٹے لڑکوں کو بھی وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا اور ورثہ کے مالک صرف وہ بیٹے سمجھے جاتے تھے جو دشمنوں سے لڑنے اور انتقام لینے کے اہل ہوں۔ اس آیت کی رو سے چھوٹے لڑکوں کو بھی برابر کا حق دلایا گیا اور حقیقتاً یہی بچے یتیم ہوتے تھے۔ النسآء
8 [١٤] ترکہ کی تقسیم کے وقت اگر کچھ محتاج، یتیم اور فقیر قسم کے لوگ یا دور کے رشتہ دار آ جائیں تو ازراہ احسان انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دیا کرو۔ تنگ دلی یا تنگ ظرفی سے کام نہ لو اور اگر ایسا نہ کرسکو تو کم از کم انہیں نرمی سے جواب دے دو۔ مثلاً یہ کہہ دو کہ یہ مال یتیموں کا ہے۔ یا یہ کہ میت نے ایسی کوئی وصیت نہیں کی تھی۔ وغیرہ، وغیرہ۔ النسآء
9 [١٥] یعنی اگر تم اس حال میں مر جاؤ کہ پیچھے چھوٹی چھوٹی اولاد چھوڑ جاؤ تو تمہیں یہ ضرور خیال آئے گا کہ میرے بعد ان بچوں سے بہتر سلوک ہو۔ ایسے ہی جو یتیم اس وقت تمہارے زیر کفالت ہیں، اللہ سے ڈرتے ہوئے ان سے بھی ایسا ہی سلوک کرو۔ اور کوئی ایسی بات نہ کرو جس سے یتیموں کا دل شکستہ ہو۔ جو بات کرو ان کے حق میں بھلائی کی ہونی چاہیے۔ اس دور میں یتیموں اور بیواؤں سے جس طرح کا سلوک کیا جاتا تھا مندرجہ ذیل حدیث سے اس پر کافی روشنی پڑتی ہے : میراث میں بیوی بچوں کا حصہ :۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ’’سعد رضی اللہ عنہ بن ربیع کی بیوی اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی۔ یہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بچیاں ہیں ان کا باپ جنگ احد میں شہید ہوگیا ہے بچیوں کے چچا (سعد بن ربیع کے بھائی) نے سعد کے سارے ترکہ پر قبضہ کرلیا ہے اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ اور مال کے بغیر ان کا نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خود اس معاملہ میں فیصلہ فرمائے گا۔ پھر میراث کی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعد کے بھائی کو بلایا اور فرمایا کہ ترکہ میں سے دو تہائی تو سعد کی بچیوں کو دو اور آٹھواں حصہ ان کی والدہ کو۔ باقی جو بچے (یعنی ٢٤ حصوں میں سے صرف ٥ حصے) وہ تمہارا ہے۔‘‘ (ترمذی، ابو اب الفرائض) النسآء
10 [١٦] یتیم کا مال کھانا کبیرہ گناہ ہے :۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔‘‘ صحابہ نے پوچھا ’وہ کون سے ہیں؟‘ فرمایا ’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ جادو۔ جس جان کو قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے اسے ناحق قتل کرنا۔ سود کھانا۔ یتیم کا مال کھانا۔ لڑائی میں پیٹھ پھیر جانا۔ اور پاکدامن بھولی بھالی مومن عورت پر تہمت لگانا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الوصایا۔ باب ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی﴾ مسلم، کتاب الایمان۔ باب بیان الکبائر وأکبرھا) نیز آپ نے معراج کا واقعہ بیان کرنے کے دوران فرمایا کہ میں نے چند لوگوں کو دیکھا جن کے لب اونٹوں جیسے تھے اور ایک فرشتہ ان کے لب کھول کر منہ میں آگ کے انگارے ڈالتا تو وہ ان کے نیچے سے نکل جاتے اور وہ (درد کے مارے) چیختے چلاتے۔ پھر فرشتہ اور انگارے ان کے منہ میں ڈال دیتا اور انہیں مسلسل یہ عذاب ہو رہا تھا۔ میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟جبریل علیہ السلام نے جواب دیا یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال ناحق کھایا کرتے تھے۔ النسآء
11 [١٧] اس سورۃ کی آیت نمبر ١١، اور ١٢ میں میراث، وصیت اور قرضہ کے جو احکام بیان ہوئے ہیں۔ انہیں ہم سہولت کی خاطر نئی ترتیب سے پیش کرتے ہیں اور احادیث کے حوالوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ علم میراث یا علم الفرائض کی اہمیت ١۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (علم) الفرائض اور قرآن خود سیکھو اور لوگوں کو سکھلاؤ اس لیے کہ میں وفات پانے والا ہوں (ترمذی : ابو اب الفرائض، باب فی تعلیم الفرائض) ٢۔ وصیت اور وراثت کے احکام :۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم تین ہیں اور ان کے سوا جو کچھ ہے وہ فضل ہے۔ آیات محکمات کا علم، سنت قائمہ اور انصاف کے ساتھ ورثہ کی تقسیم۔ (دار قطنی، ابن ماجہ، حاشیہ حدیث ترمذی مذکورہ بالا) قرضہ کی ادائیگی : قرضہ کی ادائیگی کا ذکر اگرچہ وصیت کے بعد مذکور ہے تاہم میت پر قرضہ کے بوجھ کے متعلق احادیث صحیحہ میں جو وعید آئی ہے اس کی بنا پر امت کا اجماع ہے کہ تقسیم میراث کے وقت سب سے پہلے قرضہ کی ادائیگی ضروری ہے۔ اگر بیوی کا حق مہر ادا نہ ہوا ہو تو وہ بھی قرضہ ہے اگر میت پر حج فرض ہوچکا ہو مگر کسی وجہ سے کر نہ پایا ہو۔ یا اس نے منت مانی ہو تو اس قسم کے اخراجات تقسیم میراث اور وصیت پر عمل سے پہلے نکالے جائیں گے۔ وصیت کے احکام۔۔ وصیت کی تحریر ٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص وصیت کرنا چاہتا ہو تو اسے دو راتیں بھی اس حال میں نہ گزارنا چاہئیں کہ وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود نہ ہو۔ (مسلم۔ کتاب الوصیۃ) ٤۔ وصیت کی آخری حد ایک تہائی مال تک :۔ وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے دوران فرمایا۔ اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کا حق مقرر کردیا لہٰذا اب وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں۔ (ترمذی، ابو اب الوصایا باب لا وصیہ لوارث) اسی طرح وصیت کی آخری حد ایک تہائی مال سے زیادہ نہیں ہے۔ ٥۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مکہ میں بیمار ہوا اور مرنے کے قریب ہوگیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو تشریف لائے۔ میں نے کہا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے پاس مال بہت ہے اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں۔ کیا میں اپنا مال (اللہ کی راہ میں) دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں‘‘ پھر میں نے کہ’’ دو تہائی دے دوں؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’نہیں‘‘ پھر میں نے کہا ’’نصف دے دوں؟‘‘ فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ پھر میں نے پوچھا: تہائی دے دوں؟ فرمایا:’’تہائی دے سکتے ہو اور یہ بھی بہت ہے۔‘‘ پھر فرمایا:’’اگر تم اپنی اولاد کو مالدار چھوڑ جاؤ تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ جاؤ اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں۔ بے شک جو مال تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ حتیٰ کہ اس نوالہ پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں دو گے۔‘‘ (بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث البنات۔ نیز مسلم : کتاب الوصیۃ، باب وصیۃ بالثلث) ٦۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ ’’کاش! لوگ تہائی سے کم کر کے چوتھائی کی وصیت کریں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تہائی بھی بہت ہے۔‘‘ اور وکیع کی روایت میں کثیر اور کبیر کے الفاظ ہیں۔ (مسلم، کتاب الوصیہ) ٧۔ قاتل مقتول کا وارث نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’قاتل مقتول کا وارث نہیں ہو سکتا۔‘‘ (ترمذی، ابو اب الفرائض باب فی ابطال میراث القاتل) ٨۔ کافر مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’کافر یا مرتد مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا۔‘‘ (بخاری، کتاب الفرائض۔ باب لایرث المسلم الکافر۔۔ مسلم، کتاب الفرائض) میراث کی تقسیم سے متعلقہ احکام نازل ہونے سے پہلے مسلمانوں پر وصیت فرض کی گئی تھی کہ وہ اپنی موت سے پہلے اپنے والدین اور دوسرے اقرباء کے متعلق وصیت کر جائیں کہ انہیں میت کی جائیداد سے کتنا کتنا حصہ دیا جائے۔ پھر میت کی وصیت میں اگر کوئی شخص گڑ بڑ کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کا بار گناہ انہی لوگوں پر ہوگا جو اس کی وصیت میں تبدیلی کریں گے۔ ہاں اگر کسی قریبی کو یہ خطرہ لاحق ہوجائے کہ وصیت کرنے والے نے جانبداری سے کام لیا ہے یا حصوں کی تقسیم کے متعلق انصاف کے ساتھ وصیت نہیں کی۔ اور ایسے غلط وصیت کردہ حصوں میں اصلاح کر دے (یعنی تبدیلی کرنے والے کی نیت بخیر ہو اور خودغرضی پر منحصر نہ ہو) تو اسے ایسی تبدیلی کرنے پر کچھ گناہ نہ ہوگا (سورہ بقرہ کی آیات نمبر ١٨٠ تا ١٨٢ کا ترجمہ) پھر جب اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں خود ہی والدین اور اقرباء کے حصے مقرر فرما دیئے (جسے علم الفرائض یا علم میراث کی اصطلاح میں ذوی الفروض یا ذوی الفرائض کہتے ہیں) تو ان آیات میراث کی رو سے وصیت کی فرضیت ختم ہوگئی۔ بالفاظ دیگر وصیت کی فرضیت کا حکم منسوخ ہوگیا۔ اور اب وصیت کی حیثیت فرض کے بجائے محض اختیاری رہ گئی۔ یعنی اگر کوئی شخص وصیت کرنا چاہے تو کرسکتا ہے اور اگر نہ کرے یا کر ہی نہ سکے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ البتہ اس وصیت پر سنت نبویہ کی رو سے دو پابندیاں لگا دی گئیں۔ ایک یہ کہ کوئی شخص اپنے تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نہیں کرسکتا اور دوسرے یہ کہ وصیت ذوی الفروض کے حق میں نہیں کی جا سکتی جیسا کہ مندرجہ بالا احادیث میں ان دونوں باتوں کی وضاحت آ گئی ہے۔ اور ان دونوں پابندیوں کی غرض و غایت یہ ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں میں گڑبڑ اور بے انصافی ہوجاتی ہے۔ گویا آپ کو پہلی شکایت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تہائی مال کی پابندی کیوں لگائی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات تو قرآن سے ثابت ہے کہ وراثت کے اصل حقدار والدین اور اقربین ہیں اور ان کے حصے اللہ نے خود مقرر کردیئے جو غیر متبدل ہیں۔ پھر کوئی شخص سارے مال کی وصیت کیسے کرسکتا ہے؟ سوچنے کی بات ہے کہ وصیت میں اصلاح کا حق اگر کسی دوسرے شخص کو دیا جا سکتا ہے جیسا کہ سورۃ بقرہ کی مذکورہ بالا آیت ١٨٢ سے ثابت ہے تو آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیوں نہیں دیا جا سکتا۔ وارثوں کے حق میں وصیت کی نفی بھی قرآن سے ثابت ہے کیونکہ یہ دوسرے حقداروں کے حق پر اثرانداز ہوتی ہے اور یہی وہ جانبداری یا ناانصافی کی بات ہے جس کا ذکر سورۃ بقرہ کی مندرجہ بالا آیات میں آیا ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ :’’ آپ اس کا خیال بھی کرسکتے ہیں کہ قرآن کریم وصیت کو فرض قرار دے اور بلا مشروط یعنی پورے مال میں وصیت کا حق دے اور رسول اللہ یہ فرمائیں کہ نہیں وصیت ایک تہائی مال میں ہو سکتی ہے اور وہ بھی غیر وارثین کے لیے۔ خدا کے حکم میں ایسا رد و بدل یقیناً رسول اللہ کی شان کے خلاف ہے جن کا ایک ایک سانس قرآن کی اتباع میں گزرا (قرآنی فیصلے رضی اللہ عنہ ١١١) اب دیکھئے پرویز صاحب کو کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کا خیال آتا ہے اور کبھی مسلمانوں کی روایت پرستی کا۔ مگر انہیں یہ خیال کبھی بھولے سے بھی نہیں آتا کہ کہیں میری قرآنی بصیرت ہی کسی ٹیڑھے راستے پر تو نہیں چل نکلی؟ اور اس قرآنی بصیرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ نے وصیت اور ترکہ کے الگ الگ احکام کو یوں گڈ مڈ کردیا کہ دونوں کا جنازہ نکال دیا۔ اور ان کا اپنا موقف یہ ہے کہ ’’میت کو اپنی جائیداد و اموال کی تقسیم میں پورا پورا اختیار ہے کہ وہ اپنے مصالح و مقتضیات کے مطابق جسے جی چاہے اور جتنا جی چاہے دے۔ ہاں اگر پھر بھی وصیت اور قرضہ کی ادائیگی کے بعد کچھ بچ جائے تو وہ تقسیم ہوگا اور اگر نہیں بچتا تو نہ سہی‘‘ (ایضاً ص ١٠٩) لہٰذا اب ہم ایک دوسرے انداز سے قرآن ہی سے یہ ثابت کریں گے کہ پرویز صاحب کا یہ موقف قرآن کے صریحاً خلاف ہے۔ نیز یہ کہ محولہ بالا دونوں احادیث قرآن کے عین مطابق ہیں آپ کے موقف کا پہلا حصہ یہ ہے کہ ’’میت جسے چاہے دے دے۔‘‘ اس ’’جسے چاہے‘‘ میں سے والدین اور اقربین کو بہرحال خارج کرنا پڑے گا۔ یعنی جسے چاہے کا اطلاق غیر وارثوں پر ہی ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ والدین اور اقربین کے حصے تو اللہ نے خود مقرر کردیئے ہیں۔ لہٰذا وارثوں کے حق میں وصیت کی ضرورت ختم ہوگئی۔ اور اگر کوئی شخص وارثوں کے مقررہ حصوں کے بعد کسی وارث کے حق میں وصیت کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اللہ کے مقررہ کردہ حصوں سے مطمئن نہیں، نہ ہی اسے اللہ کے علم و حکمت پر کچھ اعتماد ہے۔ ایسا شخص اگر کسی وارث کے حق میں وصیت کر کے اللہ کے مقرر کردہ حق میں اضافہ کرتا ہے تو اس کا لامحالہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسرے وارثوں کے حصوں میں اسی نسبت سے کمی واقع ہوگی اور اگر کسی کے حصہ میں کمی کرتا ہے یا اس کا حصہ ختم کرتا ہے تو ایسی وصیت باطل قرار پائے گی۔ کیونکہ ایسی وصیت سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ١٨١ کی رو سے ﴿جَنَفًا اَوْ اِثْمًا﴾ کے ضمن میں آتی ہے جس کی اصلاح کردینا ازروئے قرآن نہایت ضروری ہے۔ علاوہ ازیں جو شخص وارثوں کے حق میں کچھ وصیت کرتا ہے تو یہ وصیت خواہ کمی کی ہو یا بیشی کی یا تو آبائی جانب یعنی والدین کے متعلق ہوگی یا ابنائی جانب یعنی اولاد کے متعلق ہوگی اور ان دونوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿لَا تَدْرُوْنَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا ۭ فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ۭاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِـیْمًا ﴾(4 : 11) تم نہیں جانتے کہ فائدہ کے لحاظ سے تمہارے باپ داداؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے کون تم سے نفع کے لحاظ سے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے اللہ کے مقرر کردہ ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ اگر کوئی شخص وارثوں کے حق میں اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے علی الرغم وصیت کرتا ہے تو وہ صرف اس آیت کی خلاف ورزی ہی نہیں کرتا بلکہ اللہ کے علم و حکمت کو بھی چیلنج بھی کرتا ہے۔ اور ﴿لَا تَدْرُوْنَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا ﴾ کو بھی۔ ان قرآنی دلائل سے واضح طور پر یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ وارثوں کے حق میں وصیت کرنا قرآن کے منشا کے خلاف ہے نیز پرویز صاحب کا یہ نظریہ کہ 'جتنا چاہے دے دے' کے زمرہ سے وارثوں کو بہرحال خارج کرنا ہی پڑے گا۔ اب پرویز صاحب کے موقف کے دوسرے حصہ 'جتنا چاہے دے دے' کی طرف آئیے۔ سورۃ بقرہ کی آیت ١٨٠ کی رو سے والدین اور اقربون کے لیے وصیت فرض قرار دی گئی اور سورۃ نساء کی آیت نمبر ١١ کی رو سے اللہ تعالیٰ نے خود ہی والدین اور اقربوں کا حصہ مقرر فرما دیا۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ تقسیم ورثہ کے وقت والدین اور اقربون کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ان دونوں کے نتائج کو ملانے سے نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی شخص اپنا سارا مال غیر وارثین کے لیے وصیت نہیں کرسکتا۔ وہ 'جتنا جی چاہے' مال نہیں دے سکتا۔ بلکہ مال کا کچھ حصہ ہی وصیت کے ذریعہ دے سکتا ہے اور وہ بھی صرف غیر وارثوں کو دے سکتا ہے وارثوں کو نہیں۔ اب رہی یہ بات کہ میت اپنے مال کا 'کچھ حصہ' جو وصیت کرسکتا ہے وہ کیا ہونا چاہیے تو قرآن کے دونوں مقامات کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ متروکہ مال کے اصل حقدار والدین اور اقربون ہی ہیں۔ لہٰذا مال کا زیادہ تر حصہ انہیں ہی ملنا چاہیے اور کم تر حصہ ایسا ہونا چاہیے جو میت اپنے اختیار سے کسی غیر وارث کو بذریعہ وصیت دے سکتا ہے۔ اب 'اس کم تر حصہ' کی تحدید فی الواقع قرآن میں مذکور نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتلایا کہ یہ کم تر حصہ زیادہ سے زیادہ ایک تہائی مال تک ہے اس سے زیادہ حصہ کی وصیت کی جائے گی تو یہ ﴿جَنَفًا اَوْ اِثْمًا﴾ کے ضمن میں آئے گی جس میں رد و بدل اور ترمیم کی جا سکتی ہے اور اس اصلاح کا حق اللہ تعالیٰ نے ہر مصلح کو دیا ہے۔ اور پرویز صاحب یہ حق میت کی موجودگی میں جماعت کو اور میت کی موت کے بعد اسلامی عدالت کو دیتے ہیں (قرآنی فیصلے ص ١١٠) اور یہ بات تو شاید طلوع اسلام بھی تسلیم کرے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کے سب سے بڑے مصلح، ہمدرد اور خیر خواہ بھی تھے اور اسلامی عدالت بھی۔ پھر اگر آپ کی یہ تحدید با اعتماد ذرائع سے درست ثابت ہوجائے اور یہ تحدید قرآن کے خلاف بھی نہ ہو بلکہ اس قاعدہ کے مطابق ہو کہ آپ کو قرآن کے مجمل احکام کی تفسیر و تعیین کا حق بھی قرآن ہی نے دیا ہو تو پھر معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی متعین کی ہوئی حد کو تسلیم کرنے میں طلوع اسلام کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ اور وہ اس بات کا واویلا کرنے میں کیسے حق بجانب سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ احادیث قرض کے صریحاً خلاف ہیں۔ واضح رہے کہ مسلمانوں کی اکثریت، جو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حجت تسلیم کرتی ہے، کے عقیدہ کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تحدید وحی خفی کے ذریعہ فرمائی تھی جو ﴿بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ﴾ میں شامل ہوتی ہے۔ [١٨] قرآن میں مذکور وراثت کے حصے :۔ سب سے پہلے اولاد کے حصوں کا ذکر کیا گیا اور اس میں یہ کلیہ بیان کیا گیا کہ ہر لڑکے کا حصہ لڑکی سے دگنا ہوگا۔ یہ اس لیے کہ اسلام نے معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ مرد پر ڈالا اور عورت کو اس سے سبکدوش کردیا ہے اور جب مرد کمانے کے قابل نہیں رہتا مثلاً باپ، دادا وغیرہ تو اس کا حصہ عورت یعنی ماں، دادی وغیرہ کے برابر ہوتا ہے۔ [١٩] اگر اولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں تو اگر ایک لڑکی ہو تو اسے آدھا ترکہ ملے گا۔ دو یا دو سے زیادہ ہوں تو دو تہائی۔ اور یہ عورتوں کے حصہ کی آخری حد ہے۔ شیعہ حضرات کی طرف سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مطعون کرنے کے سلسلہ میں ایک یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے اپنے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ترکہ سے وراثت کا حصہ مانگا تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں بموجب حکم قرآن نصف حصہ ترکہ کا دینے سے انکار کردیا۔ اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے یہی حصہ مانگا تو انہوں نے بھی انکار کردیا لہٰذا یہ دونوں غاصب ہیں۔ جس طرح انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے حق خلافت غصب کیا تھا اسی طرح سیدہ فاطمہ کا حق وراثت غصب کیا تھا۔ اس اعتراض میں حق خلافت کے غصب کا جواب تو ہم آگے چل کر اسی سورۃ کی آیت نمبر ٥٤ کے حاشیہ میں دیں گے اور حق وراثت کا جواب دے رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت :۔ واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیثیتیں دو تھیں : ایک شخصی یا ذاتی اور دوسری بحیثیت رسول اور فرمانروائے ریاست اسلامی۔ لہٰذا ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ان دو حیثیتوں کے لحاظ سے آپ کا ترکہ کیا تھا اور ان سے متعلق آپ نے کیا احکام صادر فرمائے تھے۔ ذاتی حیثیت سے ترکہ اور اس کے احکام سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمایئے : ١۔ عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی دینار (بطور ترکہ) چھوڑا اور نہ درہم۔ نہ کوئی غلام اور نہ لونڈی۔ صرف ایک سفید خچر چھوڑا جس پر آپ سواری کرتے تھے یا کچھ جنگی ہتھیار تھے اور جو زمین تھی وہ آپ مسافروں کے لیے صدقہ کر گئے تھے۔ (بخاری، کتاب الفرائض، باب قول النبی لا نورث ماترکنا صدقۃ) ٢۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ (ابو الشحم) یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔ (بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب ما قیل فی درع النبی ) ٣۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور کچھ باسی چربی لے گیا اس وقت آپ کی یہ حالت تھی کہ آپ نے اپنی زرہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی اور اس سے اپنی بیویوں کے لیے جو لیے تھے۔ اور میں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ محمد کے گھر والوں کے پاس کبھی شام کو ایک صاع گیہوں یا غلہ جمع نہیں رہا۔ حالانکہ اس وقت آپ کے پاس نو بیویاں تھیں۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب شری النبی النسیئۃ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے تین مدعی ان احادیث سے معلوم ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی ترکہ کچھ بھی نہ تھا۔ باقی اموال فے ہی رہ جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اختیار دیا تھا کہ آپ اپنی صوابدید کے مطابق ان اموال کو جیسے چاہیں اور جہاں چاہیں صرف کریں۔ ان اموال میں ایک تو فدک کا باغ تھا، دوسرے کچھ خیبر کی زمین اور کچھ زمین مدینہ کی بھی تھی۔ جس کا کوئی مالک نہ تھا اور وہ سرکاری تحویل میں تھی۔ ان اموال میں سے ایک تو آپ اپنی بیویوں کا سالانہ خرچہ رکھ لیتے تھے۔ وہ بھی بڑی کفایت شعاری کے ساتھ۔ کچھ اپنے نادار اقربا میں تقسیم کرتے تھے۔ کچھ جہاد کے اخراجات اور رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ فرماتے۔ گویا یہ بیت المال کی ملکیت ہوتی تھی۔ یہی وہ اموال تھے جن کے متعلق ورثاء نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں دعویٰ کیا تھا اور مدعی تین فریق تھے۔ ایک سیدہ فاطمہ جن کا آیت میراث کی رو سے ٢/١ حصہ بنتا تھا۔ دوسرے آپ کی بیویاں، جن کا ٨/١ حصہ بنتا تھا اور تیسرے آپ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ جن کا بطور عصبہ باقی یعنی ٨/٣ حصہ بنتا تھا۔ اب ان سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ کی وفات کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس ترکے سے حصہ مانگا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بطور فے عطا فرمائے تھے۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔‘‘ اس بات پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض ہو کر چلی گئیں۔ پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی وفات تک ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہ کی اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں۔ آپ باغ فدک، خیبر اور مدینہ کی زمینوں سے اپنا حصہ مانگتی تھیں تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ میں کوئی بات چھوڑنے والا نہیں جو آپ کیا کرتے تھے۔ ان اموال کی تقسیم جیسے آپ کیا کرتے تھے۔ میں ویسے ہی کرتا رہوں گا اور میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ آپ کی کوئی بات چھوڑ کر گمراہ نہ ہوجاؤں۔ (بخاری، کتاب الجہاد، باب فرض الخمس) ٢۔ اور ایک دوسری حدیث کے مطابق جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے۔ سیدہ فاطمہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما دونوں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے اموال فے کے ترکہ میں حصہ کا مطالبہ کیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ الگ الگ مواقع ہوں۔ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو وہی جواب دیا جو مندرجہ بالا حدیث میں مذکور ہے۔ (بخاری، کتاب المغازی۔ باب حدیث بنی نضیر و مخرج رسول اللہ الیھم) ٣۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور وہ اموال فے میں سے اپنا آٹھواں حصہ مانگتی تھیں۔ میں نے انہیں منع کیا اور کہا’’تمہیں اللہ کا خوف نہیں۔ کیا تم یہ نہیں جانتیں کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔‘‘ چنانچہ آپ کی بیویاں ترکہ مانگنے سے باز آ گئیں۔ (بخاری کتاب المغازی۔ باب حدیث بنی نضیر ومخرج رسول اللہ الیھم) مندرجہ بالا تین احادیث تو دور صدیقی سے متعلق ہیں۔ اور دور فاروقی میں مدعی صرف دو تھے۔ ایک سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے اور دوسرے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ عصبہ کی حیثیت سے۔ ان دونوں نے اموال فے سے ترکہ کا مطالبہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دلائل دینے کے بعد کہا کہ میں یہ اموال صرف اس شرط پر آپ کے حوالہ کرسکتا ہوں کہ تم ان کے متولی بن کر رہو اور اسی طرح تقسیم کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ یہ بات ان دونوں نے تسلیم نہ کی۔ پھر دوسری بار گئے تو بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہی جواب دیا تو ان دونوں حضرات نے اس مرتبہ تولیت کی شرط قبول کرلی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اموال ان کی تحویل میں دے دیئے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر تم نے یہ شرط پوری نہ کی تو میں پھر یہ اموال اپنی تحویل میں لے لوں گا۔ پھر عملاً یہ ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی بطور متولی ان اموال پر قابض ہوگئے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو نزدیک نہ آنے دیا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد یہ امام حسن رضی اللہ عنہ کے، پھر ان کے بعد امام حسین رضی اللہ عنہ کے، پھر ان کے بعد امام زین العابدین علی بن حسین اور پھر حسن بن حسن (حسن مثنیٰ) دونوں کے قبضے میں رہے اور وہ باری باری اس کا انتظام کرتے رہے۔ پھر زید بن حسن بن علی (ان کے بھائی) کے پاس رہے اور ہر شخص کے پاس اسی طریق سے رہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقہ ہے (یعنی یہ حضرات متولی بن کر رہے۔ مالک بن کر نہیں رہے) اب ہم ایک طویل حدیث سے اقتباس پیش کرتے ہیں جو ان جملہ امور پر روشنی ڈالتی ہے : فی الحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقہ ہی تھا :۔ مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بلا بھیجا۔ میں وہاں پہنچا ہی تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا غلام یرفا آ کر کہنے لگا کہ حضرات عثمان رضی اللہ عنہ ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، زبیر رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے ہیں۔ اور آپ سے ملنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ وہ آ کر بیٹھے ہی تھے کہ یرفا پھر آیا اور کہنے لگا کہ عباس رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ آئے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی بلا لیا۔ چنانچہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : امیر المومنین میرا اور اس شخص کا فیصلہ کر دیجئے۔ یہ دونوں حضرات بنو نضیر کے اموال فے کے بارے میں جھگڑ رہے تھے اور آپس میں گالی گلوچ پر اتر آئے تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی کہنے لگے : امیر المومنین ان کا فیصلہ کر کے انہیں ایک دوسرے سے نجات دلائیے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا کہ میں آپ سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ’’ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے؟‘‘ ان دونوں نے کہا 'بے شک' پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فے سے متعلق سورۃ حشر کی آیات پڑھ کر فرمایا، اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اموال کو اپنی ذات کے لیے جوڑ نہیں رکھا۔ بلکہ تم لوگوں کو دیا اور بانٹا۔ اسی مال سے آپ اپنی بیویوں کا سال بھر کا خرچ نکالتے اور جو مال بچ جاتا اسے تازیست سامان جنگ اور رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ کرتے رہے۔ پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام تھے اسی طرح کرتے رہے۔ حالانکہ تم دونوں اس وقت بھی یہ کہتے تھے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی یہ کارروائی ٹھیک نہیں ہے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ سچے، راست باز، ٹھیک راستے پر چلنے والے اور حق کے تابع تھے۔ پھر ان کے بعد اب میں ان دونوں کا جانشین ہوں۔ پھر تم دونوں (عباس اور علی رضی اللہ عنہما) میرے پاس آئے۔ اس وقت تم دونوں کی بات ایک اور معاملہ ایک تھا۔ پھر اے عباس! تم اکیلے بھی میرے پاس آئے اور میں نے یہی کہا کہ انبیاء کا مال صدقہ ہوتا ہے۔ پھر میں نے تم دونوں سے کہا کہ میں تمہیں یہ اموال صرف اس شرط پر دیتا ہوں کہ تم اس کی تقسیم ویسے ہی کرو جیسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ اور میں کرتے رہے۔ اگر یہ شرط منظور ہے تو ٹھیک ورنہ مجھ سے گفتگو نہ کرو۔ تم نے یہ شرط مان لی تو میں نے یہ اموال تمہارے حوالے کردیے۔ اب تم اور کیا چاہتے ہو؟ اب اگر تم اس مال کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو اور تم سے اس مال کا بندوبست نہیں ہوسکتا تو پھر یہ کام میرے سپرد کر دو۔ میں ہی یہ کام سر انجام دیا کروں گا۔ مگر وہ اٹھ کر چلے گئے اور انہوں نے اموال کو واپس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تحویل میں دینا گوارا نہ کیا اور عملاً ان اموال پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ قابض ہوگئے۔ چنانچہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ مال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قبضہ میں رہا۔ انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اس پر قبضہ نہ کرنے دیا۔ پھر اس کے بعد حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے قبضہ میں آیا، پھر حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قبضہ میں، پھر علی بن حسین اور حسن بن حسن دونوں کے قبضہ میں، جو باری باری اس کا انتظام کرتے تھے۔ پھر زید بن حسن کے قبضہ میں رہا۔ اور یہ اموال فی الحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقہ ہی رہے۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث بنی نضیر و مخرج رسول اللہ الیھم) النسآء
12 [٢٣] میت اگر عورت ہے تو اس کے خاوند کو آدھا ترکہ ملے گا۔ بشرطیکہ میت کی اولاد نہ ہو اور اگر اولاد ہو تو خاوند کو ٤/١ ملے گا۔ اور اگر میت مرد ہے تو بیوی کو ٤/١ ملے گا بشرطیکہ میت کی اولاد نہ ہو اور اگر بیویاں ایک سے زیادہ ہوں تو ٤/١ ان میں برابر تقسیم ہوگا۔ اور اگر میت کی اولاد بھی ہو خواہ وہ کسی بھی بیوی سے ہو تو بیوی یا بیویوں کو ٨/١ ملے گا۔ ایک سے زیادہ بیویوں کی صورت میں یہ ان میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔ (یہ زوجین کے حصے ہوئے) [٢٤] کلالہ کی میراث :۔ کَلالۃ وہ شخص ہے جس کے نہ والدین ہوں نہ دادا دادی، اور نہ اولاد اور نہ پوتے پوتیاں۔ خواہ وہ میت مرد ہو یا عورت وہ کلالہ ہے البتہ اس کے بہن بھائی ہو سکتے ہیں۔ بہن بھائی بھی تین قسم کے ہوتے ہیں (١) عینی یا حقیقی یا سگے بھائی جن کے والدین ایک ہوں۔ (٢) علاتی یا سوتیلے بہن بھائی جن کی مائیں الگ الگ اور باپ ایک ہو (٣) اخیافی یعنی ایسے سوتیلے بہن بھائی جن کی ماں ایک ہو اور باپ الگ الگ ہوں۔ اس آیت میں جن بہن بھائیوں کا ذکر ہے وہ بالاتفاق اخیافی یعنی ماں کی طرف سے بھائیوں کا ہے اور اسی سورۃ کی آیت نمبر ١٧٦ میں دوسرے بہن بھائیوں کا ذکر ہے اخیافی بہن بھائیوں کا حصہ ٣/١ ہے۔ اگر ایک بھائی اور ایک بہن ہو تو ہر ایک کا ٦/١ اور اگر بہن بھائی زیادہ ہوں تو بھی انہیں ٣/١ سے زیادہ نہیں ملے گا۔ اور یہ ٣/١ حصہ ان میں برابر تقسیم ہوگا۔ مرد کو عورت سے دگنا نہیں ملے گا۔ اور اگر صرف ایک ہی بھائی یا ایک ہی بہن ہو تو اسے ٦/ ١ ملے گا۔ باقی پہلی صورت میں ٣/٢ اور دوسری صورت میں ٦/٥ بچ جائے گا۔ کلالہ باقی پورے حصہ کے متعلق وصیت کرسکتا ہے یا پھر یہ حصہ ذوی الارحام میں تقسیم ہوگا بشرطیکہ کوئی عصبہ نہ مل رہا ہو۔ [٢٥] وصیت کے ذریعہ نقصان پہنچانے کی صورتیں :۔ وصیت میں میت یوں نقصان پہنچا سکتا ہے کہ اندازہ سے زیادہ وصیت کر جائے۔ اور یہ تہائی سے بھی زیادہ ہو یا عمداً ایسا کرے تو اس سے وارثوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ایسی وصیت کی اصلاح کر دینی چاہیے تاکہ ورثاء کو نقصان نہ ہو۔ اسی طرح میت مرتے وقت کسی فرضی قسم کے قرضہ کا اقرار کر جائے تو وہ قرض لینے والے کو ممنون اور ورثاء کو نقصان پہنچا سکتا ہے حتیٰ کہ محروم بھی بنا سکتا ہے اسی لیے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے اور حلیم اس لحاظ سے ہے کہ اس نے ان قوانین کے مقرر کرنے میں سختی نہیں کی۔ بلکہ ان کی زیادہ سے زیادہ سہولت کا خیال رکھا ہے۔ کتاب و سنت میں جن ورثاء کے حصے مقرر کردیئے گئے ہیں انہیں ذوی الفروض کہتے ہیں۔ قرآن کے علاوہ درج ذیل ورثاء کے حصے سنت کی رو سے مقرر ہیں۔ چنانچہ درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : (١) دادا کا حصہ ١۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا۔ ’’میرا پوتا مر گیا ہے، مجھے اس کے ترکہ سے کیا ملے گا ؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’چھٹا حصہ‘‘ وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر کہا کہ تیرے لیے ایک چھٹا حصہ اور ہے۔ پھر اس کی وضاحت کی کہ یہ دوسرا چھٹا حصہ تمہارے لیے بطور خوراک (ابو داؤد) اور ترمذی میں لک عصبہ یعنی بطور عصبہ ہے۔ (ترمذی، ابو اب الفرائض، باب فی میراث الجد، ابو داؤد۔ کتاب الفرائض۔ باب ماجاء فی میراث الجد) (٢) دادی اور نانی کا حصہ : ٢۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ماں نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جدہ (دادی یا نانی) کا چھٹا حصہ مقرر فرمایا۔ (ابو داؤد۔ کتاب الفرائض۔ باب فی الجدۃ) (٣) اگر ایک بیٹی اور ایک پوتی ہو : ٣۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بیٹی، پوتی اور بہن کے متعلق وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ بیٹی کو نصف ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ تاکہ دو تہائی پورا ہوجائے (مونث اولاد کا زیادہ سے زیادہ حصہ) باقی بہن کو ملے گا۔ (بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث ابنۃ ابن مع ابنۃ) (٤) اگر ایک بیٹی اور ایک بہن ہو ٤۔ اسود بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن میں ہمارے پاس معلم اور امیر بن کر آئے۔ ہم نے ان سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے مرتے وقت ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی انہوں نے بیٹی کو نصف دیا اور بہن کو بھی نصف دیا۔ (بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث البنات) اور ابو داؤد میں یہ الفاظ زیادہ ہیں۔ ’’اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقید حیات تھے۔‘‘ (ابو داؤد، کتاب الفرائض۔ باب من کان لیس لہ ولد ولہ اخوات ) (٥) بھتیجے کا حصہ پھوپھی سے ٥۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (تعجب سے) فرمایا کرتے تھے کہ ’’بھتیجا تو پھوپھی کا وارث ہے مگر پھوپھی بھتیجے کی وارث نہیں۔‘‘ (موطا۔ کتاب الفرائض، باب فی میراث العمۃ) مزید احکام وراثت ١۔ ذوی الفروض یعنی جن کے حصے کتاب و سنت نے مقرر کردیئے ہیں ان کی تفصیل اوپر گزر چکی۔ وارثوں کی دو اقسام :۔ ٢۔ عصبات۔ عصبہ میت کے قریب ترین رشتہ دار مرد کو کہتے ہیں اور ذوی الفروض کی ادائیگی کے بعد جو بچے وہ اسے ملتا ہے۔ جیسے سعد بن ربیع کے بھائی کو آپ نے دو بیٹوں کا ٣/٢ اور بیوی کا ٨/١، باقی ٢٤/ ٥ حصہ دلایا تھا۔ عصبہ کے متعلق آپ نے فرمایا : ٣۔ ’’اللہ کے مقرر کردہ حصے حصہ داروں کو ادا کرو۔ پھر جو باقی بچے وہ قریب ترین رشتہ دار مرد کا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث الولدمن ابیہ وأمہ۔ مسلم۔ کتاب الفرائض۔ باب الحقوا الفرائض باھلھا) بسا اوقات ذوی الفروض عصبہ کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتے ہیں مثلاً میت کی اولاد صرف دو بیٹیاں ہیں۔ نہ والدین ہیں نہ بیوی۔ تو بیٹیوں کو ٣/٢ ملے گا اور باقی کے لیے عصبہ تلاش کرنا پڑے گا لیکن اگر ان بیٹیوں کے ساتھ ایک بیٹا بھی ہو تو بیٹا چونکہ عصبہ ہے لہٰذا وہ بہنوں کو بھی عصبہ بنا دے گا اور تقسیم اس طرح ہوگی، بیٹے کا ٢/١ اور دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کا ٤/١۔ عصبہ کی تلاش۔ سب سے پہلے عصبہ اولاد سے دیکھا جائے گا۔ پھر اوپر کی طرف سے۔ پھر چچاؤں میں سے پھر ان کے بیٹوں سے۔ مولیٰ کا عصبہ ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (’’آزاد کردہ غلام کے) ورثہ کا (عصبہ کی حیثیت سے) حقدار وہ ہے جس نے اسے آزاد کیا ہو۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الفرائض۔ باب میراث السائبة۔ مسلم، کتاب الفرائض۔ باب انما الولاء لمن اعتق) ٥۔ ذوی الارحام : اگر ذوی الفروض اور عصبہ بھی موجود نہ ہو اور صرف بھانجے بھانجیاں، دوہتے دوہتیاں، ماموں وغیرہ ہوں۔ ٦۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث ماموں ہے۔ وہی اس کی طرف سے دیت دے گا اور وہی وارث ہوگا۔‘‘ (ابو داؤد، کتاب الفرائض۔ باب میراث ذوی الارحام) اب ہم قانون میراث کی چند مزید وضاحتیں پیش کرتے ہیں : عرب میں رائج وراثت کے تین طریقے :۔ اسلام کا قانون میراث نازل ہونے سے پیشتر عرب میں وراثت کے تین طریقے رائج تھے (١) ایک دوسرے سے عہد۔ یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کو کہہ دیتا کہ میری جان تیری جان، میرا خون تیرا خون، میں تیرا وارث تو میرا وارث۔ جب کوئی شخص کسی سے ایسا عہد کرلیتا تو اس کے مقابلہ میں بھائی یا بیٹے کسی کو بھی ورثہ نہیں ملتا تھا۔ (٢) اور اقرباء کو وراثت سے محروم کرنے کا دوسرا طریقہ متبنّیٰ بنانے کا تھا۔ اگر کسی کی نرینہ اولاد نہ ہوتی تو وہ کوئی متبنیٰ بنا لیتا تھا جو اس کی پوری میراث کا حقدار سمجھا جاتا تھا (٣) اور اگر اولاد میں میراث تقسیم ہوتی تو اس کی صورت یہ تھی کہ حصہ صرف ان بیٹوں کو ملتا تھا جو میت کی طرف سے نیزہ لے کر لڑ سکتے تھے۔ اسلام کے قانون میراث نے پہلے دو طریق کو تو کلیتہً منسوخ کردیا اور تیسرے میں یہ اصلاح کی کہ ورثہ لڑکیوں کو بھی ملے، چھوٹے بچوں کو بھی ملے اور والدین کو بھی۔ جب مہاجرین نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور مہاجرین کی معاش اور آباد کاری کا مسئلہ پیش آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار میں مواخات کا سلسلہ قائم کیا۔ اس وقت تک احکام میراث نازل نہیں ہوئے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ان بھائی بھائی مہاجرین و انصار کو ایک دوسرے کا وارث قرار دیا۔ پھر جب مہاجرین کی معاشی حالت قدرے سنبھل گئی تو یہ قانون منسوخ کردیا گیا اور وراثت کے تفصیلی احکام اس سورۃ میں نازل ہوئے۔ اسلامی قانون وراثت کا مدار تین چیزوں پر ہے : نسب، نکاح اور ولاء (١) نسب میں تین پہلوؤں کو اس ترتیب سے ملحوظ رکھا کہ سب سے پہلے اولاد کا جیسا کہ ابتدا ہی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ ۤ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ﴾ دوسرے نمبر پر والدین کے حصوں کا ذکر ہوا اور تیسرے نمبر پر بہن بھائیوں کا ذکر ہے۔ (٢) نکاح سے مراد مختلف صورتوں میں میاں اور بیوی کے حصوں کا ذکر ہے۔ (٣) اور ولاء سے مراد یہ ہے کہ ایک ایسا آزاد کردہ غلام جس کا کوئی رشتہ دار موجود نہ ہو تو اس کا وارث وہ مالک ہوتا ہے جس نے اسے آزاد کیا تھا اور یہ صورت آج کل مفقود ہے۔ نکاح کی بنا پر بھی حصوں کا ذکر نسبتاً آسان ہے کہ میت اگر عورت ہو اور بے اولاد ہو تو مرد کو اس کی میراث کا آدھا ملے گا اور اگر صاحب اولاد ہو تو خاوند کو چوتھائی حصہ ملے گا۔ اسی طرح اگر میت مرد بے اولاد ہو تو بیوی کو یا اس کی سب بیویوں کو چوتھائی حصہ ملے گا اور اولاد والا ہے تو بیوی کو یا سب بیویوں کو آٹھواں حصہ بحصہ برابر ملے گا۔ اب نسب کے رشتہ داروں کے حصے ذرا قابل فہم ہیں۔ کیونکہ ان کی بہت سی صورتیں ہیں ان میں سے چند مشہور و معروف عام صورتیں درج ذیل ہیں : ١۔ جو مرد یا عورت بوڑھا ہو کر اپنی طبعی موت مرتا ہے تو اس وقت عموماً اس کے والدین دنیا سے رخصت ہوچکے ہوتے ہیں اور اگر بہن بھائی ہوں تو الگ گھروں والے ہوتے ہیں۔ اس صورت میں اولاد ہی وارث ہوتی ہے۔ اب اگر اولاد ایک بیٹا ہی ہے تو زوجین میں سے کسی ایک کا حصہ نکالنے کے بعد باقی سب میراث کا وارث ہوگا اور زیادہ بیٹے ہوں تو سب اس باقی حصہ میں برابر کے حصہ دار ہوں گے اور بہن بھائی اگر ملے جلے ہیں تو لڑکے کے دو حصے اور لڑکی کا ایک حصہ کی نسبت سے ورثہ ملے گا۔ اور اگر لڑکا ایک بھی نہیں ایک لڑکی ہے تو اسے کل کا نصف ملے گا اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہیں تو انہیں کل کا ٣/٢ ملے گا۔ ٢۔ اس کے بعد عام صورت یہ ہے کہ میت کے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک زندہ ہو۔ اگر دونوں زندہ ہیں تو ان میں سے ہر ایک کو کل کا چھٹا حصہ ملے گا۔ اگر باپ زندہ نہیں اور دادا زندہ ہے تو باپ کا حصہ دادا کو مل جائے گا۔ اور ماں زندہ نہیں لیکن نانی زندہ ہے تو ماں کا حصہ نانی کو مل جائے گا اور بقول بعض اگر نانی زندہ نہیں اور دادی زندہ ہے تو ماں کا حصہ دادی کو مل جائے گا۔ اور اگر دونوں زندہ ہیں تو یہی چھٹا حصہ دونوں میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔ والدین کا اور زوجین میں سے کسی ایک کا حصہ نکال لینے کے بعد باقی میراث اولاد میں تقسیم ہوگی بحساب مذکر ٢ حصے اور مونث ایک حصہ۔ اس صورت میں کبھی ایک الجھن بھی پیش آ سکتی ہے مثلاً میت عورت ہے جس کے والدین بھی زندہ ہیں شوہر بھی اور دو لڑکیاں بھی۔ لڑکیوں کا ٣/٢ حصہ اور والدین میں سے ہر ایک کا ٦/١ یعنی دونوں کا ٣/١ حصہ، اور خاوند کا ٤/١۔ بالفاظ دیگر جائیداد کے کل بارہ حصے کرنے چاہئیں۔ جن میں سے ٨ تو لڑکیاں لے گئیں ٣ خاوند لے گیا اور ٢ حصے والدہ کے اور ٢ حصے والد کے۔ یہ کل ١٥ حصے بنتے ہیں (یعنی حاصل جمع ایک سے بڑھ جاتی ہے) ایسی صورت کو فقہی اصطلاح میں عول کہتے ہیں۔ اس صورت میں کل جائیداد کے ١٢ کے بجائے پندرہ حصے کر کے انہیں مذکورہ بالا حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر عصبہ نہ مل رہا ہو تو اس کے برعکس صورت بھی پیش آ سکتی ہے۔ مثلاً میت مرد ہے جس کی بیوی فوت ہوچکی ہے۔ ماں زندہ ہے لیکن باپ فوت ہوچکا ہے۔ دادا بھی نہیں اور اولاد صرف ایک لڑکی ہے۔ گویا اس کے وارث صرف ماں اور بیٹی میں اور عصبہ کوئی بھی نہیں مل رہا۔ حصوں کے لحاظ سے جائیداد ٦ حصوں میں تقسیم ہوگی جن میں سے ٣ حصے تو بیٹی لے گی اور ایک حصہ ماں۔ باقی ٢ حصے بچ جائیں گے ایسی صورت کو فقہی اصطلاح میں رد کہتے ہیں۔ اس صورت میں یہ حصے بھی اسی نسبت سے ان دونوں کو مل جائیں گے۔ بالفاظ دیگر یہ میراث ہی ٦ کی بجائے ٤ حصوں میں تقسیم کر کے ٣ حصے بیٹی کو اور ایک ماں کو دے دیا جائے گا۔ (واضح رہے کہ ذوی الفروض کی موجودگی میں بقیہ ترکہ ذوی الارحام کو نہیں ملتا۔ بلکہ پھر انہیں پر تقسیم ہوجاتا ہے۔) (٣) تیسری عام صورت یہ ہے کہ ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور ابھی اولاد بھی نہ ہوئی تھی کہ زوجین میں سے کسی ایک کا انتقال ہوگیا اور اس کے والدین زندہ ہیں لیکن اور کوئی بہن بھائی نہیں تو اس صورت میں ماں کو ایک تہائی، میت اگر مرد ہے تو عورت کو ایک چوتھائی اور باقی ١٢/ ٥ باپ کو ملے گا۔ اور اگر میت عورت ہے تو ماں کے ٤ حصے، خاوند کے ٦ حصے اور باپ کو صرف ٢ حصے یا ماں کا نصف ملے گا۔ اور اگر بہن بھائی بھی ہیں تو ماں کو ٦/١ حصہ ملے گا۔ یعنی ماں کے دو حصے، بیوی کے تین حصے باقی سات حصے باپ کو ملیں گے۔ اور اگر میت بیوی تھی تو ماں کے ٢ خاوند کو اور باپ کو ٤ حصے مل جائیں گے۔ یہ چند عام صورتیں بیان کردی گئیں ورنہ میراث کی اتنی صورتیں بن جاتی ہیں جن کا حصران حواشی میں ممکن نہیں۔ میں نے ان کی تفصیل اپنی کتاب ’تجارت اور لین دین کے احکام‘ کے پندرہویں باب ’احکام وراثت‘ میں درج کردی ہیں۔ النسآء
13 النسآء
14 [٢٦] احکام کے مطابق تقسیم نہ کرنے والے :۔ اگرچہ یہاں میراث کے احکام بیان ہو رہے ہیں مگر حکم عام ہے۔ خواہ احکام یتامیٰ کے حقوق کے متعلق ہوں یا عورتوں سے تعلق رکھتے ہوں۔ وصیت سے تعلق رکھتے ہوں یا کوئی دوسرے ضابطے ہوں۔ جو بھی اللہ تعالیٰ نے حدود مقرر کردی ہیں اگر ان سے کوئی تجاوز کرے گا وہ ہمیشہ کے لیے جہنم کے عذاب میں مبتلا رہے گا اور ربط مضمون کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ جو شخص اس قانون وراثت کو توڑے، عورتوں کو ورثہ سے محروم رکھے یا صرف بڑے بیٹے کو مستحق وراثت قرار دے یا عورت مرد کو برابر کا حصہ دار قرار دے یا جائیداد کو سرے سے تقسیم ہی نہ کرے اور اسے مشترکہ خاندانی جائیداد قرار دے دے تو ایسے سب لوگ حدود اللہ سے تجاوز کرنے والے اور اسی عذاب الیم کے مستحق ہیں۔ یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ :۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں یتیموں سے خیر خواہی، ان سے انصاف اور ان کے حقوق کی نگہداشت کی بڑی تفصیل سے تاکید فرمائی۔ لیکن یہ ذکر نہیں فرمایا۔ کہ یتیم پوتا بھی وراثت کا حقدار ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی اہمیت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود عبدالمطلب کی وفات کے وقت ان کے یتیم پوتے تھے لیکن آپ کو وراثت سے حصہ نہیں ملا۔ نہ ہی اللہ نے اس کا کہیں ذکر فرمایا۔ حالانکہ اگر یتیم پوتے کو وراثت میں حصہ دلانا اللہ کو منظور ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کے متعلق بھی قرآن میں کوئی واضح حکم نازل فرما دیتے۔ اور ایسے حکم کا نازل نہ ہونا ہی اس بات کی قوی دلیل ہے۔ کہ یتیم پوتا اپنے چچا یا چچاؤں اور پھوپھیوں وغیرہ کی موجودگی میں وراثت کا حق دار نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اپنے مرنے والے باپ کی وراثت کا ہی حقدار ہوتا ہے۔ وراثت صرف اسے ملتی ہے جو میت کی وفات کے وقت موجود ہو :۔ اب یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے بعض متجددین کے واویلا کی بنا پر ہماری حکومت پاکستان نے قانون وراثت میں یتیم پوتے کو بھی حصہ دار قرار دیا ہے۔ اور یہ بات عقلی اور نقلی دونوں طرح سے غلط ہے۔ عقلی لحاظ سے اس طرح کہ کسی درخت کے پھل کو اس درخت کے ذریعہ زمین سے غذا اسی وقت تک ملتی ہے جب تک وہ درخت پر لگا رہے۔ اور جب درخت سے گر جائے تو اسے غذا نہیں مل سکتی۔ اور نقلی لحاظ سے اس طرح کہ تقسیم وراثت کے دو اصول ہیں۔ اور یہ دونوں کتاب اللہ سے مستنبط ہیں۔ پہلا یہ کہ وراثت میں حصہ صرف اس کو ملے گا۔ جو میت کی وفات کے وقت زندہ موجود ہو۔ اور جو میت کی زندگی میں مر چکا اس کا کوئی حصہ نہیں۔ الاقرب فالاقرب کا اصول :۔ دوسرا الاقرب فالاقرب کا اصول ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور کے رشتہ دار وراثت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور قریبی سے مراد یہ ہے جس میں کوئی درمیانی واسطہ نہ ہو۔ جیسے میت کی صلبی اولاد۔ اس لحاظ سے بھی یتیم پوتا اپنے چچاؤں اور پھوپھیوں کی موجودگی میں وراثت کا حقدار قرار نہیں پاتا۔ یتیم پوتے کو وراثت میں حقدار ثابت کرنے والے اس معاملہ کو ایک شاذ قسم کی اور جذباتی قسم کی مثال سے سمجھانے کی کوشش فرماتے ہیں۔ مثلاً زید کے دو بیٹے ہیں۔ ایک بکر دوسرا عمر۔ زید کی وفات کے وقت بکر تو زندہ ہوتا ہے مگر عمر مر چکا ہوتا ہے۔ البتہ عمر کا ایک لڑکا خالد زندہ ہوتا ہے۔ اور سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ بکر کو تو سارا ترکہ مل جائے اور عمر کے بیٹے خالد کو کچھ نہ ملے۔ حالانکہ وہ یتیم ہے اور مال کا زیادہ محتاج ہے۔ کیا اس کا جرم یہی ہے کہ اس کا باپ مر چکا ہے؟ پھر ان حضرات نے یتیم پوتے کو حقدار بنانے کے لیے قائم مقامی کا اصول وضع کیا۔ یعنی خالد اپنے باپ عمر کا قائمقام بن کر اپنے دادا کے ترکہ سے آدھا ورثہ لینے کا حقدار ہے۔ قائم مقامی کا اصول :۔ غور فرمائیے کہ اسلام کے پورے قانون وراثت میں آپ کو کہیں یہ 'قائم مقامی کا اصول' نظر آیا ہے۔ دراصل اس اصول کے موجد پرویز صاحب کے استاد محترم حافظ اسلم جیراج پوری ہیں۔ پھر اسی نظریہ کی پرویز صاحب نے آبیاری فرمائی۔ اس سے پہلے آپ کو یہ اصول پوری اسلامی شریعت میں اور اسلامی تاریخ میں کہیں نظر نہ آئے گا۔ وجہ یہ ہے کہ حق وراثت تو مرنے کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے۔ پھر جب حق وراثت ہی ختم ہوچکا تو قائم مقامی کس بات کی؟ پھر اس اصول کو تسلیم کرنے کے مفاسد بے شمار ہیں۔ مثلاً میت کی بیوی اس سے پہلے فوت ہوچکی ہے۔ اب اس نظریہ قائم مقامی کی رو سے بیوی کے اقربین جائز طور پر ترکہ سے حصہ طلب کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اسی طرح میت اگر عورت ہے جس کا خاوند پہلے ہی فوت ہوچکا ہے تو خاوند کے رشتہ دار قائم مقام ہونے کی حیثیت سے ترکہ سے حصہ طلب کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ورثہ کے حقدار صرف بیٹے ہی نہیں بیٹیاں بھی ہوتی ہیں۔ اور کسی بھی فوت شدہ بیٹی کی اولاد (یعنی بھانجے بھانجیاں) بھی اس قائم مقامی کے اصول کے تحت ورثہ کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ آگے چلتا ہی جاتا ہے۔ پھر اسے آخر کس قاعدہ کے تحت صرف یتیم پوتے تک ہی محدود رکھا جا سکتا ہے؟ اس اصول کا دوسرا مفسدہ یہ ہے کہ مثلاً زید کے دونوں بیٹے بکر اور عمر فوت ہوچکے ہیں۔ بکر کی اولاد صرف ایک بیٹا ہے مگر عمر کے پانچ بیٹے ہیں۔ اور میت کا اقرب ہونے کے لحاظ سے سب ایک درجہ پر ہیں۔ اور سارے ہی ایک جیسے قائم مقام ہیں۔ تو کیا ورثہ ان میں برابر تقسیم کردیا جائے گا ؟ یا بکر کے بیٹے کو ٢/١ اور عمر کے بیٹوں کو صرف دسواں دسواں حصہ ملے گا ؟ ان میں سے کون سی تقسیم درست ہوگی اور کیوں؟ قائم مقامی کے اصول کے حق میں ان لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ اگر دادا باپ کے فوت ہونے کی صورت میں باپ کا قائم مقام بن کر ترکہ سے حصہ پا سکتا ہے تو پوتا اپنے فوت شدہ باپ کا قائم مقام بن کر دادا سے کیوں حصہ نہیں پا سکتا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تقسیم بھی قائم مقامی کے اصول کے تحت نہیں ہوتی۔ بلکہ الاقرب فالاقرب کے اصول کے تحت ہی ہوتی ہے۔ بالائی یا آبائی جانب میں باپ کے بعد صرف دادا ہی اقرب ہوسکتا ہے جب کہ ابنائی جانب میں میت کے اقرب اس کے بیٹے ہوتے ہیں نہ کہ پوتے۔ ہاں اگر صلبی اولاد کوئی بھی زندہ نہ ہو تو پھر پوتے بھی وارث ہو سکتے ہیں۔ ان حضرات کا اصل ہدف یتیم کی خیر خواہی نہیں بلکہ سنت میں کیڑے نکالنا اور اس کی مخالفت ہے۔ اور وہ بھی کسی قرآن کی آیت سے نہیں بلکہ اپنی وضع کردہ اصول قائم مقامی کی بنا پر جس میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ مرے ہوئے رشتہ داروں کو زندہ تصور کرکے قائم مقامی کا حق قائم کیا جاتا ہے۔ ورنہ کتاب و سنت میں یتیم سے ہمدردی کی بہت سی صورتیں موجود ہیں۔ مثلاً مرنے والا خود اس کے لیے ایک تہائی ورثہ وصیت کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس لیے کہ یتیم پوتا وارث نہیں اور وصیت ہوتی ہی غیر وارث کے لیے ہے۔ وارث کے لیے وصیت نہیں ہو سکتی اور اگر مرنے والا وصیت نہیں کرسکا۔ یا اس کے حق میں وصیت نہیں کرنا چاہتا تھا کہ بقیہ وارث اسے خود اپنی رضا سے اس میں شریک بنا سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر مناسب سمجھیں تو اسے اپنی مرضی سے سارے کا سارا ترکہ بھی دے سکتے ہیں اور ان باتوں کا انہیں بھی ایسا ہی حق ہے جیسا مرنے والے کو وصیت کرنے کا حق ہے۔ پھر اگر مرنے والا دادا کو بھی اس سے کوئی ہمدردی نہ ہو اور نہ ہی دوسرے وارثوں کو ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا پوتا ہمدردی کا حقدار ہی نہیں تھا۔ ممکن ہے اپنے مرنے والے باپ سے اسے اتنا مال و دولت مل گیا ہو کہ دوسرے اسے دینے کی ضرورت ہی نہ سمجھیں۔ اس صورت میں آپ کی ہمدردی اس کے کس کام آ سکتی ہے؟ النسآء
15 [٢٧] زنا کی سزا :۔ احکام وراثت کے بعد اب دوسری معاشرتی برائیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن میں سرفہرست زنا اور فحاشی ہے۔ زنا کے لیے گواہیوں کا نصاب چار مردوں کی گواہی ہے اور یہ سب عاقل، بالغ اور قابل اعتماد ہونے چاہئیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ دو مرد اور چار عورتیں گواہی دے دیں۔ کیونکہ عورت کی گواہی صرف مالی معاملات میں قابل قبول ہے، حدود میں نہیں۔ ایسے چار مسلمان، عاقل، بالغ اور قابل اعتماد اور معتبر آدمیوں کا اس طرح گواہی دینا کہ انہوں نے فلاں عورت کو بچشم خود دیکھا ہے بظاہر بہت مشکل نظر آتا ہے۔ ان کڑی سزاؤں کے ساتھ چار گواہوں کا نصاب مقرر کرنے میں غالباً حکمت الٰہی یہ ہے کہ اگر کوئی ایک آدھ شخص کسی کو زنا کرتے دیکھ بھی لے تو اس برائی کو ظاہر کرنے یا پھیلانے کی ہرگز کوشش نہ کرے۔ زنا کے گواہ دراصل خود مجرم کی حیثیت سے عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں اور اگر خدانخواستہ زنا کے گواہوں میں سے کسی ایک کی گواہی بھی نامکمل رہے یا مشکوک ہوجائے تو زانی بچ جائے گا اور گواہوں پر قذف کی حد پڑجائے گی۔ اس لیے زنا کی گواہی کے لیے جانا اور گواہی دینا بذات خود بڑا خطرناک کام ہے۔ النسآء
16 [٢٨] اس آیت میں (والذان) کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی خواہ یہ زنا کرنے والے مرد اور عورت ہوں یا دونوں مرد ہوں اور لواطت کے مرتکب ہوں۔ اس لفظ میں دونوں صورتوں کی گنجائش ہے تو ایسے مردوں یا ایسے مرد اور عورت کی ابتدائی سزا یہ تھی کہ انہیں مار پیٹ کی جائے اور برا بھلا کہا جائے اور ذلیل کیا جائے۔ گویا زانی مرد اور عورت دونوں کے لیے تو یہ سزا تھی اور عورت کے لیے یہ سزا اضافی تھی کہ اسے تازیست گھر میں بند رکھا جائے۔ اور جس دوسری سزا کے تجویز کرنے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا تھا اس سلسلے میں درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سزائے رجم :۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز آپ پر وحی نازل ہوئی اور جب وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا : مجھ سے (اللہ کا حکم) سیکھ لو۔ اللہ نے ایسی عورتوں کے لیے سزا تجویز کردی۔ شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت اگر زنا کریں تو انہیں سو کوڑے مارے جائیں۔ پھر رجم کیا جائے اور اگر کنوارہ مرد اور کنواری عورت زنا کریں تو ان کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے۔ (مسلم، کتاب الحدود۔ باب حد الزنا) پھر اس حکم کے بعد زانی مرد اور عورت کے لیے سورۃ نور میں سزا تجویز فرمائی۔ یہ بحث تفصیل سے سورۃ نور میں ہی آئے گی۔ مندرجہ بالا آیات میں بعض لوگوں نے والٰتی سے مراد مرد اور عورت نہیں بلکہ دونوں عورتیں ہی لی ہیں، جو آپس میں چپٹی بازی کر کے (جسے عربی میں سحق کہتے ہیں) کام چلا لیتی ہیں۔ ایسی دونوں عورتوں کے لیے سزا حبس دوام ہے۔ یعنی گھر میں ہی ایسی عورتوں کی کڑی نگہداشت رکھی جائے۔ اور یہ حد نہیں بلکہ تعزیر ہے لیکن یہ مراد کچھ درست معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے جو سزا تجویز فرمائی وہ مرد اور عورت کے لیے سزا تھی۔ خواہ وہ کنوارے ہوں یا شادی شدہ، ہر ایک کے لیے علیحدہ سزا مقرر ہوئی، جیسا کہ مندرجہ بالا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث سے واضح ہے جسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ اگر عورتیں ہی آپس میں چپٹی بازی کریں تو انہیں ان کے ولی ایسی سزا دے سکتے ہیں۔ اسی طرح والَّذَانِ سے مراد اغلام یا لواطت لی گئی ہے یعنی ایسی بدفعلی جو دو مرد آپس میں کرتے ہیں۔ اور ان پر بھی حد نہیں بلکہ تعزیر ہے اور وہ تعزیر یہ ہے کہ انہیں جوتے مارے جائیں۔ لواطت کی حد کے بارے میں ترمذی، ابو اب الحدود میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت مرفوعاً مروی ہے کہ فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردیا جائے لیکن یہ حدیث ضعیف ہے۔ پھر ائمہ ایسے جوڑے کے رجم کے قائل ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ ان کی سزا زانی جیسی ہے۔ اگر شادی شدہ ہے تو رجم ورنہ کوڑے پڑیں گے۔ زنا ہو یا اغلام یا چپٹی بازی ہو یا محض تہمت ہو۔ ان سب میں چار مردوں کی شہادت ضروری ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک دعویٰ میں دو دو افراد ملوث ہوتے ہیں خواہ ایک مرد اور ایک عورت ہو یا دونوں عورتیں ہوں یا دونوں مرد ہوں۔ [٢٩] یعنی اگر وہ مار پیٹ کے دوران یا اس کے بعد اپنے کیے پر فی الواقع نادم ہوں اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کرلیں تو ایسے لوگوں پر مزید ملامت کرنا درست نہیں۔ النسآء
17 [٣٠] توبہ کس کی قبول ہے اور کس کی نہیں :۔ گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کی قبولیت کے لیے دو باتوں کی قید لگا دی۔ ایک تو یہ کہ وہ گناہ از راہ نادانی، جہالت یا نادانستہ طور پر سرزد ہوا ہو۔ اور دوسرے یہ کہ اس قصور وار کو بعد میں جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوجائے اور وہ اللہ کے حضور توبہ کرے اور اگر اس کے برعکس معاملہ ہو یعنی گناہ بھی دانستہ طور پر اور اللہ کے احکام پر دلیر ہو کر کیا گیا ہو یا گناہ تو نادانستہ واقع ہوا ہو مگر توبہ میں عمداً تاخیر کرتا جائے تو ایسی صورتوں میں توبہ کے قبول ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ النسآء
18 [٣١] جب انسان پر نزع کا عالم طاری ہوجائے، وہ موت کے آثار دیکھ لے اور اسے روح قبض کرنے والے فرشتے نظر آنے لگیں تو توبہ کا وقت ختم ہوچکا۔ کیونکہ اب وہ دارالامتحان سے نکل کر دارالآخرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور توبہ ایک عمل ہے جس کا وقت گزر چکا۔ اس آیت میں دو طرح کے لوگوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ جو تھے تو مسلمان مگر ساری عمر گناہ کرتے کرتے ہی گزار دی اور دوسرے وہ جو کافر تھے پھر اسی کفر کی حالت میں مر گئے۔ دونوں طرح کے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ ان دو آیات میں چار قسم کے لوگوں کی توبہ کا ذکر ہوا ہے۔ ایک وہ جس نے نادانستہ گناہ کیا۔ مگر جب اسے معلوم ہوگیا تو اس نے فوراً توبہ کرلی۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا ﴿ اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ ﴾ اور علیٰ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنا اللہ پر واجب ہے یا وہ ضرور توبہ قبول کرتا ہے اور یہ بھی اللہ کی مہربانی ہے کہ اس نے ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنا اپنے لیے واجب کرلیا ورنہ وہ تو مختار مطلق ہے۔ اور دوسری قسم عدم شرط سے پیدا ہوجاتی ہے یعنی وہ لوگ جو گناہ تو نادانستہ طور پر ہی کرتے ہیں مگر معلوم ہوجانے پر توبہ میں جلدی نہیں کرتے بلکہ تاخیر کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنے کا اللہ نے کوئی وعدہ نہیں کیا۔ چاہے تو قبول کرلے اور چاہے تو نہ کرے۔ تیسری قسم اس مسلمان کی ہے جسے عمر بھر تو توبہ کا خیال نہ آیا اور اگر خیال آیا بھی تو موت کے وقت، ایسے شخص کے متعلق واضح طور پر فرما دیا کہ اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ اور چوتھی قسم جو توبہ کیے بغیر کفر ہی کی حالت میں مر گیا اس کی بھی موت کے وقت توبہ قبول نہیں ہو سکتی اور اس کی وجہ اوپر بیان کی جا چکی ہے۔ النسآء
19 [٣٢] جاہلیت میں عورت ترکہ کا مال تھا :۔ یعنی عورت بھی ترکہ کا مال تصور ہوتی تھی اور اس کا وارث سوتیلا بیٹا یا میت کا بھائی ہوتا تھا چنانچہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عربوں میں یہ دستور تھا کہ جب کوئی شخص مرتا تو اس کی بیوی پر میت کے وارثوں کا زور چلتا تھا (وہ بھی ترکہ ہی تصور ہوتی تھی) چاہتے تو خود اس سے نکاح پڑھا لیتے، چاہتے تو کسی اور سے نکاح کردیتے اور چاہتے تو اسے بلانکاح ہی رہنے دیتے۔ غرض اس پر خاوند کے وارثوں کا اختیار تھا، عورت کے وارثوں کا کچھ بھی اختیار نہ تھا۔ پھر یہ آیت اتری (جس سے عورتوں کو پوری آزادی مل گئی۔) (بخاری، کتاب التفسیر) [٣٣] یعنی انہیں گھر میں قید رکھنے کا اختیار صرف اس صورت میں ہے کہ بدکاری کا ارتکاب کریں۔ جیسا کہ اسی سورۃ کی آیت نمبر ١٥ میں گزر چکا ہے اور یہ حکم عام ہے۔ صرف ان سوتیلی ماؤں کے لیے نہیں جو تمہارے باپوں کے نکاح میں تھیں۔ ورنہ صرف مال ہتھیانے کے لیے عورتوں کو روکے رکھنا کسی صورت میں جائز نہیں۔ [٣٤] اپنی بیویوں سے حسن معاشرت کے سلسلہ میں درج ذیل ارشادات نبوی ملاحظہ فرمائیے : ١۔ بیویوں سے حسن معاشرت :۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’مومنوں میں سب سے کامل وہ شخص ہے۔ جس کے اخلاق اچھے ہوں اور تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں بہتر ہیں۔‘‘ (ترمذی، ابو اب الرضاع۔ باب حق المرأۃ علٰی زوجھا) ٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ حجتہ الوداع کے دوران) فرمایا۔ ’’عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی ذمہ داری پر حاصل کیا ہے اور ان کی شر مگاہوں کو اللہ کے کلمہ کے ساتھ حلال کیا ہے۔ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ پھر اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں مار سکتے ہو لیکن اس طرح کہ انہیں چوٹ نہ آئے۔ اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں دستور کے مطابق خوراک اور پوشاک مہیا کرو۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی ) ٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’کوئی مومن (اپنی) مومنہ (بیوی) سے بغض نہ رکھے۔ اگر اسے اس کی کوئی عادت ناپسند ہوگی تو ضرور کوئی دوسری پسند بھی ہوگی۔‘‘ (مسلم، کتاب الرضاع۔ باب الوصیۃ بالنساء) ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’عورت پسلی کی طرح ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے اور اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو اسی حالت میں اٹھاؤ جبکہ اس میں کجی موجود ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب النکاح، باب المداراۃ مع النساء مسلم، کتاب الرضاع، باب الوصیۃ بالنسائ) [٣٤۔ ١] مثلاً تمہاری بیوی خوبصورت یا تعلیم یافتہ تو نہیں مگر وہ کفایت شعار ہے۔ اور خانہ داری سے خوب واقف ہے اور تنگی ترشی میں خاوند کو ناجائز تنگ نہیں کرتی بلکہ اس کی اطاعت گزار اور فرمانبردار ہے۔ اب اگر مرد محض کسی عورت کو اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اپنے گھر میں لانا اور اسے رخصت کرنا چاہتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ خوبصورت عورت مطالبات سے اپنے خاوند کا ناک میں دم کر دے۔ کفایت شعار بھی نہ ہو اور گھر کی صفائی اور امور خانہ داری کے لیے شوہر سے کسی ملازم یا ملازمہ کا مطالبہ کر دے اور اس پر جینا حرام کر دے لہٰذا جو کچھ تمہارے پاس ہے اسی پر اکتفا اور قناعت کرو اور اسی سے نبھانے کی اور حسن سلوک کی حتی الامکان کوشش کرو اور اپنی گھریلو زندگی کو بگاڑنے کے بجائے اس میں اصلاح پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ النسآء
20 [٣٥] طلاق دیتے وقت عورت سے مال ہتھیانے کی کوشش :۔ یہاں دینے سے مراد صرف حق مہر نہیں۔ اس کے علاوہ بھی جو کچھ تم اپنی بیویوں کو دے چکے ہو۔ وہ ہرگز واپس نہ لینا چاہیے۔ بیوی کا تو خیر حق بھی ہوتا ہے۔ انسان اگر کسی دوسرے شخص کو کوئی چیز دے تو پھر اسے وہ واپس نہیں لینی چاہیے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’اپنے صدقہ (اور دوسری روایت کے مطابق اپنے ہبہ) کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الہبہ، باب ھبۃ الرجل لامراتہ والمرأۃ لزوجھا) اور یہ بہتان اور صریح گناہ اس لحاظ سے ہے کہ نکاح کے وقت تم نے بھری مجلس میں گواہوں کے سامنے حق مہر کی ادائیگی کا اقرار کیا تھا۔ لہٰذا عورت سے پورا حق مہر یا اس کا کچھ حصہ یا ہبہ کردہ چیز واپس لینا یا واپس لینے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنا بدترین جرم ہے بلکہ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ اگر تم انہیں طلاق دیتے ہو تو طلاق دیتے وقت انہیں مزید کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کرو۔ چہ جائیکہ تم پہلے دیئے ہوئے میں سے بھی کچھ لینے کی کوشش کرو۔ (نیز اس سلسلہ میں اسی سورت کا حاشیہ نمبر ٧ ملاحظہ فرمائیے) النسآء
21 النسآء
22 [٣٦] سوتیلی ماؤں سے نکاح :۔ یعنی تمہاری سوتیلی مائیں بھی ماؤں ہی کے مقام پر ہیں لہٰذا انہیں ورثہ کا مال سمجھنا اور زبردستی ان سے نکاح کرنا، ان کے ترکہ کے وارث بن بیٹھنا، یہ سب باتیں انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہیں۔ البتہ جو نکاح اس حکم کے آنے سے پہلے تک تم کرچکے ہو وہ کالعدم قرار نہیں دیئے جائیں گے، نہ ان سے پیدا شدہ اولاد حرامی تصور ہوگی۔ وراثت کے احکام بھی ان پر لاگو ہوں گے لیکن اس حکم کے بعد تم پر سوتیلی ماؤں سے نکاح کرنا حرام ہے۔ النسآء
23 [٣٧] رضاعت کے رشتوں کی حرمت سے متعلق درج ذیل احادیث نبویہ بھی ملاحظہ فرمائیں : ١۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو رشتے نسب کی رو سے حرام ہیں وہ رضاعت سے حرام ہوجاتے ہیں۔‘‘ (بخاری، کتاب الشہادات، باب الشہادت علی الانساب) [٣] رضاعت کے رشتے اور احکام رضاعت :۔ ٢۔ عقبہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے ابو اہاب بن عزیز کی بیٹی سے نکاح کیا۔ پھر ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ ’’میں نے عقبہ اور اس کی بیوی دونوں کو دودھ پلایا ہے۔‘‘ میں نے اسے کہا ’’میں تو نہیں سمجھتا کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے نہ ہی تو نے مجھے کبھی بتایا۔‘‘ پھر میں سوار ہو کر مدینہ آپ کے پاس پہنچا اور آپ سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اب یہ نکاح کیسے رہ سکتا ہے جبکہ ایسی بات کہی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ میں نے اسے چھوڑ دیا اور کسی دوسری سے نکاح کرلیا۔ (بخاری، کتاب العلم، باب الرحلۃ فی المسئلۃ النازلۃ) ٣۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’رضاعت وہی معتبر ہے جو کم سنی میں بھوک بند کرے۔‘‘ (بخاری کتاب النکاح، باب من قال لارضاع بعد حولین) ٤۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ افلح ابو قعیس کا بھائی میرا رضاعی چچا تھا۔ وہ میرے ہاں آیا اور اندر آنے کی اجازت چاہی۔ یہ واقعہ پردہ کا حکم آنے کے بعد کا ہے۔ لہٰذا میں نے اسے اجازت نہ دی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تو میں نے آپ سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے اندر آنے کی اجازت دے دوں۔ (بخاری، کتاب النکاح، باب لبن الفحل) ٥۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ایک بار یا دو بار دودھ چوسنے سے رضاعت کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔‘‘ (ترمذی، ابو اب الرضاع، باب لاتحرم المصۃ ولا المصتان) ٦۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قرآن میں ایک آیت اتری تھی عشر رضعات معلومات یعنی دس بار دودھ چوسنے سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے۔ پھر وہ منسوخ ہوگئی اور پانچ بار کا حکم باقی رہا اور یہی حکم آپ کی وفات تک رہا۔ اور اسی کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فتویٰ دیا کرتی تھیں۔ (جائزۃ الشعوذی، جامع ترمذی۔ ابو اب الرضاع، باب لاتحرم المصۃ ولا المصتان) رہی رضاعت کی مدت جس کے اندر دودھ چوسنے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے تو وہ بموجب ﴿حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ﴾ دو سال تک ہے اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے سوا تمام فقہا اسی کے قائل ہیں۔ البتہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ رضاعت کی مدت اڑھائی سال قرار دیتے ہیں۔ نیز ان کے نزدیک ایک دفعہ چوسنے یا ایک گھونٹ سے بھی رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔ [٣٨] سنت کی رو سے حرام رشتے :۔ قرآن میں صرف دو حقیقی بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت مذکور ہے جبکہ حدیث میں پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو بھی جمع کرنے کی ممانعت آئی ہے۔ چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو بھی نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔‘‘ (بخاری، کتاب النکاح، باب لاینکح المراۃ علی عمتھا۔ مسلم، کتاب النکاح 'باب تحریم الجمع بین المرأۃ و عمتھا) [٣٩] حرام رشتوں کی تفصیل :۔ آیت نمبر ٢٣ کی رو سے درج ذیل عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے اور سنت سے اس کی مزید وضاحتیں کی گئی ہیں : ١۔ مائیں۔ اور ان میں دادیاں نانیاں بھی شامل ہیں۔۔ تاآخر۔ ٢۔ بیٹیاں۔ اور ان میں پوتیاں، نواسیاں بھی شامل ہیں۔۔ تاآخر۔ ٣۔ بہنیں۔ اور ان میں سگی، علاتی اور اخیافی بہنیں سب شامل ہیں۔ ٤۔ پھوپھیاں۔ ٥۔ خالائیں۔ خواہ یہ سگی ہوں یا اخیافی یا علاتی، سب حرام ہیں۔ ٦۔ بھتیجیاں اور ان کی بیٹیاں۔ ٧۔ بھانجیاں اور ان کی بیٹیاں۔ ٨۔ رضاعی مائیں۔ ٩۔ رضاعی بہنیں۔ اور رضاعت کی رو سے وہ سب رشتے حرام ہیں جو نسب کی رو سے حرام ہیں۔ ١٠۔ ساس، اور سالیاں جب تک کہ ان کی بہن نکاح میں ہو۔ ١١۔ بیٹیاں اور سوتیلی بیٹیاں۔ ١٢۔ بہو (حقیقی بیٹے کی بیوہ) سے نکاح حرام ہے۔ ١٣۔ دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ اس حکم کے بعد فوراً ایک کو طلاق دے دی جائے گی۔ ١٤۔ اور اگلی آیت نمبر ٢٤ کی رو سے تمام شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں۔ النسآء
24 [٤٠] موجودہ دور کے مہذب معاشرہ میں فاتح قوم قیدی عورتوں سے جس طرح کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرتی ہے، اسلامی نقطہ نظر سے یہ صریح زنا ہے اور جس طرح آج کل قیدی عورتوں کو ایک کیمپ میں رکھا جاتا ہے اور فوجیوں کو عام اجازت دی جاتی ہے کہ جس عورت سے چاہیں زنا کرتے رہیں۔ یہ صرف زنا ہی نہیں رہتا بلکہ ایک وحشیانہ فعل بھی بن جاتا ہے۔ چنانچہ اسلام نے ایسی عورتوں سے تمتع پر چند در چند پابندیاں لگائی ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : قیدی عورتوں اور لونڈیوں سے تمتع کی شرط :۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک لشکر اوطاس کی طرف روانہ کیا۔ ان کا دشمن سے مقابلہ ہوا، مسلمانوں نے فتح پائی اور بہت سے قیدی ہاتھ آئے۔ صحابہ کرام نے ان قیدی عورتوں سے صحبت کرنے کو گناہ سمجھا کہ ان کے مشرک شوہر موجود تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر عدت کے بعد ان لونڈیوں کو ان کے لیے حلال کردیا۔ (مسلم۔ کتاب الرضاع، باب جواز وطی المسبیۃ) اس آیت اور مندرجہ بالا حدیث سے درج ذیل باتوں کا پتہ چلتا ہے۔ ١۔ صرف اس قیدی عورت سے تمتع کیا جا سکتا ہے جو امیر لشکر دیگر اموال غنیمت کی طرح کسی مجاہد کی ملکیت میں دے دے۔ اس سے پہلے اگر کوئی شخص کسی عورت سے تمتع کرے گا تو وہ دو گناہوں کا مرتکب ہوگا۔ ایک زنا کا اور دوسرے مشترکہ اموال غنیمت کی تقسیم سے پیشتر ان میں خیانت کا۔ ٢۔ امیر لشکر کا کسی عورت کو کسی کی ملکیت میں دینے کے بعد اس سے نکاح کی ضرورت نہیں رہتی۔ ملکیت میں دے دینا ہی کافی ہوگا اور اس کا سابقہ نکاح از خود ختم ہوجائے گا۔ ٣۔ تقسیم کے بعد ایسی عورت سے فوری طور پر جماع نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک اسے کم از کم ایک حیض نہ آ لے۔ اور یہ معلوم نہ ہوجائے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں۔ اور اگر وہ حاملہ ہوگی تو اس کی عدت تا وضع حمل ہے۔ اس سے بیشتر اس سے جماع نہیں کیا جا سکتا۔ اور مزید احکام یہ ہیں: ٤۔ ایسی عورت سے صرف وہی شخص جماع کرسکتا ہے جس کی ملکیت میں وہ دی گئی ہو۔ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ ٥۔ اگر اس قیدی عورت سے اولاد پیدا ہوجائے تو پھر اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ ٦۔ اگر ایسی قیدی عورت کو اس کا مالک کسی کے نکاح میں دے دے تو پھر وہ اس سے دوسری خدمات تو لے سکتا ہے لیکن صحبت نہیں کرسکتا۔ ٧۔ جب عورت سے مالک کی اولاد پیدا ہوجائے تو مالک کے مرنے کے بعد وہ ازخود آزاد ہوجائے گی۔ شرعی اصطلاح میں ایسی عورت کو ام ولد کہتے ہیں۔ ٨۔ اگر امیر لشکر یا حکومت ایک عورت کو کسی کی ملکیت میں دے دے تو پھر وہ خود بھی اس کو واپس لینے کی مجاز نہیں ہوتی۔ الا یہ کہ اس تقسیم میں کوئی ناانصافی کی بات واقع ہو جس کا علم بعد میں ہو۔ اس طرح چند در چند شرائط عائد کر کے اسلام نے ایسی عورتوں سے تمتع کی پاکیزہ ترین صورت پیش کردی ہے جس میں سابقہ اور موجودہ دور کی فحاشی، وحشت اور بربریت کو حرام قرار دے کر اس کا خاتمہ کیا گیا ہے اور تمتع کے بعد اس کے نتائج کی پوری ذمہ داری مالک پر ڈالی گئی ہے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ 'جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو وہ اس کی تعلیم و تربیت کرے اسے ادب سکھائے پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرلے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔' (بخاری، کتاب العتق، باب فضل من ادب جاریتہ و علمھا) ان سب باتوں کے باوجود یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ لونڈیوں سے تمتع ایک رخصت ہے حکم نہیں ہے اور یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ایسی اجازت دے دی ہے کیونکہ جہاد اور اس میں عورتوں کی گرفتاری ایسی چیز ہے جس سے مفر نہیں اور ایسا بھی عین ممکن ہے کہ جنگ کے بعد قیدیوں کے تبادلہ یا اور کوئی باعزت حل نہ نکل سکے اسی لیے اللہ نے سے کلیتاً حرام قرار نہیں دیا۔ [٤١] یعنی مذکورہ بالا عورتوں کے علاوہ باقی آزاد عورتوں میں سے جس کے ساتھ تم چاہو، درج ذیل شرائط کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو : ١۔ نکاح کی شرائط :۔ طلب سے مراد ایجاب و قبول ہے۔ ٢۔ یہ نکاح مستقلاً ہو۔ محض شہوت رانی کی غرض سے نہ ہو۔ اس سے نکاح متعہ کی حرمت ثابت ہوئی۔ ٣۔ حق مہر مقرر کرنا اور اس کی ادائیگی۔ الا یہ کہ بیوی اپنی مرضی سے یہ مہر یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ دے اسی طرح مرد مقررہ مہر سے زیادہ بھی دے سکتا ہے۔ ٤۔ اعلان نکاح۔ جیسا کہ اگلی آیت میں ﴿وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ﴾سے واضح ہے اور سنت سے اس کی صراحت مذکور ہے۔ یعنی نکاح کے کم از کم دو گواہ موجود ہونے چاہئیں۔ واضح رہے کہ شیعہ حضرات اس آیت اور بعض صحیح احادیث سے نکاح متعہ کے جواز پر استدلال کرتے ہیں۔ لہٰذا نکاح متعہ کے جواز یا حرمت کی تحقیق ضروری ہے۔ اس آیت سے استدلال کی صورت یہ ہے کہ بعض روایات میں وارد ہے کہ ﴿فَـمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ ﴾کے آگے ﴿اِلیٰ اَجَلٍ مُّسَمًّی﴾ کے الفاظ بھی موجود تھے جو بعد میں منسوخ ہوگئے مگر ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے نسخ کے قائل نہیں۔ نکاح متعہ ایک اضطراری رخصت تھی :۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نکاح متعہ تین مواقع پر مباح کیا گیا اور پھر ساتھ ہی اس کی حرمت کا اعلان کیا۔ یہ جنگ خیبر، فتح مکہ اور اوطاس اور جنگ تبوک ہیں۔ ان مواقع پر ابتداءً نکاح متعہ کی اجازت دی جاتی تھی اور جنگ کے اختتام پر اس کی حرمت کا اعلان کردیا جاتا تھا۔ گویا یہ ایک اضطراری رخصت تھی۔ اور صرف ان مجاہدین کو دی جاتی تھی جو محاذ جنگ پر موجود ہوتے تھے اور اتنے عرصہ کے لیے ہی ہوتی تھی۔ اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ جنگ بدر، احد اور جنگ خندق کے مواقع پر ایسی اجازت نہیں دی گئی اور جن حالات میں یہ اجازت دی جاتی تھی وہ درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے : ١۔ ابن ابی عمرو کہتے ہیں کہ متعہ پہلے اسلام میں ایک اضطراری رخصت تھی جیسے مجبور و مضطر شخص کو مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی رخصت ہے پھر اللہ نے اپنے دین کو محکم کردیا اور نکاح متعہ سے منع کردیا گیا۔ (مسلم، کتاب النکاح، باب نکاح المتعہ۔۔) ٢۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جہاد کرتے تھے اور ہمارے پاس عورتیں نہ تھیں اور ہم نے کہا کہ کیا ہم خصی نہ ہوجائیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا اور اس بات کی اجازت دی کہ ایک کپڑے کے بدلے ایک معین مدت تک عورت سے نکاح کریں۔ (حوالہ ایضاً) ٣۔ اور اس کا طریق کار یہ ہوتا تھا کہ صحابہ کی التجا پر متعہ کی اجازت کا اعلان تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے کرواتے تھے مگر جنگ کے خاتمہ پر اس کی حرمت کا اعلان خود فرماتے تھے۔ چنانچہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منادی ہمارے پاس آیا اور پکار کر کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی ہے۔ (حوالہ ایضاً) ٤۔ ربیع بن سمرہ اپنے باپ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تھی اور اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے حرام کردیا ہے۔ سو اگر کسی کے پاس ایسی عورت ہو تو وہ اسے چھوڑ دے اور جو کچھ تم دے چکے ہو وہ واپس نہ لو۔ (حوالہ ایضاً) متعہ کی حرمت کا یہ اعلان حجتہ الوداع ١٠ ھ میں ہوا تھا جیسا کہ اس دن سود اور جاہلیت کے خون کی بھی ابدی حرمت کا اعلان ہوا تھا۔ ٥۔ ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مرد اور عورت متعہ کی مدت مقرر نہ کریں تو تین دن رات مل کر رہیں۔ پھر اگر چاہیں تو مدت بڑھا لیں اور چاہیں تو جدا ہوجائیں۔ (بخاری کتاب النکاح، باب النھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن نکاح المتعۃ اخیرا) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح متعہ کی صورت ایسی نہ تھی جیسے کہ آج کل کے قحبہ خانوں میں ہوا کرتی ہے کہ ایک بار کی مجامعت کی اجرت طے کرلی جاتی ہے بلکہ اس کی کم سے کم مدت تین دن ہے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ یہ تین دن کی مدت بھی صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے مقرر کی گئی تھی۔ بعد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق اسے منسوخ کردیا گیا۔ ٦۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما جو متعہ کے قائل تھے وہ بھی صرف اضطراری حالت میں اس کی رخصت کے قائل تھے عام حالات میں نہیں۔ چنانچہ ابن جمرہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا کہ عورتوں سے متعہ کرنا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس کی رخصت ہے۔ اس پر ان کا ایک غلام (عکرمہ) کہنے لگا، متعہ اس حالت میں جائز ہے جب مردوں کو سخت ضرورت ہو یا عورتوں کی کمی ہو یا کچھ ایسا ہی اضطراری معاملہ ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہاں! (بخاری۔ حوالہ ایضاً) ہم یہاں تمام روایات تو درج نہیں کرسکتے کیونکہ اخذ نتائج کے لیے یہ بھی کافی ہیں اور وہ نتائج درج ذیل ہیں : (١) (الیٰ اجل مسمیٰ) کی قراءت کے راوی صرف عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں جن کی عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت صرف ١٣ سال تھی۔ جمع و تدوین قرآن کے وقت آپ قسم اٹھا کر کہتے ہی رہے کہ یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے (اور ممکن ہے کہ جن ایام میں متعہ کا جواز تھا یہ قراءت بھی پڑھی گئی ہو۔ لیکن ایسی قراءت بھی رخصت اور نسخ کے ضمن میں آتی ہیں) مگر آپ کی اس بات کو دو وجوہ کی بنا پر پذیرائی نہ ہوسکی۔ ایک یہ کہ جمع و تدوین قرآن کے معاملہ میں خبر متواتر کو قبول کیا گیا تھا اور آپ کی یہ خبر واحد تھی۔ جس کا دوسرا کوئی راوی نہ تھا۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ پہلے سے دو مکی سورتوں مومنون اور معارج میں یہ محکم آیات موجود تھیں: ﴿وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ﴾یعنی حفاظت فروج کے دو ہی ذریعے ہیں ایک بیوی، دوسرا لونڈی۔ ان کے علاوہ جو کچھ ہے وہ حد سے گزرنا ہے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ ممتوعہ عورت نہ بیوی ہوتی ہے نہ لونڈی۔ لونڈی نہ ہونے میں تو کوئی کلام نہیں اور بیوی اس لیے نہیں ہوتی کہ بیوی کو میراث ملتی ہے۔ اور ایسی عورت کو میراث نہیں ملتی۔ (٢) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی صرف متعہ کے معاملہ میں نرم گوشہ رکھتے تھے آپ کو اصرار قطعاً نہ تھا۔ جبکہ کثیر تعداد میں صحابہ متعہ کو حرام قرار دینے میں شدت اختیار کرتے تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ٹوکتے بھی تھے۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ (مسلم۔ حوالہ ایضاً) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی آخری عمر میں نابینا ہوگئے تھے اور جب یہ جواز متعہ کی بات کرتے تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ نے ان کی آنکھوں کو اندھا کرنے کے ساتھ ان کے دلوں کو بھی اندھا کردیا ہے جو متعہ کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں۔ اس وقت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے۔ کسی نے ان سے کہا کہ تم زیادتی کر رہے ہو میری عمر کی قسم! دور نبوی میں متعہ ہوتا رہا ہے۔ تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس متعہ کو اپنے آپ پر آزماؤ۔ خدا کی قسم! اگر تو ایسا کرے تو میں تمہیں پتھروں سے سنگسار کر دوں۔ (مسلم، حوالہ ایضاً) (٣) معلوم ایسا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری ابدی حرمت کا اعلان تمام صحابہ کرام تک نہ پہنچ سکا جو کہ دور دراز علاقوں تک پہنچ چکے تھے۔ یا یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی لچک کا اثر تھا کہ دور صدیقی اور دور فاروقی کی ابتدا تک درپردہ متعہ کے کچھ واقعات کا سراغ ملتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چونکہ متعہ کے شدید مخالف تھے لہٰذا آپ اس ٹوہ میں رہتے تھے کہ ایسا کوئی واقعہ سامنے آئے۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک شخص شام سے آیا اور اس نے ام عبداللہ ابی فتیحہ کے ہاں قیام کیا اور اسے کہا کہ میرے متعہ کے لیے کوئی عورت تلاش کرو۔ ام عبداللہ نے ایک عورت کا پتہ بتلایا تو اس آدمی نے اس سے متعہ کیا اور کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہا۔ پھر شام کو واپس چلا گیا۔ کسی نے اس واقعہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع کردی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ام عبداللہ کو بلا کر دریافت کیا تو اس نے اس واقعہ کی تصدیق کردی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا کہ جب وہ شخص پھر آئے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب وہ دوبارہ آیا تو ام عبداللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع کردی۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا کہ تم نے متعہ کیوں کیا تو وہ کہنے لگا کہ ’’میں دور نبوی، دور صدیقی اور آپ کے عہد میں بھی متعہ کرتا رہا مگر کسی نے منع نہیں کیا۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میں آج سے پہلے ممانعت کا حکم نہ دے چکا ہوتا تو تمہیں سنگسار کردیتا۔ اچھا اب جدائی اختیار کرلو تاکہ نکاح اور سفاح (بدکاری) میں تمیز ہو سکے۔ یہ واقعہ دراصل مسلم میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اجمالی روایت کی تفصیل ہے اور اس واقعہ سے درج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں : ١۔ سیدنا عمر کا تعزیری حکم :۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور آپ کی پوری شوریٰ متعہ کی مخالف تھی۔ اگر ان میں بھی اختلاف ہوتا تو آپ ایسا تعزیری حکم نافذ نہ کرسکتے تھے۔ ٢۔ جو چند لوگ متعہ کے قائل تھے وہ بھی چوری چھپے یہ کام کرتے تھے۔ اگر یہ عام ہوتے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ٹوہ لگانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ٣۔ معاشرہ کی اکثریت متعہ کو ناجائز اور مکروہ فعل ہی سمجھتی تھی۔ اگر یہ رسم عام ہوتی تو اس شامی کو ایسی عورت کا پتہ پوچھنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس نے یہ معاملہ ام عبداللہ سے کیوں نہ طے کرلیا جس کے ہاں وہ ٹھہرا تھا۔ اس تعزیری قانون کے بعد ابن عباس رضی اللہ عنہما اور آپ کے شاگردوں مثلاً عطاء بن ابی رباح، طاؤس، سعید بن جبیر اور ابن جریج کے لیے اس کے بغیر چارہ نہ رہا کہ وہ متعہ کے لیے عقلی دلیل مہیا کر کے اپنے دل کا غبار نکال لیں۔ اور وہ دلیل عقلی یہ تھی جو ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ ’’متعہ کا جائز ہونا اللہ کی طرف سے اپنے بندوں پر رحمت کی حیثیت رکھتا تھا۔ اگر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی ممانعت نہ کردی ہوتی تو کبھی کسی کو زنا کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔‘‘ (تفسیر مظہری ٢٠٨) پھر جب دور عثمانی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قراءت (الیٰ اَجَلٍ مُّسَمّیٰ) کو خبر متواتر نہ ہونے کی وجہ سے شرف قبولیت حاصل نہ ہوسکا اور یہ الفاظ کتاب اللہ میں شامل نہ ہو سکے تو متعہ کا فائدہ بتانے کا میلان بھی ختم ہوگیا۔ اور بالآخر آپ نے اپنے اس فتویٰ رخصت سے بھی رجوع کرلیا۔ (تفسیر حقانی ج ٢ ص ١٤٥) [٤٢] آزاد عورت کا لونڈی کی نسبت حق مہر بھی زیادہ اور نان و نفقہ بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ اجازت صرف اس شخص کے لیے ہے، جو ایک تو آزاد عورت سے نکاح کے اخراجات برداشت نہ کرسکتا ہو، دوسرے اسے یہ خطرہ ہو کہ اگر اس نے نکاح نہ کیا تو جنسی بے راہ روی کا شکار ہوجائے گا۔ کیونکہ آزاد عورت سے نکاح بہرحال بہتر ہے۔ اسلئے کہ اس سے جو اولاد پیدا ہوگی اس کے ماتھے پر غلامی کا داغ نہ ہوگا۔ اور مجبوری کی صورت میں نکاح کی اجازت کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ بھی آخر عورت ہی کی جنس سے ہیں۔ النسآء
25 [٤٣] محصنات کا ترجمہ آزاد عورتیں بھی ہے اور شادی شدہ عورتیں بھی۔ اور مذکورہ آیت میں ترجمہ لامحالہ آزاد غیر شادی شدہ عورتیں ہی ہوسکتا ہے۔ جن سے نکاح کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اور دوسری بار جو اسی آیت میں محصنات (نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ) کا ذکر آیا ہے تو اس کا معنیٰ بھی لامحالہ آزاد غیر شادی شدہ عورتیں ہی لینا پڑے گا۔ اور چونکہ آزاد غیر شادی شدہ زانیہ کی سزا سو کوڑے ہے لہٰذا جو منکوحہ لونڈی زنا کرے اس کی سزا غیر شادی شدہ آزاد عورت سے نصف یعنی ٥٠ کوڑے ہوئے۔ اسی طرح غلام کی سزا بھی ٥٠ کوڑے ہے اور اگر وہ غیر شادی شدہ ہوں تو ان کی سزا تعزیر ہے حد نہیں۔ نصف رجم اور منکرین حدیث کا چکمہ :۔ یہ آیت جہاں اس بات کی دلیل مہیا کرتی ہے کہ سورۃ نور میں بیان شدہ سزا صرف کنوارے مرد و عورت کی ہی ہو سکتی ہے وہاں منکرین حدیث کے ایک اعتراض کا جواب بھی مہیا کرتی ہے۔ ایسے لوگوں کا اعتراض یہ ہے کہ ’’شادی شدہ عورت کی سزائے زنا حدیث کے مطابق رجم ہے۔ اور شادی شدہ لونڈی کی سزائے زنا قرآن کے مطابق شادی شدہ عورت کی سزا کا نصف ہے اور یہ نصف رجم بنتی ہے اور چونکہ نصف رجم ممکن نہیں لہٰذا حدیث میں وارد شدہ سزا درست نہیں ہو سکتی۔‘‘ اور اس سے آگے یہ کہ ’’حدیث بذات خود قابل اعتماد چیز نہیں لہٰذا درست بات یہی ہے کہ عورت اور مرد چاہے کنوارے ہوں یا شادی شدہ بلا امتیاز سب کی سزا سو کوڑے ہے جیسا کہ قرآن میں مذکور ہے۔‘‘ ایک اعتراض کا جواب :۔ اس اعتراض کا جواب دینے سے پہلے یہ لغوی وضاحت ضروری ہے کہ احصان (زنا سے بچاؤ) دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک تو آزادی سے کہ آزاد عورت خاندان کی حفاظت میں ہوتی ہے اور اگر لونڈی آزاد ہوجائے تو اسے بھی ایسا احصان میسر آ جاتا ہے۔ دوسرا احصان نکاح سے ہوتا ہے کہ خاوند بھی زنا سے حفاظت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس طرح محصنات کا ترجمہ آزاد عورتیں بھی ہوسکتا ہے اور شادی شدہ عورتیں بھی، اور جب دونوں قسم کے احصان جمع ہوجائیں تو آزاد شادی شدہ عورتیں بھی ہوتا ہے۔ اب اعتراض کا جواب یہ ہے جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ اس آیت نمبر ٢٤ کے ابتدا میں جو محصنات کا لفظ آیا ہے اس کا معنیٰ تو صریحاً آزاد غیر شادی شدہ عورت کی سزا (١٠٠ کوڑے) کا نصف ٥٠ کوڑے ہے اور یہی منکوحہ لونڈی کی زنا کی سزا ہے۔ اور منکرین حدیث فریب یہ دیتے ہیں کہ محصنات کا ترجمہ 'آزاد بیاہی عورت' کر کے اس پر یہ اعتراض وارد کردیتے ہیں اور یہ بات آیت کے ربط کے بھی خلاف ہے جو یہ ہے کہ ’’اگر کوئی شخص آزاد عورت سے نکاح کی طاقت نہیں رکھتا تو کسی مومنہ لونڈی سے نکاح کرلے۔‘‘ یہاں محصنات کا ترجمہ آزاد شادی شدہ عورت ہو ہی نہیں سکتا۔ [٤٤] یعنی ایک آزاد مرد اگر آزاد عورت سے شادی کے اخراجات کا متحمل نہ ہو اور اسے یہ بھی خدشہ ہو کہ اگر نکاح نہ کرے تو جنسی آوارگی کا شکار ہوجائے گا تو اس صورت میں اسے مومنہ لونڈی سے نکاح کرلینے کی اجازت دی گئی اور ساتھ ہی فرمایا کہ پھر بھی اگر تم صبر کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اس بہتری کی صورت اور حکمت تو اللہ ہی جانتا ہے بظاہر تو یہی بہتری نظر آتی ہے کہ اولاد آزاد پیدا ہوگی اور اس صبر کا جو طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں رہا کرتے اور ہمیں شادی کرنے کا مقدور نہ تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اے نوجوانو! تم میں سے جو شخص خانہ داری کی استطاعت رکھتا ہے اسے چاہیے کہ شادی کرلے۔ کیونکہ نکاح سے نگاہ نیچی اور شرمگاہ بچی رہتی ہے۔ اور جو یہ طاقت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھا کرے جو اس کی شہوت کو توڑ دیں گے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب النکاح، باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم) النسآء
26 [٤٥] پہلی شریعتوں کی اتباع کیسے؟ اس سے معلوم ہوا کہ جو عائلی اور معاشرتی احکام اس سورۃ کے آغاز سے بیان ہو رہے ہیں۔ مثلاً یتیموں کے حقوق کی نگہداشت، عورت سے مختلف قسم کی بے انصافیاں، میراث کے احکام، نکاح اور محرمات کا ذکر وغیرہ، اسی طرح کے یا اس سے ملتے جلتے احکام ہی پہلے انبیاء کو بھی وحی کیے گئے تھے اور ہمیں ان طریقوں پر مطلع نہیں کیا جا رہا بلکہ ان کے طریقوں کو اپنانے کی بھی ہدایت دی جا رہی ہے۔ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ وہ جاہلیت کے طریقہ سے نکال کر صالحین کے طریقہ زندگی کی طرف ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔ اس آیت سے بھی رجم کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ تورات میں یہی سزا مقرر تھی۔ النسآء
27 [٤٦] معاشرتی اصلاحات پر مخالفین کا شورو غوغا :۔ ان خواہشات نفس کی پیروی کرنے والوں سے مراد وہ ہر طرح کے لوگ ہیں جو اللہ کی ہدایات پر اپنے آباؤ اجداد کے رسم و رواج کو مقدم سمجھتے اور انہی چیزوں سے محبت رکھتے ہیں خواہ وہ یہود و نصاریٰ ہوں یا منافق یا دوسرے مشرکین ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے معاشرتی برائیوں کے خاتمہ کے لیے بے شمار ایسے احکامات نازل فرمائے جن پر عمل کرنا اکثر لوگوں کو ناگوار تھا۔ مثلاً میراث میں لڑکیوں اور چھوٹے بچوں کا حصہ مقرر کرنا، بیوہ سے سسرال کی بندشوں کو ختم کرنا اور عدت کے بعد اسے نکاح کے لیے پوری آزادی دلانا، متبنّیٰ کی وراثت کا خاتمہ، عورت کو خاوند کی طرح طرح کی زیادتیوں سے نجات دلا کر معاشرہ میں اس کا مقام بلند کرنا وغیرہ وغیرہ۔ ایسی تمام اصلاحات پر بڑے بوڑھے اور آبائی رسوم کے پرستار چیخ اٹھتے تھے اور لوگوں کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف بھڑکاتے رہتے تھے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے چار سے زیادہ بیویوں پر پابندی لگا دی۔ اب جن مسلمانوں نے زائد بیویوں کو طلاق دے کر فارغ کیا تھا، ان کی اولاد سے یوں کہنا کہ اس حکم کی رو سے تمہاری ماؤں اور باپ کے تعلق کو ناجائز ٹھہرایا گیا ہے، تو کیا تم جائز اولاد ہو یا ناجائز وغیرہ وغیرہ۔ اور سب سے بڑھ کر اعتراض یہود کو تھے جنہوں نے از خود کئی حلال چیزوں کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ اور اپنے اوہام و خرافات کو شریعت الٰہی کا درجہ دے رکھا تھا۔ مثلاً حیض والی عورت ان کے ہاں ایسی ناپاک تھی جس کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا بھی جائز نہ تھا اسی لیے وہ حیض کے دوران انہیں بالکل الگ تھلگ رکھتے تھے اور ان کی دیکھا دیکھی ایسا ہی رواج انصار مدینہ میں بھی چل نکلا تھا مگر قرآن کے حکم کی رو سے مجامعت کے سوا حیض والی عورت سے تمام تعلقات اسی طرح رکھے جا سکتے تھے جس طرح پاکیزگی کے دنوں میں ہوتے ہیں۔ ایسی باتوں پر یہود چلا اٹھتے تھے کہ دیکھو یہ نبی ہر ناپاک کو پاک اور ہر حرام کو حلال بنانے پرتُلا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم ان لوگوں کی مطلق پروا نہ کرو اور اگر تم لوگ ان کی باتوں پر توجہ دینے لگو گے تو یہ تو تمہیں راہ راست سے کہیں دور جا پھینکیں گے لہٰذا جو احکام تمہیں مل رہے ہیں ان پر ان کے اعتراضات سے بے پروا ہو کر اور بے خوف ہو کر عمل کیے جاؤ۔ النسآء
28 [٤٧] شرعی احکام میں انسای کمزوریوں کا لحاظ :۔ یعنی یہ احکام دینے میں اس بات کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ انسان فطرتاً کمزور ہے لہٰذا ان احکام میں انسان کی سہولت اور بساط کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ مثلاً یہ کہ انسان اپنی شہوت پر کنٹرول نہیں کرسکتا تو اسے ایک سے چار بیویوں تک نکاح کی اجازت دے دی گئی ہے اور اس میں سہولتوں کو مدنظر رکھ کر اسے آسان بنا دیا گیا ہے۔ نیز جو بھی احکام شریعت ہیں ان میں اعتدال کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور پھر معاشرہ کے کمزور افراد کے لیے رخصتیں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ النسآء
29 [٤٨] باطل طریقے کون کون سے ہیں؟ باطل طریقوں سے مراد ہر وہ ذریعہ آمدنی ہے جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہو۔ اور اس کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً : ١۔ ہر وہ کام جس سے دوسرے کا مالی نقصان ہو جیسے چوری، ڈاکہ، غصب، غبن وغیرہ۔ ٢۔ سود اور اس کی تمام شکلیں، خواہ یہ سود مفرد ہو، مرکب ہو، ڈسکاؤنٹ ہو، مارک اپ اور مارک ڈاؤن ہو یا خواہ یہ ذاتی قرضے کا سود ہو اور خواہ یہ رباالنسیئہ (مدت کے عوض سود) ہو یا ربا الفضل (ایک ہی جنس میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ) ہو۔ ٣۔ ہر ایسا کام جس میں تھوڑی سی محنت سے کثیر مال ہاتھ آتا ہو۔ جیسے جوا، لاٹری اور سٹہ بازی وغیرہ اور بعض حالتوں میں بیمہ پالیسی۔ ٤۔ اندھے سودے یا قسمت کے سودے جن میں صرف ایک ہی عوض مقرر ہوتا ہے دوسرا نہیں ہوتا۔ (عوضین یہ ہے کہ مثلاً ایک کتاب کی قیمت سو روپے ہے تو کتاب کا عوض سو روپے اور سو روپے کا عوض کتاب) جیسے غوطہ خور سے ایک غوطہ کی قیمت مقرر کرنا، بیع ملامسہ، منابذہ۔ بچوں کے کھیل کہ جس چیز پر بچے کا نشانہ لگے وہ اتنی قیمت میں اس کی۔ ٥۔ ہر وہ لین دین جس میں کسی ایک فریق کا فائدہ یقینی ہو دوسرے کو خواہ فائدہ ہو یا نقصان جیسے سود اور ایسے تمام سودے اور معاملات جن میں یہ شرط پائی جاتی ہو۔ ٦۔ ایسے سودے جو محض تخمینہ سے طے کیے جائیں اور ان میں دھوکہ کا احتمال موجود ہو جیسے کسی ڈھیر کا بالمقطع سودا کرنا یا مال خرید کر قبضہ کیے بغیر آگے چلا دینا یا غیر موجود مال کا سودا کرنا اور باغات وغیرہ کے پیشگی سودے (ان میں بیع سلم اور بیع عرایا کی رخصت ہے جو چھوٹے پیمانہ پر ہوتی ہے اور غریبوں کی سہولت کے لیے جائز کی گئی ہے۔) ٧۔ وہ بیع جس میں مشتری دھوکہ دینے کی کوشش کرے مثلاً عیب چھپانا، جانور کا دودھ روک کر بیچنا، ناپ تول میں کمی بیشی کر جانا، دوسرے کو پھنسانے کے لیے بولی چڑھانا وغیرہ۔ ٨۔ جو اشیاء حرام ہیں ان کی خرید و فروخت جیسے شراب کی سوداگری یا ان اشیاء کی جو شراب خانے میں استعمال ہوتی ہیں، مردار کا گوشت، تصویریں اور مجسمے، فحاشی پر مشتمل کتابیں اور تصویریں، کسی حرام کاروبار کے لیے دکان یا مکان کرایہ پر دینا، کاہن کی کمائی، فاحشہ کی کمائی، کتے کی قیمت وغیرہ۔ ٩۔ حکومت کے ذریعہ دوسروں کے مال بٹورنا مثلاً لین دین کے جھوٹے مقدمات اور رشوت وغیرہ یا حکومت کا لوگوں کی زمین پر قبضہ کر کے ان کو اپنی مرضی کے مطابق لین دین پر مجبور کرنا۔ جیسے حکومت کے محکمہ ہائے ایل ڈی اے، کے ڈی اے وغیرہ دوسرے لوگوں کی زمینیں ان کی رضامندی کے بغیر حاصل (AQUIRE) کرلیتے ہیں۔ ١٠۔ کتاب اللہ میں تحریف و تاویل اور غلط فتووں سے مال بٹورنا اور یہ کام بالخصوص علماء سے مختص ہے۔ اب اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’بائع اور مشتری صرف اسی حال میں جدا ہوں کہ وہ ایک دوسرے سے راضی ہوں۔‘‘ (ترمذی، ابو اب البیوع، باب البیعان بالخیار مالم یتفرقا) ٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں سودے کو پورا کرنے یا فسخ کرنے کا اس وقت تک اختیار رکھتے ہیں جب تک وہ جدا نہ ہوں سوائے بیع خیار کے‘‘ (جس میں معین مدت کے اندر سودا فسخ کرنے کی شرط ہوتی ہے۔) (بخاری، کتاب البیوع، باب البیعان بالخیار مالم یتفرقا) ٣۔ ابو امامہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مار لیتا ہے اللہ اس کے لیے دوزخ واجب کردیتا ہے اور جنت اس کے لیے حرام ہوجاتی ہے۔‘‘ کسی نے آپ سے پوچھا اگرچہ یہ حق تلفی بالکل معمولی قسم کی ہو؟ فرمایا ’’اگرچہ وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (مسلم بحوالہ فقہ السنہ جلد ٢ صفحہ ١٤٩) ٤۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ عزوجل چار قسم کے آدمیوں سے دشمنی رکھتا ہے۔ ایک وہ جو قسمیں کھا کر سودا بازی کرتا ہو، دوسرے محتاج جو اکڑ باز ہو۔ تیسرے بوڑھے زانی سے اور چوتھے ظلم کرنے والے حاکم سے‘‘(نسائی، کتاب الزکوٰۃ، باب الفقیر المحتال) ٥۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے نہ کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور انہیں دردناک عذاب ہوگا۔‘‘ میں نے پوچھا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہ کون ہیں؟ وہ تو نامراد ہوگئے اور خسارہ میں رہے۔‘‘ فرمایا۔’’ایک تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والا۔ دوسرا احسان جتلانے والا اور تیسرا جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچنے والا۔‘‘ (مسلم، کتاب الایمان۔ باب غلظ تحریم تنفیق السلعۃ بالحلف) ٦۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اے تاجروں کے گروہ! سودے بازی میں بے ہودہ باتیں اور قسمیں شامل ہوجاتی ہیں لہٰذا تم ان کے ساتھ صدقہ بھی ملا لیا کرو۔‘‘ (ترمذی، ابو اب البیوع، باب ماجاء فی التجار۔ نسائی، کتاب البیوع باب الحلف الواجب) ٧۔ ناپ تول میں کمی سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بلاشبہ تم دو ایسے کاموں کے والی بنائے گئے ہو کہ تم سے پہلے کی قومیں اسی جرم کی پاداش میں ہلاک ہوئیں۔‘‘ (ترمذی، کتاب البیوع، باب فی المکیال والمیزان) ٨۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بازار تشریف لے گئے وہاں ایک تولنے والا کوئی جنس تول رہا تھا اسے دیکھ کر آپ نے فرمایا 'تول اور کچھ جھکتا تول۔ (نسائی، کتاب البیوع، باب الرجحان فی الوزن) ٩۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ یہود کو غارت کرے، ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر بیچ ڈالا۔‘‘ (بخاری، کتاب البیوع باب لایذاب شحم المیتۃ) ١٠۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بلاشبہ اللہ نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی سوداگری کو حرام کیا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب البیوع، باب بیع المیتۃ والاصنام) ١١۔ ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، فاحشہ کی کمائی اور نجومی کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب البیوع، باب ثمن الکلب) ١٢۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں بھی ایک آدمی ہوں۔ تم میرے سامنے جھگڑا لیے آتے ہو۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنی دلیل دوسرے فریق کی نسبت اچھی طرح بیان کرتا ہے اور میں جو سنتا ہوں اس پر فیصلہ کردیتا ہوں۔ پھر اگر میں کسی کو اس کے مسلمان بھائی کا حق دلا دوں تو وہ ہرگز نہ لے۔ میں اسے دوزخ کا ایک ٹکڑا دلا رہا ہوں‘‘ (بخاری، کتاب الحیل، باب بلاعنوان۔ بخاری، کتاب الاحکام، باب من قضی لہ من حق اخیہ فلا یا خذہ) ١٣۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’جو شخص تصویریں بناتا ہے، قیامت کے دن اللہ اسے کہے گا کہ اب اس میں جان بھی ڈال اور وہ یہ کام کبھی نہ کرسکے گا۔‘‘ (بخاری، کتاب البیوع، باب بیع التصاویر التی لیس فیہا الروح) ١٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بازار میں غلہ لانے والے کو رزق ملتا ہے اور ذخیرہ اندوز ملعون ہے۔ (ابن ماجہ، دارمی بحوالہ مشکوۃ، کتاب البیوع، باب الاحتکار، فصل ثانی) ١٥۔ واثلہ بن الاسقع کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ’’جس شخص نے اپنی عیب دار چیز عیب بتائے بغیر بیچی وہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں رہے گا اور فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے۔‘‘ (ابن ماجہ بحوالہ مشکوۃ، کتاب البیوع، باب المنہی عنہا من البیوع۔ فصل ثالث) ١٦۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’بائع اور مشتری دونوں جب تک جدا نہ ہوں، مختار ہیں۔ پھر اگر انہوں نے سچ بولا اور صاف گوئی سے کام لیا تو ان کے سودے میں برکت دی جاتی ہے۔ اور وہ عیب وغیرہ چھپا گئے اور جھوٹ بولا تو ان کے سودے سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔‘‘(بخاری، کتاب البیوع، باب اذابین البیعان نیز باب مایمحق الکذب والکتمان فی البیع) ١٧۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک دفعہ) آپ کا ایک غلہ کے ڈھیر پر گزر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا تو انگلیوں کو نمی محسوس ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’اے غلہ والے! یہ کیا ؟‘‘ وہ کہنے لگا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! بارش ہوگئی تھی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تو تو نے (اس نمدار غلے کو) ڈھیر کے اوپر کیوں نہ کیا تاکہ لوگ اسے دیکھ سکتے۔‘‘ پھر فرمایا ’’جس نے دھوکا دیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ (مسلم، کتاب الایمان، باب قول النبی من غشنا فلیس منا ) ١٨۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب تم میں سے کوئی اونٹنی یا بکری خریدے جس کا دودھ بڑھایا گیا ہو تو دودھ دوہنے کے بعد خریدنے والے کو دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہے۔ چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو واپس کر دے اور ایک صاع کھجور بھی اس کے ساتھ دے۔‘‘ (مسلم، کتاب البیوع۔ باب حکم بیع المصراۃ) ١٩۔ ایک دوسری روایت کے مطابق یہ اختیار تین دن تک ہے۔ (حوالہ ایضاً) ٢٠۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ (کھیتی پکنے سے پہلے سود اچکا لینے) سے اور مزابنۃ (کھجور، انگور پکنے سے پہلے خشک کھجور یا انگور کا سودا چکا لینے) سے اور مخابرہ (زمین کو بٹائی پر دینا۔ جس کی بعد میں اجازت دے دی گئی) سے اور معاومہ (بیع سنین یعنی چند سالوں کی فصل کا پیشگی سودا چکا لینے) سے اور ثنیا (سودا چکاتے وقت چند درختوں یا کھیتی کا کچھ حصہ مستثنیٰ کرلینے) سے منع فرمایا اور بیع عرایا (چھوٹے پیمانے پر بیع مزابنۃ جس میں غریبوں کی ضرورت کا لحاظ رکھا گیا ہے) کی اجازت دی۔ (بخاری، کتاب المساقات، باب الرجل یکون لہ ممرٌّ او شرب فی الحائط، مسلم، کتاب البیوع۔ باب النہی عن المحاقلۃ) اور عرایا میں جو رخصت ہے وہ پانچ وسق (اندازاً بیس من) تک ہے۔ (مسلم، کتاب البیوع، باب تحریم الرطب بالتمر الا فی العرایا) ٢١۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دور جاہلیت میں لوگ حبل الحبلہ تک اونٹ کے گوشت کی سودا بازی کرتے اور حبل الحبلہ یہ ہے کہ اونٹنی جنے پھر اس کا بچہ حاملہ ہو اور وہ جنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قسم کی بیع سے منع فرما دیا۔ (مسلم، کتاب البیوع، باب تحریم بیع الحبل الحبلۃ۔۔ بخاری کتاب البیوع، عنوان باب) ٢٢۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ نے ادھار کی ادھار سے (یعنی دونوں طرف ادھار) بیع کرنے سے منع فرمایا (دار قطنی بحوالہ مشکوۃ۔ کتاب البیوع۔ باب المنہی عنہا من البیوع۔ فصل ثانی ) ٢٣۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے بیع الحصاۃ (کنکریاں پھینکنے کی بیع) اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب بیع الغرر۔۔ مسلم، کتاب البیوع، باب بطلان بیع الحصاۃ والبیع الذی فیہ غرر) ٢٤۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں دو قسم کی بیع سے منع کیا گیا ایک ملامسہ اور دوسری منابذہ اور ملامسہ یہ ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک بلا سوچے سمجھے دوسرے کا کپڑا چھوئے اور منابذہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینک دے۔ اور کوئی دوسرے کا کپڑا نہ دیکھے (اور اس طرح یہ بیع لازم ہوجائے) (بخاری، کتاب البیوع، باب الملامسۃ والمنابذۃ۔۔ مسلم۔ کتاب البیوع۔ باب ابطال بیع الملامستہ والمنابذۃ) ٢٥۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع نجش (بائع کی طرف سے مقررہ لوگ جو خریدار کو زیادہ قیمت ادا کرنے پر راغب کرسکیں۔ نیز چڑ ھی کی بولی) سے منع فرمایا۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب النجش) ٢٦۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے لاچار آدمی کی سودا بازی سے فائدہ اٹھانے سے اور دھوکہ کی بیع سے اور پھلوں کے پکنے سے پہلے ان کی سودا بازی سے منع فرمایا۔ (ابو داؤد، کتاب البیوع، باب ماجاء فی بیع المضطر) ٢٧۔ سیدنا عمرو بن شعیبص اپنے باپ سے اپنے دادے سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں بیع عربان (بیعانہ کی ضبطی والے سودے) سے منع فرمایا۔ (مؤطا، کتاب البیوع، باب بیع العربان) ٢٨۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو لوگ پھلوں کے ایک یا دو یا تین سال کے لیے پیشگی سودے کرلیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو کوئی کسی چیز کا پیشگی سودا کرے تو اسے چاہیے کہ مقررہ ناپ میں، مقررہ وزن میں اور مقررہ مدت تک سودا کرے۔‘‘ (بخاری، کتاب السلم، باب السلم فی کیل معلوم۔۔ مسلم، کتاب المساقات، باب السلم) ٢٩۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص بیع سلم کرے تو مال پر قبضہ کرنے سے پہلے کسی دوسرے کی طرف یہ سودا منتقل نہ کرے۔‘‘ (ابو داؤد۔ کتاب الاجارۃ، باب السلف لایحول) اب ہم مختلف عنوانات کے تحت احادیث درج کرتے ہیں : (١) شرح منافع : محمد بن سیرین (تابعی) فرماتے ہیں کہ دس کا مال گیارہ میں بیچنے میں کوئی قباحت نہیں اور جو خرچہ اس پر پڑا ہے اس پر بھی یہی منافع لے سکتا ہے۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب من اجری امرالامصار علی مایتعارفون) (٢) واحد کلام : سیدنا قیلہ رضی اللہ عنہا ام انمار کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں خرید و فروخت کیا کرتی ہوں اور جو چیز مجھے خریدنا ہوتی ہے اس کے کم دام لگاتی ہوں۔ پھر دام بڑھاتے بڑھاتے اس قیمت پر آ جاتی ہوں جو میرا مقصود ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی چیز بیچنا ہو تو زیادہ دام کہتی ہوں اور پھر کم کرتے کرتے اپنے مقصود پر آ جاتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’قیلہ! یہ کام اچھا نہیں۔ جو چیز جتنے کو بیچنا چاہتی ہو اتنے ہی دام کہہ دو۔ لینے والا چاہے گا تو لے لے گا ورنہ نہیں اور جو چیز خریدو اس کی بھی ایک ہی قیمت کہہ دو، دینے والا چاہے تو لے لے ورنہ نہ لے۔‘‘ (ابن ماجہ، ابو اب التجارات، باب السوم) (٣) السابق فالسابق : سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ دونوں کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب دو صاحب اختیار ایک ہی چیز خریدیں تو وہ چیز اس کی ہوگی جس نے پہلے خریدی۔‘‘ (ابن ماجہ۔ کتاب البیوع۔ باب السابق فالسابق) (٤) قیمت بتانا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’مال کی قیمت صاحب مال ہی لگانے کا زیادہ حقدار ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب صاحب السلعۃ احق بالسوم) (٥) غائب چیز کا سودا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس نے کوئی ایسی چیز خریدی جسے اس نے دیکھا نہ ہو تو دیکھنے کے بعد اسے اختیار ہے کہ وہ سودا بحال رکھے یا فسخ کر دے۔‘‘ (دار قطنی بیہقی بحوالہ فقہ السنہ ج ٢ ص ١٣٦) (٦) قیمت میں اختلاف : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب بائع اور مشتری میں اختلاف ہوجائے اور ان میں کوئی شہادت یا ثبوت موجود نہ ہو تو اس شخص کی بات معتبر ہوگی جو مال کا مالک ہے یا پھر وہ سودا چھوڑ دیں۔‘‘ (ترمذی ابو اب البیوع، باب اذا اختلف البیعان) (٧) ناپ تول کی مزدوری بائع پر ہے : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب تو بیچے تو ناپ کر دے اور خریدے تو ناپ کرلے۔‘‘ (بخاری، کتاب البیوع۔ باب الکیل علی البائع والمعطی) (٨) خرید کردہ مال کا تاوان : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بیع کے وقت جو مال موجود تھا (اگر مشتری اسے بائع کے پاس چھوڑ جائے) اور وہ تلف ہوجائے تو تاوان خریدار پر پڑے گا۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب من اشتری متاعا اودابۃ فوضعہ عندالبائع) (٩) کج بحث جھگڑالو : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اللہ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ شخص کج بحث جھگڑالو ہے (جو خواہ مخواہ جھگڑے کا پہلو پیدا کرلیتا ہے۔)‘‘ (بخاری، کتاب المظالم۔ باب قول اللہ و ھوالد الخصام) (١٠) ہبہ کردہ چیز کو خریدنا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک گھوڑا مجاہد کو دیا۔ اس نے وہ گھوڑا کمزور کردیا اور بازار میں فروخت کرنے کے لیے لے آیا۔ میں نے چاہا کہ اب یہ سستے داموں مل رہا ہے تو خرید لوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اسے مت خریدنا خواہ وہ تجھے ایک درہم میں دے دے کیونکہ اپنے صدقہ کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر اسے چاٹ جاتا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الہبہ، باب لایحل لاحدان یرجع فی ھبتہ و صدقتہ) (١١) غیر موجود چیز کا سودا : حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسی چیز بیچنے سے منع فرما دیا، جو میرے پاس موجود نہ ہو۔ (ترمذی، ابو اب البیوع، باب ماجاء فی الکراھیۃ مالیس عندہ ) (١٢) راہ میں سودا نہ کیا جائے : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ غلہ وغیرہ کے قافلوں کو آگے جا کر مت ملو۔ جو کوئی آگے جا کر مال خریدے اور بعد میں مال کا مالک منڈی میں آئے تو اسے سودا فسخ کرنے کا اختیار ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب البیوع، باب تحریم تلقی الجلب) (١٣) ناپ تول کے بغیر سودا نہ کیا جائے : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور (یا کسی دوسرے غلہ) کے ڈھیر کی سودا بازی سے منع فرمایا جس کا اس کے معروف پیمانہ سے ناپ معلوم نہ ہو۔‘‘ (مسلم۔ کتاب البیوع باب تحریم صبرالتمر) (١٤) قبضہ سے پہلے آگے سودا نہ کیا جائے : سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ بازار کے بالائی حصہ میں سودا کرتے پھر وہیں بیچ دیتے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی مقام پر بیچنے سے منع فرمایا۔ یہاں تک کہ اس غلہ کو منتقل نہ کیا جائے (یعنی اپنے قبضہ میں نہ کرلیا جائے۔ (بخاری کتاب البیوع، باب ما ذکر فی الاسواق۔۔ مسلم، کتاب البیوع، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جو لوگ بن ماپے تولے اناج کے ڈھیر خریدتے انہیں مار پڑتی تھی۔ اس لیے کہ جب تک وہ اپنے گھر نہ لے جائیں مال نہ بیچیں۔ (بخاری کتاب البیوع، باب مایذکر فی بیع الطعام والحکرۃ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص غلہ خریدے تو جب تک اس کے پورا ہونے کی تسلی نہ کرلے اسے فروخت نہ کرے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ جب تک اسے ناپ نہ لے۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب الکیل علی البائع والمعطی) (١٥) بائع اور مشتری کے درمیان تیسرا آدمی سودا نہ کرے : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی منگنی کی بات کے درمیان منگنی کی بات کرے۔ ہاں اس کی اجازت سے ایسا کرسکتا ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب البیوع، باب تحریم بیع الرجل علیٰ بیع اخیہ) (١٦) سودا خراب کرنا : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’کوئی مسلمان اپنے بھائی کے چکائے ہوئے سودے پر سودا نہ چکائے۔ (یعنی زیادہ رقم کا لالچ دے کر سودا خراب نہ کرے۔)‘‘ (مسلم، کتاب البیوع، باب تحریم بیع الرجل علی بیع اخیہ و سومہ) (١٧) قیمت کم کر کے دوسروں کو نقصان پہنچانا : سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بازار میں حاطب رضی اللہ عنہ بن ابی بلتعہ کے پاس سے گزرے جو بازاری قیمت سے کم قیمت پر منقیٰ بیچ رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا ’’یا تو نرخ زیادہ کرو یا ہمارے بازار سے اٹھ جاؤ۔‘‘ (موطا، کتاب البیوع، باب الحکرۃ والتربص) تاہم بعض علماء کہتے ہیں کہ چیز کے مالک کو اپنی چیز کم داموں پر بیچنے کا اختیار ہے۔ (حوالہ ایضاً) بشرطیکہ اس سے دوسروں کو نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو۔ (١٨) کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا ظلم ہے : ابو حرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’خبردار! ظلم نہ کرو، خبردار! کسی کا مال دوسرے کے لیے اس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں۔‘‘ (بیہقی، دارقطنی بحوالہ مشکوۃ، کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ۔ فصل ثانی) (١٩) قرض دینے کے بعد مقروض سے سودا بازی نہ کی جائے : (٢٠) جس مال پر قبضہ نہیں ہوا اس کا نفع جائز نہیں : سیدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ سے، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’(١) پیشگی دیا ہوا قرض اور بیع جائز نہیں (٢) ایک بیع میں دو صورتیں جائز نہیں (نقد قیمت کم ادھار زیادہ) (٣) جس مال پر قبضہ نہ ہوا ہو (نہ رقم ادا کی اس کا منافع مشتری کو) حلال نہیں (٤) اور جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اس کا سودا نہ کرو۔‘‘ (ابو داؤد، کتاب البیوع، باب فی الرجل یبیع مالیس عندہ) (٢١) ملاوٹ والی چیز کو الگ کر کے بیچا جائے : فضالہ رضی اللہ عنہ بن عبید کہتے ہیں کہ خیبر کے دن میں نے ایک ہار بارہ دینار میں خریدا۔ جس میں سونا اور نگینے تھے۔ میں نے انہیں الگ الگ کیا تو سونا ہی بارہ دینار سے زیادہ مالیت کا پایا۔ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کوئی چیز جب تک الگ الگ نہ کرلی جائے اس کی خرید و فروخت نہ کی جائے۔‘‘ (مسلم، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ باب الربا) (٢٢) چوری کے مال کی بیع : (١) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’جس شخص نے اپنا مال بعینہ کسی کے پاس پا لیا وہ اس کا زیادہ حقدار ہے اور مسروقہ مال خریدنے والا اس شخص کو ڈھونڈے جس نے اس کے پاس مال بیچا تھا۔‘‘ (نسائی، ابو داؤد، کتاب الاجارۃ، باب فی الرجل یجد عین مالہ عندر جل) (٢) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس نے چوری کا مال خریدا اور وہ جانتا تھا کہ وہ چوری کا مال ہے تو وہ چوری کے گناہ اور اس کی سزا میں برابر کا شریک ہے۔‘‘ (بیہقی بحوالہ فقہ السنۃ ج ٣ ص ١٤٦) (٢٣) سودا واپس موڑ لینا : عمرو بن شعیب اپنے باپ سے، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ ’’بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں، مختار ہیں۔ الا یہ کہ خیار کی شرط کرلی جائے اور دونوں میں سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس خوف سے جلد جدا ہونے کی کوشش کرے کہ کہیں سودا واپس نہ ہوجائے۔‘‘ (ترمذی، ابو اب البیوع، باب البیعان بالخیار) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص سودا واپس موڑ لے (قیامت کے دن) اللہ اس کی لغزشیں واپس لے لے گا۔‘‘ (ابو داؤد، کتاب الاجارۃ فی فضل الاقالۃ) (٢٤) مسجد میں خرید و فروخت کرنا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب تم مسجد میں کسی کو کوئی چیز بیچتا یا خریدتا دیکھو تو اسے کہو۔ اللہ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے۔ اور جب کسی کو مسجد میں کوئی گمشدہ چیز ڈھونڈتے دیکھو تو اسے کہو۔ اللہ کرے تمہیں وہ نہ ملے۔‘‘ (ترمذی، ابو اب البیوع، باب النہی عن البیع فی المسجد) (٢٥) نمازوں کی اوقات میں خرید و فروخت : جمعہ کی اذان کے بعد لین دین یا دوسرے مشاغل حرام ہیں۔ (سورہ جمعہ : ٩) یہی صورت عام نمازوں کے لیے بھی ہے۔ (٢٦) نیلام : سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ بیچنا چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کون یہ ٹاٹ اور پیالہ خریدتا ہے؟ ایک شخص نے کہا : میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں لیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کوئی ایک درہم سے زیادہ دیتا ہے؟ پھر ایک شخص نے ان چیزوں کے آپ کو دو درہم دیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیچ دیں۔ (ترمذی، ابو اب البیوع، باب ماجاء فی من یزید) (٢٧) شراکت : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے۔ ’’دو شریکوں کا تیسرا میں ہوتا ہوں جب تک کوئی ان میں سے خیانت نہ کرے۔ پھر جب ان میں سے کوئی خیانت کرتا ہے تو میں درمیان سے نکل جاتا ہوں۔‘‘ (ابو داؤد، کتاب البیوع، باب فی الشرکہ)۔۔ اور رزین نے یہ اضافہ کیا ’’اور (اللہ کی جگہ) شیطان آ جاتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ، کتاب البیوع، باب الشرکۃ والوکالۃ فصل ثالث) [٤٩] بظاہر سود، جوا اور رشوت، ان تینوں میں باہمی رضامندی پائی جاتی ہے۔ لیکن یہ رضامندی اضطراری ہوتی ہے مثلاً قرض لینے والے کو اگر قرض حسنہ مل سکتا ہو تو وہ کبھی سود پر قرضہ لینے پر آمادہ نہ ہوگا۔ جواری اس لیے رضامند ہوتا ہے کہ ہر ایک کو اپنے جیتنے کی امید ہوتی ہے۔ ورنہ اگر کسی کو ہارنے کا خطرہ ہو تو وہ کبھی جوا نہ کھیلے گا۔ اسی طرح اگر رشوت دینے والے کو معلوم ہو کہ اسے رشوت دیئے بغیر بھی حق مل سکتا ہے تو وہ کبھی رشوت نہ دے۔ علاوہ ازیں سودے بازی میں اگر ایک فریق کی پوری رضامندی نہ ہو اور اسے اس پر مجبور کردیا جائے تو وہ بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ شرعی اصطلاح میں اسے بیع خیار کہتے ہیں۔ [٥٠] خود کشی کی حرمت :۔ اس جملہ کے تین مطلب ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ اسے سابقہ مضمون سے متعلق سمجھا جائے۔ اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا کہ باطل طریقوں سے دوسروں کا مال ہضم کر کے اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔ اور اگر اسے الگ جملہ سمجھا جائے تو پھر اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو یعنی قتل ناحق، جو حقوق العباد میں سب سے بڑا گناہ ہے۔ اور قیامت کو حقوق العباد میں سب سے پہلے قتل ناحق کے مقدمات کا ہی فیصلہ ہوگا۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ خودکشی نہ کرو۔ کیونکہ انسان کی اپنی جان پر بھی اس کا اپنا تصرف ممنوع اور ودکشی گناہ کبیرہ ہے۔ چنانچہ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم سے پہلے لوگوں میں سے کسی کو ایک پھوڑا نکلا۔ جب اسے تکلیف زیادہ ہوئی تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور پھوڑے کو چیر دیا۔ پھر اس سے خون بند نہ ہوا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’میں نے اس پر جنت کو حرام کردیا۔‘‘ (یہ حدیث بیان کرنے کے بعد) حسن نے اپنا ہاتھ مسجد کی طرف بڑھایا اور کہا اللہ کی قسم مجھ سے یہ حدیث جندب (بن عبداللہ بجلی) نے بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس مسجد میں۔ (مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب غلظ تحریم قتل الانسان نفسہ) النسآء
30 [٥١] یہاں ایسے کام سے مراد وہ تمام اوامر و نواہی ہیں جن کا ذکر اس سورۃ کی ابتداء سے چلا آ رہا ہے۔ اور ازراہ ظلم و زیادتی سے مراد یہ ہے کہ جو شخص ازراہ معصیت و تکبر اللہ کے اوامر و نواہی کی پروا نہ کرے اور گناہوں کا ارتکاب کرتا جائے اس کی سزا دوزخ ہی ہو سکتی ہے۔ النسآء
31 [٥٢] کبیرہ گناہ کون کون سے ہوتے ہیں احادیث میں جن کبیرہ گناہوں کا ذکر آیا ہے وہ درج ذیل ہیں : ١۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔‘‘ صحابہ نے پوچھا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہ کون کون سے ہیں؟ فرمایا ’’شرک باللہ، جادو، ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، سود، یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے فرار، پاکباز بھولی بھالی مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔‘‘ (مسلم، کتاب الایمان۔ باب بیان الکبائر و اکبرہا) (بخاری، کتاب المحاربین من اہل الکفرۃ والردۃ۔ باب رمی المحصنات) ٢۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا ’’اللہ کے نزدیک کونسا گناہ بڑا ہے؟‘‘ فرمایا ’’یہ کہ تو کسی اور کو اللہ کے برابر کر دے حالانکہ اللہ ہی نے تجھے پیدا کیا۔‘‘ میں نے عرض کیا ’’یہ تو واقعی بڑا گناہ ہے اس کے بعد کون سا گناہ بڑا ہے؟‘‘ فرمایا ’’تو اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالے کہ اسے کھلانا پڑے گا۔‘‘ میں نے پوچھا’’پھر کون سا گناہ بڑا ہے؟‘‘ فرمایا ’’یہ کہ تو ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرے۔‘‘ (بخاری، کتاب التفسیر۔ باب ﴿فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا ﴾) ٣۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا تو فرمایا ’’بڑے گناہ یہ ہیں : اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق خون کرنا، والدین کو ستانا۔‘‘ پھر فرمایا ’’کیا میں تمہیں بڑے سے بڑا گناہ نہ بتاؤں قول الزور، (جھوٹ کو ہیرا پھیری سے سچ بنانا) یا ایسی ہی جھوٹی گواہی دینا۔ (بخاری، کتاب الادب۔ باب عقوق الوالدین من الکبائر) الغرض کبائر کی فہرست بڑی طویل ہے۔ کبائر معلوم کرنے کے لیے درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے : ١۔ بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جو موقع و محل کے لحاظ سے مزید شدت اختیار کر جاتے ہیں۔ مثلاً لوگوں کا مال ناجائز طریقے سے کھانا کبیرہ گناہ ہے مگر یتیم کا مال کھانا اور بھی بڑا گناہ ہے یا داؤ فریب سے مال بیچنا گناہ ہے مگر جھوٹی قسم کھا کر مال بیچنا اور بڑا گناہ بن جاتا ہے۔ عام عورتوں پر تہمت لگانا بھی بڑا گناہ ہے مگر بھولی بھالی انجان عورتوں پر تہمت لگانا مزید شدت اختیار کرجاتا ہے، اولاد کا قتل بڑا گناہ ہے مگر مفلسی کے ڈر سے اولاد کا قتل اور بھی بڑا گناہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح زنا ایک کبیرہ گناہ ہے مگر جب یہ زنا اپنی ماں، بیٹی، بہن یا دیگر محرمات سے کیا جائے تو گناہ مزید شدید ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر شادی شدہ عورت یا مرد زنا کرے گا تو یہ گناہ کنوارے مرد یا عورت سے زیادہ شدید ہوجائے گا۔ ایسے ہی ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرنا کسی دوسری عورت سے زنا کرنے کی بہ نسبت شدید ہوگا۔ یا بوڑھے آدمی کا زنا کرنا جوان آدمی کے زنا کرنے کی نسبت زیادہ شدید ہوگا اور اگر بوڑھا زانی اپنے ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرے تو کسی دوسری عورت سے زنا کرنے کی بہ نسبت اس کا گناہ تین گنا بڑھ جائے گا۔ یہی صورت باقی گناہوں کی ہوتی ہے۔ ٢۔ کسی چھوٹے گناہ کو حقیر سمجھتے ہوئے اسے مسلسل کرتے جانا بھی اسے کبیرہ گناہ بنا دیتا ہے۔ ٣۔ جس گناہ کے کام کے بعد کرنے والے پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت کا ذکر ہو۔ یا صرف اللہ کی یا صرف رسول کی لعنت کا ذکر ہو وہ بھی حسب مراتب کبیرہ گناہ ہوتا ہے۔ ٤۔ جس گناہ کی بابت یہ ذکر ہو کہ قیامت کے دن اللہ اس کی طرف دیکھے گا بھی نہیں یا اس سے کلام نہ کرے گا یا اس پر غصے ہوگا۔ وہ بھی کبیرہ گناہ ہوگا۔ [٥٣] یعنی بڑے گناہوں سے اجتناب کے بعد چھوٹے گناہ اللہ ویسے ہی معاف کر دے گا اور جواب طلبی نہیں کرے گا۔ لیکن اگر بڑے گناہوں سے اجتناب نہ کیا جائے تو ساتھ ہی ساتھ چھوٹے گناہوں کا بھی مواخذہ ہوگا۔ واضح رہے کہ سورۃ نجم کی آیت نمبر ٣٢ میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے اور وہاں سیئات کی بجائے اللمم کا لفظ آیا ہے اور اس کا معنیٰ بھی چھوٹے گناہ ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وضاحت کے مطابق سیئات یا لمم سے مراد وہ چھوٹے گناہ ہیں جو کسی بڑے گناہ کا سبب بنتے ہیں۔ مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’آنکھ کا زنا ہے، کان کا بھی، زبان کا بھی اور ہاتھ پاؤں کا بھی۔ پھر فرج یا ان کی تصدیق کردیتا ہے یا تکذیب‘‘ (بخاری، کتاب الاستیذان، باب زنا الجوارح دون الفرج) گویا آنکھ کا زنا غیر محرم کی طرف دیکھنا، پاؤں کا اس کے پاس چل کر جانا، زبان کا اس سے شہوانی گفتگو کرنا، نفس کا زنا کی خواہش کرنا ہے۔ اب اگر زنا اس سے صادر ہوجاتا ہے تو باقی چھوٹے گناہ بھی برقرار رہیں گے اور اگر بچ جاتا ہے تو یہ چھوٹے گناہ معاف کردیئے جائیں گے بشرطیکہ وہ نیک اعمال بھی بجا لانے والا ہو تو ان نیک اعمال کی وجہ سے یہ چھوٹے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ النسآء
32 [٥٤] حسد کی بجائے اللہ کا فضل طلب کرنا چاہئے :۔ دنیا میں اللہ نے کسی کو کوئی خوبی دے رکھی ہے کسی کو کوئی دوسری۔ کوئی مالدار ہے کوئی غریب ہے۔ کوئی حسین ہے کوئی بدصورت ہے، کوئی تنومند اور صحت مند اور کوئی کمزور اور مستقل بیمار۔ کوئی سالم الاعضاء ہے تو کوئی پیدائشی اندھا یا گونگا یا بہرہ ہے۔ کوئی بڑا عقلمند اور ذہین ہے اور کوئی کند ذہن ہے۔ کسی میں قوت کار کی استعداد بہت زیادہ ہے کسی میں کم ہے، کوئی چست اور پھرتیلا ہے تو کوئی پیدائشی طور پر سست اور ڈھیلا ڈھالا ہے اور اسی اختلاف ہی سے اس جہان کی رنگینیاں قائم اور اس دنیا میں ایک دوسرے کے کام چلتے چلاتے رہتے ہیں۔ اب اگر اس قدرتی اختلاف میں سے کسی بھی چیز کا اختلاف مٹانے کی کوشش کی جائے گی تو وہ اختلاف تو دور نہ ہو سکے گا البتہ معاشرہ میں بگاڑ ضرور پیدا ہوجائے گا۔ اس لیے اگر اللہ نے کسی کو خوبی عطا کی ہے تو اس کے لیے حسد ہوس اور بغض نہ رکھنا چاہیے کیونکہ اس کے عوض اللہ نے تمہیں بھی کوئی نہ کوئی خوبی ضرور دی ہوگی۔ البتہ اپنے لیے اللہ کے فضل کی دعا کرسکتے ہو۔ اور اگر سچے دل سے دعا کرو گے اور اس کام کے لیے اسباب بھی اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ یقینا اپنے بندوں پر بہت عنایات کرنے والا ہے۔ [٥٥] اجر وثواب میں مرد و عورت برابر ہیں :۔ مرد ہو یا عورت جس کی نیت میں خلوص زیادہ ہوگا تو اس کو اس کے مطابق اجر ملے گا اور اگر عورت ہمت اور قوت کار کی استعداد میں کم ہونے کے باوجود وہی نیکی کا کام سر انجام دیتی ہے جو مرد نے دیا ہے تو یقینا عورت کو اس کا اجر زیادہ ملنا چاہیے۔ گویا ثواب کے لحاظ سے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں۔ البتہ دوسرے عوامل ثواب کی کمی بیشی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اب اگر کوئی عورت اس انداز سے سوچنا شروع کر دے کہ مرد کے تو اللہ نے میراث میں دو حصے رکھے ہیں اور عورت کا ایک۔ یا یہ کہ مرد کو اللہ نے عورتوں پر حاکم بنا دیا ہے اور عورتیں محکوم ہیں یا کوئی مرد اس انداز سے سوچنا شروع کر دے کہ اخراجات کی سب ذمہ داریاں تو مرد پر ڈال دی گئی ہیں۔ پھر عورت کا میراث میں مفت میں ہی حصہ مقرر کردیا گیا ہے یا یہ کہ مرد اپنی بیوی اور بال بچوں کی خوراک، پوشاک، رہائش، تعلیمی ذمہ داریوں کے مکمل اخراجات کا ذمہ دار بنا دیا گیا ہے کہ وہ جیسے بھی بن پڑے کما کر لائے اور اہل خانہ کی خدمت میں پیش کر دے تو اس طرح تو مرد اپنے اہل خانہ کا خادم ہوا حاکم کیسے ہوا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس قسم کے غلط انداز فکر چھوڑ دو۔ اللہ تعالیٰ نے جو احکام دیئے ہیں اس حیثیت سے دیئے ہیں کہ وہ ہر ایک بات کو خوب جانتا ہے لہٰذا اگر تم میں سے کسی کو کچھ کسر معلوم ہوتی ہے تو اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو۔ وہ بڑا صاحب فضل ہے اور تمہاری سب کمزوریاں اور کو تاہیاں دور کردینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ النسآء
33 [٥٦] مواخات اور میراث :۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ موالی سے مراد۔۔ وارث ہیں اور﴿وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ مہاجرین اسلام ابتداًء جب مدینہ آئے تو مہاجر اپنے انصاری بھائی کا وارث ہوتا اور انصاری کے رشتہ داروں کو ترکہ نہ ملتا تھا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مواخات کرا دی تھی۔ پھر (جب مسلمانوں کی معیشت سنبھل گئی تو) یہ آیت اتری ﴿وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ﴾ تو اب ایسے بھائیوں کو ترکہ ملنا موقوف ہوگیا اور اب ﴿عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ﴾سے مراد وہ لوگ ہیں جن سے قسم کھا کر دوستی، مدد اور خیر خواہی کا عہد کیا جائے ان کے لیے ترکہ نہ رہا البتہ وصیت کا حکم باقی ہے۔ (بخاری، کتاب التفسیر نیز کتاب الکفالہ باب قول اللہ والذین عقدت ایمانکم) النسآء
34 [٥٧] مرد قوام کس لحاظ سے ہیں؟ قوام کا معنیٰ سرپرست، سربراہ اور منتظم ہے۔ یعنی ایسا شخص جو کسی دوسرے کی تمام تر معاشی اور معاشرتی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ پھر مردوں کے قوام ہونے کی اللہ تعالیٰ نے دو وجوہ بیان فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ مرد اپنی جسمانی ساخت کے لحاظ سے عورتوں سے مضبوط ہوتے ہیں مشقت کے کام جتنا مرد کرسکتے ہیں عورتیں نہیں کرسکتیں۔ پھر ذمہ داریوں کو نباہنے کی صلاحیت بھی مردوں میں عورتوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ چنانچہ تاریخ کے اوراق اس بات پر شاہد ہیں کہ جو کچھ کارہائے نمایاں مردوں نے سرانجام دیئے ہیں عورتیں اس کے عشر عشیر کو بھی نہ پہنچ سکیں اور یہ کارنامے خواہ زندگی کے کسی بھی پہلو اور تاریخ کے کسی بھی دور سے تعلق رکھتے ہوں۔ لہٰذا گھر کی چھوٹی سی ریاست کا سربراہ یا قوام بھی مرد ہی کو ہونا چاہیے اور مردوں کے قوام ہونے کی دوسری وجہ یہ بتائی کہ وہ اپنے اہل خانہ کے تمام تر معاشی اخراجات کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور بنائے گئے ہیں اور اس کی بھی اصل وجہ وہی ہے جو پہلی وجہ میں مذکور ہوئی کہ مرد محنت شاقہ کر کے جو کچھ کمائی کرسکتے ہیں وہ عورتیں نہیں کرسکتیں۔ لہٰذا امور خانہ داری کا سربراہ تو عورت کو بنایا گیا اور پورے گھر کی اندرونی اور بیرونی ذمہ داریوں کا سربراہ مرد کو۔ یہی وجہ ہے کہ طلاق اور رجوع کا حق بھی مرد کو دیا گیا ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’مرد اپنے اہل بیت پر حکمران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق بازپرس ہوگی۔ اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد پر حکمران ہے اس سے اس کے متعلق بازپرس ہوگی۔‘‘ (بخاری کتاب الاحکام۔ باب (اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ)نیز کتاب النکاح، باب (قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ .....، مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضیلۃ الامیر العادل) [٥٨] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’بہترین بیوی وہ ہے کہ جب تم اسے دیکھو تو تمہارا جی خوش ہوجائے، جب اسے کسی بات کا حکم دو تو وہ تمہاری اطاعت کرے اور جب تم گھر میں موجود نہ ہو تو وہ تمہارے پیچھے تمہارے مال کی اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔‘‘ (بخاری، کتاب النفقات، باب حفظ المرأۃ زوجہا فی ذات یدہ) اچھی بیوی کی صفات :۔ اس مختصر سی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اچھی بیوی کی چار صفات بیان فرمائی ہیں۔ دو تو شوہر کی موجودگی سے تعلق رکھتی ہیں اور دو عدم موجودگی سے۔ موجودگی سے متعلق یہ ہیں کہ جب شوہر گھر میں ہو یا باہر سے کام کاج کے بعد شام کو گھر آئے تو اس کی بیوی خندہ پیشانی سے اس کا استقبال کرے اس کا جسم اور اس کے کپڑے صاف ستھرے ہوں اور وہ اپنے خاوند کا دل موہ لے اور خاوند اسے دیکھ کر خوش ہوجائے۔ دوسری یہ کہ خاوند اسے اگر کھانے پینے سے متعلق کسی بات کے لیے کہے تو اسے فوراً بجا لائے۔ یا اگر اسے بوس و کنار کے لیے بلائے تو بطیب خاطر اس کی بات مانے۔ اور جب گھر میں نہ ہو تو کسی غیر مرد کو گھر میں داخل نہ ہونے دے۔ نہ ہی خود کسی غیر مرد سے آزادانہ اختلاط یا خوش طبعی کی باتیں کرے۔ نیز اپنے شوہر کے گھر کی امین ہو۔ اس کے مال کو نہ فضول کاموں میں خرچ کرے نہ ہی اس کی اجازت کے بغیر اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ الایہ کہ اس کا مال ذاتی ہو اور نہ ہی چوری چھپے خاوند کے مال سے اپنے میکے والوں کو دینا شروع کر دے۔ مگر جب خاوند کوئی ایسا کام بتائے جو گناہ کا کام ہو اور اس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہو تو اللہ کی معصیت کے مقابلہ میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ جیسے مثلاً مرد اسے نماز کی ادائیگی یا پردہ کرنے سے روکے یا اسے شرک و بدعت والے کاموں پر مجبور کرے تو اس سے انکار کردینا ضروری ہے ورنہ وہ گنہگار ہوگی۔ اور خاوند کی اطاعت کی حد کے بارے میں مندرجہ ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر عورت کا خاوند اس کے پاس موجود ہو تو وہ اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے۔‘‘ (بخاری، کتاب النکاح، باب صوم المراۃ باذن زوجھا تطوعا) ٢۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ نہ آئے تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔‘‘ (بخاری، کتاب النکاح۔ باب اذاباتت المراۃ مھاجرۃ فراش زوجھا) [٥٩] نشوز کا لغوی معنیٰ بلندی یا ارتفاع، اٹھان اور ابھار کے ہیں۔ خصوصاً جب کسی چیز میں یہ اٹھان تحرک اور ہیجان کا نتیجہ ہو مثلاً عورت اپنے خاوند کو اپنا ہمسر یا اپنے سے کمتر سمجھتی ہو یا اس کی سربراہی کو اپنے لیے توہین سمجھ کر اسے تسلیم نہ کرتی ہو۔ اس کی اطاعت کے بجائے اس سے کج بحثی کرتی ہو۔ خندہ پیشانی سے پیش آنے کی بجائے بدخلقی سے پیش آتی ہو اور سرکشی پر اتر آتی ہو۔ بات بات پر ضد اور ہٹ دھرمی دکھاتی ہو یا مرد پر ناجائز قسم کے اتہامات لگاتی ہو۔ یہ باتیں نشوز کے معنیٰ میں داخل ہیں۔ ایسی عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کو تین قسم کے ترتیب وار اقدام کرنے کی اجازت دی ہے۔ پہلا قدم یہ ہے کہ اسے نرمی سے سمجھائے کہ اس کے اس رویہ کا کیا انجام ہوسکتا ہے۔ لہٰذا وہ کم از کم اپنی بہتری اور مفاد کی خاطر گھر کی فضا کو مکدر نہ بنائے۔ پھر اگر وہ خاوند کے سمجھانے بجھانے کا کچھ اثر قبول نہیں کرتی تو خاوند اس سے الگ کسی دوسرے کمرہ میں سونا شروع کر دے۔ اور اسے اپنے ساتھ نہ سلائے۔ اگر اس عورت میں کچھ بھی سمجھ بوجھ ہوگی اور اپنا برا بھلا سمجھنے سوچنے کی تمیز رکھتی ہوگی تو وہ اپنے خاوند کی اس ناراضی اور سرد جنگ کو برداشت نہیں کرسکے گی۔ اگر پھر بھی اسے ہوش نہیں آتا تو پھر تیسرے اور آخری حربہ کے طور پر مارنے کی بھی اجازت دی گئی ہے، مگر چند شرائط کے ساتھ جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث سے واضح ہے : ١۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’خبردار! عورتوں کے متعلق نیک سلوک کی وصیت قبول کرو۔ وہ تمہارے پاس صرف تمہارے لیے مخصوص ہیں۔ اس کے سوا تم ان کے کچھ بھی مالک نہیں، بجز اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کریں اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں بستروں میں علیحدہ کرسکتے ہو اور اس طرح مار سکتے ہو کہ انہیں چوٹ نہ آئے‘‘ (ترمذی، ابو اب الرضاع، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا) ٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’بیوی کو مارو نہیں نہ اسے برا بھلا کہو اور نہ اسے چھوڑو مگر گھر میں‘‘ (یعنی گھر میں ہی اسے اپنے بستر سے علیحدہ سلاؤ۔ گھر سے نکالو نہیں۔) (ابو داؤد، کتاب النکاح، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا) ٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو یوں نہ مارے جیسے اپنے غلام کو مارتے ہو، پھر دن کے آخر میں اس سے جماع بھی کرے۔‘‘ (بخاری، کتاب النکاح، باب مایکرہ من ضرب النساء۔۔ مسلم کتاب الجنۃ۔ باب النار یدخلہ الجبارون) یعنی اگر مارنے کے بغیر عورت کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان نہ ہو تو یہ سوچ کر مارے کہ ممکن ہے رات کو اسے بیوی کی ضرورت پیش آ جائے اور اسے منانا پڑے۔ دوسرے یہ کہ اسے غلاموں کی طرح بے تحاشا نہ مارے۔ اور ایک حدیث کے مطابق کسی کو بھی یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی، یا ملازم یا بال بچوں کو منہ پر مارے۔ اور تیسری پابندی یہ ہے کہ ایسی مار نہ مارے جس سے اس کی بیوی کو کوئی زخم آ جائے یا اس کی کوئی ہڈی پسلی ٹوٹ جائے۔ ان حدود و قیود کے ساتھ خاوند کو ایسی اضطراری حالت میں بیوی کو مارنے کی اجازت دی گئی ہے۔ [٦٠] یعنی اگر وہ باز آ جاتی ہیں تو محض ان پر اپنا رعب داب قائم کرنے کے لیے پچھلی باتیں یاد کر کے ان سے انتقام نہ لو اور اس اجازت سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاؤ اور اگر ایسا کرو گے تو اللہ جو بلند مرتبہ اور تم پر پوری قدرت رکھتا ہے تم سے تمہارے اس جرم کا بدلہ ضرور لے گا۔ النسآء
35 [٦١] زوجین میں ثالثی فیصلہ :۔ اور اگر میاں بیوی کے تعلقات سنورنے میں نہ آ رہے ہوں اور ان میں سے ہر کوئی دوسرے پر الزام تھوپ رہا ہو تو طلاق سے پہلے فریقین اپنے اپنے خاندان میں سے ثالث منتخب کریں جو پوری صورتحال کو سمجھ کر نیک نیتی سے اصلاح کی کوشش کریں۔ یہ ثالث طرفین کی طرف سے ایک ایک آدمی بھی ہوسکتا ہے دو دو بھی اور تین تین بھی۔ جو بات بھی میاں بیوی دونوں کو تسلیم ہو اختیار کی جا سکتی ہے۔ [٦٢] یہاں دونوں سے مراد میاں بیوی بھی ہو سکتے ہیں اور طرفین کے ثالث حضرات بھی۔ یعنی اگر ان کی نیت بخیر ہوگی تو اللہ تعالیٰ زوجین میں ضرور موافقت کی راہ نکال دے گا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ثالث سمجھوتہ کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو فہوالمراد۔ اور اگر وہ اس نتیجہ پر پہنچیں کہ تفریق کے بغیر اب کوئی چارہ کار نہیں رہا۔ تو کیا وہ یہ اختیار بھی رکھتے ہیں (یعنی مرد سے طلاق دلوانے کا یا خلع کا) یا نہیں۔ اکثر علماء کے نزدیک یہ ثالثی بنچ یہ اختیار بھی رکھتا ہے کیونکہ یہ بھی ایک طرح کی عدالت ہی ہوتی ہے۔ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ ایسے اختیارات صرف عدالت کو ہیں اور یہ بنچ عدالت کے سامنے اپنی سفارشات پیش کرسکتا ہے۔ عدالت یہ اختیار خود بھی استعمال کرسکتی ہے اور وہ یہ اختیار اس ثالثی بنچ کو بھی تفویض کرسکتی ہے اور چاہے تو اپنی طرف سے علیحدہ بنچ مقرر کر کے اسے یہ اختیار دے سکتی ہے۔ جیسا کہ آج کل ہمارے ہاں یونین کونسلوں کو ایسے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ النسآء
36 [٦٣] شرک کے لیے دیکھیے اسی سورۃ کا حاشیہ نمبر ٨٠، اور حاشیہ نمبر ١٥٤) [٦٤] والدین سے حسن سلوک کے لیے دیکھیے سورۃ بنی اسرائیل کا حاشیہ نمبر ٢٥ تا ٢٨۔ اور اقرباء سے حسن سلوک کے لیے دیکھیے سورۃ نساء کا حاشیہ نمبر ٣۔ [٦٥] یتیموں سے حسن سلوک کے لیے دیکھیے سورۃ نساء کی آیات ٢ تا ٦ کے حواشی۔ [٦٦] ہمسایہ سے بہتر سلوک :۔ ہمسایوں سے بہتر سلوک کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہو وہ اپنے ہمسایہ کو تکلیف نہ پہنچائے‘‘ (بخاری، کتاب النکاح، باب الوصاۃ بالنساء۔۔ مسلم، کتاب الایمان، باب الحث علیٰ اکرام الجار) ٢۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ الفاظ دہرائے ’’اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں‘‘ صحابہ نے پوچھا ’’کون یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !‘‘ فرمایا ’’جس کی ایذا دہی سے اس کا ہمسایہ امن میں نہ ہو۔‘‘ (بخاری، کتاب الادب، باب اثم من لا یامن جارہ بوائقہ) ٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس کی ایذا دہی سے اس کا ہمسایہ امن میں نہ ہو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘ (مسلم کتاب الایمان۔ باب بیان تحریم ایذاء الجار) ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’وہ شخص جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اپنے ہمسایہ کی عزت کرے‘‘ (مسلم۔ کتاب الایمان، باب الحث علی اکرام الجار) ٥۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جبریل مجھے ہمسایہ سے حسن سلوک کے بارے میں اتنی وصیت کرتے رہے کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے وارث بھی بنا دیں گے۔‘‘ (بخاری، کتاب الادب، باب الوصایہ بالجار۔۔ مسلم، کتاب البر والصلۃ باب الوصیۃ بالجار) ٦۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ابو ذر جب تم سالن پکاؤ تو اس کا شوربا زیادہ کرلیا کرو اور اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال رکھو۔‘‘ (مسلم۔ ایضاً) ٧۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہمسایہ اپنے قرب کی وجہ سے (فروختنی جائیداد کا) زیادہ حقدار ہے۔‘‘ (بخاری کتاب السلم باب عرض الشفعۃ علی صاحبہا قبل البیع) ٨۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا ’’اللہ کے رسول ! میرے دو پڑوسی ہیں تو میں کس کو تحفہ بھیجوں‘‘ فرمایا ’’جس کا دروازہ زیادہ قریب ہو۔‘‘ (بخاری، کتاب المسلم باب ای الجواراقرب) ٩۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اے مسلم عورتو! کوئی ہمسائی اپنی ہمسائی کے تحفہ کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ تحفہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘ (بخاری، کتاب الہبتہ، و التحریض علیہا۔۔ مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب الحث علی الصدقۃ) ١٠۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کوئی ہمسایہ اپنے ہمسایہ کو اپنی دیوار میں لکڑی (شہتیر وغیرہ) رکھنے سے منع نہ کرے۔‘‘ (بخاری، کتاب المظالم۔ باب لایمنع جار جارہ ان یغرز خشبہ فی جدارہ) ١١۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب آپ اپنے ہمسایوں کو یہ کہتے سنیں کہ آپ نے اچھا کام کیا تو فی الواقع آپ نے اچھا کام کیا اور جب آپ سنیں کہ آپ نے برا کام کیا تو فی الواقع آپ نے برا کام کیا۔‘‘ (ابن ماجہ، ابو اب الزھد فی الدنیا، باب الثناء الحسن) ١٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ شخص مسلمان نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھاتا ہے اس حال میں کہ اس کا ہمسایہ بھوکا رہے۔‘‘ (شعب الایمان للبیہقی) اس آیت میں تین قسم کے ہمسایوں کا ذکر آیا ہے۔ ایک وہ جو ہمسائے بھی ہوں اور رشتہ دار بھی ہوں۔ دوسرے وہ جو تمہارے پہلو میں یا تمہارے مکان کے پاس تو رہتے ہوں مگر تمہارے رشتہ دار نہ ہوں۔ تیسرے وہ جو تمہاری سوسائٹی سے متعلق ہوں مثلاً وہ دوست احباب جو ایک جگہ مل بیٹھتے ہوں یا کسی دفتر میں یا دوسری جگہ اکٹھے کام کرتے ہوں اور اکثر میل ملاقات رہتی ہو۔ حسن سلوک تو ان سب سے کرنا چاہیے۔ تاہم اسی ترتیب سے الاقرب فالاقرب کا خیال ضرور رکھا جائے۔ سب سے زیادہ حقدار رشتہ دار ہمسائے ہیں، پھر ان کے بعد اپنے گھر کے آس پاس رہنے والے ہمسائے۔ اور ایک روایت کے مطابق ایسے ہمسایوں کی حد چالیس گھروں تک ہے پھر ان کے بعد ان ہمسایوں کی باری آتی ہے جو اپنے ہم نشین، ہم جماعت یا کو لیگ ہوں۔ اور مندرجہ بالا احادیث سے نہایت اہم چیز جو سب سے پہلے ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام معاشرتی زندگی اور مل جل کر رہنے کا زبردست مؤید ہے۔ آج کے دور میں کوٹھیوں اور بنگلوں میں رہائش ہے جہاں ساتھ والے ہمسائے تک کو اس کی غمی یا خوشی کی خبر تک نہیں ہوتی، یہ اسلامی نظریہ معاشرت کے عین برعکس ہے۔ پھر اسلام جن اعلیٰ اقدار کا سبق دیتا ہے تہذیب و تمدن کی تبدیلی نے ان اقدار کو بھی یکسر بدل دیا ہے مثلاً اسلام یہ سکھاتا ہے کہ کوئی ہمسایہ اپنے ہمسائے کو اپنی دیوار پر شہتیر رکھ لینے سے منع نہ کرے مگر یہاں یہ حال ہے کہ اگر ہمسائے بھائی بھائی بھی ہوں تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اپنی دیوار اپنے بھائی کی دیوار سے بالکل الگ تعمیر کرے۔ گو یہ اس لحاظ سے بہتر ہے کہ بعد میں کسی وقت تنازعہ پیدا نہ ہو مگر شریعت نے تنازعہ پیدا کرنے کا نہیں بلکہ تنازعہ کو ختم کرنے اور بھائی بھائی نہ ہونے کے باوجود بھائی بھائی بن کر رہنے کا سبق دیا تھا۔ پھر ان احادیث میں جو حقوق بیان کیے گئے ہیں وہ بڑے واضح ہیں جن کی شرح و تفصیل کی ضرورت نہیں اور پڑھنے کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ہمسائے بھی اپنے ہی گھر کے افراد ہیں اور یہ بھی غور فرمائیے کہ اگر ان ارشادات نبوی پر عمل کیا جائے تو معاشرہ میں کس قدر خوشگوار ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔ [٦٧] مسافروں سے بہتر سلوک :۔ مسافروں سے بہتر سلوک کے لیے مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں جا رہے تھے۔ اثنائے سفر میں آپ نے ہمیں فرمایا ’’جس کے پاس فاضل سواری ہے وہ اسے دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد کھانا ہو وہ اسے دے دے جس کے پاس کھانا نہیں۔ غرضیکہ آپ نے مال کی ایک ایک قسم کا جدا جدا ذکر کیا۔ حتیٰ کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ اپنے زائد مال میں ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب اللقطۃ، باب استحباب المواسات بفضول المال ) ٢۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو جو سفر پر روانہ ہو رہا تھا، کہا کہ میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں ایسے ہی رخصت کروں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں رخصت کیا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے کہا " اَسْتَوْدِعُ اللہَ دِیْنَکَ وَاَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ " (میں تمہارا دین، تمہاری امانت اور تمہارے آخری اعمال اللہ کے سپرد کرتا ہوں) (ترمذی، ابو اب الدعوات، باب مایقول اذا ودع انسانا) ٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تین آدمی ایسے ہیں جن کی طرف اللہ قیامت کے دن دیکھے گا بھی نہیں اور نہ انہیں پاک کرے گا اور انہیں دردناک عذاب ہوگا۔ ایک وہ جس کے پاس راستہ میں فاضل پانی ہو اور وہ مسافر کو بھی پانی نہ دے۔‘‘ (بخاری، کتاب المساقات۔ باب اثم من منع ابن السبیل من المائ) ٤۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ آپ ہمیں روانہ کرتے ہیں پھر ہم (راستے میں) ایسے لوگوں کے پاس اترتے ہیں جو ہماری مہمانی تک نہیں کرتے تو آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر وہ لوگ دستور کے مطابق تمہاری مہمانی کریں تو فبہا اور اگر نہ کریں تو دستور کے مطابق مہمانی کا حق ان سے وصول کرلو۔ ‘‘ (بخاری۔ کتاب الادب باب اکرام الضیف و خدمتہ ایاہ بنفسہ۔۔ الخ) مندرجہ بالا احادیث سے جو نتائج اخذ ہوتے ہیں وہ یہ ہیں : ١۔ ہم سفر لوگوں کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا ضروری ہے۔ اگر ایک مسافر کے پاس کھانے پینے کی یا ضرورت کی کوئی بھی چیز اپنی ضرورت سے زائد ہے تو اسے اپنے ایسے مسافر بھائی کو وہ چیز دینا ضروری ہے جس کے پاس وہ چیز نہ ہو اور پانی کا بالخصوص اس لیے ذکر آیا کہ یہ زندگی کی نہایت اہم بنیادی ضرورت ہے۔ لہٰذا اپنی ضرورت سے زائد پانی نہ دینے کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جس فعل کے متعلق قرآن یا حدیث میں یہ مذکور ہو کہ اللہ قیامت کے دن اس کی طرف دیکھے گا بھی نہیں، یا پاک نہیں کرے گا تو ایسا فعل گناہ کبیرہ ہوتا ہے۔ ٢۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں عرب بھر میں پانی کی بھی قلت تھی اور بستیوں اور شہروں کی بھی۔ لہٰذا اس دور میں بستی والوں کا مسافروں کی مہمانی سے انکار دراصل انہیں مار دینے کے مترادف ہوتا تھا لہٰذا بصورت انکار ان سے حق وصول کرلینے کی اجازت دی گئی لیکن آج کل اور بالخصوص پاکستان میں ایسی صورت نہیں ہے پانی عام ہے۔ بستیاں قریب قریب ہیں اور کھانے پینے کی دکانیں اور ہوٹل بکثرت موجود ہیں۔ لہٰذا ان حالات میں کسی ناجائز طریقہ سے مہمانی وصول کرنے کا حق نہیں اور اب یہ صرف اس صورت میں جائز ہے جب مسافر کے پاس زاد راہ ختم ہوجائے اور کوئی شخص اس کو کھانا کھلانے یا مہمانی کرنے پر تیار نہ ہو ایسے مسافر کو صدقہ حتیٰ کہ زکوٰۃ بھی دی جا سکتی ہے خواہ وہ اپنی گھر میں کتنا ہی امیر ہو۔ [٦٨] لونڈی غلاموں سے بہتر سلوک :۔ لونڈی غلاموں سے بہتر سلوک کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور فلاں (سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ۔۔ آزاد شدہ حبشی غلام) کے درمیان سخت کلامی ہوئی تو میں نے اسے ماں کی عار دلائی (یہ کہا تھا اے کالی ماں کے بیٹے!) تو انہوں نے ( بلال رضی اللہ عنہ نے یہ بات آپ کو بتا دی۔ آپ نے مجھے فرمایا 'ابو ذرص! تم ایسے انسان ہو جس میں جاہلیت (ابھی باقی) ہے۔ میں نے کہا ’’اتنی بڑی عمر ہوجانے کے باوجود بھی باقی ہے؟‘‘ فرمایا ’’ہاں! یہ تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کردیا ہے۔ تو جس شخص کا بھائی اللہ اس کے تحت کر دے تو اسے چاہیے کہ اسے وہی کچھ کھلائے جو خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے۔ ایسا کام کرنے کو نہ کہے جو اس پر بھاری ہو۔ اور اگر ایسا کام کرنے کو کہے تو خود اس کی مدد بھی کرے۔‘‘ (بخاری کتاب الادب۔ باب ماینھی من السباب واللعن۔ نیز کتاب الایمان۔ باب المعاصی من امر الجاھلیۃ) ٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص اپنے غلام پر تہمت لگائے درآنحالیکہ وہ اس چیز سے بری ہو جو اس نے تہمت لگائی ہے تو قیامت کے دن اسے کوڑے لگائے جائیں گے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب المحاربین، باب قذف العبید) ٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب تم میں سے کسی کے پاس اس کا خادم کھانا لائے تو اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھلائے اور اگر کھانا کم ہو تو بھی اسے لقمہ دو لقمے دے دے۔ کیونکہ اس نے پکانے کی گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب العتق، باب اذا اتاہ خادمۃ بطعامہ) ٤۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر کسی کے پاس لونڈی ہو اور وہ اس کو اچھی طرح تعلیم دے اور اچھی طرح ادب سکھائے۔ پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرلے تو اسے دوہرا اجر ملے گا۔‘‘ (بخاری، کتاب النکاح، باب اتخاذ السراری۔ نیز کتاب العلم۔ باب تعلیم الرجل امتہ واھلہ) ٥۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کوئی شخص (اپنے لونڈی غلام کو) عبد (بندہ) اور امتہ (بندی) نہ کہے کیونکہ تم سب اللہ کے بندے ہو اور سب عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں بلکہ یوں کہو۔ میرا خادم اور میری خادمہ اور میرا بچہ اور میری بچی۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الالفاظ من الادب، باب حکم اطلاق لفظۃ العبد والامۃ و المولی والسید) ٦۔ غلاموں کا وقار بلند کرنے کے اقدامات :۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا۔ اتنے میں پیچھے سے آواز آئی 'ابو مسعود! جان لو۔ ' میں غصہ کی وجہ سے آواز نہ پہچان سکا۔ جب کہنے والا قریب آیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور یوں کہہ رہے تھے ’’ابو مسعود! جان لو! ابو مسعود! جان لو!‘‘ آپ کی ہیبت کی وجہ سے کوڑا میرے ہاتھ سے گرگیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ابو مسعود! خوب سمجھ لو کہ جتنی قدرت تمہیں اس غلام پر ہے اس سے زیادہ قدرت اللہ کو تم پر ہے۔‘‘ چنانچہ میں نے کہا کہ آج کے بعد کبھی غلام کو نہ ماروں گا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ میں نے کہا :’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ غلام اللہ کی خاطر آزاد ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اگر تم ایسا نہ کرتے تو جہنم کی آگ تجھے جھلس دیتی۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الایمان، باب صحبۃ الممالیک) ٧۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص اپنے غلام کو بغیر کسی قصور کے حد لگائے یا طمانچہ مارے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔‘‘ (مسلم۔ حوالہ ایضاً) ٨۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا” میں اپنے غلام کو کتنی بار معاف کروں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اس نے اپنی بات دہرائی تو بھی آپ خاموش رہے۔ پھر تیسری بار جب یہی بات پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’خادم کو ہر دن میں ستر دفعہ معاف کرو‘‘ (ابو داؤد، کتاب الادب باب فی حق المملوک ) ٩۔ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کے دروازہ کے پاس ایک حاملہ عورت لائی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’غالباً وہ شخص (جس کے حصہ میں یہ آئی ہے) اس سے جماع کرنا چاہتا تھا ؟‘‘ صحابہ نے کہا جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں چاہتا ہوں کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر میں اس کے ساتھ داخل ہو بھلا وہ اس بچہ کا کیسے وارث ہوسکتا ہے حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں اور وہ اس بچہ کو کیسے غلام بنا سکتا ہے۔ حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں۔‘‘ (مسلم، کتاب النکاح۔ باب تحریم وطی الحامل المسبیۃ) ١٠۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص کسی آزاد آدمی کو غلام بنائے، قیامت کے دن میں خود اس کے خلاف استغاثہ کروں گا۔‘‘ (بخاری بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب البیوع۔ باب الاجارۃ۔ فصل اول) جنگ بدر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگی قیدیوں کو مختلف صحابہ کے گھروں میں بانٹ دیا اور ساتھ ہی یہ تاکید فرمائی کہ استَوْصُوْابِالْاُسَارٰی خَیْرًا۔ یعنی ان قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ انہی قیدیوں میں سے ایک قیدی ابو عزیز کا بیان ہے کہ مجھے جس انصاری کے گھر میں رکھا گیا تھا وہ خود تو کھجوریں کھاتے تھے۔ لیکن مجھے صبح و شام روٹی کھلاتے تھے۔ ١١۔ اسلام میں داخل ہونے کے لئے شہادتیں :۔ معاویہ بن حکم اسلمی سے روایت ہے کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ (ایک مقام کا نام) کی طرف بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک دن میں وہاں آ نکلا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا ایک بکری لیے جا رہا ہے۔ میں بھی آخر آدمی ہوں مجھ کو بھی ایسے غصہ آتا ہے جیسے دوسروں کو آتا ہے۔ میں نے اس لونڈی کو ایک طمانچہ مارا۔ پھر میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس فعل کو بہت بڑا جرم سمجھا۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں اس لونڈی کو آزاد نہ کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اسے میرے پاس لاؤ۔ میں اسے آپ کے پاس لے کر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا۔ آسمان پر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میں کون ہوں؟ وہ کہنے لگی۔ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا کہ اسے آزاد کردے۔ یہ مومنہ ہے۔ (مسلم کتاب المساجد۔ باب تحریم الکلام فی الصلٰوۃ۔۔) اسلام سے پہلے غلاموں کی جس قدر بدتر حالت تھی وہ سب کو معلوم ہے۔ اسلام نے غلاموں کو اتنے حقوق عطا کیے کہ وہ معاشرہ کا معزز فرد بن گئے۔ اسلام نے ان سے حسن سلوک کی جو تاکید کی تھی یہ اسی کا اثر تھا کہ نام کے علاوہ غلام اور آزاد میں کچھ فرق نہ رہ گیا۔ غلاموں کا فقیہ اور محدث ہونا تاریخ سے ثابت ہے اور یہ بہت بڑا اعزاز ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ بن حارثہ کو اپنا متبنیٰ بنایا۔ پھر اپنی پھوپھی زاد بہن سے ان کا نکاح کردیا۔ زید رضی اللہ عنہ بن حارثہ اور ان کے بیٹے اسامہ رضی اللہ عنہ بن زید رضی اللہ عنہ دونوں کو کئی بار سپہ سالارلشکر بنایا۔ جن کے تحت صحابہ کبار جنگ میں شریک ہوئے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو جو کالے رنگ اور موٹے ہونٹوں والے حبشی غلام تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا کہ آج اگر وہ زندہ ہوتے تو میں انہیں خلیفہ نامزد کردیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ’’اگر تم پر نکٹا غلام بھی امیر بنا دیا جائے تو جب تک وہ تمہیں اللہ کے احکام کے مطابق چلاتا رہے اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔‘‘ (مسلم، کتاب الامارۃ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ۔۔) چنانچہ تاریخ میں ایسے بے شمار مسلمان بادشاہ گزرے ہیں جو غلام تھے۔ محمود غزنوی مشہور فاتح ہند بھی آزاد کردہ غلام تھا۔ ہندوستان اور مصر میں غلاموں کے خاندان نے صدیوں تک حکومت کی۔ مغلوں کی ہند میں آمد سے بہت پہلے خاندان غلاماں کے کئی فرمانرواؤں نے ہند پر حکومت کی۔ اب وہ کونسا اعزاز باقی رہ جاتا ہے جو آزاد کے ساتھ مخصوص ہو اور غلام اس سے محروم ہو۔ اور بعض لوگوں نے ﴿اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ﴾میں ان جانوروں اور مویشیوں کو بھی شامل کیا ہے جو انسان اپنی ضرورت کے تحت اپنے گھر میں پالتا ہے مثلاً سواری کے لیے گھوڑا یا اونٹ۔ دودھ حاصل کرنے کے لیے بھیڑ بکری یا گائے بھینس اور انڈوں اور گوشت وغیرہ کے لیے مرغیاں پالنا وغیرہ۔ کہ یہ جانور بھی اپنے مالک کے حسن سلوک کے مستحق ہیں اور یہ توجیہ اس لحاظ سے بہت خوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانوروں پر رحم کرنے اور ان سے بہتر سلوک کرنے کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ [٦٩] یعنی وہ لوگ جو اپنی انا میں مست و مغرور رہتے ہیں اور شیخی بگھارتے ہیں اور اللہ کے احکام کی پروا نہیں کرتے۔ النسآء
37 [٧٠] ایسے بڑ مارنے والوں کی ایک صفت یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کر رکھا ہے، اسے چھپاتے ہیں۔ اس عطیہ الہی سے مراد علم بھی ہوسکتا ہے اور دولت بھی۔ یہ آیت اگرچہ یہود کے حق میں نازل ہوئی ہے جو ہر اس آیت کو چھپانے کی کوشش کرتے تھے جو ان کی اپنی وضع کردہ شریعت یا ان کے مذہب کے خلاف ہوتی تھی۔ اور سودخوری اور حرام خوری کی وجہ سے بخل بھی ان کی رگ رگ میں سرایت کرچکا تھا۔ تاہم اس آیت کا حکم عام ہے اور مسلمانوں پر بھی لاگو ہے۔ مسلمانوں میں سے ہر فرقہ ہر اس آیت یا حدیث کو اپنے پیرو کاروں سے چھپانے کی کوشش کرتا ہے جو اس کے مسلک و مذہب کے خلاف جاتی ہو۔ الاماشاء اللہ۔ بخل کی مذمت :۔ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں اللہ نے بہت کچھ مال و دولت دے رکھا ہے۔ لیکن وہ اپنی حیثیت کے مطابق نہ اپنی ذات پر خرچ کرتے ہیں نہ اہل و عیال پر نہ اللہ کی راہ میں اس کے حکم کے مطابق خرچ کرتے ہیں اور نہ ہی اقرباء کی امداد کرتے ہیں۔ اور اپنی حیثیت سے گر کرخستہ حالی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ انتہا درجہ کا بخل دراصل اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ جب کسی بندے کو نعمت عطا کرتا ہے تو وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس نعمت کا اثر بندے پر ظاہر ہو۔ یعنی اس کی طرز بود و باش، لباس، خوراک اور صدقہ و خیرات غرض ہر چیز سے اللہ کی دی ہوئی نعمت کا اظہار ہوتا رہے اسی لیے ان ہر دو قسم کے بخل کو ناشکری یا کفر سے تعبیر کیا گیا اور بتایا گیا ہے کہ انہیں ذلت کا عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور مال و دولت کو دوسروں سے چھپانے کا مرض اس قدر عام ہے کہ کوئی شخص دوسرے کو نہ اپنے پورے ذرائع آمدنی بتاتا ہے اور نہ آمدنی۔ اور یہ بات پردہ راز میں رہتی ہے کہ کسی کے پاس کیا کچھ موجود ہے۔ موجودہ دور میں بنک بھی اس معاملہ اخفاء میں اپنے کھاتہ داروں کی پوری پوری امداد کرتے ہیں۔ ان کے پاس لوگوں کی جو رقوم جمع ہوتی ہیں ان کو صیغہ راز میں رکھنا بنکوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص کسی دوسرے کا بنک بیلنس معلوم نہیں کرسکتا اور نہ ہی بنک والے اسے بتاتے ہیں۔ الا یہ کہ کھاتہ دار خودکسی کو تحریری طور پر بنک بیلنس معلوم کرنے کا اختیار دے دے۔ النسآء
38 [٧١] ریاکاری کی وجہ :۔ اس آیت کا تعلق سابقہ مضمون سے بھی ہوسکتا ہے۔ تب اس کا معنیٰ یہ ہوگا کہ ان متکبر اور بڑ مارنے والوں کی دوسری صفت یہ ہے کہ اگر وہ خرچ کرتے بھی ہیں تو محض لوگوں کو دکھاوے کے لیے کرتے ہیں اللہ کی رضامندی کے لیے کرنا پڑے تو بخل کرتے ہیں اور اسے الگ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلی صورت میں اس کا خطاب سب کے لیے عام ہے۔ گویا یہ دو الگ الگ گناہ ہوئے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہو تو بخل سے کام لینا اور کھلے دل سے صرف اس وقت خرچ کرنا جبکہ نمود و نمائش ہی مقصود ہو اور ان دونوں گناہوں کا سبب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا یا تو اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہی نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو بہت ہی کمزور ہوتا ہے۔ النسآء
39 [٧٢] یعنی اللہ اور آخرت پر ایمان لاتے ہوئے اللہ ہی کے دیئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے تو ان کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی تھا کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی احسان شناسی بھی ہے اور آخرت میں سینکڑوں گنا اجر بھی۔ نقصان تو اس صورت میں ہے کہ مال بھی ہاتھ سے نکل گیا اور اس کا کچھ ثواب ملنا تو درکنار الٹا عذاب ہوگا اور ریاکار کا یہی انجام ہوگا۔ آخرت کے منکر خسارہ میں ہیں :۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہیں کسی کافر نے کہا کہ جس آخرت پر تم ایمان لاتے ہو وہ محض ایک مفروضہ ہے جسے تم یقینی طور پر ثابت نہیں کرسکتے۔ پھر اس مفروضہ کی بنا پر مختلف قسم کی پابندیاں اپنے آپ پر عائد کرتے ہو مال خرچ کرتے ہو پھر ہر طرح کے لذائذ دنیا سے محروم رہتے ہو۔ یہ تو صریح نقصان کی بات ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے اسے جواب دیا کہ ہم جتنا وقت اللہ کی عبادت میں رہتے ہیں یہ تو یقینی بات ہے کہ کم از کم اتنی دیر ہم بری باتوں اور برے کاموں سے بچے رہتے ہیں۔ اور اگر مال خرچ کرتے ہیں تو اس کا بھی کسی ضرورت مند کو ضرور فائدہ پہنچتا ہے۔ پھر ہمیں ان کاموں سے خوشی بھی حاصل ہوتی ہے۔ رہے لذائذ دنیا اور ان سے مزے اڑانے کی بات، تو یہ چند دنوں کی بات ہے۔ موت کے بعد ہم اور تم برابر ہوئے۔ مرنے کے بعد اگر ہمارا نظریہ درست ثابت ہوا تو جاودانی راحتوں اور نعمتوں کے مستحق ہوں گے اور تمہیں کئی طرح کے مصائب اور جہنم کا عذاب ہوگا اور یہ دائمی عذاب ہوگا۔ اور اگر بالفرض تمہارا نظریہ درست نکلا تو بتاؤ ہمارا کیا بگڑے گا ؟ لہٰذا اچھی طرح سوچ لو کہ خطرے میں ہم لوگ ہیں یا تم لوگ؟ یہ سن کر اسے ہوش آ گیا اور وہ ایمان لے آیا۔ النسآء
40 النسآء
41 [٧] سابقہ امتوں پر آپ کی گواہی :۔ اس آیت میں میدان حشر کی کیفیت اور اللہ تعالیٰ کی عدالت کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس وقت ہر امت میں سے ایک گواہ لایا جائے گا جو اس امت کا نبی ہوگا اور وہ یہ گواہی دے گا کہ یا اللہ ! میں نے تیرا پیغام اور تیرے احکام امت کو من و عن پہنچا دیئے تھے اور فلاں فلاں لوگوں نے تو انہیں تسلیم کرلیا تھا اور فلاں فلاں نے نافرمانی اور کفر کیا تھا لیکن اس امت کے نافرمان لوگ صاف مکر جائیں گے اور کہہ دیں گے کہ ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا آیا ہی نہ تھا۔ بالفاظ دیگر یہ نافرمان لوگ اللہ تعالیٰ کے دربار میں بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آئیں گے اور اپنے نبی کی شہادت کو جھٹلا کر اسے مشکوک بنا دینے کی کوشش کریں گے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لایا جائے گا تو آپ ان انبیاء کی شہادت کی تصدیق کریں گے۔ اس وقت بھی نافرمان لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئیں گے اور کہیں گے کہ یہ تو اس وقت موجود ہی نہ تھے یہ کیسے انبیاء کی تصدیق کرسکتے ہیں؟ اس وقت آپ فرمائیں گے کہ میں تو منزل من اللہ وحی کی رو سے دنیا میں بھی سابقہ انبیاء کی تصدیق کرتا رہا پھر آج کیسے تصدیق نہ کروں گا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ ’’مجھے کچھ قرآن سناؤ‘‘ میں نے عرض کی ’’بھلا میں آپ کو کیا سناؤں؟ آپ ہی پر تو قرآن اترا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ٹھیک ہے مگر مجھے دوسرے سے سننا اچھا لگتا ہے۔‘‘ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ’’پھر میں نے سورۃ نساء پڑھنا شروع کی اور جب اس آیت پر پہنچا ﴿فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ....﴾ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’بس کرو میں نے دیکھا تو اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔‘‘ (بخاری، کتاب التفسیر) اس آیت سے آپ کی تمام انبیاء پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ سابقہ تمام انبیاء پر شہادت دینے کا شرف آپ کو حاصل ہوگا۔ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب سورۃ نساء پڑھتے پڑھتے اس آیت پر پہنچے، تو فرمایا کہ تشکر و امتنان اور مسرت و انبساط کی وجہ سے آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے یعنی ایک طرف تو اللہ کی عطا کردہ فضیلت پر انتہائی خوشی کی وجہ سے، دوسرے اللہ کی اس عطا پر انتہائی شکر گزاری کے طور پر آپ کے آنسو بہہ رہے تھے۔ النسآء
42 [٧٤] پھر جب اللہ تعالیٰ کے روبرو ایسے نافرمان لوگوں پر شہادتیں مکمل ہوجائیں گی اور شہادتوں کی بنا پر ان کا جرم ثابت ہوجائے گا تو اس وقت یہ آرزو کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں سما جائیں تاکہ اپنی نافرمانیوں کے برے نتائج اور عذاب سے نجات حاصل کرسکیں۔ لیکن یہ کسی صورت ممکن نہ ہوگا۔ النسآء
43 [٧٥] حرمت شراب کے احکام میں تدریج :۔ یہ آیت حرمت شراب کے تدریجی احکام کی دوسری کڑی ہے۔ اس سلسلہ میں پہلی آیت جو نازل ہوئی وہ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢١٩ ہے جس میں فقط یہ بتایا گیا کہ شراب اور جوئے میں گو کچھ فائدے بھی ہیں تاہم ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں۔ چند محتاط صحابہ کرام نے اسی وقت سے شراب چھوڑ دی تھی۔ پھر اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ جس کے شان نزول کے متعلق درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بن عوف نے ہمارے لیے کھانا بنایا، دعوت دی اور ہمیں شراب پلائی۔ شراب نے ہمیں مدہوش کردیا، اتنے میں نماز کا وقت آ گیا۔ انہوں نے مجھے امام بنایا۔ میں نے پڑھا﴿ قُلْ یَایُّھَا الْکٰفِرُوْنَ لاَ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ وَنَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْن﴾ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) پھر اس کے بعد سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ٩٠ تا ٩١ کی رو سے شراب کو ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیا گیا۔ اس میں لفظ خمر (شراب) کے بجائے سکر (نشہ) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس سے از خود یہ معلوم ہوگیا کہ شراب کی طرح ہر نشہ آور چیز حرام ہوتی ہے جیسا کہ احادیث میں اس کی تصریح بھی موجود ہے۔ دوسرے یہ معلوم ہوا کہ چونکہ نشہ کی حالت بھی نیند کی غشی کی طرح ایک طرح کی غشی ہی ہوتی ہے لہٰذا انسان کو یہ معلوم رہنا مشکل ہے کہ آیا اس کا وضو بھی بحال ہے یا ٹوٹ چکا ہے۔ غالباً اسی نسبت سے اس آیت میں آگے طہارت کے احکام بیان ہو رہے ہیں۔ [٧٦] تیمم اور غسل جنابت :۔ نماز کے لیے طہارت فرض ہے لہٰذا عام حالت میں تو وضو کرنے سے یہ طہارت حاصل ہوجاتی ہے لیکن جنبی آدمی کے لیے نماز سے پہلے غسل فرض ہے۔ خواہ یہ جنابت احتلام کی وجہ سے ہو یا صحبت کی وجہ سے۔ اس آیت میں بتایا یہ جا رہا ہے کہ اگر کسی کو وضو کے لیے یا جنبی کو غسل کے لیے پانی میسر نہ آئے یا کوئی ایسا بیمار ہو جسے پانی کے استعمال سے نقصان پہنچتا ہو تو ان صورتوں میں وہ تیمم کرسکتا ہے۔ اس آیت کے شان نزول، طریق تیمم اور طریق غسل سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ میں (غزوہ بنی مصطلق میں) اپنی بہن اسماء کا ہار عاریتاً لے گئی ہار کہیں گرگیا ۔ آپ نے کئی آدمیوں کو ہار ڈھونڈنے کے لیے بھیجا۔ نماز کا وقت آ گیا۔ وہاں پانی نہ تھا اور لوگ باوضو نہ تھے اس وقت اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ٢۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ وضو کے لیے پانی منگایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نماز کے لیے اذان کہی گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو ایک شخص کو علیحدہ بیٹھے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پوچھا ’’اے فلاں! تجھے کس چیز نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کرنے سے روکے رکھا ؟‘‘ وہ کہنے لگا ’’میں جنبی ہوگیا ہوں اور پانی موجود نہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ’’تمہیں مٹی سے تیمم کرلینا چاہیے تھا وہ تجھے کافی ہوجاتا۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ ’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مٹی سے تیمم کرنے کا حکم دیا۔‘‘ (بخاری، کتاب التیمم، باب الصعید الطیب وضوء المسلم۔ نیز کتاب بدء الخلق۔ باب علامات النبوۃ فی الاسلام) نیز دیکھئے سورۃ مائدہ (٥) کی آیت نمبر ٦ کا حاشیہ۔ ٣۔ تیمم کا طریقہ :۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی مہم پر بھیجا (اس دوران) میں جنبی ہوگیا، مجھے پانی نہ ملا تو میں نے مٹی میں اس طرح لوٹ لگائی جس طرح چوپایہ لوٹ لگاتا ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تمہیں اس طرح کرنا کافی تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ایک بار مٹی پر مارا پھر انہیں اپنے منہ کے قریب کیا اور ان پر پھونک ماری (زائد مٹی اڑا دی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں ہتھیلی سے داہنے ہاتھ کی پشت پر اور داہنی ہتھیلی سے بائیں ہاتھ کی پشت پر مسح کیا۔ پھر دونوں ہتھیلیوں سے اپنے چہرے کا مسح کیا۔‘‘ (بخاری، کتاب التیمم۔ باب التیمم ضربہ۔ باب التیمم للوجہ والکفین۔۔ مسلم۔ فی باب التیمم) ٤۔غسل کا طریقہ:۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کرنا چاہتے تو (برتن میں ہاتھ ڈالنے سے) پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے پھر انگلیاں پانی میں ڈال کر بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے۔ پھر دونوں ہاتھوں میں تین چلو لے کر اپنے سر پر ڈالتے پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہاتے۔ (بخاری، کتاب الغسل۔ باب الوضو قبل الغسل) ٥۔ سعید بن عبدالرحمن بن ابزی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا ’’اگر مجھے جنابت لاحق ہوجائے اور پانی نہ ملے تو کیا کروں؟‘‘ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، کیا آپ کو یاد نہیں جب ہم دونوں ایک سفر میں جنبی ہوگئے تھے اور آپ نے نماز نہ پڑھی اور میں مٹی میں لوٹا اور نماز پڑھ لی۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تجھے اتنا ہی کافی تھا، پھر آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں اور ان کو پھونک دیا۔ پھر منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کیا۔‘‘ (بخاری کتاب التیمم، باب ھل ینفخ فی یدیہ) ٦۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما ایک ٹھنڈی رات میں جنبی ہوگئے تو تیمم کرلیا اور یہ آیت پڑھی : ﴿وَلاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا﴾ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ ملامت نہیں کی۔ (بخاری، کتاب التیمم باب اذا خاف الجنب علی نفسہ المرض والموت) اس آیت سے معلوم ہوا کہ تیمم کی مندرجہ ذیل چار صورتوں میں رخصت ہے : ١۔ انسان سفر میں ہو اور اسے پانی نہ مل رہا ہو۔ سفر کی قید محض اس لیے ہے کہ عموماً سفر میں پانی ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ورنہ اگر حضر میں بھی پانی نہ مل رہا ہو تو بھی تیمم کی رخصت ہے۔ ٢۔ وضو کرنے والا بیمار ہو تو وضو کرنے سے یا نہانے سے اسے اپنی جان کا یہ مرض بڑھنے کا خطرہ ہو۔ ٣۔ حدث اصغر یعنی پاخانہ، پیشاب اور ہوا یا مذی خارج ہونے پر وضو کرنا واجب ہے اگر وضو کے لیے پانی نہ ملے تو تیمم کی رخصت ہے۔ ٤۔ حدث اکبر یعنی احتلام یا جماع کے بعد غسل کرنا واجب ہے لیکن اگر پانی نہیں ملتا تو تیمم کی رخصت ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت میں 'الصلٰوۃ' سے مراد نماز کے علاوہ مسجد بھی لی ہے۔ اور 'عابری سبیل' کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ اگر جنبی شخص کو مسجد میں سے گزرنے کے بغیر کوئی راستہ ہی نہ ہو تو وہ مسجد سے گزر سکتا ہے۔ مگر نماز کے لیے یا کسی دوسرے کام کے لیے مسجد میں رک نہیں سکتا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص مسجد میں سویا ہوا تھا اور اسے احتلام ہوگیا تو بیدار ہونے پر وہ مسجد میں رکے نہیں بلکہ وہاں سے نکل جائے۔ واضح رہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سفر میں جنبی ہوجانے پر تیمم کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور یہ ان کی کچھ سیاسی مصلحت تھی کہ لوگ اس رعایت سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں ورنہ وہ اس سنت کا انکار نہیں کرتے تھے۔ جیسا کہ اوپر درج شدہ حدیث نمبر ٥ سے واضح ہے۔ تاہم بہت سے صحابہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اس مصلحت سے اتفاق نہیں کیا۔ اور حدیث نمبر ٦ سے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دین میں سختی کی بجائے نرمی ہے۔ سیدنا عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس سوائے شدید سردی کے اور کوئی عذر نہ تھا اور انہیں خطرہ تھا کہ اگر نہا لیا تو بیمار پڑجائیں گے۔ لہٰذا آپ نے جنبی ہونے پر نہانے کی بجائے تیمم کرلیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکیر نہیں فرمائی۔ دین میں تنگی نہیں :۔ اس سلسلہ میں وہ واقعہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے جسے ابو داؤد نے تیمم کے باب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر پر نکلے۔ اثنائے سفر ہمارے ایک ساتھی کو سر پر ایک پتھر لگا جس سے اس کا سر زخمی ہوگیا۔ اسی دوران اسے احتلام ہوگیا تو وہ اپنے ساتھیوں سے پوچھنے لگا کیا تمہارے خیال میں تیمم کی رخصت سے فائدہ اٹھا سکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا کہ تم کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہو جبکہ پانی موجود ہے۔ چنانچہ اس نے غسل کیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں آئے تو آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ انہیں غارت کرے ان لوگوں نے اسے مار ڈالا۔ جب انہیں یہ مسئلہ معلوم نہ تھا تو انہوں نے کیوں نہ پوچھ لیا ؟ جہالت کی درماندگی کا علاج تو پوچھ لینا ہی ہوتا ہے۔ اسے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا اور اس پر مسح کرلیتا اور باقی جسم کو دھو لیتا۔‘‘ اور وضو کے متعلق احادیث سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ٦ کے تحت درج کی جائیں گی۔ النسآء
44 [٧٧] کچھ حصہ اس لحاظ سے کہ علمائے یہود نے کتاب الٰہی کا ایک حصہ گم کردیا تھا اور جو باقی رہ گئی تھی، اس میں بھی تحریف و تاویل سے انہوں نے اسے کچھ کا کچھ بنا دیا تھا ان کی تمام تر دلچسپیاں اور قابلیتیں ظاہری الفاظ اور لفظی بحثوں اور فقہی موشگافیوں اور فلسفیانہ پیچیدگیوں تک محدود ہو کر رہ گئی تھیں۔ لیکن ان کے قلوب و اذہان منشائے الٰہی اور دینداری کی روح سے خالی تھے اور اپنی ایسی گمراہ کن باتوں میں مسلمانوں کو بھی الجھانا چاہتے تھے۔ النسآء
45 النسآء
46 [٧٧۔ الف] تورات عبرانی زبان میں نازل ہوئی تھی لیکن اصل تورات تو دو دفعہ گم ہوئی۔ پھر مختلف زبانوں میں اس کے تراجم پر انحصار کیا گیا۔ آج کل تورات اور انجیل کے مجموعہ کو بائیبل مقدس کا نام دیا گیا ہے۔ تورات کے حصہ کو عہد نامہ عتیق اور انجیل کے حصہ کو عہد نامہ جدید کہتے ہیں۔ ان میں تحریف کے علاوہ بہت سے الحاقی مضامین بھی شامل ہوچکے ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارت الہامی نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ درج ذیل عبارتوں سے معلوم ہوتا ہے : ١۔ ’’سو موسیٰ خداوند کا بندہ خداوند کے حکم کے موافق موآب کی سرزمین میں مر گیا۔ اسے اس نے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گاڑا۔ پر آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا‘‘ (کتاب استثناء باب ٣٤) اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب الٰہی کا حصہ نہیں بلکہ الحاقی مضمون ہے جو سیدنا موسیٰ کی وفات سے مدتوں بعد بائیبل میں شامل کردیا گیا۔ ٢۔ ’’پھر بنی اسرائیل نے کوچ کیا اور اپنا خیمہ عیدر کے ٹیلے کے اس پار ایستادہ کیا۔‘‘ (کتاب پیدائش باب ٣٥، آیت ٢١) یہ عبارت اس لیے الحاقی ہے کہ عیدر اس منارہ کا نام ہے جو شہر یروشلم کے دروازہ پر تھا اور یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے کئی سو سال بعد بنایا گیا تھا۔ ٣۔ ’’خداوند نے بنی اسرائیل کی آواز سنی اور کنعانیوں کو گرفتار کروا دیا اور انہوں نے انہیں اور ان کی بستیوں کو حرام کردیا اور اس نے اس مکان کا نام حرمہ رکھا۔‘‘ (کتاب گنتی باب ٢١، آیت ٣) یہ عبارت بھی الہامی نہیں کیونکہ یہ واقعہ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام تو درکنار سیدنا یوشع علیہ السلام کے بھی بعد پیش آیا۔ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام تو اپنی زندگی میں کنعان تک پہنچے بھی نہیں تھے۔ بستیوں کو حرام کیسے قرار دے دیا؟ اس کے جواب میں اکثر اہل کتاب کے علماء یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ جملے الحاقی ہیں اور ان کو سیدنا عزیر علیہ السلام نے ملا دیا ہے لیکن اس کی سیدنا عزیر علیہ السلام نے کوئی تصریح نہیں کی کہ یہ میرا کلام ہے۔ علاوہ ازیں کلام کے تسلسل سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام متصل ہے۔ یہ مقامات تو ایسے ہیں جو تاریخی لحاظ سے بھی غلط ثابت ہوتے ہیں لیکن بائیبل کی اکثر عبارتیں ایسی ہیں جو اللہ کا کلام نہیں بلکہ کسی دوسرے کا کلام معلوم ہوتی ہیں۔ مثلاً : ٤۔ کتاب خروج باب ٢ کی آیت نمبر ١١ یوں ہے۔ ’’ان روزوں میں یوں ہوا کہ جب موسیٰ بڑا ہوا‘‘ غور فرمائیے یہ اللہ کا کلام معلوم ہوتا ہے یا کسی سوانح نگار کا ؟ اسی طرح اسی کتاب اور اسی باب کی آیت نمبر ١٥ یوں ہے۔ ’’جب فرعون نے یہ سنا تو چاہا کہ موسیٰ کو قتل کر دے پر موسیٰ فرعون کے حضور سے بھاگا۔‘‘ غرضیکہ ان کتابوں کی بے شمار آیات ایسی ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ کا کلام نہیں ہو سکتیں، اور نہ وہ انبیاء کا کلام ہیں بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ بہت مدت بعد کسی سوانح نگار نے یہ حالات قلمبند کیے۔ پھر انہیں بھی کتاب مقدس میں شامل کردیا گیا تھا۔ [٧٨] یہود کی شرارتیں : جو یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں آیا کرتے تھے ان کی تین طرح کی حرکتوں کا ان آیات میں ذکر ہوا ہے۔ ایک یہ کہ جب وہ کوئی حکم الٰہی سنتے تو بلند آواز سے تو 'سَمِعْنَا'کہتے مگر آہستہ آواز سے یا دل میں 'عَصَیْنَا'(یعنی ہم مانیں گے نہیں) کہہ دیتے۔ یا'اَطَعْنَا ' کے لفظ کو ہی زبان کو موڑ دے کر یوں ادا کرتے کہ وہ 'اَطَعْنَا ' کی بجائے' عَصَیْنَا ' ہی سمجھ میں آتا۔ (٢) 'اِسْمَعْ ' (ہماری بات سنیے) یعنی جب کوئی بات ان کی سمجھ میں نہ آتی اور کچھ پوچھنا درکار ہوتا تو 'اِسْمَعْ ' کہتے اور ساتھ ہی'غَیْرَ مُسْمَعٍ ' بھی دل میں کہہ دیتے (یعنی تم سن ہی نہ سکو یا بہرے ہوجاؤ) (٣) اور کبھی 'اِسْمَعْ' کی بجائے 'رَاعِنَا ' کہتے اور زبان کو موڑ دے کر 'رَاعِیْنَا ' (ہمارے چرواہے) کہہ دیتے۔ پھر آپس میں یہ بھی کہا کرتے کہ اگر یہ فی الواقع نبی ہوتا تو اسے ہماری ان باتوں پر اطلاع ہوجانا یقینی تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی ایسی شرارتوں اور خباثتوں سے مطلع کردیا اور ساتھ ہی یہ بتا دیا کہ جو لوگ اپنی ضلالت میں اس درجہ پختہ ہوچکے اور ہٹ دھرم بن چکے ہیں ان سے ایمان لانے کی توقع عبث ہے۔ الا ماشاء اللہ النسآء
47 [٧٩] یعنی تمہارے جرائم اتنے شدید ہوچکے ہیں کہ تمہیں وہی سزا دی جانی چاہیے جو اصحاب سبت کو دی گئی تھی۔ یا تو تمہاری شکلیں یوں مسخ کردی جائیں کہ تمہارے چہرے پشتوں کی طرف موڑ دیئے جائیں یا پھر تمہیں بھی بندر بنا دیا جائے۔ لہٰذا ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ کسی ایسی ذلت کے مسلط ہونے سے پہلے ہی ایمان لے آئیں۔ لفظی اعتبار سے تو ﴿فَنَرُدَّھَا عَلٰٓی اَدْبَارِھَآ ﴾کا ظاہری مفہوم وہی ہے جو مذکور ہوا۔ تاہم یہ الفاظ محاورتاً بھی استعمال ہوتے ہیں اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا کہ جو اقبال اور ترقی ہم نے تمہیں دے رکھی تھی اسے الٹ کر تمہیں قعر مذلت میں دھکیل دیں گے اور جس غلامی اور اسیری کے ایام تم پہلے دیکھ چکے ہو اسی کی طرف لوٹا دیں گے اور عرب سے نکال کر پھر سے تمہیں بے سرو سامانی اور ذلت کی حالت میں ملک شام کی طرف لوٹا دیں گے گویا یہ ایک پیشین گوئی تھی جو دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر عہد فاروقی میں حرف بحرف پوری ہوگئی۔ جب یہ لوگ مدینہ سے جلاوطن کیے گئے تھے تو اپنے چولہے چکی تک اپنے سروں پر اٹھائے انہیں وہاں سے نکلنا پڑا۔ اس آیت میں دو طرح کے متبادل عذابوں کا ذکر ہے یعنی یا تو ہم تمہیں پہلی سی خستہ حالی اور غلامی و رسوائی کی حالت میں لوٹا دیں گے یا پھر ایسا عذاب بھیج دیں گے جیسا کہ داؤد علیہ السلام کے زمانہ میں اصحاب سبت پر آیا تھا اور انہیں بندر بنا دیا گیا تھا۔ چنانچہ ان دونوں میں سے پہلی صورت کا عذاب ہی ان سرکش یہود مدینہ کے مقدر ہوا۔ النسآء
48 [٨٠] شرک ناقابل معافی جرم :۔ یہاں شرک کا ذکر اس لیے آیا ہے کہ یہود و نصاریٰ دونوں ہی مشرک تھے۔ اگرچہ دعویٰ توحید کا کرتے تھے اور شرک ہی سب گناہوں سے بڑا گناہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر وعید سنا دی ہے کہ یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اب شرک سے متعلق چند احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یہ کہ تم اللہ کا شریک بناؤ۔ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب المحاربین۔ باب اثم الزناۃ۔۔، مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب بیان کون الشرک اقبح الذنوب ) ٢۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں اپنے حصہ داروں کی نسبت اپنا حصہ لینے سے بے نیاز ہوں۔ جس شخص نے ایسا عمل کیا جس میں میرے ساتھ غیر کو شریک بنایا تو میں اس صاحب عمل اور اس عمل دونوں کو چھوڑ دیتا ہوں (فرمان خداوندی)‘‘ (بخاری، کتاب الزکوۃ، باب قول اللہ تعالیٰ (لَا یَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا..... مسلم، کتاب الزہد۔ باب تحریم الربٰو) ٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’جو شخص مجھ سے زمین بھر گناہوں کے ساتھ ملے جبکہ اس نے میرے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ بنایا ہو تو میں اتنی ہی بخشش کے ساتھ اسے ملوں گا۔‘‘ (مسلم، کتاب الذکر، باب فضل الذ کر والدعائ) ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سب سے کم عذاب والے دوزخی سے فرمائے گا۔ ’’اگر زمین بھر کی کل اشیاء تیری ملک ہوں تو کیا تو اس عذاب سے نجات کے بدلے میں دے دے گا ؟‘‘ وہ کہے گا 'ہاں'! اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’میں نے تو تجھ سے اس سے بہت آسان بات کا سوال کیا تھا اور تو اس وقت صلب آدم میں تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا مگر تو شرک کیے بغیر نہ رہا۔‘‘ (بخاری، کتاب بدء الخلق۔ باب (وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰۗیِٕکَۃِ۔۔۔ صفۃ القیامۃ، باب طلب الکافر الفدائ) اس آیت میں دراصل دو اعلان ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث سے بھی واضح ہے۔ اور دوسرا اعلان یہ ہے کہ شرک کے علاوہ باقی جتنے بھی گناہ ہیں وہ سب قابل معافی ہیں لہٰذا اے اہل کتاب! اگر اب بھی تم شرک سے باز آ جاؤ اور ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر اسلام قبول کرلو تو اللہ تمہارے سب گناہ معاف فرما دے گا۔ النسآء
49 [٨١] سستی نجات کے عقیدے :۔ ان لوگوں سے مراد بھی علمائے یہود و نصاریٰ ہیں کہ جب انہیں ان کی بری کرتوتوں کو چھوڑنے اور ایمان لانے کی دعوت دی جاتی تو وہ شیخی میں آ کر کہتے ﴿نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّاۗؤُہٗ﴾ (5 : 18)یعنی ہم تو اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ نیز چونکہ پیغمبروں کی اولاد ہیں لہٰذا پاکیزہ نفوس کے مالک ہیں۔ اور نصاریٰ نے کفارہ مسیح کا عقیدہ گھڑ لیا تھا جس کی رو سے سب عیسائیوں کے گناہ تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی گردن پر اٹھائے اور سولی چڑھ گئے اور اس طرح ان کی سب امت پاک ہوگئی۔ اور جنت کی مستحق ٹھہری۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے کچھ نہیں بنتا۔ پاکیزہ تو صرف وہ ہے جو اپنے آپ کو گناہوں سے پاک صاف رکھے اور اللہ اسے پاکیزہ قرار دے۔ یہود و نصاریٰ کی طرح مسلمانوں میں بھی یہ عقیدہ کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے آپ کو سید اور آل رسول کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری پشت ہی پاک ہے یعنی ہم پشت در پشت پاک لوگ ہیں اور یہی عقیدہ یہود کا تھا کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں۔ پھر کچھ لوگوں نے اس دنیا میں بہشتی دروازے بنا رکھے ہیں کہ جو شخص عرس کے دن اس دروازہ کے نیچے سے گزر جائے گا وہ مرنے کے بعد سیدھا بہشت میں چلا جائے گا۔ وغیرہ ذلک من الخرافات۔ النسآء
50 [٨٢] یعنی ان کا اپنے منہ سے ایسی باتیں کہنا بالکل جھوٹ ہے جو انہوں نے خود گھڑ کر اللہ کے ذمہ لگا دیا ہے ان کے دوسرے گناہوں کو تو چھوڑیے اکیلا یہ گناہ ہی ان کے فی الواقع گناہگار ہونے کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔ النسآء
51 [٨٣] جبت اور طاغوت جبت دراصل اوہام و خرافات کے لیے ایک جامع لفظ ہے جس میں جادو، ٹونے، ٹوٹکے، جنتر منتر سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات، فال گیری، گنڈے، نقش اور تعویذ وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔ اور طاغوت ہر وہ باطل قوت اور نظام ہے جس کی اطاعت کرنے پر لوگ مجبور ہوں اور اللہ کی اطاعت کے مقابلہ میں انہیں اس فرد، ادارہ یا حکومت کی اطاعت کرنے پر مجبور کیا جائے یا مجبور بنا دیا جائے اور لوگ انہیں احکام الٰہیہ کے علی الرغم تسلیم کرلیں۔ یہ گاؤں کے چودھری بھی ہو سکتے ہیں، پیر و مشائخ بھی، سوشلزم یا جمہوریت کی طرح باطل نظام بھی۔ اور فرعون و نمرود کی طرح سرکش بادشاہ بھی۔ یہود کا مشرکوں کو مسلمانوں سے بہتر قرار دیا :۔ یعنی ان یہود و نصاریٰ کی اکثریت ایسی ہے جو اوہام و خرافات اور ٹونے ٹوٹکے کے پیچھے پڑی ہوئی ہے اور اللہ پر ایمان لانے کی بجائے طاغوت کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ اپنی ایسی گمراہ حالت کے باوجود دوسرے کافروں (مشرکین وغیرہ) سے یہ کہتے ہیں کہ ان ایمان لانے والوں (مسلمانوں) سے تو تم ہی اچھے ہو اور ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔ یعنی خود تو سراسر ضلالت میں ڈوبے ہیں اور مشرکوں کو مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہونے کے سرٹیفکیٹ بھی دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ مشرکین مکہ نے جب بھی مدینہ پر چڑھائی کی تو یہود ہمیشہ قولاً اور عملاً ان کا ساتھ دیتے رہے۔ ایسے ہی کسی موقع پر مشرکوں نے یہودیوں سے پوچھا کہ سچ بتانا کہ یہ مسلمان بہتر ہیں یا ہم؟ اور ان سے پوچھا اس لیے گیا کہ عرب بھر میں یہود کی علمی ساکھ تھی۔ لیکن یہ بے ایمان محض مشرکوں کو خوش کرنے کی خاطر ایسا جواب دے دیتے۔ حالانکہ حقیقت انہیں پوری طرح معلوم تھی کہ شرک اللہ کے ہاں ناقابل معافی جرم ہے اور مسلمان موحد ہونے کی بنا پر مشرکوں سے ہزار درجہ بہتر ہیں۔ النسآء
52 [٨٣۔ الف] یعنی جب کوئی قوم علمی خیانت اور بددیانتی میں اس قدر نچلی سطح پر اتر آئے تو اس وقت ان پر اللہ کی لعنت برسنا شروع ہوجاتی ہے۔ یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف اور حیی بن اخطب قریش مکہ کے ہاں گئے تو اس لیے تھے کہ آؤ مل کر مسلمانوں کا کچومر نکالیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قریش مکہ تو ایک طرف، اگر سارا جہاں بھی یہ لوگ اپنے ساتھ ملا لیں تو جو لعنت اللہ کی طرف سے ان کے مقدر ہوچکی ہے اس سے وہ بچ نہیں سکتے نہ ہی انہیں کوئی ان پر مسلط ہونے والی ذلت سے بچا سکتا ہے۔ النسآء
53 [٨٤] یہود کا بخل اور تنگ نظری :۔ یہاں یہود کی ایک مشہور رذیل صفت بخل کا ذکر کیا گیا ہے کہ اگر ان کے پاس کسی ملک کی حکومت بھی ہو تو بھی وہ کسی کو پھوٹی کوڑی تک نہ دیں گے اور ان کے بخل کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ اتنے تنگ نظر ہیں کہ حق بات کا اعتراف کرنا بھی ان کے لیے محال ہے۔ کیونکہ یہ مشرکین مکہ کو توحید پرستوں سے برتر قرار دے رہے ہیں۔ النسآء
54 [٨٥] یہاں دوسرے لوگوں سے مراد مسلمان ہیں جنہیں دن بدن عروج حاصل ہو رہا تھا اور وہ خود دن بدن ذلیل سے ذلیل تر ہو رہے تھے۔ [٨٦] آل ابراہیم سے مراد سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک سب پیغمبر ہیں اور کتاب اللہ کا علم و حکمت انہی انبیاء کے پاس رہا اور بہت بڑی بادشاہی بھی۔ جیسے سیدنا یوسف، سیدنا داؤد، سیدنا سلیمان علیہم السلام وغیرہ سب بادشاہ بھی تھے اور نبی بھی۔ اور اس لفظ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ تمام اقوام عالم پر ہمیشہ آل ابراہیم ہی کا قائدانہ اقتدار رہا ہے۔ اگرچہ آپ کے زمانہ میں یہ اقتدار یہود سے مسلمانوں کی طرف منتقل ہوگیا۔ تاہم آل ابراہیم ہی میں رہا۔ آل اسحاق سے آل اسماعیل میں آ گیا یعنی جس طرح پہلے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکومت اور عزت اور دنیا کی قیادت عطا فرمائی تھی اب ویسی ہی شان و شوکت، عزت اور حکومت ان سے چھین کر مسلمانوں کو عطا کی جائے گی۔ النسآء
55 [٨٧] اس آیت کے بھی دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے جو انبیاء مبعوث ہوتے رہے ہیں ان سب پر بھی یہود ایمان نہیں لائے تھے، بہت سے انبیاء کا انکار کردیا اور بہت سے نبیوں کو قتل بھی کردیا۔ اس لحاظ سے اس آیت کے مخاطب صرف یہود ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر بنو اسحاق کی بجائے آل ابراہیم ہی سمجھا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والے تو بنو اسماعیل تھے اور انکار کرنے والے بنو اسحاق یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ بہرحال جو بھی انبیاء کی دعوت سے انکار کرتا رہا یا دوسروں کو روکتا رہا اس کو لازماً عذاب اخروی سے دو چار ہونا پڑے گا اور اپنے اپنے جرائم کے مطابق اسے سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ یہ لوگ دنیا میں حسد کی آگ میں جلتے رہے اور آخرت میں جہنم کی آگ میں جلتے رہیں گے۔ النسآء
56 [٨٨] کھالوں کی تبدیلی اس لیے کی جائے گی کہ ان کی تکلیف میں کمی کی بجائے کچھ اضافہ ہی ہوتا رہے کیونکہ جلی ہوئی کھال کو جلانے سے تکلیف نسبتاً کم ہوتی ہے۔ النسآء
57 النسآء
58 [٨٩] اس جملہ کے بہت سے مطلب ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ جس کسی نے تمہارے پاس کوئی امانت رکھی ہو اسی کو اس کی امانت ادا کر دو۔ زید کی امانت بکر کے حوالے نہ کرو۔ امانت کا دوسرا مطلب ذمہ دارانہ مناصب ہیں۔ یعنی حکومت کے ذمہ دارانہ مناصب انہی کے حوالے کرو جو ان مناصب کے اہل ہوں۔ نااہل، بے ایمان بددیانت اور راشی قسم کے لوگوں کے حوالے نہ کرو۔ اس لحاظ سے یہ مسلمانوں سے اجتماعی خطاب ہے کیونکہ بدکار لوگوں کی حکومت سے ساری قوم کی اخلاقی حالت تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ امانت کا تیسرا مطلب حقوق بھی ہیں یعنی تمہارے ذمہ جو حقوق ہیں خواہ اللہ کے ہوں یا بندوں کے، سب کے حقوق بجا لاؤ۔ کسی حکومت کے استحکام کی یہ پہلی بنیاد ہے اور انہی حقوق کی عدم ادائیگی سے فساد رونما ہوتا ہے۔ [٩٠] حکومت کے استحکام کی دوسری بنیاد عدل و انصاف ہے لہٰذا کسی قوم سے دشمنی تمہارے عدل و انصاف پر اثر انداز نہ ہونی چاہیے۔ جیسا کہ یہود نے صرف اسلام دشمنی کی بنا پر مشرکوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ تم دینی لحاظ سے مسلمانوں سے بہتر ہو۔ حالانکہ مسلمانوں کی پاکیزہ سیرت اور مشرکوں کے کردار میں فرق اتنا واضح تھا جو دشمنوں کو بھی نظر آ رہا تھا اور خود یہود بھی اس حقیقت حال سے پوری طرح آگاہ تھے۔ انصاف سے فیصلہ کرنا اور انصاف کی بات کہنا بہت بلند درجہ کا عمل ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے : ١۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’انصاف کرنے والے اللہ کے نزدیک ہوں گے، رحمٰن عزوجل کے دائیں نور کے منبروں میں ہوں گے اور رحمن کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ جو اپنے فیصلہ کے وقت اپنے اہل میں اور اپنی رعایا میں انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں۔‘‘ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضیلۃ الامیر العادل) ٢۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات قسم کے آدمیوں کو اپنے سایہ میں رکھے گا اور یہ ایسا دن ہوگا جب اور کسی جگہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ اس میں سرفہرست آپ نے امام عادل یعنی انصاف کرنے والے حاکم کا ذکر فرمایا۔ دوسرے وہ نوجوان جس نے جوانی میں خوشدلی سے اللہ کی عبادت کی۔ تیسرے وہ شخص جس کا دل مسجد میں ہی اٹکا رہتا ہے۔ چوتھے وہ دو شخص جنہوں نے اللہ کی خاطر دوستی کی، اسی کی خاطر اکٹھے رہے اور آخر موت نے جدا کیا۔ پانچویں وہ شخص جسے کسی مالدار اور حسن و جمال والی عورت نے بدکاری کے لیے بلایا تو اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ چھٹے وہ شخص جس نے اللہ کی راہ میں یوں چھپا کر صدقہ دیا کہ داہنے ہاتھ نے جو کچھ دیا، بائیں کو اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ ساتویں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہ نکلیں۔ (بخاری، کتاب الاذان، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلوۃ۔۔) النسآء
59 [٩١] اسلامی حکومت کے چار اصول :۔ اس آیت میں ایک اسلامی حکومت کی چار مستقل بنیادوں کا ذکر کیا گیا ہے : ١۔ اسلامی نظام میں اصل مطاع صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی کائنات کا خالق و مالک ہے لہٰذا ہر طرح کے قانونی اور سیاسی اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ آج کی زبان میں یوں کہیے کہ قانونی اور سیاسی مقتدر اعلیٰ صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ قانون سازی اور حلت و حرمت اور اوامر و نواہی کے اختیارات اسی کے لیے ہیں۔ اس وقت دنیا میں جس قدر نظام ہائے سیاست رائج ہیں ان سب میں مقتدر اعلیٰ یا کوئی انسان ہوتا ہے یا ادارہ۔ جبکہ اسلامی نظام خلافت میں مقتدر اعلیٰ کوئی انسان یا ادارہ نہیں ہوسکتا بلکہ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور یہی اصل اس نظام سیاست کو دوسرے تمام نظام ہائے سیاست سے ممتاز کرتی ہے۔ جمہوریت خلافت کی ضد ہے :۔ آج کل بیشتر ممالک میں خواہ وہ مسلم ملک ہوں یا غیر مسلم۔ جمہوری نظام سیاست ہی رائج ہے۔ جمہوری نظام سیاست میں سیاسی مقتدر اعلیٰ تو عوام ہوتے ہیں۔ بالفاظ دیگر طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں اور قانونی مقتدر اعلیٰ پارلیمنٹ ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کو قانون سازی کے جملہ اور وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں جنہیں چیلنج نہیں کیا جا سکتا اور عدالتوں کا کام محض یہ ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے کریں۔ اس لحاظ سے یہ نظام مردود اور نظام خلافت کی عین ضد ہے۔ ٢۔ رسول کی اطاعت اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے پاس اللہ کے احکام کی اس کی منشاء کے مطابق بجاآوری کا رسول کی اطاعت کے بغیر کوئی ذریعہ نہیں۔ لہٰذا رسول کی اطاعت بھی حقیقتاً اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے اللہ کی اور رسول کی اطاعت ایک ہی اطاعت قرار پاتی ہے۔ علاوہ ازیں رسول کی اطاعت کی ایک مستقل حیثیت بھی ہوتی ہے۔ وہ یوں کہ جہاں کتاب اللہ خاموش ہو اور رسول ہمیں کوئی حکم دے۔ خواہ یہ حکم قانون سے تعلق رکھتا ہو یعنی حلت و حرمت سے متعلق ہو یا اوامر و نواہی سے تو ایسا حکم ماننا بھی ہم پر ایسے ہی فرض ہے جیسے اللہ کی اطاعت اور چونکہ ایسی اطاعت کا بھی اللہ نے خود ہمیں حکم دیا ہے تو اس لحاظ سے یہ بھی اللہ کی اطاعت کے تحت آ جاتی ہے۔ ٣۔ تیسری اطاعت ان حکام کی ہے جو مسلمان ہوں۔ حکام (اولی الامر) سے مراد وہ ہر قسم کے حکام ہیں جو کسی ذمہ دارانہ منصب پر فائز ہوں۔ یہ انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہوں یا عدلیہ سے یا علماء مجتہدین سے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تو غیر مشروط ہوتی ہے لیکن اولی الامر کی اطاعت صرف اس صورت میں ہوگی جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے خلاف نہ ہو۔ اگر خلاف ہو تو اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ ٤۔ اور چوتھی بنیاد یہ ہے کہ اگر کسی حاکم کے اور رعایا کے درمیان کسی معاملہ میں نزاع پیدا ہوجائے، تو ایسا معاملہ (آپ کی زندگی میں) آپ کی طرف اور (آپ کی زندگی کے بعد) کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف لوٹایا جائے گا۔ اور حَکَم کی حیثیت کتاب و سنت کی ہوگی۔ اور آخر میں یہ بتا دیا گیا کہ اگر تم نے ان چار اصولوں میں سے کسی بھی اصول میں کوتاہی کی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہارا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں ہے۔ اور اگر تمہارا اللہ اور آخرت پر ایمان کا دعویٰ سچا ہے تو تمہیں بہرحال ان چار اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا اور جب تک تم نے ان چاروں امور کا خیال رکھا اس وقت تک تمہارے اخلاق و کردار درست اور تمہاری حکومت مستحکم رہے گی۔ امیر یا حاکم کی اطاعت کس قدر ضروری ہے اور کن حالات میں ضروری ہے۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ اطاعت امیر کی اہمیت اور حدود :۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔‘‘ (مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب وجوب طاعۃ الامراء۔۔ بخاری، کتاب الاحکام۔ باب قولہ اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول۔۔) ٢۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہر شخص پر امیر کا حکم سننا اور اسے ماننا فرض ہے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند، جب تک کہ اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے اور اگر اسے اللہ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو پھر نہ ایسے حکم کو سننا لازم ہے اور نہ اس کی اطاعت‘‘ (بخاری، کتاب الاحکام، باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ) ٣۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص امیر کی اطاعت اور جماعت سے الگ ہوا، پھر اسی حال میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اور جو شخص کسی اندھے (جھنڈے) کے تحت لڑائی کرے اور تعصب کے لیے جوش دلائے یا تعصب کی طرف بلائے اور تعصب کے لیے مدد کرے پھر مارا جائے تو وہ بھی جاہلیت کی موت مرا۔‘‘ (مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب ملازمۃ المسلمین) ٤۔ سیدنا حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے۔ (امیر کا حکم) سننا اور اطاعت کرنا، جہاد کرنا، ہجرت کرنا اور جماعت (سے چمٹے رہنا) کیونکہ جو شخص بالشت بھر بھی جماعت سے الگ ہوا اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اتار پھینکا۔ الا یہ کہ وہ واپس لوٹ آئے۔‘‘ (ترمذی ابو اب الامثال) ٥۔ امیر سے تنازعہ :۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روا نہ کیا اور اس کا امیر ایک انصاری (عبداللہ بن حذافہ) کو مقرر کیا اور لشکر کو ان کی اطاعت کا حکم دیا۔ وہ امیر ان سے کسی بات پر خفا ہوگیا اور ان سے پوچھا ’’کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا تھا۔‘‘ وہ کہنے لگے ’’کیوں نہیں؟‘‘ امیر نے کہا ’’اچھا تو ایندھن جمع کرو اور آگ جلاؤ اور اس میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ انہوں نے لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی اور جب داخل ہونے کا ارادہ کیا تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ کسی نے کہا ’’ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ہی اس لیے کی ہے کہ آگ سے بچ جائیں، تو کیا ہم آگ میں داخل ہوں؟‘‘ اتنے میں آگ بجھ گئی اور امیر کا غصہ بھی ٹھنڈا ہوگیا۔ اس بات کا ذکر آپ سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو اس سے کبھی نہ نکلتے۔ اطاعت تو صرف معروف کاموں میں ہے۔‘‘ اور مسلم کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔ اطاعت صرف معروف کاموں میں ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الاحکام۔ باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ۔۔ مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ) ٦۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’عنقریب فتنے فساد ہوں گے تو جو اس امت کے معاملہ میں تفرقہ ڈالے جبکہ وہ متحدہ ہو۔۔ اور ایک روایت میں ہے کہ جماعت کا کسی ایک شخص پر اتحاد و اتفاق ہو اور وہ شخص تمہاری جمعیت میں پھوٹ ڈالنا چاہے تو اس کی گردن اڑا دو۔ خواہ وہ کوئی ہو۔ ‘‘ (مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب من فرق امر المومنین و ہو مجتمع) یہ تو اطاعت امیر سے متعلقہ احکام تھے۔ اب امیر سے تنازعہ کا مسئلہ یوں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبوی کی توسیع کا ارادہ کیا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا مکان اس میں رکاوٹ تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا بلکہ انہیں مجبور کیا کہ وہ جائز قیمت لے کر مکان دے دیں لیکن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مکان کو فروخت کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ تنازعہ بڑھ گیا تو فریقین نے جن میں مدعی حکومت وقت یا امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے اور مدعا علیہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اپنا ثالث (یا عدالت) بنانا منظور کرلیا۔ تنقیح طلب معاملہ یہ تھا کہ اسلام انفرادی ملکیت کو کس قدر تحفظ دیتا ہے اور آیا اجتماعی مفاد کی خاطر انفرادی مفادات کو قربان کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ چنانچہ کتاب و سنت کی رو سے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس مقدمہ کا فیصلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف دے دیا۔ جب سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مقدمہ جیت لیا تو انہوں نے یہ مکان بلاقیمت ہی مسجد کی توسیع کے لیے دے دیا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ تنازعہ دراصل مکان کی فروخت کا نہیں بلکہ ضد بازی اور امیر اور اس کی رعیت کے درمیان اپنے اپنے حقوق کی تحقیق سے تعلق رکھتا تھا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو مکان فروخت کردینے پر مجبور کیا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ جو اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ کسی چیز کا مالک اسے بیچنے یا نہ بیچنے کے مکمل اختیارات رکھتا ہے، تو وہ بھی احقاق حق کے لیے ڈٹ گئے اور ثالث نے فیصلہ بھی انہی کے حق میں دیا۔ سیاسی تنازعات اور ان کا حل :۔ تنازعات کی دوسری قسم وہ ہے جو دو گروہوں یا دو قوموں یا دو ملکوں کے درمیان ہوتے ہیں، جسے ہم سیاسی تنازعات کہہ سکتے ہیں اور ایسے تنازعات نے امت مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کردیا ہے۔ آپ نے جو امت تشکیل فرمائی تھی اس میں حبشی، رومی، فارسی، عربی، گورے اور کالے مہاجر اور انصار سب بنیادی طور پر ہم مرتبہ تھے۔ اگر کسی کو تفوق اور فضیلت تھی تو محض تقویٰ کی بنا پر تھی اور یہی قرآن کی تعلیم تھی۔ لیکن آج اس وحدت پر سب سے زیادہ کاری ضرب قوم و وطن کے موجودہ نظریہ نے لگائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے معروف خطبہ حجۃ الوداع میں ارشاد فرمایا تھا کہ ’’لوگو! بے شک تمہارا پروردگار ایک ہے۔ تمہارا باپ ایک ہے۔ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں۔ برتری صرف تقویٰ کی بنا پر ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔‘‘ وطن اور علاقہ یا زبان کے اختلاف کی بنیاد پر قوموں کی جداگانہ تشکیل یورپ کی پیدا کردہ لعنت ہے۔ وطن پرستی، علاقہ پرستی۔ زبان پرستی اور رنگ پرستی ہی آج کے سب سے بڑے معبود ہیں جن کی خاطر لوگ آپس میں الجھتے اور کٹتے مرتے ہیں۔ انہی باتوں نے امت مسلمہ کو بیسیوں ممالک میں اور پھر ذیلی تقسیم میں تقسیم در تقسیم کے ذریعہ ذلیل و خوار کیا اور تباہی اور بربادی کے جہنم میں دھکیل دیا ہے اور اس جہنم سے نجات صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ کتاب و سنت کو حکم تسلیم کیا جائے اور اپنے آپ کو کتاب و سنت کی تعلیم کے سانچہ میں ڈھالا جائے۔ مذہبی تنازعات اور ان کا حل :۔ تنازعات اور اختلافات کی تیسری بڑی نوع فقہی اور مذہبی اختلافات ہیں۔ اور ہمارے علماء اور فقہاء بھی اولی الامرمنکم کے زمرہ میں آتے ہیں۔ ہمارے ہاں آج کل چار فقہیں یا چار مذاہب رائج ہیں جو اپنی اپنی فقہ کو سینہ سے چمٹائے ہوئے ہیں اور ان میں اس قدر تعصب پیدا ہوچکا ہے کہ ہر فرقہ اپنے آپ کو حق پر اور دوسروں کو غلط سمجھتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن سب کا ایک ہے اور سنت بھی ایک ہے لیکن فقہ چار ہیں اور اگر شیعہ حضرات کی فقہ جعفریہ کو بھی شامل کرلیں تو پانچ ہیں۔ فقہ یا قیاس دین کی بنیاد نہیں ہے :۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی فقہ دین کی بنیاد نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایک مخصوص فقہ پر اصرار کرنا واجب ہے نیز اس سے دوسرا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اگر پہلے سے پانچ فقہ موجود ہیں تو موجودہ زمانہ کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اجتہاد کر کے اگر چھٹی فقہ بھی مرتب کرلی جائے تو اس میں کچھ ہرج نہیں ہے مگر برا ہو تعصب اور اندھی عقیدت کا جس نے تقلید شخصی جیسی قابل مذمت روایت کو جنم دیا۔ پھر صرف جنم ہی نہیں دیا بلکہ اسے واجب قرار دے دیا اور آئندہ کے لیے اجتہاد کے دروازہ کو بند کردیا گیا ایسے تنازعات کو ختم کرنے کا بھی واحد حل یہی ہے کہ ہر فقہ کے مسئلہ کو کتاب و سنت پر پیش کیا جائے اور تعصب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جو اجتہادی مسئلہ کتاب و سنت کے مطابق یا زیادہ اقرب ہو اسے قبول کرلیا جائے باقی کو چھوڑ دیا جائے۔ ہر قسم کے نظاموں اور فرقوں کی بنیاد کوئی بدعی عقیدہ یا عمل ہوتا ہے :۔ واضح رہے کہ جتنے بھی مذہبی فرقے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی بدعی عقیدہ ضرور شامل ہوتا ہے اور جب تک کوئی بدعی عقیدہ شامل نہ ہو یا شامل نہ کیا جائے کوئی نیا فرقہ وجود میں آ ہی نہیں سکتا۔ مثلاً چار مذاہب میں بدعی عقیدہ صرف اپنے اپنے امام کی تقلید، تقلید شخصی کا وجوب اور آئندہ کے لیے اجتہاد کے دروازہ کو تاقیامت بند رکھنا ہے۔ شیعہ حضرات کا سب سے بڑا بدعی عقیدہ بارہ اماموں کی تعیین اور انہیں معصوم عن الخطاء سمجھنا صرف انہی کے اقوال کو قبول کرنا ہے۔ نیچریوں کا بدعی عقیدہ خوارق عادات امور اور معجزات سے انکار ہے وغیرہ وغیرہ، یہی حال سیاسی نظاموں کا ہے۔ جمہوریت کا بدعی عقیدہ اللہ تعالیٰ کے بجائے عوام کی بالادستی سمجھنا اور انہیں ہی طاقت کا سرچشمہ قرار دینا ہے۔ اشتراکیت کا بدعی عقیدہ انفرادی ملکیتوں کا غصب اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے انکار ہے۔ غرضیکہ جتنے بھی فرقے ہیں، خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیاسی، ان کا کوئی نہ کوئی عقیدہ یا عمل ضرور کتاب و سنت کے خلاف ہوگا۔ عام تنازعات :۔ تنازعات کی چوتھی قسم ذاتی اور انفرادی معاملات کے جھگڑے ہیں اور ان کے علاوہ اور بھی تنازعات کی کئی اقسام ہو سکتی ہیں۔ خواہ ان کا تعلق اولی الامر سے ہو یا نہ ہو، جیسے بھی تنازعات ہوں ان سب کا واحد حل یہی ہے کہ انہیں کتاب و سنت پر پیش کیا جائے اور اپنے اعتقادات اور تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں بسر و چشم قبول کر کے ان کی تعمیل کی جائے۔ النسآء
60 [٩٢] منافقوں کا آپ کے پاس فیصلہ لانے سے گریز :۔ جو دعویٰ تو مسلمانوں کا سا کرتے ہیں مگر حقیقت میں منافق ہیں اور طاغوت کا مفہوم پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اس سے مراد ہر وہ فرد، عدالت، ادارہ یا نظام ہے جو اللہ کے حکم کے مقابلہ میں اپنا حکم لوگوں پر مسلط کرنا چاہتا ہو۔ منافقوں کا طریقہ یہ تھا کہ جس مقدمہ میں انہیں توقع ہوتی کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا اسے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آتے اور جس مقدمہ میں یہ خطرہ ہوتا کہ فیصلہ ان کے خلاف ہوگا اسے آپ کے پاس لانے میں پس و پیش کرنے لگتے حتیٰ کہ انکار بھی کردیتے تھے۔ یہی حال آج بھی نام نہاد مسلمانوں کا ہے۔ اگر شریعت کا فیصلہ ان کے حق میں ہو تو سر آنکھوں پر، ورنہ وہ ہر اس قانون، ہر اس رسم و رواج اور ہر اس عدالت کے دامن میں جا پناہ لیں گے جہاں سے انہیں اپنی منشا کے مطابق فیصلہ ہوجانے کی توقع ہو اور یہ بات دراصل نفاق کی علامت ہے۔ النسآء
61 [٩٣] سیدنا عمر کا منافق کے حق میں فیصلہ :۔ ہوا یہ تھا کہ ایک یہودی اور ایک منافق (مسلمان) کا کسی معاملہ میں جھگڑا ہوگیا۔ یہودی چونکہ حق بجانب تھا لہٰذا اس نے منافق سے کہا کہ چلو اس کا فیصلہ تمہارے رسول سے کرا لیتے ہیں (یعنی یہودیوں کا بھی یہ ایمان ضرور تھا کہ یہ نبی حق ہی کا ساتھ دیتا ہے) مگر منافق اس سے پس و پیش کرنے لگا۔ اسے بھی یہ خطرہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حق کا ساتھ دیں گے اور فیصلہ میرے خلاف ہوجائے گا لہٰذا وہ لیت و لعل کرنے لگا اور کہنے لگا کہ یہ مقدمہ تمہارے سردار کعب بن اشرف کے پاس لے چلتے ہیں جہاں اس منافق کو توقع تھی کہ مکر و فریب اور رشوت سے فیصلہ میرے حق میں ہوسکتا ہے۔ مگر یہودی یہ بات نہ مانا کیونکہ اسے بھی اپنے اس سردار کے کردار کا پتہ تھا اور منافق چونکہ کھل کر یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ جاؤں گا اس لیے بالآخر یہی طے پایا کہ فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کرایا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریقین کی بات سن کر یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا تو اب منافق کہنے لگا کہ چلو اب یہ مقدمہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ابن خطاب کے پاس لے جا کر ان کا بھی فیصلہ لیتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان دنوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت سے اور ان کے نائب کی حیثیت سے مدینہ میں مقدمات کے فیصلے کیا کرتے تھے۔ منافق کا یہ خیال تھا کہ چونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میں اسلامی حمیت بہت ہے لہٰذا وہ میرے حق میں فیصلہ دے دیں گے۔ چنانچہ یہودی اور منافق دونوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں جا کر اس مقدمہ کا فیصلہ چاہا۔ پھر اپنے اپنے بیان دیے۔ یہودی نے اپنا بیان دینے کے بعد یہ بھی کہہ دیا کہ ہم یہ مقدمہ تمہارے نبی کے پاس لے گئے تھے اور انہوں نے میرے حق میں فیصلہ دیا ہے یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اندر گئے اور تلوار نکال لائے اور آتے ہی اس منافق کا سر قلم کردیا اور فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرے اس کے لیے میرے پاس یہی فیصلہ ہے۔ النسآء
62 [٩٤] منافق کے قتل کے بعد اس کے وارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے قصاص کا مقدمہ کردیا اور مقدمہ کی بنیاد یہ بنائی کہ ہمارا ارادہ آپ کے فیصلہ کے خلاف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فیصلہ لینا ہرگز نہ تھا بلکہ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان دونوں فریقین کے درمیان صلح اور سمجھوتہ کرا دیں گے اور اپنے اس بیان پر اللہ کی قسمیں بھی کھانے لگے کہ فی الواقع ہمارا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کا مقصد سمجھوتہ ہی تھا۔ النسآء
63 [٩٥] مگر اللہ تعالیٰ نے منافق کے وارثوں کی اس چال سے آپ کو مطلع کردیا اس طرح اللہ تعالیٰ نے قصاص کے مقدمہ کو یہ آیات نازل فرما کر خارج کردیا کہ جو لوگ اپنے مالی یا جانی مقدمات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دل و جان سے حکم تسلیم نہیں کرتے وہ فی الحقیقت مومن ہی نہیں ہیں لہٰذا قصاص کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جیسا کہ اس سے آگے آ رہا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فاروق کا لقب عطا فرمایا۔ [٩٦] یعنی آپ ان منافقوں کی قطعاً پروا نہ کیجئے البتہ انہیں دل نشین انداز میں وعظ و نصیحت کرتے رہیے اور انہیں یہ سمجھائیے کہ اللہ تعالیٰ اپنا رسول بھیجتا ہی اس لیے ہے کہ اس کے حکم کی اطاعت کی جائے اور اسی کو دل و جان سے حکم تسلیم کیا جائے۔ اور جب وہ کوئی غلطی یا زیادتی کر بیٹھے تھے تو انہیں چاہیے تھا کہ آپ کے پاس آ کر اللہ سے معافی مانگتے اور آپ بھی ان کے لیے معافی مانگتے تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کو قبول فرما لیتا۔ النسآء
64 النسآء
65 [٩٧] یہ سابقہ آیات کا تتمہ ہے جس میں ایک مستقل قانون دیا گیا ہے جو صرف مقدمہ کے منافق کے لیے ہی نہیں بلکہ ساری امت کے لیے ہے اور قیامت تک کے لیے ہے اور وہ یہ ہے کہ جو مسلمان آپ کے ارشاد، حکم یا فیصلہ کو بدل و جان قبول کرلینے اور اس کے آگے سر تسلیم خم کردینے پر آمادہ نہیں ہوتا وہ سرے سے مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔ اور آپ کے ارشادات، احکام اور فیصلے سب کچھ کتب احادیث میں مذکور ہوچکے ہیں۔ اب جو شخص ان کے مقابلہ میں کسی اور شخص، عالم، پیر یا امام کے قول کو ترجیح دے گا وہ بھی اس حکم میں داخل ہے۔ یہ آیت بھی امت کے تمام اختلافات اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے میں ہماری رہنما اور کسوٹی ہے۔ اس آیت سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ کتاب و سنت کی موجودگی میں قیاس کرنا حرام ہے۔ اس مضمون کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا’’کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنی خواہشات کو اس چیز کے تابع نہ بنا دے جو میں لے کر آیا ہوں۔‘‘ (شرح السنۃ بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ فصل ثانی) اور بالخصوص اس آیت کا شان نزول کتب احادیث میں درج ذیل مذکور ہے : اختلافات کے خاتمہ کا واحد حل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کا جواب :۔ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ (میرے باپ) اور ایک انصاری میں حرہ میں واقع پانی کی نالی پر جھگڑا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو کہا ’’تم اپنے درختوں کو پانی پلا لو پھر اسے اپنے ہمسایہ کے باغ میں جانے دو۔‘‘ یہ سن کر وہ انصاری کہنے لگا ’’کیوں نہیں آخر زبیر آپ کی پھوپھی کا بیٹا جو ہوا۔‘‘ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو کہا ’’زبیر! اپنے کھیت کو پانی پلاؤ اور جب تک پانی منڈیروں تک نہ پہنچ جائے اس کے لیے پانی نہ چھوڑو۔‘‘ یعنی جب انصاری نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ دلایا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر کو اس کا پورا حق دلایا۔ جبکہ آپ کے پہلے حکم میں دونوں کی رعایت ملحوظ تھی۔ زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی مقدمہ میں نازل ہوئی۔ (بخاری، کتاب التفسیر و کتاب المساقاۃ، باب سکر الانہار۔۔ مسلم، کتاب الفضائل باب وجوب اتباعہ ) النسآء
66 [٩٨] یعنی ایسے منافقین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ اگر ہم کسی بنا پر ان پر قتل واجب کردیتے جیسا کہ بچھڑا پوجنے والوں پر واجب کیا تھا یا یہاں (مدینہ) سے کسی اور جگہ نقل مکانی یا ہجرت کرنے کو کہتے تو اس قسم کی قربانیاں یہ لوگ کیسے بجا لا سکتے تھے؟ اور اگر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے تو ان کی منزل مقصود قریب تر ہوجاتی اور یہ بہرحال فائدہ میں رہتے۔ یہاں دنیا میں بھی باوقار زندگی نصیب ہوتی اور آخرت میں بھی بڑے اجر کے مستحق ہوتے۔ النسآء
67 النسآء
68 النسآء
69 [٩٩] منعم علیہم کون کون ہیں؟ اس آیت میں چار قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ فضیلت اور درجہ کے لحاظ سے بلند تر مقام رکھتے ہیں (١) انبیاء۔ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ نبی ہی اپنی امت کا افضل ترین فرد ہوتا ہے جسے اللہ نبوت کے لیے چن لیتا ہے۔ (٢) صدیق سے مراد ایسا شخص ہے جو اپنے ہر معاملہ میں راست باز ہو حق کا ساتھ دینے والا، ہمیشہ سچ بولنے والا، حق کی فوراً گواہی دینے والا اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے والا ہو۔ (٣) شہید کا بنیادی معنیٰ گواہ ہے۔ اور اللہ کی راہ میں جان دینے والے کو شہید اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اپنے ایمان کی صداقت پر اپنی زندگی کے پورے طرز عمل سے شہادت دیتا ہے۔ حتیٰ کہ اپنی جان دے کر یہ ثابت کردیتا ہے کہ وہ جس چیز پر ایمان لایا تھا اسے فی الواقع درست سمجھتا تھا۔ (٤) صالح سے مراد ایسا نیک سرشت آدمی ہے جس کے ہر عمل اور ہر حرکت سے اس کی نیکی ظاہر ہوتی ہو اور اپنی پوری زندگی میں نیک رویہ رکھتا ہو۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی بسر و چشم اطاعت کرتا ہو، اس آیت میں اسے اخروی زندگی میں مندرجہ بالا چار قسم کے لوگوں کی رفاقت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اور یہ دراصل اس کے اعمال کا بدلہ نہیں بلکہ محض اللہ کا فضل ہوگا۔ مندرجہ ذیل احادیث اسی مضمون کی تفسیر پیش کرتی ہیں : ١ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کیسے؟ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ دروازے پر ہمیں ایک آدمی ملا اور کہنے لگا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا ’’کیا تو نے قیامت کے لیے کچھ تیاری کر رکھی ہے؟‘‘ وہ کچھ جھینپ سا گیا اور کہنے لگا۔ ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے نہ کچھ لمبے چوڑے روزے رکھے ہیں نہ نماز ہے اور نہ صدقہ۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ’’(قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الاحکام، باب القضاء والفتیا فی الطریق) ٢۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہر نبی کو اس کے مرض میں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہے تو دنیا میں رہے اور چاہے تو آخرت کو پسند کرے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مرض الموت میں سخت دھچکا لگا تو میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ﴿مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ ﴾..... تو میں سمجھ گئی کہ آپ کو بھی یہ اختیار ملا (اور آپ نے سفر آخرت کو پسند فرمایا)۔ (بخاری، کتاب التفسیر) ٣۔ سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رہا کرتا اور آپ کے پاس وضو اور حاجت کا پانی لایا کرتا۔ ایک دفعہ (میں آپ کو وضو کروا رہا تھا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خوش ہو کر) فرمایا’’مانگ کیا مانگتا ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اس کے علاوہ کوئی اور بات بتاؤ‘‘ میں نے کہا ’’میں تو یہی چیز مانگتا ہوں‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اچھا تو پھر کثرت سجود (نماز نوافل وغیرہ) کو اپنے آپ پر لازم کرلو اور اس طرح اس سلسلہ میں میری مدد کرو۔ ‘‘ (مسلم، کتاب الصلوۃ باب مایقال فی الرکوع والسجود) کیونکہ سجدہ ہی وہ عبادت ہے جس میں بندے کو اللہ سے نہایت قرب حاصل ہوتا ہے۔ النسآء
70 النسآء
71 [١٠٠] جنگ احد کے بعد مسلمانوں کی حالت اور احکام :۔ یہ آیت اس دور میں نازل ہوئی جب مسلمان میدان احد میں ایک دفعہ شکست سے دو چار ہوچکے تھے اور ابو سفیان نے واپسی کے وقت اپنے خطبہ میں اپنی کامیابی کا اعلان بھی کیا تھا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ یہودیوں، منافقوں اور مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے قبائل کے حوصلے بڑھ گئے اور اسلام دشمنی میں اپنی کوششیں تیز تر کردی تھیں۔ بسا اوقات ایسی خبریں آتیں کہ اب فلاں قبیلہ جنگ کی تیاریاں کر رہا ہے اور اب فلاں قبیلہ مسلمانوں پر چڑھائی کے لیے مدینہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی دور میں مسلمانوں سے پے در پے غداریاں بھی کی گئیں۔ ان کے مبلغین کو فریب سے دعوت دی جاتی اور قتل کردیا جاتا تھا اور مدینہ کی حدود سے باہر مسلمانوں کا جان و مال محفوظ نہ تھا۔ اور مدینہ پر ہر وقت خوف و ہراس طاری رہتا تھا۔ تو ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ ایک تو ہر وقت محتاط اور چاک و چوبند رہو اور اپنے ہتھیار اپنے پاس رکھا کرو۔ دوسرے اکا دکا سفر نہ کیا کرو بلکہ جب کسی سفر پر نکلنا ہو تو دستوں کی شکل میں یا سب اکٹھے مل کر نکلا کرو۔ النسآء
72 [١٠١] یہ خطاب منافقوں کے لیے ہے اور جنگ کے دوران ان کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو دیدہ دانستہ اور حیلوں بہانوں سے جہاد پر نکلنے میں دیر کرتے اور پیچھے رہ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر اگر اس سفر جہاد میں مسلمانوں کو کچھ تکلیف پہنچے تو بڑے خوش ہوتے اور کہتے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے کہ میں پیچھے رہ گیا۔ ورنہ مجھے بھی وہی دکھ اٹھانا پڑتا جو دوسرے مسلمانوں نے اٹھایا ہے۔ النسآء
73 [١٠٢] اور اگر مسلمانوں کو فتح اور خوشی نصیب ہو اور غنیمت کا مال ہاتھ لگے تو حسرت سے کہتے ہیں کہ اگر ہم بھی ان میں شامل ہوتے تو ہمارا بھی کام بن جاتا۔ اور یہ جملہ وہ اس انداز سے ادا کرتے ہیں جیسے پہلے ان کا اور مسلمانوں کا کوئی تعلق تھا ہی نہیں اور ان دونوں صورتوں میں انہیں محض دنیوی تکلیف اور دنیوی مفادات کا ہی احساس ہوتا ہے۔ اخروی زندگی یا رضائے الہی سے انہیں کبھی کوئی غرض نہیں ہوتی اور یہی ان کے منافق ہونے اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے کی دلیل ہے۔ النسآء
74 [١٠٣] اس آیت میں مسلمانوں کو محض اللہ کی رضا اور اسلام کی سربلندی کی خاطر لڑنے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور بتایا گیا ہے کہ مسلمان خواہ لڑائی میں شہید ہوجائے یا بچ کر گھر واپس آ جائے اسے دونوں صورتوں میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔جہادکی ترغیب‘اہمیت اور فوائد:۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ’’کوئی شخص مال غنیمت کے لیے لڑتا ہے، کوئی شہرت اور ناموری کے لیے اور کوئی اپنی بہادری دکھانے کے لیے لڑتا ہے اور کوئی غصے اور قومی حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے۔ ان میں سے کون اللہ کی راہ میں لڑتا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کی راہ میں لڑنے والا صرف وہ ہے جس کا مقصد یہ ہو کہ اس سے اللہ کا کلمہ بلند ہو۔ ‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد۔ باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ھی العلیا۔۔ مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا فھو فی سبیل اللہ۔۔ بخاری۔ کتاب العلم۔ باب من سأال و ہو قائم عالما جالسا) ٢۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص اس حال میں مرے کہ نہ اس نے اللہ کے راستے میں جنگ کی اور نہ ہی کبھی اس کے دل میں اس کا خیال گزرا ہو تو اس کی موت نفاق کی ایک شاخ پر ہوگی۔‘‘ (مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب ذم من مات ولم یغز ولم یحدث نفسہ بالغزو) ٣۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ’’لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟‘‘ فرمایا ’’جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد، باب افضل الناس مومن مجاھد بنفسہ و مالہ) ٤۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر میری امت پر یہ بات گرانبار نہ ہوتی تو میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا اور میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں۔‘‘ (بخاری، کتاب الایمان، باب الجہاد من الایمان۔۔ مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب فضل الجہاد) ٥۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے (بلندی درجات کے حساب سے) مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کیا ہے اور ہر درجے میں اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد۔ باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ۔۔ مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب بیان ما اعد اللہ تعالیٰ للمجاہد فی الجنۃ من الدرجات) ٦۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس بندے کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں تو یہ نہیں ہوسکتا کہ پھر اسے آگ چھوئے‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد، باب من اغبرت قد ماہ فی سبیل اللہ) ٧۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’خوب جان لو! جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد، باب الجنۃ تحت بارقۃ السیوف) ٨۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام نکلنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد۔ باب الغدوۃ والروحۃ فی سبیل اللہ مسلم، کتاب الامارۃ فضل الغدوۃ والروحۃ فی سبیل اللہ ) ٩۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص اللہ کی راہ میں خالصتاً جہاد کرنے کی نیت سے اپنے گھر سے نکلے اور اللہ کے ارشادات کا اسے یقین ہو تو اللہ اسے یا تو شہادت کا درجہ دے کر جنت میں داخل کرے گا یا ثواب اور مال غنیمت دلا کر بخیر و عافیت اسے اس کے گھر لوٹائے گا۔‘‘ (بخاری، کتاب التوحید باب ولقد سبقت کلمتنا۔۔) النسآء
75 [١٠٤] ہجرت نہ کرسکنے والے :۔ اس آیت میں ان کمزور مسلمانوں، بیواؤں اور بچوں کی طرف اشارہ ہے جو مکہ یا بعض قبائل میں آباد تھے۔ اسلام قبول کرچکے تھے مگر ہجرت کرنے پر قدرت نہ رکھتے تھے اور کافروں کے ظلم و تشدد برداشت کرنے پر مجبور تھے اور اللہ سے دعا کیا کرتے تھے کہ یا اللہ ! ان ظالموں سے رہائی کی کوئی صورت پیدا فرما دے یا ہمارا کوئی حامی و مددگار بھیج جو ہمیں ان ظالموں کے پنجہ سے نکال لے جائے۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے لوگوں کے حق میں نماز میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد دعا فرماتے کہ ’’یا اللہ ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور دوسرے ناتواں مسلمانوں کو جو مکہ میں ہیں کافروں کی قید سے چھڑا دے۔ یا اللہ ! مضر کے کافروں پر سخت گرفت فرما اور ان پر ایسا قحط بھیج، جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں قحط پڑا تھا۔‘‘ (بخاری، کتاب الادب، باب تسمیۃ الولید) اور سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما جب یہ آیت پڑھا کرتے تو کہا کرتے کہ ’’میں اور میری ماں (دونوں مکہ میں) ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے معذور رکھا۔‘‘ (بخاری، کتاب التفسیر) اس آیت میں مسلمانوں کو ایسے ہی کمزور و ناتواں مسلمانوں کی مدد کو پہنچنے اور ایسے ظالموں سے جہاد کر کے انہیں ان کے ظلم سے بچانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ النسآء
76 [١٠٥] وقتی اور سیاسی اتحاد شیطانی اتحاد ہے جس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے :۔ یہاں طاغوت سے مراد سرداران قریش کی اپنی اپنی چودھراہٹیں اور اسی طرح یہودیوں اور دوسرے قبائل عرب کے سرداروں کی سرداریاں ہیں۔ جن کی بنا پر ان کا عوام پر تسلط قائم تھا۔ جوں جوں اسلام کو اللہ نے ترقی دی تو ان سرداروں کو اپنی سرداریاں متزلزل اور ڈگمگاتی نظر آنے لگیں تو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی۔ گویا مسلمانوں کے خلاف تمام اسلام دشمن قومیں متحد ہو کر اسلام کو مٹانے پر آمادہ ہوجاتی تھیں اور اسلام کے مقابلہ میں کفر کا یہ اتحاد دراصل شیطانی اتحاد تھا اور یہ محض وقتی اور سیاسی اتحاد ہوتا تھا۔ ورنہ اس اتحاد میں شامل قوموں کے باہمی اختلافات بدستور موجود تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ اس شیطانی لشکر کا پوری ہمت اور جرات کے ساتھ مقابلہ کرو کیونکہ ان کے اتحاد کی بنیاد ہی کمزور ہے۔ النسآء
77 [١٠٦] مکہ میں جہاد پر بندش :۔ مکہ میں مسلمانوں پر قریش مکہ نے جو ظلم و ستم ڈھائے تھے ان کا نشانہ صرف غلام مسلمان ہی نہ تھے، بلکہ آزاد اور معزز قسم کے مسلمانوں کا بھی ان لوگوں نے طرح طرح سے عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا۔ حتیٰ کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان لوگوں کے ہاتھوں متعدد بار ایذائیں پہنچیں۔ اس وقت بعض جرأت مند مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی اجازت چاہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی مجھے جنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔ لہٰذا تم بھی ان مصائب کو صبر سے برداشت کیے جاؤ اور اپنی تمام تر توجہ نماز کے قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی پر صرف کرو۔ چنانچہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ جو السابقون الاولون میں سے تھے انہی لوگوں میں سے تھے جو جنگ کی اجازت چاہ رہے تھے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے : سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا ’’اللہ کے رسول ! ہم عزت والے تھے جبکہ ہم مشرک تھے پھر جب ایمان لائے تو ذلیل ہو گئے‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’(ابھی) مجھے درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے لہٰذا جنگ نہ کرو۔‘‘ پھر جب اللہ نے ہمیں مدینہ منتقل کردیا تو ہمیں جنگ کا حکم دیا گیا اور بعض لوگ جنگ سے رک گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (نسائی۔ کتاب الجہاد، باب وجوب الجہاد) کیاوحی ساری کی ساری قرآن میں محصور ہے؟ یہاں چند امور کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ سورۃ نساء مدنی دور میں غزوہ احد اور غزوہ احزاب کے درمیانی عرصہ میں نازل ہوئی تھی اور اس آیت کے الفاظ ﴿قِیْلَ لَھُمْ کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ ﴾ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مکی دور میں مسلمانوں کو ہاتھ اٹھانے سے روک دیا گیا تھا۔ حالانکہ قرآن کی مکی سورتوں میں ایسا کوئی حکم موجود نہیں ہے۔ اب دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بذریعہ وحی خفی کوئی ایسا حکم ملا ہو جس کی بعد میں مدنی دور میں اس آیت کے ذریعہ توثیق کردی گئی۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ یہ آپ کا ذاتی اجتہاد ہو کہ اس انقلابی تحریک کے آغاز میں مسلمانوں کو قطعاً ہاتھ نہ اٹھانا چاہئے۔ آپ کے اس اجتہاد پر چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نکیر وارد نہیں ہوئی لہٰذا یہ اجتہاد وحی تقریری کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے ان لوگوں کا رد ہوا جو کہتے ہیں کہ وحی تمام تر قرآن میں محصور ہے اور وحی خفی یا وحی تقریری کی کچھ حیثیت نہیں سمجھتے۔ اور دوسرے یہ بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات بھی ویسے ہی واجب الاتباع ہیں جیسے قرآن کے احکام۔ مکی دور میں ہاتھ نہ اٹھانے یا عدم تشدد کے فوائد :۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس تیرہ سالہ طویل دور میں، جبکہ مسلمانوں پر کفار انتہائی شدید قسم کے مظالم ڈھا رہے تھے مسلمانوں کو ہاتھ اٹھانے یا مدافعت کرنے سے کیوں روک دیا گیا تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام ایک انقلابی تحریک ہے۔ عرب کے تمام تر معاشرتی، سیاسی اور تمدنی نظام کی بنیاد بت پرستی پر قائم تھی۔ اور اسلام نے اسی بت پرستی کے خلاف ہی سب سے پہلے آواز بلند کی۔ تو اس باطل نظام میں جو لوگ معاشی، تمدنی یا سیاسی فائدے اٹھا رہے تھے وہ سب اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے دشمن بن گئے۔ اور ان پر سختیاں شروع کردیں۔ اس مرحلہ پر مسلمانوں کو تاکیدی حکم یہ دیا گیا کہ اپنی مدافعت میں ہاتھ تک نہ اٹھائیں بلکہ جیسے بھی ظلم و ستم ان پر ہو رہے ہیں وہ برداشت کرتے جائیں۔ اس عدم تشدد کے حکم یا پالیسی سے تین قسم کے فوائد حاصل ہوئے۔ پہلا یہ کہ اگر مسلمان اس مرحلہ پر مقابلہ شروع کردیتے تو مشرکین کو جو قوت، قدرت میں مسلمانوں سے بدرجہا بڑھ کر تھے اس تحریک کو شدت کے ساتھ کچل دینے کا اخلاقی جواز ہاتھ آجاتا۔ اس عدم تشدد کی پالیسی کی وجہ سے تبلیغ کا کام جاری رہا اور یہ اسی صورت میں ممکن تھا۔ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کو مصائب برداشت کرنے اور قائد تحریک نبی اکرم کا ہر حال میں حکم ماننے کی تربیت دی جارہی تھی۔ اور تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ غیر جانبدار قسم کے لوگوں کی خاموش اکثریت کی ہمدردیاں مسلمانوں سے وابستہ ہوگئیں۔ کیونکہ ہر انسان ناروا ظلم سے طبعاً نفرت کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ گھبرائے ہوئے گھر آئے تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے ہاں لے گئیں جنہوں نے تمام ماجرا سن کر کہا :’’کاش! میں اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکال دے گی‘‘ ورقہ کی یہ بات سن کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جو قوم آج تک مجھے اپنی آنکھوں کا تارا سمجھتی ہے وہ کل کو مجھے مکہ سے نکال دے گی؟ چنانچہ آپ نے نہایت تعجب سے ورقہ سے یہی سوال کیا تو اس نے کہا کہ جو نبی بھی ایسی دعوت لے کر آیا، اس کی قوم نے اس سے ایسا ہی سلوک کیا، (بخاری۔ کتاب الوحی) ورقہ کی اس اطلاع کا آپ پر یہ اثر ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت کو ناکامی سے بچانے کی خاطر اپنی دعوت کا آغاز نہایت خفیہ طریق سے اور اپنے گھر سے کیا اور گھر کے درج ذیل افراد فوراً آپ پر ایمان لے آئے : (١) آغازوحی کے وقت اسلام لانے والے :۔ آپ کی جان نثار بیوی سیدہ خدیجۃ رضی اللہ عنہا جن کی عمر اس وقت ٥٥ سال تھی۔ (٢) آپ کے غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جو فی الحقیقت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے غلام تھے۔ لیکن انہوں نے اسے آپ کو دے دیا تھا۔ (٣) سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب جو آپ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے۔ آپ کے زیر کفالت اور آپ ہی کے گھر میں رہتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر ایک روایت کے مطابق ٨ سال اور دوسری کے مطابق ١٠ سال تھی۔ بہرحال اس وقت وہ ایسا شعور ضرور رکھتے تھے۔ اولاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم :۔ آپ کی اولاد میں سے ایسا کوئی بھی نہ تھا جو اس وقت آپ پر ایمان لاتا۔ آپ کی پہلونٹی کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا تھیں جن کا نکاح ابو العاص بن ربیع سے ہوچکا تھا۔ سیدہ زینب تو بعد میں جلد ہی ایمان لے آئیں مگر ابو العاص فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تاہم ابو العاص کے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے اور اپنے داماد سے خوش رہے۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب ذکر اصہار النبی) دوسرے نمبر پر آپ کے بیٹے سیدنا قاسم تھے۔ اسی نام کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابو القاسم تھی۔ یہ بعثت سے پہلے وفات پاچکے تھے۔ تیسرے نمبر پر آپ کی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ بعثت نبوی کے وقت ان کی عمر صرف چھ سات برس تھی۔ بعد میں ان کا نکاح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوا اور جس دن مسلمانوں کو مدینہ میں فتح بدر کی خوشخبری ملی اسی دن آپ رضی اللہ عنہا نے وفات پائی۔ چوتھے نمبر پر ام کلثوم رضی اللہ عنہا تھیں۔ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد ان کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے نکاح ہوا۔ پانچویں نمبر پر آپ کے بیٹے عبداللہ تھے جنہیں طیب اور طاہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سن بلوغ کو پہنچنے سے قبل ہی فوت ہوگئے۔ چھٹے نمبر پر آپ کی سب سے چھوٹی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں جن کی عمر اس وقت صرف ایک سال تھی۔ پندرہ برس کی عمر میں آپ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نکاح ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کی اولاد میں سے صرف یہی زندہ تھیں۔ چھ ماہ بعد یہ بھی فوت ہوگئیں۔ السابقون الاولون:۔ گھر کے باہر کے لوگوں میں سے سب سے پہلے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ایمان لائے۔ آپ ماہر انساب، صاحب الرائے، دولت مند اور فیاض انسان تھے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دلی دوست، آپ کے اخلاق سے متاثر اور بعثت نبوی سے پہلے ہی شرکیہ اعمال و عقائد سے متنفر تھے۔ مکہ میں آپ کا خاصا اثر و رسوخ تھا۔ آپ ہی کی درپردہ کوششوں سے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ اور طلحہ رضی اللہ عنہ ایمان لائے۔ پھر ان سب حضرات کی مشترکہ کوششوں اور رازدارانہ تبلیغ سے درج ذیل حضرات ایمان لائے : سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ۔ پھر ان کی تبلیغ سے ان کے والد یاسر رضی اللہ عنہ اور والدہ سمیہ رضی اللہ عنہ بھی اسلام لے آئے یہ لوگ ابو جہل کے قبیلہ بنو مخزوم کے غلام تھے۔ سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ جو امیہ بن خلف کے غلام تھے۔ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش پر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے خرید کر آزاد کردیا۔ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بن ارت، سیدنا ارقم، سیدنا سعید رضی اللہ عنہ بن زید (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بہنوئی) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ، ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ، صہیب رومی رضی اللہ عنہ ہیں۔ خفیہ تبلیغ کے تین سال :۔ ابتدائی تین سال تبلیغ یونہی سینہ بہ سینہ ہوتی رہی حتیٰ کہ مسلمانوں کی تعداد چالیس تک پہنچ گئی۔ یہ اصحاب عبادت بھی چھپ چھپا کر کرتے تھے اور دارارقم کو مرکز بنا لیا گیا تھا۔ اسی دور میں قائد تحریک حضور اکرم کو کفار نے اپنی طنز، تشنیع اور تضحیک کا نشانہ بنایا تھا۔ کبھی وہ آپ کو کاہن کہتے، کبھی شاعر، کبھی دیوانہ، کبھی اللہ کی آیات کا تمسخر اڑاتے اور کبھی آنکھوں ہی آنکھوں میں آپ کو مرعوب بنا کر آپ کے عزم اور ہمت کو شکست دینا چاہتے تھے۔ اس دور میں مشرکین مکہ کا مسلمانوں پر دباؤ کتنا تھا اور کسی کا اسلام لانا کس قدر کٹھن اور جان جوکھوں کا کام تھا اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے جسے سیدنا ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام لانے سے متعلق خود بیان کیا ہے اور جسے ہم نے صحیح بخاری سے سورۃ انفال کے حاشیہ نمبر ٢٦ میں درج کیا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے بھی انہی ایام میں اسلام قبول کیا تھا۔ عمرو ایام جاہلیت میں ہی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ تمام لوگ مشرک اور گمراہ ہیں۔ جب انہوں نے سنا کہ مکہ میں ایک شخص آسمانی خبریں بیان کرتا ہے تو فوراً سوار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور فوراً اسلام لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ضروری احکام کی تعلیم دی اور مشورہ دیا کہ فی الحال اپنے وطن واپس چلے جاؤ اور جب تم سنو کہ اسلام کو غلبہ ہوگیا ہے تو پھر تم میرے پاس چلے آنا۔ (مسلم۔ کتاب الصلٰوۃ۔ باب الاسلام عمرو بن عبسہ) اور یہ وہی مشورہ تھا جو اس سے پہلے آپ نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو بھی دیا تھا اور یہ مشورہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان نو مسلموں سے ہمدردی کی خاطر دیتے تھے مکہ میں تو یہ حال تھا کہ جس شخص کے متعلق پتہ چل جاتا کہ وہ مسلمان ہوگیا ہے، اس کی شامت آجاتی تھی۔ پھر ان سب مسلمانوں کو جتنا دکھ پہنچتا تھا، اکیلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اتنا دکھ پہنچ جاتا تھا۔ کیونکہ آپ رحمۃ للعالمین تھے اور دردمند دل رکھتے تھے۔ علاوہ ازیں معاشی مسئلہ بھی پیدا ہوجاتا تھا جس کے حل کرنے پر اس وقت مسلمان کچھ قدرت نہ رکھتے تھے۔ علی الاعلام تبلیغ اورا س کے اثرات :۔ نبوت کے پہلے تین سال تبلیغ کا یہی انداز رہا پھر جب ﴿ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ (26: 214)’’اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ‘‘ کا فرمان باری نازل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے تین بار اپنے قبیلہ والوں کو اکٹھا کیا اور ان پر اسلام پیش کیا۔ مگر ہر بار ابو لہب ہی آڑے آتا اور مخالفت میں پیش پیش رہتا تھا جس کا تفصیلی ذکر اسی مندرجہ آیت کے تحت اور سورۃ لہب میں آئے گا اس کے بعد اب پہلا سا خفیہ طریقہ تبلیغ نہ رہا اور مشرکین کو کسی نہ کسی حد تک یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ کون کون شخص اسلام لا چکا ہے۔ لہٰذا انہوں نے اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو سختی سے کچل ڈالنے کے مشن کو پہلے سے تیز تر کردیا۔ جو منصوبے پیغمبر اسلام کو ختم کرنے کے لئے بنائے گئے اور سازشیں کی گئیں ان کا ذکر تو ﴿وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ﴾کے تحت سورۃ مائدہ کے حاشیہ نمبر ١١٣ میں آئے گا۔ یہاں ہم صرف ان مظالم کا اجمالاً ذکر کریں گے جو اس دور میں مسلمانوں پر ڈھائے گئے۔ عرب معاشرہ میں غلاموں کا طبقہ بھی معاشرہ کا ایک معتدبہ حصہ تھا۔ جنہیں انسان سمجھا ہی نہیں جاتا تھا۔ مالک اپنے غلام پر جتنا بھی ظلم روا رکھے، حتیٰ کہ جان سے بھی مار ڈالے تو اسے کوئی پوچھنے والا نہ تھا بلکہ آزاد معاشرہ کو اسی کی تائید و حمایت حاصل تھی اور غلاموں میں اپنے مالک کے سامنے نہ چوں و چرا کرنے کی ہمت تھی اور نہ بھاگ جانے کی۔ لہٰذا زیادہ تشدد کا یہی طبقہ شکار ہوا۔ ابو جہل کے آل یاسر پر مظالم :۔ ابو جہل کا مسلمانوں پر جبر و ستم ڈھانے کا طریقہ کار یہ تھا کہ اگر اسلام لانے والا کوئی آزاد، معزز اور طاقتور آدمی ہوتا تو اسے برا بھلا کہنے، ذلیل و رسوا کرنے اور اس کے مال و جاہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا اور عرب کے قبائلی نظام میں وہ اس سے زیادہ کچھ کر بھی نہ سکتا تھا۔ اور اگر اسلام لانے والا کوئی غلام یا کمزور آدمی ہوتا تو اسے خود بھی مارتا اور دوسروں کو بھی ایذا رسانی پر اکساتا رہتا۔ اور اس معاملہ میں نہایت سنگدل واقع ہوا تھا۔ آل یاسر یعنی سیدنا عمار رضی اللہ عنہ ، ان کے والد یاسر اور والدہ سمیہ اسلام لاچکے تھے۔ یہ قبیلہ بنومخزوم (یعنی ابو جہل کے اپنے قبیلے کے) غلام تھے۔ ان پر ابو جہل نے خوب مشق ظلم و ستم کی اور اس قدر مظالم ڈھائے کہ یاسر ان کی تاب نہ لا کر راہی ملک عدم ہوئے۔ ان کی بیوی سمیہ کو اس بدبخت نے شرمگاہ میں نیزہ مار کر ہلاک کردیا۔ اسلام میں یہ پہلی شہیدہ ہیں جو اس بیدردی اور بے رحمی سے شہید کی گئیں۔ رہے عمار رضی اللہ عنہ خود تو انہیں کبھی کڑکتی دوپہر میں پتھریلی زمین پر ننگا لٹا کر اوپر سرخ اور وزنی پتھر رکھ دیا جاتا اور کبھی پانی میں غوطے دیئے جاتے۔ ایک دفعہ آپ کو ننگے بدن دوپہر کو پتھریلی زمین پر لٹا کر اذیتیں دی جارہی تھیں کہ ادھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا۔ وہ ہستی جو سارے جہان کے لئے رحمت بن کر مبعوث ہوئی تھی، یہ نظارہ دیکھ کر آپ کے دل پر جو بیتی ہوگی وہ اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ آپ صبر و استقامت کے عظیم پیکر بھی تھے۔ پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور انہیں دلاسا دیتے ہوئے فرمایا : (اصبروا ال یاسر فان موعد کم الجنۃ) ’’آل یاسر! صبر پر قائم رہنا، تمہارے لئے جنت کا وعدہ ہے‘‘ امیہ بن خلف کے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر مظالم : سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ (حبشی) امیہ بن خلف کے غلام تھے۔ امیہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے گلے میں رسی ڈال کر انہیں گلی محلے کے اوباش لڑکوں کے حوالے کردیتا اور وہ انہیں مکہ کے پہاڑوں کی وادیوں میں گھسیٹتے پھرتے جس سے بدن زخمی ہوجاتا اور گلے میں رسی کا نشان پڑجاتا۔ خود امیہ انہیں رسی سے باندھ کر ڈنڈے مارا کرتا۔ کبھی چلچلاتی دھوپ میں بٹھائے رکھتا اور کھانے پینے کو کچھ نہ دیتا اور سینہ پر بھاری پتھر رکھ دیتا۔ پھر کہتا : اللہ کی قسم! تو اسی طرح پڑا رہے گا تاآنکہ تو مرجائے یا پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کرے۔ لیکن ایمان کا مزا بھی کچھ عجیب ہی قسم کا ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ یہ سب تکلیفیں برداشت کرتے مگر زبان سے احد احد ہی پکارتے تھے۔ (سیرۃ النبی ج ١ ص ٢٣٢) ایک دن آپ رضی اللہ عنہ کو ایسی ہی اذیتیں دی جارہی تھیں کہ ادھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا۔ آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر یہ ظلم برداشت نہ کرسکے۔ لہٰذا سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ بلال رضی اللہ عنہ کو اس مصیبت سے نجات دلائیں۔ چنانچہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے امیہ بن خلف کو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی منہ مانگی قیمت ادا کرکے خریدا، پھر آزاد کردیا۔ ایک روایت کے مطابق یہ قیمت ایک کلو سے زائد چاندی تھی۔ (ابن ہشام ٩: ٣١٧-٣١٨ رحمۃ للعالمین ١: ٥٧) سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ذریعہ امیہ بن خلف کی دردناک موت :۔ اب حالات نے یوں پلٹا کھایا کہ جنگ بدر میں میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ جاہلیت کے دور میں امیہ بن خلف اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ میں دوستی تھی۔ جب مسلمان کافروں کو گرفتار کر رہے اور مال غنیمت اکٹھا کر رہے تھے اس وقت سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ چند زرہیں سنبھالے جارہے تھے۔ امیہ نے انہیں دیکھ لیا اور پکار کر کہا : تمہیں میری ضرورت ہے؟ میں تمہاری ان زرہوں سے بہتر ہوں۔ امیہ کا مطلب یہ تھا کہ اگر عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مجھے قیدی بنا کر اپنی پناہ میں لے لیں تو میں کم از کم جان سے تو بچ جاؤں گا اور اگر زندہ رہا تو انہیں اس کام کا اتنا معاوضہ دوں گا جو ان زرہوں سے کہیں بہتر ہوگا۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ میں امیہ بن خلف اور اس کے بیٹے علی دونوں کو گرفتار کرکے آگے بڑھا ہی تھا کہ اتفاق سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی نظر امیہ بن خلف پر پڑگئی۔ امیہ کو دیکھتے ہی انہیں وہ زمانہ یاد آگیا جب امیہ ان پر مشق ستم کیا کرتا تھا۔ وہ فوراً پکار اٹھے ’’اوہ! کفر کا سر! امیہ بن خلف! آج یا میں زندہ رہوں گا یا یہ زندہ رہے گا‘‘ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بہتیرا سمجھایا کہ یہ میرا قیدی ہے مگر وہ کسی صورت نہ مانے اور انصار کو بلا کر وہی بات کہی کہ ’’آج یا میں زندہ رہوں گا یا یہ کفر کا سر‘‘ چنانچہ ان لوگوں نے ہمیں گھیرے میں لے لیا۔ میں ان کا بچاؤ کر رہا تھا بلکہ اپنے آپ کو امیہ پر ڈال رہا تھا۔ مگر ہجوم کے سامنے میری کچھ پیش نہ گئی۔ ان لوگوں نے امیہ کو میرے نیچے سے نکال کر باپ اور بیٹے دونوں کو بیدردی سے قتل کردیا۔ مرنے سے پہلے امیہ نے ایسی دردناک چیخ ماری جیسی میں نے پہلے کبھی نہ سنی تھی۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ بلال رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے۔ جنگ بدر کے دن میری زرہیں بھی گئیں اور میرے قیدی کے بارے میں مجھے تڑپا بھی دیا۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد باب دعاء النبی علی المشرکین) ابو فکیہہ پر امیہ کے مظالم :۔ سیدنا ابو فکیہہ رضی اللہ عنہ، صفوان بن امیہ کے غلام تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ اسلام لائے۔ امیہ کو جب یہ معلوم ہوا تو ان کے پاؤں میں رسی باندھی اور لوگوں سے کہا : اسے گھسیٹتے ہوئے لے جائیں اور تپتی ہوئی زمین پر لٹا دیں۔ ایک 'گبریلا' راہ میں جارہا تھا۔ امیہ نے ان سے کہا۔ کیا یہی تو تیرا خدا نہیں؟ ابو فکیہہ نے جواب دیا ’’ میرا اور تمہارا دونوں کا خدا اللہ تعالیٰ ہے‘‘ اس پر امیہ نے اس زور سے ان کا گلا گھونٹا کہ لوگ سمجھے کہ دم نکل گیا۔ ایک دفعہ ان کے سینے پر اتنا بھاری پتھر رکھ دیا کہ زبان باہر نکل آئی۔ (سیرۃ النبی، ج ١ ص ٢٣٤) خباب بن ارت پر مظالم :۔ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بن ارت نہایت شریف الطبع انسان تھے اور قبیلہ بنو خزاعہ کی ایک عورت ام انمار کے غلام تھے۔ مشرکین ان کے سر کے بال نوچتے۔ سختی سے گردن مروڑتے۔ ایک دفعہ دہکتے کوئلوں پر آپ رضی اللہ عنہ کو چت لٹا دیا گیا اور ایک شخص چھاتی پر پاؤں رکھے کھڑا رہا۔ تاکہ کروٹ نہ بدل سکیں۔ یہاں تک کہ پشت کے نیچے کے کوئلے ٹھنڈے پڑگئے۔ خباب رضی اللہ عنہ نے مدتوں بعد یہ واقعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیا اور پیٹھ کھول کر دکھائی جو برص کے داغ کی طرح سفید ہوگئی تھی۔ (سیرۃ النبی، ج ١ ص ٢٣٢) کنیزوں پر مظالم :۔ عورتیں بھی ایسے مظالم سے بچ نہ سکیں۔ سیدہ لبینہ ایک کنیز تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے مارتے مارتے تھک جاتے تو کہتے کہ میں نے تمہیں رحم کھا کر نہیں بلکہ اس لئے چھوڑا ہے کہ میں تھک گیا ہوں اور ذرا دم لے لوں۔ وہ نہایت استقلال سے جواب دیتیں کہ اگر تم اسلام نہ لاؤ گے تو اللہ اس کا انتقام لے گا۔ (حوالہ ایضاً) سیدہ زنیرہ رضی اللہ عنہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے گھرانے کی کنیز تھیں۔ اس وجہ سے وہ اسے بہت تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ ابو جہل نے انہیں اس قدر مارا کہ ان کی آنکھیں جاتی رہیں۔ اسی طرح نہدیہ اور ام عبیس دونوں کنیزیں تھیں اور اسلام لانے کے جرم میں سخت مصیبتیں جھیلتی رہیں۔ (سیرۃ النبی، ج ١ ص ٢٣٢) سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر مظالم :۔ اگرچہ مسلمانوں پر مشرکین کے مظالم و شدائد کا اصل ہدف لونڈی غلام قسم کے لوگ تھے تاہم آزاد اور معزز مسلمانوں پر مظالم کی فہرست بھی خاصی طویل ہے۔ سب سے زیادہ مظالم تو انبیاء پر ہی ڈھائے جاتے ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مظالم کا قصہ دوسرے کئی مقامات پر مذکور ہے۔ یہاں ہم صحابہ پر مظالم کے چند واقعات مختصراً ذکر کریں گے۔ ان میں سرفہرست تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو لیجئے۔ آپ کا جس قدر مکہ میں اثر و رسوخ تھا اس کا کچھ ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ آپ نے کئی مسلمان غلاموں اور لونڈیوں کو خرید کر انہیں مشرکین کے مظالم سے نجات دلائی تھی۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ (جو ہجرت نبوی کے موقعہ پر آپ کے ساتھ تھے) لبینہ، زنیرہ، نہدیہ اور ام عبیس رضی اللہ عنهن کو آپ نے مالکوں کی منہ مانگی قیمت دے کر آزاد کردیا تھا۔ اور ان ایام میں آپ کے آزاد کردہ لونڈی، غلاموں کی تعداد سترہ تک پہنچ گئی تھی لیکن ان کا اپنا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ قریش نے آپ کو بری طرح مارا۔ عتبہ بن ربیعہ نے آپ کو دو پیوند لگے جوتوں سے اس قدر مارا کہ چہرہ اور ناک کا پتا نہیں چلتا تھا۔ ان کے قبیلے بنوتمیم کے لوگ انہیں کپڑے میں لپیٹ کر گھر لے گئے ان کا یہی خیال تھا کہ اب زندہ نہ بچیں گے۔ کچھ دیر بعد انہیں ہوش آیا تو پہلی بات جو آپ نے زبان سے نکالی یہ تھی کہ اللہ کے رسول کس حال میں ہیں؟ اور جب تک انہیں ان کی خیریت معلوم نہ ہوئی انہوں نے کھانے پینے سے بھی انکار کردیا اور اپنی ماں کو اس بات پر مجبور کردیا کہ جیسے بھی بن پڑے وہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں لے چلے۔ چنانچہ ان کی ماں انہیں آپ کے پاس لے گئیں اور جب ان کو معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول بخیرو عافیت ہیں، تب جاکر انہوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ (البدایہ والنہایہ، ٣: ٣٠) قریش مکہ کی ایسی ہی سختیوں سے تنگ آکر آپ رضی اللہ عنہ بھی حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے اور برک غماد تک جا بھی پہنچے تھے کہ قبیلہ قارہ کا سردار ابن دغنہ انہیں اپنی پناہ میں لے کر واپس مکہ لے آیا۔ (بخاری۔ کتاب احادیث الانبیاء۔ باب ہجرۃ النبی ) سیدنا عمر کا گھر میں محصور ہونا :۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے بہادر شخص کا یہ حال تھا کہ جب مشرکوں میں ان کے ایمان کی خبر پھیل گئی تو انہوں نے آپ کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور آپ کو اپنی جان کا خطرہ لاحق ہوگیا اور آپ اپنے ہی گھر میں محصور ہوگئے۔ آخر عاص بن وائل سہمی نے، جو آپ کے قبیلہ کا حلیف تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنی پناہ میں لے کر ہجوم کو منتشر کردیا۔ (بخاری، کتاب المناقب، باب اسلام عمر بن الخطاب) سیدنا عثمان غنی بن عفان رضی اللہ عنہ صاحب عزوجاہ تھے مگر جب اسلام لائے تو ان کے چچا نے انہیں باندھ کر مارا تھا۔ (طبقات ترجمہ عثمان بن عفان) سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی بھی تھے اور بہنوئی بھی۔ بہن اور بہنوئی دونوں اسلام لے آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جو ان کے بہت بعد اسلام لائے، ان دونوں کو رسیوں سے باندھ کر مارا کرتے تھے۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب اسلام سعید بن زیدرضي الله عنه) دوسرے آزاد مسلمانوں پر اکفر کے مظالم :۔ سیدنا ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے کے بعد کعبہ میں کلمہ شہادت پکارا تو اس جرم میں ان کی دو بار پٹائی ہوئی۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ انہیں مشرکوں سے چھڑاتے رہے ان کا قصہ تفصیل سے سورۃ انفال کے حاشیہ نمبر ٢٦ میں مذکور ہے۔ سیدنا زبیر بن عوام کا مسلمان ہونے والوں میں پانچواں نمبر تھا۔ جب اسلام لائے تو ان کے چچا ان کو چٹائی میں لپیٹ کر ان کی ناک میں دھواں دیتے تھے۔ (سیرۃ النبی، ج ١ ص ٢٣٥) سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو انکی ماں نے ان کا دانہ پانی بند کردیا اور گھر سے باہر نکال دیا۔ (رحمۃ للعالمین ١: ٥٨) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو آپ نے ارادہ کیا کہ کعبہ میں جاکر قرآن کریم بلند آواز سے پڑھیں۔ لوگوں نے منع کیا۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ باز نہ آئے اور مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر بلند آواز سے سورۃ الرحمن کی تلاوت شروع کردی۔ قریش رحمان کے لفظ سے ہی چڑ گئے۔ ہر طرف سے آپ پر پل پڑے اور آپ کے منہ پر طمانچے مارنا شروع کردئے۔ آپ مار کھاتے رہے لیکن جہاں تک پڑھنا چاہتے تھے پڑھ کر دم لیا۔ (طبری، ج ٣ ص ١١٨٨) حبشہ کی طرف ہجرت :۔ غرض کوئی بھی مسلمان خواہ وہ کیسے عزوجاہ کا مالک تھا، مشرکین مکہ کے جورو ستم سے محفوظ نہ رہ سکا۔ اس طرح جب مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا تو آپ نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ پہلی دفعہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی سر کردگی میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے ہجرت کی۔ عورتوں میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیوی یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں۔ اس موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بعد یہ پہلا جوڑا ہے جو اللہ کی راہ میں ہجرت کے لئے نکلا۔ (رحمۃ للعالمین، ج ٢ باب بنات النبی) ہجرت حبشہ کا ذکر سورۃ مائدہ کے حاشیہ نمبر ١٣٩ میں تفصیل سے مذکور ہے۔ ہجرت حبشہ کے بعد بھی کفار کے تشدد کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ بلکہ کفار کی طرف سے تشدد اور مسلمانوں کی طرف سے صبر و برداشت اور ہاتھ نہ اٹھانے کا یہ مرحلہ پورے مکی دور میں یعنی تیرہ سال پر محیط ہے۔ جس میں مسلمانوں کو نماز اور زکوٰۃ کے ذریعہ اپنے نفوس کا تزکیہ کرنے، مصائب پر صبر کرنے، اپنے قائد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل طور پر اطاعت کرنے کی تربیت دی جارہی تھی۔ کئی مسلمانوں نے جان کا نذرانہ پیش کردیا مگر نہ زبان سے کسی کو برا بھلا کہا اور نہ ہاتھ اٹھائے۔ حالانکہ موت کے وقت تو آقائی اور غلامی کے سب امتیازات اٹھ جاتے ہیں اور مرنے والا یہ چاہتا ہے کہ اسے مرنا ہی ہے تو دو چار کو مار کر مرے۔ بلکہ بلی بھی جب عاجز ہوتی ہے تو شیر پر حملہ کردیتی ہے۔ یہ بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تربیت اور مسلمانوں کی طرف سے مکمل اطاعت کا ہی اثر تھا کہ اسلام کی انقلابی تحریک ناکام ہونے سے محفوظ رہی اور ترقی کے مراحل طے کرتی گئی۔ پھر جب مسلمانوں کو مدینہ میں آزاد فضا میسر ہوگئی تو ہاتھ اٹھانے کی اجازت بھی مل گئی۔[١٠٧] اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بات کہنے والے معاذ اللہ منافق تھے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہر قسم کے معاشرہ میں تمام لوگ ایک ہی جیسے جرأت والے نہیں ہوتے، کچھ ناتواں اور کم ہمت ہوتے ہیں اور پورے مومن ہونے کے باوجود ہر ایک کی استعداد الگ ہوتی ہے۔ کوئی کسی کام کے لیے زیادہ موزوں ہوتا ہے اور کوئی دوسرا کسی اور کام کے لیے۔ لہٰذا جن کمزور دل لوگوں نے یہ بات کہی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کی ڈھارس بندھاتے ہوئے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو بھی پامردی دکھانا چاہیے کیونکہ یہ دنیا کی زندگی اور اس کے مفادات تو چند روزہ ہیں لہٰذا انہیں آخرت پر نظر رکھنی چاہیے جو ہر لحاظ سے بہتر ہے اور اگر ان کا عمل تھوڑا بھی ہوا تب بھی انہیں اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ النسآء
78 [١٠٨] موت اپنے وقت پر ہی آئے گی اور آ کے رہے گی : یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا مسلمان تو درکنار کوئی کافر بھی انکار نہیں کرتا۔ یہاں اس حقیقت کے ذکر کا مقصود یہ ہے کہ اگر یہ کمزور دل مسلمان اس حقیقت کو ہر وقت سامنے رکھیں تو لڑائی سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ موت کا وقت بھی مقرر ہے اور جگہ بھی۔ لہٰذا اگر وہ تمہارا مقدر ہوچکی ہے تو گھر پر بھی یقیناً آ کے رہے گی اور اگر تمہاری زندگی ابھی باقی ہے تو پھر میدان جنگ میں بھی یقیناً موت نہیں آئے گی۔ اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ خطاب منافقین کو ہے جو جنگ احد میں شکست دیکھ کر اپنے بھائی بندوں سے کہتے تھے کہ اگر تم ہماری بات مان لیتے تو تمہارے عزیز اس لڑائی میں نہ مارے جاتے۔ اور یہ قول اس لحاظ سے درست معلوم ہوتا ہے کہ اسی آیت میں آگے منافقوں سے ہی خطاب ہے۔ [١٠٩] مصیبت کو رسول کی طرف منسوب کرنے والے :۔ یہ خطاب منافقوں سے ہے جس میں ان کے ساتھی یہود بھی شامل تھے۔ اگر انہیں کوئی راحت اور سکون کے لمحات میسر آتے اور خوشی نصیب ہوتی جیسے غلہ کی ارزانی یا جنگ میں مال غنیمت ہاتھ آتا تو اسے تو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہتے کہ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے اور اگر کوئی دکھ یا مصیبت پہنچے، تو پھر یہ الزام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر لگاتے اور کہتے کہ یہ آپ کی بے تدبیری یا غلط تدبیر کا نتیجہ ہے۔ جیسا کہ جنگ احد کے موقعہ پر شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اور خود اپنے آپ کو ہر طرح سے بری الذمہ قرار دیتے۔ اگر منافق یوں سمجھتے کہ اگر فتح ہوتی ہے تو وہ بھی آپ کی حسن تدبیر سے آپ کے ذریعہ اور آپ کی برکت سے ہوتی ہے تب بھی بات کسی حد تک درست بن جاتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فائدہ ہو یا نقصان سب کچھ اللہ کی ہی طرف سے ہوتا ہے اور یہ مسلمانوں کے عقیدہ کا ایک اہم جزو ہے اور اس پر واضح دلیل یہی آیت ہے۔ نیز فرمایا ﴿ وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ ﴾ (37: 96) اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور ان اعمال کو بھی جو تم کرتے ہو یعنی اگر فائدہ یا تکلیف کو اعمال ہی کا نتیجہ قرار دیا جائے تب بھی چونکہ تمہارے اعمال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے لہٰذا نفع و نقصان بھی اللہ ہی کی طرف سے ہوا۔ النسآء
79 [١١٠] اب اسی عقیدہ تقدیر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیے۔ اللہ کی مشیت کے علاوہ انسان کو قوت ارادہ اور اختیار بھی دیا گیا ہے اور خیر و شر کی دونوں راہیں بھی بتا دی گئی ہیں۔ اسی لحاظ سے انسان کو اس کے اعمال کا بدلہ ملتا ہے۔ (اگر انسان اچھے اعمال کرے تو اسے اس کا اچھا بدلہ مل جائے تو یہ خالصتاً اللہ کا فضل و احسان ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انسان پر سابقہ احسانات ہی اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے شکریہ کے طور پر وہ جتنی بھی اطاعت و عبادت کرے ان احسانات کا عوض نہیں بن سکتی۔ اب اگر اللہ تعالیٰ اس عبادت و اطاعت کی مزید جزا بھی عطا فرما دے تو اس لحاظ سے یہ محض اس کا فضل و احسان ہوا۔ اور نافرمانی اور گناہ کے کام کرے گا تو یہ اللہ تعالیٰ کے سابقہ احسانات کی انتہائی ناشکری ہوگی اور اسے اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے درج ذیل آیت میں واضح طور پر بیان فرما دیا ہے : ﴿لَیِٕنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَیِٕنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ ﴾ (14: 7) اگر تم نے شکر ادا کیا، تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو (یاد رکھو) میرا عذاب بڑا سخت ہے۔ اس لحاظ سے اگر انسان کو کوئی دکھ یا مصیبت آئے تو بسا اوقات اس کی اپنی اسی شامت اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اور خوشی اور فائدے کی بات تو محض اللہ کا فضل و احسان ہوتا ہے۔ [١١١] سب لوگوں سے مراد صرف دور نبوی کے لوگ ہی نہیں بلکہ تاقیامت آپ تمام اقوام عالم کے لیے رسول ہیں جیسا کہ بعض دوسری آیات سے بھی واضح ہوتا ہے۔ اگر تمام لوگ تا قیامت آپ ہی کی رسالت کی بات تسلیم نہ کریں تو بھی اس حقیقت پر اللہ کی شہادت بہت کافی ہے۔ النسآء
80 [١١٢] اس لیے کہ اللہ کے احکام کی اطاعت کا عملی نمونہ اللہ کا رسول ہی پیش کرسکتا ہے اور اس کے احکام کی حکمت اور منشا کو اس کا رسول ہی سب سے بہتر سمجھ سکتا ہے لہٰذا رسول کی اتباع اور اس کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہوگی۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی شخص رسول کے احکام سے اعراض کرتا ہے تو جبر و اکراہ سے اطاعت کرانا رسول کی ذمہ داری نہیں ہے۔ النسآء
81 [١١٣] یعنی منافقین آپ کے سامنے تو آپ کی اطاعت کا دم بھرتے ہیں اور آپ کی اور مسلمانوں کی خیر خواہی کی باتیں بھی کرتے ہیں۔ لیکن ان کے خفیہ مشورے ان باتوں سے بالکل الگ نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کی سوچ اور انداز فکر ہی مختلف ہوتا ہے۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ ان مسلمانوں کو کیسے نقصان پہنچایا جا سکتا ہے تاکہ ان کی قوت کمزور ہو اور ان سے پیچھا چھڑایا جا سکے یا انہیں مدینہ ہی سے نکال دیا جائے اور اس غرض کے لیے یہود مدینہ سے مشورے اور گٹھ جوڑ کرتے رہتے ہیں۔ سو آپ ان کی ایسی ناپاک سازشوں کی مطلق پروا نہ کیجئے۔ فقط اللہ پر بھروسہ رکھیے۔ اللہ تعالیٰ خود ان سے نمٹ لے گا۔ النسآء
82 [١١٤] قرآن میں اختلاف نہ ہونا ہی منزل من اللہ ہونے کی دلیل ہے :۔ منافقوں کی جن باتوں پر انہیں تنبیہ کی گئی ہے ان کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہیں قرآن کے منزل من اللہ ہونے میں بھی شک تھا۔ اس آیت میں اس شک کو دور کرنے کی عقلی دلیل پیش کی گئی ہے جو یہ ہے، کہ انسان کی حالت یہ ہے کہ بچپن میں اس کی عقل ناپختہ ہوتی ہے۔ جوانی میں قدرے ترقی کر جاتی ہے اور پختہ عمر میں عقل بھی پختہ ہوجاتی ہے اور اس کے ان تینوں ادوار کے کلام میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ پھر زندگی بھر اس کے نظریات بدلتے رہتے ہیں۔ بچپن میں خیالات و نظریات اور طرح کے ہوتے ہیں، جوانی میں اور طرح کے اور بڑھاپے میں اور طرح کے۔ پھر انسان جس شہر یا ملک میں جاتا ہے تو وہاں کے معاشرتی ماحول کا اثر قبول کرلیتا ہے۔ پھر کبھی انسان غصہ کی حالت میں ہوتا ہے تو سب مخاطبوں کو دہشت زدہ بنا دیتا ہے۔ یہی افراط و تفریط کی کیفیت اس کے ہر قسم کے جذبات میں نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔ گویا اگر کسی بھی ایک انسان کے زندگی بھر کے کلام کا مجموعہ تیار کیا جائے تو اس میں سینکڑوں اختلافات اور تضادات آپ کو مل جائیں گے اس کے برعکس اب اللہ کے کلام پر نظر ڈالیے جو ٢٣ سال تک مختلف اوقات اور مختلف پس مناظر اور مختلف مواقع پر نازل ہوتا رہا۔ جو آخر میں ترتیب پا کر ایک مجموعہ بن گیا۔ اب دیکھیے ادبی لحاظ سے اس کی فصاحت و بلاغت میں کہیں کوئی فرق ہے؟ یا اس کے نظریات میں، اس کی اخلاقی اقدار کی تعیین میں کوئی اختلاف آپ دیکھتے ہیں؟ یا ایسی صورت ہے کہ مثلاً اگر یہود پر عتاب نازل ہوا ہو تو سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا گیا ہو۔ اور اس میں سے ان کے اچھے لوگوں کو مستثنیٰ نہ کیا گیا ہو۔ اور ان کی خوبیاں الگ بیان نہ کردی گئی ہوں؟ غرض جتنے بھی پہلو آپ سامنے لائیں گے آپ اسی نتیجہ پر پہنچیں گے کہ یہ انسان کا کلام نہیں ہوسکتا اور اس کو نازل کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہوسکتا ہے۔ سرسری نظر دیکھنے سے اگرچہ قرآن میں کچھ اختلافات نظر آتے ہیں لیکن اس کی وجہ عدم رسوخ یا قرآن کے جملہ مضامین پر پوری طرح مطلع نہ ہونا ہوتا ہے اور اس قسم کے اختلافات کا جواب بھی قرآن ہی سے مل جاتا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے : قرآن میں اختلاف معلوم ہو تو اس کی وجہ نافہمی ہے۔ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں تو قرآن میں کئی اختلافات کی باتیں پاتا ہوں۔ مثلاً ١۔ ایک آیت میں ہے ﴿فَلَآ اَنْسَابَ بَیْنَہُمْ یَوْمَیِٕذٍ وَّلَا یَتَسَاۗءَلُوْنَ﴾ (قیامت کے دن ان میں کوئی رشتہ حائل نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے) اور دوسرے مقام پر ہے ﴿ وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَاۗءَلُوْنَ﴾ )ان میں سے کچھ ان کے سامنے آ کر ایک دوسرے سے سوال کریں گے) ٢۔ ایک آیت میں ہے ﴿وَلَا یَکْتُمُوْنَ اللّٰہَ حَدِیْثًا ﴾ (وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے) اور دوسری آیت میں ہے کہ قیامت کے دن مشرکین کہیں گے ﴿وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ ﴾(اللہ کی قسم! ہم شرک نہیں کیا کرتے تھے) گویا وہ اصل بات چھپائیں گے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ فرمایا ﴿ ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ ۭ بَنٰیہَا .... دحٰها﴾ تک۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی پیدائش زمین سے پہلے ہوئی اور سورۃ حٰم السجدہ میں فرمایا ﴿ قُلْ اَیِٕنَّکُمْ لَتَکْفُرُوْنَ بالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَہٗٓ اَنْدَادًا ۭذٰلِکَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ﴾ اس سے یہ معلوم ہوا کہ زمین آسمان سے پہلے پیدا ہوئی۔ ٤۔ نیز فرمایا ﴿وَکَان اللّٰہُ غَفُوْراً رَّحِیْماً۔۔ عَزِیْزاً حَکِیْماً۔۔ سَمِیْعاً بَصِیْراً﴾ ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان صفات سے زمانہ ماضی میں موصوف تھا مگر اب نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سوالوں کے جواب میں فرمایا : ١۔ ﴿فَلَآ اَنْسَابَ بَیْنَہُمْ﴾ میں اس وقت کا ذکر ہے جب پہلی دفعہ صور پھونکا جائے گا اور آسمان و زمین والے سب بے ہوش ہوجائیں گے اس وقت نہ کوئی رشتہ ناطہ رہے گا اور نہ ایک دوسرے سے کچھ بھی پوچھنے کا ہوش ہوگا۔ اور دوسری آیت میں جو ایک دوسرے سے سوال کرنے کا ذکر ہے یہ دوسرے نفخۂ صور کے بعد ہوگا۔ ٢۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ اخلاص والوں (موحدین) کے گناہ بخش دے گا تو مشرک آپس میں صلاح کریں گے کہ چلو ہم بھی جا کر کہہ دیتے ہیں کہ ’’ہم مشرک نہیں تھے‘‘ تو اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں بولنا شروع کردیں گے اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائی نہیں جا سکتی۔ یہی وہ وقت ہوگا کہ جب کافر یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ (دنیا میں) مسلمان ہوتے۔ ٣ آسمان اور زمین کی تخلیق میں ترتیب :۔ اللہ تعالیٰ نے (پہلے) زمین کو دو دن میں پیدا کیا۔ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو اگلے دو دنوں میں ان کو (سات آسمان) بنایا۔ اس کے بعد زمین کو پھیلایا اور زمین کا پھیلانا یہ ہے کہ اس سے پانی نکالا، گھاس، چارہ پیدا کیا۔ پہاڑ، جانور اور ٹیلے وغیرہ اگلے دو دنوں میں بنائے۔ اس طرح زمین و آسمان کی پیدائش چھ دنوں میں مکمل ہوئی اور چار دن (دو ابتدائی، دو آخری) زمین کی پیدائش اور اسے سنوارنے میں لگے۔ ٤۔ 'کَانَ ' کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفات ازلی ہیں اور یہ سب اس کے نام ہیں یعنی وہ ہمیشہ سے ان صفات کا ملک ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ جو چاہے وہ کرسکتا ہے۔۔ گویا اب کوئی اختلاف نہ رہا۔ اور ہو بھی کیسے سکتا ہے جبکہ یہ سارا قرآن اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے (بخاری، کتاب التفسیر سورۃ حٰم السجدہ) النسآء
83 [١١٥] افواہوں کی تخلیق کا حکم :۔ غزوہ احد اور غزوہ خندق کا درمیانی دور مسلمانوں کے لیے ابتلا کا دور تھا جبکہ غزوہ احد میں ایک دفعہ مسلمانوں کی شکست کی وجہ سے یہودیوں، مشرکوں، قریش مکہ اور قبائل عرب، غرض سب اسلام دشمن طاقتوں کے حوصلے بڑھے ہوئے تھے اور مدینہ پر ہر طرف ایک ہنگامی قسم کی فضا چھائی ہوئی تھی اس صورتحال سے اسلام دشمن لوگ خوب فائدہ اٹھاتے اور کبھی تو مسلمانوں کو مرعوب اور دہشت زدہ بنانے کے لیے ایسی افواہیں پھیلا دیتے کہ فلاں مقام پر مسلمانوں کے خلاف بڑا بھاری لشکر جمع ہوچکا ہے اور عنقریب وہ مدینہ پر چڑھائی کرنے والا ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا کہ خطرہ کی بات فی الواقع موجود ہوتی لیکن غلط بیانی اور افواہوں کی بنا پر مسلمانوں کو غافل رکھا جاتا۔ اور یہ بات صرف منافقوں یا یہودیوں تک ہی محدود نہ تھی۔ یا اس کی وجہ محض اسلام دشمنی ہی نہ ہوتی تھی بلکہ بعض لوگ ازراہ دلچسپی ایسی افواہوں کے پھیلانے میں حصہ دار بن جاتے تھے۔ اسی سلسلہ میں مسلمانوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ وہ ایسی افواہوں میں ہرگز حصہ دار نہ بنیں بلکہ اگر کوئی افواہیں سن پائیں تو اسے حکام بالا تک پہنچا دیں تاکہ وہ صورتحال کی تحقیق کرسکیں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے اگرچہ اس آیت کی وہی تشریح مناسب معلوم ہوتی ہے جو اوپر کردی گئی ہے۔ تاہم اس کا حکم عام ہے اور ہر موقعہ پر افواہوں کے بارے میں یہی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس آیت کا شان نزول بالکل الگ بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ لوگ مسجد نبوی کے صحن میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے اور جب میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر اس کی تحقیق کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ آپ نے طلاق نہیں دی۔ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی۔ (مسلم، کتاب الطلاق۔ باب فی الایلاء) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کی یہی دلیل کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے‘‘ (مسلم، مقدمہ، باب النھی عن الحدیث بکل ماسمع ) [١١٦] یعنی اگر اللہ تعالیٰ تمہیں ایسی ہدایات وقت پر نہ دیتا تو تم افواہوں کی رو میں بہہ جاتے اور دینی اور دنیوی دونوں لحاظ سے نقصان اٹھاتے۔ ضمناً اس سے یہ معلوم ہوا کہ افواہوں کی تحقیق کیے بغیر انہیں آگے بیان کردینا شیطان کی اطاعت ہے جس سے طرح طرح کے فتنے رونما ہو سکتے ہیں۔ النسآء
84 [١١٧] یعنی اگر آپ ہر وقت اللہ کی راہ میں لڑنے کو تیار رہیں گے اور مسلمانوں کو بھی ترغیب دیتے رہیں گے تو مسلمان یقیناً آپ کے ساتھ مل کر جہاد پر کمر بستہ ہوجائیں گے۔ جس کا اثر یہ ہوگا کہ دشمن آپ کی حرکات اور سکنات دیکھ کر خود ہی لڑائی کے ارادہ سے رک جائے گا اور اگر ایسا نہ ہوا اور انہوں نے حملہ کی ٹھان لی تو اللہ ان سے نمٹنے پر قادر ہے اور انہیں خوب سزا دے سکتا ہے (جیسا کہ جنگ خندق میں فی الواقع ہوا تھا) بہرحال آپ کو جہاد کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہنا چاہیے۔ النسآء
85 [١١٨] یہاں ربط مضمون کے لحاظ سے اچھی سفارش سے مراد یہ ہے کہ جو شخص مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دے گا اس کے جہاد میں اس کا بھی حصہ ہوگا اور جو منافق حوصلہ شکنی کرتے ہیں تو اس صورت میں ان کا بھی حصہ ہے تاہم اس کا حکم عام ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے : سفارش کرنے والے کا اجر :۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی سائل آتا یا آپ سے کسی چیز کا سوال کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے فرماتے ’’تم سفارش کرو اس کا تمہیں ثواب ملے گا اور اللہ جو چاہتا ہے اسے نبی کی زبان سے جاری کرا دیتا ہے یا فیصلہ کرا دیتا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب التحریض علی الصدقۃ و الشفاعۃ فیہا۔۔۔ مسلم، کتاب البر والصلۃ والادب۔ باب استحباب الشفاعہ فیما لیس بحرام) اسی طرح اگر کوئی شخص چور کی سفارش کر کے اسے چھڑاتا ہے جو پھر چوریاں کرتا ہے تو سفارش کرنے والے کو بھی اس کے گناہ سے حصہ ملتا رہے گا۔ النسآء
86 [١١٩] جب کوئی شخص دوسرے کو سلام کہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے سلامتی کی دعا کرتا ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے آپس میں سلام کہنا نہایت پسندیدہ عمل ہے کیونکہ اس سے اسلامی معاشرہ میں اخوت پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ اس بارے میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ''بہتر اسلام کونسا ہے؟'' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یہ کہ تم (دوسروں کو) کھانا کھلاؤ اور اسے بھی سلام کرو جسے تم جانتے ہو اور اسے بھی جسے تم نہیں جانتے‘‘ (بخاری، کتاب الایمان، باب اطعام الطعام من الاسلام۔ الاستیذان، باب السلام للمعرفۃ و غیر المعرفۃ) ٢۔ سلام کے آداب :۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا ''السلام علیکم'' تو آپ نے فرمایا ''دس'' (یعنی اس کے لیے دس نیکیاں ہیں) پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا ''السلام علیکم و رحمۃ اللہ '' تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''بیس'' پھر ایک اور آدمی آیا اس نے کہا ''السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ'' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''تیس'' (ترمذی۔ ابو اب الاستیذان، باب فضل السلام) ٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو ملے تو اسے سلام کہے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان کوئی درخت، دیوار یا پتھر آ جائے۔ پھر اس سے ملاقات کرے تو پھر سلام کہے۔‘‘ (ابو داؤد، کتاب الادب۔ باب فی الرجل یفارق الرجل ثم یلقاہ ایسلم علیہ) ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’چھوٹا بڑے کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے۔ تھوڑے آدمی زیادہ کو سلام کریں۔ سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے اور چلنے والا کھڑے کو سلام کرے۔‘‘ (بخاری، کتاب الاستیذان باب تسلیم الصغیر علی الکبیر۔۔ مسلم، کتاب السلام، باب یسلم الراکب علی الماشی۔۔ ترمذی، ابو اب الاستیذان) ٥۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ چند یہودی آپ کے پاس آئے اور کہا ''السام علیک'' (تجھے موت آئے) میں سمجھ گئی وہ کیا کہہ رہے ہیں، تو میں نے کہا ''علیکم السام واللعنہ '' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ٹھہرو عائشہ ! اللہ ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے سنا نہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں نے وعلیکم تو کہہ دیا تھا‘‘ (بخاری، کتاب الاستیذان، باب کیف الرد علی اھل الذمۃ السلام۔ مسلم، کتاب السلام، باب النہی عن ابتداء اہل الکتاب بالسلام و کیف یردعلیھم) ٦۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’لوگوں میں سے اللہ سے زیادہ قریب وہ ہے جو ان میں سے پہلے سلام کرتا ہے۔‘‘ (ابو داؤد، کتاب الادب، باب فضل من بدأ بالسلام) ٧۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب کوئی مجلس میں آئے تو سلام کہے اور جب جانے لگے تو بھی سلام کہے اور یہ دونوں سلام ایک ہی جیسے ضروری ہیں‘‘ (ابو داؤد، کتاب الادب۔ باب فی السلام اذاقام من المجلس) النسآء
87 [١٢٠] وہ سچی بات یہ ہے کہ قیامت یقیناً آ کے رہے گی۔ اس دن تمام قسم کے لوگ منافقین بھی، مشرکین بھی اور مسلمان بھی سب اللہ کے حضور اکٹھے کر کے لائے جائیں گے اور ان سب کا پورا پورا محاسبہ کیا جائے گا۔ نیز سچی بات یہ ہے کہ اسلام دشمن عناصر جتنی بھی کوششیں کرسکتے ہیں کر دیکھیں نہ وہ اسلام کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں نہ اللہ کے قانون کو بدل سکتے ہیں۔ النسآء
88 [١٢١] منافقوں کے بارے میں دو گروہ :۔ اس آیت کا شان نزول درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے : زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کی طرف نکلے تو کچھ لوگ (منافقین) آپ کو چھوڑ کر مدینہ واپس آ گئے۔ ان واپس ہونے والوں کے بارے میں صحابہ کے دو گروہ ہوگئے۔ ایک کہتا تھا کہ ہم ان سے (بھی) لڑائی کریں گے اور دوسرا کہتا تھا کہ ہم ان سے لڑائی نہ کریں گے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری، کتاب التفسیر، نیز کتاب المغازی، باب غزوہ احد۔۔ مسلم، کتاب صفۃ المنافقین) [١٢٢] یعنی ان منافقوں نے واپس جا کر اپنی منافقت کا ثبوت مہیا کردیا ہے۔ اب اگر تم یہ چاہو کہ ہمیں ان سے لڑائی نہ کرنی چاہیے شاید کہ وہ راہ راست پر آ جائیں تو یہ بات تمہارے بس میں نہیں۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ ایسے منافقین واجب القتل ہیں کیونکہ حقیقتاً ان کے ارادے یہ ہیں کہ تمہیں بھی اپنے جیسا بنا کے چھوڑیں۔ النسآء
89 [١٢٣] مدینہ کے پاس کے منافقین ان کی اقسام :۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ منافقوں کی ایک قسم ایسی بھی تھی جو مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ مسلمانوں سے خیر خواہی اور محبت کا اظہار ضرور کرتے تھے مگر عملی طور پر اپنے ہم وطن کافروں کا ساتھ دیتے تھے یا دینے پر مجبور تھے ان کے لیے معیار یہ مقرر کیا گیا کہ اگر وہ ہجرت کر کے تمہارے پاس مدینہ آ جائیں اور تمہارے ساتھ شامل ہوجائیں تو اس صورت میں تم انہیں سچا بھی سمجھو اور اپنا ہمدرد بھی۔ اور اگر وہ اسلام کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑنے کی قربانی دینے پر تیار نہیں حالانکہ وہ ایسا کرسکتے ہیں تو تم ان پر ہرگز اعتماد نہ کرو نہ انہیں اپنا دوست بناؤ اور نہ سمجھو اور اگر ایسے لوگ کافروں کے ساتھ تمہارے خلاف صف بستہ ہوجاتے ہیں تو انہیں قتل کرنے سے ہرگز دریغ نہ کرو۔ النسآء
90 [١٢٤] کن لوگوں سے جنگ جائز نہیں :۔ البتہ اس حکم قتل سے دو قسم کے لوگ مستثنیٰ ہیں۔ ایک وہ لوگ جو کسی ایسی قوم میں چلے جائیں جن سے تمہارا معاہدہ ہوچکا ہے کہ وہ اتنی مدت تک مسلمانوں سے جنگ نہ کریں گے تو ان کا تعاقب نہیں کیا جائے گا (جیسا کہ صلح حدیبیہ کے دوران کفار مکہ سے معاہدہ ہوا تھا) یا ایسے منافق بھی مستثنیٰ ہیں جو فی الحقیقت غیر جانبدار رہنا چاہتے ہیں۔ نہ وہ اپنی قوم سے تمہارے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے ہیں اور نہ ان کے ساتھ مل کر تم سے لڑنا چاہتے ہیں۔ خواہ وہ اپنی قوم کے ساتھ مل کر آ ہی گئے ہوں۔ مگر مسلمانوں کے خلاف لڑنے سے دل میں تنگی محسوس کر رہے ہوں جیسے میدان بدر میں مشرکین کے ساتھ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور بنی ہاشم کے کئی لوگ آ تو گئے تھے مگر لڑائی کے وقت علیحدہ رہے۔ [١٢٥] یعنی اگر ایسے لوگ مسلمانوں کے ساتھ لڑنے سے دل برداشتہ نہ ہوتے اور کفار کا ساتھ دے کر ان کی قوت بڑھاتے تو ممکن ہے یہی لوگ تم پر غالب آ جاتے۔ لہٰذا جو منافقین یا دوسرے لوگ امن پسند ہیں لڑائی سے گریز کرتے ہیں۔ تمہاری راہ میں حائل بھی نہیں ہوتے یا صلح کرنے پر آمادہ ہیں تو ایسے لوگوں سے تمہیں تعرض نہ کرنا چاہیے۔ النسآء
91 [١٢٦] بدترین منافق :۔ ایسے منافق بدترین قسم کے منافق ہیں جو ڈھنڈورا تو اپنی امن پسندی کا پیٹیں اور جب داؤ لگ جائے تو اسلام دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ ان کی امن پسندی کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں سے صلح کرلیں۔ دوسرے یہ کہ لشکر کفار میں شامل نہ ہوں۔ اور تیسرے یہ کہ اگر انہیں مجبوراً شامل ہونا ہی پڑے تو پھر اپنے ہاتھ روکے رکھیں یعنی عملاً لڑائی میں شامل نہ ہوں۔ اور اگر یہ تینوں باتیں نہ پائی جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی نیت میں فتور ہے اور وہ امن پسندی کی آڑ میں دھوکہ دے کر مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں لہٰذا ایسے منافقوں کا علاج یہ ہے کہ جب بھی موقع ملے سب سے پہلے انہیں قتل کر کے ختم کرو۔ دوسرے کافروں سے جنگ بعد میں کرو۔ النسآء
92 [١٢٧] قتل خطا کی صورتیں اور کفارہ :۔ اس آیت میں قتل خطا کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ قتل خطا کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں مثلاً تیر یا پتھر مارا تو شکار کو تھا لیکن وہ کسی مسلمان کو لگ گیا اور وہ مر گیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ماری تو کوئی چیز عمداً ہی تھی مگر مارنے والے کو ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ اس ہلکی سی ضرب سے مر ہی جائے گا۔ تیسری یہ کہ لڑائی وغیرہ کسی ہنگامے میں کسی مسلمان کو کافر سمجھ کر مار ڈالے۔ جیسا کہ جنگ احد میں شکست کے بعد مسلمانوں نے بدحواسی کے عالم میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے والد سیدنا یمان رضی اللہ عنہ کو کافر سمجھ کر مار ڈالا تھا۔ حالانکہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہی رہے کہ یہ تو میرے والد ہیں مگر اس افراتفری کے عالم میں کسی نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی آواز کو سنا ہی نہ تھا۔ اور چوتھی صورت جو آج کل بہت عام ہے، یہ کہ ٹریفک کے حادثہ میں کسی گاڑی کے نیچے آ کر، یا اس کی ضرب سے مارا جائے۔۔ قتل خطا کے احکام یا اس کے کفارہ کی صورتیں یہ ہیں : ١۔ اگر مقتول کے وارث مسلمان ہیں تو ایک غلام مومن (خواہ مرد ہو یا عورت) آزاد کرنا ہوگا اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا بھی ادا کرنا ہوگا۔ خون بہا یا دیت سو اونٹ یا ان کی قیمت کے برابر رقم ہے۔ جو قاتل کے وارث مقتول کے وارثوں کو ادا کریں گے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ادائیگی دیت کی زیادہ سے زیادہ مدت تین سال تک ہے اور یہ دیت مقتول کے وارث چاہیں تو معاف بھی کرسکتے ہیں۔ اور اگر قاتل کو (آزاد کرنے کے لیے) غلام میسر نہ آئے تو وہ متواتر دو ماہ روزے بھی رکھے گا۔ واضح رہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد جنگ احد میں اجتماعی صورت میں کئی مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوئے جنہیں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے علی الاعلان معاف کردیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل احد کی خطائیں معاف کردی تھیں لہٰذا وہاں کفارے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ ٢۔ اگر مقتول تو مومن ہو مگر دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہو تو اس کا کفارہ صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا ہے۔ اور اگر میسر نہ آئے تو دو ماہ کے متواتر روزے ہیں اور اس کی دیت نہ ہوگی۔ ٣۔ اور اگر مومن مقتول کا تعلق کسی معاہد قوم سے ہو تو اس کے وہی احکام ہیں جو پہلی صورت کے ہیں۔ النسآء
93 [١٢٨] قتل خطا کے کفارے کی مختلف صورتیں اور توبہ کا طریقہ تو بیان کردیا گیا مگر کسی مومن کا قتل عمدً انتہائی شدید جرم ہے جس کا اس دنیا میں کفارہ ممکن ہی نہیں۔ قتل ناحق کسی غیر مسلم کا ہو تو وہ بھی شدید جرم ہے پھر اگر مومن کا ہو تو مزید شدید جرم بن جاتا ہے۔ نیز جرم بیان کرنے کے بعد اللہ کا غضب اور اس کی لعنت کے الفاظ سے اس جرم کی شدت واضح ہوجاتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ ایسے مجرم کی توبہ بھی قبول ہے یا نہیں؟ تو اگرچہ اس میں علماء کا اختلاف موجود ہے تاہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسی بات کے قائل ہیں کہ ایسے مجرم کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے جہاں یہ بات واضح ہوتی ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنا بڑا جرم ہے۔ ١۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے خطبہ حجۃ الوداع) میں فرمایا ’’اللہ نے تم پر ایک دوسرے کے خون، مال اور آبرو اسی طرح حرام کردی ہیں جس طرح تمہارے اس دن (یوم النحر) کی تمہارے اس شہر (مکہ) کی اور تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) کی حرمت ہے۔‘‘ نیز فرمایا کہ ’’میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ بن جانا۔‘‘ (بخاری، کتاب الحدود۔ باب ظہر المومن حمی الافی حد او فی حق) ٢۔ قتل ناحق اور قتل عمد :۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں۔‘‘ میں نے کہا ’’اے اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل تھا، مقتول کا کیا قصور‘‘فرمایا ’’اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل کے درپے تھا۔‘‘ (بخاری، کتاب الدیات۔ باب قول اللہ و من احیاھا ) ٣۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تین آدمیوں پر اللہ (قیامت کے دن) سب سے زیادہ غضب ناک ہوگا۔ (١) حرم میں الحاد کرنے والا، (٢) اسلام میں طریقہ جاہلیت کا متلاشی اور (٣) ناحق کسی کا خون بہانے کا طالب۔‘‘ (بخاری، کتاب الدیات۔ باب من طلب دم امری بغیر حق) ٤۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’قیامت کے دن قاتل کی پیشانی کے بال اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوگا اور اس کے گلے کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا اور اللہ سے فریاد کرے گا کہ اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا یہاں تک کہ عرش کے قریب لے جائے گا۔ راوی کہتا ہے کہ لوگوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہی آیت پڑھی اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہے اور نہ بدلی گئی۔ پھر اس کی توبہ کیسے قبول ہو سکتی ہے؟‘‘ (ترمذی، ابو اب التفسیر) ٥۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ آیت اخیر زمانہ میں نازل ہوئی (لہٰذا محکم ہے) اسے کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا۔ (بخاری، کتاب التفسیر) النسآء
94 [١٢٩] جنگ کے دوران قتل خطا : ابتدائے اسلام میں ''السلام علیکم'' کا لفظ مسلمانوں کے لیے شعار اور فریقین کے مسلمان ہونے کی علامت سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس دور میں عرب کے نو مسلموں اور کافروں کے درمیان لباس، زبان یا کسی دوسری چیز میں نمایاں امتیاز نہ تھا جس کی بنا پر ایک مسلمان سرسری طور پر دوسرے مسلمان کو پہچان سکتا ہو لیکن کافروں سے لڑائی کے دوران یہ پیچیدگی پیش آ جاتی کہ جس قوم پر مسلمان حملہ آور ہوتے ان میں سے کوئی شخص السلام علیکم یا لا الہ الا اللہ کہنے لگتا جس سے مسلمانوں کو یہ مغالطہ ہوتا کہ وہ حقیقتاً مسلمان نہیں بلکہ محض اپنی جان بچانے کے لیے یہ کلمہ زبان سے ادا کر رہا ہے تو وہ اپنے اسی گمان کی بنا پر اسے قتل کردیتے اور اس کا مال لوٹ لیتے۔ چنانچہ درج ذیل احادیث میں اسی قسم کے دو واقعات کا ذکر ہے : ١۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص تھوڑی سی بکریاں لیے ہوئے مسلمانوں کو ملا اور السلام علیکم کہا۔ مسلمانوں نے اسے (بہانہ خور سمجھ کر) مار ڈالا۔ اور اس کی بکریاں لے لیں (اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کیا) اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ (بخاری، کتاب التفسیر) ٢۔ جنگ کے دوران کلمہ اسلام کہنے والے کافر کا قتل جرم عظیم ہے :۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حرقات (قبیلہ جہینہ) کی طرف بھیجا۔ ہم نے علی الصبح ان پر حملہ کیا اور انہیں شکست دی۔ اور میں اور ایک انصاری ان کے ایک آدمی سے ملے اور جب ہم نے اس پر قابو پا لیا تو اس نے لا الـٰہ الا اللہ کہا۔ اب انصاری تو اس سے رک گیا مگر میں نے نیزہ چلا دیا حتیٰ کہ وہ مر گیا۔ جب ہم واپس آئے تو یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا ’’اسامہ! کیا تو نے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد اسے قتل کیا ؟‘‘ میں نے کہا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس نے پناہ چاہنے کے لیے یہ کہا تھا‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ’’کیا تو نے اسے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کیا ؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ الفاظ کئی بار دہراتے رہے حتیٰ کہ میں نے خواہش کی کہ میں آج سے پہلے اسلام ہی نہ لایا ہوتا۔ (بخاری، کتاب الدیات۔ باب قول اللہ ومن احیاھا) ٣۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے (بنی ہدبہ کی جنگ میں) کافروں کو مارنا شروع کیا (حالانکہ وہ کہتے جاتے تھے کہ ہم نے دین بدلا ہم نے دین بدلا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ حال سنا تو فرمایا ’’یا اللہ ! میں خالد کے کام سے بیزار ہوں۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد، باب اذا قالوا صبانا ولم یحسنوا اسلمنا) اور بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعد میں ایسے مقتولوں کی دیت بھی بیت المال سے ادا کردی تھی۔ اور بعض دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ’’کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ محض اپنی جان بچانے کی خاطر لا الہ الا اللہ کہہ رہا ہے۔‘‘ ٤۔ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! بھلا دیکھیے اگر میں کسی کافر سے لڑائی کروں اور وہ مجھ سے لڑائی کرے اور اپنی تلوار سے میرا ایک ہاتھ کاٹ دے پھر مجھ سے بچ کر ایک درخت میں چلا جائے اور کہنے لگے میں اللہ کے لیے اسلام لایا تو اس کے یہ کہنے کے بعد میں اسے قتل کرسکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اسے مت قتل کر۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس نے میرا ہاتھ کاٹنے کے بعد ایسا کہا تھا۔ پھر بھی میں اسے قتل نہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے مت قتل کر اگرچہ تجھے اس سے تکلیف پہنچی۔ ورنہ وہ اس مقام پر آ جائے گا جو تیرے قتل کرنے سے پہلے تیرا مقام تھا (یعنی وہ ظالم تھا اور تم حق پر تھے) اور اگر تو نے کلمہ اسلام کہنے کے بعد اسے قتل کیا تو تم اس کے مقام پر آ جاؤ گے (یعنی تم ظالم اور وہ مظلوم ہوگا) (مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب تحریم قتل الکافر بعد قول لا الہ الا اللہ ) اس حدیث سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کے احکام ظاہر کے مطابق جاری ہوتے ہیں اور باطن کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ چونکہ ایسا گمان شرعی نقطہ نظر سے غلط ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے واقعہ کی پوری طرح چھان بین کا حکم دیا۔ تحقیق کے بغیر چھوڑ دینے میں اگر یہ امکان ہے کہ ایک کافر جھوٹ بول کر اپنی جان بچا لے تو قتل کرنے میں اس کا بھی امکان ہے کہ ایک بے گناہ مومن تمہارے ہاتھ سے مارا جائے اور تمہارا ایک کافر کو چھوڑ دینے میں غلطی کرنا اس سے بدرجہا بہتر ہے کہ تم ایک مومن کو قتل کرنے میں غلطی کرو۔ واضح رہے کہ آیت نمبر ٩٢ میں اللہ تعالیٰ نے کسی مومن کے قتل خطا کے احوال و ظروف کے لحاظ سے تین صورتیں اور ان کے کفارے کا یوں بیان فرمایا : ١۔ مسلمان مقتول مسلمانوں ہی میں موجود ہو۔ اس کا کفارہ مسلمان غلام آزاد کرنا ہے اور دیت بھی۔ غلام نہ ملنے کی صورت میں متواتر دو ماہ کے روزے۔ ٢۔ مسلمان مقتول جو غیر مسلموں میں رہتا ہو۔ اس کا کفارہ صرف مسلمان غلام آزاد کرنا یا متبادل صورت میں روزے رکھنا ہے اس کے وارثوں کو دیت نہیں دی جائے گی اس لیے کہ اس سے اسلام کے دشمنوں کو ہی فائدہ پہنچے گا۔ ٣۔ اور اگر مسلمان مقتول ایسے غیر مسلموں سے ہو جن کے درمیان معاہدہ امن ہوچکا ہو تو اس کا کفارہ وہی ہوگا جو نمبر (١) کی صورت میں ہے۔ اب دیکھئے ان تینوں صورتوں میں مسلمان غلام آزاد کرنا لازم قرار دیا گیا ہے وہ اس لیے کہ جس طرح اس نے بے احتیاطی سے ایک مسلمان کو مار ڈالا ہے تو اس کے کفارہ میں مسلمان غلام آزاد کرنے کا مطلب یہ ہوا، کہ مسلمان غلام کو آزاد کردینا گویا ایک مسلمان کو زندہ کردینے کے مترادف ہے کیونکہ غلامی انسان کی صفت ملکیت اور آزادی کو، جسے اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھا ہے اور یہی اس کی زندگی کا مقتضٰی ہے، زائل کرتی ہے اور اس کفارہ میں نوع انسان پر احسان بھی ہے۔ دوسری قابل وضاحت بات یہ ہے کہ قتل کی کل پانچ قسمیں ہیں : ١۔ قتل کی پانچ اقسام :۔ مسلمان کا قتل عمد۔ اس کی اخروی سزا یہاں مذکور ہوئی ہے اور دنیا میں اس کی سزا قصاص ہے یا اس کے متبادل دیت اور مقتول کے وارثوں کی طرف سے معافی وغیرہ جس کا ذکر سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ١٧٨، ١٧٩ کے حواشی نمبر ٢٢٢ تا ٢٢٥ میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ ٢۔ قتل خطا جبکہ خطا سمجھنے میں ہو جیسے کسی کو کافر سمجھ کر مار ڈالے جس کا بیان اوپر گزر چکا ہے۔ ٣۔ قتل خطا جبکہ خطا فعل میں ہو جیسے گولی یا تیر مارا تو کسی شکار کو تھا اور وہ لگ جائے کسی مسلمان کو جس سے اس کی موت واقع ہوجائے۔ ٤۔ قتل خطا جبکہ خطا اتفاقاً واقع ہوجائے جیسے کوئی آدمی گاڑی کے نیچے آ کر مر جائے۔ ٥۔ قتل شبہ عمد۔ یعنی کسی شخص کی ایسی چیز سے موت واقع ہوجائے جس سے عموماً موت واقع نہ ہوتی ہو جیسے کسی کو مکا یا چھڑی ماری جائے جس سے وہ مر جائے۔ ان پانچ صورتوں میں پہلی صورت کے سوا باقی سب قتل خطا کے ضمن میں آتی ہیں اور ان میں قصاص نہیں دیت ہوتی ہے جو قاتل کے ان رشتہ داروں پر پڑتی ہے جو اس کے نفع و نقصان میں شریک ہوتے اور جنہیں عاقلہ کہتے ہیں اور دیت کی ادائیگی کی زیادہ سے زیادہ مدت تین سال تک ہے۔ [١٣٠] قتل اور دوسرے جرائم کی تحقیق ضروری ہے خواہ سفر ہو یا حضر :۔ اس آیت میں تحقیق کا حکم سفر کے ساتھ اس لیے متعلق کیا گیا ہے کہ ایسا واقعہ سفر جہاد میں ہوا تھا ورنہ تحقیق کا حکم حضر میں بھی ایسے ہی ہے جیسے سفر میں۔ تحقیق کے بغیر کسی السلام علیکم کہنے والے کو جلدی سے قتل کردینے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کچھ لوٹ کا مال بھی ہاتھ لگ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارے لیے بہت سے ایسے مواقع پیش آنے والے ہیں جن سے اموال غنیمت تمہیں بکثرت حاصل ہوں گے لہٰذا لوٹ مار کی ہوس کی بنا پر ایسے کام ہرگز نہ کرو۔ [١٣١] ایک وقت وہ بھی تھا جب تم خود بھی کفار کے تشدد کی وجہ سے اپنے ایمان کو چھپایا کرتے تھے اور اپنا ایمان کسی دوسرے مسلمان پر صرف السلام علیکم کہہ کر ہی ظاہر کیا کرتے تھے اب اگر اللہ کی مہربانی سے تمہیں اسلامی ریاست میسر آ گئی ہے اور تم اسلامی شعائر بجا لانے میں آزاد ہو تو کم از کم تمہیں ایسے لوگوں کا ضرور احساس کرنا چاہیے جو تمہارے والی ہی سابقہ منزل سے گزر رہے ہیں۔ لہٰذا ایسے موقع پر تحقیق انتہائی ضروری ہے۔ النسآء
95 [١٣٢] اس آیت کے شان نزول کے بارے میں درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿ لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴾اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا انہوں نے یہ آیت لکھی۔ اتنے میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور شکوہ کیا کہ میں تو اندھا ہوں (میرا کیا قصور؟) اس وقت اللہ تعالیٰ نے غیر اولی الضرر کے الفاظ نازل فرمائے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) گویا اللہ تعالیٰ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بن ام مکتوم کے عذر کو قبول فرما لیا لیکن اس رخصت کے باوجود آپ کا جذبہ جہاد اتنا بلند تھا کہ نابینا ہونے کے باوجود آپ مشقت اٹھا کر بھی کئی غزوات میں شریک ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان جنگ بدر میں شریک ہوئے اور جو نہیں ہوئے یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ (حوالہ ایضاً) جہاد فرض عین نہیں :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جہاد فرض عین نہیں اور اس کے کئی پہلو ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ معاشرہ میں کئی افراد بوڑھے، ناتواں، کمزور، اندھے، لنگڑے، لولھے، بیمار وغیرہ ہوتے ہیں جو جہاد پر جا ہی نہیں سکتے۔ جیسا کہ حدیث بالا سے ظاہر ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ کچھ لوگ ملک کے اندرونی دفاع، مجاہدوں کے گھروں کی حفاظت، ان کے اہل و عیال کی دیکھ بھال کے لیے بھی ضرور پیچھے رہنے چاہئیں۔ اور اس لیے بھی کہ مجاہدین کو بروقت کمک مہیا کرتے رہیں، خواہ یہ رسد اور سامان خورد و نوش سے متعلق ہو یا افرادی قوت سے۔ پھر کچھ لوگ زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے بھی ضروری ہوتے ہیں اور ایسے سب لوگ بھی درجہ بدرجہ جہاد میں شامل سمجھے جاتے ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : جہاد سے معذور لوگ :۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک سے واپس ہوئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا ’’مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جب تم کوئی سفر کرتے ہو یا کوئی وادی طے کرتے ہو تو وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں‘‘ صحابہ کرام نے پوچھا ’’باوجود اس کے کہ وہ مدینہ میں ہوتے ہیں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہاں! یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کسی عذر نے روک لیا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب المغازی۔ باب غزوہ تبوک۔۔ مسلم۔ کتاب الامارۃ، باب ثواب من حبسہ عن الغزو مرض او عذر آخر) اور جہاد کے فرض عین نہ ہونے پر یہ آیت بھی دلالت کرتی ہے ﴿ وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَاۗفَّۃً ﴾ (9: 122)(مومنوں کے لیے ممکن ہی نہیں کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں) اور آج کل تو حکومتوں نے محکمہ دفاع ہی الگ بنا رکھا ہے۔ البتہ اگر ایک اسلامی حکومت جہاد کا اعلان کر کے عام لوگوں کو جہاد کے لیے کہے تو اس صورت میں عام لوگوں پر بھی جہاد فرض ہوجائے گا لیکن پھر بھی یہ فرض کفایہ ہی ہوگا۔ فرض عین نہیں ہوگا۔ تاہم جہاد ایک اہم فرض کفایہ ہے جس سے غفلت کا نتیجہ قوم کی موت کی صورت میں نکلتا ہے اور یہ تاقیامت جاری رہے گا۔ مجاہدین کے درجے :۔ دوسری بات جو اس آیت سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے والوں کے ہی دوسروں کی بہ نسبت درجات بلند ہوتے ہیں اور وہی اجر عظیم کے مستحق ہوتے ہیں۔ کیونکہ جان اور مال سے ہی انسان کو سب سے زیادہ محبت ہوتی ہے پھر جس نے اللہ کی راہ میں ان دونوں چیزوں کی قربانی دے دی اس سے بڑھ کر کس کا درجہ ہوسکتا ہے۔ چنانچہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا ’’لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد۔ باب افضل الناس مومن یجاہد بنفسہ ومالہ) اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کیا ہے اور ہر درجہ کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ ) صوفیاء کا جہاد اصغر اور جہاد اکبر کا نظریہ :۔ اس مقام پر ایک عوامی عقیدہ کا جائزہ لینا ضروری معلوم ہوتا ہے جس کا صوفیہ کے طبقہ نے ریاضت و مجاہدہ کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے خوب خوب پرچار کیا ہے اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ جہاد بالسیف جہاد اصغر ہے اور نفس سے جہاد کرنا جہاد اکبر ہے اور جہاد اصغر سے جہاد اکبر بہتر ہے۔ اس سلسلہ میں اس حدیث کا سہارا لیا جاتا ہے والْمُجَاھِدُ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہُ فِیْ طَاعَۃِ اللّٰہِ مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ اس حدیث میں فی طاعۃ اللہ کے الفاظ اس گمان باطل کو رد کرنے کے لیے کافی ہیں۔ کیونکہ ان کے ریاضت و مجاہدہ میں بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو صریحاً کتاب و سنت کے خلاف ہیں مثلاً ترک نکاح، چلے کاٹنا اور اپنے جسم کی تعذیب اور اسے مختلف طریقوں سے مضمحل کر کے کمزور بنانا وغیرہ اور حقیقت یہ ہے کہ ان کے ایسے کام مجاہدہ نفس نہیں بلکہ نفس کشی ہوتی ہے اور فی طاعۃ اللہ کے بجائے فی معصیۃ اللہ ہوتی ہے اور اللہ کی اطاعت اور اسلامی نقطہ نگاہ سے ان چیزوں کا دور کا بھی تعلق نہیں۔ یہ حدیث بیہقی نے شعب الایمان میں فضالہ سے روایت کی ہے کہ جس کے پورے الفاظ یہ ہیں ’’اور مجاہد وہ ہے جس نے اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کیا اور مہاجر وہ ہے جس نے چھوٹے اور بڑے گناہوں کو چھوڑا۔‘‘ ظاہر ہے کہ اس حدیث میں جہاد اور ہجرت کے اس پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے جس طرف ذہن عموماً منتقل نہیں ہوتا۔ بتایا یہ گیا ہے کہ جہاد اور ہجرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے۔ ورنہ جس طرح ہجرت وہی ہے جو مسلمانوں نے فتح مکہ سے پہلے کی ہے یا ایسے حالات میں مسلمان اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے کریں۔ اسی طرح جہاد حقیقتاً وہی ہے جسے جہاد بالسیف کہا جاتا ہے اور ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس آیت میں صوفیاء کے اس نظریہ کی پرزور تردید موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دوبارہ فرمایا کہ جو لوگ اپنی جانوں اور اپنے اموال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں وہ بیٹھنے والوں سے افضل ہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ نفس سے خواہ کوئی کس انداز سے مجاہدہ کرے وہ بیٹھنے والوں میں ہی شامل رہے گا۔ مجاہدین فی سبیل اللہ میں شامل نہیں ہو سکتا۔ علاوہ ازیں ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی بات صراحت سے ثابت ہوتی ہے کہ جہاد کو آپ نے افضل الاعمال قرار دیا ہے۔ صوفیاء نے اپنے اس نظریہ کو درست ثابت کرنے کے لیے ایک موضوع حدیث بھی گھڑ رکھی ہے جو یہ ہے کہ آپ نے ایک دفعہ جہاد سے واپسی پر فرمایا کہ رجعنا من الجھاد الا صغر الی الجھاد الاکبر ہم چھوٹے جہاد (یعنی جہاد بالسیف) سے بڑے جہاد (یعنی جہاد بالنفس) کی طرف لوٹ آئے ہیں۔ اس حدیث کے متعلق مولانا حسین احمد مدنی کہتے ہیں کہ صوفیاء اس کو حدیث کہتے ہیں لیکن امام عسقلانی کہتے ہیں کہ امام نسائی نے اسے ابراہیم بن عیلہ کا قول بتایا ہے۔ الفاظ کی رکاکت زبردست قرینہ ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں ہوسکتا اور نہ حدیث کی کتابوں میں شاہ عبدالعزیز جیسے معتبر محدث نے دیکھا ہے۔ ایسی احادیث کا فیصلہ محدثین کے اصول و قواعد کی رو سے کیا جائے گا بیچارے صوفیاء جن پر حسن ظن کا غلبہ رہتا ہے۔ ان حضرات کو تنقید و تفتیش کی فرصت کہاں؟ ان کے حسن ظن سے کسی قول کا حدیث رسول ہونا تو ثابت نہیں ہوجائے گا۔ (مکتوبات شیخ الاسلام ٣٠٧۔ ٣٠٨ بحوالہ اسلامی تصوف یوسف سلیم چشتی ١٢٣) صوفیہ کے اس نظریہ نے مسلمانوں کو جتنا نقصان پہنچایا شاید ہی کسی اور وجہ سے پہنچا ہو اس نظریہ نے مسلمانوں سے جہاد کی روح کو ختم کر کے دنیا میں ذلیل اور رسوا بنا دیا اور ایسے افعال سے مجاہدہ نفس شروع کیا جس سے انسانیت کو بھی شرم آنے لگے۔ دسویں صدی ہجری کے اواخر تک اس نظریہ نے مسلمانوں کو اس قدر مفلوج، کاہل اور بے فہم بنا دیا تھا کہ فرانسیسی فاتحین کے حملوں کا دفاع جامعہ ازہر میں بیٹھ کر اور اراد و وظائف کے ذریعے کر رہے تھے۔ نابلیوں کا انتخاب کر کے انہیں صوفیاء کی گودڑی پہنائی گئی اور اس کی رہنمائی میں ذکر و فکر کی مجالس قائم کی گئیں۔ بخاری شریف کا ختم بھی کرایا گیا۔ لیکن ان سب باتوں کا کچھ بھی فائدہ نہ ہوا اور مسلمان مار ہی کھاتے رہے۔ بالآخر جب مسلمان مجاہدین نے یورپ کی سرزمین میں لوگوں سے جنگیں کیں تب جا کر حالات نے پلٹا کھایا۔ (مقدمہ الفکرا لصوفی ٦) اس گوشہ نشینی کا جو اثر ان صوفیاء کی ذات پر مترتب ہوتا ہے وہ ابو بکر شبلی کی زبانی ملاحظہ فرمائیے۔ روایت ہے کہ کچھ عرصہ شبلی اپنے مقام سے غائب رہے۔ ہرچند تلاش کیا پتہ نہ چلا۔ ایک روز محفلوں کے گروہوں میں دیکھے گئے۔ لوگوں نے پوچھا اے شیخ! یہ کیا بات ہے؟ فرمایا : یہ گروہ (صوفیہ) دنیا میں نہ مرد ہیں نہ عورت۔ میں بھی اسی حالت میں گرفتار ہوں نہ مرد ہوں نہ عورت پس ناچار میری جگہ انہی میں ہے۔ (خزینۃ الاصفیاء ص ١٤٧) شیخ جنید کے مریدوں کا جہاد بالسیف :۔ شبلی کے پیر و مرشد جنید بغدادی کے مریدوں کو ایک دفعہ جہاد بالسیف کا شوق چرایا یہ داستان اس طرح ہے کہ شیخ جنید کے آٹھ مرید تھے جو سب کے سب کامل و اکمل تھے۔ ایک روز انہوں نے خدمت شیخ میں عرض کی کہ اے شیخ! شہادت ایک عجیب نعمت جان فزا ہے اس لیے شہادت کے لیے جہاد کرنا چاہیے شیخ نے ان کی تائید کی اور ان کے ساتھ ملک روم کی طرف جہاد کے لیے چل پڑے۔ ایک جگہ کفار سے مقابلہ ہوگیا۔ ایک گبر (آتش پرست) کے ہاتھوں شیخ کے آٹھوں مرید ایک ایک کر کے شہید ہوگئے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ میں نے اس وقت ہوا میں نو کجاوے معلق دیکھے۔ میرے ساتھیوں میں سے جو شہید ہوتا تھا، اس کی روح ایک کجاوے میں رکھتے اور آسمان کی طرف لے جاتے۔ آخر ایک کجاوہ باقی رہ گیا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ کجاوہ میرے لیے ہے اور جنگ میں مشغول ہوگیا دوران جنگ وہی گبر جس نے میرے ساتھیوں کو شہید کیا تھا میرے پاس آیا اور کہا : ابو القاسم ! یہ آخری کجاوہ میرے لیے ہے۔ تو واپس بغداد چلا جا اور اپنی قوم کی قیادت و سیادت کر اور اپنا مذہب میرے سامنے پیش کر۔ میں نے اسے تلقین کی وہ مسلمان ہوا اور کفار سے لڑتا ہوا شہید ہوگیا۔ میں نے دیکھا کہ اس آخری کجاوے میں اس کی روح کو آسمان کی طرف لے گئے ہیں (خزینۃ الاصفیاء ص ١٤٢) جہاد اکبر کے اس نظریہ کے اثرات :۔ خزینۃ الاصفیاء کی اس روایت سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں : ١۔ اللہ تعالیٰ نے ابتداً ء ایمان کا یہ معیار بتایا تھا کہ ایک مومن دس کافروں پر غالب ہونا چاہیے۔ بعد ازاں اس میں تخفیف کر کے یہ معیار مقرر ہوا کہ کم از کم ایک مومن کو دو کافروں پر ضرور بھاری ہونا چاہیے۔ مگر یہاں یہ صورت حال ہے کہ شیخ جنید کے آٹھ کامل و اکمل مرید ایک کافر کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں چاہیے تو یہ تھا کہ اگر انہیں شہادت کا اتنا ہی شوق تھا تو بیس پچیس کافروں کو مار کر خود شہید ہوتے۔ مگر یہ سب ایک کافر کے ہاتھوں یوں مارے جا رہے ہیں جیسے قصاب بکروں کو ذبح کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ معیار کے مطابق ان میں ایمان کا جتنا حصہ تھا وہ آپ خود ہی اندازہ فرما لیجئے۔ یہی وہ قباحت ہے جس کی بنا پر اسلام نے رہبانیت یا طریقت کو مذموم قرار دیا۔ ٢۔ شیخ جنید بغدادی کو خود اپنی شہادت کا بھی خطرہ لاحق ہو چلا تھا۔ وہ تو خیریت گزری کہ اس گبر کا نور فراست شیخ جنید کے نور فراست سے زیادہ تھا اور اس گبر کو شیخ جنید سے پہلے معلوم ہوگیا کہ نواں کجا وہ شیخ کے لیے نہیں بلکہ میرے لیے ہے۔ ٣۔ اسلام لانے کا یہ بھی کیسا انوکھا طریقہ ہے کہ کافر خود کسی مسلمان کو کہے کہ میرے سامنے اسلام پیش کر تاکہ میں اسلام لاؤں۔ بہرحال ولایت کی دنیا الگ ہے اور بمصداق 'رموز مملکت خویش خسرواں دانند' یہ بات بھی تسلیم کر ہی لینی چاہیے۔ ٤۔ البتہ اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ روم تو سارا عہد فاروقی اور عہد عثمانی میں فتح ہوچکا تھا اور شیخ جنید کے زمانہ میں بغداد سے لے کر روم تک سارا علاقہ اسلامی مملکت میں شامل تھا تو روم کے راستے میں ان کو کفار کا لشکر کہاں ملا تھا ؟ ٥۔ اس قصہ سے بہرحال یہ ضرور معلوم ہوجاتا ہے کہ صوفیہ کے اس 'نظریہ جہاد اکبر' کے نظریہ نے مسلمانوں کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے۔ [١٣٣] اور تیسری بات اس آیت سے یہ معلوم ہوئی کہ جنت میں داخلہ کے لیے جہاد لازمی شرط نہیں ہے بلکہ توحید پر ثابت قدم رہنے والے اور دوسرے احکام الہی بجا لانے والے مسلمان بھی جنت میں ضرور جائیں گے اگرچہ انکے درجات مجاہدین فی سبیل اللہ سے کم ہوں گے۔ النسآء
96 النسآء
97 [١٣٤] جنت میں داخلہ کے لئے جہاد شرط نہیں : یہ آیت ایسے مسلمانوں سے متعلق ہے جنہوں نے ہجرت پر قادر ہونے کے باوجود ہجرت نہیں کی اور اپنا گھر بار چھوڑ کر دارالہجرت (مدینہ) جانے میں پس و پیش کرتے رہے۔ اور یہی ان کا اپنی جانوں پر ظلم تھا۔ اور مسلمانوں پر ظلم یہ تھا کہ جنگ کے موقعہ پر انہیں مشرکوں کا ساتھ دینا پڑتا تھا اور مشرک یہ چال چلتے تھے کہ ایسے مسلمانوں کو اپنی صفوں کے آگے کردیتے تھے کہ وہ ان کے لیے ڈھال اور دفاع کا کام دیں۔ اب یہ مسلمانوں کے لشکر کے لیے بڑی الجھن بن جاتی تھی کہ اگر لڑائی لڑیں، تیر برسائیں، تلوار چلائیں تو ان کے مسلمان بھائی ہی مرتے تھے اور اگر ہاتھ روکے رکھیں تو خود انہیں نقصان پہنچ جاتا تھا۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے شان نزول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’’(مکہ میں) مسلمانوں میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جو مشرکوں کا ساتھ دیتے اور مقابلہ کے وقت ان کی جمعیت بڑھاتے پھر (مسلمانوں کی طرف سے) کوئی تیر ان کو بھی لگ جاتا یا کسی کو تلوار لگتی تو وہ زخمی ہوتا یا مر جاتا، ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔‘‘ (بخاری، کتاب التفسیر) ہجرت نہ کرنے کا نقصان :۔ ایسے مسلمانوں کے لیے اس آیت میں جو وعید آئی ہے اس سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسا کمزور ایمان اللہ کے ہاں مقبول نہیں۔ لہٰذا اگر مشرکین انہیں ڈھال کے طور پر استعمال کریں تو مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کی خاطر انہیں بےدریغ قتل کردینا چاہیے اور ایسے لوگوں کے کمزور ہونے کے عذر کو اللہ نے قبول نہیں فرمایا کیونکہ یہ کمزوری نہیں بلکہ گھر بار کی محبت اور مال و دولت کی ہوس تھی جس کی وجہ سے وہ ہجرت نہیں کرتے تھے یا پھر اسے بزدلی پر محمول کیا جائے گا۔ النسآء
98 [١٣٥] ہجرت نہ کرسکنے والے :۔ جو مسلمان فی الواقع کمزور تھے اور ہجرت کرنے کی کوئی راہ انہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ مستضعفین یا کمزور سے مراد وہ لوگ ہیں جو فی الحقیقت معذور ہوں جیسے بیمار، بچے، بوڑھے، عورتیں اور کافروں کی قید میں پڑے ہوئے مسلمان۔ اور وسائل محدود ہونے سے یہ مراد ہے کہ ان کے پاس نہ تو کوئی سواری کا بندوبست ہو اور نہ وہ پیدل سفر کی مشقت اٹھانے کے قابل ہوں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے مندرجہ بالا گروہ سے مستثنیٰ قرار دیا، اور ان کے ہجرت نہ کرنے کے قصور کی معافی کا وعدہ فرمایا۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ ’’میں اور میری ماں ایسے ہی لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے معذور رکھا۔‘‘ (بخاری، کتاب التفسیر) نیز ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کئی دوسرے ناتواں مسلمان بھی تھے جن کی نجات کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں رکوع کے بعد دعا فرمایا کرتے۔ (بخاری، کتاب الادب، باب تسمیۃ الولید) النسآء
99 النسآء
100 [١٣٦] ہجرت کے مقاصد اور ضرورت :۔ ہجرت اس لیے فرض کی گئی تھی کہ ایک تو مسلمان کفار کے تشدد سے آزاد ہو کر اپنے اسلامی شعائر آزادی کے ساتھ بجا لا سکیں۔ اور دوسرے اس لیے کہ مدینہ کی طرف ہجرت کر کے مسلمانوں کی اجتماعی قوت کے لیے مددگار ثابت ہوں۔ پھر جب مکہ فتح ہوگیا اور پورے خطہ عرب میں اسلام کا بول بالا ہوگیا تو پھر ہجرت کی ضرورت نہ رہی۔ جیسا کہ کئی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اب تاقیامت ہجرت فرض نہیں۔ بلکہ جب بھی دوبارہ ایسا موقع پیدا ہوجائے کہ کسی علاقہ میں مسلمانوں کو اپنے شعائر اسلام کو بجا لانا بھی مشکل ہو رہا ہو تو مسلمانوں کو کوئی ایسا خطہ تلاش کرنا چاہیے جہاں انہیں آزادی سے شعائر اسلام بجا لانے کی سہولت میسر ہو اور اپنے میں سے کوئی امیر منتخب کر کے اس طرف ہجرت کرنا اور اپنی اجتماعی قوت کو مرکوز کرنا اور پھر جہاد کرنا سب کچھ فرض ہوجائے گا۔ بلکہ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو ہجرت بھی جہاد کا ہی ایک حصہ ہوتی ہے۔ پھر جب اس علاقہ میں اسلام کا غلبہ ہوجائے تو وہاں بھی ہجرت کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ دارالکفر میں رہنے کی رخصت کی شرائط :۔ ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ مسلمانوں کا دارالکفر میں رہنے کا جواز صرف دو صورتوں میں ہے ایک یہ کہ کوئی شخص اس خطہ میں اسلام کو غالب کرنے اور نظام کفر کو نظام اسلام میں تبدیل کرنے کی جدوجہد میں لگا رہے۔ جیسا کہ انبیاء علیہم السلام اور ان کے ابتدائی پیرو کرتے رہے ہیں اور دوسرے یہ کہ وہ فی الواقع وہاں سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پاتا ہو۔ اور بیزاری اور نفرت سے مجبوراً وہاں رہ رہا ہو۔ ان صورتوں کے علاوہ دارالکفر میں رہنا مستقل معصیت ہے۔ [١٣٧] اللہ کا غفور الرحیم ہونا :۔ اس آیت میں صرف ہجرت کے سفر کا ذکر ہے۔ جبکہ کئی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ اللہ کی راہ میں کوئی سفر کیا جائے خواہ یہ ہجرت کا سفر ہو یا جہاد کا سفر ہو یا حج و عمرہ کا سفر ہو یا دینی علوم کے حصول کے لیے سفر ہو، اور دوران سفر حصول مقصد سے بعد یا پہلے موت واقع ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کا پورا پورا اجر عطا کردیتا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے : سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے ننانوے قتل کیے تھے۔ پھر وہ اپنے متعلق مسئلہ پوچھنے لگا۔ وہ ایک راہب کے ہاں گیا اور اسے پوچھا : کیا میرے لیے (توبہ کی) گنجائش ہے؟‘‘ اس نے کہا ''نہیں'' تو اس نے راہب کو بھی مار ڈالا (اور سو پورے کردیے) پھر لوگوں سے یہی مسئلہ پوچھتا رہا۔ کسی آدمی نے اسے کہا کہ فلاں فلاں بستی میں (توبہ کے لیے) چلے جاؤ۔ راستہ ہی میں اسے موت نے آ لیا۔ اس نے اپنا سینہ بستی کی طرف جھکا دیا۔ ابرحمت کے اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑنے لگے۔ جس بستی کی طرف وہ جا رہا تھا اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ نزدیک ہوجا اور جس بستی سے جا رہا تھا اسے حکم دیا کہ دور ہوجا۔ اور فرشتوں سے فرمایا کہ فاصلہ ناپ لو۔ چنانچہ جہاں اسے جانا تھا وہ بستی ایک بالشت بھر قریب نکلی تو اسے بخش دیا گیا۔ (بخاری، کتاب الانبیاء باب ماذکر عن بنی اسرائیل) النسآء
101 [١٣٨] اس آیت میں اگرچہ سفر کے ساتھ دشمن کے اندیشہ کا بھی ذکر ہے تاہم سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ ہر طرح کے سفر میں نماز قصر کی جا سکتی ہے۔ نیز یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ سفر فی سبیل اللہ ہی ہو بلکہ ہر سفر میں قصر کی جا سکتی ہے رہی یہ بات کہ کتنے فاصلہ کو سفر کہہ سکتے ہیں اس میں بھی اگرچہ اختلافات موجود ہیں۔ تاہم ہمارے لیے یہ امر کافی اطمینان کا باعث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’کوئی عورت ایک رات بھی محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘ (بخاری، کتاب العمرۃ، باب حج النسائ) گویا اتنی مسافت جہاں سے ایک انسان پیدل رات کو اپنے گھر واپس نہ پہنچ سکتا ہو، وہ سفر ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے دور خلافت میں ایک عورت کے سفر پر محمول کرتے ہوئے اس دور کے ٩ میل کی مسافت کو سفر قرار دیا تھا جو آج کل کے پیمانہ کے لحاظ سے ٢٥ کلومیٹر بنتا ہے۔ یعنی ایک کمزور انسان پیدل ایک دن میں ٢٥ کلومیٹر جانے کا اور اتنا ہی آنے کا کل ٥٠ کلومیٹر مسافت طے نہیں کرسکتا۔ لہٰذا اتنی مسافت پر سفر کا اطلاق ہوگا۔ سفر میں اگر قصر نہ کی جائے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ تاہم قصر کرنا ہی افضل ہے۔ پھر سفر میں دو نمازیں اکٹھی کر کے پڑھنے کا موقع آ جاتا ہے۔ ایسی تفصیلات کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ سفر میں قصر جمع اور سفر کی تعیین :۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ’’ابتداء سفر و حضر میں نماز دو رکعت فرض کی گئی تھی۔ پھر سفر کی نماز تو اتنی ہی برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کیا گیا۔ (منیٰ میں‘‘) (بخاری، ابو اب تقصیرالصلٰوۃ، باب یقصر اذا خرج من موضعہ۔۔ (مسلم، کتاب الصلٰوۃ، باب صلٰوۃ المسافرین) ٢۔ حارث بن وہب فرماتے ہیں کہ منیٰ میں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت (نماز قصر) پڑھائی۔ حالانکہ آپ بالکل امن میں تھے۔ (بخاری، ابو اب تقصیر الصلٰوۃ، باب الصلٰوۃ بمنیٰ) ٣۔ یعلٰی بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہیں (کافروں کا) خوف ہو تو نماز میں قصر کرو اور اب تو ہم امن میں ہیں۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ’’اسی بات پر میں نے بھی تعجب کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یہ ایک صدقہ ہے جو اللہ نے آپ پر کیا لہٰذا اس کا صدقہ قبول کرو۔‘‘ (ترمذی، ابو اب القصر) ٤۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جلدی ہوتی تو مغرب کو مؤخر کر کے تین رکعت پڑھتے پھر سلام پھیرتے۔ پھر تھوڑی دیر بعد عشاء کی اقامت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھتے پھر سلام پھیرتے۔‘‘ (بخاری، ابو اب تقصیرالصلٰوۃ، باب یصلی المغرب ثلاثا فی السفر) ٥۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ نے مدینہ میں رہ کر (یعنی بلاسفر) سات رکعتیں مغرب اور عشاء کی اور آٹھ رکعتیں ظہر اور عصر کی (ملا کر) پڑھیں۔ ایوب سختیانی نے جابر بن زید سے کہا ’’شاید بارش کی رات میں ایسا کیا ہو؟‘‘ انہوں نے کہا ''شاید'' (بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ، باب تاخیر الظہر الی العصر) النسآء
102 [١٣٩] اس آیت میں نماز خوف کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ نماز خوف کی کئی صورتیں ممکن ہیں۔ اور احادیث میں ایسی چھ سات صورتیں مذکور بھی ہیں۔ وہ صورتیں اس طرح بنتی ہیں کہ مقتدی جس نے ایک رکعت امام کے ساتھ ادا کی ہے تو آیا وہ دوسری رکعت خود موقع ملنے پر ادا کرے گا یا نہیں؟ یا اگر کرے گا تو کیسے کرے گا اور نماز مغرب جس کی قصر بھی تین رکعت ہے اس کی صورت کیا ہوگی؟ اور غالباً یہ طریقہ صرف اس ہنگامی حالت کے لیے ہے جبکہ معرکہ کار زار گرم نہ ہوا ہو۔ کیونکہ معرکہ گرم ہونے کی صورت میں تو جماعت کا موقع ہی نہیں آتا۔ جیسا کہ جنگ خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیت اکثر مسلمانوں کی نماز عصر قضا ہوگئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور مجاہدین نے سورج غروب ہونے کے بعد قضا کے طور پر ادا کی۔ پھر اس کے بعد نماز مغرب ادا کی۔ (بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ۔ باب من صلی بالناس جماعۃً بعد ذھاب الوقت) دراصل نماز خوف کے طریق کار کا انحصار بہت حد تک جنگی حالات پر ہے۔ اگر جماعت کا موقع ہی میسر نہ آئے تو انسان اکیلا بھی پڑھ سکتا ہے۔ سواری پر بھی پڑھ سکتا ہے اور اشارے سے بھی پڑھ سکتا ہے۔ بس دو باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ موجودہ جنگی حالات میں کونسا طریقہ بہتر ہے پھر اسے اختیار کیا جائے اور دوسرے یہ کہ ایسے حالات میں اللہ کی یاد کو بھلانا نہیں چاہیے۔ اب اس ضمن میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ’’اللہ نے تمہارے نبی کی زبان سے حضر میں چار، سفر میں دو اور خوف میں ایک رکعت نماز فرض کی ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب الصلوۃ، باب صلٰوۃ المسافرین وقصرھا) ٢۔ نماز خوف کی مختلف صورتیں :۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ کیا۔ مشرکوں نے کہا : ان مسلمانوں کی ایک نماز ہے جسے وہ اپنے باپ اور بیٹوں سے زیادہ محبوب رکھتے ہیں اور وہ عصر کی نماز ہے لہٰذا تم اپنے اسباب جمع کرو اور اس وقت یکبارگی ان پر حملہ کر دو۔ اتنے میں جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے دو حصے کریں۔ ایک حصے کو نماز پڑھائیں اور دوسرا حصہ دشمن کے مقابل ان کے پیچھے کھڑا رہے اور اپنی ڈھالیں اور اپنے ہتھیار پہنے رہیں۔ پھر دوسرا حصہ آئے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھے اور پہلے حصے والے اپنی ڈھالیں اور ہتھیار پہن لیں۔ اس طرح ہر گروہ کی ایک ایک رکعت، اور نبی اکرم کی دو رکعتیں ہوں گی۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر) ٣۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب کوئی پوچھتا کہ ہم نماز خوف کیسے پڑھیں؟ تو وہ کہتے کہ امام آگے بڑھے کچھ لوگ اس کے ساتھ نماز ادا کریں۔ امام انہیں ایک رکعت پڑھائے۔ باقی لوگ ان کے اور دشمنوں کے درمیان کھڑے رہیں۔ نماز نہ پڑھیں۔ جب یہ لوگ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ چکیں تو سرک کر پیچھے چلے جائیں اور جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اب وہ لوگ آ جائیں اور امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں۔ امام تو اپنی نماز (دو رکعت) سے فارغ ہوگیا۔ اب یہ دونوں گروہ باری باری ایک ایک رکعت پوری کرلیں تو ان کی بھی دو دو رکعت ہوجائیں گی اور اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو پاؤں پر کھڑے کھڑے، پیدل یا سواری پر رہ کر نماز ادا کرلیں۔ منہ قبلہ رخ ہو یا نہ ہو۔ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نافع نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ (بخاری، کتاب التفسیر) [١٤٠] آیت مذکورہ میں صرف دو صورتوں میں ہتھیار اتارنے کی اجازت ہے۔ پہلی یہ کہ بارش ہو رہی ہو کپڑے اور ہتھیار بھیگ رہے ہوں۔ دوسری یہ کہ کوئی شخص بیماری کی وجہ سے ہتھیار بند رہنے کا متحمل نہ ہو۔ ان صورتوں کے علاوہ ہتھیار اتارنے کی اجازت نہیں۔ اس لیے آخر میں تاکیدی طور پر دوبارہ سہ بارہ اس حکم کو دہرایا۔ ﴿خُذُوْا حِذْرَکُمْ ﴾کے الفاظ بڑے وسیع مفہوم میں استعمال ہوتے ہیں، اس کے معنی ہوشیار اور چوکنا رہنا مسلح رہنا اور اپنے بچاؤ کے تمام ذرائع اختیار کیے رکھنا ہے۔ مثلاً مورچوں کی حفاظت کرنا اور ان میں پناہ پکڑنا، لڑائی سے پہلے سامان جنگ تیار رکھنا۔ دشمن کی نقل و حرکت سے باخبر رہنا، اس کا مداوا سوچنا بے خبری میں دشمن کے حملے کے لیے تیار رہنا سب کچھ ﴿خُذُوْا حِذْرَکُمْ﴾ کے مفہوم میں سما جاتا ہے۔ دور نبوی میں اسلحہ جنگ ہر مجاہد کی انفرادی ملکیت ہوتا تھا مگر آج اسلحہ جنگ مہیا کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے لہٰذا اسلحہ جنگ کے تیار کرنے والے کارخانوں، اسلحہ کے ذخائر اور دشمن سے ان کا بچاؤ بھی﴿خُذٌوْا حِذْرَکُمْ﴾ میں شامل ہے۔ غرض قوم و ملک کا تحفظ، افراد فوج کے تحفظ کی تدابیر، آلات جنگ کا تحفظ، لڑائی کے منصوبوں کو صیغہ راز میں رکھنا سب کچھ اس حکم میں داخل ہے۔ آج دشمن سب سے پہلے اسلحہ کے محفوظ ذخائر کو یا اسلحہ ساز فیکٹریوں کو اچانک حملے کے ذریعے تباہ کردیتا ہے۔ ان سب امور کی طرف مسلمانوں کو اس آیت میں متوجہ کیا گیا ہے۔ النسآء
103 [١٤١] نمازوں کے اوقات جنگ میں نماز اسی وقت ہی ادا کی جا سکتی ہے جب موقع ملے، اس دوران بھی اللہ کو ہر وقت یاد رکھنا چاہیے پھر جب حالات معمول پر آ جائیں تو نماز بھی معمول کے مطابق پڑھی جائے اور نمازوں کے اوقات کا بھی خیال رکھا جائے۔ احادیث کی رو سے نمازوں کے اوقات درج ذیل ہیں : ١۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ظہر کا وقت سورج ڈھلنے سے لے کر آدمی کا سایہ اس کے برابر ہونے تک ہے۔ اور عصر کا وقت (سایہ برابر ہونے سے لے کر) دھوپ میں زردی آنے تک ہے۔ اور نماز مغرب کا وقت (سورج غروب ہونے سے لے کر) شفق غائب ہونے تک ہے اور عشاء کا وقت (شفق غائب ہونے سے لے کر ٹھیک آدھی رات تک ہے اور صبح کا وقت طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک ہے‘‘ (مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلٰوۃ باب اوقات الصلٰوۃ الخمس) ٢۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں فرماتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو اس لیے کہ گرمی کی سختی دوزخ کی بھاپ سے ہوتی ہے‘‘ (بخاری، کتاب، مواقیت الصلٰوۃ، باب الابراد بالظھر فی شدۃ الحر۔۔ مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ باب استحباب الابراد بالظھر فی شدۃ الحرم ) ٣۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم عورتیں چادروں میں لپٹی ہوئی جب نماز صبح سے فارغ ہو کر مسجد سے نکلتیں تو اندھیرے کی وجہ سے کوئی ان کو پہچان نہ سکتا تھا۔ (بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ، باب وقت الفجر) ٤۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشا کی نماز اس وقت پڑھائی جب رات کا کافی حصہ گزر چکا تھا۔ پھر فرمایا ’’اگر میری امت پر یہ بات شاق نہ ہوتی تو عشاء کی نماز کا اصل وقت یہی وقت ہے‘‘ (بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ، باب النوم قبل العشاء لمن غلب ) ٥۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز اس وقت پڑھاتے جب ہم میں سے کوئی شخص (فراغت کے بعد) اپنے ساتھ والے کو پہچان لیتا اور آپ اس نماز میں ساٹھ سے لے کر سو تک آیتیں پڑھتے۔ اور ظہر اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔ اور عصر اس وقت کہ کوئی شخص عصر پڑھ کر شہر کے پرلے حصہ (تقریباً چار میل) تک اپنے گھر جاتا تو سورج ابھی تیز ہوتا اور شام سورج غروب ہونے پر اور عشاء کی نماز میں تہائی رات تک دیر کرنے کی پروا نہیں کرتے تھے۔‘‘ (بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ، باب وقت الظہر عند الزوال) ٦۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب کوئی شخص سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لے وہ اپنی نماز پوری کرے (اس کی نماز ادا ہوئی یا قضا) اور جو سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پا لے وہ بھی اپنی نماز پوری کرے۔‘‘ (بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ، باب من ادرک رکعۃ من العصر قبل الغروب) ٧۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کے بعد سورج چڑھنے تک نماز پڑھنے سے منع کیا۔ اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک۔ (بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ باب الصلٰوۃ بعد الفجر حتی ترتفع الشمس) ٨۔ عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم (خیبر سے واپسی پر) رات کو آپ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ بعض لوگوں نے کہا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا اچھا ہو جو یہاں اتر پڑیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مجھے خطرہ ہے کہ تم سو جاؤ گے اور نماز فجر کے لیے نہ اٹھو گے۔‘‘ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا 'میں جگا دوں گا۔' چنانچہ سب لوگ سو گئے۔ اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی اونٹنی سے پیٹھ لگائی تو نیند نے غلبہ کیا اور وہ بھی سو گئے پھر آپ اس وقت اٹھے جب سورج کا کنارہ نکل آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا 'تمہارا قول کہاں گیا ؟' بلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے 'مجھے تو ایسی نیند آئی جیسے پہلے کبھی نہ آئی تھی۔' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ نے جب چاہا تمہاری روحیں قبض کرلیں اور جب چاہا تمہیں واپس دے دیں۔ اے بلال اٹھ اور نماز کے لیے اذان دے‘‘ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جب سورج ذرا بلند اور سفید ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ (بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ۔ باب الاذان بعد ذھاب الوقت ) ٩۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص نماز ادا کرنا بھول جائے یا اس وقت سویا ہوا ہو تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ یاد آتے ہی ادا کرلے۔‘‘ (بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ، باب من نسی صلٰوۃ فلیصل اذا ذکرھا۔۔ مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلٰوۃ، باب قضاء الصلٰوۃ الفائتۃ۔۔ الخ) ١٠۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’منافق کی نماز یہ ہے کہ وہ سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا ہے تو اٹھتا ہے اور چار ٹھونگیں مار لیتا ہے اور اللہ کا ذکر تھوڑا بہت ہی کرتا ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب الصلٰوۃ، باب استحباب التبکیر بالعصر) ١١۔ سیدنا ام فروہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’نماز اول وقت پر ادا کرنا۔‘‘ (ترمذی، ابو اب الصلٰوۃ، باب ماجاء فی الوقت الاول من الفضل ) ١٢۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کی خوشنودی نماز کو اول وقت ادا کرنے میں ہے اور آخر وقت میں ادا کرنا اللہ کی طرف سے معافی ہے۔‘‘ (ترمذی، حوالہ ایضاً) ١٣۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی بھی نماز آخر وقت میں نہ پڑھی مگر صرف دو بار۔ یہاں تک کہ وفات پائی۔ (ترمذی، حوالہ ایضاً) ١٤۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا ’’علی! تین باتوں میں تاخیر نہ کرنا (١) نماز میں جب اس کا وقت آ جائے (٢) جنازہ کی تدفین میں جب تو وہاں موجود ہو (٣) اور رنڈوے مرد یا رنڈوی عورت کے نکاح میں جب کہ اس کا بر (کفو) مل رہا ہو۔ ‘‘ (ترمذی، حوالہ ایضاً) النسآء
104 [١٤٢] یعنی جنگ میں جیسے تمہیں جانی نقصان یا دکھ پہنچتا ہے ویسے ہی دشمن قوم کو بھی پہنچتا ہے۔ پھر جب وہ باطل پر ہو کر یہ سب کچھ برداشت کرتے ہیں تو پھر تم حق پر ہو کر کیوں برداشت نہ کرو؟ علاوہ ازیں تم میں سے کوئی شہید ہوجائے یا زندہ سلامت گھر آ جائے دونوں صورتوں میں تم اللہ سے اجر و ثواب کی توقع رکھتے ہو جو ان کو مطلق نہیں ہوتی۔ پھر تم آخر ان کا پیچھا کر کے ان کا قلع قمع کیوں نہ کرو۔ اس معاملہ میں ہرگز کمزوری یا سستی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ النسآء
105 [١٤٣] گمشدہ سامان سامان کی برآمدگی سے چوری ثابت نہیں ہوتی :۔ اس آیت اور اس سے اگلی چند آیات کا پس منظر یہ ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر کے ایک آدمی بشیر بن ابیرق نے کسی دوسرے انصاری کے گھر سے آٹے کا تھیلا اور ایک زرہ چوری کی۔ اور چالاکی یہ کی کہ آٹے کا تھیلا اور زرہ راتوں رات ایک یہودی کے ہاں امانت رکھ آیا۔ تھیلا اتفاق سے کچھ پھٹا ہوا تھا جس سے آٹا تھوڑا تھوڑا گرتا گیا جس سے سراغ لگانے میں بہت آسانی ہوگئی۔ اصل مالک نے پیچھا کیا تو بشیر بن ابیرق کے گھر پہنچ گیا اور اس سے اپنی چوری کا ذکر کیا لیکن وہ صاف مکر گیا اور خانہ تلاشی بھی کرا دی جہاں سے کچھ برآمد نہ ہوسکا۔ اب مالک پیچھا کرتا ہوا اس یہودی کے ہاں پہنچا اور اپنی چوری کا ذکر کیا تو یہودی کہنے لگا ایسی زرہ تو میرے پاس موجود ہے لیکن وہ تو فلاں شخص نے میرے پاس بطور امانت رکھی ہے۔ لہٰذا میں تمہیں نہیں دے سکتا۔ بالآخر مالک یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عدالت میں لے گیا۔ اب چور اور اس کے خاندان والوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ اصل مجرم اس یہودی کو ہی ثابت کیا جائے اور امانت کا درمیان میں نام ہی نہ آنے دیا جائے اور اس واقعہ سے قطعی لاعلمی کا اظہار کردیا جائے اور وہ یہ سمجھے کہ آپ یہود کی بات کا اعتبار نہیں کریں گے اس طرح ہم بری ہوجائیں گے۔ چنانچہ فی الواقع ایسا ہی ہوا۔ انصاری چور اور اس کے حمایتیوں نے اس واقعہ سے قطعاً لاعلمی کا اظہار کیا اور قسمیں بھی کھانے لگے جس کے نتیجہ میں آپ ان خائنوں کی باتوں میں آ گئے اور یہودی کو جھوٹا سمجھا اور قریب تھا کہ آپ اس انصاری چور کو بری قرار دے دیں اور یہودی کو مجرم قرار دے دیں اور یہودی کے حق میں قطع ید کا فیصلہ سنا دیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی اصل صورت حال سے مطلع فرما دیا اور تنبیہ فرمائی، کہ آپ کو ایسے بددیانت لوگوں کی قطعاً حمایت نہ کرنا چاہیے۔ [١٤٤] اس آیت میں ایسے مسلمانوں کو خائن قرار دیا گیا ہے جنہوں نے محض خاندان اور قبیلہ کی عصبیت کی بنا پر مجرم کی حمایت کی تھی اور تمام لوگوں کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ انصاف کے معاملہ میں کسی قسم کا تعصب برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر ایک فریق دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہے اور وہ حق پر ہے تو اسی کی حمایت کی جائے گی۔ مسلمانوں کی نہیں کی جائے گی۔ النسآء
106 [١٤٥] قاضی ظاہری شہادات کی بنا پر فیصلہ کرنے کا پابند ہے اس لحاظ سے اگر آپ انصاری کے حق میں فیصلہ دے بھی دیتے تو آپ کا کچھ قصور نہ تھا۔ تاہم آپ کی عظمت شان کی وجہ سے آپ کو بخشش طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ ایک غلط سوچ آپ کے ذہن میں راہ پانے لگی تھی۔ النسآء
107 [١٤٦] ان لوگوں سے مراد وہی چور انصاری کے خاندان کے لوگ ہیں جنہوں نے محض خاندانی تعصب کی بنا پر چور کی حمایت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چور کے مجرم نہ ہونے کے متعلق قسمیں بھی کھائی تھیں اور سارا الزام بے گناہ یہودی کے سر تھوپ دیا تھا اور مجرم کے گناہ دو تھے، ایک چوری، دوسرے اس یہودی کو مورد الزام ٹھہرانا۔ النسآء
108 [١٤٧] زرہ کا چور دراصل سچا مسلمان نہیں بلکہ منافق آدمی تھا اور اس کے خاندان والے بھی کچھ پختہ ایمان والے نہ تھے۔ جب یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں چلا گیا تو ان لوگوں کے مشورے کا موضوع یہ ہوتا تھا کہ چور کس طرح چوری کے اس جرم سے بچ سکتا ہے اور یہ جرم اس یہودی کے سر کیسے تھوپا جائے۔ دراصل اس طرح راتوں کو مشورے کرنا اور یہ سمجھنا کہ اس طرح ان کے جرم پر پردہ پڑا رہے گا، یہی ان لوگوں کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے اور اللہ سے کوئی معاملہ بھلا کیسے چھپا رہ سکتا ہے۔ النسآء
109 [١٤٨] یہ خطاب اس منافق چور کے حمایتیوں سے ہے کہ اگر آج تم چور کے حمایتی بن بھی گئے تو کل قیامت کے دن اللہ کے روبرو تم میں سے کون اس کی وکالت کرے گا جبکہ تمہارے لیے تمہارا اپنا ہی یہ گناہ کافی ہوگا۔ ضمناً اس واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ کسی شخص کے پاس سے چوری کا مال برآمد ہوجانا اس بات کا یقینی ثبوت نہیں ہوتا کہ وہ فی الواقع چور ہے لہٰذا ایسے معاملات میں انتہائی تحقیق اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے آپ نے حدود قائم کرنے کے سلسلہ میں بہت سی ہدایات فرمائی ہیں جن کا ذکر کسی دوسرے مناسب مقام پر کردیا گیا ہے۔ النسآء
110 [١٤٩] اپنے گناہ دوسروں کے ذمہ لگانا اور بہتان تراشی :۔ اصل چور کی حمایت کی دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ چور نے جھوٹ بول کر اپنے حمائیتوں کو مطمئن کردیا ہو کہ میں فی الواقع مجرم نہیں ہوں یعنی ان کا یہ گناہ نادانستہ یا غلطی کی بنا پر ہو۔ اور دوسری صورت یہ تھی کہ حمائیتوں کو ٹھیک طرح معلوم ہوچکا ہو کہ جس کی حمایت کر رہے ہیں وہ فی الواقع مجرم ہے اور اس کا یہ گناہ دیدہ دانستہ ہو۔ پہلی صورت کو اللہ تعالیٰ نے سوء اً سے تعبیر فرمایا اور دوسری صورت کو اپنے آپ پر ظلم سے۔ ان دونوں صورتوں میں اگر یہ حمایتی لوگ مجرم کی حمایت سے دستبردار ہوجاتے اور اللہ سے بخشش مانگتے تو یقیناً اللہ ان کا گناہ معاف کردیتا۔ واضح رہے کہ ان آیات میں اگرچہ خطاب مذکورہ بالا لوگوں سے ہے تاہم ایسی سب آیتوں کا حکم عام ہوتا ہے۔ غلطی سے یا نادانستہ کوئی گناہ کسی بے قصور کے سر تھوپ دینے کی ایک مثال حدیث میں مذکور ہے جو درج ذیل ہے : بہتان تراشی کالی اور کمربند :۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کسی عرب قبیلے کے پاس ایک کالی لونڈی تھی۔ جسے انہوں نے آزاد کردیا تھا مگر وہ ان کے ساتھ ہی رہا کرتی۔ ایک دفعہ اسی قبیلے کی ایک لڑکی جو دلہن تھی، نہانے کو نکلی اور اپنا لال تسموں والا کمر بند اتار کر رکھ دیا۔ ایک چیل نے اسے جو پڑا دیکھا تو گوشت سمجھ کر جھپٹ لے گئی۔ لوگوں نے کمر بند تلاش کیا مگر وہ نہ ملا۔ آخر انہوں نے اس کالی لونڈی پر تہمت لگا دی۔ وہ کہنے لگی کہ ’’ان لوگوں نے میری تلاشی لینا شروع کی حتیٰ کہ میری شرمگاہ بھی دیکھی۔ اللہ کی قسم! میں ان کے پاس ہی کھڑی تھی کہ وہی چیل گزری جس نے کمر بند پھینک دیا اور وہ ان کے درمیان گرا۔ میں نے کہا یہ ہے وہ کمر بند جس کی تم مجھ پر تہمت لگا رہے تھے۔ حالانکہ میں اس سے بری تھی۔ اب سنبھالو اسے۔‘‘ پھر وہ لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اسلام لے آئی۔ اس کا خیمہ مسجد میں تھا۔ کبھی کبھی وہ میرے پاس آ کر باتیں کیا کرتی اور جب بھی وہ میرے پاس آتی، وہ یہ شعر ضرور پڑھتی تھی: ویوم الوشاح من تعاجیب ربنا الا انہ من بلدۃ الکفر انجانی (کمر بند کا دن ہمارے پروردگار کے عجائبات میں سے ہے۔ اسی واقعہ نے تو مجھے کفر کی سرزمین سے نجات بخشی تھی) (بخاری۔ کتاب الصلٰوۃ۔ باب نوم المرأۃ فی المسجد) النسآء
111 النسآء
112 [١٥٠] کیونکہ اس نے دو جرم کیے ہیں۔ ایک وہ جو خود گناہ کا کام کیا اور دوسرا گناہ اس سے بڑا ہے کہ اس گناہ کو کسی بے قصور کے سر تھوپ کر اسے مجرم بنا دینے کی کوشش کی جائے۔ النسآء
113 [١٥١] آپ پر اللہ نے بہت بڑا فضل کیا تھا :۔ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت یہ تھی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اصل صورت حال سے بذریعہ وحی مطلع فرما دیا۔ ورنہ اس کے نتائج صرف یہی نہ تھے کہ مجرم بچ جاتا اور ایک بے قصور مجرم قرار پاتا بلکہ اس کے نتائج بڑے دوررس تھے جو عوام الناس کی نظروں میں مسلمانوں کی ساکھ اور ان کے کردار کو مجروح بنا سکتے تھے، ایسے لوگ جو آپ کو بہکا کر اپنے حق میں فیصلہ کرانا چاہتے تھے اپنی ہی عاقبت خراب کر رہے تھے۔ اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اور اللہ کے ہاں مجرم وہ تھے نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔ مقدمہ میں چالاکی سے دوسرے کا مال ہتھیانا :۔ جو شخص کسی حاکم کو دھوکہ دے کر اپنے حق میں فیصلہ کرا لیتا ہے۔ وہ دراصل خود اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرتا ہے کہ ان تدبیروں سے وہ فی الواقع اس چیز کا حقدار بن گیا۔ حالانکہ اللہ کے نزدیک حق جس کا ہوتا ہے اسی کا رہتا ہے اور فریب خوردہ حاکم کے فیصلہ سے حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں۔ تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی زیادہ چرب زبان ہو اور میں اس کے دلائل سن کر اس کے حق میں فیصلہ دے دوں تو اس طرح اگر میں اس کے بھائی کے حق سے کوئی چیز اس چرب زبان کے حق میں فیصلہ کر کے دے دوں تو یاد رکھو کہ میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔‘‘ (بخاری، کتاب الاحکام، باب موعظۃ الامام للخصوم) ربط مضمون کے لحاظ سے اس جملہ کا وہی مطلب ہے جو اوپر مذکور ہوا تاہم اس کا حکم عام ہے اور اس کا مطلب ایسے فضائل ہیں جو دوسرے کسی پیغمبر کو بھی نہیں ملے اور وہ فضائل آپ نے خود ان الفاظ میں بتائے ہیں : جابر بن عبداللہ (انصاری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے پانچ چیزیں ایسی ملی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی پیغمبر کو نہیں ملیں۔ ایک یہ کہ ایک ماہ کی مسافت پر دشمن پر میرا رعب طاری رہتا ہے دوسرا یہ کہ ساری زمین میرے لیے مسجد اور پاک بنائی گئی ہے۔ لہٰذا میری امت کا ہر شخص جہاں نماز کا وقت آئے نماز پڑھ لے تیسرے یہ کہ اموال غنائم میرے لیے حلال ہوئے جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے جائز نہیں تھے۔ چوتھے یہ کہ شفاعت کبریٰ (قیامت کے دن) ملی اور پانچویں یہ کہ پہلے ہر نبی کس خاص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا جبکہ میں تمام لوگوں کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ (بخاری۔ کتاب الصلٰوۃ۔ باب قول النبی جعلت لی الارض مسجدا وطھورا) اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مندرجہ ذیل چھ باتیں مذکور ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے چھ باتوں میں دوسرے پیغمبروں پر فضیلت دی گئی ہے مجھے جو امع الکلم عطا کئے گئے۔ یعنی ایسا کلام جس میں الفاظ کم اور معانی بہت ہوں دوسرے دشمن پر رعب سے میری مدد کی گئی تیسرے مجھ پر غنیمتیں حلال کی گئیں۔ چوتھے میرے لیے ساری زمین پاک کرنے والی اور نماز کی جگہ بنائی گئی۔ پانچویں میں تمام لوگوں (جنوں اور انسانوں) کی طرف بھیجا گیا ہوں اور چھٹے مجھ پر نبوت ختم کی گئی۔ (مسلم کتاب المساجد۔ باب المساجد و مواضع الصلٰوۃ) النسآء
114 [١٥٢] کون سے خفیہ مشورے بہتر ہیں؟ منافق لوگ جو راتوں کو الگ بیٹھ کر مشورے کرتے ہیں۔ وہ بسا اوقات بری باتیں ہی سوچتے ہیں، جو خیر سے خالی ہوتی ہیں۔ کیونکہ بھلائی کی اور صاف ستھری سچی بات کو چھپانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی البتہ کچھ امور ایسے ہیں جو چھپا کر کرنا بہتر ہوتے ہیں مثلاً کسی کو صدقہ دے تو چھپا کر دے تاکہ لینے والا شرمندہ نہ ہو۔ یا صدقہ دینے کے متعلق الگ مشورہ کرنا بھی اچھا کام ہے۔ اسی طرح بھلائی کے کاموں اور بالخصوص لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے متعلق اگر خفیہ مشورہ بھی کیا جائے تو بھی یہ ایک نیکی کا کام ہے لیکن افسوس ہے کہ یہ لوگ ان امور میں سے تو کسی بات کا مشورہ نہیں کرتے۔ وہ ایسے مشورے کرتے ہیں جن سے شر پیدا ہو اور دوسروں کو نقصان پہنچے۔ اور جو شخص مذکورہ بالا امور کے متعلق محض اللہ کی رضا کے لیے مشورہ کرے تو یہ بڑے نیکی کے کام ہیں۔ لوگوں میں اصلاح کے لئے اپنی طرف سے کوئی اچھی بات کہہ دینا جھوٹ نہیں: چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ کرام سے فرمایا ’’کیا میں تمہیں ایسے کام کی خبر نہ دوں جو نماز، روزہ اور صدقہ سے بھی افضل ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا ''بتائیے'' تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’دو شخصوں کے درمیان صلح کرانا۔ کیونکہ دو آدمیوں کے درمیان فساد ڈالنا (دین کو) مونڈنے والا (برباد کرنے والا) کام ہے۔‘‘ (ترمذی، ابو اب صفۃ القیامۃ) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے اگر کوئی شخص (اپنی طرف سے) کوئی اچھی بات کسی فریق کی طرف منسوب کر دے یا کوئی اچھی بات کہہ دے تو وہ جھوٹا نہیں ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الصلح، باب لیس الکاذب الذی یصلح بین الناس) النسآء
115 [١٥٣] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کی مختلف صورتیں :۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس آیت کا خطاب اسی منافق سے ہے جس نے چوری کی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحی الٰہی کی بنا پر مذکورہ مقدمہ کا فیصلہ بے گناہ یہودی کے حق میں دے دیا۔ تو اس منافق کو سخت صدمہ ہوا۔ وہ مدینہ سے نکل کر اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں کے پاس مکہ چلا گیا اور کھلم کھلا مخالفت پر اتر آیا۔ لیکن حکم کے لحاظ سے یہ خطاب سب لوگوں کے لیے ہے جس میں مسلمان بھی شامل ہیں اور یہ حکم قیامت تک کے لیے ہے۔ یعنی جو شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریق زندگی کو چھوڑ کر کوئی دوسرا طریق اختیار کرے گا وہ گمراہ ہوجائے گا اور جس قدر زیادہ مخالفت کرے گا اسی قدر گمراہی میں بڑھتا چلا جائے گا۔ اس کی یہ ذہنی اور عملی مخالفت اسے جہنم میں پہنچا کے چھوڑے گی۔ اب اس مخالفت یا گمراہی کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً شرکیہ عقائد و اعمال اپنا لے یا سنت کو چھوڑ کر بدعات میں جا پڑے یا سنت رسول کو حجت ہی نہ سمجھے، یا کوئی نیا نبی بھی تسلیم کرلے یا ایسے بدعی عقائد اپنے مذہب میں شامل کرے جن کا اس دور میں وجود نہ تھا وغیرہ وغیرہ۔ غرض مخالفت اور گمراہی کی بے شمار اقسام ہیں لہٰذا اس معاملہ میں مسلمان کو انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔ [١٥٣۔ الف] اجماع صحابہ حجت ہے :۔ اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجماع امت یا صحابہ کرام کا کسی مسئلہ پر متفق ہوجانا منجملہ ادلہ شرعیہ ایک قابل حجت امر ہے اور اس اجماع کی مخالفت کرنے والا اور اجماع کو تسلیم نہ کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے تاہم اس سلسلہ میں دو باتوں کو ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ ایک یہ کہ صحابہ کرام کے اجماع کے حجت ہونے میں تو کسی کو کلام نہیں لیکن مابعد کے ادوار کا حجت ہونا بذات خود مختلف فیہ مسئلہ ہے اور راجح قول یہی ہے کہ مابعد کا اجماع امت کے لیے قابل حجت نہیں ہے۔ اور دوسرا یہ کہ صحابہ کا اجماع تو ثابت کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان کا زمانہ بھی محدود اور علاقہ بھی محدود تھا۔ لیکن مابعد کے ادوار میں اجماع امت کا ثابت کرنا ہی بہت مشکل ہے جبکہ امت اقصائے عالم میں پھیل چکی ہے اور علماء بھی ہر جگہ موجود ہیں۔ دور صحابہ کے بعد جتنے مسائل کے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان پر امت کا اجماع ہے، ان میں سے زیادہ ایسے ہیں کہ ان کو فی الواقع ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ النسآء
116 [١٥٤] اس آیت سے درج ذیل باتیں معلوم ہوئیں : ١۔ شرک ناقابل معافی جرم ہے جسے اللہ کسی صورت میں بھی معاف نہیں کرے گا۔ ٢۔ کیسے گناہوں کی معافی کی توقع ہو سکتی ہے :۔ دوسرے گناہوں کے متعلق یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ معاف ہوجائیں گے۔ اللہ جس کو چاہے اور جونسا گناہ چاہے معاف کردینے کا اختیار رکھتا ہے اور چاہے تو ان پر مواخذہ بھی کرسکتا ہے۔ گناہ بھی دو قسم کے ہوتے ہیں یا ایک ہی گناہ میں دو قسم کے حقوق ہوتے ہیں۔ ایک اللہ کا حق، دوسرے بندوں کا حق، اللہ جسے چاہے اپنا حق معاف کر دے اور جسے چاہے نہ کرے مگر بندوں کے حقوق کی ادائیگی لازمی ہے تب ہی اللہ اپنا حق بھی معاف کرے گا۔ بندوں کا حق خواہ اس دنیا میں ادا کردیا جائے یا ان سے معاف کرا لیا جائے یا اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے حقدار کو بدلہ اپنی طرف سے ادا کر دے۔ بہرحال بندوں کے حقوق کی معافی کے بعد اللہ کے حق کی معافی کی توقع ہو سکتی ہے۔ ٣۔ اور تیسری بات یہ کہ شرک ہی سب سے بڑی گمراہی ہے۔ شرک کو ہی ایک دوسرے مقام پر ''ظلم عظیم'' کہا گیا ہے۔ النسآء
117 [١٥٥] مشرکوں میں شرک کی جملہ اقسام پائی جاتی ہیں :۔ شرک کی موٹی موٹی تین اقسام ہیں اور وہ تینوں ہی اس جملہ میں آ گئی ہیں مثلاً (١) شرک فی الذات۔ اس لحاظ سے مشرکین اپنی دیویوں کو اللہ کی بیویاں اور بیٹیاں سمجھتے تھے اور ان دیویوں کے ناموں سے ہی یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے جیسے الٰہ سے لات اور عزیز سے عزی وغیرہ (٢) شرک فی الصفات۔ اللہ کی یہ صفت ہے کہ جہاں سے بھی اسے کوئی شخص پکارے وہ اس کی فریاد سنتا ہے اور مشرکین کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ دیویاں ان کی فریاد سنتی ہیں (٣) شرک فی العبادت۔ قرآن کی تصریح کے مطابق کسی کو اس عقیدہ سے پکارنا کہ وہ اس کی فریاد سن کر اس کی مشکل دور کرسکتا ہے یا اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے اس کی عین عبادت ہے اور مشرکین بھی ایسا ہی عقیدہ رکھ کر دیویوں کو پکارتے تھے اور یہ صریح شرک ہے۔ نیز وہ اپنی دیویوں کے سامنے عبادت کے وہ سب مراسم بجا لاتے تھے جو صرف اللہ کے لیے سزا وار ہیں۔ [١٥٦] ابلیس کا انسانوں کو گمراہ کرنے کا دعویٰ :۔ شیطان کو پکارنا اس لحاظ سے ہے کہ انسان کو شرک کی جتنی راہیں سجھائی ہیں سب شیطان ہی نے سجھائی ہیں۔ گویا ایسا عقیدہ رکھ کر خواہ کسی کو بھی پکارا جائے وہ پکار بھی شیطانی ہے اور شیطان ہی کو پکارنے کے مترادف ہے اگرچہ سب لوگ شیطان کو اللہ کا باغی اور سرکش سمجھ کر ظاہری طور پر گالیاں ہی دیتے ہیں۔ النسآء
118 [١٥٧] یہ مقررہ حصہ وہ لوگ ہیں جو شیطان کے فریب میں آ کر اللہ کے ساتھ شرک کریں گے اور گمراہ ہوجائیں گے۔ اور یہ مقررہ حصہ آدھے سے بھی بہت زیادہ ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا : ﴿ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ﴾ اور ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں۔ النسآء
119 [١٥٨] شیطانی فریب کی صورتیں :۔ ایسی جھوٹی آرزوئیں جن کا شریعت میں کوئی ثبوت نہ ہو۔ جیسے یہود کا یہ عقیدہ کہ انہیں دوزخ کی آگ چھو ہی نہیں سکے گی۔ ماسوائے ان چند دنوں کے جن میں گؤ سالہ پرستی کی تھی۔ یا جیسے یہ کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں اور اللہ کے چہیتے اور پیارے ہیں لہٰذا ہمیں آخرت میں عذاب نہ ہوگا۔ ایسی جھوٹی آرزوئیں اور عقائد شیطان ہی خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے جس سے انسان گناہوں پر دلیر ہوجاتا ہے اور یہ بات یہودی تک محدود نہیں نصاریٰ اور مسلمان بھی اس معاملہ میں شیطان سے فریب خوردہ ہیں۔ نصاریٰ نے کفارہ مسیح کا عقیدہ گھڑ رکھا ہے اور مسلمانوں میں سید حضرات کہتے ہیں کہ ہماری خیر سے نسل ہی پاک ہے نیز پیروں کی سفارش کا عقیدہ بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ پھر یہ آرزوئیں صرف آخرت سے ہی متعلق نہیں ہوتیں، شیطان انسان کو کئی طرح کی دنیوی کامیابیوں، شادمانیوں اور عیش و عشرت کے سبز باغ دکھا کر بسا اوقات اسے گمراہ کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔ [١٥٩] جیسا کہ اہل عرب کیا کرتے تھے کہ جب کوئی اونٹنی دس بچے جن لیتی یا جس اونٹ کے نطفہ سے دس بچے پیدا ہو چکتے تو اسے اپنے دیوتا کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس سے کام لینا حرام سمجھتے اور علامت کے طور پر اس کے کان چیر دیتے تھے۔ [١٦٠] شکل وصورت میں تبدیلی :۔ اس آیت کے بہت سے مفہوم ہیں مثلاً ایک یہ کہ کوئی مرد ایسی شکل و صورت بنائے کہ وہ عورت معلوم ہونے لگے یا کوئی عورت ایسی ہئیت کذائی بنائے کہ وہ مرد معلوم ہو۔ دوسرے یہ کہ بہروپ دھار کر لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے۔ تیسرے یہ کہ اپنی ہی شکل و صورت میں اپنی مرضی کے مطابق ایسی قطع و برید کی جائے جس سے وہ خوبصورت بن سکے۔ داڑھی منڈانا بھی اس ضمن میں آتا ہے۔ چوتھے یہ کہ کسی مخلوق سے وہ کام لیا جائے جس کے لئے اللہ نے اسے پیدا نہیں کیا۔ مثلاً لڑکوں سے لواطت کرنا یا جس کام کے لئے اللہ نے کسی مخلوق کو پیدا کیا ہے، اس سے وہ کام نہ لینا۔ مثلاً مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنانا، برتھ کنٹرول، منصوبہ بندی، اسقاط حمل سے انسانی نسل کو روکنا، خصی کرنا وغیرہ۔ عورتوں کو گھر کے میدان سے باہر لاکر کھیتوں اور معیشت کے میدان میں لانا۔ اور ایسے کام دراصل فطرت کے خلاف جنگ ہے جس کے نتائج ہمیشہ برے ہی نکلتے ہیں اور فطرت کے خلاف جنگ میں بالآخر انسان ہی ناکام رہتا ہے۔ اور یہ سب پٹیاں شیطان ہی پڑھاتا ہے۔ اور ہر زمانہ میں اس کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ النسآء
120 [١٦١] مثلاً شیطان کا یہ پٹی پڑھانا کہ توحید کے ہوتے ہوئے باقی سب گناہ معاف ہوجائیں گے اور اس طرح گناہوں پر دلیر بنا دینا یا اولیاء اللہ کی ان کے مریدوں کے حق میں سفارش کرکے چھڑا لینے کے عقیدہ کو پختہ کردینا، یا یہ کہ ابھی کافی زندگی باقی ہے۔ نیک اعمال کے لئے اور توبہ کے لئے ابھی جلدی بھی کیا پڑی ہے۔ ایسے سب وعدے اور امیدیں شیطان انسان کو فریب میں مبتلا رکھنے کے لئے کرتا رہتا ہے۔ اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ شیطان انسان کے دل میں بے جا آرزوئیں پیدا کرتا رہتا ہے۔ جن سے انسان کی حرص اور طول امل میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جوں جوں ابن آدم بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کی حرص اور خواہشیں جواں ہوتی رہتی ہیں اور یہی دو باتیں تمام گناہوں کا سرچشمہ ہیں۔ طول امل کی وجہ سے انسان کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ اسے کسی وقت اس دنیا سے رخصت بھی ہونا ہے۔ اپنی موت سے بھول سے یاد نہیں آتی۔ حالانکہ ایسی آرزوئیں کسی کو ساری عمر نہ حاصل ہوئی ہیں اور نہ ہوں گی۔ ایسی ہی آرزؤں کی تکمیل لئے وہ کئی قسم کے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے اور ہوتا رہتا ہے تاآنکہ موت اسے یکدم آکر دبوچ لیتی ہے۔ اور اس کی طویل خواہشات کے سلسلہ کو منقطع کردیتی ہے۔ النسآء
121 النسآء
122 [١٦٢] یہاں اہل ایمان اور جنت کا ذکر اللہ تعالیٰ کی اس سنت کے مطابق لایا گیا ہے کہ جہاں ترہیب کا ذکر ہو رہا ہو تو ساتھ ہی ترغیب کا اور جہاں ترغیب کا ذکر ہو رہا ہو تو ساتھ ہی ترہیب کا ذکر عموماً قرآن کریم میں آیا کرتا ہے۔ پچھلی آیات میں شیطان کے پیروکاروں کا ذکر تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ شیطان کے وعدے اور امیدیں دلانا سب کچھ مکروفریب ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایمان والوں سے اللہ نے جس جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ وہ بالکل سچا ہے اور اللہ سے بڑھ کر سچا ہو بھی کون سکتا ہے؟ لوگوں کے اعمال کے اچھے اور برے نتائج اس نے جو اطلاع دی ہے اور جنت اور دوزخ کے جو حالات بتائے ہیں وہ سب اس کی نظروں کے سامنے ہیں۔ زمان و مکان کی رکاوٹیں تو ہمارے لئے ہیں اور جنت اور دوزخ ہمارے لئے تو غیب ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے سب باتیں شہود ہی شہود ہیں۔ اس کے لئے زمان و مکان بھی کوئی چیز نہیں۔ النسآء
123 [١٦٣] سستی نجات کا عقیدہ :۔ شیطان جن راہوں سے انسان کو گمراہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر ''سستی نجات کا عقیدہ'' ہے۔ تو اس میدان میں مسلمان یہود و نصاریٰ سے بھی دو ہاتھ آگے ہی ہوں گے جنہوں نے پیروں کی سفارش کے علاوہ اس دنیا میں بھی بہشتی دروازے بنا رکھے ہیں کہ جو شخص اس دروازے سے اس پیر کے عرس کے دن گزر گیا وہ بہشتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایسی خرافات کی تردید کرتے ہوئے نجات کی صحیح راہ بیان فرمائی اور وہ راہ اللہ تعالیٰ کا قانون جزا و سزا ہے۔ یہ قانون قرآن کریم میں متعدد مقامات پر مذکور ہے اور اس قانون کی قابل ذکر دفعات یہ ہیں : (١) قانون جزاء وسزاء کی دفعات :۔ ہر انسان کو صرف وہی کچھ ملے گا جو اس نے خود کمایا ہو، برے عمل کا بدلہ برا ہوگا اور اچھے عمل کا اچھا۔ (٢) جزا و سزا کے لحاظ سے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں (٣) اگر کسی نے چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی کی ہوگی تو بھی اس کا اسے ضرور بدلہ ملے گا اللہ کسی کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی نظر انداز نہیں فرمائے گا۔ کسی کی ذرہ برابر بھی حق تلفی نہیں ہوگی۔ (٤) قیامت کے دن کوئی بھی شخص خواہ وہ اس کا پیر ہو یا کوئی قریبی رشتہ دار ہو دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا (٥) یہ ناممکن ہے کہ زید کے گناہ کا بار بکر کے سر ڈال دیا جائے (٦) شفاعت کے مستحق صرف گناہگار موحدین ہوں گے وہ بھی ان شرائط کے ساتھ کہ اللہ جس کے حق میں خود سفارش چاہے گا اسی کے حق میں کی جا سکے گی اور جس شخص کو سفارش کرنے کی اجازت دے گا صرف وہی سفارش کرسکے گا۔ اس قانون کے علاوہ نجات کی جتنی راہیں انسان نے سوچ رکھی ہیں، وہ سب شیطان کی بتلائی ہوئی راہیں ہیں۔ ان کا کچھ فائدہ نہ ہوگا البتہ یہ نقصان ضرور ہوگا کہ انسان ایسی امیدوں کے سہارے دنیا میں گناہوں پر اور زیادہ دلیر ہوجاتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرما دی کہ قیامت کے دن لوگوں کے ایسے من گھڑت سہارے کسی کام نہ آ سکیں گے جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکیں۔ النسآء
124 النسآء
125 [١٦٤] دین ابراہیم کی صفات :۔ سیدنا ابراہیم کے دین کی قابل ذکر صفات دو ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کے مقابلہ میں انہوں نے تمام طاغوتی طاقتوں سے ٹکر لی۔ تقلید آباء کا انکار کیا، بت پرستی اور نجوم پرستی سے ٹکر لی۔ نمرود کی خدائی کا انکار کیا اور چونکہ انہوں نے اپنے وقت کی تمام طاغوتی طاقتوں سے ٹکر لی اور ان کا مقابلہ کرتے ہوئے صرف ایک اللہ کے دامن میں پناہ لی۔ لہٰذا وہ حنیف کہلائے اور حنیف کا یہی معنیٰ ہے اور دوسری صفت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کے تمام تر احکام کے سامنے برضا و رغبت اپنا سر تسلیم خم کردیا تھا۔ یہ نہیں کیا کہ جو بات آسان یا نفس کو مرغوب تھی اسے تو قبول کرلیا اور جو مشکل یا ناپسند تھی اسے چھوڑ دیا، یا اس کی حسب پسند تاویل کر کے اسی کے مطابق عمل کرلیا۔ یہی دو صفات تھیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم کو مختلف تجربوں اور آزمائشوں سے گزارنے کے بعد اپنا دوست بنا لیا تھا ۔ اب جو شخص ملت ابراہیم کی پیروی کا دعویٰ کرتا ہے اسے انہی دو صفات کو کسوٹی بنا کر دیکھ لینا چاہیے کہ وہ اپنے دعویٰ میں کس حد تک سچا ہے، اس سے غرض نہیں کہ وہ یہودی ہو یا عیسائی ہو یا مسلمان ہو یا کوئی اور ہو۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دین ہی وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سب دینوں سے بہتر قرار دیا ہے اور اسی دین کا نام اسلام ہے جو سب انبیاء کا شیوہ رہا ہے۔ اور اس دین کے اہم اجزاء دو ہیں (١) اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردینا (٢) اچھے اعمال بجا لانا اور ان دو اجزاء کا مفہوم اس قدر وسیع ہے جس میں پوری کی پوری شریعت سما جاتی ہے۔ النسآء
126 [١٦٥] جزاء و سزا کا قانون بیان کرنے کے بعد یہ فرمانا کہ کائنات کی ایک ایک چیز اللہ ہی کی ملک ہے اس لحاظ سے ہے کہ وہ اپنے اس قانون کو نافذ کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے اور تم اس کی گرفت سے کسی صورت بچ نہیں سکتے۔ النسآء
127 [١٦٦] یتیم لڑکیوں سے ناانصافی :۔ یتیم لڑکیوں کے بارے میں جو احکام پہلے سنائے جا چکے ہیں وہ اسی سورۃ نساء کی آیت نمبر ٣ میں مذکور ہیں اور اس آیت کا اس آیت سے گہرا تعلق ہے۔ ہوتا یہ تھا کہ یتیم لڑکیوں کے سرپرست ان سے نکاح کرنے کے سلسلہ میں کئی طرح کی بے انصافیوں کا ارتکاب کرتے تھے جن کی تفصیل اسی سورۃ کی آیت نمبر ٣ کے تحت بیان کی جا چکی ہے۔ ان بے انصافیوں سے بچنے کی خاطر ایسی یتیم لڑکیوں کے سرپرستوں نے یہ محتاط رویہ اختیار کیا کہ ان سے نکاح کرنا ہی چھوڑ دیا تھا تاکہ ان سے ان یتیم لڑکیوں کے حق میں کوئی بے انصافی کی بات سرزد نہ ہوجائے۔ لیکن اس طرح بھی بعض دفعہ نقصان کی صورت پیش آ جاتی تھی اور وہ یہ تھی کہ جس قدر اخوت اور بہتر سلوک انہیں سرپرستوں سے نکاح کرنے میں میسر آ سکتا تھا، غیروں کے ساتھ نکاح کرنے سے وہ میسر آ ہی نہ سکتا تھا اور بعض دفعہ ان کی زندگی تلخ ہوجاتی۔ اس آیت کے ذریعہ اولیاء کو ان کے زیر کفالت یتیم لڑکیوں سے نکاح کی اجازت دے دی گئی مگر اس شرط کے ساتھ کہ ایک تو ان کے حق مہر میں کمی نہ کرو اور دوسرے جو کچھ تم طے کرو وہ ادا ضرور کر دو اور ان کے جو دوسرے حقوق وراثت وغیرہ ہوں، بھی انہیں ادا کر دو۔ اور بعض مفسرین نے اس آیت سے یتیم بچیوں کا وراثت میں حصہ مراد لیا ہے جس کے احکام پہلے اسی سورۃ کی آیت نمبر ١١ میں گزر چکے ہیں۔ دور جاہلیت کا دستور یہ تھا کہ وہ نہ میت کی بیوی کو وراثت سے کچھ حصہ دیتے تھے اور نہ یتیم لڑکیوں کو۔ بلکہ وراثت کے حقدار صرف وہ لڑکے سمجھے جاتے تھے جو لڑائی کرنے اور انتقام لینے کے قابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے آیت میراث کی رو سے بیواؤں، یتیم لڑکیوں کے علاوہ چھوٹے بچوں کو بھی وراثت میں حقدار بنا دیا اور اس آیت میں ماکَتَبَ لَھُنَّ کے الفاظ اسی بات پر دلالت کرتے ہیں۔ [١٦٦] یعنی ایسے یتیم بچے جو ان کے ولی کے زیر کفالت ہیں ان کے حقوق بھی انہیں پورے پورے ادا کرو۔ اور کسی طرح سے بھی ان سے ناانصافی نہ کرو، یتیموں سے حسن سلوک کے سلسلہ میں بھی پہلے سورۃ نساء کی ابتدا میں تفصیل گزر چکی ہے۔ النسآء
128 [١٦٧] اس آیت کی تفسیر میں درج ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ زوجین کا باہمی سمجھوتہ :۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس آیت کا مطلب یہ بیان فرماتی ہیں کہ مثلاً ایک شخص کے پاس عورت ہو جس سے وہ کوئی میل جول نہ رکھتا ہو اور اسے چھوڑ دینا چاہے اور عورت کہے کہ اچھا میں تجھے اپنی باری یا نان و نفقہ معاف کردیتی ہوں (مگر مجھے طلاق نہ دے) یہ آیت اس باب میں اتری۔ (بخاری، کتاب التفسیر) ٢۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں طلاق نہ دے دیں، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ’’مجھے طلاق نہ دیجیے اپنے پاس ہی رکھیے اور میں اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیتی ہوں‘‘ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ہی کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ گویا میاں بیوی جس شرط پر بھی صلح کرلیں وہ جائز ہے۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر) [١٦٩] یہاں لالچ سے مراد صرف مال و دولت کا لالچ نہیں بلکہ اس میں تمام مرغوبات نفس شامل ہیں جیسا کہ حدیث نمبر ٢ سے معلوم ہوتا ہے۔ یعنی اگر عورت اپنے خاوند کی پسند کو ملحوظ خاطر رکھے گی تو یقیناً مرد کا دل بھی نرم ہوجائے گا اور صلح کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ [١٧٠] یعنی اگر تم بغیر کسی لالچ کے محض اللہ سے ڈر کر اپنی بیوی سے بہتر سلوک کرو اور اسے طلاق نہ دو تو اللہ سے یقیناً تمہیں اس احسان کا بدلہ مل جائے گا۔ النسآء
129 [١٧١] کسی ایک بیوی کی طرف میلان طبع کی وجوہ :۔ وہ اس لیے کہ مثلاً ایک بیوی جوان ہے، دوسری بوڑھی ہے، ایک خوبصورت ہے دوسری قبول صورت یا بدصورت ہے، ایک کنواری ہے دوسری شوہر دیدہ ہے، ایک خوش مزاج ہے دوسری تلخ مزاج ہے ایک ذہین و فطین ہے تو دوسری غبی اور کند ذہن ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ ایسی صفات ہیں جن میں اگرچہ عورت کا اپنا کچھ عمل دخل نہیں تاہم یہ خاوند کے لیے میلان یا عدم میلان طبع کا باعث ضرور بن جاتی ہیں اور یہ فطری امر ہے۔ اس قسم کے میلان و عدم میلان پر انسان کا چونکہ اپنا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا لہٰذا ایسے امور پر اللہ کی طرف سے گرفت اور مواخذہ نہیں۔ مواخذہ تو صرف ان باتوں پر ہوگا جو انسان کے اپنے اختیار میں ہوں مثلاً نان و نفقہ اور دیگر ضروریات زندگی کا خیال رکھنا عورتوں کی باری مقرر کرنا وغیرہ۔ اب جو باتیں انسان کے بس میں نہیں ان کے متعلق ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم کما حقہ عدل نہ کرسکو گے۔ [١٧٢] بیویوں کے درمیان عدل کی حقیقت :۔ یعنی جن باتوں میں انسان انصاف کرنے کا اختیار رکھتا ہے ان کا ضرور لحاظ رکھا کرو۔ اس سے خودبخود ہی یہ نتیجہ پیدا ہوجائے گا کہ نہ تو تم ایک ہی بیوی کی طرف پوری طرح جھکو گے اور نہ کسی دوسری سے بالکل بے تعلق رہ سکو گے۔ اس آیت کی تفسیر میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کی طرف میلان رکھے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا۔‘‘ (دارمی، کتاب النکاح، باب فی العدل بین النسائ) ٢۔ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے اپنا باری کا دن (اور ایک روایت میں ہے کہ دن اور رات) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کردیا تھا۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں دو دن رہا کرتے، ایک ان کا اپنا باری کا دن اور ایک سودہ رضی اللہ عنہا کا دن۔ (بخاری، کتاب النکاح باب المراۃ تھب یومھا من زوجہا لضرتھا و کیف یقسم ذلک) ٣۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ کا یہ دستور تھا کہ عصر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام بیویوں کے ہاں جایا کرتے تھے۔ (بخاری، کتاب النکاح، باب دخول الرجل علی نسائہٖ فی الیوم) ٤۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب (مرض الموت میں) بیمار ہوئے اور بیماری شدت اختیار کرگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی بیویوں سے اجازت لی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے تو تمام بیویوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی۔ (بخاری، کتاب الہبہ، باب ھبۃ الرجل لامرأتِہٖ والمراۃ لزوجھا) ٥۔ نظریہ زوجگی کا رد :۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، یہ سنت ہے کہ جب کسی کنواری سے نکاح کرے تو اس کے ہاں سات دن رہے پھر باری مقرر کرے۔ اور جب شوہر دیدہ سے نکاح کرے تو اس کے ہاں تین دن رہے پھر باری مقرر کرے۔ (بخاری کتاب النکاح، باب اذاتزوج البکر علی الثیب و باب اذاتزوج الثیب علی البکر) بعض مسلمان جو تہذیب مغرب سے مرعوب ہیں اور یک زوجگی کے قائل ہیں، یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام ایک طرف تو تعدد ازواج کی اجازت دیتا ہے لیکن دوسری طرف عدل کو ناممکن قرار دے کر عملاً اس اجازت کو منسوخ کردیتا ہے۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عدل کو ناممکن صرف ان امور میں کہا ہے جو انسان کے بس سے باہر ہیں اور ان پر مواخذہ بھی نہیں جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔ اور دوسرا جواب اسی آیت کے اندر موجود ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ ’’لہٰذا ایک ہی بیوی کی طرف نہ جھک جاؤ۔‘‘ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک سے زیادہ بیویوں کی اللہ نے اجازت دے رکھی ہے۔ اس طرح ان کے شبہ یا اعتراض کی مکمل تردید ہوجاتی ہے۔ النسآء
130 [١٧٣] اور اگر ان میں نباہ اور حسن معاشرت کی کوئی صورت نظر نہ آ رہی ہو تو اسلام اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ ایک گھرانہ میں ہر وقت کشیدگی کی فضا قائم رہے اور جہنم زار بنا رہے۔ اس سے بہتر ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں۔ خواہ مرد طلاق دے دے یا عورت خلع لے لے۔ پھر دونوں کا اللہ مالک ہے وہ ان کے لیے بہت سامان پیدا فرما دے گا۔ اور یہ بات کئی بار تجربہ میں آ چکی ہے کہ جن دو میاں بیوی کا آپس میں نباہ ہونا ناممکن نظر آ رہا تھا اور وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے نالاں اور ایک دوسرے پر الزام دھرتے تھے جب دونوں الگ ہوگئے تو ان دونوں کو اللہ نے اپنے اپنے گھروں میں سکھ چین سے آباد کردیا اور پھر زندگی بھر ان نئے جوڑوں میں موافقت و موانست کی فضا برقرار رہی اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بسا اوقات میاں اور بیوی دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے ذہن میں دوسرے کے متعلق ایسی بدظنیاں اور بدگمانیاں پیدا ہوجاتی ہیں کہ وہ ہر سیدھی بات سے بھی غلط نتیجہ ہی اخذ کرتے ہیں۔ پھر جب انہیں نیا ماحول میسر آ جاتا ہے جس میں ذہن ایک دوسرے کی طرف سے بالکل صاف ہوتے ہیں تو ایسی کوئی کشیدگی پیدا نہیں ہوتی اور ان دونوں کی خوش باش زندگی کا نیا دور شروع ہوجاتا ہے۔ النسآء
131 [١٧٤] اللہ کی بے نیازی :۔ اس کائنات اور اس عالم دنیا سے اللہ کی بے نیازی کا یہ عالم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے، انسان اور جن ّسب کے سب، سب سے زیادہ متقی آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا۔ اور اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جن سب کے سب، سب سے فاجر آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کچھ بھی کمی واقع نہ ہوگی۔ اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے انسان اور جن سب کے سب ایک میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کی مطلوبہ چیز دے دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس میں کوئی کمی نہ آئے گی مگر اتنی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے آتی ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم و خذلہ۔۔ الخ) النسآء
132 [١٧٥] شرعی احکام انسانوں کی مصالح پر مبنی ہیں :۔ ان آیات ١٣٠ تا ١٣٢ میں تین بار یہ جملہ دہرایا گیا ہے ﴿ وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ﴾ اور تینوں دفعہ اس کا استعمال الگ الگ مقصد کے لیے ہوا ہے۔ پہلی بار سے کشائش اور وسعت مقصود ہے یعنی اس کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔ کیونکہ آسمانوں اور زمین کی ایک ایک چیز اسی کی ملکیت ہے، اگر کسی جوڑے میں حالات کی ناسازگاری کی بنا پر جدائی ہوگئی ہے تو اللہ ان دونوں کے لیے بہتر حالات پیدا کرسکتا ہے کیونکہ ہر طرح کے اسباب و وسائل پر اس کا پورا پورا کنٹرول ہے۔ دوسری بار یہ جملہ ایک دوسرے مدلول کی دلیل کے طور پر آیا ہے جو یہ ہے کہ یہ اللہ کی خاص مہربانی اور فضل ہے کہ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو بھی اور خاص تمہیں بھی شریعت نازل فرما کر ان احکام پر عمل کرنے اور اللہ سے ڈرتے رہنے کا حکم دیا اور شریعت کے یہ تمام احکام تمہارے ہی دینی اور دنیوی مصالح پر مبنی ہوتے ہیں، جن میں تمہارا فائدہ ہوتا ہے۔ وہ واجب کردیئے جاتے ہیں اور جن کاموں میں تمہارا نقصان ہوتا ہے وہ حرام کردیئے جاتے ہیں اب اگر تم ان احکام پر عمل کرو گے تو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے اور اگر نہ کرو گے تو اس میں تمہیں ہی نقصان پہنچے گا۔ اللہ کا نہ تمہاری اطاعت سے کچھ سنورتا ہے اور نہ تمہاری نافرمانی سے کچھ بگڑ سکتا ہے اس لیے کہ پوری کائنات کا مالک تو وہ پہلے ہی ہے۔ لہٰذا وہ تمہاری فرمانبرداری یا نافرمانی سے بے نیاز ہے اور اس کے کارنامے ایسے ہیں جو خود اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ اس کائنات کا خالق مالک اور منتظم فی الواقع مستحق حمد ہے، تمہارے اس کی حمد کرنے یا نہ کرنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ النسآء
133 [١٧٦] اور جو تیسری بار اس جملہ کو دہرایا تو اس کا مدلول مسلمانوں کے مستقبل کے حالات ہیں یعنی اے مسلمانو! اگر تم اللہ کی نافرمانی کرو گے تو اس کے کاموں کا انحصار تمہیں پر نہیں وہ ایسا کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے کہ اس صورت میں کوئی اور قوم آگے لے آئے اور اس کے ہاتھ سے تمہیں پٹوا کر پیچھے دھکیل دے جیسا کہ یہود اللہ کی نافرمانیوں اور بدکرداریوں میں مبتلا ہوئے تو انہیں عیسائیوں کے ہاتھوں پٹوا کر پیچھے دھکیل دیا تھا۔ اور اب تمہارے ہاتھوں ان دونوں کو پٹوا رہا ہے۔ اللہ کو تو اپنے دین کو سربلند کرنا ہے لہٰذا جو لوگ بھی اللہ کے اس مشن کو جاری رکھنے کے قابل ہوں گے وہ انہی کو آگے لے آئے گا لہٰذا تمہارا مفاد اسی میں ہے کہ تم ہی اس کے فرمانبردار بن کر رہو۔ النسآء
134 [١٧٧] دنیا وآخرت دونوں کا مطالبہ کیوں؟ یعنی اللہ کے ہاں تو سب کچھ موجود ہے۔ اب یہ ہر انسان کا اپنا اپنا ظرف ہے۔ اگر وہ دنیا کے فائدے ہی چاہتا ہے اور دنیا میں ہی مگن ہوگیا ہے تو اسے دنیا کے فائدے حاصل ہوجائیں گے اور جو آخرت کی بھلائی بھی چاہتا ہے اسے یقیناً آخرت میں اجر و ثواب ملے گا۔ اور اس کے علاوہ دنیا کے فائدوں میں سے بھی جو کچھ اس کے مقدر ہوچکا ہے وہ اسے مل کر رہے گا، لہٰذا عقلمند اور صاحب ظرف انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ آخرت کے اجر و ثواب پر مبذول کرے۔ النسآء
135 [١٧٨] انصاف کی گواہی کا تاکیدی حکم :۔ اپنے خلاف گواہی دینے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے جرم کا برملا اعتراف کرلے خواہ اس کا کتنا ہی نقصان برداشت کرنا پڑے اور یہ بڑا حوصلے اور اجر و ثواب کا کام ہے۔ اپنے بعد سب سے قریبی والدین ہوتے ہیں پھر اس کے بعد دوسرے قرابت دار۔ اور ظاہر ہے کہ جو شخص اپنے خلاف گواہی دینے کی جرأت کرسکتا ہے وہ والدین اور اقرباء کے خلاف بدرجہ اولیٰ ایسی جرات کرسکے گا۔ اپنے خلاف گواہی دینے اور حق کی بات صاف صاف کہہ دینے سے بسا اوقات مخالف فریق پر بہت خوشگوار اثر پڑتا ہے اور اس کا دل از خود نرمی کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ [١٧٩] دولت مند کے حق میں غلط گواہی اس لیے دی جاتی ہے کہ اس طرح گواہی دینے والا اس سے کوئی دنیوی مفاد حاصل کرسکے۔ اور غریب کے حق میں اس لیے کہ امیر کے مقابلہ میں غریب پر رحم اور ترس کھانا چاہیے اور اس طرح شاید اس کا کچھ بھلا ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ ان دونوں کا اللہ وارث ہے اور وہ ان دونوں کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے۔ ان کا بلکہ تمہارا اپنا بھی نفع و نقصان تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ لہٰذا جو بھی صورت ہو گواہی تمہیں انصاف کے ساتھ بالکل ٹھیک ٹھیک اور اللہ سے ڈر کر دینی چاہیے۔ [١٨٠] گواہی میں ہیرا پھیری کی صورتیں :۔ شہادت کے وقت لگی لپٹی یا گول مول سی بات مت کرو جس سے کسی فریق کو نقصان پہنچ جائے۔ اور اس کی کئی صورتیں ہیں مثلاً مبنی برحق شہادت کا کچھ حصہ چھپایا جائے اور سمجھے کہ میں نے شہادت کے وقت جھوٹ نہیں بولا۔ تو یہ کتمان حق، جھوٹی شہادت سے بھی بڑا گناہ ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ گواہ کو واقعہ کا پورا پورا علم ہے لیکن وہ اس ترتیب سے توڑ موڑ کر اور ہیرا پھیری کر کے بیان کرے کہ بات کچھ کی کچھ بن جائے۔ اور اس کا مقصد کسی ایک فریق کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے جس سے دوسرے کو از خود نقصان پہنچ جاتا ہے اور بعض دفعہ گواہ کسی اپنے ذاتی مفاد کے لیے بھی ایسے کام کرنے لگتا ہے۔ یہ سب صورتیں عدل و انصاف اور تقویٰ کے خلاف ہیں۔ واضح رہے کہ اگر اس آیت کو ظاہری مفہوم میں لیا جائے تو اس کا وہی مفہوم ہے جو اوپر بیان ہوا ہے تاہم ( کونوا قوامین بالقسط) کے الفاظ اس سے وسیع تر مفہوم کے حامل ہیں۔ قوام، قائم سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور قسط ایسا عام لفظ ہے جس میں دنیوی معاملات، خانہ داری، باہمی معاملات اور لین دین، اپنے اور بیگانے، کافر اور مومن ہر ایک سے انصاف کرنے کا حکم شامل ہے اور یہ صرف عدالت میں گواہی دینے تک محدود نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے، اس سے ڈرتے ہوئے جو بات کرو انصاف کی کرو۔ نیک کو نیک اور بد کو بد کہو۔ بات کہو تو سچی کہو خواہ اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو رہا ہو یا اس کی زد تمہارے والدین یا کسی قریبی رشتہ دار پر پڑ رہی ہو۔ امیر اور غریب، کافر اور مومن کسی سے بھی رعایت نہ کرو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رعایت رکھو۔ النسآء
136 [١٨١] ایمان کے درجات :۔ اس آیت میں ایمان کا لفظ دو معنوں میں یا ایمان کے دو مختلف درجوں میں استعمال ہوا ہے۔ اٰمنوا کا مطلب یہ ہے، لوگو جو تم مومنوں کی جماعت میں شامل ہوچکے ہو۔ اور اٰمنوا کا مطلب یہ ہے کہ خلوص نیت سچے دل اور پختہ عزم اور سنجیدگی کے ساتھ ایمان لاؤ اور اپنی سوچ، اپنے عمل، اپنے رویہ، اپنے نظریات، اپنے مذاق، اپنے کردار، اپنی دوستی اور دشمنی، اپنی اغراض، اپنی جدوجہد غرض ہر چیز کو اس عقیدے کے مطابق بناؤ جس پر تم ایمان لائے ہو۔ تب ہی تم میں انصاف پر قائم رہنے کی صفت پیدا ہو سکے گی۔ [١٨٢] قرآن سے پہلے کی نازل شدہ کتاب یا کتابوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ فی الواقع وہ کتاب بھی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ جو کچھ مواد ان میں آج کل پایا جاتا ہے وہ سب کچھ منزل من اللہ ہے اس آیت میں اور اسی طرح دیگر متعدد آیات میں ایمان بالغیب کے پانچ اجزا کا ذکر آیا ہے جو یہ ہیں اللہ پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، اس کے فرشتوں پر اور آخرت کے دن پر بن دیکھے ایمان لایا جائے۔ یعنی ان پر پختہ یقین رکھا جائے۔ ایمان بالغیب کا چھٹا جزو تقدیر پر ایمان ہے یعنی ہر طرح کی بھلائی اور برائی اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور یہ عقیدہ بھی قرآن ہی کی متعدد آیات سے مستنبط ہے۔ اگرچہ اس آیت میں مذکور نہیں۔ [١٨٣] کفر کے درجے :۔ جس طرح پہلی آیت میں ایمان کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوا ہے اسی طرح اس آیت میں کفر کا لفظ بھی دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک یہ کہ سرے سے مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہی نہ ہو اور ان سب امور مذکورہ کا انکار کر دے۔ دوسرے یہ کہ ایمان کا زبانی دعویٰ کر کے مسلمانوں میں شامل تو ہوجائے لیکن جو اثرات اس عقیدہ کے اس کی طبیعت پر مترتب ہونا چاہیے تھے وہ نہ ہوں۔ نہ ہی وہ اپنے طریق زندگی کو شرعی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ ایسا ایمان بھی کچھ فائدہ نہ دے گا اور یہ سراسر گمراہی ہے۔ النسآء
137 [١٨٤] ایمان اور فکر کی بار بار تبدیلی :۔ ان سے مراد منافقین اور مرتدین کا گروہ ہے جو ہر وقت مذبذب ہی رہتے کہ جس طرف کا پلہ بھاری نظر آئے اس میں شامل ہوجائیں۔ ایسے لوگ ہوا کا رخ دیکھتے، حالات کا جائزہ لے کر اپنی خواہش نفس کے پیروکار ہوتے ہیں اور جتنی دفعہ بھی ہوا کا رخ بدلے اتنی دفعہ ہی ان کا ایمان اور کفر بدلتا رہتا ہے۔ ایسے ایمان کا چونکہ کچھ فائدہ نہیں ہوتا لہٰذا ان پر کفر ہی کی چھاپ مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ اور کفر میں بڑھتے چلے جانے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ خود تو کافر ہیں ہی دوسروں کو بھی کافر بنانے کے لیے اور اسلام کی راہ روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں ایسے لوگوں کی راہ راست پر آنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ النسآء
138 النسآء
139 [١٨٥] کافروں سے دوستی منافق کی مثال اور کردار :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنانا یا سمجھنا منافقت کی واضح علامت ہے۔ یہ لوگ کافروں کے ساتھ میل جول رکھ کر ان کے نزدیک مقبول بننا چاہتے ہیں۔ حالانکہ نتیجہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے ''دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا'' والی بات بن جاتی ہے ایسے منافق، مسلمانوں کی نظروں سے بھی گر جاتے ہیں اور کافروں کی نظروں میں بھی ذلیل ہی رہتے ہیں اور ہر جگہ سے اپنا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں اور جو شخص ہر حال میں ایک ہی گروہ سے منسلک رہے وہ دشمن کی نظروں میں بھی کم از کم قابل اعتماد ضرور ہوتا ہے۔ چنانچہ مسلم میں اسی مضمون کی ایک حدیث بھی وارد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’منافق کی مثال بکریوں کے دو گلوں کے درمیان پھرنے والی بکری کی سی ہے جو کبھی اس گلے میں جاتی ہے اور کبھی اس گلے میں۔‘‘ (مسلم، کتاب صفۃ المنافقین و احکامھم) یہ بات بھی قابل غور ہے کہ منافق لوگ کافروں سے میل جول اس لیے رکھتے ہیں کہ ان کے ہاں وہ معتبر، مقبول اور معزز بن سکیں۔ لیکن اگر اللہ ان کافروں کو ہی، جن کے ہاں یہ عزت تلاش کر رہے ہیں ذلیل کر دے تو انہیں عزت کہاں سے ملے گی۔ النسآء
140 [١٨٦] یہ حکم مکہ میں سورۃ انعام کی آیت نمبر ٦٨ میں نازل ہوا تھا جو یہ تھا کہ ’’جو لوگ ہماری آیات میں کج بحثیاں کرتے ہیں آپ ان سے الگ رہیے تاآنکہ وہ کسی دوسری بات میں لگ جائیں اور اگر کبھی شیطان آپ کو یہ بات بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو۔‘‘ یعنی جو لوگ ایسی مجالس میں بیٹھیں جہاں علانیہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تضحیک اور استہزاء کیا جا رہا ہو یا سرے سے انکار ہی کیا جا رہا ہو اور وہ ایسی باتیں ٹھندے دل سے سن کر وہیں بیٹھے رہیں اور ان کی غیرت ایمانی کو ذرا بھی حرکت نہ ہو تو ان میں اور ان کافروں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ناراضگی کا اظہار کر دے، ان کی زبانیں بند کر دے اور اگر دلائل سے انہیں حق بات کا قائل کرسکتا ہو تو ضرور کرے اور اگر یہ دونوں کام نہیں کرسکتا تو کم از کم خود وہاں سے اٹھ کر چلا جائے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم میں سے جو شخص کوئی برا (خلاف شرع) کام ہوتا دیکھے تو اسے چاہیے کہ بزور بازو اسے مٹا دے اور اگر وہ ایسا نہیں کرسکتا تو زبان سے ہی منع کر دے اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو کم از کم دل میں ہی اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور تر درجہ ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب الایمان، باب کون النہی عن المنکر من الایمان) اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ اگر دل میں بھی برا نہ جانے تو سمجھ لے کہ اس میں رائی برابر بھی ایمان نہیں۔ واضح رہے کہ سورۃ انعام مکہ میں نازل ہوئی تھی اور مکہ میں اللہ کی آیات کا تمسخر اڑانے والے کفار مکہ تھے اور یہ سورۃ نساء مدینہ میں نازل ہوئی، یہاں اللہ کی آیات کا تمسخر اڑانے والے یہود مدینہ اور منافقین تھے گویا اللہ کے رسولوں، اور اللہ کی آیات کا مذاق اڑانا ہر طرح کے کافروں کا پرانا دستور ہے۔ النسآء
141 [١٨٧] منافقوں کی مفاد پرستی :۔ منافقین کا طبقہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی موجود تھا اور ہر دور میں موجود رہتا ہے اور آج بھی موجود ہے۔ ان میں ایمان نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی بلکہ ان کا ایمان صرف مفاد کا حاصل کرنا ہوتا ہے اور اصول، جھوٹ اور مکر و فریب ہوتا ہے۔ ایسے لوگ بس ہوا کا رخ دیکھتے رہتے ہیں۔ جدھر سے مفاد حاصل ہونے کی توقع ہو فوراً باتیں بنا کر ادھر لڑھک جاتے ہیں۔ اس آیت میں دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے منافقوں کا حال بیان کیا گیا ہے اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہو تو مال غنیمت میں سے حصہ لینے کی غرض سے کہتے ہیں کہ آخر ہم بھی تو مسلمان اور تمہارے ساتھی ہیں لہٰذا ہمیں بھی حصہ ملنا چاہیے۔ اور کافروں کو فتح ہو تو ان سے جا ملتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تمہارے ساتھ ہماری ہمدردیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ تمہیں فتح حاصل ہوگئی۔ ورنہ اگر ہم دل جمعی سے مسلمانوں کا ساتھ دیتے تو فتح پانا تو درکنار مسلمان تمہارا کچومر نکال دیتے لہٰذا ہمیں تم کیسے نظر انداز کرسکتے ہو۔ اس طرح وہ دونوں طرف سے مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور آج کل ہمارے یہاں مفاد پرستوں کی ایک کثیر جماعت دو سیاسی پارٹیوں کے درمیان پھرتی رہتی ہے۔ ہوا کا رخ دیکھتے ہی فوراً اپنی پارٹی بدل کر ایسی پارٹی میں جا شامل ہوتے ہیں جو برسراقتدار ہو یا اس کے برسراقتدار آنے کی توقع ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ''لوٹا'' کی سیاسی اصطلاح وضع کی گئی ہے جو ''بے پیندا لوٹا'' کے محاورہ کا اختصار ہے جو ہر طرف لڑھکتا رہتا ہے۔ ان لوگوں کا دین و ایمان صرف پیسہ اور دوسرے مفادات ہوتے ہیں، جدھر سے زیادہ مل جائیں ادھر چلے جاتے ہیں۔ [١٨٨] اسی مضمون کو متعدد آیات میں دوسرے الفاظ سے دہرایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کافر اور منافق اللہ کے نور کو بجھانے کی جتنی بھی سر توڑ کوششیں کرسکتے ہیں، کر کے دیکھ لیں، اللہ اپنے اس ہدایت کے نور کو پورا کر کے رہے گا۔ بالآخر تمام ادیان پر اللہ کا دین ہی غالب ہو کر رہے گا۔ ایسی صورت ناممکن ہے کہ کافر مسلمانوں پر غالب آ جائیں۔ النسآء
142 [١٨٩] یعنی منافقوں کا تو کام ہی فریب کاریوں سے اپنا مفاد حاصل کرنا ہے اور جو سازشیں کرتے رہتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بذریعہ وحی مطلع کردیتا ہے تو یہ اپنی سازش میں نامراد رہنے کے علاوہ مسلمانوں کی نظروں میں ذلیل و رسوا بھی ہوجاتے ہیں پھر کوئی اور پینترا بدل لیتے ہیں تو کافران سے بدظن ہوجاتے ہیں اس طرح ان کی فریب کاریوں کا وبال انہی پر ہی پڑتا رہتا ہے۔ [١٩٠] منافق کی نماز اور ان کا کردار :۔ نماز اسلام کا اہم رکن ہے اور مومن اور کافر میں فرق کرنے کے لیے یہ ایک فوری امتیازی علامت ہے منافقین چونکہ اسلام کے مدعی تھے لہٰذا انہیں نماز ضرور ادا کرنا پڑتی تھی کیونکہ جو شخص نماز باجماعت میں شامل نہ ہوتا تو فوراً سب کو اس کے نفاق کا شبہ ہونے لگتا تھا۔ لیکن ایک مومن اور منافق کی نماز میں فرق ہوتا تھا۔ مومن بڑے ذوق و شوق سے آتے اور وقت سے پہلے مسجدوں میں پہنچ جاتے۔ نماز نہایت اطمینان اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے اور نماز کے بعد بھی کچھ وقت ذکر اذکار میں مشغول رہتے اور مسجدوں میں ٹھہرے رہتے تھے۔ ان کی ایک ایک حرکت سے معلوم ہوجاتا تھا کہ انہیں واقعی نماز سے دلچسپی ہے اس کے برعکس منافقوں کی یہ حالت تھی کہ اذان کی آواز سنتے ہی ان پر مردنی چھا جاتی۔ دل پر جبر کر کے مسجدوں کو آتے۔ نماز میں خشوع و خضوع نام کو نہ ہوتا تھا۔ دلوں میں وہی مکاریوں اور فائدہ کے حصول کے خیالات اور نماز ختم ہوتے ہی فوراً گھروں کی راہ لیتے۔ ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے ڈھیلے پن سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا تھا کہ انہیں نہ نماز کی اہمیت کا احساس ہے نہ اللہ سے کچھ محبت ہے اور نہ ہی اللہ کے ذکر سے کوئی رغبت ہے۔ وہ مسجدوں میں آتے ہیں تو محض حاضری لگوانے کے لیے اور نماز پڑھتے ہیں تو دکھانے کے لیے۔ علاوہ ازیں منافقین نماز باجماعت کا التزام بھی کم ہی کرتے تھے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث میں منافقوں کی اسی کیفیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ ١۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’منافق کی نماز یہ ہے کہ بیٹھا سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا ہے تو اٹھ کر (نماز عصر کے لیے) چار ٹھونگیں مار لیتا ہے اور اس میں اللہ کو کم ہی یاد کرتا ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب الصلٰوۃ۔ باب استحباب التبکیر بالعصر) ٢۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’منافقوں پر کوئی نماز صبح اور عشاء کی نماز سے زیادہ بھاری نہیں۔ اور اگر لوگ اس ثواب کو جانتے جو ان نمازوں میں ہے تو گھسٹ کر بھی پہنچتے۔ اور میں نے ارادہ کیا کہ موذن سے کہوں وہ تکبیر کہے اور کسی کو لوگوں کی امامت کا حکم دوں اور آگ کا شعلہ لے کر ان لوگوں (کے گھروں) کو جلا دوں جو ابھی تک نماز کے لیے نہیں نکلتے۔‘‘(بخاری، کتاب الاذان، باب فضل صلوۃ العشاء فی الجماعۃ) النسآء
143 [١٩١] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم قیامت کے دن اللہ کے ہاں بدتر اس شخص کو دیکھو گے جو دو رخا ہو۔ ان کے پاس آئے تو ان کی سی کہے اور ان کے پاس جائے تو ان کی سی کہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الادب، باب ماقیل فی ذی الوجھین۔۔ مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب ذم ذی الوجہین و تحریم فعلہ) النسآء
144 [١٩٢] منافقوں سے دوستی کی ممانعت :۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے تو تمہیں غیر مسلموں اور منافقوں سے دوستی گانٹھنے سے منع فرمایا ہے پھر اگر تم اللہ کے حکم کے علی الرغم یہی کام کرو گے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کے حضور تم خود ہی اپنے آپ کو سزا کے مستحق قرار دے رہے ہو۔ یہ حکم نہایت جامع قسم کا ہے جس کا تعلق افراد سے بھی ہے اور حکومت سے بھی۔ اس دنیا سے بھی ہے اور آخرت سے بھی۔ یعنی جس طرح ایک شخص کو کسی غیر مسلم یا منافق سے دوستی لگانے میں نقصان ہی کا احتمال ہے، اسی طرح اگر کوئی اسلامی یا مسلمان حکومت بھی غیر مسلموں سے دوستی کے روابط قائم کرے گی تو نقصان ہی اٹھائے گی۔ اور اس کا تجربہ بارہا ہو بھی چکا ہے اور بسا اوقات منافقوں اور غداروں نے ہی جو حکومت کے ذمہ دارانہ مناصب پر فائز تھے، مسلمانوں کی حکومتوں کو ڈبویا ہے۔ النسآء
145 [١٩٣] منافقوں کی علامات :۔ جس طرح جنت کے بہت سے درجات ہیں اسی طرح جہنم کے بھی بہت سے درجات ہیں۔ اور منافقین یا ان سے دوستی رکھنے والوں کا ٹھکانہ جہنم کا سب سے نچلا درجہ ہوگا۔ جہاں سب سے زیادہ عذاب ہوگا اور یہ کافروں کے عذاب سے بھی سخت ہوگا کیونکہ کافر اپنے دین و ایمان کے معاملہ میں کسی کو دھوکا نہیں دیتا۔ جبکہ منافق، کافروں اور مسلمانوں دونوں کو دھوکہ میں رکھ کر ان دونوں سے مفادات حاصل کرتا یا حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ منافقوں کی چند ظاہری علامات احادیث میں مذکور ہوئی ہیں۔ جو یہ ہیں : ١۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور وعدہ کرے تو اس کا خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھیں تو خیانت کرے۔‘‘ ٢۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جس میں چار باتیں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک ہوگی تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی تاآنکہ اسے چھوڑ نہ دے۔ (اور وہ یہ ہیں) جب اس کے پاس امانت رکھیں تو خیانت کرے اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے، کوئی عہد کرے تو بے وفائی کرے اور جب جھگڑا کرے تو بکواس بکے۔‘‘ (بخاری، کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق) النسآء
146 [١٩٤] یعنی جن منافقوں نے توبہ کر کے اپنے اعمال درست کرلیے پھر دین اسلام پر مضبوطی سے جم گئے اور اپنی ہمدردیاں اور وفاداریاں صرف اللہ اور اس کے دین کو مضبوط بنانے کے لیے وقف کردیں اور اپنے آپ میں یہ چار اوصاف پیدا کرلیے تو وہ اس اخروی سزا سے بچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے سابقہ گناہ معاف کر کے انہیں مومنوں کی جماعت میں شامل کر دے گا اور جو مفادات دنیوی یا اخروی مومنوں کو حاصل ہوں گے وہ انہیں بھی حاصل ہوں گے۔ النسآء
147 [١٩٥] شکر کی تعریف اور اس کی ممانعت :۔ شکر کا معنیٰ اعتراف نعمت ہے اور اس کے تین مدارج ہیں (١) قلبی۔ یعنی انسان دل سے اللہ کے یا کسی کے حسانات کا اعتراف کرے۔ (٢) قولی۔ تحدیث نعمت کے طور پر زبان سے بھی اس کا اقرار کرے اور اللہ کے احسانات کا دوسروں کے سامنے تذکرہ کرے (٣) عملی۔ یعنی اس شکر کے اثرات اس کے اعضاء و جوارح سے بھی ظاہر ہوں۔ اور یہ تینوں درجات دراصل لازم و ملزوم ہیں۔ اور بالترتیب وجود میں آتے ہیں۔ انسان جب اللہ کے احسانات کا خیال کرتا ہے تو اس کا دل اللہ کی محبت اور وفاداری کے جذبات سے لبریز ہوجاتا ہے۔ پھر اسی وفور جذبات کا ہی یہ اثر ہوتا ہے کہ خود اکیلے بھی اور دوسروں کے سامنے بھی ان احسانات کا تذکرہ کرتا ہے اور اس سے دل میں خوشی محسوس ہوتی ہے پھر اسی محبت و اخلاص کا اس کی فکر پر یہ اثر ہوتا ہے کہ اللہ کے جتنے زیادہ مجھ پر احسانات ہیں اتنا ہی زیادہ مجھے اس کا مطیع و فرمانبردار اور عبادت گزار بننا چاہیے اور اس کی واضح مثال یہ واقعہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی آخری زندگی میں رات کو اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں متورم ہوجاتے۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اللہ نے تو آپ کے سب اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں۔ پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہی'' تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ’’تو کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں‘‘ یہ واقعہ بہت سی احادیث صحیحہ میں مذکور ہے اور اس کا ماحصل یہ ہے کہ سچے مومن پر اللہ کے جتنے احسانات اور فضل و اکرام ہوتا ہے اتنا ہی اس کے جذبات محبت، خلوص اور وفاداری جوش میں آتے ہیں اور وہ ہر طرح سے ان احسانات کے شکر کا اظہار کرنے لگتا ہے۔ [١٩٦] لفظ ''شکر'' کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا مطلب قدر دانی یا قدر شناسی ہوتا ہے یعنی انسان اگر تھوڑا سا عمل یا شکر ادا کرے تو اللہ انسان کے عمل سے بہت بڑھ کر اس کا صلہ عطا فرماتا ہے اور چھوٹے موٹے گناہوں کو ویسے ہی معاف فرما دیتا ہے جبکہ انسان کا یہ حال ہے کہ وہ اکثر ناشکرا ہی واقع ہوا ہے اور کوئی شخص اس کی مرضی کے خلاف کام کرے تو اس سے محاسبہ میں سختی کرتا ہے۔ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنا ایک ماں اپنے بچہ پر مہربان ہوتی ہے لہٰذا اگر انسان شرک کر کے، یا پے در پے نافرمانیاں کر کے اپنے اللہ کو ناراض نہ کرلے تو اللہ کبھی کسی کو خواہ مخواہ سزا نہیں دیتا۔ النسآء
148 [١٩٧] مظلوم کس کس سے شکوہ کرسکتا ہے؟ یعنی مظلوم کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اللہ کے حضور ظالم کے لیے بددعا کرے یا حاکم کے سامنے ظالم کا ظلم بیان کر کے اس سے استغاثہ چاہے یا دوسرے لوگوں سے بیان کرے تاکہ وہ اس ظالم کا ہاتھ روکیں، یا کم از کم خود ظالم کے اس قسم کے ظلم سے بچ جائیں۔ یا مثلاً اگر کسی نے اسے گالی دی ہے تو وہ بھی ویسی ہی گالی دے دے۔ مگر زیادتی نہ کرے۔ اور ظالم کوئی بھی ہوسکتا ہے خواہ وہ مسلم ہو یا منافق، یہودی ہو یا کافر ہو۔ مظلوم کے علاوہ کسی کو یہ حق نہیں کہ کسی دوسرے کی بری بات لوگوں سے بیان کرتا پھرے اور اسی کا نام غیبت یا گلہ ہے جو گناہ کبیرہ ہے۔ جس کا مقصد محض کسی شخص کو دوسروں کی نظروں میں ذلیل بنانا ہوتا ہے اور جس شخص کی غیبت کی جائے اس کو جب معلوم ہو تو اس کے جذبات کا بھڑک اٹھنا ایک فطری بات ہے۔ مکہ میں مسلمانوں پر مظالم کی نوعیت اور تھی اور مدینہ میں اور تھی۔ مدینہ میں یہود اور منافقین مسلسل مسلمانوں کو دکھ پہنچاتے رہتے تھے، کبھی استہزاء سے، کبھی سازشوں اور مکر و فریب کی چالوں سے کبھی کج بحثیوں اور بیجا قسم کے اعتراضات اور بیہودہ قسم کی گفتگو سے۔ اور ایسے حالات میں مسلمانوں کے جذبات کا بھڑک اٹھنا معمولی بات تھی۔ ایسے ہی حالات میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دی جا رہی ہے تاکہ کوئی بھی بات بتنگڑ بن کر کسی بڑے فتنہ کا باعث نہ بن جائے لہٰذا وہ اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھیں۔ النسآء
149 [١٩٨] عفو ودرگزر :۔ اس کے برعکس اے مسلمانو! اگر تم کسی زیادتی کا جواب بھلائی سے دو یا ظالم کو بددعا کی بجائے دعا دو یا علانیہ یا خفیہ اس کی بھلائی کی کوئی تدبیر سوچو یا اس کا قصور معاف بھی کر دو تو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے۔ کیونکہ تمہارا پروردگار ہر طرح کی قدرت رکھنے کے باوجود ظالموں حتیٰ کہ مشرکوں اور کافروں کو رزق بھی دیئے جاتا ہے اور انہیں مہلت بھی دیئے جاتا ہے اور ضمناً ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح کسی کی برائی بیان کرنا یعنی غیبت گناہ کبیرہ ہے اسی طرح کسی کے عیب پر پردہ ڈالنا یا پردہ پوشی بہت بڑی نیکی ہے اب معافی اور پردہ پوشی کے متعلق چند احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’معاف کردینے سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب البر والصلۃ باب استحباب العفو والتواضع) ٢۔ پردہ پوشی بہت بڑی نیکی ہے :۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میری تمام امت کو معاف کردیا جائے گا بجز (گناہ) ظاہر کرنے والوں کے، اور وہ گناہ یہ ہے کہ آدمی رات کو کوئی (برا) کام کرے۔ پھر جب صبح ہو تو اگرچہ اللہ نے اس عمل پر پردہ ڈال دیا تھا، وہ کہے 'اے فلاں! میں نے آج رات یہ اور یہ کام کیا تھا۔ اللہ نے تو اس کے عیب پر پردہ ڈالا تھا مگر اس نے اپنے عیب سے اللہ کے پردہ کو کھول دیا۔‘‘ (مسلم، کتاب الزہد، باب النھی عن ہتک الانسان ستر نفسہ۔۔ بخاری کتاب الادب، باب ستر المومن علی نفسہ) ٣۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی قیامت کے دن اللہ اس کی پردہ پوشی کرے گا۔‘‘ (بخاری، کتاب المظالم، باب لایظلم المسلم المسلم) ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے دن) تم میں سے کوئی شخص اپنے پروردگار سے اتنا قریب ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا بازو رکھ دے گا۔ پھر فرمائے گا، تم نے فلاں فلاں کام کیے تھے۔ وہ کہے گا 'ہاں۔' پھر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے 'تم نے فلاں اور فلاں کام بھی کیا تھا ؟' وہ کہے گا 'ہاں' گویا وہ ہر جرم کا اقرار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا 'میں نے دنیا میں ان پر پردہ ڈال دیا تھا اور آج تجھے معاف کرتا ہوں۔' (بخاری، کتاب الادب باب ستر المومن علی نفسہ نیز کتاب المظالم، باب قول اللہ تعالیٰ الالعنۃ اللہ علی الظالمین) ٥ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا شخص اور اللہ تعالیٰ کی پردہ پوشی :۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس شخص کو جانتا ہوں جو سب سے آخر جنت میں داخل ہوگا اور سب سے بعد دوزخ سے نکلے گا۔ وہ شخص قیامت کے دن حاضر کیا جائے گا اور حکم ہوگا کہ اس کے ہلکے گناہ پیش کرو، بھاری نہ کرو۔ چنانچہ اس کے ہلکے گناہ پیش کر کے اسے کہاں جائے گا۔ کہ تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں کام کیے تھے۔ وہ کہے گا ہاں اور انکار نہ کرسکے گا اور اپنے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہوگا کہ کہیں وہ پیش نہ کردیئے جائیں۔ اس کے لیے حکم ہوگا کہ تیری ہر برائی کے عوض تجھے ایک نیکی دی جاتی ہے۔ یہ سن کر وہ کہے گا اے میرے پروردگار! میں نے تو کچھ اور بھی کام کیے تھے جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ (مسلم کتاب الایمان۔ باب اثبات الشفاعۃ و اخراج الموحدین من النار) ان احادیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ کسی شخص کو ایسا ہرگز نہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنی سابقہ زندگی کے عیوب، جن پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا تھا لوگوں کی سامنے ظاہر کرے اور نہ ہی توبہ اس بات کی مقتضی ہے کہ کسی کے سامنے اپنا کچا چٹھہ کھولے۔ جیسا کہ عیسائیوں میں یہ دستور ہے کہ توبہ کے وقت پادری کے سامنے گزشتہ عیوب کا اظہار و اقرار کرایا جاتا ہے۔ النسآء
150 [١٩٩] اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کا مطلب :۔ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والوں سے مراد دہریہ نیچری، یا مادہ پرست ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ یا خالق کائنات کے وجود کو تو مانتے ہیں لیکن رسولوں کو نہیں مانتے ادر یہ بعض فلاسفروں اور سائنس دانوں کا طبقہ ہے کیونکہ ان کے نظریہ کے مطابق خالق کے بغیر کائنات کا وجود میں آنا اور اس میں ایسا مربوط اور منظم نظام پایا جانا عقلاً محال ہے۔ اور تیسرا گروہ وہ ہے جو اللہ پر اور اس کے بعض رسولوں پر ایمان لاتا ہے اور بعض پر نہیں لاتا۔ جیسے یہود نہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر اور نہ بعض دوسرے انبیاء پر ایمان لائے اور نہ نبی آخر الزمان پر۔ اور عیسائی باقی پیغمبروں پر تو ایمان لاتے ہیں مگر نبی آخر الزمان پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ ان کی کتابوں میں ہر آنے والے نبی کی بشارات موجود ہوتی تھیں۔ اور تیسری راہ اختیار کرنے والوں سے مراد یہی تیسرا گروہ یا اہل کتاب ہیں۔ ان کا ایمان تو یہ تھا کہ اللہ اور اپنے دور کے نبی اور اس پر ایمان لانے کا دعویٰ کیا۔ اور کفر یہ تھا کہ ان کے نبی نے جو ان سے آنے والے نبی کی اطاعت کا عہد لیا تھا یا ان کتابوں میں جو بشارات موجود تھیں ان کا انکار کردیا۔ اس لحاظ سے نہ وہ اللہ پر صحیح طور پر ایمان لائے نہ اپنے نبی پر اور نہ اپنی کتاب پر۔ النسآء
151 [٢٠٠] یعنی یہ تیسرا گروہ بھی ایسے ہی پکا کافر ہے جیسے پہلے دو طرح کے لوگ پکے کافر ہیں ان میں کوئی فرق نہیں اور پکا کافر ہونے میں سب یکساں ہیں۔ النسآء
152 [٢٠١] رسولوں کی ایک دوسرے پر فضیلت :۔ اس لیے کہ صحیح ایمان کی شرط ہی یہ ہے کہ اللہ اور اس کے تمام رسولوں اور نبیوں پر ایمان لایا جائے اور ان میں تفریق نہ کی جائے۔ اور تفریق کرنے کے بھی دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ کسی پر ایمان لایا جائے، کسی پر نہ لایا جائے۔ اور دوسرا یہ کہ بلحاظ درجہ نبوت سب برابر ہیں۔ اسی لحاظ سے آپ نے فرمایا کہ ’’کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں یونس بن متیٰ سے افضل ہوں۔‘‘ (بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ انعام۔ باب و یونس و لوطاً و کلاً فضلنا) رہے نبوت کے علاوہ دوسرے فضائل، تو ایک نبی پر دوسرے نبی کے ایسے فضائل کتاب و سنت میں صراحتاً مذکور ہیں اور اس لحاظ سے آپ افضل الانبیاء ہیں۔ اور ایسا صحیح ایمان لانے والوں کا ایمان ہی اللہ کے ہاں مقبول ہوگا اور ان کے اعمال کا انہیں پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ النسآء
153 [٢٠٢] یہود کا ایمان لانے کے لئے نوشتہ کا مطالبہ :۔ مثل مشہور ہے ''خوئے بدرابہانہ بسیار'' اسی مثل کے مصداق یہود مدینہ نے آپ سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب آپ پر آسمان سے نازل ہو تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے جیسا کہ موسیٰ پر تورات کی تختیاں نازل ہوئی تھیں۔ ان کے اس مطالبہ کے اللہ نے مختلف مقامات پر کئی طرح سے جواب دیئے ہیں۔ الزامی بھی اور تحقیقی بھی۔ الزامی جواب یہ ہے کہ سوال کرنا اور سوال کرتے جانا یہود کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ان پر آسمان سے تورات لکھی لکھائی نازل ہوئی تھی تو کیا یہ اس پر ایمان لے آئے تھے؟ مطالبہ دیدار الہٰی :۔ انہوں نے تو اس سے بھی بڑا مطالبہ پیش کردیا تھا جو یہ تھا کہ ہم جب تک اللہ کو نہ دیکھ لیں اور وہ بھی یہ کہے کہ واقعی یہ کتاب تورات میں نے ہی نازل کی ہے۔ اس وقت تک اے موسیٰ ہم تمہارا کیسے اعتبار کریں۔ اگرچہ ان کا ہر مطالبہ انتہائی سرکشی پر مبنی تھا۔ تاہم موسیٰ علیہ السلام انہیں کوہ طور کے دامن میں لے گئے۔ بھلا اللہ تعالیٰ کی جس تجلی کو خود سیدنا موسیٰ علیہ السلام بھی نہ سہار سکے تھے اور بے ہوش ہو کر گر پڑے تھے یہ لوگ بھلا کیسے سہار سکتے تھے؟ چنانچہ جب بجلی کی صورت میں تجلیات ان پر پڑیں، تو سب کے سب مر گئے۔ پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے زندہ ہوئے اور یہ واقعہ تفصیل سے سورۃ بقرہ میں گزر چکا ہے۔ لہٰذا اب پھر اگر ان کی خواہش کے مطابق اتارا جائے تو یہ لوگ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرچکے ہیں۔ [٢٠٣] معجزات موسیٰ:۔ یہ واضح دلائل یہ تھے۔ عصائے موسیٰ، ید بیضاء آل فرعون پر چچڑیوں، جوؤں، مینڈکوں اور خون کا عذاب، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے دور کردیا جاتا مگر پھر بھی وہ لوگ ایمان نہ لاتے۔ جادوگروں کے مقابلہ میں سیدنا موسیٰ کی نمایاں کامیابی اور جادوگروں کا ایمان لانا، دریا کا پھٹنا اور اس میں فرعون اور آل فرعون کا غرق ہونا، اور بنی اسرائیل کا فرعونیوں سے نجات پانا وغیرہ۔ غرض ایسے دلائل یا معجزات بے شمار تھے۔ انہیں دیکھ کر بھی جو لوگ کماحقہ، ایمان نہ لائے تھے۔ اگر آپ پر کتاب اتار بھی دی جائے تو کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے؟ [٢٠٤] گؤسالہ پرستی :۔ تم اس قدر ظالم لوگ تھے کہ تم نے یہ نہ سمجھا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ہوتا رہا بلکہ تم میں سے اکثر نے یہی سمجھا کہ ہماری یہ نجات گؤ سالہ پرستی کی وجہ سے ہوئی ہے لہٰذا تم نے پھر سے گؤ سالہ پرستی شروع کردی۔ اور جب کسی بچھڑے کا نصب شدہ بت نہ ملا تو تم نے خود ہی بچھڑے کا بت بنا کر اس کی پوجا شروع کردی۔ یہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ النسآء
154 النسآء
155 [٢٠٥] قوم موسیٰ ٰکی نافرمانیاں :۔ ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام پر تورات کی تختیاں جو نازل ہوئی تھیں تو ان پر تمہارا ایمان کس قسم کا تھا۔ جواب اس نبی سے ایسی ہی آسمان سے نازل شدہ تحریر کا مطالبہ کر رہے ہو۔ ہم نے ان الواح تورات پر عمل کرنے کا عہدا گر لیا تو تم پر پہاڑ کو اوندھا کرلیا ورنہ تم اتنے سرکش لوگ ہو کہ ان احکام کی پابندی کے لیے ہرگز تیار نہ تھے۔ اس کے بعد بھی تم نے ہر ہر حکم کی خلاف ورزی کی۔ تمہیں حکم تھا کہ شہر اریحا کی فتح کے بعد شہر کے دروازہ سے سجدہ ریز ہو کر اور عاجزی کرتے ہوئے داخل ہونا لیکن تم سرینوں کے بل اکڑتے ہوئے اور مادہ پرستانہ ذہن کے ساتھ گندم گندم پکارتے ہوئے داخل ہوئے۔ تم نے ہمارے حکم کے علی الرغم ہفتہ کے دن میں بھی مکر و فریب سے مچھلیوں کا شکار کیا۔ اسی طرح اللہ کی بہت سی آیات کا انکار کیا۔ اپنے کیے ہوئے پختہ عہدوں کو توڑا اور سب سے بڑھ کر یہ ظلم کیا کہ انبیاء کی اطاعت کے بجائے انہیں ناحق قتل کرتے رہے۔ کیا تورات پر ایمان لانے کے یہی انداز ہیں؟ [٢٠٦] دلوں کا پردہ میں محفوظ ہونا :۔ پھر جب انہیں کوئی ہدایت کی بات سنائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہمارے دل اس قدر محفوظ ہیں کہ ہمارے عقائد و نظریات میں کوئی بات بھی نہ داخل ہو سکتی ہے اور نہ اثر انداز ہو سکتی ہے جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کی انہی نافرمانیوں اور عہد شکنیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر بدبختی اتنی زیادہ چھا چکی ہے کہ اب کوئی بھی ہدایت کی بات ان پر بے اثر ثابت ہوتی ہے اور یہ لوگ اس قدر کج فہم ہوچکے ہیں کہ اپنی اس بدبختی کو بھی اپنی خوبی کے انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ النسآء
156 النسآء
157 [٢٠٧] یہود کی الزام تراشیاں :۔ یہود کے دلوں پر اللہ نے جو بدبختی کی مہر لگائی تھی تو اس کی وجوہ صرف وہی نہیں جو اوپر مذکور ہو چکیں۔ بلکہ ان کے جرائم کی فہرست آگے بھی چلتی ہے۔ جن میں سے ان کا ایک جرم یہ تھا کہ سیدہ مریم علیہا السلام پر تہمت لگا دی اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو ولد الحرام کہتے تھے اور سیدنا زکریا علیہ السلام سے منسوب کرتے تھے اور دوسرا جرم یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ہم نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھا کر مار ڈالا ہے۔ یعنی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور وفات جو دونوں معجزانہ طور پر واقع ہوئی تھیں ان کا صرف انکار ہی نہیں بلکہ ماں بیٹا دونوں پر الزامات بھی لگاتے رہے۔ ان الزامات اور ان کے جوابات کے لیے دیکھیے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ٥٤، ٥٥ کے حواشی۔ النسآء
158 النسآء
159 [٢٠٨] یعنی جب قیامت کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اس دنیا پر نزول فرمائیں گے تو سارے اہل کتاب (یہود بھی عیسائی بھی) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طبعی موت سے پیشتر ان پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اس ضمن میں درج ذیل احادیث خاصی روشنی ڈالتی ہیں : ١۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ عنقریب تم میں ابن مریم عادل حکمران کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ وہ صلیب توڑ ڈالیں گے، جزیہ اٹھا دیں گے۔ اس زمانے میں مال کی اتنی کثرت ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور ایک سجدہ ان کے نزدیک دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔ اگر چاہو تو پڑھ لو وان من اھل الکتٰب الا لیومنن بہ قبل موتہ ( بخاری، کتاب الانبیائ، باب نزول عیسیٰ بن مریم۔۔ مسلم، کتاب الایمان، باب نزول عیسیٰ بن مریم) ٢۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب عیسیٰ بن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔ (یعنی وہ بھی شریعت محمدی کی پیروی کریں گے۔)‘‘ (بخاری، کتاب الانبیاء، باب نزول عیسیٰ بن مریم) ٣۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’میں رات کو اپنے تئیں خواب میں دیکھتا ہوں جیسے میں کعبہ کے پاس ہوں۔ میں نے دیکھا کہ ایک خوش شکل آدمی، گندمی رنگ، بال کندھوں تک اور سنہرے تھے اور سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے کعبہ کا طواف کر رہا ہے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا ’یہ مسیح ابن مریم ہیں۔‘ ان کے پیچھے میں نے ایک اور شخص کو دیکھا جس کے بال سخت گھونگریالے، رنگ کا سرخ اور داہنی آنکھ سے کانا اور اس کی آنکھ جیسے پھولا ہوا انگور ہو، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سے عبدالعزیٰ بن قطن کے بہت مشابہ جو دور جاہلیت میں مر گیا تھا اپنے دونوں ہاتھ ایک شخص کے کندھوں پر رکھے طواف کر رہا ہے۔ میں نے پوچھا 'یہ کون ہے؟' لوگوں نے کہا 'یہ مسیح دجال ہے۔' (حوالہ ایضاً) ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑتی رہے گی اور قیامت تک غالب رہے گی۔ پھر عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے تو اس جماعت کا امیر کہے گا آئیے! ہمیں نماز پڑھائیے۔‘‘ وہ کہیں گے ’’نہیں! اللہ کی طرف سے اس امت کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان میں سے ہی کوئی دوسروں پر امیر ہو۔‘‘ (مسلم، کتاب الایمان۔ باب نزول عیسیٰ بن مریم) ٥۔ نزول مسیح اور فتنہ دجال :۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’دجال اسی حال میں ہوگا کہ اللہ مسیح ابن مریم کو مبعوث فرمائے گا جو دمشق کے شرقی سفید مینار کے پاس اتریں گے اور زرد رنگ کا جوڑا پہنے اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوں گے۔ جب اپنا سر جھکائیں گے تو قطرے ٹپکیں گے اور جب اٹھائیں گے تو بھی موتیوں کی طرح قطرے گریں گے۔ کافر ان کے سانس کی بو پاتے ہی مر جائے گا اور ان کا سانس حد نگاہ تک پہنچے گا۔ پھر وہ دجال کی تلاش کریں گے تو اسے باب لد پر پائیں گے۔ پھر اسے قتل کردیں گے۔‘‘ (مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال ) ٦۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’دجال میری امت میں نکلے گا تو وہ چالیس۔۔ رہے گا مجھے نہیں معلوم کہ چالیس دن یا چالیس ماہ یا چالیس سال۔ (نواس بن سمعان کی روایت میں چالیس دن ہے) پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا۔ وہ ایسے ہوں گے جیسے عروہ بن مسعود ہے۔ عیسیٰ دجال کو تلاش کریں گے پھر اسے مار ڈالیں گے۔ پھر سات سال تک لوگ اس طرح رہیں گے کہ دو آدمیوں میں دشمنی نہ ہوگی۔‘‘ (مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال) اہل کتاب کا سیدنا عیسیٰ پر ایمان لانا :۔ اہل کتاب میں سے عیسائی تو پہلے ہی رفع عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں البتہ یہودی بزعم خود ضرور یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھا کر مار ڈالا تھا۔ قیامت کے قریب جب سیدنا عیسیٰ نزول فرمائیں گے تو ان کی شان و شوکت کو دیکھ کر یہود کو بھی اعتراف کرنا پڑے گا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام واقعی اللہ کے رسول تھے اور انہوں نے ولدالحرام ہونے سے متعلق جو الزام لگایا تھا وہ سراسر غلط تھا۔ نیز ان کا یہ گمان باطل کہ انہوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو مار ڈالا ہے، بھی غلط ثابت ہوجائے گا۔ نزول عیسیٰ کے منکرین کی تاویل :۔ بعض منکرین معجزات یہ کہتے ہیں کہ ﴿وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ﴾ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف لوٹتی ہے۔ اس لحاظ سے وہ اس کا مطلب یہ بتاتے ہیں کہ اہل کتاب اپنی موت کے وقت جبکہ غیب کے سب پردے ہٹ جاتے ہیں مرنے سے پیشتر ضرور عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت اور نبوت پر ایمان لے آئیں گے۔ اس تاویل کے بعد وہ احادیث مندرجہ بالا کو ناقابل اعتماد قرار دے کر نزول مسیح سے انکار کردیتے ہیں۔ یہ تاویل اس لحاظ سے غلط ہے کہ موت کے وقت غیب کے پردے ہٹ جانے سے تو بے شمار حقائق منکشف ہوجاتے ہیں اور یہود کو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ جن جن انبیاء کو یہود نے جھوٹا سمجھ کر قتل کردیا تھا وہ سب سچے تھے پھر اس میں سیدنا عیسیٰ کی کیا تخصیص رہ گئی اور ان کی کیا خصوصیت اور فوقیت ثابت ہوئی جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے؟ علاوہ ازیں ہمیں کوئی کمزور سے کمزور روایت بھی ایسی نہیں ملتی جو ان لوگوں کے اس نظریہ کی تائید کرتی ہو۔ جبکہ نزول عیسیٰ سے متعلق اس قدر احادیث کتب احادیث میں موجود ہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔ النسآء
160 [٢٠٩] گمراہ کن نظاموں کے موجد یہودی ہیں :۔ یہود کی بدکرداریوں کا سلسلہ ابھی مزید چل رہا ہے۔ اس آیت میں جو جرم بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ وہ نہ تو خود ایمان لاتے ہیں اور نہ دوسروں کو ایمان لانے دیتے ہیں بلکہ جو شخص ایمان لانے پر آمادہ ہو ان کے ذہن میں کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا کر کے اسے اللہ کی راہ سے باز رکھتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ صرف دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی متعلق نہیں بلکہ غالباً یہ بدبختی بھی تاقیامت انہی یہود کا مقدر ہوچکی ہے۔ موجودہ دور میں فلسفہ اشتراکیت کا موجد ایک یہودی تھا جسے یہودی دماغوں نے ہی ایک نظام کی شکل دی۔ اور اس نظریہ کی بنیاد ہی اللہ تعالیٰ کے صریح انکار پر قائم ہوتی ہے۔ آج کا دوسرا گمراہ کن فلسفہ سگمنڈ فرائڈ کا ہے جس نے فحاشی اور بے حیائی کو انتہائی فروغ بخشا ہے اور یہ فرائڈ بھی بنی اسرائیل ہی کا ایک فرد ہے۔ [٢١٠] ان کے ایسے جرائم کی ایک سزا تو انہیں یہ ملی کہ ان کے دلوں پر ایسی بدبختی مسلط ہوگئی کہ وہ حق بات کو سننے پر بھی آمادہ نہیں ہوتے اور دوسری سزا یہ ملی کہ بعض کھانے پینے کی چیزیں جو ان پر پہلے حلال تھیں وہ حرام کردی گئیں۔ (دیکھئے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ٩٣ کا حاشیہ نمبر ٨٢) النسآء
161 [٢١١] یہود کی سود خوری اور حرام خوری کے سلسلہ میں دیکھئے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ٧٥ کا حاشیہ نمبر ٦٦، اور ٦٧۔ [٢١٢] ذلت اور مسکنت :۔ آج بھی دنیا میں سب سے بڑی سود خور اور حرام خور اور مالدار قوم یہود ہی ہے لیکن اپنی اس مالداری کے باوجود یہود ہمیشہ پٹتے ہی رہے ہیں اور کہیں بھی امن کی زندگی بسر نہیں کرسکے۔ موجودہ دور میں جو یہود کی حکومت اسرائیل قائم ہوئی ہے وہ بھی دوسری حکومتوں سے قائم ہے اور انہی کے زیر سایہ چل رہی ہے اور ان کی اس غاصبانہ حکومت کو آج تک بیشتر ممالک نے تسلیم ہی نہیں کیا۔ یہ عذاب تو دنیا میں ملا۔ اور آخرت میں تو بہرحال انہیں ان کی سب نافرمانیوں اور بدعہدیوں کی سزا مل کے ہی رہے گی۔ النسآء
162 [٢١٣] علم میں پختہ وہ لوگ ہیں جو منزل من اللہ وحی کے متلاشی ہوں اور وہیں سے دلیل اور رہنمائی حاصل کریں۔ لکیر کے فقیر نہ ہوں۔ نہ تقلید آباء کے پابند ہوں اور نہ ایسے رسم و رواج کے جو دین میں راہ پا کر اس کا حصہ بن گئے ہوں جیسے بدعات وغیرہ۔ جیسے عبداللہ رضی اللہ عنہ بن سلام اور ان کے ساتھی تھے۔ [٢١٤] دوہرا اجر پانے والے :۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اہل کتاب میں سے جو شخص (خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی) اسلام لائے اس کو دوہرا اجر ملے گا۔ ایک اجر اپنے پیغمبر پر ایمان لانے کا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کا۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد، باب فضل من اسلم من اہل الکتابین) [٢١٥] اس آیت پر آ کر یہود کے اس مطالبہ کے جواب ختم ہو رہے ہیں جو انہوں نے آپ سے کیا تھا کہ اگر آپ پر قرآن ایسے یکبارگی آسمان سے اترے جیسے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر تورات کی الواح نازل ہوئی تھیں، تو تب ہی ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ درمیان میں یہود کے تورات پر ایمان لانے کی کیفیت، ان کی بدکرداریاں اور عہد شکنیاں ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اہل علم کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی کتاب پر پوری طرح ایمان لاتے ہیں پھر اس کے احکام کی پوری طرح پابندی کرتے ہیں۔ حیلے بہانے، اعتراضات، مطالبات اور کٹ حجتی نہیں کرتے۔ ایسے ہی لوگ اجر عظیم کے مستحق ہوتے ہیں۔ النسآء
163 [٢١٦] اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آنے کا طریق کار وہی تھا جو دوسرے انبیاء کے لیے تھا۔ اور یہ طریق کار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبان سے سنئے : ١۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے جو وحی آپ پر شروع ہوئی وہ پاکیزہ خواب تھے۔ سوتے میں آپ جو خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح واضح ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہائی پسند آنے لگی اور آپ غار حرا میں اکیلے رہنے لگے مسلسل کئی راتیں وہاں رہ کر عبادت کرتے۔ پھر جب توشہ ختم ہوجاتا تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ کر آتے اور اتنا توشہ اور لے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حال میں غار حرا میں تھے کہ آپ کے پاس فرشتہ آیا۔ جس نے کہا ''اقرأ '' آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ میں نے ک’’میں پڑھا لکھا نہیں۔۔ ‘‘(آگے تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ علق) ٢۔ وحی کے مختلف طریقے :۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حارث بن ہشام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کبھی تو ایسے آتی ہے جیسے گھنٹے کی جھنکار۔ اور یہ وحی مجھ پر سخت ناگوار ہوتی ہے پھر جب فرشتے کی کہی ہوئی بات مجھے یاد رہ جاتی ہے تو یہ موقوف ہوجاتی ہے اور کبھی فرشتہ مرد کی صورت میں میرے پاس آتا ہے، مجھ سے بات کرتا ہے تو میں اس کی کہی ہوئی بات یاد کرلیتا ہوں۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ جب سخت سردی کے دن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی، پھر جب موقوف ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ نکلتا۔ (بخاری، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ پر جو وحی کی جاتی ہے اس کے مضامین وہی کچھ ہیں جو سابقہ انبیاء کو وحی کیے جاتے رہے ہیں۔ یعنی اگر کوئی شخص آج بھی تورات اور انجیل کا بنظر غائر مطالعہ کرے جن میں تحریف بھی ہوچکی ہے اور بہت سے الحاقی مضامین بھی ان میں شامل ہوچکے ہیں۔ تاہم بے شمار مقامات ایسے بھی آ جاتے ہیں جن سے ایک عالم شخص یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ان تمام کتب سماویہ کا سرچشمہ ایک ہی ہے۔ [٢١٧] یہود زبور کو وحی الہٰی تسلیم کرتے ہیں حالانکہ وہ الواح تورات کی طرح یکبارگی نازل نہیں ہوئی تھی۔ یہاں یہود کے لیے زبور کا ذکر بالخصوص اس لیے آیا ہے کہ تم اگر یکبارگی نازل ہونے کے باوجود اسے وحی الہی مانتے ہو تو آخر قرآن کو وحی الہی ماننے سے کیا چیز مانع ہے۔ یہ دراصل یہود کے مذکورہ مطالبہ کا ہی جواب ہے۔ النسآء
164 [٢١٨] وحی کو رسول تک پہنچانے کے دو طریقے تو اوپر حدیث نمبر ٢ میں بیان ہوچکے۔ تیسرا طریق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پردے کے پیچھے سے کسی رسول سے کلام کرے اور یہ فضیلت بالخصوص سیدنا موسیٰ کو عطا ہوئی۔ اس لیے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ البتہ معراج کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی عطا ہوئی تھی۔ اور ان تینوں صورتوں کا ذکر قرآن کریم میں سورۃ شوریٰ کی آیت نمبر ٥١ میں بھی مذکور ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی نبوت و رسالت کا آغاز ہی ایسی وحی سے ہوا جس میں اللہ تعالیٰ سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوئے تھے اور یہ آواز ایک درخت کے پیچھے سے آ رہی تھی (تفصیل آگے سورۃ ق میں آئے گی) پھر اس کے بعد بھی کوہ طور پہ ہم کلامی نصیب ہوئی اسی لیے موسیٰ کو کلیم اللہ کہا جاتا ہے۔ النسآء
165 [٢١٩] کائنات میں انسان کی حیثیت اور اللہ کی طرف سے اتمام حجت :۔ اللہ تعالیٰ نے فطرتاً انسان کو اتنی عقل عطا کی ہے کہ وہ اللہ اور اس کی صفات کی معرفت حاصل کرسکے انسان اتنا تو جانتا ہی ہے کہ کوئی چیز اس کے خالق کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتی۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگر کوئی چیز مدتہائے دراز سے ایک مربوط نظام کے تحت حرکت کر رہی ہے تو لازماً وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ اس چیز کی نگہداشت کرنے والی بھی کوئی ہستی ضروری موجود ہے کیونکہ کوئی چیز خواہ کتنی ہی مضبوط ہو، کچھ مدت کے بعد بگڑنا شروع ہوجاتی ہے۔ اور اگر اس بگاڑ کو بر وقت درست نہ کردیا جائے تو با لآخر تباہ ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اگر یہ کائنات محض اتفاقات کا نتیجہ ہوتی تو کب کی فنا ہوچکی ہوتی لیکن چونکہ سب انسان ایک جیسی عقل کے مالک نہیں ہوتے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے رسول بھیج کر انسان کو تمام حقائق سے مطلع فرما دیا کہ انسان کی اس پوری کائنات میں حیثیت کیا ہے؟ اسے یہاں رہ کر کیا کردار ادا کرنا ہے اور اگر وہ اس کردار کو ادا کرنے میں کامیاب رہا تو اس کی اخروی زندگی میں اسے اس کا کیا کچھ اجر ملے گا اور اگر ناکام رہا تو اسے اخروی زندگی میں کیا کچھ دکھ اور مصائب برداشت کرنا ہوں گے اور رسول بھیجنے کا یہ طریقہ اس لیے جاری کیا کہ قیامت کے دن کوئی شخص اللہ کے حضور یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے تو ان حقائق کا علم ہی نہ تھا لہٰذا میں معذور ہوں۔ اور یہ انبیاء اور رسل دنیا میں اس کثرت سے آئے اور اپنے بعد نازل شدہ کتابیں چھوڑ گئے کہ عالم انسانی پر کوئی ایسا دور نہیں آیا جبکہ کوئی نبی یا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کوئی کتاب دنیا میں موجود نہ ہو، جو انسان کی ان حقائق تک رہنمائی نہ کرتی ہو۔ پھر بھی اگر انسان اس کی طرف توجہ ہی نہ کرے یا اللہ کی تعلیمات کا انکار کر دے تو اس کا وبال اس کی اپنی گردن پر ہوگا۔ اس آیت سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچ چکا ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پیغام کو ان لوگوں تک بھی پہنچا دیں، جن تک یہ پیغام ابھی تک نہ پہنچا ہو۔ کیونکہ ایسے علماء ہی حقیقتاً انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔ النسآء
166 [٢٢٠] قرآن علم الہی کا خزانہ ہے :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ قرآن علم الٰہی کا مخزن ہے۔ وحی کے ذریعہ انسان کو ایسی باتوں کا علم ہوا جنہیں معلوم کرنے کا اس کے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا مثلاً دشمنوں کی سازشوں کی بروقت اطلاع، مسلمانوں کی بروقت امداد، ہنگامی پس منظر میں احکام الہی کا فوری نزول، مستقبل کے متعلق بہت سی پیشین گوئیاں جو قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ مثلاً روم کا ایران پر غلبہ، دین اسلام کی تمام ادیان پر سر بلندی، قیامت سے پہلے اور مابعد کے حالات نشر و حشر اور جنت دوزخ سے متعلق معلومات وغیرہ۔ اور اسی وحی الہیٰ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک مبتدی اور ایک منتہی دونوں ہی قرآن سے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق فیض یاب ہوتے ہیں۔ تیسرا پہلو یہ ہے کہ جوں جوں انسان آیات الہی میں غور کرتا ہے نئے نئے حقائق اس کے سامنے آنے لگتے ہیں۔ اور یہ سب باتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم سے نازل فرمایا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت لامحدود ہے اسی طرح اس کے کلام کی پہنائیاں اور حقائق بھی لامحدود ہیں۔ [٢٢١] فرشتوں کی گواہی اس لحاظ سے قابل اعتبار ہے کہ وہ مدبرات امر ہیں اور کائنات کے جملہ امور اللہ کے اذن سے انہی کے ہاتھوں سر انجام پا رہے ہیں اور اللہ کا کلام بھی انہی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے۔ اگرچہ فرشتوں کی گواہی کی بھی ضرورت نہیں بلکہ اللہ کی گواہی ہر لحاظ سے کافی ہے کیونکہ وہ ہر چیز کا خالق اور اس کا منتظم ہے اور فرشتے تو اسی کے حکم کے پابند ہیں۔ النسآء
167 [٢٢٢] یعنی جس نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اس نے اللہ کے علم کا بھی انکار کردیا اور اس کی گواہی کا بھی۔ پھر صرف خود ہی انکار نہ کیا بلکہ اس کی راہ میں روڑے بھی اٹکاتا رہا اور جو لوگ ایمان والے تھے ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کر کے ان کو راہ راست سے روکتا رہا یقیناً وہ بہت بڑی گمراہی میں پڑگیا ایسے لوگوں کے جرائم ناقابل معافی ہیں اور گمراہی اور جہنم کے علاوہ انہیں کوئی اور راہ سوجھتی ہی نہیں۔ یہود کا تحریف شدہ تورات پر اور اپنے اہل علم ہونے کا ناز :۔ یہود کی علمی ساکھ چونکہ اہل عرب کے ہاں مسلم تھی (اور وہ غیر یہود کو امی یا ان پڑھ یا جاہل کہا کرتے تھے۔) اس لیے ان کی ہر جائز اور ناجائز بات کو اہل عرب درخور اعتنا سمجھتے تھے اس علمی ساکھ سے یہود نے بہت ناجائز فائدے اٹھائے۔ اور جن باتوں سے وہ لوگوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کرتے تھے ان کا ذکر اکثر مقامات پر گزر چکا ہے۔ منجملہ ایک یہ تھا کہ یہود یہ سمجھتے تھے کہ ان کی شریعت اور بالخصوص تورات تا قیامت ناقابل تنسیخ ہے اور اس کے احکام میں رد و بدل نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ تورات پر جو تاریخی حادثے گزر چکے تھے اور دو بار تورات ان سے گم بھی ہوگئی تھی وہ انہیں معلوم تھا۔ پھر ان کے علماء کو بھی یہ علم تھا کہ تورات میں بہت سے الحاقی مضامین شامل کرلیے گئے ہیں اور بعض دفعہ خود علمائے یہود کو یہ الجھن پیش آ جاتی تھی اور وہ خود بھی یہ تمیز نہ کرسکتے تھے کہ ان میں سے کونسا اور کتنا مضمون الہامی ہے اور کتنا الحاقی ہے۔ پھر اس میں علمائے یہود حسب منشاء اور ضرورت تحریف بھی کر ڈالتے تھے لیکن ان سب باتوں کے باوجود وہ یہ سمجھتے تھے کہ جو تورات ان کے پاس موجود ہے۔ وہ ناقابل تغیر اور ناقابل تنسیخ ہے اور یہی بات وہ دوسروں کے ذہن نشین کرا کر انہیں اسلام لانے سے روکتے تھے۔ اور دوسرا ان کا زعم باطل یہ تھا کہ آنے والا نبی آخر الزمان انہی بنی اسرائیل میں سے آئے گا۔ حالانکہ اس کا ان کے پاس کوئی علمی ثبوت موجود نہ تھا۔ پھر جب وہ بنی اسماعیل میں مبعوث ہوگیا۔ تو ایک تو حسد کے مارے اس کا انکار کردیا اور کہا کہ ہم اہل علم ہو کر امیوں کے نبی پر کیسے ایمان لا سکتے ہیں؟ دوسرے اسی بنیاد پر وہ دوسرے لوگوں کو اسلام لانے سے روکتے تھے اور کہتے تھے کہ چونکہ یہ نبی علمی خاندان یعنی بنی اسرائیل سے تعلق نہیں رکھتا لہٰذا یہ سچا نبی نہیں ہو سکتا۔ النسآء
168 النسآء
169 النسآء
170 [٢٢٣] یعنی اللہ کی طرف سے تم پر اتمام حجت ہوچکی ہے اور روز آخرت تمہارے پاس پیش کرنے کو کوئی عذر نہ ہوگا اور سب شہادتیں تمہارے خلاف جائیں گی لہٰذا بہتر یہی ہے کہ بروقت سنبھل جاؤ اور رسول پر اور اللہ کی آیات پر ایمان لا کر اخروی زندگی سنوار لو، ورنہ اس روز اللہ کی گرفت اور اس کے عذاب سے کبھی بچ نہ سکو گے۔ جو کائنات کی ہر چیز پر مکمل قبضہ و اختیار رکھتا ہے۔ وہ تمہاری سب شرارتوں کو بھی جانتا ہے اور اپنے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں سے نمٹنے کا طریقہ بھی اسے آتا ہے۔ النسآء
171 [٢٢٤] غلو کیا ہے :۔ غلو کا معنیٰ ایسا مبالغہ ہے جو غیر معقول ہو۔ خواہ یہ مبالغہ افراط کی جانب ہو یا تفریط کی جانب۔ جیسے عیسیٰ کے متعلق نصاریٰ کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ کے بیٹے تھے اور اس کے بالکل برعکس یہود کا یہ عقیدہ کہ وہ نبی نہ تھے بلکہ یہود (معاذ اللہ) انہیں ولد الحرام سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر انہوں نے آپ کو سولی پر چڑھانے میں اپنی کوششیں صرف کردیں۔ گویا ایک ہی رسول کے بارے میں غلو کی بنا پر اہل کتاب کے دونوں بڑے فرقے گمراہ ہوگئے۔ امت محمدیہ میں غلو کی مثالوں کے لیے سورۃ فرقان کا حاشیہ نمبر ٣ ملاحظہ کیجئے۔ [٢٢٥] الوہیت مسیح کا عقیدہ :۔ یہ خطاب نصاریٰ کو ہے جنہوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو کبھی خدا کا یٹا قرار دیا اور کبھی تین خداؤں میں سے تیسرا خدا قرار دیا حالانکہ انجیل میں عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش کے متعلق وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو قرآن میں استعمال ہوئے ہیں۔ یعنی عیسیٰ اللہ کا کلمہ تھے اور اس کی طرف سے روح تھے۔ پھر جب عیسائیت پر فلسفیانہ اور راہبانہ خیالات و نظریات غالب آنے لگے تو لفظ کلمہ کو جو فرمان الٰہی یا لفظ کن کا ہم معنی تھا، کلام کا ہم معنی قرار دے کر اسے اللہ تعالیٰ کی ازلی صفات میں سے سمجھا گیا۔ اور یہ سمجھا گیا کہ اللہ کی یہ ازلی صفت ہی سیدہ مریم علیہا السلام کے بطن میں متشکل ہو کر عیسیٰ علیہ السلام کی صورت میں نمودار ہوئی۔ اور 'اس کی طرف سے روح' کا معنی یہ سمجھا گیا کہ اللہ کی روح ہی عیسیٰ کے جسم میں حلول کرگئی تھی اس طرح عیسیٰ کو اللہ کا ہی مظہر قرار دے دیا گیا اور ان غلط عقائد کو پذیرائی اس لیے حاصل ہوئی کہ عیسیٰ کو جو جو معجزات دیئے گئے تھے ان سے ان کے عقائد کی تائید ہوجاتی تھی۔ حالانکہ بے شمار ایسی باتیں بھی موجود تھیں جن سے ان کے عقائد کی پرزور تردید ہوتی تھی۔ مثلاً انجیل میں صرف ایک اللہ کے الٰہ ہونے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ نیز سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ دونوں مخلوق اور حادث تھے۔ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے اور انہیں وہ تمام بشری عوارضات لاحق ہوتے تھے جو سب انسانوں کو لاحق ہوتے ہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام اپنی ذات کو سولی پر چڑھنے اور ایسی ذلت کی موت سے بچا نہ سکے تو وہ خدا کیسے ہو سکتے تھے۔ پھر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ دونوں خود بھی ایک اللہ کی عبادت کرتے رہے اور دوسروں کو بھی یہی تعلیم دیتے رہے یہ سب باتیں ان کی خدائی کی پرزور تردید کرتی ہیں۔ [٢٢٦] عقیدہ تثلیث کی پیچیدگی :۔ عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث ایسا گورکھ دھندا ہے جس کو وہ خود بھی دوسرے کو سمجھا نہیں سکتے اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ خدا، عیسیٰ اور روح القدس تینوں خدا ہیں اور یہ تینوں خدا مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں یعنی وہ توحید کو تثلیث میں اور تثلیث کو توحید میں یوں گڈ مڈ کرتے ہیں کہ انسان سر پیٹ کے رہ جائے اور پھر بھی اسے کچھ اطمینان حاصل نہ ہو۔ مثلاً وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ ایک پیسہ میں تین پائیاں ہوتی ہیں اور یہ تینوں مل کر ایک پیسہ بنتی ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ جب سیدہ مریم علیہاالسلام اور عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہی نہ ہوئے تھے تو کیا خدا نامکمل تھا اور اگر نامکمل تھا تو یہ کائنات وجود میں کیسے آ گئی۔ اور اس پر فرماں روائی کس کی تھی؟ غرض اس عقیدہ کی اس قدر تاویلیں پیش کی گئیں جن کی بنا پر عیسائی بیسیوں فرقوں میں بٹ گئے۔ پھر بھی ان کا یہ عقیدہ لاینحل ہی رہا اور لاینحل ہی رہے گا۔ [٢٢٧] صفات الٰہی میں موشگافیاں :۔ یعنی تین خدا کہنے سے باز آ جاؤ یا صفات الٰہی میں فلسفیانہ اور راہبانہ موشگافیاں کرنے سے باز آ جاؤ کیونکہ جس نے بھی صفات الہی میں کرید شروع کی ہے وہ گمراہ ہی ہوا ہے۔ واضح رہے کہ صفات الٰہی سے متعلقہ آیات متشابہات سے تعلق رکھتی ہیں جن کے متعلق یہ حکم ہے کہ ان کے پیچھے نہ پڑنا چاہیے۔ کیونکہ ان پر نہ اوامر و نواہی کا دار و مدار ہوتا ہے اور نہ حلت و حرمت کا، نہ ہی انسانی ہدایت سے ان کا کچھ تعلق ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں جوں کا توں ہی تسلیم کرلینا چاہیے کہ یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ نیز ایسی آیات کے پیچھے وہی لوگ پڑتے ہیں جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہوتی ہے۔ لہٰذا اے گروہ نصاریٰ ! تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ وحی الٰہی کو جوں کا توں مان لو اور ان کی موشگافیوں سے باز آ جاؤ اور وحی الٰہی یہی ہے کہ صرف اللہ اکیلا ہی الٰہ ہے، اسے کسی بیٹی بیٹے کی کوئی ضرورت نہیں اور وہ ایسی باتوں سے پاک و صاف ہے۔ [٢٢٨] یعنی اللہ ہر چیز کا مالک ہے اور ہر چیز اس کی مملوک ہے اور اولاد مملوک نہیں ہوتی بلکہ ہمسر ہوتی ہے۔ لہٰذا ان دونوں باتوں میں سے ایک ہی بات صحیح ہو سکتی ہے۔ اگر وہ مملوک ہے تو بیٹا نہیں اور اگر بیٹا ہے تو مملوک نہیں۔ علاوہ ازیں جب عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے بھی اللہ اکیلا ہی کائنات کا پورا نظام چلا رہا تھا تو پھر اسے بیٹا بنانے کی ضرورت کیا پیش آئی، لہٰذا کچھ تو عقل سے کام لو۔ النسآء
172 [٢٢٩] الوہیت مسیح کی تردید :۔ اس آیت میں الوہیت مسیح کی تردید میں ایک اور دلیل پیش کی گئی ہے۔ جو یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا بندہ اور غلام بن کر رہنے میں کچھ عار محسوس کرنا تو درکنار، اسے قابل فخر سمجھتے تھے اور یہی حال مقرب فرشتوں کا بھی ہے۔ لہٰذا نہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کی الوہیت میں شریک بن سکتے ہیں اور نہ مقرب فرشتے۔ کیونکہ جو کسی کا بندہ اور غلام ہو وہ اس کا شریک نہیں ہو سکتا۔ اور جو اس کا شریک ہو وہ اس کا بندہ اور غلام نہیں ہو سکتا۔ عیسائیوں پر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے عبادت کرنے سے حجت اس لیے قائم کی گئی کہ وہ خود اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام زیتون کی پہاڑی پر اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ ان سے پوچھا یہ جا رہا ہے کہ اگر وہ اللہ یا اللہ کا حصہ یا اللہ کا بیٹا تھے تو وہ اس کی عبادت کیوں کرتے تھے؟ پھر فرشتے ایسی مخلوق ہیں جن کا نہ باپ ہے اور نہ ماں۔ لیکن اللہ ہونے کے وہ بھی مدعی نہیں بلکہ وہ بھی برضا و رغبت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ پھر جب فرشتے جو عیسیٰ علیہ السلام سے لطیف تر مخلوق ہیں، اللہ کی عبادت میں عار محسوس نہیں کرتے تو پھر عیسیٰ علیہ السلام کیسے کرسکتے ہیں؟۔ النسآء
173 [٢٣٠] تکبر کا انجام :۔ تکبر اور بڑائی صرف اللہ تعالیٰ کو لائق ہے۔ مخلوق میں سے کوئی بھی اللہ کے سامنے اکڑے گا، تو یقیناً دوزخ میں جائے گا۔ عہد آدم علیہ السلام میں سب سے پہلے ابلیس نے تکبر کیا تو راندہ بارگاہ الہی قرار پایا۔ جس شخص میں بھی کبر و نخوت ہو لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔ اللہ اسے دنیا میں بھی ذلیل کرتا ہے اور آخرت میں بھی ذلیل کر کے اس کی اکڑ توڑ دے گا اور جہنم میں داخل کرے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پروردگار کے سامنے جنت اور دوزخ کا جھگڑا ہوا۔ جنت نے کہا ’’پروردگار! میرا تو یہ حال ہے کہ مجھ میں وہی لوگ آ رہے ہیں جو دنیا میں ناتواں اور حقیر تھے۔‘‘ اور دوزخ کہنے لگی ’’کہ مجھ میں وہ لوگ آ رہے ہیں جو متکبر تھے۔‘‘ اللہ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے اور دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے۔ (بخاری، کتاب التوحید، باب ماجاء فی قول اللہ إن رحمۃ اللہ قریب من المحسنین) ـــــــ اور ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کیا میں تمہیں بتاؤں کہ بہشتی کون ہیں اور دوزخی کون؟ جنتی ہر وہ کمزور اور منکسر المزاج ہے کہ اگر وہ اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اسے سچا کر دے۔ اور دوزخی ہر موٹا، اجڈ اور متکبر آدمی ہوتا ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الایمان، باب قول اللہ تعالیٰ واقسموا باللہ جہد ایمانہم) النسآء
174 [٢٣١] قرآن برہان کیوں ہے؟ برہان ایسی واضح دلیل کو کہتے ہیں کہ فریقین کے درمیان فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہو۔ قرآن اس لحاظ سے برہان ہے کہ اس نے اپنے مخالب تمام کفار کو چیلنج کیا کہ ’’اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ کسی انسان کا کلام ہے تو تم سب مل کر اور ایک دوسرے کی مدد کر کے قرآن جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ‘‘ لیکن عرب بھر کے تمام فصحاء، بلغاء اور شعراء ایسا کلام پیش کرنے سے عاجز رہ گئے۔ اسی ایک چیلنج سے تین چیزوں کا ثبوت ملتا ہے اور یہ ثبوت بھی ایسا ہے جو فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے (١) وجود باری تعالیٰ کا ثبوت (٢) قرآن کے اللہ کا کلام ہونے کا ثبوت اور (٣) آپ کی نبوت کا ثبوت۔ اسی لحاظ سے قرآن کو برہان کہا گیا ہے۔ اور نورمبین اس لحاظ سے ہے کہ ہدایت انسانی یعنی دنیوی طریق زندگی اور اخروی نجات کے لیے زندگی کے ہر ہر پہلو پر روشنی ڈالنے والا ہے۔ النسآء
175 [٢٣٢] لہٰذا جو شخص اس قرآن کو مشعل راہ بنائے رکھے گا وہ نہ راہ بھٹکے گا نہ بھولے گا اور نہ غلط راہوں پر جا پڑے گا۔ اللہ کی رحمت اور اس کا فضل اس کے شامل حال رہیں گے اور یہی قرآن کی سیدھی راہ اسے اللہ تک پہنچا دے گی۔ النسآء
176 [٢٣٣] یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں نازل ہوئی جس وقت سورۃ نساء مکمل ہوچکی تھی۔ اس میں کلالہ کی میراث کے ایک دوسرے پہلو کا ذکر ہے جس کے متعلق صحابہ کرام نے آپ سے استفسار کیا تھا۔ چونکہ کلالہ کی میراث کا حکم اسی سورۃ کی آیت نمبر ١٢ میں مذکور ہے اور باقی احکام میراث بھی اسی سورۃ کی آیت نمبر ١١، ١٢ میں بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے اس آیت کو بھی بطور تتمہ اسی سورۃ کے آخر میں شامل کیا گیا۔ واضح رہے کہ کسی بھی سورۃ کی آیات میں ربط اور ان کی ترتیب توقیفی ہے۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحی الٰہی کی روشنی میں سب آیات کو اپنے مناسب مقام پر رکھا ہے۔ [٢٣٤] کلالہ کی میراث کی تقسیم :۔ اولاد تین قسم کی ہوتی ہیں (١) عینی یا حقیقی یا سگے بہن بھائی جن کے ماں اور باپ ایک ہوں۔ (٢) علاتی یا سوتیلے جن کا باپ تو ایک ہو اور مائیں الگ الگ ہوں۔ (٣) اخیافی یا ماں جائے۔ جن کی ماں ایک ہو اور باپ الگ الگ ہوں۔ اسی سورۃ کی آیت نمبر ١٢ میں جو کلالہ کی میراث کے احکام بیان ہوئے تھے وہ اخیافی بہن بھائیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جو اس آیت نمبر ١٧٦ میں بیان ہو رہے ہیں یہ حقیقی یا سوتیلے بہن بھائیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کلالہ کی میراث کی تقسیم میں دو باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، ایک یہ کہ اگر کلالہ کے حقیقی بہن بھائی بھی موجود ہوں اور سوتیلے بھی تو حقیقی بہن بھائیوں کی موجودگی میں سوتیلے محروم رہیں گے اور اگر حقیقی نہ ہوں تو پھر سوتیلوں میں جائیداد تقسیم ہوگی۔ اور دوسرے یہ کہ کلالہ کے بہن بھائیوں میں تقسیم میراث کی بالکل وہی صورت ہوگی جو اولاد کی صورت میں ہوتی ہے۔ یعنی اگر صرف ایک بہن ہو تو اس کو آدھا حصہ ملے گا۔ دو ہوں یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں تو ان کو دو تہائی ملے گا اور اگر صرف بھائی ہی ہو تو تمام ترکہ کا واحد وارث ہوگا اور اگر بہن بھائی ملے جلے ہوں تو ان میں سے ہر مرد کو ٢ حصے اور ہر عورت کو ایک حصہ ملے گا۔ کلالہ اس مرد یا عورت کو کہتے ہیں جس کی نہ تو اولاد ہو اور نہ ماں باپ، بلکہ آباء کی جانب میں کوئی رشتہ دار موجود نہ ہو۔ اب کلالہ کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ عورت ہو اور اس کا خاوند بھی موجود نہ ہو یا مرد ہو اور اس کی بیوی بھی نہ ہو۔ اور دوسری یہ کہ میت مرد ہو اور اس کی بیوی موجود ہو۔ یا میت عورت ہو تو اس کا خاوند موجود ہو۔ دوسری صورت میں زوجین بھی وراثت میں مقررہ حصہ کے حقدار ہوں گے۔ مثلاً کلالہ عورت ہے جس کا خاوند موجود ہے اور اس کی ایک بہن بھی زندہ ہے تو آدھا حصہ خاوند کو اور آدھا بہن کو مل جائے گا۔ اور اگر بہنیں دو یا دو سے زیادہ ہوں تو پھر عول کے طریقہ پر کل جائیداد کے چھ کے بجائے سات حصے کر کے تین حصے خاوند کو اور چار حصے بہنوں کو مل جائیں گے اور اگر بہن بھائی ملے جلے ہیں تو حسب قاعدہ للذکر مثل حظ الانثیین آدھی میراث ان میں تقسیم ہوگی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر پہلی صورت ہو یعنی کلالہ عورت کا خاوند بھی نہ ہو یا مرد کی بیوی بھی نہ ہو اور اس کی صرف ایک بہن ہو تو آدھا تو اس کو مل گیا۔ باقی آدھا کسے ملے گا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ آدھا رد کے طور پر بہن کو بھی دیا جا سکتا ہے اور ذوی الارحام (یعنی ایسے رشتہ دار جو ذوی الفروض ہوں اور نہ عصبہ) یعنی دور کے رشتہ داروں مثلاً ماموں، پھوپھی وغیرہ یا ان کی اولاد موجود ہو تو انہیں ملے گا۔ اور اگر وہ بھی نہ ہوں تو بقایا آدھا حصہ بیت المال میں بھی جمع کرایا جا سکتا ہے اور ایسے حالات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں۔ [٢٣٥] یعنی صحابہ کرام کو کلالہ کی میراث کی تقسیم کے بعض پہلوؤں میں جو پریشانی ہوئی تھی اس کا حل اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے لہٰذا اب تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ضمناً اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب صحابہ کرام آپ سے کوئی مسئلہ پوچھتے تو آپ از خود اس کا جواب دینے کے بجائے وحی الٰہی کا انتظار کرتے رہتے تھے۔ النسآء
0 المآئدہ
1 [١] ایفائے عہد :۔ قرآن میں کئی مقامات پر یہ صراحت موجود ہے کہ یہود کی بدعہدیوں اور عہد شکنیوں کے باعث ان پر کئی ایسی چیزیں حرام کردی گئی تھیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں لہٰذا اس سورۃ میں حلت و حرمت کے احکام بیان کرنے سے پیشتر بطور تمہید اپنے معاہدات کو پورا کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے خواہ یہ عہد اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے ہوں یا لوگوں سے، بیع و شرا سے متعلق ہوں یا نکاح اور منگنی وغیرہ سے، اپنوں سے تعلق رکھتے ہوں یا غیر مسلموں سے، صلح سے متعلق ہوں یا جنگ سے غرض ہر طرح کے معاہدات کو پورا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ عہد کو پورا نہ کرنا نفاق کی علامت ہے جیسا کہ پہلے اس ضمن میں صحیح احادیث درج کی جا چکی ہیں۔ [٢] حلال اور حرام جانور :۔ انعام سے اہل عرب کے ہاں اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری وغیرہ مراد لیے جاتے ہیں اور بہیمہ وہ جانور ہیں جن کا گزارا گھاس پات پر ہوتا ہو۔ اس طرح اس قبیل میں وہ جانور بھی شامل ہوجاتے ہیں جو نباتاتی غذاؤں پر پرورش پاتے ہوں اور عرب کے علاوہ دوسرے ممالک میں پائے جاتے ہوں مثلاً گائے کے ساتھ نیل گائے، بھینس اور بکری کے ساتھ ہرن اور بارہ سنگھا وغیرہ بھی حلال ہوں گے اور جو جانور حیوانی غذا پر پرورش پاتے ہیں بالفاظ دیگر جو جانور گوشت خور ہیں وہ سب حرام ہیں جنہیں عام زبان میں درندے کہا جاتا ہے چنانچہ سیدنا ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر کچلی والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا (بخاری۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب اکل کل ذی ناب من السباع۔ مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب تحریم اکل ذی ناب) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر شکاری پرندے کو حرام قرار دیا جو اپنے پنجوں سے شکار کرتا ہے۔ (حوالہ ایضاً) [٣] یعنی اس سورۃ کی تیسری آیت میں بیان ہوں گے۔ [٤] احرام کیا ہے؟ احرام اس فقیرانہ لباس کو کہتے ہیں جو حج اور عمرہ کرنے والے اپنے میقات سے باندھتے ہیں اور یہ مردوں کے لیے صرف ایک تہبند اور ایک چادر پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور عورتوں کے لیے ان کا عام لباس ہی احرام کا بھی لباس ہوتا ہے۔ احرام کی حالت میں انہیں کوئی چیز چہرہ پر نہ ڈالنا چاہیے۔ احرام کی حالت میں چند پابندیاں ضروری ہیں مثلاً وہ خوشبو یا زیب و زینت کی چیزیں استعمال نہیں کرسکتا۔ نہ ہی اپنی بیوی سے صحبت کرسکتا ہے۔ محرم کو شکار کی ممانعت :۔ انہی پابندیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ نہ تو خود شکار کرسکتا ہے اور نہ ہی دوسرے کو شکار کرنے میں مدد دے سکتا ہے البتہ شکار کردہ جانور سے کچھ کھا لینے میں کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم (حدیبیہ کے سال) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے اور اپنے چند ساتھیوں سمیت جو احرام باندھے تھے، پیچھے رہ گئے لیکن ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا تھا۔ ان احرام باندھے ہوئے ہمراہیوں نے ایک گورخر دیکھا جس پر ابو قتادہ کی نظر نہ پڑی۔ انہوں نے بھی ابو قتاد ہ رضی اللہ عنہ کو شکار کے متعلق کچھ نہ بتلایا، یہاں تک کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی خود اس شکار پر نظر پڑگئی۔ وہ اپنے گھوڑے پر جس کا نام جرادہ تھا سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا، ذرا میرا کوڑا مجھے پکڑا دو۔ لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ آخر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے خود اتر کر اپنا کوڑا لیا اور اس گورخر پر حملہ کیا اور اس کو زخمی کر کے اسے گرا دیا۔ پھر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس شکار میں سے خود بھی کھایا اور ان ساتھیوں نے بھی کھایا جو احرام باندھے ہوئے تھے۔ پھر جب یہ لوگ آپ سے جا کر ملے اور ان سے قصہ بیان کیا تو آپ نے پوچھا، کیا اس شکار کا کچھ گوشت باقی ہے؟ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں۔ ایک ران ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ران لے لی اور اس میں سے گوشت کھایا۔ (بخاری کتاب الجہاد۔ باب اسم الفرس والحمار) پھر جس طرح احرام کی حالت میں شکار کرنا حرام ہے اسی طرح حرم مکہ میں بھی شکار کرنا حرام اور ممنوع ہے فرق صرف یہ ہے کہ حرم مکہ میں کسی وقت بھی شکار نہیں کیا جا سکتا خواہ کوئی احرام کی حالت میں ہو یا نہ ہو۔ جبکہ احرام باندھنے والا احرام کھولنے کے بعد حرم مکہ کے علاوہ دوسرے مقامات سے شکار کرسکتا ہے اور جس طرح احرام کی چند ایک پابندیاں ہیں اسی طرح حرم مکہ کی بھی ہیں۔ ان کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ حج کی آیت نمبر ٢٥ کا حاشیہ۔ [٥] حلت وحرمت کے اختیارات :۔ یعنی حلت و حرمت کے یا بالفاظ دیگر قانون سازی کے جملہ اختیارات اللہ ہی کو ہیں۔ لہٰذا جس چیز کو وہ چاہے حلال قرار دے اور جس کو چاہے حرام کر دے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو چند اشیاء کی حلت و حرمت کے احکام دیئے ہیں وہ یا تو اس اختیار کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے احکام دیئے ہیں جو اللہ نے آپ کو بحیثیت اللہ کے رسول تفویض فرمائے یا پھر وحی خفی کے ذریعہ آپ کو مطلع کیا گیا تھا اہل ہنود تین چیزوں خدا، روح اور مادہ کو ازلی ابدی قرار دیتے ہیں۔ روح کو ازلی ابدی تسلیم کرنے کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ تمام ذی حیات یا جاندار اشیاء انسان کے ہم مرتبہ ہیں لہٰذا انسان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی موذی جانور کو گزند پہنچائے یا اسے مار ڈالے یا اپنے ذاتی فائدے کی خاطر اسے ذبح کر کے اس کا گوشت پوست اپنے استعمال میں لائے۔ وحی الٰہی تو وحدت انسان کا تصور پیش کرتی ہے۔ لیکن اس وحدت کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے انسان کو چار ذاتوں میں تقسیم کر ڈالا۔ اور یہ لوگ وحدت انسان کی بجائے وحدت حیات کا تصور پیش کرتے ہیں۔ موذی جانوروں کو دکھ نہ دینے کا نظریہ چونکہ غیر فطری ہے لہٰذا ان لوگوں نے اس نظریہ میں خاصی لچک پیدا کرلی۔ اور بعض دفعہ ایسے جانوروں کی کثرت کے عذاب سے بھی دو چار ہوئے۔ رہا ان کا یہ اعتراض کہ اسلام مسلمانوں کو بے زبان جانوروں کو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر مار ڈالنے کا حکم کیوں دیتا ہے تو اس کا نقلی جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں جو چیز بھی پیدا کی ہے۔ انسان کے فائدہ کے لیے پید اکی ہے اور انسان شریعت کے قوانین کے تحت ان چیزوں سے انتفاع کا حق رکھتا ہے اور یہی بات اس آیت سے واضح ہوتی ہے کہ اللہ جو کچھ چاہے حکم دیتا ہے اور عقلی جواب یہ ہے کہ روح اور جسم کے انفصال کے وقت ہر جاندار کو بہرحال تکلیف پہنچتی ہے۔ ایک جاندار جو طبعی موت مرتا ہے وہ بوڑھا ہو کر اور بیماری کے دکھ سہہ سہہ کر مرتا ہے اور ذبح یا شکار کی صورت میں غالباً اس سے کم عرصہ کے لیے تکلیف پہنچتی ہے۔ المآئدہ
2 [٦] شعائر کا مفہوم :۔ شعائر، شعیرہ کی جمع ہے۔ یعنی امتیازی علامت۔ ہر مذہب اور ہر نظام کی امتیازی علامات کو شعائر کہا جاتا ہے۔ مثلاً اذان نماز باجماعت اور مساجد مسلمانوں کے، گرجا اور صلیب عیسائیوں کے، تلک، زنار، چوٹی اور مندر ہندوؤں کے کیس۔ کڑا اور کرپان سکھوں کے۔ ہتھوڑا اور درانتی اشتراکیت کے اور سرکاری جھنڈے، قومی ترانے، فوج اور پولیس کے یونیفارم وغیرہ حکومتوں کے امتیازی نشان ہوتے ہیں۔ جن کا احترام ضروری سمجھا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بھی کئی شعائر ہیں۔ [٧] حرمت کے مہینے :۔ اللہ تعالیٰ کے شعائر بے شمار ہیں جن میں سے چند ایک کے نام اس آیت میں آ گئے ہیں۔ ان کی توہین یا بے حرمتی سے انسان گنہگار ہوجاتا ہے۔ ان میں سے سرفہرست حرمت والے مہینہ کا ذکر فرمایا۔ حرمت والے مہینے چار ہیں۔ ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب۔ اور ان کی حرمت کا مطلب یہ ہے کہ ان مہینوں میں اہل عرب لوٹ مار اور لڑائی وغیرہ سے باز رہتے تھے۔ دور جاہلیت میں پورے عرب میں قبائلی نظام رائج تھا اور یہ قبیلے آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے تھے انہوں نے آپس میں یہ طے کیا ہوا تھا کہ ان مہینوں میں کوئی قبیلہ کسی دوسرے قبیلہ پر چڑھ کر نہ آئے گا۔ دوسرے عرب قبائل ایک دوسرے کو بھی لوٹا کرتے تھے اور تجارتی قافلوں کو بھی۔ ان حرمت والے مہینوں میں وہ اس کام سے بھی باز رہتے تھے اور ان چار مہینوں میں سے ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم کو حرمت والے مہینے قرار دینے کی وجہ یہ تھی کہ ان ایام میں لوگ دور دور سے حج کرنے آتے تھے اور پھر واپس جاتے تھے اور رجب حرمت والا مہینہ قرار دینے کی وجہ یہ تھی کہ اس مہینہ میں لوگ بیت اللہ کے لیے نذرانے لایا کرتے تھے اور متولیان کعبہ یہ نذرانے وصول کیا کرتے تھے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ سب کچھ کعبہ شریف کے اعزاز کی وجہ سے تھا اور متولیان کعبہ، کعبہ کی وجہ سے کئی قسم کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی فائدے اٹھا رہے تھے اور قریش مکہ کے قافلے تو سارا سال ہی بے خوف و خطر سفر کرسکتے تھے۔ ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھتا بھی نہ تھا۔ اللہ کے شعائر :۔ یہ سب کچھ چونکہ کعبہ کے اعزاز کی وجہ سے تھا اسی لیے اسلام نے اس جاہلی دستور کو بحال رکھا اور اس لیے بھی کہ یہ ایک باہمی معاہدہ امن تھا جسے اسلام پسند کرتا ہے۔ اسلام میں جب زکوٰۃ فرض ہوئی تو اس کی وصولی کے لیے عمال کو ماہ رجب میں روانہ کیا جایا کرتا تھا۔ اس کی وجہ بھی غالباً یہ ہو کہ اس مہینہ میں لوگ کعبہ کے لیے نذرانہ دینے کے پہلے سے عادی تھے۔ دوسرے نمبر پر ہدی کا ذکر فرمایا یعنی وہ قربانی کے جانور جو قربانی کے لیے کعبہ بھیجے جائیں اور تیسرے نمبر پر قلائد کا ذکر فرمایا۔ یہ سب چیزیں اللہ کے شعائر ہیں قلائد سے مراد وہ پٹے ہیں جو کعبہ بھیجے جانے والے قربانی کے جانوروں کے گلے میں ڈال دیئے جاتے تھے ان کے علاوہ تمام مناسک حج بھی شعائر اللہ میں داخل ہیں۔ ان میں سے بالخصوص قربانی کے جانوروں کے ذکر کی مناسبت سے یہاں چند احادیث درج کی جاتی ہیں۔ ١۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے پٹے بٹے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پٹے اونٹوں کے گلے میں ڈال دیئے اور ان کے کوہانوں سے خون نکالا۔ پھر انہیں بیت اللہ روانہ کردیا۔ (بخاری۔ کتاب المناسک۔ من اشعر وقلد بذی الحلیفۃ ثم احرم۔ مسلم۔ کتاب الحج۔ باب استحباب بعث الھدی الی الحرم ) ٢۔ سیدنا زویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ قربانی کے اونٹ بھیجتے اور فرماتے اگر ان میں سے کوئی اونٹ چل نہ سکے اور اس کے مرنے کا خطرہ ہو تو اسے ذبح کر دو پھر اپنی جوتی اس کے خون میں آلودہ کر کے اس کے پہلو میں مارو۔ پھر اسے نہ تم کھاؤ اور نہ تمہارا کوئی ساتھی کھائے۔ (مسلم۔ کتاب الحج۔ باب مایفعل بالہدی اذاعطب فی الطریق) اور ترمذی میں یہ اضافہ ہے کہ دوسرے لوگ ایسے ذبح شدہ قربانی کے جانور کا گوشت کھا سکتے ہیں۔ (ترمذی۔ ابو اب الحج۔ باب ماجاء اذا عطب بالھدی ) ٣۔ قربانی کے جانور پر سواری کی اجازت :۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کا اونٹ ہانکے جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اس پر سوار ہوجا۔‘‘ وہ کہنے لگا ’’یہ قربانی کا جانور ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا 'اس پر سوار ہوجا۔' اس نے پھر کہہ دیا کہ 'یہ تو قربانی کا اونٹ ہے' پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری بار اسے فرمایا ’’تجھ پر افسوس! اس پر سوار ہوجا۔‘‘ (بخاری، کتاب المناسک۔ باب رکوب البدن) (مسلم۔ کتاب الحج۔ باب جواز رکوب البدنۃ المھداۃ) اور مسلم میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا۔’’معروف طریقہ سے سوار ہو سکتے ہو۔ بشرطیکہ تم سوار ہونے پر مجبور ہو تاآنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔‘‘ (مسلم۔ حوالہ ایضاً) [٨] احرام خود بھی شعائر اللہ میں سے ہے۔ لہٰذا اگر تم انہیں تنگ کرو گے۔ تو شعائر اللہ کی توہین کے مرتکب ہوگے۔ اگرچہ یہاں امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور امر عموماً وجوب کے لیے آتا ہے لیکن یہاں یہ صیغہ اجازت اور رخصت کے معنوں میں ہے۔ یعنی جب تم احرام کھول دو تو شکار کرسکتے ہو جیسا کہ ترجمہ سے واضح ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جب تم احرام کھولو تو ضرور شکار کرو یا کیا کرو۔ نیز یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ امر کا صیغہ رخصت اور اجازت کے معنی میں بھی آ سکتا ہے۔ [٩] کفار مکہ نے مسلمانوں کو حج و عمرہ اور طواف کعبہ سے روک دیا تھا اور یہ رکاوٹ فتح مکہ تک بدستور قائم رہی ماسوائے عمرہ قضا کے۔ پھر جب کافروں اور مسلمانوں میں کوئی جنگ چھڑتی تو کافر قبیلے کافروں ہی کا ساتھ دیتے تھے۔ اور حدیبیہ کے موقع پر ان تمام شعائر اللہ کی توہین کی تھی جن کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے۔ انہوں نے بیت اللہ جانے کی راہ روکی۔ حرمت والے مہینہ میں لڑائی پر آمادہ ہوئے اور قربانی اور پٹے والے جانوروں کی مطلق پروا نہ کی لہٰذا مسلمانوں کے دل میں یہ خیال آ سکتا تھا کہ جو کافر قبیلے قافلوں کی شکل میں حج و عمرہ کرنے جاتے ہیں اور مسلمانوں کے پاس سے گزرتے ہیں وہ بھی مشتعل ہو کر ان کو حج و عمرہ سے روک دیں اور ان کے مال اسباب لوٹ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ایسے خیالات سے بھی منع فرما دیا۔ [١٠] ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس جملہ کا یہ مطلب ہے کہ جو کافر حج و عمرہ کو جاتے ہیں۔ اگرچہ وہ کافر اور مشرک ہیں تاہم اس وقت وہ نیکی اور تقویٰ کا کام کرنے جا رہے ہیں تو ان کی زندگی میں نیکی اور تقویٰ کا جو حصہ ہے اس میں تمہیں ان کی راہ روکنے کی بجائے ان سے تعاون کرنا چاہیے۔ حرف فجار اور حلف الفضول میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شمولیت :۔ تاہم اس آیت کا حکم عام ہے یعنی کوئی مسلم ہو یا غیر مسلم اگر وہ نیکی اور تقویٰ کا کام کرتا ہے تو تمہیں اس کا ساتھ دینا چاہیے اور گناہ یا سرکشی کا کام خواہ کوئی مسلمان کر رہا ہو اس سے کسی قسم کا تعاون نہیں کرنا چاہیے چنانچہ آپ کی بعثت سے پہلے کی بات ہے کہ اہل مکہ بری طرح قبائلی خانہ جنگی کی زد میں آ گئے۔ لڑائیوں کے اس لامتناہی سلسلہ نے سینکڑوں گھرانے برباد کردیئے تھے۔ حرب فجار جو قیس اور قریش کے قبیلوں کے درمیان چھڑی تھی اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حصہ لیا اور قریش کا ساتھ دیا تھا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ یہ لڑائی حرب فجار کے نام سے اس لیے موسوم ہوئی کہ یہ حرمت والے مہینوں میں بھی جاری رہی۔ اس جنگ کے خاتمہ پر بعض صلح پسند طبیعتوں میں اصلاح کی تحریک پیدا ہوئی۔ قریش کے چند معززین عبداللہ بن جدعان کے گھر جمع ہوئے اور معاہدہ ہوا کہ ’’ہم میں سے ہر شخص مظلوم کی حمایت کرے گا اور کوئی ظالم مکہ میں نہ رہنے دیا جائے گا۔‘‘ اس معاہدہ کو حلف الفضول کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ جن لوگوں کو ایسے معاہدہ کا خیال آیا تھا ان کے ناموں میں فضل کا مادہ بطور قدر مشترک شامل تھا۔ اس معاہدہ کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوسکا کیونکہ اس وقت کوئی ایسی قوت موجود نہ تھی جو قبائلی عصبیتوں کا خاتمہ کرسکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عہد نبوت میں فرمایا کرتے تھے ک’’ 'اگر اس معاہدہ کے مقابلہ میں مجھے سرخ اونٹ بھی دیئے جاتے تو میں نہ لیتا۔ اور اگر آج بھی مجھے کوئی ایسے معاہدہ کے لیے بلائے تو میں حاضر ہوں۔‘‘ (سیرۃ النبی۔ ج ١ ص ١٨٤، ١٨٥ شبلی نعمانی) المآئدہ
3 [١١] حلت وحرمت کی علت :۔ حلت و حرمت کے قانون میں شریعت نے صرف اس بات کو ملحوظ نہیں رکھا کہ حرام چیزوں کے طبی لحاظ سے جسم انسانی پر کیا مفید یا مضر اثرات پڑتے ہیں۔ اگر ایسی بات ہوتی تو سب سے پہلے سنکھیا اور دوسرے زہروں کا نام لیا جاتا، بلکہ زیادہ تر اس بات کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ ان حرام اشیاء کے انسان کے اخلاق پر کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور طہارت اور پاکیزگی سے ان کا کس قدر تعلق ہے نیز ایسی تمام چیزیں بھی حرام قرار دی گئیں جنہیں نیت کی گندگی اور عقیدہ کی خباثت حلال سے حرام بنا دیتی ہے۔ لہٰذا یہ ضروری نہیں کہ جو چیز اللہ نے حرام کی ہے اس کی حکمت بہرحال انسان کی سمجھ میں آ جائے۔ [١٢] اس آیت میں جن حرام کردہ چیزوں کا ذکر ہے۔ ان میں سے پہلی چار چیزوں کا ذکر پہلے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ١٧٣ میں آ چکا ہے اس کا حاشیہ ملاحظہ فرما لیا جائے۔ [١٣] چونکہ خون حرام ہے اس لیے موت کی ہر وہ صورت جس میں خون جسم سے نکل نہ سکے وہ بدرجہ اولیٰ حرام ہوئی۔ ایسی ہی چار صورتوں کا یہاں ذکر ہوا ہے۔ پہلی صورت اختناق یا گلا گھونٹ کر مرنے کی ہے پھر اسی کی آگے کئی صورتیں ہیں جیسے کوئی گلا دبا کر یا مروڑ کر مار ڈالے۔ یا اسی رسی کا پھندا لگ جائے یا گردن کسی درخت کی شاخوں میں پھنس جائے اور جانور مر جائے۔ دوسری صورت چوٹ یا ضرب سے مرنے کی ہے۔ یہ چوٹ کسی پتھر وغیرہ کی بھی ہو سکتی ہے اور لاٹھی وغیرہ کی بھی۔ تیسری صورت گر کر مرنا ہے خواہ کسی پہاڑی یا درخت سے گر کر مر جائے یا کسی کھڈ یا کنوئیں یا ندی نالے میں گر کر مر جائے۔ اور چوتھی صورت یہ ہے کہ سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے لڑیں اور ان میں سے کوئی مر جائے ایسے سب مردار حرام ہیں۔ [١٤] شکار کے احکام :۔ عدی رضی اللہ عنہ بن حاتم کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اگر میں بسم اللہ پڑھ کر سکھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑوں اور وہ میرے لیے شکار روکے تو‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’وہ تم کھا سکتے ہو۔‘‘ میں نے کہا ’’اگر کتے نے اسے مار ڈالا ہو مگر کھایا نہ ہو تو؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’کھا سکتے ہو۔‘‘ اور اگر تمہارے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی ہو اور شکار مر چکا ہو تو مت کھاؤ۔ کیونکہ تمہیں علم نہیں کہ کس کتے نے اسے مارا ہے۔ پھر میں نے پوچھا :’’اگر شکار چوڑائی میں لگنے والی کسی چیز سے مر جائے تو؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’اگر پھٹ جائے یعنی خون نکل آئے تو کھا سکتے ہیں ورنہ نہیں۔‘‘ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دوسری روایت کے مطابق) فرمایا۔ ’’اگر بسم اللہ پڑھ کر سکھائے ہوئے کتے نے شکار سے خود بھی کچھ کھالیا ہو تو پھر مت کھاؤ کیونکہ اس کتے نے یہ شکار اپنے لیے کیا تھا تمہارے لیے نہیں۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب الصید بالکلاب المعلمۃ) [١٥] ایسا مقام جس کی نسبت عوام میں مشہور ہو کہ وہاں جا کر قربانی دینے سے یا ایسی نذر ماننے سے انسانوں کی فلاں تکلیف رفع ہوجاتی ہے یا اسے فلاں فائدہ پہنچتا ہے اور لوگ اسے مقدس سمجھتے ہوں خواہ وہاں کوئی بت موجود ہو یا نہ ہو۔ اور اگر کسی درخت یا کسی پتھر سے ایسے ہی فوائد منسوب کیے گئے ہوں تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہوگا چنانچہ درج ذیل حدیث اسکی پوری وضاحت کرتی ہے۔ آستانے کی تعریف اور ان پر قربانی کا حکم :۔ سیدنا ثابت بن ضحاک فرماتے ہیں کہ دور نبوی میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ کے مقام پر ایک اونٹ قربانی کرے گا پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ ’’میں نے بوانہ کے مقام پر ایک اونٹ ذبح کرنے کی منت مانی تھی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’کیا وہاں دور جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی رہی ہو۔‘‘ لوگوں نے کہا 'نہیں' پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’کیا وہاں مشرکوں کی عیدوں میں سے کوئی عید (میلہ، عرس) تو نہیں لگتا تھا ؟‘‘ لوگوں نے کہا 'نہیں' تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے کہا، ’’اپنی نذر پوری کرو۔ البتہ اللہ کی نافرمانی میں نذر پوری کرنا جائز نہیں اور نہ ایسی چیز میں جو ابن آدم کی ملکیت میں نہ ہو۔‘‘ (ابو داؤد کتاب الایمان والنذور۔ باب۔ مایومر بہ من الوفاء عن النذر) [١٦] قسمت کے تیروں کے ذریعہ غیب کی خبریں یا اپنی اچھی یا بری قسمت کا حال معلوم کرنا محض توہم پرستی ہے اور ایمان بالجبت میں داخل ہے۔ یہ تیر عموماً کسی بت خانہ میں یا کافروں کے گمان کے مطابق کسی مقدس مقام پر پڑے رہتے تھے۔ جب کوئی اہم کام یا سفر درپیش ہوتا تو پہلے ان تیروں سے حالات معلوم کرتے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے ظاہر ہے۔ ١۔ عرب میں فال گیری کا رواج :۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا واقعہ ہجرت بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعاقب کرنا چاہا۔ سراقہ خود کہتے ہیں کہ میں نے اپنا گھوڑا دوڑایا تاکہ جلد از جلد انہیں جا پکڑوں جب میں ان کے قریب پہنچ گیا تو گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں گرگیا ۔ میں نے اٹھ کر اپنا ہاتھ اپنے ترکش میں ڈالا۔ اس سے تیر نکال کر یہ فال نکالی کہ میں ان لوگوں کو نقصان پہنچاؤں یا نہ پہنچاؤں۔ مگر فال میں وہ چیز نکلی جو مجھے پسند نہ تھی۔ تاہم میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا اور فال کی کوئی پروا نہ کی۔ (بخاری باب بنیان الکعبہ۔ باب ھجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ) ٢۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ (فتح مکہ کے موقع پر) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر تصویریں دیکھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل نہیں ہوئے یہاں تک کہ آپ کے حکم سے ساری تصویریں مٹا دی گئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی تصویروں کو دیکھا، ان کے ہاتھوں میں تیر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کی قسم انہوں نے کبھی تیروں سے فال نہیں نکالی تھی۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الانبیاء باب قول اللہ تعالیٰ و اتخذ اللہ ابراہیم خلیلا ) [١٧] یعنی اب اسلام کو اتنا عروج حاصل ہوچکا ہے کہ کافر اب اپنی پوری کوشش کے باوجود اس کی راہ نہیں روک سکتے۔ نہ ہی اب کفر کے غالب آنے کی امید رکھ سکتے ہیں۔ [١٨] تکمیل دین کا مطلب :۔ دین سے مراد شریعت کے تمام اصول اور جزئی احکام و ہدایات ہیں اور ان احکام پر عمل پیرا ہونے کا وہ طریقہ اور نمونہ بھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام مسلمانوں کے سامنے پیش فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد مسلمانوں کو زندگی کے کسی بھی پہلو میں خواہ وہ معاشرتی پہلو ہو یا معاشی ہو یا سیاسی ہو۔ باہر سے کوئی بھی اصول اسلام میں درآمد کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی اس لحاظ سے اسلام میں موجودہ مغربی جمہوریت، اشتراکیت، کمیونزم، سوشلزم یا اور کسی ازم کو داخل کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ یہی صورت حال بدعات کی ہے۔ [١٩] اسلام بہت بڑی نعمت ہے :۔ اللہ کی انسان پر اور بالخصوص مسلمانوں پر سب سے بڑی نعمت یہی ہے کہ اس نے مسلمانوں کو ایسی جامع ہدایات و احکام عطا فرما دیئے ہیں۔ جن سے دنیا کی زندگی بھی کامیاب اور خوشگوار ہوجاتی ہے اور اخروی نجات بھی حاصل ہوجاتی ہے اور دوسروں کا دست نگر بھی نہیں بننا پڑتا۔ [٢٠] یعنی جس طرح کائنات کی تمام اشیاء اللہ کے حکم کے سامنے بلا چون و چرا سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں اسی طرح انسان بھی اختیار رکھنے کے باوجود اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور کائنات سے ہم آہنگ ہوجائے اور اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اسی بات کو اپنا ضابطہ حیات بنا لے۔ ان معنوں میں سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخر الزماں تک تمام انبیاء کا یہی دین یعنی اسلام ہی دین رہا ہے۔ اور اسی کو اللہ نے مسلمانوں کے لیے پسند فرمایا ہے۔ یہ آیت ٩ ذی الحجہ ١٠ ھ کو عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی اور اس دن جمعہ کا دن تھا جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ ١۔ تکمیل دین کا دن :۔ یہودی لوگ (کعب احبار) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے : تم ایک ایسی آیت پڑھتے ہو کہ اگر وہ آیت ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اسے عید (جشن) کا دن مقرر کرلیتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آیت کب اور کہاں اتری اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تشریف رکھتے تھے۔ یہ آیت عرفہ کے دن اتری اور ہم اس وقت عرفات میں تھے۔ سفیان (ایک راوی) نے کہا۔ مجھے شک ہے اس دن جمعہ تھا یا کوئی اور دن۔ (بخاری کتاب التفسیر) اور بخاری کی دوسری روایات مثلاً کتاب الایمان۔ باب زیادۃ الایمان و نقصانہ) اور کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔ نیز مسلم۔ کتاب التفسیر میں وضاحت ہے کہ یہ جمعہ کا دن تھا۔ ٢۔ سیدناجابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک (مدینہ میں) رہے مگر حج نہیں کیا۔ پھر دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ آپ حج کرنے جا رہے ہیں۔ چنانچہ بہت سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمراہی کے لئے مدینہ آ گئے۔ (مسلم۔ کتاب الحج۔ باب حجۃ النبی) [٢١] سورۃ بقرہ کی آیت ١٧٣ میں یہی مضمون آ چکا ہے۔ یہاں ﴿ غیر متجانف لاثم﴾ کے الفاظ ہیں اور وہاں غیر باغ ولا عاد کے اور مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے تفصیل مذکورہ آیت میں دیکھ لی جائے۔ سابقہ آیت میں حرام کردہ اشیاء مذکور ہوئی تھیں اس آیت کا یہ جملہ انہیں اشیاء سے متعلق ہے۔ المآئدہ
4 [٢٢] ہر چیز کی اصل اباحت ہے :۔ اس آیت میں کھانے پینے کی اشیاء کی حلت و حرمت کے متعلق ایک عظیم الشان اصول دیا گیا ہے جسے فقہی زبان میں یوں ادا کیا جاتا ہے کہ ’’ہر چیز کی اصل اباحت ہے‘‘ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کھانے پینے کی تمام اشیاء دو شرطوں کے ساتھ تمہارے لیے حلال ہیں ایک یہ کہ وہ چیز پاکیزہ اور صاف ستھری ہو گندی باسی۔ سڑی ہوئی اور بدبودار نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ اس کے متعلق شریعت میں یہ صراحت نہ ہو کہ وہ حرام ہے اس طرح حرام اشیاء کا دائرہ بہت محدود ہوجاتا ہے اور حلال اشیاء کا دائرہ بہت وسیع ہوجاتا ہے۔ جبکہ اس آیت کے نزول سے پہلے عموماً یہی سمجھا جاتا تھا کہ حلال صرف وہ چیز ہو سکتی ہے جس کے متعلق شریعت میں واضح ثبوت موجود ہو۔ جیسا کہ اس آیت میں مسلمانوں کے یہی سوال کرنے سے بھی ظاہر ہوتا ہے اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے سابقہ نظریہ کو بدل کر اور حلال اشیاء کا دائرہ وسیع کر کے مسلمانوں پر احسان عظیم فرمایا ہے۔ [٢٣] شکار کے متعلق احکام :۔ شکاری جانوروں میں پرندے بھی شامل ہیں جیسے باز اور شکرا وغیرہ۔ یعنی کتا، چیتا، باز، شکرا جسے بھی یہ بات سکھائی گئی ہو کہ وہ شکار کو اپنے مالک کے لیے روک رکھے گا۔ خود اس میں سے کچھ نہ کھائے گا۔ اس آیت کی تشریح کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ ١۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑو اور ان پر اللہ کا نام لو تو ان کا کیا ہوا شکار کھالو۔ ‘‘ (مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب الصید۔ باب الصید بالکلاب المعلمۃ والرمی ) ٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب تم اپنا تیر چھوڑو تو بسم اللہ کہہ لو۔‘‘ (مسلم۔ ایضاً) ٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب تم تیر چھوڑو اور شکار غائب ہوجائے تو جب ملے اسے کھا سکتے ہو بشرطیکہ سڑ نہ جائے۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الصید و الذبائح، باب اذاغاب عنہ الصید ثم وجدہ) ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر تم شکار پر تیر چھوڑو۔ پھر اس شکار کو ایک یا دو دن کے بعد پاؤ۔ پھر دیکھو کہ اس پر تمہارے تیر کے علاوہ کوئی اور نشان نہیں تو اسے کھا سکتے ہو۔ اور اگر وہ شکار پانی میں گر پڑا ہو تو اسے مت کھاؤ۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الذبائح والصید۔ باب الصید اذا غاب عنہ یومین اوثلاثہ) ٥۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری (پھینک کر شکار کرنے) سے منع فرمایا اور فرمایا کہ اس کے ذریعہ شکار نہ کیا جائے۔ (بخاری۔ کتاب الذبائح والصید۔ باب الخذف والبندقۃ۔ مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب اباحۃ مایستعان بہ علی الاصطیاد) ٦۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان کرنا فرض کردیا ہے لہٰذا جب تم کسی جاندار کو مارو یا ذبح کرو تو احسن طریقہ سے مارو (یعنی اپنی چھری وغیرہ کو خوب تیز کرلو۔ تاکہ اس مذبوحہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو) ‘‘(مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب الامر باحسان الذبح والقتل ) المآئدہ
5 [٢٤] اہل کتاب کا کھانا کن شرائط کے تحت حلال ہے؟:۔ اہل کتاب کا کھانا انہی شرائط کے تحت حلال ہے جو اوپر مذکور ہو چکیں۔ یعنی ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، چیز پاکیزہ ہو اور ان کے دسترخوان پر کوئی حرام چیز مثلاً شراب یا سور کا گوشت وغیرہ نہ ہو۔ اور اگر ان کے دسترخوان پر ایسی اشیاء رہتی ہوں تو ان کے ساتھ کھانا تو درکنار ان کے برتن استعمال کرنا بھی جائز نہیں تاآنکہ انہیں خوب دھو کر پاک صاف کرلیا جائے اور یہ استعمال مجبوراً ہو۔ رہے غیر اہل کتاب تو نہ ان کا ذبیحہ کھانا جائز ہے اور نہ ان کے ساتھ کھانا کھانا جائز ہے۔ نیز جو جانور ذبح نہ کیے جائیں بلکہ آرے سے ان کا گلا کاٹ کر الگ کردیا جائے یا کسی اور طریقہ سے انہیں مارا جائے۔ یا ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا جائے تو ایسے جانور کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دور نبوی میں یہودیوں اور عیسائیوں کا کم از کم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان ضرور تھا مگر آج کل اہل مغرب جن میں سے اکثر اپنے آپ کو عیسائی کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ نیچری اور دہریہ قسم کے ہوتے ہیں یا دین سے بیزار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا کھانا کیسے مسلمانوں کے لیے جائز سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ ان میں اور غیر اہل کتاب میں موجودہ دور میں کوئی فرق نہیں ہے۔ [٢٥] کتابیہ عورت کا نکاح :۔ کتابیہ عورتوں سے نکاح کی شرائط وہی ہیں جو مسلمان عورتوں کے لیے ہیں۔ یعنی نکاح کا مقصد محض شہوت رانی نہ ہو بلکہ مستقل بنیادوں پر ہو اور اس نکاح کا باقاعدہ اعلان ہو اور ان کے حق مہر انہیں ادا کردیئے جائیں۔ مگر کتابیہ عورت سے نکاح صرف اس صورت میں جائز ہوگا جب کسی فتنہ کا خطرہ نہ ہو۔ مثلاً ایک شخص اگر کسی خوبصورت کتابیہ عورت سے نکاح کے بعد اس کے دین کی طرف مائل ہوجائے تو ایسی صورت میں نکاح ہرگز جائز نہ ہوگا جیسا کہ اس آیت کے آخر میں الفاظ ﴿وَمَنْ یَّکْفُرْ بالْاِیْمَانِ ﴾ سے ظاہر ہوتا ہے اس خطرہ کے پیش نظر حتی الامکان کتابیہ عورتوں سے نکاح سے بچنا ہی بہتر ہے۔ اور اگر ایسی اضطراری حالت ہو کہ نکاح نہ کرنے سے فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو پھر نکاح کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ المآئدہ
6 [٢٦] حلت وحرمت کے احکام سے مقصود نفس کی طہارت تھا۔ اب جسم کی طہارت کے احکام بیان ہو رہے ہیں۔ اس آیت میں وضو، تیمم اور غسل جنابت کا ذکر آیا ہے۔ تیمم اور غسل جنابت کے متعلق احادیث تو پہلے سورۃ نساء کی آیت نمبر ٣۔ ٤ کے تحت درج کی جا چکی ہیں وہاں سے دیکھ لی جائیں اور وضو اور طہارت کے متعلق احادیث یہاں درج کی جا رہی ہیں : وضو سے متعلق احکام: ایک دفعہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی کا برتن منگوایا۔ پھر پہلے اپنی ہتھیلیوں پر تین بار پانی ڈال کر انہیں دھویا پھر داہنا ہاتھ برتن میں ڈالا، پھر کلی کی، پھر ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا منہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھوئے، پھر ایک ہی بار سر کا مسح کیا، پھر دونوں پاؤں ٹخنوں تک تین بار دھوئے پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’جو کوئی میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر (تحیۃ الوضوء کی) دو رکعتیں اس طرح ادا کرے کہ اس کے دل میں کوئی دنیوی خیال نہ ہو اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الوضوئ۔ باب الوضوء ثلثا ثلثا ) ٢۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں جاتے تو کہتے' اللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ 'اے اللہ میں بھوتوں اور بھتنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (بخاری۔ کتاب الوضوئ۔ باب مایقول عندالخلاء) ٣۔ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم میں سے جب کوئی قضائے حاجت یعنی پاخانہ کرنے کے لیے آئے تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرے نہ پیٹھ بلکہ مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف منہ کرو۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الوضوء باب۔ استقبال القبلۃ لغائط او بول ) ٤۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی باغ پر سے گزرے وہاں دو آدمیوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’انہیں کسی بڑے گناہ میں عذاب نہیں ہو رہا۔‘‘ پھر فرمایا ’’ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا پھرتا تھا۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری ٹہنی منگوائی۔ اس کے دو ٹکڑے کر کے ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا۔ صحابہ نے پوچھا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟‘‘ فرمایا ’’جب تک یہ سوکھیں نہیں شاید ان کے عذاب میں کچھ کمی ہو۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الوضوئ۔ باب من الکبائر ان لایستترمن بولہ) ٥۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم میں سے کوئی کھڑے پانی میں جو جاری نہ ہو پیشاب نہ کرے پھر اس میں نہائے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الوضو۔ باب البول فی الماء الدائم) ٦۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ جس شخص کو حدث ہو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی جب تک وضو نہ کرلے۔’’ حضرموت کے ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا :ابوہریرہ حدث کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’پھسکی یا پاد‘‘ (بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب لاتقبل الصلٰوۃ بغیر طہور) ٧۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے پانچ مد تک پانی سے غسل کرلیا کرتے اور ایک مد پانی سے وضو کرلیا کرتے۔ (بخاری۔ کتاب الوضوئ۔ باب الوضوء بالمد) ٨۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری مذی بہت نکلتی تھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھنے میں شرم محسوس کی اور مقداد بن اسود سے کہا، تم پوچھ دو۔ مقداد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اس میں وضو ہے۔‘‘ (بخاری کتاب الوضوئ۔ باب من لم یرالوضوء الا من المخرجین القبل والدبر۔ نیز کتاب العلم۔ باب من استحیا۔۔) ٩۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے وضو کیا اور اپنے قدم پر ناخن بھر جگہ (خشک) چھوڑ دی۔ آپ نے دیکھا تو اسے فرمایا 'واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔ ' چنانچہ وہ شخص واپس ہوا۔ پھر (وضو کر کے) نماز پڑھی (مسلم۔ کتاب الطہارۃ۔ باب وجوب استیعاب جمیع اجزاء محل الطہارۃ) ١٠۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس حال میں پایا کہ نماز کا وقت ہوگیا تھا اور ہم وضو کر رہے تھے اور اپنے پاؤں پر مسح کر رہے تھے تو آپ نے تین مرتبہ بلند آواز سے پکارا وَیْلٌ للاَعْقَابِ مِنَ النَّار یعنی ان خشک ایڑیوں کے لیے بربادی ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ’’وضو مکمل کرو‘‘ (بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب غسل الرجلین ولا یمسح علی القدمین) ١١۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ میں مسواک لیے ہوئے مسواک کر رہے تھے۔ آپ اع اع کی آواز نکال رہے تھے اور مسواک آپ کے منہ میں تھی گویا قے کر رہے ہیں۔ (بخاری کتاب الوضوء۔ باب السواک) ١٢۔ عروہ بن مغیرہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک سفر ( غزوہ تبوک) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا (آپ وضو کر رہے تھے) میں جھکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’رہنے دو! میں نے انہیں باوضو پہنا ہے۔‘‘ پھر ان پر مسح کیا۔ (بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب اذا ادخل رجلیہ و ہما طاہرتان ) ١٣۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا اور پھر کلی کی اور فرمایا کہ’’دودھ میں چکنائی ہوتی ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الوضوء باب ھل یمضمض من اللبن) واضح رہے کہ اس آیت میں جن اعضاء کے دھونے کا ذکر آیا ہے۔ ان کو دھونا فرض ہے یا بالفاظ دیگر وہ وضو کے فرائض ہیں جن کے بغیر وضو ناتمام رہتا ہے اور وہ یہ ہیں۔ (١) اپنے چہرہ کو دھونا (٢) اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا اور کہنیاں اس میں شامل ہیں۔ (٣) اپنے سر کا مسح کرنا اور (٤) اپنے دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا اور ٹخنے ان میں شامل ہیں۔ قرآن میں ان اعضاء کو دھونے یا سر کے مسح کی اجمالی کیفیت بیان ہوئی ہے جس کی تفصیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یا احادیث سے ملتی ہے ایسی کچھ احادیث اوپر ذکر کردی گئی ہیں جن سے وضو کی سنتیں معلوم ہوتی ہیں۔ یعنی ایسے افعال جو صرف آپ کی سنت سے معلوم ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند افعال کا ذکر مندرجہ بالا احادیث میں آ چکا۔ باقی افعال یا مذکورہ افعال کی کچھ مزید وضاحت ذیل میں درج کی جاتی ہے : ١۔ وضو کی ابتدا میں سب سے پہلے ہاتھوں کو گٹوں تک دھونا، پھر کلی کرنا، پھر ناک میں پانی چڑھانا اور ناک جھاڑنا، وضو سے پہلے یا ہاتھ دھونے کے بعد کلی کرتے وقت مسواک کرنا۔ ہاتھ اور پاؤں دھوتے وقت ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں میں خلال کرنا۔ منہ دھوتے وقت داڑھی اگر گھنی ہو تو بالوں میں خلال کرنا اور ہلکی ہو تو جڑوں تک دھونا، سر کے مسح کی ترکیب اور ساتھ ہی کانوں اور گردن کا مسح کرنا۔ یہ سب باتیں سنت سے معلوم ہوتی ہیں۔ ٢۔ جن اعضاء کو دھونے کا قرآن میں ذکر ہے انہیں ایک بار دھونے سے بھی فرض کی ادائیگی ہوجاتی ہے اور سنت یہ ہے کہ انہیں دو بار یا تین بار دھویا جائے۔ تین بار دھونا افضل ہے۔ اسی طرح کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھی تین بار افضل اور تین بار سے زیادہ دھونا مکروہ ہے۔ ٣۔ پہلے دایاں ہاتھ دھویا جائے پھر بایاں۔ اسی طرح پاؤں میں بھی یہی ترتیب ملحوظ رکھنی چاہیے۔ دائیں سے شروع کرنا اور اسے ترجیح دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ ٤۔ ہر نماز کے لیے نئے سرے سے وضو کرنا واجب نہیں بلکہ ایک ہی وضو سے (یعنی اگر حدث نہ ہوا ہو) تو متعدد نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں۔ ٥۔ سفر میں ایک وضو کر کے موزے یا جرابیں پہننے کے بعد ان پر تین دن تک مسح کیا جا سکتا ہے اور حضر میں اس کی مدت صرف ایک دن ہے۔ ٦۔ اگر کوئی عضو زخمی ہو جسے دھونے سے نقصان کا اندیشہ ہو تو اس پر پٹی باندھ کر اس پر مسح کیا جا سکتا ہے۔ پاؤں دھونے میں شیعہ حضرات کا اختلاف :۔ پاؤں کے دھونے میں شیعہ حضرات نے اختلاف کیا ہے اور اس اختلاف کی وجہ قراءت کا اختلاف ہے، آیت کے الفاظ یہ ہیں ﴿وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ (یعنی ایڑیاں نہ دھونے کی خرابی یہ ہے کہ انہیں آگ کا عذاب چھوئے گا لہٰذا ﴿ اَرْجُلَکُمْ﴾ میں لام پر فتحہ والی قراءت کو ہی راجح قرار دیا جا سکتا ہے اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر اَرْجُلَکُمْ میں لام پر کسرہ کی قراءۃ کو بھی درست قرار دیا جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ﴿اَرْجُلَکُمْ﴾ پر ﴿بِرءُ َوُسِکُمْ﴾ کا عطف تسلیم کیا جائے کیونکہ لام پر کسرہ عطف کی وجہ سے نہیں بلکہ جر جوار کے طور پر آیا ہے اور اس کی مثالیں قرآن کریم میں متعدد جگہ موجود ہیں جیسے سورۃ ہود میں ہے ﴿عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ ﴾ (11: 44)اور سورۃ ئواقعہ میں ہے ﴿ وَحُوْرٌ عِیْنٌ ﴾(56: 22) مطلب یہ ہے کہ عربی گرامر کے مطابق حرکات بسا اوقات قریب کے لفظ کے مطابق آ جاتی ہیں اس لحاظ سے ﴿اَرْجُلَکُمْ کا برءُ َوُسْکُمْ﴾ پر عطف نہیں بلکہ بِرَوُسِکُمْ سے قریب ہونے کی وجہ سے کسرہ یا جر میں شریک ہے، مسح کرنے میں نہیں۔ اور تیسرا جواب عقلی ہے جو یہ ہے کہ سر چونکہ بدن کا سب سے اعلیٰ حصہ ہے لہٰذا وہ اکثر نجاست اور غلاظت سے محفوظ رہتا ہے پھر بسا اوقات ڈھکا ہوا بھی ہوتا ہے لہٰذا اسے دھونے کے بجائے اس کا مسح ہی کافی سمجھا گیا ہے جبکہ پاؤں بدن کا سب سے نچلا حصہ ہے جو نجاست اور کثافت سے اکثر متاثر ہوتا رہتا ہے لہٰذا زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ پاؤں پر مسح کرنے کے بجائے انہیں دھویا جائے۔ [٢٧] دین میں آسانی :۔ یعنی تمہاری مجبوریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے تمہیں رخصتیں عطا کردیتا ہے مثلاً جس مریض کو پانی کے استعمال سے تکلیف کا یا تکلیف کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو اسے خواہ حدث اصغر (پھسکی یا پاد وغیرہ) لاحق ہو یا حدث اکبر (یعنی جنبی ہو خواہ احتلام سے یا صحبت سے) وہ وضو یا غسل کی بجائے تیمم کرسکتا ہے یا ایسا مسافر جسے وضو یا غسل کے لیے پانی مل ہی نہ رہا ہو اس کے لیے بھی یہی رعایت ہے۔ [٢٨] اتمام نعمت کیا ہے؟ :۔ یعنی اتمام نعمت اسی شکل میں ہو سکتی ہے کہ نفس کی پاکیزگی کے احکام کے ساتھ ساتھ جسم کی پاکیزگی کے احکام بھی دیئے جائیں۔ ایک مسلمان کے لیے جسم کی صفائی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی نفس کی پاکیزگی اور صفائی۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ہے کہ جسمانی صفائی ایمان کا حصہ یا آدھا ایمان ہے۔ (مسلم۔ کتاب الطہارۃ باب فضل الوضوء) المآئدہ
7 [٢٩] یعنی تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ قبائلی عصبیتوں نے تمہیں عداوتوں اور لڑائیوں میں پھنسا کر تمہاری زندگی تم پر حرام کردی تھی اور تم ان حالات سے نجات کی راہ سوچتے تھے مگر ایسی کوئی راہ تمہیں نظر نہیں آتی تھی۔ پھر اللہ نے تم پر پے در پے کئی احسانات کیے۔ تمہیں اسلام کی توفیق بخشی پھر اسی اسلام کی وجہ سے تمہاری دیرینہ اور مسلسل عداوتوں کا خاتمہ کر کے تمہیں ایک دوسرے کا مونس و غمخوار اور بھائی بھائی بنا دیا۔ [٣٠] بیعت عقبہ کا عہد :۔ یعنی وہ پختہ عہد جو تم نے عقبہ کی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تھا کہ ہم ہر حال میں آپ کی فرمانبرداری کریں گے واضح رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت عقبہ کے بعد بھی جس شخص سے بیعت لی اسی عہد پر بیعت لی۔ اور خلفائے راشدین بھی اسی عہد پر مسلمانوں سے بیعت لیتے رہے۔ امیر کی اطاعت سے ہی جماعت کا نظم و نسق اور امت میں اتحاد قائم رہ سکتا ہے اسی لیے حضور نے امیر کی اطاعت کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ تفصیل کے لیے سورۃ نساء کی آیت ٥٩ کا حاشیہ نمبر ٩١ ملاحظہ فرمایا جائے۔ بیعت عقبہ کے عہد اور اس کے پس منظر کو ہم ذرا تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ ١٠ نبوی میں ابو طالب کی وفات ہوگئی۔ پھر اس کے چند ہی دن بعد آپ کی ہمدرد اور غمگسار بیوی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ بھی وفات پا گئیں گھر کی دنیا میں سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سہارا تھیں اور باہر کی دنیا میں ابو طالب۔ چند دنوں کے وقفہ سے یہ دونوں سہارے چھن گئے۔ گویا آپ پر غم و الم ٹوٹ پڑا۔ اسی وجہ سے اس سال کا نام ہی عام الحزن پڑگیا۔ ابو طالب کی وفات کے بعد مشرکین مکہ کے حوصلے بڑھ گئے۔ اور وہ مسلمانوں پر مزید تشدد کی تجویز سوچنے لگے اور یہ بھی کہ اب پیغمبر اسلام کو ٹھکانے لگانے کا بہترین موقع میسر آ گیا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت تو پہلے ہی حبشہ کی طرف ہجرت کرچکی تھی اور جو باقی تھے ان کی اب زندگی بھی خطرہ میں تھی۔ ان حالات میں آپ نے مناسب سمجھا کہ اب مکہ سے باہر کسی مقام پر تبلیغ کے لیے مرکز بنانا چاہیے۔ اور اس مقصد کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے جڑواں شہر طائف کا انتخاب کیا جو ایک زرخیز اور شاداب علاقہ تھا۔ اہل مکہ کے رئیسوں کی وہاں جائیدادیں بھی تھیں اور رشتے ناطے کے علاوہ تجارتی تعلقات بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلام زید بن حارثہ کو اپنے ہمراہ لیا اور طائف کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستہ میں جہاں موقع میسر آتا تبلیغ کرتے جاتے تاآنکہ بیس دن کی پیدل مسافت کے بعد آپ طائف پہنچ گئے۔ طائف میں بنو ثقیف آباد تھے اور تین بھائی مسعود، حبیب اور عبد یا لیل اس شہر کے سردار اور رؤسائے مکہ کے ہمسر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اللہ کا پیغام سنایا اور اسلام کی دعوت دی۔ وہ اہل مکہ سے گونا گوں تعلقات کی بنا پر پہلے سے ہی مکہ اور اہل مکہ کے حالات سے واقف تھے چنانچہ انہوں نے بھی قریش مکہ ہی کی روش اختیار کی اور نہ صرف یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو ٹھکرا دیا بلکہ بڑی بدتمیزی سے پیش آئے اور گستاخانہ جواب دیئے۔ ایک بھائی نے کہا : اگر واقعی تمہیں اللہ نے بھیجا ہے تو بس پھر وہ کعبہ کا غلاف نچوانا چاہتا ہے۔ دوسرے نے کہا : کیا اللہ میاں کو رسالت کے لیے تیرے سوا کوئی مناسب آدمی نہ مل سکا۔ تیسرا بولا : اللہ کی قسم! میں تجھ سے بات نہیں کروں گا۔ کیونکہ اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو پھر آپ کو جواب دینا مناسب نہیں ہے اور اگر تم (نعوذ باللہ) جھوٹے ہو تو پھر اس قابل نہیں کہ تم سے بات کی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت بردباری سے انہیں جواب دیا کہ اگر تم مجھے رسول ماننے کو تیار نہیں تو کم از کم میری راہ میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کو دعوت دینا اور وعظ و نصیحت شروع کردی۔ ان بدبختوں نے اپنے غلاموں، خادموں اور شہر کے اوباش لڑکوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھیج دیا کہ وہ آپ کو طائف سے باہر نکال دیں۔ چنانچہ ان اوباشوں کا غول آپ کے پیچھے لگ گیا۔ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے، شور مچاتے اور پتھر مارتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نڈھال ہوجاتے تو یہ غنڈے آپ کو بازو سے پکڑ کر اٹھا دیتے اور پھر ٹخنوں پر پتھر مارتے اور تالیاں بجا بجا کر ہنستے۔ خون بے تحاشا بہہ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیاں اندر اور باہر سے لتھڑ گئیں۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک باغ کے احاطہ میں پناہ لی۔ یہ باغ رئیس مکہ عتبہ بن ربیعہ اور اسکے بھائی شیبہ کا تھا۔ عتبہ ایک رحم دل انسان تھا۔ اس نے یہ حالت دیکھی تو اپنے غلام عداس کے ہاتھ ایک پلیٹ میں انگور بھجوائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوروں کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہی پہلے بسم اللہ پڑھا پھر انگور کھانا شروع کئے۔ عداس کہنے لگا۔ اللہ کی قسم! یہ کلمہ یہاں کے لوگ تو کبھی نہیں کہتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہاں کے رہنے والے ہو اور تمہارا مذہب کیا ہے؟ وہ بولا میں عیسائی ہوں اور نینوا کا باشندہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : گویا تم مرد صالح یونس بن متیٰ کے شہر کے ہو۔ وہ میرا بھائی ہے۔ وہ بھی نبی تھا اور میں بھی نبی ہوں۔ غلام نے یہ سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ہاتھوں کو بوسہ دیا۔ عتبہ اور شیبہ نے یہ ماجرا دیکھا تو جب عداس واپس آیا تو اسے ملامت کی اور کہا کہ تم یہ کیا حرکت کر رہے تھے۔ تم نے اپنا مذہب خراب کرلیا ہے۔ عداس نے جواب دیا کہ اس شخص نے مجھے ایک ایسی بات بتائی ہے جو صرف ایک نبی ہی بتاسکتا ہے۔ اس سفر میں آپ کو جتنی اذیت اٹھانی پڑی اس کا اندازہ درج ذیل حدیث سے ہوجاتا ہے : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ پر احد کے دن سے بھی زیادہ سخت دن گزرا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عائشہ ! میں نے تیری قوم (قریش) کی طرف سے جو جو تکلیفیں اٹھائی ہیں وہ میرا ہی دل جانتا ہے۔ سب سے زیادہ سخت دن مجھ پر طائف کا دن گزرا ہے جب میں نے اپنے تئیں عبد یا لیل بن کلال پر پیش کیا۔ اس نے میری دعوت کو قبول نہ کیا تو میں افسردہ خاطر ہو کر واپس ہوا اور مجھے اس وقت قدرے افاقہ ہوا جب میں قرن ثعالب (ایک مقام کا نام) پہنچ گیا۔ میں نے اوپر سر اٹھایا تو دیکھا کہ ابر کا ایک ٹکڑا مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے اور اس میں جبریل موجود ہیں۔ جبریل نے مجھے پکارا اور کہا کہ تمہاری قوم نے جو تجھے جواب دیا وہ اللہ نے سن لیا۔ اب اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ جیسا چاہیں اسے حکم دیں۔ اتنے میں پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے سلام کہا اور کہنے لگا۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر آپ چاہیں تو میں مکہ اور طائف کے پہاڑوں کو ملا کر سب کو چکنا چور کر دوں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ایسا مت کرو) بلکہ مجھے امید ہے کہ ان کی اولاد میں سے اللہ ایسے لوگ پید اکرے گا جو صرف اکیلے اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے۔ (بخاری۔ کتاب باب اذا قال احدکم آمین والملئکۃ فی السماء۔۔) (مسلم۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب مالقی النبی من اذی المشرکین والمنافقین ) اس متفق علیہ حدیث سے معلوم ہوا کہ طائف کا دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا سخت اور مشکل ترین دن تھا۔ حتیٰ کہ احد کے دن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوگئے تھے اس سے سخت دن تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر جس صبر و استقامت کا ثبوت دیا۔ اور انتقام کا اختیار مل جانے کے باوجود جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عفوو درگزر سے کام لیا وہ بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ عظمت کی دلیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش مکہ کی طرف سے اسلام لانے سے تو مایوس ہو ہی چکے تھے اس واقعہ طائف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غم و اندوہ میں مزید اضافہ کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ واپس آئے تو دامن حرمین میں ٹھہر گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بچے مکہ میں تھے اور مکہ والے آپ کے جانی دشمن تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو خزاعہ کے ایک آدمی کے ہاتھ اخنس بن شریق کو پیغام بھیجا کہ وہ مکہ میں آپ کو پناہ دے۔ اخنس نے یہ کہہ کر معذرت کردی کہ میں حلیف ہوں اور حلیف پناہ نہیں دے سکتا۔ پھر آپ نے یہی پیغام سہیل بن عمرو کو بھیجا۔ اس نے بھی یہ کہہ کر معذرت کردی کہ بنو عامر کی دی ہوئی پناہ بنو کعب پر لاگو نہیں ہوتی۔ پھر آپ نے یہی پیغام مطعم بن عدی کو بھیجا۔ جس نے پناہ دینا منظور کرلیا۔ اور اپنے بیٹوں اور قوم کے لوگوں کو بلا کر کہا کہ ہتھیار بند ہو کر خانہ کعبہ کے گوشوں پر جمع ہوجاؤ۔ کیونکہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پناہ دے دی ہے۔' اس انتظام کے بعد اس نے آپ کو پیغام بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لا سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے اور حرم میں داخل ہوگئے۔ مطعم بن عدی نے اپنی سواری پر کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ قریش کے لوگو! میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پناہ دی ہے۔ (سیرۃ النبی ١ : ٣٥٦ بحوالہ ابن سعد ص ١٤٢) اس کے بعد آپ حجر اسود پر پہنچے۔ اسے چوما۔ نماز پڑھی۔ پھر اپنے گھر تشریف لے گئے۔ اس دوران مطعم کے بیٹوں نے ہتھیار بند ہو کر آپ کا پہرہ دیا۔ اس کے بعد مکی دور کا باقی حصہ آپ مطعم کی پناہ میں مکہ میں قیام پذیر رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بھر مطعم کے اس احسان کو نہیں بھولے۔ جنگ بدر میں بہت سے مشرک قید ہوگئے تھے۔ ان میں سے بعض کی سفارش کے لیے مطعم کے بیٹے سیدنا جبیر (جو بعد میں مسلمان ہوگئے تھے) آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر آج مطعم زندہ ہوتے اور ان ناپاک قیدیوں کے متعلق بات کرتے تو میں ان سب کو چھوڑ دیتا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ البدر) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے مکہ واپس آئے تو حج کا موسم شروع ہوچکا تھا۔ آپ بغرض تبلیغ منیٰ تشریف لے گئے۔ اور مدینہ کے قبیلہ اوس کے آدمیوں کو اسلام کی دعوت دی۔ مدینہ میں قبیلہ اوس اور خزرج میں سال ہا سال سے خانہ جنگی چلی آ رہی تھی۔ جس سے سنجیدہ طبقہ سخت نالاں تھا لیکن اسے اس سے نجات کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی تھی۔ یہ لوگ دراصل حج کے علاوہ اس غرض سے بھی آئے تھے کہ خزرج کے خلاف قریش مکہ کی مدد حاصل کریں جب ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی اور اس کے احکام بتائے تو اوس کے قبیلہ کا ایک ذہین آدمی کہنے لگا۔ واللہ ! جس کام کے لیے تم آئے ہو اس سے یہ کام بہتر ہے۔ یعنی ان لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں وہ بات نظر آ گئی جس کی انہیں مدتوں سے تلاش تھی کہ خانہ جنگیوں سے کس طرح چھٹکارا مل سکتا ہے۔ چنانچہ ذی الحجہ ١٠ نبوی میں اسی مقام پر جسے عقبہ کہتے ہیں۔ پانچ اور بعض روایات کے مطابق چھ آدمیوں نے اسلام قبول کرلیا۔ یہ امید کی پہلی کرن تھی جو اس عام الحزن کے آخر میں نمودار ہوئی۔ ان آدمیوں کے ذریعہ قبیلہ خزرج میں بھی اسلام کی اشاعت ہوئی۔ یہ لوگ ایک تو باہمی خانہ جنگی سے پریشان تھے۔ کہ مدینہ کے یہودی قبائل ایک دوسرے سے حلیف بن کر انہیں لڑاتے رہتے تھے چنانچہ اگلے سال یعنی ذی الحجہ ١١ ھ میں اسی مقام پر اوس اور خزرج کے بارہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر اسلام لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر باضابطہ بیعت کی جو بیعت عقبہ اولیٰ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی شرائط یہ تھیں کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں بنائیں گے، چوری اور زنا کے مرتکب نہ ہوں گے۔ لڑکیوں کو زندہ درگور نہیں کریں گے۔ کسی پر تہمت نہیں لگائیں گے۔ کسی کی غیبت نہ کریں گے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر حکم مانیں گے۔ یہ بیعت گئی رات نہایت خفیہ انداز میں ہوئی تھی۔ ان نو مسلم صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمارے ساتھ کسی معلم کو بھیجا جائے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو قرآن کے احکام سکھانے اور تبلیغ کے لیے مدینہ روانہ فرمایا۔ مصعب مدینہ میں اسعد بن زرارہ کے مکان پر قیام پذیر ہوئے جو مدینہ کے ایک معزز رئیس تھے۔ یہ وہی مصعب بن عمیر ہیں جو مکہ کے ایک امیر گھرانہ کے چشم و چراغ تھے۔ بڑے خوش شکل اور حسین نوجوان تھے اور قیمتی لباس پہنتے تھے۔ مگر جب اسلام قبول کیا تو ماں نے ان کا دانہ پانی بھی بند کردیا اور گھر سے باہر نکال دیا تھا۔ انہوں نے دین حق کی خاطر سب کو برداشت کیا اور امیری پر فقیری کو ترجیح دی۔ انہیں مدینہ میں اسلام کا پہلا داعی ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ غزوہ بدر میں لشکر اسلام کی علمبرداری کے منصب پر فائز ہوئے اور غزوہ احد میں شہادت پائی تھی ان کی کوششوں سے مدینہ سے قبا تک گھر گھر اسلام پھیل گیا۔ قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر بھی مشرف بہ اسلام ہوگئے ان دو سرداروں کے ذریعہ اسلام کی قوت میں خاصا اضافہ ہوا چنانچہ اگلے سال مدینہ کے ٧٥ افراد جن میں دو عورتیں بھی شامل تھیں۔ مکہ میں حج کے موقع پر ایام تشریق میں عقبہ کے مقام پر (جو منیٰ اور مکہ کے درمیان ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر کے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ یہ بیعت بھی تہائی رات گزرنے کے بعد نہایت خفیہ انداز سے ہوئی اور بیعت عقبہ ثانیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس بیعت کی سب سے اہم شرط جس کی طرف قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زبانی سنیے۔ جو بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانیہ دونوں میں شریک تھے اور انکی اس ہدایت کو بخاری اور مسلم دونوں نے ذکر کیا ہے : عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جو حکم دیں گے ہم مانیں گے۔ چاہے آسانی ہو یا تنگی ہو، خواہ وہ ہمیں اچھی لگے یا ناگوار محسوس ہو۔ خواہ آپ دوسروں کو ہم پر ترجیح دیں اور جس کو بھی آپ امیر مقرر فرمائیں گے ہم اس کا حکم مانیں گے اس سے بحث نہیں کریں گے اور ہر صورت میں حق بات ہی کہیں گے اور اس معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ (بخاری۔ کتاب الاحکام۔ مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ۔۔) اور اس شرط کی اہمیت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ٧٥ آدمیوں میں سے انصار کی مرضی کے مطابق ١٢ نقیب یا امیر مقرر فرما دیئے تھے تاکہ اسلام کی انقلابی تحریک کا جو کام ہو وہ نظم و ضبط کے تحت ہو۔ اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ خود بھی نقیب مقرر کئے گئے تھے۔ کتب سیر میں جو مزید تفصیلات ملتی ہیں وہ یہ ہیں کہ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینہ آنے کی دعوت دی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اے گروہ انصار! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خاندان میں معزز محترم ہیں۔ دشمنوں کے مقابلہ میں ہم ہمیشہ ان کے لیے سینہ سپر رہے۔ اب وہ تمہارے پاس جانا چاہتے ہیں۔ اگر مرتے دم تک ان کا ساتھ دے سکو تو بہتر ورنہ ابھی جواب دے دو۔ انصار نے اس بات کا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو تو جواب نہیں دیا البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جو عہد لیں ہم حاضر ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بات کا عہد کرو تم دین حق کی اشاعت میں میری پوری پوری مدد کرو گے اور جب میں تمہارے ہاں آ بسوں تو تم اپنے اہل وعیال کی طرح میری اور میرے ساتھیوں کی حمایت کرو گے۔ انصار نے پوچھا کہ اس کے عوض ہمیں کیا ملے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جنت‘‘ ایک انصاری ابو الہیشم نے بات کاٹ کر کہا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ جب آپ کو قوت اور اقتدار حاصل ہوجائے تو آپ ہمیں چھوڑ کر اپنے وطن واپس چلے جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا۔ ایسا نہیں ہوگا۔ میرا مرنا اور میرا جینا تمہارے ہی ساتھ ہوگا۔ عہد و بیان کی یہ جزئیات طے ہونے کے بعد سب سے پہلے براء بن عازب بن معرور رضی اللہ عنہ نے پھر سب ساتھیوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ یہ عہد و پیمان اگرچہ انتہائی راز داری اور خفیہ طریقہ سے طے پائے تھے۔ تاہم مشرکین مکہ کو اس کی بھنک پڑگئی۔ چنانچہ کافروں کا ایک وفد قبیلہ خزرج کے ہاں پہنچ گیا۔ خزرج کے مشرکین چونکہ خود بھی اس معاہدہ کے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے لہٰذا انہوں نے اس وفد کو یقین دہانی کرا دی کہ ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ لہٰذا یہ وفد واپس لوٹ آیا۔ البتہ اس واقعہ کا یہ اثر ضرور ہوا کہ خزرج کے مسلمان چوکنے ہوگئے اور انہوں نے جھٹ مدینہ کی راہ لی۔ بعد میں مشرکین مکہ کو معلوم ہوگیا کہ معاہدہ والی بات محض افواہ نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی تھی۔ لہٰذا وہ خزرج کے مسلمانوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔ مگر مسلمان تیز رفتاری سے آگے جا چکے تھے۔ البتہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے اور اسلام لا چکے تھے پکڑے گئے۔ مشرکوں نے انہیں زدوکوب کرنا چاہا تو مطعم بن عدی اور حرب بن امیہ آڑے آ گئے جس کی وجہ یہ تھی کہ قریش کے تجارتی قافلے سعد بن عبادہ کی پناہ میں ہی مدینہ کے پاس سے گزرتے تھے لہٰذا مشرکوں کو اپنا غیظ و غضب ضبط کرنا پڑا۔ اس طرح تمام مسلمان بخیر و عافیت مدینہ پہنچ گئے۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے بعد عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے۔ یہ دونوں حضرات مدینہ کے مسلمانوں کو قرآن کی تعلیم دیتے تھے۔ ان کے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ، بلال بن رباح رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیس مسلمانوں کے ہمراہ مکہ کے قریشیوں کو للکارتے ہوئے ہجرت کے لیے نکلے اور مدینہ پہنچے اور آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر سورۃ اعلیٰ بروایت براء بن عازب) اس طرح اسلام کی انقلابی تحریک کا مرکز مکہ سے مدینہ منتقل ہوگیا۔ المآئدہ
8 [٣١] دشمن قوم پر بھی گواہی میں انصاف :۔ پہلے سورۃ نساء کی آیت نمبر ١٣٥ میں اس سے ملتا جلتا مضمون گزر چکا ہے کہ تم اللہ کی خاطر انصاف پر قائم رہتے ہوئے گواہی دیا کرو خواہ یہ گواہی تمہارے اپنے خلاف جا رہی ہو یا تمہارے والدین اور اقرباء کے خلاف جا رہی ہو۔ یہاں اس آیت میں یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ تم سابقہ دشمنیوں اور قبائلی عصبیتوں سے بالکل بے نیاز ہو کر انصاف کی گواہی دیا کرو۔ کسی شخص کی یا کسی قوم کی دشمنی تمہاری گواہی پر یا تمہارے عدل و انصاف پر ہرگز اثر انداز نہ ہونی چاہیے اس کی واضح مثال تو اس انصاری کا واقعہ ہے جس نے کسی مسلمان کی ایک زرہ چرا لی اور ایک یہودی کے پاس امانت رکھ آیا تھا (یہ واقعہ سورۃ نساء کی آیت نمبر ١٠٧ کے تحت بیان ہوچکا ہے) مالک یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عدالت میں لے گیا چور (جو حقیقتاً منافق تھا) کی سوچ ہی یہی تھی کہ میں چونکہ مسلمان ہوں اس لیے یہودی کے مقابلہ میں یقیناً آپ میری حمایت کریں گے۔ پھر اس چور اور اس کے خاندان والوں نے اسی قبائلی عصبیت کی بنا پر اس کا ساتھ دیا اور قسمیں بھی کھائیں کہ ہم اس چوری کے قصہ میں بالکل بے تعلق ہیں اور قریب تھا کہ آپ یہودی کے خلاف اور اس منافق کے حق میں فیصلہ بھی دیتے کہ اللہ نے بذریعہ وحی آپ کو حقیقی صورت سے مطلع فرما دیا۔ اس آیت میں تمام مسلمانوں کو ایک جامع ہدایت دی گئی ہے کہ جس شخص کے حق میں تمہیں گواہی دینا پڑے، گواہی بالکل ٹھیک ٹھیک دیا کرو خواہ وہ تمہارا دوست ہو یا دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ کیونکہ تم میں عدل و انصاف اور تقویٰ پیدا کرنے والے اسباب میں سے یہ ایک موثر ترین سبب ہے اور تمہیں شہادت دیتے وقت ہر لمحہ یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ جو کچھ تم کہو گے اللہ سن رہا ہے اور جو کچھ کرو گے اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ اور بعض مفسرین نے ﴿کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَاۗءَ ﴾ کا یہ مطلب لیا ہے کہ اللہ کے دین کو قائم کرنے والے بن جاؤ۔ یعنی تم پر یہ فریضہ عائد کیا گیا ہے کہ تم تمام اقوام عالم کو اپنے قول سے بھی اور فعل سے توحید اور احکام اخلاق کی تعلیم دینے کے ذمہ دار بن جاؤ۔ جیسا کہ صحابہ کرام نے اس پر عمل کر کے دکھایا اسی ذمہ داری کو تمہیں بحال رکھنا چاہیے اور آگے بڑھانا چاہیے اور اس سلسلہ میں تمہیں عدل و انصاف کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ المآئدہ
9 [٣١۔ الف] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے اعمال کا ذکر فرمایا۔ ایک ایمان کا، دوسرے اعمال صالحہ کا اور دو طرح کا ہی وعدہ فرمایا ایک مغفرت کا اور دوسرے اجر عظیم کا۔ جس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہیں کیا۔ ان کی بھی مغفرت ہوجائے گی رہا اجر عظیم تو وہ صرف ان لوگوں کو ملے گا جو ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی بجا لاتے رہے ہوں گے۔ المآئدہ
10 المآئدہ
11 [٣٢] پہلا احسان تو مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ انہیں اسلام کی توفیق بخشی اور اسلام کی بدولت ان کی قبائلی عصبیتوں کا خاتمہ ہوا، لڑائیاں ختم ہوئیں اور آپس میں تم بھائیوں کی طرح زندگی گزارنے لگے دوسرا بڑا احسان یہ تھا کہ حدیبیہ کے مقام پر کافر یہ چاہتے تھے کہ تم پر حملہ آور ہو کر تمہیں صفحہ ہستی سے ناپید کردیں۔ لیکن اللہ نے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ وہ اپنا ارادہ پورا نہ کرسکے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ ١۔ حدیبیہ کے دن جنگ روکنا اللہ کا احسان تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل مکہ کے اسی (٨٠) آدمی مسلح ہو کر تنعیم پہاڑ کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ آور ہوئے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب غافل ہوں تو حملہ کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑ کر قید کرلیا پھر انہیں چھوڑ دیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب ھوالذی کف ایدیکم عنھم) ٢۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے چچا عامر نے قبیلہ عبلات کے ایک مکرز نامی شخص کو، جو ایک جھول پڑے ہوئے گھوڑے پر سوار اور ستر مشرکوں کا ساتھی تھا گھیر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مشرکوں کی طرف دیکھا پھر فرمایا: انہیں چھوڑ دو (عہد نامہ حدیبیہ کی بدعہدی کے) گناہ کی ابتدا بھی انہوں نے کی اور تکرار بھی انہی سے ہوئی۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب غزوہ ذی قرد) اگرچہ مندرجہ بالا احادیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت صلح حدیبیہ یا اسی کے گرد و پیش حالات کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ تاہم دور نبوی میں کئی بار ایسے مواقع پیش آتے رہے کہ کبھی کفار مکہ نے جنگ کے ذریعہ اور کبھی یہودیوں نے سازشوں کے ذریعہ اسلام کو ختم کردینے کی کوششیں کیں۔ پھر کبھی تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ مسلمانوں کو دشمنوں کی سازشوں سے مطلع فرما دیا۔ اور کبھی حالات ایسے پیدا کردیئے کہ کافروں کو حملہ آور ہونے کی جرأت ہی نہ ہوسکی۔ المآئدہ
12 [٣٣] بنی اسرائیل کے بارہ نقیب اور ان کی ذمہ داریاں :۔ نقیب کے معنی ہیں نگرانی اور تفتیش کرنے والا۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے اور موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں موجود تھے۔ بنی اسرائیل نے جب موسیٰ علیہ السلام سے پانی کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ فلاں پتھر پر اپنا عصا مارو تو بارہ چشمے پھوٹ پڑیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہر قبیلہ نے اپنا اپنا چشمہ یا پانی پینے کی جگہ پہچان لی اور اس پر قابض ہوگیا۔ انہیں بارہ قبائل میں سے ہر قبیلہ سے ایک ایک نقیب مقرر کیا گیا۔ جس کا کام یہ تھا کہ وہ لوگوں کے اخلاق و کردار کی نگرانی کرے اور انہیں بےدینی اور بداخلاقی سے بچانے کی کوشش کرتا رہے۔ [٣٤] اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ معیت چار باتوں سے مشروط تھا۔ (١) بنی اسرائیل نماز کو قائم کرتے رہیں (٢) زکوٰۃ ادا کرتے رہیں (٣) بعد میں جو رسول مبعوث ہوں ان پر ایمان بھی لائیں اور ان کی جان اور مال سے مدد بھی کریں اور (٤) لوگوں کو قرضہ حسنہ دیتے رہیں۔ گویا جو ذمہ داری ان نقیبوں پر ڈالی گئی تھی ان میں سے مذکورہ چار کام سب سے اہم تھے اور ان سے عہد یہ تھا کہ اگر وہ ذمہ داری پوری کرتے رہیں گے تو یقیناً اللہ ان کے ساتھ ہوگا اور ان کی ہر معاملہ میں مدد فرمائے گا۔ [٣٥] برائیاں دور کرنے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو شخص نیکی کے مذکورہ بالا بڑے بڑے کاموں میں لگا رہے اس کا ذہن برائیوں کی طرف منتقل ہوتا ہی نہیں اور وہ برائیوں سے بچا رہتا ہے اور برائیاں اس سے دور رہتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر ان سے کچھ برائیاں سرزد ہو بھی جائیں تو وہ ایسی بڑی نیکیوں کے تلے دب جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر گرفت ہی نہیں فرماتے۔ [٣٦] سیدھی راہ اور اس کی صفات :۔ سواء السبیل سے مراد وہ راہ ہے جو متوازن، معتدل اور افراط و تفریط سے پاک ہو۔ کیونکہ یہ راہ اس علیم و حکیم ہستی کی بتلائی ہوئی ہے جو تمام حقائق سے پوری طرح واقف ہے اور سب انسان اس کی نظروں میں یکساں ہیں۔ یہ کسی انسان کی بتائی ہوئی راہ نہیں۔ جس پر اس کے اپنے جذبات، وطن اور قوم کی محبت یا دوسری معاشی اور معاشرتی عوامل اثر انداز ہوجاتے ہیں اور وہ ایسی معتدل، متوازن اور افراط و تفریط سے پاک راہ کا سراغ لگا بھی نہیں سکتا۔ یہ اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ اس نے خود ہی انسانون کو یہ راہ بتلا دی جس سے انہیں اس دنیا میں بھی اس راستہ کی تلاش کے لیے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی اور آخرت میں بھی وہ کامرانیوں سے ہمکنار ہوجائے گا۔ المآئدہ
13 [٣٧] بنی اسرائیل کی اپنے عہد کی ایک ایک شق کی خلاف ورزی :۔ بنی اسرائیل نے اپنے اس مضبوط عہد کی چنداں پروا نہ کی۔ قیام صلٰوۃ اور ایتائے زکوٰۃ میں غفلت برتی۔ زکوٰۃ کے بجائے بخل کی راہ اختیار کی اور قرضہ حسنہ دینے کی بجائے سود خوری اور حرام خوری شروع کردی۔ اللہ کے رسولوں پر ایمان لانا تو درکنار، جی بھر کر ان کی مخالفت کی اور بعض انبیاء کو ناحق قتل بھی کرتے رہے غرض یہ کہ اس عہد کی ایک ایک شق کو توڑنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی جس کے عوض ہم نے ان پر لعنت کی اور انہیں اپنی رحمت سے دور کردیا اور دوسری سزا یہ دی کہ ان کے دل سخت بنا دیئے جس کی وجہ سے ایک تو راہ حق قبول کرنے سے قاصر ہوگئے دوسرے آپس میں الفت و موانست کے جذبات کے بجائے ان میں خود غرضی، سنگدلی اور باہمی منافرت نے راہ پا لی۔ [٣٨] ان دونوں سزاؤں کے مزید نتائج یہ نکلے کہ ان لوگوں نے کتاب اللہ میں تحریف شروع کردی۔ فلسفیانہ موشگافیاں اور خود غرضانہ تاویلات کے ذریعہ کتاب کی اکثر آیات کا مفہوم ہی بدل ڈالا اور اسے کچھ کا کچھ بنا دیا اور دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں کہا تو یہ گیا تھا کہ وہ کتاب اللہ سے نصیحت اور عبرت حاصل کریں۔ یہ بات تو انہوں نے یکسر چھوڑ ہی دی اور اسکے بجائے اپنا سارا زور الفاظ کی گتھیوں کو سلجھانے میں صرف کرنے لگے اور ایسا مطلب اخذ کرنا شروع کیا جو انکی خواہش کے مطابق ہو (نیز دیکھئے سورۃ نساء کا حاشیہ نمبر ٧٧۔ ا) [٣٩] یہ چند آدمی عبداللہ بن سلام اور انہی کا سا راست باز ذہن رکھنے والے کچھ ساتھی تھے۔ ان کے علاوہ جتنے بھی یہودی تھے سب سازشیقسم کے لوگ، بدعہد اور خائن تھے اور موقع بہ موقع مسلمانوں کو ان کی سازشوں، کرتوتوں، بدعہدیوں اور خیانتوں کا از خود ہی پتا چلتا رہتا تھا۔ پھر چونکہ یہودیوں کی اکثریت ایسے ہی بدعہد اور خائن قسم کے لوگوں پر مشتمل تھی لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ ان کی ہر قابل گرفت بات سے دل گرفتہ ہوں گے تو آپ کو یہ ایک الگ پریشانی لاحق ہوجائے گی لہٰذا ان کی باتوں کو درخور اعتناء سمجھنا چھوڑ دیجئے اور جن جن خیانتوں پر آپ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان سے محاسبہ نہ کیجئے۔ اللہ خود ان سے نمٹ لے گا۔ آپ درگرز اور احسان کی راہ اختیار کیجئے۔ کیونکہ یہی راہ اللہ کو پسند ہے۔ المآئدہ
14 [٤٠] نصاریٰ سے بھی اسی قسم کا پختہ عہد لیا گیا تھا تو انہوں نے بھی وہی کچھ کیا جو یہود نے کیا تھا۔ انہوں نے بھی کتاب اللہ سے ہدایت حاصل کرنا چھوڑ دیا اور فلسفیانہ اور راہبانہ قسم کی موشگافیوں میں لگ گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کئی فرقوں میں بٹ گئے اور ایک دوسرے کی تکفیر کرنے لگے اور مستقل طور پر ان میں منافرت اور دشمنی کا بیج پرورش پانے لگا۔ پھر اسی پر ہی معاملہ ختم نہ ہوا بلکہ نصاریٰ اور یہود میں مستقل طور پر عداوت اور دشمنی چل نکلی۔ اور جہاں کہیں نصاریٰ کی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے یہودیوں پر جی بھر کر ظلم ڈھائے اور ان کی یہ دشمنی تاقیامت جاری رہے گی۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں تحریف ہوچکی ہے۔ اور کوئی ایسی الہامی متفق علیہ چیز ان کے ہاں موجود ہی نہیں رہی جس کی بنیاد پر کسی وقت ان کے اتحاد کی بنیاد اٹھائی جا سکے۔ المآئدہ
15 [٤١] اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب نے بے شمار آیات کی یا تو تاویل کر ڈالی تھی یا پھر انہیں لوگوں سے چھپایا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی آیات کا علم عطا کیا ہوا تھا۔ پھر ان میں بہت سی آیات ایسی تھیں جن کا آپ نے یہود سے ذکر ہی نہیں کیا۔ کیونکہ انہیں بتانے کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں تھی اور جن آیات کا ذکر کیا وہ بھی بہت تھیں تھوڑی نہیں تھیں جن کا بتانا دین حق کے قیام کے لیے ناگزیر تھا۔ جیسا کہ انہوں نے رجم کی آیت کو چھپانے کی کوشش کی تھی اور یہ بات درج ذیل حدیث سے صاف واضح ہے۔ یہود کا آیات اللہ کو چھپانا :۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک یہودی مرد اور عورت کو لایا گیا جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے پوچھا ’’تم اپنی کتاب میں اس کا کیا حکم پاتے ہو؟‘‘ وہ کہنے لگے ’’ہمارے علماء ایسے لوگوں کا منہ کالا کر کے گدھے پر سوار کرتے اور گشت کراتے ہیں‘‘ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ان کے علماء کو تورات سمیت بلائیے۔ جب تورات لائی گئی تو ان میں سے ایک نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے سے پڑھنا شروع کردیا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اسے کہا ’’اپنا ہاتھ تو اٹھاؤ‘‘ اس نے ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچے سے رجم کی آیت نکلی۔ چنانچہ آپ نے انہیں رجم کا حکم دے دیا اور وہ سنگسار کیے گئے۔ (بخاری۔ کتاب المحاربین۔ باب الرجم بالبلاط۔ مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب رجم الیہود اہل الذمۃ فی الزنیٰ) یا جیسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے متعلق سب آیات کو چھپا جاتے تھے۔ [٤٢] اگرچہ اس آیت میں بعض علماء نے نور سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات با برکات بھی لی ہے تاہم اکثر مفسرین نور کو کتاب مبین ہی کی صفت قرار دیتے ہیں اور واؤ کو عطف مغائرت کے بجائے عطف تفسیری سمجھتے ہیں اور اسکی وجہ درج ذیل ہیں۔ ١۔ اس آیت کی ابتدا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر پہلے ہی آ چکا ہے۔ یہ آیت یوں شروع ہوتی ہے۔ ﴿یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَاۗءَکُمْ رَسُوْلُنَا ......﴾ ٢۔ اگر نور اور کتاب مبین دو الگ الگ چیزیں ہوتیں تو بعد والی آیت میں ﴿یَھْدِی بِہِ اللّٰہُ﴾ کے بجائے ﴿یَھْدِیْ بِھِمَا اللّٰہُ﴾ آنا چاہیے تھا۔ ٣۔ قرآن میں قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں کو ہی بہت سے مقامات پر نور کہا گیا ہے مثلاً ١۔ ﴿وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا﴾ (4: 175)اور ہم نے تمہاری طرف نور مبین نازل کیا (قرآن کے لیے) ٢۔ ﴿ اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰیۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّنُوْرٌ ﴾ (5: 65)ہم نے ہی تورات اتاری جس میں ہدایت اور نور تھا (تورات کے لیے) ٣۔ ﴿وَاٰتَیْنٰہُ الْاِنْجِیْلَ فِیْہِ ہُدًی وَّنُوْرٌ ﴾ (5: 46)اور ہم نے (سیدنا عیسیٰ عليہ السلام) کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور تھا (انجیل کے لیے) ٤۔ ﴿مَنْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ الَّذِیْ جَاۗءَ بِہٖ مُوْسٰی نُوْرًا وَّہُدًی لِّلنَّاسِ ﴾ (6: 16)وہ کتاب کس نے اتاری تھی جو موسیٰ لائے تھے جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی (تورات کے لیے)۔ ٥۔ ﴿ وَاتَّبَعُوْا النُّوْرَ الَّذِیْ اَنْزَلَ مَعَہُ﴾ (٧ : ١٥٧) اور اس نور کی پیروی کی جسے ہم نے آپ کے ساتھ اتارا ہے (قرآن کے لیے) ٦۔ ﴿وَلٰکِنْ جَعَلْنٰہُ نُوْرًا نَّھْدِیْ بِہِ مَنْ نَشَاءُ﴾ (٤٢ : ٥٢) لیکن ہم نے اس کو نور بنایا جس سے ہم جسے چاہیں ہدایت دیتے ہیں (قرآن کے لیے) ٧۔ ﴿فَامَنِوُاْ باللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ وَالنُّوْرِ الَّذِیْ اَنْزَلْنَا﴾ (٦٤ : ٨) تو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس نور پر بھی جسے ہم نے اتارا ہے۔ (قرآن کے لیے) نور وبشر کی بحث :۔ اس کے برعکس تمام انبیاء کو ہر مقام پر بشر ہی کہا گیا ہے البتہ ایک مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سراجاً منیراً (روشنی دینے والا چراغ) بھی کہا گیا ہے (٣٣ : ٤٦) تاہم اگر یہاں نور سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی لیا جائے تو اس سے مراد نور نبوت اور نور ہدایت ہوگا نہ کہ وہ نور جس کی آج کل کے بریلوی حضرات نے رٹ لگا رکھی ہے کیونکہ مولانا احمد رضا خاں کا ترجمہ قرآن (کنز الایمان) اور اس پر مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی کا حاشیہ (خزائن العرفان) یوں ہے :’’بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب‘‘ (کنز الایمان) اور اس پر حاشیہ یہ ہے کہ ’’سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو نور فرمایا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تاریکی کفر دور ہوئی اور راہ حق واضح ہوئی‘‘ (خزائن العرفان) اکابر بریلوی علماء کی شہادت :۔ اسی طرح ﴿ وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا ﴾ کا ترجمہ یوں ہے ’’اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا ہے اور چمکا دینے والا نور ہے‘‘ (کنز الایمان) اور حاشیہ یوں ہے ’’درحقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپ کے نور نبوت نے پہنچائی اور کفر و ضلالت کے ظلمات شدیدہ کو اپنے نور حقیقت افروز سے دور کردیا اور خلق کے لیے معرفت الٰہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کردیں اور ضلالت کی تاریک وادیوں میں راہ گم کرنے والوں کو اپنے نور ہدایت سے راہ یاب فرمایا اور اپنے نور نبوت سے ضمائر اور قلوب و ارواح کو منور کیا۔‘‘ (خزائن العرفان) اگر یہ معاملہ یہیں تک محدود رہتا تو پھر بھی اختلاف کی کوئی بات نہ تھی۔ بھلا کون مسلمان ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نور نبوت اور نور ہدایت ماننے کو تیار نہ ہوگا۔ اختلاف اس وقت واقع ہوا جب کچھ غالی قسم کے حضرات نے یہ مسئلہ پیدا کردیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نور ہیں یا بشر؟ اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشر نہیں تھے بلکہ نور تھے اور جو لوگ آپ کو بشر کہتے تھے انہیں گستاخان رسول کا لقب دیا گیا۔ اور جو آپ کو نور تسلیم کریں انہیں عاشقان رسول کا۔ لفظی تحریف :۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ قرآن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے شمار مقامات پر بشر قرار دیا گیا ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلوایا گیا ہے کہ ’’آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہاری طرح کا بشر ہی ہوں۔‘‘ اس کا کیا جواب دیا جائے؟ اس سوال کے دو طرح سے جواب تیار کیے گئے۔ ایک تو تحریف لفظی اور معنوی دونوں کے ضمن میں آتا ہے یعنی ﴿ قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾ میں لفظ انما کے دو الگ الگ لفظ ان ما پڑھے گئے اور ما کو نافیہ قرار دے لیا گیا اور اس کا ترجمہ یوں کرلیا گیا ’’کہ تحقیق نہیں ہوں میں تمہاری طرح کا بشر‘‘ اس طرح یہ حضرات لفظی تحریف کے مرتکب ہوئے اور دوسرا جواب یہ سوچا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب کافروں کو دیا تھا۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر کہتے اور سمجھتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ چلو انہیں کہہ دو کہ میں تمہاری طرح کا بشر ہی ہوں مگر رسول بھی ہوں۔ یعنی یہ جواب صرف کافروں کے لیے مخصوص تھا مسلمانوں کے لیے نہیں تھا کیونکہ حقیقتاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشر نہیں بلکہ نور تھے یہ معنوی تحریف ہوئی۔ اس جواب سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے متعلق جو تصور قائم ہوتا ہے وہ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ بایں ہمہ یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہا صحابہ کرام کے سامنے بھی اپنے بشر ہونے کا برملا اعتراف کیا تھا۔ ایسی تین مثالیں سورۃ کہف کی آیت نمبر ١١٠ کے تحت درج کردی گئی ہیں یعنی تین مستند اور صحیح احادیث معہ مکمل حوالہ لکھ دی گئی ہیں۔ جس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تین بار اپنے لیے بشر ہونے کا اعتراف کیا تھا بلکہ صرف تین مثالیں اس لیے درج کی ہیں کہ ثبوت مدعا کے لیے یہ تین مثالیں بہت کافی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کس قسم کے نور تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت سے انکار کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ہونے میں بھی اختلاف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس قسم کا نور ہیں۔ بریلوی اکابرین کے کچھ اقتباسات تو اوپر دیئے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ مفتی احمد یار صاحب بریلوی لکھتے ہیں کہ ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کے نور ہونے کے نہ تو یہ معنی ہیں کہ (ا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے نور کا ٹکڑا ہیں (ب) نہ یہ کہ رب کا نور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کا مادہ ہے (ج) نہ یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرح ازلی، ابدی، ذاتی نور ہیں اور (د) نہ یہ کہ رب تعالیٰ حضور میں سرایت کر گیا ہے تاکہ کفر اور شرک لازم آئے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی نور ہیں جیسے اسلام اور قرآن نور ہیں۔‘‘ (رسالہ نور ص ٧ مصنفہ مولانا احمد رضا خاں صاحب) لیکن غالی حضرات اپنے اکابرین کی بات بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں بلکہ ان میں (نُوْرٌ مِنْ نُوْرِ اللّٰہ) کا عقیدہ راسخ ہوگیا ہے یا کردیا گیا ہے۔ اور یہ الفاظ اس درود کا باقاعدہ حصہ ہیں جو بریلوی حضرات مساجد میں اکثر لاؤڈ سپیکر پر پڑھتے ہیں۔ اگر یہ لوگ (نُوْرٌ مِنْ نُوْرِ اللّٰہِ) کی بجائے (نُوْرٌ مِنْ نُوْرِ اللّٰہِ) یا (نُوْرٌ مِنْ انُوْار اللّٰہِ) کہتے تو پھر بھی اس کی کچھ توجیہہ کی جا سکتی تھی۔ لیکن (نُوْرٌ مِنْ نُوْرِ اللّٰہِ) تو ایسا واضح کفر و شرک ہے جسے مولانا احمد رضا خاں صاحب نے بھی کفر و شرک تسلیم کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ ان لوگوں کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ہونے کا کیا ثبوت ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس نظریہ کا ماخذ چند موضوع احادیث ہیں جو یہ ہیں : ١۔ آپ کو نور ثابت کرنے کے لئے موضوع احادیث کا سہارا :۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :' اِنَّ اَوْلَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرٌنَبِیُّکَ یَا جَابِرُ '(اے جابر! اللہ نے سب سے پہلے تیرے نبی ( محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور کو پیدا کیا) اسی حدیث کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 'اِنَّ اَوَّلَ مَاخَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِی' (بے شک پہلی چیز جو اللہ نے پیدا کی وہ میرا نور تھا) یہ حدیث مصنف عبدالرزاق کی ہے اور بلاسند ہے۔ مصنف عبدالرزاق چوتھے درجہ کی حدیث کی کتاب ہے جس میں ضعیف اور موضوع احادیث کی بھرمار ہے۔ پھر بلا سند حدیث ویسے بھی محدثین کے نزدیک مردود اور ناقابل اعتبار ہوتی ہے۔ ٢۔ حکیم ترمذی کی کتاب نوادر الاصول میں ذکوان سے روایت کی گئی ہے کہ ’’سورج اور چاند کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہیں ہوتا تھا‘‘ اب نوادر الاصول کی حدیث کی کتابوں میں جو قدر و قیمت ہے وہ سب جانتے ہیں۔ حکیم ترمذی خود طبقہ صوفیاء سے تعلق رکھتے تھے۔ جن سے محدثین 'اَخَذَتْہُ غَفْلَۃُ الصَّالِحِیْنَ' کہہ کر کوئی حدیث قبول کرنا گوارا نہیں کرتے تھے۔ اور یہ ذکوان خود تابعی ہیں (صحابی نہیں ہیں) پھر جب انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہی نہیں تو ان کے متعلق ایسی محیر العقول بات کیسے کہہ سکتے ہیں اور اگر کسی صحابی سے سنا تھا تو اس کا نام کیوں نہیں بتاتے۔ غرض یہ حدیث بھی ہر لحاظ سے ساقط الاعتبار اور موضوع ہے۔ علاوہ ازیں اس حدیث کے باقی راوی بھی کذاب اور مفتری قسم کے ہیں۔ ٣۔ تیسری حدیث یوں ہے ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھ سے سوئی گر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد چہرہ یا مسکراہٹ کی روشنی کی وجہ سے وہ مل گئی۔‘‘ اس حدیث کو اور اس سے پہلی سایہ والی حدیث دونوں پر تبصرہ کرنے کے بعد سید سلیمان ندوی نے موضوع قرار دیا ہے۔ (سیرۃ النبی ج ٣ ص ٧٧٥، ٧٧٦) پھر یہ احادیث عقلی لحاظ سے بھی ساقط الاعتبار ہیں۔ دعویٰ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سورج سے بھی زیادہ روشنی تھی اور اس بات کا تقاضا یہ ہے کہ کم از کم مکہ اور مدینہ میں رات کا اور تاریکی کا وجود ہی باقی نہ رہتا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے آرام کے لیے بنایا اور اپنی عظیم نعمتوں سے شمار کیا ہے۔ پھر یہ بھی غور فرمائیے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی سورج جیسی تھی تو پھر گھر میں داخل ہونے پر گمشدہ سوئی ملنے کا کیا مطلب؟ سورج کی روشنی تو از خود ہر جگہ پہنچ جاتی ہے۔ اب ان موضوع احادیث کے مقابلہ میں صحیح احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ ١۔ صحیح احادیث سے موضوعات کا رد :۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے سب سے پہلے جس چیز کو پیدا کیا وہ قلم ہے۔ پھر قلم سے کہا 'لکھو' قلم نے پوچھا’’کیا لکھوں؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہر اس چیز کی تقدیر لکھو جو ہوچکی یا تاقیامت تک ہونے والی ہے (وجود میں آنے والی ہے) اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا۔ (ترمذی ابو اب القدر۔ باب بلا عنوان) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو نہیں بلکہ قلم کو پیدا فرمایا تھا۔ ٢۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس نہ پایا۔ میں نے گمان کیا کہ شاید وہ کسی دوسری بیوی کے ہاں چلے گئے ہوں پھر جب میں نے ٹٹولنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ آپ سجدہ میں تھے۔‘‘ (نسائی جلد ٢ ص ٨٦) اس حدیث سے ان لوگوں کے اس نظریہ کی تردید ہوجاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور تھے یا آپ سے سورج اور چاند جیسی روشنی پھوٹتی تھی جس سے گم شدہ سوئی بھی نظر آ سکے۔ ٣۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رات کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز (تہجد) ادا کرتے تو میں آپ کے سامنے پاؤں دراز کئے پڑی ہوتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنے لگتے تو مجھے ہاتھ لگاتے تو میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیام فرماتے تو میں پاؤں لمبے کرلیتی۔ (بخاری۔ کتاب التہجد۔ باب مایجوز من العمل من الصلوۃ ) اس حدیث سے اس نظریہ 'نور' کی تردید ہوجاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کے دوران بھی گھر میں اندھیرا ہی رہتا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ لگا کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو متنبہ کرتے تھے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنے والے ہیں۔ نظریہ نور والی حدیث دراصل یونانی فلسفہ سے متاثر ہو کر گھڑی گئی۔ فلاسفر جس چیز کو عقل دوم کہتے ہیں صوفیاء اسے ہی نور محمدی کہتے ہیں۔ اب اس موضوع حدیث کی مزید تفسیر بھی ملاحظہ فرمائیے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اے جابر! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے اپنے نور سے تیرے نبی کا نور پیدا کیا۔ پھر وہ نور قدرت الٰہیہ ہے جہاں اللہ کو منظور ہوا سیر کرتا رہا اور اس وقت نہ لوح تھی، نہ قلم، نہ بہشت نہ دوزخ، نہ آسمان و زمین، نہ سورج چاند، نہ جن اور نہ انسان۔ پھر جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کرنا چاہا تو اس نور کے چار حصے کیے۔ حصہ اول کا قلم بنایا۔ حصہ دوم کی لوح، تیسرے حصہ کا عرش اور چوتھے سے کل کائنات (شرح قصیدہ حمزیہ ١٥ بحوالہ ریاض السالکین ص ٢٤٨) یہ حدیث سننے کے بعد ممکن ہے آپ کو یہ معلوم کرنے کی خواہش ہو کہ اس نور نبی کو پیدا ہوئے کتنی مدت ہوچکی تھی؟ تو لیجئے اس کے لیے بھی ایک موضوع حدیث حاضر خدمت ہے۔ ’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ تمہاری عمر کتنی ہے؟ جبرئیل نے عرض کی ’’آقا! میں اپنی عمر ٹھیک طرح سے نہیں جانتا مگر اتنا جانتا ہوں کہ چوتھے حجاب میں ایک ستارہ تھا جو ستر ہزار سال کے بعد طلوع ہوا کرتا تھا اور میں نے اس کو بہتر ہزار مرتبہ دیکھا ہے۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مجھے پروردگار کے عزت و جلال کی قسم! وہ ستارہ میں ہی ہوں۔‘‘ اب دیکھئے کہ جبرئیل نے اپنی عمر ٧٠٠٠٠ x ٢٠٠٠=٧ پانچ ارب چون کروڑ سال بتائی ہے اور یہ ستارہ یعنی نور نبی اس سے بہرحال مدتوں پہلے کا تھا۔ اس موضوع حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نور کی عمر نہیں بتائی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس 'حدیث تراش' کو اس سے زیادہ حساب آتا ہی نہ تھا۔ پھر یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ اس نور نبی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے چہرے کے نور سے پیدا کیا تھا۔ کیونکہ اس بات کا اقرار اللہ تعالیٰ خود ان الفاظ میں فرما رہے ہیں (گویا یہ موضوع حدیث حدیث قدسی ہے) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چہرے کے نور سے پیدا کیا۔‘‘ اور چہرہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات مقدس ہے۔ (سر الاسرار ١١٦ سطر ٨ بحوالہ ریاض السالکین ص ٩٠) پھر اللہ تعالیٰ نے اس موضوع قدسی حدیث کی تائید ایک اور موضوع قدسی حدیث سے فرما دی جو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’تو میں ہوں اور میں تو ہے‘‘ (جواہر غیبی ٢٨٢ بحوالہ ریاض السالکین ص ٩٢) اسی موضوع قدسی حدیث کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمائی کہ (میں اللہ کے نور سے ہوں اور کل میرے نور سے ہیں) (مدارج النبوت ج ٢ ص ٦٠ بحوالہ ریاض السالکین ص ٢٤٩) اب بات یوں ہوئی کہ اللہ نے سب سے پہلے نور محمدی کو پیدا کیا اور یہ نور ایک ستارہ تھا یا ایک ستارہ میں تھا۔ جس سے سیدنا جبریل نے اپنی عمر کا حساب بتلایا تھا۔ اب اس نور محمدی یا ستارہ سے ہی عرش، لوح و قلم، کرسی، بہشت دوزخ اور شمس و قمر اور باقی ساری کائنات پیدا کیے جا رہے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ کائنات کی ہر چیز میں نور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہے اب اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے ایک اور موضوع اور قدسی حدیث گھڑی گئی جو یہ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’میری عزت اور جلال کی قسم اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اگر تم نہ ہوتے تو میں دنیا کو پیدا ہی نہ کرتا۔‘‘ (ریاض السالکین ص ٢٤٤) اور ایک دوسری موضوع قدسی حدیث یوں بھی آئی ہے 'لَوْلاَکَ لَمَا خَلَقْتُ الاَفْلاَکَ ' (ریاض السالکین ص ١٩١) یعنی اگر اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! تم نہ ہوتے تو میں کائنات کی کوئی چیز بھی پیدا نہ کرتا۔ پھر اس کی تائید میں ایک اور موضوع حدیث بھی ملاحظہ فرمائیے : جب سیدنا آدم جنت سے نکال کر دنیا میں بھیجے گئے تو ہر وقت روتے اور استغفار کرتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو عرض کی ’’اے باری تعالیٰ ! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے مغفرت چاہتا ہوں۔‘‘ وحی نازل ہوئی کہ ’’بتاؤ تو محمد کون ہیں؟‘‘ عرض کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیدا کیا تو میں نے عرش پر لکھا ہوا دیکھا ’’ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ میں سمجھ گیا کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی اونچی ہستی نہیں ہے۔ جس کا نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نام کے ساتھ لکھ رکھا ہے۔ وحی نازل ہوئی کہ وہ خاتم النبیین ہیں۔ تمہاری اولاد میں سے ہیں لیکن وہ نہ ہوتے تو تم بھی پیدا نہ کیے جاتے۔ (ریاض السالکین ص ٣٠٢) اب دیکھئے کہ ان موضوع حدیث میں یہ کہیں ذکر نہیں کہ پھر سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ قبول بھی ہوئی تھی یا نہیں۔ الٹا اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر سیدنا آدم علیہ السلام کو اور بھی مایوس کردیا کہ ’’اگر وہ نہ ہوتے تو تم بھی نہ ہوتے۔‘‘ غور فرمائیے کہ اگر کسی سائل مغفرت کو ایسا جواب دیا جائے تو اس کے دل پر کیا بیتتی ہے؟ البتہ اس حدیث نے اور کئی مسئلے حل کردیئے مثلاً (١) خواہ کتنے ہی برس اللہ سے رو رو کر مغفرت چاہیں قبول نہیں ہوتی جب تک کسی کا وسیلہ نہ پکڑیں اور یہ بات قرآن کی تعلیم ﴿ وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ﴾ کے بالکل برعکس ہے۔ ٢۔ پھر یہ وسیلہ اپنے نیک اعمال یا کسی زندہ بزرگ ہستی کا نہیں بلکہ ایسی ہستی کا بھی ہوسکتا ہے جو ابھی تک وجود میں نہ آئی ہو۔ یا پاس موجود نہ ہو۔ کاش یہ باتیں سیدنا آدم کو اتنی مدت رونے سے پہلے ہی معلوم ہوجاتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نور ثابت کرنے کی ضرورت اور فوائد :۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے نور ثابت کرنے کے اور بھی کئی فوائد ہیں۔ پہلا یہ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ حاضر و ناظر ہے آپ بھی اسی طرح حاضر و ناظر ہوئے۔ چنانچہ عرشی صاحب نے مندرجہ ذیل قرآنی آیت سے اس کا ثبوت بھی مہیا فرما دیا ہے ﴿وَیَکُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ﴾ (2: 143)اور رسول تم پر گواہ یعنی حاضر و ناظر رہتے ہیں۔ جب رسول پاک ہر وقت گواہ رہتے ہیں تو پھر اپنے امتی کے اعمال سے باخبر ہیں کہ فلاں کے اعمال کیسے ہیں اور دین کے کس درجہ میں ہے؟ (ریاض السالکین ص ٢٣٤) حاضر و ناظر کی یہ دلیل تو خوب ہے مگر مشکل یہ ہے کہ اس آیت کا اگلا حصہ یوں ہے ﴿لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَی النَّاسِ ﴾ پھر کیا تمام صحابہ کرام بھی حاضر و ناظر ہیں جو دوسرے لوگوں کے گواہ اور ان کے اعمال کے نگران ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر آپ کی خصوصیت کیا رہی؟ البتہ اس کھینچا تانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر ثابت کرنے کا ایک فائدہ ضرور ہوجاتا ہے جو یہ ہے کہ تمام پیروں فقیروں یعنی اولیاء اللہ کے حاضر و ناظر ہونے اور اپنے مریدوں کے اعمال پر نگران بنے رہنے کا راستہ صاف ہوجاتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے نور سے نور ثابت کرنے کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ یا نور کو موت نہیں اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی دائمی زندگی ثابت کی جاتی ہے اور تصرف فی الامور بھی۔ اگر یہ کام نہ کیا جاتا تو پیروں، فقیروں اور بزرگوں یعنی اولیاء کرام کی موت کے بعد دائمی زندگی اور تصرف فی الامور کا راستہ کبھی بھی صاف نہ ہوسکتا تھا۔ المآئدہ
16 [٤٣] قرآن سے گمراہی کیسے؟ یعنی قرآن کے ذریعے اللہ تعالیٰ لوگوں کو غلط انداز فکر، غلط رجحانات اور غلط نظریات سے محفوظ رکھتا ہے اور انہیں صراط مستقیم کی روشنی کی طرف لے آتا ہے بشرطیکہ انسان قلب سلیم اور عقل صحیح کے ساتھ قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرے اور جو شخص اپنے پہلے سے قائم کردہ غلط نظریات و عقائد قرآن سے کشید کرنے کی کوشش کرے یا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں قرآن سے دلائل طلب کرنے کی کوشش کرے تو ایسا شخص اسی قرآن سے گمراہ بھی ہوجاتا ہے۔ [٤٤] روشنی کا لفظ تو بطور واحد استعمال فرمایا اور اندھیروں کا لفظ بطور جمع۔ کیونکہ گمراہیوں اور ضلالتوں کی اقسام بے شمار ہیں جبکہ ہدایت کی راہ صرف ایک ہی ہو سکتی ہے۔ قرآن اللہ کے اذن سے اسی ہدایت کی راہ دکھاتا ہے اور مشعل راہ کا کام دیتا ہے۔ المآئدہ
17 [٤٥] نصاریٰ کا قول کہ عیسیٰ ہی عین اللہ ہے اور اس کا رد :۔ یہ کافر لوگ عیسائی یا نصاریٰ ہیں جنہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی بشریت میں الوہیت کو ضم کرنے کی کوشش کی۔ یہ انداز فکر چونکہ سراسر گمراہی اور شرک پر مبنی تھا۔ اس لیے گمراہی کی کئی راہیں پیدا ہوگئیں۔ ایک فرقے نے الوہیت کے پہلو کو نمایاں کیا تو کہا کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کے جسم میں حلول کر گیا لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ کا عین ہے یا عین اللہ تعالیٰ ہے اور جنہوں نے بشریت کے پہلو کو نمایاں کیا انہوں نے کہا کہ عیسیٰ عین اللہ تو نہیں البتہ ابن اللہ ضرور ہیں۔ اور جنہوں نے درمیانی تیسری گمراہی کی راہ اختیار کی انہوں نے کہا کہ اللہ ایک نہیں بلکہ تین ہیں اور تینوں ہی ازلی ابدی ہیں۔ ایک اللہ دوسرے عیسیٰ علیہ السلام اور تیسرے روح القدس پھر یہ تین مل کر بھی ایک الہ بنتا ہے۔ پھر مدتوں بعد سیدہ مریم کو بھی الوہیت میں شریک سمجھا جانے لگا (وغیرہ من الخرافات ) [٤٢] عیسائی حضرات عیسیٰ علیہ السلام اور سیدہ مریم علیہا السلام دونوں کو الوہیت میں شریک بناتے ہیں جبکہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اپنے آپ کو (بقول نصاریٰ) صلیب پر چڑھنے سے اور سیدہ مریم علیہاالسلام یہود کی تہمت سے اپنے آپ کو بچا نہ سکے تو پھر ان کی الوہیت کیسی تھی؟ اور اگر اللہ ان دونوں کو اور ان کے علاوہ جتنے بھی انسان اس زمین پر موجود ہیں سب کو آن کی آن میں نیست و نابود کر دے تو کوئی ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے؟ کیونکہ ان تمام چیزوں کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور مالک بھی وہی ہے۔ اور مالک کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت کی چیز میں جیسے چاہے تصرف کرے۔ [٤٧] یعنی اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور حوا کو ماں کے بغیر اور سیدنا آدم علیہ السلام کی وساطت سے پیدا کیا اور سیدنا آدم علیہ السلام کو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا اور چوتھی اور سب سے عام شکل یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا کرتا ہے اور وہ ہر طرح سے پیدا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ [٤٨] یہود ونصاری کا یہ قول کہ ہم اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہیں :۔ یعنی وہ سزا جو انہیں اس دنیا میں ہی مل رہی ہے اگر وہ فی الواقع اللہ کے محبوب ہیں تو یہ سزا اور رسوائی کیوں ہو رہی ہے۔ سابقہ ادوار میں دو دفعہ تمہیں تباہ و برباد کیا گیا اور آج تمہاری کیا حالت ہے؟ کیا کوئی اپنے محبوب یا پیاروں کو بھی سزا دیتا اور رسوا کرتا ہے؟ اس سے یہ معلوم ہوا کہ ان کا یہ دعویٰ بالکل باطل اور بے بنیاد ہے۔ دوسرا دعویٰ ان کا یہ تھا کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں اس لحاظ سے اللہ کے محبوب ہیں اور اخروی عذاب ہمیں نہیں ہوگا۔ اس دعویٰ کی تردید اللہ نے یوں فرمائی کہ اگر تم اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو تو پھر تو تمہیں جلد از جلد مرنے کی آرزو کرنی چاہیے جس سے معلوم ہوا کہ صرف انسان کے اعمال ہی اس کی نجات اخروی کا ذریعہ بن سکتے ہیں حسب و نسب وہاں کچھ کام نہ آسکے گا۔ قیامت کے دن حسب ونسب کچھ کام نہ آئے گا :۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کردیا اس کا نسب اسے آگے نہ کرسکے گا‘‘ (مسلم کتاب الذکر۔ باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن) اور جب سورۃ شعراء کی آیت ﴿وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ﴾ نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رشتہ داروں کو بلایا اور ان کے نام لے لے کر کہا مثلاً اے عباس بن عبدالمطلب! میں تیرے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔ اے صفیہ! ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی) میں آپ کے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔ اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے مال میں سے جو تم چاہو مجھ سے (دنیا میں) طلب کرلو۔ میں تمہارے کسی کام نہ آ سکوں گا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر سورۃ شعرائ۔ مسلم کتاب الایمان۔ باب۔ وانذر عشیر تک الاقربین ) المآئدہ
18 [٤٩] یعنی تم کوئی بالاتر مخلوق نہیں بلکہ عام انسانوں کی طرح ہی ہو۔ تمہاری بھی اللہ کے حضور ویسے ہی باز پرس ہوگی جیسے دوسرے لوگوں کی ہوگی پھر اللہ جسے چاہے گا معاف کر دے گا اور جسے چاہے گا اس کے گناہوں کے عوض اسے دھر لے گا اور جو کچھ وہ کرے وہ مختار کل ہے۔ کیونکہ وہ کائنات کی ہر چیز کا مالک ہے کوئی چیز اس کے آگے دم نہیں مار سکتی اور اس کے حضور سب کو پیش ہونا پڑے گا اور یہ ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی مفر نہیں۔ المآئدہ
19 [٥] اہل کتاب کو نبی آخر الزمان کا انتظار :۔ بنی اسرائیل میں بیک وقت ایک ہی زمانہ میں متعدد انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ دینی قیادت بھی انہیں کے پاس ہوتی تھی اور دنیوی قیادت بھی۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بعد انبیاء کی بعثت کا سلسلہ بند ہوا اور مسلسل چھ سو سال تک بند رہا۔ اس کے بعد نبی آخر الزمان مبعوث ہوئے یہود اس نبی کے انتظار میں رہا کرتے اور مشرکین سے کہا کرتے کہ جب نبی آخر الزماں آئے گا تو ہم اس کے جھنڈے تلے جمع ہو کر تم پر فتح حاصل کریں گے۔ مگر جب نبی آخر الزمان تشریف لائے تو یہود نے انہیں دی ہوئی بشارات کے مطابق ٹھیک طرح پہچان لیا۔ پھر صرف اس بنا پر آپ کی نبوت کا انکار کردیا کہ آپ بنی سرائیل میں سے نہ تھے۔ انہی یہود کو اللہ تعالیٰ مخاطب کر کے فرما رہے ہیں کہ جس بشیر و نذیر کا تمہیں انتظار تھا وہ آ چکا۔ اب تمہارے پاس کچھ عذر باقی نہیں رہ گیا۔ لہٰذا اگر اب تم اس سے انکار کر رہے ہو تو خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس جرم کفر کی سزا دینے پر پوری طرح قادر ہے۔ یہود کی طرح نصاریٰ کو بھی نبی آخر الزماں کا انتظار تھا اور ان کا یہ خیال تھا کہ وہ نبی ہم میں سے ہوگا اور ہم اس کے ساتھ مل کر یہود سے بدلہ لیں گے۔ پھر جب ان کی یہ آرزو پوری نہ ہوسکی تو ان میں سے بھی اکثر نبی آخر الزماں کے مخالف ہوگئے۔ المآئدہ
20 [٥١] بنی اسرائیل کے انبیاء جو بادشاہ بھی تھے :۔ بنی اسرائیل مصر میں نہایت ذلت سے غلامانہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو انہیں عظیم سلطنت بھی عطا فرمائی تھی۔ مصر اور اس کے گرد و نواح کے ممالک میں آپ ہی کی فرمانروائی تھی اس زمانہ میں بنی اسرائیل کو عزت سے زندگی بسر کرنا نصیب ہوئی اور دینی اور دنیوی قیادت سب کچھ ان کے ہاتھ میں تھا، لیکن بعد میں اپنی نافرمانیوں کی بنا پر وہ عزت ان سے چھین لی گئی تاآنکہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام جس وقت مبعوث ہوئے تو بنی اسرائیل مصر میں لاکھوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود فرعون کے تحت محکومانہ اور نہایت ذلت کی زندگی گزار رہے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام آئے تو انہوں نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلائی۔ اس دور میں بنی اسرائیل کے یہ غلامانہ ذہنیت رکھنے والے لوگ حاکم قوم کی دیکھا دیکھی گؤ سالہ پرستی میں مبتلا ہوچکے تھے۔ خدائے واحد کی پرستش کا تصور ہی ان کے ذہنوں سے نکل چکا تھا اور غضب یہ کہ ان کے دلوں میں بچھڑے کی پرستش اور اس دین سے محبت یوں گھر کرچکی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ سے ہونا چاہیے تھی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر تھی اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ قصور بھی معاف کردیا۔ پھر ان میں سیدنا داؤد علیہ السلام اور سیدنا سلیمان علیہ السلام مبعوث کیے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بادشاہی بھی عطا کی تھی۔ المآئدہ
21 [٥٢] فلسطین کا حال معلوم کرنے والا وفد :۔ جب فرعون بحر قلزم میں غرق ہوگیا اور بنی اسرائیل اس سے پار اتر گئے تو ان لوگوں کی یہ ہجرت ان کے آبائی وطن فلسطین کی طرف بتائی گئی تھی جو سیدنا ابراہیم سیدنا اسحاق اور سیدنا یعقوب علیہم السلام وغیر ہم کی تبلیغ کا مرکز رہا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی تھی کہ ان مہاجرین کو ساتھ لے جا کر فلسطین پر چڑھائی کرو تو بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور اس طرح ان کا آبائی وطن ان کو واپس مل جائے گا۔ چنانچہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان کو جہاد کی ترغیب دی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت کی بشارت بھی دی مگر ان لوگوں نے یہ سوچا کہ پہلے ہمیں فلسطین کے موجودہ حالات سے پوری طرح واقف ہونا چاہیے تب ہی جنگ کی کوئی بات سوچ سکتے ہیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے خود تو دشت فاران میں ڈیرے ڈال دیئے اور اپنے میں سے بارہ آدمیوں کو فلسطین کے سیاسی حالات کا جائزہ لینے کے لیے روانہ کردیا سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں کو روانہ کرتے وقت یہ تاکید کردی تھی کہ حالات جیسے بھی ہوں آ کر صرف مجھے بتانا۔ ہر کس و ناکس کے سامنے تشہیر نہ کرنا۔ المآئدہ
22 [٥٣] وفد کی رپورٹ اور جہاد سے انکار :۔ لیکن ان لوگوں نے موسیٰ علیہ السلام کے حکم کی خلاف ورزی کی اور جب فلسطین کے علاقہ کا دورہ کر کے واپس آئے، تو اس کی رپورٹ خفیہ طور پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو دینے کی بجائے ہر ایک کو وہاں کے حالات بتانا شروع کردیئے۔ اور وہ رپورٹ یہ تھی کہ فلسطین کا علاقہ واقعی بڑا زرخیز و شاداب ہے۔ وہاں پانی اور دودھ کی نہریں بہتی ہیں لوگوں کی معاشی حالتاچھی ہے لیکن وہ لوگ بڑے طاقتور، زور آور اور قدآور ہیں۔ ہم ان کے مقابلہ میں ٹڈے معلوم ہوتے تھے اور وہ بھی ہمیں ٹڈے ہی سمجھتے تھے۔ لہٰذا ان لوگوں پر فتح حاصل کرنا ہماری بساط سے باہر ہے اور موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے کہ ان طاقتور لوگوں کی موجودگی میں ہمارا وہاں داخل ہونا اور پھر مقابلہ کر کے فتح یاب ہونا ناممکنات سے ہے اور اگر اللہ نے یہ علاقہ ہمارے مقدر میں لکھا ہوا ہے تو وہ کوئی ایسا انتظام کر دے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں تو تب ہی ہم اس میں داخل ہو سکتے ہیں۔ المآئدہ
23 [٥٤] فلسطین کے سیاسی حالات کا جائزہ لینے کے لیے بارہ افراد پر مشتمل جو وفد بھیجا گیا تھا ان میں دو آدمی یوشع بن نون اور کالب بھی تھے۔ اور یہ دونوں پکے مومن تھے یوشع تو غالباً وہی ہیں جنہوں نے سیدنا خضر کی تلاش میں سفر میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا ساتھ دیا تھا۔ اور بعد میں ان کے خلیفہ بھی بنے۔ ان دونوں نے موسیٰ علیہ السلام کی ہدایت کے مطابق وہاں کے حالات کی عام لوگوں کے سامنے تشہیر نہیں کی تھی اور تمام حالات خفیہ طور پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے بیان کیے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے ساتھی انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو اپنی قوم سے کہنے لگے، چونکہ اللہ نے فتح و نصرت کا ہم سے وعدہ کر رکھا ہے لہٰذا ان جباروں سے ڈرنے کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرو۔ کمر ہمت باندھو اور دروازے میں داخل ہوجاؤ۔ اگر تم نے اتنی جرأت کرلی تو یقیناً اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تم ہی غالب ہو گے۔ المآئدہ
24 [٥٥] بنی اسرائیل کا موسیٰ علیہ السلام کو جہاد کرنے سے جواب :۔ لیکن یہ قوم جو مدت دراز سے فرعونیوں کی غلامی میں زندگی بسر کر رہی تھی اور اللہ کی بجائے بچھڑے کی پرستش کر رہی تھی اس قدر پست ہمت اور بزدل بن چکی تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کر کے کہنے لگی کہ جب تک وہ لوگ وہاں سے نکل نہیں جاتے ہم وہاں کبھی نہ جائیں گے اور نہ ہی اپنے آپ کو دیدہ دانستہ ہلاکت میں ڈالنے کو تیار ہیں اگر تمہیں جہاد پر اتنا ہی اصرار ہے تو جاؤ تم اور تمہارا رب جا کر ان سے مقابلہ کرو ہم تو یہاں سے آگے نہیں جائیں گے۔ المآئدہ
25 [٥٦] موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے یہ جواب سن کر سخت مایوس اور غمگین ہوگئے اور اللہ کے حضور دعا کی کہ ایسی قوم سے تو میں اکیلا ہی بھلا۔ جیسے تو حکم دے میں خود حاضر ہوں یا پھر میرا بھائی ہارون۔ جو خود نبی تھے اور مصر میں فرعون اور فرعونیوں کے سامنے ہر دکھ سکھ میں شریک رہے تھے، جو میرے کہنے میں ہے۔ اگر ایسی نافرمان قوم میری بات نہیں مانتی تو اب میں کیا کرسکتا ہوں؟ المآئدہ
26 [٥٧] وعدہ میں چالیس سال کی تاخیر سے بطور علاج :۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسی بزدل اور نافرمان قوم کی سزا یہ ہے کہ ان سے جو فلسطین کی فتح و نصرت کا وعدہ تھا وہ چالیس سال تک کے لیے موخر کردیا جاتا ہے۔ یہ چالیس سال کی تاخیر دراصل اس بزدل اور پس ہمت قوم کی امراض کا علاج تھا کہ وہ اتنی مدت اسی جنگل میں ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر دھکے کھاتی پھرے جنگل میں زندگی گزارنے کی صعوبتیں برداشت کریں۔ اس چالیس سال کے عرصہ میں اس قوم کی جوان اور بزدل نسل مر کھپ جائے اور جو نئی نسل پیدا ہو آزاد فضاؤں میں پرورش پائے۔ نرمی گرمی برداشت کرنے کی عادی اور ہمت والی بن جائے۔ پھر وہ لوگ اس قابل ہوں گے کہ اگر انہیں جہاد کے لیے ترغیب دی جائے تو وہ اٹھ کھڑے ہوں۔ لہٰذا اے موسیٰ ! اس قوم کو جو یہ علاج کے طور پر سزا دی جا رہی ہے آپ کو ایسے لوگوں پر ترس نہ آنا چاہیے۔ المآئدہ
27 [٥٨] بنی اسرائیل کا جہاد سے اس طرح گریز کرنے کا قصہ بیان کرنے کے بعد اب آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ دو بیٹے ہابیل اور قابیل تھے۔ ان میں سے قابیل عمر میں بڑا تھا۔ کاشت کاری کرتا تھا۔ جسم کا قوی اور تند مزاج تھا اس کا چھوٹا بھائی ہابیل بھیڑ بکریاں پالتا اور چرایا کرتا تھا۔ نیک، سرشت، فرمانبردار اور منکسر المزاج تھا۔ ان دونوں میں کسی بات پر تنازعہ پیدا ہوا اور بالآخر قابیل نے ظلم و تشدد کی راہ اختیار کرتے ہوئے اپنے مظلوم بھائی کو جان ہی سے مار ڈالا۔ سابقہ آیات سے اس قصہ کا ربط یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہود بھی مظلوموں کے قتل میں بڑے دلیر واقع ہوئے تھے حتیٰ کہ انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے۔ یعنی یہود قتل کی سازشوں میں اور مظلوموں کو قتل کرنے میں بڑے دلیر واقع ہوئے تھے مگر جب جہاد کا موقعہ آیا تو ایسی بزدلی دکھائی کہ اپنی جگہ سے ہلنے کا نام ہی نہ لیتے تھے جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ مکر و فریب کی چالوں سے مظلوموں پر ہاتھ اٹھانے والے لوگ معرکہ کار زار میں نامرد ہی ثابت ہوا کرتے ہیں۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی مدینہ کے یہودیوں کی بالکل یہی صورت حال تھی۔ قصہ ہابیل اور قابیل :۔ ہابیل اور قابیل میں تنازعہ کس بات پر تھا ؟ قرآن اس سوال کا جواب دینے سے خاموش ہے البتہ تفاسیر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام جس لڑکی سے ہابیل کا نکاح کرنا چاہتے تھے، قابیل یہ چاہتا تھا کہ یہ لڑکی اس کے نکاح میں آئے۔ اس کا یہ مطالبہ چونکہ بے انصافی پر مبنی تھا لہٰذا اسے تسلیم نہ کیا گیا۔ اس سے قابیل اور بھی طیش میں آ گیا۔ جس کا حل سیدنا آدم نے یہ پیش کیا کہ دونوں اللہ کے حضور قربانی پیش کرو۔ جس کی قربانی کو آگ آ کر کھا جائے یعنی جس کی قربانی اللہ کے ہاں مقبول ہوجائے اسی سے اس لڑکی کا نکاح کردیا جائے گا۔ اور یہ تنازعہ ختم ہوجائے گا۔ [٥٩] چنانچہ دونوں نے قربانی پیش کی۔ ہابیل ویسے بھی نیک سیرت انسان تھا اور اس لڑکی سے نکاح کا حق بھی اسی کا بنتا تھا۔ نیز اس نے قربانی میں جو اشیاء پیش کی تھیں وہ سب اچھی قسم کی تھیں اور خالصتاً رضائے الٰہی کی نیت سے پیش کی تھیں لہٰذا اسی کی قربانی کو اللہ کے حضور شرف قبولیت بخشا گیا اس کے مقابلہ میں قابیل بے انصاف اور اچھے کردار کا مالک نہ تھا اور قربانی میں بھی ناقص اور ردی قسم کی اشیاء رکھی تھیں۔ لہٰذا اس کی قربانی کی چیزیں جوں کی توں پڑی رہیں گویا اس قربانی کی کسوٹی نے بھی ہابیل ہی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ المآئدہ
28 [٦٠] جب قابیل کی قربانی مردود ہوگئی تو اس کا طیش انتقام میں بدل گیا اور اس نے علی الاعلان اپنے بھائی ہابیل کو دھمکی دے دی ’’میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا‘‘ (شاید قابیل کا یہ خیال ہو کہ ہابیل کے مرنے کے بعد اس لڑکی پر میرا ہی حق باقی رہ جائے گا) اس کا جواب ہابیل نے یہ دیا کہ اگر تمہاری قربانی قبول نہیں ہوئی تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ بلکہ تمہیں تو یہ چاہیے تھا کہ پرہیزگاری کی راہ اختیار کرتے اس صورت میں شاید تمہاری قربانی قبول ہوجاتی اور اگر تم مجھے مارنے پر ہی تلے ہوئے ہو تو میرا ایسا قطعاً کوئی ارادہ نہیں ہے میں بہرحال اس معاملہ میں ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا کیونکہ میں اسے بہت بڑا ظلم سمجھتا ہوں۔ المآئدہ
29 [٦١] یعنی ناحق قتل کرنے والے کی سزا صرف یہی نہیں ہوتی کہ اسے اس جرم کے عوض جہنم میں ڈال دیا جائے بلکہ اس کے ساتھ مقتول کے گناہ بھی اس کے کھاتے میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اگر مجھے دو لشکروں یا دو صفوں میں سے کسی ایک صف میں زبردستی لایا جائے پھر کسی شخص کی تلوار میری گردن اڑا دے یا کسی کا تیر مجھے مار ڈالے تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’قاتل اپنے اور تیرے گناہ سمیٹ کر اللہ کے پاس آئے گا اور وہ جہنمی ہے (اور تم پر کوئی گناہ نہیں)‘‘ (مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب نزول الفتن کمواقع القطر) نیز کئی احادیث میں صراحت سے مذکور ہے کہ قیامت کے دن ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ المآئدہ
30 [٦٢] قابیل نے اپنے بھائی کی باتیں سنیں تو کچھ عرصہ ان پر غور کرتا رہا، لیکن بالآخر اس نے یہ فیصلہ کیا کہ جب تک ہابیل زندہ رہے گا اس کا نکاح اس لڑکی سے نہیں ہوسکتا لہٰذا اسے ختم کردینے سے ہی اسے کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نفس کے شیطان نے اسے سبز باغ دکھا کر اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ اپنے بھائی کا قصہ پاک کر دے۔ پھر جب اس نے اسے مار ڈالا تو اس پر ہر طرف سے لعنت اور پھٹکار پڑنے لگی کہ ایسے نیک سیرت اور مشفق بھائی کو اس نے بے قصور مار ڈالا ہے اور آخرت میں جو اس کے لیے سزا ہے وہ تو بہرحال مل کے رہے گی۔ المآئدہ
31 [٦٣] دنیا میں پہلا قتل اور وہ بھی ناحق :۔ قابیل نے اپنے نیک سیرت بھائی کو جب مار ڈالا تو تھوڑی دیر بعد لاش میں سڑانڈ اور بدبو پیدا ہونے لگی۔ اب اسے یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس لاش کو کیا کرے؟ یہ تو امر واقع ہے کہ روئے زمین پر نوع انسانی میں یہ پہلا قتل تھا اور وہ بھی ناحق قتل تھا۔ اور غالب خیال یہ ہے کہ اس وقت تک کوئی انسان مرا بھی نہ تھا ورنہ اگر انسان کی لاش کو دفن کرنے کا طریقہ معلوم ہوتا تو قابیل تذبذب میں نہ پڑتا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے اس کی رہنمائی کے لیے دو کوے بھیجے جو آپس میں لڑ رہے تھے۔ ان میں سے ایک کوے نے دوسرے کو چونچیں مار کر ہلاک کر ڈالا۔ پھر اس نے اپنی چونچ سے زمین کو کریدنا شروع کردیا تاآنکہ اس میں اتنا گڑھا بن گیا جس میں مردہ کوے کی لاش کو چھپایا جا سکے۔ کوے نے مردہ کوے کی لاش کو اس گڑھے میں رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال کر اسے زمین میں دفن کردیا۔ قابیل یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ اس وقت وہ سوچنے لگا کہ مجھ میں اس کوے جتنی بھی عقل نہیں۔ خیر اس نے بھی اسی طرح زمین میں گڑھا کھود کر اپنے بھائی کی لاش کو زمین میں دبا دیا۔ جب دبا چکا تو اب اس کا نفس اسے ملامت کرنے لگا کہ ایک نیک سیرت اور شفیق بھائی اس سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگیا اور اس بات پر بھی اسے ندامت ہوئی کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر کے انتہائی وحشیانہ حرکت کا ارتکاب کیا ہے۔ المآئدہ
32 [٦٤] جن صورتوں میں قتل جائز ہے :۔ شریعت نے صرف تین صورتوں میں قتل کو جائز قرار دیا ہے (١) قتل کے بدلے قتل یعنی قصاص (٢) شادی شدہ مرد یا عورت اگر زنا کرے تو حد قائم کرنے کی صورت میں انہیں رجم کر کے مار ڈالنا اور (٣) ارتداد کے جرم میں قتل کرنا۔ ان تینوں صورتوں کے علاوہ جو بھی قتل ہوگا وہ قتل ناحق اور فساد فی الارض کے ضمن میں ہی آئے گا اور ایسے ہی قتل کے متعلق یہ لکھا تھا کہ جس نے ایک آدمی کو بھی ناحق قتل کیا اس نے گویا سب لوگوں کو قتل کیا۔ کیونکہ ایسا آدمی پوری انسانیت کا اور امن عامہ کا دشمن ہوتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اسے یہ جرم کرتے دیکھ کر اس پر دلیر ہوجاتے ہیں لہٰذا اس جرم کی سزا کا اظہار ان الفاظ سے کیا گیا اور بنی اسرائیل چونکہ اس جرم کا ارتکاب کرتے رہتے تھے اس لیے بطور خاص ان الفاظ سے تنبیہ کی گئی ہے اور اس جرم کے برعکس اگر کوئی شخص کسی کو مظلومانہ موت سے نجات دلا کر بچا لیتا ہے تو وہ بھی اتنی ہی بڑی نیکی ہے کیونکہ ایسا شخص انسانیت کا ہمدرد اور امن عامہ میں ممد و معاون بنتا ہے۔ اب اسی ضمن میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ (١) قتل ناحق کے گناہ کا حصہ آدم کے پہلے بیٹے پر :۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص بھی مظلوم قتل ہوتا ہے تو اس کے خون کا گناہ آدم کے پہلے بیٹے پر بھی لاد دیا جاتا ہے کیونکہ وہی پہلا شخص ہے جس نے قتل کو جاری کیا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب بدء الخلق باب اذ قال ربک للملئِکۃ۔ نیز کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔ باب من دعا الی ضلالۃ مسلم۔ کتاب القسامۃ باب اثم من سنّ القتل ) (٢) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم‘‘ صحابہ نے عرض کیا ’’مظلوم کی مدد تو ٹھیک ہے مگر ظالم کی کیسے مدد کریں؟‘‘ فرمایا ’’ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو‘‘ (بخاری۔ کتاب المظالم۔ باب اعن اخاک ظالما او مظلوما مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب اذا توجہ المسلمان بسیفھما) (٣) سیدنا جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ ’’لوگوں کو چپ کراؤ‘‘ (میں نے چپ کرا دیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’لوگو! میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ بن جانا‘‘ (بخاری کتاب العلم۔ باب الانصات للعلماء ) تیسری حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کا قاتل مسلمان نہیں رہتا بلکہ کافر ہوجاتا ہے۔ [٦٥] بینات سے مراد معجزات انبیاء بھی ہو سکتے ہیں۔ جن سے ان انبیاء کی نبوت کی تصدیق بھی مطلوب ہوتی ہے یعنی انبیاء کی تصدیق ہوجانے کے بعد بھی بنی اسرائیل ان کا انکار ہی کرتے رہے۔ ان سے دشمنی بھی رکھی۔ ان کی راہ میں روڑے بھی اٹکائے۔ حتیٰ کہ انہیں ناحق قتل ہی کیا اور بینات سے مراد واضح احکام بھی ہیں یعنی ٹھیک ٹھیک احکام دیئے جانے کے باوجود بھی ان میں سے اکثر لوگ فساد فی الارض کے مرتکب ہی رہے۔ المآئدہ
33 [٦٦] اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کی صورتیں اور سزائیں :۔ اس آیت میں اللہ اور رسول سے جنگ سے مراد عموماً حرابہ یعنی ڈکیتی یا راہزنی سمجھا جاتا ہے۔ پھر اس آیت میں چار قسم کی سزاؤں کو جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے اس طرح متعلق کیا جاتا ہے کہ : (١) اگر مجرم نے قتل تو کردیا ہو مگر مال لینے کی نوبت نہ آئی ہو تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا اور (٢) اگر قتل بھی کردیا ہو اور مال بھی لوٹ لیا ہو تو اسے سولی پر لٹکایا جائے گا۔ اور (٣) اگر صرف مال ہی چھینا ہو قتل نہ کیا ہو تو اس کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت میں کاٹے جائیں گے اور (٤) اگر ابھی قتل بھی نہ کیا اور مال بھی چھیننے سے پہلے گرفتار ہوجائے تو اسے جلاوطن کیا جائے گا۔ نیز قاضی جرم کی نوعیت کے لحاظ سے ان سزاؤں میں سے کسی دو کو اکٹھا بھی کرسکتا ہے اور کسی ایک میں کمی بیشی بھی کرسکتا ہے۔ مگر اس آیت کے الفاظ میں عموم ہے چنانچہ محدثین اسی آیت کے تحت عکل اور عرینہ کے واقعہ کو درج کرتے ہیں۔ یہ حدیث درج ذیل ہے: قصہ عکل اور عرینہ :۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’عکل اور عرینہ (قبیلوں) کے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں آئے اور اسلام کا کلمہ پڑھنے لگے۔ انہوں نے کہا۔ یا رسول اللہ ! ہم گوجر لوگ ہیں کسان نہیں۔ انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اونٹ اور ایک چرواہا ان کے ساتھ کیا اور کہا کہ تم لوگ (جنگل میں) چلے جاؤ۔ ان اونٹوں کا دودھ اور بول پیتے رہو۔ وہ حرہ کے پاس اقامت پذیر ہوئے اور اس علاج سے وہ خوب موٹے تازے ہوگئے۔ پھر ان کی نیت میں فتور آ گیا اور اسلام سے مرتد ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے (یسار) کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر کر اسے کئی طرح کی تکلیفیں پہنچا کر مار ڈالا اور اونٹ بھگا کر چلتے بنے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے آدمی روانہ کیے۔ جب وہ گرفتار ہو کر آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں۔ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے گئے اور حرہ کے ایک کونے میں پھینک دیئے گئے اور وہ اسی حال میں مر گئے۔‘‘ وہ پانی مانگتے تھے لیکن کوئی پانی نہ دیتا تھا۔ ابو قلابہ کہتے ہیں کہ یہ اس لیے کہ انہوں نے چوری کی، خون کیا، ایمان کے بعد کفر اختیار کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کیا۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب قصۃ عکل و عرینۃ نیز کتاب التفسیر۔ زیر آیت مذکورہ۔ نیز کتاب الوضوء باب ابو ال الابل ) اس واقعہ میں محض ڈکیتی کی ہی واردات نہیں بلکہ مکر و فریب سے لوٹ مار، قتل اور ارتداد بھی شامل ہے اور یہ سب کچھ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ اور فساد فی الارض کے ضمن میں آتا ہے۔ علاوہ ازیں اسلام کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈہ، مجرمانہ سازشیں، اسلامی حکومت سے غداری اور بغاوت یہ سب کچھ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ اور فساد فی الارض کے ضمن میں تو آ سکتے ہیں مگر ڈکیتی کے ضمن میں نہیں آتے۔ لہٰذا اس آیت کے مفہوم کو اپنے وسیع مفہوم پر ہی محمول کرنا چاہیے اور قاضی ہر جرم کی نوعیت کے مطابق ان سزاؤں میں کمی بیشی کرسکتا ہے۔ المآئدہ
34 [٦٧] اسلام اور توبہ سے سابقہ گناہوں کی معافی :۔ اس کی بھی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ کوئی شخص حالت کفر میں فساد فی الارض کرتا رہا پھر مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آ گیا اور اپنی سب سابقہ عادات ترک کردیں تو اس سے سابقہ گناہوں پر مواخذہ نہ ہوگا کیونکہ اسلام لانا ہی ایسا عمل ہے جو اپنے سے پہلے گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اسلام لا کر بھی فساد کا مجرم رہا لیکن بعد میں اس نے توبہ کرلی اور امن پسند اور مطیع قانون بن کر زندگی گزارنے لگا۔ تو اب اس کے سابقہ گناہوں کا سراغ لگا کر اسے سزا نہیں دی جائے گی اس سے سرکاری جرائم تو معاف ہوجائیں گے لیکن بندوں کے جو حقوق اس نے غصب کیے ہیں ان کی تلافی بہرحال اس کے ذمہ رہے گی۔ خواہ ان کی ادائیگی کرے یا معاف کروا لے۔ المآئدہ
35 [٦٨] وسیلہ کی تعریف اور اس کی تلاش :۔ جو بھی ذریعہ یا سبب اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا جائے اسے وسیلہ کہتے ہیں اور وسیلہ کی دو ہی جائز صورتیں ہیں ایک یہ کہ کسی زندہ شخص کو اپنی دعا کی قبولیت کے لیے وسیلہ بنایا جائے اور اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب قحط پڑتا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے دعا کرتے اور کہتے : یا اللہ پہلے ہم تیرے پاس اپنے پیغمبر کا وسیلہ لایا کرتے تو تو پانی برساتا تھا۔ اب اپنے پیغمبر کے چچا کا وسیلہ لائے ہیں، ہم پر بارش برسا۔ راوی کہتا ہے کہ پھر بارش ہوجاتی۔ (بخاری کتاب الاستسقائ۔ باب سوال الناس الامام) اور دوسری صورت اپنے ہی نیک اعمال کو وسیلہ بنانا ہے۔ اور اس کی دلیل وہ طویل حدیث ہے جو بخاری میں بھی متعدد مقامات پر مذکور ہوئی ہے کہ بنی اسرائیل کے تین شخص ایک دفعہ سفر میں جاتے ہوئے طوفان باد و باراں میں گھر گئے تو ایک غار میں جا کر پناہ لی۔ اتفاق سے ایک بڑا پتھر پہاڑ کے اوپر سے لڑھکتا آیا جس نے غار کا منہ بند کردیا اور اب وہ تینوں اپنی زندگی سے مایوس ہوگئے۔ انہوں نے سوچا کہ اس وقت صرف اللہ سے دعا ہی کام آ سکتی ہے لہٰذا ہم میں سے ہر شخص اپنے کسی ایسے نیک عمل کا واسطہ دے کر اللہ سے دعا کرے جو اس نے خالصتاً اللہ کی رضامندی کے لئے کیا ہو۔ چنانچہ پہلے شخص نے اپنے عمل کا واسطہ دے کر دعا کی تو تیسرا حصہ پتھر غار کے منہ سے سرک گیا۔ پھر دوسرے نے دعا کی تو پتھر مزید تیسرا حصہ سرک گیا۔ پھر تیسرے نے اپنے عمل کے وسیلہ سے دعا کی تو سارا پتھر غار کے منہ سے ہٹ گیا اور وہ باہر نکل آئے۔۔ (بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب من اشتری شیا لغیرہ نیز کتاب الاجارات۔ باب من استاجرا جیرا۔ نیز کتاب ابو اب الحرث والمزارعۃ وما جاء فیہ باب اذا زرع بمال قوما بغیر اذنھم) مگر ہمارے ہاں وسیلہ پکڑنے کا بہت غلط مفہوم رائج ہوچکا ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے سورۃ بنی اسرائیل کا حاشیہ نمبر ٧٠ اور سورۃ زمر کا حاشیہ نمبر ٩٤۔) نیز وسیلہ جنت میں عرش رحمان کے نزدیک ایک مقام کا نام بھی ہے۔ اذان کے بعد جو دعا سکھائی گئی ہے اس میں ہر مسلمان رسول اللہ کے لیے دعا مانگتا ہے کہ یا اللہ آپ کو وسیلہ عطا فرما۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میرے لیے وسیلہ کی دعا کرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔ (بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الدعاء عندالنداء ) [٦٩] اصل وسیلہ اللہ کی راہ میں جہاد ہے :۔ یعنی اخروی کامیابی کے لیے بہترین وسیلہ تو جہاد ہے اور یہ بھی دوسری صورت ہی کی ایک قسم ہے جہاد کی سب سے اعلیٰ قسم قتال فی سبیل اللہ ہے تاہم جہاد انسان کی ہر اس کوشش کو بھی کہہ سکتے ہیں جو اسلام کی اشاعت اور اسلامی نظام کے قیام میں ممد و معاون ثابت ہو سکے یا اس راہ کی رکاوٹوں کو دور کرنے والی ہو خواہ یہ زبان سے ہو، تحریری ہو یا ہاتھ سے کی جائے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔ منکرات کے خلاف جہاد :۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جس نبی کو بھی اس کی امت میں مبعوث فرمایا تو اس کے کچھ حواری اور اصحاب ہوتے جو اس کی سنت پر کاربند اور اس کے حکم پر چلتے تھے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف آتے کہ جو کچھ وہ کہتے تھے کرتے نہیں تھے اور ایسے کام کرتے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا۔ اب جو کوئی ایسے لوگوں سے ہاتھ سے جہاد کرے، وہ مومن ہے اور جو زبان سے جہاد کرے وہ بھی مومن ہے اور جو دل سے جہاد کرے (برا سمجھے) وہ بھی مومن ہے اور اس کے بعد رائی کے دانہ برابر بھی ایمان نہیں۔‘‘ (مسلم کتاب الایمان) جہاد کا ہدف سب سے پہلے اپنا نفس ہونا چاہیے پھر اقرباء پھر درجہ بدرجہ دوسرے لوگ۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ’’تم میں سے کوئی شخص جب کوئی برا کام ہوتے دیکھے تو اسے چاہیے کہ بزور بازو اس میں تبدیلی لائے۔ اور اگر ایسا نہ کرسکے تو پھر زبان سے (تقریر سے یا تحریر سے) اس میں تبدیلی لائے اور اگر یہ بھی نہ کرسکے تو پھر کم از کم دل ہی میں برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور تر درجہ ہے۔‘‘ (مسلم۔ حوالہ ایضاً) المآئدہ
36 [٧٠] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن جس دوزخی کو سب سے ہلکا عذاب ہوگا اس سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا’’اگر تیرے پاس زمین میں جو کچھ ہے اور اس کے برابر کوئی چیز ہو تو اپنے چھٹکارے کے لیے دے دو گے؟‘‘ وہ کہے گا ’’ہاں۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’جب تو انسانی قالب میں تھا اس وقت میں نے تجھ سے اس سے بہت ہلکی چیز مانگی تھی کہ تو میرے ساتھ شرک نہ کرے مگر تو نے اس بات کو تسلیم نہ کیا‘‘ (اور شرک کرتا رہا) (بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب صفۃ الجنۃ والنار ) المآئدہ
37 [٧١] یہ معاملہ تو کافروں سے ہوگا مگر بہت سے گنہگار مسلمان بھی دوزخ میں جائیں گے جو اپنے اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر اور گناہوں سے پاک صاف ہو کر مختلف اوقات میں جنت میں داخل ہوتے رہیں گے۔ بلکہ بعض علماء کا خیال ہے کہ کافروں کو بھی کبھی نہ کبھی دوزخ سے نجات مل جا ئیگی۔ صرف مشرکین ہی وہ لوگ ہو نگے جنہیں کبھی بھی دوزخ سے نجات حاصل نہ ہوگی۔ المآئدہ
38 [٧٢] حرابہ یا ڈکیتی کی سزا بیان کرنے کے بعد اب چور کی سزا کا بیان شروع ہوتا ہے۔ چور کی سزا میں دونوں ہاتھ نہیں بلکہ ایک ہاتھ اور پہلی بار کی چوری پر دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا اور یہ پہنچے تک کاٹا جائے گا۔ (اور یہ سب باتیں سنت سے ثابت ہیں) تاکہ وہ آئندہ کے لیے ایسی حرکت سے باز رہے اور دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ اور اگر اس سے مال مسروقہ برآمد ہوجائے تو وہ اصل مالک کو لوٹایا جائے گا اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث کا مطالعہ مفید ہوگا۔ ١۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک مخزومی عورت (فاطمہ) نے چوری کی تو قریش کو (ہاتھ کٹ جانے پر) بہت فکر لاحق ہوئی۔ کہنے لگے کون ہوسکتا ہے جو اس سلسلہ میں رسول اللہ سے بات کرے اور اسامہ کے سوا اور کون ایسی جرأت کرسکتا ہے جو رسول اللہ کے محبوب ہیں؟ (چنانچہ قریش کے کہنے پر) اسامہ نے آپ سے گفتگو کی تو آپ نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا’’'کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا ’’لوگو! تم سے پہلے لوگ صرف اس وجہ سے گمراہ ہوگئے کہ اگر ان میں سے کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد لگاتے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ (رضی اللہ عنہا) بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا‘‘ (اور ایک روایت میں ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دیا۔ اس کے بعد وہ میرے پاس آیا کرتی تو میں اس کی حاجت رسول اللہ تک پہنچا دیا کرتی۔ اس نے توبہ کی اور اس کی توبہ اچھی رہی۔ (بخاری۔ کتاب الحدود۔ باب کراھیۃ الشفاعۃ فی الحد، نیز باب توبۃ السارق۔ مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب قطع السارق الشریف) ٢۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ چور پر لعنت کرے۔ ایک انڈے کی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور ایک رسی کی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الحدود باب لعن السارق اذالم یسم ) ٣۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال چرانے پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ (بخاری۔ کتاب الحدود۔ باب السارق والسارقۃ۔ مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب حدالسرقہ و نصابہا) ٤۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد پر کاٹ دیا جائے‘‘ (بخاری۔ کتاب الحدود۔ باب السارق والسارقۃ ) ٥۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لٹکے ہوئے پھل کی چوری کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر کوئی شخص بھوکا ہو اور کھا لے مگر ساتھ نہ لے جائے تو اس پر کوئی حد نہیں اور جو شخص دامن بھر کر نکلے تو اس سے دوگنی قیمت وصول کی جائے اور سزا دی جائے۔ اور جو شخص پھلوں کو محفوظ مقام پر پہنچائے جانے کے بعد اس میں چوری کرے اور پھل کی قیمت ڈھال کی قیمت تک پہنچ جائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے اور اگر قیمت ڈھال سے کم ہو تو دوگنی قیمت لی جائے اور سزا دی جائے۔‘‘ (ابو داؤد۔ کتاب الحدود۔ باب مالایقطع فیہ ) ٦۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’خائن، لٹیرے اور اچکے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں۔‘‘ (ترمذی۔ ابو اب الحدود۔ باب ماجاء فی الخائن والمختلس) ٧۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جنگ کے دوران (میدان جنگ میں) ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ دی جائے۔‘‘ (ابو داؤد کتاب الحدود۔ باب السارق یسرق فی الغزو) اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ میدان جنگ میں سب لوگ مسلح ہوتے ہیں اگر سزا پانے والا طیش میں آ کر کوئی غلط حرکت کر بیٹھے تو یہ عین ممکن ہے۔ اس طرح اپنے ہی لشکر میں انتشار پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ لہٰذا صرف چوری کی حد ہی نہیں۔ ہر قابل حد یا قابل تعزیر جرم کی سزا کو موخر کردیا گیا۔ نیز سیدنا عمر نے قحط کے ایام میں چوری کی سزا یعنی ہاتھ کاٹنے کی سزا موقوف کردی تھی اور ان کا استدلال اس واقعہ سے تھا کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں عباد بن شرجیل نے کسی کھیت سے غلہ لے لیا۔ کھیت کے مالک نے عباد بن شرجیل کو پکڑ لیا۔ اسے مارا اور اس کا کپڑا بھی چھین لیا۔ پھر اسے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک سے فرمایا۔ (اگر یہ نادان تھا تو تو نے اس کو تعلیم کیوں نہ دی اور اگر یہ بھوکا تھا تو تو نے اسے کھانے کو کیوں نہ دیا) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بھوکے چور کو کوئی سزا نہیں دلوائی۔ الٹا مالک نے اسے کپڑا بھی واپس کیا اور مار کے بدلے بہت سا غلہ بھی دیا۔ ٨۔ چور کی چوری جب عدالت میں ثابت ہوجائے تو اس کا ہاتھ ضرور کاٹا جائے گا اور مقدمہ عدالت میں پہنچنے سے پیشتر اگر مالک چور کو معاف کر دے تو یہ جائز ہے مگر عدالت میں پہنچنے کے بعد معاف نہیں کرسکتا۔ چنانچہ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ ایک دفعہ مسجد میں اپنی چادر کا تکیہ بنا کر اپنے سر کے نیچے رکھ کر سوئے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور آہستہ سے اس نے وہ چادر آپ کے سر کے نیچے سے کھینچ لی۔ اتنے میں صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو بھی جاگ آ گئی تو وہ اسے پکڑ کر رسول اللہ کے پاس لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ (اس پر صفوان رضی اللہ عنہ کو اس آدمی پر ترس آ گیا) اور کہنے لگا، یا رسول اللہ ! میں نے اس کا قصور معاف کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اے ابو وہب (یہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) تم نے اسے ہمارے ہاں لانے سے پہلے کیوں نہ معاف کردیا۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا۔ (نسائی۔ کتاب قطع السارق۔ باب الرجل یتجاوز للسارق۔۔) نیز سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’تم آپس میں ہی ایک دوسرے کو حدود معاف کردیا کرو۔ پھر جب مقدمہ مجھ تک پہنچ گیا تو حد واجب ہوجائے گی۔‘‘ (ابو داؤد۔ نسائی بحوالہ مشکوۃ کتاب الحدود۔ فصل ثانی) ٩۔ سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’چور جب (پہلی بار) چوری کرے، تو اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دو۔ پھر (دوسری بار) چوری کرے تو اس کا (بایاں) پاؤں کاٹ دو۔ پھر (تیسری بار) چوری کرے تو اس کا (بایاں) ہاتھ کاٹ دو۔ پھر (چوتھی بار) چوری کرے تو اس کا (دایاں) پاؤں کاٹ دو۔‘‘ (شرح السنہ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الحدود۔ قطع السرقتہ۔ دوسری فصل) [٧٣] یہ ہاتھ کاٹنے کی سزا اس کو چوری کرنے کے بدلہ میں ملی ہے۔ رہا مال مسروقہ۔ تو اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ راجح قول یہی ہے کہ اگر مال مسروقہ چور سے برآمد ہوجائے یا وہ اتنی مالیت کی ادائیگی کرسکتا ہو تو اس سے مال بھی وصول کر کے اصل مالک کو دلوایا جائے گا۔ کیا اسلامی سزائیں غیر انسانی ہیں :۔ آج کل یورپ کی نام نہاد مہذب اقوام اسلامی سزاؤں کو غیر مہذب اور وحشیانہ سزائیں سمجھتی ہیں اور بدنی سزاؤں کو غیر انسانی سلوک اور ظلم کے مترادف سمجھتی ہیں۔ علامہ اقبال سے یورپ میں ان کے کسی دوست نے کہا کہ اسلام میں چوری کی سزا تو بڑی غیر مہذبانہ ہے تو علامہ اقبال نے اس کا یہ جواب دیا تھا کہ کیا تمہارے خیال میں چور 'مہذب' ہوتا ہے؟ ان لوگوں نے اپنے اسی نظریہ کے تحت اقوام متحدہ کے بنیادی حقوق کے چارٹر میں اس کو غیر انسانی سلوک قرار دے کر ایسی سزاؤں کو ترک کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ اس نظریہ کے دعویدار اپنی حکومتوں میں سیاسی ملزموں پر بند کمروں میں ایسے دردناک مظالم ڈھاتے اور بدنی سزائیں دیتے ہیں جن کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے اور مشاہدہ یہ ہے کہ بند کمروں میں ایسی سزائیں دینا مجرموں کو اپنے کردار میں مزید پختہ بنا دیتا ہے۔ پھر یہ بھی عام مشاہدہ ہے کہ جہاں جہاں عدالتوں میں بدنی سزائیں موقوف ہوئیں وہاں جرائم میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ ہم حیران ہیں کہ اگر انسانی جسم کو بچانے کے لیے پھوڑے کا آپریشن محض جائز ہی نہیں بلکہ اسے عین ہمدردی سمجھا جاتا ہے تو معاشرہ کو ظلم و فساد سے بچانے کے لیے بدمعاشوں کو بدنی سزا دینا کیسے غیر انسانی سلوک بن جاتا ہے؟ اور چوروں اور بدمعاشوں پر رحم کر کے معاشرہ میں بدامنی کو کیوں گوارا کرلیا جاتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کے لیے مہذب اقوام کی ہمدردیاں کیوں پیدا ہوجاتی ہیں؟ کیا یہ معاشرہ کے ساتھ غیر انسانی اور ظالمانہ سلوک نہیں؟ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ غیر انسانی سلوک کے یہ علمبردار اپنے ممالک میں قیام امن میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں۔ آج کل سعودی عرب میں شرعی سزائیں رائج ہیں تو وہاں جرائم کی تعداد حیرت انگیز حد تک کم ہوچکی ہے۔ اس کے مقابلہ میں امریکہ جیسے سب سے مہذب ملک میں جرائم کی تعداد اس سے سینکڑوں گنا زیادہ ہے۔ ہمارے خیال میں اس غنڈہ عنصر کی پشت پناہی کی وجہ محض یہ ہے کہ موجودہ جمہوری دور میں 'غیر انسانی سلوک کے یہ علمبردار' خود غنڈہ عناصر کے رحم و کرم کے محتاج اور انہی کی وساطت سے برسراقتدار آتے ہیں تو ایسے لوگ اپنے مددگاروں کے حق میں برسر عام بدنی سزائیں کیسے گوارا کرسکتے ہیں؟ المآئدہ
39 المآئدہ
40 المآئدہ
41 [٧٤] کفار اور منافقوں کی معاندانہ سرگرمیوں سے آپ کی دل گرفتگی :۔ مکہ میں مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کو دکھ پہنچانے والے اور پریشانی میں مبتلا رکھنے والے صرف قریش مکہ تھے مگر مدینہ آ کر آپ کو چار قسم کے لوگوں سے دکھ پہنچ رہا تھا۔ ایک منافقین دوسرے یہود، تیسرے مشرک قبائل عرب اور چوتھے مشرکین مکہ جنہوں نے فتح مکہ تک اپنی معاندانہ سرگرمیوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی تاہم اس آیت میں صرف دو قسم کے لوگوں کا ذکر آیا ہے ایک منافقین دوسرے یہود۔ اور ان کی معاندانہ سرگرمیاں بھی طرح طرح کی تھیں۔ مسلمانوں کے دلوں میں طرح طرح کے شکوک پیدا کرنا، مسلمانوں میں ہی فتنہ کی آگ بھڑکانا، لوگوں کو اسلام لانے سے روکنا، مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کو بدنام کرنا اور گالی دینا اور جنگ کے وقت مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا اور جنگ کے دوران کافروں کا ساتھ دینا۔ ایک تو آپ اس بات پر بھی بہت دل گرفتہ رہتے تھے کہ لوگ کیوں اسلام قبول نہیں کرتے۔ اس پر مستزاد یہ معاندانہ سرگرمیاں بھی شامل ہوجاتیں۔ تو آپ سخت پریشان اور دل گرفتہ ہوجاتے تھے اور ایسا ہونا ایک فطری امر تھا۔ آپ کی اسی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لیے یہ ہدایت فرمائی کہ آپ کو ان حالات سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ سب لوگ اللہ کے علم میں ہیں اور یہ اپنے انجام کو پہنچ کے رہیں گے۔ آپ کو صرف اللہ پر ہر وقت نظر رکھنا چاہیے۔ [٧٥] زانی جوڑے کی سزا :۔ اس آیت میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ہوا یہ تھا کہ خیبر کے ایک امیر گھرانے کے ایک شادی شدہ یہودی اور یہودن نے زنا کیا تھا اور وہ چاہتے یہ تھے کہ رجم کی سزا سے بچ جائیں کیونکہ تورات میں ان کی سزا رجم مقرر تھی۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ نبی آخر الزماں کی شریعت میں ایسے زنا کی سزا کوڑے ہے رجم نہیں ہے۔ لہٰذا انہوں نے اس یہودی اور یہودن کا مقدمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ کا یہود مدینہ سے جو معاہدہ ہوا تھا اس کی رو سے یہودی اس بات میں آزاد تھے کہ اپنے مقدمات اور تنازعات خود ہی تورات کے مطابق فیصلہ کرلیا کریں اور اگر چاہیں تو وہ اپنے مقدمات نبی آخر الزماں کی عدالت میں لے جائیں اس صورت میں آپ کا کیا ہوا فیصلہ ہی ان پر لاگو ہوگا۔ اور یہود یہ مقدمہ اس غرض سے آپ کے پاس لائے تھے کہ یہ امیر زانی جوڑا رجم کی سزا سے بچ جائے اور آپس میں طے یہ کیا کہ اگر یہ نبی کوڑوں کی سزا کا فیصلہ دے تو اس کا فیصلہ تسلیم کرلینا اور اگر رجم کا فیصلہ سنائے تو تسلیم نہ کرنا۔ مسلم کی روایت جو براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور آگے آ رہی ہے یوں ہے کہ یہود نے اس امیر زانی یہودی کو کوڑوں کی سزا دی تھی اور اس کا منہ کالا کر کے اور گدھے پر سوار کر کے گشت کروا رہے تھے تو آپ نے خود ان کو اپنے پاس بلایا۔ اس طرح یہ مقدمہ آپ کی عدالت میں آ گیا۔ [٧٦] یہودی نہ تورات کے متبع تھے نہ نبی کے :۔ فتنہ کا مطلب یہ ہے کہ اصل میں وہ نہ تو رات کی اتباع کرنے پر تیار تھے اور نہ نبی کے فیصلہ کو تسلیم کرنے کو تیار تھے بلکہ اپنے نفس کی خواہش کی پیروی کر رہے تھے۔ کتاب اللہ یعنی تورات کے منکر اس لیے کہ تورات میں رجم کا حکم موجود تھا اور یہ بات وہ خوب جانتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر اس لیے کہ وہ فیصلہ کو مشروط طور پر ماننا چاہتے تھے یعنی اگر وہ ان کی خواہش کے مطابق (یعنی کوڑوں کی سزا) ہوا تو مان لیں گے اور اگر خواہش کے مخالف (یعنی رجم کی سزا) ہوا تو نہ مانیں گے لہٰذا یہ اتباع نہ تورات کی ہوئی اور نہ نبی کی بلکہ ان کی اپنی خواہش کی اتباع ہوئی اور جو شخص خود ہی فتنہ میں پڑا رہنا چاہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فتنہ کی راہ ہی کھول دیتا ہے اور اللہ کے حکم سے بغاوت کی بنا پر ان کے دلوں کو ایسے خبیث امراض سے پاک نہیں کرتا۔ وہ صرف اس کا دل پاک کرتا ہے جو خود بھی اسے پاک کرنا چاہتا ہے۔ المآئدہ
42 [٧٧] ان لوگوں کے خبث باطن کی دیگر وجوہات کے علاوہ دو وجوہ یہ بھی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مسلمانوں کی اور آپ کی مجالس میں آتے ہی اس لیے ہیں کہ یہاں سے جو کچھ سنیں اسے اپنے لفظوں میں ڈھال کر اور توڑ موڑ کر اس طرح پیش کریں جس سے انہیں مسلمانوں کو اور پیغمبر اسلام کو بدنام اور رسوا کرنے کا موقع ہاتھ آئے۔ اور دوسری وجہ یہ کہ وہ حرام خور ہیں اور حرام خوری کے اثرات جو نفس انسانی پر مترتب ہوتے ہیں وہ اس قدر قبیح اور گندے ہوتے ہیں کہ ایسے شخص کی نہ عبادت قبول ہوتی ہے اور نہ دعا۔ [٧٨] گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار تو دے دیا گیا کہ چاہے تو یہودیوں کے باہمی تنازعات کا فیصلہ کریں اور چاہے تو نہ کریں۔ لیکن اگر کرنا چاہو تو پھر انصاف کے ساتھ ہی فیصلہ کرنا ہوگا۔ اس آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقدمہ خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لائے تھے۔ کچھ لوگ تو مقدمہ لانے والے تھے اور کچھ پیچھے بیٹھے ہدایات دینے والے تھے کہ اگر فیصلہ ایسے ہوا تو مان لینا ورنہ نہ ماننا۔ تاہم مسلم کی درج ذیل روایت میں اس بات میں اختلاف ہے کہ آپ کے پاس یہ مقدمہ کی صورت میں آیا تھا۔ زانی یہودی اور یہودن کا مقدمہ :۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک یہودی نکلا جس کا منہ کالا کیا گیا تھا اور کوڑے مارے گئے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو بلایا اور ان سے پوچھا ’’کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی سزا پاتے ہو؟‘‘ انہوں نے کہا 'ہاں' پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلایا اور اسے فرمایا ’’میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل کی تھی، بتاؤ کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی سزا پاتے ہو؟‘‘ اس نے کہا 'نہیں۔' اور اگر آپ مجھے اللہ کی قسم نہ دیتے تو میں آپ کو نہ بتلاتا (بات یہ ہے کہ) ہم تورات میں رجم کی سزا ہی پاتے ہیں مگر جب ہمارے شرفاء میں زنا کی کثرت ہوگئی تو جب ہم کسی شریف کو پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے اور کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد جاری کرتے۔ پھر ہم نے آپس میں کہا کہ ایسی سزا پر متفق ہوجائیں جسے شریف اور رذیل سب پر نافذ کرسکیں تو ہم نے کوڑے مارنا اور منہ کالا کرنا نافذ کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اے اللہ ! سب سے پہلے میں تیرے اس حکم کو زندہ کرتا ہوں جبکہ ان لوگوں نے اس کو مردہ کردیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا اور وہ رجم کیا گیا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی ﴿ یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ ....﴾ ’’یہودی کہا کرتے، محمد کے پاس چلو۔ اگر وہ تمہیں منہ کالا کر کے کوڑے مارنے کا حکم دے تو اسے قبول کرلو اور اگر رجم کرنے کا فتویٰ دے تو بچو۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ ﴿وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ ﴾۔۔ (مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب رجم الیہود اہل الذمۃ فی الزنی ) اس حدیث میں یہود کے جس عالم کا ذکر ہے۔ بعض دوسری روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ابن صوریا تھا۔ فدک کا رہنے والا تھا۔ اور اسے تورات کا سب سے بڑا عالم سمجھا جاتا تھا۔ اور تمام یہودیوں کے ہاں وہ قابل اعتبار و قابل اعتماد سمجھا جاتا تھا جس نے صحیح صورت حال کو کھول کر بیان کردیا۔ المآئدہ
43 [٧٩] یعنی ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نبی سمجھتے ہیں اور پھر فیصلہ بھی آپ کے پاس لاتے ہیں۔ اور دوسری طرف تورات ہے جسے اللہ کی سچی کتاب سمجھتے تو ہیں لیکن حکم اس کا بھی نہیں مانتے اس سے بڑھ کر ان کے بے ایمان ہونے کی کیا دلیل ہو سکتی ہے؟ المآئدہ
44 [٨٠] یہودی مذہب الہامی نہیں :۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ یہودی مذہب کوئی الہامی مذہب نہیں۔ نہ ہی کتاب اللہ میں انہیں یہودی بننے کو کہا گیا تھا بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے عقائد و اعمال میں بہت کچھ شامل کرلیا تھا اور اپنے آپ کو یہودی کہلانے لگے تھے اور اللہ نے جو کتاب تورات نازل کی تھی وہ ایک ایسا دستور العمل تھا جس کے مطابق تمام مسلمان (فرمانبردار) انبیاء خود بھی عمل پیرا تھے اور ان یہودیوں کے تنازعات کے فیصلے بھی اسی کتاب اللہ کے مطابق کیا کرتے تھے اور ان کے متقی علماء و مشائخ کا بھی یہی حال تھا کہ وہ اسی کے مطابق فیصلے کرتے تھے جس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب اللہ کی حفاظت کا کام انہیں لوگوں کے سپرد کر رکھا تھا۔ یہ حفاظت دونوں صورتوں میں تھی ایک علمی دوسرے عملی۔ علمی حفاظت یہ تھی کہ نہ تو تورات کے الفاظ میں رد و بدل یا ترمیم و تنسیخ کی جائے اور نہ ہی ان آیات کو غلط مفہوم پہنایا جائے۔ اور عملی یہ تھی کہ اس پر ٹھیک طرح سے عمل کیا جائے اور فیصلے اسی کے مطابق کیے جائیں مگر بعد میں جب ناخلف علماء و مشائخ پیدا ہوئے تو انہوں نے تحریف معنوی بھی کی اور لفظی بھی۔ بعض آیات کو چھپایا اور بعض اضافے کتاب اللہ میں شامل کردیئے اور اس طرح کتاب اللہ کو بیچ کر کھانے لگے۔ یعنی عملی لحاظ سے بھی کتاب اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال دیا۔ [٨١] ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس جملہ میں خطاب یہود کو ہے لیکن نفس مضمون کے لحاظ سے اس کا خطاب عام ہے جس میں یہود و نصاریٰ کے علاوہ مسلمان بھی شامل ہیں اور اس میں بتایا گیا ہے کہ کتاب اللہ یا منزل من اللہ وحی کے مطابق فیصلہ نہ کرنا کافروں کا کام ہوتا ہے مسلمانوں کا نہیں۔ المآئدہ
45 [٨٢] سابقہ شریعتوں کے احکام شریعت محمدی میں :۔ یہاں ایک بنیادی بات یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی حکم جو تورات میں یہود کو دیا گیا ہو اور قرآن اس کو یوں بیان کرے کہ اس میں کسی ترمیم و تنسیخ کا ذکر نہ کرے اور نہ ہی آپ نے نکیر فرمائی ہو تو وہ حکم بعینہ ہو تو وہ حکم مسلمانوں کے لیے بھی قابل عمل ہوگا اگرچہ قرآن اسے مسلمانوں کے لیے الگ سے بیان کرے یا نہ کرے اس کی ایک مثال تو یہی آیت ہے اور دوسری مثال رجم کا حکم ہے اور اس آیت میں قصاص کی جو صورت بیان ہوئی ہے احادیث اسی کی تائید و تشریح کرتی ہیں چنانچہ درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ ١۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک مسلمان لڑکی کا جو زیور پہنے ہوئے تھی۔ محض زیور حاصل کرنے کے لیے سر کچل دیا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ کس نے اس کا سر کچلا ؟ فلاں نے یا فلاں نے؟ یہاں تک کہ جب قاتل یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے بتایا 'ہاں' وہ یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ اس نے جرم کا اقرار کرلیا تو آپ نے بھی دو پتھروں کے درمیان اس کا سر رکھ کر کچلوا دیا۔ (مسلم۔ کتاب القسامہ۔ باب ثبوت القصاص فی القتل بالحجر) (بخاری۔ کتاب الدیات۔ باب سوال القاتل حتی یقرو الاقرار فی الحد۔ باب اقاد بحجر) ٢۔ سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک جنگ میں گیا۔ وہاں ایک شخص نے دوسرے کو دانت سے کاٹا۔ اس نے زور سے اپنا ہاتھ کھینچا تو کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا۔ پھر وہ قصاص کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا قصاص باطل قرار دیا اور فرمایا ’’کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں رہنے دیتا کہ تو اسے یوں چبا جائے جیسے اونٹ چبا ڈالتا ہے‘‘ (بخاری۔ کتاب الدیات۔ باب اذا عض رجلا۔۔) ٣۔ احکام قصاص :۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جان کی دیت سو اونٹ ہیں۔‘‘ (نسائی۔ کتاب القسامۃ والقود الدیۃ۔ باب ذکر حدیث عمر و بن حزم فی العقول) ٤۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری پھوپھی ربیع بنت نضر نے ایک انصاری لڑکی کا دانت توڑ ڈالا۔ لڑکی کے وارثوں نے قصاص کا مطالبہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا۔ انس بن نضر رضی اللہ عنہ جو انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا (اور ربیع کے بھائی) تھے کہنے لگے ’’یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ایسا کبھی نہ ہوگا کہ ربیع کا دانت توڑا جائے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’انس (یہ کیا کہہ رہے ہو) قصاص تو اللہ کا حکم ہے‘‘ پھر (اللہ کی قدرت کہ) لڑکی کے وارث قصاص کی معافی اور دیت لینے پر راضی ہوگئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ (اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے) قسم کھا بیٹھیں تو اللہ ان کی قسم سچی کردیتا ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ نیز کتاب الدیات۔ باب السن بالسن۔ مسلم کتاب القسامۃ) ٥۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص قتل ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کو مقتول کے وارث کے حوالہ کردیا۔ قاتل کہنے لگا ’’یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم! میرا قتل کا ارادہ نہ تھا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے وارث سے فرمایا ’’اگر قاتل (اپنے بیان میں) سچا ہے اور تو نے اسے قتل کردیا تو تو دوزخ میں جائے گا۔‘‘ چنانچہ وارث نے اسے چھوڑ دیا۔ (ترمذی۔ ابو اب الدیات۔ باب ماجاء فی حکم ولی القتیل فی القصاص والعفو) [٨٣] قصاص میں یہودی قبائل کی ایک دوسرے پر برتری کا تصور :۔ مدینہ میں یہود کے تین قبائل آباد تھے۔ بنو قینقاع۔ بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ ان میں سے بنو نضیر اور بنو قریظہ کی آپس میں چپقلش رہتی تھی۔ بنو نضیر طاقتور اور مالدار تھے اور بنو قریظہ ان کی نسبت کافی کمزور تھے اسی وجہ سے ان کے درمیان رسم یہ چل نکلی تھی کہ اگر بنو قریظہ کے ہاتھوں بنو نضیر کا کوئی آدمی قتل ہوجاتا تو اس کے بدلے بنو نضیر بنو قریظہ سے دوگنا دیت وصول کرتے تھے جبکہ خود اس سے نصف دیتے تھے اس طرح وہ تورات کے دو حکموں کی خلاف ورزی کرتے ایک یہ کہ تورات میں قصاص کا قانون تو تھا لیکن دیت کا نہیں تھا۔ دوسرے بنو نضیر کے خون کی دیت بنو قریظہ کے خون کی دیت سے دوگنا تھی۔ ایک دفعہ بنو نضیر کا ایک آدمی بنو قریظہ کے کسی آدمی کے ہاتھوں قتل ہوگیا تو انہوں نے دوگنی دیت کا مطالبہ کردیا۔ بنو قریظہ نے جواب دیا کہ اب وہ وقت گئے جب تم ہم سے دگنی دیت وصول کیا کرتے تھے۔ اب ہم یہ مقدمہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عدالت میں پیش کریں گے۔ کیونکہ یہود آپ کو جھوٹا نبی کہنے کے باوجود یہ یقین رکھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں گے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم الٰہی کے مطابق برابر دیت کا فیصلہ دیا۔ [٨٤] قرآن کریم کے الفاظ ﴿فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ ﴾ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ اگر مجروح جارح کو معاف کر دے تو اس کا یہ معافی دینا اس کے اپنے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ اور دوسرا یہ کہ مجروح کا معافی دینا جارح کے جرم کا کفارہ بن جائے گا اور ان دونوں کو ملانے سے مطلب یہ نکل سکتا ہے کہ مجروح کا معاف کردینا جارح کے جرم کا بھی کفارہ بن جاتا ہے اور مجروح کے اپنے گناہوں کا بھی۔ المآئدہ
46 [٨٥] نئی الہامی کتاب کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟ یعنی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کوئی نیا دین لانے والے نبی نہ تھے۔ وہ خود زبانی بھی پہلی نازل شدہ کتابوں کی تصدیق کرتے تھے اور انجیل میں بھی یہ بات مذکور تھی۔ واضح رہے کہ بعد میں آنے والے نبی کا کام یہ ہوتا ہے کہ اس سے پہلی امت نے کتاب اللہ کی تفاسیر و شروح لکھ کر اس کے مفہوم و معانی میں جو تاویلیں کر کے اختلاف پیدا کرلیا ہے یا عقائد و عمل میں راہ حق سے بھٹک گئے ہیں، یا کتاب اللہ میں کچھ تحریف یا اضافے کرلیے ہیں۔ تو لوگوں کو ان تمام باتوں پر مطلع کر کے انہیں راہ حق پر لانے کی کوشش کرے اور اس کام کے لیے کسی بنیاد کا ہونا ضروری ہے اور وہ بنیاد منزل من اللہ کتاب ہی ہوتی ہے لہٰذا اس کے منزل من اللہ ہونے پر ایمان رکھنا ہر نبی اور اس کے متبعین کے لیے ضروری ہے چنانچہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان سے پہلے کے نبیوں اور امتوں نے تورات کی تصدیق کی اور مسلمان سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سمیت تمام سابقہ انبیاء کی اور تورات اور انجیل بلکہ سب آسمانی صحیفوں کی تصدیق کرتے ہیں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد نبی آخر الزماں تک کوئی نبی نہیں آیا اور نہ ہی انجیل کے بعد اور قرآن سے پہلے کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ انبیاء علاتی بھائی ہیں :۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں سب لوگوں سے زیادہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے (دنیا اور آخرت میں) تعلق رکھتا ہوں۔ انبیاء سب علاتی (ماں جائے) بھائی ہیں۔ جن کا باپ ایک (یعنی عقائد) اور مائیں (فروعی مسائل) جدا جدا ہیں۔ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی پیغمبر نہیں ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الانبیائ۔ باب قول اللہ ( وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ 16 ۝ ۙ) 19۔ مریم :16) المآئدہ
47 [٨٦] اللہ کے حکم کے مطابق نہ فیصلے کرنے والے کون ؟ اللہ کی طرف سے نازل شدہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے آیت نمبر ٤٤ کی رو سے کافر ہیں آیت نمبر ٤٥ کی رو سے ظالم اور آیت نمبر ٤٧ کی رو سے فاسق قرار دیئے گئے ہیں۔ اگرچہ ان آیات کے مخاطب یہود و نصاریٰ ہیں تاہم یہ حکم عام ہے اور مسلمانوں کو بھی شامل ہے اور ان تینوں آیات میں جو مختلف درجات بیان کیے گئے ہیں ان کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ احکام الٰہی کے خلاف فیصلہ کرنے والا فاسق بھی ہوتا ہے، ظالم بھی اور کافر بھی۔ کیونکہ یہ سب حق سے انحراف کے ہی درجات ہیں۔ یعنی ابتداء میں فاسق ہوتا ہے جب اس گناہ سے آگے بڑھ جائے تو ظالم اور جب اسے معمول بنا لے تو کافر ہوجاتا ہے اور دوسرا مطلب جرم کی شدت کی نوعیت کے اعتبار سے ہے جیسے یہود نے رجم کے حکم پر عمل نہ کیا پھر اسے چھپایا تو یہ کفر ہوا اور بنو نضیر نے بنو قریظہ سے دوگنی دیت لی تو یہ عدل و انصاف کے خلاف ہے پس یہ ظلم ہوا۔ اور اگر اس سے بھی کم تر درجہ کا گناہ ہوگا تو وہ فسق ہوگا اور کبھی جرم کی نوعیت اتنی شدید ہوتی ہے کہ مجرم ان تمام صفات کا حامل قرار پاتا ہے جیسے بنی اسرائیل کے بعدئی بادشاہ بت پرست تھے اور رعایا کو بھی اللہ کے بجائے اپنا حکم تسلیم کرواتے تھے۔ المآئدہ
48 [٨٧] قرآن سابقہ کتب پر مہیمن کیسے؟ مھیمن کے معنی ہیں محافظ اور نگران۔ حفاظت اور نگرانی کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ مھیمن سے مراد ایسی حفاظت اور نگرانی ہے جیسے ایک مرغی اپنے سب بچوں کو اپنے پروں کے نیچے سمیٹ لیتی ہے تاکہ کوئی پرندہ جیسے چیل وغیرہ ان پر حملہ آور نہ ہو سکے یا وہ اپنے بچوں کو سردی سے بچا سکے۔ یہاں قرآن کو باقی سب کتب سماوی پر مھیمن کہنے سے مراد یہ ہے کہ اس میں پہلے کی تمام کتب سماویہ کے مضامین آ گئے ہیں۔ نیز قرآن ان سب کتابوں کے لیے ایک کسوٹی کے معیار کا کام دیتا ہے وہ اس طرح کہ : ١۔ انجیل و تورات میں جو مضمون قرآن کے مطابق ہوگا وہ یقیناً اللہ ہی کا کلام ہوگا۔ ٢۔ اور جو مضمون قرآن کے خلاف ہوگا وہ ہرگز اللہ کا کلام نہیں ہو سکتا۔ وہ یقیناً لوگوں کا کلام ہے۔ جو کتاب اللہ میں شامل کردیا گیا ہے۔ جیسے موجودہ اناجیل میں عقیدہ تثلیث اور الوہیت مسیح اور کفارہ مسیح کے عقائد پائے جاتے ہیں اور بائیبل میں انبیاء کی توہین کے علاوہ کئی ایسے مضامین پائے جاتے ہیں جن سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کا کلام نہیں ہو سکتے۔ ٣۔ اور جو مضمون قرآن کے نہ مطابق ہو نہ مخالف اس کے متعلق مسلمانوں کو خاموش رہنے کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ نہ اس کی تصدیق کریں اور نہ تکذیب۔ [٨٨] شریعتوں کا فرق :۔ یعنی سب انبیاء اور ان کی امتوں کا دین تو ایک تھا لیکن شریعتیں الگ الگ تھیں۔ دین سے مراد بنیادی عقائد و نظریات ہیں مثلاً صرف اللہ کو ہی خالق و مالک اور رازق سمجھنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا اور صرف اسی اکیلے کی عبادت کرنا۔ اللہ اور اس کے رسولوں کی پوری طرح اطاعت کرنا اور آخرت کے دن پر اور اپنے کیے کی جزا و سزا بھگتنے پر ایمان لانا وغیرہ اور شریعت سے مراد وہ احکام ہیں جو اس دور کے تقاضوں کے مطابق دیئے جاتے رہے۔ مثلاً تمام امتوں کو نماز، زکوٰۃ اور روزہ کا حکم تھا۔ مگر نمازوں کی تعداد اور ترکیب نماز میں فرق تھا اسی طرح نصاب زکوٰۃ اور شرح زکوٰۃ میں بھی فرق تھا اور روزوں کی تعداد میں بھی۔ یا مثلاً آدم کی اولاد میں بہن بھائی کا نکاح جائز تھا اور یہ ایک اضطراری امر تھا۔ بعد میں حرام ہوگیا جب اس کی ضرورت نہ رہی۔ امت مسلمہ سے پہلے بیویوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہ تھی جیسا کہ سیدنا سلیمان کی سو بیویاں تھیں وغیرہ وغیرہ اور ایسے مسائل بے شمار ہیں اور زندگی کے ہر پہلو سے تعلق رکھتے ہیں۔ [٨٩] عقل صحیح کا تقاضا اور دنیا میں امتحان :۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے قوت تمیز، قوت ارادہ اور قوت اختیار دی ہی اس لیے ہے کہ یہ معلوم ہو سکے کہ انسانوں میں سے کون اللہ اور اس کے رسولوں کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتا ہے اور کون اس سے انحراف کرتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو انسان کو جاندار ہونے کے باوجود ان قوتوں سے نہ نوازتا تو انسان بھی اللہ اور اس کے رسولوں کی اطاعت پر اسی طرح مجبور و پابند ہوتا جس طرح کائنات کی دوسری اشیاء احکام الٰہی کے سامنے مجبور اور اس کی پابند ہیں۔ اس طرح کسی امت میں کبھی بھی کوئی اختلاف واقع نہ ہوتا۔ لیکن اس طرح تخلیق انسان، اسے دنیا میں بھیجنے اور دنیا کو دارالعمل اور دارالابتلاء بنانے کا مقصد پورا نہ ہوسکتا تھا لہٰذا اب انسان کا اصل کام یہ نہیں کہ ان قوتوں کا غلط استعمال کر کے اپنی خواہشات کے پیچھے پڑ کر احکام الٰہی سے انحراف کرے اور کتاب اللہ کی آیات کے مفہوم و معانی میں تاویل کر کے امت میں اختلاف کی راہ کھول دے اور اپنی اس آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے فرقہ بندیوں کی بنیاد رکھ دے بلکہ اس کا اصل کام یہ ہونا چاہیے کہ اس آزادی رائے، ارادہ اور اختیار کو احکام الٰہی کے تابع رکھتے ہوئے نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔ [٩٠] یعنی فرقہ پرستوں کے اختلافات ان کی اپنی ہٹ دھرمی اور باہمی ضد کی وجہ سے اس دنیا میں ختم نہیں ہو سکتے۔ ان کا آخری فیصلہ نہ مجالس مناظرہ میں ہوسکتا ہے اور نہ میدان جنگ میں۔ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ خود قیامت کے دن کر دے گا اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ جن جھگڑوں میں انہوں نے اپنی عمریں ضائع کردی تھیں ان میں حق کا پہلو کتنا تھا اور باطل کا کتنا ؟ المآئدہ
49 [٩١] حق کے لئے بہت بڑے فائدے سے دستبردار ہونا :۔ یہود کی آپس میں کسی مسئلہ میں نزاع کی صورت پیدا ہوگئی۔ ایک فریق میں ان کے بڑے بڑے علماء و مشائخ شامل تھے۔ یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے۔ آپ ہمارے اس نزاع کا فیصلہ کر دیجئے۔ پھر اگر آپ فیصلہ ہمارے حق میں کردیں تو ہم خود بھی اور اکثر یہود بھی ایمان لے آئیں گے کیونکہ یہود کی اکثریت ہمارے ہی زیر اثر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے رشوتی اسلام کو قبول نہ کیا اور ان کی خواہشات کی پیروی سے صاف انکار کردیا۔ اسی دوران یہ آیات نازل ہوئیں۔ (ابن کثیر) اللہ تعالیٰ نے اس دوران یہ آیت اس لیے نازل فرمائیں کہ کسی ایک فرد کا بھی اسلام لانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی محبوب تھا چہ جائیکہ یہود کی اکثریت کے ایمان لانے کی توقع ہو اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات ماننے کی طرف مائل ہوجائیں یعنی ایک بہت بڑے فائدے کے حصول کی خاطر ان کی بات مان لیں جس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق پرستی کی خاطر اگر ہمیں کسی بہت بڑے متوقع فائدہ سے دستبردار ہونا پڑے تو اس میں دریغ نہ کرنا چاہیے اور ہر قیمت پر حق پر ہی قائم رہنا چاہیے۔ المآئدہ
50 [٩٢] اسلام اور جاہلیت کا تقابل :۔ جاہلیت کا لفظ اسلام کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔ اسلام سراسر روشنی ہے جبکہ جاہلیت اندھیرے ہی اندھیرے ہیں اسلام ایسی روشنی اور ایسا علم ہے جو دنیاوی زندگی کے ہر پہلو میں بھی رہنمائی کرتا ہے اور اخروی زندگی میں نجات کی راہیں بھی دکھاتا ہے جبکہ جاہلیت اس دنیا میں بھی انسان کو سرگرداں اور پریشان حال بنائے رکھتی ہے اور آخرت میں عذاب الیم سے دو چار کر دے گی اسلام سے پہلے کے دور کو دور جاہلیت کہا جاتا ہے اور اس کا اطلاق ان تمام رسوم و رواج پر ہوتا ہے جن کی وجہ سے کسی انسان کی جان و مال اور آبرو محفوظ نہ تھی۔ ہر انسان دوسرے کا دشمن اور خون کا پیاسا تھا۔ کفر و شرک عام تھا۔ انسان کی زندگی اس قدر اجیرن بن چکی تھی کہ ہر عقلمند انسان اس سے نکلنے کی فکر میں تھا مگر اسے کوئی راہ نہ ملتی تھی اور دور جاہلیت کے فیصلہ سے مراد ہر وہ فیصلہ ہے جو بے انصافی پر مبنی ہو۔ آج کے دور پر بھی دور جاہلیت کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ آج کی نئی روشنی اسی پرانے دور جاہلیت سے ملتی جلتی ہے جس قسم کی فحاشی و بدکرداری اور بے حیائی اس دور میں پائی جاتی تھی آج بھی پائی جاتی ہے۔ المآئدہ
51 [٩٣] یہود ونصاریٰ سے دوستی کی ممانعت :۔ کفار سے ظاہری موالات، رواداری اور حسن سلوک (بالخصوص جبکہ وہ ذمی یا معاہد ہوں) اور چیز ہے اور انہیں قابل اعتماد دوست سمجھنا اور بنانا اور چیز ہے اس سلسلہ میں سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ٢٨ ﴿اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰیۃً﴾ کا حاشیہ بھی ملاحظہ کرلیا جائے۔ اس آیت میں بالخصوص یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ یہود اور نصاریٰ کے باہمی اختلاف گو شدید ہیں اور ان دونوں فرقوں میں گروہی اختلافات اور دشمنی بھی شدید ہے تاہم اسلام دشمنی کی خاطر وہ سب مل بیٹھتے ہیں اور سمجھوتہ کرلیتے ہیں لہٰذا ان میں سے کوئی بھی تمہارا حقیقی اور قابل اعتماد دوست کبھی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا تم بھی ان سے محبت کی پینگیں نہ بڑھاؤ اور نہ ہی دوستی کے قابل سمجھو۔ جب بھی انہیں موقع میسر آیا وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے اور اگر کوئی مسلمان ان سے دوستی رکھتا اور ان کی محبت کا دم بھرتا ہے تو وہ مسلمان نہیں اسے بھی انہیں میں کا ایک فرد سمجھو۔ ایسے لوگوں کو راہ راست نصیب نہیں ہو سکتی اور تمہیں ایسے لوگوں سے بھی محتاط رہنا چاہیے۔ المآئدہ
52 [٩٤] منافقوں کی یہود ونصاریٰ سے خفیہ سازباز کی وجہ :۔ یہود و نصاریٰ سے دلی دوستی رکھنے والے منافقین تھے جو بظاہر مسلمان تھے مگر ان کی دلی ہمدردیاں یہود و نصاریٰ اور کفار ہی کے ساتھ تھیں اور جنگ احد کے بعد ان کی ہمدردیوں میں کچھ اضافہ بھی ہوگیا تھا جنگ بدر کے بعد اگرچہ اسلام ایک قوت بن چکا تھا تاہم اسلام کو حقیقتاً غلبہ فتح مکہ کے بعد ہی حاصل ہوا۔ اس درمیانی عرصہ میں اسلام یا کفر میں سے کسی کے متعلق بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ ان میں سے کون سی قوت غالب ہوگی اور کونسی مغلوب؟ اب ظاہری صورت حال یہ تھی کہ یہود و نصاریٰ دونوں مسلمانوں کی نسبت بہت زیادہ مالدار تھے عرب کے سرسبز و شاداب خطے بھی انہیں کے قبضہ میں تھے یہودی سودی کاروبار بھی کرتے تھے اس لحاظ سے بھی لوگ ان کے محتاج تھے۔ غرض عرب کی معیشت پر دراصل یہی یہود و نصاریٰ ہی چھائے ہوئے تھے ان حالات میں منافق یہ سوچتے تھے کہ اگر مسلمان ہار گئے تو ہم تو کہیں کے نہ رہے لہٰذا وہ ان سے دوستی کرنا، دوستانہ مراسم رکھنا، خفیہ طور پر اسلام دشمن سازشوں میں ان کا ساتھ دینا، جنگ کے دوران ان سے مسلمانوں کے خلاف خفیہ معاہدے کرنا یہ سب ان کے خیال کے مطابق ان کی انتہائی اہم ضرورتیں تھیں۔ پھر دوسری طرف یہ بھی خطرہ تھا کہ کہیں اسلام ہی غالب نہ آجائے۔ لہٰذا بظاہر مسلمانوں کی جماعت میں شامل رہتے اور نماز ادا کرتے تھے۔ انہیں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ منافقین بھی حقیقتاً مسلمان نہیں بلکہ یہود و نصاریٰ ہی ہیں۔ [٩٤۔ الف] فتح مکہ پر قبائل عرب کی نظریں :۔ قرآن کریم نے اکثر مقامات پر الفتح سے مراد فتح مکہ لی ہے یعنی مشرکین عرب، یہود مدینہ، منافقین اور نصاریٰ وغیرہ سب سمجھتے تھے کہ عرب میں مسلمانوں اور قریش مکہ میں سے بالاتر قوت وہی سمجھی جا سکتی ہے جس کا مکہ اور بیت اللہ پر قبضہ ہو۔ قریش مکہ کی ثروت اور سیاسی قیادت کا سبب یہی کعبہ کی تولیت تھی اللہ تعالیٰ اس آیت میں منافقوں سے یہ خطاب فرما رہے ہیں کہ عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب مسلمانوں کو فتح مکہ سے ہمکنار کر دے اور اس فتح مکہ سے پہلے بھی ایسے حالات پیش آ سکتے ہیں جس میں منافقوں کے سب پول کھل جائیں اور وہ پوری طرح ننگے ہوجائیں اور نادم و شرمسار ہو کر رہ جائیں اور جو بات وہ دلوں میں چھپاتے تھے صرف یہ نہ تھی کہ پتہ نہیں کہ کس فریق کو غلبہ حاصل ہوتا ہے بلکہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے پورے اہل عرب کی مخالفت کے علی الرغم مکہ پر فتح حاصل کرلینا ناممکنات سے ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کافروں سے خفیہ ساز باز رکھتے اور اسے کسی قیمت پر چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ المآئدہ
53 [٩٥] اسلام کے غلبہ کا منافقوں پر اثر :۔ ان کی اسلام دشمن خفیہ حرکات سے جب مسلمانوں کو ان کے منافق ہونے کا شک ہونے لگتا ہے تو اللہ کی قسمیں کھا کھا کر مسلمانوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم تمہارے ہی ساتھ ہیں اور ان یہود سے جو ہماری بات چیت ہوتی ہے وہ محض رسمی اور مروت کے طور پر ہوتی ہے اور منافقوں کا دستور یہ تھا کہ ہر آڑے وقت میں مسلمانوں کو دغا دیا کرتے بلکہ بعد میں قسمیں کھانے لگتے اور اگر مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شامل نہ ہوتے تو بہانے تراشنے لگتے اور اپنے آپ کو سچا ظاہر کرنے کے لیے قسمیں کھانے لگتے۔ ان لوگوں کا دنیا میں تو یہ حشر ہوا کہ مسلمانوں کو بالآخر فتح نصیب ہوئی۔ مکہ فتح ہوا تو تمام قبائل عرب کو معلوم ہوگیا کہ اب اسلام ہی غالب قوت بن کر ابھر چکا ہے اور اب کفر اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس طرح منافقوں کی تمام امیدوں اور آرزوؤں پر اوس پڑگئی۔ مسلمانوں کے سامنے پہلے ہی ناقابل اعتماد ٹھہر چکے تھے لہٰذا حسرت و یاس کے سوا انہیں کچھ ہاتھ نہ آیا اور آخرت میں اس لحاظ سے خسارہ میں رہے کہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جو ارکان اسلام بجا لاتے رہے وہ سب ان کی منافقت کی وجہ سے ضائع ہوجائیں گے۔ کیونکہ انہوں نے یہ کام اللہ کی رضا کے لیے تو کیے ہی نہ تھے وہ تو مسلمانوں سے مفادات حاصل کرنے کے لیے کیے تھے اور وہ مفادات حاصل کرچکے۔ باقی جو مسلمانوں سے غداری کرتے رہے اس کے عوض انہیں دوزخ کے سب سے نچلے درجہ میں عذاب دیا جائے گا۔ المآئدہ
54 [٩٦] مرتدین کے متعلق پیشین گوئی :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی پیشین گوئی فرمائی ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو اکثر قبائل عرب نے یہ سمجھا کہ اسلام کو جتنی کامیابیاں اور کامرانیاں نصیب ہوئیں۔ اس کا باعث صرف رسول اللہ کی ذات تھی جن پر وحی کے ذریعہ ہر وقت مسلمانوں کے لیے حالات کے مطابق ہدایات نازل ہوتی رہتی تھیں۔ اب چونکہ آپ انتقال کرچکے ہیں۔ لہٰذا اب پھر کفر کو غلبہ نصیب ہوگا۔ اس خیال سے عرب کے بہت سے قبائل اسلام سے مرتد ہوگئے اور بعض کہنے لگے کہ اب زکوٰۃ ادا کرنے کا اور اسلام کی دوسری پابندیاں سہنے کا کیا فائدہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد مسلمانوں کو انتہائی نازک اور ہنگامی حالات سے دو چار ہونا پڑا۔ ایک تو مسلمانوں کو آپ کی وفات کا سخت صدمہ تھا دوسرے اسی حالت میں بہت سے قبائل مرتد ہوگئے تھے جن سے جہاد لازمی تھا۔ تیسرے بعض قبیلوں نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے سرے سے انکار کردیا تھا حالانکہ اس وقت جہاد کے لیے بہت زیادہ اخراجات کی ضرورت تھی۔ پھر لشکر اسامہ کی روانگی کا مسئلہ بھی تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں ترتیب دے چکے تھے۔ شامی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اس لشکر کی روانگی بھی ضروری تھی گویا مسلمان اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں طرح سے خطرات سے دوچار تھے اور سب سے بڑی مشکل یہ کہ فنڈز بھی موجود نہ تھے ان فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ تھا جس کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے لہٰذا اس کا ذکر ہم ذرا تفصیل سے کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں چند جاہ طلب مدعیان نبوت اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ جن میں سرفہرست مسیلمہ ہے جو یمنی قبیلہ بنو حنیفہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس قبیلہ کا ایک وفد ٩ ھ کو مدینہ آیا۔ اس وفد میں مسیلمہ سمیت سترہ آدمی تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لائے۔ مگر مسیلمہ جو اس وفد کا سردار تھا، اپنے کبر و نخوت کی وجہ سے کچھ دور دور ہی رہا۔ وہ کہتا تھا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بعد مجھے نبوت دینے کا وعدہ کریں تو میں ان کی پیروی کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ثابت بن قیس خطیب انصار کو ساتھ لے کر مسیلمہ کے سر پر جا کھڑے ہوئے۔ مسیلمہ نے اپنی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ اگر آپ چاتے ہیں کہ ہم حکومت کے معاملہ میں آپ کو آزاد چھوڑ دیں تو اپنے بعد اسے آپ ہمارے لیے طے فرما دیجئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ’’اگر تم مجھ سے اس معاملہ میں یہ چھڑی بھی مانگو تو میں نہیں دینے کا اور یاد رکھو تم اللہ کے فیصلے سے آگے نہیں جا سکتے اور تم نے پیٹھ پھیری تو اللہ تعالیٰ تمہیں توڑ کے رکھ دے گا۔ اور اللہ کی قسم! میں تو تجھے وہی آدمی سمجھتا ہوں جو مجھے خواب میں دکھلایا گیا ہے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھانے کا معاملہ قیس بن ثابت رضی اللہ عنہ کے سپرد کر کے خود واپس چلے آئے۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب وفد بنی حنیفۃ و حدیث ثمامۃ بن اثال ) سب سے پہلے مرتدین مسیلمہ کذاب اور اس کی امت :۔ واپس جا کر مسیلمہ اس معاملہ پر غور کرتا رہا۔ بالآخر اس نے خود نبوت کا دعویٰ کردیا اور کہا کہ مجھے کاروبار نبوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک کیا گیا ہے اس نے اپنی قوم کے لیے زنا اور شراب کو حلال کردیا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت بھی دیتا رہا یعنی اس نے بھی ظلی نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان مراعات سے قوم میں اس کی خوب قدر و منزلت ہوئی اور اسے یمامہ کا رحمان کہا جانے لگا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھا کہ ’’مجھے آپ کے ساتھ اس کام میں شریک کردیا گیا ہے آدھی حکومت ہمارے لیے ہے اور آدھی قریش کے لیے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب لکھا کہ ’’زمین اللہ کے لیے ہے جسے چاہتا ہے اسے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور انجام متقین کے لیے ہے۔‘‘ پھر مسیلمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دو قاصد ابن نواحہ اور ابن اثال بھی بھیجے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تھا ’’کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔‘‘ وہ کہنے لگے ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔ اگر قاصد کو قتل کرنا جائز ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کردیتا۔‘‘ (مسند احمد۔ بحوالہ مشکوٰۃ ج ٢ ص ٣٤٧) یہی مسیلمہ اور اس کو ماننے والوں کی سب سے پہلی مرتدین کی جماعت تھی۔ چنانچہ ربیع الاول ١١ ھ کے آغاز میں ان لوگوں پر فوج کشی کی گئی۔ بنو حنیفہ بڑے جنگجو اور دلیر لوگ تھے وہ بڑی بے جگری سے لڑے اور بڑے گھمسان کا رن پڑا۔ اگرچہ اس جنگ میں، جو جنگ یمامہ کے نام سے مشہور ہوئی، مسلمانوں کے بھی بہت سے قاری شہید ہوئے اور کافی جانی نقصان ہوا تاہم میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ مسیلمہ کذاب خود وحشی بن حرب کے ہاتھوں اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا۔ یہ وہی وحشی بن حرب ہے جس نے جنگ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا حمزہ کو حربے سے شہید کیا تھا۔ اس جنگ میں اس نے کفارہ کے طور پر اسی حربہ سے مسیلمہ کو قتل کیا۔ (بخاری کتاب المغازی۔ باب غزوہ احد) دوسرا مدعی نبوت اسود عنسی :۔ دوسرا مدعی نبوت اسود عنسی تھا۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں دو سونے کے کنگن ہیں اس بات سے مجھے فکر لاحق ہوگئی۔ پھر خواب میں ہی مجھے کہا گیا کہ ان پر پھونک مارو۔ میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں اڑ گئے۔ اس کی تعبیر یہی ہے کہ میرے بعد دو جھوٹے نبی نکلیں گے ان میں سے ایک اسود عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ کذاب یمامہ والا۔ (بخاری۔ کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام) اسود عنسی قبیلہ بنو مدلج کا سردار تھا اسے ذوالحمار بھی کہتے ہیں۔ جادوگر تھا۔ اس نے اطراف یمن پر قبضہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمال کو نکال دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور یمن کے رئیسوں کو اس کی سرکوبی کے لیے لکھا۔ آخر یہ شخص فیروز دیلمی کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اس کے قتل کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت دے دی تھی۔ اگرچہ یمن سے یہ خبر دو ماہ بعد آئی تھی۔ تیسرا مرتد قبیلہ بنو اسد تھے جن کے سردار طلیحہ بن خویلد نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس پر بھی لشکر کشی کی گئی اور وہ شکست کھا کر ملک شام کی طرف بھاگ گیا۔ بعدہ اس نے پھر سچے دل سے اسلام کو اختیار کرلیا۔ یہ تین قبائل تو وہ تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں ارتداد اختیار کیا تھا اور ان کی بروقت سرکوبی بھی کردی گئی تھی۔ عہد صدیقی میں مرتد ہونے والے قبائل :۔ سات قبیلے ایسے تھے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ارتداد اختیار کیا تھا : (١) فزارہ عیینہ ابن حصن کی قوم (٢) غطفان قرۃ بن سلمہ قشیری کی قوم (٣) بنو سلیم۔ فجارہ بن عبدیالیل کی قوم (٤) بنو یربوع مالک بن نویرہ کی قوم (٥) بنو تمیم کے بعض لوگ جو سجاح بنت منذر کے مرید ہوگئے اس عورت نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور مسیلمہ سے نکاح کرلیا تھا (٦) کندہ اشعث بن قیس کی قوم اور (٧) بحرین میں بنو بکر بن وائل، حطم بن زید کی قوم۔ لشکر اسامہ کی روانگی :۔ گویا وفات نبوی کے بعد ہنگامی طور پر مسلمانوں کے لیے تشویش ناک حالات پیدا ہوگئے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان حالات میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے لشکر اسامہ کی روانگی سے متعلق مشورہ کیا تو ایسے نازک حالات میں ساری شوریٰ لشکر اسامہ کی فوری روانگی کے خلاف تھی لیکن سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ساری شوریٰ کے علی الرغم اپنا دو ٹوک فیصلہ ان الفاظ میں فرمایا ’’اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جان ہے اگر مجھے یہ یقین ہو کہ درندے آ کر مجھے اچک لے جائیں گے تو بھی میں اسامہ کا لشکر ضرور بھیجوں گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اور اگر اس بستی میں میں اکیلا ہی رہ جاؤں تب بھی میں یہ لشکر ضرور بھیجوں گا۔‘‘ (طبری ج ٣ ص ٢٢٥) مانعین زکوٰۃ سے جہاد :۔ چنانچہ یہ لشکر بھیجا گیا جو چالیس دن کے بعد ظفریاب ہو کر واپس آ گیا۔ اب مانعین زکوٰۃ کے متعلق سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار کو بلا کر تمام صورت حال ان کے سامنے بیان کر کے ان سے مشورہ طلب کیا تو آپ کی تقریر سے مجمع پر سکتہ طاری ہوگیا۔ طویل خاموشی کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ’’اے خلیفہ رسول! میری رائے تو یہ ہے کہ آپ اس وقت نماز ادا کرنے کو ہی غنیمت سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ اسلام کو قوت دے گا تو پھر ان سے نمٹ لیں گے اس وقت تو ہم میں تمام عرب و عجم کے مقابلہ کی سکت نہیں۔‘‘ اس کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے بھی سیدنا عمر کی رائے کی تائید کی پھر سیدنا علی نے بھی اسی کی تائید کردی۔ پھر اس کے بعد تمام انصار و مہاجرین اسی رائے کی تائید میں یک زبان ہوگئے۔ آپ نے سیدنا عمر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ تم کفر کی حالت میں تو بہت جری اور دلیر تھے اب اسلام میں آ کر کمزوری دکھاتے ہو؟ پھر پوری شوریٰ سے خطاب کیا کہ اللہ کی قسم! میں برابر امر الٰہی پر قائم رہوں گا اور اس کی راہ میں جہاد کروں گا۔ جب تک یہ لوگ پوری کی پوری زکوٰۃ ادا نہ کریں جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکوٰۃ میں کوئی فرق نہیں کیا اس واقعہ کو امام بخاری نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آپ کی وفات ہوگئی اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے تو عرب کے کچھ قبائل کافر ہوگئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ان لوگوں سے کیسے لڑیں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہیں۔ پھر جس نے یہ شہادت دے دی اس نے اپنا مال اور اپنی جان مجھ سے بچا لیے الا یہ کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جس سے اس کے مال یا جان کا نقصان ہو اور اس کے باطن کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘ اس کے جواب میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا ’’اللہ کی قسم! میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا اس لیے کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے (جیسے نماز جسم کا) اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھے ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیں گے جو آپ کو دیا کرتے تھے تو میں ان سے ضرور لڑوں گا۔‘‘ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ’’اللہ کی قسم۔ اس کے بعد میں سمجھ گیا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دل میں جو لڑائی کا ارادہ ہوا ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کے دل میں ڈالا ہے اور میں پہچان گیا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے درست ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب استتابۃ المعاندین والمرتدین ) چنانچہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خود جہاد کو روانہ ہونے پر تیار ہوگئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ رائے دی کہ آپ کا مدینہ میں موجود رہنا جہاد پر روانہ ہونے سے زیادہ ضروری ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانعین زکوٰۃ اور مرتدین دونوں کی سرکوبی کے لیے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا کر روانہ کیا اور اس وقت تک جہاد کا کام جاری رکھا جب تک کہ مرتدین اور مانعین زکوٰۃ کو راہ راست پر نہیں لے آئے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اس وقت کے مسلمانوں سے تہدید کے طور پر فرماتا ہے کہ اللہ کے دین کی سربلندی کا انحصار تم پر ہی نہیں۔ اگر تم میں سے کوئی مرتد ہوجائے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو آگے لے آئے گا جن میں یہ اور یہ اوصاف ہوں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں اور آپ کی وفات کے بعد جو بے شمار قبائل مرتد ہوگئے تھے ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کون سے لوگ لایا تھا اور ان کا سردار کون تھا جس کے ہاتھ پر یہ وعدہ پورا ہوا ؟ اور جو لوگ تاریخ اسلام سے تھوڑے بہت بھی واقف ہیں وہ بے ساختہ کہہ دیں گے کہ ان مرتدوں کے مقابلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انصار و مہاجرین اور اہل یمن کے لوگ اٹھے تھے۔ جنہوں نے ان سب مرتد لوگوں کی سرکوبی کی تھی اور ان کے سردار اور خلیفہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ اب اس آیت سے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کی تصدیق ہوتی ہے اسی طرح سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت بھی برحق ثابت ہوتی ہے۔ شیعہ حضرات کا نظریہ ارتداد اور اس کا رد :۔ یہ تو تھی فتنہ ارتداد کی تاریخی حیثیت۔ اب شیعہ حضرات یہ کہتے ہیں کہ دراصل مرتدین کی سرکوبی کرنے والے گروہ کے سردار اور اس وعدہ کی تکمیل کے مہتمم سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے اور لوگوں کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا اور ان کا حق تلف کر کے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دینا اور سیدہ فاطمہ کو حق باغ فدک نہ دینا ہی اصل ارتداد ہے۔ چونکہ ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بجائے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا۔ لہٰذا وہ سب مرتد ہوگئے۔ اگر شیعہ حضرات کے اس نظریہ ارتداد کو درست تسلیم کیا جائے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے کی وجہ سے مرتد ہوگئے تھے تو کیا سیدنا علی نے ان کی سر کو بی کی تھی؟ نیز وہ کونسی قوم تھی جن کے ذریعہ اللہ نے ان مرتدوں کی سرکوبی کر کے اپنے وعدہ کو پورا کیا تھا ؟ نیز یہ کہ کیا اللہ کا یہ وعدہ پورا ہوا بھی تھا یا نہیں؟ یہ سوال ان حضرات کے اس نظریہ کی بھرپور تردید کرتے ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس ہوا یہ تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمیشہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس شوریٰ کے معزز رکن اور ان کے کاموں میں ان کے معاون و مددگار رہے۔ اور مرتدین پر چڑھائی کرنے میں ان کے ساتھ بدل و جان شریک رہے۔ رہا شیعہ حضرات کا یہ احتمال کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ دل سے شریک نہ تھے تو ایک تو یہ بات ﴿وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَاۗیِٕم﴾ کے خلاف ہے۔ دوسرے اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود بھی ارتداد کا یہی مطلب سمجھتے تھے تو کم از کم یہ تو کرسکتے تھے کہ خود ان کا ساتھ نہ دیتے اور ان کی مدد نہ کرتے۔ تیسرے یہ کہ ان کا آپس میں باہمی رشتوں کا لین دین بھی تاریخ سے ثابت ہے۔ یہ سب باتیں اس بات پر قوی دلیل ہیں کہ ارتداد سے مراد وہ نہیں جو شیعہ حضرات کہتے ہیں اور نہ ہی سیدنا علی نے اسے ارتداد قرار دیا ہے۔ [٩٧] مومنوں کے حق میں نرم دل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی قوت مسلمانوں کو دبانے، ستانے یا نقصان پہنچانے میں صرف نہیں ہوتی بلکہ وہ آپس میں نرم خو، رحم دل اور ایک دوسرے کے ہمدرد ہوتے ہیں اور کافر پر سخت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ایمان کی پختگی، دیانتداری میں خلوص اور اصول کی مضبوطی سیرت و کردار اور ایمانی فراست مخالفین اسلام کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان ثابت ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کافروں سے بدمزاجی اور درشتی سے پیش آتے ہیں یا انہیں گالیاں دیتے ہیں یا جب انہیں دیکھتے ہیں تو ان کے چہرہ پر غصہ اور نفرت کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ مومنوں کا دامن ایسے اخلاق رذیلہ سے پاک ہوتا ہے اور ایسے مومنوں کی چوتھی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ مخالفین کے طعن و تشنیع، ان کے اعتراضات اور ان کی پھبتیوں کی مطلق پروا نہیں کرتے اور جادہ حق پر پورے عزم و استقلال کے ساتھ گامزن رہتے ہیں۔ [٩٨] ارتداد کے فتنہ کو کچلنے والے :۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ فضل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس جماعت تک ہی محدود نہیں۔ بلکہ جب بھی کہیں ارتداد کا فتنہ کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے مرتدین کی سرکوبی کے لیے ایسے جاں نثار اور اسلام کے وفادار مسلمان کھڑے کردیتا ہے جو مرتدین سے علم اور قوت دونوں لحاظ سے بہتر ہوتے ہیں اور اس فتنہ کا زور توڑ کے رکھ دیتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ میں ایسے بے شمار فتنے پیدا ہوئے اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ ان فتنوں کی سرکوبی کے لیے اپنے بندے پیدا کرتا رہا اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ اور ایسے لوگوں میں بھی مندرجہ بالا صفات کسی نہ کسی درجہ میں ضرور پائی جاتی ہیں۔ اور یہ ارتداد کے فتنے بھی دو طرح کے ہوتے ہیں ایک سیاسی دوسرے تحریری۔ دونوں کا سر کچلنے کے لیے اللہ تعالیٰ مناسب لوگوں کو پیدا کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ اور ان کے لیے بشارت یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ اللہ کے محبوب ہوتے ہیں۔ المآئدہ
55 المآئدہ
56 [٩٩] غلبہ صرف سچے مومنوں کو ہوگا :۔ یعنی مسلمانوں کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ ان کے حقیقی خیر خواہ صرف وہ مسلمان ہی ہو سکتے ہیں جو سچے مسلمان ہیں۔ فتح مکہ سے پہلے مسلمانوں کی صورت حال یہ تھی کہ کفار کے مقابلہ میں تعداد میں کم تھے۔ ان کے معاشی حالات بھی کچھ اچھے نہ تھے۔ فتح خیبر میں اموال غنیمت میں بہت سے کھجوروں کے درخت مسلمانوں کے حصہ میں آئے تو یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کو سیر ہو کر کھانے کو کھجوریں ملیں اور مہاجروں نے انصار کے وہ کھجوروں کے درخت واپس کیے جن میں وہ محنت کرتے تھے اور عوضانہ کے طور پر نصف پیداوار لیا کرتے تھے۔ سیاسی حالات بھی کچھ ایسے تھے کہ تمام اہل عرب اس بات کے منتظر تھے کہ دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اسلام کو غلبہ نصیب ہوتا ہے یا کفر غالب آتا ہے؟ یہود، مشرکین، عیسائی، اور دیگر قبائل عرب سب نے مل کر مسلمانوں کو سخت پریشان کر رکھا تھا۔ ایسی صورت حال میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بطور تسلی یہ یقین دلا رہے ہیں کہ کفار سے دوستانہ مراسم رکھنے سے پوری طرح اجتناب کرو اور دوستی اور محبت صرف ان لوگوں سے رکھو جو اللہ سے ڈرنے والے اور اس کے احکام بجا لانے والے سچے مسلمان ہیں اور کامیابی اور غلبہ یقیناً تمہیں ہی حاصل ہوگا۔ [٩٩۔ الف] کافروں منافقوں اہل کتاب سب سے دوستی کی ممانعت :۔ اس آیت میں مکرر سہ کرر مسلمانوں کو اس بات کی تاکید اور تاکید مزید کی جا رہی ہے کہ اہل کتاب ہوں یا دوسرے کافر و مشرک ہوں، جو لوگ بھی اللہ کا، اللہ کے رسول کا، اللہ کی آیات کا اور اللہ کے دین کی دوسری باتوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان میں سے کسی سے کبھی دوستی نہ گانٹھو۔ ایسے لوگ کبھی تمہارے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ایسے لوگوں سے متعلق پہلے احکام گزر چکے ہیں کہ جہاں یہ لوگ ایسی مجلس لگائے ان خرافات میں مشغول ہوں وہاں تم ہرگز نہ بیٹھا کرو۔ الا یہ کہ تم میں اتنی قوت ہو کہ تم ان کو زور بازو یا دلیل کی قوت سے روکنے کی کوشش کرو۔ المآئدہ
57 المآئدہ
58 [١٠٠] اذان کا تمسخر اڑانے والے اور ابو محذورہ :۔ اذان مسلمانوں کے شعائر میں سے ایک شعار ہے جس میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اور یہ اعلان ہی دراصل تمام کافروں، خواہ وہ مشرکین ہوں یا یہود و نصاریٰ ہوں سب کے لیے دکھتی رگ تھا۔ کیونکہ مشرکین تو اللہ کے صرف اکیلے الٰہ ہونے کے ہی قائل نہ تھے دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول ماننے کو تیار نہ تھے۔ اس طرح یہود و نصاریٰ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نبی سمجھنے کو تیار نہ تھے اور یہی کلمات دراصل ان کے اور مسلمانوں کے درمیان باعث نزاع اور موجب جنگ بنے ہوئے تھے پھر دن میں جب پانچ بار بہ بانگ دہل انہیں کلمات کا اعلان کیا جاتا تو سیخ پا ہوجاتے اور اللہ کا، اس کے رسول کا اور مسلمانوں سب کا مذاق اڑاتے اور پھبتیاں کسنے لگتے تھے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ مدینہ میں ایک عیسائی تھا۔ جب وہ اشھد ان محمد رسول اللہ کے کلمات سنتا تو کہا کرتا۔ ''قَدْ حَرَقَ الکَاذِبُ'' (یعنی جھوٹا جل کر تباہ ہوا) بددعا کے یہ کلمات دراصل اس کے دل کی جلن کا مظہر تھے۔ اب اتفاق کی بات ہے کہ ایک رات ایک لڑکی اس کے گھر میں آگ لے کر آئی۔ وہ خود اور اس کے اہل خانہ سو رہے تھے۔ نادانستہ طور پر وہ آگ کی چنگاری اس کے ہاتھ سے گر گئی جس سے سارا گھر اور گھر والے بھی جل گئے۔ اس طرح اللہ نے اس کی بددعا کو اسی کے حق میں سچ کر دکھایا۔ اس کا قول سچا ہوگیا اور جو جھوٹا تھا واقعی جل گیا۔ نیز ایک اور واقعہ بھی صحیح روایات میں منقول ہے اور وہ یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس آ رہے تھے تو راستہ میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی۔ چند نوجوانوں نے اذان کے کلمات کی ہنسی اڑائی اور اس کی نقل اتارنے لگے۔ ان نوجوانوں میں ابو محذورہ بھی شامل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے پاس بلوایا اور اسلام کی دعوت پیش کی۔ ابو محذورہ کے دل میں اللہ نے اسلام ڈال دیا۔ خوش آواز تھے لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مکہ کا مؤذن مقرر فرما دیا۔ اس طرح اللہ کی قدرت سے نقل اصل بن گئی۔ (مسلم، ترمذی، نسائی، احمد، ابو داؤد بحوالہ سبل السلام۔ کتاب الصلٰوۃ۔ باب الاذان عن ابی محذورۃ ) المآئدہ
59 [١٠١] چاہئے تو یہ تھا کہ یہود نصاری مسلمانوں سے محبت رکھتے :۔ یہود کو مسلمانوں سے اور پیغمبر اسلام سے اصل میں تو یہ بیر تھا کہ نبی آخر الزماں ان یہود میں سے ہی کیوں مبعوث نہیں ہوا۔ یہ بات وہ علی الاعلان تو کہہ نہیں سکتے تھے اور اس کے بجائے اپنے دل کی جلن اور بھڑاس نکالنے کے لیے پیغمبر اسلام کو طرح طرح سے مطعون کرتے اور انہیں دکھ پہنچاتے رہتے تھے۔ ان کی اصل تکلیف کا بھی اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر جواب دیا ہے کہ نبوت کے تم اجارہ دار نہیں ہو کہ جتنی بھی بدعہدیاں تم کرتے جاؤ نبوت بہرحال تمہارے ہی خاندان میں رہے۔ نبوت تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے مناسب سمجھتا ہے دے دیتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر سے فرماتے ہیں کہ ان یہود سے بھلا پوچھو تو کہ آخر ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے جو مستقل طور پر ہم سے عداوت پر اتر آئے ہو۔ ہم تو تورات پر بھی ایمان لاتے ہیں اور انجیل پر بھی اور تمام انبیاء پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ اس لحاظ سے چاہیے تو یہ تھا کہ ہم تم سے عداوت رکھتے کیونکہ تم نہ قرآن پر ایمان لاتے ہو اور نہ مجھ پر۔ لیکن یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ المآئدہ
60 [١٠٢] یہود جو بندر اور سور بنائے گئے :۔ یعنی تمہارے اسلاف تم سے بھی گئے گزرے تھے۔ بارہا انہوں نے اللہ کی نافرمانیاں کیں جن کی وجہ سے اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہے پھر کچھ ایسے بدکردار بھی تھے جنہیں بندر اور سور بنا دیا گیا تھا اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے اللہ کے بجائے اللہ کی نافرمان طاقتوں کی فرمانبرداری کی اور ان کی وجہ سے بڑے بڑے جرائم کے مرتکب ہوئے تھے حتیٰ کہ انبیاء کو ناحق قتل کرتے اور کراتے رہے یعنی تمہاری اپنی بداعمالیوں کی تو حد نہیں اس پر مزید ڈھٹائی یہ کر رہے ہو کہ اگر کوئی دوسرا فریق اللہ پر ایمان لا کر سچی دینداری اور اچھے کردار ادا کرتا ہے تو ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑجاتے ہو۔ المآئدہ
61 [١٠٣] انہیں یہود میں سے کچھ لوگ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو وعظ و نصیحت سن کر ہاں میں ہاں ملا دیتے اور منافقانہ طور پر اپنے اسلام لانے کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ ان کا یہ کام بھی مسلمانوں سے مکر و فریب کرنے کے لیے ہوتا تھا۔ ایمان ایک منٹ کے لیے بھی ان کے دلوں میں داخل نہ ہوتا تھا جیسے کفر کو اپنے دلوں میں چھپائے آتے ویسے ہی کفر کو لیے ہوئے وہاں سے رخصت ہوتے تھے اور ان کی ہر چال سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مطلع فرما دیتا تھا۔ المآئدہ
62 المآئدہ
63 [١٠٤] پہلے یہود کے عوام کے اخلاقی تنزل کی حالت بیان کی گئی۔ اب ان کے خواص یعنی علماء و مشائخ کا حال بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ ان عوام کی کرتوتوں پر خاموش رہتے ہیں اور ان پر جو نھی عن المنکر کی ذمہ داری ہے اسے پورا نہیں کرتے (شریعت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت کے لیے (دیکھئے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ١٠٤ اور ١١٠) گویا یہود کے عوام و خواص سب ہی بہت برے کام کر رہے ہیں۔ المآئدہ
64 [١٠٥] یہود کا اللہ کو بخیل ہونے کا طعنہ دینا :۔ یہودی حرام خور بھی تھے اور سود خور بھی۔ اور سود خوری کی صفت یہ ہے کہ وہ انسان میں خود غرضی اور بخل پیدا کرتا ہے۔ اور ان میں بخل اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ جب انہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے یا قرض حسنہ دینے کو کہا جاتا تو طرح طرح کے بکواس شروع کردیتے۔ پہلے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ١٨١ میں گزر چکا ہے کہ جب ان سے قرض حسنہ دینے کو کہا گیا تو کہنے لگے کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ فقیر ہوگیا ہے اور ہم غنی ہیں تبھی تو وہ ہم سے قرض مانگتا ہے۔ اس آیت میں یہ مذکور ہے کہ جب یہود کی بدکرداریوں کی وجہ سے اللہ کی برکات اور نوازشات بند ہوگئیں تو کہنے لگے کہ اب اللہ بخیل بن گیا ہے جس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ بخیل تو تم خود ہو۔ پھر اوپر سے جو یہ بکواس کرتے ہو یہ تمہارا دوہرا جرم ہے اسی وجہ سے تو تم ملعون ہوئے۔ اللہ کے رویہ میں کچھ فرق نہیں پڑا۔ وہ تو دونوں ہاتھ سے ہر وقت خرچ کر رہا ہے۔ لیکن خرچ وہاں کرتا ہے جہاں چاہتا ہے۔ اس کے خرچ کا مصرف تم جیسے بدکردار لوگ نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کے دونوں ہاتھ بھرے ہوئے ہی رہتے ہیں۔ رات اور دن کا خرچ کرنا اس سے کچھ بھی کم نہیں کرتا۔ بھلا دیکھو۔ آسمان اور زمین کی پیدائش سے لے کر آج تک وہ کتنا خرچ کرچکا ہے لیکن اس خرچ نے جو اس کے ہاتھ میں ہے اسے کم نہیں کیا۔‘‘ (بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ (لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ 75؀) 38۔ ص :75) [١٠٦] قرآن سے گمراہ کون ہوتے ہیں :۔ یعنی جس طرح کسی لاعلاج مریض کو صالح غذائیں بھی راس نہیں آتیں بلکہ بعض دفعہ اس کی بیماری میں اضافہ ہوجاتا ہے اسی طرح ان کی اخلاقی حالت اس قدر پست ہوچکی ہے اور قلبی امراض اس قدر پیچیدہ ہوچکے ہیں کہ انہیں قرآن کی نصیحت آموز باتیں راس نہیں آتیں بلکہ ان کی سرکشی اور کفر میں مزید اضافہ کا باعث بن جاتی ہیں۔ جب قرآن ان کی کسی شرارت پر مسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے کہ ان سے ہوشیار رہیں تو وہ ایسی باتوں سے نصیحت قبول کرنے کی بجائے مزید سیخ پا ہو کر پہلے سے بدتر شرارتیں سوچنے لگتے ہیں۔ [١٠٧] یہود اور نصاریٰ دونوں کی آپس میں ایسی دشمنی ہے جو تاقیامت چلتی رہے گی۔ اسی طرح ہر گروہ کے اپنے اپنے فرقوں میں بھی اختلاف، بغض اور عداوتیں ہیں۔ اگرچہ یہ مسلمانوں کے خلاف متحد ہوجاتے ہیں تاہم ان کی آپس کی پھوٹ انہیں کامیاب نہیں ہونے دے گی اور بالآخر مسلمانوں سے مات کھا جائیں گے۔ [١٠٨] شماس یہودی کا فتنہ جنگ بھڑکانا :۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ جب جنگ بدر میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی تو منافقوں کے علاوہ یہود کے بھی تن بدن میں آگ لگ گئی۔ ایک بوڑھے یہودی شماس نے چند یہودی نوجوانوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ جہاں کہیں اوس و خزرج کے لوگ مل کر مجلس جمائے بیٹھے ہوں تو وہاں جا کر جنگ بعاث کے متعلق فریقین کے کہے ہوئے اشعار پڑھنا۔ چنانچہ جب ان کے کسی نوجوان یہودی نے ایسی مجلس میں یہ اشعار پڑھے تو اوس و خزرج دونوں کی قبائلی عصبیت عود کر آئی اور وہ پھر سے بپھر اٹھے اور لڑنے کو تیار ہوگئے۔ لڑائی کا میدان طے پا گیا اور لوگ ہتھیار بند ہو کر وہاں جمع ہونے لگے۔ قریب تھا کہ سب انصار ایک خوفناک جنگ کی زد میں آ جاتے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوگئی۔ آپ فوراً موقع پر پہنچ گئے اور فرمایا۔ ’’میری موجودگی میں ایسی جاہلیت کی باتیں؟‘‘ اس پر انصار چونک اٹھے اور فوراً احساس ہوگیا کہ وہ شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تھے۔ پھر وہ آپس میں گلے مل کر رونے لگے اور یہود تو ایسی فتنہ انگیزیوں پر بروقت آمادہ رہتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی ایسی کوششیں بار آور نہ ہونے پاتی تھیں۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی لگائی ہوئی آگ کو فوراً بجھا دیتا تھا۔ [١٠٩] یعنی جو کچھ وہ سوچتے ہیں یا کہتے ہیں یا کرتے ہیں سب کچھ فتنہ و فساد برپا کرنے کی غرض سے کرتے ہیں ان کی چند فساد انگیزیاں درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے : ١۔ یہود کی فتنہ انگیزی زہریلی بکری سے دعوت :۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’جب خیبر فتح ہوا تو آپ کی خدمت میں بکری کا گوشت بطور ہدیہ پیش کیا گیا۔ جس میں زہر ملایا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہاں جتنے یہودی ہیں سب کو جمع کرو۔ جب انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا ’’کیا تم نے اس بکری کے گوشت میں زہر ملایا تھا ؟‘‘ وہ کہنے لگے 'ہاں' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’تمہیں اس کام پر کس بات نے آمادہ کیا ؟‘‘ وہ کہنے لگے ’’ہم چاہتے تھے کہ اگر آپ جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر آپ سچے نبی ہیں تو زہر آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الطب۔ باب مایذکر فی سم النبی ) ٢۔ یہود کا قتل ناحق اور قسامت :۔ سہل بن ابی حثمہ کہتے ہیں کہ تین آدمی (عبدالرحمن، حویصہ اور محیصہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : یا رسول اللہ ! ہم خیبر کی طرف گئے تھے وہاں ہم نے اپنے ایک آدمی (عبداللہ بن سہل) کو مقتول پایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بڑی عمر والے کو بات کرنے دو۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کیا تمہارے پاس گواہ ہیں جنہوں نے قاتل کو قتل کرتے دیکھا ہو؟‘‘ انہوں نے کہا ’’گواہ تو کوئی نہیں‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’پھر یہودی (پچاس) قسمیں کھائیں گے۔‘‘ وہ کہنے لگے ’’ہم یہود کی قسموں پر راضی نہیں‘‘ اور ابو قلابہ کی روایت میں یہ زیادہ ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا ’’تم پچاس آدمی قسمیں کھاتے ہو کہ واقعی ہمارے ساتھی کو یہود نے قتل کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا ’’ہم تو ایسی قسمیں نہیں کھا سکتے‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا کہ عبداللہ بن سہل کا خون رائیگاں جائے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے دیت کے سو اونٹ اس کے وارثوں کو دلوا دیئے۔ (بخاری۔ کتاب الدیات۔ باب القسامۃ) ان احادیث سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ یہودی اس قدر فتنہ پرداز تھے کہ پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو گزند پہنچانے حتیٰ کہ مار ڈالنے میں کس قدر سرگرم اور موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ نیز اپنی بدعہدیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی نظروں میں اس قدر ناقابل اعتماد بن چکے تھے کہ مسلمان ان کے پچاس آدمیوں کی قسموں پر بھی اعتبار نہیں کرتے تھے۔ المآئدہ
65 [١١٠] یعنی ان کی بھلائی اس بات میں تھی کہ ایسی شرارتیں اور فتنہ و فساد بپا کرنے والے کام چھوڑ کر ایمان لے آتے تو انہیں دوہرا اجر ملتا جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ ’’اہل کتاب سے جو شخص ایمان لائے اس کو دوہرا اجر ملے گا ایک اپنے نبی اور کتاب پر ایمان لانے کا اور دوسرا مجھ پر اور قرآن پر ایمان لانے کا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب العتق۔ باب، فضل من ادب جاریتہ و علمھا ) المآئدہ
66 [١١١] اچھے اور برے اعمال کے اثرات دل اور فضاؤں پر میں :۔ اگرچہ یہ خطاب بظاہر اہل کتاب کو ہے جس میں یہود و عیسائی مخاطب ہیں تاہم یہ حکم عام ہے یعنی کوئی بھی امت جو کتاب اللہ پر سچے دل سے پوری دیانتداری اور ایمانداری کے ساتھ عمل پیرا ہوگی اس پر اوپر سے ابر رحمت برسے گا، نیچے زمین سے پھل اور میوے بکثرت پیدا ہوں گے۔ ارضی اور سماوی برکات نازل ہوں گی۔ آفات دور ہوں گی۔ سب کو فراخی سے رزق ملے گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حدود اللہ میں سے ایک حد قائم کرنے سے اتنی رحمت اور برکتیں نازل ہوتی ہیں جیسے چالیس دن بارش سے نازل ہوتی ہیں اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری اور نیک اعمال کا ایک نتیجہ تو انسان کے دل پر مرتب ہوتا ہے جس سے اس کا دل سلیم اور مطمئن اور صابر و شاکر بن جاتا ہے اور انہی اعمال کا دوسرا نتیجہ کائنات کی فضاؤں میں مرتب ہوتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی نافرمانی، سرکشی اور کفر کا ایک نتیجہ انسان کے دل پر مرتب ہوتا ہے جس سے ایسے انسان کا دل شقی، سیاہ اور پریشان حال بن جاتا ہے اور دوسرا نتیجہ فضاؤں میں مرتب ہوتا ہے جس سے ایسے لوگوں پر لعنت برستی ہے اور مصائب نازل ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ فضائی اثرات انفرادی طور پر بھی مرتب ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی۔ پھر جب کسی قوم کا ڈول گناہوں سے بھر جاتا ہے تو وہی وقت ہوتا ہے جب ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے۔ المآئدہ
67 [١١٢] تمام رسولوں کی چار اہم ذمہ داریوں کا ذکر قرآن کریم میں متعدد بار آیا ہے۔ ان میں سب سے پہلی اور اہم ذمہ داری تبلیغ رسالت ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ توجہ اس طرف دی ہے۔ کفار کی ایذا رسانیوں کو سہہ سہہ کر اور پر مشقت سفر کر کرکے آپ انفرادی اور اجتماعی طور پر لوگوں سے ملتے اور انکے کڑے کسیلے جواب سننے کے باوجودآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری ذمہ داری سے یہ فریضہ انجام دیا۔ پھر زندگی کے آخری دور میں تین مختلف اوقات میں ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مجمع میں ان سے گواہی لی۔ کہ آیا میں نے تبلیغ رسالت کا پیغام تمہیں پہنچا دیا ؟ پھر جب انھوں نے اثبات میں جواب دیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند فرمایا ’’ یا اللہ گواہ رہنا ‘‘۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تاکیداً فرمایا کہ وہ ان لوگوں کو رسالت کا پیغام پہنچا دیں جن تک یہ پیغام نہیں پہنچا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ ١۔ تبلیغ رسالت کا فریضہ :۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) خطبہ دینے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’تم سے میرے بارے میں سوال کیا جائے گا تو تم کیا کہو گے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا’’ہم گواہی دیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور (حق تبلیغ) ادا کردیا اور خوب نصیحت و خیر خواہی کی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار فرمایا ’’اے اللہ ! گواہ رہنا۔‘‘ (مسلم کتاب الحج۔ باب حجۃ النبی ) ٢۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ سن لو! تم میں سے جو لوگ موجود ہیں وہ ان لوگوں کو (اس خطبہ کے ارشادات) پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں۔ (بخاری۔ کتاب العلم۔ باب لیبلغ العلم الشاھد الغائب) کیونکہ حاضر شاید ایسے غیر موجود شخص کو خبر دے جو اس بات کو اس سے زیادہ یاد رکھنے والا ہو۔ (بخاری۔ کتاب العلم۔ باب قول النبی رب مبلغ اوعی من سامع ) ٣۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (ایک دفعہ نماز کسوف کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا ’’یہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ انہیں نہ کسی کی موت کی وجہ سے گہن لگتا ہے اور نہ کسی کی پیدائش کی وجہ سے۔‘‘ (خطبہ ختم کرنے کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر فرمایا ’’اے اللہ ! میں نے یقیناً تیرا پیغام پہنچا دیا۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الکسوف پہلی حدیث) ہوا یہ تھا کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تھا اسی دن سورج کو بھی اتفاق سے گہن لگ گیا۔ قدیم عرب کا اعتقاد تھا کہ چاند گرہن اور سورج گرہن کسی بڑے آدمی کی موت سے لگا کرتا ہے۔ اس واقعہ پر کچھ مسلمان بھی یہ کہنے لگے کہ سورج ابراہیم کی موت کی وجہ سے گہنا گیا اور یہ دن ٢٩ شوال ١٠ ھ روز دو شنبہ بمطابق ٢٧ جنوری ٦٣٢ ء کا دن تھا۔ جب سورج کو گہن لگنا شروع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو دو رکعت طویل نماز پڑھائی جس میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔ اور صحابہ کو حکم دیا کہ جب سورج کو گرہن یا چاند گرہن لگے تو نماز پڑھا کرو۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل خطبہ دیا جس میں اس جاہلی عقیدہ کا بھرپور رد کیا کہ سورج اور چاند تو اللہ کی نشانیاں ہیں۔ کسی بھی شخص کی موت یا زندگی سے انہیں گرہن نہیں لگا کرتا۔ طویل خطبہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطب کر کے پوچھا کہ آیا میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا ؟ صحابہ نے اثبات میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھا کر فرمایا۔ اے اللہ ! گواہ رہنا۔ میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔ (بخاری۔ ابو اب الکسوف، مسلم۔ کتاب الکسوف) ٤۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں اپنے سر سے کپڑا ہٹایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی (اس حال میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ الفاظ دہرائے ’’اے اللہ ! یقیناً میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔‘‘ (مسلم کتاب الصلٰوۃ۔ باب نہی عن قراءۃ القرآن فی الرکوع والسجود ) اور تبلیغ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس بات کو زیادہ تر ملحوظ رکھتے تھے وہ درج ذیل احادیث سے ظاہر ہے : ٥۔ وعظ کے آداب :۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نصیحت کرنے کے لیے وقت اور موقع کی رعایت فرماتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو برا سمجھتے کہ ہم اکتا جائیں۔ (بخاری۔ کتاب العلم۔ باب ماکان النبی یتخولھم بالموعظۃ والعلم کی لاینفروا ) ٦۔ ابو وائل کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کو لوگوں کو وعظ کرتے۔ ایک شخص نے ان سے کہا۔ ’’ابو عبدالرحمن! میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں ہر روز وعظ سنایا کریں۔‘‘ انہوں نے کہا ’’یہ میں اس لیے نہیں کرتا کہ تمہیں اکتا دینا مجھے اچھا معلوم نہیں ہوتا اور میں وقت اور موقع دیکھ کر تمہیں وعظ سناتا ہوں جیسے رسول اللہ ہمارا وقت اور موقع دیکھ کر ہمیں نصیحت فرماتے تھے آپ کو یہی ڈر تھا کہ ہم اکتا نہ جائیں۔‘‘ (بخاری۔ کتاب العلم۔ باب ماکان النبی یتخولھم، بالموعظہ والعلم کی لاینفروا) مردوں کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے لئے کبھی کبھی بالخصوص الگ اہتمام فرماتے تھے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے : ٧۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (عیدالفطر کا خطبہ دے کر) مردوں کی صف سے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ شاید عورتوں تک میری آواز نہیں پہنچی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو نصیحت کی اور انہیں خیرات کرنے کا حکم دیا۔ کوئی عورت اپنی بالی پھینکنے لگی، کوئی انگوٹھی اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنے کپڑے کے کونے میں یہ (صدقہ) لینا شروع کیا۔ (بخاری۔ کتاب العلم۔ باب عظۃ الامام النساء وتعلیمھن ) ٨۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مرد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں ہم پر غالب ہوئے۔ لہٰذا آپ خود ہمارے لیے ایک دن مقرر کر دیجئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وعدہ فرما لیا۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وعظ فرمایا اور انہیں احکام شرع بتائے اور احکام میں سے ایک یہ بھی تھا جس عورت کے تین چھوٹے بچے فوت ہوجائیں (اور وہ صبر کرے) تو وہ ان کے لیے دوزخ سے آڑ بن جائیں گے کسی عورت نے کہا ’’اور اگر دو ہوں تو ؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اور دو بھی‘‘ (بخاری۔ کتاب العلم۔ ھل یجعل للنساء یوما علی حدۃ فی العلم ) [١١٣] نبی اور رسول میں فرق :۔ علماء نے ایک نبی اور ایک رسول میں جو فرق بیان کیے ہیں وہ یہ ہیں : (١) آنے والے رسول کی بشارت پہلے ہی کتاب اللہ میں دے دی جاتی ہے جبکہ نبی کے لیے یہ بات ضروری نہیں ہوتی۔ (٢) رسول پر اللہ کی کتاب یا صحیفے نازل ہوتے ہیں اور وہ الگ سے اپنی امت تشکیل دیتا ہے جبکہ نبی اپنے سے پہلی کتاب ہی کی اتباع کرتا اور کرواتا ہے۔ (٣) رسول کی جان کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ خود لے لیتا ہے جبکہ انبیاء ناحق بھی سرکش کافروں کے ہاتھوں قتل ہوتے رہے۔ اور رسول اللہ چونکہ تمام دنیا کے لیے اور قیامت تک کے لیے رسول ہیں۔ لہٰذا دوسروں کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمہ داری بھی زیادہ تھی۔ اسی لیے بطور خاص اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان دلایا۔ یہ آیت جنگ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے بہت بعد نازل ہوئی۔ اس سے پہلے بعض دفعہ ایسے ہنگامی حالات پیش آ جاتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہرہ کے بغیر رات کو سو بھی نہ سکتے تھے۔ اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کبھی پہرہ نہیں بٹھایا۔ تبلیغ رسالت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان کا کس قدر خطرہ تھا ؟ اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش مکہ، یہود اور منافقوں کی طرف سے تقریباً سترہ بار قاتلانہ حملے ہوئے اور ہر بار اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی اور ایسے کافروں کو ذلیل و رسوا کیا۔ ان حملوں کا اجمالی ذکر درج ذیل ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نبوت ٢٣ سال ہے۔ ابتدائی تین سال تو انتہائی خفیہ تبلیغ کے ہیں۔ باقی بیس سال کے عرصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سترہ بار قاتلانہ حملے یا آپ کو قتل کردینے کی سازشیں تیار ہوئیں۔ ان میں سے ٩ حملے تو قریش مکہ کی طرف سے ہوئے، تین یہود سے، تین بدوی قبائل سے ایک منافقین سے اور ایک شاہ ایران خسرو پرویز سے اور غالباً اس دنیا میں کسی بھی دوسرے شخص پر اتنی بار قاتلانہ حملے نہیں ہوئے اور ہر بار اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی مطلع کر کے یا مدد کر کے آپ کو دشمنوں سے بچا کر اپنا وعدہ پورا کردیا۔ اب ہم ان قاتلانہ حملوں کے واقعات کو زمانی ترتیب کے ساتھ مختصراً ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔ ١۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان بچانے والے کی شہادت : کوہ صفا پر اپنے اقربین کو دعوت دینے کے بعد جب آیت﴿فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ﴾نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم کعبہ میں جا کر توحید کا اعلان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اعلان مشرکین مکہ کی سب سے بڑی توہین کے مترادف تھا۔ چنانچہ دفعتاً ایک ہنگامہ بپا ہوگیا اور ہر طرف سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پل پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب (سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پہلے خاوند سے بیٹے) حارث بن ابی ہالہ گھر میں موجود تھے انہیں خبر ہوئی تو دوڑتے ہوئے آئے اور آپ کو بچانا چاہا۔ اب ہر طرف سے ان پر تلواریں پڑنے لگیں اور وہ شہید ہوگئے۔ اسلام کی راہ میں یہ پہلا خون تھا جو بہایا گیا۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ ذکر حارث بن ابی ہالہ بحوالہ سیرت النبی ج ١ ص ٣١٤) ٢۔ ابو جہل کا ارادہ قتل : ایک دن ابو جہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا ’’میں نے اللہ سے یہ عہد کر رکھا ہے کہ کسی وقت جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں جائیں تو بھاری پتھر سے ان کا سر کچل دوں تاکہ یہ روز روز کا جھگڑا ختم ہو۔ اس کے بعد چاہے تو تم لوگ مجھے بالکل بےیار و مددگار چھوڑ دو کہ بنو عبد مناف مجھ سے جیسا چاہے سلوک کریں اور چاہے تو میری حفاظت کرو۔ ‘‘ اس کے ساتھیوں نے کہا ’’واللہ ! تمہیں بےیارومددگار نہ چھوڑیں گے۔ لہٰذا تمہارا جو جی چاہے کر گزرو۔ ‘‘ اس تجویز کے مطابق ابو جہل ایک بھاری پتھر لے کر کعبہ میں پہنچا اور مناسب موقع کا انتظار کرنے لگا۔ چنانچہ جب آپ سجدہ میں گئے تو ابو جہل پتھر لے کر آپ کے قریب پہنچا مگر یکدم خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹنے لگا اس کا رنگ اڑا ہوا تھا اور پتھر کو بھی مشکل سے نیچے رکھ سکا۔ اس کے ساتھی بڑے متعجب تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا ’’ابو الحکم! یہ کیا ماجرا ہے؟‘‘ وہ کہنے لگا ’’میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بڑھ رہا تھا تو ایک مہیب شکل کا اونٹ مجھے نظر آیا۔ بخدا میں نے کسی اونٹ کی ایسی ڈراؤنی کھوپڑی، گردن اور ایسے ڈراؤنے دانت کبھی نہیں دیکھے۔ وہ اونٹ مجھے کھا جانا چاہتا تھا اور میں نے مشکل سے پیچھے ہٹ کر اپنی جان بچائی تھی۔‘‘ (ابن ہشام ١ : ٢٩٨-٢٩٩ بحوالہ الرحیق المختوم ص ١٥١) ٣۔ عقبہ بن ابی معیط کا ارادہ قتل : عقبہ ہر وقت اس تاک میں رہتا تھا کہ آپ کا گلا گھونٹ کر آپ کا کام تمام کر دے۔ اور ایسا موقع مشرکین کو اس وقت میسر آتا تھا جب آپ کعبہ میں نماز ادا کر رہے ہوتے تھے۔ چنانچہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ’’مشرکین مکہ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے سخت ایذا پہنچائی وہ کیا تھی؟‘‘ تو انہوں نے اپنا چشم دید واقعہ یوں بیان کیا کہ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں نماز ادا کر رہے تھے۔ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اپنی چادر آپ کے گلے میں ڈال کر اسے اس قدر بل دیئے کہ آپ کا گلا گھٹنا شروع ہوگیا۔ آنکھیں باہر نکل آئیں اور قریب تھا کہ آپ کا کام تمام ہوجاتا۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آن پہنچے۔ انہوں نے زور سے عقبہ کو پرے دھکیل کر آپ کو چھڑایا اور فرمایا’’کیا تم اس شخص کو صرف اس لیے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے۔ حالانکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف واضح نشانیاں بھی لے کر آیا ہے؟‘‘(٤٠: ٢٨) (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب فضل ابی بکر بعدالنبی کتاب التفسیر سورۃ مومن) اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی روایت میں مزید تفصیل یہ ہے کہ جب عقبہ نے آپ کی گردن میں چادر ڈال کر زور سے گھونٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چیخ نکل گئی کہ ’’اپنے ساتھی کو بچاؤ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چیخ سن کر ہی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے آئے تھے اور جب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عقبہ کو دھکیل کر پرے ہٹا دیا تو مشرکین سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر حملہ آور ہوئے اور جب وہ واپس لوٹے تو ان کی اپنی یہ کیفیت تھی کہ ہم ان کی چوٹی کا جو بال بھی چھوتے تھے وہ ہماری چٹکی کے ساتھ چلا آتا تھا۔ (مختصر سیرۃ الرسول ص ١٣ بحوالہ الرحیق المختوم ٨ ص ١٥٣) ٤۔ سیدنا عمر کا اسلام لانے سے قبل آپ کو قتل کرنے کا ارادہ : ایک دفعہ مشرکین مکہ کعبہ میں بیٹھ کر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی افتاد سے نجات حاصل کرنے کے سلسلہ میں غور و فکر کر رہے تھے۔ سیدنا عمر جوش میں آ کر کہنے لگے کہ میں ابھی جا کر یہ جھنجھٹ ختم کیے دیتا ہوں اور ننگی تلوار لے کر اس ارادہ سے نکل کھڑے ہوئے راہ میں ایک مسلمان نعیم بن عبداللہ ملے اور پوچھا ’’عمر! آج کیا ارادے ہیں؟‘‘ کہنے لگے ’’تمہارے پیغمبر کا کام تمام کرنے جارہا ہوں‘‘ نعیم رضی اللہ عنہ کہنے لگے ’’پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو۔ تمہاری بہن اور بہنوئی دونوں مسلمان ہوچکے ہیں۔‘‘ سیدنا عمر نے اسی غصہ کی حالت میں ان کے گھر کا رخ کیا۔ دروازہ بند تھا۔ اندر سے قرآن پڑھنے کی آواز آ رہی تھی اور خباب بن الارت رضی اللہ عنہ انہیں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے۔ سیدنا عمر نے زور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ انہوں نے دروازہ کھولا تو سیدنا عمر نے اپنے بہنوئی کو بے تحاشہ پیٹنا شروع کردیا۔ ان کی بہن فاطمہ آڑے آئیں تو انہیں بھی لہولہان کردیا۔ فاطمہ کہنے لگیں ’’عمر! تم ہمیں مار بھی ڈالو تب بھی ہم اسلام کو چھوڑ نہیں سکتے۔‘‘ بہن کی اس بات پر آپ کا دل پسیج گیا۔ کہنے لگے اچھا مجھے بھی یہ کلام سناؤ۔ قرآن نے مزید دل کو متاثر کیا اور آپ کے دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ وہاں سے اٹھے اور سیدھے دارارقم کی طرف ہو لیے۔ تلوار اسی طرح ہاتھ میں تھی مگر اب ارادہ یکسر بدل چکا تھا۔ دارارقم پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ مسلمانوں نے دراڑ سے دیکھا کہ عمر ننگی تلوار لیے دروازہ پر کھڑے ہیں۔ مسلمان سہم سے گئے۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے کہنے لگے، دروازہ کھول دو۔ اگر عمر کسی برے ارادہ سے آیا ہے تو اسی کی تلوار سے اس کا سر قلم کر دوں گا۔ دروازہ کھولا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود آگے بڑھے اور عمر کا دامن کھینچ کر پوچھا’’عمر کس ارادہ سے آئے ہو؟‘‘ سیدنا عمر نے بڑے ادب سے کہا ’’اسلام لانے کے لیے حاضر ہوا ہوں‘‘ چنانچہ سب کے سامنے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا جس پر سب مسلمانوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ گویا سیدنا عمر کا ارادہ قتل ہی آپ کے اسلام لانے کا سبب بن گیا۔ (سیرۃ النبی شبلی نعمانی ج ١ ص ٢٢٨ بحوالہ طبقات ابن سعد و ابن عساکر و کامل لابن الاثیر) ٥۔ قتل کے ارادہ سے ابو طالب سے سودا بازی : جب قریشی سرداروں کو یقین ہوگیا کہ ابو طالب اپنے بھتیجے کی حمایت سے کسی صورت بھی دستبردار ہونے کو تیار نہیں تو انہوں نے ایک نہایت گھناؤنی سازش سے ابو طالب کو فریب دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سکیم تیار کی۔ چند قریشی سردار مکہ کے رئیس اعظم ولید بن مغیرہ کے بیٹے عمارہ کو ہمراہ لے کر ابو طالب کے پاس آئے اور کہا’’یہ قریش کا سب سے بانکا اور خوبصورت نوجوان ہے آپ اسے اپنی کفالت میں لے لیں اور اپنا متبنیٰ بنا لیں۔ اس کی دیت اور نصرت کے آپ حقدار ہوں گے اور اس کے عوض آپ اپنے بھتیجے کو ہمارے حوالہ کردیں جو ہمارے آباؤ اجداد کے دین کا مخالف ہے اور انہیں احمق قرار دیتا ہے اور قوم کا شیرازہ منتشر کر رہا ہے ہم اسے قتل کرنا چاہتے ہیں اور یہ ایک آدمی کے بدلے ایک آدمی کا حساب ہے۔‘‘ ابو طالب کہنے لگے۔ ’’واللہ ! یہ کتنا برا سودا ہے جس کی تم مجھے ترغیب دینے آئے ہو۔ تم چاہتے ہو کہ میں تو تمہارے بیٹے کو کھلاؤں پلاؤں اور پالوں پوسوں اور اس کے عوض تم میرا بیٹا مجھ سے لے کر اسے قتل کر دو۔ واللہ ! یہ ناممکن ہے۔‘‘ اس پر مطعم بن عدی ابو طالب سے کہنے لگا ’’بخدا! تم سے تمہاری قوم نے انصاف کی بات کہی ہے۔ مگر تم تو کسی بات کو قبول ہی نہیں کرتے۔‘‘ ابو طالب کہنے لگے ’’بخدا! یہ انصاف کی بات نہیں ہے بلکہ مجھے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ تم بھی میرا ساتھ چھوڑ کر مخالفوں سے مل گئے ہو۔ اگر ایسی ہی بات ہے تو ٹھیک ہے جو چاہو کرو۔ ‘‘ (ابن ہشام ١ : ٢٦٦، ٢٦٧ بحوالہ الرحیق المختوم ص ١٤٥) ابو طالب کے اس جواب سے مایوس ہو کر قریش کا یہ مجمع منتشر ہو کر چلا گیا۔ ٦۔ وہ مشورہ قتل جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا سبب بنا : یہ واقعہ سورۃ انفال کی آیت نمبر ٣٠ میں مذکور ہے اور حاشیہ میں اس کی پوری تفصیل آ گئی ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیا جائے۔ مختصراً یہ کہ اس مجلس مشاورت میں ابلیس خود بھی شامل ہوا تھا اور بالآخر طے یہ پایا تھا کہ مختلف قبائل کے گیارہ آدمی فلاں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیے رہیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم علی الصبح گھر سے نکلیں تو سب آدمی یکبارگی حملہ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکوں کی اس سازش کی اطلاع بھی دے دی۔ اور ہجرت کی اجازت بھی دے دی۔ چنانچہ نہایت خفیہ طور پر ہجرت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان مشرکین و کفار کے شر سے بال بال بچ گئے۔ اور کافروں کا یہ منصوبہ بھی بری طرح ناکام ہوگیا۔ ٧۔ ہجرت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری یا قتل پر سو اونٹ انعام کی پیش کش : اس بھاری انعام کے لالچ میں لوگ فرداً فرداً بھی اور ٹولیاں بن کر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش اور تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور ایک گروہ تو نقوش پا کا سراغ لگاتے لگاتے غار ثور کے دھانہ تک پہنچ بھی گیا۔ یہ لوگ غار کے منہ کے اس قدر قریب ہوگئے تھے کہ اگر وہ اپنے پاؤں کی طرف دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر نظر پڑ سکتی تھی۔ اس موقعہ پر بھی صبر و استقامت کے اس پیکر اعظم میں ذرہ بھر بھی لغزش نہ آئی۔ اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ’’غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ (٩ : ٤٠) یہ واقعہ بھی سورۃ توبہ آیت نمبر ٤٠ میں مذکور ہے وہاں حاشیہ دیکھ لیا جائے۔ انفرادی تعاقب کرنے والوں میں سراقہ بن مالک کا واقعہ خاص طور پر قابل ذکر ہے جو فی الواقع آپ کے سر پر جا پہنچا تھا مگر اس کے گھوڑے نے یک لخت ٹھوکر کھائی تو وہ گر پڑا۔ پھر سوار ہوا تو پھر گھوڑے نے دوسری بار ٹھوکر کھائی۔ پھر گرا۔ پھر سوار ہوا تو گھوڑے نے تیسری بار ٹھوکر کھائی۔ اب وہ سمجھ گیا کہ اس کی خیر اسی میں ہے کہ وہ ان کے قریب تک نہ جائے۔ رسول اللہ نے مڑ کر جو سراقہ کو دیکھا تو دعا کی 'اے اللہ اسے گرا دے' چنانچہ اس کا گھوڑا گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا۔ (بخاری۔ کتاب الانبیائ۔ باب ہجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ) مزید تفصیل سورۃ توبہ کی آیت نمبر ٤٠ کے حاشیہ یعنی واقعہ ہجرت میں آئے گی۔ ٨۔ عمیر بن وہب جمحی کا ارادہ قتل ٢ ھ: عمیر بھی آپ کے صف اول کے دشمنوں میں سے تھا۔ جنگ بدر میں اس کا بیٹا گرفتار ہو کر مسلمانوں کی قید میں چلا گیا تو یہ شخص غصہ سے بے تاب ہوگیا اور انتقام لینے کا تہیہ کرلیا۔ ایک دن عمیر نے حطیم میں بیٹھ کر صفوان بن امیہ کے سامنے بدر کے کنوئیں میں پھینکے جانے والے مقتولین کا ذکر کیا تو صفوان کہنے لگا ’’واللہ ! اب تو جینے کا کچھ مزا نہیں‘‘عمیر کہنے لگا ’’اگر میرے سر پر قرض نہ ہوتا اور میرے اہل و عیال نہ ہوتے تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر اسے قتل کر ڈالتا۔‘‘ صفوان کہنے لگا ’’تمہارے قرض کی ادائیگی میرے ذمہ رہی اور بال بچوں کی نگہداشت بھی۔ اگر میرے پاس کچھ کھانے کو ہوگا تو انہیں بھی ضرور ملے گا۔‘‘ عمیر نے کہا ’’ٹھیک ہے مگر اب اس بات کو اپنی ذات تک محدود رکھنا۔‘‘ اور صفوان نے اس بات کا اقرار کرلیا۔ اب عمیر نے اپنی تلوار کو زہر آلود کرایا اور مدینہ جا کر مسجد نبوی میں پہنچ گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اطلاع دی کہ آپ کا دشمن عمیر بن وہب گلے میں تلوار حمائل کیے آیا ہے اور آپ سے ملاقات کی اجازت چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اسے آنے دو‘‘ تاہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ازراہ احتیاط اس کی تلوار کا پر تلا لپیٹ کر پکڑ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ’’اس کی تلوار کو چھوڑ دو‘‘ پھر عمیر سے پوچھا ’’بتاؤ کیسے آنا ہوا ؟‘‘ عمیر کہنے لگا ’’میرا بیٹا آپ کی قید میں ہے آپ احسان فرما دیجئے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر یہی بات ہے تو پھر تلوار کیوں حمائل کر رکھی ہے۔‘‘ کہنے لگا ’’یہ تلواریں بھلا پہلے کس کام آئیں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ٹھیک ٹھیک بات بتاؤ۔ ادھر ادھر کی مت ہانکو۔ ‘‘ اور جب عمیر نے پھر وہی پہلی بات دہرا دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بات یوں نہیں۔ بلکہ تم مجھے قتل کرنے کے ارادہ سے آئے ہو۔ تم نے اور صفوان بن امیہ نے حطیم میں بیٹھ کر یہ مشورہ کیا۔ صفوان نے تمہارے قرض اور بال بچوں کی نگہداشت کی ذمہ داری قبول کی اور تم مجھے قتل کرنے یہاں آ گئے۔ لیکن یاد رکھو اللہ میرے اور تمہارے درمیان حائل ہے۔‘‘ عمیر نے خیال کیا کہ یہ معاملہ ایسا تھا جس کا صفوان کے علاوہ کسی کو بھی علم نہ تھا اسے کس نے بتایا ؟ یقیناً یہ نبی ہی ہوسکتا ہے اور ہم ہی غلطی پر ہیں۔ اس خیال کے آتے ہی اس نے آپ کے سامنے کلمہ شہادت کا اقرار کیا اور مسلمان ہوگیا۔ آپ نے صحابہ سے فرمایا : اپنے بھائی کو دین سمجھاؤ، قرآن پڑھاؤ اور اس کے بیٹے کو آزاد کر دو۔ ‘‘ ادھر صفوان نے مکہ میں مشہور کر رکھا تھا کہ میں عنقریب تم لوگوں کو ایک خوشخبری سناؤں گا مگر اس کے بجائے جب اسے عمیر کے مسلمان ہوجانے کی اطلاع ملی تو غصہ سے جل بھن گیا اور اس نے قسم کھالی کہ آئندہ عمیر سے بات تک نہ کروں گا اور نہ ہی اسے کسی قسم کا نفع پہنچاؤں گا۔ عمیر اسلام سیکھ کر چند دن بعد مکہ آیا۔ اور یہاں آ کر دعوت کا کام شروع کردیا اور اس کے ذریعہ بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ (ابن ہشام ١ : ٦٦١ تا ٦٦٣ بحوالہ الرحیق المختوم ص ٣٧٢) (٩) یہود کا منصوبہ قتل ٤ ھ: بئر معونہ کے واقعہ نے ایک دفعہ پھر غزوہ احد کے چرکہ کی یاد تازہ کردی۔ ستر قاریوں میں سے صرف عمرو بن امیہ ضمری بچے جنہیں کافروں نے گرفتار کرلیا۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ غزوۃ الرجیع و بئرمعونہ) مگر آپ ان کی قید سے نکل بھاگے اور مدینہ پہنچ کر اس دردناک واقعہ کی آپ کو اطلاع دی۔ راستہ میں عمرو بن امیہ نے غلطی سے دو آدمیوں کو دشمن سمجھ کر ان کا صفایا کردیا حالانکہ وہ معاہد تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ کو بہت دکھ ہوا اور فرمایا کہ’’اب ہمیں ان دو آدمیوں کی دیت ادا کرنا ہوگی۔‘‘ چنانچہ اس رقم کی فراہمی میں مشغول ہوگئے۔ میثاق مدینہ کی رو سے یہود بھی اس طرح کی دیت میں برابر کے شریک قرار دیئے گئے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کو ساتھ لے کر بنو نضیر کے ہاں تشریف لے گئے۔ ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مکان کے صحن میں بٹھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور یہود وہاں سے اس بہانہ سے اٹھ کر چلے آئے کہ ہم جا کر رقم اکٹھی کرتے ہیں۔ وہاں سے باہر آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کے مشورے ہونے لگے۔ ایک یہودی کہنے لگا ’’کون ہے جو مکان کی چھت پر جا کر اوپر سے چکی کا پاٹ گرا کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گرا کر اسے کچل ڈالے؟‘‘ ایک دوسرا بدبخت فوراً اس کام کے لیے تیار ہوگیا۔ ان لوگوں کے اس ارادہ کی آپ کو بذریعہ وحی خبر ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً وہاں سے اٹھے اور مسجد کی طرف روانہ ہوگئے۔ صحابہ کو بھی آپ نے راہ ہی میں یہود کے اس مذموم ارادہ سے مطلع فرمایا۔ یہود کی یہی غداری غزوہ بنو نضیر کا فوری سبب بن گئی اور بالآخر انہیں جلاوطن ہونا پڑا۔ (الرحیق المختوم ص ٤٦٢) (١٠) ثمامہ بن اثال کا ارادہ قتل ٦ ھ : سنہ ٦ ہجری میں مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا لشکر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی سر کردگی میں یمنی قبیلوں کی سیاسی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا گیا۔ یہ لشکر قبیلہ بنو حنیفہ کے سردار ثمامہ بن اثال حنفی کو گرفتار کر کے مدینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ ثمامہ مسیلمہ کذاب کے حکم سے بھیس بدل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے ارادہ سے نکلا تھا کہ مسلمانوں کے اس لشکر کے ہتھے چڑھ گیا اور مسلمانوں نے اسے گرفتار کرلیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دینے کا حکم دیا اور پوچھا ’’ثمامہ! کیا صورت حال ہے؟‘‘ ثمامہ کہنے لگا ’’اگر مجھے قتل کر دو گے تو میرا قصاص لیا جائے گا اور اگر معاف کر دو گے تو ایک قدردان کو معاف کرو گے اور مال چاہتے ہو تو جتنا چاہو مل جائے گا۔‘‘ آپ ثمامہ کا یہ جواب سن کر واپس چلے گئے اور کوئی جواب نہ دیا۔ دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر تشریف لائے اور وہی پہلا سا سوال کیا۔ جواب میں ثمامہ نے بھی وہی پہلی باتیں دہرا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آئے اور کوئی جواب نہ دیا۔ تیسرے دن پھر ایسا ہی سوال و جواب ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ کا وہی پہلا جواب سن کر صحابہ سے فرمایا کہ ’’اسے رہا کر دو۔ ‘‘ رہائی کے بعد ثمامہ نے ایک باغ میں جا کر غسل کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ کر اسلام قبول کرلیا۔ اور کہنے لگا ’’واللہ ! آج سے پہلے مجھے آپ کا چہرہ سب سے زیادہ ناپسند تھا مگر آج سب سے زیادہ محبوب ہے اور آپ کا دین سب ادیان سے زیادہ ناپسند تھا مگر آج یہی دین سب سے زیادہ محبوب ہے میں عمرہ کا ارادہ کر رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے مجھے پکڑ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بشارت دی اور عمرہ کرنے کی ہدایت فرمائی۔ چنانچہ جب ثمامہ عمرہ کرنے کی غرض سے مکہ آئے تو مشرکین مکہ کہنے لگے ’’ثمامہ بےدین ہوگیا ہے‘‘ ثمامہ نے کہا ’’نہیں بلکہ میں تو مسلمان ہوا ہوں اور دیکھو! آئندہ تمہیں یمن سے گندم کا ایک دانہ بھی نہ پہنچے گا تاآنکہ رسول اللہ مجھے اس بات کا حکم نہ دیں۔‘‘ چنانچہ بعد میں واقعتاً بھی یہی کچھ ہوا۔ ثمامہ بن اثال کا واقعہ صحیحین میں کئی مقامات پر مذکور ہے مگر ان میں یہ صراحت نہیں کہ ثمامہ جب گرفتار ہوئے تو اس وقت مسیلمہ کذاب کے حکم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کے ارادہ سے نکلے تھے اس بات کی وضاحت سیرۃ طیبہ میں موجود ہے (سیرۃ طیبہ ٢ : ٢٩٧ بحوالہ الرحیق المختوم ص ٥٠٦) ١١۔ زہر آلود بکری کے گوشت سے آپ کے قتل کی یہودی سازش ٧ ھ : خیبر کے فتح ہونے اور یہود سے مزارعت کا معاملہ طے ہوجانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند دن خیبر میں قیام فرمایا۔ غدار اور مکار شکست خوردہ یہود نے ان ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلاک کرنے کی ایک سازش تیار کی۔ سلام بن مشکم کی بیوی کو، جو یہودی سردار مرحب کی بیٹی تھی، اس کام کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ زینب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت کا پیغام بھیجا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہ کرم قبول کرلیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیا گیا کہ آپ کون سا گوشت کھانا پسند فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا 'دستی کا'اس دعوت میں آپ چند صحابہ سمیت وقت معینہ پر پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا شروع کیا تو پہلا نوالہ منہ میں ڈالتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر کا اثر محسوس ہونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ لیکن سیدنا بشر رضی اللہ عنہ بن براء نے چند ایک لقمے کھا لیے تھے لہٰذا وہ اس زہر کے اثر سے ایک دو دن بعد شہید ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب کو بلا کر پوچھا تو اس نے اعتراف جرم کرلیا اور یہ بھی بتا دیا کہ اس سازش میں پوری یہودی قوم شریک تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے پوچھا کہ ’’تم نے یہ کام کیوں کیا ؟‘‘ وہ کہنے لگے کہ ’’ہمارا خیال تھا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو آپ پر زہر اثر نہیں کرے گا اور اگر جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی۔‘‘ (بخاری کتاب الطب۔ باب مایذکر فی سم النبی۔۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے تو زینب اور یہود کو معاف فرما دیا لیکن سیدنا بشر رضی اللہ عنہ کے قصاص میں زینب کے قتل کا حکم دے دیا۔ (ابن ہشام ٢ : ٢٣٥ تا ٢٣٧ بحوالہ الرحیق المختوم ص ٥٩٨) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا ' عائشہ رضی اللہ عنہا ! اب مجھے معلوم ہوا کہ جو لقمہ میں نے خیبر میں کھایا تھا اس کے زہر کے اثر سے میری رگ جان کٹ گئی (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرض النبی۔۔) ١٢۔ خسرو پرویز شاہ ایران کا ارادہ قتل ٧ ھ : صلح حدیبیہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہان عجم کے نام دعوت نامے بھیجے۔ شاہ ایران کو جب یہ دعوت نامہ پہنچا تو غصہ سے خط پھاڑ دیا اور کہنے لگا : ’’میرا غلام ہو کر ایسا خط لکھتا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ ’’اے اللہ ان لوگوں کو بھی ہلاک کر دے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب کتاب النبی الی کسریٰ و قیصر) پھر اس نے حاکم یمن باذان کو حکم بھیجا کہ وہ کسی آدمی کو بھیج کر اس مدعی نبوت کو گرفتار کرکے ہمارے حضور پیش کرے۔ باذان نے دو آدمی اس غرض سے مدینہ بھیجے۔ انہوں نے مدینہ پہنچ کر عرض کی کہ ’’شہنشاہ عالم کسریٰ نے تم کو بلایا ہے اگر اس کے حکم کی تعمیل نہ کرو گے تو وہ تمہیں اور تمہارے ملک کو تباہ و برباد کر دے گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا’’اچھا تم کل آنا۔‘‘ دوسرے دن جب وہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تمہارے شہنشاہ عالم کو آج رات اس کے بیٹے نے قتل کر ڈالا ہے۔ تم واپس چلے جاؤ اور اسے کہہ دینا کہ اسلام کی حکومت ایران کے پایہ تخت تک پہنچے گی۔‘‘ وہ آدمی جب یمن واپس آئے تو خسرو کے قتل کی خبر وہاں پہنچ چکی تھی۔ یہ ماجرا دیکھ کر وہ لوگ مسلمان ہوگئے۔ (سیرۃ النبی۔ شبلی نعمانی ج ١ ص ٤٨٢) ١٣۔ جادو کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلاک کرنے کی یہودی سازش : زہر آلود بکری کے گوشت کے واقعہ کے بعد یہود نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلاک کرنے کا ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اپنے حلیف لبید بن اعصم سے جو بڑا ماہر جادوگر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا خطرناک جادو کرنے کی درخواست کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جلد از جلد ہلاک کر ڈالے۔ لبید نے اس سلسلہ میں اپنی دو لڑکیوں کو ذریعہ بنایا جنہوں نے کسی نہ کسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے کچھ بال حاصل کرلیے۔ ان بالوں پر منتر پڑھے گئے پھر ان میں گانٹھیں دے کر پھونکیں ماری گئیں۔ پھر انہیں کھجوروں کے خوشوں کے غلاف میں چھپا کر ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا گیا۔ یہ جادو اتنا تیز اور سخت تھا کہ اس کے اثر سے اس کنوئیں کے پانی کا رنگ اتنا سرخ اور خونی ہوگیا جیسے اس میں مہندی ڈال دی گئی ہو اور اس کنوئیں پر واقع درختوں کے خوشے یوں لگتے تھے جیسے سانپوں کے پھن ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں فرشتے بھیج کر اس کی حقیقت بتلا دی اور اس طرح اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شر سے بھی محفوظ کرلیا۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے بخاری۔ کتاب بدء الخلق باب صفۃ ابلیس و جنودہ۔ نیز کتاب الادب۔ باب ( اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ 90؀) 16۔ النحل :90) اور سورۃ فلق کا حاشیہ نمبر ٥ ١٤۔ دشمن قبیلہ کے ایک بدوی کا ارادہ قتل : غزوہ ذات الرقاع سے واپسی پر اسلامی لشکر نے ایک مقام پر پڑاؤ کیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم الگ الگ درختوں کے نیچے آرام کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک درخت کے نیچے جا بیٹھے تلوار درخت سے لٹکائی اور لیٹتے ہی نیند غالب آ گئی۔ اتنے میں دشمن قبیلہ کا ایک بدو وہاں پہنچ گیا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لیے اس موقعہ کو نہایت غنیمت سمجھا اور بڑھ کر تلوار درخت سے اتارنے لگا۔ وہ تلوار کو اتار ہی رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاگ آ گئی۔ بدو تلوار ہاتھ میں پکڑ کر کہنے لگا۔ ’’اب بتلاؤ! تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت اطمینان سے جواب دیا ’’میرا اللہ ‘‘ یہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر بے باکی سے کہے کہ بدو سخت مرعوب ہوگیا اور کانپنے لگا۔ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار سنبھال لی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر قابو پا لیا تو صحابہ کو بلا کر اس ماجرا سے آگاہ کیا۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بدو کو معاف کردیا۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد، باب من علق سیفہ بالشجرۃ فی السفر عند القائلۃ) واضح رہے کہ یہ بدوی اسی قبیلہ سے تھا جس کی سرکوبی کے لیے آپ نکلے ہوئے تھے۔ ١٥۔ فضالہ بن عمیر کا ارادہ قتل ٨ ھ : یہ فضالہ اسی عمیر بن وہب کا بیٹا تھا جو صفوان بن امیہ سے مشورہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لیے مدینہ پہنچا تھا اور نتیجتاً اسلام لا کر واپس مکہ جا کر مقیم ہوگیا تھا۔ اس کا بیٹا فضالہ ابھی تک مشرک ہی تھا۔ فتح مکہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف فرما رہے تھے کہ فضالہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سوجھی۔ جب وہ اس ارادہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے اس کے ارادہ سے مطلع کردیا۔ جس پر وہ اپنے باپ کی طرح مسلمان ہوگیا (الرحیق المختوم ص ٦٤٨) ١٦۔ منافقوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی سازش ٩ ھ : غزوہ تبوک سے واپسی پر تقریباً چودہ یا پندرہ منافقوں نے یہ سازش تیار کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلے راستہ کے بجائے گھاٹی والے راستہ کی طرف رہنمائی کی جائے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچ جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری سے اٹھا کر نیچے گھاٹی میں پھینک کر ہلاک کردیا جائے اسی سازش کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کو اس راہ پر ڈال دیا گیا۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ جب گھاٹی قریب آنے کو تھی تو چند منافق منہ پر ڈھاٹے باندھے رات کی تاریکی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھنے لگے۔ دریں اثنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ منافقوں کے اس مذموم ارادہ کی اطلاع مل گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان منافقوں کی سواریوں کے چہروں پر مار مار کر انہیں تتر بتر کردیں۔ اس کام سے منافقوں کو بھی شبہ ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مذموم ارادہ سے مطلع ہوچکے ہیں۔ لہٰذا اب انہیں اپنی جانیں بچانے کی فکر دامن گیر ہوئی اور انہوں نے راہ فرار اختیار کی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا یہ منصوبہ قتل بھی ناکام بنا دیا۔ (الرحیق المختوم ص ٦٨٦) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو ان منافقوں کے نام معہ ولدیت بتلا دیئے تھے اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ان کو پہنچانتے بھی تھے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کردی تھی کہ عام مسلمانوں میں انہیں مشہور نہ کیا جائے۔ یہ سازشی منافق بعد میں اہل عقبہ کے نام سے مشہور ہوئے اور ان کا ذکر مسلم، کتاب صفۃ المنافقین میں بھی مجملاً مذکور ہے۔ نیز دیکھئے (سورہ حجرات کا حاشیہ نمبر ٣٤) ١٧۔ عامر بن طفیل اور اربد کی سازش قتل ١٠ ھ : ١٠ ھ میں مدینہ میں جو وفود آئے ان میں سے ایک وفد عامر بن صعصعہ کا بھی تھا۔ یہ وفد رشد و ہدایت کی غرض سے نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ناپاک ارادہ سے آیا تھا۔ ایک وفد میں ایک تو عامر بن طفیل تھا اور یہ وہی شخص ہے جس نے فریب کاری سے بئرمعونہ کے ستر قاریوں کو شہید کردیا تھا۔ دوسرا اربد بن قیس۔ تیسرا خالد بن جعفر اور چوتھا جبار بن اسلم تھا۔ یہ سب کے سب قوم کے سردار اور شیطان صفت انسان تھے۔ عامر اور اربد نے راستہ ہی میں یہ سازش تیار کی کہ دھوکہ دے کر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کردیں گے چنانچہ جب یہ وفد مدینہ پہنچا تو عامر نے گفتگو کا آغاز کیا تاکہ آپ کو دھیان لگائے رکھے۔ اتنے میں اربد گھوم کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پہنچ گیا۔ وہ میان سے تلوار نکال ہی رہا تھا کہ اللہ نے اس کے ہاتھ کی حرکت بند کردی اور وہ اسے بے نیام بھی نہ کرسکا اور ان کی یہ سازش دھری کی دھری رہ گئی اور ان کے عزائم طشت ازبام ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر بددعا کی۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ چنانچہ واپسی پر اربد اور اس کے اونٹ پر بجلی گری جس سے وہ جل کر مر گیا۔ رہا عامر تو واپسی کے سفر کے دوران اس کی گردن پر ایک ایسی گلٹی نکلی جس نے اسے موت سے دوچار کردیا۔ مرتے وقت اس کی زبان پر یہ الفاظ تھے ’’آہ : اونٹ کی گلٹی جیسی گلٹی اور ایک فلاں خاندان کی عورت کے گھر میں موت۔‘‘ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق عامر نے اپنی گفتگو کا جو آغاز کیا وہ یوں تھا ’’میں آپ کو تین باتوں کا اختیار دیتا ہوں۔ (١) دیہاتی آبادی کے حاکم آپ ہوں اور شہری آبادی کا حاکم میں ہوں گا۔ (٢) یا آپ کے بعد آپ کا خلیفہ میں بنوں گا اور (٣) اگر یہ دونوں باتیں نامنظور ہوں تو میں غطفان کے ایک ہزار گھوڑوں اور ایک ہزار گھوڑیوں کو آپ پر چڑھا لاؤں گا (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الرجیع و رعل و ذکوان) اس واقعہ کے بعد وہ ایک عورت کے گھر میں طاعون کا شکار ہوگیا اور مرتے وقت اس کی زبان پر یہ الفاظ تھے ’’اونٹ کی گلٹی جیسی گلٹی اور وہ بھی بنی فلاں کی ایک عورت کے گھر میں۔ میرے پاس میرا گھوڑا لاؤ۔‘‘ چنانچہ وہ گھوڑے پر سوار ہوا اور اسی حالت میں اسے موت نے آ لیا۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الرجیع و رعل و ذکوان) سو یہ ہے ان قاتلانہ حملوں اور سازشوں کی مختصر داستان جن میں بالخصوص اس محسن اعظم کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے کے منصوبے تیار کیے گئے تھے اس محسن انسانیت کے لیے جو دنیا بھر کے لوگوں کی اصلاح و فلاح کا یکساں درد رکھتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام سازشوں اور حملوں کو ناکام بنا کر ﴿وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ﴾ کا وعدہ پورا کردیا۔ المآئدہ
68 [١١٤] جب اس سے معلوم ہوا کہ دین کی اصل بنیاد صرف کتاب اللہ یا منزل من اللہ وحی ہوتی ہے۔ لہٰذا اپنے ہر عقیدہ اور عمل کو اسی کسوٹی پر پرکھنے سے انسان گمراہی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ چنانچہ یہود و نصاریٰ دونوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم عقائد و اعمال کو اللہ کی نازل کردہ کتاب پر پیش کر کے خود ہی فیصلہ کرلو کہ تم اس پر ایمان لانے کے دعویٰ میں کس حد تک سچے ہو۔ [١١٥] دیکھئے اسی سورۃ کی آیت نمبر ٦٤ کا حاشیہ نمبر ١٠٦ المآئدہ
69 [١١٦] دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رائج ادیان کا مختصر تعارف :۔ اس آیت کی ابتدا میں ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ سے بعض علماء نے منافقین کا گروہ مراد لیا ہے۔ تاہم اس سے وہ مسلمان بھی مراد لیے جا سکتے ہیں جو اپنے ایمان و عمل میں راسخ نہیں ہیں۔ دوسرے مخاطب یہود ہیں۔ یہود پر ایک وقت ایسا آ چکا تھا جب اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام اقوام عالم پر فضیلت دے رکھی تھی۔ اور ہر قسم کے انعامات اور برکات سے انہیں نوازا تھا جس سے ان کے دل میں یہ زعم پیدا ہوگیا تھا کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہٰذا اللہ کے چہیتے ہیں اور ہم کو دوزخ کا عذاب کسی صورت میں بھی نہیں ہوگا۔ اور اس سے بڑھ کر یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی کہ اخروی نجات کے واحد حقدار صرف یہودی ہیں ان کے علاوہ جتنے بھی لوگ ہیں سب دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ تیسرے مخاطب صابی ہیں جن کو عام طور پر 'بے دین لوگ' سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کا اپنا بھی ایک دین تھا جو یہ تھا کہ اللہ تک رسائی کے لیے وہ کسی پیغمبر کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے۔ اور وہ اپنے آپ کو سیدنا نوح علیہ السلام سے منسوب کرتے تھے۔ وہ نجوم و کواکب اور ارواح کی عبادت کرتے۔ انہیں ارواح کو اللہ تک رسائی کا ذریعہ یا وسیلہ قرار دیتے اور انہیں کے لیے قربانی اور نذر و نیاز دیتے تھے۔ چوتھے مخاطب نصاریٰ یا عیسائی تھے جو کفارہ مسیح کے عقیدہ کے قائل تھے اور اس لحاظ سے اپنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اخروی نجات کا واحد حقدار سمجھتے تھے۔ ان چار گروہوں کا نام اس لیے لیا گیا ہے کہ اس دور میں عرب میں یہی چار مشہور گروہ تھے جو کسی نہ کسی رنگ میں اخروی زندگی کے قائل تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ تنبیہہ فرمائی کہ نجات اخروی کا دار و مدار نہ خاص فرقہ سے منسلک ہونے میں ہے، نہ حسب و نسب میں اور نہ انبیاء کی اولاد ہونے میں ہے بلکہ اس کا دار و مدار سچے دل سے محمد رسول اللہ اور آپ پر نازل شدہ کتاب پر اور صحیح معنوں میں روز جزا و سزا پر ایمان لانے اور اس کے بعد انہیں عقائد کے مطابق اعمال صالحہ کے بجا لانے میں ہے ان سب فرقوں میں سے جو کوئی یہ کام کرے گا۔ اخروی آلام و مصائب اور عذاب سے نجات صرف اسے ہی حاصل ہوگی۔ انہیں نہ کسی آنے والے خطرہ کا خوف ہوگا اور نہ اپنی گزشتہ دنیوی زندگی کے متعلق کچھ غم ہوگا۔ المآئدہ
70 [١١٧] اخروی نجات کے حقدار کون؟ بنی اسرائیل کی ایسی کرتوتوں کا ذکر قرآن میں کئی مقامات پر آیا ہے اور اس میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کا دین صرف اپنی خواہشات کی پیروی تھا۔ کتاب اللہ میں سے ایسی چیزوں کی پیروی کرلینا جو ان کی خواہشات کے مطابق ہوں اور جو باتیں خواہشات کے خلاف ہوں ان میں عصیان و سرکشی کی راہ اختیار کر جانا دراصل کتاب اللہ کی پیروی نہیں بلکہ اپنی خواہشات ہی کی پیروی ہوتی ہے اور یہی کچھ وہ کیا کرتے تھے اور اس خواہش نفس کی پیروی میں وہ اس حد تک بڑھے ہوئے تھے اور انبیاء کو جھٹلانا تو درکنار، قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ المآئدہ
71 [١١٨] بخت نصر کے بعد سیدنا زکریا ویحییٰ کو قتل کروانا :۔ انہوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہٰذا ہم جو کچھ کرلیں ہم پر عذاب الٰہی نہیں آ سکتا۔ اس عقیدہ نے انہیں ہر طرح کے جرائم پر دلیر بنا دیا تھا۔ پھر ان پر بخت نصر کی صورت میں قہر الٰہی نازل ہوا۔ جس نے ان کی سلطنت کو تہس نہس کردیا اور بے شمار افراد کو قیدی بنا کر اپنے ساتھ بابل لے گیا۔ مدتوں وہ قید و بند کی سختیاں جھیلتے رہے۔ آخر اللہ کی طرف رجوع کیا تو اللہ نے پھر ان کی خطائیں معاف کردیں اور ملوک فارس کی مدد سے انہیں بخت نصر کی قید سے رہائی ملی۔ پھر جب اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی اور عیش و آرام سے زندگی گزارنے لگے تو پھر کفر و عصیان میں پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئے۔ سیدنا زکریا اور سیدنا یحییٰ دونوں کو قتل کردیا اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھوانے کی مقدور بھر کوشش کی اور بزعم خود انہیں سولی پر چڑھا کے چھوڑا۔ المآئدہ
72 [١١٩] الوہیت مسیح اور سیدنا عیسیٰ کی تعلیم :۔ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے مختلف عقائد ہیں۔ کچھ انہیں عقیدہ تثلیث کا جزو یا تین خداؤں میں کا ایک مانتے ہیں۔ کچھ انہیں اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اور کچھ انہیں اللہ ہی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے جسم میں اللہ نے حلول کیا اور وہ اللہ ہی کا مظہر تھے۔ ان تینوں اقوال میں جو چیز قدر مشترک ہے وہ الوہیت مسیح کا عقیدہ ہے۔ یعنی سب فرقے انہیں کسی نہ کسی رنگ میں الٰہ مانتے ہیں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام تو خود کہتے تھے کہ’’صرف اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے‘‘ یعنی وہ خود اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ ’’میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور اس کا بندہ ہوں‘‘ اب جو شخص کسی کا بندہ ہو، وہ اس کا شریک نہیں ہوسکتا اور جو شریک ہو وہ اس کا بندہ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا عقل کے ناخن لو اور انہیں اللہ کا شریک بنانے سے باز آجاؤ۔ کیونکہ جو شخص بھی کسی کو اللہ کا شریک بنائے گا اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جلنا پڑے گا۔ پھر انہیں وہاں نہ عیسیٰ علیہ السلام بچا سکیں گے اور نہ ہی کوئی دوسرا شخص ان کی کسی طرح سے مدد کرسکے گا۔ المآئدہ
73 [١٢٠] عقیدہ تثلیث اور اس کا رد :۔ متی، مرقس اور لوقا کی انجیلوں میں عیسیٰ علیہ السلام کے الٰہ ہونے کی گنجائش نہیں خود عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیشہ اپنے آپ کو ایک انسان ہی کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔ تثلیث اور الوہیت مسیح کا عقیدہ چوتھی صدی عیسوی میں رائج ہوا۔ اس عقیدہ کی بنیاد تو یونانی فلسفہ کے افکار و نظریات پر اٹھائی گئی تھی جیسا کہ آج کل بعض مسلمان بھی اسی فلسفہ کے مسئلہ عقول عشرہ پر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کے نور کا حصہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے نظریات عموماً پیروں فقیروں میں فروغ پاتے ہیں۔ انبیاء کے متعلق ایسے نظریات عموماً ان کی عقیدت و محبت میں افراط کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جو انسان کو اللہ کے مقام تک جا پہنچاتے ہیں یہ صریح شرک ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو کہیں کافر فرمایا ہے اور کہیں مشرک۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پیشتر جو نہایت اہم وصیتیں اپنی امت کو کی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ’’مجھے ایسا نہ بڑھانا جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کو بڑھایا تھا۔ میں تو بس اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الانبیائ۔ باب قول اللہ واذکر فی الکتاب مریم ) المآئدہ
74 المآئدہ
75 [١٢١] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کی تردید میں تین واضح دلائل پیش فرمائے ہیں جو درج ذیل ہیں : (١) عیسیٰ کی الوہیت کی تردید میں دلائل :۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول تھے، اللہ نہیں تھے۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک ہی ذات اللہ بھی ہو اور اللہ کا رسول بھی۔ علاوہ ازیں یہ کہ ان سے پہلے کئی رسول انہیں جیسے گزر چکے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان رسولوں کے بعد آئے بالفاظ دیگر وہ حادث تھے قدیم نہ تھے جبکہ اللہ کی ذات قدیم ازلی، ابدی اور حوادث زمانہ یا اس کے تغیرات سے ماوراء ہے لہٰذا جو چیز یا جو ذات حادث ہو وہ الٰہ یا اللہ نہیں ہو سکتی۔ (٢) الوہیت مسیح اور والدہ مسیح کی تردید میں چار دلائل :۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ ’’ان کی ماں راست باز تھی‘‘ اس سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی جو یہودی ان پر زنا کا الزام لگاتے ہیں وہ جھوٹے اور بکواسی ہیں اور دوسرے یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ماں بھی تھی جس نے عیسیٰ علیہ السلام کو جنم دیا۔ آپ اس کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے ان کی ماں کو وضع حمل کے وقت ایسی ہی دردیں شروع ہوئیں جو عام عورتوں کو ہوا کرتی ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام اسی فطری اور عادی طریقہ سے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں جیسے عام انسان پیدا ہوتے ہیں۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام نہ خود الٰہ ہو سکتے ہیں اور نہ ان کی والدہ کیونکہ اس قسم کی باتیں اللہ کے لیے سزاوار نہیں۔ (٣) تیسری دلیل یہ ہے کہ ’’وہ دونوں کھانا کھاتے تھے‘‘ یعنی وہ اپنی زندگی کو قائم اور باقی رکھنے کے لیے کھانے کے محتاج تھے اور جو خود محتاج ہو وہ الٰہ یا اللہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ ہر طرح کی احتیاج سے بے نیاز ہے۔ پھر جو شخص کھانا کھاتا ہے اس کے اندر سے پاخانہ، پیشاب اور گندی ہوا جیسے فضلات اور نجاستوں کا اخراج بھی ہوتا ہے اور یہ سب ایسی نجاستیں ہیں جن سے طہارت لازم آتی ہے۔ پھر اگر یہی کھانا کسی انسان کے اندر جا کر رک جاتا ہے یا کوئی اور خرابی پیدا کردیتا ہے تو انسان بیمار اور پریشان حال ہوجاتا ہے جب تک ایسے عوارضات کا علاج نہ کیا جائے۔ لہٰذا جو شخص کھانا کھاتا ہے وہ اللہ یا الٰہ نہیں ہو سکتا۔ اس لحاظ سے بھی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ دونوں کی الوہیت کا عقیدہ غلط ثابت ہوتا ہے۔ ان عام فہم اور موٹی موٹی باتوں کے باوجود بھی اگر یہ لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو الٰہ سمجھیں تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی عقل جواب دے گئی ہے۔ واضح رہے کہ جب عقیدہ تثلیث وضع کیا گیا تو اس کے تین ارکان یا عیسائیوں کی اصطلاحی زبان میں تین اقنوم باپ، بیٹا اور روح القدس تھے لیکن کچھ مدت بعد ان میں سے روح القدس کو خارج کر کے اس کی جگہ مریم کو داخل کیا گیا گویا نئے عقیدہ تثلیث کے مطابق اس کے تین اقنوم۔ باپ، بیٹا اور ماں قرار پا گئے۔ المآئدہ
76 [١٢٢] اس آیت میں عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کی الوہیت کی تردید میں چوتھی دلیل بیان کی گئی ہے یعنی وہ دونوں اپنے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔ یہود نے انہیں ایذائیں اور دکھ پہنچائے وہ از خود ان کی مدافعت بھی نہ کرسکتے تھے۔ یہود نے سیدہ مریم پر زنا کی تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بریت بیان فرمائی اور ان کی معجزانہ پیدائش کو واضح طور پر بیان کیا لیکن یہود پھر بھی باز نہ آئے۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی بھر ان کے درپے آزار رہے حتیٰ کہ حکومت سے ساز باز کر کے انہیں سولی پر چڑھوا دیا۔ لیکن یہ دونوں نہ اپنے آپ کی مدافعت کرسکے نہ یہود کا کچھ بگاڑ سکے پھر کیا وہ اللہ یا الٰہ یا الوہیت میں شریک قرار دیئے جا سکتے ہیں؟ المآئدہ
77 [١٢٣] فلسفہ گمراہی؟ یہ لوگ وہی یونانی فلاسفر ہیں جن کے افکار و نظریات سے متاثر ہو کر عیسائیوں کے علماء و مشائخ نے چوتھی صدی عیسوی میں تثلیث کا عقیدہ ایجاد کیا۔ پھر حکومت کی سرپرستی کی بنا پر اس عقیدہ کو فروغ حاصل ہوگیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فلاسفر قسم کے لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ مسلمانوں میں غلو کی مثالوں کے لیے (دیکھئے سورۃ فرقان کا حاشیہ نمبر ٢) اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’بال کی کھال اتارنے والے (فرقہ پرستی کی بنا پر) تباہ ہوئے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی۔ (مسلم۔ کتاب العلم۔ باب النہی عن اتباع متشابہ القرآن) المآئدہ
78 [١٢٤] بندر اور خنزیر والے کون لوگ تھے؟ داؤد علیہ السلام کا زمانہ بعثت عیسیٰ علیہ السلام سے کم و بیش ایک ہزار سال پہلے کا ہے اس لیے آیت میں لفظ کفر کا اطلاق صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ بنی اسرائیل جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لائے تھے وہ کافر ہوگئے بلکہ یہاں ان کے کفر سے مراد ان کی نافرمانیاں، عہد شکنیاں اور حدود اللہ سے تجاوز کرنا ہے۔ اور انہیں جرائم کی بنا پر انہیں کافر کہا گیا ہے اور ایسے لوگ زبور میں بھی ملعون قرار دیئے گئے ہیں اور انجیل میں بھی۔ اور یہ اسی لعنت کا اثر تھا کہ ان میں سے کچھ لوگ بندر بنا دیئے گئے تھے اور کچھ خنزیر۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ داؤد علیہ السلام کی بعثت سے قبل ہفتہ کے دن کی بے حرمتی کرنے والے لوگ بندر بنائے گئے تھے اور یہ اسی دور کا واقعہ ہے اور جن لوگوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے آسمان سے دستر خوان اترنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پھر دسترخوان اترنے کے باوجود بھی ایمان نہ لائے تھے انہیں خنزیر بنایا گیا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بہرحال یہ تو قرآن کریم سے ثابت ہے کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کو بندر اور کچھ لوگوں کو سور بنا دیا گیا تھا اور یہ اسی لعنت کا اثر تھا۔ المآئدہ
79 [١٢٥] برائی سے منع نہ کرنے والوں پر لعنت :۔ کسی معاشرہ میں جب کوئی برائی رواج پاتی ہے تو ابتدا ً چند ہی لوگ اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اگر ایسے لوگوں کا بروقت اور سختی سے محاسبہ کیا جائے تو وہ برائی رک بھی جاتی ہے لیکن اگر اس سلسلہ میں نرم گوشہ اختیار کیا جائے تو اس بدی کا ارتکاب کرنے والوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور ایک وقت ایسا بھی آ جاتا ہے کہ اس بدی سے بچنے والے لوگ نہ صرف یہ کہ بدی کرنے والوں کو روکتے نہیں، بلکہ ان سے میل ملاپ رکھنے اور شیر و شکر بن کر رہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے اور بدی عام پھیل جاتی ہے یہی وہ وقت ہوتا ہے جب عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے پھر اس عذاب سے نہ بدی کرنے والے بچتے ہیں اور نہ اس بدی سے اجتناب کرنے والے۔ اس آیت میں بتایا یہ گیا ہے کہ جس طرح بدی کا ارتکاب کرنا جرم ہے اسی طرح بدی سے نہ روکنا بھی جرم ہے اور جرم کے لحاظ سے دونوں برابر ہوتے ہیں اور اللہ کی لعنت یا عذاب الٰہی کا اثر اور نقصان دونوں کو یکساں پہنچتا ہے۔ برائی سے منع نہ کرنے والوں کی مثال :۔ ایسے تباہ ہونے والے معاشرہ کی مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی جیسے ’’کچھ لوگوں نے جہاز میں سوار ہونے کے لیے قرعہ ڈالا اور قرعہ کی رو سے کچھ لوگ نچلی منزل میں بیٹھے اور کچھ اوپر والی منزل میں۔ نچلی منزل والوں کو پانی اوپر کی منزل سے حاصل کرنا پڑتا تھا جس سے اوپر کی منزل والے تنگ پڑتے تھے۔ اب نچلی منزل والوں نے اس کا حل یہ سوچا کہ کیوں نہ جہاز کے نچلے تختہ میں سوراخ کر کے پانی نیچے سمندر سے حاصل کرلیا جائے۔ پھر اگر نچلی منزل والے اور اوپر کی منزل والے دونوں مل کر ان سوراخ کرنے والوں کا ہاتھ نہ روکیں گے تو نچلے اور اوپر والے سب غرق ہوجائیں گے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب المظالم۔ ابو اب الشرکۃ ھل یقرع فی القسمۃ) اس حدیث کی رو سے بدی سے نہ روکنے والوں کا جرم بدی کرنے والے سے بھی زیادہ ثابت ہوتا ہے۔ نیز سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ’’جب لوگ ظالم کو دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر عام عذاب نازل ہو۔ ‘‘ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر۔ زیر آیت ٥ : ١٠١) المآئدہ
80 [١٢٦] یہود کی مشرکوں سے دوستی :۔ یہاں کافروں سے مراد مشرکین ہیں کیونکہ ان نافرمانوں، حد سے تجاوز کرنے والوں اور بدی سے نہ روکنے والوں کو سابقہ آیت میں پہلے ہی کافر قرار دیا جا چکا ہے اور ایسے یہود کا مشرکین سے دوستی گانٹھنا بھی اسی لعنت کا باطنی اثر تھا جو ان پر کی گئی تھی۔ ظاہری اثر تو یہ ہوا کہ ان کی صورتیں مسخ کر کے انہیں بندر اور سور بنا دیا گیا تھا اور باطنی یہ کہ اللہ پر، اس کے انبیاء پر، اس کی کتاب پر اور روز آخرت پر ایمان رکھنے کے باوجود وہ دوستی ایسے لوگوں سے گانٹھتے ہیں جن کا نہ روز آخرت پر ایمان ہے نہ کسی کتاب پر اور نہ انبیاء پر بلکہ انبیاء کی تعلیم کے بجائے وہ دیوی دیوتاؤں کے معتقد ہیں اور انہی کی پرستش کرتے ہیں۔ المآئدہ
81 [١٢٧] انہیں چاہیے تو یہ تھا کہ وہ کسی اہل کتاب سے ہی دوستی لگاتے۔ تاکہ کسی نہ کسی حد تک ان میں عقائد کی ہم آہنگی ہوتی جو ان کی دوستی کی بنیاد بن سکتی لیکن وہ اسلام دشمنی میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں مشرکین کو دوستی کے لیے چنتے ہیں اور زبانی بھی مشرکوں سے کہتے ہیں کہ دین کے لحاظ سے تم مسلمانوں سے اچھے ہو۔ المآئدہ
82 [١٢٨] یہود ونصاریٰ کے کردار کا تقابل :۔ عیسائیوں کی مسلمانوں سے کم تر دشمنی اور قریب تر دوستی کی اللہ نے تین وجوہ بیان فرمائیں۔ ایک یہ کہ ان میں عالم لوگ موجود ہیں۔ (یاد رہے عالم سے مراد ہمیشہ عالم باعمل ہوتا ہے) دوسرے ان میں مشائخ موجود ہیں اور تیسرے یہ عیسائی لوگ متکبر نہیں ہوتے بلکہ متواضع اور منکسر المزاج ہوتے ہیں۔ اب ان کے مقابلہ میں یہود کے حالات دیکھئے ان کے علماء آیات اللہ کو بیچ کھانے والے آیات کو اور حق بات کو چھپا جانے والے اور سازشیں کرنے والے، ان میں رہبان یا مشائخ نام کو نہیں تھے بلکہ پوری قوم حب دنیا میں اس قدر مبتلا تھی کہ سود خوری اور حرام خوری سے باز نہیں آتے تھے اور ہر جائز و ناجائز ذریعہ سے دولت حاصل کرتے تھے۔ پھر انہی منکرات کا یہ اثر تھا کہ انتہائی سنگدل، بخیل اور متکبر بن گئے تھے۔ ان کے سب سردار مثلاً کعب بن اشرف، سلام بن ابی الحقیق اور حیی بن اخطب سب کے سب ہی متکبر اور بدنہاد تھے۔ اگر ان کے مقابلہ میں ہر قل شہنشاہ روم، مقوقس شاہ مصر اور نجاشی شاہ حبشہ کے کردار کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہود کے مقابلہ میں یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں سے کس قدر قریب تر تھے اور اختلافات کے باوجود دوسروں کی نسبت مسلمانوں سے دوستی رکھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اور یہود کی اسلام دشمنی کا یہ حال تھا کہ خود پیغمبر اسلام کو تین دفعہ ہلاک کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار اللہ نے آپ کو ان کے شر سے بچا لیا۔ ایک دفعہ نہایت سخت قسم کا جادو کر کے، دوسری بار زہریلی بکری کو کھلا کر اور تیسری بار چھت کے اوپر سے آپ پر ایک بھاری پتھر گرا کر جبکہ آپ نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ المآئدہ
83 [١٢٩] ہجرت حبشہ اور نجاشی کا کردار :۔ مشرکین مکہ کی ایذا رسانیوں سے تنگ آ کر ٥ نبوی میں مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ شاہ حبشہ کے ساتھ قریش مکہ کے تجارتی مراسم تھے۔ ان کا ایک وفد ان کو واپس لانے کے لیے وہاں پہنچا۔ اور چند درباریوں سے مل کر انہیں تحفے اور تحائف دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ کل جب ہم نجاشی کے سامنے اپنی عرضداشت پیش کریں تو وہ ہماری ہاں میں ہاں ملا دیں اور سفارش بھی کریں۔ دوسرے دن اس وفد نے دربار میں حاضر ہو کر کہا کہ ہمارے کچھ لوگ وہاں سے بھاگ کر آپ کے ملک میں آ گئے ہیں۔ وہ ہمیں واپس کر دیجئے۔ رشوت لینے والے درباریوں نے بھی ہاں میں ہاں ملا دی۔ لیکن نجاشی بڑا انصاف پسند بادشاہ تھا۔ اس نے کہا : جب تک دوسرے فریق کی بات نہ سنوں گا میں انہیں تمہارے حوالہ نہیں کرسکتا۔ چنانچہ دوسرے دن مہاجر مسلمانوں کو دربار میں بلا کر ان کا بیان لیا گیا۔ جب انہوں نے ان مشرکوں کی ایذا رسانیوں اور مسلمانوں کی مظلومیت کی داستان سنائی تو اس نے مشرکین مکہ کو صاف جواب دے دیا اور انہیں اپنا سا منہ لے کر رخصت ہونا پڑا۔ اسی وفد کے ایک آدمی کو ایک تدبیر سوجھی جس کی کامیابی اسے یقینی محسوس ہونے لگی۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا ہم کل پھر دربار میں پیش ہوں گے اور میں ایک ایسی بات پیش کروں گا کہ بادشاہ از خود ان مسلمانوں کو ہمارے حوالہ کر دے گا۔ اور وہ بات یہ تھی کہ اس وقت تک پوری عیسائی دنیا میں عیسیٰ علیہ السلام کے ابن اللہ ہونے کا عقیدہ رائج ہوچکا تھا جبکہ مسلمان انہیں ابن اللہ نہیں مانتے تھے۔ فقط اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ ہی سمجھتے تھے۔ چنانچہ دوسرے دن یہ وفد دربار میں حاضر ہوا اور نجاشی سے کہا : ان مفرور بےدینوں سے آپ یہ تو پوچھئے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟ اور کچھ غلط سلط باتیں بھی بتائیں دوسرے دن پھر مسلمانوں کی دربار میں طلبی ہوئی۔ انہیں یہ معلوم ہوچکا تھا کہ کفار مکہ نے اب ہم پر جو نیا وار کیا ہے وہ کس قسم کا ہے۔ بہرحال ان مظلوم مسلمانوں نے آپس میں یہی طے کیا کہ جو بات بھی کہیں گے سچ ہی کہیں گے خواہ ہمیں اس کی کتنی ہی سزا بھگتنی پڑے۔ مسلمانوں نے اس غرض کے لیے سیدنا جعفر طیار کو جو سیدنا علی کے بھائی تھے اپنا نمائندہ منتخب کرلیا۔ دوسرے دن جب نجاشی نے مسلمانوں سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق سوال کیا تو سیدنا جعفر طیار نے جواب میں سورۃ مریم کی متعلقہ آیات پڑھ کر سنا دیں۔ یہ آیات سن کر نجاشی نے ایک تنکا اٹھایا اور مسلمانوں سے کہنے لگا ’’واللہ ! جو کچھ تم نے کہا : عیسیٰ علیہ السلام اس تنکے کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں ہیں۔‘‘ نجاشی کے اس تبصرہ پر درباری بھی برہم ہوئے اور قریشی سفارت کی تمام امیدوں پر اوس پڑگئی مگر نجاشی نے کسی کی بھی پروا نہ کی اور مسلمانوں کو اپنے ملک میں رہنے کی کھلے دل سے اجازت دی۔ اور وفد کو بری طرح ذلیل ہو کر واپس آنا پڑا۔ اس واقعہ کے کئی سال بعد نجاشی نے ستر نو مسلم عیسائیوں پر مشتمل ایک وفد مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا۔ یہ لوگ جب قرآن سنتے تو ان پر رقت طاری ہوجاتی، وفور جذبات سے آنسو بہنے لگتے اور زبان سے ﴿ رَبَّنَا آمَنَّا﴾۔۔ کہنا شروع کردیتے۔ اس آیت میں انہی لوگوں کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ نجاشی کا غائبانہ نماز جنازہ :۔ شاہ حبشہ نجاشی اگرچہ آپ کی خدمت میں حاضر نہ ہوسکا تاہم مسلمان ضرور ہوچکا تھا اور اس پر واضح دلیل یہ ہے کہ جب وہ فوت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس کی وفات کی خبر دی پھر اس پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔ (بخاری۔ کتاب الجنائز۔ باب الصفوف علی الجنازۃ) المآئدہ
84 المآئدہ
85 المآئدہ
86 [١٣٠] غور فرمائیے یہ نصاریٰ بھی اہل کتاب تھے اور مدینہ کے یہود اور ان کے سردار بھی اہل کتاب۔ لیکن مسلمانوں کے ساتھ ان کے رویہ کے لحاظ سے ان میں جو زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اسی فرق کو سابقہ آیت میں بیان کیا گیا ہے اہل کتاب اور توحید کا دعویٰ رکھنے کے لحاظ سے یہود کو بھی چاہیے تو یہی تھا کہ وہ عیسائیوں کی طرح مشرکین کے بجائے مسلمانوں کے قریب تر ہوتے لیکن معاملہ اس کے برعکس تھا۔ یہود نے اللہ کی ان آیات کو جھٹلا دیا جو تورات میں موجود تھیں۔ لہٰذا ایسے بدکردار لوگوں کی سزا دوزخ ہی ہو سکتی ہے۔ المآئدہ
87 [١٣١] حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے والے گروہ اور اس کی صورتیں :۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے تمام اشیاء انسان کے لیے مباح اور حلال ہیں ماسوائے ان چیزوں کے جن کی حرمت کے متعلق شریعت نے وضاحت کردی ہو۔ اب اس آیت اور اس سے بعد والی آیت میں حلال اشیاء سے فائدہ اٹھانے کے چند جامع اصول بیان کردیئے گئے ہیں اور یہ سب لاَ تَعْتَدُوْا کے ضمن میں آتے ہیں مثلاً (١) جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں انہیں عقیدتاً یا عملاً حرام نہ بنا لو۔ جیسے صوفی قسم کے لوگ نکاح سے عملاً اس لیے پرہیز کرتے ہیں کہ نکاح سے جو ذمہ داریاں انسان پر پڑتی ہیں۔ وہ عبادت الٰہی میں آڑے آتی ہیں۔ اس قسم کے لوگ عیسائیوں میں بھی موجود تھے اور مسلمانوں میں بھی موجود ہیں بلکہ ایسا رجحان صحابہ کرام میں بھی چل نکلا تھا۔ صوفی منش صحابہ میں سے ہی کسی نے کہا کہ میں ساری عمر نکاح نہ کروں گا اور کسی نے کہا میں ساری رات اللہ کی عبادت میں گزارا کروں گا۔ جس سے اپنے جسم کے، بیوی کے اور مہمانوں کے سب کے حقوق تلف ہوتے تھے اور کسی نے کہا کہ میں ہمیشہ دن کو روزہ رکھا کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان باتوں کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابہ کو سخت تنبیہ کی اور فرمایا ’’میں اللہ کا رسول اور تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور میں نے نکاح کیے ہیں۔ میں رات کو سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں اور میں (نفلی) روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، یہی میرا طریقہ ہے اور جس نے میری سنت سے اعراض کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ (بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب الترغیب فی النکاح) دوسری صورت یہ ہے کہ جسم کو جتنی غذا کی ضرورت ہے اس سے بھی کم یا بہت کم کھائے یا مرغوب اشیاء سے پرہیز کرے۔ یہ چیز بھی صوفی طبقہ میں ہی پائی جاتی ہے۔ جن کا نظریہ یہ ہے کہ جسم کو جس قدر مضمحل اور نحیف و نزار بنایا جائے اسی قدر روح کو تقویت ہوگی۔ رہبانیت کا نظریہ بھی سنت نبوی کے سراسر خلاف ہے۔ حد سے بڑھنے کی تیسری صورت بسیار خوری ہے۔ جیسے فرمایا ﴿وَّکُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ﴾ اور اپنی ذات پر ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص ان باتوں میں مبتلا ہوگا وہ دوسروں کے حقوق کا خیال نہیں رکھے گا۔ نیز بسیار خوری سے انسان جہاں اللہ کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے وہاں کئی طرح کے جسمانی عوارض و امراض بھی لاحق ہوجاتے ہیں اور اعتداء کی چوتھی صورت یہ ہے کہ چیز تو حلال ہو مگر انسان کمائی کے ذریعہ اسے حرام بنا لے۔ جیسے چوری، ڈاکہ، غصب، خیانت، سود اور دیگر ناجائز ذرائع سے حاصل کیا ہوا مال۔ اور یہ بھی ﴿لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ﴾ کے ضمن میں آتا ہے۔ اور یہود کی اکثریت انہی امراض میں مبتلا تھی۔ المآئدہ
88 المآئدہ
89 [١٣٢] قسموں کے مسائل سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لغو قسموں سے مراد ایسی قسمیں ہیں جو انسان تکیہ کلام کے طور پر (نیت سے نہیں) کہہ دیتا ہے جیسے لا واللہ۔ بلی واللہ۔ نیز آپ فرماتی ہیں کہ میرے والد (سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ) کبھی قسم نہیں توڑتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے کفارہ کی آیت نازل فرمائی اس وقت وہ کہنے لگے ’’میں جب قسم کھا لوں پھر اس کے خلاف کو اچھا سمجھوں تو اللہ کی رخصت منظور کر کے وہ کام کرلیتا ہوں جسے اچھا سمجھتا ہوں۔‘‘ (بخاری کتاب التفسیر) ٢۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر کسی نے قسم کھانا ہو تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ چپ رہے‘‘ (بخاری کتاب الایمان والنذور۔ مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب النھی عن الحلف بغیر اللہ تعالیٰ) ٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔‘‘ (ابو داؤد۔ کتاب الایمان والنذور باب۔ فی کراھیۃ الحلف بالاباء) ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’نہ اپنے باپوں کی قسم کھاؤ، نہ ماؤں کی اور نہ شریکوں کی اور اللہ کی قسم بھی اس وقت کھاؤ جب تم سچے ہو۔‘‘ (ابو داؤد۔ کتاب الایمان والنذور باب۔ فی کراھیہ الحلف بالاباء نسائی۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب الحلف بالامہات) ٥۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کبیرہ گناہ یہ ہیں : اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کو ستانا، کسی کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب الیمین الغموس ( وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اَیْمَانَکُمْ 94؀) 16۔ النحل :94) ٦۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص کسی کام کے کرنے کی قسم کھائے پھر ان شاء اللہ کہے تو اس پر (قسم توڑنے کا) کوئی گناہ نہیں ہوگا۔‘‘ (ترمذی۔ ابو اب النذور والایمان۔ باب فی الاستثناء فی الیمین) ٧۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم دینے والے کی قسم کو پورا کرنے کا حکم دیا‘‘ (بخاری۔ کتاب الایمان والنذورباب واقسموا باللہ جھد ایمانھم) ٨۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’قسم میں قسم دلانے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب الیمین علی نیۃ المستحلف) ٩۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر تم کسی کام کے کرنے کی قسم کھالو، پھر کسی اور کام میں بہتری سمجھو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو اور وہ کام کرو جو بہتر ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب۔ (لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ باللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ ٢٢٥۔) 2۔ البقرۃ :225) مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب ندب من حلف یمینا) [١٣٢۔ الف] قسموں کی قسمیں :۔ کلام عرب سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عرب میں بات بات پر قسمیں کھانے کا عام رواج تھا۔ اور ان میں سے زیادہ تر قسمیں یا تو محض تکیہ کلام کے طور پر ہوا کرتی تھیں یا پھر کلام میں حسن پیدا کرنے کے لئے۔ ایسی ہی قسموں کے لئے اللہ تعالیٰ نے لغو کا لفظ استعمال فرمایا ہے جن کا کوئی کفارہ نہیں۔ رہیں وہ قسمیں جو دل کے ارادہ سے اٹھائی جائیں تو ان کی بھی دو قسمیں ہیں : ایک وہ جو کسی درست بات پر اٹھائی جائیں اور اگر ان کا تعلق مستقبل سے ہو تو انہیں قسم کے مطابق پورا بھی کردیا جائے۔ ایسی قسموں پر کفارہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری وہ قسم جس کا تعلق مستقبل سے ہو اور جس کام پر قسم اٹھائی گئی وہ ممنوع تو نہ تھا مگر اس کام پر قسم نہ اٹھانا ہی بہتر تھا۔ جیسے ایک دفعہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ شہد نہ پینے پر قسم اٹھا لی تو اللہ تعالیٰ نے اس پر تنبیہ فرمائی (التحریم آیت : ١) یا کسی صحابی نے ایک مرغی کو غلاظت میں چونچ مارتے دیکھ لیا تو آئندہ مرغی نہ کھانے پر قسم اٹھائی تھی۔ ایسی قسموں کو بھی توڑ کر ان کا کفارہ ادا کرنا چاہئے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا احادیث میں سے حدیث نمبر ١۔ اور حدیث نمبر ٩ سے واضح ہے۔ قسمیں اور ان کا کفارہ۔ کفارے میں قدر مشترک۔ غلام کی آزادی :۔ کفارہ کا لغوی معنی وہ نیکی کا کا کم کرنا ہے جو کسی پہلے سے کئے ہوئے برے کام کا عوض بن کر اس کو ڈھانپ دے یا ختم کردے۔ قرآن کریم اور احادیث میں بہت سے ایسے گناہوں کا ذکر آیا ہے جن کے کفارے بیان گئے ہیں۔ مثلاً قتل خطا کا کفارہ ’’ ظہار کا کفارہ‘‘ احرام کی حالت میں شکار کرنے کا کفارہ’’ فرضی روزہ توڑنے کا کفارہ‘‘ قسم توڑنے کا کفارہ اور کسی کو رخمی کرنے کا کفارہ وغیرہ ان میں سے اکثر کفاروں میں قدر مشترک، غلام کو آزاد کرنا ہے۔ جیسا کہ قسم توڑنے کے کفارے میں بھی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے غلامی کا رواج ایک مذموم چیز تھی جسے آہستہ آہستہ ختم کردیا گیا۔ آج الحمدللہ غلامی کا رواج نہیں رہا۔ لہٰذا قسم کے کفارہ کی باقی تین متبادل صورتیں رہ گئی ہیں۔ ایک دس مسکینوں کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق درمیانہ درجہ کا کھانا کھلانا یا دس مسکینوں کو پوشاک مہیا کرنا یا تین روزے رکھنا۔ اب یہ ضروری نہیں کہ دس مسکینوں کو بلا کر انہیں اکٹھا بٹھا کر کھانا ہی کھلایا جائے بلکہ اس کی قیمت لگا کر یہ رقم دس مسکینوں کو یا کسی ایک کو یا دو تین مسکینوں کو بھی دی جا سکتی ہے۔ یہی صورت حال پوشاک کی بھی ہے۔ اور روزوں کے متعلق بظاہر اس آیت میں کوئی پابندی نہیں کہ وہ اکٹھے ہی ایک ساتھ تین دن رکھے جائیں۔ اس میں گنجائش موجود ہے کہ یہ روزے الگ الگ دنوں میں بھی رکھے جا سکتے ہیں۔ المآئدہ
90 [ ١٣٣[ شراب اور اس کی حرمت کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ حرمت شراب میں تدریج :۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دعا کی یا اللہ! شراب کے بارے میں ہمارے لیے شافی بیان واضح فرما۔ تو سورۃ بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی ﴿یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ﴾ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان پر یہ آیت پڑھی گئی۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی : یا اللہ ! شراب کے بارے میں ہمارے لیے شافی بیان نازل فرما۔ تو سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی ﴿یٰایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتَقْرَبُوْا الصَّلٰوٰۃَ﴾ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان پر یہ آیت پڑھی گئی۔ آپ نے پھر دعا کی۔ یا اللہ ہمارے لیے شراب کے بارے میں شافی بیان واضح فرما۔ تو سورۃ مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی۔ ﴿اِنَّمَا یُرِِیْدُ الشَّیْطٰنُ۔۔ مُنْتَھُوْنَ﴾ تک، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان پر یہ آیت پڑھی گئی تو انہوں نے کہا ’’ہم باز آئے۔ ہم باز آئے۔‘‘ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر۔ بخاری کتاب الاشربۃ باب نزول تحریم الخمر) ٢۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ’’احد کے دن صبح کچھ لوگوں نے شراب پی تھی۔ اسی حال میں وہ شہید ہوئے۔ اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ٣۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو کر فرما رہے تھے ’’لوگو! شراب حرام ہوئی شراب پانچ چیزوں سے بنا کرتی ہے۔ انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو سے اور جس مشروب سے عقل میں فتور آئے وہ خمر (شراب) ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ٤۔ حرمت شراب کے وقت کا منظر :۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ابو طلحہ کے گھر لوگوں کا ساقی بنا ہوا تھا اور ان دنوں شراب فضیخ (گندی کھجوروں کی) ہی تھی۔ میں ابو طلحہ، ابو عبیدہ، ابی بن کعب، ابو ایوب، ابو دجانہ، سہیل بن بیضاء اور اپنے چچاؤں اور کسی دوسرے صحابہ کرام کو کھڑا ہوا شراب پلا رہا تھا اور میں ان سب سے چھوٹا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ شراب حرام ہوگئی۔ ابو طلحہ نے مجھے کہا جاؤ! باہر جا کر سنو۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک منادی اعلان کر رہا ہے۔ ’’سن لو! شراب حرام ہوگئی۔‘‘ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا کیا تمہیں کوئی خبر پہنچی ہے؟ وہ کہنے لگے ’’کیسی خبر؟‘‘ اس نے کہا ’’شراب حرام ہوگئی ہے۔‘‘ ابو طلحہ نے مجھے کہا ’’باہر جا کر مٹکا توڑ دو اور شراب بہا دو‘‘ میں باہر نکلا اور سل کے ایک بٹے کو اٹھا کر مٹکے کے پیندے میں مارا۔ مٹکا ٹوٹ گیا اور شراب بہہ گئی۔ (اس دن) مدینہ کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی تھی۔ اس شخص سے یہ خبر سننے کے بعد لوگوں نے نہ اس کی تصدیق کی اور نہ ہی پھر کبھی شراب پی۔ (بخاری کتاب الاشربہ۔ باب۔ نزول تحریم الخمر و کتاب المظالم باب صب الخمر فی الطریق۔ مسلم کتاب الاشربہ باب تحریم الخمر) ٥۔ حرمت شراب سے متعلقہ مسائل :۔ سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص انگور اترنے کے زمانے میں انگور سٹاک کر رکھے تاکہ اسے شراب بنانے والوں کے ہاتھ فروخت کرے اس نے دیدہ دانستہ آگ میں جانے کی کوشش کی۔‘‘ (رواہ الطبرانی فی الاوسط، اسنادہ حسن) ٦۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا ’’کیا شراب بطور دوا استعمال ہو سکتی ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’شراب تو خود بیماری ہے یہ شفا کیا دے گی۔‘‘ (ترمذی۔ ابو اب الطب۔ باب ماجاء فی التداویٰ بالمسکر) ٧۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے‘‘ (مسلم۔ کتاب الاشربہ۔ باب۔ بیان ان کل مسکر خمر) ٨۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس چیز کی کثیر مقدار حرام ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہوتی ہے۔‘‘ (ترمذی۔ ابو اب الاشربہ باب ما اسکر کثیرۃ فقلیلہ حرام ) ٩۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ’’کیا ہم شراب کا سرکہ بنا کر اسے استعمال کرسکتے ہیں؟‘‘ فرمایا 'نہیں' (مسلم۔ کتاب الاشربہ باب۔ تحریم تخلیل الخمر ) ١٠۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبیلہ ربیعہ کا ایک وفد مدینہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ فلاں فلاں برتن (آپ نے ایسے برتنوں کا نام لیا جن میں اس زمانہ میں شراب بنائی جاتی تھی) کسی دوسرے استعمال میں نہ لائے جائیں (انہیں بھی توڑ دیا جائے) اور ان میں نبیذ بھی نہ بنائی جائے۔‘‘ (ترمذی۔ ابو اب الاشربۃ۔ فی کراھیہ ان ینبذ فی الدباء والنقیر والحنتم ) ١١۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور آلات موسیقی کے کوئی دوسرے نام رکھ کر انہیں جائز قرار دے لیں گے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الاشربہ۔ باب ماجاء فی من یستحل الخمر ویسمیہ بغیر اسمہ ) ١٢۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ٹہنیوں سے اسے چالیس مرتبہ مارا۔ (مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب حدالخمر) ١٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا پینا حرام ٹھہرایا ہے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی‘‘ (مسلم۔ کتاب البیوع۔ باب۔ تحریم بیع الخمر) ١٤۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سود سے متعلق سورۃ بقرہ کی آیات نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آئے ان آیتوں کو پڑھ کر سنایا پھر فرمایا کہ ’’شراب کی خرید و فروخت حرام ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الصلٰوۃ۔ باب تحریم تجارۃ الخمر فی المسجد) ١٥۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے سلسلہ میں دس لوگوں پر لعنت فرمائی (١) شراب نچوڑنے والا (٢) نچڑوانے والا (٣) لینے والا (٤) اٹھانے والا (٥) جس کے لئے لے جائی جائے (٦) پلانے والا۔ (٧) بیچنے والا (٨) اس کی قیمت کھانے والا (٩) خریدنے والا (١٠) جس کے لیے خریدی گئی۔‘‘ (ترمذی ابو اب البیوع۔ باب ماجاء فی بیع الخمر و نہی عن ذالک) شراب اور جوئے سے متعلق اگرچہ اس آیت میں تحریم یا حرام ہونے کا لفظ صراحت سے مذکور نہیں ہوا تاہم انداز بیان سے سب صحابہ کو معلوم ہوگیا کہ یہ چیزیں حرام ہوگئی ہیں۔ اس انداز بیان میں انما حصر کا لفظ لا کر شراب، جوئے کو الانصاب اور ازلام کے ساتھ ملایا گیا ہے جن کی حرمت کی کئی مقامات پر وضاحت ہے (٢) ان چیزوں کو ناپاک کہا گیا (٣) انہیں شیطانی عمل قرار دیا گیا (٤) ان سے اجتناب کا حکم دیا گیا (٥) انہیں باہمی عداوت کا پیش خیمہ قرار دیا گیا (٦) اور اللہ کی یاد سے غافل کرنے والی چیزیں قرار دیا گیا اور آخر میں (٧) طنزیہ اور سوالیہ انداز میں پوچھا گیا کہ آیا ان تمام تر قباحتوں کے باوجود بھی تم باز آتے ہو یا نہیں؟ جس کے جواب میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ ’’ہم باز آئے۔‘‘ شراب کی حد کے بارے میں بعض لوگوں نے اختلاف کیا ہے کہ شراب کی سزا حد ہے یا تعزیر۔ اور اس شبہ کی وجہ یہ ہے کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں سزا دینے والی چیز صرف کوڑے ہی نہیں تھے بلکہ بعض دفعہ ہاتھوں سے، جوتوں سے، چھڑی سے، کپڑے سے اور ٹہنی سے مار کر سزا دی جاتی تھی اور بعض احادیث میں چالیس کی تعداد کا بھی ذکر نہیں جیسا کہ درج ذیل احادیث میں سے حدیث نمبر ٣ سے معلوم ہوتا ہے۔ نیز امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک باب کے عنوان میں حد کا نام ہی نہیں لیا باب کا عنوان ہے ماجاء فی ضرب شارب الخمر شراب کی سزا کا بیان نیز حدیث نمبر ٧ میں سیدنا علی ص کی حدیث کے آخری الفاظ یہ ہیں ذلک ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لم یسنہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی متعین طریقہ بیان نہیں فرمایا یا مقرر نہیں کیا۔ اور جو لوگ اسے تعزیر نہیں بلکہ حد سمجھتے ہیں اور اکثریت کا یہی مذہب ہے ان کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ کی حدوں کے سوا کسی کو بھی دس کوڑوں سے زیادہ سزا نہ دی جائے۔ (مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب قدر اسواط التعزیر) اور چونکہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی شرابی کی سزا چالیس کوڑے مارنا ثابت ہے لہٰذا یہ حد ہے تعزیر نہیں۔ اب ہم ایسی احادیث درج کرتے ہیں جو شرابی کی سزا کے بارے میں بخاری اور مسلم میں وارد ہیں۔ ١۔ عتبہ بن حارث کہتے ہیں کہ نعیمان کا بیٹا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں لایا گیا۔ اس نے شراب پی تھی۔ جو لوگ اس گھر میں موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے ماریں۔ چنانچہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے اسے چھڑیوں اور جوتوں سے مارا تھا۔ (بخاری۔ کتاب الحدود۔ باب ماجاء فی ضرب شارب الخمر) ٢۔ سائب بن یزید کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی شروع خلافت میں شراب پینے والا جب لایا جاتا تو ہم اٹھ کر اسے ہاتھوں سے، جوتوں سے اور چادروں سے مارتے۔ یہاں تک کہ سیدنا عمر ر ضی اللہ عنہ کی خلافت کا آخری دور آ گیا تو انہوں نے شرابی کو چالیس کوڑے لگائے مگر جب لوگوں نے سرکشی اور نافرمانی کی راہ اختیار کی تو انہوں نے اسی کوڑے لگائے۔ (بخاری۔ کتاب الحدود۔ باب ماجاء فی ضرب شارب الخمر) ٣۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے زمانہ میں ایک شخص کو لوگ عبداللہ حمار کہا کرتے تھے۔ وہ رسول اللہ کو ہنسایا کرتا تھا۔ آپ نے اس کو شراب کی حد بھی لگائی تھی۔ ایک دفعہ ( غزوہ خیبر کے دوران) اس نے شراب پی اور لوگ اسے پکڑ لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوڑے لگانے کا حکم دیا جو اسے لگائے گئے۔ اتنے میں ایک شخص (خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) بول اٹھے، یا اللہ اس پر لعنت کر کمبخت کتنی مرتبہ شراب کی وجہ سے لایا جا چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر لعنت نہ کرو۔ اللہ کی قسم! میں تو یہی جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کے مقابلہ میں شیطان کی مدد نہ کرو۔ (بخاری۔ کتاب الحدود۔ باب ماجاء فی ضرب شارب الخمر) ٤۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو چھڑیوں سے چالیس بار مارا۔ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں بھی ایسا ہی کیا۔ پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سب حدوں میں سے ہلکی حد اسی کوڑے ہیں (یعنی حد قذف جو قرآن میں مذکور ہے) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شرابی کے لیے اسی کوڑوں کی حد کا حکم دیا۔ (مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب حد الخمر) ٥۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شراب میں جوتوں اور ٹہنیوں سے چالیس ضربیں مارتے تھے۔ (مسلم۔ کتاب الحدود باب حد الخمر) ٦۔ حسین بن منذر سے روایت ہے کہ میری موجودگی میں لوگ ولید بن عقبہ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لائے۔ ولید نے شراب پی تھی اور اس پر دو آدمیوں نے گواہی بھی دی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے (ازراہ توقیر و تکریم) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اٹھو اور اسے کوڑے لگاؤ۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ (اپنے بیٹے کو) کوڑے لگانے کے لیے کہہ دیا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا جس نے خلافت کا مزہ چکھا ہے اسے ہی اس کا گرم بھی چکھنے دیجئے۔ (یعنی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ہی کوڑے لگانے دیجئے۔) اس بات پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پر خفا ہوئے اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اٹھ اور ولید کو کوڑے لگا۔ عبداللہ اٹھے اور ولید کو کوڑے لگانا شروع کیے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے۔ جب چالیس کوڑے لگ چکے تو کہنے لگے۔ ذرا ٹھہر جاؤ پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس لگائے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگائے اور یہ سب سنت ہیں۔ اور میرے نزدیک چالیس لگانا بہتر ہے۔ ٧۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اگر کسی پر حد قائم کروں اور وہ مر جائے تو مجھے اس کی کچھ پروا نہیں۔ البتہ اگر شراب کی حد میں کوئی مر جائے تو اس کی دیت دلاؤں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیان نہیں فرمایا۔ (مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب حد الخمر۔ بخاری۔ کتاب الحدود۔ باب ماجاء فی ضرب شارب الخمر) [١٣٤] جوئے کی اقسام :۔ میسر بمعنی وہ کثیر مال و دولت جو مفت میں یا آسانی سے ہاتھ لگ جائے۔ اسے ہی جوا اور قمار بازی بھی کہتے ہیں جوئے کی معروف قسم تو شرعاً اور قانوناً حرام ہے اور جواری کو کسی معاشرہ میں بھی معاشرہ کا معزز فرد نہیں سمجھا جاتا مگر موجودہ دور میں جوئے کی کئی نئی اقسام بھی وجود میں آ چکی ہیں جن میں کوئی قباحت نہیں سمجھی جاتی اور بعض کو حکومتوں کی سرپرستی بھی حاصل ہوتی ہے حالانکہ ایسی سب نئی شکلیں بھی حرام ہیں مثلاً لاٹری، معمہ بازی، ریفل ٹکٹ، انعامی بانڈ، ریس کو رس اور بیمہ کی بعض شکلیں۔ نیز چوسر اور شطرنج وغیرہ بھی قمار ہی کی قسمیں ہیں۔ [١٣٥] بت اور آستانے :۔ ایسے مقامات جنہیں کسی موجود یا غیر موجود بت یا کسی دوسرے شرکیہ عقیدہ کی بنا پر عوام میں تقدس کا درجہ حاصل ہو اور وہاں نذریں نیازیں بھی چڑھائی جاتی ہوں۔ ان میں مرکزی کردار چونکہ کسی بت پیر فقیر یا اس کی روح کا ہوتا ہے لہٰذا بت گری، بت پرستی اور بت فروشی سب چیزوں کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے اور اس کے علاوہ مجسمے اور جاندار اشیاء کی تصویر کشی بھی حرام قرار دی گئی بالخصوص ایسے انسانوں کی جنہیں دینی یا دنیوی لحاظ سے معاشرہ میں کوئی ممتاز مقام حاصل ہو یا رہ چکا ہو۔ [١٣٦] ازلام کے لیے دیکھئے سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ٣ حاشیہ نمبر ١٦ المآئدہ
91 [١٣٧] شراب کس طرح باہمی عداوت اور بغض کا سبب بنتی ہے اس کے لیے مندرجہ ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ ١ ۔ شراب اور جوا باہمی عداوت کا باعث کیسے بنتے ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن ہمیں جو غنیمت کا مال ملا اس میں سے مجھے ایک جوان اونٹنی ملی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حصہ تھا۔ اور ایک جوان اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عنایت فرمائی تھی۔ میں ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری آدمی کے دروازے پر باندھا کرتا تھا۔ میرا کام یہ تھا کہ ان دونوں اونٹنیوں پر اذخر (گھاس) لاد کر لاؤں اور اس کو بیچوں۔ میرے ساتھ اس کام میں بنو قینقاع کا ایک سنار بھی تھا۔ میرا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا (بنت رسول) سے نکاح ہونے والا تھا اور میں چاہتا تھا کہ اس آمدنی سے ولیمہ کروں۔ ایک دن سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب (آپ کے چچا) اسی گھر میں بیٹھے شراب پی رہے تھے اور ایک مغنیہ گانا گا رہی تھی۔ اس مغنیہ نے یہ مصرعہ گایا۔ الا یا حمزۃ للشرف النواء (اٹھو حمزہ فربہ جوان اونٹنیاں) یہ مصرعہ سنتے ہی سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار لے کر ان اونٹنیوں کی طرف لپکے اور ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور پیٹ پھاڑ کر ان کے کلیجے نکال لیے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ منظر دیکھا تو سخت گھبرا گیا اور اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا قصہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ چنانچہ ہم تینوں روانہ ہوئے اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوئے مگر حمزہ رضی اللہ عنہ نے (جو نشہ میں دھت تھے) آنکھ اٹھائی اور کہا : تم ہو کیا، تم لوگ میرے باپ دادا کے غلام ہی تو ہو۔ یہ صورتحال دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچھلے پاؤں واپس لوٹ آئے۔ اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔ (بخاری۔ کتاب المساقاۃ۔ باب بیع الحطب والکلاء) ٢۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مہاجرین و انصار کی ایک مجلس میں گیا وہ کہنے لگے، آؤ تمہیں کھلائیں اور شراب پلائیں اور یہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے چنانچہ میں ان کے ہاں ایک باغ میں گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے پاس ایک اونٹ کی بھنی ہوئی سری اور شراب کا ایک مشکیزہ رکھا ہوا ہے۔ میں نے بھی ان کے ساتھ کھایا اور پیا۔ پھر میں نے ان سے مہاجرین و انصار کا ذکر کیا اور کہا کہ مہاجرین انصار سے اچھے ہیں (یہ سن کر) ایک آدمی نے سری کا ایک جبڑا جو مجھے مارا تو میری ناک کو زخمی کردیا اور چیر دیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی۔ تو اللہ عزوجل نے میرے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ﴿ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ﴾ الا یة (مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب فی فضل سعد بن ابی وقاص) اور جوئے کا معاملہ بعض دفعہ شراب سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ ہارا ہوا فریق جب اپنا کثیر مال و دولت حتیٰ کہ بعض دفعہ اپنی بیوی تک بھی ہار بیٹھتا ہے تو دنیا اس کے آگے اندھیر بن جاتی ہے اور اب اس میں جو عداوت پڑتی ہے وہ دیوانہ وار ہوتی ہے جو بہت سے دوسرے جرائم کا بھی سبب بنتی ہے۔ یہ تو شراب اور جوئے کے ظاہری اثرات ہیں اور باطنی اثر یہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں لوگوں کو اللہ کی یاد سے غافل کردیتی ہیں۔ المآئدہ
92 [١٣٧۔ الف] یعنی ان چیزوں سے بچو جن کی حرمت سابقہ آیات میں مذکور ہوئی ہے مثلاً شراب، جوئے، آستانوں کے تقدس اور تیروں کے ذریعہ فال لینے سے بچو اور اگر اس حکم کو عموم پر محمول کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سب برے کاموں سے بچو یا اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچتے رہو۔ [١٣٨] اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگرچہ اللہ کی اطاعت کا طریق کار بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اطاعت سے حاصل ہوتا ہے تاہم رسول کی اطاعت اپنی الگ مستقل حیثیت بھی رکھتی ہے۔ بالفاظ دیگر کتاب اللہ اور سنت رسول دونوں کی اتباع واجب ہے اور قرآن کی رو سے ان دونوں کے واجب الاتباع ہونے میں کوئی فرق نہیں۔ اس مقام پر یہ آیت لانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم کسی چیز کے فوائد اور نقصانات کا احاطہ نہ کرسکو تو تمہارے لیے بہترین روش یہی ہے کہ اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے جاؤ۔ المآئدہ
93 [١٣٩] سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شراب کی حرمت نازل ہوئی میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں لوگوں کو (ساقی بن کر) شراب پلا رہا تھا۔ جب شراب کی حرمت کی منادی ہوئی تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا کر سب شراب بہا دو۔ میں نے بہا دی جو مدینہ کی گلیوں میں بہتی چلی گئی۔ پھر بعض لوگ کہنے لگے کہ : ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کے پیٹ میں شراب تھی اور وہ شہید ہوگئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) [١٤٠] ایمان کے مختلف درجے :۔ اس آیت میں تین بار ایمان اور تقویٰ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں کیونکہ ایمان اور تقویٰ کے مختلف درجات ہیں۔ ایک شخص جب ایمان لاتا ہے تو اس کا تقویٰ کم تر درجہ کا ہوتا ہے پھر جب صالح اعمال کرتا ہے تو اس کا ایمان بھی مضبوط ہوتا جاتا ہے اور تقویٰ میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے بالفاظ دیگر ایمان اور تقویٰ معلوم کرنے کا معیار صالح اعمال کی کمی بیشی ہوتا ہے اور صالح اعمال کی بجا آوری سے ایمان اور تقویٰ میں اضافہ ہوتا ہے گویا یہ دونوں ایک دوسرے کے ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں ایمان اور تقویٰ کا بلند تر درجہ احسان ہے احسان کا لفظی معنی کسی کام کو اپنے دل کی رضاء ورغبت اور نہایت اچھے طریقے سے بجا لانا ہے۔ اور جو بھی عمل صالح ان شرائط سے بجا لایا جائے گا احسان کے درجہ میں ہوگا۔ حدیث جبریل میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کے اس سوال کے جواب میں کہ ’’احسان کیا ہے؟‘‘ فرمایا کہ ’’احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت ایسے کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو ایسا نہ کرسکے تو کم از کم یہ سمجھے کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب سوال جبریل النبی۔۔) اور عبادت کا مفہوم اتنا وسیع ہے کہ جس کا اطلاق ہر عمل صالح پر ہوسکتا ہے۔ المآئدہ
94 [١٤١] یعنی محرم شکار کے لیے نہ کسی دوسرے کو کہہ سکتا ہے نہ شکار کی طرف یا شکار کرنے کے لیے کسی کو اشارہ کرسکتا ہے اور نہ ہی شکار میں کسی طرح کی مدد کرسکتا ہے۔ البتہ اگر کسی غیر محرم نے شکار کیا ہو تو اس میں سے کھا سکتا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ محرم پر شکار کی پابندی :۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جب حدیبیہ کے سفر پر روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ نے احرام باندھا صرف میں نے نہیں باندھا تھا۔ میرے ساتھیوں نے راستہ میں ایک جنگلی گدھا دیکھا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔ میں اپنی جوتی سینے میں مشغول تھا لیکن انہوں نے مجھے نہ بتایا اگرچہ وہ چاہتے تھے کہ میں اسے دیکھ لوں۔ اچانک میں نے نظر اٹھائی تو گدھے کو دیکھا۔ میں گھوڑے پر زین کس کر اس پر سوار ہوگیا اور (جلدی سے) کوڑا اور نیزہ لینا بھول گیا۔ میں نے انہیں کہا کہ مجھے کوڑا اور نیزہ اٹھا کر دے دو۔ انہوں نے کہا ’’اللہ کی قسم! ہم اس کام میں تمہاری کچھ مدد نہ کریں گے۔‘‘ مجھے غصہ آ گیا۔ خیر میں نے اتر کر کوڑا اور نیزہ پکڑا اور پھر سوار ہوگیا۔ پھر میں اس گدھے پر حملہ آور ہوا اور نیزہ چبھو کر اسے روک دیا۔ میں نے پھر ان سے مدد طلب کی۔ انہوں نے پھر میری مدد کرنے سے انکار کردیا۔ الغرض ہم سب نے اس میں سے کھایا۔ پھر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملا۔ میں نے کہا کہ ہم نے ایک جنگلی گدھے کا شکار کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا ’’کیا تم میں سے کسی نے شکار کیا تھا یا حملہ کرنے کو کہا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا یا کسی قسم کی مدد کی تھی؟‘‘ صحابہ نے کہا ''نہیں'' پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے جو کہ احرام باندھے ہوئے تھے کہا ’’تم بھی اسے کھا سکتے ہو۔‘‘ پھر پوچھا ’’کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی ہے؟‘‘ میں نے دستی پیش کی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاٹ کر کھایا۔ (مسلم۔ کتاب الحج۔ باب تحریم الصید للمحرم) بخاری۔ ابو اب العمرۃ۔ باب اذا رای المحرمون صیداً فضحکوا۔۔ الخ) واضح رہے کہ جس طرح احرام باندھے ہوئے کو شکار کرنا حرام ہے اسی طرح حرم مکہ میں داخل ہونے والے پر بھی حرام ہے کیونکہ انتم حرم کا لفظ ان دونوں صورتوں کو شامل ہے۔ اور یہ آزمائش اس لحاظ سے تھی کہ حدیبیہ کے سفر میں راستہ میں شکار کی بڑی افراط تھی اور مسلمانوں کی خوراک کے لیے اس کی ضرورت بھی تھی حتیٰ کہ بعض جانور اور پرندے صحابہ کے خیموں اور ڈیروں میں گھس آتے تھے۔ تاہم مسلمان اس آزمائش میں پورے اترے جبکہ بنی اسرائیل کے سمندر کے کنارے بسنے والے ماہی گیر ایسے ہی امتحان میں بری طرح ناکام ہوئے اور مکر و فریب سے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی جس کی پاداش میں وہ بندر بنا دیئے گئے تھے۔ المآئدہ
95 [١٤٢] شکار کرنے کا کفارہ :۔ یعنی دو معتبر اور منصف مزاج یہ فیصلہ کریں گے کہ کونسا جانور اس شکار کردہ جانور کے بدلہ میں اسی کی جنس سے اور اسی کی قیمت کے برابر ہے۔ یہ جانور کعبہ لے جا کر ذبح کیا جائے گا اور کفارہ دینے والا خود اس سے کچھ نہیں کھا سکتا اور اگر ایسا جانور میسر نہیں آتا تو دو عادل یہ فیصلہ کریں گے کہ شکار کردہ جانور کی قیمت کیا ہے اس قیمت کا غلہ لے کر یا مسکینوں کو کھانا کھلا دیا جائے یا وہ غلہ ان میں تقسیم کردیا جائے نیز یہ فیصلہ بھی انہیں پر منحصر ہوگا کہ اتنے غلہ سے کتنے مسکینوں کو روزہ رکھایا جا سکتا ہے یا ایک مسکین کو کتنے روزے رکھائے جا سکتے ہیں۔ دانستہ شکار کرنے والا کفارہ کے طور پر اتنے ہی روزے بھی رکھے گا۔ رہی یہ بات کہ اگر کسی نے بھول کر شکار کرلیا یا غلطی سے اس کا تیر شکار کو جا لگا تو کیا اس پر بھی یہ کفارہ ہے بعض فقہاء ایسے قتل خطا اور عمد میں کوئی فرق نہیں کرتے لیکن آیت میں متعمداً سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ قتل خطا پر کفارہ نہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح ایک اختلاف یہ بھی ہے کہ اگر شکار کا جانور مرا نہیں بلکہ صرف زخمی ہوا ہے تو کیا اس پر بھی کچھ کفارہ ہے؟ آیت سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ کفارہ صرف قتل کی صورت میں ہے تاہم بعض فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ زخم کی نسبت سے اس کا بھی کفارہ لازم ہے کیونکہ اس نے یہ کام عمداً کیا ہے اور ایک اختلاف یہ ہے کہ آیا شکار کی طرف اشارہ کرنے والوں یا اس کام میں مدد دینے والوں پر بھی کچھ کفارہ ہے۔ کیونکہ سنت میں ان کاموں سے بھی باز رہنے کا حکم ہے۔ اور مندرجہ بالا حدیث ابو قتادہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان پر بھی کفارہ پڑنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ البتہ پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حالت احرام میں بھی اور حرم میں بھی مارا جا سکتا ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ حفصہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ جانور ایسے ہیں جن کے مار ڈالنے میں کوئی قباحت نہیں۔ کوا۔ چیل۔ چوہا۔ بچھو اور کاٹنے والا کتا۔‘‘ (بخاری۔ ابو اب العمرۃ۔ باب مایقتل المحرم من الدواب ) [١٤٢۔ الف] یعنی جو شخص اللہ کے اس حکم کی تعمیل یا اس کے شعائر کی تعظیم نہیں کرے گا۔ اللہ اسے مختلف ارضی اور سماوی بلاؤں میں مبتلا کر دے گا۔ اور ایسے لوگوں کے لیے آخرت کا عذاب تو بہرحال یقینی ہے۔ المآئدہ
96 [١٤٣] یہ اجازت محرم اور غیر محرم سب کو ہے۔ محرم صرف خشکی کے جانوروں کا شکار نہیں کرسکتا۔ سمندر کے شکار کی اجازت میں غالباً مصلحت یہ ہے کہ اگر سمندر میں زاد راہ ختم ہوجائے تو سمندر میں مزید زاد راہ کا حصول خشکی کی نسبت بہت مشکل ہوتا ہے۔ ہر طرح کا سمندری جانور حلال ہے :۔ اس آیت کی رو سے تمام سمندری جانور حلال ہیں۔ البتہ مینڈک اور مگر مچھ یا اسی قبیل کا کوئی اور جانور جو پانی اور خشکی دونوں جگہ زندہ رہ سکتا ہو ان کی حلت میں اختلاف ہے۔ مزید یہ کہ ان سمندری جانوروں کو ذبح کرنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔ کیونکہ وہ پانی سے جدا ہوتے ہی مر جاتے ہیں اور اگر چند لمحے زندہ بھی رہیں تو بھی انہیں ذبح کرنے کی ضرورت نہیں جیسے مچھلی خواہ وہ زندہ ہو یا مر چکی ہو ہر حال میں حلال ہے۔ اور اگر زندہ مچھلی کو پانی سے نکال لیا جائے تو وہ چند ساعت بعد خودبخود مر جاتی ہے۔ [١٤٤] سمندری وہیل مچھلی اور غزوہ سیف البحر :۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (٨ ھ میں) سمندر کے کنارے ایک لشکر بھیجا اور سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو اس کا سردار مقرر کیا۔ یہ تین سو آدمی تھے اور میں بھی ان میں شامل تھا۔ راستہ میں ہمارا زاد راہ ختم ہوگیا۔ ابو عبیدہ نے حکم دیا کہ سب لوگ اپنا اپنا توشہ لا کر اکٹھا کریں۔ ایسا کیا گیا تو کل زاد راہ کھجور کے دو تھیلے جمع ہوئے۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ ان میں سے ہم کو تھوڑا تھوڑا دیا کرتے۔ حتیٰ کہ وہ بھی ختم ہونے کو آئے تو فی کس ایک کھجور یومیہ دینے لگے۔ وہب کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ایک کھجور سے تمہارا کیا بنتا ہوگا۔ انہوں نے کہا جب وہ بھی نہ رہی تب ہمیں معلوم ہوا کہ وہ ایک کھجور بھی غنیمت تھی۔ پھر جب ہم سمندر پر پہنچے تو دیکھا کہ پہاڑ کی طرح ایک بہت بڑی مچھلی پڑی ہے۔ لشکر کے لوگ اٹھارہ دن تک اسی میں سے کھاتے رہے۔ پھر ابو عبیدہ نے حکم دیا۔ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اونٹ ان کے نیچے سے نکل گیا اور پسلیوں کی بلندی تک نہ پہنچا۔ (بخاری۔ باب الشرکۃ فی الطعام وغیرہ) المآئدہ
97 [١٤٥] اس آیت میں قِیَاماً للنَّاسِ کے تین الگ الگ مطلب لیے جا سکتے ہیں اور وہ تینوں ہی درست ہیں۔ (١) الناس سے مراد اس دور کے اور اس سے پہلے اور پچھلے قیامت تک کے سب لوگ مراد لیے جائیں۔ اس صورت میں معنیٰ یہ ہوگا کہ کعبہ کا وجود کل عالم کے قیام اور بقا کا باعث ہے اور دنیا کا وجود اسی وقت تک ہے جب تک خانہ کعبہ اور اس کا احترام کرنے والی مخلوق موجود ہے۔ جب اللہ کو یہ منظور ہوگا کہ یہ کارخانہ عالم ختم کردیا جائے تو اس وقت بیت اللہ کو اٹھا لیا جائے گا جیسا کہ سب سے پہلے اس زمین پر یہ مکان بنایا گیا تھا امام بخاری نے اس معنیٰ کو ترجیح دی ہے اور اسی آیت کے تحت درج ذیل حدیث لائے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (قیامت کے قریب) ایک چھوٹی پنڈلیوں والا (حقیر) حبشی کعبہ کو ویران کرے گا۔ (بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب قول اللہ تعالیٰ جعل اللّٰہ الکعبۃ البیت الحرام قیاماً للناس۔۔) اس حدیث سے ضمناً دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس سے پہلے کوئی مضبوط سے مضبوط اور طاقتور دشمن کعبہ کو منہدم کرنے کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہو سکے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے جس طرح اصحاب الفیل (ابرہہ) کو ذلیل اور ناکام بنا دیا تھا ایسے ہی ہر اس شخص کو یا قوم یا حکومت کو ہلاک کر دے گا جو کعبہ کی تخریب کی مذموم حرکت کرے گی۔ (٢) الناس سے مراد صرف عرب کے لوگ لیے جائیں۔ جو حرمت والے مہینوں میں بڑی آزادی سے سفر کرتے تھے بالخصوص جب وہ قربانی کے پٹہ والے جانور بھی بغرض قربانی ساتھ جا رہے ہوں۔ کیونکہ سب قبائل عرب ایسے جانوروں کا احترام کرتے تھے اور یہ سب کچھ کعبہ کے تقدس کی بنا پر ہوتا تھا۔ حج و عمرہ کرنے والے اور تجارتی قافلے تہائی سال نہایت اطمینان سے سفر کرتے۔ اس طرح کعبہ پورے ملک کی تمدنی اور معاشی زندگی کا سہارا بنا ہوا تھا۔ (٣) الناس سے مراد مکہ اور اس کے ارد گرد کے لوگ لیے جائیں۔ اس صورت میں معنیٰ یہ ہوگا کہ بے آب و گیاہ وادی میں کعبہ کا وجود مکہ اور آس پاس کے تمام لوگوں کی معاش کا ذریعہ ہے۔ اقصائے عالم سے حج و عمرہ کے لیے آنے والے لوگوں کو قیام و طعام اور نقل و حرکت کی خدمات مہیا کرنے کے عوض ان لوگون کو اتنی آمدنی حاصل ہوجاتی ہے جس سے وہ سال بھر گزارہ کرسکیں بلکہ اس سے بہت زیادہ بھی۔ نیز انہیں دوسرے بھی بہت سے معاشرتی اور سیاسی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ [١٤٦] قربانی اور پٹے والے جانوروں کے لیے دیکھئے سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ٢ کا حاشیہ نمبر ٧۔ [١٤٧] شرعی احکام لوگوں کے مصالح پر مبنی ہیں :۔ یعنی اس بے آب و گیاہ وادی میں بسنے والی مخلوق کی ضروریات سے اور مصالح سے وہ خوب واقف ہے اس نے اپنے گھر کو قابل احترام خطہ قرار دے کر اور اسے تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک مرکز قرار دے کر ان کی جملہ ضروریات کا سامان بہم پہنچا دیا ہے کہ انہیں کھانے کے لیے رزق کی جملہ انواع کھچ کھچ کر وہاں پہنچ جاتی ہیں۔ صرف ایک اسی بات میں غور کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کا ایک ایک حکم انسان ہی کے مصالح پر مبنی ہے خواہ وہ مصالح دینی ہوں یا دنیوی ہوں۔ پھر یہ بات صرف اسی خطہ تک محدود نہیں بلکہ وہ سب لوگوں کے حالات، ضروریات اور مصالح سے پوری طرح واقف ہے اور اسی کے مطابق حکم دیتا ہے۔ المآئدہ
98 المآئدہ
99 [١٤٨] یعنی رسول کی ذمہ داری صرف اللہ کے احکام پہنچا دینے تک ہے آگے ان احکام کی فرمانبرداری کی ذمہ داری تم پر ہے۔ اگر تم نافرمانی کرو گے تو رسول تمہاری اس نافرمانی سے بری الذمہ ہے اور اللہ تمہارے ظاہری اعمال و اقوال کے علاوہ باطنی خیالات تک سے واقف ہے کہ تم میں اس کی اطاعت کا جذبہ کیسا ہے؟ المآئدہ
100 [١٤٨۔ الف] خبیث اور طیب کے مختلف معانی :۔ اس آیت کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں مثلاً (١) غلاظت کے ڈھیر سے عطر کا ایک قطرہ زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے یا ایک گندے پانی کے نالہ سے صاف ستھرے پانی کا ایک گلاس زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے۔ (٢) حرام طریقہ سے کمائی ہوئی دولت اگر ایک سو روپیہ ہو تو حلال طریقے سے کمائے ہوئے پانچ روپے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں زیادہ قدر و قیمت رکھتے ہیں اگرچہ تمہیں وہ سو روپے کی حرام کمائی کتنی ہی اچھی نظر آتی ہو۔ (٣) بدکار اور نافرمان آدمیوں کے ایک لشکر کے مقابلہ میں اللہ کے نزدیک گنتی کے چند فرمانبردار اور متقی لوگ زیادہ محبوب ہیں اور جو لوگ صاحب عقل و شعور ہیں وہ ان متضاد اشیاء کو کبھی یکساں قرار نہیں دے سکتے لہٰذا تم اللہ سے ڈرتے ہوئے وہی بات کہو جسے اہل عقل و دانش بھی درست سمجھتے ہوں۔ اسی صورت میں کامیابی کا امکان ہے۔ المآئدہ
101 [١٤٩] یعنی ایسے سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کیا کرو جن میں نہ تمہارا کوئی دینی فائدہ ہو اور نہ دنیوی کیونکہ خواہ مخواہ سوال پوچھنے سے انسان کو نقصان ہی ہوتا ہے یا اس پر کوئی پابندی عائد ہوجاتی ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔ ١۔ کثرت سوال کی ممانعت :۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی باتیں پوچھیں کہ آپ کو برا معلوم ہوا۔ جب بہت سوال جواب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اب جو چاہو پوچھتے جاؤ۔‘‘ ایک شخص (عبداللہ بن حذافہ، جسے لوگ متہم کرتے تھے) نے کہا : میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تیرا باپ حذافہ ہے۔‘‘ پھر دوسرا شخص (سعد بن سالم) کہنے لگا : یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ فرمایا’’تیرا باپ سالم ہے شیبہ کا غلام۔‘‘ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے غصہ کو دیکھا تو کہنے لگے’’ یا رسول اللہ ! ہم اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں‘‘ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب العلم۔ باب الغضب فی الموعظۃ والتعلیم اذا رای مایکرہ) ٢۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک شخص نے پوچھا : میرا باپ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’دوزخ میں‘‘ (بخاری۔ کتاب الاعتصام۔ باب مایکرہ من کثرۃ السوال ) ٣۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بڑا قصور وار وہ مسلمان ہے جو ایک بات پوچھے جو حرام نہ ہو لیکن اس کے پوچھنے کی وجہ سے حرام ہوجائے۔‘‘ (حوالہ ایضاً) ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا : بے فائدہ بک بک کرنے، زیادہ سوال کرنے، مال و دولت ضائع کرنے، ماؤں کو ستانے، لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے، دوسروں کا حق دبانے سے۔ (بحوالہ ایضاً) ٥۔ ایک شخص (اقرع بن حابس) نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ رہے۔ سائل نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’نہیں۔ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج واجب ہوجاتا (اور تم نباہ نہ سکتے)‘‘ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) ٦۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو میں چھوڑوں یعنی اس کا ذکر نہ کروں تم بھی اس کا ذکر نہ کرو۔ کیونکہ تم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی بنا پر تباہ ہوگئے۔ (مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب توقیرہ و ترک اکثار سوالہ ممالا ضرورۃ الیہ۔۔ الخ) ٧۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کام سے میں تمہیں منع کروں اس سے باز رہو اور جس کام کا حکم دوں اسے جہاں تک ہو سکے بجا لاؤ کیونکہ تم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے اور اپنے پیغمبروں سے اختلاف کرنے کی وجہ سے تباہ ہوگئے۔ (مسلم حوالہ ایضاً) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کیے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو (ٹھیک طرح سے بجا لاؤ) اور کچھ چیزیں حرام کی ہیں ان کے پاس نہ پھٹکو، کچھ حدود مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے بغیر اس کے اس کو بھول لاحق ہو لہٰذا ان کی کرید نہ کرو۔ ‘‘ (بیہقی بحوالہ الموافقات للشاطبی اردو ترجمہ ج ١ ص ٢٩١) المآئدہ
102 [١٥٠] شریعت کے اجمالی حکم کی جزئیات کا قیاس نہ کیا جائے :۔ یہ یہود تھے جنہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے سوال کر کر کے انہیں پریشان کر رکھا تھا جیسا کہ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ١٠٨ سے واضح ہوتا ہے۔ کہ جب انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے پے در پے سوالات شروع کردیئے کہ ہمیں اللہ سے پوچھ کر بتاؤ کہ اس گائے کی عمر کیا ہو، اس کا رنگ کیسا ہو اس کی کیفیت کیسی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ اگر وہ کوئی بھی سوال نہ کرتے تو کوئی سی گائے ذبح کرنے میں آزاد تھے۔ مگر پے در پے سوال کرنے سے اپنے آپ پر پابندی ہی بڑھاتے گئے اور یہی زیادہ سوال کرنے کا نقصان ہوتا ہے۔ شریعت اگر ایک حکم اجمالاً بیان کرے تو اس کے اجمال سے فائدہ اٹھانے میں بھی مسلمانوں کے لئے آسانی ہے۔ اجتہاد و استنباط کر کے اس کی تفصیلات معین کر کے مسلمانوں کے لئے مشکلات کا یا الجھنوں کا سبب نہ بننا چاہیے۔ المآئدہ
103 [١٥١] بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ ، حام کی رسوم :۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ''بحیرہ'' وہ دودھ دینے والا جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے نام پر روک دیا جائے کہ کوئی اس کا دودھ نہ دوہے۔ سائبہ وہ جانور ہے جسے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اس پر کوئی نہ بوجھ لادتا نہ سواری کرتا (یعنی سانڈ) وصیلہ وہ اونٹنی ہے جو پہلی بار بھی مادہ جنے اور دوسری بار بھی ایسی اونٹنی کو بھی وہ بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور حام وہ نر اونٹ ہے جس کے نطفہ سے دس بچے پیدا ہوچکے ہوں۔ اسے بھی بتوں کے نام پر بطور سانڈ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتا پھرتا ہے۔ سانڈ کی رسم سب سے پہلے اسی نے نکالی تھی۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر) جس عمرو بن عامر خزاعی کا نام اس حدیث میں آیا ہے ایک دوسری روایت میں اس کا نام عمرو بن لحی خزاعی بھی مذکور ہے۔ یہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تقریباً تین سو سال پہلے مکہ کا فرمانروا بن گیا تھا۔ اس نے دین ابراہیمی میں بہت سی خرافات شامل کردیں۔ بہت سی حلال چیزوں کو حرام اور حرام چیزوں کو حلال کردیا۔ مکہ مکرمہ میں بت پرستی کو بھی اسی نے رواج دیا تھا۔ اور ہوتا یہ ہے کہ امراء و سلاطین یا بڑے لوگ بد رسمیں ایجاد کرتے ہیں اور ان کے زیر لوگ انہیں قبول اور پسند کرنے لگتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ یہی بد رسوم دین کا حصہ سمجھی جانے لگتی ہیں۔ مزید ستم ظریفی یہ تھی کہ ایسی مشرکانہ رسوم کی ایجاد تو ان کے بڑے بزرگ کرتے تھے مگر ان کے پچھلے اسے اللہ سے منسوب کردیتے کہ اللہ نے ایسا حکم دیا ہے اور جہلاء جن کی ہر معاشرہ میں عموماً اکثریت ہوتی ہے ان کے اس افتراء کو تسلیم کرلیتے تھے اس طرح ایسی رسوم رواج پا جاتی تھیں۔ اسی بات کی تردید میں اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ المآئدہ
104 [١٥٢] تقلید آباد کی مذمت :۔ تقلید آباء بھی دراصل شرک ہی کی ایک قسم ہے کیونکہ ایسی صورت میں اللہ اور رسول کے احکام کے مقابلہ میں دین آباء کو ترجیح دی جاتی ہے اور اس کی ابتدا یوں ہوتی ہے کہ ہر شخص فطرتاً اپنے بزرگوں سے اچھا گمان رکھتا ہے اور ان سے محبت کی بنا پر اس کا یہ گمان عقیدہ کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے بزرگ ہم سے بہت زیادہ نیک، عالم اور دین کو سمجھنے والے تھے۔ حالانکہ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ انبیاء کے علاوہ کوئی شخص معصوم نہیں ہوتا۔ اور ہر شخص سے دانستہ یا نادانستہ طور پر غلطی کا صدور ممکن ہے اور تقلید آباء کی صورت میں یہ غلطی نسل در نسل منتقل ہوتی چلی جاتی ہے چنانچہ ہر عقیدہ اور عمل کی صحت معلوم کرنے کا صرف یہ طریقہ ہے کہ اسے کتاب و سنت پر پیش کیا جائے ورنہ محض تقلید آباء کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ گمراہی کی طرف دھکیل دے گی۔ المآئدہ
105 [١٥٣] سب سے پہلے اپنی اصلاح ضروری ہے :۔ یعنی تمہیں سب سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہیے۔ یہ نہ دیکھنا چاہیے کہ دوسرا کیا کر رہا ہے۔ بلکہ اپنے عقائد، اپنے کردار، اخلاق و اعمال کی اصلاح کتاب و سنت کی روشنی میں کرنی چاہیے۔ دوسروں کی کجروی اور گمراہی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ یعنی سب سے پہلے تمہیں اپنی دینی بنیادیں اس قدر مضبوط بنانا چاہئیں کہ دوسرے لوگوں کی ضلالت تم پر کسی طرح اثر انداز نہ ہو سکے۔ پھر اس کے بعد تمہیں بگڑے ہوئے دوسرے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہیے۔ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دوسرے جو کچھ بھی کرتے رہیں، تمہیں ان سے بے نیاز ہو کر بس اپنی ہی فکر کرنا چاہئے۔ کیونکہ ﴿اَمَرْ بالْمَعْرُوْفِ﴾ اور ﴿نَھَی عَنِ الْمُنْکَرِ﴾ کا فریضہ اس قدر اہم ہے کہ بعض علماء کے نزدیک یہ فرض عین ہے۔ اور ہر شخص کو اپنی قوت، اپنے علم، اپنی استعداد کے مطابق اپنے حلقہ اثر میں یہ فرض ضرور سر انجام دینا چاہیے۔ پھر بھی اگر کوئی شخص روکنے کے باوجود باز نہ آئے۔ تو روکنے والے پر کچھ الزام نہ ہوگا۔ المآئدہ
106 [١٥٤] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک آدمی تمیم داری اور عدی کے ساتھ سفر پر نکلا اور یہ سہمی ایسی جگہ مر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔ تمیم داری اور عدی اس کا ترکہ لے کر آئے تو سہمی کے وارثوں نے اس میں ایک پیالہ نہ پایا جو چاندی کا تھا اور سونے سے مرصع تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمیم اور عدی سے قسم کھانے کو کہا اور وہ قسم کھا گئے کہ (پیالہ ان کے پاس نہیں) پھر وہ پیالہ بازار مکہ سے مل گیا۔ اور انہوں نے کہا کہ ہم نے تمیم داری اور عدی سے خریدا ہے۔ اب سہمی کے وارثوں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ یہ پیالہ ہمارے ہی آدمی کا ہے اور یہ کہ ہماری گواہی ان دونوں سے زیادہ سچی ہے۔ یہ آیت اسی سلسلہ میں نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب الوصایا۔ باب قول اللہ تعالیٰ یٰاایہا الذین آمنوا شھادۃ۔۔ ) چوری کے پیالہ کا مقدمہ :۔ یہ واقعہ جو دور نبوی میں ہوا تھا اس کی کچھ تفصیل تو مندرجہ بالا حدیث میں آ گئی ہے تاہم اختصار کی وجہ سے کئی پہلو تشنہ رہ گئے ہیں جو ہم یہاں بیان کریں گے تاکہ بات پوری طرح سمجھ میں آ جائے۔ ہوا یہ تھا کہ بنو سہم کا ایک مسلمان، جس کا نام بدیل تھا۔ اپنے دو ساتھیوں تمیم اور عدی کے ساتھ، جو نصرانی تھے اور ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ شام کی طرف ایک تجارتی سفر پر روانہ ہوئے۔ بدیل وہاں شام جا کر بیمار پڑگیا جس سے اسے افاقہ ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس نے اپنا اثاثہ باندھا اور اپنے ان دونوں ساتھیوں کے حوالہ کردیا۔ اور تاکید کی کہ یہ سامان میرے وارثوں کے حوالہ کردیں۔ اس نے یہ عقلمندی کی کہ چپکے سے اپنے سامان کی ایک فہرست تیار کر کے سامان میں کسی محفوظ جگہ رکھ دی اور اپنے ساتھیوں کو اس کی خبر نہ کی۔ اس سامان میں ایک قیمتی پیالہ تھا جو چاندی کا تھا اور اس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا اور نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ ان نصرانیوں نے اس کے مرنے کے بعد جب سامان دیکھا تو ان کی نیت میں فتور آ گیا اور یہ پیالہ سامان میں سے چرا لیا۔ جب وہ واپس آئے تو سامان بدیل کے ورثاء کے حوالہ کردیا اور پیالہ بازار میں کسی سنار کے پاس فروخت کردیا۔ ورثاء نے جب سامان کھولا تو اس میں سامان کی فہرست بھی ملی۔ اس کے مطابق سامان چیک کیا تو وہ قیمتی پیالہ ندارد تھا۔ انہوں نے سامان لانے والے ساتھیوں سے پوچھا کہ مرنے والے نے اپنی کوئی چیز فروخت تو نہیں کی تھی؟ ممکن ہے اسے بیماری کے علاج معالجہ کے لیے ضرورت پڑگئی ہو اور اس نے کچھ سامان بیچ ڈالا ہو؟ انہوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ یہ تسلی کرلینے کے بعد ورثاء نے یہ مقدمہ عدالت نبوی میں پیش کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمیم اور عدی دونوں کو بلا کر بیان لیا تو وہ کہنے لگے کہ ہمیں اس پیالہ کا کچھ علم نہیں اور قسمیں کھا کر اپنے بیان کی توثیق کی۔ اب چونکہ اس بات کا امکان تھا کہ سامان کی فہرست تیار کرنے کے بعد میت نے وہ پیالہ اپنی ضرورت سے بیچ دیا ہو اور شرعی شہادات پوری نہیں ہو رہی تھیں لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نصرانیوں کو بری قرار دے دیا۔ کچھ مدت بعد بدیل کے وارثوں نے وہی پیالہ ایک سنار کے پاس دیکھ لیا تو اس سے پوچھا کہ یہ پیالہ تم نے کہاں سے لیا ہے؟ اس نے کہا میں نے یہ تمیم اور عدی سے خریدا ہے۔ چنانچہ مدعی دوبارہ یہ مقدمہ آپ کی عدالت میں لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر نصرانیوں کو بلایا اور ان کے سامنے وارثوں میں سے دو گواہوں نے قسم اٹھا کر گواہی دی کہ یہ پیالہ ہمارے ہی آدمی کا ہے نصرانی اپنی قسم میں جھوٹے ہیں اور ہم اللہ سے ڈرتے ہوئے بالکل صحیح اور سچی گواہی دے رہے ہیں۔ یہ گواہیاں میت کے نہایت قریبی وارثوں کی تھیں جو مسلمان تھے۔ نیز یہ گواہیاں نماز عصر کے بعد قسم کے بعد مسجد میں ہوئی تھیں لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے وارثوں کے حق میں فیصلہ دے دیا اور نصرانیوں سے اس پیالہ کی قیمت (ایک ہزار درہم) میت کے وارثوں کو دلائی گئی۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں۔ پھر کچھ عرصہ بعد جب ان دونوں نصرانیوں میں سے تمیم نے اسلام قبول کرلیا تو اس نے اعتراف کیا کہ واقعی اس نے جھوٹی قسم کھائی تھی اور جو کچھ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تھا وہ درست تھا۔ المآئدہ
107 [١٥٥] اس واقعہ اور ان آیات کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ہر حال میں گواہی ٹھیک ٹھیک اور سچی ہی دینا چاہیے اور یہ مضمون قرآن کریم میں بے شمار مقامات پر آیا ہے اور جھوٹی یا گول مول یا ہیرا پھیری کی شہادت کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہے۔ جھوٹی شہادت کبیرہ گناہ ہے :۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا ’’کیا میں تمہیں بڑے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں؟‘‘ صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی‘‘ اس وقت آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ پھر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا ’’خبردار! جھوٹا قول اور جھوٹی شہادت۔ خبردار جھوٹا قول اور جھوٹی شہادت۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات دہراتے ہی رہے۔ میں سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہی نہ ہوں گے۔ (بخاری کتاب الادب۔ باب عقوق الوالدین من الکبائر) (مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب بیان الکبائرواکبرھا) المآئدہ
108 [١٥٦] ان آیات میں چند باتیں قابل ذکر ہیں جو یہ ہیں۔ (١) یہاں پہلی دفعہ شہداء کا جو ذکر آیا ہے وہ وصی کے معنوں میں آیا ہے یعنی وہ لوگ جن کو میت اپنا ترکہ حوالہ کر کے انہیں وصیت کرے (٢) غیر مسلموں کو صرف اس صورت میں وصی بنایا جا سکتا ہے جب مسلم وصی دستیاب نہ ہو رہے ہوں جیسے سفر میں اکثر ایسی ضرورت پیش آ جاتی ہے (٣) آئندہ کے لیے یہ قانون مقرر کردیا گیا کہ اگر وصی کے بیانات میں کچھ شک پڑجائے تو اس کے بعد ان سے اہل تر گواہوں کی شہادت کی بنا پر اوصیاء کی گواہی کو کالعدم بھی قرار دیا جا سکتا ہے لہٰذا انہیں چاہیے کہ گواہی ٹھیک ٹھیک دیا کریں تاکہ بعد میں رسوائی نہ ہو اور (٤) صحیح تر بات یہ ہے کہ وہ اپنی رسوائی سے ڈرتے ہوئے سچ بولنے کی بجائے اگر اللہ سے ڈر کر سچی گواہی دیں تو یہی بات زیادہ مناسب ہے۔ المآئدہ
109 [١٥٧] روز قیامت پیغمبروں سے سوال :۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ رسولوں کو ان کی امتوں نے جو جو جواب دیئے تھے ان کا انہیں کسی نہ کسی حد تک علم ضرور تھا مگر روز حساب میں ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب دہشت اتنی زیادہ ہوگی کہ ماسوائے محمد رسول اللہ کے انبیاء و رسل سمیت سب نفسی نفسی پکار رہے ہوں گے اور اپنی اپنی نجات کی فکر کے سوا کسی کو کوئی بات سوجھ ہی نہیں رہی ہوگی اسی بنا پر رسول ایسے وقت میں انتہائی مختصر اور جامع سا جواب دیں گے اور یہ جواب اس لحاظ سے مبنی بر حقیقت بھی ہے کہ اللہ کے علم کے مقابلہ میں دوسروں کا علم کچھ حقیقت نہیں رکھتا نیز لفظ ﴿مَاذَا اَجَبْتُمْ﴾ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو دعوت تم نے لوگوں کو دی تھی اس کا رد عمل کیسا رہا اور لوگوں نے اس دعوت کو کہاں تک قبول کیا تھا اس کا جواب پیغمبر یہ دیں گے کہ اے اللہ ! یہ بات تو آپ ہی خوب جانتے ہیں اس کا علم ہمیں کیسے ہوسکتا ہے؟ المآئدہ
110 [١٥٨] یعنی پہلے تمام انبیاء سے اجتماعی طور پر پوچھا جائے گا کہ ان کی قوم نے انہیں کیا جواب دیا تھا یا ان کی دعوت کو کس حد تک قبول کیا تھا پھر ہر نبی سے الگ الگ یہی سوال ہوگا اور عیسیٰ علیہ السلام کے سوال و جواب کو بالخصوص اس لیے ذکر کیا گیا کہ آپ کی امت نے مستقلاً کئی خدا بنا لیے تھے۔ [١٥٩] سوال و جواب سے پیشتر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے احسانات کا تذکرہ کیا ہے یہ احسانات قرآن کریم میں جا بجا مذکور ہیں۔ ان میں اکثر اس مقام پر یک جا کر کے ذکر کیے گئے ہیں۔ اور وہ حسب ذیل ہیں۔ (١) اللہ تعالیٰ کے عیسیٰ اور ان کی والدہ پر احسانات :۔ عیسیٰ علیہ السلام پر سب سے بڑا احسان اور ان کی سب سے بڑی فضیلت یہ تھی کہ آپ نفخہ جبریلیہ سے پیدا ہوئے تھے آپ کی پیدائش فطری طریق سے ہٹ کر خرق عادت اور معجزانہ طور پر واقع ہوئی تھی۔ اسی لیے آپ کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ کہا جاتا ہے۔ (٢) آپ کی والدہ مریم پر اللہ کا یہ احسان تھا کہ آپ کو یہودیوں کی تہمت سے بری قرار دیا۔ (٣) عیسیٰ علیہ السلام بالکل چھوٹی عمر میں، جبکہ بچہ بولنا سیکھتا بھی نہیں، اس طرح کلام کرتے تھے جیسے ایک پختہ عقل والا آدمی گفتگو کرتا ہے۔ (٤) آپ بارہ سال کی عمر میں تورات کی عبارتیں زبانی یوں فر فر سنا دیا کرتے تھے کہ یہود کے بڑے بڑے علماء اور فریسی یہ صورت حال دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے۔ پھر تیس سال کی عمر میں آپ کو نبوت عطا ہوئی، اور آپ پر انجیل نازل ہوتی رہی۔ (٥) معجزات عیسیٰ:۔ شاید یہ نفخہ جبریلیہ ہی کا اثر تھا کہ آپ مٹی کا کوئی پرندہ بناتے پھر اس میں پھونک مارتے تو وہ پرندہ اللہ کے حکم سے سچ مچ کا جاندار پرندہ بن کر اڑنے لگتا تھا۔ (٦) نیز اسی نفخہ جبریلیہ کے اثر یا روح القدس کی تائید سے مادر زاد اندھے کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرتے تو وہ اللہ کے حکم سے بینا بن جاتا تھا اور اس کی آنکھیں بالکل ٹھیک ہو کر دیکھنے لگتی تھیں۔ (٧) اگر آپ کسی برص والے یعنی کوڑھی کے بدن پر ہاتھ پھیرتے تو وہ اللہ کے حکم سے بالکل تندرست ہوجاتا تھا۔ (٨) آپ کسی قبر میں پڑے ہوئے مردے کو زندہ ہو کر اٹھ کھڑا ہونے کو کہتے تو وہ اللہ کے حکم سے قبر سے نکل کر کھڑا ہوجاتا تھا۔ (٩) اتنے ڈھیروں معجزات کے باوجود بنی اسرائیل نے آپ کو جھٹلا دیا اور کہنے لگے کہ تم جادوگر ہو اور تمہارے یہ کارنامے سب کچھ جادو ہی کا کرشمہ ہیں لہٰذا وہ تمہارے درپے آزار ہوگئے اور تمہیں صلیب پر چڑھانے کی کوشش کی مگر اللہ نے انہیں ان سے بچا کر اپنے پاس اٹھا لیا تھا۔ (١٠) جب بنی اسرائیل کے سب لوگ ان کے دشمن بن گئے اور کوئی ایمان نہ لایا تو حواریوں کو اللہ نے الہام کیا تھا کہ مجھ پر اور آپ پر ایمان لا کر آپ کی ہر طرح سے مدد اور تعاون پر کمر بستہ ہوجائیں۔ غرض اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر جو احسانات کیے تھے وہ اس لیے جتلائے جا رہے ہیں کہ ان میں اشارتاً یہ بات پائی جاتی ہے کہ اگر وہ اللہ یا اللہ کے بیٹے ہوتے تو انہیں ان احسانات کی کیا حاجت تھی؟ نیز سیدنا عیسیٰ کی ولادت سے لے کر ان کو اپنے ہاں اٹھانے تک کے تمام واقعات ایسے ہیں جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی عبدیت پر دلالت کرتے ہیں۔ المآئدہ
111 [١٦٠] عیسائیوں کے مختلف نام۔۔ حواری کون تھے؟ یہ حواری ہی دراصل سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی امت تھے جنہوں نے اپنے آپ کو مسلمان کہا۔ عیسائی یا ناصری یا مسیحی نہیں کہا۔ یہ الفاظ بہت بعد کی پیداوار ہیں۔ اور ان کیلئے یہ نام ان کے دشمنوں یعنی یہود نے ان کیلئے تجویز کیے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام ناصرہ بستی میں پیدا ہوئے اور یہ بستی فلسطین کے ضلع گلیل میں واقع تھی۔ اس لحاظ سے یہود انہیں ناصری یا گلیلی بدعتی فرقہ کہتے تھے اور مسیحی بھی دشمنوں کا رکھا ہوا نام تھا جسے بعد میں عیسائیوں نے نہ صرف گوارا کرلیا بلکہ بعد میں اس نسبت پر فخر کرنے لگے اور آج تک مسیحی کہلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو مسلمان یا انصار یا نصاریٰ کے ناموں سے ذکر کیا ہے۔ المآئدہ
112 [١٦١] یہ مکالمہ روز قیامت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ اس دنیا کا اور عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے جسے موقعہ کی مناسبت سے اور جملہ معترضہ کے طور پر یہاں بیان کیا جا رہا ہے۔ [١٦٢] حواریوں کا خوان نعمت کا مطالبہ :۔ حواری جو اسلام لا چکے تھے وہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے یہ پوچھنے لگے کہ کیا تمہارے پروردگار میں اتنی قدرت ہے کہ ہم پر آسمان سے تیار شدہ کھانا نازل کرے اور اپنے اس مطالبہ کی انہوں نے تین وجوہ بتائیں۔ ایک یہ کہ ہم فکر معاش کے دھندوں سے آزاد ہو کر یکسو ہو کر اللہ کی عبادت کرسکیں۔ دوسرے یہ کہ ہمیں یہ یقین حاصل ہوجائے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بالکل حقیقت ہے اور اللہ واقعی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور تیسرے یہ کہ جس دن اس دسترخوان کا نزول ہو ہم اس دن خوشی کا جشن اور عید منائیں اور آئندہ بھی اس دن عید مناتے رہیں۔ عیسوی عقائد ما بعد کی پیداوار ہیں :۔ حواریوں کے اس مطالبہ سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے متبعین آپ کو الٰہ یا اللہ یا ابن اللہ یا تین خداؤں میں سے ایک خدا نہیں سمجھتے تھے بلکہ انہیں محض اللہ کا بندہ اور اس کا رسول سمجھتے تھے ورنہ ان کے مطالبہ کا انداز یہ ہوتا کہ ’’کیا تم میں یہ قدرت ہے کہ ہمارے لیے آسمان سے دسترخوان اتار کر دکھاؤ۔‘‘ [١٦٣] عیسیٰ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا امتحان نہ لو۔ اس سے ڈرتے رہو اور اس کے فرمانبردار بن کر رہو۔ اور فرمانبردار کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ اپنے آقا کا امتحان لینا شروع کر دے۔ المآئدہ
113 المآئدہ
114 [١٦٤] لیکن حواری سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے سمجھانے پر بھی اپنے مطالبہ سے باز نہ آئے۔ آخر عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار کے حضور ان لوگوں کا یہ مطالبہ پیش کردیا اور دعا کی کہ ان لوگوں کے لیے غیب سے رزق عطا فرما، جو سب اگلوں پچھلوں کے لیے ایک یادگار خوشی کا دن قرار پائے۔ اور یہ ایسا معجزہ ہوگا جسے سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ المآئدہ
115 [١٦٥] مطالبہ کے معجزہ کے بعد نافرمانی پر عذاب لازم آتا ہے :۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی سے کسی خاص قسم کے معجزہ کا مطالبہ کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس قوم کو اس کا مطلوبہ معجزہ دکھا دے۔ لیکن یہ قوم پھر بھی ایمان نہ لائے تو پھر اس پر اسی دنیا میں کوئی انتہائی سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔ یہی حقیقت اس آیت میں بیان کی گئی ہے۔ اس کی واضح مثال تو قوم ثمود کا اپنے نبی صالح علیہ السلام سے یہ مطالبہ تھا کہ اس پہاڑ سے حاملہ اونٹنی نکلے جو ہمارے سامنے بچہ جنے تب ہم ایمان لائیں گے۔ اللہ نے یہ معجزہ دکھادیا۔ لیکن ثمود نے ایمان لانے کی بجائے پھر سرکشی کی روش اختیار کی اور اس اونٹنی کو بھی ہلاک کر ڈالا تو ان پر سخت قسم کا زلزلہ آیا اور ساتھ ہی بڑی شدید اور کرخت آواز پیدا ہوئی جس سے سب کے سب تباہ ہوگئے تھے اور دوسری مثال یہی مطالبہ ہے۔ اس کے متعلق درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے۔ خوان نعمت کا مطالبہ کرنے والوں کا انجام :۔ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جو دسترخوان آسمان سے اتارا گیا تھا اس میں روٹی اور گوشت تھا اور انہیں حکم یہ دیا گیا تھا کہ اس میں نہ خیانت کریں گے اور نہ کل کے لیے ذخیرہ کریں گے۔ پھر ان لوگوں نے خیانت بھی کی اور کل کے لیے بھی اٹھا رکھا۔ لہٰذا انہیں بندر اور سور بنا دیا گیا۔ ‘‘ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر۔ زیر آیت مذکورہ) اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا دسترخوان صرف ایک دن نہیں بلکہ کچھ عرصہ تک نازل ہوتا رہا مطالبہ کرنے والوں نے کہا تھا کہ اس دسترخوان سے غریب، نادار، معذور اور بے کس لوگ کھایا کریں گے مگر بعد میں کھاتے پیتے لوگ بھی اس دسترخوان میں شریک ہونے لگے۔ یہ ان کی خیانت تھی۔ علاوہ ازیں کل کے لیے سٹور بھی کرنا شروع کردیا اور ان کے بے جا طمع اور اللہ پر عدم توکل کی دلیل تھا اور اس سے انہیں روکا بھی گیا تھا۔ دیگر بھی کئی نافرمانیاں کیں جن کی پاداش میں ان میں اسی کے قریب آدمیوں کی صورتیں مسخ کر کے بندر اور سور کی سی بنا دی گئیں۔ امام ترمذی کی تصریح کے مطابق یہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہے اسی لیے بعض علماء نے اس واقعہ سے اختلاف کیا ہے۔ ان کا قول یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا معجزہ طلب کرنے سے ڈرایا تو وہ فی الواقع ڈر گئے اور اپنے مطالبہ سے باز آ گئے۔ لہٰذا دسترخوان اترا ہی نہیں تھا لیکن ایسے اقوال کے علی الرغم ہم موقوف حدیث کو ہی ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ واقعہ قرآن میں اسی انداز سے مذکور ہے۔ المآئدہ
116 [١٦٦] مریم کی خدائی کی آغاز کب ہوا ؟ سیدہ مریم علیہا السلام کو خدائی مقام عطا کرنا اور اس کی پوجا پاٹ کا عقیدہ، عقیدہ تثلیث سے بھی بعد کی پیداوار ہے۔ عقیدہ تثلیث میں خدا یہ تھے۔ اللہ، عیسیٰ اور روح القدس اور یہ عقیدہ چوتھی صدی عیسوی میں سرکاری طور پر رائج ہوا۔ جبکہ سیدہ مریم علیہا السلام کے خدا ہونے کا عقیدہ پانچویں صدی عیسوی کی ایجاد ہے۔ سیدہ مریم کو مادر خدا ہونے کے لقب سے نوازا گیا اور یہ عقیدہ اتنا عام ہوا کہ پہلے تین خداؤں پر چھا گیا۔ سیدہ مریم کو دیوی کا درجہ دے کر ان کے مجسمے اور تصویریں بنائی گئیں جو آج تک عیسائیوں کے گرجوں کی زینت بنی ہوئی ہیں اور عیسائی حضرات اس کے آگے سر نیاز خم کرتے ہیں۔ عیسائی حکومتوں کے قومی جھنڈے پر سیدہ مریم کی تصویر بنائی جاتی۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو ہرقل شاہ روم تھا اس کے جھنڈے پر بھی یہ تصویر موجود تھی اور جنگ کے دوران اسی کے وسیلہ سے فتح و نصرت کی دعائیں مانگی جاتی تھیں۔ [١٦٧] قیامت کے دن سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے ان کی الوہیت کے متعلق تین سوال :۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو مذکورہ بالا احسانات یاد دلانے کے بعد ان سے یہ پوچھیں گے کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے بجائے مجھے اور میری ماں کو الٰہ بنا لینا اور اپنی تمام حاجات ہم سے طلب کرنا۔ کیا میرے احسانات کا یہی بدلہ تھا ؟ عیسیٰ علیہ السلام نہایت عاجزی سے جواب دیں گے کہ یا اللہ میں ایسی بات کیوں کر کہہ سکتا تھا جو میرے لیے سزاوار ہی نہ تھی علاوہ ازیں تو تو چھپی اور علانیہ سب باتوں کو خوب جانتا ہے اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو یقیناً تیرے علم میں ہوتی۔ واضح رہے کہ قیامت کے دن کا یہ مکالمہ اس لیے بیان نہیں کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم ہوجائے بلکہ یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ان پیرو کاروں کی تہدید اور سرزنش کے لئے بیان کیا جا رہا ہے جنہوں نے آپ کے بعد انہیں اور ان کی والدہ کو الٰہ بنا لیا تھا تاکہ ان کے خلاف ان کے رسول ہی کی شہادت قائم ہوجائے جس کی وہ پرستش کرتے رہے۔ المآئدہ
117 [١٦٨] انبیاء کو بھی غیب کا علم نہیں :۔ تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں خود بھی تیری بندگی اور عبادت کروں اور لوگوں سے بھی تیری ہی بندگی اور عبادت کراؤں اور اسے میں بجا لاتا رہا اور جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا اس وقت تک تو میں نے تیرے حکم کا پوری طرح دھیان رکھا البتہ میرے بعد کے حالات کا مجھے کچھ علم نہیں۔ بعد کے حالات تو تو ہی جانتا ہے کہ ان لوگوں نے کب اور کس طرح یہ غلط روش اختیار کی تھی اور کیوں کی تھی؟ قیامت کے دن انبیاء کی اپنی امت کے اعمال سے بے خبری :۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ کے دوران فرمایا ’’لوگو! تم اللہ کے سامنے ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ حشر (جمع) کیے جاؤ گے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ﴿کَمَا بَدَانَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیْدُہُ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ﴾ تا آخر پھر فرمایا ’’سن لو! قیامت کے دن ساری خلقت میں سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے اور میری امت کے کچھ لوگ حاضر کیے جائیں گے جنہیں فرشتے بائیں طرف (دوزخ کی طرف) لے چلیں گے۔ میں کہوں گا پروردگار! یہ تو میرے صحابی (ساتھی) ہیں۔‘‘ جواب ملے گا : ’’آپ نہیں جانتے۔ آپ کے بعد ان لوگوں نے کیا کیا نئی باتیں (بدعتیں) نکالیں۔ اس وقت میں وہی کچھ کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے،عیسیٰ علیہ السلام نے کہا (یعنی) جب تک میں ان لوگوں میں رہا ان کا حال دیکھتا رہا۔ پھر جب تو نے مجھے (دنیا سے) اٹھا لیا تو اس کے بعد تو ہی ان پر نگران تھا۔ جواب ملے گا جب سے تم ان سے جدا ہوئے اسی وقت سے یہ لوگ برابر ایڑیوں کے بل (اسلام سے) پھرتے رہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) اس آیت اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کو غیب کا علم نہیں ہوتا مگر اتنا ہی جتنا اللہ تعالیٰ بتا دے۔ نیز یہ کہ انبیاء کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد انہیں اپنی امت کے اعمال کی خبر نہیں ہوتی۔ المآئدہ
118 [١٦٩] پھر عیسیٰ علیہ السلام نہایت حکیمانہ انداز میں ان کی سفارش کریں گے پہلے اللہ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر تو انہیں عذاب دے گا تو یہ تیرے بندے ہی ہیں نہ دم مار سکتے ہیں نہ بھاگ کر کہیں جا سکتے ہیں اور اگر انہیں معاف ہی فرما دے تو تیری شان غفاری کے کیا کہنے۔ بہرحال تو ہر چیز پر اور ہر کام پر غالب ہے اور تیرا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں۔ تیری حکمت انہیں عذاب کی متقاضی ہے تو بھی تو مختار ہے اور معاف فرما دے تو بھی مختار ہے۔ المآئدہ
119 [١٧٠] سب سے سچی بات کلمہ توحید ہے :۔ اللہ تعالیٰ جواب فرمائیں گے آج عدل و انصاف کا دن ہے آج تو سچ اور سچی بات ہی کچھ فائدہ دے سکتی ہے اور سب سے سچی بات کلمہ توحید ہے یعنی جن لوگوں نے کسی کو اللہ کا شریک نہ سمجھا ہو پھر زندگی بھر راست بازی کے ساتھ اس پر قائم رہے ہوں۔ انہی کی نجات ہو سکتی ہے۔ انہیں ہی جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اور طرح طرح کے انعامات سے نوازا جائے گا۔ ایسے لوگوں سے اللہ راضی اور وہ اللہ سے راضی۔ اور چونکہ مقام رضائے الٰہی جنت ہی ہے۔ یہ انہیں بہرحال حاصل ہوجائے گی اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ المآئدہ
120 [١٧١] اس آیت میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور سیدہ مریم دونوں کی الوہیت کی تردید کی دلیل ہے کیونکہ جو چیز کسی کی ملکیت ہو وہ اس کی مملوک یا غلام تو ہو سکتی ہے اس کی شریک نہیں ہو سکتی۔ نہ اسے اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک سمجھا جا سکتا ہے۔ المآئدہ
0 الانعام
1 [١] دلائل توحید :۔ یہ خطاب مشرکین مکہ کو ہے جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ہر چیز کا خالق اور مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اسی نے اس کائنات کو پیدا کیا اسی نے سورج اور چاند بنائے اور رات دن پیدا کیے اور کائنات پر اسی کی حکمرانی ہے۔ سورج، چاند، ستارے سب اسی کے حکم کے تحت گردش کر رہے ہیں اور خود ہمیں بھی اسی نے پیدا کیا ہے۔ پہلی دلیل :۔ اللہ تعالیٰ انہیں مخاطب کر کے یہ فرما رہے ہیں کہ وہ ذات جو اتنی بڑی کائنات کا نظام نہایت حسن و خوبی سے چلا رہی ہے کیا وہ تمہاری ضروریات پوری نہیں کرسکتی اور تمہاری مشکلات کو حل نہیں کرسکتی۔ جو تم لات و عزیٰ، منات اور ہبل جیسے معبودوں کو پکارتے ہو، ان کا اس بھری کائنات میں کوئی عمل دخل ہے؟ انسان کا حق تو یہ تھا کہ وہ اسی خالق کے آگے سجدہ ریز ہوتا، اسی سے دعائیں مانگتا جس نے اسے پیدا کیا اور زمین کو پیدا کر کے اس کی تمام ضروریات زندگی اس سے منسلک کردی ہیں۔ پھر آخر ان دیوی دیوتاؤں کی پرستش کی ضرورت تمہیں کیوں پیش آئی جو اللہ کا حق ان دیوی دیوتاؤں کو دیتے ہو اور انہیں اپنے پروردگار کا ہمسر قرار دیتے ہو؟ الانعام
2 [٢] دوسری دلیل :۔ یعنی ابو البشر سیدنا آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا۔ پھر تمہاری تمام غذائی ضروریات اسی مٹی سے پوری ہو رہی ہیں۔ پھر مرنے کے بعد بھی تم اسی مٹی میں مل جاؤ گے گویا اس نے تمہیں ایک بے جان چیز سے پیدا کیا اور تمہیں زندگی بخشی پھر اسی طرح زندہ کو بے جان چیز میں مدغم کر دے گا۔ پھر کیا تمہیں اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ دوبارہ تمہیں اسی مٹی سے اٹھائے گا اور ایسی زندگی بخشنے پر وہ قادر ہے۔ لہٰذا اگر سوچو تو تمہیں نہ اللہ کے بارے میں شک ہونا چاہیے نہ قیامت کے بارے میں۔ اس آیت میں پہلے لفظ اجل سے مراد انسان کی موت تک کا وقت ہے جو کہ ہر انسان کے لیے قیامت صغریٰ ہے چنانچہ آپ نے فرمایا ہے کہ ’’جو شخص مر گیا اس کی قیامت قائم ہو گئی‘‘ اور اجل مسمیٰ سے مراد قیامت کا دن یا قیامت کبریٰ ہے۔ جبکہ سب لوگ قبروں سے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے اور اللہ کے حضور ان سے باز پرس اور ان کا محاسبہ ہوگا۔ الانعام
3 [٣] اللہ کا ہر جگہ موجود ہونا :۔ انسان کے اوپر آسمان، اس کے نیچے زمین اور ان کے درمیان چاند سورج تارے اور ہوائیں غرض جو کچھ بھی انسان کو نظر آتا ہے ان سب کا انتظام و انصرام اللہ اکیلے کے ہاتھ میں ہے پھر وہ تمہارے ظاہر و باطن حتیٰ کہ دلوں کے راز تک جانتا ہے۔ تبھی تو وہ ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے اس آیت اور اس جیسی بعض دوسری آیات سے بعض لوگوں کو یہ دھوکہ ہوا کہ اللہ بذات خود ہر جگہ موجود ہے اور بعض نے کہا کہ ہر شے میں موجود ہے جبکہ بہت سی دوسری آیات اور صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ اللہ کی ذات ساتوں آسمانوں سے ماوراء عرش پر ہے۔ رہی اللہ کی زمین و آسمان میں اور ہر جگہ اس کی موجودگی تو وہ اس کے علم اور اس کی قدرت کے لحاظ سے اور ان صفات میں کمال کی وجہ سے ہے۔ اس کی قدرت اور اس کے علم کا یہ حال ہے کہ وہ عرش پر ہوتے ہوئے بھی رتی رتی چیز کو دیکھ رہا ہے اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ ہر پکارنے والے کی پکار سن رہا ہے ماسوائے چند گمراہ فرقوں کے جمہور اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے۔ الانعام
4 [٤] یہاں آیت سے مراد قرآن کی کوئی آیت بھی ہو سکتی ہے کوئی معجزہ اور کوئی واضح دلیل بھی۔ یعنی جو کافر انکار کرنے کا ہی تہیہ کیے بیٹھے ہیں ان کے لیے نہ کوئی دلیل کارگر ہو سکتی ہے، نہ معجزہ اور نہ پند و نصیحت۔ الانعام
5 [٥] حق سے کیا مراد ہے ؟ حق سے مراد قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے اور رسول اللہ کی ذات بھی۔ ان دونوں کا دعویٰ یہ تھا کہ اسلام ہی بالآخر غالب آ کے رہے گا۔ کفار مکہ بالخصوص اس بات کا مذاق اڑاتے تھے کہ یہ کمزور سی مٹھی بھر جماعت ہے جسے کھانے پینے کی چیزیں بھی میسر نہیں آتیں، وہ اگر محلوں کے خواب دیکھے تو یہ دیوانگی نہیں تو کیا ہے؟ اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عنقریب ان لوگوں کو ایسی خبریں آنے لگیں گی۔ مسلمانوں کی کامیابی کی پیشین گوئی :۔ واضح رہے کہ یہ پوری سورت ماسوائے چھ آیات کے ﴿وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ﴾ سے تین آیتیں اور ﴿قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ﴾ سے تین آیتیں ساری کی ساری ایک ہی رات نازل ہوئی تھی۔ اور اس کا زمانہ نزول تقریباً ہجرت سے ایک سال پہلے کا ہے جبکہ مسلمان انتہائی مشکلات میں پھنسے ہوئے تھے۔ ان کے اکثر ساتھی حبشہ کی طرف ہجرت کر کے وہاں مقیم ہوچکے تھے اور مکہ میں کفار نے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی تھی۔ اس وقت قرآن نے جو یہ پیشین گوئی فرمائی۔ جو جنگ بدر سے ہی پوری ہونا شروع ہوگئی اور جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح کی خبر عرب بھر میں پھیل گئی۔ حتیٰ کہ آپ کی زندگی ہی میں اسلام کو پورے عرب پر غلبہ حاصل ہوگیا۔ الانعام
6 [٦] قوموں کے عروج زوال کی وجہ :۔ جیسے قوم عاد، ثمود، قوم نوح اور آل فرعون وغیرہ بے شمار ایسی اقوام ہیں جنہیں تم سے بڑھ کر اقتدار بخشا تھا وہ تم سے طاقتور اور زور آور بھی زیادہ تھے۔ کھانے پینے کی افراط اور خوشحالی تھی۔ سر سبز باغ، کھیت اور نہریں سب کچھ موجود تھا لیکن جب انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور کفر اور نافرمانیوں میں حد سے تجاوز کر گئے تو اپنے کرتوتوں کی پاداش میں انہیں ہلاک کردیا گیا۔ پھر کسی دوسری قوم کو ان کا جانشین بنا دیا گیا اس طرح زمین کی آبادکاری میں کچھ بھی خلل واقع نہ ہوا اور پہلی سرکش قوم کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹ گیا کیونکہ اس دنیا میں اللہ کی سنت جاریہ یہی ہے کہ ایک قوم کو آگے بڑھاتا ہے خوب آباد کرتا ہے اور مال و دولت عطا کرتا ہے۔ پھر جب اس میں ان نعمتوں کی وجہ سے غرور اور تکبر پیدا ہوجاتا ہے اور اللہ کے احکام کو پس پشت ڈالنا شروع کردیتی ہے تو اللہ اسے تباہ کر کے کسی دوسری قوم کو آگے لے آتا ہے پھر ان کے اعمال دیکھتا ہے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا ہے اور قیامت تک ایسے ہی چلتا رہے گا۔ الانعام
7 [٧] کفار کے اعراضات اور ان کے جواب :۔ یہ کفار مکہ کے ایک اعتراض کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ ہم تو تب ہی ایمان لائیں گے جب ہمارے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب نازل ہو اور ساتھ چار فرشتے بھی ہوں جو اس بات کی گواہی دیں کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ کافر اس قدر ہٹ دھرم واقع ہوئے ہیں کہ اگر ہم ان کا مطالبہ پورا کر بھی دیں، وہ کتاب کو چھو کر دیکھ بھی لیں کہ یہ محض نظر بندی کا چکر نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے تب بھی وہ یہ کہہ دیں گے کہ یہ سب کچھ جادو ہے اور تم جادوگر ہو۔ الانعام
8 [٨] یہ کفار کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فرشتہ اپنی اصلی شکل میں کیوں نازل نہیں ہوتا۔ جسے ہم دیکھ سکیں اور ہمیں یقین آ جائے۔ اور پیغمبر جو یہ کہتا ہے کہ مجھ پر فرشتہ نازل ہوتا ہے وہ سچ کہتا ہے؟ اس اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر فرشتہ اپنی اصلی شکل میں آتا تو یہ دہشت کے مارے فوراً مر جاتے انہیں ایمان لانے یا انکار کرنے کی مہلت ہی کہاں ملتی۔ فرشتہ کو اس کی اصلی شکل میں دیکھنے کے متحمل انبیاء ہی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل فرشتہ کو اس کی اصلی شکل میں دو بار دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ’’اس کے چھ سو پر تھے اور اس کی جسامت سے تمام افق بھر گیا تھا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ باب قول اللہ فاوحیٰ الیٰ عبدہ ما اوحیٰ) کسی دوسرے نبی کا جبریل فرشتہ کو اپنی اصلی شکل میں دیکھنا احادیث سے ثابت نہیں۔ الانعام
9 [٩] پیغمبر کے فرشتہ ہونے پر اعتراضات :۔ فرشتہ نازل کرنے کی دوسری صورت یہ تھی کہ وہ انسانی شکل میں آتا۔ جیسے جبریل آپ کے پاس دحیہ کلبی کی شکل میں کبھی کبھار آتے تھے۔ یا سیدنا ابراہیم سیدنا لوط اور سیدنا داؤد علیہم السلام کے پاس انسانی شکل میں آئے تھے۔ اور اگر فرشتہ پیغمبر بن کر انسانی شکل میں آتا تو اس پر بھی وہ تمام اعتراضات وارد ہو سکتے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وارد ہوتے رہے۔ پھر یہ ایک الگ اعتراض پیدا ہوجاتا کہ جو شخص اپنے آپ کو فرشتہ اور پیغمبر کہہ رہا ہے آیا یہ فی الواقع فرشتہ ہے بھی یا نہیں؟ یا کوئی جادوگر انسان ہے جو ہمیں چکمہ دے رہا ہے گویا ان کا وہ اشتباہ پھر بھی بدستور باقی رہتا جو انہیں اب پڑا ہوا ہے نیز اگر کوئی رسول فرشتہ ہو تو اتمام حجت کا معاملہ ہی ختم ہوجاتا۔ ایسے رسول پر ایمان لانے والے اپنی بے عملی کے جواز کے لیے یہ معقول بہانہ پیش کرسکتے تھے کہ رسول تو فرشتہ ہے اور ہم بشر ہیں لہٰذا ہم اس کی پورے طور پر اتباع کیسے کرسکتے ہیں؟ اور یہی رسول کے بشر ہونے میں سب سے بڑی حکمت ہے۔ الانعام
10 [١٠] ان اعتراضات کا جواب دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہٹ دھرم کافروں کا ہمیشہ یہی وطیرہ رہا ہے پہلے رسولوں سے بھی یہی کچھ ہوتا رہا لہٰذا آپ ان کی پروا نہ کیجئے اور انجام کار انہیں اسی قسم کے عذاب سے ہلاک کیا گیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ الانعام
11 [١١] یعنی ان تباہ شدہ قوموں کے آثار کو نگاہ عبرت سے دیکھو تو حقیقت حال تم پر منکشف ہوجائے گی اور تم اسی نتیجہ پر پہنچو گے کہ ان تباہ شدہ قوموں میں جو بات قدر مشترک ہے وہ اللہ کی نافرمانی اور اس کی آیات کی تکذیب اور اس کے رسولوں کی نافرمانی ہے۔ الانعام
12 [١٢] اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس لیے دیا ہے کہ مشرکین اس سوال کا جواب دینا نہیں چاہتے تھے وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ عقیدتاً اس بات کے قائل تھے کہ ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اب اگر وہ اس بات کا اقرار کرتے تو اس اقرار سے استدلال ان کے خلاف پڑتا تھا اور اگر انکار کرتے تو یہ بات ان کے عقیدہ کے خلاف تھی لہذا جب انہوں نے جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کی تو اللہ نے خود ہی اس کا جواب دے دیا۔ اور یہ جواب ایسا تھا جو ان کے نزدیک بھی مسلم تھا۔ [١٣] ویسے تو انسان کا تربیت اور پرورش پانا بھی اللہ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک ایک قدم پر اللہ کی رحمت شامل ہو تو تب ہی وہ زندہ رہ سکتا ہے مزید برآں یہ کہ وہ مشرکوں کو شرک کرتے دیکھتا ہے۔ کافروں کو اپنی آیات کا انکار اور ہٹ دھرمی کرتے دیکھتا ہے۔ لیکن انہیں ہلاک نہیں کرتا۔ بلکہ انہیں بھی رزق دیئے جاتا ہے اور اس کی وجہ محض اس کی رحمت ہے۔ چنانچہ حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’میری رحمت میرے غصہ پر سبقت لے گئی ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب قولہ وکان عرشہ علی الماء) پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں کو ہلاک کرنے کا ذکر کیا تو ساتھ ہی اس آیت میں اپنی صفت رحمت کا ذکر اس انداز سے کیا کہ اللہ تعالیٰ کی صفت قہاریت پر صفت رحمت بہرحال اور اکثر ادوار میں غالب رہی ہے علاوہ ازیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف انداز میں سب سے پہلے اپنی ذات پر، پھر اپنی سب سے اہم صفت رحمت پر اور آخر میں آخرت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ [١٤] یعنی عقل اور فطرت سلیمہ دونوں سے کام لینا چھوڑ دیا ہے لہذا وہ خود ہی خسارہ میں رہنے پر تلے ہوئے ہیں۔ الانعام
13 الانعام
14 [١٥] الٰہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت کسی کا محتاج نہ ہونا ہے :۔ یعنی اللہ کے حقیقی الٰہ ہونے کا ایک معیار تو یہ ہے کہ تمام کائنات کو اسی نے پیدا کیا ہے۔ کائنات کی تخلیق میں چونکہ کسی بھی دوسرے الٰہ کا حصہ نہیں لہذا وہ الٰہ نہیں ہو سکتا۔ اور دوسرا معیار یہ ہے کہ وہ سب دوسروں کو کھلاتا ہے لیکن خود کسی سے کچھ نہیں کھاتا۔ اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ جو کھانا کھاتا ہے وہ کبھی الٰہ نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ کھانے کا محتاج ہے اور اللہ کھانے کا محتاج نہیں ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ دوسرے سب لوگ کھانے تک کے لیے اس کے دست نگر ہیں۔ یعنی جو محتاج ہے الٰہ نہیں ہو سکتا۔ حقیقی الٰہ وہی ہوسکتا ہے جو کسی کا دست نگر اور محتاج نہ ہو۔ اب دیکھئے مشرکوں نے جن جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ ان بندوں کو رزق دینے کے بجائے الٹا ان سے رزق لینے کے محتاج ہیں کوئی فرعون خدائی کے ٹھاٹھ جما ہی نہیں سکتا جب تک اس کے بندے اسے ٹیکس اور نذرانے نہ دیں۔ نہ کسی صاحب قبر کی شان معبودیت قائم رہ سکتی ہے جب تک اس کے عقیدت مند اور پرستار اس کا مقبرہ تعمیر نہ کریں اور کسی دیوتا کا دربار خداوندی اس وقت تک سج ہی نہیں سکتا جب تک اس کے پجاری اس کا مجسمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں۔ گویا یہ سب مصنوعی الٰہ بے چارے خود اپنے بندوں کے محتاج ہوتے ہیں۔ بس اللہ تعالیٰ ہی کی ذات وہ ذات ہے جو اپنے بل بوتے پر قائم ہے اسے کسی کی احتیاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں اور یہی اس کے حقیقی الٰہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ لہذا اسی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔ الانعام
15 [١٦] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اللہ کی نافرمانی ہونا ناممکنات سے ہے دراصل یہ دوسرے لوگوں کو تنبیہ و تہدید کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ اگر رسول بھی اللہ کی نافرمانی کرے تو قیامت کے دن اس سے بھی باز پرس ہو سکتی ہے پھر دوسرے لوگ اپنا انجام خود سوچ لیں۔ الانعام
16 [١٧] یعنی جنت میں اعلیٰ درجات تو دور کی بات ہے اگر کوئی شخص اس دن دوزخ کے عذاب سے نجات بھی پا جائے تو سمجھے کہ اس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور اللہ نے اس پر اپنا خاص فضل و کرم کیا ہے۔ الانعام
17 [١٨] اس آیت سے شرک کی جڑ کٹ جاتی ہے کیونکہ جس انسان کا یہ عقیدہ پختہ ہوجائے کہ دکھ درد کو دور کرنے والا اور فائدہ پہنچانے والا صرف اللہ ہی ہے تو وہ کسی دوسرے کو کیوں پکارے گا یا اس کی نذر و نیاز کیوں دے گا ؟ یا اس کے آگے سر تسلیم خم کیوں کرے گا ؟ کیونکہ انسان جب بھی شرک کرتا ہے تو انہی دو باتوں کی خاطر کرتا ہے ایک فائدہ کے حصول کی خاطر دوسرے دفع مضرت۔ اگر ان دونوں باتوں کا مالک و مختار اللہ کو ہی سمجھ لے گا تو اسے شرک کی ضرورت پیش آ ہی نہیں سکتی۔ الانعام
18 [١٩] یعنی کوئی شخص غلبہ و اقتدار کے پنجے سے نکل نہیں سکتا، نہ کہیں بھاگ کر جا سکتا ہے۔ لہذا بندوں کے لئے بہتر روش یہی ہے کہ اسکے آگے سر تسلیم خم کردیں۔ وہ بندوں کے حالات سے پوری طرح آگاہ ہے اور خوب سمجھتا ہے کہ ان کے لئے کونسی کارروائی مناسب ہوگی۔ الانعام
19 [٢٠] اللہ کی شہادت سب سے بڑھ کر کیسے؟ شہادت دو طرح سے ہوتی ہے ایک آنکھوں دیکھا حال کسی قاضی، جج یا حکم کے سامنے بیان کرنا جسے انگریزی میں (WITNESS) کہتے ہیں۔ دوسرے یقین کامل کی بنا پر شہادت جسے انگریزی میں (EVIDENCE) کہتے ہیں۔ ہم مسلمان اپنے یقین کامل کی بنا پر یہ گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ تو یہ شہادت آنکھوں دیکھی شہادت نہیں۔ نہ ہم عینی شاہد یا چشم دید گواہ ہیں کیونکہ ہم نے اللہ کو دیکھا ہے اور نہ رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کو بلکہ ہم یہ گواہی اپنے یقین کامل یا ایمان کی بنا پر دیتے ہیں اور اللہ کی گواہی اس لحاظ سے سب سے بڑھ کر سچی ہے کہ اس میں شہادت کے دونوں پہلو پائے جاتے ہیں وہ چونکہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔ اس لحاظ سے یہ آنکھوں دیکھی شہادت ہے پھر وہ کائنات کی ایک ایک چیز کا خالق و مالک اور اس کا مربی بھی ہے لہذا اس جیسا یقین کامل بلکہ حقیقی علم کسی کو نہیں ہو سکتا۔ [٢١] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت تا قیامت اور سب کے لئے ہے :۔ کفار مکہ کے بعد جب یہود و نصاریٰ کی اکثریت نے بھی آپ کو جھٹلا دیا تو کفار کہنے لگے کہ بتاؤ اب تمہاری رسالت کی گواہی کون دیتا ہے؟ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی اللہ میرے اور تمہارے درمیان اس بات پر گواہ ہے کہ میں فی الواقع اس کا رسول ہوں اور جو کچھ کہہ رہا ہوں اسی کے حکم سے کہہ رہا ہوں اور وہ اس بات پر بھی گواہ ہے کہ یہ قرآن اسی نے مجھ پر نازل کیا ہے اور مجھے رسول بنانے اور قرآن نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میں تم لوگوں کو بھی آخرت کے عذاب سے بروقت متنبہ کر دوں اور اس قرآن کے ذریعے ان لوگوں کو بھی ڈراؤں جن جن تک یہ آواز پہنچے۔ اس آیت سے رسول اللہ کی رسالت تمام اقوام عالم کے لیے اور قیامت تک کے لیے ثابت ہوئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ امت مسلمہ کا یہ فرض ہے کہ قرآن کی آواز کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دے۔ [٢٢] یعنی گواہی محض قیاس اور ظن و تخمین کی بنا پر نہیں دی جا سکتی جب تک اس کے متعلق یقین کامل یا حقیقی علم نہ ہو یا اسے واضح دلائل سے ثابت نہ کیا جا سکتا ہو۔ سو ائے مشرکین مکہ! بتاؤ تم اپنے ان معبودوں کے متعلق ایسی گواہی دے سکتے ہو؟ اور اگر تم ایسی گواہی دے بھی دو تو کم از کم میں ایسی گواہی دینے کو تیار نہیں۔ الانعام
20 [٢٣] اہل کتاب کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا :۔ عرب میں یہ الفاظ بطور محاورہ بولے جاتے ہیں یعنی اگر کسی شخص کو کسی چیز کے متعلق پختہ یقین ہوتا تو کہتے کہ وہ اسے ایسے پہچانتا ہے جیسے اپنے بیٹے کو۔ یعنی جس طرح ایک باپ بچوں کے اجتماع میں اپنے بیٹے کو فوراً پہچان لیتا ہے بالکل اسی طرح اہل کتاب، اپنی کتاب میں مذکور نشانیوں کے مطابق نبی آخر الزماں کو پہچان چکے تھے کہ وہ فی الواقع وہی نبی ہے جس کی بشارات دی گئی ہیں پھر بھی اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو اس کی وجوہ دوسری ہیں مثلاً قومی عصبیت، اپنی اپنی سرداریوں اور گدیوں کا خاتمہ، حسد اور بغض وغیرہ یا یہ عقیدہ کہ موسوی شریعت قیامت تک کے لیے غیر متبدل ہے یا یہ کہ کوئی نبی بنی اسرائیل کے علاوہ آ ہی نہیں سکتا۔ جو کچھ بھی ہو یہ بہرحال اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ الانعام
21 [٢٣] شرکیہ عقائد کی قسمیں :۔ مثلاً یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں تصرف کے اختیارت بعض اولیاء اللہ کو بھی دے رکھے ہیں جیسا کہ مشرکین کا اپنے دیوی دیوتاؤں کے متعلق عقیدہ ہوتا ہے کہ وہ ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکتے ہیں یا یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ ہم گنہگاروں کی دعا و فریاد کب سنتا ہے لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنی فریاد کسی بزرگ کو سنائیں اور وہ ہماری فریاد اللہ تک پہنچا دے۔ یا یہ دعویٰ کرنا کہ اللہ کے ساتھ دوسری بھی بہت سی ہستیاں اس کائنات کی خدائی میں اس کی شریک اور ممد و معاون ہیں یا یہ عقیدہ رکھنا کہ ہمارا فلاں بزرگ قیامت کے دن ہماری سفارش کر کے ہمیں اللہ کی گرفت اور عذاب الٰہی سے چھڑا لے گا۔ ایسی سب باتیں اللہ پر بہتان اور شرک کا سرچشمہ ہیں۔ [٢٥] اللہ کی آیات کون کون سی ہیں :۔ آیات سے مراد صرف قرآن کی آیات ہی نہیں بلکہ وہ آیات بھی ہیں جو انسان کے جسم کے اندر موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت پر دلیل ہونے کے علاوہ اس کے وحدہ لاشریک ہونے پر بھی دلالت کرتی ہیں۔ نیز وہ آیات بھی جو انسان کے باہر پوری کائنات میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں اب جو شخص ان سب طرح کی آیات سے اعراض کرتا جائے تو اس کی نجات کیسے ممکن ہے؟ الانعام
22 الانعام
23 [٢٦] مشرکین مکہ مسلمانوں سے کہا کرتے کہ اگر بالفرض قیامت ہوئی بھی اور ہماری بازپرس بھی ہوئی تو ہمارے یہ لات و عزیٰ ہمیں بچا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دن تو دہشت ہی اس قدر ہوگی کہ نہ عابد اپنے معبود کو پہچان سکے گا اور نہ معبود عابد کو، حالانکہ عابد و معبود سب وہاں حاضر ہوں گے۔ اس وقت جب اللہ مشرکوں سے پوچھے گا کہ بتاؤ تمہارے معبود کدھر ہیں۔ جنہیں تم میرا شریک بنایا کرتے تھے؟ اس وقت وہ اپنے شرکیہ اعمال سے صاف مکر جائیں گے اور قسمیں اٹھا کر کہہ دیں گے کہ ہم نے تو کبھی کسی کو تیرا شریک بنایا ہی نہ تھا۔ الانعام
24 [٢٧] یعنی اس دن کی دہشت اور اپنی بے بسی اور درماندگی کی بنا پر اپنے بچاؤ کی یہی راہ انہیں سجھائی دے گی کہ اس سے صاف مکر جائیں اور دنیا میں وہ جو کچھ کرتے رہے تھے دہشت کی وجہ سے سب بھول جائیں گے انہیں یہ یاد ہی نہ پڑے گا کہ وہ دنیا میں کس کس کو پوجتے اور کس کس قسم کا شرک کیا کرتے تھے؟ الانعام
25 [٢٨] صفات کا سدہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں؟ وہ باتیں اس لیے دھیان سے سنتے ہیں کہ دیکھیں وہ کون کونسی بات پر اعتراض کرسکتے ہیں اور کون سی بات کا مذاق اڑا سکتے ہیں ان کی نیت کبھی بخیر نہیں ہو سکتی کہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے آئیں۔ لہٰذا ہدایت کی باتوں کو وہ ایسے سنی ان سنی کردیتے ہیں جیسے ثقل سماعت کی وجہ سے وہ سن ہی نہیں سکے اور جب سنتے ہی نہیں تو اسے سمجھنے کی خاک کوشش کریں گے۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اسباب کو اختیار کرنا انسان کے اپنے بس میں ہے اور اسی بات کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے مسببات یا ان اسباب سے نتائج پیدا کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک نبی کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے۔ اب لوگ اس کی دعوت کو قبول کرتے ہیں یا رد کرتے ہیں یا کتنے قبول کرتے ہیں اور کتنے نہیں کرتے۔ یہ نبی کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ لیکن اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ اسباب اختیار کرنے سے متوقع نتائج حاصل ہوجاتے ہیں ایسے نتائج کی نسبت بھی اللہ ہی کی طرف ہوگی۔ اسی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے نتائج کی نسبت اپنی طرف کر کے فرمایا کہ ﴿وَّجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّۃً ﴾ ورنہ حقیقی مجرم وہی لوگ ہیں جنہوں نے ایسے اسباب اختیار کیے تھے جن سے اس قسم کے نتائج برآمد ہوئے۔ [٢٩] حق ہمیشہ سے چلا آرہا ہے اور پرانا ہے لہٰذا محض پرانا ہونا غلط ہونے کی دلیل نہیں : انبیاء علیہم السلام جتنے بھی دنیا میں آتے رہے سب دعوت حق ہی پیش کرتے رہے اور ان کے منکر اور ہٹ دھرم بھی ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ یہ پرانی باتیں ہیں جو ہم پہلے بھی سن چکے ہیں گویا ان احمقوں کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ کسی بات کے حق ہونے کے لیے اس کا نیا ہونا بھی ضروری ہے اور جو بات پرانی ہے وہ حق نہیں ہے۔ حالانکہ حق ہر زمانے میں ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔ دین کے معاملہ میں کوئی نئی بات وہی پیش کرسکتا ہے جسے حق سے دشمنی ہو اور وہ اپنے ذہن سے کوئی نئی بات گھڑ کر اسے حق کے نام سے پیش کر دے کسی نئے فرقہ کی بنیاد ڈال دے۔ اس طرح اسے اس دنیا میں تو شاید بعض لوگوں کی پیشوائی کا مقام حاصل ہوجائے لیکن حقیقتاً وہ خود بھی گمراہ اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا شخص ہوگا۔ الانعام
26 [٣٠] گویا وہ دہرے مجرم ہیں اور جو لوگ ان کی کوششوں کی وجہ سے راہ حق سے دور رہتے ہیں۔ ان کے گناہوں میں سے حصہ رسدی گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لاد رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کی ہلاکت کس قدر شدید ہوگی؟ اور اس بات کی انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ خود ہی اپنے ہاتھوں کیسے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں؟ الانعام
27 [٣١] یعنی اس وقت تک ان ہٹ دھرموں کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں آئیں گے جب تک یہ دوزخ کے عذاب کو دیکھ نہ لیں۔ اس وقت ان کی سب شیخیاں کر کری ہوجائیں گی۔ اس وقت وہ یہ آرزو کریں گے کہ کاش انہیں دوبارہ دنیا میں جانے کا موقع میسر ہو تو ہم یقینا اللہ کے فرمانبردار بندے بن کے رہیں گے۔ الانعام
28 [٣٢] یعنی ایسے دلائل جن سے حق واضح ہوتا تھا، ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ کوئی ان دلائل کو سن بھی نہ سکے اور ان پر پردہ ہی پڑا رہے۔ وہ حق آج ظاہری صورت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو دوبارہ دنیا میں جانے کی آرزو اور فرماں بردار بن کر رہنے کا جو وعدہ کریں گے وہ وعدہ چونکہ شوق و رغبت کی بنا پر نہ ہوگا بلکہ جہنم کے عذاب کو دیکھ کر اضطراری وعدہ ہوگا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کم بخت اب بھی جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ اگر انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تو یہ بدبخت پھر بھی وہی کچھ کریں گے جو پہلے دنیا میں کرتے رہے۔ پھر یہ دنیا کی رنگینیوں میں منہمک ہو کر اللہ کی نافرمانیوں پر اتر آئیں گے اور اپنا وعدہ بھول جائیں گے جیسا کہ بسا اوقات مصائب اور بیماریوں میں پھنس کر انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا اور توبہ تائب کرتا ہے مگر اس مصیبت سے نجات پانے کے بعد جب چند دن عیش و آرام میں گزارتا ہے تو اسے یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ اس وقت کیا عہد و پیمان کیے تھے؟ الانعام
29 [٣٣] تخلیق کائنات کے مختلف نظریئے۔ وجود باری تعالیٰ کے متعلق وحی سے بے نیاز ہو کر محض عقل و خرد سے کائنات کی تخلیق کی گتھی سلجھانے والے لوگ بھی ایک رائے پر متفق نہیں ہو سکے ایک گروہ کا خیال یہ ہے کہ یہ کائنات مادہ سے بنی ہے۔ اور مادہ اور اتفاقات کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔ اصل چیز مادہ ہے اور وہی ازلی ابدی ہے۔ کائنات میں انسان کی وہی حیثیت ہے جو سمندر میں ایک بلبلہ کی ہے جو ہوا کی لہروں سے پیدا ہوتے اور پھر سمندر ہی میں مدغم ہوجاتے ہیں اسی طرح ہم پیدا ہوتے اور مر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور آخرت کے متعلق مختلف نظریات :۔ یہ لوگ وجود باری تعالیٰ کے بھی منکر اور آخرت کے بھی منکر ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو مادہ پرست یا دہریے یا نیچری کہتے ہیں۔ اہل کتاب حتیٰ کہ مسلمانوں میں سے بھی بعض لوگ عقیدتاً اور بعض عملاً نیچری ہوتے ہیں۔ دوسرا گروہ بعض فلاسفروں اور سائنسدانوں کا ہے جو اس کائنات اور اس کے مربوط و منظم نظام کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ کسی کنٹرول کرنے والی ہستی کے بغیر کائنات کا نظام چلنا محال ہے لہٰذا کسی ایسی ہستی کو تسلیم کرنے کے بغیر چارہ نہیں جو اس کائنات کو وجود میں لائی اور اس کا نظام چلانے والی ہے اس طرح یہ لوگ وجود باری تعالیٰ کے تو قائل ہیں مگر اخروی زندگی پر ان کا ایمان نہیں ہوتا۔ غالباً اس کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ لوگ دین کی پابندیوں سے آزاد رہ کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ مشرکین مکہ کا مذہب بہت حد تک انہی لوگوں سے ملتا جلتا ہے جو اللہ کے خالق و مالک ہونے کے تو قائل ہیں مگر اخروی زندگی کے قائل نہیں تھے۔ تاہم وہ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا متبع قرار دیتے تھے۔ دیوی دیوتاؤں کی پوجا وہ دو وجہ سے کرتے تھے ایک یہ کہ ان کی دنیوی حاجات بر آئیں اور مشکلات دور ہوں اور دوسرے اس لیے کہ ان کے وسیلہ سے اللہ کا تقرب حاصل ہو۔ ایمان بالاخرت بھی چونکہ ایمان بالغیب کا ایک اہم جزو ہے لہٰذا اللہ کی ذات کو تسلیم کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو کافر قرار دیا ہے۔ الانعام
30 [٣٤] یعنی جب انہیں دنیا میں کیے ہوئے اعمال کی باز پرس اور حساب کتاب کے لیے اللہ کے حضور کھڑا کیا جائے گا اور سب حقائق ان کی آنکھوں کے سامنے آ جائیں گے تو پھر انکار کی مجال ہی نہ رہے گی۔ اس وقت وہ حسرت و یاس کے عالم میں کہیں گے کہ ہم دنیا میں کیسے غلط انداز سے سوچتے رہے اور آج کے دن کے لیے کچھ بھی نہ کرسکے۔ اس دن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے پوچھیں گے کہ ’’بتاؤ اب بھی تمہیں اس آخرت کے بارے میں کچھ شک و شبہ باقی رہ گیا ہے؟ کیا یہ جزا و سزا کا عمل ایک ٹھوس حقیقت بن کر تمہارے سامنے نہیں آ گیا ؟‘‘ وہ کہیں گے ’’ہمارے پروردگار! اب ہمیں کیا شک ہوسکتا ہے جبکہ ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’اچھا تو اب اپنے کیے کی سزا بھگتو اور اپنے کفر کا بدلہ جہنم کی آگ کی صورت میں چکھو۔‘‘ الانعام
31 [٣٥] گناہوں کا بوجھ محض خیالی اور تصوراتی نہیں ہوگا بلکہ یہ بوجھ ممثل بنا کر بعض جانوروں کی شکل میں گنہگاروں کی پشتوں پر لاد دیا جائے گا۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں یہ صراحت موجود ہے۔ الانعام
32 [٣٦] دنیا کی زندگی کھیل تماشاکس لحاظ سے ہے :۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا کی زندگی میں سرے سے کوئی سنجیدگی ہے ہی نہیں۔ اور یہ محض کھیل تماشے یا سیر و تفریح کے لیے بنائی گئی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی حقیقی اور پائیدار زندگی کے مقابلہ میں یہ زندگی ایسی ہے جیسے کوئی شخص کچھ دیر کھیل تفریح میں دل بہلا کر بعد میں پھر سے اپنے اصل کام کی طرف متوجہ ہوجائے۔ یہ کھیل تماشا صرف ظاہر بین اور دنیا پرست لوگوں کے لیے ہے اور دنیا میں بسنے والے لوگوں کی اکثریت چونکہ ایسی ہی ہے جو اس دنیا کی رنگینیوں میں ہی کھو کر رہ جاتی ہے۔ لہٰذا کہیں اس دنیا کی زندگی کو کھیل تماشا اور کہیں دھوکے کا سامان کہا گیا ہے ورنہ ایماندار اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے تو اس دنیا کی زندگی کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے کیونکہ جو کچھ بھی وہ اس دنیا میں بوئیں گے وہی جا کر آخرت میں کاٹیں گے۔ الانعام
33 [٣٧] کفار مکہ آپ کی نہیں بلکہ آیات اللہ کی تکذیب کرتے تھے :۔ نبوت سے پہلے مشرکین مکہ آپ کو صادق اور امین کہا کرتے تھے نبوت کے اعلان کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بڑے سے بڑے دشمن نے بھی دنیوی معاملات میں آپ کو کبھی جھوٹا نہیں کہا۔ البتہ دین کے متعلق آپ جو کچھ کہتے تھے کافر اسے جھٹلاتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ خود ابو جہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کہی تھی کہ محمد! ہم آپ کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ جو کچھ تم لائے ہو ہم اسے جھٹلاتے ہیں۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) اور اس جھٹلانے کی ایک بڑی وجہ قریش کی قبائلی عصبیت تھی۔ ابو جہل جو قبیلہ بنو مخزوم سے تعلق رکھتا تھا ایک بار کہنے لگا ’’ہم اور بنو عبد مناف (آل ہاشم) ہمیشہ حریف مقابل کی حیثیت سے رہے۔ انہوں نے مہمان نوازیاں کیں تو ہم نے بھی کیں۔ انہوں نے خون بہا دیئے تو ہم نے بھی دیئے۔ انہوں نے فیاضیاں کیں تو ہم نے بھی کیں یہاں تک کہ ہم نے ان کے کندھے سے کندھا ملا دیا۔ اب بنو ہاشم پیغمبری کے دعویدار بن بیٹھے ہیں۔ واللہ ہم اس پیغمبر پر کبھی ایمان نہیں لا سکتے۔ نہ ہی ہم اس کی تصدیق کریں گے۔‘‘ (ابن ہشام ص ١٠٨) گویا شخصی حیثیت سے قریش مکہ کو آپ سے کوئی شکایت نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخالفت اور عداوت محض دین کی دعوت کی وجہ سے تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو تسلی دیتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ تمہاری تکذیب نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ ظالم ہماری اور ہماری آیات کی تکذیب کر رہے ہیں۔ آپ زیادہ پریشان نہ ہوں ہم ان سے خود نمٹ لیں گے۔ الانعام
34 [٣٨] حق کو غالب کرنے کے لئے اللہ کی سنت یا قوانین کیا ہیں؟ کلمات سے یہاں مراد اللہ کے وہ قوانین یا سنت جاریہ ہے جو حق و باطل کے معرکہ میں پیش آتے ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ کوئی نبی یا رسول جب اپنی دعوت کا آغاز کرتا ہے تو ہر طرف سے اس کی مخالفت پر لوگ کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔۔ پھر انہی میں سے کچھ سلیم فطرت اور اخلاق فاضلہ رکھنے والے لوگ نبی پر ایمان لاتے ہیں اور اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ اب یہ ایمان لانے والی جماعت اور خود نبی کی ذات مخالفین کے ظلم و تشدد کا نشانہ بنتے، ظلم و ستم سہتے اور صبر و ثبات سے کام لیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ان کی افرادی قوت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہ ستم زدہ لوگ مقابلتاً کمزور ہونے کے باوجود باطل سے ٹکر لینے پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اللہ کی مدد ان کے شامل حال ہوتی ہے اس سے پہلے نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہرگز نہیں کہ ایمان لانے والوں کو آزمائے بغیر اور انہیں مشکلات و مصائب سے گزارے بغیر از خود ہی بعض معجزانہ قسم کے حالات پیدا کر کے حق کو باطل پر غالب کر دے۔ یہ ایسے قوانین ہیں جن میں کوئی بھی تبدیلی نہیں لا سکتا۔ جیسا کہ آپ کو پہلے رسولوں کے حالات سے یہ باتیں معلوم ہو ہی چکی ہیں۔ الانعام
35 [٣٩] کفار کا حسی معجزہ کا مطالبہ اور آپ کی خواہش :۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ کرتے اور کفار کی سختیاں سہتے ایک طویل مدت گزر گئی اور کافروں کی اکثریت انکار ہی کرتی رہی تو اس سے آپ کو سخت گھٹن محسوس ہوتی تھی۔ کبھی کبھار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خیال بھی آ جاتا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کافروں کو کوئی حسی معجزہ دکھلاوے تو امید ہے یہ لوگ ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آرزو کا جواب یہ دیا کہ کوئی حسی معجزہ دکھا کر لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور بنا دینا ہمارا طریقہ نہیں ہاں اگر آپ ایسا ہی چاہتے ہیں تو خود ہی اپنا زور لگا دیکھیں۔ زمین میں کوئی سرنگ لگا کر یا آسمان میں سیڑھی لگا کر ان کا مطلوبہ معجزہ لا سکتے ہیں تو لے آئیں مگر یہ بات میری مشیئت کے خلاف ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو معجزہ کے بغیر بھی انہیں ایمان لانے اور سب لوگوں کو ایمان پر اکٹھا کردینے کی پوری قدرت رکھتا ہے مگر اس سے وہ مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے جس کی خاطر انسان کو عقل اور قوت ارادہ و اختیار دے کر آزمائش کی خاطر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ [٤٠] یعنی اللہ کی مشیئت کے خلاف سوچنا یا تدبیر اختیار کرنا نادانی کی بات ہے کیونکہ اللہ کی مشیئت تو بہرحال پوری ہو کے رہے گی اور ایسا سوچنے والے کو شکست اور ندامت کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ الانعام
36 [٤١] جن لوگوں کو ہدایت مطلوب ہوتی ہے وہ تمہاری باتوں کو غور سے سنتے ہیں پھر وہ ہدایت قبول بھی کرتے ہیں مگر جن لوگوں کے دل اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے مر چکے ہیں وہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے یہ لوگ جیتے جی اپنے اختیار سے تو اللہ کی طرف رجوع کرنے والے نہیں۔ البتہ جب مر جائیں گے اور اللہ انہیں دوبارہ زندہ کرے گا تب انہیں اضطراری طور پر اللہ کے حضور پیش ہونا ہی پڑے گا۔ الانعام
37 [٤٢] یعنی ایسے حسی معجزہ کا مطالبہ کرنا جس سے انسان کو کامل یقین حاصل ہوجائے نادانی کی بات ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ بات اللہ کے دستور ابتلاء کے منافی ہے اور ایسے جبری اور اضطراری ایمان کا کچھ فائدہ بھی نہیں۔ جیسے موت کے وقت جب انسان غیب کے پردے اٹھنے کے بعد سب کچھ دیکھ لیتا ہے تو پھر اس وقت اس کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ الانعام
38 [٤٣] یعنی سب جانداروں کو خواہ وہ حشرات الارض ہوں یا پرندے ہوں یا چرندے ہوں، اللہ کی طرف سے وحی ہوتی ہے جیسے تمہیں ہوتی ہے اور یہ سب انواع اللہ کے قوانین کی پابند ہیں اور اپنی فطری حدود سے سر مو تجاوز نہیں کرتیں اور نہ کرسکتی ہیں۔ ان سب جانداروں کو وحی کے ذریعہ وہ علوم سکھائے جاتے ہیں جو ان کی نوع کے لیے اور نوع کی بقا کے لیے کارآمد اور ضروری ہیں اور ان چیزوں سے منع کیا جاتا ہے جو ان کے لیے مضر ہیں۔ مثلاً گائے، بھینس اور بھیڑ بکری وغیرہ پر حرام ہے کہ وہ گوشت کھائیں اور اگر وہ اس جرم کا ارتکاب کریں گے تو اس کا انہیں ضرور نقصان پہنچے گا۔ اسی طرح شیر پر گھاس کھانا حرام اور گوشت کھانا فرض ہے۔ اس کا الٹ کرے گا تو سخت نقصان اٹھائے گا اور زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ شہد کی مکھیوں کو بذریعہ وحی سکھا دیا کہ وہ اس قسم کا گھر تیار کریں۔ پھر پھلوں اور پھولوں سے رس چوس کر شہد بنائیں اور بہرحال اپنی سردار مکھی یعسوب کی اطاعت کریں۔ الغرض ہر نوع کی طرف وحی کی جاتی ہے اور اس کی شریعت جداگانہ ہے۔ اب انسان کو جو قوت ارادہ و اختیار دی گئی ہے تو اس کے ساتھ ابتلاء و آزمائش بھی انسان ہی کے لیے ہے۔ انسان کی بہتری اور نجات اسی صورت میں ہے کہ وہ کسی حسی معجزہ کا مطالبہ کیے بغیر اپنے عقل و ارادہ سے کام لے کر دوسری انواع کی طرح اپنے آپ کو احکام الٰہی کا پابند بنا لے۔ [٤٤] جانوروں کا حشر :۔ اس آیت سے نیز ایک دوسری آیت ﴿ وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ ﴾ سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کا بھی قیامت کے دن حشر ہوگا ان سے کفر و شرک اور ایمان و اعمال کا محاسبہ تو نہیں ہوگا مگر جو ظلم کسی جانور نے دوسرے پر زیادتی سے کیا ہوگا اس کا بدلہ ضرور دلایا جائے گا کیونکہ اتنی عقل انہیں بھی بخشی گئی ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’قیامت کے دن تم سے حقداروں کے حق ادا کروائے جائیں گے حتیٰ کہ سینگ والی بکری سے بے سینگ والی بکری کا بدلہ دلوایا جائے گا۔‘‘ (مسلم۔ کتاب البروالصلۃ۔ باب تحریم الظلم) الانعام
39 [٤٥] جو شخص اللہ کی آیات کو جھٹلا دے اس پر ہدایت کی سب راہیں مسدود ہوجاتی ہیں اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی گونگا۔ بہرا شخص گہرے اندھیروں میں ہو۔ وہ اندھیروں کی وجہ سے خود کچھ دیکھ نہیں سکتا۔ بہرا ہونے کی وجہ سے ہدایت کی بات سن نہیں سکتا اور گونگا ہونے کی وجہ سے کسی سے پوچھ نہیں سکتا۔ ایسا شخص گمراہ نہ ہوگا تو کیا ہوگا ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنا رویہ بدل لے اور آیات الٰہی میں غور کرنا شروع کر دے تو پھر اللہ اسے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔ الانعام
40 الانعام
41 [٤٦] عکرمہ بن ابو جہل کا اسلام لانا :۔ مشرکین مکہ کی عادت تھی کہ مصیبت کے وقت اور بالخصوص جب ان کا جہاز طوفان کی زد میں آ جاتا تو اپنے معبودوں کو پکارنا شروع کردیتے پھر جب وہ مصیبت نہ ٹلتی اور موت سامنے کھڑی نظر آنے لگتی تو کہتے اب صرف ایک اللہ ہی کو پکارو۔ ان کی اسی عادت کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے اور ایک انسان کو ہدایت کی راہ پانے کے لیے یہی ایک بات کافی ہے۔ چنانچہ فتح مکہ کے بعد عکرمہ بن ابی جہل اس خیال سے مکہ سے بھاگ کھڑے ہوئے کہ مفتوحین سے پتہ نہیں کیسا سلوک کیا جائے گا۔ جدہ پہنچے اور وہاں سے کشتی پر سوار ہو کر حبشہ کی راہ لی۔ راستہ میں کشتی طوفان میں گھر گئی تو مشرکوں نے اپنی عادت کے مطابق اپنے دیوی دیوتاؤں کو پکارنا شروع کردیا طوفان بڑھتا ہی گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کشتی اب ڈوبی کہ ڈوبی۔ مصیبت میں صرف اللہ ہی کام آتا ہے؟ اس وقت مشرک کہنے لگے : اب صرف اللہ ہی کو پکارو۔ وہی ہمیں اس مصیبت سے اور موت سے نجات دے سکتا ہے۔ ایسے نازک وقت میں یہ جملہ سن کر عکرمہ کی آنکھیں کھل گئیں وہ سوچنے لگے کہ اگر سمندر میں مصیبت کے وقت اللہ ہی کام آتا ہے تو خشکی میں بھی اللہ ہی کام آنا چاہیے۔ وہ سوچنے لگے کہ بیس سال ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی بات پر لڑتے رہے وہ کہتے تھے مصیبت میں کام آنے والا صرف اللہ ہے اور تمہارے معبود نہ تمہار کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں چنانچہ اس نے عہد کیا کہ اگر آج زندگی بچ گئی تو سیدھا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر ان کی بیعت کرلوں گا۔ اللہ کا کرنا ہوا کہ طوفان تھم گیا اور کشتی والوں کی زندگیاں بچ گئیں۔ عکرمہ واپس آ گئے اور آ کر اسلام قبول کرلیا اور باقی عمر خدمت اسلام میں صرف کردی۔ حق پرستی کا جذبہ انسان میں موجود ہے :۔ یہ بات صرف عکرمہ تک ہی محدود نہیں بلکہ جب موت سامنے نظر آنے لگتی ہے تو دہریہ قسم کے لوگوں کی زبان پر بھی بے اختیار اللہ کا نام آ جاتا ہے اور اسے فریاد کے طور پر پکارنے لگتے ہیں۔ جو اس بات کی بین دلیل ہے کہ انسان خواہ کتنی ہی ضد اور ہٹ دھرمی کرتا رہے اس کے اندر فطری طور پر حق پرستی کا داعیہ رکھ دیا گیا ہے وہ آڑے وقتوں میں بے اختیار کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ الانعام
42 الانعام
43 الانعام
44 [٤٧] دنیا میں عذاب سے متعلق اللہ کا قانون :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مواخذہ کا قانون بیان فرمایا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ جب کسی قوم میں اللہ کی نافرمانی کا آغاز ہوتا ہے تو اللہ ان پر ہلکے ہلکے عذاب نازل فرماتا ہے مثلاً قحط یا خشک سالی یا کوئی وبا وغیرہ۔ اور یہ عذاب تنبیہ یا وارننگ کے طور پر آتا ہے تاکہ لوگ اللہ کی گرفت سے ڈر جائیں اور اس کے حضور توبہ کریں۔ اور عاجزی کریں۔ اگر قوم فی الواقع متنبہ ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائے تو اس سے وہ سختی بھی دور کردی جاتی ہے اور آئندہ اللہ کی رحمتوں کا نزول شروع ہونے لگتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے اور نافرمانیوں اور سرکشی میں ہی بڑھتی چلی جائے تو اس پر دوسری طرح کا عذاب آتا ہے اور وہ ہے عیش و عشرت کی فراوانی جس میں لوگ ایسے مگن ہوجاتے ہیں کہ اللہ کو یکسر بھول ہی جاتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہماری تہذیب و تمدن اور ملکی معیشت میں ترقی ہو رہی ہے پھر ان پر یکدم ایسا سخت عذاب آتا ہے جو اس قوم کو تہس نہس کر کے صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے اور وہ قصہ پارینہ بن جاتی ہے۔ الانعام
45 [٤٨] یعنی یہ بھی اللہ کا لوگوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ وہ ظالموں کو وقتاً فوقتاً نیست و نابود کرتا رہتا ہے تاکہ مظلوم لوگ ان کے ظلم و ستم سے نجات پا کر اپنی زندگی آرام اور چین سے گزار سکیں۔ جنہوں نے ان کی زندگی اجیرن بنا رکھی تھی۔ الانعام
46 [٤٩] آنکھ، کان اور دل اللہ کی آیات کیسے ہیں؟ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تین نعمتوں کا ذکر کر کے انہیں اپنی آیات یا اللہ تعالیٰ کی ذات پر دلالت کرنے والی نشانیاں قرار دیا ہے سب سے پہلے سماعت کا ذکر کہ کس طرح کسی آواز سے ہوا میں لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ پھر وہ لہریں کان کے پردوں سے ٹکراتی ہیں۔ اس تصادم کی آواز اعصاب کے ذریعہ دماغ تک پہنچتی ہے۔ دماغ فوراً اس آواز کا مطلب و مفہوم سمجھتا ہے اور پھر انسان اپنی زبان سے فوراً بات کرنے والے کو اس کا جواب دیتا ہے اور یہ سب کام اتنی جلدی وقوع پذیر ہوتے ہیں کہ بات کرنے والے کو فوراً اس کا جواب مل جاتا ہے۔ یہی صورت بصارت کی ہے۔ آنکھ کوئی چیز دیکھتی ہے تو اس چیز کی تصویر یا فوٹو یا عکس عدسہ پر پڑتا ہے۔ پھر وہی تصویر باریک سی نالیوں کے ذریعے دماغ کے پردہ پر پڑتی ہے اور دماغ فوراً یہ فیصلہ دیتا ہے کہ جو چیز آنکھ نے دیکھی وہ فلاں چیز ہے، فلاں رنگ کی ہے اور اس کی شکل اور قد و قامت اتنا اور اتنا ہے۔ دل کا نظام ان سے بھی پیچیدہ ہے۔ قوت تمیز، عقل ارادہ و اختیار کی سب قوتیں اس سے متعلق ہیں۔ کسی بات کو سوچنا، تدبیر کرنا اور فیصلہ کرنا سب کچھ اسی کا کام ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ اس سماعت، بصارت یا دل کے عمل کو اور اس کے نظام کو سلب کرلے تو کیا ان مشرکوں کے کسی الٰہ میں یہ طاقت ہے کہ وہ اس نظام کو بحال کر دے؟ لیکن یہ لوگ تو اللہ کی ان آیات میں غور ہی نہیں کرتے بلکہ جہاں اللہ کی آیات کا ذکر ہوتا ہو وہاں سے اپنا رخ ہی موڑ لیتے ہیں۔ اب اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان نے جتنے بھی کمالات حاصل کیے ہیں۔ خواہ ان کا تعلق ایجادات سے ہو یا علم اور فلسفہ سے یا انسان کی خوشحالی اور حسن تدبیر سے، اور یہی وہ چیزیں ہیں جن پر انسان فخر و ناز کرتا ہے اور پھولا نہیں سماتا۔ حالانکہ ان تمام چیزوں کے حصول کا ذریعہ یہی آنکھیں، کان اور دل ہیں اور یہ خالصتاً اللہ کا عطیہ ہیں۔ پھر اگر اللہ اپنی دی ہوئی چیز واپس لے لے تو ان کے کسی الٰہ میں یہ قدرت ہے کہ وہ ان کی یہ چیزیں بحال کر دے؟ اور اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو اللہ کے کاموں میں شریک کیسے ہوئے؟ الانعام
47 [٥٠] یکدم سے مراد ایسا عذاب ہے جس کی علامات پہلے مطلقاً ظاہر نہ ہوں اور جہرۃ یا علانیہ سے مراد ایسا عذاب ہے جس کی علامات پہلے سے ظاہر ہونا شروع ہوجائیں۔ [٥١] اس جملہ کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ عذاب آنے کی اطلاع اللہ تعالیٰ انبیاء کو بذریعہ وحی دیتا ہے اور انہیں ہدایت کردی جاتی ہے کہ وہ اپنے پیرو کاروں کو ساتھ لے کر اس مقام سے نکل جائیں جہاں عذاب آنے والا ہو۔ اس طرح عذاب کی زد میں صرف ظالم ہی آتے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ چونکہ عذاب ظالموں کے ظلم کی وجہ سے ہی آتا ہے۔ لہٰذا ظالموں کو چاہیے کہ بلاتاخیر توبہ کرلیں۔ اور عذاب الٰہی سے خود بھی بچ جائیں اور دوسروں کی ہلاکت کا بھی سبب نہ بنیں۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ اصل میں تباہی اور ہلاکت تو ظالموں کے لیے ہی ہے کہ مرنے کے بعد بھی انہیں دوزخ کا عذاب بھگتنا ہوگا اور صالح افراد تو موت کے بعد اللہ کے فضل و کرم کے مزید حقدار بن جائیں گے۔ الانعام
48 الانعام
49 الانعام
50 [٥٢] نبوت اور ولایت کے لئے جہلاء کے معیار :۔ انبیاء کا اصل کام یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں انہیں جنت اور اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رضامندی کی خوشخبری دیں اور جو لوگ ان نبیوں کا یا اللہ کی آیات کا انکار کردیں انہیں اللہ کے غضب اور دوزخ کی آگ سے ڈرائیں۔ مگر جاہل قسم کے لوگوں نے انبیاء اور خدا رسیدہ لوگوں کی صداقت جانچنے کے لیے کچھ الگ ہی معیار مقرر کر رکھے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ایسے لوگوں سے خرق عادت امور صادر ہوں۔ وہ کچھ معجزات یا کرامات انہیں دکھائیں، انہیں ان کے دلوں کا حال بتائیں، آئندہ پیش آنے والے حالات سے انہیں مطلع کریں۔ ان کی نظر کرم سے ایک گنہگار فوراً ولی کے مقام پر پہنچ جائے۔ وغیرہ وغیرہ یہ تو ایجابی معیارہے اور سلبی معیار یہ ہوتا ہے کہ ایک خدا رسیدہ انسان کو تارک دنیا ہونا چاہیے اور جو انسان نکاح کرتا، کھاتا پیتا اور لذائذ دنیا سے لطف اندوز ہوتا ہے وہ بھلا خدا رسیدہ کیسے کہلا سکتا ہے وہ تو ہم جیسا طالب دنیا ہی ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ایسے احمقانہ نظریات کی تردید کرتے ہوئے آپ کی زبان سے کہلوایا کہ نہ تو میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں کہ تمہیں تمہارے منہ مانگے معجزات دکھا سکوں اور تمہاری حاجات کو فوراً پورا کردیا کروں نہ ہی میں غیب جانتا ہوں کہ تمہیں بتا سکوں۔ یہ کہ چوری فلاں چور نے فلاں وقت کی تھی۔ یا اس وقت تم اپنے دل میں کیا سوچ رہے ہو۔ اور میں فرشتہ بھی نہیں کہ مجھے کھانے پینے، چلنے پھرنے، یا نکاح کی حاجت نہ ہو۔ میرے فرائض صرف یہ ہیں کہ ایمان لانے والوں کو خوشخبری دوں اور انکار کرنے والوں کو ڈراؤں اور ہر حال میں اپنی یہ ذمہ داری نبھانے کی کوشش کروں۔ [٥٣] ایک نبی اور عام آدمی میں فرق :۔ ہاں مجھ میں اور تم میں یہ فرق ضرور ہے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے جس سے مجھے یقینی علم حاصل ہوتا ہے اور بسا اوقات غیب کے پردے ہٹا کر مجھے مطلع بھی کردیا جاتا ہے اور پھر میں اس وحی کے مطابق اس کے تمام احکام کی پیروی بھی کرتا ہوں لیکن تمہیں ان سے کوئی چیز بھی میسر نہیں۔ تمہارے نظریات کی بنیاد محض تمہارے گمان ہیں۔ اب بتاؤ کہ میں اور تم یا ایک بینا اور نابینا برابر ہو سکتے ہیں؟ یا ایک راہ پانے والا اور دوسرا گمراہ یا ایک عالم اور دوسرا جاہل دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ الانعام
51 [٥٤] آپ سب لوگوں کے ہدایت پانے کی فکر نہ کیجئے بلکہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں، روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ کے حضور جواب دہی کے تصور اور دوزخ کے عذاب سے ڈرتے ہیں ان کا ضرور خیال رکھیے اور وحی کے احکام ان تک ضرور پہنچایا کیجئے۔ اور جو لوگ روز آخرت پر یقین تو رکھتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ اعتقاد بھی رکھتے ہیں کہ وہ بزرگوں کی اولاد ہیں یا بزرگ ان کی سفارش کر کے انہیں بچا لیں گے انہیں خبردار کیجئے کہ اس دن کسی کی سفارش کام نہ آسکے گی نہ حسب و نسب اور نہ ہی کوئی قریبی سے قریبی رشتہ دار۔ لہٰذا اپنے اپنے اعمال کی خود فکر کیجئے یہی ان کے متقی بننے کی صورت ہے۔ اور بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اس آیت کے مخاطب مومن نہیں بلکہ کافر ہیں کیونکہ یہی لوگ اللہ کے ہاں جانے سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ لہٰذا انہیں ڈرانے کی زیادہ ضرورت ہے اس مفہوم کی بھی اس آیت میں گنجائش موجود ہے۔ الانعام
52 [٥٥] قریشی سرداروں کا ناتواں صحابہ کو اپنے ہاں سے اٹھانے کا مطالبہ :۔ بعض معززین قریش، جن میں سے اقرع اور عیینہ کا بالخصوص ذکر آیا ہے، آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہمارا آپ کی مجلس میں آنے کو جی تو چاہتا ہے مگر آپ کے گرد یہ کچھ حقیر قسم کے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہم جھجک محسوس کرتے ہیں۔ البتہ اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ کے پاس آنے کو تیار ہیں آپ چونکہ ان بڑے بڑے قریشیوں کے ایمان لانے پر بڑے حریص تھے لہٰذا دل میں کوئی ایسی ترکیب سوچ ہی رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے : سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم چھ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ’’ان لوگوں کو اپنی مجلس سے نکال دیجئے تاکہ یہ ہم پر جرأت نہ کریں۔‘‘ وہ چھ آدمی یہ تھے۔ میں خود، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، ہذیل کا ایک آدمی، بلال رضی اللہ عنہ اور دو آدمی جن کا میں نام نہیں لیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو اللہ نے چاہا، خیال آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سوچ ہی رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب فی فضل سعد بن ابی وقاص) اور ابن ماجہ کی روایت کے مطابق یہ چھ آدمی درج ذیل تھے : سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، صہیب رومی رضی اللہ عنہ ، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ، مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اور بلال بن رباح رضی اللہ عنہ (حبشی) اقرع اور عیینہ نے تنہائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں ان غلاموں کے ساتھ بیٹھنے میں شرم محسوس ہوتی ہے۔ لہٰذا جب ہم آپ کے پاس آئیں تو انہیں اٹھا دیا کیجئے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا صحابہ کی بہت تعریف بیان فرمائی اور فرما دیا کہ ان کو ہٹانے کی بات ہرگز نہ سوچئے۔ یہ انتہائی بے انصافی ہے کہ سچے مومنوں کو اس طمع سے اٹھایا جائے کہ دوسرے لوگ آ کر بیٹھیں جن کا ایمان لانا بھی یقینی نہ ہو۔ الانعام
53 [٥٦] قریشی سرداروں کی ناتواں صحابہ پر طعنہ زنی :۔ یعنی اقرع اور عیینہ کو آزمائش میں ڈال دیا ہے جو اپنی شرافت اور مالداری پر مغرور ہیں اور غریب بے کس اور سچے مسلمانوں کو اتنا حقیر سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ مل کر بیٹھنا بھی انہیں گوارا نہیں۔ حالانکہ یہ لوگ انتہائی خلوص کے ساتھ اللہ کی رضا کے طالب تھے۔ پھر یہی اقرع اور عیینہ اور دوسرے مغرور سرداران قریش زبانی بھی کہا کرتے تھے کہ اس شخص ( محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو ساتھی بھی کیسے ملے ہیں۔ کیا ہم لوگوں میں سے اللہ کو یہی لوگ ایسے ملے تھے جنہیں برگزیدہ کیا جا سکتا تھا نیز ان کا مذاق اڑاتے اور ان پر پھبتیاں کستے تھے۔ اور اگر کسی کی کسی سابقہ اخلاقی کمزوری کا علم ہوتا تو کہتے کہ کل تک تو فلاں شخص کا یہ حال تھا اور آج یہ برگزیدہ لوگوں میں شامل ہیں۔ نیز ﴿بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ ﴾ کے الفاظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آیا یہ نادار اور ناتواں مسلمان بھی کفار کی ایسی حقارت آمیز اور طعن و تشنیع پر مشتمل باتوں کو سن کر ان پر صبر کرتے ہیں؟ اور کس حد تک صبر کرتے ہیں۔ الانعام
54 [٥٧] مسلمانوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن سے زمانہ جاہلیت میں کئی بڑے گناہ سرزد ہوچکے تھے۔ اگرچہ اب انہوں نے بہت حد تک اپنی اصلاح کرلی تھی اور ان کی زندگی بدل چکی تھی لیکن مخالفین اسلام انہیں ان کے سابقہ اعمال و عیوب پر طعنے دینے سے باز نہیں آتے تھے۔ اس پس منظر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اہل ایمان کو تسلی دیں اور کہیں کہ آپ کا پر ورگار بڑا غفور رحیم ہے جو شخص اسلام لا کر یا توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ یقینا پچھلے گناہوں پر گرفت نہیں کرے گا جیسا کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’جب کوئی شخص اسلام لائے اور ٹھیک طور پر لائے تو اس کی سابقہ تمام برائیاں دور کردی جاتی ہیں اور اس کے بعد جو حساب شروع ہوگا وہ یوں ہوگا کہ ہر نیکی کے عوض دس سے لے کر سات سو تک نیکیاں لکھی جائیں گی اور برائی کے عوض ایک ہی برائی لکھی جائے گی۔ الا یہ کہ اللہ وہ بھی معاف فرما دے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب حسن اسلام المرء۔۔) لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کو یقین دلائیے کہ تم پر اللہ کی طرف سے سلامتی ہے۔ اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے۔ وہ یقیناً تمہاری اسلام لانے سے پہلے کی برائیوں کو معاف فرما دے گا۔ پھر اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص غلطی سے یا لاعلمی سے کوئی گناہ کا کام کر بیٹھے پھر اللہ کے حضور توبہ کرلے تو اللہ یقینا اپنے بندوں کے لیے غفور رحیم ہے۔ [٥٨] ١۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب لکھی (جس میں یہ لکھا کہ) میری رحمت میرے غضب سے آگے نکل گئی۔ اور یہ بات اس کے پاس عرش پر لکھی ہوئی ہے۔‘‘ (بخاری کتاب التوحید۔ باب قول اللہ تعالیٰ بل ہو قرآن مجید فی لوح محفوظ) ٢۔ ننانوے آدمیوں کے قاتل کے احوال :۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے ننانوے آدمی ناحق قتل کیے تھے۔ پھر وہ اپنے متعلق مسئلہ پوچھنے نکلا۔ وہ ایک راہب کے ہاں گیا اور اس سے پوچھا ’’کیا میرے لیے توبہ (کی گنجائش) ہے؟‘‘ اس نے کہا ''نہیں'' تو اس نے راہب کو بھی مار ڈالا (سو پورے کردیئے) پھر لوگوں سے یہی مسئلہ پوچھتا رہا۔ کسی آدمی نے اسے کہا کہ : فلاں فلاں بستی میں (توبہ کے لیے) چلے جاؤ۔ راستہ میں ہی اسے موت نے آن لیا۔ اس نے اپنا سینہ بستی کی طرف جھکا دیا۔ اب رحمت کے اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑنے لگے۔ جس بستی کو وہ جا رہا تھا اسے اللہ نے حکم دیا کہ نزدیک ہو اور جس بستی سے جا رہا تھا اسے حکم دیا کہ دور ہوجا اور فرشتوں سے فرمایا کہ فاصلہ ناپ لو۔ چنانچہ جہاں اسے جانا تھا وہ بستی بالشت بھر قریب نکلی تو اسے بخش دیا گیا۔ (بخاری۔ کتاب الانبیائ۔ باب ماذکر عن بنی اسرائیل ) ٣۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص کا ذکر کیا۔ اللہ نے اس کو مال اور اولاد دی تھی۔ جب وہ مرنے لگا تو اپنے بیٹوں سے پوچھا : میں تمہارا کیسا باپ تھا ؟ وہ کہنے لگے۔ اچھا باپ تھا۔ باپ نے کہا : دیکھو! میں نے کوئی نیکی اللہ کے ہاں جمع نہیں کی اور اگر میں اللہ کے ہاں پہنچ گیا تو وہ ضرور مجھے سزا دے گا۔ لہٰذا تم ایسا کرنا کہ میں جب مر جاؤں تو میری لاش کو جلا دینا اور جب میں کوئلہ ہوجاؤں تو باریک پیس کر اس کے ذرات تیز آندھی میں بکھیر دینا۔ اس نے اپنی اولاد سے قسم دے کر یہ عہد لیا۔ چنانچہ اس کی اولاد نے اس کے مرنے کے بعد ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے کلمہ کن کہا تو وہ شخص اللہ کے حضور کھڑا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا : میرے بندے! جو کچھ تو نے کیا ہے کونسی بات اس کی محرک بنی تھی؟ وہ کہنے لگا : فقط تیرے ڈر سے میں نے ایسا کیا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ڈرنے کا بدلہ یہ دیا کہ اس پر رحم فرما دیا (بخش دیا)۔ (بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب الخوف من اللہ ) الانعام
55 [٥٩] مجرمین کی صفات :۔ ایسے مجرموں کے اوصاف کچھ تو پہلے بیان ہوچکے ہیں یعنی جو لوگ ایمان لانے کے قریب تو آتے نہیں مگر مطالبات اور اعتراضات کیے جاتے ہیں مثلاً یہ کہ ہمیں فلاں معجزہ لا کر دکھا دو یا فلاں بات کا پتہ دو تو تب ہی ہم ایمان لائیں گے کبھی یہ کہ نبی تو ہم ہی جیسا بشر ہے اور کبھی یہ کہتے ہیں کہ اگر حقیر قسم کے لوگ آپ اپنی مجلس سے نکال دیں تو تب ہی ہم آپ کی مجلس میں آ سکتے ہیں۔ کچھ صفات تو ان مجرموں کی سابقہ آیات میں مذکور ہو چکیں اور کچھ آگے ذکر ہو رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم یہ تفصیلات اس لیے بیان کر رہے ہیں کہ ایسے ہٹ دھرم مجرموں کی صفات کھل کر سامنے آ جائیں۔ الانعام
56 [٦٠] مجرموں کی خواہش کیا تھی :۔ مشرکین مکہ یا مجرمین یہ چاہتے تھے کہ کوئی سمجھوتہ کی راہ نکل آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے معبودوں یا دیوی دیوتاؤں کی توہین نہ کریں اور ہم انہیں کچھ نہ کہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ تھی کہ یہ بت نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں اور اس تعلیم سے صرف ان کے بتوں کی توہین نہیں ہوتی تھی بلکہ ان کے آباؤ اجداد کی بھی ہوتی تھی اور ان کی بھی۔ اسی لیے وہ سٹپٹاتے تھے۔ اسی بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ نہ میں تمہاری اس خواہش کو پورا کرسکتا ہوں نہ ہی ان دیوی دیوتاؤں کی تعظیم کرسکتا ہوں میں تو مامور ہی اس بات پر ہوں کہ لوگوں کا رشتہ ان معبودوں سے توڑ کر اللہ سے جوڑ دوں۔ پھر اگر میں نے خود ہی وحی الٰہی کے خلاف کیا تو میں تو خود بھی ہدایت پانے والوں میں سے نہ رہوں گا۔ دوسرے کیسے ہدایت پا سکیں گے اور چونکہ یہ حکم مجھے اللہ کی طرف سے ملا ہے لہٰذا میں کسی قیمت پر بھی اس کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ الانعام
57 [٦١] اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا ؟ اس آیت میں ایسے مجرموں یا ہٹ دھرموں کی ایک اور صفت بیان کی گئی ہے۔ کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ اگر تم سچے نبی ہوتے تو تم اور تمہارے ساتھی ایسی بے بسی اور درماندگی کی حالت میں کیوں ہوتے؟ اور جس طرح ہم تم لوگوں پر سختیاں کر رہے ہیں اگر تم سچے ہوتے تو اب تک ہم پر وہ عذاب آ جانا چاہیے تھا جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے رہتے ہو۔ مجرموں کی اسی بات کا جواب اللہ نے یہ دیا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میرے اپنے اطمینان کے لیے یہ بات کافی ہے کہ ٹھیک ٹھیک اس راہ راست پر جا رہا ہوں جو اللہ نے میری طرف وحی کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ تم پر وہ عذاب اب تک کیوں نہیں آ چکا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا عذاب لے آنا میرے اختیار میں نہیں۔ یہ کام تو اللہ کا ہے۔ جب وہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنا چاہے گا تمہیں ایسے عذاب سے دوچار کر دے گا۔ الانعام
58 [٦٢] اور اگر ایسا عذاب لانا میرے اختیار میں ہوتا تو وہ کب کا آچکا ہوتا اور یہ سارے جھگڑے ختم ہوچکے ہوتے مگر تم پر عذاب آنے کا ٹھیک وقت تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اللہ کا علم، اس کا حلم اور اس کی حکمت بالغہ جب تم پر عذاب لانے کی مقتضی ہوگی اس وقت اس کے عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکے گا۔ الانعام
59 [٦٣] غیب کی خبریں بتانے والے :۔ میں جو ظالموں پر عذاب آنے کی بات کرتا ہوں تو یہ بھی وحی الٰہی کی بنا پر کرتا ہوں۔ رہی یہ بات کہ وہ عذاب کب آئے گا اس کا مجھے کچھ علم نہیں الا یہ کہ اللہ مجھے اس سے آگاہ فرما دے کیونکہ غیب کے تمام تر وسائل و ذرائع صرف اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جان سکتا اور اگر کوئی شخص غیب جاننے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے اور اللہ کی اس صفت کا منکر ہے اور جو شخص کسی غیب کی خبر دینے والے کی تصدیق کرتا ہے یا اس پر یقین رکھتا ہے وہ بھی برابر کا مجرم ہے جس پر درج ذیل احادیث شاہد ہیں۔ ١۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص کسی عراف (غیب کی خبریں بتانے والے) کے پاس جائے اور اس سے کچھ پوچھے اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔‘‘ (مسلم۔ باب السلام۔ باب تحریم الکہانۃ و اتیان الکھان) ٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص کسی کاہن کے پاس جا کر اس سے کچھ دریافت کرے، پھر اس کی تصدیق کرے تو اس نے اس چیز سے کفر کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی۔‘‘ (ابو داؤد باب الکھانت والتفسیر۔ باب النھی عن اتیان الکھان ) ٣۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’نجومی کاہن ہے اور کاہن جادوگر ہے اور جادوگر کافر ہے‘‘ (بخاری کتاب المناقب۔ باب ایام الجاھلیۃ۔۔) ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ ہی جانتا ہے (یعنی) قیامت کب آئے گی؟ وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ارحام میں کیا کچھ (تغیر و تبدل) ہوتا رہتا ہے۔ نیز کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کو کیا کرے گا اور نہ ہی وہ یہ جانتا ہے کہ وہ کس جگہ مرے گا۔ اللہ ہی ان باتوں کو جاننے والا اور باخبر ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر) اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت :۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ غیب کے سب علوم ایک مخصوص مقام پر خزانوں کی صورت میں سربمہر بند ہیں۔ اور مقفل ہیں اور ان تالوں کی چابیاں صرف اللہ کے پاس ہیں۔ اسی مقام پر ہر چیز کی مقادیر اللہ تعالیٰ نے پہلے سے لکھ رکھی ہیں اسی مقام کو قرآن میں کسی جگہ لوح محفوظ (٨٥ : ٢٢) کسی جگہ ام الکتاب (٤٣ : ٤) کسی جگہ امام مبین (٢٦ : ١٢٧) کسی جگہ کتاب مکنون (٥٦ : ٧٨) اور کسی جگہ کتاب مبین فرمایا ہے اور سب اس مقام یا ان غیب کے خزانوں کے صفاتی نام ہیں۔ ان خزانوں تک ان خزانوں کے مالک حق سبحانہ کے علاوہ اور کسی کی رسائی ممکن نہیں گویا یہی لکھی ہوئی مقادیر تمام مخلوقات کا مبدا یا نقطہ آغاز ہیں۔ پھر ان خزانوں کی وسعت کو عام لوگوں کے ذہن نشین کرانے کے لیے اس کے چند پہلوؤں پر روشنی ڈالی مثلاً اللہ ہی خشکی اور سمندروں کی سب اشیاء کو جانتا ہے خشکی میں جنگل بھی ہیں آبادیاں بھی، پہاڑ بھی، غاریں بھی۔ بے شمار درخت اور جڑی بوٹیاں بھی اور لاتعداد مخلوق حیوانات بھی اور انسان بھی اور سمندروں کی مخلوق تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کے اجمالی علم سے متعلق تھا اور تفصیلی یہ ہے کہ وہ مثلاً کسی درخت کے پتوں تک انفرادی علم رکھتا ہے کہ اس کی نشوونما کیسے ہو رہی ہے اور کب وہ جھڑ کر اپنے درخت سے نیچے گر پڑے گا اسی طرح جو غلہ زمین سے پیدا ہو رہا ہے اس کے ایک ایک دانے کا اسے علم ہے۔ علاوہ ازیں وہ زمین کے اندر کی مخفی چیزوں تک کو جانتا ہے پھر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کائنات میں اب تک کیا کچھ ہوچکا ہے اور آئندہ کیا کچھ ہونے والا ہے اور ان باتوں کے متعلق بھی وہ تفصیلی علم رکھتا ہے اجمالی نہیں گویا کتاب مبین یا لوح محفوظ ایسا نورانی تختہ ہے جس میں ازل سے کائنات کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے اسی کے مطابق اسی عالم میں واقعات ظہور پذیر ہو رہے ہیں اسی کے مطابق اس عالم کا خاتمہ ہوگا اور پھر روز آخرت قائم ہوگا۔ [٦٤] لکھی ہوئی تقدیر :۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ’’اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیریں آسمان و زمین سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ لی تھیں جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا۔‘‘ (مسلم۔ کتاب القدر۔ باب حجاج آدم و موسیٰ علیہ السلام) الانعام
60 [٦٥] روح کی قسمیں اور حشر ونشر پر دلیل :۔ روح دو قسم کی ہوتی ہے ایک حیوانی دوسرے روحانی یا نفسانی۔ رات کو یا نیند کے دوران روح نفسانی جسم سے نکل جاتی ہے۔ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اسے قبض کرلیتا ہے۔ اس روح کے جسم سے علیحدہ ہونے کا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کی سماعت، بصارت اور قلب و دماغ اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں لیکن حیوانی روح جسم میں موجود رہتی ہے جس کی وجہ سے انسان میں دوران خون جاری رہتا ہے اور وہ سانس بھی لیتا رہتا ہے اور نیند پوری ہونے کے بعد یا سوئے ہوئے کو جگانے سے روح نفسانی بھی جسم میں واپس لوٹ آتی ہے اور ان دونوں قسم کی روحوں کا آپس میں تعلق یہ ہوتا ہے کہ کسی ایک روح کے خاتمہ سے یا قبض کرنے سے دوسرے کا از خود خاتمہ ہوجاتا ہے اور انسان پر موت واقع ہوجاتی ہے گویا سوئے ہوئے انسان پر آدھی موت طاری ہوچکی ہوتی ہے اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند کو موت کی بہن قرار دیا ہے اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا اور اس حقیقت سے ایک دوسری بڑی حقیقت پر استدلال کیا ہے جو یہ ہے کہ جس طرح اللہ تمہاری نفسانی روح رات کو قبض کر کے صبح واپس تمہارے جسم میں بھیج دیتا ہے اسی طرح موت کے وقت تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جب قیامت قائم ہوگی تو وہی روح واپس بھیج کر تمہیں تمہاری قبروں سے اٹھا کھڑا کرے گا۔ الانعام
61 [٦٦] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم میں دن اور رات کے فرشتے ایک دوسرے کے بعد باری باری آتے رہتے ہیں۔ عصر اور فجر کی نماز کے وقت وہ جمع ہوجاتے ہیں پھر وہ فرشتے جو رات کو تمہارے پاس رہے تھے اوپر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ ’’تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟‘‘ حالانکہ وہ تم سے خوب واقف ہوتا ہے۔ فرشتے عرض کرتے ہیں ’’ہم نے جب انہیں چھوڑا وہ نماز پڑھ رہے تھے۔‘‘ اور ’’جب انکے پاس گئے تو بھی نماز پڑھ رہے تھے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب مواقیت الصلٰوۃ۔ باب فضل صلٰوۃ العصر۔ بخاری کتاب التوحید۔ باب قول اللہ تعرج الملئکۃ والروح الیہ ) حفاظت کرنے والے اور اعمال لکھنے والے فرشتے :۔ اس حدیث میں ان فرشتوں کا ذکر ہے جو انسان کا نامہ اعمال مرتب کرتے ہیں۔ رات کے فرشتے الگ ہیں اور دن کے الگ۔ ان کے علاوہ کچھ فرشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس کی جان کی حفاظت کرتے ہیں۔ بسا اوقات ایسے واقعات پیش آ جاتے ہیں جب انسان اپنی موت اپنے سامنے کھڑی دیکھ لیتا ہے۔ لیکن حالات کا رخ ایسا پلٹا کھاتا ہے کہ اس کی جان بچ جاتی ہے اور وہ خود یہ اعتراف کرتا ہے کہ ’’اس وقت اللہ ہی تھا جس نے اس کی جان بچا لی۔‘‘یا یہ کہ ’’ابھی زندگی باقی تھی ورنہ بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔‘‘ اور یہ اس لیے ہوتا ہے کہ ابھی اس انسان کی موت کا معین وقت آیا نہیں ہوتا۔ اس حقیقت کو قرآن نے ایک دوسرے مقام پر ان الفاظ میں بیان فرمایا ﴿قُلْ مَنْ یَّـکْلَـؤُکُمْ بالَّیْلِ وَالنَّہَارِ ﴾ انسانی زندگی اور موت کے سب مراحل اضطراری ہیں :۔ اس آیت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ ﴾ یعنی تمام مخلوقات اور انسان اللہ تعالیٰ کے طبعی قوانین کے سامنے بالکل بے کس اور مجبور محض ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ہر شخص کی شکل و صورت جیسے خود چاہی ویسی ہی بنا دی۔ اس میں اس کا اپنا کچھ عمل دخل نہ تھا۔ پھر جب پیدا ہوا اور ماں کے پیٹ سے باہر آیا تو اس وقت بھی اس کی اپنی مرضی کو کچھ عمل دخل نہ تھا۔ پھر پیدا ہو کر وہ کھانے پینے پر مجبور ہے تاکہ اس کی تربیت اور پرورش ہو۔ اسی طرح وہ بچپن، جوانی اور بڑھاپے کے مراحل طے کرنے پر بھی مجبور ہے اور جنسی ملآپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی مجبور ہے لیکن اولاد پیدا کرنے میں اس کا کچھ عمل دخل نہیں۔ چاہے تو کسی نادار کو کثیرالاولاد بنادے اور چاہے تو کسی امیر کبیر کو اولاد سے محروم کر دے۔ پھر وہ اپنے مرنے پر بھی مجبور ہے اور زندگی کے دن پورے کرنے پر بھی جب تک اس کی موت کا متعین وقت نہ آئے خواہ وہ کیسے ہی حوادث سے دو چار ہو فرشتے اس کی جان کی حفاظت کرتے رہتے ہیں اور جب وہ معین وقت آ جاتا ہے کوئی حکیم، کوئی ڈاکٹر یا اس کا مال و دولت اور اس کے نہایت قریبی رشتہ دار اسے موت کے منہ سے بچا نہیں سکتے۔ پھر رزق کے حصول میں بھی بہت حد تک مجبور ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ امیر کبیر بن جائے لیکن اسے رزق ملتا اتنا ہی ہے جو اس کے مقدر میں ہوتا ہے اور جو مقدر میں ہوتا ہے وہ مل کے رہتا ہے۔ بعینہ انسان موت کے بعد کی منازل یعنی دوبارہ زندہ ہوجانے، اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے اللہ کے حضور پیش ہوجانے اور ان اعمال کی جزا و سزا پانے پر مجبور ہے اور کوئی چیز اسے ان نتائج سے نہ بچا سکتی ہے، نہ آڑے آ سکتی ہے اور ان تمام معاملات میں اس کی اپنی مرضی کو کچھ بھی عمل دخل نہیں ہوگا اور یہی اس جملہ کا مطلب ہے۔ [٦٧] یعنی وہ اپنی ڈیوٹی میں کسی طرح کی غفلت نہیں کرتے۔ انسان کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا فعل یا عمل یا قول ایسا نہیں ہوتا جسے فرشتے اس کے نامہ اعمال میں لکھ نہ لیتے ہوں۔ یا جس شخص کی ابھی موت نہ آئی ہو اس کی حفاظت نہ کریں اور وہ معینہ وقت سے پہلے مر جائے۔ یا کسی کا معینہ وقت آ چکا ہو لیکن اس کی روح کو قبض نہ کریں۔ یا موت تو زید کی معین ہو اور وہ اس کے بجائے بکر کی روح قبض کرلیں۔ ان میں سے کوئی صورت بھی ممکن نہیں ہوتی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے حکم میں کسی طرح کی کمی بیشی کر ہی نہیں سکتے۔ الانعام
62 [٦٨] موت کے بعد کے احوال اور قبر میں سوال وجواب :۔ اس بارے میں بہت سی احادیث وارد ہیں۔ مختصراً یہ کہ جب فرشتے انسان کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو فرشتوں کے رویہ سے ہی مرنے والے کو یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اہل جنت سے ہے یا اہل دوزخ سے۔ جنتی کی روح کو ریشم کے کپڑوں میں لپیٹ کر آسمان کی طرف جاتے ہیں تو اس روح کی خاصی پذیرائی ہوتی ہے اور آسمان کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے پھر اسے عزت و اکرام سے واپس بھیج دیا جاتا ہے اور یہ روح اپنی میت کے ساتھ ساتھ رہتی ہے اور پکارتی رہتی ہے کہ مجھے جلدی جلدی تدفین کے لیے لے چلو۔ پھر تدفین کے بعد قبر میں جب سوال و جواب ہو چکتے ہیں تو اسے مقام علیین پہنچا دیا جاتا ہے اور دوزخی کی روح کو فرشتے بدبودار کپڑوں میں لپیٹ کر آسمان کی طرف لے جاتے ہیں تو اس کے لیے دروازہ ہی نہیں کھلتا پھر اسے وہاں سے اپنی میت کی طرف پھینک دیا جاتا ہے اور وہ پکار پکار کر کہتی ہے کہ مجھے تدفین کے لئے نہ لے جاؤ۔ پھر جب تدفین کے بعد قبر میں سوال و جواب ہوتے ہیں اور وہ اس امتحان میں ناکام رہتا ہے تو مقام سجین میں قیامت تک کے لیے قید کردیا جاتا ہے۔ [٦٩] یعنی عذاب و ثواب کا سلسلہ مرنے کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے پھر قبر میں جنتی کے لیے جنت کی ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے اور وہ قیامت تک ایسے اکرام اور مسرت کی نیند سوتا ہے جیسے کوئی دلہن سوتی ہے اور دوزخی کے لیے دوزخ کی طرف کھڑکی کھول دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اسے طرح طرح کا عذاب شروع ہوجاتا ہے اور یہ عذاب و ثواب قیامت کے بعد کے عذاب و ثواب کی نسبت بہت ہلکے ہوتے ہیں۔ قیامت کو حساب و کتاب کے بعد دوزخی کو جو عذاب ہوگا وہ اس سے شدید تر ہوگا۔ اسی طرح جنتی پر جو انعامات ہوں گے وہ قبر کے انعام سے بہت زیادہ ہوں گے۔ الانعام
63 [٧٠] یعنی خواہ تم کسی سمندر کا سفر طے کر رہے ہو یا خشکی کے مقام پر ہو تو کوئی ایسا واقعہ پیش آ جائے جس سے تمہیں موت سامنے کھڑی نظر آنے لگے تو اس بے بسی کے عالم میں کبھی تو تم بے اختیار ہو کر لاشعوری طور پر اللہ کو پکارنے لگتے ہو اور کبھی دل ہی دل میں گڑگڑا کر اللہ کے حضور فریاد کرنے لگتے ہو کہ آج اگر اللہ نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دی تو ہم ضرور اللہ کے فرمانبردار بن جائیں گے۔ اور یہ ایسی حقیقت ہے جو ہر انسان کو اپنی زندگی میں متعدد بار پیش آتی رہتی ہے۔ الانعام
64 [٧١] ایسے آڑے وقتوں میں مشرک کو اپنے سب دیوی دیوتا اور بزرگ بھول جاتے ہیں اور اللہ ہی یاد آتا ہے حتیٰ کہ اللہ کے منکر اور دہریے بھی بے اختیار اللہ سے فریاد کرنے لگتے ہیں۔ لیکن جب یہ بلا سر سے ٹل جاتی ہے پھر انہیں اللہ سے اپنا کیا ہوا وعدہ یاد ہی نہیں رہتا اور ایسی کھلی علامت دیکھ لینے کے باوجود بعد میں وہ اللہ کے تصرف و اختیار میں ایسی ہستیوں کو شریک بنا لیتے ہیں جن کے لیے علمی دلیل یا ثبوت ان کے پاس موجود نہیں ہوتا۔ (نیز دیکھئے اسی سورۃ کی آیت نمبر ٤٦ کا حاشیہ اور سورۃ یونس کا حاشیہ نمبر ٣٤) الانعام
65 [٧٢] عذاب کی قسمیں : اس آیت میں عذاب کی تین اقسام بیان فرمائیں (١) عذاب سماوی جیسے طوفان بادو باراں، کڑک، بجلی کا گرنا، تیز آندھی، پتھروں کی بارش وغیرہ (٢) عذاب ارضی جیسے دریاؤں کا سیلاب، زلزلے اور زمین میں دھنس جانا (٣) فرقہ بازی۔ خواہ یہ مذہبی قسم کی ہو یا سیاسی یا قبائلی ہو۔ یہ تینوں قسم کے عذاب اگلی امتوں پر آتے رہے ہیں۔ تیسری قسم کا عذاب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بھی موجود تھا۔ حرب فجار اور حرب بعاث مکہ میں حرب فجار اور مدینہ میں حرب بعاث نے خاندانوں کے خاندان تباہ کردیئے تھے۔ سینکڑوں گھرانے اجڑ گئے مگر یہ قبائلی جنگیں ختم ہونے میں نہ آتی تھیں اور پہلی دو قسموں کا عذاب اس وقت آیا کرتا تھا جب کسی قوم کا اس کی سرکشی کی بنا پر مکمل طور پر استیصال مقصود ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب قسم کے عذابوں سے پناہ مانگی اور دعا کی کہ میری امت پر ایسے عذاب نہ آئیں۔ چنانچہ پہلی دو قسم کے عذابوں کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہوگئی مگر تیسری قسم کے متعلق قبول نہیں ہوئی یعنی پہلی دو قسم کا عذاب اس امت کے کلی استیصال کے لئے نہیں آئے گا البتہ جزوی طور پر آ سکتا ہے۔ رہا تیسری قسم کا عذاب تو وہ اس امت میں موجود ہے جس نے ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کر کے مسلمانوں کو ایک مقہور اور مغلوب قوم بنا رکھا ہے اور یہ بھی سرکشی اور اللہ کے احکام کی نافرمانی کا ہی نتیجہ ہے۔ الانعام
66 [٧٣] یہاں ھو سے مراد قرآن اور اس کی آیات بھی ہو سکتی ہیں، کفار سے عذاب کا وعدہ بھی اور روز آخرت بھی۔ کیونکہ یہ سب چیزیں اٹل حقائق ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے فرماتے ہیں کہ انہیں کہہ دیجئے کہ اگر تم ان حقائق پر ایمان نہیں لاتے اور تمہیں یہ یقین نہیں آتا تو میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں یہ باتیں ہر ممکن طریقہ سے تم سے منوا کر چھوڑوں۔ الانعام
67 [٧٤] سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا عمرہ کے لئے آنا :۔ اس کی ایک مثال یہ واقعہ ہے کہ انصار کے قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جنگ بدر سے پہلے عمرہ کی نیت سے مکہ آئے اور اپنے حلیف دوست امیہ بن خلف کے پاس ٹھہرے اور اس سے اپنے ارادہ کا اظہار کیا۔ اس وقت ابو جہل رئیس مکہ نے یہ پابندی لگا رکھی تھی کہ کوئی مسلمان کعبہ میں داخل ہونے اور طواف نہ کرنے پائے۔ امیہ بن خلف رواداری کی وجہ سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو کعبہ لے گیا وہ طواف کر ہی رہے تھے کہ ابو جہل نے دیکھ لیا تو سیدنا سعدرضی اللہ عنہ پر برس پڑا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کڑک کر جواب دیا کہ اگر تم مجھے روکو گے تو میں تمہارے تجارتی قافلہ کی راہ روک کر تمہارا ناک میں دم کر دوں گا۔ امیہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ ابو جہل سے آرام سے بات کرو۔ یہ مکہ کا سردار ہے۔ امیہ بن خلف کے حق میں پیشین گوئی :۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے تم ابو جہل کی اتنی طرف داری نہ کرو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم ان کے اصحاب کے ہاتھوں قتل ہو گے۔ امیہ نے پوچھا ’’کیا یہاں مکہ میں؟‘‘ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ میں یہ نہیں جانتا۔ پھر کہنے لگے کہ تمہارے قتل کا سبب یہی ابو جہل بنے گا۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب علامات النبوۃ فی الاسلام) یہ ایک خبر تھی اور اس خبر کے ظہور کا وقت جنگ بدر تھا۔ اس جنگ میں ابو جہل امیہ بن خلف کو سخت مجبور کر کے لے گیا۔ جہاں یہ دونوں انتہائی ذلت کے ساتھ قتل ہوئے۔ ایسے ہی وحی سے معلوم شدہ ہر خبر اور عذاب کے ظہور کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور جب وہ وقت آ جاتا ہے تو اس کا ظہور ہو کے رہتا ہے اور یہی مستقر کا مطلب ہے۔ الانعام
68 [٧٥] یہ مضمون پہلے سورۃ نساء کی آیت نمبر ١٤٠ میں گزر چکا ہے۔ حاشیہ وہاں سے ملاحظہ کرلیا جائے۔ الانعام
69 [٧٦] کفار مکہ کی مجالس استہزاء میں بیٹھنے کی ممانعت اور استثنائی صورت :۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ جو لوگ مجلسوں میں بیٹھ کر اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے گناہوں کا بار انہی پر ہے اور جو لوگ ایسی مجلسوں میں شامل ہونے یا بیٹھنے سے گریز کرتے ہیں ان پر نہیں۔ ہاں اگر کوئی شخص اس غرض سے ایسی مجلسوں میں جائے کہ انہیں جا کر سمجھائے اور نصیحت کرے تو یہ جائز بلکہ ضروری ہے۔ ممکن ہے وہ اس نصیحت سے متاثر ہو کر اپنی کرتوتوں سے باز آ جائیں۔ تاہم یہ حکم صرف مجالس سے ہی مخصوص نہیں بلکہ عام ہے۔ ظالموں کے گناہوں کا بار انہیں پر ہے جو لوگ ان سے اجتناب کرتے ہیں اور ان سے کسی قسم کا تعاون نہیں کرتے۔ ان پر نہیں بلکہ نھی عن المنکر کا فریضہ ہر شخص پر اور ہر ضرورت کے وقت واجب ہے اور اس سے بعض لوگوں کو فی الواقع ہدایت نصیب ہو ہی جاتی ہے۔ الانعام
70 [٧٧] دین کو کھیل تماشا سمجھنے والے :۔ یعنی وہ لوگ جو پیروی تو اپنی خواہشات کی کرتے ہیں مگر خول مذہب کا چڑھا رکھا ہے۔ وہ اگر اپنے اپنے قبیلے کے الگ الگ خدا مقرر کرلیں تو بھی ان کے دین میں کچھ خلل نہیں آتا اور اگر دوسروں پر ظلم روا رکھیں ناجائز طریقوں اور لوٹ مار سے دوسروں کا مال ہتھیا لیں تو بھی جائز اور ہر طرح کے بے حیائی کے کام بھی ان کے لیے جائز۔ ان کے علاوہ اللہ کی آیات، اسلام، پیغمبر اسلام اور ان کے پیروکاروں کا مذاق اڑانا بھی انہوں نے اپنا دینی فریضہ سمجھ رکھا ہے اور چونکہ ان کی معاشی حالت اچھی ہے اور معاشرہ میں انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لہٰذا وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ انہیں بروقت اس بات سے متنبہ کر دیجئے کہ تم میں سے ہر ایک کا اور اس کے ایک ایک فعل کا حساب لیا جائے گا اور پھر اسے اس کی سزا بھگتنا ہوگی جس سے وہ کسی صورت بچ نہیں سکتا۔ اخروی عذاب سے نجات کی صورتیں :۔ سزا سے بچنے کی ممکنہ صورتیں تو یہی ہو سکتی ہیں کہ کوئی اس کا ایسا حمایتی اٹھ کھڑا ہو جو سزا دینے والے پر اثر انداز ہوسکتا ہو یا سزا دینے والے کا مقرب ہو اور وہ اس کی سفارش کرے تاکہ اسے سزا سے معاف رکھا جائے اور تیسری صورت یہ ہے کہ کچھ دے دلا کر اپنی گلو خلاصی کرا لے، وہاں یہ تینوں صورتیں ناممکن ہوں گی اور انہیں اپنے کرتوتوں کی سزا بہرحال بھگتنا ہی پڑے گی۔ الانعام
71 [٧٨] الٰہ محتاج نہیں ہوسکتا :۔ اس آیت میں ایک بڑی حقیقت بیان کی جا رہی ہے جو یہ ہے کہ حقیقی معبود وہ ہستی ہو سکتی ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچا سکے اور ان کی مشکلات کو دور کرسکے۔ لیکن اپنی زندگی اور اس کی بقا کے لیے دوسروں کی محتاج نہ ہو۔ اس معیار پر اگر پرکھا جائے تو تمام معبودان باطل خواہ وہ زندہ شخصیتیں ہوں یا فوت شدہ ہوں، دیویاں ہوں یا دیوتا، پتھر ہوں یا شجر ہوں یا کوئی اور جاندار چیز ہو سب کی از خود نفی ہوجاتی ہے۔ جن، بتوں، پتھروں اور درختوں اور جانداروں کی تو بات ہی چھوڑیئے۔ جن انبیاء یا بزرگوں کو یا اماموں کو یہ منصب عطا کیا جاتا ہے آپ دیکھئے کہ ان کی زندگی میں کوئی مشکل وقت آیا تھا ؟ اور اگر آیا تھا تو کیا انہوں نے اپنے آپ کو اس سے بچا لیا تھا ؟ اور اگر وہ اپنے آپ کو نہ بچا سکے تو پھر دوسروں کو کیسے بچا سکتے ہیں۔ جلب منفعت یا حاجت روائیوں کے لیے بھی یہی معیار اگر آپ مدنظر رکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا۔ کہ معبود برحق صرف اللہ ہی کی ذات ہو سکتی ہے۔ [٧٩] مشرکوں کی اپنے ساتھیوں کو دعوت :۔ جس طرح ہدایت کا راستہ صرف ایک ہے اور گمراہی کی راہیں لاتعداد ہیں اسی طرح اللہ کے پرستاروں کا حاجت روا اور مشکل کشا صرف اللہ ہی ہوتا ہے اور مشرکوں کے حاجت روا اور مشکل کشا لاتعداد ہوتے ہیں۔ عرب کے دور جاہلیت کو ہی لیجئے جہاں ہر قبیلے کا حاجت روا اور مشکل کشا الگ الگ تھا کسی کا ہبل تھا کسی کا لات کسی کا منات کسی کا عزیٰ اور کسی کے اساف اور نائلہ، پھر ہندوستان اور مصر کے دیوی دیوتاؤں پر نظر ڈالیے وہ بھی ان گنت نظر آئیں گے۔ عیسائیوں کے بھی تین خدا تو عقیدہ تثلیث کی رو سے ہوئے اور چوتھا انہوں نے سیدہ مریم کو بھی اسی مقام پر فائز کردیا۔ مسلمانوں میں ہر پیر فقیر اور بزرگ ان کا حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ اگر کسی کی ایک قبر پر نذر و نیاز چڑھانے سے حاجت روائی نہیں ہوتی تو وہ کسی دوسرے بڑے بزرگ کی قبر پر چلا جاتا ہے اور پھر کسی تیسرے کے پاس اور انہیں بھیجنے والے شیاطین ہی ہوتے ہیں۔ اب اسے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کرے تو کیا کرے ہر الٰہ کے پرستار اسے اپنے الٰہ کی طرف دعوت دیتے اور کہتے ہیں کہ ادھر آؤ یہاں سے تمام مرادیں بر آئیں گی۔ مشرکوں کی یہ مثال دے کر اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر سے فرماتے ہیں کہ ان سے زیادہ بحث و مناظرہ کی ضرورت نہیں۔ انہیں بس یہی کہہ دو کہ ہمیں تو اللہ کا یہی حکم ہے کہ ہم صرف اسی کے فرمانبردار بن کر رہیں۔ ادھر ادھر ہرگز نہ دیکھیں۔ اسی سے ڈریں اور اسی کے حکم کے مطابق نماز قائم کریں۔ الانعام
72 الانعام
73 [٨٠] تخلیق کائنات کا مقصد :۔ یعنی اس لیے زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا کہ اس سے تعمیری نتائج پیدا ہوں۔ محض کھیل اور شغل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ جیسے بچے مٹی سے کھیلتے ہوئے اس سے مختلف شکلیں بناتے ہیں پھر انہیں خود ہی ڈھا کر مٹی میں ملا دیتے ہیں۔ بلکہ زمین و آسمان کو ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا ہے۔ اس خاص مقصد کا اگرچہ قرآن میں صریح الفاظ میں ذکر نہیں آیا تاہم بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب چیزیں انسان کی خدمت پر مامور ہیں اور انسان ہی ساری کائنات میں اشرف المخلوقات ہے۔ انسان کو ہی قوت تمیز اور ارادہ و اختیار دیا گیا ہے تاکہ اسے آزمایا جا سکے کہ آیا وہ اختیاری امور میں بھی اللہ کا فرمانبردار بن کر رہتا ہے یا نہیں؟ گویا انسان کی تخلیق کا مقصد صرف ایک اللہ کی عبادت ہے پھر اس جہان کے بعد اسے فنا کر کے ایک دوسرا جہان پیدا کیا جائے گا اور جو کچھ اچھے یا برے اعمال انسان نے اس دنیا میں سر انجام دیئے ہوں گے اس دوسرے جہان میں ان کی جزا و سزا ملے گی اور یہ دنیا اور آخرت سارے کا سارا ایک مربوط نظام ہے۔ الانعام
74 [٨١] یعنی جس دن اللہ تعالیٰ اس جہان کو درہم برہم کرنا چاہے گا۔ تو فرشتہ اسرافیل صور میں پھونک مارے گا۔ اس سے زمین پر آباد تمام مخلوق مر جائے گی۔ پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ صور میں پھونکا جائے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ نفخہ صور دو بار ہوگا۔ اور عجب الذنب :۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صور دو بار پھونکا جائے گا اور ان دونوں میں چالیس کا فاصلہ ہوگا۔ لوگوں نے پوچھا 'چالیس دن کا ؟' کہنے لگے ’’ میں نہیں کہہ سکتا‘‘ لوگوں نے کہا ’’چالیس ماہ کا ؟‘‘ کہنے لگے ’’میں نہیں کہہ سکتا‘‘ پھر لوگوں نے پوچھا ’’چالیس برس کا ؟‘‘ کہنے لگے ’’میں نہیں کہہ سکتا‘‘ اس کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا تو لوگ زمین سے اس طرح اگ آئیں گے جیسے سبزہ اگ آتا ہے۔ دیکھو! آدمی کے بدن کی ہر چیز گل سڑ جاتی ہے مگر ایک ہڈی (کی نوک) وہ اس مقام کی ہڈی ہے جہاں جانور کی دم ہوتی ہے قیامت کے دن اسی ہڈی سے مخلوق کو جوڑ جاڑ دیا جائے گا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر سورۃ النبا آیت نمبر ١٨) معبود حقیقی کی چند صفات :۔ معبودان باطل اور ان کے پرستاروں کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں معبود حق کی یعنی اپنی ایسی چھ صفات بیان فرمائیں جو صرف اللہ تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں۔ دوسرے کسی باطل معبود میں ان کا پایا جانا ناممکن ہے اور وہ یہ ہیں (١) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین یعنی اس کائنات کو تعمیری نتائج کا حامل بنا کر پیدا کیا ہے (٢) پھر وہ اس کائنات میں وسعت بھی پیدا کرتا رہتا ہے اور تغیر و تبدل بھی۔ جب اسے کچھ کرنا منظور ہوتا ہے تو وہ اس کے ہوجانے کا حکم دے دیتا ہے اور وہ چیز یا حادثہ وجود میں آنا شروع ہوجاتا ہے۔ (٣) اس کی ہر بات کا ہر حکم سچا اور ٹھوس حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔ (٤) جس دن اسے اس کائنات کو ختم کر کے روز آخرت میں لانا منظور ہوگا۔ تو اس عالم آخرت میں بھی اسی کی مکمل طور پر فرمانروائی ہوگی۔ (٥) اس کے لیے غیب اور شہادت سب کچھ یکساں، اس کی نظروں کے سامنے اور اس کے علم میں ہے شہادت سے مراد وہ اشیاء ہیں جو کسی انسان کے سامنے موجود ہیں یا ان تک انسان کی دسترس ہوچکی ہے یا ایسے طبعی قوانین جو انسان کے علم میں آ چکے ہیں اور غیب سے مراد ایسی اشیاء ہیں جو انسان کے علم میں نہیں آئیں خواہ وہ ماضی سے تعلق رکھتی ہوں یا مستقبل سے یا ایسے تمام قوانین جن تک تاحال انسان کی رسائی نہیں ہوسکی ایسی سب باتیں اللہ کے علم میں ہیں۔ (٦) اس کے ہر کام میں اور ہر حکم میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور موجود ہوتی ہے خواہ انسان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ اس لیے کہ وہ ہر چیز کی قلیل سے قلیل مقدار تک سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔ الانعام
75 [٨١۔ ١] ابراہیم علیہ السلام کا کائناتی مطالعہ :۔ نجوم پرستی کا آغاز عراق کے علاقہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بعثت سے بہت پہلے ہوچکا تھا۔ ستاروں اور چاند، سورج وغیرہ کی ارواح کی تصوراتی شکلیں متعین کر کے ان کے مجسمے بنائے جاتے اور ان مجسموں کو مندروں میں پرستش کے لیے رکھا جاتا تھا۔ ان سیاروں کے انسانی زندگی پر طرح طرح کے اثرات تسلیم کیے جاتے تھے اور لوگ اپنی زندگی اور موت، مرض اور صحت، خوشحالی اور تنگ دستی ایسے ہی کئی دوسرے امور کو سیاروں کی چال سے منسوب کرتے اور ان کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے متعلقہ ستاروں کے مجسموں کے سامنے مندروں میں نذر و نیاز پیش کرتے تھے۔ مندروں کے نام پر بڑی بڑی جاگیریں وقف ہوتیں اور ان کے سرمایہ کو تجارت اور صنعت پر بھی لگایا جاتا اور یہ سب کام مندروں کے پجاریوں کی معرفت طے پاتے تھے۔ اس طرح کہ یہ جاگیر دار اور سرمایہ دار ملک کے تمدن، معیشت اور سیاست پر بہت حد تک اثر انداز ہوتے تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا باپ ایسے ہی کسی بڑے مندر کا شاہی مہنت تھا۔ نذرانے وصول کرنے کے علاوہ بت گری اور بت فروشی کا کاروبار بھی کرتا تھا۔ کھانے پینے کی فراغت کے علاوہ معاشرہ کے معززین میں اس کا شمار ہوتا تھا۔ آپ علیہ السلام نے ایسے ہی ماحول میں پرورش پائی۔ آپ کو معلوم ہوا کہ فلاں فلاں قسم کے بت فلاں ستارہ کے ہیں اور فلاں بت چاند کے اور فلاں سورج کے، علاوہ ازیں ان لوگوں نے اپنے شہروں کے نام بھی انہی بتوں کے نام پر رکھے ہوئے تھے۔ آپ کو بچپن میں ہی فطرت سلیمہ عطا ہوئی تھی۔ معاشرہ کی ان حرکات سے اور گھر کے ایسے ماحول سے ان کی طبیعت بے زار رہتی تھی۔ اور ہر وقت گہری سوچ میں پڑے رہتے تھے ایک دن انہوں نے رات کو ایک چمکدار ستارہ دیکھا جو کچھ عرصہ بعد مغرب میں جا کر غروب ہوگیا انہیں یکدم خیال آیا کہ جو چیز میرے پاس موجود بھی نہیں رہ سکتی وہ میری یا کسی دوسرے کی مشکلات کو کیا دور کرے گی۔ پھر چاند کو دیکھا تو اس کا بھی یہی حال تھا۔ پھر سورج پر غور کیا تو اس کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا۔ جو ایک مقررہ رفتار سے چلتے ہوئے مشرق سے طلوع ہوتے اور مغرب میں غروب ہوجاتے تھے۔ انہوں نے سوچا جو چیزیں نظم و ضبط کی اس قدر پابند اور اپنے اپنے کام پر مجبور و بے بس ہیں وہ خدا کیسے ہو سکتی ہیں خدا تو وہ ہوسکتا ہے جس نے ان تمام چیزوں کو کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔ آپ نے ایک طویل مدت ان حالات پر غور کیا بالآخر اللہ نے خود آپ کی رہنمائی کی اور آپ کو نبوت کے منصب پر سرفراز فرمایا اور وحی کے ذریعہ اس کائنات کے اسرار آپ پر منکشف کردیئے۔ اس وقت آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے آپ کو ان تفکرات سے نجات دلائی جس میں آپ مدتوں سے سوچ بچار کر رہے تھے اور ان گمراہیوں سے نکال لیا جن میں آپ کی پوری کی پوری قوم ڈوبی ہوئی تھی۔ آپ کو جب یہ یقین حاصل ہوگیا تو سب سے پہلے آپ نے اپنے گھر سے اصلاح احوال کا آغاز کیا اور اپنے باپ سے کہا کہ آپ نے اور آپ کی قوم نے جو یہ مندروں میں بت ٹکا رکھے ہیں اور انہیں اپنا حاجت روا سمجھ رہے ہو یہ تو انتہائی غلط روش اور سراسر گمراہی ہے۔ باپ نے ڈانٹ پلا کر خاموش کردیا تو آپ نے اپنی قوم کے دوسرے لوگوں کو یہی ہدایت کی باتیں سمجھانا شروع کردیں۔ الانعام
76 الانعام
77 [٨٢] انبیاء کے والدین کو شرک سے بری ثابت کرنے کا نظریہ :۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے باپ کا اصلی نام تارح تھا اور آزر ان کا لقب تھا۔ پھر وہ لقب سے زیادہ مشہور ہوگئے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ ان کا اصل نام آزر تھا اور تارح لقب تھا۔ یہ باتیں تو ایسی ہیں جن میں کسی کے اختلاف کرنے کی ضرورت نہیں مگر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے باپ کا نام تارح تھا اور آزر آپ کے چچا کا نام تھا اور اس کی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ پیغمبر کا باپ مشرک نہیں ہو سکتا۔ یہ بات ایک تو قرآن کے ظاہر الفاظ کے خلاف ہے دوسرے اس کی جو وجہ بیان کی گئی ہے وہ بناء فاسد علی الفاسد پر مبنی ہے کیونکہ پیغمبروں کے مبعوث ہونے کا وقت ہی وہ ہوتا ہے جب دنیا میں کفر و شرک اور فتنہ و فساد عام پھیل جاتا ہے اور اس کلیہ سے مستثنیٰ صرف وہ انبیاء ہیں جن کی قرآن یا حدیث میں صراحت آ گئی ہے۔ مثلاً سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل اور اسحاق علیہما السلام اور ان کے بیٹے اور پوتے یعنی یعقوب اور یوسف علیہما السلام سب نبی تھے یا سلیمان علیہ السلام کے باپ داؤد علیہ السلام نبی تھے۔ ان انبیاء کے علاوہ دوسرے نبیوں کے باپ یا ماں باپ دونوں کو غیر مشرک ثابت کرنا ایسا تکلف ہے جسے تکلف کرنے کے باوجود بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ الانعام
78 الانعام
79 الانعام
80 [٨٣] نجوم پرست کی مخالفت :۔ اس قوم کے ہر ایک فرد کی رگ رگ میں یہ بات رچی ہوئی تھی کہ انسانی زندگی پر سیاروں کے اثرات انفرادی طور پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی۔ پھر انہیں سیاروں کی ارواح کے خیالی مجسمے مندروں میں نصب کر کے ان کی پرستش کی جاتی تھی، انہیں نفع و نقصان کا مالک سمجھنے کی وجہ سے ان کے آگے نذریں اور قربانیاں پیش کر کے انہیں خوش رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اور اسی نظام سے ان کی سر سے پاؤں تک کی زندگی وابستہ ہوچکی تھی، ان کے سامنے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ان تمام بتوں اور مجسموں سے بے زاری کا اظہار کرنا اور پوری قوم کو گمراہ قرار دینا بھڑوں کے چھتہ کو چھیڑنے کے مترادف تھا۔ لہٰذا پوری قوم کی آپ سے بحث وجدال اور مخالفت شروع ہوگئی۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے انہیں برملا کہہ دیا کہ جن جن معبودوں کو تم اللہ کے اختیار و تصرف میں شریک سمجھ رہے ہو، میں ان سے کسی ایک کو بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ میں اپنی زندگی اور موت، صحت اور تندرستی، خوشحالی اور تنگدستی کا مالک صرف ایک اللہ کو سمجھتا ہوں۔ اور اس کے اختیارات میں کسی کو رتی بھر شریک نہیں سمجھتا۔ الانعام
81 [٨٤] معبودوں کی طرف سے سزاکی دھمکی :۔ ان بت پرستوں کے پاس سب سے بڑا ہتھیار یہ تھا کہ جن بتوں کی تم توہین کر رہے ہو وہ خود تم سے نمٹ لیں گے جیسا کہ ان کا اپنا اعتقاد تھا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ان کو یہ جواب دیا کہ اگر تم اللہ سے نہیں ڈرتے جس کی پوری کائنات پر حکمرانی ہے تو پھر تمہارے ان بتوں سے میں کیوں ڈروں جن کو تم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور ایسے بے جان پتھر ہیں جو اپنے وجود اور اپنے بقا کے لیے تمہارے محتاج ہیں یہ بھلا میرا یا تمہارا کیا بگاڑ سکتے ہیں یا سنوار سکتے ہیں ؟ دوسری بات یہ ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اس علم حقیقی کی بنا پر کہہ رہا ہوں جو مجھے اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے لیکن تمہارا ان بتوں کو نفع و نقصان کا مالک و مختار سمجھنا تمہارا اپنا وہم اور قیاس ہے جس کے لیے تمہارے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے لہٰذا تم خود ہی سوچ سمجھ لو کہ اللہ کی طرف سے عذاب کا مستحق کون ہوگا اور امن و سلامتی کا مستحق کون؟ الانعام
82 [٨٥] ظلم معنی شرک :۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ پر بہت گراں گزری (کیونکہ انہوں نے ظلم کو اس کے عام معنوں، معصیت یا زیادتی پر محمول کیا تھا) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کبھی ظلم نہ کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ یہاں ظلم کا لفظ اپنے خاص معنوں یعنی شرک کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ سورۃ لقمان میں آیا ہے کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹا کبھی شرک نہ کرنا کیونکہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر، نیز کتاب الایمان باب ظلم دون ظلم نیز کتاب الانبیائ۔ باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا ) منکرین حدیث اور اہل قرآن کا ردّ:۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زبان بھی اگرچہ عربی زبان تھی اور قرآن بھی عربی زبان میں نازل ہوا تھا۔ تاہم بعض دفعہ انہیں آیت کا صحیح مفہوم سمجھنے میں دشواری پیش آجاتی تھی۔ اور یہی مطلب ہے ﴿وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ ﴾ کا۔ مگر مسلمانوں میں سے ہی بعض لوگ ایسے ہیں جو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے نیاز ہو کر محض لغت کی مدد سے قرآن کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں اپنے اس نظریہ کا انجام سوچ لینا چاہیے اس آیت کے متعلق دو اقوال ہیں ایک یہ کہ یہ جملہ بھی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ہی قول ہے اور ان کی اس بحث کا حصہ ہے جو وہ اپنی قوم سے کر رہے تھے۔ کیونکہ اس سے پہلی آیت میں بھی امن و سلامتی کا ذکر ہے اور اس آیت میں بھی۔ اور یہ امن و سلامتی صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو شرک سے اجتناب کرتے ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا قول ہے جو ایک حقیقت کے طور پر یہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قصہ کے درمیان بیان کردیا گیا ہے۔ الانعام
83 [٨٦] ابراہیم علیہ السلام نے مشرکوں کو کیا دلیل دی تھی؟ وہ دلیل یہ تھی کہ اگر ہر چیز کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے تو ہر چیز پر تصرف اور اختیار بھی صرف اسی کا ہونا چاہیے۔ یہ کس قدر ناانصافی کی بات ہے کہ ہر چیز کا خالق و مالک تو اللہ تعالیٰ ہو اور اس کے اختیارات میں اور اس کی عبادت میں دوسروں کو بھی شریک کرلیا جائے۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قوم بھی اس بات کی قائل تھی کہ اس کائنات کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے اگر وہ اس بات کی قائل نہ ہوتی تو اس بحث کا انداز بیان کسی اور انداز کا ہوتا۔ (نیز دیکھئے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢٥٨ کا حاشیہ) الانعام
84 الانعام
85 [٨٣] شرک کو ختم کرنا سب سے بڑا جہاد ہے :۔ قرآن میں اکثر مقامات پر جب انبیائے کرام کا ذکر ہوا تو اس میں ترتیب زبانی بھی پائی جاتی ہے لیکن یہاں غالباً اس صفت کو زیادہ تر ملحوظ رکھا گیا ہے کہ ان میں سے کس نے شرک کے خلاف سب سے زیادہ جہاد کیا تھا یا بعض دوسری صفات کو ملحوظ رکھا گیا ہے تو ان میں سے سرفہرست سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ہی ذکر کیا جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسی صفت کی بنا پر (اُمَّۃً قَانِۃً) فرمایا اور اپنا دوست بنایا۔ پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے بیٹے اسحاق علیہ السلام اور پھر ان کے بیٹے یعقوب علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور آئندہ کے لیے نبوت انہیں کی اولاد سے مختص کردی، بعد ازاں سیدنا نوح علیہ السلام کا ذکر فرمایا جنہوں نے ساڑھے نو سو سال کا طویل عرصہ شرک ہی کے خلاف جہاد میں گزارا تھا۔ حالانکہ ان کا زمانہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے بہت پہلے کا ہے۔ ان پر انعام یہ ہوا کہ ان کے بعد نبوت آپ کی اولاد میں مختص ہوگئی تھی پھر اس کے بعد سیدنا داؤد علیہ السلام اور ان کے بیٹے سیدنا سلیمان علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔ جنہیں نبوت کے علاوہ حکومت بھی عطا ہوئی تھی اور انہوں نے بزور شمشیر شرک کے زور کو توڑا تھا۔ پھر سیدنا ایوب علیہ السلام کا ذکر کیا جنہوں نے اس حق و باطل کی کشمکش میں کمال صبر کا مظاہرہ کیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ﴿ِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًا ﴾ کا خطاب دیا اور سیدنا یوسف علیہ السلام کے صبر کی تعریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمائی آپ سات سال بے قصور قید میں پڑے رہے پھر جب شاہ مصر کی طرف سے بلاوا آیا تو آپ علیہ السلام نے قاصد سے کہا کہ پہلے بادشاہ سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے مجھ پر الزام لگایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں اتنی مدت قید میں پڑا ہوتا تو قاصد سے کچھ کہے بغیر ہی اس کے ساتھ ہو لیتا۔ (بخاری۔ کتاب الانبیاء۔ باب لقد کان فی یوسف۔۔) اللہ نے انہیں بھی حکومت عطا فرمائی تھی اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ سب سے مکرم کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یوسف جو خود بھی نبی تھے۔ ان کا باپ بھی نبی، دادا بھی نبی اور پڑدادا (سیدنا ابراہیم علیہ السلام) بھی نبی تھے۔‘‘ اس کے بعد موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا ذکر فرمایا۔ موسیٰ کلیم اللہ تھے اور انہی کی درخواست پر سیدنا ہارون علیہ السلام کو نبوت ملی تھی تاکہ صدیوں سے بگڑے ہوئے بنی اسرائیل کو راہ راست پر لانے کے لیے ان کا ہاتھ بٹائیں۔ انہوں نے بھی ساری زندگی بنی اسرائیل کے ہاتھوں تکلیفیں ہی اٹھائیں۔ پھر ان کے بعد سیدنا زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کا ذکر فرمایا۔ ان میں سے دو کو تو بنی اسرائیل نے دعوت حق دینے کی پاداش میں قتل کروا دیا تھا اور تیسرے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر لٹکوانے کی کوشش کی۔ پھر سیدنا الیاس، اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط علیہم السلام کا ذکر فرمایا پھر سب انبیاء کے متعلق ایک یکساں تبصرہ فرمایا۔ یہ سب لوگ صالح تھے اور اپنے اپنے وقت میں تمام اقوام عالم اور افراد سے افضل تھے اس لیے کہ انہوں نے شرک کے خلاف جہاد کیا اور توحید کا بول بالا کرنے کے لیے اور دعوت حق کی خاطر تکلیفیں اٹھائی تھیں۔ الانعام
86 [٨٧۔ ا] اس آیت میں فرمایا کہ یہ سب انبیاء (یعنی ١٨۔ انبیاء کا ان آیات میں ذکر آیا ہے) سب صالح لوگ تھے اور اس اگلی آیت میں فرمایا کہ ان میں ہر ایک کو ہم نے تمام اقوام عالم پر فضیلت دی تھی۔ قرآن کریم کی ان تصریحات سے انبیاء کی کمال عصمت ثابت ہوتی ہے۔ بالفاظ دیگر یہ تمام انبیاء معصوم عن الخطاء تھے جبکہ بائیبل ان انبیاء میں سے کئی انبیاء کی سیرت کو داغدار کر کے پیش کرتی ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ کی آیت نمبر ٤٨ کا حاشیہ نمبر ٥٤) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاء و رسل کا یک جا ذکر فرمایا اور قرآن میں کل ستائیس انبیاء و رسل کا ذکر آیا ہے ان میں سے سیدنا لقمان علیہ السلام کی نبوت اختلافی ہے اور جن انبیاء کا یہاں ذکر نہیں آیا وہ یہ ہیں۔ سیدنا آدم، ادریس، ہود، صالح، شعیب، ذوالکفل، عزیر علیہم السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جن اٹھارہ انبیاء کا ذکر آیا ہے مناسب ہے کہ یہاں ترتیب زمانی کے لحاظ سے ان انبیاء کے مختصر حالات زندگی درج کردیئے جائیں۔ (١) سیدنا نوح علیہ السلام : آپ کی عمر ایک ہزار سال تھی۔ آپ کی بعثت تین ہزار سے ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح ہوئی تھی۔ عراق میں دریائے دجلہ اور فرات کا درمیانی علاقہ آپ کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ آپ کی قوم بت پرست تھی اور پانچ بتوں ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کی پوجا کرتی تھی۔ اور اس معاملہ میں بہت ضدی اور ہٹ دھرم واقع ہوئی تھی کہ آپ کی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے نتیجہ میں صرف چالیس آدمی ایمان لائے آخر آپ نے دل برداشتہ ہو کر ان کے حق میں بددعا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بڑی کشتی تیار کرنے کا حکم دیا اور اس کو بنانے کے لیے ہدایات بھی دیں۔ جب کشتی تیار ہوگئی تو آپ نے سب ایمانداروں کو اس میں بیٹھنے کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں سب جانوروں کا ایک ایک جوڑا بھی اس کشتی میں رکھ لیا گیا، اس کے بعد زمین سے پانی کے چشمے ابلنے شروع ہوگئے اور آسمان سے مسلسل اور موسلادھار بارش، زمین پر اتنا پانی جمع ہوگیا جس نے پہاڑوں کو بھی اپنے اندر چھپا لیا۔ آپ کا نافرمان بیٹا یام بھی آپ کے دیکھتے دیکھتے اس طوفان کی نذر ہوگیا۔ چھ ماہ پانی چڑھتا رہا۔ پھر اترنا شروع ہوا۔ بارش بند ہوگئی۔ زمین نے پانی کو جذب کرنا اور سورج اور ہواؤں نے خشک کرنا شروع کردیا کشتی جودی پہاڑ پر ٹک گئی۔ چالیس دن بعد جب زمین خشک ہوگئی تو سب لوگ بسلامت اس کشتی سے اتر کر زمین پر آ گئے۔ طوفان کے بعد آپ ٣٥٠ سال زندہ رہے اور تبلیغ کرتے رہے۔ (٢) سیدنا ابراہیم علیہ السلام : آپ کی عمر ١٧٥ سال تھی۔ آپ کی بعثت کا زمانہ دو ہزار اور اکیس سو قبل مسیح کے درمیان ہے آپ کی قوم بت پرست اور نجوم پرست تھی۔ آپ کا باپ آزر نمرود شاہ عراق کی طرف سے شاہی بت خانہ کا مہنت اور منتظم تھا وہ بت تراش بھی تھا اور بت فروش بھی۔ آپ نے سب سے پہلے اپنےباپ ہی کو نہایت نرم الفاظ میں تبلیغ کرنا شروع کی۔ اس نے نمرود سے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کیا تو اس نے آپ کو دربار میں طلب کرلیا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے نمرود پر حجت قائم کر کے اسے مناظرہ میں لاجواب کردیا تو باپ اور بھی زیادہ مخالف ہوگیا۔ کیونکہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بات ماننے سے اس کا عہدہ بھی جاتا تھا اور ذریعہ معاش بھی تباہ ہوتا تھا لہٰذا اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو یہاں تک کہہ دیا کہ میرے گھر سے نکل جاؤ ورنہ رجم کر دوں گا۔ باپ کے بعد آپ نے قوم کو بت پرستی سے منع کرنا شروع کردیا اور ایک دفعہ موقع پا کر ان کے بت توڑ دیئے۔ اس بات پر قوم نے سیخ پا ہو کر آپ کو آگ کے ایک بڑے الاؤ میں پھینک دیا۔ مگر اللہ نے آپ کو بال بال بچا لیا۔ آخر آپ ہجرت کر کے سیدنا لوط علیہ السلام کے ہمراہ فلسطین کی طرف چلے گئے پھر وہاں سے مصر کی طرف ہجرت کی تو شاہی کارندے آپ کی بیوی سارہ کو پکڑ کرلے گئے جس سے بادشاہ کو کافی تکلیف پہنچی۔ بالآخر اس نے ہاجرہ کو سیدہ سارہ کی خادمہ بنا کر ہمراہ کردیا۔ اسی ہاجرہ سے سیدنا اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔ آپ نے ان ماں بیٹے کو اللہ کے حکم سے کعبہ شریف کے قریب لا بسایا۔ جب سیدنا اسماعیل علیہ السلام جوان ہوئے تو ان کی قربانی کا معاملہ پیش آیا۔ اس امتحان میں دونوں باپ بیٹا پورے اترے۔ پھر ان دونوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کا فریضہ بھی سر انجام دیا۔ زندگی بھر آپ پر اللہ کی طرف سے کڑی سے کڑی آزمائشیں آئیں۔ ان سب میں آپ پورے اترے تو اللہ نے آپ کو اپنا خلیل قرار دیا اور رہتی دنیا کے لیے آپ کو سب کا امام اور پیشوا بنا دیا۔ (٣) سیدنا لوط علیہ السلام : سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے چچا زاد بھائی ہیں عراق سے ہجرت کے وقت آپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ہمراہ تھے بعد میں آپ کو بھی نبوت عطا ہوئی تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آپ کو تبلیغ کے لیے شرق اردن کی طرف بھیج دیا۔ بحر میت یا بحر لوط کے اردگرد سدوم کا شہر اور اردگرد عمورہ کی بستیاں آپ کی تبلیغ کا علاقہ تھا آپ کی قوم شرک اور دوسری بد اخلاقیوں کے علاوہ لواطت میں گرفتار بلکہ اس بدفعلی کی موجد بھی تھی۔ لوط علیہ السلام کے سمجھانے پر بھی یہ لوگ اپنی کرتوتوں سے باز نہ آئے بلکہ الٹا سیدنا لوط علیہ السلام اور معدودے چند مسلمانوں کو اپنے شہر سے نکل جانے کی دھمکیاں دینے لگے۔ آخر فرشتے اس قوم پر قہر الٰہی ڈھانے کے لیے نازل ہوئے سیدنا جبریل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اکھاڑ کر اپنے پروں پر اٹھایا اور بلندی پر لے جا کر اور اٹھا کر نیچے پٹخ دیا۔ پھر اوپر سے پتھروں کی بارش برسائی گئی۔ چنانچہ یہ خطۂ زمین سطح سمندر سے چار سو کلومیٹر نیچے چلا گیا اور اوپر پانی آ گیا۔ اسی پانی کے ذخیرہ کو بحر مردار، بحر میت یا غرقاب لوطی کہا جاتا ہے۔ (٤) سیدنا اسماعیل علیہ السلام : سیدنا ابراہیم خلیل اللہ کے بڑے صاحبزادے مصر میں اقامت کے دوران ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ان دونوں ماں بیٹے کو مکہ کی بے آب و گیاہ زمین میں لابسایا۔ اللہ تعالیٰ نے وہاں زمزم کا چشمہ جاری کردیا۔ آپ کی پرورش بنو جرہم نے کی۔ جب بالغ ہونے کو آئے تو ذبح عظیم کی آزمائش کا واقعہ پیش آیا۔ آپ اس میں کامیاب اترے تو ذبیح اللہ کا لقب پایا۔ بعد ازاں آپ نے اپنے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے تعاون سے خانہ کعبہ کو از سر نو تعمیر کیا اور اس کی خدمت پر مامور ہوئے۔ بنو جرہم میں ہی آپ کی شادی ہوئی اور یہی علاقہ آپ کی تبلیغ کا مرکز قرار پایا۔ آپ کی عمر ١٣٧ سال ہوئی۔ (٥) سیدنا اسحاق علیہ السلام : سیدنا ابراہیم خلیل اللہ کے دوسرے صاحبزادے جو فرشتوں کی بشارت کے مطابق سیدہ سارہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ اس وقت سیدہ سارہ کی عمر نوے سال کے قریب اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی عمر سو سال سے زائد تھی۔ فلسطین کا علاقہ آپ کی تبلیغ کا مرکز اور بیت المقدس کی خدمت آپ کے سپرد تھی۔ نبی آخرالزماں کے سوائے باقی سب انبیاء بنی اسرائیل آپ کی اولاد سے ہوئے اور اسی علاقہ میں اپنے باپ سیدنا ابراہیم کے پہلو میں دفن ہوئے۔ آپ کی عمر ١٨٠ سال ہوئی۔ (٦) سیدنا یعقوب علیہ السلام : سیدنا اسحاق علیہ السلام کے صاحبزادے ہیں۔ علاقہ کنعان کی طرف مبعوث ہوئے۔ بعد میں ہجرت کر کے قدان آئے۔ آپ کا دوسرا نام اسرائیل ہے۔ آپ کو اپنے بیٹے یوسف سے بہت محبت تھی۔ اللہ نے اسی میں آپ کی آزمائش کی۔ چنانچہ آپ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کی گمشدگی کا صدمہ نہایت صبر و تحمل سے برداشت کیا۔ آخر عمر میں سیدنا یوسف علیہ السلام کی دعوت پر مصر میں جا کر آباد ہوئے۔ لیکن آپ کی میت کو آپ کی وصیت کے مطابق قدس خلیل میں ہی لا کر سیدنا اسحاق اور سیدنا ابراہیم علیہما السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ آپ نے ١٤٧ سال کی عمر پائی۔ (٧) سیدنا یوسف علیہ السلام : آپ سیدنا یعقوب کے ہاں کنعان میں پیدا ہوئے۔ آپ کی داستان حیات زبان زد خاص و عام ہے۔ ١٧ سال کی عمر میں کنوئیں میں ڈالے گئے تقریباً سات سال عزیز مصر کے گھر میں رہے پھر ٧ سال قید میں۔ پھر مصر کے منتظم اعلیٰ بنے اور آٹھ سال بعد آپ کے قحط گزرنے کے بعد خوشحالی کے ایام میں اور دور بادشاہت میں اپنے والدین اور سب گھر والوں کو اپنے ہاں بلا لیا۔ والد محترم سے فرقت کا زمانہ ٢٣ سال ہے آپ نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی۔ اسی مصر کی زمین میں ١١٠ سال کی عمر میں وفات پائی۔ اور وصیت کی کہ جب بھی بنو اسرائیل واپس اپنے وطن کنعان جائیں تو آپ کی نعش کو وہاں لے جا کر دوبارہ دفن کریں۔ چنانچہ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنو اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو آپ کی قبر سے تابوت نکال کر ساتھ لے گئے اور مشہد خلیل میں آباء و اجداد کے ساتھ دفن کیا۔ (٨) سیدنا ایوب علیہ السلام : آپ کی بعثت کا زمانہ ڈیڑھ ہزار سال قبل مسیح ہے۔ آپ کثرت اموال و اراضی میں مشہور تھے۔ ستر سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی۔ پھر آپ پر اللہ کی طرف سے آزمائش کا دور جو آیا تو ہر چیز ہاتھ سے نکل گئی۔ اور ایسے بیمار پڑے کہ ایک بیوی کے سوا سب نے ساتھ چھوڑ دیا۔ آپ نے اس بیماری میں اور مال و دولت کے چھن جانے پر صبر و استقامت کا ایسا بے مثال مظاہرہ کیا جو ضرب المثل بن چکا ہے۔ صحیح روایات کے مطابق آپ کا دور ابتلاء ١٣ سال ہے۔ جب آپ اس امتحان میں کامیاب اترے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری بھی دور کردی اور مال و دولت بھی پہلے سے دو گنا عطا فرمایا اور صابر کا لقب بھی عطا فرمایا۔ ١٤٠ سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ (٩۔ ١٠) سیدنا موسیٰ اور ہارون علیہما السلام : سیدنا موسیٰ علیہ السلام پہلے رسول ہیں جنہیں کتاب دی گئی اور مستقل شریعت عطا ہوئی۔ بڑے صاحب جلال تھے۔ آپ کی تربیت نہایت معجزانہ طور پر فرعون کے گھر میں اور اس کے اخراجات پر ہوئی اور ان ایام میں ہوئی جب فرعون مصر بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کرا دیتا تھا۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد جو سیدنا یوسف علیہ السلام کے عہد بادشاہی میں مصر میں آ کر آباد ہوئے تھے اب لاکھوں کی تعداد تک پہنچ چکے تھے اور محکومانہ اور مقہورانہ زندگی گزار رہے تھے۔ سیدنا یوسف اور سیدنا موسیٰ علیہما السلام کا درمیانی عرصہ تقریباً چار سو سال ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا مشن یہ تھا کہ انہیں فرعون کی غلامی سے آزاد کرا کر واپس اپنے وطن فلسطین میں لے جائیں اور اس علاقہ میں وہ حاکمانہ حیثیت سے آباد ہوں۔ مگر صدیوں کی غلامی نے بنی اسرائیل کو اتنا بزدل بنا دیا تھا کہ وہ بسا اوقات سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے الجھ پڑتے۔ اس مشکل ذمہ داری کو نبھانے کے لیے سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی تھی کہ ان کے بڑے بھائی سیدنا ہارون کو بھی نبوت عطا کر کے بطور مددگاران کے ہمراہ فرعون کی طرف بھیجا جائے اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی یہ درخواست منظور فرما لی تھی۔ فرعون کے مظالم کو برداشت کرنا بنو اسرائیل کی عادت ثانیہ بن چکی تھی۔ اہل مصر گائے بیل کی پرستش کرتے تھے۔ ان کی یہ ادا بھی بنو اسرائیل میں رچ بس گئی تھی۔ آخر اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل کو فرعون سے نجات دی۔ اور سب فرعونیوں کو سمندر میں غرق کردیا۔ اب اگلا مرحلہ جہاد کر کے شام و فلسطین کے علاقہ پر قبضہ کرنا تھا۔ لیکن اس قوم نے روایتی بزدلی کی بنا پر جہاد سے صاف انکار کردیا۔ جس کی پاداش میں ٤٠ سال میدان تیہ میں بھٹکتے رہے۔ اسی ارض تیہ میں سیدنا ہارون اور سیدنا موسیٰ علیہماالسلام دونوں بھائیوں کی وفات ہوئی۔ سیدنا موسیٰ نے اپنی وفات سے پہلے یوشع بن نون کو اپنا خلیفہ مقرر کیا۔ یہی یوشع سیدنا خضر سے ملاقات کے دوران سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ہم سفر تھے۔ انہی کی قیادت میں اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل کو موعودہ علاقہ پر اقتدار عطا فرمایا اور انہوں نے سب سے پہلے اریحاء کا علاقہ فتح کیا۔ ٤٠ سال کے دوران بنو اسرائیل کی پرانی بزدل نسل تو مر کھپ گئی اور نئی نسل کی تربیت جنگل کی بامشقت زندگی میں ہوئی تھی لہٰذا نئی نسل جرأت مند پیدا ہوئی جس نے جہاد کر کے موعودہ علاقہ کو فتح کیا۔ (١١) سیدنا الیاس علیہ السلام : الیاس اور الیاسین ایک ہی نام ہے جیسے طور سینا اور طُوْرِ سینِیْنَایک ہی نام ہے۔ آپ کی دعوت کا مرکز بعلبک تھا آپ کی قوم بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ بعل کے لغوی معنیٰ مالک آقا، سردار اور خاوند ہے گویا یہ بت ان لوگوں کا خاص دیوتا یا مہا دیوتا تھا۔ بابل سے لے کر مصر تک پورے شرق اوسط میں بعل پرستی پھیلی ہوئی تھی۔ مصر سے بنی اسرائیل واپس آئے تو وہ بھی اس بعل پرستی کے مرض میں مبتلاء ہوگئے۔ بعل کے نام کا ایک مذبح بھی بنا ہوا تھا جس پر قربانیاں کی جاتی تھیں۔ آپ نے ان لوگوں کو بہت سمجھایا لیکن وہ اپنے شرکیہ کاموں سے باز نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ظالم حکمران ان پر مسلط کردیا اور سیدنا الیاس علیہ السلام نے ہجرت کر کے بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ (١٢) الیسع علیہ السلام : آپ سیدنا الیاس علیہ السلام کے نائب اور خلیفہ تھے۔ بعد میں نبوت بھی عطا ہوئی۔ آپ کا حلقہ تبلیغ شام کا علاقہ تھا۔ (١٣) سیدنا داؤد علیہ السلام : آپ اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے پست قد تھے اور ماہر تیر انداز اور نشانہ باز تھے۔ طالوت کی فوج میں سپاہی کی حیثیت سے لڑے۔ اپنی فلاخن میں پتھر رکھ کر جالوت کو مارا جس سے وہ ہلاک ہوگیا اور حکومت بنو اسرائیل کے ہاتھ لگی۔ سیدنا داؤد علیہ السلام کو ایک ممتاز عہدہ پر فائز کیا گیا اور طالوت کی بیٹی سے نکاح ہوا۔ طالوت کی وفات کے بعد خودمختار بادشاہ بنے اور نبوت بھی عطا ہوئی۔ آپ پر زبور نازل ہوئی۔ اتنے خوش الحان تھے کہ جب تسبیحات پڑھتے تو پوری فضا پر وجد طاری ہوجاتا۔ آپ کے ہاتھوں میں لوہا، تانبا موم کی طرح نرم ہوجاتا۔ بعض لوگ اسے معجزہ نہیں سمجھتے بلکہ کہتے ہیں کہ آپ لوہا اور تانبا کی ڈھلائی کے خوب ماہر تھے۔ اپنے ہاتھ سے زرہیں تیار کرنا آپ کا ذریعہ معاش تھا۔ اپنی زندگی میں بیت المقدس کی بنیاد رکھی جسے بعد میں سیدنا سلیمان علیہ السلام نے پورا کیا۔ ستر سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ کا زمانہ ١٠١٥ ق م تا ٩٤٥ ق م ہے۔ (١٤) سیدنا سلیمان علیہ السلام : آپ سیدنا داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی۔ بنی اسرائیل میں آپ کی شان کا کوئی بادشاہ نہیں ہوا۔ جن اور پرندوں پر بھی آپ کی حکومت تھی۔ جانوروں کی بولی سمجھتے ان کو حکم دیتے اور ان سے کام لیتے تھے۔ ہوا بھی آپ کی تابع فرمان تھی۔ آپ ایک ماہ کا سفر ہوائی سفر کے ذریعہ چند گھنٹوں میں طے کرلیتے تھے۔ ملکہ سبا آپ کی کوشش سے مسلمان ہوئی۔ بیت المقدس کو نہایت عالی شان طریقہ پر مکمل کیا۔ (١٥) سیدنا یونس علیہ السلام : آپ کا زمانہ بعثت نویں صدی قبل مسیح ہے اہل نینوا کی طرف مبعوث ہوئے قوم نے آپ کی دعوت کا انکار کیا تو از خود ہی چالیس دن بعد عذاب آنے کی انہیں وعید سنا دی۔ جب یہ مدت گزرنے کے قریب پہنچی اور آپ نے عذاب کی کوئی نشانی نہ دیکھی تو فرار ہوئے اور ایک بڑی مچھلی کا لقمہ بنے۔ مچھلی کے پیٹ میں تسبیحات پڑھتے رہے آخر اللہ نے اس مشکل سے نجات دی اور مچھلی نے انہیں صحیح و سالم برلب ساحل اگل دیا۔ جب ذرا طاقت آئی تو اللہ تعالیٰ نے اسی قوم یعنی اہل نینوا ہی کی طرف آپ کو دوبارہ بھیجا۔ اب دوسری طرف صورت حال یہ بنی کہ جب سیدنا یونس مفرور ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے قول کو پورا کردیا۔ اہل نینوا کو وقت پر عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو یہ سب لوگ اپنے بال بچوں سمیت کھلے میدان میں نکل آئے اور اللہ کے حضور گڑگڑائے اور سچے دل سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ عذاب ٹال دیا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ میں ایک ہی استثناء ہے کہ آیا ہوا عذاب ٹل گیا ہو۔ اب اس قوم کی طرف جب سیدنا یونس علیہ السلام دوبارہ آئے تو وہ پہلے ہی نرم ہوچکی تھی لہٰذا آپ کی تبلیغ نہایت موثر ثابت ہوئی۔ (١٦) سیدنا زکریا علیہ السلام : آپ سیدہ مریم بنت عمران (والدہ عیسیٰ علیہ السلام) کے حقیقی خالو تھے۔ چنانچہ سیدنا زکریا علیہ السلام ہی سیدہ مریم کے مربی اور کفیل قرار پائے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام چونکہ محض اللہ کی قدرت سے بن باپ پیدا ہوئے تھے لہٰذا یہودیوں نے زکریا علیہ السلام پر ہی سیدہ مریم سے (نعوذ باللہ) زنا کی تہمت لگا دی اور انہیں قتل کرنا چاہا۔ آپ نے انہیں بہت سمجھایا مگر وہ اس سے باز نہ آئے۔ آخر چند شیطان سیرت آدمیوں نے آپ کو شہید کردیا۔ (١٧) سیدنا یحییٰ علیہ السلام : آپ کفیل مریم سیدنا زکریا علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ سیدنا زکریا علیہ السلام بوڑھے ہوچکے تھے مگر بے اولاد تھے۔ سیدہ مریم کے پاس بے موسم پھل دیکھ کر بے اختیار پکار اٹھے کہ ’’یا اللہ اگر مجھے بھی بے موسم پھل یعنی لڑکا عطا فرما دے تو کیا عجب ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی، بچے کی بشارت بھی دی اور اس کا نام بھی یحییٰ خود ہی تجویز فرمایا۔ آپ کو بچپن ہی میں نبوت عطا ہوئی۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے خالہ زاد بھائی تھے۔ نہایت نرم دل اور ہر وقت اللہ کے ڈر سے اور اخروی محاسبہ سے روتے رہتے تھے۔ اس وقت کے ایک یہودی حاکم ذونو اس نے اپنی ایک رقاصہ کے مطالبہ اور دلجوئی کی خاطر آپ کا سر قلم کروا دیا۔ (١٨) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : آپ اللہ کے کلمہ سے بن باپ پیدا ہوئے۔ آپ کا لقب روح اللہ ہے۔ ماں کی طرف سے ٢٦ ویں پشت پر جا کر سیدنا سلیمان علیہ السلام سے سلسلہ نسب جا ملتا ہے۔ بنی اسرائیل کے سب سے آخری اور صاحب شریعت نبی ہیں۔ آپ کو بچپن میں نبوت مل گئی تھی اور انجیل آپ پر نازل ہوئی۔ آپ کی پیدائش ناصرہ کے مقام پر ہوئی۔ گود ہی میں کلام کر کے والدہ کی برئیت پر حجت قائم کی مگر یہودی تہمت تراشیوں سے باز نہ آئے آپ بڑے فصیح البیان مقرر اور وجیہ تھے کسی کو آپ کے منہ پر الزام دینے یا تہمت تراشی کی جرأت نہ ہوئی۔ آپ کو چند محیر العقول معجزات بھی عطا ہوئے تھے۔ جوں جوں آپ کی عزت اور شہرت بڑھتی گئی یہودیوں میں حسد کی آگ بھڑکتی گئی اور شاہ وقت کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ انہیں گرفتار کر کے سولی پر لٹکا دیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے عین وقت پر عیسیٰ علیہ السلام کو بجسد عنصری آسمان پر اٹھایا (اس وقت آپ کی عمر ٣٣ سال تھی) اور مخبری کرنے والے کی شکل و صورت سیدنا عیسیٰ کے مشابہ بنا دی چنانچہ وہی سولی دیا گیا اور اپنے کیے کی سزا پائی۔ آپ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ شادی کریں گے اولاد ہوگی۔ بعد ازاں آپ کی طبعی وفات ہوگی۔ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا ذکر کر کے آخر میں فرمایا کہ یہ سب ہی اچھے لوگ تھے۔ اس طرح انبیاء کی حسن سیرت کا دائمی سرٹیفکیٹ عطا کردیا۔ جبکہ بائیبل بڑے بڑے انبیاء کی سیرت کشی کرتی اور ان میں کئی طرح کے عیوب کی نشاندہی کرتی ہے مثلاً : ١۔ یہود کے انبیاء پر اتہامات :۔ سیدنا نوح علیہ السلام شراب پی کر بدمست اور بدحواس ہوئے کہ تمام ستر برہنہ ہوگیا اور ان کے بیٹوں نے ڈھانکا۔ (پیدائش باب ٩) ٢۔ سیدنا لوط علیہ السلام نے شراب پی کر اپنی دونوں بیٹیوں سے زنا کیا اور یہ معاملہ دو بار وقوع میں آیا۔ (پیدائش باب ١٩) ٣۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام نے بکری کے بچوں کی کھال ہاتھوں پر لپیٹ کر جھوٹ بولا اور اپنے باپ اسحاق علیہ السلام کو دھوکا دینے کے لیے اپنا نام عیص بتایا۔ (پیدائش باب ٢٧) ٤۔ حمور کے بیٹے سکم نے سیدنا یعقوب علیہ السلام کی بیٹی دینہ سے زنا کیا اور یعقوب کے بیٹوں نے اس سے یہ مکر کیا کہ تو اور تیری تمام قوم اگر ختنہ کرے تو دینہ کی شادی تجھ سے کردیں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ان نبی زادوں نے ایسا موقع پا کر اس کو اور اس کی تمام قوم بے گناہ کو نہایت بے رحمی سے تہ تیغ کیا اور مال و اسباب لوٹ لیا اور ان کی بیویوں اور بچوں کو غلام بنایا مگر سیدنا یعقوب نے منع کرنا تو درکنار اس نالائق حرکت پر اپنی ناراضگی بھی ظاہر نہ کی۔ (پیدائش باب ٣٤) ٥۔ بنی اسرائیل کے کہنے پر موسیٰ علیہ السلام کی غیبت میں ہارون علیہ السلام نے زیور کا ایک بت بنایا اور تمام بنی اسرائیل سے اس کو پجوایا اور اس کے لیے قربانیاں گزارنے کا حکم دیا۔ (کتاب خروج باب ٣٢) ٦۔ سیدنا داؤد علیہ السلام اپنے بام پر چڑھے۔ اتفاقاً اوریاہ کی جورو بت سبع کو نہاتے دیکھ کر اس پر فریفتہ ہوگئے اور آدمی بھیج کر اس کو بلوایا اور اس سے زنا کیا جس سے وہ عورت حاملہ ہوئی پھر اس کے خاوند کو ایک مکر و تدبیر کر کے مروا ڈالا۔ جس پر ناتن نبی کی معرفت داؤد پر بڑی زجر و توبیخ ہوئی (سموئیل کی دوسری کتاب باب ١١) ٧۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے باوجود سخت ممانعت کے موآبی اور عمونی وغیرہ بت پرست عورتوں کو بیوی بنایا۔ اور خواہش نفسانی کو یہ طغیانی ہوئی کہ سات سو بیگمات اور تین سو حرموں تک نوبت پہنچی اور پھر ان پر عاشق اور مرید زن ہوئے کہ بتوں کی طرف اور تعمیر بت خانوں میں مصروف اور شامل ہوگئے اور آخر عمر میں ایمان کو بھی سلام کر گئے (کتاب اول سلاطین باب ١١) ٨۔ یہ بات قرآن سے ثابت ہے کہ یہود کتاب الٰہی کی درس و تدریس کے بجائے جادو منتر وغیرہ میں ہمہ تن مصروف ہوگئے تھے۔ پھر ستم کی بات یہ تھی کہ وہ سیدنا سلیمان علیہ السلام کو بہت بڑا جادو گر اور ان کی بادشاہی اور عروج کا ذریعہ جادو ہی کو سمجھتے تھے اور یہ تفصیل پہلے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ١٠٢ کے حاشیہ میں گزر چکی ہے۔ ٩۔ سیدنا عیسیٰ اور سیدہ مریم صدیقہ کے متعلق یہود نے جس بد زبانی سے کام لیا تھا ان ناشائستہ کلمات کا ذکر کرنا بھی نامناسب ہے اور عیسائی خود بھی ان باتوں کا اقرار کرتے تھے نیز یہود یہ بھی کہتے تھے کہ بموجب بشارت عیسیٰ علیہ السلام اگر سچے نبی ہوتے تو قتل نہ کیے جاتے۔ حالانکہ وہ قتل کیے گئے۔ الانعام
87 [٨٨] ان سب انبیاء علیہم السلام کی جماعت کے علاوہ ہم نے ان کے آباؤ اجداد، آل اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بہت سے لوگوں کو راہ راست کی طرف ہدایت سے مستفیض فرمایا تھا۔ اور اس ہدایت میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ توحید پرست تھے اور شرک سے سخت بے زار تھے کیونکہ شرک ایسی بری بلا ہے کہ اگر مذکورہ بالا انبیاء بھی شرک کرتے تو ان کے سب اعمال برباد ہوجاتے۔ یہ بات بغرض تسلیم اور دوسروں کے لیے شدید تنبیہ کے طور پر بیان کی گئی ہے ورنہ انبیاء سے شرک کا صدور ناممکنات سے ہے۔ انبیاء کی تو بعثت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ شرک کا استیصال کریں اور بندوں کا براہ راست اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑ دیں۔ الانعام
88 الانعام
89 [٨٩] انبیاء کو تین خبریں عطا کی جاتی ہیں :۔ مذکورہ انبیاء کو تین چیزیں عطا کرنے کا ذکر فرمایا گیا ہے ایک کتاب یعنی منزل من اللہ ہدایت نامہ دوسرے حکم سے مراد اللہ کی کتاب کا صحیح فہم، ان پر عمل کرنے کا طریق کار اور اس ہدایت کو عملی زندگی پر منطبق کرنے کی صورتیں اور مختلف نزاعات اور مقدمات میں صحیح قوت فیصلہ کی استعداد اور نبوت سے مراد اس ہدایت الٰہی کے مطابق لوگوں کی رہنمائی ہے۔ [٩٠] اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو نہ لائیں۔ ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایسے بندے پیدا کردیئے ہیں جو ہماری نعمتوں کے قدردان ہیں۔ حق کو تسلیم کرتے ہیں اور کسی ہدایت کی بات سے منہ نہیں موڑتے۔ ایسے ہی لوگ انبیاء کے حقیقی متبعین اور ان کے جانشین ہوتے ہیں۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین مہاجرین و انصار کی یہی صفات تھیں۔ الانعام
90 [٩١] سابقہ شریعتوں کا اتباع کس صورت میں :۔ یعنی تمام انبیاء کا دین یا دستور اساسی ایک ہی رہا ہے۔ جیسے توحید پرستی، شرک سے بے زاری اور اس کے خلاف جہاد، اللہ کی فرمانبرداری اور روز آخرت پر ایمان وغیرہ۔ لہٰذا جو کچھ ان کا دین تھا، آپ کو بھی وہی دین اختیار کرنا چاہیے، اسی ہدایت کی اتباع کیجئے اور شریعت ہر نبی کو الگ الگ اس کے زمانہ کے احوال، ظروف کے مطابق دی گئی ہے۔ اس آیت سے ایک اور اہم بات کا پتا چلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو حکم کسی بھی نبی کی شریعت میں مذکور ہو اور اللہ تعالیٰ نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حکم بیان کرتے وقت اس پر نکیر نہ فرمائی ہو۔ وہ حکم امت محمدیہ کے لیے بھی واجب الاتباع ہوگا۔ قرآن کریم میں اس کی مثال اعضاء و جوارح کا قصاص ہے۔ بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور اسی طرح زخموں کا بھی ویسا ہی قصاص ہوگا۔ یہ تورات کا حکم ہے جسے قرآن نے سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ٤٥ میں بیان فرمایا ہے اور اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ لہٰذا یہ حکم امت محمدیہ کے لیے بھی قابل اتباع ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کے مطابق دانت کے مقدمات کا فیصلہ فرمایا۔ اسی طرح تورات میں شادی شدہ زانی اور زانیہ کو سنگسار کرنے کا حکم تھا۔ آپ کے پاس ایک ایسے ہی شادی شدہ یہودی اور یہودن کا مقدمہ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سنگسار کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا’’اے اللہ ! سب سے پہلے میں تیرے اس حکم کو زندہ کرتا ہوں جسے ان یہود نے مردہ کردیا تھا۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب رجم الیہود و اہل الذمۃ فی الزنا، مزید تفصیل سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ٤٤ کے حاشیہ ٨٢ میں ملاحظہ فرمائیے) یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بجائے نکیر کے اس حکم کو زندہ کرنے کی تحسین فرمائی۔ تو یہ رجم کا حکم امت محمدیہ کے لیے واجب الاتباع ہوا۔ اور احادیث رسول اللہ میں اس کی بہت سی مثالیں مل جاتی ہیں۔ [٩٢] اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی رسالت بھی تمام اقوام عالم کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہے اور یہ قرآن بھی اسی طرح سب لوگوں کے لیے کتاب ہدایت ہے اس کے بعد نہ کوئی نبی یا رسول آنے والا ہے اور نہ ہی اللہ کی طرف سے تاقیامت کتاب نازل ہوگی۔ الانعام
91 [٩٣] قرآن کا نزول بشر پر ؟ یہ خطاب یہود کو ہے جنہوں نے رسول دشمنی، بغض و عناد کی بنا پر ایک ایسی حقیقت کا انکار کردیا جو ان کے اپنے ہاں بھی مسلم تھی۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نازل نہیں فرمائی۔ اس اعتراض کے اللہ تعالیٰ نے دو طرح سے جواب دیئے ایک یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی پوری معرفت ہی نہیں کیونکہ نہ تو اللہ خود لوگوں سے کلام کرتا ہے اور نہ ہی اس کام کے لیے انسانوں کے لیے کوئی فرشتہ بھیجتا ہے۔ اس کی ممکنہ صورت یہی ہے کہ اللہ اپنا کلام فرشتوں کے ذریعہ صرف نبی پر نازل فرمائے۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ تو تم تسلیم کرتے ہو کہ موسیٰ علیہ السلام بشر تھے، آدم علیہ السلام کی اولاد سے تھے اور ان کے ماں باپ بھی موجود تھے تو ان پر جو کتاب اتاری گئی تھی وہ کس نے اتاری تھی؟ اگر یہ کتاب اللہ نے نہیں اتاری تھی تو پھر تم اسے اتنا سنبھال سنبھال کر کیوں رکھتے ہو؟ اور اس کتاب میں جو ہدایت کی باتیں اور علم کی روشنی ہے کیا اللہ کے علاوہ کوئی اور ایسی باتیں بتا سکتا ہے؟ جو ہدایت کی باتیں اس کتاب میں موجود ہیں انہیں نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے آباؤ اجداد۔ پھر ایسی کتاب اللہ کے سوا کوئی اتار سکتا تھا ؟ تمہارا اس کتاب کا کچھ حصہ لوگوں کو بتانا اور اپنی خواہشات کے مطابق کچھ حصہ کو چھپانا یہ سب کچھ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب منزل من اللہ ہے اور تمہارے لیے حجت ہے ورنہ اگر یہ کسی انسان کی تصنیف ہوتی تو تمہیں ایسا کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ بشر اور رسول کی بحثیں فضول ہیں! یہ ایسے سوال تھے جن کا جواب نہ دینے میں ہی یہود نے اپنی عافیت سمجھی۔ کیونکہ اس کا جواب ان کے خلاف پڑتا تھا لہٰذا اللہ نے خود ہی اس کا جواب بتا دیا کہ ان سے کہہ دیجئے کہ تورات تو اتارنے والا اللہ ہی ہے اور اس نے اسے ایک بشر ہی پر نازل کیا تھا۔ وہی فضول قسم کی بحثیں، مثلاً چونکہ فلاں بشر ہے اس لیے وہ نبی نہیں ہوسکتا یا چونکہ فلاں نبی ہے اس لیے بشر نہیں ہو سکتا۔ تو انہیں ان بحثوں میں ہی الجھا رہنے دیجئے۔ ایسے لوگ ہدایت کے طالب نہیں ہوتے۔ [٩٣۔ الف] دور نبوی میں تورات کی صورت :۔ اس آیت کے اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے زمانہ میں جو تورات یہود کے پاس تھی وہ مجلد کتاب کی صورت میں نہیں تھی بلکہ الگ الگ اوراق کی صورت میں تھی اور یہود کے لیے ایسی صورت میں بددیانتی کرنا نسبتاً بہت آسان تھا وہ جن آیات کو چھپانا چاہتے وہ ورق ہی غائب کردیتے تھے اور جو کچھ اس کتاب میں تحریف کرنا اور من ما فی تاویل یا شرح کرنا مقصود ہوتی تو الگ نیا ورق لکھ کر اس میں شامل کردیتے تھے۔ رجم کی آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلقہ آیات کو وہ اسی طرح چھپا جاتے تھے کہ ایسے اوراق درمیان سے نکال کر انہیں غائب کردیتے تھے اور اس بات کی یعنی تورات کے الگ الگ اوراق پر لکھا ہونے کی تائید اس حدیث سے ہوجاتی ہے کہ ایک دفعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایسے چند اوراق مل گئے جنہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھنا شروع کردیا۔ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار نمودار ہوگئے اور یہ حدیث اپنے مناسب مقام پر گزر چکی ہے۔ دوسری بات جو اس آیت سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ تورات کی کئی آیات ایسی بھی تھیں جن کا صحیح مطلب علمائے یہود کو اس وقت معلوم ہوا جب قرآن کی تعلیم عام ہوئی۔ اس سے پہلے نہ علمائے یہود کو ان آیات کے مفہوم کا علم تھا اور نہ ان کے آباؤ اجداد کو۔ الانعام
92 [٩٣۔ ب] قرآن بابرکت کتاب کیسے؟ یہ قرآن کریم ہی کے بابرکت ہونے کا نتیجہ تھا کہ اس نے عرب جیسی جاہل قوم کو، جو قبائلی عصبیت کی وجہ سے ہر وقت برسرپیکار اور لڑتی مرتی رہتی تھی۔ ایک مہذب قوم بنا کر چند ہی سالوں میں اس کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ ان کے اخلاق و عادات اس قدر اعلیٰ بن گئے کہ یہی جاہل، وحشی اور اجڈ قوم تمام اقوام عالم کی پیشوا بن گئی۔ بڑی بڑی طاقتوں کو سرنگوں کیا اور دنیا کے ایک کثیر حصہ پر قابض ہو کر ان میں علوم و تہذیب پھیلانے کا سبب بن گئی۔ قرآن کی تعلیم نے انہیں ذلت کی گہرائیوں سے نکال کر عزت کے بلند مقامات پر پہنچا دیا۔ [٩٤] قرآن کریم کے اللہ کا کلام ہونے پر چار دلائل :۔ اس سے پہلی آیت میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ ایک بشر پر اللہ کا کلام نازل ہوسکتا ہے۔ اس سے از خود یہ معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں سب لوگ بشر تسلیم کرتے تھے پر اللہ کا کلام نازل ہوسکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ یہ کتاب قرآن فی الواقع اللہ کا کلام ہے تو اس پر چار دلائل پیش کئے گئے۔ ایک یہ کہ یہ کتاب اتنی خیر و برکت والی ہے کہ تمہاری زندگی کے ہر پہلو اور شعبے کے لیے تمہیں ہدایت فراہم کرتی ہے جو عقائد صحیحہ اور اخلاق فاضلہ اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی تعلیم دیتی ہے اور اس میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے بہترین اصول پیش کیے گئے ہیں۔ اور اس کے منزل من اللہ ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اس کی بنیادی تعلیمات وہی ہیں جو سابقہ کتب سماویہ کی ہیں۔ کوئی نئی بات پیش نہیں کرتی بلکہ انہی چیزوں کی تصدیق و تائید کرتی ہے جو پہلی کتب میں پیش کی گئی تھیں۔ تیسرے یہ کہ اس کتاب کا مقصد غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو خواب غفلت سے جھنجھوڑنا اور انہیں ان کے برے انجام سے ڈرانا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی گئی کہ آپ اس کام کا آغاز اس مرکزی شہر مکہ اور اس کے پاس کی بستیوں سے کیجئے اور چوتھی بات جو بطور نتیجہ بتائی گئی یہ ہے کہ اس کتاب سے ہدایت صرف وہ لوگ پائیں گے جو اپنی خواہشات نفس کے غلام نہ ہوں بلکہ اللہ اور روز آخرت کی باز پرس سے ڈرتے ہوں اور اس کی واضح علامت کے طور پر نماز کی باقاعدگی سے محافظت کرتے ہوں۔ اور یہ سب ایسی باتیں ہیں جو کسی انسان کی تصنیف شدہ کتاب میں نہیں ہو سکتیں۔ الانعام
93 [٩٥] سب سے زیادہ ظالم کون ہے؟ :۔ اس آیت میں سب سے بڑے ظالموں کی تین اقسام بیان فرمائیں ایک وہ جس نے کوئی بات تو خود تراشی ہو اور اللہ کے ذمے لگا دے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو شرک و بدعات کی مختلف اقسام کو ایجاد تو خود کرتے ہیں پھر انہیں شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس طرح ان رسوم و بدعات پر مذہبی تقدس کا خول چڑھا دیتے ہیں اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اللہ کی آیات کا غلط مطلب نکال کر اور ان کی غلط تاویل کر کے غلط سلط فتوے دیتے ہیں اور اس کے عوض عارضی فوائد حاصل کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جھوٹے نبی جنہوں نے آپ کے بعد اپنی نبوت کا دعویٰ کیا ہے یا کریں گے حالانکہ آپ خاتم النبیین ہیں جیسے مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، سجاح بنت حارث اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ایسے ہی دوسرے لوگ اور آپ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد تیس کے لگ بھگ ایسے کذاب اور دجال پیدا ہوں گے جو اپنی نبوت کا دعویٰ کریں گے (مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب قولہ ان بین یدی الساعۃ کذابین قریبا من ثلاثین) اور تیسرے وہ لوگ جو یہ دعویٰ کریں کہ ہم بھی قرآن جیسی چیز بنا سکتے ہیں۔ جیسا کہ ایک دفعہ کفار مکہ نے بھی کہا تھا کہ ﴿لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ہٰذَآ ﴾ (18: 31)حالانکہ جب قرآن نے ان کو ایسی ایک ہی سورت بنا لانے کا چیلنج کیا تو وہ اپنی بھرپور اور اجتماعی کوششوں کے باوجود اس کی نظیر لانے پر قادر نہ ہو سکے تھے۔ [٩٦] مندرجہ بالا اقسام کے ظالم اس لحاظ سے سب سے بڑھ کر ظالم ہیں کہ انہوں نے براہ راست اللہ پر الزام لگائے انہیں سزا بھی سب ظالموں سے بڑھ کر ہوگی۔ ان پر موت طاری ہوتے ہی فرشتے انہیں ڈانٹنا شروع کردیں گے اور نہایت شدت اور سختی کے ساتھ ان کی روحیں قبض کریں گے اسی وقت انہیں اپنی قدر و عافیت ٹھیک ٹھیک معلوم ہوجائے گی اور سب شیخیاں کر کری ہوجائیں گی اور اسی دن سے انہیں رسوا کرنے والے عذاب سے دو چار کردیا جائے گا۔ الانعام
94 [٩٧] مرنے کے بعد انسان کی بے بسی :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مندرجہ بالا اقسام سے بھی بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اختیار تصرف میں کسی دوسرے کو بھی شریک سمجھا جائے۔ اسے اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھا جائے، حاجت روا اور مشکل کشا تسلیم کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ ہمارے یہ معبود بت یا اولیاء و بزرگ اللہ سے سفارش کر کے ہمیں اخروی عذاب سے بچا لیں گے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ موت کے ساتھ ہی انسان کی اللہ کے حضور پیشی ہوجاتی ہے اس پیشی کے وقت نہ اس کا مال و دولت موجود ہوتا ہے نہ رشتہ دار نہ وہ بزرگ جن کے متعلق انہوں نے سستی نجات کا عقیدہ وابستہ کر رکھا تھا کیونکہ موت کے بعد انسان ویسے ہی تن تنہا قبر میں جاتا ہے جیسا کہ تن تنہا ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا اور جیسے پیدائش کے بعد یہ مختلف قسم کے تعلقات پیدا ہوئے تھے۔ موت کے ساتھ ہی یہ سب رشتے کٹ جاتے ہیں اور صرف انسان کے اپنے اعمال پر ہی اخروی انجام کا دار و مدار ہوگا۔ موت کے بعد ان ظالموں کو یہ یاد ہی نہ رہے گا کہ دنیا میں ان کے تعلقات کس کس سے تھے اور یہ تعلقات کس کس نوعیت کے تھے۔ الانعام
95 [٩٧۔ ١] نباتات کی روئیدگی میں اللہ کی قدرتیں :۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خالق و مالک اور قادر مطلق ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے کہ وہ ہر قسم کے غلوں کے دانوں یا بیج کو اور ہر قسم کے پھلوں کی گٹھلیوں کو پھاڑنے والا ہے غلہ کے بیج یا پھل کی گٹھلی کو جب زمین میں دبا دیا جاتا ہے پھر جب اس زمین کو سیراب کیا جاتا ہے تو یہ بیج یا گٹھلی پھٹ کر دو حصوں میں بٹ جاتی ہے اور دو شاخیں نکلتی ہیں۔ ایک شاخ تو زمین کے اندر جڑ کی صورت میں نیچے کی طرف بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور دوسری شاخ کونپل بن کر زمین کو پھاڑ کر اس سے باہر نکل آتی ہے پھر اسی سے برگ و بار اور پھل پھول نکلنے شروع ہوجاتے ہیں اور اس بات کے باوجود کہ تخم ایک ہوتا ہے۔ زمین ایک، پانی ایک اور طبیعت ایک مگر زمین سے باہر نکلنے والی شاخ کے اثرات زمین کے اندر جانے والی شاخ سے بالکل مختلف ہوتے ہیں اور باہر نکلنے والی شاخ کے آثار بھی کئی طرح کے ہیں۔ پتوں کی شکل اور ہے پھولوں کی اور پھلوں کی اور اور ہر بیج یا گٹھلی اسی پودے کے برگ و بار پیدا کرتا ہے جس کا وہ بیج یا گٹھلی ہوتی ہے یہ سب باتیں اللہ کی قدرت کی کمال کاریگری پر دلالت کرتی ہیں۔ [٩٨] آخروی زندگی پر دلیل :۔ یہ اللہ کے خالق و مالک اور قادر مطلق ہونے کی دوسری دلیل ہے کہ وہ زندہ چیز سے مردہ اور مردہ چیز سے زندہ چیز پیدا کرتا ہے کوئی انسان یا کوئی دوسری مخلوق یہ دونوں کام نہیں کرسکتی۔ پھر جب صورت حال یہ ہے تو دوسرے اللہ کے اختیار و تصرف میں شریک کیسے بن جاتے ہیں۔ پھر مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرنے کی بھی کئی صورتیں ہیں مثلاً اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا جو بے جان چیز ہے پھر اس کی تمام ضروریات اسی مٹی یا زمین سے وابستہ کردیں۔ پھر یہ زندہ انسان مرنے کے بعد اسی مردہ مٹی میں چلا جاتا ہے۔ اسی حقیقت سے اللہ تعالیٰ نے معاد پر استدلال فرمایا ہے مثلاً زمین سے پودے اور درخت پیدا ہوتے ہیں جن میں زندگی کے آثار موجود ہوتے ہیں پھر یہی چیزیں زمین میں مل کر پھر مردہ بن جاتی ہیں۔ یا مثلاً مرغی سے انڈا پیدا ہوتا ہے پھر انڈا سے مرغی پیدا ہوتی ہے گویا زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ پیدا ہونے کی بے شمار مثالیں اس دنیا میں موجود ہیں اور یہ سب کام ایسے ہیں جو کسی انسان یا کسی دوسری ہستی کے بس کا روگ نہیں۔ اسی پر اخروی زندگی کو قیاس کیا جا سکتا ہے اور یہ سمجھنے میں کچھ دقت پیش نہیں آتی کہ انسان کے جسم کا مٹی میں مل کر مٹی بن جانے کے بعد اللہ اسے مٹی سے ہی دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ الانعام
96 [٩٩] اس آیت اور اس سے اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی آیات یا نشانیاں بیان فرمائی ہیں جنہیں اس خالق و مالک اور قادر مطلق کے سوا کوئی بھی وجود میں نہیں لا سکتا اور ان میں ایک غور و فکر کرنے والے انسان کے لیے وجود باری تعالیٰ پر واضح دلائل مل جاتے ہیں اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے مثلاً ایک یہ کہ گردش لیل و نہار کا نظام اس لیے بنایا کہ تم دن کو اپنے کام کاج کرسکو اور رات کو اپنی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے آرام کرسکو۔ کام کاج کے لیے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے تو اس نے رات کے ختم ہوتے ہی روشنی کا انتظام فرما دیا اور آرام کرنے کے لیے اندھیرا درکار ہوتا ہے تو اس کا انتظام فرما دیا۔ پھر چاند اور سورج کو اپنی اپنی گردش میں قواعد و ضوابط کا اس قدر پابند بنا دیا ہے جس سے وہ سر مو تجاوز نہیں کرتے نہ ہی لمحہ بھر کی تقدیم و تاخیر ہوتی ہے۔ پھر انہیں سے تم دنوں، مہینوں اور سالوں کا شمار کر کے تاریخ مرتب کرتے ہو۔ کیا اس نظام کائنات میں اللہ کا کوئی شریک ہے؟ یا اللہ کے سوا کوئی دوسرا ایسا نظام وجود میں لا سکتا ہے؟ الانعام
97 [١٠٠] سورج اور چاند کے علاوہ اللہ نے ستارے بھی پیدا فرمائے ہیں جو تاریک راتوں میں جب چاند بھی غائب ہوتا ہے تو کچھ نہ کچھ روشنی پہنچاتے رہتے ہیں نیز ان کی چال میں بھی چونکہ ایک ترتیب ہے لہٰذا رات کی تاریکی میں ان کی چال سے یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ رات کا کتنا حصہ گزر چکا ہے اور کتنا باقی ہے سمت بھی معلوم کی جا سکتی ہے کہ اس وقت ہم کونسی سمت میں سفر کر رہے ہیں اور اس طرح راستہ کا بھی تعین ہوسکتا ہے اور یہ فوائد جیسے خشکی پر حاصل ہوتے ہیں ویسے ہی سمندری سفر میں بھی حاصل ہوتے ہیں۔ یہ ستاروں کی پیدائش اور ان کی مقررہ چال اور ان سے انسان کے لیے ایسے فوائد کا حصول بھی اللہ کی ذات اور اس کی قدرت کی واضح نشانی ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ کوئی ستارے پیدا کرسکتا ہے اور نہ ہی مقرر چال کا پابند بنا سکتا ہے کہ ان سے مذکور فوائد حاصل ہوں اور جو لوگ غور و فکر کرنے والے ہیں انہیں ان سے اللہ کی معرفت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ الانعام
98 [١٠١] وجود باری تعالیٰ پر دلائل :۔ سیدنا آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کر کے اس میں اپنی روح سے پھونکا تو اس میں عقل، قوت تمیز اور ارادہ و اختیار پیدا کیا جو دوسرے جانداروں اور جانوروں میں نہیں پایا جاتا۔ پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا پھر تناسل و توالد کے ذریعہ لاتعداد مرد اور عورت پیدا کردیئے یہ بھی اللہ ہی کا کارنامہ ہے۔ کوئی انسان یا کوئی دوسری ہستی ایک آدمی بھی نہیں بنا سکتی پھر ان مردوں اور عورتوں میں سے ہر ایک کے لیے ایک جائے قرار اور ایک سپردگی کا مقام ہے۔ اکثر علماء کے خیال کے مطابق جائے قرار سے مراد روئے زمین پر اس کی زندگی کی مدت ہے اور مستودع سے مراد اس کی قبر ہے یا وہ جگہ جہاں سے مرنے کے بعد ٹھکانے لگایا جاتا ہے یہ دونوں باتیں اٹل حقیقت ہونے کے باوجود کسی کو معلوم نہیں کہ وہ روئے زمین پر کتنا عرصہ رہے گا اور کہاں اور کب مرے گا اور کہاں دفن ہوگا ؟ بعض علماء کے نزدیک ان سے مراد زندگی اور موت کے چاروں مراحل ہیں ایک مرحلہ اگر مستقر ہے تو دوسرا مرحلہ اس کا مستودع ہے علیٰ ہذا القیاس۔ الانعام
99 [١٠٢] یعنی زمین بھی ایک اور اس پر برسنے والا پانی بھی ایک جیسا، لیکن زمین سے پیدا ہونے والی نباتات اور پھلوں کے درختوں میں سے ہر ایک کے پھل پر غور کرو کھجور کے پھل پر اور اس کی ترکیب کو دیکھو، پھر انگور کو دیکھو جس میں بیج تک بھی نہیں ہوتا، انار کو دیکھو کہ اس کے دانے آپس میں کس طرح جڑے ہوئے ہیں۔ پھر یہ دیکھو کہ زمین ایک، درخت کی جنس ایک، پانی ایک لیکن ایک کا پھل ناقص ہے اور دوسرے کا عمدہ۔ پھر کسی ایک درخت کے پھل پر، پھل لگنے سے لے کر اس کے پکنے تک کے مراحل پر غور کرو۔ ایک ایک بات سے تمہیں اللہ کی قدرت کے نشانات ملتے جائیں گے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کوئی غور کرنے والا تو ہو؟ اور اگر کوئی انہیں عام معلومات سمجھ کر ان میں غور و فکر کرنے کی زحمت ہی گوارا نہ کرے تو اسے اللہ کی یہ نشانیاں کہاں نظر آ سکتی ہیں؟ الانعام
100 [١٠٣] اللہ کی اولاد کا عقیدہ :۔ اللہ تعالیٰ کی ان سب نشانیوں کے باوجود اور یہ جاننے کے باوجود کہ اللہ کے بغیر کوئی ہستی ان کے پیدا کرنے میں اس کی شریک نہیں۔ ان مشرکوں نے محض اپنے وہم و گمان سے یہ طے کرلیا کہ اتنی وسیع کائنات کا پورا نظام اکیلا اللہ کیسے سنبھال سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس پورے نظام میں اور انسانوں کی قسمت کے بنانے اور بگاڑنے میں کئی دوسری پوشیدہ ہستیاں بھی شریک ہوں۔ کوئی بارش کا دیوتا ہے کوئی روئیدگی کا، کوئی پھلوں میں رس بھرنے کا، کوئی دولت کی دیوی ہے کوئی صحت کی اور کوئی مرض اور بیماریوں کی وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے لغو خیالات دنیا کی تمام مشرک قوموں میں پائے جاتے ہیں۔ بالعموم تمام ستارہ پرست قوموں کا یہی شیوہ رہا ہے جو ان ستاروں کی ارواح اور ان کی خیالی شکلوں کے مجسمے بناتی ہیں انہیں ارواح کو قرآن نے کہیں جن اور کہیں شیاطین کے الفاظ سے ذکر کیا ہے پھر ان لوگوں نے ان دیوی دیوتاؤں کی نسل چلا کر ایک پوری دیو مالا مرتب کردی۔ ہندی، مصری، یونانی اور بابلی تہذیبوں میں ایسی پوشیدہ ارواح کی پرستش کا عقیدہ بالعموم پایا جاتا رہا ہے انہیں دیوی اور دیوتاؤں میں سے بعض کو انہوں نے اللہ کے بیٹے اور بیٹیاں قرار دے دیا۔ اہل عرب بھی فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا کہ جن تو اللہ کی مخلوق ہیں اور جو مخلوق ہو وہ بندہ اور غلام تو ہوسکتا ہے شریک نہیں بن سکتا اور اللہ کی جب بیوی ہی نہیں اور وہ اس سے بے نیاز بھی ہے تو پھر اس کے بیٹے اور بیٹیاں کیسے ہو سکتے ہیں؟ الانعام
101 [١٠٤] اس نے زمین و آسمان کو بغیر کسی مادہ کے اور بغیر کسی سابقہ نقشہ یا نظیر کے وجود بخشا۔ اس سے مادہ پرستوں کا رد ہوا۔ اور چونکہ اس کی بیوی ہی نہیں لہٰذا اللہ کا کوئی بیٹا اور بیٹی بھی نہیں ہو سکتے۔ اس سے یہود و نصاریٰ اور مشرکین سب کارد ہوا۔ یہود عزیر کو ابن اللہ کہتے تھے اور نصاریٰ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور دوسرے ممالک کے مشرکوں نے تو اس قدر اللہ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے جن کا شمار بھی مشکل ہے۔ انہوں نے تو ایسے دیوی دیوتاؤں کی پوری نسل ہی چلا دی۔ حالانکہ یہ سب چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں۔ الانعام
102 الانعام
103 [١٠٥] ان تمام مذکورہ اشیاء کو پیدا کرنے والی ہستی ایسی ہے جسے انسان اپنی ان آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ کیا اس دنیا میں دیدار الہی ممکن ہے؟ مسروق بن اجدع کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھا تھا۔ انہوں نے مجھے (مخاطب کر کے) کہا : ابو عائشہ (مسروق کی کنیت) تین باتیں ایسی ہیں کہ ان میں سے کوئی بات بھی اگر کسی نے کہی تو اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ جس نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (شب معراج میں) اپنے پروردگار کو دیکھا اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ ۡ وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ ۚ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ﴾ نیز فرماتا ہے : ﴿وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَاۗیِٔ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَاۗءُ ۭ اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ ﴾ میں اس وقت تکیہ لگائے ہوئے تھا۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور کہا : ام المومنین! جلدی نہ کیجئے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : ﴿ وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی﴾ نیز فرمایا : ﴿ وَلَقَدْ رَاٰہُ بالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ﴾ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ کی قسم! میں نے اس بارے میں رسول اللہ سے پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تو جبریل تھے جنہیں میں نے دیکھا تھا۔ اور دونوں بار ان کی اصلی صورت میں نہیں بلکہ آسمان سے اترتے دیکھا اور وہ اتنے بڑے تھے کہ زمین و آسمان کے درمیان کی فضا بھر گئی تھی۔ اور جس نے یہ سمجھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منزل من اللہ وحی سے کچھ چھپایا۔ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا کیونکہ اللہ فرماتا ہے : ﴿ یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ ﴾ اور جس نے یہ سمجھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کل کو ہونے والی بات جانتے تھے۔ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ ﴾ (ترمذی ابو اب التفسیر) البتہ قیامت کو انسان اللہ تعالیٰ کو دیکھ سکے گا جیسا کہ بے شمار آیات اور احادیث سے ثابت ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے جو کائنات کی رتی رتی چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہر لمحہ انکی خبر گیری کر رہا ہے۔ پھر ان کی ہر چھوٹی موٹی ضرورت کو پورا بھی کرتا رہتا ہے۔ الانعام
104 [١٠٦] قرآن آپ نے کس سے سیکھا ہے؟ یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی معرفت کے لیے بہت سے ایسے دلائل ذکر کردیئے گئے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان میں غور و فکر کرے گا تو یقیناً حقیقت کو پا لے گا اور اس میں اسی کا بھلا ہے۔ اور جو خود ہی کچھ نہیں سمجھنا چاہتا تو وہ خود ہی اس کا نقصان برداشت کرے گا۔ اس سے آگے یک لخت متکلم بدل گیا ہے پہلے سلسلہ کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا اور ’’میں تم پر محافظ نہیں‘‘ یہ جملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ہے۔ اس طرح کی ضمائر کی تبدیلی کلام عرب میں بکثرت پائی جاتی ہے اور ایسے کلام کو اتنا ہی زیادہ فصیح شمار کیا جاتا ہے۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے ہیں کہ جو لوگ ان بصیرت افروز دلائل میں غور و فکر کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے تو میرے ذمہ یہ ڈیوٹی نہیں کہ میں وہ دلائل ایسے لوگوں کو دکھا کے یہ سمجھا کے چھوڑوں۔ الانعام
105 [١٠٧] قرآن میں ایسی آیات الٰہی بہت سے مقامات پر مذکور ہیں جو مختلف اوقات میں، مختلف ماحول میں اور مختلف انداز بیان سے نازل ہوتی رہیں۔ اگرچہ ان میں حقائق وہی ہیں جو پہلے بھی بیان ہوچکے ہیں۔ اس طرح نئے نئے پیرایہ میں دلائل بیان کرنے کے دو بڑے فائدے ہیں ایک یہ کہ آیات الٰہی میں غور و فکر کرنے والوں کو کسی وقت بھی ہدایت نصیب ہو سکتی ہے اور دوسرے یہ کہ متعصب اور معاند لوگوں کی کج فہمی کھل کر سامنے آ جائے جو یہ بات تو کسی صورت ماننے کو تیار نہیں کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے بلکہ اس کے علاوہ ہر غیر معقول صورت بتانے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ اور ایسی کڑیاں ملانے کی کوشش کرتے ہیں جن سے یہ ثابت کرسکیں کہ اس امی نے ایسا کلام یقیناً کسی عالم سے پڑھا ہے۔ الانعام
106 [١٠٨] پہلے بتایا جا چکا ہے کہ یہ سورۃ ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے نازل ہوئی تھی (ماسوائے چھ آیات کے) اور اس وقت مسلمانوں پر سخت آزمائش کا دور تھا۔ اس وقت یہی حکم تھا کہ مشرکوں سے کنارہ کش رہا جائے۔ لیکن جب فتح مکہ کے بعد اسلام کو غلبہ حاصل ہوگیا۔ تو پھر یہ حکم نہ رہا بلکہ ان کے ساتھ جنگ وجدال کا حکم ہوا۔ اور کعبہ میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔ جیسا کہ سورۃ توبہ کے آغاز میں مشرکین کے لیے احکام بیان ہوئے ہیں۔ الانعام
107 الانعام
108 [١٠٩] کسی بڑے فتنہ سے بچنے کے لئے کوئی اچھا کام چھوڑ دینا یا چھوٹنا فتنہ گوارا کرلینا :۔ صبر و ضبط سے کام لو اور غصہ میں آ کر ان کے معبودوں کو برا بھلا نہ کہو ورنہ ردعمل کے طور پر تمہارے معبود حقیقی اللہ کو گالیاں دینا شروع کردیں گے اور بالواسطہ تم خود ہی اللہ کو گالی دینے کا سبب بن جاؤ گے حالانکہ ان کے معبودوں کے برا ہونے میں کوئی شک نہیں اور ان کو برا کہنے میں کوئی حرج بھی نہیں بلکہ اچھی بات ہے اس آیت سے یہ اصول معلوم ہوا کہ اگر کسی اچھے کام کے کرنے سے اس کے ردعمل کے طور پر کسی بڑے فتنہ کا خوف ہو تو اس اچھے کام کو چھوڑ دینا چاہیے بلکہ اس سے بھی آگے یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب کسی چھوٹے فتنہ سے بچنے کی صورت میں کسی بڑے فتنہ کے بپا ہونے کا خطرہ ہو تو اس چھوٹے فتنہ کو گوارا کرلینا چاہیے اس کی واضح مثال یہ ہے کہ مکہ میں کچھ مسلمان اپنی کمزوری ایمان کی وجہ سے ہجرت نہیں کر رہے تھے اور مشرکین مکہ کے پاس ہی پناہ لیے ہوئے تھے۔ جب ان مشرکوں کی مسلمانوں سے جنگ ہوتی تو مشرک ان ہجرت نہ کرنے والوں کو اپنی فوج کے آگے کردیتے (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ توبہ) اب اگر مسلمانوں کی فوج ان مسلمانوں کو مارے تو ان کے قتل کی مجرم بنتی ہے اور نہ مارے تو سارے مسلمان مرتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ان مسلمانوں کو مار دینا ہی قرین صواب ہے اور اللہ نے ایسے ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں پر سخت نکیر فرمائی ہے۔ جمہوری نظام پر تبصرہ اور ووٹ ڈالنے کی حیثیت :۔ موجودہ دور میں اس کی مثال کسی جمہوری نظام سیاست میں الیکشن کے دوران ووٹ ڈالنے کا مسئلہ ہے۔ اور یہ بات تو واضح ہے کہ جمہوری نظام اسلام اور اسلامی نظام خلافت کی عین ضد ہے۔ جمہوری نظام میں مقتدر اعلیٰ کوئی انسان یا ادارہ ہی ہوسکتا ہے جبکہ اسلامی نقطہ نظر سے مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو ہی نہیں سکتا۔ بلکہ مقتدر اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یہی وہ بنیادی فرق ہے جس کی بنا پر ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام اور جمہوریت میں سمجھوتہ ہونا ناممکن ہے اگرچہ پاکستان کے دستور میں یہ الفاظ لکھ دیئے گئے ہیں کہ ’’مقتدر اعلیٰ اللہ تعالیٰ ہے‘‘ مگر اس پر عمل درآمد ناممکن ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر فی الواقع اللہ تعالیٰ کو مقتدر اعلیٰ تسلیم کرلیا جائے تو موجودہ جمہوری نظام کا از خود جنازہ نکل جاتا ہے۔ علاوہ ازیں جمہوری نظام میں پانچ باتیں ایسی ہیں جن میں سے کسی ایک کے بغیر بھی جمہوریت کی گاڑی چل ہی نہیں سکتی اور یہ باتیں شرعاً ناجائز ہیں اور وہ یہ ہیں۔ ١۔ سیاسی پارٹیوں کے وجود کا ضروری ہونا۔ ٢۔ طلب امارت یعنی نمائندہ اسمبلی بننے کے لیے از خود درخواست دینا۔ پھر اس کے لیے ہر جائز و ناجائز ذرائع سے تگ و دو کرنا۔ ٣۔ کثرت رائے کو معیار حق قرار دینا۔ ٤۔ حق بالغ رائے دہی۔ یعنی ہر کس و ناکس کو بشمول خواتین ووٹ کا حق دینا اور ٥۔ ہر کس و ناکس کے ووٹ کی قیمت برابر قرار دینا۔ اس صورت حال میں مناسب تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ووٹ ڈال کر اس نظام کی قطعاً حوصلہ افزائی نہ کی جائے مگر اس سے بھی بسا اوقات یہ خطرہ پیدا ہوجاتا ہے کہ کوئی دین سے بے زار عنصر ہی برسراقتدار نہ آ جائے لہٰذا جو پارٹی دینی لحاظ سے نسبتاً بہتر ہو اس سے تعاون کرنا ضروری ہوجاتا ہے اور اس کا جواز صرف اس حد تک ہی ہے کہ ایک بڑے فتنہ کے سدباب کے لیے ایک چھوٹے فتنہ کو گوارا کرلیا جاتا ہے یہ تو اس کا وقتی علاج ہے اور اصل علاج یہ ہے کہ اس کا فرانہ نظام سیاست کو بدلنے کے لیے وہی راہ اختیار کی جائے جو انبیائے کرام کا شیوہ رہا ہے۔ [١١٠] ہر فرقہ اپنے ہی عقائد و اعمال میں کیوں خوش رہتا ہے؟ یہ دنیا چونکہ دارالامتحان ہے اس کا نظام ہم نے ایسا رکھا ہے اور ایسے اسباب جمع کردیئے ہیں کہ یہاں ہر قوم اپنے اعمال اور طور و طریق پر نازاں رہتی ہے اللہ نے انسانی دماغ کی ساخت ایسی نہیں بنائی کہ وہ صرف سچائی کے قبول اور پسند کرنے پر مجبور ہو اور غلطی کی طرف جانے کی اس میں گنجائش نہ ہو۔ البتہ اللہ کے پاس جا کر جب حقائق سامنے آ جائیں گے تو ہر ایک کو معلوم ہوجائے گا کہ دنیا میں جو کام وہ کرتا رہا ہے کیسا تھا ؟ اس دنیا میں اگر کوئی فرقہ حق کی مخالفت میں بھی سر گرم ہو تو اسے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ الانعام
109 [١١١] کفار مکہ کا معجزہ کا مطالبہ اور اس مطالبہ کے جواب :۔ کفار مکہ کہتے تھے کہ اگر کوہ صفا خالص سونے کا بن جائے تو ہم یقینا ایمان لے آئیں گے اور بعض مسلمانوں کو یہ خیال آ گیا کہ اگر ان کی یہ حجت پوری ہوجائے تو اچھی بات ہوگی۔ اس آیت میں اس پس منظر کو ملحوظ رکھا گیا ہے اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ ان کفار کو ایسا معجزہ پیش کرنے سے صاف جواب دے دو۔ اور کہہ دو کہ ایسا معجزہ دکھانا اللہ کے اختیار میں ہے، میرے اختیار میں کچھ نہیں اور مسلمانوں سے یوں خطاب فرمایا کہ تمہیں یہ کیسے معلوم ہوگیا کہ اگر انہیں ایسا معجزہ دکھا دیا جائے تو یہ لوگ ضرور ایمان لے ہی آئیں گی۔ یہ لوگ تو ایسے بدبخت ہیں کہ کوئی بھی معجزہ دیکھ لیں، ایمان نہیں لانے کے۔ لہٰذا ان سے کسی طرح کی خیر کی توقع مت رکھو۔ الانعام
110 [١١٢] یعنی اگر یہ لوگ معجزہ دیکھ کر ایمان لانے والے ہوتے تو قرآن بذات خود کیا کم معجزہ تھا جس کے کھلے کھلے چیلنج کے باوجود یہ سب مل کر بھی اس جیسی ایک سورۃ بھی پیش نہ کرسکے اور اب اگر مزید ہم انہیں کوئی معجزہ دکھائیں گے تو پھر بھی ان کی یہ کیفیت ہوگی۔ یہ پھر اسی طرح بصارت اور بصیرت کے لحاظ سے اندھے بن جائیں گے جس طرح پہلے سے بنے ہوئے ہیں۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے ان کی گمراہی کی نسبت اپنی طرف کیوں کی کہ ہم انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا چھوڑ دیں گے تو اس کے متعلق پہلے وضاحت کی جا چکی ہے کہ اسباب کا اختیار کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے اور اسی اختیار پر انسان کا مواخذہ ہوگا۔ رہے ان اسباب کے نتائج تو نتائج پیدا کرنا اللہ کے اختیار میں ہے۔ لہٰذا نتائج کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ہو سکتی ہے۔ اور عمل کرنے والوں کی طرف بھی اور قرآن میں یہ دونوں صورتیں موجود ہیں۔ الانعام
111 [١١٣] اس آیت میں بھی کفار کے کسی حسی معجزہ کے مطالبہ کا جواب دیا جا رہا ہے یعنی ان بدبختوں کا یہ حال ہے کہ اگر ہم فرشتے نازل کرتے جو ان کے سامنے گواہی دیتے کہ یہ پیغمبر واقعی اللہ کا رسول ہے اور یہ کتاب واقعی منزل من اللہ ہے۔ اور قبروں سے مردے اٹھ کر ان کو بتاتے کہ واقعی جو کچھ یہ پیغمبر کہتا ہے سچ کہتا ہے اور مرنے کے بعد کے حالات کچھ ہم دیکھ چکے ہیں بلکہ لاکھ معجزے ان کو دکھا دیتے تو صاف کہہ دیتے کہ یہ تو صاف جادو ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے ایمان لانے کی طرف پھر بھی نہ آتے۔ [١١٤] ﴿ اِنْ یَشَاِ اللّٰہُ﴾ کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ میں بیان کردیا گیا ہے یعنی کوئی ایک آدھ آدمی ایمان لے آتا جس کے نصیب میں ہوتا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ کی مشیئت میں ہوتا تو یہ سب ایمان لا سکتے تھے مگر اس طرح کا جبری ایمان نہ اللہ کی مشیئت میں ہے اور نہ اس کا کچھ فائدہ ہوتا ہے۔ [١١٥] یہ خطاب ان مسلمانوں کی طرف بھی ہوسکتا ہے جو یہ چاہتے تھے کہ اگر ان کے معجزہ کے مطالبہ کی حجت پوری کردی جائے تو شاید یہ کافر ایمان لے ہی آئیں اور بتایا یہ جا رہا ہے کہ یہ نادانی کی باتیں ہیں ان سے ایمان لانے کی توقع رکھنا عبث اور فضول ہے اور ان کافروں کی طرف بھی جو کسی حسی معجزہ کا مطالبہ کر رہے تھے ان کا یہ مطالبہ ہی ان کی نادانی کی دلیل ہے کہ جو شخص اپنے اندر اور اپنے باہر کائنات میں پھیلی ہوئی لاکھوں نشانیوں سے ہدایت حاصل نہیں کرنا چاہتا وہ ایسے معجزہ کو دیکھ کر بھی باتیں ہی بناتا رہے گا۔ الانعام
112 [١١٦] کافروں کی گمراہ کن تدبیریں اور پروپیگنڈے :۔ یعنی یہ معرکہ حق و باطل ہر نبی کو پیش آتا رہا ہے۔ سب شیطانی قوتیں انبیاء کے مقابلہ میں ڈٹ کر آ کھڑی ہوتی ہیں اور ان دشمنوں میں صرف انسان ہی نہیں ہوتے شیطان بھی شامل ہوجاتے ہیں جو اپنے دوستوں کے دلوں میں کئی خوش آئند تدابیر القاء کرتے رہتے ہیں کہ اسلام اور پیغمبر کے خاتمہ کے لیے یہ تدبیر بھی کارگر ہو سکتی ہے اور یہ تدبیر اس سے زیادہ بہتر ہے۔ نیز وہ کچھ ایسی تدبیریں پیش کرتے ہیں جو بظاہر اچھی معلوم ہوتی ہیں لیکن اصل میں وہ مکر و فریب ہوتا ہے جیسے یہودیوں نے یہ تدبیر کی تھی کہ کچھ یہود ایمان لے آئیں پھر تھوڑے عرصہ بعد مرتد ہوجائیں۔ معاشرہ ہمارے اس فعل سے یہ اثر لے گا کہ یقینا دال میں کچھ کالا کالا ہے ورنہ یہودی تو عالم لوگ ہیں اگر اسلام سچا مذہب ہوتا تو یہ حق سے کیسے انحراف کرسکتے تھے پھر ایسی باتوں کا لوگوں میں پروپیگنڈہ بھی خوب کرتے ہیں۔ یا جیسے مشرک کہتے تھے کہ کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمان اللہ کے مارے ہوئے (مردار) کو تو حرام سمجھتے ہیں اور اپنے مارے ہوئے (ذبح کردہ) کو حلال قرار دیتے ہیں۔ الانعام
113 [١١٧] ایسی مکر و فریب والی تدابیر یہ شیاطین اس لیے کرتے ہیں کہ جن لوگوں کا ایمان لانے کا ارادہ ہو وہ ان کے بھرے میں آ جائیں اور یہ سمجھ لیں کہ ہم پہلے سے جس دین پر قائم ہیں وہی حق اور درست ہے۔ پھر اپنی تمام مساعی اپنے اسی پرانے دین کی مدافعت میں صرف کرنے لگیں۔ الانعام
114 [١١٨] اہل کتاب کی ثالثی؟ یہ رسول اللہ کا خطاب مشرکین مکہ کو ہے جنہوں نے کہا تھا کہ یہود اور نصاریٰ دونوں اہل کتاب بھی ہیں اور عالم بھی ہیں لہٰذا آپ ان میں سے کسی کو ثالث تسلیم کرلیں۔ جو ہم میں فیصلہ کر دے کہ ہم میں کون حق پر ہے یا وہ صلح یا سمجھوتہ کی کوئی راہ نکال دیں۔ ان کی اس تجویز کا جواب یہ ہے کہ میرا حکم صرف اللہ تعالیٰ ہے جس نے ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہدایت کی وہ ساری باتیں آ گئی ہیں جو تورات اور انجیل میں ہیں۔ علاوہ ازیں وہ یہ بھی بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے اپنی کتابوں سے کیا سلوک کیا کن کن آیات کی وہ لفظی اور معنوی تحریف کرچکے ہیں اور کون کون سی آیات کو چھپا رہے ہیں۔ تو کیا میں اللہ کو چھوڑ کر ایسے غلط کار لوگوں کو اپنا منصف تسلیم کروں؟ یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ [١١٩] الذین سے مراد اہل کتاب بھی ہو سکتے ہیں اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ کو اس بات میں ہرگز شک نہ ہونا چاہیے کہ اہل کتاب یہ بات خوب سمجھتے ہیں کہ یہ کتاب قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور حقائق پر مبنی ہے اگرچہ زبان سے اقرار نہ کریں۔ اور الذین سے مراد مسلمان بھی ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں کسی قسم کے شک کی گنجائش ہی نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت قرآن کو ہدایت کا سرچشمہ، منزل من اللہ اور ٹھیک ٹھیک امر حق کی نشاندہی کرنے والی کتاب سمجھتی ہے۔ الانعام
115 [١٢٠] قرآن پاک کی تمام تر خبریں سچی اور احکام معتدل ہیں :۔ یعنی اس کتاب میں توحید باری تعالیٰ پر اتنے دلائل دیئے جا چکے ہیں کہ جن سے حق نکھر کر سامنے آ چکا ہے۔ آپ کے پروردگار کے فرامین سچائی اور انصاف کے ساتھ پورے ہوچکے۔ اس کتاب کی تمام تر خبریں سچی ہیں اور اس کے احکام معتدل اور منصفانہ ہیں۔ کسی کی مجال نہیں کہ ان احکام و فرامین میں کسی طرح کا رد و بدل کرسکے یا اس میں سے کسی آیت کو چھپا سکے یا اپنی طرف سے کچھ اضافہ کرسکے۔ واضح رہے کہ کسی بھی الہامی کتاب کو سرسری طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ جس کا تعلق اخبار یا خبر دینے سے ہوتا ہے جو وہ گزشتہ قوموں اور انبیاء کے حالات ہوں یا آئندہ کے متعلق پیش گوئیاں ہوں مثلاً قیامت سے پیشتر کون کون سے فتنے یا حوادث پیش آنے ہیں اور خواہ ان کا تعلق مابعد الطبیعیات سے ہو جیسے دوبارہ زندہ ہونا، اللہ کے حضور پیشی اور اپنے اپنے اعمال کی باز پرس اور جنت اور دوزخ وغیرہ کے حالات کا بیان اور دوسرا حصہ وہ ہے جس میں اوامر و نواہی بیان کیے جاتے ہیں خواہ اللہ کے حقوق سے متعلق ہوں یا بندوں کے حقوق سے یا خواہ معاشرتی اور تمدنی احکام ہوں یا معاشی یا سیاسی ہو یا عائلی زندگی سے متعلق ہوں۔ قرآن کریم میں پہلی قسم سے متعلق جو خبریں دی گئی ہیں وہ مکمل اور ٹھوس حقائق پر مبنی اور سچی ہیں۔ اور دوسرے حصہ میں جو احکام بیان کیے گئے ہیں وہ افراط و تفریط سے پاک اور نہایت معتدل اور متوازن ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب لوگوں کی خود باتیں سننے والا اور ان کے ہر طرح کے حالات کو خوب جاننے والا ہے۔ الانعام
116 [١٢١] اکثریت کا مذہب محض تقلید اور وہم وقیاس پر ہے :۔ تاریخ اور مشاہدہ دونوں اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ کسی بھی معاشرہ میں اہل خرد اور ذہین اور بااصول لوگ کم ہی ہوا کرتے ہیں۔ معاشرہ کی اکثریت جاہل عوام پر مشتمل ہوتی ہے۔ قرآن نے متعدد مقامات پر ایسی اکثریت کو جاہل، فاسق، ظالم اور مشرک قرار دیا ہے ان لوگوں کا اپنا کوئی اصول نہیں ہوتا۔ نہ انہیں کسی بات کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی وہ علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں اپنے کھانے پینے کے سوا نہ کسی چیز کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے علاوہ وہ کوئی اور بات سوچنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔ ان کے زندگی گزارنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جس رخ لوگوں کی اکثریت جا رہی ہو ادھر ہی وہ بھی چل پڑتے ہیں۔ وہ کسی بات کی تحقیق نہ کرنا چاہتے ہیں اور نہ کرسکتے ان کے عقائد اور ان کے اعمال سب کچھ وہم و قیاس پر مبنی ہوتے ہیں۔ پھر چونکہ اکثریت کی آراء مختلف بھی ہوتی ہیں اور بدلتی بھی رہتی ہیں۔ لہٰذا اکثریت کی اتباع ہمیشہ گمراہی پر منتج ہوا کرتی ہے اسی لیے آپ کو اور مسلمانوں کو ان کے کہنے پر چلنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس اللہ کی ہدایت کا راستہ صرف ایک ہی ہے اور ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے اور ایک ہی رہے گا۔ سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخر الزماں تک تمام انبیاء کو اسی راستہ پر چلنے کی تاکید کی جاتی رہی ہے لہٰذا طالب حق کو ہرگز وہ نہ دیکھنا چاہیے کہ دنیا کے لوگوں کی اکثریت کس راستہ پر چل رہی ہے بلکہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اس راہ پر چلنا چاہیے جو اللہ نے بتائی ہے خواہ اس راہ پر چلنے والوں کی تعداد کتنی ہی قلیل ہو۔ اسی آیت سے موجودہ مغربی جمہوری نظام بھی باطل قرار پاتا ہے جس میں اکثریت کی رائے کو حق کا معیار قرار دیا گیا ہے نیز ہر کس و ناکس کی رائے کو مساوی حیثیت دی گئی ہے۔ اس نظام میں ایک عالم اور ایک جاہل کی رائے کو یکساں درجہ دیا جاتا ہے اور یہ دونوں باتیں قرآن کی صریح آیات کے خلاف ہیں۔ الانعام
117 الانعام
118 [١٢٢] حلال جانور کو کھانے کی شرائط :۔ کسی حلال جانور کو کھانے کے لیے شریعت نے دو شرائط عائد کی ہیں۔ ایک یہ کہ ذبح کیا جائے اور اس کا خون نکال دیا جائے دوسرے ذبح کرتے وقت اس پر اللہ کا نام لیا جائے۔ علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو یہ شرارت سمجھائی کہ مسلمانوں سے پوچھو کہ جو چیز اللہ نے ماری ہو اسے تو تم حرام قرار دیتے ہو اور جو چیز تم خود مارو اسے حلال سمجھتے ہو۔ ایمان لانے کے بعد وحی کی اتباع ضروری ہے خواہ اس حکم کی سمجھ آئے یا نہ آئے :۔ اس پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ جب تم نے بنیادی طور پر دلائل صحیحہ کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت کو تسلیم کرلیا ہے تو اب فروع و جزئیات کی صحت کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔ اگر ہر اصل اور فرع کو قبول کرنا ہمارے ہی عقلی قیاسات پر موقوف ہو تو پھر وحی اور نبوت کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ بالفاظ دیگر ہر شخص ایمان لانے یا نہ لانے کی حد تک تو خودمختار ہے۔ چاہے ایمان لائے یا نہ لائے۔ لیکن جب ایمان لا چکا تو پھر اسے وحی کے تابع رہ کر چلنا ہوگا خواہ اسے شرعی احکام کی علت یا مصلحت سمجھ میں آئے یا نہ آئے تاہم علماء نے اس بات کی تصریح کردی ہے کہ اللہ نے صرف وہ چیزیں حرام کی ہیں جن کا کھانا انسان کی جسمانی یا روحانی صحت کے لئے مضر ہو۔ ذبح کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ خون جسے اللہ نے حرام کردیا ہے جانور کے جسم سے نکل جاتا ہے اور جانور پاک ہوجاتا ہے۔ اگر یہ خون جسم میں رہ جائے تو جسمانی صحت کے لیے مضر ہوتا ہے اور اللہ کا نام لینے کا حکم کھانے میں برکت اور روحانی تربیت کے لیے دیا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ذبح پر مشرکوں کا اعتراض اور مردار کھالینا : کافروں کا دستور یہ تھا کہ وہ مرا ہوا جانور تو کھا لیتے ہیں لیکن خود اپنے ہاتھوں سے ذبح کر کے نہیں کھاتے تھے۔ مرے ہوئے کے متعلق وہ یہ سمجھتے تھے کہ چونکہ اسے اللہ نے مارا ہے لہٰذا اس کا کھانا جائز ہے اور خود ذبح کرنے کو کسی جانور کا خون کرنے کے مترادف سمجھتے تھے خواہ اس پر اللہ کا نام ہی لیا جائے۔ اسی بنا پر یہود نے ان کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا تھا حالانکہ یہود تو اصل حقیقت سے واقف تھے۔ مگر اسلام دشمنی نے ان دونوں کو ہم نوا بنا دیا تھا۔ یہود کے اس پروپیگنڈے کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی گمراہ کن چال سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے یعنی حلال طریقہ پر ذبح کیا جائے۔ اس کے کھانے میں تمہیں کسی قسم کا تامل نہ ہونا چاہیے اور ان لوگوں کے اس پروپیگنڈہ کا کچھ اثر قبول نہ کرنا چاہیے اس لیے کہ جو اشیاء فی الواقع حرام ہیں ان کے متعلق احکام تمہیں پہلے بتلائے جا چکے ہیں۔ الانعام
119 [١٢٣] یہ غالباً سورۃ نحل کی آیت نمبر ١١٥ کی طرف اشارہ ہے وہاں بھی مردار، خون، خنزیر اور غیر اللہ کے نام پر مشہور کردہ چیزوں کا ذکر ہے پھر انہی چیزوں کا ذکر اسی سورۃ کی آیت نمبر ١٤٥ میں بھی آیا ہے۔ پھر سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ١٧٣ پھر سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ٣ میں کچھ مزید تفصیلات بھی آ گئی ہیں۔ لہٰذا سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ٣ کا حاشیہ ملاحظہ کرلیا جائے۔ [١٢٤] ان لوگوں سے مراد وہی علمائے یہود ہیں جنہوں نے مشرکین مکہ کو یہ پٹی پڑھائی تھی اور وہ حد سے گزرنے والے اس لحاظ سے تھے کہ ایک تو خود گمراہ تھے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے تھے اور شکوک و شبہات میں ڈالنا چاہتے تھے اور دوسرے اس لیے کہ یہ سب کچھ انہوں نے ازراہ شرارت کیا تھا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو وہ خوب جانتے تھے۔ الانعام
120 [١٢٥] ظاہری گناہ کیا ہیں اور باطنی کیا ؟ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس فقرہ کا مطلب یہ ہوگا کہ ان مشرکوں کے بہکانے پر نہ ظاہراً کوئی عمل کرو اور نہ دل میں کسی قسم کا شک و شبہ رکھو تاہم یہ حکم عام ہے۔ ظاہری گناہوں سے مراد ایسے گناہ ہیں جنہیں دوسرے لوگ دیکھ سکیں اور باطنی گناہ وہ ہیں جنہیں دیکھا نہ جا سکے جیسے کفر اور شرک کا عقیدہ حسد، بغض، بخل، تکبر وغیرہ جن کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ الانعام
121 [١٢٦] جس چیز پر ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام لیا جائے وہ قرآن کی متعدد آیات کی تصریح کے مطابق حرام ہے اور جس پر عمداً اللہ کا نام نہ لیا جائے وہ اس آیت کی رو سے حرام ہے اور اگر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے۔ نیز اس کی دلیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہمارے پاس لوگ گوشت بیچنے آ جاتے ہیں۔ وہ نیا نیا اسلام لائے ہیں۔ معلوم نہیں انہوں نے ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا تھا یا نہیں لیا تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم خود بسم اللہ پڑھ لیا کرو اور اسے کھالیا کرو۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الذبائح والصید والتسمیہ۔ باب ذبیحہ الاعراب و نحو ہم) نیز دیکھئے اسی سورۃ کی آیت نمبر ١٣٨ کا حاشیہ۔ [١٢٧] عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے’’کیا جس چیز کو ہم خود ماریں (ذبح کریں) اسے تو کھا لیں اور جسے اللہ مارے (یعنی مر جائے) اسے نہ کھائیں؟‘‘ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر) [١٢٨] حلت وحرمت کا اختیار صرف اللہ کو ہے :۔ یعنی شرک صرف یہی نہیں کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کی پرستش کی جائے یا اسے حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارا جائے یا اس کے نام کی قربانی یا نذر و نیاز دی جائے بلکہ اللہ کے سوا کسی کے حلال بتائے ہوئے کو حلال اور حرام بتائے ہوئے کو حرام سمجھنا بھی شرک ہی ہوتا ہے کیونکہ حلال و حرام ٹھہرانے کے جملہ اختیارات صرف اللہ کو ہیں چنانچہ جب یہ آیت ﴿ اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰــہًا وَّاحِدًا ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۭسُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ﴾ نازل ہوئی تو عدی بن حاتم (جو پہلے عیسائی تھے) کہنے لگے ’’یا رسول اللہ ! ہم لوگ اپنے علماء و مشائخ کو رب تو نہیں سمجھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا جس چیز کو وہ حلال کہتے یا حرام کہتے تو تم ان کی بات مان لیتے تھے؟ عدی کہنے لگے : ہاں! یہ تو تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بس یہی رب بنانا ہے۔‘‘ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) اس آیت میں مسلمانوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ وہ یہودیوں کی اس طرح کی گمراہ کن اور شرک میں مبتلا کرنے والی چالوں میں نہ آئیں اور اگر انہوں نے یہود کا کہنا مان لیا تو وہ بھی مشرک ہی بن جائیں گے۔ الانعام
122 [١٢٩] ایک کافر اور ایماندار کی مثال :۔ یہاں مردہ سے مراد روحانی طور پر مردہ ہے۔ یعنی ایک شخص پہلے کافر تھا پھر وہ اسلام لے آیا اور اسے وحی کے علم کی روشنی نصیب ہوئی۔ لوگوں میں رہ کر وہ اسی روشنی کے مطابق اپنی زندگی بسر کر رہا ہے اور دوسرا شخص کفر و شرک اور جہالت و ضلالت کی تاریکیوں میں ڈبکیاں کھا رہا ہے اور اسے ان تاریکیوں سے نکلنے کی کوئی راہ بھی نہیں مل رہی تو کیا ان دونوں کی حالت یکساں ہو سکتی ہے اور نکلنے کی راہ اس لیے نہیں ملتی کہ انہیں یہ تاریکیاں ہی روشنی معلوم ہونے لگتی ہیں اور ان کے برے کام انہیں بھلے معلوم ہونے لگتے ہیں ہر بدکاری میں انہیں مزہ آتا ہے اور ہر حماقت کو وہ تحقیق سمجھنے لگتے ہیں۔ الانعام
123 [١٣٠] کفار کے مکر انہی پر الٹ پڑتے ہیں :۔ یعنی جس طرح مکہ کے قریشی سردار مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کر رہے ہیں اور دوسروں کی انگے خت پر مکروفریب کر رہے ہیں۔ تو یہ بات صرف مکہ کے سرداروں سے ہی مختص نہیں بلکہ ہر بستی کے سرداروں کا یہی حال ہوتا ہے وہ حق کے راستہ میں روڑے اٹکاتے اور مکر و فریب کرتے ہی رہتے ہیں اور یہی لوگ اللہ کے نزدیک سب سے بڑے مجرم ہوتے ہیں اور وہ یہ کام اس لیے کرتے ہیں کہ حق کی دعوت سے ان کی سرداری پر کاری ضرب لگتی ہے جیسے فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزات دیکھ کر کہہ دیا تھا کہ یہ تو صریح جادو ہے اور اس کا مقصد حکومت پر قبضہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جتنے مکر و فریب یہ چاہیں کر دیکھیں آخر خود ہی وہ اس جال میں پھنس جائیں گے مگر اس وقت انہیں اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی۔ الانعام
124 [١٣١] رسالت وہبی چیز اور کفار کا مطالبہ رسالت :۔ جیسے مثلاً انشقاق قمر کا معجزہ دیکھا تو کہہ دیا کہ یہ صاف جادو ہے یہ ان کی ہٹ دھرمی کی ایک دلیل ہے اور اب کہہ رہے ہیں کہ رسولوں کی طرح ہم پر فرشتہ نازل ہو اور رسولوں کو جو کتاب و حکمت اور نبوت دی گئی ہے۔ یہ چیزیں جب تک ہمیں میسر نہ ہوں ہم ایمان نہیں لا سکتے حالانکہ وحی کا بار ہر انسان اٹھانے کا متحمل ہی نہیں ہوتا۔ یہ استعداد اللہ تعالیٰ انبیاء کے قلوب میں پیدائش ہی سے رکھ دیتا ہے اور یہ صفت اللہ کا دین اور فضل ہوتی ہے۔ محنت مشقت اور ریاضتوں سے حاصل نہیں ہو سکتی اور یہ بات بھی اللہ ہی جانتا ہے کہ انسانوں میں کون نبوت کا بار اٹھانے کے قابل ہے اور یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں تکبر اور سرکشی کی بنا پر کر رہے ہیں اور حق کے راستہ میں اپنے مکر و فریب سے جو کانٹے بچھا رہے ہیں اس کی پاداش میں انہیں ذلت اور رسوائی کے عذاب سے اس دنیا میں بھی دوچار ہونا پڑے گا اور آخرت میں بھی۔ الانعام
125 [١٣٢] انشراح صدر کیا ہے ؟ سینہ کھول دینے سے مراد یہ ہے کہ وہ فراخدلی کے ساتھ اسلام کی دعوت کو قبول کرلیتا ہے اور اس کی حقانیت پر اس کا دل مکمل طور پر مطمئن ہوجاتا ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور سینہ میں گھٹن پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی دعوت سنتے ہی اس کے دل میں گھٹن پیدا ہوجاتی ہے وہ اس دعوت کو سمجھنے اور اس میں غور کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا پھر اس کے اس رویہ سے یہ گھٹن دم بدم بڑھتی جاتی ہے۔ پھر اس کی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ حق اس کے دل میں داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ اس وقت اسے اسلام کی کامیابی سے اتنی کوفت ہوتی ہے جیسے وہ بمشکل کسی بلندی یا پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ رہا ہو اور سانس پھولنے کے باوجود وہ بلندی پر چڑھنے کے لیے مجبور ہو۔ [١٣٣] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس مقام پر رجس کا ترجمہ شیطان سے کیا ہے اس طرح مطلب یہ ہوگا کہ ہم ایسے شخص پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اسے ایمان لانے کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔ نیز رجس کا معنی ناپاکی بھی ہے اور عذاب بھی۔ ترجمہ میں ناپاکی ہی معنیٰ لکھا گیا ہے اور اگر عذاب ہو تو اس سے مراد ہے کہ دنیا میں اس پر لعنت کا عذاب مسلط کردیا جاتا ہے اور آخرت میں جو عذاب ہوگا وہ سخت تر ہے۔ الانعام
126 الانعام
127 [١٣٤] یعنی اللہ کے فرمانبردار بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ ایسی جائے رہائش عطا فرمائیں گے جہاں ہر تکلیف سے سلامتی اور حفاظت ہوگی وہ گھر قیامت کی رستاخیز ہولناکیوں سے اور دوزخ کی آگ کی گرمی سے محفوظ ہوگا وہاں ان پر اللہ کی طرف سے بھی سلامتی نازل ہوگی۔ فرشتے بھی ان کی سلامتی کی دعا کریں گے۔ آپس میں بھی وہ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا دیں گے۔ انہیں وہاں کسی مرض سے یا تکلیف سے یا غم و اندوہ سے بھی دو چار نہ ہونا پڑے گا۔ بلکہ انہیں وہاں مسلسل اور لازوال نعمتیں مہیا ہوں گی۔ الانعام
128 [١٣٥] جنوں کا انسانوں کے سر چڑھنا :۔ سورۃ جن میں اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون سے ملتا جلتا مضمون بیان فرمایا ہے کہ آدمیوں میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو جنوں سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ انسانوں کے اس فعل نے جنوں کی سرکشی کو اور بڑھا دیا۔ یعنی جن انسانوں کے سر پر چڑھ گئے۔ دور جاہلیت میں جب کوئی شخص جنگل میں پھنس جاتا یا کسی سفر میں اسے جان کا خطرہ درپیش ہوتا تو وہ یوں کہتا میں اس جنگل کے مالک کی پناہ میں آتا ہوں۔ یعنی ان لوگوں کے وہم کے مطابق ہر جنگل کا الگ الگ بادشاہ ہوتا تھا اور جو شخص اس سے پناہ مانگتا تو وہ اس کی فریاد کو بھی پہنچتا تھا اور یہ بادشاہ کوئی شیطان یا جن ہی ہوا کرتا تھا۔ جو آدمیوں کی ایسی فریاد سن کر خوشی سے پھولا نہ سماتا اور کہتا میں جنوں کے علاوہ آدمیوں کا بھی سردار بن گیا۔ جن ایک غیر مرئی مخلوق ہے جو مختلف شکلیں اختیار کرسکتے ہیں۔ ان میں بھی انسانوں کی طرح اکثریت برے لوگوں کی ہے جنہیں خبیث روحیں بھی کہا جاتا ہے۔ یہ روحیں بعض دفعہ سفر میں اور بالخصوص ناپاک جگہوں میں کوئی بری سی شکل دھار کر انسانوں کو خوفزدہ کرتی ہیں اور ان پر اپنا رعب جماتی ہیں۔ ایسی بد روحوں کو ہمارے ہاں عموماً بھوت اور چڑیل کہا جاتا ہے۔ بیت الخلاء میں جاتے وقت ہمیں جو دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے وہ یوں ہے ’’اے اللہ ! میں جنوں اور جننیوں (بد روحیں مذکر ہوں یا مونث) سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الاستیذان۔ باب الدعاء عندالخلاء) جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایسی بد روحیں انسان کو تنگ اور پریشان کرسکتی ہیں۔ جنوں اور انسانوں کا ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانا :۔ اب جنوں اور انسانوں کی ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے کی صحیح صورتیں تو ہمیں معلوم نہیں تاہم ایک مشہور و معروف صورت جو ہم دیکھتے ہیں وہ تسخیر جنات کی صورت ہے۔ جنوں کو مسخر کرنے والے انسانوں کو ہماری زبان میں عامل کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ قرآن کریم کی مختلف سورتوں، آیتوں یا بعض دوسرے جنتروں منتروں کی زکوٰۃ نکالتے ہیں۔ اور زکوٰۃ نکالنا، کی اصطلاح ان کے پورے عمل کو ظاہر کرنے کے لیے وضع کی گئی ہے۔ ان کے زکوٰۃ کے عمل کی یہ صورت ہوتی ہے کہ مثلاً ایک شخص سورۃ جن کی زکوٰۃ نکالنا چاہتا ہے تو وہ چالیس دن رات کو کسی جنگل میں جا کر مقررہ تعداد میں سورۃ مذکور کو پڑھے گا اور اپنے گرد ایک حصار یا گول دائرہ کھینچ لے گا اور یہ عمل چالیس دن تک برابر جاری رکھے گا اور ان دنوں میں فلاں فلاں کھانے یا فلاں کام کرنے سے پرہیز رکھے گا۔ جب وہ یہ عمل رات کو کر رہا ہوگا تو جن طرح طرح کی شکلیں بن کر اسے ڈرانے آتے رہیں گے۔ لیکن حصار کے اندر داخل ہو کر اس پر حملہ نہ کرسکیں گے۔ اگر اس دوران عامل جنوں سے ڈر گیا تو جن اس سے انتقام لیں گے۔ مثلاً بیمار کردیں گے، اپاہج بنا دیں گے، پاگل بنا دیں گے، اس سے چمٹ کر طرح طرح کی اذیتیں دیں گے یا جان ہی سے مار ڈالیں گے۔ یہ سزا وہ اس عامل کے اس وقت تک کیے ہوئے عمل کے مطابق دیں گے۔ اور اگر وہ عامل پوری دلجمعی سے اپنا عمل جاری رکھے اور بد روحوں سے ہرگز خوفزدہ نہ ہو اور چالیس دن کا کو رس پورا کرلے تو پھر وہ کامیاب ہے۔ کوئی نہ کوئی جن اس کا تابع بن جائے گا جس سے وہ طرح طرح کے کام لے سکتا ہے جب اس جن کی ضرورت پیش آئے تو ایک دفعہ سورۃ جن پڑھ کر اسے بلائے تو وہ حاضر ہوجائے گا اور عامل اس کو مطلوبہ کام پر مامور کر کے اس سے کام کروا سکتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جس عامل نے کوئی جن یا بدروح مسخر کرلی ہو وہ اسے مطلوبہ کام پر لگا کر دنیوی مفادات بھی حاصل کرسکتا ہے۔ جب کوئی جن کسی عورت کے جسم میں حلول کر کے اسے پریشان کر رہا ہو (یاد رہے کہ جن عموماً عورتوں کو ہی پڑتے ہیں مردوں کو کم ہی پڑتے ہیں) تو عامل کو بلایا جاتا ہے۔ وہ جن کو حاضر کر کے حالات معلوم کرتا، مریض کے علاج معالجہ کا وعدہ کرتا اور گھر والوں سے نذرانے وصول کرتا ہے یہاں ایک بات اور بھی قابل ذکر ہے کہ جن عموماً اس بستی میں عورتوں کو پریشان کرتے ہیں جہاں کوئی عامل رہتا ہو۔ جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اپنے مفادات کی خاطر عامل بعض دفعہ خود ہی جن ڈالتے ہیں پھر جب اسے علاج کے لیے بلایا جائے تو اپنے نذرانے وصول کرتے ہیں۔ بہرحال جنوں کے انسانوں کو تنگ کرنے اور عاملوں کے کارناموں کے متعلق طرح طرح کی داستانیں مشہور ہیں اور کچھ واقعات دیکھنے میں بھی آتے رہتے ہیں اور حقیقت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ [١٣٦] یہ سارا کاروبار چونکہ جادو سے ملتا جلتا ہے اور جنوں کے ذریعہ غیب کے حالات معلوم کرنے کا دھندا بھی اس میں شامل ہے۔ لہٰذا قرآن کی نظروں میں یہ بھی کفر ہے اسی لیے اللہ نے ایسے جنوں اور انسانوں کی سزا دوزخ مقرر کی ہے۔ [١٣٧] گناہوں کی سزا احوال و ظروف کو مدنظر رکھ کردی جاتی ہے اور یہی انصاف کا تقاضا ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے عذاب دوزخ کی مدت میں کمی بیشی عین انصاف کے مطابق ہوگی۔ الانعام
129 الانعام
130 [١٣٨] سلسلہ نبوت اب صرف انسانوں میں ہے :۔ انسان سے پہلے اس زمین پر جن ہی آباد تھے اور قرین قیاس یہی بات ہے کہ ان میں بھی رسول آتے ہوں گے۔ لیکن انسان کے زمین پر آباد ہونے کے بعد سلسلہ نبوت انسانوں سے ہی مختص ہوگیا۔ جو رسول انسانوں کے لیے ہوتا وہ جنوں کے لیے بھی ہوتا۔ انسانوں میں رسول آنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان ہی اشرف المخلوقات ہے جن نہیں۔ اور جن رسول سے استفادہ کرسکتے ہیں کیونکہ رسول بشر ہوتا ہے جو اپنی شکل بدل نہیں سکتا۔ لیکن اگر رسول جنوں میں سے ہوتے تو ان سے انسان استفادہ بھی نہ کرسکتا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ کا جنوں کے لیے بھی رسول ہونا قرآن میں دو مقامات سے ثابت ہے۔ سورۃ احقاف میں بھی ذکر آیا ہے اور سورۃ جن میں بھی۔ الانعام
131 [١٣٩] اللہ تعالیٰ کی یہ عادت نہیں کہ لوگوں کو ان کے گناہوں کے انجام سے خبردار کیے بغیر انہیں اس دنیا میں تباہ کر ڈالے یا آخرت میں عذاب دے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بے شمار انبیاء لوگوں کی ہدایت اور انہیں ڈرانے کے لیے بھیجے اور قرآن میں ایک جگہ فرمایا﴿وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْہَا نَذِیْرٌ ﴾ یعنی کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی ڈرانے والا نہ بھیجا گیا ہو۔ اور یہ ڈرانے والے جنوں اور انسانوں دونوں کے لیے ہوتے تھے۔ پھر جس جس نے ان انبیاء کی دعوت پر لبیک کہا اور اعمال صالحہ بجا لایا۔ تو ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق درجات عطا ہوں گے۔ الانعام
132 الانعام
133 [١٤٠] تم پر اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ تم سے دین کی خدمت لے رہا ہے :۔ یعنی اللہ کی کوئی غرض تمہاری وجہ سے ان کی ہوئی نہیں ہے نہ ہی اس کا کوئی مفاد تم سے وابستہ ہے کہ تمہاری نافرمانی سے اس کا کچھ بگڑتا ہو اور فرمانبرداری سے اس کا کچھ سنورتا ہو بلکہ یہ اس کی انتہائی رحمت اور مہربانی ہے کہ اس نے تمہیں ہدایت کی راہ دکھائی۔ جس پر عمل کر کے تم عذاب سے بھی بچ سکتے ہو اور بلند درجات بھی حاصل کرسکتے ہو۔ اس کے مہربان ہونے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے گناہوں کی پاداش میں تمہیں فوراً سزا نہیں دے رہا اور تمہارے قصور معاف کرتا چلا جاتا ہے۔ ورنہ اگر وہ سخت گیر ہوتا تو تمہارے جرائم اتنے زیادہ ہیں کہ تمہیں اس دنیا سے رخصت کردیتا اور تمہاری جگہ دوسرے لوگ لے آتا۔ جیسے تمہیں پہلی قوموں کے بعد لایا گیا ہے اور یہ کام اس کے لیے کچھ مشکل بھی نہیں۔ لہٰذا اس کی فرمانبرداری میں ہی تمہاری بھلائی ہے۔ الانعام
134 [١٤١] یعنی اللہ نے جس قیامت کے دن کا تم سے وعدہ کر رکھا ہے وہ بہرحال آ کے رہے گا۔ تم اپنی سر توڑ کوششیں کر دیکھو تم اس دن کو ٹالنے پر کبھی قادر نہیں ہو سکتے۔ پھر اس دن تمہارا پورا پورا محاسبہ کیا جائے گا۔ نیز یہاں وعدہ سے مراد عذاب کا وعدہ بھی ہوسکتا ہے۔ ایسا عذاب بھی جیسا کافروں پر آیا تو پھر انہیں نجات کی کوئی راہ نہ ملی۔ الانعام
135 [١٤٢] یعنی اگر تم اپنی غلط روی سے باز نہیں آتے تو اس پر جمے رہو اور مجھے اپنی راہ پر چلنے دو۔ عنقریب ہم سب کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ انجام ہمارا بہتر رہا یا تمہارا۔ بہرحال یہ بات تو یقینی ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے نہ اس دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ سیدنا لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ ’’بیٹے! کبھی شرک نہ کرنا کیونکہ شرک ہی سب سے بڑا ظلم ہے۔‘‘اور یہاں ظلم سے شرک اس لیے مراد لیا گیا ہے کہ آئندہ مشرکوں کے بعض افعال و رسومات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ الانعام
136 [١٤٣] صدقہ وخیرات میں مشرکوں کی ناانصافیاں :۔ مشرکین نے صدقہ و خیرات کرتے وقت اللہ کا حصہ الگ مقرر کر رکھا تھا اور اپنے بتوں یا دیوی دیوتاؤں کا الگ۔ ان کا پہلا ظلم تو یہ تھا کہ اس بات کے اعتراف کے باوجود کہ ان کی کھیتی اور مویشیوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ دوسروں کا بھی حصہ مقرر کردیا۔ اور دوسرا ظلم یہ تھا کہ وہ اپنے وہم و گمان کی بنا پر اپنے شارع خود ہی بن بیٹھے تھے اور ان کا زعم باطل یہ تھا کہ ہم اللہ کا حصہ تو اس لیے نکالتے ہیں کہ ہماری کھیتی اور مویشیوں کو پیدا کرنے والا وہی ہے اور دوسرے معبودوں یعنی دیوی دیوتاؤں، فرشتوں، ستاروں کی ارواح اور پہلے بزرگوں کی روحوں کا حصہ اس لیے نکالتے ہیں کہ جو کچھ انہیں مل رہا ہے انہی کی نظر کرم کی وجہ سے مل رہا ہے۔ بالفاظ دیگر وہ انہیں اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھ کر ان کا حصہ نکالتے تھے اور یہی چیز اصل شرک ہے۔ اس شکل میں اگر اللہ کے نام پر کچھ دیا بھی جائے تو قطعاً اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں اپنے حصہ داروں کی نسبت اپنا حصہ لینے سے بے نیاز ہوں۔ جس شخص نے ایسا عمل کیا جس نے میرے ساتھ غیر کو حصہ دار بنایا تو میں اس صاحب عمل اور اس عمل دونوں کو ہی چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الزہد۔ باب تحریم الربا۔ بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب قول اللہ تعالیٰ لا یسئلون الناس الحافا) [١٤٤] تیسرا ظلم وہ مشرک یہ کرتے تھے کہ اگر معبودوں کے حصہ میں کسی طرح کمی واقع ہوجاتی، فصل کم پیدا ہوتی یا طوفان سے تباہ ہوجاتی تو یہ کمی اللہ کے حصہ سے پوری کردیا کرتے تھے اور اگر اللہ کے حصہ میں کمی واقع ہوتی تو اسے معبودوں کے حصہ سے پورا نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے اللہ کا حصہ کتنا مقرر کر رکھا تھا اور اپنے معبودوں کا کتنا ؟ یہ تفصیل کہیں نہیں ملتی۔ یہ بس ان کی اپنی ہی قیاس آرائیوں کے مطابق طے کیا گیا تھا۔ اللہ کا حصہ تو وہ فقیروں یتیموں وغیرہ میں تقسیم کردیتے اور معبودوں کا حصہ مندروں کے پجاریوں یا سرپرستوں کو۔ اور بتوں کے سامنے جو نذر و نیاز رکھی جاتی وہ بھی بالواسطہ ان پجاریوں کو ہی پہنچ جاتی تھی۔ ان مہنتوں اور پجاریوں نے ہی اپنے ذاتی مفاد کی خاطر مشرکین کو یہ پٹی پڑھائی تھی کہ اگر اللہ کے حصہ میں کمی واقع ہوجائے تو کوئی پروا نہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ غنی ہے وہ اپنے خزانوں سے یہ کمی پوری کرسکتا ہے، مگر ان دیوی دیوتاؤں کے حصہ میں کسی طرح کمی واقع نہ ہونی چاہیے گویا اس مشرکانہ رسم میں وہ لوگ تین طرح کے جرائم کا ارتکاب کرتے تھے۔ (١) مالی عبادت میں اللہ کے ساتھ اپنے معبودوں کو شریک بنانا (٢) اللہ کا الگ اور معبودوں کا الگ حصہ مقرر کرنا۔ اس بات میں پروہتوں کا یہ شرک تھا کہ انہوں نے اپنے آپ کو شارع کی حیثیت دے رکھی تھی اور عام لوگوں کا شرک یہ تھا کہ وہ ان کی اس بات کو مذہبی طور پر تسلیم کرتے تھے۔ (٣) اس تقسیم میں بھی اللہ کے حق میں ناانصافی کرتے تھے اور اس جرم میں پروہت اور عام مشرک سب شریک تھے۔ الانعام
137 [١٤٥] قتل اولاد کی تین وجوہ :۔ دور جاہلیت میں اولاد کو تین وجوہ سے قتل کیا جاتا تھا۔ (١) بیٹیوں کو اس عار کی وجہ سے زندہ درگور کرتے تھے کہ کوئی نہ کوئی ان کا داماد بنے گا جس کے آگے ان کی آنکھیں نیچی ہوں گی اور اس لیے بھی کہ اگر وہ کسی دوسرے قبیلے میں چلی گئی یا بیاہی گئی تو کئی پیچیدہ مسائل پیدا ہوجائیں گے کیونکہ ان میں رائج قبائلی نظام عصبیت کے سہارے چلتا اور جھگڑوں اور جنگوں پر ختم ہوتا تھا۔ (٢) اللہ پر عدم توکل۔ بعض لوگ اپنی اولاد کو خواہ بیٹا ہو یا بیٹی، اس لیے مار ڈالتے تھے کہ ان کا خرچ برداشت نہ کرسکیں گے یا اپنا معیار زندگی برقرار نہ رکھ سکیں گے اور اس جرم میں آج کی دنیا کا تقریباً پورا معاشرہ شریک ہے جو خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر برتھ کنٹرول، اسقاط حمل اور عورتوں اور مردوں کو بانجھ بنانے کے طریقے دریافت کر کے اس جرم کا علانیہ ارتکاب کر رہے ہیں اور یہ کام حکومتوں کی سرپرستی میں ہوتے ہیں اور اس فعل کو بہت مستحسن قرار دیا گیا ہے۔ (٣) بتوں کے نام پر منت۔ یعنی اگر میرے ہاں اتنے بیٹے پیدا ہوں تو میں ایک بیٹا فلاں بت کے حضور قربان کروں گا جیسا کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے بھی یہ منت مانی تھی کہ اگر میرے ہاں بارہ بیٹے پیدا ہوئے تو ایک بیٹے کی قربانی دوں گا۔ پھر اس منت کا قرعہ آپ کے باپ عبداللہ کے نام نکلتا تھا جو بالآخر سو اونٹوں کی دیت کے مقابل ٹھہرایا مثلاً یہ کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں ایک بیٹا یا بیٹی فلاں بت کے حضور قربانی دوں گا۔ مبتدعین بھی دراصل اللہ کے شریک ہوتے ہیں :۔ اس آیت میں شریکوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے قتل کی مندرجہ بالا صورتوں کو ایجاد کیا تھا اور جنہیں معاشرہ نے قبول کرلیا تھا۔ چونکہ شرعی نقطہ نظر سے ہر طرح کی قانون سازی کا اختیار اللہ کو ہے لہٰذا ان رسوم کے موجد اللہ کے شریک ٹھہرے۔ ان لوگوں کا جرم صرف یہ نہ تھا کہ وہ اپنی اولاد کو قتل کرتے تھے بلکہ اس سے بھی بڑا جرم یہ تھا کہ وہ ایسے کاموں کو جرم سمجھنے کی بجائے انہیں اچھے اور اپنی فلاح و بہبود کے کام سمجھتے تھے۔ [١٤٦] ہلاکت سے مراد دونوں طرح کی ہلاکت ہے اخلاقی بھی اور تمدنی بھی۔ اخلاقی اس لحاظ سے کہ قتل بذات خود ایسا شدید ترین جرم ہے جو انسان میں شقاوت اور سنگدلی پیدا کرتا ہے جس سے وہ مزید قتل پر دلیر ہوجاتا ہے اور قتل اولاد تو عام قتل سے بھی بڑا جرم ہوا۔ یہ اسی کا اثر تھا کہ قبائلی عرب میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر اگر جھگڑا اٹھ کھڑا ہوتا تو فوراً قتل و غارت شروع ہوجاتی۔ اس معاشرہ میں انتہا درجہ کی خون کی ارزانی واقع ہوچکی تھی اور اخلاقی انحطاط اس درجہ پیدا ہوگیا تھا کہ نہ کسی کی جان محفوظ رہی تھی نہ مال اور نہ آبرو۔ اور تمدنی ہلاکت اس لحاظ سے کہ جو قوم اس طرح اپنی اولاد کو ختم کرنا شروع کر دے وہ اس دنیا میں کب تک اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے۔ پھر ایسے کاموں کے نتیجہ میں آخرت میں ان کی ہلاکت ایسی حقیقت ہے جس میں کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں۔ [١٤٧] مشرکین مکہ کی بعض اچھی صفات :۔ مشرکین مکہ اپنے آپ کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا پیروکار قرار دیتے تھے۔ پھر ان میں کچھ اچھی باتیں بھی موجود تھیں جن سے اس بات کا شبہ ہوتا تھا۔ مثلاً عبادات میں بیت اللہ کا طواف، صفا و مروہ کی سعی اور حج و عمرہ کی عبادات بجا لانا اگرچہ ان میں بھی کئی غلط رسوم اور عقائد شامل ہوچکے تھے اور اخلاقیات اور معاملات میں مہمان نوازی، عہد کی پابندی اور صدق مقال جھوٹ سے اجتناب، کسی کو امان دینا تو پھر اسے پوری ذمہ داری سے نبھانا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن دور نبوی تک ان کا مذہب شرک و بدعات کے ملغوبہ میں دب کر رہ گیا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ صحف ابراہیم محفوظ نہیں رہے تھے اور یہ معلوم کرنے کا کوئی معیار نہ تھا کہ فلاں کام یا فلاں رسم کب شروع ہوئی اور اس کا کوئی شرعی جواز ہے یا نہیں۔ دوسری وجہ امتداد زمانہ ہے یعنی سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے لے کر آپ کی بعثت تک تین ہزار سال کی مدت۔ اس دوران بے شمار شرک و بدعات کے موجد پیدا ہوتے رہے اور اپنی اختراعات اس دین میں شامل کرتے رہے اور کوئی حقیقی معیار موجود نہ ہونے کی وجہ سے قوم انہیں دین کا جزو سمجھتی اور اس پر عمل پیرا ہوتی رہی۔ مشرکین مکہ میں آخرت کے انکار کا عقیدہ کب رائج ہوا ؟ ان امور کی تو کسی نہ کسی حد تک سمجھ آتی ہے مگر جس بات کا سراغ لگانا مشکل ہے وہ یہ بات ہے کہ مشرکین مکہ میں سے اکثر اللہ کے خالق و مالک ہونے کے تو قائل تھے مگر حشر و نشر، قیامت اور اخروی جزا و سزا کے منکر تھے۔ کسی نبی کے پیروکاروں میں ایمان کے ایسے لازمی جز کا مفقود ہوجانا بڑی حیرانگی کی بات ہے۔ ان مشرکین میں آخرت کے انکار کے عقیدہ کا موجد کون تھا اور یہ عقیدہ کس زمانہ میں ایجاد ہوا تھا، اس کے متعلق کچھ کہنا مشکل ہے۔ الانعام
138 [١٤٨] مشرکوں کی اپنی وضع کردہ شریعت :۔ ان مشرکوں کی مشرکانہ رسوم کی فہرست بڑی طویل ہے۔ ان کے بزرگوں نے آہستہ آہستہ پوری شریعت ہی وضع کر ڈالی تھی جن میں سے چند مزید امور کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ ہیں۔ (١) ان مشرکوں کے ہاں یہ دستور تھا کہ جس کھیتی یا مویشی کے متعلق وہ یہ منت مان لیتے کہ وہ فلاں بت یا فلاں دربار یا فلاں سیدہ کے لیے مخصوص ہے تو ایسی نیاز کو ہر ایک نہیں کھا سکتا تھا بلکہ اس کے متعلق بھی انہوں نے ایک فہرست بنا رکھی تھی۔ کہ فلاں قسم کی نذر ہو تو اسے فلاں فلاں لوگ کھا سکتے ہیں اور فلاں قسم کی ہو تو فلاں فلاں۔ (٢) جن مویشیوں کو بتوں یا درباروں کی نذر کیا جاتا ان پر عام لوگوں اور اصل مالک کا بھی سواری کرنا حرام تھا حتیٰ کہ حج کے سفر میں بھی اس پر سوار ہونا ممنوع تھا۔ کیونکہ اس وقت انہیں (لبیک اللھم لبیک) کہنا پڑتا تھا۔ (٣) ان نذر کردہ جانوروں سے صرف دربار کے مجاور اور بتوں کے پروہت ہی فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ مگر اب ان پر اللہ کا نام لینا ممنوع تھا کیونکہ وہ معبودان باطل کے لیے وقف ہوچکے تھے۔ دودھ دوہتے وقت، سواری کرتے وقت، ذبح کرتے وقت اور کھاتے وقت غرض کسی وقت بھی ان پر اب اللہ کا نام لینا ممنوع تھا۔ تاکہ اس معبود کی نذر و نیاز میں اللہ کی شراکت نہ ہونے پائے۔ (٤) جو مویشی بتوں یا آستانوں کے نام وقف ہوچکے مثلاً بحیرہ، سائبہ وغیرہ وغیرہ ان میں ماداؤں کو ذبح کرنے کے بعد اگر ان کے پیٹ سے زندہ بچہ نکلے تو اس کا گوشت صرف مرد ہی کھا سکتے ہیں عورتیں نہیں کھا سکتیں۔ ہاں اگر بچہ مردہ پیدا ہو یا پیدا ہوتے ہی مر جائے تو اس میں عورتیں بھی شریک ہو سکتی ہیں اور ایسی یا اس سے ملتی جلتی رسوم ہمارے ہاں بھی رائج ہیں مثلاً بی بی صاحبہ کی صحنک جسے صرف سہاگن عورتیں ہی کھا سکتی ہیں۔ مرد اور بیوہ عورتیں نہیں کھا سکتیں۔ یہ سب کفر و شرک کی باتیں ہیں۔ الانعام
139 الانعام
140 [١٤٩] مشرکوں کی اس خود ساختہ شریعت کی ایک ایک دفعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ (١) بتوں اور درباروں کے مجاوروں نے قانون سازی کے جملہ اختیارات خود سنبھال رکھے تھے۔ (٢) وہ اپنی ان اختراعات کو دین کا حصہ بنا دیتے تھے (٣) اور حیلوں بہانوں سے لوگوں سے مال بٹورتے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کو تلف کردیتے تھے (٤) حلال و حرام قرار دینے کے جملہ اختیارات بھی انہیں کے پاس تھے (٥) وہی قتل اولاد کے مجرم تھے۔ غرض یہ کہ شرک کی کوئی قسم باقی نہ رہ گئی تھی جو انہوں نے اختیار نہ کی ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کے جرائم بتا کر مسلمانوں کو متنبہ فرماتے ہیں کہ ایسے سر سے پاؤں تک شرک میں پھنسے ہوئے لوگوں کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے یا یہ مطلب ہے کہ ان کے جن اسلاف اور بزرگوں نے اللہ پر اس طرح کے جھوٹ گھڑ لیے تھے انہیں ہدایت یافتہ قرار دیا جا سکتا ہے؟ جو خود بھی گمراہ ہوئے اور آنے والی نسلوں کو بھی گمراہی کی راہ پر ڈال دیا۔ الانعام
141 [١٥٠] اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں مشرکوں کو یہ تنبیہ کی جا رہی ہے کہ کھیتیاں اور مویشی جن کے متعلق تم نے احکام کی ایک طویل فہرست اختراع کر رکھی ہے ان کو پیدا کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے پھر کیا یہ نمک حرامی نہیں کہ تم اللہ کے دیئے ہوئے رزق سے درباروں اور بتوں کے حصے نکالو اور اس میں بھی بتوں کے ہی حصوں کو تمہیں پورا کرنے کی فکر ہوتی ہے اور اللہ سے زیادہ تم انہیں سے ڈرتے ہو۔ کھیتی اور مویشی تو اللہ نے پیدا کیے مگر حلال و حرام کے اختیار تم نے خود سنبھال رکھے ہیں۔ [١٥١] اس میں درختوں، پھلوں اور کھیتی کے متعلق جو کچھ ذکر ہوا ہے ان میں سے ایک ایک بات پر غور کیا جائے تو ان سے اللہ کی معرفت حاصل ہو سکتی ہے۔ اور ایسے حقائق بیان کیے جا رہے ہیں جنہیں سب اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ [١٥٢] زکوٰۃ اللہ کا بندوں پر حق ہے :۔ اللہ کے حق سے مراد وہ صدقہ ہے جو اللہ کے نام پر اس فصل میں سے فقراء و مساکین وغیرہ کو دیا جائے کیونکہ یہ فصل اللہ نے ہی اپنے فضل سے پیدا کی ہے۔ اس مقام پر اس ''حق'' کی مقدار معین نہیں کی گئی اور اسے صدقہ دینے والوں کی مرضی پر چھوڑا گیا۔ یہ سورۃ مکی ہے جبکہ زکوٰۃ مدینہ میں فرض ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حق متعین فرما دیا کہ بارانی زمین سے زکوٰۃ پیداوار کا دسواں حصہ ہوگی اور آبپاشی والی زمین سے پیداوار کا بیسواں حصہ۔ نیز یہ بھی بتایا کہ کون کون سی پیداوار پر زکوٰۃ واجب ہے اور کتنی پیداوار ہو تو واجب ہے۔ اس سلسلہ میں درج ذیل امور کا لحاظ رکھا جائے گا۔ (١) پیداوار کی زکوٰۃ کے متعلق مسائل اور احادیث :۔ زرعی زکوٰۃ میں سال گزرنے کی شرط نہیں ہوتی۔ بلکہ جب فصل کاٹی جائے یا پھل توڑا جائے۔ اسی وقت زکوٰۃ واجب ہوگی جیسا کہ آیت مذکورہ سے واضح ہے۔ (٢) کھیتی اگر چشمہ یا بارانی پانی سے سیراب ہو تو اس میں عشر یا دسواں حصہ زکوٰۃ ہے اور اگر پانی مصنوعی طریقوں یعنی کنوئیں یا ٹیوب ویل یا نہروں سے دیا جا رہا ہو۔ جس پر محنت بھی ہو اور خرچ بھی تو اس میں نصف عشر یا بیسواں حصہ زکوٰۃ ہے۔ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ باب العشر فیما یسقی من ماء السماء والماء الجاری ) (٣) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گندم، جو، منقیٰ (خشک انگور) اور کھجور سے زکوٰۃ لی جاتی تھی۔ مگر ہمارے یہاں اور بھی کئی اجناس بکثرت پیدا ہوتی ہیں۔ جیسے چاول، چنے، جوار، باجرہ، مکئی وغیرہ ان سب پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ (٤) غلہ کی پیداوار اگر پانچ وسق یا ٩٤٨ کلو گرام سے کم پیدا ہو تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی، یہی غلہ کا نصاب ہے۔ اور اس قدر زکوٰۃ کو کاشتکار یا زمیندار کے گھر کا سالانہ خرچہ ہی تصور کیا جائے گا۔ ہاں اگر اس سے تھوڑی سے بھی زائد ہو تو ساری مقدار پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’پانچ وسق کھجور سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ چاندی (ساڑھے باون تولہ) سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹ سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب لیس فی مادون خمس ذود صدقۃ) (٥) عرب میں خشک پھلوں میں سے منقیٰ اور کھجور کا ذکر آیا ہے جبکہ ہمارے ہاں اور بھی بہت سے خشک پھل کثیر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ جیسے اخروٹ، بادام، خوبانی، مونگ پھلی، کشمش وغیرہ۔ یہ سب چیزیں جب حد نصاب کو پہنچ جائیں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ عرب میں گھوڑے بہت کم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دیا۔ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب لیس علی المسلم فی فرسہ صدقۃ) مگر دور فاروقی میں جب ایران فتح ہوا جہاں گھوڑے بکثرت پائے جاتے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گھوڑوں پر زکوٰۃ عائد کردی اور انہیں گائے کے مثل قرار دیا۔ (٦) ایسی سبزیاں اور ترکاریاں جو جلد خراب نہیں ہوتیں مثلاً آلو، لہسن، ادرک، پیٹھا وغیرہ ان پر زرعی زکوٰۃ واجب ہوگی اور جو جلد خراب ہوجانے والی ہیں مثلاً کدو، ٹینڈا، کریلے، توریاں وغیرہ ان پر زرعی زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی بلکہ سال کے بعد ان کے منافع پر تجارتی زکوٰۃ عائد ہوگی یعنی اڑھائی فیصد یا چالیسواں حصہ۔ (٧) حد نصاب پانچ وسق یا ٩٤٨ کلو گرام کا اطلاق صرف اس غلہ پر ہوگا جو عموماً اس ملک میں روزمرہ خوراک کا حصہ ہو اور کثیر مقدار میں پیدا کیا جاتا ہو۔ جیسے ہمارے ملک میں چاول، گندم اور چنے وغیرہ اور جو غلہ اس ملک کی خوراک کا حصہ نہ ہو اور کم پیدا ہوتا ہو یا کیا جاتا ہو۔ جیسے ہمارے ہاں جوار، باجرہ اور مکئی وغیرہ۔ ان میں حد نصاب شرط نہیں۔ جیسے دور نبوی میں کھجور اور منقیٰ بطور خوراک استعمال ہوتے تھے تو آپ نے ان چیزوں کو محل نصاب قرار دیا مگر ہمارے یہاں کوئی بھی پھل بطور خوراک استعمال نہیں ہوتا لہٰذا ان پر حد نصاب شرط نہ ہوگی۔ [١٥٣] اسراف کی صورتیں :۔ اسراف کے بھی کئی پہلو ہیں مثلاً ایک شخص فرض شدہ زکوٰۃ سے زیادہ دینا چاہتا ہے تو بلاشبہ یہ ایک بہت اچھا عمل اور نیکی کا کام ہے مگر اتنا بھی زیادہ نہ دے کہ خود محتاج ہوجائے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرما دی ہے کہ ’’افضل صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی خود محتاج نہ ہوجائے۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب افضل الصدقہ عن ظھر غنی) اسراف کی دوسری شکل یہ ہے کہ کسی گناہ کے کام میں یا غیر ضروری کام میں خرچ کر دے۔ ایسے کاموں میں تھوڑا سا خرچ کرنا بھی گناہ ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اپنی ذات پر ضرورت سے زیادہ خرچ کرے۔ غرض اسراف کی جتنی صورتیں ہیں سب ناجائز ہیں۔ الانعام
142 [١٥٤] حمولہ کے معنی باربر دار جانور جیسے اونٹ، بیل، گھوڑا، گدھا وغیرہ اور فرشاً بمعنی پست قد جانور جیسے بھیڑ بکری وغیرہ۔ ان میں سے حلال جانوروں کا گوشت کھا بھی سکتے ہو۔ اور شیطان کے قدموں پر چلنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی حلت و حرمت اور ان کے کھانے یا نہ کھانے کے متعلق تم خود ہی اپنی طرف سے ضابطے نہ بنا ڈالو۔ جیسا کہ مشرکین مکہ کے بارے میں ایسی کئی صورتیں مذکور ہوچکی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام اور ان کے کھانے یا نہ کھانے پر پابندیاں عائد کرنے والے اور ایجاد کرنے والے سب لوگوں کو شیطان قرار دیا ہے اور ایسے لوگوں کی باتیں ماننے والوں کو شیطان کے پیروکار۔ الانعام
143 [١٥٥] اس آیت میں اور اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی ان خود ساختہ پابندیوں کا عقلی طور پر محاسبہ کیا ہے تاکہ ان کی بات کی غیر معقولیت کھل کر سامنے آ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے آٹھ جوڑوں کا ذکر کیا یعنی کل جنسیں چار ہیں اور جوڑے آٹھ مثلاً بھیڑ اور مینڈھا، بکرا اور بکری، اونٹ اور اونٹنی اور گائے اور بیل۔ اور یہی جانور ہیں جو عرب میں پائے جاتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ ان مشرکوں سے پوچھو کہ یہ کیا بات ہوئی کہ ایک ہی جنس کا نر تو حلال ہو اور مادہ حرام ہو۔ یا مادہ حلال ہو اور نر حرام ہو یا جانور خود تو حلال ہو؟ مگر اس کے پیٹ سے نکلا ہوا بچہ زندہ ہو تو کسی پر حرام ہو اور کسی پر حلال اور مردہ ہو تو وہ سب کے لیے حلال ہو؟ یہ تو ایسی غیر معقول باتیں ہیں جنہیں عقل سلیم ماننے سے انکار کرتی ہے۔ پھر کیا اللہ ایسی لغو باتوں کا حکم دے سکتا ہے اور کیا تم ایسے غیر معقول احکام کسی آسمانی کتاب سے دکھا سکتے ہو؟ الانعام
144 [١٥٦] مشرکین کے حلت وحرمت کے عقائد کی عقلی ونقلی تردید :۔ یعنی کسی چیز کی تحقیق کے لیے شہادتیں ضروری ہیں اور یہ شہادت دو طرح کی ہوتی ہے ایک یقینی علم کی بنا پر شہادت، دوسرے آنکھوں دیکھی شہادت۔ اس سے پہلی آیت کے آخر میں ﴿نَبِّـــــُٔـوْنِیْ بِعِلْمٍ﴾ فرما کر علمی شہادت کی تردید فرمائی یعنی اللہ کی کسی کتاب سے یہ مشرک کوئی ایسی دلیل پیش نہیں کرسکتے جس سے ان کی حلت و حرمت کے متعلق خود ساختہ پابندیوں کا جواز معلوم ہوتا ہو اور اس آیت کے آخر میں یہ فرما کر کہ ’’کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ نے ایسا حکم دیا تھا۔‘‘ عینی شہادت کی تردید فرما دی۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کے یہ توہمات اور اختراعات جو عقائد میں شامل ہوچکے ہیں ایسے لغو ہیں جنہیں کسی طرح بھی معقول یا منجانب اللہ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ الانعام
145 [١٥٧] بنیادی طور پر کونسی اشیاء حرام ہیں؟ یہی مضمون سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ١٧٣ اور سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ٣ میں گزر چکا ہے۔ ان سب مقامات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر چار ہی چیزیں ہیں جو حرام ہیں۔ (١) مردار (٢) خون (٣) خنزیر کا گوشت اور (٤) ہر وہ چیز جو اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے نام پر مشہور کردی جائے۔ اس آیت میں یہ وضاحت مزید ہے کہ خون سے مراد وہ خون ہے جو ذبح کرتے وقت جانور کے جسم سے نکل جاتا ہے اور اگر کچھ تھوڑا بہت جسم میں رہ جائے تو وہ حرام نہیں اور سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ٣ میں مردار کی بھی بعض صورتیں بیان ہوئی ہیں یعنی خواہ وہ مردار گلا گھٹ کر مرا ہو یا چھڑی کی ضرب سے یا بلندی سے گر کر یا سینگ کی ضرب سے مرا ہو۔ کچھ جانوروں اور پرندوں کی حرمت سنت نبوی سے ثابت ہے۔ (تفصیل محولہ بالا آیات میں دیکھئے) [١٥٨] دیکھئے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ١٧٣ کا حاشیہ۔ الانعام
146 [١٥٩] بنی اسرائیل پر حرام کردہ اشیاء:۔ حیوانی غذاؤں میں سے بنی اسرائیل پر حرام کردہ اشیاء کا بیان سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ٩٣ اور سورۃ نساء کی آیت نمبر ١٦٠ میں بھی بیان ہوا ہے۔ ان سب آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر یہی چیزیں، جو شریعت محمدی میں حرام ہیں بنی اسرائیل پر بھی حرام تھیں۔ سورۃ آل عمران میں فرمایا کہ ان بنیادی چیزوں کے علاوہ باقی تمام چیزیں بنی اسرائیل پر حلال تھیں۔ مگر وہ چیزیں جنہیں اسرائیل (سیدنا یعقوب علیہ السلام) نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ اور تورات کے زمانہ نزول تک یہی صورت حال تھی۔ مگر بنی اسرائیل ان چیزوں کو بھی حرام ہی سمجھتے رہے جنہیں سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اپنی بیماری یا طبیعت کی کراہت کی بنا پر اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ تورات میں ان کی حرمت کا حکم موجود نہ تھا اور نہ ہی قرآن کے زمانہ نزول تک ایسا حکم تورات میں درج تھا۔ کیونکہ قرآن نے چیلنج کیا تھا کہ اگر تورات میں ان اشیاء کی حرمت کا ذکر موجود ہے تو تورات لا کر دکھا دو۔ لیکن یہود نے اس چیلنج کو قبول نہیں کیا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دور کی متداول تورات میں اضافہ ہے جو زمانہ مابعد میں کسی وقت کیا گیا ہے۔ نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان چار بنیادی چیزوں کے علاوہ کچھ اور چیزیں بھی یہود پر حرام کی گئیں یعنی ہر ناخن والا جانور یعنی جس کی انگلیاں پھٹی ہوئی نہ ہوں۔ جیسے اونٹ، شتر مرغ، بطخ یا ہر کھر والا جانور جیسے گورخر وغیرہ۔ اور گائے اور بکری کی چربی بھی ان پر حرام کی گئی تھی۔ اور یہ چیزیں گو بنیادی طور پر حرام نہ تھیں تاہم ان کی سرکشی کی پاداش میں حرام کی گئیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اشیاء سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بہت بعد کسی وقت حرام کی گئی تھیں۔ اور زمانہ نزول قرآن تک تو تورات میں ان چیزوں کی حرمت کا اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔ بعد میں ایسی حرام چیزیں بھی تورات میں شامل کردی گئیں۔ الانعام
147 الانعام
148 [١٦٠] مشیت الہٰی اور رضائے الہٰی کا فرق :۔ انسان کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنی کوتاہی اور قصور کا اعتراف کرلینے کی بجائے اسے کسی دوسرے کے سر تھوپنے اور خود بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی کوئی اور ایسی وجہ تلاش کرتا ہے جس سے اس کے ذمہ کوئی الزام نہ آئے اور یہ صرف یہود ہی کی بات نہیں بلکہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسا ہی جواب دیتے رہے جیسا کہ اسی آیت میں آگے ذکر ہو رہا ہے اور آئندہ بھی ایسا جواب دیتے رہیں گے۔ اور اس غرض کے لیے سب سے عمدہ بہانہ مشیت الٰہی کا ہوتا ہے حالانکہ مشیئت الٰہی کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہوسکتا۔ ممکن ہے مشیئت الٰہی میں یہ بات ہو کہ یہ مشرکین اسی طرح شرک میں پھنس کر اور اپنے آباؤ اجداد کی تقلید کر کے دنیا میں بھی عذاب کے مستحق قرار پائیں اور آخرت میں بھی۔ مشیئت الٰہی کو اپنے بچاؤ کے لیے ڈھال بنانے والے عموماً یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اللہ کی مشیئت اور اللہ کی رضا میں بہت فرق ہے۔ مثلاً اللہ کی رضا اس بات میں ہے کہ سب لوگ اس کے فرمانبردار بن جائیں اور کوئی شخص کفر و شرک یا ظلم و زیادتی کی راہ اختیار نہ کرے مگر اس کی مشیئت یہ ہے کہ اس دنیا میں لوگوں کا امتحان لیا جائے۔ اسی لیے اللہ نے انسان کو قوت تمیز اور قوت ارادہ و اختیار عطا کی، پھر اسے اسلام اور کفر و شرک اور نیکی اور بدی کی راہیں الگ الگ سمجھا دیں۔ پھر جو شخص اپنے ارادہ و اختیار سے اللہ کا فرمانبردار ہو اسے اس کا اچھا بدلہ ملے اور جو شخص کفر و شرک کی راہ اختیار کرے اسے اس کی سزا ملے۔ پھر ان دونوں گروہوں میں حق و باطل کا معرکہ بھی مشیئت الٰہی ہے کسی کا ہدایت قبول کرنا مشیئت الٰہی بھی ہے اور رضائے الٰہی بھی۔ اور کفر و شرک اختیار کرنا مشیئت الٰہی تو ہے مگر رضائے الٰہی ہرگز نہیں ہے۔ مشیت کو بہانہ بنانے والے :۔ لطف کی بات یہ ہے کہ انسان کو مشیئت الٰہی کی بات اس وقت یاد آتی ہے جب وہ اللہ کے حقوق کو پامال کر رہا ہو۔ لیکن جب اس کے اپنے حقوق تلف ہو رہے ہوں تو وہ کبھی مشیئت الٰہی کے عذر کو قبول نہیں کرتا مثلاً کسی کے گھر چوری ہو یا ڈاکہ پڑے تو وہ یہ کبھی نہ کہے گا کہ چونکہ مشیئت الٰہی ہی یہ تھی اس لیے چور یا ڈاکو کا کیا قصور ہے؟ لہٰذا اسے کچھ نہ کہنا چاہیے اسے اس وقت وہ اختیار یاد آ جاتا ہے جو مجرم نے جرم کرتے وقت استعمال کیا لہٰذا اسے مجرم اور خود اپنے آپ کو مظلوم سمجھتا ہے۔ حالانکہ مشیئت الٰہی کے اسی ضابطہ کے مطابق اسے اپنے آپ کو مظلوم بھی نہ سمجھنا چاہیے کیونکہ مشیئت الٰہی ہی ایسی تھی۔ مشیت الٰہی کا بہانہ اس وقت نہیں ہے جب جرم اپنا ہو :۔ مشیئت الٰہی کو بہانہ بنانے کی مثال اس واقعہ سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے درمیان بیٹھ کر بات چیت کرنے لگے۔ اس گفتگو کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا ’’کیا تم تہجد کی نماز کے لیے اٹھتے ہو؟‘‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔ یا رسول اللہ ! ہماری روحیں تو اللہ کے قبضہ میں ہوتی ہیں۔ اگر وہ واپس بھیج دے تو ہم نماز پڑھ لیں گے۔ اس جواب پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رانوں پر ہاتھ مارتے جاتے تھے اور یہ آیت پڑھتے جاتے تھے ﴿وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا ﴾ یعنی انسان اپنی اکثر باتوں میں جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) غور فرمائیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مشیئت الٰہی کا سہارا لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس قول کو غلط قرار نہیں دیا۔ بلکہ آپ کو افسوس اس بات پر ہوا کہ عمل کرنے کا اختیار انسان کو دیا گیا ہے۔ اسے وہ کیوں بھول گئے؟ [١٦١] یعنی انہیں مشرکانہ رسوم و رواج کے لیے تمہارے پاس کتاب الٰہی سے کوئی دلیل ہے۔ جن کا ذکر سابقہ آیات میں ہوچکا اور ظاہر ہے کہ جب کوئی علمی دلیل نہ ہو تو باقی صرف ظن و گمان ہی رہ جاتا ہے۔ الانعام
149 [١٦٢] یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر اتمام حجت کردی ہے اور اپنے رسول اور کتابیں بھیج کر تمام لوگوں کو نیکی اور بدی کی راہوں اور ان کے انجام سے پوری طرح مطلع کردیا ہے اور حلت و حرمت کے احکام بھی واضح کردیئے ہیں۔ [١٦٣] یہ مشرکوں کے اس عذر لنگ کا جواب ہے جو یہ ہے کہ فی الواقع اس کی مشیئت یہی ہے کہ تمہیں ہدایت نصیب نہ ہو لیکن یہ اس کی رضا نہیں۔ اور چونکہ اللہ اتمام حجت کرچکا ہے لہٰذا تمہیں تمہارے جرائم کی سزا ضرور دے گا۔ الانعام
150 [١٦٤] یہود سے شہادت طلب کرنے کی وجہ :۔ یہاں شہادت سے مراد یقین کی بنا پر شہادت ہے اور وہ یہ شہادت دیں کہ واقعی فلاں فلاں چیزیں اللہ نے فلاں فلاں کے لیے حرام یا حلال قرار دی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی شہادت وہ دے نہیں سکتے تھے۔ تاہم اگر کچھ لوگ ڈھیٹ بن کر جھوٹی شہادت دینے پر آمادہ ہو ہی جائیں تو آپ ان کے ہمنوا نہ بن جائیں۔ ان سے یہ شہادت اس لیے نہیں طلب کی جارہی کہ اگر وہ شہادت دیں تو آپ ان کی بات مان لیں بلکہ اس لیے طلب کی جا رہی ہے کہ جب وہ ایسی شہادت پیش نہ کرسکیں گے تو ممکن ہے کہ بعض صحیح عقل رکھنے والے لوگ ایسی مشرکانہ رسوم سے باز آ جائیں جو سراسر توہمات اور ظن و تخمین پر مبنی ہیں۔ اور اس قسم کی جھوٹی شہادت دینے پر ایسے لوگ ہی آمادہ ہو سکتے ہیں جنہیں آخرت کے دن پر اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جواب دہی پر ایمان ہی نہ ہو۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے اور حلت و حرمت کے احکام اپنے ہاتھ میں لے کر اللہ کے ہمسر بنتے ہیں۔ الانعام
151 [١٦٥] یعنی تم نے جو اپنی خود ساختہ شریعت بنا رکھی ہے اور خواہ مخواہ اپنے آپ پر کئی طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں ان کی تمہارے پاس کوئی علمی یا عقلی دلیل موجود نہیں۔ اب میں تمہیں بتاتا ہوں اور کتاب اللہ سے پڑھ کر سناتا ہوں کہ اللہ نے کیا کچھ تم پر حرام کیا ہے اور کیا کیا پابندیاں عائد کی ہیں جو انسان کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہیں اور ہمیشہ سے اللہ کی شریعت کا جزو رہی ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس مقام پر اللہ نے جن جن احکام کا ذکر فرمایا ہے مشرکین اور یہود دونوں ان کی خلاف ورزیاں کیا کرتے تھے۔ [١٦٦] مشرکین مکہ میں شرک کی تمام قسمیں پائی جاتی تھیں :۔ سب سے پہلی اور سرفہرست بات یہ ہے کہ کسی کو بھی اللہ کا شریک نہ بناؤ۔ شرک کی تین بڑی اقسام ہیں (١) شرک فی الذات (٢) شرک فی الصفات اور (٣) شرک فی العبادات۔ اور یہ تینوں قسمیں ان مشرکوں اور یہودیوں میں موجود تھیں۔ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ پھر اپنے دیوی دیوتاؤں کی پوری نسل کو اللہ کی نسل بنا دیا تھا اور اس سے منسلک کر رکھا تھا۔ یہود عزیر علیہ السلام کو ابن اللہ کہتے تھے یعنی ان کے عقیدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ عزیر علیہ السلام کے جسم میں حلول کر گیا تھا۔ شرک فی الصفات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرح کسی دوسری ہستی کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جائے۔ یعنی جو کسی کی بگڑی بنا بھی سکتا ہو اور مشکلات میں پھنسا بھی سکتا ہو۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اس ہستی کو عالم الغیب اور حاضر و ناظر اور صاحب تصرف و اختیار بھی سمجھا جائے۔ شرک کی یہ قسم بھی ان لوگوں میں عام تھی۔ اور شرک فی العبادات یہ ہے کہ جس ہستی کو مشکل کشا یا حاجت روا سمجھتا ہو اسے فریاد کے طور پر پکارے اس کی قربانی اور نذر و نیاز دے اور ان کی پرستش و تعظیم اس طرح کرے جیسے اللہ تعالیٰ کی کی جاتی ہے۔ [١٦٧] والدین سے بہتر سلوک :۔ قرآن میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کے حقوق کے فوراً بعد والدین سے بہتر سلوک کا ذکر آیا ہے اس مقام پر بھی، سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر ٢٣ میں بھی اور سورۃ لقمان کی آیت نمبر ١٤ میں بھی۔ وجہ یہ ہے کہ انسان کا حقیقتاً تربیت کنندہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے انسانی جسم کی ضروریات پیدا کیں۔ ہوا اور پانی پیدا فرمایا پھر انسان کی تمام تر غذائی ضروریات کو زمین سے متعلق کردیا۔ پھر اس کے بعد ظاہراً انسان کی تربیت کے ذمہ دار اس کے والدین ہی ہوتے ہیں۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی نافرمانی یا انہیں ستانے کو بڑے بڑے ہلاک کرنے والے گناہوں میں سے تیسرے نمبر پر شمار کیا ہے۔ (بخاری۔ کتاب الادب۔ بابعقوق الوالدین من الکبائر) والدین سے بہتر سلوک کے لیے دیکھئے سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر ٢٣، ٢٤ کے حواشی نمبر ٢٥ تا ٢٨) [١٦٨] قتل اولاد :۔ یعنی اگر خود تمہیں کھانے کو مل رہا ہے تو یقین رکھو کہ تمہاری اولاد کو بھی کھانے کو ملے گا اور وہ فاقہ سے مر نہیں جائیں گے۔ اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل کرنا صرف اللہ پر عدم توکل اور عدم اعتماد ہی کی دلیل نہیں بلکہ اس کی صفت رزاقیت پر براہ راست حملہ ہے جو مخلوق کو پیدا تو کیے جاتا ہے مگر اس کی تربیت کے لیے اس کی غذائی ضروریات فراہم نہیں کرتا۔ اسی لیے رسول اللہ نے اس گناہ کو بڑے بڑے گناہوں میں سے دوسرے نمبر پر شمار فرمایا ہے (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ باب ﴿فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادً﴾) قتل اولاد اور مالتھس نظریہ آبادی :۔ بات دراصل یہ ہے کہ انسان کی نظر محض ان ظاہری اسباب و عوامل پر ہوتی ہے جو اس وقت موجود ہوتے ہیں اور وہ مخفی اسباب جو اس وقت غیر موجود یا آئندہ زمانہ میں پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ ظاہر بین ماہرین معاشیات اس مسئلہ میں اکثر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ برطانیہ کے مشہور ماہر معاشیات۔۔ مالتھس (١٧٦٦۔ ١٨٣٤ء) نے ١٧٩٨ء میں ایک کتاب ''اصول آبادی'' لکھ کر یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ انسانی آبادی جیومیٹری کے حساب یعنی ١۔ ٢۔ ٤۔ ٨۔ ١٦ کی نسبت سے بڑھ رہی ہے جبکہ وسائل پیداوار حساب کی نسبت یعنی ١۔ ٢۔ ٣۔ ٤۔ ٥ کی نسبت سے بڑھتے ہیں اور اپنے اس نظریہ کے مطابق برطانیہ کی موجود آبادی اور وسائل پیداوار کا حساب لگا کر یہ پیشین گوئی کی کہ اگر انسانی پیدائش اور وسائل پیداوار کی یہی صورت حال رہی تو برطانیہ پچاس سال کے اندر اندر افلاس کا شکار ہوجائے گا۔ اور اس کا علاج یہ تجویز کیا کہ انسانی پیدائش پر کنٹرول کیا جانا چاہیے اور شادی میں حتی الوسع تاخیر سے کام لینا چاہیے۔ لیکن تاریخ نے مالتھس کے اس نظریہ افلاس کو غلط ثابت کردیا۔ پیدائش پر کنٹرول نہ کرنے کے باوجود برطانیہ کی خوشحالی بڑھتی گئی۔ اس کی اصل وجہ تو وہی ہے جس کا ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جتنی خلقت پیدا کرتا ہے تو اس کے مطابق ان کے رزق کا بھی انتظام فرما دیتا ہے اور ظاہری سبب یہ بنا کہ برطانیہ میں صنعتی انقلاب آ گیا جس کے آغاز کا ذکر مالتھس نے خود بھی کیا ہے اور یہی وہ سبب تھا جو مالتھس کی نظروں سے اوجھل تھا مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا چنانچہ بعد میں آنے والے معیشت دانوں نے مالتھس کو ''جھوٹا پیشین گو'' کے نام سے یاد کیا۔ کیونکہ برطانیہ اس صنعتی انقلاب کی وجہ سے پہلے سے بھی زیادہ خوشحال ہوگیا۔ مالتھس کا یہ سراسر مادی نظریہ ایک اور قباحت کو بھی اپنے ساتھ لایا اور یہ قباحت فحاشی اور بدکاری کی لعنت تھی جس کا اس آیت میں متصلاً ذکر ہوا ہے۔ مالتھس کے نزدیک برتھ کنٹرول یعنی حمل کو ادویات کے ذریعہ ضائع کردینے کا عمل وقت کی بہت بڑی ضرورت تھی۔ یہی بات عیاشی، فحاشی اور بدکاری کا بہت بڑا سبب بن گئی۔ مالتھس کے بعد ایک تحریک اٹھی جس کا بنیادی اصول یہ تھا کہ نفس کی خواہش یعنی شہوانی خواہش کو آزادی کے ساتھ پورا کیا جائے۔ مگر اس کے فطری نتیجہ یعنی اولاد کی پیدائش کو سائنٹیفک ذرائع سے روک دیا جائے۔ اس طبقہ کے لٹریچر میں جس طرز استدلال پر زور دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر انسان کو فطری طور پر تین پرزور حاجتوں سے سابقہ پڑتا ہے اور وہ خوراک، آرام اور شہوت ہیں۔ اور تینوں باتوں کو پورا کرنے سے ہی انسان کو تسکین نصیب ہوتی ہے اور خاص لذت بھی۔ اب عقل اور منطق کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان کی تسکین کی طرف لپکے۔ پہلی دو باتوں کے متعلق تو انسان کا طرز عمل ہے بھی یہی لیکن عجیب بات یہ ہے کہ تیسری چیز کے معاملہ میں انسان کا طرز عمل یکسر مختلف ہے۔ اجتماعی اخلاق نے یہ پابندی عائد کر رکھی ہے کہ اس خواہش کو نکاح سے باہر پورا نہ کیا جائے اور مزید پابندی یہ کہ اولاد کی پیدائش کو نہ روکا جائے یہ پابندیاں سراسر لغو، عقل اور منطق کے خلاف اور انسانیت کے لیے بدترین نتائج پیدا کرنے والی ہیں۔ یہ نظریات لوگوں میں مقبول ہوئے تو بے حجابی، فحاشی اور بدکاری کا بے پناہ سیلاب آ گیا پھر لطف کی بات یہ کہ انہی باتوں کو تہذیب و ترقی کی علامت سمجھا جانے لگا۔ اور مغرب اور مغربی تہذیب سے مرعوب تمام ممالک نے ان نظریات کو اپنے اپنے ممالک میں درآمد کرنا شروع کردیا۔ تاکہ تہذیب و ترقی کی اس رفتار میں مغرب سے پیچھے نہ رہیں اور حد یہ کہ پردہ، عفت اور احکام الٰہیہ کا الٹا مذاق اڑایا جانے لگا اور آج یہ صورت حال ہے کہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ اسی بے حجابی، بے حیائی، فحاشی اور بدکاری کو پھیلانے میں سرگرم عمل ہیں۔ خاندانی منصوبہ بندی :۔ دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی برتھ کنٹرول کا سرکاری محکمہ قائم ہوگیا اور اسے خوبصورت اور اچھے اچھے نام دیئے جانے لگے۔ پہلے اس محکمہ کا نام خاندانی منصوبہ بندی تجویز کیا گیا۔ پھر اسی محکمہ کا نام تبدیل کر کے محکمہ بہبود آبادی رکھ دیا گیا۔ لیکن چونکہ حمل کو ادویات کے ذریعہ روکنے کا عمل فطرت کے خلاف جنگ ہے لہٰذا اس کے نتائج توقعات کے خلاف نکلنا شروع ہوگئے۔ پہلے ایک آدمی کی اولاد اوسطاً چار بچے ہوتی تھی اور اب یہ اوسط ٨ بچے تک سمجھی جاتی ہے اور پاکستان میں یہ محکمہ قائم ہونے کے بعد پیدائش کی رفتار پہلے کی نسبت سے بہت زیادہ ہوگئی ہے اور اس کا دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ ایسی مانع حمل ادویات استعمال کرنے والی عورتیں طرح طرح کی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ فطرت کے خلاف جنگ کے نتائج :۔ اب لوگوں کی معیشت کی طرف نظر کیجئے تو بھی حکومت کے خدشات لغو اور باطل ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان جب بنا تھا تو اس وقت اس کی آبادی پانچ اور چھ کروڑ کے درمیان تھی اور آج ٥١ سال بعد تیرہ کروڑ یعنی دو گنا سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ اب ہر شخص اپنے ہی حالات پر نظر کر کے دیکھ لے کہ پاکستان بننے کے وقت اس کی معاشی حالت کیا تھی اور آج کیا ہے؟ آج ہر شخص اس وقت کی نسبت سے بہت زیادہ خوشحال ہے اور اس دوران اللہ تعالیٰ نے کئی زمینی خزانے پاکستان کو عطا فرمائے جن کا کسی کو وہم و گمان تک نہ تھا۔ ان چشم دید اور ہر شخص کے تجربہ میں آنے والے واقعات کے بعد اللہ تعالیٰ کی رزاقیت، اس کے وسعت علم اور اس کی قدرت کاملہ میں کوئی شک کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟ [١٦٩] یعنی ایسے وسائل بھی اختیار نہ کرو جو تمہیں بے حیائی کے کاموں کے قریب لے جائیں اور انسان کے جنسی جذبات میں تحریک پیدا کریں۔ جیسے بے حجابی۔ غیر محرم عورت کی طرف دیکھنا، تماش بینی، سینما، ٹی وی، جنسی لٹریچر کا مطالعہ، عورتوں کی تصاویر کی عام نشر و اشاعت سب کچھ اس ضمن میں آتا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’آنکھوں کا زنا (غیر عورتوں کو دیکھنا ہے) کانوں کا زنا (فحاشی کی باتیں سننا ہے) زبان کا زنا (فحاشی کی بات چیت کرنا ہے) ہاتھ کا زنا (پکڑنا ہے) اور پاؤں کا زنا (چلنا ہے) دل کا زنا، اس کی خواہش اور تمنا کرنا ہے۔ پھر شرمگاہ، ان سب کی یا تو تصدیق کردیتی ہے۔ یا تکذیب۔‘‘ (مسلم۔ کتاب القدر۔ باب قدر علی ابن آدم حظہ الزنا) وغیرہ۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت والا نہیں۔ اسی لیے تو اس نے بے حیائی کے تمام کاموں کو حرام کردیا۔‘‘ نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اللہ کو سب سے زیادہ غیرت اس بات پر آتی ہے جب وہ اپنے کسی بندے یا بندی کو زنا کرتے دیکھتا ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب الغیرۃ) [١٧٠] قتل بالحق کی صورتیں :۔ قرآن کی رو سے تین صورتوں میں قتل کرنا برحق اور جائز ہے۔ (١) قتل عمد کے قصاص کی صورت میں (٢) میدان میں کفار کا قتل (٣) بغاوت یعنی دیار اسلام میں بدامنی پھیلانے والے اور اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے والے کا قتل۔ اور سنت کی رو سے دو صورتیں ہیں (١) شادی شدہ جو زنا کرے اور (٢) جو شخص ارتداد کا مرتکب ہو یعنی اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کرلے۔ یہ کل پانچ صورتیں ہوئیں۔ ان کے علاوہ کسی بھی صورت میں کسی کو قتل کرنا قتل ناحق کہلاتا ہے۔ اور اس گناہ کو رسول اللہ نے سات بڑے ہلاک کرنے والے گناہوں میں سے تیسرے نمبر پر شمار کیا ہے (بخاری۔ کتاب المحاربین۔ باب رمی المحصنات) الانعام
152 [١٧١] یتیم کا مال کھانا :۔ یعنی اگر یتیم کا مال تمہاری تحویل میں ہے تو اسے صرف اس طریقے سے خرچ کرو جس میں یتیم کا بھلا اور بہتری ہو۔ اس سے کوئی اپنا ذاتی مفاد حاصل کرنے کی مطلق کوشش نہ کرو نہ ہی اس قسم کی بات دل میں سوچو یتیم کا مال اس کا ولی صرف اس صورت میں کھا سکتا ہے جبکہ وہ خود تنگ دست اور محتاج ہو اور اس صورت میں بھی وہ صرف معروف طریقے سے اس میں سے لے سکتا ہے جو کسی بھی فریق کے لیے قابل اعتراض نہ ہو۔ یتیم کا مال کھانے کی ممانعت قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آئی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گناہ کو سات بڑے بڑے ہلاک کردینے والے گناہوں میں سے پانچویں نمبر پر شمار کیا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔‘‘ صحابہ نے پوچھا۔ ’’یا رسول اللہ ! وہ کون کون سے ہیں؟‘‘ فرمایا ’’اللہ سے شرک کرنا، جادو، ایسی جان کو ناحق کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سود، یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے بھاگنا اور بھولی بھالی پاکباز مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب المحاربین۔ باب رمی المحصنات) [١٧٢] ناپ تول میں کمی بیشی کے ذریعہ دوسروں کا مال کھانا اتنا بڑا جرم ہے کہ جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے سیدنا شعیب علیہ السلام کی قوم کو تباہ و برباد کر ڈالا تھا۔ قرآن کریم میں ایک سورۃ کا نام ہی المطففین ہے یعنی وہ لوگ جو ناپ تول کرتے وقت اپنا حق تو دوسروں سے زیادہ وصول کرتے ہیں اور دیتے وقت دوسروں کو ان کے اصل حق سے کم دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسے کام فریب کاری سے ہی ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ایسا کام وہی لوگ کرسکتے ہیں جنہیں روز آخرت اور اللہ کے حضور باز پرس کا خوف نہ ہو۔ پھر ان کا انجام یہ بتایا کہ ایسے لوگوں کے لیے تباہی ہی تباہی ہے۔ [١٧٣] عدل وانصاف سے بات کہنا :۔ اگرچہ عام بات چیت میں بھی کسی کے متعلق بے انصافی کی بات کرنا جرم ہے لیکن اگر شہادت کی صورت میں ہو تو جرم عظیم بن جاتی ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے بڑے گناہوں کا ذکر کیا تو فرمایا : ’’بڑے گناہ یہ ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق خون کرنا اور والدین کو ستانا۔‘‘ پھر فرمایا ’’میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ وہ ہے قول الزور (یعنی ناانصافی کی بات، یا ایسی بات جس میں ہیرا پھیری سے جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کی جائے) یا ایسی ہی جھوٹی شہادت۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب عقوق الوالدین من الکبائر) اور آیت کا مفہوم اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جب بھی تم بات کرو تو انصاف کی کرو سچے کو سچا کہو اور جھوٹے کو جھوٹا۔ خواہ اس کی زد تمہاری اپنی ذات پر پڑتی ہو یا کسی قریبی سے قریبی رشتہ دار یا دوست پر۔ کوئی بات گول مول یا ہیرا پھیری سے بھی نہ کرو جس سے کسی دوسرے کی توہین کا پہلو نکلتا ہو یا اس کا کوئی حق تلف ہوتا ہو۔ یا اس سے متکلم کی ذات کو کسی قسم کا فائدہ پہنچتا ہو۔ [١٧٤] عہد کو بہرحال پورا کرنا فرض ہے خواہ یہ عہد انسان نے اللہ سے کیا ہو جیسے کوئی نذر یا منت ماننا یا اللہ کا نام لے کر دوسروں سے کیا ہو اور اس میں عقد نکاح اور بیوع بھی شامل ہیں۔ یا وہ عہد جسے عہد الست کہا جاتا ہے اور وہ انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ [١٧٥] یعنی اے مشرکین اور یہود! کرنے کا کام تو یہ نو قسم کے احکام ہیں جن کی علمی سند ہر کتاب اللہ میں موجود ہے۔ ان کا تو تم خیال نہیں رکھتے اور خلاف ورزیاں کیے جاتے ہو اور جن شرکیہ افعال کو تم بجا لا رہے ہو۔ وہ تمہارے اپنے ہی خود ساختہ ہیں جن کی کوئی علمی سند موجود نہیں۔ لہٰذا اگر ہدایت مطلوب ہے تو اپنی سابقہ روش چھوڑ کر یہ طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر لکھی لکھائی تختیاں دی گئیں۔ ان میں دس احکام مذکور تھے جنہیں احکام عشرہ کہتے ہیں۔ یہ احکام بعد میں تورات میں شامل کردیئے گئے۔ ان دس احکام میں سے ایک حکم سبت کے دن کی تعظیم تھا۔ اگر اسے نکال دیا جائے تو باقی یہی نو احکام رہ جاتے ہیں جو ان آیات میں مذکور ہیں۔ یہود کو بالخصوص تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ تمہارے لیے جو بنیادی احکام تھے ان میں سے ایک ایک حکم کی تم نے خلاف ورزی کی اور اس کی دھجیاں اڑا دیں اور ان کے بجائے ایسے کاموں میں لگ گئے ہو جن کا تمہاری کتاب میں کہیں اشارہ تک نہیں ملتا۔ الانعام
153 [١٧٦] سیدھی راہ اورغلط راہیں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سیدھی لکیر کھینچی۔ پھر اس لکیر کے دائیں بائیں بہت سی لکیریں کھینچ دیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ سیدھی لکیر تو اللہ تعالیٰ کی راہ ہے اور دائیں اور بائیں جتنی لکیریں ہیں یہ شیطان کی راہیں ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی (نسائی بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الاعتصام الفصل الثانی) یعنی سیدھی راہ سے بھٹکتے ہی ادھر ادھر بے شمار پگڈنڈیاں سامنے آ جاتی ہیں۔ اللہ کی راہ چھوڑنے کے بعد کوئی ایک پگڈنڈی پر جا پڑتا ہے کوئی دوسری پر اور کوئی تیسری پر۔ اس طرح پوری نوع انسانی بھٹک کر پراگندہ ہوجاتی ہے اور نوع انسانی کے ارتقاء کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے پاتا۔ اسی حقیقت کو اس فقرے میں بیان کیا گیا ہے۔ الانعام
154 [١٧٦۔ الف] اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آج کل بائیبل میں جو عہد نامہ عتیق پایا جاتا ہے اور جسے تورات سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ وہ تورات نہیں جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی تھی۔ کیونکہ وہ تورات تو دو بار گم ہوئی اور از سر نو لکھی جاتی رہی پھر اس میں الحاقی مضامین شامل ہوئے اور تحریف بھی ہوئی۔ اور جو تورات موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی اس میں نیک لوگوں کی ہدایت کے لیے کوئی کسر نہیں رہ گئی تھی۔ اخلاقی، تمدنی، معاشرتی اور معاشی احکام کے ہر لحاظ سے مکمل تھی اور اس کی نمایاں خوبی یہ تھی کہ اس سے آخرت پر ایمان پختہ ہوتا تھا۔ [١٧٧] آخرت پر ایمان رکنے اور نہ رکھنے اور نہ رکھنے والے کی زندگی کا تقابل :۔ پروردگار سے ملاقات سے مراد اللہ کے حضور اعمال کی جواب دہی کا تصور ہے۔ یہی وہ تصور ہے جو انسان کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ ایک آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے انسان کی زندگی نہایت آزادانہ، غیر ذمہ دار بلکہ وحشیانہ قسم کی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ آخرت کی عنداللہ مسؤلیت ہی کا تصور ہے جو انسان کو اوامر الٰہی کی اطاعت اور نواہی سے اجتناب کا پابند بناتا اور دنیا میں انتہائی محتاط ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کا پابند بناتا ہے یعنی بنی اسرائیل کو یہ کتاب اس لیے دی گئی تھی کہ اس کتاب کی حکیمانہ تعلیمات سے ان میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہو اور آخرت پر ایمان رکھنے والے اور نہ رکھنے والے کی زندگیوں کا مشاہدہ انہیں انکار سے ایمان کی طرف کھینچ لائے۔ الانعام
155 [١٧٨] قرآن تورات سے یادہ بابرکت کیسے ہے؟ تورات کے مقابلہ میں قرآن کے زیادہ بابرکت ہونے کے بھی کئی پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ تورات صرف ایک قوم یعنی بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے نازل ہوئی تھی جبکہ قرآن سب لوگوں کے لئے ہے اور تمام اقوام عالم سے مخاطب ہے۔ دوسرے یہ کہ تورات ایک مخصوص زمانہ کے لئے تھی جبکہ قرآن قیامت تک کے لئے ہے۔ تیسرے وہ صرف قومی مسائل کا حل پیش کرنے والی تھی۔ یہ پوری انسانیت کے مسائل کا جواب دیتی ہے۔ پھر اس میں پہلی تمام آسمانی کتب و صحائف کے مضامین کو سمو دیا گیا ہے۔ لہٰذا اب تمہیں دائیں بائیں دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اگر اللہ کی رحمت سے حظ وافر لینا چاہتے ہو تو اس کی اتباع کرو۔ اور اس بات سے اللہ سے ڈرتے رہو کہ اس کتاب کے کسی حصہ کی خلاف ورزی تم سے سرزد نہ ہو۔ الانعام
156 [١٧٩] قرآن کے نزول سے کفار مکہ پر اتمام حجت :۔ یہ خطاب کفار مکہ سے ہے یعنی ان کی طرف یہ کتاب دو وجہ سے نازل کی گئی ہے۔ ایک وجہ تو اتمام حجت ہے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ یہود و نصاریٰ کی طرف جو کتابیں اتاری گئی ہیں وہ تو انہی کے لیے تھیں، سب لوگوں کے لیے تو نہ تھیں کہ ہم بھی ان سے مستفید ہونے کی کوشش کرتے۔ اب جو کچھ اور جیسے وہ ان کتابوں کو پڑھتے پڑھاتے رہے اس کی ہمیں کیا خبر ہوسکتی ہے؟ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کتابیں تو عجمی زبانوں میں تھیں عربی میں نہیں تھیں لہٰذا ہم ان کتابوں کو کیسے پڑھ سکتے یا پڑھا سکتے تھے۔ اور دوسری وجہ جذبہ مسابقت ہے یعنی تمہاری طرف کتاب نازل نہ ہونے کی صورت میں تم یہ کہہ سکتے تھے کہ ہمارے دلوں میں یہ ولولہ اٹھ سکتا تھا کہ اگر ہمارے پاس اللہ کی کتاب آتی تو ہم دوسروں سے بڑھ کر اس پر عمل کر کے دکھا دیتے۔ سو اب جو کتاب تمہاری طرف نازل کی جا رہی ہے وہ کئی لحاظ سے تو تورات سے بہتر ہے اور اب تم اپنی مسابقت کا شوق پورا کرسکتے ہو۔ الانعام
157 [١٨٠] ایسی بابرکت اور عظیم الشان کتاب کے نزول کے بعد بھی اگر کوئی شخص اللہ کی آیات سے اعراض کرتا ہے تو یہ انتہائی بدبختی کی بات ہے اور ایسے اعراض کرنے والے یقیناً بدترین سزا کے مستحق ہیں۔ اس آیت میں خطاب کفار مکہ کو ہے لیکن جب ان کے اعراض اور اس کی سزا کا ذکر کیا تو خطاب کو عام کردیا تاکہ چڑ اور ضد نہ پیدا ہوجائے۔ الانعام
158 [١٨١] فرشتہ آئے یا پروردگار، عام انسان ان کے دیدار تک کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایسی صورتوں میں اس پر فوراً موت واقع ہوجائے گی اور موت کے وقت کا ایمان قبول نہیں ہوتا اور اگر انسان کوئی ایسا حسی معجزہ دیکھ لے جو اسے ایمان لانے پر مجبور بنا دے تو ایسا جبری ایمان بھی قابل قبول نہیں کیونکہ ایسی صورتوں میں ایمان بالغیب رہتا ہی نہیں اور فائدہ ایمان بالغیب کا ہے۔ موجود اور آنکھوں دیکھی چیز پر تو سب ہی یقین رکھتے ہیں۔ جب حقیقت سے پردہ اٹھ گیا تو پھر ایمان کے کیا معنی؟ لہٰذا یقینی چیز یا کوئی یقینی علامت دیکھنے کے بعد اس پر ایمان لانے کا کچھ فائدہ نہیں جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے : ١۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا :۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب تک سورج مغرب سے نہ طلوع ہو قیامت قائم نہ ہوگی۔ پھر جب لوگ سورج کو مغرب سے نکلتا دیکھ لیں گے تو سب کے سب ایمان لے آئیں گے۔ مگر اس وقت ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ٢۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب تین چیزیں ظاہر ہوں گی تو کسی کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا۔ جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو۔ دجال اور دابۃ الارض اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا‘‘ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) اور موت کے وقت ایمان کے فائدہ نہ دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ نجات کا دار و مدار ایمان اور اعمال صالحہ دو باتوں پر ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر ایمان کے زبانی اقرار کی تصدیق تو اعمال صالحہ سے ہی ہو سکتی ہے۔ اور مرنے والے کو عمل کا وقت ہی نہیں ملتا لہٰذا مرتے وقت ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ الانعام
159 [١٨٢] تفرقہ بازی کی بنیاد حب جاہ ومال ہوتی ہے :۔ فرقہ بازی ایسی لعنت ہے کہ ملت کی وحدت کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیتی ہے اور ایسی قوم کی ساکھ اور وقار دنیا کی نظروں سے گر جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرقہ بندی کو عذاب ہی کی ایک قسم بتایا ہے اور دوسرے مقام پر فرقہ بازوں کو مشرکین کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے وجہ یہ ہے کہ کسی بھی مذہبی فرقہ کا آغاز کسی بدعی عقیدہ سے یا عمل سے ہوتا ہے۔ مثلاً کسی نبی یا رسول یا بزرگ اور ولی کو اس کے اصل مقام سے اٹھا کر اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک بنا دینا یا کسی کی شان کو بڑھا کر بیان کرنا یا کسی سے بغض و عناد رکھنا وغیرہ۔ یہی وہ غلو فی الدین ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے شدت سے منع فرمایا اور بدعی اعمال کا زیادہ تر تعلق سنت رسول سے ہوتا ہے۔ کسی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ترک کردینا یا کسی نئے کام کا ثواب کی نیت سے دین میں اضافہ کردینا وغیرہ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دین میں اس کام کی پہلے کمی رہ گئی تھی جو اب پوری کی جا رہی ہے۔ پھر یہ فرقہ بازیاں عموماً دو ہی قسم و کی ہوتی ہیں ایک مذہبی جیسے کسی مخصوص امام کی تقلید میں انتہا پسندی۔ یا کسی معمولی قسم کے اختلاف کو اہم اور اہم اختلاف کو معمولی بنا دینا۔ اور دوسرے سیاسی۔ جیسے علاقائی، قومی، لسانی اور لونی بنیادوں پر فرقہ بنانا۔ غرض جتنے بھی فرقے بنائے جاتے ہیں ان کی تہہ میں آپ کو دو ہی باتیں کارفرما نظر آئیں گی ایک حب مال اور دوسرے حب جاہ۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بھیڑوں کے کسی ریوڑ میں دو بھوکے بھیڑیئے اتنی تباہی نہیں مچاتے جتنا حب مال یا حب جاہ کسی کے ایمان کو برباد کرتے ہیں‘‘ (ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الرقاق الفصل الثانی) نیز حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جماعت المسلمین اور ان کے امام سے چمٹے رہنا۔‘‘ میں نے عرض کیا کہ ’’اگر جماعت نہ ہو اور امام بھی نہ ہو تو کیا کروں؟‘‘ فرمایا ’’تو پھر ان تمام فرقوں سے الگ رہنا خواہ تمہیں درختوں کی جڑیں ہی کیوں نہ چبانی پڑیں۔ یہاں تک کہ تمہیں اسی حالت میں موت آجائے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الفتن۔ باب کیف الا مر اذا لم تکن جماعۃ مسلم۔ کتاب الامارۃ باب وجوب ملازمۃ المسلمین عند ظھور الفتن) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’میری امت بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں سے ایک فرقہ نجات پائے گا باقی سب جہنمی ہوں گے۔‘‘ صحابہ نے پوچھا : وہ نجات پانے والا فرقہ کونسا ہوگا ؟ فرمایا ’’جو اس راہ پر چلے گا جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔‘‘ (ترمذی۔ کتاب الایمان۔ باب افتراق ھذہ الامۃ) الانعام
160 [١٨٣] یہ اللہ کا کتنا بڑا احسان اور رحمت ہے کہ نیکی کے بدلے میں صرف اتنی ہی نیکی کا اجر نہیں بلکہ اس سے بہت زیادہ اجر و ثواب دیتا ہے مگر برائی کا بدلہ اسی قدر ہی دیتا ہے جتنی برائی ہو۔ اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے بھی ہوجاتی ہے۔ نیکی کا بدلہ دس گنا :۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اس کا فرمانا سچ ہے کہ جب میرا بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو (اے فرشتو!) اس کی ایک نیکی لکھ لو۔ پھر اگر وہ کرچکے تو اس کی دس نیکیاں لکھو۔ اور اگر وہ برائی کا ارادہ کرے تو کچھ بھی نہ لکھو۔ اور اگر کرچکے تو ایک ہی برائی لکھو۔ اور اگر نہ کرے تو اس کے لیے بھی ایک نیکی لکھ دو۔‘‘ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) اور بخاری میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے جو روایت ہے اس میں یوں ہے کہ جب کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرنے کے بعد نیکی کرتا بھی ہے تو اللہ اسے دس سے لے کر سات سو تک نیکیاں عطا کرتا ہے۔ (بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب من ہم بحسنۃ اوسیئۃ ) الانعام
161 [١٨٤] اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ذکر اس لیے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین مکہ تینوں فریق انہیں اپنا پیشوا تسلیم کرتے تھے اور یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام خالصتاً ایک اللہ ہی کی پرستش کرتے تھے۔ حتیٰ کہ مشرکین مکہ کو بھی یہ اعتراف تھا کہ ابراہیم علیہ السلام بت پرست نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری سیدھی راہ یہی ہے اور اسی پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام گامزن تھے۔ لہٰذا تم لوگ اس دین میں الگ عقیدے گھڑ کر شامل نہ کرو، اور اس طرح الگ الگ فرقے نہ بنو۔ الانعام
162 [١٨٥] یہی توحید خالص کا نمونہ ہے جس پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام عمل پیرا تھے اور جس کا تقاضا یہ تھا کہ میری تمام بدنی عبادات بھی اللہ کے لیے ہیں اور مالی عبادات بھی۔ واضح رہے کہ نسک کا معنیٰ گو قربانی ہی کیا جاتا ہے مگر اس کے وسیع معنیٰ میں سب مالی عبادات مثلاً صدقہ، خیرات، نذر و نیاز اور منت وغیرہ سب کچھ اس میں آ جاتا ہے۔ پھر میرے جینے کا مقصد ہی شرک کو ختم کرنا اور اللہ کے کلمہ کو بلند کرنا ہے تاآنکہ اسی راہ میں مجھے موت آ جائے۔ الانعام
163 [١٨٦] ہر نبی پر یہ فرض ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اپنی نبوت پر خود ایمان لائے اور وحی کی اتباع کرے اسی لحاظ سے رسول اللہ اپنی امت میں اول المسلمین ہیں۔ الانعام
164 [١٨٧] یعنی کائنات کی ہر چیز کا پروردگار تو اللہ ہے اور میں بھی کائنات کا ایک حصہ ہوں تو پھر میرا پروردگار کوئی دوسرا کیسے ہوسکتا ہے۔ کائنات کی ایک ایک چیز اللہ کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق چل رہی ہے اور میں بھی اضطراری امور میں انہی مقررہ قوانین کا پابند ہوں۔ پھر جن باتوں میں مجھے تھوڑا بہت اختیار دیا گیا ہے میں کیوں نہ ان اختیارات کو اللہ کی مرضی کے تابع بنا دوں اور پوری کائنات سے الگ الٹی روش کیوں اختیار کروں؟ [١٨٨] یہ ناممکن ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی! مشرکین مکہ میں سے اکثر جو روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ایسی توحید کو چھوڑ کر ہماری طرف آ جاؤ، اگر قیامت آئی بھی تو پھر تمہارے اس گناہ کا بوجھ ہم اٹھا لیں گے جیسا کہ سورۃ عنکبوت کی آیت نمبر ١٢ میں ذکر ہوا ہے۔ اس آیت میں مشرکوں کے اسی قول کا جواب دیا گیا ہے کہ ناممکن ہے کہ گناہ تو زید کرے اور اس کی سزا بکر بھگتے۔ ہر ایک سے اس کے اپنے اعمال کا محاسبہ ہوگا۔ پھر اسے ہی سزا دی جائے گی۔ [١٨٩] اس دن تم پر سب کچھ واضح ہوجائے گا کہ جن ہستیوں کو تم اللہ کا شریک سمجھ رہے تھے ان سے فریادیں کرتے اور مشکل کشائی کے لیے پکارتے تھے ان کی اللہ کے سامنے کیا حیثیت ہے اور جن اختلافات پر تم نے اپنے اپنے فرقوں کی بنیاد رکھی تھی سب کھل کر تمہارے سامنے آ جائیں گے۔ الانعام
165 [١٩٠] اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسان دنیا میں اللہ کا خلیفہ ہے اسے کچھ اختیارات دیئے گئے ہیں تاکہ زمین پر خلافت الٰہیہ قائم کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسان زمین میں اپنے سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا خلیفہ ہے اور یہ بحث پہلے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٣٠ کے تحت گزر چکی ہے۔ [١٩١] انسان کا امتحان انہی چیزوں پر ہے جو اللہ نے اسے دے رکھی ہیں :۔ یعنی کوئی امیر ہے، کوئی غریب، کوئی عالم ہے کوئی جاہل، کوئی عقلمند ہے کوئی بے وقوف، کسی میں قوت کار کی استعداد زیادہ ہے کسی میں کم، جسمانی لحاظ سے کوئی مضبوط اور طاقتور ہے اور کوئی کمزور و نحیف۔ غرض اس دنیا میں انسانوں کے درجات میں تفاوت کے بے شمار پہلو ہیں۔ ان تفاوت درجات سے ہی دنیا کا نظام قائم رہ سکتا ہے اور اس دنیا میں ہر انسان کا امتحان اس کی اپنی استعداد کے مطابق ہی ہوتا ہے جو خوبی اللہ نے کسی کو دے رکھی ہے اسی میں اس کا امتحان ہوگا۔ [١٩٢] امیر کی آزمائش یہ ہے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یا نہیں، دوسروں کے جو مالی حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں وہ ادا کرتا ہے یا نہیں؟ اگر غریب ہے تو صبر و قناعت سے کام لیتا ہے یا جزع فزع شروع کردیتا ہے اور اس حال میں بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یا نہیں؟ اور عالم کیا باعمل بھی ہے یا نہیں اور اپنے علم سے کیا دوسروں کو مستفید کرتا ہے اور دوسروں کو بھی سکھاتا ہے یا نہیں؟ یعنی علم کی بنا پر اس پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہ ادا کرتا ہے یا نہیں؟ اگر کوئی حاکم ہے تو وہ اپنی رعایا سے کیسا سلوک کرتا ہے؟ اگر رعایا کا فرد ہے تو اپنے حکام کی کس قدر اطاعت کرتا ہے۔ غرض ہر انسان کا اس دنیا میں ایک خاص مقام ہے خواہ اس کا درجہ اونچا ہے یا نیچا اور اس مقام پر ہی اس کے حسب حال اس دنیا میں آزمائش ہو رہی ہے اگر وہ اس امتحان میں ناکام رہتا ہے تو اللہ جلد ہی اسے سزا دینے پر قدرت رکھتا ہے اور اگر وہ فرمانبردار ہے لیکن اس سے کو تاہیاں ہوگئی ہیں تو اللہ بخش دینے والا ہے اور اگر اس امتحان میں کامیاب رہا ہے تو اللہ اس کے حق میں بہت مہربان ہے۔ اسے دنیا میں بھی عزت بخشے گا اور آخرت میں بھی اپنے انعامات سے نوازے گا۔ یہ آیت اس سورۃ کا تتمہ ہے جس میں بنی نوع انسان پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس کائنات میں اس کی کیا حیثیت ہے اور کس مقصد کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ الانعام
0 [ ١] یہ سورۃ انعام سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی البتہ اس میں آٹھ آیات ﴿ وَسْــــَٔـلْہُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ ﴾ سے لے کر ﴿وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَہُمْ کَاَنَّہٗ ظُلَّـۃٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمْ ۚ﴾ تک مدنی ہیں اور اس سورۂ کا نام اعراف اس لیے ہے کہ اس میں جنت اور دوزخ کے درمیانی مقام اعراف اور اصحاب اعراف کا ذکر آیا ہے۔ الاعراف
1 الاعراف
2 [ ٢] یہاں کتاب سے مراد یہی سورہ اعراف ہے اور قرآن میں جب کبھی سورۃ کے ابتداء میں کتاب کا لفظ آتا ہے تو اس کا معنی وہ سورت ہی ہوتا ہے گویا قرآن کریم کی ہر سورہ ایک مستقل کتاب ہے جو اپنی ذات، میں مکمل ہے اور قرآن ایسی ہی ایک سو چودہ کتابوں (یا سورتوں) کا مجموعہ ہے جیسا کہ سورۃ ’’البینہ‘‘ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً 0 فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ﴾ (البینہ: 2۔3) پھر لفظ کتاب کا اطلاق پورے قرآن پر بھی ہوتا ہے۔ [ ٣] جب کبھی کوئی سورۃ نازل ہوتی اور آپ لوگوں کو سناتے تو کافروں کی طرف سے ردّعمل یہ ہوتا کہ کبھی صاف انکار کردیتے کبھی مذاق اڑاتے، کبھی اعتراضات شروع کردیتے، کبھی کسی حِسی معجزہ کا مطالبہ شروع کردیتے۔ غرض یہ کہ ان کی طرف سے حوصلہ شکنی اور دل شکنی کی تمام صورتیں واقع ہوجاتیں مگر حوصلہ افزائی کی کوئی صورت نہ ہوتی اسی وجہ سے بعض دفعہ آپ کی طبیعت میں سخت انقباض اور گھٹن پیدا ہوجاتی اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن لوگوں تک صرف پہنچا دیں اور انہیں ڈرائیں کفار سے جو ردعمل ہو رہا ہے یا وہ ہدایت قبول نہیں کرتے تو اس کے لیے آپ پریشان نہ ہوں اللہ خود ان سے نمٹ لے گا، البتہ اس قرآن کے سنانے کا ایک فائدہ تو یقینی ہے جو یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے لیے یہ نصیحت بھی ہے اور یاد دہانی بھی جو ان کے ایمان کو مزید پختہ اور مضبوط بنا دے گی۔ اور یاد دہانی سے مراد عہد ﴿اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ﴾ ( الاعراف :172) کی یاددہانی ہے جو ہر انسان کے تحت الشعور میں موجود ہے اور کسی بھی خارجی داعیے سے اس کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ یہ قرآن اسی دبے ہوئے شعور کو بیدار کرتا اور اس عہد کی یاد تازہ کرتا ہے۔ الاعراف
3 [٤] ٭اسلام میں باہر سے کوئی نظریہ : یہاں اولیاء سے مراد پیشوا اور قائدین ہیں یعنی انسانی زندگی کے لیے جو قوانین اس کتاب میں مذکور ہیں آپ صرف انہیں کا اتباع کیجئے۔ آج بھی غیرمسلم قائدین سے مسلمانوں کو کسی طرح کے قواعد و احکام اسلام میں درآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہی کہ وہ مسائل شرعیہ علمائے یہود سے پوچھیں، زہد اور رہبانیت کے لیے ہندی اور یونانی فلسفہ کے محتاج ہوں اپنا معاشی نظام لینن اور کارل مارکس سے حاصل کریں یا روس اور چین سے درآمد کریں۔ سیاسی نظام کے لیے امریکی جمہوریت کو اسلام کے اندر لا گھسائیں بلکہ انسانی زندگی کی ہر طرح کی ضرورت کے لیے انہیں یہ کتاب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی ہے مگر آج کے مسلمان یہ بات ذرا کم ہی سوچتے ہیں۔ الاعراف
4 الاعراف
5 [٥] یعنی اللہ کی گرفت ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب انسان اللہ کی تنبیہات سے بے نیاز ہو کر غفلت کی نیند سو جاتا ہے پھر جب اللہ کی گرفت یا اس کا عذاب واقع ہوجاتا ہے تو اس وقت یہ اعتراف کرنے لگتا ہے کہ یہ ہمارا ہی قصور تھا جو ہم غفلت میں پڑے رہے مگر وقت گزرنے کے بعد ایسا اعتراف کوئی فائدہ نہیں دیتا، بلکہ حسرت و یاس کا سبب بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ فرما یہ رہے ہیں کہ تمہارے سامنے بیسیوں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ پھر کیا یہ ضروری ہے کہ تم اسی وقت عبرت حاصل کرو جب تم خود عذاب میں گرفتار ہوجاؤ؟ آخر تم گزشتہ اقوام کے انجام سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ الاعراف
6 الاعراف
7 [٦] ٭انصاف کا تقاضا اور شہادت کی اہمیت : یعنی کسی قوم پر ایسا عذاب آنا اس کے جرائم کی مکمل سزا نہیں ہوتی بلکہ اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کسی عادی مجرم کو گرفتار کرلیا جائے تاکہ آئندہ اس کے ظلم سے لوگ محفوظ رہیں بالفاظ دیگر اس قوم کے مظالم دوسری اقوام کو بھی متاثر نہ کرنے لگیں۔ پھر ایسے مجرموں پر اللہ تعالیٰ کی عدالت میں باقاعدہ مقدمہ پیش ہوگا۔ ایک فریق تو رسول ہوں گے جو ان کی طرف بھیجے گئے تھے اور دوسرا فریق یہ مجرم قوم ہوگی، دونوں کی شہادتیں ہوں گی، رسول کی شہادت یہ ہوگی کہ یا اللہ میں نے اس قوم کو تیرا پیغام پہنچا دیا تھا۔ مگر چونکہ قوم کو سزا کا خوف ہوگا اس لیے اسے رسول کی شہادت کے خلاف شہادت دینے کے سوا کوئی چارہ کار نظر نہ آئے گا پھر اللہ تعالیٰ ان پر پوری حقیقت حال واضح فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تو کسی وقت بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں تھی مگر اللہ تعالیٰ کی اس وضاحت کے باوجود ان پر فرد جرم عائد نہیں کی جائے گی بلکہ ان کے ان اعضاء و جوارح کو اللہ تعالیٰ زبان عطا کریں گے جن سے اس جرم کے دوران کام لیے گئے تھے وہ ان مجرموں کے خلاف شہادت دیں گے پھر جب شہادت کے نصاب کی تکمیل ہوجائے گی تو اس وقت ان پر فرد جرم عائد ہوجائے گی اور انہیں سزا دی جائے گی جیسا کہ قرآن کی بعض دوسری آیات میں یہ وضاحت موجود ہے۔ مندرجہ بالا تصریحات سے ضمناً چند باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک یہ کہ دنیا میں بے شمار مجرم ایسے ہیں جو ظلم و ستم کرتے رہتے ہیں مگر کسی قسم کی سزا پائے بغیر وہ اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا تقاضا یہ ہے کہ ان مجرموں کو سزا ضرور ملنی چاہیے اور علی رؤس الشہادات ملنی چاہیے تاکہ کسی کو اس کے جرم کی سزا نہ زیادہ ملے اور نہ اس پر ظلم ہو اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو ایک دوسری زندگی ملے جس میں ایسے تمام تر مقدمات کے فیصلے ہوں۔ ٭ فیصلہ کرنے کے لئے شہادت ضروری ہے : اور دوسری بات یہ مستنبط ہوتی ہے کہ قاضی محض اپنے علم کی بنا پر مقدمے کا فیصلہ نہیں دے سکتا بلکہ فیصلہ اور سزا شہادتوں کی بنا پر ہی دئیے جا سکتے ہیں اور اس کی دلیل یہ واقعہ ہے کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مدینہ میں ایک فاحشہ عورت رہتی تھی لوگوں کی اس کے ہاں آمد و رفت کی وجہ سے اس کی فحاشی کھل کر سامنے آ چکی تھی اور زبان زد عام تھی اس کے متعلق ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اگر شہادتوں کا نصاب اور نظام نہ ہوتا تو میں اس عورت کو رجم کردیتا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الطلاق۔ باب لوکنت راجما بغیربیّنۃ۔۔) الاعراف
8 الاعراف
9 [٧] ٭اعمال کا وزن حق کے ساتھ کیسے؟ آیت کے الفاظ یہ ہیں آیت ﴿وَالْوَزْنُ یَوْمَیِٕذِۨ الْحَقُّ﴾ (الاعراف :8) (یعنی اس دن وزن صرف حق یا حقیقت کا ہوگا) یعنی جتنی کسی عمل میں حقیقت ہوگی اتنا ہی وہ عمل وزنی ہوگا مثلاً ایک شخص اپنی نماز نہایت خلوص نیت سے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس کی رضامندی چاہتے ہوئے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتا ہے تو اس کا یہ عمل یقیناً اس شخص کی نماز سے بہت زیادہ وزنی ہوگا جس نے اپنی نماز بےدلی سے، سستی کے ساتھ اور دنیوی خیالات میں مستغرق رہ کر ادا کی اور جس عمل میں حق کا کچھ بھی حصہ نہ ہوگا اس کا وزن کیا ہی نہیں جائے گا، جیسے سورۃ کہف کی آیت نمبر ١٠٥ میں مذکور ہے کہ ’’جن لوگوں نے اپنے پروردگار کی آیات سے کفر کیا ہوگا ان کے لیے ہم میزان قائم ہی نہیں کریں گے۔‘‘ اور سورۃ فرقان کی آیت نمبر ٢٣ میں فرمایا کہ ’’ہم ایسے کافروں کے اعمال کی طرف پیش قدمی کریں گے تو انہیں اڑتا ہوا غبار بنا دیں گے‘‘ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ میزان عدل صرف ان لوگوں کے لیے قائم کی جائے گی جو ایمان لائے تھے اور ان کے اعمال اچھے اور برے، وزنی اور کم وزن والے ملے جلے ہوں گے۔ کافروں کے لیے ایسی میزان قائم کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوگی اور ان الفاظ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اعمال کا حق کے ساتھ وزن کیا جائے گا یعنی فلاں شخص کے فلاں عمل میں حقیقت کتنی تھی۔ اس بات کا فیصلہ بھی نہایت انصاف کے ساتھ کیا جائے گا۔ کتاب و سنت کی تصریحات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اعمال کی میزان (ترازو) ایسی ہی ہوگی جیسی ہمارے استعمال میں آتی ہے، اس کے دو پلڑے ہوں گے ایک میں نیکیاں رکھی جائیں گی اور دوسرے میں برائیاں۔ اس ترازو کی زبان بھی ہوگی زبان سے مراد ترازو کے اوپر کے ڈنڈے کے درمیان میں لگی ہوئی وہ سوئی ہے جو خفیف سے خفیف فرق کو بھی ظاہر کردیتی ہے اور یہ باتیں صرف ہمارے سمجھانے کے لیے کافی سمجھی گئی ہیں باقی اس کی صحیح کیفیت کیا ہوگی؟ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بعض علماء کا قول یہ ہے کہ اس دنیا میں تو اعمال اعراض کی شکل میں ہوتے ہیں لیکن اس دن اعمال کو مجسم کیا جائے گا اور جس عمل میں جس قدر حق ہوگا اسے اتنا ہی بڑا جسم والا اور وزنی بنایا جائے گا پھر انہیں اس ترازو میں تولا جائے گا۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ الاعراف
10 [٨] یعنی انسان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی بھی ایک کم کردیا جائے مثلاً ہوا کا وجود ہی ختم ہوجائے یا دھوپ کبھی نہ نکلے تو اس دنیا میں اس کا جینا محال ہوجائے ان احسانات کا بدلہ تو یہ ہونا چاہیے کہ انسان اللہ کے شکر گزار بندے بن جاتے مگر ایسا خیال کم ہی لوگوں کو آتا ہے۔ الاعراف
11 [٩]٭ تخلیق آدم اور نظریہ ارتقاء : اس آیت سے جو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام کو فرشتوں کے سجدہ کرنے کے حکم سے پہلے ہی انسانوں کی تخلیق ہوچکی تھی اور شکل و صورت بھی بنا دی گئی تھی تو اس سے مراد یہ ہے کہ اس وقت سیدنا آدم علیہ السلام کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد کی ارواح پیدا کی گئی تھیں اور ان روحوں کو وہی صورت عطا کی گئی تھی جو اس دنیا میں آنے کے بعد اس روح کے جسم کی ہوگی اور انہیں ارواح ہی سے اللہ تعالیٰ نے عہد آیت ﴿اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ﴾(الاعراف :172) لیا تھا۔ جسم میں روح کی یا روح کے جسم میں موجود ہونے کی مثال یوں دی جاتی ہے جیسے زیتون کے درخت میں روغن زیتون یا کوئلہ میں آگ یا جلنے والی گیس۔ اور بعض دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی تمام اولاد کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے یہاں ''کم '' کی ضمیر بطور جمع مذکر مخاطب استعمال ہوئی ہے یعنی اس وقت صرف سیدنا آدم علیہ السلام کو بنا کر پھر اسے صورت عطا کر کے فرشتوں کو یہ حکم دیا تھا۔ اس مقام پر یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ مسلمانوں میں بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو ڈارون کے نظریہ ارتقاء کے قائل ہیں اور انسان کو اسی ارتقائی سلسلہ کی آخری کڑی قرار دیتے ہیں وہ اسی آیت سے اپنے نظریہ کے حق میں استدلال کرتے ہیں اور ثابت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ آیت مذکورہ میں جمع کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ آدم سے پہلے بنی نوع انسان موجود تھی کیونکہ آدم (علیہ السلام) کو ملائکہ کے سجدہ کا ذکر بعد میں ہوا ہے۔ نیز اسی سورۃ کی اگلی آیات (١١ سے ٢٥ تک) کی طرف توجہ دلاتے ہیں جہاں کہیں تو آدم (علیہ السلام) اور اس کی بیوی کے لیے تثنیہ کا صیغہ آیا ہے لیکن اکثر مقامات پر جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ اس کا ایک جواب تو اوپر دیا جا چکا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے سجدہ کرنے سے پیشتر ارواح کی تخلیق کی گئی۔ انہیں صورتیں دی گئیں اور انہی سے وعدۂ الست لیا گیا تھا اور یہ بات قرآن کریم سے ثابت ہے اور ان حضرات کے لیے دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر وہ سورۃ اعراف کی ان آیات کے ساتھ سورۃ بقرہ کی آیات نمبر ٣٠ تا ٣٦ دوبارہ ملاحظہ فرما لیں تو اس تثنیہ کے صیغہ کی حقیقت از خود معلوم ہوجائے گی۔ نیز اس مقام پر ابتداء میں دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام موجود انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ ’’اپنے پروردگار کی طرف سے نازل شدہ وحی کی اتباع کرو۔‘‘ پھر آگے چل کر آدم (علیہ السلام)، آپ کی بیوی اور ابلیس وغیرہ کا قصہ مذکور ہے، تو قرآن میں حسب موقع و محل صیغوں کا استعمال ہوا ہے ان آیات کے مخاطب آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد ہے نہ کہ آدم (علیہ السلام) اور اس کی بیوی کے آباؤ اجداد یا بھائی بند۔ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کے بعد اللہ نے فرشتوں سے اسے سجدہ کروایا پھر اس سے حوا علیہا السلام کو پیدا کیا پھر انہیں جنت میں آباد کیا۔ اگر آدم سلسلہ ارتقاء کے نتیجہ میں پیدا ہوئے تھے تو اس وقت ان کے آباؤ اجداد یا بھائی بند کہاں تھے؟ اب چونکہ اس مسئلہ ارتقاء کے قائلین کی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دوسرے قرآنی دلائل کا بھی جائزہ لے لیا جائے تاکہ حقیقت نکھر کر سامنے آ جائے۔ ٭ دوسری دلیل اور اس کا جواب : ان حضرات کی دوسری دلیل سورۃ نساء کی پہلی آیت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثیر مرد اور عورتیں (پیدا کر کے روئے زمین پر) پھیلائے۔‘‘ (النساء: 1) یہ آیت اپنے مطلب میں صاف ہے کہ نفس واحدہ سے مراد آدم علیہ السلام اور ان کے زوج سے مراد ان کی بیوی حوا (علیہا السلام) ہے مگر ہمارے یہ دوست نفس واحدہ سے مراد پہلا جرثومہ حیات لیتے ہیں جو سمندر کے کنارے کائی سے پیدا ہوا تھا۔ اس جرثومہ حیات کے متعلق نظریہ یہ ہے کہ وہ کٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا پھر ان میں سے ہر ایک ٹکڑا بڑا ہو کر پھر کٹ کر دو دو ٹکڑے ہوتا گیا اس طرح زندگی میں وسعت پیدا ہوتی گئی جو جمادات سے نباتات، نباتات سے حیوانات اور حیوانات سے انسان تک پہنچی ہے۔ یہ دلیل اس لحاظ سے غلط ہے کہ آیت ﴿خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا﴾ ( النسآء :1) کے الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ اس جوڑے سے آئندہ نسل توالد و تناسل کے ذریعہ سے چلی تھی جبکہ جرثومہ حیات کی صورت یہ نہیں ہوتی آج بھی جراثیم کی پیدائش و افزائش اسی طرح ہوتی ہے کہ ایک جرثومہ کٹ کر دو حصے بن جاتا ہے اسی طرح افزائش تو ہوتی چلی جاتی ہے مگر ان میں توالد و تناسل کا سلسلہ نہیں ہوتا لہذا وہ ایک جرثومہ کے دو ٹکڑے تو کہلا سکتے ہیں زوج نہیں کہلا سکتے۔ ٭ تیسری دلیل اور اس کا جواب : ان حضرات کی تیسری دلیل سورۃ علق کی دوسری آیت ہے کہ ’’اللہ نے انسان کو علق سے پیدا کیا۔‘‘ (العلق : ٤) علق کے لغوی معنی جما ہوا خون یا خون کی پھٹکی بھی ہے اور جونک بھی۔ ہمارے یہ دوست اس سے دوسرے معنی مراد لیتے ہیں اور اسے رحم مادر کی کیفیت قرار نہیں دیتے بلکہ اس سے ارتقائی زندگی کے سفر کا وہ دور مراد لیتے ہیں جب جونک کی قسم کے جانور وجود میں آئے تھے اور کہتے ہیں کہ انسان بھی جانداروں کی ارتقائی شکل ہے۔ اس اشکال کو کہ آیا یہ رحم مادر کا قصہ ہے یا ارتقائی زندگی کے سفر کی داستان ہے سورۃ مومنوں کی آیت ١٤ دور کردیتی ہے جو یہ ہے۔ ’’پھر ہم نے نطفہ سے علقۃ (لوتھڑا، جما ہوا خون، خون کی پھٹکی) بنایا پھر لوتھڑے سے بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اس انسان کو نئی صورت میں بنا دیا تو اللہ سب سے بہتر بنانے والا بڑا بابرکت ہے۔‘‘ (المؤمنون : ١٤) انسان کی پیدائش کے یہ تدریجی مراحل صاف بتلا رہے ہیں کہ یہ رحم مادر میں ہونے والے تغیرات ہیں کیونکہ ارتقائے زندگی کے مراحل ان پر منطبق نہیں ہوتے۔ نیز یہ بھی کہ قرآن کریم نے علق سے مراد جما ہوا خون ہی لیا ہے۔ اس سے ارتقائی مراحل کی جونک مراد نہیں۔ اب ہم اپنی طرف سے نظریہ ارتقاء کے ابطال پر چند دلائل پیش کرتے ہیں : پہلی دلیل مراحل تخلیق : قرآن نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے جو سات مراحل بیان فرمائے ہیں وہ درج ذیل ہیں :۔ (١) تراب بمعنی خشک مٹی (٤٠ : ١٧)۔ (٢) ارض بمعنی عام مٹی یا زمین (٧١ : ١٧) (٣) طین بمعنی گیلی مٹی یا گارا (٦ : ٢)۔ (٤)﴿ طِیْنٍ لَّازِب﴾ (٣٧ : ١١)۔ (٥) آیت ﴿حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ﴾ ( الحجر :26) بمعنی بدبودار کیچڑ (١٥ : ١٦)۔ (٦) صلصال بمعنی ٹھیکرا، حرارت سے پکائی ہوئی مٹی (١٥ : ١٦)۔ (٧) آیت ﴿صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ﴾ 55۔ الرحمن :14) یعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری (٥٥ : ١٤) یہ ساتوں مراحل بس جمادات ہی میں پورے ہوجاتے ہیں۔ مٹی میں پانی کی آمیزش ضرور ہوئی لیکن بعد میں وہ بھی پوری طرح خشک کردیا گیا۔ غور فرمائیے اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسان کے جو سات مراحل بیان فرمائے ہیں وہ سب کے سب ایک ہی نوع (جمادات) سے متعلق ہیں ان میں کہیں نباتات اور حیوانات کا ذکر آیا ہے؟ اگر انسان کی تخلیق نباتات اور حیوانات کے راستے سے ہوتی تو ان کا بھی کہیں تو ذکر ہونا چاہیے تھا۔ سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق میں دو باتیں خصوصی نوعیت رکھتی ہیں ایک یہ کہ سیدنا آدم علیہ السلام کا پتلا اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور قرآن کے الفاظ آیت ﴿لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ ﴾ (ص :75) اس کا ثبوت ہیں اور دوسرے پتلا تیار ہوجانے کے بعد اس میں اللہ تعالیٰ کا اپنے روح سے پھونکنا، جس کی وجہ سے انسان میں قوت ارادہ و اختیار اور قوت تمیز و عقل پیدا ہوئی جو دوسرے کسی جاندار میں نہیں ہے ہمارے یہ دوست عموماً اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے مراد دست قدرت یا قوت لے لیا کرتے ہیں مگر سوچنے کی بات تو صرف یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت اور قوت ہی سے پیدا کیا ہے پھر صرف آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے متعلق خصوصی ذکر کی کیا ضرورت تھی کہ میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بنایا۔ دوسرے انسان میں جو قوت ارادہ و اختیار ہے وہ تسلسل ارتقاء کی صورت میں کب اور کیسے پیدا ہوگئی؟ ٩ ہجری میں نجران کے عیسائی مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مناظرہ کرنے آئے۔ موضوع الوہیت مسیح تھا۔ ان کا طرز استدلال یہ تھا کہ جب تم مسلمان خود تسلیم کرتے ہو کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا باپ نہیں تھا اور یہ بھی تسلیم کرتے ہو کہ وہ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے تو بتاؤ کہ اگر وہ اللہ کے بیٹے نہ تھے تو ان کا باپ کون تھا ؟ اس دوران یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اللہ کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال آدم (علیہ السلام) کی سی ہے آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اس سے کہا کہ ہوجا تو آدم ایک جیتا جاگتا انسان بن گیا۔ ‘‘ (٣ : ٥٩) یعنی عیسائیوں کو جواب یہ دیا گیا کہ اگر باپ کا نہ ہونا الوہیت کی دلیل بن سکتا ہے تو پھر آدم الوہیت کے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ ان کی باپ کے علاوہ ماں بھی نہ تھی مگر انہیں تم اللہ یا اللہ کا بیٹا نہیں کہتے تو عیسیٰ (علیہ السلام) کیسے اللہ یا اس کا بیٹا ہو سکتے ہیں؟ الوہیت مسیح کی تردید میں یہ دلیل اللہ تعالیٰ نے اس لیے دی تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ پیدا ہونے میں عیسائی اور مسلمان دونوں متفق تھے لیکن آج مسلمانوں کا ایک طبقہ تو ایسا ہے جو معجزات کا منکر ہے وہ آدم (علیہ السلام) کی بغیر ماں باپ پیدائش کو تو تسلیم کرتا ہے مگر عیسیٰ (علیہ السلام) کی بن باپ پیدائش کو تسلیم نہیں کرتا۔ دوسرا فرقہ قرآنی مفکرین کا وہ ہے جو ارتقائی نظریہ کے قائل ہونے کی وجہ سے آدم (علیہ السلام) کی بھی بن باپ پیدائش کے قائل نہیں۔ مندرجہ بالا آیت میں ان فرقوں کا رد موجود ہے وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کو آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کے مثل قرار دیا ہے، جس کی ممکنہ صورتیں یہ ہو سکتی ہیں۔ ١۔ دونوں کی پیدائش مٹی سے ہے یہ توجیہ اس لیے غلط ہے کہ تمام بنی نوع انسان کی پیدائش مٹی سے ہوئی اس میں آدم (علیہ السلام) و عیسیٰ (علیہ السلام) کی کوئی خصوصیت نہیں۔ ٢۔ دونوں کی پیدائش ماں باپ کے ذریعہ سے ہوئی یہ توجیہ بھی غلط ہے کیونکہ انسان کی پیدائش کے لیے یہ عام دستور ہے آدم (علیہ السلام) و عیسیٰ (علیہ السلام) کی اس میں کوئی خصوصیت نہیں کہ اللہ صرف ان دونوں کی پیدائش کو ایک دوسرے کی مثل قرار دیتے۔ لامحالہ دونوں کی پیدائش غیر فطری طریق سے ہوئی۔ ٣۔ اب تیسری صورت صرف یہ باقی رہ جاتی ہے کہ دونوں کے باپ کا نہ ہونا تسلیم کیا جائے اور یہی ان دونوں میں مثلیت کا پہلو نکل سکتا ہے جس میں دوسرے انسان شامل نہیں گویا یہ آیت بھی نظریہ ارتقاء کو باطل قرار دیتی ہے (نظریہ ارتقاء کی مزید تفصیلات کے لیے سورۃ حجر کی آیت نمبر ٣٩ کا حاشیہ نمبر ١٩ اور اس کے علاوہ میری تصنیف ’’عقل پرستی اور انکار معجزات‘‘ ملاحظہ فرمائیے۔ [ ١٠] ابلیس کی حقیت سمجھنے کے لیے دیکھیے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٣٤ کا حاشیہ نمبر ٤٧) الاعراف
12 [١١]٭ آگ اور مٹی کے خواص کا تقابل : ابلیس کا گمان یہ تھا کہ آگ مٹی سے افضل ہے کیونکہ آگ لطیف ہوتی ہے اور مٹی کثیف۔ آگ نیچے سے اوپر کو اٹھتی ہے اور مٹی اوپر سے نیچے کو گرتی ہے آگ اپنی شکل اور رنگ بدل سکتی ہے مگر مٹی میں بغیر محنت شاقہ کے یہ صفت نہیں پائی جاتی اس ظاہری برتری کے بعد اگر نتیجہ دیکھیں تو آگ ہر چیز کو جلا کر فنا کردیتی ہے جبکہ مٹی سے نباتات یا ہر قسم کے پھل، غلے اور درخت پیدا ہوتے ہیں آگ کی طبیعت میں سرکشی ہے، مٹی کی طبیعت میں انکسار اور تواضع ہے۔ اسی آگ کی فطرت کی بنا پر ابلیس نے اللہ کی نافرمانی کی اور تکبر کی راہ اختیار کی اور راندہ درگاہ الٰہی بن گیا اور آدم علیہ السلام سے اللہ کی نافرمانی ہوگئی تو اس نے گناہ کی معافی مانگ لی اور اللہ کے مقرب بن گئے۔ بعض علماء نے آگ اور مٹی کا تقابل کر کے انہیں وجوہ کی بنا پر مٹی کو آگ سے افضل قرار دیا ہے۔ الاعراف
13 [١٢] حقیقتاً ابلیس کے تین قصور تھے ایک اللہ کے حکم کو نہ مانا، دوسرے فرشتوں کی جس جماعت میں وہ رہتا تھا سجدہ کرتے وقت وہ اس جماعت سے الگ ہوا تیسرے اس نافرمانی پر نادم ہونے کی بجائے تکبر کیا، خود کو بڑا سمجھا اور سیدنا آدم علیہ السلام کو حقیر سمجھا، لہذا اس پر اللہ کی لعنت و پھٹکار ہوئی اور ذلیل و خوار ہوا اور یہ لعنت و پھٹکار ہمیشہ کے لیے اس کا مقدر ہوگئی۔ الاعراف
14 الاعراف
15 [١٣] ٭ابلیس کے عزائم : شیطان چونکہ سیدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے راندہ درگاہ الٰہی ہوا تھا اس لیے وہ سیدنا آدم علیہ السلام کا دشمن بن گیا اس نے اپنے کسی قصور کا احساس نہ کیا اور ان گناہوں کی سزا کا اصل سبب سیدنا آدم علیہ السلام کو قرار دیا اور قیامت تک اللہ سے مہلت بھی مانگی اور آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کو بہکانے اور ورغلانے کا اختیار بھی مانگا تو اللہ نے اسے یہ اختیار دے دیا۔ اس عرصے میں سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو بہکا کر اور گمراہ کر کے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ آدمی فی الواقع خلافت ارضی کا اہل نہیں ہے اور میں نے جو اسے سجدہ نہیں کیا تو اس معاملہ میں میں ہی راہ راست پر تھا۔ الاعراف
16 [١٤] ٭ابلیس کا اللہ تعالیٰ پر الزام : ابلیس نے مزید جرم یہ کیا کہ اپنی اس نافرمانی اور گمراہی کا الزام اللہ تعالیٰ پر لگا دیا اور کہا کہ تو نے مجھے ایسی مخلوق کو سجدہ کرنے کا حکم دیا جو مجھ سے فروتر تھی اس سے میرے نفس کی غیرت اور پندار کو ٹھیس پہنچی اور تو نے مجھے ایسی آزمائش میں ڈال دیا کہ میں تیری نافرمانی پر مجبور ہوگیا اور چونکہ میری گمراہی کا ذریعہ آدم (علیہ السلام) بنا ہے لہذا اب میں جس طرح بھی مجھ سے بن پڑا اسے اور اس کی اولاد کو ہر حیلے بہانے گمراہ کر کے چھوڑوں گا اور تجھے معلوم ہوجائے گا کہ میں آدم اور اس کی اولاد کی اکثریت کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوجاؤں گا تھوڑے ہی بندے ایسے رہ جائیں گے جو تیرے فرمانبردار اور شکر گزار ہوں گے۔ الاعراف
17 الاعراف
18 [١٥] یہ سب گفتگو شیطان کے سیدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کے موقعہ پر ہوئی۔ ابلیس کی اس گستاخانہ گفتگو کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے جنت سے نکل جانے کا حکم دے دیا اور فرمایا کہ جنت میں تیرے جیسے متکبر، سرکش اور نافرمان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے جو تیرے بھرے میں آ جائیں گے وہ سب جہنم میں تیرے ساتھی ہوں گے۔ الاعراف
19 [١٦] ابلیس کو تو اللہ تعالیٰ نے جنت سے نکال دیا اور آدم (علیہ السلام) کے بعد اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے فرمایا کہ یہ جنت تمہارا مسکن ہے یہاں سے جو چا ہو اور جتنا چاہو کھاؤ پیو البتہ اس ایک درخت کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ یہ درخت کون سا تھا ؟ اس کی صراحت نہیں کی گئی اور نہ اس کی ضرورت ہی تھی۔ اس حکم سے مقصود صرف آدم و حوا علیہما السلام کی آزمائش تھی کہ وہ کہاں تک اللہ کا یہ حکم بجا لاتے ہیں اور شیطان جو اپنی چھاتی پر ہاتھ مار کر کہتا ہے کہ میں آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا کیا یہ اس کی چالوں میں آتے ہیں یا نہیں؟ الاعراف
20 الاعراف
21 [١٧] ٭شیطان کے انسان کو گمراہ کرنے کے طریقے : ان دو آیات میں شیطان کے انسان کو گمراہ کرنے کے طریق کار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس طریق کا آغاز شیطان کا انسان کے دل میں وسوسہ پیدا کرنے سے ہوتا ہے اور وسوسہ سے مراد ہر وہ خیال ہے جس پر عمل کرنا کسی امر الٰہی کی نافرمانی پر منتج ہوتا ہو یعنی انسان کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کا پہلا حملہ اس کے خیالات پر ہوتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کی رگوں میں یوں دوڑتا ہے جیسے انسان کا خون دوڑتا ہے (بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب صفۃ ابلیس و جنودہ) (٢) شیطان انسان کو کبھی کوئی برا راستہ دکھا کر گمراہ نہیں کرتا، نہ کرسکتا ہے بلکہ ہمیشہ اسے سبز باغ دکھا کر گمراہ کرتا ہے۔ مثلاً اگر یہ کام کرو گے تو تمہاری حالت موجودہ حالت سے بدرجہا بہترین ہو سکتی ہے اور فلاں کام کرنے سے تمہارے کاروبار میں خاصی ترقی ہو سکتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ سیدنا آدم و حوا (علیہما السلام) کو بھی اس نے ایسے ہی سبز باغ دکھائے کہ اگر تم اس درخت کو کھالو گے تو پھر فرشتوں کی طرح یا فرشتے بن جاؤ گے تو پھر تمہارا اس جنت سے نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ (٣) ابلیس یا اس کے چیلے چانٹے سبز باغ ہی نہیں دکھاتے بلکہ طرح طرح کے دلائل اس کے دل میں ڈال کر اسے یہ یقین دہانی کرا دیتے ہیں کہ جو راہ اس نے دکھائی وہ فی الواقع اس کے لیے بہتری اور اس کی خیر خواہی کی راہ ہے اس میں اس کا اپنا کچھ مفاد نہیں اور اس یقین دہانی کے لیے اگر اسے قسمیں بھی کھانا پڑیں تو کھائے جاتا ہے۔ (٤) شیطان کا سب سے پہلا ہدف انسان کے صنفی یا جنسی اعضاء ہوتے ہیں انسان کو گمراہ کرنے کی سب سے آسان صورت یہ ہوتی ہے کہ فحاشی کے دروازے کھول دے اور جنسی معاملات میں اسے بے راہ رو بنا دے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان میں فطری طور پر جو شرم و حیا کا جذبہ رکھ دیا ہے اس جذبہ کو کمزور تر بنا دے ابلیس اور اس کے چیلوں چانٹوں کی یہ روش آج تک جوں کی توں قائم ہے ایسے لوگوں کے نزدیک تہذیب و تمدن کی ترقی کا کوئی کام شروع ہی نہیں ہوسکتا جب تک وہ عورت کو بے حیا بنا کر بازار میں نہ لا کھڑا کریں اور اختلاط مرد و زن کی ساری راہیں کھول نہ دیں۔ عورت کے گھر میں رہ کر بچوں کی دیکھ بھال کو ان لوگوں نے عورت کے لیے قید خانے کا نام دے رکھا ہے اور پردے کو ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں اور یہ سب کچھ شیطان کی سکھائی ہوئی چالیں ہیں۔ اور یہ خیال کہ شیطان نے پہلے حوا( علیہا السلام) کو گمراہ کیا اور پھر حوا (علیہا السلام) کے کہنے پر سیدنا آدم علیہ السلام نے بھی اس درخت کا پھل کھالیا ، غالباً اسرائیلیات سے لیا گیا ہے کتاب و سنت میں اس کی کوئی صراحت نہیں ملتی۔ قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے دونوں سے وعدے وعید کیے اور دونوں اس کے چکمے میں آ گئے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ نے اس درخت کے قریب جانے سے سیدنا آدم علیہ السلام و حوا کو منع کردیا تھا تو پھر وہ کیسے شیطان کے دام میں پھنس گئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مدتوں گزر چکی تھیں کہ آدم و حوا دونوں عیش و آرام سے جنت میں رہ رہے تھے اور انہیں اس درخت کے پاس آنے کا کبھی خیال ہی نہ آیا تھا۔ حتیٰ کہ اللہ کا یہ حکم انہیں بھول ہی گیا تھا اس وقت شیطان کو اس نافرمانی پر اکسانے کا موقع مل گیا۔ جیسا کہ قرآن کریم کی اس آیت سے واضح ہے آیت ﴿فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا ﴾ ( طہ :115) ’’پھر آدم علیہ السلام اللہ کا حکم بھول گئے اور ہم نے اس میں نافرمانی کا کوئی ارادہ نہ پایا۔‘‘ الاعراف
22 [١٨] یعنی یہ نہیں ہوا کہ ادھر شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا اور سبز باغ دکھائے تو فوراً سیدنا آدم وحوا (علیہما السلام) اس درخت کا پھل کھانے کو تیار ہوگئے بلکہ وہ مدتوں ان باتوں کی یقین دہانی کراتا رہا کہ اگر تم نے یہ پھل کھالیا تو تم فی الواقع انسانیت سے ترقی کر کے فرشتوں کے درجہ پر پہنچ جاؤ گے۔ اس دوران وہ قسمیں بھی کھاتا رہا تاآنکہ وہ انہیں اس نافرمانی پر اکسانے کی کوشش میں کامیاب ہوگیا۔ [ ١٩] ٭حیا اور مقامات ستر کو ڈھانپنا انسانی فطرت میں داخل ہے : اس کا مطلب یہ ہے کہ شرم و حیا کا جذبہ اور اپنے مقامات ستر کو ڈھانپ کر رکھنا عورت اور مرد دونوں کی فطرت کے اندر داخل ہے پھل کھانے کی وجہ سے جب سیدنا آدم علیہ السلام و حوا (علیہ السلام) کا جنتی لباس چھن گیا تو سب سے پہلی فکر جو انہیں دامن گیر ہوئی وہ یہ تھی کہ اپنے مقامات ستر کو چھپائیں اور فوری طور پر کچھ نہ ملا تو جنت کے درختوں کے پتوں ہی کو ایک دوسرے پر یا اپنے بدن پر چسپاں کر کے اپنی شرمگاہوں کو چھپا دیا۔ اس آیت سے ان ’’محققین‘‘ کے بیان کی تردید ہوجاتی ہے جو انسانی تہذیب و تمدن کی داستان لکھنے بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انسان ابتداء ننگا رہا کرتا تھا اور مدتوں بعد اس نے لباس تیار کیا اور بدن ڈھانپنا سیکھا اور یہ وہی محققین ہیں جو انسان کو حیوان ہی کی ترقی یافتہ شکل قرار دیتے ہیں اور چونکہ حیوان اپنے مقامات ستر نہیں ڈھانپتے اس لیے انہوں نے سمجھ لیا کہ انسان بھی ابتداء ایسا ہی تھا۔ قرآن ان سب باتوں کی پر زور تردید کرتا ہے، وہ انسان کو ایک مستقل اور الگ مخلوق کی حیثیت دیتا ہے جو آدم (علیہ السلام) سے شروع ہوئی اور آدم (علیہ السلام) کا پتلا اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا، پھر اسے سنوارا اور بہت اچھی شکل و صورت بنائی، پھر اس میں اپنی روح میں سے پھونک کر اسے باقی مخلوق سے افضل و برتر بنا دیا، پھر سیدنا آدم علیہ السلام کو نبوت عطا فرمائی لہٰذا وہ خالص موحد تھے جبکہ ہمارے ان محققین کا انسان ابتداء مظاہر پرست تھا وجہ یہ ہے کہ ان محققین کا سارا انحصار ظن و تخمین پر ہے۔ جب کہ وحی الٰہی ہمیں حقیقی علم عطا کرتی ہے۔ الاعراف
23 [٢٠] ٭ابلیس وآدم (علیہ السلام) کے خصائل کا فرق :۔ ان آیات سے شیطان اور آدم (علیہ السلام) کی سرشت کا فرق معلوم ہوجاتا ہے جو یہ ہے کہ (١) ابلیس نے اللہ کی نافرمانی عمداً کی جبکہ آدم علیہ السلام سے بھول کر ہوئی۔ (٢) ابلیس سے باز پرس ہوئی تو اس نے اعتراف کرنے کی بجائے تکبر کیا اور اکڑ بیٹھا اور آدم (علیہ السلام) سے ہوئی تو انہوں نے اعتراف کیا اور اللہ کے حضور توبہ کی۔ (٣) ابلیس نے اپنی نافرمانی اور گمراہی کا الزام اللہ کے ذمے لگا دیا جبکہ آدم علیہ السلام نے یہ اعتراف کیا کہ واقعی یہ قصور ہمارا ہی تھا۔ (٤) ابلیس انہی جرائم کی وجہ سے بارگاہ الٰہی سے ہمیشہ کے لیے ملعون اور راندہ ہوا قرار دیا گیا اور آدم (علیہ السلام) اپنی غلطی کے اعتراف اور توبہ کی وجہ سے مقرب بارگاہ الٰہی بن گئے اور انہیں نبوت عطا ہوئی۔ الاعراف
24 [٢١] ٭ابلیس و آدم (علیہ السلام) کی ایک دوسرے سے دشمنی کی وجہ : ابلیس آدم علیہ السلام کا اس لیے دشمن بن گیا کہ اس کی آزمائش کا جس میں وہ سخت ناکام رہا سبب آدم علیہ السلام بنے تھے اور آدم (علیہ السلام) اس لیے ابلیس کے دشمن بنے کہ اس نے مکر و فریب سے سبز باغ دکھا کر اور جھوٹی قسمیں کھا کر آدم علیہ السلام کو اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کر ہی لیا چنانچہ ان دونوں کو جنت سے نکال کر زمین میں لا بسایا گیا کیونکہ جنت ایسی محاذ آرائی کی جگہ نہیں ہے ایسی محاذ آرائی کے لیے زمین ہی موزوں تھی مناسب یہی تھا کہ حق و باطل کے سب معرکے زمین ہی پر واقع ہوں اس طرح اللہ کی وہ مشیت خود بخود پوری ہوگئی جس کے لیے اس نے انسان کو پیدا کیا تھا۔ یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے جس میں اکثر لوگ مبتلا ہوجاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اگر اللہ کی مشیت ہی یہی تھی کہ آدم و حوا اور ان کی اولاد زمین میں آباد ہو اور شیطان ان کا دشمن بن کر آدم (علیہ السلام) اور اولاد آدم کو گمراہ کرتا رہے اور ان کے درمیان محاذ آرائی کا عمل جاری رہے اور اس طرح اس دنیا کو بنی آدم کے لیے دارالامتحان بنایا جائے تو پھر آخر اس قصہ آدم و ابلیس میں ابلیس کا یا آدم (علیہ السلام) کا قصور ہی کیا تھا ہونا تو وہی تھا جو اللہ کی مشیت میں تھا۔ پھر آدم و ابلیس اللہ کی نافرمانی کے مورد الزام کیوں ٹھہرائے گئے؟ ٭اللہ کی مشیت اور تقدیر کا مسئلہ : اس طرح کے سوالات قرآن کریم میں اور بھی متعدد مقامات پر پیدا ہوتے ہیں جیسے اسی سورۃ میں ایک مقام پر فرمایا کہ ’’ہم نے جنوں اور انسانوں کی اکثریت کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘ (٧ : ١٧٩) یہاں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جنوں اور انسانوں کی اکثریت کو پیدا ہی جہنم کے لیے کیا گیا ہے تو پھر اس میں جنوں اور انسانوں کا کیا قصور ہے؟ اسی طرح احادیث صحیحہ میں بھی یہ مضمون بکثرت وارد ہے مثلاً جب شکم مادر میں روح پھونکی جاتی ہے تو ساتھ ہی فرشتہ یہ بھی لکھ دیتا ہے کہ یہ شخص جنتی ہوگا یا جہنمی۔ اور ایسے مقامات کتاب و سنت میں بے شمار ہیں۔ جہاں انسان یہ سوچتا ہے کہ ہم تو قدرت کے ہاتھ میں محض کھلونے ہیں مشیت تو اللہ کی پوری ہوتی ہے پھر ہمیں سزا کیوں ملے گی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کو کسی چیز کے نتیجہ کے متعلق پیشگی علم ہونا یا اس کا علم غیب کسی انسان کو اس بات پر مجبور یا اس کا پابند نہیں بناتا کہ وہ وہی کچھ کرے جو اللہ کے علم یا اس کی مشیت یا تقدیر میں لکھا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ انسان اپنے پورے ارادہ و اختیار سے کرنے والا ہوتا ہے اس کا اللہ کو پہلے سے علم ہوتا ہے اس بات کو ہم یہاں ایک مثال سے سمجھائیں گے۔ ایک بادشاہ اپنی مہمات میں اکثر اپنے درباری نجومی سے مشورہ لیا کرتا تھا نجومی اسے سیاروں کی چال کے زائچے تیار کر کے امور غیب سے مطلع کردیتا نجومی کی یہ خبریں کبھی درست ثابت ہوتیں اور کبھی کوئی خبر غلط بھی ثابت ہوجاتی۔ ایک دفعہ بادشاہ اس نجومی سے خفا ہوگیا اور وہ اس نجومی کو کسی بہانے سزا دینے کے متعلق سوچنے لگا اسے یک دم ایک خیال آیا اور اس نے ایک ایسا کمرہ بنانے کا حکم دیا جس کے چاروں طرف دروازے ہوں جب ایسا کمرہ تیار ہوگیا تو اس نے اس نجومی کو بلا کر کہا : میں اس کمرے میں داخل ہونے والا ہوں تم حساب لگا کر بتاؤ کہ میں اس کمرے کے کون سی سمت والے دروازے سے باہر نکلوں گا۔ نجومی کو بھی بادشاہ کی خفگی کا علم تھا وہ سمجھتا تھا کہ یہ سوال در اصل اس کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ چنانچہ اس نے کہا کہ سوال کا جواب تو میں دے دوں گا لیکن میری شرط یہ ہے کہ میں اس سوال کا جواب لکھ کر آپ کے کسی معتمد علیہ وزیر کے پاس سربمہر کر کے امانت رکھ دیتا ہوں آپ یہ جواب اس وقت دیکھیں جب آپ کمرہ سے باہر نکل آئیں۔ بادشاہ نے اس شرط کو منظور کرلیا نجومی نے سوال کا جواب لکھ کر سربمہر کر کے وزیر کے حوالے کردیا تو بادشاہ نے اپنے معمار کو بلا کر کہا کہ میں اس کمرہ میں داخل ہوتا ہوں اس کے چاروں دروازے مقفل کردینا اور مجھے چھت پھاڑ کر اور سیڑھی لگا کر اوپر سے نکال لانا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ باہر آ کر بادشاہ نے نجومی کا جواب طلب کیا جو سب کے سامنے پڑھا گیا اس میں لکھا تھا کہ بادشاہ کسی بھی دروازے سے نہیں بلکہ چھت پھاڑ کر باہر نکلے گا بادشاہ یہ جواب سن کر دم بخود رہ گیا اور نجومی اس کے عتاب سے بچ گیا۔ اب دیکھئے کہ نجومی کی پہلے سے لکھی ہوئی تحریر نے بادشاہ کو ہرگز اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ چھت پھاڑ کر باہر نکلے بلکہ وہ اس کام میں مکمل طور پر آزاد اور بااختیار تھا بالکل یہی صورت ان مسائل کی ہے جن کا اوپر ذکر ہوا ہے انسان جو کچھ کرتا ہے مکمل طور پر اپنے ارادہ و اختیار سے کرتا ہے اسی بناء پر اسے جزا و سزا ملے گی۔ رہی پیشگی لکھنے یا مشیت یا تقدیر کی بات تو یہ چیز اسے مجبور سمجھنے پر دلیل نہیں بن سکتی بلکہ یہ بات تو اللہ کے علم کی وسعت کی دلیل ہے۔ الاعراف
25 [٢٢] ٭شیطان سیرت اور حق پرست انسانوں کا تقابل : یعنی اس زمین پر ابلیس کی اولاد میں اور آدم کی اولاد میں یہ محاذ آرائی قیامت تک جاری رہے گی جب کہ پہلی بار صور پھونکا جائے گا۔ اس محاذ آرائی یا حق و باطل کے معرکے میں شیطان کے پیروکاروں کی بالکل وہی صفات ہوں گی جن کی ابلیس نے نمائندگی کی تھی یعنی وہ حق سے انحراف کریں گے اللہ کی نافرمانی کریں گے۔ تنبیہ ہونے پر اپنے گناہوں کے اعتراف کی بجائے مزید سرکشی اختیار کریں گے پھر خود ہی سرکشی نہ کریں گے بلکہ اوروں کو مکر و فریب اور جھوٹے وعدوں سے گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے کوئی عذاب نازل ہوا تو دوسروں کو مورد الزام ٹھہرائیں گے اب ان کے مقابلہ میں حق پرستوں کے اوصاف بھی وہی ہوں گے جن کی نمائندگی سیدنا آدم علیہ السلام نے کی۔ یعنی اصل کے لحاظ سے وہ اللہ کے فرمانبردار ہوں گے اگر غلطیاں ان سے ہوں گی تو کسی شیطانی انگیخت کی بنا پر نادانستہ ہوں گی انہیں اپنی اس غلطی کا جلد ہی احساس ہوجائے گا تو وہ اس غلطی کو اپنا ہی قصور تسلیم کریں گے اور اللہ کے حضور توبہ کریں گے۔ الاعراف
26 [٢٣] ٭لباس کے اخلاقی اور طبعی فوائد اور لباس کا بنیادی مقصد : لباس کو نازل کرنے سے مراد یہ ہے کہ آدم علیہ السلام کو فوری طور پر الہام کیا گیا کہ وہ اپنی شرمگاہوں کو ڈھانپیں اور ممکن ہے اس سے مراد شرم و حیا کی وہ فطری جبلت ہو جو انسان کے اندر رکھ دی گئی ہے اور اس سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آدم علیہ السلام کے زمین پر آ جانے کے بعد بارش ہوئی جس سے زمین میں سے روئی یا دوسری ریشہ دار نباتات اگ آئیں جس سے انہوں نے لباس بنا لیا ہو اور لباس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے بدن کو ڈھانپا جا سکے اور اس لباس کے اللہ تعالیٰ نے دو فائدے بتائے ایک اخلاقی دوسرا طبعی۔ اخلاقی فائدہ یہ ہے کہ اپنے مقامات ستر ڈھانپ کر بے حیائی سے بچا جا سکے اور طبعی فائدہ یہ ہے کہ لباس انسان کے لیے زینت ہے اور یہ سردی اور گرمی کے موسمی اثرات سے بھی بچاتا ہے اور اخلاقی فائدے کو اللہ تعالیٰ نے پہلے بیان فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ لباس کا بنیادی مقصد سترکو ڈھانپنا ہے۔ [٢٤] ٭تقویٰ کے لباس کا مفہوم : تقویٰ کے لباس کا مطلب یہ ہے کہ لباس پردہ پوش یا ساتر ہو ایسا پتلا یا شفاف نہ ہو کہ پہننے کے باوجود جسم کی سلوٹیں اور مقامات ستر سب کچھ نظر آتا رہے۔ دوسرے یہ کہ لباس فاخرانہ اور متکبرانہ نہ ہو نہ دامن دراز ہو اور نہ اپنی حیثیت سے کم تر درجہ ہی کا اور گندہ ہو کیونکہ یہ سب باتیں تقویٰ کے خلاف ہیں تیسرے وہ لباس ایسا بھی نہ ہو کہ مرد عورتوں کا لباس پہن کر عورت بننے کی کوشش کرنے لگیں اور عورتیں مردوں کا سا پہن کر مرد بننے کی کوشش کرنے لگیں کیونکہ اس سے ان کی اپنی اپنی جنس کی توہین ہوتی ہے اور چوتھے یہ کہ اپنا لباس ترک کر کے کسی حاکم یا سربر آوردہ قوم کا لباس استعمال نہ کریں کیونکہ سربر آوردہ قوم کی تہذیب و تمدن اور اس کا لباس اختیار کرنے سے جہاں تمہارا قومی تشخص مجروح ہوگا وہاں یہ بات اس قوم کے مقابلہ میں تمہاری ذہنی مرعوبیت کی بھی دلیل ہوگی اور پانچویں یہ کہ مرد ریشمی لباس نہ پہنیں۔ اور بعض علماء کے نزدیک لباس سے مراد صرف ظاہری لباس ہی نہیں بلکہ اس سے مراد رنگ ڈھنگ اور پورا طرز زندگی ہے جس میں لباس بھی شامل ہے یعنی انسان کی ایک ایک عادت ایسی ہونی چاہیے جس سے تقویٰ کا رنگ ٹپکتا ہو ان کے نزدیک لباس کا لفظ مجازی معنوں میں ہے جیسے ’’مذہبی تقدس کا پردہ‘‘ میں پردہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ الاعراف
27 [٢٥] ٭شیطانی حملہ اور اس سے بچاؤ کے لئے ہدایات : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو چند حقائق سے آگاہ فرمایا۔ ایک یہ کہ شیطان کے مکر و فریب سے ہوشیار رہیں وہ اگر تمہارے باپ کو مکر و فریب سے اور سبز باغ دکھا کر جنت سے نکلوا سکتا ہے تو تمہارے ساتھ وہ کیا کچھ نہیں کرسکتا اور دوسرے یہ کہ شیطان کا سب سے پہلا وار یہ ہوتا ہے کہ انسانوں کو فحاشی میں مبتلا کر دے بے حجابی کو عام کر دے اور تمہارے پردہ شرم و حیا کو تار تار کر دے تیسرے یہ کہ تمہارا دشمن تو تمہیں دیکھ رہا ہوتا ہے جبکہ تم اسے نہیں دیکھ سکتے اور ظاہر ہے کہ ایسا دشمن اپنے مد مقابل (انسان) پر وار اس وقت کرے گا جب وہ غفلت میں پڑا ہو اور اس کا یہ وار شدید تر ہوگا اور چوتھے یہ کہ اس کا وار صرف ان لوگوں پر چل سکے گا جو ایمان نہیں لاتے۔ کیونکہ ایمان لانے والے اور اللہ کی فرمانبرداری کرنے والے ایک ایسی ہستی کی پناہ میں آ جاتے ہیں جو خود تو ان شیطانوں کو دیکھتا ہے لیکن شیطان اسے نہیں دیکھ سکتے گویا معاملہ بالکل الٹ ہوجاتا ہے اور ایسے لوگوں پر شیطان کا حملہ بہت کم کارگر ہوتا ہے اور اگر کسی وقت وہ شیطان کے بہکاوے میں آ بھی جائیں تو اللہ سے معافی مانگ کر اور اس کے دامن میں پناہ لے کر شیطانی حملے کے اثر سے پاک صاف ہوجاتے ہیں۔ الاعراف
28 [٢٦] ٭ننگے طواف کرنا، برہنگی ہر جاہلی تہذیب کا جزء ہے : دور جاہلیت میں عرب لوگ ننگا ہوجانے کو کوئی معیوب فعل تصور نہیں کرتے تھے۔ بغیر پردہ یا اوٹ کے ننگے نہانا، راستے میں ہی بلا جھجک رفع حاجت کے لیے بیٹھ جانا یا محفل میں کسی کے ستر کھل جانے کو وہ عیب نہیں سمجھتے تھے اور اہل عرب ہی کا کیا ذکر ہر جاہلی معاشرہ میں یہی حالت ہوتی ہے۔ اہل عرب میں جو اس سے بھی زیادہ شرمناک فعل تھا وہ یہ تھا کہ وہ کعبہ کا طواف بھی ننگے ہو کر کرتے تھے اور انہوں نے اپنے اس فعل کو مذہبی تقدس کا درجہ دے رکھا تھا عورتیں اس شرمناک فعل میں مردوں سے بھی دو ہاتھ آگے تھیں جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں عورت برہنہ ہو کر کعبہ کا طواف کرتی اور کہتی جاتی کہ ’’کوئی ہے جو مجھے عاریتاً ایک کپڑا دے تاکہ میں اس سے شرمگاہ ڈھانپ لوں۔ پھر کہتی آج یا تو کچھ شرمگاہ کھلی رہے گی یا پوری کھلی رہے گی بہرحال جتنی بھی کھلی رہے گی میں اسے کسی پر حلال نہیں کروں گی۔‘‘ آیت ﴿خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ كُلِّ مِسْجِدٍ﴾ (الاعراف :31) اسی بارے میں نازل ہوئی (مسلم۔ کتاب التفسیر) اور یہ بد رسم فتح مکہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے ختم کی گئی۔ ٩ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا اور بعد میں تاکید مزید کے طور پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ چنانچہ حج کے اجتماع میں جو عام اعلان کیا گیا اس کے دو اہم نکات یہ تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ میں داخل نہیں ہوسکتا اور دوسرا یہ کہ آئندہ کوئی ننگے ہو کر کعبہ کا طواف نہیں کرسکتا۔ (بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب لایطوف بالبیت عریانا ) ٭ جس کام میں بے حیائی ہو وہ اللہ کا حکم نہیں ہوسکتا :۔ مشرکین مکہ اگرچہ برہنگی کو باعث عار اور معیوب فعل نہیں سمجھتے تھے تاہم انہیں یہ اعتراف ضرور تھا کہ ایسی برہنگی اور بے حیائی کوئی اچھا کام نہیں پھر جب انہیں اس کام سے روکا جاتا تو وہ جواب یہ دیتے کہ ہمارے آباو اجداد اور بڑے بزرگ بھی کعبہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے آئے ہیں وہ بزرگ ہم سے زیادہ دیندار تھے پھر بھلا ہم کیوں نہ کریں۔ تقلید آباء کے رد میں اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا کہ جب تمہارے سب سے بڑے باپ اور بزرگ آدم علیہ السلام شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تھے تو پھر یہ بزرگ کیوں شیطان کے ہتھے نہیں چڑھ سکتے اور چونکہ وہ اس طواف کو متبرک اور دین ہی کا حکم سمجھتے تھے لہذا فوراً کہہ دیتے کہ یہ اللہ ہی کا حکم ہوگا جو ہمارے بزرگ برہنہ ہو کر طواف کرتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ تو بے حیائی کے کاموں سے روکتا ہے وہ اس کا حکم کیسے دے سکتا ہے؟ بالفاظ دیگر جس چیز میں بے حیائی پائی جاتی ہو وہ اللہ کا حکم کبھی نہیں ہو سکتا۔ الاعراف
29 [٢٧] مشرکوں نے طواف کعبہ کے دوران اللہ کے ساتھ اپنے دوسرے معبودوں کو پکارنے اور ننگا طواف کرنے کی رسوم ایجاد تو خود کرلی تھیں اور ذمے اللہ کے لگا رکھی تھیں اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ اللہ نے جو حکم نہیں دیا وہ تو تم اس کے ذمے لگاتے ہو اور جو حکم دیا ہے وہ کرتے نہیں۔ اس نے حکم یہ دیا ہے کہ جو بات کرو انصاف کی کرو، خواہ مخواہ جرم کسی اور کے ذمے نہ لگاؤ اپنی زندگی عدل اور راستی پر استوار کرو جب بھی عبادت کے لیے کسی مسجد میں جاؤ تو تمہاری توجہ صرف اللہ ہی کی طرف ہونا چاہیے، خالصتاً اسی کی عبادت کرو اس میں دوسروں کو شریک نہ بناؤ اور یہ ملحوظ رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا و سزا دینے کا پورا اختیار رکھتا ہے نیز یہ کہ جس طرح تم اکیلے اکیلے دنیا میں آئے تھے بعینہٖ اسی طرح حساب و کتاب کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور اکیلے اکیلے حاضر کیے جاؤ گے وہاں تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس بھی ہوگی اور جزا و سزا بھی ملے گی۔ الاعراف
30 [٢٨] ٭شیطان کا برے کام کو اچھا بنا کر پیش کرنا کردار دو ہیں ایک شیطان کی راہ پر چلنے والے، دوسرے سیدنا آدم علیہ السلام کی راہ پر چلنے والے، واضح رہے کہ کوئی شخص یہ تسلیم کرنے پر کبھی تیار نہیں ہوتا کہ وہ شیطان کی راہ پر چل رہا ہے بلکہ وہ شیطان کا نام سن کر یا نام لے کر دو چار گالیاں بھی اسے سنا دے گا۔ نہ شیطان نے انسان کو گمراہ کرتے وقت کبھی اپنا آپ بتایا ہی ہے بس اس کا کام یہ ہے کہ کسی برے طریقہ کو خوبصورت کر کے پیش کر دے اور ویسے ہی سبز باغ دکھائے جیسے ہمارے باپ سیدنا آدم علیہ السلام کو دکھائے تھے اس میں خواہ وہ کسی دینی مصلحت کی امید دلائے یا کسی دنیوی مفاد کی، اس طرح انسان اس کے بھرے میں آ جاتا ہے اور جس شخص نے اللہ کی سیدھی راہ سے ذرہ بھر بھی انحراف کیا وہ سمجھ لے کہ وہ شیطان کے فریب میں آ چکا ہے کیونکہ اس راہ کے سوا باقی سب شیطانی راہیں ہیں اور چونکہ شیطان بھی کوئی اچھی بات ہی سجھاتا ہے،لہٰذا یہ شیطان کے پیروکار بھی سمجھتے یہی ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں حالانکہ وہ سب شیطانی چالیں ہوتی ہیں۔ الاعراف
31 [٢٩] ٭نمازی کے لباس میں کتنے کپڑے ہوں :۔ یہاں زینت سے مراد لباس ہے اور یہ لباس صاف ستھرا اور پاکیزہ ہونا چاہیے تاکہ زینت کا باعث ہو اس لباس میں کون کون سا کپڑا شامل ہونا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ ١۔ عمر و بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صرف) ایک کپڑے میں نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمتوں میں کندھوں پر ڈال لیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب الصلوٰۃ، باب عقد الازار علی القفا فی الصلوۃ) ٢۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر کچھ نہ ہو۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ ، باب إذا صلی فی الثوب الواحد فلیجعل علی عاتقیہ) ٣۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا جسے انہوں نے اپنے گھر میں ایک طرف لٹکایا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ پردہ دیکھ کر) فرمایا : ’’یہ اپنا پردہ یہاں سے ہٹا لو اس کی تصویریں میری نماز میں حارج ہوتی ہیں۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب ان صلی فی ثوب مصلب او تصاویر۔۔ ) ٤۔ ابو مسلمہ سعید بن یزید ازدی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ’’کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتیوں سمیت نماز پڑھ لیتے تھے؟‘‘ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا : ’’ہاں۔‘‘ (بخاری، کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ فی النعال) ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ :۔ ١۔ کم از کم ایک کپڑے میں بھی نماز ہو سکتی ہے بشرطیکہ وہ اتنا بڑا ہو کہ مخالف سمتوں میں کندھوں پر ڈالنے کے بعد بھی دونوں طرف پنڈلیوں تک بدن ڈھانپ سکتا ہو۔ ٢۔ دونوں کندھوں پر کپڑا ہونا ضروری ہے، سر پر کوئی کپڑا ہونا ضروری نہیں ہے۔ ٣۔ کوئی کپڑا ایسے نقش و نگار والا یا تصویروں والا نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کی طرف سے توجہ ہٹا کر اپنی طرف مبذول کرلے۔ ٤۔ زیادہ کپڑوں کی کوئی حد نہیں، پگڑی یا ٹوپی وغیرہ کا تو ذکر کیا، جوتوں سمیت بھی نماز ادا کی جا سکتی ہے بشرطیکہ اس کا تلا صاف ستھرا ہو اور جوتوں سمیت نماز گھروں میں بھی پڑھی جا سکتی ہے اور مساجد میں بھی جیسا کہ بالخصوص نیا جوتا پہنتے وقت شکرانہ کے نوافل پڑھے جاتے ہیں۔ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسے واضح احکام کے باوجود بعض لوگوں نے ننگے سر نماز پڑھنے کو وجہ نزاع بنا لیا ہے ایک فریق اس انتہا کو چلا گیا کہ ننگے سر نماز ہوتی ہی نہیں اور دوسرا فریق دوسری انتہا کو چلا گیا اس نے اس مسئلے کو محض جواز تک محدود نہ رکھا بلکہ اسے اپنا شعار بنا لیا۔ پہلے فریق کی غلط روش تو واضح ہے کیونکہ حالت احرام میں ساری نمازیں اور طواف وغیرہ بھی ننگے سر ہی ادا ہوتے ہیں اگر ننگے سر نماز ہو ہی نہیں سکتی تو حالت احرام میں یقیناً سر پر کوئی کپڑا رکھنے کی تاکید کردی جاتی۔ جیسا کہ عورتوں کے لیے ایسا ہی حکم ہے رہا دوسرا فریق تو اس کی وجہ استدلال درج ذیل حدیث ہے :۔ ٭ ننگے سر نماز کا مسئلہ : محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ ’’جابر (بن عبداللہ) رضی اللہ عنہ نے ایک تہبند میں نماز پڑھی جسے اپنی گدی پر باندھ لیا اور ان کے کپڑے تپائی پر رکھے ہوئے تھے کسی (عبادہ بن ولید) نے ان سے کہا تم (کپڑے ہوتے ہوئے) ایک تہبند میں نماز پڑھتے ہو؟ ‘‘ جابر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : ’’یہ اس لیے کہ تیرے جیسا بے وقوف مجھے دیکھ لے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم لوگوں میں سے کس کے پاس دو کپڑے تھے؟‘‘ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ ، باب عقد الازار علی القفا فی الصلوۃ) اس حدیث سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ١۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جنہوں نے کپڑے پاس ہوتے ہوئے صرف ایک کپڑے میں (یعنی ننگے سر) نماز ادا کی، ان کا یہ روزمرہ کا معمول نہیں تھا۔ ورنہ سائل کو ایسا سوال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ ٢۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ کام عمداً اس لیے کیا کہ ناواقف لوگوں پر واضح ہوجائے کہ صرف ایک کپڑے میں بھی نماز جائز ہے اگرچہ سر ننگا ہی رہے۔ ٣۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اس کی وجہ بھی بتا دی کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اکثر لوگوں کے پاس دو کپڑے بھی نہیں ہوتے تھے۔ ان تصریحات کا ماحصل یہ ہے کہ جواز کی حد تک ننگے سر نماز ادا کرنے میں نہ کوئی کلام ہے اور نہ قباحت لیکن اگر ٹوپی یا عمامہ وغیرہ موجود ہو تو اسے پہننا ہی افضل ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا معمول تھا کیونکہ سر ڈھانپنا بھی زینت کا ایک حصہ ہے، لہٰذا ننگے سر نماز پڑھنا شعار نہ بنا لیا جائے۔ ہاں کپڑوں کی موجودگی میں بھی کبھی کبھار کسی ضرورت یا مصلحت کی غرض سے ننگے سر نماز ادا کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ [٣٠] ٭کھانے پینے میں اسراف کا نقصان :۔ بعض اطباء کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس مختصر سے جملہ میں طب کا آدھا علم بیان فرما دیا ہے کیونکہ اکثر امراض خوراک کی زیادتی یا اس میں بے احتیاطی ہی سے پیدا ہوتی ہیں۔ اسراف کا مطلب بسیار خوری بھی ہوسکتا ہے۔ وقت بے وقت کھانا اور بدپرہیزی بھی۔ یہ تو اسراف کے طبعی نقصانات ہیں اور جو اخلاقی نقصانات ہیں وہ اس سے بھی زیادہ ہیں مثلاً جو انسان اپنے ہی کھانے پینے کی فکر رکھے گا دوسروں سے احسان کرنا تو درکنار وہ دوسروں کے جائز حقوق بھی ادا کرنے کے قابل نہ رہے گا۔ پھر مال کے ضیاع سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شدت سے منع فرمایا ہے اور اس کے نتائج بڑے دوررس ہوتے ہیں۔ الاعراف
32 [٣١] ٭ترک دنیا کی مذمت :۔ اللہ تعالیٰ نے تو لباس اور زینت اور کھانے پینے کی سب حلال چیزیں اپنے بندوں کے فائدہ اٹھانے ہی کے لیے پیدا کی ہیں، اب جو لوگ گدڑی پہنتے، کم سے کم خوراک کھاتے، لذائذ دنیا کو ترک کرتے، راتوں کو ریاضتیں کرتے اور نکاح سے اس لیے پرہیز کرتے ہیں کہ یہ ان کے روحانی ارتقاء میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے تو ایسے روحانی ارتقاء کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام میں روحانی ارتقاء کا راستہ ترک دنیا پر قطعاً منحصر نہیں ہے بلکہ یہ راستہ معاملات دنیا کو احسن طریقے پر ادا کرتے ہوئے اسی دنیا سے آگے چلتا ہے جس میں جسم کی بھی پرورش ہو اور روح کی بھی۔ اور جو لوگ ترک دنیا کی راہ اختیار کر کے روحانی ارتقاء چاہتے ہیں تو یہ پابندیاں اللہ نے قطعاً نہیں لگائیں یہ ان کی اپنی خودساختہ ہیں اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اس نے کسی شخص پر جو انعام کیے ہیں ان کا اثر اس کے طرز زندگی سے ظاہر ہونا چاہیے اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث بھی ملاحظہ فرمائیے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین آدمی (عمرو بن عا ص رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے گھروں کے قریب آئے اور ازواج مطہرات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادت کا حال پوچھا جب انہیں آپ کی عبادت کی خبر دی گئی تو انہوں نے اسے کمتر سمجھا اور کہا : ’’ کہاں ہم اور کہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی تو اگلی پچھلی سب لغزشیں معاف ہو چکیں۔‘‘ پھر ان میں سے ایک نے کہا: ’’میں ہمیشہ ساری رات قیام کیا کروں گا۔‘‘ دوسرے نے کہا : ’’میں ہمیشہ روزے رکھا کروں گا، افطار نہ کروں گا۔‘‘ تیسرے نے کہا : ’’میں عورتوں سے علیحدہ رہوں گا کبھی نکاح نہ کروں گا۔‘‘ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی گفتگو کی خبر دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تم ہی ہو جنہوں نے ایسا اور ایسا کہا تھا ؟ سنو اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ متقی ہوں لیکن میں روزے رکھتا بھی ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں میں رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں اب جس شخص نے میری سنت (طریقے) سے بے رغبتی کی اس کا مجھ سے کوئی سروکار نہیں۔ (بخاری، کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح) [٣٢] اس لیے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر بجا لاتے ہیں وہی نمک حلال ہوتے ہیں اور وہی مزید نعمتوں کے مستحق ہوتے ہیں اور جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کریں اس کی نعمتوں کے حقدار نہیں ہو سکتے لیکن چونکہ یہ دنیا دارالامتحان ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نمک حراموں کو بھی رزق دیئے جاتا ہے بلکہ بسا اوقات زیادہ بھی دیتا ہے تاہم آخرت میں اللہ کی نعمتیں صرف اللہ کے فرمانبرداروں ہی کے لیے مخصوص ہوں گی۔ الاعراف
33 [٣٣] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانچ حرام چیزوں کا ذکر فرمایا جن کا تعلق کھانے کی چیزوں سے نہیں بلکہ اعمال سے ہے سب سے پہلے بے حیائی کا ذکر اس لیے فرمایا کہ سیدنا آدم علیہ السلام کے قصے سے یہ بیان چلا آ رہا ہے کہ کس طرح شیطان نے آدم و حوا (علیہما السلام) کو بے ستر کیا۔ پھر مشرکین مکہ کا ذکر کیا جو طواف تک برہنہ ہو کر کرتے اور اسے مذہبی تقدس کا درجہ دیتے تھے اور گناہ کا لفظ اگرچہ چھوٹے بڑے ہر طرح کے گناہ پر استعمال ہوتا ہے تاہم غالباً یہ لفظ یہاں ایسے گناہ کے لیے آیا ہے جس کا اثر اس کی ذات تک محدود رہے کسی دوسرے کو اس کا نقصان نہ پہنچ رہا ہو اور ناحق زیادتی سے مراد ایسے گناہ ہیں جن سے دوسروں کے حقوق تلف ہوتے ہوں اور شرک تو تمام حرام کاموں میں سرفہرست ہے اور اللہ کے ذمے لگانے کی اس مقام پر وہی مثال کافی ہے جو مشرک کہتے تھے کہ آیت ﴿وَاللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا﴾ (الاعراف :28) الاعراف
34 [٣٤] ٭عذاب کے وقت میں تقدیم و تاخیر ناممکن ہے :۔ اس آیت میں تقدیم کا لفظ تاخیر ہی کی تاکید کے لیے لایا گیا ہے اجل جب آ گئی تو تقدیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے کوئی گاہک دکاندار سے کسی چیز کی قیمت پوچھنے کے بعد کہتا ہے کوئی کمی بیشی؟ تو دکاندار کہتا ہے قیمت میں نے پہلے ہی ٹھیک بتلائی ہے کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ حالانکہ اس گفتگو میں گاہک اور دکاندار دونوں کا کمی بیشی کے لفظ سے مراد صرف کمی ہوتا ہے بیشی نہیں ہوتا اسی طرح یہاں بھی یہی مراد ہے کہ جب کسی شخص کی موت یا کسی قوم کے خاتمہ کا وقت آ جاتا ہے تو پھر اس میں قطعاً تاخیر نہیں ہو سکتی۔ قوم کی اجل کا وقت آتا کب ہے؟ اس کے لیے اللہ نے ایک ضابطہ مقرر کر رکھا ہے یعنی ہر قوم کے عروج و زوال کا ایک ضابطہ ہے جیسا کہ اقبال نے کہا ہے میں تجھ کو بتاتا ہوں کہ تقدیر امم کیا ہے۔۔ شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ جب کسی قوم (کے گناہوں) کا ڈول بھر جاتا ہے تو یہی وقت اس کی تباہی کا وقت ہوتا ہے اور اس کا تعلق مدت یا عرصے سے نہیں بلکہ فساد فی الارض اور گناہوں کی رفتار پر ہوتا ہے۔ الاعراف
35 [٣٥] ٭جنت کا دوبارہ حصول کیسے ممکن ہے؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں بھی آدم (علیہ السلام) و ابلیس اور جنت سے آدم کے نکلنے کا قصہ بیان فرمایا تو بنی آدم کی دلجوئی کے لیے بھی آیات نازل فرمائیں۔ ابلیس نے جنت میں آدم و حوا کو بے ستر کیا تھا، تو لباس اور اس کے نعمت ہونے اور اچھا لباس پہننے کے لیے کئی آیات نازل فرمائیں۔ جنت میں آدم (علیہ السلام) و حوا (علیہا السلام) جنت کے پھل بافراغت کھاتے تھے صرف ایک درخت کا کھانا حرام کیا تھا تو اس دنیا کے متعلق بھی فرمایا کہ ماسوائے چند حرام کردہ اشیاء کے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لیے مباح ہے، لہٰذا حلال اور پاکیزہ اشیاء میں سے جو چاہو کھا سکتے ہو البتہ اسراف نہ کرنا۔ فرق یہ ہے کہ جنت میں بلا مشقت کھانے پینے کی چیزیں ملتی تھیں لیکن دنیا میں مشقت اور جستجو بھی کرنا ہوگی اور اسی مشقت اور جستجو ہی میں انسان کی آزمائش ہے۔ اس طرح تقدیر کا لکھا پورا ہو کے رہا۔ اب رہا قصہ اس جنت گم گشتہ کو پھر سے حاصل کرنے کا تو اس کے متعلق فرمایا کہ تمہارے پاس تمہاری رہنمائی کے لیے میرے رسول آتے رہیں گے جو تمہیں میری ہدایات اور میرے احکام بتلاتے رہیں گے۔ پھر جس شخص نے ان رسولوں کی پیروی کی، اللہ کی نافرمانیوں سے بچا رہا اور اپنی اصلاح کرلی تو اس کے لیے وہ جنت دوبارہ حاصل کرنا کچھ مشکل نہ ہوگا۔ نہ انہیں اپنے مسقتبل کے متعلق کوئی فکر دامن گیر ہوگی اور نہ انہیں دنیا میں گزاری ہوئی زندگی پر کچھ افسوس و ندامت ہوگی لیکن جن لوگوں نے رسولوں کو اور میرے احکامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور شیطان کی طرح اکڑ بیٹھے تو ان کے دوبارہ جنت میں جانے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ مزید برآں اخروی زندگی میں ان کو ہمیشہ دوزخ میں جلنا اور دکھ کا عذاب سہنا ہوگا۔ الاعراف
36 الاعراف
37 [٣٦] ٭افتراء علی اللہ کی اقسام : اس آیت میں قبول ہدایت کے لحاظ سے لوگوں کی اقسام بیان فرمائیں : ایک تو ایسے لوگ ہیں جو خود جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ کی طرف سے وحی آئی ہے یا وہ نبوت کا دعویٰ تو نہیں کرتے تاہم اپنے آپ کو اسی مقام پر سمجھتے ہیں باتیں خود گھڑتے ہیں پھر انہیں اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو سچے رسولوں کی تصدیق بھی نہیں کرتے اور ان پر نازل شدہ آیات سے انکاربھی کردیتے ہیں یہ سب طرح کے لوگ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں، کیونکہ یہ صرف خود گمراہ نہیں ہوتے بلکہ بے شمار مخلوق کو گمراہ کرنے میں حصہ دار بنتے ہیں ایسے لوگوں کو بھی اس دنیا میں رزق جتنا ان کے مقدر میں ہے وہ ملتا ہی رہے گا کیونکہ انسانوں کی آزمائش صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے دیکھنا یہ ہے کہ کون رسولوں کا تابع فرمان بنتا ہے اور کون ابلیس اور اس کے چیلوں کا۔ [٣٧]٭ قبر میں سوال وجواب : اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات سے واضح ہوتا ہے کہ موت کے وارد ہوتے ہی ایسے مجرموں کو اپنے انجام کا پتہ چل جاتا ہے ایک اپنے انجام بد کی ہولناکی، دوسرے جان قبض کرنے والے فرشتوں کا کرخت لہجہ اور گفتگو، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام شرکیہ افعال بھول جاتے ہیں اور احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قبر میں جب سوال و جواب ہوتا ہے تو ایمان دار آدمی فرشتوں کے سب سوالوں کے صحیح صحیح جواب دیتا ہے مگر کفار اور مشرکین سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تمہارا پروردگار کون ہے؟ تمہارا دین کیا تھا اور رسول کون تھا ؟ تو وہ کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ افسوس! میں ان سوالوں کا جواب نہیں جانتا میں تو وہی کچھ کہہ دیا کرتا تھا (دنیوی زندگی میں) جو کچھ لوگ کہا کرتے تھے۔ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ، ابو اب الکسوف، باب صلوۃ النساء مع الرجال فی الکسوف) ایک دفعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ! جب قبر میں ہم سے سوال و جواب ہوگا تو اس وقت ہمارے حواس اور ہوش ٹھیک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ہاں۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے پھر ہم ان سوالوں کا جواب دے لیں گے۔ (مسلم۔ کتاب صفہ الجنۃ و نعیمھا، باب مقعد المیت من الجنۃ والنار) لیکن جن لوگوں نے کفر و شرک میں زندگی بسر کی ہوگی اور اپنی سستی نجات کے لیے کئی سہارے تجویز کر رکھے ہوں گے ان کو سب کچھ بھول جائے گا اور ان کا کچھ جواب نہ دینا ہی ان کے کفر پر دلیل بن جائے گا بلکہ زبان سے بھی اقرار کرلیں گے کہ ہم نے اپنی زندگی کفر وشرک ہی میں گزار دی۔ (تفصیل سورۃ ابراہیم کے حاشیہ ٣٥ میں دیکھیے) الاعراف
38 [٣٨] یہاں پہلی اور پچھلی جماعت سے مراد ایک ہی جنس کے اسلاف اور اخلاف ہیں مثلاً یہود یا نصارٰی یا مشرکین یا مسلمانوں میں سے ایک فریق گمراہ کرنے والا اور دوسرا فریق گمراہ ہونے والا۔ گمراہ ہونے والے اللہ تعالیٰ سے کہیں گے یا اللہ ہمارے ان اسلاف کو دوگنا عذاب کر۔ اس لیے کہ وہ خود تو گمراہ ہوئے ہی تھے ہمیں بھی اپنے ساتھ لے ڈوبے اور گمراہ کرنے والے اپنے اخلاف سے کہیں گے کہ ملعونو! اگر ہم گڑھے میں گر گئے تھے تو کیا تم اندھے ہوگئے تھے جو اسی گڑھے میں تم بھی گر گئے۔ آخر تمہارا جرم کس لحاظ سے کم ہے؟ گویا دونوں اپنے گناہ اور بدبختی ایک دوسرے کے سر تھوپنے کی کوشش کریں گے۔ [٣٩] ٭مکافات عمل کے تقاضے :۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ سب کے لیے دگنا عذاب ہے اس لیے کہ مکافات عمل کا یہی تقاضا ہے۔ ایک شخص مثلاً زید ایک شرکیہ رسم ایجاد کرتا ہے اب اس کا بیٹا، پھر پوتا، پھر پڑپوتا اور اسی طرح اگلی نسلیں اس شرکیہ رسم کو ادا کرتی چلی جاتی ہیں تو زید کو یہی نہیں کہ صرف اپنے شرکیہ رسم ایجاد کرنے کی سزا ملے گی۔ بلکہ بعد میں آنے والے جتنے لوگ اس شرکیہ رسم کو بجا لائیں گے تو زید کو بھی ان کے گناہ سے حصہ رسدی پہنچے گا اور اس کے اعمال نامے میں درج ہوتا رہے گا۔ زید کے بیٹے اور اس سے آگے پوتوں پڑپوتوں کا جرم صرف یہی نہیں کہ وہ اپنے باپ کی شرکیہ رسم کیوں بجا لاتے رہے۔ بلکہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے بلاتحقیق اور اللہ کے فرمانبرداروں کے سمجھانے کے باوجود اپنے آباو اجداد کی تقلید کیوں کی جبکہ تقلید آباء بذات خود گناہ کبیرہ اور شرک کے مترادف ہے۔ پھر زید کے بیٹے اور ان سے آگے چلنے والی نسلوں کے لوگوں کو صرف اپنے ہی جرم کی سزا نہیں ملے گی بلکہ ان کے بعد ایسا عمل کرنے والوں کے گناہ میں سے بھی حصہ پہنچتا رہے گا اس لحاظ سے کسی بھی شرکیہ یا بدعیہ رسم کا موجد اور اس کے مقلدین اپنے جرم کی سزا کے علاوہ کئی گنا زیادہ سزا کے مستوجب بن جاتے ہیں۔ مکافات عمل (یعنی کسی عمل کا پورا پورا بدلہ دئیے جانے) کی اس بنیاد کو قرآن کریم میں متعدد بار دہرایا گیا ہے۔ مثلاً جہاں آدم علیہ السلام کے قاتل بیٹے کا قصہ بیان کیا تو فرمایا : ’’اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا تھا کہ جس کسی نے کسی کو ناحق قتل کیا تو اس نے گویا سب لوگوں کو قتل کیا۔‘‘ (٥ : ٣٢) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جہاں بھی کوئی ناحق قتل ہوتا ہے تو اس قتل کے گناہ کا کچھ حصہ آدم علیہ السلام کے اس بیٹے کے کھاتے میں بھی ڈالا جاتا ہے جس نے یہ طرح ڈالی۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا: ’’کہ ہم ایسے لوگوں کے لیے عذاب پر مزید عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے۔‘‘ (١٦ : ٨٨) نیز فرمایا کہ ’’وہ اپنے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے علاوہ دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی۔‘‘ (٢٩ : ١٣) اور ایک مقام پر فرمایا : ’’وہ ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جنہیں انہوں نے بغیر علم کے گمراہ کیا تھا۔‘‘ (١٦ : ٢٥) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جس نے کسی اچھے کام کی طرح ڈالی تو اس پر عمل کرنے والوں کے ثواب سے اس طرح ڈالنے والے کو بھی ملتا رہے گا اور جس نے کسی برے کام کی طرح ڈالی تو اس پر عمل کرنے والوں کی سزا میں سے حصہ رسدی اسے بھی ملتا رہے گا۔‘‘ (مسلم۔ کتاب العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ او سیئۃ) ٭مکافات عمل کے لئے یوم آخرت ضروری ہے :۔ مکافات عمل کے اس اصول کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو مرنے کے بعد طویل بلکہ لامحدود مدت کی زندگی حاصل ہوتا کہ وہ اپنے کیے کی پوری پوری جزاء و سزا پا سکے مثلاً دیکھئے ایک شخص پچاس آدمیوں کو ناحق قتل کرتا ہے تو ایک شخص کے قتل کے عوض تو قصاص کے طور پر اس کی جان لی جا سکتی ہے یا برطانوی قانون کے مطابق اسے ١٤ سال یا ٢١ سال یا عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ باقی ٤٩ آدمیوں کے قتل کی سزا وہ یہاں کیسے بھگت سکتا ہے یا مثلاً ایک شخص جنگ کا فتنہ برپا کرنے کا سبب بنتا ہے جس میں لاکھوں انسان ناحق مر جاتے ہیں تو اس کے اس جرم کی سزا اسے اس دنیا میں کیسے دی جا سکتی ہے ؟ جبکہ اس کی عمر کی مدت محدود ہے اور سزا کے لیے لامحدود مدت درکار ہے۔ لہٰذا مکافات عمل کا اور عدل کا تقاضا یہی ہے کہ مرنے کے بعد انسان کو لامحدود زندگی حاصل ہوتا کہ اسے اس کے اعمال کی پوری پوری جزا یا سزا دی جا سکے۔ الاعراف
39 الاعراف
40 [٤٠] یہ عربی زبان کا محاورہ ہے جو کسی ناممکن العمل بات کے موقع پر بولا جاتا ہے یعنی جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ ویسے ہی شیطان سیرت آدمیوں کا جنت میں داخل ہونا ناممکن ہے اور جنت میں داخلہ تو دور کی بات ہے ایسے لوگوں کی روح کو جب فرشتے لے کر آسمان کی طرف جاتے ہیں تو آسمان کا دروازہ ہی نہیں کھولا جاتا جبکہ نیک لوگوں کا شاندار استقبال کیا جاتا ہے۔ بدکار لوگوں کی روح کو وہیں سے نیچے پھینک دیا جاتا ہے اور قبر کے امتحان میں ناکامی کے بعد اسے سجین میں قید کردیا جاتا ہے۔ وَلَجَ کے معنی کسی تنگ جگہ میں داخل ہونا، گھسنا یا گھسنے کی کوشش کرنا ہے جیسے تلوار کا میان میں یا بارش کے پانی کا زمین میں داخل ہونا ہے اور اولج کے معنی کسی چیز کو تنگ جگہ میں داخل کرنا یا گھسیڑنا ہے جیسے ارشاد باری ہے: ﴿ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ ۭ ﴾ (الحدید :6) یعنی اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر یوں فرمایا : ﴿ یُکَوِّرُ الَّیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیْلِ ﴾ ( الزمر :5) یعنی رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر۔ اور ﴿یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ﴾ 7۔ الاعراف :40) عربی زبان کا محاورہ ہے۔ الاعراف
41 الاعراف
42 [٤١] یعنی جنت میں داخلے کی خاطر ہر ایک کے لیے ایک ہی مقررہ مقدار عمل ضروری نہیں بلکہ ہر ایک شخص کا اس کی استعداد اور قوت کار کے مطابق ہی امتحان لیا جاتا ہے اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک لکھ پتی آدمی سو روپے صدقہ کرتا ہے اور اسی وقت ایک مفلس پانچ روپے صدقہ کرتا ہے تو عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مفلس کے پانچ روپے صدقے کی قدر و قیمت لکھ پتی کے سو روپے کے صدقے کی قدر و قیمت سے زیادہ ہو، لہٰذا ہر شخص کے احوال و ظروف کا لحاظ رکھ کر اور اس کے اعمال کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ لگانے کے بعد اسے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ الاعراف
43 [٤٢] ٭جنت میں داخلے سے پہلے باہمی کدورتوں کا خاتمہ :۔ یہاں لفظ غل استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں خفگی’’ میل‘‘ کدورت ’’کینہ‘‘ حسد وغیرہ۔ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ جنت میں داخل ہونے والوں میں سے اگر کسی کے دل میں دوسرے کے متعلق کچھ ملال، خفگی، میل و کدورت اس دنیا میں رہی ہوگی اور کسی ناگوار واقعہ کی یاد کسی کے دل میں موجود ہوگی تو جنت میں داخلے سے پیشتر ایسے ملال کو اللہ تعالیٰ دلوں سے محو کردیں گے، انہیں کچھ یاد ہی نہ رہے گا اور وہ ایک دوسرے کے متعلق بالکل صاف دل ہو کر جنت میں داخل ہوں گے اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق درجہ ملے گا اور یہ ممکن ہے کہ نچلے درجے والوں کے دلوں میں اوپر کے درجے والوں کی نسبت حسد پیدا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں ہم ان کے دل سے حسد نکال دیں گے ہر ایک اپنے اپنے درجے پر قانع اور مطمئن ہوگا اور بلند درجات والوں کے لیے اس کے دل میں حسد وغیرہ مطلقاً نہ ہوگا۔ [ ٤٣] ٭اسلام کی اعلیٰ اخلاقی تعلیم کی مثالیں :۔ یہ آیت اسلام کی اعلیٰ اخلاقی تعلیم اور لوگوں کے باہمی معاملات کو استوار اور خوشگوار رکھنے کا ایک نادر نمونہ ہے۔ اگرچہ اس میں کچھ متضاد باتیں بھی معلوم ہو رہی ہیں۔ میں پہلے اس کی ایک دو مثالیں بیان کروں گا۔ مثلاً دیکھیے زید بکر سے کچھ رقم ایک مقررہ مدت کے لیے قرض لیتا ہے۔ اب بکر کو یہ حکم ہے کہ اگر زید مقررہ وعدہ کے مطابق قرض ادا نہیں کرسکا یا ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تو وہ اسے مزید مہلت دے دے اور اس اضافی مہلت کا ایک ایک دن اس کے لیے صدقے کا ثواب ہوگا اور اگر وہ معاف ہی کر دے تو اس کے لیے اور بھی بہتر ہے۔ (٢ : ٢٨٠) کیونکہ ایسے شخص کو اللہ نے اس کے گناہ معاف کردینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ دوسری طرف مقروض یعنی زید کو یہ تاکیدی حکم دیا کہ وہ اپنے کیے ہوئے عہد کو پورا کرے اور مقررہ وقت پر یا اس سے پہلے قرضہ ادا کر دے اور اگر وہ قرضہ ادا کیے بغیر مر گیا تو اس کی نجات نہ ہوگی تاآنکہ اس کے وارثوں میں سے کوئی شخص اس کے قرضے کی ادائیگی نہ کر دے یا کوئی شخص اس کے قرضے کی ادائیگی کا ضامن نہ بن جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے مقروض کی نماز جنازہ اس وقت تک نہیں پڑھاتے تھے جب تک اس کے قرضے کا کوئی ضامن نہ بن جاتا ورنہ آپ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے فرما دیتے کہ تم خود ہی اپنے بھائی پر نماز جنازہ پڑھ لو۔ (بخاری۔ کتاب فی الاستقراض، باب الصلوۃ علی من ترک دینا ) اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ مثلاً زید بکر پر کوئی احسان کرتا ہے اب بکر کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ بھی کسی وقت اس کے اس احسان کا بدلہ دے اور اگر وہ اس پوزیشن میں نہیں تو کم از کم اس کا شکریہ ہی ادا کر دے اور اگر دونوں کام کرے تو اور بھی اچھی بات ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں ہی کا شکریہ ادا نہیں کرتا (جن کا احسان اسے محسوس بھی ہو رہا ہے) تو وہ اللہ کا کیا شکر ادا کرے گا۔ (ترمذی۔ ابو اب البروالصلہ، باب فی الشکرلمن احسن الیک) دوسری طرف زید (احسان کرنے والے) کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ بکر سے نہ کسی بدلہ احسان کی توقع رکھے اور نہ شکریے کی۔ (٧٦ : ٩) ٭ جنت کا ملنا محض اللہ کی رحمت ہے :۔ بالکل یہی صورت اس آیت میں ہے جنت میں داخل ہونے والے لوگ یہ کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق اور دستگیری اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہنمائی ہمیں نصیب نہ ہوتی تو ہم اس جنت تک پہنچ ہی نہ سکتے تھے یہ تو محض اللہ کا فضل ہے کہ ہمیں یہ جنت ملی ہے دوسری طرف اللہ تعالیٰ ان اہل جنت کی حوصلہ افزائی کی خاطر فرما رہے ہیں کہ یہ جنت تمہارے ہی ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم دنیا میں کرتے رہے اور اس بات کو بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد بار ذکر کیا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص اس دنیا میں کتنے ہی نیک اعمال کرلے وہ تو اللہ کے سابقہ احسانات کا بدلہ بھی نہیں چکا سکتا پھر جنت کا حق دار کیسے ہوسکتا ہے اسی حقیقت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ بیان فرمایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں یا رسول اللہ ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے اعمال کے بدلے میں جنت میں نہ جا سکیں گے؟ فرمایا : ’’میں بھی نہیں‘‘ پھر فرمایا : ((إلا أن یتغمدنی اللہ برحمۃ))’’اِلا یہ کہ اللہ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل ) ٭جنت کی نعمتیں :۔ مزید برآں اس آیت میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جنت تمہیں بطور ورثہ دی جا رہی ہے اور ورثہ پانے کا مدار کسی عمل پر نہیں ہوتا۔ دوسرا اشارہ اس میں یہ پایا جاتا ہے کہ یہ وہی جنت ہے جس سے تمہیں نکالا گیا تھا چونکہ تم نے دنیا کی زندگی اللہ کے فرمانبردار بن کر گزاری ہے اس لیے وہی جنت تمہیں بطور ورثہ عطا کی جا رہی ہے اور اہل جنت کو بن مانگے وہاں نعمتیں میسر ہوں گی۔ ان کا ذکر درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ دونوں سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : ایک منادی ندا کرے گا: ’’اے اہل جنت! تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے زندہ رہو گے تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ جوان رہو گے، تم پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا، عیش میں زندگی گزارو گے تمہیں کبھی حزن و ملال نہ ہوگا۔‘‘ یہی مطلب ہے اللہ کے اس فرمان کا۔ ﴿وَتَوَدُّوْا .... تَعلمون﴾ (مسلم۔ کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا واھلھا ) الاعراف
44 [٤٣۔ الف] جنت اور دوزخ میں اتنا زیادہ فاصلہ ہوگا جس کا ہمارے لیے اس دنیا میں تصور بھی ممکن نہیں اور قرآن کی اس آیت اور بعض دوسری آیات سے اہل جنت اور اہل دوزخ کا مکالمہ بھی ثابت ہے۔ جس سے کئی باتوں کا پتہ چلتا ہے مثلاً ایک یہ کہ اس دوسری زندگی میں لوگوں کو جو سمعی اور بصری قوتیں عطا کی جائیں گی وہ موجودہ زندگی سے بہت زیادہ قوی ہوں گی۔ دوسرے وہاں کا مواصلاتی نظام بھی موجودہ دنیا کے نظام سے بہت زیادہ سریع التاثیر ہوگا۔ موجودہ دور میں ہم ٹیلی ویژن پر دنیا کے دور دراز ملکوں کے لوگوں کے مکالمات سن بھی سکتے ہیں اور انہیں دیکھ بھی سکتے ہیں اور اس دوسری زندگی میں یہ ہوگا کہ اہل جنت میں سے اگر کسی کو اپنے ان ساتھیوں کا خیال آیا جو کافر اور دوزخ کے مستحق تھے اور وہ ان سے کلام کرنا چاہے گا تو ان کی اور ان کے احوال و ظروف کی تصویر ہی سامنے نہیں آئے گی بلکہ وہ اپنے اپنے مقام پر بیٹھے ہوئے ایک دوسرے سے گفتگو بھی کرسکیں گے۔ یہ سورۃ مکی ہے اور اس مقام پر جن اہل دوزخ کا ذکر آیا ہے اس سے مراد غالباً وہی لوگ ہیں جو مسلمانوں کو حقیر مخلوق سمجھتے تھے اور ان کے متعلق قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ ایسے لوگ کبھی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے مستحق نہیں ہو سکتے ایسے ہی ناتواں اور نادار مسلمان جنت میں آرام پانے کے بعد اپنے ان متکبر ساتھیوں سے ہم کلام ہونا چاہیں گے جو انہیں حقیر سمجھا کرتے تھے۔ پھر ان میں وہی گفتگو ہوگی جو اس آیت میں مذکور ہے اور یہ مکالمہ ایسے لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے اور اس دنیا میں حسرت و یاس بڑھانے کے لیے یہاں مذکور ہوا ہے اور ایسے ظالموں پر اس دنیا میں بھی لعنت ہے اور اس جہان میں بھی لعنت ہوگی۔ الاعراف
45 [٤٤] ٭اسلام کی راہ روکنے والے مسلمان :۔ اس آیت میں ظالموں کی ایک اور قسم کا ذکر کیا گیا ہے اور ایسے لوگ بھی ہر امت میں پائے جاتے ہیں مثلاً مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دعویٰ تو اپنے مسلمان ہونے کا کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ اسلام نے جو حدود مقرر فرمائی ہیں یہ وحشیانہ سزائیں ہیں۔ آج کے دور میں ان پر عمل درآمد محال ہے۔ اسلام نے عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دے کر انہیں قیدی بنا دیا ہے۔ لونڈی غلاموں کے جواز کا زمانہ لد گیا اسلام اپنے دور میں تو ایک زندہ تحریک تھی مگر آج یہ نظام فرسودہ ہوچکا ہے جو زمانے کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ وہ اپنا سیاسی نظام بھی غیروں سے درآمد کرتے ہیں اور معاشی نظام بھی اوروں سے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کے دور میں سود کے بغیر ہماری معیشت چل ہی نہیں سکتی۔ یہ سب باتیں اسلام کا راستہ روکنے اور اس کی سیدھی راہ میں کجی پیدا کرنے کی باتیں ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ روز آخرت پر اور اللہ کے حضور جوابدہی پر ایمان نہیں رکھتے ورنہ وہ ایسی باتیں کیسے کہہ سکتے تھے؟ الاعراف
46 [٤٥] اعراف کیا ہے ؟ اعراف جنت اور دوزخ کے درمیان ایک اوٹ ہے سورۃ حدید میں اس اوٹ کی یہ تفصیل ملتی ہے کہ وہ ایک دیوار ہوگی جس میں ایک دروازہ ہوگا اس کے بیرونی طرف تو عذاب ہوگا اور اندرونی طرف رحمت (٥٧ : ١٣) یعنی یہ دیوار جنت کے لذائذ اور خوشیوں کو جہنم کی طرف جانے سے اور جہنم کی کلفتوں کو اور آگ کی لپیٹ اور گرمی اور دھوئیں کو جنت کی طرف جانے سے روک دے گی۔ [٤٦] اعراف اور اہل اعراف :۔ اصحاب اعراف کون لوگ ہیں؟ اس کے متعلق بہت سے اقوال ہیں جن میں سے راجح تر یہی قول ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر برابر ہوں گی وہ اس مقام پر مقیم ہوں گے ان کے ایک طرف اہل جنت ہوں گے جنہیں وہ ان کے نورانی چہروں کی بدولت پہچانتے ہوں گے اور دوسری طرف اہل دوزخ ہوں گے جن کی رو سیاہی اور کالی کلوٹی رنگت کی بنا پر انہیں بھی پہچانتے ہوں گے۔ [٤٧] اس آیت کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں ایک یہ کہ جو لوگ جنت میں داخل ہوچکے ہوں گے انہیں دیکھ کر اصحاب اعراف انہیں سلام علیکم کہیں گے اور ان اصحاب اعراف کی اپنی کیفیت یہ ہوگی کہ وہ بھی جنت میں داخل ہونے کی توقع رکھتے ہوں گے دوسرے یہ کہ کئی اہل جنت ابھی حساب و کتاب سے فارغ نہ ہوئے ہوں گے مگر اصحاب اعراف ان کے نورانی چہرے دیکھ کر پہچان لیں گے کہ وہ جنتی ہیں تو انہیں سلام علیکم کے بعد جنت کی خوشخبری دیں گے اور ان حساب کتاب میں مشغول لوگوں کی اپنی کیفیت یہ ہوگی کہ گو وہ ابھی تک جنت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے تاہم وہ اس کی امید ضرور رکھتے ہوں گے۔ جنت میں دیدار الٰہی :۔ اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان مکالمہ، اصحاب اعراف کا ان سے مکالمہ اور ان کو بعید مقامات سے دیکھ کر پہچان لینے اور ایک دوسرے کی آوازیں سن کر ان کا جواب دینے کو اور روز محشر کے احوال کو موجودہ قوتوں اور عقل سے جانچنا درست نہیں اور اس کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے فرمایا کہ’’اس دن تم اپنے پروردگار کو اس طرح بلاتکلف دیکھ سکو گے جس طرح چاند کو دیکھ رہے ہو اور تمہیں کوئی رکاوٹ محسوس نہ ہوگی‘‘ (بخاری۔ کتاب التوحید باب ( وُجُوْہٌ یَّوْمَیِٕذٍ نَّاضِرَۃٌ 22؀ۙ) 75۔ القیامۃ :22) حالانکہ اس دنیا میں موجودہ آنکھوں سے دیدار الٰہی ناممکن ہے۔ الاعراف
47 [٤٨] اہل اعراف کا اہل دوزخ سے مکالمہ :۔ یعنی اصحاب اعراف دوزخیوں کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کریں گے کیونکہ وہ خود بھی بیم و رجاء کی حالت میں ہوں گے دوزخ سے ڈر رہے ہوں گے اور جنت کی آس لگائے ہوئے ہوں گے لہٰذا ان کی آنکھوں کو اہل جہنم کی طرف پھیرا جائے گا تو پہلی بات جو ان کے منہ سے نکلے گی وہ یہ ہوگی کہ اے اللہ! ہمیں ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کرنا۔ پھر جب نظر پڑ ہی گئی تو سب سے پہلی بات جو وہ اہل دوزخ سے پوچھیں گے یہ ہوگی کہ آج تمہارا وہ جتھا کہاں گیا جس کے متعلق شیخیاں بگھارا کرتے تھے۔ جیسا کہ جب سورۃ مدثر کی یہ آیت نازل ہوئی کہ ’’دوزخ پر انیس داروغے مقرر ہیں‘‘ تو کافر کہنے لگے کہ ’’ہم تو ہزاروں کی تعداد میں ہیں ہم میں سے دس آدمی بھی ایک کا مقابلہ نہ کرسکیں گے؟ پھر ان میں سے ایک پہلوان قسم کا آدمی کہنے لگا کہ ان میں سے سترہ کو تو میں سنبھال لوں گا باقی دو کے لیے تم سب بھی کافی نہ ہو گے‘‘ اور دوسری بات وہ اہل دوزخ سے یہ کہیں گے کہ دیکھ لو جنت میں وہی لوگ جا رہے ہیں جنہیں تم فقیر مسکین اور غلام کہہ کر حقیر سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ’’ایسے لوگوں پر اللہ کی رحمت کیسے ہو سکتی ہے؟ اور اگر ہونا ہوتی تو یہاں اس دنیا میں بھی اس رحمت کا کچھ حصہ انہیں مل جاتا۔‘‘ انہیں سے یہ کہا جا رہا ہے کہ آج بلاخوف و خطر جنت میں داخل ہوجاؤ اس طرح اصحاب اعراف اہل دوزخ پر ان کی کذب بیانی، ان کے تکبر اور غلط تصورات کو واضح کردیں گے۔ الاعراف
48 الاعراف
49 الاعراف
50 [ ٤٩] دوزخی جب آگ میں جل رہے ہوں گے تو اپنے دنیا کے شناسا اہل جنت سے فریاد کریں گے کہ ہم پر کچھ پانی ہی گرا دو تاکہ ہمیں کچھ آرام مل سکے یا کچھ کھانے کے لیے ہی گرا دو۔ اہل جنت اس کا یہ جواب دیں گے کہ یہ چیزیں تم پر حرام کردی گئی ہیں لہٰذا ہم اللہ کی نافرمانی کر کے خود گناہ گار نہیں بننا چاہتے۔ الاعراف
51 [٥٠] کھیل تماشا ہی کو اپنا دین سمجھنے والے :۔ جو انسان روز آخرت پر اور اللہ کے سامنے جواب دہی پر ایمان نہیں رکھتا اس کی زندگی ایمان رکھنے والوں سے یکسر مختلف ہوتی ہے اس کی زندگی کا منتہائے مقصود صرف یہ رہ جاتا ہے کہ دنیا میں جس قدر عیش و عشرت کرسکتا ہے کرلے، جس جائز یا ناجائز طریقے سے مال آتا ہے آئے۔ ان کی نظروں میں یہ دنیا بس ایک تفریح گاہ رہ جاتی ہے جس میں ہر شخص کو اپنی حیثیت کے مطابق عیش و عشرت اور سیر و تفریح کر کے اس دنیا سے رخصت ہونا چاہیے۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں سے سلوک بھی ان کے نظریہ کے مطابق کیا جائے گا۔ انہوں نے روز آخرت کو اور اللہ کے سامنے جوابدہی کو بھلایا تو اللہ بھی انہیں ایسے ہی بھلا دے گا وہ آگ میں جل رہے ہوں تو جلتے رہیں بھوکے پیاسے ہیں تو بھوکے پیاسے ہی رہیں انہیں نہ کچھ کھانے کو ملے گا نہ پینے کو۔ تاکہ دنیا میں جو عیاشیاں کرچکے ہیں ان کا ردعمل بھی دیکھ لیں۔ الاعراف
52 [٥١] کتاب اللہ رحمت کیسے :۔ یعنی ہم نے اپنے علم کی بنا پر یہ بتلا دیا ہے کہ نیکوکاروں کا انجام ایسا ہوگا اور بدکاروں کا ایسا روز آخرت بھی یقینی ہے اور ہر عمل کی جزا و سزا بھی مل کے رہے گی۔ بدکاروں پر اس دنیا میں بھی عذاب آتا ہے اور آخرت میں تو عذاب یقینی ہے۔ غرض ہر طرح کی تفصیل اس کتاب میں مذکور ہے۔ مگر اس کتاب سے فائدہ صرف وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں۔ ایمان لاتے ہی ان کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی شروع ہوجاتی ہے۔ ان کے اخلاق سنور جاتے ہیں وہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے اور ان کی بھلائی کی باتیں سوچنے لگتے ہیں۔ ان کی زندگی انتہائی ذمہ دارانہ زندگی بن جاتی ہے پھر ان کی آخرت بھی سنور جاتی ہے اس طرح یہ کتاب ان کی دنیوی زندگی میں بھی ہدایت اور رحمت ثابت ہوتی ہے اور آخرت میں بھی۔ الاعراف
53 [٥٢] اہل دوزخ کی دوبارہ دنیا میں آنے کی درخواست اور اس کا جواب :۔ تاویل سے مراد کسی خبر کا مصداق یا اس کے واقع ہونے کا وقت ہے اور یہاں مراد قیامت کا واقع ہونا ہے یعنی جب قیامت واقع ہوجائے گی تو اس وقت کافر کہیں گے کہ وہ بات تو سچ نکلی جو رسول کہا کرتے تھے۔ اب کیا کیا جائے؟ اب تو ہمیں یقیناً سزا ملے گی پہلے وہ عذاب سے بچاؤ کے لیے کوئی سفارشی دیکھیں گے جب وہ نہ ملے گا تو دنیا میں دوبارہ آنے اور دوبارہ امتحان دینے کی درخواست کریں گے اور کہیں گے کہ اب کی بار ہم یقیناً اللہ کے فرمانبردار بن کے رہیں گے اور یقیناً اس امتحان میں کامیاب اتریں گے۔ اللہ نے اس مقام پر ان کی اس درخواست کا جواب ذکر نہیں فرمایا تاہم بعض دوسرے مقامات پر انہیں دو طرح کے جواب دیئے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ جب انہوں نے حقیقت کا مشاہدہ کرلیا اور غیب کے پردے اٹھ گئے تو پھر اب ایمان کیسا اور فرمانبرداری کیسی؟ کیونکہ ایمان کی صفت ہی غیب پر ایمان لانا ہے اور آنکھوں دیکھی چیزوں پر تو کافر بھی یقین کرلیتے ہیں لہٰذا اس وقت ایمان لانے کا کچھ مطلب ہی نہیں اور نہ ایسا ایمان کچھ فائدہ ہی دے سکتا ہے اور دوسرا جواب یہ دیا گیا کہ اگر انہیں دوبارہ دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو یہ بدبخت دنیا کی رنگینیوں میں پھر بھی ایسے ہی محو ہوجائیں گے اور اسی طرح کے نافرمان بن جائیں گے جیسے پہلے تھے اور انہیں یہ وعدہ یاد تک نہ رہے گا جیسے دنیا میں جو کچھ یہ لوگ باتیں بنایا کرتے تھے آج انہیں ان میں سے کچھ یاد نہیں پڑتا۔ اسی طرح دوبارہ دنیا میں جا کر اس وقت کے وعدہ کو بھی بھول جائیں گے۔ الاعراف
54 [٥٣] یہاں دن سے مراد ہمارا یہ ٢٤ گھنٹے کا دن نہیں جو سورج سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ یہ سورج تو اس وقت موجود ہی نہ تھا۔ قرآن کریم میں ایک اور مقام پر یوم کی مقدار ایک ہزار سال کا ذکر آیا ہے (٢٢ : ٤٧) اور دوسرے مقام پر پچاس ہزار سال کا (٧٠ : ٤) لہٰذا یہاں چھ دن سے چھ ادوار ہی مراد لیے جا سکتے ہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ حم السجدہ ٤١ کی آیات ٩ تا ١٢) [٥٤] استواء علی العرش کا مفہوم :۔ قرآن میں جہاں بھی استویٰ علی کا لفظ آیا ہے تو اس کے معنی قرار پکڑنا یا جم کر بیٹھنا ہے لیکن بعض عقل پرست فرقے جن میں جہمیہ اور معتزلہ سرفہرست ہیں آیت ﴿اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ﴾کا ترجمہ عرش پر متمکن ہوگیا یا کائنات کے نظام پر غالب آ گیا یا زمام اختیار و اقتدار سنبھالی وغیرہ کرتے ہیں اور استویٰ کے معنی استولیٰ سے کرتے ہیں جن کے متعلق امام ابن قیم نے فرمایا کہ نون الیھود ولام جھمی ھما------ فی وحی رب العرش زائد تان یعنی یہودیوں کا نون ( حطة کی بجائے حنطة کہنا) اور جہمیہ کالام (یعنی استویٰ کی بجائے استولیٰ سمجھنا) دونوں باتیں وحی الٰہی سے زائد ہیں۔ فرقہ جہمیہ کا تعارف :۔ جہمیہ فرقہ کا بانی جہم بن صفوان دوسری صدی ہجری کے آغاز میں ہشام بن عبدالملک (١٠٥ ھ تا ١٢٥ ھ) کے زمانہ میں ظاہر ہوا۔ یہ شخص ارسطو کے تجریدی نظریہ ذات باری سے متاثر تھا (ارسطو ایک یونانی فلاسفر تھا جو ذات باری کے وجود کا قائل تھا مگر تجریدی نظریہ رکھتا تھا اور آخرت کا منکر تھا) جہم اپنے زعم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مکمل تنزیہہ بیان کرتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی ان صفات کی نفی کرتا تھا جو کتاب و سنت میں وارد ہیں اور اس تنزیہہ میں اس نے اس قدر غلو اور مبالغہ سے کام لیا کہ بقول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس نے اللہ تعالیٰ کو لاشے اور معدوم بنا دیا وہ اللہ تعالیٰ کے لیے جہت یا سمت مقرر کرنے کو شرک قرار دیتا تھا اور اس کی طرف ہاتھ، پاؤں، چہرہ، آنکھیں اور پنڈلی کی نسبت کرنے کو، جن کا قرآن میں ثبوت موجود ہے، ناجائز قرار دیتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لیے عرش پر قرار پکڑنے یا اپنے ہاتھوں، آنکھوں، چہرے اور پنڈلی کا غیر مبہم الفاظ میں قرآن میں ذکر فرمایا ہے تو اس کی تنزیہہ خود اس سے زیادہ بہتر اور کون کرسکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ اس کا عرش کیسا ہے یا اس نے کس طرح عرش پر قرار پکڑا ہے یا اس کا چہرہ، آنکھیں اور ہاتھ وغیرہ کیسے ہیں تو یہ جاننے کے ہم مکلف نہیں ہیں کیونکہ اس نے خود ہی فرمایا ہے کہ ﴿فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاَمْثَالَ﴾نیز فرمایا ﴿لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ﴾ تو بس ایک مسلمان کا کام یہ ہے کہ جو کچھ کتاب و سنت میں مذکور ہے اسے جوں کا توں تسلیم کرلے اسے عقل اور فلسفہ کی سان پر چڑھا کر اس کی دوراز کار تاویلات و تحریفات پیش کرنا ایک مسلمان کا شیوہ نہیں ہوسکتا اور نہ قرآن ایسی فلسفیانہ موشگافیوں کا متحمل ہی ہوسکتا ہے کیونکہ جن لوگوں پر یہ قرآن نازل ہوا تھا وہ امی تھے اور فلسفیانہ موشگافیوں سے قطعاً نابلد تھے۔ صفات الہٰی میں بحثیں کرنے والے ملعون ہیں :۔ قرآن کی ایسی آیات جن میں اللہ تعالیٰ کی صفات مذکور ہوں ان کی کرید کرنا اور ان کی عقلی توجیہات تلاش کرنا ان لوگوں کا کام ہے جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہوتی ہے اور وہ یہ کام کسی فتنہ انگیزی یعنی کسی نئے فرقے کی طرح ڈالنے کی خاطر کرتے ہیں جس کے وہ قائد شمار ہو سکیں اور اس طرح امت کو فرقہ بازی کے فتنے سے دو چار کردیتے ہیں (ملاحظہ ہو سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ٧ اور ٨) اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اَسْمَاۗیِٕہٖ﴾ یعنی جو لوگ اللہ کے اسماء (صفات الہی) میں ٹیڑھی راہیں اختیار کرتے ہیں ان کی کوئی بات نہ مانو یاد رہے کہ الحاد کا تعلق عموماً ایسے باطل عقائد سے ہوتا ہے جو صفات الٰہی سے متعلق ہوتے ہیں۔ [٥٥] یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کو پیدا کر کے عرش پر قرار پکڑنے کے بعد بیٹھ نہیں گیا جیسا کہ بعض دوسرے گمراہ فرقوں کا خیال ہے بلکہ وہ پوری کائنات پر اکیلا کنٹرول کر رہا ہے یہ سورج چاند ستارے اس کی مقرر کردہ چال کے مطابق اپنے اپنے کام پر لگے ہوئے ہیں اور اس کے حکم سے سرمو ادھر ادھر نہیں ہو سکتے اور کائنات میں جو کچھ تصرفات اور حوادث رونما ہو رہے ہیں سب اسی کے حکم اور اسی کی قدرت سے واقع ہوتے ہیں۔ [٥٦] حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ کے لیے ہے :۔ یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ کائنات کی ایک ایک چیز کا خالق تو اللہ تعالیٰ ہو اور تدبیر امور کائنات میں دوسرے بھی اس کے ساتھ شامل ہوجائیں کوئی بارش برسانے کا دیوتا ہو تو کوئی فصلیں پیدا کرنے والا اور کوئی دوسرا مال و دولت عطا کرنے والا ہو۔ جو چیزیں خود اللہ تعالیٰ کے فرمان کے آگے بے بس اور مجبور ہوں وہ دوسری چیزوں پر کیا حکم چلا سکتی ہیں؟ اور انسانی زندگی پر کیسے اثر انداز ہو سکتی ہیں؟ مالک ہی یہ حق رکھتا ہے کہ اپنی مملوکہ چیز میں جیسے چاہے تصرف کرے اور مملوک اسی کا تابع فرمان ہو۔ اگرچہ ربط مضمون کے لحاظ سے یہاں ستارہ پرستی کا رد مقصود ہے تاہم اس جملہ کا حکم عام ہے۔ یعنی اس دنیا میں انسانوں پر اللہ کے حکم کے سوا کسی دوسرے کا حکم چلنے کی کوئی وجہ نہیں۔ انسان اللہ کی مخلوق ہیں اور اسی کا عطا کردہ رزق کھاتے ہیں لہٰذا یہاں نہ حاکم کو اختیار ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے خلاف کوئی حکم دے اور نہ عام انسانوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے حکم کے سوا کسی دوسرے کا حکم مانیں۔ جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جس کام میں اللہ کی نافرمانی ہوتی ہو ایسے کام میں کسی مخلوق کی اطاعت نہ کرنی چاہیے۔ نیز اس آیت کی رو سے نظام خلافت کے سوا باقی سب نظام ہائے سیاست باطل قرار پاتے ہیں جن میں اللہ کے سوا دوسروں کا قانون نافذ ہوتا ہے۔ [٥٧] برکت کا مفہوم :۔ برکت کا مطلب یہ ہے کہ جن متوقع فوائد اور خیر و بھلائی کے لیے کوئی چیز پیدا کی گئی ہے وہ پورے کے پورے فوائد اس سے حاصل ہوجائیں یہاں اللہ تعالیٰ کے بابرکت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی کوئی بھی چیز جس مقصد اور خیر و بھلائی کے لیے بنائی تھی اس سے پورے کے پورے مقاصد حاصل ہو رہے ہیں۔ الاعراف
55 [٥٨] دعا کے آداب :۔ ایسے ہی ہر چیز کے خالق و مالک اور بابرکت اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہیں اپنی حاجات پیش کرنا چاہئیں۔ اسی سے فریاد کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ عجز و انکسار کے ساتھ دعا کرو اور تہہ دل سے اور دل میں کرو اور دعا میں ریاکاری کا دخل نہ ہو اور دعا میں حد ادب سے نہ بڑھنا چاہیے مثلاً ایسی چیزوں کی دعا نہ مانگے جو عادتاً یا شرعاً محال ہوں یا معاصی یا سائل لغو چیزوں کی طلب کرنے لگے یا ایسا سوال کرے جو مانگنے والے کی شان اور حیثیت کے مطابق حال نہ ہو۔ مثلاً کوئی اپنے لیے بادشاہ بننے کی دعا کرے کہ بیٹھے بٹھائے بادشاہت مل جائے تو ایسی دعا کرنا بھی حد سے بڑھنے کے ضمن میں آ جاتا ہے۔ الاعراف
56 [٥٩] فساد فی الارض کیا ہے ؟:۔ فساد فی الارض یہ ہے کہ انسان اللہ کی بندگی چھوڑ کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی اطاعت شروع کر دے اور اللہ کی بتلائی ہوئی راہ ہدایت کو چھوڑ کر اپنے اخلاق، معاشرت، معیشت، سیاست اور تمدن کی عمارت کو ایسے اصول و قوانین پر قائم کرے جو کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں یہی وہ بنیادی فساد ہے جس سے زمین کے انتظام میں خرابی کی بے شمار صورتیں پیدا ہوجاتی ہیں اور ایسے پیچیدہ مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جن کے حل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور اگر کوئی حل سوچا بھی جائے تو مسائل سلجھنے کی بجائے مزید پیچیدہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء زمین میں اصلاح ہی اصلاح تھی کیونکہ پہلے بشر آدم خود نبی تھے بعد میں شیطانی عناصر نے اس اصلاح میں بگاڑ کی صورتیں پیدا کیں تو اللہ تعالیٰ انبیاء بھیج کر اس بگاڑ کو ختم کرتا رہا۔ جبکہ انسانی تمدن کی داستان لکھنے والے یہ نظریہ قائم کرتے ہیں کہ انسان ظلمت سے نکل کر بتدریج روشنی میں آیا ہے اور اس کی زندگی بگاڑ سے شروع ہوئی جو بتدریج سنور رہی ہے قرآن اس نظریہ کی پر زور تردید کرتا ہے۔ معاشرے کی اصلاح کا آغاز توحید ہی سے ہوسکتا ہے :۔ یعنی بگاڑ کو درست کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اس کی ابتدا توحید سے کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء جو دنیا میں آئے عموماً ان حالات میں آئے کہ معاشرے میں طرح طرح کا بگاڑ پیدا ہوچکا تھا، تو انہوں نے اپنی دعوت کا آغاز توحید ہی سے کیا کہ اللہ کے ساتھ کسی بھی دوسرے کی بندگی سے اجتناب کو شرط اول قرار دیا یہ اصول اپنانے کے بعد معاشرہ سے برائیاں خود بخود رخصت ہوتی چلی جاتی ہیں۔ الاعراف
57 [٦٠] خوف اور طمع سے پکارنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی تمام امیدیں اللہ سے وابستہ رکھے اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو اور ڈرنا اس بات سے چاہیے کہ کسی غلطی یا تقصیر کی وجہ سے کہیں اللہ کی بارگاہ میں مردود ہی نہ جاؤں۔ دونوں پہلوؤں کو بہرحال ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ تاہم اللہ سے حسن ظن کا پہلو غالب رہنا چاہیے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے تین دن پہلے فرمایا’’تم میں سے ہر شخص کو مرتے وقت اللہ سے حسن ظن رکھنا ضروری ہے۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا باب الامر بحسن ظن باللہ تعالیٰ ) [٦١] مردہ زمین کی زندگی سے بعث بعد الموت پر استدلال :۔ اکثر دہریت پسندوں اور مشرکین مکہ کی دوسری زندگی کے انکار پر یہ دلیل ہوا کرتی کہ ہر چیز جو زمین میں چلی جاتی ہے مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتی ہے پھر دوبارہ ہم کس طرح اٹھا کھڑے کیے جائیں گے اس آیت میں ایسے لوگوں کی دلیل کا رد پیش کیا جا رہا ہے مثلاً یہ کہ ہر چیز جو زمین میں چلی جائے وہ مٹی نہیں ہوجاتی بلکہ مناسب موقع اور احوال سے اس میں زندگی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کی ایک مثال تو غلے کا دانہ ہے جو زمین میں دبا دیا جاتا ہے اور جب اس کی مناسب آبیاری کی جاتی ہے اور موسم موافق ہوتا ہے تو اگ آتا ہے مٹی میں مل کر مٹی نہیں ہوجاتا اور دوسری مثال یہ ہے کہ ایک زمین مدتوں سے بے کار اور بنجر پڑی ہے اس پر باران رحمت کا نزول ہوتا ہے تو جس جس درخت کے بیج اس میں کسی وقت گرے تھے اس مردہ زمین سے ان پھلوں کے بیجوں سے ان کے درخت اگ آتے ہیں وہ پڑے ہوئے بیج اس طویل مدت میں مٹی میں مل کر مٹی نہیں ہوگئے اور اگر ہو بھی گئے تھے تو مناسب حالات ملنے پر اگ آئے۔ مردہ بیجوں میں زندگی پیدا ہوگئی اور مردہ زمین میں بھی بارش سے زندگی پیدا ہوگئی کہ اس سے مختلف قسم کے پھل اور طرح طرح کی نباتات پیدا ہونے لگیں اسی طرح انسانی جسم مٹی میں مل کر مٹی ہو بھی جائے تو بھی مناسب حالات ملنے پر اس میں زندگی کے آثار پیدا ہوجائیں گے اور انسان کی دوبارہ زندگی کے لیے مناسب وقت نفخہ ئصور ثانی ہے اور حدیث میں آتا ہے کہ انسان کا جسم مٹی میں مل کر مٹی بن جاتا ہے صرف اس کی ریڑھ کی ہڈی کی دم جسے عجب الذنب کہتے ہیں باقی رہے گی اور یہی ہڈی بیج کا کام دے گی۔ نیز حدیث میں آیا ہے کہ جب صور میں دوسری بار پھونکا جائے گا تو لوگ زمین سے اس طرح اگ آئیں گے جیسے بارش سے نباتات اگ آتی ہے اور یہی اس آیت کا مطلب ہے۔ الاعراف
58 [٦٢] معاشرے میں دو قسم کے لوگ :۔ سابقہ آیت میں مردہ زمین کے زندہ ہوجانے سے اخروی زندگی پر استدلال کیا گیا ہے اور اس آیت میں مختلف قسم کے لوگوں کے دلوں کی کیفیت کو زمین کے مختلف طبقات کے مانند قرار دے کر لوگوں کا حال بیان کیا جا رہا ہے یعنی جس طرح زمین کے بعض قطعات عمدہ، زرخیز اور شاداب ہوتے ہیں اور بعض ردی ہوتے ہیں جن میں مفید نباتات کی بجائے جھاڑ جھنکار ہی پیدا ہوتا ہے حالانکہ ان سب پر بارش ایک ہی جیسی برستی ہے۔ اسی طرح لوگوں کی کیفیت ہے اور وحی الٰہی کی باران رحمت سے سلیم الفطرت لوگ تو خوب پھلتے پھولتے ہیں لیکن جن کے دلوں میں خبث بھرا ہوتا ہے۔ اس باران رحمت کے بعد ان کے اندر سے وہی خبث باطن جھاڑ جھنکار کی صورت اختیار کر کے باہر نکل آتا ہے اور انہیں اعتراضات اور استہزاء کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ اس مثال کے بعد اللہ تعالیٰ نے چند معروف انبیاء کی دعوت کا ذکر کر کے بتلایا کہ ان کی مخاطب قوم اسی طرح دو حصوں میں بٹ گئی ایک سلیم الفطرت لوگ تھے جو وحی الٰہی کی باران رحمت سے خوب برگ و بار لائے دوسرے خبیث سرشت والے، جن کے اندر کا کھوٹ اسی باران رحمت سے جھاڑ جھنکار کی صورت میں باہر نکل آیا۔ آخر کار اس خبیث عنصر کو اسی طرح چھانٹ کر پھینک دیا گیا جس طرح ایک مالی اپنے باغ سے جھاڑ جھنکار کو کاٹ کر پرے پھینک دیتا ہے۔ الاعراف
59 [٦٣] سیدنا نوح علیہ السلام کی بعثت سے پہلے شرک کا آغاز کیسے ہوا تھا ؟ سیدنا آدم علیہ السلام کی وفات کے بعد مدتوں ان کی اولاد راہ ہدایت پر قائم رہی پھر آہستہ آہستہ ان میں بگاڑ پیدا ہونے لگا اور یہ پہلے بتلایا جا چکا ہے کہ فساد فی الارض کی بنیاد شرک پر ہی اٹھتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کے مطابق اس شرک کا آغاز اس طرح ہوا کہ اس قوم میں سے وقتاً فوقتاً پانچ بزرگ اور صالح قسم کے لوگ وفات پا گئے جنہیں دیکھ کر ہی اللہ تعالیٰ کی یاد آنے لگتی تھی جب یہ بزرگ فوت ہوگئے تو عبادت گزار لوگوں نے ان کے خلا کو بری طرح محسوس کیا شیطان نے انہیں پٹی پڑھائی کہ اگر تم ان بزرگوں کے مجسمے بنا کر سامنے رکھ لو تو تمہیں مطلوبہ فائدہ ہوسکتا ہے تمہارا اللہ کی عبادت میں اسی طرح دل لگا کرے گا جس طرح ان کی موجودگی میں لگا کرتا تھا۔ سادہ لوح لوگ شیطان کے اس فریب میں آگئے اور انہوں نے ان پانچ بزرگوں کے مجسمے بنا کر مسجدوں میں اپنے سامنے رکھ لیے۔ یہ لوگ تو ان مجسموں کو دیکھ کر اللہ ہی کی عبادت کرتے رہے مگر بعد میں آنے والی نسلوں نے انہی مجسموں کی پرستش شروع کردی اور جب سیدنا نوح علیہ السلام مبعوث ہوئے تو ان کی قوم بری طرح ان پانچ بزرگوں، جن کے نام ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر سورۃ نوح میں مذکور ہیں کی پرستش میں پھنس چکی تھی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ نوح) سیدنا نوح علیہ السلام کا مرکز تبلیغ :۔ نوح علیہ السلام کا مرکز دعوت عراق کا علاقہ تھا اور غالباً اس وقت دنیا کا صرف یہی علاقہ انسانوں سے آباد تھا اور ابتداً ء دجلہ و فرات کا درمیانی علاقہ آپ کی تبلیغ کا مرکز بنا۔ ماسوائے سیدنا آدم علیہ السلام کے باقی تمام انبیاء کی دعوت کا آغاز شرک سے امتناع اور خالص اللہ کی پرستش سے ہوتا ہے اور ایک بگڑے ہوئے معاشرے کی اصلاح کا آغاز سیدنا نوح علیہ السلام نے بھی اسی دعوت سے کیا اور ساتھ ہی اس بات پر متنبہ کردیا کہ اگر تم شرک سے باز نہ آئے تو تم پر سخت قسم کا عذاب واقع ہوگا۔ الاعراف
60 [٦٤] سرداروں کی مخالفت کی وجوہ :۔ انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی مخالفت میں عموماً سرداران قوم ہی پیش پیش ہوا کرتے ہیں اس کی بڑی وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ نبی کی دعوت قبول کرلیں تو انہیں ان مناصب یا اس مقام سے دستبردار ہونا پڑتا ہے جو معاشرے میں انہیں حاصل ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں جب نبی یہ دعوت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی کار ساز حاجت روا اور مشکل کشا نہیں تو اس سے از خود ان کے بتوں کی توہین ہوجاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کی اپنی عقلوں اور آباؤ اجداد کی عقلوں کی بھی توہین ہوجاتی ہے۔ لہٰذا یہ سردار قسم کے لوگ انبیاء علیہم السلام کی دعوت پر فوراً بھڑک اٹھتے ہیں اور یہی وہ طبقہ ہوتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَکِدًا﴾ اس طرح ان کا خبث باطن کھل کر سامنے آ جاتا ہے پھر صرف یہی نہیں کہ یہ لوگ خود دعوت قبول نہیں کرتے بلکہ عام طبقہ کو بھی اس راہ سے روکتے اور قبول دعوت پر طرح طرح کی پابندیاں لگا دیتے ہیں اور ایسے لوگوں نے جو سیدنا نوح علیہ السلام کو جواب دیا تو ان کا استدلال یہ تھا کہ اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دینے اور کوئی اور دین اختیار کرنے سے بڑی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے؟ لہٰذا صریح گمراہی میں ہم نہیں بلکہ تم ہو۔ الاعراف
61 الاعراف
62 [٦٥] نوح علیہ السلام نے جواب میں کہا کہ گمراہی میں میں نہیں بلکہ تم گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ اللہ کا رسول ہونے کی حیثیت سے اس کا پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں اور اگر تم میری دعوت قبول کرلو تو اس میں تمہاری ہی بھلائی اور خیر خواہی ہے ایک تو تمہاری دنیا اور آخرت سنور جائے گی دوسرے عذاب الٰہی سے بچ جاؤ گے۔ الاعراف
63 [٦٦] ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی دعوت کے جواب میں منکرین کی طرف سے ایک ہی جیسے اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں ایسے ہی اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ تم ہمارے ہی جیسے آدمی ہو کر اللہ کے رسول کیسے ہو سکتے ہو۔ اس مقام پر گو اس اعتراض کا جواب نہیں دیا گیا تاہم بہت سے مقامات پر اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ انسانوں کی ہدایت کا اس کے سوا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں کہ انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جائے جو انہی کی زبان میں انہیں اللہ کا پیغام پہنچا سکے۔ الاعراف
64 [٦٧] انبیاء کے قصوں میں تکرار و اختصار کی وجہ :۔ نوح علیہ السلام کا قصہ جس اختصار کے ساتھ یہاں بیان کیا گیا ہے اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان میں اور ان کی قوم میں جو سوال و جواب ہوئے وہ بس دو چار ملاقاتوں میں ہوگئے ہوں گے۔ حالانکہ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی تھی۔ نوح علیہ السلام کا قصہ قرآن میں متعدد بار مذکور ہوا ہے اور ہر موقع پر کوئی نہ کوئی تفصیل مل جاتی ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ جس مقام پر موضوع کی نسبت سے جتنا ذکر درکار تھا اتنا ہی بیان کردیا گیا کیونکہ قرآن کا مقصود محض قصہ گوئی نہیں بلکہ اس وقت جو بات انسانی ہدایت کے لیے اہم ہو صرف اتنی ہی بیان کی جاتی ہے مثلاً یہاں یہ موضوع جاری ہے کہ انبیاء کو ہمیشہ سے جھٹلایا جاتا رہا۔ جھٹلانے والے لوگ قوم کے سردار ہوتے ہیں جو اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے رہتے ہیں بالآخر ان پر اللہ کا عذاب آتا ہے جو انہیں تباہ کر کے رکھ دیتا ہے اس لیے یہاں اتنا ہی ذکر کیا گیا اور جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخالفین کے مظالم پر صبر کرنے کی تلقین مقصود تھی وہاں یہ بیان کیا گیا کہ نوح علیہ السلام نے تو ساڑھے نو سو سال تک صبر کیا تھا لہٰذا تمہیں بھی صبر کرنا چاہیے اور جہاں نوح علیہ السلام کے نافرمان بیٹے کے غرق ہونے کا ذکر مقصود تھا نیز یہ کہ وہ کیوں غرق ہوا وہاں طوفان نوح علیہ السلام کی تفصیل بیان کی گئی تمام انبیاء علیہم السلام کے حالات کے متعلق قرآن میں آپ کو اسی انداز کا بیان ملے گا۔ [٦٨] قوم نوح کی غرقابی :۔ ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے نتیجہ میں مٹھی بھر لوگ اور بعض اقوال کے مطابق صرف چالیس آدمی آپ پر ایمان لائے۔ جب نوح علیہ السلام باقی لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو آپ نے ان کے حق میں بددعا کی کہ یا اللہ ان میں سے اب کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑنا کیونکہ جس ہٹ دھرمی پر یہ اتر آئے ہیں، ان کی اولاد بھی اب فاسق و فاجر ہی بنے گی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کشتی تیار کرنے کا حکم دیا پھر جب سیلاب آنا شروع ہوا تو آپ نے اس سے ذرا پہلے اپنے پیروکاروں کو اس میں سوار کیا اور جانداروں کا ایک ایک جوڑا بٹھا لیا۔ پھر سیلاب اس وسیع پیمانے پر آیا جس سے یہ ساری کی ساری بدکار قوم ڈوب کر مر گئی۔ (نیز دیکھیے سورۃ ہود کی آیت نمبر ٤٤ کا حاشیہ ) [ ٦٩] اندھے اس لحاظ سے تھے کہ انہوں نے نہ حق و باطل میں تمیز کی نہ اپنے نفع کو سوچا بلکہ ایسے ہٹ دھرم واقع ہوئے تھے کہ اندھے ہو کر اپنی سرکشی اور رسول کی تکذیب اور بغاوت پر ڈٹے رہے مگر بت پرستی سے باز نہ آئے بلکہ ایک دوسرے کو تاکید کرتے تھے کہ دیکھو نوح علیہ السلام کے کہنے پر چل کر کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ نہ دینا۔ الاعراف
65 [٧٠] سیدنا ہود علیہ السلام کا مرکز تبلیغ :۔ طوفان نوح کے بعد بھی ایک مدت سیدنا نوح علیہ السلام زندہ رہے پھر اس طوفان کے تقریباً چھ سو سال بعد سیدنا ہود علیہ السلام کو قوم عاد کی طرف بھیجا گیا یہ سام کی اولاد میں سے تھے جو عاد عرب کی قدیم ترین قوم تھی، جس کے افسانے عرب میں زبان زد عام تھے اس قوم کو عاد اولیٰ بھی کہا جاتا ہے اس کی شان و شوکت بھی ضرب المثل تھی اور دنیا سے اس کا نام و نشان تک مٹ جانا بھی ضرب المثل بن گیا تھا۔ اسی شہرت کی وجہ سے عربی زبان میں ہر قدیم چیز کے لیے عادی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ آثار قدیمہ کو عادیات کہتے ہیں اور جس زمین کے مالک باقی نہ رہے ہوں یا مدت سے بنجر پڑی ہو اسے عادی الارض کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا اصل مسکن احقاف کا علاقہ تھا جو حجاز، یمن اور یمامہ کے درمیان الربع الخالی کے جنوب مغرب میں واقع ہے یہیں سے پھیل کر ان لوگوں نے یمن کے مغربی سواحل اور عمان اور حضرموت سے عراق تک اپنی طاقت کا سکہ رواں کردیا تھا۔ یہ قوم بڑی قد آور، مضبوط اور سرکش تھی۔ رہنے کے لیے زمین دوز شہروں کے شہر بسا رکھے تھے اور بت پرستی میں بری طرح پھنسے ہوئے تھے۔ سیدنا ہود علیہ السلام نے انہیں بت پرستی سے منع کیا اور سمجھایا کہ یہ بت نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں لہٰذا صرف ایک اللہ کی عبادت کرو جو ہر چیز کا خالق و مالک ہے اور ہر قسم کے اختیارات و تصرفات صرف اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ لہٰذا انہیں اپنی اس غلط روش سے پرہیز کرنا چاہیے۔ الاعراف
66 [٧١] زیادہ خداؤں کی ضرورت کا نظریہ اور سیدنا ھود علیہ السلام پر کم عقلی کا الزام :۔ مشرکین کسی بھی قوم یا کسی بھی مقام سے تعلق رکھتے ہوں وہ عموماً اللہ تعالیٰ اور اس کی فرمانروائی کو بھی دنیا کے کسی بادشاہ اور اس کی حکمرانی کی طرح خیال کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جیسے بادشاہ اکیلا اپنی مملکت پر فرمانروائی نہیں کرسکتا بلکہ اس نے اپنے بہت سے مددگار و معاون افسر اپنے ماتحت رکھے ہوتے ہیں جنہیں وہ کچھ اختیارات بھی تفویض کرتا ہے اور ان کی مدد ہی سے حکومت کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی بعض ہستیوں کو بعض چیزوں کے اختیارات تفویض کر رکھے ہیں جن کی مدد سے وہ کائنات کی فرمانروائی کر رہا ہے، گویا وہ اللہ تعالیٰ کو بھی ایک عام انسان کی طرح خیال کرتے ہیں جو اپنی بادشاہی کے انتظام اور اسے چلانے کے لیے دوسروں کا محتاج ہوتا ہے اور بعض ملکوں کے مشرکین یہ ممد و معاون ہستیاں فرشتوں کو قرار دیتے ہیں۔ بعض دیوی دیوتاؤں کو بعض سیاروں کی ارواح کو اور بعض اولیاء اللہ کو۔ ان کی سمجھ میں یہ آ ہی نہیں سکتا کہ اللہ اکیلا بھی ساری کائنات کا انتظام چلا سکتا ہے۔ اس لیے جب ہود علیہ السلام نے انہیں سمجھایا کہ اللہ اکیلا ہی تمہارے سارے کے سارے کام سنوار سکتا ہے اسے کسی معاون کی ضرورت نہیں تو انہوں نے جواب میں کہا کہ دو ہی باتیں ہیں یا تو تم کم عقل ہو جسے یہ موٹی سی بات بھی سمجھ میں نہیں آ رہی یا پھر تم جھوٹے ہو۔ الاعراف
67 الاعراف
68 [٧٢] ہود علیہ السلام نے جواب میں کہا کہ نہ میں نادان ہوں نہ جھوٹا ہوں بلکہ اس اللہ کا جسے تم بھی رب اکبر تسلیم کرتے ہو۔ پیامبر ہوں اور تمہیں اللہ ہی کا پیغام پہنچا رہا ہوں اپنے پاس سے کچھ نہیں کہہ رہا کہ خود ہی کوئی بات بناکر اللہ کے ذمے لگا دوں اور حقیقتاً میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور چاہتا ہوں کہ تمہیں کوئی روز بد نہ دیکھنا پڑے اور یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ میں ایک امین اور دیانت دار آدمی ہوں لہٰذا جو کچھ اور جتنا پیغام اللہ نے دیا ہے وہ بغیر کسی کمی بیشی کے تمہیں پہنچا رہا ہوں۔ الاعراف
69 [٧٣] قوم عاد کا قد و قامت اور ڈیل ڈول :۔ بعض روایات کے مطابق عاد کے لوگوں کے قد اوسطاً بارہ ہاتھ تھے اتنی ڈیل ڈول رکھنے والے انسانوں کی قوت اور طاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے پھر انہیں رزق کی فراوانی بھی حاصل تھی۔ سیدنا ہود علیہ السلام نے اللہ کے احسان جتلا کر انہیں بتلایا کہ دیکھو نوح علیہ السلام کی قوم نے بت پرستی نہ چھوڑی تو ان کا جو حشر ہوا وہ تمہارے سامنے ہے لہٰذا اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ الاعراف
70 [٧٤] تقلید آباء کا عذر :۔ ان نصائح کے جواب میں قوم نے وہی جواب دیا جو عام طور پر مشرکین دیا کرتے ہیں کہ ہم بھلا اپنے باپ دادا کے دین کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں جبکہ ہمارے اسلاف ہم سے بہت زیادہ نیک اور عالم تھے ہم تمہاری یہ بات کبھی نہ مانیں گے اور اگر تم فی الواقع سچے ہو تو جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لا سکتے ہو تو لے آؤ۔ یہ یاد رہے کہ ایسے جواب صرف قوم کے سردار قسم کے لوگ دیا کرتے ہیں اور وہ ایسے ہٹ دھرم کیوں واقع ہوتے ہیں؟ اس کی وجہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں باقی کچھ کمزور قسم کے لوگ ہر نبی پر ایمان لانے والے بھی ہوتے ہیں۔ یہی حال سیدنا ہود علیہ السلام کی قوم کا تھا۔ الاعراف
71 [٧٥] کسی کو اختیارات تفویض ہونے کی کوئی علمی سند نہیں :۔ قوم کے سرداروں کو ہود علیہ السلام نے جواب دیا کہ جب تمہاری سرکشی اور گستاخانہ بے حیائی اس حد تک پہنچ چکی ہے تو بس سمجھ لو کہ اب تم پر اللہ کا عذاب آنے ہی والا ہے۔ رہی تمہارے معبودوں کی بات جن میں سے تم کسی کو بارش کا دیوتا کہتے ہو کسی کو ہواؤں کا، کسی کو فصلوں کا کسی کو صحت کا اور کسی کو مال و دولت کا، تو یہ نام بھی تم نے یا تمہارے باپ دادوں ہی نے خود تجویز کیے تھے کسی آسمانی کتاب یا صحیفے میں یہ قطعاً مذکور نہیں کہ اللہ نے فلاں قسم کے اختیارات فلاں ہستی کو سونپ دیئے ہیں اور فلاں چیز کے اختیارات فلاں ہستی کو۔ ہمارے ہاں بھی ایسے نام بکثرت پائے جاتے ہیں مثلاً فلاں بزرگ غوث (فریاد رس) ہے فلاں ولی داتا ہے فلاں گنج بخش ہے فلاں مشکل کشا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس دور کے مشرک ایسی صفات کو دیوتاؤں، دیویوں، فرشتوں یا بعض ارواح کی طرف منسوب کرتے تھے اور ہمارے زمانہ میں یہ صفات بزرگوں کی طرف منسوب کردی جاتی ہیں خواہ وہ زندہ ہوں یا فوت ہوچکے ہوں۔ اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ ایسی باتوں کے لیے شریعت الٰہی میں کوئی سند نہیں ہے کہ میرا فلاں ولی یا بزرگ مشکل کشا ہوسکتا ہے اور میں نے اسے ایسے اختیارات دے رکھے ہیں۔ الاعراف
72 [٧٦] قوم عاد پر ٹھنڈی آندھی کا عذاب :۔ جب اس قوم کی سرکشی انتہا کو پہنچ گئی اور حضرت ھود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا چیلنج دے دیا تو ان پر تیز آندھی کا عذاب آیا جس میں شدید ٹھنڈک تھی۔ یہ آندھی ان کے زمین دوز گھروں میں گھس گئی اور مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں چلتی رہی اور اس نے اس قوم کے ایک ایک فرد کو ان کے اپنے گھروں ہی کے اندر ہلاک کر ڈالا اور وہ تن و توش رکھنے والی اور اپنی قوت و طاقت پر گھمنڈ کرنے والی قوم اپنے گھروں میں یوں گری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں۔ اس طرح اس قوم کا نام و نشان ہی صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا گیا رہے وہ چند لوگ جو سیدنا ہود علیہ السلام پر ایمان لائے تھے تو سیدنا ہود علیہ السلام کو بذریعہ وحی ایسے عذاب کی آمد سے پہلے ہی مطلع کردیا گیا تھا۔ وہ اپنے پیروکاروں کے ساتھ ایک احاطہ میں محصور ہوگئے تھے اور یہ احاطہ آندھی کی زد سے باہر تھا لہٰذا یہ لوگ محفوظ و مامون رہے اور قوم ثمود بھی انہی کی نسل سے پیدا ہوئی جسے عاد ثانیہ بھی کہتے ہیں اور آگے اسی قوم کا ذکر آ رہا ہے۔ الاعراف
73 [٧٧] سیدنا صالح علیہ السلام کا مرکز تبلیغ اور قوم ثمود :۔ قوم ثمود کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان واقع تھا انہیں قرآن کریم نے اصحاب الحجر بھی کہا ہے حجر ان کے ایک بارونق شہر کا نام تھا جو مدینہ سے تبوک کے راستے پر واقع ہے چنانچہ جب آپ غزوہ تبوک سے واپس آئے تو مقام حجر پر اترے۔ کچھ صحابہ رضوان اللہ علہیم اجمعین نے جلدی سے وہاں کے کسی کنوئیں سے پانی لے کر آٹا گوندھ لیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گوندھے ہوئے آٹے کو پھینک دینے یا اونٹوں کو کھلا دینے کا حکم دیا اور جو پانی مشکوں میں بھرا گیا تھا اسے بہا دینے کا حکم دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو وہ کنواں دکھلایا جہاں سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر پانی لینا ہے تو اس کنوئیں سے لے کر استعمال کرو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلد از جلد وہاں سے کوچ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ گنہگاروں کی بستیوں میں نہ جایا کرو مگر روتے ہوئے، اللہ سے ڈرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو عذاب ان پر آیا تھا کہیں تم پر بھی آن پڑے یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کجاوے ہی پر اپنا منہ چادر سے ڈھانک لیا۔ (بخاری۔ کتاب بدالانبیاء۔ باب قول اللہ والی ثمودا خاہم صالحا ) یہ قوم بھی بت پرستی میں مبتلا تھی صالح علیہ السلام نے کہا : لوگو! ایک اللہ کے سوا تمہارا کوئی نہ حاجت روا ہے اور نہ مشکل کشا۔ لہٰذا تمہیں صرف اسی کی عبادت کرنا چاہیے اور اسی سے فریاد کرنا چاہیے اور میں تمہیں تمہارے پروردگار کا رسول ہونے کی حیثیت سے یہ پیغام دے رہا ہوں۔ اللہ کی اونٹنی اور اس کے اوصاف :۔ انہوں نے کہا کہ اپنی نبوت کی صداقت پر کوئی حسی معجزہ ہمیں دکھلا دو تب ہم تمہاری بات تسلیم کرلیں گے آپ نے پوچھا کیسا معجزہ چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ اس پہاڑ سے ایک حاملہ اونٹنی برآمد ہو پھر وہ ہمارے سامنے بچہ جنے تو ہم سمجھیں گے کہ واقعی تم اللہ کے رسول ہو اور تم پر ایمان لے آئیں گے۔ سیدنا صالح علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی تو پہاڑ پھٹا جس سے ایک بہت بڑے قد و قامت کی اونٹنی برآمد ہوئی جس نے ان کے سامنے بچہ جنا اس وقت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اس اونٹنی کو آزادانہ چلنے پھرنے دو کیونکہ یہ تمہارا مطلوبہ معجزہ اور اللہ کی نشانی ہے جہاں سے چاہے چرتی پھرے اور جہاں سے چاہے پانی پئے اب صورت حال یہ تھی کہ ایک تو اس علاقہ میں پہلے ہی پانی کی قلت تھی دوسرے یہ قد آور اور بہت بڑے ڈیل ڈول کی اونٹنی ایک دن میں اتنا پانی پی جاتی تھی جتنا ان کے سارے جانور پیتے تھے۔ اس لیے سیدنا صالح علیہ السلام نے کہا کہ باری مقرر کرلو اس کنوئیں سے ایک دن تمہارے جانور پانی پیا کریں اور ایک دن یہ اونٹنی (جسے اللہ نے دوسرے مقام پر ناقتہ اللہ یعنی اللہ کی اونٹنی کہا ہے) پانی پیا کرے گی اور ساتھ ہی یہ بھی تنبیہ کردی کہ اگر تم نے اس اونٹنی سے کوئی برا سلوک کیا تو اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب تم پر ٹوٹ پڑے گا۔ الاعراف
74 [٧٨] قوم ثمود کے گھروں کی ساخت :۔ ان لوگوں کے قد و قامت بھی بہت بڑے اور عمریں بھی بہت لمبی ہوتی تھیں اور اگر وہ عام لکڑی کی چھت والے مکان بناتے تو بنانے والے کی زندگی ہی میں کئی بار بوسیدہ ہو کر گر پڑتے تھے۔ عام روایت کے مطابق اس دور میں ان کی عمریں تین سو سے چھ سو سال کے درمیان ہوتیں اور لکڑی کے مکان زیادہ سے زیادہ ایک سو سال چلتے پھر بوسیدہ اور کمزور ہو کر گر پڑتے تھے اس لیے وہ اپنے مکان پہاڑوں میں بناتے۔ اعلیٰ درجے کے سنگ تراش اور انجینئر تھے۔ پہاڑوں کو اندر سے تراش تراش کر مکان بنا لیتے جن میں کھڑکیاں دروازے سب کچھ موجود ہوتا تھا اور ان کی پائیداری کی وجہ سے ایک طویل عرصہ وہاں گزار سکتے تھے اور کسی ہموار زمین پر مکان بناتے تو وہ بھی اتنا مضبوط ہوتا جیسے کوئی محل کھڑا کردیا گیا ہو۔ [٧٩] قوم ثمود کا فساد فی الارض :۔ جب ان لوگوں کی اکثریت اپنا مطلوبہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائی تو صالح علیہ السلام نے انہیں اللہ کے احسانات یاد کرائے اور فرمایا : قوم عاد نے اللہ کی نافرمانی اور سرکشی کی تو ان کا حشر تم نے دیکھ لیا پھر اللہ نے تمہیں ان کا قائم مقام بنایا تمہیں قوت دی اور اتنی طاقت اور خوش حالی دی کہ تم رہنے کے لیے معمولی گھروں کے بجائے محل بنا کر رہتے ہو تو اللہ کے ان احسانات کا شکریہ ادا کرو اور فساد فی الارض کے موجب نہ بنو۔ یہاں فساد فی الارض سے مراد کفر و شرک کو اختیار کرنا، انبیاء کی دعوت ہدایت کو ازراہ تکبر ٹھکرا دینا۔ دعوت قبول کرنے والوں کا استہزاء اور ان پر سختیاں روا رکھنا، اور ان سے محاذ آرائی ہے اور ان سب باتوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کی اپنی سرداریاں ختم نہ ہوجائیں۔ پھر اس قسم کے معاشرے میں یہ متکبر قسم کے بڑے لوگ غریبوں کا جس طرح استحصال کرتے ہیں اور ان پر ظلم روا رکھتے ہیں وہ سب کو معلوم ہے اور یہ سب باتیں فساد فی الارض کے ضمن میں آتی ہیں۔ الاعراف
75 الاعراف
76 [٨٠] قوم کا اکڑ جانا اور استہزا :۔ یہ بھی استہزاء کی ہی ایک قسم ہے یعنی متکبر لوگ جو اپنے آپ کو انتہائی عقل مند سمجھتے تھے، ایمان لانے والے کمزور مسلمانوں سے پوچھتے تھے بھلا صالح علیہ السلام کی جس دعوت کی ہمیں سمجھ نہیں آ رہی اور ہم اسے غیر معقول باتیں سمجھتے ہیں تم انہیں کیسے معقول سمجھ کر ایمان لے آئے ہو؟ کمزور مسلمانوں نے اپنی ایمانی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ جس بات کو تم غلط کہتے ہو ہم اسی کو معقول اور برحق سمجھ کر ایمان لائے ہیں اور اسے واقعی رسول برحق سمجھتے ہیں۔ متکبر لوگ کہنے لگے ہم تو بہرحال تمہاری احمقانہ باتوں کو کبھی قبول نہیں کرسکتے۔ الاعراف
77 [٨١] اللہ کی اونٹنی کا انجام اور اسے مارنے والا :۔ اس قوم نے جس معجزہ کا مطالبہ کیا تھا وہ ان کے لیے وبال جان بن گیا کیونکہ جتنا پانی ان کے تمام جانور پیتے تھے اتنا وہ اکیلی ہی پی جاتی تھی اور ان کے ہاں پانی کی قلت بھی تھی اسی لیے پانی کی باری مقرر کی گئی تھی اور جتنا سب جانور کھاتے تھے اتنا وہ اکیلی کھا جاتی تھی۔ مگر وہ اس اونٹنی کو برے ارادے سے ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے کیونکہ وہ دل سے یقین کرچکے تھے کہ صالح علیہ السلام سچا پیغمبر ہے اور اگر ہم نے اس اونٹنی سے کوئی برا سلوک کیا تو پھر ہماری خیر نہیں لیکن دل سے ہر کافر یہ چاہتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح اس اونٹنی کا وجود ختم ہوجائے تو بہتر ہے۔ آخر باہمی مشورے اور اتفاق رائے سے ان میں سے ایک تنومند اور سب سے زیادہ بدبخت انسان نے اس بات کا ذمہ لیا کہ اس اونٹنی کو میں ٹھکانے لگاتا ہوں چنانچہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبہ کے دوران فرمایا کہ یہ شخص اپنی قوم کا ایک زور آور، شریر مضبوط شخص تھا جو اونٹنی کو زخمی کرنے کی مہم پر اٹھ کھڑا ہوا اس کا نام قدار تھا اور وہ اپنی قوم میں ایسے ہی تھا جیسے تم میں ابو زمعہ (جو سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا چچا تھا)۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ والشمس) یہ قدار بن سالف سرخ رنگ کا، نیلی آنکھوں والا، بڑے ڈیل ڈول کا مالک اور ولدالزنا تھا۔ خود بھی بدکار تھا اور شہر کے مشہور و معروف نو بدمعاشوں کا سرغنہ تھا۔ اس نے اپنی آشنا عورت کی انگیخت ہی پر اونٹنی کو زخمی کرنے کا یہ کارنامہ سر انجام دیا تھا البتہ اس نے دوسرے کافروں اور ان کی عورتوں سے اس کے متعلق مشورہ ضرور کرلیا تھا اور یہ سب لوگ اس بات پر خوش تھے کہ اس اونٹنی سے کسی طرح ہمیں نجات مل جائے۔ چنانچہ جب اس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو اونٹنی نے ایک ہولناک قسم کی چیخ ماری اور دوڑ کر اسی پہاڑ کی طرف چلی گئی جس سے برآمد ہوئی تھی اس کا بچہ بھی اپنی ماں کے ساتھ چلا گیا اور یہ دونوں معجزانہ طور پر اسی پہاڑ میں غائب ہوگئے۔ [ ٨٢] اونٹنی سے نجات پا کر ان لوگوں نے خوشیاں منائیں اور صالح علیہ السلام نے بذریعہ وحی اطلاع پا کر ان لوگوں کو عذاب کی دھمکی دے دی اور فرمایا کہ بس اب تمہارے لیے تین دن کی مہلت ہے۔ تین دن تم مزے اڑا لو پھر اس کے بعد تم پر اللہ کا عذاب آنے ہی والا ہے۔ لیکن قوم نے صالح علیہ السلام کی اس تنبیہ کو کچھ اہمیت نہ دی اور آپ کو جھوٹا سمجھا اور کہا کہ جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو وہ اب لے بھی آؤ اور در پردہ اب سیدنا صالح علیہ السلام کے قتل کی بھی تیاریاں ہونے لگیں۔ منصوبہ یہ تیار ہوا کہ سب لوگ مل کر آپ کے گھر کا محاصرہ کریں اور مشترکہ طور پر یکبارگی حملہ کر کے ان کا کام تمام کردیں۔ بعد میں اگر کوئی پوچھے تو سب قسمیں کھا کر یہ کہہ دیں کہ ہمیں تو اس قصے کا کچھ علم ہی نہیں۔ الاعراف
78 [٨٣] قوم ثمود کے کھنڈرات :۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالح علیہ السلام کو بھی ان کے منصوبہ کی اطلاع دے دی اور ہجرت کا حکم بھی آ گیا۔ تیسرے دن ان لوگوں کو پہاڑوں کی طرف سے ایک سیاہ بادل ان کی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا تو بڑے خوش ہوئے کہ اب بارش ہونے والی ہے مگر یہ بارش برسانے والا بادل نہ تھا بلکہ ان کی جانوں پر مسلط ہوجانے والا اللہ کا عذاب تھا جس میں سیاہ غلیظ گندھک کے بخارات ملا ہوا دھواں تھا۔ ساتھ ہی کسی پہاڑ سے کوئی لاوا پھٹا جس سے شدید زلزلہ آ گیا اور اس سے ہولناک چیخوں کی آواز بھی آتی رہی جس سے دل دہل جاتے اور کان پھٹے جاتے تھے اور غلیظ دھوئیں نے ان کے جسم کے اندر داخل ہو کر ان کے دلوں اور کلیجوں کو ماؤف کردیا اور انہیں سانس تک لینا بھی محال ہوگیا جس سے یہ ساری کی ساری قوم چیخ چیخ کر اور تڑپ تڑپ کر وہیں ڈھیر ہوگئی اور اس شدید زلزلے نے ان کے محلات کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا پہاڑوں میں تراشے ہوئے مکانات سوائے چند ایک سب چکنا چور ہوگئے۔ جب غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے حجر کے مقام پر اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو وہ کنواں بھی دکھلایا جہاں سے اونٹنی پانی پیتی تھی اس درہ کو فج الناقۃ کہتے ہیں۔ پھر کچھ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کے کھنڈرات بطور سیر و تفریح دیکھنے چلے گئے تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے مقامات جہاں پر اللہ کا عذاب نازل ہوچکا ہو مقام عبرت ہوتے ہیں وہاں داخل ہو تو اللہ سے ڈرتے ہوئے اور روتے ہوئے داخل ہو اور وہاں سے جلد نکل جایا کرو مبادا ایسا عذاب تم پر بھی آ جائے جو ان پر آیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب بدالانبیاء باب قول اللہ ( وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا 61 ؀) 11۔ ھود :61) الاعراف
79 [٨٤] ہجرت سے پہلے اپنی قوم کو خطاب :۔ حجر جیسے متمدن شہر کے کھنڈرات دیکھنے ہی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس شہر کی آبادی چار پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہوگی مگر ان میں سے صرف ایک سو بیس آدمی سیدنا صالح علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالح علیہ السلام کو عذاب کی آمد کے وقت سے مطلع کردیا تھا چنانچہ انہوں نے ان پیروکاروں کو لے کر فلسطین کا رخ کیا اور جاتے جاتے اپنی قوم کے لوگوں سے نہایت افسوس سے یہ خطاب کیا کہ میں نے تو تمہیں اللہ کا پیغام بھی پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیر خواہی کی بھی انتہائی کوشش کی تھی لیکن تم ان باتوں کا مذاق ہی اڑاتے رہے اب تم جانو تمہارا کام۔ یہ کہہ کر آپ شہر سے باہر نکلے ہی تھے کہ اس قوم پر عذاب نازل ہوگیا فلسطین پہنچ کر آپ اپنے ساتھیوں سمیت رملہ کے قریب آباد ہوگئے اور کچھ عرصہ بعد اسی مقام پر وفات پائی۔ الاعراف
80 [٨٥] سیدنالوط علیہ السلام کا مرکز تبلیغ :۔ سیدنا لوط علیہ السلام سیدنا ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ کے بھتیجے تھے اور ان پر ایمان لائے تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جب عراق سے شام و فلسطین کی طرف ہجرت کی تو سیدنا لوط علیہ السلام ان کے ساتھ تھے اور بطور معاون تبلیغ رسالت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے پھر آپ کو بھی نبوت عطا ہوئی اب سیدنا ابراہیم علیہ السلام تو مصر کی طرف چلے گئے اور سیدنا لوط علیہ السلام کو شرق اردن کی طرف بھیج دیا جس کا صدر مقام سدوم نامی شہر تھا یہی سیدنا لوط علیہ السلام کا مرکز تبلیغ تھا۔ سدوم کا آج کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔ اغلب گمان یہی ہے کہ یہ شہر بحیرہ مردار میں غرق ہوچکا ہے جسے بحر لوط بھی کہا جاتا ہے۔ قوم لوط میں دوسری اخلاقی برائیوں کے علاوہ سب سے بڑی برائی یہ تھی کہ یہ لوگ عورتوں کی بجائے مردوں ہی سے ان کی دبر میں جنسی شہوت پوری کرتے تھے۔ اس فحاشی کی موجد بھی یہی قوم تھی اور اس فحاشی میں اس قوم نے شہرت دوام حاصل کی۔ حتیٰ کہ ایسی فحاشی کا نام بھی قوم لوط کی نسبت سے لواطت پڑگیا یعنی فحاشی کی وہ قسم جس کے خلاف سیدنا لوط علیہ السلام نے جہاد کیا تھا۔ ممکن ہے کہ شیطان نے ان لوگوں کو اولاد کی تربیت اور اس کی ذمہ داریوں سے فرار کے لیے یہ راہ سجھائی ہو جیسا کہ بہت سے ادوار میں یہی بات قتل اولاد کی بھی محرک بنی رہی ہے۔ عمل قوم لوط اور تہذیب مغرب :۔ سیدنا لوط علیہ السلام کی قوم کے بعد دوسرے بدکردار لوگ بھی اس فحش مرض میں مبتلا رہے ہیں لیکن یہ فخر یونان کو حاصل ہے کہ اس کے فلاسفروں نے اس گھناؤنے جرم کو ایک اخلاقی خوبی کے مرتبہ تک پہنچا دیا اور رہی سہی کسر جدید مغربی تہذیب نے پوری کردی ہے جس نے علی الاعلان ہم جنسی ( Sex۔ Homo) کے حق میں پروپیگنڈا کیا یعنی اگر مرد، مرد سے اور عورت، عورت سے لپٹ کر اپنی جنسی خواہش پوری کرلیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور ملکی قانون کو ہرگز اس میں مزاحم نہ ہونا چاہیے۔ حتیٰ کہ کئی ممالک کی مجالس قانون ساز نے اس فعل کو جائز قرار دے دیا ہے۔ الاعراف
81 [٨٦] عمل قوم لوط غیر فطری اور حیوانی سطح سے بھی گرا ہوا فعل ہے :۔ اس لیے کہ یہ فعل فطرت کی وضع کے خلاف ہے اور مرد اور عورت کے جنسی اعضاء کی ساخت ان کے اس فعل بد کی تردید کا کھلا ہوا ثبوت ہے سوا ازیں انسانوں کے علاوہ دوسرے جانور خواہ وہ درندے ہوں یا پالتو ہوں یا پرندے ہوں کوئی بھی ایسی مذموم حرکت نہیں کرتا کہ نر، نر پر کودنے لگے جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان حیوانات کی سطح سے بھی نیچے اتر آیا ہے۔ اب دیکھیے اگر مرد، مردوں سے اپنی شہوانی اغراض پوری کرلیں تو ایسے معاشرے میں عورتوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر عورتیں بھی عورتوں سے لپٹ کر یا کسی دوسرے جانور مثلاً کتے وغیرہ سے اپنی شہوت پوری کرلیں تو گویا سارا معاشرہ فحاشی کے سمندر میں ڈوب جائے گا۔ پھر انسان کی نسل آگے کیسے چلے گی؟ کیا یہ اپنی قوم کو اپنے ہاتھوں تباہ کرنے ہی کا ذریعہ نہیں؟ یہ تو ایسے واضح نتائج ہیں جو ایسے معاشرے کا تصور کرنے سے ہی سامنے آ جاتے ہیں اور جو اس کے دور رس نتائج ہیں وہ بے شمار ہیں۔ الاعراف
82 [٨٧] قوم کے اس جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا لوط علیہ السلام پر ایمان لانے اور اس بدفعلی سے اجتناب کرنے والے کم ہی لوگ تھے یہ قوم جب اپنی اس بدفعلی کا کوئی عقلی جواز پیش نہ کرسکی تو الزامی جواب پر اتر آئے اور کہنے لگے کہ ہم تو ہوئے گندے لوگ اور لوط اور اس کے پیروکار پاکباز رہنا چاہتے ہیں تو ان کا ہم گندوں میں کیا کام؟ لہٰذا انہیں اپنی بستی سے نکال دینا چاہیے تاکہ یہ روز روز کی تکرار اور جھگڑا ختم ہوجائے۔ الاعراف
83 [٨٨] لوط علیہ السلام کی بیوی کا کردار :۔ چونکہ لوط علیہ السلام کی بیوی ان بدکرداروں سے پوری ساز باز رکھتی تھی۔ گھر میں کوئی مہمان آتا تو فوراً خفیہ طور پر اطلاع کردیتی اور ان لوگوں کو اس مہمان سے بدکرداری کرنے کی ترغیب دیا کرتی تھی لہٰذا وہ بھی قوم کے جرم میں برابر کی شریک تھی اور اسے بھی اسی عذاب سے دو چار ہونا پڑا جو اس قوم پر نازل ہوا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ لوط علیہ السلام کی بیوی بھی انہی کی قوم سے تعلق رکھتی تھی اور لوط علیہ السلام بابل سے ہجرت کر کے یہاں مقیم ہوئے تھے۔ الاعراف
84 [٨٩] قوم لوط کا انجام :۔ اس مقام پر صرف اتنا ہی مذکور ہے کہ اس قوم پر ہم نے بدفعلی اور پھر سرکشی کی پاداش میں بری طرح کی بارش برسائی۔ لیکن قرآن کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کی سب بستیوں کو اٹھا کر بلندی سے زمین پر دے مارا گیا۔ سیدنا جبرئیل علیہ السلام آئے انہوں نے زمین کے اتنے حصہ کو زمین سے علیحدہ کر کے اپنے پروں پر اٹھایا پھر اوپر سے زمین پر پٹخ دیا پھر اوپر سے اللہ تعالیٰ نے پتھروں کی بارش برسائی اس طرح اس بدکار قوم کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔ اب ایسا عذاب کیوں نہیں آتا ؟:۔ یہاں ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ ایسے جرائم تو آج کل بھی ہو رہے ہیں پھر ان پر کیوں ایسا عذاب نہیں آتا تو اس کی وجوہ درج ذیل ہیں۔ ١۔ جب اللہ کا نبی کسی قوم کو اس کی بدفعلی یا جرائم سے منع کرے لیکن قوم باز آنے کی بجائے اکڑ جائے اور اللہ کے رسول اور اس کی آیات کی تکذیب کرے اس کا مذاق اڑانے اور انہیں دکھ پہنچانے لگے تو اس کا جرم اصل جرم سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے حالانکہ بنیادی جرم کی حیثیت بنیادی ہی رہتی ہے بخلاف ان لوگوں کے جو محض اس ایک جرم میں مبتلا ہوتے ہیں لہٰذا یہ اتنے شدید مجرم نہیں ہوتے کہ انہیں فوراً ہلاک کردیا جائے اور ان کے لیے معذرت کی گنجائش کو باقی نہ چھوڑا جائے۔ اللہ کا عذاب صرف اس صورت میں آتا ہے جب معاشرے کی اکثریت اس جرم میں مبتلا ہوجاتی ہے کسی جرم کو جرم نہ سمجھنے یا اسے جائز قرار دینے یا کچھ افراد کے اس میں مبتلا ہونے ہی پر عذاب نہیں آجایا کرتا اور جب کسی معاشرے کی اکثریت اس جرم میں مبتلا ہوجائے تو اسے اس کے منطقی نتائج سے دو چار ہونا ہی پڑتا ہے اور انہی منطقی نتائج کا نام شریعت کی اصطلاح میں اللہ کی سنت جاریہ ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں ہوا کرتی جیسے اس قوم کی نسل میں کمی یا انقطاع بھی عذاب کی قسم ہے۔ آج کل تہذیب مغرب کا علمبردار امریکہ ہے جہاں ہم جنسی کا قانون بھی پاس ہوچکا ہے اور وہاں گورے اور کالے کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرچکا ہے گورے یعنی حکمران قوم امریکہ کی پرانی آبادی یعنی کالے لوگوں سے بڑی نفرت کرتے ہیں اور انہیں مساوی شہری حقوق بھی نہیں دیتے۔ اب گورے لوگوں کی عورتوں میں یہ رجحان چل نکلا ہے کہ وہ کالے لوگوں کو شادی کے لیے پسند کرتی ہیں جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ گورے لوگ لواطت کے عادی ہوچکے ہیں اور کالے اس قسم کی فحاشی سے بچے ہوئے ہیں۔ گوری عورتوں کے اس رجحان نے حکمران قوم کے لیے یہ ایک سنگین مسئلہ کھڑا کردیا ہے اور یہ بھی اللہ کی طرف سے ایک عذاب ہے۔ ٢۔ عذاب کی طبعی توجیہات :۔ اللہ کا عذاب آج بھی مختلف زلزلوں، سیلابوں، طوفان باد و باراں اور خسف کی صورت میں آتا ہی رہتا ہے لیکن ہمارے ظاہر بین سائنس دان اور دانش وران قوم اس عذاب کی ایسی طبعی یا تاریخی توجیہات تلاش کر کے عوام کے سامنے پیش کردیتے ہیں کہ عوام کا ذہن اس حقیقت کی طرف منتقل ہی نہ ہونے پائے۔ جو قرآن ہمیں سمجھانا چاہتا ہے اور اس کے انداز بیان سے صاف طور پر واضح ہو رہا ہے۔ الاعراف
85 [٩٠] شعیب علیہ السلام کا مرکز تبلیغ :۔ مدین کا علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا اور جو تجارتی قافلے یمن سے ساحل سمندر کے ساتھ راستہ اختیار کر کے شام اور فلسطین جاتے نیز جو قافلے مصر سے اسی غرض کے لیے جاتے ہیں ان کے راستہ میں پڑتا ہے بلکہ اس قوم کی بستیاں ان دونوں تجارتی شاہراہوں کے چوراہوں میں واقع تھیں لہٰذا یہ علاقہ پورے کا پورا ایک تجارتی مرکز بن گیا تھا، اور مدین کے لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے مدیان کی اولاد سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی نسبت سے انہیں آل مدیان اور ان کے علاقہ کو مدین یا مدیان کہا جاتا تھا یہ لوگ دین ابراہیم علیہ السلام ہی کے متبع ہونے کا دعویٰ رکھتے تھے۔ مگر مرور زمانہ کی وجہ سے ان میں بھی کئی اعتقادی اور اخلاقی بیماریاں پیدا ہوچکی تھیں۔ اعتقادی خرابیوں میں سب سے بڑی خرابی تو شرک ہے جو اکثر اقوام میں پایا جاتا رہا ہے اور شرک کا اصل سبب اللہ کی حقیقی معرفت سے جہالت ہوتا ہے اور دوسری اخلاقی بیماری یہ تھی کہ اپنے تجارتی کاروبار میں ہر طرح کی ہیرا پھیریاں کرتے تھے۔ جھوٹ بول کر مال بیچنا، کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا اور کسی کو دیتے وقت کم دینا اور لیتے وقت زیادہ لینا غرض تجارت میں ہر طرح کی بددیانتی کرتے تھے چیز دیتے وقت ناپ یا تول میں کیا ہتھکنڈے اختیار کیے جا سکتے ہیں جس سے لینے والے کو معلوم بھی نہ ہو سکے کہ اسے مطلوبہ چیز کم ملی ہے اور اس کے برعکس بھی۔ یہ ایسے معروف طریقے ہیں جن سے ہماری قوم بھی خوب واقف ہے اور ان کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ [٩١] لین دین میں ہیراپھیریاں :۔ یہ وہی سیدنا شعیب علیہ السلام ہیں جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے سسر تھے اور دس سال تک سیدنا موسیٰ علیہ السلام ان کی تربیت میں رہے تھے۔ آپ پہلے نبی ہیں جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وفات کے تقریباً چھ سو سال بعد (یعنی تقریباً ١٥٠٠ ق م میں) اہل مدین کی طرف بھیجے گئے چونکہ یہ لوگ اپنے آپ کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دین کے پیرو سمجھتے تھے لہٰذا سیدنا شعیب علیہ السلام نے انہیں مخاطب بھی اسی بات کا لحاظ رکھتے ہوئے کیا اور فرمایا کہ تمہارے پاس واضح دلیل یعنی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے صحائف یا تعلیمات تو آ چکی ہیں پھر تم کیسے شرک میں مبتلا ہوگئے اور یہ تجارتی لین دین میں دغا بازیاں کیوں کرتے ہو؟ اور اللہ اور اس کے بندوں دونوں کے حقوق تلف کر کے فساد فی الارض کا موجب بن رہے ہو؟ الاعراف
86 [٩٢] ہیرا پھیریوں اور لوٹ مار کی قسمیں :۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تجارتی راستوں پر بیٹھ کر ان قافلوں کو لوٹنے کے درپے نہ ہوجاؤ پھر یہ لوٹنا بھی کئی قسم کا ہوتا ہے۔ ایک تو عام صورت ہے کہ جیسی کوئی رہزن کسی کمزور کا مال چھین لیتا ہے دوسرے تجارتی منڈی میں پہنچنے سے پیشتر اس سے مال کا سودا کرلینا جبکہ اس راہ رو کو منڈی کے بھاؤ کی خبر نہ ہو اس طرح فریب کے ساتھ راہرو سے سستا مال لے لینا بھی لوٹنے کے مترادف ہے اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے اور تیسرا یہ کہ اپنی سیاسی پوزیشن کی بنا پر ان تاجروں کو بلیک میل نہ کیا کرو۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نبی پر ایمان لانا چاہتے ہیں انہیں ڈراؤ دھمکاؤ نہیں یا ان کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کر کے نبی کی بتلائی ہوئی سیدھی راہ میں ٹیڑھ مت پیدا کرو جیسا کہ انبیاء کے مخالفین ہر زمانے میں ایسی حرکتیں کرتے اور چالیں چلتے آئے ہیں چنانچہ مشرکین مکہ نے بھی آپ کی راہ روکنے کے لیے ایسے تمام حربے استعمال کیے تھے۔ الاعراف
87 [٩٢۔ الف] شہر میں داخل ہونے والے راستوں پر ان لوگوں کے بیٹھنے کے دو مقاصد تھے ایک یہ کہ جہاں داؤ لگتا مسافروں اور راہ گیروں کو لوٹ لیتے اور دوسرے جو لوگ شہر میں آنا چاہتے انہیں سیدنا شعیب علیہ السلام کے پاس جانے سے روکتے بھی تھے، بہکاتے بھی تھے اور دھمکاتے بھی تھے اور کہتے کہ یہ شخص دغا باز اور فریبی ہے اس کا کہنا نہ ماننا نہ اس کی چالوں ہی میں آنا اور آپ کی تعلیم اور شریعت میں سینکڑوں قسم کی جاہلانہ نکتہ چینیاں کرتے اور عیب لگاتے تھے اور سیدنا شعیب علیہ السلام پر ایمان لانے والے معدودے چند لوگوں پر طرح طرح کی سختیاں بھی کرتے تھے کہ وہ ان کے دین سے باز آ جائیں۔ سیدنا شعیب علیہ السلام نے ان لوگوں کو بڑے نرم الفاظ میں پہلے اللہ کے ان پر احسانات یاد دلائے پھر فرمایا کہ اگر چند لوگ ایمان لے آئے ہیں تو انہیں پریشان کیوں کرتے ہو۔ ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہے اللہ اس سے خود نمٹ لے گا تھوڑی دیر صبر تو کرو۔ الاعراف
88 [٩٣] سرداران قوم کی دھمکی :۔ جب متکبر سرداروں کے انکار اور ہٹ دھرمی کے باوجود کچھ لوگ سیدنا شعیب علیہ السلام پر ایمان لے آئے اور ایسے مومنوں کی ایک کمزور سی جمعیت سامنے آ گئی تو سرداروں کی آنکھوں میں یہ لوگ کھٹکنے لگے لہٰذا انہیں دھمکی دینے پر اتر آئے گویا جس میدان میں عقلی طور پر مات کھاچکے تھے اب ڈنڈے کے زور سے اس مسئلے کو حل کرنے کے درپے ہوئے اور یہی جہالت کی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے انہوں نے کہا شعیب! بس دو ہی باتیں ہیں جن میں سے ایک تمہیں بہرحال قبول کرنا پڑے گی یا تو اس نئے دین کی تبلیغ سے باز آؤ اور وہی پرانا دین اختیار کرلو یا پھر ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اس آبادی سے نکال دیں گے تمہارے توحید پر قائم رہتے ہوئے یہاں رہنے کی کوئی صورت نہیں۔ الاعراف
89 [٩٤] شعیب علیہ السلام کا جواب :۔ شعیب علیہ السلام نے جواب میں کہا تمہاری یہ دونوں باتیں ہمیں نامنظور ہیں وہ اس لیے کہ اگر ہم دوبارہ تمہارا دین اختیار کرلیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں اور میرے ساتھی آج تک جھوٹ ہی بولتے رہے اور اللہ کے ذمے جھوٹ ہی لگاتے رہے پھر جس کام پر اللہ نے مجھے مامور فرمایا ہے اگر میں ہی یا میرے ساتھی ہی اس کی خلاف ورزی کرنے لگیں تو ہم سے بڑھ کر بے انصاف کون ہوگا ؟ اور ان شاء اللہ ہمارا عزم یہی ہے کہ ہم اپنے دین پر نہایت عزم سے ثابت قدم رہیں گے اور اللہ کی توفیق ہمارے شامل حال رہی تو ہم کبھی تمہارے دین میں جانا پسند نہیں کریں گے رہی دوسری بات کہ تم لوگ ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو گے تو ہمیں یہ بات بھی پسند نہیں ہاں اگر تم ہمیں مجبور کر کے زبردستی یہاں سے نکالنا چاہتے ہو تو کر دیکھو مگر ہوگا وہی جو کچھ اللہ ہمارے پروردگار کو منظور ہوگا۔ ہم اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور ہمارا سارا معاملہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ [٩٥] جب حق و باطل کی محاذ آرائی اس حد تک پہنچ گئی کہ معاندین اور سرکش سردار سیدنا شعیب علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو ملک بدر کرنے پر آمادہ ہوگئے اس وقت سیدنا شعیب علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ! اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ان ظالموں کو مزید پند و نصیحت کے فائدہ کا کچھ امکان باقی نہیں رہ گیا لہٰذا اب ان کے اور ہمارے درمیان تو خود ہی فیصلہ کر دے کہ اب آئندہ کے لیے ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔ الاعراف
90 [٩٦] سچائی اختیار کرنے پر نقصان کا نظریہ :۔ سرداروں کے اس قول کے مخاطب وہ لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو شعیب علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوں گے کہ اگر تم نے شعیب کا ساتھ نہ چھوڑا تو ہم تمہارا ناک میں دم کردیں گے اور جینا تم پر حرام کردیں گے لہٰذا اس کا ساتھ دینے سے باز آ جاؤ۔ اور وہ لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو ان منکرین کے اپنے گروہ سے تعلق رکھتے تھے اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر تم نے کاروبار میں سچ بولنے اور درست ناپ تول رکھنے کا طریقہ اختیار کرلیا جیسا کہ یہ شعیب کہتا ہے تو تمہیں تمہارے کاروبار اور تجارتی لین دین میں کبھی فائدہ نہ ہوگا اور ہمیشہ نقصان ہی اٹھاؤ گے اور بالآخر سارا کاروبار ہی ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔ اور یہ نظریہ صرف اہل مدین کا نظریہ نہیں تھا بلکہ ہر زمانے میں مفسد قسم کے لوگوں کا یہی خیال رہا ہے کہ تجارت، سیاست اور دوسرے دنیوی معاملات جھوٹ اور بے ایمانی کے بغیر چل ہی نہیں سکتے اور آج بھی ہمارے تاجروں اور سیاست دانوں کی اکثریت کا یہی حال ہے حالانکہ یہی باتیں فساد فی الارض کی اصل جڑ ہیں اور انہی سے لوگوں کے حقوق پامال ہوتے ہیں اور بالآخر ایسے دغا باز لوگ پورے معاشرہ کو لے ڈوبتے ہیں۔ الاعراف
91 [٩٧] اہل مدین پر عذاب :۔ اہل مدین پر عذاب کے بارے میں قرآن کریم کی بعض دوسری آیات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر تین طرح کا عذاب آیا تھا ظلۃ۔ صیحۃ اور رجفۃ یعنی ان پر پہلے ایک ایسا بادل چھا گیا جس میں سے آگ کے شعلے اور چنگاریاں نکلنے لگیں پھر اسی سے ایک ہولناک اور جگر خراش کرخت قسم کی آواز پیدا ہوئی اور اسی دوران نیچے سے زلزلہ نے آ لیا اس طرح یہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں موت کی آغوش میں چلے گئے اس حال میں کہ انہوں نے اوندھے پڑ کر اپنے سینوں کو زمین سے چمٹا رکھا تھا تاکہ انہیں اس عذاب سے کم سے کم تکلیف محسوس ہو۔ رہے شعیب علیہ السلام اور ان کے ساتھی تو انہیں اللہ نے پہلے ہی اس بستی سے نکل جانے کا حکم دے دیا تھا۔ الاعراف
92 [٩٨] اس عذاب کے بعد ان کی بستیاں یوں سنسان اور ویران ہوگئیں جیسے وہاں کبھی لوگ آباد ہی نہیں ہوئے تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے شعیب علیہ السلام کو یہ دھمکی دی تھی کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو یہاں سے ملک بدر کردیں گے یا پھر تمہیں ہمارا ہی مذہب اختیار کرنا پڑے گا یہ تھا اللہ کے پیغمبر اور اس کی آیات کو جھٹلانے کا انجام کہ دھمکی دینے والے خود ہی نیست و نابود ہوگئے۔ الاعراف
93 [٩٩] عذاب سے پہلے قوم سے خطاب :۔ یعنی افسوس تو اس پر آتا ہے کہ جو بے چارا بھول چوک یا نادانستگی میں مارا جائے اور جو انجام سمجھانے کے باوجود آگے سے اکڑتا چلا جائے اور اسے اپنی خیر خواہی کی بات سننا بھی گوارا نہ ہو اس پر افسوس آ بھی کیسے سکتا ہے؟ اس نے تو دیدہ دانستہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا تھا۔ الاعراف
94 [١٠٠] اس سورۃ کی آیت نمبر ٥٩ سے لے کر آیت نمبر ٩٣ تک چار رکوعوں میں پانچ مشہور و معروف انبیاء سیدنا نوح علیہ السلام، سیدنا ہود علیہ السلام، سیدنا صالح علیہ السلام ، سیدنا لوط علیہ السلام، اور سیدنا شعیب علیہ السلام کا اور ان کی طرف سے دعوت، منکرین کی مخالفت ان کے سوال و جواب اور بالآخر ان معاندین کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا ہے یہ سورۃ اعراف مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اسی قسم کے یا ان سے ملتے جلتے حالات سے دو چار تھے مشرکین مکہ کی طرف سے مخالفت اور معاندانہ سرگرمیاں، دھمکیاں ظلم، تشدد اور اسلام کی راہ روکنے کے تقریباً وہی طریقے اختیار کیے جا رہے تھے جو ان انبیاء سے پیش آ چکے تھے یہاں انبیاء کے یہ حالات بیان کرنے سے مقصد یہ تھا کہ ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمیعن مخالفین کی ایسی سرگرمیوں پر صبر و ضبط سے کام لیں اور دوسرے یہ سمجھانا مقصود تھا کہ ظالموں کو بالآخر اپنے برے انجام سے دو چار ہونا ہی پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان لوگوں کے مظالم سے نجات دے دیتے ہیں اور کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرتے ہیں۔ دنیوی عذاب سے متعلق اللہ کا ضابطہ :۔ مذکورہ بالا انبیاء کا الگ الگ اور تفصیلی ذکر کرنے کے بعد نبوت کی دعوت اور اس دعوت کے عواقب کا اجمالی ذکر فرمایا بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کا ضابطہ بیان فرمایا کہ جب بھی کوئی نبی کسی بستی میں بھیجا جاتا ہے اور وہ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس دعوت کی مخالفت کی جاتی ہے اور اکثر لوگ اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں تو ہم ان منکرین پر ہلکے ہلکے عذاب بھیج دیتے ہیں۔ مثلاً قحط اور خشک سالی کا عذاب یا کسی وبا اور بیماری کا عذاب یا معمولی قسم کے زلزلے یا سیلاب کا عذاب اور یہ عذاب ان لوگوں کو تنبیہ کے طور پر دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آ جائیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں پھر جب وہ ان تنبیہات کا کوئی اثر قبول نہیں کرتے تو پھر ہم انہیں خوشحالی کی آزمائش میں ڈال دیتے ہیں، ان کی افرادی قوت بھی بڑھ جاتی ہے، مال و دولت میں فراوانی ہوجاتی ہے اور عیش و آرام سے زندگی گزارنے لگتے ہیں تو انہیں پہلے کے چھوٹے چھوٹے عذاب اللہ کی طرف سے کوئی تنبیہ محسوس ہی نہیں ہوتے اور وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اچھے اور برے دنوں کا انبیاء کی دعوت کو قبول یا رد کرنے سے کیا تعلق ہے یہ تو سب اتفاقات زمانہ یا گردش ایام کا نتیجہ ہے اور ایسے اچھے اور برے دنوں سے ہمارے آباو اجداد بھی دو چار ہوتے رہے ہیں جب ان کی یہ کیفیت ہوجاتی ہے کہ انہیں کسی بھی حالت میں اللہ کی گرفت کا خطرہ محسوس نہیں ہوتا اور دنیا میں مست اور مگن ہوجاتے ہیں تو یہی وقت ہمارے عذاب کا ہوتا ہے اور ہمارا عذاب اس طرح یکدم ان پر آن پڑتا ہے کہ کسی کو اس طرح عذاب آ جانے کا پہلے احساس تک نہیں ہونے پاتا۔ قریش مکہ پر قحط کا عذاب :۔ ایسا ہی ایک ہلکا عذاب قریش مکہ پر بھی بطور تنبیہ آیا تھا جس کا ذکر سورۃ دخان میں موجود ہے۔ ہوا یہ تھا کہ جب قریش مکہ کی معاندانہ سرگرمیاں حد سے بڑھ گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں بددعاء فرمائی کہ یا اللہ ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانہ جیسا قحط نازل فرما۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہوئی اور مکہ میں ایسا قحط پڑا جس میں یہ معززین قریش مردار، ہڈیاں اور چمڑا تک کھانے پر مجبور ہوگئے باہر سے بھی کہیں سے غلہ نہیں پہنچ رہا تھا اور ان لوگوں کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ جب آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک اور کمزوری اور نقاہت کی وجہ سے دھواں ہی دھواں نظر آتا۔ قحط سے تنگ آ کر ان لوگوں نے ابو سفیان کو آپ کے پاس بھیجا اور اس نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ تو کہتے ہیں کہ میں رحمت ہوں جبکہ آپ کی قوم خشک سالی سے تباہ ہو رہی ہے ہم آپ کو رحم اور قرابت کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ اس قحط کے دور ہونے کی دعا کیجئے اور اگر یہ مصیبت دور ہوگئی تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے بارش ہوگئی۔ اتفاق سے باہر سے غلہ آنا بھی شروع ہوگیا پھر جب حالات میں تبدیلی آ گئی تو ان متعصب لوگوں کے دل پھر برگشتہ ہونے لگے پھر سرداران قوم نے یہ کہنا شروع کردیا کہ زمانے میں ایسے اتار چڑھاؤ پہلے بھی آتے رہتے ہیں اگر اس مرتبہ قحط پڑگیا تو یہ کون سی نئی بات ہے لہٰذا ایسی چیزوں سے متاثر ہو کر اپنے دین کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ یہ واقعہ بخاری میں بھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے کئی مقامات پر مذکور ہے۔ الاعراف
95 الاعراف
96 [١٠١] اللہ کے فرمانبردار معاشرے پر برکتوں کا نزول :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا اصول بیان فرمایا ہے جس کی ظاہر بین عقل پرستوں کو سمجھ آ ہی نہیں سکتی البتہ تجربہ اور مشاہدہ دونوں اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ جس علاقے میں اللہ کے احکامات کی جس حد تک تعمیل کی جا رہی ہو اس علاقے پر اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول شروع ہوجاتا ہے موجودہ دور میں اس کی مثال کسی حد تک سعودی عرب میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کی مقرر کردہ حدود میں سے کسی ایک حد کے قائم کرنے سے اتنی برکات اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے جتنا چالیس دن کی بارش سے ہوتا ہے (نسائی۔ کتاب قطع السارق باب الترغیب فی اقامۃ الحد) الاعراف
97 الاعراف
98 [١٠٢] ان آیات سے ایک تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کی گرفت یا عذاب دفعۃً آتا ہے، جبکہ لوگ مطلقاً اس سے غافل اور بے خبر ہوتے ہیں خواہ یہ عذاب دن کے وقت آئے جبکہ لوگ اپنے کاروبار، کام کاج یا کھیل تفریح میں مشغول ہوں اور خواہ رات کے وقت آ جائے جبکہ وہ غفلت کی نیند سو رہے ہوں۔ یعنی موت کی طرح اس عذاب کا بھی کوئی وقت مقرر نہیں بلکہ موت کے آثار تو بسا اوقات محسوس ہونے لگتے ہیں مگر ایسی گرفت ہمیشہ ناگہانی طور پر آتی ہے اور دوسری یہ بات کہ جب ان لوگوں میں بھی کفر و عصیان اور سرکشی کی وہی امراض و علامات پائی جائیں جن کی بنا پر پہلی قوموں پر عذاب آیا تھا تو آخر ان پر کیوں نہیں آ سکتا پھر ان لوگوں کے نڈر ہونے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ الاعراف
99 [١٠٣] اوصاف ذمیمہ کی نسبت اللہ کی طرف کیسے؟ یہاں اللہ تعالیٰ کے لیے مکر کا لفظ استعمال ہوا ہے اور ایسے الفاظ مشاکلہ کی صورت میں عربی زبان میں عام مستعمل ہیں۔ مثلاً برائی کا رد عمل جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا اسے بھی برائی کا نام دیا جائے گا۔ جیسے ﴿جَزَاۗءُ سَـیِّئَۃٍۢ بِمِثْلِہَا ﴾ منافقوں اور کافروں کے مکر کا ردعمل یا جو سزا انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگی اسے بھی مکر ہی کا نام دیا جائے گا ایسے مقامات پر سمجھنے کی بات صرف یہ ہے کہ ایسے الفاظ کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے مورد الزام صرف کافر، مشرک اور منافق وغیرہ ہی ہوں گے۔ الاعراف
100 [١٠٤] یعنی اگر وہ چاہتے تو اپنی پیش رو قوم کے انجام سے عبرت حاصل کرسکتے تھے اور یہ بات وہ خوب سمجھ سکتے تھے کہ جن جرائم کی پاداش میں پہلی قومیں ہلاک کی گئی ہیں اگر ہم میں بھی وہ جرائم پائے جائیں تو ہم پر بھی ویسی ہی مصیبت نازل ہو سکتی ہے اور ہمارے دلوں پر بھی ایسی ہی مہر لگ سکتی ہے جب ہمارے کان کوئی ہدایت کی بات سننے پر آمادہ ہی نہ ہوں۔ الاعراف
101 [١٠٥] یعنی سیدنا نوح علیہ السلام سیدنا ہود علیہ السلام، سیدنا صالح علیہ السلام، سیدنا لوط علیہ السلام اور سیدنا شعیب علیہ السلام کے علاقہ ہائے تبلیغ رسالت۔ [١٠٦] دل پر مہر کب اور کیسے لگتی ہے؟ آیت کے اس حصہ میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں ایک یہ کہ دل پر مہر کب اور کیسے لگتی ہے؟ اور دوسرے یہ کہ اس مہر لگنے کی نسبت اللہ کی طرف کس لحاظ سے ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کے دل پر مہر یوں لگتی ہے کہ وہ جس بات کا ایک دفعہ انکار کردیتا ہے یا اسے جھٹلا دیتا ہے پھر اسے کوئی نشانی دیکھنے سے یا کسی کے سمجھانے سے حقیقت سمجھ میں آ بھی جائے تو محض اس لیے اپنے پہلے سے کیے ہوئے انکار پر ڈٹ جاتا ہے کہ اس سے اس کی انامجروح ہوتی ہے۔ جب کوئی انسان اس حالت کو پہنچ جائے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے دل پر اللہ کی مہر لگنے کا وقت آ گیا ہے اور آئندہ وہ حق بات تسلیم کرنے کے قابل ہی نہ رہے گا۔ مہر لگنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں؟ اور مہر لگانے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لیے ہے کہ اسباب کو اختیار کرنا انسان کے اپنے بس میں ہے اور اسی وجہ سے اسے سبب اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے اعمال کی جزا و سزا کا دار و مدار بھی اسباب کو اختیار کرنے کی بنا پر ہے۔ لیکن ان اسباب کے مسببات یا نتائج حاصل کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے یہ نتائج اکثر اوقات تو اختیار کردہ اسباب کے مطابق ہی برآمد ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھار ان کے خلاف بھی برآمد ہو سکتے ہیں لہٰذا نتائج کی نسبت اسباب اختیار کرنے والے کی طرف بھی ہو سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بھی۔ اور قرآن میں یہ نسبت دونوں طرح سے استعمال ہوئی ہے۔ بہرحال یہ نسبت اگر اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ہو تو بھی یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ کسی سبب اختیار کرنے والے مجرم کے عمل کے نتیجے میں ہے۔ اور حقیقتاً مجرم وہ ہے جس نے ایسے اسباب اختیار کیے تھے۔ الاعراف
102 [١٠٧] عہد کو پورا نہ کرنا فسق ہے :۔ عہد سے مراد وہ فطری عہد بھی ہوسکتا ہے جو انسان کی سرشت میں موجود ہے اور یہ عہد﴿اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ﴾ کے نام سے مشہور ہے جس کی رو سے ہر انسان نے عہد کیا تھا کہ وہ اپنے پروردگار کے سوا کسی دوسرے کو معبود نہیں بنائے گا اور وہ عہد بھی جو انسان دوسرے انسانوں سے کرتا ہے خواہ یہ لین دین کے معاملات سے تعلق رکھتا ہو یا نکاح و طلاق کے معاملات سے، اور وہ عہد بھی جو کوئی انسان ذاتی طور پر اپنے پروردگار سے کرتا ہے یعنی عہد خواہ کسی طرح کا ہو اسے توڑنے والا فاسق ہوتا ہے۔ الاعراف
103 [١٠٨] یعنی مذکورہ پانچ معروف پیغمبروں کے حالات بیان کرنے کے بعد پھر وہی سلسلہ شروع ہو رہا ہے اور اس کا آغاز سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے تفصیلی حالات سے ہو رہا ہے۔ درمیان میں انبیاء علیہم السلام کی دعوت اور منکرین دعوت کے انجام کے درمیانی مراحل اور ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ کا ذکر کیا گیا جو ان سب انبیاء علیہم السلام کے حالات میں قدر مشترک کے طور پر پائی جاتی ہے۔ [١٠٩] اللہ کی آیات سے فرعون کی ناانصافی :۔ ناانصافی کی بات یہ تھی کہ انہوں نے ان معجزات کو جادو کے کرشمے کہہ دیا۔ اور یہ ناانصافی ویسی ہی تھی جیسے قریش مکہ نے قرآن سن کر یہ کہہ دیا تھا کہ یہ تو کسی دوسرے آدمی کی تصنیف ہے اور اس جیسا کلام ہم بھی پیش کرسکتے ہیں پھر جب انہیں قرآن نے اس بات کا باقاعدہ طور پر چیلنج کردیا تو اپنی سر توڑ کوششوں کے باوجود ان کے فصیح و بلیغ ادیبوں سے کچھ بھی بن سر نہ آیا بالکل اسی طرح فرعون اور اس کے درباریوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو جادو کے کرشمے سمجھ کر اپنے ملک کے بلند پایہ جادوگروں کو آپ سے مقابلے کے لیے لاکھڑا کیا۔ پھر جب ان جادوگروں نے عصائے موسیٰ کی کیفیت دیکھی تو برملا اعتراف کرلیا کہ یہ جادو سے بالاتر کوئی چیز ہے اگر یہ جادو ہوتا تو ناممکن تھا کہ وہ ہماری دسترس سے باہر ہوتا۔ الاعراف
104 [١١٠] لقب فرعون کی حقیقت اور فرعون کی سلطنت کی وسعت :۔ اس دور میں مصر کے ہر بادشاہ کا لقب فرعون ہوا کرتا تھا اور ان کا اصلی نام الگ ہوا کرتا تھا۔ فرعون کے لقب کے پیچھے یہ تصور کار فرما تھا کہ سب سے بڑے دیوتا سورج کی روح بادشاہ کے جسم میں حلول کر جاتی ہے اس لحاظ سے وہ بادشاہ اس زمین میں اسی سبب سے بڑے دیوتا یا مہا دیو کا جسمانی مظہر ہوتا ہے اسی بنا پر تمام فراعنہ زمین پر اپنی خدائی کا دعویٰ بھی رکھتے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کو اپنی زندگی میں دو فرعونوں سے پالا پڑا تھا ایک وہ فرعون جس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی پرورش کی تھی اور اس کا نام رعمسیس تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام مصر سے بھاگ کر دس سال کا عرصہ سیدنا شعیب علیہ السلام کے زیر تربیت رہے اس دوران یہ فرعون مر چکا تھا اور اس کا بیٹا تخت نشین ہوچکا تھا۔ ان کے زمانہ کا صحیح صحیح تعین بہت مشکل ہے کیونکہ تاریخوں میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے تاہم یہ زمانہ سوا ہزار قبل مسیح سے لے کر ڈیڑھ ہزار قبل مسیح کے درمیان ہی ہوسکتا ہے جس فرعون کے سامنے سیدنا موسیٰ علیہ السلام اپنے معجزات لے کر گئے تھے یہ وہی رعمسیس کا بیٹا تھا جس کی سلطنت بڑی وسیع تھی جو شام سے لے کر لیبیا تک اور بحر روم کے سواحل سے حبش تک پھیلی ہوئی تھی یہ فرعون اس وسیع علاقے کا صرف بادشاہ ہی نہ تھا بلکہ معبود بھی بنا ہوا تھا۔ الاعراف
105 [١١١] سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے فرعون سے مطالبات :۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے پاس پہنچ کر اسے دو باتیں ارشاد فرمائیں ایک یہ کہ میں اللہ رب العالمین کا فرستادہ ہوں اور میرے اس بیان کی صداقت کے طور پر مجھے دو معجزے بھی عطا کیے گئے ہیں لہٰذا تم اپنی خدائی سے دستبردار ہو کر ایمان لے آؤ (جیسا کہ بعض دوسری آیات قرآنی میں اس کی وضاحت موجود ہے) اور دوسری یہ کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر کے میرے ہمراہ روانہ کر دو تاکہ میں انہیں یہاں سے فلسطین کی طرف لے جاؤں۔ ان دو آیات میں کئی امور قابل غور اور وضاحت طلب ہیں مثلاً : ١۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ کیسے جرأت ہوئی کہ ایک اتنی عظیم الشان سلطنت کے مالک جابر اور متکبر بادشاہ کے سامنے نڈر ہو کر اسے ایمان لانے کی بھی دعوت دے دی اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ بھی کردیا بالخصوص ان حالات میں کہ وہ ان مصریوں کا ایک آدمی قتل کر کے یہاں سے بھاگے تھے اور انہیں اس بات کا خطرہ بھی تھا کہ کہیں فرعونی مجھے اسی سابقہ جرم میں گرفتار کر کے قتل نہ کردیں۔ فرعون کے سامنے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بے مثال جرات کی وجوہ :۔ اس کا صحیح جواب تو یہی ہے کہ انبیاء و رسل کو جو ذمہ داری سونپی جاتی ہے انہیں اپنی جان پر کھیل کر بھی ذمہ داری ادا کرنا ہی پڑتی ہے چنانچہ کئی انبیاء علیہم السلام اسی ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے شہید بھی کردیئے گئے تاہم رسولوں کی حد تک ان کی جان بچانے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ خود اپنے ذمے لے لیتے ہیں اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کے پاس آنے سے پیشتر اپنی جان کا خطرہ محسوس کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ یقین دہانی کرا دی تھی کہ وہ تجھے قتل نہ کرسکیں گے پھر آپ کو چند باتوں کی تائید مزید بھی حاصل تھی ایک یہ کہ آپ فرعون کے دربار کے ماحول سے پوری طرح واقف تھے اور اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ یہیں گزار کر گئے تھے اس لیے آپ پر دربار اور درباریوں کی وہ مرعوبیت طاری نہ ہو سکتی تھی جو ایک اجنبی کے لیے ہو سکتی تھی دوسرے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا کر کے اس کام میں میرا مددگار بنا دے آپ کی یہ دعا بھی قبول ہوئی اور جب آپ فرعون کے پاس گئے تو سیدنا ہارون علیہ السلام بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ کو اصل خطرہ اس بات کے نتیجے سے قطعاً نہ تھا کہ آپ اللہ کا پیغام من و عن انہیں پہنچا دیں بلکہ اس بات سے تھا کہ میں ان کا ایک مفرور مجرم بھی ہوں تو اس جرم کی پاداش میں وہ مجھے پکڑ کر مار ہی نہ ڈالیں تو اس بات کی یقین دہانی اللہ تعالیٰ نے کرا دی کہ وہ ایسا ہرگز نہ کرسکیں گے۔ ٢۔ موسیٰ علیہ السلام نے جو یہ فرمایا کہ ’’میں اللہ رب العالمین کا فرستادہ ہوں‘‘ تو وہ اس لحاظ سے تھا کہ فرعون اور فرعونی سب یہ بات تسلیم کرتے تھے کہ اس کائنات اور اس میں موجود تمام چیزوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان کے تمام دیوی دیوتاؤں سے برتر ہے اور فرعون کا خدائی کا دعویٰ اس لحاظ سے تھا کہ وہ تمام لوگوں کا کار ساز اور حاجت روا اور مشکل کشا ہے موسیٰ علیہ السلام نے انہیں یہ بتلایا کہ جس اللہ کا میں رسول ہوں وہ تمہارے عقیدے کے مطابق بھی تمہاری خدائی سے بہت بلند و بالا ہے۔ ٣ سیدنا یوسف علیہ اسلام نے اپنے والدین اور اپنے بھائیوں کو چار سو سال پیشتر کنعان سے مصر میں بلا لیا تھا یہیں ان کی نسل بڑھتی اور پھلتی پھولتی رہی اس وقت اس کی حیثیت ایک حکمران قوم کی تھی۔ کچھ مدت بعد ان میں وہ تمام امراض پیدا ہوگئے جو کسی قوم کی موت کا سبب بن جاتے ہیں اور جب موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو یہ بنی اسرائیل جو لاکھوں کی تعداد تک پہنچ چکے تھے فرعونیوں کے ماتحت محکوم قوم کی حیثیت سے نہایت ذلت کی زندگی بسر کر رہے تھے جس کا ذکر قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم کی اس مظلومانہ اور ذلت کی زندگی کا بچپن ہی سے شدید احساس ہوگیا تھا اور اسی بنا پر انہوں نے ایک اسرائیلی کی حمایت میں ایک فرعونی کو نادانستہ طور پر مار ڈالا تھا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی رسالت کا دوسرا بڑا مقصد بنی اسرائیل کی آزادی قرار دیا۔ الاعراف
106 الاعراف
107 الاعراف
108 [١١٢] عصائے موسیٰ اور ید بیضاء :۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے مطالبہ پر اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ تھوڑی دیر میں بہت بڑا اژدہا بن گیا اور اپنا منہ کھول کر فرعون ہی کی طرف لپکا۔ فرعون نے سخت دہشت زدگی کی حالت میں موسیٰ علیہ السلام سے التجا کی کہ اس سانپ کو سنبھال لے۔ آپ علیہ السلام نے اسے ہاتھ لگایا تو وہ پھر عصا بن گیا پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبایا اور اسے نکالا تو وہ سفید اور چمکدار تھا۔ حالانکہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا اپنا رنگ گندمی تھا یہ ہاتھ اتنا تابدار ہو کر بغل سے نکلتا تھا جس سے آنکھیں چندھیانے لگتی تھیں۔ یہاں بعض عقل پرست فرقوں کی طرف سے ایک اور بحث بھی چل نکلی ہے کہ آیا اس طبعی دنیا میں ایسے خرق عادت واقعات کا ظہور ممکن بھی ہے یا نہیں؟۔ دوسرے الفاظ میں اس بحث کا عنوان یہ ہے کہ اس کائنات میں انتظام کے لیے اللہ نے جو طبعی قوانین بنائے ہیں کیا وہ خود ان قوانین میں کسی وقت اپنی مرضی کے مطابق تصرف یا رد و بدل بھی کرسکتا ہے یا نہیں؟ عقل پرست ایسے خرق عادت واقعات کا انکار کردیتے ہیں اور قرآن میں جہاں کہیں ایسے واقعات مذکور ہیں ان کی دوراز کار تاویلات کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ایسی دوراز کار کہ قرآن کی عبارت جن کی متحمل ہی نہیں ہوسکتی ان حواشی میں اس طویل بحث کی گنجائش نہیں (تفصیل کے لیے دیکھیے میری تصنیف ''عقل پرستی اور انکار معجزات'' نیز آئینہ پرویزیت حصہ اول و دوم) الاعراف
109 الاعراف
110 [١١٣] اور بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر قرار دینے کی بات فرعون نے پہلے خود کی تھی بعد میں اس کے درباریوں نے ہاں میں ہاں ملا دی۔ الاعراف
111 الاعراف
112 [١١٤] فرعون اور درباریوں کی مرعوبیت :۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی باتیں سن کر فرعون اور فرعونیوں کو واقعی یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ یہ شخص اس ملک میں انقلاب لا سکتا ہے اور اس کی وجوہ کئی تھیں ایک یہ کہ موسیٰ علیہ السلام نے انہی میں رہ کر تربیت پائی تھی فنون جنگ سیکھے تھے بلکہ ایک دفعہ حبش پر چڑھائی کے دوران انہیں سپہ سالار بنا کر بھی بھیجا گیا اور وہ کامیاب و کامران واپس آئے تھے۔ وہ جرأت مند، دلیر اور مضبوط قد و قامت کے مالک تھے اور ان کی صداقت کے سب لوگ معترف تھے۔ دوسرے یہ کہ موسیٰ علیہ السلام نے یہ وضاحت کردی تھی کہ میں اس اللہ تعالیٰ کا فرستادہ ہوں جسے تم بھی رب اکبر تسلیم کرتے ہو۔ نیز یہ کہ میں بعینہٖ وہی بات کر رہا ہوں جو میرے پروردگار نے مجھے کہی ہے۔ تیسرے یہ کہ آپ کے معجزات نے فرعون اور فرعونیوں سب کو مرعوب اور دہشت زدہ بنا دیا تھا۔ اور ان لوگوں نے جو موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ دیا تو یہ محض ایک طفل تسلی، دل کے بہلاوے، وقت کو ٹالنے اور عوام الناس کو اندھیرے میں رکھنے کی غرض سے کہی گئی کہ شاید کچھ مدت گزرنے پر حالات کوئی دوسرا رخ اختیار کر جائیں۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ کوئی جادوگر نہ کبھی کوئی سیاسی انقلاب لایا ہے نہ لا سکتا ہے۔ الاعراف
113 الاعراف
114 [١١٥] جادوگروں سے مقابلہ :۔ مقابلے کے لیے عید کا دن طے ہوا جس میں عوام الناس کو بھی شمولیت کی عام دعوت دی گئی تھی اس بھرے مجمع میں فرعون اپنے سب درباریوں سمیت حاضر ہوا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا ہارون علیہ السلام بھی بروقت پہنچ گئے اور جادوگروں کو چونکہ شاہی دربار سے بلاوا آیا تھا لہٰذا انہوں نے آتے ہی یہ سوال کردیا کہ انہیں ان کے ایسے بڑے مقابلہ کرنے کے عوض کچھ مزدوری بھی ملے گی؟ اسی ایک بات سے ایک جادوگر اور ایک نبی کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔ جادوگر جو کچھ کرتا ہے اپنے پیٹ کی خاطر کرتا ہے اور یہی اس کا پیشہ ہوتا ہے جبکہ انبیاء علیہم السلام ہمیشہ اپنی قوم سے یہی کہتے رہے کہ ’’ہم تم سے کچھ نہیں مانگتے ہمارا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ خیر جادوگروں کے اس سوال پر فرعون نے جادوگروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ صرف مزدوری کی کیا بات کرتے ہو تمہیں میرے ہاں مناصب بھی ملیں گے اور فرعون نے ایسا جواب اس لیے دیا کہ یہ اس کی عزت اور بے عزتی کا مسئلہ بن گیا تھا۔ الاعراف
115 [١١٦] جادوگروں کو چونکہ یہی بتلایا گیا تھا کہ ان کا ایک بڑے جادوگر سے مقابلہ ہے لہٰذا سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی عزت و تکریم کی خاطر یہ بات موسیٰ علیہ السلام سے پوچھی جیسا کہ ایسے مقابلے کے وقت یہی دستور رائج تھا۔ الاعراف
116 [١١٧] اور موسیٰ علیہ السلام نے جو جواب دیا وہ ازراہ تکریم نہیں تھا نہ ہی اس لئے کہ ان کی نگاہ میں جادوگر کوئی قابل تعظیم چیز تھے بلکہ اس لیے کہ حق کی وضاحت ہو ہی اس صورت میں سکتی ہے کہ پہلے باطل اپنا پورا زور دکھا لے پھر اس کے بعد اگر حق غالب آئے تو سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ مثلاً اگر موسیٰ علیہ السلام پہلے اپنا عصا ڈال دیتے تو ممکن تھا کہ مقابلے کی نوبت ہی نہ آتی اور جادوگر پہلے ہی ہتھیار ڈال دیتے تو لوگوں میں کئی طرح کے شکوک پیدا ہو سکتے تھے یا دوبارہ مقابلے کے لیے جادوگر وقت طلب کرسکتے تھے۔ [١١٨] جادوگروں کا بہت بڑا جادو :۔ جادوگروں نے جب میدان میں اپنی لاتعداد لاٹھیاں اور رسیاں لا پھینکیں اور جادو کے ذریعے لوگوں کی نظر بندی کردی تو لوگوں کو سارا میدان متحرک سانپوں سے بھرا ہوا نظر آنے لگا لوگ دہشت زدہ ہوگئے کیونکہ اس شاہی دنگل کے لیے جادوگروں نے اتنی تیاریاں کی تھیں کہ اتنے بڑے جادو کی سابقہ ادوار میں نظیر ملنا مشکل تھی۔ الاعراف
117 [١١٩] مقابلے میں فرعون کی شکست :۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا تو وہ اژدہا بن کر ان رسیوں اور لاٹھیوں کے مصنوعی سانپوں کو نگلنے لگا اور چونکہ یہ مصنوعی سانپ حقیقتاً سانپ نہیں تھے بلکہ حقیقتاً وہ رسیاں اور لاٹھیاں ہی تھیں محض لوگوں کی نظر بندی ہوئی تھی۔ اس لیے جو کچھ موسیٰ علیہ السلام کے اژدہا نے نگلا وہ فی الحقیقت رسیاں اور لاٹھیاں ہی تھیں۔ آیت کے ظاہری الفاظ سے یہی مطلب واضح ہوتا ہے اور اکثر مفسرین اسی طرف گئے ہیں اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہاں جہاں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا اژدہا پہنچتا تھا تو مصنوعی سانپ لوگوں کو پھر سے رسیاں اور لاٹھیاں ہی نظر آنے لگتے تھے اور وہ اژدہا صرف ان کی شعبدہ کاری کا خاتمہ کر رہا تھا جو جادوگر نظر بندی کے ذریعے لوگوں کو دکھلا رہے تھے۔ الاعراف
118 الاعراف
119 الاعراف
120 [١٢٠] جادوگروں کا سجدے میں گرنا اور ایمان کا اعلان :۔ یعنی اس مقابلے میں جب فرعون اور اس کے درباری مغلوب اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام و ہارون علیہ السلام غالب آئے تو ان دونوں نبیوں نے سجدہ شکر ادا کیا انہیں دیکھ کر جادوگروں پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ بھی بے اختیار ان کے ساتھ سجدہ میں گر گئے بعد میں اسی بھرے مجمع میں اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم اس اللہ رب العالمین پر ایمان لاتے ہیں جو موسیٰ علیہ السلام و ہارون علیہ السلام کا پروردگار ہے اور یہ وضاحت اس لیے کی کہ فرعون بھی اپنے رب ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ رہی یہ بات کہ ان جادوگروں کے دلوں پر کیا گزری اور کیسے ایسی کیفیت طاری ہوگئی کہ وہ مجبوراً اپنے پروردگار کے سامنے سر بسجود ہوگئے اس کیفیت کی وضاحت کے لیے ہم یہاں معجزہ اور جادو کا فرق مختصراً بیان کرتے ہیں۔ معجزے اور جادو میں فرق :۔ ١۔ جادو میں اشیاء کی حقیقت نہیں بدلتی بلکہ لوگوں کی نظروں کو فریب دیا جاتا ہے جبکہ معجزے میں اس چیز کی حقیقت ہی بدل جاتی ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا عصا معجزے سے زندہ سانپ بن جاتا تھا تبھی تو وہ ان جعلی سانپوں کو نگلنے لگتا تھا جبکہ جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپ ایک دوسرے کو نگل نہیں سکتے تھے اسی بنا پر جادوگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے تھے کیونکہ ایک ماہر فن ہونے کی حیثیت سے وہ یہ بات خوب جانتے تھے کہ جو چیز سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے پیش کی ہے وہ جادو کی انتہائی پرواز سے بھی ماوراء ہے۔ ٢۔ جادو شدہ چیز کا اہلاک ممکن ہے جیسے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے عصا نے اژدہا بن کرجادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں یا لاٹھیوں کو نگل کر ان کا وجود ہی ختم کردیا تھا مگر معجزے میں ایسا اہلاک ممکن نہیں۔ وہ چیز یا تو اپنی سابقہ حالت پر لوٹ آتی ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کا عصا پھینکنے پر اژدہا بن جانا پھر جب اسے پکڑتے تو وہ عصا بن جاتا تھا یا آپ علیہ السلام کا ہاتھ دوبارہ بغل میں ڈالنے پر اپنی سابقہ عام حالت پر آ جاتا تھا۔ صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی رگ کاٹی گئی تو وہ اسی پہاڑی میں چلی گئی جہاں سے نکلی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹا تو پھر جڑ کر پورا ہوگیا یا پھر اس حالت میں طویل مدت تک برقرار رہتی ہے جیسے چاہ زمزم یا عصا مارنے سے بارہ چشموں کا پھوٹنا۔ ٣۔ اگر کوئی قوم اپنے نبی سے کوئی خاص معجزہ طلب کرے اور وہی معجزہ اس نبی کو عطا کردیا جائے پھر بھی وہ قوم اپنی ضد پر اڑی رہے تو اس قوم پر عذاب کا نازل ہونا یقینی ہوتا ہے۔ جیسے صالح علیہ السلام کی قوم ثمود پر عذاب آیا تھا یا دسترخوان کا مطالبہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا تھا لیکن جادو کا انکار کرنے سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگڑتا خواہ مطالبے پر ہی کوئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہو۔ ٤۔ معجزہ براہ راست اللہ کا فعل ہوتا ہے جس کا صدور نبی سے ہوتا ہے اور یہ کسی طبعی قانون یا اصل پر مبنی نہیں ہوتا جسے سیکھا اور سکھلایا جا سکے جبکہ جادو ایک فن ہے اور یہ سیکھا اور سکھلایا جا سکتا ہے اور اس کا ماحصل شعبدہ بازی ہوتا ہے جس سے لوگوں کو فریب دیا جا سکے اور اسے پیشہ بنا کر پیٹ کا دھندا کیا جاتا ہے۔ ٥۔ جادوگر کی تمام زندگی خوف، دہشت، ایذا رسانی اور بدعملی سے وابستہ ہوتی ہے لہٰذا لوگ اس کے شر سے بچنے کے لیے اس سے خوف کھاتے اور مرعوب ہوتے ہیں جبکہ نبی کی تمام زندگی صداقت، خلوص، مخلوق خدا کی ہمدردی،خیر خواہی، بھلائی اور تقویٰ و طہارت سے عبارت ہوتی ہے نبی کبھی اس معجزے کو پیشہ نہیں بناتا بلکہ کسی اہم موقع پر صداقت و حق کی حمایت میں اس کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ لوگوں میں معزز اور محبوب ہوتا ہے۔ الاعراف
121 الاعراف
122 الاعراف
123 الاعراف
124 [١٢١] فرعون کی دوسری چالاکی، جادوگروں پر عتاب :۔ فرعون نے اپنے بچاؤ کے لیے پہلی تدبیر تو یہ کی تھی کہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی کو عوام میں محض ایک جادوگر کی حیثیت سے متعارف کرایا جائے اور اسی لیے اس نے باہمی مشورے سے یہ شاہی دنگل رچایا تھا پھر جب اس مقابلے میں مات کھا گیا تو اپنی خفت اور ندامت کو مٹانے کے لیے دوسری تدبیر یہ اختیار کی کہ ان ایمان لانے والے جادوگروں پر یہ الزام لگا دیا کہ تم پہلے ہی اس سازش میں شریک تھے موسیٰ ( علیہ السلام) تمہارا استاد ہے اور تم سب اس کے چیلے چانٹے ہو اور تم سب مل کر یہ چاہتے ہو کہ یہاں کے اصل باشندوں کو نکال کر اس ملک پر قبضہ کرلو اس معرکے میں جس انداز سے تم نے فوراً اپنی شکست تسلیم کرلی ہے اس سے یہی کچھ معلوم ہوتا ہے لہٰذا میں تمہیں اس جرم کی قرار واقعی سزا دوں گا اور اس اعلان سے اس کے دو مقصد وابستہ تھے ایک یہ کہ عوام الناس کہیں فی الواقع اللہ کا رسول نہ سمجھنے لگیں، وہ اسے محض ایک جادوگر ہی سمجھیں اور دوسرے یہ کہ اگر کوئی ان پر ایمان لایا تو اس کا بھی وہی حشر ہوگا جس کا ان جادوگروں کے متعلق اعلان کیا گیا ہے۔ الاعراف
125 الاعراف
126 [١٢٢] جادوگروں کی ایمانی جرأ ت :۔ فرعون کی یہ تیسری تدبیر بھی بری طرح ناکام ہوگئی وہ چاہتا یہ تھا کہ جادوگروں کو جسمانی عذاب اور قتل کی دھمکی دے کر اس سازش کے الزام کا اعتراف کروا لے لیکن جادوگروں نے اپنے آپ کو ہر سزا کے لیے پیش کر کے یہ ثابت کردیا کہ ان کا یہ ایمان لانا کسی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ اعتراف حق کا نتیجہ ہے یاد رہے کہ یہ وہی جادوگر ہیں جو مقابلے سے پہلے فرعون سے یہ پوچھ رہے تھے کہ اگر ہم نے اپنے مذہب کو موسیٰ علیہ السلام کے حملے سے بچا لیا تو ہمیں کچھ انعام و اکرام بھی ملے گا ؟ اور اب ایمان لانے کے بعد ان کی کیفیت یہ ہوگئی کہ وہ فرعون کی ہر سزا کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں دوسری طرف وہی فرعون جو انہیں انعام و اکرام کے علاوہ کرسیاں (اعلیٰ مناصب) بھی دینے کا وعدہ کر رہا تھا اس مقابلے کے فوراً بعد ان کا جانی دشمن بن گیا۔ [١٢٣] یعنی جس پروردگار کی نشانیوں پر ایمان لانے سے ہم تیری نگاہ میں مجرم ٹھہرے ہیں ہم اسی سے التجا کرتے ہیں کہ وہ تیری سختی اور ظلم و ستم پر ہمیں صبر کی توفیق بخشے اور راہ مستقیم پر قائم رکھے ایسا نہ ہو کہ ہم گھبرا کر کوئی بات اس کی تسلیم و رضا کے خلاف کر گزریں۔ الاعراف
127 [١٢٤] لوگوں کا ایمان لانا اور فرعونیوں کو بغاوت کا خطرہ :۔ فرعون کی اس تدبیر کا بھی الٹا ہی اثر پڑا اور بہت سے اسرائیلی سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے حتیٰ کہ چند قبطی (فرعونی) بھی آپ پر ایمان لے آئے تو فرعونیوں کے لیے ایک تشویشناک صورت حال پیدا ہوگئی۔ وہ فرعون سے کہنے لگے اس صورت حال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہیں یہ سب مل کر ملک میں بغاوت نہ کھڑی کردیں۔ اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ نہ دیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کے اور بھی کئی دیوتا تھے جن کی پرستش کی جاتی تھی۔ ایک تو فرعون نے ہر جگہ عبادت کے لیے اپنے مجسمے تیار کرا کے نصب کرا رکھے تھے۔ دوسرے قرآن سے اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم گؤ سالہ پرستی میں مبتلا تھی یعنی بیل کی پوجا کرنا ان کا مذہبی شعار بن چکا تھا اور وہ سورج کے علاوہ اور بھی کئی ستاروں کی روحوں کے فرضی مجسموں کو پوجتی تھی۔ [١٢٥] بنی اسرائیل کو نبیوں کے قتل کی دوسری بار سزا :۔ بنی اسرائیل پر بیٹوں کے قتل کا عذاب دو بار مسلط کیا گیا۔ پہلی دفعہ تو فرعون رعمسیس نے ایسا آرڈر نافذ کیا تھا جب اسے نجومیوں نے بتلایا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیری سلطنت کا تختہ الٹ دے گا چنانچہ فرعون نے بنی اسرائیل کے ہاں سب پیدا ہونے والے بیٹوں کے قتل کی مہم کا آغاز کیا مگر جو کچھ اللہ کو منظور تھا وہ ہو کے رہا۔ جس بچے کو اس سلطنت کا تختہ الٹنا تھا اللہ تعالیٰ نے ایسا بندوبست کردیا کہ اس کی تربیت اور پرورش اسی فرعون کے گھر میں ہوتی رہی اور دوسری بار اسی فرعون کے بیٹے منفتاح نے اپنے باپ کے نقش قدم پر چل کر اسی بیٹوں کے قتل والی مہم کو شروع کردیا جس کا مقصد یہ تھا کہ کچھ مدت بعد بنی اسرائیل کی نسل ہی کو ختم کردیا جائے وہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو لونڈیاں بناکر ان سے طرح طرح کی بیگار لیا کرتے تھے اس طرح بزعم خود ان لوگوں نے اپنی سلطنت کو اور اپنے آپ کو آنے والے خطرے سے بچانے کی تدابیر مکمل کرلیں۔ الاعراف
128 الاعراف
129 [١٢٦] بنی اسرائیل پر مصائب، صبر کی تلقین اور وعدہ فتح ونصرت :۔ جب بنی اسرائیل کو دوبارہ ایسی سخت آزمائش میں ڈال دیا گیا وہ سخت پریشان ہوگئے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کے طور پر کہنے لگے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم پر یہی ظلم و ستم ہوتا رہا اور اب تم پر ایمان لانے کی بعد بھی ہم دوبارہ وہی ظلم و ستم سہہ رہے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کا ظلم توڑ کے رکھ دیتا ہے بس تم اللہ سے مدد مانگتے رہو عنقریب وہ تمہارے اس دشمن کو ہلاک کر کے تمہیں اس سرزمین میں حکومت عطا کرے گا پھر تمہاری ایک دوسرے انداز سے آزمائش ہوگی آج تمہاری آزمائش سختیوں اور مظالم سے ہو رہی ہے کہ تم صبر سے برداشت کرتے ہو یا نہیں پھر تمہیں حکومت عطا کر کے دیکھے گا کہ تم حاکم بن کر کیسے کام کرتے ہو۔ واضح رہے کہ جس دور میں یہ سورۃ نازل ہوئی اس دور میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ایسے ہی مصائب و شدائد کے دور سے گزر رہے تھے اور بمصداق گفتہ آید در حدیث دیگراں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی صبر کی تلقین کی جا رہی ہے اور ان سے حکومت ملنے کا وعدہ فرمایا جا رہا ہے۔ الاعراف
130 الاعراف
131 [١٢٧] یہ ویسی ہی تنبیہات ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ چھوٹے موٹے عذاب بھیج کر لوگوں کی آزمائش کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں یا نہیں ان تنبیہات کا نتیجہ بھی ان کے حق میں صفر ہی رہا جب بھلے دن آتے تو کہتے کہ یہ ہماری عقل مندی اور حسن تدبیر کا نتیجہ ہے اور ہم فی الواقع اس بھلائی کے مستحق تھے اور جب برے دن آتے تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کو مطعون کرنے لگتے کہ ان لوگوں کی نحوست سے ہمیں یہ برے دن دیکھنے نصیب ہوئے ان کے اپنے گناہوں کی طرف ان کی نظر جاتی ہی نہ تھی۔ حالانکہ یہ بات تو اللہ کے علم میں ہے کہ ان کی نحوست کے اصل اسباب کیا تھے؟ الاعراف
132 [١٢٨] مصر میں قحط کا عذاب :۔ ان کی عقل پر کچھ ایسے پتھر پڑگئے تھے کہ قحط اور خشک سالی کے مصائب کو بھی موسیٰ علیہ السلام کے جادو کا نتیجہ قرار دے رہے تھے حالانکہ جادوگر میں ایسی ہرگز کوئی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے جادو کے اثر سے کسی علاقہ پر قحط یا خشک سالی مسلط کر دے اس کے باوجود وہ یہی کہتے تھے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) ! تم ہم پر کیسا بھی جادو کر دو، ہم کبھی تمہاری بات تسلیم نہیں کریں گے۔ الاعراف
133 [١٢٩] طوفان، ٹڈیوں، جوؤں، مینڈکوں اور خون کا عذاب :۔ اس خشک سالی کے بعد اللہ نے ان پر زور دار بارش برسائی جو طوفان کی صورت اختیار کرگئی، اور اس سے ان کی فصلیں پانی میں ڈوب کر تباہ ہونے لگیں تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے التجا کی کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو اگر بارش تھم گئی اور ہماری فصلیں بچ گئیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تو بارش رک گئی اور فصلیں بھی بچ گئیں لیکن پھر وہ اپنے عہد سے پھر گئے تو اس کی سزا کے طور پر اللہ نے ان کی پکی ہوئی تیار فصلوں پر ٹڈیوں کے دل کے دل بھیج دیئے جب انہوں نے دیکھا کہ یہ ٹڈیاں تو ان کی ساری فصلوں کو چٹ کر جائیں گی تو پھر موسیٰ علیہ السلام کی طرف دوڑے اور پہلے کی طرح اللہ سے دعا کی درخواست کی، آپ کی دعا سے انہیں اس عذاب سے بھی نجات مل گئی اور انہوں نے غلہ کاٹ کر گھروں میں محفوظ کرلیا تو پھر اکڑ بیٹھے۔ اب اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کے ذخیرہ کردہ غلہ میں سرسری کا عذاب بھیج دیا (قرآن میں قمل کا لفظ ہے جو چھوٹے چھوٹے جانداروں مثلاً چچڑی، مچھر، جوئیں، سُرسری اور ایسے ہی دوسرے کیڑوں کے لیے مستعمل ہے) کہ ذخیرہ کردہ غلہ پڑا پڑا ہی ناکارہ ہوجائے یہ صورت حال دیکھ کر وہ پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور دعا کی درخواست اور ایمان لانے کا عہد و پیمان کیا پھر جب آپ علیہ السلام کی دعا سے یہ عذاب دور ہوا تو پھر عہد شکنی کی تو اللہ نے یہ عذاب نازل کیا کہ مینڈکوں کی اس قدر بہتات ہوگئی کہ کھانا کھانے بیٹھتے تو ہر طرف سے مینڈک چڑھ آتے کبھی کھانے میں جا پڑتے کبھی سالن کے برتن میں اور کبھی ان کے کھانے کے لیے کھولے ہوئے منہ میں اور پانی پینے لگتے تو وہ خون کی شکل اختیار کرجاتا غرض جب ان کا جینا دوبھر ہوگیا تو پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور وہی التجا اور وعدے کیے۔ آپ علیہ السلام نے پھر دعا کی۔ ان سے یہ عذاب بھی ٹل گیا مگر پھر بھی وہ اکڑ بیٹھے اور ان سب تنبیہات کو جادو ہی کے کرشمے سمجھتے رہے۔ الاعراف
134 [١٣٠] چھٹا طاعون کا عذاب :۔ یعنی اس قوم کا یہ وطیرہ بن گیا کہ مذکورہ پانچ عذابوں میں سے جب کوئی عذاب آتا تو فوراً سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس دعا کے لیے التجا کرتے اور کہتے کہ تمہارے پروردگار نے جو تم سے عہد کر رکھا ہے اس کے مطابق تمہاری دعا ضرور قبول ہوگی اور اگر تمہاری دعا سے ہم پر سے عذاب ٹل گیا تو پھر ہم تمہارا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ روانہ کردیں گے اس طرح پانچ دفعہ یہی واقعہ ہوا اور یہ فرعونی ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے تھے۔ اور بعض مفسرین نے یہاں لفظ رجز کے معنی عذاب کے بجائے طاعون کے لیے ہیں اور ایک حدیث سے اس معنی کی تائید بھی ہوجاتی ہے اس لحاظ سے یہ فرعونیوں پر چھٹا عذاب تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب فرعونیوں پر طاعون کا عذاب نازل ہوا تو ان کے بے شمار آدمی مرنے لگے اور ہر گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔ اسی دوران سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو ہجرت کا حکم دیا گیا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر شام کی طرف نکل جائیں چونکہ فرعونی اپنی پریشانی میں مبتلا تھے لہٰذا وہ فوری طور پر انکا تعاقب نہ کرسکے اور جب فرعون اپنا لاؤ لشکر لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہوا تو اس وقت وہ بحیرہ قلزم کے قریب پہنچ چکے تھے۔ الاعراف
135 الاعراف
136 [١٣١] آل فرعون کی غرقابی :۔ جب بنی اسرائیل اس سمندر کے کنارے پہنچ گئے تو انہیں فرعون کے تعاقب کی خبر ہوگئی وہ سخت گھبرائے کہ اگر اب ہم ان کے ہتھے چڑھ گئے تو پھر ہماری خیر نہیں۔ ایسی پریشان کن اور نازک صورتحال میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ وہ اپنا عصا سمندر پر ماریں۔ عصا سمندر پر مارنے کی دیر تھی کہ اللہ کے حکم سے ادھر کا پانی ادھر ہی تھم گیا اور ادھر کا ادھر تھم گیا جیسے ساکت و جامد پہاڑوں کے بڑے بڑے تودے کھڑے ہوں درمیان میں خشک راستہ بن گیا اس خشک راستے سے بنی اسرائیل جب سمندر کے دوسرے کنارے پر جا پہنچے تو فرعونیوں نے بھی وہاں پہنچ کر اسی خشک راستے پر اپنے گھوڑے ڈال دیئے جب یہ لشکر عین وسط میں پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ نے پانی کو حکم دیا کہ وہ مل جائے اس طرح فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت اپنے اس انجام بد کو پہنچ گیا جس کی خبر اسے موسیٰ علیہ السلام کئی بار دے چکے تھے۔ الاعراف
137 [١٣٢] یہاں کمزور لوگوں سے مراد یہی بنی اسرائیل ہیں جو فرعونیوں کی غلامی کی چکی میں پس رہے تھے اور وہ اپنے کئی وعدوں کے باوجود انہیں آزاد کرنے پر تیار نہ ہوتے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سارے کے سارے بنی اسرائیل سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نہیں گئے تھے بلکہ کچھ مصر ہی میں رہ گئے تھے اور فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کی ہلاکت کے بعد یہ اس سر زمین پر بھی قابض ہوگئے تھے جیسا کہ اسی سورت کی آیت نمبر ١٢٩ سے اور بعض دوسری آیات سے بھی اس کی تائید ہوجاتی ہے واللہ اعلم بالصواب۔ پھر بعد میں سیدنا داؤد علیہ السلام اور سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اس علاقے میں مستحکم حکومت قائم کی۔ [١٣٣] برکت والا علاقہ؟:۔ اس سر زمین سے مراد ملک شام ہے اس کی ظاہری برکات تو یہ ہیں کہ یہ علاقہ نہایت سرسبز و شاداب، خوش منظر اور زرخیز ہے اور باطنی برکات یہ ہیں کہ یہ ملک بہت سے انبیاء کا مسکن و مدفن ہے دریائے قلزم کو پار کرنے کے بعد بنی اسرائیل چالیس برس تک تو صحرائے تیہ میں سرگرداں پھرتے رہے جس کی پوری تفصیل سورۃ بقرہ میں گزر چکی ہے اسی میدان میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوئی اس کے بعد بنی اسرائیل نے سیدنا یوشع بن نون علیہ السلام کے ساتھ مل کر عمالقہ سے جہاد کیا اس میں انہیں فتح ہوئی اور اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور بنی اسرائیل اپنے آبائی وطن ملک شام کے وارث بن گئے۔ الاعراف
138 [١٣٤] گؤسالہ پرستی کی استدعا :۔ بنی اسرائیل اگرچہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا چکے تھے اور اپنے موحد ہونے کا اقرار بھی کرتے تھے تاہم اس کے اندر گؤسالہ پرستی کے جراثیم ہنوز باقی تھے جس میں انہوں نے اپنی عمریں گزار دی تھیں۔ سمندر پار کرتے ہی انہوں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ بچھڑے کا ایک پیتل کا بنا ہوا بت عبادت خانہ میں اپنے سامنے رکھ کر اس کی پوجا پاٹ میں مشغول تھے انہیں دیکھ کر بنی اسرائیل کو اپنی پرانی یاد تازہ ہوگئی اور گؤ سالہ پرستی کے لیے جی للچا آیا حتیٰ کہ موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات کہہ بھی دی۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں کہا کہ یہ تم کیسی جہالت کی باتیں کر رہے ہو؟ ابھی تک یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آسکی کہ عبادت کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے۔ پیکر محسوس اور تصور شیخ کی علّت اور ذات انواط :۔ بت پرست لوگ عموماً یہ کہا کرتے ہیں کہ ہم ان بتوں کی پوجا نہیں کرتے بلکہ اللہ ہی کی پوجا کرتے ہیں مگر چونکہ انسانی طبیعت کا خاصہ ہے کہ وہ ایک محسوس چیز کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے اس لیے کسی بت کو سامنے رکھنے سے ہم اللہ کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں اور مسلمان کسی کا بت تو سامنے نہیں رکھتے مگر اپنے شیخ کا تصور یا تصویر اس طرح اپنے ذہن میں پختہ کرتے ہیں کہ اس کا تصور یا تصویر آنکھوں کے سامنے رہے اور کہتے ہیں کہ عبادت ہم اللہ ہی کی کرتے ہیں ایسی سب باتیں شرک ہی کا پیش خیمہ ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی ہر بات سے منع فرما دیا ہے جس میں شرک کا شائبہ تک بھی پایا جاتا ہو چنانچہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی لڑائی میں تشریف لے گئے وہاں مسلمانوں نے ایک بیری کا درخت دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ خواہش ظاہر کی کہ جس طرح کافروں نے ایک درخت مقرر کر رکھا ہے جس پر وہ اپنے کپڑے اور ہتھیار لٹکاتے اور اس کے گرد جمے رہتے ہیں اور اسے ذات انواط کہتے ہیں اسی طرح آپ ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو وہی مثال ہوئی جیسے بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہمیں بھی ایک بت بنا دیجئے جس طرح ان لوگوں کے بت ہیں۔ (ترمذی۔ ابو اب الفتن۔ باب لترکبن سنن من کان قبلکم ) الاعراف
139 [١٣٥] یعنی میرا تو مشن ہی یہی ہے کہ ایسے بتوں کو برباد کر دوں اور ایسے باطل پرستوں کو ختم کر دوں اور ایک تم ہو کہ مجھی سے کہہ رہے ہو کہ میں تمہیں بت بنا دوں۔ اللہ نے تمہیں فضیلت اس لیے تو نہیں بخشی کہ تم اپنے سے حقیر اور اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیز کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤ لہٰذا ایسی جہالت کی باتیں نہ کرو۔ الاعراف
140 الاعراف
141 الاعراف
142 [١٣٦] طور کے دامن میں چالیس راتیں :۔ جب بنی اسرائیل کو غلامانہ زندگی سے نجات مل گئی تو اب انہیں ایک ضابطہ یا شریعت کی ضرورت تھی اس غرض کے لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہ سینا پر بلایا کہ یہاں مبارک وادی میں آ کر تنہائی میں اللہ کی عبادت کریں اور اس کے لیے کم سے کم مدت ایک ماہ اور زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن مقرر کی گئی تھی۔ تاہم سورۃ بقرہ میں چالیس راتوں ہی کا ذکر آیا ہے۔ اس عرصے کے لیے آپ کو حکم یہ تھا کہ دن کو روزے سے رہیں اور شب و روز اللہ کی عبادت اور تفکر و تدبر کر کے اور دل و دماغ کو یکسو کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ شریعت (الواح) کو اخذ کرنے کی استعداد اپنے اندر پیدا کریں۔ [١٣٧] سیدنا ہارون علیہ السلام کی نیابت اور قوم کی گؤسالہ پرستی :۔ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی متلون مزاجی اور ضعیف الاعتقادی کا پورا تجربہ رکھتے تھے اس لیے کوہ سینا کو روانہ ہونے سے پیشتر اپنے بھائی سیدنا ہارون علیہ السلام کو اس بات کی تاکید کی کہ اگر یہ لوگ میرے بعد کسی طرح کی گڑبڑ پیدا کرنے کی کوشش کریں تو ان کی اصلاح کی کوشش کرتے رہنا اور فساد پیدا کرنے والوں کی بات ہرگز نہ ماننا۔ گویا اس قوم کی قیادت کے جو اختیارات سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس تھے وہ آپ نے سب لوگوں کے سامنے سیدنا ہارون علیہ السلام کو تفویض کردیئے۔ قوم کے متعلق سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا خدشہ سو فیصد درست نکلا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے جانے کے بعد جلد ہی ان لوگوں نے گؤ سالہ پرستی شروع کردی۔ سیدنا ہارون علیہ السلام نے انہیں اپنی امکانی حد تک بہت کچھ سمجھایا لیکن یہ قوم کچھ ایسی اکھڑ واقع ہوئی تھی کہ سیدنا ہارون علیہ السلام کے حکم کو کچھ اہمیت ہی نہ دیتی تھی پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی واپسی پر ان دونوں بھائیوں میں جو مکالمہ ہوا اس کا تفصیلی ذکر آگے آ رہا ہے۔ الاعراف
143 [١٣٨] سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا مطالبہ دیدار اور آپ کا بے ہوش کر گرپڑنا :۔ چالیس دن کی اس شبانہ روز عبادت و ریاضت کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کسی مخصوص و ممتاز رنگ میں شرف کلام بخشا۔ آپ کو بلا واسطہ اللہ کی بات سننے سے عجیب لذت حاصل ہوئی اور اسی لذت کے اثر سے دل میں متکلم کے دیدار کی آرزو پیدا ہوئی تو بے ساختہ دیدار کے لیے درخواست کردی کہ الہٰی! درمیان سے یہ حجاب اور موانع دور کر دے تاکہ میں ایک نظر تجھے دیکھ سکوں جواب ملا کہ تم اس فنا ہونے والے وجود اور فانی آنکھوں سے میرے دیدار کے کبھی متحمل نہ ہو سکو گے۔ اگر اتنی ہی آرزو ہے تو اس پہاڑ کی طرف دیکھو جس پر میں تھوڑا سا اپنی تجلیات کا پرتو ڈالوں گا اگر پہاڑ اس پرتو کو برداشت کرسکا اور وہ اپنی جگہ قائم رہا تو شاید تم بھی برداشت کرسکو اور یہ بات اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم تھی کہ یہ پرتو نہ پہاڑ برداشت کرسکے گا اور نہ موسیٰ علیہ السلام ۔ جیسا کہ پہلے ہی کہہ دیا تھا اور یہ بات صرف اس لیے کہی تھی کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دل شکنی نہ ہو۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر اپنا پرتو ڈالا تو وہ ریزہ ریزہ ہو کر زمین بوس ہوگیا اور موسیٰ علیہ السلام جو پاس کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے اس دہشت سے بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش آیا تو پہلی بات یہ کی کہ میں نے جو یہ ناجائز قسم کا مطالبہ کردیا تھا اس سے توبہ کرتا ہوں، تیری عظمت و جلال کا اقرار کرتا ہوں اور اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ اس فانی دنیا میں اور ان فانی آنکھوں سے تیرا دیدار ناممکن ہے۔ لیکن جب یہ فانی دنیا ہی تبدیل کردی جائے گی اور انسانی قویٰ اور بالخصوص اس کی آنکھوں میں ایسی تبدیلی لائی جائے گی کہ وہ دیدار الٰہی کی متحمل ہو سکیں تو ایک مرتبہ لوگوں پر ایسا ہی غشی کا عالم طاری ہوگا جیسے موسیٰ علیہ السلام پر اس دنیا میں طاری ہوا تھا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ الاعراف
144 [١٣٩] یعنی اگر دیدار نہیں ہوسکا تو اور تھوڑی نعمتیں اور فضیلتیں تمہیں عطا کی ہیں تمہیں اپنا رسول بنایا اور براہ راست ہم کلامی کا شرف بخشا اور تمام جہان سے تمہیں منتخب کرلیا ہے لہٰذا اب میں جو شرعی احکام تمہیں دے رہا ہوں ان پر اچھی طرح عمل کرنا اور ان نعمتوں پر میرا شکر ادا کرتے رہنا۔ الاعراف
145 [١٤٠] تورات کی تختیاں :۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ تورات انہی تختیوں پر لکھی گئی تھی اور بعض کہتے ہیں کہ ان تختیوں میں صرف چند جامع اور بنیادی احکام لکھے گئے تھے اور تورات بعد میں آپ پر نازل ہوئی۔ ان تختیوں پر کتاب کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان تختیوں کی تعداد کتنی تھی؟ ان تختیوں میں وہی احکام مذکور ہیں جو سورۃ انعام کی آیت نمبر ١٥١ اور ١٥٢ میں مذکور ہیں اور یہ سبت کی تعظیم کے حکم سمیت دس احکام بنتے ہیں۔ [١٤١] احسن کے معانی :۔ قرآن کا لفظ باحسنہا کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو وہی ہے جو ترجمہ میں ذکر کردیا گیا ہے یعنی ان پر عمل بےدلی سے اور بے کار سمجھ کر نہ کریں بلکہ نہایت خوش دلی، نشاط اور اللہ کی رضا جوئی کے لیے بہتر طریقہ سے ان احکام پر عمل پیرا ہوں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان تختیوں پر لکھی ہوئی عبارت کا جو مفہوم ایک سلیم الطبع انسان کی عقل میں فوری طور پر آ جاتا ہے اسی پر عمل کریں ان احکام کی عبارت کو فلسفیانہ موشگافیوں کی سان پر نہ چڑھائیں اور الٹی سیدھی تاویلات میں مشغول نہ ہوجائیں۔ [١٤٢] اس جملہ کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ تم لوگ اب شام کی طرف جا رہے ہو راستہ میں تم کئی تباہ شدہ قوموں کے آثار قدیمہ کے پاس سے گزرو گے جس سے تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کی نافرمان قوموں کا کیا انجام ہوتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ دارالفاسقین سے مراد ملک شام میں عمالقہ کے گھر ہیں جن سے ان بنی اسرائیل کو جہاد کے لیے کہا جا رہا تھا اس معنی کی رو سے یہ جملہ ان کے لیے فتح کی خوشخبری کی حیثیت رکھتا ہے۔ الاعراف
146 [١٤٣] تکبر کی تعریف اور علامات :۔ تکبر کی جامع تعریف درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہو۔‘‘ ایک شخص نے کہا : ہر انسان اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اس کی جوتی اچھی ہو (کیا یہ تکبر ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ خوب صورت ہے، خوبصورتی کو پسند کرتا ہے، تکبر تو یہ ہے کہ تو حق کو ٹھکرا دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے‘‘ (مسلم، کتاب الایمان۔ باب تحریم الکبروبیانہ ) یعنی تکبر کی ایک علامت تو یہ ہوتی ہے کہ متکبر انسان اللہ کے احکام کی کچھ پروا نہیں کرتا اور اپنے آپ کو اللہ کی بندگی کے مقام سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے جیسے نہ تو وہ اللہ کا بندہ ہے اور نہ ہی اللہ اس کا پروردگار ہے اور دوسری علامت یہ ہے کہ اپنے آپ کو عام لوگوں سے کوئی بالاتر مخلوق سمجھنے لگتا ہے اور دوسروں کو اپنے سے فروتر سمجھ کر ان سے ویسا ہی سلوک کرتا ہے حالانکہ اس کی اس خودسری کے لیے کوئی وجہ جواز نہیں اللہ کی زمین پر رہتے ہوئے اور اس کا رزق کھاتے ہوئے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کا نافرمان اور متکبر بن کر رہے اسی لیے اللہ نے یہاں بغیر الحق کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ [ ١٤٣۔ الف] تکبرکا اثر انسانی طبائع پر :۔ پورے جملہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ بلاوجہ تکبر کرنے والوں کی نگاہیں اللہ کی آیات کی طرف اٹھتی ہی نہیں۔ خواہ پوری کی پوری کائنات اللہ کی ایسی نشانیوں سے بھری ہوئی ہو اور ایسی ہی بے شمار آیات ان کے اپنے جسم کے اندر بھی موجود ہوں یا انہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جائیں تو ان کے دل کوئی اثر قبول نہیں کرتے اور اگر کوئی خرق عادت معجزہ بھی دیکھ لیں تو اس کی تاویلات و توجیہات تلاش کرنے پر تو تیار ہوجاتے ہیں لیکن راہ راست پر آنے کا نام نہیں لیتے ہاں اگر کوئی گمراہی کی بات ہو اپنے خواہشات نفس کی پیروی کی بات ہو اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا جا رہا ہو یا کمزور مسلمانوں پر پھبتیاں کسی جا رہی ہوں تو ایسی باتیں ان کو بہت راس آتی ہیں اور بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ الاعراف
147 [١٤٤] کافروں کے اچھے اعمال کا بدلہ بھی نہ ملنے کی وجہ :۔ اس لیے کہ کسی عمل کے بارآور ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ کی رضامندی کے لیے ہو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو اور جس عمل میں یہ تصور ہی موجود نہ ہو کہ وہ عمل اس نیت سے کر رہا ہے کہ آخرت میں مجھے اس کا صلہ ملے گا اس کا صلہ آخر مل بھی کیسے سکتا ہے؟ یہ تو ان اعمال کا حال ہوگا جو اچھے ہوں گے اور جو عمل اللہ کی نافرمانی اور معصیت کی صورت میں ہوں گے ان کی سزا البتہ ضرور ملے گی اور ملنی بھی چاہیے کیونکہ جو شخص اللہ کی زمین پر رہ کر اس کی مخلوق ہو کر اور اس کا رزق کھا کر اس کی مرضی کے خلاف عمل کرتا ہے اسے سزا آخر کیوں نہ ملے؟ اس دنیا میں یہی اصول کار فرما ہے اگر ایک غلام اپنے آقا یا ماتحت اپنے افسر کے حکم کے خلاف کوئی کام کرتا ہے تو اس کو اس کی سزا ملتی ہے اور جو کام وہ اپنے مالک کے لیے نہیں کر رہا اس کا بدلہ اس کے مالک کی طرف سے اسے کبھی نہیں ملتا اسے بدلہ صرف اس کام کا ملتا ہے جو وہ اپنے مالک کے حکم یا مرضی کے مطابق کرتا ہے۔ الاعراف
148 اس آیت کی تفسیر اگلی آیت کےساتھ ملاحظہ کیجئے۔ الاعراف
149 [١٤٥] حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کی گؤسالہ پرستی :۔ موسیٰ علیہ السلام تو اللہ تعالیٰ کے مقررہ وعدہ اور وقت کے مطابق کوہ طور پر چلے گئے، اور بنی اسرائیل کی قیادت سیدنا ہارون علیہ السلام کے سپرد کر کے یہ تاکید کردی تھی کہ یہ بگڑی ہوئی قوم ہے۔ ان کی اصلاح کے لیے خصوصی دھیان رکھنا اور یہ بات موسیٰ علیہ السلام نے اس وجہ سے کہی تھی کہ ایک مرتبہ پہلے وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہہ چکے تھے کہ ہمیں بھی ایک معبود بنا دیجئے اور موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سرزنش بھی کی تھی حالانکہ انہیں ایمان لائے کافی مدت گزر چکی تھی دوسری بات یہ تھی کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام خود جلالی طبیعت کے مالک اور رعب داب رکھنے والے پیغمبر تھے اور اس بگڑی ہوئی قوم پر انہیں کنٹرول رکھنے کا سلیقہ آتا تھا ان کے مقابلہ میں ہارون علیہ السلام اگرچہ ان کے حقیقی بھائی اور عمر میں بھی تین سال بڑے تھے تاہم نرم طبیعت انسان تھے انہیں سیدنا موسیٰ علیہ السلام اپنا قائم مقام بنا کر جا رہے تھے ان حالات میں موسیٰ علیہ السلام کے دل میں جو خدشہ تھا بالکل بجا تھا اور انہی وجوہ کی بنا پر آپ نے پر زور تاکید کی تھی۔ چنانچہ وہی کچھ ہوا جس کا خطرہ تھا۔ بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی عدم موجودگی کو غنیمت جانا اور جس کام کی خواہش ان کے دلوں میں رہ رہ کر انگڑائیاں لے رہی تھی وہ انہوں نے پوری کرلی۔ ایک بچھڑا بنایا اور اس کی پرستش شروع کردی اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اپنے جیسے گؤ سالہ پرستی کی خواہش رکھنے والے لوگوں سے سونے کے زیورات اکٹھے کیے اور انہیں پگھلا کر سونے کے بچھڑنے کا پتلا بنا دیا اور اس کی پوجا پاٹ کرنے لگے ہرچند سیدنا ہارون علیہ السلام نے انہیں منع کیا مگر وہ ان سے کہاں باز آنے والے تھے؟۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام تو ان کے لیے ایسے احکام و ہدایات لانے کے لیے گئے تھے جس سے ان کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں مگر ان عقل کے اندھوں کو اتنی بھی سمجھ نہ آئی جو معبود انہوں نے گھڑ لیا ہے وہ جب کوئی بات ہی نہیں کرتا تو ان کی رہنمائی کیا کرے گا اس کے باوجود انہوں نے اسے معبود قرار دے لیا تو اس سے بڑھ کر بھی کوئی بے انصافی، ظلم اور شرک کی بات ہو سکتی ہے؟ [١٤٦] وہ لوگ کب شرمسار ہوئے اور اللہ نے ان کی توبہ کس شرط پر قبول کی، اس کی تفصیل سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٥٤ میں گزر چکی ہے۔ الاعراف
150 [١٤٧] سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا ہارون علیہ السلام پر مواخذہ اور ان کا جواب :۔ موسیٰ علیہ السلام کو وہاں کوہ طور پر ہی بذریعہ وحی یہ اطلاع دے دی گئی تھی کہ سامری نے ایک بچھڑا تیار کیا ہے اور قوم کے بہت سے لوگ گؤ سالہ پرستی میں مبتلا ہوچکے ہیں لہٰذا جب واپس اپنی قوم کے پاس آئے تو غصہ اور رنج پہلے سے ہی طبیعت میں موجود تھا۔ آتے ہی لوگوں سے کہا کہ میرے بعد تم نے یہ کیا گل کھلا دیئے۔ کہ فوراً اپنی کفر و شرک والی زندگی تم میں عود کر آئی پھر اسی غصہ کے عالم اور دینی حمیت کے جوش میں تختیاں تو نیچے ڈال دیں اور سیدنا ہارون علیہ السلام کے داڑھی اور سر کے بال کھینچتے ہوئے کہا تم نے میرے قائم مقام بن کر یہ سب کچھ کیسے برداشت کرلیا ؟ اس کے مقابلہ میں سیدنا ہارون علیہ السلام نے نہایت پیار کے لہجہ میں اور معذرت خواہانہ انداز میں کہا : میرے ماں جائے بھائی! ذرا میری بات سن لو میں نے انہیں سمجھانے میں کچھ کوتاہی نہیں کی مگر یہ اتنے سرکش لوگ ہیں کہ میری بات کو کچھ سمجھتے ہی نہ تھے بلکہ الٹا مجھے مار ڈالنے کی دھمکیاں دینے لگے تھے لہٰذا ان بدبختوں کو مجھ پر ہنسنے اور بغلیں بجانے کا موقع نہ دو اور یہ ہرگز نہ سمجھو کہ انہوں نے جو ظلم روا رکھا ہے اور شرک کیا ہے وہ میری شہ پر کیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بائیبل میں بعض انبیاء کو مختلف قسم کے شدید گناہوں میں ملوث قرار دیا گیا ہے ان میں سے ایک سیدنا ہارون علیہ السلام بھی ہیں جنہیں بنی اسرائیل کے اس شرک کے جرم میں شریک ہی نہیں بلکہ اس کا محرک اور اس میں معاون قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں بائیبل کی درج ذیل عبارت ملاحظہ فرمائیے۔ ''جب موسیٰ کو پہاڑ سے اترنے میں دیر لگی تو بنی اسرائیل نے بے صبر ہو کر سیدنا ہارون علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے لئے ایک معبود بنا دو اور ہارون علیہ السلام نے ان کی فرمائش کے مطابق سونے کا ایک بچھڑا بنا دیا جسے دیکھتے ہی بنی اسرائیل پکار اٹھے کہ اے اسرائیل! یہی تیرا وہ خدا ہے جو تجھے ملک مصر سے نکال لایا ہے پھر ہارون علیہ السلام نے اس کے لیے ایک قربان گاہ بنائی اور اعلان کر کے دوسرے روز تمام بنی اسرائیل کو جمع کیا اور اس کے آگے قربانیاں چڑھائیں۔‘‘ (خروج باب ٣٢ آیت ١ تا ٦) بائبل میں سیدنا ہارون علیہ السلام پر گؤ سالہ پرستی کا اتہام :۔ قرآن کریم نے سیدناہارون علیہ السلام کو یہود کے اس اتہام سے بالکل بری قرار دیا ہے اور وضاحت کردی کہ بچھڑا بنانے والا ہارون علیہ السلام نہیں بلکہ سامری تھا اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کو سابقہ تمام آسمانی کتب پر مھیمن قرار دیا ہے یعنی ان کتابوں میں جو بات قرآن کے خلاف ہوگی وہ الہامی نہیں ہو سکتی وہ یقینا دوسروں کی اختراعات ہوں گی۔ الاعراف
151 [١٤٨] سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی اپنے اور اپنے بھائی کے لئے دعائے مغفرت :۔ سیدنا ہارون علیہ السلام کے حلیمانہ جواب سے جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طبیعت کچھ اعتدال پر آئی تو سمجھے کہ انہوں نے اس معاملہ میں اپنے بھائی پر زیادتی کی ہے لہٰذا فوراً اپنے پروردگار کی طرف رجوع ہوئے کہ مجھے بھی بخش دے اور اگر میرے بھائی سے ان لوگوں کو شرک سے باز رکھنے میں کچھ کوتاہی واقع ہوئی ہے تو اسے بھی معاف فرما دے اور ہمیں اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے اپنے بھائی سیدنا ہارون علیہ السلام کو اس دعائے مغفرت و رحمت میں شریک کرنے کی دوسری وجہ یہ بھی تھی جو سیدنا ہارون علیہ السلام نے کہا تھا کہ مجھ پر میرے دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دو۔ اس قسم کی دعا سے اس شکایت کا ازالہ بھی مقصود تھا۔ الاعراف
152 [١٤٩] گؤسالہ پرستوں کا قتل عام :۔ اللہ کا غضب وہی تھا جس کا ذکر سورۃ بقرہ کی آیت ٥٤ میں گزر چکا ہے کہ ایسے بچھڑا پرست مشرکوں کو قتل کر کے باقی معاشرہ کو شرک سے پاک کردیا جائے۔ گؤ سالہ پرستی کے معاملہ میں بنی اسرائیل کے تین گروہ ہوگئے تھے ایک وہ لوگ تھے جنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی دوسرے وہ تھے جنہوں نے خود پرستش تو نہ کی مگر کرنے والوں کو منع بھی نہیں کرتے تھے اور تیسرے وہ تھے جنہوں نے پرستش بھی نہ کی اور پرستش کرنے والوں کو منع بھی کرتے رہے۔ جب ان لوگوں کو اپنے اس جرم عظیم کا احساس ہوا اور اللہ سے توبہ کی درخواست کی تو اللہ نے توبہ کی قبولیت کی شرط یہ قرار دی کہ تمام گؤ سالہ پرست مشرکوں کو قتل کردیا جائے اور انہیں قتل کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو خود اس شرک سے بچتے بھی رہے اور مشرکوں کو اس شرک سے منع بھی کرتے رہے۔ الاعراف
153 [١٥٠] بنی اسرائیل کی اس طرح توبہ کے بعد اب انہیں اس جرم کا آخرت میں عذاب نہیں ہوگا۔ بنی اسرائیل کے ان مشرکوں کے لیے توبہ کی یہ اس قدر مشکل شرط اس لیے عائد کی گئی تھی کہ انہوں نے اس جرم کا ارتکاب ایمان لانے کے بعد انبیاء علیہم السلام کی موجودگی میں اور ان کے روکنے کے باوجود کیا تھا ورنہ عام حالات میں مشرکوں کے لیے صرف سچے دل سے توبہ ہی کافی ہے اور اگر وہ سچے دل سے توبہ کرلیں تو انہیں اللہ سے امید رکھنی چاہیے کہ وہ ان کا گناہ معاف فرما دے گا۔ الاعراف
154 [١٥١] تورات کی اشاعت :۔ اپنے اور اپنے بھائی کے حق میں دعائے مغفرت و رحمت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے گؤ سالہ پرستوں کے حق میں اپنا فیصلہ بتلا دیا۔ اتنی دیر میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا غصہ فرو ہوچکا تو آپ نے وہ تختیاں زمین سے اٹھائیں۔ پھر ان تختیوں کی مختلف قبائل کے لیے نقول تیار کرائی گئیں۔ ان میں اگرچہ زندگی کے لیے رہنمائی تو موجود تھی اور اس لحاظ سے یہ اللہ کی رحمت بھی تھی مگر یہ رہنمائی تو اسی شخص کو سود مند ہو سکتی ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ یہ واقعی اللہ کی طرف سے ہماری رہنمائی کرتی ہے اور اللہ سے ڈرتے ہوئے ان پر عمل بھی کرے مگر جو لوگ خود ہی ہدایت کے طالب نہ ہوں انہیں ان سے ہدایت نہیں ملے گی۔ الاعراف
155 [١٥٢] ستر منتخب آدمیوں کا دیدار الہٰی کا مطالبہ اور ان کی موت :۔ جب انہیں اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنانے کے لیے یہ تختیاں دی گئیں تو ان لوگوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر بھی بداعتمادی کا اظہار کردیا اور کہنے لگی کہ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ یہ واقعی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے قوم کا یہ سوال اللہ کے حضور پیش کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اچھا ان میں سے ستر آدمی منتخب کر کے فلاں وقت کوہ طور پر لے آؤ۔ موسیٰ علیہ السلام نے ہر قبیلہ کے چھ چھ آدمی منتخب کیے تو یہ (72) بہتر ہوگئے۔ آپ نے فرمایا کہ جو دو آدمی رضاکارانہ طور پر پیچھے رہ جائیں ان کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا جانے والوں کو ملے گا۔ اس طرح دو آدمی رضاکارانہ طور پر الگ ہوگئے اور باقی ستر (٧٠) آدمی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کوہ طور کی جانب روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچے تو ان سب لوگوں کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوئے تو ان لوگوں نے یہ اعتراض جڑ دیا کہ ہمیں یہ کیسے معلوم ہو کہ تم سے (اے موسیٰ ) ہم کلام ہونے والا اللہ ہے جب تک ہم اس ہم کلام ہونے والے یعنی اللہ کو واضح طور پر دیکھ نہ لیں ہم کیسے یقین کریں۔ ان کا یہ مطالبہ ناممکن الوقوع تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام خود بھی اللہ کی تجلی کو برداشت نہ کرسکے تھے تو یہ بے چارے کس کھیت کی مولی تھے پھر ان کی کٹ حجتیوں کی بھی انتہا ہوچکی تھی اور یہ لاتوں کے بھوت باتوں سے ماننے والے بھی نہ تھے چنانچہ ان پر اللہ کا قہر نازل ہوا۔ اوپر سے صاعقہ (جیسا کہ سورۃ بقرہ میں مذکور ہے) اور نیچے سے زلزلہ (جیسے یہاں مذکور ہے) کا عذاب آیا اور یہ ستر کے ستر آدمی اسی جگہ پر ہلاک ہوگئے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے ان 70 ستر آدمیوں کا دوبارہ زندہ ہونا :۔ اب موسیٰ علیہ السلام حیران و پریشان کھڑے تھے کہ کریں تو کیا کریں نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والا معاملہ بن گیا تھا۔ قوم کے پاس آتے تو اس کا پہلا سوال یہی ہوتا کہ جو آدمی آپ کے ساتھ گئے تھے وہ کہاں ہیں؟ اور ان ہلاک شدہ لوگوں کے پاس رہنے کا بھی کچھ فائدہ نہ تھا آخر اللہ ہی سے فریاد کی کہ یا اللہ اگر انہیں بلکہ مجھے بھی ہلاک کرنا ہی تھا تو ان کی قوم کے سامنے کرتا تاکہ مجھ پر تو کوئی الزام نہ آتا۔ اب تیرے علانیہ دیدار کا مطالبہ تو چند نادانوں نے کیا تھا جس کی پاداش میں تو نے سب کو ہلاک کردیا۔ یہ سارے کا سارا واقعہ ایک آزمائش تھا جس میں کچھ لوگ گمراہ ہوئے اور باقی راہ راست پر بھی قائم رہے لہٰذا ہم پر رحم فرماتے ہوئے ہمیں معاف فرما دے چنانچہ آپ کی دعا سے ان ہلاک شدہ لوگوں کا قصور معاف کردیا گیا اور انہیں دوبارہ زندگی بخشی گئی جیسا کہ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٥٦ میں مذکور ہے۔ الاعراف
156 [١٥٣] اللہ کی رحمت دنیا میں سب کے لئے عام ہے :۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی امت کے لیے دنیا اور آخرت دونوں جگہ کی بھلائی طلب فرمائی، تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا اصل چیز جس پر یہ کائنات کا سارا نظام چل رہا ہے وہ میری رحمت ہے اور ساری مخلوق میری رحمت سے مستفید ہو رہی ہے۔ سزا تو میں صرف اس شخص کو دیتا ہوں جس کے حق میں اس کی نافرمانیوں کی بنا پر وہ مقدر ہوچکی ہے بلکہ وہ بھی بسا اوقات دنیا میں میری رحمتوں سے مستفیض ہوتے رہتے ہیں اور جس خیر اور بھلائی کا تم مطالبہ کر رہے ہو کہ دنیا میں بھی یہ نعمت ملے اور آخرت میں بھی یہ صرف ان لوگوں کا حصہ ہے جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے اور اپنے اموال سے ہمارا حق یعنی زکوٰۃ بھی ادا کرتے ہیں ایسے لوگ دنیا اور آخرت دونوں جگہ میری رحمت سے ہم کنار ہوں گے۔ یہاں تک موسیٰ علیہ السلام کی دعا کا جواب ختم ہوتا ہے۔ الاعراف
157 [١٥٤] بائیبل کی آپ کے متعلق بشارتیں :۔ اس آیت میں خطاب دور نبوی کے اہل کتاب اور دوسرے لوگوں سب کے لیے عام ہے کیونکہ آج بھی اللہ کی رحمت کے حصول کے ذرائع وہی ہیں جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو ان کی دعا کے جواب میں بتلائے گئے تھے یعنی جو لوگ اللہ کی آیات پر ایمان لائیں، اللہ کی نافرمانی سے ڈرتے رہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور مزید شرط یہ ہے کہ اس موجودہ نبی امی کی اطاعت و اتباع بھی کریں جس کی بشارت آج بھی تورات اور انجیل میں موجود ہے اور اہل کتاب انہیں پڑھتے اور اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں۔ مثلاً: ١۔ استثناء باب ١٨، آیت ١٥ تا ١٩ ٢۔ متی باب ٢١، آیت ٣٣ تا ٤٦ ٣۔ یوحنا باب ١، آیت ١٩ تا ٢١ ٤۔ یوحنا باب ١٤، آیت ١٥ تا ١٧، نیز آیت ٢٥ تا ٣٠ ٥۔ یوحنا باب ١٤، آیت ٢٥ اور ٢٦ ٦۔ یوحنا باب ١٦، آیت ٧ تا ١٥ اور امی کا لفظ غالباً ام (یعنی والدہ) کی طرف منسوب ہے یعنی جس طرح بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے اور کسی کا شاگرد نہیں ہوتا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بھر کسی مخلوق کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا اس کے باوجود جن علوم و معارف شرعیہ کے آپ معلم بنے پوری دنیا اس کی معترف ہے اور پڑھے لکھے اور دانش وروں میں سے کسی کی طاقت نہیں کہ اس کا عشر عشیر بھی پیش کرسکیں پس نبی امی کا لقب آپ کے لیے مایہ صد افتخار ہے اور آپ کے امی ہونے میں جو حکمت تھی وہ قرآن نے اسے متعدد مقامات پر بیان کردیا ہے۔ [١٥٥] امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت :۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ اتنا اہم ہے جسے تمام آسمانی شریعتوں میں واجب قرار دیا گیا ہے بہت سی قوموں پر محض اس لیے عذاب آیا کہ انہوں نے اس فریضہ پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ کسی نبی کے سچا ہونے کا ایک معیار یہ بھی ہے کہ کیا وہ اپنے پیروؤں کو اس فریضہ کو بجا لانے کا حکم دیتا ہے یا نہیں۔ ہرقل شہنشاہ روم نے جب ابو سفیان کو بلا کر چند سوالات پوچھے تو ان میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ وہ نبی کیسی باتوں کا حکم دیتا ہے تو ابو سفیان نے بتلایا کہ وہ فلاں فلاں (بھلے) کاموں کا حکم دیتا ہے اور فلاں فلاں برے کاموں سے روکتا ہے تو ہرقل نے کہا کہ تمام نبی ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔ (بخاری، باب کیف کان بدء الوحی) [١٥٦] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض چیزوں کو حلال اور حرام کرنا :۔ وہ پاکیزہ اور حلال اشیاء جن کو یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام قرار دے لیا تھا پھر علمائے یہود نے ان چیزوں کو مستقل طور پر حرام قرار دے دیا یا وہ چیزیں جو ان کی نافرمانیوں کے باعث ان پر حرام کردی گئیں تھیں وہ سب شریعت محمدیہ میں حلال کردی گئیں۔ مثلاً اونٹ کا گوشت، گائے اور بکری کی چربی وغیرہ اور بعض حرام چیزوں کو یہود نے حلال قرار دے لیا تھا جنہیں آپ کی شریعت میں پھر سے حرام قرار دیا گیا جیسے سود اور غیر یہودی لوگوں کا مال ہر جائز و ناجائز طریقے سے حلال اور جائز سمجھ کر حاصل کرنا اس جملہ کا روئے سخن اگرچہ اہل کتاب کی طرف معلوم ہوتا ہے تاہم اس کا حکم عام ہے جس میں مسلمان بھی شامل ہیں چنانچہ اللہ کے عطا کردہ اسی اختیار کی رو سے آپ نے تمام درندوں اور شکاری پرندوں اور گھریلو گدھے کا گوشت کھانا حرام قرار دیا۔ علاوہ ازیں خبائث میں وہ اشیائے خوردنی بھی شامل ہیں جو گندی، باسی، بدبودار یا گل سڑ گئی ہوں۔ [١٥٧] بنی اسرائیل پر احکام میں سختی :۔ اس میں وہ قیود اور بندشیں بھی شامل ہیں جن کا انہیں شرعاً حکم تھا جیسے انہیں قتل کے بدلے صرف قصاص کا حکم دیا گیا تھا دیت یا خون بہا کی رعایت یا رخصت نہیں دی گئی تھی یا اگر ان کے جسم کے کسی حصہ پر پیشاب کے چھینٹے پڑجاتے، تو وہ جسم کا اتنا حصہ قینچی سے کاٹ دیتا (نسائی، کتاب الطہارۃ باب البول الی السترۃ یستربھا) جبکہ ہماری شریعت میں ایسا حصہ صرف دھونے سے پاک ہوجاتا ہے اور ایسی بندشیں بھی جو ان کے علماء نے از خود عائد کرلی تھیں جیسے اگر ان کی کوئی عورت حائضہ ہوجاتی تو نہ ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھاتے نہ اس کے ساتھ کھاتے بلکہ اسے اپنے گھر میں بھی نہ رہنے دیتے اور ایسی عورتوں کا کسی الگ جگہ رہائش کا بندوبست کیا کرتے تھے (مسلم، کتاب الحیض۔ باب جواز غسل الحائض راس زوجھا) جبکہ ہماری شریعت میں ماسوائے صحبت کے اور کوئی پابندی نہیں۔ پھر ان میں وہ پابندیاں بھی شامل تھیں جو ان کے فقیہوں نے فقہی موشگافیوں سے اور ان کے زاہدوں نے اپنی پرہیزگاری میں غلو کی وجہ سے اور جاہل عوام نے اپنے توہمات سے عائد کر رکھی تھیں۔ اس نبی امی کا کام یہ ہے کہ ایسی تمام جکڑ بندیوں کے بوجھ سے لوگوں کو نجات دے۔ [١٥٨] نور سے مراد کتاب وسنت یا وحی الہٰی :۔ اس نبی امی کی مذکورہ بالا صفات اور لوگوں پر اس کے احسانات کا ذکر کرنے کے بعد تمام لوگوں سے اللہ فرماتے ہیں کہ تمہیں ایسے نبی پر ایمان بھی لانا چاہیے اس کی عزت و تکریم میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھنا چاہیے اور اس کی حمایت میں اس کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے اور اس روشنی کی پیروی کرنا چاہیے جو ہم نے اس کے ساتھ نازل فرمائی ہے روشنی سے مراد کتاب اللہ بھی ہے اور اس پر عمل کرنے کا طریق کار یعنی سنت نبوی بھی۔ اگر تم مذکورہ بالا کام کرو گے تو تب ہی تم کامیاب ہو سکتے ہو۔ الاعراف
158 [١٥٩] آپ صلی اللہ علیہ وسلم تا قیامت اور تمام لوگوں کے لیے رسول ہیں :۔ اس جملہ سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سابقہ انبیاء کی طرح نہ نسلی یا قومی پیغمبر تھے اور نہ علاقائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلقہ تبلیغ پوری دنیا کے انسان ہیں اور سارے کے سارے لوگ ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقتی یا کسی مخصوص زمانہ کے بھی پیغمبر نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے پیغمبر ہیں اور آپ کی رسالت کا کام تاقیامت جاری رہے گا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اللہ کی طرف سے آنے والا نہیں اور اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا اور کذاب ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی بھر امکانی حد تک تبلیغ رسالت کا فریضہ سر انجام دیا حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر یہ ذمہ داری ڈالی کہ جن لوگوں تک اللہ کا پیغام نہیں پہنچ سکا، ان تک وہ پہنچا دیں لہٰذا اب اس امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کی دعوت کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کا کام سر انجام دیں اور اس کام کے لیے جو ممکن ذرائع اختیار کیے جا سکتے ہوں وہ کیے جائیں۔ [١٦٠] نبی خود سب سے پہلے اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے :۔ اس جملہ سے معلوم ہوا کہ ہر نبی اور ہر رسول پر یہ فرض ہوتا ہے کہ سب سے پہلے وہ خود اپنی نبوت اور رسالت پر ایمان لائے پھر دوسرے لوگوں کو دعوت دے اور تمہارا یہ نبی امی بھی سب سے پہلے اس اللہ اور اس کے کلمات ہدایت و ارشاد پر ایمان لا چکا ہے جو زمین و آسمان کی سلطنت کا خالق و مالک اور خود تمہاری زندگی اور موت کا بھی مالک ہے اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق ہے اور نہ کارساز۔ لہٰذا اگر ہدایت چاہتے ہو تو اس پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے جاؤ۔ الاعراف
159 [١٦١] ہر معاشرہ میں کچھ انصاف پسند لوگ بھی موجود ہوتے ہیں :۔ اس سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہود کے گروہوں میں ایک گروہ انصاف پسند موجود تھا۔ اگرچہ یہ گروہ قلیل تعداد میں تھا تاہم اس آیت کو صرف دور نبوی سے مختص کرنے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک ایسا انصاف پسند گروہ موجود رہا ہے تو یہ زیادہ مناسب ہوگا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگرچہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ تاہم ان میں سے ایک گروہ ایسا ہوگا جو تاقیامت حق پر قائم رہے گا اور اگر ربط مضمون کے لحاظ سے یہ کہا جائے کہ جب بنی اسرائیل گؤ سالہ پرستی جیسے بڑے شرک میں مبتلا تھے تو اس وقت بھی امت میں ایک انصاف پسند گروہ موجود تھا جو دوسروں کو ہدایت پر رہنے کی تلقین کرتا تھا تو یہ بھی مناسب ہے۔ الاعراف
160 [١٦٢] بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے اور نقیبوں کی ذمہ داری :۔ بنی اسرائیل کی مردم شماری، پھر ان کو سیدنا یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں کی اولاد ہونے کے لحاظ سے بارہ قبیلوں میں منظم کرنے کا کام سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے سر انجام دیا تھا پھر ان قبیلوں میں سے ہر قبیلہ کا ایک نقیب یا سردار مقرر کیا۔ اس سردار کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے قبیلہ کے دینی، تمدنی اور معاشی مسائل کی نگرانی کرے اور ان لوگوں کو راہ راست پر رکھنے کا حتی المقدور انتظام کرے۔ پھر ان سب پر بنی لاوی کے سردار کی یہ ڈیوٹی لگائی کہ وہ اپنے قبیلہ کے مسائل کی نگرانی کے علاوہ دوسرے سب قبائل کے حالات کی بھی نگرانی کرے گا اور یہ وہی قبیلہ تھا جس سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا ہارون علیہ السلام خود بھی تعلق رکھتے تھے۔ [١٦٣] صحرائے سینا میں بنی اسرائیل پر انعامات، بادل، من وسلویٰ کا نزول اور بارہ چشمے پھوٹنا :۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بنی اسرائیل پر تین احسانات کا ذکر فرمایا ہے اور یہ اس دور کے واقعات ہیں جب بنی اسرائیل کو چالیس سال کے طویل عرصہ کے لیے صحرائے سینا میں روک دیا گیا تھا کیونکہ ان لوگوں نے جہاد سے انکار کر کے انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس میدان میں دور تک کہیں پانی کا نام و نشان نظر نہ آتا تھا نہ کوئی کھانے پینے کی چیز ملتی تھی اور نہ کہیں کوئی سایہ یا مکان نظر آتا تھا جہاں جا کر وہ دھوپ سے پناہ لے سکیں گویا ان تینوں چیزوں سے ہر چیز انسان کی بنیادی ضروریات سے تعلق رکھتی تھی۔ اگر ان میں سے کوئی ایک چیز بھی انہیں وہاں عطا نہ کی جاتی تو سب کے سب وہیں ہلاک ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ان ضروریات کا یوں اہتمام فرمایا کہ پورا چالیس سال کا عرصہ جب دھوپ تیز ہونے لگتی تو آسمان پر بادل چھا جاتے اور انہیں دھوپ سے بچاتے تھے پھر یہ کہ وہ برستے بھی نہیں تھے کہ بارش کی وجہ سے انہیں کہیں پناہ لینی پڑے اس طرح اس لاکھوں کی تعداد میں موجود انسانوں کے مکانات کا مسئلہ حل ہوا پینے کو پانی نہیں مل رہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ چٹان پر اپنا عصا ماریں اس سے بارہ الگ الگ چشمے پھوٹ نکلے اور یہ چشمے بھی اس طویل مدت میں بہتے ہی رہے ہر قبیلہ کو الگ الگ چشمہ پر قابض بنا دیا گیا تاکہ ان میں پانی کی تقسیم پر جھگڑا نہ پیدا ہو اس طرح ان کے پانی کی ضروریات کا مسئلہ حل ہوا پھر کھانے کو من اور سلویٰ نازل فرمائے۔ غور فرمائیے کہ اس لاکھوں کی تعداد میں لشکر کے لیے کس قدر روزانہ اس من و سلویٰ کی ضرورت ہوتی ہوگی اور وہ اسی مقدار میں نازل کیا جاتا رہا اس طرح ان کی خوراک کا مسئلہ حل ہوا پھر یہ بھی غور فرمائیے کہ اس لاکھوں کی تعداد کے لشکر کے لیے اگر اپنی ضروریات کا کسی بادشاہ یا کسی حکومت کو انتظام کرنا پڑتا تو اس کے کس قدر مصارف اٹھتے۔ بالخصوص اس صورت میں جبکہ یہ انتظام پورے چالیس سال کے عرصہ تک کرنا پڑتے نیز یہ کہ اس چالیس سال کے عرصہ میں بنی اسرائیل کی اپنی ہی تربیت کی جا رہی تھی۔ تاکہ اس عرصہ میں ان کے اندر سے گؤ سالہ پرستی کے جراثیم دور ہوں اور اللہ کے ان احسانات کا شکر ادا کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت بجا لائیں اور ان سے وہ بزدلی دور ہو جو غلامی کی طویل زندگی میں ان کی رگ رگ میں بس گئی تھی اور اس صحرائی زندگی کی وجہ سے ان میں کچھ جرأت اور دلیری پیدا ہو اور پرانی بزدل نسل مر کھپ جائے اور نئی نسل آزادی کی فضاؤں میں جرأت مند پیدا ہو تاکہ وہ لوگ اس جہاد کے لیے تیار ہو سکیں جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا۔ [١٦٤] مگر ان لوگوں نے اللہ کے ان احسانات کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کی نافرمانیاں شروع کردیں اور تاکیدی حکم کے باوجود من و سلویٰ کو ذخیرہ کرنا اور دوسروں کو ان کے حق سے محروم کرنا شروع کردیا پھر انہیں ان نافرمانیوں کی سزا خود ہی بھگتنا پڑی۔ ان کی ان نافرمانیوں سے آخر ہمارا کیا بگڑ سکتا ہے؟ الاعراف
161 [١٦٥] یہ غالباً اریحا کا شہر تھا جو سب سے پہلے بنی اسرائیل کے ہاتھوں فتح ہوا یہاں انہیں آباد ہونے کا حکم دیا گیا اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل بتلایا گیا اور ساتھ ہی ہدایت کی گئی کہ جب فاتحانہ انداز میں اس شہر میں داخلہ ہو تو اللہ کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اس کا شکر بجا لاتے ہوئے اور اپنے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے داخل ہونا۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ کے دن حکم ہوا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ شکر ادا کیا۔ فتح مکہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ کے حضور عجز و انکساری پہلے سے بھی بڑھ گئی اور پہلے سے زیادہ اللہ کی عبادت کرنے لگے فتح کے بعد اپنے قدیمی دشمنوں سے انتقام لینے کے بجائے ان کے لیے عام معانی کا اعلان کردیا تھا۔ الاعراف
162 [١٦٦] فتحیاب فوج کا تکبر اور عذاب :۔ لیکن ان بدبختوں نے ہمارے حکم کی پوری پوری خلاف ورزی کی۔ فتح کے بعد ان میں عجز و انکساری کے بجائے فخر اور گھمنڈ پیدا ہوگیا اور اترانے لگے پھر اموال غنیمت میں بھی جی بھر کر خیانت کی۔ مفتوحہ علاقہ میں ظلم و تشدد کو روا رکھا۔ غرض یہ کہ وہ سب کچھ روا رکھا جو دنیا دار قسم کے لوگ فتح کے موقعہ پر کیا کرتے ہیں ان کے یہ لچھن دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا یہ عذاب کیا تھا اس کے متعلق مفسرین کے دو اقوال ہیں ایک یہ کہ ان میں طاعون کی وباء پھوٹ پڑی تھی اور دوسرا یہ کہ دشمن قوم نے بنی اسرائیل کو پھر سے شکست دے کر بنی اسرائیل کو بےدریغ قتل کیا۔ الاعراف
163 [١٦٧] یعنی ذرا یہود مدینہ سے سبت والوں کی بات تو پوچھئے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ قصہ ان میں بڑا مشہور و معروف تھا اور بروایت تواتر چلا آ رہا تھا۔ جس سے یہود انکار نہیں کرسکتے تھے یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جس کا بجا لانا آپ کے لیے ضروری ہو یا فی الواقع آپ نے یہود سے پوچھا ہو اس واقعہ کی تفصیل بھی پہلے سورۃ بقرہ کی آیت ٦٥ کے حواشی میں گزر چکی ہے اور اس قصہ کو یہاں بیان کرنے کا مقصد یہ جتلانا ہے کہ یہ یہود نسلاً بعد نسل سرکش اور نافرمان چلے آ رہے ہیں۔ سرکشی اور نافرمانی ان کی رگ رگ میں رچی ہوئی ہے۔ لہٰذا ان کی اسلام دشمن سرگرمیاں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے کچھ تعجب نہ ہونا چاہیے۔ رہی یہ بات کہ ان کی شکلیں فی الواقع بندروں جیسی بن گئی تھیں یا نہیں تو اگرچہ بعض لوگوں نے اس کا انکار کیا تھا تاہم راجح قول یہی ہے کہ وہ فی الواقع بندر بنا دیئے گئے جو ایک دوسرے کو پہچانتے، چیخیں مارتے اور روتے تھے پھر اسی حالت میں تین دن کے بعد مر گئے اور بعض کہتے ہیں کہ ان کے چہروں میں اس قسم کا ورم پیدا ہوا جس سے ان کے چہرے بالکل بندروں جیسے معلوم ہوتے تھے۔ آخر اسی حالت میں تین روز بعد مر گئے اور یہ واقعہ سیدنا داؤد علیہ السلام کے زمانہ میں پیش آیا تھا۔ الاعراف
164 [١٦٨] یہ وہ لوگ تھے جو خود تو مچھلیاں پکڑنے کے جرم کے مرتکب نہیں تھے مگر پکڑنے والوں کو منع بھی نہیں کرتے تھے۔ جب اللہ کا عذاب آیا تو صرف وہ لوگ بچائے گئے جو خود بھی مچھلیاں نہیں پکڑتے تھے اور پکڑنے والوں کو منع بھی کرتے رہے اور اس درمیانی گروہ کو محض اس لیے سزا ملی کہ وہ اس گناہ کے کام سے منع کیوں نہ کرتے تھے۔ گویا جیسے کوئی برائی کرنا جرم ہے ویسے ہی برائی سے نہ روکنا بھی جرم ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے بھی واضح ہوتا ہے۔ نہی عن المنکر کے متعلق احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم :۔ ١۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں اور خلاف ورزی دیکھ کر خاموش رہنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے ان لوگوں کی جنہوں نے کسی جہاز میں بیٹھنے کے لیے قرعہ اندازی کی۔ کچھ لوگوں کے حصے میں نچلی منزل آئی اور دوسروں کے حصہ میں اوپر کی منزل۔ اب نچلی منزل والے جب پانی لے کر بالائی منزل والوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں اس سے تکلیف پہنچتی۔ یہ دیکھ کر نچلی منزل والوں میں سے ایک نے کلہاڑی لی اور جہاز کے پیندے میں سوراخ کرنے لگا۔ بالائی منزل والے اس کے پاس آئے اور کہا تمہیں یہ کیا ہوگیا ہے۔ اس نے جواب دیا تمہیں ہماری وجہ سے تکلیف پہنچی اور ہمارا پانی کے بغیر گزارا نہیں۔ اب اگر اوپر والوں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تو اسے بھی بچا لیا اور خود بھی بچ گئے اور اگر اسے چھوڑ دیا تو اسے بھی ہلاک کیا اور اپنے آپ کو بھی ہلاک کیا۔‘‘ (بخاری۔۔ کتاب الشرکۃ ہل یقرع فی القسمۃ۔ نیز کتاب الشہادات۔ باب القرعۃ فی المشکلات۔) ٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جو شخص تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے اور اگر ایسا نہ کرسکے تو زبان سے روکے یہ بھی نہ کرسکے تو دل میں ہی برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب الایمان باب بیان کون النہی عن المنکر من الایمان) ٣۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتے) دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر عام عذاب نازل ہو۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر۔ زیر آیت سورۃ مائدہ آیت نمبر ١٠١) اصحاب السّبت پر عذاب کی نوعیت :۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ قرآن میں ان تینوں گروہوں میں سے ایک کے متعلق فرمایا کہ ہم نے برائی سے منع کرنے والوں کو بچا لیا اور جو نافرمانی کرنے والے تھے انہیں عذاب میں پکڑ لیا۔ رہا درمیان میں تیسرا گروہ جو خود نافرمانی نہیں کرتا تھا اور منع بھی نہ کرتا تھا اس کے لئے قرآن نے سکوت اختیار کیا ہے تو ہمیں بھی سکوت اختیار کرنا چاہیے۔ ایک تیسرا قول یہ ہے کہ عذاب دو طرح کے آئے تھے۔ ایک بڑا عذاب جس کا ذکر آیت نمبر ١٦٥ میں ہے اس میں دونوں گروہ ماخوذ ہوئے نافرمانی کرنے والے بھی اور برائی سے منع نہ کرنے والے بھی اور دوسرا عذاب بندر بنا دینے کا تھا اور وہ حد سے گزرنے والوں کے لیے تھا اس عذاب میں صرف وہی لوگ ماخوذ ہوئے جو نافرمان تھے۔ الاعراف
165 الاعراف
166 الاعراف
167 [١٦٩] یہود کی ذلت و مسکنت کی تاریخی داستان :۔ تاذن کا عربی میں وہی مفہوم ہے جو ہمارے ہاں نوٹس دینے کا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے یہود کو خبردار کردیا تھا کہ اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو تم پر تا قیامت ایسے حکمران مسلط کر دے گا جو انہیں طرح طرح کے دکھ پہنچاتے رہیں گے۔ ان دکھوں سے مراد ان کی محکومانہ زندگی ہے چنانچہ یہود کبھی یونانی اور کلدانی بادشاہوں کے محکوم بنے رہے کبھی بخت نصر کے شدائد کا نشانہ بنے جس نے بیت المقدس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ان یہود کی کثیر تعداد کو غلام بنا کر اپنے ساتھ بابل لے گیا۔ پھر یہ لوگ دور نبوی سے پہلے مجوسیوں کے باج گزار رہے۔ پھر اللہ نے مسلمان حکمرانوں کو ان پر مسلط فرما دیا۔ غرض مالدار قوم ہونے کے باوجود انہیں کہیں بھی عزت کی زندگی نصیب نہ ہوسکی اور ہمیشہ محکوم بن کر ذلت کی زندگی گزارتے رہے اور اس بیسویں صدی کے اوائل میں ہٹلر کے ہاتھوں بری طرح پٹے اور اس نے لاکھوں یہودیوں کو بےدریغ قتل کردیا۔ اس بیسویں صدی ہی کے وسط میں چند حکومتوں کے سہارے تھوڑے سے علاقہ پر اپنی حکومت بنائی ہے۔ مگر امن پھر بھی نصیب نہیں اور قیامت کے قریب جب دجال کا ظہور ہوگا تو یہ اس کے مددگار ہوں گے پھر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے مسلمان رفقاء کے ہاتھوں سب کے سب تہہ تیغ کردیئے جائیں گے۔ جیسا کہ بے شمار احادیث صحیحہ سے واضح ہوتا ہے۔ الاعراف
168 [١٧٠] اسلاف یہود کا کردار :۔ یعنی یہود کو تفرقہ بازی کے عذاب میں مبتلا کردیا (جس میں آج کل مسلمان بھی مبتلا ہیں) جس کی وجہ سے قوم کی ساکھ ختم ہوجاتی ہے۔ امت کی وحدت پارہ پارہ ہوجاتی ہے اور دنیا کی نظروں میں وہ حقیر بن جاتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرقہ بازی کو عذاب کی ایک مستقل قسم قرار دیا ہے (نیز سورۃ انعام کی آیت نمبر ٦٥ کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔) الاعراف
169 [١٧١] یعنی ان یہود کے اسلاف میں کچھ اچھے لوگ بھی تھے اور کچھ فاسق تھے، اگرچہ اکثریت ان فاسقوں ہی کی تھی مگر ان کے اخلاف تو بالکل ناخلف اور نااہل ثابت ہوئے انہوں نے اللہ کی کتاب کو بیچنا شروع کردیا اور دنیا کے کتے بن گئے مزید ستم یہ کہ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ہم جیسے بھی عمل کرلیں ہمیں اللہ عذاب نہیں کرے گا اور معاف کردے گا کیونکہ ہم انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور اللہ کے چہیتے ہیں پھر بجائے اس کے کہ وہ گناہ کر کے نادم اور شرمسار ہوں اور اللہ کے حضور توبہ کریں وہ پھر سے تیار بیٹھے ہوتے ہیں کہ کوئی آدمی فتویٰ یا مسئلہ پوچھنے والا آئے تو اس سے بھی رشوت لے لیں یا مال و دولت جھاڑ لیں حالانکہ ان سے یہ پختہ عہد لیا گیا تھا کہ وہ کوئی غلط اور ناحق بات اللہ کی طرف منسوب نہیں کریں گے اور یہ بات وہ کتاب میں پڑھتے پڑھاتے بھی ہیں اس کے باوجود انہوں نے اللہ کے ذمہ یہ بات لگا دی کہ وہ جیسے بھی عمل کرلیں اللہ انہیں عذاب نہیں دے گا کیونکہ وہ انبیاء کی اولاد اور اللہ کے چہیتے ہیں کیا یہ بات وہ تورات سے دکھلا سکتے ہیں؟ [١٧٢] اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں ایک یہ کہ آخرت کا گھر اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے بہتر ہے (جیسا کہ ترجمہ کیا گیا ہے) اور جو اللہ سے نہیں ڈرتے ان کے لیے ہرگز بہتر نہیں، انہیں وہاں عذاب اور دکھ ہی سہنا پڑیں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے لوگ بہرحال آخرت کے گھر کو ہی بہتر سمجھتے ہیں اور دنیا کے مقابلہ میں آخرت کے گھر کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ان کی اخروی زندگی اس دنیا سے بدرجہا بہتر ہوگی کاش تم لوگوں کو اس بات کی سمجھ آجائے۔ الاعراف
170 [١٧٣] ہر معاشرے میں کچھ انصاف پسند موجود ہوتے ہیں :۔ اللہ تعالیٰ نے ان ناخلف لوگوں سے جن کی اوپر صفات بیان کی گئی ہیں ان لوگوں کو مستثنیٰ کردیا جو دیانتداری کے ساتھ دین پر قائم رہتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ میں خواہ کتنا فساد پھیل جائے کچھ نہ کچھ لوگ ایسے بھی نکل ہی آتے ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے اپنے دین کا خیال رکھنے والے ہوتے ہیں اللہ ایسے لوگوں کو ضرور ان کے اچھے اعمال کا بدلہ دے گا کیونکہ اس کے عدل کا یہی تقاضا ہے۔ الاعراف
171 [١٧٤] اس کی تشریح سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٦٣ کے تحت لکھی جا چکی ہے وہاں ملاحظہ کرلی جائے۔ الاعراف
172 [١٧٥] سابقہ آیت میں ایک خاص عہد کا ذکر تھا جو یہود سے لیا گیا تھا اور اس آیت میں عام عہد کا ذکر ہے جو فرداً فرداً تمام انسانوں سے لیا گیا تھا اور یہ اس دور کا واقعہ ہے جب اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پیدا کرچکے تھے اور خلافت ارضی کے لیے انہیں منتخب کیا جا چکا تھا۔ کتاب و سنت کی تصریحات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان کی نسل سے تاقیامت پیدا ہونے والی اولاد کی روحوں کو اپنے سامنے حاضر کرلیا اور ان ارواح کو وہی شکل عطا کی گئی جو ان کی پیدائش کے بعد انہیں میسر ہونے والی تھی اور بعض احادیث کے مطابق ان ارواح کی شکل چیونٹیوں کی سی تھی۔ پھر ان ارواح کو مخاطب کر کے فرمایا : اس بھری کائنات کو خوب دیکھ بھال کر بتلاؤ کہ یہاں میرے سوا تمہیں کوئی اور پروردگار نظر آتا ہے اور کیا تمہارا پروردگار بھی میں ہی نہیں؟ تو ان سب ارواح نے مل کر یقین کے ساتھ یہ شہادت دی کہ اے اللہ صرف توہی ہمارا پروردگار ہے۔ بالفاظ دیگر یہ اس بات کی شہادت تھی کہ ہم کبھی کسی دوسرے کو تیرا شریک نہیں بنائیں گے۔ عہد الست کی تفصیل اور حالات ارضی :۔ یہ واقعہ محض تمثیلی طور پر بیان نہیں ہوا جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے بلکہ اس خارجی کائنات میں فی الواقع اسی طرح وقوع پذیر ہوا تھا جس طرح آدم علیہ السلام کی خلافت کے متعلق آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پیشتر اللہ تعالیٰ کا فرشتوں سے مکالمہ کا واقعہ ظہور پذیر ہوا تھا اور یہ اقرار اس لیے لیا گیا تھا کہ خلافت ارضی کی بنیاد اس وقت تک اٹھ ہی نہیں سکتی جب تک انسان ان دو باتوں کا اقرار نہ کرلے۔ ایک یہ کہ اس کائنات کا یقینی طور پر کوئی خالق موجود ہے اور دوسرے یہ کہ وہی خالق اس کائنات کی تربیت کر کے اس کو حد کمال تک پہنچانے والا ہے اور اس کے سوا کوئی پروردگار نہیں گویا یہی شہادت خلافت ارضی کے لیے بنیادی پتھر کا کام دیتی ہے اگر اس بنیاد کو نیچے سے کھینچ لیا جائے تو خلافت ارضی کا تصور بھی محال ہے لہٰذا بنی آدم کی تمام تر ارواح میں اس بنیادی حقیقت کی تخم ریزی کردی گئی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ عہد اتنا اہم تھا تو انسان کو یاد کیوں نہیں رہا ؟ اس کا الزامی جواب تو یہ ہے کہ انسان کو تو یہ بھی یاد نہیں کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ میں رہا تھا پھر اس سے پیدا ہوا کہاں پیدا ہوا ؟ کس وقت ہوا۔ غرض یہ کہ بے شمار ایسی باتیں ہیں جو انسان کو یاد نہ رہنے کے باوجود اپنی جگہ پر ٹھوس حقیقتیں ہوتی ہیں لہٰذا یاد نہ رہنے کا عذر معقول نہیں ہوسکتا اور حقیقی جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہی نہ تھا کہ وہ عہد انسان کو ہر وقت یاد رہے کیونکہ اس صورت میں انسان اللہ سے بغاوت اور اس کی نافرمانی کر ہی نہیں سکتا تھا اور یہ بات مشیت الہٰی کے خلاف ہے کیونکہ یہ دنیا انسان کے لیے دارالامتحان ہے لہٰذا اس واقعہ کو انسان کے شعور میں نہیں بلکہ تحت الشعور یا وجدان میں رکھ دیا گیا اور یہ اسی داعیہ کا اثر ہے کہ بعض دفعہ پکے کافر اور دہریہ قسم کے لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں یا مصیبت کے وقت لاشعوری طور پر اسے پکارنے لگتے ہیں۔ اس عہد کے لاشعور میں موجود ہونے کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ انسان میں دو طرح کی استعدادیں رکھی گئی ہیں ایک بالقوۃ، دوسری بالفعل۔ مثلاً ایک انسان پینٹر بننا چاہتا ہے تو وہ اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ اس میں یہ استعداد بالقوۃ موجود ہو یعنی وہ پینٹر بننے کی صلاحیت رکھتا ہو پھر اسے اس کے مطابق خارجی ماحول میسر آجائے یعنی اسے کوئی استاد وقت اور متعلقہ آلات اور سامان مل جائے تو محنت سے وہ پینٹر بن جائے گا۔ اس وقت اس کی وہ استعداد جو بالقوۃ تھی وہ بالفعل میں تبدیل ہوگئی اور اگر انسان یہ چاہے کہ وہ فرشتہ بن جائے تو وہ کبھی نہ بن سکے گا خواہ لاکھوں کوششیں کرے کیونکہ اس میں فرشتہ بننے کی استعداد بالقوۃ موجودہی نہیں ہے۔ قرآن کس لحاظ سے ذکر اور تذکرہ ہے؟ :۔ اب ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ اس عہد الست کی یاد اور خلافت ارضی کی استعداد انسان میں بالقوۃ موجود ہے پھر جب اسے خارج سے موافق ماحول اور سامان میسر آ جاتا ہے تو اس کی یہی استعداد بالفعل میں تبدیل ہوجاتی ہے موافق سامان اور ماحول سے یہاں مراد اللہ تعالیٰ کے پیغمبر اور اس کی کتابیں ہیں جو انسان کی استعداد کو صحیح راستے پر چلا دیتی ہیں تو اس ماحول سے ایسا صالح عنصر وجود میں آ جاتا ہے جو خلافت کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے معیار پر پورا اترتا ہے اسی لیے قرآن میں انبیاء و رسل کو مذکر (اس عہد الست بربکم کی یاددہانی کرانے والے) اور خود قرآن کو ذکر اور تذکرہ (یاد دہانی) کہا گیا ہے گویا انبیاء علیہم السلام اور کتابوں کا یہ کام ہوتا ہے جو استعداد انسان کے اندر بالقوۃ موجود تھی اس کو یاد دہانی کراتے رہیں اور اسے بالفعل کے مقام پر لے آئیں۔ الاعراف
173 [١٧٦] عہدِالست اور اتمام حجت :۔ اس ازلی عہد کی اللہ تعالیٰ نے دو اغراض بیان فرمائیں ایک یہ کہ انسان پر اتمام حجت ہوجائے اور کوئی مشرک، ملحد، کافر یا نافرمان انسان قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو اس حقیقت کا پتہ ہی نہ چل سکا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس عہد کو سمجھنے کی استعداد بھی انسان کے اندر رکھ دی ہے اور خارج میں انبیاء علیہم السلام اور کتابیں بھی بھیج دیں اور دوسری یہ کہ انسان اپنی سابقہ نسلوں پر یا بگڑے ہوئے ماحول پر اپنی گمراہی کی ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ہر شخص سے یہ عہد انفرادی طور پر لیا گیا تھا وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اصل میں مشرک یا قصوروار تو ہمارے بڑے بزرگ تھے اور ہمیں محض ان کی اولاد ہونے کی سزا کیوں دی جا رہی ہے؟ معتزلہ کا اس عہد الست سے انکار اور اس کی تردید :۔ عہد الست کے وقت تمام بنی آدم کی ارواح کو حاضر کرنے کا قصہ بہت سی کتب احادیث مثلاً ترمذی، ابو داؤد، مالک اور احمد میں کئی صحابہ سے منقول ہے اس کے باوجود معتزلہ نے اس قصہ کا انکار کیا ہے اور ایسی احادیث کو خبر واحد کی بنا پر رد کردیا ہے وہ اس آیت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی ذریت اس طرح نکالی کہ وہ بصورت نطفہ پشت آباء میں تھے۔ پھر وہاں سے اپنی ماؤں کے رحموں میں آئے پھر ان کو علقہ، پھر مضغہ وغیرہ مراحل طے کرا کے کامل الخلقت بنا کر ماؤں کے پیٹ سے نکالا پھر عقل و حواس عطا کیا جس سے وہ کائنات میں غور کر کے اس کی وحدانیت پر دلائل قائم کرنے کے قابل ہوئے۔ سو یہی دلائل گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے عہد اور خود ان کو اس بات پر گواہ بنانا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کائنات میں ایسے دلائل پیدا کرنا ہی گویا اقرار لینا اور ان کا اس حالت میں زبان حال سے اقرار کرلینا اور گواہ بننا ہے۔ معتزلہ اپنے اس مطلب کے حق میں دو دلائل پیش کرتے ہیں ایک نقلی، دوسری عقلی۔ نقلی دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں آدم علیہ السلام کا ذکر ہے اسی طرح بنی آدم کی وجہ سے من ظہورہم کے الفاظ آئے ہیں اگر یہ قصہ سیدنا آدم علیہ السلام سے ہی متعلق ہوتا تو من ظہور ہم کی بجائے من ظہرہ آنا چاہیے تھا۔ ان کی اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ سلسلہ وار ہر ایک نبی کی پشت سے اس کی اولاد نکالی جو تاقیامت پیدا ہونے والی ہے۔ مثلاً زید کو عمرو کی پشت سے اور عمرو کو اس کے باپ خالد کی پشت سے علیٰ ہذا القیاس تو لامحالہ اوپر کی جانب سیدنا آدم علیہ السلام پر ہی یہ سلسلہ منتہی ہوگا کیونکہ سب بنی آدم کے وہی باپ ہیں یعنی آدم علیہ السلام کی اولاد پھر اس کی اولاد علیٰ ہذا القیاس تمام بنی آدم کی ارواح حاضر کرلی گئیں جن میں آدم علیہ السلام بھی شامل اور موجود تھے اور قیامت تک ان کی ہونے والی ساری اولاد بھی۔ اب اگر آدم علیہ السلام کے اور من ظہرہ کے الفاظ ہوں تو بھی یہی مفہوم نکلتا ہے جو بنی آدم اور من ظہورہم کے الفاظ آنے سے نکلتا ہے گویا الفاظ کے اختلاف کی وجہ سے مفہوم میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اور ان کی عقلی دلیل یہ ہے کہ عہد تو اہل عقل و ادراک سے لیا جاتا ہے اور ارواح کو عقل و ادراک نہیں تھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ہم کو یاد بھی ہونا چاہیے تھا حالانکہ ایسا عہد کسی کو یاد نہیں اس دلیل کا جواب اوپر دیا جا چکا ہے۔ ان دو دلائل کے بعد معتزلہ نے جو اس آیت کا مطلب پیش فرمایا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کائنات میں دلائل پید اکر دینا ہی گویا اقرار لینا ہے اور لوگوں کا یا نبی آدم علیہ السلام کا اس حالت میں زبان حال سے اقرار کرلینا اور گواہ بننا ہے۔ بالفاظ دیگر کوئی واقعہ بھی ظہور میں نہیں آیا۔ اللہ نے کائنات پیدا کردی تو اللہ کا اقرار لینا ہوگیا اور لوگوں نے اس کائنات کو دیکھ لیا تو یہ ان کا اقرار کرلینا اور گواہ بننا ہوگیا اس توجیہہ میں جتنا وزن ہے وہ آپ خود ہی ملاحظہ فرما لیجئے۔ الاعراف
174 الاعراف
175 [١٧٧] دنیا اور خواہشات نفس کے پیچھے پڑنے والے لوگوں کی مثال :۔ اس شخص کا نام نہ قرآن میں مذکور ہے اور نہ احادیث میں اور جو مفسرین کے اقوال ہیں وہ بھی مختلف ہیں کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کا طریق بیان ایسا ہے کہ عموماً کسی برے شخص کا نام لے کر اسے بدنام نہیں کیا جاتا بلکہ صرف اس کی خصلت کو بیان کردیا جاتا ہے تاکہ دوسرے لوگ اس سے بچ جائیں اور یہ بات انتہائی اخلاقی بلندی کی دلیل ہے کہ کسی کو بدنام بھی نہ کیا جائے اور اصل مقصد بھی حاصل ہوجائے اور اس کی مثال ہر اس شخص پر صادق آ سکتی ہے جو ایسی صفات رکھتا ہو۔ یہ شخص آیات الٰہی کا عالم تھا باعمل اور مستجاب الدعوات تھا اور لوگوں میں اس کے زہد و اتقاء کی شہرت بھی تھی چند لوگوں نے اس کے پاس آ کر ایک ایسی دعا کی درخواست کی جو شرعاً ناجائز تھی پہلے تو اس نے ایسی ناجائز دعا کرنے سے انکار کردیا لیکن جب ان لوگوں نے اسے بہت سے مال و دولت کا لالچ دیا تو تھوڑی سی پس و پیش کے بعد وہ اس ناجائز کام پر آمادہ ہوگیا اس طرح اسے دنیوی فائدہ تو حاصل ہوگیا لیکن جس مقام بلند پر وہ جا رہا تھا اور آگے جانے کا اردہ رکھتا تھا اس سے گرگیا ۔ ایک دفعہ جب اس پر شیطان کا داؤ چل گیا تو آگے شیطان کا کام نسبتاً آسان تھا۔ چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ بعد وہ محض دنیوی مفادات کی خاطر اللہ کا پورا نافرمان بن گیا اور اپنے ارفع مقام سے گرتا گرتا زمین کی انتہائی پستی تک پہنچ گیا اس شخص یا اس جیسے شخص کی مثال اللہ تعالیٰ نے اس کتے سے دی ہے جس کی حرص اور لالچ کا عالم یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس کی طرف پتھر پھینکے تو بھی یہی سمجھتا ہے کہ شاید اس نے کوئی ہڈی یا روٹی کا ٹکڑا پھینکا ہوگا۔ پھر وہ اسے نوچتا اور ایک بار ضرور منہ میں لیتا ہے اس کی زبان ہر وقت باہر نکلی اور رال ٹپکتی رہتی ہے اور ہر چیز کو اس لیے سونگھنے کی کوشش کرتا ہے کہ شاید کہیں سے کھانے کی بو پا سکے اس کی حرص و آز کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اگر اسے کھانے کے لیے کہیں سے مردار پڑا مل جائے اور وہ اس کی ضرورت سے بہت زیادہ ہو تو بھی اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ کوئی دوسرا کتا اس کے ساتھ اس مردار کے کھانے میں شریک نہ ہو اور یہ مثال ان دنیا کے کتوں پر راس آتی ہے جو اپنی خواہش اور دنیوی مفادات کی خاطر اپنی اچھی سے اچھی قدروں کو قربان کردینے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ الاعراف
176 [١٧٧۔ الف] ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے کتے کی دو حالتیں بیان فرمائیں ایک اضطراری دوسری اختیاری۔ یعنی ہر حال میں وہ زبان منہ سے باہر نکالے رکھتا اور ہانپتا رہتا ہے۔ دنیا کے کتے کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے ایک دفعہ جو شیطان کے پھندے میں آ گیا تو پھر اس کی حالت ہی یہ ہوجاتی ہے کہ اسے کوئی مجبوری ہو یا نہ ہو بہرحال وہ دنیا کے طمع کی طرف لپکتا ہے اور حرام و حلال یا جائز و ناجائز کی تمیز اس سے ختم ہوجاتی ہے۔ بعض مفسرین نے تورات کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس آیت کا روئے سخن بلعم بن باعوراء کی طرف ہے۔ یہ شخص بڑا عابد، زاہد اور مستجاب الدعوات تھا جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل موآب کے میدانوں میں شہر یریحو (اریحاء) کے مقابل اترے تو اس وقت بلق بن صفور موآبیوں کا بادشاہ تھا۔ شکست کے خوف سے اس نے بلعم کے پاس قاصد بھیجے کہ وہ آ کر ان پر بددعا کرے پہلے تو اس نے انکار کیا مگر لالچ میں پڑ کر آخر آنے پر راضی ہوگیا۔ بلعم بلق کے پاس گیا اور ایک پہاڑ پر چڑھ کر بنی اسرائیل کو دیکھا تو بنی اسرائیل کے حق میں لعنت کے بجائے بے ساختہ کلمات برکت نکل گئے (تورات۔ کتاب عدد باب ٢٣، ٢٤) مگر چونکہ اس کا ارادہ بددعا کا تھا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کو جو کرامات و برکات دی تھیں سب اس سے سلب ہوگئیں۔ الاعراف
177 الاعراف
178 [١٧٨] علم گمراہی کا سبب بھی بن سکتا ہے :۔ یعنی انسان کو اس کا علم و فضل صرف اس صورت میں فائدہ دے سکتا ہے جبکہ اللہ کی طرف سے اس علم پر عمل کرنے کی توفیق بھی نصیب ہو لہٰذا کسی شخص کو اپنی علمی قابلیت اور فضیلت پر نازاں نہ ہونا چاہیے۔ بلکہ عقل کی کجروی سے بچنے اور سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ شیطان علم کی راہ سے بھی انسانوں کو گمراہ کرسکتا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ سب گمراہ فرقوں کے قائدین عموماً ذہین و فطین اور عالم لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔ الاعراف
179 [١٧٩] جنوں اور انسانوں کی اکثریت جہنم میں کیوں؟:۔ یعنی جنوں اور انسانوں کو ہم نے دل و دماغ اس لیے دیئے تھے کہ وہ غور و فکر سے کام لیں، آنکھیں اس لیے دی تھیں کہ ان سے اللہ کی نشانیوں کو دیکھیں اور کان اس لیے دیئے تھے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کا کلام اور حق کی باتیں سنیں لیکن ان میں اکثریت ایسی تھی جس نے اللہ کی ان عطا کردہ نعمتوں کو صحیح طور پر استعمال نہ کیا اور ان سے اتنا ہی کام لیا جتنا حیوان لیتے ہیں اور گمراہ ہوگئے جس کے نتیجہ میں انہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا اور یہ پہلے بتلایا جا چکا ہے کہ اسباب کو اختیار کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے اور اسی اختیار کے عوض انہیں جزا یا سزا ملے گی۔ رہے ان اسباب کے مسببات یا نتائج۔ تو ان نتائج پر صرف اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔ مثلاً اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس جہنم میں داخل ہونے والی اکثریت میں سے کسی کو معاف بھی کرسکتا ہے لہٰذا ان مسببات کی نسبت کرنے والوں کی طرف بھی ہو سکتی ہے کیونکہ انہوں نے ایسے اسباب اختیار کیے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بھی کیونکہ مسببات کا خالق وہ ہے۔ اس آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ نے جنوں اور انسانوں کو پیدا کرتے وقت یہ ٹھان لیا تھا کہ ان کی اکثریت کو جہنم میں داخل کرنا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا تو جنوں اور انسانوں کی پیدائش سے مقصد یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ (٥١ : ٥٦) اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ نے جنوں اور انسانوں کی اکثریت یا کثیر تعداد کو پیدا ہی اس لیے کیا تھا کہ انہیں جہنم داخل کیا جائے گا تو اس میں جنوں اور انسانوں کا کیا قصور ہے؟ اس شبہ کے ازالہ کے لیے اسی سورت کی آیت نمبر ٢٤ کے تحت حاشیہ نمبر ٢١ ملاحظہ کیا جائے۔ [١٨٠] کافر چوپایوں سے بھی بدتر کیسے؟ چوپایوں سے گئے گزرے اس لحاظ سے کہ چوپایوں کو تو عقل و تمیز عطا ہی نہیں کی گئی لہٰذا وہ ہدایت کی راہ تلاش کرنے یا اس پر چلنے کے مکلف ہی نہیں جبکہ انسان کو ہدایت کی راہ تلاش کرنے اور روحانی کمال تک پہنچنے کے لیے ایسی قوتیں عطا کی گئی ہیں پھر بھی اگر وہ ان سے کام نہیں لیتا اور گمراہ ہوتا ہے تو وہ چوپایوں سے بدتر ہوا۔ الاعراف
180 [١٨١] الحاد اور اس کی قسمیں :۔ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام صرف اللہ تعالیٰ ہے باقی اس کے جتنے بھی نام ہیں سب صفاتی ہیں۔ صحیح احادیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو شخص انہیں یاد کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا (بخاری کتاب التوحید باب ان للہ مائۃ اسم الا واحدۃ) اور اللہ تعالیٰ کے ان ناموں یا صفات میں کجروی کا ہی دوسرا نام الحاد ہے اور الحاد کی کئی قسمیں ہیں مثلاً ایک یہ کہ جو صفات اللہ تعالیٰ سے مختص ہیں وہ کسی دوسرے میں بھی تسلیم کرنا جیسے کسی اور کو بھی عالم الغیب یا رزاق اور داتا اور حاجت روا، مشکل کشا اور کار ساز سمجھنا اور دوسرے یہ کہ انہیں ناموں سے استدلال کر کے باطل چیزوں کے امکان پر بحث کرنا جیسے مثلاً یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جانتا ہے کیا وہ جادو کا علم بھی جانتا ہے یا یہ بحث کہ اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے تو کیا وہ جھوٹ بولنے پر بھی قادر ہے۔ تیسرے یہ کہ ان صفات میں فلسفیانہ موشگافیاں پیدا کرنا جیسے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفات حادث ہیں یا قدیم۔ مثلاً کلام کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے تو قرآن حادث اور مخلوق ہے یا نہیں؟ یا یہ کہ اللہ جو ہر جگہ موجود ہے اور ہر شخص کی شہ رگ سے بھی قریب ہے تو وہ عرش پر کیسے ہوا ؟ غرض الحاد کی جتنی بھی صورتیں ہیں سب کفر و شرک اور گمراہی کی طرف لے جانے والی ہیں لہٰذا ایک مسلمان کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کو زیر بحث لا کر اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش نہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ بات اس کے بس سے باہر ہے انسان کی عقل محدود اور اللہ تعالیٰ کی صفات کی وسعت لامحدود ہے نیز اللہ تعالیٰ نے خود بھی ﴿فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاَمْثَالَ ۭ اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ﴾ کہہ کر ایسی باتوں سے منع فرما دیا ہے۔ پھر یہ اعتقادی بیماریاں ایک تو آگے منتقل ہوتی جاتی ہیں دوسرے زندگی کا رخ غلط راہوں پر ڈال دیتی ہیں۔ الاعراف
181 [١٨٢] ایک فرقہ ہمیشہ حق پر رہتا ہے :۔ بلکہ ہر امت میں ایک گروہ ایسا رہا ہے جو حق پر قائم رہتا ہے خواہ اس کی تعداد کتنی ہی کم ہو اور یہ اس لیے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں پر اتمام حجت ہوتی رہے چنانچہ امت محمدیہ کے متعلق بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت (73) تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی تاہم ان میں ایک فرقہ ایسا ہوگا جو ہمیشہ حق پر قائم رہے گا تاآنکہ قیامت قائم ہو۔ (بخاری۔ کتاب الاعتصام۔ باب لاتزال طائفۃ من امتی۔۔) اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم بھی پہلے لوگوں کی راہوں پر جا پڑو گے اگر وہ بالشت بھر بڑھے تو تم ہاتھ بھر بڑھو گے۔ حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں گھسے تھے تو تم بھی ضرور گھسو گے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! پہلے لوگوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ فرمایا ’’اور کون ہیں؟‘‘ (مسلم، کتاب العلم، باب النھی عن اتباع متشابہ القرآن) الاعراف
182 الاعراف
183 [١٨٣] قانون امہال وتدریج :۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ مجرم لوگوں پر سرزنش اور تنبیہ کے طور پر پہلے چھوٹے چھوٹے دکھ اور تکلیفیں نازل فرماتا ہے اگر لوگ ان سے عبرت حاصل کرلیں تو خیر ورنہ انہیں ایک دوسرے طریقہ سے آزماتا ہے۔ یعنی ان پر خوش حالی اور آسودگی کا دور آتا ہے جس میں وہ ایسے مگن اور مستغرق ہوجاتے ہیں کہ انہیں سابقہ تکلیفیں یاد ہی نہیں رہتیں اور وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر مہربان ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ انہیں محض اس لیے مہلت دے رہا ہوتا ہے کہ جس انتہا کو پہنچنا چاہتے ہیں پہنچ جائیں تو پھر یکدم انہیں ان کے انجام سے دو چار کردیتا ہے اس وقت لوگوں کو کوئی طاقت اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا نہیں سکتی۔ الاعراف
184 [١٨٤] مجنون اور نبی میں فرق :۔ اب ایسے لوگوں کے بعض شبہات کا جواب دیا جا رہا ہے مثلاً : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری زندگی ان قریش مکہ کے سامنے ہے نبوت سے پیشتر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری قوم نہایت سلیم الطبع اور صحیح الدماغ نیز صادق اور امین کی حیثیت سے جانتی تھی۔ پھر جب نبوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں کو پہنچایا اور انہیں اخروی انجام سے ڈرایا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجنون اور آسیب زدہ کہنے لگے حالانکہ نبی جو کچھ کہتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس پر عمل پیرا ہوتا ہے اور اپنی بات پر اپنے پاکیزہ سیرت و کردار سے مہر تصدیق ثبت کرتا ہے ذرا سوچو! کسی مجنون میں یہ صفات پائی جاتی ہیں؟ پھر تم کس لحاظ سے اسے مجنون کہتے ہو؟ کیا صرف اس لیے کہ جو حقائق وہ پیش کرتا ہے وہ تمہاری طبائع قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہیں۔ حالانکہ اس کائنات کے نظام میں اگر وہ کچھ بھی غور و فکر کرتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ جو کچھ ان کا ساتھی انہیں سمجھا رہا ہے کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی شہادت دے رہا ہے۔ الاعراف
185 [١٨٥] یہاں حدیث سے مراد قرآن کریم ہے یعنی ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ان کے اخروی انجام سے متنبہ کردیا ہے جس سے انہیں یقیناً دو چار ہونا پڑے گا اور موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں لہٰذا ان کو جلد از جلد اس رسول پر اور اس کتاب پر ایمان لانا چاہیے ایسا نہ ہو کہ تم اپنی سوچ بچار میں یا اس کی مخالفت میں لگے رہو اور یکدم تمہیں موت آ جائے تو پھر افسوس اور حسرت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ الاعراف
186 الاعراف
187 [١٨٦] قیامت اچانک آئے گی :۔ قیامت کے اس بڑے حادثہ کی بہت سی علامات قرآن میں مذکور ہیں مثلاً زمین میں شدید زلزلے اور متواتر جھٹکے آئیں گے اور انسان حیرت سے یہ پوچھے گا کہ آج اس زمین کو کیا ہوگیا ہے ستارے بے نور ہوجائیں گے، سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح ادھر ادھر اڑنے لگیں گے اور ایسی ہی بہت سی باتیں یکدم ظاہر ہونے لگیں گی۔ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت (یوں اچانک) واقع ہوگی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہوگا اور وہ اس کی خرید و فروخت نہ کرسکیں گے نہ اسے لپیٹ سکیں گے اور ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ دھو کر لوٹ رہا ہوگا مگر وہ اسے پی نہ سکے گا اور ایک آدمی اپنا حوض درست کر رہا ہوگا مگر وہ اس میں سے اپنے جانوروں کو پانی نہ پلا سکے گا اور ایک آدمی اپنا نوالہ منہ کی طرف اٹھائے ہوگا مگر وہ اسے کھا نہ سکے گا۔ (بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب طلوع الشمس من مغربہا) [١٨٧] قیامت کا وقت نہ بتلانے کا فائدہ :۔ لوگ آپ سے قیامت کا سوال اس طرح کرتے ہیں جیسے آپ اسی مسئلہ کی تحقیق و تفتیش اور کھوج میں لگے ہوئے ہیں اور تلاش کے بعد اس کے علم تک رسائی حاصل کرچکے ہیں۔ حالانکہ قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور انبیاء علیہ السلام کسی ایسی بات کے پیچھے نہیں پڑا کرتے جس کا بتلانا اللہ تعالیٰ نے کسی خاص مصلحت کی بنا پر روک دیا ہو اور ظاہر ہے کہ اگر قیامت کا علم متعین تاریخ اور سن کے ساتھ دے دیا جاتا یا کسی کو اس کے موت کے وقت سے آگاہ کردیا جاتا تو اس طرح یہ دنیا انسان کے لیے دارالامتحان نہ رہ سکتی تھی لہٰذا ان باتوں کا کسی نبی تک کو نہ بتلانا مشیت الٰہی کے عین مطابق ہے اور لوگوں کو ایسے سوال کے پیچھے ہرگز نہ پڑنا چاہیے۔ بلکہ اس کے لیے کچھ تیاری کرنا چاہیے۔ الاعراف
188 [١٨٨] علم غیب جاننے کے فائدے، غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علم غیب جاننے کے دو فائدے بتلائے ہیں۔ ایک یہ کہ علم غیب جاننے والا اپنے لیے بہت سی بھلائیاں جمع کرسکتا ہے مثلاً ایک عام مثال لیجئے اگر کسی کو یہ بات یقینی طور پر معلوم ہو کہ فلاں وقت فلاں چیز کا بھاؤ اس حد تک چڑھ جائے گا تو وہ آسانی سے بہت نفع حاصل کرسکتا اور بہت سا مال و دولت کما سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ ایسے شخص کو کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔ اس لیے کہ وہ بروقت یا وقت سے پہلے اس کا علاج سوچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں تو اپنے بھی نفع و نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتا تو تمہارا یا دوسروں کے نفع و نقصان کا کیسے مختار ہوسکتا ہوں، اور دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب مجھے اتنا بھی علم غیب حاصل نہیں کہ اپنا ہی نفع و نقصان سوچ سکوں تو قیامت کے واقع ہونے کے متعلق آپ کو کیا بتا سکتا ہوں؟۔ غیب کی خبریں بتلانے والے :۔ اب اسی معیار پر ان لوگوں کو آپ پرکھ لیجئے جو ستاروں کی چالوں سے، ہاتھ کی لکیروں سے، مختلف طریقوں سے فال لینے سے یا جفرور مل کے علم سے یا اپنے کشف سے علم غیب جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کے اس دعویٰ کی کیا حقیقت ہے۔ مثلاً ایک نجومی، جوتشی جو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر قسمت کی انگوٹھیاں بیچتا اور مختلف طرح سے لوگوں کو ان کی قسمت کے احوال سے مطلع کرتا ہے اگر وہ یہ علم جانتا ہوتا تو کیا اس کی یہ حالت زار ہو سکتی تھی؟ کیا وہ چند دنوں میں امیر کبیر نہ بن سکتا تھا ؟ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کاہن حضرات لوگوں کو غیب کی خبریں بتلایا کرتے اور اس غرض سے بڑے بڑے لوگ دور دور سے ان کے آستانوں پر آتے اور گراں قدر نذرانے پیش کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص غیب کی خبریں بتلانے والے کے پاس جائے اور اس سے کچھ پوچھے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔‘‘ (مسلم۔ کتاب السلام، باب تحریم الکھانۃ ورتیان الکھان بحوالہ کتاب التوحیدباب ٢٦ ماجاء فی الکھان ونحوھم) نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’جو کوئی کسی کاہن کے پاس جا کر دریافت کرے پھر اسے سچا سمجھے تو اس نے اس سے اظہار براءت کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا ہے۔‘‘(ابو داؤد۔ کتاب الطب باب فی الکاھن۔ باب الکھانۃ والتطیر) ان احادیث سے از خود یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ غیب کی خبریں بتلانے والا خود کافر ہوتا ہے۔ الاعراف
189 الاعراف
190 [١٨٩] اولاد کے بارے میں شرکیہ افعال :۔ ترمذی میں ایک روایت آتی ہے کہ آدم و حوا علیہما السلام کے ہاں جو بچے پیدا ہوتے وہ مر جاتے تھے کیونکہ وہ کمزور الخلقت ہوتے تھے۔ ایک دفعہ جب سیدہ حوا علیہا السلام کو حمل ہوا تو آدم و حوا علیہا السلام دونوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اگر تندرست بچہ پیدا ہوا تو ہم اللہ کے شکر گزار ہوں گے۔ اسی دوران شیطان نے حوا علیہا السلام کو پٹی پڑھائی کہ اگر وہ اس ہونے والے بچے کا نام عبدالحارث رکھیں تو ان کا بچہ یقیناً تندرست ہوگا اور زندہ رہے گا۔ حارث دراصل ابلیس کا نام تھا اور جن دنوں وہ فرشتوں میں ملا ہوا تھا اسی نام سے پکارا جاتا تھا۔ چنانچہ حوا علیہا السلام نے شیطان سے اس بات کا وعدہ کرلیا اور سیدنا آدم علیہ السلام کو بھی اس بات پر راضی کرلیا۔ اس روایت کو حافظ ابن کثیر نے تین وجہ سے معلول قرار دیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا قصہ اسرائیلیات سے ماخوذ ہے نیز قرآن ہی کے الفاظ سے یہ قصہ کئی وجوہ سے باطل قرار پاتا ہے اور وہ یہ ہیں :۔ ١۔ ﴿ جَعَلاَلَہُ شُرَکَاءَ﴾ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا شریک صرف ایک شیطان ہی نہیں بنایا گیا بلکہ یہ شریک ایک جماعت یا کم از کم دو سے زیادہ ہیں۔ ٢۔ ﴿عَمَّا یُشْرِکُوْنَ﴾ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شرک کرنے والے دو (آدم و حوا علیہما السلام) نہ تھے بلکہ یہ بھی ایک جماعت ہے۔ ٣۔ اگر شیطان کو ہی شریک بنایا تھا تو اس کے لیے من آنا چاہیے تھا جو ذوی العقول کیلئے آتا ہے حالانکہ یہاں ﴿ مَالاَیَخْلُقُ﴾ کے الفاظ ہیں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو سب نام سکھلا دیئے تھے اگر ابلیس یا شیطان کا کوئی نام حارث بھی ہوتا تو وہ آپ کو ضرور معلوم ہونا چاہیے تھا کیونکہ اسی سے تو براہ راست آپ کی دشمنی ٹھن گئی تھی۔ علاوہ ازیں کسی بھی سند صحیح سے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ سیدنا آدم علیہ السلام کے کسی بیٹے کا نام عبدالحارث بھی تھا۔ اس آیت کے مخاطب دراصل مشرکین مکہ ہیں۔ ابتداء میں سیدنا آدم و حوا علیہما السلام کا ذکر ضرور ہے مگر بعد میں روئے سخن دور نبوی کے مشرکین کی طرف مڑ گیا ہے جن کی عادت تھی کہ جب بچہ پیٹ میں ہوتا تو اس کی سلامتی اور تندرست و صحیح سالم بچہ پیدا ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ ہی سے دعائیں کیا کرتے تھے لیکن جب صحیح و سالم بچہ پیدا ہوجاتا تو اللہ تعالیٰ کے اس عطیہ میں دوسروں کو بھی شکریے کا حصہ دار ٹھہرا لیتے تھے اور ان کے نام ایسے ہی رکھ دیتے جن میں شرک پایا جاتا مثلاً عبدالشمس، عبدالعزّٰی، عبد مناف وغیرہ اور نذریں نیازیں بھی اپنے دیوی دیوتاؤں کے آستانوں پر چڑھایا کرتے تھے۔ یہ حالت تو دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشرکین کی تھی۔ مگر آج کے دور کے مشرکین جو خود مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان مشرکوں سے چار ہاتھ آگے نکل گئے ہیں۔ یہ اولاد بھی غیروں سے مانگتے ہیں حمل کے دوران منتیں بھی غیروں کے نام ہی کی مانتے ہیں اور بچہ پیدا ہونے کے بعد نیاز بھی انہی کے آستانوں پر جا کر چڑھاتے ہیں اور نام بھی مشرکانہ رکھتے ہیں جیسے پیراں دتہ، پیر بخش وغیرہ۔ پھر بھی یہ موحد کے موحد اور مسلمان کے مسلمان ہی رہتے ہیں۔ الاعراف
191 [١٩٠] مخلوق الٰہ نہیں ہو سکتی :۔ اس آیت میں الوہیت کا یہ معیار پیش کیا گیا ہے کہ جو مخلوق ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتی۔ اس معیار کے مطابق اللہ کے سوا سب الٰہ باطل قرار پاتے ہیں خواہ وہ فرشتے ہوں یا انبیاء ہوں، یا شجر و حجر ہوں یا اولیاء و بزرگ ہوں، خواہ وہ زندہ ہوں یا فوت شدہ۔ کیونکہ ان میں سے ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے اور جو مخلوق ہے وہ فانی بھی ہوگا اور جو فانی ہے وہ الٰہ نہیں ہو سکتا۔ الاعراف
192 [١٩١] محتاج الٰہ نہیں ہوسکتا :۔ یعنی ایک تو اللہ کی جاندار مخلوق ہے جسے تم الٰہ بناتے ہو جیسے فرشتے یا انبیاء و اولیاء وغیرہ جنہیں حاجت روا اور مشکل کشا تصور کیا جاتا ہے یا کیا جاتا رہا ہے یہ بھی الٰہ نہیں ہو سکتے تو پھر جو تم پتھر کے بت بنا کر اور انہیں خدائی کا درجہ دے کر ان کی پوجا پاٹ شروع کردیتے ہو وہ کیسے الٰہ ہو سکتے ہیں وہ تو اپنے منہ سے مکھی بھی نہیں اڑا سکتے وہ تمہاری مدد کیا کریں گے؟ اور تمہاری کیا رہنمائی کریں گے کہ اگر تم خود انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو وہ آ بھی نہیں سکتے تم انہیں بلاؤ یا نہ بلاؤ ایک ہی بات ہے کیونکہ وہ تو حرکت کر ہی نہیں سکتے۔ الاعراف
193 الاعراف
194 [١٩٢] جو پکار نہ سن سکے وہ الٰہ نہیں :۔ یہ دوسری قسم کے الٰہ ہیں یعنی وہ انبیاء اور بزرگ جو فوت ہوچکے اور انہیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارا جاتا ہے اس لیے کہ پتھر کے بتوں کے لیے عباد کا لفظ استعمال نہیں ہوتا اور ان کے الٰہ ہونے کی تردید کے لیے یہ بات کافی ہے کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو وہ جواب بھی نہیں دے سکتے اور وہ تمہارے ہی جیسے ہیں تم سے کوئی بالاتر مخلوق نہیں۔ الاعراف
195 [١٩٣] جو بت مشرکوں نے بنا رکھے تھے ان کے ہاتھ، پاؤں، ناک، کان، آنکھیں وغیرہ سب کچھ ہوتا تھا اللہ تعالیٰ مشرکوں سے یہ پوچھتے ہیں کہ ان بتوں کے جو تم نے پاؤں بنا رکھے ہیں کیا یہ ان کے ساتھ چل بھی سکتے ہیں کیونکہ پاؤں بنانے کا مقصد تو یہی ہوتا ہے کہ ان سے چلا جا سکے پھر جب یہ پاؤں اپنی غرض اور مقصد پورا نہیں کرسکتے تو ایسے پاؤں بنانے کا فائدہ کیا ہے؟ اسی طرح ان کے جو تم نے ہاتھ بنا رکھے ہیں ان سے یہ پکڑ بھی نہیں سکتے۔ تمہاری بنائی ہوئی آنکھوں سے یہ دیکھ بھی نہیں سکتے اور نہ کانوں سے سن سکتے ہیں تو ایسے مصنوعی اعضاء بنانے کا فائدہ کیا ہے جو اپنی غرض پوری نہیں کرتے۔ شرک کی مختلف صورتیں :۔ مشرکوں کے شرک میں تین صورتیں پائی جاتی ہیں مثلاً ایک شخص سورج پرست ہے تو شرک کی ایک صورت تو یہ ہے کہ وہ بالخصوص سورج کے نکلتے وقت اور غروب ہوتے وقت اس کی طرف منہ کر کے اور اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر ادب سے کھڑا ہوجائے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ ان ستاروں کی روح کی پوجا کی جاتی ہے اور انہیں عند الضرورت پکارا جاتا ہے اور تیسری صورت یہ ہے کہ ان ارواح کی خیالی صورتیں متعین کر کے ان کے مجسمے بنا کر عبادت خانوں میں یا آستانوں میں رکھے جاتے ہیں پھر ان کی پوجا کی جاتی ہے اور تصور یہ ہوتا ہے کہ اس مجسمے کے ساتھ اس کی روح کا تعلق قائم رہتا ہے لہٰذا ان مجسموں کی جو پوجا پاٹ کی جاتی ہے وہ ان مجسموں کی نہیں بلکہ ان کی ارواح کی ہوتی ہے۔ مسلمانوں میں بھی یہ مرض عام ہے وہ مجسموں کی بجائے اولیاء اللہ کی قبروں سے یہی تمام تر عقائد وابستہ کردیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں شرک کی ان سب اقسام کا رد فرما دیا ہے۔ [١٩٤] مشرکوں کا اپنے معبودوں سے ڈرنا :۔ مشرکین مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کرتے تھے کہ ہمارے معبودوں کی بے ادبی کرنا چھوڑ دو ورنہ یہ معبود تم پر کوئی نہ کوئی آفت نازل کردیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ زمر میں فرمایا:﴿وَیُخَوِّفُوْنَکَ بالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ﴾(39 : 36)اسی کا جواب یہاں دیا جا رہا ہے کہ آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ تم اپنے تمام معبودوں سے درخواست کرو کہ وہ میرا جو کچھ بگاڑ سکتے ہیں اس میں کچھ بھی کسر نہ چھوڑیں اور مجھے مہلت بھی نہ دیں جو کرسکتے ہیں فوراً کریں اور میں دیکھوں گا کہ وہ میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟۔ الاعراف
196 [١٩٥] جب میرا سر پرست اور کارساز اللہ تعالیٰ ہے جس نے یہ قرآن نازل کیا ہے تو پھر مجھے تمہارے ان معبودوں سے نقصان پہنچنے کا کیا خطرہ ہوسکتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ بات صرف مجھی پر منحصر نہیں اللہ اپنے سب نیک بندوں کی سرپرستی فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ سرپرستی کیا کم ہے کہ اس نے قرآن جیسی بابرکت کتاب ہمارے لیے نازل فرمائی ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ الاعراف
197 الاعراف
198 [١٩٦] مجسموں کی کیفیت :۔ اس آیت میں پھر مشرکوں کے مجسموں کا ذکر ہے کہ وہ ان کی آنکھیں ایسی موٹی موٹی اور کھلی ہوئی بناتے ہیں جن سے آپ کو ایسا معلوم ہو کہ وہ آپ کو دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہیں حالانکہ ان میں بصارت نام کو نہیں ہوتی۔ نیز اس آیت کے مخاطب خود مشرکین اور منکرین بھی قرار دیئے جا سکتے ہیں جو ظاہری آنکھوں سے تو دیکھتے معلوم ہوتے ہیں لیکن دل کی آنکھوں سے کچھ نہیں دیکھتے اور اپنی بصیرت سے کوئی کام نہیں لیتے۔ الاعراف
199 [١٩٧] داعی حق کے لئے ہدایات۔ ١۔ عفو ودرگزر ، ٢۔ اچھی باتوں کا حکم ، ٣۔ بحث میں پرہیز۔ ٤۔ جوابی کارروائی سے اجتناب :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت مختصر الفاظ میں تین نصیحتیں بیان فرمائی ہیں جو ہر داعی حق کے لیے نہایت اہم ہیں گویا داعی حق کو درپیش مسائل کا حل چند الفاظ میں بیان کر کے دریا کو کوزہ میں بند کردیا گیا ہے اور وہ یہ ہیں۔ ١۔ پچھلی چند آیات میں مشرکین کے معبودان باطل پر اور خود مشرکوں پر سنجیدہ الفاظ میں تنقید کی گئی ہے۔ جس کا یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہر اگلنا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنا شروع کردیں۔ اندریں صورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو درگزر کرنے کی روش اختیار کرنا چاہیے، حوصلہ اور برداشت سے کام لینا چاہیے۔ اپنے رفقاء کی کمزوریوں پر بھی اور اپنے مخالفین کی اشتعال انگیزیوں پر بھی اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھنا چاہیے کیونکہ دعوت حق کے دوران اشتعال طبع سے بسا اوقات اصلی مقصد کو نقصان پہنچ جاتا ہے اور یہ صفت آپ میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا﴿فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ ....﴾ (3: 159) ٢۔ صاف اور سادہ الفاظ میں ایسی بھلائیوں کی طرف دعوت دینا چاہیے جن کو عقل عامہ تسلیم کرنے کو تیار ہو اور اس انداز میں دینا چاہیے جسے لوگ گران بار محسوس نہ کریں اس کی بہترین مثال یہ واقعہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو یہ ہدایات فرمائیں۔ سب سے پہلے لوگوں کو ایک اللہ کی طرف دعوت دو پھر جب وہ اسلام لے آئیں تو انہیں بتلاؤ کہ تمہارے پروردگار نے تم پر دن بھر میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں پھر جب وہ اس پر عمل کرنے لگیں تو پھر بتلانا کہ تمہارے اموال پر اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ فرض کی ہے اور دیکھو زکوٰۃ وصول کرتے وقت ان کے عمدہ عمدہ مال لینے سے اجتناب کرنا اور مظلوم کی بددعا سے بچتے رہنا، کیونکہ اللہ اور مظلوم کی بددعا کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ (بخاری۔ کتاب الزکوۃ۔ باب لاتؤخَذَ کرائم اموال الناس فی الصدقۃ ) اس حدیث میں دعوت کی ترتیب اور خطاب کا جو انداز بیان کیا گیا ہے اس میں داعی حق کے لیے بے شمار اسباق موجود ہیں نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی داعی کو روانہ فرماتے تو انہیں ارشاد فرماتے: (بَشِّرُوْا وَلاَتُنَفِّرُوْا وَیَسِّرُوْا وَلاَ تُعَسِّرُوْا) (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب بعث ابی موسیٰ و معاذ الیٰ یمن) یعنی جہاں تم جاؤ تمہاری آمد لوگوں کے لیے خوشی کا باعث بنے نفرت کا باعث نہ بنے اور تم لوگوں کے لیے سہولت کا موجب بنو، تنگی اور سختی کا موجب نہ بنو۔ ٣۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ اعتراض برائے اعتراض اور بحث برائے بحث کرنے والوں سے کنارہ کش رہنے کی کوشش کرو اگر تم ان کی ہی باتوں میں الجھ گئے تو دعوت حق کے فروغ کا کام وہیں رک جائے گا لہٰذا ایسے لوگوں کے اعتراضات اور طعن و تشنیع کا جواب دینے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان سے بے نیاز ہو کر اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے۔ الاعراف
200 [١٩٨] یہ دراصل چوتھی ہدایت ہے کہ اگر کسی وقت معترضین کے اعتراضات یا مخالفین کی شرارتوں پر اشتعال آ بھی جائے تو سمجھ لو کہ یہ شیطان کی انگیخت ہے کیونکہ شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ دعوت حق کے راستے میں مختلف طریقوں سے رکاوٹیں کھڑی کر دے تو اسی وقت اللہ سے شیطان مردود سے پناہ مانگنا چاہیے کہ وہ اسے جوش میں بے قابو ہونے سے بچا لے اور اللہ چونکہ سمیع علیم ہے لہٰذا وہ آپ کے دل سے ایسے خیال کو دور کر دے گا۔ الاعراف
201 [١٩٩] ربط مضمون کے لحاظ سے یہاں شیطانی انگیخت سے مراد ایسا شر یا شرارت سجھانا ہے جو کسی فتنہ و فساد پر منتج ہوتا ہو اور اس آیت میں روئے سخن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہٹ کر تمام داعیان حق کی طرف ہوگیا ہے۔ مثلاً فلاں شخص نے جو تمہاری تردید کر کے یا دشنام طرازی کر کے تم پر جو وار کیا ہے اس کا تمہیں ضرور جواب دینا چاہیے اور شیطان کی طرف سے یہ وسوسہ داعی حق کے دل پر کئی دینی مصلحتوں کے خوبصورت لباس میں لپیٹ کر پیدا کیا جاتا ہے لیکن جب یہ اللہ سے ڈرنے والے داعی ایسے وسوسہ پر غور و فکر کرتے ہیں تو اس کے نتائج دیکھ کر ایک دم چونک پڑتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے بروقت انہیں غلط کام کا انجام سجھا دیا اور شیطان کے فتنہ سے بچا لیا۔ تاہم یہ حکم عام ہے خواہ کوئی داعی حق ہو یا نہ ہو اور شیطانی وسوسہ اللہ کی یاد سے غفلت یا کسی بھی گناہ کے کام کی رغبت پر محمول ہو۔ ہر صورت میں جب اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اس شیطانی وسوسہ کے انجام پر غور کرتے ہیں تو یکدم صحیح صورت حال ان کے سامنے آ جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے لگتے ہیں۔ الاعراف
202 [٢٠٠] لیکن ایسا ہی وسوسہ اگر شیطان کسی کے نافرمان یا باغی کے دل میں ڈال دے اور ایسے لوگ فوراً اس وسوسہ میں پھنس کر معصیت کی رو میں بہہ جاتے ہیں اس کے بعد بھی شیطان انہیں معاف نہیں کرتا بلکہ ان کا حوصلہ بڑھاتا رہتا ہے اور اسے جب بھی موقع ملے اپنے ان بھائیوں کو گمراہی میں کھینچتا چلا جاتا ہے۔ الاعراف
203 [٢٠١] آپ پر قرآن تصنیف کرنے کا الزام اور اس کا جواب :۔ اس آیت سے موضوع سخن بدل گیا ہے اور اس میں کافروں کے ایک مطالبہ کا اور اس کے جواب کا ذکر ہے اگر اس آیت کا معنی قرآن کی کوئی آیت ہی کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جب کوئی قرآنی سورت یا آیات کے نازل ہونے میں دیر واقع ہوجاتی تو کافر کہنے لگتے کہ اپنی مرضی کی کوئی آیت تمہیں اب تک لے آنا چاہیے تھی اور ایسے استہزاء سے ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ پہلے جو قرآن تم ہمیں سناتے ہو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ نہیں بلکہ تمہارا اپنا ہی تصنیف کردہ ہے لہٰذا اب اگر دیر ہوگئی تو کیا ہوا ؟ کچھ اور بھی اپنی پسندیدہ آیات تمہیں اب تک تصنیف کر کے پیش کردینا چاہئیں تھیں۔ اور اگر آیت کا معنی معجزہ لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس حسی معجزہ کے لانے کا ہم آپ سے مطالبہ کرچکے ہیں ان میں سے جو بات آپ کو پسند ہو اسی کے لیے آپ اللہ سے تعالیٰ کہیں کہ وہ ہمیں دکھلا دے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ انہیں واضح الفاظ میں بتلا دیجئے کہ معجزات دکھلانا میرا کام نہیں نہ میرا معجزات پر کوئی اختیار ہے میرا کام صرف یہ ہے کہ جو وحی مجھ پر نازل ہوتی ہے میں خود بھی اس کی پیروی کروں اور دوسروں کو بھی اس کی پیروی کی دعوت دوں اور اگر تم سوچو تو یہ قرآن بذات خود ایک بڑا معجزہ ہے جس میں ہر ہدایت کے متلاشی کے لیے بے شمار بصیرت افروز دلائل موجود ہیں اور چونکہ یہ کتاب دنیوی اور اخروی کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے لہٰذا یہ کتاب ہدایت ہونے کے علاوہ لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی رحمت بھی ہے۔ الاعراف
204 [٢٠٢] قرآن کا سننا باعث رحمت ہے :۔ مشرکین مکہ نے جیسے مسلمانوں پر یہ پابندی عائد کر رکھی تھی کہ وہ بیت اللہ میں داخل ہو کر نہ نماز ادا کرسکتے ہیں اور نہ طواف کرسکتے ہیں۔ اسی طرح یہ پابندی بھی لگا رکھی تھی کہ مسلمان نماز میں قرآن بلند آواز سے نہ پڑھا کریں کیونکہ اس طرح ان کے بچے اور ان کی عورتیں قرآن سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ دوسرے انہوں نے آپس میں سمجھوتہ کر رکھا تھا کہ ہم میں سے کوئی شخص قرآن نہ سنے۔ اگرچہ قرآن کی فصاحت و بلاغت اور شیریں انداز کلام سے وہ خود بھی متاثر ہو کر اپنی اس تدبیر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کبھی کبھی قرآن سن لیا کرتے تھے۔ اور قرآن کی دعوت کو روکنے کے لیے ان کی تیسری تدبیر یہ تھی کہ جہاں قرآن پڑھا جا رہا ہو وہاں خوب شوروغل کیا جائے تاکہ قرآن کی آواز کسی کے کانوں میں نہ پڑ سکے اس طرح تم اپنے مشن میں کامیاب ہو سکتے ہو۔ (٤١ : ٢٦) اسی پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس روش کو چھوڑ دو اور ذرا غور سے سنو تو سہی کہ اس میں کیا تعلیم دی گئی ہے کیا عجب کہ تم خود بھی اسی رحمت کے حصہ دار بن جاؤ جو ایمان لانے والوں کو نصیب ہوچکی ہے۔ مخالفین کی معاندانہ سرگرمیوں کے مقابلہ میں یہ ایسا دل نشین انداز تبلیغ ہے جس سے ایک داعی حق کو بہت سے سبق مل سکتے ہیں۔ قرآن کو خاموشی سے سننا :۔ اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے وہ مسلم اور غیر مسلم سب کے لیے عام ہے اور اس سے یہ بات بھی مستنبط ہوتی ہے کہ جہاں قرآن پڑھا اور سنا جاتا ہو وہاں اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک مسئلہ یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب جہری نمازوں میں امام قراءت کر رہا ہو تو مقتدی کو بھی بالخصوص سورۃ فاتحہ ساتھ ساتھ دل میں پڑھنی چاہیے یا نہیں۔ اس مسئلہ میں اگرچہ بعض علماء نے اختلاف کیا ہے تاہم ہمارے خیال میں اس مسئلہ میں وہ حدیث قول فیصل کا حکم رکھتی ہے جو سورۃ فاتحہ کے حاشیہ نمبر ١ میں درج کی جا چکی ہے۔ الاعراف
205 [٢٠٣] تلاوت قرآن کے آداب :۔ صبح و شام سے مراد یہ دونوں مخصوص وقت بھی ہو سکتے ہیں اور صبح و شام کی نمازیں بھی اور صبح و شام بطور محاورہ استعمال ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر وقت اللہ کو یاد کرتے رہنا یا دل میں اس کی یاد رکھنا چاہیے۔ اسی طرح ذکر سے مراد قرآن کریم کی تلاوت بھی ہو سکتی ہے کیونکہ سب سے بڑا ذکر تو خود قرآن کریم ہے اور نمازیں بھی ہو سکتی ہیں جن میں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے اور ہر وقت دل میں یاد رکھنا بھی مراد ہوسکتا ہے اور جس ذکر میں دل اور زبان دونوں مشغول ہوں تو دل میں عاجزی اور خضوع ہونا چاہیے اور آواز پست ہونا چاہیے خواہ یہ ذکر جہراً ہی کیا جا رہا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا یہی تقاضا ہے۔ [٢٠٤] سب سے بڑی غفلت تو یہی ہے کہ انسان یہ بھول جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے اور اس دنیا میں جو دارالامتحان ہے اسے اللہ کا بندہ بن کر ہی رہنا چاہیے۔ نیز یہ بھول جائے کہ آخرت میں اس کے سب اعمال پر جواب طلبی اور مواخذہ ہوگا۔ دنیا میں جب بھی کوئی فتنہ و فساد پیدا ہوا ہے تو اسی قسم کی غفلت سے پیدا ہوا ہے اسی لیے مسلمانوں کو بار بار تاکید کی جا رہی ہے کہ انہیں کسی وقت بھی ایسی غفلت میں نہ رہنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہنا چاہیے جو اس غفلت کا صحیح علاج ہے۔ الاعراف
206 [٢٠٥] کیونکہ اکڑنا شیطان کا کام ہے اس کے مقابلہ میں فرشتوں کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے، اپنی غلطی کا اعتراف کرتے اور ہر وقت اس کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں جیسا کہ سورۃ بقرہ میں قصہ آدم علیہ السلام و ابلیس میں گزر چکا ہے۔ [٢٠٦] اس آیت کے اختتام پر مسلمانوں کو بھی سجدہ کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اس کا حال بھی ملائکہ مقربین کے حال کے مطابق ہوجائے۔ چنانچہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب ابن آدم سجدہ کی آیت پڑھتا ہے اور سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے علیحدہ ہوجاتا ہے اور کہتا ہے ’’میری بربادی، ابن آدم کو سجدہ کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کیا اور اس کے لیے جنت ہے اور مجھے حکم ملا تو میں نے انکار کیا اور میرے لیے دوزخ ہے۔‘‘ (مسلم کتاب الایمان۔ باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلوۃ) سجدہ ہائے تلاوت :۔ قرآن کریم میں ١٤ مقامات ہیں جہاں آیات سجدہ آئی ہیں۔ لیکن سجدہ تلاوت کے وجوب میں اختلاف ہے۔ بعض علماء اسے واجب سمجھتے ہیں اور بعض سنت یا مستحب۔ علاوہ ازیں بعض علماء کے نزدیک سجدہ تلاوت کے لیے نہ وضو ضروری ہے اور نہ قبلہ رخ ہونا اور نہ سلام پھیرنا، نیز یہ سواری پر بھی سر جھکانے سے ادا ہوجاتا ہے تاہم مستحب یہی ہے کہ سجدہ تلاوت بھی انہیں آداب کے ساتھ بجا لایا جائے جیسا کہ نماز میں سجدہ کیا جاتا ہے یعنی باوضو اور قبلہ رخ ہو کر ادا کیا جائے۔ الاعراف
0 الانفال
1 [١] انفال سے مراد کون سے اموال ہیں؟:۔ اموال زائدہ یا انفال سے مراد وہ اموال ہیں جو کسی کی محنت کا صلہ نہ ہوں بلکہ اللہ نے محض اپنے فضل و کرم سے عطا کئے ہوں اور ان کی کئی اقسام ہیں مثلاً (١) اموال غنیمت جو اگرچہ مجاہدین کی محنت کا صلہ معلوم ہوتا ہے۔ تاہم اسے اس لیے انفال میں شمار کیا گیا کہ پہلی امتوں پر غنیمت کے اموال حرام تھے۔ ایسے سب اموال ایک میدان میں اکٹھے کردیئے جاتے پھر رات کو آگ اتر کر ان کو بھسم کردیتی تھی۔ مگر اس امت پر حلال کی گئی ہے (٢) اموال فے یعنی ایسے اموال جو لڑے بھڑے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں (٣) اموال سلب یعنی وہ مال جو ایک مجاہد مقتول دشمن کے جسم سے اتارتا ہے (٤) دیگر اموال جیسے جزیہ، صدقات اور عطیات وغیرہ۔ یہ سب انفال کے ضمن میں آتے ہیں۔ [ ٢] سورۃ انفال کا شان نزول، غزوہ بدر اور اموال غنیمت میں جھگڑا :۔ غزوہ بدر کے اختتام پر یہ صورت پیدا ہوئی کہ جس فریق نے اموال غنیمت لوٹے تھے وہ ان پر قابض ہوگیا تھا۔ ایک دوسرا فریق جس نے کفار کا تعاقب کیا تھا یہ کہتا تھا کہ ہم بھی ان اموال میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ اگر ہم کفار کا تعاقب نہ کرتے تو وہ مڑ کر حملہ کرسکتے تھے اور اس طرح فتح شکست میں تبدیل ہو سکتی تھی اور ایک تیسرا فریق جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد حفاظت کی خاطر حصار بنائے ہوئے تھا وہ کہتا تھا کہ ہم بھی ان اموال میں برابر کے حصہ دار ہیں کیونکہ اگر ہم آپ کی حفاظت نہ کرتے اور خدانخواستہ آپ کو کوئی گزند پہنچ جاتا تو فتح شکست میں بدل سکتی تھی۔ مگر قابضین ایسی باتیں قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ جس سے ان مجاہدین میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس صورت حال کا حل دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے اور وحی الٰہی کا انتظار کرنے لگے۔ اس وقت یہ آیت بلکہ اس سورۃ کا کثیر حصہ نازل ہوا۔ جس کی ابتدا ہی مسلمانوں کی اخلاقی کمزوریوں اور ان کی اصلاح کے طریقوں سے کی گئی ہے۔ [ ٣] اموال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کے لئے کیوں؟:۔ اموال غنیمت وغیرہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک فیصلہ دے دیا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ لہٰذا تمہیں اس میں جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان اموال کے متعلق جو فیصلہ کرے گا وہی تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن میں ایک تلوار لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ! اللہ نے مشرکین (کو قتل کرنے) سے میرا سینہ ٹھنڈا کردیا۔ یا کچھ ایسے ہی الفاظ کہے اور کہا کہ یہ تلوار آپ مجھے ہی دے دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یہ تلوار میری ہے نہ تیری ہے۔‘‘ میں نے (دل میں) کہا : ہوسکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تلوار کسی ایسے آدمی کو دے دیں۔ جس نے مجھ جیسی محنت نہ کی ہو، پھر میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کہا کہ : تو نے مجھ سے تلوار مانگی تھی۔ اس وقت وہ میری نہ تھی اور اب مجھے اختیار دیا گیا ہے۔ لہٰذا وہ تمہیں دیتا ہوں۔ اس وقت یہ آیت اتری۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر، مسلم، کتاب الجہادوالسیہ، باب الانفال) اور اموال غنیمت کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حق قرار دینے کی وجہ یہ تھی کہ غزوہ بدر میں مسلمانوں کو فتح خالصتاً اللہ کی مدد اور مہربانی سے حاصل ہوئی تھی۔ جیسا کہ اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ پھر اسی سورۃ کی آیت نمبر ٤١ کی رو سے اموال غنیمت میں پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مقرر کیا گیا اور باقی ٥؍٤ مجاہدین میں برابر تقسیم کا حکم دیا گیا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ نے مال غنیمت ہمارے ہاتھوں سے نکال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اختیار میں دے دیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو برابر تقسیم کردیا (حاکم، کتاب التفسیر) رہے اموال فئ، اموال سلب اور متفرق اموال تو ان کے الگ الگ احکام ہیں جو اپنے اپنے موقعہ پر بیان ہوں گے۔ [ ٤] یعنی اموال غنیمت کے جھگڑے میں پڑ کر اپنے تعلقات خراب نہ کرلو۔ بلکہ اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کے حکم کو تسلیم کرو اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان اموال کو جس طرح تقسیم کرے اسے قبول کرو اور ہر کام میں اس کی اطاعت کو اپنا شعار بنا لو اور اگر تم فی الواقع اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتے ہو تو تمہیں برضا و رغبت ان احکام کو تسلیم کرلینا چاہیے۔ الانفال
2 [٥] سچے مومن کی علامات :۔ اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں مومنوں کی چند علامات ذکر کر کے بتلایا ہے کہ مومن ہونے کا وہی دعویٰ کرسکتے ہیں جن میں یہ علامات پائی جاتی ہوں، سرفہرست یہ ہے کہ جب ان کے تنازعات کے درمیان اللہ کا ذکر یا اس کا حکم آ جائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور وہ اس کی نافرمانی سے کانپ اٹھتے ہیں۔ دوسری علامت یہ ہے کہ جب ان پر اللہ کے احکام بیان کئے جائیں تو وہ بسر و چشم اس کی اطاعت کرتے ہیں جس سے ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان ایک ہی حالت پر نہیں رہتا بلکہ اللہ کی فرمانبرداری سے اس میں اضافہ اور اس کی نافرمانی سے اس میں کمی واقع ہوتی رہتی ہے اور تیسری علامت یہ ہے کہ جس کام کا انہیں حکم دیا جاتا ہے وہ اس کے جملہ اسباب تو اختیار کرتے ہیں مگر ان کا بھروسہ ان اسباب پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔ اپنی پوری کوششوں کے بعد وہ اس کے انجام اور نتیجہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتے ہیں۔ الانفال
3 [٦] ان کی چوتھی علامت یہ ہے کہ وہ نماز کو اس کے پورے آداب اور حقوق کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور پانچویں علامت یہ ہے کہ اپنے اموال میں سے اللہ کے اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں۔ مثلاً حج و عمرہ اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر حق ہے۔ اموال زکوٰۃ میں اللہ کا اور بندوں کا دونوں کا حق ہے۔ اسی طرح نفلی صدقات، اقرباء، فقراء اور مساکین کے لیے ہوتے ہیں۔ الانفال
4 [٧] سچے مومنوں کا درجہ :۔ جن ایمان داروں میں یہ پانچ علامات پائی جاتی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے پکے سچے مومن قرار دیا ہے۔ ایسے ہی مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات بھی ہوں گے، بخشش بھی اور عزت کی روزی بھی۔ اب دیکھئے پہلی آیت میں جن تین علامات کا ذکر کیا گیا ہے وہ قلبی عبادت سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر درمیان میں آ جانے سے دلوں کا دہل جانا اللہ تعالیٰ کی آیات سے ایمان میں اضافہ ہوجانا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا اور نماز بدنی عبادت ہے اور انفاق فی سبیل اللہ مالی عبادت ہے۔ اب بعض علماء نے ان میں یہ نسبت قائم کی ہے کہ قلبی عبادات کے عوض درجات میں بلندی ہوگی اور بدنی عبادات کے عوض مغفرت ہوگی اور مالی عبادات کے عوض عزت کی روزی ملے گی۔ الانفال
5 [٨] جنگ بدر کا پس منظر :۔ اموال غنیمت کے متعلق فیصلہ کرنے اور مومن کو پند و نصائح کے بعد اب یہ بتلایا جا رہا ہے کہ غزوہ بدر کی ابتداء کن حالات میں اور کیسے ہوئی۔ صورت حال یہ تھی کہ کفار مکہ کے ظلم و ستم سے مجبور ہو کر اور لٹ پٹ کر مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آ گئے تھے۔ مگر ان کفار نے پھر بھی مسلمانوں کا پیچھا نہ چھوڑا اکا دکا ناکام سے حملے بھی کرچکے تھے اور آئندہ مسلمانوں کے مکمل طور پر استیصال کی تدبیریں سوچ رہے تھے۔ ان حالات میں مسلمانوں نے یہ سوچا کہ قریش کی تجارتی شاہراہ کی ناکہ بندی کردی جائے چنانچہ اس غرض کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شاہراہ کے قریب بسنے والے قبائل سے معاہدے بھی کئے، ان میں سے بعض قبائل تو مسلمانوں کے حلیف بن گئے اور بعض سے غیر جانبدار رہنے کا معاہدہ کیا گیا۔ اور اس ناکہ بندی سے مقصود یہ تھا کہ اس تجارت سے کمایا ہوا مال جو مسلمانوں کے استیصال پر خرچ ہونا ہے اس پر مسلمان کنٹرول کرسکیں۔ دوسرے ان مشرکوں نے مسلمانوں کو بے سرو سامانی کی حالت میں ہجرت کرنے پر مجبور کیا اور بعد میں ان کی جائیدادوں پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔ پھر انہی جائیدادوں کو بیچ کر ان سے اس تجارتی قافلہ کے لیے سرمایہ مہیا کیا گیا تھا۔ اور طے یہ ہوا تھا کہ اس تجارتی قافلہ کا منافع تو مسلمانوں کے استیصال پر خرچ کیا جائے۔ اور اصل زر ان لوگوں کو واپس کردیا جائے جنہوں نے مسلمانوں کی جائیدادیں فروخت کر کے سرمایہ لگایا تھا۔ اس طرح وہ گویا مسلمانوں پر دوہرا ظلم ڈھا رہے تھے۔ اور ان واقعات کی خبریں مدینہ بھی پہنچ رہی تھیں۔ لہٰذا مسلمانوں کے لیے اس قافلہ کی ناکہ بندی ضروری ہوگئی تھی۔ چنانچہ ٢ ھ میں قریش کا یہی قافلہ ابو سفیان کی سر کردگی میں شام سے واپس مکہ جا رہا تھا۔ اس قافلہ کے محافظ تو صرف چالیس پچاس آدمی تھے۔ جبکہ یہ قافلہ ایک ہزار بار بردار اونٹوں پر مشتمل تھا اور تقریباً پچاس ہزار دینار کا مال لے کر مکہ جا رہا تھا۔ مسلمانوں نے ارادہ کیا کہ اس قافلہ پر حملہ کردیا جائے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ قافلہ پر حملہ کی تیاری :۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ معلوم کر کے آئیں کہ ابو سفیان کا قافلہ کس حال میں ہے۔ بسیسہ جب واپس آئے تو اس وقت گھر میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کوئی نہ تھا۔ بسیسہ نے خبر سنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور فرمایا : ’’ہمیں قافلہ کی طلب ہے۔ لہٰذا جس کے پاس سواری ہو وہ ہمارے ساتھ چلے۔ بعض لوگوں نے دور کے مقام سے اپنی سواریاں لانے کی اجازت طلب کی۔ آپ نے فرمایا : نہیں جس کی سواری حاضر ہے وہ چلیں۔ پھر آپ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ روانہ ہوگئے۔‘‘ (مسلم، کتاب الامارہ، باب ثبوت الجنۃ للشہید) ابوجہل کا جنگ پر اصرار :۔ اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کی غرض سے کسی کو شامل ہونے کی دعوت نہیں دی تھی۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر سے نکال لانے میں اللہ کی حکمت یہ تھی کہ کافروں سے مڈ بھیڑ ہو اور حق و باطل کا معرکہ بپا ہو۔ چنانچہ حالات کا پانسہ یوں بدلا کہ ابو سفیان کو بھی مسلمانوں کے اس ارادہ کی خبر ہوگئی تو اس نے قافلہ کی حفاظت کے لیے ایک تیز رفتار سوار کو مکہ بھیج کر کفار مکہ کو مسلمانوں کے اس ارادہ سے مطلع کردیا۔ چنانچہ ایک ہزار آدمیوں پر مشتمل لشکر ابو جہل کی سر کردگی میں اس تجارتی قافلہ کی حفاظت کے لیے روانہ ہوگیا۔ اب اللہ تعالیٰ کا کرنا یہ ہوا کہ ابو سفیان اپنی راہ بدل کر خیر خیریت سے واپس مکہ مکرمہ پہنچ گیا اور کافروں کا یہ لشکر میدان بدر تک جا پہنچا۔ وہاں پہنچ کر ان لوگوں کو بھی خبر مل گئی کہ تجارتی قافلہ بخیریت مکہ پہنچ گیا ہے۔ لہٰذا کچھ لوگوں کی رائے یہ ہوئی کہ اب ہمیں واپس مکہ چلے جانا چاہیے کیونکہ جس مقصد سے ہم آئے تھے وہ پورا ہوچکا۔ لیکن ابو جہل اس بات پر مصر تھا کہ یہاں تک تو یہ لشکر پہنچ ہی چکا ہے اور مسلمان بھی آ پہنچے ہیں تو اب ان سے جنگ کر کے اور ان کا استیصال کر کے ہی جانا چاہیے۔ اس طرح اس معرکہ حق و باطل کے لیے فضا سازگار بن گئی۔ الانفال
6 الانفال
7 الانفال
8 [٩] جو مسلمان تجارتی قافلہ پر حملہ کی غرض سے نکلے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ اب ہم تین سو تیرہ نہتے آدمیوں کو شاید کفار کے ایک ہزار مسلح لشکر سے جنگ کرنا پڑے۔ تو ان میں سے کچھ لوگوں کو یہ بات سخت ناگوار گزری۔ موت انہیں منہ کھولے سامنے نظر آنے لگی۔ ان کا تقاضا یہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو گروہوں (تجارتی قافلہ پر یا کفار کے لشکر پر فتح) میں سے ایک کا وعدہ کیا ہے تو پھر ہمیں تجارتی قافلہ کا رخ کرنا چاہیے جو غیر مسلح ہے اور آدمی بھی تھوڑے ہیں اور مال بھی بہت ہاتھ آئے گا مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت کچھ اور تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کفار سے معرکہ کو ہی درست قرار دیتے تھے۔ تاہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی مشورہ کرنا ضروری سمجھا بالخصوص انصار سے، کیونکہ انصار اپنے معاہدہ کی رو سے اس بات کے تو پابند تھے کہ اگر مدینہ پر کفار کا حملہ ہو تو وہ آپ کا ساتھ دیں گے۔ مگر یہ حملہ مدینہ پر نہیں تھا۔ لہٰذا ان انصار سے مشورہ ضروری تھا۔ اس مشورہ کی روداد درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے۔ جنگ کے متعلق مشورہ اور انصار کا جواب :۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابو سفیان کے نکل جانے کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض فرمایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بات کی تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کیا۔ پھر سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کا اشارہ شاید ہماری طرف ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر آپ ہمیں سمندر میں کودنے کا حکم دیں گے تو ہم کود جائیں گے اور اگر آپ ہمیں برک الغماد تک گھوڑے دوڑا دوڑا کر ہلاک کر ڈالنے کا حکم دیں تو ہم تعمیل کریں گے۔‘‘ (مسلم، کتاب الجہاد، باب غزوہ بدر) اور مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے کہا : ’’ہم وہ بات نہیں کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ تم اور تمہارا پروردگار دونوں جا کر لڑو، ہم تو آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔‘‘ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگا اور ان کے اس قول نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کردیا۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب اذ تستغیثون ربکم ) معرکہ حق وباطل :۔ چنانچہ اس مشورہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے مسلح لشکر کی طرف بڑھنے کا ارادہ کرلیا اور اللہ کی بھی یہی مشیت تھی کہ حق و باطل میں فیصلہ کن معرکہ ہو اور اس طرح مسلمانوں کو پوری طرح جانچنے کے بعد کامیابی سے ہمکنار کرے اور اپنا وعدہ پورا کرے۔ دوسری طرف ابو جہل کی ضد کافروں کو مقابلے کے میدان میں گھسیٹ کرلے آئی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ جس طرح حق و باطل کے معرکہ میں کفر کا سر توڑنا چاہتے تھے، اس کے اسباب پیدا ہوگئے۔ اموال غنیمت کے متعلق فیصلہ سنانے اور سچے مومنوں کی علامات بتلانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آیت نمبر ٥ اور ٦ میں فرمایا ؟؟؟$کَمَآ اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْۢ بَیْتِکَ بالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِہُوْنَ؟؟؟ یعنی جس طرح بعض اموال غنیمت لوٹنے والوں کو اللہ کا فیصلہ ان کی طبائع پر ناگوار گزرا۔ اسی طرح یہ بات بھی بعض مسلمانوں کو ناگوار گزری کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر سے حق و باطل کا معرکہ بپا کرنے، حق کو غالب اور سر بلند کرنے اور باطل کا سر کچلنے کے لیے نکالا تھا، تجارتی قافلہ کو لوٹنے کے لیے نہیں نکالا تھا اور یہی بات بعض مسلمانوں کو اتنی ناگوار تھی کہ وہ لڑائی کو موت کے منہ میں جانے کے مترادف سمجھ رہے تھے اور ان کا جھگڑا اسی حق و باطل کی جنگ کے سلسلہ میں تھا وہ کہتے تھے کہ جب اللہ نے ہم سے دو باتوں میں سے کسی ایک کا وعدہ کر رکھا ہے تو آخر ہم لڑائی ہی کی راہ کیوں اختیار کریں اور کیوں نہ تجارتی قافلے کا تعاقب کریں۔ الانفال
9 [١٠] عریش میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا :۔ جب بدر کے مقام پر دونوں لشکروں نے آمنے سامنے ڈیرہ ڈال لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مسلمان کافروں کے مقابلہ میں تہائی سے بھی کم ہیں، نہتے بھی ہیں اور سامان رسد بھی موجود نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے لیے ایک خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا، جسے عریش کہتے ہیں۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساری رات اللہ کے حضور دعاؤں اور آہ و زاری میں گزاردی، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین پر نظر ڈالی تو وہ ایک ہزار تھے اور مسلمان ٣١٩ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ رو ہو کر دونوں ہاتھ پھیلا دیئے۔ پھر اپنے رب سے فریاد کرنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح دعا کی : ’’اے اللہ! تو نے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کر۔ اے اللہ اگر مسلمانوں کی اس جماعت کو تو نے ہلاک کردیا تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر قبلہ رو ہو کر ہاتھ پھیلائے رہے۔ یہاں تک کہ چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں سے گر گئی۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے۔ انہوں نے چادر اٹھا کر آپ کے کندھوں پر ڈالی۔ پھر پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چمٹ گئے اور کہا : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ نے اپنے رب سے آہ و زاری کرنے میں حد کردی۔ بے شک اللہ آپ سے اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (مسلم، کتاب الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر ) [ ١١] فرشتوں کا نزول :۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک مسلمان ایک کافر کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اسے اوپر سے ایک کوڑے کی آواز آئی اور سوار کی بھی آواز آئی، وہ سوار کہہ رہا تھا کہ حیزوم (غالباً اس کے گھوڑے کا نام تھا) آگے بڑھ۔ اتنے میں اس مسلمان نے دیکھا کہ وہ کافر اس کے سامنے چت پڑا ہے۔ اس کی ناک پر نشان تھا اور اس کا سر پھٹ گیا تھا۔ گویا کسی نے اسے کوڑا مارا ہے۔ پھر اس کا سارا جسم سبز ہوگیا۔ وہ انصاری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور سارا ماجرا بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم سچ کہتے ہو۔ یہ فرشتے تیسرے آسمان سے مدد کے لیے آئے تھے۔ (مسلم، کتاب الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر ) ٢۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’یہ جبریل امین ہیں اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوئے اور ان پر لڑائی کے ہتھیار ہیں۔‘‘ (بخاری، کتاب المغازی، باب شھود الملائکۃ بدرا) انہی سے روایت ہے کہ مسلمانوں نے ستر کافروں کو قتل کیا اور ستر کو قید کیا۔ (مسلم، کتاب الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر) نیز دیکھئے سورۃ آل عمران آیت ١٢٥) الانفال
10 [١٢] فرشتوں کی اطلاع ثابت قدم رکھنے کے لئے :۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو فرشتوں کے بغیر بھی تمہاری مدد کرسکتا اور تمہیں کامیابی سے ہمکنار کرسکتا تھا، اور اگر فرشتے بھیج کر مدد کی تو بھی اسی کی مدد تھی۔ تمہیں پہلے مطلع کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ تم کہیں اپنے سے تین گنا کافروں کا مسلح لشکر دیکھ کر حوصلہ نہ چھوڑ بیٹھو، یہ اطلاع فقط تمہارا حوصلہ بڑھانے اور تمہیں ثابت قدم رکھنے کی وجہ سے دی گئی تھی۔ الانفال
11 الانفال
12 [١٣] مسلمانوں کی قدرتی وسائل سے امداد :۔ اب یہاں سے ان قدرتی اسباب کا ذکر شروع ہوتا ہے جو بالآخر مسلمانوں کی فتح کا سبب بنے تھے اور یہ اسباب چار تھے۔ بالفاظ دیگر اس جنگ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی چار طرح سے مدد فرمائی تھی اور اس ذکر سے اس طرف بھی اشارہ کرنا مقصود ہے کہ جب اس جنگ میں فتح کے قدرتی اسباب کا بہت زیادہ عمل دخل ہے تو پھر تم مال غنیمت پر تنازعہ اور قبضہ کیسے کرسکتے ہو۔ یہ تو محض اللہ کی مدد سے تمہیں میسر آیا ہے۔ لہٰذا یہ مال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی ہونا چاہیے۔ اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے چاہے اسے تقسیم کرے گا۔ ہوا یہ تھا کہ میدان بدر میں مسلمانوں کے پہنچنے سے پہلے کافر پہنچ کر ایک پکی زمین پر اپنا پڑاؤ ڈال چکے تھے اور جو جگہ مسلمانوں کو پڑاؤ کے لیے میسر آئی ریتلی تھی۔ بلندی پر واقع تھی اور وہاں پانی نام کو نہ تھا اس کے بجائے گرد و غبار اڑ رہا تھا۔ مسلمانون کو ایک تو پیاس نے ستایا ہوا تھا، دوسرے وضو اور طہارت کے لیے بھی پانی نہیں مل رہا تھا۔ تیسرے سامنے کافروں کے مسلح لشکر جرار کو دیکھ کر سخت گھبراہٹ میں مبتلا تھے اور شیطان طرح طرح کے وسوسے ان کے دلوں میں ڈال رہا تھا کہ تمہیں خوراک تو درکنار پینے کو پانی بھی میسر نہیں پھر بھلا تم اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کیسے کرسکو گے؟ اس حال میں اللہ کی مدد یوں مسلمانوں کے شامل حال ہوئی کہ رات کو زور سے بارش ہوئی جس کے تین فائدے ہوئے (١) مسلمانوں نے بڑے بڑے حوض بنا کر پانی جمع کرلیا۔ انہیں پینے اور نہانے دھونے کے لیے پانی میسر آ گیا (٢) نیچے سے ریت جم گئی، جہاں پہلے قدم پھسلتے جاتے تھے وہاں جمنے شروع ہوگئے اس طرح وہ سب شیطانی وساوس دور ہوگئے جو شیطان مسلمانوں کے دلوں میں ڈال رہا تھا۔ (٣) یہی پانی کا ریلا جب بہہ کر کفار کے لشکر کی طرف گیا تو وہاں کیچڑ اور پھسلن پیدا ہوگئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مدد کی پہلی صورت تھی۔ دوسری صورت یہ تھی کہ جنگ کی ابتداء میں ہی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر غنودگی طاری کردی، جس کا اثر یہ ہوا کہ ایک تو بدن سے تھکاوٹ دور ہوگئی۔ دوسرے کافروں کی جو ہیبت ذہنوں پر سوار تھی وہ دور ہوگئی۔ تازہ دم اور تازہ دماغ ہونے کی وجہ سے ان میں چستی پیدا ہوگئی۔ چنانچہ جب آپ خود ساری رات عریش میں اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد اور آہ و زاری کرنے کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی درخواست پر باہر نکلے تو اس وقت غنودگی کی کیفیت طاری ہوگئی اور جب اس حالت سے سنبھلے تو آپ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور آپ یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے :۔ ﴿اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ﴾ ﴿ سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ﴾ (بخاری، کتاب الجہاد باب ماقیل فی درع النبی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے بڑے کافروں کے قتل ہوجانے کی خبر دی اور ان کے قتل کی جگہیں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو دکھلادیں۔ تیسری صورت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے میدان بدر میں مسلمانوں کی مدد کے لیے فرشتوں کا لشکر بھیج دیا جیسا کہ اوپر کے حاشیہ میں درج شدہ احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جن کافروں کی موت فرشتوں کے ہاتھوں واقع ہوتی ہم اس لاش کو پوری طرح پہچان لیتے تھے۔ فرشتوں کی آمد سے جہاں مسلمانوں کے دلوں کو ثبات و قرار حاصل ہوا وہاں کافر سخت بد دل اور مرعوب ہوگئے اور چوتھی صورت کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ الانفال
13 [١٤] کفار مکہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیفیں پہنچانا اور آپ کی بددعا :۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جس طرح کی ایذائیں پہنچائی جاتی تھیں ان کا ایک نمونہ درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے ساتھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے وہ آپس میں کہنے لگے کہ ’’تم میں سے کون جاتا ہے اور فلاں لوگوں نے جو اونٹنی کاٹی ہے اس کا بچہ دان لا کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرے تو اس کی پیٹھ پر رکھ دیتا ہے؟‘‘ یہ سن کر ان کا بدبخت ترین (عقبہ بن ابی معیط) اٹھا اور بچہ دان اٹھا لایا اور دیکھتا رہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں گئے تو بچہ دان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان میں پیٹھ پر رکھ دیا۔ میں خود یہ دیکھ رہا تھا، لیکن کچھ نہ کرسکتا تھا۔ کاش (اس دن) میرا کچھ زور ہوتا۔ کافر ہنستے اور ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں ہی پڑے رہے اور سر نہیں اٹھا سکتے تھے حتیٰ کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی) فاطمہ آئیں اور بچہ دان کو پیٹھ سے اٹھا کر پرے پھینکا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور دعا کی : ’’یا اللہ قریش سے نمٹ لے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ الفاظ دہرائے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بد دعا کر رہے تھے تو کافروں پر گراں گزرا۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر میں دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے لے کر بددعا کی کہ یا اللہ! ابو جہل سے نمٹ لے اور عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط سے نمٹ لے اور عمرو بن میمون نے ساتویں شخص (عمارہ بن ولید) کا نام بھی لیا جو ہمیں یاد نہ رہا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ’’اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جن لوگوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے کر بددعا کی تھی، میں نے دیکھا کہ ان سب کی لاشیں بدر کے کنویں میں پھینکی گئیں۔ (بخاری، کتاب الوضوء، باب، اذا القی علی ظھر المصلی القذرًا اوجیفۃ۔۔) الانفال
14 الانفال
15 الانفال
16 [١٥] جنگ سے منہ موڑنا کبیرہ گناہ ہے :۔ جنگ سے پسپائی کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً پوری فوج کی جنگی پالیسی ہی یہ ہو کہ اس مقام سے ہٹ کر فلاں مقام سے حملہ کرنا زیادہ سودمند ہوگا یا کوئی فوجی دستہ وہاں سے ہٹ کر اپنے مرکز سے جا ملنا چاہتا ہو، یا کوئی فرد پینترا بدلنے کی غرض سے پیچھے ہٹ آیا تو ایسی سب صورتیں جنگی تدبیریں کہلاتی ہیں۔ انہیں جنگ سے فرار یا پسپائی نہیں کہا جاتا بلکہ فرار سے مقصد ایسی پسپائی ہے جس سے محض اپنی جان بچانا مقصود ہو اور یہ گناہ کبیرہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس فعل کو ان سات بڑے بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے جو انسان کو ہلاک کردینے والے ہیں۔ (بخاری، کتاب المحاربین، باب رمی المحصنات) اس گناہ کی شدت کی وجہ صرف یہ نہیں کہ ایک شخص اپنی جان بچا کر فوج میں ایک فرد کی کمی کا باعث بنتا ہے۔ بلکہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس فعل سے باقی لوگوں کے بھی حوصلے پست ہوجاتے ہیں اور بھگدڑ مچ جاتی ہے اور بسا اوقات ایک یا چند شخصوں کا فرار پوری فوج کی شکست کا سبب بن جاتا ہے۔ الانفال
17 [١٦] ریت کی مٹھی کا کرشمہ :۔ میدان بدر میں اللہ کی مدد کی چوتھی صورت یہ تھی کہ جب جنگ پورے زوروں پر تھی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریت اور کنکریوں کی ایک مٹھی لی اور اسے کافروں کے لشکر کی طرف پھینک دیا اور فرمایا شاھت الوجوہ اس ریت کے ذرات کافروں کی آنکھوں میں جا لگے جس سے وہ آنکھیں ملتے رہ گئے اور انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو موقع دیا۔ کہ وہ کافروں کو بےدریغ قتل کرسکیں۔ بعض عقل پرست حضرات کہتے ہیں کہ مٹھی پھینکنے کے وقت ہوا کا رخ چونکہ کافروں کی طرف تھا، اس لیے کافروں کو یہ حادثہ پیش آیا تھا۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ مٹھی بھر ریت کے ذرات آخر سب کافروں تک کیسے پہنچ گئے۔ پھر یہ ذرات آنکھوں میں ہی کیوں جا لگے۔ کسی اور جگہ بھی لگ سکتے تھے۔ آنکھ تو انتہائی مختصر حصہ جسم ہے۔ لازماً یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فعل تھا۔ جس کا صدور اس کے نبی کے ہاتھوں معجزہ کے طور پر ہوا تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس فعل کی نسبت براہ راست اپنی طرف کی ہے۔ الانفال
18 [١٧] یعنی مدد کی ان سب صورتوں کا فائدہ تو مسلمانوں کو پہنچتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ کافروں کو اتنا ہی نقصان بھی پہنچتا رہا اور جو تدبیر وہ مسلمانوں کے استیصال کے لیے کر رہے تھے۔ اللہ نے اسے توڑ کے رکھ دیا۔ اور ان کے سب منصوبے خاک میں ملا دیئے۔ الانفال
19 [١٨] کافروں کو اپنی سرگرمیوں سے رک جانے کی نصیحت :۔ کفار مکہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اگر تم دعویٰ میں سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا ؟ (٣٢ : ٢٨) یعنی ہمارے اور تمہارے درمیان کب فیصلہ ہوگا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا خطاب انہیں ہزیمت خوردہ کافروں سے ہے کہ اب وہ فیصلہ آ چکا ہے۔ جسے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ کس طرح حالات کی ناسازی کے باوجود مسلمانوں کو معجزانہ طور پر فتح نصیب ہوئی ہے۔ لہٰذا اب بھی اگر راہ راست پر آجاؤ تو یہی بات تمہارے حق میں بہتر ہوگی اور اگر پھر تم نے پہلی سی نافرمانی، مخالفت اور سرکشی والی روش اختیار کی تو ہم پھر تمہیں اسی طرح سزا دیں گے اور جس طرح آج تمہارا لاؤ لشکر کسی کام نہیں آ سکا۔ آئندہ بھی نہیں آئے گا۔ وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا ساتھی اور حامی و ناصر خود ان کا پروردگار ہے۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ مکہ سے روانگی کے وقت ابو جہل وغیرہ نے کعبہ کا پردہ پکڑ کر یہ دعا کی تھی کہ یا اللہ ہم دونوں فریقوں سے جو اعلیٰ و افضل ہے اسے فتح نصیب فرما اور فساد مچانے والے کو مغلوب کر۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر کہ ’’اب فیصلہ تمہارے پاس آ چکا۔‘‘ اس بات کا فیصلہ کردیا کہ ان دونوں فریقوں میں اعلیٰ و افضل کون سا فریق تھا اور مفسد کون سا۔ الانفال
20 [١٩] پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ ’’اللہ تعالیٰ مومنوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یہاں ایسے مومنوں کی ہی تعریف کو دہرایا گیا ہے۔ یعنی ایسے مومن جو کسی حال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے سرتابی نہ کریں۔ خواہ اس میں اپنا فائدہ نظر آ رہا ہو یا نقصان۔ جیسا کہ مسلمانوں میں سے ہی ایک گروہ غزوہ بدر سے جی چرا رہا تھا۔ الانفال
21 [٢٠] یہاں سننے سے مراد اس کو قبول کرنا ہے اور اس آیت میں روئے سخن بالخصوص منافقوں کی طرف ہے۔ الانفال
22 [٢١] بدترین مخلوق کون ہیں؟ اس آیت کا مضمون سورۃ اعراف کی آیت نمبر ١٧٩ میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اعضاء سے وہ کام لینا چھوڑ دے جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں تو پھر بالآخر وہ اعضاء اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ مثلاً آنکھیں اس لیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کائنات کو دیکھیں، کان اس لیے کہ وہ حق بات کو سنیں اور عقل اس لیے کہ وہ آنکھ اور کان کی بہم پہنچائی ہوئی معلومات میں غور و فکر کرے۔ اب جو شخص ان اعضاء سے کام نہ لیتے ہوئے انہیں بے کار بنا دیتا ہے تو ایسے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو برباد کردیا۔ الانفال
23 [٢٢] بالآخر ایسے لوگوں میں بھلائی کا جوہر موجود ہی نہیں رہتا اور اگر لوگ اپنے آپ میں کچھ ایسا جوہر موجود رہنے دیتے تو اللہ تعالیٰ انہیں سنا بھی دیتا۔ مگر ان کی موجودہ حالت یہ ہے کہ اگر انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات سنا اور سمجھا بھی دی جائیں تو یہ ضدی اور معاند لوگ سمجھ کر بھی انہیں تسلیم و قبول کرنے پر تیار نہ ہوں گے۔ الانفال
24 [٢٣] اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ کی زندگی بخش دعوت :۔ یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دعوتی پیغام ایسا ہے جس سے تمہیں دنیا میں بھی عزت و اطمینان کی زندگی نصیب ہوگی اور آخرت میں بھی نعمتوں سے بھرپور ابدی زندگی حاصل ہوگی، اس کے مفہوم کو پوری طرح سمجھنے کے لیے یہ ذہن میں رکھئے کہ یہ سورت غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ جب کہ مسلمانوں کی ایک ریاست قائم ہوچکی تھی اور وہ آزادانہ زندگی گزار رہے تھے اور غزوہ بدر میں فتح نے انہیں ایک مساوی قوم کا درجہ دے دیا تھا اور وہ آپس میں نہایت پیار، محبت اور بھائی بھائی بن کررہ رہے تھے۔ اب اس کے مقابلہ میں دور جاہلیت کے معاشرہ کو سامنے لائیے جب کہ لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے مدینہ میں جنگ بعاث نے اور مکہ میں حرب فجار نے گھروں کے گھروں کا صفایا کردیا تھا۔ قبائلی جنگیں کسی طرح ختم ہونے کو نہ آتی تھیں اور تم لوگ ان سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے تھے۔ ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم تھا اور شراب کے دور چلتے تھے۔ کسی کی جان، مال اور عزت محفوظ نہیں رہی تھی اور لوگوں پر ان کا جینا حرام ہوچکا تھا۔ پھر اللہ اور اس کے رسول نے تمہیں وہ تعلیم دی کہ تمہاری زندگی کا رخ ہی موڑ دیا اور اب تم امن چین سے زندگی گزار رہے ہو۔ لہٰذا تمہیں فوراً اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا چاہیے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلانے پر فوراً حاضر ہوجانا چاہیے۔ کیونکہ اسی میں تمہاری زندگی کا راز مضمر ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان خواہ کتنے ہی ضروری کام مثلاً فریضہ نماز میں بھی مشغول ہو تو اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلانے پر نماز چھوڑ کر فوراً حاضر ہونا چاہیے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ رسول کے بلانے پر فورا حاضر ہونا :۔ ابو سعیدبن معلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے سے گزرے اور مجھے بلایا۔ میں نماز پڑھ کر حاضر ہوا تو مجھے فرمایا : تم میرے بلانے پر فوراً کیوں نہ آئے؟ کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا ﴿یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ﴾ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’میں جانے سے پہلے تمہیں قرآن کی بڑی سورت بتلاؤں گا۔‘‘ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات یاد دلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’وہ سورت ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ﴾ ہے۔ اس میں سات آیتیں ہیں جو (ہر نماز میں) مکرر پڑھی جاتی ہیں۔‘‘ (بخاری، کتاب التفسیر) اور حدیث جریج سے علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ والدین میں سے کسی ایک کے بلانے پر انسان کو نفلی نماز توڑ کر فوراً حاضر ہوجانا چاہیے۔ [ ٢٤] اللہ کے آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہونے کا مطلب دل کو شیطانی وساوس سے بچانے کی کوشش :۔ یعنی اللہ تعالیٰ انسان کے دل کے اتنا قریب ہے کہ وہ اس کے راز، ارادوں اور نیت تک کو جانتا ہے اور یہ دل ہی خیر و شر کا منبع ہے۔ لہٰذا مسلمان کو اللہ کے رسول کی اطاعت میں دیر نہ کرنی چاہیے۔ ورنہ ممکن ہے کہ بعد میں کوئی اور خیال پیدا ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کا تو قانون ہی یہ ہے کہ انسان جیسا ارادہ یا نیت کرتا ہے۔ اللہ اس کے دل کو اسی طرح کی راہیں سجھانے لگتا ہے لہٰذا حتی الامکان دل کو شیطانی وساوس کی آماجگاہ بننے سے بچانا چاہیے اور اس کی واحد صورت یہ ہے کہ بلاتاخیر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ اللّٰھُمَّ ثَبِّتْ قُلُوْبُنَا عَلٰی دِیْنِکَ یا الفاظ یہ ہوتے تھے۔ یا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قُلُوْبُنَا عَلٰی دِیْنِکَ الانفال
25 [٢٥] برائی کو روکنا ہر ایک پر واجب ہے :۔ اس آیت میں اجتماعی زندگی کے فتنہ سے بچاؤ اور نھی عن المنکر کے فریضہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ فرض کیجئے کہ کسی معاشرہ میں اللہ کے رسول کی نافرمانی یا کوئی برائی پیدا ہوتی ہے اور لوگ اس کا بروقت نوٹس نہیں لیتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ برائی معاشرہ میں پھیل جاتی ہے تو اس برائی کی پاداش میں اللہ کی طرف سے جو عذاب آئے گا وہ سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ یہ ممکن نہ رہے گا کہ جو لوگ یہ برائی کا کام نہیں کرتے تھے وہ بچ جائیں۔ کیونکہ ان لوگوں کا جرم یہ ہوتا ہے کہ جب وہ برائی پیدا ہوئی یا بڑھنے لگی تھی تو اس وقت انہوں نے اسے روکنے میں غفلت کیوں کی تھی، اگر وہ روکتے تو سب لوگ عذاب سے بچ سکتے تھے۔ الانفال
26 [٢٦] اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر سختیاں :۔ اس آیت کی تشریح کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے جس میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا ذکر ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان کن مصائب اور حوصلہ شکن حالات سے دو چار تھے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا :۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں کہ میں غفار قبیلے کا ایک شخص تھا مجھے خبر ملی کہ مکہ میں ایک شخص پیدا ہوا ہے جو اپنے تئیں پیغمبر کہتا ہے۔ میں نے اپنے بھائی (انیس) سے کہا کہ مکہ جا کر اس شخص سے ملو۔ بات چیت کرو اور اس کا حال مجھے آ کر بتلاؤ۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر واپس میرے پاس آیا اور کہا ’’واللہ! وہ اچھی بات کا حکم کرتا اور بری بات سے منع کرتا ہے۔‘‘ اس جواب سے میری تسلی نہ ہوئی اور خود مکہ آ گیا۔ یہاں میں کسی کو پہچانتا نہیں تھا۔ نہ مجھے کسی سے آپ کا حال پوچھنا مناسب معلوم ہوا۔ میں زمزم کا پانی پیتا رہا اور مسجد میں بیٹھ رہا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے سامنے سے گزرے اور پوچھا :’’ تم مسافر معلوم ہوتے ہو۔‘‘ میں نے کہا : ہاں۔ آپ نے کہا۔ تو میرے گھر چلو۔ میں ان کے ساتھ روانہ ہوا۔ نہ انہوں نے مجھ سے کچھ پوچھا اور نہ ہی میں نے کوئی بات کی۔ صبح پھر میں مسجد میں آ گیا۔ میرا مطلب یہ تھا کہ کسی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ پوچھوں، مگر مجھے کوئی ایسا آدمی نہ ملا۔ دوسرے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ پھر میرے پاس سے گزرے اور پوچھا تجھے ابھی تک کوئی ٹھکانہ نہیں ملا۔ میں نے کہا : نہیں۔ انہوں نے کہا ’’تو میرے ساتھ چلو اور بتلاؤ تمہارا کیا کام ہے ؟ یہاں کیسے آئے ہو؟‘‘ میں نے کہا : اگر تم کسی کو بتلاؤ نہیں تو میں آپ کو بتلاتا ہوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا ٹھیک ہے۔’’ تب میں نے انہیں اپنے بھائی کو بھیجنے کا واقعہ سنایا اور کہا کہ میں اس نبی کو ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ تمہارے لیے بہت اچھا اتفاق ہوا کہ میں بھی اسی نبی کے پاس جا رہا ہوں، تم میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔ جہاں میں داخل ہوا تم بھی داخل ہوجانا اور اگر کوئی خطرہ کی بات ہوئی تو میں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوجاؤں گا جیسے اپنا جوتا صاف کرنے لگا ہوں (اور ایک روایت میں ہے جیسے پیشاب کرنے لگا ہوں) تم وہاں سے آگے نکل جانا۔ اس طرح ہم ایک مکان میں داخل ہوئے۔ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ میں نے عرض کی کہ آپ مجھے اسلام سکھلائیے۔ پھر میں اسی وقت مسلمان ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابو ذر! اپنے ایمان کو چھپائے رکھو اور اپنے وطن واپس لوٹ جاؤ۔ جب تمہیں ہمارے غلبہ کی خبر پہنچے تو چلے آنا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اللہ کی قسم! میں اسلام کا کلمہ کافروں کے سامنے ببانگ دہل پکاروں گا۔ پھر میں مسجد میں آیا اور پکارا : قریشیو! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ کہنے لگے: اٹھو اس بےدین کی خبر لو۔ پھر انہوں نے مجھے خوب مارا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ لیا اور آ کر مجھ پر جھک گئے اور کہا ’’تمہاری خرابی! تم ایک غفاری کو مار رہے ہو، جبکہ تمہارا تجارتی راستہ اسی قوم پر سے گزرتا ہے‘‘ یہ سن کر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ دوسرے دن صبح پھر میں مسجد میں آ گیا اور وہی کلمہ کہا جو کل کہا تھا قریشیوں نے پھر وہی بات کہی کہ اٹھو اور اس کی خبر لو۔ چنانچہ مجھے مار پڑنے لگی۔ اتنے میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آن پہنچے، وہ مجھ پر جھک گئے اور وہی بات کہی جو کل کہی تھی تو انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ (بخاری، کتاب المناقب، باب قصہ زمزم، نیز باب اسلام ابی ذر) یعنی مکی زندگی میں مسلمانوں پر ایسا وقت بھی آیا جبکہ اپنے اسلام کو ظاہر کرنا بھی جان جوکھوں کا کام تھا۔ پھر مکی زندگی کے آخری دور تک مسلمانوں پر کفار کی طرف سے سختیوں میں کمی واقع نہیں ہوئی انہیں سختیوں سے تنگ آ کر مسلمانوں نے دو بار حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ بالآخر مسلمانوں کو مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ یہاں آ کر مسلمان قریش مکہ کے مظالم سے کسی حد تک محفوظ ہوگئے۔ مگر مسلمانوں کی مخالفت عامہ میں اور بھی اضافہ ہوگیا۔ مکی دور میں مسلمانوں کے دشمن صرف کفار مکہ تھے۔ جب کہ مدینہ میں کفار مکہ کے علاوہ دوسرے عرب مشرک قبائل اور مدینہ کے یہودی بھی دشمن بن گئے تھے۔ اور صورت حال کچھ اس قسم کی پیدا ہوگئی تھی کہ مسلمان رات کو آرام سے سو بھی نہ سکتے تھے تاآنکہ پہرہ کا کوئی معقول بندوبست نہ کرلیں۔ اس آیت میں مسلمانوں کی اسی حالت کی طرف اشارہ ہے۔ پھر جب میدان بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم فتح عطا فرمائی اور باطل کی کمر ٹوٹی تب جا کر مسلمانوں کو آزادی سے سانس لینا نصیب ہوا اور مسلمانوں کو بھی قریش مکہ کے ہمسر سمجھا جانے لگا۔ غزوہ بدر سے پہلے تک کفار مکہ کی یہی ذہنیت رہی کہ مسلمان ان کے مفرور قیدی ہیں۔ ان کی اس ذہنیت میں غزوہ بدر کے بعد ہی تبدیلی واقع ہوئی۔ [ ٢٧] یعنی مدینہ میں آزاد سلطنت عطا فرمائی۔ فتح بدر سے تمہاری پوزیشن خاصی مضبوط ہوگئی اور اموال غنائم سے تمہیں پاکیزہ رزق بھی دیا۔ اب تم دل سے، زبان سے اور عمل سے اللہ کا شکر ادا کرو اور عمل سے شکر کی صورت یہ ہے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت پر مستعد رہا کرو۔ الانفال
27 [٢٨] امانتوں میں خیانت کی مختلف صورتیں :۔ امانتوں میں خیانت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ امانتوں سے مراد وہ تمام عہد، معاہدے اور وہ ذمہ داریاں ہیں جو کسی انسان پر عائد کی گئی ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ سے انسان کا عہد، عہد میثاق بھی ہے جس کو پورا کرنے پر انسان اللہ کا نافرمان رہ ہی نہیں سکتا اور وہ عہد بھی جو انسان ذاتی طور پر اللہ سے باندھتا ہے جیسے نذریں اور منتیں وغیرہ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خیانت یہ ہے کہ جن باتوں پر کسی مسلمان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے۔ ان میں فرار کی راہیں سوچنے لگے اور لوگوں سے معاہدے دین کے بھی ہو سکتے ہیں۔ صلح و جنگ کے سمجھوتے بھی، نکاح کے بھی، پھر انسان پر اس کے منصب کے لحاظ سے طرح طرح کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ غرض اس آیت کے مضمون میں انسان کی پوری زندگی آ جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے ہر واقعہ کے وقت متنبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی حال میں خیانت نہ کرے۔ اور بالخصوص جس بات پر اس آیت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کفار سے متعلق مسلمانوں کی پالیسی کو منافقوں یا مشکوک لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کریں اور اس سلسلہ میں انتہائی احتیاط سے کام لیں۔ کیونکہ ہر قسم کی جنگی تدابیر اللہ اور اس کے رسول کی امانت ہیں اور ایسے اقدامات کے متعلق کافروں کو اشارتاً یا کنایتہ مطلع کرنا یعنی جنگی راز کو فاش کرنا بھی امانت میں خیانت ہے۔ جس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ بسا اوقات فتح شکست میں بدل جاتی ہے۔ الانفال
28 [٢٩] مال اور اولاد سے آزمائش :۔ مال اور اولاد ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کا فطری لگاؤ اور محبت ہوتی ہے اور انہیں کے ذریعہ مسلمان کے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے اور یہ آزمائش ایسی پر خطر ہوتی ہے کہ انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ آزمائش میں پڑا ہوا ہے۔ سابقہ آیت کی طرح یہ آیت بھی اپنے اندر بڑا وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ پھر ان میں سے مال کا فتنہ اولاد کے فتنہ سے شدید ہوتا ہے۔ جیسا درج ذیل احادیث میں واضح ہے۔ ١۔ عمر و بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (جو بنی عامر کے حلیف تھے) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم! میں تمہارے محتاج ہونے سے نہیں ڈرتا۔ بلکہ میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر کشادہ کردی جائے گی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی تھی۔ پھر تم اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگ جاؤ، تو وہ تمہیں اس طرح ہلاک کر دے جیسے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب، شہودالملائکۃ بدرا) نیز (کتاب الرقاق، باب مایحذرمن زھرۃ الدنیاوالتنافس فیھا) ٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر امت کی ایک آزمائش ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے۔ (ترمذی بحوالہ مشکوۃ، کتاب الرقاق، دوسری فصل) ٣۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے۔ محتاج مہاجرین دولت مند مہاجرین سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ (ترمذی، ابو اب الزہد۔ باب ان فقراء المھاجرین یدخلون الجنۃ قبل اغنیاء ھم ) ٤۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا : میں نے جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ وہاں ان لوگوں کی کثرت ہے جو دنیا میں محتاج تھے۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب فضل الفقر ) ٥۔ مال کا فتنہ :۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ ارشاد فرمانے) منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اپنے بعد میں جس بات سے ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ زمین کی برکتیں تم پر کھول دی جائیں گی۔ (تم مالدار ہوجاؤ گے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی آرائش کا بیان شروع کیا، پہلے ایک بات بیان کی، پھر دوسری۔ اس دوران ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا بھلائی سے برائی پیدا ہوگی؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے ہم سمجھے کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے اور لوگ ایسے خاموش بیٹھے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ سے پسینہ پونچھا (وحی بند ہوئی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : وہ سائل کہاں ہے جو ابھی پوچھ رہا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کا جواب دیتے ہوئے تین بار فرمایا : ’’مال و دولت سے بھلائی ہی نہیں ہوتی۔ پھر فرمایا : بھلائی سے تو بھلائی ہی پیدا ہوتی ہے مگر بہار کے موسم میں جب ہری ہری گھاس پیدا ہوتی ہے (جو ایک نعمت ہے، اس کا زیادہ کھا لینا) جانور کو یا تو مار ڈالتا ہے یا مرنے کے قریب کردیتا ہے۔ الا یہ کہ جانور اپنی کو کھیں بھرنے کے بعد دھوپ میں جا کھڑا ہو اور پیشاب کرے پھر اس کے ہضم ہوجانے کے بعد اور گھاس چرے اور یہ مال و دولت بھی ہرا بھرا اور شیریں ہے اور بہتر مسلمان وہ ہے جو اپنے حق کے مطابق ہی لے پھر اس میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور یتیموں اور مسکینوں پر خرچ کرے اور جو شخص اپنے حق پر اکتفا نہ کرے اس کی مثال اس کھانے والے کی سی ہے جس کا پیٹ بھرتا ہی نہیں اور یہ مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد، باب فضل النفقہ فی سبیل اللہ ) ٦۔ ابراہیم بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک روز کھانا رکھا گیا۔ تو کہنے لگے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جنگ احد میں شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے ان کے کفن کے لیے ایک چادر ملی اور حمزہ یا کسی اور کا نام لے کر کہا کہ وہ شہید ہوئے اور وہ بھی مجھ سے بہتر تھے ان کے کفن کو بھی صرف ایک چادر تھی۔ میں ڈرتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ عیش و آرام کے سامان ہمیں دنیا میں ہی دے دیئے جائیں، یہ کہہ کر رونا شروع کردیا۔ (بخاری، کتاب الجنائز، باب الکفن من جمیع المال) ٧۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلاشبہ قیامت کے دن بہت مال و دولت رکھنے والے ہی زیادہ نادار ہوں گے۔ مگر جسے اللہ نے دولت دی اور اس نے اپنے دائیں سے بائیں سے، آگے سے، پیچھے سے ہر طرف سے دولت کو اللہ کی راہ میں لٹا دیا اور اس مال سے بھلائی کمائی۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب المکثرون ھم المقلون) ٨۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جو شخص اللہ عزوجل سے ڈرتا ہو اس کو دولت مندی کا کوئی خطرہ نہیں۔‘‘ (احمد، بحوالہ مشکوۃ، باب استحباب المال، فصل ثالث) اولاد کے ذریعہ آزمائش کیسے ہوتی ہے ؟:۔ اور اولاد کے ذریعہ انسان کی آزمائش کا دائرہ مال کی آزمائش سے زیادہ وسیع ہے۔ اولاد اگر کسی کے ہاں نہ ہو تو بھی یہ ایک آزمائش ہے۔ ایسی صورت میں انسان اور بالخصوص عورتیں شرک جیسے بدترین گناہ پر آمادہ ہوجاتی ہیں اور پیروں فقیروں کے مزاروں اور مقبروں کے طواف کرتی اور ان کی منتیں مانتی ہیں اور اگر کسی کے ہاں زیادہ ہو تو وہ دوسری طرح آزمائش ہوتی ہے۔ کفار مکہ میں جو قتل اولاد کا دستور عام رائج تھا تو اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہم انہیں کھلائیں گے کہاں سے؟ گویا اولاد کے رزق کا اپنے آپ کو ٹھیکیدار سمجھنا اور اللہ پر قطعاً توکل نہ کرنا بھی شرک سے ملتا جلتا اور بعض پہلوؤں میں اس سے بڑھ کر کبیرہ گناہ ہے۔ پھر اولاد کی تربیت کا مرحلہ آتا ہے تو یہ بھی انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش کا وقت ہوتا ہے کہ آیا وہ اپنی اولاد کو دینی تربیت دیتا اور دین کی راہ پر چلاتا ہے یا محض ان کے لئے دنیا کمانے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور یہ انسان کی زندگی کا ایسا نازک موڑ ہوتا ہے جس کے اچھے یا برے نتائج خود اس کو اس دنیا میں بھگتنا پڑتے ہیں اور آخرت میں تو ان پر سزا و جزا کا مرتب ہونا ایک یقینی بات ہے۔ پھر اس کے بعد اولاد کی آرزوؤں کی تکمیل کا مرحلہ پھر ان کی شادی اور شادی کے سلسلہ میں رشتہ کے انتخاب کا مرحلہ آتا ہے کہ وہ کس قسم کا رشتہ اپنے بیٹے یا بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے اور یہ بھی ایسا مرحلہ ہوتا ہے جس کے نتائج انتہائی دور رس ہوتے ہیں اور ایسے ہی مرحلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنی دینداری کے دعویٰ میں کس حد تک سچا اور مخلص ہے اور اسے اللہ اور اس کے رسول سے کس قدر محبت ہے۔ مختصر یہ کہ اولاد کا فتنہ ایسا فتنہ ہے جس کے ذریعہ انسان کی ہر وقت آزمائش ہوتی رہتی ہے۔ پھر بعض دفعہ مال اور اولاد دونوں کے فتنے ایک فتنہ میں مشترک ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ بعض مسلمانوں نے محض مال اور اولاد کی خاطر مدینہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی۔ حالانکہ اگر وہ چاہتے تو ان میں ہجرت کرنے کی استطاعت موجود تھی۔ ان پر جائیداد اور اولاد کی محبت غالب آ گئی اور انہوں نے کافروں میں رہنا اور ذلت کی زندگی بسر کرنا گوارا کرلیا۔ ایسے مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سخت وعید فرمائی ہے۔ الانفال
29 [٣٠] تقویٰ کے ثمرات :۔ یعنی اگر تم اس بات سے ڈرتے رہے کہ تم سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو اللہ کی رضا کے خلاف ہو تو اللہ تمہارے اندر ایسا نور بصیرت یا قوت تمیز پیدا کر دے گا جو زندگی کے ہر موڑ پر تمہاری رہنمائی کرے گا کہ فلاں کام اللہ کی رضا کے مطابق ہے اور فلاں اس کی مرضی کے خلاف ہے یعنی جو لوگ ایمان لانے کے بعد تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں تین قسم کے انعامات سے نوازتا ہے۔ ایک تو ان میں حق و باطل میں تمیز کرنے کی بصیرت پیدا ہوجاتی ہے۔ دوسرے ان کی برائیوں کو مٹا دیا جاتا ہے اور تیسرے ان کے اکثر و بیشتر گناہ معاف ہی کردیئے جاتے ہیں اور تقویٰ کے یہ ثمرات محض تقویٰ کی بنا پر نہیں بلکہ اس لیے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لامحدود فضل کا مالک ہے۔ الانفال
30 [١ ٣] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید، جلاوطن یا قتل کرنے کا مشورہ :۔ جب کچھ مسلمان ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے تو کفار مکہ کو خطرہ لاحق ہوا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہاں مکہ سے ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا تو پھر یہ خطرہ ہمارے قابو سے نکل جائے گا۔ لہٰذا جیسے بھی ممکن ہو اس کا علاج فوری طور پر سوچنا چاہیے۔ اس غرض کے لیے انہوں نے دارالندوہ میں میٹنگ کی اور شرکائے مجلس سے تجاویز و آراء طلب کی گئیں۔ کسی نے کہا کہ اسے پابہ زنجیر کر کے قید کردیا جائے۔ شیطان جو خود اس میٹنگ میں انسانی صورت میں حاضر ہوا تھا کہنے لگا : یہ تجویز درست نہیں۔ کیونکہ اس کے پیروکار اس کے اس قدر جانثار ہیں کہ وہ اپنی جانیں خطرہ میں ڈال کر بھی اس کو کسی نہ کسی وقت چھڑا لے جانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ دوسرے نے کہا اسے یہاں سے جلاوطن کردیا جائے۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ کم از کم ہم تو ہر روز کی بک بک سے نجات پا جائیں گے۔ شیطان نے کہا یہ تجویز بھی درست نہیں۔ کیونکہ اس شخص کے کلام اور بیان میں اتنا جادو ہے کہ وہ جہاں جائے گا وہیں اس کے جانثار پیدا ہوجائیں گے۔ پھر وہ انہیں لے کر کسی وقت بھی آپ پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔ بعد میں ابو جہل بولا کہ ہم سب قبائل میں سے ایک ایک نوجوان لے لیں اور یہ سب مل کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یکبارگی حملہ کر کے اسے جان سے ہی ختم کردیں۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ بنو عبد مناف سب قبیلوں سے لڑائی کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ لامحالہ خون بہا پر فیصلہ ہوگا جو سب قبائل مل کر حصہ رسدی ادا کردیں گے۔ یہ رائے سن کر شیطان کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوگئی اور اس نے اس رائے کو بہت پسند کیا۔ پھر اس کام کے لیے وقت بھی اسی مجلس میں مقرر ہوگیا کہ فلاں رات یہ سب نوجوان مل کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کرلیں اور جب باہر نکلے تو سب یکبارگی اس پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا فوری سبب :۔ ادھر یہ مشورے ہو رہے تھے ادھر اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے نبی کو اس مجلس کی کارروائی سے مطلع کردیا اور ہجرت کی اجازت بھی دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کڑکتی دوپہر میں، جب لوگ عموماً آرام کر رہے ہوتے ہیں، چھپتے چھپاتے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر گئے اور انہیں بتلایا کہ ہجرت کی اجازت مل گئی ہے سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ پہلے ہی اس موقع کے منتظر بیٹھے تھے۔ چنانچہ سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ چھپتے چھپاتے غار ثور تک پہنچ گئے۔ (اس کی تفصیل کسی اور مقام پر آئے گی) اسی رات قاتلوں کے گروہ نے آپ کا محاصرہ کرنے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔ وہ بروقت اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گئے۔ جب صبح تک آپ گھر سے نہ نکلے تو پھر وہ خود اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی موجود نہیں اور جب انہیں معلوم ہوا کہ آپ جا چکے ہیں تو ان کی برہمی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ کیونکہ اللہ نے ان کی اس پورے ہاؤس کی منظور کردہ تدبیر کو بری طرح ناکام بنا دیا تھا۔ الانفال
31 [٣٢] نضر بن حارث کا قول کہ ہم بھی ایسا کلام لا سکتے ہیں :۔ یہ نضر بن حارث تھا جو روسائے قریش میں سے تھا اور فارس کی طرف تجارتی سفر کیا کرتا تھا وہ کہتا تھا کہ اس کلام کو ہم نے سن لیا ہے۔ اس میں سوائے قصے کہانیوں کے اور کیا رکھا ہے ہم چاہیں تو ایسا کلام لا سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ فارس سے رستم و اسفند یار کے قصے اٹھا لایا اور کہنے لگا کہ قرآن میں عاد اور ثمود کے قصے ہیں اور میرے پاس رستم و اسفند یار کے قصے ہیں۔ لیکن اس کی اس بات کو اس کے ہم مشرب کافروں نے بھی تسلیم نہ کیا۔ کیونکہ جب قرآن نے ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ کفار کو چیلنج کیا کہ اپنے تمام ادیبوں اور شاعروں کو اکٹھا کر کے قرآن جیسی ایک ہی سورت بنا لاؤ تو سب نے عاجزی کا اظہار کردیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نضر بن حارث کا اپنا ادبی ذوق بھی انتہائی پست قسم کا تھا۔ قرآن کی ہدایات پر اس کی نظر پڑنا تو بڑی دور کی بات ہے۔ الانفال
32 [٣٣] ابو جہل کا مطالبہ عذاب :۔ یہ بات ابو جہل نے کہی تھی اور ازراہ طنز کہی تھی اور مسلمانوں کو سنا کر کہی تھی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ مسلمان سچے ہیں تو جس قدر دکھ اور تکلیفیں ہم انہیں پہنچا رہے ہیں اس کی پاداش میں تو ہم پر اب تک آسمان سے عذاب نازل ہوجانا چاہیے تھا اور وہ عذاب چونکہ آج تک ہم پر نازل نہیں ہوا۔ لہٰذا مسلمانوں کا دین جھوٹا ہے اور یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔ ابوجہل کی اس دعا کا ایک جواب تو پہلے اسی سورۃ میں گزر چکا ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے کافروں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اس (غزوہ بدر) سے پہلے تم حق اور باطل میں فیصلہ کرنے کے لیے دعائیں کرتے تھے۔ سو اب غزوہ بدر کی صورت میں میرا فیصلہ تم کو معلوم ہوچکا اور اگر تم لوگ اب بھی باز آ جاؤ تو تمہارا بھلا اسی میں ہے اور اگر اب بھی باز نہ آئے تو پھر میں تمہیں دوبارہ ایسی ہی سزا دوں گا اور دوسرا جواب اگلی آیت میں مذکور ہے۔ الانفال
33 [٣٤] عذاب سے امان کی صورتیں :۔ ابو جہل کے اس قول کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔ ١۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو جہل نے یہ کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ قرآن تیری طرف سے (نازل شدہ) سچا کلام ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی عذاب ہم پر بھیج دے۔ اس کے جواب میں اگلی آیات وَمَاکَان اللّٰہُ سے لے کر عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ تک نازل ہوئیں۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ٢۔ ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے دو امان کی چیزیں اتاری ہیں۔ پھر یہ آیت پڑھی۔ پھر فرمایا کہ جب میں (دنیا سے) چلا گیا تو تمہارے لیے امن کی چیز استغفار کو قیامت تک کے لیے چھوڑ جاؤں گا۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) یعنی فوری طور پر تم پر پتھروں کا عذاب نازل نہ کرنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ تم میں ابھی اللہ کا رسول موجود ہے۔ اس کی موجودگی میں تم پر عذاب نہیں آ سکتا۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ کا رسول اور مومنوں کی جماعت ہر وقت اللہ سے استغفار کرتے رہتے ہیں اور میرا قانون یہ ہے کہ جب تک کسی قوم میں استغفار کرنے والے لوگ موجود رہیں میں اس پر عذاب نازل نہیں کیا کرتا۔ الانفال
34 [٣٥] تولیت کعبہ کے لئے شرائط ، کفار مکہ کا بیت اللہ پر غاصبانہ قبضہ :۔ یعنی ان لوگوں کے عذاب کے مستحق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اگر ان پر عذاب نہیں آ رہا تو اس کی مندرجہ بالا وجوہ ہیں اور ان کے عذاب کے مستحق ہونے کی بھی دو وجہیں ہیں ایک یہ کہ انہوں نے مسلمانوں پر بیت اللہ میں داخلہ پر پابندی لگا رکھی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بیت اللہ پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ ہم اس کے متولی ہیں کیونکہ ہم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ حالانکہ متولی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کو بیت اللہ میں داخل ہونے سے ہی روک دے۔ نیز یہ کہ تولیت کے لیے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے ہونا کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہو اور وہ موحد تھے۔ مشرک نہیں تھے۔ یعنی اگر اولاد ابراہیم مشرک ہے تو اس سے تولیت چھین کر اس شخص کو دی جائے گی جو موحد اور پرہیزگار ہو خواہ وہ اولاد ابراہیم سے ہو یا نہ ہو۔ کعبہ کی تولیت کے لیے شرط اول پرہیزگاری اور اللہ کا تقویٰ ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہونا نہیں۔ الانفال
35 [٣٦] کفار مکہ کی عبادت بیت اللہ :۔ ان مشرک متولیوں کی بیت اللہ کے اندر عبادت کے بھی عجیب اطوار ہیں جو ننگے ہو کر طواف کرتے ہیں اور سیٹیاں اور تالیاں بجا کر جو اپنی تفریح طبع کا سامان کرتے ہیں۔ اس کا نام انہوں نے عبادت رکھ لیا۔ پھر اس پر دعویٰ یہ کہ اگر مسلمانوں کا دین سچا ہے تو ہم پر عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا غالباً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عذاب صرف آسمان سے پتھروں کی شکل میں یا خوفناک چیخ یا زبردست زلزلہ وغیرہ کی صورت میں ہی آیا کرتا ہے جو خرق عادت کے طور پر واقع ہو۔ حالانکہ غزوہ بدر میں ان کی شکست فاش اللہ کا ایسا عذاب تھا جس نے کفر اور کافروں کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ انہوں نے جنگ پر اصرار تو محض اس توقع پر کیا تھا کہ مسلمانوں کی اس قلیل سی جماعت کو لگے ہاتھوں صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرتے چلیں۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ جنگ ہی اللہ کا عذاب بن کر ان پر مسلط ہونے والی ہے یا یہ کہ ان کی دعا کی قبولیت کا وقت اب آ چکا ہے اور تقدیر الٰہی کا فیصلہ ہمارے خلاف صادر ہونے والا ہے۔ الانفال
36 [٣٧] کفار کا مالی اور جانی نقصان پر حسرت کرنا :۔ غزوہ بدر کے دوران کافروں کے ایک ہزار لشکر کی خوراک کا خرچہ روزانہ دس اونٹ تھا۔ اور یہ صرف گوشت کا خرچہ تھا۔ دیگر سب اخراجات اس کے علاوہ تھے۔ پھر ابو سفیان کے تجارتی قافلہ کا سارے کا سارا منافع مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔ غرض اس آیت میں جو غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی کافروں کے حق میں ایک ایسی پیشین گوئی کی گئی جو بعد کے ادوار میں حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ یعنی غزوہ بدر کے بعد بھی کافر خرچ بھی کرتے رہیں گے اور شکست کھا کر پٹتے بھی رہیں گے اور ایک وقت آئے گا جب اسلام دشمنی کی راہ میں ان کا خرچ کیا ہوا مال، خرچ کیا ہوا وقت اور اپنی جسمانی مشقتیں اور جانوں کا نقصان ایک ایک چیز ان کے لیے حسرت کا باعث بن جائے گی۔ پھر اس دنیا میں پٹنے کے علاوہ جو اخروی زندگی میں جہنم کا عذاب ہوگا وہ مستزاد ہے۔ الانفال
37 [٣٨] یعنی اسلام کے بتدریج غلبہ اور کفر کے بتدریج استیصال سے یہ فائدہ از خود حاصل ہوتا رہا ہے کہ معاندین اسلام مرکھپ جائیں گے یا قتل ہوجائیں گے اور باقی صرف وہ لوگ رہ جائیں گے۔ جن کے نصیب میں اسلام قبول کرنا ہوگا۔ اور معاندین کے اس گندے عنصر کو اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر اس سارے ملبے کو جہنم میں پھینک دے گا۔ ان لوگوں کا نقصان اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ جس راہ میں انہوں نے اپنا تمام وقت، تمام محنت، تمام قابلیت اور پورا سرمایہ زندگی کھپا دیا ہو اور آخر میں انہیں یہ معلوم ہو کہ یہ راہ تو ہمیں تباہی اور جہنم کی طرف لے آئی ہے۔ الانفال
38 [٣٩] یعنی غزوہ بدر میں شکست فاش سے دو چار ہونے کے بعد اگر اب بھی یہ کافر اپنی معاندانہ سرگرمیوں سے باز آ جائیں تو ان کی سابقہ خطائیں معاف ہو سکتی ہیں اور اگر باز نہیں آتے تو ان کا بھی وہی حشر ہوگا جو غزوہ بدر میں ان کے پیشروؤں کا ہوچکا ہے ﴿سنۃ الاولین﴾ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کافر قوم پر بھی اسی طرح اللہ کا عذاب آئے گا۔ جس طرح سابقہ سرکش اقوام پر آتا رہا ہے۔ الانفال
39 [٤٠] فتنہ کا مفہوم اور جہاد کی ضرورت :۔ فتنہ کا لفظ بڑا وسیع المعنیٰ ہے اور یہاں اس کا مفہوم اسلام کے خلاف ہر وہ معاندانہ کوشش ہے جو اسلام کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہو۔ ایسی رکاوٹ کو راستے سے ہٹانے اور اسلام کی راہ صاف کرنے کا نام جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ اب ان معاندانہ سرگرمیوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ جہاں مسلمان رہتے ہوں وہاں کے کافر انہیں شرعی احکام بجا لانے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کردیں یا ان پر عرصہ حیات تنگ کردیں اور دوسری قسم یہ ہے کہ مسلمان اپنی جگہ تو آزاد ہوں مگر دوسروں تک اسلام کی آواز پہنچانے میں رکاوٹیں کھڑی کردی جائیں۔ اسلام ان دونوں صورتوں میں جہاد کا حکم دیتا ہے۔ آج کی زبان میں پہلی قسم کے جہاد کا نام دفاعی جنگ ہے اور دوسری قسم کے جہاد کا نام جارحانہ جنگ ہے۔ اسلام ان دونوں طرح کی جنگوں میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ کیونکہ جہاد فی سبیل اللہ کی تعریف ہی یہ ہے کہ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا یعنی اللہ کے کلمہ کا بول بالا ہو اور یہ اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے کہ ہر طرح کی رکاوٹ یا فتنہ کا قلع قمع کردیا جائے۔ [٤١] جارحانہ جہاد کے لیے شرائط :۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ جب تک ساری دنیا مسلمان نہ ہوجائے جہاد کرتے رہو۔ ایسی جارحانہ جنگ کا کوئی جواز نہیں۔ کیونکہ اسلام لانے پر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا چہ جائیکہ بزور شمشیر اسلام لانے پر مجبور کیا جائے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ کوئی ملک یا علاقہ یا قوم اسلام کی راہ میں رکاوٹ کھڑی نہ کرے اور اس کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً وہ مسلمان ہوجائے یا جزیہ دینا قبول کرلے یا مسلمانوں کی حلیف بن جائے یا غیر جانبدار رہنا گوارا کرلے اور معاہد بن جائے ان صورتوں میں اس سے تعرض نہیں کیا جائے گا۔ بالفاظ دیگر اس جملہ کا یہ مطلب ہوگا کہ اسلام کی بالادستی قائم ہوجائے اور اس بالادستی کی مکمل ترین صورت یہ ہے کہ ساری دنیا مسلمان ہوجائے جیسا کہ نزول مسیح کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہوگا۔ الانفال
40 [٤٢] یعنی اگر یہ لوگ اب بھی نہیں مانتے تو نہ مانیں۔ یہ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے جس طرح اللہ نے غزوہ بدر میں تمہاری سرپرستی اور مدد کی ہے۔ آئندہ بھی ان کے مقابلہ میں کرتا رہے گا۔ اور اللہ سے بڑھ کر اچھا سرپرست اور مددگار اور کون ہوسکتا ہے؟ الانفال
41 [٤٣] اللہ اور اس کے رسول کے پانچویں حصہ کی تقسیم کیسے ہوگی؟:۔ اس آیت میں اس سوال کا تفصیلی جواب دیا جا رہا ہے۔ جس سے اس سورۃ کی ابتدا ہوئی تھی۔ وہاں صرف اتنا جواب دیا گیا کہ چونکہ یہ فتح خالصتاً اللہ کی امداد کے نتیجہ میں حاصل ہوئی تھی اس لیے سب اموال زائدہ (غنیمت سمیت) اللہ اور اس کے رسول کے ہیں۔ لہذا تمہیں آپس کا نزاع فوری طور پر بند کردینا چاہیئے اور تفصیلی جواب یہ ہے کہ اموال غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کا اور باقی ٥/٤ حصہ مجاہدین کا ہے۔ چنانچہ غنیمت کا مال پورے کا پورا ایک جگہ اکٹھا کیا گیا اور اس کا ٥/٤ حصہ جہاد میں حصہ لینے والے مجاہدین میں برابر تقسیم کردیا گیا۔ اب جو اللہ اور اس کے رسول کا پانچواں حصہ تھا اس کے پانچ مصرف بیان فرمائے۔ تاہم ان حصوں میں کمی بیشی اور تقسیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صوابدید پر چھوڑ دی گئی۔ اس میں جو اللہ کا حصہ ہے یعنی پانچویں کا پانچواں حصہ یہ جہاد کی ضرورتوں اور مساجد کی تعمیر اور دیکھ بھال پر خرچ ہوگا، اور رسول کا جو حصہ ہے وہ آپ کی گھریلو یا خانگی ضروریات کے لیے مقرر ہوا۔ کیونکہ دینی مصروفیات کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی دوسرا کام کاج نہ کرسکتے تھے۔ تیسرا حصہ آپ کے رشتہ داروں یعنی بنی ہاشم، یا بنوعبد مناف کا تھا اور ان میں سے جس کو مستحق سمجھتے تھے اور جتنا سمجھتے دے دیتے تھے یہ اس لیے کہ بنو ہاشم نے آڑے وقتوں میں اسلام کی بہت حد تک حمایت اور مدد کی تھی اور اس لیے بھی کہ ان لوگوں کے لیے زکوٰۃ کا مال لینا ممنوع قرار دیا گیا تھا اور چوتھا اور پانچواں مصرف محتاجوں اور مسافروں کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کا حصہ ختم ہوا اور باقی صرف تین مصرف رہ گئے اور بعض کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ موجودہ امیر المومنین کو اور قرابت داروں کا حصہ خاندان نبوت کے محتاجوں کے لیے ہے۔ کیونکہ زکوٰۃ لینا ان کے لیے ممنوع ہے اور ہمارے خیال میں معاملہ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ حالات میں بہت تغیر رونما ہوچکا ہے اور اسی لحاظ سے ان مسائل میں بھی شوریٰ کے فیصلہ کے مطابق تبدیلی ہوگی۔ مثلاً دور نبو صلی اللہ علیہ وسلم ی میں صحابہ رضاکارانہ یا فرض سمجھ کر جہاد پر نکلتے، سواری اور ہتھیاروں کا اہتمام خود کرتے تھے جس کے عوض انہیں حصہ ملتا تھا مگر آج فوج کا محکمہ ہی الگ ہوتا ہے اور اس کی ابتدا دور فاروقی سے ہی ہوگئی تھی۔ یہ فوجی یا مجاہدین تنخواہ دار ہوتے ہیں۔ اسلحہ اور سواری کا اہتمام حکومت کے ذمہ ہوتا ہے۔ لہذا اب عام مسلمانوں پر جہاد فرض نہ رہا اور تنخواہ کی وجہ سے مجاہدین میں ایسی تقسیم کا قصہ بھی ختم ہوا۔ امیر کے حصہ کا بھی کیونکہ وہ خود سرکاری خزانہ کا تنخواہ دار ہوتا ہے اور فقراء وغیرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنا ویسے ہی ایک اسلامی حکومت کا فریضہ ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جنگوں کے طریق کار کا نقشہ یکسر بدل چکا ہے۔ بنو ہاشم کے لئے صدقات کی حرمت کے متعلق اجتہاد کی ضرورت :۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اموال غنیمت کی تقسیم میں ایسی تبدیلی کی وجہ سے بنو ہاشم کے محتاجوں کی امداد کا مسئلہ ختم ہوگیا اور صدقات بالخصوص زکوٰۃ ویسے ہی ان کے لیے ممنوع ہے تو بنو ہاشم کے محتاجوں کی امداد کی آج کیا صورت ہو سکتی ہے۔ بالخصوص اس صورت میں جبکہ کسی ملک میں اسلامی نظام بھی قائم نہ ہو؟ بعض علماء کے نزدیک صدقات و زکوٰۃ کی بنو ہاشم کے لیے ممانعت کی وجہ یہ تھی کہ صدقات و زکوٰۃ کی تقسیم بحیثیت قائد ملت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقات اپنے خاندان کے لیے حرام قرار دیئے تھے۔ پھر بھی منافق لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صدقات کی تقسیم میں الزام لگاتے رہے۔ لہٰذا آج ان صدقات کی ممانعت کا حکم مسلمانوں کے امیر اور اس کے خاندان کے لیے ہوگا۔ اسی طرح جو لوگ آج کل بنو ہاشم کی اولاد یا سید کہلاتے ہیں ان کے لیے صدقات و زکوٰۃ کی حرمت بھی ختم ہوجانی چاہیے۔ لہذا ان مسائل میں اجتہاد کرنا ضروری ہے کہ موجودہ دور میں بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کی اولاد دنیا کے کس کس ملک میں پائی جاتی ہے اور ان کے محتاجوں کی امداد کس ذریعہ سے ممکن ہے۔ [٤٣۔ الف] غزوہ بدر یوم الفرقان کیسے تھا ؟:۔ یہ یوم الفرقان اس لحاظ سے تھا کہ اس معرکہ نے یہ فیصلہ کردیا تھا کہ حق کس فریق کے ساتھ ہے اور باطل پر کونسا فریق ہے اور یہ جمعۃ المبارک کا دن ١٧ رمضان المبارک ٢ ھ تھا اور جمعہ کا دن تھا۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن اپنے بندے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کیا نازل کیا تھا ؟ تو اس سے مراد بارش بھی ہو سکتی ہے اور فرشتے بھی اور تائید الٰہی کی دوسری صورتیں بھی جن میں اکثر کا ذکر گزر چکا ہے اور کچھ آگے مذکور ہیں اور سب چیزیں اور اسباب اس لیے پیدا ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے ظاہری اور باطنی اسباب پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص نزول ملائکہ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ریت یا مٹی پھینکنے سے کافروں کے اندھا ہونے کو یا ایسے ہی دوسرے خوارق کو تسلیم نہیں کرتا یا ان کی تاویل کرتا ہے وہ اللہ پر پوری طرح ایمان نہیں رکھتا۔ الانفال
42 [٤٤] اس کنارے یا نزدیکی کنارے سے مراد وہ سمت ہے جو مدینہ کی طرف تھی اور پرلے کنارے سے مراد اس سے مخالف سمت ہے جو مکہ کی طرف تھی۔ [٤٥] جنگ بدر اضطراراً واقع ہوئی تھی :۔ یعنی مسلمان جب مدینہ سے نکلے تو جہاد کی غرض سے نہیں بلکہ تجارتی قافلہ پر حملہ کی غرض سے نکلے تھے۔ اسی وجہ سے غزوہ بدر سے پیچھے رہ جانے والے مسلمانوں پر کوئی مواخذہ نہیں اور کافر اس غرض سے نہیں نکلے تھے کہ جنگ لڑیں گے بلکہ اپنے قافلہ کو بچانے کی غرض سے نکلے تھے۔ اب اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ وہ قافلہ تو بچ بچا کر نکل آیا۔ اس طرح دونوں لشکروں کی آپس میں مڈ بھیڑ ہوگئی، اور یہ سب کچھ اللہ کی مشیت کے مطابق ہو رہا تھا۔ [٤٦] یعنی اگر کافر اور مسلمان آپس میں لڑائی کے لیے کوئی عہد و پیمان کرتے تو عین ممکن تھا کہ دونوں فریق یا کوئی ایک فریق وعدہ خلافی کر کے مقررہ وقت اور مقررہ جگہ پر نہ پہنچ سکتا یا پہنچنے سے راہ فرار اختیار کرجاتا اور اس طرح یہ معرکہ حق و باطل وقوع پذیر ہی نہ ہوتا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے حالات ہی ایسے پیدا کردیئے کہ یہ جنگ واقع ہو کے رہی۔ [٤٧] جنگ بدر حق وباطل میں فیصلہ کن معرکہ تھا :۔ یعنی مرنے والے کافر بھی اور زندہ رہنے والے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ حق پر کون فریق تھا اور کس فریق کی اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ کافروں کا یہ انجام دیکھنے کے بعد پھر بھی جو کافر کفر پر ہی قائم رہنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی ہی گور گردن پر رہے جو اسلام لانا چاہے تو وہ اللہ کی یہ واضح تائید دیکھ کر اسلام لائے اور اس کا اسی کو فائدہ ہوگا۔ بہرحال شرک و کفر کے باطل ہونے کا ایک جیتا جاگتا ثبوت اللہ تعالیٰ نے سب کو دکھلا دیا ہے۔ الانفال
43 [٤٨] کافروں کی تعداد تھوڑی دکھلانے کا مقصد :۔ یعنی یہ بھی اللہ تعالیٰ کی امداد ہی کی ایک صورت تھی کہ عریش میں اللہ کے حضور آہ و زاری و فتح و نصرت کی دعائیں مانگنے کے بعد جب آپ پر نیند کا غلبہ ہوا تو حالت خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفار کی تعداد ان کی اصل تعداد سے کم دکھلائی گئی اور اس کا فائدہ یہ تھا کہ مسلمان کہیں کفار کی تعداد اور ان کے اسلحہ جنگ سے مرعوب ہو کر ہمت ہی نہ ہار بیٹھیں اور مشورہ کی صورت میں جنگ کرنے یا نہ کرنے کی مصلحتوں پر غور کیا جانے لگے۔ پھر اس میں اختلاف ہونے لگے۔ گویا ایسا خواب دکھلانے کا ایک مقصد تو مسلمانوں کی ہمت بندھانا تھا اور دوسرا اختلافات سے بچانا اور جنگ پر دلیر بنانا تھا۔ الانفال
44 [٤٩] آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خالی مربع کی صورت میں صف بندی :۔ یعنی تم مسلمان کافروں کی تعداد اصل تعداد سے تھوڑی سمجھ رہے تھے اور دشمن یہ سمجھتا تھا کہ مسلمان ہماری نسبت بہت تھوڑے ہیں۔ اس طرح فریقین کے حوصلے بڑھ گئے اور لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔ اس طرح جو کام مشیت الٰہی میں ہونا مقدر تھا۔ اس کے اسباب پیدا ہوتے گئے اور وہ بالآخر ہو کے رہا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب دونوں لشکر ابھی صف آرا نہ ہوئے تھے اور جب صف آرا ہوگئے تو اس وقت کافروں کو مسلمانوں کی تعداد ان کی اصل تعداد سے دگنی نظر آنے لگی تھی۔ جیسا سورۃ آل عمران میں مذکور ہے۔ ﴿یَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَیْہِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ﴾اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک نہایت ماہرانہ جنگی تدبیر تھی کہ آپ نے صحابہ کی صف آرائی خالی مربع (Hollow Square) کی شکل میں کی تھی جس کی وجہ سے کافروں کو مسلمانوں کی تعداد فی الواقع دو گنا نظر آنے لگی تھی اور اس طرح ان کے حوصلے پست ہوجانا لازمی امر تھا۔ اور بعض علماء کا قول ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب غزوہ بدر میں فرشتوں کا نزول ہوا تھا۔ میرے خیال میں تو یہ توجیہ درست نہیں کیونکہ فرشتے تو اکثر مسلمانوں کو بھی نظر نہیں آتے تھے۔ کافروں کو کیسے نظر آ سکتے تھے؟ الانفال
45 [٥٠] دوران جنگ اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرنا اور اسی پر بھروسہ کرنا :۔ یہاں سے آگے جنگ سے متعلق مسلمانوں کو ہدایات اور ان کی جنگی داخلی اور خارجہ پالیسی کے متعلق احکام بیان کئے جا رہے ہیں :۔ سب سے پہلی ہدایت یہ ہے کہ اگر مقابلہ پیش آ جائے تو پھر پوری دلجمعی اور ثابت قدمی سے مقابلہ پر ڈٹ جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دشمن سے مقابلہ کی آرزو مت کرو اور اگر مڈبھیڑ ہوجائے تو پھر پوری ہمت اور ثابت قدمی سے مقابلہ کرو۔ اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایہ تلے ہے۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد، باب لاتمنوالقاء العدو) اور اس دوران اللہ کو بکثرت یاد کیا کرو۔ ہر وقت اللہ کو یاد رکھنا تمہاری ثابت قدمی کا باعث بن جائے گا اور بالخصوص میدان جنگ میں بھی اپنی نمازوں کا خیال رکھو، اسی پر بھروسہ رکھو۔ یہی تمہاری کامیابی کا راز ہے۔ محض اسباب پر تکیہ نہ کرو۔ الانفال
46 [٥١] اختلاف اور جھگڑے کی ممانعت :۔ اور جو کچھ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں حکم دے۔ اس میں نہ اختلاف پیدا کرو اور نہ تنازعہ کی شکل بنا لو۔ اگرچہ یہ حکم عام ہے۔ تاہم دوران جنگ اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کو بالخصوص بیان کیا گیا ہے۔ اگر تم اس دوران اختلاف کا شکار ہوگئے تو تمہاری ہمتیں پست ہوجائیں گی اور تمہاری ساکھ کو سخت دھچکا لگے گا جو بالآخر تمہاری شکست کا پیش خیمہ بن سکتا ہے اور اس دوران پیدا ہونے والی مشکلات کو برداشت کرنے اور ان پر قابو پانے کو اپنا شعار بناؤ اور یہ یاد رکھو کہ اگر ایسی مشکلات پر صبر کرو گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے گا۔ الانفال
47 [٥٢] لشکر کفار کا شان وشوکت کا مظاہرہ :۔ یہاں ’’ان لوگوں‘‘ سے مراد مشرکین ہیں۔ جن کا سردار ابو جہل اپنا لشکر لے کر مکہ سے بڑی دھوم دھام اور باجے گاجے کے ساتھ نکلا تھا تاکہ مسلمان انہیں دیکھ کر ہی مرعوب ہوجائیں۔ نیز دوسرے قبائل عرب پر ان کی دھاک بیٹھ جائے۔ راستہ میں اسے ابو سفیان کا یہ پیغام مل بھی گیا کہ قافلہ خطرہ سے بچ نکلا ہے لہٰذا تم واپس آ جاؤ۔ لیکن ابو جہل نے غرور سے کہا۔’’ اب ہم اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک بدر کے چشمہ پر پہنچ کر مجلس طرب و نشاط منعقد نہ کرلیں۔ وہاں گانے بجانے والی عورتیں خوشی اور کامیابی کے گیت گائیں گی۔ ہم وہاں شراب پئیں گے۔ مزے اڑائیں گے اور تین دن تک اونٹ ذبح کر کے قبائل عرب کی ضیافت کا اہتمام کریں گے تاکہ یہ دن عرب میں ہمیشہ کے لیے یادگار رہیں اور ان مٹھی بھر مسلمانوں پر ہمارا ایسا رعب طاری ہو کہ پھر کبھی ہمارے مقابلہ کی جرأت نہ کرسکیں۔‘‘ گویا اس وقت تک ابو جہل کا ارادہ صرف اپنی شان و شوکت جتلانے اور مسلمانوں پر رعب طاری کرنے کا تھا، لڑائی کا نہ تھا۔ پھر جب مسلمان بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت وہاں پہنچ گئے اور لڑائی کی فضا بن گئی تو اس وقت بھی چند سرداروں نے ابو جہل کو لڑائی سے روکا۔ مگر پھر اس کا پندار اور غرور غالب آیا اور جن لوگوں نے اسے لڑائی روک دینے کا مشورہ دیا تھا انہیں بزدلی کے طعنے دینے لگا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی مشیت پوری ہوگئی اور ابو جہل کو بالخصوص اس عذاب سے دوچار ہونا پڑا جس کی وہ طنزیہ دعا کیا کرتا تھا۔ اس کی موت دو نوجوان لڑکوں کے ہاتھوں واقع ہوئی اور وہ نہایت ذلت کی موت مرا۔ الانفال
48 [٥٣] جنگ بدر میں سراقہ بن مالک کا موجود ہونا اور کافروں کی حوصلہ افزائی :۔ قریش اور بنو کنانہ کی آپس میں دشمنی تھی اور انہیں یہ خطرہ تھا کہ بنو کنانہ کہیں مسلمانوں کی حمایت کر کے ہمارے لیے خطرہ یا شکست کا باعث نہ بن جائیں۔ ان کے اس خدشہ کو مٹانے کے لیے شیطان خود بنو کنانہ کے رئیس سراقہ بن مالک کی شکل میں کافروں کے لشکر میں آ موجود ہوا اور ابو جہل سے کہنے لگا کہ ہماری طرف سے تم لوگ بالکل مطمئن رہو۔ اس معاملہ میں ہم لوگ تمہاری حمایت کریں گے اور مل کر مسلمانوں کا استیصال کریں گے۔ ویسے بھی تم لوگوں کی فتح یقینی ہے۔ تمہاری اتنی بڑی جمعیت کے سامنے ان تھوڑے سے مسلمانوں کی کیا حیثیت ہے۔ پھر جب میدان کار زار گرم ہوا اور اس نے مسلمانوں کی مدد کے لیے فرشتے اترتے دیکھ لیے اور یہ اندازہ کرلیا کہ اب مشرکین کی شکست یقینی ہے تو وہاں سے کھسکنے لگا۔ اس وقت ابو جہل نے کہا : عین مشکل کے وقت اب کہاں جاتے ہو؟ کہنے لگا جو کچھ مجھے نظر آ رہا ہے وہ تم نہیں دیکھ سکتے۔ یہ کہہ کر چلتا بنا۔ اس وقت بھی شیطان لعین نے اپنے ساتھیوں کو یہ نہ بتلایا کہ جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں اس کے مطابق تمہاری ہلاکت ہونے والی ہے۔ لہٰذا تم بروقت اس کا تدارک سوچ لو۔ بلکہ انہیں دغا دے کر واپس چلا گیا۔ الانفال
49 [٥٤] مجاہدین بدر کو یہودیوں اور منافقوں کا طعنہ :۔ مدینہ کے منافق اور یہودی یہ کہتے تھے کہ یہ مسلمان اپنے دینی جوش میں دیوانے ہوگئے ہیں۔ بھلا ان کی اس مٹھی بھر بے سروسامان جماعت کا قریش جیسی زبردست طاقت سے ٹکر لینے کے لیے تیار ہوجانا دیوانگی نہیں تو کیا ہے۔ یہ لوگ پتہ نہیں کس دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ جب کہ ہمیں تو اس معرکہ میں ان کی تباہی یقینی نظر آ رہی ہے اور سب کچھ دیکھتے بھالتے یہ لوگ اپنی موت کو دعوت دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : دیوانے مسلمان نہیں بلکہ دیوانے یہ خود ہیں جو یہ بات نہیں سمجھتے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد کرتا ہے وہ مدد کرنے پر غالب بھی ہے اور ایسے سب طریقے بھی خوب جانتا ہے۔ الانفال
50 [٥٥] ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ اس آیت میں روئے سخن ان کافروں کی طرف ہے جو غزوہ بدر میں مارے گئے تھے جیسا کہ ترجمہ میں ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم اس کا حکم عام ہے۔ اور سب کافروں سے ایسا معاملہ پیش آ سکتا ہے کہ ان کی موت کے وقت فرشتے ان کے چہروں اور پشتوں پر چوٹیں بھی لگائیں اور جہنم کے عذاب کی نوید بھی سنائیں اور کہیں کہ یہ سزا تمہیں تمہارے ہی شامت اعمال سے مل رہی ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کو تمہیں سزا دینے کا کوئی شوق نہیں۔ الانفال
51 الانفال
52 [٥٦] یعنی آل فرعون اور قوم عاد، ثمود اور نوح وغیرہ میں اور ان مشرکین مکہ میں کوئی فرق نہیں۔ انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور نافرمانی اور سرکشی پر اتر آئے تھے اور یہ لوگ بھی وہی کچھ کر رہے ہیں۔ لہٰذا جیسے انہیں اپنے گناہوں کی پاداش میں عذاب سے دو چار ہونا پڑا تھا۔ اسی طرح انہیں بھی عذاب بدر سے دو چار ہونا پڑا اور آگے ہونا پڑے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسی سزا دینے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔ الانفال
53 [٥٧] نیت کے فتور سے نعمت چھن جاتی ہے :۔ اس آیت کے الفاظ بڑے وسیع معنی رکھتے ہیں اور اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں مثلاً ایک یہ کہ ''ما '' کو کسی قوم کی خوشحالی پر محمول کیا جائے۔ اس صورت میں اس کے وہی معنی ہیں جو ترجمہ میں کئے گئے ہیں۔ البتہ مَا بِاَنْفُسِہِمْ کا معنی طرز عمل کے بجائے نیت کا فتور بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی جب تک کوئی قوم اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار بن کر رہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے وہ نعمت نہیں چھینتا، پھر جب ان لوگوں کی نیتوں میں فتور آ گیا یا بگاڑ پیدا ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی ان سے چھین لی جاتی ہے۔ اور اگر ''ما'' کو کسی قوم کی بدحالی اور مصائب پر محمول کیا جائے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ جو قوم بدحالی اور مصائب کا شکار ہے۔ جب تک وہ خود اپنی اس پریشانی اور بدحالی کو بدلنے کی کوشش نہ کرے گی۔ اللہ بھی انہیں اسی حال میں رہنے دیتا ہے اور اس کی بدحالی کو دور نہیں کرتا جیسا کہ حالی نے کہا ہے خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔۔۔۔۔ نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا الانفال
54 [ ٥٧۔ الف] یعنی ان کفار مکہ سے پہلے ہم نے آل فرعون پر اور بہت سی دوسری اقوام پر انعامات کی بارش کی تھی۔ لیکن انہوں نے ان انعامات کی ناقدری کی۔ ان کی نیتوں میں فتور آ گیا۔ اللہ کا شکر ادا کرنے اور اس کی فرمانبرداری کرنے کے بجائے وہ اس کی نافرمانی اور سرکشی پر اتر آئے تھے۔ لہٰذا ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں تباہ و برباد کر ڈالا اور آل فرعون کو تو سمندر میں ڈبو کر ان کا نام و نشان تک ختم کر ڈالا۔ یہ سب قومیں نافرمان تھیں اور سب ہی ہلاک کردی گئی تھیں تو اب کیا یہ کافر اپنے انجام بد سے محفوظ رہ سکتے ہیں؟ الانفال
55 [٥٨] بدترین مخلوق کون ہے؟ :۔ بدترین اس لحاظ سے کہ انہیں عقل اور تمیز کی قوت بخشی گئی ہے جو عام جانوروں کو عطا نہیں ہوئی۔ پھر اگر یہ لوگ ان قوتوں کے باوجود حق کو سمجھنے یا دیکھنے یا سننے کی زحمت ہی گوارا نہ کریں اور نہ حق پر ایمان لانے پر آمادہ ہوں تو یہ عام جانوروں سے بدتر ٹھہرے۔ الانفال
56 [٥٩] میثاق مدینہ اور اس کی دفعات اور یہود قبائل کا اسے باری باری تسلیم کرنا :۔ انہی بدترین جانوروں میں بالخصوص وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے عہد کو ہر بار توڑتے رہتے ہیں۔ یہاں ان لوگوں سے مراد مدینہ کے یہود ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مدینہ کے یہودیوں اور دوسرے مشرک قبائل سے معاہدات کی داغ بیل ڈالی جو بعد میں میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہوا۔ یہود سے آپ نے جو معاہدہ کیا اس کی اہم دفعات یہ تھیں۔ ١۔ مسلمان اور یہود آپس میں امن و آشتی سے رہیں گے۔ کوئی ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی نہیں کرے گا۔ ان کے تعلقات خیر خواہی اور فائدہ رسانی کی بنیاد پر ہوں گے۔ ٢۔ اگر مدینہ پر کوئی بیرونی حملہ ہوا تو مسلمان اور یہود دونوں مل کر اس کا دفاع کریں گے اور اخراجات بھی حصہ رسدی ادا کریں گے۔ ٣۔ یہود اپنے جھگڑوں کا اپنی شریعت کے مطابق خود ہی فیصلہ کریں گے۔ ہاں اگر وہ چاہیں تو اپنے مقدمات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس فیصلہ کے لیے لا سکتے ہیں۔ اس صورت میں آپ کا کیا ہوا فیصلہ ان پر نافذ العمل ہوگا۔ ٤۔ قریش اور ان کے مددگاروں کو پناہ نہیں دی جائے گی۔ ٥۔ کوئی آدمی اپنے حلیف کی وجہ سے مجرم نہ ٹھہرے گا۔ ٦۔ اس معاہدہ کے سارے شرکاء پر مدینہ میں ہنگامہ آرائی اور کشت وخون حرام ہوگا۔ ٧۔ اس معاہدہ کے فریقوں میں اگر کوئی جھگڑا ہوجائے تو اس کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کریں گے۔ (ابن ہشام ج اول ١ : ٥٠٣، ٥٠٤) یہود کے تین قبائل مدینہ میں آباد تھے۔ تینوں نے اس معاہدہ کو باری باری تسلیم کرلیا۔ لیکن اپنی موروثی عادت کے مطابق بارہا اس معاہدہ کی خلاف ورزیاں کیں۔ انہوں نے اوس و خزرج کے درمیان دوبارہ عداوت ڈالنے کی کوششیں کیں۔ منافقوں کے ساتھ مل کر خفیہ اور معاندانہ سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ ایک مسلمان عورت بنو قینقاع کے بازار میں ایک سنار کے ہاں گئی تو اسے ان لوگوں نے ازراہ شرارت ننگا کردیا۔ جس پر فریقین میں بلوہ ہوگیا۔ غزوہ بدر کے بعد کعب بن اشرف خود مکہ گیا اور مشرکین مکہ کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر بھڑکایا۔ ایک دفعہ یہود نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھت سے پتھر گرا کر ہلاک کرنا چاہا۔ جنگ خیبر کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت میں بکری کا گوشت کھلانے کی کوشش کی جس میں زہر ملا ہوا تھا۔ غرض ان کی بد عہدیاں اور عہد شکنیاں اور معاندانہ سرگرمیاں اتنی زیادہ ہیں جن کا بیان یہاں ممکن نہیں۔ الانفال
57 [٦٠] یہود مدینہ کی لاف زنی اور بزدلی اور انجام :۔ یہود مسلمانوں سے معاہدہ امن و آشتی کے باوجود اپنی شرارتوں، فتنہ انگیزیوں اور عہد شکنیوں سے باز نہیں آتے تھے۔ بڑ مارنے اور شیخیاں بگھارنے میں بڑے ماہر تھے۔ مگر بزدل انتہا درجہ کے تھے غزوہ بدر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ ان کے بازار واقع محلہ بنو قینقاع میں تشریف لے گئے اور یہود کو جمع کر کے انہیں ان کی ایسی شر انگیز حرکتوں پر عار دلائی اور فرمایا کہ ایسے کاموں سے باز آ جاؤ اور اسلام قبول کرلو تو تمہارے حق میں بہتر رہے گا۔ ورنہ تمہیں بھی ایسی ہی مار پڑے گی جیسی قریش مکہ کو پڑچکی ہے۔ اس دعوت کا انہوں نے انتہائی توہین آمیز جواب دیا اور کہنے لگے۔ تمہارا سابقہ قریش کے اناڑی لوگوں سے پڑا تھا اور تم نے میدان مار لیا۔ ہم سے پالا پڑا تو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا۔ ان کا یہ جواب دراصل معاہدہ امن کو توڑنے اور اعلان جنگ کرنے کے مترادف تھا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر سے کام لیا۔ پھر انہی دنوں یہودیوں نے انصار کی ایک عورت کو ننگا کردیا جس پر مسلمانوں اور بنو قینقاع میں بلوہ ہوگیا۔ اب ان سے جنگ کرنے کے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر لے کر ان کے ہاں جا پہنچے تو یہ جوانمردی کی ڈھینگیں مارنے والے اور قریش کو بزدلی کا طعنہ دینے والے یہود سامنے آنے کی جرأت ہی نہ کرسکے اور فوراً قلعہ بند ہوگئے۔ پندرہ دن تک قلعہ میں محصور رہنے کے بعد ہتھیار ڈال دیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قید کرنے کا حکم دیا۔ پھر عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین جس سے ان یہودیوں کی مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ ساز باز رہی، کی پرزور سفارش پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قید معاف کردی اور جلاوطن کردیا اور یہ لوگ شام کو چلے گئے۔ اس کے بعد اسی طرح بنو نضیر جلاوطن ہوئے۔ پھر جنگ خندق کے بعد بنو قریظہ بھی قلعہ بند ہوئے جو بالآخر قتل کئے گئے اور بچے اور عورتیں غلام بنائے گئے۔ خیبر کے موقعہ پر بھی یہود قلعہ بند ہوگئے۔ غرض جب بھی لڑائی کا موقعہ پیش آیا تو ان یہود کو کھلے میدان میں مسلمانوں سے لڑنے کی کبھی جرأت ہی نہ ہوئی۔ حتیٰ کہ غزوہ احد اور غزوہ خندق کے موقعہ پر کفار کے ساتھ مل کر بھی انہیں کھلے میدان میں سامنے آنے کی جرأت ہی نہ ہوئی۔ یہ لوگ ہمیشہ سازشوں، شرارتوں، فتنہ انگیزیوں اور عہد شکنیوں سے ہی مسلمانوں کو پریشان کرتے رہے تاہم انہیں وہ سزا ملتی ہی رہی جو اس آیت میں مذکور ہے۔ الانفال
58 [٦١] معاہدہ قوم کے ساتھ اسلام کی خارجہ پالیسی، مکر و فریب کی شدید مذمت :۔ اس آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ کوئی بھی قوم جس سے تمہارا معاہدہ امن ہوچکا ہو، خواہ وہ تمہاری ریاست کے اندر ہو باہر ہو اور اس قوم سے تمہیں عہد شکنی یا دغا بازی کا خطرہ پیدا ہوجائے تو تم اس کے خلاف کوئی خفیہ کارروائی یا سازش نہیں کرسکتے۔ ایسی صورت میں تمہیں علی الاعلان اس قوم پر واضح کردینا چاہیے کہ اب ہمارا تمہارا معاہدہ ختم ہے تاکہ وہ کسی طرح کے دھوکہ میں نہ رہیں اور تم پر عہد شکنی کا الزام نہ آئے۔ اس کی مثال یہ واقعہ ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور روم میں میعادی معاہدہ تھا، دشمن کی حرکات و سکنات دیکھ کر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روم کی سرحد پر فوجیں جمع کرنا شروع کردیں اور اس انتظار میں رہے کہ معاہدہ کی مدت ختم ہوتے ہی روم پر حملہ کر دینگے۔ یہ صورت حال دیکھ کر سیدنا عنبسہ رضی اللہ عنہ آپ کے پاس پہنچے اور انہیں خبردار کیا کہ آپ کتاب و سنت کے احکام کے مطابق ایسا نہیں کرسکتے۔ الا یہ کہ آپ پہلے دشمن کو اپنے ارادہ سے مطلع کردیں چنانچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فوجیں پیچھے ہٹا لیں۔ دشمن کی بدعہدی کو اعلان جنگ سمجھا جائے :۔ البتہ اگر معاہدہ کی خلاف ورزی فریق ثانی کی طرف سے تو پھر ایسے اعلان کی ضرورت نہیں۔ فریق ثانی کی بد عہدی کو ہی اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔ اس کی مثال یہ واقعہ ہے کہ صلح حدیبیہ کی رو سے مسلمانوں اور کفار مکہ میں میعادی معاہدہ امن ہوا۔ بنو بکر مشرکین مکہ کے حلیف تھے اور بنو خزاعہ مسلمانوں کے، قریش مکہ نے بنو بکر کی حمایت کرتے ہوئے اعلانیہ بنو خزاعہ کی خوب پٹائی کی بنوخزاعہ کے چند آدمی فریادی بن کر مدینہ پہنچے اور اس عہد شکنی کا اعتراف قریش کو بھی تھا۔ کیونکہ اس کے بعد ابو سفیان تجدید عہد کے لیے مدینہ پہنچا۔ لیکن اس کی اس درخواست کو آپ نے قبول نہیں کیا اور بالآخر قریش کی یہی عہد شکنی اور غداری مکہ پر چڑھائی اور اس کی فتح کا سبب بنی۔ الانفال
59 [ ٦١۔ الف] یعنی کافروں کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ان کا جھوٹ، دغا، مکر و فریب، عیاری و مکاری اور ان کی سازشیں اسلام کا راستہ روکنے میں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں گی۔ اس آیت کے مخاطب بھی یہود مدینہ اور منافقین ہیں جو ہر وقت مسلمانوں کو زیر کرنے کی تدبیر سوچتے اور ایک دوسرے کے ہمراز بنے رہتے تھے۔ الانفال
60 [٦٢] سامان حرب و فنون سپہ گری کی ترغیب :۔ یعنی مسلمانوں کو عام حالات کے علاوہ کسی غدار معاہد کے ہنگامی حملہ کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو اسلحہ جنگ مہیا رکھنا چاہیے۔ اس کا یہ فائدہ بھی ہوگا کہ تمہارے کھلے اور چھپے دشمن سب تم سے مرعوب رہیں گے اور اس غرض پر جتنا بھی تمہارا خرچ ہوگا سب فی سبیل اللہ شمار ہوگا، اور اس کا تمہیں اللہ تعالیٰ سے پورا پورا اجر مل جائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اسلحہ جنگ میں تیر، نیزے، تلوار اور جنگی گھوڑے ہوتے تھے۔ اور دفاعی سامان میں ڈھال، زرہ اور خود وغیرہ تھے اور جنگی تربیت کے لحاظ سے پہلا نمبر تیر اندازی کا تھا۔ مسلمانوں کی جنگی ترتیب اور سامان حرب کے استعمال اور فراہمی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلچسپیوں کا اندازہ درج ذیل احادیث سے ہوتا ہے۔ ١۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برسر منبر یہ آیت پڑھی اور فرمایا کہ قوت سے مراد تیر چلانا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین بار دہرایا اور فرمایا۔ سن لو! اللہ تعالیٰ تمہیں زمین میں فتح دے گا اور محنت سے کفایت کرے گا۔ لہٰذا کوئی بھی تم میں سے اپنے تیروں سے کھیلنے میں سستی نہ کرے (ترمذی، ابو اب التفسیر) ٢۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جس نے تیر اندازی سیکھی، پھر اسے چھوڑ دیا وہ ہم سے نہیں یا اس نے نافرمانی کی۔‘‘ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الرمی والحث علیہ الخ) ٣۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے وہ تیر اندازی کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’اے بنی اسماعیل! تیر اندازی کرو۔ بے شک تمہارے باپ بڑے تیر انداز تھے اور میں بنی فلاں کے ساتھ ہوں۔‘‘ اب دوسرے فریق نے اپنے ہاتھ روک لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ تم تیر اندازی کیوں نہیں کرتے؟‘‘ انہوں نے کہا : ’’ہم کیسے تیر پھینکیں جبکہ آپ ان کے ساتھ ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تیر اندازی کرو میں سب کے ساتھ ہوں۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب التحریص علی الرمی) ٤۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو گھوڑے گھڑ دوڑ کے لیے تیار کئے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دوڑ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک اور جو تیار نہیں کئے گئے تھے۔ ان کی دوڑ مسجد بنی زریق تک مقرر فرمائی اور میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے گھوڑے دوڑائے تھے۔ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ، باب ھل یقال مسجد بنی فلاں ) ٥۔ سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک (عید کے) دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا۔ اور حبشی مسجد میں اپنے ہتھیاروں سے کھیل رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر سے مجھے ڈھانپے ہوئے تھے اور میں بھی ان کا کھیل دیکھ رہی تھی۔ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب اصحاب الحراب فی المسجد) مگر آج تیر و تلوار کا زمانہ نہیں۔ بلکہ کلاشن کو فوں اور میزائلوں اور بموں کا زمانہ ہے۔ لہٰذا آج مسلمانوں کو ان جدید آلات سے پوری طرح آگاہ اور ان کے استعمال کرنے کی تربیت ہونی چاہیے۔ آج مسلمان اس معاملہ میں جتنی غفلت برت رہے ہیں اسی نسبت سے دوسری قوموں کے محتاج اور ان کے سامنے ذلیل ہو رہے ہیں۔ جہاد اور امریکی پالیسی :۔ آج مسلمانوں کی ایمانی حرارت سرد پڑچکی ہے۔ ان کا اللہ پر توکل اٹھ گیا ہے۔ وہ زبان سے تو ہر روز اپنی نمازوں میں سینکڑوں مرتبہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔ مگر حقیقتاً وہ امریکہ کو سب سے بڑا سمجھتے ہیں اور امریکہ کی ناراضگی کا خوف انہیں اللہ کے خوف سے بڑھ کر ہے۔ لہٰذا وہ امریکہ سے دوستی بڑھانے میں ہی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کی صراحت کے مطابق امریکہ کبھی مسلمانوں کا دوست نہیں ہو سکتا۔ وہ اس دوستی کی آڑ میں بھی مکر و فریب سے ان مسلمانوں کا ستیا ناس ہی کرے گا۔ مسلمان ممالک کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ مادی وسائل عطا فرمائے ہیں۔ مگر ان کی سب سے بڑی بدبختی یہ ہے کہ وہ متحد نہیں ہوتے اور سب کے سب ہی امریکہ کے دست نگر اور اس کے وفادار بنے ہوئے ہیں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے اللہ یعنی کتاب و سنت کی طرف رجوع نہیں کرتے بلکہ امریکہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اور امریکہ صرف ان ممالک سے خوش ہوتا ہے جو اپنے ملک سے جہاد کی روح کا جنازہ نکال دیں۔ جو ملک ایٹم بم بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اس منصوبے کو بالکل ملیا میٹ کردیں۔ مجاہدین کے لیے اس نے ایک نئی اصطلاح ''دہشت گرد'' تجویز فرمائی ہے اور مسلمان ملک اس بات سے ہر وقت خائف رہتے ہیں کہ کہیں امریکہ بہادر ان کو دہشت گرد قرار نہ دے دے۔ گویا امریکہ بہادر مسلمان ممالک سے جہاد کی روح کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے اور جنگی قوت کو بھی جس کے لیے اس آیت میں مسلمانوں کو تاکیدی حکم دیا جا رہا ہے، اور اگر مسلمان ممالک کا یہی وطیرہ رہا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ابھی ان کی بدبختی کے دن ختم نہیں ہوئے۔ الانفال
61 [٦٣] معاہدہ کے لئے تیار رہنا چاہئے خواہ دشمن سے غداری کا خطرہ ہو کیونکہ اسلام امن پسند مذہب ہے :۔ یعنی جو قوم بھی مسلمانوں سے صلح یا معاہدہ امن کے لیے پیش قدمی یا پیشکش کرے تو مسلمانوں کو یہ نہ سوچنا چاہیے کہ ممکن ہے یہ لوگ اپنی کسی ذاتی مصلحت کے لیے یا کسی مناسب موقعہ کے انتظار کے لیے ایسا کر رہے ہیں اور جب انہیں موقعہ میسر آئے گا تو وہ مسلمانوں سے فریب اور غداری کر جائیں گے بلکہ دلیر ہو کر اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کی اس پیش کش کو قبول کرلینا چاہیے۔ رہا ان کی نیت کا فتور تو وہ اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے۔ ایسی صورت میں اللہ یقیناً ان لوگوں کی مدد کرے گا جو صلح اور امن کے لیے ہر وقت تیار رہتے اور اپنے معاہدہ کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ اسلام امن و آشتی کا دین اور اس کا پیامبر ہے۔ الانفال
62 [٦٤] یہود جیسی غدار قوم سے معاہدہ اور اللہ کی مدد :۔ یعنی امن کا معاہدہ کرنے والے لوگ (یہود) پہلے بھی جب کبھی عہد شکنی اور غداری کے مرتکب ہوئے تو اللہ نے خود بھی آپ کی مدد فرمائی اور بظاہر مسلمانوں کے ذریعہ سے بھی آپ کو یہ تائید حاصل ہوچکی۔ آئندہ بھی اگر کوئی معاہد قوم غداری کی نیت سے آپ سے معاہدہ کرے گی تو اللہ پھر آپ کی اسی طرح مدد فرمائے گا جس طرح پہلے کرچکا ہے۔ الانفال
63 [٦٥] جانی دشمن قبائل میں الفت ومحبت اللہ کی قدرت کا کرشمہ :۔ یعنی مسلمانوں کی جماعت میں تقریباً عرب کے تمام قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے اور عرب میں قبائلی نظام کی وجہ سے یہ سب ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے۔ بالخصوص انصار کے قبائل اوس و خزرج کی تو یہ کیفیت تھی کہ مسلمانوں کی مدینہ میں آمد سے پہلے یہ دونوں قبیلے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور ایک دوسرے کا وجود ہی صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر تلے ہوئے تھے۔ یہ محض اللہ ہی کا فضل و کرم ہے کہ صرف دو تین سال کے عرصہ میں ان کے دلوں میں ایسی محبت و الفت ڈال دی کہ آج وہ حقیقی بھائیوں سے بھی بڑھ کر ایک دوسرے کے ہمدرد بن گئے ہیں اور ایسا عظیم الشان کارنامہ محض دنیوی اسباب سے کبھی سر انجام نہیں پا سکتا تھا۔ پھر ان سب مسلمانوں کی الفتوں کا اجتماعی مرکز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات تھی اور یہ سب کچھ اللہ کی قدرت کا کرشمہ اور اس کی کمال حکمت کی دلیل ہے کہ اس نے باطل کی سرکوبی کے لیے مسلمانوں کو اس طرح متحد و متفق بنا دیا۔ (نیز دیکھئے۔ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ١٠٣ کا حاشیہ) الانفال
64 [٦٦] اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ آپ کو بھی کافی ہے اور ان مومنوں کو بھی جو آپ کی پیروی کرتے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور مسلمانوں کی یہ جماعت جو آپ کی پیروی کرتی ہے۔ آپ کو کافی ہے۔ خواہ ان کی تعداد کتنی ہی تھوڑی کیوں نہ ہو۔ گویا یہ مطلب سابقہ آیت ﴿ہُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ کا ہی خلاصہ ہوا۔ الانفال
65 [٦٧] جہاد کی ترغیب :۔ اس حکم پر آپ نے مسلمانوں کو جہاد کے لیے جیسے ترغیب دی وہ درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے۔ ١۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ایک صبح یا شام اللہ کے راستے میں نکلنا دنیا و مافیہا سے افضل ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد، باب الغدوۃ والروحۃ، فی سبیل اللہ- مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الغدوۃ والروحۃ فی سبیل اللہ) ٢۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال، اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی راہ میں جہاد کرنے والا کون ہے۔ ایسے ہے جیسے ہمیشہ کا روزہ دار اور شب زندہ دار۔ اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ اگر اسے موت آ گئی تو جنت میں داخل کرے گا یا پھر اسے اجر اور غنیمت کے ساتھ صحیح و سالم واپس لوٹائے گا۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد، باب افضل الناس مومن مجاھد بنفسہ ومالہ) ٣۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے گھوڑا پا لے اور اس کی وجہ اللہ پر ایمان اور اس کے وعدوں کی تصدیق ہو تو بلاشبہ اس گھوڑے کا کھانا پینا، لید، پیشاب قیامت کے دن اس مجاہد کے ترازو میں (بطور نیکی) رکھے جائیں گے۔‘‘ (بخاری، کتاب الجہاد من احتبس فرسا) [٦٨] ایک مسلمان کا دس کافروں پر غالب آنے کی وجہ؟:۔ یعنی لڑائی سے کفار کا مقصد قبائلی یا قومی عصبیت کے سوا کچھ نہیں۔ جبکہ مومنوں کا اپنی جان تک قربان کرنے کا مقصد اللہ کے کلمہ کی سربلندی اور بالادستی اور رضائے الٰہی کا حصول ہے۔ علاوہ ازیں وہ یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے ساتھ ہی وہ سیدھے جنت میں پہنچ جائیں گے جبکہ کافروں کو موت بہر صورت ناگوار ہوتی ہے اور وہ لڑائی میں اپنی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ مومن جان دینے اور شہادت کا درجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ ایمانی قوت ہے جس کی بنا پر ایک مومن اپنے جیسے ہم طاقت دس کافروں کے مقابلہ سے بھی جی نہیں چراتا اور نہ ہی اسے ہمت ہارنا چاہیے، بلکہ انہیں اپنے سے دس گنا کافروں پر غالب آنا چاہیے۔ الانفال
66 [٦٩] مسلمانوں میں بعد میں کمزوری کی وجہ پہلے حکم کی منسوخی نہیں بلکہ حالات ہیں :۔ اگرچہ یہ آیت اور اس سے پہلی آیت ایک ساتھ رکھی گئی ہیں۔ مگر ان دونوں کے زمانہ نزول میں کافی مدت کا فرق ہے اور انہیں صرف مضمون کی مناسبت سے اکٹھا رکھا گیا ہے۔ پہلی آیت کا زمانہ نزول تو غزوہ بدر کے بعد کا ہے۔ جبکہ اس سورۃ کا بیشتر حصہ نازل ہوچکا تھا۔ اور دوسری آیت کے زمانہ نزول کے متعلق حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم یہ غزوہ حنین اور اس کے مابعد کا زمانہ معلوم ہوتا ہے۔ فتح مکہ کے موقعہ پر جو لوگ مسلمان ہوئے وہ ابتدا سے اسلام لانے والوں جیسا حوصلہ نہیں رکھتے تھے اور اس ضعف کی کئی وجوہ ہو سکتی ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ مسلمان ابتداءً اقلیت میں تھے اور اقلیت کو اپنی بقاء کی خاطر بھی اکثریت کے مقابلہ میں بہت زیادہ چاک و چوبند اور جرأت مند بن کر رہنا پڑتا ہے۔ دوسرے یہ کہ مہاجرین اور سابقین انصار کی جس انداز میں تربیت ہوئی تھی ان میں سے کچھ مدت کے بعد بہت سے افراد بوڑھے اور کمزور ہوگئے اور کچھ شہید ہوگئے یا وفات پا گئے اور جو لوگ نئے مسلمان ہوئے یا جو نئی پود سامنے آئی ان میں پرانے مہاجرین و انصار جیسی بصیرت، استقامت اور جرأت نہ تھی۔ مزید برآں تعداد میں کثرت سے اللہ پر توکل میں کمی واقع ہوجانا یا کثرت تعداد پر اترانے لگنا طبیعت انسان کا خاصہ ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں پر جب ایک آدمی کو دس آدمیوں پر غالب آ جانے کا حکم گراں گزرنے لگا تو اللہ نے اس حکم میں تخفیف کردی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب پہلا حکم منسوخ یا ساقط العمل ہوگیا ہے۔ بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ جب ان نومسلموں کی پوری طرح تربیت ہوجائے اور ان کی ایمانی قوت پوری طرح پختہ ہوجائے تو پھر سابقہ حکم ہی نافذ العمل ہوگا۔ چنانچہ دور نبوی کی آخری جنگوں میں عملاً ایسا ہوا بھی تھا۔ ایک جنگ میں ایک ہزار مسلمانوں نے (80) اسی ہزار کافروں کا مقابلہ کیا اور جنگ مؤتہ کے موقع پر تین ہزار مسلمان ایک لاکھ کافروں کے مقابلہ میں ڈٹے رہے اور یہ نسبت ایک اور دس کی نسبت سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ پھر خلفائے راشدین کے زمانہ میں بھی ایسی بہت سی مثالیں مل جاتی ہیں۔ البتہ اس تخفیف والی آیت سے علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ اگر کافروں کی تعداد دگنی یا اس سے کم ہو تو اس صورت میں جنگ سے فرار حرام ہے۔ ویسے بھی مسلمانوں کا تخفیف والی آیت پر ہی انحصار کرلینا ان میں صبر اور برداشت کی کمی کا باعث بن جاتا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ تخفیف کا منفی نتیجہ :۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : جب یہ آیت نازل ہوئی کہ تمہارے بیس صابروں کو دو سو پر غالب آنا چاہیے تو یہ مسلمانوں پر گراں گزری۔ جب کہ اللہ نے مومنوں پر یہ فرض کیا کہ ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلہ میں نہ بھاگے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تخفیف فرما دی اور فرمایا کم از کم سو کو دو سو کے مقابلہ میں ضرور غالب آنا چاہیے۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے شمار میں کمی کردی تو اتنا ہی مسلمانوں میں صبر بھی کم ہوگیا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) الانفال
67 اس آیت کی تفسیر اگلی آیت کے ساتھ ملاحظہ کیجئے الانفال
68 [٧٠] اسارٰی بدر کے متعلق مشورہ اور اللہ کی طرف سے عتاب نازل ہونا :۔ آیت نمبر ٦٧ اور ٦٨ کے شان نزول سے متعلق مندرجہ ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے :۔ ١۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے بعد جب قیدی قید کرلیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : تمہاری ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے ہے؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی۔ اے اللہ کے نبی! یہ چچا کے بیٹے اور خاندان کے لوگ ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ ان سے فدیہ لیا جائے تاکہ کفار کے مقابلہ میں ہمیں قوت حاصل ہو اور شاید اللہ انہیں اسلام کی ہدایت دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا :’’ اے ابن خطاب! تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا : ’’اے اللہ کے رسول! میری رائے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مختلف ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالہ کر دیجئے تاکہ ہم ان کی گردنیں اڑائیں۔ عقیل کو علی کے حوالہ کیجئے کہ وہ اس کی گردن اڑا دیں۔ میرے حوالے فلاں کو کیجئے تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ اس لیے کہ یہ لوگ کفر کے ستون اور سرغنے ہیں۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کی طرف مائل ہوئے اور میری رائے کی طرف مائل نہ ہوئے۔ دوسرے دن صبح میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے کہا’’اللہ کے رسول! مجھے بتلائیے آپ اور آپ کے دوست کس وجہ سے رو رہے ہیں۔ تاکہ اگر مجھے رونا آئے تو روؤں اور اگر نہ آئے تو آپ کی وجہ سے رونے والی شکل ہی بنا لوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں نے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنے کے سلسلہ میں مجھ سے کہی تھی۔ میرے سامنے ان کا عذاب پیش کیا گیا، جو اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا۔ چنانچہ اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ماکان لنبی۔۔ تاآخر (مسلم، کتاب الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر) ٢۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بدر کے دن جنگی قیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا : تمہاری ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے ہے پھر اس حدیث میں پورا قصہ ذکر کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ان میں سے ہر ایک کو یا فدیہ دینا ہوگا یا اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔‘‘ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ! بجز سہیل بن بیضاء کے کیونکہ میں نے سنا ہے کہ وہ اسلام کا ذکر کرتا ہے۔ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے۔ مجھے اس دن بہت خوف لاحق ہوگیا کہ کہیں آسمان سے مجھ پر پتھر نہ برسیں۔ میں اسی خوف میں مبتلا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’بجزسہیل بن بیضاء کے‘‘ اور قرآن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق یہ آیات نازل ہوئیں﴿ماکان لنبی﴾۔۔ تاآخر (ترمذی، ابو اب التفسیر) کیا عتاب فدیہ لینے کے فیصلہ کی وجہ سے تھا یا قتل کی بجائے قیدی بنانے کی وجہ سے؟:۔ مزید تفصیل یہ ہے کہ غزوہ بدر میں کافروں کے (70) ستر آدمی مارے گئے اور (70) ستر قید ہوئے تھے۔ قیدیوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ خواہ انہیں قتل کردیا جائے، یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، اور اس اختیار میں مسلمانوں کی آزمائش مقصود تھی کہ وہ ان دونوں صورتوں میں سے کونسی صورت اختیار کرتے ہیں۔ اسی فیصلہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوریٰ بلائی اکثریت کی رائے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کے متعلق ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی طبعی نرمی کی بنا پر اسی فیصلہ کو ترجیح دی۔ لیکن اللہ کی رضا یہ تھی کہ قیدیوں سے فدیہ لینے کی بجائے ان کو قتل کردیا جائے۔ اسی وجہ سے ان آیات میں عتاب نازل ہوا۔ جیسا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے ظاہر ہو رہا ہے۔ کیونکہ یہ عین ممکن تھا کہ اگر کفر کے ان ستر سرغنوں کو قتل کردیا جاتا۔ تو کافروں کو دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کی ہمت ہی نہ رہتی۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ عتاب اس لیے نازل نہیں ہوا تھا کہ صحابہ کی اکثریت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت فدیہ لینے کی رائے کو اختیار کر کے اجتہادی غلطی کی تھی۔ کیونکہ قتل یا فدیہ دونوں میں سے ایک صورت کا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی اختیار دیا جا چکا تھا تو پھر فدیہ کی رائے قبول کرلینے پر عتاب کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس عتاب کی اصل وجہ یہ تھی کہ صحابہ نے میدان جنگ میں ہی ان قیدیوں کی اکثریت کو قتل کیوں نہ کردیا۔ گویا اس عتاب کا روئے سخن ان صحابہ کی طرف ہے جنہوں نے دنیوی مفاد کی خاطر ان کافروں کو قتل کرنے کی بجائے قید کیا تھا اور آیت کے الفاظ ﴿مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ ﴾ سے بھی مفہوم واضح ہوتا ہے۔ فدیہ کی مقدار :۔ ان قیدیوں سے جو فدیہ لیا گیا اس کی مقدار چار ہزار درہم فی کس تھی اور ان قیدیوں میں آپ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ابو العاص، نوفل بن حارث اور آپ کے چچا زاد بھائی عقیل بن ابی طالب بھی شامل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب نے فدیہ میں وہ ہار بھیجا جو ان کی والدہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو شادی کے وقت جہیز میں دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وہ ہار دیکھا تو آنکھیں نم آلود ہوگئیں۔ اور رقت آمیز لہجہ میں صحابہ سے پوچھا : اگر تم پسند کرو تو میں زینب کے قیدی کو چھوڑ دوں اور زینب کا ہار واپس کردوں۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے پوچھا کہ فدیہ کا مال بھی اموال غنائم کے مشترکہ اموال میں شمار ہوتا تھا۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی اجازت دے دی۔ حالانکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سپہ سالار بھی تھے۔ اسلامی ریاست کے سربراہ مملکت بھی اور ایسے رسول بھی جن کی غیر مشروط اور بلاچوں و چرا اطاعت سب مسلمانوں پر واجب تھی۔ لیکن جب انصاف کا معاملہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رضامندی کو لازم سمجھا۔ یہ ہے اسلامی اور غیر اسلامی اقدار کا فرق۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زر فدیہ کی وصولی میں بھی انتہائی نرمی اختیار کی جن کافروں کے پاس زر فدیہ نہیں تھا اور وہ پڑھے لکھے تھے۔ ان کا زر فدیہ یہ طے ہوا کہ وہ دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھلا دیں۔ اور بعض کافروں کو صرف اس وعدے پر بھی چھوڑ دیا گیا کہ وہ آئندہ مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔ الانفال
69 [٧١] فدیہ کا مال حلال وطیب ہے :۔ جب قیدیوں کو بروقت میدان جنگ میں قتل نہ کردینے اور گرفتار کر کے ان کے عوض فدیہ لینے کی بنا پر عتاب نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شک پیدا ہوا کہ یہ مال جو بطور فدیہ لیا گیا ہے شاید حلال و طیب نہ رہا ہو، اسی شبہ کو دور کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔ کیونکہ فدیہ کی رقوم بھی اموال غنائم میں شامل تھیں اور فرمایا کہ یہ مال اللہ کا عطیہ ہے اسے بطیب خاطر استعمال میں لاؤ۔ البتہ جہاد کے سلسلہ میں دنیا کے مال پر نظر رکھنا اور اسے اس قدر اہمیت نہ دینا چاہیے کہ جہاد کا بلند تر مقصد ثانوی حیثیت اختیار کر جائے۔ الانفال
70 [٧٢] سیدنا عباس کا فدیہ، اسلام لانے کی وجہ اور آپ پر اللہ کی مہربانی :۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اپنا اور اپنے دونوں بھتیجوں کا فدیہ جمع کراؤ۔ انہوں نے کہا میرے پاس تو مال نہیں اور جنگ میں مجھ سے چوبیس اوقیہ چھین لیے گئے ہیں۔ یعنی زبردستی چندہ لیا گیا ہے وہی ہمارا فدیہ سمجھ لیجئے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید مجھے کچھ دیئے بغیر ہی رشتہ داری کی بنا پر چھوڑ دیا جائے گا (آپ مالدار تھے لیکن طبعاً بخیل بھی تھے۔ کیونکہ سودی کاروبار کرتے تھے۔ چنانچہ جب سود حرام ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے عظیم اجتماع میں یہ اعلان فرمایا تھا کہ سب سے پہلے میں اپنے خاندان سے عباس بن عبدالمطلب کا سود کالعدم قرار دیتا ہوں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اپنے چچا کی طبیعت سے واقف تھے۔ لہٰذا صحابہ سے کہہ دیا کہ انہیں فدیہ کے مال سے ایک پیسہ بھی نہ چھوڑنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے مخاطب ہو کر فرمایا : تمہارا مال کہاں گیا جو تم نے اور ام الفضل نے مل کر گاڑا ہے؟ یہ ایسی بات تھی جس کا ان کے سوا کسی کو علم نہ تھا۔ جب سیدنا عباس نے یہ بات سنی تو کہنے لگے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اسلام لے آئے۔ پھر اپنا، اپنے دونوں بھتیجوں اور اپنے حلیف عتبہ بن عمر کا فدیہ ادا کردیا۔ آپ کہا کرتے تھے کہ مجھ سے بیس اوقیہ بطور فدیہ لیا گیا۔ لیکن اس کے عوض اللہ نے دنیا میں مجھے بہت زیادہ مال دیا۔ اس وقت میرے پاس بیس غلام ہیں۔ جن کی کمائی سے مجھے بہت کچھ حاصل ہوتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے زمزم کی تولیت بھی مجھے عطا فرمائی۔ علاوہ ازیں میں اللہ سے مغفرت کی امید بھی رکھتا ہوں۔ الانفال
71 [٧٣] جب اسلام سے مقصود دھوکا ہو تو بھی قبول کرو۔ اللہ فیصل ہوگا :۔ یعنی اگر ان جنگی قیدیوں کا اظہار اسلام سے مقصود صرف آپ کو دھوکا دینا ہو تو بھی کوئی بات نہیں آپ ان پر اعتماد کیجئے، کیونکہ اس قسم کے لوگ پہلے اللہ سے بھی بدعہدی کرچکے ہیں اور ان سے مراد بنی ہاشم کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ابو طالب کی زندگی میں آپ کی حمایت کا عہد کیا اور اس پر اتفاق کیا تھا اور قسمیں کھائی تھیں۔ پھر انہی میں سے کچھ لوگ کافروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑنے آئے تو اللہ نے ان کو سزا دے دی اور وہ آپ کے قیدی بن گئے اور اگر اب بھی بدعہدی کریں گے تو بھی اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ الانفال
72 [٧٤] ولی کا مفہوم۔۔ مواخات اور وراثت :۔ ولی کا لفظ عربی لغت میں بہت وسیع المعنی ہے اور اس کے معنی دوست، حمایتی، مددگار، سرپرست، وارث، پشتیبان اور قریبی رشتہ دار سب معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد عموماً ایسا شخص ہوتا ہے جو کسی کی موت یا مصیبت کے وقت مدد یا دیت کی ادائیگی یا وراثت کے لحاظ سے سب سے قریب تر ہو۔ ان آیات میں دارالاسلام اور دارالحرب میں رہنے والے مسلمانوں کے باہمی تعلقات کے متعلق احکام بیان کیے جا رہے ہیں۔ جو مسلمان مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچ رہے تھے۔ ان کا ایک بنیادی مسئلہ ان کی آبادکاری اور فکر معاش کا تھا۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات یا بھائی چارہ کا سلسلہ قائم کیا اور بروایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں مختلف اوقات میں تین مجلسوں میں تقریباً تینتالیس مہاجرین اور انصار کو مواخات کے سلسلہ میں منسلک کردیا۔ یعنی ایک مہاجر کو ایک انصاری کے ساتھ ملا کر انہیں بھائی بھائی بنا دیا اور اس مہاجر کے مسائل اور بنیادی ضروریات کو اس انصاری کے ذمہ ڈال دیا۔ جسے انصار نے نہایت وسیع الظرفی اور خوشدلی کے ساتھ قبول کرلیا اور یہ بھائی چارہ یا ولایت اس درجہ تک بڑھی کہ اصلی وارثوں کو چھوڑ کر یہی بھائی ایک دوسرے کے ولی اور وارث ہوتے تھے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر زیر آیت ﴿وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ ﴾اب یہ تو ظاہر ہے کہ اس وقت دارالاسلام صرف مدینہ تھا۔ جہاں مکہ اور دیگر اطراف سے مسلمان ہجرت کر کے پہنچ رہے تھے اور مدینہ کے سوا باقی سارا عرب دارالحرب یا دارالکفر تھا۔ جبکہ مسلمان مکہ اور دیگر اطراف میں بھی موجود تھے۔ اس پس منظر میں اس سورۃ انفال کی آخری چار آیات میں دارالاسلام کے مسلمانوں کے آپس میں تعلقات بیرونی مسلمانوں سے تعلقات اور حکومتوں کے باہمی معاہدات سے احکام دیئے گئے ہیں جو پیش خدمت ہیں۔ دارالحرب اور دارالاسلام میں رہنے والے مسلمانوں کے باہمی تعلقات کی مختلف صورتیں اور اسلام کی خارجہ پالیسی :۔ ١۔ انصار اور مہاجرین جو مدینہ آ چکے ہیں۔ یہ سب مواخات کی رو سے، ایک دوسرے کے ولی بھی ہیں اور وارث بھی جیسا کہ سورۃ نساء کی آیت نمبر ٣٣ سے بھی واضح ہوتا ہے۔ ٢۔ اور جو مسلمان ہجرت کر کے مدینہ نہیں پہنچے۔ وہ نہ تمہارے ولی یا وارث ہیں اور نہ تم ان کے ولی یا وارث ہو سکتے ہو تاآنکہ وہ ہجرت کر کے تمہارے پاس نہ پہنچ جائیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دارالحرب میں رہنے والا مسلمان دارالاسلام میں رہنے والے مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا اور اس کے برعکس بھی۔ جیسا کہ ایک مسلمان کافر کا یا کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا۔ ٣۔ دارالاسلام میں رہنے والے مسلمانوں یا ان کی حکومت پر دارالحرب میں رہنے والے مسلمانوں سے متعلق کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ اس حکم کے مطابق ان تمام بین الاقوامی تنازعات کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ جہاں کوئی حکومت کسی دوسری حکومت میں بسنے والی اقلیت کی ذمہ داریاں اپنے سر لیتی ہے۔ ٤۔ اگر دارالحرب میں بسنے والے مسلمانوں پر زیادتی اور ظلم روا رکھا جا رہا ہو اور وہ دارالاسلام کے مسلمانوں یا ان کی حکومت سے اس کے مقابلہ میں مدد طلب کریں تو دارالاسلام کے مسلمانوں پر ان کی مدد کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ ٥۔ اور اگر مدد طلب کرنے والے مسلمان کسی ایسے ملک میں بستے ہوں۔ جس کا اسلامی حکومت سے معاہدہ امن و آشتی طے پا چکا ہو تو اس صورت میں مسلمانوں کی مدد کرنے کے بجائے بین الاقوامی معاہدہ کا پاس رکھنا زیادہ ضروری ہے اور مسلمانوں کی مدد مانگنے کے باوجود ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ ٦۔ البتہ ایسے مسلمان جو اس معاہدہ کرنے والی اسلامی حکومت کی حدود سے باہر رہتے ہیں۔ وہ اس اضافی پابندی کے ذمہ دار نہیں۔ وہ چاہیں تو ایسے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرسکتے ہیں اور جس طرح چاہیں کرسکتے ہیں۔ معاہدہ کرنے والی اسلامی حکومت ان کے بارے میں مسؤل نہیں ہوگی۔ الانفال
73 [٧٥] مسلمانوں کے اتحاد نہ کرنے برے نتائج :۔ یعنی کافر اور مسلم میں نہ حقیقی رفاقت ہے اور نہ وہ ایک دوسرے کے وارث ہو سکتے ہیں۔ ہاں کافر کافر کا ولی بھی ہے اور وارث بھی۔ بلکہ سارے کے سارے کافر تمہاری دشمنی میں متحد ہو کر ایک بن جاتے ہیں اور جہاں بھی مسلمانوں کو پاتے ہیں ان کے درپے آزار ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اگر مسلمان بھی ایک دوسرے کے ولی اور مددگار نہ ہوں گے یا کمزور مسلمان اپنے آپ کو آزاد مسلمانوں کے ساتھ رہنے اور ان کا ہر طرح سے ساتھ دینے کی کوشش نہ کریں گے تو بہت بڑا فتنہ رونما ہوجائے گا۔ کمزور مسلمانوں پر ناروا ظلم و زیادتی ہوگی اور ان کا مال بلکہ ایمان بھی محفوظ نہ رہے گا اور اگر اس جملے کا تعلق سابقہ تمام احکام سے جوڑا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اگر دارالحرب میں رہنے والے مسلمان دارالاسلام میں آنے میں کوتاہی کریں یا ایسے کمزور مسلمان آزاد مسلمانوں سے مددطلب کریں اور وہ مدد کو نہ پہنچیں' یا معاہدہ کرنے والی اسلامی حکومت اپنے معاہدہ کا پاس نہ رکھتے ہوئے ان کمزور مسلمانوں کی مدد شروع کر دے تو ان سب صورتوں میں عظیم فتنہ رونما ہوجائے گا۔ ایسا فتنہ جو دارالاسلام میں بسنے والے آزاد مسلمانوں کو بھی طرح طرح کی پریشانیوں میں مبتلا کرسکتا ہے۔ الانفال
74 [٧٦] مہاجرین وانصار کی فضیلت :۔ اس لیے جس آڑے وقت میں اسلام کی سربلندی کے لیے ان مہاجرین و انصار نے اپنی جان اور مال سے قربانیاں پیش کی ہیں۔ ان کا اعزاز اور ان کے درجات یقیناً ان مسلمانوں سے بلند ہوں گے اور ہونے چاہئیں جو اس وقت ایمان لائے یا ہجرت کی یا جہاد کیا۔ جبکہ اسلام پوری طرح جڑ پکڑ چکا ہے اور اس وقت اسلام لانے میں کسی خوف و خطر کی فکر تو درکنار فائدہ ہی فائدہ نظر آ رہا تھا۔ ان دونوں قسم کے مسلمانوں میں حقیقی اور راست باز مسلمان تو وہی قرار دیئے جا سکتے ہیں جنہوں نے کئی قسم کے خطرات مول لے کر اپنے گھر اور وطن کو خیر باد کہا یا پھر وہ لوگ جنہوں نے ان خستہ حال مسلمانوں کو وہاں پہنچتے ہی اپنے گلے سے لگا لیا اور اس طرح مہاجرین و انصار دونوں نے اپنے اسلام کے دعویٰ پر اپنے عمل سے مہر تصدیق ثبت کردی۔ یقیناً یہی لوگ زیادہ اجر و ثواب کے مستحق ہیں۔ الانفال
75 [٧٧] یعنی ان بعد والوں میں اسلام لانے، ہجرت کرنے اور جہاد میں شامل ہونے والوں کے قانونی حقوق بالکل وہی ہوں گے جو ﴿وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ﴾ کے ہیں۔ کیونکہ اب یہ سب ایک برادری میں منسلک ہوچکے ہیں۔ تقدیم و تاخیر کی وجہ سے ان کے فرائض و حقوق میں کوئی فرق نہ ہوگا۔ معاہدات میں وہ برابر کے شریک ہوں گے۔ صلح و جنگ اور وراثت وغیرہ کے احکام میں کوئی فرق نہ ہوگا۔ [٧٨] مواخات کی بنا پر احکام وراثت کا منسوخ ہونا :۔ اس جملہ کی رو سے نیز سورۃ نساء کی آیت نمبر ٣٣ کی رو سے وراثت کے اصل حقدار قریبی رشتہ دار ہی قرار پائے اور مہاجرین و انصار مواخات کی بنا پر جو ایک دوسرے کے وارث بن جاتے تھے۔ وہ حکم منسوخ ہوا اس لیے کہ اب مہاجرین کی معاشی حالت بہت بہتر ہوچکی تھی۔ البتہ ایسے بھائیوں کے لیے وصیت، حسن سلوک اور مروت اور دینی بھائی چارہ کی ہدایات بدستور برقرار ہیں، اور وراثت کے احکام میں یہ تبدیلی اس لیے ہوئی کہ اللہ مسلمانوں کے حالات سے پوری طرح باخبر ہے۔ الانفال
1 [١] سورۃ توبہ کے آغاز میں بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ :۔ سورۃ توبہ کا نام سورۃ برأت بھی ہے جو اس سورۃ کا ابتدائی لفظ ہے۔ یہ سورۃ برأت، سورۃ انفال کے بہت بعد یعنی ٩ ہجری میں نازل ہوئی لیکن چونکہ ان دونوں کے مضامین آپس میں بہت حد تک ملتے جلتے ہیں اور یہ سب مضامین کافروں، مشرکوں سے جنگ، معاہدات، صلح اور اسلام کی سربلندی سے متعلق ہدایات و احکام پر مشتمل ہیں لہٰذا ان کو یکجا کردیا گیا ہے اور ان کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی جاتی۔ جو کہ دو سورتوں کی الگ الگ ہونے کی علامت ہے۔ نہ ہی اس سورۃ کی ابتدا میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی۔ نہ ہی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تھی اور وہی دستور آج تک مصاحف کی کتابت میں ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ [٢] مشرکین سے اعلان براءت :۔ رمضان ٨ ہجری میں مکہ فتح ہوگیا تو مسلمانوں پر سے وہ پابندیاں از خود اٹھ گئیں جو مشرکین مکہ نے مسلمانوں کے بیت اللہ شریف میں داخلہ، عبادات، طواف اور حج و عمرہ پر لگا رکھی تھیں۔ ٨ ہجری میں تو مسلمان حج کر ہی نہ سکے۔ کیونکہ فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین اور طائف سے واپس مدینہ پہنچنے تک اتنا وقت نہ رہا تھا کہ مسلمان حج کے لیے مدینہ سے آتے۔ ٩ ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حج کے لیے بھیجا اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس قافلہ حج کا امیر مقرر کردیا۔ ابھی تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشرکوں کے داخلہ پر کوئی پابندی عائد نہ کی گئی تھی۔ لہٰذا اس حج میں مشرکین بھی شریک تھے۔ مسلمانوں نے اپنے طریقہ پر حج ادا کیا اور مشرکین نے اپنے طریقہ پر۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی روانگی کے بعد اس سورۃ کی یہ ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ جن کی بنا پر مشرکین سے صرف بیت اللہ شریف میں داخلہ پر ہی پابندی نہ لگائی گئی بلکہ ان سے مکمل برأت کا اعلان کیا گیا۔ اس اعلان کی اہمیت کے پیش نظر آپ نے یہ بہتر سمجھا یا مدینہ میں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے آپ کو یہ مشورہ دیا کہ یہ اعلان آپ کے کسی قریبی رشتہ دار کی طرف سے ہونا چاہیے جو مشرکوں کی نگاہ میں آپ ہی کے قائم مقام سمجھا جا سکے چنانچہ ان آیات کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بھیج دیا کہ وہ حج کے اجتماع عظیم میں ان آیات کا اعلان کردیں جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے :۔ ١۔ کعبہ کا ننگے طواف کرنا :۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس حج میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دسویں تاریخ کو دوسرے منادی کرنے والوں کے ساتھ مجھے بھی بھیجا تاکہ یہ منادی کریں کہ ’’اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ ہی کوئی ننگا ہو کر طواف کرے۔‘‘ حمید بن عبدالرحمن (ایک راوی) کہتے ہیں کہ (ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو روانہ کرنے کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی روانہ کیا اور انہیں بھی حکم دیا کہ سورۃ برأت (کافروں کو) سنا دیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی ہمارے ساتھ منیٰ میں برأت کی منادی کی اور کہا کہ’’اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور نہ کوئی ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ٢۔ اعلان برا ءت کی چار دفعات :۔ زید بن یثیَعْ کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حج میں تمہیں کیا پیغام دے کر بھیجا گیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ چار باتیں۔ ایک یہ کہ کوئی شخص ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔ دوسرے جس کافر کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدہ صلح ہے وہ مدت مقررہ تک بحال رہے گا۔ اور تیسرے جن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ان کے لیے چار ماہ کی مدت ہے یا تو وہ اسلام لے آئیں اور وہ جنت میں داخل ہوں گے یا پھر یہاں سے چلے جائیں اور چوتھے یہ کہ اس سال کے بعد مشرک اور مسلمان (حج میں) جمع نہ ہوں گے۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) ٣۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج اکبر کے دن کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’قربانی کا دن‘‘ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) صاف دل سے معاہدہ کرنے والے مشرک قبائل کو رعایت :۔ چنانچہ دس ذی الحجہ کو حج اکبر یعنی یوم نحر کے دن یہ اعلان پہلے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منیٰ کے مقام پر کیا۔ پھر اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کیا اور اس کی اہم دفعات چار تھیں۔ (١) آئندہ کبھی کوئی شخص ننگا ہو کر طواف نہ کرسکے گا۔ ایسی فحاشی کعبہ کے اندر کسی صورت پر برداشت نہیں کی جا سکتی۔ جبکہ مشرک ننگا ہو کر طواف کرنے کو اپنے خیال کے مطابق بہتر سمجھتے اور کہتے کہ اس میں زیادہ انکساری پائی جاتی ہے۔ (٢) مشرکین کا کعبہ کا متولی ہونا تو درکنار، وہ اس سال کے بعد کعبہ کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے۔ جیسا کہ اسی سورۃ کی آیت نمبر ٢٨ میں اس کی وضاحت موجود ہے (٣) جن مشرکوں سے مسلمانوں کا کوئی معاہدہ صلح نہیں انہیں چار ماہ کی مدت دی جاتی ہے۔ اس مدت میں وہ خوب سمجھ لیں کہ وہ مسلمانوں سے جنگ کو تیار ہیں یا یہ ملک چھوڑ کر نکل جانا چاہتے ہیں یا اسلام لانا چاہتے ہیں اور اگر وہ اسلام لے آئیں تو وہ بھی ان شاء اللہ جنت میں داخل ہوں گے اس دفعہ میں وہ مشرک قبائل بھی شامل ہیں جو صلح کا معاہدہ تو کرلیتے تھے مگر صلح کی شرائط ہی ایسی طے کرتے تھے کہ ان کے لیے فتنہ اور نقض عہد کی گنجائش باقی رہے یعنی ایسے قبائل جن کی طرف سے مسلمانوں کو عہد شکنی یا فتنہ انگیزی کا خطرہ تھا ان کا ایسا عہد بھی اس اعلان کے ذریعہ ختم کردیا گیا۔ جیسا کہ سورۃ انفال کی آیت نمبر ٥٨ میں حکم دیا گیا ہے۔ (٤) اور جن مشرک قبائل نے صدق دل سے مسلمانوں سے معاہدہ امن کر رکھا ہے انہوں نے نہ کبھی بدعہدی کی ہے اور نہ ہی مسلمانوں کو ان کی طرف سے کچھ خطرہ ہے۔ ایسے مشرک قبائل کو معاہدہ کے اختتام تک مہلت دی گئی۔ اس کے بعد ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو دوسرے مشرک قبائل کے ساتھ ہوگا اور ایسے صاف نیت قبائل صرف تین تھے : بنو خزاعہ، بنو کنانہ اور بنو ضمرہ۔ جنہوں نے نہ خود عہد شکنی کی تھی اور نہ ہی علی الاعلان یا درپردہ مسلمانوں کے خلاف کسی دوسرے کی حمایت کی تھی۔ التوبہ
2 التوبہ
3 [٣] جزیرۃ العرب کی شرک اور مشرکوں سے تطہیر :۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اس جزیرۃ العرب کی مشرکین سے تطہیر مطلوب ہے اور تمہاری کوئی بھی کوشش اللہ تعالیٰ کے اس ارادہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ گویا اس اعلان سے صرف بیت اللہ ہی کو شرک کی نجاست سے بچانا مقصود نہ تھا بلکہ پورے جزیرہ عرب کو ان ناپاک مشرکوں سے پاک کرنا مقصود تھا۔ التوبہ
4 التوبہ
5 [٤] یہاں حرمت والے مہینوں سے مراد ١٠ ذی الحجہ ٩ ہجری سے لے کر ١٠ ربیع الثانی ١٠ ہجری تک چار ماہ کی مدت ہے جو مشرکوں کو سوچ بچار کے لیے دی گئی تھی۔ یہاں حرمت والے مہینوں سے مراد ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب نہیں ہیں جو دور جاہلیت میں بھی حرمت والے سمجھے جاتے تھے اور اسلام نے بھی ان کی حرمت کو بحال رکھا ہے۔ [٥] مشرکوں سے جنگ نہ کرنے کی شرائط :۔ درج ذیل حدیث اس کی مزید وضاحت کر رہی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے جنگ کروں جب تک وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی نہ دیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ پھر جب وہ یہ کام کریں تو انہوں نے مجھ سے اپنی جانیں اور اپنے مال محفوظ کرلیے سوائے اسلام کے حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب فان، تابوا۔۔ مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب الامر بقتال الناس حتی۔۔) یعنی ان مشرکوں کو محض اسلام لانے کا اعلان یا توبہ کرنا ہی کافی نہیں بلکہ انہیں اپنے دعویٰ کو درست ثابت کرنے کے لیے نماز کا قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ اور اگر کوئی مشرک ظاہری طور پر یہ تینوں شرائط پوری کر دے تو اس سے تعرض نہیں کیا جائے گا خواہ اس کی نیت میں فتور بدستور موجود ہو۔ اور اگر ایسی صورت ہو تو اللہ اس سے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ایسے لوگوں سے نمٹ لے گا۔ اس آیت سے یہ اصول مستنبط ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان خواہ وہ موروثی مسلمان ہو یا نو مسلم ہو اگر وہ نماز قائم کرتا اور زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو ایک اسلامی حکومت میں اسے حقوق شہریت مل سکتے ہیں اور اگر نہیں کرتا تو اسے مسلمانوں جیسے حقوق نہیں مل سکتے۔ مرتدین اور بالفعل زکوٰۃ نہ دینے والوں سے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جہاد :۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس اعلان کے بعد مشرکوں نے صرف تیسری راہ اختیار کی یعنی وہ اسلام لے آئے۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پھر ایسے مشرکوں نے سر اٹھایا۔ کچھ تو سرے سے اسلام سے ہی مرتد ہوگئے اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا تھا۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں کے بارے میں جنگ کرنے سے متعلق مجلس شوریٰ طلب کی۔ اور ایسے نازک حالات میں ان مانعین زکوٰۃ کے خلاف جہاد کرنے کے متعلق مشورہ کیا۔ اس مجلس میں اکثر صحابہ نے حالات کی نزاکت کے پیش نظر ان سے فی الحال تعرض نہ کرنے کا مشورہ دیا اور بعض نے یہ کہا کہ آپ ایسے لوگوں سے کیسے جنگ کرسکتے ہیں جو کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام میں داخل ہوچکے ہیں تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اسی آیت سے استدلال کر کے شوریٰ پر ثابت کردیا کہ اسلام کے دعویٰ کی صداقت کے لیے جیسے نماز کی ادائیگی شرط ہے ویسے ہی زکوٰۃ کی ادائیگی بھی شرط ہے چنانچہ شوریٰ کو اس بات کا قائل ہونا پڑا اور آپ نے ان مانعین زکوٰۃ سے کفار و مشرکین کی طرح جہاد کیا۔ التوبہ
6 [٦] مشرک کو امان مانگنے پر امان دینا اور اسلام سمجھانا چاہئے :۔ یعنی اگر کوئی مشرک اس چار ماہ کی معینہ مدت کے اندر یا بعد میں پکڑ دھکڑ کے دوران یہ درخواست کرے کہ مجھے اسلام کی تعلیم پوری طرح سمجھا دو۔ تو اس کی اس درخواست کو رد نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے اپنے ہاں پناہ دو تاکہ دوسرا کوئی مسلمان بھی اس سے تعرض نہ کرے۔ پھر اسے اسلام کے اصول و ارکان اور اس کے حقائق پوری طرح سمجھا دو۔ پھر بھی اگر وہ اسلام نہیں لاتا اور معاندانہ روش اختیار کرتا ہے تو وہیں اسے قتل نہ کردو بلکہ اسے اس کی حفاظت کے مقام پر پہنچا دو۔ پھر اس کے بعد تم اس سے وہی سلوک کرسکتے ہو جو دوسرے مشرکوں سے کرنا چاہیے۔ یہ رعایت اس لیے دی گئی کہ کسی مشرک کے لیے اتمام حجت کا عذر باقی نہ رہے۔ پناہ یا امان بھی دراصل ایفائے عہد ہی کی ایک قسم ہے جس میں پناہ لینے والے کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ پناہ دینے والا اس کی جان و مال کی دشمنوں سے حفاظت کی ذمہ داری لیتا ہے۔ اور وہ خود بھی اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائے گا۔ مسلمانوں کا اس قسم کا ایفائے عہد یا امان کی پاسداری اس قدر زبان زد تھی کہ دشمن نے بعض دفعہ مسلمانوں کی کسی واقعہ سے لاعلمی سے فائدہ اٹھا کر امان حاصل کی اور عظیم فائدے حاصل کیے اور مسلمان جو پناہ دے چکے تھے۔ یہ جاننے کے باوجود کہ یہ امان مکر و فریب سے حاصل کی گئی ہے اپنا نقصان اٹھا کر بھی اس عہد کو پورا کیا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگر صرف ایک مسلمان خواہ وہ آزاد ہو یا غلام یا عورت ہو کسی کو پناہ دے دے تو وہ تمام مسلمانوں کی طرف سے امان سمجھی جائے گی۔ چنانچہ خوزستان (ایران) کی فتوحات کے سلسلہ میں ایک مقام شابور کا مسلمانوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا۔ ایک دن شہر والوں نے خود شہر پناہ کے دروازے کھول دیئے اور نہایت اطمینان سے اپنے کام کاج میں لگ گئے۔ مسلمانوں کو اس بات پر بڑی حیرت ہوئی۔ سبب پوچھا تو شہر والوں نے کہا کہ تم ہم کو جزیہ کی شرط پر ایمان دے چکے ہو۔ اب کیا جھگڑا رہا (واضح رہے کہ جزیہ کی شرط پر امان کا اصل وقت جنگ شروع ہونے سے پہلے ہے۔ دوران جنگ یا فتح کے بعد نہیں) سب کو حیرت تھی کہ امان کس نے دی۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایک غلام نے لوگوں سے چھپا کر امن کا رقعہ لکھ دیا ہے۔ ابو موسیٰ اسلامی سپہ سالار نے کہا کہ ایک غلام کی امان حجت نہیں ہو سکتی۔ شہر والے کہتے تھے کہ ہم آزاد غلام نہیں جانتے۔ آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا گیا۔ آپ نے جواب میں لکھا کہ ’’مسلمانوں کا غلام بھی مسلمان ہے اور جس کو اس نے امان دی تمام مسلمان امان دے چکے۔‘‘ (الفاروق ص ٢٣١) اور عورت کی امان کے سلسلہ میں درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :۔ فتح مکہ کے موقعہ پر ام ہانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پس پردہ غسل فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’کون ہے؟‘‘ ام ہانی کہنے لگیں ’’میں ام ہانی ہوں‘‘ پھر ام ہانی نے عرض کیا ’’اے اللہ کے رسول! میری ماں کے لڑکے (علیص) یہ کہتے ہیں کہ وہ ہبیرہ (ام ہانی کے خاوند کا نام) کے لڑکے کو قتل کردیں گے جبکہ میں اسے پناہ دے چکی ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''ام ہانی! جس کو تم نے پناہ دی ہم نے بھی اس کو پناہ دی۔'' (بخاری کتاب الغسل۔ باب التستر فی الغسل) مسلمانوں کی اس راستبازی اور ایفائے عہدکی بنا پر دشمن دھوکا دے کر بھی امان حاصل کرلیتے تھے۔ چنانچہ عراق و ایران کی جنگوں میں خارق کے مقام پر سیدنا ابو عبیدہ ابن الجراح اور ایرانیوں کے سپہ سالار جاپان کی افواج کا مقابلہ ہوا۔ جاپان شکست کھا کر گرفتار ہوگیا۔ مگر جس مجاہد نے اسے گرفتار کیا تھا وہ اسے پہچانتا نہیں تھا۔ جاپان نے اس کی لاعلمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے عوض دو نوجوان غلام دینے کا وعدہ کر کے امان لے لی۔ اتنے میں کسی دوسرے نے اسے پہچان لیا اور پکڑ کر ابو عبیدہ کے پاس لے گئے۔ سیدنا ابو عبیدہ نے یہ صورت حال دیکھ کر فرمایا: اگرچہ ایسے دشمن کو چھوڑ دینا ہمارے حق میں بہت مضر ثابت ہوگا مگر ایک مسلمان اسے پناہ دے چکا ہے اس لیے بدعہدی جائز نہیں چنانچہ اس امان کی بنا پر اسے چھوڑ دیا گیا۔ (تاریخ اسلام۔ حمید الدین ص ١٣٢) اب اس کے مقابلہ میں عیسائی دنیا کی صلیبی جنگوں میں امان، کا قصہ بھی سن لیجئے۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد طرابلس کے مسلمان بادشاہ نے کاؤنٹ بوہیمانڈ کو پیغام بھیجا کہ وہ معاہدہ کرنے کو تیار ہے اور ساتھ ہی دس گھوڑے اور سونا بھی خیر سگالی کے طور پر بھیجا اور یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا تھا جب کاؤنٹ امان دے چکنے کے بعد پورے شہر کے زن و مرد کو موت کی گھاٹ اتار رہا تھا۔ بوہیمانڈ نے ترجمان کے ذریعہ مسلمان امیروں کو بتایا کہ اگر وہ صدر دروازے کے اوپر والے محل میں پناہ لے لیں تو ان کو، ان کی بیویوں اور ان کے بچوں کو پناہ دے دی جائے گی اور ان کا مال واپس کردیا جائے گا۔ شہر کا ایک کونا بھی مسلمانوں کی لاشوں سے خالی نہ تھا اور چلنا پھرنا دشوار ہوگیا تھا بوہیمانڈ نے جن کو پناہ دی تھی ان کا سونا چاندی اور زیورات ان سے لے لیے اور ان میں سے بعض کو تو مروا دیا اور باقی ماندہ کو انطاکیہ میں غلام بنا کر بیچ ڈالا گیا۔ (پہلی صلیبی جنگ ص ٤٥ بحوالہ جہاد از بریگیڈیئر گلزار احمد ص ٢٦٧) التوبہ
7 [٧] صلح حدیبیہ اور حلیف قبائل :۔ ان سے مراد وہ تین مشرک قبائل ہیں بنو خزاعہ، بنو کنانہ اور بنو ضمرہ۔ جو صلح حدیبیہ کے وقت مسلمانوں کے حلیف بنے تھے۔ اور جب اعلان برأت ہوا تو ان سے معاہدہ کی میعاد میں ابھی نو مہینے باقی تھے۔ اس سورۃ کی آیت نمبر ٤ کے مطابق اس مدت میں ان سے تعرض نہیں کیا گیا۔ نیز اس آیت کی رو سے اس بات کی بھی اجازت دے دی گئی کہ کوئی مشرک جب تک اپنے معاہدہ پر قائم رہتا ہے اس وقت تو تمہیں بہرحال قائم رہنا چاہیے اور اگر وہ اپنا عہد توڑتا ہے تو اس وقت تمہیں بھی مخالفانہ کارروائی کرنے کی اجازت ہے۔ بالفاظ دیگر معاہدہ کی خلاف ورزی کی ابتداء تمہاری طرف سے بہرصورت نہیں ہونی چاہیے اور اس کی مثال معاہدہ یا صلح حدیبیہ ہے جس کی رو سے طے پایا تھا کہ آئندہ مسلمان اور قریش مکہ آپس میں دس سال تک جنگ نہیں کریں گے اور جو قبائل مسلمانوں کے حلیف ہیں قریش ان پر بھی کوئی زیادتی نہ کریں گے اور جوقریش کے حلیف ہیں ان پر مسلمان کوئی زیادتی نہ کریں گے۔ اسی معاہدہ کی رو سے بنو خزاعہ تو مسلمانوں کے حلیف بنے اور بنو بکر قریش کے۔ اور بنو خزاعہ اور بنو بکر کی آپس میں لگتی تھی۔ صلح حدیبیہ کو ابھی سال کا عرصہ بھی نہ گزرا تھا کہ بنو خزاعہ اور بنو بکر کی آپس میں لڑائی ہوگئی اور قریش نے معاہدہ حدیبیہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنو بکر کو ہتھیار بھی مہیا کیے اور کھل کر ان کا ساتھ بھی دیا۔ اور بنو خزاعہ کی خوب پٹائی کی۔ بنو خزاعہ کا ایک وفد عمر و بن سالم کی سر کردگی میں مدینہ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی اور کہا کہ قریش نے عہد توڑ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اچھا میں اب تمہاری مدد کرنے میں حق بجانب ہوں گا۔ قریش کی عہد شکنی دراصل مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ تھا۔ تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سامنے تین شرطیں پیش کیں کہ ان میں سے کوئی ایک قبول کرلی جائے۔ ١۔ بنو خزاعہ کے مقتولین کا خون بہا ادا کیا جائے۔ ٢۔ قریش بنو بکر کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔ ٣۔ اعلان کیا جائے کہ حدیبیہ کا معاہدہ ختم ہوگیا۔ قاصد نے جب یہ شرائط قریش کے سامنے پیش کیں تو ان کا نوجوان طبقہ فوراً بھڑک اٹھا اور ان میں سے ایک شخص فرط بن عامر نے قریش کی طرف سے اعلان کردیا کہ صرف تیسری شرط منظور ہے۔ جب قاصد واپس چلا گیا تو ان لوگوں کے ہوش ٹھکانے آ گئے اور ابو سفیان کو تجدید معاہدہ کے لیے مدینہ بھیجا گیا۔ ابو سفیان نے مدینہ پہنچ کر تجدید معاہدہ کی درخواست کی جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر علی الترتیب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حتیٰ کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تک سفارش کے لیے التجا کی۔ لیکن جب سب نے جواب دے دیا تو مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر اس نے یک طرفہ ہی اعلان کردیا کہ میں نے معاہدہ حدیبیہ کی تجدید کردی۔ لیکن اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ شرائط میں سے کسی کا جواب نہیں دیا تھا۔ لہٰذا اب اصلاح کی کوئی گنجائش نہ رہی تھی اور قریش کی یہی بدعہدی بالآخر مکہ پر چڑھائی کا سبب بن گئی۔ قریش اور بنو بکر کی بدعہدی مکہ پر مسلمانوں کی چڑھائی :۔ ایفائے عہد اسلام کی بنیادی تعلیمات سے ہے اور بدعہدی ایک کبیرہ گناہ ہے جسے احادیث میں منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ یہ عہد خواہ اللہ سے ہو یا کسی بندے سے، لین دین سے تعلق رکھتا ہو یا نکاح و طلاق سے یا صلح و جنگ سے۔ ایک شخص کا دوسرے سے ہو یا کسی قوم سے ہو یا کسی قوم کا دوسری قوم سے ہو بہرحال اسے پورا کرنا واجب ہے خواہ اس سے کتناہی نقصان پہنچ جانے کا خطرہ ہو۔ اس سورۃ میں چونکہ صلح و جنگ سے متعلق ہی قوانین بیان کیے جا رہے ہیں لہٰذا ہم یہی پہلو سامنے رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمن زندگی بھر بدعہدی اور غداری کرتے رہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابی کارروائی کے طور پر کبھی بھی نقض عہد کو برداشت نہیں کیا۔ یہود کی بدعہدی تو زبان زد ہے انہوں نے میثاق مدینہ کی ہر ہر بار خلاف ورزی کی اور ان کی غداریوں اور بدعہدیوں کا کئی مقام پر ذکر ہوچکا ہے۔ دوسرے قبائل نے بھی بدعہدی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ صلح حدیبیہ کے بعد قریش مکہ نے بنو بکر کی حمایت کر کے معاہدہ حدیبیہ کی صریح خلاف ورزی کی۔ بنو ثعلبہ نے تبلیغ اسلام کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آدمی طلب کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوٹی کے دس عالمان دین ان کے ساتھ روانہ کردیئے اور انہوں نے غداری سے انہیں شہید کردیا۔ یہی کام بنو عکل و قارہ نے کیا انہوں نے تبلیغ اسلام کے نام پر دس عالمان دین کو غداری سے شہید کردیا اور بئر معونہ کا واقعہ تو بڑا ہی دردناک ہے جس میں ستر ممتاز قاری اور عالمان دین کے مقابلہ میں قبیلہ رعل و ذکوان کی جمعیت لا کر انہیں شہید کردیا۔ جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی صدمہ ہوا۔ علاوہ ازیں اس واقعہ کے بعد دشمن قبائل کے مسلمانوں کے خلاف حوصلے اور بھی بڑھ گئے اور تھوڑی مدت تک اسلام دشمن قومیں اور قبائل جنگ احزاب کی شکل میں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے۔ اب ان کے مقابلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایفائے عہد کے واقعات بھی سن لیجئے کہ کیسے نازک موقعوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض ایفائے عہد کی خاطر اپنے ہر طرح کے مفادات کو قربان کردیا :۔ ١۔ سیدنا حذیفہ بن یمان اور ان کے والد یمان، جن کی کنیت ابو حُسَیْل تھی۔ غزوہ بدر میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے مگر راستہ میں کفار قریش کے ہتھے چڑھ گئے انہوں نے ان کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک کہ جنگ میں عدم شرکت کا وعدہ نہ لے لیا۔ پھر یہ دونوں غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ’’مدینے چلے جاؤ اور جنگ کی اجازت نہیں دی اور فرمایا ہم ہر حال میں وعدہ وفا کریں گے۔ ہم کو اللہ کی مدد درکار ہے۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الجہاد۔ والسیر۔ باب الوفاء بالعھد) حالانکہ اس موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایک آدمی کی شدید ضرورت تھی۔ ٢۔ بئرمعونہ کے حادثہ میں ٧٠ میں سے ایک شخص عمرو بن امیہ بچ نکلے لیکن بعد میں گرفتار ہوگئے۔ عامر بن طفیل جس نے ان قاریوں کو شہید کروایا تھا۔ نے عمرو بن امیہ کو دیکھ کر کہا ’’میری ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی منت مانی تھی لہٰذا میں یہ منت پوری کرنے کی خاطر عمر و بن امیہ کو آزاد کرتا ہوں۔‘‘ عمرو بن امیہ وہاں سے چلے تو راستہ میں اسی قاتل قبیلہ کے دو افراد مل گئے جنہیں آپ نے قتل کردیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دو آدمیوں کو امان دے چکے تھے جس کا عمرو بن امیہ کو علم نہ تھا۔ اب حالات کا تقاضا تو یہ تھا کہ بنو عامر کی غداری کی بنا پر ان سے جتنی بھی سختی برتی جا سکے برتی جائے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کا خون بہا ادا کردیا (البدایہ والنہایہ ج ٤ ص ٧٣) ٣۔ صلح حدیبیہ کی شرائط لکھی جا چکی تھیں مگر ابھی اس تحریری معاہدہ پر دستخط ہونا باقی تھے کہ قریش کے نمائندہ صلح سہیل بن عمرو کے بیٹے ابو جندل، جو اسلام لانے کی وجہ سے قید میں ڈال دیئے گئے تھے، قید سے فرار ہو کر پابہ زنجیر مسلمانوں کے پاس پہنچے اور اپنے زخم دکھا دکھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے التجا کر رہے تھے کہ اب مجھے واپس نہ کیجئے۔ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل بھر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی رحمتہ للعالمین تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض ایفائے عہد کی خاطر اسے واپس کردیا اور کہا : ابو جندل صبر کرو۔ اللہ تمہارے لیے کوئی راہ پیدا کر دے گا۔ اب صلح کی شرط ہوچکی اور ہم بد عہدی نہیں کرسکتے۔ (بخاری۔ کتاب الشروط۔ باب الشروط علی الجھاد والمصالحۃ) ٤۔ ایسے ہی مظلوم مسلمانوں میں سے ایک عتبہ بن اسید (ابو بصیر) تھے جو قریش کے مظالم سے تنگ آ کر مکہ سے فرار ہو کر مدینہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ شرائط صلح حدیبیہ کے مطابق قریش کے دو آدمی بھی ابو بصیر کو لینے مدینہ پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایفائے عہد کی خاطر ابو بصیر کو کافروں کے حوالہ کردیا اسے بھی آپ نے صبر کی تلقین فرمائی اور فرمایا جلد ہی اللہ تعالیٰ کوئی راہ نکال دے گا (اس واقعہ کی تفصیل سورۃ فتح کے ابتدائی حاشیہ میں ملاحظہ فرمائیے۔) ٥۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایفائے عہد کے واقعات اس کثرت سے ہیں کہ دشمن بھی آپ کی اس خوبی کا برملا اعتراف کرتے تھے۔ جنگ احزاب کے موقعہ پر جب یہود کے قبیلہ بنو نضیر کے سردار حیی بن اخطب نے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسداس کو عہد شکنی پر مجبور کیا تو کعب نے اسے کہا اِنِّیْ لَمْ اَرَمِنْ مُحَمَّدٍ اِلَّا صِدْقًا وَّ وَفَآئً (میں نے ہمیشہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سچا اور عہد کو پورا کرنے والا دیکھا ہے) (طبری ج ١۔ غزوہ خندق) پھر یہ خوبی آپ کی ذات تک ہی محدود نہ تھی بلکہ آپ کے جانشینوں نے بھی عہد کی پوری پوری پابندی کر کے مثال قائم کردی۔ ٦۔ دور فاروقی میں شام کی فتوحات کا سلسلہ جاری تھا۔ سیدنا ابو عبیدہ نے دمشق کا محاصرہ کر رکھا تھا سیدنا خالد بن ولید نے چند جانبازوں کے ہمراہ فصیل پر کمند لگائی اور اوپر چڑھ کر قلعہ کے دروازے کھول دیئے۔ سیدنا خالد کی فوج فاتحانہ انداز میں قلعہ میں داخل ہوگئی۔ اہل دمشق نے دوسری جانب سیدنا ابو عبیدہ سے مصالحت کی درخواست کردی۔ جو انہوں نے نئی صورت حال سے لاعلمی کی بنا پر قبول کرلی۔ جب انہیں اصل صورت حال کا علم ہوا تو انہیں بہت محسوس ہوا مگر ایفائے عہد کی خاطر ابو عبیدہ نے مفتوحہ علاقہ اہل دمشق کو واپس دے دیا۔ (تاریخ اسلام حمید الدین ص ١٣٨) ٧۔ شام کی فتوحات کے دوران عیسائیوں نے صلح کے لیے اپنے قاصد جارج کو سیدنا ابو عبیدہ کے پاس بھیجا۔ وہ شام کے وقت پہنچا اور نماز باجماعت کا پرکیف منظر دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ بعد میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق چند سوال کیے جن کا سیدنا ابو عبیدہ نے شافی جواب دیا نتیجتاً جارج مسلمان ہوگیا اور چاہا کہ اب وہ عیسائیوں کے پاس واپس نہ جائے۔ لیکن ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے محض اس خیال سے کہ رومیوں کو مسلمانوں کی طرف سے بد عہدی کا گمان پیدا نہ ہو۔ جارج کو مجبور کیا اور کہا کہ کل یہاں سے جو سفیر جائے گا ایک دفعہ ضرور اس کے ہمراہ وہاں جاؤ اور اصل صورت حال سے انہیں خود مطلع کرنے کے بعد واپس آ جانا۔ (الفاروق ص ١٩٦) اب ذرا موجودہ دور کی مہذب اور متمدن اقوام اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے معاہدات پر بھی نظر ڈال لیجئے۔ جو ظاہری معاہدات کے علاوہ زیر زمین خفیہ معاہدات کا بھی ایک جال بچھا رکھتے ہیں اور ایسی منافقت اور بدعہدی کا ایک خوبصورت نام ڈپلومیسی (DIPLOMACY) تجویز کر رکھا ہے اس منافقت کا جو منظر جنگ عظیم اول میں سامنے آیا وہ کچھ اس طرح ہے :۔ اس جنگ میں ایک طرف جرمنی، آسٹریا اور ہنگری تھے جنہیں جارح یا ظالم کا لقب دیا گیا۔ دوسری طرف برطانیہ، فرانس، روس اور اٹلی تھے جو اپنے آپ کو حق پرست، انسانی حقوق کے علمبردار اور مظلوموں کے مددگار کہتے تھے۔ ان حق پرستوں نے عربوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے انہیں یقین دلایا کہ وہ عربوں کو ترکی کے تسلط سے آزاد کرائیں گے اور جنگ کے بعد انہیں آزاد اور خود مختار حکومت بنانے کا موقع دیں گے تاکہ وہ اپنے شعائر اسلام آزادی سے بجا لا سکیں۔ اس طرح یہ حق پرست دراصل ملت اسلامیہ کے مرکز ترکی کی خلافت کا گلا گھونٹنا چاہتے تھے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں ١٩١٧ ء میں جنرل ماؤ نے برسر عام اعلان کر کے عربوں سے کیے ہوئے معاہدہ کی تصدیق بھی کردی کہ وہ اس ملک میں فاتحانہ حیثیت سے نہیں بلکہ آزادی دینے کے لیے آئے ہیں۔ لیکن اصل حقیقت اس کے علاوہ کچھ اور تھی۔ فرانس اور برطانیہ نے ١٩١٥ ء اور ١٩١٦ ء میں آپس میں خفیہ معاہدات کیے ١٩١٦ ء کے خفیہ معاہدہ، جو سائیکس پیکو کے نام سے مشہور ہے، کی رو سے یہ طے ہوا تھا کہ جنگ کے بعد :۔ i عراق کلیتہً برطانیہ کے قبضہ میں رہے گا۔ ii شام پورے کا پورا فرانسیسی سلطنت کے دائرہ میں رکھا جائے گا۔ iii فلسطین ایک بین الملی علاقہ ہوگا اور حیفہ اپنی بندرگاہ سمیت برطانیہ کے زیر اثر ہوگا۔ iv باقی رہے وہ ممالک جو عراق اور سواحل شام کے درمیان واقع ہیں تو انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ایک حصہ برطانیہ کے زیر اثر رہے گا اور دوسرا فرانس کے۔ برطانیہ اور فرانس چونکہ اپنے دوسرے حق پرست ساتھیوں سے بھی زیادہ حق پرست تھے۔ اس لیے انہوں نے اس معاہدہ کو اپنے ساتھیوں سے بھی چھپائے رکھا اور ظاہری طور پر یہی اعلان کرتے رہے کہ ہم عربوں کو پوری آزادی دلانے آئے ہیں۔ پھر جب عربوں نے دیکھا کہ شام کے سواحل پر فرانسیسی فوجیں مسلط ہیں اور عراق اور فلسطین میں انگریزی فوجیں پہنچ گئی ہیں تب جا کر انہیں معلوم ہوا کہ انکے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے اور یہ چال محض ترکوں اور عربوں میں نفاق ڈال کر ملک چھیننے کے لیے چلی گئی تھی۔ عربوں کو جب ہوش آیا تو انہوں نے بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے اور فیصل بن حسین کے تحت ایک وطنی حکومت بھی قائم کرلی مگر اب پانی سر سے اوپر ہوچکا تھا۔ برطانیہ نے نہایت عیاری سے عربوں میں سے ہی اپنی مرضی کے چند آدمی منتخب کر کے ان کی حکومت بنا دی جو کلیتہً برطانیہ کے زیر اثر تھی۔ اس طرح انگریز بہادر نے اپنے سب مفادات بھی حاصل کرلیے اور یہ کہنے کے قابل بھی ہوگیا کہ اس نے عربوں سے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے۔ پھر ان خفیہ معاہدات کا حلقہ صرف عربوں تک ہی محدود نہ تھا۔ اتحادی آپس میں بھی ہوا کا رخ دیکھ کر ایسے معاہدات کرلیتے تھے جنہیں دوسرے حق پرستوں سے بھی صیغہ راز میں رکھا جاتا تھا۔ بین الاقوامی ڈاکہ زنی کی یہ سکیم صیغہ راز میں ہی رہ جاتی۔ اگر دوران جنگ روس انقلاب کا شکار نہ ہوجاتا۔ اپریل ١٩١٧ ء میں جب ان کی حکومت کا تختہ الٹا اور بالشویکوں کی حکومت قائم ہوگئی تو انہوں نے سرمایہ دار حکومتوں کے گھناؤنے کردار کو بے نقاب کرنے کے لیے وہ تمام خفیہ معاہدات شائع کردیئے جو انہیں زار کی حکومت کے نہاں خانوں سے دستیاب ہوئے تھے۔ ان معاہدات کی کوئی دفعہ ایسی نہیں تھی جس میں مخالف سلطنتوں کے کسی نہ کسی علاقہ یا ان کی اقتصادی ثروت کے کسی نہ کسی وسیلے کو ان حق پرستوں نے آپس میں بانٹنے کا فیصلہ نہ کر رکھا ہو۔ التوبہ
8 [٨] چونکہ اب ان کا مسلمانوں پر قابو نہیں رہا اور مسلمان ایک مقابلہ کی طاقت بن چکے ہیں اس لیے وہ معاہدہ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں لیکن اس وقت بھی زبانی دعوے کر کے تمہیں خوش رکھنا چاہتے ہیں۔ ورنہ ان کے دل ایک منٹ کے لیے بھی اس عہد پر راضی نہیں ہوتے اور عہد شکنی کے لیے مناسب موقعہ کے انتظار میں رہتے ہیں پھر جب انہیں ایسا موقعہ میسر آ جاتا ہے تو پھر انہیں نہ اپنا عہد یاد رہتا ہے اور نہ قرابت کا خیال آتا ہے ایسی بدعہد اور دغا باز قوم سے اللہ اور اس کے رسول کا کیا عہد ہوسکتا ہے؟ التوبہ
9 [٩] بدعہد قوم کے اوصاف :۔ یعنی ایک طرف تو اللہ کی آیات ان کو بھلائی، راستی، عہد کی پابندی کی دعوت دیتی ہیں۔ دوسری طرف ان کے کچھ ذاتی مفادات وابستہ ہوتے ہیں اور وہ چند روزہ دنیوی فائدے کے حصول کی خاطر اپنی خواہش نفس کی پیروی کو ترجیح دیتے ہیں اور سب اخلاقی اقدار اور اللہ کے احکام کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ پھر وہ اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو بھی مسلمانوں سے بدعہدی پر اکساتے اور اسی راہ پر چلنے کی دعوت دیتے ہیں جس پر خود چل رہے ہوتے ہیں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس جملہ کا یہی مفہوم ہے تاہم اس کے الفاظ عام ہیں اور ان الفاظ سے کافروں کی ہر معاندانہ کوشش مراد لی جا سکتی ہے جس کے ذریعہ وہ اسلام کے راستہ میں روک بن جاتے ہیں اور ایسی کوششیں کئی قسموں کی ہو سکتی ہیں جن کا قرآن میں جا بجا ذکر موجود ہے۔ التوبہ
10 التوبہ
11 [١٠] اسلامی ریاست میں حقوق شہریت کی شرائط :۔ اسی سورۃ کی آیت نمبر ٥ میں فرمایا تھا کہ اگر مشرک لوگ توبہ کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ یعنی اب ان کے اموال اور ان کی جانیں تمہارے ہاتھوں سے محفوظ ہوگئیں اور اس آیت میں فرمایا کہ اگر وہ تینوں شرائط پوری کرلیں تو صرف یہی نہیں کہ ان کے جان و مال محفوظ ہوجائیں گے بلکہ وہ اسلامی برادری کا ایک فرد بن جائیں گے اور انہیں وہ تمام تمدنی، معاشرتی، قانونی اور معاشی حقوق اسی طرح حاصل ہوجائیں گے جس طرح دوسرے مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ التوبہ
12 [١١] ذمیوں کی معاندانہ سرگرمیاں :۔ اس آیت کے مفہوم میں وہ کافر و مشرک قبائل بھی شامل ہیں جو اعلان برأت سے پیشتر اپنے عہد توڑتے اور دین میں طعنہ زنی کرتے رہے اور وہ بھی شامل ہیں جو اعلان برأت کے بعد بظاہر اسلام لے آئے لیکن ان کے دل اسلام کی طرف ہرگز مائل نہیں تھے بلکہ وہ محض وقتی مصلحت اور مسلمانوں کے غلبہ کے دباؤ کے تحت اسلام لائے تھے اور کسی مناسب موقع کے منتظر تھے کہ کب وہ اسلام میں کوئی کمزوری دیکھیں تو اپنے اسلام لانے کے عہد کو توڑ دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تو انہیں ایسا موقع میسر نہ آیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فوراً انہوں نے اس عہد کو توڑ ڈالا اور پھر سے مرتد ہوگئے کیونکہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اسلام کو جو کچھ غلبہ اور شان و شوکت حاصل ہوئی ہے وہ صرف رسول اللہ کے دم قدم سے تھی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد ایسے قبائل نے پوری قوت کے ساتھ بغاوت کا علم بلند کردیا اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے مصداق ان کی ٹھیک ٹھیک سرکوبی کی۔ توہین رسالت کی سزا موت :۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی اسلامی حکومت میں رہنے والے اہل الذمہ دین اسلام کا تمسخر اڑائیں یا طعنہ زنی کریں تو ان کا معاہدہ ختم اور ان کی سرکوبی کرنا اسلامی حکومت کا فرض ہوتا ہے اور یہ بھی کہ جو ذمی یا کوئی دوسرا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی کوئی باتیں کرے وہ واجب القتل ہے کیونکہ یہ دین میں طعنہ زنی کی ایک بدترین قسم کا جرم ہے۔ التوبہ
13 [١٢] اعلان براءت کے بعد جہاد پر زور وترغیب کی وجوہ :۔ اس سے پیشتر مسلمانوں کو جہاد کی متعدد بار ترغیب دی جا چکی تھی اور مسلمان کئی معرکے اور جنگیں بھی کرچکے تھے۔ اب اعلان برأت کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے پچھلے مظالم یاد دلا دلا کر کافروں سے جنگ کرنے کی جو پرزور ترغیب دی ہے تو اس کی چند وجوہ تھیں مثلاً اعلان برأت کے وقت بھی مشرکین کی تعداد جزیرۃ العرب میں مسلمانوں سے زیادہ تھی اس لیے انہیں یہ خیال آ سکتا تھا کہ ایسی ذلت گوارا کرنے کے بجائے سب مل کر اسلام کا ہی نام و نشان مٹا دیں اور عرب جیسی جنگ جوا اور دلیرقوم سے ایسا خطرہ کچھ بعیداز عقل بھی نہ تھا۔ کیونکہ ایک تو ان کے تمام معاہدات کالعدم قرار دیئے جا رہے تھے اور دوسرے جلاوطنی کی دھمکی یا جنگ پر تیار ہوجانے کا چیلنج دے دیا گیا تھا، تیسرے کعبہ سے ان کی تولیت کو ختم کردیا گیا تھا۔ چوتھے کعبہ میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا تھا اور مکہ ہی وہ تجارتی مرکز تھا جس پر بالخصوص مقامی مشرکوں اور آس پاس کے رہنے والے مشرک قبائل کی معیشت کا زیادہ تر انحصار تھا۔ پانچویں یہ کہ جو لوگ نئے نئے مسلمان ہو رہے تھے ان کے اکثر اقربا ابھی تک مشرک تھے۔ اور ان سے تعلقات برقرر رکھنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ لہٰذا ان وجوہ کی بنا پر یہ عین ممکن تھا کہ سب مشرک متحد ہو کر مسلمانوں سے ایک عظیم جنگ کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے یا کم از کم عرب بھر میں وسیع پیمانہ پر مسلمانوں سے خانہ جنگی شروع ہوجاتی لہٰذا ضروری تھا کہ ایسے موقع پر مسلمانوں کو جہاد کی پرزور تلقین کی جاتی اور ان کے ذہن سے ان خطرات کو دور کیا جاتا جو اس پالیسی پر عملدرآمد کرنے کی صورت میں انہیں نظر آ رہے تھے اور انہیں ہدایت کی جاتی کہ انہیں اللہ کی مرضی پوری کرنے میں کسی بات سے خائف نہیں ہونا چاہیے۔ التوبہ
14 [١٣] اعلان براءت کے بعدمشرکوں کے وفود کی مدینہ میں آمد اور قبول اسلام :۔ مسلمان یہ سمجھ رہے تھے کہ اس اعلان برأت کے بعد نامعلوم انہیں کیسے تلخ حالات سے دوچار ہونا پڑے گا اور ان کے یہ اندیشے بے جا بھی نہ تھے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے انہیں دو باتوں کی تلقین فرمائی ایک یہ کہ جہاد کے لیے پوری طرح مستعد رہیں، دوسرے لوگوں سے ڈرنے کے بجائے صرف اللہ سے ڈریں اور اسی پر بھروسہ کریں۔ چنانچہ اللہ نے مشرکوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور بجائے اس کے کہ انہیں مقابلہ کی سوجھتی وہ وفود کی شکل میں مدینہ آئے اور اسلام قبول کرنے لگے اور ایسے وفود کی تعداد (70) ستر کے قریب شمار کی گئی ہے جیسا کہ سورۃ نصر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿اِذَاجَاءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا﴾چنانچہ جو قبائل اسلام لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس علاقے کا انتظام انہی کے سپرد فرما دیتے تھے۔ جہاد کے نتیجہ میں مسلمانوں سے پانچ وعدے :۔ آیت نمبر ١٤ اور ١٥ میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے متعلق پانچ وعدے فرمائے۔ بالفاظ دیگر جہاد کے فوائد سے تعلق رکھنے والی پانچ خوشخبریاں سنائیں جو سب کی سب پوری ہوئیں۔ پہلی یہ کہ تمہارے دشمنوں پر کوئی ارضی یا سماوی عذاب نہیں آئے گا بلکہ انہیں یہ عذاب تمہارے ہاتھوں سے دلوایا جائے گا اور اس عذاب کی ابتداء غزوہ بدر سے ہی شروع ہوگئی تھی۔ دوسری یہ کہ مشرکوں کو رسوا کرے گا۔ اب اعلان برأت میں مشرکوں کی رسوائی کے جس قدر پہلو موجود ہیں اور جن کی تفصیل حاشیہ نمبر ٣ میں دی گئی ہے اس سے بڑھ کر ان کی رسوائی کیا ہو سکتی ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس رسوائی کو برداشت کرنے کے بغیر ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ تیسری یہ کہ تمہیں ان پر مدد دے گا اور اس مدد کا آغاز بھی غزوہ بدر سے شروع ہوگیا تھا جس کی تفصیل پہلے دی جا چکی ہے۔ پھر اللہ کی یہ مدد ہر دم مسلمانوں کے شامل حال رہی، چوتھی یہ کہ مسلمانوں کے دل مشرکوں کے ظلم و ستم سہہ سہہ کر بہت زخمی ہوچکے تھے اور ابتداً انہیں ہاتھ تک اٹھانے کی بھی اجازت نہ تھی۔ صرف ان کے ظلم و ستم برداشت کرنے کی اور درگزر کرنے کی تاکید کی جاتی رہی۔ پھر جوں جوں اللہ تعالیٰ انہیں ستم رسیدہ کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں ان مغرور و سرکش مشرکوں کو پٹواتا رہا تو ان مسلمانوں کے دل ان کی طرف سے ٹھنڈے ہوگئے کہ دلوں میں جاگزیں رنجشیں اور غصے سب کافور ہوگئے اور پانچویں یہ کہ انہیں مغرور کافروں میں سے اللہ جسے چاہے گا توبہ کی توفیق دے کر تمہارا بھائی اور تمہارا غمگسار بھی بنا دے گا اور اس کی مثالیں بے شمار ہیں جو ابتدائے اسلام سے لے کر تاہنوز جاری ہیں۔ التوبہ
15 التوبہ
16 [١٤] کافروں کو دخیل یا ہمراز بنانے کے مہلک نتائج :۔ یہ خطاب ان مسلمانوں کے لیے ہے جو نئے نئے اسلام لائے تھے۔ ورنہ ابتدائی مہاجرین و انصار تو اس معیار پر، جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے، پہلے ہی کئی بار پورے اتر چکے تھے اور اپنے اس امتحان میں کامیاب ہوچکے تھے اس معیار میں بالخصوص دو باتیں بیان فرمائیں ایک اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد، دوسرے صرف اللہ اس کے رسول اور مومنوں سے ہی دلی اور راز داری کی دوستی۔ یعنی کسی مسلمان کے لیے یہ کسی صورت میں جائز نہیں کہ وہ غیر مسلم کو اپنے معاملات میں دخیل اور اپنا ہم راز بنائے۔ غیر مسلم کو اسلامی حکومت کے کسی ذمہ دار منصب پر فائز کرنا، یا کسی غیر مسلم کو کوئی جنگی راز وغیرہ بتلا دینا ایسے خطرناک کام ہیں جن کے نتائج ایک مسلم حکومت یا معاشرہ کے لیے نہایت مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا کسی غیر مسلم سے ایسی دوستی گانٹھنے سے ہی سختی سے منع کردیا گیا۔ التوبہ
17 [١٥] مشرکین مکہ کن کن باتوں سے بیت اللہ کی توہین کرتے تھے؟:۔ یعنی کعبہ یا کسی بھی مسجد کی تولیت، مجاوری اور آباد کاری مشرکوں کے لیے مناسب ہی نہیں۔ کعبہ خالصتاً اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا اور ایسے ہی دوسری مساجد بھی اسی غرض کے لیے بنائی جاتی ہیں لیکن یہ مشرک بیت اللہ میں بھی اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے تھے۔ چنانچہ مشرکوں نے اللہ کے اس گھر میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ دیواروں پر اپنے بزرگوں اور دیوی دیوتاؤں کی تصویریں بنا رکھی تھیں۔ اور ان ظالموں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے مجسمے بنا کر ان کے ہاتھوں میں فال گیری کے تیر پکڑا رکھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد بیت اللہ کو ان سب چیزوں سے پاک کیا۔ پھر بیت اللہ میں ایسی فحاشی روا رکھی جاتی کہ کیا مرد کیا عورت ننگے طواف کرتے تھے۔ پھر یہ ظالم طواف کے دوران یہ الفاظ کہہ کر اپنے شرک کی شہادت دیتے تھے لاَشَرِِیْکَ لَکَ الاَّ شَرِیْکَ ھُوَلَکَ تَمْلِکُہُ (مسلم۔ کتاب الحج) ان کی نظروں میں سرے سے بیت اللہ کے احترام کا تصور ہی نہ تھا حتیٰ کہ انہوں نے اپنی عبادت کو سیٹیوں، تالیوں اور گانے بجانے کی محفلیں بنا رکھا تھا۔ پھر کیا ایسے لوگ مساجد کی آباد کاری اور سرپرستی کے مستحق ہو سکتے ہیں؟ [١٦] کیونکہ اعمال کی جزا کا انحصار اللہ اور روز آخرت پر ایمان ہے اور مشرک تو روز آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتے تھے اور اللہ پر ایمان کے معاملہ میں ان کا تصور ہی غلط تھا۔ انہوں نے سب خدائی اختیارات و تصرفات تو اپنے دیوی دیوتاؤں اور بزرگوں کو دے رکھے تھے لہٰذا ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان کے اچھے اعمال ضائع ہوں گے اور شرک اور بداعمالی کی وجہ سے ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہوگا۔ التوبہ
18 [١٧] مساجد کی آبادی کا مطلب آباد کرنے والوں کی صفات :۔ آباد کرنے سے مراد مساجد میں نمازوں کے لیے آنا جانا، مساجد کی صفائی، ان میں روشنی کا انتظام، مساجد کی تعمیر، ان کی مرمت اور تولیت وغیرہ سب کچھ شامل ہے اور یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جن میں بالخصوص چار باتیں پائی جائیں۔ اللہ اور روز آخرت پر ایمان، پھر اسی ایمان کی ظاہری شہادت کے طور پر نماز کا قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنا۔ یعنی اللہ کے سوا دوسرے دیوی، دیوتا، بزرگ یا فرشتوں اور ستاروں کی ارواح کے متعلق یہ گمان رکھنا کہ اگر وہ ناراض ہوگئے تو اسے کوئی نقصان پہنچا سکتے یا کسی مصیبت سے دو چار کرسکتے ہیں پھر اسی بنا پر ان کی نذر و نیاز اور منتیں ماننا یا عبادت کی کوئی بھی رسم بجا لانا کسی ایماندار کا شیوہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ایسے لوگ کبھی ہدایت پا سکتے ہیں خواہ وہ نبی کی اولاد ہی کیوں نہ ہوں اور ایسی تولیت ان کے ورثہ میں چلی آ رہی ہو۔ مساجد کی آباد کاری اور ان کا ادب و احترام نہایت اعلیٰ درجہ کا عمل ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے :۔ ١۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ’’جس نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے مسجد بنائی اللہ ویسا ہی گھر اس کے لیے بہشت میں بنائے گا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب من بنی مسجدا ) ٢۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر تم کسی آدمی کو مسجد میں آنے جانے کا عادی دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی مسجدیں صرف وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) ٣۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’سات آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ١۔ عادل بادشاہ، ٢۔ وہ جوان جو جوانی کی امنگ سے اللہ کی عبادت میں رہا۔ ٣۔ وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، ٤۔ وہ دو مرد جنہوں نے اللہ کی خاطر محبت کی پھر اس پر قائم رہے۔ اور اسی پر جدا ہوئے، وہ شخص جسے کسی حسب و جمال والی عورت نے (بدی کے لیے) بلایا مگر اس نے کہا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، وہ مرد جس نے داہنے ہاتھ سے ایسے چھپا کر صدقہ دیا کہ بائیں ہاتھ تک کو خبر نہ ہوئی۔ وہ مرد جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کے آنسو بہہ نکلے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب الصدقۃ بالیمین) ٤۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’فرشتے اس شخص کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جو نماز پڑھنے کے بعد مسجد میں اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھا رہے جب تک اس کو حدث لاحق نہ ہو۔ فرشتے یوں کہتے رہتے ہیں۔ یا اللہ اس کو بخش دے یا اللہ اس پر رحم کر۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب الحدث فی المسجد) ٥۔ سائب بن یزید کہتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں کھڑا تھا اتنے میں ایک شخص نے مجھ پر کنکر پھینکا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ عمر بن خطاب ہیں۔ مجھے کہنے لگے ’’جاؤ ان دو آدمیوں کو بلا لاؤ۔ ‘‘ میں بلا لایا۔ سیدنا عمر نے ان سے پوچھا ’’کہاں سے آئے ہو؟‘‘ وہ کہنے لگے ’’طائف سے‘‘ سیدنا عمر نے فرمایا ’’اگر تم اس شہر کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں خوب سزا دیتا۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کرتے ہو؟‘‘ (بخاری۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب رفع الصوت فی المسجد) التوبہ
19 [١٨] جہاد کے مسائل :۔ اس آیت کے شان نزول سے متعلق درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :۔ سیدنا نعمان بن بشیر کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص کہنے لگا’’مجھے کوئی پروا نہیں اگر میں اسلام لانے کے بعد کوئی عمل نہ کروں سوائے حاجیوں کو پانی پلانے کے۔‘‘ دوسرے نے کہا ’’مجھے کوئی پروا نہیں اگر میں اسلام لانے کے بعد کوئی عمل نہ کروں سوائے مسجد حرام کی تعمیر و آبادی کے۔‘‘ تیسرے نے کہا ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ان کاموں سے افضل ہے جن کا تم ذکر کر رہے ہو۔ ‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ڈانٹا کہ منبر کے پاس اپنی آوازیں بلند نہ کرو۔ نعمان کہتے ہیں کہ وہ جمعہ کا دن تھا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ’’میں جمعہ کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور جس بات میں تم اختلاف کر رہے ہو اس بارے میں ضرور سوال کروں گا۔‘‘ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (مسلم۔ کتاب الامارۃ باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللہ) اس آیت میں روئے سخن مسلمانوں اور مشرکوں سب کے لیے عام ہے۔ مشرکوں کے لیے اس لحاظ سے کہ وہ بڑے فخر سے کہا کرتے تھے کہ ہم حاجیوں کی خدمت کرتے، انہیں پانی پلاتے اور انہیں کھانا کپڑا مہیا کرتے ہیں نیز ہم مسجد حرام کی مرمت یا غلاف کعبہ یا روشنی وغیرہ کا بھی انتظام کرتے ہیں اگر مسلمان اپنے جہاد و ہجرت کو افضل اعمال سمجھتے ہیں تو ہمارے پاس بھی عبادات کا یہ ذخیرہ موجود ہے۔ انہیں تو یہ جواب دیا گیا کہ جب تمہارا آخرت اور اللہ پر ایمان ہی نہیں تو تمہارے یہ سب اعمال رائیگاں جائیں گے اور اگر اس آیت کا روئے سخن مسلمانوں کی طرف سمجھا جائے تو اس سے مراد ان کے اعمال کا باہمی موازنہ ہوگا۔ یعنی صرف اللہ اور آخرت پر ایمان لانے والے مسلمان اللہ کے نزدیک ان مسلمانوں کے برابر نہیں ہو سکتے جو ایمان بھی لائے اور جہاد بھی کیا۔ التوبہ
20 [١٩] جہاد کے فضائل کتاب و سنت میں بہت سے مقامات پر مذکور ہیں یہاں ہم صرف دو احادیث پر اکتفا کرتے ہیں۔ ١۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ’’مجھے ایسا عمل بتلائیے جو جہاد کے ہم پلہ ہو؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں ایسا کوئی عمل نہیں پاتا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب فضل الجھاد والسیر) ٢۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟ فرمایا ’’مومن جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرتا ہو۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب أفضل الناس مومن۔۔ مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب فضل الجھاد والرباط) التوبہ
21 [٢٠] ایمان، جہاد اور ہجرت کا اجررحمت رضائے الہٰی اور جنت :۔ پہلی آیت میں تین چیزوں کا ذکر تھا۔ ایمان، جہاد اور ہجرت ان تین اعمال کے بدلے تین طرح کی بشارت دی گئیں۔ رحمت، اللہ کی رضا اور ہمیشہ کے لیے جنت میں قیام۔ بعض علماء نے ان اعمال اور ان کے اجر میں یہ نسبت قائم کی ہے کہ اللہ کی رحمت تو ایمان کی وجہ سے ہوگی کیونکہ آخرت میں اللہ کی رحمت اور مہربانی صرف اس شخص پر ہوگی جو ایمان لایا ہوا ور رضوان یا اللہ کی رضامندی جہاد کے عوض ہوگی۔ کیونکہ جس طرح سب اعمال سے افضل اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کی قربانی پیش کرنا ہے اسی طرح جنت کی سب نعمتوں سے بڑی نعمت اللہ کی رضامندی ہے جیسا کہ متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ اور ہجرت کے عوض انہیں جنت میں ہمیشہ کا قیام نصیب ہوگا۔ انہوں نے اللہ کی خاطر اپنا وطن مالوف چھوڑا تو اس کے عوض انہیں اپنے وطن سے بہتر وطن اپنے گھر سے بہتر گھر ملے گا جس میں ہر طرح کی نعمتیں ہوں گی اور اس گھر کو چھوڑنے یا اس کے چھوٹ جانے کا کبھی سوال ہی پیدا نہ ہوگا۔ التوبہ
22 التوبہ
23 [٢١] ایمان کی تکمیل کب ؟ :۔ یعنی ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر باپ یا بھائی کافر ہوں تو ان سے قرابت تو کیا رفاقت بھی نہ رکھی جائے اور اگر مومن یا مسلمان اس معیار پر پورا نہیں اترتا تو سمجھ لے کہ اس کا ایمان مکمل نہیں۔ اس مضمون کو کتاب و سنت میں متعدد مقامات پر مختلف پیرایوں میں بیان کیا گیا ہے چنانچہ ایک دفعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ مجھے اپنی ذات کے سوا سب سے زیادہ محبوب ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ابھی تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوا۔‘‘ پھر کسی وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ’’اللہ کی قسم! آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اب تمہارا ایمان مکمل ہوا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب کیف کانت یمین النبی ) التوبہ
24 [٢٢] دنیوی مرغوبات میں پھنس کر جہاد چھوڑنے کی سزا :۔ اس آیت میں جن رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان سے انسان کو فطری لگاؤ ہوتا ہے اور بعض مسلمانوں کے باپ یا بیٹے یا بیویاں کافر تھیں جنہیں چھوڑ کر ہجرت کرنا مشکل سی بات تھی۔ اسی طرح انسان کو اپنے کمائے ہوئے مال و دولت، اپنے کاروبار سے اور جائیداد سے بھی بہت محبت ہوتی ہے کیونکہ یہ چیزیں اس کے گاڑھے خون پسینے کی کمائی کے نتیجہ میں اسے حاصل ہوتی ہے لہٰذا انہی چیزوں سے مومنوں کے ایمان کا امتحان لیا گیا ہے کہ آیا وہ ان چیزوں کو چھوڑ کر دین کی خاطر ہجرت اور جہاد کرتے ہیں یا نہیں؟ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اکثریت اس معیار پر بھی پوری اتری۔ تھوڑے ہی مسلمان ایسے تھے جو انہی فطری کمزوریوں کی وجہ سے مکہ میں یا اطراف و جوانب میں رہ گئے تھے اس آیت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر تم نے ان کمزوریوں کو دور نہ کیا اور اپنی جانوں اور اموال سے جہاد کرنے میں کوتاہی کی اور رشتہ داروں کی محبت، تن آسانی اور دنیا طلبی کی راہ اختیار کی اور خواہشات نفس میں پھنس کر اللہ کے احکام کی تعمیل نہ کی تو تمہیں حقیقی کامیابی نصیب نہ ہوگی۔ اور حدیث میں ہے کہ جب تم جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جس سے تم کبھی نکل نہ سکو گے۔ (ابن ماجہ۔ کتاب الجہاد، باب التغلیظ فی الجھاد ) التوبہ
25 [٢٣] غزوہ حنین اور اس کے اسباب :۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام ہے جہاں فتح مکہ کے بعد شوال ٨ ھ میں حق و باطل کا ایک بہت بڑا معرکہ پیش آیا تھا۔ عرب کے اکثر بدوی قبائل اس انتظار میں تھے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش پر غالب آ گئے اور مکہ فتح ہوگیا تو بلاشبہ وہ پیغمبر ہیں اور ان کی دعوت کو قبول کرلینا چاہیے۔ چنانچہ مکہ کی فتح کے بعد بہت سے قبائل خودبخود آپ کی صلی اللہ علیہ وسلم خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لے آئے لیکن ہوازن اور ثقیف کا معاملہ دوسرے قبائل کے بالکل برعکس تھا۔ یہ قبائل نہایت جنگجو اور فنون حرب و ضرب کے خوب ماہر تھے اور جوں جوں اسلام کو غلبہ حاصل ہوتا تھا یہ قبائل اس غلبہ کو اپنی ریاست و اقتدار کے لیے خطرہ سمجھ کر اور بھی زیادہ سیخ پا ہوجاتے تھے۔ مکہ کی فتح کے بعد ان دونوں قبائل نے باہمی اتفاق سے یہ پروگرام بنایا کہ اس وقت مسلمان مکہ میں جمع ہیں۔ اسی مقام پر ان پر ایک بھرپور حملہ کر کے ان کا زور توڑ دیا جائے۔ ان لوگوں کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی عورتیں اور بچے بھی ساتھ لے آئے تھے تاکہ کسی کو پسپائی کا خیال ہی پیدا نہ ہو۔ ایک تیس سالہ نوجوان مالک بن عوف ان کا سپہ سالار تھا۔ مسلمانوں کی پسپائی :۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ہی مقیم تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حالات کا علم ہوا۔ فتح مکہ سے تو کچھ مال غنیمت وصول ہی نہ ہوا تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ اس نئی جنگ کے لیے اخراجات کہاں سے آئیں؟ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ربیعہ سے تیس ہزار درہم قرض لیے اور اسلحہ جنگ کے طور پر سو زر ہیں اور اس کے لوازمات صفوان بن امیہ سے مستعار لیے اور ان قبائل سے مقابلہ کے لیے مکہ سے نکل کر ان کی طرف بڑھے اور حنین کے مقام پر دونوں لشکر آمنے سامنے آ گئے۔ اس وقت اسلامی لشکر کی تعداد بارہ ہزار تھی جن میں نو مسلم بھی شامل تھے اور دشمن کی تعداد صرف چار ہزار تھی۔ مقابلہ ہوا تو ہوازن کے تیر اندازوں نے کمین گاہوں سے اس طرح تیروں کی بوچھاڑ کی اور اس قدر بے جگری سے لڑے کہ اسلامی لشکر کے جو آج اپنی کثرت تعداد پر نازاں ہونے کی وجہ سے کچھ بے خوف اور لاپروا سے ہو رہے تھے، چھکے چھوٹ گئے اور ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور راہ فرار اختیار کی۔ حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آیا جب آپ اکیلے دشمن کے سامنے کھڑے رہ گئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قدر جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ اس کا اندازہ درج ذیل احادیث سے ہوتا ہے۔ نیز جنگ کے حالات پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ آپ کی مثالی جرأت :۔ ١۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور دشمن نے ہم پر تیر برسانے شروع کردیئے۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب و یوم حنین۔ مسلم کتاب الجہاد۔ باب فی غزوۃ حنین ) ٢۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حنین کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار مجاہدین کے علاوہ طلقاء (جنہیں فتح مکہ کے بعد معافی دی گئی تھی) بھی تھے۔ وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ گئے تھے اور آپ اکیلے رہ گئے تھے۔ (غزوہ طائف۔ بخاری کتاب المغازی۔ مسلم کتاب الجہاوالسیر باب اعطاء المؤلفۃ قلوبھم ) ٣۔ اصحاب شجرہ کا پکارنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنا :۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حنین کی جنگ میں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں چھوڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فروہ بن نغاثہ جذامی نے ہدیہ کیا تھا۔ جب کفار اور مسلمانوں کا مقابلہ ہوا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر کفار کی طرف جانے کے لیے ایڑ لگانے لگے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھا کہ کہیں وہ تیزی سے دشمن کی طرف نہ چلا جائے اور ابو سفیان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا ’’عباس! اصحاب شجرہ کو آواز دو (کیونکہ میں بلند بانگ تھا) میں نے بلند آواز سے پکارا : اصحاب شجرۃ کہاں ہیں؟ آواز سنتے ہی وہ اس طرح لوٹ آئے جیسے گائے اپنے بچوں کے پاس آتی ہے۔ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم حاضر ہیں۔ ہم حاضر ہیں۔ انصار کو یوں بلایا گیا۔ یا معشر الانصار! یا معشر الانصار! پھر بنو الحارث بن خزرج پر بلانا ختم ہوا۔ انہیں یوں بلایا گیا۔ اے بنو الحارث بن خزرج۔ اے بنو الحارث بن خزرج! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور اونچے ہو ہو کر لڑائی دیکھ رہے تھے۔ (مسلم۔ کتاب الجہادوالسیر۔ باب فی غزوۃ حنین) ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشعار پڑھنا :۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’جب لوگوں کو ندا دی گئی اس وقت آپ یہ شعر پڑھ رہے تھے۔ انا النبی لاکذب۔۔۔۔۔ انا ابن عبدالمطلب اور فرما رہے تھے اے اللہ اپنی نصرت نازل فرما۔ اللہ کی قسم! جب جنگ شدت اختیار کر جاتی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اپنا بچاؤ کرتے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوجاتے تھے اور ہم میں بہادر وہ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کھڑا ہوتا۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الجہادوالسیہ۔ باب غزوہ حنین) پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر مہاجرین و انصار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہوگئے تو اس وقت تک اپنی کثرت پر نازاں ہونے کی بو دماغوں سے نکل چکی تھی۔ پھر جم کر لڑے۔ اللہ کی مدد شامل حال ہوئی تو اللہ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت بھی حاصل ہوا اور بہت سے لونڈی غلام بھی بنائے گئے کیونکہ یہ لوگ اپنے بیوی بچوں کو بھی ساتھ لائے تھے۔ گویا جس چیز کو وہ حوصلہ افزائی کے لیے لائے تھے وہی چیز اللہ نے ان کے لیے وبال جان بنا دی۔ التوبہ
26 [٢٤] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ریت کی مٹھی پھینکنا اور نصرت الہٰی کی صورتیں :۔ مدد کی بھی کئی صورتیں تھیں ان میں سے دو کا ذکر تو اس آیت میں ہے۔ یعنی اونگھ طاری کر کے مسلمانوں کو تسکین بخشنا اور فرشتوں کا نزول جو اس جنگ میں لڑے نہیں بلکہ صرف کافروں کو مرعوب کرنے کے لیے بھیجے گئے اور تیسری قسم کا ذکر درج ذیل حدیث میں ہے۔ مدد کی انہی صورتوں سے پہلے اللہ نے بدر اور احد میں بھی مسلمانوں کی مدد فرمائی تھی۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب دشمنوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو صلی اللہ علیہ وسلم آپ خچر سے اترے اور زمین سے ایک مٹھی خاک اٹھائی اور کفار کی طرف پھینکی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’دشمنوں کے چہرے بگڑ جائیں۔ پھر کفار میں سے کوئی بھی ایسا نہ بچا جس کی آنکھوں میں اس مٹھی کی وجہ سے مٹی نہ پڑگئی ہو۔ ‘‘ (مسلم۔ کتاب الجہادوالسیہ۔ باب غزوہ حنین) التوبہ
27 [٢٥] لونڈی غلاموں کی واپسی :۔ جنگ کا یہ انجام دیکھ کر ان قبائل کے بہت سے لوگ اسلام لے آئے۔ پھر تقریباً دو مہینہ بعد یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جو اس وقت مکہ میں مقیم تھے اور درخواست کی کہ ان کے اموال ان کو واپس کردیئے جائیں اور لونڈی غلام آزاد کردیئے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک یہ سب کچھ مجاہدین میں تقسیم کرچکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ تم بہت دیر سے آئے۔ میں تمہارا انتظار کرتا رہا۔ اب تو میں سب کچھ تقسیم کرچکا ہوں۔ اب تو یہی ہوسکتا ہے کہ تم اپنے اموال واپس لے لو یا لونڈی غلام۔ ان لوگوں نے لونڈی غلام لینے کو ترجیح دی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل کرتے ہوئے برضا و رغبت مسلمانوں نے سارے کے سارے لونڈی غلام واپس کردیئے۔ التوبہ
28 [٢٦] مشرکوں کے جانے سے میدان معیشت میں خلا کا خدشہ :۔ اس آیت میں مشرکوں کو ناپاک کہا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ فی ذاتہ ناپاک ہوتے ہیں کہ ان سے اگر ہاتھ لگ جائے تو ہاتھ دھونا پڑے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کے عقائد ناپاک اور گندے، اخلاق ناپاک اور نیتوں میں ہر وقت فتور اور مکر و فریب اور اعمال گندے ہیں۔ جو ہر وقت اسلام دشمنی، مسلمانوں پر ظلم و تشدد اور معاندانہ سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ اس آیت کی رو سے مسلمانوں کو واضح حکم دے دیا گیا کہ اب مشرکین بیت اللہ کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے۔ مکہ جہاں ایک مقدس مقام تھا وہاں تجارتی مرکز بھی تھا اور یہ تجارت زیادہ تر مشرکین مکہ کے ہاتھ میں تھی۔ لہٰذا مکہ اور اس کے آس پاس بسنے والے بالخصوص نو مسلموں کو خدشہ لاحق ہوا کہ اب ضروریات کیسے پوری ہوں گی۔ نیز ذرائع روزگار بھی متاثر ہونے کا اندیشہ تھا۔ اللہ نے ان مسلمانوں کو تسلی دی اور اس خدشہ کا مداوا یوں ہوا کہ مسلمانوں نے معیشت کے سارے میدان خود سنبھال لیے جن میں اللہ نے برکت عطا فرمائی اور مسلمانوں کو غنی بنا دیا۔ اس صورت حال کا صحیح اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ جب پاکستان بننے کے وقت ١٩٤٧ ء میں ہندو لوگ، جن کے ہاتھ میں معیشت کی باگ ڈور تھی، پاکستان کو چھوڑ کر ہندوستان جا رہے تھے اور زندگی کے ہر میدان میں اور بالخصوص معیشت کے میدان میں بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا تو عرصہ تک تجارتی منڈیاں ہی بند رہیں آخر مسلمانوں نے ان منڈیوں کو سنبھال لیا تو اللہ نے انہیں بہت جلد غنی کردیا۔ التوبہ
29 [٢٧] اللہ اور آخرت پر ایمان کا صحیح مفہوم :۔ یہ خطاب اہل کتاب سے ہے حالانکہ وہ اللہ پر بھی اور آخرت پر بھی ایمان رکھنے کے مدعی تھے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ پر ایمان لانے کا حق ہے ویسے وہ ایمان نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے اللہ کے شریک بھی بنائے۔ خود باتیں گھڑ کر اللہ کے نام منسوب کیں۔ اللہ کی آیات کو چھپایا، انہیں بیچا، ان میں تحریف و تاویل کی۔ اگر وہ فی الواقع اللہ اور اس کی صفات پر ایمان لانے والے ہوتے تو یہ کام کبھی نہ کرتے۔ اسی طرح ان کا آخرت پر ایمان اس طرح کا تھا کہ بس ہم ہی جنت میں جائیں گے باقی سب دوزخ میں جائیں گے اس لیے کہ ہم اللہ کے چہیتے اور پیغمبروں کی اولاد ہیں اور اگر ہمیں آگ نے چھوا بھی تو بس چند دن کی بات ہے۔ اسی طرح نصاریٰ نے کفارہ مسیح کا عقیدہ گھڑا اور اللہ کے ہاں مسؤلیت سے بے خوف ہوگئے۔ آخرت پر ایمان لانے کے یہ معنی ہیں کہ انسان اس بات پر بھی یقین رکھے کہ وہاں کوئی سفارش، کوئی نسب، کوئی فدیہ، کسی بزرگ سے انتساب خواہ یہ نسلی ہو یا پیری مریدی کے رنگ میں ہو کچھ بھی کام نہ آسکے گا۔ [٢٨] یعنی جو کچھ ان کی شریعت میں ان پر نازل ہوا تھا اسے بھی پوری طرح تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور اس رسول کی تو سینہ تان کر مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ [٢٩] غیرمسلموں سے جزیہ :۔ اس آیت میں صرف اہل کتاب سے جزیہ لینے کا ذکر ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوس سے بھی جزیہ لیا تھا۔ جس سے معلوم ہوا کہ ہر مذہب کے غیر مسلموں سے جزیہ لیا جا سکتا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث میں بھی کسریٰ شاہ ایران سے جزیہ کے مطالبہ کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ یہ لوگ سورج پرست اور آتش پرست تھے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا کسریٰ کے سپہ سالاروں کو خطاب :۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کسی جنگ کے موقع پر کسریٰ کے سپہ سالار سے فرمایا : ’’ہم عرب لوگ سخت بدبختی اور شدید مصیبت میں مبتلا تھے۔ بھوک کی وجہ سے چمڑے اور کھجور کی گٹھلیاں چوسا کرتے اور چمڑے اور بالوں کی پوشاک پہنتے تھے۔ درختوں اور پتھروں کی پوجا کرتے تھے۔ پھر زمین و آسمان کے مالک عزوجل نے ہماری طرف ہم میں سے ہی ایک نبی مبعوث کیا جس کے والدین سے ہم اچھی طرح واقف تھے۔ ہمارے نبی ہمارے پروردگار کے رسول نے ہمیں حکم دیا کہ تم سے جنگ کریں تاآنکہ تم اللہ اکیلے کی عبادت کرو یا پھر جزیہ ادا کرو۔ ہمارے نبی نے ہمیں پروردگار کا یہ پیغام بھی پہنچایا کہ جو شخص ہم میں سے قتل ہوگا وہ جنت کی ایسی نعمتوں میں رہے گا جو کسی نے دیکھی بھی نہیں۔ اور جو بچ گیا وہ تمہاری گردنوں کا مالک ہوگا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب الجزیۃ الموادعۃ مع اہل الذمۃ والحرب) جزیہ ان غیر مسلم اقوام سے لیا جاتا ہے جو اسلام قبول نہ کرنا چاہتے ہوں۔ خواہ یہ مسلمانوں کی مفتوحہ قوم ہو۔ یا کسی اسلامی ریاست میں بطور ذمی رہتی ہو جسے آج کی زبان میں اقلیت کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں پر زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہے جس کی شرح مقرر ہے لیکن غیر مسلم قوم پر زکوٰۃ کے بجائے جزیہ کی ادائیگی لازم ہوتی ہے اور اس کی شرح میں اس قوم کی مالی حیثیت کے مطابق کمی بیشی کی جاسکتی ہے اور یہ سب رقوم سرکاری بیت المال میں جمع ہوتی ہے۔ اسلامی حکومت اس جزیہ کے عوض اس قوم کو دفاعی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیتی ہے۔ اور انہیں اپنے مذہبی افعال کی ادائیگی کی پوری اجازت دی جاتی ہے مگر اس بات کی اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ اسلام پر کیچڑ اچھالیں یا اس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کریں۔ اور اگر کسی وقت مسلمان غیر مسلموں پر سے دفاعی ذمہ داریوں کو پورا نہ کرسکیں تو انہیں جزیہ کی رقم واپس دینا ہوگی اور مسلمانوں کی تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ چنانچہ شام کی فتوحات کے سلسلہ میں بعض جنگی مقاصد کے پیش نظر اسلامی سپہ سالار سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح کو جب حمص سے واپس جانا پڑا تو آپ نے ذمیوں کو بلا کر کہا کہ ’’ہمیں تم سے جو تعلق تھا وہ اب بھی ہے لیکن اب چونکہ ہم تمہاری حفاظت سے قاصر ہیں لہٰذا تمہارا جزیہ تمہیں واپس کیا جاتا ہے۔‘‘ چنانچہ کئی لاکھ کی وصول شدہ رقم انہیں واپس کردی گئی۔ عیسائیوں پر اس واقعہ کا اتنا اثر ہوا کہ روتے جاتے تھے اور جوش کے ساتھ کہتے جاتے تھے کہ اللہ تمہیں واپس لائے۔یہودیوں پر اس سے بھی زیادہ اثر ہوا۔ انہوں نے تورات کی قسم کھا کر کہا کہ جب تک ہم زندہ ہیں قیصر حمص پر قبضہ نہیں کرسکتا۔ یہ کہہ کر شہر پناہ کے دروازے بند کرلیے اور ہر جگہ چوکی پہرہ بٹھا دیا۔ (الفاروق۔ شبلی نعمانی ١٩١) عرب کی ہمسایہ اور متمدن حکومت ایران میں دو قسم کے ٹیکسوں کا رواج تھا ایک زمین کا لگان جو صرف زمینداروں سے لیا جاتا تھا اور اسے یہ لوگ خراگ کہتے تھے۔ خراج کا لفظ اسی سے معرّب ہے۔ دوسرا ٹیکس عام لوگوں سے دفاعی ضروریات کے پیش نظر لیا جاتا تھا۔ جسے یہ لوگ گزیت کہتے تھے۔ جزیہ کا لفظ اسی سے معرب ہے مسلمانوں نے جب یہ علاقے فتح کیے تو انہوں نے مفتوح اقوام پر کوئی نیا بار نہیں ڈالا بلکہ وہی دونوں قسم کے ٹیکس ان پر عائد کیے گئے جو شاہ ایران اپنی رعایا سے وصول کرتا تھا۔ جبکہ جنگ کے موقعہ پر جزیہ کے علاوہ شاہ ایران کی طرف سے عوام سے جبری ٹیکس بھی وصول کیے جاتے تھے۔ جزیہ اور اس کے متعلقہ احکام :۔ جزیہ کو چونکہ مستشرقین اور اقوام مغرب نے خاصا بدنام کر رکھا ہے لہٰذا اس کے متعلق چند تصریحات ضروری معلوم ہوتی ہیں :۔ ١۔ جزیہ صرف ان افراد پر عائد کیا جاتا ہے جو لڑنے کے قابل ہوں۔ غیر مقاتل افراد مثلاً بچے، بوڑھے، عورتیں معذور لوگ، صوفی اور گوشہ نشین قسم کے حضرات اس سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ جزیہ ادا کرنے کے بعد یہ لوگ دفاعی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجاتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں (جنہیں عرف عام میں اہل الذمہ یا ذمی کہتے ہیں) کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔ ٢۔ جزیہ ان لوگوں کی مالی حالت کا لحاظ رکھ کر عائد کیا جاتا ہے چنانچہ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے مجاہد سے پوچھا کہ شام کے کافروں سے تو سالانہ چار دینار لیے جاتے ہیں اور یمن کے کافروں سے صرف ایک دینار لیا جاتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس لیے کہ شام کے کافر زیادہ مالدار ہیں۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب الجزیۃ الموادعۃ) ٣۔ جزیہ کی وصولی میں انتہائی نرمی اختیار کی جاتی تھی اور سیدنا عمر کو اس سلسلہ میں دو باتوں کا بہت زیادہ خیال رہتا تھا۔ ایک یہ کہ جزیہ کی شرح ایسی ہو جسے لوگ آسانی سے ادا کرسکیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عراق کی مفتوحہ زمینوں پر خراج کی تعیین کے لیے سیدنا حذیفہ بن یمان اور سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہما جیسے اکابر صحابہ کو مقرر کیا جو اس فن کے ماہر تھے جب ان بزرگوں نے یہ حساب پیش کیا تو آپ نے ان دونوں کو بلا کر کہا کہ تم لوگوں نے تشخیص جمع میں سختی تو نہیں کی؟ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں۔ بلکہ وہ اس سے دگنا بھی ادا کرسکتے تھے۔ (کتاب الخراج ص ٢١) اور دوسری یہ کہ ہر سال جب عراق کا خراج آتا تو دس معتمد اشخاص کوفہ سے اور اتنے ہی بصرہ سے طلب کیے جاتے۔ سیدنا عمر ان کو چار دفعہ شرعی قسم دلا کر پوچھتے کہ رقم کی وصولی میں کسی شخص پر ظلم یا زیادتی تو نہیں کی گئی۔ (الفاروق ص ٣٢٦) ٤۔ جزیہ چونکہ دفاعی ذمہ داریوں کے عوض لیا جاتا ہے لہٰذا جو لوگ ایسی خدمات خود قبول کرتے ان سے جزیہ نہیں لیا جاتا تھا۔ مثلاً ا۔ طبرستان کے ضلعی شہر جرجان کے رئیس مرزبان نے مسلمانوں کے سالار سوید سے صلح کی اور صلحنامہ میں بتصریح لکھا گیا کہ مسلمان جرجان اور طبرستان وغیرہ کے امن کے ذمہ دار ہیں اور ملک والوں میں سے جو لوگ بیرونی حملوں کو روکنے میں مسلمانوں کا ساتھ دیں گے وہ جزیہ سے بری ہیں۔ (الفاروق ص ٢٣٩) ب۔ آذر بائی جان کی فتح کے بعد باب متصل کا رئیس شہر براز خود مسلمانوں کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں تمہارا مطیع ہوں لیکن میری درخواست یہ ہے کہ مجھ سے جزیہ نہ لیا جائے بلکہ جب ضرورت پیش آئے تو فوجی امداد لی جائے۔ چنانچہ اس کی یہ شرط منظور کرلی گئی۔ (الفاروق ص ٢٤٣) ج۔ عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ نے جب فسطاط فتح کیا تو مقوقس والی مصر نے جزیہ کی بجائے یہ شرط منظور کی کہ اسلامی فوج جدھر رخ کرے گی، سفر کی خدمت (یعنی راستہ صاف کرنا۔ سڑک بنانا۔ پل باندھنا وغیرہ) مصری سر انجام دیں گے۔ چنانچہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ جب رومیوں کے مقابلہ کے لیے اسکندریہ کی طرف بڑھے تو مصری خود منزل بمنزل پل باندھتے، سڑک بناتے اور بازار لگاتے گئے۔ علامہ مقریزی نے لکھا ہے کہ چونکہ مسلمانوں کے سلوک نے تمام ملک کو گرویدہ بنا لیا تھا اس لیے قبطی خود بڑی خوشی سے یہ خدمات سر انجام دیتے تھے۔ (الفاروق ص ١٩٤) جزیہ پر اعتراض اور اس کا جواب :۔ اب ان متمدن اور مہذب مغربی اقوام کا حال بھی سن لیجئے۔ وہ جزیہ کو بدنام کرنے اور اسے ذلت کی نشانی ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ یہ لوگ فتح کے بعد مفتوح قوم سے اپنا سارا جنگ کا خرچہ بطور تاوان جنگ وصول کرتے ہیں۔ پچھلی چند صدیوں میں تو تاوان جنگ کے علاوہ سیاسی اور اقتصادی غلامی پر بھی مفتوح اقوام کو مجبور کیا جاتا رہا۔ البتہ دسری جنگ عظیم کے بعد سیاسی غلامی کو متروک قرار دے کر اس کے بدلے اقتصادی غلامی کے بندھن مضبوط تر کردیئے ہیں ان کے زرخیز ترین علاقہ پر ایک طویل مدت کے لیے قبضہ کرلیا جاتا ہے اور اس معاملہ میں انتہائی سختی سے کام لیا جاتا ہے تاکہ مفتوح قوم میں بعد میں اٹھنے کی سکت ہی باقی نہ رہ جائے۔ اسلام نے جزیہ کی ایسی نرم شرائط سے ادائیگی کے بعد نہ تاوان جنگ عائد کرنے کی اجازت دی ہے اور نہ ہی کسی طرح کی اقتصادی غلامی کی۔ التوبہ
30 [٣٠] بخت نصر بابلی سے یہودیوں کی پٹائی :۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام کی حکومت کے بعد پھر یہودیوں پر اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے زوال آیا اور بخت نصر بابلی نے فلسطین پر پے در پے حملے کر کے اس کو تباہ و برباد کردیا۔ تورات اور تمام مذہبی کتابوں کو جلا کر خاکستر کرایا اور بنی اسرائیل کی ایک کثیر تعداد کو قید کر کے اپنے ساتھ بابل لے گیا۔ انہیں قیدیوں میں عزیر علیہ السلام بھی تھے جو ابھی کمسن ہی تھے۔ کچھ مدت غالباً سات سال بعد اس نے ان قیدیوں کو رہا کیا۔ اس دوران یہ اسرائیل اپنی زبان تک بھول چکے تھے۔ عزیر علیہ السلام نے اپنے وطن واپسی کے دوران ایک اجڑی بستی کو دیکھا جو بخت نصر کے ہاتھوں ہی برباد ہوئی تھی۔ اس واقعہ کا ذکر سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢٥٩ کے تحت تفصیل سے گزر چکا ہے۔ اس کے بعد آپ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی۔ آپ کو تورات پوری کی پوری زبانی یاد تھی۔ لہٰذا آپ نے ازسر نو تورات لکھی اس طرح یہود کی الہامی کتاب دوبارہ ان کے ہاتھ آئی۔ (تورات میں آپ کا نام عزرا مذکور ہے) اسی وجہ سے یہودی آپ کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ اور بعض نے اس تعظیم میں اس درجہ غلو کیا کہ انہیں اللہ کا بیٹا کہنے لگے۔ اللہ کی اولاد قرار دینے والے فرقے :۔ اور نصاریٰ نے مسیح کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا تھا جس کی وجہ ان کی معجزانہ پیدائش، آپ کو اللہ کے عطاکردہ معجزات اور آپ کا آسمان پر اٹھایا جانا تھا۔ جس کا ذکر قرآن میں جا بجا مذکور ہے۔ ان اہل کتاب نے دراصل سابقہ اقوام کے فلسفہ و اوہام سے متاثر ہو کر ایسے گمراہ کن عقائد اختیار کرلیے تھے۔ بعض نصاریٰ ایسے بھی تھے جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو خدا یا تین خداؤں میں سے ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے اور کچھ انہیں خدا کا بیٹا قرار دیتے تھے اور اس آیت میں سابقہ اقوام سے مراد یونانی، ہندی اور مصری تہذیبیں ہیں۔ جنہوں نے اللہ کی بیوی، بیٹے بیٹیاں پھر اس سے آگے اس کی اولاد کی نسل چلا کر ایسے دیوی دیوتاؤں کی ایک پوری دیو مالا تیار کردی تھی اور اس کے اثرات ملک عرب میں بھی پائے جاتے تھے۔ التوبہ
31 [٣١] اہل کتاب کا اپنے علماء ومشائخ کو رب بنانا :۔ ان اہل کتاب کا دوسرا شرک یہ تھا کہ حلت و حرمت کے اختیارات انہوں نے اپنے علماء و مشائخ کو سونپ رکھے تھے۔ حالانکہ یہ اختیار صرف اللہ کو ہے۔ وہ کتاب اللہ کو دیکھتے تک نہ تھے بس جو کچھ ان کے علماء و مشائخ کہہ دیتے اسے اللہ کا حکم سمجھ لیتے تھے جبکہ ان کے علماء و مشائخ کا یہ حال تھا کہ تھوڑی سی رقم لے کر بھی فتوے ان کی مرضی کے مطابق دے دیا کرتے تھے۔ اس طرح انہوں نے اپنے علماء و مشائخ کو رب کا درجہ دے رکھا تھا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے :۔ سیدنا عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میری گردن میں سونے کی صلیب تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’عدی! اس بت کو پرے پھینک دو۔ ‘‘ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ برأت کی یہ آیت پڑھتے سنا ﴿اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰــہًا وَّاحِدًا ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۭسُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ﴾پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ ان مولویوں اور درویشوں کی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب یہ مولوی اور درویش کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تو وہ حلال جان لیتے اور جب حرام کہہ دیتے تو حرام سمجھ لیتے تھے۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) یہ دونوں آیات دراصل ان سے پہلی آیت کی تشریح کے طور پر آئی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ اہل کتاب اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ یعنی ایسے طرح طرح کے شرک کی موجودگی میں اللہ پر ایمان لانے کا دعویٰ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ التوبہ
32 [٣٢] اللہ کے نور سے مراد :۔ اللہ کے نور سے مراد آفتاب ہدایت یا کتاب و سنت کی روشنی ہے جس طرح سورج کی روشنی کو پھونکوں سے بجھایا یا ماند نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح ان کافروں کی معاندانہ سرگرمیوں سے، ان کے لغو اعتراضات سے، ان کی آیات الٰہی میں شبہات پیدا کرنے سے یا اللہ کی آیات، اللہ کے رسول اور مسلمانوں کا مذاق اڑانے سے دین اسلام کی راہ کو روکا نہیں جا سکتا۔ جسے اللہ ہر صورت میں پورا کرنا چاہتا ہے اور یہ تو یقینی بات ہے کہ کافروں کو اسلام کی ترقی ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی۔ ہر ترقی کے قدم پر وہ جل بھن کے رہ جاتے ہیں۔ التوبہ
33 [٣٣] آپ کی بعثت کا مقصد اسلام کی نظریاتی اور سیاسی بالادستی :۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ نے رسول اس لیے بھیجا ہے کہ ساری دنیا کو مسلمان بنا کے چھوڑے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ دنیا میں جو جو دین یا نظام ہائے زندگی رائج ہیں ان سب پر بلحاظ عقل اور دلیل و حجت اسلام کی بالادستی قائم ہوجائے۔ مثلاً دور نبوی میں یہودیت ایک دین تھا۔ عیسائیت، مجوسیت، منافقت، صائبیت، مشرکین کا دین۔ ان سب ادیان کے عقائد الگ الگ تھے۔ اور انہی عقائد کی مناسبت سے ان کا پورے کا پورا نظام زندگی ترتیب پاتا تھا۔ رسول کی بعثت کا مقصد اللہ کے نزدیک یہ ہے کہ ان تمام باطل ادیان کے نظام ہائے زندگی پر اسلام کی برتری اور بالادستی قائم کر دے۔ اور عقل اور دلیل و حجت کے لحاظ سے اسلام کی یہ برتری اور بالادستی آج تک قائم ہے۔ بیرون عرب ادیان باطل کی مثالیں۔ ہندو ازم، سکھ ازم، بدھ ازم، جمہوریت اور اشتراکیت وغیرہ ہیں۔ ایسے سب ادیان پر اسلام کی برتری اور بالادستی کو بہ دلائل ثابت کرنا علمائے اسلام کا فریضہ ہے۔ یہ تو نظریاتی برتری ہوئی۔ اور سیاسی برتری کے لحاظ سے بھی اللہ نے اسے کئی صدیوں تک غالب رکھا۔ بعد میں جب مسلمانوں میں اخلاقی انحطاط اور انتشار رونما ہوا تو مسلمانوں سے یہ نعمت چھین لی گئی۔ اور اس کا اصول یہ ہے کہ جب تک اور جہاں تک مسلمان اپنے نظام زندگی اسلامی نظریات کے مطابق ڈھالیں گے اسی حد تک مسلمانوں کو غیر مسلم اقوام پر سیاسی بالادستی اور برتری حاصل ہوگی جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں بالقوۃ یہ استعداد موجود ہے کہ وہ سیاسی طور پر بھی تمام غیر مسلم اقوام اور نظریات پر غلبہ حاصل کرے۔ اگرچہ مسلمانوں کی عملی کوتاہیوں کی وجہ سے یہ استعداد بالفعل منظر عام پر نہ آ سکتی ہو۔ التوبہ
34 [٣٤] اہل کتاب کی حرام خوری :۔ ان کے ناجائز طریقے یہ تھے کہ انہوں نے سود کو جائز قرار دے لیا تھا۔ بالخصوص غیر یہود سے سود وصول کرنا نیکی کا کام سمجھتے تھے۔ نیز غیر یہود کے اموال جس جائز و ناجائز طریقہ سے ہاتھ لگ جائیں وہ ان کے نزدیک حلال اور طیب تھے۔ رشوتیں لے کر غلط فتوے دیتے تھے۔ نجات نامے فروخت کرتے تھے۔ حرام کردہ چیزوں مثلاً چربی کو پگھلا کر ان کی قیمت کھا لیتے تھے۔ شادی یا غمی کی کوئی رسم ہو اس میں اپنا حصہ اور نذرانے وصول کرتے تھے۔ اور ان کی یہی کارستانیاں بالواسطہ اللہ کے دین میں رکاوٹ کا سبب بن جاتی تھیں۔ [٣٥] خزانہ جمع کرنے سے مراد :۔ اس جملہ کے مخاطب صرف اہل کتاب ہیں یا ان میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ اس بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان بھی اختلاف تھا۔ مثلاً سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کے قائل تھے کہ جس مال سے زکوٰۃ ادا کردی جائے وہ خزانہ کے حکم میں نہیں رہتا جبکہ سیدنا ابوذر غفاری اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم خزانہ جمع کرنے کے مخالف تھے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے :۔ ١۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ ابھی زکوٰۃ کی فرضیت نازل نہیں ہوئی تھی۔ پھر جب زکوٰۃ فرض ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے اموال کو زکوٰۃ سے پاک کردیا۔ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب مااُدِّی زکوٰتہ فلیس بکنز) ٢۔ احنف بن قیس کہتے ہیں کہ : میں قریش کی ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک شخص آیا جس کے بال سخت، موٹے جھوٹے کپڑے اور سیدھی سادی شکل تھی۔ اس نے سلام کیا۔ پھر کہنے لگا ’’ان کو خوشخبری سنا دو کہ ایک پتھر دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا وہ ان کی چھاتی پر رکھ دیا جائے گا اور ان کے مونڈھے کی اوپر والی ہڈی پر رکھ دیا جائے گا جو چھاتی کی بھٹنی سے پار ہوجائے گا اسی طرح وہ پتھر ڈھلکتا رہے گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے پیٹھ موڑی اور ایک درخت کے پاس جا بیٹھا۔ میں نے اس سے کہا ’’میں سمجھتا ہوں تمہاری یہ بات ان لوگوں کو ناگوار گزری ہے‘‘ وہ کہنے لگا۔ یہ لوگ تو بے وقوف ہیں۔ مجھ سے میرے جانی دوست نے کہا۔ میں نے پوچھا ’’تمہارا جانی دوست کون ہے؟‘‘ کہنے لگا ’’رسول اللہ اور کون؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ابو ذر! تو احد پہاڑ دیکھتا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا ''جی ہاں'' فرمایا ’’میں نہیں چاہتا کہ میرے پاس احد پہاڑ برابر سونا ہو۔ اگر ہو تو میں تین دینار کے علاوہ سب اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالوں۔‘‘ اور یہ لوگ تو بے وقوف ہیں جو روپیہ اکٹھا کرتے ہیں اور میں تو اللہ کی قسم! ان سے نہ تو دنیا کا کوئی سوال کروں گا اور نہ دین کی کوئی بات پوچھوں گا۔ یہاں تک کہ اللہ سے جا ملوں۔ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب ما ادی زکوٰتہ فلیس بکنز ) ٣۔ سیدنا ابوذر غفاری کا مسلک :۔ زید بن وہب کہتے ہیں کہ میں نے ربذہ (مدینہ کے قریب ایک مقام ہے) میں ابوذر غفاری کو دیکھا تو پوچھا ’’تم یہاں جنگل میں کیسے آ گئے؟‘‘ انہوں نے کہا’’ہم ملک شام میں تھے۔ مجھ میں اور معاویہ (گورنر شام) میں جھگڑا ہوگیا۔ میں نے یہ آیت پڑھی ﴿وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۙ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ﴾ تو امیر معاویہ نے کہا کہ یہ آیت مسلمانوں کے حق میں نہیں (اگر وہ زکوٰۃ ادا کرتے رہیں) بلکہ اہل کتاب کے حق میں ہے جبکہ میں یہ کہتا تھا کہ یہ آیت (عام) ہے اور ان کے اور ہمارے درمیان مشترک ہے۔‘‘ (حوالہ ایضاً) التوبہ
35 [٣٦] زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی وعید :۔ اس آیت کی وضاحت کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :۔ ١۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جسے اللہ نے مال دیا اور اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی تو اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں اس کے پاس لایا جائے گا جس کی پیشانی پر دو نقطے ہوں گے۔ قیامت کے دن اس کا طوق بنایا جائے گا، پھر وہ اس کے دونوں جبڑوں کو کاٹے گا اور کہے گا:میں تیرا مال ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی :﴿وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰیھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَیْرًا لَّھُمْ ۭ بَلْ ھُوَ شَرٌّ لَّھُمْ ۭ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ۭ وَلِلّٰہِ مِیْرَاث السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ﴾ (بخاری کتاب الزکوٰۃ۔ باب اثم مانع الزکوٰۃ ) ٢۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو سونے اور چاندی کا مالک اس کا حق ادا نہیں کرے گا تو قیامت کے دن اس کے لیے آگ کے تختے بنائے جائیں گے۔ پھر انہیں دوزخ کی آگ سے خوب گرم کر کے اس کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ پر داغ لگائے جائیں گے۔ جب وہ ٹھنڈے ہوجائیں گے تو دوبارہ گرم کیے جائیں گے اور اس دن مسلسل یہی ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ بالآخر جب بندوں کا حساب ہوجائے گا تو یا تو اسے جنت کا راستہ بتا دیا جائے گا یا دوزخ کا۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب اثم مانع الزکوٰۃ) التوبہ
36 [٣٧] حرمت کے مہینوں میں تقدیم و تاخیر، حرمت کے مہینے عرب کا رواج ہے جسے اسلام نے بحال رکھا :۔ جس طرح اہل کتاب اپنی اغراض اور دینی مفاد کی خاطر احکام الٰہی میں ہیرا پھیری کرلیتے تھے اسی طرح عرب کے مشرکین بھی کرلیا کرتے تھے اور اسی مناسبت سے یہاں ان کا ذکر آ رہا ہے۔ مشرکین عرب کے نزدیک چار ماہ حرمت والے تھے۔ ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم حج کے لیے اور رجب عمرہ کے لیے۔ ان مہینوں میں لوٹ مار اور جدال و قتال حرام تھا اور اس دوران لوگ آزادی کے ساتھ سفر اور تجارت وغیرہ کرسکتے تھے۔ اگرچہ لوٹ مار اور لڑائی جھگڑا ہر وقت ہی ایک گناہ کا کام تھا تاہم ان مہینوں میں اسے شدید تر گناہ سمجھا جاتا تھا لیکن مشرک اپنی اغراض کی خاطر ان مہینوں میں ادل بدل کر کے سال میں چار حرمت والے مہینوں کی تعداد پوری کرلیتے تھے۔ مثلاً کوئی زور آور قبیلہ جب محرم میں اپنے کسی کمزور دشمن قبیلے سے انتقام لینایا جنگ چھیڑنا چاہتا تو وہ یہ اعلان کردیتا کہ اس سال محرم کے بجائے صفر حرمت والا مہینہ قرار دیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس طرح وہ اپنی من مانی اغراض پوری کرلیتا اور اگلے سال پھر اعلان کردیتا کہ اس سال محرم کا مہینہ ہی حرمت والا مہینہ شمار ہوگا۔ اور اس غرض کے لیے رد و بدل عموماً محرم اور صفر کے متعلق ہی ہوا کرتا تھا۔ اور ایسا اعلان کرنے والا شخص بنو کنانہ کا ایک سردار تلمس تھا۔ اس طرح یہ لوگ مہینوں کی حلت و حرمت کے خود بخود ہی مختار بن بیٹھے تھے۔ قمری تقویم ہی حقیقی تقویم ہے :۔ دوسری بات جو اس آیت میں بتلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وقت کی پیمائش کا قدرتی طریقہ قمری تقویم ہے شمسی نہیں۔ ایک ماہ کی مدت ایک ہلال کی رؤیت سے لے کر اگلے ہلال کی رؤیت تک ہے اور یہ مدت کبھی تیس دن ہوتی ہے اور کبھی انتیس۔ نہ ٢٩ دن سے کم ہو سکتی ہے اور نہ ٣٠ دن سے زیادہ۔ ایسے جب بارہ ماہ گزر جائیں تو یہ ایک سال کی مدت ہے جو کبھی ٣٥٤ دن کا ہوتا ہے کبھی ٣٥٥ دن کا۔ نہ اس سے کم نہ زیادہ۔ کیونکہ بارہ مہینے گزرنے پر تقریباً ویسا ہی موسم آ جاتا ہے جیسا کہ ایک سال پہلے تھا۔ قمری تقویم کی حکمت :۔ جن شرعی احکام میں ایک ماہ یا اس سے زائد مدت کا تعلق ہو تو اس میں قمری ماہ ہی شمار ہوں گے جیسے عدت و رضاعت کے احکام۔ نیز روزہ اور حج و عمرہ کا تعلق بھی قمری مہینوں سے ہے اور عیدین کا بھی۔ قمری سال شمسی سال سے تقریباً دس دن چھوٹا ہوتا ہے۔ اور موسموں اور فصلوں کے پکنے کا تعلق سورج اور موسم سے ہوتا ہے چاند سے نہیں ہوتا۔ شرعی احکام کی بجاآوری کے لیے قمری تقویم کو بنیاد بنانے کی حکمت یہ ہے کہ مثلاً حج کے سفر کے لیے مسلمان ہر موسم کی صعوبتیں برداشت کرنے کے خوگر ہوجائیں۔ نیز رمضان کا مہینہ کسی خاص ملک میں ایک ہی موسم میں نہ آیا کرے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک ملک میں تو روزے ہمیشہ سرد موسم میں اور چھوٹے دنوں کے آیا کریں اور دوسرے ملک میں گرم موسم اور بڑے دنوں کے آیا کریں۔ [٣٨] جہاد قیامت تک جاری رہے گی :۔ آیت کے اس جملہ میں مسلمانوں کو دو قسم کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ حرمت والے مہینوں میں جنگ کی ابتداء تمہاری طرف سے ہرگز نہ ہونی چاہیے۔ ہاں اگر مشرک لڑائی چھیڑ ہی دیں تو پھر تمہیں بھی ان سے لڑنے کی اجازت ہے۔ دوسری یہ کہ جس طرح مشرکوں کے سب قبائل اپنی باہمی رنجشیں چھوڑ کر تمہارے مقابلہ میں متحد ہوجاتے ہیں اسی طرح تمہیں بھی ان کے مقابلہ میں اکٹھے ہو کر ان کا مقابلہ کرنا چاہیے نیز کَآفَۃً کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تمہیں ہر حال میں مشرکوں کا مقابلہ کرنا چاہیے جس سے ضمناً یہ معلوم ہوتا ہے کہ کفر اور مشرکین سے جہاد قیامت تک کے لیے فرض ہے۔ اس آیت اور اس مضمون کی دوسری آیات جن میں جہاد کی ترغیب دی گئی ہے مخالفین اسلام نے یہ پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے اور اس اعتراض کے کئی بار کافی و شافی جواب بھی دیئے جا چکے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ اعتراض نہ نقلی اعتبار سے درست ہے نہ عقلی اعتبار سے اور نہ تاریخی اعتبار سے ذیل میں ہم انہی باتوں کا مختصر سا جائزہ پیش کر رہے ہیں :۔ نقلی اعتبار سے یہ اعتراض درج ذیل آیات کی رو سے غلط ہے۔ ١۔ ﴿ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ﴾ (2: 256)دین میں کوئی جبر یا زبردستی نہیں۔ ٢۔ ﴿ اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ﴾ (10: 99)کیا آپ لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کیوں ایمان نہیں لاتے؟ ٣۔ ﴿فَمَنْ شَاۗءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْیَکْفُرْ ﴾ جو شخص چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے۔ ایسی واضح آیات کی موجودگی میں کیا یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس حکم کی خلاف ورزی کی ہوگی اور کسی شخص کو تلوار دکھا کر یا کسی دباؤ کے ذریعہ اسلام لانے پر مجبور کیا ہوگا ؟ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اسے پناہ دو تاآنکہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اسے اس کی امن کی جگہ تک پہنچا دو۔‘‘ غور فرمائیے کہ دباؤ کا اس سے بہتر بھی کوئی موقع ہوسکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اسے مجبور کرو کہ وہ اسلام لائے یا پھر اسے موت کے گھاٹ اتار دو بلکہ یوں فرمایا کہ اسے اللہ کا کلام سنانے کے بعد اسے اس کی مرضی پر چھوڑ دو۔ پھر اگر وہ اسلام لانے پر آمادہ نہ ہو تو اسے اس کے محفوظ علاقہ تک پہنچانا بھی پناہ دینے والے کے ذمہ ڈال دیا گیا۔ کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس شان و شوکت اور رعب و دبدبہ والے خلیفہ تھے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ آپ کا ایک غلام اسبق نامی عیسائی تھا۔ وہ چونکہ سمجھدار اور ہوشیار آدمی تھا لہٰذا سیدنا عمر نے اسے کہا کہ اگر تم مسلمان ہوجاؤ تو ہم مسلمانوں کے کام میں تم سے مدد لیں گے۔ یہ واضح اشارہ تھا کہ آپ اسے کوئی اچھا منصب دینا چاہتے تھے۔ لیکن جب اس پر اسلام پیش فرماتے تو وہ انکار کردیتا اور آپ لاَاِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ کہہ کر چپ ہوجاتے (الجہاد فی الاسلام ص ١٦٣) گویا تلوار یا دباؤ کے ذریعہ تو سیدنا عمر اپنے غلام کو بھی مسلمان نہ بنا سکے پھر یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ وسیع و عریض مفتوحہ علاقہ میں انہوں نے مفتوحین کو تلوار کے ذریعہ مسلمان بنا لیا ہوگا ؟ اور عقلی اعتبار سے یہ مفروضہ اس لیے غلط ہے کہ تلوار کے ذریعہ کسی سے کوئی بات منوائی نہیں جا سکتی اور کوئی شخص وقتی طور پر دباؤ کے تحت کوئی بات مان بھی جائے تو اس بات پر قائم و دائم نہیں رکھا جا سکتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ مسلمان ہوئے وہ دل و جان سے اسلام کے اس طرح فدائی و شیدائی بن گئے کہ کفار کے ظلم اور مصائب برداشت کرتے رہنے کے باوجود اس دین سے باز نہیں آتے تھے اور یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تلوار یا دباؤ سے بات منوائی نہیں جا سکتی۔ کیونکہ اس وقت تلوار یا دباؤ کفار مکہ کے ہاتھ میں تھا اور آج بھی اگر کوئی شخص یا کوئی حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ دین کو تلوار کے ذریعے پھیلانا ممکن ہے تو اپنا دین پھیلا کر دکھا دے۔ اور تاریخی لحاظ سے یہ اس لیے غلط ہے کہ اگر اس نظریہ کو تسلیم کرلیا جائے تو مندرجہ ذیل سوالات ذہن میں ابھر آتے ہیں۔ ١۔ ابتداً جو لوگ مسلمان ہوئے اور ١٣ سال تک مکہ میں ظلم و ستم کی چکی میں پستے رہے، انہیں کونسی تلوار نے مسلمان بنایا تھا ؟ ٢۔ مکہ میں مسلمانوں کے دشمن صرف قریش مکہ تھے لیکن مدینہ میں دشمنوں کی تعداد ایک سے چار ہوگئی تھی۔ قریش مکہ۔ یہود مدینہ۔ منافقین اور عرب بھر کے مشرک قبائل اور مسلمان ان کے مقابلہ میں انتہائی کمزور تھے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ غزوہ بدر میں شامل ہونے والوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی جبکہ ایک سال بعد جنگ احد میں خالص مسلمانوں کی تعداد سات سو تھی یعنی دگنی سے بھی زیادہ۔ اس عرصہ میں مسلمانوں کے پاس کونسی تلوار تھی کہ اسلام اس تیزی سے بڑھنے لگا تھا ؟ ٣۔ مزید دو سال بعد جنگ خندق میں لڑنے والے مسلمانوں کی تعداد تین ہزار یعنی چار گنا سے زیادہ ہوگئی تھی۔ اس وقت مسلمانوں کے پاس کونسی تلوار یا قوت تھی جو لوگوں کو مسلمان بنائے جا رہی تھی؟ ٤۔ صلح حدیبیہ میں کونسی تلوار چلائی گئی تھی جس کے نتیجہ میں لوگ دھڑا دھڑ اسلام میں داخل ہونے لگے تھے؟ ٥۔ فتح مکہ میں تلوار تو چلائی ہی نہیں گئی تاہم فتح کے بعد جب لوگوں کو عام معافی مل گئی تھی تو انہیں اسلام لانے پر کونسی تلوار نے مجبور کیا تھا؟ ٦۔ یہود سے جو جنگیں ہوئیں تو ان کے نتیجہ میں کوئی یہودی مسلمان بنا تھا ؟ ٧۔ محاصرہ طائف میں محاصرہ اٹھا لینے کے بعد اہل طائف کو کونسی مجبوری پیش آ گئی تھی کہ وہ از خود اسلام لے آئے تھے؟ اشاعت اسلام کے اصل اسباب :۔ مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ تو واضح ہوجاتا ہے کہ تلوار کے ذریعہ اسلام پھیلنے کا نظریہ غلط ہے لیکن اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ ’’اسلام واقعی نہایت کثرت سے پھیلا تھا۔‘‘ لہٰذا ہمیں وہ اسباب تلاش کرنے چاہئیں جو اس کثرت اشاعت کا سبب بنے۔ ہمارے خیال میں یہ اسلام کی ذاتی خصوصیات ہیں جن میں سے چند ایک کا ہم یہاں ذکر کریں گے۔ ١۔ کثرت اشاعت اسلام کا سب سے بڑا اور بنیادی سبب معاشرتی مساوات ہے یعنی جب کوئی شخص یا قوم اسلام لاتی ہے تو اسے سابقہ مسلمانوں جیسا معاشرتی درجہ حاصل ہوجاتا ہے اور وہ آپس میں بھائی بھائی بن جاتے اور سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچہ اس کی مثالیں قرون اولیٰ میں بے شمار ہیں مگر ہم طوالت سے بچنے کی خاطر اپنے ہی ملک کی ایک دو مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں :۔ ا۔ الف ٤ جولائی ١٩٨١ ء کے نوائے وقت میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ’’جنوبی بھارت میں اونچی ذات کے ہندوؤں کے مظالم سے تنگ آ کر ١٣٠٠ ہریجنوں نے اسلام قبول کرلیا۔‘‘ غور فرمائیے کہ اونچی ذات کے ہندو یعنی برہمن بھی ہندو ہیں اور نیچی ذات کے ہریجن بھی ہندو ہی ہیں لیکن محض معاشرتی تفاوت کی بنا پر اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ آخر انہیں کونسی تلوار نے اسلام لانے پر مجبور کیا تھا؟ پھر دوسرے دن یعنی ٥ جولائی کو اسی نوائے وقت میں ہندوستان کی وزیراعظم مسز اندرا گاندھی کی طرف سے یہ خبر شائع ہوئی کہ ’’مجھے تکلیف ان لوگوں کی اسلام لانے پر نہیں بلکہ اسباب پر ہے۔‘‘ اور یہ ''اسباب'' جن پر وزیراعظم صاحبہ کو تکلیف ہوئی وہ ان کے مذہب کا جزولاینفک ہیں۔ ہندومت، برہمن کو تو بالاتر مخلوق سمجھتا ہے اور شودر کو انسان بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ شودر برہم کا پیدائشی غلام ہے اور غلامی کا یہ پھندا کسی صورت اس کی گردن سے اتر نہیں سکتا۔ انہی ''اسباب'' کو اسلام نے ختم کیا اور انہی اسباب کے خاتمہ کی و جہ سے اسلام ہر دور میں پھیلتا رہا اور ہندوستان میں بھی پھیلا۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ ان برہمنوں نے ہندومذہب کی اس انسانیت کش ذات پات کی تقسیم سے تنگ آکر آخراسلام ہی کیوں قبول کیا کوئی دوسرا مذہب کیوں نہ قبول کرلیا اس بات کا جواب آپ کو درج ذیل واقعہ سے مل جائے گا۔ ب۔ ٣١ جولائی ١٩٨١ ء نوائے وقت میں ایک خبر شائع ہوئی کہ ’’پانڈی چری میں ڈیڑھ ہزار ہریجن مسلمان ہو گئے‘‘ اور ٣٠ جولائی یعنی ایک دن پہلے یہ خبر شائع ہوئی کہ ہریجنوں کے لیڈر مسٹر سی کرشنا مورتی نے اسلام لانے کے بعد اخباری نمائندوں کو بتایا کہ عیسائی مذہب قبول کرنے سے ان کی سماجی حیثیت بلند نہیں ہوتی لیکن اسلام لانے سے ہمارا سماجی مرتبہ بڑھ جاتا ہے۔ ہمارا یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس میں کوئی سیاسی مصلحت نہیں۔۔ واضح رہے کہ اس سے قبل تامل ناڈو کے موضع منبا کشی پورم میں ہریجنوں نے اجتماعی طور پر مذہب اسلام قبول کرلیا ہے۔ (نوائے وقت حوالہ مذکورہ صفحہ ٥) تہذیب ومعاشرت کی مساوات :۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ آج کے جمہوری اور مہذب ترین ممالک میں گورے اور کالے کے جھگڑے اور امیر اور غریب کے مسائل بدستور موجود ہیں۔ عیسائیوں کے ہاں امراء کے گرجے ہی الگ ہوتے ہیں اور بعض گرجوں میں امراء کے لیے کرسیاں اور غریبوں کو فرش پر بیٹھنا پڑتا ہے۔ لیکن اسلام ہر طرح کے امتیازات کو ختم کر کے سب کو ایک صف میں لاکھڑا کرتا ہے۔ یہاں بلال رضی اللہ عنہ حبشی جیسے پست قد، کالے رنگ اور موٹے ہونٹوں والے آزاد شدہ غلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے کہ اَرِحْنا یا بلال اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے رعب و دبدبہ والے خلیفہ آپ کو سیدنا بلال کہہ کر پکارا کرتے تھے اور یہ خوبی غالباً اسلام کے علاوہ دوسرے کسی دین میں نہیں پائی جاتی۔ دوسرا سبب قانونی مساوات :۔ اشاعت اسلام کا دوسرا سبب قانونی مساوات ہے۔ قانونی مساوات کا مطلب یہ ہے کہ معاشرہ کا کوئی ممتاز سے ممتاز فرد حتیٰ کہ امیر یا صدر یا بادشاہ بھی قانون کی دسترس سے بالاتر نہیں ہوتا اور یہ ایک ایسا امتیاز ہے جو اسلامی ریاست کے علاوہ کہیں پایا جانا ممکن نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ایسی ریاست کا اقتدار اعلیٰ خود اللہ کی ذات ہوتی ہے۔ کوئی ایک فرد یا ادارہ یا پارلیمنٹ نہیں ہوتی۔ باقی سب لوگ اللہ کے ایک جیسے محکوم اور اطاعت گزار بندے ہوتے ہیں۔ اور جمہوریت کا دعوی کرنے والے ممالک حتیٰ کہ پاکستان کا یہ حال ہے کہ صدر مملکت، وزیراعظم، گورنر اور وزرائے اعلیٰ پر نہ تو کوئی فوجداری مقدمہ دائر ہوسکتا ہے اور نہ انہیں عدالت کسی فوجداری مقدمہ میں ملوث قرار دے سکتی ہے اور ملک کی کوئی بڑی سے بڑی عدالت بھی انہیں طلب نہیں کرسکتی۔ جب کہ اسلامی ریاست کا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو پیش کر کے یہ اعلان کردیا کہ ’’جس کسی نے مجھ سے کوئی بدلہ یا قصاص لینا ہو وہ آج لے سکتا ہے‘‘ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلہ قریش کی ایک عورت فاطمہ مخزومی نے چوری کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حد موقوف کرنے کی سفارش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ہی یہ تھا کہ جب ان میں سے کوئی کمزور جرم کرتا تو اسے سزا دیتے اور اگر شریف وہی جرم کرتا تو اس کی سزا موقوف کردی جاتی۔ یہ تو فاطمہ مخزومی کی بات ہے اللہ کی قسم! اگر میری اپنی بیٹی فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الحدود۔ باب اقامہ الحدود ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء نے ایسا نظام عدالت رائج کیا جہاں مفت اور بلاتاخیر انصاف حاصل ہوتا تھا۔ خلافت راشدہ کے دوران کئی بار ایسا ہوا کہ خلیفہ وقت کو مدعی یا مدعا علیہ کی صورت میں عدالت میں پیش ہونا پڑا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثر مقدمہ کا فیصلہ ان کے خلاف صادر ہوا۔ دور فاروقی میں شام کے گورنر سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح نے سیدنا معاذ بن جبل کو رومیوں کے پاس سفیر بنا کر بھیجا۔ شنہشاہ کا دربار اور اس کی شان و شوکت دیکھ کر آپ نے فرمایا :۔ ’’تم لوگوں کو اس پر ناز ہے کہ تم ایسے شہنشاہ کی رعایا ہو جس کو تمہاری جان و مال کا اختیار ہے لیکن ہم نے جسے اپنا بادشاہ بنا رکھا ہے وہ کسی بات میں اپنے آپ کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ اگر وہ زنا کرے تو اسے درے لگائے جائیں۔ چوری کرے تو ہاتھ کاٹ ڈالے جائیں۔ وہ پردے میں نہیں بیٹھتا، اپنے آپ کو ہم سے بڑا نہیں سمجھتا اور مال و دولت میں اس کو ہم پر ترجیح نہیں۔‘‘ (الفاروق ص ١٢٥) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اپنے دور خلافت میں ان کی اپنی زرہ چوری ہوگئی جو آپ نے ایک یہودی کے پاس دیکھ لی تو سیدنا علی رضی اللہ نے یہ نہیں کیا کہ اس یہودی سے اپنی زرہ چھین کر اسے کیفر کردار تک پہنچا دیتے بلکہ قاضی شریح کی عدالت میں اس پر دعویٰ دائر کردیا اور اپنے بیٹے حسن اور غلام کو گواہ کے طور پر پیش کیا۔ قاضی شریح نے آپ کا مقدمہ صرف اس بنا پر خارج کردیا کہ بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں اور غلام کی گواہی آقا کے حق میں قبول نہیں اور عدل کے تقاضے پورے نہیں ہوتے حالانکہ عدالت کو خوب معلوم تھا کہ مدعی اور گواہ سب عادل اور ثقہ ہیں۔ عدل کی یہ صورت دیکھ کر اس یہودی نے زرہ بھی واپس کردی اور خود بھی مسلمان ہوگیا۔ غور فرمائیے کہ اس یہودی کو اسلام لانے پر کس نے مجبور کیا تھا اور کیا وہ اکیلا ہی مسلمان ہوا ہوگا یا اس کا خاندان اور قبیلہ بھی۔ ایسے واقعات دراصل انفرادی نتائج کے حامل نہیں ہوتے بلکہ ایک جہان کے افکار و نظریات میں تلاطم بپا کردیتے ہیں۔ اشاعت اسلام کی تیسری وجہ مسلمانوں کے اپنے کردار کی پاکیزگی ہے۔ صدر اول کے مسلمانوں کا سب سے بڑا ذریعہ تبلیغ ان کا اپنا عمل اور کردار تھا۔ ان کی زندگی سادہ اور تکلفات سے پاک تھی حتیٰ کہ دشمن بھی ان کے کردار کی عظمت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا تھا۔ چنانچہ حمص اور دمشق میں شکست کھانے کے بعد شکست خوردہ عیسائی انطاکیہ پہنچے اور ہر قل شہنشاہ روم سے فریاد کی کہ اہل عرب نے تو تمام شام کو پامال کردیا۔ ہر قل نے ان میں سے چند تجربہ کار اور معزز آدمیوں کو دربار میں بلا کر پوچھا کہ عرب تم سے نہ جمعیت میں زیادہ ہیں نہ سر و سامان اور قوت میں۔ پھر تم ان کے مقابلہ میں کیوں نہیں ٹھہر سکتے؟ اس سوال پر سب نے ندامت سے سر جھکا لیا البتہ ایک تجربہ کار بڈھے نے عرض کی کہ : تیسرا سبب کردار کی پاکیزگی :۔ ’’بات یہ ہے کہ اہل عرب کے اخلاق ہم سے اچھے ہیں وہ رات کو عبادت کرتے اور دن کو روزے رکھتے ہیں۔ کسی پر ظلم نہیں کرتے اور ایک دوسرے کے ساتھ برابری سے ملتے ہیں اور ہمارا یہ حال ہے کہ شراب پیتے ہیں، بدکاریاں کرتے ہیں۔ عہد کی پابندی نہیں اور دوسرے پر ظلم کرتے ہیں اس کا یہ اثر ہے کہ ان کے کام میں جوش اور استقلال پایا جاتا ہے اور ہمارا جو بھی کام ہوتا ہے ہمت اور استقلال سے خالی ہوتا ہے۔‘‘ (الفاروق ص ١٨٩) محمد بن قاسم سندھ اور ملتان کے علاقہ میں تھوڑی ہی مدت رہا۔ وہ عظیم جرنیل ہونے کے علاوہ صفات جہاں بانی سے بھی مالا مال تھا، رعایا، حکومت اور سندھی بت پرستوں سے مذہبی رواداری نے سندھیوں کے دلوں کو کچھ اس طرح موہ لیا تھا کہ جب محمد بن قاسم سندھ سے واپس گیا تو سندھی اس کی تصویریں بنا کر اپنے پاس رکھتے تھے وہ اسے رحمت کا فرشتہ سمجھتے تھے۔ پھر جب انہیں محمد بن قاسم کی دردناک موت کا حال معلوم ہوا تو سارے ملک نے سوگ منایا۔ (تاریخ اسلام۔ حمید الدین ص ٣٠٨) یہ سندھی لوگ مسلمان نہیں تھے۔ پھر آخر وہ کیا چیز تھی جس نے انہیں محمد بن قاسم کا اتنا گرویدہ بنا دیا تھا۔ محمد بن قاسم نے بھی انہیں مسلمان بنانے کی ہرگز کوشش نہیں کی تھی لیکن ان باتوں کے باوجود وہ ازخود اسلام کے قریب تر آ رہے تھے اور تھوڑے ہی عرصہ بعد مسلمان بھی ہوگئے تھے۔ کیا یہ بھی تلوار کا کرشمہ تھا ؟ چوتھا سبب معاملات کی صفائی :۔ اشاعت اسلام کا چوتھا سبب مسلمانوں کے معاملات کی صفائی ہے۔ اسلام میں اکل حلال کو بہت اہمیت حاصل ہے وہ جائز و ناجائز مال کی بڑی تفصیل سے وضاحت کرتا اور ناجائز ذرائع سے کمائے ہوئے مال کو حرام قرار دیتا ہے۔ لین دین اور معاملات کی صفائی ایسے حالات میں ایک امتحان بن جاتی ہے جب کسی محنت یا حق کا معاوضہ تو پیشگی لیا جا چکا ہو اور اس حق یا محنت کی ادائیگی یا عدم ادائیگی کا اختیار بھی کلیتاً معاوضہ وصول کرنے والے کے ہاتھ میں ہو۔ ایسی صورت میں اگر کوئی شخص یا ادارہ جائز و ناجائز یا حلال و حرام میں تمیز کرتا ہے تو وہ فی الواقع قابل تعریف ہے اور دوسرے لوگ اس کے کردار کی عظمت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ شام کی فتوحات کے سلسلہ میں کچھ جنگی مصلحتوں کے پیش نظر مسلمانوں کو حمص سے واپس دمشق جانا پڑا۔ مسلمانوں کے سپہ سالار سیدنا ابو عبیدہ بن جراح اہالیان حمص سے جزیہ وصول کرچکے تھے اور ان کی دفاعی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرچکے تھے۔ آپ نے ان لوگوں کو اکٹھا کیا اور کہا۔’’ہمیں جو تعلق تمہارے ساتھ تھا وہ اب بھی ہے مگر چونکہ اس وقت ہم تمہاری حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے لہٰذا تمہار اجزیہ جو اس خدمت کا معاوضہ تھا تمہیں واپس کیا جاتا ہے۔‘‘ چنانچہ آپ نے کئی لاکھ وصول شدہ رقم و اپس کردی۔ عیسائیوں پر اس واقعہ کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ روتے جاتے تھے اور جوش کے ساتھ کہتے جاتے تھے خدا تمہیں واپس لائے اور یہودیوں پر اس سے بھی زیادہ اثر ہوا۔ انہوں نے کہا، تورات کی قسم! جب تک ہم زندہ ہیں قیصر حمص پر قبضہ نہیں کرسکتا، یہ کہہ کر شہر پناہ کے دروازے بند کردیئے گئے اور ہر جگہ چوکی پہرہ بٹھا دیا۔ (الفاروق ص ١٩١) پانچواں سبب عفو و درگزر :۔ اشاعت اسلام کا پانچواں سبب عفو و درگزر ہے۔ جب کسی جانی دشمن پر پوری طرح قابو پا لیا جائے اس وقت اس کے جرائم سے چشم پوشی کر کے اسے معاف کردینا بڑے دل گردہ کا کام ہے۔ فتح مکہ ہی ایسی جنگ ہے جس میں دشمن پر پوری طرح تسلط حاصل ہوا۔ اگر اس وقت آپ ان سے بھرپور بدلہ لے لیتے تب بھی ان کی طرف سے کسی انتظامی کاروائی کا اسلام کو خطرہ لاحق نہیں ہوسکتا تھا اور یہی لوگ اسلام کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے جانی دشمن تھے۔ اس کے باوجود آپ نے عام معافی کا اعلان فرما دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ اسلام اس تیزی اور کثرت سے پھیلا کہ اس سے پہلے اس کی مثال نہیں ملتی۔ صلح حدیبیہ کے دوران ابتداً ٢٠٠ نوجوان مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے مگر شکست کھا کر گرفتار ہوگئے آپ نے ان سب کو خیر سگالی کے طور پر چھوڑ دیا اور چونکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کی نیت سے آئے تھے لہٰذا بیعت رضوان مکمل ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توہین آمیز شرائط پر صلح کر کے یہ ثابت کردیا کہ مسلمان فطرتاً جنگجو نہیں بلکہ صلح پسند ہیں۔ اس صلح کے بعد بھی اسلام کی خوب اشاعت ہوئی اور اس میں تلوار یا جبر کو کچھ عمل دخل نہ تھا بلکہ بظاہر مسلمانوں کی خفت تھی۔ لیکن نتیجہ اشاعت اسلام کی صورت میں سامنے آیا۔ قول فیصل :۔ یہ اور اس کے علاوہ اور بھی کئی باتیں ہیں جو اشاعت اسلام کا سبب بنیں۔ لیکن بایں ہمہ حقیقت یہی ہے کہ اسلام کی اشاعت میں تلوار کو بھی ایک گونہ تعلق ضرور ہے خواہ یہ دسواں حصہ ہی کیوں نہ ہو۔ معاندین اسلام اپنا سارا زور اس بات پر صرف کردیتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔ یہ لوگ بھی انتہا تک پہنچ گئے ہیں۔ دوسرا گروہ یعنی مسلمان اپنا سارا زور اس الزام کی مدافعت میں صرف کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت محض اس کی خوبیوں کی بنا پر ہوئی۔ ہمارے خیال میں یہ گروہ بھی دوسری انتہا کو پہنچ گیا ہے۔ مانا کہ اسلام میں یہ خوبیاں موجود ہیں لیکن ان خوبیوں کو آشکار کرنے اور ''حق'' کو بروئے کار لانے کے لیے بھی قوت کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ قوت اسلام کو تلوار کے ذریعہ مہیا ہوئی۔ اگر اشاعت اسلام میں تلوار کا کچھ بھی حصہ نہ تھا تو جہاد کی ترغیب کیوں دی گئی؟ اور کیا مکہ میں رہ کر اسلام بار آور نہ ہوسکتا تھا ؟ اشاعت اسلام میں تلوار کا حصہ :۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کے دو حصے ہیں (١) امر بالمعروف (٢) نہی عن المنکر امر بالمعروف کو ماننا یا نہ ماننا مخاطب کی اپنی مرضی پر منحصر ہے ایک شخص اگر کسی دوسرے کو عقیدہ توحید یا آخرت یا اسلام لانے کی دعوت دیتا ہے اور وہ قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے تو اس پر نہ جبر کیا جا سکتا ہے اور نہ تلوار سے ڈرایا یا دھمکایا جا سکتا ہے اور جہاں تک نہی عن المنکر کا تعلق ہے تو یہ فریضہ قوت یا تلوار کے بغیر پورا ہو ہی نہیں سکتا۔ اسلام محض عقائد و نظریات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ جاوید قانون ہے جو مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے اور اس قانون کے نفاذ کے لیے قوت چاہتا ہے۔ اگر کسی جگہ ظلم ہو رہا ہو۔ زنا، چوری، ڈاکہ، قتل و غارت کی وارداتیں ہو رہی ہو۔ لوگوں کا امن و چین غارت ہو رہا ہو تو اسلام کا قانون حرکت میں آئے گا اور تلوار ہاتھ میں لے کر اس کی اصلاح کرے گا۔ خواہ یہ علاقہ مشرکین کا یا اہل کتاب کا اور خواہ اس میں مسلمان بھی رہتے ہوں۔ مکی زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قوت نہیں تھی لہٰذا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دونوں طرح کے کام زبانی تبلیغ سے سر انجام دیئے جاتے رہے۔ قرآن جیسا معجزانہ کلام، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سا بلند کردار، آپ کے جانثاروں کی قربانیاں، آپ کا تبلیغ میں اپنی جان تک کھپا دینا اور بہترین طریق تبلیغ، ان سب طرح کی کوششوں کے باوجود یہ تو نہ ہوسکا کہ قریش مکہ ایمان لاتے۔ بے شک وہ اسلام کی حقانیت کے دل سے معترف ہوچکے تھے لیکن اسلام اپنا ضابطہ اور پابندیاں بھی عائد کرتا تھا جو انہیں گوارا نہ تھیں نیز انہیں عرب بھر میں سیاسی اور معاشرتی لحاظ سے جو مقام حاصل تھا۔ اسلام لا کر وہ اس سے دستبردار ہونے کو قطعاً تیار نہ تھے۔ ایسے بگڑے ہوئے لوگ ڈنڈے کے بغیر کبھی سیدھے نہیں ہو سکتے۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے کبھی نہیں مانتے۔ تلوار کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسی بگڑی ہوئی طبیعتوں کو راہ راست کی طرف لاتی اور راستہ کی ایسی رکاوٹوں کو دور کردیتی ہے۔ کیونکہ جب تک تعصب اور ہٹ دھرمی کا علاج نہ کیا جائے۔ تبلیغ خواہ کتنی ہی دلنشین انداز میں ہو غیر موثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ اگر تلوار کا اشاعت اسلام میں کچھ حصہ نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت کرنے کی بھی ضرورت پیش نہ آتی۔ تلوار کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ تبلیغ کے بیج کے لیے زمین کو نرم کردیتی ہے۔ اسلام کی تلوار نے حق کی دشمن، معاند اور ہٹ دھرم قوتوں کا قلع قمع کر کے اسلام کے بیج کے لیے زمین کو ہموار اور نرم بنا دیا۔ اسلام کے بیج میں اتنی اہلیت اور قوت ہے کہ اگر اسے فضا سازگار میسر آ جائے تو پھل پھول کر تناور اور سدا بہار درخت بن سکتا ہے۔ التوبہ
37 [٣٩] لیپ کا طریقہ کیوں رائج ہوا اور لیپ کے ذریعے ٣٦ سالوں میں ایک حج گم کردینا :۔ مہینوں کو آگے پیچھے کرلینے کا ایک دوسرا طریق بھی مشرکین عرب میں رائج ہوچکا تھا۔ اور وہ یہ تھا کہ ہر قمری سال میں ١٠ دن زیادہ شمار کر کے اسے شمسی سال کے مطابق بنا لیتے تھے۔ اور اسے کبیسہ یا لوند یا لیپ (LeAP) کہا کرتے تھے اور اسی کبیسہ کا دوسرا طریقہ یہ تھا کہ ہر تین قمری سال بعد ایک ماہ زائد شمار کرلیا جاتا تھا تاکہ قمری سال بھی شمسی سال کے مطابق رہے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حج کے موقعہ پر بیت اللہ کے متولیوں کو اور دوسرے عبادت خانوں کے مجاوروں کو جو نذرانے پیش کیے جاتے تھے وہ عموماً غلہ کی صورت میں ہوتے تھے اور غلہ پکنے کا تعلق سورج یا شمسی سال سے ہوتا ہے۔ اگر وہ قمری تقویم پر قائم رہتے تو ان کے نذرانے انہیں بروقت نہیں مل سکتے تھے۔ محض اس دنیوی مفاد کی خاطر انہوں نے دوسرے ملکوں کی دیکھا دیکھی یہ کبیسہ کا طریق اختیار کیا تھا۔ اس طرح بعض دوسری قباحتوں کے علاوہ ایک بڑی قباحت یہ واقع ہوتی تھی کہ ٣٦ قمری سال کے عرصہ میں ٣٥ حج ہوتے تھے اور ایک حج گم کردیا جاتا تھا۔ اتفاق کی بات ہے کہ جب ١٠ ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو حج کے ایام انہی اصلی قمری تاریخوں اور قمری تقویم کے مطابق تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں کبیسہ کے اس غیر شرعی اور مذموم طریقہ کو کالعدم قرار دے کر شرعی احکام کو قمری تقویم پر استوار کردیا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے :۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے خطبہ میں) فرما’’دیکھو! زمانہ گھوم پھر کر پھر اسی نقشہ پر آ گیا جس دن اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کیے تھے۔ سال بارہ ماہ کا ہوتا ہے ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ تین تو لگاتار ہیں ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور چوتھا رجب کا جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ نیز کتاب المغازی۔ باب حجۃ الوداع) التوبہ
38 [٤٠] غزوہ تبوک میں مسلمانوں کے مقابل اتحادی، عیسائی، مشرک قبائل،مدینہ کے منافق اور یہود :۔ یہاں سے ایک بالکل نیا مضمون یعنی غزوہ تبوک کا آغاز ہو رہا ہے جس کا پس منظر یہ تھا کہ مکہ اور حنین کی فتح کے بعد جب عرب بھر میں اسلام کا بول بالا ہوگیا تو شام کی سرحد پر بسنے والے عرب قبائل اور ان کے بادشاہ غسان نے جو قیصر روم کے ماتحت تھے، مسلمانوں کی ان کامیابیوں کو اپنے لیے عظیم خطرہ سمجھا اور مسلمانوں بلکہ اسلام کی کمر توڑنے کے لیے ایک فیصلہ کن جنگ کی تیاریاں شروع کردیں۔ دوسری طرف عرب بھر میں شکست خوردہ مشرکین اس کی مدد کو موجود تھے اور تیسری طرف مدینہ کے منافقین نے ابو عامر راہب کی وساطت سے غسان اور قیصر روم سے ساز باز شروع کر رکھی تھی۔ یہود بھی ان منافقوں کا ساتھ دے رہے تھے اور منافقوں نے اسی ساز باز کی غرض سے مسجد ضرار بھی تعمیر کی تھی۔ گویا کفر کی اندرونی اور بیرونی طاقتیں اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شام کی سرحد پر رومی فوجوں کے عظیم اجتماع کی خبریں دم بدم پہنچ رہی تھیں۔ مسلمانوں کے حالات کی ناساز گاری :۔ دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں قحط سالی کا دور دورہ تھا۔ شدید گرمی کا موسم تھا۔ فصلیں پکنے کے قریب تھیں۔ فاصلہ دور کا اور پر مشقت تھا سامان اور سواریوں کی کمی تھی اور مقابلہ اس عظیم طاقت سے تھا جس نے حال ہی میں کسریٰ شاہ ایران کو شکست دے کر دنیا پر اپنے رعب و دبدبہ کی دھاک بٹھا رکھی تھی۔ گویا ہر لحاظ سے یہ حق و باطل کی فیصلہ کن جنگ تھی۔ انہیں حالات میں اللہ کا نام لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ روم سے ٹکر لینے کا فیصلہ کرلیا اور مسلمانوں میں عام اعلان جہاد کردیا۔ اور معمول کے خلاف سب کو صاف صاف بتلا دیا کہ شام کو جانا ہے اور ملک غسان اور قیصر کے مقابلہ کے لیے جانا ہے ان حالات میں منافقوں کا جنگ سے جی چرانا تو فطری امر تھا بعض کمزور دل اور ضعیف اعتقاد والے مسلمان بھی تذبذب میں پڑگئے تھے۔ اس آیت میں انہیں ہی خطاب کیا جا رہا ہے اور جہاد کی پرزور ترغیب دی جا رہی ہے۔ [٤١] جہاد میں عدم شمولیت سے تم زیادہ سے زیادہ اپنی جانیں یا کچھ مال بچا لو گے۔ فصلیں کاٹ لو گے یا سفر کی صعوبتوں سے بچ جاؤ گے اور یہ سب مفادات جنت کی دائمی نعمتوں کے مقابلہ میں کچھ قدر و قیمت نہیں رکھتے۔ التوبہ
39 [٤٢] اسلامی حکومت کے اعلان پر جہاد فرض عین ہے :۔ یعنی یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے اسلام کی سر بلندی کے لیے تمہیں منتخب کرلیا ہے ورنہ وہ تمہارے بجائے دوسرے لوگوں سے بھی یہ خدمت لے سکتا ہے اور تمہارے انکار کی صورت میں تمہیں ان سے پٹوا بھی سکتا ہے اور خود بھی سزا دے سکتا ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اگر اسلامی حکومت جہاد کا اعلان عام کر دے تو جہاد فرض عین ہوجاتا ہے۔ التوبہ
40 [٤٣] آپ کو ہجرت کی اجازت :۔ ہم یہاں پہلے بخاری سے ہجرت کے کچھ چیدہ چیدہ واقعات بیان کریں گے۔ پھر اس آیت کے نکات پیش کریں گے۔ سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک دن ٹھیک دوپہر کو ہم اپنے گھر بیٹھے تھے۔ کسی نے کہا۔ دیکھو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ چھپائے ہمارے ہاں آ رہے ہیں۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو اس وقت تشریف لائے ہیں ضرور کوئی اہم معاملہ ہے اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ پہنچے۔ اندر آنے کی اجازت چاہی۔ اجازت دی گئی وہ اندر داخل ہوئے تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا ’’دوسروں کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا۔ ’’یا رسول اللہ! یہاں آپ کے گھر کے لوگ ہی تو ہیں۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی۔‘‘ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہنے لگے ’’مجھے بھی ساتھ لے جائیں گے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''ہاں'' ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’ان دو اونٹنیوں میں سے ایک آپ لے لیجئے۔ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’قیمتاً لوں گا‘‘ چنانچہ میں نے جلدی سے ان دونوں کا سامان تیار کیا۔ توشہ ایک چمڑے کے تھیلے میں رکھا۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنا کمر بند پھاڑ کر تھیلے کا منہ باندھ دیا۔ اس دن سے ان کا نام ذوالنطاق یا ذالنطاقین پڑگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ثور پہاڑ کی غار میں چلے گئے اور تین راتیں وہیں چھپے رہے۔ عبداللہ بن ابو بکر جو ایک ہوشیار اور نوجوان آدمی تھے رات ان کے ہاں گزارتے اور منہ اندھیرے مکہ قریش کے ہاں آ جاتے جیسے رات مکہ میں گزاری ہو۔ اور دن بھر قریش کی ان دونوں کو نقصان پہنچانے والی باتیں سنتے اور رات کے اندھیرے میں وہاں جا کر انہیں بتلا دیتے۔ اور عامر بن فہیرہ جو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غلام تھے گلہ سے ایک دودھ دینے والی بکری روک کے رکھتے۔ جب رات کی ایک گھڑی گزر جاتی تو وہ اس بکری کو غار میں لے آتے تو دونوں صاحب تازہ اور گرم دودھ پی کر رات بسر کرتے اور منہ اندھیرے ہی بکریوں کو آواز دینا شروع کردیتے۔ وہ تین راتیں ایسا ہی کرتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی وائل کے ایک شخص (عبداللہ بن اریقط) کو اجرت پر راستہ بتلانے والا خریت مقرر کیا تھا۔ اگرچہ یہ کافر ہی تھا تاہم دونوں صاحبوں نے اس پر اعتماد کیا اور مکہ سے نکلتے وقت اپنی اونٹنیاں اس کے حوالہ کر کے کہا تھا کہ تین رات کے بعد وہ اونٹنیاں لے کر غار ثور پر آ جائے۔ چنانچہ وہ تین راتیں گزارنے کے بعد صبح اونٹنیاں لے کر آ گیا۔ عامر بن فہیرہ بھی ساتھ ہی روانہ ہوئے اور راہ بتانے والے نے ساحل کا راستہ اختیار کیا۔ سراقہ بن مالک کا تعاقب :۔ سراقہ بن مالک بن جعشم کو اپنے بھتیجے عبدالرحمن بن مالک سے خبر ملی کہ قریش نے ان دونوں صاحبوں میں سے ہر ایک کے قتل یا گرفتار کرنے پر سو اونٹ (انعام) کا وعدہ کیا ہے۔ ایک دن میری ہی قوم (بنی مدلج) کے ایک آدمی نے مجھے کہا’’سراقہ! میں نے ابھی چند آدمی دیکھے جو ساحل کے رستہ سے جا رہے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ وہی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کے ساتھی ہیں۔‘‘ سراقہ کہتے ہیں میں سمجھ تو گیا مگر بظاہر یہی کہا کہ وہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کے ساتھی نہیں بلکہ فلاں فلاں ہوں گے جو اپنی کسی گم شدہ چیز کی تلاش میں گئے ہیں۔ یہ کہہ کر میں نے چوری چھپے اپنا برچھا سنبھالا اور اپنا گھوڑا ان کے تعاقب میں سر پٹ دوڑایا۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا تو گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں گر پڑا۔ میں نے تیروں سے فال نکالی جو میرے ارادہ کے خلاف نکلی مگر انعام کے لالچ میں پھر گھوڑے پر سوار ہو کر دوڑایا تو میرے گھوڑے کے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے اور میں گر پڑا۔ میں نے پھر فال نکالی وہ بھی میرے ارادہ کے خلاف نکلی۔ آخر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امان کے لیے آواز دی کیونکہ میں سمجھ گیا تھا کہ عنقریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بول بالا ہوگا۔ پھر میں نے انہیں قریش کی سب خبریں بتلا دیں اور دیت والی خبر بھی بیان کی اور توشہ یا سامان کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول نہ کی۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اتنا کہا کہ ہمارے حالات کسی کو نہ بتلانا۔ پھر میں نے امان کی تحریر کا مطالبہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہ کو تحریر لکھنے کو کہا تو اس نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر مجھے تحریر لکھ دی اور آگے روانہ ہوگئے۔ یہودی کا چلانا۔۔ اور مسجد قبا کی بنیاد :۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور دوسرے کئی تاجر مسلمان جو شام سے اسی ساحلی راستہ پر واپس آ رہے تھے۔ ان لوگوں کی آپ کے قافلہ سے ملاقات ہوئی۔ سیدنا زبیر رضی اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سفید کپڑے پہنائے۔ مدینہ والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے روانہ ہونے کی خبر مل چکی تھی۔ وہ ہر روز صبح حرّہ تک آتے اور انتظار کرتے رہتے۔ پھر جب دوپہر کی گرمی شروع ہوجاتی تو واپس چلے جاتے۔ ایک دن ایک یہودی اپنے محل پر چڑھا تو اس نے آپ کو سفید کپڑوں میں ملبوس مدینہ کی طرف آتے دیکھ لیا۔ وہ بے اختیار چلا اٹھا کہ جس سردار کی تمہیں انتظار تھی وہ آ گئے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں نے ہتھیار سنبھالے اور حرہ جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ آپ بنی عمر و بن عوف کے محلہ میں جا کر اترے یہ پیر کا دن اور ربیع الاول کا مہینہ تھا۔ یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی (مسجد قبا) کی بنیاد رکھی۔ اور نمازیں ادا کرتے رہے پھر (جمعہ کے دن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کو روانہ ہوئے۔ مسجد نبوی کی تعمیر :۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی وہاں جا کر بیٹھ گئی جہاں مسجد نبوی ہے۔ ان دنوں وہاں چند مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے۔ یہ جگہ دو یتیم لڑکوں سہل اور سہیل کی تھی جو اسعد بن زرارہ کی پرورش میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر اس زمین کی قیمت پوچھی اور فرمایا کہ ہم یہاں مسجد بنائیں گے۔ انہوں نے کہا ’’یا رسول اللہ! ہم یہ زمین آپ کو مفت دیتے ہیں۔‘‘ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مفت لینے سے انکار کردیا۔ آخر انہیں قیمت ادا کر کے مسجد بنانا شروع کردی۔ مسجد بنتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ اینٹیں ڈھو رہے تھے۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب ھجرۃ النبی ) غارثور میں آپ کا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو تسلی دینا :۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ہجرت کے وقت غار (ثور) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ میں نے غار (کے اندر سے) کافروں کے پاؤں دیکھے (جو ہماری تلاش میں غار تک پہنچ گئے تھے) میں نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں اٹھا کر دیکھے تو ہمیں دیکھ لے گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ان دو آدمیوں کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو۔ ‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ کتاب المناقب۔ باب ہجرۃ النبی ) اللہ نے کن کن مشکل اوقات میں اپنے رسول کی مدد کی؟:۔ یعنی اللہ اکیلے نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت بھی مدد کی جب مکہ کے تمام قریشی قبائل نے مل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی سازش تیار کی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ بھی کرلیا تھا۔ اس وقت بھی اللہ اپنے نبی کو ان کے چنگل سے نکال لایا تھا پھر اس وقت بھی مدد کی تھی جب تعاقب کرنے والے غار ثور کے منہ پر کھڑے تھے۔ پھر اس وقت بھی مدد کی تھی جب سراقہ بن مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعاقب کر کے آپ کو جا لیا تھا۔ اور دوران ہجرت بھی مدد کی تھی کہ اسے بخیر و عافیت مدینہ پہنچا دیا تھا۔ اگر اللہ اس وقت اپنے نبی کی مدد کرسکتا ہے تو وہ اکیلا اس غزوہ تبوک میں بھی مدد کرسکتا ہے لہٰذا تم اس موقع کو غنیمت سمجھو کہ تمہارے ہاتھوں اسلام کا بول بالا ہو، تمہیں دنیا میں بھی عزت اور سرخ روئی حاصل ہو اور آخرت میں اجر ملے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہجرت کے لیے نبی نہایت خفیہ طور پر نکلے تو خود تھے۔ کفار تو انہیں نکالنے کی بجائے ان کا تعاقب کر کے واپس لانا چاہتے تھے مگر چونکہ ہجرت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کے ظلم و ستم کی وجہ سے ہی مجبور ہوگئے تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے نکالنے کی نسبت کافروں کی طرف کی ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے تو حسرت بھرے لہجہ میں مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’اگر میری قوم مجھے یہاں سے نکال نہ دیتی تو میں تیرے سوا کہیں رہنا گوارا نہ کرتا۔‘‘ (ترمذی۔ ابو اب المناقب۔ باب فضل المکۃ) [٤٤] اللہ کے غیر مرئی لشکر :۔ اللہ کے یہ لشکر فرشتوں کے علاوہ دوسری مخلوق کے بھی ہو سکتے ہیں مثلاً مکڑیوں کا وہ لشکر بھی اللہ ہی کا لشکر تھا جس نے آناً فاناً غار ثور کے منہ پر جالا تن دیا تھا۔ قریش جب اپنے قائف (کھوجی، سراغ رساں) کے ہمراہ اس غار پر پہنچے تو مکڑی کا تنا ہوا جالا دیکھ کر اپنے قائف کو جھوٹا اور غلط کہنے لگے کیونکہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے یہ جالا مدتوں پہلے بنا ہوا تھا یا وہ بھی اللہ کے فرشتوں کا لشکر ہی تھا جس نے مشرکوں کی نگاہوں کو غار کے اندر جھانکنے سے پھیر دیا تھا۔ اور وہ بھی اللہ ہی کے لشکر تھے جنہوں نے سراقہ کا گھوڑا زمین میں دھنسا دیا تھا اور وہ بھی اللہ ہی کے لشکر تھے جنہوں نے دوران سفر ہجرت آپ کو ہر خطرہ سے بچایا تھا۔ اس طرح کفار تو دانت پیستے رہ گئے اور اللہ جو اپنے نبی کو بخیریت مدینہ پہنچانا چاہتا تھا وہ ہو کے رہا۔ التوبہ
41 [٤٥] اس جملہ کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں یعنی خواہ برضا و رغبت نکلو یا بکراہت اور بوجھل دل سے نکلو، یا بے سر و سامانی کی حالت میں نکلو یا ساز و سامان کے ساتھ اور خواہ تم پیدل ہو یا سوار یا مجرد ہو یا عیالدار، مفلس ہو یا نادار جو بھی صورت ہو تمہیں اللہ کی راہ میں نکلنا ضرور چاہیے۔ اور اپنے اموال اور جانوں سے جہاد کرنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب تک کوئی اسلامی حکومت جہاد کا عام اعلان نہ کرے اس وقت تک تو جہاد فرض کفایہ ہوتا ہے لیکن جب ایسا اعلان کر دے تو جہاد مسلمانوں پر فرض عین بن جاتا ہے۔ التوبہ
42 [٤٦] منافقوں کے عذر :۔ یعنی اگر تھوڑی سی محنت کے بعد منافقوں کو مال غنیمت ہاتھ آ جانے کی توقع ہوتی اور سفر بھی اتنا طویل اور پر مشقت نہ ہوتا تو پھر تو یہ منافق یقیناً آپ کے ہمراہ نکلنے کو تیار ہوجاتے۔ لیکن شام تک کا سفر، وہ بھی شدید گرمی کے موسم میں جبکہ سواریاں بھی بہت کم ہیں اور آگے مقابلہ بھی ایک بہت دبدبے والی حکومت سے ہے جہاں فتح کے بجائے ناکامی کے آثار دکھائی دیتے ہیں تو ایسی صورت میں یہ کیسے آپ کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ اب تو وہ یہی قسمیں کھائیں گے کہ اس وقت ہمارے حالات سازگار نہیں۔ ورنہ ہمیں آپ کے ہمراہ جانے میں کوئی عذر نہ ہوتا۔ اور وہ جھوٹے اس لحاظ سے نہیں ہیں کہ حقیقتاً جو باتیں اور خدشات انہیں جہاد پر جانے سے روک رہے ہیں انہیں وہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور آپ کے سامنے ظاہر کر ہی نہیں سکتے۔ لہٰذا ادھر ادھر کی باتیں عذر کے طور پر پیش کردیتے ہیں۔ التوبہ
43 [٤٧] آپ پر عتاب سے پہلے معافی کا اعلان :۔ اس موقع پر منافقوں نے یہ روش اختیار کی کہ جھوٹے حیلے تراش کر آپ سے مدینہ میں رہ جانے کی اجازت طلب کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کسی حد تک یہ جاننے کے باوجود کہ ان کی یہ معذرت حقیقی نہیں بلکہ عذر لنگ ہے، اپنی نرم طبع کی بنا پر انہیں اجازت دے دیتے تھے جبکہ اللہ کو یہ بات پسند نہ تھی۔ اللہ کو یہ منظور تھا کہ ان منافقوں کا خبث باطن اور مکر کھل کر سب کے سامنے آ جائے۔ جہاد پر روانہ ہونے کی ہمت اور ارادہ تو وہ سرے سے رکھتے ہی نہ تھے پھر یہ اس اجازت کا سہارا کیوں لیں۔ کیوں نہ ننگے ہو کر سامنے آئیں۔ اس صورت حال پر اللہ کا عتاب ہوا مگر ساتھ ہی اللہ نے اپنے حبیب پر کمال عنایت بھی ظاہر کی کہ تقصیر بیان کرنے سے پہلے ہی معافی کا اعلان فرما دیا۔ التوبہ
44 [٤٨] اللہ اور آخرت پر ایمان سے مراد اللہ کے وعدوں کو سچا سمجھنا ہے :۔ یہاں اللہ پر ایمان لانے سے مراد اللہ کے وہ وعدے ہیں جو اس نے فتح و نصرت سے متعلق مسلمانوں سے کیے ہیں اور آخرت پر ایمان سے مراد بھی جنت میں داخل کرنے اور بڑے درجات عطا کرنے کے وعدے ہیں اس لحاظ سے جن لوگوں کا اللہ اور آخرت پر ایمان ہے وہ تو فوراً اپنے اموال اور جانوں سے جہاد پر روانہ ہوجائیں گے اور ایسے لوگوں کو رخصت مانگنے کی نوبت ہی پیش نہیں آتی۔ البتہ جن منافقوں کا یہ یقین ہی نہیں کہ اللہ کے وعدہ کے مطابق مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی اور نہ ہی آخرت کے وعدوں پر پورا یقین ہے۔ وہ بس اپنے دنیوی مفادات کا ہی موازنہ کرنے میں مشغول ہیں۔ کبھی یہ سوچتے ہیں کہ شاید ان کا جہاد پر جانا سودمند ثابت ہو اور کبھی یہ خیال آتا ہے کہ کہیں الٹا لینے کے دینے نہ پڑجائیں اور وہیں موت سے دوچار ہونا پڑے۔ بس اسی گومگو کی حالت میں پڑے سوچتے ہیں۔ بالآخر انہیں یہی تدبیر کامیاب نظر آتی ہے کہ حیلوں بہانوں سے آپ سے معذرت کرلیں تاکہ ان کے جھوٹ اور بدنیتی پر پردہ پڑا رہے۔ التوبہ
45 التوبہ
46 [٤٩] منافقوں کی سچائی کا معیار :۔ اگر انہوں نے جہاد کی تیاری مکمل طور پر کرلی ہوتی تو پھر کوئی ایسا حادثہ پیش آ جاتا جس کی وجہ سے وہ فی الواقع جہاد پر جانے سے معذور ہوتے تو اس صورت میں تو ان کی سچائی پر اعتماد کیا جا سکتا تھا۔ لیکن جس صورت میں انہیں کوئی ایسی فکر لاحق ہی نہ ہوتی ہو اور ان کا سارا دار و مدار صرف حیلوں بہانوں پر ہی موقوف ہو تو اس صورت میں انہیں سچا کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ اور حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی جہاد میں شمولیت اللہ کو پسند بھی نہیں جس سے اسلامی فوج کو ان سے کسی فائدہ کے بجائے نقصان کا خطرہ زیادہ ہو۔ چنانچہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ گھروں میں ہی بیٹھ رہنا ان کے نصیب ہوا۔ التوبہ
47 [٥٠] میدان کارزار میں منافقوں کے فتنے :۔ یعنی ایسے منافقوں سے لشکر مجاہدین میں شامل ہونے پر بھی خیر اور بھلائی کی توقع کم تھی بلکہ الٹا یہ کئی طرح کی خرابیاں پیدا کرسکتے تھے۔ مثلاً جنگ سے فرار کی راہ اختیار کر کے دوسروں کے حوصلے بھی توڑ دیتے۔ یا دشمن کو اسلامی لشکر کے حالات سے مطلع کردیتے یا اس سے ساز باز شروع کردیتے۔ یا اسلامی لشکر میں اختلاف کا سبب بن جاتے اور ان میں باہمی نزاع پیدا کردیتے یا بے بنیاد افواہیں اڑا کر مسلمانوں میں بد دلی پھیلانے لگتے۔ لہٰذا اللہ کی مشیئت میں ان کا نہ جانا ہی بہتر تھا۔ [٥١] سادہ لوح مسلمانوں کو ہدایت :۔ یعنی اے مسلمانو! تم میں بھی بعض ایسے سادہ لوح افراد موجود ہیں۔ جو ان منافقوں کی باتیں بڑے غور سے سنتے اور ان سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ انہیں اپنا ہمدرد سمجھتے ہیں اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں۔ جو منافقوں کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔ تاکہ مسلمانوں کے حالات سے انہیں مطلع کرتے رہیں اور ایسے مسلمانوں کی نیت میں چونکہ فتور نہیں ہوتا اس لحاظ سے ان کی یہ اطلاعات مسلمانوں کے حق میں مفید بھی ہو سکتی ہیں۔ یعنی جب وہ مسلمانوں کی اولوالعزمی اور بے جگری سے لڑنے کے واقعات منافقوں سے بیان کریں گے تو خواہ مخواہ ان کے دلوں پر مسلمانوں کی ہیبت قائم ہوگی۔ تاہم اس آیت میں مسلمانوں کو یہی تنبیہ کی جا رہی ہے کہ ایسے سادہ لوح مسلمانوں کے بارے میں بھی تمہیں احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے کہ کہیں ان کی یہی سادہ لوحی تمہارے لیے کسی فتنہ کا موجب نہ بن جائے۔ التوبہ
48 [٥٢] عبداللہ بن ابی کا فتنہ :۔ منافقوں کی فتنہ انگیزیوں کی فہرست بڑی طویل ہے۔ عبداللہ بن ابی کو دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ میں تشریف آوری ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پیشتر عبداللہ بن ابی کے سر پر اوس و خزرج دونوں کی سرداری کا تاج رکھا جانے والا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اس کی سرداری کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا۔ یہی وہ حسد اور کینہ تھا جس نے اسے اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی پر عمر بھر اکسائے رکھا۔ غزوہ بدر سے پہلے اس کی قریش مکہ سے مراسلت رہی۔ پھر جب بدر میں قریش مکہ کو شکست فاش اور مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب ہوئی تو یہ جل بھن گیا مگر اپنے مفادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ظاہری طور پر تو اسلام قبول کرلیا مگر دل میں اسلام دشمنی بدستور موجود رہی۔ جنگ احد میں اس نے مسلمانوں سے غداری کی اور نہایت نازک موقع پر اپنے تین سو ساتھیوں کو لشکر سے کاٹ لایا تاکہ مسلمان شکست سے دو چار ہوں۔ زندگی بھر اس کی ہمدردیاں یہودیوں سے رہیں۔ انہیں اکسا کر مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنا اس کا پسندیدہ شغل تھا۔ وہ بھی اس کی مہربانی سے مسلمانوں کے ہاتھوں پٹتے ہی رہے اور ہر موقعہ پر اللہ کی تائید مسلمانوں کے شامل حال رہی۔ غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر اس نے سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگا دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ذہنی کوفت میں مبتلا کیے رکھا تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بریت نازل فرمائی۔ اسی غزوہ میں اس نے انصار کو اکسایا کہ اس نبی کو مدینہ سے نکال دو۔ پھر مسجد ضرار تعمیر کر کے انہی ناپاک سازشوں کے لیے ایک نیا اڈا بنا لیا۔ اور قیصر روم سے ساز باز شروع کردی۔ غرض ہر موقع پر اس کی انتہائی کوشش یہ ہوتی تھی کہ اسلام مغلوب ہو اور مدینہ کا رئیس اعظم میں بن جاؤں۔ آخر یہی حسرت دل میں لیے ہوئے اس نے اس جہان سے کوچ کیا۔ التوبہ
49 [٥٣] جد بن قیس منافق کا عذر لنگ :۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جدبن قیس منافق کو رومی کافروں سے جہاد کے لیے کہا تو کہنے لگا ’’اگرچہ میری کئی بیویاں ہیں مگر میں ایک حسن پرست آدمی ہوں اور روم کی عورتیں خوبصورت ہوتی ہیں۔ میں ڈرتا ہوں کہ کسی فتنہ میں نہ پڑجاؤں اور میری اس عادت کو میری قوم جانتی ہے لہٰذا آپ مجھے اپنے ساتھ لے جانے سے معاف فرمائیے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہ بدبخت فتنہ میں تو پہلے پڑچکا ہے اب اگر اپنی باطنی خباثت کو چھپا کر اس پر ظاہری تقدس اور تقویٰ کا پردہ ڈال رہا ہے تو یہ فتنہ نہیں تو کیا ہے۔ اور دوسرا فتنہ وہ ہے جس میں یہ سارے ہی منافق پڑگئے ہیں۔ مسلمان تو جہاد کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور یہ منافق اس فتنہ میں مبتلا ہیں کہ اب کریں تو کیا کریں، ان کے لیے اس سے بڑا فتنہ کیا ہوگا کہ صاف انکار بھی نہیں کرسکتے اور جانے کو جی بھی نہیں چاہتا۔ ان کے لیے تو نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والا معاملہ بن گیا ہے۔ التوبہ
50 [٥٤] یعنی اگر فتح نصیب ہو تو یہ جل بھن جاتے ہیں اور اگر خدانخواستہ شکست سے دو چار ہونا پڑے تو کہتے ہیں کہ ہم نے ازراہ دور اندیشی پہلے ہی اپنے بچاؤ کا انتظام کرلیا تھا ہم سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کا یہی حشر ہونے والا ہے لہٰذا ان کے ساتھ گئے ہی نہیں۔ پھر وہ خوشی خوشی ڈھینگیں مارتے اور بغلیں بجاتے اپنی مجلسوں سے اپنے گھروں کو واپس جاتے ہیں۔ التوبہ
51 [٥٥] مومن اور کافر یا منافق کی خصلت کا فرق :۔ اس آیت میں مومنوں اور منافقوں کے نظریاتی اختلاف کو بیان کیا گیا ہے۔ منافق جو کچھ بھی کرتا ہے اسے صرف اپنا دنیوی مفاد ملحوظ ہوتا ہے۔ پھر اگر اسے کامیابی ہو تو اترانے لگتا ہے اور خوشی سے پھولا نہیں سماتا اور اگر ناکامی ہو تو مایوس ہو کر رہ جاتا ہے جبکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے دین کی سربلندی اور اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے اگر کامیابی ہو تو اللہ کی مہربانی سمجھتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے مگر اتراتا نہیں اور ناکامی ہو تو وہ بھی اسے مایوس نہیں کرتی اور وہ اسے اللہ ہی کی طرف سے سمجھتا ہے کیونکہ اسباب کو اختیار کرنا مومن کا کام ہے اور اس کے اچھے یا برے نتائج پیدا کرنا اللہ کا کام ہے۔ لہٰذا وہ ہر حال میں اللہ ہی بھروسہ رکھتا ہے۔ التوبہ
52 [٥٦] مسلمان اور منافق سب کو دو باتوں کا انتظار ہے :۔ یعنی اے منافقو! تم ہمارے متعلق صرف یہ انتظار کر رہے ہو کہ مسلمان شاہ روم سے شکست کھاتے ہیں یا اس کے مقابلہ میں کامیاب ہوتے ہیں جبکہ ہماری سوچ یہ ہے کہ ہم ہر حال میں کامیاب ہی کامیاب ہیں۔ اگر فتح ہوئی اور مال غنیمت سمیت گھروں کو واپس آ گئے تو اسے تو تم بھی کامیابی سمجھتے ہو اور اگر ہم شہید ہوگئے تو پھر بھی ہماری کامیابی ہے اور ضمیر مطمئن کہ راہ حق میں جان دے دی اور پھر آخرت میں جنت بھی ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اللہ نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ جو شخص میری راہ میں نکلے اور اس کو مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق کے علاوہ اور کسی چیز نے نہ نکالا ہو تو میں اسے یا تو اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس کر دوں گا یا جنت میں داخل کروں گا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب الجہاد من الایمان) (مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب فضل الجہاد والخروج فی سبیل اللہ) اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ احدی الحسنیین سے مراد فتح یا شہادت ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) اور تمہارے متعلق ہماری سوچ بھی دو باتوں سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ تو یقینی بات ہے کہ تمہیں سزا مل کے رہے گی۔ اب ہم اس انتظار میں ہیں کہ آیا یہ سزا اللہ تمہیں خود ہی کوئی عذاب بھیج کردیتا ہے۔ یا تمہیں ہمارے ہاتھوں سے دلواتا ہے۔ لہٰذا تم اپنی سوچ کے مطابق انتظار کرو اور ہم اپنی سوچ کے مطابق انتظار کرتے ہیں۔ التوبہ
53 [٥٧] منافق کا مال بھی قبول نہیں :۔ جد بن قیس نے رومی عورتوں کے فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا بہانہ کر کے جہاد پر جانے سے تو معذرت کرلی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ البتہ میں مالی اعانت کرنے کو تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا۔ تم لوگ یہ مالی اعانت خوشی سے کرو یا مجبوراً کرو یہ قابل قبول نہیں۔ یہ بھی تم اپنے پاس ہی رکھو کیونکہ یہ تو واضح بات ہے کہ نافرمان یا منافق لوگ صرف اللہ کی رضا کے لیے کبھی صدقہ نہیں کرتے۔ وہ جب بھی کریں گے یا ریا کے لیے کریں گے یا مجبور ہو کر کریں گے۔ پھر ایسا صدقہ لینے کی بھی کیا ضرورت ہے؟۔ التوبہ
54 [٥٨] صدقہ قبول نہ ہونے کی وجہ :۔ مشرکوں سے اعلان براءت اور ان سے اس علاقہ کے انخلاء کے دوران اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ یعنی اگر یہ تین باتیں پائی جائیں تو انہیں مسلمان سمجھا جائے گا اور باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد۔ ان تینوں باتوں میں بھی یہ منافق اس معیار پر پورے نہیں اترتے تھے۔ وہ اللہ اور رسول کے وعدوں کا یقین نہیں کرتے تھے۔ لہٰذا ان کا اللہ اور رسول پر ایمان مشکوک ہوگیا اور یہ انکار کے مترادف ہے۔ نماز کو آتے ہیں تو طبیعت ایسی گرانبار اور سست ہوتی ہے جیسے کوئی بیگار کاٹنے جا رہے ہوں اور اگر صدقہ ادا کرنا پڑے تو ایسے جیسے کوئی تاوان یا جرمانہ ادا کرنا پڑ رہا ہو۔ پھر ایسے لوگوں کے صدقات کیوں قبول کیے جائیں۔ نیز ایسے صدقات کا ان کو آخرت میں بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا البتہ نقصان ضرور ہوسکتا ہے۔ التوبہ
55 [٥٩] منافقوں کو مال اور اولاد سے سزا کیسے ملی؟ مدینہ میں جتنے منا فق تھے سب سن رسیدہ اور مالدار لوگ تھے اور منافقوں کا مطمح نظر محض دنیوی مفادات کا حصول ہوتا ہے لہٰذا عام مادہ پرستوں اور دنیا پرستوں کی طرح ان کے نزدیک بھی عز و جاہ کا معیار اولاد اور مال و دولت کی فراوانی تھی۔ اب انہیں مشکل یہ پیش آئی کہ ان کی اولادیں مسلمان ہوگئیں۔ جن کے نزدیک عز و جاہ کا معیار ان کے معیار سے بالکل برعکس تھا۔ جن کی نظروں میں مال اور جائیداد کی قدر و قیمت اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کے مقابلہ میں ہیچ تھی اور ان کے نزدیک عز و جاہ کا معیار یہ تھا کہ جتنا بھی کوئی اللہ کے رسول کا شیدائی اور فرمانبردار ہوگا اتنا ہی وہ اسلامی معاشرہ میں معزز و مکرم سمجھا جائے گا۔ اس نظریاتی اختلاف نے انہیں اپنی اولاد ہی کی نظروں میں ذلیل کردیا۔ اس طرح اللہ نے ان کی اولاد ہی کے ذریعہ انہیں دنیا میں سزا دے دی۔ اور چونکہ وہ اپنی خود پرستی والی طبیعت کو بھی بدل نہیں سکتے تھے۔ لہٰذا وہ آخر دم تک اسی ننانوے کے چکر میں ہی پڑے رہے تاآنکہ انہیں موت آ گئی اور وہ اسی نفاق اور ذلت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے۔ التوبہ
56 [٦٠] منافقوں کی بے چارگی اور مجبوری :۔ یہ منافق مدینہ میں انتہائی بے بسی اور بے چارگی کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ کفر کو دل سے پسند کرتے تھے مگر مدینہ میں رہ کر اس بات کا نہ اظہار کرسکتے تھے اور نہ اعلان کرسکتے تھے کیونکہ اس وقت اسلامی حکومت ایک برتر قوت کی حیثیت اختیار کرچکی تھی اور کفر کے اظہار سے وہ مسلمانوں کے بلکہ اپنی اولادوں کے ہاتھوں بھی پٹ سکتے تھے اور مدینہ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ جا بھی نہیں سکتے تھے اس لیے کہ اس طرح انہیں اپنی جائیدادوں سے دستبردار ہونا پڑتا تھا جن میں ان کی جانیں اٹکی ہوئی تھیں اور یہ ان کی عمر بھر کی جائز و ناجائز کمائیوں کا نتیجہ تھیں۔ لہٰذا انہیں مجبوراً یہ نفاق کی راہ اختیار کرنا پڑی تھی۔ مگر اس حالت میں بھی انہیں کچھ چین میسر نہ تھا۔ انہیں ظاہر داری کے طور پر پانچ وقت کی نمازیں بھی ادا کرنا پڑتی تھیں اور صدقات و خیرات بھی دینا پڑتے تھے اور یہ دونوں باتیں انہیں سخت ناگوار تھیں۔ مزید رسوائی یہ تھی کہ مسلمان انہیں مسلمان نہیں سمجھتے تھے اور ان کی یہ حالت دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا، کے مصداق بن گئی تھی۔ اور وہ ڈرپوک اس لحاظ سے تھے کہ اپنی یہ حالت زار کسی سے بیان بھی نہ کرسکتے تھے۔ التوبہ
57 [٦١] یعنی جس بے چارگی اور ذلت کے عالم میں یہ اپنی زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے یہ ہیں کہ کوئی چھوٹی موٹی پناہ گاہ انہیں مل جائے جہاں وہ اسلامی حکومت کے تسلط سے آزاد رہ سکیں۔ اور اگر انہیں کوئی ایسی پناہ گاہ مل جائے خواہ یہ کتنی ہی تنگ جگہ کیوں نہ ہو یہ لوگ ایک منٹ کی تاخیر نہ کریں اور فوراً دوڑتے ہوئے وہاں چلے جائیں۔ التوبہ
58 [٦٢] صدقات کی تقسیم میں منافقوں کا الزام :۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رنگے ہوئے چمڑے میں کچھ سونا، جس سے مٹی علیحدہ نہیں کی گئی تھی۔ یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید الخیل اور علقمہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی نے کہا : اس مال کے تو ہم ان لوگوں سے زیادہ حقدار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’کیا تم لوگوں کو مجھ پر اطمینان نہیں حالانکہ میں آسمان والے کا امین ہوں۔ میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔‘‘ ایک آدمی جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی، پیشانی باہر نکلی ہوئی، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا۔ اپنا تہمد پنڈلیوں سے اٹھاتے ہوئے کھڑا ہو کر کہنے لگا ’’اللہ کے رسول! اللہ سے ڈریئے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تیرے لیے بربادی ہو۔ کیا میں روئے زمین پر اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے کا مستحق نہیں ہوں؟‘‘ وہ آدمی چلا گیا تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو۔ ‘‘ خالد کہنے لگے:کتنے ہی نمازی ہیں جو زبان سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’مجھے لوگوں کے دلوں میں نقب لگانے اور ان کے پیٹوں کو چاک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔‘‘ ابو سعید کہتے ہیں کہ جب وہ پیٹھ موڑے جا رہا تھا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا : ''اس کی نسل سے وہ لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کو مزے لے لے کر پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔'' ابو سعید کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں اس قوم کے زمانہ میں موجود رہا تو قوم ثمود کی طرح انہیں قتل کروں گا۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب بعث علی بن ابی طالب۔ بر کتاب استتابتہ المرتدین۔ مسلم کتاب الزکوٰۃ۔ باب اعطاء المؤلفۃ القلوب وذکر الخوارج) [٦٣] منافقوں کے نزدیک انصاف کا معیار :۔ منافقوں کا مطمح نظر محض ذاتی مفادات کا حصول ہوتا ہے۔ اس لیے ان کے نزدیک صدقات کی تقسیم میں انصاف کی صورت صرف یہ ہوتی ہے کہ انہیں ضرور کچھ ملنا چاہیے۔ اگر انہیں کچھ مل جائے تو باقی سب ٹھیک ہے اور خوش بھی ہوجاتے ہیں اور اگر انہیں کچھ نہ ملے تو ان کے نزدیک انصاف کے تقاضے بھی پورے نہیں ہوتے لہٰذا وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔ تقسیم صدقات میں آپ کا مطمح نظر :۔ یہاں یہ بات ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ صدقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے رشتہ داروں پر حرام تھا اس لیے یہ تو گمان بھی نہ ہوسکتا تھا کہ شاید کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے رکھ لیا ہو یا اپنے رشتہ داروں کو دے دیا ہو۔ منافقوں کو اعتراض صرف یہ ہوتا تھا کہ فلاں کو کیوں دیا اور مجھے کیوں نہ دیا یا فلاں کو زیادہ کیوں دیا اور مجھے کم کیوں دیا۔ اور یہ اعتراض محض ان کی حرص اور تنگ نظری اور آپ کی ذات پر عدم اعتماد کی بنا پر ہوتا تھا۔ اور آپ صدقات کی تقسیم میں جس چیز کو ملحوظ رکھتے تھے وہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :۔ عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ’’میں بعض لوگوں کو (مال وغیرہ) دیتا ہوں اور بعض کو نہیں دیتا۔ جنہیں میں دیتا ہوں وہ اس لیے نہیں دیتا کہ مجھے زیادہ محبوب ہیں بلکہ اس لیے کہ میں ان میں بے چینی اور بوکھلا پن پاتا ہوں اور جنہیں نہیں دیتا تو ان کی سیر چشمی اور بھلائی پر بھروسہ کرتا ہوں جو اللہ نے انہیں دے رکھی ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک عمرو بن تغلب ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ بات سن کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر مجھے سرخ اونٹ مل جاتے تو بھی اتنی خوشی نہ ہوتی۔ (بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب خطبۃ الجمعۃ) التوبہ
59 [٦٤] یعنی منافقوں کے حق میں بہتر یہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اعتماد کرتے اور جو کچھ اللہ نے انہیں پہلے ہی دے رکھا ہے اور اب جو رسول نے انہیں دیا ہے اس پر قناعت کرتے اور راضی ہوجاتے اور اگر انہیں بزعم خود کچھ کسر لگ گئی تھی تو آئندہ کے لیے اللہ کے فضل و کرم پر نگاہ رکھتے۔ التوبہ
60 [٦٥] یہاں صدقات سے مراد صرف فرضی صدقہ یا زکوٰۃ ہے جیسا کہ بعد کے الفاظ فریضۃ من اللّٰہ سے واضح ہوتا ہے۔ صدقات کی تقسیم پر بھی منافقوں کو اعتراض ہوا تھا تو اس کی تقسیم کی مدات اللہ تعالیٰ نے خود ہی مقرر فرما دیں تاکہ ان کی تقسیم میں اعتراض کی گنجائش ہی نہ رہے یا کم سے کم رہ جائے۔ اور یہ کل آٹھ مدات ہیں جو درج ذیل ہیں۔ [٦٦] زکوٰۃ کے حقدار مسکین اور فقیر میں فرق :۔ فقیر اور مسکین کی تعریف اور ان میں فرق سے متعلق علماء کے کئی اقوال ہیں۔ اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث قول فیصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’مسکین وہ نہیں جو ایک یا دو لقموں کے لیے لوگوں کے پاس چکر لگائے کہ اسے ایک یا دو کھجوریں دے کر لوٹا دیا جائے بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جو اسے بے نیاز کر دے۔ نہ اس کا حال کسی کو معلوم ہوتا ہے کہ اسے صدقہ دیا جائے، نہ وہ لوگوں سے کھڑا ہو کر سوال کرتا ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ (لَا یَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا ، مسلم۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب المسکین الذی لایجد غنی ) گویا احتیاج کے لحاظ سے فقیر اور مسکین میں کوئی فرق نہیں۔ ان میں اصل فرق یہ ہے کہ فقیر وہ ہے جو لوگوں سے سوال کرتا پھرے اور مسکین وہ ہے جو احتیاج کے باوجود قانع رہے اور سوال کرنے سے پرہیز کرے جسے ہمارے ہاں سفید پوش کہا جاتا ہے۔ [٦٧] محنت کرنے والے کو معاوضہ لے لینا چاہئے :۔ یعنی زکوٰۃ کو وصول کرنے والے، تقسیم کرنے والے اور ان کا حساب کتاب رکھنے والا سارا عملہ اموال زکوٰۃ سے معاوضہ یا تنخواہ لینے کا حقدار ہے۔ اس عملہ میں سے اگر کوئی شخص خود مالدار ہو تو بھی معاوضہ یا تنخواہ کا حقدار ہے اور اسے یہ معاوضہ لینا ہی چاہیے خواہ بعد میں صدقہ کر دے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا عبداللہ بن السعدی کہتے ہیں کہ دور فاروقی میں میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ انہوں نے مجھے کہا : ’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگوں کے کام کرتے ہو اور جب تمہیں اس کی اجرت دی جائے تو تم اسے ناپسند کرتے ہو؟‘‘ میں نے کہا ’’ہاں‘‘ انہوں نے پوچھا ’’پھر اس سے تمہارا کیا مطلب ہے؟‘‘میں نے جواب دیا کہ ’’میرے پاس گھوڑے ہیں غلام ہیں اور مال بھی ہے میں چاہتا ہوں کہ اپنی اجرت مسلمانوں پر صدقہ کر دوں۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’ایسا نہ کرو، کیونکہ میں نے بھی یہی ارادہ کیا تھا جو تم نے کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ دیتے تو میں کہہ دیتا کہ یہ آپ اسے دے دیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہے۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یہ لے لو، اس سے مالدار بنو، پھر صدقہ کرو، اگر تمہارے پاس مال اس طرح آئے کہ تم اس کے حریص نہ ہو اور نہ ہی اس کا سوال کرنے والے ہو تو اس کو لے لیا کرو اور اگر نہ ملے تو اس کی فکر نہ کیا کرو۔ ‘‘ (بخاری۔ کتاب الاحکام۔ باب رزق الحاکم والعاملین علیھا- مسلم۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب اباحۃ الاخذ لمن اعطی من غیر مسئلۃ ) زکوٰۃ کی فراہمی اور تقسیم حکومت کی ذمہ داری :۔ ضمناً اس جملہ سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ زکوٰۃ کی فراہمی اور تقسیم اسلامی حکومت کا فریضہ ہے اور انفرادی طور پر زکوٰۃ صرف اس صورت میں ادا کرنا چاہیے جب ایسا نظام زکوٰۃ قائم نہ ہو اور اگر کوئی خاندان، برادری، یا قوم اپنے اہتمام میں اجتماعی طور پر فراہمی زکوٰۃ اور اس کی تقسیم کا کام کرلے تو یہ انفرادی ادائیگی سے بہتر ہے۔ [٦٨] تالیف کے حقدار :۔ اس مدد سے ان کافروں کو بھی مال دیا جا سکتا ہے جو اسلام دشمنی میں پیش پیش ہوں اگر یہ توقع ہو کہ مال کے لالچ سے وہ اپنی حرکتیں چھوڑ کر اسلام کی طرف مائل ہوجائیں گے اور ان نو مسلموں کو بھی جو نئے مسلم معاشرہ میں ابھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل نہ ہوں اور انہیں اپنی معاشی حالت سنبھلنے تک مستقل وظیفہ بھی دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو سونا بھیجا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کافروں میں تقسیم کیا تھا۔ سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں یہ کہہ کر اس مد کو حذف کردیا تھا کہ اب اسلام غالب آ چکا ہے اور اب اس مد کی ضرورت نہیں رہی۔ لیکن حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے لہٰذا عندالضرورت اس مد کو بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ [٦٩] اجتماعی غلامی کا حال :۔ اس کی بھی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ کسی غلام کو خرید کر آزاد کردیا جائے۔ دوسری کسی مکاتب غلام کی بقایا رقم ادا کر کے اسے آزاد کرایا جائے۔ آج کل انفرادی غلامی کا دور گزر چکا ہے اور اس کے بجائے اجتماعی غلامی رائج ہوگئی ہے۔ بعض مالدار ممالک نے تنگ دست ممالک کو معاشی طور پر اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ لہٰذا آج علماء کو یہ غور کرنا چاہیے کہ ایسے غلام ممالک کی رہائی کے لیے ممکنہ صورتیں کیا ہونی چاہئیں؟ مثلاً آج کل پاکستان بیرونی ممالک اور بالخصوص امریکہ کے سودی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور مسلمان تاجر اتنے مالدار بھی ہیں کہ وہ حکومت سے تعاون کریں تو وہ یہ قرضہ اتار بھی سکتے ہیں بشرطیکہ انہیں یہ یقین دہانی کرا دی جائے کہ ان کی زکوٰۃ کا یہ مصرف درست ہے اور حکومت اسلامی نظام کے نفاذ میں مخلص ہے۔ [٧٠] مقروض کے قرضہ کی ادائیگی :۔ یہاں قرض سے مراد خانگی ضروریات کے قرضے ہیں تجارتی اور کاروباری قرضے نہیں اور قرض دار سے مراد ایسا مقروض ہے کہ اگر اس کے مال سے سارا قرض ادا کردیا جائے تو اس کے پاس نقد نصاب سے کم مال رہتا ہو۔ یہ مقروض خواہ برسر روزگار ہو یا بے روزگار ہو اور خواہ وہ فقیر ہو یا غنی ہو۔ اس مد سے اس کا قرض ادا کیا جا سکتا ہے۔ [٧١] یعنی ہر ایسا کام جس میں اللہ کی رضا مطلوب ہو۔ اور یہ میدان بڑا وسیع ہے۔ اکثر ائمہ سلف کے اقوال کے مطابق اس کا بہترین مصرف جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنا ہے اور قتال فی سبیل اللہ اسی کا ایک اہم شعبہ ہے۔ بالفاظ دیگر اس مد سے دینی مدارس کا قیام اور اس کے اخراجات پورے کیے جا سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر وہ ادارہ بھی اس مصرف میں شامل ہے جو زبانی یا تحریری طور پر دینی خدمات سر انجام دے رہا ہے یا اسلام کا دفاع کر رہا ہو۔ بعض علماء کے نزدیک اس مد سے مساجد کی تعمیر و مرمت پر بھی خرچ کیا جا سکتا ہے۔ [٧٢] مسافر خواہ وہ فقیر ہو یا غنی ہو۔ اگر دوران سفر اسے ایسی ضرورت پیش آ جائے تو اس کی بھی مدد کی جا سکتی ہے مثلاً فی الواقع کسی کی جیب کٹ جائے یا مال چوری ہوجائے وغیرہ وغیرہ۔ [٧٣] محتاج زکوٰۃ کے زیادہ حقدار ہیں :۔ واضح رہے کہ زکوٰۃ کی فراہمی اور تقسیم کے لحاظ سے معاشرہ کو تین طبقوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک اغنیاء کا طبقہ جن سے زکوٰۃ وصول کی جائے گی دوسرا فقراء و مساکین یا مقروضوں وغیرہ کا طبقہ۔ جسے زکوٰۃ دی جائے گی اور تیسرا متوسط طبقہ جس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی تاہم وہ زکوٰۃ کا مستحق بھی قرار نہیں دیا جا سکتا اور اس کے آمدنی کے ذرائع اتنے ہوتے ہیں جس سے اس کے اخراجات پورے ہوجاتے ہیں۔ غنی کی عام تعریف یہ ہے کہ جس شخص کے پاس محل نصاب اشیاء میں سے کوئی چیز بقدر نصاب یا اس سے زائد موجود ہو وہ غنی ہے اور جس کے پاس کوئی چیز بھی بقدر نصاب موجود نہ ہو وہ فقیر یا مسکین ہے۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ زکوٰۃ جس مقام کے اغنیاء سے وصول کی جائے گی اس کے سب سے زیادہ حقدار اسی مقام کے فقراء وغیرہ ہوتے ہیں۔ اگر کچھ رقم بچ جائے تو وہ مرکزی بیت المال میں جمع ہوگی۔ اس سلسلہ میں اب درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :۔ سیدنا ابراہیم بن عطاء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمران ابن الحصین کو زکوٰۃ کی وصولی پر روانہ کیا گیا۔ وہ خالی ہاتھ واپس آ گئے تو ان سے پوچھا گیا کہ زکوٰۃ کا مال کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا ’’مجھے زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کے واسطے روانہ کیا گیا۔ میں نے جن لوگوں سے لینا چاہیے تھا لیا اور جہاں دینا چاہیے تھا دے دیا۔‘‘ (ابن ماجہ۔ ابو اب الصدقہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ غنی کی حد کیا ہے؟ فرمایا ’’پچاس درہم یا اس کے برابر مالیت کا سونا (یا نقدی)‘‘ (نسائی۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب حد الغنیٰ) اور درہم چاندی کا ساڑھے چار ماشہ کا سکہ تھا اور پچاس درھم کا عوض ڈھائی دینار ہے جبکہ دینار ساڑھے تین ماشے سونے کا سکہ تھا۔ یعنی جس کے پاس تقریباً ٩ ماشہ سونا ہو وہ غنی ہے۔ اور ایسا شخص متوسط طبقہ میں شمار ہوگا۔ علاوہ ازیں درج ذیل قسم کے لوگ زکوٰۃ کے حقدار نہیں ہوتے :۔ الف۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کے رشتہ دار جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :۔ ١۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''چھی چھی'' تاکہ حسن اس کھجور کو منہ سے نکال پھینکیں۔ پھر فرمایا ’’کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ کا مال نہیں کھاتے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب الصدقۃ للنبی ) لیکن اگر صدقہ کی کوئی چیز کسی مستحق کے واسطہ سے ہدیہ آل نبی کو مل جائے تو وہ جائز ہوگی۔ ٢۔ ام عطیہ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں جا کر پوچھا’’کچھ کھانے کو ہے؟‘‘ انہوں نے کہا ’’کچھ نہیں صرف بکری کا وہ گوشت ہے جو آپ نے نُسَیْبَہ کو خیرات دی تھی اور نُسَیْبَہ نے تحفہ کے طور پر ہمیں بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’لاؤ۔ خیرات تو اپنے ٹھکانے پر پہنچ چکی ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب اذا تحولت الصدقۃ) ٣۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ گوشت لایا گیا جو بریرہ کو خیرات میں ملا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بریرہ پر یہ صدقہ تھا اور ہمارے لیے یہ تحفہ ہے۔‘‘ (بخاری۔ حوالہ ایضاً) ب۔ جو شخص تندرست، طاقتور اور کمانے کے قابل ہو وہ زکوٰۃ کا حقدار نہیں ہوتا :۔ ١۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر صدقہ طلب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’صدقات کی تقسیم میں اللہ کسی نبی یا کسی دوسرے کی تقسیم پر راضی نہیں ہوا۔ اس نے خود فیصلہ کیا اور اسے آٹھ اجزاء میں تقسیم کردیا۔ اگر تو بھی ان کے ذیل میں آتا ہے تو میں تمہیں دے دیتا ہوں۔‘‘ (ابو داؤد۔ نسائی۔ کتاب الزکوٰۃ باب مسئلۃ القوی المکتسب) ٢۔ حجۃ الوداع کے موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ دو ہٹے کٹے آدمی آئے اور صدقہ کا سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا۔ پھر نظر نیچے کرلی اور فرمایا ’’اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن صدقہ میں غنی اور قوی کا کوئی حصہ نہیں۔ جو کما سکتا ہو۔ ‘‘ (ابو داؤد۔ نسائی۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب مسئلۃ القوی المکتسب ) ج۔ جو افراد کسی کے زیر کفالت ہوں۔ وہ انہیں زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔ مثلاً بیوی اور اولاد کو۔ اسی طرح اگر باپ بوڑھا ہوچکا ہو اور اس کی کفالت اس کے بیٹے کے ذمہ ہو تو بیٹا باپ کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :۔ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں صاحب مال ہوں اور میرا والد محتاج ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تو اور تیرا مال سب کچھ تیرے باپ کا ہے۔ اولاد ہی تمہاری پاکیزہ کمائی ہوتی ہے اور اپنی اولاد کی کمائی سے تم کھا سکتے ہو۔ ‘‘ (ابو داؤد۔ ابن ماجہ بحوالہ مشکوۃ۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب النفقات وحق المملوک) اس لحاظ سے عورت اپنے خاوند کو زکوٰۃ دے سکتی ہے کیونکہ خاوند بیوی کے زیر کفالت نہیں ہوتا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :۔ سیدہ زینب (زوجہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئیں۔ وہاں ایک اور انصاری عورت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر پایا۔ وہ بھی وہی مسئلہ پوچھنے آئی تھی جو میں پوچھنا چاہتی تھی۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ نکلے۔ ہم نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو کہ اگر میں اپنے خاوند اور چند یتیموں کو جو میری پرورش میں ہیں خیرات کر دوں تو کیا یہ درست ہوگا ؟ ہم نے بلال رضی اللہ عنہ سے یہ بھی کہا کہ ہمارا نام نہ لینا۔ بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ دو عورتیں یہ مسئلہ پوچھ رہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’کونسی عورتیں؟‘‘ بلال رضی اللہ عنہ نے کہ’’زینب نامی ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’کونسی زینب؟‘‘ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا ’’ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی'' آپ نے فرمایا ’’ہاں یہ صدقہ درست ہے اور اس کے لیے دوہرا اجر ہے ایک قرابت کا دوسرے صدقہ کا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب الزکوٰۃ علی الزوج والا یتام فی الحجر) التوبہ
61 [٧٤] منافقوں کا آپ کو لائی لگ کہنا اور اس کا جواب :۔ منافقوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شخص کی بات سن لیتے ہیں اور پھر اسے درست بھی سمجھ لیتے ہیں۔ دراصل ان کی خواہش یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان مسلمانوں کی باتوں پر اعتماد نہ کیا کریں جو ہم جیسے معزز لوگوں کی خبریں یعنی ہماری سازشوں اور شرارتوں کے حالات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کرتے رہتے ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کا ایسا ہونا دراصل تمہارے ہی حق میں بہتر ہے۔ تم ان کے سامنے اپنے ایمان کے جھوٹے دعوے کرتے، مسلمانوں کے ہمدرد ہونے پر جھوٹی قسمیں کھاتے اور جہاد سے فرار کے لیے جھوٹے بہانے بناتے ہو۔ مگر وہ صبر سے کام لیتا ہے۔ اگر وہ اسی وقت ہر بات کی تحقیق شروع کردیتا تو سب سے پہلے تمہاری ہی شامت آ جاتی۔ [٧٥] متقی کی بات قابل اعتبار ہے :۔ یعنی رسول سنتا تو سب کی ہے مگر اعتماد صرف ان لوگوں پر کرتا ہے جو سچے مومن ہیں اور اللہ سے ڈرنے والے اور جھوٹ اور چغل خوری سے پرہیز کرنے والے ہیں۔ لہٰذا اگر وہ تمہاری شرارتوں اور معاندانہ سرگرمیوں کی اطلاع دیتے ہیں تو وہ فی الواقع قابل اعتماد ہوتی ہیں۔ التوبہ
62 [٧٦] منافقوں کی جب بھی کوئی سازش یا دغا بازی پکڑی جاتی تو فوراً اس سے مکر جاتے اور اپنے جھوٹے بیان پر قسمیں کھا کھا کر مسلمانوں کو مطمئن اور راضی کرنے کی کوشش کیا کرتے۔ حالانکہ یہی بات ان کی منافقت کو مزید تقویت پہنچا دیتی تھی۔ اس کے بجائے اب بھی اگر وہ اللہ سے ڈر جاتے اور اپنی غلطیوں اور گناہوں کا اعتراف کر کے اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنے کی کوشش کرتے تو یہ فی الواقع ان کے اللہ پر یقین رکھنے کی دلیل بن سکتی تھی۔ التوبہ
63 [٧٧] منافقوں کی رسوائی کیسے؟ یعنی ایک رسوائی تو اس وقت ہوتی ہے جب ان کی کوئی سازش اور دغا بازی سب لوگوں کے سامنے آ جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کو مزید جھوٹی باتیں بنا کر اور قسمیں کھا کر اپنی طرف سے مسلمانوں کو اپنی صفائی کی یقین دہانی کرانا پڑتی ہے اور یہ رسوائی اس رسوائی کے مقابلہ میں بہت ہلکی ہے جو انہیں قیامت کے دن سب کے سامنے اٹھانا پڑے گی۔ جب ان کی یہ سب شرارتیں کھل کر سامنے آ جائیں گی اور معذرتوں کا بھی موقع نہ ہوگا پھر انہیں جہنم کا دائمی عذاب بھگتنا پڑے گا۔ التوبہ
64 التوبہ
65 [٧٨] منافقوں کی دل لگی کا موضوع؟ غزوہ تبوک میں منافقین کی ایک جماعت بھی شامل تھی۔ جنہیں چار و ناچار ساتھ جانا پڑگیا تھا۔ مگر راستہ میں بھی انہیں شرارتیں ہی سوجھتی رہیں اور ایسی باتیں کرنے لگے جس سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں۔ مثلاً ایک نے کہا : یہ مسلمان بھی عجیب غلط فہمی اور دیوانگی میں مبتلا ہیں جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر ہم مکہ کے قریش پر غالب آ گئے ہیں تو قیصر روم کا مقابلہ کرنے کے لیے چڑھ دوڑے ہیں حالانکہ روم وہ عظیم طاقت ہے جو کسریٰ کو بھی شکست دے چکا ہے اور اس وقت اس کا طوطی بول رہا ہے۔ دوسرا کہنے لگا میں تو سمجھتا ہوں کہ ہم سب جکڑ بند کر کے قید کردیئے جائیں گے اور شاید ان کے ہاتھوں ہماری بڑی سخت پٹائی بھی ہو۔ پھر کبھی انہیں یہ خیال بھی آنے لگتا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پیغمبر کو اللہ تعالیٰ ہماری ان باتوں پر اور دلوں کے حالات پر وحی کے ذریعہ مطلع کر دے۔ چنانچہ ان کا یہ خطرہ سچ ثابت ہوا۔ اور جب آپ کو فی الواقع بذریعہ وحی ان لوگوں کے حالات سے مطلع کیا گیا تو آپ نے انہیں بلا کر باز پرس کی تو کہنے لگے : ہم تو یہ باتیں اس طویل سفر میں محض دل بہلاوے کے طور پر کر رہے تھے سنجیدگی سے نہیں کر رہے تھے۔ اللہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ کیا تمہیں اس دل بہلاوے اور ہنسی مذاق کے لیے ایسی ہی باتیں سوجھتی ہیں جن میں اللہ اور اس کے رسول کی سبکی ہوتی ہو اور اسلام کی سربلندی کے مقصد کو نقصان پہنچتا ہو؟ اور کوئی بات تمہیں دل بہلاوے کے لیے نہیں سوجھتی۔ التوبہ
66 [٧٩] اس گروہ سے وہ منافق مراد ہیں جنہوں نے اس طرح کی گفتگو میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اور وہ گروہ بھی مراد لیا جا سکتا ہے جو بعد میں فی الواقع نفاق کی راہ کو چھوڑ کر حقیقی معنوں میں مسلمان بن گیا تھا۔ التوبہ
67 [٨٠] منافق امر تو منکرات کا کرتے ہیں اور نہی اوامر کی :۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی کتاب و سنت میں اتنی زیادہ تاکید آئی ہے جس سے بعض علماء نے اس فریضہ کو فرض کفایہ کے بجائے فرض عین سمجھ لیا ہے اور یہ منافق لوگ خواہ مرد ہوں یا عورتیں سب اس اہم فریضہ کے برعکس کام کرتے ہیں۔ کوئی برائی کی بات ہو، کفر و شرک کا معاملہ ہو یا اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا، ان کے دل فوراً ادھر مائل ہوجاتے ہیں اور اس میں ہر طرح سے امداد و تعاون پر تیار ہوجاتے ہیں اور ایسے کاموں میں ان کے دلوں کو اطمینان اور راحت ملتی ہے اور جب کوئی اچھا کام ہو رہا ہو یا دین کی سربلندی کا معاملہ درپیش ہو تو ایسی خبر سنتے ہی ان کے دل بجھ جاتے ہیں۔ پھر وہ ایسی تدبیروں میں مصروف ہوجاتے ہیں کہ یا تو وہ کام شروع ہی نہ ہو اور اگر ہوچکا ہے تو تکمیل کو نہ پہنچ سکے۔ [٨١] یعنی وہ رسم ورواج، دکھلاوے اور حرام کاموں میں تو اپنے دل کی خوشی سے اور فراخدلی سے خرچ کرتے ہیں۔ لیکن جب جہاد کے لیے یا کسی بھی بھلے کام کے لیے چندہ کی ضرورت پیش آتی ہے تو ان کے دلوں میں گھٹن پیدا ہوجاتی ہے اور کوئی چیز ہاتھوں سے نکالنے کو جی نہیں چاہتا۔ [٨٢] بھلانے کی نسبت اللہ کی طرف :۔ اللہ کا بھلانا یہ ہے کہ اس نے ان منافقوں کو اپنے فضل اور رحمت سے محروم کردیا اور اس کے بجائے سب مسلمانوں کی نظروں میں اللہ نے ذلیل و رسوا بنا دیا۔ نیز عرب میں محاورہ یہ ہے کہ کسی چیز کے بدلے پر بھی اس کا نام بول دیتے ہیں۔ اور اسے مشا کلہ کہتے ہیں جیسے ﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُم﴾ (وہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں اور اللہ انہیں ان کے دھوکے کا بدلہ دیتا ہے) اب اللہ نے اپنے بھلانے کی جو جو سزا بھی مقرر کر رکھی ہے۔ ان سب سزاؤں پر اس لفظ کا اطلاق ہوگا۔ جیسا کہ ان سزاؤں کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے اس سے اگلی آیت میں کردی ہے یعنی اللہ کے بھلانے سے مراد ان پر اللہ کی پھٹکار اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔ التوبہ
68 التوبہ
69 [٨٣] یعنی قوم عاد، ثمود، نوح، ابراہیم وغیرہ وغیرہ ایسی اقوام تھیں جن کی شان و شوکت تم لوگوں سے بڑھ کر تھی۔ انہوں نے تم سے بہت زیادہ عیش و عشرت سے زندگی بسر کی تھی۔ وہ لوگ طاقت کے لحاظ سے بھی تم سے مضبوط تر تھے اور مال اور اولاد کے لحاظ سے بھی تم سے بہت آگے تھے۔ وہ لوگ بھی دنیا میں مست ہو کر آیات کو بھول گئے تھے۔ اس کی نافرمانیوں پر اتر آئے اور اللہ کی آیات سے مذاق اور دل بہلاوے کرنے لگے تھے۔ اور آج تم بھی بعینہ وہی کچھ کر رہے ہو۔ اللہ کو بھول جانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی نے دنیا میں کوئی اچھے کام کیے بھی ہوں تو آخرت میں وہ سب رائیگاں جائیں گے کیونکہ اعمال کی جزا تو صرف اس صورت میں ملتی ہے کہ اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان ہو اور جب یہ بنیاد ہی موجود نہ ہو تو پھر جزاء کیسی؟ اور اس سے بڑھ کر خسارہ کیا ہوسکتا ہے کہ کسی شخص کو اس کی کی ہوئی محنت کا ثمرہ ہی نہ مل سکے۔ التوبہ
70 [٨٤] یہ سب اقوام ایسی ہیں جن کا اپنے اپنے وقتوں میں ڈنکا بجتا تھا۔ پھر جب انہوں نے اللہ کے رسول اور اس کی آیات کو جھٹلایا اور نافرمانی اور مخالفت کی راہ اختیار کی تو ان پر اللہ کی طرف سے ارضی یا سماوی عذاب آیا جس نے انہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ ایسی قوموں کے حالات کی تفصیل پہلے سورۃ اعراف میں بھی گزر چکی ہے اور آئندہ بھی متعدد مقامات پر مذکور ہوگی۔ الٹائی ہوئی بستیوں سے مراد سیدنا لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیاں ہیں۔ سیدنا جبریل نے بحکم الٰہی ان بستیوں کو اپنے پر کے اوپر اٹھایا اور بلندیوں پر لے جا کر انہیں اٹھا کر زمین پر دے مارا تھا۔ پھر بھی اس قوم پر اللہ کا غضب کم نہ ہوا تو ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی۔ سیدنا لوط کا مرکز تبلیغ سدوم کا شہر تھا۔ اور یہ الٹائی ہوئی بستیاں غالباً آج کل بحیرہ مردار میں دفن ہوچکی ہیں۔ [٨٥] یعنی اللہ تعالیٰ کو نہ ان لوگوں سے کوئی دشمنی تھی، نہ انہیں عذاب دینے کا شوق تھا اور نہ ضرورت تھی بلکہ جس طریق زندگی کو انہوں نے اختیار کیا اور اس پر مصر رہے وہ راستہ ہی ہلاکت اور بربادی کا تھا اور اس بات کی اطلاع انہیں رسولوں کے ذریعہ دی جا چکی تھی۔ التوبہ
71 [٨٦] منافق کے مقابلہ میں مومنوں کی زندگی :۔ اب منافقوں کے مقابلہ میں اس آیت میں سچے مومنوں کے خصائل کا ذکر کیا جا رہا ہے اور بتلایا جا رہا ہے کہ اگرچہ منافق بھی مسلمانوں میں شامل رہتے ہیں اور ان سے ملے جلے رہتے ہیں مگر ان دونوں طبقوں کے اخلاقی مزاج، عادات و خصائل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ منافق برے کاموں پر خوش ہوتے ہیں اور ان میں مددگار ثابت ہوتے ہیں تو مومن برے کاموں سے خود بھی بچتے ہیں اور دوسروں کو بھی منع کرتے ہیں منافق اچھے کاموں پر خود بھی عمل پیرا نہیں ہوتے اور دوسروں کو بھی ان سے منع کرتے ہیں یا ایسے کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کردیتے ہیں جبکہ مومن خود بھی بھلے کام کرتے، دوسروں کو ان کی تلقین کرتے اور ایسے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کرتے ہیں۔ منافق کی نماز دکھلاوے کی ہوتی ہے جسے وہ ایک بیگار سمجھ کر ادا کرتا ہے، اسی طرح وہ زکوٰۃ بھی جرمانہ اور تاوان سمجھ کر ادا کرتا ہے تاکہ اسے مسلمانوں میں سے ہی سمجھا جا سکے جبکہ مومن یہ دونوں کام اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کے اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔ وہ یہ کام دل کی خوشی سے کرتے ہیں تاکہ انہیں اللہ کی رضا حاصل ہو۔ اس لحاظ سے مومن اور منافق اگرچہ ایک ہی امت کے اجزاء ہیں تاہم یہ ایک دوسرے کی عین ضد ہیں اور اسی لحاظ سے منافقوں کے کفر میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ کیونکہ وہ مومنوں کی عین ضد ہیں۔ التوبہ
72 [٨٧] اللہ کی خوشنودی سے مراد؟ جنت کی نعمتیں بے شمار، لاتعداد اور لازوال ہیں جن کا ذکر کتاب و سنت میں بہت سے مقامات پر آیا ہے اور صحیح احادیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کرنے کے بعد پکارے گا جنتی لبیک کہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا۔ ’’اب تم خوش ہو؟‘‘ وہ جواب دیں گے ’’پروردگار! کیا اب بھی ہم خوش نہ ہوں گے جب کہ تو نے یہاں ہمیں ہر طرح کی نعمتیں عطا کر رکھی ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’کیا میں تمہیں ان سب نعمتوں سے بڑھ کر نعمت نہ عطا کروں؟‘‘ جنتی پوچھیں گے ’’اے پروردگار! ان نعمتوں سے افضل اور کیا چیز ہو سکتی ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’اب میں تم پر اپنی رضا اور خوشنودی اتارتا ہوں اور آج کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب کلام الرب مع اہل الجنۃ) التوبہ
73 [٨٨] منافقوں پر غزوہ تبوک تک سختی کیوں نہ کی گئی؟۔ (١) آپ کی نرمی (٢) داخلی انتشار ( ٣) اغیار کے طعنے۔ یہ آیات غزوہ تبوک کے بعد نازل ہوئیں جبکہ منافقوں کو اپنی سازشوں اور اسلام دشمن سرگرمیوں میں نو سال گزر چکے تھے اب تک ان منافقوں سے جو نرم رویہ اختیار کیا جاتا رہا اس کی متعدد وجوہ تھیں۔ پہلی وجہ تو یہی تھی کہ آپ طبعاً نرم خو واقع ہوئے تھے۔ آپ کی طبیعت مجرم کو سرزنش کرنے یا سزا دینے کی بجائے اس سے درگزر کرنے اور اسے معاف کردینے کی طرف زیادہ مائل رہتی تھی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر آپ ان پر سختی کرتے تو مسلمانوں کے اندر داخلی فتنہ اٹھ کھڑا ہوتا اور غزوہ تبوک سے پہلے پہلے مسلمانوں کی سلطنت اتنی مضبوط نہیں تھی کہ بیرونی اور اندرونی ہر طرح کے خطرات کا مقابلہ کرسکے اور اگر ایسا کام کرنا ہی پڑتا تو اسلام کی نشر و اشاعت کے مقاصد بہت پیچھے جا پڑتے۔ اس کی تیسری وجہ اغیار یعنی غیر مسلموں کے طعنے تھے چنانچہ غزوہ بنی مصطلق کی واپسی پر جب عبداللہ بن ابی نے اوس اور خزرج کے درمیان انتشار کا فتنہ کھڑا کرنے کی کوشش کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نازیبا کلمات کہے تو سیدنا عمرضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ میں اسے قتل نہ کر دوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر سے کہا ’’نہیں جانے دو لوگ کیا کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرنے لگا ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ باب (یَقُوْلُوْنَ لَیِٕنْ رَّجَعْنَآ .....) منافقوں پر سختی اور جبر کی صورتیں :۔ مگر جب ان لوگوں کی ریشہ دوانیاں حد سے بڑھ گئیں تو ان آستین کے سانپوں سے سختی سے نمٹنے کا حکم دیا گیا۔ واضح رہے کہ کفار سے جہاد سے مراد بسا اوقات تلوار سے جنگ ہی ہوتی ہے۔ مگر منافقوں سے ایسی جنگ اس لیے نہیں کی جا سکتی کہ اسلامی احکام ظاہری احوال پر لاگو ہوتے ہیں اور باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہوتا ہے۔ اور منافقوں کو اسلام لانے کا سب سے بڑا فائدہ ہی یہ تھا کہ ان کے جان و مال محفوظ رہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان منافقوں سے کسی وقت بھی قتال بالسیف نہیں کیا۔ یہاں منافقوں سے جہاد اور ان پر سختی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ ان کی باتوں پر اعتماد نہ کیا جائے۔ ان کی فتنہ پردازیوں پر پردہ نہ ڈالا جائے تاکہ انہیں مسلم معاشرہ میں نفاق کا زہر پھیلانے کا موقع نہ مل سکے اور ان کی سازشوں کو کھلم کھلا بے نقاب کیا جائے۔ ان کی شہادت کو معتبر نہ سمجھا جائے۔ انہیں جماعتی مشوروں سے الگ رکھا جائے کوئی عہدہ یا منصب ان لوگوں کے سپرد نہ کیا جائے۔ ان سے مخلصانہ میل جول اور تعلقات قطع کیے جائیں تاکہ ان لوگوں پر خوب واضح ہوجائے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں ان کے لیے عزت و وقار کا کوئی مقام نہیں ہے۔ التوبہ
74 [٨٩] توہین رسالت کلمہ کفر ہے :۔ وہ کفر کا کلمہ کیا تھا جو ان منافقوں نے بکا تھا ؟ قرآن نے یہاں اس کی تصریح نہیں کی۔ یہ اس لیے کہ یہ کوئی ایک آدھ واقعہ نہ تھا بلکہ ان لوگوں نے کئی موقعوں پر ایسے کفر کے کلمے کہے تھے جیسا کہ روایات میں مذکور ہے مگر ہم اسی واقعہ پر اکتفا کریں گے جو سورۃ منافقون میں اجمالاً اور بخاری میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے۔ سیدنا زید بن ارقم کہتے ہیں کہ ایک لڑائی میں (غزوہ بنی مصطلق سے واپسی پر جب مہاجرین اور انصار میں جھگڑا ہوگیا تو) میں نے عبداللہ بن ابی کو یہ کہتے سنا ’’لوگو! تم ایسے کرو کہ پیغمبر کے پاس جو لوگ (مہاجرین) جمع ہوگئے ہیں تم ان کو خرچ کے لیے کچھ نہ دو۔ وہ خودبخود اسے چھوڑ کر چلے جائیں گے اور اگر ہم لڑائی سے لوٹ کر مدینہ پہنچے تو عزت والا (یعنی عبداللہ بن ابی خود) ذلت والے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نکال باہر کرے گا۔ میں نے اس کی یہ باتیں اپنے چچا (سعد بن عبادہ) سے یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیں۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مجھے بلایا اور دریافت کیا تو میں نے ان باتوں کا اقرار کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلایا تو وہ مکر گئے اور قسمیں کھانے لگے کہ ہم نے ہرگز ایسا نہیں کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا سمجھا اور عبداللہ بن ابی کو سچا (کیونکہ وہ اور اس کے ساتھی بھی قسمیں کھا رہے تھے) مجھے اس بات کا اتنا رنج ہوا جتنا پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ میں گھر میں بیٹھ رہا۔ میرے چچا کہنے لگے ’’ارے! یہ تم نے کیا کیا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے جھوٹا سمجھا اور ناراض ہوئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے سورۃ منافقون نازل فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا اور یہ سورۃ منافقون مجھے پڑھ کر سنائی۔ بعد میں فرمایا:زید اللہ نے تمہاری تصدیق فرما دی۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ المنافقون) [٩٠] منافقوں کی چند سازشیں جن میں وہ ناکام رہے :۔ ایسے واقعات بھی بے شمار ہیں جو کتاب و سنت سے ثابت ہیں مثلاً ایک وہی واقعہ جو اوپر بیان ہوا۔ دوسرے ہر جنگ میں ان کی قریش مکہ سے یا یہودیوں سے سازباز رہتی تھی کہ مسلمانوں کو شکست سے دو چار ہونا پڑے وہ اس مقصد میں بھی ناکام رہے۔ تیسرے انہوں نے اپنی خفیہ سازشوں اور فتنہ انگیزیوں کے لیے مسجد ضرار کی شکل میں ایک پرفریب اڈا تعمیر کیا تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک سے واپسی پر فوراً بحکم الٰہی آگ لگوا کر تباہ کردیا اور چوتھے اس غزوہ تبوک کی مناسبت سے وہ واقعہ ہے جو اس سفر سے واپسی کے دوران پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قاتلانہ حملہ کی ناکام سازش :۔ اور جس میں منافقوں نے معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردینے کی سازش تیار کر رکھی تھی اور ان سازشیوں کو بعد میں اہل عقبہ (گھاٹی والے) کا نام دیا گیا۔ ان کا پروگرام یہ تھا کہ رات کے وقت پہاڑی کے دشوار گزار رستوں پر چلتے چلتے گھاٹی کی جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر سے الگ لے جا کر اچانک آپ پر حملہ کردیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری سے اٹھا کر نیچے گھاٹی میں پھینک کر ہلاک کردیا جائے اور اس واقعہ کی کسی کو خبر بھی نہ ہو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی پر پہنچے تو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی مطلع فرما دیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ سارے لشکر میں منادی کر دے کہ کوئی شخص گھاٹی کی طرف نہ آئے اور بطن وادی کی طرف سے جائے جو آسان اور کھلا راستہ ہے۔ اس وقت سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو آگے سے پکڑے چل رہے تھے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ پیچھے سے چلا رہے تھے اس اعلان پر سب مسلمانوں نے بطن وادی کی راہ لی مگر یہ منافقین صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے حکم کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے ناپاک ارادہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے درپے تھے اچانک چار منافق اپنے چہروں پر ڈھاٹے باندھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ کو حکم دیا کہ ان منافقوں کی سواریوں کے چہروں پر کاری ضربیں لگائیں۔ انہوں نے اپنی ڈھال سے ان کی سواریوں کے چہروں پر زور دار حملے کیے، ساتھ ہی یہ کہتے جاتے تھے ’’اللہ کے دشمنو! دفع ہوجاؤ۔‘‘ سیدنا حذیفہ کی اس پکار سے منافقوں کو معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ارادہ کی اطلاع ہوچکی ہے۔ لہٰذا یہ لوگ جلدی جلدی مسلمانوں کے لشکرسے جا ملے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان منافقوں اور ان کے باپوں تک کے نام سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بتلا دیئے تھے اور یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ان کے نام کسی کو نہ بتلائے جائیں۔ سیدنا حذیفہ ان منافقوں کو پوری طرح پہچانتے تھے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ راز افشا نہیں کرتے تھے اسی لیے آپ کو ’’رازدان رسول‘‘ کہا جاتا ہے۔ صحیح مسلم کی درج ذیل حدیث اس واقعہ پر پوری روشنی ڈالتی ہے۔ ایک دفعہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور عقبہ والوں میں سے ایک شخص کے درمیان جھگڑاہو گیا۔ اس شخص نے کہا’’میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ عقبہ والے کتنے تھے؟ لوگوں نے سیدنا حذیفہ کو کہا کہ جب وہ پوچھتا ہے تو آپ بتلا دیجئے۔ سیدنا حذیفہ کہنے لگے’’ہمیں خبر دی گئی ہے کہ وہ چودہ تھے اور اگر تو بھی ان میں شامل تھا تو پندرہ تھے اور میں اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے بارہ تو دنیا اور آخرت میں اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں۔ باقی رہے تین تو انہوں نے عذر کیا تھا کہ ہم نے اللہ کے رسول کی منادی کی آواز نہیں سنی تھی۔ اور نہ ہمیں یہ معلوم ہوسکا کہ ان لوگوں کا ارادہ کیا تھا۔‘‘ (مسلم۔ کتاب صفۃ المنافقین واحکامھم ) [٩١] مسلمانوں کے ساتھ ساتھ منافقوں کی بھی آسودگی :۔ جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آئے تو اس وقت مدینہ کی معیشت پر یہودی چھائے ہوئے تھے۔ وہ مالدار اور سودخوار قوم تھی۔ تجارت ان کے ہاتھ میں تھی۔ وہی جنگی آلات بناتے اور بیچتے تھے۔ علاوہ ازیں شراب کا کاروبار بھی کرتے تھے۔ اس معاشی برتری کے ساتھ ساتھ اوس اور خزرج کو آپس میں لڑا کر سیاسی برتری بھی انہوں نے حاصل کر رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو یہ سیاسی برتری یہود کے بجائے مسلمانوں کے حصہ میں آ گئی۔ مواخات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے مسلمانوں کی معیشت سنبھلتی گئی۔ پھر اموال غنیمت سے مسلمان آسودہ ہوگئے اور ان سب باتوں میں منافق بھی حصہ دار تھے۔ اللہ تعالیٰ منافقوں سے یہ فرما رہے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی وجہ سے تو تمہیں آسودگی حاصل ہوئی ہے پھر اگر انہی سے دشمنی کر کے ان سے نمک حرامی کا ثبوت دو گے تو تمہیں دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں سخت عذاب بھگتنا پڑے گا۔ التوبہ
75 التوبہ
76 [٩٢] منافقوں کا زکوٰۃ کو تاوان سمجھنا :۔ یہ بھی کسی ایک شخص کی بات نہیں بلکہ منافقوں کی اکثریت ایسی ہی تھی کہ پہلے تو دعائیں مانگتے کہ ہم مال دار ہوجائیں پھر ہم اتنی اور اتنی خیرات کریں گے فلاں فلاں نیک کام کرینگے۔ اللہ کی شکر گزاری کریں گے۔ مگر جب ان پر اللہ اپنا فضل وکرم کرتا تو بخل کرنے لگتے اور یہ دعویٰ کرتے کہ یہ مال تو ہماری اپنی دن رات کی محنت کا نتیجہ ہے۔ حدیث میں منافق کی تین نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے اور ایک دوسری حدیث کے مطابق چوتھی علامت یہ ہے کہ جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔ حقیقت میں زکوٰۃ نہ دینے والا اور اس کا انکار کرنے والا پکا کافر ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے :۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ لوگ کافر ہوگئے ( اور زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ لوگوں سے کیونکر جہاد کریں گے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہیں۔ جب یہ کہنے لگیں تو انہوں نے اپنے مال اور جانیں مجھ سے بچالیں مگر حق کے ساتھ۔ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوگا۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا میں تو اللہ کی قسم اس سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا۔ کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ واللہ! اگر یہ لوگ ایک بکری کا بچہ بھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے مجھے نہ دیں گے تو میں ان سے ضرور لڑائی کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا اور میں جان گیا کہ حق یہی ہے۔ ( بخاری۔ کتاب الزکوۃ) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا کہ کوئی آدمی ایسا نہیں جو پانچوں نمازیں ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے اور اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے اور سات کبیرہ گناہوں سے بچے مگر اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اسے کہا جائے گا کہ سلامتی کے ساتھ (جنت میں) داخل ہوجا۔ (سنن النسائی۔ باب وجوب الزکوۃ) التوبہ
77 [٩٣] ان آیات سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ جو شخص اپنے دل کی خوشی کے بجائے زکوٰۃ کو تاوان سمجھ کر یا معاشرہ کے دباؤ کے تحت مجبور ہو کر بادل نخواستہ زکوٰۃ ادا کرے وہ منافق ہے اور دوسرے یہ کہ ایسے منافق کی زکوٰۃ قبول نہیں کی جائے گی اور اگر وہ ازخود ادا کر بھی دے تو اس کا آخرت میں اسے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ منافقوں کا قصور یہی نہیں ہوتا تھا کہ دعا کے وقت جو وہ انفاق فی سبیل اللہ کا وعدہ کرتے تھے وہ پورا نہ کرتے تھے بلکہ آپ کے محصل کے سامنے جھوٹ بول کر ٹال مٹول بھی کرتے رہتے تھے۔ جبکہ آج کل کے بعض نام نہاد مسلمانوں کا بھی یہی وطیرہ ہے۔ التوبہ
78 التوبہ
79 [٩٤] غزوہ تبوک کے لئے چندہ دینے والے :۔ غزوہ تبوک کے موقعہ پر قحط سالی بھی تھی۔ ابھی فصلیں بھی نہیں پکی تھیں۔ سفر بھی دور دراز کا تھا۔ مقابلہ بھی رومیوں سے تھا اور اسلحہ اور سواری کی بھی خاصی قلت تھی۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد فنڈ کے لیے پرزور اپیل کی جس کے نتیجہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اتنا چندہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا آدھا اثاثہ بانٹ کر جہاد فنڈ کے لیے لے آئے اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سارا ہی اثاث البیت لے کر حاضر ہوگئے اور ہر مسلمان نے اس فنڈ میں حسب توفیق حصہ لیا۔ نادار لوگوں نے اپنی حیثیت کے مطابق اور اغنیاء نے اپنی حیثیت اور رغبت کے مطابق۔ ایک صحابی ابو عقیل نے رات بھر مزدوری کی جس کی اجرت ایک صاع کھجور تھی۔ ان میں سے آدھا صاع گھر لے گیا اور آدھا صاع لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کردیا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ توبہ زیر آیت ہذا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آدھے صاع سے اتنی خوشی ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجوریں ڈھیر کے اوپر پھیلا دیں۔ یہ دراصل آدھا صاع کھجور کی قدر و قیمت نہ تھی بلکہ اس نیت، شوق اور رغبت کی تھی جس کی بنا پر اس نے اہل و عیال کا پیٹ کاٹ کر آدھا صاع حاضر کردیا تھا۔ چندہ دینے والوں کو منافقوں کی طعنہ زنی :۔ اس موقعہ پر منافقوں کو پھبتیاں کسنے کا خوب موقع ملا۔ اگر کسی نے جی کھول کر چندہ دیا ہوتا تو کہتے کہ یہ سب کچھ دکھلاوا اور ریاکاری ہے۔ اور اگر کوئی تھوڑا دیتا تو کہتے کہ اتنے مال سے کونسی جنگی ضرورت پوری ہو سکتی ہے یہ لوگ تو لہو لگا کے شہیدوں میں اپنا نام لکھوانا چاہتے ہیں۔ اور اللہ کو اس کی کیا پروا تھی۔ غرض ان کی طعن و ملامت سے کوئی بھی نہ بچتا تھا۔ یہی پس منظر اس آیت کا شان نزول ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :۔ ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ جب ہمیں صدقہ کا حکم دیا گیا ہم اس وقت مزدوری پر بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔ ابو عقیل (اسی مزدوری سے) آدھا صاع کھجور لے کر آئے تو منافق کہنے لگے : ابو عقیل کی خیرات کی بھلا اللہ کو کیا پروا تھی۔ ایک اور آدمی (عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ) بہت سا مال لائے تو منافق کہنے لگے کہ اس نے ریا (ناموری) کے لیے اتنا مال خیرات کیا ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔) (مسلم۔ کتاب الزکوٰۃ باب الحمل باجرۃ یتصدق بھا ) التوبہ
80 [٩٥] آپ کا عبداللہ بن ابی منافق کا جنازہ پڑھانے کی وجوہ :۔ غزوہ تبوک سے واپسی کے تھوڑی ہی مدت بعد عبداللہ بن ابی بن سلول کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بیٹے کا نام بھی عبداللہ تھا اور یہ پکے سچے مسلمان صحابی تھے اور اپنے باپ کی کرتوتوں سے خوب واقف تھے۔ جب غزوہ بنی مصطلق کے واپسی سفر کے دوران عبداللہ بن ابی نے کہا تھا کہ مدینہ جا کر عزت والا (یعنی خود) ذلت والے کو مدینہ سے نکال کر باہر کرے گا۔ تو یہ اپنے باپ کی راہ روک کر کھڑے ہوگئے جس کا مطلب یہ تھا کہ میری بھی نظروں میں چونکہ تم ہی ذلیل ہو لہٰذا تمہیں مدینہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگی تب عبداللہ رضی اللہ نے اپنے باپ کو مدینہ میں داخل ہونے دیا تھا۔ مگر باپ کی وفات پر خون نے جوش مارا اور طبیعت میں رحم، ہمدردی اور پدرانہ شفقت کے جذبات ابھر آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتہ مانگا تاکہ اس میں باپ کو دفن کریں تاکہ شاید کچھ عذاب میں کمی واقع ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین وجوہ کی بنا پر اسے کرتہ دے دیا ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی طبیعت میں رحم اور عفو کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، دوسرے یہ کہ اساریٰ بدر کے فیصلہ کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا عباس ننگے تھے۔ وہ طویل القامت تھے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی سے قمیص مانگی جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے قد کے موافق تھی۔ وہ اس نے دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس احسان کا بدلہ چکا دیں۔ اور تیسرے یہ کہ اس حالت میں عبداللہ صحابی کا دل شکستہ نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی درخواست پر اس منافق کا جنازہ پڑھانے کے لیے اس کے ساتھ ہوئے نیز اس کے منہ میں اپنا لعاب دہن بھی لگایا۔ مزید تفصیل درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے :۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول مر گیا تو اس کے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور درخواست کی کہ اپنا کرتہ عنایت فرمائیے تاکہ میں اپنے باپ کو اس میں کفن دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرتہ دے دیا۔ پھر اس نے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز جنازہ پڑھیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھام لیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ اس پر نماز پڑھتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے لوگوں پر نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے (منع نہیں کیا بلکہ) اختیار دیا ہے اور فرمایا ہے تو ان لوگوں کے لئے دعا کرے یا نہ کرے اگر تو ستر بار بھی ان کے لیے دعا کرے تب بھی اللہ انہیں بخشے گا نہیں۔ میں ایسا کروں گا کہ ستر بار سے زیادہ دفعہ اس کے لیے دعا کروں گا۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وہ تو منافق تھا اور اس کی کئی کرتوتیں یاد دلائیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے باوجود) اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ منافقوں میں جب کوئی مر جائے تو نہ اس کی نماز جنازہ پڑھو اور نہ ہی (دعائے خیر کے لیے) اس کی قبر پر کھڑے ہونا (٩ : ٨٤) (بخاری۔ کتاب التفسیر نیز کتاب الجنائز۔ باب الکفن فی القمیص) (مسلم۔ کتاب فضائل الصحابہ۔ باب من فضائل عمر) نیز اسی سورۃ کی آیت نمبر ٨٤ کا حاشیہ نمبر ٩٩ بھی اسی سے متعلق ہے۔ التوبہ
81 [٩٦] منافقوں کا غزوہ تبوک میں شامل ہونے والوں کی حوصلہ شکنی :۔ منافق بظاہر تو اللہ اور رسول پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن اس دعویٰ کی تصدیق کے لئے جن اعمال صالحہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان میں مفقود تھے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے نہ ان کے دعوؤں کو قابل اعتبار سمجھا اور نہ ان کی قسموں کو۔ اسی وجہ سے متعدد مقامات پر انہیں جھوٹا کہا اور بعض دوسرے مقامات پر کافر قرار دیا ور کہیں دونوں صفات کو ملا کر بیان کیا۔ اپنے دعوٰی کے خلاف اعمال میں سے ہی ایک یہ تھا کہ ان میں سے کچھ لوگ تو اپنے اموال اور جانوں سے جہاد کرتے ہی نہ تھے اور جو جاتے تھے وہ بھی بادل نخواستہ جاتے تھے تاکہ مسلمان انہیں منافق نہ سمجھنے لگیں اور ایک صفت ان میں مشترکہ یہ تھی کہ جہاد پر جانے والوں کی حوصلہ شکنی کیا کرتے تھے۔ غزوہ تبوک کے اعلان جہاد کے وقت چونکہ گرمی زوروں پر تھی اور سفر بھی طویل اور تکلیف دہ تھا۔ لہٰذا انہوں نے اپنے ساتھیوں کو اسی وجہ سے جہاد سے روکنا شروع کردیا۔ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس گرمی کا علاج تو تم نے سوچ لیا مگر اس کے بدلے جہنم کی آگ جو اس گرمی سے ستر گنا زیادہ گرم ہوگی اس کا کیا علاج کرو گے؟ التوبہ
82 [٩٧] جس قسم کے کام یہ دنیا میں کر رہے ہیں چاہیے تو یہ تھا کہ یہ بہت کم ہنستے اور روتے زیادہ۔ اور اگر آج انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی تو قیامت میں انہیں یہی کچھ کرنا پڑے گا۔ التوبہ
83 [٩٨] منافقوں کے وعدے ناقابل اعتماد ہیں :۔ اس آیت میں منافقوں کی سیرت پر تبصرہ کیا گیا ہے یعنی جب آپ غزوہ تبوک سے واپس مدینہ پہنچیں گے تو جو منافق اس جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے آئندہ کسی جنگ میں آپ کا ساتھ دینے کے پرزور دعوے کریں گے تو آپ ان کے ایسے دل خوش کردینے والے اور زبانی دعوؤں کا قطعاً اعتبار نہ کیجئے۔ کیونکہ اگر کوئی ایسا وقت آ بھی گیا تو یہ لوگ اس وقت بھی یہی کچھ کریں گے جو اس دفعہ کرچکے ہیں۔ یعنی پھر وہ جھوٹے بہانے تراش تراش کر آپ سے معذرت کرنے لگیں گے تو اس سے بہتر یہی ہے کہ ابھی سے انہیں پکی رخصت دے دو اور کہہ دو کہ تمہارے نصیب میں بس عورتوں اور بچوں کی طرح پیچھے رہنا ہی لکھا ہے۔ لہٰذا تم خوش ہو لو۔ اس طرح آئندہ تمہیں نہ کوئی حیلہ بہانہ گھڑنا پڑے گا اور نہ کسی معذرت کی ضرورت پیش آئے گی۔ التوبہ
84 [٩٩] منافقوں کے لئے مغفرت بے فائدہ ہے :۔ اس آیت کا تعلق اسی سورۃ کی آیت نمبر ٨٠ سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کا جنازہ پڑھایا تو وہ اس لحاظ سے تھا کہ منافقین اگرچہ دل سے کافر تھے مگر ظاہری طور پر ان پر شرعی احکام ویسے ہی نافذ ہوتے تھے جیسے سچے مومنوں پر لاگو ہوتے تھے اور حدیث مندرجہ بالا سے واضح ہے کہ بالخصوص جنازہ پڑھانے اور دعائے مغفرت کرنے کے بارے میں سیدنا عمر کی رائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے سے مختلف تھی حتیٰ کہ سیدنا عمر نے آپ سے تکرار بھی کی اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر کی رائے کے مطابق وحی نازل فرمائی۔ جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اب منافقوں سے نرم قسم کی پالیسی اختیار کرنے کا دور گزر چکا تھا۔ اور ان سے سخت رویہ اختیار کرنا عین منشائے الٰہی کے مطابق تھا۔ ضمناً ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ آپ کے کسی گنہگار کے حق میں استغفار کرنے سے اس کی معافی ہو سکتی ہے۔ لیکن بد اعتقاد لوگوں کی معافی کی کوئی صورت نہیں خواہ آپ کتنی ہی زیادہ دفعہ اس کے لیے استغفار کریں۔ منافقوں کی نماز جنازہ :۔ چنانچہ اس حکم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کی نماز جنازہ پڑھانا یا ان کے حق میں استغفار کرنا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعد کسی پر نفاق کا فتویٰ لگانا بہت مشکل کام ہے کیونکہ دلوں کے احوال تو اللہ ہی جانتا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے دور میں یہ دیکھتے تھے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ جنازہ میں شریک ہیں یا نہیں۔ اگر وہ شریک ہوتے تو آپ بھی شریک ہوجاتے تھے اور اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ وہ صاحب جنازہ مومن آدمی تھا۔ منافق نہیں تھا۔ کیونکہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کی پہچان کرا دی تھی اور وہ ’’رازدان رسول‘‘ تھے۔ التوبہ
85 [١٠٠] اس آیت کا پورا مضمون اسی سورۃ کی آیت نمبر ٥٥ میں گزر چکا ہے لہٰذا اس کی تشریح کے لیے آیت نمبر ٥٥ کا حاشیہ نمبر ٥٩ دیکھ لیا جائے۔ التوبہ
86 التوبہ
87 [١٠١] مال و دولت، خوشحالی اور آسودگی اگرچہ اللہ کی نعمت ہے مگر جب یہی چیزیں اللہ کے احکام کی تعمیل میں رکاوٹ بن جائیں تو یہی انسان کے لیے فتنہ اور عذاب کا باعث بن جاتی ہیں۔ ایک تو ان میں نفاق کا مرض پہلے ہی موجود تھا دوسرے عیش و آرام کی زندگی بھی میسر ہو تو منافقوں کو جہاد میں مال و دولت کا خرچ کرنا اور سفر کی صعوبتیں کیسے گوارا ہو سکتی تھیں۔ چنانچہ ایسے موقعوں پر حیلہ بازیاں اور معذرتیں کرنا ان کی ایک عادت ثانیہ سی بن چکی تھی۔ ان کی اسی عادت کو اللہ تعالیٰ نے مہر لگانے سے تعبیر کیا ہے۔ لہٰذا اگر انہیں جہاد کی ترغیب دی جائے تو اب ان کے دلوں پر رتی بھر بھی اثر نہیں ہوتا۔ مزید برآں اپنی اس بزدلی اور بے غیرتی پر شرمانے کی بجائے پیچھے رہنے پر خوش ہوتے ہیں۔ التوبہ
88 [١٠٢] یہاں درمیان میں حقیقی مسلمانوں، جہاد کے سلسلہ میں ان کی مخلصانہ کوششوں اور ان کے اجر کا ذکر منافقوں کے کردار کے بالکل برعکس بیان ہو رہا ہے جیسا کہ قرآن میں اکثر یہی سنت جاری ہے۔ اس کے بعد پھر رخصت لینے والوں اور منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ التوبہ
89 التوبہ
90 [١٠٣] بہانے تراشنے والے بدوی منافقین :۔ مدینہ کے آس پاس آباد ہونے والے لوگوں کو اعراب یا بدوی (یعنی دیہاتی) کہا جاتا تھا۔ ان میں بھی منافقین کا عنصر موجود تھا۔ اس آیت میں ایسے ہی منافقوں کا ذکر ہے جو جہاد کے اعلان سے پہلے تو بلند بانگ دعوے کرتے تھے مگر وقت آنے پر اپنے عہد سے پھر گئے اور مدینہ کے منافقوں کی طرح بہانے تراش کر جہاد سے رخصت مانگنے لگے تھے۔ اگلی آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو فی الواقع معذور ہوتے ہیں۔ نیز یہ کہ ان کا عذر کس شرط کے تحت قابل قبول سمجھا جا سکتا ہے۔ التوبہ
91 [١٠٤] تین طرح کے معذور اور عذر قبول ہونے کی شرط خیرخواہی اور اموال غنیمت میں ان کا حصہ :۔ اس آیت میں تین طرح کے لوگوں کو جہاد سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ ایک وہ جو بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے اتنے کمزور ہوچکے ہوں کہ جہاد پر جانے کے قابل ہی نہ رہے ہوں۔ دوسرے مریض جو اس وقت جہاد پر جا ہی نہ سکتے ہوں اور اس شق میں ایسے تیماردار بھی شامل ہیں جن کا بیمار کے پاس رہنا لازمی ہو اور اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو جیسے غزوہ بدر میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ صرف اس وجہ سے شامل نہ ہو سکے تھے کہ ان کی زوجہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیمار تھیں اور جب مجاہدین واپس آئے تو ان کی وفات ہوچکی تھی۔ اور تیسرے وہ لوگ جن کے پاس جہاد کے لیے خرچ نہ ہو۔ کیونکہ اس دور میں ہر مجاہد کو اپنی سواری، اسلحہ اور زاد راہ کا خود انتظام کرنا ہوتا تھا اور اس کے عوض انہیں مال غنیمت سے مقررہ حصہ ملتا تھا۔ پھر ان تینوں قسم کے معذورین کے ساتھ یہ لازمی شرط بھی عائد کردی کہ ’’وہ اللہ اور اس کے رسول کے خیر خواہ ہوں۔‘‘ بالفاظ دیگر جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے خیر خواہ نہ ہوں ان کا کوئی عذر قابل قبول نہ ہوگا کیونکہ ایسے لوگ صرف منافق ہی ہو سکتے ہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک شخص بیمار ہے اور اس بیماری کی حالت میں جہاد کا اعلان ہوجاتا ہے۔ اب اگر وہ شخص منافق ہے تو اس کے احساسات یہ ہوں گے کہ کیا اچھا ہوا کہ میں اس وقت بیمار ہوں اور جہاد سے بچنے کا یہ کیسا معقول بہانہ میسر آ گیا ہے۔ اس کے برعکس ایک مومن کے احساسات یہ ہوں گے کہ کاش میں اس وقت بیمار نہ ہوتا اور اس اجر سے محروم نہ رہتا جو جہاد کرنے والوں کو ملے گا، یا وہ یہ آرزو کرے گا کہ اللہ اسے جلد از جلد صحت عطا کرے تاکہ وہ بھی جہاد میں شامل ہو سکے یا وہ اپنے تیمارداروں سے کہے گا کہ میرا اللہ مالک ہے تم وقت ضائع نہ کرو اور جہاد پر چلے جاؤ۔ غرض ایک ایک بات سے انسان کی نیت اور احساسات کا پتہ چل سکتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ مریض ہونے کے لحاظ سے تو یہ دونوں یکساں ہیں مگر ان کے احساسات بالکل متضاد ہیں کہ یہ احساسات ہی انہیں منافق اور مومن کی قسموں میں تقسیم کردیتے ہیں اور جن لوگوں کے احساسات میں اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی ہے انہی کا عذر شرعی لحاظ سے قابل قبول ہے اور ایسے لوگوں کو جہاد میں شامل ہی سمجھا جائے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جب تم کوئی سفر کرتے ہو یا کوئی وادی عبور کرتے ہو تو وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : اس کے باوجود کہ وہ مدینہ میں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اس کے باوجود کہ وہ مدینہ میں ہیں انہیں عذر نے روکا ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب نزول النبی الحجر۔ مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب ثواب من حبسہ عن الغزو مرض او عذر ) بلکہ ایسے معذور لوگوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اموال غنیمت سے حصہ بھی نکالا ہے۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ جنگ خیبر کی فتح کے فوراً بعد جو مہاجر حبشہ سے ہجرت کر کے پہنچے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اموال غنائم میں شریک کرلیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ خیبر) التوبہ
92 [١٠٥] حقیقی معذوروں کی کیفیت، سواری مانگنے والے :۔ اس آیت میں ایسے حقیقی مومنوں کا ذکر ہے جن کے لیے شرعی عذر موجود تھا۔ یعنی اتنے طویل سفر کے لیے سواری کا بندوبست نہ تھا تاہم وہ جہاد پر جانے کے لیے بے چین تھے۔ وہ درخواست لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری کا کوئی بندوبست کر دیجئے۔ اتفاق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی اس وقت سواری کا کوئی بندوبست نہ تھا لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دے دیا۔ جس سے انہیں اس قدر صدمہ ہوا کہ آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور وہ صدمہ صرف یہ تھا کہ شاید اب ہم جہاد پر نہ جا سکیں گے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ساتھیوں نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری مانگنے کے لیے بھیجا۔ میں نے جا کر عرض کی ’’یا رسول اللہ! میرے ساتھیوں نے مجھے سواری طلب کرنے کے لیے آپ کے پاس بھیجا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’واللہ میں تمہیں کوئی سواری نہ دوں گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غصہ میں تھے مگر میں سمجھا نہیں۔ میں غمگین ہو کر واپس آیا اور اپنے ساتھیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کی اطلاع دی۔ مجھے ایک تو یہ غم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سواری نہ دی اور دوسرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں مجھ سے خفا نہ ہوجائیں۔ مجھے واپس آئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے سنا بلال رضی اللہ عنہ مجھے پکار رہے ہیں۔ میں نے جواب دیا تو وہ کہنے لگے ’’چلو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بلا رہے ہیں۔‘‘ میں حاضر خدمت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یہ اونٹ کے جوڑے ہیں چھ اونٹ لے لو اور اپنے ساتھیوں سے کہنا کہ یہ اونٹ اللہ نے یا اللہ کے رسول نے تمہیں سواری کے لیے دیئے ہیں انہیں کام میں لاؤ۔‘‘ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوہ تبوک وہی غزوۃ العسرۃ) اور بخاری ہی کی ایک دوسری حدیث میں یہ تفصیل بھی موجود ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ نے تو سواری نہ دینے کی قسم کھائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب مجھے بہتر عمل کرنے کا موقع ملتا ہے تو میں وہ کام کرلیتا ہوں اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور) التوبہ
93 التوبہ
94 [١٠٦] عذر اور توبہ کے سچا ہونے کا معیار آئندہ کا عمل ہے :۔ کچھ منافق تو ایسے تھے جنہوں نے غزوہ تبوک پر روانگی سے پہلے ہی حیلے بہانے بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت طلب کرلی تھی۔ اور بہت سے ایسے تھے جو رخصت کے بغیر ہی مدینہ میں رہ گئے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئیں تو معذرت کرلی جائے۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو منافقین آنے لگے اور اپنے اپنے بہانے پیش کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اللہ کی ہدایت کے مطابق کہہ دیا کہ پہلے جو کچھ تم نے کیا ہے وہ ہمیں معلوم ہوچکا ہے۔ اب آئندہ کے طرز عمل کی فکر کرو۔ تمہارا آئندہ کا طرز عمل ہی اس چیز کی وضاحت کرے گا کہ تم ان بہانوں میں کہاں تک سچے تھے۔ التوبہ
95 [١٠٧] قسمیں کھانے کا مقصد یہ ہے کہ انہیں مسلمان ہی سمجھا جائے :۔ یعنی جب وہ آ کر اپنے عذر پیش کر کے اپنے بیان پر قسمیں کھانے لگے تو ان سے مختلف سوالات کر کے ان کے بیانات کی تحقیق نہ شروع کردینا۔ وہ اپنے عذر اس لیے پیش نہیں کر رہے کہ آپ ان سے سوالات شروع کردیں بلکہ اس لیے کہ آپ ان سے درگزر کریں اور کچھ تعرض نہ کریں۔ سو آپ ان سے پوری طرح اعراض کیجئے۔ کیونکہ یہ نجس اور بد باطن لوگ ہیں۔ مسلمانوں کو ان سے میل ملاپ بھی نہ رکھنا چاہیے تاکہ انہیں اپنے کرتوتوں کا کچھ احساس ہوجائے۔ ان کے قسمیں کھانے کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ آپ ان سے راضی رہیں۔ اور ان سے مسلمانوں کے تعلقات ویسے ہی برقرار رہیں جیسے پہلے تھے لیکن نفاق پوری طرح کھل جانے کے بعد کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ ان سے دوستی یا محبت کے تعلقات برقرار رکھے۔ کیونکہ اللہ ایسے منافقوں سے کبھی راضی نہ ہوگا۔ التوبہ
96 التوبہ
97 [١٠٨] بدوی کافروں اور منافقوں کے خصائل :۔ جنگلوں، صحراؤں اور دیہاتوں میں رہنے والے بدوؤں کی تعداد شہری آبادی سے زیادہ تھی اور یہ سب ایسے لوگ تھے جن کے سامنے زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہوتا ماسوائے اس کے کہ کسی نہ کسی طرح شکم پروری کرلی جائے ان کی زندگی حیوانی زندگی کی سطح پر ہی ہوتی ہے اس سے زیادہ نہ انہیں کبھی سوچنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور نہ وہ سوچ ہی سکتے ہیں۔ مدینہ میں جب اسلامی ریاست کی داغ بیل پڑگئی۔ تو انہیں بھی ایسی موٹی موٹی خبریں پہنچتی رہتی تھیں۔ ان لوگوں کا کوئی اخلاقی نظریہ تو ہوتا ہی نہیں۔ وہ صرف یہ دیکھ رہے تھے کہ ان مسلمانوں اور قریش مکہ میں جو محاذ آرائی شروع ہے تو ان میں سے کون غالب آتا ہے تاکہ جو فریق غالب آئے یہ بھی اس کے ساتھ لگ جائیں۔ اس طرح انہوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام تو قبول کرلیا مگر یہ صرف چڑھتے سورج کو سلام کرنے کے مترادف تھا۔ اس سے ان کے اخلاق یا مقاصد میں کوئی بلند نظری پیدا نہیں ہوئی تھی۔ دین کو سمجھنے کے معاملہ میں دیہاتی لوگ زیادہ اجڈ ہوتے ہیں :۔ وہ اسلام صرف اس لیے لائے تھے کہ اب اسلام لانے میں ہی انہیں زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن جو پابندیاں اسلام کی رو سے عائد ہوتی ہیں مثلاً نماز کا باقاعدہ اہتمام، زکوٰۃ کی ادائیگی، اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد اور اس راہ میں پیش آنے والے مصائب پر صبر اور برداشت وغیرہ ان باتوں کے لیے یہ لوگ ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔ ایسے لوگوں کی طبیعت میں صحرائی زندگی کی وجہ سے اجڈ پن اور اکھڑ پن موجود ہوتا ہے پھر علم و حکمت کی مجلسوں سے دور رہنے کی وجہ سے تہذیب و شائستگی کا اثر اور علم و عرفان کی روشنی بہت کم قبول کرتے ہیں۔ اس لیے ان کا نفاق بھی شہری منافقوں کی نسبت زیادہ سخت ہوتا ہے۔ پھر انہیں ایسے مواقع بھی کم ہی دستیاب ہوتے ہیں کہ اہل علم و اصلاح کی صحبت میں رہ کر دین اسلام کے وہ قاعدے اور قانون معلوم کریں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر نازل فرمائے ہیں۔ کیونکہ دین کا علم ہی وہ چیز ہے جو انسان کے دل کو نرم کرتا ہے اور اسے مہذب بناتا ہے اور جو لوگ جہالت میں اس قدر غرق ہوں ان کے دلوں میں نہ نرمی پیدا ہو سکتی ہے اور نہ ہی وہ شرعی احکام کی مصلحتوں کو سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ التوبہ
98 [١٠٩] بدوی منافق اور زکوٰۃ:۔ یعنی وہ اسلام میں داخل تو اس لیے ہوئے تھے کہ کچھ دنیوی مفادات حاصل ہوں گے مگر یہاں ان مفادات کے ساتھ کچھ لینے کے دینے بھی پڑگئے۔ تو سمجھنے لگے کہ ہم تو پہلے ہی اچھے تھے لہٰذا وہ پھر کسی گردش زمانہ کے منتظر بیٹھے ہیں کہ کب اسلام کا خاتمہ ہو اور اس کی پابندیوں سے ان کی جان چھوٹے بالخصوص زکوٰۃ سے جسے وہ تاوان سمجھ کر انتہائی ناخوشی اور کراہت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ پھر جب ڈیڑھ دو سال بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو ان لوگوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنی پہلی ہی فرصت میں ان میں سے بعض تو اسلام ہی سے پھر گئے اور کفر کا راستہ اختیار کرلیا اور بعض نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا تھا۔ جن سے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جہاد کیا تھا۔ [١١٠] بدوی منافقوں کی رسوائی :۔ ایک سزا تو انہیں یہ مل رہی ہے کہ منافق ہونے کے باوجود انہیں اسلام کی پابندیاں ادا کرنا پڑ رہی ہیں۔ اور جب ان لوگوں نے زکوٰۃ سے انکار یا ارتداد کی راہ اختیار کی تو ان کے خلاف جہاد کیا گیا۔ جس میں ان لوگوں کو ہزیمت ہوئی۔ اسلام کو اللہ نے سربلند کرنا ہی تھا۔ البتہ یہ لوگ مارے بھی گئے جو بچے وہ ذلیل و رسوا بھی ہوئے اور زکوٰۃ بھی پوری کی پوری ادا کرنا پڑی۔ التوبہ
99 [١١١] بدوی مومنوں کا کردار :۔ یعنی یہ بدو لوگ بھی سب ایک جیسے نہیں۔ ان میں سے بھی کچھ حقیقی مومن ہیں۔ قرآن کی معجزانہ تاثیر اور آپ کی تعلیم سے کافی حد تک متاثر ہوچکے ہیں اور اللہ کی راہ میں رغبت اور خوش دلی سے خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرتے وقت دو مقاصد ان کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ ایک قرب الٰہی کا حصول دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا لینے کی آرزو۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی تھی کہ جب آپ صدقہ وصول کریں تو صدقہ دینے والے کو دعا دیا کریں۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا انکے لیے باعث تسکین ہوتی ہے۔ اور اس دعا کا ثمرہ بھی اللہ کی رحمت اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو بشارت دی ہے کہ واقعی ان لوگوں کا دیا ہوا صدقہ قرب الہٰی کا ذریعہ بن جاتا ہے اور وہ اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ التوبہ
100 [١١٢] اولین مہاجر وانصار صحابہ اور ان کے نام :۔ مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ایمان لائے تھے۔ عورتوں میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا۔ لڑکوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور غلاموں میں سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ۔ ان میں ماسوائے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے باقی سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے افراد تھے۔ پھر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کوشش سے جو حضرات ایمان لائے ان کے نام یہ ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ۔ پھر ان کے بعد بہت سے لوگ مسلمان ہوئے اور یہ سب مہاجرین اولین اور سابقین ہیں۔ اور انصار میں سابقین و اولین وہ پانچ شخص ہیں جنہوں نے پہلے لیلۃ العقبہ میں بیعت کی تھی یعنی حضرت سعد رضی اللہ عنہ، عوف رضی اللہ عنہ ، رافع رضی اللہ عنہ، قطبہ رضی اللہ عنہ اور جابر رضی اللہ عنہ ۔ پھر جنہوں نے دوسری دفعہ عقبہ میں بیت کی وہ بارہ اشخاص تھے۔ پھر تیسرے عقبہ میں ستر اشخاص نے بیعت کی۔ اور یہ سب ہجرت نبوی سے پہلے اسلام لائے تھے۔ السابقون الاولون سے مراد تو وہ ابتدائی مسلمان ہیں جنہوں نے ہر تنگی و ترشی کے وقت اسلام اور پیغمبر اسلام کا ساتھ دیا تاآنکہ اللہ کا کلمہ بلند ہوگیا۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جن مسلمانوں نے کفار اور مشرکین کے بے پناہ مظالم برداشت کیے تھے ان کا درجہ عام مسلمانوں سے بلند ہی ہونا چاہیے اور اسی لحاظ سے اللہ کے ہاں وہ اجر و ثواب اور بلندی درجات کے بھی زیادہ مستحق ہیں۔ مگر ان کی تعیین میں علماء نے بہت اختلاف کیا ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے وہ مسلمان مراد ہیں جنہوں نے ہجرت نبوی سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ بعض کے نزدیک وہ مسلمان ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں (بیت المقدس اور کعبہ) کی طرف نماز پڑھی۔ بعض کے نزدیک غزوہ بدر تک کے مسلمان سابقین اولین ہیں۔ بعض اس دائرہ کو صلح حدیبیہ تک وسیع کرتے ہیں اور بعض کے نزدیک تمام مہاجرین و انصار، اطراف کے مسلمانوں اور بعد میں آنے والی نسلوں کے اعتبار سے سابقین اولین ہیں۔ اور معنیٰ کے لحاظ سے ان تمام اقوال میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ سبقت اور اولیت اضافی چیزیں ہیں۔ لہٰذا ایک ہی شخص (یا جماعت) ایک اعتبار سے سابق اور دوسرے اعتبار سے لاحق ہوسکتا ہے۔ السابقون الاولون کی تعیین :۔ ہمارے خیال میں سابقین اولین سے مراد غزوہ بدر تک کے مسلمان ہیں۔ اس لیے کہ فتح بدر کے بعد اسلام ایک مقابلہ کی قوت بن گیا تھا اور دوسرے اموال غنائم سے مسلمانوں کی معیشت کو بھی تقویت پہنچی تھی۔ یا زیادہ سے زیادہ اس دائرہ کو فتح خیبر تک وسیع کیا جا سکتا ہے جبکہ حبشہ کے مہاجرین بھی واپس پہنچ گئے تھے اور مسلمانوں کی معاشی حالت اتنی سنبھل چکی تھی کہ انہوں نے انصار سے مستعار لیے ہوئے کھجوروں کے درخت بھی انہیں واپس کردیئے تھے۔ بعد کے مسلمانوں کو نہ پہلے مسلمانوں جیسے مصائب برداشت کرنا پڑے اور نہ معاشی تنگی۔ [١١٣] تابعین کی فضیلت :۔ سابقین اولین کی طرح متبعین کی تعیین میں بھی اختلاف ہے کیونکہ جو بھی حد ہم سابقین اولین کی مقرر کریں گے اس کے بعد سے متبعین کا آغاز ہوجائے گا۔ بعض کے نزدیک ان سے مراد باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں بعض کے نزدیک تابعین بھی ان میں شامل ہیں اور بعض کے نزدیک تبع تابعین بھی اور قیامت تک کے مسلمان ان میں شامل ہیں۔ بشرطیکہ وہ سابقین اولین کے طریق پر قائم ہوں۔ یعنی کتاب و سنت کے پابند ہوں اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہوں اور نہایت نیک نیتی کے ساتھ ان کی پیروی کرتے ہوں۔ التوبہ
101 [١١٤] مدینہ کے چالاک منافقین :۔ یعنی وہ اس قدر ہوشیار اور چالاک ہیں اور ان کا نفاق اتنا گہرا اور پراسرار ہے کہ وہ اپنی منافقت کو ظاہر نہیں ہونے دیتے تاہم اپنی منافقت پر پوری مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ عام مسلمان انہیں پکے مسلمان ہی سمجھتے ہیں۔ حتیٰ کہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنی پیغمبرانہ فراست کے باوجود انہیں نہیں جانتے۔ ان کے نفاق کو بس اللہ ہی جانتا ہے جو دلوں کے ارادوں اور رازوں تک سے واقف ہے۔ [١١٥] منافقوں کو دو سزائیں :۔ دو مرتبہ عذاب سے مراد اگر جنس عذاب لیا جائے تو ایک دنیا کا عذاب ہوگا۔ دوسرا عالم برزخ کا اور یہ دونوں قیامت کے بڑے عذاب سے پہلے انہیں بھگتنا ہوں گے اور اگر دنیا کے عذاب ہی مراد لیے جائیں تو ایک عذاب تو ان کی اپنی اولادوں اور تمام مومنوں کے سامنے ذلت و رسوائی ہے جو ان کے نفاق کی چالوں سے پردہ فاش ہوجانے کی صورت میں انہیں برداشت کرنا پڑتی ہے۔ دوسرے وہ ذہنی اور روحانی کوفت ہے کہ اسلام کی ترقی کے ساتھ ساتھ دم بدم بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ التوبہ
102 [١١٦] غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے سات مسلمان جنہوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا تھا :۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو (80) اسی سے زیادہ منافق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ہو کر طرح طرح کے بہانے بنانے لگے اور قسمیں کھا کھا کر اس بات کی یقین دہانی کرانے لگے کہ ہم فی الواقع معذور تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کچھ تعرض نہ فرمایا بس اتنا کہہ دیا کہ اللہ تمہیں معاف کرے۔ ان کے علاوہ سات مسلمان ایسے تھے جو پیچھے رہ گئے تھے ان کے پاس کوئی معقول عذر نہ تھا الا یہ کہ وہ سستی کی وجہ سے شامل جہاد نہ ہو سکے تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باز پرس سے پہلے ہی اپنے جرم کا اعتراف یوں کیا کہ اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا اور اپنے آپ پر نیند اور خوردو نوش کو حرام کرلیا اور قسم کھائی کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ان مجرموں اور قیدیوں کو اپنے ہاتھ سے نہ کھولیں گے اسی طرح بندھے رہیں گے۔ خواہ انہیں اسی حال میں موت ہی کیوں نہ آ جائے۔ ان میں سرفہرست ابو لبابہ بن عبدالمنذر تھے جو ہجرت نبوی سے پہلے بیعت عقبہ کے موقعہ پر اسلام لائے تھے پھر غزوہ بدر اور دوسرے معرکوں میں شریک رہے بس اسی غزوہ تبوک میں نفس کی کمزوری نے غلبہ کیا تو پیچھے رہ گئے۔ ان کے باقی چھ ساتھیوں کا بھی سابقہ طرز زندگی بےداغ تھا۔ ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’واللہ جب تک اللہ حکم نہ دے میں انہیں کھول نہیں سکتا۔‘‘ چنانچہ کئی روز تک یہ لوگ بے آب و دانہ اور بے خواب ستون سے بندھے رہے حتیٰ کہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ تب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے کھولا اور توبہ کی بشارت سنائی۔ التوبہ
103 [١١٧] ایسے توبہ کرنے والوں سے صدقہ قبول کیجئے :۔ ان مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ چونکہ مال و دولت کی محبت ہی جہاد کے فریضہ میں کوتاہی کا سبب بنی ہے۔ لہٰذا یہ سب کچھ اللہ کی راہ میں دے دینا چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہماری توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہم اپنا سارا مال صدقہ کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’سارا مال دینے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک تہائی مال کا صدقہ کافی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ ان کے صدقات قبول کیجئے۔ کیونکہ یہ سب سچے مومن اور اللہ کے رسول کے خیر خواہ تھے پھر آپ ان کے حق میں دعا بھی کریں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے اگرچہ اس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوا مگر اس کا حکم عام ہے۔ اسی لیے علماء مسئلہ زکوٰۃ میں اس آیت کو بھی پیش کرتے آئے ہیں۔ اور اس آیت سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ زکوٰۃ کے فائدے :۔ زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم وغیرہ اسلامی حکومت کا فریضہ ہے۔ (٢) خذ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صدقہ سے مراد فرضی صدقہ یعنی زکوٰۃ ہے (٣) زکوٰۃ کی ادائیگی کے دو فائدے ہیں ایک یہ کہ باقی مال گناہ کی آلودگیوں سے پاک ہوجائے اور دوسرے یہ کہ حب دنیا، حرص، بخل وغیرہ جیسے باطنی امراض سے دلوں کا تزکیہ ہوجائے۔ اب ہم زکوٰۃ اور اس کی وصولی سے متعلق چند احادیث بیان کریں گے :۔ ١۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’غلہ سے غلہ، بکریوں سے بکریاں، اونٹوں سے اونٹ اور گایوں سے گائیں۔‘‘ (بطور زکوٰۃ لی جائیں) (ابوداؤد۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب صدقۃ الزرع ) ٢۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’زکوٰۃ میں عمدہ عمدہ مال لینے سے پرہیز کی جائے۔‘‘ (ملا جلا مال لیا جائے۔) (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب محاسبۃ المصدقین ) ٣۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس زمین کو آسمان یا چشمے کا پانی دیا جائے یا وہ زمین خود بخود سیراب ہو اس سے دسواں حصہ زکوٰۃ لی جائے اور جس کھیتی کو کنوئیں سے پانی دیا جائے اس سے بیسواں حصہ لیا جائے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب العشر فیمایسقی من ماء السماء والماء الجاری) ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’پیداوار کا ذریعہ بننے والے اونٹوں پر زکوٰۃ نہیں۔‘‘ (ابوداؤد۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب فی زکوٰۃ السائمہ ) ٥۔ سہیل بن ابی خیثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب تم (زکوٰۃ کے لیے) پھلوں وغیرہ کا اندازہ کرنے لگو تو ایک تہائی چھوڑ دو۔ اور اگر سمجھوکہ ایک تہائی زیادہ ہے تو چوتھا حصہ چھوڑ دو۔ ‘‘ (ابو داؤد۔ کتاب الزکوٰۃ باب الخرص) ٦۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جانور سے جو نقصان پہنچے اس کا کچھ بدلہ نہیں اور کنوئیں اور کان کا بھی یہی حکم ہے اور رکاز (دفینہ) میں پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب فی الرکاز الخمس) ٧۔ احکام زکوٰۃ کے متعلق احادیث :۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تمہارے پاس (عاملین زکوٰۃ) کے چھوٹے چھوٹے ٹولے آئیں گے جو تمہیں ناگوار گزریں گے جب وہ آئیں تو انہیں خوش آمدید کہو اور تشخیص مال (زکوٰۃ کے معاملہ میں) انہیں اپنی مرضی کرنے دو۔ پھر اگر وہ انصاف سے کام لیں تو اس کا انہیں اجر ملے گا اور اگر زیادتی کریں تو اس کا بار انہی پر ہوگا۔ تم انہیں خوش رکھو کیونکہ تمہاری زکوٰۃ کی تکمیل کا انحصار ان کی رضا پر ہے اور انہیں چاہیے کہ وہ (زکوٰۃ وصول کرنے کے بعد) تمہارے حق میں دعا بھی کریں۔‘‘ (ابوداؤد۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب رضا المتصدق) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ عاملین ہم پر زیادتی کرتے ہیں تو کیا ہم اتنا مال چھپا لیا کریں (کہ حساب برابر رہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ایسا مت کرو۔ ‘‘ (ابوداؤد حوالہ ایضاً) ٨۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’عامل ایک جگہ بیٹھ کر علاقے کے مویشی اپنے پاس نہ منگوائے اور نہ صاحب مال اپنا مال دور لے جائیں بلکہ جہاں کوئی رہتا ہے وہیں جا کر زکوٰۃ وصول کی جائے۔‘‘ (ابوداؤد۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب این تصدق الاموال) ٩۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’مسلمانوں سے (زرعی زکوٰۃ) ان کے آبپاشی کے مقامات پر وصول کی جائے۔‘‘ (احمد بحوالہ مشکوۃ کتاب الزکوٰۃ) ١٠۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 'زکوٰۃ میں زیادتی کرنے والا (عامل) ایسا ہی ہے جیسے زکوٰۃ نہ دینے والا۔‘‘ (ترمذی ابو اب الزکوٰۃ۔ باب فی المعتدی فی الصدقۃ) ١١۔ زکوٰۃ دینے والے کو دعا دینے کا حکم :۔ عبداللہ بن ابی اوفٰی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی قسم کی زکوٰۃ آتی تو آپ فرماتے ’’اے اللہ ان پر رحمت فرما۔‘‘ میرے باپ جب زکوٰۃ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اے اللہ! آل ابی اوفیٰ پر رحمت فرما۔‘‘ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوہ حدیبیہ۔ مسلم۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب الدعاء لمن اتیٰ بصدقتہٖ ) ١٢۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ’’آیا زکوٰۃ سال گزرنے سے پہلے بھی دی جا سکتی ہے؟‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔ (ترمذی۔ ابو اب الزکوٰۃ۔ باب فی تعجیل الزکوٰۃ) ١٣۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں آپ کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں داغ دینے کا آلہ تھا جس سے آپ صدقہ کے اونٹوں کو داغ دے رہے تھے۔ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب وسم الامام ابل الصدقۃ ) ١٤۔ سرکاری ملازمین کے تحفے رشوت کی قسم ہے :۔ ابو حمید ساعدی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بنی سلیم کی زکوٰۃ کی وصولی کے لیے) ایک شخص (عبداللہ بن لُتْبِیّہ) کو عامل بنا کر بھیجا۔ جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر آیا تو آ کر کہا ’’یا رسول اللہ! یہ آپ کے لیے (زکوٰۃ کا مال) ہے اور یہ مجھے تحفہ کے طور پر ملا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تو اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا۔ پھر دیکھتا کہ تمہیں کوئی تحفہ دیتا ہے یا نہیں؟‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور حمد و ثنا کے بعد عاملین کا حال بیان کیا پھر فرمای’’اس پروردگار کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے تم میں سے جو شخص زکوٰۃ کے مال میں سے کچھ چرائے گا تو قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر لادے ہوئے آئے گا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور باب کیف کان یمین النبی ) بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ بھی پیدا ہوچکا ہے جو یہ کہتا ہے کہ زکوٰۃ کا جو نصاب اور جو شرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی تھی وہ صرف ان کے دور اور اس دور کے تقاضوں کے مطابق تھی اور آج ایک اسلامی حکومت اس دور کے تقاضوں کے مطابق جو بھی ٹیکس وصول کرتی ہے۔ وہی زکوٰۃ ہے۔ اسلامی حکومت اگر چاہے تو شرح زکوٰۃ میں کمی بیشی کرنے کی بھی مجاز ہے اور نئے ٹیکس عائد کرنے کی بھی۔ ایک اسلامی حکومت اس سلسلہ میں جو کچھ بھی وصول کرے وہ زکوٰۃ ہی ہوگی۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہی ہے کہ انہوں نے اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق محل نصاب اشیاء اور شرح زکوٰۃ مقرر کی تھی اور ہم اپنے دور کے مطابق یہ امور طے کریں۔ یہ نظریہ چونکہ اسلام کے ایک بنیادی مسئلہ پر براہ راست حملہ ہے اس لیے ہم اس کا جواب ذرا تفصیل سے دیں گے اور اس بحث کو دو حصوں میں تقسیم کریں گے۔ ایک یہ کہ ٹیکس اور زکوٰۃ میں کون کون سا فرق ہے دوسرا یہ کہ آیا زکوٰۃ کی موجودگی میں ایک اسلامی حکومت کوئی اور ٹیکس لگانے کی مجاز ہے یا نہیں؟ زکوۃ اور ٹیکس میں فرق :۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں مسلمانوں سے تو زکوٰۃ وصول کی جاتی تھی اور غیر مسلموں سے خراج اور جزیہ۔ عرب کا ہمسایہ ملک ایران ایک متمدن حکومت تھی۔ اس میں زمینداروں سے جو مالیہ وصول کیا جاتا اسے خراگ کہتے تھے۔ خراج کا لفظ اسی سے معرب ہے اور خراگ کے علاوہ دوسرے ٹیکسوں کو گزیت کہتے تھے۔ جزیہ کا لفظ اسی سے معرب ہے۔ گویا غیر مسلموں پر تو وہی ٹیکس بحال رکھے گئے جو زمانہ کے دستور کے مطابق تھے مگر مسلمانوں سے یہ عام ٹیکس ساقط کردیئے گئے اور ان کے بجائے زکوٰۃ عائد کی گئی۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ کا نصاب اور شرح ہمیشہ غیر متبدل رہی جبکہ جزیہ اور خراج کی شرح میں تبدیلی ہوتی رہی۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جزیہ کی شرح ایک دینار فی کس سالانہ تھی اور یہ رقم اجتماعی طور پر بوڑھے بچے، عورت اور معذوروں کی تعداد کے مطابق لی جاتی تھی مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں اصلاح کی۔ بوڑھے، بچوں، عورتوں اور معذوروں سے جزیہ ساقط کردیا اور کمانے والے افراد کے بھی تین درجے مقرر کیے جن سے علی الترتیب چار دینار، دو دینار اور ایک دینار سالانہ کے حساب سے جزیہ وصول کیا جاتا تھا۔ اسی طرح قبیلہ بنی تغلب کے عیسائیوں نے مسلمانوں سے درخواست کی کہ ان سے خراج کی بجائے دوگنا عشر لے لیا جائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی درخواست قبول کرلی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس دور میں زکوٰۃ کو تو دین کا رکن سمجھا جاتا تھا اور اس کے احکامات غیر متبدل تھے جبکہ جزیہ اور خراج کی شرح میں تغیر و تبدل کرلیا جاتا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسلمانوں سے زکوٰۃ کے علاوہ جو کچھ بھی زائد وصول کیا جائے اسے عربی میں مکس کہتے ہیں مشکوۃ میں صاحب مکس کا معنی ای من یاخذالعشر و یزید علیہ شیأ بتلاتے ہیں یعنی وہ شخص جو عشر وصول کرتا ہے اور اس سے کچھ زیادہ بھی لیتا ہے۔ ان الفاظ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا جو کچھ بطور رشوت لے وہ مکس ہے اور یہ بھی زکوٰۃ کے علاوہ کوئی دوسرا ٹیکس عائد کر دے۔ یعنی ١٠% کے بجائے بارہ چودہ فیصد وصول کرے اور یہ بھی کہ حکومت زکوٰۃ کے علاوہ کوئی دوسرا ٹیکس عائد کردے۔ تاہم لغت اسی تیسرے مفہوم کی تائید کرتی ہے۔ مکس کے معنی المنجد (عربی۔ اردو) نے محصول ٹیکس اور چونگی لکھے ہیں اور ماکس کے معنی ٹیکس وصول کرنے والا۔ منتہی الارب (عربی۔ فارسی) نے اس کے معنی باج، خراج گرفتن اور مقائیس اللغتہ (عربی میں اس کا معنی کلمۃ تدل علی جبی المال ہے اور جبایۃ کا لفظ محصول اکٹھا کرنے کے لیے محاورۃً استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ عین ممکن ہے کہ مکس کا لفظ ہی دوسری زبان میں جا کر ٹیکس بن گیا ہو۔ اب مکس کی شرعی حیثیت یہ ہے کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جب قبیلہ غامدیہ کی عورت کو زنا کے جرم میں سنگسار کیا گیا تو سیدنا خالد بن ولید نے اسے ایک پتھر مارا جس کی وجہ سے خون کے چند چھینٹے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے منہ پر بھی پڑے سیدنا خالدرضی اللہ عنہ نے اس عورت کو برابھلاکہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’خالد! یہ کیا بات ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر کوئی ٹیکس وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرے تو معاف کردیا جائے۔‘‘ (مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب حدالزنا) گویا مکس کا جرم زنا سے کسی صورت کم نہیں ہے اور ایک دفعہ آپ نے یوں فرمایا ’’ٹیکس وصول کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘ تیسرا فرق مقصد کے لحاظ سے ہے۔ ٹیکس کا مقصد عوام کی آمدنی کا ایک حصہ لے کر اس سے نظام حکومت چلانا، رفاہ عامہ کے کام کرنا اور اس سے ملکی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے جبکہ زکوٰۃ کے اصل مقصد دو ہیں ایک تطہیر مال، دوسرا تزکیہ نفس۔ جیسا کہ اس حاشیہ کی ابتداء میں واضح کیا جا چکا ہے اور یہ دونوں فائدے زکوٰۃ دینے والے کو پہنچتے ہیں اور اس کا معاشرتی فائدہ یہ ہے کہ اس سے غریب مقروض اور محتاج عنصر کی مالی امداد ہوجاتی ہے۔ چوتھا فرق محاصل کا ہے یعنی ٹیکس کن لوگوں سے لیا جاتا ہے اور زکوٰۃ کن سے۔ اسلامی نقطہ نظر سے معاشرہ کو معاشی لحاظ سے صرف تین طبقوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ١۔ وہ لوگ جن سے زکوٰۃ وصول کی جاتی ہے یہ لوگ اہل نصاب یا غنی ہیں۔ ٢۔ دوسرے وہ لوگ جن میں زکوٰۃ تقسیم ہوگی۔ یہ لوگ فقراء و مساکین ہیں۔ ٣۔ متوسط طبقہ جو نہ زکوٰۃ دینے کا اہل ہوتا ہے، نہ زکوٰۃ لینے کا۔ مثلاً ابو داؤد کی ایک حدیث کے مطابق جس کے پاس ایک اوقیہ چاندی کی مالیت کے برابر کوئی بھی چیز موجود ہو وہ زکوٰۃ لینے کا مستحق نہیں جبکہ زکوٰۃ کا حد نصاب ٥ اوقیہ چاندی ہے۔ اصول یہ ہے کہ زکوٰۃ طبقہ نمبر ١ سے لے کر طبقہ نمبر ٢ میں تقسیم کردی جائے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجتے وقت ہدایت فرمائی تھی۔ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ باب محاسبۃ المصدقین) تیسرے طبقہ کا زکوٰۃ سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ وہ نہ دینے والوں میں ہیں نہ لینے والوں میں اس کے برعکس ٹیکس کی رقوم کا بیشتر حصہ غریبوں کی جیب سے نکلتا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مثلاً ٧٧۔ ١٩٧٦ ء کے گوشوارہ کے مطابق ہماری حکومت کی مجموعی آمدنی کا ٧٥ فیصد حصہ صرف ٹیکسوں سے وصول ہوا تھا پھر یہ ٹیکس دو طرح کے ہوتے ہیں ایک بلاواسطہ یا براہ راست ٹیکس جیسے انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، دولت ٹیکس وغیرہ۔ یہ ٹیکس امراء پر لگائے جاتے ہیں۔ ٧٧۔ ١٩٧٦ ء کے مطابق ان ٹیکسوں سے ٹیکسوں کی مجموعی آمدنی کا صرف ٣/ ١٢ فیصد وصول ہوا۔ باقی ٧/ ٨٧ فیصد بالواسطہ ٹیکسوں سے وصول ہوا۔ بالواسطہ ٹیکس وہ ہیں جو ادا تو تاجر یا صنعت کار کرتے ہیں مگر یہ ٹیکس قیمت فروخت میں شامل کر کے اس کا بوجھ صارفین پر ڈال دیتے ہیں۔ جیسے سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی وغیرہ جو چینی، سریا، سیمنٹ، سوتی کپڑا، درآمدات اور دیگر بے شمار اشیاء پر لگائے جاتے ہیں اور چونکہ ہمارے ہاں صارفین کا بیشتر حصہ غریب طبقہ ہے۔ لہٰذا ٹیکسوں کا زیادہ تر بوجھ یہی طبقہ برداشت کرتا ہے۔ پانچواں فرق مصارف کے لحاظ سے ہے۔ زکوٰۃ کا سب سے بڑا اور اہم مصرف غریب طبقہ کی بنیادی ضروریات کی کفالت ہے جبکہ ٹیکس ملکی ضروریات کو پورا کرنے اور رفاہ عامہ کے کاموں پر خرچ ہوتے ہیں۔ گو یہ سب چیزیں سب کے لیے مشترک ہوتی ہیں تاہم عملاً ان سے امیر طبقہ ہی مفاد حاصل کر پاتا ہے مثلاً اعلیٰ تعلیم کے حصول یا حصول انصاف جو کسی غریب کے بس کا روگ نہیں۔ اسی طرح اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ امیر طبقہ اپنے اثر اور وسائل کی بنا پر ہر چیز سے زیادہ فائدہ اٹھا جاتا ہے گویا ٹیکس کی رقم جس کا زیادہ حصہ غریب کی جیب سے نکلا تھا اس سے امیر زیادہ فائدہ اٹھا گیا۔ مختصراً یہ کہ زکوٰۃ دین اسلام کا ایسا رکن ہے جس کے ذریعہ دولت کا بہاؤ امیر سے غریب کی طرف مڑتا ہے جبکہ ٹیکس سرمایہ دارانہ نظام کے دو اہم ارکان سود اور ٹیکس میں سے دوسرا رکن ہے۔ تو جس طرح سود سے بالآخر سرمایہ دار اور امیر طبقہ کو فائدہ پہنچتا ہے اور غریب طبقہ پستا ہے اسی طرح ٹیکس کا بار تو غرباء پر زیادہ ہوتا ہے اور فائدہ امیر حاصل کرتا ہے۔ چھٹا فرق مزاج اور نتائج کے لحاظ سے ہے۔ ٹیکس عموماً آمدنی پر لگتا ہے جس سے دولت جمع کرنے کی ہوس بڑھتی ہے جبکہ زکوٰۃ عموماً بچت پر لگتی ہے جس سے اندوختہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ سرمایہ حرکت میں رہتا ہے جس سے معیشت پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ زکوٰۃ بچت پر لگنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں فرد کی ضرورتوں اور اخراجات کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ جبکہ عام ٹیکس آمدنی پر لگتے ہیں۔ مثلاً فرض کیجئے کہ زید اور بکر دونوں تین تین ہزار روپے تنخواہ لیتے ہیں۔ زید کی ابھی شادی بھی نہیں ہوئی اور وہ بآسانی دو ہزار روپے بچا لیتا ہے مگر بکر کے پانچ چھ بچے بھی ہیں اور وہ اس رقم میں بمشکل گزر بسر کرتا ہے تو ٹیکس ان کے اس امتیاز میں کوئی فرق نہیں کرے گا۔ علاوہ ازیں ٹیکس کو ہر شخص ایک بوجھ تصور کرتا ہے ٹیکس دہندہ کبھی پوری مالیت ظاہر نہیں ہونے دیتے اور ٹیکس وصول کرنے والے بھی رشوت لے کر خود ٹیکس چوری کی راہیں بتلا دیتے ہیں۔ اس ملی بھگت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت کو متوقع رقم کا نصف بھی حاصل نہیں ہوتا اور وہ ٹیکس مزید بڑھانے اور مزید ٹیکس لگانے کی راہ اختیار کرلیتی ہے۔ جبکہ زکوٰۃ ایک دینی فریضہ اور مالی عبادت ہے جسے اکثر مسلمان فریضہ سمجھ کر ہی ادا کرتے ہیں اس میں ہیرا پھیری نہیں کرتے اور اس میں رشوت کا امکان بھی بہت کم ہوتا ہے۔ زکوٰۃ کی شرح میں بتدیلی اور دوسرے ٹیکس :۔ ان حضرات کا یہ دعویٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق محل زکوٰۃ اشیاء اس حد نصاب اور اس کی شرح مقرر فرمائی تھی بالکل غلط ہے وجہ یہ ہے کہ اگر یہ باتیں تدبیری امور میں شامل ہوتیں تو آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ضرور مشورہ کرتے۔ کیونکہ قرآن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی حکم دیا گیا ہے اور بہت سے تدبیری امور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ سے مشورہ کرنا احادیث سے ثابت بھی ہے لیکن یہ حضرات کسی ضعیف سے ضعیف حدیث حتیٰ کہ تاریخ کی کسی کتاب سے بھی یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا ہو۔ اس کے برعکس ہم قرآن سے یہ ثابت کریں گے کہ شرح زکوٰۃ اور محل نصاب اشیاء کی تعیین سب کچھ منزل من اللہ تھا جس میں آپ کی رائے یا مرضی کو کچھ عمل دخل نہ تھا ارشاد باری ہے :۔ ﴿ وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ - لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾(70: 24، 25) اور ان (مومنوں) کے اموال میں مانگنے اور نہ مانگنے والوں کا حصہ مقرر ہے۔ یہاں لفظ معلوم استعمال ہوا ہے جس کا مادہ علم ہے گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حق کا علم دیا گیا تھا۔ اور قرآن میں اکثر مقامات پر لفظ علم کا اطلاق وحی کے علم پر ہوا ہے لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق معلوم یا شرح زکوٰۃ کی جو تعیین فرمائی وہ اپنی مرضی سے نہیں فرمائی نہ صحابہ کے مشورہ سے فرمائی اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے قرآن میں نماز ادا کرنے کا حکم تو سینکڑوں بار آیا ہے۔ لیکن اس کی ترتیب، تعداد رکعات وغیرہ کا کہیں ذکر نہیں۔ یہی حال مناسک حج وغیرہ کا ہے اور یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو منزل من اللہ وحی کی محتاج ہیں اور زکوٰۃ کے بارے میں تو آپ کی خصوصی احتیاط یہ بھی تھی کہ آپ یہ سب تفاصیل تحریراً صوبوں کے گورنروں کو بھجواتے تھے۔ اور محل نصاب اشیاء درج ذیل آیات سے ثابت ہیں۔ ١۔ نقدی اور سونا چاندی وغیرہ ﴿وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ ﴾ (9 : 35) اور جو لوگ سونے اور چاندی وغیرہ کا ذخیرہ کرتے ہیں۔ ٢۔ زرعی پیداوار یعنی غلہ اور پھلوں کی زکوٰۃ ﴿وَاٰتُوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ﴾(6: 142)اور جس دن فصل کاٹو تو اس میں سے اللہ کا حق ادا کرو۔ ٣۔ باقی ذرائع آمدنی کے لیے جس میں مویشیوں کی زکوٰۃ اور اموال صنعت و تجارت کی زکوٰۃ وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔ ﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ ﴾ (2: 267)اے ایمان والو! جو بھی پاکیزہ مال تم کماتے ہو اس میں سے خرچ کرو۔ ٤۔ زمینوں اور معدنیات کے لیے مندرجہ بالا آیات کا اگلا حصہ یوں ہے۔ ﴿وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ﴾(2: 267) اور ان چیزوں سے بھی خرچ کرو جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہیں۔ یہ آیت جیسے دفینوں، معدنیات اور زمین کے خزانوں کے لیے عام ہے۔ ویسے ہی نباتاتی اور زرعی پیداوار کے لے بھی عام ہے۔ ان تصریحات سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ زکوٰۃ سے متعلق جملہ امور منزل من اللہ تھے اور ان میں رد و بدل کا خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اختیار نہ تھا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کچھ اختیار ہوتا تو فرضیت زکوٰۃ کے بعد کئی مواقع ایسے آئے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شرح کو بڑھا سکتے تھے جیسے غزوہ تبوک کا موقع جبکہ آپ کو فنڈ کی شدید ضرورت تھی۔ علاوہ ازیں ابتدائے اسلام سے آج تک ان امور کا غیر متبدل رہنا ہی اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ ان میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ زکوٰۃ کی موجودگی میں دوسرے ٹیکس :۔ اسلام نے جس شدت اور تاکید کے ساتھ بغیر حق کے ایک مسلمان کے خون کو حرام کیا ہے اسی شدت اور تاکید کے ساتھ مسلمانوں کے اموال اور عزت و آبرو کو بھی حرام کیا ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ حجۃ الوداع شاہد ہے (مسلم۔ کتاب الحج۔ باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم) علاوہ ازیں مسلمانوں کے جان و مال اور آبرو کی حرمت کے متعلق یہ خطبہ احادیث کی تقریباً تمام کتب میں مذکور ہے۔ پھر ایسے صریح احکام کی موجودگی میں حکومت کے پاس وہ کون سا حق ہے جس کی بنا پر وہ مسلمانوں سے زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور طریقے سے جبراً کچھ وصول کرے؟ اگر ایک شخص اپنی ضرورت کے لیے مکان بنا لیتا ہے تو اس پر پراپرٹی ٹیکس کیونکر عائد کیا جا سکتا ہے؟ اس سلسلہ میں فقہائے امت نے اگر کچھ لچک پیدا کی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ اگر قحط کا زمانہ ہو۔ غریب لوگ بھوکوں مر رہے ہوں۔ بیت المال میں اتنی رقم موجود نہ ہو جس سے ضروریات پوری کی جا سکیں اور اغنیاء حکومت کی اپیل کے باوجود خود غریبوں کا احساس نہ کر رہے ہوں تو ان چار شرطوں کے ساتھ حکومت اسلامیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امراء پر ٹیکس لگا کر غرباء کی ضروریات کو پورا کرے اور امراء پر ٹیکس لگانے میں عدل سے کام لیا جائے گا یعنی صرف اس قدر مال لیا جائے گا جس سے ضرورت پوری ہو سکے اس سے زائد نہیں۔ نیز اس ٹیکس کی حیثیت ہنگامی اور عارضی ہوگی، دوامی نہیں ہوگی۔ رہے ایسے ٹیکس جن کا مقصد ہی اہل اقتدار کی عیاشیوں اور ہوس پرستیوں کو پورا کرنا ہو ان کی ایک اسلامی حکومت میں کوئی گنجائش نہیں۔ نئے ٹیکس اور حکومت کی ضروریات :۔ نئے ٹیکس عائد کرنے کے جواز میں یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ آج کل حکومتیں بہت سی ذمہ داریاں اپنی سر لے لیتی ہے اور اخراجات بہت بڑھ چکے ہیں لہٰذا نئے ٹیکس لگانا ضروری ہوگیا ہے۔ اس کے جواب میں ہماری معروضات یہ ہیں :۔ ١۔ اگر حکومت کے اخراجات بڑھ چکے ہیں تو آمدنی کی بھی مدات بڑھ چکی ہیں کئی محکمے کاروباری طریق پر چل رہے ہیں جن سے معقول آمدنی متوقع ہوتی ہے جیسے محکمہ ڈاک و تار، ٹیلی فون، واپڈا، ریلوے اور انہار وغیرہ۔ ان محکموں میں خسارہ صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے جب عملہ بددیانت ہو۔ ورنہ نقصان کی کوئی صورت نہیں۔ ٢۔ کئی محکمے ایسے ہیں جن کی ایک اسلامی نظام میں سرے سے گنجائش نہیں مثلاً خاندانی منصوبہ بندی یا محکمہ بہبود آبادی، فحاشی پھیلانے والے ثقافتی مراکز اور ثقافت کی بین المملکتی نقل و حرکت پر اٹھنے والے اخراجات۔ ٣۔ حکومت کے انتظامی اخراجات توجہ طلب ہیں۔ لاتعداد محکمے اور ان میں آئے دن اضافہ تاکہ صاحب اقتدار پارٹی کے جیالوں اور وفاداروں کو کھپایا جا سکے۔ ان کی تعداد، الاؤنسز اور سفری اخراجات کم کرنے سے کافی بچت کی جا سکتی ہے۔ ٤۔ اہل اقتدار کی عیاشیوں اور ہوس پرستیوں پر جو بے پناہ اخراجات اٹھتے ہیں اور ان کا بار قومی خزانہ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اسلامی نظام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ سرکاری افسر سرکاری املاک کو استعمال تو خود اپنی ذات کے لئے کرتے ہیں۔ لیکن اخراجات قومی خزانہ پر ڈال دیتے ہیں۔ اور ان باتوں کا سدباب صرف اس لیے نہیں ہوتا کہ سب سرکاری افسر جب یہی کچھ کر رہے ہوں تو کون دوسرے کا محاسبہ کرے؟ ٥۔ اخراجات میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ملازموں کو بھرتی کرتے وقت صرف ان کی سند، ڈگری یا نمبروں کو سامنے رکھا جاتا ہے اور جو انسانیت کے اصل جوہر ہیں یعنی دیانتداری، تقویٰ یا دینی تعلیم وغیرہ ان چیزوں کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے جس کا نتیجہ کام چوری، رشوت اور بددیانتی کی شکل میں سامنے آتا ہے جس دفتر میں دس ملازموں سے دیانتداری سے کام چل سکتا ہو وہاں بیس بھرتی کرلیے جاتے ہیں۔ جن میں بیشتر اپنی سیٹوں سے غیر حاضر اور باہر نکل کر اپنے 'گاہکوں' سے سودا بازی اور رشوت کا معاملہ طے کر رہے ہوتے ہیں اور چونکہ سارا عملہ ہی انہی کاموں میں لگا ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ لوگ کسی گرفت میں بھی نہیں آتے۔ مزید ستم یہ کہ ان کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ جب تک کوئی ملازم کسی سنگین بدعنوانی کا مرتکب نہ ہو جس کو کسی صورت چھپایا نہ جا سکتا ہو۔ اسے نہ معطل کیا جا سکتا ہے اور نہ برطرف کیا جا سکتا ہے۔ ان چند در چند وجوہ کی بنا پر دفتری کاموں کی رفتار تو بہت سست رہ جاتی ہے مگر اخراجات آٹھ گنا بڑھ جاتے ہیں۔ ٦۔ اخراجات کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہمارا موجودہ نظام ہے مثلاً عدلیہ کو لیجئے جہاں فوجداری مقدمات بھی سالہا سال تک چلتے ہیں۔ دیوانی مقدمات کا اور بھی برا حال ہے۔ اسلامی نظام میں قتل جیسے مقدمہ میں ایک ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ ظاہر ہے کہ جہاں آج کل سو جج کام کر رہے ہیں۔ اسلامی نظام میں دس جج بھی کفایت کرسکتے ہیں۔ اس طرح عدلیہ کے اخراجات بھی اسی نسبت سے کم ہوں گے اور ساتھ ہی ساتھ پولیس کے بھی پھر جہاں مدعی اور مدعا علیہ کا وقت اور خرچ بچے گا تو وہاں ٹریفک کا دباؤ بھی از خود کم ہوجائے گا۔ اور سڑکوں کی تعمیر پر اخراجات بھی کم ہوجائیں گے گویا صرف عدلیہ کے نظام میں تبدیلی سے ہی اتنے اخراجات کم ہو سکتے ہیں۔ پھر اگر پورے طور پر اسلامی نظام رائج ہو تو اخراجات میں حیرت انگیز حد تک کمی از خود واقع ہوجائے گی۔ ٧۔ اور ہمارے خیال میں بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ یہی حکومت کا ٹیکس بڑھانے اور نئے ٹیکس لگائے جانے کا حق ہے۔ گویا یہ حق بڑھتے ہوئے اخراجات کے مرض کا علاج نہیں بلکہ یہی اصل مرض ہے۔ اسی حق کی بنا پر حکومت بہت سے غیر دانشمندانہ اور غیر ترقیاتی منصوبے شروع کردیتی ہے اور اگر اس کا بار ٹیکسوں سے پورا ہوتا نظر نہ آتا ہو تو حکومت نئے نوٹ چھاپ کر اپنے اخراجات پورے کرلیتی ہے یہ گویا ایک جبری اور بدترین قسم کا ٹیکس ہے جسے خفیہ ٹیکس(Hidden Tex)کہا جاتا ہے جس کا عوام کو پتہ تک نہیں چلتا لیکن اس کا بار عوام پر پڑجاتا ہے اور اشیاء کی قیمتیں چڑھ جاتی ہیں اور مہنگائی زیادہ سے زیادہ ہوتی جاتی ہے حکومت کے پاس یہی وہ حربہ ہے جس کی بنا پر وہ اپنے اخراجات کم کرنے کی طرف توجہ ہی نہیں دیتی اور اخراجات بڑھاتی ہی چلی جاتی ہے۔ ان وجوہ اور ان تصریحات کے بعد ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ بیت المال کی جائز آمدنی سے حکومت کے جائز اخراجات آج بھی بطریق احسن پورے ہو سکتے ہیں جس کے لیے ہم تاریخ سے شواہد پیش کرسکتے ہیں۔ دور فاروقی میں اسلامی مملکت عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی گنا زیادہ پھیل چکی تھی۔ کئی نئے محکمے بھی وجود میں آ چکے تھے۔ مثلاً محکمہ مال گزاری، فوج، پولیس، جیل اور ڈاک وغیرہ جو آپ ہی کے عہد میں قائم ہوئے۔ زمانہ کے تقاضے بھی بدل چکے تھے مثلاً دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مسجد نبوی ہی عدلیہ کا صدر دفتر تھا جبکہ دور فاروقی میں عدلیہ کے لیے الگ عمارت اور عملہ کا بندوبست ہوا۔ علی ہذا القیاس ضروریات اور اخراجات بڑھ چکے تھے مگر اسی بیت المال سے حکومت کا نظم و نسق چلتا رہا اور تمام اخراجات پورے ہوتے رہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے چھ سات سو سال طویل دور حکومت میں کبھی مسلمانوں پر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی ٹیکس بھی عائد نہ کیا گیا اور اخراجات تمام تر بیت المال سے پورے ہوتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ دور فاروقی میں بے شمار فتوحات ہوئیں جہاں سے کافی مال و دولت ہاتھ لگ گیا تھا۔ لہٰذا کوئی نیا ٹیکس لگانے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ یہ اعتراض اس لحاظ سے غلط ہے کہ جن علاقوں سے مال و دولت آتی تھی اسی نسبت سے انہی علاقوں کے انتظام و انصرام پر خرچ بھی ہوجاتی تھی اور یہ ایک ایسی ذمہ داری تھی جسے حکومت اپنا فرض سمجھتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے سپہ سالاروں کو مزید علاقے فتح کرنے سے روکتے رہتے تھے۔ لہٰذا آج بھی کرنے کا کام یہ ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے مرض کے اسباب تلاش کر کے انہیں دور کیا جائے۔ نہ یہ کہ ٹیکس کے جواز کے لیے دلائل تلاش کیے جائیں۔ جس کی حقیقت پہلے واضح کی جا چکی ہے۔ التوبہ
104 التوبہ
105 [١١٨] ایک مسلمان اور منافق کا عذر جانچنے کے اصول :۔ ان آیات سے دراصل ایک منافق اور ایک غلطی سے گناہ کرنے والے مسلمان کے درمیان فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ ١۔ منافق گناہ کر کے جھوٹے بہانے بناتے اور قسمیں اٹھاتے ہیں جبکہ مومن اپنے گناہ کا صاف صاف اقرار کرلیتے ہیں۔ ٢۔ گناہ گار مومن کی سابقہ زندگی اس بات پر شاہد ہوتی ہے کہ یہ گناہ اس سے نفس کی کمزوری سے واقع ہوگیا ہے جبکہ منافق کا سابقہ ریکارڈ بھی گندہ ہوتا ہے۔ ٣۔ توبہ صرف اس کی قبول ہوتی ہے جس کا سابقہ ریکارڈ درست ہو اور یہ موجودہ گناہ بہ تقاضائے بشریت واقع ہوگیا ہو۔ عادی مجرموں یعنی منافقوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ صدقات صرف ان کے قبول کرتا ہے جو برضاء و رغبت صدقات دیتے ہیں اور اسے قرب الٰہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ نمائش یا مجبور ہو کر یا کراہت سے دیئے ہوئے صدقے اللہ قبول ہی نہیں کرتا۔ ٥۔ منافقوں کے صدقات اس لحاظ سے بھی ناقابل قبول ہیں کہ صدقہ مصائب کو ٹالتا اور گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنتا ہے۔ اللہ کے ہاں چونکہ منافق کی مغفرت کی کوئی صورت نہیں لہٰذا صدقہ کی بھی ضرورت نہیں۔ ٦۔ توبہ کی مقبولیت کا اس بات سے بھی واضح طور پر پتہ چل سکتا ہے کہ توبہ کے بعد توبہ کرنے یا معذرت کرنے والا کیسے اعمال بجا لاتا ہے۔ اگر ان میں ایمان و اخلاص آ گیا تو سمجھنا چاہیے کہ وہ نفاق کی سزا سے بچ نکلا۔ التوبہ
106 [١١٩] معذرت کرنے والوں کی قسمیں :۔ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین طرح کے لوگ تھے۔ ایک منافقین جو (80) اسی سے کچھ زیادہ تھے اور جھوٹی معذرتیں پیش کر رہے تھے۔ دوسرے سیدنا ابو لبابہ اور آپ کے چھ ساتھی جنہوں نے آپ سے سوال و جواب سے پہلے ہی اپنے آپ کو مسجدنبوی کے ستون سے باندھ دیا تھا جن کا قصہ پہلے گزر چکا ہے اور تیسرے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے دو ساتھی سیدناہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور مرارہ بن الربیع۔ یہ تینوں بھی پکے مومن تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی بہانہ یا عذر پیش نہیں کیا بلکہ سچی سچی بات برملا بتلا دی۔ ان کے معاملہ کو تاحکم الٰہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے التواء میں ڈال دیا ان کا قصہ آگے اسی سورت کی آیت نمبر ١١٨ کے تحت تفصیل سے بیان ہوگا۔ التوبہ
107 [١٢٠] مسجد ضرار اور راہب ابو عامر کا کر دار :۔ مسجد ضرار منافقین مدینہ نے تعمیر کی تھی اور اس کی تعمیر میں مرکزی کردار ابو عامر راہب تھا۔ یہ شخص انصار کے قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتا تھا۔ عیسائی عالم تھا جس نے درویشی طریقہ اختیار کرلیا تھا۔ اور عام لوگوں میں اس کی درویشی کی اچھی شہرت تھی۔ خصوصاً خزرج کا قبیلہ اس کے زہد اور درویشی کا بڑا معتقد اور اس کی بہت تعظیم کرتا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو جس طرح عبداللہ بن ابی منافق نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سیاسی حریف سمجھ کر اسلام دشمنی کی منافقانہ روش اختیار کی تھی۔ ابو عامر نے آپ کو اپنا روحانی حریف سمجھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت کی راہ اختیار کرلی۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد لوگوں کی توجہ ابو عامر کی طرف سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مبذول ہوگئی تھی۔ پہلے تو یہ شخص اس انتظار میں رہا کہ قریش مکہ ہی اس شخص اور اس کے ساتھیوں سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ مگر جب بدر میں قریش مکہ کو شکست فاش ہوئی تو اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف اس کی چھپی ہوئی عداوت بھڑک اٹھی۔ پھر بعد میں اس نے اپنا اثر و رسوخ استعمال میں لاتے ہوئے عرب قبائل میں اسلام کے خلاف تبلیغ شروع کردی۔ اور غزوہ بدر کے بعد جتنی بھی جنگیں ہوئی مثلاً جنگ احد اور جنگ خندق اور جنگ حنین وغیرہ ان میں خود بھی شریک رہا اور کفار کو جنگوں پر ابھارنے میں بڑا موثر کردار ادا کرتا رہا۔ اسلام کے خلاف کوئی سازش بھی کفار یا منافقین کی طرف سے تیار ہوتی تو اس میں اس کا عمل دخل ضرور ہوتا تھا۔ مسجد ضرار کی تعمیر کا مقصد :۔ جب حنین میں کافروں کو شکست ہوگئی تو اس نے سمجھ لیا کہ اب عرب کے اندر کوئی طاقت ایسی نہیں رہ گئی جو اسلام اور مسلمانوں کو کچل سکے۔ لہٰذا اس نے اپنے مذہب کے واسطہ سے قیصر روم کو مسلمانوں پر چڑھا لانے کا منصوبہ تیار کیا۔ مدینہ کے منافقین ایسے تمام کاموں میں اس کے ہمراز اور معاون تھے۔ جب وہ اس غرض کے لیے روم کی طرف روانہ ہونے لگا تو اس نے منافقوں سے کہا کہ فوراً ایک مسجد تیار کرو جہاں ہم لوگ جمع ہو کر صلاح و مشورہ کرسکیں اور میں یا میرا کوئی قاصد آئے تو وہ وہاں اطمینان سے قیام کرسکے اور ایسی ناپاک سازشیں چونکہ مذہبی تقدس کے پردہ میں ہی چھپ سکتی تھیں۔ لہٰذا ایسی اغراض کے لیے مسجد ہی کی تعمیر ضروری سمجھی گئی۔ وہ مقصد جو مسلمانوں کو بتلایا گیا اور آپ سے افتتاح کی درخواست :۔ چنانچہ مسجد قبا اور مسجد نبوی کے درمیان قبا سے قریب ایک تیسری مسجد تیار ہونے لگی اور اس کی ضرورت یہ بتلائی گئی کہ ہم میں سے بہت سے لوگ کمزور اور ناتواں ہیں جو بارش اور سردی کے موسم میں مسجد قبا تک نہیں پہنچ سکتے نیز مسجد قبا میں جگہ بھی تنگ ہے لہٰذا نمازیوں ہی کی سہولت کے لیے یہ مسجد بنائی جا رہی ہے۔ مسجد کی تعمیر کے بعد یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور عرض کی کہ آپ وہاں چل کر ''افتتاح'' کے طور پر دو رکعت نماز پڑھا دیجئے۔ اس سے منافقوں کی غرض صرف مسلمانوں کو فریب دینا اور سازشوں سے شک و شبہ کے خطرات کو دور کرنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ ’’اس وقت تو میں جہاد پر جا رہا ہوں۔ واپسی پر دو رکعت نماز جا کر پڑھا دوں گا۔‘‘ منافقین کے مشورے :۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک پر روانہ ہوگئے تو پیچھے رہ جانے والے منافق بغلیں بجانے لگے، انہیں یقین تھا کہ اب مسلمان بچ کر واپس نہیں آ سکیں گے اور قیصر روم کی فوجیں مسلمانوں کو کچل کے رکھ دیں گی لہٰذا وہ اس مسجد میں بیٹھ کر یہ صلاح مشورہ کر رہے تھے کہ جونہی مسلمانوں کی شکست کی خبر ملے تو تاج شاہی عبداللہ بن ابی منافق کے سر پر رکھ دیا جائے۔ اور اسے اپنا بادشاہ تسلیم کرلیا جائے۔ غزوہ تبوک کے نتائج :۔ مگر ان منافقوں کی توقعات کے علی الرغم اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ہوا یہ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک پہنچے تو ملک غسان کو مقابلہ پر آنے کی ہمت ہی نہ پڑی اور اس کی وجہ دو تھیں۔ ایک یہ کہ ملک غسان کچھ عرصہ پہلے جنگ مؤتہ میں مسلمانوں کی جرأت ایمانی ملاحظہ کرچکا تھا کہ کس طرح اس کا ایک لاکھ کا لشکر ٣ ہزار مجاہدین پر بھی غالب نہ آسکا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کس بےدردی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا تھا اور اس غزوہ میں مسلمان مجاہدین کی تعداد بیس ہزار تھی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اسے قیصر روم سے مزید کمک کی توقع تھی۔ لیکن قیصر روم نے جب ابو سفیان سے بھرے دربار میں پیغمبر اسلام کے حالات سنے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت سے اتنا متاثر ہوا کہ اسلام لانے کو تیار تھا مگر اپنے وزیروں مشیروں کے تیور دیکھ کر اس نے اسلام کا اعلان کرنے کی جرأت نہ کی اندریں صورت حال قیصر روم نے ملک غسان کو کمک بھیجنے سے انکار کردیا۔ اس طرح ملک غسان کے لشکر کے حوصلے پست ہوگئے اور مسلمانوں سے مقابلہ پر آنے کی جرأت نہ کرسکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن تبوک میں رہ کر اس کا انتظار کیا۔ اس قیام سے ایک تو دشمن پر اپنی دھاک بٹھانا مقصود تھا۔ دوسرے بہت سے عربی قبائل جو پہلے قیصر روم کے باجگزار تھے اس سے کٹ کر اسلامی ریاست کے تابع ہوگئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنی بہت سی نعمتوں سے نوازا۔ مسجد ضرار کا انہدام :۔ تبوک کے واپسی کے سفر میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قریب ذی اوان کے قریب پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مسجد ضرار کی تعمیر کی غرض و غایت اور منافقوں کی ناپاک سازشوں سے مطلع کردیا اور حکم دیا کہ آپ کو ہرگز اس مسجد میں افتتاح کے لیے نماز نہ پڑھانا چاہیے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں سے دو صحابہ مالک بن خشم اور معن بن عدی کو حکم دیا کہ فوراً جا کر اس مسجد کو آگ لگادیں۔ انہوں نے فوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی اس مسجد کو پیوند خاک کردیا گیا۔ اس آیت میں من حارب اللہ و رسولہ سے وہی مرکزی کردار ابو عامر فاسق مراد ہے۔ التوبہ
108 [١٢١] تقویٰ پر تعمیر شدہ مسجد کونسی ہے؟ وہ مسجد کونسی تھی اور کیسے حالات میں تعمیر ہوئی؟ اس کی وضاحت کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :۔ ١۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے اس بات میں جھگڑا کیا کہ وہ کونسی مسجد ہے جس کی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد رکھی گئی تھی۔ ایک نے کہا وہ مسجد قبا ہے اور دوسرے نے کہا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’وہ یہی میری مسجد ہے۔‘‘ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) ٢۔ مسجد نبوی کی تعمیر اور بعد میں وسعت :۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے بلند حصہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں اترے آپ چوبیس (اور ایک روایت کے مطابق چودہ) راتیں وہاں رہے۔ پھر بنی نجار کو بلا بھیجا جو تلواریں لٹکائے حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار ہوئے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کی خواصی میں اور بنی نجار کے سردار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد تھے۔ یہاں سے چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابو ایوب کے گھر میں اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ جہاں نماز کا وقت آئے وہیں نماز پڑھ لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیر مسجد کا حکم دیا۔ اور بنی نجار کے سرداروں کو بلا بھیجا اور فرمایا ’’تم اپنے اس باغ کی قیمت مجھ سے طے کرلو۔‘‘ وہ کہنے لگے۔ ’’نہیں اللہ کی قسم ہم تو اس کی قیمت اللہ تعالیٰ سے ہی لیں گے۔‘‘ اس باغ میں کچھ تو مشرکوں کی قبریں تھیں، کچھ کھنڈر اور کچھ کھجور کے درخت۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو مشرکوں کی قبریں کھود ڈالی گئیں، کھنڈر برابر کیے گئے اور کھجور کے درخت کاٹ کر ان کی لکڑیاں قبلے کی طرف جما دی گئیں۔ اس کے دونوں طرف پتھروں کا پشتہ لگایا۔ صحابہ شعر پڑھ پڑھ کر پتھر ڈھو رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ شعر پڑھتے اور فرماتے :؎ اَللّٰھُمَّ لَاخَیْرَ اِلَّا خَیْرَالْاٰ خِرَۃَ....... فَاغْفِرِ الْاَنْصَارَ وَالْمُھَاجِرَۃَ (اے اللہ! بھلائی تو وہی ہے جو آخرت کی ہو اے اللہ انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔) (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب ھل ینبش قبور مشرکی الجاھلیہ) ٣۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت) ہم ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے اور عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان کے بدن سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا’’افسوس عمار رضی اللہ عنہ کو باغی جماعت مار ڈالے گی۔ یہ تو انہیں بہشت کی طرف بلائے گا اور وہ اسے دوزخ کی طرف بلائیں گے۔‘‘ چنانچہ عمار رضی اللہ عنہ کہا کرتے : میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب التعاون فی بناء المسجد ) ٤۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد نبوی کچی اینٹ سے بنی ہوئی تھی، چھت پر کھجور کی ڈالیاں اور ستون کھجور کی لکڑی کے تھے۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (اپنے دور خلافت میں) کچھ نہیں بڑھایا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کو بڑھایا لیکن عمارت ویسی ہی رکھی جیسی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی یعنی اینٹوں اور کھجور کی ڈالیوں کی۔ البتہ کھجور کی لکڑی کے ستون دوبارہ لگائے گئے پھر سیدنا عثمان رضی اللہ نے اسے بدل ڈالا اور بہت بڑھایا اور اس کی دیواریں نقشی پتھر اور گچ سے بنوائیں اور اس کے ستون بھی نقشی پتھر کے تھے اور اس کی چھت ساگوان سے بنوائی۔ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب بنیان المسجد) التوبہ
109 [١٢٢] جرف سے مراد دریا وغیرہ کا ایسا کنارہ ہے جس کے نیچے کی زمین دریا بہا کرلے گیا ہو اور وہ کسی وقت بھی پانی کی ایک ہی ٹکر سے گر کر دریا میں گر پڑے۔ اس آیت میں اللہ کے خوف اور اس کی رضا کو پختہ اور ٹھوس زمین سے اور نفاق کو کھوکھلے گڑھے یا کھائی سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی جس عمل کی بنیاد نفاق پر ہو وہ خواہ دیکھنے میں اچھا نظر آتا ہو، جیسے کوئی مسجد بنانا وہ اسے جہنم کی گہرائیوں میں جا پٹکے گا۔ التوبہ
110 [١٢٣] گو یہ عمارت گرائی جا چکی ہے مگر ان منافقوں کے دلوں میں نفاق کا روگ اس قدر جڑ پکڑ چکا ہے جو کبھی ختم ہی نہیں ہو سکے گا۔ الا یہ کہ ان کے دلوں کے اندر اتنے چھید ہوجائیں کہ جڑ پکڑنے کی گنجائش ہی نہ رہے۔ دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے مراد ان کا مر جانا ہے یعنی مرتے دم تک نفاق ان کے دلوں سے نکل نہیں سکتا۔ التوبہ
111 [١٢٤] جان ومال فروخت کرنے کا مفہوم :۔ اس کا ایک مفہوم تو ترجمہ سے ہی واضح ہوجاتا ہے یعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کرتے ہیں پھر خواہ وہ شہید ہوجائیں یا بچ کر آ جائیں بہرصورت ان کو جنت ضرور ملے گی۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ حقیقت میں تو ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور مومنوں کی جانوں اور اموال کا بھی ہے لیکن اس نے یہ چیزیں بطور امانت دے رکھی ہیں اور ان میں تصرف کا اختیار بھی انسان کو دے رکھا ہے۔ اسی اختیار سے دستبردار ہوجانے اور اس اختیار کو اللہ کی رضا کے تابع بنا دینے کی قیمت یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت عطا کرے گا اور چونکہ یہ قیمت یعنی جنت نقد بہ نقد نہیں ملتی بلکہ ادھار ہے جو مرنے کے بعد ہی ملے گی۔ لہٰذا یہ توثیق بھی فرما دی۔ اللہ کا یہ وعدہ سب الہامی کتابوں میں بالخصوص تورات، انجیل اور قرآن میں موجود ہے مزید برآں یہ وضاحت بھی فرما دی کہ اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے۔ لہٰذا مومنوں کے لیے اس وعدہ میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اہل ایمان نے اپنی جانوں اور اموال میں تصرف کے جملہ اختیارات تو اللہ کے ہاتھ فروخت کردیئے ہیں اور بوقت ضرورت جان و مال کا نذرانہ پیش کرنا اور جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ لینا پھر شہید ہوجانا یا بچ کر آ جانا یہ سب کچھ وقتی باتیں اور اسی اصل معاہدہ بیع کا ایک حصہ ہیں۔ اصل معاہدہ بیع یہی ہے کہ مومن اپنی جان میں اور اموال میں اللہ کی مرضی کے مطابق ہی تصرف کرے گا۔ یہ معاہدہ بیع انسان کی موت تک چلتا ہے۔ اس سے پہلے یہ پتہ چل ہی نہیں سکتا کہ انسان نے یہ معاہدہ بیع اپنی عمر بھر نبھایا بھی ہے یا نہیں۔ اور جب موت آ جاتی ہے تو اس وقت اسے اس کی قیمت یعنی جنت فوراً مل جاتی ہے۔ اس صورت میں ادھار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس مفہوم کے مطابق یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص کو زندگی بھر جہاد کا موقع ہی میسر نہ آیا ہو۔ مگر اس نے اپنی جان ، اپنے مال اور اپنے اختیار تصرف کو اللہ کی مرضی کے تحت رکھا ہو تو اس سے بھی جنت کا وعدہ ہے۔ التوبہ
112 [١٢٥] معاہدہ بیع میں پورا اترنے والوں کی صفات :۔ سابقہ آیات میں گزر چکا ہے کہ جو سچے مومن غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے کس طرح سچے دل سے توبہ کی۔ گویا بعض اوقات سچے مومن بھی بہ تقاضائے بشر یہ اس معاہدہ بیع کو بھول جاتے ہیں جس کی رو سے مومنوں نے اللہ سے یہ عہد کر رکھا ہے کہ وہ اپنی جانوں اور اموال میں تصرف اسی کی مرضی کے تابع رہ کر کریں گے۔ اور جب بھی کوئی ایسا موقع آتا ہے تو ایسے مومنوں کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب بھی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اللہ سے ہر ایسے موقع پر توبہ و استغفار کرتے رہتے ہیں۔ [١٢٦] سائح کا لغوی مفہوم :۔ سائح کا ایک معنی روزہ دار ہے۔ ایسا روزہ جس میں روزہ دار کھانے پینے کی پابندیوں کے علاوہ اخلاقی پابندیوں کا بھی لحاظ رکھے۔ جیسے جھوٹ، گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے سے بھی پرہیز کرے اور صاحب منجد کے نزدیک وہ روزہ دار ہے جو مسجد میں قیام پذیر ہو۔ جبکہ صائم کا معنی محض روزہ دار ہے اگرچہ اسے بھی اخلاقی پابندیوں کی تاکید کی گئی ہے۔ اور اس کا دوسرا معنی سیاحت کرنے والا ہے۔ سیر و تفریح کے لیے نہیں بلکہ طلب علم کے لیے، جہاد فی سبیل اللہ کے لیے کسب حلال کے لیے، آثار اقوام قدیمہ سے عبرت حاصل کرنے کے لیے، کائنات میں اللہ تعالیٰ کی پھیلی ہوئی آیات کا مشاہدہ کرنے کے لیے، دین اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے لیے اور ہر اس کام کے لیے جس میں اللہ کی رضا مطلوب ہو۔ [١٢٧] یعنی جو لوگ صرف اپنی اصلاح نفس پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ازراہ خیر خواہی دوسروں کو بھی حسب استطاعت اپنے ہاتھ سے یا زبان و قلم سے اچھے کاموں کی تلقین کرتے اور برے کاموں سے روکتے ہیں۔ جو مومنوں کے لیے ایک نہایت اہم فریضہ ہے۔ [١٢٨] ان حدود کا دائرہ بہت وسیع ہے جو انسان کی پوری زندگی کو محیط ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے عقائد، عبادات، اخلاق، معاشرت، تمدن، معیشت، سیاست، عدالت اور صلح و جنگ کے معاملات میں جو حدیں مقرر کر رکھی ہیں۔ ان سے تجاوز نہیں کرتے۔ اور جن مومنوں میں مذکورہ سب صفات پائی جائیں انہی کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس معاہدہ بیع کے پابند ہیں جس کے عوض میں انہیں جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ التوبہ
113 [١٢٩] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یتیم پیدا ہوئے تھے۔ آٹھ سال کی عمر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دادا عبدالمطلب کے زیر تربیت رہے۔ پھر عبدالمطلب بھی فوت ہوگئے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کے سپرد کر گئے۔ ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت پیار و محبت سے تربیت کی جب چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمن بن گئی لیکن ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھرپور حمایت کی اور اسلام نہ لانے کے باوجود ہر مشکل وقت میں ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ڈھال کا کام دیتے رہے۔ شعب ابی طالب میں تین سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ابو طالب سے بہت محبت تھی۔ نبوت کے آٹھویں سال ابو طالب کی وفات ہوگئی جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید صدمہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کی پدرانہ شفقت اور اسلامی خدمات کے جذبات سے متاثر ہو کر اس کے حق میں استغفار کا وعدہ کیا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کی ممانعت اور قصہ ابو طالب :۔ مسیب بن حزن (سعید بن مسیب کے والد) کہتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اس وقت ان کے پاس ابو جہل بیٹھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب سے کہا ’’چچا لا الہ الا اللہ کہہ لو۔ مجھے اپنے پروردگار کے ہاں (تمہاری مغفرت کے لیے) ایک دلیل مل جائے گی۔‘‘ ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ کہنے لگے : کیا تم عبدالمطلب کے دین کو چھوڑ دو گے؟ دونوں برابر یہی سمجھاتے رہے آخر ابو طالب نے آخری بات جو کہی وہ یہ تھی کہ میں عبدالمطلب کے دین پر (مرتا) ہوں۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے لیے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا۔ جب تک مجھے اس سے منع نہ کیا جائے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ قصہ ابی طالب) اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے مشرکوں کے لیے دعائے مغفرت کرنا منع نہ تھا۔ التوبہ
114 [١٣٠] سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے باپ آزر کا انجام :۔ یعنی جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے باپ آزر نے ان سے کہا تھا کہ یہاں سے نکل جاؤ اور میری آنکھوں سے دور ہوجاؤ ورنہ میں تمہیں سنگسار کر دوں گا (١٩ : ٤٧) تو اس وقت آپ نے باپ سے کہا تھا : تم سلامت رہو میں جا رہا ہوں البتہ تمہارے لیے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا اور یہ بات میرے اختیار میں نہیں کہ میں تمہیں اللہ کی گرفت سے بچا سکوں (٦٠ : ٤) چنانچہ اسی وعدہ کے مطابق آپ نے اس کے حق میں دعا فرمائی کہ اے اللہ! میرے باپ کو معاف فرما دے کیونکہ وہ گمراہوں سے ہے اور اس دن مجھے رسوا نہ کرنا جب سب لوگ اٹھائے جائیں گے (٢٦ : ٨٦، ٨٧) پھر جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو معلوم ہوگیا کہ وہ راہ راست کی طرف آنے والا نہیں۔ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے اپنی بے زاری کا اظہار کردیا۔ اور جو دعا آپ نے اپنے حق میں کی تھی کہ’’مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنا‘‘ اس کی تفصیل درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ابراہیم قیامت کے دن اپنے والد آزر کو دیکھیں گے کہ ان کے منہ پر سیاہی اور گرد و غبار ہوگا۔ آپ اس سے کہیں گے میں نے تمہیں کہا نہ تھا کہ میری نافرمانی نہ کرنا۔‘‘ آپ کا باپ کہے گا : آج میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا۔ اس وقت سیدنا ابراہیم علیہ السلام عرض کریں گے ’’پروردگار! تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میں قیامت کے دن تجھے رسوا نہ کروں گا۔ اور اس سے بڑھ کر کیا رسوائی ہو سکتی ہے کہ میرا باپ اس حال میں ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ’’میں نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے۔‘‘ پھر کہا جائے گا ’’ابراہیم ذرا اپنے پاؤں تلے تو دیکھو۔‘‘ اسی وقت انہیں باپ کی جگہ ایک نجاست سے لتھڑا ہوا بجو نظر آئے گا۔ فرشتے اس کے پاؤں پکڑ کر دوزخ میں ڈال دیں گے۔ (بخاری کتاب الانبیاء۔ باب (وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرٰہِیْمَ خَلِیْلًا ١٢٥۔) 4۔ النسآء :125) گویا اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لیے رسوائی کو اس طرح دور کیا کہ ان کے باپ کی شکل ہی بدل دی اور رسوائی کا دار و مدار تو شناخت پر ہے۔ جب یہ شناخت ہی نہ رہے کہ کیا چیزدوزخ میں پھینکی گئی تو پھر کسی کی رسوائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ [١٣١] اوّاہ کے معنی آہیں بھرنے والا، آہ وزاری کرنے والا، بہت دعائیں کرنے والا۔ رقیق القلب اور نرم دل سب کچھ آتے ہیں۔ ان کی نرم دلی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ باپ تو کہہ رہا ہے کہ یہاں سے نکل جاؤ ورنہ تمہیں رجم کر دوں گا اور آپ اس کو جواب دیتے ہیں کہ میں تو جا رہا ہوں تم سلامت رہو اور میں تمہارے لیے اپنے رب سے معافی بھی مانگوں گا۔ التوبہ
115 [١٣٢] شرعی حکم نہ جاننے والا جاہل ہے گمراہ نہیں :۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ لوگوں پر پوری طرح واضح کردیتا ہے کہ انہیں کن کن باتوں سے بچنا ضروری ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے اور ہدایت بھی۔ اب جو لوگ اللہ کی ہدایت کی راہ چھوڑ کر غلط راستہ پر چل پڑتے ہیں یعنی گمراہی کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو اللہ انہیں اسی راہ پر چلنے کی توفیق دیتا ہے کیونکہ جبراً کسی کو ہدایت کی راہ پر چلائے رکھنا اللہ کا دستور نہیں ہے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جس بات کی ممانعت صراحتاً نازل نہ ہوئی ہو اس کا کرنے والا نہ گمراہ ہوتا ہے اور نہ گنہگار۔ گویا اس بات کا اشارہ کردیا کہ جو لوگ ممانعت سے پہلے مشرکوں کے لیے استغفار کرچکے ہیں ان پر مؤاخذہ نہیں لیکن حکم مل جانے کے بعد ایسا کرنا گمراہی ہے۔ اسی طرح اگر کسی حکم شرعی کا پتہ ہی نہ ہو تو اسے جاہل تو کہہ سکتے ہیں۔ گمراہ نہیں کہہ سکتے۔ التوبہ
116 التوبہ
117 [١٣٣] اس آیت میں تنگی کے وقت سے مراد غزوہ تبوک پر روانگی کا وقت ہے جبکہ شدید گرمی کا موسم تھا قحط سالی تھی، فصلیں پکنے والی تھیں بے سرو سامانی کی حالت تھی، سفر طویل اور پر مشقت تھا۔ چنانچہ اس وقت بعض سچے مسلمان بھی جہاد پر روانہ ہونے سے گھبرانے لگے تھے۔ آخر ان کے ایمان کی پختگی ان کے نفس پر غالب آئی اور وہ پورے عزم کے ساتھ جہاد پر نکل کھڑے ہوئے اور یہاں اللہ کی مہربانی سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے اس گھبراہٹ کے عالم میں انہیں روانگی کے لیے ہمت و جرأت عطا فرمائی اور نبی پر مہربانی سے مراد وہ آیت ہے جس کا آغاز ہی اس طرح ہوا تھا کہ اللہ آپ کو معاف فرمائے آپ نے ایسے ہٹے کٹے، تنومند اور کھاتے پیتے منافقوں کو جہاد پر جانے سے رخصت کیوں دے دی (٩ : ٤٣) التوبہ
118 [١٣٤] سیدنا کعب بن مالک اور ان کے دوسرے ساتھیوں کا قصہ :۔ یہ وہ تین آدمی ہیں جن کا اجمالی ذکر اس سورۃ کی آیت نمبر ١٠٦ میں آ چکا ہے اور وہ سیدنا کعب بن مالکص، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن الربیع صتھے اور تینوں پہلے بارہا اپنے اخلاص کا ثبوت دے چکے تھے اور کعب بن مالک تو ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے لیلۃ العقبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تاہم آپ اکثر کہا کرتے تھے کہ مجھے لیلۃ العقبہ کی بیعت میں شمولیت غزوہ بدر میں شمولیت سے زیادہ عزیز ہے۔ بہت سی صحیح احادیث میں ان کا قصہ خود انہی سے مروی ہے۔ ان میں سے دو احادیث ہم یہاں درج کرتے ہیں : ١۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں کہ جس غزوہ میں بھی نبی اکرم شریک ہوتے ہیں ان کے ساتھ ہوتا بجز دو لڑائیوں کے ایک غزوہ عسرہ (جنگ تبوک) اور دوسری غزوہ بدر۔ جنگ تبوک کے موقع پر میں نے پکی نیت کرلی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت مدینہ تشریف لائیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ سچ کہہ دوں گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جب سفر سے تشریف لاتے تو چاشت کے وقت ہی آتے۔ پہلے مسجد میں جاتے اور دو رکعت نماز ادا کیا کرتے۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچ سچ بات بتلا دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مجھ سے اور میرے (جیسے) دو ساتھیوں (ہلال بن امیہ اور مرارہ بن الربیع) سے بات چیت کرنے سے منع کردیا۔ ہم تین آدمیوں کے سوا جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے اور (جھوٹے عذر پیش کر رہے تھے) ان کے لیے یہ حکم نہیں دیا۔ اب صحابہ نے ہم سے بات چیت کرنا چھوڑ دی اس حال میں زندگی مجھ پر دوبھر ہوگئی۔ مجھے بڑی فکر یہ تھی کہ اگر میں اسی حال میں مر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے جنازے پر نماز بھی نہیں پڑھیں گے یا (خدانخواستہ) آپ کی وفات ہوجائے تو میں ساری عمر اسی مصیبت میں مبتلا رہوں گا نہ مجھ سے کوئی بات چیت کرے گا اور اگر مر گیا تو کوئی نماز بھی نہ پڑھے گا۔ آخر (پچاس دن گزرنے کے بعد) اللہ تعالیٰ نے ہماری معافی کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا۔ اس وقت تہائی رات باقی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے۔ ام سلمہ میری بھلائی کی فکر میں تھیں اور میری مدد کرنا چاہتی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا ’’ام سلمہ! کعب بن مالک کی توبہ قبول ہوگئی۔‘‘ تو انہوں نے کہا ’’میں کعب کو مبارک باد کہلا بھیجوں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’لوگ ہجوم کر آئیں گے اور تمہاری نیند خراب کردیں گے۔‘‘ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی تو لوگوں کو ہماری توبہ قبول ہونے کی خبر دی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی اچھی خبر ملتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ یوں چمکنے لگتا جیسے چاند کا ایک ٹکڑا ہے۔ ہم تین آدمیوں کے لیے، جن کا معاملہ التواء میں ڈال دیا گیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے معافی کا حکم اتارا اور باقی جن لوگوں نے جھوٹے بہانے تراشے تھے ان کا ذکر بری طرح کیا گیا۔ اتنا برا ذکر اللہ نے اور کسی کا نہیں کیا۔ فرمایا ’’جب تم ان کے پاس واپس آؤ گے تو وہ آپ کے سامنے معذرت شروع کردیں گے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے:بہانے نہ بناؤ، ہم تمہاری باتوں پر یقین نہیں کریں گے۔ کیونکہ اللہ نے ہمیں تمہارے حالات بتلا دیئے ہیں۔ اور آئندہ بھی اللہ اور اس کا رسول تمہارے کام دیکھ لیں گے۔۔‘‘ تاآخر (آیت نمبر ٩٤) (بخاری کتاب التفسیر) ٢۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ان تین آدمیوں میں سے تھے جو جنگ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے اور ان کا معاملہ التواء میں ڈال دیا گیا تھا۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ آخر عمر میں نابینا ہوگئے تھے اور ان کے بیٹے عبداللہ بن کعب انہیں لے کر چلا کرتے تھے۔ عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ جب کعب اپنا قصہ بیان کرتے تو فرمایا کرتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ’’میں اپنی توبہ کے قبول ہونے کے شکریہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لیے صدقہ کرتا ہوں۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’نہیں تھوڑا سا مال اپنے لیے بھی رکھ لو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر) پہلی حدیث میں چند اہم باتیں مذکور نہیں جو دوسری احادیث میں مذکور ہیں اور وہ یہ ہیں : ١۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جن دنوں میرے ساتھ صحابہ کی گفتگو بند کی گئی تھی انہی دنوں میں شام کے عیسائیوں میں سے مجھے ایک شخص ملا اور اس نے شاہ غسان کا حریر میں لپٹا ہوا خط مجھے دیا۔ اس خط میں لکھا تھا کہ ’’ہم نے سنا ہے کہ تمہارے صاحب نے تم پر تشدد کیا ہے۔ تم ایسے حقیر آدمی نہیں جسے ضائع کیا جائے۔ اگر تم ہمارے پاس آ جاؤ تو ہم تمہاری پوری پوری قدر کریں گے۔‘‘ میں نے یہ خط پڑھ کر سمجھ لیا کہ یہ ایک اور آزمائش مجھ پر نازل ہوئی ہے چنانچہ میں نے اس خط کو فوراً چولہے میں جھونک دیا۔ ٢۔ جب چالیس دن اسی حالت میں گزر گئے تو ہم تینوں کو حکم ہوا کہ ہم اپنی بیویوں سے بھی الگ رہیں۔ میں نے پوچھا ’’طلاق دے دوں؟‘‘ جواب ملا ’’نہیں بس الگ رہو۔ ‘‘ہلال بن امیہ کی بیوی آپ کے پاس گئی اور کہنے لگی کہ ہلال بن امیہ نہایت کمزور ہے اور وہ اکیلا نہیں رہ سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے خاوند کے پاس رہنے کی اجازت دے دی صحبت وغیرہ کی اجازت نہیں دی۔ مگر میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ۔ اور انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا فیصلہ کر دے۔ ٣۔ مزید دس دن یعنی کل پچاس دن گزر جانے کے بعد ہم لوگوں کی اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول کرلی۔ اللہ تعالیٰ نے ان مخلص صحابہ کا جو کڑا امتحان لیا تھا اس میں وہ پورے اترے۔ پھر اللہ نے نہایت شفقت بھرے الفاظ میں ان کی صرف توبہ ہی قبول نہیں فرمائی بلکہ اگلی آیت میں ان کی سچائی، راست بازی اور وفاداری کی تعریف بھی فرمائی۔ التوبہ
119 [١٣٥] سچ بولنے کی فضیلت اور فائدہ :۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں کا قصہ بیان کرنے کے بعد کہا کرتے : اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ اللہ نے کسی شخص کو سچ کہنے کی توفیق دے کر اس پر اتنا احسان کیا ہو جیسا کہ مجھ پر کیا۔ میں نے اسی وقت سے لے کر آج تک قصداً کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اللہ تعالیٰ نے اسی باب میں یہ آیات اتاریں ﴿لَقَدْ تَّاب اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْۢ بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ ۭ اِنَّہٗ بِہِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ﴾ (بخاری۔ کتاب التفسیر) التوبہ
120 [١٣٦] رسول اللہ کو اپنی جان سے عزیز سمجھنے سے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے :۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو سفر تبوک کی صعوبتیں برداشت کریں اور مسلمان ان کے بعد اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے رہیں۔ اور اللہ کے رسول کی جان سے اپنی جانوں کو عزیز تر سمجھیں۔ ایک صحابی ابو خیثمہ رضی اللہ عنہ بھی غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔ وہ اپنے باغ میں گئے وہاں ٹھنڈا سایہ تھا۔ آپ کی بیوی نے پانی چھڑک کر زمین کو خوب ٹھنڈا کیا۔ چٹائی کا فرش کیا۔ تازہ کھجور کے خوشے سامنے رکھے اور ٹھنڈا میٹھا پانی بھی حاضر کیا۔ یہ سامان عیش دیکھ کر دفعتاً ابو خیثمہ کے دل میں بجلی کی سی ایک لہر دوڑ گئی۔ بولے تف ہے اس زندگی پر کہ میں تو خوشگوار سائے، ٹھنڈے پانی اور باغ و بہار کے مزے لوٹوں اور اللہ کا رسول ایسی سخت لو اور تپش اور تشنگی کے عالم میں سفر کر رہے ہوں۔ یہ خیال آتے ہی سواری منگائی، تلوار حمائل کی، نیزہ سنبھالا اور فوراً چل کھڑے ہوئے۔ اونٹنی تیز ہوا کی طرح چل رہی تھی۔ آخر لشکر کے پاس پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور سے دیکھا کہ کوئی شتر سوار ہوا کے دوش پر سوار گرد اڑاتا چلا آرہا ہے اور فرمایا اللہ کرے یہ ابو خیثمہ ہو۔ تھوڑی دیر میں دیکھ لیا کہ وہ ابو خیثمہ رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک کوئی مومن مجھے اپنی جان سے بھی عزیز نہ سمجھے اس وقت تک اس کا ایمان مکمل ہی نہیں ہوتا جیسا کہ درج ذیل حدیث میں آیا ہے۔ عبداللہ بن ہشام فرماتے ہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : ’’یا رسول اللہ! آپ میرے نزدیک اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے محبوب ہیں‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جب تک میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ عزیز (محبوب) نہ ہوجاؤں تم مومن نہیں ہو سکتے۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ’’اللہ کی قسم! اب آپ میرے نزدیک میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہاں اے عمر! (یعنی اب تم صحیح مسلمان ہو)‘‘ (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب کیف کانت یمین النبی ) [١٣٧] یعنی جہاد کے سفر میں مجاہد کے ہر ایک فعل کے بدلے ایک عمل صالح اس کے اعمال نامہ میں لکھ دیا جاتا ہے خواہ یہ فعل غیر اختیاری ہو۔ جیسے بھوک پیاس کو برداشت کرنا یا تھکاوٹ یا کوئی ایسی تکلیف اسے اس راہ میں پیش آ رہی ہو یہ سب اس کے صالح اعمال میں شمار ہوں گے اور خواہ یہ فعل اختیاری ہوں جیسے سفر طے کرنا، دشمن سے کوئی علاقہ چھیننا یا اس سے جنگ کر کے کامیابی حاصل کرنا، ان تمام تر کاموں کا اللہ کے ہاں انہیں اجر ملے گا۔ التوبہ
121 [١٣٨] پہلی آیت میں ہر اختیاری و غیر اختیاری فعل کے بدلے اعمال صالحہ لکھنے کا ذکر کیا۔ اس آیت میں بالخصوص ان اعمال کا ذکر کیا جو اختیاری ہی ہو سکتے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ کی بنیاد ہیں۔ یعنی زاد سفر، سواری اور اسلحہ پر جو بھی میسر آسکے خرچ کرتے ہیں۔ پھر سفر جہاد پر نکل بھی کھڑے ہوتے ہیں۔ اللہ انہیں ان کاموں کا بہتر صلہ ضرور عطا فرمائے گا یعنی یہ اعمال بلند تر درجہ کے صالح اعمال ہوئے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کاموں کا جو بہتر سے بہتر بدلہ ہوسکتا ہے وہی اللہ انہیں عطا فرمائے گا۔ التوبہ
122 [١٣٩] دین کا علم سیکھنا فرض کفایہ ہے :۔ اس آیت کے دو مفہوم بیان کیے جاتے ہیں۔ اور وہ دونوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ یہ آیت جہاد سے متعلق ہے۔ اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہاد فرض عین نہیں البتہ جب اسلامی حکومت کی طرف سے جہاد کا اعلان عام ہوجائے تو اس وقت صاحب استطاعت لوگوں پر جہاد فرض عین ہوجاتا ہے جیسا کہ غزوہ تبوک میں ہوا تھا اور اس صورت میں جہاد سے پیچھے رہ جانے والے گنہگار ہوتے ہیں اور سب لوگوں کے لیے یہ ممکن اس لیے نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات مسلمانوں کا ایک حصہ پیچھے رہنا ضروری ہوتا ہے تاکہ دارالخلافہ یا دوسرے اہم مقامات کی دشمن سے حفاظت کرسکیں۔ عند الضرورت فوج کو رسد اور کمک بھیج سکیں۔ علاوہ ازیں معاشرہ میں کئی طرح کے معذور افراد بھی ہوتے ہیں۔ اس صورت میں اس آیت کا یہ معنی ہوگا کہ ہر بستی اور ہر قبیلہ کے کچھ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جانا ضروری ہے تاکہ وہ ان کی صحبت میں رہ کر دین کی سمجھ بوجھ پیدا کریں اور جب واپس اپنے گھروں کو آئیں تو ان سینکڑوں حوادث و واقعات سے متعلق ان لوگوں کو مطلع کریں جو جہاد پر نہیں گئے تھے اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود جنگ پر تشریف نہیں لے گئے تھے تو جو کچھ پیچھے رہنے والوں نے نبی اکرم کی صحبت سے دین کی باتیں اور سمجھ بوجھ سیکھی ہے اس سے ان لوگوں کو مطلع کریں جو جہاد پر گئے ہوئے تھے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جہالت دور کرے :۔ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس آیت کا تعلق جہاد سے نہیں بلکہ علم دین حاصل کرنے سے ہے یعنی تمام مسلمانوں اور بالخصوص بدوی قبائل (جن کے متعلق پہلے اسی سورۃ کی آیت نمبر ٩٧ میں بتلایا گیا ہے کہ وہ دین کی حدود اور اس کی حکمتوں کو سمجھ نہیں سکتے) کے لیے یہ ممکن نہیں کہ دین کا علم اور اس میں فہم حاصل کرنے کے لیے سب کے سب مدینہ آپ کے پاس چلے آئیں۔ لہٰذا لوگوں میں دینی شعور اور سمجھ بوجھ پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر قبیلہ، قوم اور بستی میں سے کچھ لوگ مدینہ آ جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض حاصل کریں پھر وہ واپس آ کر اپنی اپنی بستی، قوم یا قبیلہ کے لوگوں کو علم دین کی تعلیم دیں تاکہ ان کی جہالت دور ہو اور ان میں اسلامی نظام حیات کا صحیح صحیح شعور پیدا ہو۔ اور وہ اپنے طرز زندگی کو اسی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ حقیقی علم دین کا علم ہے :۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ اسلام عرب کے اکثر حصہ پر غالب آ چکا تھا۔ بدوی قبائل دھڑا دھڑ اسلام میں داخل ہو رہے تھے مگر ابھی تک ان کے نہ جاہلی نظریات ختم ہوئے تھے اور نہ دین کا ابھی حقیقی شعور پیدا ہوا تھا اس آیت میں علم کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے اور بتلایا گیا ہے کہ اسلامی حکومت کا کام محض علاقے فتح کرنا نہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ لوگوں کی جہالت دور کرنا اور اسلامی نظریات کے مطابق ان کی تربیت کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا جہاد ضروری ہے ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی علم وہی کہلا سکتا ہے جس سے دین کی سمجھ بوجھ پیدا ہو اور ان سے دین کی تبلیغ و اشاعت میں کام لیا جا سکتا ہو۔ رہے دوسرے علوم تو وہ دنیا کی زندگی کے لیے خواہ کتنے ہی مفید کیوں نہ ہوں حقیقی علم نہیں کہلا سکتے۔ اس آیت کو خواہ جہاد پر نکلنے سے متعلق کیا جائے یا دین کا علم حاصل کرنے کے لیے نکلنے سے متعلق کیا جائے دونوں طرح درست ہے کیونکہ دین کا علم حاصل کرنے کے لیے نکلنا بھی جہاد فی سبیل اللہ ہی کی ایک قسم ہے اور اسلامی نظام حیات کے قیام کے لیے یہ دونوں شعبے ہی نہایت اہم اور فرض کفایہ ہیں۔ التوبہ
123 [١٤٠] پہلے متصل علاقہ کے کافروں سے جہاد پھر آگے بالترتیب :۔ یعنی اگر یہ جنگ اسلام کے راستہ کی رکاوٹوں کو دور کرنے یا بالفاظ دیگر فتنہ کو دور کرنے کی خاطر ہو تو سب سے پہلے اپنی ریاست سے متصل علاقے کے کافروں سے جنگ کی جائے پھر اس کے بعد ان سے جو اس کے ساتھ ملتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ اگر متصل علاقے کو چھوڑ کر اگلے علاقہ سے جنگ شروع کی جائے تو درمیانی علاقہ والے کافر مسلمانوں کو آگے اور پیچھے دونوں اطراف سے حملہ کر کے خطرات سے دو چار کرسکتے ہیں۔ اور اگر جنگ دفاعی قسم کی ہو جیسے مثلًا روس نے افغانستان پر حملہ کردیا تھا۔ تو سب سے پہلے جہاد میں حصہ لینا افغانستان پر فرض ہوگا پھر ان علاقوں یا ملکوں پر جو افغانستان کی سرحد کے ساتھ ملتے ہیں یعنی پاکستان اور ایران وغیرہ پر۔ [١٤١] یعنی ان سے جان توڑ کر مقابلہ کرنا چاہیے اور ان سے نرمی کا برتاؤ ہرگز نہ ہونا چاہیے بلکہ ایسی سختی سے پیش آنا چاہیے کہ انہیں دوبارہ سر اٹھانے کی جرأت نہ ہو سکے۔ یہ مضمون قرآن میں متعدد مقامات پر آیا ہے کہ مومنوں کی شان ہی یہ ہے کہ وہ آپس میں تو بڑے رحم دل اور مہربان ہوتے ہیں لیکن کفار کے لیے بڑے سخت دل ہوتے ہیں۔ [١٤٢] جنگ کے ضابطوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے :۔ سختی کا یہ مطلب نہیں کہ تم ان تمام ضابطوں اور احکام کو بھول جاؤ جو اللہ اور رسول نے تمہیں دوران جنگ کے لیے دے رکھے ہیں مثلاً کافروں کی عورتوں، بچوں، راہب قسم کے لوگوں یا میدان جنگ میں عملاً شریک نہ ہونے والے لوگوں کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ کسی کی لاش کا مثلہ نہ کیا جائے گا۔ معاہدہ کی خلاف ورزی کسی قیمت پر نہ کی جائے گی۔ دشمن کے درختوں اور کھیتوں اور چوپایوں کو بر باد نہیں کیا جائے گا الا یہ کہ درخت وغیرہ جنگ کی راہ میں حائل ہو رہے ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔ ایسے تمام امور میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور اللہ ایسے ڈرنے والوں ہی کا ساتھ دیتا اور ان کی مدد فرماتا ہے۔ التوبہ
124 [١٤٣] یعنی منافق اپنے منافق ساتھیوں سے یا ضعیف الاعتقاد مسلمانوں سے طنزیہ یہ سوال کر کے اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے ہیں جس سے ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اس سورت میں تو کوئی ایسی چیز موجود ہی نہیں جو ایمان اور یقین میں اضافہ کا باعث بن سکتی ہو۔ التوبہ
125 [١٤٤] منافقوں کے نفاق میں ہر سورت سے اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے :۔ منافقوں کے اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں کے دلوں میں ایمان پہلے سے موجود ہے ان کے لیے تو یہ سورت یقیناً ان کے ایمان میں اضافہ کا باعث بن جاتی ہے۔ لیکن جن لوگوں کے دلوں میں پہلے سے ہی نفاق کی گندگی موجود ہے تو اس سورت سے ان کی گندگی پر، مزید گندگی کا ایک اور ردہ چڑھ جاتا ہے حتیٰ کہ ہر سورت ان کے اس گندگی کے ڈھیر میں مزید اضافہ ہی کیے جاتی ہے تاآنکہ انہیں موت آ جاتی ہے اور اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے کہ جیسے آسمان سے بارش اللہ کی رحمت کی صورت میں نازل ہوتی ہے۔ اب جو اچھی اور عمدہ زمین ہے وہ تو اس بارش سے لہلہا اٹھتی ہے اور جو گندی یا بنجر زمین ہے وہاں پہلے تو کوئی چیز پیدا نہ ہوگی اور ہوگی بھی تو وہ جھاڑ جھنکار ہی ہوگا۔ التوبہ
126 [١٤٥] یعنی کوئی سال ایسا نہیں گزرتا جس میں سال میں ایک یا دو دفعہ ان کی رسوائی نہ ہوتی ہو۔ کبھی ان کی کوئی سازش پکڑی جاتی ہے کبھی ان کا راز فاش ہوجاتا ہے۔ کبھی کوئی جنگ پیش آ جاتی ہے جو ان کے ایمان کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ کبھی یہ لوگ خود ہی ایسی بکواس کر بیٹھتے ہیں جن کی وجہ سے انہیں رسوا ہونا پڑتا ہے اور جب بھی کوئی ایسا موقع پیش آتا ہے تو بجائے اس کے کہ وہ سیدھی راہ پر آ جائیں مکر و فریب اور جھوٹ سے اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے دلوں کی نجاست میں ہر آن اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔ التوبہ
127 [١٤٦] وحی نازل ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کو مسجد میں بلاکر وحی سنانا :۔ جب کوئی سورت نازل ہوتی تو بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو مسجد نبوی میں بلا کر بطور خطبہ انہیں یہ سورت سنا دیا کرتے۔ اب منافقوں کی مجبوری یہ تھی کہ انہیں ایسے اعلان پر مسجد میں جانا پڑتا تھا اور اپنے آپ سے نفاق کا شبہ دور کرنے کے لیے انہیں ایسی حاضری لگوانا ہی پڑتی تھی مگر اس بیگار کو زیادہ دیر تک برداشت بھی نہ کرسکتے تھے اور چاہتے یہ تھے کہ حاضری لگوانے کے بعد فوراً مسلمانوں سے نظریں بچا کر نکل جائیں اور ان میں سے اکثر یہی کچھ کرتے تھے۔ تو جب ان لوگوں نے رشد و ہدایت کی مجلس سے یوں بھاگنا شروع کیا تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ویسا ہی بنا دیا۔ [١٤٧] یعنی ہر سال ایک یا دو دفعہ رسوا ہونے کے باوجود انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ہمیں اس رسوائی سے نجات کیسے مل سکتی ہے اور اس کے بجائے عزت کیسے نصیب ہو سکتی ہے نیز ہماری دین و دنیا کی بھلائی کس بات میں ہے۔ التوبہ
128 [١٤٨] یعنی وہ رسول تمہارے ہی قبیلہ سے ہے تم اس کی زندگی بھر کے حالات اور عادات و خصائل سے خوب واقف ہو اور اس کی دیانت، امانت اور صداقت کے شاہد ہو۔ اور وہ تمہاری ہی زبان میں گفتگو کرتا ہے جو تمہارے لیے باعث فخر اور رحمت ہے۔ [١٤٩] آپ کو مومنوں کی تکلیف کا شدید احساس تھا :۔ یعنی جب تمہیں کوئی سختی یا دکھ پہنچے تو اس کی جان پر بن جاتی ہے اور اسے اس کے دفعیہ کی فکر دامن گیر ہوجاتی ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ ہر ممکن طریقہ سے یہ چاہتے ہیں کہ امت پر آسانی ہو۔ آپ جو دین لائے وہ بھی سہل اور نرم ہے اور آپ اپنے عمال کو بھیجتے وقت بھی ہدایت فرمایا کرتے تھے کہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، سختی نہ کرنا۔ [١٥٠] سب سے زیادہ حرص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تھی کہ لوگ اخروی عذاب یعنی دوزخ سے بچ جائیں اور اس کا واحد راستہ یہی تھا کہ وہ آپ پر ایمان لا کر اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جائیں۔ یعنی رسول کے دل میں تمہاری خیر خواہی اور بھلائی کے لیے خاص تڑپ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت بے قرار ہوجاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کیفیت کو قرآن میں متعدد بار دہرایا گیا ہے۔ [١٥١] اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین تھے تاہم مومنوں کے تو بہت زیادہ ہمدرد اور ان پر مہربان تھے۔ مومنین کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صفات کو یکجا ذکر کیا گیا۔ ایک رؤف دوسرے رحیم۔ رحم یا مہربانی کا تعلق تو ہر طرح کے حالات میں یکساں ہے اور رؤف وہ شخص ہے جس کا دل کسی پر مصیبت یا سختی دیکھ کر فوراً پسیج جائے اور اسے ترس آنے لگے۔ التوبہ
129 [١٥٢] یعنی اگر یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت، حدر درجہ شفقت، خیر خواہی اور دلسوزی کی کچھ بھی قدر نہیں کرتے تو جانے دیجئے۔ اگر یہ سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منہ پھیر لیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ ہی آپ کی مدد کے لیے کافی ہے اور اسی پر بھروسہ کیجئے جو کائنات کی ایک ایک چیز حتیٰ کہ عرش عظیم کا بھی مالک ہے۔ التوبہ
0 یونس
1 [١] یہ سورۃ مکی ہے اور اس کے مخاطب وہ قریش مکہ ہیں جو اللہ کے متعلق بھی غلط قسم کا تصور رکھتے تھے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے اسلام کی تعلیم اور قرآنی آیات پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کر رہے تھے اور عملاً مسلمانوں پر اتنی سختیاں اور مظالم ڈھا رہے تھے کہ ان کا عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا۔ یونس
2 [٢] لوگوں کی ہدایت کے لئے رسول انسان ہی ہوسکتا ہے :۔ ان کا پہلا اعتراض یہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ شخص جو ہم جیسا ہی ایک آدمی ہے۔ ہماری طرح ہی پوری زندگی بسر کرتا ہے، کھاتا ہے، پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ وہ اللہ کا رسول ہو، اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر دیا ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے صرف انسان ہی رسول ہوسکتا ہے جو انہی کی زبان بولتا اور سمجھتا ہو اس کے علاوہ کوئی صورت ممکن ہی نہ تھی نہ کسی فرشتہ کو رسول بنایا جاسکتا تھا اور نہ کسی جن یا دوسری مخلوق کو اور اگر ایسا کیا بھی جاتا تو وہ لوگوں کے لیے حجت کیسے بن سکتا تھا ؟ [٣] اس رسول کو بھیجنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے برے انجام سے بروقت مطلع کر دے اور انہیں اللہ کے جملہ احکام پہنچا دے اور بتلا دے کہ عزت اور سرفرازی صرف ان لوگوں کے لیے ہی ہوسکتی ہے جو اس کی تعلیم کو تسلیم کرلیں لہٰذا لوگوں کو تو یہ سوچنا چاہیے کہ آخر وہ کیا بات ہے جس پر وہ تعجب کر رہے ہیں؟ [٤] آپ کو جادوگر کیوں کہا جاتا تھا ؟ کیونکہ آپ اللہ کا جو کلام پیش کر رہے تھے اس میں لطافت، شیرینی اور تاثیر اتنی زیادہ تھی کہ کافر بھی یہ کلام سن کر مسحور ہوجاتے تھے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا ارشاد ہے کہ ''اِنَّ مِنَ الْبَیَان لسحرًا'' (بخاری بحوالہ مشکوۃ۔ کتاب الآدب۔ باب البیان والشعر فصل اول) یعنی کوئی بیان ایسا ہوتا ہے جو جادو کا سا کام کرجاتا ہے۔ قرآن کی ایسی تاثیر کی وجہ سے قریش نے بلند آواز سے قرآن پڑھنے پر پابندی لگا رکھی تھی اور کہتے تھے کہ اس سے ہماری عورتیں اور بچے متأثر ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ پابندی لگانے والے قریشی سردار خود قرآن سن کر اس سے لطف اندوز ہوتے تھے اور اپنے باہمی معاہدہ کے باوجود چوری چھپے قرآن سن لیا کرتے تھے۔ ضما دازدی کا اسلام لانے کا قصہ :۔ ایک دفعہ یمن کے قبیلہ ازد کے ایک بااثرفرد ضماد ازدی مکہ تشریف لائے تو سرداران قریش نے انہیں متنبہ کیا کہ یہاں ایک شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے جس کے کلام میں جادو ہے کہیں اس کے ہتھے نہ چڑھ جانا۔ ضماد ازدی خود دم جھاڑ کا کام کرتے تھے اس لیے انہیں یہ خیال آیا کہ اس شخص کی بات تو سننی چاہیے۔ میں بھی آخر ایک اچھا بھلا عقل مند آدمی ہوں اگر اس کی بات اچھی لگی تو قبول کرلوں گا ورنہ چھوڑدوں گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر اسے کچھ آسیب ہوا تو اللہ میرے ہاتھوں اسے شفا دے۔ اس خیال سے میں ان کے پاس چلا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا کلام سنانے کی درخواست کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خطبہ مسنونہ ''الحمد للہ۔۔ عبدہ و رسولہ '' تک سنایا یہ خطبہ اگرچہ کوئی مستقل قرآنی آیت نہیں تاہم قرآنی کلمات کا ہی مجموعہ ہے جب ضماد نے یہ کلمات سنے تو جھوم اٹھا اور کہنے لگا پھر دہرائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دہرائے تو کہنے لگا’’ایک بار پھر دہرائیے‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ جب یہ کلمات دہرائے تو کہنے لگا ’’میں نے کاہنوں کا کلام بھی سنا ہے اور جادوگروں کا بھی، شاعری کے اشعار بھی سنے ہیں۔ مگر ان کلمات جیسا پہلے کبھی کوئی کلام نہیں سنا بے شک یہ کلمات تو سمندر کی تہہ تک پہنچ گئے ہیں‘‘ پھر اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اور اپنی قوم کی طرف سے؟‘‘ ضماد کہنے لگے ’’ہاں میں اپنی قوم کی طرف سے بھی بیعت کرتا ہوں‘‘ (مسلم، کتاب الجمعہ، باب تخفیف الصلوۃ والخطبۃ) ضماد ازدی کا یہ بیان کہ ’’یہ کلمات تو سمندر کی تہہ تک پہنچ گئے ہیں‘‘ وہی بات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کی پہلی آیت میں ﴿تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ﴾ فرمایا ہے یعنی یہ کتاب دانائی سے اس قدر معمور ہے۔ کہ اس کی ہر بات استدلال اور اس کے منطقی نتیجہ پر منتج ہوتی ہے اور جو فصاحت و بلاغت، لطافت و شیرینی ہے وہ اس کی زائد خوبیاں ہیں۔ پھر چونکہ یہی قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیش فرما رہے تھے جو لوگوں کو مسحور بنا دیتا تھا لہٰذا کافر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر کہہ دیتے تھے اور اکثر انبیاء ورسل کو کفار کی جانب سے اسی لقب سے نوازا جاتا رہا ہے جن کو کوئی حسی معجزہ عطا کیا گیا تھا۔ حالانکہ ایک رسول اور ایک جادوگر کی زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ مثلاً: ١۔ نبی اور جادوگر میں فرق :۔ جادو ایک فن ہے جو سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے ہر جادوگر کسی استاد کا شاگرد ہوتا ہے جبکہ معجزہ محض اللہ کی طرف سے عطا ہوتا ہے یہ سیکھنے سکھلانے کی چیز نہیں ہوتی۔ ٢۔ جادو ایک پیشہ ہے جسے مال و دولت کے حصول کے لیے اختیار کیا جاتا ہے اور اس معاملہ میں جادوگر انتہائی پست ذہنیت کے مالک ہوتے ہیں جیسا کہ فرعون نے جب جادوگروں کو بلایا تو ان کا پہلا سوال ہی یہ تھا کہ ’’ہمیں اس کا کچھ معاوضہ بھی ملے گا ؟‘‘ جبکہ نبی انسانیت کی بے لوث خدمت کرتا ہے وہ برملا لوگوں سے کہہ دیتا ہے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ ٣۔ جادو بالعموم ایسی باتوں کے لیے کیا جاتا ہے جن سے کسی کو دکھ اور تکلیف پہنچانا مقصود ہو جبکہ معجزہ بندوں کی ہدایت کے لیے بطور نشان نبوت پیش کیا جاتا ہے اور اس سے مقصود سراسر بھلائی ہی بھلائی ہوتی ہے۔ ٤۔ جادوگر کے اخلاق و کردار دونوں مکروہ ہوتے ہیں اور لوگ اگر ان کی عزت کرتے ہیں تو ان کے شر سے بچنے کی خاطر کرتے ہیں جبکہ انبیاء کے اخلاق اور کردار نہایت پاکیزہ ہوتے ہیں اور اسی بنا پر ان کی عزت کی جاتی ہے اور ان کی گذشتہ زندگی کو کفار کے سامنے معیار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایسے واضح تضاد کے باوجود مخالفین اگر انبیاء کو جادوگر کہتے رہے کہ تو اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی تھی کہ انہیں اتنا نمایاں فرق بھی نظر نہ آتا تھا بلکہ اس کی وجوہ محض ان کی ضد، ہٹ دھرمی، عناد، اپنے آباؤ اجداد کے مذہب کا تعصب اور اپنے مناصب اور سرداریوں کا ختم ہوجانا وغیرہ ہوتا تھا۔ یونس
3 [٥] عبادت کا مستحق صرف وہ ہے جو پروردگار ہو :۔ اس آیت سے ربوبیت کے دلائل اور ان کے نتائج کا آغاز ہو رہا ہے۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے ارض و سماوات کو چھ ایام (ادوار) میں پیدا کیا یعنی یہ کائنات از خود ہی وجود میں نہیں آگئی جیسا کہ دہریوں کا خیال ہے پھر عرش پر قرار پکڑا (تشریح کے لیے دیکھئے سورۃ اعراف کی آیت نمبر ٥٤) پھر وہ کائنات کو پیدا کرکے بیٹھ نہیں گیا جیسا کہ بعض گمراہ لوگوں کا خیال ہے۔ بلکہ اس کا پورا انتظام چلارہا ہے۔ شمس و قمر اور ستارے سب اسی کے حکم کے مطابق گردش کر رہے ہیں اس کا رعب و داب اور اس کا تصرف اتنا زیادہ ہے کہ کوئی اس کے سامنے کسی دوسرے کی سفارش بھی کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا الا یہ کہ وہ خود ہی کسی کو سفارش کی اجازت دے لہٰذا ان سب باتوں کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ اسی بااختیار اور مقتدر ہستی کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو، کیونکہ وہی تمہارا پروردگار ہے۔ رب اور عبادت دونوں الفاظ بڑے وسیع معنی رکھتے ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بتلائے جاچکے ہیں۔ یہاں اتنا اشارہ کافی ہے کہ اللہ کو فی الواقع رب تسلیم کرلینے کا نتیجہ ہی یہ نکلتا ہے کہ عبادت کی تمام اقسام صرف اسی کے لیے مختص کردی جائیں۔ یونس
4 [٦] اخروی زندگی کا مقصد :۔ پہلی دلیل اللہ کے مالک و مختار ہونے سے متعلق تھی اور یہ دوسری دلیل دوسری زندگی کے حشر و نشر سے متعلق ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ جس اللہ نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے وہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے بلکہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے پہلے کی نسبت زیادہ آسان ہے اور تمہیں دوبارہ پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس دارفانی میں جس کسی نے ایمان لاکر اچھے کام کیے ہوں انہیں اس کا بدلہ دیا جائے اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہو انہیں اس کا بدلہ دیا جائے کیونکہ اس دنیا میں نہ تو انسان کے ایمان کا بدلہ دیا جانا ضروری ہے اور نہ ہی یہ دنیا کی زندگی اتنی طویل ہے کہ اس میں اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جاسکے لہٰذا دوسری زندگی کا قیام ناگزیر ہے۔ یونس
5 [٧] ضیاء اور نور کافرق :۔ ضیاء اور نور میں فرق یہ ہے کہ نور کا لفظ عام ہے اور ضیاء کا خاص۔ گویا ضیاء بھی نور ہی کی ایک قسم ہے نور میں روشنی اور چمک ہوتی ہے جبکہ ضیاء میں روشنی اور چمک کے علاوہ حرارت، تپش اور رنگ میں سرخی بھی ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے عموماً ضیاء کا لفظ سورج کی روشنی کے لیے اور نور کا لفظ چاند کی روشنی کے لیے استعمال فرمایا ہے۔ [٨] چاند کی منزلیں :۔ بطلیموسی نظریہ ہیئت کے مطابق ہئیت دانوں نے آسمان پر چاند کی اٹھائیس منزلیں مقرر کر رکھی ہیں دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہی نظریہ ہیئت مقبول عام تھا اور درس گاہوں میں اسی نظریہ کی درس و تدریس ہوتی تھی۔ لہٰذا اس آیت میں اگر وہی ٢٨ منزلیں مراد لی جائیں تو بھی کوئی حرج نہیں تاہم اکثر علماء منازل قمر سے اشکال قمر مراد لیتے ہیں اور ان کی یہ دلیل ایک دوسری آیت ﴿وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ ﴾ (36: 39)سے ماخوذ ہے جس کے آخر میں ہلال (نئے یاپہلی رات کے چاند) کا ذکر کیا گیا ہے۔ [٩] قمری تقویم اور اس کی خصوصیات :۔ اس سے معلوم ہوا کہ قمری تقویم ہی حقیقی تقویم ہے شمسی نہیں۔ لہٰذا جہاں بھی ایک ماہ یا اس سے زائد مدت کا شمار ہوگا شرعی نقطہ نگاہ سے وہ قمری تقویم کے مطابق ہی ہوگا جیسے ایام عدت و رضاعت، معاہدات میں مدت کی تعیین وغیرہ نیز احکام اسلام مثلاً حج، روزہ، حرمت والے مہینے، عیدین سب کا تعلق قمری تقویم سے ہے قمری تقویم کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ یہ سادہ اور فطری تقویم ہے جو انسانی دستبرد (مثلاً کبیسہ اور اس کی اقسام مختلف) سے پاک ہے اس میں مہینہ کے دنوں کی تعداد کو بدلا نہیں جاسکتا اس میں سال ہمیشہ بارہ ہی ماہ کا ہوگا اور اس میں تمام دنیا کے لوگوں کے لیے مساوات اور ہمہ گیری کا اصول کار فرما ہے، اور اس پر دنیوی رسم و رواج اور اغراض اثر انداز نہیں ہوسکتیں۔ (مزید تفصیلات کے لیے میری تصنیف ''الشمس والقمر بحسبان'' ملاحظہ فرمائیے) [١٠] سورج اور چاند کی کی گردش کے فوائد :۔ یعنی سورج اور چاند کی مقررہ حساب کے مطابق گردش بلامعنی نہیں بلکہ اس کے کئی فوائد ہیں۔ پہلا فائدہ یہ ہے کہ نمازوں کے اوقات اور کاروبار کے اوقات سورج کی گردش سے متعین کرسکتے ہو، اور جب مدت کا شمار صرف ایک ماہ سے کم ہوگا تو یہ مدت سورج سے متعین ہوسکتی ہے اور چاند سے بھی، مگر جب یہ مدت ایک ماہ سے زائد ہوگی تو اس کا شمار چاند کے حساب سے ہوگا جس کی تقسیم انسانی دستبرد سے محفوظ ہے اس طرح تم مدت کا صدیوں تک کا حساب رکھ سکتے ہو دوسرا فائدہ یہ ہے کہ سورج، چاند اور دیگر ستاروں کی گردش کا نظام اس قدر مربوط، منظم اور فرمان الٰہی کا پابند ہے کہ اس میں ایک لمحہ کی تقدیم و تاخیر ناممکن ہے۔ اور اس طرح تم آئندہ بھی صدیوں تک کے لیے تقویم تیار کرسکتے ہو اور تیسرا سب سے اہم اور حقیقی فائدہ یہ ہے کہ تم ان چیزوں کو پیدا کرنے والی، انہیں اپنی گردش میں اس طرح جکڑ بند کرنے والی ہستی کے تصرف اور اختیار پر غور کرو اور دیکھو جو ہستی اتنے اتنے عظیم الشان کارنامے سرانجام دے سکتی ہے وہ تمہیں دوبارہ پیدا نہیں کرسکتی، یہ گویا معاد پر دوسری دلیل ہوئی۔ یونس
6 [١١] چاند اور سورج کی گردش کے صرف وہی فوائد نہیں جو اوپر مذکور ہوئے بلکہ انہی کی گردش سے دن رات پیدا ہوتے ہیں اور انہی سے ہمیں دن اور رات کو روشنی حاصل ہوتی ہے انہی سے موسم بنتے ہیں فصلیں پکتی ہیں۔ چاند جن دنوں میں زائد النور ہوتا ہے، پھلوں میں رس تیزی سے بڑھتا ہے اور جب ناقص النور ہوتا ہے تو یہ رفتار سست پڑجاتی ہے وغیرہ وغیرہ، ان سب امور میں اللہ تعالیٰ کی معرفت کی بے شمار نشانیاں ہیں اور جو لوگ ان میں غور و فکر کرتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ لہٰذا وہ اللہ کی نافرمانی سے خوف کھانے لگتے ہیں۔ یونس
7 [١٢] روز آخرت پر ایمان نہ ہونے سے اخلاقی اقدار بدل جاتی ہیں :۔ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی مذکورہ آیات میں غور و فکر کی زحمت ہی گوارہ نہ کریں اور نہ اس کی ضرورت محسوس کریں بس دنیا کی زندگی پر ہی مست رہیں اور اپنی ساری زندگی اسی دنیا کے کاروبار میں منہمک ہو کر گزار دیں تو ایسے لوگوں کو بھلا اخروی زندگی کا یقین کیسے آئے اور چونکہ اللہ نے انسان کو قوت تمیز، عقل اور ارادہ و تصرف کا اختیار عطا کیا ہے لہٰذا جو لوگ عقل کو کام میں نہ لاتے ہوئے بس دنیا میں مگن اور دنیوی مفادات کے لیے ہی سب کچھ کرتے ہیں انہیں اس غفلت کا بدلہ جہنم کی صورت میں مل کر رہے گا۔ اس آیت سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ نیک اعمال صرف وہی لوگ بجالاسکتے ہیں، جو روز آخرت میں اللہ کے سامنے جواب دہی کے نظریہ پر یقین رکھتے ہوں گویا روز آخرت پر ایمان ہی وہ بنیاد ہے جس پر انسان کی صالح طرز زندگی کی عمارت اٹھائی جاسکتی ہے اگر یہ بنیاد کمزور ہو یا موجود ہی نہ ہو تو کوئی ایسی طاقت نہیں جو انسان کو بے راہروی سے محفوظ رکھ سکے۔ اندریں صورت انسان کے اچھے اخلاق یا اعمال کی پہچان صرف یہ رہ جاتی ہے کہ صرف وہ کام اچھا ہے جس کا فائدہ اس کی اپنی ذات کو، اس کی قوم کو یا معاشرہ کو اس دنیا میں پہنچ سکتا ہے غیروں کے لیے ان کے اخلاق و اعمال کی قدریں ہی بدل جاتی ہیں۔ یونس
8 یونس
9 [١٣] البتہ جن لوگوں نے اپنی خداداد عقل کو ٹھیک طرح استعمال کیا اس کی آیات میں غورو فکر کرکے اس کی معرفت حاصل کی۔ خالق کائنات اس کے بے پناہ اقتدار اور روز آخرت کا یقین کیا اور آخرت میں جوابدہی سے ڈرتے اور اللہ کے احکام کے مطابق نیک اعمال کرتے رہے انہیں ان کے اعمال کا بدلہ جنت کی صورت میں ملے گا جس کی نعمتیں لاتعداد، بے حساب اور لازوال ہوں گی۔ یونس
10 [١٤] یعنی جب اہل جنت کو جب کسی چیز کی خواہش یا طلب ہوگی تو وہ براہ راست اس خواہش کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ بلکہ اس کی بجائے سبحانک اللھم یا سبحان اللہ کہیں گے تو فرشتے ان کی خواہش کے مطابق وہ چیز حاضر کردیں گے۔ دنیا میں بھی مہذب معاشرہ میں یہ دستور چلتا ہے کہ جب کوئی مہمان کسی چیز کو پسند کرکے صرف اس چیز کی تعریف کردے تو غیور میزبان کوشش کرتا ہے کہ وہ چیز اس مہمان کو ہدیہ کردے۔ [١٥] جیسا کہ اس دنیا میں بھی انہیں ایک دوسرے کو سلام کہنے کی عادت تھی اور ملاقات کے وقت سلام کا یہ طریقہ اللہ کے ہاں اتنا پسندیدہ ہے کہ فرشتے بھی اہل جنت کو سلام کہیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ خود بھی انہیں سلام کہا کریں گے جیسا کہ سورۃ یٰسین کی آیت نمبر ٥٨ ﴿ سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ﴾میں مذکور ہے۔ [١٦] یعنی جب اہل جنت کی خواہش کی اشیاء انہیں مہیا کردی جائیں گی اور وہ ان سے استفادہ کرلیں گے یا آپس میں سلام و دعا کے بعد محو گفتگو ہوں گے ان کا آخری طرز عمل یا اختتام یہ ہوگا کہ وہ اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہوجائیں گے جس سے وہ دنیا میں مانوس تھے۔ یونس
11 [١٧] قریش مکہ پر قحط :۔ قریش مکہ کی مسلسل ایذا رسانیوں اور نافرمانیوں کے نتیجہ میں مکہ میں سخت قحط نمودار ہوا جس کی مصیبت سے اہل مکہ بلبلا اٹھے قریشی متکبرین کی اکڑی ہوئی گردنیں جھک گئیں۔ کھانے کو کچھ نہ ملتا تھا حتیٰ کہ یہ لوگ ہڈیاں اور چمڑہ تک کھانے پر مجبور ہوگئے اور آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک کی شدت اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے انہیں دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا اور ان دنوں وہ اللہ سے آہ زاریاں بھی کرتے تھے اور بت پرستی میں بھی خاصی کمی آگئی تھی جب اس قحط نے طول کھینچا تو ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا! آپ قحط کے عذاب سے نجات کے لیے دعا کریں، آپ تو صلہ رحمی کا سبق دیتے ہیں جبکہ ہم بھوکوں مر رہے ہیں۔ اگر یہ عذاب دور ہوگیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو بارشیں ہونے لگیں اور قحط دور ہوگیا اور یہ دعائیں انسانوں کی بھلائی اور خوشحالی کے لیے تھیں۔ اچھی دعاجلدی قبول ہوجاتی ہے اور بری نہیں ہوتی :۔ دوسری طرف کافر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ اے اللہ اگر یہ قرآن برحق ہے اور تیری ہی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسادے (٨: ٣٢) یہ دعا انسانوں کی برائی اور تباہی کے لیے تھی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول نہ کیا حتیٰ کہ بعض دفعہ رسول اللہ کی بددعا کے جواب میں فرما دیا۔ ﴿لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنا دستور یہ بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جب کوئی اچھی چیز طلب کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے اس طرح اگر وہ تم لوگوں کی بددعائیں بھی قبول کرنے لگتا تو اس وقت تک تم میں سے کوئی بھی زندہ نہ رہتا۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ برے کاموں کے بدلہ میں یا بددعاؤں کے نتیجہ میں فوراً عذاب نہیں نازل کیا کرتا بلکہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع دیتا رہتا ہے پھر اگر باربار کی تنبیہات کے باوجود بھی لوگ نافرمانیوں سے باز نہ آئیں تب ان پر عذاب آتا ہے۔ یونس
12 [١٨] شرکیہ کام خوشحالی میں ہی بھلے لگتے ہیں :۔ انسان کی ایک عادت تو یہ ہے کہ وہ دوسرے کے حق میں یا اپنے لیے کوئی بددعا کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی یہ بددعا جلد از جلد قبول ہو جس کا لازمی نتیجہ سب لوگوں کی تباہی پر منتج ہوتا ہے اور اس کی دوسری عادت یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ کو سچے دل سے پکارنے لگتا ہے اور اللہ سے کئی طرح کے وعدے کرتا ہے لیکن جب اللہ وہ مصیبت دور کردیتا ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہے نہ اسے اللہ یاد رہتا ہے اور نہ اس سے کیے ہوئے وعدے یاد رہتے ہیں پھر اسے اپنے خود ساختہ حاجت روا اور مشکل کشا یاد آنے لگتے ہیں جیسا کہ قریش مکہ نے بھی یہی کچھ کیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے قحط دور ہوگیاتو ان لوگوں کی وہی سرکشیاں، بداعمالیاں، اپنے معبودوں سے لگاؤ اور دین برحق کے خلاف پہلی سی سرگرمیاں پھر شروع ہوگئیں اور مصیبت کے وقت جو دل اللہ کی طرف رجوع کرنے لگے تھے پھر اپنی سابقہ روش اور غفلتوں میں ڈوب گئے اور انہی کاموں میں انہیں لطف آنے لگا اور اچھے معلوم ہونے لگے۔ یونس
13 [١٩] قرن کے معنی ایک عہد کے لوگ ہیں اور یہاں قرون سے ایسی اقوام مراد ہیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں عروج حاصل کیا تھا اور اقوام عالم میں نامور شمار ہوئی تھیں اور ہلاک کرنے سے یہی مراد نہیں کہ ان پر کوئی ارضی و سماوی عذاب وغیرہ بھیج کر ان کی نسل تک کو تباہ کر ڈالا تھا بلکہ ہلاکت کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ جتنا اس قوم نے عروج حاصل کیا تھا اتنا ہی وہ زوال پذیر ہوجائے حتیٰ کہ اتنی کہ قعرمذلت میں گرے اقوام عالم میں وہ شمار کے قابل بھی نہ رہے یعنی ان کے گناہوں کی پاداش میں بتدریج اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ [٢٠] ظلم کا مفہوم :۔ ظلم کا مفہوم اتنا وسیع ہے کہ اس کا اطلاق ہر گناہ اور زیادتی کے کام پر ہوسکتا ہے چنانچہ سب سے بڑے گناہ شرک کو ظلم عظیم کہا گیا ہے اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جب کوئی قوم سر نکالتی یا عروج حاصل کرتی ہے تو یہی وقت اس کے ظلم و زیادتی کا ہوتا ہے وہ دوسرے لوگوں کو اپنے سے کمتر سمجھ کر ان پر ہر جائز و ناجائز طریقے سے تسلط جمانا اپنا حق سمجھتی ہے اور اللہ کی یاد سے غافل ہو کر ہر گناہ کے کام کی مرتکب ہوتی ہے ایسے ہی اوقات میں اللہ تعالیٰ ان کے پاس اپنے رسول بھیجتا ہے مگر جو لوگ اپنی عیش و عشرت میں مست اور گناہوں کے کاموں میں مستغرق ہوں وہ بھلا رسولوں کی بات کیسے مانیں گے چنانچہ عموماً ایسی مجرم ضمیر قوموں نے رسولوں کا انکار ہی کیا اس طرح جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت پوری ہوجانے کے بعد بھی انہوں نے اپنا طرز زندگی نہ بدلا تو اللہ نے ان کے جرائم کی پاداش میں انہیں ہلاک کر ڈالا۔ یونس
14 [٢١] یعنی اے اہل عرب! اب تمہاری باری آچکی ہے پہلی قوموں کی جگہ تم نے لے لی ہے اور جیسی زیادتیاں اور ظلم تم سے پہلے لوگ کرتے رہے وہ تم بھی کر رہے ہو ان کے پاس بھی ہم نے رسول بھیجے تھے اور تمہارے پاس بھی بھیجا ہے اور اب ہم یہ دیکھیں گے کہ تم سابقہ اقوام کے انجام سے عبرت حاصل کرتے ہو یا نہیں؟ اور رسول پر ایمان لاکر اپنی باغیانہ روش سے باز آتے ہو یا نہیں؟ یونس
15 [٢٢] کفار مکہ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پیروکار سمجھتے تھے وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے تو پوری طرح قائل تھے مگر الوہیت کی صفات میں اپنے مختلف دیوی دیوتاؤں کو بھی شریک کرلیا تھا اور عقیدہ آخرت کے تو سخت منکر تھے۔ انکار آخرت کا عقیدہ کس دور میں ان کے مذہب میں شامل ہوا تھا یہ معلوم نہیں ہوسکا۔ [٢٣] کفار کی طرف سے قرآن میں تبدیلی کا مطالبہ :۔ گویامشرکین قریش یہ سمجھتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہی تصنیف کردہ ہے لہٰذا اپنے اس زعم باطل کو بنیاد بنا کر انہوں نے دو مطالبات پیش کردیئے ایک یہ کہ اس قرآن کے بجائے کوئی ایسا قرآن لاؤ جو ہمارے لیے بھی قابل قبول ہو اور دوسرا یہ کہ اگر سارا قرآن دوسری قسم کا نہیں لاسکتے تو کم از کم اس میں کچھ ترمیم و تنسیخ کردو جس کی بنا پر ہم تمہارے ساتھ صلح و سمجھوتہ کی راہ استوار کرسکیں۔ بالفاظ دیگر قرآن میں سے اس حصہ کو حذف کر دو جو بت پرستی وغیرہ سے متعلق ہے اس کے عوض ہماری طرف سے تم لوگوں کو عام اجازت ہوگی کہ جیسے اور جب چاہو اپنے اللہ کو پکارو اور اسی کی عبادت کرو وغیرہ وغیرہ۔ اور یہی وہ نظریہ ہے جسے آج کل بھی مختلف مذاہب کے درمیان صلح و آشتی کی بنیاد قرار دیا جارہا ہے ’’یعنی اپنی چھوڑو نہ اور دوسروں کو چھیڑو نہ‘‘ اور یہی وہ فاسد نظریہ ہے جس کے متعلق اقبال نے کہا تھا : باطل دوئی پرست ہے حق لاشریک ہے......... شرکت میانہ حق باطل نہ کر قبول [٢٤] اس جملہ میں کفار کے دونوں نظریات کی تردید کردی گئی یعنی یہ قرآن میری اپنی تصنیف نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر وحی کیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ بات میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں کوئی اور قرآن لاؤں نیز میں اس وحی کی پیروی کا پابند ہوں جو اس قرآن میں ہے لہٰذا مجھے ایسا کوئی اختیار نہیں کہ اس میں کچھ ترمیم و تنسیخ کرکے اسے اس قابل بناسکوں جس کی بنیاد پر ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی سمجھوتہ یا درمیانی راہ طے پاسکے۔ نیز اگر میں کوئی ایسا کام کر گزروں درآں حالیکہ میں ہی اس قرآن کی اتباع کا داعی ہوں تو پھر مجھ سے بڑھ کر مجرم کون ہوسکتا ہے؟ میں تو اس تصور اور پھر اس کے نتیجہ میں عذاب اخروی کے تصور سے ہی کانپ اٹھتا ہوں۔ یونس
16 [٢٥] آپ کی سابقہ زندگی سے قرآن کے منزل من اللہ ہونے کا ثبوت :۔ یہ کفار کے مطالبات کا دوسرا جواب ہے یعنی اللہ کی یہی مشیت تھی کہ اس نے مجھے اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا تاکہ میں تمہیں اس کے پیغام سے آگاہ کر دوں اور اگر وہ نہ چاہتا تو نہ میں تمہیں قرآن سناتا اور نہ ہی تم اس کے مضامین پر آگاہ ہوتے اس میں میرے اپنے اختیار کی کوئی بات نہیں البتہ ایک بات کی طرف تمہاری توجہ ضرور دلاتا ہوں اور وہ ہے میری سابقہ زندگی جو میں نے تمہارے ہی درمیان گزاری ہے اور تم ان باتوں سے خوب واقف ہو کہ : ١۔ میں خود امی یا ان پڑھ ہوں تمام تر زندگی میں نے کسی کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہیں کیا کہ کسی دوسرے سے سیکھ کر ایسا کلام پیش کردیتا جس کی مثل پیش کرنے سے تمہارے سب شعراء اور ادباء عاجز آچکے ہیں۔ ٢۔ نبوت سے پیشتر میں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے یہ شبہ ہوسکے کہ ایسا کلام کہنا میری جبلّت میں موجود تھا جس میں ترقی کرتے کرتے میں ایسا کلام پیش کرنے کے قابل ہوگیا ہوں جیسا کہ شعراء اور ادباء کی زندگی میں ایسا ملکہ ابتداء سے ہی موجود ہوتا ہے۔ ٣۔ میں نے کبھی نہ کسی سے جھوٹ بولا نہ فریب کیا اور تم لوگ میری صداقت و راست بازی اور دیانت و امانت کے معترف بھی ہو اور کئی دفعہ اپنی زبانی ایسا اعتراف بھی کرچکے ہو۔ پھر ان حقائق کی موجودگی میں تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ میں قرآن بنا لایا ہوں یا بناسکتا ہوں نیز یہ کہ آج تک میں نے کسی آدمی کے ذمہ کوئی جھوٹی بات منسوب بھی نہیں کی تو پھر اللہ کی نسبت ایسا جھوٹ کیسے منسوب کرتا ہوں کہ یہ قرآن اللہ نے میری طرف وحی کیا ہے۔ یونس
17 [٢٦] سب سے بڑھ کر ظالم کون ؟:۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخض ایک بات تو خود گھڑے یا تصنیف کرے پھر اسے اللہ کی طرف منسوب کردے جیسا کہ مشرکین مکہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خیال مذکور ہوا ہے ایسا شخص بھی سب سے بڑھ کر ظالم ہے اور اگر نبی اپنے قول میں سچا ہے تو اللہ کی آیات کا منکر بھی ویسا ہی سب سے بڑھ کر ظالم ہوگا اور دونوں کے ظلم میں کوئی فرق نہیں۔ [٢٧] نظریہ کی تبدیلی سے فلاح کے معیار میں تبدیلی :۔ فلاح سے مراد کامیابی سے ہم کنار ہونا ہے لیکن نظریہ کی تبدیلی سے کامیابی کا معیار بھی بدل جاتا ہے مثلاً ایک دنیادار اور آخرت کے منکر کے نزدیک انتہائی کامیابی یہ ہے کہ اسے امن وچین اور عیش و عشرت سے زندگی بسر کرنا نصیب ہو اور لمبی عمر حاصل ہو جبکہ ایک دیندار اور آخرت پر یقین رکھنے والے کے نزدیک کامیابی کا معیار اخروی عذاب سے نجات ہے اگرچہ وہ بھی اللہ سے فلاح دارین کا طالب ہوتا ہے۔ چنانچہ اس دنیا میں بھی اسے وہ کچھ نصیب ہوتا ہے جو اس کے مقدر ہوتا ہے لیکن وہ اس دنیا کی مزعومہ کامیابی کو کامیابی کا معیار قرار نہیں دیتا اس آیت میں جس کامیابی کا ذکر ہے اس سے مراد اخروی فلاح ہے یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنے یا اس کی آیات کو جھٹلانے والوں کو کبھی اخروی فلاح نصیب نہیں ہوگی۔ یونس
18 [٢٨] من دون اللہ کی سفارش؟ یعنی اللہ کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو کسی کی بگڑی کو بناسکے یا اسے کوئی فائدہ پہنچا سکے لہٰذا ایسا عقیدہ رکھ کر کسی دوسرے کی پرستش کرنا عبث ہے اور اس لحاظ سے کہ اس نے اللہ کی صفات میں دوسروں کو شریک کیا، بہت بڑا جرم بھی ہوتا ہے۔ اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ان کی پرستش کیوں کرتے ہو؟ تو کہتے ہیں کہ بے شک بڑا خدا تو ایک ہی ہے مگر ان دیوی دیوتاؤں کی پرستش اور انہیں خوش رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ جو تھوڑے بہت اختیار انہیں حاصل ہیں ان کے مطابق ہمارے کام درست کردیں اور جو نہیں ان کی سفارش کردیں اور اگر موت کے بعد دوسری زندگی کا سلسلہ ہوا تو وہاں بھی یہ ہماری سفارش کریں گے۔ [٢٩] عقیدہ سفارش مروجہ کی کوئی سند نہیں :۔ مشرکوں کا بتوں یا دیوی دیوتاؤں کے سامنے سجدہ ریز ہونے یا ان کی تعظیم بجا لانے کے متعلق عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دراصل ان پتھر کے مجسموں کی عبادت یا تعظیم نہیں کرتے بلکہ ان مجسموں کی ارواح کی تعظیم بجا لاتے ہیں جو ان کے عقیدہ کے مطابق ان مجسموں پر موجود رہتی ہیں اور یہ مجسمے بزرگوں کے بھی ہوتے ہیں۔ اللہ کی بیٹیوں اور بیٹوں کے بھی اور بعض فرشتوں کے بھی اور آج کا مسلمان یہی عقیدہ اپنے بزرگوں کی قبروں سے وابستہ کردیتا ہے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے جواب میں فرمایا کہ بتوں کا شفیع ہونا اور کسی شفیع کا مستحق عبادت ہونا یہ دونوں دعوے غلط اور بے اصل ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ کسی چیز کی اصل تو موجود ہو لیکن اللہ کو اس کا علم نہ ہو پھر کیا یہ مشرک اللہ کو ایسی خود تراشیدہ باتوں کی خبر دینا چاہتے ہیں جن کا زمین و آسمان میں کہیں وجود ہی نہیں پھر یہ کن سفارشیوں کی اللہ کو خبر دینے لگے ہیں۔ یونس
19 [٣٠] یعنی سیدنا آدم علیہ السلام کے بعد کافی مدت لوگ ایک ہی دین پر رہے پھر اختلاف کرکے فرقے بن گئے ان میں سے کچھ لوگ تو سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات تسلیم کرنے کے بعد ان کے پجاری بن گئے اور کچھ لوگوں نے اپنے بزرگوں کے مجسمے بنائے اور ان کی عبادت کرنے لگے اور توحید کی سیدھی راہ کو چھوڑ کر شرک کی راہوں پر جا پڑے۔ [٣١] پہلے سے طے شدہ کلمہ کیا ہے ؟ وہ طے شدہ بات یہ تھی کہ چونکہ یہ دنیا دارالعمل اور دارالامتحان ہے اس لیے کسی کو بھی اس کے جرم کی پاداش میں فوری طور پر سزا نہیں دی جائے گی اگر یہ بات پہلے سے مشیت الٰہی میں نہ ہوتی تو جب کچھ لوگ کوئی نیا فرقہ بناتے تو اللہ کا عذاب انہیں فوراً تباہ و برباد کردیتا اور اس طرح یہ دنیا کب کی ختم ہوچکی ہوتی اور اگر کچھ لوگ بچ جاتے اور وہ ایمان لے بھی آتے تو ایسے جبری ایمان کا کچھ فائدہ بھی نہ تھا۔ یونس
20 [٣٢] کفار مکہ کا حسی معجزہ کا مطالبہ :۔ معجزہ سے مراد ایسا حسی معجزہ ہے جس کا کفار مطالبہ کر رہے تھے۔ مثلاً یہ کہ فلاں پہاڑ سونے کا بن جائے یا اس سرزمین سے کوئی چشمہ پھوٹ نکلے یا ہمارے گزرے ہوئے آباؤ اجداد زندہ ہو کر ہمارے سامنے آکر ہمیں حقیقت حال سے مطلع کریں وغیرہ وغیرہ۔ ان کا مطالبہ کچھ اس لیے نہ تھا کہ جونہی وہ معجزہ دیکھ لیں گے تو فوراً ایمان لے آئیں گے بلکہ یہ محض ایمان نہ لانے کا بہانہ تھا ورنہ وہ کئی معجزات ایسے دیکھ چکے تھے جو ایمان لانے کے لیے بہت کافی تھے مثلاً ان میں سرفہرست قرآن بذات خود ایک ایسا معجزہ تھا۔ ان کافروں کے مطالبہ معجزہ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہیے کہ جو نشانیاں آچکیں وہ تم نے بھی دیکھ لی ہیں اور میں نے بھی۔ اور جو ابھی آنے والی ہیں ان کا مجھے بھی کچھ علم نہیں۔ کیونکہ میں غیب کی باتیں نہیں جانتا لہٰذا تم بھی ایسی آنے والی نشانی کا انتظار کرو اور میں بھی کرتا ہوں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی کئی نشانیاں دکھلا دیں۔ مثلاً ان کی خواہشات اور پیہم رکاوٹوں کے علی الرغم اسلام کا بول بالا ہوا، مسلمانوں کو اکثر جنگوں میں تائید الٰہی میسر آتی رہی اور کافر ہر میدان میں پٹتے اور ذلیل و خوار ہوتے رہے تاآں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک جزیرہ عرب سے کفر و شرک کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگیا۔ یونس
21 [٣٣] اس آیت میں اسی قحط کی طرف اشارہ ہے جس کا اسی سورۃ کی آیت نمبر ١١ میں ذکر آیا ہے۔ یہ قحط مکہ پر مسلسل سات سال تک مسلط رہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے یہ مصیبت دور ہوئی اب سوال یہ ہے کہ اس قحط میں اور اس کے دور ہونے میں تمہارے لیے کوئی نشانی نہیں کہ تم اب کسی اور معجزہ کا مطالبہ کرنے لگے ہو اس قحط کے دوران تم نے دیکھ لیا کہ باوجود تمہاری فریادوں کے تمہارے معبود تمہاری اس مصیبت کو تم سے دور نہ کرسکے پھر جب اللہ نے تمہاری مصیبت دور کردی تو پھر تم اپنے وعدوں سے فرار کی راہ سوچنے لگے اور ایسے مکر اور بہانے بنانے شروع کردیے جس سے انہیں اپنے قدیم شرک پر جمے رہنے کے لیے تائید حاصل ہو اور توحید کے اقرار سے بچ سکو جو کچھ بھی چالیں تم چل رہے ہو اس کا وبال تمہیں پر پڑے گا اور تمہاری ان سب چالوں کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے۔ یونس
22 [٣٤] جب موت سامنے کھڑی نظر آئے تو صرف اللہ کو پکارنا :۔ اس آیت میں ایک بہت بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے جو یہ ہے کہ جب انسان پر کوئی ایسا مشکل وقت آپڑتا ہے جب تمام اسباب اور سہارے منقطع ہوتے نظر آنے لگتے ہیں تو اس وقت اس کی نظر اسباب سے اٹھ کر ایک اللہ پر آلگتی ہے اور وہ خالصتاً اللہ کو پکارنے لگتا ہے پھر جب وہ سختی کا وقت گزر جاتا ہے تو پھر انسان اللہ کو بھول جاتا ہے اور اس کی نظر پھر اسباب کی طرف جمنے لگتی ہے۔ وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں پھر اللہ تعالیٰ ویسی ہی تکلیف اور سختی کا ایک اور سبب نہ کھڑا کردے کیونکہ اسباب کی باگ ڈور بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ عکرمہ بن ابی جہل کا اسلام لانا :۔ مشرکین مکہ کی بھی ایسی ہی عادت تھی جس کا اس آیت میں ذکر آیا ہے چنانچہ فتح مکہ کے بعد ابو جہل کا بیٹا عکرمہ (جو ابھی تک مسلمان نہ ہوا تھا) مکہ سے بھاگ کھڑا ہوا تاکہ کہیں قیدی نہ بنالیا جائے۔ جدہ سے بحری سفر اختیار کیا راستہ میں کشتی کو طوفانی ہواؤں نے گھیر لیا حتیٰ کہ مسافروں کو اپنی موت سامنے نظر آنے لگی اس وقت ناخدا نے مسافروں سے کہا کہ اب صرف ایک اللہ کو پکارو یہاں تمہارے دوسرے معبود کچھ کام نہ دیں گے یہ بات سن کر عکرمہ کے ذہن میں یک دم ایک انقلاب سا آگیا وہ سوچنے لگا یہ تو وہی اللہ ہے جس کی طرف محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلاتے ہیں اگر سمندر میں اس کے بغیر نجات نہیں مل سکتی تو خشکی میں بھی وہی کام آسکتا ہے۔ پھر اللہ سے عہد کیا کہ اگر تو نے اس مصیبت سے نجات دی تو فوراً واپس جاکر اسلام قبول کرلوں گا چنانچہ انہوں نے اپنا یہ عہد پورا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ مگر آج کا نام نہاد مسلمان شرک میں مشرکین مکہ سے دو چار ہاتھ آگے نکل گیا ہے وہ کم از کم مصیبت کے وقت تو صرف اللہ کو پکارتے تھے مگر یہ لوگ اس وقت بھی اپنے مشکل کشاؤں کو پکارتے ہیں اور شرک سے باز نہیں آتے شیطان نے ان پر ایسا تسلط جما رکھا ہے کہ مرتے وقت بھی اللہ کو پکارنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ ایسے عقائد کی بنیاد دراصل تصور شیخ کا عقیدہ ہے صوفیاء نے سلوک کی منازل طے کرانے کے تین درجے مقرر کر رکھے ہیں۔۔ (١) فنا فی الشیخ، (٢) فنا فی الرسول، (٣) فنافی اللہ، فنا فی الشیخ کے درجے کی ابتداء تصور شیخ سے کرائی جاتی ہے۔ تصور شیخ سے مراد صرف پیر کی ’’غیر مشروط اطاعت‘‘ ہی نہیں ہوتی بلکہ اسے یہ ذہن نشین کرایا جاتا ہے کہ اس کا پیر ہر وقت اس کے حالات سے باخبر رہتا ہے اور بوقت ضرورت اس کی مدد کو پہنچ جاتا ہے اس عقیدہ کو مرید کے ذہن میں راسخ کرنے کے لیے اسے یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ ہر وقت پیر کی شکل کو اپنے ذہن میں رکھے یہی واہمہ اور مشق بسا اوقات ایک حقیقت بن کر سامنے آنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو مسلمانوں کو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر مشروط اطاعت کا حکم دیا تھا لیکن صوفیاء کی اس قسم کی تعلیم مرید اور پیر کو عبد اور معبود کے مقام پر لاکھڑا کرتی ہے جس کا کسی نبی کو بھی حق نہ تھا۔ صوفیاء نے پیری کے فن کو خاص تکنیک دے کر عوام پر اس طرح مسلط کردیا ہے کہ کوئی آدمی اس وقت تک اللہ کے ہاں رسائی پا ہی نہیں سکتا جب تک باقاعدہ کسی سلسلہ طریقت میں داخل نہ ہو۔ پہلے تصور شیخ کی مشق کرے حتیٰ کہ فنا فی الشیخ ہوجائے یعنی اسے اپنی ذات کے لیے حاضر وناظر، افعال و کردار اور گفتار کو دیکھنے اور سننے والا سمجھنے لگے تب جاکر یہ منزل ختم ہوتی ہے اور عملاً ہوتا یہ ہے کہ مرید بے چارے تمام عمر فنا فی الشیخ کی منزل میں ہی غوطے کھاتے کھاتے ختم ہوجاتے ہیں یہ گویا اللہ اور اس کے رسول سے بیگانہ کرنے اور اپنا غلام بنانے کا کارگر اور کامیاب حربہ ہے چنانچہ مولانا اشرف علی تھانوی کا درج ذیل اقتباس اس حقیقت پر پوری طرح روشنی ڈالتا ہے۔ تصور فی الشیخ کا گمراہ کن عقیدہ :۔ ان (صوفیاء) کے طریق میں بعض ایسی چیزیں جو نصوص میں وارد نہیں، شرط طریق ہیں اور شرط بھی اعظم واہم۔ چنانچہ تصور شیخ باوجودیکہ کسی نص میں وارد نہیں اور پھر خطرناک بھی ہے اور بعض کو اس میں غلو بھی ہوگیا ہے اور اسی خطرہ و غلو کے سبب مولانا شہیداس کو منع فرماتے تھے مگر باوجود ان باتوں کے اکابر نقشبندیہ اس کو مقصود فرماتے ہیں چنانچہ انوار العارفین ''ذکر تصور شیخ'' میں کنز الہدایہ بحوالہ مکتوبات مجدد صاحب کا ارشاد نقل ہے کہ ’’ذکر تنہا بے رابطہ و بے فنا فی الشیخ موصل نیست۔ ذکر ہرچند از اسباب وصول است لیکن غالباً مشروط برابطہ محبت و فنا فی الشیخ است‘‘ (تجدید تصوف و سلوک ص ٤٤٣)۔ (ترجمہ) فنا فی الشیخ ہونے کے بغیر تنہا ذکر سے اللہ تک رسائی نہیں ہوسکتی اگرچہ ذکر بھی رسائی کا ایک سبب ہے لیکن اس کی غالب شرط (پیر سے) محبت کا تعلق اور اس میں فنا ہونا ہے۔ اقتباس بالا سے مندرجہ ذیل نتائج سامنے آتے ہیں : ١۔ تصور شیخ کے عقیدہ کا قرآن و سنت میں کہیں سراغ نہیں ملتا۔ ٢۔ یہ عقیدہ انتہائی خطرناک اور گمراہ کن ہے۔ ٣۔ ان دونوں باتوں کے باوجود صوفیاء اور خصوصاً نقشبندیوں نے اللہ تک رسائی کی سب سے بڑی اور اہم شرط قرار دیا ہے : چنانچہ مولانا روم اسی فلسفہ تصور ثلاثہ کی اہمیت یوں بیان فرما رہے ہیں : پیر کامل صورت ظل الٰہ یعنی دید پیر دید کبریا برکہ پیر و ذات اور ایک نہ دید نے مرید نے مرید نے مرید (ترجمہ) ’’پیر کامل اللہ کے سایہ کی صورت ہوتا ہے یعنی پیر کو دیکھنا حقیقتاً اللہ ہی کو دیکھنا ہے جس نے پیر اور اللہ کی ذات کو ایک نہ دیکھا وہ ہرگز مرید نہیں ہے، مرید نہیں ہے، مرید نہیں ہے‘‘ اسی عقیدہ کا یہ اثر ہے کہ معین الدین اجمیری نے فرمایا کہ ’’اگر روز قیامت اللہ تعالیٰ کا جمال میرے پیر کی صورت میں ہوگا تو دیکھوں گا ورنہ اس کی طرف منہ بھی نہ کروں گا۔‘‘ (ریاض السالکین، ص ٢٣١) اور بابا فرید گنج شکر نے فرمایا: ’’اگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ میرے پیر کی صورت کے سوا کسی دوسری صورت میں اپنا جمال یا کمال دکھائے گا تو میں اس کی طرف آنکھ بھی نہ کھولوں گا‘‘ (اقتباس الانوار، ص ٢٩٠، مطبوعہ مجتبائی دہلی بحوالہ ایضاً) اور شیخ محمد صادق نے فرمایا : ’’اللہ کا دیدار بھی اگر پیر دستگیر کی صورت میں ہوا تو دیکھوں گا ورنہ اسے بالکل نہ چاہوں گا‘‘ (ریاض السالکین، ص ٢٣١) دیکھا آپ نے تصور شیخ کا یہ فارمولا کیسے شاندار نتائج پیدا کرکے مرید کو بس شیخ ہی کی جھولی میں ڈال دیتا ہے یہ عقیدہ جہاں ایک طرف پیر کو خدائی تقدس عطا کرتا ہے تو دوسری طرف مرید کو اندھی عقیدت میں مبتلا کردیتا ہے اس عقیدہ کو مرید کے ذہن میں راسخ کرنے کے لیے جس طرح کے افسانے تراشے جاتے ہیں ان کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جس کے راوی امام اہل سنت احمد رضا خاں مجدد مائۃً حاضر ہیں اور غالباً ’’حدیقہ ندیہ‘‘ کے حوالہ سے روایت کرتے ہیں کہ جنیدبغدادی اور تصورشیخ :۔ ’’ایک مرتبہ سیدی جنید بغدادی دجلہ پر تشریف لائے اور یا اللہ کہتے ہوئے اس پر زمین کی طرح چلنا شروع کردیا بعد میں ایک شخص آیا اسے بھی پار جانے کی ضرورت تھی کوئی کشتی اس وقت موجود نہ تھی جب اس نے حضرت کو جاتے دیکھا عرض کیا میں کیسے آؤں؟ فرمایا یا جنید یا جنید کہتا چلا آ۔ اس نے یہی کہا اور دریا پر زمین کی طرح چلنے لگا جب بیچ دریا میں پہنچا تو شیطان لعین نے دل میں وسوسہ ڈالا کہ حضرت خود تو یا اللہ کہیں اور مجھ سے یا جنید کہلواتے ہیں۔ میں بھی یا اللہ کیوں نہ کہوں؟ اس نے یا اللہ کہا اور ساتھ ہی غوطہ کھایا پکارا یا حضرت! میں چلا۔ فرمایا وہی کہہ ’’یاجنید یا جنید‘‘ جب کہا دریا سے پار ہوا۔ عرض کیا حضرت یہ کیا بات تھی؟ آپ اللہ کہیں تو پار ہوں اور میں کہوں تو غوطہ کھاؤں؟ فرمایا : اے نادان! ابھی تو جنید تک تو پہنچا نہیں اللہ تک رسائی کی ہوس ہے۔ اللہ اکبر‘‘ (ملفوظات مجدد مائۃً حاضر اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی) اب دیکھئے اس واقعہ کے محض ایک افسانہ ہونے کی نقلی دلیل تو یہ ہے کہ آپ اسے غالباً ''حدیقہ ندیہ'' کے حوالہ سے پیش فرما رہے ہیں۔ یعنی محض عقائد کا سہارا لے کر ان تمام اصول اسناد کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے۔ جو علمائے اسلام کی نظر میں علم و حکمت کی روح سمجھے جاتے رہے ہیں اور عقلی دلیل یہ ہے کہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اگر آج تمام مشائخ اور پیران کرام مل کر بھی ایسا کرشمہ دکھا دیں ان میں سے کوئی ایک دریا پر زمین کی طرف چل کر دکھا دے اور اس کا مرید اللہ کہنے سے غوطہ کھانے لگے تو میں اور میرا کنبہ سب اس کے مرید ہوجائیں گے اور اس افسانہ تراش نے کمال یہ دکھایا ہے کہ اس ایک واقعہ سے قرآن کی بے شمار آیات کا رد پیش فرما دیا ہے۔ مثلاً: ١۔ ہم ہر نماز میں اور اس کی ہر رکعت میں ﴿اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ﴾ پڑھتے ہیں یعنی صرف تجھ اکیلے سے استعانت چاہتے ہیں لیکن یہ واقعہ اللہ کو نظر انداز کرکے پیر سے استعانت کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ﴾ لیکن یہ واقعہ بتلاتا ہے کہ مشکل وقت میں اللہ کو پکارنے سے سخت نقصان ہوتا ہے اس کی بجائے اپنے پیر کو بلایا جائے تو بہت ہی فائدہ ہوسکتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : ﴿وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ﴾ (2: 186)لیکن یہ واقعہ بتلاتا ہے کہ قریب پیر ہے اللہ تو بہت دور ہے لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ تک رسائی چاہتے ہو تو اپنے پیر کا ذکر کرو۔ اس واقعہ نے شرک کی بہت سی راہیں کھول دی ہیں اور ندا، لغیر اللہ، استمداد، توسل، استعانت اور تصور شیخ جیسے اہم مسائل کو انتہائی ضروری قرار دیا ہے وہاں افسانہ تراش کا کمال یہ ہے کہ ایسا لاجواب افسانہ گھڑا کہ مرید بے چارے کو تسلیم کرنا پڑا کہ میرا اللہ کو پکارنا واقعی ایک شیطانی وسوسہ تھا۔ اب غالباً آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ مشرکین مکہ جب سمندر میں گھر جاتے تھے اور موت سامنے کھڑی نظر آنے لگتی تھی تو اس وقت صرف اکیلے اللہ کو کیوں پکارنے لگتے تھے اور ہمارے دور کے مشرک اس وقت بھی اپنے پیر کو کیوں پکارتے ہیں؟ یونس
23 یونس
24 [٣٥] ﴿فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ ﴾ کے دو مفہوم ہیں ایک یہ کہ بارش کے پانی سے پیداوار اس کثرت سے پیدا ہوئی کہ آپس میں ایک دوسرے سے گتھ گئی ایک پودے کی شاخیں دوسرے میں جاگھسیں اور دوسرے کی پہلے میں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ پانی سے جو پیداوار یا نباتات حاصل ہوئی وہ انسانوں اور چوپایوں کے لئے ملی جلی یا مشترکہ تھی جیسے گندم کے دانے تو انسان کی خوراک ہیں اور بھوسہ چوپایوں کی۔ اور نباتات کی اکثر اقسام میں یہی صورت حال ہوتی ہے۔ [٣٦] دنیا کی زندگی کی کھیتی سے مثال :۔ اس آیت میں دنیا کی بے ثباتی کی مثال بیان کی گئی ہے جس طرح نباتات پر جوبن آتا ہے پھلوں اور پھولوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں جو زمین کے اس قطعہ کو خوب زینت بخشتے ہیں اسی طرح انسانوں پر بھی جوانی آتی ہے جب اسے دنیا کی ہر چیز حسین نظر آنے لگتی ہے اور وہ دنیا کی رعنائیوں میں پوری طرح اپنا دل لگا لیتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اب کچھ دن مزے اور عیش و آرام سے گزاریں گے اور زندگی کا لطف اٹھائیں گے کہ اتنے میں اسے اللہ کا حکم یعنی موت اچانک آلیتی ہے اور جس طرح کھیتی پر کوئی ناگہانی آفت آنے یا اس کے کٹ جانے کے بعد چند دنوں تک اس کا وجود ہی ختم ہوجاتا ہے اسی طرح مرجانے والا انسان بھی تھوڑی مدت بعد لوگوں کے دلوں سے محو ہوجاتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب اس کا نام ونشان تک دنیا سے مٹ جاتا ہے اور اس دنیا میں آباد ہو کر رخصت ہونے والے ننانوے فی صد لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے۔ یونس
25 [٣٧] دنیا کی اس فانی زندگی کے مقابلہ میں آخرت کی ایک پائیدار اور لازوال زندگی بھی ہے جس کی زینت اور رعنائیاں اس دنیا سے بدرجہا زیادہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اسی سلامتی کے گھر کی طرف بلارہا ہے جہاں کسی ارضی یا سماوی آفت کے آپڑنے کا کوئی اندیشہ نہیں نہ ہی وہاں موت کا خطرہ ہے اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ بھی بتلا رہا ہے۔ لہٰذا دنیا کی پرفریب اور فانی زندگی پر مفتون نہ ہوجاؤ بلکہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس ہر آفت سے محفوظ گھر کا قصد کرو جہاں فرشتے بھی تمہارے لیے سلامتی کی دعائیں کریں گے اور خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی تحفہ سلام پہنچے گا۔ یونس
26 [٣٨] دیدار الہٰی کی لذت :۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب جنت والے جنت میں داخل ہوجائیں گے تو ایک پکارنے والا ندا دے گا کہ تم سے اللہ نے ایک اور بھی وعدہ کر رکھا ہے جسے وہ پورا کرنے والا ہے۔ جنتی کہیں گے کیا ہمارے چہرے روشن نہیں ہوئے یا اس نے ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دی اور جنت میں داخل نہیں کردیا ؟ (تو اب کون سی کمی رہ گئی ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تب اللہ تعالیٰ حجاب کو ہٹا دے گا اللہ کی قسم! جنتیوں کو جو کچھ بھی ملا ہوگا ان سب چیزوں سے زیادہ محبوب انہیں اللہ کی طرف نظر (دیدار) کرنا ہوگا‘‘ (ترمذی، کتاب التفسیر) اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ نیکوکاروں کو صرف ان کے اعمال کا اچھا بدلہ ہی نہ ملے گا بلکہ اللہ کے فضل و کرم سے اس سے بہت زیادہ ملے گا اور یہ دس گنا بھی ہوسکتا ہے سات سو گنا بھی بلکہ اس سے زیادہ بھی جبکہ بدکاروں کو اتنا ہی بدلہ دیا جائے جتنی برائی انہوں نے کی ہوگی۔ [٣٩] یعنی قیامت کے اس طویل دن میں جس کی مدت اس دنیا کے حساب سے پچاس ہزار برس کے برابر ہے کسی وقت بھی نیک اعمال کرنے والوں کے چہروں پر ایسی سیاہی اور ذلت نہیں چھائے گی جو کفار و فجار کے چہروں پر چھائی ہوگی بلکہ ان کے چہرے تر و تازہ، بارونق اور نورانی ہوں گے۔ یونس
27 [٤٠] اس دنیا میں بھی جب کوئی مجرم پکڑا جاتا ہے یا اپنی رہائی سے مایوس ہوجاتا ہے تو اس کے چہرے پر سیاہی اور ذلت چھا جاتی ہے اور یہ لوگ چونکہ عادی مجرم ہوں گے پھر ان کے بچاؤ کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ لہٰذا ان کے چہروں پر اس قدر تاریکی چھا رہی ہوگی جیسے اندھیری رات کا کچھ حصہ ان کے چہروں پر جما دیا گیا ہے۔ یونس
28 [٤١] زَیّل کے معنی کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر اس طرح الگ کردینا ہے جس سے وہ دوسروں سے ممیز ہوسکے یعنی میدان محشر میں پہلے تو ہم مشرکوں کو اور ان کے معبودوں کو کہیں گے کہ تم اپنی جگہ کھڑے رہو پھر عبادت کرنے والوں کو الگ اور معبودوں کو الگ ایک دوسرے کے آمنے سامنے لا کھڑا کریں گے تاکہ ایک دوسرے کو روبرو ہو کر سوال و جواب کرسکیں۔ [٤٢] ان میں وہ سب اشیاء شامل ہیں جن کی دنیا میں پوجا کی جاتی رہی ہے اس میں شجر و حجر بھی شامل ہیں۔ مویشی بھی، جیسے گائے بیل، فرشتے بھی، انبیاء بھی جیسے عیسیٰ علیہ السلام اور عزیر علیہ السلام اور بزرگان دین اور مشائخ اور پیران طریقت بھی۔ دیوی دیوتا اور ان کے مجسمے بھی۔ غرض جس جس چیز کی بھی کسی نہ کسی رنگ میں عبادت کی جاتی رہی ہے سب کو وہاں اکٹھا کیا جائے گا۔ [٤٣] اہل قبور پکارنے والوں کی پکار نہیں سنتے :۔ معبودوں میں کچھ ایسی اشیاء ہیں جو بے جان ہیں جیسے پتھر کے بت اور کچھ بے زبان جیسے سورج، چاند ستارے، سانپ اور بیل وغیرہ ان سب چیزوں کو اللہ تعالیٰ قوت گویائی عطا کر دے گا اور وہ اپنے عبادت گزاروں کے سامنے ان کی عبادت کا انکار کردیں گے کیونکہ ان میں نہ جان ہوتی ہے نہ عقل۔ وہ کیا جانیں کہ عبادت کیا ہے اور شرک کیا ؟ لہٰذا وہ مکمل لاعلمی ظاہر کرنے میں فی الواقع حق بجانب ہوں گے رہے وہ معبود جو ذوی العقول سے تعلق رکھتے ہیں مثلاً فرشتے، انبیاء اور اولیاء جن کی غیر موجودگی میں ان کی عبادت کی جاتی رہی تھی ان کے انکار سے سماع موتیٰ کا ایک اہم مسئلہ حل ہوجاتا ہے جو اکثر مقامات پر شرک کی بنیاد بنا ہوا ہے؟ قبر پرستی کا رواج محض اس غلط عقیدہ کی وجہ سے پڑگیا ہے کہ مردے سنتے ہیں اس آیت اور بعض دوسری آیات میں واضح طور پر اس کی تردید کی گئی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے میری تصنیف '' روح عذاب قبر اور سماع موتیٰ'' یونس
29 یونس
30 [٤٤] مشرکوں کے اپنے مشکل کشاؤں کے متعلق عقائد اور بے جا توقعات :۔ مشرک مندرجہ ذیل غلط عقائد کی بنا پر اپنے معبودوں کی پرستش کرتے ہیں : یہ معبود ہمارے حاجت روا اور مشکل کشا ہیں ہم جہاں کہیں سے ان کو پکاریں وہ ہماری بات کو سنتے اور فریاد کو پہنچتے ہیں۔ اللہ ہماری بات نہیں سنتا۔ ہمارے یہ معبود درمیان میں واسطہ کا کام دیتے ہیں۔ ہمارے معبود ہمیں اللہ سے قریب کرنے کا ذریعہ ہیں اگر قیامت ہوئی تو یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اور ہمیں اخروی عذاب سے بچا لیں گے حتیٰ کہ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ فلاں پیر کی بیعت ہوجانا ہی اخروی عذاب سے نجات کی ضمانت ہے جب قیامت کے دن حقیقت حال مشرکوں کے سامنے آجائے گی تو ایسی سب باتیں بھول جائیں گی اور انہیں خود بھی یاد نہ رہے گا کہ وہ کا ہے کو ان معبودوں کی عبادت کرتے رہے تھے؟ یونس
31 [٤٥] مشرکین مکہ ان سب باتوں کے قائل تھے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں اور جن سے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت عامہ ثابت ہوتی ہے اور اس کے ہمہ گیر اختیار و اقتدار کا پتہ چلتا ہے چنانچہ ان کے اسی عقیدہ کو بنیاد بنا کر ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ جب تم یہ سب باتیں مانتے ہو کہ خالق کائنات، مالک الملک، رب مطلق اور علی الاطلاق متصرف صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر ڈرنا بھی اس سے چاہیے اور عبادت بھی اسی کی کرنی چاہیے گویا توحید فی الربوبیت کی بنیاد پر شرک فی الالوہیت کی تردید پر دلیل پیش کی جارہی ہے۔ یونس
32 [٤٦] یعنی توحید فی الربوبیت کے متعلق تم لوگوں کا جو عقیدہ ہے وہ عین حقیقت ہے اور درست اور سچ ہے اب اس حقیقت کے علاوہ جو کچھ بھی ہوگا وہ باطل ہی ہوسکتا ہے جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ توحید فی الربوبیت کا تقاضا یہ ہے کہ عبادت بھی صرف اسی کی کی جائے اور یہی بات حق اور درست ہے اور اگر تم اللہ کے علاوہ دوسروں کی بھی عبادت کرو گے یا انہیں پکارو گے تو پھر یہ سراسر گمراہی ہی ہوگی۔ [٤٧] اس سوال میں مجہول کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی گمراہ کرنے والا دوسرا شخص یا گروہ موجود ہے جس کا کام ہی یہ ہے کہ لوگوں کو درست انداز فکر سے ہٹا کر غلط رخ پر ڈال دے لہٰذا یہ سوال کیا گیا ہے کہ تم خود اندھے بن کر غلط قسم کے رہنماؤں کے پیچھے کیوں چل پڑتے ہو خود اپنی عقل سے کیوں کام نہیں لیتے؟ گویا گمراہ کرنے والے شخص یا اشخاص کو پردہ میں رکھا گیا ہے تاکہ ان میں اشتعال نہ پیدا ہو اور ہر ایک کو ٹھنڈے دل سے غور کرنے کا موقع میسر آئے۔ یونس
33 [٤٨] یعنی ایسے لوگ جو حقائق کے مقابلہ پر محض ضد اور تعصب سے کام لے رہے ہوں ان کے متعلق اللہ کا یہی فیصلہ ہوا کرتا ہے کہ جو لوگ ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں وہ کبھی راہ راست پر نہیں آسکتے اور نہ ہی انہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔ یونس
34 [٤٩] مشرکین مکہ یہ تو تسلیم کرتے تھے کہ اللہ ہی نے انہیں اور ساری کائنات کو پیدا کیا ہے اور اس کام میں ان کے شریکوں کا کوئی حصہ نہیں لیکن وہ معاد یا اخروی زندگی کے قائل نہیں تھے اس آیت میں دو باتوں پر ان مشرکوں کو مطلع کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ جو ہستی پہلی بار پیدا کرسکتی ہے وہ دوسری بار بھی پیدا کرسکتی ہے بلکہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے سہل تر ہے اور دوسری یہ کہ جب پہلی بار کی تخلیق میں تمہارے معبودوں کا کچھ حصہ نہیں تو دوسری تخلیق میں بھی وہ حصہ دار نہیں ہوسکتے۔ اب تخلیق اول کے متعلق سوال کا جواب قریش مکہ کی زبان سے بیان فرمایا گیا کیونکہ وہ اس بات کے قائل تھے اور تخلیق ثانی یا معاد کے وہ چونکہ قائل نہیں تھے لہٰذا اس کا جواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے دلوایا گیا۔ یونس
35 [٥٠] ہدایت انسان کی اہم ضرورت ہے اور وہ صرف اللہ ہی دے سکتا ہے :۔ ہدایت حق سے مراد زندگی گزارنے کا وہ صحیح راستہ ہے جس سے انسان کو ہر شعبہ حیات مثلاً تہذیب، اخلاق، تمدن و معاشرت، حکومت و سیاست، معرفت و روحانیت، معیشت و کسب حلال وغیرہ کے متعلق ایسے اصول بتلا دیئے جائیں جن میں فرد اور معاشرہ میں سے ہر ایک کے حقوق کی پوری پوری نگہداشت ملحوظ رکھی گئی ہو اور ظاہر ہے کہ ایسی ہدایت، بے جان اور بے سمجھ معبود تو کجا سمجھ دار معبود بھی نہیں دے سکتے۔ ایسی جامع ہدایات کے لیے جس قدر وسیع علم و حکمت کی ضرورت ہے وہ اللہ کے علاوہ کسی کے پاس موجود نہیں اور اگر کوئی انسان یا سربراہ مملکت یا کوئی ادارہ ایسی ہدایات دینا بھی چاہے تو اس پر اس کی اپنی قوم اور اپنے ماحول کے تاثرات و تعصبات کی چھاپ ضرور موجود ہوگی بس اللہ ہی کی ایک ایسی ذات ہے جس کی نظروں میں سب مخلوق اور سارے انسان یکساں ہیں لہٰذا وہی ایسی ہدایات اور احکام دینے کا حقدار ہے۔ رہے معبودان باطل اور اللہ کے سوا جتنے بھی معبود ہیں وہ سب باطل ہی ہوتے ہیں تو ان کے متعلق مشرکین کو بھی یہ اعتراف ہے کہ وہ ایسی ہدایت نہیں دے سکتے۔ اور کسی کو ہدایت دینا تو درکنار ان معبودوں میں سے ذوی العقول بھی خود ہدایت کے محتاج ہیں پھر کیا ایسے اللہ کی اتباع کرنا چاہیے جو فی الواقع ہدایت حق دینے کا حق دار ہے یا ان کی جو خود بھی اپنے لیے ہدایت کی راہ نہیں پاسکتے؟ مندرجہ بالا سوالات سے یہ معلوم ہوا کہ انسان کی ضروریات دو طرح کی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا معبود ایسا ہونا چاہیے جو اس کا ملجا و ماویٰ ہو، دعاؤں کو سننے والا، انہیں قبول کرنے والا، حاجات کو پورا کرنے والا، مشکلات سے نجات دینے والا ہو اور اس پر پوری طرح بھروسہ کیا جاسکے اوپر کے سوالات نے یہ فیصلہ کردیا کہ اللہ کے سوا ایسی کوئی ذات نہیں ہے۔ انسان کی دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ اس کا کوئی ایسا رہنما ہونا چاہیے جو دنیا میں زندگی بسر کرنے کے صحیح اصول بتائے تاکہ انسانیت تجربوں اور ناکامیوں سے ہی دو چار نہ ہوتی رہے۔ اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ایسی ذات بھی اللہ کے سوا دوسری کوئی نہیں ہوسکتی لہٰذا اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہ اس قابل ہے کہ اس کی پرستش کی جائے اور نہ اس قابل ہے کہ اس کی اتباع کی جائے ان حقائق کی وضاحت کے بعد صرف ضد اور ہٹ دھرمی ہی رہ جاتی ہے جس کی بنا پر انسان مشرکانہ مذاہب اور لادینی اصول تمدن و اخلاق و سیاست سے چمٹا رہے۔ یونس
36 [٥١] انسان کے وضع کردہ قوانین حیات کی بنیاد ظن پر ہوتی ہے :۔ یعنی جن لوگوں نے مشرکانہ عقائد اور مذاہب کی داغ بیل ڈالی یا جن لوگوں نے انسانوں کے لیے قوانین حیات وضع کیے ان میں سے کسی بھی چیز کی بنیاد علم پر نہیں بلکہ محض ظن و اوہام پر ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے نتائج غلط نکلتے رہتے ہیں اور انسان کو آئے دن ان میں ترامیم اور تبدیلیوں کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے اور جو لوگ ایسے مذہبی یا دنیوی رہنماؤں کی پیروی کرتے ہیں وہ بھی گمان و قیاس ہی سے کرتے ہیں، کہ جب بڑے بڑے لوگ یہ بات کہتے ہیں یا ہمارے آباؤ و اجداد ایسا کہتے یا کرتے چلے آئے ہیں اور لوگوں کی اکثریت ان کی پیروی کر رہی ہے تو یہ باتیں ضرور ٹھیک ہی ہوں گی ان کے پاس بھی کوئی علمی بنیاد موجود نہیں ہوتی پھر بھلا اٹکل کے تیر حق و صداقت کی بحث میں کیا کام دے سکتے ہیں؟ یاد رہے کہ یہاں حق سے مراد ایسے یقینی دلائل ہیں جو کتاب و سنت میں موجود ہوں۔ یونس
37 [٥٢] قرآن کے معجزہ ہونے کے مختلف پہلو :۔ قرآن صرف اس لحاظ سے ہی معجزہ نہیں کہ اس میں فصاحت و بلاغت بے مثل ہے روانی اور سلاست ہے زبان میں شیرینی ہے بلکہ اس لحاظ سے بھی بے مثل ہے کہ اس میں پوری انسانیت کی رہنمائی کے لئے جو جامع اور ہمہ گیر ہدایات دی گئی ہیں وہ اللہ کے سوا کوئی دے ہی نہیں سکتا اور اس لحاظ سے بھی بے مثل ہے کہ اس کی آیات میں جتنا بھی غور کیا جائے، نئے سے نئے مفہوم و معانی سامنے آتے چلے جاتے ہیں نیز اس لحاظ سے بھی کہ اس میں پیش کردہ دلائل انتہائی سادہ اور عام فہم ہیں جن سے سب لوگ فیض یاب ہوسکتے ہیں۔ اور یہ صفات صرف اللہ کے کلام میں ہی پائی جاسکتی ہیں جس طرح کوئی انسان اللہ کے بنائے ہوئے چاند سورج جیسا چاند سورج، اس کی بنائی ہوئی زمین جیسی زمین اور آسمان جیسا آسمان نہیں بنا سکتا۔ اسی طرح کوئی انسان اللہ کے کلام جیسا کلام بھی پیش نہیں کرسکتا۔ [٥٣] اس جملہ میں قرآن کی دو مزید صفات بیان فرمائیں ایک یہ کہ یہ پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق و توثیق کرتا ہے یعنی جو اصول دین (یعنی الکتاب یا کتاب کی اصل ہیں) ان الہامی کتابوں میں مذکور ہوئے وہی اس میں بھی مذکور ہیں یہ کوئی نئے اصول پیش نہیں کر رہا اور دوسری یہ کہ جو کچھ اصول دین سابقہ کتابوں میں مذکور ہوئے ہیں ان کو مختلف پیرایوں میں اور دلائل و براہین کے ساتھ ان کی تشریح و توضیح بھی کرتا ہے اور یہی اوصاف قرآن کے مُنَزِّلْ مِنَ اللّٰہِ ہونے کے ثبوت ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں موجود عیسائی مشنریوں کے مبلغین کی طرف سے یہ اعتراض بڑی شد ومد سے اٹھایا گیا ہے کہ اگر قرآن سابقہ الہامی کتابوں کی تعلیم ہی پیش کرتا ہے اور ان سابقہ کتابوں کی تصدیق بھی کرتا ہے تو پھر قرآن کے نازل ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ پھر’’عدم ضرورت قرآن‘‘ پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئیں اور لوگوں میں تقسیم کی گئیں اس اعتراض کا الزامی جواب تو یہ ہے کہ انجیل بھی کوئی مستقل الہامی کتاب نہیں بلکہ تورات ہی کی توضیح و تشریح پیش کرتی ہے تو پھر آخر اس کی کیا ضرورت تھی اور عیسیٰ علیہ السلام کے مبعوث ہونے کا کیا فائدہ تھا اب اس سے آگے چلئے۔ تورات کے نزول سے پہلے یعنی موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل ہونے سے پہلے سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا موسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء پر جو وحی نازل ہوتی رہی اس کے بھی کلیات دین وہی تھے جو تورات میں مذکور ہیں تو پھر آخر تورات کی بھی کیا ضرورت تھی؟ اور اس اعتراض کا حقیقی جواب یہ ہے کہ سابقہ تمام الہامی کتب میں کسی کتاب کا بھی اصل متن محفوظ نہیں رہا جس زبان میں وہ نازل ہوئی تھیں ان کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے انبیاء متعلقہ کے بعد ان کے علماء پر ڈالی تھی۔ خود ان کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی تھی۔ جیسا کہ درج ذیل آیت سے واضح ہے : ﴿ اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰیۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّنُوْرٌ ۚ یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللّٰہِ وَکَانُوْا عَلَیْہِ شُہَدَاۗءَ ۚ﴾(5: 44) ’’ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی اللہ کے فرمانبردار انبیاء اور یہود کے مشائخ اور علماء یہود کے درمیان اسی کے مطابق فیصلے کرتے تھے اس لیے کہ اللہ کی کتاب کی حفاظت ان کے ذمہ ڈالی گئی تھی کہ وہ اس کے نگہبان تھے‘‘ گویا تورات سے متعلق مشائخ اور علمائے یہود پر دو طرح کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی ایک تو اس کتاب اللہ کی حفاظت کریں دوسرے اس کے احکام پر عمل کرکے اور اسی کے مطابق فیصلے کرکے اس کی عملی حفاظت کا بھی اہتمام کریں اور یہود کے کتاب کی حفاظت کرنے کا یہ حال ہے کہ انہیں تورات لکھی لکھائی مل گئی جو دو دفعہ ضائع ہوئی پھر سینکڑوں سال بعد لکھی گئی اس میں تحریف بھی کی گئی اور علماء کے اقوال اور الحاقی مضامین شامل کیے گئے اور نوبت بایں جارسید کہ خود علمائے یہود کو یہ معلوم کرنا دشوار ہوگیا تھا کہ وہ کتاب کے الہامی اور الحاقی حصے کو الگ الگ کرکے پیش کرسکیں اور عملی حفاظت کا حال اس سے بھی برا تھا انہوں نے کئی حرام چیزوں کو حلال اور حلال کو حرام بنا لیا تھا وہ غیر یہود کے اموال کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے ہضم کر جانا درست اور جائز سمجھتے تھے۔ سود کو حلال بنا لیا تھا غلط فتوے دے کر پیسے بٹورتے تھے۔ شرفا کے لئے حدود اللہ کو ساقط کردیتے تھے اور تورات کی بہت سی آیات کو چھپا جاتے اور لوگوں تک نہیں پہنچاتے تھے۔ اندریں صورت حال ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک نئے جلیل القدر نبی کو مبعوث کرکے اور کتاب انجیل نازل کرکے لوگوں کو صحیح الہامی تعلیم سے روشناس کرائیں چنانچہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے یہی فریضہ سر انجام دیا تھا۔ اب انجیل کا حال سنیے۔ انجیل سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں لکھی ہی نہیں گئی بعد میں سب کام روایت پر چلایا گیا اس کے ابتدائی راوی چار ہیں پھر انہوں نے خود قلم بند نہیں کی بلکہ بعد میں آنے والے شاگردوں نے کی جن میں نہ اسناد کا ذکر ہے اور نہ ہی روایت و درایت کا کوئی معیار ملحوظ رکھا گیا ہے پھر یہ جو کچھ بھی تھا وہ بھی اصل زبان میں محفوظ نہیں رہا بلکہ ان چار انجیلوں کے صرف تراجم ہی ملتے ہیں جن میں بے شمار اختلافات پائے جاتے ہیں اور ان میں تحریف بھی ثابت شدہ امر ہے۔ اندریں حالات ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور جلیل القدر نبی بھیج کر حقیقی تعلیم سے لوگوں کو متنبہ کریں اور یہ ضرورت قرآن کو نازل کرکے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کرنے سے پوری کی گئی۔ جو ان تمام امور و عقائد میں دو ٹوک فیصلہ دیتی ہے جن میں اہل کتاب میں اختلاف واقع ہوئے تھے اور وہ کئی فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ قرآن کے بعد کسی الہامی کتاب کی ضرورت نہیں :۔ یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے اختلافات تو آج کل مسلمانوں میں بھی عام ہیں پھر کیا آج بھی کسی نئے نبی یا نئی الہامی کتاب کی ضرورت ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کے بعد کسی نئی الہامی کتاب کی ضرورت نہیں رہی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے اور مسلم تو درکنار اغیار بھی یہ بات ماننے پر مجبور ہیں کہ قرآن جس طرح نازل ہوا تھا آج بھی بعینہ اسی اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہے اور اللہ کی حفاظت کا حال یہ ہے کہ اگر دنیا بھر کے معاندین قرآن کو صفحہ ہستی سے ناپید کرنے یا اس میں ردوبدل کرنے کی کوشش کریں تو وہ ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ ہر دور میں اس قرآن کریم کے کروڑوں حافظ موجود رہے ہیں۔ پھر قلمی حفاظت کے لاتعداد ذرائع سے بھی ابتداء سے لے کر آج تک حفاظت ہوتی رہی ہے۔ اور تا قیامت ہوتی رہے گی۔ اور اس کی عملی حفاظت کا بھی انتظام اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے مسلمانوں میں اگرچہ بے شمار اختلاف اور فرقے ہیں تاہم یہ سب کے سب گمراہ نہیں بلکہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ان میں تا قیامت ایک فرقہ ایسا موجود ہے اور موجود رہے گا جو حق پر قائم رہے گا اور یہ فرقہ وہ ہے جو صرف کتاب و سنت پر انحصار کرتا ہے۔ نہ اس میں کوئی کمی گوارا کرتا ہے اور نہ اضافہ۔ وہ اپنے دین میں کوئی بدعی عقیدہ یا عمل کو برداشت نہیں کرتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جس طرح قرآن کے الفاظ کی حفاظت کا ذمہ لے رکھا ہے اسی طرح اس کے مطالب و معانی اور تشریح و تعبیر کی حفاظت کا ذمہ لے رکھا ہے ورنہ محض الفاظ کی حفاظت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ قرآن کی تشریح و توضیح اور صحیح تفسیر ہمیں احادیث یا سنت رسول میں ملتی ہے اس سنت کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے کیسے فرمائی یہ ایک الگ مضمون ہے جسے ہم نے اس کے مناسب مقامات پر درج کردیا ہے۔ ان تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن و سنت کی حفاظت اور ایک فرقہ حقہ کی موجودگی میں نہ کسی نئے نبی کی ضرورت باقی رہتی ہے اور نہ کسی نئی الہامی کتاب کی۔ یونس
38 [٥٤] مشرکین مکہ کے اس اعتراض کے جواب میں قرآن نے متعدد مقامات پر چیلنج کیا ہے کہ اگر تمہارے خیال کے مطابق قرآن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہی بنا لیا ہے تو تم بھی ہمت آزمائی کر دیکھو اور اس سلسلے میں اپنے مددگاروں کو بھی اپنے ساتھ ملا لو لیکن اپنی بھرپور کوششوں کے باوجود جب وہ ایسا کلام پیش کرنے سے قاصر رہے تو انہیں دوزخ کی وعید سنا دی گئی۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی اس اعجازی حیثیت سے تین باتیں از خود ثابت ہوجاتی ہیں (١) اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت، (٢) قرآن کے منزل من اللہ ہونے کا ثبوت اور (٣) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت۔ اب جو شخص پھر بھی ایمان نہ لائے اور اپنی ضد، ہٹ دھرمی یا تعصب میں پڑا رہے اس کی سزا جہنم کے سوا کیا ہوسکتی ہے؟ (تفصیل سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢٣ حاشیہ نمبر ٢٧ میں ملاحظہ فرما لیجئے) یونس
39 [٥٥] قرآن کے منزل من اللہ ہونے کے داخلی اور خارجی ثبوت :۔ کسی چیز کو جھٹلانے کے لیے دو طرح کے ثبوت درکار ہوتے ہیں ایک خارجی شہادت یا شہادات اور دوسرے داخلی شہادت یا شہادات۔ خارجی شہادت کی نفی تو اس طرح ہوتی ہے کہ کسی معترض نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ کوئی شخص آپ کو آکر قرآن سکھلا جاتا تھا یا آپ قرآن سیکھنے کے لیے کبھی کسی کے پاس گئے ہوں یا یہ کام خط و کتابت یا قاصدوں کے ذریعہ سر انجام پاتا ہو اور داخلی شہادات کی نفی اس طرح ہوجاتی ہے کہ قرآن نے جو بھی خبر دی یا پیشین گوئی کی وہ کبھی جھوٹی ثابت نہیں ہوئی بلکہ تاریخ اور وقوع کے اعتبار سے درست ہی ثابت ہوئی ان دو وجوہ کو علمی یا یقینی قرار دیا جاسکتا ہے ان کے علاوہ اور کوئی معقول وجہ نہیں ہوسکتی جس کی بنا پر قرآن کو جھٹلایا جاسکے۔ [٥٦] تاویل کا مطلب اور اس کی مثالیں :۔ تاویل سے مراد کسی دی ہوئی خبر کے وقوع پذیر ہونے کا وقت ہے پھر جب وہ خبر وقوع پذیر ہوجاتی ہے تو اس وقت سب لوگوں کو اس کی پوری طرح سمجھ آجاتی ہے خواہ اس سے پیشتر اس آیت کی سمجھ لاعلمی کی وجہ سے نہ آرہی ہو یا ذہول و نسیان کی وجہ سے اور ایسی مثالیں بھی قرآن میں بہت ہیں جن میں سے یہاں صرف ایک مثال پر اکتفا کیا گیا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دار فانی سے رحلت فرما گئے تو یہ صدمہ صحابہ کرام کے لیے ایسا جانکاہ تھا کہ بعض صحابہ کے اوسان خطا ہوگئے دوسروں کا کیا ذکر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے زیرک اور مدبر صحابی کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے کہ’’جو شخص یہ کہے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں، میں اس کی گردن اڑا دوں گا‘‘ اتنے میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں کو مخاطب کرکے یہ آیت پڑھی ﴿ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ۭ اَفَا۟یِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ﴾ ’’(یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک رسول ہی ہیں جن سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا مارے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟‘‘ صحابہ کہتے ہیں کہ جب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ یہ آیت سنائی تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ آیت آج ہی نازل ہوئی ہے پھر جسے دیکھو یہی آیت پڑھ رہا تھا۔ حالانکہ یہ آیت مدتوں پہلے نازل ہوچکی تھی اور صحابہ سینکڑوں مرتبہ اسے پڑھتے بھی رہے مگر اس کی سمجھ اس وقت آئی جب آپ فی الواقع وفات پاگئے۔ مندرجہ بالا مثال ذہول سے متعلق ہے اور لاعلمی کی مثالیں وہ تمام سائنسی نظریات ہیں جو وحی سے متصادم ہیں مثلاً کائنات کا آغاز کیسے ہوا آدم کی تخلیق کیونکر ہوئی۔ زمین، سورج اور چاند کیسے وجود میں آئے۔ کائنات کا انجام کیا ہوگا ؟ ان باتوں کے متعلق ہئیت دانوں نے جو نظریات قائم کیے ہیں وہ محض ظن و تخمین پر مبنی ہیں اور ان کا علم بھی محدود ہے جبکہ وحی یقینی چیز ہے جو ایسی علیم و بصیر ہستی سے نازل ہوئی ہے جس کا علم لا محدود ہے اور بعض ایسے امور ہیں جن کی تاویل کا وقت آچکا ہے اور سائنس نے وحی کے آگے سرتسلیم خم کردیا ہے مثلاً سورج کو ساکن قرار دیا جاتا رہا مگر آج اسے متحرک سمجھا جاتا ہے آج یہ بھی تسلیم کیا جانے لگا ہے کہ تمام انسانوں کی آوازیں فضا میں محفوظ ہیں اور یہ بھی کہ انسان کے اعمال کے اثرات اس کے جسم پر مترتب ہوتے ہیں یہی وہ بات ہے جسے قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ فرشتے انسان کے تمام اعمال لکھتے جاتے ہیں اور ہمارے پاس اس کا پورا ریکارڈ موجود ہے۔ یونس
40 [٥٧] ایمان نہ لانے والے مفسد اس لحاظ سے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے کسی حکم کی پروا نہیں کرتے اور یہی بات فساد کی سب سے بڑی جڑ ہے علاوہ ازیں وہ اسلام لانے والوں کو تکلیفیں بھی پہنچاتے ہیں اور اسلام کے راستہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے سلسلہ میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔ یونس
41 یونس
42 یونس
43 [٥٨] دل بینا اور ظاہری بینائی :۔ یعنی جو لوگ دل کے بہرے ہیں وہ اگر آپ کی باتیں سن بھی لیں تو ان کے دل پر کیا اثر ہوسکتا ہے؟ بالخصوص اس صورت میں کہ وہ بے عقل بھی ہوں کہ اگر وہ سن نہیں سکتے تو کم از کم اشاروں سے ہی کچھ سمجھ جائیں۔ اسی طرح کچھ لوگ ایسے ہیں جو دل کے اندھے ہیں ان کا دل آپ کی باتوں کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا۔ پھر اگر وہ آپ کی باتیں سننے کے لیے آپ کی طرف دیکھ بھی رہے ہوں تو اس دیکھنے کا انہیں کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے بالخصوص اس صورت میں کہ وہ بے بصیرت بھی ہوں کہ اگر کوئی بات ان کے کانوں میں پڑ بھی جائے تو اسے سمجھ ہی نہ سکیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے ظاہری طور پر سننے اور دیکھنے سے آپ یہ توقع مت رکھیں کہ آپ کی باتوں کا ان پر کچھ اثر ہوگا اور وہ ایمان لے آئیں گے ایک دوسرے مقام پر قرآن میں ایسے لوگوں کو چوپایوں سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے کیونکہ ایسے لوگوں کا سننا اور دیکھنا بالکل چوپایوں کی طرح ہے وہ بھی عقل و فہم سے کورے یہ بھی کورے۔ اور بدتر اس لحاظ سے کہ چوپایوں میں تو عقل و فہم کا ملکہ پیدا ہی نہیں کیا گیا، جبکہ ان میں ایسا ملکہ موجود ہونے کے باوجود اس سے کام نہیں لے رہے۔ یونس
44 [٥٩] یعنی اللہ نے انہیں سننے کو کان، دیکھنے کو آنکھیں اور فہم و بصیرت کے لیے دل و دماغ سب کچھ عطا کیا تھا تاکہ وہ حق اور باطل میں تمیز کرسکیں پھر اگر وہ ان سے کام نہ لے کر عذاب کے مستحق بنتے ہیں تو یہ ان کا اپنا ہی قصور ہے اللہ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ یونس
45 [٦٠] قیامت کے دن کی مدت پچاس ہزار سال ہے اس کے مقابلہ میں انہیں اپنی دنیا کی زندگی یوں محسوس ہوگی کہ بس چند گھنٹے ہی دنیا میں گزارے تھے اس دن وہ ایک دوسرے کو ایسے ہی پہچانتے ہوں گے جیسے دنیا میں پہچانتے تھے مگر کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا ہر ایک کو بس اپنی اپنی ہی پڑی ہوگی بلکہ ایک دوسرے سے اپنے کسی دکھ سکھ اور ہمدردی کی بات چیت کے بھی روادار نہ ہوں گے اور اگر اپنا کوئی رشتہ دار نظر آئے گا تو اس سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوششیں کریں گے بعض علماء نے ﴿یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَھُمْ ﴾ کو دنیوی زندگی سے متعلق کرکے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ انہیں ایسا محسوس ہوگا کہ وہ دنیا میں بس چند گھنٹے ایک دوسرے کی جان پہچان کے لیے ٹھہرے تھے اور حقیقی زندگی کا آغاز تو اب ہو رہا ہے۔ [٦١] اس لیے کہ نتیجہ ان کی توقع کے خلاف نکلا اور اس دن کے لیے کچھ تیاری نہ کی تھی اور ساری زندگی دنیا کی دلچسپیوں میں گزار دی تھی ان لوگوں کو اس دن واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ وہ دنیا میں غلط راستے پر پڑے ہوئے تھے اور یوم آخرت سے انکار کے نتیجہ نے انہیں راہ راست پر آنے ہی نہ دیا۔ یونس
46 [٦٢] کافروں پر عذاب کی پیشگوئی کیسے پوری ہوئی؟:۔ کافروں اور مشرکوں کے لیے سب سے بڑا دکھ اور عذاب اسلام کا غلبہ اور ان کی ذلت آمیز شکست ہی ہوسکتا تھا تو اس عذاب کا بہت بڑا حصہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ہی آپ نے خود اور سب مسلمانوں اور کافروں نے دیکھ لیا اسلام بدستور آگے بڑھتا رہا اور ترقی کی منازل بڑی تیزی سے طے کرتا گیا اور غزوہ بدر سے لے کر غزوہ تبوک تک کافروں کو میدان جنگ میں بھی اور معاشرتی طور پر بھی شکست اور ذلت ہی نصیب ہوتی رہی۔ رہی سہی کسر اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات کے بعد نکال دی اور دور عثمانی تک ایک وقت ایسا آیا جب کہ قریب قریب ساری دنیا میں اسلام کا ڈنکا بجتا تھا اور کفر پوری طرح مغلوب و مقہور ہوچکا تھا۔ [٦٣] پھر کافروں سے عذاب کا وعدہ صرف دنیا کی زندگی پر ہی موقوف نہ تھا بلکہ آخرت میں عذاب کا وعدہ مستقل طور پر موجود تھا یہ نہیں ہوسکتا کہ اگر دنیا میں وہ عذاب سے دوچار ہوچکے تو آخرت میں چھوٹ جائیں گویا دنیا کی زندگی میں اگر کوئی کافر عذاب سے بچ بھی جائے تو اخروی عذاب تو بہرحال یقینی اور بڑا سخت ہے۔ یونس
47 [٦٤] اور یہ ضابطہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ہی مختص نہیں بلکہ تمام امتوں کے متعلق اللہ کا یہی دستور رہا ہے کہ جب لوگ اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو خبردار کرنے کے لیے اپنا رسول بھیجتا ہے اس طرح لوگوں پر اتمام حجت کرتا ہے پھر کچھ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ اس کا انکار کرکے اس کے درپے آزار ہوجاتے ہیں اس طرح حق اور باطل کی سرد اور گرم جنگ شروع ہوجاتی ہے اور اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ وہ حق پرستوں کی تائید کرتا ہے اور باطل پرستوں کو ذلت اور عذاب سے دوچار کردیتا ہے اور اللہ کا یہ فیصلہ اس لیے انصاف پر مبنی ہوتا ہے کہ اللہ اتمام حجت سے پہلے کسی کو سزا نہیں دیتا۔ یونس
48 [٦٥] عذاب کے وعدہ پر کافروں کا مذاق اور اس کا جواب :۔ کافروں کو دھمکی یہ دی گئی تھی کہ اگر وہ اللہ کی آیات کی تکذیب کریں گے تو انھیں ذلت اور رسوائی نصیب ہوگی اور بالآخر اسلام کا بول بالا ہوگا لیکن کافروں کی سمجھ میں یہ بات آہی نہیں سکتی تھی کہ یہ مٹھی بھر ستم رسیدہ اور بے سروسامان مسلمان کسی وقت ان پر غالب آجائیں گے لہذا وہ از راہ تمسخر مسلمانوں سے پوچھتے تھے کہ بھئی اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو ایسا وعدہ کب پورا ہوگا ؟ ان کے اس تمسخر کا جواب اللہ نے دو طرح سے دیا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو اپنے بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر صرف اتنا ہی جتنا اللہ کو منظور ہوتا ہے پھر میں تم پر کیا عذاب ڈھا سکتا ہوں؟ عذاب دینا اللہ کا کام ہے میرا نہیں اور نہ ہی میں نے کوئی ایسا دعویٰ کیا ہے کہ میں تمہیں عذاب میں مبتلا کردوں گا یا فلاں وقت عذاب آئے گا ہاں جب اللہ کی مشیئت ہوگی تو تم پر ایسا عذاب آکے رہے گا اور دوسرا جواب یہ ہے کہ عذاب دینے کے متعلق بھی اللہ کا ایک قانون ہے جو یہ ہے کہ اللہ کسی کے گناہوں پر فوراً گرفت کرکے اس پر عذاب ڈھا کر اسے تباہ نہیں کردیتا بلکہ اس کو سنبھلنے کے لیے مہلت دیئے جاتا ہے پھر جب بار بار کی تنبیہ کے باوجود وہ راہ راست پر نہیں آتا تو اس وقت اس پر عذاب آتا ہے وہ وقت کب ہوتا ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے اور جب عذاب کا وقت آجاتا ہے تو پھر اس میں قطعاً تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ عذاب کا معین وقت بتلا دینا اللہ کے دستور کے خلاف ہے یا جیسا کہ کسی کی موت یا قیامت کا وقت معین بھی بتلانا دستور کے خلاف ہے اس لیے کہ اس طرح یہ دنیا دارالامتحان نہ رہے گی جبکہ اللہ کی مشیئت یہی ہے کہ انسان کے لیے یہ دنیا دارالامتحان اور دارالعمل ہے۔ یونس
49 یونس
50 [٦٦] یعنی عذاب کے آنے میں ایسی کون سی مزے اور خوشی کی بات ہے جس کی وجہ سے مجرم اسے جلد طلب کر رہے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ تعجب کا مقام ہے کہ مجرم کیسی خوفناک چیز کے لیے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ایک مجرم کے لائق تو یہ تھا کہ وہ ملنے والی سزا کے تصور سے کانپ اٹھتا اور ڈر کے مارے ہلاک ہوجاتا۔ اور ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب آجائے گا تو اس وقت یہ لوگ جلد جلد اپنا کیا بچاؤ کرسکیں گے؟ یہ عذاب طلب کرنے والوں کے لیے تیسرا جواب ہے۔ یونس
51 [٦٧] یعنی ان کا عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ اس لیے ہے کہ انھیں ہرگز اس کا یقین نہیں ہے اور ان کا یہ تقاضا محض جھٹلانے اور مذاق اڑانے کی نیت سے تھا اور انھیں یقین اسی وقت آئے گا جب فی الواقع ان پر عذاب آپڑے گا لیکن اس وقت یقین آنا یا اللہ کی آیات پر ایمان لانا بے سود ہوگا۔ یونس
52 یونس
53 [٦٨] اس سے مراد ہر وہ چیز لی جاسکتی ہے جس کا مشرکین مکہ انکار کر رہے تھے۔ مثلاً قرآن، عذاب الٰہی کا ان پر واقع ہونا، موت کے بعد دوبارہ زندگی اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دیا جانا وغیرہ۔ ان کے سوال کا انداز ہی اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ وہ یہ باتیں ماننے کو قطعاً تیار نہ تھے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ آپ پورے وثوق کے ساتھ اپنے پروردگار کی قسم کھا کر اور اسے شاہد بنا کر کہہ دو کہ یہ امور ایسے حقائق ہیں جو ہو کر رہنے والے ہیں اور تم نہ انھیں روک سکتے ہو اور نہ ہی اللہ کے قبضۂ قدرت سے تم فرار کی راہ اختیار کرسکتے ہو۔ یونس
54 [٦٩] فدیہ میں سارے جہان کی مال ودولت :۔ یعنی آخرت میں صرف وہ اعمال صالحہ کام آئیں گے جو کسی نے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہوئے اپنے لیے آگے بھیجے ہوں گے۔ اعمال کے سوا وہاں نہ مال و دولت کام آئے گا نہ قرابت اور نہ سفارش۔ آیت مذکورہ میں مال و دولت کا ذکر بفرض تسلیم ہے یعنی اگر کسی مجرم کے پاس آخرت کو دنیا بھر کے خزانے اور مال و دولت موجود ہوں تو وہ یہ سب کچھ دے دلا کر عذاب سے اپنی جان چھڑا لے مگر یہ بات وہاں ناممکن ہوگی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کم سے کم عذاب والے دوزخی سے فرمائیں گے اگر تیرے پاس دنیا ومافیہا کی دولت موجود ہو تو کیا اسے اپنے فدیہ میں دے دو گے؟‘‘ وہ کہے گا ’’ہاں۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے آسان تر بات طلب کی تھی اور کہا تھا کہ اس بات (یعنی توحید) پر قائم رہے گا تو میں تجھے جہنم میں داخل نہ کروں گا مگر تو شرک پر اڑا رہا‘‘ (مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ۔ باب الکفار) [٧٠] ندامت کو اس لیے چھپائیں گے کہ انہوں نے غلط راستہ لاعلمی یا جہالت کی بنا پر نہیں بلکہ ضد، ہٹ دھرمی اور تعصب کی بناء پر اختیار کیا تھا لیکن اس ندامت کو چھپانے میں بھی کامیاب نہ ہوسکیں گے۔ یونس
55 یونس
56 یونس
57 [٧١] قرآن کی چار صفات اور ان کی ترتیب۔ موعظت ' شفا' ہدایت اور رحمت :۔ اس آیت میں قرآن کریم کی چار صفات بیان کی گئی ہیں۔ پہلی صفت موعظت ہے موعظت ایسی نصیحت کو کہتے ہیں جو انسان کی توجہ کو دنیا کے انہماک سے ہٹا کر اللہ کی یاد اور روز آخرت کی طرف مبذول کرے اور اس سے دلوں میں رقت اور دنیا سے بے رغبتی اور آخرت سے لگاؤ پیدا ہو۔ دوسری صفت یہ ہے کہ یہ قرآن دلوں کی بیماریوں مثلاً شرک اور کفر کا عقیدہ، حسد، بغض، خود غرضی، بخل، لالچ وغیرہ کے لیے شفا کا کام دیتا ہے جو شخص قرآن پڑھتا اور اس پر عمل کرتا ہے یہ روگ از خود اس کے دل سے دور ہوجاتے ہیں۔ تیسری صفت یہ ہے کہ قرآن انسان کی زندگی کے تمام شعبوں میں اس کی پوری طرح رہنمائی کرتا ہے وہ ہر فرد کے الگ الگ حقوق متعین کرتا ہے اور ایسے قوانین بتلاتا ہے جس سے فرد، معاشرہ اور حکومت میں سے کسی کے حقوق مجروح بھی نہ ہوں اور کسی دوسرے پر زیادتی بھی نہ ہو۔ اور اس کی چوتھی صفت یہ ہے کہ جو شخص قرآن پر عمل پیرا ہوتا ہے یا جو معاشرہ یا حکومت اس کی اتباع کرتی ہے اس پر اس دنیا میں بھی اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور آخرت میں بھی ہوگا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔ ١۔ قرآن کے ذریعے سربلندی اور ذلت :۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن کریم) کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو سربلندی عطا فرمائے گا اور بہت سے لوگوں کو ذلیل کرے گا‘‘ (مسلم۔ کتاب فضائل القرآن، باب من یقوم بالقرآن ویعلمہ) ٢۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اللہ کی کتاب میں ہدایت ہے اور روشنی ہے جس نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا وہ ہدایت پر قائم ہوگیا اور جس نے اس سے غفلت برتی وہ گمراہ ہوگیا‘‘ اور زید بن ارقم ہی کی دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں : ’’یہ کتاب اللہ کی رسی ہے جو اس پر عمل پیرا ہوا وہ ہدایت پر ہوگا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہی پر ہوگا۔‘‘ (مسلم، کتاب الفضائل۔ باب من فضائل علی بن ابی طالب) یونس
58 [٧٢] قرآن مال دولت سے بہتر ہے :۔ لہٰذا آپ لوگوں کو بتلا دیجئے کہ یہ اللہ کا انتہائی فضل اور اس کی کمال مہربانی ہے جو اس نے تمہارے لیے اتنی خوبیوں والی کتاب نازل فرمائی ہے لہٰذا تمہیں ایسی کتاب کے نازل ہونے پر خوشیاں منانا چاہیے اور جس مال و دولت کے جمع کرنے کے لیے یہ لوگ سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سے اس کتاب کا علم حاصل کرلینا ہزار درجہ بہتر ہے کیونکہ مال و دولت تو ڈھلتی چھاؤں ہے اور ایک فنا ہونے والی چیز ہے جبکہ اللہ کی کتاب ایسی نعمتوں کا راستہ دکھلاتی ہے۔ جو لازوال ہیں اور انھیں کبھی فنا نہیں مثلاً اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ اور جنت کی ابدی نعمتیں وغیرہ۔ یونس
59 [٧٣] رزق وسیع تر مفہوم :۔ رزق سے عموماً کھانے پینے کی چیزیں ہی مراد لیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ لفظ بڑے وسیع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً آپ یہ دعا مانگتے تھے۔ ''اللّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ عِلْمًا نَافِعًا'' (یا اللہ مجھے نفع دینے والا علم عطا فرما) اسی طرح ایک مشہور دعا ہے۔ ''اَللّٰھُمَّ اَرِِنَا الْحَقَّ حَقًا وَارْ زُقْنَا اِتَّبَاعَہُ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلاً وَارْزُقْنَا اِجْتِنَابِہُ '' اس پہلی دعا میں رزق کا لفظ عطا کرنے یا عطیہ کے معنوں میں آیا ہے۔ اور دوسری دعا میں توفیق عطا کرنے کے معنوں میں اور اصل یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو انسان کی جسمانی یاروحانی تربیت میں کوئی ضرورت پوری کرتی ہو وہ رزق ہے چنانچہ ﴿وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ﴾ میں بھی رزق سے مراد صرف مال و دولت ہی نہیں جس سے صدقہ فرضی یا نفلی ادا کیا جائے بلکہ اگر اللہ نے علم عطا کیا ہے تو وہ بھی رزق ہے اور اسے بھی خرچ کیا جائے یعنی دوسروں کو سکھلایا جائے اور اگر صحت عطا کی ہے تو کمزوروں کی مدد کرکے صحت سے صدقہ ادا کیا جائے گا۔ [٧٤] حلال وحرام اطلاق صرف کھانے پینے کی اشیاء تک محدود نہیں اور یہ اختیار صرف اللہ کو ہے :۔ کھانے پینے کی چیزوں اور جانوروں میں سے جو کچھ اللہ نے حرام کیا ہے اس کا ذکر قرآن میں کئی مقامات پر آچکا ہے اور جو کچھ مشرکوں اور رسم و رواج کے پرستاروں نے از خود حرام بنا لیا تھا اس کا ذکر سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ١٠٣ اور سورۃ انعام کی آیت نمبر ١٤٣ میں گذر چکا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کا اختیار تو صرف اللہ کو ہے ان لوگوں کو کس نے یہ اختیار دیا تھا کہ جس چیز کو یہ چاہیں حرام قرار دے لیں اور چاہیں تو حرام چیز کو حلال بنا لیں۔ پھر یہ بات یہاں تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ وہ اس پر مذہبی تقدس کا لبادہ بھی چڑھا دیتے ہیں اور اسے اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں کہ یہ اللہ کا یا شریعت کا حکم ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے یہ پوچھتے ہیں کہ آیا وہ اس نسبت کو کسی الہامی کتاب سے پیش کرسکتے ہیں؟ اور ایسا نہیں کرسکتے تو صاف واضح ہے کہ یہ اللہ پر افتراء ہے لہٰذا یہ دوہرے مجرم ہوئے۔ یہ معاملہ تو کھانے پینے کی چیزوں کا تھا جبکہ اللہ نے اور بھی بہت سی چیزیں حرام کی ہیں جن میں سے سرفہرست شرک ہے اور جو لوگ شرک کو حلال بنالیں اور اس پر مذہبی تقدس کا لبادہ چڑھا کر انھیں اللہ کی طرف منسوب کردیں نیز وہ لوگ جو اخلاقی و تمدنی حدود و قیود میں کسی چیز کو اپنی خواہش کے مطابق حلال اور حرام بنالیتے ہیں جیسا کہ مشرکین مکہ حرمت والے مہینوں کو حلال بنا لیا کرتے تھے وہ سب اس آیت کے ضمن میں آتے ہیں اور ایسی حرام سے حلال اور حلال سے حرام کردہ چیزیں بے شمار ہیں۔ یونس
60 [٧٥] یعنی قیامت کے دن ان حلال اور حرام بنانے والوں سے کیسا سلوک کیا جائے گا ؟ اس دن انھیں جو مار پڑے گی اور دکھ کا عذاب سہنا پڑے گا اس کے متعلق بھی ان افتراء پردازوں نے کبھی غور کیا ہے؟ اللہ تو لوگوں پر بڑا مہربان ہے جس نے ہر وقت انھیں ہر اچھے اور برے کام کے انجام سے مطلع کردیا ہے لیکن بجائے اس کے کہ لوگ اللہ کی اس مہربانی پر اس کے شکر گزار ہوتے الٹا اس کی حدود کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں پھر اسی کے نام سے منسوب بھی کردیتے ہیں۔ یونس
61 [٧٦] آپ کی اور مشرکوں کی سرگرمیوں کا تقابل :۔ اس آیت میں بیک وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مخاطب بنایا گیا ہے اور مشرکین مکہ کو بھی۔ اور ان دونوں کی سرگرمیوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے یعنی ایک طرف تو آپ کی ذات مبارک ہے جنہوں نے لوگوں کی ہدایت کے لیے دن رات ایک کردیا تھا اور اسی مقصد کے لیے اپنی جان تک کھپارہے ہیں لوگوں کو جا جا کر قرآن سنارہے ہیں اور اس کے ذریعہ جہاد کر رہے ہیں اور جب لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ کو انتہائی صدمہ ہوتا ہے دوسری طرف آپ کے مخالفین ہیں جو آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو دکھ دینے اور تکلیفیں پہنچانے، مسلمانوں کا مذاق اڑانے اور اسلام کی ہر راہ کو روکنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس کی آنکھوں سے اوجھل نہیں رہ سکتی گویا اس آیت میں کافروں کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ جو کرتوتیں بھی تم کرتے ہو یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہو وہ سب کچھ اللہ کے علم میں پہلے سے ہی موجود ہے پھر وہ تمہاری ایک ایک حرکت کو دیکھ بھی رہا ہے اور وہ ریکارڈ بھی ہوتی جارہی ہے لہٰذا اپنی ان سرگرمیوں کے انجام کی ابھی سے فکر کرلو اور نبی کو یہی بات کہہ کر تسلی دی جارہی ہے اور صبر کی تلقین کی جا رہی ہے۔ یونس
62 [٧٧] اولیاء اللہ کی پہچان :۔ اولیاء اللہ کی تعریف اگلی آیت میں یہ بتلائی گئی ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں اور اللہ سے ڈرتے رہیں اور متقین کی صفات جو سورۃ بقرہ کی ابتداء میں بیان ہوئی ہیں وہ یہ ہیں وہ لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے انھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور اس کتاب یعنی قرآن اور سابقہ کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ گویا جن ایمان لانے والوں میں مذکورہ صفات پائی جائیں وہ سب اولیاء اللہ ہیں پھر چونکہ ایمان اور اتقاء کے بھی کئی درجے ہیں اس لحاظ سے اولیاء اللہ کے بھی کئی درجے ہوئے اور عرف عام میں اولیاء اللہ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو ایمان و تقویٰ کے بلند درجات پر فائز ہوں اس کی مثال یوں سمجھیے کہ پچاس، سو روپیہ بھی مال و دولت ہے لیکن مالدار اسی شخص کو کہتے ہیں جس کے پاس ہزاروں اور لاکھوں روپے اپنی ضروریات زندگی سے زائد موجود ہوں اسی لحاظ سے بعض صحابہ سے ولی کی یہ صفت منقول ہے کہ ولی وہ مسلمان ہے جسے دیکھ کر اللہ یاد آئے اور مخلوق خدا سے انھیں بے لوث محبت ہو۔ موجودہ دور میں اولیاء اللہ کا مفہوم :۔ قرن اول میں بھی کچھ ایسے مسلمان موجود تھے جن کی طبائع زہد و تقویٰ اور عبادت کی طرف زیادہ مائل ہوگئیں پہلی صدی اور دوسری صدی ہجری میں انھیں زہاد اور صالحین کا نام دیا جاتا تھا لیکن تیسری صدی میں جب مسلمانوں پر یونانی اور ہندی فلسفہ کے اثرات پڑنے لگے تو یہ طبقہ ترک دنیا اور رہبانیت کی طرف مائل ہوگیا اور اولیاء اللہ کا مفہوم یکسر بدل گیا اور یہ لفظ صرف ان لوگوں کے لیے مختص ہوگیا جو ریاضتیں اور چلہ کشیاں کریں اور باقاعدہ کسی شیخ یا ولی کی بیعت کے رشتہ میں منسلک ہوں اور ان سے کرامات کا ظہور ہو۔ پھر اس طبقہ میں وحدت الوجود، وحدت الشہود اور حلول جیسے غیراسلامی عقائد داخل ہوگئے اور ولی کی ولایت کا معیار یہ قرار پایا کہ جس کسی سے کرامات کا ظہور جتنا زیادہ ہو وہ اسی درجہ کا ولی ہے پھر ان لوگوں میں بعض نے یہ دعویٰ بھی کردیا کہ ہمیں براہ راست اللہ سے خبریں ملتی ہیں اور ہمیں رسول کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض نے شریعت کو ہڈیاں اور اپنے دین طریقت کو اصل مغز قرار دیا اور ولایت کے ایک باقاعدہ باطنی نظام کی داغ بیل رکھ دی۔ ان میں پیری مریدی لازمی قرار دی گئی اور یہ لوگ اپنے اس مخصوص طبقہ کو ہی برتر اور اولیاء اللہ قرار دینے لگے اور ان اولیاء اللہ کے علم غیب، تصرف اور ہیبت سے لوگوں کو ڈرایا جانے لگا اور ایسے نظریات مسلمانوں میں خوب شائع و ذائع کیے گئے۔ شرعی نقطہ نظر سے ایسے نظریات بالکل بے بنیاد ہیں۔ [٧٨] اولیاء اللہ کے لئے بشارت :۔ خوف کا لفظ کسی پیش آنے والے خطرہ کے لیے اور غم کا لفظ ماضی میں کسی چھن جانے والی نعمت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس بشارت کا اطلاق دونوں جہانوں میں ہوتا ہے یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں ان اولیاء اللہ کا اپنے پروردگار پر اس قدر بھروسہ ہوتا ہے کہ انھیں نہ تو کسی چیز کا خوف خوفزدہ کرسکتا ہے اور نہ ہی انھیں ایسا غم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی سابقہ زندگی اللہ سے غفلت اور بیکار کاموں میں گذاری ہے یہی صورت آخرت میں بھی ہوگی انھیں نہ اس دن کی ہیبت، ہیبت زدہ کرے گی نہ پیاس ستائے گی اور نہ ہی اور کسی قسم کے دکھ یا عذاب کا خطرہ ہوگا اور نہ دنیا میں گزاری ہوئی زندگی کے متعلق کچھ حسرت اور ندامت ہوگی نہ کسی مطلوب چیز کے چھن جانے کا افسوس ہوگا۔ یونس
63 یونس
64 [٧٩] اللہ تعالیٰ کی یہ بشارت ایسی ہے کہ جو حتمی، یقینی اور ناقابل تغیر و تبدل ہے بالفاظ دیگر جو اللہ کے دوست ہوں یا جن کا دوست اللہ تعالیٰ ہو وہ کہیں بھی اور کسی حال میں بھی پریشان نہ ہوں گے اور ان کے لیے یہی بات سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یونس
65 [٨٠] اولیاء اللہ کے بعد اب ساتھ ہی اعداء اللہ کا ذکر فرمایا جو حق کا انکار کرتے تھے پیغمبر اسلام اور مسلمانوں پر پھبتیاں کستے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اور انھیں تکلیفیں پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے تھے اس آیت میں پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو یہ کہہ کر تسلی دی جارہی ہے کہ غلبہ، قوت، اقتدار اور عزت تو سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تمہیں کبھی اس حال میں نہ رہنے دے گا بلکہ ایسے حالات پیدا کردے گا کہ منکرین حق ذلیل اور رسوا ہوں اور عزت اور غلبہ اہل حق کو نصیب ہوگا۔ یونس
66 یونس
67 [٨١] یعنی اللہ کو تو مختار کل ماننے کے لیے بے شمار دلائل موجود ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے رات اور دن کو پیدا فرمایا اب اس ایک نشانی میں غور کرنے سے مزید بے شمار ایسی نشانیاں مل جاتی ہیں جو اللہ کے مختار کل، قادر مطلق اور مقتدر ہستی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ تنہا اسے ہی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے نیز اسے پکارنے اور خالص اسی کی عبادت کرنے کے لیے تو ایسے ٹھوس حقائق موجود ہیں لیکن جو لوگ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو پکارتے یا ان کی پرستش کرتے ہیں ان کے پاس ایسی کون سی دلیل موجود ہے جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ ان کا بھی اس کائنات میں کچھ حصہ یا اختیار و تصرف ہے لہٰذا ایسے سب لوگوں نے محض ظن و تخمین سے کام لے کر قیاسی فلسفے گھڑ رکھے ہیں جن کے نیچے کوئی ٹھوس یا علمی بنیاد موجود نہیں ہے۔ یونس
68 [٨٢] کیا اللہ کو بیٹے کی ضرورت ہے ؟ اولاد بنانے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ وہ اولاد صلبی ہو اس سے لازم آتا ہے کہ اس کی بیوی بھی ہو اور وہ اس کا محتاج بھی ہو اور جو محتاج ہو وہ معبود حقیقی نہیں ہوسکتا۔ معبود حقیقی کی شان ہی یہ ہے کہ وہ کسی چیز کا بھی محتاج نہیں ہوتا اور ہر چیز سے بے نیاز ہوتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی کو متبنّٰی بنالے اور دنیا میں متبنیٰ عموماً وہ لوگ بناتے ہیں جو بے اولاد ہوں اور متبنّٰی بنانے سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ متبنّٰی اس کا وارث بن سکے لیکن اللہ تعالیٰ کو اس کی بھی احتیاج نہیں کیونکہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ گویا اس لحاظ سے بھی وہ بے نیاز ہے لہٰذا جو لوگ ایسی باتیں بناتے ہیں سب بے بنیاد ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے تمام عیوب سے پاک ہے۔ [٨٣] بیٹا نہ ہونے کی عقلی دلیل :۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اولاد نہ ہونے پر دوسری دلیل ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ اس کائنات میں جو چیز بھی موجود ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے اور اولاد اپنے والد کی ملکیت نہیں ہوتی لہٰذا اللہ کی اولاد ہونا محال ہوا لہٰذا جو لوگ ایسی بات کہتے ہیں بلادلیل کہتے ہیں اور ایسی بات اللہ کے ذمہ لگاتے ہیں جن کی انھیں سزا مل کر رہے گی دنیا کی چند روزہ زندگی میں وہ جو کچھ کہتے ہیں یا کرتے ہیں کرلیں بالآخر انھیں ہمارے پاس ہی آنا ہے ہم انھیں ان کے اس شرکیہ عقیدہ کی پوری پوری سزا دیں گے۔ یونس
69 یونس
70 یونس
71 [٨٤] اولیاء اللہ کی شان میں گستاخی، سیدنا نوح علیہ السلام کا اپنی قوم کو چیلنج :۔ مشرکوں کے پاس اپنے مذہب کی صداقت میں سب سے مؤثر جواب یہ ہوتا ہے کہ اگر تم لوگوں نے ان کے معبودوں یا اولیاء اللہ کی شان میں کوئی گستاخی کی بات کی یا ان کی توہین کی تو وہ تم پر فلاں فلاں مصیبت ڈھا دیں گے اور تباہ و برباد کرکے رکھ دیں گے ایسے عقائد کے وہ خود بھی معتقد ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ سیدنا نوح علیہ السلام سے لے کر آج تک بدستور چلا آرہا ہے آپ آج بھی اولیائے کرام کا کوئی تذکرہ اٹھا کر دیکھ لیجیے آپ کو اس میں ایسی تہدید اور دھمکیاں مل جائیں گی کہ فلاں بزرگ کی فلاں شخص نے یوں توہین کی اس کا ستیاناس ہوگیا وغیرہ وغیرہ اور ایسے واقعات عموماً من گھڑت ہوتے ہیں جو ان پیروں کے حواری ان کی اولیائی کی دھاک بٹھانے کے لیے گھڑتے اور پھر شائع کردیتے ہیں یہی بات جب نوح علیہ السلام کو بھی کہی گئی تو انہوں نے اپنی قوم کے مشرکوں کو کھرا کھرا جواب دے دیا اور فرمایا : تم خود بھی اور تمہارے یہ معبود بھی سب مل کر میرا جو کچھ بگاڑ سکتے ہو بگاڑ لو اور مجھے مہلت بھی نہ دو کیونکہ میں اپنے اللہ پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اللہ پر پوری طرح بھروسہ رکھنے والا اللہ کے سوا کسی اور سے نہیں ڈرتا اور اگر بالفرض تسلیم اسے کوئی تکلیف پہنچتی بھی ہے تو وہ تکلیف پہلے ہی اللہ کی مشیئت میں ہوتی ہے اس کا کسی معبود کی خدائی یا کسی بزرگ کی اولیائی سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یونس
72 [٨٥] اسلامی خدمات اور تبلیغ کی اجرت لینا جائز ہے :۔ یعنی اگر تم لوگوں کو میری نصیحت کی باتیں اچھی نہ لگیں تو بھی میں اس کام سے باز نہیں آنے کا بلکہ تمہیں سمجھاتا ہی رہوں گا کیونکہ مجھے اللہ کا یہی حکم ہے میں اس کی طرف سے مامور ہوں اور اسی کے ذمہ میرا اجر ہے میں نہ تمہارا تنخواہ دار ہوں اور نہ تم سے کچھ طمع رکھتا ہوں کہ اگر تمہیں یہ باتیں پسند نہ آئیں تو تم میری تنخواہ روک دو گے یا مجھے کچھ نہ دو گے۔ میں تم سے ایسی کوئی حرص نہیں رکھتا۔ میں تو صرف اللہ کے حکم کا پابند اور اسی کا فرمانبردار ہوں۔ سیدنا نوح علیہ السلام کے علاوہ باقی انبیاء کا بھی یہی شیوہ رہا ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء کو عموماً اس وقت مبعوث کیا جاتا ہے جب کسی قوم کے حالات بگڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ کفر و شرک اور ظلم و عدوان عام ہوتا ہے ان حالات میں مخالفین اگر انبیاء کی بات ہی سن لیں تو بڑی بات ہے اور اجر تو اس کے ذمہ ہوتا ہے جس نے انھیں اس کام پر لگایا ہوا ہے اس سے یہ معلوم ہوا کہ اگر اسلامی حکومت یا مسلمانوں کا کوئی ادارہ کسی کو تبلیغ کے کام پر مامور کرے تو اس حکومت یا ادارہ سے تنخواہ یا اجرت لینا جائز ہے خواہ یہ تبلیغ کا کام اندرون ملک ہو یا بیرون ملک؟ دارالاسلام میں ہو یا دارالحرب میں۔ اگر تبلیغ کرنے والا اس تنخواہ کا محتاج نہیں تو بھی اسے لے لینا چاہیے اور آگے صدقہ کردینا چاہیے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے بھی یہی بات ثابت ہے۔ (بخاری، کتاب الاحکام، باب رزق الحاکم مسلم۔ کتاب الزکوۃ۔ باب اباحۃ الاخذ لمن اعطی من غیر مسئلۃ) یونس
73 [٨٦] اس موقعہ پر نوح علیہ السلام کے واقعات کو ذکر کرنے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا چاہتے ہیں کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلا رہی ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ سابقہ پیغمبر بھی ایسے ہی حالات سے دو چار ہوئے تھے اور انہوں نے صبر اور برداشت کا کمال مظاہرہ کیا تھا لہٰذا آپ کو صبر اور برداشت سے کام لینا چاہیے اور دوسرا مقصد جھٹلانے والوں کو متنبہ کرنا ہے کہ جن لوگوں نے ہمارے انبیاء کو جھٹلایا تھا ان کے انجام پر غور کرلو اور خوب سمجھ لو اگر تم اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی ایسا ہی انجام ہونے والا ہے۔ [٨٧] طوفان نوح کی کیفیت :۔ یعنی جھٹلانے والوں پر اللہ کا عذاب اس صورت میں آیا کہ نیچے زمین سے پانی کے چشمے جاری ہونے لگے اور اوپر سے موسلا دھار بارش ہونے لگی اور یہ عمل مفسرین کے قول کے مطابق چھ ماہ تک جاری رہا اور پانی سطح زمین سے اتنا بلند ہوا کہ پہاڑ تک اس میں غرق ہوگئے۔ مجرمین بھلا کیسے بچ سکتے تھے۔ بچے صرف وہی چند لوگ جو ایمان لائے تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھے چھ ماہ بعد بارشیں بھی ختم ہوگئیں اور زمین بھی پانی کو جذب کرنے لگی کچھ ہواؤں نے پانی کو خشک کیا کشتی تو جودی پہاڑ پر ٹک گئی تھی چالیس دن بعد جب زمین کی سطح خشک ہوگئی تو یہی مومن جو کشتی میں سوار تھے زمین پر اتر آئے اور کافروں کی زمینوں پر قابض ہوئے اور آئندہ نسل انہی سے چلی۔ یونس
74 [٨٨] مہر لگانے کا مفہوم :۔ سیدنا نوح علیہ السلام کے بعد ہود، صالح، ابراہیم، لوط اور شعیب علیہم السلام کو ہم نے ان کی قوموں کی طرف واضح نشانات دے کر بھیجا تھا۔ ان سب رسولوں سے وہی معاملہ پیش آیا جو سیدنا نوح علیہ السلام کو پیش آیا۔ یعنی جب ان لوگوں نے پہلی بار انکار کردیا تو بس پھر اسی پر ڈٹ گئے اور رسولوں کے ہزار بارسمجھانے کے باوجود بھی ان سے یہ نہ ہوسکا کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیں جب لوگ اس حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل اس قابل ہی نہیں رہے کہ وہ آئندہ ہدایت قبول کرسکیں اور مہر لگنے کی نسبت اللہ کی طرف محض اس حیثیت سے ہوتی ہے کہ اسباب کے مسبب یا نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان اسباب کے اختیار کرنے میں پوری طرح مختار ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اس کی سزا و جزا اس کے اسباب اختیار کرنے پر ہی مترتب ہوتی ہے گویا مہر لگنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سزا ہے جو انھیں انکار و مخالفت کے جرم کی پاداش میں ملتی ہے۔ یونس
75 [٨٩] سیدنا موسیٰ کے فرعون سے مطالبات اور اس کا جواب :۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کا قصہ پہلے سورۃ اعراف (آیت نمبر ١٠٣ تا ١٧١) میں پوری تفصیل سے گزر چکا ہے لہٰذا ان حواشی کو بھی مدنظر رکھا جائے جو پہلے پیش کیے جاچکے ہیں جب یہ دونوں پیغمبر، فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں پہنچے تو انھیں دو باتوں کی دعوت دی۔ ایک یہ کہ صرف ایک ہی سچے معبود پر ایمان لاؤ اور اسی کی عبادت کرو اور دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کرکے میرے ہمراہ روانہ کردو۔ ظاہر ہے کہ فرعون جیسے جابر اور خود خدائی کا دعویٰ کرنے والے حکمران کو یہ دعوت کسی طرح بھی راس نہ آسکتی تھی لہٰذا اس نے فوراً یہ مطالبہ پیش کردیا کہ تم فی الواقع اللہ کے پیغمبر ہو تو اپنی نبوت کی تصدیق کے طور پر کوئی نشانی پیش کرو۔ اس پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر پھینک دیا جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوفناک اژدھا کی شکل اختیار کر گیا اور دوڑنے لگا جس سے فرعون اور اس کے سب درباری ڈر کر موسیٰ علیہ السلام کی طرف ملتجیانہ نظروں سے دیکھنے لگے۔ آپ نے اس اژدہا کو پکڑ لیا اور وہ پھر سے عصا بن گیا پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دوسری نشانی بھی دکھلائی۔ اپنا داہنا ہاتھ اپنی بغل میں رکھا پھر نکالا تو وہ چمک رہا تھا اور اس سے سفید رنگ کی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ آپ نے پھر اسے اپنی بغل میں رکھا تو وہ اپنی اصل حالت پر آگیا۔ یہ دونوں نشانیاں اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بے مثال جرأت دیکھ کر فرعون اور اس کے درباری دل میں ڈر گئے۔ انھیں یہ یقین ہوگیا کہ موسیٰ علیہ السلام اور اس کا بھائی دونوں اللہ کے سچے پیامبر ہیں اور وہ ان خطرات کو بھی بھانپ رہے تھے جو ان کو پیش آنے والے تھے لیکن وہ اپنی صورت حال کو رعایا سے چھپانا بھی چاہتے تھے۔ لہٰذا ان معجزات کو جادو قرار دے دیا اور موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر۔ اور اس سے ان کا مقصد صرف اپنی رعایا کو الو بنانا تھا اور انھیں یہ تاثر دینا تھا کہ جس طرح دوسرے جادوگر شعبدہ بازیاں دکھلاتے ہیں اسی طرح کے یہ بھی شعبدے ہیں لہٰذا ان سے ڈرنے یا گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ یونس
76 یونس
77 [٩٠] سیدنا موسیٰ کا جواب، جادوگر اور نبی کا فرق :۔ فرعون اور اس کے درباریوں کے اس جواب پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان سے پوچھا کہ جس انداز میں میں تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں کیا جادوگروں کے بھی ایسے رنگ ڈھنگ ہوتے ہیں؟ جو اگر تمہارے پاس آنا چاہیں تو پہلے واسطہ تلاش کرتے اور داخلے کی اجازت چاہتے ہیں پھر اگر وہ اس مرحلہ میں کامیاب ہو کر تم لوگوں تک پہنچ جائیں تو نہایت ذلت سے سر عجزو نیاز جھکائے تمہیں دعائیں دیتے اور آداب بجا لاتے ہیں۔ پھر شعبدہ دکھلانے کی اجازت چاہتے ہیں۔ پھر اس دھندہ سے فارغ ہوں تو پھر سلام کرتے اور انعام و اکرام کا مطالبہ کرتے ہیں اگر تم چاہو تو انھیں کچھ دو یا جھڑک کر کسی بھی مرحلہ پر نکال دو یا اندر آنے کی اجازت ہی نہ دو اور ان کی ساری زندگی اسی ذلت اور اسی دھندے میں گذر جاتی ہے اور ان کی ہوس ختم نہیں ہوتی تو کیا تمہیں ایک جادوگر میں اور مجھ میں کچھ بھی فرق نظر نہیں آتا ؟ (مزید وضاحت کے لیے دیکھیے جادو اور معجزہ کا فرق سورۃ اعراف، آیت نمبر ١٢٠) نیز ایک رسول اور جادوگر میں فرق کے لیے دیکھیے اسی سورۃ یونس کی آیت نمبر ٢) یونس
78 [٩١] فرعون اور درباریوں کے اس جواب سے بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ خوب جانتے تھے کہ سیدنا موسیٰ اور ہارون علیہما السلام جادوگر نہیں ہیں۔ جادوگر کو تو معاشرہ کی ایک حقیر سی مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ اس کی بھلا بڑائی قائم ہوسکتی ہے؟ اور اگر وہ حقیقت کا اعتراف کرلیتے تو اپنے تمام مناصب سے دستبردار ہونا پڑتا تھا۔ لہٰذا انہوں نے وہی جواب دیا جو دلیل سے عاجز اور ضدی لوگ دیا کرتے ہیں کہ تم تو ہمیں اپنے آباؤ و اجداد کے دین سے برگشتہ کرنے آئے ہو مگر ہم تمہارے جھانسے میں کبھی نہیں آئیں گے۔ یونس
79 یونس
80 [٩٢] فرعون نے یہ سب کچھ جان لینے کے بعد جادوگر کیوں بلائے اور مقابلہ کا ڈھونگ کیوں رچایا ؟ اور اپنی اس تدبیر میں وہ کیسے ناکام ہوا اس کی تفصیل پہلے سورۃ اعراف میں گزر چکی ہے۔ یونس
81 [٩٣] فیصلہ کن معرکہ حق و باطل میں حق کو یقینا تائید الٰہی حاصل ہوتی ہے :۔ جب جادوگر اپنی شعبدہ بازیاں دکھلا چکے اور ان کی پھینکی ہوئی رسیاں اور لاٹھیاں لوگوں کو سانپوں کی طرح حرکت کرتی اور بل کھاتی دکھائی دینے لگیں اور تماشا دیکھنے والے سب لوگ ان سے ڈر بھی گئے اور متاثر بھی ہوگئے تو اس وقت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ جو کچھ تم نے پیش کیا ہے یہ فی الواقع جادو ہے اور جو میں پیش کررہا ہوں وہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ معجزہ ہے جو تمہاری ان تمام شعبدہ بازیوں کا خاتمہ کر دے گا۔ وجہ یہ ہے کہ یہ بات اللہ کی عادت اور حکمت کے خلاف ہے کہ کسی جگہ حق و باطل کا معرکہ درپیش ہو۔ مصلح کے مقابلہ میں مفسد کھڑے ہوں اور اس سے مقصود اتمام حجت ہو تو اللہ مفسدوں کی بات کو سربلند کرے اور کلمہ حق کو پست و مغلوب کردے بلکہ ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ حق کی مدد کرتا اور سچ کو سب لوگوں کے سامنے سچ کرکے دکھلا دیتا ہے۔ یونس
82 یونس
83 [٩٤] ذریت کے معنی نوجوان جرأ تمند نسل :۔ لفظ ذریت کا لغوی معنی اولاد ہے اور یہاں ذریت سے مراد بنی اسرائیل کی نوجوان نسل ہے ان نوجوانوں میں سے بھی چند آدمیوں نے ہمت کرکے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کا اعلان کردیا ورنہ بڑے بوڑھے لوگ تو فرعون کی چیرہ دستیوں سے اس قدر خائف تھے کہ دل سے ایمان لانے کے باوجود اپنے ایمان کا اظہار کرنے میں اپنی موت سمجھتے تھے۔ طویل مدت کی غلامی، بڑھاپے کی کمزوری اور فرعون کے مظالم نے انھیں اتنا پست ہمت بنا دیا تھا کہ وہ اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے۔ جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد بنی اسرائیل کے یہ چند نوجوان ہی اتنے دلیر ثابت ہوئے کہ انہوں نے پیش آنے والے مصائب و مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا تہیہ کرلیا اور اپنے ایمان کا برملا اعلان کردیا۔ اس طرح موسیٰ علیہ السلام کو کچھ تقویت حاصل ہوگئی اور آپ نے ان نومسلموں کی تربیت شروع کردی اور سمجھایا کہ اب تمہیں نہایت ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ میرا ساتھ دینا ہوگا اور اگر تم اللہ کے فرمانبردار بن کر رہے اور اسی پر بھروسہ کیا تو فرعون تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس دور کے حالات اور آپ کے حالات کی مماثلت' نوجوان صحابہ اور ان کی عمریں :۔ بالکل ایسی صورت حال مکہ میں بھی پیش آئی تھی۔ آپ پر جو لوگ ایمان لائے تھے ان میں اکثر نوجوان طبقہ ہی تھا۔ مثلاً سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، جعفر طیار رضی اللہ عنہ ، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہم، یہ سب قبول اسلام کے وقت بیس سال سے کم عمر کے تھے۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، بلال بن رباح رضی اللہ عنہ اور صہیب رضی اللہ عنہ کی عمریں بیس سے تیس سال کے درمیان تھیں۔ لے دے کر دو صحابہ کو ہی بڑا کہا جا سکتا ہے ایک سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسال چھوٹے یعنی ٣٨ سال کے تھے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ آپ کے ہم عمر تھے۔ بالفاظ دیگر ان ﴿وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ﴾ میں سے بوڑھا کوئی بھی نہ تھا۔ ابتدائی مراحل میں حق کا ساتھ دینے اور مشکلات کے سامنے سینہ سپر ہوجانے کے لیے نوجوان خون اور ان کی جرأت ہی کام آتی ہے۔ بوڑھوں کی مصلحت کوشیاں کام نہیں آتیں الاماشاء اللہ۔ [٩٥] یعنی ایسے لوگ جو اپنے مقصد کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز ذریعہ استعمال کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے اور ان کے لیے کوئی قانونی یا اخلاقی حد ایسی نہیں ہوتی جہاں جاکر وہ رک جائیں۔ فرعون ایسا ہی سرکش، متکبر اور جابر و قاہر قسم کا انسان تھا۔ یونس
84 یونس
85 [٩٦] کامیابی کے لئے وسائل اور اسباب اختیار کرنا اور دعا کرنا دونوں لازم و ملزوم ہیں :۔ اس آیت میں انبیاء کی دعوت و تبلیغ کے ابتدائی دور کا نقشہ پیش کیا جارہا ہے۔ انبیاء کی دعوت کو ابتداء میں قبول کرنے والے چند نوجوان اور باہمت لوگ ہی ہوتے ہیں جنہیں مخالفین کے شدائد اور ظلم و ستم کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ پھر ان کے بزرگوں کی مصلحت کوشیاں بھی ان کے آڑے آتی ہیں اور ایک کثیر طبقہ تماشا دیکھنے والوں کا بھی موجود ہوتا ہے جو ان حالات میں غیر جانب دار رہتے ہیں وہ صرف اس انتظار میں رہتے ہیں جو فریق بھی غالب ہوگا وہ اس کے ساتھ مل جائیں گے اور اگر ان جوانوں کی جماعت کو کوئی مصیبت پیش آجائے تو ان کے لیے اپنے بزرگ بھی جو دل سے مومن ہوتے ہیں ان کی پیش رفت پر طعنہ زنی کرنے اور کیڑے نکالنے لگتے ہیں گویا یہ دور ہر طرح سے اس مختصر سی مسلمان جماعت کے لیے سخت ابتلا کا دور ہوتا ہے۔ یہی صورتحال موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے ان نوجوانوں کی تھی جو اپنے ایمان پر ثابت قدم رہتے اور اللہ پر بھروسہ کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ سے دعائیں بھی کرتے تھے کہ ’’اے ہمارے پروردگار! ہم پر رحم فرما اور جن مشکلات میں ہم گھرے ہوئے ہیں اس سے نجات کی راہ پیدا فرما دے‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے وسائل و اسباب کو اختیار کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے دعا کرتے رہنا دونوں باتیں کامیابی کے لیے لازم و ملزوم ہیں نیز یہ بھی کہ وسائل و اسباب کو اختیار کیے بغیر محض دعاؤں پر انحصار کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ دعا بھی صرف اس صورت میں قبول کرتا اور اپنی رحمت اور مدد نازل فرماتا ہے جب انسان یا کوئی قوم اپنے مقدور بھر اسباب و وسائل کو بھی اختیار کرتی ہے۔ یونس
86 یونس
87 [٩٧] دین کی سربلندی کے لئے جماعتی نظم ونسق اور جماعتی نظم ونسق کے لئے مساجد اور اقامت الصلوٰۃ دونوں ضروری ہیں :۔ طاغوتی اور لادینی حکومتوں میں بھی ان کی رعایا کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق مراسم و عبادات بجا لانے کی اجازت ہوا کرتی ہے اور ایسی عبادت کو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک ذاتی معاملہ کی حد تک محدود رکھا جاتا ہے ایسی آزادی سے حکومتوں کو کچھ نقصان بھی نہیں ہوتا اور اگر وہ اتنی آزادی بھی نہ دیں تو حکومتیں چل بھی نہیں سکتیں حکومتوں کو اعتراض صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ مذہبی لوگ سیاست میں دخل دینے لگیں اور انبیاء کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسی حکومتوں سے ٹکر لینے کے لیے مسلمانوں میں جماعتی نظام پیدا کرتے ہیں اور اس تنظیم کا اولین مرکز مسجد ہوتی ہے فرعون کے زمانہ میں بھی سیدنا موسیٰ و ہارون علیہما السلام پر ایمان لانے والے نوجوان اور کمزور ہمت بوڑھے لوگ اپنے گھروں میں نماز ادا کرتے تھے جب ان لوگوں نے کافروں سے نجات کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پیغمبروں کی طرف وحی کی کہ اگر اللہ کی مدد چاہتے ہو تو جماعتی نظم و نسق قائم کرو، چند گھروں کو مسجد کے طور پر منتخب کرلو اور نماز باجماعت کا اہتمام کرو یہی مساجد تمہاری عبادت، تمہاری معاشرت، تمہاری معیشت اور تمہاری سیاست کے بھی مرکز ہوں گے اس طرح جب تم ایک دوسرے کے معاون و رفیق بن جاؤ گے اور خود کو ایک جماعتی نظم میں منسلک کرلو گے تو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ ضرور تمہاری مدد کرے گا اور تمہاری دعاؤں کو ضرور قبول فرمائے گا اور اسی صورت میں تم کامیاب ہوسکو گے۔ یونس
88 [٩٨] جماعتی نظم ونسق کے ساتھ ساتھ دشمن کی طاقت کو کمزور بنانے کے لئے وسائل سوچنا اور اس کے لئے دعا بھی ضروری ہے :۔ کسی دشمن سے مقابلہ کے لیے دو گونہ اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے ایک یہ کہ اپنی جماعت کو مربوط منظم اور طاقتور بنایا جائے دوسرے یہ کہ جہاں تک ممکن ہو دشمن کی جماعت کو کمزور بنایا جائے اب موسیٰ علیہ السلام کی مٹھی بھر جماعت کے مقابلہ میں فرعون جیسا جابر اور خود سر بادشاہ تھا جو مال و دولت اور شان و شوکت کی فراوانی کے علاوہ جملہ اسباب و وسائل پر قابض بھی تھا اور انہی وجوہات کی بنا پر وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کے کام میں سدراہ بنا ہوا تھا کیونکہ وہ خوب جانتا تھا کہ اگر موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو فروغ حاصل ہوگیا تو اس کا اقتدار خطرہ میں پڑجائے گا لہٰذا وہ اس دعوت کو روکنے میں اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہا تھا اور ظاہر ہے کہ جو شخص دعوت حق کی مخالفت میں اس حد تک جا پہنچے اس کے خود ایمان لانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہٰذا موسیٰ علیہ السلام نے اپنی مقدور بھر کوششوں کے ساتھ ساتھ اللہ سے یہ دعا بھی کی کہ چونکہ دعوت حق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ فرعون اور اس کے درباریوں کا شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ اور مال و دولت کی فراوانی ہے اور یہی چیزیں ایک دنیا دار کی نظر میں زندگی کی کامیابی کا منتہائے مقصود ہیں لہٰذا اے ہمارے پروردگار! ان لوگوں کے مال و دولت اور وسائل کو تباہ و برباد کر دے تاکہ یہ لوگ کم از کم دوسرے لوگوں کی راہ تو نہ روکیں، ان کے اپنے دل تو اس قابل ہی نہیں رہے کہ وہ ایمان لے آئیں الا یہ کہ کوئی سخت عذاب اپنے آپ پر نازل ہوتا دیکھ لیں۔ یونس
89 [٩٩] کامیابی کے لئے صبرو استقلال کی اہمیت :۔ پیغمبروں کی دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے انھیں اور مسلمانوں کی جماعت کو صبر، استقلال اور ثابت قدمی کی تلقین فرمائی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو لوگ زندگی کی کامیابی کا منتہائے مقصود صرف دنیا کے مال و دولت اور شان و شوکت ہی کو سمجھ بیٹھے ہیں ان کی طرف مطلقاً التفات نہ کرو کیونکہ ان کا یہ نظریہ محض جہالت پر مبنی ہے اور اللہ تعالیٰ جلد ہی تمہیں ان لوگوں سے نجات دے دے گا۔ یونس
90 [١٠٠] جن حالات میں موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر نکلے تھے اور جس طرح بعد میں فرعون اور اس کے لشکر نے ان کا تعاقب کیا تھا نیز دریا کے پھٹنے، بنی اسرائیل کے بخیر و عافیت پار اتر جانے اور فرعون اور اس کے لشکر کے اس دریا میں غرق ہونے کی تفصیل پہلے سورۃ اعراف آیت نمبر ١٣٦ میں گزر چکی ہے۔ یہاں صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ فرعون کو جب موت سامنے نظر آگئی تو کہنے لگا کہ ’’فی الواقع رب میں نہیں تھا بلکہ حقیقی معبود وہی ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں میں بھی اب اس پر ایمان لاتا ہوں اور اس کا فرمانبردار بن کر رہوں گا‘‘ فرعون کا یہ اقرار دراصل اقتدار سے اپنی دستبرداری کا اعلان تھا بشرطیکہ اسے موت سے نجات مل جائے اور یہ وہی بات ہے جس کا موسیٰ علیہ السلام نے اپنی دعا میں ذکر کیا تھا کہ ان کے دل اس قدر سخت ہوچکے ہیں کہ جب تک کوئی سخت عذاب نہ دیکھ لیں ایمان لانے پر تیار نہ ہوں گے۔ یونس
91 [١٠١] فرعون کا غرقابی کے وقت ایمان لانا :۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے اس اقرار کے جواب میں فرمایا کہ جیسا اقرار تم اب کر رہے ہو ویسا اقرار پہلے بھی کئی دفعہ کرچکے ہو پھر بعد میں عہد شکنی کرکے بغاوت ہی کرتے رہے ہو لہٰذا تمہارا اب کا یہ اقرار قطعاً ناقابل اعتبار ہے اگر تمہیں اب بھی ہم نجات دے دیں تو پھر بھی تم وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے ہو اور اس مطلب پر دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب فرعون نے یہ کلمات کہے تھے تو جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا کہ : ’’کاش اے محمد! آپ دیکھتے میں نے اس وقت دریا سے کیچڑ لے کر فرعون کے منہ میں ٹھونس دیا کہ مبادا اب بھی کہیں اللہ کی رحمت اسے نہ آلے‘‘ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اب تمہارے اس اقرار کا کچھ فائدہ نہیں کیونکہ یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ تمہاری موت آچکی اور امتحان اور توبہ کا وقت گذر چکا ہے لہٰذا اب ایسا اقرار بے کار ہے اس مطلب پر بھی بے شمار آیات و احادیث شاہد ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تین امور کا معین وقت کسی کو بھی نہیں بتلایا، ایک یہ کہ کسی قوم پر عذاب کب آئے گا، دوسرے یہ کہ کسی کی موت کا وقت کب ہے؟ اور تیسرے یہ کہ قیامت کب آئے گی کیونکہ ان امور کا معین وقت بتلا دیا جائے تو دنیا کے دارالامتحان ہونے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے اور فرعون کے معاملہ میں تو دو باتیں اکٹھی ہوگئی تھیں۔ ایک عذاب دوسرے موت۔ لہٰذا اس وقت اس کا ایمان کیسے قبول ہوسکتا تھا ؟ یونس
92 [١٠٢] فرعون کی لاش کی حفاظت کا مطلب :۔ یعنی تیری لاش نہ تو سمندر میں ڈوب کر معدوم ہوجائے گی اور نہ مچھلیوں کی خوراک بنے گی، چونکہ فرعون کے ڈوب کر مر جانے کے بعد ایک لہر اٹھی جس نے اس کی لاش کو سمندر کے کنارے ایک اونچے ٹیلے پر پھینک دیا تاکہ باقی لوگ فرعون کا لاشہ دیکھ کر عبرت حاصل کریں کہ جو بادشاہ اتنا طاقتور اور زور آور تھا اور خود خدائی کا دعویدار تھا بالآخر اس کا انجام کیا ہوا ؟ مگر انسانوں کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایسی نشانیاں دیکھنے اور ان کا اعتراف کرنے کے باوجود عبرت حاصل نہیں کرتے اور نہ ہی اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ لاش مدتوں اسی حالت میں پڑی رہی اور گلنے سڑنے سے بچی رہی اور بعد میں آنے والی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنی رہی۔ جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ لاش آج تک محفوظ ہے جس پر سمندر کے پانی کے نمک کی تہہ جمی ہوئی ہے۔ جو اسے بوسیدہ ہونے اور گلنے سڑنے سے بچانے کا ایک سبب بن گئی ہے اور یہ لاش قاہرہ کے عجائب خانہ میں آج تک محفوظ ہے۔ واللہ اعلم۔ تاہم الفاظ قرآنی کی صحت اس کے ثبوت پر موقوف نہیں کہ اس کی لاش تاقیامت محفوظ ہی رہے۔ عاشورہ کا روزہ :۔ فرعون کی غرقابی کا واقعہ ١٠ محرم کو پیش آیا تھا اسی لیے یہود فرعون سے نجات کی خوشی کے طور پر روزہ رکھتے تھے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسلمانوں کو اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا اور یہود کی مخالفت کے لیے ساتھ ٩ محرم یا ١١ محرم کاروزہ رکھنے کا حکم دیا پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو اس دن کے روزہ کی حیثیت نفلی روزہ کی سی رہ گئی۔ یونس
93 [١٠٣] بنی اسرائیل کا شام کے علاقہ پر قبضہ اور تفرقہ بازی : یعنی ملک مصر میں بھی ان کو غلبہ دیا اور شام میں بھی اور یہ دونوں سر سبز اور شاداب ملک ہیں جہاں ہر طرح کے پھل اور غلے بکثرت پیدا ہوتے ہیں پھر ان مادی نعمتوں کے علاوہ انھیں تورات بھی عطا کی۔ جس میں ان کی زندگی کے ہر شعبہ کے لیے مکمل ہدایات موجود تھیں لیکن بعد میں یہی لوگ کئی فرقوں میں بٹ گئے تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ تورات ان کی صحیح رہنمائی کرنے کے لیے ناکافی تھی بلکہ اس کی وجہ نئے نئے فلسفیانہ مباحث پیدا کرنا، پھر آپس میں اختلاف کرنا، پھر فرقے بنانا اور اپنی اپنی چودھراہٹ کی خاطر ان کی آبیاری کرنا تھی۔ علماء و مشائخ کے حب جاہ نے ان فرقوں میں اتنا تعصب پیدا کردیا تھا کہ ان میں اتحاد کی صورت باقی نہ رہ گئی تھی حالانکہ اگر وہ اللہ کی کتاب کی طرف رجوع کرتے تو وہ پھر سے متحد ہوسکتے تھے۔ تفرقہ بازی کی وجہ اور اس کا علاج :۔ آج مسلمان بھی اسی فرقہ بازی کی لعنت کا شکار ہیں جس کا شکار یہود اور نصاریٰ ہوچکے تھے اور آج تک شکار ہیں۔ مسلمانوں کے فرقے بھی اسی ہٹ دھرمی اور ضد کا شکار ہیں اور ہر فرقہ اپنے اپنے حال میں مست اور مگن ہے۔ ان فرقوں کے قائدین کے حب مال اور جاہ کی خواہش اور ان کے مناصب سے ان کی دستبرداری ان فرقوں کے متحد ہونے میں آج بھی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ آج بھی اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت موجود ہے۔ اگر اس کی طرف رجوع کیا جائے تو اتحاد کی صورت آج بھی ممکن ہے بلکہ اتحاد کی ممکنہ صورت یہی ہوسکتی ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف رجوع کیا جائے اور اماموں، علماء اور مشائخ کے اقوال کو کتاب و سنت کے مقابلہ میں درخور اعتناء نہ سمجھا جائے۔ یونس
94 [١٠٤] شک کا علاج اہل علم سے تحقیق کرنا ہے :۔ بظاہر یہ خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے لیکن اس سے مراد دوسرے لوگ ہیں اور یہ خطاب محض تاکید مزید کی بنا پر ہے وجہ یہ ہے کہ ہر نبی منزل من اللہ وحی پر سب سے پہلے خود ایمان لاتا ہے پھر دوسروں کو دعوت دیتا ہے اور شک اور ایمان دو بالکل متضاد چیزیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھلا اس بات میں کیسے شک کرسکتے تھے جس کی تمام دنیا کو دعوت دے رہے تھے اور سننے والوں کے دلوں میں بھی پہاڑ سے زیادہ مضبوط یقین پیدا کردیتے تھے اب اگر اللہ کی نازل کردہ وحی میں کسی شخص کو شک پیدا ہو کہ آیا یہ واقعی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے یا نہیں تو اس کا علاج یہ نہیں کہ وہ شک میں ہی پڑا رہے بلکہ یہ ہے کہ جن لوگوں پر سابقہ آسمانی کتابیں نازل ہوئی ہیں اور وہ ان کتابوں کو پڑھتے بھی ہیں۔ یعنی یہود و نصاریٰ، ان سے پوچھ کر اپنا شک دور کرسکتا ہے۔ اگرچہ یہود و نصاریٰ کی اکثریت ایسی تھی جو آپ پر ایمان نہیں لائے تھے تاہم ان میں کچھ انصاف پسند لوگ بھی موجود تھے جن میں سے کچھ ایمان لے آئے اور بعض نے بعض دوسری وجوہ کی بنا پر قبول نہیں کیا تھا پھر چونکہ اصولی لحاظ سے سب آسمانی کتابوں کی تعلیم ملتی جلتی ہے لہٰذا اہل کتاب میں سے بھی منصف لوگ یہ شہادت دے دیتے تھے کہ فی الواقع یہ آسمانی کتاب ہے۔ اور آپ کے اور صحابہ کے شک نہ کرنے کا عملی ثبوت یہ ہے کہ آپ نے یا صحابہ نے کبھی اہل کتاب سے یہ بات نہ پوچھی۔ یونس
95 یونس
96 [١٠٥] شک کے مرتکب :۔ شک اور تکذیب کے کئی مراحل ہیں سب سے پہلے شک پیدا ہوتا ہے اگر اس کا ازالہ نہ کیا جائے اور شک ترقی کرکے جدل کی صورت اختیار کرلیتا ہے یعنی ایسا شخص دلیل بازیوں پر اتر آتا ہے اور دوسروں سے جھگڑا شروع کردیتا ہے۔ پھر اس کے بعد تکذیب کا درجہ آتا ہے یعنی ایسا انسان یکسر اللہ کی آیات کا انکار کردیتا ہے پھر جب وہ اس تکذیب میں پختہ ہوجاتا ہے تو پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ کوئی حق بات قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس سے قبول حق کی استعداد ہی چھن جاتی ہے۔ مہر کب لگتی ہے؟ یہی وہ کیفیت ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر مہر لگنے سے تعبیر فرمایا ہے ایسے لوگوں کو اللہ کی کوئی بھی نشانی یا معجزہ راہ راست کی طرف لانے میں ممد ثابت نہیں ہوسکتا وہ بس اس وقت ہی ایمان لاتے ہیں جب کوئی جان لیوا عذاب دیکھ لیتے ہیں جیسے فرعون جب غرق ہونے لگا تھا تو اس وقت ایمان لایا تھا۔ یونس
97 یونس
98 [١٠٦] سیدنایونس علیہ السلام کا مرکز تبلیغ نینوا :۔ سیدنا یونس علیہ السلام کا ذکر یہاں پہلی دفعہ آیا ہے اور غالباً اسی وجہ سے اس سورۃ کا نام سورۃ یونس ہے البتہ آگے تین مقامات پر بھی اجمالی ذکر ہوگا یعنی سورۃ انبیاء کی آیات ٨٧۔ ٨٨ میں اور سورۃ الصافات کی آیات ١٣٩ تا ١٤٨ میں اور سورۃ قلم کی آیات ٤٨ تا ٥٠ میں، آپ تقریباً آٹھ سو سال قبل مسیح اہل نینوا کی طرف مبعوث ہوئے۔ نینوا اس زمانے میں دریائے دجلہ کے کنارے ایک بہت بڑا اور بارونق شہر تھا اور اس شہر کے کھنڈرات موجودہ شہر موصل (عراق) کے عین مقابل پائے جاتے ہیں یہی شہر اشوریوں (قوم یونس) کا دارالسلطنت تھا اور اس کے کھنڈرات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شہر تقریباً ساٹھ مربع میل میں پھیلا ہوا تھا۔ یونس علیہ السلام کا فرار اور عذاب کا ٹل جانا :۔ اشوری لوگ بھی بت پرست تھے سیدنا یونس نے سات سال تک انھیں تبلیغ کی اور اللہ کا پیغام پہنچایا مگر ان پر کچھ بھی اثر نہ ہوا اور اپنے نبی کی تکذیب اور مخالفت پر کمر بستہ رہے ایسے سرکش اور ہٹ دھرم لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ یہی ہے کہ ان پر عذاب نازل کرکے انھیں تباہ و برباد کردے اور ایسے عذاب سے انبیاء اپنی اپنی سرکش قوموں کو ڈراتے بھی رہے ہیں۔ سیدنا یونس علیہ السلام نے ان لوگوں سے مایوس ہو کر اور تنگ آکر انھیں ایک معینہ وقت پر (بعض روایات کے مطابق ٣ دن اور بعض روایات کے مطابق چالیس دن بعد) عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی حالانکہ معین وقت کی قید کے ساتھ عذاب کی دھمکی دینا اللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے۔ اس قوم نے پھر بھی کوئی پرواہ نہ کی اور جب عذاب آنے کے موعودہ وقت میں ایک آدھ دن باقی رہ گیا اور عذاب کے آثار نظر نہ آئے تو سیدنا یونس علیہ السلام اللہ کے اذن کے بغیر وہاں سے چل کھڑے ہوئے کہ مبادا عذاب نہ آئے اور ان لوگوں کی نظروں میں جھوٹے ثابت ہوں۔ آپ کا اس طرح بلا حکم الٰہی نکل کھڑے ہونا بھی اگرچہ اللہ کی رضا کے خلاف تھا تاہم آپ کو سچا کرنے کی خاطر معینہ وقت پر عذاب آگیا، سیاہ بادل چھا گئے اور تاریک دھواں اس قوم کے گھروں کی طرف بڑھنے لگا اس وقت لوگوں نے سیدنا یونس علیہ السلام کو تلاش کرنا شروع کیا اور جب وہ نہ ملے تو خود اپنے بال بچوں بلکہ حیوانوں سمیت ایک وسیع میدان میں اکٹھے ہوگئے اور اللہ کے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف اور آہ و زاری کرنے لگے اور اس گریہ و زاری میں اتنا مبالغہ کیا کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور ان پر واقع ہونے والے عذاب سے انھیں نجات دے دی۔ اللہ کی سنت جاریہ میں استثناء کی یہ واحد مثال ہے کہ اس قوم پر سے آنے والے عذاب کو روک دیا گیا۔ عذاب کے ٹلنے کی وجوہ :۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس قوم سے یہ امتیازی اور استثنائی سلوک کیوں ہوا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ امتیازی سلوک بھی اللہ کے ایک دوسرے قانون کے مطابق ہوا تھا جو یہ تھا کہ سیدنا یونس علیہ السلام امر الٰہی کے بغیر انھیں چھوڑ کرچلے گئے اور ابھی ان پر اتمام حجت کا وقت پورا نہیں ہوا تھا اور اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جس انداز سے ان لوگوں نے اللہ کے حضور آہ ورازی کی اور اپنے گناہوں سے توبہ کی اس طرح پہلے کسی قوم نے نہ کی تھی۔ واللہ اعلم بالصواب یونس
99 [١٠٧] یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تو انتہائی خواہش تھی کہ سب کے سب لوگ ہی ایمان لے آئیں اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا کر بھی سکتا تھا مگر یہ بات اللہ کی مشیئت کے خلاف ہے۔ اللہ کی مشیئت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں علی وجہ البصیرت اور اپنے اختیار و ارادہ کو پوری آزادی کے ساتھ استعمال کرکے لائیں لہٰذا آپ کی یہ ذمہ داری نہیں کہ کسی کو ایمان لانے پر مجبور کریں اور نہ ہی آپ کو ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے کچھ رنج کرنے یا پریشان ہونے کی ضرورت ہے۔ یونس
100 [١٠٨] اللہ کے اذن کا مفہوم :۔ یعنی اللہ کی توفیق اور منظوری کے بغیر کسی کو ایمان کی نعمت نصیب نہیں ہوتی اور یہ توفیق صرف اس شخص کو نصیب ہوتی ہے جو حق کی تلاش میں اپنی عقل سے کام لے اور اسے حق کی تلاش کی فکر دامن گیر ہو۔ اور وہ ہر طرح کے تعصبات اور خارجی نظریات سے ذہن کو پاک کرکے اللہ کی آیات میں خالی الذہن ہو کر غور و فکر کرے اور جو شخص اس انداز سے حق کا متلاشی ہو تو اللہ تعالیٰ یقیناً اسے حق کی راہ دکھا دیتا ہے اور ایمان لانے کی توفیق بھی بخشتا ہے اور اسی کا نام اللہ کا اذن ہے لیکن جو شخص آبائی تقلید، مذہبی تعصبات اور خارجی نظریات سے بالا تر ہو کر کچھ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہ کرے اسے اللہ، ایمان کی نعمت نصیب نہیں کرتا۔ اس کی قسمت میں جہالت، گمراہی، غلط کاری، غلط بینی اور کفر و شرک کی نجاستوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یونس
101 [١٠٩] ضد اور تعصب کی موجودگی میں اللہ کی کوئی نشانی فائدہ نہیں دیتی :۔ جو لوگ اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرتے ہیں ان کے لیے تو کائنات کی ایک ایک چیز میں اللہ کی معرفت کے دلائل مل سکتے ہیں حتیٰ کہ درختوں کے پتے، پھولوں کی مہک اور ان کے مختلف رنگ اور شکلیں بھی اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر بے شمار دلائل پیش کر رہی ہیں اور جو لوگ غور و فکر کے بجائے ہٹ دھرمی، ضد اور تعصب سے کام لیتے ہیں ان کے لیے حسی معجزے بھی بیکار ثابت ہوتے ہیں وہ انھیں بھی دیکھ کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو محض جادو کی کرشمہ سازیاں ہیں ان کے لیے نہ کوئی نصیحت کارگر ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت کا خوف انھیں ایمان لانے پر آمادہ کرسکتا ہے۔ یونس
102 [١١٠] ایسے لوگ اس وقت تک ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوتے جب تک کہ وہ عذاب کی شکل میں اپنی موت کو اپنے سامنے دیکھ نہ لیں۔ سابقہ اقوام کے انجام سے عبرت حاصل کرنا ان کے لیے خارج از بحث ہوتا ہے کیونکہ وہ ایسے انجام کی بھی مادی توجیہات تلاش کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو سمجھانا بھی بے سود ہی ثابت ہوتا ہے ایسے لوگوں کو یہی جواب مناسب ہوتا ہے کہ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی انتظار کرتا ہوں تاآنکہ اللہ تعالیٰ خود ہی ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کی کوئی ایسی صورت پیدا کر دے جس سے ہر ایک کو یہ معلوم ہوجائے کہ دونوں فریقوں میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ اور ایسا فیصلہ عموماً منکرین حق پر عذاب الٰہی کی صورت میں ہی ہوا کرتا ہے۔ یونس
103 [١١١] رسول پر ایمان لانے والوں کو عذاب سے بچانا اللہ کی ذمہ داری ہے :۔ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ جب کسی مجرم قوم پر اپنے رسول کی تکذیب کی وجہ سے عذاب نازل کرتا ہے تو وہ وحی کے ذریعہ اس عذاب کی آمد سے رسول کو مطلع کردیتا ہے اور اس عذاب سے بچاؤ کی صورت بھی سمجھا دیتا ہے۔ اس طرح رسول اور اس پر ایمان لانے والے تو اس عذاب سے بچ جاتے ہیں اور مجرمین اس عذاب سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اس آیت میں دراصل اہل مکہ کو انتباہ ہے جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی مخالفت میں، اسلام کی راہ روکنے اور مسلمانوں کو اذیتیں پہنچانے میں اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے تھے اور انھیں بتلانا یہ مقصود تھا کہ تمہارا بھی وہی حشر ہونے والا ہے جو سابقہ مجرموں کا ہوچکا ہے اور ان کمزور اور ستم رسیدہ مسلمانوں کو تمہاری چیرہ دستیوں سے بچانا اور انھیں تم پر غالب کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ یونس
104 [١١٢] موت سے متعلق تین حقائق :۔ موت کے متعلق چند ایسے اٹل حقائق ہیں جن کا کوئی بھی انسان انکار نہیں کرسکتا خواہ وہ مومن ہو یا مشرک ہو یا دہریہ اور نیچری ہو۔ ایک یہ کہ ہر ذی روح کو موت آکے رہے گی کوئی انسان موت کی گرفت سے آج تک نہ بچ سکا ہے اور نہ بچ سکتا ہے دوسری یہ کہ جب موت کا وقت آجائے تو اسے ٹالا نہیں جاسکتا۔ اور تیسری یہ کہ موت ہر ذی روح کے لیے ناگوار ہوتی ہے اور کوئی بھی مرنا پسند نہیں کرتا۔ الا یہ کہ مومنوں کو موت کے وقت آئندہ کے بہتر انجام کی خوشخبری دی جاتی ہے یا انھیں جنت میں ان کا مقام دکھلا دیا جاتا ہے جس کی بنا پر وہ موت کو برضاء و رغبت قبول کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں جیسا کہ سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور ان تینوں حیثیتوں کو مشرکین مکہ بھی تسلیم کرتے تھے بالخصوص اس حقیقت کو کہ موت کو ان کے معبود ٹال نہیں سکتے نیز یہ کہ موت اور زندگی کا رشتہ سرتا سر خالص اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ معبودان باطلہ کی اقسام اور ان کی بے بسی :۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ جن چیزوں کو معبود یا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان کی تین ہی قسمیں ہوسکتی ہیں ایک توہماتی ارواح جیسے جن، فرشتے مختلف سیاروں یا بزرگوں کی ارواح، ایسی چیزوں کو معبود یا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے کی بنیاد محض انتہائی توہمات ہیں۔ دوسرے بے جان معبود جیسے بت مجسمے اور شجر و حجر وغیرہ اور تیسرے پیر و مشائخ وغیرہ۔ ان میں سے بے جان تو محض توہماتی چیزیں ہیں رہے پیرو مشائخ جنہیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جاتا ہے۔ ان کے متعلق بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہوں نے اپنے آپ کو موت جیسی ناگوار چیز کی گرفت سے بچا لیا تھا یا اس کے وقت کو مؤخر کرنے میں وہ کامیاب ہوگئے تھے؟ اور اگر وہ اپنی بھی مصیبت دور نہیں کرسکے تو دوسروں کی کیسے دور کرسکتے ہیں؟ زندگی اور موت پر اللہ کے سوا کسی معبود کا اختیار نہیں چلتا :۔ اسی حوالہ سے مشرکوں کو انتباہ کیا جارہا ہے اور پیغمبر کی زبان سے یہ کہلوایا جارہا ہے کہ آپ انھیں کہیے کہ میں صرف اسی ہستی کی پرستش کرتا ہوں جس کے قبضہ قدرت میں تمہاری جانیں ہیں تمہاری جانوں پر تمہارے تمام معبودوں میں سے کسی کا بھی تصرف نہیں چلتا تو پھر میں آخر اسی اکیلے معبود کی کیوں نہ پرستش کروں جو میری اور تمہاری سب کی جانوں پر پورا پورا تصرف رکھتا ہے ہم سب کی زندگی اور موت کی باگ ڈور خالصتاً اسی کے ہاتھ میں ہے اور کان کھول کر سن لو کہ جن معبودوں کی تم پرستش کرتے ہو میں ایسے بے بس اور لاچار معبودوں کی کبھی پرستش کا خیال تک بھی دل میں نہیں لاسکتا۔ یونس
105 [١١٣] ہدایت کے حصول کے لئے تین ہدایات :۔ اس آیت اور اس سے اگلی دو آیات میں بھی خطاب بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے جبکہ یہ ارشادات عام لوگوں اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے ہیں اس لیے کہ نبی کی دعوت کا تو آغاز ہی شرک کی تردید سے ہوتا ہے اور اس کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی شرک سے مبرا ہوتی ہے اور قرآن کریم میں یہ انداز تاکید مزید کے لیے اختیار کیا گیا ہے اور ارشاد یہ ہو رہا ہے کہ دین اسلام کا جو راستہ اللہ تعالیٰ نے بتلایا اور دکھلایا ہے بالکل ناک کی سیدھ اسی پر چلتے جائیے دائیں بائیں یا آگے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ کی سیدھی راہ کے علاوہ ادھر ادھر جتنے راستے ہیں سب شیطانی راہیں ہیں۔ دوسری ہدایت یہ ہے کہ اس راہ پر ہر قسم کے قبائلی تعصبات جاہلانہ اور مشرکانہ رسم و رواج، مذہبی تعصبات اور خارجی یا سابقہ نظریات کو بالکل چھوڑ چھاڑ کر اور یکسو ہو کر چلنا ہوگا اور تیسری ہدایت یہ ہے کہ بالخصوص مشرکانہ عقائد اور رسم و رواج، ان کے عادات و خصائل اور کردار سب سے پاک صاف رہ کر اللہ کی راہ کو اختیار کرنا ہوگا۔ یونس
106 [١١٤] مشرک کی عام فہم تعریف، کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا :۔ انسان جب بھی کسی ہستی یا معبود کو پکارتا ہے تو اس سے اس کی اغراض دو ہی قسم کی ہوسکتی ہیں یا تو کسی ایسے کام کے لیے پکارے گا جس سے اسے کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہو جیسے اولاد یا رزق کی طلب یا کسی ایسے کام کے لیے پکارے گا جس سے اس کی کوئی مصیبت یا تکلیف دور ہوسکتی ہو۔ اصطلاح عام میں ان دونوں اغراض کو جلب منفعت اور دفع مضرت اور آسان تر الفاظ میں حاجت روائی اور مشکل کشائی کہا جاتا ہے اور ان دونوں طرح کے اغراض کے لیے اللہ کے سوا کسی کو پکارنا ہی اس کی عبادت ہوتی ہے اور اس مضمون پر کتاب و سنت میں بے شمار دلائل موجود ہیں۔ اور یہی بات سب سے بڑا شرک یا ظلم عظیم ہوتا ہے۔ یونس
107 [١١٥] عام فہم دلائل سے شرک کی تردید :۔ اس آیت میں حاجت روائی اور مشکل کشائی کی حقیقت یوں واضح کی گئی ہے کہ یہ دونوں باتیں خالصتاً اللہ تعالیٰ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہیں یعنی اگر کوئی تکلیف تمہارے مقدر میں لکھی ہوئی ہے تو کوئی جن یا فرشتہ یا نبی اور بزرگ ، پیر فقیر یا کوئی اور آستانہ مافوق الفطرت اسباب کے ذریعہ اس کو دور نہیں کرسکتا۔ ما فوق الفطرت اور فطری اسباب کے نتائج اللہ کے اختیار میں ہیں :۔ اسی طرح اللہ اگر کسی پر کوئی بھلائی کرنا چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت مافوق الفطرت اسباب سے اسے روک نہیں سکتی یہاں تک تو معبودان باطل کے تصرف کی تردید کا تعلق ہے اور فطری اسباب کے تحت بھی حاجت روائی اور مشکل کشائی بظاہر نظر آ تو رہی ہوتی ہے مگر اس کی تکمیل اسی صورت میں ہوتی ہے جب کہ اللہ کی طرف سے اذن بھی ہو اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک مریض ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے جو نہایت احتیاط کے ساتھ اس کا علاج کرتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی شفا اسی صورت میں ہوگی جب اللہ کو منظور ہوگا ورنہ نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر ایک کسان پوری احتیاط سے اچھی قسم کا بیج بوتا اور اپنی فصل کی پوری طرح آبیاری اور نگہداشت کرتا ہے مگر پکی ہوئی فصل کا اسے ملنا یا نہ مل سکنا یا تھوڑی ملنا یا زیادہ ملنا یہ سب کچھ اللہ کے اذن پر موقوف ہے توحید کو سمجھنے میں یہ عقیدہ اس قدر ہمہ گیر ہے کہ اس سے ہر قسم کے شرک کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ یونس
108 [١١٦] ہدایت کے تین اصول، ہدایت قبول کرنے کے فوائد :۔ گویا مندرجہ بالا تین آیات میں مجملاً ہدایت کا مفہوم بیان کردیا گیا ہے جو درج ذیل اصولوں پر مشتمل ہے ہر طرح کے شرک سے مکمل اجتناب، خالصتاً اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھنا اور اسے نفع و نقصان کا مالک سمجھنا اور منزل من اللہ شریعت پر ادھر ادھر دیکھے بغیر پوری یکسوئی کے ساتھ گامزن ہوجانا اور ایسی ہدایت اختیار کرنے والے کو دنیا میں تو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ کے لیے اسے مکمل رہنمائی حاصل ہوجاتی ہے اور اسے بیرونی نظریات اور فلسفوں کی ضرورت نہیں رہتی اور زندگی ذمہ دارانہ اور پرسکون طور پر گزرتی ہے اور آخرت میں یقیناً فلاح نصیب ہوگی اور جو شخص ایسی ہدایت کو اختیار نہیں کرتا وہ ساری زندگی ادھر ادھر لڑھکتا ہی رہتا ہے اسے دنیا تو اتنی مل ہی جاتی ہے جتنی اس کے نصیب میں ہوتی ہے مگر سکون نہیں مل سکتا اور آخرت میں اس کی تباہی و بربادی یقینی ہے اور اس تباہی کا ذمہ دار وہ خود ہوتا ہے۔ یونس
109 [١١٧] یہ سورۃ مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی تھی جبکہ مسلمانوں پر کفار کے شدائد و مظالم کی انتہا ہوچکی تھی اور بعض جرأت مند صحابہ کی خواہش کے باوجود ابھی تک مسلمانوں کو جہاد کرنے کی بھی اجازت نہیں ملی تھی لہٰذا اس سورۃ کے اختتام پر ایک دفعہ پھر آپ کو اور مسلمانوں کو ابھی سب کچھ صبر کے ساتھ برداشت کرنے اور وحی کی اتباع کرنے کی تلقین کی جارہی ہے اور ساتھ ہی انھیں اچھے دنوں کی آمد کی خوشخبری بھی دی جارہی ہے۔ یونس
0 ھود
1 [١] محکم آیات کا مفہوم :۔ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ٧ میں بیان کیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی بعض آیات محکم ہیں اور بعض دوسری متشابہ۔ لغوی لحاظ سے تو محکم ہر اس چیز کو کہا جاسکتا ہے جسے حکمت، دانائی اور تجربہ سے اس کو ساخت میں مضبوط بنادیا گیا ہو جیسے ارشاد باری ہے ﴿ثُمَّ یُحْکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ ﴾(۵۲:۲۲) اور جب محکم کے مقابلے میں متشابہ کا لفظ آئے تو محکم کا معنی ایسی آیات ہیں جن میں کوئی لفظی یا معنوی اشتباہ نہ ہو بالفاظ دیگر اس کے معنی بالکل واضح ہوں جن کی کوئی اور تاویل نہ ہوسکتی ہو یعنی قرآن کی آیات محکم ہیں اور ان کی حکمت اور تفصیل بعض دوسرے مقامات پر دوسری آیات میں بیان کردی گئی ہے مثلاً لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ایک ایسی حقیقت ہے جو تمام آسمانی شریعتوں میں مذکور ہے اور قرآن کریم میں بیسیوں بلکہ سینکڑوں مقامات پر مختلف اوقات میں اس کی تفصیلات نازل ہوتی رہی ہیں لیکن وہ سب اس حقیقت کو مزید مستحکم و مضبوط بناتی چلی جاتی ہیں اور ان میں کہیں بھی اختلاف یا تضاد واقع نہیں ہوتا جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن کریم سارے کا سارا ہی کسی حکیم اور خبیر ہستی سے نازل شدہ ہے۔ بعض مفسرین آیات کو محکم بنانے سے مراد یہ لیتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیات ایسی ہیں جن میں عقل سلیم اگر غور و فکر کرے تو کوئی خرابی اور نقص معلوم نہیں ہوتا اور وہ ہر معیار پر پوری اترتی ہیں وہ ماضی کے حالات سے متعلق ہوں یا آئندہ کے متعلق پیشین گوئیاں ہوں اور وہ احکام سے متعلق ہوں جو تہذیب اخلاق سے لے کر سیاست ملکی تک نیز عالم آخرت میں سعادت عظمیٰ تک پھیلے ہوئے ہوں اور زندگی کے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتے ہوں اور اثبات توحید کے دلائل ہوں اور ان میں سے جن احکام کی اس دنیا میں تجربہ کی کسوٹی پر جانچ کی جاسکتی ہے وہ سچ اور درست ہی ثابت ہوتے ہیں ایسے اخبار اور ایسے احکام بھی قرآن میں جابجا کہیں اجمالاً اور کہیں تفصیلاً مذکور ہوئے ہیں اور ایسی تمام آیات میں کسی نقص، خرابی یا اختلاف کا نہ ہونا ہی اس بات پر دلیل ہے کہ یہ کسی حکیم و خبیر ہستی کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ ھود
2 [٢] فساد فی الارض کا علاج صرف دعوت توحید ہے :۔ یہ آیت بھی لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ ہی کی تفصیل ہے کہ جب اللہ کے سوا کوئی الٰہ یعنی معبود برحق موجود نہیں تو عبادت بھی اسی کی کی جانی چاہئے یہی وہ حکم ہے جس سے تمام انبیاء نے اپنی دعوت کا آغاز کیا ہے اور یہ تو واضح ہے کہ تمام انبیاء کی بعثت ایسے اوقات میں ہوتی رہی جب تمام آباد دنیا ظلم و جور سے بھر جاتی تھی یہ ظلم و جور خواہ کفر و شرک جیسے گندے عقائد سے تعلق رکھتا ہو خواہ کردار و اعمال سے۔ بہرحال فساد فی الارض کی جتنی بھی قسمیں ہیں ان سب کا واحد اور بنیادی علاج یہی ہے کہ انھیں ایک اللہ کی خالصتاً عبادت کی دعوت دی جائے اور ان میں اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت پیدا کی جائے پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیں انھیں دنیا اور آخرت میں ان کے برے انجام سے ڈرایا جائے اور جو اسے قبول کرکے اس کے تقاضوں کے مطابق اعمال بجا لانے لگیں انھیں دنیوی و اخروی فلاح کی بشارت دی جائے۔ ھود
3 [٣] توبہ واستغفار کے فائدے :۔ اس آیت میں توبہ و استغفار کی کمال فضیلت بیان ہوئی ہے توبہ و استغفار سے اصل مطلوب تو اپنے گناہوں کی بخشش ہے اگر خلوص نیت سے توبہ کی جائے تو اللہ تعالیٰ یقیناً گناہ معاف فرما دینے والا ہے۔ مزید فائدہ یہ ہے کہ جب تک توبہ و استغفار کرنے والا زندہ رہے گا اللہ اسے متاع حسن سے نوازے گا۔ متاع حسن سے مراد پاکیزہ اور حلال رزق، اس رزق میں برکت اور قلبی اطمینان اور سکھ چین کی زندگی ہے اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا کہ اللہ اس قوم پر عذاب نازل نہیں کرتا جس میں توبہ و استغفار کرنے والے لوگ موجود ہوں (٨: ٣٣) نیز استغفار سے ایسے ہی مصائب اور بلائیں دور ہوتی ہیں جیسے صدقہ سے ہوتی ہیں جیسا کہ بہت سی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ متاع حسن اور متاع غرور :۔ متاع حسن کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے متاع الغرور کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ یعنی کافروں کو جو متاع زیست دیا جاتا ہے خواہ وہ مومنوں کے سامان زیست سے زیادہ ہی ہو اور بسا اوقات ہوتا بھی ایسے ہی ہے تو وہ سامان زیست انھیں دھوکہ اور فریب میں مبتلا کیے رکھتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ بہترین زندگی گزر رہی ہے اور اللہ ان پر مہربان ہے حالانکہ حلال و حرام کی تمیز کے بغیر وہی کمایا ہوا مال و دولت بسا اوقات اس دنیا میں بھی ان کے لیے وبال جان بن جاتا ہے اور آخرت میں تو یقینی طور پر بن جائے گا۔ [٤] یعنی اللہ تعالیٰ توبہ و استغفار کرنے اور نیک اعمال بجا لانے والوں کا بڑا قدر دان ہے کسی نے جتنے بھی نیک اعمال کیے ہوں گے اللہ تعالیٰ اسے اتنا ہی بلند درجہ عطا فرمائے گا واضح رہے کہ توبہ و استغفار کرتے رہنا بجائے خود بہت بڑا نیک عمل ہے۔ [٥] ہولناک دن کے عذاب سے ڈرنا تو ان لوگوں کو چاہیے جو دعوت حق سے منہ پھیرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ میں تم پر واقع ہونے والے عذاب سے ڈرتا ہوں تو یہ آپ کی اس کمال شفقت اور ہمدردی کی وجہ سے ہے جو آپ کو تمام لوگوں سے تھی۔ ھود
4 [٦] کسی مجرم کو سزا دینے کے لیے دو باتوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک یہ کہ مجرم حاضر ہو دوسرے سزا دینے والا اسے سزا دینے کی قدرت رکھتا ہو چنانچہ اللہ تعالیٰ ایسے دعوت حق سے اعراض کرنے والوں کو اپنے پاس حاضر کرنے کی بھی قدرت رکھتا ہے اور سزا دینے کی بھی، ایسے مجرموں کو اپنے انجام سے ضرور ڈرنا چاہیے۔ ھود
5 [٧] اس آیت کا مقصد تو اللہ تعالیٰ کے علم محیط کی وسعت کو بیان کرنا ہے کہ کھلی اور چھپی چیزیں تو کجا وہ تو دلوں کے ارادوں تک سے واقف ہے مگر اس آیت کے ابتدائی جملہ کی تفسیر میں مفسرین نے بہت اختلاف کیا ہے ان میں سے ہم صرف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بخاری میں مذکور روایت پر اعتماد کرتے ہیں جو درج ذیل ہے : محمد بن عبید بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ یہ آیت کس باب میں اتری ہے تو انہوں نے کہا : کچھ لوگ رفع حاجت کے وقت یا اپنی بیویوں سے صحبت کرتے وقت آسمان کی طرف ستر کھولنے سے (پروردگار سے) شرماتے اور شرم کے مارے جھکے جاتے تھے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری، کتاب التفسیر) یعنی اگر تمہیں بوقت ضرورت بدن کھولنے میں اللہ سے حیا آتی ہے اور اس طرح جھکے جاتے ہو تو کیا جس وقت کپڑے اتارتے اور پہنتے ہو اس وقت تمہارا ظاہر و باطن اللہ کے سامنے نہیں ہوتا ؟ اور جب انسان اللہ سے کسی وقت بھی چھپ نہیں سکتا تو پھر ضرورت بشریہ سے متعلق اس قدر غلو سے کام لینا درست نہیں۔ ھود
6 [٨] اللہ کی رزاقیت :۔ یعنی صرف انسانوں کا نہیں بلکہ زمین پر چلنے والے جانوروں حتیٰ کہ کیڑے مکوڑوں اور چیونٹیوں کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے اور یہ اللہ کی ذمہ داری ہے کہ ہر جاندار کو رزق اسے اس کے مقام پر پہنچائے۔ اس آیت سے جہاں اللہ کی کمال رزاقیت کا اندازہ ہوتا ہے وہاں اس کے وسعت علم کا بھی اندازہ ہوتا ہے اللہ کے رزق کی فراہمی کا ذریعہ یہ ہے کہ وہ آسمان سے بارش برساتا ہے جس سے زمین میں سے ہر طرح کی نباتات اگتی ہیں۔ پھر اسی نباتات، فصلوں اور پھلوں وغیرہ سے ہر جاندار کو بالواسطہ یا بلاواسطہ روزی مہیا ہوتی ہے اور ہر جاندار کی جملہ ضروریات زندگی اسی زمین سے مہیا ہو رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ جتنی بھی مخلوق پیدا فرماتا ہے تو اس کے مطابق زمین بھی اپنے نئے سے نئے خزانے اگلتی جارہی ہے اور آئندہ بھی اگلتی چلی جائے گی۔ لیکن اس رزق کے حصول کے لیے اس نے اسباب و وسائل اختیار کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے اور جب کوئی انسان یا جاندار اسباب اختیار کرنے سے عاجز ہو تو اللہ تعالیٰ خود ہی اسباب بھی مہیا فرما دیتا ہے۔ محکمہ خاندانی منصوبہ بندی کی ناکامی اور قحط کے اسباب :۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر رزق کی فراہمی اللہ کے ذمے ہے تو قحط سے یا بعض دوسری وجوہ سے انسان ہزاروں کی تعداد میں مر کیوں جاتے ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قحط تو اللہ کا عذاب ہے جو لوگوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے انسانوں پر مسلط کیا جاتا ہے اور دوسری وجوہ بعض انسانوں کی دوسروں پر ظلم و زیادتی اور معاشی وسائل کی ناہموار تقسیم کی بنا پر ایسے حادثات وجود میں آتے ہیں اور یہ سب کچھ انسانوں کے کسب اعمال کا ہی نتیجہ ہوتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جانداروں کے رزق میں کمی یا کوتاہی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ماہرین معاشیات کی کوتاہ بینی :۔ آج عالمی سطح پر یہ ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور وسائل رزق اس کا ساتھ نہیں دے رہے لہٰذا خاندانی منصوبہ بندی اور اولاد پر کنٹرول ضروری ہے اس سلسلہ میں آج کے ماہر معاشیات کی کوتاہ فہمی اور فطرت سے جنگ کے نتیجہ میں ان کی ناکامی کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ جہاں جہاں ایسے محکمے قائم کیے جارہے ہیں شرح پیدائش نسبتاً بڑھتی جارہی ہے اور عجیب اتفاق ہے کہ لوگ بھی پہلے سے زیادہ آسودہ اور خوشحال ہیں جس کا اندازہ ہر شخص اپنی پچاس سال پہلے کی زندگی سے کرسکتا ہے ان مادہ پرست ماہرین کے فکر کی اصل وجہ محض اللہ تعالیٰ کی رزاقیت پر عدم توکل ہے ورنہ اللہ تعالیٰ تو آبادی کی افزائش کے ساتھ ساتھ زمین کے خزانوں میں اضافہ فرما رہا ہے صدیوں سے بنجر پڑی ہوئی زمینیں آباد ہو رہی ہیں زمین سال میں دو کی بجائے چار چار فصلیں دینے لگی ہے کہیں تیل دریافت ہو رہا ہے کہیں جلانے کی گیسیں اور کہیں دوسری معدنیات نیز انسان حصول رزق کے نئے سے نئے وسائل بھی دریافت کر رہا ہے اور سب باتیں اس آیت کا جیتا جاگتا مصداق ہیں۔ مادہ پرست ماہرین معاشیات یہ تو اندازہ کرلیتے ہیں کہ اتنے سال بعد موجودہ شرح پیدائش کے مطابق دنیا کی آبادی اتنی ہوجائے گی لیکن اس دوران اللہ تعالیٰ جو نئے نئے وسائل رزق مہیا کرتا ہے اس کا وہ کچھ اندازہ نہیں کرسکتے لہٰذا ان کے اکثر اندازے غلط ثابت ہوتے ہیں اس مادہ پرستی اور محض مادی وسائل پر نظر رکھنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اللہ پر توکل اٹھ جاتا ہے جو اس آیت کا مقصود اصلی ہے۔ اللہ پر توکل کی فضیلت :۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرتے جیسا کرنے کا حق ہے تو تم کو بھی اسی طرح رزق دیا جاتا جس طرح پرندوں کو دیا جاتا ہے وہ صبح کو بھوکے جاتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں‘‘ (ترمذی، ابو اب الزہد۔ باب ماجاء فی قلۃ الطعام) [٩] قرآن کے الفاظ ہیں مستقر (قرار گاہ) اور مستودع (سونپے جانے کی جگہ) اور مستودع اس گودام کو بھی کہتے ہیں جہاں کوئی چیز ذخیرہ کی جاتی ہے یا امانتیں بطور حفاظت رکھی جاتی ہیں ان دونوں الفاظ کی تعبیر میں مفسرین کا خاصا اختلاف ہے ان میں سے ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کو اختیار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مستقر سے مراد وہ جگہ ہے جہاں کسی نے اس دنیا میں زندگی (کا اکثر حصہ) بسر کیا ہو اور مستودع سے مراد وہ جگہ ہے جہاں وہ دفن ہوا اور ہر جاندار کے ان دونوں مقامات کا اللہ کو پوری طرح علم ہے۔ [١٠] لوح محفوظ ہی کتاب مبین ہے :۔ کتاب مبین سے مراد لوح محفوظ ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ عمران بن حصین کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’: اللہ تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اس کا عرش پانی پر تھا پھر اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور لوح محفوظ میں ہر چیز لکھی‘‘ (بخاری، کتاب التوحید۔ باب قولہ وکان عرشہ علی الماء) ھود
7 [١١] مادی اشیاء میں پانی سب سے پہلے پیدا کیا گیا :۔ اس آیت سے اور مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی کی تخلیق زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے ہوچکی تھی یہ پانی کہاں تھا اور آیا یہ پانی وہی پانی ہے جو معروف ہے یا کوئی مائع قسم کا مادہ تھا ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں اور انھیں سمجھنے کے ہم مکلف بھی نہیں البتہ یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پہلے تو اللہ کا عرش پانی پر تھا اور تخلیق کے بعد یہ عرش سات آسمانوں اور کرسی کے بھی اوپر ہے۔ [١٢] تخلیق کائنات کا مقصد تخلیق آدم ہے، دنیا دارالامتحان ہے :۔ اس آیت سے کئی حقائق سامنے آتے ہیں مثلاً زمین و آسمان اور کائنات کی دوسری اشیاء کی تخلیق کا مقصد تخلیق آدم ہے اور یہ زمین یہ آسمان یہ سورج یہ چاند یہ ہوائیں یہ فضائیں اس لیے پیدا کی گئیں کہ ان کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا تھا اور تخلیق آدم کا مقصد یہ ہے کہ انسان کا اس دنیا میں امتحان لیا جائے اور امتحان کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ اچھے عمل کریں اور کامیاب ہوں اور کچھ برے عمل کریں اور ناکام ہوں، کامیاب اور اچھے لوگوں کو ان کے اچھے اعمال کا اچھا بدلہ دیا جائے اور بدکرداروں کو پوری پوری سزا دی جائے پھر بعض اچھے اعمال یا برے اعمال اپنے پورے پورے بدلہ کے لیے ایک طویل مدت کا تقاضا کرتے ہیں جو اس دنیا میں میسر آنا ناممکن ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس عالم دنیا کے بعد ایک اور عالم قائم کیا جائے جس میں ہر قسم کے انسانوں کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جاسکے یہ معاد پر ایک دلیل ہوئی علاوہ ازیں اس موجودہ کائنات کا مربوط اور منظم نظام اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ یہ کسی علیم و خبیر ہستی کا پیدا کردہ ہے اور اسی کی مرضی کے مطابق چل رہا ہے نہ ہی یہ ممکن ہے کہ یہ کائنات محض اتفاقات کا نتیجہ ہو اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ یہ سب کچھ ایک کھیل تماشا ہو کیونکہ کھیل تماشہ کے کاموں میں ایسی ہم آہنگی ناممکن ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ انسان اس دنیا میں بری بھلی جیسی بھی چاہے زندگی گزار کر مرجائے اور اس سے کوئی باز پرس کرنے والا ہی نہ ہو۔ لہٰذا عالم آخرت کا قیام اور مرنے والوں کو دوبارہ زندگی دے کر اٹھا کھڑا کرنا ضروری ہوا اور کافر جو یوم آخرت کے منکر ہیں جب وہ ایسے دلائل سنتے ہیں تو فوراً پکار اٹھتے ہیں کہ یہ بیان تو کھلا ہوا جادو ہے جس نے بہت سے لوگوں کو مرعوب اور مسحور کرلیا ہے مگر ہم پر یہ جادو کار گر نہ ہوگا۔ ھود
8 ھود
9 ھود
10 [١٣] انسان کی تنگ ظرفی اور ناشکری :۔ اس آیت اور اس سے پہلی آیت میں ایک دنیا دار اور خدا فراموش انسان کی کم حوصلگی اور تنگ ظرفی کا نقشہ پیش کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ اگر زندگی بھر اللہ کی نعمتیں میسر آتی رہیں پھر کسی وقت کوئی مصیبت آجائے تو اسی وقت مصیبت کا رونا رونے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے متعلق سخت سست الفاظ کہنے لگتا ہے اور یہ بھول ہی جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کتنی مدت آسودہ حال بھی رکھا تھا جس کا اس نے شکر بھی کبھی ادا نہیں کیا تھا اور اگر ہم اسے مصیبت سے نجات دے دیں تو پھر بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ اس وقت بھی اللہ سے غافل اور مغرور ہو کر شیخیاں بگھارنے لگتا ہے اور پھولے نہیں سماتا جیسے پھر اسے کوئی مصیبت آئے گی ہی نہیں۔ حالانکہ اسے چاہیے تھا کہ پچھلی حالت کو فراموش نہ کرتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا اور اس کے احسانات کے سامنے جھک جاتا۔ ھود
11 [١٤] اس مقام پر صبر کا لفظ مزاج کے استقلال کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی وہ لوگ جو نہ تو مصیبت کے وقت دل برداشتہ اور مایوس ہوں بلکہ اسے صبر و استقلال سے برداشت کریں اور نہ ہی کسی خوشی کے موقعہ پر آپے سے باہر ہوں بلکہ اپنے آپ کو قابو میں رکھیں اور ہر حال میں اللہ کا شکر بجا لائیں اور مصیبت یا خوشی کے مواقع پر ان کی طبیعت میں غیر سنجیدہ قسم کا اتار چڑھاؤ نمایاں نہ ہو بلکہ وہ ہر حال میں اپنے ذہنی توازن کو برقرار رکھتے ہیں نہ مال و دولت اور آسودگی ان کا مزاج خراب کرتی ہے اور نہ ہی تنگی ترشی کے دوران اپنی ہمت ہار بیٹھتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے اللہ قصور بھی معاف کرتا ہے اور ان کے نیک کاموں کے عوض انھیں بہت زیادہ اجر بھی عطا فرماتا ہے۔ ھود
12 [١٥] آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش مکہ کے معبودوں کو نہ کوئی گالی دیتے تھے اور نہ ہی انھیں برا بھلا کہتے تھے بلکہ صرف یہ کہتے تھے کہ تمہارے یہ معبود نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں اور اسی بات پر مشرکین چڑ جاتے تھے کیونکہ اس بات کو وہ اپنے معبودوں کی بھی توہین تصور کرتے تھے اپنی بھی اور اپنے آباؤ اجداد کی بھی۔ اس بات کا کوئی معقول جواب تو ان کے پاس تھا نہیں اس کے بجائے وہ یہ کرتے کہ کبھی اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑانے لگتے، کبھی تکذیب کرتے اور کبھی کچھ اعتراضات یا مطالبے شروع کردیتے ممکن ہے ان کی مسلسل اس قسم کی حرکات کے نتیجہ میں آپ کے دل میں یہ خیال آیا ہو کہ انھیں ایسی آیات سنانے کا کیا فائدہ ہے جبکہ وہ ایمان لانے کے بجائے الٹا چڑ جاتے ہیں اور پھبتیاں کسنے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ان باتوں سے آپ کو رنجیدہ خاطر اور تنگ دل نہ ہونا چاہیے جو وحی آپ پر نازل ہو رہی ہے آپ انھیں سنا دیا کریں۔ آپ کی اتنی ہی ذمہ داری ہے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ ان سے خود نمٹ لے گا۔ قریش کی معجزہ طلبیاں :۔ قریش مکہ کے اعتراضات یا مطالبات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اگر تم واقعی اللہ کے پیغمبر ہو تو تم پر اللہ کی طرف سے کوئی خزانہ بھی نازل ہونا چاہیے تھا جس سے تمہاری مالی حالت بہتر ہوجاتی اور اس مادی قوت کے بل بوتے پر ہی تم لوگوں کو اپنا ہم نوا بنا سکتے یا کوئی فرشتہ ہی تمہارے ساتھ موجود رہنا چاہیے تھا جس سے تمہیں روحانی طاقت بھی حاصل ہوجاتی اور لوگوں کو بھی تمہاری نبوت کا یقین ہوجاتا اور وہ تم پر ایمان لے آتے جب ان میں سے کوئی بھی چیز تمہیں میسر نہیں تو ہم تم پر کیسے ایمان لے آئیں؟ آپ کافروں کی ان باتوں سے دل گرفتہ نہ ہوں کیونکہ معجزے دکھلانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے آپ کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیں اور انھیں ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ رہی معجزے کی بات تو معجزے دکھلانا اللہ کا کام ہے جو ہر چیز کا مالک و مختار ہے۔ ھود
13 [١٦] قرآن جیسی سورت بنا لانے کا چیلنج :۔ قریش مکہ کا آپ کی نبوت سے انکار کے معاملہ میں ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے کہاں؟ یہ تو تمہارا اپنا تصنیف کردہ ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے انھیں چیلنج کیا کہ اگر تم اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو تو تم بھی اس جیسی دس سورتیں بنا کے دکھا دو۔ واضح رہے کہ یہاں تو کفار سے دس سورتیں بنا کر لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ سورۃ یونس کی آیت نمبر ٣٧، ٣٨ میں صرف ایک سورت بنا لانے کا مطالبہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سورۃ یونس، سورۃ ہود کے بعد نازل ہوئی تھی اسی طرح سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢٣ میں بھی صرف ایک ہی سورت بنا لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور یہ سورۃ ہود اور سورۃ یونس کے بعد نازل ہوئی۔ یہ دونوں سورتیں مکی ہیں جبکہ سورۃ بقرہ مدنی سورتوں میں سے پہلی سورت ہے اور قرآن جیسی سورت بنا لانے کے چیلنج اور قرآن کی امتیازی خصوصیات کی تفصیل کے لیے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢٣ پر حاشیہ نمبر ٢٧ ملاحظہ فرمائیے۔ ھود
14 [١٧] چیلنج کا جواب نہ دے سکنے کے نتائج :۔ قریش مکہ سب مل کر بھی اور اپنی مقدور بھر کوششوں کے بعد بھی جب اس چیلنج کے جواب میں کوئی اس جیسی سورت پیش نہ کرسکے تو اس سے درج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ ١۔ یہ قرآن کسی انسان کا (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کا تصنیف کردہ نہیں ہے کیونکہ اس میں ایسی باتیں ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ مثلاً پیشین گوئیاں اور حشر و نشر کے مفصل حالات، اگر یہ انسان کا تصنیف کردہ ہوتا تو تم لوگ اس کی مثل پیش کرنے سے عاجز کیسے رہ سکتے تھے؟ ٢۔ چونکہ تم سب مل کر بھی اس جیسی ایک سورت بھی پیش نہیں کرسکے تو معجزہ کا یہی معنی ہے پھر تم اور کون سا معجزہ طلب کرتے ہو؟ اور کیوں کرتے ہو؟ ٣۔ اگر یہ انسان کا کلام نہیں تو پھر یہ لامحالہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور یہ آپ کی نبوت کی بھی دلیل ہے اور وجود باری تعالیٰ کی بھی۔ ٤۔ سورۃ بقرہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے اپنے معبودوں کی امداد بھی حاصل کر دیکھو شاید وہ تم میں اتنی طاقت بھر دیں کہ تم ایسا کلام پیش کرسکو پھر جب اس آڑے وقت میں وہ تمہارے کسی کام نہیں آئے تو اور کس وقت آئیں گے اس طرح از خود ان معبودوں کا ابطال ہوگیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان آیات کے نزول کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کا وسیع علم ہے جس کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔ [١٨] یعنی ایسے واضح دلائل کے بعد بھی مسلمان ہونے اور اللہ کا فرمانبردار بننے میں تمہیں کسی اور چیز کا انتظار ہے؟ ھود
15 ھود
16 [١٩] دنیا میں نیک اعمال بجالانے والے کافروں کو اخروی عذاب کیوں ہوگا ؟ آیت نمبر ١٥ اور ١٦ کے مخاطب صرف کافر نہیں بلکہ اس میں مسلمان بھی شامل ہیں اور ان میں جو قانون بیان کیا گیا ہے وہ سب پر ایک جیسا لاگو ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو نیکی کا کام صرف دنیا کے حصول کے لیے کیا جائے گا اس کا پورا پورا ثمرہ اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں دے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کچھ اجر نہ ہوگا بلکہ اسے دوزخ کا عذاب بھی ہوگا یہاں ہم اس کی چند مثالیں پیش کریں گے مثلاً ایک کافر اپنے کاروبار میں جھوٹ، فریب اور دغا بازی سے پرہیز کرتا ہے اور دیانت داری سے کام لیتا ہے تو اس کا ثمرہ یہ ہے کہ اس کے کاروبار کو فروغ حاصل ہو تو وہ یقیناً حاصل ہوگا اور اگر یہی کام ایک مسلمان کرتا ہے اور جھوٹ، فریب اور دغابازی سے اس لئے پرہیز کرتا ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے تو اس کی تجارت کو بھی فروغ حاصل ہوگا آخرت میں اللہ کی فرمانبرداری کا اجر بھی ملے گا اس کی مثال یہ ہے کہ ایک صحابی نے اپنا گھر بناتے وقت مسجد کی طرف کھڑکی رکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پوچھا کہ یہ کھڑکی یہاں کس خیال سے رکھی ہے؟ اس نے عرض کیا اس لیے کہ ہوا کی آمدورفت رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم یہ نیت کرلیتے کہ ادھر سے اذان کی آواز آئے گی تو تمہیں اس کا ثواب بھی مل جاتا اور ہوا کی آمد و رفت تو بہرحال ہونا ہی تھی۔ اس کی دوسری مثال مسلم کی وہ حدیث ہے جو ریا کاری کے باب سے متعلق ہے کہ قیامت کے دن ایک ریا کار اور دنیا دار عالم کو اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا اللہ تعالیٰ اس پر اپنا احسان جتلاتے ہوئے پوچھے گا کہ تم نے دنیا میں کیا نیک عمل کیا ؟ وہ کہے گا میں نے تیری خاطرخود دین کا علم سیکھا اور لوگوں کو سکھلاتا رہا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جھوٹ کہتے ہو تم نے یہ کام اس لیے کیا تھا کہ تمہیں بڑا عالم کہا جائے وہ دنیا میں تمہیں کہا جاچکا اور تم اپنے کام کا پورا بدلہ لے چکے اب میرے پاس تمہارے لیے کوئی اجر نہیں پھر فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے۔ اسی طرح ریا کار سخی اور مجاہد سے بھی یہی سوال و جواب اور یہی سلوک ہوگا۔ ( مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ مَنْ قَاتَلَ للرَّ یَاءِ وَالسُّمْعَۃِ اِسْتَحَقَّ النَّارَ) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک کافر اس دنیا میں پاکیزہ زندگی گزارتا ہے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اپنا کاروبار دیانت داری سے کرتا ہے اسلام دشمن سرگرمیوں میں بھی حصہ نہیں لیتا تو یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ اسے دنیا میں اس کے نیک کاموں کا ثمرہ مل جائے اور آخرت میں کچھ نہ ملے مگر دوزخ کا عذاب کس جرم کی پاداش میں ہوگا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس سزا کے لیے بنیادی جرم ہی دوسرا ہے اور وہ ہے اللہ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہ لانا ایسے شخص کو نہ کسی کام میں اللہ کی رضا مطلوب ہوتی ہے نہ ہی وہ اللہ کے احسانات کا شکریہ ادا کرتا ہے نہ حدود اللہ کا خیال رکھ سکتا ہے بلکہ ایک ایمان لانے والے اور نہ لانے والے دونوں کی زندگی کی راہیں ہی جداجدا ہوجاتی ہیں آگ کا عذاب اسے ان دوسرے جرائم کی پاداش میں ہوگا۔ کفار مکہ ایک یہ حجت بھی پیش کیا کرتے تھے کہ ہم مسافروں کو کھانا کھلاتے ہیں یتیموں کی پرورش کرتے ہیں، بھوکوں کی خبرگیری کرتے ہیں راستوں پر کنوئیں کھدواتے ہیں سایہ دار درخت لگاتے ہیں اور بھی بہت سے نیک کام کرتے ہیں جن کا مقبول ہونا بھی ثابت ہے کہ ایسے ہی کاموں کی وجہ سے ہم دنیا میں پھلتے پھولتے ہیں اولاد اور مال میں برکت اور امن اور تندرستی نصیب ہوتی ہے تو ہمیں یہی بات کافی ہے اس کے بعد قرآن کے اتباع کی ضرورت بھی کیا رہ جاتی ہے؟ اس آیت میں اللہ نے کافروں کی اسی حجت کا جواب دیا ہے ان نیک کاموں کا ہم فی الواقع انھیں دنیا میں اچھا بدلہ دے دیتے ہیں۔ رہا آخرت کا معاملہ تو نہ آخرت پر ان کا اعتقاد ہے اور نہ ہی آخرت میں بدلہ لینے کی غرض سے یہ کام کرتے ہیں۔ لہٰذا انھیں ان کاموں کا آخرت میں کچھ بدلہ نہیں ملے گا اور عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔ ھود
17 [٢٠] دونوں شہادتوں کے بعد بھی ایمان نہ لانے والے :۔ یہاں واضح دلیل سے مراد داعیہ فطرت یا عہد الست ہے جو ہر انسان کے تحت الشعور میں موجود ہے (تفصیل کے لیے دیکھیے الاعراف کی آیت نمبر ١٧٢، ١٧٣) اب اگر اس آیت میں شخص سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات لی جائے تو شاہد سے مراد جبرئیل علیہ السلام ہیں اور اگر شخص سے مراد عام آدمی لیا جائے تو شاہد سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یعنی یہ داعیہ فطرت ہر انسان کے تحت الشعور میں پہلے سے ہی موجود ہے کہ اس کائنات کا اور خود ہمارا بھی خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہوسکتا پھر اس داعیہ کی تائید میں خارج سے دو قوی شاہد بھی مل جائیں جن میں سے ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن ہے اور دوسرے تورات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدتوں پہلے نازل ہوئی تھی تو کیا ایسے شخص کے ایمان لانے میں کوئی چیز آڑے آسکتی ہے اسے فوراً اس داعیہ فطرت پر لبیک کہتے ہوئے ایمان لے آنا چاہیے اور جو پھر بھی ایمان نہیں لاتا اس کا علاج دوزخ کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے خواہ وہ شخص کسی بھی مذہب اور فرقہ سے تعلق رکھتا ہو؟ [١ ٢] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ خطاب صرف بطور تاکید مزید ہے اصل میں اس کے مخاطب عام لوگ ہیں جیسا کہ اس کی تفصیل پہلے بیان کی جاچکی ہے۔ ھود
18 [٢ ٢] اللہ پر جھوٹ لگانے کی مختلف صورتیں :۔ افتراء کے معنی یہ ہے کہ کوئی بات خود ایجاد کرکے اللہ کے ذمہ لگا دی جائے یا اسے شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کی جائے اور یہ کام گناہ کبیرہ ہے پھر افتراء کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ مثلاً کسی حلال چیز کو حرام یا حرام کو حلال قرار دینا اور شریعت کا حکم ثابت کرنا یا اللہ کے سوا کسی دوسرے بزرگ، نبی یا پیر فقیر کو یا آستانے کو اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھنا یا یہ سمجھنا کہ اگر قیامت کو ہم سے مواخذہ ہوا تو ہمارے پیروں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ ہمیں چھڑا لیں گے یا منزل من اللہ کلام کو منزل من اللہ نہ سمجھنا اور یہ سب باتیں شرک یا اس سے ملتی جلتی ہیں ایسے لوگوں سے قیامت کے دن کسی قسم کی رو رعایت نہیں ہوگی۔ علی رؤس الاشہادان کے جرم کو ثابت کرکے قرار واقعی سزا دی جائے گی جبکہ دوسرے مومن گنہگاروں سے اس قسم کی سختی نہ ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے نرمی کا سلوک اختیار کریں گے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سستی نجات کا عقیدہ رکھنے والے دراصل آخرت کے منکرہیں :۔ ایک دفعہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما طواف کر رہے تھے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا : ابن عمر ! سرگوشی کے متعلق آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ (جو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مومنوں سے کرے گا) انہوں نے کہا : میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : مومن اپنے پروردگار کے قریب لایا جائے گا یہاں تک کہ پروردگار اپنی ایک جانب کرلے گا پھر اس کے سارے گناہ اسے بتلائے گا اور فرمائے گا ’’فلاں گناہ تجھے معلوم ہے؟‘‘ مومن کہے گا ’’پروردگار! مجھے معلوم ہے‘‘ دوبارہ یہی سوال و جواب ہوگا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’دنیا میں میں نے تیرا گناہ چھپائے رکھا اور آج تجھے معاف کرتا ہوں‘‘ پھر اس کی نیکیوں کا دفتر لپیٹ دیا جائے گا (اس کو دے دیا جائے گا) رہے دوسرے لوگ یا کافر لوگ۔ تو شہادتیں مکمل ہوجانے کی بنا پر ان کے متعلق اعلان کیا جائے گا کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) [٢ ٢۔ الف] اشہاد۔ شاہد کی جمع بھی آتی ہے جیسے صاحب کی جمع اصحاب آتی ہے اور شہید کی بھی جیسے شریف کی جمع اشراف آتی ہے اور یہ گواہ فرشتے اور کراماً کاتبین بھی ہوسکتے ہیں۔ انبیاء بھی، عامۃ الناس بھی اور جب اپنا جرم تسلیم نہ کرنے پر اصرار کریں گے تو اس کے اعضاء و جوارح بھی اس کے خلاف گواہی دیں گے اور شہادتوں کی بنا پر ہی اس پر فرد جرم عائد کی جائے گی کہ فی الواقع ان لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔ ھود
19 [٣ ٢] یعنی اللہ پر افتراء کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی لعنت ہے ان لوگوں کے ایسے ایجاد کیے ہوئے جھوٹ ہی لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے اور اس میں کجروی اختیار کرنے کا سبب بن جاتے ہیں اور جن لوگوں نے اپنی اخروی نجات کے لیے ایسے ایجاد کردہ سہارے اللہ کے ذمے لگا رکھے ہیں۔ یہ لوگ حقیقتاً آخرت کے منکر ہی ہوتے ہیں کیونکہ آخرت میں اعمال کی باز پرس کا جو تصور شریعت نے پیش کیا ہے یہ لوگ اسے قطعاً ملحوظ نہیں رکھتے۔ ھود
20 [٤ ٢] اللہ کے ذمہ جھوٹ لگانے پر سخت ترین عذاب کیوں ہوگا :۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو دنیا میں ہی ان کو سزا دے کر تباہ و برباد کرسکتا تھا اور یہ لوگ اللہ کی گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے تھے اور آج قیامت کے دن بھی ان کا کوئی حامی و ناصر نہیں ہوگا اور انھیں دگنا عذاب اس لیے دیا جائے گا کہ ایک تو خود گمراہ ہوئے دوسرے یہی گمراہی کی میراث اپنی اولاد کے لیے اور دوسرے پیروکاروں کے لیے چھوڑ گئے۔ جن کے عذاب سے حصہ رسدی ان کے کھاتے میں بھی جمع ہوتا رہا۔ [٥ ٢] دگنے عذاب کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ایک تو خود وہ سیدھی راہ دیکھنے کی کوشش ہی نہ کرتے تھے اور دوسرے اس لیے کہ اگر انھیں کوئی سیدھی راہ بتلانے کی کوشش کرتا تو اس کی بات سننا بھی انھیں گوارا نہ تھی بلکہ اس کے درپے آزار ہوجاتے تھے۔ ھود
21 [٦ ٢] یہاں افتراء پردازیوں سے مراد وہی سستی نجات کے عقیدے ہیں کہ مثلاً اگر ہم فلاں بزرگ کی بیعت میں منسلک ہوجائیں گے تو وہ ہمیں اللہ کی گرفت اور باز پرس سے بچا لیں گے اور ایسی بہت سی حکایات آج بھی اولیاء کے تذکروں میں موجود ہیں۔ جب اس قسم کے لوگ قیامت کی ہولناکیوں اور اللہ تعالیٰ کے دربار عدالت اور شہادتوں کی بنا پر تحقیق جرائم کا نقشہ دیکھیں گے تو ایسے سب عقائد از خود ان کے ذہن سے محو ہوجائیں گے۔ ھود
22 [٧ ٢] ایک شخص اللہ کے کسی حکم کی تعمیل ہی نہیں کرتا اسے اس کی سزا ملے گی اور ایک دوسرا شخص تعمیل تو کرتا ہے مگر غلط طریقے سے کرتا ہے اور کسی دوسرے کو بھی اس میں شریک بنا لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس غلط تعمیل کرنے والے کو زیادہ نقصان ہوگا ایک تو اس نے تعمیل کی مشقت اٹھائی دوسرے اسے سزا بھی زیادہ ملے تو اس سے بڑھ کر زیادہ نقصان اٹھانے والا کون ہوسکتا ہے؟ ھود
23 [٨ ٢] یہ درمیان میں ایمان والوں اور ان کی جزا کے متعلق جو آیت آئی ہے تو یہ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہے کہ جہاں کفار اور ان کے انجام کا ذکر آتا ہے تو ساتھ ہی اہل ایمان اور ان کی جزا کا بھی ذکر آتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔ ھود
24 [٩ ٢] بینا اور نابینا کون لوگ ہیں؟ کافر اور مومن کی زندگی کا تقابل :۔ یہ دو فریق کافر اور مومن ہیں۔ کافر اندھا بھی ہوتا ہے اور بہرا بھی۔ اسے کائنات میں ہر طرف اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے کچھ بھی نظر نہیں آتا اور اگر کوئی اسے بتلانا چاہے تو سن بھی نہیں سکتا کیونکہ وہ بہرا ہے۔ اب دیکھیے ایک اندھا کسی راہ پر چل رہا ہو تو اس کے گمراہ ہونے یا کسی کھڈ میں جا گرنے سے بچنے کا کوئی امکان ہوتا ہے بالخصوص اس صورت میں اگر کوئی اسے راستہ بتلائے بھی تو وہ اس کی بات سن بھی نہ سکے اس کے مقابلہ میں ایک شخص خود ہی راستہ دیکھ رہا ہے اور وحی الٰہی کی روشنی میں اپنی منزل طے کر رہا ہے اور وہ منزل اس کے سامنے ہے اور اگر اسے کہیں اشتباہ پیدا ہوجائے تو راستہ بتلانے والے بھی موجود ہیں جن کی آواز وہ سن بھی سکتا ہے اور سننا چاہتا بھی ہے تو ظاہر ہے کہ ایسے شخص کے راہ گم کردینے یا کسی حادثہ کا شکار ہونے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں اور اس کا اپنی منزل پر بسلامت پہنچ جانا یقینی ہوتا ہے یہی وہ نمایاں فرق ہے جو ایک کافر اور مومن کی زندگی کے سفر میں ہوتا ہے۔ ھود
25 [٣٠] سیدنا نوح علیہ السلام کا قصہ پہلے سورۃ اعراف کے رکوع نمبر ٨ میں بھی گذر چکا ہے لہٰذا وہ حواشی بھی مدنظر رکھے جائیں۔ [٣١] یعنی تمہیں صاف صاف بتارہا ہوں کہ کن باتوں اور کاموں کے ارتکاب سے تم پر عذاب آنے کا اندیشہ ہے اور اس عذاب سے بچنے کے ذرائع کیا ہیں؟ ھود
26 [٣٢] قوم نوح علیہ السلام اپنے پانچ فوت شدہ بزرگوں کے مجسموں کی پجاری تھی یعنی ود، سواع، یغوث، یعوق، اور نسر کے مجسموں کو پوجتے تھے۔ اس کی تفصیل پہلے سورۃ اعراف میں گذر چکی ہے۔ اور سورۃ نوح میں بھی یہ ذکر آئے گا۔ [٣٣] المناک دن سے مراد قیامت کا دن بھی ہے اور وہ دن بھی جب طوفان نوح آیا تھا۔ ھود
27 [٣٤] یہ وہی اعتراض ہے جو کہ منکرین حق کی طرف سے تمام انبیاء پر ہوتا رہا ہے جن کے خیال میں نبی کو یا تو مافوق البشر مخلوق ہونا چاہیے یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہر وقت رہنا چاہیے یا کم از کم دنیوی وجاہت کے لحاظ سے یعنی مال و دولت اور شان و شوکت کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔ جب تک ان کے نظریہ کے مطابق نبی کو ان چیزوں میں سے کوئی امتیازی چیز حاصل نہ ہو وہ نبی نہیں ہوسکتا۔ [٣٥] کسی نبی کے ابتدائی پیر وکاروں کے خصائل :۔ منکرین حق کا دوسرا بڑا اعتراض یہی ہوتا ہے کہ کیونکہ نبی پر سب سے پہلے ایمان لانے والے لوگ وہ ہوتے ہیں جو معاشرہ اور قوم کے چودھریوں کے ہاتھوں ستم رسیدہ ہوں، غریب ہوں، نوجوان اور باہمت ہوں اور جو ایسے ظالمانہ معاشرہ کے سامنے ڈٹ جانے کی کچھ جرأت بھی رکھتے ہوں ایسے ہی لوگ ہر نبی کا ابتدائی سرمایہ ہوتے ہیں اور یہی لوگ قوم کے چودھریوں کی نظروں میں کھٹکتا خار بن جاتے ہیں حتیٰ کہ چودھری لوگ ان کی موجودگی میں نبی کے پاس بیٹھنا اور کوئی بات سننا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ان چودھریوں کے نظریات چونکہ خالصتاً مادہ پرستانہ ہوتے ہیں لہٰذا نبی کی دعوت کو رد کرنے کا انھیں یہ بہانہ بھی ہاتھ لگ جاتا ہے کہ اس نبی کے ہم نشین تو رذیل قسم کے لوگ ہیں لہٰذا ہم اسے سچا کیسے سمجھ سکتے ہیں کچھ شریف لوگ اس کے پیروکار ہوتے تو ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھتے اور اس نبی کی بات سنتے۔ ھود
28 [٣٦] نبی اور عام کافروں کی زندگی کا فرق :۔ نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ امتیازی باتیں تو مجھ میں موجود ہیں یہ الگ بات ہے کہ تمہارے امتیاز کا معیار اور ہے اور میرے نزدیک دوسرا ہے۔ میں نے ایک اللہ کے سوا کسی کی پوجا نہیں کی ہمیشہ حق بات کہتا ہوں اور حق کی ہی دعوت دیتا ہوں ہر ایک شخص کا ہمدرد ہوں کسی کو دکھ نہیں پہنچاتا نہ دغا فریب کرتا ہوں۔ مزید یہ کہ اللہ نے مجھے نبوت عطا کرکے اپنی رحمت سے نوازا بھی ہے گویا میری اور تمہاری زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے پھر بھی اگر تمہیں کوئی امتیازی فرق نظر نہیں آتا تو میں زبردستی تمہیں کیسے قائل کرسکتا ہوں؟ ھود
29 [٣٧] نبوت اور رسالت پر اجر؟ میں نہ تمہارا تنخواہ دار ہوں نہ تم سے کسی معاوضہ کا مطالبہ کرتا ہوں پھر تم مجھ سے یہ مطالبہ کیسے کرسکتے ہوں کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں انھیں میں اپنے ہاں سے رخصت کردوں تم یہ کیسی جہالت کی باتیں کرتے ہو۔ میں انھیں اس لحاظ سے تم سے بدرجہا بہتر سمجھتا ہوں کہ انہوں نے حق کو حق سمجھ کر قبول کرلیا ہے یہ لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں تمہاری طرح سرکش اور ہٹ دھرم نہیں اللہ کے ہاں تو معزز وہ ہے جو ایمان دار اور پرہیزگار ہو ذات کا اونچا یا نیچا ہونا چنداں فائدہ نہیں دیتا اور اگر بالفرض میں تمہارے کہنے پر انھیں اپنے ہاں سے نکال دوں تو میں تو خود اللہ کے ہاں مجرم ٹھہرتا ہوں پھر اللہ کے مقابلہ میں کوئی ہے جو اس وقت میری مدد کرسکے؟ ھود
30 ھود
31 [٣٨] جاہلانہ معیار صداقت کی تردید :۔ جاہل قسم کے منکرین حق کے نزدیک کسی نبی کی صداقت کے معیار عجیب قسم کے ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ اس سے خرق عادت واقعات یعنی معجزات کا اکثر صدور ہوتا ہو وہ مٹی پر نظر التفات کرے تو وہ سونا بن جائے وہ یہ بھی بتا سکے کہ فلاں چوری فلاں چور نے فلاں وقت کی تھی اسے طالب دنیا بھی نہ ہونا چاہیے کہ وہ عام لوگوں کی طرح کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا ہو اور نکاح وغیرہ بھی کرے بلکہ اسے دنیا سے دلچسپی نہ ہونا چاہیے۔ اس آیت میں اسی جاہلانہ معیار صداقت کی تردید کی گئی ہے۔ نوح علیہ السلام کی زبان سے کفار کے ایسے مطالبات کا دو ٹوک فیصلہ سنا دیا گیا ہے کہ میرا ایسی باتوں کا ہرگز کچھ دعویٰ نہیں ہے میرے پاس اللہ کے خزانے نہیں کہ میں مٹی یا پتھر پر نظر کرم ڈالوں تو وہ سونا بن جائے میں غیب بھی نہیں جانتا کہ میں تمہیں بتلا سکوں کہ اس وقت تمہارے دل میں کیا خیال آرہا ہے یا فلاں چوری فلاں شخص نے فلاں وقت کی تھی اور اس طریقہ سے کی تھی اور اب چوری کا مال فلاں جگہ پر چھپایا ہوا ہے میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ میں فرشتہ ہوں کہ مجھے کھانے پینے کی احتیاج نہ ہو یا دوسرے بشری حوائج سے مبرا ہوں۔ نیز جن لوگوں کو تم حقیر سمجھ رہے ہو میں ان کے مستقبل کے متعلق بھی کچھ نہیں جانتا البتہ جس راہ پر یہ گامزن ہیں اس بات کی توقع ضرور رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انھیں علم و حکمت اور دوسری بھلائیوں سے نوازے گا مگر یہ بات میں دعویٰ کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ میں غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ واضح رہے کہ کچھ اسی قسم کے معیار ہم نے بھی بزرگان دین سے متعلق وابستہ کر رکھے ہیں حالانکہ جو لوگ دعویٰ کے ساتھ انھیں دکھلاتے ہیں وہ شعبدہ باز تو ہوسکتے ہیں اللہ کے ولی نہیں ہوسکتے۔ ھود
32 [٣٩] نوح علیہ السلام کا زمانۂ تبلیغ ساڑھے نو سو سال ہے انہوں نے اپنی قوم کو مختلف طریقوں سے سمجھانے کی کوشش کی اور اس کوشش میں رات دن ایک کردیا بالآخر ان لوگوں نے سیدنا نوح علیہ السلام کو وہی جواب دیا جو عموماً دلائل سے عاجز لوگ دیا کرتے ہیں یعنی اگر تم سچے ہو تو جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے تاکہ یہ روز روز کی تکرار ہی ختم ہوجائے۔ ھود
33 [٤٠] نوح علیہ السلام نے اس کا جواب بھی صاف صاف دے دیا کہ عذاب کا لانا یا نہ لانا میرے قبضہ اختیار میں نہیں۔ یہ عذاب تو اللہ کی مشیئت کے مطابق اپنے وقت پر ہی آئے گا ہاں میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اگر تم اسی طرح اپنی سرکشی پر ڈٹے رہے تو عذاب آئے گا ضرور اور جب عذاب آگیا تو پھر تم بچ نہ سکو گے اور یہ سب باتیں بھول جاؤ گے۔ ھود
34 [٤١] البتہ تمہارے عذاب پر اصرار اور ہٹ دھرمی سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ تم پر وہ عذاب آکر رہے گا اور میں تمہاری کتنی ہی خیر خواہی کرنا چاہوں اس کا کچھ فائدہ ہوتا نظر نہیں آرہا۔ پھر یہ معاملہ یہیں تک محدود نہ رہے گا کہ اللہ کا عذاب تمہیں ہلاک کردے بلکہ آخرت میں بھی اللہ تم سب کو حاضر کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دے گا۔ ھود
35 [٤٢] کفار مکہ اور قوم نوح میں مماثلت :۔ سابقہ آیات میں نوح علیہ السلام کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں اور جو کچھ ان کی قوم ان کو جواب دیتی اور ان سے تکرار کرتی رہی وہ بعینہ ویسے ہی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں قریش مکہ کی طرف سے پیش آرہے تھے لہٰذا قریش مکہ کو یہ شبہ لاحق ہوا کہ یہ تو ہمارے ہی حالات اور سوال و جواب ہیں جو نوح علیہ السلام کا نام لے کر ہمارے سامنے پیش کیے جارہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک الزام یہ بھی لگا دیا کہ یہ باتیں تو یہ خود ہی بنا کر ہمارے سامنے بیان کر رہا ہے اور ’’گفتہ آید در حدیث دیگراں‘‘ کے مصداق ہم پر ہی یہ چوٹ کی جارہی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ قریش مکہ سیدنا نوح علیہ السلام کے واقعات سے عبرت حاصل کرتے مگر اس کے بجائے ان کا ذہن برے پہلو کی طرف گیا اور اپنی اصلاح کرنے کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک اور الزام لگا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ آپ ان سے کہیے کہ اگر تمہارے کہنے کے مطابق یہ واقعہ میں نے گھڑا ہے تو پھر میں ہی اس جرم کا ذمہ دار ہوں لیکن جو جرائم تم کر رہے ہو ان کی بھی کچھ فکر ہے؟ وہ تو تمہیں ہی بھگتنا ہوں گے نہ کہ مجھے۔ ھود
36 [٤٣] عذاب صرف گندے عنصر پر آتا ہے :۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کی دعوت اور قوم کے انکار کے نتیجہ میں عذاب اس وقت تک نہیں آتا جب تک اس میں کچھ بھلے آدمیوں کے نکل آنے کا امکان باقی ہو اور جب ایمان لانے والے ایمان لاچکتے ہیں اور باقی صرف گندہ عنصر ہی رہ جاتا ہے تو یہی عین عذاب کا وقت ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کو سورۃ نوح میں سیدنا نوح علیہ السلام نے خود بھی دعا کرتے وقت کہا تھا کہ ’’یا اللہ اب اس قوم کو غارت کردے کیونکہ اب ان لوگوں میں کسی کے ایمان لانے کی توقع نہیں رہی بلکہ جو اولاد یہ جنیں گے وہ بھی فاسق و فاجر ہی پیدا ہوگی لہٰذا ان میں سے ایک گھرانہ بھی زندہ نہ چھوڑ‘‘ (٧١: ٢٦، ٢٧) ھود
37 [٤٤] جب یہ صورت حال پیدا ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ اب ہماری ہدایات کے مطابق ایک بہت بڑی کشتی بنانا شروع کردو اور دیکھو جو لوگ اب تک ایمان نہیں لائے ان سب کو میں غرق کرنے والا ہوں لہٰذا ان میں سے کسی پر تمہیں ترس نہ آجائے کہ تم اس کی نجات کے لیے مجھ سے درخواست کرنے لگو۔ تورات کی تصریح کے مطابق اس کشتی کی لمبائی تین سو ہاتھ، چوڑائی پچاس ہاتھ اور اونچائی تیس ہاتھ تھی اور اس کے تین درجے یا منزلیں تھیں اور اس میں روشندان اور دروازے اور کھڑکیاں اور کوٹھڑیاں تھیں اور اندر اور باہر رال لگادی گئی تھی گویا یہ موجودہ دور کے لحاظ سے بھی ایک درمیانہ درجہ کا بحری جہاز تھا جسے بنی نوع انسان کی تاریخ میں سیدنا نوح علیہ السلام نے غالباً پہلی بار بنایا تھا اور اس کے بنانے کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے خود بذریعہ وحی سکھلایا تھا۔ ھود
38 [٤٥] کشتی بنانے پر قوم کا مذاق اڑانا :۔ وہ مذاق یہ کرتے تھے کہ جہاز جتنی بڑی کشتی جو تم بنا رہے ہو اسے کیا خشکی پر چلاؤ گے؟ یہاں نہ تو نزدیک کوئی دریا ہے جس میں اسے چلا سکو۔ بارشوں کو ہم ترس رہے ہیں خشک سالی بھی ہے اور کسی دریا وغیرہ میں سیلاب کا خطرہ بھی نہیں تو پھر اسے بنا کر کیا کرو گے؟ وہ تو نوح علیہ السلام کو دیوانہ سمجھ رہے تھے اور نوح علیہ السلام انھیں دیوانہ سمجھ رہے تھے کیونکہ انہوں نے قوم کو خبردار کردیا تھا کہ تم پر سیلاب کا عذاب آنے والا ہے وہ اپنی قوم پر اس بات سے حیران تھے کہ عنقریب ان لوگوں کی تباہی ہونے والی ہے اور انھیں اپنی ذرا بھی فکر نہیں الٹا مجھے دیوانہ سمجھ کر مذاق اڑا رہے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے انھیں جواب دیا، کوئی بات نہیں آج تم ہمارا مذاق اڑا لو، جلد ہی ایسا وقت آنے والا ہے جب ہم تمہارا مذاق اڑائیں گے اس وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والا عذاب کس پر نازل ہوتا ہے؟ ھود
39 ھود
40 [٤٦] طوفان نوح کا آغاز :۔ طوفان نوح کا آعاز تنور سے چشمہ پھوٹنے سے ہوا۔ ایک قول کے مطابق تنور سے مراد و ہی معروف تنور ہے جس میں روٹیاں پکائی جاتی ہیں اور ایک قول کے مطابق تنور سے مراد سطح زمین ہے۔ پھر ارد گرد کی زمین سے کئی مزید چشمے پھوٹنے شروع ہوگئے اور اوپر سے لگاتار بارش شروع ہوگئی۔ پہلا چشمہ پھوٹنے پر نوح علیہ السلام کو حکم دے دیا گیا کہ سب ایمان والوں کو اس کشتی میں سوار کرلو اور جو جانور بھی اس وقت روئے زمین پر موجود ہیں اور نر و مادہ سے پیدا ہوتے ہیں ان کا ایک ایک جوڑا (یعنی نر و مادہ) بھی اس کشتی میں رکھ لو۔ اپنے گھر والوں میں سے جو مومن ہیں ان سب کو بھی سوار کرلو اور وہ حام، سام، یافث اور ان کے اہل و عیال تھے اور جو ایمان نہیں لائے انھیں اس کشتی میں مت سوار کرنا اور ان میں نوح علیہ السلام کا بیٹا یام بھی تھا جسے کنعان بھی کہا جاتا تھا اور نوح علیہ السلام کی بیوی واعلہ جو کافر تھی اور کنعان کی والدہ تھی۔ آپ کے خاندان سے یہ دو افراد بھی طوفان کی نذر ہوئے تھے اور ایمان لانے والے بہت تھوڑے لوگ ہی تھے جن کی تعداد ٨٠ سے متجاوز نہیں تھی۔ ھود
41 [٤٧] کشتی پر سوار ہونے کی دعا :۔ نوح علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر اس کشتی پر سوار ہوجاؤ کچھ فکر مت کرو اس کا چلنا اور ٹھہرنا سب اللہ کے اذن اور اس کے نام کی برکت سے ہے۔ غرقابی کا کوئی اندیشہ نہیں کیونکہ میرا پروردگار مومنوں کی کوتاہیوں سے درگذر کرنے والا اور ان پر بہت مہربان ہے۔ وہ یقیناً اپنے فضل و کرم سے ہم کو بخیریت اتارے گا۔ ضمناً اس آیت سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ مومن کو صرف اسباب پر بھروسہ نہ کرنا چاہیے بلکہ اللہ سے اس کے فضل و کرم کی دعا بھی کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اسباب کی باگ ڈور بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور دوسری یہ کہ کشتی یا جہاز پر سوار ہوتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے ﴿بِسْمِ اللّٰہِ مَجْــرٖیہَا وَمُرْسٰیہَا ۭ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴾ ھود
42 [٤٨] طوفان کی کیفیت اور نوح علیہ السلام کا اپنے بیٹے کو نصیحت کرنا :۔ طوفان کی یہ صورت تھی کہ مسلسل چھ ماہ تک چشمے زمین سے پانی اگلتے رہے اور آسمان سے مسلسل بارش ہوتی رہی۔ حتیٰ کہ ٹیلے اور پہاڑ سب کچھ اس پانی میں ڈوب گئے کشتی پانی کے ساتھ ساتھ اوپر اٹھ رہی تھی اور جس طرح اللہ اسے چلاتا چلتی جارہی تھی۔ جب پانی ابھی اوپر اٹھ رہا تھا اور پانی کی سطح زمین سے خاصی بلند ہو رہی تھی اور پانی کی لہریں پہاڑ کی طرح اٹھ اٹھ کر ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔ اس دوران ایک واقعہ پیش آیا۔ نوح علیہ السلام کا کافر بیٹا یام یا کنعان جسے کشتی میں سوار نہیں کیا گیا تھا ایک پہاڑی کے کنارے لگ کر کھڑا طوفان کی ہولناکیاں دیکھ رہا تھا۔ نوح علیہ السلام کی اس پر نظر پڑگئی تو پدرانہ شفقت نے جوش مارا اور اسے کہنے لگے ’’بیٹے! ایمان لے آؤ اور ہمارے ساتھ اس کشتی میں سوار ہوجاؤ اور کافروں کا ساتھ چھوڑ دو‘‘ ھود
43 [٤٩] بیٹے کا جواب :۔ ضدی بیٹے نے باپ کی آرزو کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ ’’میں ابھی پہاڑ پر چڑھ کر اپنی جان بچا لوں گا‘‘ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پانی اتنا چڑھ جانے والا ہے کہ وہ اس پہاڑ کو بھی اپنے اندر چھپا لے گا۔ نوح علیہ السلام نے اسے کہا ’’بیٹے کس خبط میں پڑے ہو یہ کوئی معمولی سیلاب نہیں بلکہ اللہ کا عذاب ہے اور پہاڑ کی کیا حقیقت ہے کوئی چیز بھی آج کسی کو اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکتی الا یہ کہ اللہ خود ہی کسی پر رحم فرما کر اسے بچا لے‘‘ یہ گفتگو ابھی پوری بھی نہ ہونے پائی تھی کہ ایک تند و تیز لہر اٹھی جس نے بیٹے کی طرف رخ کرکے ان دونوں کو ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا کردیا اور یہ کافر اور نافرمان بیٹا سیدنا نوح علیہ السلام کی آنکھوں کے سامنے طوفان میں غرق ہوگیا اور سیدنا نوح جیسے اولوالعزم پیغمبر بھی اس کی کچھ مدد نہ کرسکے۔ ھود
44 [٥٠] طوفان کا خاتمہ :۔ چھ ماہ تک پانی کی سطح بلند ہوتی رہی پہاڑ تک اس میں ڈوب گئے مجرمین اپنے انجام کو پہنچ گئے اور ان میں سے کوئی بھی اس عذاب سے بچ نہ سکا تو اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ اپنا پانی پھر سے اپنے اندر جذب کرلے اور اللہ کے حکم سے بارش بھی رک گئی۔ کچھ پانی ہواؤں نے خشک کیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جاکر ٹک گئی۔ یہ پہاڑ عراق میں موصل شہر سے کچھ فاصلے پر واقع ہے اور آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ سیلاب دنیا کے کتنے حصے میں آیا :۔ طوفان نوح کے متعلق دو باتیں ہنوز قابل تحقیق ہیں ایک یہ کہ آیا یہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا تھا یا صرف قوم نوح علیہ السلام کے علاقہ میں آیا تھا۔ اکثر مورخین کا خیال ہے کہ یہ تمام روئے زمین پر آیا تھا اور اس کی دلیل یہ پیش کی جاسکتی ہے کہ دنیا کی سب اقوام کی قدیم تاریخ میں طوفان نوح کا ذکر موجود ہے لیکن قرآن اس بارے میں خاموش ہے اور عقلی لحاظ سے یہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ طوفان صرف اس علاقہ میں ہی آیا ہو جہاں کے مجرموں کو سزا دینا مقصود تھا اور جہاں عذاب الٰہی کے لئے اتمام حجت ہوچکی تھی اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ اس دور میں زمین کا صرف یہی خطہ آباد ہو۔ رہا سب اقوام کی قدیم تاریخ میں طوفان نوح علیہ اسللام کے ذکر کا مسئلہ تو یہ دونوں صورتوں میں ممکن ہے۔ کیا نوح کے آدم ثانی ہونے کا نظریہ درست ہے؟:۔ اور دوسری قابل تحقیق بات یہ ہے کہ طوفان نوح کے بعد نسل انسانی صرف نوح علیہ السلام کی اولاد سے ہی پھیلی تھی یا یہ ان تمام لوگوں کی اولاد سے ہے جو کشتی میں سوار تھے؟ عام مورخین کا خیال ہے کہ اس طوفان کے بعد صرف نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں حام، سام، یافث سے ہی پھیلی ہے اور اس خیال کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے بھی ہوجاتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہٗ ہُمُ الْبٰقِیْنَ ﴾(۷۷:۳۷) اور ہم نے دنیا میں نوح کی اولاد کو ہی باقی رکھا) اسی لحاظ سے نوح علیہ السلام کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم کی ہی دو آیات ایسی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ طوفان نوح کے بعد نسل انسانی ان تمام لوگوں کی اولاد سے چلی جو اس کشتی میں سوار تھے مثلاً (١) ﴿ ذُرِّیَّــۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ﴾ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کرلیا تھا۔ اور (٢) ﴿مِنْ ذُرِّیَّۃِ اٰدَمَ ۤ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ﴾ (۵۸:۱۹) آدم کی اولاد سے اور ان لوگوں کی اولاد سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کرلیا تھا۔ اس دوسری آیت سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح پوری دنیا پر نہیں آیا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب زیادہ قرین قیاس بات یہی ہے کہ اس طوفان کے بعد نسل انسانی ان تمام لوگوں سے چلی جو کشتی میں سوار تھے۔ ھود
45 اس آیت کی تفسیر اگلی آیت کے ساتھ ملاحظہ کیجئے۔ ھود
46 [٥١] بدکردار بیٹا بھی نبی کا اہل نہیں ہوسکتا :۔ جب دیکھتے ہی دیکھتے سیدنا نوح علیہ السلام کے سامنے ان کا بیٹا غرق ہوگیا تو ملول ہوگئے اور اللہ سے اس انداز میں التجا کی کہ ’’یا اللہ تیرا وعدہ تھا کہ میں تیرے اہل کو بچا لوں گا اور وعدہ بھی سچا اور تیرا فیصلہ بھی سب حاکموں سے بہتر اور آخری جس کی کوئی اپیل بھی نہیں اور یہ غرق ہونے والا بیٹا بھی تو میرے اہل میں سے ہی تھا۔‘‘ پھر اسے غرق کرنے میں کیا حکمت تھی؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ ’’ایک بدکردار آدمی نبی کے اہل میں سے کیسے ہوسکتا ہے وہ ہرگز تمہارے اہل میں سے نہیں تھا خواہ وہ تمہارا صلبی بیٹا ہی تھا اور دیکھو آئندہ مجھ سے ایسا جاہلانہ سوال کبھی نہ کرنا‘‘ نبوت زادگی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی :۔ اس سوال و جواب سے ایک نہایت اہم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صرف ایمان اور عمل صالح ہی کی قدر وقیمت ہے صرف یہی نہیں کہ کنعان کی نبوت زادگی اس کے کچھ کام نہ آسکی بلکہ ایک اولوالعزم نبی اپنے بیٹے کے لیے نجات کی التجا کر رہا ہے تو الٹا اس پر ہی عتاب نازل ہوتا ہے اس سے ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے جنہوں نے سستی نجات کے لیے طرح طرح کے عقیدے وضع کر رکھے ہیں کسی شخص کا سید ہونا یا کسی بزرگ کا دامن پکڑنا اللہ کے ہاں کچھ وقعت نہیں رکھتا۔ ھود
47 [٥٢] نوح کی اپنی غلطی پر مغفرت کی درخواست :۔ نوح علیہ السلام آخر ایک انسان تھے اور جو سوال انہوں نے کیا بشری تقاضا سے مجبور ہو کر کیا تھا لہٰذا یہ اتنا بڑا گناہ معلوم نہیں ہوتا جس پر اس طرح سے عتاب نازل ہو مگر انبیاء کی تمام تر زندگی چونکہ امت کے لیے بطور نمونہ ہوتی ہے اسی لیے ان کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوتی ہے اور اس نمونہ کو پاک صاف بنایا جاتا ہے اور یہی عصمت انبیاء کا مفہوم ہے چنانچہ نوح علیہ السلام کو جب اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوئی تو اپنی اس لغزش کا احساس کرکے کانپ اٹھے فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلب گار ہوئے۔ ھود
48 [٥٣] نوح علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں کا پھر زمین پر آباد ہونا :۔ جب کشتی جودی پہاڑ پر ٹک گئی تو نوح علیہ السلام کو بذریعہ وحی مطلع کیا گیا کہ اب پانی نہیں چڑھے گا بلکہ اترتا چلا جائے گا لہٰذا کشتی سے سب سوار بخیر و عافیت اتر آؤ۔ یہ لوگ پہلے جودی پہاڑ پر اترے پھر آہستہ آہستہ زمین کے خشک ہونے پر زمین پر اتر آئے اس سیلاب کے بعد زمین سے پھل اور غلہ بافراط پیدا ہوئے جس سے نوح علیہ السلام کے ساتھی خوشحال ہوگئے اور امن و چین سے پھر زمین پر آباد ہو کر رہنے لگے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ خبر بھی دے دی کہ ان لوگوں کی اولاد سے بھی سرکش لوگ پیدا ہوں گے تو انھیں بھی اللہ اپنے دستور کے مطابق عذاب سے دوچار کرے گا۔ ھود
49 [٥٤] نوح علیہ السلام کا زمانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً چار ہزار سال پیشتر کا ہے اس دور کے مستند اور صحیح ترین حالات کی اطلاع دینا اللہ ہی کا کام ہوسکتا ہے۔ اہل مکہ ان حالات سے مطلقاً بے خبر تھے گویا یہ نوح علیہ السلام کا قصہ اس تفصیل سے بتا دینا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے۔ [٥٥] یعنی بالآخر اچھا انجام اللہ سے ڈرنے والوں کا ہی ہوتا ہے جیسا کہ نوح علیہ السلام کے ساتھیوں کا ہوا بلکہ ہر حق و باطل کے معرکہ میں، خواہ اس کا تعلق انبیاء سے ہو یا نہ ہو۔ بالآخر غلبہ حق کو ہی حاصل ہوتا ہے اور حق پرست ہی انجام کے لحاظ سے بہتر رہتے ہیں اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اخروی زندگی میں بہرحال اللہ سے ڈرنے والوں کا ہی انجام بخیر ہوگا اور یہ دونوں مطلب درست ہیں گویا اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خوش خبری بھی دی گئی ہے۔ ھود
50 [٥٦] قوم عاد کا بیان پہلے سورۃ اعراف کی آیت نمبر ٦٥ تا ٧٢ میں گذر چکا ہے لہٰذا وہ حواشی بھی ملحوظ رکھے جائیں۔ [٥٧] یعنی اپنے معبودوں کے متعلق جو عقائد تم نے خود ہی گھڑ رکھے ہیں ان کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں عقائد کے علاوہ ان معبودوں کے مجسمے بھی تمہارے خود ساختہ ہیں۔ ھود
51 [٥٨] دعوت اور رسالت پر اجر :۔ ہر پیغمبر نے اپنی قوم سے یہ بات کہی ہے کہ میں بغیر کسی لالچ کے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں اور تم ہو کہ مجھے اپنا دشمن سمجھ کر مجھ سے دست و گریبان ہوتے ہو۔ میں نے اپنا عیش و آرام بھی چھوڑا ہے دنیا کمانے کی فکر بھی چھوڑ رکھی ہے تم سے بھی کسی معاوضہ کا مطالبہ نہیں کر رہا پھر تم سب کی دشمنی بھی مول لے رہا ہوں آخر تم خود بھی کچھ سوچو تو سہی کہ میرا اس میں کیا ذاتی فائدہ ہوسکتا ہے ایسے شخص کی بات اتنی بے وزن تو نہیں ہوسکتی کہ اسے بلا سوچے سمجھے رد کردیا جائے۔ ھود
52 [٥٩] توبہ واستغفار سے رزق میں فراوانی :۔ قوم عاد کو کھیتی باڑی سے بڑی دلچسپی تھی اور زیادہ تر زراعت ہی ان کا ذریعہ معاش تھا وہ تین سال سے خشک سالی کی مصیبت میں گرفتار تھے اور بارش نہیں ہو رہی تھی۔ اس مصیبت کے دفعیہ کے لیے ہودعلیہ السلام نے انھیں اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرنے کی تلقین فرمائی اور انھیں یقین دلایا کہ اگر تم ایک اللہ کی طرف رجوع کرکے اپنے سابقہ گناہوں کی سچے دل سے معافی طلب کرو گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر آسمان سے بارش برسا کر رزق کے دروازے کھول دے گا جس سے تمہاری مالی اور بدنی قوت دونوں میں اضافہ ہوگا نیز خوش حالی کا دور دورہ ہوجائے گا اس بات کا تو قوم نے کوئی جواب نہ دیا البتہ کسی صریح معجزہ کا مطالبہ کردیا۔ ھود
53 [٦٠] ویسے تو ہر نبی کو ایسے واضح دلائل دیئے جاتے ہیں جو ایمان لانے والوں کی تسلی اور تشفی کے لیے کافی ہوتے ہیں مگر ہٹ دھرم لوگ عموماً کسی ایسے حسی معجزے کے طالب ہوتے ہیں جو ان کی گردنیں پکڑ کر انھیں ایمان لانے پر مجبور کر دے اور وہ اس وقت تک ایمان لانے کو تیار نہیں، ہوتے جب تک ایسا معجزہ دیکھ نہ لیں۔ حالانکہ اس وقت ایمان لانے کا کچھ فائدہ بھی نہیں ہوتا اور ایسا معجزہ پیش کرنا ویسے بھی مشیت الٰہی کے خلاف ہے۔ ھود
54 [٦١] معبودوں اور بزرگوں کی گستاخی کا انجام :۔ کوئی بھی نبی جب اپنی دعوت پیش کرتا ہے تو اس پر ایمان لانے والے تو بہت کم لوگ ہوتے ہیں اور کثیر طبقہ ایسا ہوتا ہے جو اس کی مخالفت پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور نبی اور ابتدائی معدودے چند مسلمانوں کو پریشان کرنے اور اسے ایذائیں دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا اور ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا جاتا ہے اسی کیفیت کو دیکھ کر قوم عاد نے ہود علیہ السلام سے کہا کہ تمہاری اس پریشان حالی کا سبب ہمیں تو صرف یہ نظر آتا ہے کہ تم جو ہمارے معبودوں کی توہین اور ان کے حق میں گستاخی کرتے ہو تو انہوں نے اپنی اس توہین کی تمہیں یہ سزا دی ہے جیسا کہ پرستاران باطل کے عقائد میں عموماً یہ بات بھی شامل ہوتی ہے اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کے افسانے اور حکایتیں بھی تراشی جاتی ہیں اور یہ صرف اس دور کی بات نہیں آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے البتہ آج پتھر کے بتوں کی جگہ فوت شدہ بزرگوں نے لے لی ہے۔ مزاروں آستانوں کے متعلق اسی قسم کی حکایتیں آپ کو آج بھی اولیاء اللہ کے تذکروں سے مل سکتی ہیں۔ ھود
55 [٦٢] ہود کا قوم کو جواب میرا جو بگاڑ سکتے ہو بگاڑ لو :۔ ان کے اس الزام کے جواب میں ہود علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں تمہارے معبودوں کی ایسی کرامات کا ہرگز قائل نہیں میں تو اسے اللہ کے ساتھ شرک سمجھتا ہوں اور ہر طرح کے شرک سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں البتہ اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ تمہارے معبود مجھے کچھ نقصان پہنچا سکتے ہیں تو یوں کرو کہ تم اور تمہارے معبود سب مل کر جو تکلیف مجھے پہنچانا چاہتے ہو پہنچاؤ اور اس میں بالکل دیر نہ کرو اور میرا تو یہ یقین ہے کہ اگر اللہ مجھے تکلیف نہ پہنچانا چاہے تو کوئی طاقت مجھے نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ ھود
56 [٦٣] یعنی ہر جاندار کی ہر حرکت اور ہر فعل کی باگ ڈور اللہ کے قبضہ اختیار میں ہے۔ کوئی جاندار اللہ کے تصرف اور اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتا وہ جب چاہے اسے سزا بھی دے سکتا ہے اور موت سے بھی دو چار کرسکتا ہے۔ [٦٤] رب کے صراط مستقیم کا مطلب :۔ اس بے پناہ تصرف کے باوجود اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے صراط مستقیم پر ہے کہ وہ کسی پر کبھی زیادتی اور ظلم نہیں کرتا۔ البتہ بسا اوقات اپنے بندوں کی خطاؤں کو معاف ضرور کردیتا ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی بتلائی ہوئی سیدھی راہ پر گامزن ہیں اللہ ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے اور ہر آن ان کی حفاظت کرتا ہے۔ ھود
57 [٦٥] ان سب باتوں کے باوجود بھی اگر تم اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر جمے رہو گے تو اللہ عذاب بھیج کر تمہیں تباہ کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے وہ اس کے بعد تمہاری سر زمین پر کوئی دوسرے لوگ لا کر آباد کر دے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکو گے لہٰذا تمہاری عافیت اسی میں ہے کہ اللہ پر ایمان لے آؤ اور شرک کے کام چھوڑ دو۔ ھود
58 [٦٦] قوم عاد پر عذاب :۔ ان پر تند و تیز اور نہایت ٹھنڈی آندھی کا عذاب آیا تھا یہ آندھی اتنی تیز رفتار اور ہولناک تھی کہ اس میں انسان اور درخت اڑتے چلے آتے تھے۔ درختوں کو توڑ دیتی اور بعض کمزور چھتوں کو اڑا دیتی تھی۔ پھر یہی چیزیں ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر پارہ پارہ اور تباہ و برباد ہو رہی تھیں پھر اس آندھی میں شدید ٹھنڈک مستزاد تھی اور یہ آندھی مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں چلتی رہی جس نے ان کے گھروں میں داخل ہو کر انھیں تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ عذاب آنے سے پیشتر اللہ تعالیٰ نے ہودعلیہ السلام کو وحی کردی تھی کہ وہ اور ان کے ساتھی فلاں احاطہ میں جاکر محصور ہوجائیں۔ اس طرح ایمان لانے والوں کو اللہ نے اس سے بچا لیا۔ ھود
59 [٦٧] یعنی جو قد آور، مضبوط اور شاہ زور قوم اس طمطراق سے گزر بسر کر رہی تھی اور اس کا ڈنکا بجتا تھا ان کے تباہ شدہ کھنڈرات کو دیکھ کر ان سے عبرت حاصل کرو کہ اللہ کی آیات سے انکار کے نتیجہ میں انھیں یہ سزا ملی تھی اور رسول تو ان کی طرف صرف ہود آئے تھے لیکن اللہ نے رسولوں کا لفظ غالباً اس لیے استعمال فرمایا ہے کہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہی انداز کی رہی ہے جو توحید اور اصول دین پر مشتمل ہوتی ہے لہٰذا ایک رسول کی تکذیب حقیقتاً سب رسولوں کی تکذیب کے مترادف ہوتی ہے۔ ھود
60 [٦٨] یعنی جب بھی ان کا ذکر ہوگا بھلے الفاظ میں نہیں ہوگا اور یہ لعنت قیامت کے دن بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑے گی۔ [٦٩] یعنی عاد اولیٰ تو اس طرح تباہ ہوئے پھر ان کے بعد قوم ثمود دنیا میں نامور ہوئی جسے عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے اور جن کی طرف صالح علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تھا آگے اسی قوم کا ذکر آرہا ہے اس سلسلہ میں سورۃ اعراف آیت نمبر ٧٣ سے ٧٩ تک کے حواشی بھی مدنظر رکھے جائیں۔ ھود
61 [٧٠] یعنی پہلے آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا پھر تمہاری تمام تر ضروریات زندگی اسی زمین سے وابستہ کردیں اور اسی پر تمہاری آباد کاری کا بندوبست کیا۔ [٧١] یعنی یہ سب کام تو اللہ نے کیے ہیں بتاؤ کہ تمہارے معبودوں نے ان میں سے کون سا کام کیا ہے؟ جو تم ان کی پرستش کرتے ہو اگر تم اللہ کے خالق و رازق ہونے کو تسلیم کرتے ہو تو پھر تمہیں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اسی کی اطاعت کرنا چاہیے اور اپنے گناہوں کے لیے اسی سے معافی مانگو کیونکہ تم یہ مشرکانہ افعال کرتے رہے ہو۔ [٧٢] اللہ گناہ گاروں کی بھی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے :۔ دنیا دار اور جاہ طلب مذہب کے ٹھیکیداروں نے عام لوگوں کے ذہن میں یہ عقیدہ راسخ کردیا ہے کہ جس طرح ایک بادشاہ تک درخواست گزارنے کے لیے بادشاہ کے مقرب لوگوں کی ضرورت پیش آتی ہے انہی کے ذریعہ اپنی معروضات کو بادشاہ تک پیش کیا جاتا ہے اور بادشاہ نے جو کچھ جواب دینا ہو وہ بھی انھیں لوگوں کے ذریعہ مل سکتا ہے۔ سب سے بڑے بادشاہ اللہ تعالیٰ کی بھی یہی صورت ہے۔ لہٰذا اللہ کے حضور اپنی معروضات پیش کرنے کے لیے اللہ کے مقربین کا وسیلہ تلاش کرنا ضروری ہے اور ان مقربین سے مراد ان کی اپنی ذات یا معبودان باطل یا فوت شدہ بزرگ وغیرہ ہوتے ہیں جن کے یہ مجاور وغیرہ ہوتے ہیں یہ شیطانی عقیدہ اس قدر گمراہ کن ہے کہ شرک کی بے شمار اقسام اسی ایک عقیدہ سے پیدا ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے اس عقیدہ کی دو لفظوں میں تردید فرما دی۔ یعنی ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے قریب ہے وہ ہر ایک کی بات سن سکتا ہے اور سنتا ہے دوسرے یہ کہ وہ گنہگاروں کی دعائیں بھی ایسے ہی قبول کرتا ہے جیسے مقربین کی۔ بشرطیکہ دعا کے آداب کو ملحوظ رکھا جائے۔ واضح رہے کہ کسی نیک آدمی سے اپنے حق میں اللہ سے دعا کرانا اس ضمن میں نہیں آتا اور یہ شرعاً ثابت ہے بگاڑ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ گنہگاروں کی بات نہ سنتا ہے اور نہ اسے قبول کرتا ہے پھر جن لوگوں کو وسیلہ بنایا جاتا ہے ان کے لیے نذر و نیاز اور ان کی تعظیم ایسے ہی کی جاتی ہے جیسے اللہ کے لیے سزاوار ہے۔ مندرجہ بالا مفہوم کے لحاظ سے اس جملہ میں قریب اور مجیب دونوں اللہ تعالیٰ کی الگ الگ صفات ہیں لیکن بعض لوگوں نے قریب کو بھی مجیب ہی کی صفت قرار دیا ہے اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا : ’’بلاشبہ میرا پروردگار جلد ہی (دعائیں) قبول کرنے والا ہے‘‘ ھود
62 [٧٣] یعنی تمہیں عقل مند، ہونہار اور دیانتدار سمجھ کر ہم نے تم سے اپنی بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں کہ تم باپ دادا کا نام روشن کرو گے تم نے تو الٹا باپ دادا کے دین سے سرکشی اختیار کرلی ہے۔ بلکہ ہمیں بھی اس سے روک رہے ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اور ہمارے آباؤ اجداد سب کے سب غلط کار ہی تھے۔ [٧٤] نبی کی دعوت سے کافروں میں خلجان کی وجہ :۔ انبیاء کی دعوت کے ان کی قوم کے افراد پر دوگونہ اثرات مترتب ہوتے ہیں جو لوگ ان پر ایمان لے آتے ہیں ان میں قلبی اطمینان و سکون پیدا ہوجاتا ہے اور یہی قلبی سکون ہی ان میں مخالفین کے شدائد کو برداشت کرنے کی جرأت پیدا کردیتا ہے اور منکروں میں یہی دعوت خلجان اور قلبی اضطراب کا باعث بن جاتی ہے وجہ یہ ہوتی ہے کہ نبی جو دعوت پیش کرتا ہے دلائل کے ساتھ پیش کرتا ہے اور اس کی اپنی سابقہ زندگی اس دعوت کا بڑا ثبوت ہوتی ہے لیکن منکرین کے پاس تقلید آباء کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہوتی اور اس دلیل میں جتنا وزن ہے وہ سب کو معلوم ہے کہ ان کے کسی بزرگ نے ایک غلط رسم ڈالی جو اس کی اولاد میں نسل در نسل منتقل ہوتی چلی گئی جسے بعد میں آنے والوں نے عصبیت کی بنا پر مذہب کا لبادہ پہنا دیا۔ لہٰذا ایسے لوگوں کا خلجان آہستہ آہستہ بڑھتاہی چلا جاتا ہے۔ اس خلجان کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ کافروں کے کسی گھرانا سے اگر ایک شخص مسلمان ہوجاتا ہے تو اس کے لواحقین اسے دکھ دیتے اور اس سے برسرپیکار ہوجاتے ہیں۔ اسلام لانے والے کو تو ان کے شدائد سہنے کے باوجود قلبی اطمینان میسر آتا ہے لیکن تشدد کرنے والے تشدد کرنے کے باوجود پریشان اور سخت مضطرب رہتے ہیں اور چونکہ اسلام لانے والا بھی ایک شخص نہیں بلکہ متعدد افراد ہوتے ہیں لہٰذا کافروں کے سب گھرانوں میں ایک عام اضطراب اور بے چینی کی فضا طاری رہتی ہے جو انھیں مزید تشدد پر برانگیختہ کئے رکھتی ہے۔ ھود
63 [٧٥] منکرین کا صالح علیہ السلام سے اصل مطالبہ یہ تھا کہ تم اپنے آباؤ اجداد کے دین کو بدنام نہ کرو اور اس میں واپس آجاؤ اور ہمارے لیے پریشانی کا سبب نہ بنو اس کا جواب آپ نے یہ دیا کہ جو کچھ تم کہتے اور کرتے ہو میرا ضمیر اسے پہلے بھی قبول نہیں کرتا تھا پھر اللہ نے مجھے نبوت سے نوازا ہے کہ میں اس کا پیغام تم لوگوں تک پہنچاؤں اب اگر میں تمہاری بات مانوں تو ایک تو اللہ کا مجرم بنوں جس کی گرفت سے مجھے کوئی بھی بچا نہ سکے گا دوسرے اپنے ضمیر کی آواز کو کچلوں اور ہر طرف سے نقصان اٹھاؤں۔ میں ایسا کبھی نہیں کرسکتا۔ ھود
64 [٧٦] ناقۃ اللہ کا کھانا پینا :۔ اس قوم نے خود اس معجزہ کا مطالبہ کیا تھا کہ ہم تو تب ایمان لائیں گے کہ اس پہاڑ سے ایک حاملہ اونٹنی برآمد ہو پھر وہ ہمارے سامنے بچہ جنے۔ سیدنا صالح علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی پہاڑ میں یک لخت جنبش ہوئی پھر ایک شگاف سے ایک بہت دیو ہیکل اونٹنی برآمد ہوئی جس نے کچھ عرصہ بعد بچہ جنا اس طرح اس قوم کا منہ مانگا معجزہ کا مطالبہ پورا ہوا اسی وجہ سے اس اونٹنی کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اونٹنی کو تکلیف پہنچانے پر تنبیہ :۔ یہ دیو ہیکل اونٹنی اتنا پانی پیتی تھی جتنا اس بستی کے سارے جانور پیتے تھے اور اتنا ہی چارہ بھی کھا جاتی تھی۔ اس کی خوراک کے سلسلہ میں قوم کو ایک نئی تشویش لاحق ہوگئی تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فیصلہ یہ فرما دیا کہ کنوئیں سے ایک دن تو اونٹنی پانی پیا کرے گی اور دوسرے دن دوسرے سب جانور، اور چرنے چگنے میں اس اونٹنی کو مکمل آزادی حاصل ہوگی جہاں سے وہ چاہے چرتی پھرے۔ ساتھ ہی صالح علیہ السلام نے قوم کو متنبہ کردیا کہ اگر تم نے کسی برے ارادہ سے اس اونٹنی کو ہاتھ لگایا تو تمہیں سخت عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا۔ ھود
65 [٧٧] اونٹنی کو مارنا :۔ مگر یہ قوم اپنے اس متفقہ فیصلہ پر قائم نہ رہ سکی۔ دراصل یہ اونٹنی ان کے لیے وبال جان بن گئی اور عذاب کے ڈر کی وجہ سے اسے کوئی ہاتھ لگانے کی جرأت بھی نہیں کرتا تھا بالآخر قوم کا ایک شہ زور بدبخت اٹھا جس نے اونٹنی کو مار ڈالنے کا ارادہ کرلیا۔ پھر بستی کے ایک ایک فرد سے اس کے متعلق خفیہ مشورے کیے اور آراء طلب کیں۔ اکثریت نے یہی رائے دی کہ اس مصیبت سے جان چھوٹ جائے تو یہ بڑی خوشی کی بات ہوگی۔ اس فیصلہ کے بعد اس بدبخت نے اونٹنی کی کونچ کی رگوں کو کاٹ ڈالا اونٹنی نے ایک زبردست دل دہلا دینے والی چیخ ماری اور اسی پہاڑ میں غائب ہوگئی جس سے نکلی تھی اس کے پیچھے پیچھے اس کا بچہ بھی غائب ہوگیا اس واقعہ کے فوراً بعد خود سیدنا صالح علیہ السلام کو بھی مار ڈالنے کے خفیہ صلاح مشورے ہونے لگے۔ تین دن بعد عذاب :۔ اللہ کا یہ قانون ہے کہ اگر کوئی قوم کسی نبی سے کوئی خاص معجزہ طلب کرے اور وہ معجزہ اسے عطا کردیا جائے پھر بھی وہ قوم سرکشی کی راہ اختیار کرے تو یقیناً اس پر عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے چنانچہ صالح علیہ السلام نے وحی کی اطلاع کے مطابق قوم کو خبردار کردیا کہ اب تمہیں صرف تین دن کی مہلت دی جاتی ہے اس کے بعد تم پر اللہ کا قہر نازل ہوگا جس سے تم بچ نہ سکو گے اور نہ ہی اس وعدہ میں کچھ تغیر و تبدل ہوسکتا ہے۔ ھود
66 [٧٨] صالح علیہ السلام کی ہجرت :۔ عذاب کے نازل ہونے سے پیشتر ہی آپ بموجب حکم الٰہی اپنے ایمان دار ساتھیوں کو لے کر فلسطین کی طرف روانہ ہوگئے اور یہ سب لوگ اس ذلت اور عذاب سے بچ گئے جو اس مجرم قوم پر نازل ہونے والا تھا۔ ھود
67 [٧٩] قوم ثمود پر عذاب کی نوعیت :۔ اس قوم پر ایک تو دھماکہ کا عذاب آیا دوسرے اسی وقت شدید زلزلہ کے جھٹکے لگنا شروع ہوگئے اور ممکن ہے کہ دھماکے کی آواز بھی زمین کے پھٹنے اور زلزلے سے پیدا ہوئی ہو اس دوہرے عذاب سے وہ اپنے گھروں میں ہی مر کھپ گئے اور یہ بستی ایسے ویران اور برباد ہوگئی جیسے یہاں کوئی کبھی انسان آباد ہی نہ ہوا تھا اور ان کا یہ عبرت ناک انجام اس لیے ہوا کہ انہوں نے اپنے خالق حقیقی کو چھوڑ کر بتوں وغیرہ کو ہی اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ رکھا تھا جو ان کے اس آڑے وقت میں ان کے کسی کام نہ آسکے۔ ھود
68 ھود
69 [٨٠] فرشتوں کا ابراہیم علیہ السلام کے پاس اسحاق کی خوشخبری لے کر جانا :۔ اس سورۃ میں بھی انبیاء کے قصص کی ترتیب وہی ہے جو پہلے سورۃ اعراف میں گذر چکی ہے یعنی ثمود کے بعد قوم لوط کی تباہی کا ذکر ہے یہاں ضمناً جو ابراہیم علیہ السلام کا ذکر آیا ہے تو بطور تمہید آیا ہے کیونکہ جو فرشتے قوم لوط کی ہلاکت کے لیے مامور کیے گئے تھے وہ پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس ہی ایک بیٹے کی خوشخبری دینے آئے تھے یہ فرشتے انسانی شکل میں آئے اور آکر سلام کیا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سلام کا جواب دیا پھر ان کی مہمان نوازی میں مشغول ہوگئے اور تھوڑی دیر میں ایک بچھڑا بھون کرلے آئے اور کھانے کے لیے ان کے سامنے رکھ دیا۔ ھود
70 [٨١] فرشتوں کا کھانے سے انکار اور ابراہیم علیہ السلام کا خدشہ :۔ جب ان فرشتوں نے کھانے کی طرف ہاتھ تک نہ بڑھائے تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو دال میں کچھ کالا محسوس ہوا اور ان سے خوف آنے لگا۔ بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ یہ ڈرا اس وجہ سے تھا کہ ان لوگوں میں یہ دستور تھا کہ جو مہمان کھانا نہ کھاتا اس کے متعلق یہ سمجھا جاتا کہ وہ کسی بری نیت سے آیا ہے ممکن ہے یہ وجہ بھی ہو۔ مگر فرشتوں کا جواب اس بات کی تائید نہیں کرتا جو یہ تھا کہ ’’ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں‘‘ بات دراصل یہ نہ تھی کہ فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا یا کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھانا یا فرشتوں کو پہچان نہ سکنا ایسی باتیں نہیں تھیں جن سے سیدنا ابراہیم علیہ السلام ڈر جاتے اور ایسے واقعات اولوالعزم انبیاء سے پیش آتے ہی رہتے ہیں کہ فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے جس کا علم انھیں بعد میں ہوتا ہے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ڈر کی اصل وجہ :۔ بلکہ اصل بات یہ تھی کہ فرشتے چونکہ قوم لوط کو تباہ کرنے کی غرض سے آئے تھے اس لیے ان کے چہروں پر غصہ کے آثار نمایاں تھے لہٰذا انھیں یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ شاید مجھ سے یا میرے گھر والوں سے ایسی کوئی تقصیر ہوگئی ہے جس کی وجہ سے یہ فرشتے غضب ناک دکھائی دے رہے ہیں پھر جب فرشتوں نے یہ وضاحت کردی کہ آپ کے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اندیشہ دور ہوگیا۔ ھود
71 [٨٢] سیدہ سارہ کو خوشخبری دینا :۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بیوی سارہ بھی پاس کھڑی یہ مکالمہ سن رہی تھیں جب یہ اندیشہ دور ہوا تو خوشی سے ان کی ہنسی نکل گئی پھر فرشتوں نے انھیں ایک بیٹے جس کا نام اسحاق ہوگا کی خوشخبری دی اور یہ بھی بتلایا کہ اسحاق کے بعد اس سے یعقوب بھی ویسا ہی اولوالعزم پیغمبر پیدا ہوگا اور یہ خوشخبری خصوصاً سیدہ سارہ کو اس لیے دی گئی کہ وہ بے اولاد تھیں جبکہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام صاحب اولاد تھے اور دوسری بیوی ہاجرہ کے بطن سے سیدنا اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوچکے تھے اس لیے یہ خوشخبری سیدنا ابراہیم علیہ اسلام کے مقابلہ میں سیدہ سارہ کے لیے بہت زیادہ خوشی کی بات تھی۔ بعض مفسرین نے یہاں ضحکت کے معنی حاضت بھی کیا ہے یعنی ’’سیدہ سارہ کو حیض آگیا‘‘ امام راغب نے اس کی یہ وضاحت کردی ہے کہ یہ ضحکت کے معنی نہیں ہیں البتہ یہ ممکن ہے کہ بچہ کے حمل قرار پانے کی علامت کے طور پر انھیں حیض آگیا ہو اور حیض آنے کے معنی یہ تھے کہ انھیں حمل قرار پا سکتا ہے اور اولاد ہوسکتی ہے۔ ھود
72 [٨٣] اس وقت سیدہ سارہ کی عمر سو سال سے چند سال کم تھی اور حیض مدت سے بند ہوچکا تھا اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی عمر سو سال سے چند سال زائد تھی لہٰذا سیدہ سارہ کا بطور تعجب ایسے الفاظ کہنا ایک فطری امر تھا اگرچہ اس میں دل کی خوشی بھی شامل تھی۔ ھود
73 [٨٤] فرشتے کہنے لگے کہ ایک پیغمبر کی بیوی ہو کر اللہ کے کام پر تعجب کرتی ہو؟ اللہ جو چاہے وہ اس کے کرنے پر قادر ہے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے گھر والوں پر تو اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ہوتی رہیں گی جن میں سے ایک ہونے والا بچہ اسحاق کی پیدائش بھی ہے۔ ھود
74 [٨٥] سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قوم لوط پر عذاب کے بارے میں بحث :۔ اس آیت میں ’’ہم سے‘‘ سے مراد ’’ہمارے فرشتوں سے‘‘ ہے یعنی جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا خوف خوشی میں تبدیل ہوگیا تو وہ ہمارے فرشتوں سے یہ بحث کرنے لگے کہ وہاں تو لوط علیہ السلام خود بھی موجود ہیں۔ پھر تم اس بستی کو کیسے ہلاک کرو گے اور فلاں مومن بھی موجود ہے اور فلاں بھی جس سے آپ کا مقصد صرف یہ تھا کہ اگر عذاب کو موخر کردیا جائے تو شاید لوگ ایمان لے آئیں اور انھیں کچھ مزید مہلت مل جائے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نرم دل واقع ہوئے تھے اور وہ چاہتے یہ تھے کہ کسی طرح اللہ کی یہ مخلوق عذاب الٰہی سے بچ جائے۔ ھود
75 ھود
76 [٨٦] فرشتوں نے جواب دیا کہ اب اس بحث کا کچھ فائدہ نہیں اللہ تعالیٰ ان پر عذاب کا فیصلہ کرچکا ہے اور ہمیں اس نے اسی غرض کے لیے مامور کردیا ہے۔ لہٰذا اب یہ موخر نہیں ہوسکتا۔ ھود
77 [٨٧] خوش شکل فرشتے اور سیدنا لوط علیہ السلام کو خدشہ :۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے ہو کر یہ فرشتے نہایت خوبصورت جوان اور بے ریش لڑکوں کی شکل میں سیدنا لوط علیہ السلام کے پاس آئے جنہیں دیکھ کر سیدنا لوط علیہ السلام کے دل میں سخت گھٹن پیدا ہوئی کئی طرح کے خطرات ان کے سامنے منڈلانے لگے بڑا خطرہ یہی تھا کہ یہ مہمان خوبصورت لڑکے ہیں اور میری قوم جس بدکاری میں مبتلا ہے وہ انھیں کبھی چھوڑے گی نہیں اور دوسری فکر یہ تھی کہ اگر میں ان کی مدافعت بھی کرنا چاہوں تو یہ مرے بس کا روگ نہیں۔ ھود
78 [٨٨] مشٹنڈوں کا گھس آنا اور سیدنا لوط علیہ السلام کی پیش کش :۔ ان مہمانوں کی آمد کی اطلاع پاتے ہی کچھ مشٹنڈے گھر کی دیواریں پھاند کر وہاں پہنچ گئے اور سیدنا لوط علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے حوالہ کردو یہی وہ لمحہ تھا جو سیدنا لوط علیہ السلام کے لیے سوہان روح بنا ہوا تھا۔ چنانچہ سیدنا لوط علیہ السلام نے مہمانوں کا دفاع کرنے کی خاطر کہا کہ یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں میں تم سے ان کا نکاح کردیتا ہوں اور یہی تمہارے لیے پاکیزہ تر راستہ ہے اور مہمانوں کا مجھ سے مطالبہ نہ کرو۔ نہ ہی ان کے سامنے مجھے رسوا کرو اور یہ بات آپ نے اس لیے کہی کہ یہ لوگ آپ سے آپ کی بیٹیوں کے رشتہ کا مطالبہ کرچکے تھے لیکن آپ نے ان کی بری حرکات دیکھ کر ان کو رشتہ سے جواب دے دیا تھا اب مہمانوں کی اور اپنی عزت بچانے کی خاطر ان کا یہ مطالبہ بھی منظور کرلیا اور انھیں یہ عار بھی دلائی کہ کیا تم شرم و حیا اور بدکرداری کی سب حدیں پھاند گئے ہو اور تم میں کوئی بھی ایسا بھلامانس آدمی موجود نہیں رہا جو دوسروں کو سمجھا سکے یا میری بات مان لے۔ بیٹیوں سے مراد :۔ بعض مفسرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’میری بیٹیوں‘‘ سے مراد قوم کی سب بیٹیاں ہیں کیونکہ نبی پوری قوم کا روحانی باپ ہوتا ہے اور قوم کی بیٹیاں اس کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ بات بھی درست ہے مگر موقعہ کی نزاکت اسی شرح کا مطالبہ کرتی ہے جو پہلے پیش کی گئی ہے اور قرآن کے ظاہری الفاظ بھی اسی کی تائید کرتے ہیں۔ ھود
79 [٨٩] یعنی اس قوم کا مزاج اس قدر بگڑ چکا تھا کہ اخلاقی انحطاط اس قدر واقع ہوچکا تھا کہ حلال کام سے فائدہ اٹھانے میں ان کی دلچسپیاں ہی ختم ہوگئی تھیں ان کی ساری دلچسپیاں لونڈے بازی جیسے مکروہ حرام اور خلاف فطرت فعل پر ہی مرکوز ہو کر رہ گئی تھیں اور جب کوئی قوم حرام کاموں کی نہ صرف عادی ہوجائے بلکہ اس میں دلچسپی لینے اور فخر محسوس کرنے لگے تو ایسی قوم کا علاج یہی ہے کہ اسے صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرکے اللہ کی زمین کو ایسی نجاست سے پاک کردیا جائے۔ ھود
80 [٩٠] سیدنا لوط علیہ السلام کی بے بسی :۔ سیدنا لوط علیہ السلام اس علاقہ سدوم میں غریب الدیار تھے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ پہلے عراق سے ہجرت کرکے فلسطین آئے پھر جب انھیں نبوت عطا ہوئی تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے انھیں بغرض تبلیغ سدوم بھیج دیا۔ یہاں ان کا کوئی کنبہ قبیلہ بھی نہ تھا۔ بیوی بھی کافر تھی اور اسی قوم کی فرد تھی اور ان لواطت کرنے والے مشٹنڈوں سے ساز باز رکھتی تھی اور جب کوئی مہمان گھر پر آتا تو انھیں خفیہ طور پر یا اشاروں سے مطلع کردیا کرتی تھی ان فرشتوں کی آمد کی بھی اسی نے ان لوگوں کو اطلاع دی تھی۔ یہ تھا سیدنا لوط علیہ السلام کی بے بسی کا عالم کہ گھر میں بیوی بھی ان کی مخالف تھی۔ اسی بے بسی کے عالم میں ان مشٹنڈوں کے بارے میں آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے ’’کاش میں تمہارا مقابلہ کرسکتا یا کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے سکتا‘‘ یعنی اگر میرا بھی یہاں مضبوط قبیلہ یا برادری ہوتی تو شاید میں ایسا بے بس اور مجبور نہ ہوتا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ سیدنا لوط علیہ السلام کے بعد جتنے بھی انبیاء مبعوث ہوئے سب بڑے جتھے اور قبیلے والے تھے۔ ھود
81 [٩١] مشٹنڈوں کا اندھا ہونا :۔ سیدنا لوط علیہ السلام کی زبان سے ایسے بے بسی کے الفاظ سن کر فرشتے چپ نہ رہ سکے اور کہنے لگے کہ آپ اتنے پریشان نہ ہوں ہم لڑکے نہیں بلکہ آپ کے پروردگار کے فرستادہ فرشتے ہیں اور فکر نہ کرو یہ لوگ ہمیں چھیڑنا تو درکنار تمہارا بھی کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ کہنے کے بعد سیدنا جبریل علیہ السلام نے لوط علیہ السلام کو ایک علیحدہ جگہ بٹھلا دیا اور صرف اپنا بازو تھوڑا سا ان ملعونوں کی طرف بڑھایا تو سب کے سب اندھے ہوگئے انھیں کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ بھاگو یہاں سے۔ یہ لوط علیہ السلام کے مہمان تو بڑے جادوگر معلوم ہوتے ہیں اور جب وہ بھاگنے لگے تو ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔ [ ٩٢] سیدنا لوط اور مومنوں کو نکلنے کی ہدایت اور بیوی کا پیچھے رہنا :۔ جب یہ لوگ سیدنا لوط علیہ السلام کے گھر سے دفع ہوگئے تو فرشتوں نے لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کے پروگرام سے مطلع کرتے ہوئے کہا کہ راتوں رات اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکل جاؤ کیونکہ صبح کے وقت ان پر عذاب آنے والا ہے اور صبح ہونے میں تھوڑا ہی وقت باقی رہ گیا ہے لہٰذا جلد از جلد نکلنے کی کوشش کرو اور دیکھو تمہاری بیوی تمہارے ساتھ نہیں جائے گی کیونکہ وہ بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھنا مبادا کسی کو یہ خیال آجائے کہ دیکھیں تو سہی ان پر کیسے عذاب آتا ہے اور وہ بھی کہیں عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ھود
82 [٩٣] کیا قوم لوط پر عذاب آتش فشانی انفجار تھا ؟ یہ وہ عذاب الٰہی کا حکم تھا جس پر فرشتوں کو مامور کیا گیا تھا۔ جبر یل علیہ السلام نے شہر سدوم اور آس پاس کی بستیوں کو، جو ان بدکاروں کا مسکن تھا اس پورے خطہ زمین کو اکھاڑ کر اپنے پروں پر اٹھایا پھر فضا میں بلندی پر لے جا کر اس خطہ کو الٹا کر زمین پر پٹخ دیا۔ پھر اس خطہ زمین پر اوپر سے لگاتار کھل کر پتھر برسائے گئے اور پتھر بھی عام پتھر نہ تھے بلکہ مخصوص علامت والے پتھر تھے اور یہ دوہرا عذاب انھیں غضب الٰہی کی شدت کی بنا پر دیا گیا۔ بعض لوگ اس عذاب الٰہی کی یہ عقلی توجیہ پیش کرتے ہیں کہ یہ آتش فشانی انفجار تھا۔ زمین سے شدید قوت کے ساتھ لاوا پھوٹا جس نے اس خطہ زمین کو اوپر اٹھا لیا جو بعد میں نیچے گرگیا ۔ پھر اسی لاوا کا مائع مادہ فضا میں پہنچ کر منجمد ہو کر کھنگروں کی صورت میں اس خطہ زمین پر برسا تھا۔ یہ توجیہ ویسے تو دل لگتی ہے۔ مگر ہمیں اس توجیہ کو قبول کرنے میں تامل ہے یہ محض ایک طبعی واقعہ نہیں تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے خاص اسی مقصد کے لیے بھیجے تھے جس کی صراحت ان آیات میں موجود ہے البتہ دوسری قوموں پر جو عذاب آتے رہے انھیں طبعی اسباب کے تحت قرار دیاجا سکتا ہے اگرچہ وہ واقعات بھی اللہ کے حکم اور اس کی مشیئت کے تحت ہی واقع ہوئے تھے۔ ھود
83 [٩٤] اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک کی تو ترجمہ میں ہی قوسین کے ذریعہ وضاحت کردی گئی ہے اس صورت میں خطہ سے مراد قوم لوط کا تباہ شدہ خطہ اور ظالموں سے مراد دور نبوی کے منکرین حق ہیں یعنی یہ برباد شدہ علاقہ ان ظالموں سے کچھ دور نہیں یہ سب کچھ وہ بچشم خود ملاحظہ کرسکتے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسا عذاب کچھ قوم لوط علیہ السلام سے ہی مخصوص نہیں بلکہ ظالموں اور منکرین حق اور بدکرداروں کو آج بھی ایسا عذاب دینے پر اللہ تعالیٰ پوری قدرت رکھتا ہے اور یہ کوئی بعید از عقل بات نہیں۔ ھود
84 [٩٥] شرک ام الامراض ہے :۔ سیدنا شعیب علیہ السلام کا قصہ بھی سورۃ اعراف کی آیت نمبر ٨٤ تا ٩٥ میں گذر چکا ہے لہٰذا وہ حواشی بھی پیش نظر رکھنے چاہئیں۔ شرک ایسی بیماری ہے جو تقریباً ہر قوم میں پائی جاتی ہے اور بالخصوص ان اقوام میں ضرور موجود تھی جن کی طرف انبیاء مبعوث ہوتے رہے باقی تمام اخلاقی اور معاشرتی بیماریاں اور برائیاں اسی شرک سے ہی پھوٹتی ہیں گویا جس طرح جسمانی بیماریوں میں قبض کو ام الامراض قرار دیا گیا ہے اسی طرح روحانی بیماریوں میں شرک ام الامراض ہے۔ شرک سے اجتناب اور توحید کے عقیدہ سے معاشرہ کی اصلاح کیسے ہوتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت کا پہلا ہدف یہی مرض رہا ہے انبیاء شرک کی تردید کے ساتھ ساتھ توحید کی دعوت دیتے اور ایمان لانے والوں میں اللہ کی صحیح معرفت پیدا کرتے ہیں جس سے دلوں میں تقویٰ یا خشیت الٰہی پیدا ہوتا ہے اور یہ تقویٰ ہی ایسی چیز ہے جو تمام معاشرتی اور اخلاقی بیماریوں کے لئے شفا کا حکم رکھتا ہے۔ شرک کے علاوہ بعض قوموں میں بعض مخصوص برائیاں بھی ہوتی ہیں جیسے قوم لوط جو لونڈے بازی کی لعنت میں گرفتار تھے۔ قوم شعیب تجارتی کاروبار میں بے ایمانی کرتے تھے۔ قوم فرعون نے بنواسرائیل پر قیامت ڈھا رکھی تھی۔ شرک کے بعد انبیاء کی دعوت کا دوسرا ہدف ایسی ہی مخصوص بیماریاں ہوتی ہیں۔ اہل مدین دو تجارتی شاہراہوں کے چوک میں واقع تھے اور یہ علاقہ اس وجہ سے نہایت اہم تجارتی مرکز بن گیا تھا۔ یہ لوگ صرف ناپ تول کے پیمانوں میں ہی ہاتھ کی صفائی نہیں دکھاتے تھے بلکہ ہر وہ بددیانتی کرنا جانتے تھے جس کی وجہ سے دوسرے کا حق مارا جاسکے۔ اسی لیے شعیب علیہ السلام نے شرک کے بعد انھیں ایسی ہی تجارتی بددیانتیاں چھوڑنے کی نصیحت کی اور ان کی یہی کرتوتیں فساد فی الارض کے مترادف تھیں جن کے ذریعہ وہ دوسروں کے حق غصب کیا کرتے تھے۔ ھود
85 ھود
86 [٩٦] یعنی اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ ہو تمہیں بددیانتی کرنے کی کچھ ضرورت بھی نہیں لہٰذا جتنا منافع حلال ذرائع سے حاصل ہوتا ہے اسے کافی سمجھو اسی میں اللہ برکت عطا فرمائے گا۔ اگر تم یہ باتیں مان کر ان پر عمل کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور یہ سب کام اللہ سے ڈرتے ہوئے کرو میں تمہارا محتسب نہیں ہوں کہ یہ دیکھتا رہوں کہ کون کم تولتا ہے اور کون پورا ماپتا ہے اور کون سودے بازی میں بددیانتی کر رہا ہے اور کون نہیں کر رہا۔ اس جملے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور میری بس اتنی ہی ذمہ داری تھی تمہیں راہ راست پہ لاکے چھوڑنا میری ذمہ داری نہیں۔ ھود
87 [٩٧] ٹھیک طرح سے نماز ادا کرنے کے اثرات :۔ نماز اگر فی الواقع سوچ سمجھ کر اور خشوع و خضوع سے ادا کی جائے تو فی الواقع وہی باتیں سکھلاتی ہے جن کی قوم شعیب کو سمجھ آگئی تھی۔ مگر افسوس ہے کہ ہم مسلمانوں کو ان باتوں کی بھی سمجھ نہیں آتی جو مدین والے سمجھ گئے تھے نماز انسان میں تقویٰ پیدا کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور تقویٰ ہی وہ چیز ہے جو انسان کو ہر طرح کی اعتقادی، اخلاقی اور معاشرتی برائیوں سے بچاتا ہے۔ غور فرمائیے کہ جو انسان ایک دن میں بیسیوں دفعہ سوچ سمجھ کراِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پڑھے گا وہ مشرک رہ سکتا ہے جو انسان دن میں بیسیوں دفعہ اللہ کے آگے سجدہ ریز ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے وہ کیا اپنے کام کاج اور کاروبار کے وقت اللہ کو یاد نہ رکھے گا اور بددیانتیاں ترک نہ کردے گا اور حرام و حلال کی تمیز اسے ملحوظ نہ رہے گی؟ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا : ﴿اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ (۹تا۴۵) اور فحشاء اور منکر کے الفاظ کے مفہوم میں اتنی وسعت ہے کہ ہر طرح کی برائیاں ان میں آجاتی ہیں بالفاظ دیگر نماز کی صحت کا معیار ہی یہ ہے کہ انسان میں تقویٰ پیدا ہو وہ ہر طرح کی برائیاں چھوڑ دے اور نیکی کے کاموں کی طرف راغب ہو اور کسی شخص میں نماز ایسا اثر پیدا نہیں کرتی تو سمجھ لیجئے کہ وہ نماز ادا نہیں کرتا بلکہ بے گار کاٹتا ہے۔ [ ٩٨] کیا نماز اور عبادت اللہ اور بندے کا پرائیویٹ معاملہ ہے؟ ان لوگوں کا اپنے مال میں تصرف کا مطلب یہ تھا کہ ہم جن جائز اور ناجائز ذرائع سے مال کمائیں یا جن کاموں میں ہم چاہیں خرچ کریں ہم پر کچھ پابندی نہ ہونا چاہیے اگر تم نمازیں پڑھتے ہو تو پڑھو مگر ہمیں کیوں اس سلسلہ میں تنگ کرتے ہو کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھلاتی ہے کہ اسے دوسروں پر بھی لاگو کرو۔ تم تو اچھے بھلے سمجھ دار آدمی ہو یہ دوسروں کے معاملات میں دخل دینا بھلا کون سی عقل مندی ہے گویا عبادات کے متعلق ان لوگوں کا نظریہ وہی تھا جو آج کل کی اس دنیا کا ہے جسے مہذب سمجھا جاتا ہے یعنی عبادت بندے اور خدا کا ذاتی اور پرائیویٹ معاملہ ہے اور اسے دنیوی معاملات میں اثر انداز نہ ہونا چاہیے گویا وہی پرانی جاہلیت پھر سے نئی روشنی کی صورت میں عود کر آئی ہے۔ ھود
88 [٩٩] یہ واضح دلیل وہی داعیہ فطرت ہے جو ہر انسان کے تحت الشعور میں موجود ہے پھر جو لوگ اللہ کی ہر سو پھیلی ہوئی نشانیوں میں غور و فکر کرتے ہیں ان میں یہ داعیہ تحت الشعور سے شعور میں آجاتا ہے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔ [ ١٠٠] رزق حسن سے مراد :۔ یہاں رزق حسن سے مراد نبوت اور علم وحی ہے اور اگر رزق سے مراد ظاہری حلال اور پاکیزہ رزق یا مال و دولت ہی لیا جائے تو بھی اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں تمہاری بددیانتیوں کے معاملہ میں تمہارا حامی کیسے بن سکتا ہوں بھلا کیا میں ایسے کام کرسکتا ہوں جن سے تمہیں روکتا ہوں۔ میں تو تمہاری بھی اصلاح چاہتا ہوں پھر میں ایسے کام کیوں کروں گا اور میں اپنے اس عزم پر قائم رہنے کی اللہ سے توفیق چاہتا ہوں اور ہر پریشانی کے وقت اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ ھود
89 [١٠١] اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مختلف اوقات میں شعیب علیہ السلام اور ان کی قوم میں یہ مکالمات ہوتے رہے یہ کوئی ٹھنڈے ماحول میں نہیں ہو رہے تھے بلکہ آپ کی قوم آپ کی مخالفت میں ہٹ دھرمی پر اتر آئی تھی۔ یعنی ایسی ہٹ دھرمی جس میں انسان مخاطب کی درست بات کا بھی الٹا ہی اثر لینا شروع کردیتا ہے اسی لیے آپ نے انھیں فرمایا کہ میری مخالفت میں مشتعل ہو کر اور چڑ کر کہیں پہلے سے بھی زیادہ شرک اور کاروباری بددیانتیوں میں مستغرق نہ ہوجانا حتیٰ کہ تم اس حالت کو پہنچ جاؤ کہ تم اس عذاب الٰہی کے مستحق قرار دیئے جاؤ جو تمہاری پیشرو قوموں پر آچکا ہے جن میں سے قوم لوط علیہ السلام کا تباہ شدہ خطہ تو تم سے کچھ دور بھی نہیں اور اسے کسی بھی وقت دیکھ سکتے ہو اور پھر زمانی لحاظ سے بھی کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا اور تمہارے بڑے بزرگ تمہیں اس قوم کے حالات سنا بھی سکتے ہیں۔ ھود
90 [١٠٢] تمہارے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ میری باتوں پر مشتعل ہونے اور چڑنے کے بجائے اللہ سے اپنے پہلے گناہوں کی معافی مانگو اور آئندہ ایسے کام نہ کرنے کا اللہ سے عہد کرو۔ پھر صرف یہی نہیں کہ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا بلکہ تم سے خوش ہوگا اور تم سے محبت بھی کرنے لگے گا۔ ھود
91 [١٠٣] حرام خور کو حلال کمانا بہت مشکل ہوتا ہے :۔ یعنی یہ جو تم کاروبار میں سچائی، راست بازی اور دیانتداری کی باتیں کرتے ہو اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمارا سارا کاروبار ہی مندا پڑجائے گا۔ مارکیٹ میں مقابلہ بڑا سخت ہے اگر ہم یہ کام نہ کریں گے تو کمائیں گے کیا اور کھائیں گے کیا ؟ لہٰذا یہ نصیحتیں تم اپنے پاس ہی رکھو ہم اگر ایسی دیانتداری سے کام لیں جیسی تم کہتے ہو تو ہمارا تو سارا کاروبار ہی ٹھپ ہوجائے گا اور ایک دن بھی نہ چل سکے گا۔ تمہاری یہ باتیں ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ اور واقعہ ہے بھی یہی کہ جب انسان حرام ذرائع سے مال کمانے کا عادی ہوجاتا ہے تو اس کے لیے حلال ذریعہ سے مال کمانا اتنا ہی دشوار نظر آتا ہے جتنا کسی بلند پہاڑ پر چڑھنا۔ یہاں حسب حال مجھے ایک واقعہ یاد آگیا ہے ایک گوالے کا بیٹا کچھ دین کا علم پڑھ گیا۔ لڑکا نیک تھا ایک دن اپنے باپ سے کہنے لگا : ’’ابا ! دودھ میں پانی ملانا چھوڑ دو اور بے شک دودھ کچھ مہنگا بیچ لیا کرو۔‘‘ باپ نے بیٹے کو تلخ لہجے میں جواب دیا چل دفع ہو تم تو کسی گوالے کے بیٹے ہی نہیں ہو۔ اس مختصر سے واقعہ سے ایک حرام خور کی پوری ذہنیت سمجھ میں آجاتی ہے۔ یہی ذہنیت شعیب علیہ السلام کی قوم کی تھی جنہوں نے اپنے پیغمبر کو یوں جواب دیا تھا کہ ”تمہاری ان باتوں کی ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی‘‘ [ ١٠٤] سیدنا شعیب علیہ السلام کو دھمکی :۔ تمہاری برادری کا ہمیں پاس ہے جو ہمارے ہی ہم خیال ہیں اگر یہ نہ ہوتے تو تم تو ایک کمزور سے آدمی ہو جس طرح تم نے ہمیں ستا رکھا ہے کب کا ہم نے تمہیں سنگسار کردیا ہوتا۔ تمہیں ہم اپنے مقابلے میں کیا سمجھتے ہیں؟ ھود
92 [١٠٥] گویا تم میری برادری کے دباؤ کے تحت میرا لحاظ کر رہے ہو جو ابھی تک مجھے سنگسار نہیں کیا حالانکہ حقیقت میں اصل دباؤ تو اس اللہ کا سمجھنا چاہیے جس کے قبضہ قدرت میں کائنات کی ایک ایک چیز ہے اور تم خود بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہو جس کا تمہیں کبھی بھولے سے بھی خیال نہیں آتا۔ اور اگر تمہیں میری باتیں اتنی ہی ناگوار معلوم ہوتی ہیں تو جو کچھ کر رہے ہو کیے جاؤ بہرحال میں تو اپنا کام جاری رکھوں گا۔ تاآنکہ اللہ تعالیٰ خود ہی کوئی فیصلہ کی ایسی صورت پیدا کردے جس سے ہر ایک کو معلوم ہوجائے کہ ہم میں راہ راست پر کون تھا اور غلط کار کون؟ ھود
93 ھود
94 [١٠٦] اہل مدین پر عذاب کی نوعیت :۔ یہاں قوم شعیب کا چنگھاڑ (فرشتہ کی چیخ) سے ہلاک ہونا مذکور ہے اور اعراف میں زلزلہ کا ذکر ہوا ہے اور سورۃ شعراء میں عذاب یوم الظلۃ کا ذکر ہے یعنی عذاب کے بادل سائبان کی طرح ان پر محیط ہوگئے تھے گویا اس قوم پر تینوں قسم کا عذاب آیا ہے اور قرآن نے ہر مقام پر صرف اس عذاب کا ذکر فرمایا جیسا کہ مضمون چل رہا تھا مثلاً اس سورۃ میں قوم کا لہجہ تلخ اور باتیں گستاخانہ تھیں جو سنگسار کرنے کی دھمکی دے رہے تھے تو یہاں سخت قسم کے جگر خراش عذاب یعنی چنگھاڑ کا ذکر فرمایا سورۃ اعراف میں یہ ذکر تھا کہ قوم نے دھمکی دی تھی کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اس سرزمین سے نکال دیں گے تو وہ خود اسی سر زمین کے زلزلے سے ہلاک ہوئے تھے اور سورۃ شعراء میں یہ مضمون ہے کہ قوم نے شعیب علیہ السلام سے کہا : ’’اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو‘‘ اسی مناسبت سے وہاں عذاب کے بادلوں کا ذکر فرمایا اور یہ ممکن ہے کہ ہر مقام پر عذاب کی مختلف اوقات کی کیفیت مذکور ہو۔ [ ١٠٧] اس سہ گونہ عذاب سے وہ اپنے اپنے گھروں میں ہی مرگئے اور اوندھے منہ زمین سے اس لیے چمٹ گئے تھے کہ عذاب کی تکلیف کچھ کم محسوس ہو اور ان کا یہ علاقہ یوں ویران اور بے آباد نظر آتا تھا جیسے کبھی کوئی وہاں آباد ہوا ہی نہ تھا۔ ھود
95 ھود
96 [١٠٨] فرعون کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعوت :۔ سورۃ بقرہ اور پھر سورۃ اعراف میں موسیٰ علیہ السلام کے حالات اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے بیان فرمائے۔ لیکن یہاں نہایت اختصار کے ساتھ ان کی دعوت اور اس کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اجمال ہو یا تفصیل کسی واقعہ سے اصل مقصود تو انسان کا اس واقعہ سے یا بدکرداروں کے انجام سے عبرت حاصل کرنا ہے اور وہ ان تین آیات میں بھی ذکر کردیا گیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام خود بڑے مضبوط جسم کے، طاقتور، جرأت مند اور جلالی طبیعت کے مالک تھے اور انھیں جس جابر و قاہر بادشاہ کی طرف بھیجا گیا اس کی نخوت اور قہر مانی کا یہ عالم تھا کہ خود خدا بنا بیٹھا تھا اور اس کی رعایا اسے فی الواقع اپنا خدا تسلیم کرتی تھی۔ اسی لیے آپ کو نبوت کے ساتھ ہی دو ایسے واضح معجزے بھی بن مانگے عطا کیے گئے تھے جن کی بنا پر آپ فرعون جیسے دبدبہ اور شان و شوکت والے بادشاہ کے سامنے کھل کر اپنی دعوت پیش کرنے کے قابل ہوگئے چنانچہ آپ بلاروک ٹوک فرعون کے کھلے دربار میں چلے گئے اور سب درباریوں کے سامنے اسے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا کہ وہ ایک اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرلے اور اپنی خدائی کے دعویٰ سے دستبردار ہوجائے اور بنی اسرائیل پر ظلم کرنا چھوڑ دے اور انھیں اپنی غلامی سے آزاد کرکے انھیں (سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے) ہمراہ کردے۔ ھود
97 [١٠٩] اس دعوت کو قبول کرنے کا اثر صرف فرعون پر ہی نہیں پڑتا تھا بلکہ اس کے درباریوں پر بھی پڑتا تھا اور ہر ایک کو اپنے اپنے مناصب سے دستبردار ہونا پڑتا تھا لہٰذا ان سب نے موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا حالانکہ ان سب کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ فرعون نے بنی اسرائیل پر جو انسانیت سوز مظالم ڈھا رکھے ہیں وہ کسی لحاظ سے بھی درست نہیں ہیں اور موسیٰ علیہ السلام اپنے اس مطالبہ میں راستی پر ہیں۔ ھود
98 [١١٠] دنیوی اعمال کے اخروی نتائج میں مماثلت :۔ اس مقام پر قصہ موسیٰ علیہ السلام و فرعون کی سب تفصیلات چھوڑ دی گئی ہیں نہ ہی یہ ذکر ہے کہ اس دنیا میں فرعون اور اس کے درباریوں اور پیروکاروں کا کیا انجام ہوا بلکہ ان لوگوں کا قیامت کے دن جو حال ہوگا اس کا نقشہ پیش کیا گیا ہے اور بتلایا گیا ہے کہ جس طرح اس دنیا میں فرعون اپنے پیروکاروں کا لیڈر بنا ہوا ہے اسی طرح قیامت کے دن بھی اپنے پیروکاروں کی قیادت کر رہا ہوگا لیکن آج تو فرعون کے پیروکاروں کو یہ نظر نہیں آرہا کہ فرعون انھیں اس ہلاکت کے گڑھے کی طرف لیے جارہا ہے لیکن قیامت کو ان سب کو یہ نظر آرہا ہوگا کہ وہ انھیں جہنم کی طرف لیے جارہا ہے لیکن اس وقت وہ اس کی پیروی کرنے پر مجبور ہوں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیوی اعمال کی ان کے اخروی نتائج کے ساتھ غایت درجہ کی مماثلت ہوگی اور انسان اس دنیا میں تو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے مگر ان کاموں کے نتائج اس کے اختیار میں نہیں ہوتے بلکہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہوتے ہیں لہٰذا اس دن وہ اس کے پیچھے پیچھے چلنے پر مجبور ہوں گے۔ پھر قیامت کے دن ایسی قیادت صرف فرعون سے ہی مختص نہ ہوگی بلکہ ہر قائد کا الگ الگ جھنڈا ہوگا اور وہ اپنے پیروکاروں کے آگے آگے چل کر انھیں ان کی منزل تک لے جائے گا اگر کوئی قائد دنیا میں اللہ کا فرمانبردار اور نیک بخت تھا تو وہ اپنے پیروکاروں کو لیے ہوئے جنت کی طرف روانہ ہوگا اور بدکردار لیڈر اپنے پیروکاروں کو جہنم کی طرف لے جارہے ہوں گے۔ [ ١١١] ورد کے لغوی معنی :۔ وَرَدَ کے معنی ہیں پانی پینے کے لیے پانی کے مقام یا گھاٹ پر پہنچنا اور اس کی ضد صَدَرَ ہے یعنی پانی پی کر اور سیراب ہو کر پانی کے مقام سے واپس جانا اور ورد گھاٹ کو بھی کہتے ہیں۔ یعنی فرعون اپنے پیروکاروں سمیت نکلا تو ہوگا پانی کی تلاش میں مگر یہ لوگ جا پہنچیں گے جہنم کے کنارے پر۔ یعنی دنیا میں بھی یہ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کا انکار کرکے اپنی بھلائی چاہ رہے تھے اور ان کی یہ غلط سوچ دنیا میں بھی ان کی ہلاکت کا سبب بن گئی تھی اور آخرت میں بھی ان کی سوچ کچھ اور ہوگی اور نتیجہ ہلاکت ہوگا۔ ھود
99 ھود
100 ھود
101 [١١٢] یعنی جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو عابد اور معبودان باطل میں کچھ امتیاز نہیں کرتا۔ معبود جب اپنے آپ کو بھی اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکتے تو وہ اپنے پیرکاروں کو کیسے بچا سکتے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر جو قابل غور بات ہے وہ یہ ہے کہ انہی معبودوں کی وجہ سے ہی تو پیروکاروں پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ پھر ان معبودوں کے ضررر ساں اور تباہ کار ہونے میں شبہ کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟ ھود
102 [١١٣] یعنی اللہ ظالم لوگوں کو مہلت دیئے جاتا ہے اور مہلت سے مقصود تنبیہ بھی ہوتا ہے اور اتمام حجت بھی۔ لیکن جس قوم پر اتمام حجت ہوچکے اور تنبیہات بھی سود مند ثابت نہ ہوں اور ان لوگوں میں خیر اور بھلائی کو قبول کرنے کی استعداد ہی باقی نہ رہے تو پھر اس وقت ان پر ایسا قہر الٰہی نازل ہوتا ہے جو ان کے لیے سخت تکلیف دہ بھی ہوتا ہے اور جان لیوا بھی۔ اور اس عذاب سے بسا اوقات اس قوم کا نام و نشان ہی صفحہ ہستی سے مٹادیا جاتا ہے۔ ھود
103 [١١٤] یعنی قوموں کے عروج و زوال کی داستان یا عروج و زوال کے قانون سے عبرت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جن میں اللہ کا خوف ہوتا ہے اور آخرت میں اللہ کے حضور جواب دہی کے تصور سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ واقعات انھیں اللہ کی نافرمانی سے باز رکھنے میں موثر ثابت ہوتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو نہ اللہ سے ڈرتے ہیں نہ آخرت کے عذاب سے تو وہ ایسے عبرت انگیز واقعات سرسری طور پر پڑھ کر یا دیکھ کر انھیں اتفاقات زمانہ سے متعلق کردیتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ ان کی مادی یا طبیعی توجیہات تلاش کرنے لگتے ہیں۔ [١١٥] یوم مشہود کا ایک ترجمہ یہ بھی کیا گیا ہے کہ اس دن سب لوگوں کو حاضر کیا جائے گا یعنی تمام لوگ اس دن صرف جمع ہی نہیں کیے جائیں گے بلکہ انھیں باز پرس کے لیے اللہ کے سامنے حاضر بھی کیا جائے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے مقدمات پر شہادتیں قائم کی جائیں گی اور سب کارروائی تمام لوگوں کی موجودگی میں کی جائے گی۔ ھود
104 [١١٦] قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہوگی :۔ حدیث میں ہے کہ ''لاَتَقُوْمُ السَّاعَۃُ الاَّ عَلٰی شَرَار النَّاسِ''یعنی قیامت اس وقت قائم ہوگی جب برائی اتنی عام ہوجائے گی کہ تمام نیک لوگ دنیا سے اٹھ جائیں گے یا اٹھا لیے جائیں گے قیامت کی بہت سی نشانیاں تو احادیث میں مذکور ہیں مگر اس کا معین وقت کسی کو نہیں بتلایا گیا اور نہ ہی کسی کو اس کی موت کا وقت بتلایا گیا ہے اس لیے یہ باتیں اللہ کی مشیئت کے خلاف ہیں اور اس سے وہ مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے جس کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔ ھود
105 [١١٧] اللہ کے ہاں سفارش کی کڑی شرائط :۔ اس آیت سے ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے جو اپنے بزرگوں کی سفارش پر تکیہ لگائے بیٹھے ہیں ہمیں اولیاء کے تذکروں میں بکثرت ایسی حکایات ملتی ہیں کہ فلاں بزرگ اکڑ کر بیٹھ جائیں گے اور اپنے ایک ایک مرید کو بخشوائے بغیر راضی نہ ہوں گے اور نہ خود جنت میں داخل ہوں گے اور بالآخر وہ اللہ میاں کو اپنی بات منوا کے ہی چھوڑیں گے حالانکہ وہ دن ایسا سخت ہوگا کہ انبیاء بھی اللہ کے حضور لوگوں کی سفارش کرنے سے ہچکچائیں گے اور بالآخر قرعہ فال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے گا اور وہی اللہ کے حضور سفارش کریں گے۔ بلاشبہ دوسرے انبیاء اور بعض دوسرے نیک لوگوں کی سفارش کرنا بھی احادیث سے ثابت ہے مگر اس سفارش کے لیے بڑی کڑی شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ صرف وہی شخص سفارش کرسکے گا جس کو اللہ کی طرف سے اجازت حاصل ہوگی اور وہ بھی صرف اس شخص کے حق میں سفارش کرسکے گا جس کے حق میں اللہ کو منظور ہوگا اور خاص اس جرم کے لیے جس کی سفارش اللہ کو منظور ہوگی لہٰذا ایسی سفارش پر بھروسہ کرنے والوں کو وہاں سخت مایوسی سے دو چار ہونا پڑے گا۔ ھود
106 [١١٨] اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک تو وہی ہے جو ترجمہ میں بیان کیا گیا ہے اور یہ مطلب قرآن کے دوسرے مقامات سے بھی ثابت ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جہنم کے بھڑکنے سے ایسی جگر خراش آوازیں پیدا ہوں گی جو ان بدبختوں کی مصیبت اور گھبراہٹ میں مزید اضافہ کرتی جائیں گی اور یہ مطلب بھی قرآن کے دوسرے مقامات سے ثابت ہے۔ ھود
107 [١١٩] یہ الفاظ بطور محاورہ استعمال کیے گئے ہیں کیونکہ اہل عرب دوام اور لا محدود مدت بیان کرنے کے لیے یہی الفاظ استعمال کرتے تھے ورنہ یہ موجودہ زمین و آسمان تو قیامت کے وقت ختم کردیے جائیں گے۔ البتہ ظاہری الفاظ کا لحاظ رکھتے ہوئے ان سے عالم اخروی کے زمین و آسمان مراد لیے جاسکتے ہیں۔ [١٢٠] کیا اعمال کے نتائج ناقابل تبدل ہیں؟ اس آیت میں ان گمراہ لوگوں کا رد ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ نے اشیاء میں جو تاثیریں رکھ دی ہیں انہی کے مطابق ہی افعال کے نتائج برآمد ہوتے ہیں اور ان میں ردو بدل ناممکن ہے یہ عقیدہ دراصل اللہ کی قدرت کاملہ کا انکار ہے وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے زہر کھالیا ہے تو وہ لازماً مر جائے گا اور موت ایسی یقینی ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ جبکہ اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر اللہ چاہے تو زہر کھانے والے کو بھی بچا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر اللہ چاہے تو کسی مجرم کو تھوڑی بہت سزا دے کر یا سزا دئیے بغیر ہی معاف کرسکتا ہے۔ ھود
108 ھود
109 [١٢١] یہ خطاب رسول اللہ کو محض تاکید مزید کے لیے ہے ورنہ خطاب عام لوگوں کو ہے نبی تو دوسرے لوگوں کے بھی اس قسم کے شکوک رفع کرتا ہے وہ خود کیسے اس قسم کے شک میں مبتلا ہوسکتا ہے؟ [١٢٢] مشرکانہ عقائد نقل، عقل اور تجربہ کے مطابق غلط ہیں :۔ یعنی جب قوم پر عذاب آیا تو ان کے بت، مجاور اور آستانے انھیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے تو اب ان کفار مکہ کے معبود انھیں کیسے بچا سکتے ہیں یا ان کی حمایت کرسکتے ہیں؟ لہٰذا جو کچھ عقائد ان لوگوں نے اپنے معبودوں سے متعلق قائم کر رکھے ہیں وہ عقل اور تجربہ کی کسوٹی پر غلط ثابت ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ جو کچھ ہو رہا ہے محض اندھی تقلید کی بنا پر ہو رہا ہے اور ہم ایسے لوگوں کو پوری پوری سزا دیں گے۔ ھود
110 [١٢٣] کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں اختلاف کی صورتیں :۔ یعنی جس طرح آج قرآن کے بارے میں اختلاف کیا جارہا ہے۔ کوئی کہتا ہے، یہ پہلوں کی کہانیاں ہیں کوئی کہتا ہے، کہ یہ بیان کی جادوگری ہے کوئی کہتا ہے، کہ قرآن اس نبی کا تصنیف کردہ ہے، کوئی کہتا ہے، کہ یہ کسی دوسرے سے سیکھ کر یہ قرآن پیش کر رہا ہے اور ایک حق پرست گروہ اسے منزل من اللہ بھی سمجھتا ہے، اسی طرح تورات میں بھی اختلاف کیا گیا تھا اور لوگوں کا یہ جرم اتنا شدید ہے جس پر انھیں فوری طور پر ہلاک کیا جاسکتا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت اور لوگوں کی آزمائش کے لیے ایک مدت مقرر رکھی ہے اس لیے فوری طور پر نہ قوم موسیٰ ہلاک کی گئی تھی اور نہ آپ کی قوم کو ہلاک کیا جائے گا ان کے انکار کے باوجود اس کتاب میں ایسے بصیرت افروز دلائل ضرور موجود ہیں جنہوں نے ان کے دلوں میں اس کی سچائی کے متعلق شک ڈال کر انھیں بے چین کر رکھا ہے۔ ھود
111 ھود
112 [١٢٤] یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین بھی مخالفین کی باتوں کی قطعاً پروا نہ کریں اور اللہ کے حکم بجالانے کے لیے مضبوطی سے ڈٹ جائیں اور اس کی قائم کردہ حدود کا پورا پورا خیال رکھیں، ان سے تجاوز نہ کریں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایک ایک فرد سے اور تمہارے تمام تر اعمال سے پوری طرح خبردار ہے۔ ھود
113 [١٢٥] کافروں سے سمجھوتہ یا دوستی کی ممانعت :۔ پہلی آیت میں ہدایات ایجابی قسم کی تھیں اور اس آیت میں سلبی قسم کی ہیں اور یہ بھی ایمان کا تقاضا ہیں یعنی اپنے مخالفوں اور اسلام دشمنوں سے دین کی باتوں میں کسی بات پر لچک پیدا نہ کرنا، نہ ان سے سمجھوتہ کیا جائے اور نہ ہی ان میں سے کسی کو دوست سمجھا یا بنایا جائے۔ اگر ان میں سے تم لوگوں نے کوئی کام بھی کیا تو وہ تمہیں بھی لے ڈوبیں گے اس صورت میں تم اللہ کی گرفت سے بچ نہ سکو گے اور نہ ہی اللہ کے سوا کوئی دوسری طاقت تمہاری کچھ مدد کرسکے گی۔ ھود
114 [١٢٦] نیکیوں سے برائیوں کا دور ہونا :۔ دن کے اطراف سے مراد صبح اور مغرب کی نماز ہے اور کچھ رات گئے سے عشاء کی نماز مراد ہے۔ گویا اس آیت سے یہ تین نمازیں ثابت ہوئیں اور نماز اگر مکمل آداب کے ساتھ ادا کی جائے تو انسان کے چھوٹے چھوٹے گناہ از خود معاف ہوجاتے ہیں جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے : ١۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک (انصاری) عورت کا بوسہ لے لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اپنا گناہ بیان کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (یہ آیت سننے کے بعد) اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کیا یہ امر (نماز سے صغیرہ گناہوں کا معاف ہوجانا) خاص میرے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’نہیں بلکہ میری امت سے جو بھی ایسا کرے‘‘ (بخاری، کتاب التفسیر) (مسلم، کتاب التوبہ، باب ﴿اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ ﴾ میں یہ واقعہ ذرا تفصیل سے ہے) ٢۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ علیہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’آدمی کی آزمائش اس کی بیوی، اس کے مال، اس کی اولاد اور اس کے پڑوسی میں ہوتی ہے اور نماز، روزہ، صدقہ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر ان کا کفارہ بن جاتے ہیں‘‘ (بخاری، کتاب مواقیت الصلوۃ۔ باب الصلوۃ کفارۃ) ٣۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پانچوں نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں جبکہ وہ بڑے گناہوں سے اجتناب کرتا رہے‘‘ (مسلم، کتاب الطھارۃ، باب فضل الوضوء والصلوۃ عقبہ ) ٤۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بھلا بتاؤ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر بہتی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار نہا لیا کرے تو کیا اس کے جسم پر کچھ میل کچیل باقی رہ جائے گا ؟“ لوگوں نے جواب دیا،”نہیں ذرا بھی نہیں رہے گا“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے اللہ ان کے ذریعہ گناہ مٹا دیتا ہے‘‘ (بخاری، کتاب مواقیت الصلوۃ باب فضل الصلوۃ لوقتھا) نیکیوں سے برائیوں کے دور ہونے کی تین صورتیں :۔ اور نیکیوں سے برائیاں دور ہونے کی تین صورتیں ہیں ایک یہ کہ جو شخص نیکیاں بکثرت کرے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ دوسری یہ کہ اس سے برائی کی عادت چھوٹ جاتی ہے اور تیسری یہ کہ جس معاشرہ میں نیکی کے کام بکثرت ہو رہے ہوں برائیاں از خود وہاں سے رخصت ہونے لگتی ہیں اور سر نہیں اٹھا سکتیں۔ [١٢٧] یعنی تمہیں نیک بنانے اور برائیوں سے بچانے کا بہترین ذریعہ نماز ہے جس سے اللہ کی یاد تازہ ہوتی رہتی ہے اسی کی طاقت سے تم بدی کی انفرادی اور اجتماعی قوتوں کا مقابلہ کرسکتے ہو۔ ھود
115 [١٢٨] اس سے پہلی آیت میں نماز کی تاکید اور اس کے فوائد بیان کیے گئے تھے اور اس آیت میں صبر کی تلقین کی جارہی ہے اور یہی دو چیزیں ہیں جن کے متعلق مسلمانوں کو آڑے اور مشکل وقت میں اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ جیسا کہ سورۃ بقرہ میں فرمایا: ﴿وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ﴾ ھود
116 [١٢٩] عذاب کے متعلق اللہ کا قانون :۔ ان دو آیات میں قوموں کے عروج و زوال یا کسی قوم پر اللہ تعالیٰ کی گرفت کا ضابطہ بیان فرمایا گیا ہے، ہوتا یہ ہے کہ جب کبھی کوئی نبی مبعوث ہوتا اور لوگوں کو ایمان لانے اور بھلے کاموں کی دعوت دیتا ہے تو معرکہ حق و باطل شروع ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں اللہ مجرموں کو ہلاک کردیتا ہے اور اہل ایمان کو بچا لیتا ہے۔ پھر ان بچے ہوئے اہل ایمان کی اولاد میں پھر سے برائی جنم لینے لگتی ہے اگر اس برائی کا پوری قوت سے سرتوڑ دیا جائے تو معاشرہ عذاب سے بچا رہتا ہے لیکن اگر غفلت کی جائے تو برائی عام ہوجاتی ہے اور اہل اصلاح و خیر تھوڑے ہی لوگ رہ جاتے ہیں۔ پھر اگر یہ اہل خیر نہی عن المنکر کا فریضہ اپنی حسب توفیق سرانجام دیتے ہیں تو بھی ان نیک لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے اللہ کی طرف سے عذاب نہیں آتا۔ لیکن اگر یہ اہل خیر اتنے کمزور ثابت ہوں کہ نہی عن المنکر سے غفلت برتنے لگیں یا اتنے تھوڑے رہ جائیں کہ ان کی آواز غیر موثر ہو کر رہ جائے اور برائی عام ہوجائے اور خوشحال لوگ اپنی عیش کوشیوں میں ہی پڑے رہیں تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا عذاب آ جاتا ہے جو غفلت شعار اہل خیر کو بھی نہیں چھوڑتا اور اس طرح گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے اور اگر اہل خیر اپنی مقدور بھر برائی کے استیصال میں کوشاں رہے ہوں تو پھر یا تو عذاب آتا ہی نہیں یا پھر اللہ انھیں بچانے کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا کردیتا ہے۔ ھود
117 [١٣٠] اہل خیر کی موجودگی میں اللہ کا عذاب نہیں آتا :۔ یعنی ایسی صورت میں کبھی عذاب نہیں آتا کہ اس قوم میں اہل خیر موجود بھی ہوں اور وہ اصلاح کی کوششوں میں بھی لگے ہوں۔ خواہ وہ تھوڑے ہی ہوں ایسے لوگوں کی وجہ سے مجرم بھی اللہ کے عذاب سے محفوظ رہتے ہیں۔ عذاب تو صرف اس وقت آتا ہے جب سرتاسر برائی پھیل جائے، کیونکہ اللہ کو خواہ مخواہ لوگوں کو عذاب دینے کا شوق نہیں۔ ھود
118 [١٣١] اختلاف کی اصل وجہ :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر میں سے کوئی ایک راہ انتخاب کرنے کی مکمل آزادی دے رکھی ہے اگر یہ آزادی انتخاب و اختیار انسان سے چھین لی جائے تو اختلاف کا ہونا ممکن نہیں رہتا اور جب تک یہ آزادی موجود ہے لوگ اختلاف کرتے ہی رہیں گے نیز اگر یہ آزادی انسان سے چھین لی جائے تو انسان کی تخلیق کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے انسان کو خیر و شر کی راہیں سجھا دی گئیں۔ پھر اسی غرض کے لیے انبیاء آئے اللہ نے کتابیں نازل فرمائیں لیکن تھوڑے ہی لوگ تھے جنہوں نے اس آزادی انتخاب و اختیار کا درست استعمال کیا زیادہ لوگ ایسے غلط کار ہی ثابت ہوئے جنہوں نے گمراہی کی راہیں اختیار کرکے اپنے آپ کو جہنم کا اہل ثابت کیا۔ یہ ارادہ و اختیار کی قوت انسان کے علاوہ جنوں کو بھی دی گئی ہے انسانوں کی طرح جنوں کی اکثریت بھی گمراہ اور جہنم کی مستحق ہی رہی ہے۔ ھود
119 ھود
120 [١٣٢] انبیاء کے بار بار تذکرہ کے تین فائدے :۔ انبیاء کے حالات بار بار بیان کرنے کے اللہ تعالیٰ نے تین فائدے بتلائے ہیں۔ ایک یہ کہ جن مشکلات سے آپ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دو چار ہیں ایسے ہی حالات سے تمام سابقہ انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں کو بھی دوچار ہونا پڑا تھا۔ آخر اللہ نے مخالفین کا سر توڑ دیا اور انبیاء اور مومنوں کو بچا لیا اور کامیاب کیا لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبر سے کام لیں اور اپنے عزم کو مضبوط رکھیں۔ دوسرے یہ کہ آپ اور آپ کے پیروکاروں تک سابقہ انبیاء کے صحیح صحیح حالات پہنچ جائیں جن کی آپ کو پہلے سے خبر نہیں تھی۔ تیسرے یہ کہ ان لوگوں کے حالات میں آپ سب کے لیے بہت سے اسباق موجود ہیں یعنی اللہ کے نافرمانوں کا بالآخر کیا انجام ہوتا ہے اور فرماں برداروں کا کیا ؟ ھود
121 ھود
122 [١٣٣] لہٰذا آپ پورے عزم و استقلال کے ساتھ وحی الٰہی کی پیروی کرتے جائیے اور اپنے سرکش اور ہٹ دھرم مخالفوں سے صاف کہہ دیجئے کہ تم اپنے طریقہ پر کام کرتے جاؤ ہم اپنے ہی طریقہ پر عمل پیرا رہیں گے اور اللہ ہمارے اعمال کو بھی دیکھ رہا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی اور جو فریق جیسے انجام کا اہل ہوگا۔ اللہ ویسے ہی انجام سے دوچار کرے گا کیونکہ تمام تر مخلوقات اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا و جزا دینے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ باطل دوئی پرست ہے حق لاشریک ہے شرکت میانہ حق باطل نہ قبول کر ھود
123 ھود
0 یوسف
1 یوسف
2 [١] قرآن کی عربی زبان اور روایت بالمعنی کی ضرورت :۔ قرآن ساری دنیا کے لیے ہدایت کی کتاب ہے۔ لیکن چونکہ اس کے اولین مخاطب اہل عرب تھے۔ اس لیے ضروری تھا کہ اسے عربی زبان میں نازل کیا جاتا۔ تاکہ پہلے عرب اس کے مطالب کو خوب سمجھیں، پھر دوسرے لوگوں تک ان لوگوں کی زبان میں اسے پہنچائیں۔ اہل عجم عربی زبان سیکھ جائیں اس سے ایک نہایت اہم مسئلہ کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے جو یہ ہے کہ روایت بالمعنی شرعی لحاظ سے قابل اعتبار چیز ہے اور روایت بالمعنی کے بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ قرآن کے مطالب کو دوسری زبانوں میں منتقل کیا جاسکتا۔ قرآن کی ایک صفت تو یہ ہے کہ وہ عربی زبان میں ہے اور دوسری یہ کہ وہ اپنے سارے مطالب واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ یعنی ایسے مطالب جن پر انسانی ہدایت کے لیے کسی عمل کی بنیاد رکھی جاسکتی ہو۔ یوسف
3 [٢] قریش مکہ کا یہود کے کہنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال، بنی اسرائیل مصر کیسے پہنچ گئے؟:۔ اس سورۃ کا شان نزول یہ ہے کہ کفار مکہ نے یہود سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسا سوال بتلاؤ جو ہم اس پیغمبر سے پوچھیں اور اس سوال کا وہ جواب نہ دے سکے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس نبی کا سب بھرم کھل جائے گا۔ وہ جواب تو نہ دے سکے گا یا پھر مہلت مانگے گا اور دریں اثنا وہ ادھر ادھر کی کچھ معلومات مہیا کرے گا جس کا علم ہوجانا بعید از قیاس نہیں۔ یہود یہ تو جانتے تھے کہ یہ نبی امی ہے لہٰذا انہوں نے سوچ سمجھ کر ایک تاریخی قسم کا سوال کفار مکہ کو بتایا جو یہ تھا کہ ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام ، سیدنا اسحاق علیہ السلام اور سیدنا یعقوب (اسرائیل) سب کا مسکن تو شام و فلسطین کا علاقہ تھا۔ پھر بنی اسرائیل مصر میں کیسے جا پہنچے جنہیں اہل مصر کی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے سیدنا موسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے؟‘‘ جب کفار مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تو اسی وقت یہ سورۃ پوری کی پوری نازل ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے مسلسل یہ سورۃ ادا ہوتی گئی اور حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کے جواب سے اس وقت نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقف تھے اور نہ اہل مکہ اور اس جواب میں سیدنا یوسف علیہ السلام کے حالات زندگی کی پوری داستان بھی آگئی اور کئی ایسی باتوں کی طرف واضح اشارات بھی پائے جاتے تھے جو کفار مکہ اور برادران یوسف کے درمیان مشترک پائے جانے والے تھے اور اس میں کفار مکہ کے لیے عبرت کے کئی نشان بھی تھے۔ گویا یہ پوری سورۃ قریش مکہ کے حق میں ایک طرح کی پیشین گوئی کی حیثیت رکھتی تھی اور وہ سب نشان عبرت پورے ہو کر رہے۔ مثلاً: اس سورۃ کا شان نزول اور آپ کی نبوت کا ثبوت :۔ پہلی عبرت کی بات یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ان کے سوال کا جواب دے کر یہ ثابت کردیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فی الواقع اللہ کے نبی ہیں کیونکہ وحی الٰہی کے علاوہ آپ کے پاس معلومات کا کوئی ذریعہ ممکن نہ تھا، لیکن پھر بھی یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے اور اپنی ہٹ پر قائم رہے۔ دوسرے یہ کہ جس طرح برادران یوسف نے اپنے بھائی کو قتل کرنے یا جلا وطن کرنے کا ارادہ اس لیے کیا کہ کھٹکتے خار کو راستہ سے ہٹا کر اپنی راہ صاف کی جائے۔ بعینہ اسی غرض کے تحت کفار مکہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے یا جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ قصہ یوسف اور قریش میں مماثلت کی وجوہ :۔ تیسرے یہ کہ جو تدابیر برادران یوسف نے یوسف علیہ السلام کو اپنی راہ سے ہٹانے کے لیے اختیار کی تھیں۔ انہی تدابیر کو اللہ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کے عروج اور سربلندی کا ذریعہ بنا دیا۔ اسی طرح بعینہ جو تدابیر کفار مکہ نے پیغمبر اسلام اور اسلام کو نیست و نابود کرنے کے لیے اختیار کی تھیں۔ انہی سے اسلام کا عروج اور سربلندی حاصل ہوئی اور یہی تدابیر کفار مکہ اور کفر کی موت کا سبب بن گئیں۔ چوتھے یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو حکومت عطا فرمائی اور ان کے بھائی نادم و شرمسار ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے انھیں ﴿لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ﴾ کہہ کر معاف فرما دیا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد اپنے ان جانی دشمن بھائیوں کو بالکل یہی الفاظ کہہ کر معاف کردیا۔ مزید یہ کہ انھیں جنگی قیدی بنانے کے بجائے ﴿اَنْتُمُ الطُّلَقَاء ُ﴾ کہہ کر انھیں یہ محسوس تک نہ ہونے دیا کہ وہ مغلوب و مفتوح قوم ہیں۔ اور اس تفصیل سے جو نہایت اہم سبق حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ سربلند کرنا چاہے اس کے حاسد اور مخالف اسے مٹانے کی لاکھ کوششیں کریں، کارگر نہیں ہوسکتیں۔ بلکہ بمصداق ”عدوشرے برانگیزد کہ خیر مادراں باشد“ اللہ انھیں تدبیروں کا رخ یوں پھیر دیتا ہے کہ وہی تدبیریں اس شخص کی سربلندی کا ذریعہ بن جایا کرتی ہیں۔ یوسف
4 [٣] سیدنا یوسف علیہ السلام سے ان کے باپ کی محبت کی وجوہ :۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کے حقیقی بھائی صرف بن یمین تھے جو آپ سے چھوٹے تھے۔ باقی دس بھائی سوتیلے تھے۔ اور ان سے بڑے تھے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام سے ان کے والد سیدنا یعقوب علیہ السلام کو والہانہ محبت تھی۔ جس کی وجوہ کئی ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ والدین کو عموماً چھوٹی اولاد سے نسبتاً زیادہ پیار ہوتا ہے۔ دوسرے ان دو بھائیوں کی والدہ فوت ہوچکی تھیں۔ تیسرے سیدنا یوسف علیہ السلام بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے اور چوتھے یہ کہ آپ علیہ السلام سب بھائیوں کی نسبت نیک سیرت تھے۔ انہی وجوہ کی بنا پر آپ اپنے والد کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ جس سے بڑے بھائی ان سے حسد کرنے لگے تھے۔ کم سنی کی عمر میں ہی آپ علیہ السلام کو ایک خواب آیا اور آپ نے اپنے والد کو بتایا تو انھیں اس خواب میں بیٹے کا روشن مستقبل نظر آگیا کیونکہ خواب بڑا واضح تھا جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی۔ گیارہ ستاروں سے مراد گیارہ بھائی تھے۔ سورج سے مراد سیدنا یوسف علیہ السلام کے والد سیدنا یعقوب علیہ السلام اور چاند سے مراد ان کی سوتیلی والدہ تھی۔ سجدہ تعظیمی ؟ رہی یہ بات کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا تو شرک ہے پھر باپ نے جو نبی تھے اور بیٹے نے جو نبی ہونے والے تھے۔ اس بات کو درست کیسے تسلیم کرلیا تو اس کا جواب بعض علماء نے یہ دیا ہے یہ سجدہ تعظیمی ہے جو پہلی شریعتوں میں تو جائز تھا۔ مگر ہماری شریعت محمدیہ میں ایسا تعظیمی سجدہ بھی حرام قرار دیا گیا ہے اور بعض علماء کے نزدیک یہاں سجدہ سے مراد اصطلاحی سجدہ نہیں جو نماز میں ادا کیا جاتا ہے بلکہ سجدہ سے مراد محض جھک جانا ہے اور یہی اس کا لغوی معنی ہے۔ مگر اسی سورۃ کے آخر میں ﴿خَرُّوْا لِلّٰہِ سُجَّدًا﴾کے الفاظ آئے ہیں اور لفظ ﴿خَرُّوْا﴾سے پہلے قول کی ہی تصدیق ہوتی ہے۔ یوسف
5 [٤] سیدنا یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کے ان منفی قسم کے جذبات سے تو واقف تھے ہی جو وہ سیدنا یوسف علیہ السلام کے متعلق رکھتے تھے۔ لہٰذا آپ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو یہ تاکید کردی کہ ایسا واضح خواب وہ اپنے بھائیوں کو نہ بتائیں۔ ورنہ وہ حسد کے مارے جل بھن جائیں گے اور ممکن ہے وہ شیطان کی انگیخت پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے حق میں بری تدبیر سوچنے لگیں جیسا کہ بعد میں سیدنا یعقوب علیہ السلام کا اندیشہ برحق ثابت ہوا اور برادران یوسف نے اس سلسلہ میں جو کرتوتیں کیں ان کا ذکر آگے آرہا ہے۔ یوسف
6 [٥] سیدنا یوسف علیہ السلام کے خواب کے واضح نتائج :۔ اس خواب سے سیدنا یعقوب علیہ السلام نے خود جو نتائج نکالے اور سیدنا یوسف کو بتائے وہ یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ سیدنا یوسف علیہ السلام سے اپنے دین کی خدمت کا کام لے گا اور انھیں تاویل الاحادیث سکھائے گا۔ تاویل الاحادیث سے مراد صرف خوابوں کی تعبیر ہی نہیں بلکہ ہر بات کے موقع و محل کو سمجھنا معاملات کے نتائج کو فوراً پرکھ لینا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کے مضامین کی تہ تک پہنچ جانا وغیرہ سب کچھ شامل ہے اور تیسرے یہ کہ اللہ انھیں اس نعمت نبوت سے فیض یاب فرمائے گا جو ان کے دو باپوں سیدنا اسحاق علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو عطا کرچکا ہے۔ اس مقام پر سیدنا یعقوب علیہ السلام نے از راہ تواضع اور انکساری اپنا نام لینا مناسب نہ سمجھا ورنہ آپ خود بھی جلیل القدر نبی تھے اور آپ کی اولاد میں ہی آئندہ سلسلہ نبوت جاری رہا۔ ماسوائے نبی آخرالزمان کے جو سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے تھے۔ اسی حقیقت پر درج ذیل حدیث سے روشنی پڑتی ہے : سیدنا یوسف علیہ السلام سب سے مکرم :۔ سیدنا ابو ہریرۃ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ مکرم کون ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو سب سے زیادہ متقی ہے‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہم یہ نہیں پوچھتے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’یوسف علیہ السلام اللہ کے نبی، اللہ کے نبی کے بیٹے، اللہ کے نبی کے پوتے، اللہ کے نبی کے پڑپوتے، سب سے زیادہ مکرم ہیں۔‘‘ (بخاری، کتاب الانبیاء باب قول اللہ تعالیٰ۔۔ واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا) یوسف
7 [٦] قصہ یوسف اور سائلین یعنی کفار مکہ کے حالات میں مماثلت کی وجوہ :۔ یہ پوچھنے والے کفار مکہ تھے انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے جواب میں جو سیدنا یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے حالات زندگی آئے ہیں وہ خود انھیں کے حالات پر منطبق ہونے والے ہیں کفار مکہ اور برادران یوسف کے تقابلی مطالعہ میں جو عبرت کی نشانیاں یا وجوہ مماثلت پائی جاتی ہیں ان کا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے۔ یوسف
8 [٧] یعنی باپ کی خدمت تو ہم کرتے ہیں۔ کما کر ہم لاتے ہیں۔ مشکل کے وقت کام ہم آتے ہیں اور شفقت اور پیار ہمارے بجائے یوسف اور اس کے بھائی پر ہوتا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ باپ کی توجہ ہماری طرف ہوتی لیکن توجہ کا مرکز یہ دونوں بنے ہوئے ہیں اور یہ ہمارے باپ کی صریح غلطی ہے۔ لفظ ضلال مبین کا دوسرا معنی یہ بھی ہے کہ ان حقائق کے باوجود ہمارا باپ انھیں دونوں کی محبت میں ڈوبا ہوا ہے۔ یوسف
9 [٨] صالحین کے دو مفہوم :۔ باپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی ترکیب انہوں نے یہ سوچی کہ کسی طرح یوسف کو غائب ہی کردیا جائے یا تو اسے مار ہی ڈالا جائے۔ یا پھر کسی دور دراز مقام میں اسے پہنچا دیا جائے تاکہ وہاں سے وہ واپس نہ آسکے۔ اس طرح ہی وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے تھے۔ اب چونکہ وہ ایک جلیل القدر نبی کی اولاد بھی تھے۔ اس لیے ایسے فعل کے ارتکاب پر ان کا ضمیر انھیں ملامت بھی کر رہا تھا۔ اس کا حل یہ سوچا گیا کہ پہلے اپنی خواہش نفس تو پوری کرلیں۔ بعد میں تو بہ کرکے نیک بن جائیں گے۔ یہی وہ شیطانی چالیں تھیں جن کے متعلق یعقوب علیہ السلام کو پہلے سے ہی اندیشہ تھا۔ ﴿وَتَکُوْنُوْا مِنْ بَعْدِہٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ﴾کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب تم لوگ یوسف کو ٹھکانے لگا دو گے تو اس کے بعد از خود ہی تم لوگ اپنے باپ کو اچھے لگنے لگو گے۔ یوسف
10 [٩] پھر ان میں کسی بھائی نے (غالباً سب سے بڑے بھائی یہودا نے) شاید یوسف علیہ السلام کی جان پر ترس کھا کر یہ رائے دی کہ اسے جان سے ختم نہ کرو کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے اور اسے کسی دور دراز مقام پر چھوڑ کر آنا بھی سہل کام نہیں۔ لہٰذا بہتر اور آسان طریقہ یہ ہے کہ اسے دور کسی کنویں میں پھینک دو جو تجارتی قافلوں کے راستہ پر واقع ہو۔ کوئی قافلہ آئے گا تو اسے دیکھ کر اٹھالے جائے گا۔ اس طرح خود ہی یوسف دور دراز مقام پر پہنچ جائے گا۔ ہم وہاں جانے آنے کی زحمت سے بھی بچ جائیں گے۔ یوسف
11 [١٠] بھائیوں کا باپ سے یوسف کو ساتھ لے جانے کا مطالبہ :۔ اب سوال یہ تھا کہ وہ یوسف علیہ السلام کو اپنے ساتھ کیسے لے جائیں تاکہ اپنی تجویز پر عمل کرسکیں۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام کو تو پہلے ہی معلوم تھا کہ یوسف علیہ السلام کے حق میں ان کے بھائیوں کے دل صاف نہیں ہیں۔ اس غرض کے لیے پھر انھیں جھوٹ اور مکاری سے کام لینا پڑا۔ اپنے باپ سے عرض کیا کہ آخر ہم اس کے بھائی ہی ہیں۔ آپ اسے ہمارے ساتھ آنے جانے میں تامل کیوں کرتے ہیں ہم پر اعتماد کیجئے۔ ہم کوئی اس کے دشمن تو نہیں اور بہتر یہ ہے کہ کل جب ہم اپنے ریوڑ چرانے کے لیے ریوڑ کو جنگل کی طرف لے جائیں۔ تو آپ اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے۔ وہاں اس کا دل بہلے گا۔ جنگل کے پھل وغیرہ کھائے گا۔ وہ کچھ ہم سے مانوس ہوگا۔ ہم اس سے مانوس ہوں گے اور اس کی پوری طرح حفاظت بھی کریں گے۔ یوسف
12 یوسف
13 [١١] بھائیوں کے اس مطالبہ پر باپ کو ایک نامعلوم خطرہ محسوس ہوا اور خطرہ وہی تھا جس کی اطلاع آپ سیدنا یوسف علیہ السلام کو ان کے خواب کی تعبیر کے سلسلہ میں بتلاچکے تھے۔ بھائیوں کو غالباً خواب کا علم تو نہیں تھا۔ تاہم سیدنا یعقوب علیہ السلام کا وجدان انھیں یہی بتلا رہا تھا کہ بھائیوں کی نیت بخیر معلوم نہیں ہوتی۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اس خطرہ کو ایسے الفاظ میں ظاہر کیا جس سے ان کی نیت پر شک محسوس نہ ہو اور کہا ممکن ہے تم لوگ اپنے ریوڑ کی حفاظت میں مشغول ہو اور کوئی بھیڑیا یا درندہ آکر اسے کوئی گزند پہنچا جائے اور پھاڑ کھائے اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔ یوسف
14 [١٢] اس کے جواب میں بھائیوں نے کہا کہ ہم دس جوان اور مضبوط آدمی ہیں اور ہم میں سے ہر کوئی بھیڑیا تو کجا شیر کا مقابلہ کرنے اور اسے مار دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ پھر اگر ہم یوسف علیہ السلام کی حفاظت نہ کرسکیں تو ہم پر لاکھ لعنت، آخر ہم اتنے گئے گزرے تو نہیں۔ یوسف
15 [١٣] چنانچہ یہ برادران یوسف اپنے باپ کو چکمہ دینے اور اپنا اعتماد جمانے میں کامیاب ہوگئے اور باپ نے ان پر اعتبار کرتے ہوئے سیدنا یوسف علیہ السلام کو دوسرے دن ان کے ہمراہ کردیا۔ یہ بہت بڑا مرحلہ تھا جو سرانجام پا گیا۔ پھر جب وہ اپنی اتفاق سے طے شدہ تجویز کے مطابق اسے ایک گمنام کنویں میں پھینکنے لگے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو صبر عطا فرمایا اور ان کے دل میں بات ڈال دی کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے بھائیوں کو ان کے یہ کرتوت جتلاؤ گے۔ درآنحالیکہ وہ تمہیں پہچانتے بھی نہ ہوں گے اور اس نہ پہچاننے کی بھی دو وجوہ ممکن ہیں ایک یہ کہ یوسف کسی اتنے بلند مرتبہ پر فائز ہوں کہ برادران یوسف کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ آسکے کہ ان کا بھائی اس مقام پر سرفراز ہوسکتا ہے اور اس کا لباس و طرز بودو باش ان سے اس قدر مختلف اور مغائر ہوسکتی ہے، اور دوسرے یہ کہ اتنا طویل عرصہ گزر چکا ہو کہ شکل میں تبدیلی کی وجہ سے وہ انھیں پہچان بھی نہ سکیں۔ واضح رہے ﴿ غَیٰبَتِ الجُبِّ﴾کا مفہوم کسی کچے کنویں میں پانی کی سطح سے ذرا اوپر وہ چھوٹے چھوٹے طاقچے ہیں جن میں پاؤں جمائے جاسکیں اور چھوٹی موٹی چیز بھی رکھی جاسکے تاکہ کنویں کی صفائی وغیرہ کے لیے کنوئیں میں اترنے اس سے نکلنے میں سہولت رہے۔ اسی طرح کے ایک چھوٹے سے طاقچے میں بردران یوسف سیدنا یوسف علیہ السلام کو رکھ کر واپس آگئے۔ یوسف
16 یوسف
17 [١٤] جنگل میں برادران یوسف کے مشاغل :۔ جنگل میں برادران یوسف کے مشاغل بکریاں چرانے کے علاوہ دو قسم کے تھے اور یہ دونوں ہی ان کے پیشہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک بھاگ دوڑ کا مقابلہ تاکہ بوقت ضرورت کسی حملہ آور بھیڑیئے کا تعاقب کرکے اسے بھگا سکیں اور دوسرے تیر اندازی‘ اور اس سے بھی مقصد کسی حملہ آور درندے کو تیر کا نشانہ بنا کر اسے ختم کردینا تھا جب وہ سیدنا یوسف علیہ السلام کو اپنی سمجھ کے مطابق ٹھکانے لگا چکے تو اب سوال یہ تھا کہ واپس جاکر باپ کو کیا جواب دیں جو پہلے ہی ان پر اعتماد نہیں کر رہا تھا وہ کوئی عادی مجرم تو تھے نہیں، جو فریب، مکاری اور بہانہ سازی میں مہارت رکھتے ہوں، فقط حسد اور انتقام کی آگ نے اس فعل پر برانگیختہ کردیا تھا۔ لہٰذا انھیں اس بات کے سوا کوئی بہانہ نہ سوجھا جس کی طرف ان کے باپ نے اشارہ کیا تھا چنانچہ انہوں نے سیدنا یوسف علیہ السلام کی قمیص اتاری۔ ایک ہرن یا بکری کو ذبح کیا۔ اس کے خون سے قمیص کو آلودہ کیا اور کافی رات گئے اندھیرے میں روتے دھوتے اور آہ و بکا کرتے گھر واپس آئے اور باپ کو بتایا کہ ہم آپس میں بھاگ دوڑ کے مقابلہ میں مشغول تھے اور یوسف کو اپنے کپڑوں اور سامان وغیرہ کے پاس بٹھا گئے تھے جب ہم دور نکل گئے تو ایک بھیڑیا آیا جس نے یوسف کو پھاڑ کھایا اور اپنے اس ڈرامہ کو سچ ثابت کرنے کے لیے سیدنا یوسف علیہ السلام کی خون آلودہ قمیص بھی پیش کردی۔ یوسف
18 [١٥] اناڑی مجرم :۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام ان کی طرف سے پہلے ہی مشکوک تھے۔ جب قمیص کو دیکھا تو انھیں پختہ یقین ہوگیا کہ یہ سب مکر اور فریب کاری ہے۔ کیونکہ قمیص کسی جگہ سے بھی نوچی ہوئی یا پھٹی ہوئی نہ تھی۔ ان نو آموز مجرموں کو یہ خیال ہی نہ آیا کہ اگر قمیص کو خون لگانا ہی ہے تو اسے پہلے بے ترتیبی سے کچھ پھاڑ بھی لیں تاکہ وہ کسی درندے کی نوچی ہوئی معلوم ہوسکے۔ یہ قمیص دیکھ کر سیدنا یعقوب علیہ السلام کہنے لگے وہ بھیڑیا تو بڑا سمجھدار ہوگا جس نے پہلے آرام سے یوسف کی قمیص کو اتارا پھر انھیں پھاڑ کھانے کے بعد کچھ لہو بھی اس پر لگا دیا۔ حقیقت حال کا تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ مگر معلوم یہی ہوتا ہے کہ تم نے یوسف کو کہیں گزند پہنچایا ہے یا غائب کردیا ہے اور تمہاری یہ آہ و بکا اور قمیص کو خون آلود کرکے دکھانا اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے ملمع سازیاں ہیں۔ [١٦] صبر جمیل ایسا صبر ہے کہ مصیبت پڑنے پر انسان اسے ٹھنڈے دل سے برداشت کر جائے جزع فزع نہ کرے نہ ہی کسی دوسرے سے اس کا شکوہ شکایت کرے۔ یعنی سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے یہ افسانہ سننے کے بعد ان سے کچھ تعرض نہ کیا نہ انھیں برا بھلا کہا۔ کہیں وہ کوئی اور غلط حرکت نہ کر بیٹھیں۔ اگر کہا تو صرف یہی کہا کہ میری فریاد تو اللہ ہی سے ہے اور میں اسی سے مدد چاہتا ہوں۔ یوسف
19 [١٧] قافلہ والوں کا یوسف کو کنوئیں سے نکالنا :۔ برادران یوسف، یوسف علیہ السلام کو اس طرح ٹھکانے لگانے کے بعد اس کی خبر اور نگہداشت بھی رکھتے تھے۔ اتفاق سے ایک آدھ دن ہی بعد ایک قافلہ کا جو مدین سے مصر کی طرف جارہا تھا وہاں سے گزر ہوا۔ انہوں نے ایک آدمی کو پانی کی تلاش میں بھیجا جب وہ اس کنویں پر پہنچا اور پانی حاصل کرنے کی خاطر اپنا ڈول اس کنویں میں ڈالا تو یوسف اس ڈول میں بیٹھ گئے اور رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ پانی کھینچنے والے نے جب ڈول اوپر کھینچا تو اس میں پانی کے بجائے ایک خوبصورت لڑکا دیکھا، جسے دیکھ کر اس کی باچھیں کھل گئیں اور خوشی سے فوراً اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا۔ آہا۔ یہ تو خوبصورت لڑکا مل گیا ہے۔ ان دنوں بردہ فروشی کا عام رواج تھا اور یہ قافلہ بھی تجارتی قافلہ تھا۔ انھیں ایسے خوبصورت لڑکے کا اس طرح مل جانا ان کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ تھی۔ لہٰذا قافلہ والوں نے اس واقعہ کو مشہور کرنا مناسب نہ سمجھا کہ مبادا یہ واقعہ سن کر اس بچے کا کوئی دعویدار اٹھ کھڑا ہو۔ یوسف
20 [١٨] یوسف کو بیچنے والے کون تھے؟ برادران یوسف یا قافلے والے :۔ بائیبل کی روایت کے مطابق تو قرآن کے لفظ ﴿وَشَرَوْہُ﴾کی ضمیر کا مرجع برادران یوسف ہیں۔ یعنی برادران یوسف نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو معمولی سی قیمت کے عوض قافلہ والوں کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ کیونکہ وہ یوسف کی خبرگیری رکھتے تھے اور بروقت جھگڑا کھڑا کردیا کہ یہ لڑکا ہمارا غلام ہے جو گھر سے بھاگ آیا تھا اور ہم اس کی تلاش میں تھے۔ بالآخر انہوں نے ان قافلہ والوں سے معمولی سی قیمت کے عوض اس کی سودا بازی کرلی۔ کیونکہ یہ جو رقم انھیں مل رہی تھی مفت میں مل رہی تھی۔ لہٰذا انہوں نے اتنی قیمت کو بھی غنیمت سمجھا۔ ان کی اصل غرض تو یہی تھی کہ یوسف یہاں سے دور کسی ملک میں پہنچ جائے اور یہ مقصد پورا ہو رہا تھا اور یہی قصہ عوام میں زبان زد عام ہے۔ لیکن قرآن کا سیاق و سباق اس مفہوم کی تائید نہیں کرتا۔ قرآن کے مطابق اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ قافلہ والوں نے مصر میں جاکر اس لڑکے (یوسف علیہ السلام) کو فروخت کر ڈالا اور اسے معمولی قیمت میں اس لیے بیچ ڈالا کہ انھیں بھی یہ مال مفت میں ہاتھ لگ گیا تھا۔ لہٰذا زیادہ قیمت لگانے میں ان کی کوئی دلچسپی نہ تھی۔ یوسف
21 [١٩] مصر میں جس شخص نے اس لڑکے کو خریدا وہ کسی اعلیٰ سرکاری منصب پر فائز تھا اور بے اولاد تھا۔ اس نے لڑکے کی شکل و صورت اور عادات و خصائل دیکھ کر ہی یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ لڑکا غلام نہیں ہوسکتا۔ یہ تو کسی معزز خاندان کا ایک فرد ہے جسے حوادث زمانہ نے یہاں تک پہنچا دیا ہے۔ لہٰذا اس نے اپنے گھر کا سارا انتظام اور کام کاج سیدنا یوسف علیہ السلام کے سپرد کردیا اور بیوی سے تاکیداً کہہ دیا کہ اسے غلام نہ سمجھو بلکہ گھر کا ایک فرد سمجھو اور عزت و وقار سے رکھو، یہ ہمارے لیے بہت سود مند ثابت ہوگا اور کیا عجب کہ ہم اسے اپنا متبنّیٰ ہی بنالیں۔ [٢٠] تاویل الاحادیث سے مراد رموز مملکت اور اصول حکمرانی ہیں :۔ عزیز مصر کے ہاں سیدنا یوسف علیہ السلام کو اس طرح کا باوقار مقام حاصل ہوجانا اس مستقبل کی طرف پہلا زینہ تھا جس میں آپ علیہ السلام کو پورے ملک مصر کی حکومت اللہ کی طرف سے عطا ہونے والی تھی۔ آپ علیہ السلام کی سابقہ زندگی خالصتاً بدوی ماحول میں گزری تھی اور اس سابقہ زندگی میں بدوی زندگی کے محاسن اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے خاندان میں سے ہونے کی وجہ سے صرف اکیلے اللہ کی پرستش اور دینداری کے عنصر ضرور شامل تھے مگر اللہ تعالیٰ اس وقت کے سب سے زیادہ متمدن اور ترقی یافتہ ملک یعنی مصر میں آپ سے جو کام لینا چاہتا تھا اور اس کام کے لیے جس واقفیت تجربے اور بصیرت کی ضرورت تھی وہ آپ علیہ السلام کو عزیز مصر کے گھر میں مختار کی حیثیت سے رہنے میں میسر آگئی۔ اس آیت میں تاویل الاحادیث سے مراد یہی رموز مملکت ہیں اور اس غرض کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس طرح اسباب کے رخ کو موڑ دیا وہ اکثر لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا۔ یوسف
22 [٢١] مفسرین کے قول کے مطابق آپ ١٧ سال کی عمر میں مصر پہنچے اور تین سال کے لگ بھگ عزیز مصر کے گھر میں رہے۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوت فیصلہ اور حکمرانی کے اصول بھی سکھا دیئے اور علم بھی عطا فرمایا۔ علم سے مراد عموماً علم وحی ہی ہوتا ہے اور ایسا علم اللہ تعالیٰ بعثت سے پہلے بھی انبیاء کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی پاکیزہ اور بےداغ ہوتی ہے۔ یوسف
23 [٢٢] سیدنا یوسفؑ کے لئے دور ابتلاء :۔ عزیز مصر کے گھر میں قیام کے دوران جہاں سیدنا یوسف علیہ السلام کو مذکورہ بالا فوائد حاصل ہوئے وہاں یہی دور قیام آپ کے لیے ابتلاء و آزمائش کا دور بھی ثابت ہوا۔ آپ نہایت حسین و جمیل تھے۔ غیر شادی شدہ تھے اور نوخیز نوجوانی تھی۔ دوسری طرف عزیز مصر کی بیوی جوان تھی اور بے اولاد تھی اور اپنے جاذب لباس اور پوری رعنائیوں سے اپنا آپ پیش کر رہی تھی۔ زلیخا کا یوسفؑ کو بدکاری کے لئے ورغلانا :۔ تیسری طرف معاشرہ متمدن قسم کا تھا جیسے آج کا مغربی معاشرہ ہے جس میں اختلاط مرد و زن کو معیوب نہیں سمجھا جاتا، پردہ کو دقیانوسی سمجھا جاتا ہے اور اگر فریقین باہمی رضا مندی سے بدکاری کرلیں تو اسے بھی درخور اعتناء نہیں سمجھا جاتا ان حالات میں عزیز مصر کی بیوی زلیخا میں شہوانی جذبات انگڑائیاں لینے لگے جو بالآخر عشق کی حدود کو چھونے لگے۔ لیکن سیدنا یوسف علیہ السلام اس قسم کے جذبات سے بالکل پاک صاف تھے۔ جب زلیخا نے سیدنا یوسف علیہ السلام کی طرف سے اس قدر بے اعتنائی اور اس میں اپنی توہین کا پہلو دیکھا تو اپنے مالکانہ حقوق استعمال کرتے ہوئے راست اقدام پر اتر آئی۔ ایک دن جب کہ اس کا خاوند گھر پر موجود نہ تھا۔ اس نے گھر کے تمام دروازے بند کرتے ہوئے یوسف علیہ السلام کو واشگاف الفاظ میں اور تحکمانہ انداز میں اپنی طرف بلایا تاکہ اس کے شہوانی جذبات کی تسکین ہوسکے۔ [٢٣] سیدنا یوسف علیہ السلام نے اس کے پاس جانے کی بجائے اسے جواب دیا کہ میرے پروردگار نے تو مجھ پر اس قدر انعام و اکرام فرمائے ہیں اور میں اس کی معصیت میں ایسی بدکاری کا ارتکاب کروں، یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا اور صاف طور پر انکار کردیا۔ بعض مفسرین نے اس مقام پر رب کے معنی آقا اور مالک لیا ہے جو لغوی اعتبار سے درست ہے اور قرآن کریم نے خود بھی رب کے لفظ کو آقا اور مالک کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ جب عزیز مصر مجھ پر اس قدر مہربان ہے تو میں اس کے گھر میں رہ کر اس کے گھر میں ہی ایسی خیانت کروں یہ نمک حرامی مجھ سے نہیں ہوسکتی اور ہم نے پہلے معنی کو اس لیے ترجیح دی ہے کہ ایک نبی یا بعد میں ہونے والا نبی ایک عام دنیا دار رئیس کو اپنا رب کہے یہ عقل و نقل سے بعید ہے اور قرآن میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں اور دوسرے اس لیے کہ جب پہلے معنی کے لحاظ سے اخذ شدہ مطلب زیادہ وقیع اور جامع ہے تو پھر دوسرے معنی لینے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔؟ یوسف
24 [٢٤] عصمت انبیاء کا مفہوم :۔ جب زلیخا نے اس دعوت میں اپنے آپ کو ناکام پایا اور اس میں اپنی مزید خفت محسوس کی تو اس نے اس بدکاری کے کام کو سرانجام دینے کا تہیہ کرلیا اور خود یوسف تک پہنچ کر دست درازی شروع کردی۔ اس آڑے وقت میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کی خاص رہنمائی فرمائی اور ان کی نگہداشت فرمائی۔ اس وقت اللہ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو کون سی دلیل یا برہان دکھائی تھی وہ وہی ہے جس کا سابقہ آیات میں ذکر ہوچکا ہے۔ یعنی سیدنا یوسف اپنے سابقہ جواب اور عزم پر ہی ڈٹے رہے۔ اس طرح اللہ نے انھیں اس بدفعلی کے ارتکاب سے محفوظ رکھا۔ یہیں سے عصمت انبیاء کی حقیقت معلوم ہوجاتی ہے یعنی وہ بھی بشر ہی ہوتے ہیں اور بشری تقاضوں سے مجبور ہو کر گناہ کا ارتکاب ان سے بھی ہوسکتا ہے۔ مگر اللہ انھیں ایسے کاموں سے بچائے رکھتا ہے اور ان سے کوئی چھوٹی موٹی لغزش ہو بھی جائے تو بذریعہ وحی ان کی اصلاح کردی جاتی ہے۔ یوسف
25 [٢٥] جب زلیخا نے چھیڑ چھاڑ کے ذریعہ سیدنا یوسف علیہ السلام کے جذبات کو برانگیختہ کرنا چاہا تو آپ دروازے کی طرف بڑھے تاکہ دروازہ کھول کر باہر نکل جائیں اور زلیخا ان کے پیچھے دوڑی اور آپ کو پیچھے سے اپنے پاس کھینچنا چاہا۔ اس کشمکش میں زلیخا نے پیچھے سے سیدنا یوسف علیہ السلام کی قمیص کو پکڑ کر کھینچا تو قمیص پیچھے سے پھٹ گئی۔ تاہم یوسف علیہ السلام دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگئے اور جب دروازہ کھلا تو دفعتاً عزیز مصر دروازے پر کھڑا موجود تھا۔ جس نے بچشم خود دیکھ لیا کہ دونوں ایک بند کمرے سے باہر آرہے ہیں۔ آگے یوسف ہیں اور پیچھے زلیخا، اور یہ کچھ بدکاری کے امکان کے لیے کافی ثبوت تھا یا کم از کم ایسا شبہ ضرور پڑ سکتا تھا۔ [٢٦] زلیخا کا چلتر :۔ جب زلیخا نے اپنے خاوند کو دروازے پر کھڑا دیکھا تو یک لخت اسے ایک ترکیب سوجھی اس نے اس کارروائی کا تمام تر الزام سیدنا یوسف علیہ السلام کے سر تھوپ دیا۔ پھر صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ کہہ کر آپ کو سزا دلوانے کی بھی کوشش کی کہ اسی نے مجھ سے برائی کا ارارہ کیا تھا۔ اس طرح کے چلتر سے اس نے ایک تیر سے دو شکار کئے۔ ایک تو اپنے آپ کو پاکدامن ثابت کرنے کی کوشش کی، حالانکہ وہ خود ہی برائی کی اصل جڑ تھی اور دوسرے جو سیدنا یوسف علیہ السلام نے اس کی خواہش کو ٹھکرا دیا تھا اور اس نے اسے اپنی توہین سمجھا تھا۔ اس کے عوض آپ کو اپنے خاوند سے سزا دلوانا چاہی اور اپنے جرم پر پردہ ڈالنے اور اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے یوسف علیہ السلام کے لیے شدید سزا یا قید کا مطالبہ کردیا۔ یوسف
26 اس آیت کی تفسیر اگلی آیت کے ساتھ ملاحظہ کیجئے۔ یوسف
27 [٢٧] قرینہ کی شہادت :۔ لیکن سیدنا یوسف علیہ السلام کا بیان زلیخا کے بالکل الٹ اور مبنی برحقیقت تھا۔ اب سوال یہ تھا یہ کیسے معلوم ہو کہ ان دونوں میں سچا کون ہے اور جھوٹا کون؟ جب یہ بات گھر والوں میں پھیل گئی تو عزیز مصر کے خاندان سے ہی ایک آدمی کہنے لگا : ذرا یوسف کی قمیص کو تو دیکھو اگر وہ پیچھے سے پھٹی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یوسف علیہ السلام آگے بھاگ رہا تھا اور زلیخا نے اسے پیچھے سے کھینچا ہے اور اس کھینچا تانی میں قمیص پھٹ گئی۔ اس صورت میں زلیخا جھوٹی ہوگی اور یوسف سچا ہوگا اور اگر قمیص آگے سے پھٹی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یوسف علیہ السلام تقاضا کر رہا تھا اور زلیخا اپنی مدافعت کر رہی تھی۔ اس کھینچا تانی میں یوسف علیہ السلام کی قمیص آگے سے پھٹ گئی۔ اس صورت میں یوسف علیہ السلام جھوٹا ہے اور زلیخا سچی۔ یہ بات سب کو معقول معلوم ہوئی۔ اس آیت میں ﴿وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْ اَہْلِہَا ﴾ کے الفاظ آئے ہیں یعنی زلیخا کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی۔ حالانکہ موقعہ پر کوئی گواہ موجود نہ تھا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ شہادت ایک شیر خواربچہ نے دی تھی مگر اس روایت کی سند درست نہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر یہ روایت صحیح تسلیم کی جائے تو یہ معجزہ کی صورت ہوگی اور معجزہ کی صورت میں عقلی دلیل دینے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ تیسرے یہ کہ جس صحیح روایت میں تین شیر خوار بچوں کے بولنے کا ذکر ہے وہاں اس بچے کا ذکر مفقود ہے۔ لہٰذا یہ روایت ہر لحاظ سے ناقابل اعتماد ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ قرینہ کی شہادت تھی۔ زلیخا کے جسم یا اس کے کپڑوں پر کوئی ایسی علامت موجود نہ تھی جس سے زنا بالجبر کا قیاس کیا جا سکتا ہے۔ لے دے کے ایک یہ کہ یوسف کی قمیص ہی تھی جو پھٹ گئی تھی۔ جس سے یہ قیاس کیا گیا۔ ایسا قرینہ یا موقعہ کی شہادت شرعاً معتبر ہے اور ہر عقلمند آدمی ایسے قرینہ کی شہادتوں سے نتیجہ اخذ کرسکتا ہے اور ہمارے ہاں کسی حادثہ کے موقع پر تفتیشی افسر جائے وقوع کا نقشہ مرتب کرتے ہیں جو قرینہ کی شہادت کا کام دیتے ہیں۔ قرینہ کی شہادت کی واضح مثال یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے منہ سے شراب کی بو آرہی ہو تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس نے شراب پی ہے۔ یہ قرینہ کی شہادت ہے۔ کیونکہ اسے شراب پیتے کسی نے دیکھا نہیں ہوتا۔ یوسف
28 [٢٨] عورتوں کا فتنہ جب سیدنا یوسف علیہ السلام کی قمیص دیکھی گئی تو وہ آگے سے پھٹی ہوئی تھی۔ عزیز مصر کو معلوم ہوگیا کہ اصل مجرم اس کی بیوی ہے اور اس کا بیان محض فریب کاری ہے۔ لیکن اپنی اور اپنے خاندان کی بدنامی کی وجہ سے اس نے اپنی بیوی پر کوئی مواخذہ نہیں کیا، مبادا یہ بات پھیل جائے صرف اتنا ہی کہا کہ یہ بیان تیرا ایک چلتر تھا اور یوسف علیہ السلام پر بہت بڑا بہتان تھا اور تم عورتوں کے چلتر بڑے گمراہ کن ہوتے ہیں۔ یوسف علیہ السلام کی تم دہری مجرم ہو۔ ایک اسے بدکاری پر اکسایا۔ دوسرے اس پر الزام لگا دیا۔ لہٰذا اب اس سے معافی مانگو۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس آیت میں ﴿اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ﴾ عزیز مصر کا قول نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ چنانچہ کسی بزرگ سے منقول ہے وہ کہا کرتے تھے کہ میں شیطان سے زیادہ عورتوں سے ڈرتا ہوں۔ اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کا ذکر کیا تو فرمایا کہ شیطان کا مکر کمزور ہے۔ (٤: ٧٦) اور جب عورتوں کا ذکر کیا تو فرمایا کہ تمہارا مکر بہت بڑا ہے۔ اور درج ذیل حدیث بھی اسی مضمون پر دلالت کرتی ہے۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ سخت کوئی فتنہ نہیں چھوڑا‘‘ (بخاری، کتاب النکاح، باب مایتقی من شؤم المراۃ) اسی طرح ﴿وَاسْتَغْفِرِیْ لِذَنْبِکِ﴾سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یوسف سے اپنے گناہ کی معافی مانگو اور یہ بھی کہ اللہ سے اپنے گناہ کی معافی مانگو۔ یوسف
29 یوسف
30 یوسف
31 [٢٩] شہر کی عورتوں کی چہ میگوئیاں اور زلیخا کو طعنے :۔ جس بات کا عزیز مصر کو خطرہ تھا وہ ہو کے رہی۔ رفتہ رفتہ یہ بات شہر کی عورتوں میں پھیل ہی گئی کہ عزیز مصر کی بیوی زلیخا اپنے غلام پر عاشق ہے۔ اس نے اسے اپنے دام تزویر میں پھنسانا چاہا تھا۔ لیکن وہ اس کے ہتھے نہیں چڑھ سکا۔ اتنی بات تو حقیقت تھی، پھر اس بات پر عورتوں کے تبصرے کرنا بالخصوص عورتوں کا ہی میدان ہے۔ وہ کئی لحاظ سے زلیخا کو مطعون کر رہی تھیں۔ ایک یہ کہ وہ اس درجہ گھٹیا عورت ہے کہ اپنے غلام پر عاشق ہوگئی ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اتنی بدھو ہے کہ اگر وہ یوسف پر فریفتہ ہو ہی گئی تھی تو اسے اپنی طرف مائل بھی نہ کرسکی۔ ورنہ ایک نوجوان کو اپنی طرف مائل کرلینا ایک جوان عورت کے لیے کون سی بڑی بات ہے؟ [٣٠] ضیافت کا اہتمام :۔ شہر کی عورتوں کی ایسی باتوں سے زلیخا کو بہت تکلیف ہوئی، تاہم وہ اپنے آپ کو اس معاملہ میں معذور سمجھتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ کوئی عورت ایسی نہیں ہوسکتی جو یوسف جیسے حسین و جمیل نوجوان کو دیکھ لے تو پھر اس پر فریفتہ نہ ہو اور دوسرے اسے یہ بھی یقین ہوچکا تھا کہ کوئی عورت خواہ کتنا ہی بن ٹھن کر یوسف کے سامنے آئے وہ اتنا عظیم اور پارسا انسان ہے کہ وہ اس کی طرف مائل نہیں ہوسکتا۔ اب انھیں دو باتوں کے تجربہ کے لیے اور باتیں بنانے والی عورتوں پر اتمام حجت اور انھیں جھوٹا ثابت کرنے کے لیے اس نے ایک تدبیر سوچی۔ اس نے ایک پر تکلف ضیافت کا اہتمام کیا اور پھل وغیرہ مہیا کیے، اور ساتھ ہی چاقو چھریاں بھی پھل چھیلنے اور کاٹنے کے لیے رکھ دیں اور اس طرح کی باتیں بنانے والی سب عورتوں کو اس ضیافت میں بلایا۔ جب عورتیں آگئیں اور کھانے پینے میں مشغول ہوگئیں تو زلیخا نے یوسف علیہ السلام کو اس مجلس میں بلا لیا عورتیں یوسف علیہ السلام کا حسن و جمال دیکھ کر اس قدر محو نظارہ اور بے خود ہوگئیں کہ ان کی چھریاں پھلوں پر چلنے کی بجائے ان کے اپنے ہاتھوں پر چل گئیں اور حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا واقعہ بیان کرنے کے دوران فرمایا : جب تیسرے آسمان کا دروازہ کھولا گیا تو وہاں سیدنا یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ اللہ نے حسن کا آدھا حصہ انھیں عطا کیا تھا۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب الاسراء برسول اللہ الی السموات وفرض الصلوات) تبصرہ کرنے والی عورتوں کی شہادت :۔ پھر انہوں نے یہ بھی بچشم خود دیکھ لیا کہ ان کی ساری دلکشیوں اور رعنائیوں کے باوجود یوسف علیہ السلام کسی طرف نظر اٹھاکر دیکھتا بھی نہیں تو بے ساختہ پکار اٹھیں کہ یہ انسان نہیں بلکہ کوئی معزز فرشتہ ہے یہ بات ناممکنات سے ہے ایک نوجوان انسان جنسی خواہشات سے اس قدر بالا تر ہو کہ وہ ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔ یوسف
32 [٣١] زلیخا کی دھمکی :۔ عورتوں کے یہ الفاظ دراصل زلیخا کے اس معاملہ میں سچا ہونے کا اعلان تھا۔ اب وہ ان عورتوں میں سر اٹھا کر کہنے لگی کہ بتلاؤ میں اس معاملہ میں کس قدر قصوروار تھی اور اب میں برملا کہتی ہوں کہ میں اس کے سامنے اپنا نقد دل ہار چکی ہوں اور اب میں اسے اپنی طرف مائل کرنے پر مجبور بھی کروں گی اور اگر اس نے پھر بھی میری بات کی طرف توجہ نہ دی تو میں اسے کسی دوسرے حیلے بہانے جیل بھجوا دوں گی یا اسے میری بات ماننا ہوگی یا پھر وہ ذلیل قید و بند کی مصیبت جھیلے گا۔ یوسف
33 [٣٢] مصری تہذیب کی فحاشی کا نمونہ :۔ غور فرمائیے۔ یہ دور سیدنا یوسف علیہ السلام کے لیے کس قدر ابتلاء کا دور تھا۔ پہلے ایک عورت پیچھے پڑی تھی۔ اب شہر بھر کے رؤسا کی حسین و جمیل بیگمات آپ کے پیچھے پڑگئیں جو زبانی تو سیدنا یوسف علیہ السلام کو زلیخا کی بات مان لینے اور قید سے بچ جانے کی تلقین کر رہی تھیں مگر حقیقتاً ان میں سے ہر ایک انھیں اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ آپ کا شہر میں آزادانہ چلنا پھرنا بھی مشکل ہوگیا تھا۔ اب آپ کے سامنے دو ہی راستے رہ گئے تھے۔ ایک یہ کہ ان عورتوں کی بات مان لیں اور دوسرے یہ کہ قید ہونا گوارا کرلیں۔ ضمناً اس واقعہ سے اس دور کی اخلاقی حالت پر بھی خاصی روشنی پڑتی ہے کہ بے حیائی کس قدر عام تھی اور اس فحاشی کے سلسلہ میں عورتوں کو کس قدر آزادی اور بے باکی حاصل تھی اور ان کے مقابلہ میں مرد کتنے کمزور تھے یا کس قدر دیوث تھے؟ سیدنا یوسفؑ کی دعا اور قید کو ترجیح :۔ یہ صورت حال دیکھ کر سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنے آپ پروردگار سے ہی فریاد کی کہ اس دور ابتلاء میں تو ہی مجھے ثابت قدم رکھ سکتا ہے اور ان عورتوں کی مکاریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے ورنہ ان طوفانوں کا مقابلہ کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں۔ میں تو اس گندے ماحول سے یہی بہتر سمجھتا ہوں کہ قید کی مشقت گوارا کرلوں۔ [٣٣] عالم بے عمل جاہل :۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو عالم اپنے علم کے مطابق عمل نہ کرے وہ شرعی اعتبار سے جاہل ہے اور جاہل کے لفظ کا اس پر اطلاق ہوسکتا ہے۔ یوسف
34 [٣٤] یعنی سیدنا یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسا عزم و استقلال بخشا کہ کسی عورت کا ان پر جادو نہ چل سکا۔ یوسف
35 [٣٥] مصر کی عدالتوں پر بڑے لوگوں کا دباؤ:۔ یعنی پورے شہر کے رؤساء اور اعیان سلطنت پر یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ سیدنا یوسف علیہ السلام بالکل بے قصور ہیں اور مجرم زلیخا ہے۔ اس کے باوجود اس ملک کی عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ یوسف ہی کو کسی نامعلوم مدت کے لیے قید میں ڈال دیا جائے۔ کیونکہ اب اصل مجرم صرف زلیخا نہ رہی تھی بلکہ اعیان سلطنت کی بیگمات بھی اس جرم میں اس کی ہم نوا اور برابر کی شریک بن چکی تھیں۔ اس واقعہ سے جہاں مردوں کی اپنی بیگمات کے سامنے بے بسی پر روشنی پڑتی ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کی انصاف کرنے والی عدالتیں بھی ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کے اصول پر اپنے فیصلے کیا کرتی تھیں اور نامعلوم مدت اس لیے تھی کہ نہ تو کوئی فرد جرم لگ سکتی تھی اور نہ ہی یہ فیصلہ کیا جاسکتا تھا کہ اس بے گناہی کی سزا کتنی مدت ہوسکتی ہے، اور غالباً اس میں یہ مصلحت سمجھی گئی کہ جب تک لوگ اور بالخصوص عورتیں یہ واقعہ بھول نہ جائیں یوسف کو قید میں رہنے دیا جائے۔ یوسف
36 [٣٦] دو قیدیوں کا اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر پوچھنا :۔ اسی زمانہ میں دو اور قیدی قید خانہ میں ڈالے گئے، ان میں ایک شاہ مصر کا نانبائی تھا اور دوسرا اس کا ساقی یعنی شراب پلانے والا تھا۔ ان دونوں پر الزام یہ تھا کہ انہوں نے بادشاہ کو زہر دینے کی کوشش کی ہے اور بقول بعض مفسرین الزام یہ تھا کہ انہوں نے ایک دعوت کے موقعہ پر صفائی کا پورا خیال نہیں رکھا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد ان دونوں نے ایک ہی رات الگ الگ خواب دیکھا اور چونکہ سیدنا یوسف علیہ السلام پورے قیدخانہ میں اپنی پاک سیرت، بلندی اخلاق اور اعلیٰ کردار کی وجہ سے مشہور ہوچکے تھے۔ لہٰذا ان قیدیوں نے اپنے اپنے خواب کی تعبیر معلوم کرنے کے لیے انہی کی طرف رجوع کیا۔ ساقی نے اپنا خواب یہ بیان کیا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں انگوروں سے شراب نچوڑ رہا ہوں اور یہ خواب اس کے پیشہ سے تعلق رکھتا تھا اور نانبائی نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سر پر بہت سی روٹیاں رکھی ہوئی ہیں اور پرندے ان روٹیوں کو نوچ نوچ کر رکھا رہے ہیں اور یہ خواب اس کے پیشہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اپنے اپنے خواب بیان کرکے ان سے التجا کی کہ اس کی تعبیر بتائی جائے۔ یوسف
37 [٣٧] سیدنا یوسف کا قیدیوں کو اسلام کے اصول سمجھانا :۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے انھیں جواب دیا کہ خواب کی تعبیر تو میں تمہیں بتا ہی دوں گا اور جس وقت تمہارا کھانا آیا کرتا ہے اس سے پہلے ہی بتا دوں گا اور اس سے پہلے یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ خوابوں کی تعبیر کا علم جو اللہ نے مجھے سکھایا ہے تو یہ مجھ پر اللہ کا خاص احسان ہے اور اللہ کا فضل و احسان ان لوگوں پر ہی ہوا کرتا ہے جو اللہ ہی کے ہو کر رہتے ہیں۔ اسی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے۔ میں ان لوگوں (مصریوں) کا دین ہرگز قبول نہیں کرتا جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز آخرت پر، بلکہ میں تو اپنے بزرگوں سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا یعقوب علیہ السلام کے دین پر ہوں اور یہ بزرگ خالصتاً اللہ ہی کی عبادت کیا کرتے تھے کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہیں کیا کرتے تھے اور ایسا دین اختیار کرلینا ہی اللہ کا بہت بڑا فضل و احسان ہے۔ کاش لوگ یہ بات سمجھ جائیں۔ اس موقعہ پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے ان قیدیوں کو اصول دین سمجھانے سے ضمناً کئی باتوں کا پتہ چلتا ہے مثلاً: ١۔ تبلیغ کا بہترین وقت :۔ تبلیغ کا سب سے بہتر موقع وہ ہوتا ہے جب سننے والا خود بات سننے کا خواہش مند ہو۔ یہ قیدی اپنے اپنے خواب کی تعبیر تو بہرحال سننا ہی چاہتے تھے اور اس کے منتظر بھی تھے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے اس موقعہ سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور پہلے انھیں اصول دین سمجھانا شروع کردیے۔ اگر آپ انھیں خوابوں کی تعبیر بتادیتے تو شاید وہ بعد میں ایسی باتیں سننے کو تیار ہی نہ ہوتے یا سنتے بھی تو ان میں کوئی دلچسپی نہ لیتے۔ ٢۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کی سابقہ زندگی میں بے شمار اتار چڑھاؤ آچکے تھے لیکن آپ نے کسی موقع پر اس انداز میں تبلیغ نہیں کی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہی ایام میں آپ کو نبوت عطا ہوئی تھی۔ ٣۔ سیدنا یوسف کا زمانہ نبوت :۔ اس تبلیغ کے دوران سیدنا ابراہیم علیہ السلام ، اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کا نام لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان بزرگوں کی اس علاقہ مصر میں بھی خاصی شہرت تھی اور یہ نیک شہرت تھی۔ نیز یہ بتانا مقصود تھا کہ میں کوئی نئی بات پیش نہیں کر رہا بلکہ وہی کچھ کہہ رہا ہوں جو اہل حق ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں۔ ٤۔ جس طرح آپ نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھایا۔ قید خانے میں کم و بیش آٹھ نو سال کی طویل مدت میں یقیناً آپ کو ایسے بہت سے مواقع میسر آئے ہوں گے۔ گویا یہ قید خانہ ہی آپ کی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا تھا۔ یوسف
38 یوسف
39 [٣٨] یہ دونوں قیدی چونکہ پہلے ملازم تھے اس لیے انھیں ان کے حسب حال ہی دلیل پیش کی اور انھیں اس بات کی خوب سمجھ آسکتی تھی کہ بہت سے آقاؤں کی غلامی سے ایک آقا کی غلامی بہرحال بہتر ہوتی ہے بالخصوص اس صورت میں جبکہ آقا بھی ایسا ہو جو سب دوسروں سے بڑھ کر طاقت ور اور غالب ہو۔ یوسف
40 [٣٩] شرک اور تقلید آباء :۔ علاوہ ازیں یہ دوسرے آقا یا معبود جن کی عبادت کی جاتی ہے۔ ان کی اصلیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ کسی ایک آدمی نے ایسے مشرکانہ عقائد گھڑ کر کسی معبود یا آستانے کے نام منسوب کردیے۔ پھر یہی عقائد نسلاً بعد نسل ان کی اولاد میں منتقل ہوتے چلے گئے اور بزرگوں کی اندھی عقیدت نے ایسے عقائد کو مذہبی جامہ پہنا دیا۔ کسی نے یہ تحقیق کرنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی کہ کسی الہامی کتاب میں ان کی کچھ دلیل ہے بھی یا نہیں لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہے جو بلاتحقیق اپنے آباؤ اجداد کی اندھی تقلید میں ان معبودوں کے ساتھ ایسے عقائد وابستہ کیے چلی آرہی ہے اور ان کے نام کی نذریں اور قربانیاں دیتی ہے تاکہ وہ انھیں کچھ فائدہ پہنچا سکیں۔ حالانکہ یہ سب ناواقفیت اور جہالت کی باتیں ہیں۔ البتہ جن لوگوں نے یہ کاروبار سنبھالا ہوا ہے۔ انھیں مفت میں نذرانے ملتے رہتے ہیں۔ لہٰذا وہ شرکیہ رسوم کسی صورت چھوڑنا گوارا نہیں کرتے۔ یوسف
41 [٤٠] خوابوں کی تعبیر :۔ اس طرح موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیدنا یوسف علیہ السلام نے ان دونوں سوال کرنے والوں کو دل نشین پیرایہ میں اصول دین سمجھا دیئے پھر ان کے خوابوں کی تعبیر بتانا شروع کی اور ساقی سے کہا کہ تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم اپنی سابقہ ملازمت پر بحال کردیئے جاؤ گے اور نانبائی سے کہا کہ تمہیں سولی پر چڑھا دیا جائے گا اور تمہاری موت کے بعد پرندے نوچ نوچ کر تمہارا گوشت کھائیں گے۔ یعنی ساقی پر الزام غلط ثابت ہوا اور نانبائی حقیقتاً مجرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ تعبیر سن کر نانبائی کہنے لگا کہ مجھے ایسی خواب نہیں آئی تھی میں تو ویسے ہی اس طرح کے خواب کی تعبیر پوچھنا چاہتا تھا سیدنا یوسف علیہ السلام نے فرمایا : تمہیں خواب آئی تھی یا نہیں۔ بہرحال تقدیر میں یہ فیصلہ ہوچکا اور اب یہ واقعہ ہو کے رہے گا۔ یوسف
42 [٤١] لفظ ظن کے بعد جب اَن کا لفظ آئے تو یہ یقین کا معنی دیتا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے مفردات القرآن از امام راغب اصفہانی) اور قرآن میں اس کی مثالیں اور بھی بہت ہیں۔ جیسے ﴿الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّہِمْ ﴾(۲:۴۲)یعنی جو لوگ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور یوسف علیہ السلام کو ساقی کے متعلق یہ یقین تھا کہ وہ قید سے رہا ہو کر اپنی سابقہ ملازمت پر بحال کردیا جائے۔ جب وہ قید خانہ سے جانے لگا تو یوسف علیہ السلام نے اسے کہا کہ بادشاہ سے میرے متعلق بھی تذکرہ کرنا کہ ایک بے قصور آدمی مدت سے قید خانہ میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس کی طرف آپ کی توجہ کی ضرورت ہے۔ [٤٢] سیدنا یوسفؑ کی قید کی مدت :۔ لیکن وہ رہا ہونے والا ساقی اپنی رہائی کی اور پھر ملازمت کی بحالی کی خوشخبری میں کچھ اس طرح مگن اور بے خود ہوا کہ اسے بادشاہ کے سامنے اپنے محسن سیدنا یوسف علیہ السلام کا ذکر کرنا یاد ہی نہ رہا اور نسیان کی نسبت شیطان کی طرف اس لیے کہ گئی ہے کہ شیطان کسی بھی اچھے کام میں ممدو معاون نہیں ہوا کرتا۔ اس کے وساوس ایسے ہی ہوتے ہیں کہ یا تو کوئی کارخیر سرانجام ہی نہ پائے یا اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر جتنی بھی اس کار خیر میں زیادہ سے زیادہ تاخیر ہو وہی اس کا مقصود ہوتا ہے جیسے اللہ کے ذکر سے غفلت کی نسبت قرآن نے عموماً شیطان ہی کی طرف ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کئی سال مزید آپ کو قید میں ہی گزر گئے اور آپ علیہ السلام کے معاملہ کی طرف توجہ کا کسی کو خیال تک نہ آیا۔ قرآن نے ﴿بِضْعَ سِنِیْنَ ﴾ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس کا اطلاق دس سے کم طاق اعداد پر ہوتا ہے اور مفسرین کے اقوال کے مطابق آپ کی قید کی مدت ٧ سال یا ٩ سال تھی۔ یوسف
43 [٤٣] شاہ مصر کا خواب :۔ طویل مدت کے بعد ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اس رہا ہونے والے ساقی کو سیدنا یوسف علیہ السلام کا پیغام یاد دلایا۔ واقعہ یہ ہوا کہ شاہ مصر کو ایک عجیب اور ڈراؤنا سا خواب آیا۔ خواب میں اس نے دیکھا کہ سات دبلی گائیں ہیں جو اپنے سے بہت بھاری سات موٹی تازی گائیوں کا گوشت کھا رہی ہیں اور گوشت کھا کر انھیں ختم ہی کردیا ہے اور یہ سارا گوشت چٹ کر جانے کے بعد بھی وہ دبلی کی دبلی ہی ہیں۔ جیسے پہلے تھیں اور دوسرا منظر یہ دیکھا ہے کہ سات سوکھی بالیاں ہیں جو سات ہری بھری اور سرسبز بالیوں کے اوپر لپٹ گئی ہیں اور انھیں بھی سوکھا بنادیا ہے۔ یوسف
44 [٤٤] تعبیر بتانے والوں کی معذرت :۔ اس خواب نے بادشاہ کو سخت حیران اور متوحش بنا دیا۔ اس نے اپنے ملک کے دانشمندوں، نجومیوں، خوابوں کی تعبیر بتانے والوں اور درباریوں کو اکٹھا کرکے کہا کہ میں نے ایسا اور ایسا خواب دیکھا ہے۔ تم میں سے کوئی شخص مجھے اس خواب کی تعبیر بتا سکتا ہے؟ مگر اس خواب کی تعبیر بتانے سے سب نے عاجزی کا اظہار کیا اور کہہ دیا کہ یہ خواب ایسا ہے ہی نہیں جس کی تعبیر بتائی جاسکے۔ یہ تو پراگندہ اور پریشان سے خیالات ہیں اور ایسے خیالات کی کچھ تعبیر نہیں ہوتی۔ یوسف
45 یوسف
46 [٤٥] یہ جواب جب اس ساقی نے سنا جو قید سے رہا ہوا تھا تو اسے فوراً سیدنا یوسف علیہ السلام، ان کا خوابوں کی تعبیر بتانا، اس تعبیر کا حرف بحرف سچا ثابت ہونا نیز سیدنا یوسف علیہ السلام کا آخری پیغام یاد آگیا۔ اب مدت مدید کے بعد اس نے ساری باتوں کا ذکر بادشاہ سے کیا، اور یہ بھی بتا دیا کہ ایک نہایت پاکباز اور شریف النفس انسان بڑی مدت سے بے گناہ قید میں پڑا ہے۔ اب اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں اس کے پاس قید خانہ میں جاتا ہوں اور اس خواب کی تعبیر اس سے پوچھ کر آپ کو بتائے دیتا ہوں۔ [٤٦] ساقی کا سیدنا یوسف سے خواب کی تعبیر پوچھنا :۔ بادشاہ پہلے ہی متوحش تھا اور اسے تعبیر بتانے والوں کے جواب سے قطعاً اطمینان حاصل نہ ہوا تھا۔ اس کا دل یہ گواہی دے رہا تھا کہ کوئی خطرناک آفت نازل ہونے والی ہے۔ چنانچہ اس نے فوراً ساقی کو قید خانہ جانے کی اجازت دے دی۔ اس نے قید خانہ پہنچ کر ایسے الفاظ سے سیدنا یوسف علیہ السلام کو مخاطب کیا جن سے قید میں ہمراہی کے زمانہ کی یاد تازہ ہوتی تھی۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کے بلند کردار اور علم و اخلاق کے جو نقوش اس ساقی کے ذہن پر اس دوران ثبت ہوئے تھے۔ وہ ابھی تک اسے بھولے نہیں تھے اور وہ یہ تھے ”اے میرے راست باز ساتھی۔‘‘ اس خطاب کے بعد اس نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو بادشاہ کا خواب حرف بحرف سنایا۔ تعبیر بتانے والوں کا جواب بھی بتایا۔ پھر اس کے بعد خواب کی تعبیر پوچھی اور اس کی غرض یہ بتائی کہ ایک تو بادشاہ کو تعبیر بتانے والوں کو اور عام لوگوں کو اس خواب کی تعبیر کا علم ہوجائے۔ دوسرے ان سب کو یہ بھی معلوم ہوجائے کہ کس طرح ایک صاحب علم و اخلاق اور لائق ترین شخص مدتوں سے بے گناہ قید میں پڑا ہوا ہے۔ یوسف
47 [٤٧] سیدنا یوسف علیہ السلام کا خواب کی تعبیر‘ اس کا علاج اور پیش آنیوالے سب حالات بتلا دینا :۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے فوراً اس خواب کی تعبیر بتا دی۔ پھر صرف تعبیر ہی نہیں بتائی بلکہ اس پیش آنے والی مصیبت کا ساتھ ہی ساتھ علاج بھی تجویز فرما دیا اور یہی وہ پیغمبرانہ فراست یا اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ علم تھا جو آپ علیہ السلام کے انتہائی بلندیوں پر پہنچ جانے کا پہلا زینہ ثابت ہوا۔ آپ علیہ السلام نے اس ساقی کو بتایا کہ دیکھو! تم پر سات سال خوشحالی کا دور آئے گا۔ اس دور میں تم کفایت شعاری سے کام لینا۔ جتنا غلہ ان سالوں میں پیدا ہو اس میں سے بقدر ضرورت استعمال کرنا، باقی غلہ بالیوں میں ہی رہنے دینا۔ ان سات سالوں کے بعد سات سال قحط سالی کا دور آئے گا اس دور میں تم وہ غلہ استعمال کرنا جو تم نے پہلے سات سالوں میں بالیوں میں محفوظ رکھا ہوگا۔ بالیوں میں محفوظ رکھنے کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ غلہ کو کیڑا نہیں لگے۔ دوسرے اس کا بھوسہ قحط سالی کے دور میں تمہارے جانوروں کے کام آئے گا اور یہ بالیوں میں محفوظ شدہ غلہ تمہارے قحط سالی کے سالوں کو کفایت کر جائے گا۔ بلکہ اگلے سال کی فصل کے بیج کے لیے بھی بچ جائے گا۔ یوسف
48 یوسف
49 [٤٨] اس آیت کے مطابق سیدنا یوسف علیہ السلام نے جو خوشخبری سنائی یہ بادشاہ کے خواب یا اس کی تعبیر کا حصہ نہیں تاہم اللہ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا تھا۔ اس کے مطابق آپ علیہ السلام نے لوگوں کو یہ بشارت بھی دے دی کہ ان چودہ سالوں کے بعد پندرہواں سال ایسا آئے گا جس میں خوب باران رحمت ہوگی اور جن جن چیزوں کو نچوڑ کر ان سے روغن یا رس حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ایسے سب غلوں اور پھلوں کی افراط سے پیداوار ہوگی۔ کھیتی باڑی بکثرت ہوگی۔ جانوروں کے تھن دودھ سے بھر جائیں گے اور بالخصوص انگور وغیرہ کو نچوڑ کر لوگ شراب کشید کریں گے۔ یہ آخری بات سائل کے حسب حال بیان فرمائی کیونکہ وہ یہی کام کرتا تھا۔ یوسف
50 [٤٩] الزام کی بریت سے پہلے سیدنا یوسف کا قید سے باہر آنے سے انکار :۔ بادشاہ کو جب ساقی نے قید خانہ سے واپس جاکر یہ تعبیر، یہ تدبیر اور یہ بشارت سنائی تو وہ عش عش کر اٹھا۔ اس کے دل سے وحشت دور ہوگئی اور اطمینان حاصل ہوگیا۔ وہ سیدنا یوسف علیہ السلام کے علم و فضل سے بہت متاثر ہوا اور کہنے لگا کہ ایسے شخص کو میرے پاس لایا جائے تاکہ میں اس کی زیارت سے فیض یاب ہوسکوں اور اس کے مرتبہ اور اس کی قابلیت کے مطابق اس کی عزت و تکریم کروں۔ جب بادشاہ کا پیغامبر یہ پیغام لے کر قید خانہ میں سیدنا یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچا اور آپ کو بادشاہ کا پیغام اور قید سے رہائی کی خوشخبری سنائی تو بجائے اس کے کہ آپ علیہ السلام اس پیغامبر پر خوش ہوتے آپ علیہ السلام نے قید سے باہر آنے سے انکار کردیا اور پیغامبر سے کہا کہ واپس جاکر پہلے بادشاہ سے اس قضیہ کا فیصلہ کراؤ جس کی وجہ سے مجھے قید میں ڈالا گیا تھا۔ یعنی اس عورتوں والے قصے کی کیا صورت حال ہے جبکہ انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔ بالفاظ دیگر آپ کا جواب یہ تھا کہ جب تک میرے اس جرم بے گناہی کی تحقیق نہ ہوجائے اور میری پوری طرح بریت نہ ہوجائے میں قید سے باہر آنے کو تیار نہیں۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنے مطالبہ میں اصل مجرم زلیخا کا نام عمداً نہ لیا کیونکہ اس کا خاوند آپ علیہ السلام کا محسن اور انصاف پسند آدمی تھا آپ اسے بدنام نہیں کرنا چاہتے تھے۔ بلکہ اجمالاً ان سب ہاتھ کاٹنے والی عورتوں کا ذکر کردیا۔ کیونکہ وہ سب ہی اس جرم میں زلیخا کی ہمنوا بن گئی تھیں اور ان سب نے مل کر ہی آپ کو قید خانے میں ڈلوایا تھا۔ آپ نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ میرا پروردگار تو میری بے گناہی اور عفت کو جانتا ہے۔ مگر میں یہ چاہتا ہوں کہ کسی ناواقف حال کے دل میں بھی یہ شائبہ نہ رہے کہ شاید اس معاملہ میں یوسف کا بھی کچھ قصور ہو۔ یوسف
51 [٥٠] عورتوں کا اعتراف جرم :۔ اب صورت حال یہ بن گئی تھی کہ بادشاہ خود سیدنا یوسف علیہ السلام کے معاملہ میں ذاتی دلچسپی لینے لگا تھا۔ اس نے فوراً اس تکیہ دار دعوت میں شریک ہونے والی سب عورتوں کو بلا کر گواہی طلب کی اور گواہی سے پہلے بادشاہ کا یہ کہنا کہ ”جب تم نے یوسف کو ورغلانا چاہا تھا “سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ کو اس واقعہ کی خبر ضرور تھی۔ البتہ اس نے اعیان سلطنت کی رائے کے علی الرغم اس واقعہ کی تحقیق کو کچھ اہمیت نہ دی تھی۔ ان عورتوں کو بھی اب موقعہ کی نزاکت خوب معلوم تھی کہ اب سچ کہے بغیر چارہ نہیں۔ چنانچہ انہوں نے صاف صاف اعتراف کرلیا کہ یوسف بالکل بے قصور ہے اس نے ہم میں سے کسی کو بھی میلی آنکھ سے دیکھا تک نہیں۔ عورتوں کی اس گواہی کے بعد زلیخا کے لیے بھی کسی مکر و فریب یا جھوٹ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی اور اس نے سب کے سامنے برملا اعتراف کرلیا کہ اصل مجرم میں ہوں۔ میں نے ہی اس پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی تھی اور یوسف علیہ السلام بالکل بے قصور اور سچا ہے۔ یوسف
52 [٥١] سیدنا یوسف کا صبر وتحمل :۔ جرم کا سب سے بہتر اور اول درجہ کا ثبوت مجرم کا اپنا اعتراف ہوتا ہے اس اعتراف کے بعد جب حق نتھر کر سامنے آگیا تو اس وقت سیدنا یوسف علیہ السلام نے تمام لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں نے یہ مطالبہ کیا ہی اس لیے تھا کہ میری پوزیشن عام لوگوں کی نظروں میں بالکل واضح ہوجائے اور اس لیے بھی کہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ دغابازوں اور خائن قسم کے لوگوں کا فریب چلنے نہیں دیتا۔ اس مقام پر خائن سے مراد وہ ہاتھ کاٹنے والی عورتیں ہیں۔ جنہوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ یوسف علیہ السلام بالکل پاکیزہ سیرت انسان ہے اور اصل مجرم زلیخا ہے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام پر ہی یہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ اسے زلیخا کی بات مان لینا چاہیے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے مقدمہ کی تحقیق تک اپنی قید سے رہائی کے معاملہ کو جس پیغمبرانہ صبرو تحمل سے تاخیر میں ڈالا اس کی داد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں دی ہے۔ ﴿ لَوْلَبِثْتُ فِیْ السِّجْنِ کَمَا لَبِثَ یُوْسُفُ لاَ جَبْتُ الدَّاعِیَ﴾(بخاری، کتاب التفسیر، باب لقد کان فی یوسف۔۔) (یعنی اگر میں اتنی مدت قید میں رہتا جتنی مدت یوسف علیہ السلام رہے تھے تو میں فوراً۔۔ بلانے والے کے ساتھ ہولیتا) اس جملہ میں ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا یوسف علیہ السلام کے صبر و تحمل کی تعریف فرمائی اور دوسرے نہایت لطیف پیرایہ میں اپنی عبودیت کاملہ اور انکساری کا اظہار فرمایا ہے۔ یوسف
53 [٥٢] سیدنا یوسف کی کسر نفسی :۔ بھری مجلس میں مجرم کے اعتراف اور اس قضیہ میں آپ کی شاندار جیت کے بعد یہ عین ممکن تھا کہ بشری تقاضوں کے تحت آپ کے نفس میں کچھ پندار اور غرور سراٹھانے لگتا۔ اسی لیے ساتھ ہی آپ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہو ہی نہیں سکتی نفس کا تو کام ہی یہ ہے کہ برائی کے کاموں پر انسان کو آمادہ کرتا رہتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی رحمت ہے کہ انسان اس برائی پر عمل کرنے سے بچا رہتا ہے اور جو میں بچا رہا تو اسی لیے کہ میرا اللہ تعالیٰ اپنے رحم و فضل سے مجھے بچاتا رہا۔ یوسف
54 [٥٣] شاہ مصر کی یوسف علیہ السلام کو پیش کش :۔ بادشاہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی شخصیت سے بہت متاثر ہوچکا تھا۔ آپ کی قید سے پہلے آپ کی پاکیزہ سیرت کا چرچا اس نے بھی سنا تھا۔ اس کے ساقی نے آپ کی بہت تعریف کی تھی۔ خواب کی تعبیر کے سلسلہ میں وہ آپ کے علم و فضل اور تدبر سے بہت مرعوب ہوا تھا اور اب موجودہ قضیہ میں آپ کی مکمل بریت نے اس کے دل میں آپ کی قدر و منزلت اور بھی بڑھا دی تھی۔ لہٰذا اس نے اپنے قاصد کو حکم دیا کہ وہ یوسف علیہ السلام کو بلا لائے اور ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ میں اسے اپنا مدار المہام بنانا چاہتا ہوں۔ پھر جب آپ علیہ السلام بادشاہ کے پاس تشریف لے آئے اور آپس میں گفتگو ہوئی تو آخر میں بادشاہ نے آپ سے کہا کہ آج سے ہی آپ ہمارے ہاں صاحب اقتدار ہیں اور ہمیں آپ کی دیانت و امانت پر پورا پورا اعتماد ہے۔ یوسف
55 [٥٤] سیدنا یوسف نے شاہ مصر سے کس چیز کا مطالبہ کیا تھا :۔ اس کے جواب میں سیدنا یوسف علیہ السلام نے کہا کہ پھر آپ مجھے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیجئے اور یہ بات تو آپ لوگ بھی سمجھ چکے ہیں کہ میں اس نظم و نسق کو پوری احتیاط کے ساتھ چلانے کی اہلیت رکھتا ہوں۔ بادشاہ سے آپ کے اس مطالبہ سے متعلق چند امور غور طلب ہیں : بعض مفسرین نے خزائن الارض کے مطالبہ سے یہ سمجھا کہ آپ نے محکمہ مال کے افسر اعلیٰ یا وزیرخزانہ کا عہدہ طلب کیا تھا۔ جو ملکی معیشت سے تعلق رکھتا تھا۔ کیونکہ آپ نے خواب کی جو تعبیر بتلائی تھی وہ اسی شعبہ سے تعلق رکھتی تھی اور آئندہ جو برادران یوسف کے مصر میں آنے کا ذکر ہے۔ وہ بھی اسی شعبہ سے تعلق ہے لیکن اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ آیا ایک نبی کسی کافرانہ حکومت کا کل پرزہ بن کر رہ سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ ایک نبی کے لیے کسی بھی صورت یہ شایان شان نہیں کہ وہ اس بات کو گوارا کرلے۔ لہٰذا یہاں خزائن الارض سے مراد مکمل اقتدار یا ملک کے سیاہ و سفید کا مختار ہونا ہے۔ بالخصوص اس لحاظ سے کہ ان الفاظ میں اس معنی کی بھی گنجائش موجود ہے اور اس لیے بھی کہ اس سے اگلی آیت میں واضح طور پر یہ الفاظ موجود ہیں۔ ﴿وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ یَتَبَوَّاُ مِنْہَا حَیْثُ یَشَاءُ ﴾ لہٰذا عَلٰی خَزَائِنِ الاَرْضِ سے محض وزارت خزانہ یا شعبہ مالیات مراد لینا درست نہیں۔ طلب امارت کس صورت میں مذموم ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ طلب امارت شرعاً ممنوع اور مذموم چیز ہے تو پھر سیدنا یوسف علیہ السلام نے ایسا مطالبہ کیوں کیا تھا ؟ بالخصوص اس صورت میں جبکہ بادشاہ کافر بھی تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ طلب امارت صرف اس صورت میں ممنوع اور مذموم ہے جبکہ اس کا جذبہ محرکہ یا مقصود صرف حب جاہ و مال ہو۔ لیکن جہاں ملک بھر کا انتظام درہم برہم ہو رہا ہو یا کسی بڑے مفسدہ کا خطرہ موجود ہو اور مطالبہ کرنے والے کو یہ بھی علم ہو کہ کوئی دوسرا اس کے سوا یہ بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں تو اس وقت معاملہ بالکل برعکس ہوجاتا ہے اور اس وقت مطالبہ نہ کرنا مذموم بن جاتا ہے۔ رہی یہ بات کہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے ایک کافر بادشاہ سے مطالبہ کیوں کیا تھا تو اس کا جواب پہلے گزر چکا کہ یہ مطالبہ محض طلب امارت کا نہ تھا بلکہ پورے اقتدار کا مطالبہ تھا۔ یعنی ملک کا پورے کا پورا اقتدار ہی سیدنا یوسف علیہ السلام کے حوالہ کردیا جائے۔ چنانچہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے اس مطالبہ کے متعلق مشورہ کیا۔ جس میں یہی طے ہوا کہ مکمل اقتدار سیدنا یوسف علیہ السلام کے حوالہ کردیا جائے اس لیے کہ سات سالہ قحط پر کنٹرول اور ملکی معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے انھیں کوئی دوسرا آدمی نظر نہیں آرہا تھا۔ اور اس مشورہ پر عمل درآمد کے بعد بادشاہ صرف برائے نام بادشاہ رہ گیا تھا۔ جملہ اختیارات سیدنا یوسف علیہ السلام کی طرف منتقل ہوگئے تھے۔ لہٰذا یہ طلب امارت نہیں بلکہ حق کی فتح تھی۔ چنانچہ بعد میں ملک بھر کا پورا انتظام سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنی مرضی کے مطابق چلایا تھا اور قرآن نے بھی اس منتقلی اقتدار کے بعد بادشاہ کے لیے ملک کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ (نیز دیکھئے سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر ٨٢ کا حاشیہ) یوسف
56 [٥٥] اس جملہ کے الفاظ سابقہ حاشیہ کی پوری طرح تائید کر رہے ہیں۔ یعنی اب سیدنا یوسف علیہ السلام جہاں چاہتے رہتے اور جو کچھ چاہتے کرسکتے تھے اور ظاہر ہے کہ اگر محض محکمہ مال کے افسر یا وزیر خزانہ ہوتے تو آپ حکومت کے احکام کے پابند ہوتے۔ آپ کو اتنی آزادی کبھی میسر نہ آسکتی تھی اور یہ محض آزادی نہ تھی بلکہ آپ کو خوشحالی کے سالوں میں غلہ کو ذخیرہ کرنے کے لیے مختلف مقامات پر جانا ضروری ہوتا تھا۔ یوسف
57 [٥٦] یعنی اللہ تعالیٰ اپنے مومن اور متقی بندوں کو دنیا میں بھی یقیناً اپنی رحمت سے نوازتا اور اچھا بدلہ دیتا ہے جیسا کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کو دیا تھا تاہم ایسے لوگوں کو جو آخرت میں اجر ملے گا وہ اس دنیوی اجر سے بدرجہا بہتر ہوگا۔ یوسف
58 [٥٧] عام قحط اور مصر میں غلہ کی تقسیم کا نظام :۔ برادران یوسف آپ کے پاس اس وقت آئے جب آپ کو بادشاہ بنے ہوئے آٹھ سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ پہلے سات سال انتہائی خوشحالی کا دور تھا۔ اس دور میں آپ نے کافی غلہ محفوظ کرلیا تھا۔ اس کے بعد جب قحط سالی کا دور شروع ہوا تو یہ قحط سالی صرف ملک مصر میں ہی نہ تھی بلکہ آس پاس کے ممالک میں بھی پھیل چکی تھی۔ اب صورت حال یہ تھی کہ مصر میں تو غلہ سستا تھا جبکہ آس پاس کے علاقہ میں بہت مہنگے نرخوں پر فروخت ہو رہا تھا اور غلہ کے حصول کے لیے آس پاس کے علاقوں کے باشندے مصر کا رخ کرتے تھے۔ مصر میں غلہ کی فراہمی اور اس کی نکاس کا تمام تر انتظام سیدنا یوسف علیہ السلام نے خود سنبھال رکھا تھا اور اس انتظام کو موجودہ دور کے راشن سسٹم سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ بیرونی علاقوں سے حصول غلہ کے لیے آنے والوں کے لیے یہ شرط تھی کہ وہ درخواست پیش کریں کہ انھیں اپنے گھر کے کتنے افراد کے لیے غلہ درکار ہے۔ ان کے پورے پورے نام اور پتے لکھے جائیں اور ان کو رجسٹر میں درج کیا جائے اور درخواست کی منظوری کے لیے درخواست حکام بالا کے پاس پیش کی جائے۔ درخواست کی تحقیق کے بعد فی کس ایک بار شتر غلہ کی منظوری دے دی جاتی تھی۔ اسی سلسلہ میں برادران یوسف بھی مصر آئے تھے۔ انہوں نے بھی حسب ضابطہ درخواست دی۔ یہ درخواست بالآخر سیدنا یوسف علیہ السلام تک پہنچی۔ آپ نے درخواست کی منظوری دے دی مگر ساتھ ہی ان درخواست دہندگان کو اپنے پاس طلب کرلیا۔ اب برادران یوسف سیدنا یوسف علیہ السلام کے سامنے کھڑے تھے۔ آپ انھیں خوب پہچانتے تھے۔ لیکن ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ آسکتی تھی کہ جس بادشاہ کے حضور کھڑے غلہ کی درخواست پیش کر رہے ہیں وہ ان کا بھائی یوسف ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی وہ بات پوری ہوئی جو اس نے برادران یوسف کے یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالتے وقت یوسف علیہ السلام کے دل میں ڈالی تھی۔ یوسف
59 یوسف
60 [٥٨] سیدنا یوسف کے چھوٹے بھائی کو ساتھ لانے کی تاکید :۔ برادران یوسف کی درخواست میں ان کے والد اور چھوٹے بھائی کا بھی اندراج تھا۔ لیکن منظوری فی کس ایک بار شتر غلہ صرف ان افراد کی ہوئی جو غلہ لینے آئے تھے اور سیدنا یوسف کے پاس حاضر کئے گئے تھے۔ آپ علیہ السلام نے باقی افراد کے متعلق ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا باپ سن رسیدہ آدمی ہے آنے کے قابل ہی نہیں اور چھوٹے بھائی کو ہم اس کی خبرگیری کے لیے چھوڑ آئے ہیں۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے انھیں کہا۔ دیکھو! تمہارا باپ تو واقعی آنے کے قابل نہ رہا ہوگا۔ البتہ اگلی بار جب آؤ اپنے چھوٹے بھائی کو ضرور ساتھ لانا۔ اس دفعہ تو تمہاری درخواست منظور کردی گئی ہے اور غلہ بھی پورا دے دیتا ہوں۔ مگر آئندہ اگر تم اپنے بھائی کو نہ لائے تو میں سمجھوں گا کہ تم جھوٹے تھے۔ لہٰذا اس صورت میں نہ تو تمہیں غلہ مل سکے گا اور نہ ہی مجھ تک رسائی ہوسکے گی۔ بلکہ میرے ہاں آنے کی کوشش ہی نہ کرنا۔ یوسف
61 [٥٩] وہ کہنے لگے، ہمارا باپ بوڑھا ہے۔ لہٰذا وہ آسانی سے اسے ہمارے ساتھ روانہ نہ کرے گا۔ تاہم ہم لوگ اپنی پوری کوشش کریں گے اور امید ہے کہ اپنے باپ کو اس بات پر آمادہ کرلیں گے۔ یوسف
62 [٦٠] غلہ کی قیمت کی واپسی :۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے ان کی اچھی طرح مہمان نوازی کی اور غلہ بھرنے والوں کو یہ اشارہ بھی کردیا کہ جو رقم غلہ کی قیمت کے طور پر ان سے وصول کی گئی ہے وہ بھی ان کے غلہ میں رکھ دی جائے اور یہ کام انہوں نے اس غرض سے کیا کہ ممکن ہے کہ انھیں دوبارہ آنے کے لیے رقم میسر نہ ہو اور وہ آہی نہ سکیں یا بڑی دیر بعد میسر ہو تو اس صورت میں بڑی دیر سے میرے پاس دوبارہ ان کے چھوٹے حقیقی بھائی بن یمین کو ساتھ لے کر آئیں۔ قرآن کے الفاظ سے تو رقم واپس کرنے کی یہی اصل غرض معلوم ہوتی ہے۔ تاہم بعض مفسرین کہتے ہیں کہ رقم کی واپسی سے ان کا دوسرا مقصد یا تابع مقصد یہ بھی تھا کہ وہ بھائیوں سے غلہ کی قیمت لینا پسند نہیں کرتے تھے۔ یوسف
63 یوسف
64 [٦١] بیٹوں کا بن یامین کو لے جانے پر اصرار اور باپ کا انکار :۔ جب برادران یوسف واپس اپنے گھر یعنی کنعان پہنچے تو جاتے ہی اپنے والد محترم کو اس گفتگو سے مطلع کیا جو ان کے اور شاہ مصر کے درمیان ہوئی تھی اور بڑی وضاحت سے یہ بھی بتلا دیا کہ اگر آپ بن یمین کو ہمارے ساتھ نہیں بھیجیں گے تو پھر ہمیں کبھی غلہ نہ مل سکے گا اور غلہ کی فراہمی اس دور کی سب سے اہم اور شدید ضرورت ہے۔ لہٰذا آپ ضرور اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے اور جہاں تک ہم سے ہوسکا ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام نے انھیں جواب دیا کہ بالکل ایسی ہی بات تم نے اس وقت بھی کہی تھی۔ جب تم یوسف علیہ السلام کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ پھر معلوم نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ماجرا گزرا تم نے بھلا کونسی صحیح بات مجھے بتلائی تھی اور میری تو اس وقت سے اس کے حق میں یہی دعا رہی ہے کہ اللہ اسے زندہ سلامت قائم و دائم اور اپنی حفاظت میں رکھے۔ جہاں کہیں بھی وہ ہو، میں تو ہمیشہ اللہ سے اس کے رحم کا طالب رہا ہوں اور اب تم میرے اس چھوٹے بیٹے کو بھی مجھ سے جدا کرنا چاہتے ہو، یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔ یوسف
65 [٦٢] پھر جب غلہ کی بوریاں کھولنے اور ان سے غلہ نکالنے کے دوران انھیں وہ نقدی بھی واپس مل گئی جو انہوں نے بطور قیمت غلہ ادا کی تھی تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ شاہ مصر کے احسانات انھیں یاد آنے لگے اور بن یمین کو ساتھ لے جانے کے دوبارہ تقاضا کے لیے ایک نئی وجہ بھی پیدا ہوگئی۔ پہلے تقاضا کے وقت انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ غلہ کی رقم کب تک میسر آئے گی اور کب ہمیں دوبارہ مصر جانا ہوگا۔ اس لیے بن یمین کے ساتھ لے جانے کا مطالبہ بھی کچھ ایسا پرزور نہ تھا۔ شاید یہ خیال کرتے ہوں کہ وقت آنے پر باپ مان ہی جائے گا یا اسے منا لیں گے، مگر اب جبکہ غلہ کے لیے قیمت بھی میسر آگئی تو دوبارہ بن یمین کی حفاظت کے عہد و پیمان کرنے اور والد کو اسے ہمراہ لے جانے پر مجبور کرنے اور اس کے فوائد بتلانے لگے۔ [٦٣] یعنی بن یمین کا حصہ بھی ملے گا اور اب جبکہ ساری سہولتیں میسرہیں تو پھر کیوں نہ غلہ لانے کی کوشش کی جائے، اور بعض لوگوں نے اس آیت میں ﴿یَسِیْرٌ﴾ کے معنی آسان کے بجائے قلیل لیے ہیں۔ یعنی جو غلہ ہم لاچکے ہیں وہ ہمارے گھرانے کے لیے تھوڑا ہے۔ کب تک چلے گا۔ لہٰذا ہمیں دوبارہ غلہ لانے کے موقعہ کو کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہیے۔ یوسف
66 [٦٤] دوبارہ مطالبہ پر سیدنا یعقوب کا مشروط طور پر تسلیم کرلینا :۔ بالآخر سیدنا یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کے سامنے مجبور ہوگئے۔ ان سے اللہ کے نام پر پختہ عہد دینے کا مطالبہ کیا جسے تسلیم کرنے کو وہ پہلے ہی تیار بیٹھے تھے۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام نے مزید یہ شرط عائد کردی کہ تمہیں اس وقت تک بن یمین کی حفاظت کرنا ہوگی جب تک تمہاری جان میں جان ہے ہاں اگر تم خود ہی کہیں گھیر لیے جاؤ اور تمہیں اپنی جانوں کی حفاظت بھی مشکل ہوجائے تو یہ الگ بات ہے۔ بیٹوں نے اس بات کو بھی تسلیم کرلیا تو اس وقت سیدنا یعقوب علیہ السلام نے ان سے کہا کہ جو کچھ ہم میں قول و اقرار پایا ہے۔ اس پر اللہ گواہ ہے اور وہی اسے بخیر و عافیت سرانجام دینے والا ہے۔ یوسف
67 [٦٥] پھر جب ان گیارہ بھائیوں کی روانگی کا وقت آیا تو کئی طرح کے اندیشے سیدنا یعقوب علیہ السلام کے دل میں پیدا ہونے لگے پہلے ان کے بیٹے اجنبی مسافروں کی حیثیت سے اور بے بسی کے عالم میں مصر داخل ہوئے تھے۔ اب یہ ایک لحاظ سے شاہی دعوت کی بنا پر شان و شوکت سے روانہ ہو رہے تھے۔ گیارہ بھائی تھے۔ سب کے سب جوان اور خوبصورت، پھر پہلی بار بھی ان سے مصر میں عام لوگوں جیسا سلوک نہ ہوا تھا بلکہ ان کی بہت عزت و تکریم کی گئی تھی جسے اہل مصر خوب جانتے تھے۔ لہٰذا روانگی کے وقت سیدنا یعقوب علیہ السلام کو سب سے بڑا اندیشہ یہی تھا کہ کہیں انھیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ لہٰذا احتیاطی تدبیر کے طور پر انھیں یہ ہدایت کی کہ وہ مصر کے کسی ایک ہی دروازہ سے داخل نہ ہوں۔ بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں۔ بعض لوگ نظر لگنے کو محض ایک وہم خیال کرتے ہیں۔ درج ذیل حدیث کی رو سے ان کا خیال باطل ہے : ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نظر لگنا برحق ہے اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کرتی تو نظر کرتی۔ (مسلم، کتاب السلام، باب الطب والمرضیٰ والرقی۔۔) اس تدبیر کو اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں یہ بھی بتلا دیا کہ ہماری تدابیر بھی اس صورت میں کام آسکتی ہیں جبکہ اللہ کو منظور ہو، اور اگر اللہ کو منظور نہ ہو تو سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اور ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہو۔ لہٰذا حقیقت یہی ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنا تدابیر اختیار کرنے سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ یوسف
68 [٦٦] یعنی سیدنا یعقوب علیہ السلام کے دل کا ارمان یہ تھا کہ یہ سب بھائی بخیر و عافیت مصر جائیں اور وہاں سے غلہ لے کر بخیروعافیت واپس پہنچ جائیں۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام کی تدبیر اور ان کا بھروسہ اس اندیشے میں تو کام آگیا کہ انھیں نظر نہیں لگی۔ لیکن ان کے دل کا ارمان پورا نہ ہوسکا۔ کیونکہ اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ لہٰذا ان کی یہ تدبیر اللہ کی اس تقدیر کے مقابلہ میں کچھ کام نہ آسکی۔ جس کے متعلق انھیں خیال تک بھی نہیں آسکتا تھا۔ [٦٧] سیدنا یعقوب کی بیٹوں کو نصیحت اور اللہ کی تقدیر :۔ وہ تعلیم جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا یعقوب علیہ السلام کو دی تھی یہ تھی کہ محض ظاہری تدبیر پر ہی بھروسہ نہ کر بیٹھنا چاہیے بلکہ ظاہری تدابیر اختیار کرنے کے بعد بھی بھروسہ اللہ ہی پر کرنا چاہیے اور یہی تعلیم وہ اپنے بیٹوں کو دے رہے تھے۔ مگر اکثر لوگ اس تعلیم سے واقف نہیں، وہ صرف ظاہری اسباب پر ہی بھروسہ کرلیتے ہیں یا پھر کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ محض اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور ظاہری اسباب اختیار نہیں کرتے یا ان کی پروا نہیں کرتے۔ یہ دونوں باتیں غلط اور اللہ کی دی ہوئی تعلیم کے خلاف ہیں۔ یوسف
69 [٦٨] دو بچھڑے ہوئے بھائیوں کی اتفاقی ملاقات :۔ برادران یوسف جیسے سیدنا یوسف علیہ السلام سے حسد رکھتے تھے۔ ویسے ہی بن یمین سے بھی رکھتے تھے کیونکہ سیدنا یوسف علیہ السلام سے جدائی کے بعد بن یمین باپ کی توجہ کا مرکز و محور بن گئے تھے۔ چنانچہ روانگی کے بعد راستہ میں اسے طعن و تشنیع سے کو ستے رہے اور طرح طرح سے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑتے رہے تھے جب یہ لوگ مصر میں داخل ہوئے تو سیدنا یوسف علیہ السلام نے ان کا استقبال کیا اور شاہی مہمان خانہ میں ٹھہرایا۔ دو دو بھائیوں کو الگ الگ کمرہ رہنے کو دیا۔ بن یمین اکیلا رہ گیا تو آپ نے اسے کہا میں تمہارے پاس رہوں گا۔ چنانچہ جب تنہائی میسر آئی تو سیدنا یوسف علیہ السلام نے بن یمین کو بتایا کہ میں ہی تمہارا گم شدہ بھائی ہوں۔ طویل مدت کے فراق اور مایوسی کے بعد و حقیقی بھائیوں کی اس طرح ہنگامی ملاقات کے دوران طرفین کے جذبات میں جو تلاطم برپا ہوتا ہے اسے عموماً سب لوگ جانتے ہیں۔ وہی سب کچھ یہاں بھی ہوا۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے کنویں میں پھینکے جانے کے وقت سے لے کر موجودہ وقت تک کے سب حالات سنا دیئے اور چھوٹے بھائی بن یمین نے اپنے گھر کے حالات، بیٹے کے فراق میں سیدنا یعقوب کی داستان غم کی تفصیلات اور اپنی ذات پر بھائیوں کے ناروا سلوک کے حالات سنائے تو سیدنا یوسف علیہ السلام نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا جو ہوچکا سو ہوچکا۔ اب تمہارے بھائی تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچا سکیں گے میں کوئی ایسی تدبیر کروں گا کہ تمہیں ان کے ساتھ روانہ ہی نہ کروں گا۔ مگر ہماری اس مجلس کی باتوں کا ان سے قطعاً ذکر نہ کرنا اور نہ ہی میرے متعلق ابھی انھیں کچھ بتانا۔ یوسف
70 یوسف
71 یوسف
72 [٦٩] شاہ مصر کے پیالہ کی چوری :۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی بن یمین کو اپنے ہاں روک لینے کی یہ تدبیر سوچی کہ اس کے سامان میں یعنی غلہ میں اپنا مرصع پانی پینے کا پیالہ بھی رکھ دیا اور اس تدبیر کی آپ نے اپنے بھائی کو بھی خبر دے دی تاکہ وہ کسی موقع پر گھبراہٹ کا شکار نہ ہوجائے۔ چنانچہ جب برادران یوسف کا سامان تیار کیا جارہا تھا تو آپ نے چپکے سے اپنا مرصع پانی پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا اور سامان تیار کرکے انھیں شہر مصر سے روانہ کردیا گیا۔ جب یہ لوگ ذرا آگے نکل آئے تو چند آدمی ان کے پیچھے تیزی سے آرہے تھے۔ ان میں سے ایک نے بلند آواز سے انھیں پکارا اور کہا : ذرا ٹھہر جاؤ، تم تو چور معلوم ہوتے ہو، برادران یوسف نے مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا کہ چند آدمی ان کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ان سے پوچھا کہ تمہارا کیا سامان چوری ہوا ہے؟تعاقب کرنے والوں میں سے ایک شخص بولا کہ بادشاہ کا پانی پینے کا مرصع پیالہ گم ہوگیا ہے۔ اس کی ہر جگہ تلاش کی گئی لیکن ملا نہیں۔ ہم اسی کی تلاش میں نکلے ہیں۔ جو شخص یہ پیالہ تلاش کرکے بادشاہ کے پیش کرے۔ اس کے لیے ایک بار شتر غلہ انعام مقرر ہوا ہے اور میں اس بات کا ضامن ہوں کہ جو شخص پیالہ ڈھونڈ نکالے میں اس کو بادشاہ سے مقررہ انعام دلوا دوں، یا اگر خود تلاش کرسکوں تو یہ انعام خود وصول کرلوں۔ اور لفظ زعیم کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ مجھ پر ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ جیسے بھی ممکن ہو میں وہ پیالہ ڈھونڈ کر بادشاہ کے حضور پیش کروں اور اس صورت میں مجھے مقررہ انعام بھی ملے گا۔ صواع کے معنی :۔ نیز ان آیات میں دو بار صواع کا لفظ آیا ہے۔ صواع کو بعض لوگوں نے صاع سے مشتق سمجھ کر اس کا معنی غلہ ماپنے کا معروف پیمانہ (پنجابی ٹوپہ) کردیا ہے۔ حالانکہ یہ لفظ صاع سے مشتق یا ماخوذ نہیں ہے۔ بلکہ اس کا معنی پانی پینے کا ایسا پیالہ ہے۔ جس میں جواہرات وغیرہ جڑے ہوئے ہوں اور اگر یہ پیالہ شیشہ کا ہو تو اسے قدح، لکڑی کا ہو تو عُس، چمڑے کا ہو تو علبۃ اور مٹی کا ہو تو مرکن کہتے ہیں۔ (الجمال والکمال ص ١٧٤ ازسلمان منصور پوری) یوسف
73 یوسف
74 یوسف
75 [٧٠] کنعان میں چوری کی سزا :۔ برادران یوسف کہنے لگے ہم شریف خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ہم چور یا فسادی قسم کے لوگ نہیں۔ کنعان سے یہاں غلہ لینے آئے تھے اور اب غلہ لے کر واپس جارہے ہیں تعاقب کرنے والوں نے کہا : یہ ٹھیک ہے مگر تم اپنا سامان ہمیں دکھا دو، اور یہ بھی بتا دو کہ اگر بالفرض تم میں سے کسی کے سامان سے مسروقہ مال برآمد ہوجائے تو پھر اس کی کیا سزا ہے؟ پیالہ کی برآمدگی :۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے ملک میں چور کو یہ سزا دی جاتی ہے کہ جس شخص کے سامان میں سے یا گھر سے مسروقہ مال برآمد ہوجائے تو جس کا مال چوری ہوا ہو، چور کو سال بھر کے لیے اسی کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔ ضامن بولا! ’’ٹھیک ہے، ہمیں تمہاری یہ بات بھی قبول ہے‘‘ یہ کہہ کر ضامن نے ان کے سامان کی تلاشی لینا شروع کردی۔ چند بھائیوں کا سامان دیکھنے کے بعد جب بن یمین کے سامان کی تلاش لی گئی تو اس سے گم شدہ پیالہ برآمد ہوگیا۔ چنانچہ اس ضامن نے مسروقہ پیالہ بھی اپنے قبضہ میں کرلیا اور بن یمین کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا۔ یوسف
76 [٧١] اللہ کی تدبیر کیا تھی؟ سیدنا یوسف علیہ السلام اپنے بھائی بن یمین کو اپنے پاس ہی روک رکھنا چاہتے تھے۔ اور یہ بھی چاہتے تھے کہ ان کے بھائیوں پر ابھی اپنے بادشاہ ہونے کی حقیقت کا راز فاش نہ ہو۔ اسی لیے پیالہ بن یمین کے سامان میں رکھنے کی تدبیر کی گئی تھی اور جو تدبیر اللہ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کے لیے کی وہ یہ تھی کہ آپ اس کو شاہ مصر کے قانون تعزیرات کے مطابق گرفتار کرکے جیل میں نہ بھیجیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے برادران یوسف کے منہ ہی سے یہ بات نکلوا دی کہ ہمارے ہاں چور کی سزا یہ ہوتی ہے کہ جو شخص چوری کرے وہ ایک سال کے لیے اس شخص کی غلامی کرے جس کا اس نے مال چرایا ہے۔ اس طرح باعزت طور پر بن یمین کو کم از کم ایک سال کے لیے اپنے حقیقی بھائی یوسف علیہ السلام کے پاس رہنے کا اللہ تعالیٰ نے موقع فراہم کردیا اور وہ کچھ ہو کے رہا جو اللہ کو منظور تھا۔ [٧٢] اس جملہ میں سیدنا یوسف علیہ السلام اور برادران یوسف کا تقابل پیش کیا گیا ہے کہ جس یوسف علیہ السلام کو اس کے بھائیوں نے کنویں میں ڈال کر صفحہ ہستی سے غائب کرنا چاہا تھا۔ اسے اللہ نے اتنا اعزاز بخشا کہ اس کے بھائی اسی یوسف کے رحم و کرم کے محتاج بن گئے۔ [٧٣] یعنی اگرچہ یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے علم عطا فرمایا تھا تاہم وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ کون سی ایسی تدبیر کی جائے کہ ان کا بھائی باعزت طور پر ان کے پاس رہ سکے۔ یہ تدبیر اللہ نے یوسف علیہ السلام کی خاطر پیدا کردی۔ کیونکہ وہ ہر صاحب علم سے بڑھ کر علیم ہستی ہے۔ یوسف
77 [٧٤] برادران یوسف کا یوسف پہ چوری کا الزام :۔ چند ہی لمحے پیشتر یہی برادران یوسف یہ اعلان کر رہے تھے کہ ہم لوگ شریف زادے ہیں چوری یا فساد کرنے والے نہیں ہیں۔ پھر اسی مقام پر صرف بن یمین پر ہی چوری کے الزام کو درست تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کے بڑے بھائی ( یوسف علیہ السلام) پر چوری کا الزام جڑ دیا۔ اسی ایک جملہ سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ ان دونوں بھائیوں کے متعلق کس قدر معاندانہ اور حاسدانہ جذبات رکھتے تھے اور جو کچھ خود ان کے حق میں کرتے رہے۔ اس کا انھیں کبھی خیال بھی نہ آتا تھا۔ [٧٥] اس مقام پر بھی سیدنا یوسف علیہ السلام نے پیغمبرانہ صبر و تحمل سے کام لیا۔ یہ عین ممکن تھا کہ اگر اس وقت کوئی بات آپ کے منہ سے نکل جاتی تو سارا راز فاش ہوجاتا اور حالات دوسرا رخ اختیار کر جاتے لیکن سیدنا یعقوب علیہ السلام کے لیے صبر و توکل کے ابتلاء کا دور ابھی باقی تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ابھی یوسف علیہ السلام کو مزید بلند درجات عطا فرمانا چاہتے تھے۔ اتنے بلند کہ آپ کے بچپن کے دیکھے ہوئے خواب کی تعبیر نتھر کر سامنے آجائے۔ البتہ ان کے دل میں یہ ضرور خیال آیا کہ یہ اخلاقی لحاظ سے کس قدر گرچکے ہیں کہ محض حسد و عناد کی بنا پر بلاتامل دوسرے پر الزام عائد کردیتے ہیں۔ یوسف
78 یوسف
79 [٧٦] جب یہ واقعہ پیش آگیا تو برادران یوسف کو فوراً خیال آیا کہ اب ہم اپنے باپ کو کیا منہ دکھاسکتے ہیں جس سے اتنا پختہ عہد کیا تھا کہ ہم بن یمین کو ضرور ساتھ لائیں گے الا یہ کہ ہم پر ہی کوئی آفت نہ پڑجائے۔ اب اگر یہ اس کے دس بھائی باپ کے پاس جاتے اور صرف بن یمین ساتھ نہ ہوتا تو اس سے زیادہ ان کے جھوٹ اور مکر و فریب کا اور کیا ثبوت ہوسکتا تھا۔ بالخصوص اس صورت میں کہ سیدنا یوسف والے واقعہ کی وجہ سے باپ پہلے ہی ان کی طرف سے بدظن تھا۔ اب لگے سیدنا یوسف علیہ السلام کے سامنے منت و سماجت کرنے کہ آپ نے ہم پر پہلے بھی بہت احسان کئے ہیں ایک یہ بھی کردیجئے کہ اس بن یمین کے بجائے ہم میں سے کوئی ایک اپنے ہاں غلام رکھ لیجئے کیونکہ اس کا باپ بہت بوڑھا بزرگ ہے اس کی جدائی کا صدمہ برداشت نہ کرسکے گا۔ اس کے جواب میں سیدنا یوسف علیہ السلام کہنے لگے کہ ایسا ظلم ہم کیسے کرسکتے ہیں ہم تو اسی کو اپنے پاس رکھیں گے جس کے سامان سے ہمارا گم شدہ مال برآمد ہوا ہے۔ اس مقام پر بھی سیدنا یوسف علیہ السلام نے بن یمین کو چور نہیں کہا نہ ان پر چوری کا الزام لگایا۔ کیونکہ فی الحقیقت انہوں نے چوری نہیں کی تھی۔ یوسف
80 [٧٧] بڑے بھائی کا واپس جانے سے انکار جب یوسف علیہ السلام نے ایسا احسان کرنے سے صاف جواب دے دیا تو سب بھائی تنہائی میں جاکر موجودہ پریشان کن صورت حال پر غور کرنے لگے۔ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والا معاملہ بن گیا تھا۔ اگر انہوں نے پہلے یوسف کے معاملہ میں زیادتی نہ کی ہوتی تو اب صورت حال اس قدر سنگین نہ ہوتی۔ ان حالات میں بڑے بھائی نے سابقہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے آپ کو اپنے باپ کو منہ دکھانے کے قابل نہیں سمجھتا۔ البتہ تم لوگ جاکر باپ کو اس صورت حال سے مطلع کردو۔ میں یہیں رہوں گا اور پھر کوشش کروں گا کہ بن یمین کو ان لوگوں سے لاسکوں یا پھر مجھے موت آجائے، یا اگر میرا باپ مجھے اپنے پاس آنے کا حکم دے۔ تب ہی میں اپنے باپ کو منہ دکھا سکتا ہوں۔ اب جو بات اللہ کو منظور ہوگی وہی میرے لیے قابل قبول ہوگی اور وہی میرے حق میں کوئی بہتر فیصلہ کرے گا۔ بہرحال میں تمہارے ساتھ گھر جانے کو تیار نہیں اور اس پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ یوسف
81 [٧٨] یعنی ہم نے بچشم خود دیکھا تھا کہ گمشدہ پیالہ اس کے سامان سے نکلا تھا۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اس نے چوری کی ہے اور جب ہم نے آپ سے اس کی حفاظت کرنے کا عہد و پیمان کیا تھا اس وقت ہمیں یہ تو معلوم نہ تھا کہ وہ مصر جاکر چوری کرے گا، اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ہم سے پوچھا کہ تمہارے ہاں چور کی کیا سزا ہے، تو ہم نے وہی بات بتائی جو ہم جانتے تھے یعنی چور اس شخص کی غلامی میں ایک سال رہے جس کی اس نے چوری کی ہے۔ مگر ہمیں یہ کیا خبر تھی کہ ہمارا یہ بیان ہم پر ہی لاگو ہونے والا ہے۔ یوسف
82 [٧٩] یعنی اگر آپ ہم پر اعتبار نہیں کرتے تو اہل مصر سے دریافت کرلیجئے یا اس قافلہ والوں سے پوچھ لیجئے جو ہمارے ہمراہی تھے۔ ان شہادتوں سے آپ کو یقین آجائے گا کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں سچی بات ہی کہہ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہاں قریۃ کا لفظ اہل لقریہ یعنی بستی والوں کے معنی میں اور العیر قافلہ والوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یوسف
83 [٨٠] گمشدہ سامان کی برآمدگی سے چوری ثابت نہیں ہوجاتی :۔ یہ بعینہ وہی الفاظ ہیں جو سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اس وقت بھی کہے تھے جب برادران یوسف نے یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالنے کے بعد رات کو روتے ہوئے باپ کے پاس آئے تھے اور ایک جھوٹا سا واقعہ بنا کر انھیں سنا دیا تھا۔ اب کی بار آپ نے بیٹوں سے پورا واقعہ سننے کے بعد جو انھیں تنبیہ کی تو اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ کیا تم یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ کسی شخص کے سامان سے کسی گم شدہ چیز کا برآمد ہونا اس بات کا یقینی ثبوت کب ہوتا ہے کہ اس شخص نے ضرور چوری کی ہے۔ ممکن ہے کسی دوسرے نے اس کے سامان میں وہ چیز رکھ دی ہو؟ پھر تم نے یوسف پر چوری کا مزید الزام لگا کر بن یمین پر لگے ہوئے الزام کو پختہ تر بنا دیا۔ اس تنبیہ سے دو باتوں کا پتہ چلتا ہے ایک یہ کہ سیدنا یعقوب علیہ السلام کو اس بات کا پختہ یقین تھا کہ میرے یہ بیٹے چور نہیں ہوسکتے اور دوسرے یہ کہ برادران یوسف اپنے ان دونوں چھوٹے بھائیوں سے ہمیشہ بدگمان ہی رہتے تھے۔ [٨١] سب سے مراد یوسف بن یمین اور ان کا وہ بڑا بھائی ہے جو شرم و ندامت کے مارے مصر میں ہی رہ گیا تھا۔ یوسف
84 [٨٢] سیدنا یعقوب کی بینائی جانے کی وجہ :۔ یعنی اپنے بیٹوں کو کچھ لعنت ملامت نہیں کی اور درگزر سے کام لیا۔ حالانکہ اس واقعہ نے پرانے زخم کو پھر سے ہرا کردیا تھا۔ البتہ بے اختیار آپ علیہ السلام کے منہ سے ہائے یوسف کے الفاظ نکل گئے جب کہ سیدنا یوسف کا غم آپ کی رگ رگ میں سرایت کرچکا تھا۔ کظیم اس مشک کو کہتے ہیں جسے لبالب بھر کر اس کا منہ بند کردیا گیا ہو۔ بالفاظ دیگر یوسف علیہ السلام کا غم آپ کے گلے تک پہنچ چکا تھا۔ مگر پھر بھی آپ شکوہ شکایت یا بے قراری کا کوئی لفظ زبان سے نکالنا گوارا نہیں کرتے تھے اور سب کچھ ضبط ہی کئے جارہے تھے جس کا اثر آپ کی آنکھوں پر پڑا اور آپ کی بینائی جاتی رہی۔ یوسف
85 یوسف
86 [٨٣] اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے :۔ باپ کے منہ سے آہ سن کر بھی حاسد بیٹوں کو ان پر رحم نہ آیا بلکہ الٹا باپ کو ملامت کرنے لگے کہ اب اس کے قصہ کو چھوڑتے بھی ہو یا نہیں؟ یا اسی کے غم میں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے؟ مغموم باپ نے انھیں جواب دیا کہ میں تمہیں تو کچھ نہیں کہتا۔ تم نے جو کچھ چاہا کرلیا۔ میں تو اپنی پریشان حالی کو اللہ کے سامنے پیش کرتا اور اسی سے صبر کی توفیق چاہتا ہوں۔ کیونکہ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یوسف ابھی زندہ ہے جسے اللہ نے مجھ سے دور کردیا ہے۔ کیونکہ سیدنا یوسف علیہ السلام کو جو خواب آیا تھا اس وجہ سے آپ کو یقین تھا کہ یقیناً یوسف علیہ السلام زندہ ہے اور کسی نہ کسی دن ضرور اس سے ملاقات ہوگی اور وہ خواب پورا ہوکے رہے گا اور یہی وہ بات تھی جسے یعقوب علیہ السلام تو جانتے تھے لیکن ان کے بیٹے نہیں جانتے تھے اور آپ اپنے بیٹوں کو یہ بات بتانا بھی نہیں چاہتے تھے کہ کہیں حسد کے مارے جل بھن نہ جائیں۔ یوسف
87 [٨٤] اسی یقین کی بنا پر آپ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ جاؤ یوسف علیہ السلام اور اس کے بھائی دونوں کے لیے کوشش کرو کہ وہ ہمیں مل جائیں اور تیسرے بیٹے کا جو مصر میں رہ گیا تھا آپ نے اس لیے نام نہ لیا کہ وہ خود اسی غرض سے وہاں اٹکا ہوا تھا کہ بن یمین کے حالات پر نگہداشت رکھے اور جب بھی کوئی رہائی کی صورت ممکن ہو اسے بروئے کار لائے اور انھیں تاکید کی کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ کیونکہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا مسلمانوں کا شیوہ نہیں۔ یوسف
88 [٨٥] تیسری بار برادران یوسف، یوسف علیہ السلام کے دربار میں :۔ اب ان بھائیوں کو یوسف علیہ السلام کے متعلق تو کچھ علم نہ تھا کہ وہ کہاں ہوسکتا ہے اور کس سمت کو جاکر اسے تلاش کیا جائے۔ کیونکہ ظن ضرور تھا کہ جس قافلہ نے اسے کنویں سے نکالا تھا وہ مصر کو جارہا تھا۔ لہٰذا یہ امکان تھا کہ شاید وہ مصر میں ہی ہو۔ البتہ بن یمین کے متعلق یقین تھا کہ اسے شاہ مصر نے اپنے پاس رکھ لیا ہے اور تیسرا بھائی بھی ادھر ہی تھا۔ لہٰذا انہوں نے تیسری بار پھر مصر کا رخ کیا کچھ تھوڑی بہت پونجی بھی مہیا کرلی کہ اس قحط سالی کے زمانہ میں کچھ غلہ ہی لے آئیں گے اور اسی دوران اپنے بھائیوں کی بازیافت کے لیے بھی کوشش کریں گے چنانچہ مصر پہنچ کر انہوں نے سب سے پہلے شاہ مصر کا ہی رخ کیا اور اس سے التجا کی کہ ہم لوگوں پر سخت مشکل وقت آن پڑا ہے۔ کھانے کو غلہ نہیں اور غلہ کے لیے رقم بھی نہیں تھوڑی سی رقم ہم لائے ہیں۔ اگر آپ غلہ پورا دے دیں تو آپ کی انتہائی مہربانی ہوگی۔ آپ کے ہم پر پہلے بھی بہت احسانات ہیں جن کا ہم شکریہ ادا نہیں کرسکتے۔ اب بھی ہم پر احسان فرمائیے اور اللہ ہی اس کی آپ کو جزا دے گا۔ اور انشاء اللہ وہ ضرور آپ کو جزا دے گا۔ یوسف
89 [٨٦] سیدنا یوسف کا اپنا آپ جتلا دینا :۔ اپنے بھائیوں اور گھر والوں کی یہ داستان غم ان الفاظ میں سن کر سیدنا یوسف علیہ السلام اب زیادہ دیر حالات پر پردہ ڈالے رکھنا برداشت نہ کرسکے۔ دل بھر آیا اور ان کی اسی التجا کے جواب میں ان سے یہ پوچھا : ’’کچھ وہ واقعہ بھی یاد ہے جو سلوک تم نے اپنے بھائی یوسف علیہ السلام سے کیا تھا۔ پھر اس کے بعد اپنے اس چھوٹے بھائی بن یمین سے کرتے رہے ہو؟‘‘ اس سوال میں سیدنا یوسف علیہ السلام نے پیرایہ بھی ایسا اختیار کیا جس سے انھیں مزید ندامت نہ ہو یعنی جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ ناسمجھی یا بے وقوفی کی بنا پر کرتے رہے ہو۔ یوسف
90 [٨٧] بھائیوں کا چونک اٹھنا اور اظہار ندامت :۔ شاہ مصر کے اس سوال پر وہ ایک دم چونک اٹھے کہ اسے ان باتوں کی کیسے خبر ہوگئی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ شاہ مصر یوسف (علیہ السلام) ہی ہو؟ پھر اپنی اس حیرت و استعجاب کو دور کرنے کے لیے شاہ مصر سے سوال کیا:’’ کیا آپ یوسف (علیہ السلام ) ہی تو نہیں؟‘‘ شاہ مصر نے جواب دیا : ’’ہاں میں یوسف ہی ہوں اور جسے میں نے پچھلی مرتبہ روک لیا تھا وہ میرا چھوٹا بھائی بن یمین ہے، جو اب میرے پاس ہے۔ دیکھ لو اللہ نے ہم پر کیسی رحمت فرمائی اور ہم دونوں بھائیوں کو طویل جدائی کے بعد ملا دیا۔ اور ذلت کو عزت سے، تکلیف کو راحت سے، اور تنگی کو آرام و سکون سے بدل دیا۔ جس بھائی کو تم نے کنویں میں ڈال دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آج اسے پورے ملک مصر کی حکومت عطا فرما دی ہے اور اللہ صبر کرنے والوں اور اس سے ڈرنے والوں کو ایسے ہی اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔‘‘ یوسف
91 [٨٨] سیدنا یوسف علیہ السلام کے اس جواب پر ان کے سارے کارنامے ان کی آنکھوں کے سامنے پھر گئے اور برملا اعتراف کرنے لگے بیشک غلط کار ہم ہی تھے اور آپ اسی عزت کے مستحق تھے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے پھر اس خیال سے کہ اگرچہ شاہ مصر ان کا بھائی ہے وہ اس وقت بادشاہ ہے۔ ممکن ہے ہمیں سابقہ خطاؤں پر مؤاخذہ کرے۔ لہٰذا دل ہی دل میں کچھ ڈر بھی رہے تھے۔ یوسف
92 [٨٩] سیدنا یوسف علیہ السلام کا بھائیوں کو فراخدلی سے معاف کردینا :۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے ان کے اس اندیشہ کو بھانپ لیا اور انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا جو ہوچکا سو ہوچکا۔ آج تم پر کوئی گرفت نہیں، کوئی سرزنش نہیں اور آئندہ میں تمہاری ایسی تقصیر کا ذکر بھی نہ کروں گا۔ میں نے سب کچھ تمہیں معاف کیا اور اللہ سے دست بدعا ہوں کہ وہ بھی تمہیں معاف فرما دے اور مجھے قوی امید ہے کہ وہ ضرور تمہیں معاف فرما دے گا، کیونکہ وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ یوسف
93 [٩٠] بھائیوں کے ہاتھ قمیص بھیجنا اور سارے خاندان کو مصر لانے کی تاکید کرنا :۔ برادران یوسف کی سیدنا یوسف علیہ السلام سے اس طرح حیرت انگیز ملاقات کے نتیجہ میں دو مسئلے از خود حل ہوگئے۔ ایک وہ مہم جس پر باپ نے ان بیٹوں کو بھیجا تھا۔ یعنی وہ جاکر یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کریں اور دوسرے غلہ کی فراہمی کا مسئلہ جس کے لیے برادران یوسف تھوڑا عرصہ پہلے شاہ مصر کے سامنے نہایت عاجزی سے التجا کر رہے تھے۔ اب وہ بس سیدنا یوسف علیہ السلام کے حکم کے منتظر تھے چنانچہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے کہا کہ تم اب واپس جاؤ اور اپنے پورے خاندان کو میرے ہاں لے آؤ اور یہ میری قمیص لے جاؤ اسے میرے والد کے چہرے پر پھراؤ گے تو ان شاء اللہ ان کی بینائی بحال ہوجائے گی۔ بینائی کی واپسی کی وجہ کچھ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ جس کے فراق میں آنکھوں کی بینائی جاتی رہی تھی۔ اسی کے وصال سے وہ مصیبت دور بھی ہوجاتی اور اس طرح بینائی واپس آنا ممکن ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ شدید مرض میں مبتلا مریض کے پاس جب کوئی ایسا قریبی رشتہ دار آجاتا ہے جس سے اسے دلی لگاؤ ہو تو مریض خود بخود ہی تندرست ہوجاتا ہے اور بعض دفعہ ایسا بھی کسی سخت صدمہ یا غیر معمولی خوشی کے اثر سے بعض نابینا دفعتًا بینا بن گئے۔ تاہم اگر اس بات کو سیدنا یوسف علیہ السلام کے معجزہ پر محمول کیا جائے تو بھی کچھ مضائقہ نہیں۔ یوسف
94 [٩١] سیدنا یعقوب علیہ السلام کا بیٹوں کو یوسف علیہ السلام کے زندہ ہونے کی خبر دینا اور ان کا مذاق اڑانا :۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے روانہ ہوا تو ادھر سینکڑوں میل دور کنعان میں سیدنا یعقوب علیہ السلام اپنے جدا شدہ بیٹے یوسف علیہ السلام کی بو محسوس کرنے لگے۔ مگر جب ان کے پاس ہی ان کی بستی کے ایک کنوئیں میں پڑے رہے اس وقت اس کا علم نہ ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کو اللہ تعالیٰ غیب کا اتنا ہی علم عطا کرتا ہے جتنا وہ چاہتا ہے اور اس وقت عطا کرتا ہے جب چاہتا ہے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کی زندگی کے تمام تر واقعات میں اللہ کی مشیئت ہی کام کرتی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا یعقوب علیہ السلام کے صبر و تحمل اور توکل علی اللہ کا پورا پورا امتحان لیا۔ پھر جب اس امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد اس کے ثمرہ کا وقت آیا تو ملاقات سے پہلے ہی سیدنا یعقوب علیہ السلام پر وجدانی کیفیت طاری کردی۔ یا وحی سے مطلع کردیا۔ مگر اس کیفیت کا آپ گھر والوں سے کھل کر اظہار کرنے سے بھی ہچکچا رہے تھے اور جب کہی تو اس انداز سے کہی کہ اگر تم لوگ یوں نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے کی وجہ سے کچھ بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہوں تو بات یہ ہے کہ مجھے آج یوسف علیہ السلام کی خوشبو آرہی ہے اور مشکل یہ ہے کہ یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گی۔ چنانچہ گھر والوں نے ویسی ہی باتیں کیں جیسا کہ آپ کو اندیشہ تھا۔ کہنے لگے : یوسف کا ذکر تو تم اکثر کرتے ہی رہتے ہوں، اس کی محبت، اس کے زندہ ہونے اور اس سے دوبارہ ملنے کا یقین تو تمہارے دل میں گھر کرچکا ہے یہ تو وہی پرانی باتیں ہیں جو یوسف علیہ السلام کی خوشبو بن کر تمہارے دماغ میں آرہی ہیں۔ یوسف سے والہانہ محبت مختلف تخیلات کی صورت میں تمہارے دل میں گردش کرتی رہتی ہے اور وہی تخیل ہمیں بتانے لگتے ہو۔ یوسف
95 یوسف
96 [٩٢] یعقوب علیہ السلام کی بینائی کی واپسی :۔ یہ خوشخبری دینے والا ان کا بڑا بھائی یہودا تھا۔ یہودا ہی تھا جس نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو قتل کرنے سے بھائیوں کو روکا تھا اور کہا تھا کہ قتل کے بجائے اسے کسی گمنام کنویں میں ڈال دیا جائے نیز وہ یہودا ہی تھا جس نے کہا تھا کہ میں اب واپس جاکر کیسے اپنا منہ اپنے باپ کو دکھاؤں۔ لہٰذا میں اب یہاں مصر میں رہوں گا اور یہ یہودا ہی تھا جو قافلہ سے پہلے سیدنا یوسف علیہ السلام کی قمیص لے کر اپنے باپ کے پاس پہنچ گیا اور انھیں یوسف علیہ السلام اور بن یمین کے مل جانے کی خوشخبری سنائی۔ پھر قمیص آپ کے چہرہ پر ڈالی تو دفعتًا آپ کی بینائی لوٹ آئی، آنکھیں درست ہوگئیں اور سب کچھ نظر آنے لگا۔ پھر اسی نے بتایا کہ میرے باقی بھائی بھی پہنچ رہے ہیں نیز یہ کہ یوسف علیہ السلام نے ہم سب کو اور ہمارے سارے خاندان کو اپنے پاس بلایا ہے اور اب ہم اسی غرض سے یہاں آئے ہیں۔ اس وقت سیدنا یعقوب علیہ السلام نے سب گھر والوں سے کہا کہ اب تو تم اس حقیقت کو جان ہی گئے ہوگے کہ جو کچھ میں کہتا تھا درست تھا۔ اس لیے کہ میں وہ کچھ جانتا تھا جو تم جان ہی نہیں سکتے تھے اور وہ باتیں یہ تھیں کہ یوسف یقینا زندہ ہے اسی لئے آپ نے بیٹوں کو اس کی تلاش میں بھیجا تھا نیز یہ کہ اس سے ملاقات ضرور ہوگی اور اللہ ہم سب کو کسی وقت اکٹھا کردے گا، اور ان باتوں کا ماخذ علم وحی بھی ہوسکتا ہے جو صرف انبیاء کو عطا ہوتا ہے اور وہ خواب بھی جسے آپ علیہ السلام اور سیدنا یوسف علیہ السلام کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔ یوسف
97 یوسف
98 یوسف
99 [٩٣] خاندان یعقوب کا مصر پہنچنا :۔ جب سیدنا یوسف علیہ السلام کا سارا خاندان کنعان سے روانہ ہو کر مصر پہنچا تو سیدنا یوسف بڑے بڑے اعیان سلطنت اور فوجی افسران کو ساتھ لے کر اپنے باپ اور اہل خانہ کے استقبال کے لیے نکلے اور پورے تزک و احتشام کے ساتھ انھیں دارالسلطنت میں لائے اور یہ دن جشن کا دن تھا، عورتیں، مرد، بچے سب اس جلوس کو دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوگئے تھے اور سارے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس وقت سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین سے کہا کہ یہاں مصر میں اقامت فرمایئے اور پوری دلجمعی سے رہئے، انشاء اللہ قحط وغیرہ کا بھی کوئی خطرہ نہیں۔ یوسف
100 [٩٤] سیدنا یوسف علیہ السلام کے خواب کے واقع ہونے کا وقت :۔ دوسرے دن جب سیدنا یوسف علیہ السلام شاہی دربار میں پہنچے تو آپ علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت شاہی پر اپنے ساتھ بٹھا لیا اور یہ والدہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی کوئی سوتیلی والدہ ہی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ان دونوں چھوٹے بھائیوں کی حقیقی والدہ راحیل، بن یمین کی پیدائش کے وقت ہی فوت ہوگئی تھی۔ جب والدین اور برادران یوسف نے سیدنا یوسف کی یہ شان و شوکت دیکھی تو والدین نیچے اترے اور وہ دونوں اور گیارہ بھائی سب کے سب سیدنا یوسف علیہ السلام کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے۔ اس سجدہ کے تعظیمی سجدہ ہونے میں تو کسی کو اختلاف نہیں، اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا اس سجدہ کی صورت وہی تھی جس پر شرعاً لفظ سجدہ کا اطلاق ہوتا ہے۔ جیسے ہم نماز میں سجدہ کرتے ہیں یا سجدہ کے معنی صرف جھک جانا ہے۔ جیسے دوسرے کو سلام کرتے وقت بھی بعض دفعہ انسان جھک جاتا ہے۔ کیونکہ لغوی لحاظ سے لفظ سجد میں اس معنی کی بھی گنجائش ہے۔ اگر دوسرے معنی لیے جائیں تو پھر تو کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ محض تھوڑا سا جھک جانے پر بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے البتہ جن مفسرین نے پہلے معنی مراد لئے ہیں وہ صراحت کردیتے ہیں کہ سجدہ تعظیمی ہماری شریعت میں فی الواقع حرام ہے۔ لیکن پہلی شریعتوں میں اس کی اجازت تھی۔ سجدا سے پہلے خروا کا لفظ ہمارے خیال میں دوسرے معنی کی ہی تائید کرتا ہے۔ [٩٥] سیدنا یوسف علیہ السلام کا اللہ کے احسانات کا شکر ادا کرنا :۔ یہ صورت حال دیکھ کر سیدنا یوسف علیہ السلام کو اپنے پر اللہ کے احسانات یاد آنا شروع ہوگئے۔ اور اپنے والد محترم سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ جو خواب میں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ یہ اس کی حقیقی تعبیر سب کے سامنے آگئی ہے۔ (اس خواب اور اس کی حقیقت کا برادران یوسف کو اسی مجلس میں علم ہوا۔ اس سے پہلے یہ خواب نہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے کسی کو بتایا تھا اور نہ سیدنا یعقوب علیہ السلام نے) یہ بھی اللہ کا مجھ پر بڑا فضل و احسان ہے اور اس وقت بھی اللہ نے بڑا احسان کیا تھا۔ جب مجھے قید سے نکالا تھا اور مجھے باعزت طور پر عورتوں کے مکر و فریب سے بری کیا تھا۔ پھر اب یہ احسان کیا ہے کہ آپ سب لوگوں کو دیہات سے نکال کر یہاں میرے پاس لے آیا ہے۔ یہاں ہر طرح کی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے بافراغت میسر کی ہیں اور ہم سب کو یہاں اکٹھا کردیا ہے کہ پیارو محبت سے گزر بسر کریں۔ ورنہ شیطان نے تو ہم بھائیوں کے درمیان فتنہ کھڑا کر ہی دیا تھا۔ (اس وقت بھی سیدنا یوسف علیہ السلام نے بھائیوں سے نہ کوئی شکایت کی اور نہ ان پر کوئی الزام رکھا تاکہ وہ مزید شرمسار نہ ہوں) پھر اسی فتنہ سے بمصداق : عدو شرے برانگیزد کہ خیر مادراں باشد۔ اللہ تعالیٰ نے غیر محسوس انداز میں میرے لئے ہر طرح کی بھلائی کی راہیں پیدا کردیں۔ کسی کو کیا معلوم ہوسکتا ہے کہ مجھے کنویں میں ڈالنے پھر قید خانہ میں ڈالنے میں اللہ کی کیا کیا حکمتیں پنہاں تھیں؟ یوسف
101 [٩٦] سیدنا یوسف علیہ السلام کی اپنے حق میں دعا :۔ باپ اور بھائیوں سے خطاب کے بعد سیدنا یوسف علیہ السلام اسی ہستی کی طرف متوجہ ہوئے جس نے آپ پر یہ سب احسانات فرمائے تھے۔ پہلے ان احسانات کا اعتراف کیا جن کی بنا پر آپ کو ہر طرح کی دنیوی اور دینی بھلائیاں میسر آئی تھیں پھر اس کی حمد و ثنا اور اپنے لیے دعا میں مشغول ہوگئے اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی اللہ کا بندہ جس قدر اللہ کا احسان شناس ہوتا ہے۔ اتنا ہی زیادہ وہ اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول ہوجاتا ہے۔ اس کا دل اللہ کی عظمت اور اس کی مہربانیوں پر شکریہ ادا کرنے کے لیے جھک جاتا ہے۔ اپنے پروردگار سے اس کی محبت اور ایمان میں مزید اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ حمد و ثنا کے بعد دوبارہ آپ نے اعتراف فرمایا کہ تو ہی میرا کارساز، حامی، سرپرست اور نگہبان ہے۔ لہٰذا مجھے اپنی فرمانبرداری پر قائم رکھنا۔ مجھے موت آئے تو تیری فرمانبرداری کی حالت میں آئے اور مرنے کے بعد مجھے نیک لوگوں یعنی میرے آباؤ و اجداد سیدنا ابراہیم علیہ السلام ، سیدنا اسماعیل علیہ السلام، سیدنا اسحاق علیہ السلام اور سیدنا یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ملا دینا، نیز اس سے تمام نیک لوگ بھی مراد لیے جاسکتے ہیں، جیسا کہ الفاظ کے عموم سے واضح ہوتا ہے۔ جب تک سیدنا یعقوب علیہ السلام زندہ رہے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام حکومت کرتے رہے۔ لیکن جب والد فوت ہوگئے تو آپ اپنی مرضی سے اقتدار سے دست بردار ہوگئے سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹوں کو جو وصیتیں کی تھیں ان کا ذکر سورۃ بقرہ میں گزر چکا ہے۔ منجملہ ایک یہ بھی تھی کہ میری میت کو شام لے جاکر وہاں آباؤ اجداد کے ساتھ دفن کرنا۔ چنانچہ سیدنا یوسف علیہ السلام خود انھیں دفن کرنے کے لیے شام آئے اور دفن کے بعد واپس چلے گئے۔ ایک دفعہ آپ علیہ السلام (سیدنا یوسف علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا جب بنی اسرائیل مصر سے نکل جائیں گے، اس وقت وہ میری میت کو ساتھ لے جائیں چنانچہ تقریباً پانچ سو سال بعد جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے تو سیدنا یوسف علیہ السلام کا تابوت بھی ساتھ لے گئے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کا زلیخا سے نکاح کا افسانہ :۔ بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ زلیخا بعد میں مسلمان ہوگئی تھی اور سیدنا یوسف علیہ السلام نے ان سے نکاح کرلیا تھا۔ لیکن جس قدر تکلف اور تصنع سے اسرائیلی روایات سے کھینچ تان کر یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس میں حقیقت کا حصہ کس قدر ہوسکتا ہے۔ قرآن و احادیث اس بارے میں مطلق خاموش ہیں۔ ویسے بھی کسی پیغمبر کے شایان شان نہیں ہوتا کہ وہ زلیخا جیسی حیا باختہ اور مکرو فریب کرنے والی عورت سے نکاح کرے۔ یوسف
102 [٩٧] کفار مکہ کے سوال کا جواب دینا آپ کی نبوت کی دلیل ہے :۔ اگرچہ تورات اور دوسری اسرائیلی روایات میں کئی جگہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثلاً قرآن میں انبیاء کو ایک پاکیزہ صورت انسان کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی روایات انھیں کئی مقامات پر مورد الزام ٹھہراتی ہیں۔ دوسرے قرآن میں قصہ کے بیان سے زیادہ مواعظ حسنہ اور تذکیربآیات اللہ پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی روایات اس سے خالی ہیں۔ تاہم قصہ کی اصولی باتیں بہت حد تک ملتی جلتی ہیں اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت موجود نہیں تھے اور یہ بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اسرائیلیات کو پڑھا ہے اور نہ علمائے یہود سے استفادہ کیا ہے۔ پھر آپ کا اس طرح یہ واقعہ بیان کردینا بجز وحی الٰہی کے ممکن نہیں۔ لہٰذا یہ آپ کی نبوت پر واضح دلیل ہے۔ یوسف
103 [٩٨] کفار مکہ نے سوال یہ کیا تھا کہ بنی اسرائیل تو شام کے ملک میں آباد تھے وہ مصر میں کیسے جا پہنچے، اس سوال کا مفصل جواب اس قصہ میں آگیا ہے۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ ایمان لے آتے مگر انہوں نے سوال اس لیے نہیں کیا تھا کہ اگر درست جواب مل جائے تو فوراً ایمان لے آئیں گے بلکہ وہ سوال اس لیے کرتے ہیں کہ کوئی ایسی بات ہاتھ لگ جائے جو ان کے عدم اعتماد اور بے ایمانی پر مزید اضافہ کا سبب بن سکے اور اس سے وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرسکیں۔ لہٰذا محض آپ کی خواہش کی وجہ سے یہ لوگ کبھی ایمان لانے والے نہیں۔ یوسف
104 [٩٩] کفار کی ہٹ دھرمی :۔ یعنی اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں۔ یہ قرآن صرف ان کے لیے نہیں بلکہ تمام اہل عالم کے لیے نصیحت ہے۔ انھیں نہیں تو کوئی دوسروں کو اس سے ایمان نصیب ہوجائے گا پھر اگر یہ نہیں مانتے تو آپ کا اس میں کچھ نقصان بھی نہیں۔ آپ ان سے کچھ معاوضہ تھوڑے مانگ رہے تھے جو یہ بند کردیں گے۔ یوسف
105 [١٠٠] یعنی اگر قرآن کی آیات میں غور نہیں کرتے تو کائنات کی نشانیوں میں غور کرلیں تب بھی انھیں اللہ کی معرفت حاصل ہوسکتی ہے کائنات میں بکھری ہوئی لاتعداد نشانیاں ان کے سامنے موجود ہیں مگر یہ ادھر توجہ ہی نہیں کرتے جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ اللہ کی معرفت یا ہدایت کے طالب ہی نہیں۔ یوسف
106 [١٠١] مذہبی طبقہ کی اکثریت بھی ہمیشہ مشرک ہی ہوتی ہے :۔ اگرچہ اس دنیا میں ایک طبقہ ایسا بھی موجود رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے وجود کا بھی منکر ہے اور وہ اس کائنات کے وجود اور اس کے نظام کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ تاہم اکثریت اسی بات کی قائل رہی ہے کہ اس کائنات کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے اور وہی اس کا انتظام چلا رہا ہے۔ پھر اس مذہبی طبقہ میں بھی ایک قلیل طبقہ ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی صفات میں کسی دوسرے کو شریک نہیں بناتے اور یہی طبقہ فی الحقیقت راہ مستقیم پر ہے۔ اس مذہبی طبقہ میں بھی اکثریت ایسے ہی لوگوں کی رہی ہے جو اللہ کے خالق و مالک ہونے کا اقرار بھی کرتے جاتے ہیں۔ مشرکین مکہ کا تلبیہ :۔ پھر اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بھی بناتے جاتے ہیں اور یہ بات صرف مشرکین مکہ سے مختص نہیں بلکہ ان سے پہلے بھی یہی کچھ ہوتا رہا اور ان کے بعد آج تک بھی یہی صورت حال ہے۔ مشرکین مکہ کے اصل عقیدہ کی وضاحت اس تلبیہ سے صاف واضح ہوتی ہے جو وہ حج و عمرہ کے احرام باندھتے وقت یوں پکارتے تھے : ( لیبک لا شریک لک الا شریکا ھولک تملکہ وماملک) (مسلم، کتاب الحج، باب التلبیۃ) یعنی اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس کے جسے تو نے اختیار دے رکھا ہے وہ خود کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ یہی عقیدہ شرک کی سب سے بڑی بنیاد ہے اور یہ آج بھی ویسے ہی پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ مشرکین مکہ میں یا ان سے بھی پہلے پایا جاتا تھا۔ آج بھی لوگ اولیاء اللہ کے تصرفات کے بڑی شدت سے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تصرفات اور اختیارات انھیں اللہ ہی نے عطا کئے ہوئے ہیں جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ یہ بات تم کسی الہامی کتاب سے دکھلا سکتے ہو کہ اللہ نے فلاں فلاں قسم کے اختیارات فلاں فلاں لوگوں کو تفویض کر رکھے ہیں؟ یوسف
107 یوسف
108 [١٠٢] نبی کی دعوت علی وجہ البصیرت :۔ یعنی میں جس راہ پر گامزن ہوں اور اس کی طرف دوسروں کو بلاتا ہوں تو سوچ سمجھ کر اور علی وجہ البصیرت چل رہا ہوں اور میرے پیرو کار بھی ایسے ہی ہیں۔ میں دلائل سے اور تجربہ سے ثابت کرسکتا ہوں کہ اللہ کے سوا دوسرے معبودان باطل نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں نیز اس بات پر بھی میرا ضمیر پوری طرح مطمئن ہے کہ جو ہستی ہماری خالق و مالک اور رازق ہے۔ و ہی خالصتاً ہماری عبادت کی مستحق ہوسکتی ہے اگر اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک کیا جائے تو یہ انتہائی ناانصافی کی بات ہے۔ لہٰذا نہ میں مشرکوں کے کام کرنے کو تیار ہوں اور نہ میرے پیروکار۔ یوسف
109 [١٠٣] رسول کا اسی قوم سے اور بشر ہونا کیوں ضروری ہے؟یہ دراصل ہر دور کے منکرین رسالت اور اسی طرح کفار مکہ کے ایک اعتراض کا جواب ہے کہ ہم اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی نبوت اور رسالت پر ایمان کیسے لائیں جسے ہماری طرح تمام بشری احتیاجات اور کمزرویاں لاحق ہیں۔ یہ اعتراض ذکر کیے بغیر اس آیت میں اس کا جواب دیا جارہا ہے۔ یعنی تمام انبیاء نے اپنی قوم کے سامنے اپنا بچپن اور جوانی گزاری، تاکہ ان کی نبوت سے پہلے کی زندگی ان کی دعوت پر گواہی کی حیثیت سے پیش کی جاسکے اور ان کی قوم ان کی دعوت کو اچھی طرح سمجھ سکے اور اگر ہم باہر سے کوئی اجنبی آدمی نبی بنا کر بھیج دیتے تو کیا وہ ان کی دعوت کو سمجھ سکتے تھے، پھر اگر وہ سمجھ ہی نہ پاتے تو کیا ایمان لاسکتے تھے؟ پھر جب اس صورت کے علاوہ کوئی دوسری صورت ممکن ہی نہیں تو ان کے لیے ایسے اعتراض کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جن لوگوں نے ایسے ہی اعتراض کرکے انبیاء کی دعوت تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا کم از کم ان کا انجام ہی دیکھ لیتے۔ پھر اس سے یہ نتیجہ بھی نکالا جاسکتا تھا کہ جب دنیا میں ان منکریں حق کا یہ حشر ہوا ہے تو آخرت میں تو اس سے بھی بدتر ہوگا نیز یہ کہ جن لوگوں نے دنیا میں اپنی اصلاح کرلی اور اللہ سے ڈرتے رہے وہ صرف دنیا میں ہی اچھے نہ رہے بلکہ آخرت میں ان کا انجام اس سے بھی بہتر ہوگا۔ کوئی عورت نبیہ نہیں ہوئی :۔ اس آیت میں ضمناً دو باتیں مزید معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ کوئی عورت کسی دور میں نبی نہیں بنائی گئی۔ دوسرے یہ کہ کوئی نبی کسی بدوی یا جنگلی علاقہ میں مبعوث نہیں کیا گیا۔ وہ بڑی بستیوں یا شہروں میں ہی پیدا ہوئے اور وہی ان کا مرکز تبلیغ رہا۔ یوسف
110 [١٠٤] اللہ کی مدد میں تاخیر سے مومنوں پر اثر :۔ اس آخری جملہ کی تشریح کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں کو جن لوگوں نے مانا اور ان کی تصدیق کی۔ جب ایک مدت دراز تک ان پر آفت اور مصیبت آتی رہی اور اللہ کی مدد آنے میں دیر ہوگئی اور پیغمبر جھٹلانے والوں کے ایمان لانے سے ناامید ہوگئے اور یہ گمان کرنے لگے کہ جو لوگ ایمان لاچکے ہیں اب وہ بھی ہمیں جھوٹا سمجھنے لگیں گے۔ اس وقت اللہ کی مدد آن پہنچی۔ (بخاری، کتاب التفسیر) اس آیت سے اللہ کے قانون امہال (مہلت دینے کے قانون) پر روشنی پڑتی ہے۔ یعنی بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ رسولوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب جن لوگوں نے ایمان لانا تھا وہ لاچکے۔ پھر بھی ان پر عذاب الٰہی نہ آیا جس کا رسولوں کی زبان سے انھیں وعدہ دیا گیا تھا۔ اب جو لوگ ایمان لاکر منکرین حق کے ظلم و ستم برداشت کر رہے تھے اور ان سے جو وعدہ فتح و نصرت کیا جارہا تھا۔ ایک تو وہ پورا نہیں ہو رہا تھا۔ دوسرے منکرین حق کو یہ یقین ہوگیا کہ نبیوں کے یہ عذاب کے وعدے سب ڈھکوسلے ہیں۔ لہٰذا ایمان لانے والے بھی یہ سمجھنے لگے کہ ان پیغمبروں نے ہمارے ساتھ کہیں جھوٹ ہی نہ بولا ہو۔ یا ایسے وعدے جھوٹے ہی نہ ثابت ہوں۔ ایسے مایوس کن حالات میں بعض دفعہ پیغمبروں کے پائے ثبات میں بھی لغزش آنے لگی ہو۔ جیسا کہ سورۃ بقرہ میں ہے۔ ﴿وَزُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ ﴾ (۲:۲۱۴) اس وقت اللہ کا عذاب آگیا اور جب عذاب کا وقت آجاتا ہے تو پھر وہ موخر نہیں ہوسکتا اور اس عذاب سے اللہ ایمان والوں کو بچانے کی کوئی راہ دکھلا ہی دیتا ہے۔ یوسف
111 [١٠٥] قرآن کی تین صفات :۔ قرآن کا موضوع، نوع انسان کی ہدایت ہے۔ لہٰذا جو بات بھی انسان کی ہدایت سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی تفصیل اس کتاب میں آگئی ہے۔ تفصیل کُلِّ شَئْیٍ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اس میں سے علم طب یا حساب یا جغرافیہ وغیرہ کی تفصیلات تلاش کرنے لگیں۔ نیز یہ کتاب صرف ان لوگوں کو ہدایت کا کام دیتی ہے جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ پھر ان لوگوں کے لیے رحمت بھی ہے۔ بھلا جس شخص کو بلا کسی معاوضہ اور تکلیف کے زندگی کے ہر پہلو میں بہترین رہنمائی مل جائے اس کے لیے اس سے زیادہ نعمت اور رحمت کیا ہوسکتی ہے؟ اور اس میں جو اقوام سابقہ کے اور انبیاء و رسل کے قصے بیان ہوئے ہیں وہ اپنے اندر اہل عقل و خرد کے لیے عبرتوں کے بے شمار پہلو سمیٹے ہوئے ہیں اور یہی چیز اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کسی انسان کی تصنیف کردہ کتاب نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو قرون اولیٰ کے صحیح صحیح واقعات بیان کرنے کے ساتھ ان تاریخی واقعات اور قصوں میں بھی ہدایت اور عبرت کے لیے بے شمار اسباق سمو دیتا ہے۔ یوسف
0 الرعد
1 [١] یہ عین حق وہی باتیں ہیں جو تمام انبیاء کی شریعتوں میں اصول دین رہی ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ کی اس کائنات کی فرمانروائی میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں اور یہ کہ قیامت آکے رہے گی۔ یہ نظام درہم برہم ہوگا۔ دوسرا عالم بنایا جائے گا۔ جس میں تمام اچھے اور برے انسانوں کو ان کے اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا اور یہ اللہ کی نازل کردہ آیات ہیں اور آپ کی نبوت برحق ہے اور یہی وہ باتیں ہیں جن پر مشرکین مکہ ایمان نہیں لا رہے تھے۔ اس تمہید کے بعد اب آگے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے سے متعلق دلائل پیش کیے جارہے ہیں۔ الرعد
2 [٢] آسما نوں کے ستون یا کشش ثقل ؟۔ یعنی اس بات کا امکان ہے کہ آسمان ستونوں یا سہاروں پر قائم ہوں لیکن وہ ستون یا سہارے غیر مرئی ہوں، انھیں ہم دیکھ نہیں سکتے۔ چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، حسن بصری، قتادہ اور بعض دوسروں سے ایسی ہی روایت کی گئی ہے۔ ان غیر مرئی سہاروں کو ہم آج کل کی زبان میں کشش ثقل کہہ سکتے ہیں۔ [٣] اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ کی تفسیر کے لیے دیکھئے (٧: ٥٤ کا حاشیہ نمبر ٥٤) [٤] سیا روں کی گر دش تا قیامت۔ یہ مقررہ مدت قیامت ہے۔ جب یہ سارا نظام کائنات درہم برہم کردیا جائے گا۔ اس آیت میں پہلے سورج اور چاند کا ذکر فرمایا۔ آگے فرمایا :﴿کُلٌ یَّجْرِیْ لاِجَلٍ مُّسَمًّی﴾حالانکہ کل کا لفظ دو کے لیے نہیں آتا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ سورج اور چاند کی طرح کے سب سیارے اپنی اپنی ڈگر پر چل رہے ہیں اور یہ قیامت تک چلتے ہی رہیں گے۔ ضمناً اس سے دو باتیں اور معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ سورج کو ساکن سمجھتے ہیں یا سمجھتے رہے وہ غلطی پر ہیں۔ لفظ جریان کا اطلاق گردش محوری پر نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بھی ضروری ہے۔ اور دوسرے یہ کہ ہماری زمین بھی چونکہ ایک سیارہ ہے۔ اس لیے اس کی گردش بھی ثابت ہوتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب [٥] کا ئنات کے نظام سے وجود باری تعالیٰ کی دلیل۔ یعنی سیاروں کی گردش کے جو قاعدے اور قوانین مقرر کر رکھے ہیں۔ وہ ان کے پابند ہیں۔ ذرہ بھر ادھر ادھر نہیں ہوسکتے۔ پھر وہ ہر وقت اپنے اس نظام کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔ کیونکہ جو چیز ہر وقت حرکت میں رہے وہ خراب بھی ہوسکتی ہے۔ گھس بھی جاتی ہے۔ اس کی حرکت میں کمی بھی واقع ہوسکتی ہے۔ حتیٰ کہ کسی وقت وہ تباہ بھی ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی تمام باتوں کی تدبیر بھی کر رہا ہے ان سیاروں کو صرف ان کی قوت جاذبہ اور دافعہ کے سپرد ہی نہیں کر رکھا بلکہ ان کی پوری پوری نگہداشت اور ان کی تدبیر یا واقع ہونے والی خامیوں کا علاج بھی کر رہا ہے۔ [٦] کا ئنات کے وجود سے معاد پر دلیل۔ اس جملہ میں موجودہ نظام کائنات کو یوم آخرت پر دلیل کے طور پر پیش کیا جارہا ہے یعنی جو قادر مطلق ایسا عظیم کارخانہ کائنات وجود میں لاسکتا ہے اور اس پر کنٹرول رکھ سکتا ہے اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا چنداں مشکل نہیں اور اس دلیل کی دوسری صورت یہ ہے کہ جو ہستی اس نظام کائنات کو ایسے تناسب، عدل اور حکمت کے ساتھ چلا رہی ہے۔ کیا وہ انسان کو ایسا ہی بے لگام چھوڑ سکتی ہے کہ وہ اس دنیا میں جو کچھ کرنا چاہے کرتا پھرے اور اس سے کچھ مؤاخذہ نہ کیا جائے۔ لہٰذا اللہ کے عدل اور حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ جن لوگوں نے اپنی ساری زندگی ظلم و ستم ڈھانے میں گزاری ہے۔ ان کو ان کی بدکرداریوں کی ضرور سزا دی جائے۔ اسی طرح جن لوگوں نے اپنے آپ کو ساری زندگی میں اللہ تعالیٰ کی حدود و قیود میں جکڑے رکھا۔ انھیں اس کا بدلہ بھی ضرور دیا جائے اور اس دنیا میں چونکہ انسان کی عمر بہت تھوڑی ہے۔ لہٰذا از روئے عدل و حکمت دوسری زندگی کا قیام ضروری ہوا۔ الرعد
3 [٧] اس سے پہلی آیت میں نظام کائنات سے معاد پر دلیل لائی گئی تھی۔ اب ارضی آیات سے توحید اور معاد پر دلائل دیئے جارہے ہیں۔ یعنی اللہ نے زمین کو پھیلایا اور اس کے بعض مخصوص مقامات پر پہاڑ پیدا کردیے۔ پھر ان پہاڑوں سے دریا اور نہریں جاری کیں۔ پھر اس پانی سے ہر طرح کی نباتات پیدا فرمائی۔ اور ہر طرح کے پھلوں میں نر اور مادہ پیدا کردیے۔ پھر ان پھلوں اور نباتات کے بارآور ہونے کے لیے دھوپ کی بھی ضرورت تھی اور ٹھنڈک کی بھی۔ لہٰذا اللہ نے دن اور رات پیدا کردیے۔ ان تمام باتوں میں ایک خاص قسم کا نظم، اعتدال اور حکمت پائی جاتی ہے جس سے یہ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام چیزوں کا خالق اور مدبر ایک ہی ہستی ہوسکتی ہے۔ اگر بارش اور پانی کا دیوتا کوئی اور ہوتا، پہاڑوں کا، پھلوں اور نباتات کا کوئی دوسرا تو ان تمام اشیاء میں ایسی مناسبت اور ہم آہنگی ناممکن تھی۔ الرعد
4 [٨] نباتات میں بے شمار مماثلتوں کے با وجود اختلا ف۔ اللہ تعالیٰ کی حیران کن قدرتوں میں سے ایک یہ ہے کہ کھیت ایک ہی جگہ واقع ہوتے ہیں۔ ان میں بیج ایک جیساڈالا جاتا ہے۔ پانی اس پر ایک ہی برستا ہے یا ایک ہی طرح کے پانی سے آبپاشی کی جاتی ہے۔ مگر ایک کھیت میں فصل اعلیٰ درجہ کی پیدا ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ملے ہوئے کھیت میں فصل بھی کم ہوتی ہے اور ناقص بھی۔ اسی طرح مثلاً کھجور کے دو درخت ہیں مگر ان کی جڑ ایک ہی ہے، اوپر سے دو ہوگئے۔ اب ایک ہی جڑ زمین سے پانی کھینچ کر دونوں درختوں کو تر و تازہ رکھ رہی ہے اور انھیں بارآور ہونے میں تقویت پہنچا رہی ہے۔ مگر ایک درخت کے پھل کا ذائقہ الگ ہے اور دوسرے کا الگ۔ ایک کا پھل عمدہ ہوتا ہے اور دوسرے کا ناقص، کیا انہوں نے کبھی سوچا کہ کیوں ایسا ہوتا ہے اور کونسی ایسی ہستی ہے جو اتنی مماثلتوں کے باوجود پھر ان کے پھلوں میں اختلاف واقع کردیتی ہے؟ یا ایک ہی قطعہ زمین سے دو درخت ہیں، ایک کھجور کا ہے۔ دوسرا نیم کا ہے۔ دونوں کی جڑیں ایک ہی قطعہ زمین میں پانی کھینچ رہی ہیں کھجور کے پھل میں مٹھاس بھری جارہی ہے اور نیم یا بکائن کے درخت میں کڑواہٹ۔ کہ اس ایک ہی قطعہ زمین میں اتنی مٹھاس اور اس کے ساتھ ساتھ اتنی کڑواہٹ موجود ہے کہ وہ بیک وقت دونوں درختوں کے پھلوں کو مٹھاس اور کڑواہٹ بہم پہنچا سکے؟ غرض اگر یہ لوگ ایسی باتوں میں غور و فکر کریں تو معرفت الٰہی کے بے شمار دلائل مل سکتے ہیں۔ الرعد
5 [٩] نبا تات میں معرفت الہٰی پر دلائل۔ یعنی اگر آپ کو اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی ایسی ایسی نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے اور ہمیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ایسی حیران کن نشانیاں دیکھتے بھی ہیں اور پھر یہ پوچھتے ہیں کہ جب ہم مر کر زمین میں مل جائیں گے تو کیا پھر دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ وہ یہ نہیں سوچتے کہ ایک بیج زمین میں مل کر مٹی بن جاتا ہے۔ مگر جب موسم آتا ہے تو وہی بیج اگ کر ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ پھر آخر تم کیوں دوبارہ پیدا نہیں کئے جاسکتے؟ [١٠] اللہ کی قدرتوں سے انکار اللہ ہی کا انکار ہوتا ہے۔ گویا دوبارہ پیدا ہونے سے انکار حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا انکار ہے جسے اللہ ہی کے انکار کے مترادف بتلایا گیا ہے۔ ایک تو اس وجہ سے وہ دوزخ کے مستحق ہوئے دوسرے اللہ کے حضور جواب دہی کے۔ منکرین کی زندگی عموماً بے لگام اور شتر بے مہار کی طرح گزرتی ہے۔ ایسے لوگ دراصل محض اپنی خواہشات کے غلام ہوتے ہیں۔ اسی جرم کی پاداش میں ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر انھیں اتنا ہی جکڑ کر بند کردیا جائے گا جتنا کہ وہ دنیا میں بے لگام تھے۔ الرعد
6 [١١] عذاب میں تا خیر کے اسباب۔ منکرین حق کا یہ مطالبہ سنجیدگی پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ ایسے مذاق اور طنز پر مبنی ہوتا ہے، جس میں ان کا انکار پوشیدہ ہوتا ہے۔ یعنی اگر تم سچے ہو تو جیسا کہتے ہو وہ عذاب ہم پر کیوں نہیں لے آتے؟ یا وہ عذاب ہم پر اب تک آیا کیوں نہیں وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ ان سے پہلے کئی بار ایسا ہوچکا ہے کہ لوگوں نے عذاب طلب کیا اور جیسا عذاب طلب کیا ان پر ویسا عذاب آگیا اور اب جو ان کے مطالبے پر ابھی تک عذاب نہیں آیا اور تو اس کی کئی وجوہ ہیں۔ ایک یہ کہ اگر اللہ ان لوگوں کے ایسے مطالبات فوراً پورے کرنا شروع کردیتا تو یہ دنیا کب کی تباہ ہوچکی ہوتی۔ لہٰذا یہ اللہ کی رحمت ہے کہ ایسے مطالبے فوراً پورے نہیں کردیتا۔ دوسرے یہ کہ عذاب کا بھی ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ اس سے پہلے مہلت کا وقت ہوتا ہے۔ اس مدت میں اگر قوم اپنی حالت بہتر بنا لے تو اللہ عذاب نازل ہی نہیں کرتا اور یہ بھی اللہ کی بندوں پر رحمت ہے۔ پھر بھی اگر قوم نہ سنبھلے تو آخری چارہ کار یہ ہوتا ہے کہ ان کو سزا دے اور عذاب نازل کرے۔ پھر جب عذاب نازل کرتا ہے تو اس کی گرفت بڑی سخت ہوتی ہے۔ الرعد
7 [١٢] حسی مطا لبات کے پورا ہونے پر بھی کافر ایمان نہیں لا تے۔ یعنی انھیں کوئی ایسا حسی معجزہ درکار ہے جس سے ان کو یقین آئے کہ آپ فی الواقع اللہ کے نبی ہیں اور سچے ہیں۔ حالانکہ منکرین حق ایسے حسی معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہیں لایا کرتے۔ کیا صالح علیہ السلام کے معجزہ اونٹنی کو دیکھ کر ان کی قوم ان پر ایمان لے آئی تھی۔ یا عصائے موسیٰ علیہ السلام اور یدبیضا دیکھ کر ان کی قوم ان پر ایمان لے آئی تھی یا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام جو مردوں کو زندہ کرتے تھے تو یہود ان پر ایمان لے آئے تھے؟ ایسے معجزات دیکھ کر بھی معاندین ایمان نہیں لاتے بلکہ ان کی دوسری مادی توجیہات بیان کرنا شروع کردیتے ہیں۔ لہٰذا اگر مشرکین مکہ قرآن کے دلائل اور کائنات میں ہر طرف بکھری ہوئی اللہ کی نشانیوں سے سبق حاصل نہیں کرتے تو ان کے لیے حسی معجزات بھی بے کار ہیں۔ آپ یہ فکر چھوڑ دیں۔ آپ صرف انھیں سیدھی راہ دکھانے اور انجام سے ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم میں ہم نے جو رہنما بھیجا، اس کا اتنا ہی کام ہوتا تھا۔ منکرین کے ایسے مطالبات کو پورا کرنا نہیں ہوتا تھا۔ الرعد
8 [١٣] اللہ کے علم کی وسعت :۔ یعنی ان لوگوں کی سرشت کو خوب جانتا ہے اور اس وقت سے جانتا ہے جب یہ اپنی ماؤں کے پیٹوں میں تھے۔ اس کے علم کی وسعت کا یہ حال ہے کہ وہ یہ جانتا ہے کہ ہر مادہ کے پیٹ میں نطفہ پر کیا کچھ تغیرات واقع ہوتے ہیں۔ اس سے شکل و صورت کیونکر بنتی ہے۔ نیز یہ کہ پیٹ میں ایک بچہ ہے یا زیادہ ہیں بچہ تندرست پیدا ہوگا یا وہ اندھا یا لنگڑا اور اپاہج پیدا ہوگا۔ لمبے قد کا ہوگا یا پست قد، ناقص العقل ہوگا یا ذہین و نیک بخت ہوگا یا بدبخت، ضدی اور سرکش ہوگا یا حق کو قبول کرنے والا ہوگا۔ اس کی استعداد کار کتنی ہوگی۔ کیونکہ ہر چیز کے لیے اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ الرعد
9 [١٤] علم غیب اور شہادت کی صورتیں :۔ یعنی ماضی، حال اور مستقبل اللہ کی نگاہوں میں یکساں حیثیت رکھتے ہیں، وہ پیش آنے والے حالات کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح گزرے ہوئے واقعات اور موجودہ حالات کو جانتا ہے یا وہ ان قوانین فطرت کو بھی اسی طرح جانتا ہے جنہیں ابھی تک انسان دریافت نہیں کرسکا یا وہ اس کی دسترس سے باہر ہیں۔ جس طرح ان قوانین کو جانتا ہے جنہیں انسان دریافت کرچکا ہے یا کر رہا ہے۔ غرض غیب اور شہادت اتنے وسیع المفہوم الفاظ ہیں کہ ان میں بہت سے معانی کی گنجائش موجود ہے اور اس کے علم کی یہ لامحدود وسعت ہی اس کے سب سے بڑا اور عالی شان ہونے کی دلیل ہے۔ الرعد
10 [ ١٥] اس آیت میں زمانہ حال سے متعلق دو مثالیں پیش کی گئی ہیں اور ان مثالوں میں غیب اور شہادت دونوں آجاتے ہیں۔ مثلاً ایک آدمی اپنے دل میں کوئی بات کرتا یا سوچتا ہے یہ ہم لوگوں کے لیے غیب ہے اور دوسرا بلند آواز سے پکار کر بات کرتا ہے۔ یہ ہم لوگوں کے لیے شہادت ہے۔ مگر اللہ کے ہاں ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ وہ غیب کو بھی ویسے ہی جانتا ہے جیسے شہادت کو۔ اسی طرح ایک شخص رات کی تاریکیوں میں چھپ چھپا کر کوئی کام کرتا ہے۔ یہ ہمارے لیے غیب ہے اور دوسرا دن دہاڑے برسرعام کوئی کام کر رہا ہے یہ ہمارے لیے شہادت ہے۔ مگر اللہ کے ہاں ان دونوں میں کوئی فرق نہیں وہ غیب کو بھی اتنا ہی جانتا ہے جتنا شہادت کو۔ الرعد
11 [١٦] حفاظت کرنے والے فرشتے اور باطنی اسباب :۔ یعنی اس دنیا میں صرف ظاہری اسباب ہی کارفرما نہیں بلکہ بہت سے باطنی اسباب بھی ہیں جن کو انسان دیکھ نہیں سکتا اور اس بات کا تجربہ ہر انسان کو ہوتا رہتا ہے۔ بسا اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص کسی ایسے شدید حادثہ سے دوچار ہوتا ہے کہ بظاہر اس کا جانبر ہونا ناممکن نظر آتا ہے لیکن وہ اس حادثہ سے بالکل محفوظ رہتا ہے اور ایسے موقعوں پر بے اختیار ہماری زبانوں پر یہ الفاظ آجاتے ہیں۔ ’’جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے‘‘ انہی غیر مرئی اسباب کی اس آیت میں وضاحت کی گئی کہ یہ محض اتفاقات نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقررہ کردہ فرشتے ہوتے ہیں جو ایسے خوفناک موقعوں سے انسان کو محفوظ رکھتے ہیں اور اس مدت تک اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں جب تک اس کی موت کا وقت نہیں آجاتا اور جب موت کا وقت آجاتا ہے تو پھر انسان کی سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ [١٧] اس جملہ کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۃ انفال کی آیت نمبر ٥٣ کا حاشیہ۔ [١٨] قوموں کے عروج وزوال کا قانون :۔ قوموں کے عروج وزوال کے قانون میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب مجموعی حیثیت سے کوئی قوم اخلاقی انحطاط کی انتہائی پستیوں تک پہنچ کر معاصی کے ارتکاب میں مبتلا ہوجاتی ہے تو اسی وقت سے اس کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔ اگرچہ دنیوی لحاظ سے تہذیب و تمدن کے بلند درجہ تک پہنچ چکی ہو۔ اس کے بعد اگر وہ اپنی اصلاح کرلے تو خیر ورنہ آہستہ آہستہ اس دنیا سے نیست و نابود کردی جاتی ہے۔ پھر اسے اس کے زوال اور انحطاط سے کوئی طاقت بچا نہیں سکتی اور نہ ہی اسے کچھ مدت کے لیے اس عذاب کو ٹال سکتی ہے۔ الرعد
12 [١٩] پانی سے لدے ہوئے بادلوں کے وزن کا اندازہ کچھ اس بارش سے اور کچھ اس رقبہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ جہاں یہ بادل برستا ہے۔ ہوا جو ایک ہلکے سے کاغذ کا بھی بوجھ برداشت نہیں کرتی اور وہ زمین پر گر پڑتا ہے۔ کروڑوں ٹن پانی والے بادلوں کے بوجھ کو اس طرح اپنے دوش پر اٹھائے پھرتی ہے۔ جس کا تصور کرنے سے ہی اللہ کی بے پناہ قدرت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ یہ پانی سے بھرے ہوئے بادل کبھی تہ بہ تہ بنتے جاتے ہیں۔ اس پانی میں کہربائی قوت موجود ہوتی ہے۔ کسی تہ میں مثبت بجلی ہوتی ہے، کسی میں منفی۔ جب یہ بادل ملتے ہیں تو بجلی کے جذب و انجذاب سے زبردست دھماکہ اور آتشیں شعلہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی آتشیں شعلہ کو برق یا چمکنے والی بجلی کہتے ہیں اور اس دھماکہ کو رعد یا کڑک کہتے ہیں۔ برق تو فوراً اہل زمین کو نظر آجاتی ہے۔ لیکن رعد یا کڑک چند لمحے بعد سنائی دیتی ہے۔ کیونکہ آواز کی رفتار روشنی کی رفتار کی نسبت بہت کم ہوتی ہے۔ اکثر تو یہ بجلی انھیں بادلوں کے پانی میں جذب ہوجاتی ہے اور جب یہ زیادہ مقدار میں پیدا ہو یا کسی دوسری وجہ سے زمین پر گرتی ہے۔ ایسی گرنے والی بجلی کو صاعقہ (ج۔ صواعق) کہتے ہیں۔ لہٰذا انسان جب بجلی چمکتے دیکھتا ہے تو اسے امید تو یہ ہوتی ہے کہ باران رحمت برسے گی اور خوف یہ کہ مہیب کڑک کہیں اسے بہرانہ کردے۔ اسی لیے سخت کڑک میں انسان اپنی انگلیاں کانوں میں ٹھوس لیتا ہے اور یہ خطرہ بھی ہوتا ہے کہ کہیں بجلی گر کر تباہی کا باعث نہ بن جائے۔ یہ تو وہ توجیہ ہے جو ہمارے ماہرین طبیعیات اور سائنس دان پیش کرتے ہیں۔ لیکن اسلامی عقیدہ کی رو سے یہ رعد اور برق وغیرہ طبعی قوانین کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ بلکہ کائنات کے انتظام پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے۔ وہی مدبرات امر ہیں۔ بادل اور بارش پر میکائیل فرشتہ مقرر ہے۔ وہی بادلوں کو ہانکتا اور چلاتا ہے اور اس طرف ہانکتا ہے۔ جدھر اللہ کا حکم ہو۔ پھر بارش اسی مقام پر برستی ہے۔ جہاں اللہ کی مرضی ہو۔ اسی فرشتہ کے کوڑا مارنے سے رعد اور برق پیدا ہوتی ہے اور گرنے والی بجلی بھی صرف وہاں گرتی ہے جہاں اس فرشتہ کو اللہ کا حکم ہوتا ہے اور اللہ کو اس کا تباہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ چنانچہ : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گرج کی آواز سنتے تو فرماتے : اللّٰھُمَّ لاَ تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَلاَ تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَعَا فِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ (ترمذی، ابو اب الدعوات باب مایقول اذا سمع الرعد) بادلوں کے برسنے، ان کی روانی اور ان کے سمت اختیار کرنے پر اللہ تعالیٰ کا جس قدر کنٹرول ہے۔ اس کا اندازہ درج ذیل حدیث سے ہوتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک آدمی جنگل میں جارہا تھا۔ اس نے بادل سے ایک آواز سنی جیسے کوئی کہہ رہا ہے کہ جا کر فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو۔ وہ بادل ایک طرف چلا۔ پھر وہاں ایک پتھریلی زمین پر برسا۔ ایک نالی نے وہ سب پانی جمع کیا۔ وہ آدمی اس پانی کے پیچھے پیچھے چلا۔ آگے چل کر اس نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے باغ کو سیراب کرنے کے لیے بیلچہ سے اس کی نالی درست کر رہا ہے۔ نالی درست ہوئی تھی کہ بارش کا یہ پانی وہاں پہنچ گیا۔ پیچھے پیچھے چلنے والایہ شخص اللہ کی قدرت پر بہت متعجب ہوا اور باغ والے سے پوچھا اللہ کے بندے! تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے وہی نام بتلایا جو اس نے بادل سے سنا تھا۔ اب باغ والے نے اس شخص سے پوچھا : اللہ کے بندے! تم میرا نام کیوں پوچھتے ہو۔ وہ کہنے لگا : میں نے اس بادل سے جس کے پانی سے تو اپنا کھیت سیراب کر رہا ہے۔ یہ آواز سنی تھی کہ جاکر فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو۔ اس میں تمہارا ہی نام لیا گیا تھا۔ اب تم یہ بتلاؤ کہ تمہارا وہ کون سا عمل ہے جس کی وجہ سے اللہ تم پر اتنا مہربان ہے؟ باغ والا کہنے لگا : ’’اب جبکہ تم نے یہ بات سن ہی لی ہے تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں۔ اس باغ سے جو پیداوار ہوتی ہے اس کا ایک تہائی حصہ صدقہ کردیتا ہوں اور ایک تہائی میں اور میرے اہل و عیال کھاتے ہیں اور ایک تہائی اسی باغ میں لوٹا دیتا ہوں‘‘ (یعنی اگلی فصل کے خرچ اخراجات پر صرف کرتا ہوں) (مسلم، کتاب الزہد، باب فضل الانفاق علی المساکین وابن السبیل) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرکین بھی تو یہی کہتے ہیں کہ بادلوں یا بارش کا مالک فلاں فرشتہ یا دیوتا ہے اور موت کا فلاں اور فلاں کام کا فلاں تو پھر ان میں اور مسلمانوں کے عقائد میں فرق کیا ہوا ؟ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مشرکوں کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ فلاں فرشتہ یا فلاں دیوتا بادل یا بارش کا دیوتا ہے۔ جہاں چاہے بارش برسائے۔ اسی لحاظ سے اس کی عبادت کرکے اسے خوش رکھنے یا اس کے غضب سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان فرشتوں یا دیوتاؤں کو تدبیر امور میں اللہ کا شریک بنایا جاتا ہے لیکن اسلامی عقیدہ کی رو سے فرشتے مالک و مختار نہیں بلکہ اللہ کے فرمانبردار غلام اور مامور ہیں۔ اسی لیے ان آیات میں اللہ نے واضح طور پر فرما دیا کہ کڑک بھی اور فرشتے بھی دونوں اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتے ہیں اور یہ عین بندگی اور غلامی ہے۔ جیسے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہے۔ الرعد
13 [٢٠] یعنی کہیں تو اس کی ذات میں جھگڑا کرتے ہیں کہ آیا وہ موجود بھی ہے یا نہیں اور کبھی اس کی قدرتوں میں جھگڑا کرتے ہیں۔ جیسے کوئی یہ کہہ دے کہ یہ بادل، بارش، برق، رعد اور صاعقہ وغیرہ تو محض طبیعی اسباب کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں۔ اس میں اللہ کی قدرت کہاں سے آگئی؟ یا اللہ کا کسی بندے پر کلام نازل کرنے اور اسے نبی بنانے کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں اور یہ ایسی باتیں ہیں کہ اگر اللہ چاہے تو ایسے لوگوں کو بجلی گرا کر ہلاک کردے۔ چنانچہ مفسرین نے بعض ایسی روایات نقل بھی کی ہیں۔ [٢٠۔ الف] محال : محل کے معنی کسی کے خلاف قوت اور سختی کے ساتھ بری تدبیر کرنا (مفردات القرآن، منجد) گویا محل کے معنی میں قوت اور حیلہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں اور محال بمعنی حیلہ و تدبیر سے کسی شخص پر شدید گرفت کرنے والا۔ اس لحاظ سے اس کا ایک معنی تو اوپر درج ہے۔ اس جملہ کا دوسرا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی گرفت بڑی سخت ہے اور تیسرا یہ کہ وہ بڑی قوت والا ہے۔ الرعد
14 [٢١] من دون اللہ کو پکارنے کی مثال :۔ اس لیے کہ وہ پکار سنتا ہے پھر پکارنے والے کی پکار کو قبول کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ رہے مشرکین جو دوسرے معبودوں کو پکارتے ہیں تو ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی پیاسا پانی دیکھ کر ہاتھ پھیلائے ہوئے اسے پکارے کہ آؤ ذرا آکر میری پیاس بجھاؤ۔ ظاہر ہے کہ پانی نہ تو کسی کی پکار سن سکتا ہے نہ ہی پیاسے کے پاس آنے کی قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا پیاسے کی ایسی پکار ایک لغو اور بے کار فعل ہوتا ہے۔ اسی طرح معبودان باطل کو ہزار بار بھی پکارا جائے تو وہ کچھ سن ہی نہیں سکتے، اور اگر بالفرض سن بھی لیں تو ایسے بے بس اور مجبور محض ہیں کہ وہ دعا کو قبول کرنے کی قدرت ہی نہیں رکھتے۔ اب وہ خود ہی سوچ لیں کہ انھیں پکارنے کا کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ الرعد
15 [٢٢] کائنات کی چیزوں کا اللہ کو سجدہ کرنے کے مطلب :۔ یعنی کائنات کی ہر چیز ان طبعی قوانین کی پابند اور ان کے آگے بے بس اور مجبور ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے بنا دیئے ہیں۔ مثلاً پانی کے لیے یہ قانون ہے کہ وہ نشیب کی طرف بہے اور یہ ناممکن ہے کہ پانی اس قانون کے خلاف بلندی کی طرف بہنا شروع کردے۔ اسی طرح پانی کے لیے ناممکن ہے کہ وہ اپنی سطح ہموار نہ رکھے۔ بس یہی چیز اس کا اللہ کے حضور سجدہ ہے۔ اسی طرح کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ حتیٰ کہ ان قوانین کا انسان بھی پابند اور ان کے آگے مجبور اور بے بس ہے۔ مثلاً اگر وہ چاہے کہ کھانے پینے کے بغیر زندہ رہے تو وہ ایسا نہیں کرسکتا، یا اگر وہ چاہے کہ موت کو اپنے آپ سے روک دے تو وہ ایسا نہیں کرسکتا اس کا اختیار صرف ان باتوں میں ہے جن میں اسے قوت ارادہ و اختیار دیا گیا ہے اور انہی میں اس کا امتحان ہے۔ [٢٣] یعنی سایوں کے لیے جو قانون مقرر ہے وہ اس کے پابند ہیں اور وہ یہ ہے کہ روشنی ہمیشہ صراط مستقیم میں سفر کرتی ہے اور صبح و شام کا ذکر اس لیے فرمایا کہ ان اوقات میں سائے بہت زیادہ لمبے اور پھیلے ہوئے ہوتے ہیں اور سایوں کے گھٹنے بڑھنے میں تدریج اسی نسبت سے ہوتی ہے۔ جس نسبت سے سورج کسی جانب سفر کرتا ہے۔ الرعد
16 [٢٤] من دون اللہ کسی چیز کے خالق ومالک نہیں تو ان کا تصرف کہاں سے آگیا ؟:۔ مشرکین مکہ یہ بات تسلیم کرتے تھے کہ آسمانوں اور زمین کا نیز کائنات کی ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے۔ تخلیق کائنات میں ان کے معبودوں کا کوئی حصہ نہیں اور یہ بھی مسلمہ امر ہے کہ خالق اپنے مخلوق پر پورا پورا تصرف رکھتا ہے۔ اب ان سے سوال یہ ہے کہ جب تمہارے معبودوں نے کوئی چیز بنائی ہی نہیں تو وہ تصرف کائنات میں شریک کیسے بن گئے اور تمہیں یہ کہاں سے اشتباہ پیدا ہوگیا کہ وہ بھی تصرف کائنات میں شریک اور حصہ دار ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ کوئی چیز پیدا کرنا تو درکنار وہ تو خودمخلوق اور محتاج ہیں جو اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں تو وہ تمہیں کیا فائدہ پہنچا سکیں گے یا تمہاری تکلیف کیا دور کرسکیں گے۔ اب ایک شخص ان دلائل کی روشنی میں چلتا ہے۔ اور صرف اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ کیونکہ وہی خالق اور نفع و نقصان کا مالک ہے اور دوسرا دلائل کی طرف نظر ہی نہیں کرتا اور آباؤ اجداد کی اندھی تقلید پر ہی جم رہا ہے تو کیا ان دونوں کی حالت ایک جیسی ہوسکتی ہے؟ الرعد
17 [٢٥] معرکہ حق وباطل کی دو مثالیں اور بقائے انفع :۔ اس مثال میں علم وحی کو باران رحمت سے تشبیہ دی گئی ہے اور ایمان لانے والے سلیم الفطرت لوگوں کو ندی نالوں سے، جو اپنے اپنے ظرف کے مطابق اس باران رحمت سے بھرپور ہو کر رواں دواں ہوجاتے ہیں اور دعوت حق کے مقابلہ میں معاندین اور منکرین جو شورش برپا کرتے ہیں اسے اس جھاگ اور خس و خاشاک سے تشبیہ دی گئی ہے جو ایسے سیلاب میں پانی کی سطح کے اوپر آجاتا ہے۔ لیکن اس جھاگ اور خس و خاشاک کی حقیقت صرف اتنی ہی ہوتی ہے کہ کسی وقت بھی دریا اچھل کر اسے کناروں پر پھینک دیتا ہے۔ جہاں ہوا اور دھوپ اسے خشک کرکے ختم کردیتی ہے اور یہ سب کچھ مٹی میں مل جاتا ہے اور پانی جو انسانوں کو نفع دینے والی چیز ہے، وہی باقی رہتی ہے۔ خواہ اس کا کچھ حصہ زمین جذب کرلے یا اکثر حصہ زمین کو سیراب کرنے کے لیے آگے رواں کردے کہ وہ کسی دوسرے علاقہ کو سیراب کرے۔ حق و باطل کی دوسری مثال یہ ہے کہ جب دھاتوں کو، جن سے زیورات یا دوسری کارآمد اشیاء بنتی ہیں۔ کٹھالی میں تپایا جاتا ہے تو اس کا ناکارہ حصہ اور کھوٹ سب کچھ ایک دم اوپر آکر کام کی چیز کو چھپاتا ہی نہیں بلکہ اس پر پوری طرح چھا جاتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ با لآخر جل جاتا ہے اور اسے باہر پھینک دیا جاتا ہے اور مائع دھات جس کا زیور وغیرہ بنتا ہے وہ نیچے ہوتی ہے اسی طرح معرکہ حق و باطل میں ایک دفعہ باطل ضرور حق پر چھا جاتا ہے۔ لیکن بالآخر حق ہی باقی رہتا ہے کیونکہ وہی لوگوں کے فائدہ کی چیز ہوتی ہے۔ ان دونوں مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم اور اس کی تعلیم جو لوگوں کو نفع پہنچانے والی چیز ہے، جاودانی اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ہر دور میں قرآن کے بڑے بڑے عالم پیدا ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔ باطل ان کے مقابلہ پر اتر آتا ہے اور ابتداء ًحق پر چھا جاتا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ حق سے باطل پر یا وحی الٰہی کے عالموں سے معاندین اور منکرین حق پر ضربیں اور چوٹیں لگاتا ہے تو باطل جلد ہی خس و خاشاک اور جھاگ کی طرح ختم ہوجاتا ہے اور حق ہی باقی رہ جاتا ہے اور اس کے باقی رہنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس میں لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ ڈارون نے اپنے نظریہ ارتقاء میں بقائللاصلاح صلح...... کی اصطلاح (SURVIVAL OF THE FITTEST) استعمال کی تھی۔ یعنی جس چیز میں باقی رہنے کی صلاحیت موجود ہو وہی باقی رہتی ہے۔ قرآن نے اس کے مقابلہ میں بقاء للانفع کا ذکر فرمایا ہے جو عقل کو ڈارونی اصطلاح سے بہت زیادہ اپیل کرتا ہے۔ یعنی ڈارون کا نظریہ یہ ہے کہ کسی چیز میں باقی رہنے کی صلاحیت ہے یا نہیں۔ اگر صلاحیت نہیں تو وہ باقی نہ رہے گی۔ جب کہ قرآن یہ بتلاتا ہے کہ جس چیز میں لوگوں کے لیے فائدہ ہو صرف وہی باقی رہتی ہے۔ کھوٹ میں لوگوں کے لیے کچھ فائدہ نہ تھا۔ لہٰذا وہ جل گیا۔ سونے میں لوگوں کے لیے فائدہ تھا۔ لہٰذا وہ باقی رہ گیا۔ الرعد
18 [٢٦] دنیا کی زندگی میں ان کے لیے بھلائی یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں اللہ کی طرف سے ایسی ہدایات اور احکام مل جاتے ہیں جن میں اس شخص کے دینی یا دنیوی مصالح مضمر ہوتے ہیں۔ دوسری بھلائی یہ ہوتی ہے کہ اسے قلبی اطمینان اور حقیقی خوشی میسر آجاتی ہے اور آخرت میں جو اس سے بہتر سلوک ہوگا وہ تو ان چیزوں سے بھی زیادہ یقینی اور پائیدار ہوگا۔ [٢٧] آسان حساب کیسے لیا جائے گا اور سخت کیسے؟ جو لوگ اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ مختلف حیلوں سے ان کے چھوٹے چھوٹے گناہ دنیا میں ہی ختم ہوتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ مومن کو اگر ایک کانٹا بھی چبھ جائے تو وہ اس کے کسی نہ کسی گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے۔ پھر ان کے نیک اعمال سے چھوٹے گناہ ختم کردیئے جاتے ہیں اور اس مضمون پر بے شمار آیات و آحادیث شاہد ہیں۔ پھر جب وہ آخرت میں اللہ کے حضور پیش ہوں گے تو اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں دئیے جائیں گے اور تمام اچھے اور برے اعمال سے آگاہ کیا جائے گا، لیکن ان سے کوئی سختی نہیں کی جائے گی اور نہ ہی ان کی کچھ چھان بین ہوگی۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت کے دن جس شخص سے حساب لیا گیا وہ تباہ ہوا“میں نے کہا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ’’جس کو اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا، اس سے جلد ہی آسان سا حساب لیا جائے گا‘‘ (٨٤: ٨) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ محض پیشی ہوگی۔ انھیں ان کے اعمال بتا دئیے جائیں گے اور جس کے حساب کی تحقیق شروع ہوگئی، سمجھ لو کہ وہ مارا گیا“(بخاری، کتاب التفسیر، نیز کتاب العلم، باب من سمع شیأا فلم یفھمہ) اور جن لوگوں نے حق کو ٹھکرا دیا۔ ان کا پوری سختی سے حساب لیا جائے گا اور برے حساب سے یہی مراد ہے۔ اس کے چھوٹے اور بڑے سب گناہ کی تحقیق اور باز پرس ہوگی۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک آقا کو اگر اپنے ملازم کے متعلق یہ اعتماد ہو کہ وہ اس کا وفادار اور دیانتدار ہے تو مالک اس کی چھوٹی موٹی لغزشوں اور غلطیوں کو نظر انداز کردیتا ہے۔ لیکن اگر آقا کو ملازم کی وفاداری کا ہی اعتماد نہ ہو تو وہ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر اس سے مزید باز پرس کرے گا یہی حال منکرین حق کا ہوگا اور انھیں اپنی نجات کی کوئی صورت نظر نہ آئے گی۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب سے کم عذاب پانے والے دوزخی سے پوچھیں گے : ”اگر تیرے پاس ساری دنیا کا مال موجود ہو تو کیا تو اسے اپنے فدیہ میں دینا پسند کرے گا ؟“وہ جواب دے گا ”ہاں“۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا”: جب تو انسانی شکل میں تھا، اس وقت تو میں نے تم سے اس سے آسان بات کا مطالبہ کیا تھا۔ (یعنی توحید پر قائم رہنا) اور کہا تھا کہ پھر میں تجھے جہنم میں داخل نہ کروں گا مگر تو شرک پر اڑا رہا‘‘ (مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ، باب طلب الکافر الفدائملء الارض ذھبا۔۔) الرعد
19 [٢٨] یعنی ایک شخص اللہ کی نازل کردہ ہدایات کو حق سمجھ کر اپنی پوری زندگی اس کے مطابق ڈھال لیتا ہے، حرام و حلال کی تمیز کرتا ہے۔ ظلم و زیادتی سے بچتا اور اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اور دوسرا شخص محض اپنے مفادات کے پیچھے پڑا رہا ہے اور اس غرض کے لیے وہ ہر طرح کے جائز و ناجائز حربے اختیار کرتا، لوگوں کے حقوق غصب کرتا اور ان پر ظلم و زیادتی کرتا رہتا ہے۔ کیا یہ دونوں ایک جیسے ہوسکتے ہیں؟ یا ان کا طرز عمل ایک جیسا ہوگا ؟ مگر یہ بات تو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو کچھ عقل و فکر سے کام لیتے ہیں اور خود اللہ کی بتائی ہوئی راہ پر گامزن ہیں الرعد
20 الرعد
21 [٢٩] اللہ کی ہدایت قبول کرنے والوں کی صفات :۔ اگلی چند آیات میں چند ایسی صفات کا ذکر ہے۔ جنہیں اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہدایات کو برحق تسلیم کرنے والے اپنی طرز زندگی میں اپناتے ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں۔ اس عہد سے مراد عہد الست ہے۔ جو ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کردیا گیا ہے اور جب انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اللہ کے عطا کردہ رزق پر ہی پرورش پا رہا ہے اور اسی کی عطا کردہ قوتوں کو استعمال کر رہا ہے تو اسے از خود یہ معلوم ہونے لگتا ہے کہ بندگی کے لائق بھی صرف وہی ہوسکتا ہے۔ اور اگر ایسے محسن کو چھوڑ کر دوسرے کی غلامی کی جائے تو یہ نمک حرامی ہوگی۔ ان کی دوسری صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسرے لوگوں سے کئے ہوئے عہد کو بھی نہیں توڑتے۔ اس میں خرید و فروخت، لین دین اور نکاح وغیرہ کے سب عہد شامل ہیں۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ ان تمام روابط کا خیال رکھتے ہیں جن کی درستی پر انسان کی اجتماعی زندگی کی صلاح و فلاح کا انحصار ہے۔ خواہ یہ روابط معاشرت سے تعلق رکھتے ہوں یا تمدن سے اور اس مد میں والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں مسکینوں اور ہمسایوں سب کے حقوق آجاتے ہیں۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے تمام معاملات میں خواہ یہ عبادات سے تعلق رکھتے ہوں یا معاملات سے یا مناکحات سے، ہر ایک معاملہ میں اللہ کی نافرمانی سے بچتے اور اس کی گرفت سے ڈرتے ہیں اور پانچویں صفت یہ ہے کہ انھیں ہر وقت آخرت کی باز پرس کی فکر لگی رہتی ہے وہ اپنے نیک اعمال پر تکیہ نہیں کرتے بلکہ اللہ سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حساب کے مرحلہ کو آسان فرمادے۔ الرعد
22 [٣٠] یعنی راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات کو ثابت قدمی کے ساتھ برداشت کیا اور اللہ تعالیٰ کے احکام و حدود میں اللہ کی رضا کی خاطر اپنے نفس کی خواہشات پر کنٹرول کیا۔ اس لحاظ سے ایک مومن کی ساری زندگی ہی دراصل صبر کی زندگی ہوتی ہے۔ [٣١] یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے خواہ وہ امیر ہو یا غریب ہو۔ خوشحال ہو یا تنگ دست ہو۔ ہر ایک کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے۔ قرآن کی بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ پوشیدہ طور پر صدقہ کرنا علانیہ صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ غالباً اسی لیے پہلے پوشیدہ صدقہ کا ذکر کیا گیا۔ پھر صدقہ کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک فرضی یعنی زکوٰۃ دوسرے نفلی۔ علماء کہتے ہیں کہ فرضی صدقہ علانیہ کرنا بہتر ہے۔ تاکہ دوسروں کو بھی رغبت پیدا ہو اور نفلی صدقات پوشیدہ طور پر کرنے چاہئیں پھر رزق سے مراد صرف مال و دولت ہی نہیں اللہ کی ہر نعمت رزق ہے جو انسان کی جسمانی یا روحانی تربیت میں کارآمد ہو۔ اس لحاظ سے علم دین، پاکیزہ فنون اور صحت وغیرہ سب رزق میں شامل ہیں اور اللہ کی راہ میں ان میں سے بھی خرچ کرنا ضروری ہے یہ مضمون بہت طویل ہے اور قرآن میں جابجا مذکور ہے۔ اس لیے یہاں اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ [٣٢] یَدْرَءُ وْنَ کا لغوی معنی دور ہٹانا اور پرے کرنا ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جب ان سے کوئی برا کام ہوجاتا ہے تو بعد میں اچھے کام کرکے تلافی مافات کردیتے ہیں۔ کیونکہ نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب ان سے کوئی برائی کرے تو اس کا جواب برائی سے نہیں بلکہ بھلائی سے دیتے ہیں اور عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں اور اس بارے میں بھی بہت سی احادیث وارد ہیں۔ مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بھلائی کا بدلہ بھلائی سے دے بلکہ وہ ہے کہ اگر دوسرا اسے برے سلوک سے قطع کرنے کی کوشش کرے تو وہ اچھا سلوک کرکے اسے جوڑے رکھنے کی کوشش کرے۔ (بخاری، کتاب الادب، باب لیس الواصل بالمکافئی ) اور یہ بات صرف رشتہ داروں سے مختص نہیں بلکہ ہر شخص کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنا چاہیے۔ الرعد
23 [٣٣] اس مقام پر مومنوں کی مندرجہ بالا نو صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ایسے ہی لوگ جنت کے مستحق ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کے آباء ان کی بیویاں اور ان کی اولاد میں سے جو لوگ نیک ہونگے۔ اگرچہ ان کے اعمال اس درجہ پر نہ پہنچے ہوں پھر بھی اللہ تعالیٰ انھیں ان کے ساتھ ملا کر جنت میں اکٹھا کردے گا اور فرشتے جس دروازے سے بھی ان پر داخل ہوں گے انھیں سلامتی کی دعائیں دیا کریں گے۔ الرعد
24 الرعد
25 [٣٤] سنت الٰہی کے مطابق یہاں بھی اہل جنت کے ساتھ اہل دوزخ کا ذکر آیا ہے اور ان کی صفات ایسی بیان کی گئی ہیں جو مومنوں کی صفات کے بالکل برعکس ہیں۔ لہٰذا ان کا انجام بھی اہل جنت کے انجام کے عین ضد ہوگا۔ جنت کے بجائے انھیں دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور سلامتی کی دعاؤں کے بجائے ان پر لعنت اور پھٹکار پڑتی رہے گی۔ الرعد
26 [٣٥] مال ودولت کی فراوانی اللہ کی نظر رحمت کی دلیل نہیں :۔ دنیا دار لوگوں کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے کہ وہ کسی شخص کی قدر و قیمت کو مال و دولت اور دنیوی جاہ و حشم کے پیمانوں سے ناپتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ جو شخص جس قدر خوشحالی سے زندگی بسر کر رہا ہے اتنا ہی اس کا پروردگار اس پر مہربان ہے اور کسی کی معیشت کا تنگ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اس سے ناراض ہے۔ اس آیت میں اسی نظریہ کی تردید کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ رزق کی کمی بیشی کے لیے ایک دوسرا ہی قانون ہے جس میں دوسری قسم کی مصلحتیں ہیں دنیا میں رزق کی کمی بیشی کا انسان کی ہدایت اور فلاح و نجات سے کچھ تعلق نہیں بلکہ رزق کی زیادتی اکثر انسانوں کے لیے گمراہی کا سبب بن جاتی ہے۔ لہٰذا دنیوی مال و متاع پر ریجھ نہ جانا چاہئے۔ کیونکہ یہ سب چیزیں فانی ہیں اور ان دائمی اور پائیدار نعمتوں کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہیں جو اللہ کے فرمانبردار لوگوں کو اخروی زندگی میں عطا کی جائیں گی۔ الرعد
27 [٣٦] ایک ہی نشانی سے ہدایت بھی اور گمراہی بھی :۔ منکرین حق کا یہی اعتراض اس سورۃ کی آیت ٧ میں بھی گزر چکا ہے وہاں جواب اور پہلو سے دیا گیا ہے اور یہاں ایک دوسرے پہلو سے دیا گیا ہے' جو یہ ہے کہ ایک ہی چیز سے مختلف ذہن رکھنے والے لوگ مختلف نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ مثلا قرآن ہو' یا قرآن کی آیات' کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی اللہ کی آیات ہوں یا حسی معجزات انہی چیزوں سے ہدایت کے طالب ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے' مگر انہی چیزوں سے ہٹ دھرم لوگ انکار کردیتے ہیں۔ پھر یہی چیزیں ان کے انکار' عناد اور ہٹ دھرمی اور گمراہی میں اضافہ کا سبب بن جاتی ہے۔ لہٰذا اگر ان کا مطالبہ پورا کر بھی دیا جائے تب بھی ان کی گمراہی میں مزید اضافہ کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ الرعد
28 [٣٧] اللہ کا ذکر دو طرح سے ہے۔ ایک ہر وقت اللہ کو اپنے دل میں یاد رکھنا۔ دوسرے زبان سے اس کے نام کا ورد کرتے رہنا اور حدیث میں ہے کہ سب سے افضل ذکر لا الہ الا اللہ ہے یا پھر یہ قرآن ہے۔ جس کے متعلق فرمایا : ﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ﴾ (۹:۱۴)ذکر کے بے شمار فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے اللہ پر توکل پیدا ہوتا ہے اور جس شخص کو صحیح معنوں میں صرف اللہ پر توکل کی نعمت نصیب ہوگئی۔ وہ مصائب و آلام میں کبھی نہیں گھبراتا، نہ اس کا دل ہی لذائذ دنیا پر ریجھتا ہے وہ ہر حال میں اللہ پر نظر رکھتا ہے اور اسے ایسا قلبی سکون اور راحت نصیب ہوتی ہے جس کا اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جنہیں اللہ نے اس نعمت سے نوازا ہو اور ربط مضمون کے لحاظ سے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے دل معجزہ دیکھنے کے بغیر بھی مطمئن ہوجاتے ہیں اور بات ہے بھی یہی کہ دلوں کو اطمینان اللہ کے ذکر سے نصیب ہوتا ہے معجزات سے نہیں۔ الرعد
29 [٣٨] طوبیٰ سے مراد کیا ہے؟ لفظ طوبٰی کے معنی ایسی خوشی حاصل ہونا ہے جس سے انسان کے دل کے علاوہ اس کے حواس بھی لطف اندوز ہوں (مفردات) اور جنت کی نعمتیں سب ایسی ہی ہوں گی بعض مفسرین نے طوبیٰ سے مراد وہ درخت لیا ہے جس کا ذکر احادیث میں آتا ہے کہ وہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں ایک سوار اگر سو سال بھی چلتا رہے تو اس کا سایہ ختم نہ ہو۔ (بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ ئواقعہ زیر آیت ﴿ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ﴾ اہل عرب کے لیے ایسے درخت کا جنت میں موجود ہونا ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔ کیونکہ عرب کا اکثر علاقہ سنگلاخ اور ریگستانی ہے۔ شدت کی گرمی پڑتی ہے۔ لوئیں چلتی ہیں مگر درخت یا درختوں کے سائے بہت کم پائے جاتے ہیں۔ اسی لیے جنت کی نعمتوں کا جہاں ذکر آتا ہے وہاں ٹھنڈے پانی اور گھنی اور ٹھنڈی چھاؤں کا بالخصوص ذکر ہوتا ہے۔ الرعد
30 [٣٩] رحمٰن سے کافروں کا چڑنا :۔ رحمٰن اللہ تعالیٰ کا دوسرے درجہ پر ذاتی نام ہے جیسے فرمایا ﴿ قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ﴾ (۱۱۰:۱۷)اسی لیے یہ لفظ بھی اللہ کی طرح کسی مخلوق کے لیے استعمال نہیں ہوتا قریش مکہ کو اس لفظ سے خاص چڑ تھی۔ جیسے یہود کو جبریل اور مکائیل فرشتوں سے چڑ تھی۔ چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوایا تو اس پر قریش کے نمائندہ سہیل بن عمرو نے یہ اعتراض کردیا کہ یہ رحمٰن کون ہے ہم اسے نہیں جانتے جب یہ جھگڑا بڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جملہ مٹا کر قریش کے دستور کے مطابق باسمک اللّٰہ لکھ دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ (بخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد و المصالحۃ مع اھل الحرب۔۔) [٤٠] اس جواب سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ رحمٰن اللہ تعالیٰ ہی کا دوسرا ذاتی نام ہے اور رحمٰن رحم سے مشتق ہے اور اسم مبالغہ ہے۔ جس میں بہت زیادہ بلاغت پائی جاتی ہے یعنی بے انتہا رحم کرنے والا اور یہ اس کی رحمت ہی کا تقاضا تھا کہ اللہ نے سابقہ امتوں کی طرح اس امت میں آپ کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا تاکہ ان کی ہدایت کے لیے آپ انھیں قرآن پڑھ کر سنائیں۔ مگر ان لوگوں کو قرآن سے چڑ ہوگئی اور اپنے معبودوں کو چھوڑنے پر قطعاً تیار نہ ہوئے اور آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے اور آپ کو اور آپ کے متبعین کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ ایسی صورت حال میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ آپ انھیں کہہ دیجئے کہ تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو کرتے جاؤ۔ میں اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتا ہوں۔ وہ خود ہی ان باتوں کا فیصلہ کردے گا۔ الرعد
31 [٤١] حسی معجرات دکھلانے بے سود ہیں :۔ لفظ قُطّعت آیا ہے اور قطع ارض کے معنی فاصلہ طے کرنا اور قَطّع بمعنی ٹکڑے ٹکڑے کردینا اور بمعنی پھاڑ دینا یا شق کردینا ہے اور یہ سب معنی یہاں مراد لیے جاسکتے ہیں۔ یعنی فاصلے فوراً طے کرا دیئے جاتے یا زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی یا شق ہوجاتی اور اس آیت میں قریش کے ان حسی معجزات کے مطالبوں کا ذکر ہے جو وہ گاہے گاہے کرتے رہتے تھے مثلاً ایک یہ کہ یہ جو مکہ کے ارد گرد پہاڑ ہیں۔ یہ یہاں سے ہٹا دیئے جائیں تاکہ ہمارے لیے زمین کشادہ ہوجائے، دوسرا یہ کہ یہ زمین پھٹ جائے اور اس سے چشمے جاری ہوں تاکہ ہمارے لئے پانی کی قلت دور ہوجائے۔ تیسرے یہ کہ ہمارے مرے ہوئے آباؤ و اجداد میں سے کوئی شخص زندہ ہو کر ہمارے سامنے آئے اور اس بات کی تصدیق کرے جو تم ہمیں دوبارہ جی اٹھنے کے متعلق بتاتے رہتے ہو تو تب ہم تمہاری تصدیق کریں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا جس پر عمل پیرا ہونے سے ایسے واقعات وقوع پذیر ہوجاتے تو یہی قرآن ہوسکتا تھا۔ مگر تم لوگ پھر بھی ایمان نہ لاتے اور اگر ہم تمہیں ان میں سے کوئی معجزہ دکھا بھی دیں تو تم پھر بھی اسے جادو کا کرشمہ ہی کہہ دو گے۔ ایمان پھر نہیں لاؤ گے۔ [٤٢] کفار کے بار بار کسی ایسے حسی معجزہ کے مطالبہ پر بعض مسلمانوں کے دلوں میں بھی بعض دفعہ یہ خیال آنے لگتا کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ دکھا دے تو بہتر ہوگا۔ یہ کافر لوگ ایمان لے آئیں تو ہماری مشکلات میں بھی کمی واقع ہوجائے گی۔ اس بات کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا کہ فی الواقع ایسا معجزہ دکھانا، اللہ ہی کا کام ہے کیونکہ ہر طرح کے امور پر صرف اسی کا اختیار و تصرف ہے۔ مگر مومنوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ایسا معجزہ دکھانے کا قطعاً کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس کی وجہ پہلے یہ بتلائی گئی کہ یہ کافر ایسا معجزہ دیکھ بھی لیں تو ایمان نہیں لائیں گے بلکہ ان کی ہٹ دھرمی میں اضافہ ہوگا اور یہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ اگر مطلوب یہی ہوتا کہ کافر ایسا معجزہ دیکھ کر ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں تو اللہ انھیں ایسا معجزہ دکھائے بغیر بھی یہ قدرت رکھتا ہے کہ انھیں ایمان لانے پر مجبور کردے مگر ایسے ایمان کی کچھ قدر و قیمت نہیں۔ قدر و قیمت تو اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار کی آزادی سے اور سوچ سمجھ کر ایمان لائے۔ [٤٣] لفظ تَحُلُ کو اگر واحد مونث غائب کا صیغہ سمجھا جائے تو اس کا معنی وہی ہے جو اوپر بیان ہوا ہے اور اگر اسے واحد مذکر حاضر کا صیغہ سمجھا جائے تو اس کا معنی یہ ہوگا۔ ’یا آپ ان کافروں کے گھروں کے پاس اتریں گے‘اور اس سے مراد مکہ کی فتح ہوگا جیسا کہ ﴿ وَاَنْتَ حِـۢلٌّ بِہٰذَا الْبَلَدِ ﴾ میں بھی مذکور ہے۔ اس آیت میں خطاب صرف مکہ کے کافروں سے نہیں بلکہ تمام کافروں سے ہے۔ اور پہلے معنی کے لحاظ سے ان مصائب سے مراد قحط، غزوہ بدر میں کافروں کی شکست فاش اور دوسرے مصائب ہیں اور اللہ کے وعدہ سے مراد فتح مکہ ہے جس کے نتیجہ میں کفر کی کمر ٹوٹ گئی اور اگر دوسرے معنی لیے جائیں تو ان کے گھروں کے قریب پڑنے والی مصیبت سے مراد صلح حدیبیہ جو انجام کے لحاظ سے کافروں کے حق میں بہت بری ثابت ہوئی اور اللہ کے وعدہ سے مراد بہرحال مکہ کی فتح ہے۔ الرعد
32 الرعد
33 [٤٤] معبودان باطلہ کے صفاتی نام، کوئی دلیل یا تجربہ؟ :۔ یہاں نام سے مراد ان شریکوں کے صفاتی نام ہیں۔ جیسے فرمایا : ﴿ اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ لَہُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی ﴾ اس آیت میں بھی اسم سے مراد صفاتی نام ہیں یعنی ذرا یہ تو بتاؤ کہ تمہارے یہ شریک کیا کیا کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں؟ اور اس کی دلیل کیا ہے؟ کیا کسی الہامی کتاب میں کہیں یہ لکھا ہے کہ اللہ نے فلاں فلاں اختیارات فلاں دیوتا یا بزرگ کو سونپ دیئے ہیں۔ یا تم اللہ کو ایسی چیز کی اطلاع دینا چاہتے ہو جس کا وجود ساری زمین میں کہیں پایا ہی نہیں جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے صرف زمین کا نام اس لیے لیا کہ مشرکوں نے معبود اسی زمین پر ہی اپنے لیے بنا رکھے تھے۔ مثلاً کسی شریک کے متعلق انہوں نے مشہور کر رکھا کہ وہ گنج بخش ہے تو کیا وہ دکھا سکتے ہیں کہ وہ معبود واقعی لوگوں کو خزانے بخشتا رہتا ہے۔ کیا زمین میں ایسی بات پائی جاتی ہے جس کی اللہ کو خبر تک نہ ہوسکی؟ یا جو کچھ ان کے جی میں آئے بک دیتے ہیں اور ایسی باتیں ان شریکوں سے منسوب کردیتے ہیں۔ [٤٥] جھوٹے معبود اور کافروں کا مکر :۔ بات یوں نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کچھ مکار قسم کے انسانوں نے عوام پر اپنی خدائی کا سکہ جمانے کے لیے اور ان کی کمایوں میں اپنا حصہ بٹانے کے لیے کچھ بناؤٹی شریک گھڑے، ان سے متعلق کچھ حکایات تصنیف کیں اور لوگوں کو ان کے تصرفات سے ڈرایا دھمکایا، پھر لوگوں کو ان کا معتقد بنایا اور اپنے آپ کو ان کا مجاور یا خلیفہ یا نمائندہ ٹھہرا کر اپنا الو سیدھا کرنا شروع کردیا اور یہی مشرکانہ عقائد نسلاً بعد نسل جاہل عوام میں رواج پاگئے اور تسلیم کرلیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا مکر کرنے والوں اور اس مکر کو قبول کرنے والوں، سب کو کافر قرار دیا اور یہی لوگ دراصل اللہ کی سیدھی راہ (توحید) سے روک دیئے گئے ہیں اور لوگوں کے لیے بھی رکاوٹ بن گئے ہیں اور ایسے لوگوں کو جو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اللہ کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں، اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ الرعد
34 الرعد
35 الرعد
36 [٤٦] یعنی یہود و نصاریٰ اس کتاب یعنی قرآن سے اس لیے خوش ہوتے ہیں کہ یہ ان کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان کے انبیاء کی تعظیم و تکریم سکھلاتی ہے۔ اس لحاظ سے تو سارے اہل کتاب قرآن سے خوش ہیں۔ پھر ان میں سے کچھ منصف مزاج ایسے بھی تھے جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اور جن باتوں سے وہ انکار کرتے ہیں۔ وہ وہی باتیں ہیں جن میں انہوں نے تحریف کر ڈالی تھی۔ کتاب کے کچھ احکام چھپا جاتے تھے اور کچھ باتیں انہوں نے خود ہی تصنیف کرکے اللہ سے منسوب کردی تھیں۔ قرآن نے ایسی تمام باتوں سے پردہ اٹھا دیا اور جو حقیقت تھی اسے واشگاف الفاظ میں بیان کیا۔ اس وجہ سے ان لوگوں نے قرآن کے بعض حصوں کا انکار کیا پھر بعد میں پورے قرآن ہی سے انکار کردیا۔ [ ٤٧] اہل کتاب کی تحریف لفظی ومعنوی اور شرک کی راہ کھولنا :۔ اہل کتاب نے جن باتوں میں تحریف کی تھی، خواہ یہ تحریف لفظی تھی یا معنوی تھی، ان میں سے سب سے بری بات یہ تھی کہ انہوں نے شرک کی راہیں اختیار کرلی تھیں۔ یہود نے سیدنا عزیر کو اللہ کا بیٹا قرار دے لیا تھا۔ نیز اللہ کی بہت سی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دے لیا تھا اور نصاریٰ نے پہلے تو خدائی کے تین حصے کئے اور کہا کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے۔ بعد میں سیدہ مریم کو الوہیت کا درجہ دے ڈالا اور یہ سب کچھ اللہ کی کتاب میں تحریف لفظی یا معنوی کا نتیجہ تھا۔ پھر وہ اپنے ان اعتقادات کی صحت پر مصر بھی تھے اور نجران کے عیسائی تو آپ سے مباحثہ کرنے کے لیے مدینہ بھی آئے تھے۔ ایسے ہی لوگوں کو جواب دیتے ہوئے اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ ان سے صاف طور پر کہہ دیجئے کہ میں تمہاری اس قسم کی باتوں کو تسلیم کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں۔ میں اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہیں سمجھتا۔ اسی بات کی تم سب کو دعوت دیتا ہوں اور تمہارے انبیاء نے خود بھی اسی بات کی طرف دعوت دی تھی۔ الرعد
37 [٤٨] قرآن سابقہ کتابوں کے لئے حَکَمَ ہے :۔ یعنی جس طرح ہم نے سابقہ انبیاء کی کتابوں کو ان کی قومی زبان میں نازل کیا تھا۔ اسی طرح محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہم نے یہ قرآن ان کی قومی زبان یعنی عربی میں نازل کیا ہے اور اسے حکم بنا کر نازل کیا ہے۔ یعنی یہ سابقہ الہامی کتابوں کے لیے ایک معیار کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے بیان سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اہل کتاب نے اپنی کتابوں میں کہاں کہاں تحریف کی، کون سے احکام و آیات کو چھپاتے رہے اور اپنے دین میں از خود کون کون سے اضافے کرلیے۔ [٤٩] العلم سے کیا مراد ہے ؟:۔ اس آیت میں خطاب عام مسلمانوں کے لیے ہے۔ مگر بطور تاکید مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا گیا ہے اور علم سے مراد علم وحی ہے یعنی منزل من اللہ احکام آجانے کے بعد نہ کسی کے قول کو تسلیم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے اور اگر کوئی شخص یہ بات جان لینے کے بعد کہ ''یہ بات واقعی منزل من اللہ'' ہے کوئی ایسا کام کرے گا تو اس کو اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہ سکے گا۔ واضح رہے کہ کسی حدیث کی صحت معلوم ہوجانے کے بعد اتباع کے لحاظ سے کتاب اور سنت دونوں ایک ہی درجہ پر ہیں اور قرون اولیٰ میں علم حدیث کے لیے بھی العلم کا لفظ عام استعمال ہوتا رہا ہے اور جو لوگ تقلید شخصی کو واجب قرار دیتے ہیں۔ ان کے لیے اس آیت میں عبرت ہے۔ کیونکہ کسی بھی امام کی فقہ پر العلم کے لفظ کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ علاوہ ازیں تقلید شخصی ہی وہ قباحت ہے جو امت مسلمہ میں تفرقہ بازی کا ایک بڑا سبب بنی ہوئی ہے اور جب تک امت تقلیدشخصی کے وجوب کے دعویٰ سے دستبردار نہیں ہوگی اس میں اتحاد کا پیدا ہونا ناممکن ہے اور تفرقہ بازی سے نجات کی واحد صورت یہی ہے کہ اپنے اختلاف میں صرف کتاب و سنت ہی کی طرف رجوع کیا جائے۔ الرعد
38 [٥٠] نبیوں اور اللہ والوں کو بال بچوں کے دھندوں سے کیا تعلق :۔ اس جملہ میں بھی ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ جاہل عوام کا یہ خیال ہوتا ہے کہ نکاح کرنا اور بال بچوں والا ہونا تو دنیادار لوگوں کا کام ہے۔ بھلا نبیوں اور اللہ والوں کو دنیا کے ان دھندوں سے کیا تعلق؟ انھیں دنیا کے طالب نہیں بلکہ دنیا کا تارک ہونا چاہیے جیسا کہ یہود و نصاریٰ میں رہبانیت کا رواج پڑگیا تھا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو رسول پہلے گزر چکے ہیں سب بال بچوں والے تھے اور ان کے سچا ہونے پر تم ایمان رکھتے ہو پھر تم کس کس کا انکار کرو گے۔ وہ بشر ہی تھے اور بشری تقاضوں کو پورا کرتے تھے اور چونکہ وہ بشر تھے۔ اس لیے ان میں سے کسی میں یہ طاقت نہ تھی کہ اپنی مرضی سے یا اپنی قدرت سے کوئی معجزہ دکھا سکتے الا یہ کہ اللہ کے حکم سے ان کے ہاتھوں کسی معجزہ کا صدور ہوتا رہا اور اگر اب بھی اللہ چاہے اس نبی کے ہاتھوں معجزات دکھانے پر قادر ہے۔ الرعد
39 [٥١] ہر دور کے لئے الگ شریعت :۔ یعنی ہر نبی ایک ہی جیسے دین کے اصول پیش کرتا رہا ہے۔ مگر ان کی شریعتوں میں ان کے دور کے تقاضوں کے مطابق فرق رہا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ موسوی شریعت میں قصاص کا حکم تھا۔ عفو و درگزر کا نہ تھا۔ پھر عیسوی شریعت میں قصاص کے حکم کو پس پشت ڈال دیا گیا اور سارا زور عفو و درگزر پر دیا گیا اور شریعت محمدی میں پھر سے قصاص کا حکم بحال کردیا گیا مگر افضلیت عفوو و درگز کو ہی دی گئی احکام میں اس قسم کا رد و بدل اس دور کے لوگوں کی طبیعتوں کی اصلاح کے لیے کیا گیا۔ اللہ نے جس حکم کو چاہا سابقہ شریعتوں سے بحال رکھا اور جسے چاہا منسوخ کرکے نئی قسم کے احکام دے دیئے اور یہ سب کچھ اللہ کے علم ازلی محیط کے مطابق ہوتا ہے جسے ام الکتاب یالوح محفوظ کہا گیا ہے۔ الرعد
40 [٥٢] کفار مکہ پر عذاب آپ کے جیتے بھی اور بعد میں بھی :۔ اس آیت میں بھی کافروں کے اس مطالبہ کا جواب ہے کہ اگر تم سچے ہو تو اب تک ہم پر عذاب آجانا چاہیے تھا یا کیوں نہیں آتا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ آپ کے ذمہ صرف دعوت دین اور اس کی تبلیغ ہے آپ یہی کام کرتے جائیے۔ ان منکرین سے نمٹنا اللہ کا کام ہے اور جس عذاب کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں وہ بھی ان پر آکے رہے گا۔ اس عذاب کا کچھ حصہ تو آپ اپنی زندگی میں جیتے جی دیکھ لیں گے اور کچھ حصہ آپ کی زندگی کے بعد ان کو دیا جائے گا اور اس طرح ان کا یہ مطالبہ بھی پوراکر دیا جائے گا۔ پھر ان منکرین کو آپ کے جیتے جی جو سزائیں ملیں ان کا ذکر قرآن اور حدیث میں وضاحت سے موجود ہے اور جو آپ کی زندگی کے بعد ملیں ان کا ذکر احادیث و آثار و تاریخ میں مل جاتا ہے۔ الرعد
41 [٥٣] زمین کو ہر طرف سے کم کرنے سے مراد؟:۔ یعنی اسلام چاروں طرف پھیلتا جارہا ہے اور کفر کی سرزمین ہر طرف سے سمٹتی اور کم ہوتی جارہی ہے اور اس کا حلقہ تنگ سے تنگ تر ہوتا جارہا ہے۔ اسلام کو غلبہ دینا اور اسے پھیلانا ایسی بات ہے جس کا اللہ فیصلہ کرچکا ہے جسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی اور جوں جوں اسلام پھیلتا ہے ان پر عرصہ حیات تنگ ہوتا جارہا ہے۔ الرعد
42 [٥٤] یعنی آپ کی قوم سے پہلی قومیں بھی دین حق کی دعوت کو روکنے اور اس کے آگے بند باندھنے کی سرتوڑ کوششیں کرتی رہیں۔ مگر بالآخر وہی کچھ ہوا جو اللہ کو منظور تھا۔ اللہ کی تقدیر کے سامنے ان کی تدبیریں کچھ بھی کام نہ آسکیں اور اب بھی یہی کچھ ہوگا۔ ان منکرین حق کو جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ انجام بخیر کس فریق کے حق میں ہوتا ہے، اور جو کچھ یہ لوگ اسلام کو ختم کرنے کے سلسلہ میں تدبیریں کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے علم میں ہیں اور ان کا توڑ وہ خوب جانتا ہے۔ الرعد
43 [٥٥] یعنی تمہارے جھٹلانے سے کیا بنتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ میری نبوت پر شاہد ہے۔ اور تمہیں میری صداقت کے کئی نشان دکھا چکا ہے اور دکھا رہا ہے اور اہل کتاب میں بھی منصف مزاج لوگ میری رسالت کی گواہی دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں میرے متعلق کئی بشارتیں موجود ہیں پھر ان میں سے بعض اسلام بھی لاچکے ہیں۔ الرعد
0 ابراھیم
1 [١] ہدایت اور اللہ کا اذن؟ روشنی یا نور کے مقابلہ میں تاریکی نہیں بلکہ تاریکیاں فرمایا اس لیے صراط مستقیم صرف ایک ہی ہوسکتی ہے اور اسی صراط مستقیم کو روشنی سے تعبیر فرمایا جبکہ ٹیڑھی یا باطل کی راہیں لاتعداد ہوسکتی ہیں اور یہ سب گمراہی کے راستے ہیں اس لیے ان سب راستوں کو تاریکیوں سے تعبیر کیا۔ گویا اس کتاب قرآن کریم کو اتارنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ اس کے ذریعہ لوگوں کو باطل کی تمام راہوں سے ہٹا کر صراط مستقیم پر لائیں۔ اور یہ کام تب ہی ہوسکتا ہے جب لوگوں کے پروردگار کو بھی انھیں راہ راست پر لانا منظور ہو۔ اور اس منظوری کا قانون یہ ہے کہ جو ہدایت کا طالب ہو اسے اللہ یقیناً ہدایت کی توفیق دیتا ہے اور یہی اس کی منظوری یا اذن ہوتا ہے لیکن جو لوگ ہٹ دھرمی کی راہ اختیار کریں انھیں اللہ ہدایت کی توفیق نہیں بخشتا۔ ابراھیم
2 ابراھیم
3 [٢] قرآن کی رو سے کافر کون کون ہیں؟ یعنی جن کی تمام تر کوششیں دنیوی مفادات اور ان کے حصول میں لگی ہوئی ہیں آخرت کی انھیں کچھ فکر نہیں۔ وہ دنیا کے لئے آخرت کی کامیابیوں اور خوشحالیوں کو تو قربان کرنے پر تیار ہیں لیکن آخرت کی فلاح و نجات حاصل کرنے کی خاطر اس دنیا کا کوئی نقصان برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ پھر ان کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ دوسروں کو بھی انھیں دنیوی مفادات کی ترغیب دے کر اللہ کی راہ کی طرف نہ آنے دیں یا راہ حق کی طرف چلنے والوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے اور انھیں اپنے ظلم اور زیادتیوں کا نشانہ بناتے ہیں یا اسی قرآن میں سے گمراہی کی راہیں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے کافروں کو تباہ کن عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ [ ٣] اللہ کی راہ میں کجی کی صورتیں :۔ یہ خطاب سب کے لیے عام ہے خواہ کافر ہوں یا مسلم۔ ٹیڑھ پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دین کا حکم اپنی مرضی کے مطابق ہو اسے تو تسلیم کرلیا جائے اور جو مرضی کے مطابق نہ ہو اسے یا تو چھوڑ دیا جائے یا اس کا انکار کردیا جائے اور یا اس کی تاویل کرکے اللہ کے حکم کو اپنی خواہش کے مطابق ڈھال لیا جائے اور اس ٹیڑھ کو اختیار کرنے کے عام طور پر دو ہی سبب ہوتے ہیں ایک اتباع ہوائے نفس اور دوسرے موجودہ زمانہ کے نظریات سے مرعوبیت۔ اور اس مرض کا شکار عوام سے زیادہ علمائے سوء ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اکثر اوقات گمراہی کی اس انتہاء کو جا پہنچتے ہیں جہاں سے ان کی واپسی ناممکن ہوتی ہے۔ ابراھیم
4 [٤] قرآن کا بیان کیا چیز ہے؟ یعنی رسول کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی قوم کو ہم زبان ہونے کے باوجود قرآن کا بیان بتائے یا سکھائے۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ بیان محض قرآن کے الفاظ کو دہرا دینے کا نام نہیں بلکہ بیان میں قرآن کے الفاظ کا صحیح صحیح مفہوم بتانا، اس کی شرح و تفسیر، اس کی حکمت عملی اور طریق امتثال بتانا سب کچھ شامل ہے قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے نازل کرنے والے اور جس پر نازل کیا گیا ہے دونوں کے نزدیک قرآن کے الفاظ کا مفہوم متعین ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ زید (متکلم) بکر (مخاطب) سے کہتا ہے کہ پانی لاؤ، تو بکر زید کے حکم کی تعمیل صرف اس صورت میں کرسکے گا جبکہ متکلم اور مخاطب دونوں کے ذہن میں پانی، اور لانا، دونوں الفاظ کا مفہوم متعین ہو اور وہ ایک ہی ہو۔ اور اگر زید کوئی ذو معنی لفظ بولے گا تو جب تک اس کی مزید وضاحت نہ کرے گا بکر اس پر عمل نہ کرسکے گا اسی طرح اگر زید کا مخاطب کوئی ایسا شخص ہو جو اردو کو سمجھتا ہی نہ ہو تو بھی وہ اس کے حکم کی تعمیل نہ کرسکے گا۔ اور سوالیہ نشان بن کر رہ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے صرف الفاظ ہی نازل نہیں فرمائے بلکہ ان کا مفہوم بھی مخاطب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ذہن میں القا کردیا تاکہ امتثال امر میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ یعنی مفہوم کو مخاطب کے ذہن میں متعین کردینا ہی قرآن کا بیان ہے۔ قرآن کا بیان کیوں ضروری ہے ؟:۔ نیز اللہ تعالیٰ نے سورۃ القیامۃ میں واضح طور پر فرمایا کہ قرآن کے ساتھ اس کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے اور قرآن اور بیان دونوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے اور یہی بیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو سکھایا تھا۔ مثلاً قرآن میں بے شمار مقامات پر ﴿اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ﴾ کا لفظ آیا ہے۔ اس آیت میں صلوٰۃ کو قائم کرنے کا حکم ہے اور جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ صلوۃ ہے کیا چیز، تب تک تعمیل ناممکن ہے۔ لغت میں اس کے معنی دیکھنے سے تو کام نہیں چلے گا۔ کیونکہ یہ ایک شرعی اصطلاح ہے جس کی لمبی چوڑی تفصیل کی ضرورت ہے۔ مثلاً نماز ادا کرنے کی ترتیب، کتنی رکعات پڑھی جائیں۔ اس سے پہلے طہارت کا حکم، نمازوں کے اوقات وغیرہ یہ سب کچھ امت کو بتانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تھا اور یہی قرآن کا بیان ہے۔ یہی حال دوسری شرعی اصطلاحات کا ہے اور وہ بھی بکثرت ہیں۔ مثلاً الٰہ، دین، عبادت، صلوٰۃ، صوم، حج، مناسک حج، طواف، تلبیہ، رکوع، سجود، قیام، عمرہ، آخرت، معروف و منکر وغیرہ ان سب اصطلاحات کا وہی مفہوم معتبر سمجھا جائے گا جو اللہ کے رسول نے بیان فرمایا ہو۔ قرآن کا بیان آپ کی ذمہ داری ہے :۔ علاوہ ازیں کئی الفاظ کثیر المعانی ہوتے ہیں۔ کچھ محاورۃً استعمال ہوتے ہیں۔ کچھ الفاظ ایسے ہیں جن کے عرفی معانی اور ہوتے ہیں اور لغوی اور۔ ان سب الفاظ کی تفسیر و تشریح کا نام قرآن کا بیان ہے۔ کتاب کا محض اس زبان میں اترنا ہی کافی نہیں ہوتا جو قومی زبان ہو۔ بلکہ بہت سے مقامات ایسے ہوتے ہیں جن کے بیان کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن کا بیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی اور اسی بیان کو سنت کہا جاتا ہے۔ [ ٥] یہ بات نہیں کہ چونکہ اللہ ہر چیز پر غالب ہے لہٰذا وہ جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے ہدایت دے دے۔ بلکہ وہ حکیم بھی ہے اور اس کی حکمت کا یہی تقاضا ہے کہ جو ہدایت کا طالب ہو اسے ضرور ہدایت دی جائے اور گمراہ صرف اسے کرتا ہے جو گمراہی کی راہ اختیار کرے اور حق بات سننے کے لیے تیار ہی نہ ہو۔ ابراھیم
5 [٦] تذکیر بایام اللہ سے مراد؟ ایام اللہ کے لفظی معنی ہیں اللہ کے دن اور اس سے ایسے دن مراد ہوتے ہیں جو تاریخ انسانی میں یادگار دن بن جاتے ہیں خواہ یہ خوشی کے ہوں یا مصیبت کے۔ بلکہ ایک ہی دن ایک فریق کے لیے خوشی کا دن ہوتا ہے اور دوسرے فریق کے لیے مصیبت کا۔ جیسے ١٠ محرم کو فرعون اور اس کے لشکری دریا میں غرق ہوئے۔ اب یہی دن بنی اسرائیل کے لیے تو انتہائی خوشی کا دن تھا کہ انھیں فرعونیوں کے مظالم سے نجات ملی اور وہ اسی خوشی میں ١٠ محرم کو ہر سال روزہ بھی رکھا کرتے تھے اور یہی دن فرعونیوں کے لیے مصیبت کا دن تھا یہی صورت ١٧ رمضان ٢ ھ کی ہے۔ مشرکین مکہ کو غزوہ بدر میں شکست فاش ہوئی۔ یہ دن مسلمانوں کے لیے انتہائی خوشی کا دن تھا جبکہ قریش مکہ کے لیے یہ دن بڑی مصیبت کا دن تھا۔ اسی طرح پہلی مجرم قوموں پر جو عذاب الٰہی نازل ہوتا رہا تو انھیں ایام اللہ کہا جاتا ہے۔ اور تذکیر بایام اللہ سے مراد ایسے ہی یادگار دنوں سے عبرت حاصل کرنا ہے اور یہ قرآن کریم کا خاص موضوع ہے جسے بے شمار مقامات پر دہرایا گیا ہے۔ انبیاء اور اقوام سابقہ کے حالات اور قصص بیان کرنے سے قرآن کا اصل مقصد بایام اللہ ہی ہوتا ہے۔ [ ٧] صبر وشکر کی فضیلت :۔ صبر اور شکر دو ایسی صفات ہیں جو ایک مومن کی پوری زندگی کو محیط ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے صابر اور شاکر الفاظ کے بجائے صبار اور شکور کے الفاظ استعمال فرمائے اور یہ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں یعنی ایک مومن کی زندگی یہ ہوتی ہے کہ جب اسے کوئی دکھ، تکلیف یا مصیبت پہنچتی ہے تو اس پر صبر کرتا ہے اور جب اس پر خوشحالی کے دن آتے ہیں یا کوئی خوشی یا بھلائی نصیب ہوتی ہے تو اللہ کا شکر بجا لاتا ہے۔ اور زندگی بھر اس کا یہی معمول رہتا ہے اس کے مقابلے میں ایک دنیا دار یا ایک کافر کی زندگی اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے جب اسے کوئی دکھ پہنچے یا تنگدستی کے دن آئیں تو اللہ کے شکوے اور جزع و فزع کرنے لگتا ہے اور جب کوئی خوشی نصیب ہو یا خوشحالی کے دن آئیں تو ایسا احسان فراموش بن جاتا ہے کہ اللہ کو بھول ہی جاتا ہے۔ یعنی ایام اللہ سے عبرت صرف وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جو صبر اور شکر کی صفات سے متصف ہوں۔ ابراھیم
6 [٨] یہ واقعات سورۃ بقرہ، سورۃ اعراف اور سورۃ ہود میں تفصیل سے گزر چکے ہیں وہاں ملاحظہ کرلیے جائیں۔ ابراھیم
7 [٩] شکر اور اس کا فائدہ :۔ شکر یا احسان شناسی میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھ دی ہے کہ بھلائی کو بحال رکھتی ہے بلکہ مزید بھلائیوں کو بھی اپنی طرف جذب کرتی ہے اور ناشکری یا احسان فراموشی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے احسان ناشناس سے پہلی نعمت بھی چھن جاتی ہے اور حالات مزید بدتر پیدا ہوجاتے ہیں اور یہ نتائج اس دنیا سے گذر کر آخرت تک بھی چلتے ہیں۔ اس مضمون کی تفصیل کے لیے ہم یہاں دو احادیث درج کرتے ہیں :۔ ١۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے ایک کوڑھی، ایک گنجا اور ایک اندھا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں آزمانا چاہا اور ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا۔ فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور کہنے لگا، ”تم کیا چاہتے ہو؟“ ’’اچھا رنگ اور اچھی جلد، کیونکہ لوگ مجھ سے نفرت و کراہت کرتے ہیں‘‘ فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تو اس کا رنگ اور جلد درست ہوگئی۔ پھر فرشتے نے پوچھا، ”تمہیں کون سا مال پسند ہے؟“ وہ کہنے لگا”اونٹ“فرشتے نے اسے ایک دس ماہ کی اونٹنی مہیا کردی اور کہا ’’اللہ اس میں برکت دے گا‘‘ پھر وہ گنجے کے پاس آیا اور کہا ’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘اس نے کہا ’’یہی کہ میرا گنج جاتا رہے اور اچھے بال اگ آئیں‘‘ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا وہ تندرست ہوگیا اور اچھے بال اگ آئے۔ پھر اس سے پوچھا ’’‬تمہیں کون سا مال پسند ہے؟‘‘ گنجے نے کہا ”گائیں“ چنانچہ فرشتے نے اسے ایک حاملہ گائے مہیا کردی اور کہا ”اللہ اس میں برکت دے گا“ پھر فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور پوچھا ”تم کیا چاہتے ہو؟“اس نے کہا ’’یہی کہ یہ میری بینائی مجھ کو مل جائے“فرشتے نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ بینا ہوگیا۔ پھر اس سے پوچھا ”تمہیں کون سا مال پسند ہے؟“ اس نے کہا ”بکریاں“ چنانچہ فرشتے نے اسے ایک حاملہ بکری مہیا کردی اور کہا ”اللہ اس میں برکت دے گا“کچھ مدت گزرنے پر کوڑھی کے پاس اونٹوں کا، گنجے کے پاس گائے کا اور اندھے کے پاس بکریوں کا بہت بڑا ریوڑ بن چکا تھا۔ اب فرشتہ پھر ان کے پاس (انسانی صورت میں) آیا۔ پہلے کوڑھی کے پاس گیا اور کہا ”میں محتاج آدمی ہوں میرا سب سامان جاتا رہا اب اللہ کی اور اس کے بعد تیری مدد کے بغیر میں کہیں پہنچ بھی نہیں سکتا۔ میں تم سے اس اللہ کے نام پر سوال کرتا ہوں جس نے تیرا رنگ اور جلد اچھی کردی اور تجھے بہت سا مال دیا کہ ایک اونٹ مجھے دے دو تاکہ میں اپنے ٹھکانے پر پہنچ سکوں‘‘ وہ کہنے لگا ”میں نے تو بہت سے لوگوں کا قرض دینا ہے“فرشتے نے کہا ’’میں تجھے پہچانتا ہوں تو کوڑھی تھا لوگ تجھ سے کراہت کرتے تھے اور تو محتاج تھا اور اللہ نے تم پر مہربانی کی اور یہ سب کچھ عطا کیا‘‘ کوڑھی کہنے لگا ’’واہ مجھے تو یہ سب کچھ باپ دادے کی وراثت سے ملا ہے‘‘ فرشتے نے کہا:’’اگر تم نے جھوٹ بولا ہے تو اللہ تجھے تیری پہلی حالت میں لوٹا دے‘‘ پھر وہ گنجے کے پاس آیا۔ اس سے بھی بالکل ویسے ہی سوال و جواب ہوئے جیسے کوڑھی سے ہوئے تھے اسے بھی فرشتے نے بالآخر یہی کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تجھے اپنی پہلی حالت میں پھیردے۔ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور ویسے ہی سوال کیا جیسے کوڑھی اور گنجے سے کیا تھا۔ اندھا یہ سوال سن کر کہنے لگا ’’واقعی میں اندھا تھا۔ اللہ نے مجھے بینائی بخشی۔ میں محتاج تھا اللہ نے مجھے مالدار کردیا۔ اب تم نے مجھ سے اسی اللہ کے نام پر سوال کیا ہے جو کچھ چاہتے ہو لے لو میں روکوں گا نہیں۔‘‘ فرشتے نے کہا، (میں محتاج نہیں فرشتہ ہوں) اپنی بکریاں اپنے ہی پاس رکھو۔ اللہ نے تم تین آدمیوں کو آزمایا تھا۔ اللہ تجھ سے تو خوش ہوگیا اور تیرے دونوں ساتھیوں (کوڑھی اور گنجے) سے ناراض ہوا۔ (بخاری، کتاب الانبیاء۔ باب ما ذکربنی عن اسرائیل حدیث ابرص واقرع واعمیٰ ) ٢۔ ناشکری کا انجام :۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ''مجھے دوزخ دکھائی گئی۔ اس میں عورتیں زیادہ تھیں جو کفر کرتی ہیں” صحابہ نے کہا “کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں؟”فرمایا : “نہیں وہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہوتی ہیں۔ اگر تم کسی عورت سے عمر بھر بھلائی کرو۔ پھر وہ تم سے کوئی ناگوار بات دیکھے تو کہہ دے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں'' (بخاری، کتاب الایمان۔ باب کفران العشیر وکفر دون کفر) ابراھیم
8 [١٠] اللہ کی بے نیازی :۔ یعنی اللہ کی ناشکری کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑتا نہ ہی اس کی خدائی میں کچھ فرق آتا ہے نہ وہ کسی کے شکر کا محتاج ہے وہ ان سب باتوں سے بے نیاز ہے اس لیے کہ وہ اپنی ذات میں ہی قابل ستائش ہے اس کے کارنامے ہی ایسے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز اس کے گن گا رہی ہے چنانچہ صحیح مسلم میں ایک قدسی حدیث ان الفاظ میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے جن و انس سب کے سب اعلیٰ درجے کے متقی بن جائیں تو اس سے میری بادشاہی میں کچھ اضافہ نہیں ہوجاتا۔ اور اگر سب کے سب اگلے پچھلے جن و انس ایک بدترین شخص جیسے ہوجائیں تو اس سے میری بادشاہی میں ذرہ برابر بھی کمی واقع نہیں ہوتی‘‘ (مسلم، کتاب البر و الصلۃ۔ باب تحریم الظلم) ابراھیم
9 [١١] پچھلی آیت پر موسیٰ علیہ السلام کا خطاب ختم ہوا اور اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مشرکین مکہ کو خطاب شروع ہوتا ہے۔ سابقہ مقامات پر اقوام اور انبیاء کا الگ الگ ذکر ہوتا رہا۔ یہاں بحیثیت مجموعی ذکر ہو رہا ہے اور قریش مکہ سے صرف ان اقوام کا ذکر کیا گیا ہے جو ان کے آس پاس تھیں یاجن کے حالات کسی نہ کسی ذریعہ سے ان تک پہنچ سکتے تھے۔ مثلاً قوم نوح، عاد، ثمود، قوم فرعون، اصحاب مدین وغیرہ وغیرہ لیکن بہت سی ایسی اقوام بھی تھیں جن کے حالات کا علم ان کی دسترس سے باہر تھا اور ان سے کہیں دور کے علاقوں میں آباد تھیں اور ان پر بھی انکار حق کی بنا پر عذاب آیا تھا۔ لہٰذا قرآن نے ان کا تفصیل سے ذکر نہیں کیا محض اشارہ کردیا ہے۔ [ ١٢] یہ محاورہ ہے۔ اور اس سے مراد ایسا انکار ہوتا ہے جس میں تعجب بھی شامل ہو جیسے ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں کہ اس نے اپنی انگلی منہ میں دبا لی یا اپنا ہاتھ کانوں پر رکھ لیا اور مجاہد کہتے ہیں کہ ’’یہ محاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا جو حکم ہوا تھا، اس سے وہ باز رہ‘‘ (بخاری، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ ابراہیم) [ ١٣] انبیاء کی دعوت سے مشرکوں کی بے چینی :۔ تمام انبیاء کے مخالفین کا یہی حال رہا ہے اگرچہ وہ بظاہر حق کی مخالفت کرتے اور اس مخالفت میں اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں مگر حق کے دلائل کے سامنے وہ بے بس ہوجاتے ہیں۔ نیز جوں جوں حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے ان کا قلبی سکون رخصت ہوتا جاتا ہے اور شک، اضطراب اور بے چینی بڑھتی جاتی ہے۔ اس طرح داعیان حق کو بے چین کرنے والے خود بھی چین سے محروم ہوجاتے ہیں اور اگر اس کے لفظی معنی کا اعتبار کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ رسولوں کو بات بھی نہیں کرنے دیتے تھے اور بات کرتے وقت ان کے منہ کے آگے اپنے ہاتھ رکھ دیتے تھے اور کہتے کہ ہم تمہیں رسول ہی نہیں سمجھتے تو بات کرنے اور سننے کا فائدہ کیا ہے؟ ابراھیم
10 [١٤] اللہ کے بارے میں شک :۔ مشرکین مکہ کے ہوں یا پہلی قوموں کے یا موجودہ دور کے سب کے سب اس بات کے قائل ضرور ہوتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین یعنی اس ساری کائنات کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اسی بات کو بنیاد قرار دے کر انبیاء مشرکوں سے یہ سوال کرتے آئے ہیں کہ جب تمام اشیاء کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام اختیار و تصرف بھی اللہ ہی کے پاس ہے پھر تمہارے ان معبودوں کے پاس تصرف و اختیار کہاں سے آگئے؟ لہٰذا تم ان معبودوں کو چھوڑ کر توحید کی طرف آؤ اور اگر تم نے یہ راہ اختیار کرلی تو اللہ تمہارے سب گناہ معاف فرما دے گا اور اگر تم اس کی دعوت پر ایمان نہ لاؤ گے تو کچھ مدت تو تمہیں مہلت دے گا تاکہ تم اپنی حالت پر اچھی طرح غور و فکر کرکے اپنی اصلاح کرلو۔ اور اگر پھر بھی نہ سنبھلے تو تمہیں تباہ کردے گا۔ [ ١٥] پیغمبروں کو مشرکوں کے جواب :۔ انبیاء کی دعوت پر مشرکوں کے جواب بھی ایک ہی جیسے رہے مثلاً ایک یہ کہ تم بھی ہماری طرح کے ایک انسان ہی ہو۔ ہماری طرح کھاتے ہو، پیتے ہو، سوتے ہو، بیوی بچے رکھتے ہو، چلتے پھرتے ہو، بھوک، پیاس، دکھ، بیماری، گرمی، سردی، تمہیں بھی لگتی ہے اور ہر بشری کمزوری تم میں بھی ہماری طرح موجود ہے پھر ہم یہ کیسے مان لیں کہ تمہارے پاس فرشتے آتے ہیں اور ہمکلام ہوتے ہیں اور تم اللہ کے پیغمبر ہو۔ پھر چونکہ ایسے مشرکوں کا غور و فکر دنیاوی مفادات سے آگے نہیں بڑھتا۔ لہٰذا ان کا دوسرا جواب یہ رہا ہے کہ تم ہمیں اپنے باپ دادا کے دین سے ہٹا کر ایک نیا دین پیش کرکے اپنی چودھراہٹ قائم کرنا چاہتے ہو۔ سو ہم اپنے باپ دادا کا دین چھوڑنے کو تیار نہیں، نہ ہی ان معبودوں کو چھوڑ سکتے ہیں جنہیں ہمارے آباؤ اجداد پوجتے رہے اور تیسرا جواب یہ رہا ہے کہ ہم تمہاری بات اس وقت تک تسلیم کرنے کو تیار نہیں جب تک تم کوئی حسی معجزہ نہ دکھا دو یا کوئی ایسی کھلی دلیل پیش کرو جس سے ہمیں تمہارے نبوت کے دعویٰ کی صداقت کا یقین حاصل ہوجائے۔ ابراھیم
11 [١٦] مشرکوں کے ان اعتراضات و مطالبات کا جواب بھی تمام انبیاء علیہم السلام یہی دیتے رہے کہ ہم کب کہتے ہیں کہ ہم بشر نہیں۔ ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم پر مزید احسان کیا ہے کہ ہمیں علم حق اور بصیرت کاملہ عطا فرمائی ہے۔ اور یہ اللہ کی مرضی ہے کہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے یہ احسان کرے اور اسی علم حق کی دعوت ہم تمہیں دے رہے ہیں ہمارے اپنے اختیار میں کچھ نہیں۔ نہ ہی ہم اپنی مرضی سے تمہیں کوئی معجزہ دکھانے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ہی ہم نے کبھی ایسا دعویٰ کیا ہے بلکہ ہم اپنے سب کاموں میں اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ ابراھیم
12 ابراھیم
13 [١٧] کافروں کا جواب یا دین میں واپس آؤ یا ہم تمہیں نکال دیں گے :۔ مخالفین حق جب حق کے دلائل کے سامنے عاجز آجاتے ہیں تو ان کے لیے آخری حربہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے نبی اور اس کے پیروکاروں کو یہ دھمکی دے دیتے ہیں کہ یا تو ہماری بات مان لو اور ہمارے دین میں واپس آجاؤ یا پھر ہم تمہیں یہاں سے جلاوطن کردیں گے اور ان کا یہ اقدام دراصل ان کی ذہنی شکست کا اعتراف ہوتا ہے اور ایسی دھمکی ہر نبی کو دی جاتی رہی ہے چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی دفعہ وحی نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے گھر تشریف لائے تو سیدہ خدیجہ انھیں اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ بن نوفل نے جب یہ واقعہ سنا تو کہا کہ یہ تو وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوتا تھا۔ پھر ساتھ ہی کہنے لگا : ’’کاش! میں اس وقت تک زندہ رہتا جب تمہاری قوم تمہیں یہاں سے نکال دے گی اور میں اس وقت تمہاری کچھ مدد کرسکتا‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے پوچھا : ’’کیا میری قوم مجھے یہاں سے نکال دے گی؟‘‘ اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے پوچھی کہ پوری قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور امین سمجھتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت و تکریم کی نگاہوں سے دیکھتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے محبوب تھے۔ ورقہ بن نوفل نے کہا : ’’ہاں! کیونکہ جس نبی نے بھی ایسی دعوت پیش کی اس کی قوم اسے نکالتی چلی آئی ہے‘‘ (بخاری، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) چنانچہ ایک وقت آیا جب آپ کی قوم نے بھی آپ کو وطن سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ [ ١٨] کافروں کی تدبیریں انھیں پر الٹ پڑتی ہیں :۔ جب حق و باطل کا معرکہ اس مرحلہ تک پہنچ جاتا ہے کہ مخالفین حق اپنے نبی کو وطن سے نکالنے یا اس کی جان ہی لینے کے درپے ہوجاتے ہیں تو اس وقت سے ہی مخالفین کی تباہی کے اسباب کا آغاز ہوجاتا ہے اور پیغمبروں کو اس کی اطلاع کردی جاتی ہے اور یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ جس مقام سے یہ تمہیں نکالنے کے درپے ہیں۔ ہم ان کو دفع کرنے کے بعد تمہیں اسی مقام پر لا کر آباد کریں گے اور قبضہ و اختیار عطا کریں گے یہ آیات اسی دور کی نازل شدہ ہیں جب قریش مکہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جلا وطن کرنے یا قتل کرنے کی تدبیریں سوچ رہے تھے اور یہ آیات دراصل ان کے خلاف ایک پیشین گوئی کی حیثیت رکھتی تھیں۔ لیکن وہ تو بہرصورت اپنے پیغمبر کی مخالفت پر تلے ہوئے تھے۔ لہٰذا اس طرف ان کا دھیان جاتا ہی نہ تھا۔ بالآخر ان کا وہی انجام ہوا جو اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ فتح مکہ کے بعد اسی جگہ کا اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ آگیا، جہاں سے انھیں نکالا گیا تھا اور مخالفین حق میں سے اکثر اسلام لے آئے اور جو نہ لائے وہ اس جگہ سے از خود نکل کھڑے ہوئے۔ ابراھیم
14 ابراھیم
15 [١٩] یعنی ایک طرف تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے فتح و نصرت کے لیے دعا مانگ رہے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مخالفین یہ مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب کیوں نہیں لے آتے جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے رہتے ہو۔ اس وقت اللہ رسولوں کی مدد کرتا ہے اور سرکش معاندین اور ہٹ دھرم لوگوں کا سر کچل دیتا ہے۔ ابراھیم
16 ابراھیم
17 [٢٠] یہ سزا تو دنیا میں ملے گی اور آخرت میں انھیں جہنم میں آتش دوزخ کے علاوہ کئی طرح کی اضافی سزاؤں سے بھی دوچار ہونا پڑے گا۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ گرمی کی شدت کی وجہ سے سخت قسم کی پیاس محسوس کریں گے تو پانی کے لیے فریاد کریں گے مگر پانی کے بجائے انھیں رستے ہوئے زخموں کا دھوون پینے کو دیا جائے گا اور اس کے پینے پر مجبور کیا جائے گا وہ بھی پیاس کی شدت کی وجہ سے اسے پینے پر مجبور ہوں گے۔ لیکن اس کی بدبو، اس کی رنگت اور قوام سے کراہت کی وجہ سے حلق سے بمشکل ہی نیچے اترے گا لہٰذا وہ گھونٹ گھونٹ کرکے پئیں گے۔ وہ موت کی آرزو کریں گے کہ ایسی تکلیف دہ زندگی سے تو موت ہی اچھی ہے لیکن اخروی زندگی میں موت نام کی کوئی چیز نہ ہوگی۔ اس زندگی میں موت سے کسی کو چھٹکارا نہیں حالانکہ ہر ایک کو زندہ رہنے کی ہوس ہوتی ہے۔ اس زندگی میں اہل دوزخ مرنا چاہیں گے تو مر بھی نہ سکیں گے اور ان پر عذاب سخت سے سخت تر کیا جاتا رہے گا۔ اس دنیا میں موت ایک اضطراری امر ہے۔ آخرت میں زندگی اضطراری امر ہوگا۔ ابراھیم
18 [٢١] کافروں کے اچھے اعمال کی مثال راکھ کا ڈھیر :۔ شریعت کا ایک کلیہ ہے کہ اعمال کی جزا و سزا کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشہور ومعروف فرمان اور متواتر حدیث ہے یعنی عمل کرتے وقت انسان جیسی نیت کرتا ہے ویسا ہی اسے بدلہ ملے گا۔ ایک مومن سارے کام اس نیت سے کرتا ہے کہ یہی اعمال آخرت میں اس کے کام آئیں گے اور اس کی نجات کا ذریعہ بنیں گے لہٰذا اسے ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا۔ مگر ایک شخص جو کہ بھلا کام اس نیت سے کرتا ہے جس سے اسے کوئی ذاتی یا قومی مفاد یا اپنی شہرت مطلوب ہوتی ہے تو اسے دنیا میں ہی اس کے اس طرح کے بھلے کاموں کا بدلہ دے دیا جاتا ہے۔ اس کے نیک اعمال خواہ بہت زیادہ ہوں، آخرت میں وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے کوئی راکھ کا ڈھیر پڑا ہو اور آندھی کا ایک ہُلّہ اسے اڑا کر تتر بتر کردیتا ہے اور وہاں کچھ بھی نہیں رہتا۔ درج ذیل حدیث بھی اسی مضمون کی وضاحت کررہی ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ مومن پر اس کی نیکی کے سلسلے میں ذرہ سا بھی ظلم نہیں کرے گا۔ اسے اس کی نیکی کا بدلہ دنیا میں بھی دیا جائے گا اور آخرت میں بھی۔ اور کافر نے جو نیک عمل کیے ہوں گے اس کو ان کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو کوئی نیکی نہ ہوگی جس کا اس کو صلہ دیا جائے۔ (مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب جزاء المومن بحسناتہ فی الدنیا والآخرۃ) اور کافروں کا چونکہ آخرت پر ایمان ہی نہیں ہوتا اور نہ آخرت میں اجر پانے کی نیت سے انہوں نے کوئی کام کیا ہوتا ہے۔ لہٰذا آخرت میں ان کے اجر کا سوال ہی پیدا نہ ہوگا اور جو برے کام انہوں نے دنیا میں کیے ہوں گے جن میں سب سے بڑا گناہ یہی آخرت کا انکار ہے۔ ان کی سزا انھیں ضرور ملے گی۔ گویا ان سے نیکی برباد اور گناہ لازم والا معاملہ بن جائے گا۔ ابراھیم
19 [٢٢] یعنی زمین و آسمان اور اس کائنات کو حکمت اور مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس کی بنیاد ٹھوس حقائق پر ہے۔ اسی طرح اگر اعمال صالحہ کی بنیاد کسی ٹھوس حقیقت پر ہو تو اس کا ثمرہ دائمی اور پائیدار ہوگا اور وہ آخرت میں بھی اپنا ثمرہ دے گا۔ مگر جس تعمیر کی بنیاد کسی ٹھوس جگہ کی بجائے ریت یا راکھ پر رکھ دی جائے تو تیز آندھی اسے گرا کر زمین بوس کردے گی۔ اس کی عمر اتنی ہی ہوتی ہے کہ کوئی تیز آندھی کا جھکڑ آجائے یا نیچے سے پانی بہہ جائے اور یہ جھکڑ یا حادثہ کافر کی موت ہے اس کی موت کے ساتھ ہی اس کے نیک اعمال بھی برباد ہوجاتے ہیں۔ [ ٢٣] ان آیات میں مسلسل کافروں سے ہی خطاب چل رہا ہے جو محض حق کا انکار ہی نہیں کرتے بلکہ حق کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کی مخالفت اور مومنوں کی ایذا رسانی میں ہر وقت کمر بستہ رہتے ہیں۔ درمیان میں ان کے نیک اعمال کا بھی ذکر آگیا جیسے مشرکین مکہ حاجیوں کی خدمت کیا کرتے تھے، انھیں پانی پلانے کا بندوبست کرتے تھے، کمزور لوگوں کی امداد کے لیے فنڈ اکٹھا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت میں بھی انھیں ان کی بداعمالیوں پر انتباہ کیا گیا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ اگر تم یہی کچھ کرتے رہے تو اللہ تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو یہاں لانے اور انھیں اقتدار بخشنے کی پوری قدرت رکھتا ہے اور اس کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ چنانچہ چند ہی سالوں کے بعد کفار مکہ کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ ابراھیم
20 ابراھیم
21 [٢٤] قیامت کو مطیع اور مطاع دونوں ایک جیسے بے بس ہوں گے :۔ اس آیت میں ان لوگوں کی اندھی تقلید کا ذکر ہے۔ یعنی دنیا میں جو لوگ آنکھیں بند کرکے دوسروں کے پیچھے چلنے کے عادی ہوتے ہیں یا اپنی کمزوری کو ایک معقول عذر سمجھ کر عالم لوگوں کی اطاعت کرتے ہیں یا اپنے بڑے بزرگوں کو پارسا سمجھ کر ان کی اندھی تقلید کرتے چلے جاتے ہیں جب وہ اللہ کی عدالت میں حاضر ہوں گے تو وہ اپنے بڑے بزرگوں سے جن کی یہ پیروی کرتے رہے تھے، پوچھیں گے کہ دنیا میں تو ہم ساری عمر تمہیں بڑا سمجھ کر تمہاری ہی اطاعت کرتے رہے۔ بتاؤ آج کی مشکل گھڑی میں ہماری کچھ حمایت کرسکتے ہو تاکہ ہمارا عذاب کچھ ہلکا ہی ہوجائے؟ وہ کہیں گے کہ آج تو ہم اور تم دونوں ایک ہی جیسے مجبور ہیں۔ دنیا میں اگر ہم سیدھی راہ پر چلتے تو تمہیں بھی سیدھی راہ پر چلاتے مگر جب ہم خود گمراہ تھے تو تمہیں کیا ہدایت دیتے؟ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں اس عذاب سے نجات کی راہ سکھا دیتا تو ہم تمہیں بھی بتا دیتے مگر آج تو ہم دونوں یکساں مجرم ہیں اور ایک ہی جیسی مصیبت میں مبتلا ہیں اور نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ نہ خاموش رہنے اور صبر کرنے میں کچھ فائدہ نظر آتا ہے اور نہ گھبرانے اور چیخنے چلانے میں۔ ابراھیم
22 [٢٥] یعنی جب لوگوں کے اعمال کا حساب لینے کے بعد اہل جنت کو جنت میں اور اہل دوزخ کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا۔ [ ٢٦] شیطان کا دوزخیوں سے خطاب :۔ شیطان چونکہ خود بھی دوزخ میں جائے گا تو اہل دوزخ کو جو اسے ملامت کر رہے ہوں گے، مخاطب کرکے کہے گا۔ دیکھو! ایک وعدہ تو تم سے اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ کیا تھا جو یہ تھا کہ قیامت کا دن یقیناً آنے والا ہے اس دن ہر شخص کی اللہ کے حضور پیشی ہوگی۔ ہر ایک سے اس کے اعمال دنیا سے متعلق باز پرس ہوگی پھر اعمال کے مطابق ہر ایک کو جزا یا سزا دی جائے گی۔ یہ وعدہ بالکل سچا تھا جسے تم نے خود مشاہدہ کرلیا ہے۔ اور ایک وعدہ میں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ تم سے کیا تھا۔ جو یہ تھا کہ روز آخرت کا تصور محض ایک ڈھکوسلا ہے۔ مرنے کے بعد انسان مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے۔ ہزاروں سال بعد وہ کیونکر دوبارہ زندہ ہوسکتا ہے۔ لہٰذا جو کچھ ہے بس یہی دنیا ہے۔ لہٰذا یہاں خواہ مخواہ کی اپنے آپ پابندیاں لگا کر اپنے آپ کو جکڑ بند کیے رکھنا کون سی دانشمندی ہے؟ اس دنیا میں جتنی زندگی ہے عیش و آرام سے گزارنی چاہیے یا یہ وعدہ کیا تھا کہ فلاں پیر اور فلاں بزرگ کا دامن پکڑ لو، اس کی بیعت کرلو اور اس کے حضور نذر و نیاز پیش کردیا کرو۔ اگر آخرت کا دن ہوا بھی تو وہ بزرگ تمہیں سفارش کرکے اللہ سے بچالیں گے۔ شیطان کا اعتراف کہ میرا وعدہ جھوٹا تھا :۔ میں آج اقرار کرتا ہوں کہ میرا وعدہ جھوٹا تھا۔ مگر ایک بات ضرور ہے وہ یہ کہ میں نے صرف ان باتوں کی تم میں تحریک پیدا کی تھی۔ تمہیں اس طرف متوجہ ضرور کیا تھا جسے تم نے تسلیم کرلیا لیکن میرے پاس نہ تو کوئی عقلی دلیل تھی کہ تمہیں اس کا قائل کرسکتا اور نہ میرا تم پر کچھ زور چلتا تھا کہ میں تمہیں مجبور کرکے اپنی باتوں پر لگا سکتا۔ لہٰذا اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی عقلوں کا ماتم کرو۔ آج میں بھی ویسے ہی بے بس ہوں جیسے تم ہو۔ نہ میں تمہاری کچھ حمایت یا مدد کرسکتا ہوں نہ تم میری مدد کرسکتے ہو کیونکہ دونوں ہی یکساں مجرم ہیں۔ [ ٢٧] یعنی تم نے اللہ کے احکام کے علی الرغم میری باتوں پرلگ کر اس کی نافرمانیاں کیں اور میری اطاعت کرکے مجھے یا میرے ایجنٹوں کو جو خدائی کا درجہ دے رکھا تھا میں اس کا بھی انکار کرتا ہوں اور برملا اقرار کرتاہوں کہ اللہ ہی وحدہ لاشریک ہے اور وہی بندگی اور پرستش کے قابل ہے اور تم نے جو میری انگیخت پر کئی قسم کے معبود، حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھے تھے یہ سب جھوٹ ہی جھوٹ تھا اور اس جملہ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب میں تمہارے شریک بنانے سے پہلے ہی کافر بن چکا تھا تو پھر تم نے مجھے شریک بنایا ہی کیوں تھا ؟ ابراھیم
23 [٢٨] یہاں اہل جنت کا ذکر اسی سنت الٰہی کے مطابق آیا ہے کہ جہاں اہل دوزخ کا ذکر آئے تو ساتھ ہی اہل جنت کا تھوڑا سا ذکر کردیا جائے اور جہاں اہل جنت کا تفصیلی ذکر آئے تو ساتھ ہی مختصر سا اہل دوزخ کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے۔ [ ٢٩] تحیۃ کے معنی ہیں دعائے درازی عمر اور یہاں دنیا میں جو ایک دوسرے کی ملاقات کے وقت سلام یا السلام علیکم کہا جاتا ہے تو یہ دراصل مخاطب کے لیے امن و سلامتی اور تندرستی کی دعا ہوتی ہے اور جنت میں سلامتی تو پہلے ہی موجود ہوگی وہاں سلام کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہیں یہ سلامتی مبارک ہو۔ ابراھیم
24 [٣٠] کلمہ طیبہ کے لغوی معنی ہے ''پاکیزہ بات'' اور اس سے مراد کلمہ توحید یعنی ﴿لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ﴾ ہے۔ یہی وہ کلمہ ہے کہ جب عقیدہ و عمل کی شکل اختیار کرلیتا ہے تو یہ جہاں تمام تر بھلائیوں کی بنیاد بن جاتا ہے وہاں ہر طرح کی برائی کی جڑ بھی کاٹ پھینکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر نبی نے اپنی دعوت کا آغاز اسی کلمہ سے کیا ہے۔ [ ٣١] کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ ہے :۔ پاکیزہ درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے اور پاکیزہ درخت کی مومن سے مثال پیش کی گئی ہے جس کے دل میں کلمہ طیبہ یا کلمہ توحید رچ بس گیا ہو۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا ’’بتاؤ وہ درخت کون سا ہے جس کے پتے نہیں گرتے۔ مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے اور یہ بھی نہیں ہوتا اور یہ بھی نہیں ہوتا، یہ بھی نہیں ہوتانہ تو اس کا پھل ختم ہوتا ہے اور نہ اس کا دانہ معدوم ہوتا اور نہ اس کا نفع ضائع جاتا ہے، اور ہر وقت میوہ دیتا ہے؟“ اس وقت میرے دل میں خیال آیا وہ کھجور کا درخت ہے مگر جب میں نے دیکھا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمررضی اللہ عنہ جیسے بزرگ خاموش بیٹھے ہیں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔ پھر آپ نے خود ہی بتا دیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ جب ہم اس مجلس سے اٹھ آئے تو میں نے اپنے والد سے کہا ”اباجان! اللہ کی قسم! میرے دل میں یہ بات آئی تھی کہ وہ کھجور کا درخت ہے‘‘ انہوں نے کہا : ’’پھر تم نے کہہ کیوں نہ دیا ؟‘‘ میں نے کہا : ’’آپ سب خاموش رہے تو میں نے (آگے بڑھ کر بات کرنا) مناسب نہ سمجھا‘‘ میرے والد کہنے لگے : ’’اگر تم کہہ دیتے تو مجھے اتنا اتنا مال ملنے سے زیادہ خوشی ہوتی‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر) اور اللہ تعالیٰ نے شجرہ طیبہ کی چار صفات بیان فرمائیں (١) وہ طیب اور پاکیزہ ہے۔ اس کی یہ عمدگی خواہ شکل و صورت کے اعتبار سے ہو یا پھل پھول کے اعتبار سے یا پھل کے خوش ذائقہ، شیریں اور خوشبودار ہونے کے اعتبار سے ہو۔ (٢) اس کی جڑیں زمین میں خوب مستحکم اور گہرائی تک پیوست ہوچکی ہیں اور اس قدر مضبوط ہیں جو اپنے طویل القامت درخت کا بوجھ سہار سکتی ہیں۔ (٣) اس کی شاخیں آسمانوں میں یعنی بہت بلندی تک چلی گئی ہیں لہٰذا اس سے جو پھل حاصل ہوگا وہ ہوا کی آلودگی اور گندگی وغیرہ کے جراثیم سے پاک و صاف ہوگا۔ (٤) یہ عام درختوں کی طرح نہیں بلکہ ہر موسم میں پورا پھل دیتا ہے اور یہ باتیں کھجور کے درخت اور پھل میں پائی جاتی ہیں۔ اسی لیے اس درخت کو حدیث میں شجرہ طیبہ کہا گیا ہے اور ممکن ہے کہ اللہ کے علم میں کوئی ایسا درخت بھی ہوجو ہر وقت پھل دیتا ہو جیسا کہ آیت کے الفاظ سے متبادرہوتا ہے۔ نیز اللہ نے شجرہ طیبہ کو کلمہ طیبہ کے مثل قرار دیا ہے اور کلمہ طیبہ میں یہ صفت بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ سدا بہار ہے اور ہر وقت اپنے صالح برگ و بار لاتا رہتا ہے۔ ابراھیم
25 [٣٢] کلمہ طیبہ کے ثمرات :۔ یعنی جس کی کوئی فصل پھل سے خالی نہیں جاتی اور اس مثال کا مطلب یہ ہے کہ جب کلمہ توحید کسی مومن کے دل میں رچ بس جاتا ہے اور اس میں اس کی جڑ پیوست ہوتی ہے اور وہ اپنی پوری زندگی اسی کلمہ کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیتا ہے تو اس سے جو اعمال صالحہ صادر ہوتے ہیں۔ اس کا فائدہ صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ آس پاس کا معاشرہ بھی ان سے فیضیاب ہوتا ہے اور ہر آن ہوتا رہتا ہے۔ پھر یہی اعمال صالحہ آسمان کی بلندیوں تک جا پہنچتے ہیں۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ﴿اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ ﴾(۱۰:۳۵)(پاکیزہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتا ہے اور عمل صالح اسے چڑھانے کا سبب بنتا ہے) اور اللہ کی رحمت اور برکات کے نزول کا سبب بنتے ہیں اور اگر اسی کلمہ طیبہ پر مبنی کوئی معاشرہ اپنا نظریہ حیات اسی بنیاد پر استوار کرلے تو اس کے ثمرات و برکات میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ کلمہ طیبہ کی جڑ اس لحاظ سے مضبوط ہے کہ انسانی زندگی میں اس کا آغاز سیدنا آدم علیہ السلام سے ہوا اور تاقیامت یہ کلمہ برقرار رہے گا۔ آندھیوں کے جھکڑ یا باطل کے بلاخیز طوفان اسے متزلزل نہیں کرسکے۔ اور باطنی لحاظ سے اس کلمہ کا مستقر مومن کا دل ہے اور مومن کے دل میں اس کلمہ کی جڑیں اس قدر راسخ ہوتی ہیں کہ زمانہ بھر کی مشکلات اور مصائب اسے اس عقیدہ سے متزلزل نہیں کرسکتے۔ پھر یہی کلمہ طیبہ کا مومن کے دل میں پڑا ہوا بیج جب ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرلیتا ہے تو اس کے برگ و بار سب کے سب خیر اور بھلائی کا سرچشمہ بن جاتے ہیں اور اس سے بنی نوع انسان تو درکنار اللہ کی دوسری مخلوق بھی اس کی برکتوں سے فیض یاب ہوتی ہے۔ ابراھیم
26 [٣٣] خلافت اور دوسرے نظام ہائے حیات :۔ کلمہ طیبہ کے مقابلہ میں کلمہ خبیثہ (گندی بات) یعنی شرک و کفر کی مثال ایسے پودے سے دی گئی ہے جس کی سب صفات شجرہ طیبہ کے برعکس ہیں اس کی جڑ زمین کے اندر گہرائی تک نہیں جاتی بلکہ اوپر ہی اوپر زمین کے قریب ہی رہتی ہے کہ ہوا کا ایک تیز جھونکا آئے تو اسے بیخ و بن سے اکھاڑ کر پرے پھینک دے یہ مثال ہر باطل بات اور باطل نظام پر صادق آتی ہے۔ ہمارے ہاں جو مثل مشہور ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، وہ اسی مضمون کا مصداق ہے۔ حدیث کی رو سے شجرہ خبیثہ سے مراد اندرائن کا پودہ ہے۔ (پنجابی تمہ) جس کا پھل سخت کڑوا ہوتا ہے یعنی جہاں بھی باطل نظام حیات رائج ہوگا۔ کڑوے برگ و بار ہی لائے گا۔ معاشرہ میں بدامنی، رشوت ایک دوسرے کے حقوق کا غصب کرنا، فساد، جان ومال یا آبرو وغیرہ کا محفوظ نہ رہنا۔ غرض کہ ایسے معاشرہ میں عوام کی بے چینی اور اضطراب بڑھتا جاتا ہے اور کئی طرح کے مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اگر ان کا کوئی علاج سوچا جائے تو یہ مسائل اور پیچیدہ ہوتے اور بڑھتے جاتے ہیں کیونکہ اصل کا علاج تو کیا نہیں جاتا، ساری توجہ بس علامات پر ہی ہوتی ہے۔ اسلامی نظام حیات صرف ایک ہی طرز پر ہوتا ہے جسے خلافت بھی کہہ سکتے ہیں جبکہ باطل نظام لاتعداد ہوسکتے ہیں جو آئے دن بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں حتیٰ کہ ان کا نام تک صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے اور ایسے نظام ہر دور میں مختلف اور ایک سے زیادہ بھی رہے ہیں اور آج بھی پائے جاتے ہیں اس کی وجہ صرف یہی ہوتی ہے کہ ان کی بنیاد باطل یا شجرہ خبیثہ پر ہوتی ہے اور باطل کو کبھی استحکام نصیب نہیں ہوتا اور جب تک یہ قائم رہے اس کے برگ و بار کڑوے ہی ہوتے ہیں۔ ابراھیم
27 [٣٤] کلمہ طیبہ کی برکات میں سے ایک یہ ہے کہ مومن کسی حال میں بھی نہیں گھبراتا۔ وہ مصائب و مشکلات کے دور میں بھی اللہ پر بھروسہ رکھتا، ثابت قدم رہتا اور استقلال سے سب کچھ برداشت کرجاتا ہے اور آخرت میں تو اسے بعینہ وہی حالات و مناظر پیش آئیں گے جن پر وہ پہلے ہی ایمان رکھتا تھا۔ لہٰذا وہاں بھی اس کے گھبرانے کی کوئی وجہ نہ ہوگی اور اس کلمہ کی برکت سے وہاں بھی وہ ثابت قدم رہے گا۔ [ ٣٥] قبر میں سوال و جواب :۔ دنیا اور آخرت کے علاوہ ایک تیسرا مقام عالم برزخ یا قبر کا مقام ہے یعنی قبر میں جب فرشتے میت سے سوال کریں گے تو اس وقت بھی مومن ثابت قدم رہے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : سیدنا براء بن عازب کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوگا تو وہ کہے گا ﴿اَشْھَدُ اَنْ لاَ اِلٰہَ الاَّاللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ﴾ اس آیت میں قول الثابت سے یہی مراد ہے“(بخاری، کتاب التفسیر، نیز کتاب الجنائز، باب ماجاء فی عذاب القبر) (مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھاھا۔ باب عرض مقعد المیت من الجنۃ) اور ترمذی کی روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ جب قبر میں اس سے پوچھا جائے گا کہ ’’تیرا پروردگار کون ہے؟ دین کیا ہے؟ اور نبی کون ہے‘‘ (ترمذی۔ کتاب التفسیر) دفن کے بعد میت کے لئے دعا :۔ اسی لیے جب کسی مومن کو دفن کیا جاتا ہے تو دفن کے بعد اس کی قبر کے پہلو میں کھڑے ہو کر یہ دعا بھی کی جاتی ہے﴿اَللّٰھُمَّ ثَبِّتْہُ بالْقَوْلِ الثَّابِتِ﴾اور قول ثابت سے مراد یہی کلمہ طیبہ ہے اور ظالم یعنی کافر اور مشرک وغیرہ سے جب فرشتے قبر میں سوال کریں گے تو وہ کچھ جواب نہ دے سکے گا صرف یہ کہہ دے گا۔ ’’افسوس ! میں نہیں جانتا میں تو دنیا میں وہی کچھ کہہ دیتا تھا جو لوگ کہتے تھے‘‘ یعنی دنیا میں ان لوگوں نے جو کچھ غلط سلط عقیدے گھڑے اور اپنائے ہوئے تھے وہ بھی اسے یکسر بھول جائیں گے کیونکہ ان کی بنیاد ہی جھوٹ اور باطل پر تھی۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے : ١۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب آدمی اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس لوٹتے ہیں تو بلاشبہ وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ اس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اسے اٹھا کر بٹھا دیتے ہیں اور کہتے ہیں : تو اس شخص یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتا تھا ؟ اگر وہ ایماندار ہو تو کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے۔ تو دوزخ میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تجھ کو جنت میں ٹھکانہ دیا۔ تو وہ دونوں ٹھکانوں کو ایک ساتھ دیکھے گا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ہم سے یہ بھی بیان کیا گیا کہ اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔ پھر انس کی حدیث بیان کرتے ہوئے کہا : اگر وہ منافق یا کافر ہے تو اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا ؟ وہ کہتا ہے۔ میں نہیں جانتا میں تو وہی کچھ کہہ دیتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ اس سے کہا جائے گا کہ نہ تو تو خود سمجھا اور نہ خود پڑھا۔ پھر لوہے کے ہنٹروں سے اسے ایسی مار پڑے گی کہ وہ بلبلا اٹھے گا اور اس کی یہ چیخ و پکار جن و انس کے سوا آس پاس کی تمام چیزیں سنتی ہیں۔ (بخاری، کتاب الجنائز۔ باب ماجاء فی عذاب القبر) ٢۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب میت کو قبر میں اتارا جاتا ہے۔ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جن کا رنگ سیاہ اور آنکھیں نیلگوں ہوتی ہیں ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے وہ کہتے ہیں کہ تو اس شخص کے متعلق کیا کہتا تھا اگر وہ ایماندار ہے تو وہ کہتا ہے وہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جانتے تھے کہ تو اس طرح کہے گا پھر اس کے لیے ستر ستر گز تک قبر فراخ کردی جاتی ہے پھر اس کے لیے اس میں روشنی کردی جاتی ہے پھر اسے کہا جاتا ہے کہ تو سو جا، وہ کہتا